آسیبی مکان

گاڑی جس پرانے زمانے کے بڑی بڑی محرابوں والے مکان کے باہر رکی تھی اسے دیکھ کر آمنہ نے بڑی شکوہ کناں نگاہ شوہر پر ڈالی جو نظر چرا کر جلدی سےگاڑی بند کرتا باہر نکل کھڑا ہوا چار و ناچار اسے بھی پیروی کرنی پڑی

گھر ارد گرد بنے نیے طرز کے خوبصورت مکانوں کے درمیان اور بھی خستہ حال لگ رہا تھا 

سجاد گاڑی کی ڈگی سے سامان نکلنے لگا تو گھر کو پھر ایک نظر بھر کر دیکھ کر آمنہ کہے بغیر نہ  رہ سکی 

“یہ گھر ہے جس کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟ دیکھنے میں ہی کتنا پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا مکان لگ رہا ہے “

سجاد نے ڈگی کی آڑ میں چہرہ چھپا کر کان کھجایا 

پڑوس کے مکان سے ایک ادھیڑ عمر آدمی اپنی دھن میں نکلا انھیں دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا 

یار اندر سے بہت بہترین ہے سارا گھر سجا ہوا ہے ضرورت کی ہر چیز ہے اتنے کم کرایے میں فرنشڈ گھر ملاہے ورنہ پتا ہے اسلام آباد میں اتنا بڑا گھر پچاس ہزار سے کم میں نہیں ملتا

سجاد ڈگی سے بیگ نکال کر گھوم کر آمنہ کے پاس آیا انداز اتنا پرجوش تھا کہ آمنہ کو لگا تھا ابھی یہیں ناچنا بھی شروع کردیگا 

وہ منہ بنایے گھورتی رہی 

تو ہمیں کیوں ملا ہے اتنا سستا؟یہ نہیں سوچا؟دیکھنے سے ہی خستہ حال لگتا ہے چھتیں گرنے کو تیار لگتی ہیں 

آمنہ نے جتایا تو سجاد کھسیا گیا 

اچھا اندر تو چلو ابھی گزارا کر لو ہم بدل لینگے ایک دو مہینے میں یہ گھر میرے دفتر سے قریب ہے سب سے اچھی بات تو یہ ہے 

اس نے آگے بڑھ کر گیٹ کا تالہ کھولا آمنہ کندھے اچکا کر اندر داخل ہو گئی سجاد گاڑی کے پاس سے بڑا سا بیگ اٹھا کر گھر میں داخل ہونے لگا ابھی پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا وہ بری طرح چونک کر مڑا 

کھچڑی سفید بالوں والے براق سفید شلوار قمیض میں ملبوس زمان صاحب

بہت گھبرائے ہوۓ انداز میں دیکھ رہے تھے 

اسلام و علیکم میرا نام سجاد ہے میں 

سجاد نے بیگ  رکھ کر گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا 

وعلیکم السلام میں زمان ہوں  

زمان صاحب نے بیتابی سے بات کاٹ دی تھی “یہ گھر آپ نے خریدا  ہے ؟

سجاد مسکرا دیا 

نہیں انکل یہ ہم نے کرائے پر لیا ہے 

یہاں پنڈی اسلام آباد میں ہی رہتے ہو؟

وہ نجانے کیا جاننا چاہ رہے تھے 

نہیں میں کراچی سے یہاں ٹرانسفر ہو کے آیا ہوں

کہتے ساتھ ہی سجاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ایک انجان شخص کو بتا دیا کہ پردیسی ہوں اس نے دانتوں تلے زبان دبا لی 

وہی تو 

زمان صاحب کا اندازہ درست نکلا تھا 

یہ گھر اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ پنڈی اسلام آباد کے لوگ تو اس مکان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے 

آپ انجان ہیں اس شہر میں جبھی بھٹی صاحب نے آپکو یہ مکان ٹکرا دیا ہے 

انکے بنا لگی لپٹی رکھے کہنے پر سجاد کی پیشانی پر الجھن کی شکن پڑی

کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپکی بات؟

زمان صاحب گہری سانس لے کر سجاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “یہ مکان فورا چھوڑ دو یہ آسیب زدہ ہے یہاں کوئی دو تین دن سے زیادہ نہیں رہ پاتا سامان تک چھوڑ کر لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے اور جو یہاں رہ بھی گیا اسکے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد پر اسرار طریقے سے غایب ہو جاتا ہے 

سجاد نے غصے سے انکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا 

کیا بکواس ہے یہ میں نہیں مانتا ان فضولیات کو ہمیں بھٹی صاحب نے بتایا تھا کہ یہاں رہنے والا خاندان اپنی عزت  بچانے کیلئے ایسی کہانی بنا کر کہیں چلا گیا کیوں  کہ انکی  اپنی بیٹی رات کو گھر سے بھاگ گئی تھی 

اسکی بات پر زمان صاحب بے  چین  ہو اٹھے  

میں یہاں تیس سال سے رہ رہا ہوں وہ بچی میری بیٹی کی سہیلی تھی میری آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی تھی 

یہ گھر بھی ٹھیک تھا اسکو دوبارہ تعمیر کرا نے کے لئے فرقان صاحب نے صحن کے بیچ میں لگا درخت کٹوا دیا تھا میری بچی اور وہ بچی اسی درخت پر جھولا ڈال کر جھولتی تھیں مگر جب درخت کٹ گیا تو عجیب واقعات ہونے لگے انکے ساتھ 

سجاد انکی فضول باتوں کو اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا سو بات کاٹ کر ہاتھ اٹھا کر بولا 

بس کیجیے انکل مجھے ان فضولیات پر یقین نہیں ہے پرانے مالک مکان کی بچی گھر سے بھاگ گئی یا غائب ہوگئی مجھے دلچسپی نہیں ہے 

اسکی بیزاری پر بھی زمان صاحب نے بات جاری رکھی یوں لگتا تھا وہ خوف زدہ ہیں ایک ہی سانس میں سب بتا دینا چاہتے ہیں

انکی بیٹی اپنی دادی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے میری بچی بھی ساتھ تھی اس بچی کے پاس رات کو ٹھہری تھی رات کو اس نے بھی دیکھا کہ بچی کی دادی اسے بلانے آئیں وہ انکے ساتھ صحن میں گئی مگر جب اسے گیۓ کافی در ہو گئی تو میری بچی اسے ڈھونڈتی صحن میں آئی تو صحن میں کوئی نہ تھا اور جب وہ اندر کمرے میں گئی تو بچی کی دادی بےخبر سو رہی تھیں 

سجاد نے بد تمیزی کی انتہا کرتے ہوئے سر جھٹکا اور انکی بات کے درمیان ہی بیگ اٹھا کر اندر جانے لگا تھا مگر زمان صاحب پھولی سانسوں کے ساتھ تیز تیز قصّہ سناتے چلے گئے سجاد انکی باتوں پر یقین نہیں کر رہا تھا مگر آخری بات پر ٹھٹکا اور فطری تجسس سے مجبور ہو کر پوچھ بیٹھا 

پھر؟

دادی نے کہا کہ وہ تو نہیں بلانے آیئ تھیں بہت تلاشا پھر انہوں نے بچی کو کیا کیا حربہ نہ اپنایا مگر بچی کا سراغ نہیں ملا ایک عامل نے بتایا کہ اس درخت پر جنات کا خاندان آباد تھا درخت کاٹنے سے انکا نقصان ہوا ہے اور وہ بدلے کے طور پر اس گھر سے ایک فرد لے گیۓ ہیں اب یہ گھر انکا ہے جو یہاں آ رہے گا یہ اس پرحاوی 

انکی کہانی سے متاثر ہونے ہی لگا تھا کہ بھٹی صاحب کی بات یاد آئی اپنے پڑوسیوں سے محتاط رہیے گا بہت شر لوگ ہیں اس گھر پر نظر ہے انکی جو اس گھر میں آتے ہیں لوگ انکو الٹی سیدھی کہانیاں سناتے ہیں مقصد یہی ہے کہ یہ گھر کم داموں پر میں تنگ آ کر انکو بچ دوں اب کروڑوں کی پراپرٹی …

زمان صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا 

آپ مرے گھر رہ لیں جب تک دوسرا انتظام نہ ہو آپکو خطرے کا اندازہ نہیں ہے یہاں بوائز ہوسٹل بھی کھلا تھا دس پندرہ لڑکے تھے ایک دن سب رات کو چیختے ہوئے بھاگے تھے کہتے تھے انکا ایک دوست انکے دیکھتے دیکھتے غایب ہو گیا ہے 

سجاد شش و پنج میں پڑ گیا انکا اصرار حد سے زیادہ تھا 

آخر انکو اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دینا ایسا بھی کیا تھا اس گھر میں کہ 

تبھی اندر سے آمنہ کے چیخنے کی آواز آئ بات ادھوری چھوڑ کر دونوں اندر لپکے آمنہ دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی 

ایک موتی تازی بلی صحن میں رکھی اینٹوں اور ٹوٹی کرسی کو پھلانگتی سجاد پر غراتی صحن کے کھلے دروازے سے باہر نکل گئی 

میں اندر کمرے میں جا رہی تھی کہ نجانے کہاں سے بلی سامنے آگئی تو میری چیخ نکل گئی 

آمنہ شرمندہ ہوتے ہوئے بتانے لگی پھر سوالیہ نظروں سے زمان صاحب کو دیکھنے لگی 

زمان صاحب الجھن بھری نظر سے کبھی آمنہ کو کبھی گیراج میں کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے 

یہ ہمارے پڑوسی ہیں زمان انکل یہ میری بیوی ہے آمنہ 

سجاد نے مارے باندھے تعارف کروایا 

کیا ہوا بیٹی کیوں گھبرا گیں ؟

وہ شفقت سے پوچھ رہے تھے 

وہ بلی سے ڈر گئی تھی نکل گئی باہر 

سجاد کو کوفت سی ہی عجیب ہی سے خبطی انسان ہیں پھر تھوڑا سختی سے بولا 

ابھی آپکے سامنے سے تو گزر کر گئی ہے باہر چلو آمنہ اندر چلو 

انکی جرح سے اکتا کر اس نے کندھے سے پکڑ کر آمنہ کا رخ گھر کی جانب کیا دونوں بنا انکو اندر آنے کی دعوت دے اندر چلے گیۓ مگر زمان صاحب برا مانے بغیر الجھن سے سر جھٹک کر باہر نکل آئے 

انکی بڑ بڑ ا ہٹ واضح تھی 

مگر میں نے تو کوئی بلی نہیں دیکھی 

………………………………………………….

آمنہ گنگناتے ہوئے باورچی خانے میں چائیے بنا رہی تھی دونوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا تھا باقی گھر کی صفائی ستھرائی کل سے شروع کرنی تھی تبھی چپکے سے ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کوئی اسکے پیچھے آ کھڑا ہو گیا 

آمنہ نے مسکرا کر چائے کپ میں نکالی اور دو کپ کی ٹرے میں رکھ کر اٹھائی  اور آرام سے کہتی مڑی

مجھے پتا ہے یہ آپ چپکے سے پیچھے آ کھڑے ہوئے ہیں میں اب نہیں ڈرتی جناب 

مڑتے ہی آمنہ کی اوپر کی سانس اپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی ہاتھ سے 

ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی پیچھے کوئی نہیں تھا 

چند لمحے تو اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی اتنا شدید دھوکہ تو اسے پہلے کبھی نہ ہوا  تبھی سجاد کمرے سے بولتا ہوا نکلا سیدھا اسکے پاس چلا آیا 

لو بھئی آمنہ خوش ہو جاؤ تمہارا لاڈلا بھائی آرہا ہے رہنے تمہارے پاس پرسوں آیئیگا پورے دو مہینے کے لئے جب تک اسکی چھٹیاں ختم نہیں ہو جاتیں اب تو نہیں گھبراؤ گی اکیلے رہنے میں؟

سجاد اپنی دھن میں بول رہا تھا مگر آمنہ کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں 

کیا ہوا ایسے بت بن کے کیوں کھڑی ہو؟

اسنے چٹکی بجائی تبھی اسکی نظر سامنے کھلے نل پر پڑی تو اسے ٹوکتا ہوا اسے بند کرنے بڑھ گیا 

کیا لاپرواہی ہے آمنہ فل ٹونٹی کھلی ہویی تھی ابھی سارا پانی بہہ جاتا ٹنکی خالی ہوجاتی 

اسکے کہنے پر آمنہ نے مڑ کر دیکھا تو ٹونٹی واقعی کھلی ہی تھی 

آمنہ حیران رہ گئی پانی گرنے کی آواز کافی تھی 

مگر میں نے تو .. یہ تو بند تھی 

سجاد اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا 

ڈھیلی ہوگی ہوگی کافی عرصے سے تو بند ہے یہ مکان ہاں کل ٹنکی صاف کروا کر بھروائی ہے میں نے کافی بڑی ہے 

کہتے ہوئے اسکی ٹرے سے سجاد نے دونوں کپ اٹھا لئے اور کچن کی بتی بجھاتا اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا چائے سائیڈ میز پر رکھ دی آمنہ بے دھیانی میں خالی ٹرے اٹھائیے چلی آئ تھی

چلو چائیے پیئیں 

یہ چاہیے کا رنگ تھوڑا عجیب سا نہیں ہے 

چائے کا کپ اٹھا کر وہ حیرت سے بولا آمنہ نے آگے بڑھ کر چائے دیکھی تو واقعی رنگ عجیب مٹیالا سا سرخی مائل تھا 

سجاد نے چائے چکھی پھر برا سا منہ بنایابہت بد مزہ چائے ہے لگتا ہے یہاں کا دودھ ٹھیک نہیں کل سے ڈبے کا دودھ لیکر آئوں گا ۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔

کپ میز پر رکھتے ہوئے وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔

بے دھیانی سے بیڈ پر بیٹھتے آمنہ  نے ٹرے کی جانب نگاہ کی تو ٹرے کے خوش رنگ پھولوں پر گری ہوئی چائے اتنی خونی رنگ کی تھئ کہ جیسے ٹرے پر خون ہی گرا ہوا ہو۔ اس نے گھبرا کر ٹرے بیڈ پر رکھ دی ۔تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھئ۔ پھرڈرتے ڈرتے ٹرے کو دوبارہ دیکھا تو ٹرے پر چائے بھی نہیں گری ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح حسب معمول خوشگوار تھی۔ انہیں کراچی کی نسبت یہاں کا معتدل موسم بے حد اچھا لگ رہا تھا۔ آمنہ صبح اٹھ کر باہر صحن میں ہی ٹہلتی رہی تھی۔ صحن کے بیچوں بیچ بڑا سا گھنا درخت اس پر لٹکتا جھولا ۔۔ اس کو بچپن ہی یاد آگیا کافی دیر اس جھولے پر جھولتے اسے کافی سرور ملا تھا ۔۔ سجاد کے اٹھنے کا وقت ہوا تو جلدی جلدی ناشتہ بنا کر میز جھاڑ کر سجا دی۔ آملیٹ پراٹھے بھاپ اڑاتی گرم گرم چائے اور مسکراتی ہوئی تازہ دم سی دکھائی دیتی آمنہ۔ سجاد کا موڈ بھی ایکدم سے اچھا ہو گیا تھا۔۔ 

گرم گرم پراٹھے کا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا ۔۔ اسکے اتائولے پن پر آمنہ ہنس دی۔ پھر نخرے بھرے انداز میں بولی۔۔ 

جلدی آجائیئے گا میں اکیلی اتنا بڑا گھر ۔ وقت بھی نہیں گزرے گا میرا۔۔

اسکے انداز پر سجاد مسکرا دیا پھر تسلی دینے والے انداز میں بولا

یار پہلا دن ہے دفتر کا نا جانے باس کیسا ہو آج کا تو وعدہ  نہیں کر سکتا تم ایسا کرو گھر کی صفائی وغیرہ کر لو کافی دھول مٹی ہے کھانا باہر سے آرڈر کر لینا اور پھر بھی وقت نہ گزرے تو آس پڑوس میں چلی جانا۔۔۔ 

پھر خیال آیا تو منع بھی کرنے لگا

یہ بائیں جانب والے گھر تو بالکل مت جانا کل جو انکل آئے تھے نا وہیں سے آئے تھے بہت عجیب سے تھے ایویں فالتو باتوں کا وہم ڈال دیں گے۔۔

آمنہ اسکے پھا پھا کٹنیوں والے انداز پر کھلکھلا دی۔

بالکل پھاپھا کٹنی کی طرح کہا ہے۔ ویسے کیا کہہ رہے تھے ایسا ؟ مجھے تو ڈرے ہوئے لگے تھے جیسے ہم دونوں بھوت ہوں 

آمنہ ہنسی

سجاد نے ایک نظر اسکے متبسم چہرے پر ڈالی پھر سر جھٹک دیا

بس الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے۔وہی جو بھٹی صاحب نے قصہ سنایا تھاکہ یہاں بچی رہتئ تھی وہ گھر سے بھاگ گئ تو گھر والوں نے مشہور کر دیا کہ اسے ہوائی مخلوق لے گئ ہے۔

آمنہ نے چائے کا گھونٹ بھرا پھر تاسف سے کہنے لگی

بے چارے بدنامی سے بچنے کو اور کیا کہتے آجکل تو بچے کیبل دیکھ کر آپے سے ہی باہر ہو گئے ہیں ایک ہم تھے بابا نے جب تک بڑے نہ ہوگئے گھر میں ڈش کیبل لگوا کر نہ دیا

۔

سجاد نے ناشتہ ختم کر کے ساتھ رکھا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور اٹھ کھڑا ہوا 

ہاں بس یہی حالات ہیں چلو میں چلتا ہوں کوشش کروں گا کہ جلدی آجائوں تم گھر فون کر لینا امی کو یاد سے اور پریشان نہ ہونا دل گھبرائے تو ۔۔ 

اس نے شرارت بھرے انداز میں مسکرا کو چھیڑا

اپنی اس موٹی سہیلی کو فون ملا لینا۔۔ 

ثمیرہ نام ہے اسکا ۔ موٹی مت کہا کریں

حسب توقع وہ بھنا کر چیخی ۔

سجاد زور سے ہنسا تو اسے بھی ہنسی آگئ ۔سجاد گاڑی نکال کر اسے ہاتھ ہلاتا گیا تو وہ احتیاط سے گیٹ بند کر کے صحن میں چلی آئی۔ ارد گرد دو تین منزلہ گھروں کی وجہ سے دھوپ بس اوپری دیوار تک ہی آرہی تھی ۔ اس نے اس خنک ماحول کو گہری سانس بھر کے اپنے اندر جزب کیا پھر بڑے شوق سے دوبارہ جھولے پر جا بیٹھی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی سردی سے آنکھ کھلی  تھئ۔ جھر جھری لیکر وہ سیدھی ہوئی تو بیڈ پر لیٹی تھی۔۔ اس نے سر کھجایا۔۔ جانے کب وہ آکر یوں بے خبر سو گئ۔۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ گئ تو شام کے 7 بج رہے تھے۔۔ 

وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔ 

کھانا منگوانا تو اب ممکن نہیں تھا ۔ گروسری کا سامان تو دو دن پہلے سے سجاد نے لا رکھا تھا۔۔ وہ خود ہی کچھ پکانے کا ارادہ کرکے کچن میں چلی آئی۔ سجاد کو بڑا گوشت پسند تھا ۔ آلو بھی رکھے تھے وہ آلو گوشت ہی بنانے لگی۔۔ 

آمنہ۔۔ سجاد نے کافی اونچی آواز لگائی تھی۔۔ 

جی۔ وہ لمحے بھر کا توقف کیئے بنا ہی جواب دے گئ۔۔ پھر ٹھٹک سی گئ۔۔ یہ کب آئے۔۔ وہ حیران سی ہو کر چولہا دھیما کرتی باورچئ خانے سے باہر نکل آئی۔۔ لائونج خالی پڑا تھا۔۔ 

سجاد۔ اس نے پکارا مگر جواب ندارد تھا۔۔ وہ لائونج کے دروازے پر آئی تووہ بھی اندر سے لاکڈ تھا۔۔ 

سجاد۔ اگر آپ مزاق کر رہے تو بھونڈا مزاق ہے یہ۔۔ 

وہ گھبرا سی گئ تھی۔۔ 

آپ آگئے ہیں جلدی؟

کمرے کے کھلے دروازے سے اسے تیزی سے کوئی گزرتا دکھائی دیا۔۔ 

ایک تو یہ بچپنا نہیں چھوٹے گا۔ پتہ ہے میں اکیلے میں گھبراتی ہوں پھر بھی تنگ کرنا ہے مجھے۔۔ ہونہہ۔  

وہ بڑ بڑاتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی تبھی بڑے زور سے دستک ہوئی لائونج کے دروازے پر۔۔ 

وہ کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوئی لائونج کا دروازہ کھولنے چلی آئی۔ایک پیاری سی تیرہ چودہ سال کی بچی سر پر دوپٹہ رکھے ہاتھ میں  کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر ادب سے سلام کیا

اسلام و علیکم میرا نام مریم ہے یہ ساتھ والے گھر سے آئی ہوں وہ آپکا مین گیٹ کھلا تھا تو اندر چلی آئی۔ یہ امی نے بھجوایا ہے۔۔ 

اس نے ٹرے آگے بڑھائی۔۔ 

وعلیکم السلام کوئی بات نہیں آئو اندر تو آئو میں آمنہ ہوں۔ 

آمنہ نے بھی گرمجوشی سے اسے دعوت دی۔ گرم گرم بریانی وہ بھی بھر کر۔  وہ دل ہی دل میں انکے اخلاق کی قائل ہوئی۔۔ 

نہیں بس وہ برتن دے دیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔

لڑکی جانے کیوں سراسیمہ سی ہوگئ۔ 

ہاں دیتی ہوں برتن اندر تو آجائو میں تمہیں آئسکریم کھلاتی ہوں 

اس نے لالچ دیا۔

نہیں آپی وہ بابا منع کرتے ہیں مجھے یہاں آنے کو۔ابھی بھائی گھر میں نہیں تھا تو امی نے مجھے بھیج دیا مگر بابا کو پتہ لگا تو ڈانٹیں گے مجھے آپ بس برتن لا دیں میں یہیں ہوں۔

وہ ہتھیلیاں مسلتی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔ آمنہ نے پھر اصرار نہیں کیا۔پلٹنے ہی لگی تھی کہ مریم کی گھبرائی سی آواز آئی۔ 

آپی آپکے کچن سے دھواں اٹھ رہا ہے آگ تو نہیں لگ گئ۔ 

مریم کے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو واقعی کافی دھواں اٹھ رہا تھاوہ ٹرے اٹھائے بھاگتی ہوئی کچن میں آئی تو دیکھا ہنڈیا کے نیچے آنچ پوری تھی۔پوری ہنڈیا جل چکی تھی۔مریم بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔ ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر کھانستے ہوئے آمنہ نے ایگزاسٹ فین چلایا چولہا بند کیا پچھلے صحن کا دروازہ کھولا۔

دھواں بہت ذیادہ تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔ 

دھوئیں دھوئیں میں اچانک آمنہ سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ پلٹ کر مریم کو دیکھ کر غرائئ

کہا تھا نا تمہیں یہاں مت آنا۔۔ سمجھ نہیں آتی میری بات۔۔ 

مریم گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔ 

آپ۔ آپ نے ہی تو بلایا۔۔ وہ خوف کے مارے پیلی پڑ گئ تھی۔ 

جائو نکلو یہاں سے دوبارہ مت آنا یہاں سمجھیں۔۔ 

آمنہ حلق کے بل چلائی۔۔ تھر تھر کانپتی مریم الٹے سیدھے قدم اٹھاتئ باہر بھاگی۔۔

اف کیسی غلطی ہوئی سارا کھانا جل گیا۔ بروقت آئی ہو تم بھئ۔ اب ہم دونوں میاں بیوی یہی کھائیں گے۔۔ 

خوشگوار انداز میں کہتی وہ مڑی تو مریم وہاں نہیں تھی۔ دھواں چھٹ چکا تھا وہ حیران ہو کر کچن سے نکلی تو مریم کو بھاگتے ہوئے لائونج کے دروازے سے نکلتے دیکھا 

ارے کیا ہوا۔۔ مریم۔۔ برتن تو لیتی جائو۔  

اسکی آواز سن کر مریم نے بنا مڑے اور تیزی سے دوڑ لگا دی تھی۔گیراج کے کھلے دروازے سے سجاد گاڑی اندر کر رہا تھا مریم گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر رکی نہیں باہر بھاگ گئ۔سجاد حیران سا گاڑی پارک کر کے باہر نکلا۔ 

آمنہ بھی حیران سی لائونج کے دروازے پر کھڑی اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گئ۔ 

تم کیا اس بچی کو مار رہی تھیں۔ اتنا کیوں گھبرائی ہوئی ہے؟

آمنہ خود اچنبھے میں تھی۔

 پتہ نہیں کیا ہوا اسے بریانی لیکر آئی تھی۔اس سے باتوں میں لگ کر میری ہنڈیا جل گئ شائد دھواں دیکھ کر گھبرا گئ۔۔

آمنہ نے تفصیل سے بتایا تو سجاد ہنس پڑا

یعنی ہم اب باہر ڈنر کریں گے۔کھانا ہی جلا دیا تم نے 

اس نے چھیڑا تو آمنہ اسکا بیگ لیکر بتانے لگی 

نہیں کافی ساری بریانی بھجوائی ہے پڑوسیوں نے ہم دونوں آرام سے کھا لیں گے۔

دونوں باتیں کرتے اندر چلے آئے۔ 

اور کیسا گزرا دن میرے بن 

سجاد گنگنایا۔۔ 

آمنہ کھلکھلا دی

بہت اچھا۔۔ صفائی وفائی کچھ نہیں کی بس آرام سے جھولا جھولتی رہی پھر سوگئ۔۔ 

آمنہ کا رخ کچن کی جانب تھا۔ سجاد نے مسکراتی نظروں سے لائونج کو دیکھا کل کی نسبت آج چمک رہا تھا ۔۔ 

جھولا کہاں جھولتی رہیں۔ 

اسے یہی لگا مزاق کر رہی ہے۔ 

وہ جو صحن میں لگا ہے درخت کے نیچے۔ وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر کچن میں چلی گئ۔ 

وہ مڑ کر دروازہ بند کرنے لگا تو صحن کا منظر واضح تھا۔۔ 

صاف ستھرا پکا فرش۔ وہاں نہ کوئی درخت تھا نہ جھولا۔۔

وہ مسکرا دیا۔۔ یقینا سارا دن کام کرنے کے بعد اب وہ طنز کر رہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کرنے لگا۔۔ 

طنز کر رہی ہو آمنہ۔ آج میری بیگم نے بہت کام کیا سو آج رات کو میں اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پلائوں گا۔۔ 

کچن میں بریانی کو پلیٹوں میں نکالتی آمنہ ٹھٹکی

سجاد تو ابھی میرے سامنے اندر آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ملگجے سے اندھیرے میں جھولا جھول رہی تھی۔

اسے یاد نہیں تھا کہ وہ صبح صبح یہاں آئی تھی یا رات کو۔ 

اچانک اسکی پینگ اونچی ہونے لگی۔

وہ ڈرنے سی لگی۔ اوپر بہت اوپر جاتی نیچے آتی تو ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی گھورتی نظر آتی۔

ایک چکر پر نظر آتی دوسرے پر نہیں۔

اس نے چیخنا شروع کردیا۔ جھوکا آہستہ ہوا وہ اچھل کر کود گئ۔۔ گھٹنے چھل گئے وہ گھٹنا سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی

وہی لڑکی عین سامنے کھڑی تھی

کیوں آئی ہو یہاں۔۔ چلی جائو ۔۔ سمجھیں جائو یہاں سے۔۔ ورنہ یہیں رہ جائوگئ۔۔ 

سمجھ رہی ہو میری بات؟۔۔۔

وہ عجیب بھرائی آواز میں چلا رہی تھی۔۔ یوں جیسے اسکا گلا بیٹھا ہو ۔۔ 

آمنہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہوئی۔۔

وہ لڑکی بدستور چلا رہی تھی وہ ڈر کر پیچھے ہٹی وہ لڑکی ایکدم یوں چپ ہوئی جیسے اسے نجانے کیا نظر آرہا ہو آمنہ کے عقب میں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے سجاد کھڑا تھا ۔۔وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئ تو وہ لڑکی جیسے ہوش میں آکر چلائی

دور ہو جائو اس سے

یہ لے جائے گا ساتھ سن رہی ہو تم میری بات

وہ سجاد سے لپٹ کر رو دی۔

سجاد نہ سمجھنے والے انداز میں اسے  اپنے ساتھ لگائے پوچھ رہا تھا

کیا ہوا آمنہ اتنی خوفزدہ کیوں ہو؟ 

سجاد وہ وہ لڑکی۔ اس نے مڑ کر اشارہ کیا تو اب وہاں کوئی نہ تھا۔ 

تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟ 

چلو اندر۔  وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لایا تھا۔  

بیڈ پر بٹھاکر سائیڈ لیمپ جلایا جگ سے پانی نکال کر اسے دیا۔ وہ پسینے پسینے ہو رہی تھی گلا بے حد خشک ہو رہا تھا ایک ہی سانس میں وہ سارا پانی پی گئ۔۔ 

وہ وہ لڑکی تھی باہر جھولا جھول رہی تھی میں تو وہ۔۔ 

ٹوٹے پھوٹے انداز میں اس نے بتانا چاہا تو سجاد مسکرا کر ٹال گیا۔۔ 

رات کے تین بجے صحن میں جھولا جھولو گی تو کچھ الٹی سیدھی مخلوق ہی نظر آئے گی نا؟ 

آمنہ اسکی بات پر چونک کر وال کلاک دیکھنے لگی تین بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔۔ 

مگر میں تو ۔۔ اسے جانے کیوں یاد نہیں آرہا تھا وہ کب صحن میں گئ۔ وہ تو گیارہ بجے بستر پر سونے لیٹی تھی۔۔ 

اسکی پیشانی الجھن بھری لکیروں سے بھر گئ۔ 

چلو سو جائو۔  سجاد نے اسے زبردستی لٹا دیا۔ شل زہن کے ساتھ وہ لیٹتے ہی غنودہ ہونے لگی۔ وہ اسکا شانہ تھپک کر چادر اڑھا رہا تھا جب باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔ سجاد تولیہ سے ہاتھ پونچھتا ہوا آیا ۔۔آمنہ کا بازو بستر سے لٹک رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سیدھا کیا۔۔ غنودہ زہن میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ یہ لمس مانوس ہے مگر اس سے پہلے والا۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سجاد کو حسب عادت سی آف کرنے گیٹ تک آئی سجاد گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب آمنہ کی نظر صحن پر پڑی۔گاڑی اسٹارٹ کرتے سجاد کو یاد آیا۔ 

اچھا سنو میں دفتر سے لنچ بریک میں اٹھ کر باری کو لینے چلا جائوں گا تم کھانا تیار رکھ لینا ہم اکٹھے دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 

آمنہ ایک ٹک صحن پر نگاہ جمائے تھی۔ 

اسکی بے توجہی محسوس کرے وہ پھر بولا۔ 

سن رہی ہو۔۔ 

آمنہ چونکی۔پھر پسنجر سیٹ سے اندر جھانک کر بتانے لگی

سجاد رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا میں نے۔ اس درخت کے جھولے پر میں  بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی آئی مجھے کہنے لگی بھاگ جائو ورنہ وہ تمہیں ساتھ لے جائے گا۔

آمنہ پریشان تھی۔ سجاد نے الجھن سے دیکھا صحن میں تو کوئی درخت نہیں تھا۔ مگر وہ اسے پریشان کیا کرتا خواب میں تو کچھ بھی نظر آتا ہے۔ 

خواب سے ڈر رہی ہو پاگل لاحول پڑھنا تھا۔ خواب میں تو کچھ بھئ نظر آسکتا اور اسکے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں ۔ کل نماز نہیں پڑھئ تھی کیا؟ 

اسکے پوچھنے پر اس نے شرمندگی سے نفی میں سر ہلایا۔  

سجاد نے تاسف سے دیکھا آمنہ کا منہ اترا ہوا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اسے ترس آگیا۔ سو  بہلانے والے انداز میں بولا۔۔ 

آج ضرور پڑھنا۔ آیت الکرسی پڑھ کر پھونک لو خود پر۔ اور مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری نیند بھی پوری نہیں ہوئی جائو سوجائو تھوڑی دیر۔ اٹھ کر کھانا بنا لینا بلکہ باری بھی فاسٹ فوڈ شوق سے کھاتا ہے میں باہر سے ہی کھانا لیکر آئوں گا۔ ٹھیک ہے۔

آمنہ چپ رہی سر ہلا دیا۔ سجاد نے گاڑی ریورس کی مسکرا کر خدا حافظ کہتے گاڑی نکال کر لے گیا۔ 

آمنہ گیٹ بند کرنے لگی تو ساتھ والے گھر سے زمان صاحب کو مریم کو سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھاتے دیکھ کر چونکی۔ مریم کے بال براق سفید ہو رہے تھے ۔۔ 

ابھی کل۔۔ وہ بری طرح چونکی۔۔ 

ایک ادھیڑ عمر عورت بھی انکے ساتھ تھی۔۔ 

اس نے مخاطب کرکے خیریت پوچھنا چاہی مگر وہ بے حد جلدی میں تھے تیزی سے بیٹھ کر چلے گئے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔    

وہ کمرے میں آکر لیٹ گئ۔  آیت الکرسی پڑھ لوں۔ اس نے سوچا مگر اسکا ذہن اتنا غنودہ ہو چلا تھا کہ پڑھ نا سکی۔۔ 

بے خبر سوگئ۔۔ جانے کتنی دیر سوئی ہوگی جب اسے کچھ آوازیں سنائی دیں۔جیسے بچے کھیل رہے ہوں۔ 

شور اتنا ذیادہ تھا کہ اسکی آنکھ کھل گئ۔ کمرے میں شدید گھٹن تھی۔ اسکا حلق بھی خشک ہو رہا تھا۔۔ وہ سن سے ذہن کے ساتھ جیسے کسی ٹرانس میں اٹھی اٹھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹایا باہر جھانکا تو کچھ بچے کھیل رہے تھے فٹ بال اچھالتے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھےایک بچی جھولا جھول رہی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر دیکھا تو مریم تھی۔ مریم نے مڑ کر اسے دیکھا پھر خوشدلی ہاتھ ہلا کر اسے بھی بلانے لگی ۔ وہ مسکرا دی۔ 

شکر ہے اب طبیعت ٹھیک ہے اسکی۔ 

اسے صبح واقعی فکر ہوئی تھی۔ 

آج بھی گیٹ کھلا رہ گیا کیا جو یہ بچے اندر چلے آئے۔وہ باآواز بلند سوچتی کھڑکی بند کرکے مڑی تو سامنے وہی خواب والی لڑکی کھڑی کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھی۔

آمنہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی۔ وہ لڑکی دو قدم آگے بڑھ کر غرائی

سمجھ نہیں آتی بات تمہیں۔ کہا تھا نا بھاگ جائو وہ لے جائے گا تمہیں بھی۔  اٹھو جائو نہائو نماز پڑھو

وہ آگے بڑھی تو آمنہ پیچھے ہٹتی لڑکھڑا کر گر بھی گئ۔۔ 

اٹھو۔۔ وہ اگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا رہی تھی۔خوف کے مارے آمنہ کی آواز بند ہونے لگی۔تبھی اسے سجاد نے پکارا دھیمی سی آواز مگر کہیں قریب سے ہی

آمنہ۔۔

سجاد۔ وہ آواز پہچان کر قوت سے چلائی۔۔ 

آمنہ باہر آئو۔ جلدی

۔ سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا۔۔

لڑکی کے چہرے پر خوف سا در آیا۔

مت جواب دو مت جائو رک جائو۔۔ 

وہ کہہ رہی تھی آمنہ نے ساری ہمت مجتمع کی اور بھاگ کھڑی ہوئی

سجاد لائونج کے دروازے پر کھڑا تھا   

آمنہ ہانپتی کانپتی اسکی جانب بڑھی تبھی لڑکی ایکدم اسکے سامنے آگئ۔  

رک جائو مت جائو میرے ساتھ اندر چلو۔۔

آمنہ اسے دیکھ کر دہشت زدہ رہ گئ۔۔ 

آئو آمنہ۔۔ سجاد نے پھر پکارا ۔ آمنہ لڑکی کے پاس سے ہو کر باہر بھاگی سجاد اب دروازے پر نہیں تھا۔ وہ بھاگتی باہر آئی تو صحن سنسان پڑا تھا۔نہ بچے تھے نہ مریم۔ سجاد گھبرایا ہوا گیٹ کے پاس بے چینی سے کھڑا باہر جھانک رہا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آگئ۔سجاد نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔  گھبراہٹ کے مارے اسکی حالت بری تھی۔مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی لائونج کے دروازے پر کھڑی گھور رہی تھی۔ 

تم ٹھیک کہہ رہی تھیں آمنہ یہ لڑکی یہیں رہتی ہے۔ یہ گھر ٹھیک نہیں ہمیں فورا یہاں سے نکلنا چاہیئے۔ 

سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا آمنہ نے سجاد کا ہاتھ تھاما اور اسکے ساتھ گھر سے باہر نکل گئ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا باری نے دونوں گیٹ پٹ کھولے سجاد نے دھیرے سے گاڑی اندر کی باری اتنے میں گھوم کر گھر کر جائزہ لینے لگا۔۔ 

سجاد گاڑی کی بیک سیٹ سے کھانے پینے کا سامان نکالنے لگا

سجاد بھائی گھر تو شاندار ہے پرانی فلموں میں ہوتا ہے ایسا گھر آپی بتا رہی تھیں جھولا بھی ڈال رکھا ہے۔ کل جب بات ہوئی تو جھولا ہی جھول رہی تھیں۔

جھولا کہاں ڈل سکتا ہے ؟ ہاں اگر تمہاری آپی کو بہت شوق ہے تو اسٹینڈ والا جھولا ڈال لیں گے صحن میں جگہ تو کافی ہے ۔۔

سجاد نے کہا تو وہ منہ بناتے بولا

پچھلے صحن کی بات کر رہی ہوںگی پھربتا رہی تھیں درخت کے نیچے جھولا ڈال رکھا ہے ۔آپی نے کل وعدہ لیا مجھ سے 

کہ انکو پینگ دینے کی ذمہ داری ہے میری۔۔

اسکی بات پر سجاد نے ٹھٹک کر دیکھا۔۔مگر بولا کچھ نہیں

چلو اندر چلیں صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا آمنہ نے خوب بھوکی ہو رہی ہوگی۔۔ 

آمنہ۔ سجاد پکارتا اندر کی جانب بڑھا تو باری نے بھی پیروی کی۔

صحن میں لگے درخت کے نیچے جھولا جھولتی آمنہ بے تاثر چہرے کے ساتھ ان دونوں کو دیکھتی رہی۔ پھر پینگ لینے لگی۔۔

آمنہ آمنہ۔  کہاں ہو۔۔ سجاد پکار رہا تھا

آپی آپی۔۔ باری بھی اسے ایک ایک کمرے میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔

پہلے آرام سے ہھر پریشانی سے دونوں چیخ چیخ کر پکارنے لگے تھے۔۔۔ 

آمنہ کی پینگ اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی تھی۔

اندر دونوں نفوس دیوانہ وار پکار رہے تھے۔ آمنہ کا فون بج رہا تھا۔۔

اندر کمروں کے دروازے کھل بند ہو رہے تھے۔۔ 

آمنہ نے اونچی سی پینگ لی آخر میں جھولا خالی واپس آیا تھا۔۔۔

ختم شد۔۔       

“>> » Home » Afsanay (short urdu stories) » horror urdu stories » Aasaibi makan…آسیبی مکان

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *