گڑبڑ گھوٹالا۔Garbar ghotala

اپنے بڑے سے دفتر میں بیٹھی وہ بے زاری سے روحوں



 کی سن رہی تھی۔ اسکی پالتو کتیا سینڈی نے بار بار اسکا منہ چاٹ چاٹ کر الگ تنگ کر رکھا تھا۔۔گو آرا بے زاری سے سر ہلاتی پھر ایک دم سے اسکے اندر سینڈی گھس جاتی تو کتے کی طرح میز سونگھنے لگتی۔ پھر تھپڑ مار کر اسے خود کو ہوش میں لانا پڑتا تھا۔ تبھی اسکے دفتر کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا۔۔ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت وجیہہ نوجوان ششی کپور کا مشہور زمانہ گانا بچنا اے حسینوں لو میں آگیا گاتا آیا۔۔ 
شاہ رخ کی طرح دونوں بازو پھیلا کر جب اس نے کہا بچنا اے حسینوں لو میں آگیا۔۔
حسن کا عاشق حسن کا دشمن اپنی ادا ہے یاروں سے جدا ۔۔۔ 
گاتے گاتے وہ عین گوارا کے سر پر آن پہنچا 
گو آرا دیکھتی ہی رہ گئ۔۔
تبھی اسکا فون بج اٹھا ۔۔
اسکی بڑی سی میز پر  ٹیرو کارڈز گلوب اور ایک چم چم کرتی نئی سینڈل رکھی تھی۔ اس نے جھٹ سینڈل کو اٹھا کر کان سے لگایا ۔۔ 
اسٹاپ۔۔ 
اسکے اسٹاپ کہتے ہی نووارد ساکت ہوگیا۔
ہائی آئم گو آراء  دی سوچ سوئچر ہائو مے آئی ہیلپ یو۔۔ 
Hi I am Go Ara the soul switcher How may I help you?
کیا ؟ وہ چلا کر اٹھ کھڑی ہوئی
تم جس کے جسم میں گئے اسے نیب نے حراست میں لے لیا؟ بھاگو واپس پہنچو اور شرافت سے گٹر  صاف کرو ہاں۔۔۔ گٹر بہتر جگہ ہےوہاں سے کبھی نہ کبھی تو نکلوگے۔۔اوکے
اگلے کی بات سن کر اس نے سمجھانے والے انداز میں کہہ کر فون بند کیا ۔نووارد ابھی بھی ساکت کھڑا تھا ۔ریلیز۔۔
نووارد اسی طرح پوری توانائی سے ناچنا شروع ہوگیا تھا۔گوآرا بےزارئ سے دیکھتی رہی۔تبھی اسے اک زور کا جھٹکا لگا۔کہاں ہے میرا ششی میں آگئ ششی تمہاری محبوبہ تمہارا پہلا پیار  ۔۔۔ 
ستر کی ہیروئنوں کی طرح لہک لہک کر کہتی گوآرا نووارد کے گرد یوں چکرا رہی تھی جیسی کسی کو بے تابی سے ڈھونڈ رہی ہو۔پھر جھلا کر بولی۔ 
کون ہو تم ؟ میرا ششی کہاں ہے؟
فرہاد نےایک انداز سے مسکرا کر سرخم کیا
میں فرہاد عرف پنو۔۔مگر تمہارے لیئے۔۔ 
شاہ رخ۔۔ 
ک ک کرن۔۔ ہلکاتے  ہوئے شاہ رخ کی طرح بازو پھیلا کر ۔۔
سلمان خان۔۔ ہڑ ہڑ دبنگ
جیکٹ اتار کر دبنگ کا اسٹیپ کرتےہوئے
اور عامر خان  کچھ بھی بن سکتا ہوں۔۔
اس بار پی کے کی طرح پائوں جوڑ کر چلا پھر آخر میں گوآرا کی میز پر رکھے گلدان سے پھول توڑ کر گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
گوآرا بد مزہ سی ہوگئ۔۔
فٹے منہ میں سمجھی امیتابھ ہے ہونہہ آرام سے قبر میں لیٹی تھی میں ہونہہ۔
جارہی ہوں واپس۔۔ 
گوآرا کو جھٹکا لگا پھر جیسے ہوش میں آئی اور چیخ پڑی۔
اف کیا بھیانک منظر تھا تم کیا کر رہے تھے؟ 
خالی گلدان پر نگاہ پڑی تو تڑپ کر فرہاد سے پھول چھینا۔
فرہاد اسکے پل پل بدلتے انداز سے حیرت ذدہ ہوا۔۔
آپ ابھی آپ آپ نہیں تھیں؟
گوارا سنبھل کر کھنکاری۔۔
نہیں میں میں ہی ہوں۔۔ 
فرہاد کو مگر وہ پسند آگئ تھی
آپکی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں
گوآرا شرما سی گئ۔
تھینک یو آپکی نظرکافی تیز ہے۔
اسے ایک بار پھر جھٹکا لگا
خبردار جو واپس آئیں مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے۔
فرہاد تڑپ نہیں اٹھا جھٹ بولا
آپ کہیں تو اپنے اسٹوڈیو کی سب لائٹس یہاں لگوادوں؟
ہاں یہ خراب۔۔ 
گوارا اپنی دھن میں کہنے لگی تھئ کہ خیال آیا
سنبھل کر بولی
پلیز تشریف رکھیئے
آپ نے بتایا نہیں کیسے مرنا ہوا آپکا؟
فرہاد دل پر ہاتھ رکھ کر جھکا
آپکو دیکھتے ہی مرمٹا
گوارا  جی؟
فرہاد سنبھلا
اسی لیئے نہیں بتایا کیونکہ مرا ہی نہیں میں ابھی
گوارا سرہلاتے میز پر کاغزوں کے ڈھیر میں میں کچھ ڈھونڈنے لگی
پھر ایک فارم نکال کر آگے بڑھاکر بولی
زندہ لوگوں کے فارم تو ختم ہوگئے آپ یہی مردہ فارم فل کردیں ویسے بھی آپ نے مر ہی جانا ہے
فرہاد نے ہاتھ بڑھا کر فارم پڑھنا شروع کیا
اس میں کیا ہے؟
گوارا پروفیشنل انداز میں مسکرائی
اس  میں سول سوئچ کی سب ٹرمز اینڈ کنڈیشنز ہیں اور آپکی ضروری معلومات آپ فراہم کیجئے جیسے  کون ہیں کیوں ہیں اور  ۔  ۔۔۔۔
فرہاد رومانوی انداز میں دیکھے جارہا تھا صاف لگ رہا تھا سن نہیں رہا سو گوآرا جھلا کر میز پر ہاتھ مارتے کھڑی ہوگئ اور چلا کر بولی۔۔
چاہتے کیا ہیں آخر آپ؟
فرہاد گڑبڑا کر سیدھا ہوا۔۔
میں ایک سادہ سا معصوم سا انسان ہوں ایک بس ایک۔۔دیہاتی سی بیوی ہے اسے کتنا دیکھوں ؟ بس میں چاہتا ہوں دنیا بھر کی خوبصورت لڑکیاں میرے اردگرد یوں مجھے جو دیکھے مجھ پر مرمٹے میرے ایک ہاتھ میں مشروب ہو اور سامنے ایک حسینہ 
گوارا کی برداشت کی حد تما م ہوئی
یاخ۔۔
فرہاد کو احساس ہوا ذیادہ ہی بول گیا تو سنبھل گیا۔
دراصل میری ایڈ ایجنسی ہے کوئی ماڈل ٹکتی ہی نہیں ہے سب مجھے چھوڑ جاتی ہیں میرا مطلب ہے میری کمپنی سمجھ رہی ہیں نا آپ میرا مسلئہ میں کون ہوں اور کیا چاہتا ہوں۔۔
سینڈی نے پھر آکر گوآرا کا منہ چاٹنا شروع کیا اسکا سر ہل رہا تھا۔۔طنزیہ سے انداز میں بولی
بالکل۔۔ آپ ٹھرکی ہیں اور مزید ٹھرکی بننا چاہتے ہیں
فرہاد خوش ہو گیا
ایگزیکٹلی
گوآرا نے سرجھٹک کر اپنی میز پر سجی نگینوں کی طشتری  سے ایک پتھر اٹھا کر اسے تھمایا
یہ اسٹون رکھ لیں اس سے خوبصورت لڑکیاں آپ پر مرنے لگیں گی
فرہاد کو خیال آیا
اس سے آپ پر اثر ہوگا؟؟؟؟
گوارا غصے سے گھورنے لگی
جی؟
فرہاد گڑبڑایا
میرا مطلب ابھی جو خواتین آئیں بہت دلچسپ سی لگیں مجھے کہاں ملیں گی؟
جہنم میں گوارا نے دانت کچکچائے
فرہاد ڈھٹائی سے ہنسا
چلیں ان سے بھی ملاقات ہوجائے گئ مر توجانا ہی ہے
آپکی فیس۔۔۔
اس نے جیب سے بھاری رقم نکال کر میز پر رکھی
گوارا کی آنکھیں چمک اٹھیں
شکریہ
فرہاد کا ٹھرکی پن دوبارہ جاگا
آپکا بھی شکریہ۔۔
گوارا پر اسکی شخصیت کا اثر ہوچلا تھا
آپکا بھی
بھائو بھائوبھئو
وہ اچانک کتے کی طرح بھونک اٹھی۔ فرہاد کیلئے یہ غیر متوقع تھا ڈر کر پیچھے جا ہی گرا
گوارانے مایوسی سے سر جھٹکا
سینڈئ تمہاری وجہ سے میں نے کنوارا ہی مرجانا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پورے اپارٹمنٹ میں تیز تیز چکر لگا تی یہاں سے وہاں وہاں سے اس کونے ٹہل ٹہل کر چپس اڑاتے ہوئے یقینا فرح وزن کم کرنا چاہ رہی تھی اور کیوں کم نہیں ہورہا تھا یہی وجہ تھی۔لائونج میں صوفے پر بیٹھی مل مل کر ماسک لگاتی حنا نے اسے دیکھ کر تاسف سے سرجھٹکا۔۔ 

یہ ٹہل ٹہل کر جو زیرو پوائنٹ ون ون کیلوریز برن کر رہی ہو نا اس سے دگنی چپس کھا کھا کے بڑھا بھی رہی ہو۔ فالتو میں توانائیں خرچ کر رہی ہو 
اسکی بات پر تیز تیز قدموں سے چلتی فرح جلبلا کر پلٹی
اور یہ جو مہنگی مہنگی کریمیں مل مل کر منہ پر دانے بھر لیئے ہیں نا ان سے تم گوری کم لال ذیادہ ہوگئ ہو فالتو میں پیسے خرچ کر رہی ہو۔
حنا بھنا کر کھڑی ہوگئ
میرے باپ کا پیسہ ہے تمہیں کیا؟
فرح ترکی بہ ترکئ بولی
مجھے یہ ہے کہ یہ میرے بھی باپ کا پیسہ ہے مجھے فکر ہے انکی ۔۔۔۔۔اسکی بات پر حنا تپ گئ
انکی اتنی فکر ہوتی تو یہاں دوسرے شہر آکر پڑھنے کی بجائے اس موٹے راشد سے شادی کرلیتیں
فرح نے بھی جوابا وار کیا
تم بھی میری نقل میں میرے پیچھے یہاں آنے کی بجائےکالے وسیم سے شادی کرلیتیں تو دو بچے ہوتے تمہارے
حنا تڑپ اٹھی
تم کیسی بہن ہو چاہتی تھیں کہ میری شادی کسی کلوٹے سے ہوتی اور میرے بچے سیاہ توے جیسے ہوتے
فرح کو بھی غم لگا تھا
تم کیسی بہن ہو چاہتی تھیں کہ میری شادی کسی موٹے ٹھلے سے ہوتی اور میرے بچے گینڈے جیسے ہوتے
اف تم سے تو بات کرنا فضول ہے حنا کی آنکھوں میں آنسو
آنے لگے فرح اسکی بھری آنکھیں دیکھ کر پگھلی
اچھا روئو تو نہیں
رو تو نہیں رہی مجھے جلد میں بہت خارش ہو رہی ہے
حنا نے بے چینی سے گال مسلے
پھر فرح کو چکراتے دیکھ کر متوحش ہوئی

فرح تم چکرا کیوں رہی ہو

لگتا یے ویٹ لاس والی دوا ذیادہ کھالی۔۔ تم تو منہ دھو جاکر
فرح نے جھومتے ہوئے کہا تو وہ منہ دھونے بھاگی جبکہ فرح وہیں چکرا کر گرتی چلی گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسب معمول اپنے دفتر میں بیٹھی ہوائی صارفین سے محو گفتگو تھی
ایک چھوٹا سا مرغی کا پنجہ اسکے سامنے میز پر دھرا تھا جس پر وہ بڑی تندہی سے نیل پالش لگا رہی تھی
ساتھ بڑی دلگیری سے اسے زندگی کے تلخ حقائق بتا رہی تھی
دیکھو مرغی ایک عورت اور مرغی کی زندگی میں خاص فرق نہیں ہوتا مرغئ ایک بار جیتی ہے ایک بار مرتی ہے۔۔۔
اور عورت بھی
ککڑو کڑوں۔۔۔۔۔۔۔ مرغی دکھ بھری آواز میں بولی
اسکی بات سن کر گوارا کی حیرت کی انتہا نہ رہی
کیسی مرغی ہو تم جس قصائی نے تمہاری گردن پر چھری پھیری اسی سے محبت
مرغی جیسے احتجاجا چلائی
ککڑو کڑووووووووں
تم اسکی بیوی سے روح بدل کر اسکی بیوی کو مرغی بنا کر اسی کے ہاتھوں  ذبح کروانا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا جھرجھری لیکر سیدھی ہوئی
بہت ظالم دنیا ہے بھئ
ٹھیک ہے مگر یاد رکھنا اگر کسی ذندہ کے ساتھ روح تبدیل ہو تو بس دو دن کیلئے ہوتی ہے۔اگر اسکی بیوی دو دن میں حلال نہ ہوئی تو تم دوبارہ ذبح ہوجائو گی ٹھیک
؟؟
مرغی خوش ہوکر ککڑو کڑوں کرنے لگی
نیکسٹ۔۔
گوآرا نے مصروف سے انداز میں اگلا کلائینٹ بلایا

اسکی پالتو سینڈی اسکی میز سے ہڈی اٹھا کر بھاگی

اوئے اوئے سینڈی چھوڑو یہ ہڈیاں کھانے کیلئے نہیں ہیں۔۔
سیںنڈی۔۔ 
اس نے اسکے پیچھے پیچھے بھاگ کر پکڑنا روکنا چاہا مگر وہ بھی ایک کتیا تھی۔۔ہاتھ نہ آئی
وہ غصے میں بھر کر چلائی
سینڈی۔۔۔۔
کتی ییییییییی
کھلے دروازے خراماں خراماں چل کر آتی سینڈی ہکا بکا ہو کر وہیں جم کے رہ گئ
آپ نے مجھے کتی کہا؟
گوارا سٹپٹائی
نہیں وہ سینڈی کو کہا
سینڈی غصے سے بھر کر بولی
میرا نام سینڈی ہی ہے

گوارا سیدھی ہو کر اپنی نشست پر بیٹھی

اور میرا نام گوارا  ۔
آئیئے بیٹھیئے کیسے مرنا ہوا آپکا؟
سینڈی نے بھی اسکی پیروی کی اور اسکے مقابل کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ
سینڈی اچھل پڑی
جی ؟ میں ؟ میں تو زندہ ہوں
گواراپر فلسفیانہ موڈ طاری ہوا
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ذندہ 
مرے ہوئے
مرے ہوئے لوگ اندر سے زندہ اور زندہ لوگ اندر سے مرے ہوئے۔
اب بتائو سینڈی تم اندر سے مری ہو یا باہر سے۔۔۔
اس نے ٹیرو کارڈز آگے بڑھائے سینڈی نے ایک چنا۔۔
پھر الجھن بھرے انداز میں بولی
میں زندہ ہوں بھئ؟
ٹیرو کارڈ دیکھتے گوارا کو تاسف ساہوا
ہائے جوان موت
سینڈی جھلا اٹھی
میں مری نہیں ہوں
چلو کوئی نہیں مر بھی جائو گی
سینڈی جھلا کر میز پر ہاتھ مارتی اٹھ کھڑی ہوئی
اوہ گاڈ میں ٹیرو کارڈ ریڈر سے ملنے آئی ہوں جو روح بھی بدل سکتی ہے
کہاں ہے وہ
گوارا بد مزہ سی ہوئی۔ 
اچانک سے اس میں سینڈی آگی۔۔اس نے ہانپتے ہوئےمیز سونگھنا شروع کردیا
سینڈی خوفزدہ سی ہوکر پیچھے ہٹی
گوارا سر پرہاتھ مار کر سیدھی ہوئی
ہیلو میں گوارا فیمس سول سوئچر نام تو سنا ہی ہوگا
میں سینڈی نام تو نہیں سنا ہوگا 
سینڈی کے چہرے پر بے چارگی سی در آئی
اسٹرگلنگ ماڈل ہوں
گوارا جھٹ بولی
سنا ہے میری مرحومہ کتیا کا نام ہے
جی؟؟؟ سینڈی کی آنکھیں حجم میں حیرت سے پھیل کر دگنی ہوگئیں
گوارا سے جواب نہ بن پڑا ۔۔ گڑبڑا کر ٹیرو کارڈز سامنے کردیئے
سینڈی نے بے دلی سے ایک چن کر تھمایا

میں بہت پریشان ہوں گوارا ۔بچپن سے ماڈلنگ کا شوق ہے مجھے میں چاہتی ہوں میرے گرد فوٹوگرافرز کا رش ہو اور میں گھوم گھوم کر پوز کرتی رہوں۔۔

سینڈی کہتے کہتے اٹھ کھڑئ ہوئی خیالوں میں ریڈ کارپٹ تھا اور وہ گھوم گھوم کر پوز مار رہی تھی
اتنی مشکل سے ایک ایڈ ایجنسی میں کام ملا تو مجھے اسکے مالک سے محبت ہوگئ۔۔
وہ تالی بجاتی پلٹ کر گوارا کے پاس چلی آئی انداز میں اب جوش بھرا تھا
میں چاہتی ہوں جیسے میں فرہاد کی دیوانی ہوگئ ہوں وہ بھی میرا دیوانہ ہو جائے اپنی ہر ایڈ فلم مجھے دے اپنے سارے بڑے پراجیکٹس میں مجھے ہیروئن لے
گوارا نام پر چونکی پھر سرکھجانے لگی
ٹیرو کارڈز پر غور کیا۔۔ 
پھر بولی
ناممکن ہے
سینڈی پریشان ہوگئ
کیوں؟
کیونکہ اسکے پاس کوئی بڑا پراجیکٹ ہے ہی نہیں۔۔
گوارا کی کتیا میز پر چڑھ چکی تھی وہ پیار سے اسے سہلانے لگی۔۔
سینڈی کو افسوس ہوا
شٹ ۔۔کنگلا ففٹا
پھر خیال آیا تو آنکھیں چمک اٹھیں
اچھا میں نے سنا ہے تم سوک سوئچ کر سکتی ہو میری سول تم سوئچ کردو ۔۔ہممم۔ اس نے سوچا
پریانکا چوپڑا سے
گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گہری سانس لیکر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی
کر تو دوں ایک مسلئہ ہے
آخر بار میں نے اپنی سول اس سے سوئچ کی تو وہ ایک پارٹی میں عمران ہاشمی کے ساتھ تھی
فورا واپس بھاگنا پڑا تھا مجھے
سینڈی نے گھن کھائئ
آخ یاک۔دفع کرو ایسا کرو مجھے کوئی ایسا اسٹون دو کہ فرہاد میرا دیوانہ ہوجائے مجھ سے شادی کرلے
یہ ممکن ہے۔۔
گوارا نے منتظر نظروں سے دیکھا تو اس بے بیگ سے نوٹوں کی گڈی نکال کر سامنے رکھی۔گوارا کی آنکھیں چمک اٹھیں
خوش ہو کر اسٹون ٹرے سے ایک اسٹون اٹھا کر اسے دیا
یہ لو۔ مگر یاد رکھنا
ہم ایک بار جیتے ہیں 
ایک بات مرتے ہیں۔ اور شادی بھی ایک ہی بار ہوتی ہے
سینڈی کا زہن اب کہیں اور دوڑ رہا تھا
پیسے نکال کر میز پر رکھے۔۔
اچھا ایک اسٹون ایسا دو کہ اسے اپنی بیوی سے نفرت ہوجائے
گوارا نے خاموشی سے اسٹون دیا
اچھا ایک اسٹون ایسا دو کہ فرہاد مجھے فرنشڈ گھر اور نئی کار دلا دے۔۔ 
اس بار اسکے پرس سے منی سی گڈی نکلی
گوارا کے ماتھے پر بل پڑے مگر اس نے اسٹون دے دیا
بس میرا خیال ہے اب تمہی جانا چاہیئے
اس نے جتایا
سینڈی مگر اور ہی ہوائوں میں تھی
اچھا ایک آخری اسٹون دو کہ فرہاد اپنی ایجنسی میرے نام کرکے ہارٹ اٹیک سے مر جائے
اس بار گوارا نے ہاتھ بڑھایا مگر سینڈی کا ہاتھ پرا میں گیا ہی نہیں
گوارا غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی
بس جاتی ہو کہ عمران ہاشمی سے سول سوئچ کروں؟سینڈی خائف ہوئی مگر ہار نہ مانی ملتجیانہ انداز میں بولی
اچھا اچھا مگر ایک
تبھی گوارا کو جھٹکا لگا 
وہ مخمور سے انداز میں دیکھ کر مسکرائی
پی لوں تیرے نیلے نیلے نینوں سے
سینڈی سر پر پائوں رکھ کر بھاگی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرح اور حنا کی تیاریاں عروج پر تھیں دونوں آئینے کے سامنے اپنے حسن دوآتشہ کو نکھارنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہی تھیں لگتا تھا آج آئینہ ضرور ٹوٹے گا۔۔۔
سجنا ہے مجھے سجنا کے لیئے سجنا ہے مجھے سجنا کے لیئے ذرا الجھی لٹیں سنوار لوں۔۔ 
فرح بالوں کو کندھوں پر لہرا کراپنی تیاریوں کو مطمئن انداز میں دیکھتے ہوئے گنگنا اٹھی
بریسلٹ پہنتی حنا نے گھور کر اسکی ترنگ کو دیکھا تھا پھر خود بھی خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئی
ہاتھوں میں ان ہاتھوں میں لکھ کے مہندی سے سجنا کانام۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے پڑھتی ہوں میں صبح شام۔۔۔۔۔۔۔
حسب توقع فرح جل بھن اٹھی تھی
تم وہ گانے گائو نا جو سالیاں گاتی ہیں بڑی میں ہوں رشتہ میرا آرہا ہے۔۔۔
حنا نے بے نیازی سے سر جھٹکا۔۔۔
ہاں مگر عموما ہوتا یہی ہے کہ لڑکےکو چھوٹی بہن پسند آجاتی ہے۔۔۔تو مجھے تیاری مکمل رکھنی چاہیئے۔۔۔
فرح برش پھینک کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔۔
اف ایک تو تم میرے ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتی ہو دیکھو۔۔ حنا میں بڑی ہوں نا ماموں نے باسط سے میرا نام لیا ہوگا۔۔۔
حنا نے سرجھٹکا۔۔
ہاں تو ماموں نے لیا نا۔۔ کیا پتہ باسط میرا نام لے لے۔۔۔
تم بھول رہی ہو کہ امریکہ جانے سے پہلے باسط موٹا تازہ تھا تو وہ موٹا میں موٹی ہم ساتھ جچیں گے۔۔
تم بھی یاد کرو باسط رج کے کلوٹا ہے وہ میرے ساتھ جچے گا۔۔
حنا نے ہار نہ مانی۔۔
ہونہہ ۔۔۔ فرح نے غصے سے منہ پھیرا
ہونہہ حنا کیوں پیچھے رہتی۔۔
تبھی بیرونی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔۔۔
یہ باسط ہوگا۔۔ فرح کو یقین تھا۔۔
ایسا کرتے ہیں اگر وہ کالا ہوا تو تمہارا موٹا ہوا تو میرا۔۔
فرح نے جھگڑا ختم کرنا چاہا۔۔
اگر وہ دونوں ہوا تو ۔۔ حنا کی بات میں وزن تھا۔۔
فرح جھلائی۔۔ اوہو دیکھو تو پہلے۔۔
وہ دروازہ کھولنے لپکی حنا نے کندھے سے کھینچ لیا اسے۔۔
میں کھولوں گی۔۔ 
میں کھولوں گی۔۔ 
دونوں میں ہاتھا پائی شروع ہوچکی تھی باہر پھر گھنٹی بجی تو فرح نے حنا کو دھکا دے کر باہر نکلنا چاہا حنا کا سر دیوار میں لگا وہ گر پڑی تو اسکی ٹانگوں سے الجھ کر فرح بھی زمین بوس ہو رہی ۔۔ باہر گھنٹی تواتر سے بج رہی تھی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے زاری سی گوارا اپنے دفتر میں بیٹھی مرغی کے پنجے سے کھیل رہی تھی۔۔ 
ککڑو کڑوں۔۔ مرغی بے چین لگتی تھی۔ اس نے غور سے اسکی سنی پھر ٹھنڈی سانس لیکر بولی
دیکھو اب تم دوبارہ اسی قصائی کے ہاتھوں ذبح ہوگئی ہو تو اس میں میرا کیا قصور   ؟؟؟؟
میں نے تو تمہاری روح قصائی کی بیوی سے بدل دی تھی۔۔ اب جائو جنت میں کوئی نیا مرغا ڈھونڈ لو
وہ تسلی دلاسا دے کر اسے بھیجنا چاہتی تھی تبھی آندھی طوفان کی طرح ایک عورت روتی پیٹتی اسکے دفتر میں داخل ہوئی۔۔
گوارا سنبھل کر بیٹھی۔۔
ویلکم ٹو سول سوئچ سینٹر۔۔ 
فرمائیے کیسے مرنا ہوا آپکا؟
وہ عورت مزید شدت سے رو پڑی۔۔ 
میں لٹ گئ برباد ہوگئ کیڑے پڑیں تجھے کلمونہی۔۔ 
جی ۔۔ گوارا سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئئ۔۔
جی میں مگر میں نے کیا کیا   ؟؟؟؟
اس پچھل پیری کو کہہ رہی کیسا سیدھا سادہ میاں تھا میرا مجھ سے محبت کا دم بھرتا تھا ہائے میرا پنو ۔۔۔ ہائے تمہاری سسئ بلا رہی ہے تمہیں۔۔۔ 
گوارا۔۔ مشکوک سی ہوئی۔۔
نام سنا لگتا۔  پوری بات بتائییے۔۔
میڈم میرا میاں اشتہار بناتا ہے کمونہی سینڈی نے رنگ گورا کرنے والی کریم کا اشتہار کیا کیا میرے تو میاں کا خون سفید ہوگیا۔۔ 
گوارا کو جھٹکا لگا   سینڈی اپنی بے عزتی پر غصے میں تھی گوارا میں گھس کر زور زور سے بھونکنے لگی۔۔۔
گوارا نے اپنے سر پر چپت لگائی۔۔ 
تمہاری بات نہیں ہو رہی سینڈی۔۔
عاصمہ خوفزدہ سی ہو کر پیچھے ہوئی مگر غرض بھی وابستہ تھی۔۔ 
آپ مجھے پتہ ہے پتھر دیتی ہیں مجھے ایسا پتھر دیں جسے میں اس چڑیل کے سر پر مار کر اسکی جان لے لوں۔۔۔
گوارا حیران ہوئئ
ایسا پتھر تو آپکو سڑک کنارے پڑا بھی مل سکتا کوئی بھی پتھر سر پھوڑ سکتا یے بھئ
عاصمہ نےتصویر نکال کر دئ۔۔
آپ ایسا کریں میری روح اس کلمونہی سے بدل دیں  پنو سے اتنے نخرے اٹھوائوں گی کہ گن گن کر بدلے لوں گی۔۔
تبھی خوشی سے پاگل ہوتی سینڈی دھاڑ دروازہ کھولتی اندر چلی آئی

تھینک یو گوارا تھینک یو

تمہارے دیئے گئے اسٹون سے فرہاد مجھ پر مر مٹا ہے اور مجھے نئی کار بھی دی اور
اپنی دھن میں اس نے گوارا کا بھونچکا چہرہ دیکھا نہ عاصمہ کی حیران شکل
اب نظر پڑی تو فورا بریک لگی اسے
اوپس بیڈ ٹائمنگ۔۔
عاصمہ غصے بھر کر گوارا کو مارنے دوڑی
تو یہ تمہارا کارنامہ ہے۔۔۔ 
گوارا اپنی نشست سے اٹھ کر بھاگی
میں نے تو بس اسٹون دیئے اس نے تمہارے حق پر ڈاکا ڈالا

بھاگتے ہوئے اس نے سینڈی کی جانب اشارہ کیا تو عاصمہ نے فورا اسکی جانب رخ کیا۔۔ اسے مارنے دوڑتے دیکھ کر سینڈی بھی بھاگ کھڑی ہوئی

یار مجھے ایسا اسٹون دو کہ یہ مر جائے
گوارا نے اسٹون اچھالا پہلے عاصمہ کو لگا دوسرا سینڈی کو۔۔۔
دونوں ہی چکرا کر گریں گوارا کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے
پلیز مت مرو باہر جاکے مر جائو یہاں نہیں مجھے لاشوں سے ڈر لگتا ہے یار
تبھئ جھٹکا لگا گوارا میں اسکی پالتو کتیا آکر لاشیں سونگھنے لگی۔۔
تم تو پرے ہٹو سینڈی۔۔
گوارا جھٹکا کھا کے جھلائئ۔۔
پٹاخ سے وہ سیںنڈی کے نکلنے پر گھٹنے کے بل گری۔۔
اب کیا کروں یہ تو مر گئ ہیں۔ زیر لب بڑبڑاتی اس نے پریشانی سے سر ہاتھو ں میں لے لیا تبھی ہلکی سی آہٹ ہوئی۔۔ 
اس نے سر اٹھا یا تو سامنے حنا اور فرح کھڑی تھیں۔۔
گوارا سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
وہ یہ مری تو نہیں۔ ہیں۔۔
مگر ہم مر چکے ہیں۔۔ حنا مایوسی سے بولی
اور وہ بھی اسکی وجہ سے۔۔ فرح نے حنا کو دیکھ کر دانت کچکچائے
تمہاری غلطی تھی
تمہاری غلطی تھی۔۔
دونوں دست و گریباں ہو گئیں
لو یہاں دو لاشیں اور گرنے والی ہیں
بھاگو گوارا
۔۔۔ گوارا نے ایک طرف سے ہو کر نکلنا چاہا تو حنا نے پکڑ لیا۔۔

رکو تم کہیں نہیں جا سکتیں۔۔

ہم اچانک مرے ہیں وہ بھی بھری جوانی میں ہمیں کسی باڈی میں ڈال دو پلیز
فرح منت بھرے انداز میں بولی۔۔
گوارا نے ڈرتے ڈرتے آگے بڑھ کر چھوا پھر ڈر کر پیچھے جاگری
تم لوگ تو سچ مچ مرے ہو مجھے روحوں سے ڈر لگتاہے۔۔۔ امی بچالو
حنا نے جھک کر عاصمہ کی سانس چیک کی
یہ تو مری ہوئی ہیں ہمیں ان میں ڈال دو۔۔
وہ بے تحاشا خوش ہوگئ
گوارا اپنی جگہ سے حیران پریشان اٹھئ۔۔
کون ہو تم لوگ اور میں کہاں آگیا۔۔ میں تو گٹر صاف کر رہا تھا۔۔۔ اور میرے ہاتھ۔۔
اس نے حیرانی سےاپنے ہاتھ دیکھے
تبھی اسے جھٹکا لگا اس بار گوارا کو الٹی آنے لگی تھی
آخ تھو۔۔ اتنی بدبو ۔ یہاں سے نکل کر سیدھا گٹر میں۔۔۔
فرح نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
پلیز مجھے بچپن سے دبلا ہونے کا شوق ہے مجھے اس دبلی لڑکی میں ڈالدو۔ اس نے عاصمہ کی جانب اشارہ کیا۔۔ 
اور مجھے اس خوبصورت لڑکی میں۔۔ 
حنا بولی۔۔ اور شائد انکی زندگی میں یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ دونوں کی پسند الگ الگ تھی۔۔

گوارا نے سر کھجایا کچھ سوچا پھر اسٹون اٹھائے عاصمہ کے پاس آئی۔۔ عاصمہ نے تبھی کسمسا کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ اسکے جاگنے کے خوف سے گوارا نے جلدی سے اسٹون اسے لگا دیا۔۔

حنا اور فرح ایکدم غائب ہوئیں۔۔
عاصمہ خوشی سے پھولے نہ سماتی اٹھ بیٹھی
اوہ خدایا مجھے تو یقین نہیں آرہا میں اتنی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔۔
سینڈی نے پاکٹ مرر نکالا اور بھونچکا رہ گئ۔۔
اور میں اتنی سفید۔۔۔
دونوں خوشی سے پاگل ہو کر گوارا سے لپٹ گئیں۔
اچھا سنو گوارا کچھ کہنا چاہ رہی تھی پر دونوں نے سنا نہیں۔۔
ایک مسلئہ ہے۔۔ یہ دونوں تم دونوں کی باڈی میں چلی گئ ہیں۔۔۔۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کونسی جگہ ہے۔۔ 

کسمساتی ہوئی فرح اپنے ہی گھر میں جاگی تھی
میراسر بھاری ہو رہا ہے۔
حنا نے اپنا چکراتا سر تھاما۔۔ 
تم کون ہو۔۔ گردن پھیر کر حنا پر نگاہ کی تو فرح چلا اٹھی۔۔ 
تم ۔۔ میں۔۔ حنا اچھلی سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں خود کو دیکھا تو چلا اٹھی۔۔
میں یہ میں کیسے بن گئ؟۔۔
یہ میں تم کون۔۔ فرح کی حیرانگئ دیدنی تھی۔۔ آگے بڑھ کر خود کو بھی آئینے مین دیکھا۔۔ دونوں چلا اٹھیں۔۔۔
پورااپارٹمنٹ چیخوں سے گونج اٹھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینڈی شوٹ کروا رہی تھی عاصمہ سیب کھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ پچیس تیس تصویریں ہو گئیں تو سینڈی نڈھال ہوگئ۔۔ 
زبردستی بریک لیتی دھپ سے اسکے برابر آبیٹھی
یار کیا عزاب ہے تصویریں کھنچوا کھنچوا کر تھک گئ اوپر سے وہ ٹھرکی کمینہ بہانے بہانے سے چھونے کی کوشش کر رہا ہے۔۔ 
ترسی نگاہ سے سیب کو دیکھتی عاصمہ نے پوچھا۔
کون ؟؟؟
وہی ڈائریکٹر۔۔ 
اس نے فرہاد کو کھا جانے والی نگاہ سے گھورا۔۔
اور تم کب سے سیب لیئے بیٹھی ہو اتنی دیر میں تو درجن سیب کھا جاتی تھیں تم؟ اس نے روئے سخن عاصمہ کی جانب موڑا۔۔
یار مجھ سے ایک سیب بھی پورا نہیں کھایا جا رہا پتہ نہیں کیا چوزے جیسا پیٹ ہے اسکا۔۔ دو بائیٹ میں ہی بھر گیا۔۔
پیٹ پر ہاتھ پھیرتی عاصمہ بے چارگی سے بولی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرح اور حنا فرہاد کا بازو کھینچ رہی تھیں۔۔
فرح جھلا کر اسے اپنی جانب کھینچتے بولی
آپ سمجھتے کیوں نہیں میں آپکی عاصمہ ہوں۔۔ آپکی بیوی سسی ہوں پنوں۔۔
حنا نے دوسرے بازو سے اسے اپنی جانب کھینچا
اور میں آپکا سچا پیار سینڈی۔ آپکی شیریں ہوں فرہاد
مجھے تو پہچان لیں۔۔
فرہاد کے دونوں بازو ان دونوں کے سخت شکنجے میں تھے ورنہ وہ یقینا اپنے بال نوچ لیتا
کون ہو تم دونوں یاخدایا کیوں میرے گھر آکر مجھے پریشان کر رہی ہو
حنا نے اسکا رخ اپنی جانب موڑا
میں آپکی سینڈی۔
فرح نے اسکو اپنی جانب موڑا
میں آپکی عاصمہ
فرہاد نے خود کو چھڑایا بال نوچ کر بولا
مگر میں کیسے مان لوں نہ عاصمہ بھینس جتنی موٹی ہے نہ سینڈی توے جیسی کالی
حنا اسکی بات پر تنک کر بولی
سنا تم نے فرہاد کو بھینس جیسی عاصمہ نہیں چاہیئے
فرح بھی ترکی بہ ترکی بولی
اسے تم جیسی کالی کوی سینڈی بھی نہیں چاہیئے
میری جان تو چھوڑ دو
فرہاد چلا یا
پنوں میرے ہیں میں انکی بیوی ہوں
انکی سسی
فرح نے فرہاد کو پھر کھینچا
میں انکی گرل فریںنڈ انکا سچا پیار یہ میرے ہیں فرہاد
تم نے جادو سے انہیں چھینا مجھ سے
فرح روہانسی ہوئی
اور تم نے جادو سے میرا یہ حال کردیا ہے کوئی مجھے پہچان نہیں رہا۔۔ 
حنا بھی رونے والی ہوگئ
فرہاد رو ہی پڑا
مجھے تو چھوڑ کر جھگڑا کرو
میں انکو ہرقیمت پر حاصل کرکے رہوں گی
فرح نےعزم کیا
میں انکو کبھی تمہارا نہیں ہونے دوں گی
دونوں گتھم گتھا ہوئیں فرہاد تھک کر گرا
اف خدایا کیسا اسٹون دیا ہے گوارا کی بچی خوبصورت لڑکیوں کی بات کی تھی میں نےبد صورت کی نہیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھکی تھکی سی عاصمہ اور سینڈی اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئیں

اف خدایا میں سوچ نہیں سکتی تھی خوبصورت لڑکی ہونا اتنا عذاب ہے زبردستی ایڈ کمپنی والے لے گئے منہ ٹیڑھا کر کرکے تصویریں بنوا بنوا کر حشر ہوگیا۔۔
سینڈی اپنا دکھتا چہرہ سہلا رہی تھی
اور میں دو دن میں اچھے کھانے کو ترس گئ پیزا برگر بریانی خوشبو سے ہی یہ چنا سا پیٹ بھرجاتا ہےمیں تو تنگ آگئ
مجھے دل بھر کر پیٹ بھر کر کھانا کھانا ہے
سینڈی دکھی ہوگئ
اس سے تو ہم پہلے جیسے ہی اچھے تھےسب گھور گھور کر دیکھ رہے تھے وہ نیچے جو بیچلر رہتا ایسے گزرتی تھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا آج لنچ کی آفر کر رہا تھا مجھے
یار اس ہڈیوں کے ڈھانچے میں میں ٹی بی کی مرضہ لگ رہی ہوں کتنی فریش اسکن ہوتی تھی میری
عاصمہ کو بھی دکھ لگا تھا
مجھے میری باڈی واپس چاہیئے
سینڈی نے اعلان کیا
مجھے بھی
عاصمہ بھی ناک تک بھر گئ تھی دبلاپے سے
دونوں گلے لگ گئیں پھر خیال آیا تو کٹھے خالی کوریڈور میں نگاہ کی
مگر ہماری باڈیز گئ کہاں؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا میز پر سر رکھے بے خبر سورہی تھی۔ فرہاد اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کراسے جگانے کی کوشش کرتا رہا زندہ بھی ہے کہ مرگئ اس نے کنفرم کرنا چاہا گوارا کی آنکھ کھلی اتنے قریب فرہاد کا چہرہ زور دار چیخ مار کر اٹھ بیٹھی۔۔ فرہاد اچھل کر پیچھے گرا۔ میز کے اوپر سے گوارا کو نظر ہی نہ آیا
یا خدایا اتنا بھیانک خواب
تبھی فرہاد کپڑے جھاڑتا اٹھا
گوارا کی پھر چیخ نکل گئ
اب تم کیسے مر گئے؟اور مرنے کے بعد یہاں کیا کر رہے ہو جہنم میں جائو نا
فرہاد روہانسی آواز میں بولا
مرا نہیں ابھی زندہ ہوں مگر لگتا ہے دوچڑیلیں مار کر چھوڑیں گی مجھےدو دن سے اپنی بیوی اور گرل فرینڈ کو ڈھونڈ رہا ہوں جانے کہاں چلی گئ ہیں الٹا دو بد صورت عورتیں میرے پیچھے پڑ گئیں ہیں۔
کھلے دروازے سے حنا اور فرح بھی داخل ہوگئیں دفتر میں۔ گوارا نے اشارے سے بتانا چاہا مگر فرہاد بولتا گیا
ایک اتنی بھینس جیسی دوسری اتنی کالی کہ یہاں آجائے تو اندھیرا ہوجائے۔۔
فرح اسکی بات پر دکھی ہوگئ
مجھے لگتا تھا پنو مجھ سے محبت کرتے ہیں پر یہ تو مجھے پہچانتے بھی نہیں۔ روح سے مطلب ہی نہیں انکو
حنا کو بھی افسوس ہوا
مجھے کیا پتہ تھا بس یہ شکل پر مرتے میری میں تو سچ مچ محبت کربیٹھی تھی
فرہاد انکی شکلیں دیکھ کر میز کے پیچھے جا چھپا تھا
مرد ہوتے ہی بے وفا ہیں
حنا نے کہاتو فرح نے بھی تائید کی
سچی بات ہے
یہ کیا چل رہا ہے۔
فرہاد کو کچھ سمجھ نہ آیا
گوارا نے صورت حال بھانپ کر چپکے سے نکلنا چاہا تبھی دروازے سے اندر آتی عاصمہ اور سیںنڈی کو دیکھتی الٹے پیروں واپس پلٹی
عاصمہ آتے ہی چلائی
گوارا مجھے میری باڈی میں واپس کرو میں تنگ آگئ پھیکی زندگی سے
سینڈی بھی ہم نوا تھی
اور میں ہر راہ چلتے کے بھی گھورنے سے عاجز ہوں مجھے مشہور ماڈل نہیں سادہ سی حنا بننا
بولتے بولتے عاصمہ اور سینڈی پر نگاہ گئ تو جملہ بھول گئ چاروں انکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھیں۔
فرہاد کو یقین آگیا
میں دراصل پاگل ہوگیاہوں۔۔
سینڈی حنا کو دیکھتےحیران رہ گئ
یہ میں ہوں ایک دانا بھی نہیں منہ پر
حنا جتا کر بولی میں ہمیشہ ہیلدی ڈائٹ لیتی ہوں فروٹ ماسک لگاتی ہوں مگر تم نے میرا کیا حال کردیا ہے اتنے بڑے حلقے
فرح کے اندر موجود عاصمہ چیخی
تم نے کھا کھا کے مجھے بھی موٹا کردیا خدایا
البتہ عاصمہ کے اندر فرح خوش تھی
اوہ میں اتنی اسمارٹ کیسے ہوگئ۔۔
فرح نے تنک کر جتایا
مجھے وقت بے وقت ٹھونسنے کی عادت نہیں۔۔
گواراانکی بحث سے بچ کر پیچھے جا کر بیٹھ گئ فرہاد چلایا
کوئی مجھے بھی تو بتائو کون سینڈی ہے کون عاصمہ
فرح مڑ کر گوارا سے بولی
گوارا ٹھیک کرو ہمیں۔۔
گوارا حیرانی سے ادھر ادھر دیکھتے بولی
کون گوارا
حنا نے ماتھے پر ہاتھ مارا 
تم اور کون
گوارا غائب دماغ بیٹھی تھی
میں کون ڈاکٹر صاحب
میں پاگل نہیں ہوں
سینڈی جھلائی اب اسے کیا ہوا
عاصمہ نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا
مجھے لگتا اسکے سر پر چوٹ آئی ہے۔۔
یہ ٹھیک نہ ہوئی تو ہم کیسے ٹھیک ہونگے؟
فرہاد کی برداشت تمام ہوئی میز سے نکل کر باہر آگیا
یا خدایا میں بھی اس ڈرامے کا اہم کردار ہوں مجھے بھی تو بتائو آخر ہوا کیا ہے تم دونوں کون ہو 
وہ حنا فرح کی جانب گھوما
اور تم میری بیوی اور تم گرل فرینڈ ہو نا۔۔
اس بار اسکا مخاطب سینڈی اور عاصمہ تھیں
فرح نے بازو سے کھینچا
میں عاصمہ تمہاری بیوی
عاصمہ نے ناک چڑھائی
مجھے تم سے ہمدردی ہے
حنا نے سر جھٹکا اور میں تمہاری گرل فرینڈ تھی مگر اب بریک اپ کر رہی ہوں
سینڈی اس سب سے بے نیاز گوارا کو ہلا رہی تھی
آپ اٹھیں نا
فرہاد سمجھ گیا
تم جو ہو وہ تم نہیں ہو وہ جو ہے وہ وہ نہیں ہے میں جو ہوں میں میں ہوں یا میں بھی وہ نہیں جو میں ہوں۔۔میں کون ہوں۔۔
گوارا کو جھٹکا لگا
اف  مینٹل ہاسپٹل اتنے بجلی کے جھٹکے کہہ بھی رہی تھی میں پاگل نہیں۔۔
کہاں پہنچ جاتی ہوں میں بھی
چاروں ہوش میں آتا دیکھ کر اسکے سر پر پہنچیں
ہمیں ٹھیک کرو گوارا
۔۔۔
گوارا نے گھڑی دیکھی۔۔ دو دن پورے ہونے لگے ہیں پانچ چار تین دو ایک۔۔
چاروں چکرا کر رہ گئیں
پھر سر تھام لیا
فرہاد گوارا کے پاس آکر بولا
سنیں میں کون ہوں؟
حنا نے خوشی سے نعرہ مارا
شکر ہے میں واپس آئی اب میں جو ہوں ویسی رہوں گی
فرح چلائی
شکر ہے اب میں پیٹ بھر کر کھا تو سکوں گی
سینڈی آئینہ دیکھ کر متفکر ہوئی
اف مجھے تو اسکن ٹریٹمنٹ کروانی پڑے گی
عاصہ خوشی سے گھومی
اف میں دوبارہ ہلکی پھلکی ہوگئ

چلیں ۔۔ فرہاد۔۔

عاصمہ نے یادداشت کھوئے فرہاد کو بازو سے کھینچا سینڈی تڑپ کر آگےآئی اور فرہاد کو اپنی جانب کھینچنے لگی
گوارا نے اپنی اسٹون ٹرے لیکر کھسکنا چاہا

حنا نے گوارا کو کھینچا

مجھے ایسا اسٹون دیں جس سے باسط مجھ پر مر مٹے
فرح نے
گوارا کو کھینچا
نہیں باسط کو مجھ سے محبت ہونی چاہیئے
ارے ٹھہرو رکو
چاروں اس دھکم پیل میں زور سے گرے گوارا کی اسٹون ٹرے اچھل کر گری
دھماکا ہوا
سب چکراتے سر کے ساتھ اٹھیں سب کی سب فرہاد کو دیکھ رہی تھیں
فرہاد سٹپٹا کر اٹھ کھڑا ہوا
عاصمہ شرماکر بولی۔۔
آپ صرف میرے ہیں نا فرہاد
اور میرے بھی ۔۔ حنا مسکرائی
میرے بھی ۔۔ سینڈی مخمور انداز میں بولی
اور میرے بھی۔۔ فرح نے پلکیں پٹپٹائیں
فرہاد نے جیب سے اسٹون نکالا
میں تو واقعی راجہ اندر بن گیا شکریہ گوارا اس نے اسٹون گوارا کی۔جانب اچھالا وہ بھی مر مٹی
فرہاد میں آگئ آپکی شیریں مجھے چھوڑ کر مت جائیے گا۔۔
گوارا نے کہا تو فرہاد چیخ پڑا۔۔
پانچویں بھی
۔بھاگو فرہاد۔۔ 
وہ کہہ کر بھاگا یہ چاروں بھی اسکے پیچھے دوڑ گئیں
۔۔۔۔





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

#hajoometanhai
#shorturdustories
#afsanay #funnyurdustory
#hajoometanhaistories #garbarghotala#urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #pakistan #urduquotes #urdupoetrylovers #ishq #sad #lovequotes #urdupoetryworld #urdusadpoetry #shayri #lahore #hindi #hindipoetry #quotes #urdulovers #shayar #urduliterature #urduposts #karachi #instagram #poetrycommunity #like #mohabbat #bhfyp
#hajoometanhai #urdushortstories #urdukahanian #urdu #pakistaniadab #urduadab #hajoometanhaistories #hajoom #tanhai #ikhlaqikahanian #urdunovel#urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #pakistan #urduquotes #urdupoetrylovers #ishq #sad #lovequotes #urdupoetryworld #urdusadpoetry #shayri #lahore #hindi #hindipoetry #quotes #urdulovers #shayar #urduliterature #urduposts #karachi #instagram #poetrycommunity #like #mohabbat #bhfyp

از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *