۔۔۔
اسلام و علیکم۔
(روتے ہوئے)۔
آج میں آپکو اپنی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ ذیادہ وقت نہیں لوں گی بس اپنی تباہی کی داستان سنانا ہے مجھے۔ آج میں ڈھے گئ ہوں
مٹی کا ڈھیر
بن گئ ہوں
میں آج خود اپنے بوجھ سے گر کر ٹوٹ گئ ہوں۔
مجھے آج احساس ہوا ہے کہ میں تو بالکل بے کار سی ہوں۔ مجھ سے ہر لمحہ لپٹی رہنے والی میری اولاد جیسی بیل آج میرے گرنے سے مجھ سے ہی دب گئ۔ صرف وہ جانتی تھی کہ میں کتنی کھوکھلی ہوتی جا رہی ہوں ۔۔ اس نے کبھی کسی کو نہ بتایا میری خستہ حالی کے بارے میں۔ اسکی اپنی جان کو خطرہ تھا مگر پھر بھی مجھے اس نے تنہا نہ چھوڑا۔۔او رآج وہ میرے بوجھ سے۔۔
(آنسو)
آپ سوچتےہوں گے ایک بے پھول کی معمولی بیل کے ختم ہو جانے پر رو رہی ہے کیسی پاگل ہے۔ صرف بیل تو نہیں
مجھ سے اکثر کتے بلیاں لپٹ جاتے تھے۔ میرے سائے میں پناہ لیا کرتے تھے کرلاتے تھے۔ ان سب کا درد مجھ میں رچ بس جاتا تھا مگر میں ایک لفظ نہ بولی۔
آتے جاتے لوگ مجھ پر کوڑا کرکٹ ڈال جاتے تھے۔ ادھ کھایا برگر ، جوس کے خالی ڈبے گلے سڑے پھل۔ میں نے کبھی شکایت نہ کی بلکہ ہمیشہ احسان مانا کہ کوڑا چننے والے بچے ، مزدور بچے سارابھوکے دن پھرتے پھراتے اس میں سے ہی کچھ نہ کچھ چن کر پیٹ بھر لیتے تھے۔
میں ان بچوں کو خوش دیکھتی تھی تو یہ کوڑا کرکٹ مجھے دل سے عزیز ہوجاتا تھا۔
اس دن۔۔ البتہ مجھے اپنے خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے ہوئے اپنے وجود سے شرم آئی۔
وہ ایک مجبور سی معصوم سی چھوٹی سی بچی مجھ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ وہ کوئی بھکاری نہیں تھی سڑک پر پھول بیچ کر اپنے ننھے ہاتھوں سے بھی رزق حلال کمانے کی کوشش کرتی تھی کہ اس شقی نے ۔۔۔
( ہچکیاں آنسو) آنسو پونچھ کر
زرا رحم نہیں کیا تھا اس بچی پر۔
میرا دل پتھر کا تھا مگر یقین جانیئے اس دن ٹوٹ گیا تھا۔۔ او رصرف یہی نہیں ۔۔
(جزبات )
اس کے کچھ دن بعد کا واقعہ ہے
وہ نوجوان لڑکا یونہی جا رہا تھا اپنے راستے کہ دو لوگ موٹر سائکل پر آئے اسکی کنپٹی پرپستول رکھ دیا ۔ جانے کن جتنوں سے پیسہ پیسہ جوڑ کر موبائل لیا ہوگا کہ موبائل نہ دیتے ہوئے مزاحمت کر گیا ان ظالموں نے میری آنکھوں کے سامنے اسکوگولی ماردی ۔۔
(آنسو ہچکیاں)
اسکے لہو کے چھینٹے آئےتھے مجھ پر کیا بتائوں مجھ میں قیامت سی ایک مچی تھی۔۔
اسی پر بس نہیں نفرت نعرے تفرقے تم میں سے کسی کو احساس بھی نہ ہوا
میں ڈھے رہی تھی ان باتوں سے مجھ پر جو تم لکھ
جاتے تھے۔
بیس سال فقط بیس سال عمر تھی میری اور میں یوں ٹوٹ کر بکھر چکی ہوں گر گئ ہوں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ میں
اب گر گئی ہوں توتم ہی لوگ حیران ہوتے ہو کہ ایسا کیسے ہوگیا میری یوں ٹوٹ بکھرنے کی کیا وجہ رہی؟ میری حالت تو اچھی تھی۔۔
مگر میں آج گری نہیں ہوں۔میں آج ختم ہوگئ ہوں۔ تم سب لوگوں کی وجہ سے مگر تم میں سے کسی کو احساس نہیں ہوا۔
مگر جو کچھ مجھ پر بیتا ہے وہ تم سب کا کیا ہے۔ اب بھی باز آجائو۔ اب بھی۔۔۔ خدارا ۔
اپنے لیئے ایسے کیسے جی پائو گے ۔؟ اپنی نسلوں کو کیا دے جائو گے؟
میرا انجام دیکھو عبرت پکڑو ۔ مگر نہیں تم سب کو مجھ سے میری حالت سے کیا غرض ۔۔۔
میں تو بس تمہارے شہر کی ایک۔۔۔
ڈھے جانے والی دیوارہوں ۔
Category: Urdu Mukalmay
اردو مکالمہ اردو کی وہ صنف ہے جس میں دو کرداروں کی اپس میں باہمی گفتگو ذریئے
کوئی معاشرتی اصلاحی پیغام دیا جاتا ہے یہ افسانے سے مختلف ہوتا ہے اور محض سوال جواب پر مشتمل ہوتا ہے اس صنف میں ہم مکالمے پیش کر رہے ہیں امید ہے آپکو پسند آیئنگے
-
Dewaar e Shehr ka noha urdu short afsana
Dewaar E Shehr ka Noha -
Ayena khanay main short urdu mukalmay
گھمنڈی کی باتیں
آج کے ہمارے مہمان ہیں
گھمنڈی امیر۔۔
آئیے ان سے انکے بارے میں جانتے ہیں۔
میرا نام امیر ہے۔ بے حد دولت مند گھرانے سے ہوں۔ سب مجھے گھمنڈی
کہتے ہیں۔
سوال : کیا کرتے ہیں
جواب:( استہزائیہ ہنستے ہوئے) میں سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوا تھا۔
میرا کام صرف عیاشی کرنا ہے۔ وہی کرتا ہوں۔
سوال: اپنی ایک خوبی ایک خامی بتائیں
جواب: خامی آپکو لگتا ہے مجھ میں کوئی خامی ہوگئ۔
او رخوبی کیا کیا بتائوں۔ ہینڈسم ہوں ہائیٹ اچھی ہے پیسے والا ہوں ہر چیز ہمیشہ اسٹینڈرڈ کی ہوتی ہے میرے پاس۔۔
سوال:بچپن کا کوئی واقعہ جو بھول نہ پائے ؟
ہاں ایک بھکاری کو تھپڑ مارا تھا ( ہاہا) بھکاری نے بابا کے پاس جا کر شکایت کی تو انہوں نے بھی جوابا اسے اور مارا( ہا ہا ہا)
بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔
ایک بار اپنے والد کے ایک کارخانے میں انکے ساتھ گیا تھا۔ کھیلتے کھیلتے میں نے اخراجی پائپ کے پاس جا کر لائٹر جلا دیا تھا۔ آگ لگ گئ مگر بس دو تین ہی مزدو رجلے تھے۔باقی ملازمین ابا نے فارغ کر دیئے تھےکہ انہوں نے میرا خیال کیوں نہیں رکھا۔ میں جل جاتا تو۔
سوال:زندگی میں کیا نہیں ملا۔
جواب: سوچنا پڑے گا۔ ( ذہن پر ذور ڈالتے ہوئے
(
ہاں غم۔۔۔
سوال: سونے سے پہلے کیا سوچتے ہیں؟
سونے سے پہلے سوچا جاتا ہے ؟( حیران ہوتے ہوئے) غریب سوچتے ہیں۔ ہم تو بستر پر جاتے ہیں سکون سے اے سی آن کرکے سو جاتے ہیں
سوال: کیا چیز مزاج کو ناگوار گزرتی ہے؟
جواب:گندے میلے لوگ۔خاص کر کبھئ بابا کے دفتر جائوں تو ۔ جانے کیوں بڑی گاڑی دیکھتے ہی منڈلانے
لگتے ہیں۔ہاتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں یاک
( گھن کھاتے ہوئے)
سوال :کوئی سستا تحفہ دے دے تو کیا کرتے ہیں؟
جواب : سستا؟ہاں پانچ چھے ہزار والا پرفیوم دیا تھا ایک دوست نے میں نے نوکر کو دے دیا تھا۔ اب مجھے تحفہ دو تو میرے اسٹینڈرڈ کا تحفہ دینا چاہیئے نا۔میں تو امپورٹڈ چیزیں استعمال کرتا ہوں ۔۔اس دوست سے دوستی ختم کرلی ہے میں نے۔
سوال :غریب لوگوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب : حقارت سے۔( منہ بنا کر ) او رکیسے دیکھا جا
سکتا۔جانے غریب لوگ ہیں کیوں اتنے دنیا میں ایویں غربت پھیلا رکھی ہے۔
سوال:کبھئ کسی لڑکی سے پسندیدگئ کا اظہار کیا؟
جواب:مجھے کیا ضرورت ہے۔پیسے والا ہوں ایک سے ایک لڑکی ویسے ہی میرے آگے پیچھے رہتی ہے
سوال: کیا چیز بور کرتی ہے؟
جواب: ابا کی کاروباری ملاقاتوں میں۔ یہ جو دو ٹکے کے سیکٹری پی اے ہوتے انکی خوشامدی باتیں برداشت نہیں ہوتیں
سوال: آپ اتنے خوش نصیب ہیں لوگ محبت سے ملتے ہیں کیا خیال آتا ہے ذہن میں؟
جواب:سب میرے پیسے کی وجہ سے انسیت جتا رہے ہیں
سوال :تنہائی میں کیا خیال آتا ہے؟
جواب : اب کس ملک کی سیر کو جائوں؟
سوال : ہمارے اس سیگمنٹ میں آکر کیسا لگا؟
جواب : گھٹیا پروڈکشن ہے سب چیزیں سستی سی ہیں کیمرہ لائٹنگ سب گھٹیا ہے۔ اپنے سیٹ پر تھوڑے پیسے خرچ کرلیں۔۔
My name is Rich. I am wealthy. Everyone calls me arrogant.
Question: What do you do?
Answer: I was born with a golden spoon in my mouth. My only job is to indulge in luxury. That’s what I do.
Question: Any memories from childhood?
Yes, once I went with my father to one of his factories. While playing, I accidentally lit a lighter near a gas pipe. A fire broke out, but only a few workers were there. The rest of the employees had already left, without caring about my well-being. If I had burned, it wouldn’t have mattered to them.
Question: What did you not find in life?
Answer: I have to think about that. (Putting emphasis on thinking)
Question: What do you think before sleeping?
Before sleeping, one does think, right? The poor think. We just lie down on our bed, turn on the AC, and fall asleep peacefully.
Question: What annoys your mood?
Answer: Dirty and low-class people. Especially when I go to my father’s office, they start staring as soon as they see a luxury car. They try to shake hands or something.
Question: What do you do if someone gives you a cheap gift?
Answer: Cheap? Yes, once a friend gave me a perfume worth five to six thousand. I gave it to my servant. Now, if someone gives me a gift, they should give me something of my standard, right?
Question: How do you see poor people?
Answer: With contempt. (With a disdainful expression) Oh, how can you even look at them? I wonder why they spread poverty in this world for no reason.
Question: Have you ever expressed liking for a girl?
Answer: What do I need that for? I have money. Girls are always behind me for no reason.
Question: What makes you bored?
Answer: My father’s business meetings. I can’t tolerate the greetings and conversations of these two-penny secretaries.
Question: You are so fortunate; people meet you with love. What crosses your mind?
Answer: Everyone sticks around me because of my money; they pretend to be friendly.
Question: What comes to your mind when you’re alone?
Answer: Which country should I visit now?
Question: How did you find our segment?
Answer: It’s a lousy production. Everything is cheap here, the camera, the lighting, everything is lousy. Spend some money on your set.