Blog

  • The Captivating Persona of the Heroine in Urdu NovelPhurteeli Heroin Episode 1

    s

    آپ سب کے بے حد اصرار پہ ایک نئی رومانٹک کہانی۔۔۔۔



    ‎اچانک سے لڑکی کے اپنے ایجاد کردہ فون پہ روشنی جگمگائی، اس نے دیکھا تو اس کے مریخ والے کزن کا میسج تھا، دل میں یکایک ایک انجانی خوشی و مسرت کا احساس ابھرا، اس نے میسج دیکھا “چاند سے پیاری لڑکی کو جشنِ آزادی مبارک”، میسج پڑھ وہ بے اختیار مسکرا اٹھی، اس کے مسکرانے سے ہونٹوں کے درمیان سے اس کے دانتوں کی جھلک نظر آئی، اس جھلک سے اس قدر روشنی پھوٹی کہ یکدم سے اس روشنی سے پورا گاوں جگمگا اٹھا، گاوں کے لوگ سمجھ گئے کہ “جہنمیلا ” مسکرا رہی ہے،

    ‎ اس نے موبائل جونہی رکھا تو بیٹری لو کی وارننگ آئی، “افففوہ گاوں کا ٹرانسفارمر تو پچھلے چھ دن سے خراب ہے، اب کل چودہ اگست ہے، کس طرح ہوگا سب کچھ”، وہ بہت حساس مزاج کی مالکہ تھی اسے خود سے زیادہ دوسروں کی فکر رہتی تھی، اسی کشمکش میں وہ جمپ لگا کر اٹھی اور بجلی کے مخملی پول پر چڑھ گئی۔
    ‎دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے ٹرانسفارمر ٹھیک کر دیا۔
    ‎ گاوں کی بجلی بحال ہوگئی
    ‎اس نے گھر آکر شکرانے کے طور پہ 20 منٹ میں 200نفل ادا کئے۔۔
    ‎پھر جاکر اس نے اپنا موبائل چارجنگ پہ لگایا، جب تک موبائل چارج ہوتا اس نے سب بہن بھائیوں اور اپنے ابا کے ہرے اور سفید کپڑے سلائی کیے، ۔
    ‎ اس کی لمبی لمبی مخروطی انگلیوں پہ سلائی جچتی بھی بہت تھی، جونہی سب کے کپڑے اور گاؤں کے ہر گھر کی چھت پہ لہرانے کے لئے جھنڈے سلائی کرکے فارغ ہوئی تو اسے یاد آیا کہ اسے ابا کے سنگ مرمر جیسی ٹنڈ پر مہندی بھی لگانی ہے 😄وہ ایک چھلانگ لگاکر دوڑی اور گاؤں کے پیچھے جنگل سے مہندی کے پتے توڑ کے لائی پتے پراسس سے گُذار کے مہندی تیار کی اور پندرہ منٹ کے اندر
    ‎پہلے اس نے اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگائی، ابا کی ٹنڈ رنگی اور مہندی لگا نے کے بعد اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کے بال کاٹے، وہ پارٹ ٹائم موچی جو تھی، اتنی دیر میں موبائل بھی چارج ہوچکا تھا، اس نے میسج کمپوز میں اپنے مریخ والے کزن کا نمبر لگایا، نمبر دیکھتے ہی اس کے رخساروں پہ حیا کی سرخی دوڑ گئی، میسج کمپوز کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔ پھیپھڑے پھولنے لگے۔۔۔، اس نے اپنے کزن کو “خالی میسج” کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ پاکیزہ جذبات کے اظہار میں الفاظ کی کھرچن ضروری نہیں ہوتی۔۔۔۔
    اور اسی لئے اپنے مہندی لگے ہاتھوں کی جگہ ابا کی مہندی لگی ٹنڈ کی تصویر کزن کو روانہ کردی کیونکہ کے اسے کامل یقین تھا کہ اسکا دیوانہ اسکے ہاتھوں کی چُمی لیکر اسکی پاکیزہ محبت کو ناپاک کرنے کی کوشش ضرور کریگا
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔


    Kesi lagi apko phurteeli heroin ki pehli qist? Rate us below

    Rating


    #پھرتیلی_ہیروئن_ناول

    Home » Urdu Novels » Phurteeli Heroin » The Captivating Persona of the Heroine in Urdu NovelPhurteeli Heroin Episode 1

  • Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 39

    Salam korea by

    vaiza zaidi

    قسط 39

    وعلیکم السلام ، میں ٹھیک آپ یہاں کیسے۔؟ 

    تھوڑا اٹک کر سہی اس نے ہنگل میں پوچھا تھا۔ علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

    چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔ 

    ہاں ظاہر ہے۔ اریزہ کھسیائی۔ احمقانہ سوال تھا۔ 

    اس نے فون بند کردیا تھا۔

    کھانا کھاچکی ہو؟

    وہ اپنے لیئے کھانا لیکر آیا تھا اخلاقا پوچھا۔ وہ سوچ میں پڑگئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریستوران کے اوپر بنے کمروں میں سے ایک میں وہ رہ رہا تھا۔ راستہ ریستوران کے ایک کونے سے اوپر کو جاتا تھا۔ اس نے چابی سے تالہ کھولا اور لائٹ جلا دی۔ ریستوران اس وقت خالئ پڑا ہوا تھا۔ سب سے پہلی قریبی میز پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ خود اندر سے پلیٹیں چمچ لیکر آیا تھا۔

    اسے کورین بلیک بین نوڈلز کہتے ہیں۔ یہ عموما حلال نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساس میں بھنا ہوا سور شامل ہوتا ہے لیکن میں یہاں قریبئ ڈھابے میں جا کر خود اپنے لیے بنا کر لایا ہوں۔ 

    وہ بات برائے بات بتا رہا تھا۔

    اس نے سر ہلا دیا۔ اچھی خاصی مقدار میں کھانا تھا۔اس نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں نکال لیا۔

    کبھئ لال لوبیے کا سالن نوڈلز کے ساتھ نہیں کھایا تھا ہاں چاول کے ساتھ اکثر امی بناتی تھیں خاصا مزے کا بناتئ تھیں۔

    وہ بہت مہارت سے چاپ اسٹکس کا استعمال کر رہا تھا۔ وہ کانٹے میں نوڈلز پروتی تو لوبیا بھاگ جاتا۔

    اسکی جد و جہد کو دیکھتے علی کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی تھی۔ جسے وہ خوبی سے چھپا گیا۔

    میں نہیں کھا سکتی۔ اس نے پلیٹ پرے کردی۔

    مجھے خود سے گھن آرہی ہے۔

    اسکی شکل پر حقیقتا بے چارگئ تھئ۔

    تم اتنا محسوس کیوں کر رہی ہو؟ تم نے جان بوجھ کر تو نہیں کھایا۔ غلطی ہو جاتی ہے۔اسی وقت  الٹی کرلیتیں۔ اتنا وہم ہو رہا تھا تو

    علی نے سبھائو سے کہا تو وہ شرمندہ لہجے میں بولی

    مجھے خیال نہیں آیا۔ میں نے خود کو یہی سمجھایا غلطی ہوگئ بھوک میں تو مردار بھی حلال ہوجاتا مگر مجھے الٹی کر لینی چاہیئے تھی۔ وہ مایوس نظر آرہی تھی۔ پھر خیال آیا تو جوش سے بولی

    اب کرلوں؟

    کھانا کھائے کتنا وقت ہوگیا؟

    علی سنجیدگئ سے پوچھ رہا تھا۔

    دو تین گھنٹے ہوگئے۔

    اس نے اندازا سامنے وال کلاک کو دیکھتے بتایا اس وقت رات کے سوا بارہ ہو رہے تھے۔

    اسکے چہرے کو دیکھتےعلی کو شرارت سوجھئ۔ چاپ اسٹکس رکھ کر تاسف سے سر ہلاتے بولا۔ 

    کھانا تین گھنٹے میں ہضم ہو جاتا ہے۔ اب تو سور کے اجزاء تمہارے خون تک جا چکے ہوں گے۔ ہر آرگن تک توانائی پہنچ چکی ہوگی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

    اریزہ کا رنگ واضح طور پر اڑا تھا۔ آنکھوں میں پانی در آیا۔

    ہیں ۔۔ یعنئ سور میرے خون میں بھی سرائیت کرچکا ہوگا اب تک؟مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ۔ 

    اس نے میز پر کہنیاں ٹکا کر ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا شائد رونے ہی والی تھئ۔  علی بھونچکا سا اسکو دیکھتا رہ گیا۔

    دیکھتے ہی دیکھتے اسکے گرد کا منظر بدلتا گیا۔ گائوں کے عام سے فرنیچر والے معمولی ریستوران کی جگہ سیول کے ایک لگژری ہوٹل نے لے تھی۔ اسکے مقابل اب  اریزہ کی جگہ رچل نے لے لی تھی دھیمے بجتے پیانو خوابناک ماحول  رچل کا پسندیدہ پاستا اور اسٹیک سامنے سجا تھا جب اس نے ہلکا سا گلا کھنکارا تھا اور اسے کہا تھا۔ 

    رچل ہمارے ساتھ کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں میں اب یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں مزید اب اس طرح تمہارے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا۔ معزرت رچل۔

    رچل کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ پر جا گرا تھا۔ اسکی چندی آدھے چاند جیسی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی تھی۔ 

    علی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ 

    اتنا عرصہ میرا خیال ہے کافی تھا ہم دونوں کیلئے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن کے رہنے کے لیئے ہمیں اب اس رشتے کو سلیقے سے ختم کردینا چاہیئے۔ اور۔

    اور۔ رچل کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔ اسکے چہرے پر زلزلے سی کیفیت تھی۔ 

    علی اٹھ کر اسکے مقابل آگیا تھا۔ 

    رچل کے چہرے سے جیسے کسی نے سب توانائیاں نچوڑ لی تھیں۔ 

    علی کے چہرے کی سنجیدگی اسے معاملے کی سنگینئ محسوس کرا رہی تھی۔ 

    علی اسکے قریب آکر گھٹنے کے بل جھکا تھا 

    اور ہمیں اب ایک مستحکم رشتے کی بنیاد رکھنی چاہیئے۔ مجھ سے شادی کروگی رچل؟

    جیب سے انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے اس نے ڈرامائی انداز سے کہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں اب شرارت مچل رہی تھی لبوں پر مسکان دبی تھی۔

    رچل اتنی حیران ہوئی تھی کہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ 

    رچل۔

    اسے پکارنا پڑا۔

    رچل کو جیسے ہوش آیا۔ کتنے سارے آنسو اسکے چہرے پر پھیلتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بلک اٹھئ تھی۔ 

    علی کو لگا تھا ذیادہ سے زیادہ غصہ ہوگی اس شرارت پر مگر اسکا ردعمل اتنا شدید تھا وہ گھبرا کے اٹھ کھڑا ہوا

    رچل ۔ 

    اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے مخاطب کر رہا تھا مگر وہ یونہی دھواں دھار روتی رہی 

    اسکا سرپرائز اسکے گلے پڑ گیا تھا ریستوران میں موجود سب لوگ اسکو دیکھ رہے تھے وہ کھسیانا سا ہو کر سب سے اشارے میں جھک کے معزرت کرنے لگا۔

    روتے روتے اس نے خود ہی اپنی آنکھیں پونچھیں۔ پھر ذرا سا نگاہ اٹھا کے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ پہلے سور کھاتے تھے؟

    اس نے ہنگل میں سوال کیا تھا۔ علی کیلئے اسکا سوال غیر متوقع تھا۔وہ چونک کے حال میں واپس آیا تھا۔ اریزہ سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے وہ تاسف بھرے تاثرات چہرے پر سجائے یقینا اپنا دھیان بٹانے کو پوچھ رہی تھی۔

    ہاں۔ اس نے مختصرا جواب دیاحسب توقع اگلا سوال اسی سے پیوستہ تھا۔

    آپکو سور کا گوشت پسند تھا؟ وہ غور سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔

    ہاں۔۔  اس نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اس سوال کا مقصد سمجھ نہ آیا ہو

    آپکا دل نہیں کرتا اسے دوبارہ کھانے کا؟

    اس کے سوال پر اسے ہنسی آگئ تھئ۔ مگر اسکی سنجیدگی دیکھ کر وہ باقائدہ چاپ اسٹکس رکھ کر نپا تلا جواب دینے لگا

    اچھا سوال ہے۔ مگر میں بہت سے ایسے کام جو پہلے کرتا تھا اب نہیں کرتا انسان ہوں دھیان جاتا ہے مگر مجھے خود پر قابو رکھنا ہے ۔جب اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا تو سب سے ذیادہ جس چیز نے متاثر کیا تھا مجھے وہ یہی تھی کہ اسلام آپکو ہر چیز میں ایک حد مقرر کرکے دیتا ہے۔ جس سے باہر نہیں نکلنا۔ خود پر قابو رکھنا ہے اور یقین کرو ان حدوں سے باہر بالکل بھی لطف نہیں بلکہ آپ جب یہ سوچتے ہیں کہ آپکو کبھی کسی معاملے پر رکنا نہیں ہے وہاں سے آپ ہر حد پار کرکے بھی غیر مطمئن ہی رہتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں

    pleasure seekers always seek pleasure contentment is not for them۔

    اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا۔ اسکی باتیں دل چھو سی گئی تھیں۔

     آپکو روکنا پڑتا ہے خود کو آپکو رکنا ہی پڑتا ہے۔ 

    وہ بےخیالی میں بڑبڑا اٹھئ

    وہ اس ایک خیال پر شرمندہ ہو رہی تھی جب یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی وہ متذبذب سی اپنا پیٹ بھر لینا چاہتی تھی کہ کیا ہوا سور ہے بھوک بھی تو بہت ہے۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان رکارڈ کروایا تھا۔ فوری طور پر سیموئیل صاحب کو اطلاع دی گئ تھی اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر موجود تھے پولیس اسٹیشن میں۔ 

    کہاں ہے میری بیٹئ۔ 

    پولیس افسر سے انہوں نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔ 

    سنتھیا کو انہوں نے کمرے میں بٹھا رکھا تھا ایک پولیس افسر اس سے ہر طرح کا بیان لے چکا تھا اب یقینا اسے باپ سے ملنے کی اجازت تھی۔ 

    پولیس افسر نے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ حواس باختہ سے سنتھیا کی جانب بڑھے

    سنتھیا؟ تم ٹھیک ہو؟ کہاں تھیں بیٹا۔ 

    اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر وہ بے حد فکر مند سے پوچھ رہے تھے۔ 

    پاپا۔ وہ انکا ہاتھ چومتے وہ بلک اٹھی تھی۔ انکے سینے سے لگ کر اس نے سب آنسو بہا ڈالے تھے۔

    چٹاخ۔۔ 

    اتنئ زور کا تھپڑ تھا کہ اسکا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے میں حقیقت کی دنیا میں واپس لا پٹخی گئ تھئ۔

    ایک کے بعد دوسرا۔ وہ پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہ تھی۔ اسکے برابر ہی بیٹھے کم سن نے اسکو فورا سنبھالا تھا۔ دوسرا تھپڑ بھی پہلے کے ساتھ تھا 

    تیسرا اس نے ایکدم خود آگے آکر اسے بچاتے خود اپنے کندھے پر کھایا تھا۔ چوتھا پانچواں۔ پولیس افسر نے سیموئل صاحب کو زبردستی پکڑ کر پیچھے کیا تھا۔ وہ چلا رہے تھے اپنی زبان میں۔ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کم سن اور وہ پولیس افسر انکی زبان سے بے بہرہ تھے مگر سنتھیا کے دل میں انکا لفظ لفظ ترازو ہو رہا تھا۔ وہ اتنی ششدر تھئ کہ گال پر ہاتھ تک نہ رکھ سکی بس حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جس نے کبھی بچپن میں کبھی ہاتھ اٹھانا تو دور جھڑکا تک نہ تھا۔

    ٹوں ں ۔۔

    اسکا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا

    پہلے کیا کیا کہا اسے اسکا ذہن یاد کرنےسے قاصر تھا۔۔ وہ ابھی بھئ چپ نہ ہوئے تھے 

    اپنی مرضی سے روپوش تھئ یہ کہا ہے تم نے پولیس کو؟ ایڈون کا کوئی قصور نہیں؟ پھر کس کا قصو رہے ہمارا تمہارے ماں باپ کا جنہوں نے تم جیسی اولاد پیدا کی؟

    وہ چیختے چیختے بے حال ہو رہے تھے۔ 

    پہلے کم ہماری ناک کٹوائی تھی تم نے؟  اس بد ذات ایڈون کو کیا کہوں میں جب میری بیٹی ہی ایسی ہے۔ 

    وہ سر پر ہاتھ رکھ کر روپڑے تھے۔ پولیس افسر نے انہیں سہارا دے کر کرسی پر بٹھا دیا تھا۔مترجم سے اشارے سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس نے سر جھکا لیا۔اب ان باتوں کے کیا ترجمے کیئے جاتے۔

    کین چھنا۔ کم سن اسکو کندھوں سے تھامے جھنجھوڑ رہا تھا وہ سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھئ زمین تک رہی تھی۔

    ہر برا خیال آیا مجھے کہیں اس نے مار تو نہیں دیا کاش مار دیا ہوتا اس رزیل نے میں اسے کوس تو سکتا تھا۔ کاش تو مرجاتی سنتھیا۔ 

    وہ میز پر دونوں کہنیاں ٹکائے سر پکڑے رو رہے تھے۔ 

    اریزہ کے باپ کو کیا کچھ نہیں کہا اس نے کس یقین سے کہا تھا میری بیٹی کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔غرور تھا اسے اپنی بیٹی پر میں نہیں کہہ سکتا ایسے میری بیٹی اسکی بیٹی جیسی نہیں ہے۔ 

    وہ سر پیٹ رہے تھے ۔ انکے ساتھ آیا مترجم انکو پانی دے رہا تھا۔ انکا فشار خون اس وقت بلند ہو چکا تھا  

    سنتھیا کا سانولا چہرہ پہلے سرخ اب سیاہ پڑ چکا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

    ہم قانونی کاروائی مکمل کر لیتے ہیں۔ سیموئل صاحب کا وکیل پراسیکیوٹر کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔دونوں نے کئی کاغذات میز پر پھیلا دیئے تھے۔ 

    ہنگل اور اردو میں ہونے والی اس گفتگو کو وہ سن تو رہی تھی مگر ذہن سمجھنے سے قاصر تھا۔ 

    یہ کیا کہہ رہے ہیں کم سن۔

    کم سن کی کلائی اپنی کمزور مٹھی میں جکڑ کر وہ پوچھ رہی تھی 

    یہ کہہ رہے ہیں تم کو فورا سے پیشتر واپس بھجوادیا جائے گا۔ 

    کم سن نے گہری سانس لیکر بتایا تھا اسے۔ 

    سنتھیا کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنتھیا کو ایمبیسیڈر گاڑی میں اسکے والد کے ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ آدھے پونے گھنٹے کی کاغذی کاروائئ کے بعد انہوں نے بہت جلدی معاملات طے کیئے تھے۔ اسکی اب یہاں کوئی ضرورت نہیں تھی پھر بھی وہ سنتھیا کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔ سنتھیا کے والد نے ناگواری کے اظہار کے طور پر اسے گھورا بھی تھا مگر وہ گیا نہیں۔ وہ الجھے اتنے تھے کہ انہوں نے اسے وہاں سے باہر نکلوانے میں دلچسپی بھی نہیں لی۔ بہر حال رات کے بارہ بجے وہ بالکل فارغ تھا۔ اب یا تو گھر جاتا یا ۔۔ وہ ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتا گاڑی کی طرف بڑھتا سوچ رہا تھا۔ سنتھیا کا سوجا چہرہ اسکی نگاہوں سے ہٹ نہیں رہا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ تک آتے وہ بہت بوجھل سا محسوس کر رہا تھا۔ 

    اسے بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ وہ اسکے بیان پر غصے میں آئے تھے۔ مگر اتنا غصہ۔ 

    وہ سر جھٹکتا پھر اسی کی طرف خیال جاتا۔ 

    بہر حال وہ اسکے باپ ہیں۔ مارا غصے میں ہوگا مگر اب وہ اپنوں کے ہاتھوں میں ہے یقینا اسکا خیال بہتر رکھیں گے۔

    وہ خود کو سمجھا رہا تھا۔

    کل کال کرکے پوچھوں گا کب جارہی ہے پاکستان۔ 

    اس نے ارادہ کیا تو خیال آیا۔اس کے پاس سنتھیا کا کوئی رابطہ نمبر اب نہیں تھا۔

    اس نے سر جھٹکا۔ اب رابطہ کرنے کی ضرورت بھئ نہیں تھی۔ اس نے دوست نہ ہوتے ہوئے بھی جہاں تک جتنی مدد کر سکتا تھا کردی تھی ۔ 

    اس نے اطمینان کی سانس لی۔ 

    یونہی سر گھما کر اپنے برابر خالی نشست کو دیکھا۔ جانے کیا ہوا آگے سے گاڑی یو ٹرن کی طرف موڑ لی تھی۔ پولیس اسٹیشن سے نکلتے اس بار وہ اتنا بے چین سا دکھائی نہیں دے رہا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح اسکی بازو سن ہونے سے آنکھ کھلی تھی۔وہ چت پڑا تھا اسکےکندھے پر گھنے بالوں والا سر تھا۔اس نے پہلے تو پلکیں جھپک کر جگہ پہچاننی چاہی۔ مانوس تھئ۔ پھر اپنے شل کندھے کو ہلانا چاہا ۔ 

    اونہوں۔ کم سن کسمساکر مزید اس سے چمٹ گیا۔۔

    کم سن۔ اٹھو۔ 

    اس نے کندھا ہلایا وہ ٹس سے مس نہ ہوا

    دو تین بار ہلانے پر جاگ کر بھی ڈھٹائی سے پڑا رہا تو اسے قومئ زبان استعمال کرنی پڑی 

    کمسانا۔ اٹھ۔۔ میرا بازو شل ہو چکا ہے کیہہ سیکی اٹھا جائو اب 

    اس نے اپنی ساری توانائی لگا کر بمشکل اسے دھکیلا اور بیٹھ کر اپنا کندھا سہلانے لگا۔

    اسی کیہہ سیکی سے رات بھر ایسے لپٹ کر سوئے ہو جیسے میں تمہارا یوجا شنگو( گرل فرینڈ)  ہوں ۔

    کم سن انگڑائی لیکر بیدار ہوتے اسے چھیڑنے لگا۔

    میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے کیا سمجھ رہے تھے مجھے اریزہ؟

    اس نے شوخی سے چھیڑا

    ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی

    نہیں اتنا خوش فہم میں نہیں۔خواب بھی ایسا نہیں آتا مجھے۔  

    اب کیسی ہے طبیعت؟ 

    کم سن نے اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر موضوع بدلا

    کیا ہوا تھا مجھے؟ 

    وہ الٹا اس سے پوچھنے لگا

    پی کے تیراکیاں کر رہے تھے فل پارٹی موڈ اون تھا تمہارا پھر جو بخار چڑھا ہے تمہیں۔ صبح کے وقت کہیں جا کر کم ہوا تھا۔تولیا رکھتا رہا ہوں میں رات بھر۔ 

    اس نے بیڈ کے پیتھیانے پڑی باتھ ٹاول کی جانب اشارہ کیا۔ فل سائز باتھ ٹاول تھی جسکو اتنا بھگویا گیا تھا کہ اب وہاں سے بیڈ گیلا بھی ہو رہا تھا۔ 

    ہیون اسے گھور کر رہ گیا۔ 

    شکریہ ۔  اس نے طنزیہ ہی کہا تھا۔ پھر انٹرکام پر صاف تولیئے لانے کا اور ناشتے کا انتظام کرنے کا کہہ کر نہانے گھس گیا۔ 

    نہا کر نکلا تب بھی کم سن بیڈ پر چت لیٹا سوچوں میں گم تھا

    کیا سوچ رہے ہو؟ 

    اس نے یونہی پوچھا تھا۔ باتھ گائون پہنے وہ بال جھٹک رہا تھا۔ تبھئ روم سروس پر معمور دو ویٹر اسکی ہدایات کے مطابق صاف تولیئے اور ناشتہ لیکر داخل ہوئے۔ 

    تولیہ لیکر سر جھٹکتے وہ مستقل کم سن کو دیکھ رہا تھا جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں اٹھ کر بیٹھا تھا۔ ہیون نے ٹرالی بیڈ کے قریب کی تو اس نے بے دلی سے ایک سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانا شروع کردیا۔

    تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہیون نے حیرت سے ہلایا اسے۔

    میری نگاہوں سے سنتھیا کا چہرہ نہیں ہٹ رہا۔  

    اس نے مختصرا کہا 

    کون سنتھیا؟ ہیون نے ذہن پر زور ڈالا

    اور کیوں نہیں ہٹ رہا اسکا چہرہ۔؟ وہ اپنے لیئے سلائس اٹھانے لگا تو کم سن نے ٹھںڈی سانس بھرتے  سلائس کا بڑا سا لقمہ لیتے اعتراف کیا

    مجھے پیار ہو گیا ہے سنتھیا سے۔ 

    کون سنتھیا۔ اب تو ہیون کو دماغ کے گھوڑے دوڑانے پڑے۔اور وہ دوڑتے دوڑتے جہاں رکے وہیں ہیون کے ہاتھ سے سلائس چھوٹ کر ٹرالی پر جا گرا۔ 

    وہ اریزہ کی دوست؟ وہ اچھل پڑا۔

    کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔اور باقی ماندہ سلائس بھئ نگل لیا۔

    ہیون نے سر تھام لیا۔ 

    یک نہ شد دو شد۔ 

    یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ اب اس سے سب اگلوائے بنا رہنے والا نہیں تھا سچ تو یہ ہے کم سن بھی دل ہلکا کردینا چاہتا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا کی دفعہ تو تم چھوٹے تھے مجھے بھی لگتا تھا یون بن اور گوارا کا ساتھ بس سال دو سال پر ہی محیط ہوگا۔تو تمہارا چانس بن سکتا تھا مگر دوبارہ بھئ ایسی لڑکی پر ہی دل آیا ہے جو اپنا دل کسی اور کو دے چکی ہے یہ تمہاری منحوسیت ہے یا تم ہو ہی دوسروں کی چیزوں پر نیت لگانے والے انسان۔ 

    گاڑی ڈرائیو کرتے ہیون اسکا صریحا مزاق اڑا رہا تھا۔ہیون کے کہنے پر اس نے بلا تکلف گردن پر لگائی تھی۔

    سوچ کے بولو ۔ میں کبھی بھی آوارہ مزاج لڑکا نہیں رہا۔ 

    کم سن نے یاد دلایا

    تو منحوس ہو یعنئ۔ ہیون نے سمجھ کر سر ہلایا

    تم سے کم منحوس ہوں میں۔ چلو ناکام سہی دوسری بار کوشش کر رہا ہوں تم تو کوشش کیئے بنا ہار مانے ہوئے ہو۔

    کم سن نے اسے جوش دلانا چاہا۔ 

    ہیون نے سر جھٹکا۔ 

    جتنا سخت انداز اور سخت الفاظ میں اریزہ اسے وہ سب کچھ کہہ رہی تھی وہ دن بلکہ وہ رات کا وقت وہ یاد بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 

    کیا کوشش کروں ؟ لیس ہوجائوں اسکے آگے پیچھے پھروں اسکی ناک میں دم کردوں ؟ تاکہ وہ مجھے پیونتی ( ٹھرکی) ثابت کرکے پولیس میں پکڑوا دے۔ 

    ہیون کا انداز بظاہر ہلکا پھلکا تھا

    مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لڑکی تمہیں انکار کیوں کر رہی ہے۔ سچ پوچھو ہم سب کو لگتا تھا تم دونوں کپل ہو اور بس کسی دن ہم سب کے سامنے اعتراف کرلوگے۔ 

    ہیون اسکی بات پر کیا کہتا۔ کتنے لمحے اسکی نگاہوں کے سامنے گزر گئے جب اسے لگا تھا کہ اریزہ بھی اسکی قدر کرتی ہے اسے پسند کرتی ہے مگر اریزہ کے ۔۔ 

    دیکھ کر۔۔ 

    کم سن نے چیخ کر کہا تو جیسے اسے ہوش آیا۔ وہ بے دھیانی میں سرخ اشارے کو پار کرنے چلا تھا جھٹ بریک لگائی۔

    یون بن کہاں ہے؟ یہ ڈرائیور ڈیوٹی ہم کیوں کر رہے ہیں؟ 

    ہیون نے پوچھا تو کم سن نے گہری سانس لی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون سے انکی ملاقات کمرے میں کروائئ گئ تھی۔ اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ابھی بھی تھی

    باقائدہ ضمانت اور دیگر قانونی کاروائی تک یون بن انکے وکیل کے ساتھ لگا رہا تھا۔ 

    ایڈون نے جن نظروں سے ماموں کو دیکھا تھا وہ نظر چرا گئے۔ 

    کیسے ہو بیٹا؟ 

    انکے سوال کا جواب وہ مجسم خود تھا جبھی اس نے جواب نہیں دیا آکر کرسی پر بیٹھ گیا تھا

    پولیس افسر اسکو بٹھا کر خود باہر نکل گیا تھا

    سنتھیا کے دل کو دھکا سا لگا۔ اسکی آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے رنگت سیاہی مایل ہورہی تھی وہ پہلے سے کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھوں میں رت جگوں کی سرخی چہرے کی پریشانی سب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مجرم وہ ہے۔ اس نے سر جھکا لیا۔

    میں ذرا بات کرکے آتاہوں کتنی دیر ہے۔ 

    سیموئل قصدا ان دونوں کو بات کرنے کا موقع دے کر اٹھ کر چلے گئے۔ 

    ایڈون۔ اس نے ہمت کرکے پکارا۔ ایڈون نے اسکے چہرے پر نظریں جما لیں۔

    خوش ہو مجھے دیکھ کر؟ یا مزید کوئی چرکے لگے دیکھنے کی خواہش ہے تمہیں؟ 

    وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔ سنتھیا نے سر جھکا لیا۔

    تمہارا باپ مجھے قاتل تک بنا چکا تھا ، سگا بھانجا ہوں میں وہ یہ رشتہ تک بھلا کر میرے ماں باپ تک کو جانے کیا کچھ کہہ چکے ہیں۔ کہ اسپتال میں پڑی ہے ماں میری اور میں یہاں۔۔ 

    اس نے بے بسی سے اپنے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ میز پر مارے۔ سنتھیا کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔

    مجھے نہیں پتہ تھا کہ۔ 

    اس نے صفائی دینی چاہی مگر وہ مزید طیش میں آگیا

    کیا نہیں پتہ تھا؟ وہ چلایا نہیں تھا چلانے جتنی توانائی تک باقی نہ تھئ اس میں مگر اسکے لہجے کی سختی گھٹی گھٹی سی آواز سنتھیا کا دل سہمائے دے رہی تھی۔

    کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیا ملا مجھے برباد کرکے؟ پچھلے پندرہ بیس دن سے میں نہ میں کام پر گیا ہوں نہ اکیڈمی یہاں سے چھوٹ بھی جائوں تو گوشی وون کا کرایہ ڈیو ہے وہ نکال چکے ہوں گے مجھے۔ سڑک پر لا کھڑا کیا ہے تم نے مجھے۔ کوئی اندازہ ہے تمہیں؟ میری بہنیں میری ماں کس اذیت سے گزر رہی ہیں؟ میں نے تو کچھ نہیں بتایا تھا انہیں تمہارے باپ نے دھمکیاں دی تھیں یہ تک کہا کہ میں نے یقینا تمہاری جان لے لی ہے میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ڈیم اٹ۔

    اسکی آواز پھٹی پھٹی سی تھی۔ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ خود بے خبر تھا۔ 

    مجھے معاف کردو۔ 

    سنتھیا بلک اٹھئ ۔ ہچکیاں لیتے ہوئے صفائی دینے لگی

    میں نے صرف اتنا سوچا تھا کہ کچھ دن تم سے دور رہوں گی تو ت۔۔تم شائد۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ 

    وہ جملہ پورا نہ کرسکی۔

    کچھ دن دور رہوگی تو وقت گزر جائے گا 

    اسکا جملہ اچک کر وہ استہزائیہ انداز میں سر جھٹک کر بولا

    پھر ابارشن نہیں کروانا پڑے گا۔

    اچھا منصوبہ بنایا تم نے مبارک ہوتمہیں۔ تم کامیاب رہیں۔ 

    اپنے ہتھکڑی والے ہاتھوں کو جوڑ کر اس نے تالی بھی بجا ڈالی۔

     اب پالو اس بچے کو۔ جیسے تیسے کرکے۔ اب میرے دل میں تمہارے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو چنا اب یہ بچہ ہی رہے گا بس تمہارے پاس۔ میں نہیں۔۔۔

    ایسا مت کہو ایڈون۔ وہ رونا بھول کر گڑگڑائئ

    میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں پائوں گی۔ پلیز مجھے معاف کردو۔ 

    اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔

    میں ابارشن کرالوں گی پلیز مجھ سے خفا مت ہو۔ میں اس بچے کو ۔۔ آنسوئوں میں اسکا جملہ دب گیا تھا۔

    وہ ہونٹ بھینچے اسکی شکل دیکھتا رہا۔ اسکا دل پگھل نہیں رہا تھا۔سنتھیا کی حالت کونسا ٹھیک تھی۔اسکی رنگت بالکل سیاہ پڑی ہوئی تھی وہ بجائے وزن بڑھنے کے وزن گھٹا چکی تھی اپنا۔ مگر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا سنتھیا کو اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات ڈرا رہے تھے۔ اسکا دل سہما جا رہا تھا۔

    اسکا بس نہ چلا تو آئیم سوری ایڈون کہہ کروہ میز پر سر رکھ کر روئے چلی گئ۔

    مت روئو سنتھیا۔ 

    ایڈون بولا بھی تو کیا بیزاری سے بھرپور انداز میں ٹوکا تھا اسے۔ 

    ہر دفعہ رو کر تم اپنی سب غلطیاں دھو نہیں سکتیں۔ 

    اسکا انداز اتنا بے رحم تھا کہ سنتھیا کی ہچکیاں تھم سی گئیں۔

    تم اور تمہاری وجہ سے تمہارے باپ نے جو کچھ میرے اور میرے ماں باپ کے ساتھ کیا ہے میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ 

    سنتھیا کی سانسیں تک سینے میں اٹکنے لگی تھیں وہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

    سنتھیا تم اب میری کچھ نہیں لگتیں۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ 

    سنتھیا حق دق اسکی شکل دیکھتی رہ گئ تھئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون اور کم سن انکا پولیس اسٹیشن سے باہر ہی کھڑے انتظار کررہے تھے۔ 

    اتنی دیر؟ 

    یون بن چھوٹتے ہی بولا۔ 

    ہیون اور کم سن گاڑی سے اترنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر یون بن نے موقع نہیں دیا۔کم سن کا دروازہ بند کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر پہلے ایڈون کو بٹھایا پھر خود بیٹھ کر بولا

    نفرت آرہی ہے پولیس اسٹیشن سے ہم دونوں کو نکلو یہاں سے بعد میں مل ول لینا

    ہیون نے کندھے اچکا کر حسب ہدایت گاڑی چلا دی

    کہاں جانا ہے؟ ہیون نے پوچھا

    گوشی وون۔ 

    ایڈون کی منحنی سی آواز نکلی تھی۔

    کیوں؟ کم سن چونکا

    میرا مطلب ہے تم سنتھیا سے نہیں ملنے جارہے؟

    نہیں۔ ایڈون کا جواب مختصر ترین تھا۔

    اسکے ماموں اور سنتھیا اس سے مل چکے ہیں دونوں اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں پاکستان۔

    ایڈون کا موڈ سمجھتے ہوئے یون بن نے جواب دیا

    مگر کیوں؟ اسکی حالت ٹھیک نہیں وہ سفر کیسے کرے گی؟

    کم سن کے منہ سے پھسلا تھا۔ 

    اتنے دنوں سے بھی تو سفر کر رہی تھی آرام سے  چھپی بیٹھی تھی۔ اگلوں نے ایڈون کا شجرہ کھنگال لیا پینلٹی پوائنٹس الگ لگ گئے جیل کے۔ اسکا تو کیئریر تباہ ہوگیا ہے۔ اب کیا ایڈمیشن لے گا یہاں۔ اور وہ مزے سے باپ کے ساتھ واپس جا رہی ہے۔ انتہائی خود غرض لڑکی ہے۔ 

    یون بن کو اپنے دوست کی پریشانی کا احساس تھا جبھی غصے سے بولتا گیا۔

    قصور ثابت نہیں ہوا اس پر پھر یہ کونسا کورین شہری ہے کچھ نہیں ہوتا۔ 

    ہیون نے تسلی دی۔

    ہاں تھائینیئے۔  ( شکر ہے) اس نے بیان ایڈون کے خلاف نہیں دیا ورنہ اسکے باپ کا بس نہیں تھا پھانسی لگوادے ایڈون کو۔۔ مگر بندہ پوچھے غائب ہوئی ہی کیوں؟ کیا ملا یہ سب ڈرامہ کرکے۔۔

    ڈرامہ؟ کم سن سے رہا نہ گیا۔

    ایک ماں کا اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے ان لوگوں سے چھپ جانا جو اسکے بچے کی جان لینا چاہتے ہوں ڈرامہ لگ رہا ہے تمہیں؟ کوئی اندازہ ہے وہ پریگننٹ تھئ کہاں کیسے رہ رہی ہوگی خوراک بھی ڈھنگ کی ملی ہوگی کہ نہیں اور یہ سب تکلیفیں کس لیئے جھیلیں اپنے بچے کیلئے۔ صرف اسکا بچہ تو نہیں ہے۔ آخری جملہ اس نے بیک ویو مرر سے لاتعلقی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ایڈون کو گھور کر کہا تھا۔

    یون بن اسکے تیز ہو کربولنے پر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔

    تو اب کونسا بچ جائے گا۔ اسکے والد ایڈون سے پرمیشن لیٹر پر سائن کرواکے گئے ہیں ابارشن کیلئے۔

    کیا؟ کم سن کے ساتھ ہیون بھی چلایا تھاپھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ 

    یون بن اور ایڈون دونوں کیلئے انکا ردعمل غیر متوقع تھا۔دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

    ایڈون تم ۔۔ کم سن نے دانت پیسے۔ 

    تم ایک بار بھی سنتھیا کیلئے نہیں سوچتےاسکی فکر نہیں تمہیں؟ وہ ۔ وہ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے کہے۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔ 

    وہ بہت کمزور ہے ۔ 

    اسکے ماں باپ ہیں نا خیال رکھنے کو۔

    ایڈون کا انداز۔ کم سن کو طیش آرہا تھا۔ 

    اسکا کیا جس کے باپ ہی تم ہو؟

    وہ مر جائے گا۔

    وہ بے نیازی سے کہہ کر دوبارہ باہر دیکھنے لگا تھا۔اسکے گوشی وون کے باہر گاڑی رکنے تک وہ چپ ہی  رہے تھے۔

    تم آرام کرو میں شام میں چکر لگائوں گا۔

    یون بن نے اتر کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تھا۔ وہ سر ہلا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر بڑھ گیا۔۔

    میں سوچ نہیں سکتا تھا یہ اتنا کمینہ انسان ہوگا۔

    کم سن اسے جاتے دیکھ کر غصے سے بولا

    یون بن پچھلی نشست پر بیٹھتے اسکا جملہ سن کر حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ہیون  نے گاڑی ہی آگے بڑھا لی نہ دیکھے نہ غصہ کرے۔

    کیہہ سیکی۔ نامرد۔  

    وہ مزید خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔

    کیا ہوا بھئ ؟ اتنا غصہ کیوں؟ 

    اسلیئے کہ سنتھیا کو میں ہی اسپتال لیکر گیا تھا اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ابارشن اب قانونی طور پر منع ہے اور پریگننسی جاری رکھنے میں اسکی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اور اس آدمی کو دیکھو رتی بھر پروا نہیں ہے اسکی۔ 

    ہاں تو صحیح تو کہہ رہا اسکے ماں باپ خیال رکھ لیں گے ہو سکتا ہے پاکستان میں لیگل ابارشن کی معیاد کچھ اورہواور  ویسے اب یہ کیا کر سکتا ہے یہاں؟

     جاب تک تو رہی نہیں گوشئ وون کے مالک سے منتیں کرکے معیاد بڑھوا کر آیا ہوں اسکا بھی کرایہ نہیں دے سکا ایڈون۔ اس کو تو ان پندرہ بیس دنوں نے کنگال کر چھوڑا ہے۔ 

    یون بن کو ترس آرہا تھا اور کم سن کو غصہ۔

     تو کس نے کہا تھا کہ اسے مجبور کرے ابارشن کیلئے؟ نہ یہ مجبور کرتا نہ وہ یہ قدم اٹھاتئ۔ کم سن تیز ہو کر بولا

    ہاں تو بے روزگار انسان اپنی گرل فرینڈ کا بچہ کیوں پالے؟ جب یہ فیصلہ دونوں کرتے تو ذمہ داری دونوں کی برابر ہوئی نا۔ 

    یون بن کو اسکا غصہ سمجھ نہ آیا۔

    تم بتائو گوارا سے محبت کرتے ہو نا اگر گوارا پریگننٹ ہوتی تو کیا تم بھی اسے مجبور کرتے ؟ چاہے اسکی جان کو خطرہ ہوتا؟ 

    کم سن کا سوال ہیون نے اسکی شکل۔غور سے دیکھی۔

    اول تو گوارا خود بہت سمجھدار ہے دوسرا اگر ایسا کچھ ہوتا تو ظاہر ہے میں بھی وہی کرتا جو ایڈون کر رہا ابھی ہماری پڑھائی مکمل نہیں ہے کیریئر نہیں بنا کیسے ہم کوئی نئی ذمہ داری اٹھا سکتے؟ 

    یون بن کا جواب ہیون کو اسکی شکل دیکھنے پر۔مجبور کرگیا۔

    حد ہے ۔ گوارا سے محبت کا دعوی کرتے ہو اور پھر بھی۔ 

    کم سن نے شرمندہ کرنا چاہا یون بن نے بات کاٹ دی

    ہاں تو میں نے کب انکار کیا۔ محبت الگ چیز ہے بچہ الگ، 

    کیا بات کر رہے ہو۔۔ 

    کم سن اور یون بن بحث میں الجھ گئے تھے 

    اور سڑک پر نگاہ جمائے گاڑی دوڑاتے ہیون سوچ رہا تھا اچھی لڑکیاں چاہے کورین ہوں یا پاکستانی غلط لڑکے کا ہی انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہوپ اور اسے ناشتہ کرتے ہی حکم ملا تھا فورا تیار ہو کر باہر آجائو۔ دونوں حسب ہدایت تیار ہو کر باہر آئیں تو گوارا ایک پاکستانی مہران کے سائز کی مگر مہران سے دس گنا بہتر ڈئزاین کی الیکڑک بلو پیاری سی گاڑی کو کپڑا مار رہی تھی۔ 

    یہ کس کی گاڑی ہے۔ 

    اریزہ نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ گوارا کھلکھلائی۔

    یون بن کی۔ میں نے اسے کہا تھا فورا یہاں بھجوا دے خود بے شک بعد میں آتا رہے۔  اب ہم یہاں بنا گھومے پھرے کیسے رہ سکتے ہیں۔

    وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تھی۔ 

    ابھی پچھلے ہفتے بک کروائی تھی اس نے اور میں نے یہاں کا پتہ لکھوایا تھا۔ وہ مزید اپنی کارگزاری سنا رہی تھی۔ 

    عظیم لڑکی ہو تم۔ 

    اریزہ نے خراج تحسین پیش کیا۔ 

    ہوپ پچھلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی تو گوارا نے اسکو کندھے سے پکڑ کر کھینچا چابی اسکے ہاتھ پر رکھتے بولی

    تم کدھر جا رہی ہو؟ گاڑی کون چلائے گا؟ 

    تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی؟ ہوپ کا موڈ نہیں تھا شائد۔ 

    آتی ہے مگر ابھی میرا لائسنس نہیں بنا۔ دوسرا یہاں کی اونچی نیچی سڑکیں نا بابا نا کوئی رسک نہیں۔ 

    وہ مزے سے کہتی خود پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھئ گئ۔ 

    ہوپ کو چابی تھامنی پڑی تھی۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھتی اریزہ نے مسکرا کر سر ہلایا وہ بھی جوابا مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے لگی۔ 

    گوارا پیچھے بیٹھ کر بھی آگے ہی سیٹ کے بیچ سے نکل کر بک بک کرتی رہی۔ اسکا گائوں پہاڑ کے دامن میں تھا۔ بے تحاشہ خوبصورت مناظر کہیں کہیں برف پڑی ہوئی سرد ہوا ۔ وہ لوگ پہلے پہاڑ کی چوٹی سے نظارہ کرتی رہیں تبھی چوٹی کے دامن میں اسے وہ بے حد خوبصورت سا لال شہتیروں والا مندر نظر آیا۔ 

    آئو وہاں چلیں۔ 

    اریزہ اتنا پرجوش ہو کر بولی تھی کہ ہوپ اور گوارا دونوں نے چونک کے اسکی شکل دیکھی

    پتہ بھی ہے کیا ہے وہ؟ مندر ہے بدھا کا

    گوارا نے جتایا

    تو؟ اریزہ نےالٹا سوال کیا

    تم وہاں جا کر کیا کروگی؟ ہوپ نے بور ہو کر کہا ۔پیچ دار سڑک پر اتنی اونچائئ تک لے کر تو اسے ہی جانا پڑتا

    میں دیکھوں گی تم لوگ عبادت کر لینا۔ میں نے آج تک مندر نہیں دیکھا اور بدھا کا تو بالکل بھی نہیں دیکھا پلیز چلو نا میں نے دیکھنا ہے۔

    اریزہ بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی دونوں نے ٹھنڈئ سانس بھری۔ 

    گاڑی سے اتر کر بھی پیدل چل کر کم ازکم ڈیڑھ سو سیڑھیاں تھیں جنکو چڑھنا پڑا تھا۔ گوارا اور ہوپ کا تو نہیں اریزہ کا برا حال ہوگیا تھا مگر شوق کا کوئی مول نہیں۔ مندر سادہ مگر بے حد خوبصورت تھا۔بڑا سا کھلا دالان جس کے کونوں میں کیاریاں سی بنی ہوئی تھیں بڑی بڑی لکڑی کی بلیوں اور شہتیروں والی چھت سے ڈھکی راہداری سامنے کھلے دروازے سے نظر آتا بدھا کا بڑا سا بت آسن جمائے نظر آتا تھا۔ کئی پجاری اپنے مخصوص معمول کی عبادتوں میں مشغول تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈنڈا تھامے جسکے سروں پرچھوٹی سی گول گھنٹیاں سی لگی تھیں۔ دھیمے دھیمے بجاتے جاپ کرتے۔ ماحول پر ہیبت طاری کر رہے تھے۔ 

     گوارا اپنے ہڈی کے اپر سے سر ڈھانکتی اندر گئ پجاری نے گھنٹیاں بجا کر اسکا خیر مقدم کیا۔ دعا دئ  گوارا وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر زمین سے سجدے کی طرح لگائے مخصوص انداز میں جھکتی اٹھتی دعا کر رہی تھی۔ 

    اریزہ اور ہوپ بھی اندر چلی آئی تھیں۔ مگر گوارا کے برعکس دونوں تمیز سے گھٹنے کے بل بیٹھئ اسکی عبادت مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھیں۔ 

    ہم بھی ایسے ہی سجدہ کرتے ہیں۔ گوارا کو جھکتے دیکھ کر اریزہ نے ہوپ کے کان میں سرگوشی کی۔

    جانتئ ہوں روز تو عبادت کرتا دیکھتی ہوں تمہیں۔ 

    ہوپ کے جتانے پر کھسیا سی گئ۔ ہوپ سے تو بندہ بات بھئ سوچ سمجھ کر کرے۔ اس نے آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنے کا عہد کیا۔۔

    گوارا دعائیں کرکے پجاری سے سر پر پانی چھڑکوا کر کچھ میٹھی ریوڑیوں جیسی مٹھائئ لیکر باہر آئی تب تک وہ دونوں دالان کی ہر سیڑھی ہر ستون سے ٹک کر تصویر بنا چکی تھیں۔

    یہاں آخری بار اپنے ابا کی آخری رسومات کی دعائیں کروانے آئی تھی۔ اور آج تم مجھے یہاں لے آئیں۔ بدھا بھی کہتے ہوں گے کیسی نا شکری اور مطلبی پیروکار ہے میری۔ 

    گوارا بڑبڑ کرتی انکے پاس آئی تھی۔ 

    اریزہ اسکی غبارے جیسی شکل دیکھ کر ہنس پڑی۔ 

    ویسے یہاں ہے بہت سکون ۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے یہاں آکر۔ 

    اریزہ نے یونہی کہا تھا۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی

    ہر مقدس مقام پر سکون ہی ہوتا ہے۔ ایسی جگہوں پر پاک روحیں فرشتے ہی آتے ہیں ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر ہمیں دھیرے دھیرے اپنی رحمت کے سائے میں لیتے جاتے ہیں۔ میرا ماننا ہے ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی مقدس نا دکھائی دینے والا ربط اوپر سے ہوتا ہے۔ 

    وہ آسمان کی جانب اشارہ کرکے بولی۔ 

    ہوپ نے بلا ارادہ اسکی تقلید میں آسمان تک نگاہ کی تو پلٹی ہی نہیں۔ 

    ضروری نہیں۔

    ہوپ نے ناک چڑھائی۔ 

    ہم روز جس بت کو پوجتے تھے اس سے شدید نفرت بھی محسوس کرتے تھے۔ اس بت کے گرد مقدس ہالہ تو دور نفرین و لعنتوں کا جال محسوس ہوتا تھا جس سے دم گھٹتا تھا میرا۔

    ہوپ زہر۔خند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ 

    ہیں؟ گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔ہوپ نے سر جھٹکا

    جب نفرت تھئ تو پوجتے کیوں تھے بھئ؟ 

    گوارا کے حیرت سے پوچھنے پرہوپ ہونٹ بھینچ کردوسری طرف دیکھنے لگی۔

    شمالی کوریا میں مزہبی عبادات پر بین ہے۔ وہاں صرف موجودہ و سابقہ آمروں کے با بجا بت سجے ہیں جن کے آگے عوام کا روز سلامی دینا فرض ہے۔ اور موٹے منہ والے بھالو بندر اس جابر ظالم کم جانگ اون کو دیکھ کر محبت خاک پھوٹنی جس نے پوری قوم کی ہر خوشی سلب کرکے آٹھ آٹھ آنسو رلا رکھا ہے۔ 

    جواب غیر متوقع طور پر اریزہ کی جانب سے آیا تھا۔ گوارا اور ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں۔  

    تمہیں کیسے پتہ؟ گوارا کا حیرت کے مارے برا حال تھا

    تم بھی شمالی کورین تو نہیں۔ 

    اس نے معصوم سئ شکل بنا کر پوچھا اریزہ گھو رکر رہ گئ 

    ہوپ نے البتہ جاندار قہقہہ لگایا۔ 

    موٹے منہ والے بھالو بندر کم جانگ ہا ہا ہا۔ کاش اسکو یہ کوئی سناتا اسکے منہ کاش سن سکتا وہ یہ ہا ہا۔ پتہ ہے ان جملوں پر سر قلم ہو جاتا تمہارا اگر تم سیول کی جگہ پھیانگ یانگ 

    میں ہوتیں۔ 

    کیوں ہوتی میں خدا نخواستہ۔ اریزہ نے منہ بنایا

    میں تو شمالی کوریا کا سن کر سیول ہی آنے کو تیار نہیں ہورہی تھی ۔ اس اسکالر شپ کی وجہ سے تو مجھے پتہ لگا کہ کوریا کوئی ملک ہے اور اسکے بھی دو حصے ہو چکے ہماری طرح۔پوری طرح اطمینان کیا تھا پھر اپلائی کیا تھا۔ 

    اس نے گوارا کے سوال کا بھی جواب دے دیا۔ 

    گوارا نے سر ہلایا۔

    شکر ہے دو حصے ہو چکے ہیں ورنہ ہم بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہوتے۔ گوارا نے جھر جھری لی۔ اریزہ کو ایک بڑا دکھی کردینے والا خیال آیا۔ ہم سے الگ ہونے والے بھی کیا ایسا سوچتے ہوں گے؟

    چلو چلیں اب؟ یا ابھئ شیمن سے اپنا مستقبل کا احوال بھی پتہ کروانا ہے؟ 

    ہوپ نے تو یونہی کیا مگر گوارا پرجوش ہوگئ

    ہاں یہ صحیح رہے گا مستقبل کا احوال جانتے ہیں تینوں ۔۔۔ یہاں کے شیمن سب صحیح صحیح پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ میرے آہبوجی کے انتقال سے پہلے ہی انہوں نے مجھے بتا دیا تھا میرے پاس ایکدم سے بہت پیسہ آئے گا ۔ انکی پیشن گوئی کے دوسرے ہی ہفتے آہبوجی کا انتقال ہوگیا تھا۔ 

    گوارا متاثر کرنے والے انداز میں بتا رہی تھی۔ 

    ہوپ اور اریزہ دونوں نے اسکی اچنبھے سے شکل دیکھی۔ 

    اس میں تمہارے ان پجاری جی کا کیا کمال؟ اریزہ پوچھے بنا نہ رہ سکی

    ہاں تو آہبوجی کے انتقال پر ہی تو مجھے انشورنس کے پیسے ملے انکے جس سے میں نے سیول میں اپارٹمنٹ خریدا ۔ 

    وہ کندھے اچکا کر بولی۔ 

    تم دونوں بھی جاننا  چاہوگی اپنی قسمت کا حال ؟ 

    ۔ ہوپ نے سر جھٹکا۔ 

    بکواس۔بالکل نہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گیرواں لبادہ پہنے بالکل صفا چٹ سر لیئے گلے میں سرخ پٹکا ڈالے وہ پجاری جی ہوپ سے اسکی تاریخ پیدائش پوچھ رہے تھے۔  اسکا جواب سن کر مراقبے میں چلے گئے تھے۔اس چھوٹے سے کمرے میں وہ دھونی رما کے بیٹھے تھے۔ڈھیر ساری اگربتیاں جل رہی تھیں کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا ۔کمرہ رنگ برنگی پینٹنگز سے سجا بلکہ تنا ہوا کہنا چاہیئے۔جا بجا تصویریں جس میں کوریائی ثقافت انکے بادشاہی نظام وغیرہ کی تصاویر تھیں تو کچھ عجیب سی آدھے انسان آدھے کسی جانور کے جسم کے ساتھ بے تکے جوڑ والے قد آدم پوسٹر تھے۔ بدھا کے کئی اسٹیچو تھے کچھ دلہا دلہن کی پینٹنگز اتنے رنگ تھے کمرے میں کہ اسکا دیکھتے دیکھتے ذہن بٹ ہی گیا۔ گوارا نے ٹہوکا دے کر متوجہ کیا۔ 

    ہوپ ہم سے چھے سات سال بڑی ہے۔ 

    گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اریزہ کے کان میں گھسی۔ اریزہ نے اسکو ہلکے سے گھورا۔ 

    گوارا اسکی گھرکی پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔ اریزہ نے حقیقتا ہتھیلیاں پھیلا کر پھر خیال آیا تو ذرا مٹھی بند کرکے کہ دعا کا پوز نہ لگے دل سے دعا کی تھئ

    یا اللہ یہ آدمی ہوپ کو صرف اچھی اچھی باتیں بتائے۔ کوئی اچھی امید دے دے جینے کی ۔ بہت مایوس ہے کیا پتہ اسکے الفاظ ہی اسے جینے کی نئئ امید  دے دیں۔

    ہوپ ان سے بےنیاز پجاری صاحب کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے تھے۔ اسے جیسے یقین تھا وہ کوئی نہ کوئی غلطی کریں گے اور وہ گوارا کو جتا سکے گی کہ انکے پاس کوئی روح ووح نہیں جس کو بلا کر اس سے وہ مستقبل کا حال جان سکیں بلکہ ایک اچھے شعبدہ باز ہیں بس۔

    ایک مٹی کی چھوٹی سی کھلے منہ کی دیگچی میں چاول اور لال رنگ کا جانے کونسا سفوف ملا کر رکھا تھا۔چٹکی میں بھر کر انہوں نے اپنے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر چھڑکا ایک صندل کی تسبیح مٹھی میں داب رکھی تھی تسبیح کے دانے کم ہی تھے شائد دس بیس ہی ہوں گے ہر دانے پر کچھ چینی زبان کے حرف کھدے تھے۔ انگلئ پر بڑی مہارت سے دانے گھماتے وہ جھوم جھوم کر گھنٹی بجاتے آنکھیں بند کیئے کچھ بڑ بڑا رہے تھے۔ ایکدم جھٹکا کھا کر رکے

     تسبیح کے جس دانے پر انگلی رکی تھی اسکو گن کر انہوں نے پانسہ پھینکا۔ چوڑا سا ایک ہتھیلی کے برابر پانسے پر چار اطراف الفاظ کھدے تھے۔ اور اوپر نیچے سیاہ اور سفید رنگ ہوا وا تھا۔ اس نے ایسا پانسہ زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ 

    اسکا دل چاہا کہ اٹھا کر دیکھ لے مگر بمشکل طبیعت پر جبر کرکے روکا۔جانے وہ اس حرکت کو کس معنے میں لیں۔وہ بہر حال انکی مزہبئ روایت کا احترام ہی کر رہی تھی۔ 

    بس کچھ الٹا سیدھا نہ بولیں ہوپ کی زندگی میں پہلے ہی کوئی خوشی نہیں ہے۔ 

    وہ دعا کیئے جا رہی تھی۔ 

    پجاری جی نے آنکھیں کھولیں مگر گردن موڑ کر اریزہ کودیکھا پھر مسکرا دیئے۔ اریزہ ٹھٹھک سی گئ۔ انکی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی کسی بچے کی بات پر اسکی نادانی پر مسکرا دے۔ 

    بدھا کہتے ہیں تین چیزیں ذیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتیں۔ سورج ، چاند اور سچائئ۔ ایک نہ ایک وقت انکو ظاہر ہونے پر مجبور کردیتاہے۔سورج چاند پھر کبھی بادل میں چھپ جاتے سچائئ جتنا چھپانا چاہو اتنی ہی مزید ظاہر ہوتی ہے۔ 

    وہ شستہ انگریزی میں اریزہ سے کہہ رہے تھے۔ 

    اریزہ گنگ سئ انکی شکل دیکھنے لگی۔

    میں جھوٹ نہیں دے سکتا کسی کو جو مجھے جتنا پتہ ہے وہ میں بتانے کا پابند ہوں۔ میرے پاس دینے کیلئے سوائے سچائی کے اور کوئی تحفہ نہیں۔ سچائی کا تحفہ دوسرے تمام تحائف کو مات دیتا ہے۔  سچائی کا ذائقہ دوسرے تمام ذائقوں کو مات دیتا ہے۔  سچائی کی خوشی دیگر تمام خوشیوں کو مات دیتی ہے، اور خواہش کا خاتمہ تمام دکھوں پر فتح پاتا ہے۔

    وہ بولتے بولتے گردن گھما کر ہوپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اب اسی روانی سے چینی زبان  میں بولتے چلے گئے۔

    خواہش  ختم کردو اگلی زندگئ آسان ہے تمہاری

    ماضی میں مت پھنسو، مستقبل کے خواب نہ دیکھو، دماغ کو موجودہ لمحے پر مرکوز رکھو بس۔تمہیں نہیں لگتا تمہاری یہاں موجودگی ان دوبہنوں کا ساتھ تمہارا ماضی تمہارا ہاتھ چھڑا چکا ہے تمہارا اکیلا پن دور ہوچکا ہے یہ سب اسکا ثبوت ہے۔ تمہیں اب زندگی جینا شروع کردینا چاہیئے۔ 

    ہوپ کا منہ کھلا۔ پھر سر جھٹک کر طنزیہ انداز میں بولی

    ایک ایک لفظ بدھا کا ہے یہ۔آپ تو خود اپ ایک جملہ بولے ہیں ان دونوں کی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ یہ احمقیں سچ مچ میری پروا کرتی ہیں ۔   

    ہوپ چینی زبان میں ہی بولی تھی۔ گوارا نے سخت اکتا کر ان دونوں کی شکل دیکھی

    پجاری صاحب ہنس دیئے محظوظ ہو کر جیسے۔۔

    بدھا کا بھگت ہوں انکی باتیں نہیں بولوں گا تو پھر کس کی بات کروں گا؟ 

    بات میں وزن تھا۔ ہوپ نے ناگواری سے دیکھا

    پھر اگلا سوال چینئ میں ہی داغا۔

    میں نے محبت کے بارے میں پوچھا تھا میرے نصیب میں ہے کہ نہیں۔ 

    محبت ہے مگرجس سے تمہیں  محبت وہ نہیں۔ 

    وہ دانستہ کہتے ہوئے گردن موڑ کر گوارا کو دیکھنے لگے۔ ہوپ کا چہرہ دھواں دھواں سا ہوا تھا۔ اریزہ نے چیں بہ چیں ہو کر شاکی نگاہوں سے دیکھا۔ 

    ایسے تو بہت پہنچے ہوئے بنتے ہیں اسکی شکل پر لکھا شدید مایوسی و دکھ میں مبتلا ہے کیا تھا ذرا سا خوش کردیتے کچھ اچھا بول کے۔ ایسے تو انگریزی بول رہے تھے ہنگل چھوڑ یہ تو کوئی تیسرئ زبان بولنی شروع کردی جانے کیا کہہ دیا اسے۔ 

    میں باہر انتظار کرتی ہوں تم لوگوں کا۔ 

    ہوپ کو خود کو سنبھالنا مشکل لگا تو نظر چراتے فورا اٹھ گئ۔

    آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس پھر کوئی پیسہ آنے کی امید ہے یا نہیں؟

    ہوپ کے جاتے ہی گوارا کھسک کر آگے ہوئی۔

    پیسہ تو آتا جاتا رہے گا انسان بھی۔ تم کہاں دل لگاتئ ہو یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے بیٹا۔ 

    انکا جواب حسب توقع اور اسکا ردعمل بھی حسب توقع تھا منہ بنا کر رہ گئ

    آپ میری دوست کو دیکھیں اسکا کتنا دانہ پانی ہے کوریا ہے؟

    گوارا بولی ۔۔ 

    کیا کرنا یہ جان کر۔۔

     اریزہ نے سر جھٹکا۔

     محبت ملے گی یا نہیں؟ 

    گوارا مزید کہہ رہی تھئ۔ 

    اسکی تو۔ اریزہ ایکدم الرٹ ہوئی۔

    سب سے بڑھ کر اسکو محبت ہو۔  

    گوارا تیز تیز بولی تھی اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا

    بس مجھے کچھ نہیں جاننا ۔ 

    کیوں؟ بہت پہنچے ہوئے ہیں یہ سب صحیح بتا دیں گے کچھ نہیں کچھ نہیں پاگل امتحان میں کامیابی ناکامی کا ہی پوچھ لو ۔

    گوارا نے اصرار کیا پجاری صاحب مراقبے میں جانے لگے۔ 

    تاریخ پیدائش۔

    20 ستمبر 1996 

    گوارا جھٹ سے بولی۔ اریزہ نے منہ بنا کر دیکھاپھر تصحیح کی۔

    1995۔ 

    گوارا نے منہ کھول کر اب اسکی شکل دیکھی۔ 

    ہائش۔ یہ بھی۔ 

    آپ، خود، پوری کائنات میں جتنا کوئی ہے، آپ کی محبت اور پیار کے مستحق ہیں۔خود سے مت بھاگو۔خود کو اپنائو اپنے سوا انسان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی ہے۔ اپنے سوا کسی میں پناہ گاہ مت تلاش کرو۔ایک بے چین انسان کہیں خوش نہیں رہ سکتا۔ 

    وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے۔ اریزہ کا دماغ بھک سے اڑا۔

    کچھ بھئ بول رہے۔ اسے غصہ آگیا۔گوارا کو اٹھنے کا اشارہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔پجاری صاحب کی آنکھیں بند تھیں۔ اتنے پکے ہیں تو پتہ لگے کہ اب انکا سامع کوئی ہے ہی نہیں۔ اسکے دل میں یہی خیال آیا تھا۔ گوارا اسکے تیور دیکھتے خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    گوارا کیا پوچھ رہی جواب کیا دے رہے۔ 

    اس نے سر جھٹکا۔ 

    جو تمہیں جاننا ہے میں بس وہی بتا رہا ہوں۔ 

    پجاری صاحب نے جواب دیا تھا وہ کمرے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی کہ قدم رک سے گئے۔ گوارا بھی حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگی۔

    انہوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ 

    کسی کے دل کا حال کون جان سکتا؟  کون سچا ہے ۔ کون اچھا ہے یہ تو بعد کی بات ہے پہلے خود اپنے آپ کو جانو بیٹا۔  باقی آگے کیا ہوگا زندگی میں انسان کے فیصلے طے کرتے ہیں نا۔ 

    خدا طے کرتا ہے۔ اس نے پلٹ کر انہیں دیکھتے جتایا۔ 

    بے شک۔ ۔۔۔ مگر

    خدا آپکی خواہش پر آپکے مانگنے پر عطا کرے گا یا نہیں یہ بھی تو طے کرتا ہے نا۔ 

    وہ مسکرادیئے۔ اریزہ لاجواب سی ہوئی تو رکی نہیں سیدھا ناک کی سیدھ میں بڑھتی گئ۔ گوارا نذرانہ دیتی خدا حافظ کہہ کر جب تک باہر آئی وہ ہوپ کے ساتھ دالان بھی پار کرچکی تھی

    ہا ہا۔۔ یہ کیا چل رہا تھا ۔۔ ہوں ۔۔۔  (پھولی سانسیں )تمہارے اور پجاری صاحب کے بیچ۔ 

    وہ اتنئ متجسس تھی کہ بھاگنے سے پھولی سانسیں بھی ہموار نہ کیں آکر ان دونوں کے بیچ میں لینڈ کرتے پوچھا۔ 

    مجھے کیا پتہ۔ اریزہ نے جان چھڑائی

    کیا چل رہا تھا۔ 

    ہوپ کو دلچسپی ہوئئ۔ 

    یہ چپ شکل دیکھ رہی تھی پجاری صاحب اسکو ایسے جواب دے رہے تھے جیسے اسکو اسکی باتوں کا جواب دے رہے ہوں۔ اور یہ اسکی شکل دیکھنے والی تھی آپکو کیسے پتہ چلا؟ منہ پر بڑا بڑا لکھا تھا۔ 

    گوارا ہاتھوں کے اشارے کے ساتھ بتا رہی تھی۔ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ 

    کیا واقعی کوئی روح ووح تو نہیں بلا رکھی تھئ انہوں نے۔ جادو وغیرہ کے ماہر ہوتے ہیں یہ شیمن وغیرہ۔ 

    یہ پجاری لوگ سالوں تپسیا کرکے ہیپناٹزم فیس ریڈنگ اور مائنڈ اسسیسمنٹ وغیرہ سیکھتے ہیں۔ ہوپ نے غبارے سے ہوا نکالی جیسے۔

    سیڑھیاں اترتے اس نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔ 

    اب میری شکل دیکھ کر نہیں بولے ماضی میں نہ رہو مستقبل کا نہ سوچو حال پر توجہ دو بلا بلا او ریہ دونوں بہنیں ہیں تمہاری۔۔ 

    ہیں یہ کہا انہوں نے؟ گوارا حیرت سے چیخ پڑی۔ 

    سنا نہیں تھا تم نے۔ ہوپ کو اسکی مصنوعی حیرانی پر اکتاہٹ ہوئی

    چینی میں بولے تھے تم سے ہمیں کیا پتہ کیا کہا۔ گوارا نے یاد دلایا تو وہ سر ہلانے لگی 

    ہاں۔ بس یہی کہہ رہے تھے ان دونوں کو دیکھو بہنیں مل گئ ہیں کافی نہیں ماضی بھلانے کو۔ 

    ہوپ نے کہتے ہوئے پلٹ کر دیکھا دوسری بہن کئی سیڑھیاں پیچھے سوچ میں گم اتر رہی تھی۔ گوارا نے بھی اسکی تقلید میں مڑ کر دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی

    کیا ہوا؟ اریزہ جلدی کرو دیر ہورہی ہے ہمیں۔ 

    مغرب سے پہلے واپس پہنچنا ہے ہمیں۔

    گوارا کے چلانے پر وہ بری طرح چونکی تھی اتنی کہ لڑکھڑا گئی۔ 

    آرہی ہوں۔ اس نےسنبھل کر تسلی دی اوررفتار بھی بڑھائی۔ 

    ہولا ہاتھ رکھو ڈرا دیا اسے یہاں سے گرتی تو آخری سیڑھی تک جانا تھا اس نے۔ 

    ہوپ نے گوارا کو ڈانٹ ہی دیا۔ 

    گوارا نے بھنا کر کچھ کہنا چاہا پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے داب لی۔ وہ اسکے لیئے بڑی بہن کے برابر تھی اور وہ بنا لحاظ جانے کیا کیا کہتی آئی تھی اسے۔ 

    تم اب کس مزہب پر ہو، ؟ 

    گوارا نے یونہی سوال کیا اسے گھورتے پایا تو ذرا تمیز کے جامے میں آتے کندھے پر پرس بلا وجہ درست کرتے ہوئے جملہ درست کیا۔ 

    میرا مطلب اب تو آپ شمالی کوریائی نہیں ہیں نا اب تو کوئی مزہب اپنا سکتی ہیں۔ 

    میں کسی مزہب پر نہیں ہوں۔ 

    اس نے مختصر جواب دیا

    بدھ سب سے معصوم سادہ سا مزہب ہے اس پر آجائو نہ کوئی روز کی عبادت کی شرط نا ہی کوئی لمبے چوڑے فرائض ۔ بس جیو اور جینے دو کا اصول ہے۔ 

    گوارا یونہی بات برائے بات ہی کہہ رہی تھئ۔

    ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔ اریزہ انکے قریب آچکی تھی۔ پھولی سانسیں رنگ پھیکاپڑتا 

    اسکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہئ  سفید پڑی گئ ہے یہ۔ 

    ہوپ نے فکر مندی سے اسکی ٹھنڈی پیشانی چھوئئ۔ گوارا کو بھی پریشانی ہوئی

    کیاہوا اریزہ تم ٹھیک تو ہو؟ 

    ٹھیک ہوں بس تھک گئ ہوں۔ 

    اس نے تسلی دینے کو کہا تھا۔ 

    بس اب گھر ہی چل رہے ہیں مجھے اندازہ تھا تم سے اتنی اونچائی پر چڑھا نہیں جائے گا آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور تمہیں اتنی ٹھنڈ کہ عادت بھی نہیں۔ پانی پیو گی؟

    تم سے چلا نہیں جا رہا تو ہم پگی بیک رائیڈ دے دیتے ہیں تمہیں۔ آدھا راستہ میری پشت پر بقیہ آدھا گوارا کی پشت پر سواری کر لو۔

    ہوپ نے آئیڈیا دیا 

    ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ گوارا فورا مان گئ

    گوارا اور ہوپ کا بس نہیں تھا گود میں اٹھا لیں 

    اسے ہنسئ آگئ۔ 

    بس کرو اتنی محبت کہاں سمیٹ پائوں گی میں؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیڈ پر پڑی وہ چھت پر نگاہ جمائے چت لیٹی تھی۔ گرم بستر گرم کمرہ پیٹ بھر کر کھانا سب ملا تھا۔ مگر محبت چھن جانے کے بعد۔ ایڈون کا چہرہ اسکے کہے جملے اسکے ذہن سے چپک گئے تھے۔ اس وقت تجزیہ کرنے کا موقع نہیں تھا۔ اسکے سرہانے ڈرپ کا اسٹینڈ رکھا تھا جس سے قطرہ قطرہ ڈرپ اسکے سفید پڑے ہاتھ میں سوئی کے ذریعے رگوں میں داخل ہو رہی تھی۔ دوسرا ہاتھ وہ سینے پر رکھے تھی وہی ہاتھ اٹھا کر اس نے اپنی سپید پڑتئ ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔ 

    کیا ملا مجھے۔ میں تو خالی ہاتھ ہی رہ گئ ہوں ۔  اس نے یاسیت سے سوچا۔ 

    چند گھنٹوں قبل ایڈون سے ملاقات کا منظر ابھی بھی نگاہوں میں تھا۔ 

    اسکے قطیعت بھرے انداز میں ہر رشتے کو ختم کرنے کا اعلان سن کر اس کو لگاتھا کہ اسکے جسم سے روح ہی نکل گئ ہے بظاہر وہ خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئ تھی ایڈون کا وکیل اندر آکر اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔ جانے کتنا وقت گزرا وہ کتنی دیر اکیلی بیٹھی رہی اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ڈیڈا اسکو پکارتے ہوئے ہلا رہے تھے وہ بس ساکت بیٹھی رہی تھی۔ اسے پھر نہیں یاد کس نے سہارا دیا اسے فوری طور پراسپتال لے جایا گیا تھا وہ مکمل بےہوش نہیں تھی مگر حواس میں بھئ نہیں تھی۔ فورئ طبی امداد سے کئی گھنٹوں بعد وہ مکمل ہوش میں آئی تھی تو بند آنکھوں سے اس نے ڈاکٹر کو کہتے سنا تھا۔   

    بہت کمزور ہے ماں۔۔  بچے کی بھی جان کو شدید خطرہ ہے۔ مکمل بستر پر رہے کم ازکم اگلے د ومہینے۔ تھکن بالکل نہیں لینی خوراک کا خاص خیال رکھنا ہے۔ کچھ سپلیمنٹس ہیں انکو مستقل استعمال کرائیں فی الحال کچھ انجیکشن لگنے ضروری ہیں اور فوری توانائی کیلئے ڈرپ لگے گی۔ 

    وہ کوئی ہندوستانی ڈاکٹرنی تھی جس نے اسکا مکمل معائنہ کرتے ہوئے تاکیدوں کے ڈھیر لگا دیئے تھے۔ غنیمت تھا کہ وہ اردو بول رہی تھی ورنہ وہ جس ذہنی کیفیت کا شکار تھی کسی اور زبان کو سمجھنا مشکل تھا اسکے لیئے۔ ایک نہیں دو تین ڈرپیں اسے وقفے وقفے سے لگی تھیں۔ رات کے بارہ بج رہے تھے وہ مکمل بیدار ہو پائی تھئ اب اور لگا تھا کہ جسے چند پل ہی گزرے ہوں گے جب ایڈون ۔۔۔ 

     کمرے کا دروازہ ہلکا سا چرچرایا تھا اس نے بنا ہلے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ یہ یقینا اسکی خدمت پر معمور نرس تھی جسکا کام ہر دو گھنٹے بعد آکر اسے دیکھنا تھا۔۔

    اسے سوتا سمجھ کر بے حد احتیاط سے اس نے ڈرپ بند کی تھی اس پر کمبل درست کیا تھا۔ کینولا کے ذریعے ہی ایک ٹیکا لگایا تھا۔ 

    دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر بھی چند لمحے اس نے انکے جا چکنے کا یقین کیا تھا پھر آنکھیں کھولی تھیں۔چت لیٹے لیٹے تھکن ہو گئ تھی سو تکیہ درست کرتے وہ بیڈ کا سہارا لیکر نیم دراز ہوگئ ۔  سائیڈ ٹیبل پر شاپر رکھا تھا۔کچھ پھل تھے سوپ ڈھکا رکھا تھا۔ بھوک محسوس ہو رہی تھی اس نے شاپر سے سیب نکال لیا۔ پھلوں کے ایک اور بھی خاکی لفافہ تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کالیمپ آن کیا میز کا سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔ 

    لفافہ کھولا۔ مختصر سا نوٹ تھا۔ 

    ہو سکے تو مل کر واپس جانا ۔۔ میری دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔

    ایک کارڈ تھا۔ نوٹ انگریزئ میں تھا اور کارڈ مکمل ہنگل میں اسے ہنگل پڑھنی نہیں آتی تھی پھر بھی اس نے کارڈ پہچان لیا تھا یقینا یہ کم سن تھا۔

    پرسوں صبح کی فلائٹ تھی یہاں سے دبئی کی۔ اسا دانہ پانی کوریا سے اٹھ گیا تھا۔

    کیا ملوں گی میں؟ ہاں شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اور سیب کھانے لگی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گھر پہنچنے تک اسے بخار چڑھ گیا تھا۔ گوارا کی امی نے اسکے خوب لتے لیئے تھے۔ 

    اتنئ سردی میں اتنی سیڑھیاں کیوں چڑھوائیں؟ 

    اسے یہاں کے موسموں کا کیا پتہ؟ 

    وہ  اسکے سرہانے بیٹھ کر سر دباتے ہوئے مستقل گوارا کو ڈانٹ رہی تھیں۔ 

    اسی نے کہا تھا جان کھا لی مندر جانا ورنہ آپکو بھی پتہ ہے مجھے مزہب میں ذیادہ دلچسپی نہیں۔ اسکو مندر دیکھنے کا شوق چڑھ آیا تھا۔

    تھوڑی دیر خاموشی سے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ بلبلا کر بولی تھی۔

    میرے سامنے زبان مت چلایا کرو تمہاری وجہ سے تمہارے باقی بہن بھائئ بھی شیر ہوتے ہیں۔

    اب نئئ ڈانٹ پڑ گئ۔ 

    ہوپ مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ گوارا چڑ گئ۔آہموجی نےاریزہ کو اپنے ہاتھوں سے سبزیوں کا سوپ بنا کر پلایا۔ قہوہ پلایا۔ جب تک سو نہ گئ وہ اسکے سرہانے بیٹھی رہیں۔ گوارا اور ہوپ وہیں اپنے بستر پر لیٹ گئیں ۔ جب اریزہ نے گہری نیند میں کروٹ بدلی تب جا کے وہ اسکے اوپر کمبل درست کرتی اٹھی تھیں۔ احتیاط سے دروازہ کھول کر باہر آئیں تو یوسب اپنے لیئے کھانا نکال کر باہر لائونج میں بیٹھ رہا تھا

    تم کب آئے۔ ؟

    وہ حیران ہوئیں

    جب آپ اپنی نئی بیٹی کو تھپکیاں دے کر سلارہی تھیں۔ 

    اسکا چڑا ہوا جواب آیا تھا۔ وہ مسکرادیں۔ 

    اسکی طبیعت خراب تھی۔ آہمی آہمی پکار رہی تھی بخار میں ۔ جانے اسکی ماں زندہ ہے یا نہیں مجھ میں اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ترس آیا مجھے ۔ بالکل گوارا لگی مجھے۔ ایسے جتنی زبان چلا لے مگر ذرا سی طبیعت خراب ہو تو مجھے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتی۔ 

    وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

    ہاں سب لٹا دی محبت بیٹیوں پر بیٹوں کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے آپکے پاس وہ چاہے ٹھنڈا کھانا کھائیں یا کھائیں ہی نا۔ 

    وہ منہ بنا کر کہتا ٹی وی آن کر رہا تھا۔ 

    کھانا وہ رات کا انکے ساتھ ہی کھاتا تھا جبھی خفا تھا۔ وہ مسکرادیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گرم گرم مٹر پلائو دیکھتے ہی اسے اریزہ یاد آگئ تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے چاول کی ڈش اٹھا کر اپنی پلیٹ میں چاول نکالے۔ خالو رات کو چاول نہیں کھاتے تھے سو انکے لیئے قیمہ مٹر بنا تھا۔ خالہ خود بھی چاول شوق سے نہیں کھاتی تھیں سو روٹی کھا رہی تھیں۔ 

    ایک منٹ۔ 

    اس نے فورا محسوس کر لیا۔ 

    خالہ آپ صرف میرے لیئے الگ اہتمام مت کیا کیجئے اب جب مٹر قیمہ تھا تو آپ نے الگ سے پلائو کیوں بنایا میں بھی کھا لیتا یہی ۔ 

    اس کے تکلف پر جبین مسکرا دیں

    تو کیا ہوا دو منٹ میں بن جاتا ہے کونسا مشقت کرنی پڑتی ہے پلائو بنانے میں۔ میرا بیٹا شوق سے کھاتا ہے مٹر پلائو تو میں ۔۔ 

    وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

    ہاں دو ڈشیں بنانے میں کونسا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمیشہ ہی تمہاری خالہ سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی آئی ہیں۔ 

    خالو کا انداز بتاتا تھا وہ کس موڈ میں بولے ہیں۔

    پچھلے کچھ عرصے سے وہ رات کو ہی بس کھانے کے وقت گھر آتے تھے اور تقریبا روز ہی انکی کسی نا کسی بات پر نوک جھوک ہوجاتی تھئ۔

    آپ تو عورتوں کو بھی مات کرنے لگے ہیں طعنے دینے میں۔ 

    وہ حسب توقع بری طرح چڑ گئیں۔ 

    لو ایک تو تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔ بیٹے کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہو ایک وقت میں دو طرح کے کھانے بنا رکھتی ہو تھکتی بھئ نہیں ہو اب۔

    وہ تپا چکے تھے جبھی اب ٹھنڈے میٹھے انداز میں بول رہے تھے۔ 

    جانتی ہوں اس تعریف کا مطلب اچھی طرح۔ 

    وہ بڑبڑا کر رہ گئیں

    اریزہ بھی کل مٹر پلائو کھارہی تھی۔ اسکی کورین سہیلی کی ماں نے بنایا تھا۔ کہہ رہی تھی مزے کا ہے۔ مگر انہوں نے اس میں سالن ڈال دیا تھا۔ رونے والئ ہوئی وی تھی۔

    اس نے بات بدلنے کی نیت سے قصہ سنایا مگر خیال آیا کہ سور والی بات جانے بتانی چاہییے یا نہیں سو بروقت زبان کو بریک بھی لگالی۔ 

    سالن ڈالنے میں رونے کی کیا بات۔ اکثر لوگ سالن ڈال کر کھاتے ہیں چاول۔ 

    جبین حیران ہو رہی تھیں۔ اس نے وضاحت نہیں کی۔ خالو کا کھانا کھاتے کھاتے دل اچاٹ سا ہوا روٹی ہاٹ پاٹ میں رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

    اے اب کھانا تو پورا کھا لیں کہاں جا رہے ہیں؟

    جبین نے ٹوکا مگر وہ بھوک نہیں ہے کہتے چائے کی فرمائش داغتے کمرے میں چلے گئے۔

    وہ بول کے پچھتا رہا تھا کھانے میں اسکی بھی دلچسپی ختم ہو گئ تھی مگر خالہ کی وجہ سے ساتھ دینے کو کھانا زہر مار کرتا رہا۔

    اریزہ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ سردی سنا ہے کوریا میں سخت پڑتی ہے۔ اسکو تو فورا بخار ہوتا تھا سردی میں۔ بڑی احتیاط کرنی پڑتی تھی مجھے اسکی۔ 

    نوالہ بناتے وہ بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھ رہی تھیں حقیقتا رواں رواں کان بنا ہوا تھا۔ 

    ٹھیک ہے۔ آجکل سہیلی کے گھر آئی ہوئی ہے۔ خوب گھوم پھر رہی ہے۔ تصویریں لگا رہی ہے انسٹا پر دکھائوں؟۔

    اس نے پوچھنے کے ساتھ ہی موبائل نکال لیا۔ کرسی گھسیٹ کر انکے برابر کرتے ہوئے انکو تصویریں دکھانے لگا۔

    بہت کمزور ہوگئ ہے؟ کھاتئ پیتی نہیں ہوگی نا۔ اتنے تو نخرے تھے کھانے میں اسکے۔ 

    ماں نے سب سے پہلے بھانپا تھا کہ اس نے وزن کم کر لیا ہے۔ پرفضا مقام پر پہاڑوں کے درمیان ہنستی مسکراتی اریزہ بے حد خوش دکھائی دے رہی تھی۔ 

    انکی آنکھیں جھلملا سی گئیں۔۔۔ 

    اب بات ہو تو پوچھنا اس سے ۔۔ 

    کہتے کہتے وہ رک سی گئیں۔ 

    کیا ؟ وہ ہمہ تن گوش ہی تو تھا۔ 

    یہی خیریت وغیرہ۔ تم چائے پیوگے؟ 

    وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پلیٹیں سمیٹتے ہموار لہجہ معمول کا انداز انہیں جیسے دلچسپی ہی نہ تھی تصویروں میں۔ وہ انکے خیال سے اسکی درجنوں تصویریں دکھانے بیٹھا تھا ۔۔ 

    جی۔ صارم مایوس سا ہوا۔ 

    جانے آج دل کیوں بیٹھا جا رہا ہے۔ وہ برتن اٹھاتے بڑبڑائی تھیں۔ 

    آپ بیٹھیں میں سمیٹ دیتا ہوں بلکہ چائے بھی بنا دیتا ہوں۔ وہ فورا اٹھا تھا وہ واپس کرسی پر بیٹھ گئیں۔ مروتا بھی انکار نہیں کیا۔۔۔ دل ہی عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپنے دفتر میں بیٹھا وہ کچھ ضروری امور دیکھ رہا تھا جب اسکو موبائل پر کال آئی۔ انجان نمبر دیکھ کر اس نے بے دھیانی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا 

    یوبوسیو۔ 

    آنیانگ ہاسے او۔ سنتھیا بات کر رہی ہوں۔ 

    پوری دنیا ختم ہو رہی ہوتی اور سنتھیا اور وہ آخری دنیا میں رہ جانے والے انسان بچتے تب بھی اسے گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اب اسے کال کرے گی۔ 

    کیسے ہو؟ وہ انگریزی میں احوال پوچھ رہی تھی۔

    ٹھیک ہوں تم کیسی ہو طبیعت کیسی ہے؟

    اس نے بے تابئ سے پوچھا تھا جوابا وہ چپ سی رہ گئ

    ٹھیک ہوں۔ میں آج واپس جا رہی ہوں سوچا تمہیں خدا حافظ کہہ دوں۔ تم نے مجھ پر جتنے احسان کیئے جتنا میرا خیال رکھا اسکا بدلا تو نہیں اتار سکتئ مگر دل سے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ بہت بہت شکریہ کم سن ۔ تم بہت اچھے انسان ہو خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ 

    کہاں ہو تم؟ 

    کم سن نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا 

    میں۔ وہ رکی پھر بتا دیا

    اسپتال میں ہوں۔ 

    کونسے؟ 

    اس نے وقت ضائع کیئے بنا پوچھا

    نام تو مجھے نہیں پتہ۔ اس نے موبائل کان سے لگائے سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا جو اسکے کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹا رہی تھی۔ اسے اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گھنٹے بھر میں وہ اسکے سامنے تھا۔صوفے پر بیٹھا اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ 

    وہ ابھئ ناشتہ کرکے فارغ ہوئی تھی۔ نرس اسکا منہ صاف کروا رہی تھی۔  رات دیر تک جاگی تھی صبح دیر تک سوتی رہی تھی۔ اس وقت کچھ طبیعت پرسکون تھی۔ اسے دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ سجا کر وہ بیڈ اونچا کروا کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ نرس اسکا بیڈ اونچا کرکے اسے ذیادہ دیر نہ بیٹھے رہنے کی تاکید کرتی باہر نکل گئ۔ نرس کے جاتے ہی وہ اٹھ کر اسکے قریب آکھڑا ہوا تھا۔

    تم نے اچھا کیا تم آگئے۔ میں تمہارا دوبدو شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ تم نے جو میرے لیئے کیا۔ 

    وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کم سن نے بات کاٹ دی

    تم سفر نہیں کر سکتی ہو پھر کل جانے کا مطلب؟

    اس نے بلا تمہید سوال کیا تھا۔ 

    میں یہاں رہ نہیں سکتی ۔ ڈیڈا کے ساتھ واپس جانا ہے مجھے۔

    اس نے کمزور سی آواز میں کہتے ہوئے سر جھکا لیا۔

    کیوں کیا مجبوری ہے؟ تمہاری طبی حالت ایسی ہے کہ آرام سے تم کوریا میں رہ سکتی ہو اس بچے کی پیدائش تک  کوئی تمہیں ہوائی سفر پر مجبور نہیں کرسکتا۔ 

    کم سن کا انداز۔ اسکی فکر۔ اس نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے پھر ہونٹ بھینچ لیئے۔ وہ یقینا اچھا انسان تھا جو کسی انجان لڑکی کیلئے اتنا فکر مند تھا لیکن وہ اس کو کیا بتائے کیسے بتایے سب سے بڑھ کر کیوں بتائے اپنی مجبوریوں کی داستان۔ 

    تم بیٹھو تو ۔ یہ میں نے کچھ ریفرشمنٹ بھئ منگوائی تھی معزرت تمہیں خود زحمت کرنی پڑے گی۔ اس نے وزیٹنگ صوفے کے سامنے رکھی سینٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے بات ہی بدل دی۔ اسکو وی آئی روم دیا گیا تھا۔ اسکے بیڈ اور دیگر سہولیات تو جو تھیں ایک حصے میں مہمانوں کیلیئے صوفہ سیٹ بھی لگا ہوا تھا۔ میز پر بڑا سا شاپر بھی رکھا ہوا تھا۔ کم سن بھنا ہی گیا

    بات مت بدلو۔وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔

     تم پاکستان مت جائو ۔ یہیں رکو۔ تمہارے ڈیڈا اتنا تو خرچہ اٹھا سکتے ہیں تمہارا کہ یہاں کوئی رہائش کا انتظام کر سکیں ۔ یہاں چیریٹئ کے بھئ بہت سے نرسنگ ہومز ہیں ۔ تمہارا یہاں کوئی انتظام کیا جا سکتا ہے اور تم یہاں اکیلی بھی نہیں ہو ایڈون ہےاریزہ ہے ہم سب ہیں ۔ 

    وہ کہنا چاہتا تھا میں ہوں مگر جانے وہ اسکا مطلب کیا لیتی سو اپنی بات کہہ گیا سنتھیا ہنس دی۔ 

    بس ہنس کر چپ ہی رہی۔ کم سن کو اپنا آپ ایکدم چغد سا لگا۔یعنی اسکی بات بچکانہ سمجھ کر ہنس کر ٹال دی گئ تھی۔

    سنتھیا میں سنجیدہ ہوں۔ 

    وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔ سنتھیا مسکرا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

    تمہارا ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میری جتنی مدد کی جتنی فکر کی میں واقعی احسان مند ہو گئ ہوں تمہاری۔ کوریا کے بارے میں کم ازکم ایک اچھی یاد جڑ گئ ہے میری۔ تمہاری وجہ سے۔ 

    اسکا انداز نپا تلا تھا ۔ وہ بہت سلیقے سے اسے اب جانے کا کہہ رہی تھی۔ کم سن اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ سمجھ نہ پاتا ہونٹ بھینچے وہ بلا ارادہ اسے دیکھتا رہ گیا۔بس اتنا ہی تو تعلق تھا ان میں۔ اس نے خدا واسطے ایک انجان ملک کی لڑکی کی مدد کی جوابا وہ شکریہ ادا کررہی تھی مزید اور کیا ۔۔ 

    یہ میں تمہیں دینا چاہتی تھی۔ اسے جیسے کچھ یاد آیا تھا۔ اپنے بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی دراز سے اس نے ایک موٹا سا سفید کاغذکا لفافہ نکالا۔اسکی جانب بڑھا کر بولی 

    یہ امانت تھی تمہاری۔ 

    اس نے میکانکی انداز میں اسکے ہاتھ سے لفافہ لیا۔ کھول کر دیکھا تو وون کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا

    مجھے درست اندازہ تو نہیں کہ اسپتال کے اخراجات پر تمہارا کتنا خرچ آیا ہوگا۔ لیکن یہ میری جانب سے شکریے کا نذرانہ ہے۔۔

    کم سن کو ہنسی آگئ 

    مٹھی بھر نوٹ بس۔  اتنی سی قیمت لگی۔ 

    یہ بہت کم ہیں۔ اس نے نوٹ واپس لفافے میں رکھ کر لفافہ اسکی جانب بڑھا دیا

    وہ انکار کرے گا لینے سے منع کرے گا وہ تھوڑا اصرار کرکے منا لے گی وہ اتنے خرچے ایک مخلص انسان کے کروا کر پاکستان جا بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہر حال پیسہ ایک حقیقت ہے۔ مگر اس کے سب ردعمل سوچتے اس نے یہ کم از کم نہیں سوچا تھا کہ وہ پیسے واپس کرتے کہے گا یہ کم ہیں۔ 

    اسے ڈیڈا سے مزید رقم کا انتظام کرنے کا کہنا چاہئےتھا اسکا یقینا کافی ذیادہ خرچہ ہوا ہوگا۔

    میں ڈیڈا سے مزید وائر کروادیتی ہوں۔ وہ الرٹ سی ہو کر بیٹھی۔ اب تو ڈیجیٹل بھی بھیجا جا سکتا ہے خوامخواہ کیش کی زحمت کی۔ 

    وہ سوچ رہی تھی۔ بیڈ سائیڈ سے فون اٹھا کر ڈیڈا کو کال ملائے۔ ۔کم سن نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر روک کر اس پر لفافہ رکھا۔ 

    جو میرا خرچ ہوا ہے وہ وقت تھا جزبے تھے۔ انکی قیمت پیسوں میں تولی نہیں جاسکتی۔ کبھی وقت یا جزبوں سے مول لگا سکو تب رابطہ کرنا۔ 

    سنتھیا کا دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدلا پیشانی پر شکن آگئ۔ 

    کیا مطلب ہے اس بات کا۔ وہ چٹخ کر بولی۔

    کم سن  گہری سانس لیکر بنا جواب دیے جانے کو مڑا۔ پھر خیال آیا تو رک کر بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بولا

    بہت طویل عرصہ میں نے گزارا ہے کسی کیلئے یک طرفہ محبت میں جلتے سلگتے۔ ساتھ کھڑے ہونا مگر پس منظر کا حصہ بن جانا۔ اور تمہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا یہ بد قسمتی صرف میرے حصے میں نہیں آئی ہے۔ اور بھی لوگ ہیں دنیا میں جو پاس ہو کر بھی نارسائی کی آگ میں جلتے ہیں۔۔ یہ میں جانتا تھا کیونکہ۔۔۔

    وہ رکا تھا۔ سانس لی تھئ شائد۔ سنتھیا دم سادھے سن رہی تھی۔

    ۔۔۔۔دراصل تمہیں دیکھتا تھا میں اتنا دیکھتا تھا کہ۔۔۔ 

    اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔پلٹ کر ناگواری سے گھورتی سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

    تم ایڈون کے سوا کسی کو دیکھتیں تو شائد مجھے تمہیں دیکھتا دیکھ لیتیں۔

    سنتھیا بھونچکا سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا ۔ رک سکتا ہی نہیں تھا آنکھیں ہی بھرآئی تھیں۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے اس نے رفتار بڑھاتے بس یہی سوچا تھا 

    پھر میں۔۔۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد

    جاری ہے 

    Rating
    https://desikimchi.com/cast-away-diva-first-impression-urdu-review/
    https://desikimchi.com/concerete-utopia-korean-movie-2023-honest-urdu-review/
    Home » Urdu Novels » Salam Korea » Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 39
  • Ejaad a short urdu afsana

    ایجاد

    آج مجھے تقریباً دس سال بعد اسکی صورت نظر آئ تھی
    میں اشیاء خوردونوش کے ایک بڑے کریانے سے خریداری کر رہا تھاجب مجھے وہ دکھائی دیا
    سرف کا لفافہ اٹھاتا ہدایت اللہ
    میرا بچپن کا دوست …
    لمبی داڑھی سفید بال پیشانی پر سجدے کا نشان چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں سجی تھیں کندھے تھوڑا سا جھک گیے تھے مگر چہرے پر ووہی ملاحت تھی میں اسے دیکھ کر بے حد خوش ہو گیا تھا
    سو پر جوش انداز میں اسکی جانب بڑھا
    ارے ہدایت اللہ کیسے ہو ؟
    وہ مجھے دیکھ کر چونکا پھر بے حد خوش دلی سے میری جانب بڑھا
    اسلام و علیکم کیا حال ہیں ؟
    ہم بغل گیر ہوئے
    وعلیکم السلام .. میں ٹھیک ٹھاک تم نے اپنا کیا حلیہ بنا رکھا ہے بالکل بوڑھے لگ رہے ہو ؟
    میں کہے بغیر نہ رہ سکا
    اس نے ہنس کر مجھے دیکھا
    میں حسب عادت پتلون قمیض میں ملبوس تھا بال اسکی طرح سفید نہیں چھوڑے تھے

    با قاعدگی سے رنگتا ہوں داڑھی ہمیشہ سے منڈوا رکھی تھی اور اب تو جدید دور سے ہم آہنگ ہو کرروز ورزش کی بھی عادت ڈال رکھی تھی سو پیٹ کمر سے لگا تھا اسکی طرح توند نہیں تھی میری سو میں اس وقت اسکے ساتھ کھڑا اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتا تھا
    بس اب تو بڑھاپا ہی آیئگا جوانی تو کب کی گزر چکی ہے
    اس نے ہنس کر بات ٹالی
    ایسا بھی نہیں … مجھے اختلاف تھا
    تم سناؤ فراز بیٹا کیا کر رہا ہے ؟آخری بار تو اسکی اور حارث کے کالج ختم ہونے کی تقریب میں ملاقات ہوئی تھی ہماری ؟
    وہ میری عادت سے واقف تھا ابھی میں نے اسکو واعظ دینا تھا کہ انسان کو اپنا خیال رکھنا چاہیے بڑھاپا ایک ذہنی کیفیت ہے اسے خود پر طاری کر لینا نری حماقت ہے وغیرہ وغیرہ سو فورا بات بدل دی
    ہاں دس سال ہو گیے … میں نے ٹھنڈی سانس بھری
    بس اسکے بعد اسے وظیفہ مل گیا تھا امریکا چلا گیا تھا آجکل ناسا میں نوکری کر رہا نجانے کتنی نیی نیی تحقیقات کا حصہ ہے اب تک کئی نئی سائنسی اصطلاحات کا اضافہ کر چکا ہے طبیعات میں ابھی کچھ عرصۂ پہلے اسے اسکی خدمات کے اعتراف میں امریکی دانش کدہ سے سند بھی ملی ہے ماشااللہ سے
    کہتا ہے وہاں آجائیں اسکے ساتھ رہیں مگر ہم دونوں میاں بیوی تیار نہیں ہوتے یہاں بیٹیاں ہیں ہاں بس سال چھے مہینے بعد ہم مل آتے ہیں
    میں نے سینہ پھلا کر بتایا تھا
    ماشااللہ … الله اور کامیابیاں عطا کرے والدین کو ہمیشہ اسکی جانب سے اچھی نوید ملے
    وہ ہمیشہ کی طرح خوش ہوا تھا سن کر وہ بھی فراز کو اپنے بیٹے کی طرح ہی چاہتا تھا ..
    تم سناؤحارث کیسا ہے وہ کیا کر رہا ہے آجکل؟
    میں نے اسکے بیٹے کا احوال دریافت کیا تو اسکی مسکراہٹ پھیکی سی پڑ گئی
    اس نے تو مدرسہ سے عالم بننے کے نصاب میں داخلہ لیا تھا اب تو عالم بن چکا ہے اپنا مدرسہ چلا رہا ہے اب تو فتوے بھی دیتا ہےکچھ عرصے سے اسکے اور مرے درمیان فقہی اختلاف ہو گیا ہے کافی دن سے ملاقات اس سے میری بھی نہیں ہی ہے کہتا ہے آپ کے نظریات دین کے صحیح عکاس نہیں ہیں تبدیل کیجیے کچھ اسکی دینی اصطلاحات سے مجھے شدید اختلاف ہے بس… کچھ ایسے ہی معاملات ہیں
    وہ ہنس دیا تھا

    Kesa laga aapko yeh afsana? Rate us below

    Rating
  • aayeena آئینہ

    شہر کے داخلی دروازے پر۔۔
    ایک آئینہ لیئے۔۔
    جو فقیر بیٹھا ہے۔۔
    اسکو وہاں سے ہٹائو۔۔
    شہریوں کا مطالبہ ہے۔۔
    گو وہ نا بھیک مانگتا ہے۔۔
    نہ دعا دیتاہے۔۔
    چپ چاپ سر نیہواڑے بیٹھا رہتا ہے۔۔
    کسی کو کیا کہتا ہے۔۔
    مگر سب تنگ ہیں اس سے یوں۔۔
    اسکے ہاتھ میں جو ایک آئینہ ہے۔۔
    اسے اٹھاتا ہے۔۔ گزرتا ہے پاس سے جو اس کے۔۔
    انہیں دکھاتا ہے۔۔
    انہی کا اپنا چہرہ۔۔

    از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom

  • Din ki neeli chiryaدن کی نیلی چڑیا

    ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ کیس نمبر 400

    ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

    مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

    نفسیات دان۔ 

    عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

    دن کی نیلی چڑیا

    اس نے نگاہ اٹھا کر غور سے اپنے مقابل بیٹھے مریض کی شکل دیکھی۔ مکمل سفید کالر جاب کرنے والا حلیہ۔ گہرے نیلے تھری پیس سوٹ میں سرخ ٹائی سفید شرٹ سلیقے سے سنورے بال کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا وہ خوبصورت نوجوان تھا۔

    نام ۔۔ ؟ اس نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائی

    اگلا سوچ میں پڑ گیا تھا سوال سن کر۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر گہری ہونے لگی تو اس نے گہری سانس لیکر سوال بدل دیا۔

    عمر؟ 

    تین دہائیاں دیکھ چکا ہوں۔ 

    اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا

    تیس سال۔ سر جھکائے ہجوم تنہائی نے فارم پر عمر لکھ ڈالی

    الجھن؟ 

    پھر سوال کیا۔۔ اس بار نوارد کے چہرے پر بے چینئ اور گھبراہٹ سی چھا گئ۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے گہری سانس لی ۔ مگر پرسکون نہ ہو پایا۔ آگے ہو کر دونوں ہاتھ میز پر ٹکا کر رازدارانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی میں بولا۔

    مجھے یہ خوف ہے کہ میں ایک دن اپنے دفتر میں اکیلا بیٹھا ہوں گا تو نیلے پروں والی چڑیا میرے دفتر کی گلاس ونڈو سے آئے گی اور مجھے چونچ میں دبا کر لے جائے گی۔ 

    اس کی الجھن پر ہجوم تنہائی کی آنکھوں میں الجھن تیر گئ

    آپکا دفتر کیا اونچے کسی فلور پر ہے؟ 

    اسکے سوال پر نوارد کے چہرے پر مایوسی چھا گئ

    گرائونڈ فلور پر ہے۔ پر روز میں دیکھتا ہوں میرے دفتر کے احاطے میں چڑیاں کوئے سب آتے ہیں انہوں نے آگے ایک باغیچہ بنا رکھا ہے جس کی دیکھ بھال کیلئے مالی بھی آتا ہے۔میں نے امر بیل لا کر ڈالی سب پودے جل گئے مگر مالی نے پھر باغیچہ ہرا بھرا کر ڈالا۔ اب تو چڑیوں کو دانہ بھی ڈالتا ہے۔ تتلیاں جگنو سب اڑتے پھرتے۔ مگر وہ نیلی چڑیا۔ وہ بس پھدکتی رہتی ہے وہاں اڑ کر کہیں جاتی بھی نہیں ہے۔ 

    وہ جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ہجوم غور سے اسکی شکل دیکھتی رہی

    چڑیا جب اڑ نہیں سکتی تو ڈر کیسا؟ وہ چونچ میں آپکو دبا بھی لے تو بھی۔۔۔ 

    اس نے پیشہ ورانہ انداز میں اسکو سمجھا بجھا کر اسکی الجھن دور کرنا چاہی۔ 

    وہ رو پڑا۔ ہجوم کو خوف سا محسوس ہوا۔ اسکی آنکھوں سے آنسوئوں کی دھاریں نکل رہی تھیں۔ اسی طرح روتا رہا تو کہیں اسکے دفتر میں سیلاب نہ آجائے۔ اس نے گھبرا کر ٹشو باکس اسکی جانب بڑھایا

    آپ روئیں نہیں۔مجھے کھل کر بتائیں۔۔۔۔ جو چڑیا اڑ نہیں سکتی وہ آپکو کیوں لگتا ہے کہ کسی دن آپکو اکیلا پا کر چونچ میں دبا کر اڑ جائے گی؟ 

    یہ اکیلے پن والی بات کیسے آپکو پتہ لگی؟ 

    وہ رونا بھول کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ہجوم گڑ بڑا سی گئ

    میرا مطلب اگر کوئی آپکے آس پاس ساتھ ہوگا تو بچانے کی کوشش کرے گا؟ یقینا ننھی چڑیا مزاحمت کا سامنا نہیں کر پائے گئ نا۔ تو یقینا وہ اکیلے میں ہی آپ پر حملہ کرے گی۔۔ 

    اسکی وضاحت پر نوارد کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے

    ہاں۔ یہ بات مجھے بھئ سمجھ آتی ہے۔ مگر اور 

    کوئی نہیں سمجھتا میری بات۔ وہ اڑتی اسلیئے نہیں ہے کسی دن مجھ پر حملہ کرکے مجھے چونچ میں دبا کر ایک ہی دفعہ اڑ جائے گی۔ میں اسی لیئے اکیلا نہیں رہتا۔ کسی نہ کسی کے ساتھ ہی دفتر سے نکلتا ہوں۔ صبح آتے ہوئے بالکل لمبا راستہ اختیار کرکے اپنے ایک دوست کو مفت اپنے ساتھ گاڑی پر لے کر آتا ہوں۔۔ وہ ہنستا ہے مجھ پر مگر جب اس نیلی چڑیا کے پاس سے گزرتا ہے تو میرا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ 

    وہ بھی یہی سمجھتا ہے نا کہ چڑیا مجھے لے اڑے گی جبھی ایسا کرتا ہے نا؟ 

    آپکا دوست بھی چڑیا سے ڈرتا ہے؟ اسکو حیرانگی ہوئی

     یک نہ شد دو شد۔

    نہیں۔ اسے چڑیا سے ڈر نہیں لگتا۔ اسے مجھ سے ڈر لگتا ہے۔ 

    اس نے سر جھکا لیا۔۔ 

    آپ سے کیوں ڈرتا ہے وہ؟ ہجوم کو اسکا معاملہ الجھا الجھا سا لگا تھا

    وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میں ڈر ڈر کر مر نہ جائوں۔ وہ میرا ہاتھ تھامتا ہے تاکہ چڑیا کو لگے میں اکیلا نہیں ہوں۔

    اس کی بات پر ہجوم نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ 

    ایسا کریں آپ اپنے دوست کو بھی لے آئیں اگلی دفعہ۔ 

    ہجوم کی بات پر وہ اچنبھے سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکا دوست اسکے مطالبے پر حیران ہوا۔وہ دونوں صبح صبح کے وقت اکٹھے دفتر آرہے تھے۔ جب اس نے موڑ کاٹ کر دفتر کی ذیلی سڑک کی جانب گاڑی موڑی تو اسکا دوست دور سے دفتر کے احاطے میں پھدکتی نیلی چڑیا کو دیکھ کر الجھن بھرے انداز میں اس سے پوچھنے لگا

    ذہنی الجھن میں مبتلا تم ہو اور نفسیات دان کے پاس میں جائوں کیوں بھلا ؟ 

    چلو تو سہی۔ مجھے لگتا ہے نفسیات دان سمجھ گئی ہے ہمارا معاملہ۔ اس نے گاڑی پارکنگ میں لگا دی تھی۔ گاڑی بند کرکے وہ اتر کر لاک کرنے لگا جب جارحانہ انداز میں اسکا دوست پسنجر سیٹ سے اتر کر اسکی جانب آیا اور غصے سے کہنےلگا

    ایک منٹ۔ ایک بات صاف ہے یہ مسلئہ معاملہ ذہنی الجھن تمہاری ہے میرا کوئی لینا دینا نہیں اس سے۔ جائو اپنی بیمار سوچ کا علاج کرائو سمجھے تم۔ پہلے ہی تمہارے خوف کو دور کرنے کی خاطر جو میں تمہارا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں نیلی چڑیا کے سامنے سے گزرتے اس پر لوگ مجھ پر ہنستے ہیں مزاق اڑاتے ہیں۔ خود تو تم پاگل ہو رہے ہو مجھے بھی سب پر پاگل ثابت کرنے لگے ہو۔ وہ بات مکمل کرکے غصے سے مڑ کر تیز قدم اٹھاتا اندر جانے لگا۔ 

    رکو بات سنو۔ اسے اندر کی جانب بڑھتے دیکھ کر اسکی جیسے جان نکلنے کو آگئ۔ اس وقت صبح صبح کا وقت تھا احاطے میں رش بھئ نہ تھا اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا دوست کیا نہیں جانتا تھا کہ اسے اکیلا پا کر نیلی چڑیا اسے لے اڑے گی؟ 

    بات سنو۔وہ پکارتا اسکی جانب لپکا۔ مگر اسکا دوست رکا نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا اندر دفتر کی جانب بڑھ گیا۔ 

    نیلی چڑیا پھدکتی ایکدم ان دونوں کے بیچ میں آئی تھی۔ اسکے خوف کے مارے قدم جم گئے تھے۔ چڑیا نے ہوا میں جست لگائی اور سیدھا اسکی کھوپڑی پر آن بیٹھی۔ 

    اسکا دھڑ دھڑ کرتادل سکڑ کر جیسے لمحہ بھر کیلئے رک ہی گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے آج کلینک  میں آنے میں دیر ہوگئ تھی۔ اسکی پہلی اپائنٹمنٹ کا وقت ہو گیا تھا ۔ وہ تیزی سے اندر آئی تھی جب ریسیپشنسٹ نے اسے عجلت میں آتے دیکھ کر جلدی سے یاد دہانی کرائی۔ 

    وہ چڑیا والا مریض اندر بیٹھا انتظار کر رہا ہے اور آج تو وہ اپنے ساتھ چڑ۔۔۔ 

    سر ہلاتے وہ اسکی بات سنے بنا سیدھا اپنے دفتر کا گلاس ڈور کھول کر اندر گھس گئ۔ اپنا گرم اوور کوٹ اتار کر ایک جانب اسٹینڈ پر ٹکاتے وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتی اپنی کرسی پر عجلت میں آن بیٹھی

    معزرت معزرت مجھے دیر ہوگئ در اصل راستےمیں مجھے۔ یہ۔۔ یہ کیا۔

    اپنا رجسٹر دراز سے نکال کر میز پر رکھتے اس نے نگاہ اٹھائی تو میز پر پھدکتی اس نیلی چڑیا کو دیکھ کر چونک سی گئ۔ 

    مریض اسکے چونکنے پر ہنس دیا۔

    یہ ۔۔ یہ وہی چڑیاہے۔ اسے حیرت ہوئی  گہرے نیلے پروں والی وہ چڑیا تھوڑی مختلف تھی۔ اسکے پر چھوٹے پنجے بڑے تھے۔

    اس نے انگلی سے احتیاط سے اس چڑیا کو چھونا چاہا مگر وہ چونچ مار کر دور ہو گئ۔ 

    ہاں یہ وہی چڑیا ہے۔ مریض نے احتیاط سے اسے اٹھالیا۔ اسکی دونوں ہتھیلیوں میں چڑیا بڑے اطمینان سے پر سمیٹ کر بیٹھ گئ تھئ۔ 

    اس دن میرا دوست مجھے اکیلا چھوڑ گیا تھا احاطے میں تب یہ چڑیا مجھے اکیلا پا کر میرے سامنے آگئ۔ اس نے جست لگا کر میرے سر پر آن کر میرے بالوں کو اپنی چونچ میں دبا کر اڑنا چاہا تب مجھ پر انکشا ف ہوا اسکے تو پنجے بہت بڑے ہیں اسکے پر اسکے پنجوں کا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکتے جبھی تو یہ اڑ نہیں پاتی۔ 

    وہ ہنس دیا۔

    میں کتنا پاگل تھا اس چڑیا سے ڈرتا رہا اب اسکو میں نے پال لیا ہے۔ یہ اکثر میرے سر پر آن بیٹھتی ہے اور۔ 

    یہ دیکھیں۔

    اس نے چڑیا کو اپنے سر پر بٹھا لیا۔ 

    ہجوم اسے چپ چاپ دیکھتی رہی۔چڑیا نے طائرانہ جائزہ لیا اسکے دفتر کا۔ اسکے دفتر کی گلاس ونڈو کھلی تھی۔ ہوا سے پردہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس نے جست لگائی اور سیدھا اس کھڑکی کی درز سے اڑ کر باہر نکل گئ۔ 

    رکو۔ ارے رکو سنو۔ 

    مریض اسکے پیچھے بد حواسوں کی طرح بھاگا تھا کھڑکی سے ٹکرا کر بمشکل رکا مگر طائر موقع پاتے ہی آسمان کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ وہیں کھڑکی سے لگ کر آنسوئوں سے رونے لگا۔ 

    دیکھیں پلیز مت روئیں۔ہجوم جو بھونچکا سی اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی بے ساختہ اپنے دونوں پائوں کرسی پر اونچے کرکے اسے ٹوکنے لگی۔ 

    نیلئ چڑیا اڑ گئ۔ چلی گئ میری زندگی سے میں تو اب اس سے ڈرتا بھئ نہیں تھا۔ کیوں اڑ گئ۔ اسکے تو پائوں اتنے بڑے تھے۔ 

    وہ پردے سے الجھا بیٹھا بین کرتے ہوئے روئے جا رہا تھا۔

    مگر دیکھیں اسکے پائوں جتنے بھی بڑے تھے پر انکا بوجھ اٹھا سکتے تھے جبھی تو وہ اڑ گئ نا؟آپ مت روئیں دیکھیں سیلاب آجائے گا یہاں۔ 

    وہ اپنے دونوں پائوں اوپر کیئے پریشان ہو رہی تھی۔ 

    مریض کا رونا ختم نہیں ہو رہا تھا۔ 

    اس نے انٹرکام پر اپنی منتظم کو بلا ڈالا۔ وہ بھی ریسیپشن چھوڑ کر بھاگی آئی۔ 

    قنوطی یہ انکو باہر لے جائو پانی وانی پلائو یہ تو دفتر آنسوئوں سے بھر دیں گے۔ 

    ہجوم کے کہنے پر اس نے ٹھٹک کر اس روتے شخص کو دیکھا

    کیوں رو رہے ہیں یہ؟ وہ حیران ہو رہی تھی اتنا بھرپور جوان یوں بچوں کی طرح ایڑھیاں رگڑتا ذرا اچھا نہ لگ رہا تھا

    انکی نیلی چڑیا اڑ گئ ہے۔ ہجوم نے ناک چڑھا کر جواب دیا تووہ کھلکھلا دی

    اچھا وہ۔خیالی چڑیا۔ جتنی دیر آپ نہیں آئی تھیں یہ مستقل نیلی چڑیا کی فرضی کہانی سناتے رہے کہہ رہے تھے انکر سر پر بیٹھی ہے اسکے پائوں بڑے وہ اڑ نہیں سکتی پائوں بڑے ہونے کی وجہ سے

    قنوطی ہنس ہنس کر بتا رہی تھی ہجوم سے سخت چڑ کر گھورا

    بھاڑ میں ڈالو نیلی چڑیا کو اس بندے کو باہر لیکر جائو سار دفتر پانی پانی کر رہا ہے رو رو کے میرے دفتر میں سیلاب نہ آجائے

    ہجوم کے کہنے پر قنوطی نے ذرا دھیان سے اسکی شکل دیکھتے ہوئے مزاق کی رمق تلاشی مگر وہ مکمل سنجیدہ تھی۔ 

    قنوطی نے ٹھنڈی سانس بھری اور مریض کو اٹھانے لگی

    میری چڑیا اڑ گئ۔ 

    قنوطی کا سہارا لیکر اٹھتا دن بین کر رہا تھا

    چڑیا ہی تو تھی آسمان ہی اسکا اصل ٹھکانہ تھا جانے دیں۔ آپ کوئی اور فکر پال لیں۔قنوطی کی دلجوئی کا خاطر خواہ اثر ہوا وہ آنسو پونچھتے اٹھنے لگا۔ اسے سہارا لیکر باہر لے جاتے قنوطی نے مڑ کر دیکھا ہجوم ابھی بھی کرسی پر دونوں پائوں اوپر کیئے بیٹھی تھی کھڑکی کے پاس اسے اسکے آنسوئوں کا سیلاب نظر آرہا تھا ۔۔ 

    اس نے گہری سانس لی۔ اور سوچا۔۔

    ہجوم کو تنہائی میں آنسوئوں کے سیلاب ہی نظر آتے ہیں مگریہ بھی حقیقت ہے ان سیلابوں میں کہاں کوئی ڈوب پایا ہے۔۔۔۔۔۔خوامخواہ کا وہم پال رکھا ہے ہجوم نے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔

    Alone? Join Hajoom

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ رودادپڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Bookmark : urduz.com/

    kuch acha perhoSalam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

  • Koi shagoofa khilao boht udaas hay dil

    کوئی شگوفہ کھلائو     بہت اداس ہے دل

    تبسموں کے خدائو       بہت اداس ہے دل

    نہ گنگنائو  ہوائو           بہت اداس ہے دل

    خوشئ کا نغمہ نہ گائو      بہت اداس ہے دل

    تمہاری کم نگہی بے رخی نہ بن جائے۔۔۔۔۔

    ذرا نظر تو ملائو         بہت اداس ہے دل

    اسی طرح ابھی ترسائیں گی وہ زلفیں بھی۔۔۔

    برس  بھی جائو گھٹائو     بہت اداس ہے دل

    نہ چاندنئ ہے نہ ان گیسوئوں کا سایہ ہے۔۔۔

    کوئی دیا ہی جلائو         بہت اداس ہے دل

    چھلک ہی جائیں نہ ان انکھڑیوں کے پیمانے

    جھلک نہ دل کی دکھائو     بہت اداس ہے دل

    جب اک ادا کے سوا کچھ بھی دل کو یاد نہ تھا

    وہ دن نہ یاد دلائو           بہت اداس ہے دل

    پھوار، پھول ، مہک ، شوق ، اور  تنہائی

    خود آئو ، مجھ کو بلائو    بہت اداس ہے دل

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Aasaibi makan |is ghar main rehne walon ka koi aik fard ghayab ho jata hay |horror urdu story

    آسیبی مکان

    گاڑی جس پرانے زمانے کے بڑی بڑی محرابوں والے مکان کے باہر رکی تھی اسے دیکھ کر آمنہ نے بڑی شکوہ کناں نگاہ شوہر پر ڈالی جو نظر چرا کر جلدی سےگاڑی بند کرتا باہر نکل کھڑا ہوا چار و ناچار اسے بھی پیروی کرنی پڑی

    گھر ارد گرد بنے نیے طرز کے خوبصورت مکانوں کے درمیان اور بھی خستہ حال لگ رہا تھا 

    سجاد گاڑی کی ڈگی سے سامان نکلنے لگا تو گھر کو پھر ایک نظر بھر کر دیکھ کر آمنہ کہے بغیر نہ  رہ سکی 

    “یہ گھر ہے جس کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟ دیکھنے میں ہی کتنا پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا مکان لگ رہا ہے “

    سجاد نے ڈگی کی آڑ میں چہرہ چھپا کر کان کھجایا 

    پڑوس کے مکان سے ایک ادھیڑ عمر آدمی اپنی دھن میں نکلا انھیں دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا 

    یار اندر سے بہت بہترین ہے سارا گھر سجا ہوا ہے ضرورت کی ہر چیز ہے اتنے کم کرایے میں فرنشڈ گھر ملاہے ورنہ پتا ہے اسلام آباد میں اتنا بڑا گھر پچاس ہزار سے کم میں نہیں ملتا

    سجاد ڈگی سے بیگ نکال کر گھوم کر آمنہ کے پاس آیا انداز اتنا پرجوش تھا کہ آمنہ کو لگا تھا ابھی یہیں ناچنا بھی شروع کردیگا 

    وہ منہ بنایے گھورتی رہی 

    تو ہمیں کیوں ملا ہے اتنا سستا؟یہ نہیں سوچا؟دیکھنے سے ہی خستہ حال لگتا ہے چھتیں گرنے کو تیار لگتی ہیں 

    آمنہ نے جتایا تو سجاد کھسیا گیا 

    اچھا اندر تو چلو ابھی گزارا کر لو ہم بدل لینگے ایک دو مہینے میں یہ گھر میرے دفتر سے قریب ہے سب سے اچھی بات تو یہ ہے 

    اس نے آگے بڑھ کر گیٹ کا تالہ کھولا آمنہ کندھے اچکا کر اندر داخل ہو گئی سجاد گاڑی کے پاس سے بڑا سا بیگ اٹھا کر گھر میں داخل ہونے لگا ابھی پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا وہ بری طرح چونک کر مڑا 

    کھچڑی سفید بالوں والے براق سفید شلوار قمیض میں ملبوس زمان صاحب

    بہت گھبرائے ہوۓ انداز میں دیکھ رہے تھے 

    اسلام و علیکم میرا نام سجاد ہے میں 

    سجاد نے بیگ  رکھ کر گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا 

    وعلیکم السلام میں زمان ہوں  

    زمان صاحب نے بیتابی سے بات کاٹ دی تھی “یہ گھر آپ نے خریدا  ہے ؟

    سجاد مسکرا دیا 

    نہیں انکل یہ ہم نے کرائے پر لیا ہے 

    یہاں پنڈی اسلام آباد میں ہی رہتے ہو؟

    وہ نجانے کیا جاننا چاہ رہے تھے 

    نہیں میں کراچی سے یہاں ٹرانسفر ہو کے آیا ہوں

    کہتے ساتھ ہی سجاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ایک انجان شخص کو بتا دیا کہ پردیسی ہوں اس نے دانتوں تلے زبان دبا لی 

    وہی تو 

    زمان صاحب کا اندازہ درست نکلا تھا 

    یہ گھر اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ پنڈی اسلام آباد کے لوگ تو اس مکان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے 

    آپ انجان ہیں اس شہر میں جبھی بھٹی صاحب نے آپکو یہ مکان ٹکرا دیا ہے 

    انکے بنا لگی لپٹی رکھے کہنے پر سجاد کی پیشانی پر الجھن کی شکن پڑی

    کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپکی بات؟

    زمان صاحب گہری سانس لے کر سجاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “یہ مکان فورا چھوڑ دو یہ آسیب زدہ ہے یہاں کوئی دو تین دن سے زیادہ نہیں رہ پاتا سامان تک چھوڑ کر لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے اور جو یہاں رہ بھی گیا اسکے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد پر اسرار طریقے سے غایب ہو جاتا ہے 

    سجاد نے غصے سے انکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا 

    کیا بکواس ہے یہ میں نہیں مانتا ان فضولیات کو ہمیں بھٹی صاحب نے بتایا تھا کہ یہاں رہنے والا خاندان اپنی عزت  بچانے کیلئے ایسی کہانی بنا کر کہیں چلا گیا کیوں  کہ انکی  اپنی بیٹی رات کو گھر سے بھاگ گئی تھی 

    اسکی بات پر زمان صاحب بے  چین  ہو اٹھے  

    میں یہاں تیس سال سے رہ رہا ہوں وہ بچی میری بیٹی کی سہیلی تھی میری آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی تھی 

    یہ گھر بھی ٹھیک تھا اسکو دوبارہ تعمیر کرا نے کے لئے فرقان صاحب نے صحن کے بیچ میں لگا درخت کٹوا دیا تھا میری بچی اور وہ بچی اسی درخت پر جھولا ڈال کر جھولتی تھیں مگر جب درخت کٹ گیا تو عجیب واقعات ہونے لگے انکے ساتھ 

    سجاد انکی فضول باتوں کو اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا سو بات کاٹ کر ہاتھ اٹھا کر بولا 

    بس کیجیے انکل مجھے ان فضولیات پر یقین نہیں ہے پرانے مالک مکان کی بچی گھر سے بھاگ گئی یا غائب ہوگئی مجھے دلچسپی نہیں ہے 

    اسکی بیزاری پر بھی زمان صاحب نے بات جاری رکھی یوں لگتا تھا وہ خوف زدہ ہیں ایک ہی سانس میں سب بتا دینا چاہتے ہیں

    انکی بیٹی اپنی دادی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے میری بچی بھی ساتھ تھی اس بچی کے پاس رات کو ٹھہری تھی رات کو اس نے بھی دیکھا کہ بچی کی دادی اسے بلانے آئیں وہ انکے ساتھ صحن میں گئی مگر جب اسے گیۓ کافی در ہو گئی تو میری بچی اسے ڈھونڈتی صحن میں آئی تو صحن میں کوئی نہ تھا اور جب وہ اندر کمرے میں گئی تو بچی کی دادی بےخبر سو رہی تھیں 

    سجاد نے بد تمیزی کی انتہا کرتے ہوئے سر جھٹکا اور انکی بات کے درمیان ہی بیگ اٹھا کر اندر جانے لگا تھا مگر زمان صاحب پھولی سانسوں کے ساتھ تیز تیز قصّہ سناتے چلے گئے سجاد انکی باتوں پر یقین نہیں کر رہا تھا مگر آخری بات پر ٹھٹکا اور فطری تجسس سے مجبور ہو کر پوچھ بیٹھا 

    پھر؟

    دادی نے کہا کہ وہ تو نہیں بلانے آیئ تھیں بہت تلاشا پھر انہوں نے بچی کو کیا کیا حربہ نہ اپنایا مگر بچی کا سراغ نہیں ملا ایک عامل نے بتایا کہ اس درخت پر جنات کا خاندان آباد تھا درخت کاٹنے سے انکا نقصان ہوا ہے اور وہ بدلے کے طور پر اس گھر سے ایک فرد لے گیۓ ہیں اب یہ گھر انکا ہے جو یہاں آ رہے گا یہ اس پرحاوی 

    انکی کہانی سے متاثر ہونے ہی لگا تھا کہ بھٹی صاحب کی بات یاد آئی اپنے پڑوسیوں سے محتاط رہیے گا بہت شر لوگ ہیں اس گھر پر نظر ہے انکی جو اس گھر میں آتے ہیں لوگ انکو الٹی سیدھی کہانیاں سناتے ہیں مقصد یہی ہے کہ یہ گھر کم داموں پر میں تنگ آ کر انکو بچ دوں اب کروڑوں کی پراپرٹی …

    زمان صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا 

    آپ مرے گھر رہ لیں جب تک دوسرا انتظام نہ ہو آپکو خطرے کا اندازہ نہیں ہے یہاں بوائز ہوسٹل بھی کھلا تھا دس پندرہ لڑکے تھے ایک دن سب رات کو چیختے ہوئے بھاگے تھے کہتے تھے انکا ایک دوست انکے دیکھتے دیکھتے غایب ہو گیا ہے 

    سجاد شش و پنج میں پڑ گیا انکا اصرار حد سے زیادہ تھا 

    آخر انکو اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دینا ایسا بھی کیا تھا اس گھر میں کہ 

    تبھی اندر سے آمنہ کے چیخنے کی آواز آئ بات ادھوری چھوڑ کر دونوں اندر لپکے آمنہ دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی 

    ایک موتی تازی بلی صحن میں رکھی اینٹوں اور ٹوٹی کرسی کو پھلانگتی سجاد پر غراتی صحن کے کھلے دروازے سے باہر نکل گئی 

    میں اندر کمرے میں جا رہی تھی کہ نجانے کہاں سے بلی سامنے آگئی تو میری چیخ نکل گئی 

    آمنہ شرمندہ ہوتے ہوئے بتانے لگی پھر سوالیہ نظروں سے زمان صاحب کو دیکھنے لگی 

    زمان صاحب الجھن بھری نظر سے کبھی آمنہ کو کبھی گیراج میں کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے 

    یہ ہمارے پڑوسی ہیں زمان انکل یہ میری بیوی ہے آمنہ 

    سجاد نے مارے باندھے تعارف کروایا 

    کیا ہوا بیٹی کیوں گھبرا گیں ؟

    وہ شفقت سے پوچھ رہے تھے 

    وہ بلی سے ڈر گئی تھی نکل گئی باہر 

    سجاد کو کوفت سی ہی عجیب ہی سے خبطی انسان ہیں پھر تھوڑا سختی سے بولا 

    ابھی آپکے سامنے سے تو گزر کر گئی ہے باہر چلو آمنہ اندر چلو 

    انکی جرح سے اکتا کر اس نے کندھے سے پکڑ کر آمنہ کا رخ گھر کی جانب کیا دونوں بنا انکو اندر آنے کی دعوت دے اندر چلے گیۓ مگر زمان صاحب برا مانے بغیر الجھن سے سر جھٹک کر باہر نکل آئے 

    انکی بڑ بڑ ا ہٹ واضح تھی 

    مگر میں نے تو کوئی بلی نہیں دیکھی 

    ………………………………………………….

    آمنہ گنگناتے ہوئے باورچی خانے میں چائیے بنا رہی تھی دونوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا تھا باقی گھر کی صفائی ستھرائی کل سے شروع کرنی تھی تبھی چپکے سے ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کوئی اسکے پیچھے آ کھڑا ہو گیا 

    آمنہ نے مسکرا کر چائے کپ میں نکالی اور دو کپ کی ٹرے میں رکھ کر اٹھائی  اور آرام سے کہتی مڑی

    مجھے پتا ہے یہ آپ چپکے سے پیچھے آ کھڑے ہوئے ہیں میں اب نہیں ڈرتی جناب 

    مڑتے ہی آمنہ کی اوپر کی سانس اپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی ہاتھ سے 

    ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی پیچھے کوئی نہیں تھا 

    چند لمحے تو اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی اتنا شدید دھوکہ تو اسے پہلے کبھی نہ ہوا  تبھی سجاد کمرے سے بولتا ہوا نکلا سیدھا اسکے پاس چلا آیا 

    لو بھئی آمنہ خوش ہو جاؤ تمہارا لاڈلا بھائی آرہا ہے رہنے تمہارے پاس پرسوں آیئیگا پورے دو مہینے کے لئے جب تک اسکی چھٹیاں ختم نہیں ہو جاتیں اب تو نہیں گھبراؤ گی اکیلے رہنے میں؟

    سجاد اپنی دھن میں بول رہا تھا مگر آمنہ کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں 

    کیا ہوا ایسے بت بن کے کیوں کھڑی ہو؟

    اسنے چٹکی بجائی تبھی اسکی نظر سامنے کھلے نل پر پڑی تو اسے ٹوکتا ہوا اسے بند کرنے بڑھ گیا 

    کیا لاپرواہی ہے آمنہ فل ٹونٹی کھلی ہویی تھی ابھی سارا پانی بہہ جاتا ٹنکی خالی ہوجاتی 

    اسکے کہنے پر آمنہ نے مڑ کر دیکھا تو ٹونٹی واقعی کھلی ہی تھی 

    آمنہ حیران رہ گئی پانی گرنے کی آواز کافی تھی 

    مگر میں نے تو .. یہ تو بند تھی 

    سجاد اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا 

    ڈھیلی ہوگی ہوگی کافی عرصے سے تو بند ہے یہ مکان ہاں کل ٹنکی صاف کروا کر بھروائی ہے میں نے کافی بڑی ہے 

    کہتے ہوئے اسکی ٹرے سے سجاد نے دونوں کپ اٹھا لئے اور کچن کی بتی بجھاتا اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا چائے سائیڈ میز پر رکھ دی آمنہ بے دھیانی میں خالی ٹرے اٹھائیے چلی آئ تھی

    چلو چائیے پیئیں 

    یہ چاہیے کا رنگ تھوڑا عجیب سا نہیں ہے 

    چائے کا کپ اٹھا کر وہ حیرت سے بولا آمنہ نے آگے بڑھ کر چائے دیکھی تو واقعی رنگ عجیب مٹیالا سا سرخی مائل تھا 

    سجاد نے چائے چکھی پھر برا سا منہ بنایابہت بد مزہ چائے ہے لگتا ہے یہاں کا دودھ ٹھیک نہیں کل سے ڈبے کا دودھ لیکر آئوں گا ۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔

    کپ میز پر رکھتے ہوئے وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔

    بے دھیانی سے بیڈ پر بیٹھتے آمنہ  نے ٹرے کی جانب نگاہ کی تو ٹرے کے خوش رنگ پھولوں پر گری ہوئی چائے اتنی خونی رنگ کی تھئ کہ جیسے ٹرے پر خون ہی گرا ہوا ہو۔ اس نے گھبرا کر ٹرے بیڈ پر رکھ دی ۔تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھئ۔ پھرڈرتے ڈرتے ٹرے کو دوبارہ دیکھا تو ٹرے پر چائے بھی نہیں گری ہوئی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح حسب معمول خوشگوار تھی۔ انہیں کراچی کی نسبت یہاں کا معتدل موسم بے حد اچھا لگ رہا تھا۔ آمنہ صبح اٹھ کر باہر صحن میں ہی ٹہلتی رہی تھی۔ صحن کے بیچوں بیچ بڑا سا گھنا درخت اس پر لٹکتا جھولا ۔۔ اس کو بچپن ہی یاد آگیا کافی دیر اس جھولے پر جھولتے اسے کافی سرور ملا تھا ۔۔ سجاد کے اٹھنے کا وقت ہوا تو جلدی جلدی ناشتہ بنا کر میز جھاڑ کر سجا دی۔ آملیٹ پراٹھے بھاپ اڑاتی گرم گرم چائے اور مسکراتی ہوئی تازہ دم سی دکھائی دیتی آمنہ۔ سجاد کا موڈ بھی ایکدم سے اچھا ہو گیا تھا۔۔ 

    گرم گرم پراٹھے کا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا ۔۔ اسکے اتائولے پن پر آمنہ ہنس دی۔ پھر نخرے بھرے انداز میں بولی۔۔ 

    جلدی آجائیئے گا میں اکیلی اتنا بڑا گھر ۔ وقت بھی نہیں گزرے گا میرا۔۔

    اسکے انداز پر سجاد مسکرا دیا پھر تسلی دینے والے انداز میں بولا

    یار پہلا دن ہے دفتر کا نا جانے باس کیسا ہو آج کا تو وعدہ  نہیں کر سکتا تم ایسا کرو گھر کی صفائی وغیرہ کر لو کافی دھول مٹی ہے کھانا باہر سے آرڈر کر لینا اور پھر بھی وقت نہ گزرے تو آس پڑوس میں چلی جانا۔۔۔ 

    پھر خیال آیا تو منع بھی کرنے لگا

    یہ بائیں جانب والے گھر تو بالکل مت جانا کل جو انکل آئے تھے نا وہیں سے آئے تھے بہت عجیب سے تھے ایویں فالتو باتوں کا وہم ڈال دیں گے۔۔

    آمنہ اسکے پھا پھا کٹنیوں والے انداز پر کھلکھلا دی۔

    بالکل پھاپھا کٹنی کی طرح کہا ہے۔ ویسے کیا کہہ رہے تھے ایسا ؟ مجھے تو ڈرے ہوئے لگے تھے جیسے ہم دونوں بھوت ہوں 

    آمنہ ہنسی

    سجاد نے ایک نظر اسکے متبسم چہرے پر ڈالی پھر سر جھٹک دیا

    بس الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے۔وہی جو بھٹی صاحب نے قصہ سنایا تھاکہ یہاں بچی رہتئ تھی وہ گھر سے بھاگ گئ تو گھر والوں نے مشہور کر دیا کہ اسے ہوائی مخلوق لے گئ ہے۔

    آمنہ نے چائے کا گھونٹ بھرا پھر تاسف سے کہنے لگی

    بے چارے بدنامی سے بچنے کو اور کیا کہتے آجکل تو بچے کیبل دیکھ کر آپے سے ہی باہر ہو گئے ہیں ایک ہم تھے بابا نے جب تک بڑے نہ ہوگئے گھر میں ڈش کیبل لگوا کر نہ دیا

    ۔

    سجاد نے ناشتہ ختم کر کے ساتھ رکھا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور اٹھ کھڑا ہوا 

    ہاں بس یہی حالات ہیں چلو میں چلتا ہوں کوشش کروں گا کہ جلدی آجائوں تم گھر فون کر لینا امی کو یاد سے اور پریشان نہ ہونا دل گھبرائے تو ۔۔ 

    اس نے شرارت بھرے انداز میں مسکرا کو چھیڑا

    اپنی اس موٹی سہیلی کو فون ملا لینا۔۔ 

    ثمیرہ نام ہے اسکا ۔ موٹی مت کہا کریں

    حسب توقع وہ بھنا کر چیخی ۔

    سجاد زور سے ہنسا تو اسے بھی ہنسی آگئ ۔سجاد گاڑی نکال کر اسے ہاتھ ہلاتا گیا تو وہ احتیاط سے گیٹ بند کر کے صحن میں چلی آئی۔ ارد گرد دو تین منزلہ گھروں کی وجہ سے دھوپ بس اوپری دیوار تک ہی آرہی تھی ۔ اس نے اس خنک ماحول کو گہری سانس بھر کے اپنے اندر جزب کیا پھر بڑے شوق سے دوبارہ جھولے پر جا بیٹھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکی سردی سے آنکھ کھلی  تھئ۔ جھر جھری لیکر وہ سیدھی ہوئی تو بیڈ پر لیٹی تھی۔۔ اس نے سر کھجایا۔۔ جانے کب وہ آکر یوں بے خبر سو گئ۔۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ گئ تو شام کے 7 بج رہے تھے۔۔ 

    وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔ 

    کھانا منگوانا تو اب ممکن نہیں تھا ۔ گروسری کا سامان تو دو دن پہلے سے سجاد نے لا رکھا تھا۔۔ وہ خود ہی کچھ پکانے کا ارادہ کرکے کچن میں چلی آئی۔ سجاد کو بڑا گوشت پسند تھا ۔ آلو بھی رکھے تھے وہ آلو گوشت ہی بنانے لگی۔۔ 

    آمنہ۔۔ سجاد نے کافی اونچی آواز لگائی تھی۔۔ 

    جی۔ وہ لمحے بھر کا توقف کیئے بنا ہی جواب دے گئ۔۔ پھر ٹھٹک سی گئ۔۔ یہ کب آئے۔۔ وہ حیران سی ہو کر چولہا دھیما کرتی باورچئ خانے سے باہر نکل آئی۔۔ لائونج خالی پڑا تھا۔۔ 

    سجاد۔ اس نے پکارا مگر جواب ندارد تھا۔۔ وہ لائونج کے دروازے پر آئی تووہ بھی اندر سے لاکڈ تھا۔۔ 

    سجاد۔ اگر آپ مزاق کر رہے تو بھونڈا مزاق ہے یہ۔۔ 

    وہ گھبرا سی گئ تھی۔۔ 

    آپ آگئے ہیں جلدی؟

    کمرے کے کھلے دروازے سے اسے تیزی سے کوئی گزرتا دکھائی دیا۔۔ 

    ایک تو یہ بچپنا نہیں چھوٹے گا۔ پتہ ہے میں اکیلے میں گھبراتی ہوں پھر بھی تنگ کرنا ہے مجھے۔۔ ہونہہ۔  

    وہ بڑ بڑاتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی تبھی بڑے زور سے دستک ہوئی لائونج کے دروازے پر۔۔ 

    وہ کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوئی لائونج کا دروازہ کھولنے چلی آئی۔ایک پیاری سی تیرہ چودہ سال کی بچی سر پر دوپٹہ رکھے ہاتھ میں  کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر ادب سے سلام کیا

    اسلام و علیکم میرا نام مریم ہے یہ ساتھ والے گھر سے آئی ہوں وہ آپکا مین گیٹ کھلا تھا تو اندر چلی آئی۔ یہ امی نے بھجوایا ہے۔۔ 

    اس نے ٹرے آگے بڑھائی۔۔ 

    وعلیکم السلام کوئی بات نہیں آئو اندر تو آئو میں آمنہ ہوں۔ 

    آمنہ نے بھی گرمجوشی سے اسے دعوت دی۔ گرم گرم بریانی وہ بھی بھر کر۔  وہ دل ہی دل میں انکے اخلاق کی قائل ہوئی۔۔ 

    نہیں بس وہ برتن دے دیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔

    لڑکی جانے کیوں سراسیمہ سی ہوگئ۔ 

    ہاں دیتی ہوں برتن اندر تو آجائو میں تمہیں آئسکریم کھلاتی ہوں 

    اس نے لالچ دیا۔

    نہیں آپی وہ بابا منع کرتے ہیں مجھے یہاں آنے کو۔ابھی بھائی گھر میں نہیں تھا تو امی نے مجھے بھیج دیا مگر بابا کو پتہ لگا تو ڈانٹیں گے مجھے آپ بس برتن لا دیں میں یہیں ہوں۔

    وہ ہتھیلیاں مسلتی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔ آمنہ نے پھر اصرار نہیں کیا۔پلٹنے ہی لگی تھی کہ مریم کی گھبرائی سی آواز آئی۔ 

    آپی آپکے کچن سے دھواں اٹھ رہا ہے آگ تو نہیں لگ گئ۔ 

    مریم کے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو واقعی کافی دھواں اٹھ رہا تھاوہ ٹرے اٹھائے بھاگتی ہوئی کچن میں آئی تو دیکھا ہنڈیا کے نیچے آنچ پوری تھی۔پوری ہنڈیا جل چکی تھی۔مریم بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔ ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر کھانستے ہوئے آمنہ نے ایگزاسٹ فین چلایا چولہا بند کیا پچھلے صحن کا دروازہ کھولا۔

    دھواں بہت ذیادہ تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔ 

    دھوئیں دھوئیں میں اچانک آمنہ سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ پلٹ کر مریم کو دیکھ کر غرائئ

    کہا تھا نا تمہیں یہاں مت آنا۔۔ سمجھ نہیں آتی میری بات۔۔ 

    مریم گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔ 

    آپ۔ آپ نے ہی تو بلایا۔۔ وہ خوف کے مارے پیلی پڑ گئ تھی۔ 

    جائو نکلو یہاں سے دوبارہ مت آنا یہاں سمجھیں۔۔ 

    آمنہ حلق کے بل چلائی۔۔ تھر تھر کانپتی مریم الٹے سیدھے قدم اٹھاتئ باہر بھاگی۔۔

    اف کیسی غلطی ہوئی سارا کھانا جل گیا۔ بروقت آئی ہو تم بھئ۔ اب ہم دونوں میاں بیوی یہی کھائیں گے۔۔ 

    خوشگوار انداز میں کہتی وہ مڑی تو مریم وہاں نہیں تھی۔ دھواں چھٹ چکا تھا وہ حیران ہو کر کچن سے نکلی تو مریم کو بھاگتے ہوئے لائونج کے دروازے سے نکلتے دیکھا 

    ارے کیا ہوا۔۔ مریم۔۔ برتن تو لیتی جائو۔  

    اسکی آواز سن کر مریم نے بنا مڑے اور تیزی سے دوڑ لگا دی تھی۔گیراج کے کھلے دروازے سے سجاد گاڑی اندر کر رہا تھا مریم گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر رکی نہیں باہر بھاگ گئ۔سجاد حیران سا گاڑی پارک کر کے باہر نکلا۔ 

    آمنہ بھی حیران سی لائونج کے دروازے پر کھڑی اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گئ۔ 

    تم کیا اس بچی کو مار رہی تھیں۔ اتنا کیوں گھبرائی ہوئی ہے؟

    آمنہ خود اچنبھے میں تھی۔

     پتہ نہیں کیا ہوا اسے بریانی لیکر آئی تھی۔اس سے باتوں میں لگ کر میری ہنڈیا جل گئ شائد دھواں دیکھ کر گھبرا گئ۔۔

    آمنہ نے تفصیل سے بتایا تو سجاد ہنس پڑا

    یعنی ہم اب باہر ڈنر کریں گے۔کھانا ہی جلا دیا تم نے 

    اس نے چھیڑا تو آمنہ اسکا بیگ لیکر بتانے لگی 

    نہیں کافی ساری بریانی بھجوائی ہے پڑوسیوں نے ہم دونوں آرام سے کھا لیں گے۔

    دونوں باتیں کرتے اندر چلے آئے۔ 

    اور کیسا گزرا دن میرے بن 

    سجاد گنگنایا۔۔ 

    آمنہ کھلکھلا دی

    بہت اچھا۔۔ صفائی وفائی کچھ نہیں کی بس آرام سے جھولا جھولتی رہی پھر سوگئ۔۔ 

    آمنہ کا رخ کچن کی جانب تھا۔ سجاد نے مسکراتی نظروں سے لائونج کو دیکھا کل کی نسبت آج چمک رہا تھا ۔۔ 

    جھولا کہاں جھولتی رہیں۔ 

    اسے یہی لگا مزاق کر رہی ہے۔ 

    وہ جو صحن میں لگا ہے درخت کے نیچے۔ وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر کچن میں چلی گئ۔ 

    وہ مڑ کر دروازہ بند کرنے لگا تو صحن کا منظر واضح تھا۔۔ 

    صاف ستھرا پکا فرش۔ وہاں نہ کوئی درخت تھا نہ جھولا۔۔

    وہ مسکرا دیا۔۔ یقینا سارا دن کام کرنے کے بعد اب وہ طنز کر رہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کرنے لگا۔۔ 

    طنز کر رہی ہو آمنہ۔ آج میری بیگم نے بہت کام کیا سو آج رات کو میں اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پلائوں گا۔۔ 

    کچن میں بریانی کو پلیٹوں میں نکالتی آمنہ ٹھٹکی

    سجاد تو ابھی میرے سامنے اندر آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ملگجے سے اندھیرے میں جھولا جھول رہی تھی۔

    اسے یاد نہیں تھا کہ وہ صبح صبح یہاں آئی تھی یا رات کو۔ 

    اچانک اسکی پینگ اونچی ہونے لگی۔

    وہ ڈرنے سی لگی۔ اوپر بہت اوپر جاتی نیچے آتی تو ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی گھورتی نظر آتی۔

    ایک چکر پر نظر آتی دوسرے پر نہیں۔

    اس نے چیخنا شروع کردیا۔ جھوکا آہستہ ہوا وہ اچھل کر کود گئ۔۔ گھٹنے چھل گئے وہ گھٹنا سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی

    وہی لڑکی عین سامنے کھڑی تھی

    کیوں آئی ہو یہاں۔۔ چلی جائو ۔۔ سمجھیں جائو یہاں سے۔۔ ورنہ یہیں رہ جائوگئ۔۔ 

    سمجھ رہی ہو میری بات؟۔۔۔

    وہ عجیب بھرائی آواز میں چلا رہی تھی۔۔ یوں جیسے اسکا گلا بیٹھا ہو ۔۔ 

    آمنہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہوئی۔۔

    وہ لڑکی بدستور چلا رہی تھی وہ ڈر کر پیچھے ہٹی وہ لڑکی ایکدم یوں چپ ہوئی جیسے اسے نجانے کیا نظر آرہا ہو آمنہ کے عقب میں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے سجاد کھڑا تھا ۔۔وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئ تو وہ لڑکی جیسے ہوش میں آکر چلائی

    دور ہو جائو اس سے

    یہ لے جائے گا ساتھ سن رہی ہو تم میری بات

    وہ سجاد سے لپٹ کر رو دی۔

    سجاد نہ سمجھنے والے انداز میں اسے  اپنے ساتھ لگائے پوچھ رہا تھا

    کیا ہوا آمنہ اتنی خوفزدہ کیوں ہو؟ 

    سجاد وہ وہ لڑکی۔ اس نے مڑ کر اشارہ کیا تو اب وہاں کوئی نہ تھا۔ 

    تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟ 

    چلو اندر۔  وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لایا تھا۔  

    بیڈ پر بٹھاکر سائیڈ لیمپ جلایا جگ سے پانی نکال کر اسے دیا۔ وہ پسینے پسینے ہو رہی تھی گلا بے حد خشک ہو رہا تھا ایک ہی سانس میں وہ سارا پانی پی گئ۔۔ 

    وہ وہ لڑکی تھی باہر جھولا جھول رہی تھی میں تو وہ۔۔ 

    ٹوٹے پھوٹے انداز میں اس نے بتانا چاہا تو سجاد مسکرا کر ٹال گیا۔۔ 

    رات کے تین بجے صحن میں جھولا جھولو گی تو کچھ الٹی سیدھی مخلوق ہی نظر آئے گی نا؟ 

    آمنہ اسکی بات پر چونک کر وال کلاک دیکھنے لگی تین بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔۔ 

    مگر میں تو ۔۔ اسے جانے کیوں یاد نہیں آرہا تھا وہ کب صحن میں گئ۔ وہ تو گیارہ بجے بستر پر سونے لیٹی تھی۔۔ 

    اسکی پیشانی الجھن بھری لکیروں سے بھر گئ۔ 

    چلو سو جائو۔  سجاد نے اسے زبردستی لٹا دیا۔ شل زہن کے ساتھ وہ لیٹتے ہی غنودہ ہونے لگی۔ وہ اسکا شانہ تھپک کر چادر اڑھا رہا تھا جب باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔ سجاد تولیہ سے ہاتھ پونچھتا ہوا آیا ۔۔آمنہ کا بازو بستر سے لٹک رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سیدھا کیا۔۔ غنودہ زہن میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ یہ لمس مانوس ہے مگر اس سے پہلے والا۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سجاد کو حسب عادت سی آف کرنے گیٹ تک آئی سجاد گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب آمنہ کی نظر صحن پر پڑی۔گاڑی اسٹارٹ کرتے سجاد کو یاد آیا۔ 

    اچھا سنو میں دفتر سے لنچ بریک میں اٹھ کر باری کو لینے چلا جائوں گا تم کھانا تیار رکھ لینا ہم اکٹھے دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 

    آمنہ ایک ٹک صحن پر نگاہ جمائے تھی۔ 

    اسکی بے توجہی محسوس کرے وہ پھر بولا۔ 

    سن رہی ہو۔۔ 

    آمنہ چونکی۔پھر پسنجر سیٹ سے اندر جھانک کر بتانے لگی

    سجاد رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا میں نے۔ اس درخت کے جھولے پر میں  بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی آئی مجھے کہنے لگی بھاگ جائو ورنہ وہ تمہیں ساتھ لے جائے گا۔

    آمنہ پریشان تھی۔ سجاد نے الجھن سے دیکھا صحن میں تو کوئی درخت نہیں تھا۔ مگر وہ اسے پریشان کیا کرتا خواب میں تو کچھ بھی نظر آتا ہے۔ 

    خواب سے ڈر رہی ہو پاگل لاحول پڑھنا تھا۔ خواب میں تو کچھ بھئ نظر آسکتا اور اسکے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں ۔ کل نماز نہیں پڑھئ تھی کیا؟ 

    اسکے پوچھنے پر اس نے شرمندگی سے نفی میں سر ہلایا۔  

    سجاد نے تاسف سے دیکھا آمنہ کا منہ اترا ہوا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اسے ترس آگیا۔ سو  بہلانے والے انداز میں بولا۔۔ 

    آج ضرور پڑھنا۔ آیت الکرسی پڑھ کر پھونک لو خود پر۔ اور مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری نیند بھی پوری نہیں ہوئی جائو سوجائو تھوڑی دیر۔ اٹھ کر کھانا بنا لینا بلکہ باری بھی فاسٹ فوڈ شوق سے کھاتا ہے میں باہر سے ہی کھانا لیکر آئوں گا۔ ٹھیک ہے۔

    آمنہ چپ رہی سر ہلا دیا۔ سجاد نے گاڑی ریورس کی مسکرا کر خدا حافظ کہتے گاڑی نکال کر لے گیا۔ 

    آمنہ گیٹ بند کرنے لگی تو ساتھ والے گھر سے زمان صاحب کو مریم کو سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھاتے دیکھ کر چونکی۔ مریم کے بال براق سفید ہو رہے تھے ۔۔ 

    ابھی کل۔۔ وہ بری طرح چونکی۔۔ 

    ایک ادھیڑ عمر عورت بھی انکے ساتھ تھی۔۔ 

    اس نے مخاطب کرکے خیریت پوچھنا چاہی مگر وہ بے حد جلدی میں تھے تیزی سے بیٹھ کر چلے گئے۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔    

    وہ کمرے میں آکر لیٹ گئ۔  آیت الکرسی پڑھ لوں۔ اس نے سوچا مگر اسکا ذہن اتنا غنودہ ہو چلا تھا کہ پڑھ نا سکی۔۔ 

    بے خبر سوگئ۔۔ جانے کتنی دیر سوئی ہوگی جب اسے کچھ آوازیں سنائی دیں۔جیسے بچے کھیل رہے ہوں۔ 

    شور اتنا ذیادہ تھا کہ اسکی آنکھ کھل گئ۔ کمرے میں شدید گھٹن تھی۔ اسکا حلق بھی خشک ہو رہا تھا۔۔ وہ سن سے ذہن کے ساتھ جیسے کسی ٹرانس میں اٹھی اٹھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹایا باہر جھانکا تو کچھ بچے کھیل رہے تھے فٹ بال اچھالتے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھےایک بچی جھولا جھول رہی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر دیکھا تو مریم تھی۔ مریم نے مڑ کر اسے دیکھا پھر خوشدلی ہاتھ ہلا کر اسے بھی بلانے لگی ۔ وہ مسکرا دی۔ 

    شکر ہے اب طبیعت ٹھیک ہے اسکی۔ 

    اسے صبح واقعی فکر ہوئی تھی۔ 

    آج بھی گیٹ کھلا رہ گیا کیا جو یہ بچے اندر چلے آئے۔وہ باآواز بلند سوچتی کھڑکی بند کرکے مڑی تو سامنے وہی خواب والی لڑکی کھڑی کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھی۔

    آمنہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی۔ وہ لڑکی دو قدم آگے بڑھ کر غرائی

    سمجھ نہیں آتی بات تمہیں۔ کہا تھا نا بھاگ جائو وہ لے جائے گا تمہیں بھی۔  اٹھو جائو نہائو نماز پڑھو

    وہ آگے بڑھی تو آمنہ پیچھے ہٹتی لڑکھڑا کر گر بھی گئ۔۔ 

    اٹھو۔۔ وہ اگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا رہی تھی۔خوف کے مارے آمنہ کی آواز بند ہونے لگی۔تبھی اسے سجاد نے پکارا دھیمی سی آواز مگر کہیں قریب سے ہی

    آمنہ۔۔

    سجاد۔ وہ آواز پہچان کر قوت سے چلائی۔۔ 

    آمنہ باہر آئو۔ جلدی

    ۔ سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا۔۔

    لڑکی کے چہرے پر خوف سا در آیا۔

    مت جواب دو مت جائو رک جائو۔۔ 

    وہ کہہ رہی تھی آمنہ نے ساری ہمت مجتمع کی اور بھاگ کھڑی ہوئی

    سجاد لائونج کے دروازے پر کھڑا تھا   

    آمنہ ہانپتی کانپتی اسکی جانب بڑھی تبھی لڑکی ایکدم اسکے سامنے آگئ۔  

    رک جائو مت جائو میرے ساتھ اندر چلو۔۔

    آمنہ اسے دیکھ کر دہشت زدہ رہ گئ۔۔ 

    آئو آمنہ۔۔ سجاد نے پھر پکارا ۔ آمنہ لڑکی کے پاس سے ہو کر باہر بھاگی سجاد اب دروازے پر نہیں تھا۔ وہ بھاگتی باہر آئی تو صحن سنسان پڑا تھا۔نہ بچے تھے نہ مریم۔ سجاد گھبرایا ہوا گیٹ کے پاس بے چینی سے کھڑا باہر جھانک رہا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آگئ۔سجاد نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔  گھبراہٹ کے مارے اسکی حالت بری تھی۔مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی لائونج کے دروازے پر کھڑی گھور رہی تھی۔ 

    تم ٹھیک کہہ رہی تھیں آمنہ یہ لڑکی یہیں رہتی ہے۔ یہ گھر ٹھیک نہیں ہمیں فورا یہاں سے نکلنا چاہیئے۔ 

    سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا آمنہ نے سجاد کا ہاتھ تھاما اور اسکے ساتھ گھر سے باہر نکل گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دروازہ کھلا باری نے دونوں گیٹ پٹ کھولے سجاد نے دھیرے سے گاڑی اندر کی باری اتنے میں گھوم کر گھر کر جائزہ لینے لگا۔۔ 

    سجاد گاڑی کی بیک سیٹ سے کھانے پینے کا سامان نکالنے لگا

    سجاد بھائی گھر تو شاندار ہے پرانی فلموں میں ہوتا ہے ایسا گھر آپی بتا رہی تھیں جھولا بھی ڈال رکھا ہے۔ کل جب بات ہوئی تو جھولا ہی جھول رہی تھیں۔

    جھولا کہاں ڈل سکتا ہے ؟ ہاں اگر تمہاری آپی کو بہت شوق ہے تو اسٹینڈ والا جھولا ڈال لیں گے صحن میں جگہ تو کافی ہے ۔۔

    سجاد نے کہا تو وہ منہ بناتے بولا

    پچھلے صحن کی بات کر رہی ہوںگی پھربتا رہی تھیں درخت کے نیچے جھولا ڈال رکھا ہے ۔آپی نے کل وعدہ لیا مجھ سے 

    کہ انکو پینگ دینے کی ذمہ داری ہے میری۔۔

    اسکی بات پر سجاد نے ٹھٹک کر دیکھا۔۔مگر بولا کچھ نہیں

    چلو اندر چلیں صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا آمنہ نے خوب بھوکی ہو رہی ہوگی۔۔ 

    آمنہ۔ سجاد پکارتا اندر کی جانب بڑھا تو باری نے بھی پیروی کی۔

    صحن میں لگے درخت کے نیچے جھولا جھولتی آمنہ بے تاثر چہرے کے ساتھ ان دونوں کو دیکھتی رہی۔ پھر پینگ لینے لگی۔۔

    آمنہ آمنہ۔  کہاں ہو۔۔ سجاد پکار رہا تھا

    آپی آپی۔۔ باری بھی اسے ایک ایک کمرے میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔

    پہلے آرام سے ہھر پریشانی سے دونوں چیخ چیخ کر پکارنے لگے تھے۔۔۔ 

    آمنہ کی پینگ اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی تھی۔

    اندر دونوں نفوس دیوانہ وار پکار رہے تھے۔ آمنہ کا فون بج رہا تھا۔۔

    اندر کمروں کے دروازے کھل بند ہو رہے تھے۔۔ 

    آمنہ نے اونچی سی پینگ لی آخر میں جھولا خالی واپس آیا تھا۔۔۔

    ختم شد۔۔   

        

    https://urduz.pk/kafan-posh-murday-seerhion-per-thay-sachi-daroni-aap-beeti
    kafan posh murday dekhay sachi aap beetian perhiyay
    https://urduz.pk/ajeeb-ul-khalqat-wajood-darwazay-per-khara-thasachi-daraoni-aap-beetimaryam-faisal
  • Mungtay (maangnay walay) urdu suspense afsana about graveyard (qabrustan)

    منگتے۔۔۔ 


    جھٹپٹے کا وقت۔ اندھیرا برق رفتاری سے اپنے پر پھیلا رہا تھا ۔شہر خموشاں میں مہیب چپ طاری تھی ۔ پر

    دور کہیں ایک نوجوان ایک قبر پر بے سدھ اوندھا پڑا تھا۔ دور کہیں کتے بھونکے تھے ۔ سناٹے نے ناگواری سے اس آواز کے منبع کو گھورا ۔ بے ہوش 
    پڑے انسان کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھی
    قریبی مسجد سے مولوی نے گلا کھنکھار کر اذان دینا شروع کی۔
    اللہ و اکبر ۔مدہوش پڑے جسم میں یوں حرکت ہوئی جیسے خدا کے نام سے سوکھے تنوں میں جان پڑگئ۔ گہری سانس لیکر عابد اٹھ کھڑا ہوا ۔
    ایک اور دن تمام ہوا۔ اسکی توانائی اتنی سی بڑبڑاہٹ میں پوری ہو چلی۔ اس نے گہری سانس لیکر اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی ۔اور پوری جان لگا کر پکار بیٹھا۔۔ 
    کوئی ہے جو مجھ پر رحم کرے۔۔۔ ؟؟؟

    کلمہ شہادت۔۔ 
    کسی نے اونچی آواز میں پکارا۔ جنازہ اٹھائے لوگوں کا ایک گروہ چلا آرہا تھا۔ غمگین چہرے بھرائی آواز میں کلمہ شہادت دھراتے ۔دور تازہ کھدی قبر بنانا گورکن ہوشیار ہوا۔ پھائوڑا رکھ کر مئودب ہو کر کھڑا ہوگیا۔  ہر آتا جنازہ اسے دنیا کے فانی ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ ایک دن یہیں کوئی اور کھڑا میری قبر کھود رہا ہوگا۔ خیال زور آور تھا۔ خوفناک بھی۔ پہلو بدل کر گورکن  نے اپنی سوچوں سے پیچھا چھڑانا چاہا۔لوگوں نے۔ جنازہ قبر کے قریب لاکر احتیاط سے رکھا۔ اور دفنانے کی تیاری کرنے لگے۔

    عابد ان سب پر نظر جمائے ایسا ہی ایک وقت یاد کر رہا تھاجب اسکی نظر لوگوں سے کچھ دور ہٹ کر کھڑے شخص پر پڑی۔ ملول اداس سا وہ جنازے پر نظر جمائے کھڑا تھا۔عابد اسکے پاس چلا آیا اسکے قریب جا کر کندھے پر ہاتھ رکھا تب جاکے وہ چونکا
    عابد نے دوستانہ انداز میں دیکھتے ہوئے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔ 
    اسلام و علیکم کیا حال ہے؟ میرا نام عابد ہے اور آپکا؟۔۔
    جہانگیر بے ساختہ ہنس دیا۔اسکی ہنسی میں کاٹ سی تھی۔ 
    سلامتی بھیج رہے ہو؟ اب مجھے ضرورت نہیں ۔۔ جہانگیر کہتے ہیں مجھے۔ عابد مسکرا دیا۔ ہر نفس سلامت رہتا ہے کبھی قبرستان کے پاس سے گزرتے بھی زی نفسوں کو سلام کیا جاتا ہے اسلام و علیک یا اہل قبور۔۔ اور وہ جواب دیتے ہیں۔۔ 
    جہانگیر زندوں اور مردوں کی اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔ بائیں ٹانگ پر جسم کا بوجھ ڈالتا پہلو بدل کر یونہی بیزاری سے جنازہ دفن ہوتے دیکھتا رہا۔اسکے روکھے پھیکے انداز پر عابد کافی حیران ہوا۔اسکی توانائیاں بحال ہوئی تھیں مگر بہت زیادہ نہیں سو وہیں تھک کر ایک قبر پر بیٹھ گیا دونوں بازو گھٹنوں پر ٹکائے ۔خود بھی جنازے پر نگاہ جما دی۔۔ 
    چند لمحے گزرے ہونگے اسے خیال آیا تو رخ موڑ کر جہانگیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    تمہیں مجھ سے کچھ پوچھنا نہیں ہے؟
    عابد کے کہنے پر جہانگیر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خود بھی جیسے کھڑا کھڑا تھک چکا تھا آکر اسی کے برابر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
    اب مجھے کچھ جاننے کی احتیاج نہیں ہاں بتانے کی خواہش ہے زمان و مکاں کی حیثیت قدر قیمت سب بتائوں گا کوئی پوچھے تو سہی۔
    اسکی بات پر عابد قہقہہ لگا کر ہنسا تو ہنستا ہی چلا گیا۔” کوئی کچھ نہیں جاننا چاہتا ہے نہ پوچھنا چاہتا ہے اسی خواہش میں میں بھی روز اس قبرستان کا چکر لگاتا ہوں مگر لوگ خود تجربہ کرکے جاننا چاہتے ہیں نہ ہم سے پوچھتے ہیں نہ دیکھ کر عبرت لیتے ہیں۔
    ہنستے ہنستے رک کر وہ بہت سنجیدگی سے کہتا کہتا رنجیدہ ہوچلا تھا۔۔جنازہ دفن ہو چکا تھا قبر کی مٹی برابر کر دی گئ تھی لوگ پلٹنے لگے تھے ایک شخص قبر سے لپٹ کر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔چند لوگ دلاسے کو آگے بڑھے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا کوئی گلے سے لگانے لگا۔صبر کرو جو اللہ کو منظور۔ 
    یقینا اسکا مرنے والے سے قلبی رشتہ تھا عابد نے تجسس سے مغلوب ہو کر جہانگیر کوٹہوکا دیا۔
    یہ کون ہے؟لگتا ہے اسے بہت صدمہ ہوا ہے۔
    جہانگیر نے متاثر نہ ہونے والے انداز میں سر جھٹکا ۔چھوٹا بھائی ہے میرا۔ تین سال سے ہماری بول چال بند ہے۔ جائداد کی تقسیم پر اس نے مجھ پر حق سے زیادہ غصب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اب ایسےرو رہا ہے جیسے۔۔ 
    بولتے بولتے جہانگیر کے دل سے ہوک سی اٹھی جملہ ادھورا چھٹا آنسو گالوں پر ڈھلک آئے۔عابد نے سمجھ کر دلاسادینے والے انداز میں اسکے کندھے پر تھپکی دی۔ 
    یہی تو خون کی کشش ہوتی ہے ماں جائے کو تکلیف پہنچتی ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ تین سال پہلے میرا بھائی مجھ سے ملنے آیا تھاٹانگ پر پلستر تھا بیساکھی اور بھتیجے کے سہارے آیاتھا۔  اسے دیکھ کر تڑپ اٹھاتھا میں ضرورت کیا تھی اسے اتنی صعوبت جھیلنے کی مگر مجھے بھولا نہیں خود تکلیلف میں مگر مجھ سے ملنے آیا۔ اتنی محبت کرتا ہے مجھ سے
    اسکے انداز میں کہتے کہتے تفاخر عود آیا آنکھوں میں وہ منظر یوں تازہ تھا جیسے کل کی بات ہو۔جہانگیر کو اچنبھا ہوا۔
    تین سال؟ تین سال سے تم سے ملنے تمہارا بھائی بھتیجا وغیرہ نہیں آئے اور تم کہتے ہو وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔۔ 
    عابد اسکی حیرانی پر مسکرا اٹھا۔۔
    محبت نہ کرتا تو یوں بیمار حال ملنے آتا مجھ سے؟ ہاں مصروف زندگی ہونگے زندگی کتنی تو تیز رفتار ہے کہاں روز روز پیچھے چھٹ جانے والوں کا خیال آتا ہے۔ کبھی کبھی آجائے بہت ہے۔مرنے والوں کو تووقت ٹھہرا ہے یا تیز چل رہا ہے کیا پتہ۔۔
    جہانگیر ابھی بھی ماننے کو تیار نہ ہوا۔
    پھر بھی تین سال بڑی مدت ہوتی ہے۔عابد اسکی حیرانی سمجھ رہا تھا یہ وہ منزل ہے جہاں حیرانیاں ہی حیرانیاں منتظر ملتی ہیں سمیٹے جائو۔۔ مگر بولا تو بس اتنا “انکیلئے۔۔ ہمارے لیئے تو پلک جھپکنے جتنا وقت ہے”
    جہانگیر نے خاموشی میں پناہ لی۔ دور روتے لوگوں میں اسکا بھائی نمایاں تھا ابھی بھی بلک رہا تھا۔ 
    جہانگیر تلملایا۔ روئے جا رہا ہے سالا مرے گا پہلے ہی دل کا مریض ہے”
    عابد نے پھر محظوظ قہقہہ لگایا۔ 
    سہہ چکا یہ صدمہ اسکا دل۔۔ کوئی نہیں مرتا کسی کے لیئے۔البتہ تم اب تل تل مروگے ان لوگوں کو دیکھنے کیلئے بھی۔۔ جائو آخری بار دیکھ لو جی بھر کر کچھ تو اب دوبارہ کبھی نظر نہ آئیں گے۔
    جہانگیر کے بھائی کو چند لوگ سہارا دے کر قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے۔ 
    ایسا نہیں ہو سکتا۔ 
    جہانگیر کو اسکا قہقہہ اسکا انداز اسکے جملے سب ناگوار لگے مگر جانے اب اتنا غصہ وہ آگ وہ چڑ جو اسکی ذات کا خاصہ تھی زات کے کس کونے میں جا چھپی تھی۔ بولا تو انداز پر سکون سا تھا۔۔ 
    نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ بہن بھائیوں میں سب سے پہلی موت ہے میری دور و نزدیک سب ہی تو آئے ہیں۔مجھے دفنا کر اتنا رو رہے مجھے بھول تھوڑی جائیں گے۔ بہت وسیع حلقہ احباب ہے میرا سب رشتے دار نہیں تھے جو آئے میرے ہی کتنے دوست۔۔ 
    جہانگیر کافی ہشاش بشاش اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا خود کو بولتے بولتے عابد کا  ستا ہوا چہرہ دیکھا تو چپ ہو رہا۔ وہ اسے جتانا تھوڑی چاہ رہا تھا یہ تو بس حقیقت بیان کی تھی اس نے۔۔۔ عابد اسے رشک بھری نگاہ سے  دیکھ رہا تھا۔ صاف شفاف آر پار دکھائی دیتی روح۔ حسد جلن جیسے جزبے تو موت کے ساتھ ہی مر چکے تھے۔ اب کیا مقابلہ کون کتنا چاہا جاتا کتنا دھتکارا جاتا۔ اب تو بس مٹھی بھر اعمال تھے جو زاد راہ تھے کسی کی ہتھیلی بھری کسی کی خالی جس کی بھری وہ سمیٹے ہتھیلی خالی ہونے کے خوف سے کانپتا خالی ہتھیلی والا بس صبر سے اپنوں کا انتظار کرتا کچھ دعائیں ڈال جائیں یہ منزل آسان ہو جائے۔
    تمہاری پہلی رات ہے گھبرانا مت ۔ویسے خوش نصیب ہو جو اتنے ہشاش بشاش ہو لوگوں کی دعائیں  ساتھ ہیں۔ میں تو سڑک حادثے کا شکار ہوا تھا۔شناخت ممکن نہیں تھی۔ دو دن بعد گھروالوں کو اطلاع ہوئی تو میری لاش وصولنے آئے ۔عابد کا انداز ایسا تھا جیسے کسی اور کے بارے میں بتا رہا ہو۔ بے تاثر عام سا لہجہ۔ جہانگیر نے اسکی شکل پر دکھ تلاشنا چاہا مگر وہ مطمئن نظر آتا تھا۔۔ 
    جہانگیر کو ترس پھر بھی آیا۔ 
    کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیر سے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔۔ 
    عابد اسکی نظریں خود پر جمی دیکھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ 
    جہانگیر نے گڑبڑا کر موضوع بدلا
    میں نے سنا ہے پہلی رات بہت مشکل ہوتی یے قبرستان میں؟ واقعی؟ تمہاری پہلی رات کیسی تھی؟
    عابد گہری سانس لیکر کھڑا ہوگیا۔۔ 
    قبرستان اب خالی ہو چکا تھا گورکن بھی اپنا پھائوڑا اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتا قبرستان سے نکل رہا تھا۔ ہر طرف دل کو دہلا دینے والی چپ کا راج تھا سناٹا اندھیرا۔۔ 
    عابد نے چند لمحے سوچا۔۔ 
    لفظوں میں کیا بیان ہو سکتی ہے اس دن کی وہ کیفیت؟ جہانگیر اب بھی منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے جملے ترتیب دیئے پھر ایک اور آہ بھر کے کہنے لگا۔
    تنہا اکیلی اداس دہشت ناک اذیت ناک اپنوں سے دور اس اجاڑ بیابان میں تنگ اندھیری سی قبر کیسی ہو سکتی؟
    اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر جہانگیر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
    دس سال سے ہوں یہاں مگر آج تک پہلی رات نہیں بھولا جب یاد آئی پوری جزئیات کے ساتھ ایک ایک لمحے کی یاد  
    وہ کہہ کر رکا نہیں ۔۔
    جہانگیر کا رواں رواں ہمہ تن گوش تھا۔ ایک خوف کی اجنبی لہر نے پھریری سی دوڑا دی تھی۔ 
    مگر یہ عابد۔۔ اس نے اب غور کیا۔ اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی وہ بہت نحیف اور کمزور دکھائی دیتا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زمان و مکاں انکیلئے کوئی اور ہی گھمن پھیریاں چلا رہا تھا۔ ایک دن گزرا مہینہ چالیسواں ہو گیا۔ عابد کی ایک بات سچ ثابت ہوئی سب نہیں آئے چالیسویں پر بھی کتنے ہی عزیز دوست اقارب وہ تلاشتا رہا۔ وہ نہیں آئے جن کا دکھ دیکھ کر لگتا تھا کہ شائد وہ غم کے مارے جلد اسکے پڑوس آبسیں گے۔ تو وہ وہ لوگ بھی آئے جن کے بارے میں گمان تھا کہ شائد جنازے پر خوشی سے شادیانے بجائیں گے۔ اتنے ملول نظر آئے کہ اپنے گمان پر پشیمانی ہونے لگی۔ مگر ابھی لوگ بھولے نہیں تھے اسے۔ جہانگیر اب بھی خوش تازہ دم دکھائی دیتا تھا۔ گالوں پر سرخی تھی۔ محبتوں سے مالا مال وہ جب عابد کو اپنی ہی قبر کا سہارہ لے کر اٹھتے دیکھتا چہرے پر نیرگی زمانہ کی دھول مٹی سے اٹے کپڑے پیلے زرد چہرے سے وہ نقاہت سے لڑکھڑاتا جب بھی جہانگیرسے نظر ملتی خوش دلی سے ہاتھ ہلاتا پھر بازو پکڑ کر وہیں بیٹھ رہتا۔ جہانگیر ترس بھری نگاہ سے دیکھتے پوری کوشش کرتا کہ جہانگیر انکو پڑھ نہ پائے مگر روح تو آئینے جیسی ہوتی ہے پردے کون ڈال سکتا بھلا چالیسویں کے بعد  لوگوں کا آنا کافی کم ہوگیا تھا۔ہاں ابھی وہ اپنوں کی دعائوں میں زندہ تھا۔۔سو خوش تھا۔۔ مگر کب تک؟۔وقت گزر رہا تھا اسکی توانائیاں کم ہونے لگی تھیں۔ اب وہ پہلے سا ہشاش بشاش نہیں رہا تھا۔ قبرستان میں لوگوں کی آمد جاری و ساری تھی مگر سب اجنبی شکلیں۔نئے آنے والوں تک جانےکی ہمت نہ رہی پڑوس میں تو سب جیسے مرےپڑے تھے۔پڑے تھے بھی یا کہیں اور کا راستہ ناپ چکے تھے۔ بس ایک قریب عابد ہی کھانستا نظر آجاتا تھا۔۔ یہی حال رہا تو جلد اسکا حال بھی عابد جیسا ہی ہوجانا تھا۔۔۔اس نے جھر جھری سی لی۔ اسے سردی سی محسوس ہو رہی تھی بلکہ سرد مہری ذیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کسی ننھے بچے کی طرح خود کو سمیٹ سکیڑ کر قبر سے ٹیک لگائے اکڑوں سا بیٹھ رہا تبھی کوئئ اوکے پاس آکھڑا ہوا۔ اس نے دھیرے سے سر اٹھایا ۔ 
    عابد تھا  آج تو جہانگیر سے بہتر حالوں میں  دکھائی دیتا تھا۔گرم چادر اوڑھے۔ 
    سردی لگ رہی ہے؟۔
    جہانگیر نے کانپتے ہوئے سر ہلایا۔ وہ اپنی چادر پھیلا کر اسے بھی گھیرے میں لیتا ہوا پاس بیٹھ گیا۔۔ 
    یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی؟۔ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
    میرے بھائی نے میرے نام سے کچھ اشیاء خیرات کی ہیں۔میرا بھائی مجھے بھولا نہیں ہے
    عابد کا انداز جتانے والا نہیں تھاسادہ سا تھا ۔
    ہاں محسوس کی جانے والی یاسیت تھی۔ جہانگیر کے دل پر بوجھ آن گرا۔
    میرا بھائی لگتا ہے مجھے بھول گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج پھر کسی کی آمد کی تیاری تھی۔ دور گورکن نئی قبر کھود رہا تھا۔بیچ دوپہر تھی قبر پر سایہ بھی نہیں تھا تیز دھوپ سیدھا گورکن کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔لال بھبھوکا چہرہ محنت سےچمکتے پسینے کے قطرے۔۔۔زندگی کی علامت۔ جہانگیر اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔اب اسکا حال بھی عابد جیسا ہوچکا تھا۔ چہرے سے برسوں کا بیمار نظر آتا تھا۔
    کیا ہے اس گورکن کے چہرے پر تھکن پریشانی اور۔  وہ سوچ میں پڑا۔
    ہاں زندگی ہے۔۔ 
    تبھی کسی نے گرم جوشی سے اسکا کندھا دبایا اور دھپ سے پاس آن بیٹھا
    جہانگیر نے چونک کر گردن موڑی عابد تھا۔ آج تو عابد کی چھب ہی نرالی تھی۔ صاف ستھرے سفید براق لباس میں نک سک سے تیار چہرے پر بشاشت صحتمندی کی سرخی۔جہانگیر حیران ہی رہ گیا۔
    اسکی حیرانگی دیکھ کر عابد کھل کر مسکرادیا۔
    پھر سامنے گورکن کو دیکھ کر بولا 
    لگتا ہے تمہارے لیئےکسی نئے پڑوسی کی آمد کا انتظام ہو رہا ہےاچھی بات ہے تم میرے بعد تنہائی محسوس نہیں کروگے
    جہانگیر چونک گیا
    تمہارے بعد؟تم کہیں جا رہے ہو؟
    عابد آج بہت خوش دکھائی دیتا تھا۔ 
    ہاں وقت پورا ہو گیا میرا۔ ان سب کی طرح اب میرا بھی جانے کا وقت آگیا۔ اس نےانہی اجاڑ قبروں کی جانب اشارہ کیاتھا۔
    میرے بھائی نے میرے لیئے قبول حج کیا ہے۔میری سزا مئوخر ہوئی اب میں اگلی منزل کی تیاری میں ہوں۔جہانگیر کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ آئی اپنے ہی کہے الفاظ یاد آئے
    کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیرسے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔
    سوچوں سے پیچھا چھڑاتے اس نے بڑے خلوص سے مبارکباد دی۔
    بہت بہت مبارک ہو اللہ اگلی منزل بھی آسان کرے ۔انسانوں نے تو بڑی راہ دکھائی۔ خدا تو آسانیاں ہی دے گا۔
    اسکے چہرے ہر سچی خوشی تھی۔عابد کھل کر مسکرادیا۔
    اللہ تمہاری منزلیں بھی آسان کرے گا۔ اچھا اب میں چلتا ہوں اور دیکھو کیا بروقت تمہارے لیےدوسرے ساتھ کی آمد ہوئی ہے۔
    عابد کے کہنے پر اس نے سامنے دیکھا چند لوگ جنازہ اٹھائے قبرستان میں داخل ہورہے تھےان سے پرے ایک شخص سر جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چلا آرہا تھا۔
    اللہ حافظ۔ 
    عابد کہہ کر جنازے کی جانب بڑھ گیا۔ یہ اسکی عادت تھی اب تک ہر آنے والے سے اس نے عابد کو یونہی ملتے دیکھا تھا گرمجوشی۔ سے۔
    جہانگیر وہیں بیٹھا دیکھتا رہا۔ جاتے جاتے عابد نے نووارد کے کندھے پر تسلی دینے والے انداز میں تھپکا ۔ لمس اتنا ہلکا پھلکا تھا کہ نوواردکو محسوس بھی نہ ہوا عابد یونہی ہوا میں دیکھتے دیکھتے اوجھل ہوا۔
    تو سب یہاں سب دیکھ بھی نہیں سکتے۔ آج جہانگیر پر انکشاف ہوا اسکے گرد اتنا سناٹا کیوں تھا۔ اسکی پڑوس کی قبروں کے مکین کہاں مر چلے تھے۔جو نظر نہ آتے تھے یہ 
    کہ اب اسکا مرحلہ بھی اگلا ہے۔ وہ اپنی زمہ داری سمجھتا اٹھ کھڑا ہوا رخ نووارد کی جانب تھا لوگ با آواز بلند کلمہ شہادت کا ورد کرتے جنازہ دفنا رہے تھے۔ نووارد چپ چاپ قبر پر نگاہ جمائے تھا۔
    جہانگیر اسکے پاس والی قبر پر ٹک کر بیٹھتے ہوئے بولا
    اسلام وعلیکم میرا نام جہانگیر ہے اور آپکا؟
    نووارد نے چونک کر دیکھا پھر بے تابی سے اسکو کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب رخ موڑا بلکہ جھنجھوڑ ڈالا 
    سنو تم کب سے ہو یہاں؟ کیسی جگہ ہے یہ؟ میں نے بہت کچھ سنا ہے اسکے بارے میں کیا وہ سب سچ ہے؟ پہلی رات کیا واقعی بھیانک ہوتی ہے؟
    بولو نہ جواب دو۔
    جہانگیر نے بمشکل اسکے بازو پکڑ کر اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔آرام سے دھیرج رکھو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    اسے نظروں سے ٹٹولتے ہوئے جہانگیر نے اسکے بازو 
    آرام سے پیچھے کیئے سنبھل کر بیٹھا ۔
    نظریں دور جنازہ دفناتے لوگوں پر تھیں کوئی قبر سے لپٹا رو رہا تھا۔  مالک کے سوال ختم نہ ہوئے تھے
    تم کب سے ہو یہاں۔؟
    جہانگیر نے آہ بھرئ۔6 سال ہورہے ہیں مجھے
    مالک نے بے تابی سے پوچھا۔
    ملنے آتے ہیں اپنے؟
    قبر پر بیٹھا رونے والا دھاڑیں مار رہا تھا۔
    جہانگیر  نے نگاہ چرائی
    دو سال پہلے بھتیجا آیا تھا سنا ہے بھائی کی طبیعت خراب ہے اسلیئے آنہیں سکا۔
    زیر لب بڑبڑایا
    روحیں تو جھوٹ بھی نہیں بول سکتیں
    مالک نے پھر پوچھا
    تو تمہارے گھر والے ایصال ثواب کیلئے کچھ کرتے؟
    جہانگیر نے پھر آہ بھری
    زندوں کے سو جھمیلے کہا ں فرصت مجھے یاد میں خود بزرگوں کیلئے سال میں ایک آدھ بار کبھی زکر نکل آنے پر فاتحہ پڑھ دیتا تھا یا خیرات کردیا کبھی کون روز روز یہ کام کرتا ہےزندگی میں

    جہانگیر کا انداز استہزائیہ تھا۔ وہی کچھ ملے گا جو کچھ دوگے۔۔ 
    مالک سٹپٹایا
    میں نے تو زندگی میں بس ایک بار داداجی کے چالیسویں پر سپارہ پڑھا تھا اب جانے میرے لیئے کون کچھ۔۔ 
    قبر سے لپٹ کر رونے والے کو لوگ اٹھا کر اب قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے جہانگیر نے بات کاٹ دی
    سنو تم آخری بار ان سب سے مل آئو۔پھر جانے ان میں سے کسی سے دوبارہ ملنا ہو نہ ہو
    مالک پہلے تو سمجھا نہیں پھر سر ہلاتا انکی جانب بڑھ گیا
    قبرستان کے داخلی در پر کھڑا ایک ایک کو اپنے لیئے آنسو بہاتا دیکھتا خوش ہوتا رہا سب چلے گئے تو مڑ کر جہانگیر کودیکھا
    جہانگیر اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ خود جہانگیر کے برعکس بہت بہتر حال میں تھاجہانگیر نظریں ملنے پر بھر پور انداز میں مسکرایامگر اسکے چہرے کی زردی نمایاں تھی۔ وہ خود تو فی الحال دعائوں کے حصار میں خود کو چاق و چوبند محسوس کر رہا تھامگر یہ جہانگیر۔۔ اس نے تاسف سے سوچا
    میرے ساتھ تو لوگوں کی دعائیں ہیں اسلیئے بہتر حالوں میں ہوں یہ بے چارہ کیسا بد نصیب ہے کوئی دعا میں یادنہیں کرتا جیسے اسے دفنا کے بھول ہی گئے ہیں۔۔۔


    ختم شد


    written by vaiza zaidi {hajoom e tanhai}

    Home » Afsanay (short urdu stories) » Suspense/Mystry Urdu Stories » Mungtay (maangnay walay) urdu suspense afsana about graveyard (qabrustan)
  • yeh hajoom e rang o nikhat

    یہ ہجوم رنگ و نکہت ، تیرے حسین اشارے 

    مری سو آرزوئیں کہیں جاگ اٹھیں نہ پیارے 

    ہیں بھری بہار میں بھی ، مری زیست کے سہارے 

    وہی بھولی بسری یادیں وہی گمشدہ نظارے 

    یہ بہار نور و نغمہ ، وہی ہم ، وہی شب غم 

    وہی صبح کا تصور ، وہی ڈوبتے ستارے

    ہے نوید موسم گل ترا نغمہ تبسم 

    تری نبض کی حرارت مری آہ کے شرارے 

    مرے دل کی دھڑکنوں کو ابھی رائیگاں نہ سمجھو 

    ابھی ہوش میں ہے شبنم ، ابھی جاگتے ہیں تارے 

    ہوئے منتشر جو تارے چنے دامن سحر نے 

    جو بکھر گئے ہیں سپنے انھیں کون اب سنوارے 

    کہیں ہم تو کون مانے کہ ہیں اپنے قاتلوں میں 

    وہی حسن و ناز والے وہی مہرباں ہمارے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Mujh main hi Hay rangoun ki kami Episode 1

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔۔
    قسط
    1

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے
stress dysphorIa
میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے
    stress dysphoria
    میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔

    اٹھ جائو کنزی مزنہ ۔ اٹھا اٹھا کے تھک گئ میں۔دیر ہو جائے گی تم لوگوں کو آٹھ بج رہے ہیں۔۔
    تھپا تھپ پراٹھے کو بڑھا کر توے پر ڈالتے ہوئے صفیہ اونچی آواز میں پکار رہی تھیں۔
    یونیفارم میں نک سک سے تیار ہوکر سنگھار میز کے سامنے بال بناتی کنزی نے کمرے سے ہی آواز لگائئ۔
    اٹھ گئ ہوں امی یہ مزنہ سوئی پڑی ہے ابھی تک۔
    اس کی تیز آواز پر برابر ہی بیڈ پر سوئی مزنہ کسمسا کر اٹھی۔ گھور کر دانت پیستی آنکھیں ملتی۔
    مزنہ اٹھ جائواور مجھے کالج بھی چھوڑ آئو پلیز۔
    اسکی سب گھوریاں نظر انداز کرتی پونی باندھ کر کنزی اسکے پاس آبیٹھی۔
    مزنہ نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا تے ہوئے ایک بار اور گھورا۔
    شرافت سے وین کا کرایہ پکڑو اور جائو۔
    پلیز نا میں لیٹ ہو جائوں گئ نا بہن نہیں ہو۔
    کنزی اسکا گھٹنا پکڑ کر منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔اس پر ذرا اثر نہ ہوا۔بے مروتی سے بولی
    راستہ ناپو میں نہیں لے جارہا پورا شہر گزار کر کالج ہے تمہارا تمہارے چکر میں میں لیٹ ہوجائوں گا۔
    امی دیکھیں نامزنہ کو صاف انکار کر رہا ہےمجھے چھوڑ کر نہیں آئے گا اب اتنا تیار ہو کر میں لوکل وین سے نہیں جا سکتی میرا وین والا بھی آکر جا چکا تب میں تیار نہیں ہوئی تھی۔۔ امی اس سےکہیں نا۔۔
    اسکی ساری منتیں نرمی بھک سے اڑ گئیں فورا اٹھ گئ۔چلا کر پیر پٹخ کر شکایت لگانے لگی
    ارے ارے۔ مزنہ اسکے انداز پر اٹھ بیٹھی
    ۔امی پراٹھہ ہاٹ پاٹ میں رکھ کر دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی یہیں چلی آئیں۔
    اب تو بالکل نہیں لیکر جائوں گا دیکھ لینا۔اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا تو کنزی منہ چڑانے لگی۔
    امی نے آتے ہی اسکی یہی بات پکڑ لی۔
    کتنئ بار کہا ہے یہ آئوں گا جائوں گا مت کیا کروبڑی ہوگئ ہو تم ۔نہ جانے کونسا منحوس وقت تھا جو یہ لڑکوں کی طرح بولنے کی عادت پڑی ہے اسے۔اور کنزی تم بھی اسی کی طرح
    امی اس سے کہیں نامجھے بائک پر چھوڑ آئے۔میں وین سے ایسے نہیں جا سکتی
    کنزی امی کے کندھے سے لٹک گئ۔۔
    اتنا میک اپ تھوپ کے جانے کو کہا کس نے ہے اسے؟۔
    بے موقع جھاڑ صبح صبح نئی ذمہ داری اس نے خاصا چڑ کر ٹوکا تھا
    چھوڑ آئو نا بہن کو۔اسکی سہیلی کی سالگرہ ہے آج۔ اب تو کتنے دنوں کے بعد فرمائش کر رہی ہے۔
    امی اسکا سر سہلاتے دلار سے کہہ رہی تھیں
    کنزی منہ چڑانے لگئ تو وہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    امی اس بلی کا روز کا ڈرامہ ہے آج ویسے بھی پہلی دو کلاسیں فری ہیں میری میں لیٹ جائوں گا پھر کپڑے بھی استری نہیں میرے۔۔
    سستی سے پیر سلیپر میں ڈالتے ہوئے وہ منہ پھلا کر کہہ رہی تھی انداز نیم رضامندانہ ہی تھا۔ امی کو اسکی فرمانبرداری پر پیار ہی آگیا۔۔ انکی تینوں بیٹیوں میں سب سے ذیادہ فرمانبردار یہی تھئ۔سو فورا کنزی کو حکم دے ڈالا
    جائو جلدی سے بھائی کے کپڑے استری کردوجائو شاباش۔
    انکی بات پر منہ بناتئ کنزی آخر میں ہنس پڑئ
    اب خود ہی اس کلو کو بھائی کہہ دیاآپ نے۔
    اسکی بات پرموبائل کو چارجنگ پر لگاتی مزنہ بھی مسکرا دی
    اوہو ایک تو زبان بھئ پھسل جاتی ہے۔امی خفت ذدہ سی ہوئیں مگر آگے بڑھ کر مزنہ کا خفا خفا سا چہرہ ہاتھوں میں لیکر پیار سے کہنے لگیں۔
    مگرسچ پوچھو تومیری آنکھ کا تارا ہے میری مزنہ۔۔تم دونوں سے ذیادہ فرمانبردار اور کام کاجو بیٹی ہے میری۔
    مزنہ مسکرا دی۔ امی کا ہاتھ چومتی کنزی کو منہ چڑاتی باتھ روم میں گھس گئ۔
    کنزی نے منہ بنا کر امی کو دیکھا
    خیرہم دونوں بھی بہت کام کرتی ہیں آپا کو بھری سسرال بھیج رکھا ہے سارا وقت کچن میں گھسی رہتی ہیں۔۔ اپنے آدھے درجن دیوروں کا ناشتہ بناتئ ہیں وہ
    اس نے بڑ بڑاتے ہوئے الماری سے اسکا مردانہ کرتا اور جینز نکالی امی کو اسکی عادت کا پتہ تھا اب اس نے لمبی تقریر جھاڑنی تھئ سو کان دبا کر نکل گئیں۔
    اس نے مڑ کر دیکھا تو کمرہ خالی ہو چکا تھا۔سو کپڑے نکال کر لائونج میں استری اسٹینڈ کے پاس بڑ بڑاتی چلی آئی۔
    اور میں تو جتنا بھی کام کرلوں گنتئ میں نہیں آتا۔ کھانا پکاتی ہوں برتن دھوتی ہوں صفائی ستھرائی بھی میرے ذمہ اوپر سے اس کالو کی خدمتیں بھی کرواتی ہیں مجھ سے۔
    یہ کبھی میرے کپڑےپریس کرتئ ہے۔
    دل لگا کراستری کرتے وہ اونچی آواز میں بڑ بڑا رہی تھی۔امی چائے بناتئ ان سنی کرتی رہیں۔
    جب تک مزنہ تیار ہو کر آئی اسکا موڈ ٹھیک ہو چکا تھا۔امی کے ساتھ ناشتہ میز پر لگانے میں مدد بھی کروائی۔۔
    ان دونوں کو ناشتہ کرتے چھوڑ کر امی اندر سے کچھ کاغذ اٹھائے چلی آئیں۔
    مزنہ یہ آج بجلی کے بل کی آخری تاریخ ہے۔بنک سے پیسے نکلوا کر جمع کروادینا۔موٹر بھئ کل سے بہت آواز کر رہی ہے لگتا ہے جل جائے گئ یونیورسٹی سے واپسی پر مکینک لیتے آنااور حفصہ کے ہاں سے سوٹ لےآنا وہ سلوا چکی ہےمگر اسکا جانے کب آنا ہو دوکنزی کے ہیں دو تمہارے ایک میرا ہے۔
    سر ہلا ہلا کر سنتی مزنہ سنجیدہ سی ہوگئ۔
    باقی کام کردوں گامگر یہ حفصہ آپی کے گھر نہیں جا سکتا۔انکی ساس اور عامر بھائئ کا بس نہیں چلتاکہ مجھے دیکھ کے کچا چبا جائیں ایسا گھورتے ہیں جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں۔
    بولتے ہوئے آخر میں دکھی بھی ہوگئ۔
    کنزی اور امی بھی چپ سی ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔امی ذرا سنبھل کر بولیں۔
    بس بیٹا سب کا اپنا ذہن ہوتا ہے۔تھوڑے سے دقیانوسی ہیں وہ لوگ۔۔ نہیں پسند انکو خود مختار لڑکیاں
    انکی بات پر کنزی نے باقائدہ آنکھ پھاڑ لیں حیرت سے
    لڑکی؟؟ کہاں سے لگتی ہے یہ لڑکی؟
    ڈھیلے ڈھالے جدید مگرمردانہ طرز کے کرتے میں ملبوس اس نے اپنے کندھوں تک آتے بال کھینچ کر پونی میں باندھ رکھے تھے۔ میک سے مبرا دھلا دھلایا صاف مگر سپاٹ سا چہرہ۔ ناشتہ کرتے ہوئے وہ مردوں کی طرح ہی آستین چڑھائے بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔انداز میں لاپروا مرد کا تاثر نمایاں تھا بہ نسبت نازک سی لڑکی کے۔
    یہ لمبے بال تک اس میں لڑکیوں والی لک نہیں آنے دیتے۔آواز تک بھاری ہوچکی ہے اسکی امی اسکو بوائے کٹ کروانے دیں ہم بھائی ہی بنا لیتے ہیں اسے۔
    وہ مزاق نہیں اڑا رہی تھی بس شرارت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔ اسکی بات پر مزنہ نے جھٹ اجازت طلب نگاہوں سے دیکھا
    بوائے کٹ کروالوں امی؟ سچی لمبے بال نہیں سنبھلتے مجھ سے؟
    مگرامی سختی سے جھڑک گئیں۔
    خبردار جو بالوں کو کٹوانے کا سوچاتمہیں قسم دی ہوئی ہے
    خبردار جو کٹوائے۔
    سختی سے کہتے ہوئے جب انہوں نے مزنہ کا چہرہ اترتا دیکھا تو لہجہ دھیما کرکے سمجھانے والے انداز میں بولیں
    بیٹا لوگ باتیں بناتے ہیں۔کیوں لڑکوں کی طرح بولتی ہو چلتی ہو لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی ہو۔سب مجھے خود غرض اور نا عاقبت اندیش ماں تک کہہ ڈالتے ہیں کہ اپنے کام نکلوانے کیلئےمیں نے تمہیں بیٹا بنا رکھا ہے کوئی ایک بیوہ ماں کی مجبوری نہیں سمجھتا۔
    بولتے ہوئے انکی آواز بھرا گئ۔
    سچ تو یہ ہے کہ مجھے پچھتاوا بھی ہوتا ہے مجھے تمہیں ٹوکتے رہنا چاہیئے تھا۔ بیٹی کبھی بیٹا نہیں بن سکتی۔ تمہیں بیٹوں کی طرح پال کر میں خود کو مجرم سمجھنے لگی ہوں۔ کل کو تمہیں بھی رخصت۔۔انہوں نے رونا ہی شروع کردیا تو دونوں بہنیں اٹھ کر ان سے دائیں بائیں لپٹ گئیں۔
    میں تو مزاق کررہی تھئ ۔۔۔ سوری امی کنزی نےدونوں کان پکڑ لیئے۔
    نہیں کٹوا رہا میں بال اور کپڑے بھئ لے آئوں گابس رونا بند کریں۔۔
    مزنہ نے بازو کے حلقے میں لیا تو وہ بھی آنسو پونچھنے لگیں۔۔
    جیتی رہو دونوں۔ انہوں نے دل سے دعا دی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ایک سرد سی بےرحم شام تھی جب انکو اپنے شوہر اور اکلوتے بیٹے کے ٹریفک حادثے میں گزر جانے کی اطلاع ملی تھی۔ بارہ سالہ عبدالہادی اپنے باپ کے ہمراہ بڑے شوق سے نئے جوتے لینے موٹر سائکل پر گیا تھا۔ ایک تیز رفتار ٹرک ان دونوں کی زندگی کا چراغ بجھا گیا۔ نفیسہ تو بالکل ہمت ہار بیٹھی تھیں۔چودہ پندرہ سالہ حفصہ ماں کو سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کرتی تھی۔ مگر نفیسہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہادی کو پکارنے لگ جاتی تھیں۔ چالیسیوں تک سب رشتے داروں نے حتی المقدور ساتھ نبھایا۔ گھر اپنا تھا اسی کا ایک حصہ اوپر کاکرائے پر چڑھا کر کچھ سرٹٹیفیکیٹس تھے ان سے ایک دکان خرید کرکرائے پر چڑھا کر زندگی کی گاڑی کھینچنی شروع کردی۔ جیسے تیسے عدت گزری اسکے بعد گھر کا معمولی سے معمولی کام بھی کرنے کیلئے جب گھر سے نکلنا پڑا تو گھبرا سی گئیں۔حفصہ کو ساتھ لے جانا شروع کیا تو لوگوں کی نظروں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سودا سلف لانا ہو کرایہ وصول کرنا انہوں نے حفصہ کو ساتھ لے جانا چھوڑ دیا۔ مگر اکیلے نکلنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی۔ مزنہ نسبتا تیز اور ہوشیار تھی اور ابھی ذیادہ قد بھی نہ نکالا تھا۔ انہوں نے اسکو ہر کام میں اپنے ساتھ رکھنا شروع کیا۔ بڑھتئ عمر کی بچی کو ہادی کے پینٹ شرٹ پہنا کر لے جاتیں تو سب اسے بچی کی بجائے بچہ ہی سمجھتے۔ انہوں نے اسکو پھر بچہ ہی بناڈالا۔ بال بالکل چھوٹے چھوٹے کروادیئے عبدالہادی کے کرتے پاجامے پہنتے مزنہ نے اطوار بھی لڑکوں جیسے ہی اختیار کر لیئے۔ اسے ہر معاملے میں ساتھ رکھتے ایک وقت آیا کہ وہ ہر معاملے کو ان سے بہتر سمجھنے سنبھالنے لگی۔ مارکیٹ میں بھانت بھانت کے لوگوں سے نمٹتے انکو احساس بھی نہ ہوا کہ کب وہ بڑی ہونے لگی۔ لوگوں نے مردمارسہی مگر لڑکی ہی سنجھنا شروع کردیا۔ مزنہ پہلے گھبرائی پھر اس نے نظروں کے وار سے جھجکتے چھپتے انکا ڈٹ کر سامنا اور ڈپٹ کر مردانہ وار مقابلہ کرنا شروع کردیا۔ بڑھتے قد اور دبلی جسامت کے باعث وہ اس عمر میں جب لڑکیاں خود سے چھپنا شروع کرتی ہیں اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈپٹنا سیکھا۔ دوپٹہ اوڑھنے کی بجائے گلے میں مفلر ڈالنا شروع کیا رنگ برنگی شلوارقمیض کی جگہ پھیکے رنگوں کے مردانہ کرتے بنوانے لگی۔ بال بڑھانے ہی چھوڑ دیئے۔ قد نکالا تو وہ بھی تاڑ سا۔پانچ فٹ نو انچ کی لڑکی تو کیا ہی لگتی الٹا مردانہ چال اور حلیئے کے باعث بہنوں کیلئے بھائی کی طرح ہی ڈھال بن گئ۔ موٹر سائکل چلانا سیکھ لی۔ حفصہ کی شادی کا وقت آیا تو تن و تنہا سب معاملات خوش اسلوبئ سے سنبھال لیئے۔ دیگوں ٹینٹ سروس سے لیکر شادی ہال تک کا سب انتظام بیٹے کی طرح سنبھالا اگر وہ سچ مچ بیٹا ہوتئ تو انٹر میں ہونے کے باوجود سب کچھ اچھی طرح سنبھالنے پر صفیہ فخریہ اسکی تعریفیں وصولتیں ۔مگر حفصہ کی شادی میں جس طرح لوگوں نے اس کو دیکھ کر باتیں بنائیں۔ اسکو ہجڑا تک کہہ ڈالا۔ تب پہلی بارصفیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مگر تب تک شائد بہت دیر ہوچکی تھی۔مزنہ انکے ہر طرح کی سختی کرنے ڈانٹ ڈپٹ اور پیار سے سمجھانے کے باوجود نا لڑکیوں والے کپڑے پہننے کوتیار ہوئئ نہ ہی لب و لہجہ بدلنے پر۔انہوں نے اسکو لڑکیوں کے ہی اسکول اور کالج میں پڑھوایا بال کٹوانے نہ دیے اب کندھوں تک آتے تھے کہ اس سے ذیادہ بڑھنے نہیں دیتی تھئ وہ مگر یونیفارم میں دوپٹہ لینے کے باوجود اسکی چال ڈھال ٹھٹکا دیتی تھی۔ لڑکیاں اس سے دور ہو جاتیں یا باتیں بناتیں۔لے دے کے بس ایک ہی اسکی دوست بنی۔اور ایسی بہترین دوست جو پہلے اسکول پھر کالج اور اب بی ایس میں یونیورسٹی میں بھی اسکے ساتھ تھئ۔جسے کنزی اور حفصہ کی طرح اس نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا۔مگر کہیں کچھ ایسا ضرور تھا جو اسے خود بھی اب کھٹکنے لگا تھا۔ ابھی بھی بائک چلاتے اشارے پر رکتے وہ کتنی ہی عجیب نظروں کے حصار میں تھی۔ عادی ہو چکنے کا کہنے اور عادی ہوجانے میں یقینا جو بال برابر فرق تھا اسے ضرور محسوس ہوتا تھا۔
    اس نے ہیلمٹ گرمئ کی وجہ سے پہن نہیں رکھا تھا جبھی اس وقت۔۔ اس نے اشارہ کھلتے ہی ایکدم بائک تیز چلا دی تھی۔ پیچھے اپنی دھن میں بیٹھی کنزی نے سنبھل کر اسکا کندھا دبوچا
    کیا کرتی ہو ابھی گر جاتی میں۔
    اسکے چلانے کا اس نے قطعی نوٹس نہ لیا بائک یونہی اڑاتی رہی
    کیا ہوگیا ہے مزنہ آہستہ چلائو میں گرجائوں گی۔
    وہ اس بار جان کر اسکے کان پر چیخی۔۔ اسکے ڈرنے پر مزنہ محظوظ ہوکر بولی
    واقعی؟ پھر تو مجھے اور رفتار بڑھانی چاہیئے ۔۔۔تم گرو ڈرو
    تاکہ آئندہ یہ خرافاتی خیال نہ آئے کہ میں صبح صبح تمہیں ڈراپ کروں کالج ۔۔
    وہ ہنس ہنس کر مزید ڈراتئ رہی۔ جیسے ہی کالج کے آگے اس نے بائک روکی کنزی نے اترتے ہی دھپ سے اسکے کندھے پر مکا مارا۔مزنہ ڈھٹائی سے ہنس کر اسے چڑاتی رہی۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر اسکے ہاتھ پر ہزار روپیہ بھی رکھ دیا۔ کنزی کی سب کوفت دور ہوئی کھلکھلا کر اسکو گلے لگاکر پیار کرتئ خداحافظ کہتی اندر بھاگی۔ اسکے بچپنے پر وہ بزرگانہ شفقت سے مسکرا کر سرجھٹکتی بائک نکال لے گئ۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے اسکا گروپ کھڑا تھا وہ گرمجوشی سے انکو ہاتھ ہلاتے ہوئے انکی جانب بڑھنے کو تھی جب سینیئرز کا ایک گروپ اسے پکارنے لگا۔
    اے اے کنزی۔ یہ کونسا کزن تھا تمہارا؟؟
    فورتھ ائیر کی شمائلہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر پوچھتی اسے ایکدم زہر ہی لگی۔
    کونسا کزن ؟ وہ سمجھی نہیں۔
    ارے وہی جس سے لپٹ کرپیار کرتی تم ابھی آئی ہو اندر۔
    دوسری لڑکی نے عامیانہ انداز میں کہہ کر شمائلہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سب زور سے ہنس دیں۔۔
    شٹ اپ۔ سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔ وہ غصے سے زور سے بولی تو اسکی سہیلیاں بھی اسکی مدد کو دوڑی آئیں۔۔
    ہم سوچ سمجھ کر بولا بھی کریں اور تم باہر بنا سوچے سمجھے گلے لگو گال سے گال ملائو۔
    ایک اور لڑکی چمک کر بولی تو کنزی کی ساری مروت رخصت ہوئئ
    خبردار جو ایک لفظ بھئ مزید بکواس کی تو منہ توڑ دوں گی۔ میں اپنی بہن کے ساتھ آئی ہوں بڑی بہن ہے وہ میری۔
    اسکی طیش کے مارے آواز پھٹ سی گئ۔ ارد گرد لڑکیوں کی بھنبھناہٹیں بھی تھم سی گئیں
    کیا ہوا کنزئ۔۔ اسکی سہیلی نے آکر اسے بازو سے تھاما۔۔ فرط طیش سے وہ کانپ رہی تھی
    مگر ہم نے خود دیکھا وہ تو بالکل لڑکا۔۔۔۔ شمائلہ خود بھی اسکا ردعمل دیکھ کر گڑبڑا سی گئ
    وہ مزنہ ہیں اسکی بڑی بہن ۔ وہ لڑکوں جیسی لگتی ہیں مگر بڑی بہن ہیں اسکی۔ کنزی کو کندھے سے تھام کر لیلی نے ان سب کئ غلط فہمی دور کرنی چاہی۔
    واٹ ؟ مگر وہ تو بالکل لڑکا تھی۔ بالوں کی پونی تھی مگر وہ تو بالکل لڑکی نہیں لگتی۔۔۔۔
    شمائلہ کی حیرت عروج پر تھی۔
    توکیا ہوا وہ دراصل اسکا بھائیوں کی طرح ہی خیال رکھتی ہیں بس کپڑے مردانہ ہوتے ہیں انکے۔ہیں وہ لڑکی ہی۔
    روبیہ نے بھی صفائی دینی چاہی۔
    ہیں کنزی کی بہن ہے وہ؟ کنزی کو اپنی پشت سےحیرانی بھری آواز سنائی دی۔
    ارے یار میں خود حیران ہوئی کنزی کو کیا ہوا کس طرح لڑکے سے گلے مل رہی ہے۔
    بائیں جانب سے حیرت کا اظہار۔
    بہن ہی ہے یا؟ نا بھائی نا بہن ؟ سرگوشی۔۔
    جب وہ بہن ہیں تو بھائیوں کی طرح کی کیوں ہیں۔
    شمائلہ اپنی حیرت پر قابو پا کر پوچھ رہی تھی۔
    کنزی کی بہن تھئ۔۔
    کنزی کا بھائی۔۔
    آوازیں ہی آوازیں وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتی وہاں سے بھاگ اٹھئ۔ روبیہ اور لیلی بھی اسکے پیچھے دوڑیں مگر یہاں موجود مجمع ابھی بھی اس معمے کو حل کرنے میں مصروف تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یونیورسٹی کے احاطے میں بائک کھڑی کرکے وہ حسب عادت بائک پر لگے آئینے میں دیکھ کر بال سنوارنے لگی۔
    ایک دو لٹیں ماتھے پر آن گری تھیں جنہیں اس نے لاپروائی سے سمیٹا تھا۔ انداز میں بے نیازی پنہاں تھی۔ بائک لاک کرکے یونیورسٹی کے احاطے سے لیکر ڈیپارٹمنٹ تک وہ کتنی ہی نظروں کے حصار میں رہی تھی۔ ماہا اورعادل کینٹین سے ہنستے بولتے باہر نکل رہے تھے۔ اسکی نگاہوں میں چمک سی آگئ۔ تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا وہ مکمل عادل کی جانب متوجہ ہنسی ہوئی ماہا سے جا لپٹی تھی
    ماہا اپنی دھن میں چونکی مگر اسکا لمس محسوس کرتے ہی پہچان کر ہنس کر جوابا مڑ کر گلے لگ گئ۔
    ہیلو میری جان۔مزنہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی
    کیسے ہو جانو آج تو بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔اس سے الگ ہو کر سرتاپا دیکھتے ہوئے وہ توصیفی انداز میں بولی۔۔
    مزنہ ہنسی اور آگے بڑھ کرعادل سے بھی گلے لگنا چاہا مگر وہ سنجیدہ سا چہرہ بنا کر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا
    کیوٹ کہہ لو۔ لڑکیاں ہینڈسم نہیں ہوتیں۔
    عادل نے اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے جتانے والے انداز میں کہا ۔۔
    ماہا اسکی بات پر ہنس دی اور پیار سے اسکو ساتھ لگا کر بولئ
    یہ کہاں سے لڑکی ہے۔ یہ تو ماہی منڈا ہے۔ میرا پہلا بوائے فرینڈ یہی ہے۔۔
    اسکی بات پر جو فخریہ مسکراہٹ مزنہ کے چہرے پر در آئی تھئ وہ جانے کیوں عادل کو بالکل پسندنہ آئی۔
    یہ گرل ہے بوائے فرینڈ بس میں ہوں تمہاراتمہیں تو بلکہ اپنی سہیلی کو بھی اچھا سا بوائے فرینڈ ڈھونڈ نے میں مد دکرنی چاہیئے
    عادل کی بات پر مزنہ کو اچھا خاصا برا لگا۔ تپ کر بولی
    تم میری فکر مت کرو میرے لیئے ماہا ہی کافی ہےمجھے اسکے سوا کسی کی ضرورت نہیں ہے۔یہی میری فرینڈ بھی گرل فرینڈ بھی ۔۔
    اسکا انداز عادل کو چیلنج دیتا ہوا لگا تو وہ بھی شرارت بھرے مگر جتانے والے انداز میں کہنے لگا
    لڑکیوں کی گرل فرینڈ نہیں بوائے فرینڈ ہوتے ہیں۔ مزنہ بی بی۔۔ اور تم چاہے جتنا بھی حقیقت سے بھاگ لو رہوگی لڑکی ہی اور ایکدن تم نے بھئ لال جوڑا پہن کر رخصت ہونا ہے پیا سنگ۔
    اسکے ہلکے پھلکے مگر جتانے والے انداز نے مزنہ کا دماغ کھولا دیا۔ سختی سے بولی
    ایسا کبھئ نہیں ہوگا۔
    ایسا ہی ہوگا ڈئیر۔ عادل نے مزید چڑایا
    اسکی مسکراہٹ پر مزنہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ
    تم اتنے ان سیکیور کیوں رہتے ہو؟ مرد نہیں ہوکیا؟ ڈرتے ہو مقابلہ کرنے سے؟
    مزنہ اسکو کندھے سے دھکا دیتے ہوئے بولی۔ قدمیں وہ بس دو ایک انچ ہی بڑا ہوگا پھر بھی یوں دھکا دیا تھا جیسے مسل ڈالے گی چٹکیوں میں۔ عادل کو اسکے دھکے سے ذیادہ جملے غصے میں لے آئے۔
    مزنہ تم لڑکی ہو اسلیئے لحاظ کر رہا ہوں۔ تم حد سے گزر رہی ہو۔
    عادل کا چہرہ یک لخت سرخ پڑا تھا تو مزنہ بھی لال بھبھوکا ہو چلی تھی ماہا گھبرا کر دونوں کے بیچ میں آگئ
    گائز کیا ہوگیا ہے؟ ریلیکس؟ کس فالتوبحث میں الجھ رہے ہو؟
    وہ بری طرح گھبرا گئ تھی
    ماہا کو بیچ میں آتے دیکھ کر دونوں ٹھنڈے پڑے
    عادل بالوں میں انگلیاں پھنسا کر خود کو شانت کرنے لگا تو وہیں مزنہ ماہا کو منصف بنا کر پوچھنے لگئ
    میں الجھا ہوں ؟ یہ ہروقت الٹی سیدھی باتیں کرتا ہےمیں جو مرضی کروں اسے کیا۔میں لڑکا ہوں یا لڑکی اس سے ۔۔۔۔
    تم لڑکی ہی ہو اور تمہیں کم از کم اب یہ بات خود کو باور کرالینی چاہیئے۔
    عادل اپنا غصہ ہمیشہ کی طرح جھٹک کر دوبارہ اس سے مخاطب تھا۔انداز سمجھانے والا تھا مگر مزنہ کو طنز ہی لگا چٹخ کر بولی
    تم پاکستانئ مرد ہو ہی میل شائونسٹ۔ کسی پروگریسیو (progressive)انڈیپینڈنٹ (independent) لڑکی کو دیکھتے ہو تو جل اٹھتے ہو اسے لیٹ ڈائون کرنے کو الٹی سیدھی
    thats what you are.. larki…
    وہ ذرا سا جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے زور دے کر بولا
    مزنہ نے اسے گھور پھر پیر پٹختی چلی ہی گئ۔ ماہا نے اسے روکنا چاہا
    مزنئ ۔۔ مزنئ بات سنو رکو۔
    مگر وہ رکی نہیں
    ماہا نے گھور کر عادل کو دیکھا
    تم کیا فضول بحث لیکر بیٹھ گئے۔ پتہ ہے نا اسے ایسی باتیں نہیں پسند خفا کردیا نا اسے۔ کبھی کبھی تو لگتا وہ بس میری دوست ہے۔۔۔
    یہ فضول بحث نہیں ہے۔ دیکھو اسے ۔۔
    اس نے تیز قدم اٹھاتی لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی مزنہ کی جانب اشارہ کیا
    کہیں سے نارمل لڑکی لگتئ ہے؟ اسے دوست سمجھا ہے جبھی چاہتا ہوں وہ نارمل لڑکی بنے۔ لڑکیوں جیسی چال ڈھال اپنائے انکے جیسے کپڑے پہنا کرے۔ یہ آئوں گا جائوں کرنے سے وہ لڑکا نہیں بن جائے گی۔ تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے پیٹھ پیچھے لوگ کیسی باتیں کرتے ہیں اسکے بارے میں ۔پاگل سائیکو تک کہتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتا اسکے گھر والے سمجھتے کیوں نہیں اسکا مسلئہ؟ وہ۔خود کو لڑکی سمجھتی ہی نہیں ہے اور تمہیں بھی۔
    غصے سے بولتے بولتے وہ ایکدم رکا۔
    تم ۔۔ تم بھی نہیں سمجھاتیں اسے۔۔ وہ جھلا سا گیا تھا
    ماہا اسکے چپ ہونے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔
    بول لیا اب میں بولوں؟
    ماہا نے کہا تو وہ ہونٹ بھینچ کر دیکھنے لگا۔
    تمہیں عجیب لگتی ہے کیونکہ تم نے اسے پچھلے سال دو سال سے ہی دیکھا یا جانا ہے۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے۔ ہمیشہ سے ہی ایسی ہے۔اسے لڑکیوں والے شوق نہیں پھر وہ تین بہنیں ہیں انکے گھر کا باہر کا ہر کام یہی کرتی ہے تو تھوڑی سی مردمار ٹائپ ہے مگر یار ہمارا معاشرہ بھی تو دیکھو نا۔ ایسا اسے ہونا پڑا ہے۔بس اور۔۔
    اسکی توجیہہ پر عادل بری طرح چڑ سا گیا
    ہاں بس وہ ہے ایسی اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔میں تمہیں نہیں سمجھا پا رہا وہ کیا سمجھے گئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عادل سے منہ ماری کے بعد اسکا پھر موڈ خراب ہی رہا۔ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے چکر میں ماہا بھی عادل سے کھنچی کھنچی اسکے ساتھ ساتھ رہی مناتی رہی کینٹین میں اسکے ساتھ لنچ کیا۔ عادل کو شائد اتنی کوئی پروا بھی نہیں تھی۔ ویسے بھی اسکا ڈیپارٹمنٹ دوسرا تھا آرام سے گھر بھی چلا گیا۔ ہاں ماہا کے منانے سے اسکا موڈ بہتر ہوا اسے اپنی بائک پر خود گھر چھوڑ کر جب گھر جانے کا ارادہ باندھا تو تھکن کے مارے بیگ کا وزن ذیادہ محسوس ہوا۔ مگر ایک اور کام ابھی باقی تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور بائک کا رخ حفصہ کے سسرال کی جانب موڑ دیا۔۔۔
    حفصہ کے گھر میں غیر معمولی چہل پہل تھی۔ مین گیٹ کھلا ہوا تھا سو وہ آرام سے بائک کھڑی کرکے اندر چلی آئی۔ پانچ سالہ ساراکچھ بچوں کے ساتھ گیراج میں ہی کھیل رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کھیل چھوڑ چھاڑ بھاگی آئی اور آکر لپٹ گئ۔
    مانی آدئیں۔
    اسکے پیار کے بے ساختہ اظہار پر اس نے بھی جھک کر اسکو گود میں اٹھا لیا
    حفصہ نے مزنہ اور کنزی کو آنی کہلوایا تھا اس سے کنزی کو تو خیر کنزی آنی ہی کہتی تھی مزنہ اسکی زبان پر نہیں چڑھتا تھاسو وہ مزنہ آنی کو ملا جلا مانی کہنے لگی تھی اسے۔ اور اسے اسکے منہ سے اتنا پیارا لگتا تھا کہ کبھی تصحیح بھی نہیں کی۔
    کیسا ہے میرا بیٹا ۔ وہ پیار سے اسکا گال چوم کر پوچھ رہی تھی۔ گلابی فراک میں وہ چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی اسکی بات پر منہ بسورنے لگئ
    میں نے نیکر پہننی تھی مما نے فراک پہنا دی گندا برا لگ رہی ہوں میں۔۔
    اس نے اتنئ معصومیت سے شکایت لگائی کہ وہ ہنس دی
    نہیں تو اتنی پالو لگ رہی ہے سارو۔۔ اس نے جھٹ گال چوم لیئے
    مما سے کہو نا مجھے معاذ جیسے کپڑے پہننے۔۔
    اس نے اشارے سے اپنے تایا ذاد بھائی کو دکھایا۔ حفصہ کے جیٹھ کے دونوں بیٹے ہی تھے بڑا آٹھ دس سال کا چھوٹا معاذسارا سے چند مہینے کے فرق سے ہی تھا۔ ان دونوں بچوں کے ساتھ کھیل کھیل کر اسکی ایسی خواہش عجیب نہ تھی۔ اس وقت تو خیر ان دونوں بھائیوں کے ساتھ دو تین او ربھی بچے ہی تھے اس وقت اسکو خوب حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔
    مانی آپ لڑکی ہو نا۔ معاذ بھی اسکے پاس بھاگا آیا۔
    جی نہیں جی لڑکیاں تو ایسے کپڑے نہیں پہنتیں۔
    ایک بچے نے اعتراض جڑا۔
    یہ لڑکا ہیں انکے بس بال لمبے ہیں۔۔ میرے چاچو نے بھی بڑھائے ہوئے ہیں۔
    دوسرا بچہ اسکی بات کاٹ کر بولااور بھاگا بھاگا اسکے پاس آیا
    آپ لڑکا ہیں نا؟
    اسکے ساتھ باقی بچے بھی تجسس میں کھنچے آئے۔۔
    وہ گڑبڑا سی گئ۔ اتنے چھوٹے بچے تھے اوپر سے حفصہ کے سسرالی بھی ڈانٹ کر بھگا بھی نہیں سکتی تھی۔
    مانی لڑکی ہی ہیں بس وہ لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی ہیں۔
    معاذ سے بڑے شاذ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
    کیوں؟
    بچے کا سوال تیار تھا۔
    اس نے گڑبڑا کر سارا کو گود سے اتارا اور قصدا رعب سے بولی
    کیا اتنئ گرمی میں باہر کھیل رہے ہو تم سب چلو اندر ۔۔
    اسکے اچانک رعب میں بچوں نے تو کیا ہی آنا تھا الٹا برے برے منہ بنانے لگے
    چلو بچو آجائو اندر کھانا لگ گیا ہے۔ تبھی حفصہ لائونج کا دروازہ کھول کر باہر جھانک کر بچوں کو بلانے لگی
    اسلام و علیکم آپی
    وہ گرمجوشی سے اسکی جانب بڑھی۔ حفصہ کی اس پر نظر نہیں پڑی تھئ اسے دیکھ کر گھبرا سی گئ۔ بچوں کو اندر جانے کا کہتی خود جلدی سے باہر نکل آئی
    تم اس وقت خیریت؟ انداز میں گرمجوشی مفقود تھی۔ مزنہ کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھنے لگا
    ہاں وہ امی نے سوٹ منگوائے ہیں جو سل چکے ہیں۔۔
    وہ بھی سنجیدہ سی ہوگئ
    اچھا اچھا میں یہیں لیکر آتی ہوں۔
    حفصہ نے کہا تو وہ اسکے ساتھ آنے لگی
    تم یہیں رکو میں لا رہی ہوں۔ حفصہ نے سے روک ہی دیا
    آپی پانی بھی پینا ہے مجھےاتنی دھوپ سے آرہا ہوں۔
    مزنہ نے کہا تو وہ جانے کیوں جھلا سی گئ
    اچھا پانی بھی لا دیتی ہوں یہیں رکو تم۔
    وہ کہہ کر رکی نہیں تیزی سے اندر گھس گئ۔۔ چند ہی لمحوں میں وہ باہر بھی تھئ۔ شائد بھاگتی ہوئی گئ تھی اندر جبھی پانی لانا بھی بھول گئ۔ شاپر تھما کر بولی
    یہ لو۔ امی سے کہنا ایک سوٹ ابھئ درزی نے واپس نہیں کیاوہ میں بعد میں بھجوا دوں گی اب تم جلدی سے گھر جائو عامر بوتل لینے گئے ہیں آتے ہوں گے تمہیں نہ دیکھ لیں۔۔
    وہ جو پانی کا یاد دلانے لگی تھی اسکی ہدایت پر جھلا گئ
    کیوں مجھے نہ دیکھ لیں۔میں کوئی بھوت ہوں جو مجھے دیکھ کر ڈر جائیں گے۔؟
    حفصہ کی جان پر بنی تھی اسکی حجت پر چڑ ہی گئ
    میری نند کے رشتے کیلئے لوگ آئے ہوئے ہیں نازک معاملہ ہے کوئی اونچ نیچ ہوئی نا سیدھا سارا الزام تم پر دھر دیں گے جانتی تو ہو عامر اور انکی اماں کا مزاج میں کوئی رسک نہیں لے سکتئ۔ اور یہ لو پیسے۔ باہر سے بوتل لے لینا پانی کی۔
    اس نے دوپٹے کے کنارے سے بندھے پیسے نکال کر بڑھانے چاہے۔ ہتک کے احساس سے مزنہ کی پیشانی پر کئی بل آگئے۔ شاکی نگاہ سے اسے دیکھتی شاپر لیکر اسکا پیسے بڑھاتا ہاتھ نظرانداز کرتی باہر نکل گئ۔
    حفصہ نے اسے پکارا اسکئ پیچھےگیٹ تک آئی مگر وہ لمحہ بھر بھی نہ رکی بائک نکال لے گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مکینک کو وہ واپسی پر ساتھ لائی تھی۔ موٹر اپنہ نگرانی میں ٹھیک کروا کر موٹر چلا کر تسلی کرکے جب لائونج کا دروازہ کھولا تو گرم تپتے چہرے پر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے بے تحشا تھکن کا احساس دلا گیا۔ لائونج نیم تاریک تھا یقینا امی اور کنزی سو ہی رہی ہوں گی۔ صبح ساڑھے سات کی نکلی اب ساڑھے پانچ بجے گھر میں واپس قدم رکھ پائی تھی۔ شاپر ابھی تک ہاتھ میں ہی تھے۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتے امی کے کمرے کی جانب چلی آئی۔کنزی شائد اسکے کمرے میں تھئ امی اکیلی بیڈ پر لیٹی تھیں۔یقینا سو ہی رہی ہوں گی۔ اس نےشاپر لا کر امی کے سرہانے رکھے اپنی جانب سے تو خوب احتیاط سے رکھے تھے مگر پھر بھی آہٹ سے انکی آنکھ کھل ہی گئ۔
    آگیا میرا بیٹا۔ چلو منہ ہاتھ دھو لو میں روٹی ڈال دیتی ہوں۔
    وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
    کنزی آگئ کالج سے۔ اس نے یونہی پوچھا۔۔
    ہاں وہ تو ایک بجے تک آجاتی ہے۔ کھانا وانا کھا کر سو رہی ہے اٹھا دو اب اسے بھی پانچ بج رہے ہیں نماز وماز پڑھے۔
    امی بیڈ کے نیچے سے چپل پیر سے نکالتے ہوئے بولیں۔ اس نے بس سر ہلا دیا۔ اورکمرے میں چلی آئی۔
    کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ پردے وغیرہ کھڑکیوں پر ڈلے ہوئے تھے ہلکا ہلکا اے سی چل رہا تھا۔ کنزی چادر تانے بے خبر اسکے بیڈ پر سو رہی تھی۔ گرمی کے تھپیڑے کھانے کے بعد ایکدم ٹھنڈک نے اسکا دماغ سن سا کردیا تھا۔ کچھ سجھائی بھی نا دیا۔ بچ کر چلتے بھی بری طرح گھٹنا بیڈ سے ہی ٹکرا گیا۔
    آہ۔ وہ گھٹنا سہلاتی وہیں بیڈ کے کنارے ہی ٹک گئ
    بیڈ ہلنے سے کنزی کی فورا آنکھ کھلی۔
    کون۔وہ آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی۔ مزنہ نے جواب نہیں دیا تو فورا اٹھ کر لائٹ جلانے لگی۔
    کیا ہوا چوٹ لگی ہے۔ اسے گھٹنا دباتے دیکھ کر وہ فورا پاس چلی آئی
    مزنہ نے رخ پھیرنا چاہا مگر اسکی آنکھوں میں تیرتے موٹے موٹے آنسو اس سے چھپے نہ رہ سکے
    بہت زور سے چوٹ لگی ہے۔ اس نے سہلاناچاہا مگر وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
    جائو تم میرا کھانا یہیں لے آئو میں منہ ہاتھ دھو لوں ذرا۔۔
    وہ تیزی سے کہتئ باتھ روم میں گھس گئ۔ خوب رگڑ رگڑ کر منہ دھویا چہرے پر دنیا جہان کی تھکن گردو غباروہ پانی بھر بھر کر منہ پر ڈالتی رہی۔ جانے کتنی دیر گزر گئ کہ کنزی نے گھبرا کر دروازہ بجا ڈالا
    کیا ہوا رو رہی ہو؟ ذیادہ چوٹ آگئ ہے؟
    اسکی تشویش پر اس نے خاصا بدمزا ہو کر دروازہ کھولا
    کیا ہوا کہاں چوٹ لگی ہے؟
    امی بھی پریشان کھڑی تھیں
    ذرا سا ٹھوکر لگ گئ اس پر بیٹھ کر روئوں گا بھلا میں؟ وہ قصدا لاپروائئ سے کہتی ہوئی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی۔
    اس نے مجھے پریشان کردیا۔ امی نے جیسے سکھ کا سانس لیا
    مجھے آکر کہتی یے مزنہ کو بہت زور سے چوٹ لگی ہے گھٹنے میں۔ اب باتھ روم سے نکل نہیں رہا رو رہا ہے یقینا
    امی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتئ اسکے برابر ہی آن بیٹھیں۔
    بیڈ پر اسکا کھانا سجا ہوا تھا گرم گرم روٹی اور آلو گوشت۔
    اسکی بھوک چمک سی اٹھی۔ ڈھیلے ڈھالے مردانہ کرتےکی آستین ذرا سا چڑھا کر وہ مکمل لاپروا سے انداز میں کھانے میں مگن تھئ
    میں نے کہا تھا نکل نہیں رہی رو رہی ہوگی۔
    کنزی چبا چباکر بولی۔
    میرا بچہ سب کام کرکے آیا ہے جائو اسکے لیئے چائے بنا کر لائو۔ سر میں درد ہو گیا ہوگا۔ امی لاڈ سے اسکے بال سنوارنے لگیں۔
    کنزی چڑ سی گئ۔
    ہمیں ٹوکتی رہتی ہیں خود اسے بیٹا بیٹا کہتی رہتی ہیں۔ یہ بھئ بیٹی ہے کبھی اس سے بھی چائے بنوا لیا کریں۔۔
    تھوڑی کڑک چائے بنانا۔۔ مزنہ نے اسے ہرگز چڑانے کو نہیں کہا تھا مگر اسکا جملہ جلتی پر تیل ڈال گیا تھا۔
    آپکو اسکے لاڈ اٹھاناہے خود اٹھائیں۔مجھ سے مت اٹھوائیں۔
    ۔ میں کالج سے آتی ہوں تو اپنے لیئے روٹی بھئ خود ڈالتی ہوں اسے ٹرے میں لگا کر کھانا پانی دیتی ہیں اور۔۔۔
    تم بھی پھر کسی دن بائک پر بنک ونک کے چکر لگائو بجلی گیس کا بل ٹھیک کروانے جائو مکیکنک کو بلا کر لایاکرو سودا سلف لانے کی ذمہ داری اٹھائو پھر مقابلہ کرنا۔ کبھی بھائی کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا مزنہ نے اس پر یہ حال ہے تمہارا
    امی نے ایک نہ رکھی لتاڑ کر رکھ دیا۔کنزی مگر آج چپ ہونے والی نہ تھی۔فٹ سے بولی
    بھائی کی کمی ہے امی ہماری زندگی میں۔بھائی نہیں ہے کوئی میرا اور یہ یہ سب کچھ کر کے بھی بھائی نہیں بن گئ ہے ہمارا اور دنیا میں کیا لڑکیاں یہ سب کام نہیں کرتیں وہ سب اسکی طرح کیا لڑکوں والے کپڑے پہنتی ہیں یا چال ڈھال بدل لیتی ہیں۔؟ آپکو احساس ہی نہیں ہے کہ اسکے اس حلیے کی بنا پر
    بس کرو خاموش ہو جائو
    مزنہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔ بھاری گمبھیر آواز میں وہ چلائی تو کنزی تو کنزی امی بھی ایکدم چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگ گئیں۔
    ……………………………
    ختم شد۔۔۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • ذیابیطس urdu afsana short story|Sehat Aur Rishton Ki Kahani

    “ذیابیطس اور رشتوں میں تبدیلی”۔

     

    اسکی ساس کو ذیابیطس تھی اور یہ اسکی زندگی کا سب سے بڑا روگ تھا

     

    گھر میں مٹھاس نام کی کوئی چیز آ نہیں  سکتی تھی

     

     مجال ہے جو اپنی بڑھتی ہوئی شوگر کا انھیں احساس ہو وہی سمیعہ جو طرح طرح کے ٹرائفل کیک ڈونٹ وغیرہ  بنانے میں ماہر تھی یہاں آ کر میٹھے کو ترس بیٹھی تھی

     

    ایسا نہیں تھا کھانے پینے پر پابندی تھی مگر وہ کچھ   بھی میٹھا بنا لے ساس صاحبہ سب سے پہلے چکھنے پہنچتی تھیں

     

    کھہیر بنا رہی ہو ذرا میٹھا چکھا نا

     

    ایک پیالی چکھنے کے بہانے

     

    کیک بیک کیا ہے ؟ ارے چینی تو لگ رہا ڈالنا بھول گئیں

     

    ایک بڑا سا ٹکڑا کھا کے اعتراض آتا

     

    پھلوں کی مکس چاٹ بنی تو پھل ہی پھیکے نکلے پھر رات کو ہسپتال کا ایک چکر

     

    اس نے گھر میں ہی شوگر کی زیادتی معلوم کرنے والا آلہ منگوا لیا

     

    اب جب اس نے فروٹ پنچ بنایا تو یہ کہہ کر پورا گلاس پی گیئں

     

    ارے یہ آلہ خراب ہو گیا ہے ہمیشہ ہی زیادہ شوگر بتاتا

     

    رات کو ہسپتال پہنچ گئیں

     

    فراز نے ٹوک دیا

     

    تمہیں  جو مرضی بنانا بناؤ مگر امی کو تو مت کھلایا کرو دکھائی نہیں دیتا کتنی بیمار ہیں

     

    سمیعہ بس دیکھ کر رہ گئی وہ کونسا چمچے بھر بھر کر منہ میں ڈالتی تھی چیزیں….. ٹوکتی ہی تھی مگر ایک تو بہو تھی اسکا ٹوکنا برا بھی لگتا اور خاطر میں بھی نا لاتی تھیں مگر اب تو حد ہی ہو گئی تھی

     

    میاں نے بھی ڈانٹ دیا

     

    بیچارہ سارا دن دفتر رات کو ہسپتال ترس بھی آیا اسے

     

    اس نے گھر میں میٹھا بنانا چھوڑ دیا

     

    کولڈ ڈرنک چھوڑو جام  شیریں تک گھر میں منع ہو گئے

     

    مہمانوں کے لئے بسکٹ تک نمکین لانے شروع کر دیے

     

    خود شدید بھی دل کرے کچھ کھانے کا تو بھی نمکین سے گزارا کرتی نہ گھر میں آئیگا کچھ نہ دل للچائے گا

     

    ایک دن کسی کام سے باورچی خانے میں آئی دیکھا چینی پھانک رہی تھیں

     

    سر پکڑ کر رہ گئی اب اگر کوئی بہو ہو تو درد سمجھہ سکتی تھی سمیعہ کا نندیں الگ سناتی تھیں باتیں امی کی شوگر کنٹرول کیا کرو انکو کھانے میں یہ دو وہ دو

     

    میاں الگ پریشان اتنا پرہیز کر کے بھی امی کی شوگر ہائی کیوں

     

    خود وہ اب چینی بھی بند کر دے کیا منگوانا

     

    شوگر گھر کے ایک فرد کو تھی پرہیز سارا گھرانہ کر رہا تھا

     

    امی کی دوائیں ختم ہو رہی تھیں پہلے تو سوچا  فراز کو پیغام بھیج کر یاد دہانی کرا دے پھر کچھ سوچ کر کال ملا لی

     

    پڑوس سے مٹھائی آئی تھی سوۓ اتفاق دروازہ تہمینہ بیگم نے ہی کھولا

     

    کس خوشی میں ہے بھئی؟

     

    سامنے والوں کا چھوٹا بیٹا پورے دانت نکال کر بولا

     

    آنٹی میں میٹرک میں پاس ہو گیا پورے آٹھ سو بتیس نمبر آئے ہیں میرے

     

    پلیٹ پکڑ کر تہمینہ بیگم کو گڈو سے بھی زیادہ خوشی ہوئی تھی

     

    مبارک ہو سر پر ہاتھ پھیر کر بھیجا تھا اسے

     

    دروازہ بند کرتے کرتے ایک گلاب جامن جلدی جلدی کھا لی هایے شوگر کے مریض سے کوئی پوچھے مٹھاس کیا نعمت ہے کھا کر وہ آزردہ ہوگیئں

     

    پھر یاد آیا اتنے آرام سے مٹھائی کھا لی سمیعہ کہاں ہے ؟

     

    کہیں چھپ کے دیکھ تو نہیں رہی فراز کو شکایت نہ لگا دے اتنی ہی کوئی ڈراؤنی سوچ تھی کہ گلاب جامن واپس حلق میں ہی آ گئی سمجھو

     

    جلدی سے پلیٹ ڈھک کر باورچی خانے میں رکھی دبے قدموں چلتی ہوئی سمیعہ کے کمرے کے پاس آئیں

     

    تھوڑا سا دروازہ کھلا تھا  کسی سے فون پر بات کر رہی تھی مطمئن ہو کے پلٹنے کو تھیں کہ اپنا ذکر سنائی دیا فطری تجسس بیدار ہوا وہیں آڑ میں کھڑی رہ گیں

     

    ارے میں نے آنٹی کا ایسا حل نکالا ہے کیا بتاؤں

     

    بظاھر تو میٹھے کی گھر میں پابندی ہے مگر چینی تو ہے نا خوب جانتی چھپ چھپ کے کھا لیتی ہیں میں بھی انجان بنی ہوئی کھانے دو زہر شوگر اتنی زیادہ ہے کہ زہر ہی سمجھو اسے

     

    کہہ کر ہنسی زور سے

     

    ڈاکٹر نے کہا ہے واک کرنے کو وہ تک نہیں کرتیں ہونا کیا ہے پھر کچھ نہیں کچھ نہیں شوگر اتنی ہائی رہتی کہ بستر سے اٹھ نہیں سکتیں ہا ہا ہا پورا گھر کا نظام آرام سے میرے ہاتھ میں آگیا ہے

     

    کیا ؟

     

    شاطر قاتل بہو ؟

     

    کیسے اب الزام تو نہ لگائو نا

     

    وہ مصنوئی ناراضگی سے بولی

     

    اپنا قتل وہ خود کر رہیں میرا کیا قصور

     

    اس بات پر تو پولیس بھی مجھے نہیں پکڑ سکتی تم کس کھیت کی مولی ہو

     

    وہ آخر میں قہقہہ لگا کر ہنسی

     

    تہمینہ خاموشی سے پلٹ گیں

     

    ……………………

     

    فراز حیران تھا مہینہ ہونے کو آیا کوئی ہسپتال کا چکر نہیں لگا دوائیں پابندی سے لے رہی تھیں امی اور تو اور شام کو ابا کے ساتھ پارک میں چہل قدمی کو بھی جانے لگی تھیں

     

    سمیعہ سے کہا تو منہ بنا کر بولی میرے تو سارے سٹار پلس والے پلان فیل ہو گئے کیا کیا نہ سوچا تھا میٹھا کھلا کھلا کر ساس کو بستر پر ڈال دونگی اور گھر پر راج کرونگی

     

    فراز قہقہہ لگا کر ہنسا

     

    واقعی اس دن امی نے سن لیا تھا سب  کیا

     

    سمیعہ اثبات میں سر ہلا کر ہنس دی

     

    اس دن وہ فراز سے ہی بات کر رہی تھی جو سنگھار میز کے شیشے میں تہمینہ بیگم کا عکس دکھائی دیا

     

    بس جانے کیا ذہن میں سوچ  آئی کہاں وہ فراز کو دوائی لانے کی تاکید کر رہی تھی کہاں ایک دم بات گھما دی

     

    فراز نے حیران ہو کر فون کو گھورا تھا خیر تو ہے اچانک اس بکواس کی وجہ

     

    مگر سمیعہ بولتی گئی تھی  اس وقت تو اندازہ نہیں تھا یہ ترکیب کارگر رہیگی مگر سٹار پلس کے سارے ڈرامے دیکھنے والی تہمینہ بیگم سچ مچ اپنی بہو سے ڈر گئ تھیں

     

    اور

     

    سمیعہ ویسے اب کبھی کبھی ٹرائفل بنا لیتی ہے مگر تہمینہ بیگم چکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتی ہیں

     

    عجیب بات ہے نا
    ختم شد ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
     
     
     
     

     

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
    Home » Afsanay (short urdu stories) » ذیابیطس urdu afsana short story|Sehat Aur Rishton Ki Kahani
    https://desikimchi.com/my-daughter-is-a-zombie-gen-z-zombies-korean-drama-a-satirical-film-breakdown/
  • Damad ji urdu afsana

     

     

    ارے ظہیر۔۔ ظہیررکنا ذرا

     

    برسوں بعد ظہیر اسے راہ چلتےنظرآیا تو وہ گاڑی سڑک کنارے لگا کر آواز دے بیٹھا۔ اسکی آواز پر چونک کر سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا مگر خیال بھی نہ گزرا کہ لاکھوں کی چم چم کرتی گاڑی میں بیٹھے کسی کو اسکا خیال آیا ہے۔ اسے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دیکھ کر اس نے گاڑی ایک جانب لگائی اور باہر نکل آیا۔ سورج کی تپش ایکدم بہت بری طرح محسوس ہوئی مگر دوست کو نظر انداز بھی نہ کر سکا گاڑی لاک کرتے ہوئے ذرا سا  بھاگ کے اسکے پاس آیا اور فرط مسرت سے بغلگیر ہوگیا۔

     

    اپنی معاشی الجھنوں میں الجھا ظہیر سر جھکائے راستہ ناپ رہا تھا گڑبڑا سا گیا مگر بچپن کا دوست تھا مل کر اسے ماجد سے ذیادہ ہی خوشی ہوئی

     

    کیسا ہے بھئ تو۔؟کیا حلیہ بنا رکھا ہے تو نے؟ اپنی عمر سے کہیں بڑا لگ رہا ہے۔

     

    ماجد ناک چڑھا کر اس سے الگ ہو کر اب بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا

     

    گھسے ہوئے پتلون قمیض میں آدھا سر سفید چہرے کو راستے کی دھول سے ذیادہ حالات نے دھواں دھواں کر رکھا تھا

     

    ظہیر پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔۔

     

    ٹھیک ہوں یار مجھے کیا ہونا اب بال بچوں والا ہوں عمر بھی ادھیڑ ہو چکی اب دوبارہ جوان تھوڑی ہوں گا۔ہاں تمہاری لگ رہا عمر کو ریورس گئیر لگ گیا ہے ماشااللہ ایکدم جوان لگ رہے ہو۔ ماجد کے برعکس وہ محبت سے پوچھ رہا تھا

     

    ماجد اترا سا گیا۔

     

    سوٹڈ بوٹد وہ گہرے نیلے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس اے سی والی گاڑی سے اتر کر تو آیا ہی تھا گہرے بھورے ڈائی ہوئے بالوں کلین شیو میں غیر ملکی پرفیوم میں رچا بسا وہ چالیس ڈگری میں بھی خوب تروتازہ دکھائی دے رہا تھا۔

     

    ہاں بس تمہاری طرح خود کو چھوڑ نہیں رکھا۔ جم جاتاہوں پارلر جاتا ہوں اچھا کھاتا پیتا ہوں۔ تم تو لگتا جم تو دور۔۔۔ بھابی خیال نہیں رکھتیں کیا؟

     

    اسے بولتے بولتے اسکی قمیض کا گریبان کا بٹن لٹکا نظر آیا تو اسے اتار کر تھماتے ہوئے ٹوک بھی دیا۔ ظہیر شرمندہ سا ہوگیا

     

    ارے نہیں یار۔بہت خیال رکھتی ہے بس آج اسے استری کرتے نظر نہیں آیا ہوگا۔ تم سنائو یہ گاڑی یہ سوٹ کایا پلٹ کیسے؟

     

    ظہیر کو اندازہ تو تھا مگر بات بدلنے کو پوچھنا پڑا۔ماجد کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی

     

    میں نے آمنہ سے شادی کر لی ہے۔ اسکے ابا کی دوہی تو بیٹیاں ہیں چھوٹے داماد کو امریکہ سیٹل کرادیا ہے۔۔ اسی کا کہا تھا تجھےمیری سالی سے شادی کرتا امریکہ میں ڈالروں میں کھیلتا مگر تجھے بچپن کی منگنی کا

     

    خوف لاحق تھا۔۔

     

    وہ جتائے بنا نہ رہ سکا۔ ظہیر کو اسکا انداز اچھا نہ لگا۔

     

    خوف کی کیا بات ہے؟ میرے سگے چچا کی بیٹی ہے میری بیوی نیک اطوار میں برسر روزگار مجھے کیا ضرورت تھی کسی کو سیڑھی بنانے کی۔

     

    اسکی وضاحت میں ماجد کو قطعی دلچسپی نہ تھی جبھی بات کاٹ دی۔

     

    اچھا چھوڑ مجنو۔۔ میں تو یونہی بتا رہا تھا۔میری بھی بچپن کی منگ تھی اسکی بھی کہیں اور شادی ہوگئ میری بھی اس سے ہوتی تو کیا ملنا تھا مجھے؟ آمنہ سے شادی کرکے زندگئ بن گئ کہاں وہ پرچون کی دکان کہاں سیٹھ صاحب نے  مجھے  دو ملوں کا انتظام دے رکھا ہے۔ اور بقیہ کاروبار بھی تقریبا میں نے ہی سنبھال رکھا ہے ۔ تجھے تو پتہ مجھے امریکہ ومریکہ جانے کا شوق نہیں تھا کبھی بھی ۔۔بھئی جب یہیں ترقی کا موقع ہے تو کیا ضرورت گوروں کے دیس جانے کی۔ تو بتا ابھی تک دکان سنبھال رہا ہے ابا کی؟ ہم نے تو اپنی دکان کب کی بیچ دی آجکل ادھر پلازہ میں۔۔ اچھا سن

     

    اسے فخریہ بتاتے بتاتے خیال آیا

     

    تجھے دکان کروادوں ؟ یہیں اسی کارنر والے پلازے میں۔ میرا ہے۔

     

    ارے نہیں۔ ظہیر ہنس پڑا

     

    دکان گھر سے قریب ہے ابھی بچے چھوٹے ہیں گھر کی خبر گیری کرتا رہتا ہوں پھر وہاں سب جاننے والے ہی ہیں۔ پھر ماشا اللہ سے اچھا گزارہ ہو جاتا ہے۔

     

    پھر بھی ترقی کا موقع کون گنواتا؟ ماجد تیز لہجے میں بولا۔

     

    وہ دکان چھوٹے بھائی کے حوالے کر خود اپنا کاروبار الگ شروع کر آگے بڑھ۔ اپنے بیوی بچوں کا سوچ۔۔

     

    نہیں یار اظہر ڈاکٹر بن رہا ماشا اللہ سے چند سال کی ہی بات رہ گئ اسے ڈسٹرب نہیں کرتا میں۔تو سنا بھابی کیسی ہیں بچے کتنے ہیں تیرے؟

     

    ظہیر حسب عادت سہولت سے بات ٹال گیا

     

    ماجد نے سر پر ہاتھ مارا

     

    ابے یار بھول گیا تیری بھابی کے پاس ہی جا رہا ہوں خوشخبری ہے دعا کرنا

     

    ماجد ایکدم سے جلدی میں دکھائی دینے لگا۔

     

    اچھا چلتا ہوں میں۔ آنا کبھی ملنے ذہن بدلے تو بتانا۔یہ میرا کارڈ رکھ لے۔۔

     

    عجلت میں کارڈ تھما کر وہ مصافحہ کرکے خدا حافظ کہتا گاڑی کی جانب لپکاتھا۔

     

    اسکے تیزی سے گاڑی نکال کر لے جانے تک ظہیر اسے ہی دیکھتا رہا تھا۔ گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی تو گہری سانس لیکر کارڈ مروڑ کر یونہی سڑک کنارے پھینک دیا۔

     

    ذہن خدا نہ کرے بدلے کبھی میرا اور میں تیری طرح مفاد پرست اور خود غرض بنوں۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گیا

     

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    بے وقوف آدمی۔ ہمیشہ ایسے ہی فقیر رہے گا۔

     

    گاڑی سبک صاف سڑک پر چلاتے اے سی کی کولنگ تیز کرنے کے باوجود بھی اسکے دماغ کو گرمی چڑھ چکی تھی

     

    بڑی ہمدردی تھی اسے آسیہ سے۔ آسیہ کے ابا سے کیا ملتا مجھے انکے تو بیٹے ہی تین تھے ایک دکان کے حصہ دار۔ 

     

    اسی کی طرح تیز دھوپ میں پیدل مارچ کر رہا ہوتا  یہیں کہیں۔ہونہہ اس نے نفرت سے سر جھٹکا۔

     

    تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔

     

    سسر صاحب تھے۔

     

    اس نے جھٹ کان سے لگایا

     

    بنا سلام دعا جھاڑ پڑی تھی

     

    کہاں غائب ہو؟ آج آمنہ کا آپریشن تھا یاد نہیں کیا تمہیں ؟ کرتے کیا پھرتے ہو تم کتنی بار کہا ہے مجھے میری بیٹی سے عزیز کوئی نہیں۔۔اس وقت وہ یہاں اکیلی کیوں ہے؟ پاس کیوں نہیں تم اسکے۔۔

     

    وہ ۔۔ اسکا گلا خشک ہوا۔

     

    آرہا ہوں دفتر سے نکل آیا ہوں راستے میں ہوں۔

     

    دفتر گئے ہی کیوں؟ کام دھندہ تو کوئی ہے نہیں تمہیں ۔۔۔ تمہیں آمنہ کے ساتھ ہی آنا چاہیئے تھا۔  سیدھا پہنچوں یہاں اور ہاں تھوڑا احساس ذمہ داری پیدا کر لو خود میں۔ کہاں تک ہم اسپون فیڈنگ کریں گے ہم۔نکمے پنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔سدھر جائوچھوڑ دو اب یہ کھلنڈراپن باپ بن گئے ہو اب تم۔

     

    انکی ڈانٹ ڈپٹ جاری تھی مگر خبر اتنی بڑی تھی کہ وہ بے ساختہ خوش ہوگیا۔

     

    کیا واقعی؟ کیا ہوا میر امطلب ۔۔

     

    وہ ہچکچا سا گیا بولتے ہوئے۔

     

    وہ بھی اسکی خوشی محسوس کرکے نرم ہوئے۔

     

    ہاں مبارک ہو تمہیں۔ اللہ نے رحمت بھیجی ہے بلکہ رحمتیں۔جڑواں بیٹیاں ہوئی ہیں۔ تم بھی دو بیٹیوں کے باپ بن گئے ہو میری طرح۔۔۔۔

     

    وہ آگے بھی کچھ کہہ رہے تھے مگر ماجد کا ذہن ایک جگہ اٹک سا گیا تھا

     

    میری طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    داماد جی مختصر اردو افسانہ
     

     

     

     

     
    از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom
     
     
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
  • Khawahish belay ka phool URDU ALAMATI KAHANI

     

    خواہش بیلے کا پھول

    ہلکا سا دھکا لگا کر لکڑی کا مضبوط دروازہ کھول کر بیلا نے باغ میں جھانکا

    پھر ادھر ادھر دیکھ کر کسی کے موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتی دبے پاؤں مگر تیز تیز چلتی سیدھا پائیں باغ میں کھلتی مسز رڈلی کے باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس چلی آئی…

    فی الحال باورچی خانے میں مکمل خاموشی تھی

    یعنی خبطی سی آنٹی لنڈا اپنے کسی کمرے میں گھسی صفائی کے نام پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے میں مگن تھیں

    پنجوں کے بل کھڑے ہو کر کھڑکی سے اندر جھانک کر اس نے مزید اطمینان بھی کر لیا تھا

    کھڑکی نو سالہ بیلا کہ قد سے کافی اونچی تھی مگر وہ پنجوں کے بل کھڑے ہو کر اچک اچک کر منزل مقصود تک رسائی حاصل کرلیا کرتی تھی ابھی ابھی کی طرح

    ……………………………………………………

    اپنی خاص دراز کھول کر اپنے تمام سرٹیفکیٹ  اور مختلف بچتوں اور چھوٹی موٹی انشورنس کے ضروری کاغذات نکال کر انھیں پڑھ کر دوبارہ ترتیب  دے کر رکھنے جیسا بے مقصد کام وہ تقریبا روزانہ ہی کیا کرتی تھیں

    ابھی بھی دو گھنٹے اس کام میں ضا ئع کر کے مطمئن سی ہو کر دراز پر تالہ لگا کر اٹھ کھڑی ہویں

    آج تو رڈلی نے فون بھی نہیں کیا

    اپنی مسہری کے کنارے میز پر رکھے فون پر انکی نظر پر تو انھیں یہ سوچ آی

    مسٹر رڈلی نے ایک مہینے قبل انھیں اپنی ترقی اور دوسرے شہر تبادلے کی خبر سنائی

    ترقی کی خوش خبری کے ساتھ تبادلہ انکو کافی اداس بھی کر گیا تھا

    وہ اپنی موجودہ حالت زندگی سے کافی مطمین تھے اور ہرگز دوسرے شہر جا کر تنہا رہنے کو تیار نہیں تھے لنڈا نے سو جتنوں سے انھیں منایا تھا وہ انجینئیر تھے ایک غیر آباد علاقے میں نیے پل کی تعمیر کے سلسلے میں انھیں بھیجا جا رہا تھا وہ چاہ کر بھی لنڈا کو ساتھ  نہیں لے جا سکتے تھے.لنڈا نے انکی غلط فہمی دور نہ کی کہ اگر وہ ساتھ جا بھی سکتی ہوتیں تو کبھی اپنے گھر کا آرام چھوڑ کر کسی پسماندہ علاقے میں جا بسنے کو تیار نہ ہوتیں 

    اسی لئے وہ صاف منع کر کے واپس آئے تھے مگر ٣٠ سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں سب سے پہلا اور شدید جھگڑا لنڈا نے ان سے کیا تھا

    تمام عمر اپنی خواہشیں دبانے میں گزری ہے اب عمر کے تیسرے حصے میں اگر آمدنی میں اضافے کی امید غیبی مدد سے بنی ہے تو اسکو ختم کرنا نری بے وقوفی ہے تمہارے ساتھ کے لوگ اپنی چرب زبانی اور ذہانت سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں  جبکہ تم ابھی تک کنویں کے مینڈک بن کر وہیں کھڑے ہو جہاں سے آج سے تیس سال پہلے تھے….

     انہوں نے یہ تمام بے رحمانہ جملے ریڈلی کے منہ پر کہہ دے تھے 

     اتنا کھلا طنز

    مسٹر رڈلی ہکا بکا سے رہ گیے تھے پھر تحمل سے کہنے لگے

    ہم دو جی ہیں بس تم اپنی کنجوسی یا بقول اپنی دانشمندی سے معقول رقم بچا کر درجنوں بانڈ خرید کر یا کہیں سرمایا کاری کر کے معقول رقم ہر مہینے حاصل کر لیتی ہو اس رقم کو خرچ کرو تو تمہاری کوئی آرزو تشنہ نہ رہے مگر تم اسے بچا کر مزید خرچے کم کر کے کوئی نیا بانڈ خرید لیتی ہو اتنی ہاؤس کیوں ہے تمہیں پیسے کی

    کس کے لئے بچا رہی ہو ؟ ہماری تو کوئی اولاد بھی نہیں ہے اسی خرچ سے بچنے کے لئے تم نے مری خواہش کا بھی احترم نہیں کیا اب دیکھ لو

    اس بڑھاپے میں ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں

    ” مجھے کوئی پچھتاوا نہیں

    لنڈا نے بے نیازی سے بات کاٹ دی

    بچے نری حماقت ہوتے پیدا کرو پالو پوسو جوان کرو اور صلے میں اپنی جمع پونجی خرچ کر کے خالی ہاتھ بیٹھو اس سے بہتر ہے خود اپنے اوپر خرچ کر لو اور پھر آجکل کے بچے تو اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں کم از کم ہمیں ایسا کوئی خوف نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور ہمارے گھر سے فائدہ اٹھائے گا ہ ہا ہا ہا

    اپنی تقریر مکمل کر کے وہ حسب عادت طنزیہ ہنسی ہنس دی تھیں

    مسٹر رڈلی نے اب اس پر مزید بحث کرنے کی کوشش نہیں کی انکی اسی در گزر کر دینے کی عادت کی بنا پر وہ ہمیشہ ایک جھگڑا ٹال دیا کرتے

    ابھی بھی وہ تحمل سے انھیں منانے کی کوشش کرنے لگے

    خود سوچو میں وہاں کیسے رہوں گا کون میرے کھانے پینے کا خیال رکھے گا مری صحت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے میں مزید ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاؤں گا پھر تم خود یہاں میرے بغیر اکیلی کیسے رہو گی ؟

    اور لنڈا نے انکی بات کاٹ دی تھی

    ……………………..

    مسٹر رڈلی کو گیے تین ہفتے ہو گئے تھے ان تین ہفتوں میں وہ دو دن چھوڑ کر انھیں کال کرتے تھے . وہ وہاں خوش نہیں تھے وہاں کھانے پینے میں انھیں کافی پریشانی کا سامنا تھا سب سے بڑھ کر وہ لنڈا کو کافی یاد کر رہے تھے تیس سال میں پہلی دفع وہ اتنی دور گیے تھے انکی ہر دوسری بات واپسی سے متعلق ہوتی تھی

    جسے لنڈا پیار سے ٹال دیتی تھیں

    وہ خود بھی کافی اکیلا پن محسوس کر رہی تھیں مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرتی تھیں تاہم مسٹر رڈلی کی بے تابیاں انھیں کافی سرخوشی فراہم کرتی تھیں

    پرسوں بات کرتے ہوئے مسٹر رڈلی کافی تھکے تھکے بیزار سے تھے بول بھی کم رہے تھے شائد خفا ہو گئے تھے جبھی آج دوبارہ فون نہیں کیا لنڈا مسکرا نے لگن پل بننے میں تقریبا سال لگ جانا تھا تین ہفتے بعد گھر واپس آتے تو وہ انھیں منع لیتیں مطمئن سی ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل آئیں

    انکا رخ باورچی خانے کی طرف تھا

    ………………………………………………………………..

    اسکی آنکھوں میں اشتیاق امڈ آیا اسکی نظروں کا محور کھڑکی کے پاس رکھا شیشے کا فلاسک تھا جس میں سے ایک نازک سی سبز بیل بل کھاتی ہوئی کھڑکی کی چوکھٹ سے لپٹ رہی تھی

    یہ چہار موسمی بیل تھی گول گول پانچ پتیوں والے چار رنگ کے پھولوں سے لدی بیل جو دور سے ہی اپنی جانب توجہ کھینچ لیتی تھی

    کہنے کو یہ چار رنگ کی بیل تھی مگر منفرد بات یہ تھی یہ چاروں ہی سرخ کے ہی مختلف روپ تھے

    جسے گہرا سیاہی مائل سرخ .ہلکا سرخ جو قریب قریب سفید ہی لگتا شوخ آتشی سرخ اور ٹھنڈا ٹھنڈا سا بنفشی رنگ ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھاتا تھا

    ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھایا کرتا تھا بیلا کو یہ بیل بےتحاشا پسند تھییہ بیل ابھی قریبا ڈیڑھ ماہ پہلے مسز رڈلی نے منگوائی تھی یہ سست رو بیل ڈیڑھ مہینے میں بھی بس ایک دو فٹ ہی بڑھ پی تھی ابھی کھڑکی کے ایک پٹ پر لپٹ رہی تھی مسز رڈلی نے دھاگے باندھ باندھ کر اسکو پوری کھڑکی کے گرد ہشیا کھینچ لینے کاموقع فراہم کیا تھا مگر بیل شائد اس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتی تھی بیلا نے تھوڑا سا اچک کر اس گچھے پر ننھ ہاتھ رکھے دوسرا ہاتھ سہارا لینے کو کھڑکی کی منڈیر پر جمایا تھا

    …………………………………………………………..

    باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی حسب معمول انہوں نے ایک بھرپور نظر اپنی بیل ڈالی اور رخ پھر لیا

    یک بیک عجیب سا احساس ہونے پر انہوں نے پالت کر دیکھا تو کھڑکی کے پاس دو ننھے ننھے ہاتھ نظر آئے . اف انکی بیل کی ننھی دشمن وہ غصے میں بھر گئی اس نے ابھی پھولوں کا ایک گچھا توڑ لیا تھا انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پیر پٹختی بیلا کے سر پر جا پہنچی  تھیں

    غصے  سے سرخ آنکھوں اور پھڑ پھڑ اتے ناک کے نتھنوں کے ساتھ غصیلے لہجے میں انہوں نے اسے ڈانٹنا چاہا بیلا انکی شکل دیکھ کر ڈر کر بھاگ اٹھی

    اے لڑکی رکو

    وہ اسکے پیچھے دوڑیں

    بیلا بھاگ کر ان کے پڑوس کے گھر گھس گئی تھی

    …………………..

    ہیلو

    بیلا کے پیچھے غصے میں جاتے انھیں ایک نرم سی آواز سنائی دی انہوں نے پلٹ کر دیکھا

    بیلا کی والدہ بیلا کے چھوٹے بھائی کو پرام میں ڈالے باغ میں ٹہل رہی تھی انھیں دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ مخاطب کیا

    مسز رڈلی کو احساس ہوا وہ بنا دستک دیے کسی کے گھر گھس جانے جیسی نازیبا حرکت کر چکی ہیں

    سو گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے اپنے قدم روک کر وہ بیلا کی مما کے پاس ہی چلی آییں

    مگر انکی تیوری کے بل سیدھے نہ ہو پائے تھے

    ہائے .. سنو ماریا اپنی بیٹی کو سمجھاؤ  وہ مری خواہش بیل برباد کرنا چھوڑ دے کوئی پھول پنپنے نہیں دیتی سب توڑ ڈالے خالی کر کے رکھ دی مری بیل

    وہ خاصا اونچا بولیں

    میں معذرت خواہ ہوں … مسز رڈلی آپ برائے مہربانی بیٹھئے تو سہی…

    ماریا فق چہرے کے ساتھ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے ہوئے انکی بات سن کر باغ کی کرسی انھیں پیش کرنے لگی گہری سانس لے کر لنڈا براجمان ہوئیں تو ماریا نے بھی انکے مقابل نشست سنبھال لی

    جی اب بتائیے… ماریا مسکرائی

    بیلا اندر کمرے کی کھڑکی سے ناک چپکائے سہم کر جھانک رہی تھی

    لنڈا گویا ہوئیں

    میں نے اپنے آبائی گاؤں سے خاص بیل منگوائی ہے خواہش بیلے اس پر چار رنگ کے پھول کھلتے ہیں یہ پھول.زندگی کی چار ادوار کی علامت ہوتے ہیں خوشی، اطمینان ،دکھ، پریشانی 

    ان چاروں کے ملاپ سے نصیب بنتا ہے . جس گھر میں یہ بیل پنپ جاتی ہے وہ گھر خوش نصیبی کی علامت بن جاتا ہے فی زمانہ خوش نصیبی پیسا ہے سو میری اس بیل کو لگانے کی وجہ یہ ہے کہ مرا گھر مالا مال ہو جائے

    اس لئے میں نے خاص کر چوری کر کے یہ بیل لگوائی ہے

    چوری کر کے؟ ماریا اچنبھے کا شکار ہوئی

    ہاں یہ بیل خاص چوری کر کے لگوائی جاتی ہے کیوں کہ آپ کسی کی خوش قسمتی مانگ نہیں سکتے کوئی دیگا بھی نہیں سو میں نے اپنے باورچی خانے کی کھڑکی میں ایک فلاسک میں خاص کھاد ڈال کر لگی ہے اور میری خوش قسمتی کہ اس بیل کو پنپے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ مسٹر رڈلی کی ترقی ہو گئی

    اوہ اچھا لگا سن کر مبارک ہو

    لنڈا سانس لینے کو چپ ہوئیں تو ماریا نے موقع غنیمت جان کر خیر سگالی کے جذبات کے تحت مبارک باد دے ڈالی . لنڈا کے تنے تنے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑے اور کہیں سے کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ بھی انکے لبوں پر آسجی

    شکریہ ماریا خوش رہو مگر مسلہ یہ ہے کہ تمہاری بیٹی کو شاید یہ بیل بہت اچھی لگی ہے وہ اسکے پھول توڑ لیتی ہے جو ایک تو بیل کی خوبصورتی میں کمی کا با عث ہے دوسرا وہ میری خوش قسمتی توڑ کر اپنے گھر لے آتی ہے جو وہ مجھ سے مانگے تو بھی میں نہ دوں اور وہ چرا لیتی ہے

    لنڈا کی بات پر ماریا کے چہرے پر مسکراہٹ در آئ وہ خود بھی تو کسی کی خوش قسمتی چرا کر اپنے گھر کی زینت بنانا چاہ رہی ہیں

    اپنی عمر کے تیسرے حصے میں آ کر میں نے چوری جیسا لعنتی کام کیا ہے سو تم اندازہ لگا سکتی ہو یہ بیل میرے لئے کتنی اہم ہے

    انکی آنکھیں جھلملائیں

    میں بیلا کو سمجھاؤں گی .. ماریا نے اطمنان دلایا وہ بھی مطمئن ہوئیں اور واپسی کی راہ لی ………………………………………………..

    ماریا نے بیلا کو بلا کر ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھایا اور وعدہ بھی لے لیا 

    بیلا آیندہ آپ اس بیل کے پھول نہیں توڑو گی نا 

    بیلا ماں کے نرم رویے پر کھل اٹھی تھی اپنے سنہری پونی ٹیل والے سر کو اثبات میں ہلا کر ماں لیا تھا ساتھ ہی پوچھا 

    مما ابھی جو توڑے  تھے نا وہ راستے میں گر گیے تھے وہ لے آؤں ؟ ان سے تو کھیل سکتی ہوں نا آیندہ نہیں توڑوں گی ؟

    ماریا نے مسکرا کر اسکی پیشانی چوم لی ………

    ……………………………………………………..

    اپنے باورچی خانے میں واپس آ کر سب سے پہلے فریج کا دروازہ کھول کر اپنے لئے ٹھنڈے پانی کی بوتل 

    نکالی تھی غٹا غٹ ایک جام بھر کر پانی کا پی کر انہوں نے پیار بھری نظر وں سے اپنی بیل کو دیکھا 

    شیشے کے خوبصورت بیضوی فلاسک کی تہہ میں خاص سمندری ریت اور کھاد کے امتزاج سے بل کی جڑ کو زمین دی گئی تھی سنہرے دمکتے ذروں پر پانی کی دبیز تہہ جیسے سچ مچ سمندر کو کوزے میں بند کیا ہو 

    انہوں نے احتیاط سے اسے چھوا اور مطمئن ہو کر پلٹ گئیں

    …………………………………………….

    محتاط قدم اٹھاتے ہوئے اس نے باغ کا راستہ طے کیا 

    سنگی راستے کے قریب اسکے ہاتھ سے چھوٹ جانے والا پھولوں کا گچھا پڑا تھا مگر مسلا ہوا جسے کوئی ان پر سے پاؤں رکھ کر گزر گیا ہو 

    بیلا تڑپ کر آگے بڑھی مسلے ہوئے پھول بنفشی اور ہلکے گلابی رنگ کے تھے جبکہ سیاہی مائل سرخ اور آتشیں سرخ پوری آب و تاب سے کھلے ہوئے تھے 

    یقینا یہ انٹی لنڈا ہی بنا دیکھ پیر رکھ کر گزر گیں ہیں 

    اس نے تاسف سے سوچا اور انکو چن کر شاکی نظر انکے گھر پر ڈال کر واپس آگئی 

    شیشے کے گلاس میں پانی بھر کر اپنے کمرے میں لکھنے والی میز پر لا رکھا اب ان پھولوں کو اس نے گلاس میں ڈال دیا تھا 

    شفاف پانی میں تیرتے شوخ رنگوں کے پھول دیکھنے میں کافی بھلے معلوم ہو رہے تھے 

    کتنی ہی 

    دیر وہ ان سے کھیلتی  رہی 

    کسی کام سے بیلا کو پکارتی ماریا اندر آئی تو بلا کو میز پر سر رکھے بچپن کی میٹھی نیند میں گم پایا اس نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا میز پر رکھا برقی چراغ گل کرنے لگی تو گلاس کی سطح پر تیرتے خواہش بیلے کے پھولوں نے اسکی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی 

    کتنے دل کش ہیں یہ 

    اس نے پہلی مرتبہ انکو دیکھا تھا گلاس اٹھا کر انکی خوشبو سانسوں میں بھرنی چاہی تو حیرت کا جھٹکا لگا 

    اتنے خوبصورت نظر آنے والے پھولوں میں معمولی سی بھی خوشبو نہیں تھی 

    …………………………………………………………………………………………

    گلاس میں تیرتے پھولوں کی عمر تمام ہوئی انکے کنارے سیاہ پڑنے لگے انکا وجود پانی میں گھلتا گیا ماریا نے گلاس مانجھ کر دوبارہ باورچی خانے میں رکھ دیا 

    بیلا کا بورڈنگ سکول میں داخلہ ہو گیا تھا 

    ………………………………………………………..

    ایک روشن صبح کا آغاز ہوا تھا سورج کی نرم کرن بھاری پردوں کے بیچ ہلکی سے دراڑ سے رستہ بناتی اسکی پیشانی چومنے آ پہنچیں ایک لطیف سے احساس  نے اسکو بیدار کر ڈالا مسکرا کر انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی 

    صبح بخیر بیلا 

    اس نے خود کو خود ہی دعا دی دیوار گیر گہری سات بجے کا وقت بتا رہی تھی 

    یہ اسکا بیدار ہونے کا ہی وقت تھا آخر کار اسکے تعلیمی سلسلے کا اختتام ہوا تھا گریجویشن کے آخری امتحانات دے کر وہ کل ہی واپس گھر پہنچی تھی اس دفعہ طویل چھٹیاں منتظر تھیں سو اسکا ارادہ خوب سارا سونے اور لطف اٹھانے کا تھا سو وہ امتحانوں اور سفر کی سب تکان مٹانے کو رات کو جلدی سو گئی تھی اب تازہ دم تھی 

    صبح کی تازگی اپنے اندر اتارنے کو وہ مسہری سے اتری اور بالکونی کا دروازہ کھولتی کھلی فضا میں چلی آی

    ایک خوش گوار دھوپ بھرے دن کا آغاز ہوا چاہتا تھا 

    Have you ever experienced such pleasure?

    aww I am enjoying the darkness in eternity 

    peace 

    silence 

    calm 

    no sorrows 

    nor sufferings  and me immortal

    how could I sing an elegy full of agony 

    I am in  a happy mood

    yeah 

    I am giggling 

    ننھی معصوم آوازیں بے مثال کشش رکھتی تھیں اپنے اندر ننھے بچے کورس میں گا رہے تھے 

    وہ بھی انکے ساتھ گنگنانے لگی 

    مسز رڈلی کی وفات کے بعد انکا گھر حکومتی تحویل میں چلا گیا تھا اب ایک خصوصی بچوں کا ادارہ انکے گھر میں کھل چکا تھا مختلف عمروں کے بچے جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار تھے اسمبلی کے اوقات میں دھوپ سینکتے مسز رڈلی کے لان میں نظم پڑھ رہے تھے 

    بچوں کے چہرے مطمئن اور خوش تھے وہ دلچسپی سے انہیں دیکھ رہی تھی 

    تبھی سبک رو ہوا نے تھوڑی تیزی پکڑی اور ایک ناگوار جنگلی پتوں کی بو کا جھونکا سا آیا 

    اس نے ناک سکیڑ کر اس بو کا منبع جاننا چاہا 

    مسز رڈلی کی خواہش بیل بڑھ کر اب جھنڈ کی شکل اختیار کر چکی تھی 

    نہ صرف اس نے مسز رڈلی کے باورچی خانے کی داخلی دیوار پوری ڈھانپ لی تھی بلکہ آہستہ آہستہ دیوار کا سہارا لیتی انکی گھر کے باہر کی طرف لگے پلاسٹک کے اخراجی پائپ کا سہارا لیتی اسکی بالکونی تک آپہنچی تھی 

    اف… اس نے کوفت سسے سوچا 

    ڈھیر سارے چار رنگوں کے پھولوں کے گچھوں سے بھرا جھنڈ دیکھنے جتنا بھی اچھا لگ رہا ہو مگر انکے جنگلی پتوں کی بو حواس مکدر کئے دے رہی تھی 

    اسے نو سالہ بیلا یاد آی جو چار پھول توڑ لینے پر مسز رڈلی کی خفگی کا نشانہ بنی تھی 

    کتنا پاگل تھیں مسز رڈلی اس بیل کے پیچھے اب اگر دیکھتیں اسے پھلتے پھولتے تو شاید خوشی سے مر جاتیں 

    اس  نے ریلنگ پر جھومتی شاخ کو پرے کرتے سوچا 

    یہ انکی خوش قسمتی بیل جب انکی حسب خواہش کھڑکی ڈھانپ گئی تھی تب مسٹر رڈلی کی وفات پا جانے کی  خبر آگئی تھی 

    پل کی جگہ پر کسی حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے کمپنی نے حادثاتی انشورنس کے نام پہ 

    بھری رقم مسز رڈلی کو ادا کی تھی اور مسز رڈلی بقول ماریا کے سارا دن روتی رہتی تھیں 

    یہ بیل تو خاصی منحوس ثابت ہوئی تھی انکے لئے 

    اس نے سوچا 

    اور میں

    بچپن میں  تو دھیان ہی نہیں دیا تھا میں نے کتنی ناگوار بو ہے انکی 

    اف کل ہی مما سے کہہ کر کٹواتی ہوں یہ باڑ

    ……………………………

    ختم شد 

    support us

    از قلم ہجوم تنہائی 

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

    visit :hajoometanhai

    WANT TO READ ABOVE STORY IN ENGLISH? VISIT THE LINK BELOW

     
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

     
     
     
    Home » Afsanay (short urdu stories) » Suspense/Mystry Urdu Stories » Khawahish belay ka phool URDU ALAMATI KAHANI

  • Hajoom e tanhai zehni bahali markaz case 567

     ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

    مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

    نفسیات دان۔

    عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

    ہجوم بیکراں۔

    وہ ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا تھا۔ اضطراری انداز میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔ گلے میں گٹار لٹکا رکھا تھا۔دونوں ہاتھ گٹار کو بجانے میں مصروف تھے۔ کہنی کرسی کے ہتھے پر ٹکا ئے  ہتھیلی پر تھوڑی جمائے تنہائی اپنی آرام دہ کرسی پر دراز تھی ۔ دوسرا ہاتھ میز پر دھرا تھا جس کی انگلیوں سے وہ گول سا پیپر ویٹ گھما رہی تھی۔ مستقل مسلسل وہ ایک چکر میں تھامگر اس سے بے نیاز بیزاری سے اسکے چلتے وجود کے ساتھ نظریں گھماتی تنہائی مکمل طور پر عزم کی جانب متوجہ تھی۔عزم ٹہلتے ٹہلتے تھکا ہاتھ شل ہو رہے تھے گٹار کی تار ٹوٹی اور اسکی تان بھی۔ رکا ٹھٹکا پھر پلٹ کر تنہائی کی جانب بڑھا۔ م

      سنا آپ نے۔ عزم خود کو کسی مشہور پاپ فنکار سے کم نہ سمجھتے ہوئے اس سے داد چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔

    تنہائی نے نفی میں سر ہلایا۔

    کیسے ممکن ہے اتنی دیر سے بجا رہا ہوں گٹار آپ نے سنا ہی نہیں ۔۔

    اسکی حیرت دو چند ہو گئ۔ چیخ ہی تو پڑا

    تنہائی نے ہونٹ بھینچ لیئے۔

    یہ دیکھیں گٹار بجا بجا کے میری انگلیاں فگار ہو گئیں۔۔

    اس نے اپنی زخمی انگلیاں دکھائیں۔

    گٹار ٹوٹ گیا یہ لٹکتے تار پر  جما یہ خون۔ وہ چلا اٹھا تھا میز پر دونوں ہاتھ مارتے وہ  جھلاہٹ کی انتہا پر تھا۔ تنہائی پر اسکے کسی ردعمل کا کوئی اثر نہ تھا اسی بے تاثر چہرے سے دیکھ رہی تھی اسے۔ وہ چند لمحے جواب طلب نظروں سے دیکھتا رہا پھر مایوس سا ہو کر رخ موڑ کر جانے کو تھا کہ تنہائی کی آواز نے ٹھٹکا دیا۔

    تم نے کسی اور کو سنایا گٹار کبھی؟

    اسکا دم رکنے کو آیا۔ سانس سینے میں اٹکی رہ گئ۔ چند لمحے دم بخود سا رہ گیا۔

    تنہائی نے سوال دہرایا تو پلٹ کر سراسیمہ سے انداز میں وہ تنہائی کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔

    کیا آپکو بھی گٹار کی آواز سنائی نہیں دی؟ کیا آپکو بھی نہ گٹار دکھائی دیا نا ہی میری زخمی انگلیاں؟

    اسکی آواز میں خوف لرز رہا تھا۔آنکھوں میں التجا جھلک رہی تھی۔

    کہہ دو ہاں۔ دیکھا سنا زخم دیکھے۔

    مجھے نہ گٹار دکھائی دیا نا سنائی۔ تمہاری فگار انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں بے چینی سے جیسے انکو اس چھڑی پر چلا رہے تھے زخمی تو ہونا تھا انہوں نے۔

    تنہائی تو دنیا سے بھی ظالم نکلی۔ اسکے اپنے اسے جھٹلاتے رہے گٹار کے وجود سے انکاری رہے اسکو نفسیاتی سمجھ کر تنہائی کے پاس علاج کروانے بھیج ڈالا مگر تنہائی نے تو گٹار کو گٹار سمجھا بھی نہیں معمولی چھڑی قرار دے ڈالا۔

    وہ وحشت ذدہ سا ہو کر اپنے ہاتھوں میں تھامی چھڑی دیکھنے لگا۔

    یہ لو انگلیوں پر لگا لو صبح تک زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔

    اسے سوچ میں پڑا دیکھ کر تنہائی نے سیدھا ہو کر اپنی میز کی دراز کھولی۔ آئنمنٹ اور پلاسڑ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔

    عزم نے حیرت سے تنہائی کو دیکھا۔

    یہ ۔۔ یہ کیا ہے؟

    اس نے کاغذ کے ٹکڑوں اور تیل میں بھیگے کوئلے کو آئنمنٹ اور پلاسٹر کہہ کر اسکی جانب پھینکا تھا۔

    آئنمنٹ اور پلاسٹر۔

    تنہائی کا انداز سادہ سا تھا۔ مزاق کی رمق تک نہ تھی۔

    پاگل سمجھا ہے مجھے کیا؟ یہ عزم نے غصے سے دونوں چیزیں اٹھا کر دیکھیں پھر میز پر پھینک دیں

    سفید براق کاغذ کالا ہو چلا تھا تو تیل میں بھیگے کوئلے سے اسکی انگلیاں۔

    یہ تیل میں بھیگے کوئلے اور کاغذ تم مجھے دوا کہہ کر دے رہی ہو ؟ تم مجھے پاگل سمجھ رہی ہو مگر خود پاگل ہو چکی ہو۔

    وہ حلق کے بل چکایا۔ 

    میں کیوں کوئلے تیل میں بھگو کر اپنی دراز میں رکھوں گی بھلا؟

    اسکے انداز کے برعکس تنہائی نے نہایت رسان سے

    جواب دیا تھا

    ادھر لائو میں تمہارا زخم صاف کردوں۔

    وہ حیرت زدہ سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ خود اٹھ کر اسکے پاس آئی نرمی سے ہاتھ تھام کر کوئلے کا لیپ کیا اور کاغذ سے انگلی کو لپیٹ دیا۔ کاغذ ٹک نہیں رہا تھا تو سفید ٹیپ میز سے اٹھا کر اس پر چپکا دی۔

    تنہائی کی انگلیاں کالی ہو چکی تھیں۔ اپنے چہرے پر آتی بے پروا کالی لٹ کو اس نے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے گال پر کالا نشان لگا لیا تھا۔ مگر اسکا اطمینان قابل دید تھا۔اتنا کہ عزم کو اپنے یقین پر گمان غالب  آنے لگا۔جھجکتے ہوئے اس لڑکی سے جو عمر میں چند سال بڑی تھی اس سے کہنے لگا

    میں ہوں نا فنکار۔ یہ گٹار بجانا آتا ہے نا مجھے؟

    میں کیا جانوں کبھی گٹار بجا کے سنوائو تب ہی بتا سکتی۔

    وہ اطمینان سے کہہ کر دوبارہ اپنی نشست کی۔جانب بڑھ گئ۔

    وہ مایوس سا ہو گیا تھا۔

    پھراسکا کیا کروں؟

    اس نے مایوس سے انداز میں پلٹ کر پوچھا۔ تنہائی کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔اسکی بات پرچونکی۔

    فی الحال تو گھر جائو اور سو جائو یہ نسخہ ہےاگلی بار اگر پھر اپنا آپ گٹار بجاتے ہوئے محسوس ہو تب ہی آنا ورنہ میرے حساب سے تمہارا علاج ہو گیا ہے۔

    وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی تھی۔

    میکانکی انداز میں عزم نے اس سے پرچہ پکڑا۔

    دو تین کلو دوائیاں پھر اسکے نصیب میں کھانا لکھی تھیں۔

    وہ کندھے سے لٹکتے گٹار کے بوجھ کو سہارتا سر اثبات میں ہلاتا مڑ کر جانے لگا۔

    اگر بوجھ ذیادہ ہے اس چھڑی کا تو یہاں دروازے پر رکھ دو۔

    عقب سے نرم سی آواز آئی تھی تنہائی کی۔

    اس نے لمحہ بھر سوچا پھر گٹار کا فیتہ اپنے گلے سے اتار کر احتیاط سے دروازے کے پاس دیوار سے ٹکا دیا۔ اور احتیاط سے دروازہ کھول کر شکستہ سے انداز میں باہر نکل گیا۔ خود۔کار دروازہ اپنے بوجھ سے واپس بند ہوا تو وہ اطمینان سے دراز سے آئینہ نکال کر میز پر رکھے ٹشو باکس سے اکٹھے کئی ٹشوز کھینچ کر چہرے پر لگی کالک صاف کرنے لگی۔

    چہرہ صاف کر کے اس نے احتیاط سے آئینہ واپس رکھا۔ اور دراز سے اپنی ذاتی ڈائری نکال کر لکھنے لگی۔

    کیس 567

    عزم بہت برا گٹار بجاتا ہے اسکو سننے سے بہتر یہی ہے کہ عزم یہ سمجھے کہ گٹار گٹار نہیں چھڑی ہے۔ یقینا اسکی زندگی اب آسان ہو چکی ہوگی۔

    اس نے لکھ کر ڈائری بند کردی۔

    تو آج مزید کوئی اپائنٹمنٹ نہیں ہے میری ۔

    اس نے خوش ہو کر زیر لب کہتے ہوئے دونوں بازو  اوپر کر کے زوردار انگڑائی لی۔ اٹھی دفتر پر تنقیدی طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے  دروازے کے پاس آئی عزم کے گٹار کو اٹھایا۔ بس ایک ہی تار الگ تھی اسکو نہ چھیڑتے ہوئے وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور گٹار کا فیتہ کندھے سے گزار تے ہوئے آنکھیں بند کرتے ہوئے گٹارپر اپنی پسندیدہ دھن چھیڑ دی۔۔۔۔

    ختم شد۔

    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

  • Urdu Web Travel Novel Desi Kimchi Episode 1

    دیسی کمچی۔۔
    قسط نمبر ایک
    منظر پہلا۔۔۔۔ 



    نا پھی ٹھام نمیئول نا ماجیک ما چھمیول۔۔
    غیر فہم الفاظ میں کوئی کان پر چیخا  تو میری پٹ سے آنکھیں کھلی تھیں۔۔ چند لمحے تو سمجھ نہ آیا کہاں کس دیار میں بیدار ہوئی ہوں۔۔ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹا کر بمشکل آنکھیں کھولیں تو احساس ہوا اپنے کمرے میں پڑی دھوپ سینک رہی ہوں۔۔
    میرے پورے بیڈ پر کھڑکی سے چھن چھن کر آتی دھوپ میرا چہرا تک تپا چکی تھی۔
    ابیہا کی بچی۔۔
    جھلا کر اٹھتے ہی میں چلائی۔ منہ دھو کر کمرے میں تولیہ سے منہ پونچھتی آتی ابیہا دہل کر تولیہ ہی چھوڑ بیٹھی۔
    کیا ہوا۔۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ وہ ہونق سی ہوئی تھی۔۔
    صبح صبح کیا شوق چڑھتا ہے سورج شاور لینے کا تمہیں ۔؟۔ میں جھلاتی اٹھ بیٹھی۔۔
    کانوں میں ٹھنسی ہینڈ فری نکال کر بی ٹی ایس کو بھی تھوڑا آرام کرنے کا موقع دیا رات جانے کب گانے سنتے آنکھ لگ گئ پتہ نہیں بے چارے پوری رات لگا تار میرے موبائل کی بیٹری چوستے کانسرٹ کرتے رہے اور میں ایسی بے ہوش سوئی کہ صبح بھی انہی کے گانے سے آنکھ کھل پائی۔۔
    میں اب بستر جھاڑتی چارجر ڈھونڈ رہی تھی پانچ فیصد بیٹری رہ گئ تھی۔۔
    صرف سورج شاور نہیں لیا ہے پانی شاور بھی لیکر آئی ہوں۔۔  اور میڈم یہ صبح صبح نہیں ہے بارہ بج رہے ہیں ایک دنیا اپنا آدھا دن کام کاج کر کے گزار چکی جب موصوفہ کی سواری باد بہاری نندیا پور سے واپس آئی ہے۔۔
    ابیہا نے جھک کر تولیہ اٹھاتے ہوئے خشمگیں نظروں سے مجھے گھورا ۔۔
    موصوفہ طنزیات میں پی ایچ ڈی کر چکی ہیں ایسی ایسی تشبیہات اور استعارے استعمال کر کے زلیل کرتی ہے کہ زلیل ہونے والے کی اردو اچھی ہو جاتی ہے۔۔ میرے جیسی جسکو اچھا خاصا فخر تھا اردو اچھی ہونے پر اس سے مقابلے میں تھوڑا تھم کر ہی رہتی اور ابھی تو لڑائی کو اگے بڑھانا مناسب تھا بھی نہیں سو امن کی جھنڈی لہراتی میں ادھار رکھ گئ ۔۔
    کیونکہ مجھے ابھی اسی سے چارجر چاہیئے تھا۔۔
    سو قصدا اسکی تقریر نظر انداز کرتی مصالحت بھرے انداز میں بولی۔۔
    یار تو اٹھا دیتیں نہ مجھے۔
    میں اس سے نظریں چراتی اسکے بیڈ پر سے چپکے سے اسکی نظروں میں آئے بنا اسکا چارجر اٹھانے بڑھی۔۔
    جنمن ، وی شوگا کوکی صبح سے کانوں میں چیخیں مار مار کر تمہیں اٹھا نہ سکے میری کیا مجال۔۔ آئی نیڈ یو گرل  سے میری اپنی آنکھ تک کھل گئ تم جانے کیا بھنگ لیکر سوتی ہو۔۔
    ابیہا بھناتی کمرے کے ایک کونے میں رکھی دھلنے والے کپڑوں کی ٹوکری کی جانب بڑھی۔۔
    رکو۔۔ میں نے اپنی جانب سے لمحے بھر کا توقف کیئے بغیر دونوں ہاتھ پھیلا کر اسےچیخ کر روکا مگر تب تک دیر ہو چکی تھی وہ ٹوکری کا ڈھکن اٹھا کر اس میں تولیہ ڈال چکی تھی۔۔
    میں دانت پیس کر رہ گئ
    اب اپنا رخ روشن کس سے پونچھو گی؟۔۔ میں دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی۔۔
    تمہاری تولیہ سے اور کس سے۔۔ اس نے بھی ازلی اطمینان سے جواب دیا۔
    میری تولیہ تو تمہارے چیخنے سے زمین پر گر گئ تھی اب دھوئے بغیر تو استعمال کرنے سے رہی۔
    کہاں ہے تمہاری تولیہ؟۔۔
    اپنے مخصوص طنزیہ انداز سے کہتی وہ میری جانب واپس مڑی تھی
    وہیں ہے جہاں تمہاری تولیہ ابھی ابھی گئ ہے
    میں اطمینان سے بتاتی سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی

    کیا؟۔۔ تمہارے جیسی پھوہڑ لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔۔ ایک تولیہ تک تم دھو نہیں سکتی ہو۔۔ حد ہے واعظہ
    ابیہا فل چارج ہو کر اب میرے قصیدے پڑھنے لگی تھی ۔۔ میں نے موبائل کو چارجنگ پر لگا کر کمرے کی کھلی کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔
    آج مطلع صاف تھا دور دور تک متوسط طبقے کی اونچی مگر بوسیدہ عمارتوں سے بیچ میں راستہ بناتی دھوپ نرم گرم سی ہمارے اس چھوٹے سے دو کمروں کے اپارٹمنٹ تک چھن چھن کر آتی اچھی لگ رہی تھی۔۔ شائد صرف مجھے۔۔ تیس یا شائد اکتیس درجہ حرارت کی یہ مئی کی  دھوپ اس شہر کے لوگوں کیلئے اچھی خاصی شدید گرمی میں شمارہوتی تھی۔
    مگر میرے اور ابیہا کےلیئے یہ نعمت غیر مترقبہ تھی شدید ٹھنڈ اور برفباری سہتی ہم جب گرمی  کی امید بھی چھوڑ چکی تھیں تب موسم بدلا تھا ۔۔ ابھی بھی ٹھنڈ ہڈیوں میں اتنا جم چکی تھی کہ اتنی دیر سے دھوپ میں کھڑے رہ کر بھی گرمی نہ لگی تھی۔۔
    یہ لو۔۔
    ابیہا نیا تولیہ نکال کر میرے سر پر جما کر بولی
    لو جائو نہا کر آئو اکٹھے ناشتہ کریں گے۔
    محبت کا ایسا جارحانہ مظاہرہ بھی میری آنکھین نم کر گیا یہاں اسکے سوا میرا تھا ہی کون
    گومو یو۔۔
    میں کہہ دیتی اگر ابیہا کے انداز میں کڑختگی نہ ہوتی
    جلدی بھوک سے مرنے لگی ہوں انتظار نہیں ہوگا مجھ سے۔۔
    وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید گھور نے کے چکر میں انکے اصل حجم سے دو گنی کر چکی تھی
    ابیہا یہاں کے لوگ ایویں پلاسٹک سرجری کروا کر ڈبل آئی لڈ بنواتے تم انہیں یہ طریقہ کیوں نہیں سکھاتیں کہ اپنی معصوم روم میٹ کو گھور گھور کر اسکا خون خشک کر دیا کرو بڑی ہو جائیں گی آنکھیں۔۔ 
    آرام سے بولتے بولتے آخر میں میرا لہجہ تیز ہو گیا تھا ابیہا زرا متاثر نہ ہوئی مجھ سے زیادہ توانائی اور تیز لہجے کے ساتھ بولی۔۔
    نہیں ہونگی کیونکہ دنیا میں اور کسی کی روم میٹ تمہارے جتنی ارریٹیٹنگ اور پھوہڑ نہیں ہوگی یہ اعزاز بلکہ یہ عزاب مجھے ملا ہے بس۔۔
    کیا میں عزاب؟۔۔
    میں غم و غصے سے چلائی
    ہم دونوں کے درمیان تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ میرے موبائل کی بیٹری اٹھائیس فیصد ہو چکی ہے جیسے موبائل کو بجلی کی ضرورت پڑتی توانائی حاصل کرنے کیلیئے میں اور ابیہا لڑائی کرکے خود کو چارج کرتے ہیں کیونکہ اپنے اپنے گھر سے دور دیس اجنبی ملک اجنبی زبان کے ساتھ بس ہم ایک دوسرے سے ہی شناسا ہیں کیمو ( اسکا کوریائی نام یہاں چھے مہینے گزار کر بھی یاد نہ ہو پایا ہمیں) یونیورسٹی کی پاکستانی اسکالر شپ پر گئی طالبائیں جو علم حاصل کرنے چین کے پڑوس کوریا جا پہنچی ہیں
    اور گنگم اسکائر کی ایک بوسیدہ عمارت میں رہائش پزیر ہیں۔۔
    ہق ہاہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
    #desikimchi

    دوسرا منظر۔۔

    جھاڑو لگاتے الف ویڈیو بنا رہی تھی۔۔ 

    مائک کی طرح جھاڑو کا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے ایک ہاتھ سے موبائل تھامے جزباتی انداز جیسے آنکھوں میں سمندر موجزن ہو ۔ مگر بارہ میگا پکسل فرنٹ کیم بھی آنکھوں کے ساحل سے آنسو کا ایک موتی بھی ڈھونڈ دکھانے میں ناکام تھا   

    امی دیکھ رہی ہیں یہ۔۔ 

    اس نے اپنے ارد گرد کا چم چم کرتا فرش دکھایا۔۔ 

     آپ ۔۔ قدر آئی آپکو کتنی معصوم بیٹی تھی میں۔۔ یہ ۔۔ یہ دیکھیں یہ میں ہی ہوں۔۔  

    اب جانے آنسو کیوں نہیں آ پارہے تھے مگر اس نے جھاڑو جھنجھوڑ دی تھی۔۔ امی سامنے ہوتیں تو متاثر ہو جاتیں۔۔ 

    صفائی جھاڑو پوچھا کرتی آپکی لاڈلی شہزادی جیسی بیٹی۔۔ انداز میں رقت در آئی۔۔ 

    اور یہ دیکھیں ۔۔ کسی کی پھوہڑ بیٹیاں ۔۔ 

    اس نے قطار میں بچھے بیڈوں پر کمبل میں گھسی نور اور عزہ پر کیمرے کا رخ کیا۔۔ 

    خبردار جو میری ویڈیو بنائی الف کی بچی۔۔ 

    عزہ نے کسمسما کر گردن باہر نکالی ہی تھی کہ الف کا موبائل گھماتا ہاتھ دکھائی دے گیا۔۔ سو فورا چیخ کر خبردار کرتی حفظ ماتقدم کے طور دوبارہ کمبل تان لیا۔۔ 

    ہق ہاہ۔۔ دیکھ رہی ہیں نا آپ۔۔ یہ سب کام میرے زمے ہیں میری روم میٹ دونوں پڑی سو رہی ہیں یہ دیکھیں بارہ بج رہے۔۔ 

    اب اس نے باقاعدہ وال کلاک کا شاٹ بنایا۔۔ کیا تھری سکسٹی ویڈیوز یو ٹیوبر بناتے ہونگے جو الف جادو جگا رہی تھی۔۔ 

    عزہ نے چونک کر کمبل نیچے کیا۔۔

    بارہ بج گئے۔  

    کمبل کا نقاب کرتے اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر مزید بڑی کر لیں تھیں۔۔ 

    صبح نو بجے اٹھ کر نہار منہ بنا کھائے پیئے صفائی کرتی ہوں  دیکھیں  پورا کمرہ صاف کیا ۔۔ تھری سکسٹی اینگل پر گھماتے کمرے کا انتہائی کونہ دکھائی دے گیا تھا جہاں کرسی پر کپڑوں کا ڈھیر پڑا تھا ان تینوں کی باہر جانے آنے والی سینڈلیں بکھری پڑی تھیں اور میز جو عموما پڑھنے پڑھانے کے کام آتی ہے اس وقت ان تینوں کی آن لائن آج صبح ہی آئی ڈیلیوری کے تازہ شاپنگ بیگز سے لبا لب بھری تھی۔۔ 

    یہ میں ابھی سمیٹنے ہی جا رہی تھی۔۔ 

    اس نے گڑبڑا کر ویڈیو میں ریکارڈ کیا اور جلدی سے ریکارڈنگ بند کر دی۔۔ عزہ یہ جملہ نہ سہہ سکی تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔۔ 

    جھوٹی صبح نو بجے بے ہوش پڑی تھیں تم۔۔ یہ جو برباد کیئے ہیں نا پیسے تم نے اسکی ڈیلیوری کیلئے جو لڑکا آیا تھا دروازہ بجا بجا کر تھک گیا تمہاری آنکھ نہ کھلی اور پھر اس نے مجھے فون کیا ۔۔ ادھ کھلی آنکھوں سے نور کا دوپٹہ اوڑ ھ کر گئ یہ سب وصول کیا۔۔ 

    عزہ کے کہنے پر الف تھوڑا سا کھسیائی تو کافی دیر سے یونہی کسمسا کسمسا کر کروٹ بدلتی نور کے کان کھڑے ہوئے۔۔

    کیا کیا ہوا میرے دوپٹے کو؟۔۔ وہ کمبل اتارتی جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ اپنی چیزوں کے معاملے میں وہ اتنی ہی حساس تھی۔۔ 

    سی ہون مانگنے آیا تھا اسے دے دیا۔۔ اب اگلے کانسرٹ میں وہ گلے میں ڈال کر گانا گائے گا۔۔ 

    یہ شوشہ الف نے چھوڑا تھا۔۔ایکسو اسکا پسندیدہ بینڈ تھا اکثر دوران گفتگو انکا زکر کسی طرح نکال لینا اسکا پسندیدہ مشغلہ۔۔

    کیا۔؟ اسکے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔ 

    یقینا ابھئ وہ پوری طرح جاگی نہیں تھی۔۔ 

    الف اور عزہ تاسف سے اسکا ردعمل دیکھ رہی تھیں۔۔ گھبرا کر کمبل الٹ پلٹ کرنے لگی بستر سے اتر کر تکیہ تک اٹھا کے دیکھ لیا ۔۔ روہانسی ہوئی ساتھ ساتھ بولے بھی جا رہی تھی۔۔ 

     کیوں دیا۔۔ اف میں نے اپنی ہر چیز کل سمیٹ دی تھی بس یہ ایک بلو دوپٹہ نئے سوٹ کا اوڑھے پھر رہی تھی وہی اٹھا کے دے دیا۔ رات کو اتار کر سرہانے رکھا تھا۔۔ تم لوگوں۔۔ 

    الف کے بر عکس آنسو بس آیا ہی چاہتے تھے آنکھوں میں عزہ کے بیڈ پرکہتے کہتے نگاہ گئ تو عزہ کے تکئے پر نیلا دوپٹہ گول مول ہوا پڑا تھا۔  

    تڑپ کر اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔۔ 

    میرا نیا دوپٹہ۔۔۔ 

    ہو گیا؟۔۔ عزہ نے ہاتھ اٹھا کر اس سے پوچھا ۔۔ 

    اس نے نادیدہ آنسو اسی جارجٹ کے دوپٹے سے پونچھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ 

    ہون۔۔ عزہ فرصت سے اب الف کی طرف متوجہ ہوئی۔۔ 

    تمہارے آن لائین منگوائے سامان لانے والا ڈیلیوری بوائے مجھے کیوں فون کر رہا تھا؟۔۔ 

    عزہ کے دانت کچکچا کر پوچھنے پر الف کان کھجاتی دو قدم پیچھے ہوئی۔۔ 

    وہ میں ۔ میرا فون تو سائیلنٹ پر ہوتا تو اسی لیئئے ادر کانٹیکٹ نمبر میں تمہارا نمبر لکھ دیا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیاا آ آ آ۔۔۔ 

    تین اپارٹمنٹ تک آواز گئ ہوگی جو واعظہ چلائی تھی۔۔ 

    آہستہ ۔۔ کان پھاڑو گی کیا میرے۔۔ 

    ابیہا نے بند ہوتے کان سہلائے۔۔ 

    تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ابیہا کی بچی۔۔ 

    غسل خانے کے بند دروازے کے پیچھے واعظہ یقینا ابیہا کو کچا چبانے سے قاصر تھی ورنہ اب تک یہ کام کر چکی ہوتی۔۔ 

    خیال ہی نہیں رہا اتنا تو فضول بولتی ہو زہن سے ہی نکل گیا باہر آکر بتانا۔۔ 

    ابیہا نے بال جھٹک کر سکھاتے اطمینان سے اسی پر الزام دھرا۔۔

    ابیہا خدا پوچھے تمہیں۔۔ اب میں کیا کروں۔۔ 

    واعظہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔ 

    یار میرے نہاتے وقت پانی کم ہوا تھا ختم نہیں ۔۔ اور تم تھوڑا احتیاط سے پانی خرچ کرتیں نا ۔۔توتم بھی نہا لیتیں۔۔ ںلکوں میں آ تو رہا تھا پانی۔۔ 

    ابیہا کو اسکی فکر بھی تھی دلگیری سے اسے ہی ٹوکا۔۔ 

    میڈم لیکچر بند کرو۔۔ پانی بالکل ختم ہو چکا منہ پر صابن لگا ہوا ہے میرے  پانی کا انتظام کرو میری آنکھیں جل رہی ہیں  میری۔۔ 

    واعظہ نے ٹٹول ٹٹول کر دروازہ کھولا ابیہا جھٹکے سے رخ موڑ گئ۔۔ 

    صبر کرو باہر تو مت آئو۔۔ 

    ابیہا کی بچی ڈرامہ بند کرو فریج سے پانی لا کر دے دو نہا نہیں رہی تھئ میں عقلمندی کی پہلے پانی دیکھ لیا کم آرہا تھا تو سوچا منہ ہی دھو لوں بس۔۔ اب منہ دھونے کو بھی ختم ہوا پڑا ہے پانی۔  

    کیا وقت تھا جلتی آنکھوں کے ساتھ بھی اسے اپنی وکالت خود کرنی تھی سو تفصیل سے 

    واعظہ نے صفائی پیش کی ۔ابیہا نے مڑ کر دیکھا تسلی ہوئی۔۔ 

    بے چاری واقعی جھاگوں جھاگ منہ پر بھرے پانی کیلیئے دہائی دے رہی تھی۔۔ 

    اچھا صبر کرو۔۔ لاتی ہوں۔۔ ابیہا مزے سے اپنا تولیہ مسہری پر اچھالتی پانی لینے باہر چلی آئی۔۔ 

    عزہ آنکھیں مسلتی چھوٹے سے اوپن کچن کے کونے میں رکھے فریج کا دروازہ کھولے معائنہ کر رہی تھی۔ 

    دو فٹ کا لائونج ڈیڑھ فٹ کا کچن ۔۔ دو قدم بے دھیانی سے اٹھا لو تو ٹکر یقینی ۔۔ ابیہا نے وہی کیا جو ہم پاکستانی کرتے۔۔ 

    عزہ فریج کھولا ہوا ہے تو پانی کی بوتل ایک نکال کے دے دو۔۔ 

    عزہ نے ایک بھوئیں اچکا کر اسے دیکھا پھر کندھے اچکا کر پانی کی بوتل نکال کر سلیب پر رکھ دی۔۔ 

    گومو ویو۔  

    ابیہا ہنگل میں شکر گزار ہوئی آگے بڑھ کر بوتل اٹھائی پلٹنے کو تھی کہ ٹھٹکی۔۔ 

    بوتل بالکل خالی تھئ۔۔ 

    دوسری دو نا جس میں پانی ہو۔۔ 

    اس نے مڑ کر عزہ سے کہا عزہ دوسری بوتل سے اپنا گلاس بھر رہی تھی گلاس بھر کر خالی ہو جانے والی بوتل اسے اہتمام سے پکڑا دی۔۔ 

    یہ بھی خالی ہے عزہ کوئی اور بوتل دو نا پانی چاہیئے۔  

    ابیہا جھلائی تو عزہ کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔ 

    کاٹ دار طنزیہ۔۔ مزے سے لہرا کر دونوں ہاتھوں سے کچن سنک کی جانب اشارہ کیا جہاں بقیہ تینوں بوتلیں خالی استراحت فرما رہی تھیں۔۔

    ہاہ۔۔ 

    ابیہا کے ہاتھوں سے طوطے اڑے۔۔ 

    فریج سے پینے کے پانی کی بوتل نکالا کرو تو بھر کر واپس بھی رکھا کرو   ٹھنڈا پانی چاہیئے ہوتا ہے تم۔لوگوں کو بھرنے کی توفیق نہیں ہوتی کسی کو۔۔ 

    ابیہا کی امی کچن کے بیچ میں چند لمحے کو خیالی تصور کے طور پر نمودار ہوکر چلائی تھیں۔۔ 

    سوری امی۔۔ 

    ابیہا کی آنکھوں میں شرمندگئ در آئی۔۔ 

    امی؟۔ عزہ ٹھٹک گئ۔۔ 

    ہایے بے چاری بچی ماں یاد آگئ۔۔ 

    عزہ بھی تو اماں بن کر لگی تھی ڈانٹنے۔۔جملے وہی تھے جو ابیہا کو امی کا تصوراتی خاکہ کہتا دکھائی دیا تھا یہ الگ بات ادا عزہ کے منہ سے ہوئے تھے۔۔ 

    کیا عزہ ہوجاتا ہے اسطرح فریج خالی ہو جاتا پانی کی بوتلیں ختم ہو جاتی ہیں ایسے ڈانٹنے کی کیا بات۔۔  عزہ کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا۔۔ ابیہا نے بچوں کی طرح سر جھکا لیا تھا تھوڑی سینے سے جا لگی تھی۔۔ 

    کوئی بات نہیں ابیہا ۔۔ آئندہ بھر دیا کرنا۔۔ 

    آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دے ڈالی۔  

    واعظہ مار ڈالے گی مجھے۔  

    ابیہا نے سر اٹھا کر لرزتے ہوئے لہجے میں کہا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں نہیں بچوں گی۔۔ پکا مار دی جائوں گی۔۔ 

    ایک ایک شاپر کھولتی اندر سے کپڑے نکالتی اور اپنے بیڈ پر پھینکتی زور زور سے سر ہلاتی  الف بس یہی ایک جملہ بول رہی تھی۔۔ 

    بلکہ نہیں خود کشی کرلوں گی۔۔ مجھے خود کشی ہی کر لینی چاہیئے۔۔ 

    دیکھ کر آرڈر نہیں کیئے تھے کیا؟۔۔ 

    نور نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے اسکا آن لائین آرڈر سے آیا ٹاپ بیڈ سے اٹھا کر لہرایا۔۔ 

    سلیو لیس بیک لیس اور فرنٹ بھی لیس ہی سمجھو وہ دو تین بالشت کا ٹاپ تھا۔۔ رنگ واقعی بے حد پیارا سا پیچ کلر تھا مگر۔۔۔ 

    دیکھا تھا نا پارک بو ینگ نے پہنا تھا اسکے گھٹنوں سے بس زرا سا اونچا تھا اور اوپر سے وہ آف وائیٹ سا شرگ بھی پہنے تھی مجھے کیا پتہ تھا مجھے بس اندر کی شمیز ہی بھیج دیں گے اگر شرگ ساتھ نہیں تھا تو اس نے کیوں پہنا تھا؟۔۔ 

    اس بار واقعی الف کی آنکھوں میں سمندر موجزن تھا اور پلکوں کے ساحل بھی بھیگ چلے تھے۔۔ مگر بجائے یہ دکھی منظر دیکھ کر نور آبدیدہ ہوتی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔  

    احمق وہ پانچ فٹ کی بو ینگ اگر اسکے گھٹنے سے اوپر ٹاپ تھا تو میڈم آپ اس سے کئی انچ اونچی ہیں۔۔ 

    آپکو عقل سے کام لینا چاہیئے تھا اگر اسکے گھٹنوں سے اونچا ہے تو تمہاری کمر تک بھی بمشکل آئے گا۔۔ 

    وہ پیچ کلر والا۔ہی ٹاپ لہرا رہی تھی۔۔ 

    کسی کا بھی اپر نہیں بھیجا سارے انر بھیج دیئے اگر نہیں بھیجنا تھا تو کیوں ماڈلز پہنے دھوکا دے رہی تھیں۔۔ میرے سارے پیسے لگ گئے ۔۔ 

    وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھ گئ ۔۔ اس پر رقت طاری ہونے لگی تھی۔  نور کو ترس آہی گیا ۔۔ ایک ٹاپ اٹھا کر اسکے پاس ہی گھٹنوں کے بل آبیٹھئ

    ویسے اتنے برے بھی نہیں ہیں۔۔ پہن تو انہیں سکتی ہو۔۔ 

    اس نے ٹاپ سیدھا کیا۔۔ 

    کراپ ٹاپ وہ بھی بیک لیس۔۔ 

    الف نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا

    بس اوپر سے کچھ اور بھی پہن لینا۔۔ 

    نور نے ہونٹ بھینچ کر جملہ پورا کیا۔۔ 

    میرے سارے پیسے لگ گئے۔۔ موسم بھی بدل گیا ہے ۔۔ میں نے اتنے شوق سے زندگی میں پہلی بار آن لائن شاپنگ کی تھئ۔۔ 

    وہ اب سچ مچ رو دینے کو تھی۔۔ 

    یار۔۔ یہاں پاکستان والی گرمی تھوڑی پڑتی بمشکل تیس پینتیس تک جاتا ٹمپریچر تم سردیوں والے کپڑے آرام سے پہن سکتی ہو بس اوپر سے سوئٹر مت پہننا۔۔ 

    اپنی طرف سے نور نے بڑے خلوص سے مشورہ دیا تھا مگر الف کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔ 

    بے فکر رہو جون جولائی میں سوئٹر پہن کر گزارا کر لوں گی تم سے تمہارا ایک جوڑا بھی نہیں مانگوں گی خوش۔۔ 

    چبا چبا کر بولی تو نور نے چوری پکڑے جانے والے انداز میں رخ بدلا پھر بات ہی بدل ڈالی۔۔ 

    ہیئر ڈرائیر کدھر ہے نظر نہیں آرہا۔۔ 

    کہتی اٹھ ہی کھڑی ہوئی۔۔ 

    ہیئر ڈرائر کیا کرنا ہے تم نے؟۔ الف نے حیرت سے اسکے لمبے سوکھے بالوں کو دیکھا۔۔ جنہیں اس نے سلجھانے کی نیت سے کھولا تھا۔۔

    کرنا تو کچھ نہیں تھا ایسے ہی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اٹھتے کچھ نہ سوجھا تو ڈرائیر کا ہی پوچھ لیا یونہی موضوع بدل دینے کیلیئے۔۔ 

    جواب کا انتظار کرتے کرتے تھک کر الف اپنے خریدے بلکہ پیسہ جھونک کر کر خریدے کپڑے تہہ کرنے لگی۔۔ 

    ویسے ابھی ابیہا لیکر گئ ہے نہا کر نکلی ہے بال سکھانے ہوں گے۔۔ 

    الف نے بتا بھئ دیا۔۔ 

    یہ بات الف کی اچھی تھی کچھ پوچھ لو جواب ضرور دیتی تھی چاہے دس سال بعد دے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچن کی سلیب پر آئیس کیوب کی ٹرے جگ میں ڈال کر ابیہا اسے نظروں سے پگھلا رہی تھی۔۔ تو ساتھ ساتھ برف کا جما پیالہ سلیب پر رکھ کر اس پر ہیئر ڈرائر ہاٹ پر کر کے عزہ پیالے کو سینک رہی تھی۔۔ 

    پگھل تو رہی ہے برف۔۔ 

    ابیہا نے عزہ سے زیادہ خود کو تسلی دی۔۔ 

    مسکراہٹ دباتی بالوں کو کیچر میں سمیٹتی نور ادھرآئی تو مسکراہٹ بیچ میں ہی کہیں رہ گئی منہ حیرت سے تھوڑا اور کھل گیا۔۔ 

    یہ کیا کر رہی ہو؟۔۔ برف سکھا رہی۔ہو؟۔۔ 

    اتنی عقلمندی کی بات پر دونوں نے ہی اسے خراج تحسین پیش کرتی نظروں سے گھورا تھا۔۔

    برف سکھا سکتا ہے بھلا کوئی؟ پگھلا رہے ہیں تاکہ تھوڑا پانی بن جائے۔۔ 

    عزہ جھلائی۔۔ 

    مگر کیوں۔ ؟ فریج سے پانی کی بوتل لے لو نا۔۔ 

    نور کی حیرت دو چند ہوئی۔۔ 

    اتنی عقل جو نہیں ہم میں۔  یہ ابیہا نے طنز کیا تھا۔۔

    ارے تو مجھ سے لے لو تھوڑئ۔۔ 

    نور کہتی فریج کی طرف بڑھی 

    ابیہا نے وہیں اسے کان سے پکڑا

    کل جب رات کو پانی پی رہی تھیں تو میں نے برتن دھوتے ہوئے تمہیں کیا کہا تھا؟ بوتلیں بھر کر رکھنا ۔۔ 

    اوہو کان تو چھوڑو۔۔

    اس نے سی کر کے کان چھڑایا۔۔

    دو گھونٹ پیئے تھے بس میں نے بھری بوتل رکھی تھی واپس فریج میں۔۔ صرف میں تو پانی نہیں پیتی صرف میں کیوں بوتلیں بھر کر رکھا کروں۔۔ ؟۔۔ 

    اسکے پاس دلیل تھی۔  مگرابیہا کے پاس کیا تھا۔  

    اس سے بھی بڑی دلیل۔۔ 

    کھانا بھی صرف میں نہیں کھاتی مگر برتن کل رات میں نے سب دھوئے تھے۔۔ 

    فرضی آستین چڑھا کر وہ بولی تھی۔۔ 

    تم نے برتن دھوئے تھے؟ یہ گلاس ڈسٹ بن میں پڑا ہوا یہ تمہارا کام ہے؟۔۔ 

    عزہ نے چونک کر اپنی توپوں کا رخ بلکہ ہیئر ڈرائیر کا رخ بھی اسکی جانب موڑا۔ فلمی سین کی طرح ابیہا کی لٹیں اڑی تھیں۔۔ ابیہا سٹپٹائی۔۔ ابھئ کوئی جواب بن نہیں پڑا تھا الف زور زور سے بولتی چلی آئی۔۔ کوئی باتھ روم نہ جائے بھئ۔۔  

    پانی نہیں آرہا باتھ روم میں شکر ہے میں نے پہلے چیک کر لیا۔

    ہاں پتہ ہے۔۔ عزہ بد مزہ ہوکر سیدھی ہوئی اور دوبارہ ہیئر ڈرائیر سے برف پگھلانے لگی۔۔ 

    یہ کیا کر رہی ہو ۔۔ سلیب کے ساتھ رکھے اسٹول پر ٹک کر 

    الف نے بڑے اشتیاق سے پیالہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی ٹھنڈک محسوس کی۔۔ 

    یہ پانی بنایا ہے۔عزہ منہ بنا کر بولی

    اچھا ۔۔ الف نے برف پر پگھل کر تیرتے شفاف پانی کو دیکھا۔۔ 

    فریج میں پانی ہی نہیں ہے اسی کو پگھلا کر پانی بنا رہی ہے۔۔ 

    نور نے بتایا۔۔ الف نے ایک نظر تینوں کو باری باری دیکھا ۔۔ پھر لپک کر پیالہ منہ سےلگا کر غٹا غٹ پگھل جانے والا پانی پی گئی۔۔

    رکو۔۔ تینوں اکٹھے چیخی تھیں مگر بے سود۔۔ 

    الف نے پانی پی کر الحمدوللہ کہا۔۔ 

    پانی پی لر پیالہ واپس رکھا تو تینوں اسکے عقب میں کسی کو دیکھتی ساکت کھڑی تھیں۔۔ 

    کیا ہوا۔۔ بھوت دیکھ لیا کیا۔  

    اس نے تجسس سے کہتے ہوئے رخ پھیر کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو منہ سے ہلکی سی چیخ ہی نکل گئ۔ 

    سرخ آنکھوں سفید ماسک لگائے چہرے کے ساتھ واعظہ کسی چڑیل کی طرح ہی انکا خون پی جانے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔ 

    تیسرا منظر۔۔

    واعظہ  کچن سنک پر جھکی تھی ہتھیلیوں کا پیالہ بنا کر نور کے کسی بوتل سے الٹے گئے محلول کو جمع کر کے منہ پر چھپاکے مار مار کر چہرہ دھو رہی تھی۔۔ 

    تبھی چہرے پرہلکی ہلکی چبھن سے واعظہ چونکی۔۔ 

    یہ ہے کیا آخر۔۔ 

    اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو چرر چرر کی آواز آئی جیسے پلیٹ کو کسی اچھے ڈش واشر سے دھو تو انگلی پھیرنے پر آواز آتی ہے۔۔ 

    عروج کا اسٹر لائزر ہے۔۔

    اس نے اطمینان سے جواب دیا تو واعظہ ابیہا کے تھمائےتولیہ سے چہرہ پونچھ رہی تھی وہیں تھم گئ۔۔ 

    ابیہا کا منہ استعجاب کے مارے کھل سا گیا۔۔ 

    الف جو رائس کیک کتر کتر چبا رہی تھی چبانا بھول کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔ 

    عزہ کے ہاتھ سے نوڈلز کا بائو ل چھوٹتے چھوٹتے بچا۔

    سب اسٹار پلس کے کسی ڈرامے کی طرح اپنے اپنے ردعمل دیئے ساکت کھڑی تھیں۔۔ 

    نور نے ایک ایک کا چہرہ دیکھا پھر خالی ہوئی بوتل سنک کے کنارے رکھ کر کندھے اچکا کر بولی۔۔ 

    اور کیا کرتی گھر میں ایک قطرہ پانی نہیں تھا اور واعظہ کا حال دیکھا تھا۔۔ اتنی دیر سے فیس واش منہ پر ملے کھڑی تھی کوئی اسکن انفیکشن ہو جاتا تو اب تو اسٹرلائز ہوگیا اسکا منہ کچھ نہیں ہوگا۔۔ 

    اسکے اتنے جملے سن کر بھی سب یونہی جمی کھڑی تھیں۔۔ 

    آننایگ ہاسے او۔۔ 

    فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہی فاطمہ نے زور دار آواز لگائی تھی۔ جوتے کے ریک پر جوتی اتارتی گھر والی چپل میں پائوں گھساتی وہ سیدھا کچن میں آئی تھی۔۔ 

    ان سب کو ساکت کھڑے دیکھ کر چونکی۔۔ 

    تم لوگوں کو کوئی جادو سے ساکت کر گیا ہے کیا؟۔۔ 

    سوال اہم تھا۔۔ سب نے ہوش کی دنیا میں واپس آنا شروع کیا۔۔

    کر جاتا بہتر تھا ۔۔ 

    عزہ نے تھکے تھکے انداز میں نوڈلز کا بائول سلیب پر رکھا اور اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔ واعظہ تولیہ سے منہ تھپتھپاتی اپنے آپکو شانت کر نے لگی۔۔ 

    ابیہا نے گہری سانس لیکر منہ بند کیا ۔۔ اور الف رائس کیک کی کتر کتر چبانے کی آواز دوبارہ گونجنے لگی۔۔ 

    کیوں کیا ہوا۔

    فاطمہ پرس کائونٹر پر دھرتی پوچھ رہی تھی۔۔ 

    صبح سے پانی نہیں آرہا۔۔ جواب نور کی جانب سے آیا تھا۔۔

    تو نوڈلز کیسے بنا لیئے۔۔ فاطمہ حیران ہوئی۔۔ 

    پڑوس سے پانی کی بوتل مانگ کر لائی تھی ۔۔ 

    عزہ نے کانٹے میں نوڈلز لپیٹ کر منہ میں رکھے۔۔ پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے دبا لی ۔۔ اور واعظہ کو چور نظروں سے دیکھا مگر اسکا دھیان کہیں اور تھا بچت ہوگئ۔۔

    تبھی سنک کے نلکے سے تیز دھار سے پانی آنا شروع ہوگیا۔۔ 

    نور نے بھاگ کر نلکا بند کیا۔۔ 

    بس اس نے میرا ہی چہرہ جلانا تھا۔۔ 

    واعظہ روہانسی ہوئی۔۔ 

    میں دیکھوں باتھ روم میں بھی کوئی نلکا کھلا نہ رہ گیا ہو۔۔ 

    ابیہا اندر بھاگی۔۔ 

    واعظہ تین چار دن کے پیاسے کی طرح سنک کہ طرف لپکی اور بھر بھر چھپاکے مار کر منہ دھویا۔۔

    اب اسکا کیا کروں ؟ نور کو عروج کے اسٹرلائزر کی فکر ہوئی۔۔ 

    بھر کے رکھ دو ۔ دیکھنے میں پانی ہی جیسا تو تھا۔۔ 

    منہ پر پانی ڈالتی واعظہ نے مزاقا کہا تھا مگر نور کو خیال پسند آگیا۔۔ جھٹ واعظہ کے ہٹتے بوتل بھرنے لگی۔۔فاطمہ کو شدید بھوک کا احساس ہو رہا تھا جھٹ عزہ کے پیالے میں نیا کانٹا اٹھا کر نوڈلز لپیٹ کر منہ میں رکھا پھر برا سا منہ بنا لیا۔۔

    اف پھیکا کھا رہی ہو ٹیسٹ میکر بھی ڈالا جاتا ہے نوڈلز میں ۔۔ 

    فاطمہ نے چڑ کر کہا تو عزہ نے اطمینان سے اپنے کانٹے میں نوڈلز لپیٹے۔۔ 

    بالکل لیکن اگر حلال نوڈلز ہوں۔۔ اس پیکٹ پر حلال کہیں نہیں لکھا تھا اور چکن ٹیسٹ میکر ڈال کر میں نے حرام لقمے تھوڑی کھانے تھے۔۔ 

    اس نے واقعئ صبر شکر کر کے نوڈلز ٹونگ لیئے تھے۔  

    مجھے شدید بھوک لگی ہوئی ہے ۔۔۔ فاطمہ نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔ 

    صبح ناشتہ بھی کرکے نہیں گئ تھی۔۔ 

    ہم بھی صبح سے پانی نہ ہونے کے غم میں مبتلا ہیں ناشتہ تک نہیں کیا دو بجنے کو آگئے۔۔ 

    نور نے مظلومیت سے وال کلاک کو دیکھتے رونا رویا۔۔

    نوڈلز رکھے ہوئے ہیں ٹیسٹ میکر ڈالے بغیر نمک ڈال کر ابالو اور کھا لو۔۔ 

    عزہ نے سادہ سا حل پیش کیا تو سب اسے با جماعت گھور کر رہ گئیں۔۔

    ایسے کام چلائو کام تمہیں ہی مبارک ہوں۔۔ 

    واعظہ نے کہا تو سب نے متفق انداز میں گردن ہلائی۔۔ 

    پھر جائو باہر کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں جا کر لنچ کرو ۔۔ عزہ نے صریحا طنز کیا تھا۔۔ 

    گڈ آئیڈیا۔ الف نے خوش ہو کر چٹکی بجائی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سب کچن کے بیرونی طرف بنی سلیب ٹیبل کے گرد اسٹول سجائے بیٹھی تھیں سب کے آگے ایک ایک بائول سوپ نوڈلز کا تھا جس میں ٹیسٹ میکر نہیں ڈالا گیا تھا سفید ابلے پانی میں نمک اور کالی مرچ میں تیرتے نوڈلز۔۔ سب کے چہرے ستے تھے مگر صبر شکر کر کے نگل رہی تھیں۔۔ عزہ چولہے پر پانی چڑھائے ان کو دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ اسے چائے بہت اچھی بنانی آتی تھی مگر چائے بنا کر پلانا اتنا ہی برا لگتا تھا سو سال میں ایک آدھ بار وہ چائے بنا کر پلانے کا احسان ان لوگوں پر کر ہی دیتی تھئ۔۔

    واعظہ نے پانچویں بار نمک دانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو فاطمہ نے اسکے ہاتھ پر چپت لگا کر نمک دانی چھین لی۔۔

    بار بار نمک ڈالنے سے نمک چکن ٹیسٹ نہیں دینے لگے گا۔۔

    یار بہت پھیکا ہے یہ۔۔ واعظہ نے بے چاری سی شکل بنا لی تھی۔۔ 

    یار قسم سے قدر آرہی پاکستان کی دل سے۔۔ کیا یار گوشت ہی نہیں کھا سکتے جب سے کوریا آئے ہیں۔۔

    نور کو بھی دل سے دکھ محسوس ہو رہا تھا پھیکے نوڈلز کھانے کا۔۔

    بس کھانے پینے میں ہی پاکستان یاد آتا ہے سب کو۔۔ پچاس سالوں سے سب پاکستان کو کھا رہے ۔۔ پاکستان نہ ہو گیا بریانی کی دیگ ہو گیا   کیا۔۔۔۔۔ وہ بھی لنگر کی جسے دیکھو کھانے

    یہ ابیہا تھی۔۔ 

    کسی بھی بات میں اپنی مرضی کی بات نکال کر تقریر جھاڑ دینا کوئی اس سے سیکھے۔  

    ابھی بھی کھانے کو کرپشن سے جوڑا اور شروع ہو گئی تھی۔۔ 

    فاطمہ اور واعظہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں اکٹھی ہی ابیہا سے چمٹ گئیں ایک نے اسکے بازو پکڑے ایک نے کانٹے میں نوڈلز پرو کر اسکے منہ میں بھر دئیے۔۔ خود کو چھڑانے کی کوشش میں ابیہا کا منہ سرخ ہو چلا تھا اور منہ میں نوڈلز بھرے چلانے کی ناکام کوشش بھی کر رہی تھی۔۔ 

    نور نے جلدی سے موبائل اٹھا کر تصویر بنا لی۔۔ 

    یہ اسکا خفیہ مشغلہ تھا۔۔ ایسے بہت سے واقعات اسکے پاس تصویری شکل میں محفوظ تھے مگر ان میں سے کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی ابھی بھی الف اور عزہ سمیت سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں عزہ ابیہا کی مدد کو آئی تھی مگر ابھی تک اسے چھڑانے میں ناکام رہی تھی ۔۔ نور نے مزے سے تصویریں بنا کر موبائل ایک۔طرف رکھا اور نوڈلز ٹونگنے لگی۔ 

    یار۔۔ واعظہ نے ابیہا کو چھوڑ پر پھولی سانسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔ 

    کل ہفتہ ہے سمندر کنارے چلیں؟۔۔ بڑے دن ہوگئے گھومے پھرے نہیں۔۔ 

    خیال اچھا تھا۔۔ سب نے فورا تائید کی۔۔ 

    ویک اینڈ اور ساحل سمندر۔۔ اس سے زیادہ بکواس خیال نہیں ہو سکتا۔۔ 

    یہ نور تھی۔۔ 

    سارا کوریا پہنچا ہوگا اور ہمیں خلائی مخلوق سمجھ کر تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دے گا۔۔ 

    کالی وردی مین گھومتی خلائی مخلوق کیپشن کے ساتھ۔۔

    نور نے کہا تو ہنس تو کوئی بھی نہ سکی مگر مایوس ہو چلی تھیں۔۔ 

    یار واقعی۔  عزہ الف بھی متفق تھیں۔۔

    فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئیں۔۔

    یار تم۔لوگ بھی نا کیا ضروری ہے عبایا پہن کر جائو۔۔ کوریا میں ہو کسی کو کیا پتہ چلنا کہ۔۔ 

    یہ واعظہ تھی ۔۔ بول گئی معاملے کی سنگینی کا خیال کیئے بغیر۔۔ 

    آدھے ہی جملے میں جب نور کو کانٹا پٹخ کر عزہ کو دانت پیس کر اور الف کو تیوریاں چڑھا کر خود کو گھورتے پایا تو ادھورا چھوڑنا پڑا جملہ۔۔ 

    میرا مطلب ۔۔ اس نے گڑبڑا کر تھوک نگلا۔۔ 

    کوئی لمبا سا شرگ پہن لو ماسک پہن لو حجاب لو مگر کسی پرنٹڈ اسکارف کا لے لو کم ازکم پورے کالے عبایا والا سین تو نہیں بنے گا نا۔۔ 

    اسکی وضاحت پر تینوں کے چہروں کا تنائو کم ہونا شروع ہوا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مریض کی کیس ہسٹری والی فائل اٹھا کر چند لمحے اس نے عبارت پر نظر دوڑائی۔۔ پھر ٹھنڈی سانس بھرکر ساتھ کھڑی نرس کو فائل تھما دی۔۔ 

    سب کچھ ہنگل میں تھا سر پر سے گزرا۔۔ اتنے عرصے یہاں رہ کر تھوڑی بہت ہنگل سمجھ آنی شروع ہو گئ تھی مگر پڑھنا اب بھی آسان نہیں ہوا تھا ۔نرس اسکی الجھن سمجھ کر اسکو بی پی وغیرہ کتنا ہے کیا دوا دی ہوئئ ہے کونسی دوا دینی ہے مریض کو کیا تکلیف تفصیل سے بتانے لگی۔۔ 

    عروج ہمہ تن گوش تھی نرس حتی المقدور کوشش کر رہی تھی اسے انگریزی الفاظ کے استعمال سے بات سمجھانے کی۔۔ کچھ آیا کچھ اوپر سے گزرا۔ 

    اپنے چہرے پر ماسک خوامخواہ میں برابر کرتی اسکی مریض پر نظر پڑی تو اسے جی جان سے اپنی جانب دیکھتا پا کر گڑ بڑا گئ۔۔ 

    مریض کے چہرے سے  تنائو خوف کی ملی جلی کیفیت مترشح تھی۔۔ بھورے بالوں خشخشی سی بڑھی ہوئی شیو نیلی آنکھوں والا وہ خالص امریکی تیس پینتیس سال کا مرد تھا ۔۔ 

    آر یو اوکے؟۔۔ 

    عروج نے حسب عادت کالا اسکارف سر پر بلا وجہ ٹھیک کیا۔ یہ عادت اسے کوریا آکر ہی پڑی تھی۔۔ ممکمل عبایا نقاب کے ساتھ کرتی تھی۔۔ مگر ایک کالے برقعے میں لپٹی لپٹائی مخلوق کو اپنے درمیان دیکھ کر کورین جس طرح اسے مائی لو فرام این ادر اسٹار کے دو من جون کی بہن سمجھ کر گھورتے تھے اسے عبایا کی قربانی دینی پڑی تھی۔۔ اب لانگ شرگز اور اور آل کوٹ سے کام چلا لیتی تھی۔۔ اور اسکارف سے نقاب کرنے کی بجائے حجاب لیکر ڈسٹ الرجی سے بچنے والا ہلکا سبز ماسک پہن کر پھرتئ۔ اب گھورنا کم۔ہو گیا تھا مگر ابھی بھی یہ امریکی جیسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا لگ یہی رہا تھا کہ وہ اسے اسامہ بن لادن کی چھوٹی بہن ہی سمجھ رہا ہے۔  

    آر یو مسلم۔۔ 

    اس کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی تھی۔۔ 

    یس۔۔ عروج نے گہری سانس بھری۔۔ 

    اب یقینا اسکا اگلا مطالبہ کسی دوسرے ڈاکٹر سے علاج کروانے کا ہی ہونا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    باتھ روم میں رگڑ رگڑ کر ہاتھ دھوتے اسکا پارہ بری طرح چڑھ چکا تھا۔۔ 

    عبایا اتار دیا۔۔ نقاب کرنا چھوڑ دیا۔۔ یہ میڈیکل ماسک پر آگئ میں حجاب کیلئے بھی کالے رنگ کی بجائے پھولوں والے رنگ برنگے اسکارف لینا شروع کر دئیے مگر تعصب کا وہی عالم ہے بھلا بتائو۔۔ 

    ماسک نیچے کر کے وہ آئینے مین دیکھتی باقاعدہ غرائی تھی۔ 

    آر یو مسلم۔۔ پوچھ ایسے رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو آر یو چڑیل۔۔ 

    ہاں ہوں میں مسلم بلکہ ہوں چڑیل اور صرف امریکی خون پیتی ہوں احمق جاہل تنگ نظر آدمی۔۔ 

    جوش جزبات میں آواز بلند ہوئی حلق کے بل اپنے عکس کو دیکھتئ چلائی تو ٹوائلٹ سے نکلتی لڑکی بری طرح گھبرا کر دروازے سے ہی جا لگی۔۔ 

    تھر تھر کانپتی لڑکی اپنے عقب میں دکھائی دی تو وہ کھسیا کر مڑی۔ مسکرا کر پارہ نیچے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی

    آننیانگ ہاسے او۔۔

    اس نے کوریائی انداز میں ہی آدھا جھک کر سلام کیا تھا۔  

    آننیانگ۔۔ 

    چندی آنکھوں والی اس نرس نے گھبرا ہٹ پر قابو پاتے ہوئے اپنے باب کٹ بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا۔۔ چہرہ جانے کیوں تھپتھپا بیٹھی۔۔ پھر اپنی اسکرٹ پر ہاتھ پھیرتی بیسن کی جانب بڑھی۔۔

    فل ٹونٹئ کھول کر ہاتھ دھوئے اور ہکا بکا کھڑی عروج کو الجھن سے دیکھتئ باہر نکلتی گئ۔۔ 

    بال چھو لیئے چہرہ تھپتھپا لیا کپڑوں کو ہاتھ لگا لیا اب ہاتھ دھونے کی کیا ضرورت باقی رہ گئ تھی گندی لڑکی۔۔ جب ہر جگہ ہاتھ لگا چکنا تھا تو ہاتھ دھوتے کیوں ہوو و ۔۔ 

    عمائمہ کی طرح چلا کر 

    اسکے جاتے ہی عروج نے گھنیا کر جھر جھری سی لی۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

    وہ سب ننھے منے سے لائونج میں بچھے کارپٹ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔کھا پی کر تھوڑی بہت توانائی آہی گئ تھئ۔۔ سو اس وقت انکی آوازوں سے پورا اپارٹمنٹ گونج رہا تھا۔۔

    یار بیچ ڈن پھر؟۔۔ 

    عزہ گھونٹ بھر کر کپ ایک طرف رکھتی پرجوش ہوئی

    ہاں نا۔۔ واعظہ نے جھٹ تائید کی تھی

    تم نے ویک اینڈ پر بھائی کے ہاں نہیں جانا؟۔۔ 

    ابیہا نے یاد دلایا۔۔ 

    فرض تھوڑی ویسے بھی بھابی کے ساتھ سارا دن گزارنا کوئی اتنا بھی خوشکن خیال نہیں۔۔ 

    اس نے مزے سے کندھے اچکائے۔۔ 

    تو پھر ڈن ہے ۔۔ کل سب صبح آٹھ بجے اٹھ جانا۔۔ 

    ہمیں بیچ جانے پر بھی وقت لگے گا دو گھنٹے تو سیدھا سیدھا بس پر لگیں گے۔۔ 

    نور نے چٹکی بجائئ۔۔ 

    کپڑے وپڑے پریس کرلینا آج ہی۔۔ 

    ابیہا نے ہدایت دی تو الف کپ ہونٹوں سے لگائے گھونٹ بھرنا بھول گئ۔ ۔۔میرے کپڑے۔۔ 

    اسکا پھر دل بھر آیا اکتا کر کپ نیچے رکھ دیا۔۔

    تم لوگ ویسے سب کی سب آج گھر میں کیوں ہو؟۔۔ خیریت؟۔۔ 

    فاطمہ کو یاد آیا۔۔ وہ تو اپنے باس سے ٹھیک ٹھاک سن سنا کر آئی تھی۔۔ یہ سب تو مزے سے پھیکا ناشتہ اڑا رہی تھیں ۔۔۔

    کورین فیسٹول چل رہا کوئی فضول سا۔۔ یونیورسٹی میں کیا کرنا تھا جا کر کلاس تو ہونی نہیں تھی ۔۔۔ 

    الف نے بے زاریت سے بتایا۔۔ 

    یہ وہی ہے نا جس نے بڑے شوق سے ہنبک خریدا تھا شروع شروع میں یہاں آئی تھی تو بڑے شوق سے ہر فضول سے فضول ایونٹ میں ہمیں زبردستی لیکر جاتی تھی اسکے پیچھے وہ فضول سات بیویوں والا اسٹیج ڈرامہ بھی دیکھا تھا 

    نور کو اسکے سارے قصور بر وقت یاد آئے تھے۔۔ الف کھسیائی۔۔ 

    تم نے کہاں دیکھا تھا میں نے دیکھا تھا تم تینوں تو سو گئیں تھیں انٹرویل تک پھر جاتے وقت ہی اٹھایا تھا میں نے۔۔ 

    واعظہ نے کہا تو فاطمہ کو بھی اس منحوس دن کی یاد آئی۔۔ فورا بولی

    پورا ڈرامہ ہنگل گٹ پٹ ایک لفظ پلے نہ پڑے اور یہ پوری آنکھیں کھولے اس آدھی بند آنکھوں والے کو تاڑ رہی تھی۔ 

    ہاں تو تب تو نیا نیا تھا سب کچھ اب سال ہونے کو آیا ہے یہاں رہتے اب تو اکتاہٹ ہونی ہی تھی نا۔۔ 

    الف کھسیائی تو تھئ مگر ڈھٹائی سے مسکرا کر کندھے اچکائے۔۔

    واہ ایک سال میں اکتا گئیں کوریا سے؟۔۔ عزہ نےہنس کر مزاق اڑایا۔۔ 

    سی ہون سے بھی اکتاہٹ ہوگئ ہوگی۔۔ اب تک تو میں لے لوں؟۔۔ ابیہا نے کہا تو الف کو پتنگے ہی تو لگ گئے۔۔

    وہ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا نہیں ہے اچھا نا اس سے میرا دل نہیں بھر سکتا۔۔ 

    ہاتھ ہلا کر اس نے تقریر جھاڑی تھی۔۔ 

    کیوں وہ بھی تو کوریا کا ہی ہے اس سے کیوں دل نہ بھرا ؟؟؟؟۔ نور بھی بحث میں شامل ہوئی۔۔ 

    کوریا پورا ملک ہے سیہوں کوریا کیسے ہو سکتا۔ 

    ابیہا الجھی۔۔ 

    کوریا کا ہو نہ سہیون میر اہے میرا رہے گا۔  

    الف نے اعلان کیا۔۔

    افوہ کیا فضول بحث میں پڑے ہو تم لوگ۔۔ 

    فاطمہ جھلائی۔

    یار میں نے سوچا ہے تم سب عبایا کی بجائے لانگ شرگز پہن لو اور اسکارف لو مگر عروج کی طرح ماسک پہن لو کیسا۔۔ اس طرح لوگ تم لوگوں کو گھور گھور کر بھی نہیں دیکھیں گے

    واعظہ کو اپنی الگ فکر لگی تھی۔۔ 

    اتنا تم۔ہمیں عبایا نہ پہننے پر کنوینس کرتی ہو اتنا اگر انڈیا کو کشمیر چھوڑ دینے پر کنسوینس کرتیں تو وہ مان جاتا۔۔عزہ چڑی۔۔ 

    ہاں انڈیا کشمیر دینے پر مان سکتا تم لوگ معمولی سی بات نہیں مان سکتیں ۔۔ بڑا اچھا لگتا جب سب گھور گھور کر دیکھتے کالی مخلوق کو۔ 

    واعظہ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔ 

    ہاں اچھا لگتا دور سے پتہ لگ جاتا مسلمان لڑکی ہوں

    ورنہ یاد ہے تمہیں اس دن ریسٹورنٹ میں انڈین سمجھا وہ فرنچ لڑکا۔۔

    عزہ کا لہجہ تیز ہو چلا۔تھا۔۔ 

    اس بات کا یہاں کیا زکر ۔ مطلب کیا ہے تمہارا۔۔ 

    واعظہ کی پیشانی پر بل پڑے۔

    مطلب وہی ہے مجھے فخر ہے میں عبایا کرتی ہوں اور اگر تمہیں مجھے ساتھ لے جاتے شرم آرہی ٹھیک ہے جائو تم سب میں گھر میں ہی رہوں گی۔۔ 

    عزہ سختی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی

    کیا وہی مطلب ہے ؟ میں عبایا نہیں کرتی تو کیا مسلمان نہیں لگتی یا مسلمان رہی ہی نہیں؟  

    واعظہ کے سر سے لگی تلوے پر جابجھی۔۔ تنتناتی ہوئی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی

    جو مرضی سمجھو۔۔ 

    عزہ کا بھی پارہ چڑھ چکا تھا اسے ایک طرف کرتی تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے میں چلی گئی۔۔ 

    سیہون کا دیکھنا ایکدن انٹرویو لوں گی میں کب سے اپنے ڈاریکٹر کو کنوینس کر رہی ہوں میں۔  

    الف بولی۔۔ 

    پہلے ہنگل تو سیکھ لو کبھی نہیں آئے گا وہ تمہارے گٹ پٹ انگریزی والے پروگرام میں۔۔۔ نور نے چڑایا۔

    زور دار چھناکے کی آواز سے تینوں چونک کر ساکت ہوئی تھیں۔۔ 

    واعظہ نے سلیب سے کپ اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر دے مارا تھا۔۔ 

    کیا ہوا؟۔ 

    ابیہا فورا اسکے پاس آئی تھی۔۔ 

    سپاٹ چہرے کے ساتھ کپ کے ٹکڑوں پر نظر جمائے وہ دانت سختی سے دانتوں پر جما کر خود کو شانت کر رہی تھی۔۔ 

    غصہ آگیا تھا اسلیئے اسے توڑ دیا ابھی صاف کر دیتی ہوں۔۔ 

    چند لمحے لگے تھے اسے اپنے آپے میں واپس آنے میں۔۔ 

    گہری سانس لیکر ابیہا کو مسکرا کر بتا رہی تھی پھر جھاڑو اٹھا کر صاف کرنے بھی بڑھ گئ۔۔ 

    ہیں مگر۔۔ فاطمہ حیران سی اس سے پوچھنے بڑھی مگر ابیہا نے  اسے بازو سے تھام لیا۔۔فاطمہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ابیہا نےا سے آنکھ کے اشارے سے ہی چپ رہنے کو کہا۔۔  ابیہا اور واعظہ بچپن کی سہیلیاں تھیں کب کہاں کتنا میٹر گھومتا دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔۔ 

    واعظہ  اب تندہی سے اپنا پھیلاوا سمیٹ کر پوچھا لگا رہی تھی۔۔ 

    یہ کیا تھا؟۔۔ 

    الف اور نور حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھکی تھکی سی وہ کھانا کھانے کیفے میں آئی تھی۔۔ 

    صبح سے ایک کے بعد ایک مریض بھگت کر اب یہ حال تھا کہ لگ رہا تھا کہ گردن کے اوپر اسکا نازک سا پیارا سا سر نہیں کوئی پانچ چھے کلو کا تربوز رکھا ہوا ہے۔۔ گردن سہلاتی ٹرے اٹھا کر وہ قطار میں سجے خوشبو اڑاتے گرم پکوانوں کے ڈونگوں کی طرف چلی آئی۔۔ 

    فضا میں مصالحوں کی مہک رچی تھی۔۔ 

    کھانے کا وقت تھا تو کافی لوگ کیفے میں موجود تھے اسے بھی قطار میں لگنا پڑا ۔۔ 

    خدا خدا کر کے پہلی طشتری کا ڈھکن اٹھایا۔۔ 

    ساسجز۔۔

    وہ آگے بڑھی۔۔ سادے ابلے ہوئے چاول۔۔ 

    اس نے وہی نکال لیئے۔۔ 

    اس سے پیچھے کھڑی لڑکی نے کئی ساسجز پلیٹ میں رکھتے اس پر ترچھی سی نظر ڈالی تھی۔۔ 

    اگلی ڈش۔۔ پورک بیلی سوپ۔۔ 

    وہ ڈھکنا چھوڑ بیٹھی ۔۔ 

    چھن کی آواز سے اسٹیل کے ڈونگے پر اسٹیل کا ڈھکن بجا۔۔ لمحہ بھر کو کھانا لیتے سبھی کےہاتھ رکے چونک کر اسے دیکھنے لگے۔۔

    آئی ایم سوری۔۔ 

    اس نے جھک کر معزرت کی۔۔ ابھی بھی ہنگل دماغ میں نہ آ سکی تھی۔۔ خیر سوری کا مطلب تو سب ہی سمجھتے تھے 

    سب واپس اپنے اپنے کام میں مگن ہوئے

    اگلی ڈش چکن اسٹیک۔۔ 

    وہ صبر شکر کرتی سلاد والے حصے میں آگئ۔۔ 

    ابلے انڈے کے ٹکڑے سجے گاجر مولی سلاد کے پتے۔  

    دل بھر کر پلیٹ میں ڈال کر وہ اب کسی کونے کی تلاش میں تھی۔۔ 

    دور ہال کی فرنچ ونڈو کے کونے میں لگی میز پر دو لڑکیاں بیٹھی تھیں۔۔ وہ وہیں چلی آئی۔۔ 

    اسلام و علیکم ۔۔ اس نے سلام تو کیا تھا مگر کوریائی انداز میں جھک کر۔۔ یہ بھی مسلئہ جانے کب تک رہنے والا تھا کہ منہ پہلی دفعہ میں ہنگل نکلتی ہی نہیں تھی۔  

    چندی آنکھوں والی دونوں لڑکیوں نے اچنبھے سے اسے دیکھا پھر جیسے بدمزہ سی ہوگئیں۔۔ 

    ابھی عروج کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ دونوں کھٹاک سے اپنی اپنی کھانے کی ٹرے اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔

    عروج نے ٹھںڈی سانس لی۔۔ 

    اسکا اسکارف پہنے ہونا میڈیکل ماسک پہننے کے باوجود بھی چیخ چیخ کر میں مسلمان ہوں بتا دیتا تھا۔  کورین تعصبی تو نہیں تھے مگر اس سے جھجک ضرور جاتے تھے ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ 

    اس نے تھوڑا سا رخ پھیر کر دیوار کی طرف منہ کیا ماسک ہونٹوں سے تھوڑا سا اوپر کرکے آڑ کرکے ابلے انڈے ابلے چاولوں پر رکھ کر کھانے لگی۔۔ 

    بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ۔۔

    اسکے زہن میں یہی جملہ گھوم کر رہ گیا۔۔ 

    کوریا میں بس بابر کا عیش ہی نصیب تھا۔۔ 

    اپنی کھانے کی پلیٹ تیار کر کے وہ مناسب جگہ دیکھ کر بیٹھنا چاہ رہا تھا۔۔ ہر میز پر دو چار لوگ بیٹھے کھانے پینے کے ساتھ خوش گپیوں میں مگن تھے۔۔

    دور اوور آل پہنے ایک لڑکی دیوار کی طرف چہرہ کرکے بیٹھی تھی۔۔ 

    اسکی میز پر اسکے سوا کوئی نہ بیٹھا تھا وہ سیدھا اسی جانب بڑھا ۔۔ چند قدم ہی بڑھائے ہوں گے کہ ٹھٹک کر رکا۔۔

    ڈاکٹر روج۔۔ جسکو آپ روز ملتے ہوں اسکو آپ دور سے پشت سے بھی پہچان سکتے اور روج کو تو وہ سو لڑکیوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔ ایک پھیکی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی۔۔ آگے بڑھنے کی بجائے مڑ کر قریب ترین نشست گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔ 

    یوں کہ روج کینجانب اب اسکی پشت تھی۔۔ 

    انسان ہوں میں ۔۔ انسانوں کو تو نہیں کھاتی نا ۔۔ عروج کی آنکھیں بھر رہی تھی۔ 

    ساتھ بیٹھ کر کھالیتیں تو کیا چلا جاتا انکا۔یوں اٹھ کر گئ ہیں جیسے میں اچھوت ہوں۔۔ 

    وہ نوالے نگلتی آنسو بھی پی رہی تھی۔۔ تبھی اسکا فون بج اٹھا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یار ویسے اتنا حساس ہونے کی ضرورت نہیں تھی واعظہ نے غلط نیت سے تو نہیں کہا تھا۔۔ ہمارے ساتھ ایسا کئی بار ہو چکا ہے پانچ لڑکیاں عبایا پہن کر اکٹھے گئ ہیں تو لوگوں نے ٹھیک ٹھاک بلی اینگ  کی ہے ہماری۔۔میں اور واعظہ اکٹھے گھومتے پھرتے کوئی غور سے دیکھتا بھی نہیں ہمیں۔۔

    فاطمہ کا انداز ناصحانہ تھا عزہ نے خاصی ناپسندیدگی سے دیکھا۔۔ 

    ٹھیک ہے تم لوگ جائو میں گھر میں ٹھیک ہوں۔۔ 

    عزہ کا صاف فیصلہ تھا۔۔ 

    وہ سب عزہ کے کمرے میں جمع تھیں۔۔ الف اپنی شاپنگ پھر کھول کر بیٹھی تھی کل جانے کیلیئے کپڑے چننے تھے۔۔ نور کپڑے استری کرتی انکی باتوں پر ہی کان لگائے تھی استری ایک طرف رکھتی مڑی۔۔ کمر پر ہاتھ رکھتئ چبا چبا کر بولی

    لڑائی تمہاری اور واعظہ کی ہوئی ہے تم نہیں جا رہیں تو ٹھیک مگر میں تو جا رہی ہوں عبایا پہن کر ہی جائوں گی واعظہ کیا کرے گی؟ 

    یک نہ شد دو شد ۔فاطمہ اور الف سر پکڑ کر رہ گئیں۔۔

    اس نے کیا کرنا یہ عزہ اسے انڈین کہہ کر چلی گئ بجائے اسکے اس سے لڑتی کپ توڑ دیا اس نے اب شائد گلاس توڑ دے گی زیادہ سے زیادہ۔۔ 

    الف نے معصومیت سے تجزیہ کیا۔  

    فاطمہ اسے گھور کر رہ گئ۔۔ 

    تو آخری فیصلہ تم دونوں کا؟۔۔ فاطمہ نے کھڑے ہوتے ہو ئے پوچھا۔۔ 

    ہاں ۔۔ 

    اگر جائوں گی تو عبایا میں جائوں گی ورنہ نہیں جائوں گی۔۔ 

    عزہ نے ضدی پن سے کہا۔۔  تبھی تھکی تھکی سی عروج کمرے میں داخل ہوئی۔۔ 

    اسلام علیکم ۔۔ ماسک نیچے کرتے ہوئے اس نے تھکے تھکے انداز میں ہی سلام کیا۔۔ 

    یار عروج بھی تو ہے۔

    فاطمہ کو دلیل سوجھی۔  

    اوور آل کوٹ گلابی حجاب اور میڈیکل ماسک۔ ایکدم سے تو آئوٹ اینڈ آڈ نہیں لگنے لگتی یہ۔۔ ؟۔۔ 

    فاطمہ نے کہا تو چاروں عروج کو ہی دیکھنے لگیں

    اتنا کچھ کرکے بھی لگتی ہوں آج بھی ایک امریکی مریض مجھ سے ڈر گیا مسلم ہو؟۔۔ عروج پہلے ہی بھری بیٹھی تھی تپ کر بولی۔۔ 

    کھانا کھانے گئ تو جہاں جا کر بیٹھ رہی تھی لوگ اٹھ اٹھ کر چلے جاتے وہاں سے۔۔ 

    اس سے تو بہتر تھا عبایا ہی کرتی رہتی روز کپڑے تو استری نہ کرنے پڑتے۔۔ 

    اوور آل کوٹ اتارتی وہ ساری بھڑاس نکال رہی تھی۔۔ 

    آج کا دن ہی برا ہے۔۔ فاطمہ سر پکڑ کر رہ گئ۔۔ 

    اف آپریشن کر کے آئی ہوں اس امریکی کو ہی اسٹروک پڑ رہے تھے ۔۔ مجھ سے علاج کروانے کو تیار نہ تھا خدا کا کرنا ایسا ہوا اسٹروک پڑ رہے تھے اسے فوری آپریشن کرنا پڑا ایمرجنسی میں میں نے ہی اسسسٹ کیا ڈاکٹر یانگ جو جو۔  بڑا مزا آیا۔۔ 

    عروج پر جوش ہوئی۔۔ 

    مریض کو تکلیف میں دیکھ کر۔۔ ؟۔ الف حیران ہوئی۔ 

    ارے نہیں پاگل آپریشن ہوتے دیکھ کر ۔۔ سب کچھ جو بس کتابوں میں پڑھا تھا اسے حقیقت میں سامنے ہوتے دیکھنا اتنا مزے کا تجربہ تھا اتنا کچھ سیکھا میں نے۔۔ 

    بولتے بولتے تالی کی طرح دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر وہ بہت خوش ہوئی۔۔ تھی۔۔ آنکھیں میچ کر جھوم کر جب آنکھیں کھولیں تو کسی کو اپنی جانب متوجہ نہ پایا۔۔ اسکی میڈیکل ٹرمز والی تفصیل سننے میں کسی کو دلچسپی نہ تھئ۔۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھیں۔۔

    الف دوبارہ ایک ایک جوڑا واپس ڈال رہی تھی نور عبایا استری کرکے کونےکھونٹی میں لٹکا کر اب اپنا جوڑا استری کرنے لگی تھی

    عزہ موبائل میں لگی تھی فاطمہ جانے کیوں چپکے دے کھونٹی کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی عروج نے تاسف سے ان کو دیکھا۔۔ 

    مجھ سے سیکھنے والی ہوتیں تو آدھی ڈاکٹرنیاں بن چکی ہوتیں میرے ساتھ صحیح ہے  چراغ تلے اندھیرا۔۔ 

    وہ کندھے اچکاتی اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اسٹر لائزر کی بوتل اٹھا کر باتھ روم۔میں گھس گئ۔۔ باتھ روم کا دروازہ بند ہوتے ہی نور کی بے نیازی ختم ہوئی تھی۔۔ دزدیدہ نظروں دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ وہ اسکے اگلے ردعمل کا انتظار کر رہی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابیہا اور واعظہ ہفتہ وار سودا سلف لینے قریبی سپر مارکیٹ آئی تھیں۔۔ ٹرالی گھسیٹتے ایک ایک چیز اٹھاتے ہوئے اسکے اجزا پڑھ پڑھ کر ٹرالی میں رکھ رہی تھیں۔۔ 

    حلال میٹ کے ٹیگ کے ساتھ گوشت کا پیکٹ اٹھاتے واعظہ شکایتی انداز میں ابیہا کو دوپہر میں گزری واردات بتا رہی تھی

    یار عزہ خود کو سمجھتی کیا ہے عبایا کرتی ہے تو کیا اچھی مسلمان ہے؟ مجھے کہتی میں انڈین لگتی کیونکہ میں عبایا نہیں کرتی یہ کیا بات ہوئی میں عبایا نہیں کرتی تو کیا مسلمان نہیں رہی؟

    عبایا نہ کرنے والے انڈین لگتے ؟ یہ بات مجھےآج پتہ چلی ہا ہا ہا۔۔

    ابیہا کھل کر ہنسی تھئ۔۔ 

    واعظہ اسکے ردعمل پر اسے گھور کر ہی رہ گئ۔۔ 

    یار پھر تو میں بھی انڈین ہوں۔۔ 

    وہ لمبا سا پیچ کلرکا  شرگ عبایا کی جگہ پہنے تھی پرنٹڈ نارنجی گلابی پھولوں والا حجاب لیکر اس نے ماسک پہن رکھا تھا کافی کول سی لگ رہی تھی ابھی بھی مزے سے شرگ کا دامن پکڑ کر گول گھوم کر اسے دکھایا۔۔

    ابیہا زہر عورت ہو تم۔۔ 

    واعظہ اسکی پرفارمنس دیکھ کر طنز سے تالی بجاتی اسے گھور کر ٹرالی آگے بڑھا لے گئ تو ابیہا سٹپٹا کر پیچھے بھاگی۔۔

    ارے سنو تو۔۔ پتہ ہے جب میں میٹرک میں تھی نا تب جو گائون بنایا تھا نا میں نے وہ کوٹ جیسا تھا یہ بڑی بڑی جیبیں تھیں۔۔ 

    اس نے ہاتھ پھیلا کر کچھ زیادہ ہی بڑی بڑی جیبوں کا اشارہ کیا۔۔ واعظہ رک کر دیکھنے لگی۔۔

    تو؟۔۔ 

    یاد ہے اسری وغیرہ مجھے تنگ کرتی تھیں بات کرتے کرتے جیب مین ہاتھ ڈال۔لیتی تھیں سخت برا لگتا تھا مجھے کتنی لڑائی ہوئی ہے ہماری اس بات پر۔۔ تم سمیت ان میں سے کوئی بھی گائون نہیں لیتی تھی۔۔ 

    تو یہ بات کہاں سے یاد آگئ؟۔۔ 

    واعظہ حیران ہوئی۔۔ 

    وہ تم نے ابھی گائون والی بات کی نا تو۔۔اس پر۔۔ اب تم مجھے بتا رہی تھیں عزہ سے لڑائی ہوئی تو میں جانتی تو ہو ایسا ہی ہوتا میرے ساتھ ایکدم خالی کچھ آیا ہی نہیں زہن میں کیا بولوں تو یہ بول دیا۔ 

    ابیہا معصومیت سے کہہ رہی تھی۔۔ 

    واعظہ کو اسکے انداز پر ہنسی ہی آگئ۔۔ 

    اسے ہنستے دیکھ کر ابیہا کی بھی جان میں جان آئی چپ ساتھ چل رہی تھی اسکے بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کی بات کیا بری لگی تھی۔۔ 

    ابیہا تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ واعظہ ہنستے ہنستے بولی۔  

    یار ایویں برا مانا تم نے تم اور انڈین۔؟ کسی عقل کے اندھے کو ہی انڈین لگ سکتی ہو۔۔ دودھ جیسا تو رنگ ہے تمہارا اتنی گوری آج تک میں نے کوئی انڈین لڑکی نہیں دیکھی۔۔ 

    ابیہا اسکے کندھے پر جھول ہی گئ۔  واعظہ کا موڈ ٹھیک ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی نے انہیں پکار لیا۔۔ 

    آپ انڈین ہیں نا ؟۔۔ پلیز میری مدد کیجئے گا ۔۔ 

    دونوں چونک کر مڑی تھیں۔۔ 

    وہ دبلی پتلی سی پرنٹڈ شلوار قمیض میں ملبوس بڑی سی چادر سر تک اوڑے گلابی رنگت والی لڑکی چھوٹے سے بچے کو گود میں لیئے جھجکتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔۔

    جی۔۔ دونوں کے منہ سے مری مری سی آواز نکلی تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔

    وہ مجھے حلال ہی سب چیزیں لینی تھیں انکے اجزا ء سب کورین میں ہی لکھے ہوئے تو مجھے سمجھ نہ آرہے تھے۔۔ آپ دونوں کا بہت شکریہ آپکی وجہ سے میں ساری شاپنگ آرام سے کر سکی۔۔ 

    تینوں کائونٹر پر اپنا سامان رکھ کر بل بنوا رہی تھیں جب طوبی نے مڑ کر انکا شکریہ ادا کیا۔۔ اسکا بیٹا اب بے چین ہو کر ہمک رہا تھا۔۔ اسکو تھپکتی نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے طوبی واقعی احسان مند تھئ۔۔ 

    جی۔۔ 

    اسکے پیارے سے دو ڈھائی سال کے بیٹے کو چمکارتی ابیہا ٹھٹکی تھی تو کریڈٹ کارڈ سیلز گرل کو تھماتی واعظہ بھی ٹھٹکی۔۔ دونوں نے باقاعدہ مڑ کر ایک دوسرے کو دیکھا پھر اپنی خریداری کی بھری ہوئئ ٹرالی کو۔۔ 

    اب ہم غیر مسلم ملک میں ہیں یہ لوگ تو حلال حرام نہیں دیکھتے جانوروں کے اجزا ء بکثرت استعمال کرتے ہیں صابن ٹوتھ پیسٹ وغیرہ میں اب ہم تو نہیں ایسی چیزیں استعمال کر سکتے۔۔ میں وہاں موجود لڑکی سے یہی پوچھ رہی تھی کہ اس میں جانوروں کے اجزا ء شامل تو نہیں مگر عجیب جاہل لوگ ہیں یہاں کے کسی کو انگریزی ہی نہیں آتی۔۔ طوبی چڑ کر سیلز گرل کو گھورنے لگی۔۔ 

    بس جھک جھک کر پتہ نہیں کیا کہے جا رہی تھی

    خیر شکر ہے کوئی ہم زبان ملا ایک ہفتے سے تو حقیقتا منہ بند کر کے وقت گزر رہا میرا 

    جی۔۔ ۔ابیہا اور واعظہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔ 

    گومو ویو۔۔ 

    سیلز گرل نے انکا سامان شاپر میں ڈال کر تھمایا اور پھر جھک کر بولی۔  

    دیکھا یہ کیئے جا رہی بس۔۔ ایک دو بار تو میں جھکی مگر بچے کے ساتھ جھکنا آسان ہے بھلا۔۔ 

    طوبی نے فورا نوٹ کیا باقاعدہ اشارہ کرکے بتایا۔۔ سیلز گرل کا رنگ فق ہو گیا۔۔ 

    دے؟۔۔ وہ جواب طلب نظروں سے انہین دیکھنے لگی۔۔ 

    تعریف کر رہی ہیں آپکی۔۔ 

    سٹپٹا کر ابیہا نے ایک سال میں جتنی ٹوٹی پھوٹی ہنگل سیکھی جھاڑ دی۔۔ گومو وویو۔۔ 

    سیلز گرل کی رنگت بحال ہوئی واعظہ مسکراہٹ دباتی شاپر اٹھانے لگی۔۔  

    طوبی منہ بنا کر اپنا سامان کائونٹر پر رکھنے لگی۔۔ 

    آپ سے مل کر خوشی ہوئی خدا حافظ۔۔ 

    شاپر اٹھا کر ابیہا نے الوداعی کلمات ادا کرنے چاہے مگر طوبی مکمل طور پر سیلز گرل کی جانب متوجہ ہو گئ تھی۔۔ انکی جانب پشت کرکے وہ ٹرالی سے سامان اٹھا اٹھا کر کائونٹر پر دھر رہی تھی۔۔ 

    چلو۔۔ واعظہ نے بازو پکڑ کر اسے گھمایا۔۔ دونوں ہنستی ہوئی باہر نکل آئیں۔۔ شام کے ساڑھے سات ہو رہے تھے۔۔ آسمان  پر اندھیرا چھا رہا تھا تو سیول روشنیوں سے جگمگا اٹھا تھا۔ یہ انکے گھر کے قریب ترین مارکیٹ تھی تو بھی دس منٹ کا پیدل کا راستہ تھا۔ ابیہا کا بس چلتا تویہاں بھی بس سے یا ٹیکسی کرکے آتی مگر واعظہ ساتھ ہوتی تو اسے اتنا تو  چلا ہی لیتی تھی۔  ابھی بھی انصاف سے سامان آدھے آدھے وزن کے ساتھ بانٹے ایک ہاتھ میں ایک ایک شاپر تھامے ایک ایک ہاتھ سکھی سہیلیوں کی طرح حمائل کیئے دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہی تھیں۔۔ 

    مارکیٹ میں لوگوں کا رش تو نہیں تھا مگر پھر بھی اپنے کام سے کام رکھتے لوگ آ جا رہے تھے۔۔ کسی کو کسی سے سروکار نہیں نہ دو لڑکیاں شپنگ بیگ تھامے انکیلئے کوئی انوکھا نظارہ تھیں کہ مڑ کر دیکھتے یا جملہ چست کر جاتے۔۔شرمندگئ کی بات تھی مگر پاکستان سے زیادہ آسانی اور آزادی کے ساتھ وہ پھر رہی تھیں۔۔ 

    یار ویسے ہمارے ساتھ بھی یہی ہوتا تھا ایک سال پہلے ککھ سمجھ نہ ہمیں انکی آتی تھی نہ انہیں ہماری۔۔ ساتھ سے گزرتی چندی آنکھوں والی آنٹی کو تھکے تھکے قدم اٹھاتے بس اسٹاپ کی طرف بڑھتے دیکھتی ابیہا کو خیال آیا۔۔

    اب کونسا ہم ہنگل کے ماہر ہو چکے ہیں۔۔ واعظہ ہنسی

    ہاں ابھی بھی سمجھ ومجھ خاک پتھر ہی آتی ہے ہمیں۔۔ ابیہا نے تائید کی۔۔

    یار ویسے لڑکی پیاری تھی گوری سی بچہ تو اسکا لگ ہی نہیں رہا تھا۔۔

    ابیہا نے کہا تو واعظہ حیران رہ گئ۔

    کیوں بچہ بھی اچھا خاصا گورا سا پیارا سا ہی تھا۔۔ 

    واعظہ کے کہنے پر ابیہا سر پیٹنے والے انداز میں بولی

    میرا مطلب چھوٹئ سی لگ رہی تھی شادی شدہ نہیں لگ رہی تھی۔۔ 

    ہو سکتا ہے خالہ والہ ہو اس بچے کی ضروری تو نہیں ماں ہی گود میں لیکر پھرے بس۔۔ میں نہیں خاور بھائی کے بچوں کو شاپنگ پر لے کر جاتی۔۔ 

    واعظہ کی اپنی منطق ہوتی تھی۔۔ 

    اف۔۔ ابیہا نے سر ہی پکڑ لیا۔۔ 

    یار ویسے ایک بات ہے۔ واعظہ کے دماغ کی گھنٹی بجی۔  

    ہم نے کبھی اجزا دیکھ کر شاپنگ نہیں کی کیا پتہ ہم بھی جانوروں کےاجزا سے بنا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے رہے ہوں اور صابن۔۔ اور ہم نے تو اس لڑکی کو بھی بس اسکی لسٹ میں موجود چیزیں ٹرالی میں بھر دی تھیں۔ اجزا تو نہیں دیکھے تھے۔۔ 

    واعظہ نے کہا تو ابیہا کے زہن میں وہ۔منظر تازہ ہو گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دونوں ٹرالی گھسیٹتی اسکے پاس ہی چلی آئیں۔۔ 

    جی کہیئے۔۔ واعظہ نے خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا تھا 

    اسلام و علیکم۔۔ 

    اس نے بڑے تپاک سے سلام۔کیا ۔۔ 

    وعلیکم السلام۔۔ دونوں نے کورس میں ہی جواب دیا تھا

    وہ میں خریداری کرنا چاہ رہی تھی۔۔ ۔۔ 

    اس نے اپنے  بے چین فطرت بیٹے کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کرتے ہوئے معزرت خواہانہ انداز سے کہا 

    حلال چیزیں درکار ہیں مجھے ۔ آپکو اسکارف پہنے دیکھا تو سوچا آپ سے مدد لے لوں۔۔ 

    واعظہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔۔ 

    جی کیوں نہیں حلال گوشت آپکو اسک کونے سے ملے گا۔۔ 

    ابیہا نے اشارے سے گوشت والے حصے کا بتایا۔۔

    اچھا۔۔ طوبی تھوڑی سی مایوس ہوئی تھی۔۔کافی بڑا اسٹور تھا اور گوشت والا حصہ بالکل ایک کونے پر اور وہ لوگ بیچ میں کھڑی تھیں۔تبھئ 

    بچے نے اچانک ہی زور دار چیخ مار کر رونا شروع کر دیا تھا۔

    آلے آلے۔۔ وہ اسے تھپک تھپک کر بہلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ مگر بچے کی آواز بلند سے بلند ہوتی جا رہی تھئ۔۔ 

    دھان پان سی لڑکی گپلو سا بچہ گود میں لیئے شاپنگ کم کر رہی تھی ہلکان زیادہ ہو رہی تھی

    واعظہ کو ترس ہی آگیا۔۔

    لائیں لسٹ ہم آپکی بھی چیزیں لے لیتے ہیں۔۔ 

    اس نے آگے بڑھ کر اسکی ٹرالی تھام لی تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م

    میں تو یہی سمجھی تھی کہ بچے کی وجہ سے پریشان ہے سو اسکی لسٹ کے مطابق چیزیں جمع کردیں ٹرالی میں حلال کے ٹیگ والا گوشت بھی لیا مجھے کیا پتہ تھا اسے ٹوتھ پیسٹ تک حلال ہی چاہیئے تھا۔۔ہم نے تو کبھی خود اپنی شاپنگ ایک ایک چیز کے اجزا ء پڑھ کے نہیں کی۔۔ ویسے انگلش میں بھی لکھے ہوتے ہیں اجزا۔۔ دیکھ لے گی گھر جا کر ۔۔ یہاں تو بچے کی وجہ سے شائد گھبرا گئ ہوگی

    واعظہ کی بات میں د م تھا ۔

    ہمیں بھی ویسے دیکھنا چاہیئے تھا۔۔ اسکی چیزوں میں بھی اور اپنی چیزوں میں بھی کہ حلال اجزا ہیں کہ نہیں۔۔ 

    ابیہا نے کہا تو واعظہ چڑی

    اب ہم۔لے چکے چیزیں واپس تھوڑی ہوںگی۔۔

    پھر بھی ہم استعمال تو نہیں کریں نا ۔۔ 

    ابیہا کی بھی بات میں وزن تھا۔۔

    ٹھیک ہے یہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ایک ایک چیز نکال کر اسکے اجزا پڑھتے ہیں جو جو چیز حرام نکلے گی کسی ہوم لیس کے آگے رکھ کر ہاتھ جھاڑتے گھر چلیں گے ٹھیک۔۔ 

    واعظہ نے کہا تو ابیہا ہنس پڑی۔۔ 

    اب یہاں سڑ ک پر تھوڑئ بیٹھ سکتے ہم۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    گنگنم اسکوائر کو جانے والی بس نمبر پچیس بس اسٹاپ پر آکر رکی تھی۔۔ 

    چندی آنکھوں والے بس اسٹاپ پر انتظار کرتے مسافرمرد و عورتیں  بس میں سوار ہوتے ہوئے بھی مڑ مڑ کر بس اسٹاپ پر موجود بنچ پر بیٹھی دو غیر ملکی نقوش کی لڑکیوں دیکھ رہےتھے۔۔ اسلیئے نہیں کہ وہ غیر ملکی تھیں، اسلیئے بھی نہیں کہ وہ لڑکیاں تھیں۔۔ بلکہ اسلیئے کہ دونوں پیروں میں شاپنگ بیگ رکھے اپنی خریدی گئ ایک ایک چیزکو باہر نکال کراس کا ریپر پڑھ رہی تھیں بنچ کے  ایک جانب ڈھیر لگا ہوا تھا مسترد کی گئ اشیا کا جن میں ٹوتھ پیسٹ صابن شیمپو تک شامل تھا غیر مسترد کی گئی اشیا میں بس انڈے اور دودھ سے بنی چیزیں تھیں یا کچھ سبزیاں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا دس بج رہے ہیں؟۔۔ سات بجے کی گئ ہوئی ہو تم دونوں کہاں رہ گئ تھیں؟ 

    دروازہ کھولتے ہی ابیہا کی امی چلائی تھیں۔۔

    وہ میں۔۔۔ ابیہا گڑ بڑا اٹھئ۔۔ 

    آوارہ گردی کر رہے تھے ہم دیر تو لگنی ہی تھی۔۔ 

    واعظہ تھکے تھکے انداز میں فاطمہ کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ ابیہا نے دز دیدہ نظروں سے دیکھا تو امی کا ہیولہ فاطمہ کا روپ دھار چکا تھا۔۔

    اف ۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔ 

    واعظہ لائونج میں کارپٹ پر سامان ڈھیر کرتی بمشکل د ولوگوں کے بیٹھنے کے قابل چھوٹے سے کائوچ پر جا گری تھی۔۔ آج تو چل چل کر حالت بری ہو گئ تھی۔۔ سر کےنیچے کشن گھساتی وہ کنپٹی مسل رہی تھی۔۔ 

    ابیہا کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی تھی مگر ہمت کر کے کچن سے پانی کی بوتل اور گلاس اٹھا لائی بھر کر واعظہ کو تھمایا۔۔ غٹا غٹ چڑھا کر واعظہ کے حواس بحال ہوئے۔۔ فاطمہ وہیں قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر انکی لائی چیزیں دیکھنے لگی۔۔ 

    میرا فیس واش لائی ہو۔۔ وہ شاپر کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔۔ ابیہا اور واعظہ نظر چرا گئیں۔۔ 

    سب سو گئیں۔۔ 

    واعظہ نے گھر میں پھیلی غیر معمولی خاموشی محسوس کر کے حیرانی سے پوچھا۔۔ 

    فاطمہ شاپر خالی کر چکی تھی اب تسلی کیلئے دوبارہ ہر چیز الٹ پلٹ کر رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ جواب بھی دے رہی تھی۔۔ 

    ہاں کھانا کھا کر سب لیٹ گئیں عروج تو تھکی ہوئی بہت ہوتی عزہ منہ تک چادر لپیٹے ہے دوپہر سےکھانا کھانے اٹھی تھی بس۔  الف کہہ رہی تھی مجھے کل نہیں جانا کہیں سو مجھے صبح نہ اٹھانا اور نور۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چھوٹے سے کمرے میں ایک ڈبل بیڈ ایک سنگل بیڈ بچھنے کے بعد بس چلنے پھرنے کی ہی جگہ بچی تھی۔۔ ڈبل بیڈ پر الف اور عروج بے خبر سو رہی تھیں عزہ کا بیڈ الگ تھا مگر وہ بھی سر تک چادر تانے بے خبر تھی۔۔ انکے پیتھیانے زمین پر فلور کشن پر آلتی پالتی مارے کمبل گرد تانے نور بیٹھی تھی۔۔ سامنے کوریائی طرز کی زمین سے بس تھوڑی سی اونچی پیڑھی نما میز دھری تھی عموما اس میز پر کھانا چن کر کوریائی بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں مگر یہاں یہ لیپ ٹاپ کی آرام گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔  سو لیپ ٹاپ چین سے اس پر دھرا نور کی جانب ہمہ تن گوش تھا۔۔ اسکرین پر عجیب و غریب لکیریں اور نقطے چل رہے تھے

    ملگجے اندھیرے میں لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نکلتی نیلگوں روشنی میں نور کا چہرہ دبے دبے جوش کو چھپانے کی کوشش میں سرخ ہوتا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔

    جانے کیا کامیابی ملی تھی خوش ہو کر اسے زور سے تالی بجا بیٹھی خاصی اونچی آواز میں 

    یس۔۔۔۔۔  بھی کہہ دیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    یس کی آواز باہر تک آئی تھی۔

    پتہ لگ گیا مجھے کوئی نیا پنگا کر رہی ہے بیٹھی ہوئی۔۔ 

    واعظہ سر ہلاتی اٹھ بیٹھی۔۔ 

    اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ 

    ابیہا متفق تھی۔۔ 

    میرے فیس واش کا کیا ہوا تم لوگ نہیں لائیں؟۔۔ 

    فاطمہ کو آخر اس تلخ حقیقت کو ماننا ہی پڑا کہ دو بار بھی دونوں شاپر خالی کر کے بھر کے بھی اسکا فیس واش نہیں نکلا ہے تو اسکا مطلب سادہ سا ہے نہیں آیا۔  

    نہیں ملا؟۔۔ 

    فاطمہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھئ۔۔ 

    نہیں ملا تو۔۔ 

    ابیہا نے چور نظروں سے واعظہ کو دیکھا۔۔ 

    پھر لیا کیوں نہیں پیسے نہیں بچے تھے؟۔۔ 

    فاطمہ بےتاب ہوئی

    نہیں پیسے تو تھے خریدا بھی۔۔ 

    واعظہ نے کہتے ہوئے مدد طلب نظروں سے ابیہا کو دیکھا وہ دانستہ نظر چراتی پانی کی بوتل اٹھاتی کچن کی طرف بڑھ گئ۔۔ 

    پھر کہاں گیا؟۔۔ 

    فاطمہ زچ ہو گئ۔۔ 

    اس نے کہا کسی غریب کو دے دیتے ہیں تو ہم انہیں  پل کے نیچے رہنے والے بے گھر افراد کو دے آئے۔۔ 

    واعظہ نے ہاتھ سے ابیہا کی جانب  اشارا کر کے ہمت کرکے کہہ دیا۔۔ 

    فریج کھول کر بوتل رکھتئ ابیہا سنٹ ہو کر بند کرنا بھول۔گئ۔۔ کہا تو اسی نے تھا مگر۔۔ 

    کیا کیوں؟ اور فیس واش کون دیتا ہے چیریٹی میں؟ وہ بھی میرادے دیا۔۔ اگر دینا تھا تو اپنا دیتیں۔۔ 

    فاطمہ ابیہا کی جانب گھوم گئ۔۔ 

    وہ اپنا بھی دیا ہے۔۔ ابیہا گڑبڑائی۔۔ 

    میرا بھی اور عروج اور نور کی نائیٹ کریم لوشن سب۔۔ ماسک بھی دے آئے ۔۔۔ کتنے یوآن کا بل تھا ۔۔ 

    واعظہ نے دماغ پر زور ڈالا 

    میں نے بل کی رسید  بھی چیریٹی میں دے دی نہ دیکھوں گی نا ہی پریشانی ہوگی خوامخواہ ۔ 

    واعظہ نے ہاتھ جھاڑے۔۔

    یہ ہو کیا رہا ہے۔۔چیریٹی کی کیوں سوجھی؟ بےگھر افراد کو کھانے پینے کی چیز دی جاتی فیس واش صابن تھوڑی۔۔  فاطمہ نے کہا تو ابیہا کو غلط موقع پر صحیح بات سوجھی

    یار ویسے یہ سب چیزیں بھی دینی چاہیئیں ۔۔ بنیادی ضروریات ہیں یہ انکو بھی منہ ہاتھ دھونا ہوتا ہوگا نہانا وغیرہ کیا کرتے ہونگے؟۔۔ 

    ابیہا نے کہا تو واعظہ کو اپنے کریڈٹ کارڈ کا غم زائل ہوتا محسوس ہوا۔۔

    یہ تو صحیح کہہ رہی ہو۔۔ کتنا خو ش ہو گئے تھے چیزیں لیکر وہ لوگ۔۔ ۔واعظہ نے کہا تو ابیہا بھی ہاں میں ہاں ملانے لگی۔۔ ان دو بے وقوفوں میں فاطمہ کو اپنا آپ احمق لگنے لگا تھا۔  

    اچانک  تم لوگوں میں حاتم طائی کی روح حلول کر گئ یے  کیا؟ 

    فاطمہ روہانسی ہو چلی۔ تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نور فاطمہ ابیہا اور واعظہ  نورکی ہر فن مولا میز پر آلو کی ترکاری کا ڈونگہ رکھے ساتھ روٹیوں کی چنگیر رکھے کارپٹ پر آلتی پالتی مارے  بیٹھی تھیں۔۔ 

    جب ہم پاکستان میں ہوتے تھے تو طشتری میں کھانا رکھ کر کھاتے تھے۔۔ 

    اتنی گاڑی اردو میں طنز یقینا واعظہ ہی کر سکتی تھی۔۔۔ ابیہا نے جھٹ پاس سے موبائل۔اٹھا کر نوٹس کاآپشن کھول کر ٹائپ کیا۔۔

    ت شین۔۔ ت ر ی۔۔ 

    وہ حسب عادت بول۔کر ہجے کر رہی تھی۔۔ 

    ط سے ہوتا طشتری۔۔ واعظہ نے ہونٹ بھینچ کر تصحیح کی۔۔ 

    اوہ اچھا۔۔ شکریہ۔۔ ابیہا شکر گزار تھی جھٹ ت کاٹ ط لکھا۔۔ 

    مطلب؟۔ ابیہا نے کہا تو واعظہ والے تاثرات فاطمہ کے چہرے پر بھی آ سجے۔۔ 

    بہن کھانے کی میز پر پلیٹیں  ہی نہیں ہیں۔ یقینا پلیٹ کو ہی کہتےہیں طشتری۔۔ ابیہا کی آنکھوں میں جھانک کر وضاحت کی تو ابیہا بھی چونکی۔۔ میز پر ڈونگہ تھا روٹیوں کو کپڑے میں لپیٹ کر بڑے سے چھنے میں رکھا گیا تھا پانی کی بوتل اور ایک۔گلاس بھی قریب ہی کہیں تھا نہیں تھیں تو پلیٹیں نہیں تھیں۔۔ 

    ۔۔ نور بی بی۔۔ پلیٹیں کہاں ہیں؟۔۔ 

    یہ ابیہا نے ہی پوچھا تھا۔۔ 

    نور نے اطمینان سے روٹی نکال کر ڈونگے میں ہاتھ ڈال کر نوالہ بنایا 

    وہ باقی سب تو کھا چکی ہیں ہم چاروں ہی ہیں ترکاری بھی تھوڑی سی ہی ہے پلیٹ کی کیا ضرورت اسی سے نوالے بنا لو ویسے بھی مل بانٹ کر کھانے سے محبت بڑھتی ہے۔  

    پوری تقریر جھاڑ کر اس نے نوالہ منہ میں رکھ لیا۔۔ تینوں اسے ایک ٹک گھور رہی تھیں۔۔ 

    یار کھا لو نا ایسے ہی۔۔ 

    نور کے چہرے پر مسکینی چھائی۔۔ 

    روٹیاں میں نے ڈالی ہیں ترکاری تم نے بنائی ابیہا نے کل برتن دھوئے تھے تو آج ۔۔۔۔ واعظہ پر سوچ انداز میں کہتی باری باری سب کی شکل دیکھ رہی تھی۔۔ سب نے اپنے مقررہ کام کیئے ہوئے تھے تو۔۔ 

    برتن دھونے کی باری نور کی ہے جبھی۔۔ 

    یہ جملہ تینوں اکٹھے بولی تھیں۔۔ 

    نور کھسیا کر ہنسی۔۔ 

    کتنی تیز ہے یہ۔۔ ابیہا کو رشک بھی آیا۔۔

    کل اتنا ڈھیر برتنوں کا دھویا تھا میں نے مجھے نہ ایسا کوئی خیال آیا۔۔ 

    ابیہا کو نیا دکھ لگ گیا۔۔ 

    خبر دار جو اس سے کوئی سبق سیکھا۔۔ ایک ہی بہت ہے کافی ہے ہمارے لیئے۔۔

    فاطمہ نے حقیقتا ہاتھ جوڑے ۔مجال ہے جو نور نے کوئی اثر لیا ہو مزے سے نوالے بنا رہی تھی۔۔

    کھائو تم لوگ بھی ٹھنڈا ہو رہا کھانا۔۔ 

    اف فکر بھی تھی نا معصوم بچی ۔۔ 

    اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹاتی دنیا جہا ں کی معصومیت ٹپکا رہی تھی۔۔ 

    میں پلیٹیں لاتی ہوں۔۔ فاطمہ کہہ کر اٹھنے لگی تو واعظہ نے ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔ 

    چھوڑو ایسے ہی کھا لو واقعی ٹھنڈا ہو رہا کھانا۔۔ 

     گہری سانس لیتی تینوں بھی خدا کا نام لیکر شروع ہو گئیں۔۔ 

    ہاں الف کیوں کہہ رہی تھی میں نہیں جا رہی مجھے مت اٹھانا۔۔ اسے کیا ہوا۔؟ 

    واعظہ نے پوچھا تو فاطمہ ہنسی

    اسکو قلق ہے کہ نیا اسکے پاس کوئی جوڑا نہیں جو شاپنگ اس نے کی اسے وہ پہن نہیں سکتی سو وہ نہیں جا رہی۔۔ فاطمہ نے کہا تو واعظہ نے لاپروائی سے کہا 

     صبح سب سے پہلے وہی تیار ہوگی دیکھنا۔۔۔

    صبح کتنے بجے اٹھنا ہے؟۔ فاطمہ نے پوچھا تھا ۔ 

    سات بجے تک نکلنا ہے۔۔ واعظہ نے کہا تو تینوں ہاتھ روک کر اسکے چہرے پر مزاق کی رمق تلاشنے لگیں۔۔ 

    سنجیدہ ہوں واقعی صبح جلدی اٹھنا ہے۔۔ 

    واعظہ کو سر اٹھائے بغیر بھی انکی نظریں اپنے چہرے پر مرکوز محسوس ہو گئ تھیں۔۔

    مگر کیوں۔۔ اتنی صبح کیوں۔۔ 

    نور نے احتجاج کیا۔۔ 

    اعتراض فاطمہ کو بھی تھا مگر واعظہ نے کہا ہےتو کسی وجہ سے ہی کہا ہوگا سوچ کر چپ رہی

    کیونکہ میں کہہ رہی۔۔ واعظہ نے اطمینان سے کہا۔  

    نور کو اسکا یہ انداز چڑاتا تھا۔۔ ایکدم سرد میں جو کہہ رہی کرو۔۔ جیسا۔۔

    آئی بڑی اماں۔۔ اس نے دل میں ہی سوچا پھر اٹھ کھڑی ہوئی

    خیر جب بھی جانا ہو ایک بات بتا دوں عبایا پہن کر جائوں گی میں۔۔ نقاب بھی کروں گی پھر چاہے کسی کی ناک کٹے شان گھٹے۔۔ اور میں عزہ بھی نہیں کہ گھر بیٹھ جائوں میں نہیں جائوں گی تو کسی کو جانے بھی نہیں دوں گی سمجھیں۔۔۔ تو مجھے کوئی رعب نہ دے کہ جو میں کہہ رہی وہی ہوگا۔۔ بلکہ جو میں کہوں گی وہ ہوگا۔  

    وہ ہاتھ اٹھا کر کہتی سیدھا سیدھا دھمکا رہی تھی۔۔ 

    فاطمہ اور ابیہا حق دق اسکی شکل دیکھ رہی تھیں

    اسے کیا ہوا بیٹھے بٹھائے ۔۔ 

    واعظہ نے اطمینان سے اپنی روٹی ختم کی ہاتھ بڑھا کر کائوچ کے پاس رکھی تپائیپر رکھے ٹشو پیپر باکس سے ٹشو اٹھائے اور ہاتھ پونچھتی اٹھ کر نور کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔ 

    ابیہا اور فاطمہ چوتھی جنگ عظیم کی تیاری ہوتے دیکھ کر بھونچکا تھیں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ واعظہ سنو۔۔ 

    نور اسے جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی

    کل کون کہاں کیسے کس حلیئے میں جائے گا کل دیکھیں گے۔۔۔۔ 

    واعظہ اطمینان سے کہتے مسکرائی۔۔ اسکے کندھے پر بازو دراز کیا اور سیدھا شکنجے مین  گردن میں جکڑ کر جھکا لیا۔۔نور وہیں سارا ڈرامہ بھول گئ۔۔ واعظہ نے بات جاری رکھی 

     ابھی فی الحال کچن میں سنک پر جو برتن پڑے ہوئے انہیں دھو اور کم از کم میرے ساتھ یہ چالاکیاں مت مارا کرو بہت اچھی طرح جانتی ہوں تمہیں۔۔ جتنا مرضی لڑ لو کام کرنا ہی پڑے گا ؟ کام سے بھاگ رہی تھیں نا تم۔۔ 

    خود کو چھڑاتی نور اب کھلکھلا رہی تھی۔۔ 

    ارے بابا چھوڑو مزاق کر رہی تھی نا ابھی دھوئوں گی میں برتن اور کون دھوئے گا۔۔ 

    وہ پھڑ پھڑا رہی تھی مگر واعظہ کا ابھی چھوڑنے کا ارادہ نہیں تھا ابیہا اور فاطمہ انکے جنگ و جدل پر اطمینان کا سانس لیتی برتن سمیٹنے لگیں

    چائے بنا رہی ہوں  پیو گی؟۔۔ ابیہا نے پوچھا تو واعظہ نور کر چھوڑتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔ 

    نور گردن سہلاتی بڑبڑا ئی

    رہنے دو نا چائے پھر چار کپ جمع ہو جائیں گے۔۔ 

    آواز دھیمی تھی مگر اتنی ضرور تھی کہ تینوں سن لیں تینوں نے گھورا تو ڈھٹائی سے ہنس کر بولی

    میرا مطلب چار کپ ہونگے نا میں بھی توپیوںگی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چھے بجے کا الارم بجا تو ابیہا کو ایسا لگا جیسے ابھی آنکھ بند ہوئی تھی اور الارم بج اٹھا۔۔ 

    کسمسا کر موبائل اٹھا کر بند کیا ۔۔ فاطمہ بے خبر سوئی ہوئی تھئ۔۔ اسکی نیند پر رشک کرتی اٹھ بیٹھی۔۔ وہ اور فاطمہ ڈبل بیڈ پر سوتی تھیں۔ واعظہ کا ایک طرف سنگل بیڈ ڈالا ہوا تھا جس اس وقت خالی تھا۔۔ 

    اس نے چونک کر کمرے میں ڈھونڈا کمرے میں بھی نہیں تھی۔۔ 

    وہ کمبل ایک۔طرف کرتی اٹھی تو سرد ہوا سے کپکپا سے گئ۔۔ 

    یہ مئی چل رہا ہے یہاں۔۔ اس نے بےزاری سے سوچا ۔۔ 

    وہ سویٹ پینٹ( پسینہ آور پینٹ) اور اپر میں ملبوس تھی پھر بھی موسم کی خنکئ احوال پوچھ گئ تھئ۔۔فاطمہ کو ہلانے کو ہاتھ بڑھایا مگر پھر رک گئ ابھی اٹھانے کا مطلب بیٹھے بٹھائے باتھ روم کی ایک اور سواری بڑھانا تھا سو دبے پائوں چلتی تیزی سے باتھ روم میں گھس گئ۔۔ پانچ سات منٹ بعد واپسی پر بھی فاطمہ کی قابل رشک نیند ٹوٹی نہ تھی۔۔ 

    تولیئے سے چہرہ تھپتھپاتی اسے جھک کر ہلایا۔۔ 

    اٹھ جائو چھے بج گئے ہمیں سات تک نکلنا ہے۔۔ 

    فاطمہ کے کانوں میں جیسے کسی نے صور ہی تو پھونک دیا۔ 

    کیا؟ تو پانچ بجے اٹھانا تھا ایک گھنٹے میں سات لڑکیاں کیسے تیار ہو سکتی ہیں؟۔۔۔ 

    اس نے آنکھ کھولتے ہی حیرانی سے چیخ ماری تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈبل روٹی انڈے ملک شیکس لا کر اس نے کچن کائونٹر پر ڈھیر کر دئیے۔۔ سفر کیلئے بھی کچھ چیزیں خرید لی تھیں سو اب تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی کچھ رہ تو نہیں گیا۔۔ مطمئن ہو کر دیگچی اٹھا کر چائے کیلئے پانی بھرنے لگی۔۔ چائے کا پانی چڑھا کر فرائینگ پین اٹھا رہی تھی۔۔ جب ابیہا بال سمیٹتی چلی آئی۔۔ 

    تم کب اٹھیں واعظہ۔۔ وہ بھونچکا ہی تو رہ گئ سوا چھے بجے باہر کا بھی چکر لگا آئی۔۔ 

    میں سوئی ہی نہیں۔۔ 

    واعظہ نے مصروف سے انداز میں ہی جواب دیا۔۔ 

    کیوں یار ۔۔ تم۔۔ 

    ابیہا کو اسکی فکر ہوئی واعظہ نے مڑ کر تادیبی نظر سے دیکھا تو باقی جملہ منہ میں ہی روک کر بات پلٹ گئ۔۔ 

    عزہ وغیرہ میں سے کوئی نہیں اٹھا؟ مجھے نہیں لگتا سات بجے تک ہم نکل پائیں گے۔۔ 

    ابیہا نے کہا تو واعظہ ہنس دی۔۔ 

    انہیں جگا کر باہر گئ تھی تم سمیت سب کے پاس پینتالیس منٹ ہیں اپنا اپنا بیگ تیار کرو کم از کم دو جوڑے رکھو ۔۔ اور پینتالیس منٹ میں ناشتہ بھی کر چکنا ہے یاد رہے۔۔ 

    واعظہ نے کہا تو ابیہا پریشان ہو کر گھڑی دیکھنے لگی۔۔ 

    واقعی؟۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    واعظہ نے بھی یہاں آکر لازمی ملٹری سروس توو جوائن نہیں کر لی تھی؟ 

    برش کرتے ہوئے نور کو خیال آیا۔۔ 

    الف جو اسکے ساتھ ہی منہ میں پیسٹ بھرے بیسن پر جھکی تھی چونکی۔۔ 

    ایک سال سے یہاں ہیں اگر ملٹری سروس کر رہی ہوتی تو ہمارے ساتھ تھوڑی رہ رہی ہوتی۔۔ 

    جھاگ تھوک کر اس نے جواب دینا ضروری سمجھا تھا

    طنز کر رہی تھی میں۔۔ نور بھنائی۔۔

    تم دونوں جو بھی کر رہی ہو باہر آکر کرو ۔۔ 

    عزہ آکر بولی۔۔ 

    کیوں۔۔ دونوں کورس میں گھورنے لگیں

    کیونکہ تم لوگ باہر جا کر برش کر سکتی ہو مجھے جو کرنا وہ میں یہیں کر سکتی بس۔۔ 

    عزہ نے چبا چبا کر بولتے وضاحت کی بلکہ ہاتھ پکڑ کر دونوں کو باہر بھی نکال دیا۔۔ 

    یہ غنڈہ گردی ہے عزہ۔۔ نور بھنائی

    غنڈی گردی۔۔ ہتھیلی تھوڑی کے نیچے جما کر جھاگ بھرے منہ سے بھی الف نے تصحیح ضروری سمجھی۔۔

    دونوں منہ اونچا کر کے جھاگ کو نیچے گرنے سے بچا رہی تھیں 

    دوسرا باتھ روم

    دونوں کو خیال بھی اکٹھے آیا۔۔ ایک دوسرے سے سبقت کے جانے کے چکر میں اکٹھے بھاگی تھیں۔ دونوں کا رخ ابیہا وغیرہ کے کمرے کا تھا اندھا دھند گرتی پڑتی 

    دوسرے کمرے سے نکلتی فاطمہ سے بری طرح ٹکرا بھی گئیں۔

    کدھر؟۔۔ 

    فاطمہ جو تولیہ سے منہ تھپتھپا رہی تھی اچانک حملے کیلیئے تیار نہ تھی دروازہ تھام کر بمشکل خود کو زمیں بوس ہونے سے بچایا۔  اور گھور کر بولی۔۔ 

    عروج ہے اس والے باتھ روم۔میں ۔۔ 

    دونوں اسے نظر انداز کرتی سیدھا باتھ روم کے بند دروازے سے جا ٹکرائیں۔۔ 

    فاطمہ نے پیچھے سے آواز لگا کر مطلع کیا تھا۔۔ 

    دونوں کی تیزیاں غارت ہوئیں مرے مرے قدموں سے واپس آئیں۔۔ 

    ابیہا نور کی میز کارپٹ پر رکھے آلتی پالتی مار کر بیٹھی واعظہ کے ساتھ ناشتہ اڑا رہی تھی۔۔ ڈبل روٹی اور ہری مرچوں والا گرما گرم بھاپ اڑاتا آملیٹ۔۔ 

    بیس منٹ رہ گئے ہیں بس تم لوگوں کے پاس جلدی کرو۔۔ 

    فاطمہ خود تو منہ ہاتھ دھو چکی تھی سو مزے سے لقمہ دیتی انکے پاس ںاشتہ کرنے آبیٹھی۔۔ 

    دونوں اسے گھورتی کچن سنک کی طرف بڑھیں

    ہم ویسے جا کہاں رہے ہیں واعظہ؟۔۔ سیول میں تو سمندر ہے ہی نہیں۔۔

    بریڈ کا نوالہ بناتی ابیہا کو اب خیال آیا تھا۔۔

    جیجو آئی لیںڈ۔ ابھی واعظہ نے اتنا کہہ کر ڈرامائی انداز میں وقفہ لیا تھا کہ

    الف اور نور حیرت کے جھٹکے سے مڑ کر پورا منہ کھول بیٹھیں۔۔

    جھاگ فوارے کی طرح انکے منہ سے نکلا تھا۔۔ 

    یہ تینوں ان سے فاصلے پر بیٹھی تھیں سو بس اتنی بچت ہوگئ کہ انکے اوپر انکی حیرانی کا فوارہ نہ آیا ورنہ کثر نہیں چھوڑی تھی انہوں

    کیا واقعی۔۔ 

    الف پرجوش ہو کر ہتھیلی سے منہ صاف کرتی بولی۔۔

    پورا جملہ سن لو۔۔ 

    واعظہ نے منہ بنایا۔۔ 

    جیجو آئی لینڈ نہیں جا رہے گیونگ پو ہے جا رہے ہیں۔۔ 

     واعظہ کے سوا سب کے ارمانوں پر اوس آگری۔۔ 

    وہاں ؟۔۔ بہت رش ہوگا یار۔۔ 

    فاطمہ نے کہا تو ابیہا نے بھی تائید کی۔۔ 

    ہاں یار جیجو آئی لینڈ ہی چلتے ہیں۔۔ 

    جیجو آئی لینڈ جانا کوئی لالا جی کا گھر نہیں ہم سب اپنی ساری بچت بھی لگا دیں تو بھی نہیں جا سکتے 

    سو اوقات کے مطابق اپنی لینڈ کروزر میں تم لوگوں کو بس یہیں تک لے جا سکتی۔۔

    ہم لینڈ کروزر میں جائیں گے۔۔ 

    سب دوبارہ پرجوش ہوئیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔ممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سات بجنے میں پانچ منٹ پر سب جانے کو تیار کھڑی تھیں۔۔ 

    واعظہ نے قطار میں کھڑی لڑکیوں کا جائزہ لیا۔۔

    عزہ پورا کالا عبایا اسکارف سے نقاب تک کرکے نک سک سے تیار کھڑی تھئ۔۔ عبایا کے نیچے سے جینز اور جاگرز جھانک رہے تھے۔۔کندھوں پر کالا بیگ جس میں یقینا اسکے کپڑے وغیرہ ہونگے 

    عروج ۔۔ پنک کلر کی لانگ فراک اور جینز کے اوپر لمبا سا ڈھیلا ڈھالا شرگ پنک اورسفید پرنٹڈ حجاب چہرے پر ہلکا سبز ماسک۔۔ ایک کندھے پر بیگ ۔۔ 

    اسے بچوں کی طرح بیگ لینا پسند نہیں تھا

    نور پوری ڈھکی چھپی جینز کا عبایا ۔۔ نقاب گلے میں لٹکا ڈی ایس یل آر جوگرز جینز کی پینٹ۔۔ دونوں کندھو ں پر بیگ کی اسٹریپ بالکل اسکول جانے کو تیار کھڑئ تھئ

    واعظہ نے نظر دوڑا کر آگے نگاہ کی پھر چونکی۔۔ 

    جینز کا عبایا۔۔ 

    حیرت سے بڑ بڑائی تو فاطمہ جو اسکے ساتھ ہی کھڑی تھئ کان میں منمنائی۔۔ 

    یار اسکا عبایا کل چھپا تو دیا تھا کم از کم ایک عبایا والی تو کم ہو یہ نجانے کہاں سے جینز کا نکال لائی ہے۔۔ 

    چلو۔۔ یہ ایک نیا جھگڑا شروع ہونے والا تھا واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔ 

    اگلی باری الف کی تھی۔۔ 

    فل بلیک عبایا نقاب نہیں تھا بیگ گود میں ایسے پکڑ رکھا تھا جیسے بچہ اٹھایا ہو۔۔ مگر ۔۔ 

    ایک منٹ۔۔ واعظہ نے حقیقتا کان سے پکڑا۔۔ 

    تم نے کب سے عبایا لینا شروع کر دیا؟۔۔ 

    وہ بھی میرا۔  

    نور نے بھی اپنا عبایا پہچان کر پنجے تیز کیئے۔۔ 

    فاطمہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی۔۔ 

    تمہارا نہیں ہے۔فاطمہ کا ہے۔۔ ۔ الف بلبلائئ۔۔ 

    نور نے گھور کر فاطمہ کو دیکھا۔۔ 

    جو گرے کلر کی جینز ٹاپ میں ملبوس تھی کندھے تک بال کھول رکھے تھے گلے میں گرے ہی پیارا سا اسکارف ڈال رکھا تھا۔۔ فاطمہ کا عبایا؟۔ سوال ہی جواب تھا اس بات کا۔۔

    کان تو چھوڑو واعظہ ۔۔ اتنا تو کبھی میری امی نے بھی میرے کان نہیں کھینچے ہونگے جتنا تم کھینچتی ہو۔۔ 

    اس نے چھڑانا چاہا مگر واعظہ نے چھوڑا نہیں

    تم نے کیوں عبایا چڑھایا ہے؟۔۔ 

    یار کپڑے ہی نہیں میرے پاس۔۔ بتایا تو تھا برباد ہوگے سب پیسے آن لائن شاپنگ میں۔۔ فاطمہ کی وارڈروب کھولی تھی کہ کوئی ٹاپ لے لوں تو عبایا نظر آگیا میں نے چڑھا لیادیکھو نقاب تو نہیں کیا میں نے۔۔ 

    بمشکل کان چھڑاتے الف نے صفائی پیش کی۔۔

    فاطمہ میرا عبایا تمہاری وارڈروب میں کیا کر رہا تھا۔۔ 

    نور نے آستین چڑھائی تو فاطمہ نے جان بچا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی ۔۔ بھاگ کر اپارٹمنٹ سے باہر۔ نور اسکے پیچھے دوڑی۔۔ 

    چلو تم میرے ساتھ۔۔ 

    واعظہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئ۔۔ 

    عزہ بیچ میں کھڑی فیصلہ کرنے لگی اندر جائے یا باہر۔۔ پھر عروج کو کندھے اچکا کر باہر نکلتے دیکھا تو اسی کیساتھ ہولی۔۔ 

    ابیہا آرام سے گھڑی دیکھتی موبائل میں گیم لگا کر لاونج میں بچھے کاوچ پر دراز ہو گئ۔۔ 

    وقت ہوا تھا سوا سات۔۔ 

    یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سات لڑکیاں ایک گھنٹے کے نوٹس پر تیار نہیں ہو سکتی ہیں۔۔ 

    چاہے انہیں میک اپ نہ بھی کرنا ہو۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    پونے آٹھ بجے گنگم اسٹیشن کے باہر کھڑی تھیں۔۔سب۔۔ 

    الف کو واعظہ نے اورنج ٹاپ اور جینز پہنوایا تھا بیگ ابھی بھی اسکی گود میں تھا ہلکے سے نارنجی ہی رنگ کا اس نے حجاب لیا ہوا تھا۔۔ اب عبایا والیاں دو ہی رہ گئی تھیں۔۔

    انکی لینڈ کروزر آدھے گھنٹے کے وقفے سے آئی تھی۔۔ 

    بڑی سی گنگم سے دوسرے شہر جانے والی بس بھری ہی سی آئی تھی۔۔ 

    انکو اسی پر گزارا کرنا تھا۔۔ گہری سانس لیکر چڑھنا شروع ہوئیں۔۔ 

    واعظہ سب سے آخر میں اطمینان کرکے کہ کوئی رہ تو نہیں گیا چڑھی تھی۔۔ 

    اب پاکستان تو تھا نہیں کہ خواتین کی بس میں علیحدہ جگہ ہوتی۔۔ بس میں سات نشستیں خالی بھی نہیں تھیں ایک دو خالی تھیں بھی تو ایک انکل ٹائپ تھے انکے برابر جگہ خالی تھی ایک اسکول کا کوئی لڑکا ہوگا پندرہ سولہ سال کا۔۔ چندی آنکھوں والے ان سب کو اکٹھے دیکھ کر چونک سے گئے تھے۔۔ 

    ایک خاتون کے برابر والی نشست خالی تھی۔۔ عزہ موقع دیکھ کر بیٹھ گئ۔۔ 

    عروج نے طوہا کرہا انکل کے برابر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ کم از کم بھی تین سے چار گھنٹے کا سفر تھا کھڑے ہو کر نہیں گزر سکتا تھا۔۔ 

    ٹکٹ بنواتے ہوئے نشستیں بھی گننی تھیں واعظہ۔۔ الف واعظہ کے کان میں بڑ بڑائی۔۔ 

    واعظہ مسکرا کر اس لڑکے کے برابر جا بیٹھی۔۔ 

    الف نور فاطمہ ابیہا ہینڈل پکڑے اگلے آدھے گھنٹے تک کھڑی رہیں جب لگا کہ گیونگ پوہے جانے تک بچیں گی نہیں تب اگلے اسٹاپ پرکئی لوگ اتر گئے اوران بے چاریوں کی سزا مکی۔۔ 

    ابیہا کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر لپکی تھی

    واعظہ نے اپنی مصروفیت ڈھونڈ لی تھی۔۔ پٹاخ پٹاخ اس لڑکے سے باتیں کیئے جا رہی تھی۔۔ 

    الف نے جگہ ملتے ہی اونگھنا شروع کر دیا تھا۔۔ عروج کو باہر کے نظاروں میں دلچسپی تھی  سیدھی شفاف سڑک کے کنارے اونچے اونچے پہاڑ جو چیری بلاسم سے لدے تھے ۔۔ شکر ہے ٹریفک زیادہ نہیں تھا امید قوی تھئ تین گھنٹوں تک ساحل پر پہنچ ہی جائیں گے۔ نور کھڑکی سے باہر جھانکتی بھاگتی دوڑتی زندگی و نظاروں کی ویڈیو بنا رہی تھی۔۔ 

    پانچ چھے منٹ کی بنا کر اس میں اپنی پسند کا گانا ڈال کر دستی اپلوڈ کی تھئ۔۔ 

    عزہ اس کے ساتھ ہی بیٹھی بے نیازی سے کوئی کتاب کھولے مگن تھئ۔۔ 

    اب کیا کروں۔۔ 

    اپنا من پسند مشغلے سے فارغ ہو کر اسے دوبارہ بوریت کا دورہ پڑا تھا۔۔ 

    تبھی اس سے اگلی نشست پر ماں کے ساتھ بیٹھے دو تین سال کے بچے نے نشست پر کھڑے ہو کر دونوں نشستوں کے بیچ والی جگہ سے گردن باہر نکالی۔۔ ۔یہ اتنا اچانک تھا اپنی دھن میں بیٹھی نور اچھل ہی گئ۔۔ 

    دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ گھورا تو بچہ کھلکھلا کر ہنسا۔۔ 

    اور اشارے سے پاس بلانے لگا۔۔ 

    ساتھ ساتھ کچھ ہنگل میں بول بھی رہا تھا۔۔ 

    کیا کہہ رہے ہو؟۔۔ نور نے پوچھا پھر خیال آیا تو انگریزی میں پوچھا۔۔ 

    بچہ دونوں زبانوں سے انجان پھر کچھ بولنے لگا۔۔ 

    کیا؟۔۔ وہ چہرہ قریب لائی۔۔ تو بچے نے ناک سے اسکا نقاب مٹھی میں جکڑا اور کھینچ لیا۔۔ 

    آہ۔۔نور بھونچکا رہ گئ تو عزہ نے ہنستے ہنستے کتاب میں منہ چھپا لیا۔۔ بچہ اپنی حرکت پر کھلکھلا کر ہنسا۔۔ ۔

    یہ بڑا ہو کر ٹھرکی ہی نکلے گا۔۔ 

    نور اسے گھورتی نقاب درست کرنے لگی۔۔ بچے کی ماں نے اسکی کھلکھلاہٹ پر چونک کر مڑ کر دیکھا ۔نور کا نقاب دیکھ کر ناپسندیدہ نظر ڈال کر بچے کو اپنی جانب متوجہ کرکے واپس بٹھا دیا۔ 

    اس ناپسندیدہ نظر پر نور چڑ ہی گئ۔۔ 

    منہ بنا کر سیدھی ہو بیٹھئ۔۔ 

    آہجومہ۔۔ 

    منی سی مٹھئ پھر اسکے سامنے تھی۔  

    بچہ دوبارہ نشست کے سرہانے والے جگہ سے گردن باہر نکالے تھا۔۔ 

    نور نے گھورا تو معصومیت سے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔۔ 

    ادھ کھلے ریپر سے چاکلیٹ اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔۔ 

    نور نے اسکی ماں کی مصروفیت جاننی چاہی تو وہ بچے کو چاکلیٹ تھما کر فون کانوں سے لگائےکسی سے بات کرنے میں مگن تھئ۔۔ 

    یہ میں لے لوں۔۔ اس نے تصدیق چاہی۔۔ اشارے سے لے لوں پوچھا بچے نے اثبات میں سر ہلایا۔ 

    معصوم فرشتہ۔۔ 

    اسے چاکلیٹ پوچھ رہا تھا۔۔ نور کا دل موم ہوا۔۔ 

    بچے واقعی فرشتے جیسے معصوم ہی تو ہوتے۔۔ 

    کیا کہتے ہنگل میں شکریہ کو۔۔ نور نے زہن پر زور ڈالا۔۔ 

    ہاں گومو وویو۔  

    اس نے کوریائی انداز میں جھک کر اس چندی آنکھوں والے بچے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چاکلیٹ تھامنی چاہی بچے نے سرعت سے ہاتھ واپس کھینچ لیا اور کھلکھکلا کر ہنسا۔۔ ۔

    نور کا منہ کھلا رہ گیا۔۔ 

    شیطان کہیں کا۔۔اسے بے وقوف بنا کر خوش ہو رہا تھا۔۔ 

    اس نے دانت پیسے۔۔ بچہ اپنی حرکت سے محظوظ ہو کر ہنسے جا رہا تھا۔۔ 

    ایک پل کو نور نے سوچا پھر ہاتھ بڑھا کر چاکلیٹ چھین کر اکٹھے ہی نقاب نیچے کر کے منہ میں رکھ لی۔۔ منہ بھر کر دگنے حجم کا ہوگیا تھا مگر خیر ہے نقاب میں کیا دکھائی دینا تھا۔۔ 

    بچہ چند لمحے بھونچکا اسے دیکھتا رہا۔۔ اب جو اس نے تان بلند کی تو پوری بس اسکی چیخ سے ہل کر رہ گئ۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔

    دیسی کمچی قسط اول پانچواں حصہ۔۔۔

    ساتھ بیٹھے ادھیڑ عمر چندی آنکھوں والے انکل  جانے کس تکلیف میں تھے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہنکارہ بھرتے کبھی کھنچی کھنچی سی سانس لیتے انہوں  نے جب چوتھی بار گہری آہ بھری تو عروج کے اندر کی ڈاکٹرنی انگڑائی لیکر بیدار ہوئی۔۔ 

    کین چھا نائیو۔۔ ( آپ ٹھیک ہیں؟)

    اس نے ہمدردی سے پوچھا اور انکل بھی جیسے برسوں سے کسی کے دو حرف ہمدردی کے سننے کو منتظر تھے۔۔ آنکھیں بھر آئیں۔۔ 

    آہجومہ کیا بتائوں ۔۔کوئی ایک مصیبت جان کو لگی ہو تو۔۔تیرہ سال سے زیابیطس کا مریض ہوں  ۔۔۔کھانا پینا سب چھٹ چکا ہے۔۔ 

    انکل نے بے چارگی سے بتانا شروع کیا  تو عروج کی نظر بے ساختہ انکی منی سی توند پر جا ٹکی۔۔ 

    انکل اسکی نظروں سے بے نیاز بول رہے تھے۔۔  

    صبح صبح میری بیوی نے مجھے کمچی چاول کھلا دئیے حالانکہ ایک عرصہ ہو گزرا ہے میں صبح چاول نہیں کھاتا مگر میری بیوی بھی اب بوڑھی ہو گئ ہے کھانا وانا پکاتے تھک جاتی رات کو جو پکا ہوتا وہی کھلا دیتی صبح بھی اب جب سے چاول کھائے ہیں طبیعت بھاری ہے سینے پر بوجھ ہے تھوڑا خون میں چکنائی( کولیسٹرول ) کا بھی مسلہ رہتا اس وقت تو لگ رہا مجھے دل کا دورہ پڑنے ہی والا ہے۔۔ دیکھو ٹھنڈے پسینے آرہے۔۔ 

    انہوں نے پیشانی پر ہاتھ پھیر کر دکھایا بھی ۔۔ 

    گو پسینہ تو نہیں آرہا تھا انہیں مگر عروج کو انکی حالت سن کر تشویش ہو گئ۔۔ 

    معدے کا بھی مسلہ ہے مجھے۔۔ 

    ابھی انکی بیماریاں ختم تھوڑی ہوئی تھیں۔۔ 

    جب چاول کھاتا ہوں ڈکاریں۔۔  انہوں نے منہ پھیر کر منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے ڈکار لی۔۔ 

    سانس تک رکنے لگتی ہے میری۔۔ دل کی دھڑکن قابو میں نہیں آ رہی میرے ۔۔ وہ بے چین سے ہو رہے تھے

    آپکو اتنی خراب حالت میں دوسرے شہر کے سفر پر نہیں نکلنا چاہیئےتھا۔۔ 

    عروج نے کہا تو چندی آنکھوں والے انکل مسکرا دئیے۔  

    ارے بیٹا۔۔کام دھندہ تو جان نہیں چھوڑتا ۔۔ میرے کچھ واجبات ہیں ایک مہینے سے ٹال رہا ہے کمینہ۔۔ معاف کرنا۔۔ انکل روانی میں گالی دے گئے پھر خیال آیا تو فورا عروج سے معزرت بھئ کی۔ عروج نے سر ہلایا تو سلسلہ کلام دوبارہ جوڑ لیا۔۔

    ہاں وہ مینجر پیسے اینٹھ کر بیٹھ گیا تھا پورا مہینہ ٹال کر آج بلایا تھا کہ سب پیسے واپس کرے گا اب میں اسے ٹال دیتا تو جانے کب دوبارہ راضی ہوتا سو اسی لیئے جان پر کھیل رہا ہوں۔۔ لگتا ہے پہنچ نہیں پائوں گا۔۔ انہوں نے جیب سے کانپتے ہاتھوں سے ایک گولی نکال کر زبان کے نیچے رکھی۔۔  

    اللہ نہ کرے۔۔ بے ساختہ عروج کے منہ سے نکلا۔۔ اسکے بابا کی ہی عمر کے ہونگے۔ گورے چٹے مگر چندی آنکھوں والے اوپر سے لگاتار بولتے بے حد معصوم سے لگ رہے تھت۔۔

    کیا بولیں بیٹا؟۔۔ انہیں سمجھ نہ آیا تو عروج نے فورا ہنگل میں ترجمہ کیا۔۔ 

    ہنسس دئیے۔۔ 

     آواز سے چھوٹی سی لگتی ہو  سانس کا تمہیں بھی مسلئہ ہے؟۔۔ وہ اسکے ماسک کا پوچھ رہے تھے ۔۔

    عروج نے گردن ہلائی پھر بیگ پین اور پیپر نکال کر کچھ لکھنے لگی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ لوگ کاسٹیوم پارٹی پر جا رہی ہیں۔۔ 

    بڑی دیر سے متجسس ہے جن پوچھ ہی بیٹھا۔۔ 

    آنیو۔۔ واعظہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔ 

    صبح صبح کونسی کاسٹیوم پارٹی۔۔ 

    واعظہ ہنسی۔۔ 

    پھر یہ کیا پہنے ہیں۔؟ اس نے اچک کر عزہ اور نور کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔۔ 

    اچھا یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ مزہبی لباس ہے انکا۔۔ 

    واعظہ کو سوجھا نہیں کہ عبایا کو انگریزی میں کیا کہے۔۔۔۔

    ہے جن ہائی اسکول کا طالب علم تھا سیول میں پڑھتا تھا ہفتے کے آخر میں اپنے گائوں جا رہا تھا سیول میں بھی اسکول جانے والے بچے انگریزی پڑھتے اور سیکھتے ہیں اتنی کہ ہماری طرح بات کر ہی سکتے ہیں۔۔ تھوڑا سوچ کر سہی۔  

    ہمم۔ تو یہ اسلامی نن ہیں۔  جیسے کرسچنز کی نن ہوتی ہیں ویسی یہ ڈیوٹڈ ہیں اسلام کیلئے۔۔ 

    ہے ان نے اندازہ لگایا پھر تصدیق چاہنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔۔ 

    نہیں ڈیوشن کا کانسیپٹ اسلام میں نہیں ہے۔ بس یوں کہہ لو یہ مزہبئ ہیں مگر اسلام آپکو دین کیلئے دنیا چھوڑ دینے کا درس نہیں دیتا۔۔ ہم عام زندگی گزارتے ہیں مگر اسلامی اصولوں کے ساتھ۔۔ 

    واعظہ نے اپنی طرف سے مدلل جواب دیا۔۔ 

    خیر ۔۔ ہے جن نے گہری سانس لی۔۔ 

    میں بھی ڈیووٹ کردوں گا خود کو اگلے کچھ سالوں میں میں خود کو نارنجی چولے میں مالائیں گلے میں ڈال کر سر منڈوائے کسی ویران پہاڑی پر آسن جمائے بیٹھا دیکھتا ہوں۔۔ 

    آنکھیں بند کرتا وہ جیسے سچ مچ خود کو بدھ مت کا راہب بنا تصور کر رہا تھا جیسے۔۔ 

    یہ تصور اتنا روشن تھا کہ ایک لمحے کو واعظہ بھی خود کو کسی ویران پہاڑی پر ایک سترہ سالہ گنجے 

    نارنجی لبادے میں ملبوس راہب کے سامنے بیٹھا محسوس کرنے لگئ۔۔ 

    نہیں۔۔ 

    اس نے جھر جھری لی اور چونک کر جے ہن کو دیکھنے لگی۔۔۔۔  آنکھیں بند کیئے جے ہن کیلئے بھی تصور اتنا روشن تھا کہ اسکی چندی آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے تھے واعظہ کا دل موم ہوگیا۔۔ 

    بمشکل سولہ سترہ سال کا دبلا پتلا سا ہے جن جسکی مسیں بھئ ابھی پوری نہ بھیگی تھیں ہلکا سا ہی رواں تھا ابھی جوانی ڈھنگ سے آئی نہیں تھی اور دنیا تیاگ دینے کو تیار بیٹھا تھا۔۔

    نہیں منے میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔ 

    واعظہ کے اندر کی بڑی بہن جاگ اٹھی تھی۔۔ 

    واٹ؟۔ منا آنکھیں کھول کر ان جملوں کو سمجھنے کی ناکام کو شش کرنے لگا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔ممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابیہا باہر کے نظاروں میں گم تھی الف اس سے اگلی نشست پر سو رہی تھی واعظہ اسکے بالکل پیچھے بیٹھی اس بچے سے گٹ پٹ انگریزی میں شروع تھی عروج انکل کے ساتھ بیٹھی تھی جانے انکل کونسے قصے کہانیاں لے بیٹھے تھے اور عروج یوں ہمہ تن گوش تھی جیسے داستان امیر حمزہ سن رہی ہو۔۔ 

    فاطمہ پر بوریت کا شدید دورہ پڑا تھا۔۔ 

    یہ عزہ اور نور کیا کر رہی ہیں۔۔ 

    وہ چلتی بس میں کھڑی ہو کر اچک اچک کر اپنے سے دو سیٹیں آگے بیٹھی عزہ اور نور کو دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔ 

    یار کیا بکواس ہے اگلے دو گھنٹے بھی اسی طرح بیٹھنا پڑا تو کمر اکڑ جائے گئ اور اگلے دو دن سب کام ہو سکیں گے مگر تشریف نہیں رکھی جا سکے گی۔۔ 

    فاطمہ بڑ بڑائی۔۔ اسے شدید قسم کی مہم جوئی آئی ہوئی تھئ۔۔

     اٹھو فاطی کچھ کرو۔۔ تم دنیا کی ناک میں دم کرنے کیلئے ہی تو پیدا ہوئی ہو۔۔ 

    وہ جوش سے اٹھ ہی کھڑئ ہوئی۔۔

    بس کے کھڑے ہونے والوں کیلئے لٹکتے سہارے تھامتی اس نے آگے کی جانب سفر شروع کیا۔ 

    بس میں پندرہ بیس ہی لوگ بچے تھے وہ آرام سے انکا سروے کرسکتی تھی

    عزہ کتاب پڑھ رہی تھی نور اپنی اگلی نشست پر بیٹھے بچے سے کھیل رہی تھی۔۔ 

    بورنگ۔۔ 

    اس نے ناک چڑھائی۔۔ 

    آگے ایک کپل بیٹھا تھا انکے پاس چلتے چلتے پہنچی تو دونوں گڑبڑا گئے۔۔ اور ان سے زیادہ فاطمہ خود۔ 

    جلدی سے آگے بڑھی۔۔ 

    ایک خاتون ٹوکری کو اپنے ساتھ بٹھائے اونگھ رہی تھیں ٹوکری کے اوپر کپڑا ڈال رکھا تھا اسے یونہی تجسس ہوا دھیرے سے کونا اٹھا کر دیکھنا چاہا آہجومہ کرنٹ کھا کر چندی آنکھیں پوری کھول کر گھور نے لگیں۔۔ 

    کسی کا سر کاٹ کر لائیں ہیں اس میں کیا۔۔ 

    فاطمہ نے چڑ کر پوچھا جوابا وہ اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اسکی انجان زبان سے خوفزدہ ہو کر ٹوکری کو بانہوں میں لے بیٹھیں۔۔

    سنبھالیں اپنی سونے کی ٹوکری۔۔ 

    وہ منہ بنا کر آگے بڑھی۔۔ اگلی دو نشستیں خالی۔تھیں۔۔ 

    یہاں نہ آجائوں ۔۔ اسے خیال آیا پھر سوچا اور آگے بھی دیکھ لے آگے بھی کسی کا سر نشست سے ٹکا دکھائی تو نہیں دے رہا تھا شائد آگے بھی خالی تھیں وہ

     دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی سہارے تھامتی  ڈرائیور کے پیچھے والے بس سے نکلنے والے دروازے کی سیڑھی تک چلتی آئی۔۔ 

    سب سے اگلی رو میں بس ایک لڑکی بیٹھی تھی موبائل ہاتھ میں تھامے کسی تصویر پر انگلی پھیرتی 

    فاطمہ دیکھ کر پلٹنے لگی پھر چونک کر مڑی۔۔ 

    وہ لڑکی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔ اپنی آواز دباتی پھر بھی ایک آدھ سسکی اسکے منہ سے نکل رہی تھی۔۔ 

    کیا کروں ؟۔ پوچھوں پلٹوں۔۔فاطمہ ابھی شش و پنج میں ہی تھی کہ لڑکی کو جیسے اسکی موجود گی کا احساس ہو گیا نظر اٹھا کر دیکھا تو فاطمہ کو چہرے پر ہمدردانہ تاثرات سجائے خود کو تکتے پایا۔۔ 

    گھبرا کر آنسو پونچھتی سیدھی ہوئی۔۔ 

    گومو ویو۔۔؟ 

     اس نے ہمدردی سے پوچھا۔۔ چندی آنکھوں والی رو رو کے سرخ ہوئی ناک کے ساتھ منہ کھول کر تعجب سے دیکھ رہی تھی۔۔ 

    آنیا ۔۔۔ (نہیں)۔۔ اسے احساس ہوا غلط بول گئ۔ گومو وویو تو شکریئے کو کہتے۔۔ 

    اس نے اپنے سر پر چپت لگائئ۔۔ 

    اتوکے۔۔ ۔۔ اگلا لفظ۔۔ 

    وہ بھی غلط۔۔ 

    چندی آنکھوں والی کی آنکھیں سجل علی کی آنکھوں جتنئ ہوگئیں۔۔ 

    اوفوہ۔۔اس نے جھلا کر وہیں سے زور دار آواز لگائئ۔۔

    عزہ آا۔۔۔آ  کیا کہتے ٹھیک ہو کو ہنگل میں۔؟۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انکل آپ گہری سانس لیں ۔۔۔ 

    عروج انکی نشست بٹن دبا کر پیچھے کر رہی تھی۔۔ 

    بازو سیدھے کیجئے ۔۔ 

    آرام دہ انداز نشست اپنائیے۔۔ 

    عروج دھیرے دھیرے کہتی انکے ہاتھ کی انگلیاں سیدھی کر  رہی تھی۔۔ 

    انکل کی واقعی حالت خراب ہو رہی تھی انگلیاں سوج رہی تھیں۔۔

    اسکی ہیدایت پر من و عن عمل کرتے بھی انکل ہانپ رہے تھے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ نہیں جانتی ہیں زندگی کتنی دشوار ہے میرے لیئے۔۔ 

    ہے جن روہانسا ہو چلا تھا۔۔ 

    بتائو تو سہی۔۔ 

    واعظہ کا دل تڑپ اٹھا۔۔ 

    ہائے معصوم۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیچ رنگ والے ٹاپ کے نیچے گہرے نیلے رنگ کی  ٹی شرٹ پہن کر وہ جب اس بڑے سے مال کے ڈریسنگ روم سے باہر آئی اسکی امی جو چندی آنکھوں والی سے پیسے کم کروانے پر بحث کر رہی تھیں اسکو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں۔۔ 

    گہرے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ اور سرخ رنگ کی جینز کے ساتھ فرنٹ لیس بیک لیس والا پیچ ٹاپ ۔۔پیچ رنگ کے نیچے جھانکتی نیلی ٹی شرٹ؟ 

    رنگوں کی۔جیسے بہار۔۔ نہیں خزاں آئی تھی۔ پسند کا خاصا فقدان تھا کیونکہ حجاب کا رنگ نارنجی تھا۔

    یہ انکی بیٹی تھا یا کوئی جوکر۔۔ 

    انکی بیٹی ہی تھی۔۔ ماں کو دیکھ کر اسکا رنگ فق ہو چکا تھا۔۔

    امی آپ یہاں۔؟۔۔  

    بے آواز اسکے منہ سے نکلا تھا۔۔ 

    یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے لڑکی؟۔۔ 

    وہ شدید جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی تھیں

    نہیں۔۔ اس نے دونوں بازو سامنے کر کے انکے وار سے خود کو بچانا چاہا۔۔ 

    ایک زور دار چیخ بھی اسکے منہ سے نکلی تھی۔۔ 

    نہیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انی کیا بتائوں۔۔ 

    ہے جن کہہ کر بتانے ہی والا۔تھا۔۔ 

    انکل آپ اگلے اسٹاپ پر اتر کر طبی معائنہ کروا ہی لیں۔۔ 

    عروج دلگیری سے کہہ رہی تھی۔۔ 

    ابیہا کی اب جا کر تھک کر آنکھ لگنے ہی لگی تھی۔۔ 

    ایک بچہ حلق پھاڑ کر چیخا 

    ایک لڑکی پورے گلے سے چلا کر نہیں کہتی اٹھ بیٹھی

    ایک اور لڑکی بس کے ایک کونے پر بس کے اندرونی شور کو دبانے کو اپنی پوری آواز کے ساتھ عزہ کو پکار بیٹھی تھی۔۔ 

    تین آوازیں وہ بھی اونچے ترین سر کی بس ڈرائیور اچھلا  تھا بس کا اسٹیرنگ گھوما تھا بس سیدھی جاتے جاتے اچانک دائیں مڑنے لگی تھی۔۔ 

    فاطمہ لڑکھڑا کر اسی لڑکی کی گود میں جا گری تھی

    بس کے ایکدم مخالف سمت مڑنے پر واعظہ توازن کھو کر گرتے گرتے بچی تو ہے جن بے چارے کا سر کھڑکی میں لگا جا کر

    اور انکل اس صور پھونکے جانے سے وہیں نشست سے دھڑام سے زمیں پر آرہے ۔۔ 

    انہیں سچ مچ دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔

    بس دائیں مڑیں پھر بائیں بمشکل ڈرائیور نے جان کی بازی لگا کر اسے دائیں جانب کچے میں اتار کر روکا۔۔ 

    صد شکر ٹریفک زیادہ نہ ہونے کے باعث بس بے قابو تو ہوئی مگر کسی کار وغیرہ سے ٹکرانے سے بچ گئ۔۔ 

    دھڑ دھڑ دل کو تھامے ڈرائیور ہانپ رہا تھا۔۔ 

    آہجوشی۔۔ 

    یہ بس رکنے کے بعد چیخ گونجی تھی۔۔ 

    پوری بس میں سناٹا چھایا تھا۔۔ 

    انکل زمین پر سیدھے سیدھے پڑے تھے عروج انہیں ابتدائی طبی امداد دینےکی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔ 

    طبی ہیلپ لائن کو کال ملائو۔۔ 

    اس نے کہا تو ابیہا نے جھٹ 1122 کو کال ملا دی۔۔ 

    آپکا ملایا ہوا نمبر موجود نہیں۔۔

    واعظہ 1122 تو ملا ہی نہیں رہا۔۔ 

    اس نے فورا مڑ کر واعظہ کو بتایا۔

    واعظہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔ 

    خیر عروج کے کہنے پر زبان نہ سمجھتے ہوئے بھی پیچھے بیٹھے کسی نے عقل استعمال کرتے ہوئے ایمبولینس کو کال ملا دی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انکل کی بروقت طبی امداد ملنے سے جان بچ گئ تھی۔۔ 

    انکو ایمبولنس میں بھیج کر بس نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا تھا۔۔ 

    ٹھیک ایک۔گھنٹے بعد وہ لوگ ہیونگ پوہے پہنچی تھیں۔۔ 

    دوپہر کے ڈیڑھ ہو رہے تھے دھوپ بھرا دن چھایا ہوا تھا۔۔ 

    بس سے اترتے ہی سب نے خدا کا شکر ادا کیا تھا۔۔ 

    عروج اترتے اترتے بھی انکل کی حالت کے بارے میں فکر مند ہو رہی تھئ تو فاطمہ کے اس لڑکی کو  خیر سگالی مسکراہٹ دینے پر اس نے برا سا منہ بنا کر ہونہہ کیا تھا۔۔ اور پیر پٹختی آگے چلی گئ تھی۔۔ 

    نور کو اس تین سالہ بچے کی ماں اترتے ہوئے جانے کیا کہہ گئ تھی نور کو سمجھ تو خاک پتھر آیا مگر انداز سے لگتا یہی تھا کوئی گالی والی دے کر گئی ہوگی۔عزہ نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ منہ پھیر کر نور سے چھپائی تھی۔۔   بچہ بےچارہ اب تھک کر اونگھ چکا تھا ماں کے کندھے پر سر رکھے سو اس نے کوئی ردعمل نہ دیا۔  

    اپنا خیال رکھنا سیول آنا تو ملنا مجھ سے سمجھے۔۔ 

    بس سے اترتے واعظہ نے اپنے بس شریک بھائی کو بڑی بہنوں کی طرح تاکید کی۔۔ 

    ضرور انی۔۔ اس نے بھی مخصوص کوریائی انداز میں جھک کر مان بڑھانے والے انداز میں ہی کہا تھا۔۔ 

    یار ہمارا سفر خاصا پھیکا سا نہیں تھا؟۔۔ 

    ابیہا کواب احساس ہوا تو الف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلگیری سے بولی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیچ پر ٹھنڈی یخ ہوا چل رہی تھی۔۔۔

    ان سب نے اپر وغیرہ ساتھ لیئے ہوئے تھے اب لگ رہا تھا کہ ضرورت پڑ جائے گی۔۔ 

    واعظہ بچوں کی طرح انہیں قطار میں کھڑا کر کے گن رہی تھی۔۔ 

    ایک دو تین چار پانچ۔۔ 

    سات۔۔ اسے دھچکا لگا۔۔ 

    کیا ہوا۔۔ اسکے گھبرانے پر سب پریشان ہوئیں

    کوئی رہ۔گئ بس میں۔۔ اس نے پریشانی سے کہا اور مڑ کر لمحہ بہ لمحہ نظروں سے دور ہوتی بس کو تشویش سے دیکھنے لگی۔۔ 

    کوئی نہیں ہم سب ہیں یہاں۔ 

    ابیہا نے فورا گنے۔۔ 

    میں نے آٹھ ٹکٹ لیئے تھے۔۔ ہم سات لڑکیاں ہیں۔۔

    واعظہ نے کہا تو فاطمہ ہنسی

    ہم سات ہی ہیں تم نے ایک اضافی ٹکٹ کیوں لے لیا۔۔؟۔۔

    ہم بس سات ہیں؟واعظہ بے یقین تھی۔۔

    جی۔۔ سب نے کورس میں جواب دیا۔۔

    میرے پیسے ضائع ہو گئے۔۔ 

    وہ پیر پٹخنے لگی۔۔ 

    تم نہیں بتا سکتی تھیں مجھے ہم سات ہیں آٹھ نہیں۔۔

    وہ ابیہا سے کہہ رہی تھی۔۔ 

    مگر تمہیں نہیں پتہ کیا ہم سات لڑکیاں ہیں آٹھ نہیں۔۔ 

    ابیہا اور وہ بحث میں الجھ گئ تھیں۔۔ ان لوگوں نے گہری سانس بھر کر انہیں دیکھا اور انہیں بحث میں الجھا چھوڑ کر ساحل کی طرف بڑھنے لگیں

    ہفتے کا آخر ہونے کی وجہ سے کافی سارے لوگ موجود تھیےغیر ملکیوں کی۔بھی کثیر تعداد موجود تھی۔۔ 

    یار ٹیمپریچر دیکھو کتنا ہے اتنی دھوپ میں بھی ٹھنڈ کیوں لگ رہی۔۔ 

    عروج نے اپنے شرگ کی جیبوں میں ہاتھ گھسیڑ کر جھرجھری سی لی۔۔ 

    فاطمہ نے موسم کی ایپ اپڈیٹ کی تو آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ 

    چودہ ڈگری۔۔ 

    مزاق ہے کیا یہ

    ۔۔ اسے یقین نہ آیا باقیوں کو بھی نہیں سب اسکے موبائل پر جھک آئیں۔ ۔۔دوبارہ ایپ اپڈیٹ کی۔۔ 

    یار اتنے میں تو ہم سوئٹریں نکال لیتے اکتوبر نومبرمیں جاتا اتنا کم ۔۔ اور یہ۔۔

    الف روہانسی ہوئی۔  

    اور یہ۔۔ 

    عزہ نے اشارہ کیا تو سب اسکے اشارے پر گھوم گئیں کئی گوری گوری یورپی لڑکیاں اور لڑکے ساحل کی۔مناسبت سے بکنی اور شارٹس پہنے پھر رہے تھے۔۔دور سمندر کی لہریں ساحل کو چوم چوم کر لوٹ رہی تھیں۔۔ ان لوگوں نے بھی اپنی تین گھنٹے سے بیٹھی اکڑی ٹانگوں کو ہلانا جلانا شروع کیا۔ پانچ لڑکیاں جنہوں نے ساحل کی مناسبت سے تو دور ضرورت سے بھی دگنے کپڑے چڑھا رکھے تھے سب کی سب حجاب والی جوگرز سے ساحل کی ریت کچلتی آگے بڑھ رہی تھیں۔۔ لوگ ٹھٹک ٹھٹک کر پیچھے ہٹ رہے تھے

    یار سیلیبریٹی والی فیلنگ آرہی۔۔ 

    عزہ نے شان سے گردن اکڑائی۔۔ کیا جون جے ہیون نے مائی لو فرام این ادر اسٹار میں نخرے کیئے ہونگے جتنا سریہ عزہ نے اپنی گردن میں فٹ کیا تھا۔۔ مزاج خود ہی اچھا ہو گیا تھا۔۔ ویسے یہ بھی کتنے مزے کا احساس ہے آپ سب کو دیکھ سکتے کوئی آپکو نہیں۔۔ 

    عروج نے ماسک پہنا تھا تو نور اور عزہ فل کالے عبایا اور نقاب میں تینوں پر جو نظر ڈالتا پھر باقیوں کو بھی غور سے دیکھتا بیچ میں دو چہرے نظر آتے تو انکے حصے کا بھی انہیں گھور رہے تھے

    فاطمہ جس نے حجاب نہیں کیا تھا اور الف جس نے بس حجاب کیا تھا گڑبڑا کر دونوں ان سے ایک قدم پیچھے ہوگئیں۔ ان تینوں کا آج اعتماد ہی آسمان کو چھو رہا تھا ۔لہک لہک کر آگے بڑھ رہی تھیں۔۔ 

    تبھی تین چار چندی آنکھوں والے لڑکے ہاتھ میں بڑے بڑے سرفنگ بورڈ لیئے گزرے ۔۔ چاروں نے باقیوں کی نسبت انہیں آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا آپس میں گپیں مارتے ہنستے جا رہے تھے صرف شارٹس میں ملبوس بالوں پر پانی میں دیکھنے والی عینکیں سجائے انکے آگے سے گزرے توالف کی زبان میں کھجلی ہوئی۔  

    یہ لوگ اوپر سے گینڈے کی کھال لگوا کر آئے ہیں کیا

    ۔۔ٹھنڈ ونڈ نہیں لگ رہی ان ننگے پنگوں کو؟

    باقی تینوں تو نہیں چوتھا مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔ 

    الف گڑبڑا سی گئ۔۔ وہ آواز کے منبع کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔

    فاطمہ کا بازو دبوچ لیا۔۔ 

    یار اسے سمجھ تو نہیں آگیا میں میں نے کیا کہا۔۔ اس نے سرگوشی کی تھی۔

    لڑکا منہ کھول کر کچھ کہنے ہی والا تھا فاطمہ نے اپنے ازلی فل والیم میں کہا۔۔

    اس چندی آنکھوں والے کی جانے بلا گینڈا کیا ہوتا اور غلط کیا کہا ہم اتنا کچھ پہن کر ٹھنڈ سے مر رہے ہیں اور انکو دیکھو ۔۔ مجھے لگتا یہ جو الم غلم کھاتے رہتے نا اسکی وجہ سے انکا خون ہی گرم ہے ۔۔ 

    لڑکا آنکھیں پوری کھولے دیکھ رہا تھا۔۔ عروج عزہ اور نور بھی چلتے چلتے رک کر دیکھنے لگی تھیں۔

    یار خون وون گرم کوئی نہیں ہوتا ہاں یہ ہے غذا سے قوت مدافعت اچھی ہو جاتی ہے اگر تم لوگ بھی۔۔ 

    عروج سے اتنی غیر سائنسی وجہ ہضم نہ ہو سکی۔۔ 

     پلٹ کر تصحیح کرنے لگی۔  

    بس میڈیکل میں اتنی دلچسپی ہوتی تو ایم اے انگلش نہ کرتی تمہاری طرح ڈاکٹر بن رہی ہوتی۔۔ فاطمہ نے ہنستے ہوئے ہاتھ جوڑے تھے۔۔

    بس کوئی کام کی بات نہ سیکھنا نا جاننا ۔ عروج خفا ہو چلی تھی۔۔ 

    ارے ناراض نہ ہو مجھے بتائو۔۔ 

    عزہ لاڈ سے اسکے کندھے پر جھول گئ۔۔ چاروں اکٹھے بول رہی تھیں اکٹھے ہی ہنس رہی تھیں۔۔ 

    الف نے پلٹ کر دیکھا تو چندی آنکھوں والا تھوڑے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اسکے دوست چلتے ہویے کافی آگے چلے گئے تھے یہ کیوں کھڑا رہ گیا۔۔ 

    الف کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔ چندی آنکھوں والا جیسے اسکے متوجہ ہونے کا ہی منتظر تھا مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ اور ہلکا سا سر جھکا کر جیسے خیر مقدمی انداز سے ہم سر کے اشارے سے سلام۔کر دیتے اسی طرح سر کو خم دے کر پلٹ گیا۔۔ 

    آلف منہ بنا کر رہ گئ۔۔ 

    انکے حلیئے کا رعب تھا کہ سب انکو خود کش حملہ آور میں سے ہی سمجھ رہے تھے وہ لوگ پانی کے پاس آئیں تو جھٹ پٹ لوگ تتر بتر ہو گئے۔۔ کئی کوس تک جگہ خالی ہی ہوگئ۔ وہ ایک جانب سب بیگ وغیرہ رکھ کرجوتے اتارتی تیزی سے ساحل کی طرف دوڑ پڑیں۔۔  

    اسلیئے واعظہ کہہ رہی تھی۔۔ ایویں آئوٹ اینڈ آڈ کا سین بنا دیا تم لوگوں نے۔۔ 

    فاطمہ جینز کے پائنچے موڑتی جتا کر کر بولی۔۔

    پانی کی برفیلی لہر انکے پیروں سے ٹکرا کر لوٹی تھی۔۔ 

    اچھی بات ہے نا سب چلے گئے ہم آرام سے مزے کریں گے یہ ساحل عبایا والیوں کا ہوا۔۔ 

    نور پر کوئی اثر نہ تھا دونوں بازو پھیلا کر مزے سے جھوم گئ۔۔ گول چکر کھا کر جیسے ہی سیدھی ہوئی فاطمہ نے دونوں ہاتھوں میں پانی بھر کر اچھالا۔۔ عزہ اور عروج بروقت پیچھے ہٹیں۔۔ پوری دھار بنی نور کے چہرے تک کو بھگو  گیا تھا پانی۔۔ 

    تمہارئ تو۔  

    نور کہاں چھوڑنے والی تھی جھٹ پانی کی طرف بڑھی فاطمہ کھلکھلا کر واپس بھاگی۔۔ 

    نور نے جھک کر پانی مٹھیوں میں بھرنا چاہا تب تک عزہ اور عروج لہروں سے پانی اکٹھا کرتی اکٹھے اس پر وار کرکے بھگو چکی تھیں

    ساحل پر نامانوس لبادوں میں ملبوس لڑکیاں دنیا سے بے نیاز شغل لگا رہی تھیں۔۔ 

     فاطمہ کی رگ شرارت دوبارہ پھڑکی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پندرہ ہزار وون کی ایک چھتری؟۔۔ 

    دونوں کے منہ کھلے رہ۔گئے تھے۔۔ 

    چندی آنکھوں والی لڑکی پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے انہیں دیکھتی رہی۔۔ 

    دے۔۔ آہجومہ۔۔ 

    لے لیتے ہیں ہمارے چاند سے روشن چمکتے چہرے دھوپ میں کملا جائیں گے۔۔ 

    واعظہ گہری سانس لیکر اپنا پرس کھولنے لگی۔۔

    تین ؟۔۔ واعظہ نے سوالیہ نظروں سے ابیہا کو دیکھا۔۔  تین کیا کرنی ہیں۔۔ ابیہا نے فورا ٹوکا

    یار ہم آٹھ لڑکیاں ہیں دو دو بھی ایک چھتری لیں تو۔۔۔

    بولتے بولتے واعظہ ٹھٹکی

    ۔  چار چاہیئے ہوںگی ۔۔اس نے سر کھجایا۔۔ 

    ایسے ہی تو نہیں میٹرک میں فیل ہوئی تھی میں۔ حساب  خاصا خراب ہے میرا۔۔

    اسکو کبھی اپنی ناکامیاں جتانے پر شرمندگی نہ ہوئی تھی۔۔ جو اس سے پانچ سات منٹ سے زیادہ بات کرنے کا شرف حاصل کر لیتا تھا اسے اسکی کوئی نہ کوئی تازہ جھیلی گئ ناکامی ضرور گوش گزار کرتی تھی۔۔ میٹرک میں فیل ہونے والی تو باتوں باتوں میں بڑے شوق سے بتا دیتی تھی۔۔

    ہم سات ہیں۔۔ ابیہا نے گھورا۔۔ 

    اور اتنی تو ٹھنڈ ہو رہی دھوپ سینکتے ہیں ۔ اتنے پیسے یہاں جھونک دوگی تو ہم کھائیں گے کیا۔۔ 

    ابیہا نے مت دی تو اس نے قائل ہوجانے والے انداز میں اپنا کدو جیسا سر ہلایا۔۔ 

    پھر بھی دو تو لیں نا۔۔ 

    دونوں کا فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا چندی آنکھوں والی بیزار سی ہوئی۔۔ 

    ہمارے پاس بس دو بچی ہیں۔۔ 

    غیر ملکی شکل دیکھ کر وہ ہاتھ کے اشارے سے بتا رہی تھی ساتھ ساتھ۔۔ 

    ہنا ۔ابیہا نے انگشت شہادت سے اشارہ کیا

    دو۔۔ واعظہ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی سے دو کا اشارہ کیا۔۔ 

    ہنا ؟۔۔ چندی آنکھوں والی نے تصدیق چاہی۔۔ 

    ہنا۔۔ 

    واعظہ نے اپنا ہاتھ نیچے کر لیا۔۔ 

    پشت سے بیگ پیک اتار کر زمین پر رکھا اور شولڈر بیگ نکال کر اس میں سے بٹوہ ڈھونڈنے لگی۔۔ 

    دو تین ہاتھ مار کر پھر تھک کر چیزیں نکال کر ابیہا کو تھمانا شروع کر دیا۔۔ 

    چپس کے پیکٹ ببلیں چھوٹے سے کوریائی طرز کے چاولوں کے لڈو۔۔ کے ننھے ننھے پیک۔۔ 

    ابیہا نے شکائیتئ نظروں سے گھورا۔۔

    یار کھانے کیلئے ہی لیئے تھے سفر میں بھول ہی گئ نکالنا۔۔واعظہ کھسیائی۔

    برش کیچر مچھر بھگایو اسپرے ہینڈ سینیٹائزر لوشن میک اپ پائوچ۔۔ جیولری سب نکلا نہیں نکلا تو بٹوہ نہیں۔۔ 

    واعظہ نے سر اٹھا کر خوف بھری نگاہ سے ابیہا کو دیکھا۔ 

    دوسرا بیگ دیکھو۔۔ 

    ابیہا کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے۔

    دونوں ہاتھوں کو بھرے وہ صرف مشورہ ہی دے سکتی تھی۔۔ 

    واعظہ نے بیگ پیک کھول کر الٹ پلٹ کیا تو پائوچ نظر آہی گیا۔۔ 

    اتنی دیر میں چندی آنکھوں والی ایک اور صارف بھگتا چکی تھئ۔۔ 

    یہ لیں دو۔۔ واعظہ نے پیسے دئیے تو اس نے خندہ پیشانی سے مسکرا کرآدھے پیسے واپس تھما دئیے۔۔ 

    اب ایک ہی چھتری بچی ہے آہجومہ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سکھی سہیلیاں دور سے ہی نمایاں تھیں۔۔ پانی اچھالتی ہنستی مسکراتی پانچوں خوب مزے اڑا رہی تھیں۔۔ نور کا کیمرہ حرکت میں تھا۔۔ جب عروج فاطمہ عزہ اور الف نے مل کر پوز مار کر تصویر بنوائی تو ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا چندی آنکھوں والاجوڑا باقائدہ منہ کھول کر انہیں دیکھتا پایا گیا۔۔چہرے نقاب میں اور تصویر؟؟؟

    یہ لوگ چھتری لگا کر سامان رکھ کر وہیں بیٹھ گئیں۔۔ 

    تمہارا ارادہ نہیں ہے پانی میں جانے کا۔۔

    ابیہا نے اسے بیگ کا تکیہ بنا کر لیٹتے دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔ 

    واعظہ نے دور کھڑی زندگی سے بھرپور لڑکیوں کو ایک۔نظر دیکھا پھر آنکھیں موند لیں۔۔ 

    مجھے بیچ پر بڑے مزے کی نیند آتی ہے میں تھوڑا سا آرام کر لوں۔۔۔ وہ بالکل سیدھی لیٹی تھی۔

    ان لوگوں کو بھوک ووک نہیں لگ رہی ؟۔۔ ابیہا بھی اسکے ساتھ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔ 

    یار افسوس ہو رہا مجھے۔ واعظہ اٹھ بیٹھی۔۔

    اتنا کچھ لیا میں نے سفر میں کھانے کیلیئے اور نکالنا بھول گئ۔۔ سب نے صبح سات بجے کا ناشتہ کیا ہوا ہے بھوک لگ گئی ہوگی۔۔ 

    اسے شرمندہ ہوتے دیکھ کر ابیہا نے اسکا کندھا تھپتھپادیا۔۔

    یار بچیاں تھوڑی ہیں کچھ کھانے پینے کا دل کرتا تو کھا چکی ہوتیں۔۔ 

    واعظہ ہنکارا بھر کر موبائل اٹھا کر کوئی نمبرملانے لگی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    جب ساحل کی سرد ہوا نے انکو ٹھٹھرانا شروع کر دیا تب پانئ سے ہٹیں۔۔۔ سچ مچ گگھی بندھ رہی تھی۔۔لوگوں کو پانی میں مستیاں کرتے رشک اور حیرانی سے دیکھتی وہ لوگ بھی ابیہا اور واعظہ کے پاس چلی آئیں۔۔ 

    واعظہ نے کچھ کھانے پینے کو منگوایا تھا ڈیلیوری بوائے اسکے پاس ہی کھڑا تھا زمین پر چادر بچھا کر انہوں نے کھانے پینے کی چیزیں ترتیب سے رکھی تھیں۔۔

    آگئیں تم لوگ ہم بلانے ہی والے تھے تم لوگوں کو۔۔ 

    ابیہا چیزیں سجاتی خوشدلی سے انہیں دیکھ کر بولی۔۔ 

    ہم تو سب بھیگے ہیں وہ جھجک کر باہر ہی رک گئیں۔۔ 

    ریت پر ٹپ ٹپ گرتے پانی نے دستی کیچڑ کرنی شروع کردی تھی۔۔ 

    ڈیلوری بوائے کوریائی انداز میں جھک کر سلام کرتا مڑا تو واعظہ انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔ 

    کافی منگوائی ہے کچھ رائس ڈمپلنگ ہیں۔۔ ایک فش ریسٹورنٹ ہے یہاں قریب اور ایک ویجی کیا کھانا طے کر لو پھر کھانے چلتے ہیں۔۔ 

    پانچوں نے آنکھیں پھیلا کر چادر پر سجی چیزوں کو دیکھا۔۔ 

    کیک پیسٹری سینڈوچز تھے فرائز اور کوریائی جھٹ پٹ کھانے سوکھے ہوئے نمکین چاولوں کے کیک جو پاپڑ کی طرح کے تھے۔۔ 

    ہمیں ہتھنیاں سمجھ رکھا کیا اس سب کے بعد کھانا بھی؟۔۔ 

    الف نے آنکھیں پھاڑیں۔ 

    مجھے رائس کیک پکڑا دو۔۔ 

    عروج نے کھڑے کھڑے ہی ابیہا کو کہا۔۔  

    واعظہ نے ایک نظر انکے ٹپ ٹپ پانی ٹپکاتے کپڑوں کو دیکھا پھر ڈپٹ کر بولی۔۔ 

    اتارو اپنے عبایا ساری۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاس سے گروپ اٹھ کر گیا تو واعظہ انکی چھتری اکھاڑ لائی اسے تھوڑا سا ریت پرکھود کر آدھا اندر دبا دیا۔۔ دونوں چھتریوں کے سر پر چادر باندھ کر آڑ کی۔۔ فاطمہ اسکی برابر مدد کروا رہی تھی۔۔ 

    یہ پانچوں بھیگی بلیاں بنی کھڑی تھیں۔۔ 

    خیمہ سا بنوا کر سب کے عبایا اتروائے  ۔ انکو کافی اور کھانے پینے کی چیزیں تھما کر واعظہ اور فاطمہ نے سب کے عبایا اٹھالیئے۔۔ 

    ان سے کچھ فاصلے پر ایک یورپی لڑکے لڑکیوں کا گروپ انہیں حیرت سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔ 

    مجھے پتہ ہوتا انکے عبایا سکھانے مجھے ہی پڑیں گے تو ہرگز انہیں نہ بھگوتی۔۔ 

    فاطمہ نے کہا تو واعظہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔۔ 

    مجھے پتہ تھا یہاں آکر بھی تم لوگوں نے کوئی چاند چڑھانا ہی ہے سو زہنی طور پر تیار تھی۔۔ 

    مجھے شدید حیرت ہو رہی یہاں کے لوگوں کو دیکھ کر ؟۔ بیچ پر فل کافتان شارٹس ٹی شرٹس پہن کر گھوم رہے ہیں یہ کوریائی۔۔ 

    بکنی میں ملبوس اس یورپی نقوش والی لڑکی نے ناک چڑھا کر شستہ انگریزی میں کہا تھا۔۔ 

    فاطمہ اور واعظہ کے قدم انکے پاس سے گزرتے سست پڑے۔۔ 

    اوپر سے دھوپ سے بچنے کو چھتریاں بھی کرائے پر لے رہے۔۔ ہم تو ساحل پر جاتے ہی رنگ جھلسانے ہیں۔۔ عجیب لوگ ہیں۔۔ تانبے جیسا رنگ کروانے سے ڈرتے ہیں۔۔ 

    اسکی سہیلی بھی ہمنوا تھی۔۔ 

    اور ان عربیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جو وہاں خیمہ تان کر بیٹھی ہیں۔۔ 

    ایک لڑکا انکے ہی خیمے پر اشارہ کرکے ہنسا۔۔

    بے چاریاں انکی تہزیب ہی یہی ہے۔۔ یہ سب کسی ایک ہی چوغے والی کی بیویاں ہونگی ۔۔ 

    ایک تو منہ پرکالا نقاب بھی چڑھائے تھی۔۔ 

    دوسرے لڑکے نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔۔ 

    واعظہ اور فاطمہ ایک دوسرے کر رک کر دیکھنے لگیں۔۔

    بے چاریاں انہیں پتہ ہی نہیں ہے اپنے بنیادی حقوق کا۔۔ 

    وہ سب ترس کم کھا رہے تھے مزاق زیادہ اڑا رہے تھے۔۔دونوں سر جھٹکتی آگے بڑھنے کو ہی تھیں کہ

    ہے گرلز وانٹ سم مور کلوتھز؟۔۔ 

    انہیں دیکھ کر اس لڑکی کو شرارت سوجھی بیچ پر بچھائی چادر انکی جانب اچھال کر زور سے ہنسی۔۔

    واعظہ کے اوپر گولے کی طرح آکر لگی۔۔ فاطمہ کا میٹر گھوم گیا عبایا واعظہ کو تھماتی جارحانہ انداز میں انکی جانب بڑھی۔۔

    رکو فاطمہ۔۔ 

    واعظہ بوکھلا کر اسے روکنے لگی۔ 

    بازو پکڑ لیا

    ٹھہرو مزا چکھاتی ہوں انہیں بد تمیزی کی کوئی حد ہوتی ہے۔۔ 

    واعظہ سے ہاتھ چھڑاتی وہ بالکل بے قابو ہو رہی تھی۔۔ 

    رک جا بہن احسان ہوگا۔۔ 

    واعظہ کو عبایا گرا کر اسے دبوچ کر روکنا پڑا۔۔ 

    نینسی باٹ

     دس از ٹو مچ۔۔ 

    انکا ردعمل دیکھ کر نینسی کی دوست نے بھی اسےٹوکا۔۔ 

    میں نے تو انکو بس چادر دی ہے ۔۔ وہ ڈھیٹ پنے سے بولی۔۔ 

    اے بھوری بندریا اپنی حد میں رہو ۔ اور یہ چادر کی ہمیں نہیں تمہیں ضرورت ہے گھر سے نکلتے کپڑے پہننا بھول گئیں تم پاگل عورت۔۔ 

    آگے بڑھنے سے تو واعظہ نے کسی طرح روک دیا تھا مگر زبان کا کیا کرتی۔۔ فاطمہ غصے میں انگریزی بھول چکی تھی دو چار پنجابی کی موٹی موٹی گالیاں بمشکل روکی تھیں۔۔ مگر بھوری بندریا اور پاگل عورت جس طرح کہا تھا انہیں اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ عزت ہی کی گئی ہے انکی سو مشہور زمانہ انگریزی گالیاں اس لڑکی نے بے دریغ منہ سے نکالی تھیں۔۔ پھر فاطمہ واعظہ کے بس سے باہر ہو چکی تھی۔۔ 

    واعظہ کو دھکا دے کر گراتی وہ اسکے خشخشی بھورے روکھے بالوں پر لپکی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    ساحل پر دو لڑکیوں کو گتھم گتھا ہوتے دیکھ کر انتظامیہ کےچندی آنکھوں والے حفاظتی اہلکار فورا پہنچے تھے۔۔ مگر تب تک 

    فاطمہ نے اسکے بال جکڑ کر اسے گول گھمایا تھا ایک طمانچہ جڑا ۔۔  پھر کندھے سے پکڑ کر الٹا گھما کر زمین پر پٹخ دیا تھا۔۔

    لڑکی کیلئے اس طرح تائکوانڈو کا دائو سہنا غیر متوقع تھا سیدھی ڈھیر ہوئی تھی زمین پر۔۔ اسکے دائو دیکھ کر  بھوری بندریا کی سہیلی بجائے  بچانے کو ڈر کر پیچھے ہٹ گئ۔۔ اسکے بوائے فرینڈ کے سر پر لگی تلوے پر بجھی ۔ 

    سیدھا فاطمہ پر غصے سے بلبلاتا جھپٹا تھا۔۔ 

    واعظہ جو فاطمہ کو روک ہی رہی تھی اسے فاطمہ کی جانب بڑھتے دیکھ کر  اسکے اور فاطمہ کے بیچ میں آگئ۔۔ 

    اسکا بھرپور مکا واعظہ نے بازو پر روک لیا تھا۔۔یہ بنیادی خود کو بچائو کا دائو تھا۔۔ 

    بھرپور قوت کا یہ مکا پڑا تو نہیں تھا اسے مگر بازو رہ گیا تھا اسکا۔۔ 

    فاطمہ نے پلٹ کر دیکھا تو غصے سے آگ بگولا ہو کر اس لڑکے پر جھپٹنا چاہا مگر تب تک انتظامیہ کے اہلکاروں نے فوری مداخلت کی تھی۔۔ ایک لڑکے نے اس لڑکے کو قابو کیا تھا دوسرے نے فاطمہ کو۔۔ 

    فاطمہ نے فورا خود کو چھڑایا اور دانت پیستی انہیں گھورنے لگی۔۔

    ان سب کو وہ انتظامیہ کے دفتر میں لے گئے تھے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریری معافی نامہ لکھوا کر ان سب سے دستخط کروائے تھے پولیس نہ بلوانے کی شرط پر۔۔ 

    پاکستانی جہاں جاتے ایسے ہی طوفان بدتمیزی مچاتے ہیں۔ ٹرمپ صحیح کر رہا ان لوگوں کی۔۔ 

    بھوری بندریا آنسوئوں سے روتی چلائی۔۔ 

    اسکا بوائے فرینڈ اسے کندھے سے لگائے تھپک رہا تھا اور ان کو گھور رہا تھا بس چلتا تو فاطمہ کو کچا چبا جاتے دونوں۔۔ 

    ہے مائینڈ یور لینگوئیج ۔۔۔ 

    فاطمہ بھڑکی۔۔ واعظہ اور انکے گروہ کا ایک لڑکا ثالثی بنے ہوئے تھےمعزرت نامہ لکھتے دونوں کا بس نہیں تھا باقیوں کے منہ پر ٹیپ چپکا دیں۔۔۔ دونوں کے تاثرات بس یہی تھے کہ خدایا چپ ہو جائو تھانے ضرور جانا ہے تم لوگوں نے؟۔۔ 

    چندی آنکھوں والے اس تیس بتیس سال کے افسر نے خشک اور پیشہ ورانہ انداز میں نشست سے اٹھتے ہویے ٹوکا۔

    ویسے آپ امریکی بھی کم نہیں ہیں۔ پاکستانی سیاحوں کا معاملہ ہم تک پہلی بار پہنچا ہے مگر امریکی سیاح جب جب یہاں آتے ہیں کسی نہ کسی جھگڑے میں ضرور الجھتے ہیں۔۔۔ ابھی بھی آپ لوگوں کی جانب سے پہل ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عربی سیاح ضرور شکایت کرتے ہیں کہ انکے لباس پر ہوٹنگ کی گئ ہے اور وہ کبھی مقامی باشندوں کی جانب سے نہیں کی جاتی۔۔ 

    اوپر سے لڑکیوں کی لڑائی میں آپ ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔۔ اگر یہ معاملہ یہاں ختم نہ کریں تو بلنگ اور ہیرسنگ کے چارجز پرآپ کو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔۔ 

    بولتا ہوا وہ انکے سامنے آکھڑا ہوا تو اس امریکی نے سر جھکا لیا۔۔ 

    اور آپ۔۔ تائیکوانڈو کے دائو آزما رہی ہیں ایک۔کمزور سی لڑکی پر جو آپکا مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔ تائیکوانڈ و کے بنیادی ادب آداب میں سب سے پہلے یہی چیز سکھائی جاتی ہے غالبا کہ اپنے غصے اور جارحانہ عزائم پر قابو کیسے کرنا ہے؟ 

    افسر اب فاطمہ کی جانب مڑا تھا۔۔ 

    فاطمہ کو بھی احساس ہوا اپنی غلطی کا۔۔ وہ امریکی لڑکی اس سے ٹھیک ٹھاک پٹ گئ تھی۔۔ 

    مگر غصہ ہی اسے اتنا آیا تھا۔۔ ف والی گالی تو ان امریکیوں کی زبان پر ایسے چڑھی تھی جیسے بڑی کوئی اعزاز کی بات ہو۔۔ 

    صلح صفائی کروا کر انہیں جانے کی اجازت ملی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ کہاں رہ گئیں؟۔ عزہ کو بے چینی ہوئی۔۔ 

    دو تین گھنٹے ہو رہے تھے شام کا وقت ہو چلا تھا انکی کافی وغیرہ یخ ہو گئی تھئ۔۔ 

    عبایا نہ ہونے کی وجہ سے وہ تو وہیں رہی الف اور ابیہا ساحل کنارے ٹہل رہی تھیں۔۔ 

    پیٹ پوجا کرکےعروج وہیں اونگھ گئ تھی تو نور اپنے ساتھ لائی چادر نکال کر نقاب بناتی کیمرہ اٹھائے نکل گئ تھی۔۔ 

    تب دور سے فاطمہ اور واعظہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی چلی آئیں۔۔ قریب ہی کوریائی طرز کا گیسٹ ہائوس تھا سو وہاں کے لانڈری روم میں جا کر مشین میں سب عبایا دھو کر سکھا کر فاطمہ اور واعظہ لیکر آئی تھیں۔۔ 

    یہ لو۔۔ فاطمہ نے اسے عبایا تھمائے۔۔ دونوں کے چہرے اترے ہوئے تھے۔۔

    کیا ہوا تم لوگوں کو؟۔ 

    عزہ کو پریشانی ہونے لگی۔۔ 

    وہ۔۔ فاطمہ۔۔ نے ایک۔نظر واعظہ کو دیکھاپھر بتانے ہی لگی تھی کہ۔۔ 

    واعظہ یکسر بدلے ہوئے انداز میں خوشگوار انداز میں بولی۔۔ 

    کچھ نہیں مٹی لگ گئی تھی عبایا پر اور سمندر کے پانی سے بو بھی اٹھ رہی تھی وہی دھونے میں سکھانے میں وقت لگ گیا۔۔ 

    واعظہ کو بھوک لگ رہی تھی بے تابی سے چیزیں الٹ پلٹ کر رہی تھی۔۔ فاطمہ بھی چپ کر گئ۔۔ 

    کافی تو دونوں کی ٹھنڈی پالا ہو گئ تھی سو صبر شکر کرکے کیک وغیرہ ہی کھانے لگیں۔۔ 

    چاکلیٹ فلیور ہی کوریائی طرز کے چاولوں کے لجلجے سے حلوے کی۔طرز کے کیک تھے واعظہ نے ہاتھ بڑھایا پھر چاکلیٹ دیکھ کر چھوڑ دیا۔

    عزہ کو پتہ تھا اسے چاکلیٹ پسند نہیں اس ایک اس نے علیحدہ کر کے اپنے بیگ میں ڈال لیا تھا۔۔ 

    ابھی وہی نکال کر سامنے رکھا اور خود عبایا پہننے لگی۔۔ 

    واعظہ نے ایک۔نظر اسے دیکھا۔۔ پھر مسکراہٹ دبا کر کھانے لگی۔۔ 

    معزرت کا لفظ منہ سے نہیں نکلنا تھا مگر اسے فکر بھی تھئ اسکی۔۔ سو ایسے ہی منا لیا تھا اسے اور واعظہ مان بھی گئ۔۔ 

    باقی سب کہاں ہیں۔۔ 

    عروج انکی باتوں سے اٹھ گئ تھی۔ سو آنکھیں مسلتی پوچھنے لگی۔۔

    ساحل کنارے پر ہیں۔۔ عزہ نے کہا تو فاطمہ حیرت سے بولی

    ساحل پر تم نہیں گئیں؟ اتنی دیر سے یہیں بیٹھی تھیں؟۔  فاطمہ کی حیرت پر وہ مسکرا کر نقاب بنانے لگی۔۔ 

    چلو پھر اب چلتے ہیں۔۔ سورج ڈوبنے کا منظر بہت خوبصورت ہوگا ساحل پر۔۔ 

    واعظہ کھا پی کر ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ ان تینوں نے بھی کپڑے جھاڑ کر اٹھتے اسکی تقلید کی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔   

    گیونگ پو ہے پر شام اتر رہی تھی۔۔ سارا دن کا تھکا ہارا سورج اب پانیوں میں ڈوبنے کی تیاری میں تھا۔آسمان پر نارنجی رنگ پھیلتا جا رہا تھا ۔ ابیہا فاطمہ اور واعظہ دور لہروں کے قریب ٹہل رہی تھیں۔۔ کوئی زور کی لہر آتی تو ابیہا پیچھے ہٹتی اور واعظہ اسے واپس ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیتی۔۔ انکی کھلکھکلاہٹوں کی دھیمی سی آواز یہاں تک سنائی دے رہی تھی۔۔
    یہ شام مجھ سے کچھ کہہ رہی ہے۔۔
    ٹھنڈی ٹھنڈی ریت میں پیر گھسائے عروج نارنجی سورج کی شعاعوں کو خود میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ گہری سانس لیکر نم ہوا کی تازگی محسوس کرتے اسکا انداز شاعرانہ ہوچلا تھا
    ہاں کہہ رہی ہوگی رات ہونے سے پہلے گھر واپس چلی جانا مغرب کے وقت ہوائی مخلوق ہوتئ ہے پانی کے نزدیک۔۔
    نور نے منہ بنا کر کہا۔۔ اس کے اوپر ابھی بھی ویڈیو کال کا سحر طاری تھا۔۔ اسکی امی نے اسے کال کی تھی جوابا اس نے ویڈیو کال ملا کر بیس پچیس منٹ بات کی تھئ۔عروج کے برعکس وہ ریت پر ایک چھوٹے سے تنکے سے کچھ لکھ لکھ کر مٹا رہی تھی۔۔
    عروج اسکے انداز پر ہنس پڑی۔
    لکھ کیا رہی ہو۔۔
    اس نے تجسس سے اسکا لکھا پڑھا پھر چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔۔
    نور خفا خفا سی پھر اپنا لکھا مٹانے میں مصروف تھی۔۔
    الف کہاں گئ۔۔ عروج کو خیال آیا تو سر اونچا کرکے اسے ڈھونڈنے لگی۔۔ تھوڑی سی ہی کوشش سے نظر آگئ۔۔
    الف ایک بڑے سے پتھر پر چڑھ کر نارنجی شعاعوں کے عکس میں سیلفیاں لینے کی کوشش میں تھی۔۔ نارنجی اسکارف نارنجی فراک میں وہ  دور سے سورج کا ہی گمشدہ حصہ لگ رہی تھی

    عزہ ان سب سے دور اپنی ہی دھن میں چل رہی تھی اسکا رخ ساحل سے بالکل مخالف سمت تھا۔۔۔

    اختتام پہلی قسط کا۔۔ 

    ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Home » Urdu Novels » Desi Kimchi » Urdu Web Travel Novel Desi Kimchi Episode 1
    Home » Urdu Novels » Desi Kimchi » Urdu Web Travel Novel Desi Kimchi Episode 1

  • Na dhalta dekha na ubharta dekha…Dekha jab b sar per charta dekha…

    Na dhalta dekha na ubharta dekha…
    Dekha jab b sar per charta dekha…

    Suna hay k jalati hay tapish iski boht…
    Mainy mager raat main na kabi isko dekha…

    Sard say ehsas main mana taqwiyat thi mili…
    Haan mager is say apna rang b jalta dekha…

    Najanay kia israar shaksiyat main hay iski…
    Mainy dunya ko gird iskay hamesha ghomta dekha…

    Boht uljha rehi hay baat tumhari hajoom ko…
    Tumnay kia pehli baar aaj suraj ko tanha dekha… ???

    نہ ڈھلتا دیکھا نہ ابھرتا دیکھا …
    دیکھا جب بھی سر پر چرتا دیکھا …

    سنا ہے کہ جلتی ہے تپش اسکی بوہت …
    میں نے مگر رات میں نہ کبی اسکو دیکھا …

    سرد سے احساس میں مانا تقویت تھی ملی …
    ہاں مگر اس سے اپنا رنگ بھی جلتا دیکھا …

    نجانے کیا اسرار شخصیت میں ہے اسکی …
    میں نے دنیا کو گرد اسکے ہمیشہ گھومتا دیکھا …

    بہت الجھا رہی ہے بات تمہاری ہجوم کو …
    تم نے کیا پہلی بار آج سورج کو تنہا دیکھا … ؟

    Home » Zauq e sukhan urdu shayari » Hajoom E Tanhai » Na dhalta dekha na ubharta dekha…Dekha jab b sar per charta dekha…
  • Aik Daily Blogger ki wall say |mukhtasir afsancha| by vaiza zaidi

    ایک ڈیلی بلاگر باجی کی وال سے کل کی ایک پوسٹ۔۔۔۔
    آپکے بہنوئی اتنے مزاحیہ ہیں نا کہ آج صبح صبح سے انکا مرا مزاق چل رہا ہے۔ صبح آنکھ ہی نہیں کھلی میری تو یہ لیٹ ہوگئے دفتر سے آٹھ بجے میری منی سی چوٹی کھینچ کر جگایا اور گال سہلاتے ہوئے مجھے اٹھنے کا کہہ کر خود باتھ روم میں گھس گئے۔ میں سستی سے انگڑائی لیکر اٹھی اٹھ کر آئینہ دیکھا بال سمیٹے جو انکے چوٹی ہلانے سے اجڑ پجڑ گئے تھے پھر چہرہ دیکھا تو انکی سخت انگلیاں ابھر آئی تھیں۔ خیر یہ تو انکا ہمیشہ کا جارحانہ پیار ہے ہر دو ایک دن میں پیار کی نشانی ضرور چھوڑتے ہیں میرے چہرے پر۔ جلدی جلدی ناشتہ بنایا چائے بنا کر میز پر رکھی یہ منہ پھلائے بیٹھے تھے مجھے گھورا تو مجھے ہنسی ہی آگئ۔ خیر انکو خاموشی سے ناشتہ کرتے دیکھتئ رہئ انکو میرے ہاتھ کا پراٹھا اتنا پسند کہ لیٹ ہونے کے باوجود ڈیڑھ پراٹھا کھایا اٹھتے اٹھتے بولے شکر ہے میری آج میٹنگ ساڑھے نو بجے ہے ورنہ تم نے تو لیٹ کرادیا تھا مجھے۔
    مجھے ہنسی آگئ کتنے شرارتی ہیں دیر سے جانا تھا خود الارم بند کرکے سوگئے اور الزام بھئ مجھ پر لگا دیا جاتے جاتے قورمے کی فرمائش کرگئے وہ بھی مٹن کی۔ میں سوچ میں پڑ گئ بچوں کو کیا دوں؟ کیونکہ مٹن تو یہ کلو بھر لاتے ہیں اور میں بس ان ہی بھر کا سالن بناتئ ہوں تو چار دفعہ پک جاتا مہینے میں اب یہ سالن میں اور بچے بھی کھائیں تو چار تو بچے ہی ہیں ہمارے دو تو بڑے تو ٹین ایجر ہیں ۔ کلو گوشت لمحوں میں نمٹ جائے۔ ایسے موقع پر انکے لیئے مرغی کا سالن بنا دیتئ ہوں مگر اس وقت سر میں درد ہو رہا شائد پوری قوت سے ہاتھ اٹھا دیا انہوں نے بچے چھٹیوں کی وجہ سے گھر تو ہیں مگر سو ریے ہیں۔ انکے سامنے تو انکے ابا ہاتھ اٹھا نہیں پاتے بچے آجاتے سامنے پھر وہ بھی پٹتے۔ تو میں انکو کہتئ ہوں بچوں کے سامنے غصہ برداشت کرلیا کریں اکیلے میں جو چاہیں کہہ لیں۔اس وقت انہوں نے میری بات مان لی۔ شکر ہے بات مان لیتے ۔
    بس پھر جلدی جلدی جا کر میں نے ایلو ویرا جیل منہ دھو کر لگایا بچوں کے اٹھنے تک سرخی بھی کافی کم ہوگئ اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سب کام بھی نپٹا لیا بچے اٹھے تو بیٹی نے مجھے کچن سے نکال دیا کہ امی آپ میرے پراٹھے میں تو گھی لگاتی ہی نہیں ہیں میں خود بنائوں گئ پراٹھا۔ پندرہ سال کی ہے ابھی اورماشااللہ اتنئ سمجھدار ہے کہ میرے بیٹے اور بیٹی میں فرق کرنے کو فورا پہچان جاتی ہے۔ دراصل دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں میرے ۔ اس سے چھوٹا تیرہ سال کا بیٹا ہے بالکل باپ پر گیا ہے باپ جیسا غصہ ہے انکی طرح دو پراٹھے کھاتا ہے وہ بھی سالن بھئ ساتھ ہو اور آملیٹ بھی۔ پہلے تو بڑی بیٹئ کے املیٹ سے اسے تھوڑا سا دے دیتئ تھی مگر جب سے بڑی ہوئی ہے اپنے بنائے انڈے کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی یوں روز کے دو انڈے خرچ ہوتے کہاں ایک ہی انڈے سے نمٹا دیتئ تھئ تینوں بچوں کو پھر نو سالہ بیٹئ ہے معصوم سی اسکو تو میں اسکے ابا کا پراٹھا جو چھوڑتے وہی کھلا دیتی اگر کبھی ذیادہ ضد کرے تو تھپڑ لگادیا لیکن پچھلی بار تھپڑ لگانے پر بڑی بیٹی بیچ میں آگئ ۔ اب وہی ناشتہ بنا کر دونوں بہن بھائیوں کو بٹھا کر کراتئ ہے تین انڈے خرچ ہوجاتے روزکے۔ سب سے چھوٹا میرا بیٹا میری جان پانچ سال کا ہے اسکو دلیہ کھچڑی الگ سے بنا کردیتئ ہوں؟ نہیں وہ سب سے پہلے دو تھپڑ کھاتا ہے پھر جو سامنے رکھ دوں بچاکھچا وہ کھاتا ہے میں بچوں کے لاڈ اٹھانے کی قائل نہیں
    خیر ابھی تو وہ قصہ سنا رہی کہ آپکے بہنوئی اور میرا مزاق چل رہا ہے صبح سے تو ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون آیا کہ مٹن قورمہ ذیادہ بنا لینا میرا دوست بھی ساتھ ہوگا۔ شام میں۔ اب انکے دوست خدا جھوٹ نہ بلوائے نوے کلو کا ہے چار بندوں کا کھانا کھاتا ہے پچھلی دفعہ پورے کلو کا مٹن قورمہ بنایا تھا سب ڈکار کر رات کو دال چاول بھئ کھا کر بارہ بجے تک گیا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہہ دیا کہ مہینے کا آخرہے بس پائو والاپیکٹ بچا ہے ۔ بولے الو کی پٹھی اور منگوا لے میں نے بتایا کہ میرے پاس پیسے ختم تو ایک اورموٹی سی گالی دی بولے ابھی جو پرسوں میری امی آئی تھیں میری مٹھی میں پانچ ہزار کا نوٹ رکھ گئی تھیں اسکا منگوا لوں۔ یقین کیجئے اتنی حیران ہوئی میں
    انکو کیسے پتہ چلا خدا بخشے جب تک میری ساس زندہ تھیں ایسی جاسوسیاں وہی کرتی تھیں جہاں میرے میکے سے کوئی آیا انکی چار آنکھیں چوکنا ہوجاتی تھیں بچوں سے الگ کرید کر پوچھتی تھیں میرے بڑے والے بیٹے کو انہی سے لگائئ بجھائی کی عادت پڑی ہے۔ کل وہی میرے بھتیجے کے ساتھ امی کے برابر بیٹھا تھا یقینا اسی نے دیکھ کر باپ کو بتا دیا۔ ہائے میری بھولی امی۔ بھائی جو ہر مہینے بھابی سے چھپ کر ہزار روپے رکھتے انکے ہاتھ پر سب جمع کرکے ایک چکر میرے گھر کا لگا کر مجھے دے ڈالتی ہیں۔منع بھی کیا تھا یہ ننھا شیطان بیٹھا ہو تو اسکے سامنے نہ دیا کریں مگر ہوگئ غلطی۔
    خیر آپکی بہن کم نہیں۔ انہوں نے تو فون رکھ دیا اب اسئ کو ساتھ لیکر گئ کہ تھوڑی سزا تو ملے ۔ راستے میں کورنیٹو کھلا کر وعدہ لیا کہ ابا کو یہ بتائے کہ بقیہ بچے پیسوں سے اس نے وہ بیٹ بال اور جیومٹیٹرئ باکس لیا ہے جس کو میں اسے پچھلے دو مہینوں میں اپنی بچت سے دلوا چکی ہوں اور وہ باپ کے سامنے ان چیزوں کو چھپا دیتا ہے۔ دراصل انکی اتنی بری عادت ہے کوئی نئی چیز دیکھتے تو بال کی کھال اتارتے کہاں سے پیسے آئے کتنے کے لیئے اور میری بچت تو اور غصہ دلا دیتی ہے کہتے اگر پیسے بچیں تو انکو واپس دیا کروں تاکہ وہ نئے مہینے کے خرچےمیں ڈال لیں یا کٹوتی کرلیں۔
    خیر آج میں نے قورمہ بنایا بڑی بیٹی نے چڑچڑا پن دکھایا کہ ہمارے لیئے کیوں نہیں بنتا قورمہ تو سب بچوں کیلئے شوارما منگوادیا کہ باپ سے چھپ کر کھا لینا۔رات کو جب دوست رخصت ہوا تو انہوں نے فورا ساری تفصیل مانگی کہ پانچ ہزار سے کتنے بچے میں نے بیٹے کو آگے کردیا اس نے فر فر سنایاتھوڑا غصہ آیا انہیں مگر میرا بیٹا لاڈلا بھئ ہے انکا دوسرا کئی مہینوں سے ان چیزوں کی ضد کررہا تھا تو انکا ایک خرچہ کم ہوا یہ سوچ کر انہوں نے غصہ تھوک کر مجھ سے چائے کی فرمائش کردی۔میں جھٹ انکے مزید سوال جواب سے بچنے کو اٹھ گئ۔ چائے چڑھائی ڈونگے تو خالی آئے تھے پتیلی پونچھ کر روٹی کھائی جلدی جلدی ورنہ پتیلی میں کھاتے دیکھ کر انہیں بہت غصہ آتا کہ میں اچھی بوٹیاں بچا کر پتیلی میں رکھے رہتی ہوں اور بعد میں کھاتی ہوں۔حالانکہ اب آپ سے کیا چھپانا خالی سالن ہوتا ہے پتیلی میں ۔ ڈونگے تو یوں پچھ پچھا کر آتے کہ کچھ لگا ہی نہیں ہوتا ان میں۔ خیر چائے بنا کر لے جا رہی ہوں انکے لیئے
    اب ایک آپکی میری آپس کی بات ہے امی نے ایک نہیں دو نوٹ دییے تھے یہ بات بیٹے کو بھی نہیں بتائی ۔ کیونکہ بیٹیوں کی ضرورت کی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو انکو بتائو تو کہتے فضول خرچی ہے مگر میں تو جانتئ ہوں ان چیزوں کے بغیر بیٹیوں کا گزارہ نہیں ہوتا تو اسی طرح پورا کرتی ہوں انکی چیزیں۔ ابھی تو خیر ایک ہی بڑی ہوئی ہے مگر سال دو سال میں دوسرئ کی بھی باری آجانئ ہے مگرمردوں کو ان معاملات کا تھوڑی اندازہ ہوتا بس اسی لیئے ان سے چھپ کر خرچ کرتی ہوں بیٹئ پر۔ بھلے اسے میرے پیار پر نا انصافئ کا گمان ہوتا ہو مگر بیٹی بھی اولاد ہے میری بیٹے کو اچھا کھلا دیتی ہوں تو بیٹی کا پہننا اوڑھنا اچھا ہوتا ہے ۔
    اچھا اب سونے لگی ہوں کل کے بلاگ میں بتائوں گی کہ پوری کوشش کے باوجود بھی چہرے پر نشان دیکھ لیئے بیٹی نے اور جو باپ سے لڑی میں بیچ میں نہ آتی تو اس وقت بائیں کروٹ لیٹتے اسکا گال بھی دکھ رہا ہوتا میری طرح۔۔۔۔۔
    #ڈالڈاخاتون
    #سگھڑبیگم
    #ٹاکسک_میاں_کی_بیوی
    #نارسسٹ_میاں
    #کنجوس_مرد
    #پاکستانیوں_کی_باتیں
    #خاتون_خانہ
    #گھگھوگھوڑےکی_ماما
    #بیٹی_کی_ماں
    یہ مجھے ایڈٹ کرکے لکھنا پڑ رہا ہے یہ مکمل تخیلاتی افسانہ ہے ازقلم واعظہ زیدی
    وہ ایسا ہی فضول لکھتی ہے کیا کرےبے چاری

  • Bewaqoof larki |urdu alamati kahani

    بے وقوف لڑکی کی کہانی۔۔۔

    وہ اس دن خوش تھی۔ بے تحاشہ خوش اتنا کہ جھوم اٹھی۔ جھومی یوں کہ چکر کھانے لگی۔ ہر چکر پر اسکا چہرہ بس ایک سرخوشی دکھاتا۔۔ مسکراہٹ کم سرخوشی جھلکاتا

    خوش لڑکی نے سوچا۔۔ یہی تو زندگی ہے۔ میں جوان ، خوبصورت اور سب سے بڑھ خوش۔

    بس یہی ایک پل یہی لمحہ یہیں محسوس ہونے والا جذبہ زندگی ہے بس یہیں اسی میں سب وقت گزار دوں۔۔

    جھومتی مسکراتی وہ لمحہ بھر کو رک سی گئ۔۔

    چہرے کا وہ تاثر ان مٹ ہوگیا۔۔

    اس نے اسی پل میں ٹھہرنے کا فیصلہ جو کرلیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہزاروں سال بعد۔۔

    اس تہزیب کے آثاروں میں یہ آخری نکلنے والا ثابت مجسمہ تھا ۔ مجسمہ ایک پتھر کی لڑکی کا تھا یا لڑکی کا پتھر کا مجسمہ۔

    یہ اسکی اب تک کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہو سکتی تھی۔ کھدائی تو سب ہی کر رہے تھے کروا رہے تھے اس نے زمین میں دھنسے اس پتھر کو مجسمہ سمجھا تھا۔ اپنی ماہرین کی ٹیم کو اسے کھوجنے نکالنے پر آمادہ کیا تھا۔ اور جب یہ پتھر باہر نکالا گیا تو دنیا کے آزاروں نے اسکی اصل ہیئت چھپا دی تھی۔ اس مجسمے کو اس کی ٹیم نے یکدم بے کار قرار دیا تھا۔ کسی قسم کی تہزیب کا عکس تلاشنا آسان نہ تھا اس پر وہ اس پرانے کھنڈرات سے ایسے نوادرات اکٹھے کر چکے تھے کہ اس سنگی مجسمے جس نے نہ سونے چاندی کی ملمع کاری کروا رکھی تھی نہ ہی اس پر کوئی متروک زبان کے سہی نقش کنندہ تھے اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا کہ آیا یہ کسی پرانی تہزیب کا حصہ ہے بھی یا کسی فنکار کا عام سا مجسمہ مگر وہ کھوجی طبیعت سے مجبور ضد کرکے اس مجسمے کو لیب لائی دن رات ایک کرکے مجمسے کو محفوظ کیا اسکے ایک ایک نقش سے دھول صاف کی اسکو اسکی اصل شکل میں واپس لانے میں دن رات ایک کیا او رجب مختلف کیمکلز لگا کر اس نے جانفشانی سے اسکے اصل خدو خال کھوج نکالے تو۔۔

    جانا یہ ایک سرخوشی سے جھومتی مسکراتی لڑکی ہے جس پر زمانوں کی دھوپ گرد بے اثر رہی تھی آج بھی آب و تاب سے مسکرا رہی تھی۔

    اس ماہر آثار قدیمہ نے یک ٹک اسے سرتاپا دیکھا۔پھر چہرے پر ثبت تاثر کو

    پھر ٹھنڈی آہ بھری۔۔

    یہ جب خوش ہوئی ہوگی تب سوچا ہوگا ایسی ہی رہ جائے۔

    مگر اس خوشی کے بعد نہ اسے کوئی خوشی مل سکی نہ غم ایسی ہی رہ گئ بے چاری۔

    اس بات سے ناواقف کہ

    زندگی گزر جانے میں ہے۔۔ ٹھہر جانے میں نہیں۔۔

    از قلم واعظہ زیدی

    Rating
    Home » Afsanay (short urdu stories) » Suspense/Mystry Urdu Stories » Bewaqoof larki |urdu alamati kahani

  • Woh Kon Thi: Saheliyon Se kia Chupaya Raaz | Khoofnak Urdu Horror Story

    The Hidden Secret: Woh Kon Thi Aur Saheliyon Se Kya Chupaya?

    وہ کون تھی؟؟؟

    نیہا اپنی سہیلیوں کے ساتھ کالج ٹرپ پر شمالی علاقہ جات کی سیر کو آئی تھیں۔ سارا دن انکا پہاڑوں پر تصویریں بناتے ہنسی ٹھٹھول کرتے گزرا تھا ۔ آخر اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ پر مغرب کے قریب ہوٹل واپسی ہوئی تھی۔پرائیویٹ کالج تھا خوب پیسے اینٹھے تھے انکے والدین سے جبھی پچیس لڑکیوں کیلئے کمرے بھی دو دو کے حساب سے بک کئے گئے تھے۔ فرسٹ اور سیکنڈ ائیر دونوں کلاسز کو لیکر گئ تھیں بہت سے والدین نے تو بھیجنے سے منع کردیا تھا مگر نیہا کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بلکہ اپنی سہیلیوں  شمائلہ، عالیہ اور لیلی کے والدین کو بھی نیہا نے ہی منایا تھا۔جانے کیا سحر پھونکا تھا اپنی بچیوں کو ڈانٹ کر چپ کرادینے والے والدین نیہا کے آگے ایکدم چپ ہو گئے تھے اور میکانکی انداز میں اجازت نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔سب سے ذیادہ حیران تو لیلی ہوئی تھی۔ اسکول کے زمانے میں بھی والدین نے کبھی اسے کسی ٹرپ پر جانے نہیں دیا تھا۔ اور نیہا کے ایک دفعہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے پر کہ لیلی کو ہمارے ساتھ ٹرپ پر جانے دیں اسکے والدین نا صرف خاموشی سے مان گئے بلکہ جیب خرچ بھی دیا تھا لیلی کو۔ لیلی تو خوشی سے نیہا سے لپٹ ہی گئ تھی۔ بہت شکریہ میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ نیہا مسکرا دی 

    ساتھ تنبیہہ بھی کردی تھی کہ آئندہ مجھ سے دور رہنا۔ 

    اسے بالکل بھی چھوئے جانا پسند نہیں تھا۔ لیلی نے کان پکڑ کر سوری کہا تھا۔ نیہا ان سے ہاتھ بھی نہیں ملاتی تھی بس دور سے سلام کرنا پسند تھا اسے۔ شائد اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ شروع شروع میں جب اس سے ہاتھ ملاتی تھیں تو اچھل پڑتی تھیں۔ اسکے ہاتھ غیر معمولی طور پر نرم تھے۔جیسے اس نے کبھی ہل کر پانی نہ پیا ہو۔ 

    شمائلہ نے تو حیران ہو کر یہ بھی کہہ دیا تھا کیا تمہارے ہاتھ میں ہڈی نہیں ہے؟ اتنا نرم ہاتھ کیسے ہو سکتا کسی کا جبکہ وہ کوئی موٹی سی لڑکی بھی نہیں تھی بلکہ ان سب میں سب سے نازک سراپا تھا اسکا۔ نیہا نے گہری سانس لی اور ہتھیلی پھیلا دی۔

    میرے ہاتھ میں لکیریں بھی نہیں ہیں۔ میں اسی لیئے ہاتھ ملاتی ہی نہیں ہوں پھر لوگ الٹے سیدھے تبصرے کرتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا۔

    اسکی شفاف سپید ہتھیلی انکے سامنے پھیلی تھی اور تینو ں کی حیرت سے آنکھیں ابل سی آئی تھیں اسکے ہاتھ میں بنیادی بس تین لکیریں تھیں قسمت، زندگی اور تعلیم کی او روہ سب بھی ادھوری تھیں۔خوب گہرئ مگر بمشکل ایک پور کی۔ 

    اب اگر تم لوگوں نے دوستی کرنی ہے مجھ سے تو میری شرط ہے نا تم میں سے کوئی کبھی مجھ سے ہاتھ ملائے گا نہ کبھی پیچھے سے آواز دے گا اگر میں کبھی نظر آئوں تو آواز دینے کی بجائے تم لوگ پاس آجانا یا میسج کردینا ٹھیک؟

    وہ تینوں مان گئ تھیں۔ بہر حال نیہا دل کی بہت اچھی لڑکی تھی۔ کھلا خرچ کرتی تھی ان پر پڑھائی میں مدد ہو یا اچھا کھانا وہ پیش پیش رہتی تھی۔ جبھی وہ تینوں کبھی اس کو ناراض نہیں کرتی تھیں۔ ابھی بھی جزباتی ہو کر لیلی نے گلے لگا لیا تو فورا معزرت کر لی تھی۔

    آج سارا دن بھی وہ چاروں اپنا الگ گروپ بنائے پہاڑوں پر گھومتی پھری تھیں۔ نیہا انکو ہر جگہ گائڈ بن کر سیر کرا رہی تھی۔ 

    شمائلہ نے کہہ بھی دیا کہ تم تو لگتا ہے یہیں رہتی رہی ہو

     اس نے مسکرا کر سر ہلایا ہا ں یہاں قریب ہی میرا ننھیال ہے اکثر آنا جانا ہوتا ہے یہاں۔ 

    غرض خوب تھک تھکا کر وہ جب ہوٹل پہنچیں تو بھوک سے برا حال تھا۔عالیہ اور لیلی کا الگ کمرہ تھا نیہا اور شمائلہ کا الگ لیکن عالیہ اور لیلی اپنا سامان کمرے میں رکھ کر بس اپنے ہینڈ بیگ اٹھا کرانہی کے کمرے میں آگئ تھیں۔ باتیں کرتے وقت گزرنے کا پتہ نہ لگا۔ انکی کلاس فیلو نے آکر انہیں کھانے کیلئے بلایا تو اکٹھی ہی چاروں نیچے آئیں کھانا کھانے مگر  ہوٹل کا کھانا انکو پسند نہیں آیا۔۔ 

    عجیب ہیک زدہ اوپر سے بکرا یا دنبہ پکا تھا جو ان تینوں کو بالکل پسند نہیں آیا سو ایک دو نوالے لیکر اٹھ گئیں۔ 

    نیہا یہاں بھی مدد کو آئی ۔ انکی پسند پوچھ کر 

     نیہا نے اپنے کزن سے کہہ کر گھر سے کھانا منگوا لیا۔ وہ تینوں منع کرتی رہیں مگر نیہا نے مان بھرے انداز میں یہ کہہ کر کہ اسکو کوئی مسلئہ نہیں ویسے بھی چونکہ اسکا ننھیال یہاں ہے تو وہ سب اسکی مہمان ہیں۔ اسکے خلوص پر انہیں خاموش ہونا پڑا۔نیہا کا کزن بھی خوب پھرتیلا تھا انکو ذیادہ انتظار نہیں کروایا۔ پندرہ بیس منٹ میں ہی وہ ہوٹل کے باہر موجود تھا۔نیہا خود جا کر کھانا لیکر آئی کیونکہ ہوٹل کے اندر کوئی باہر کا داخل ہو نہیں سکتا تھا۔ ان تینوں نے کھڑکی سے ہی جھانک کر دیکھا اسکا کزن خوب لمبا چوڑا سا تھا۔ انکو اوپر کی منزل سے نیچے جھانکتے جانے اسے محسوس ہوگیا کیا مسکرا کر ہاتھ بھی ہلا دیا۔ نیہا نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو وہ تینوں خفت ذدہ سی ہوگئیں کیا سوچتی ہوگی ہم اسکے کزن کو تاڑ رہی ہیں۔ جھٹ کھڑکی بند کرکے اندر بیڈ پر آبیٹھیں۔ تبھی نیہا دروازہ کھولتی اندر آگئ۔ انہیں جتائے بنا کھانا لا رکھا۔ کباب مرغ کڑاہی اور تلے ہوئے نان   ۔ غرض اچھی خاصی دعوت ہوگئ انکی۔ 

    اتنا مزیدار تکہ میں نے آج تک نہیں کھایا۔

    عالیہ نے چٹخارا  بھرا تو شمائیلہ اور لیلی نے بھی تائید کی۔ 

    نیہا مسکرا دی۔

    کھانا بہت ذیادہ نہیں تھا بلکہ ایک نظر دیکھنے میں لگتا تھا کہ چار لوگوں میں کم پڑ جائے گا مگر ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔ 

    خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔ نیہا نے ان سب کیلئے کافی آرڈر کردی تھی کھانا ختم ہوتے ہی کافی بھاپ اڑاتی سامنے تھے۔

    سردی میں کافی سے بہتر کوئی چیز ہو نہیں سکتی  

    شمائلہ نے گھونٹ بھر کر فتوی داغا۔

    ساتھ ڈرائی فروٹس ہوں تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ نیہا نے بیگ سے چلغوزے نکال کر سامنے رکھ دیئے۔ پلیٹ بھر کر چلغوزے کھاتے کافی پیتے انہیں کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ اچانک ایک کونے میں رکھا شمائلہ کا بیگ خود بخود دھڑام سے گر گیا۔ وہ چاروں چونک کر مڑیں۔ نیہا نے گھور کر بیگ کر دیکھا۔

    یہ کیسے گر گیا؟ شمائلہ کی خوف سے سرسراتی آواز نکلی۔ 

    ہوا سے گرا ہوگا یا ٹیڑھا رکھا ہوگا۔

    نیہا نے لاپروائئ سے کہا۔ مگر عالیہ کو غلط وقت پر غلط بات یاد آئئ۔

    یار میں نے سنا ہے یہاں شمالی علاقہ جات میں آسیب وغیرہ کا بہت چکر ہوتا ہے۔ میرا کزن اپنے دوستوں کے ساتھ آیا تھا تو اسی ہوٹل میں رکا تھا ۔ بتا رہا تھا ساری رات کمرے میں عجیب آوازیں آتی رہیں کبھی کوئی ادھر سے ادھر جا رہا کبھی کوئی۔۔۔ 

    کیا بکواس ہے۔ نیہا نے چڑ کر ٹوکا۔ 

    یہ کوئی وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا؟ 

    ہاں صحیح کہہ رہی ہے ۔ سدا کئ ڈرپوک لیلی نے بھی حمایت کی۔

    میں نے سنا ہے ان چیزوں کا ذکر کرو تو آجاتی ہیں ۔ نام بھی نہ لینا۔۔۔

    ہم لاحول پڑھ کر بھگا دیں گے ۔ 

    شمائلہ ہنس کر بولی۔۔

    تم لوگ بھی نا بلا وجہ ڈرتی ہو۔ پتہ ہے ہم کزنز اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسے ایسے قصے سناتے ہیں ڈرائونے ساری رات گزرنے کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ اور مزا اتنا آتا ہے مجھے بتائو کیا ہوا تھا تمہارے کزن کے ساتھ۔۔۔۔ 

    شمائلہ کی شہہ ملنی تھی کہ عالیہ نے قصہ شروع کردیا۔ لیلی نے خفا ہونا چاہا کان بھی بند کرنے چاہے مگر قصہ دلچسپ تھا سو وہ بھی ہمہ تن گوش ہوگئ۔ 

    ہوا کچھ یوں کہ میرا کزن اور اسکے دو دوست یہاں آئے اور نیچے والی منزل پر ایک روم لیا۔ ڈبل بیڈ والا  اب ہوا یوں کہ تینوں تھکے ہوئے تھے آئے اور بس بستر پر گر کر سوگئے۔ کوئی رات کے ایک بجے ہوں گے کہ میرے کزن کا کسی نے کندھا ہلایا۔ وہ سمجھا میرا دوست ہوگا کروٹ بدل کر اوں آں کرکے سوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد پھر۔۔ 

    عالیہ مزے لے لیکر کر بتا رہی تھی لیلی کو بھی تجسس ہو نے لگا نیہا بور سی ہو کر ان کے بیچ سے اٹھ گئ۔ آکر کھڑکی میں کھڑی ہوگئی۔ ابھی چونکہ اوائل اکتوبر تھے تو برفباری تو دور دور تک نہ ہوئی تھی مگر ایک ہڈیوں میں گھسنے والی سرد ہوا کا جھونکاضرور آتا تھا۔وہ کھڑکی کھول کر اسی سرد ہوا کے جھونکے کا مزا لے رہی تھی۔ 

    کمرہ ہنسی مذاق سے گونج رہا تھا، عالیہ شمائلہ کا مزاق اڑا رہی تھی جسے آدھا قصہ سن کر ہی ڈر لگ گیا تھا۔ 

    بس کرو میں نے نہیں سننا مجھے ڈر لگتا ہے۔

    وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی تو عالیہ ہنستے ہٹا دیتی۔  دونوں کو دیکھتی شمائلہ کو ایکدم سرد ہوا نےجھر جھری سی دلا دی۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا تو نیہا اتنی سخت سردی میں کھڑکی کھولے کھڑی باہر جھانک رہی تھی

    “نیہا، نیہا کی بچی ” اس نے آواز دی۔

    کھڑکی تو۔۔

    نیہا نے چونک کر اپنا سر پیچھے کی طرف موڑا۔ لیکن… صرف سر۔ اس کا جسم وہیں رہا، اور اس کا چہرہ مکمل طور پر پیچھے کی طرف مڑ گیا۔

    شمائلہ کے حلق میں باقی جملہ اٹک سا گیا۔ وہ کہنے جا رہی تھی کھڑکی تو بند کرو مگر زبان ایکدم گنگ سی ہوگئ

    کیا ہوا؟ نیہا حیران پوچھ رہی تھی

    کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ۔

    عالیہ اور لیلی بھی اسے دیکھ کر سنٹ سی ہوگئیں 

    “یہ… یہ کیا تھا؟”عالیہ نے لرزتے ہوئے کہا۔

    نیہا نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔ پھر آہستہ سے بولی

    :

    تو آخر میرا راز کھل گیا

    “مجھے لگا تھا میں چھپ سکتی ہوں… لیکن اب تم سب جان گئے ہو۔”

    میں نے کہا تھا نا مجھے کبھی پیچھے سے آواز مت دینا 

    اس کی آواز میں انسانوں جیسا درد نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف بڑھی، اور انکے دیکھتے ہی دیکھتےغائب ہو گئی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح خاصے جارحانہ انداز میں دروازے پر دستک دینے سے آنکھ کھلی تھی شمائلہ کی۔ 

    تیز دھوپ کھڑکی سے چھن چھن کر پوری  مسہری کو گھیر رہی تھی۔ اس نے کسمساتے ہوئے پہلو بدلا توعالیہ اور لیلی دونوں اسکے برابر میں آڑھی ترچھی پڑی سو رہی تھیں۔ 

    دروازہ کھولو عالیہ، شمائلہ، لیلی

    یہ انکی پرنسپل کی آواز تھئ وہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی دونوں کو ہلایا ابھی آنکھیں ملتی وہ اٹھ ہی رہی تھیں کہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر ہوٹل اسٹاف کے ہمراہ پرنسپل کڑے تیوروں کے ساتھ انکے کمرے میں داخل ہوگئیں۔ 

    کیا حرکت ہے لیلی یہ؟ آپ اپنے والدین سے اجازت لیئے بنا ٹرپ پر آگئیں؟ آپ جانتی ہیں آپکے والدین نے آپکی گم شدگئ کا پرچہ درج کرادیا ہے؟ پولیس آپکو ڈھونڈتی پھر رہی ہے؟آپکو اندازہ بھی ہے کتنی بڑی مشکل کھڑی کردی ہے آپ نے ہمارے لیئے۔

    وہ بنا لحاظ غصے سے چلائیں۔ 

    لیلی اس افتاد پر گھبرا گئ۔ 

    مگر میم میں نے تو اجازت نامہ لا کر جمع کرایا تھا نیہا نے خود بابا سے بات کی تھی میرے پاس والی اجازت نامے کی کاپی ہے میرے پاس۔ 

    کون نیہا؟ اور لیلی آپ نے اپنے والدین کےجعلی  دستخط کیئے تھے اجازت نامے پر؟آپ جانتی ہیں اس حرکت پر آپ کو کالج سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔۔

    میم نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے دریافت کیا۔ 

    میم ہماری دوست نیہا۔ اسی نے اجازت لی تھئ لیلی کے والدین سے یہیں اسی کمرے میں رکی ہے ہمارے ساتھ یہ سامان ، شمائلہ سہیلی کی مدد کو آئئ

    اشارے سے ایک کونے میں رکھے اپنے اور نیہا کے بیگ کی جانب اشارہ کیا تو حیرت سے دیکھتی رہ گئ وہاں بس ایک بیگ تھا اسکا اپنا۔۔

    کون نیہا؟ کیسا سامان؟ تم لوگوں کو اندازہ بھی ہے تم لوگوں کی وجہ سے کالج کی ریپوٹیشن پر کیا اثر پڑے گا؟ ابھی اسی وقت اپنا سامان سمیٹو تم تینوں واپس جا رہی ہو فورا۔۔

    پرنسپل صاحبہ غصے سے چلا رہی تھیں او رعالیہ شمائلہ اور لیلی کے ذہن میں رات کا منظر تازہ ہوا تھا۔ 

    نیہا تو انکی آنکھوں کے سامنے دھواں بن کے غائب ہوگئ تھئ۔۔

    اب کیسے یقین دلائیں وہ پرنسپل صاحبہ کو۔۔ 

    تبھی ایک خوش شکل نوجوان پولیس کی وردی میں داخل ہوا۔  

    میم لیلی کے والدین نے اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔ انہیں کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔  میرا خیال ہے آپ ان سے بات کرلیں پہلے۔۔ 

    اس نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا وہی انکی جانب بڑھا دیا۔

    پرنسپل صاحبہ نے میکانکی انداز میں فون کان سے لگایا اور خاموشی سے باہر نکل گئیں

    ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے ان تینوں کو دیکھتا وہ اسٹاف میمبرز کو بھی باہرآنے کا اشارہ کرتا خود بھی باہر نکل گیا۔۔

    لیلی عالیہ اور شمائلہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔

    یہ سب کیا ہوا ہے؟ نیہا کہاں چلی گئ؟

    عالیہ سرسراتی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔ 

    ہماری آنکھوں کے سامنے ہی تو غائب ہوئی تھی پھر مجھے کوئی ہوش نہیں میری ابھی شمائلہ کے جگانے پر آنکھ کھلی ہے۔ 

    لیلی کی آواز میں بھی لرزش تھی۔ 

    اگر نیہا کوئی انسان ہے ہی نہیں تو لیلی کے والدین سے بات کس نے کی؟ اور اب کیا ہوگا؟ اسکے والدین تو بہت غصے میں ہوں گے۔ 

    عالیہ نے کہا تو شمائلہ نے گہری سانس لی۔

    کچھ نہیں ہوگا نیہا نے سب سنبھال لیا ۔۔۔

    کیا مطلب؟ لیلی اور عالیہ نے الجھ کر دیکھا۔ 

    نیہا واپس آگئ ہے؟کیا ہم نے خواب دیکھا تھا جو رات کو ہوا وہ سب؟؟؟

    نہیں۔ شمائلہ نے نفی میں سر ہلایا۔

    رات جو کچھ ہوا وہ سب سچ تھا۔ 

    لیکن تم لوگوں نے غور نہیں کیا پرنسپل کا غصہ ٹھنڈا کرکے لے جانے والا پولیس انسپیکٹر وہی لڑکا تھا نیہا کا کزن جو رات ہمارے لیئے کھانا لیکر آیا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Rating

    kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #Urduhorror

    • #UrduHorrorStory
    • #اردو_ہارر
    • #عورت_جن
    • #جنات_کی_کہانی
    • #خوفناک_کہانی
    Home » Afsanay (short urdu stories) » horror urdu stories » Woh Kon Thi: Saheliyon Se kia Chupaya Raaz | Khoofnak Urdu Horror Story
    https://desikimchi.com/my-daughter-is-a-zombie-gen-z-zombies-korean-drama-a-satirical-film-breakdown
    https://urduz.com/raphanzel-mer-gai-urdu-horror-story-of-a-housewife/
    https://urduz.com/qata-taluq-sirf-ek-jhoot-kaha-us-nay-urdu-afsancha/
  • Qata Taluq |sirf ek jhoot kaha us nay| urdu afsancha

    قطع تعلق اردو افسانچہ

    اس نے ضروری بات کرنے کیلئے ملنے کا کہہ کر نزدیکی پارک میں بلایا تھا۔وہ حسب عادت قدرے دیر سے پہنچا تھا۔ وہ دور اکیلی بنچ پر بیٹھی اسکا انتظار کررہی تھی۔ اس نے بائک لائک کی ہیلمٹ اتار کر رکھا۔ بال جلدی جلدی انگلیوں سے سنوارتا تیز قدم اٹھاتا اسکی جانب بڑھا۔

    اسلام و علیکم کیسی ہو؟

    ہمیشہ کی طرح اس نے ایکدم سے اسکے پیچھے سے آکر زور دار سلام کیا تھا۔ وہ بری طرح چونک کر مڑی تو وہ ہنس دیا

    کیا ہوا ڈر گئیں؟

    وہ مضمحل سا مسکرا دی ۔نہیں ڈر نہیں لگتا اب مجھے۔وہ مزید بھی کچھ کہتی مگر اس نے بات اچک لی

    کیونکہ میں جو پاس ہوں ہے نا۔

    وہ ہشاش بشاش سا خوشگوار مزاج کے ساتھ مطمئن نظر آتا تھا۔ اسکے برابر بیٹھتے ہوئے اسکی آنکھیں پارک پر طائرانہ نگاہ دوڑا رہی تھیں۔

    کیا بات کرنی تھی تمہیں ؟ وہ پوچھ رہا تھا

    کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟اس نے غور سے شکل دیکھتے ہوئے پوچھا تھا

    ہاں ۔ یہ سوال اکثر پوچھا کرتی تھی اور ہمیشہ اس نے فٹ سے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا جواب دیا تھا ہاں

    ۔وہ جوابا مسکرا دیتی تھی آج نہیں مسکرائی جھوٹ۔۔ وہ ایکدم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

    سچ کہہ رہا ہوں کیا ہوا ؟ وہ بوکھلا کر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

    تمہاری دادی ایک ہفتے سے اسپتال میں ہیں جہاں تم انکو دیکھنے جاتے ہو؟

    ہاں۔ اس کا جواب اب بھی برملا تھا۔

    جھوٹ تمہاری دادی کے انتقال کو چار برس گزر چکے ہیں۔ اس نے تاسف سے دیکھا تھا۔

    وہ شرمندہ سا ہوکر کان کھجانے لگا میں بتاتا ہوں دراصل ، اسکا ذہن جلدی جلدی بہانہ سوچنے میں مصروف ہوا۔

    پچھلے ایک ہفتے سے اسکو کچھ مصروفیت تھی وہ بالکل اسکو وقت نہیں دے پا رہا تھا سو اسکی ناراضگی سے بچنے کو اس نے جھوٹ بولا تھا۔ لیکن مصروفیت کی نوعیت بتانے پر اسکی مزید ناراضگی مول لینے کا اندیشہ تھا جبھی ۔۔

    تم جھوٹے ہو میں تم سے مزید کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔ وہ غصے سے کہہ کر جانے لگی تھی۔

    وہ بھاگ کر اسکے سامنے آیابات تو سنو میں مصروف تھا میں نے جھوٹ بولا لیکن اسکا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا میں بتاتا ہوں نا کیوں جھوٹ بولا دراصل ۔۔۔

    مجھے نہیں جاننا تمہاری مصروفیت کی نوعیت۔اس نے سختی سے بات کاٹ دی۔میں بریک اپ کررہی ہوں اب مجھ سے کبھی رابطہ نہ کرنا۔۔

    ایک جھوٹ بولنے پر تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو؟ اسے بار بار بریک اپ کی دھمکی پر غصہ آنے لگا تھا۔ جب جھگڑا ہوتا ان میں وہ ایسا ہی کہتی تھی۔

    ہاں ایک جھوٹ بولنے پر۔ وہ تنفر سے بولی۔۔

    میری کزن آئی ہوئی تھی گائوں سے اسکا علاج ہو رہا ہے یہاں اسپتال میں میں اور میرا کزن اسپتال کی باریاں لگا رہے تھے ۔میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ پچھلی دفعہ جب وہ آئی تھی یہاں اسپتال میں داخل ہونے تو تم نے اتنا مسلئہ بنایا تھا کہ بہن نہیں ہے وہ میری میں کیوں اسکےلیئے خوارہورہا ہوں جبھی اس دفعہ تمہیں بتانے کی بجائے جھوٹ بول دیا اور تم اب اس بات کو مسلئہ بنا رہی ہو۔وہ جھنجھلا گیا تھااسکے رویئے پر کچھ انداز میں سختی در ہی آئی تھی۔ اسکے چہرے پر معنی خیز سی مسکراہٹ در آئی۔

    تم نے یہ نہیں پوچھا کہ مجھے کیسے پتہ چلا کہ تمہاری دادی بیمار نہیں ہیں ؟

    کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کا انداز ہنوز تھا۔ وہ اسکے شکی جھگڑالو مزاج سے تنگ آچکا تھا۔ وہ چند ثانیئے اسے دیکھتی رہی۔ پھر گہری سانس لیکر بولی

    قطع تعلق کر لیتے ہیں بس اب ہم۔

    وجہ؟ اس نے تیوری چڑھائی

    تم نے جھوٹ بولا مجھ سے میں تم پر اب اعتبار نہیں کرسکتی۔ اسکے الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسے اپنی بے عزتی سی لگی

    ۔کیا مطلب ہے اس بات کا؟ انسان ہوں بندہ کبھی جھوٹ کہہ ہی دیتا ہے۔جوابا وہ رخ موڑ کر تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسکی آواز اسکا پیچھا کر رہی تھی۔ وہ دکھی ہوا تھا اسکی بے اعتباری پر جبھی چلا رہا تھا تمہارے اسی انتہا پسند رویئے نے مجھے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا۔ سچ بتاتا تو بھی تم روٹھ جاتیں کہاں جا رہی ہو بات سنو ۔۔۔اسکے قدموں کی رفتار مزید تیز ہوئی۔ اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھ کروہ اسکے پیچھے بھاگ کے آیا تھا

    تم نے بھی کبھی جھوٹ بولا ہوگا ؟ اور اسکی کیا ضمانت ہے کہ میرے سوا کوئی تمہاری زندگی میں آئے گا وہ جھوٹ نہیں بولے گا؟

    وہ منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اس نے مزید رفتار بڑھائی ۔ اس نے کانوں پر نادیدہ پردے ڈال رکھے تھے کہ اسکی آواز جیسے سن ہی نہیں رہی تھی۔

    سنو ۔۔ ارے؟۔۔۔ اچھا میں کال کروں گا رات کو اچھا اٹھا لینافوں ابھی غصے میں ہو بعد میں بات کرتے ہیں۔۔ اسے نہ رکتے نہ پلٹتے دیکھ کر اس نے بھی اسکا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔رک کر آواز لگائی۔ وہ پارک کا گیٹ پار کرگئی تھی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکو آج تک اس نے اتنا نظر انداز نہیں کیا تھا۔قریبی سنگی بنچ پر بیٹھتے وہ خود اپنا احتساب کررہا تھاایک جھوٹ بس ایک جھوٹ بولنے پر اس نے مجھے چھوڑ دیا؟ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اپنے کمرے میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ٹہل رہی تھی ۔ اسکی سہیلی اسکے بیڈ پر بیٹھی چائے پی رہی تھی۔جب اس نے دھیرے دھیرے دوپہر کی ساری بات اسے بتائی تھی۔

    مجھے لگا تھا وہ مکر جائے گا پھر کوئی جھوٹ بول دے گا اس نے واقعی سچ بتا دیا کہ وہ اسپتال کے چکر لگا رہا تھا اپنی کزن کی وجہ سے؟

    اس کی سہیلی روداد سن کے حیران تھی۔ وہ اسکی حیرانی پر۔مسکرادی۔

    میں نے کہا تھا نا تم نے خوامخواہ شک کیا اس پر وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولتا۔۔

    اچھا ؟ اسکی سہیلی استہزائیہ مسکرائی تو پھر ؟ قطع تعلق کیوں کرلیا؟ اس سے؟

    اس نے مجھ سے بس ایک جھوٹ بولا تھا جسے میں برداشت نہیں کر پائی۔ اس نے گہری سانس لی۔

    کیا جھوٹ بولا؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ پائی ۔

    بتا تو دیا اس نے تمہیں اپنی ایک ہفتے کی مصروفیت۔ اسکی تو تم بھی گواہ ہو اسکی کزن کے برابر والے پرائیویٹ روم میں ہی تو تم بھی داخل تھیں۔ اسکو آتے جاتے دیکھا خود تم نے۔۔ پھر؟

    اس نے مجھ سے کوئی اور جھوٹ بولا تھا۔ وہ تھک کر اسکےبرابر آبیٹھی۔ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر سہارا دیا تھا۔ اپنے برابر جگہ بنائی تھی۔ اسکے بیٹھتے ہی تکیہ اسکی جانب بڑھایا تھا تاکہ وہ نیم دراز ہو سکے۔ وہ اسکے اس درجہ خیال رکھنے پر مسکرا دی پھر شرارتئ انداز میں بولی

    معمولی آپریشن تھا اپنڈکس کا اکثر لوگوں کا ہوتا ہے کوئی لا علاج بیماری نہیں ہو گئ ہے مجھے۔

    پھر بھی آپریشن ہوا ہے تم عام چل پھر بھی رہی ہو تو تکلیف تمہاری چال سے واضح ہے۔ اسکی سہیلی محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر کہہ رہی تھی۔

    اتنا واضح ہے میری تکلیف میری چال سے؟ وہ حیران نہیں تھی۔ پھر بھی پوچھ رہی تھی۔

    ہاں تو؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ سکی اسےتو پتہ بھی نہیں چلا ۔۔اسکی آنکھوں میں کرب اتر آیا۔ اسکی سہیلی اسے ناسمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔

    تم پوچھ رہی تھیں نا کہ اس نے مجھ سے کیا جھوٹ بولا تھا؟ جس جھوٹ کو بنیاد بنا کر میں نے اس سے قطع تعلق کرلیا؟ جانتئ ہو اس نے مجھ سے کیا جھوٹ کہا تھا۔ ؟

    وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھئ۔ اسکی سہیلی ہمہ تن گوش تھی

    ۔ وہ دھیرے سے بولی

    اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا کہ اسے مجھ سے محبت ہے۔۔

    از قلم : واعظہ زیدی

    #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza#hajoometanhai

    Home » Afsanay (short urdu stories) » Qata Taluq |sirf ek jhoot kaha us nay| urdu afsancha
    Rating

    Discover My Exclusive SHEIN Picks! ✨😍Handpicked just for you! 🛍️Enter Z8V5Q in SHEIN search box to see my favorites! 🎁 60% OFF coupon for every new user –

    written by

    https://desikimchi.com/bon-appetit-your-majesty-2025-korean-netflix-series-worth-watching-or-not/

  • Lets play Floor is Lava | A cross cultural motherhood story in urdu| written by vaiza zaidi

    Lets play Floor is  Lava

    A bold metaphor for parenting across cultures—unstable, intense, but full of growth.

    written by vaiza zaidi

    وہ کچھ دنوں سے دیکھ رہی تھی اسکا آٹھ سالہ بیٹا ارحم جنگلی بچوں والی حرکتیں کرنے لگا تھا۔ لائونج میں صوفے پر کود کود کر اسکے کشن بٹھا دیئے  اوپر سے ایک نیا کھیل سیکھ آیا۔ سارے گھر کے تکیوں کشنز وغیرہ کو لائونج میں لا کر ڈھیر کیا اب انہی کشنز پر چلنا تھا زمیں پر پائوں رکھو تو زمین لاوا ہے۔ پائوں رکھنے والا جل جائے گا۔ یہ کھیل وہ اپنے سے دو سال چھوٹے بھائی معظم کے ساتھ کھیلتاتھا۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔

    وہ خوش تھی کہ چلو اسکے بیٹے شریف ہیں آرام سے بیٹھ کر گاڑی چلاتے رہتے ہیں کافی ہے۔ باہر وہ جانے نہیں دیتی تھی۔ نیا ملک اجنبی لوگ۔ وہ لوگ ابھی دس ماہ پہلے ہی انگلستان میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ ارد گرد کون رہتا کتنے لوگ رہتے کوئی واقفیت ہی نہیں ہوپائی تھی ابھی اسکی سارا دن وہ اکیلی ہی بچوں کے ساتھ ہوتئ تھی اسکے میاں صبح کے گئے شام کو آتے تھے۔ وہ بچوں کو لائونج میں بٹھا کر خود اوپن کچن سے ان پر نظر بھی رکھتی تھی۔ ذیادہ سے ذیادہ ٹی وی لگا دیا۔ دونوں اب اسکول جاتے تھے۔ دونوں کو ہمیشہ انگریزی اسکول میں  ہی پاکستان میں بھی پڑھایا تھا تو یہاں آسانی سے پڑھائی شروع ہوگئ تھی انکی۔ مگر کچھ دنوں سے وہ دیکھ رہی تھی کچھ ذیادہ ہی پرجوش ہو کر آتا تھا اسکول سے ۔ ٹی وی دیکھنے کی  کی جگہ اسے لان میں کھیلنا تھا۔ اس نے جانے دیا کہ دن کا وقت تھا اور اپنے شوہر سے کہہ کر اس نے باڑ بھی لگوا لی تھی۔ لیکن وہ سر پیٹ کر رہ گئ جب ارحم اور معظم مٹھی میں لتھڑے پانی کی کیچڑ بنا کر اس سے کھیل رہے تھے۔ پانی انکو فراہم کرنے والا پڑوسیوں کا ارحم کا ہم عمر بچہ تھا جو انکے ساتھ اس گندے کھیل میں شریک تھا۔ اسکو تو کیا کہنا تھا بس اتنا ہی کہا کہ بس اب کھیل ختم اپنے گھر جائو ۔ ان دونوں پر اسکا بس چلتا تھا مار مار کر نہلایا کپڑے بدلائے اس دن کے بعد دوبارہ لان میں جانے نہیں دیا۔ مگر یہ سعی بےکار رہی۔ اسکی پڑوسن اگلے دن ایک ٹوکری میں چند سیب سجائے اسکے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔

    اس نے خاصے برے مزاج کے ساتھ دروازہ کھولا تھا جوابا وہ مسکرا کر معزرت خواہانہ انداز میں بولی

    میرے بچے لان میں کھیل رہے ہیں تو شور و غل کررہے ہیں اگر آپ کے آرام میں خلل ہو تو فوری بتایئے گا ۔ازالے کے طور پر یہ تحفہ قبول کیجئے۔ اسکے کہنے پر اس نے نظر بھر کر پڑوس میں دیکھا تو بس اسکی عقل پر ماتم کرکے رہ گئ۔ اسکے اپنے تو دو ہی بچے تھے ایک بیٹا ایک بیٹی البتہ اپنے پڑوس سے درجن بچے اکٹھے کرکے ایک ہوا سے بڑھنے والے چھوٹے بچوں کے پول میں ڈھیر سارا پانی بھر کر اچھالتے لان میں کیچڑ مچا کر کھیل رہے تھے۔ شور و غل تو اپنے گھر میں جتنا بھی مچائیں اسکو کیا پروا مگر کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہوتے ان بچوں کو دیکھ کر خلجان ضرور ہوا۔ اسکے اپنے دونوں بچے صاف ستھرے کپڑوں میں ٹی وی پر اینی میٹڈ فلم دیکھ رہے تھے۔

    آپ بھی اپنے بچوں کو بھیج سکتی ہیں میں نگرانی کر رہی ہوں انکی۔ایسا نہیں کہ یہ شتر بے مہار کھیل رہے ہوں۔

    اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے وہ یہ سمجھی شائد وہ بھی اپنے بچوں کو بھیجنا چاہے گی۔

    نہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایکدم گھبرا کر بولی

    وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اپنے بچوں کو اس غل غپاڑے کا حصہ بنانے کا۔ یہ نگرانی کررہی ہے تب یہ طوفان بدتمیزی ہے بچے اپنے طور پر تو ہلہ مچائیں تو شاید آسمان پر ہی ٹکلی لگائیں۔

    اسکے صاف انکار پر جو حیرانی سمانتھا کے چہرے پر ابھری اس پر سٹپٹا کر اس نے وضاحت دی۔

    میرا مطلب ہے میرے بچے اس وقت اینی میٹڈ مووی دیکھ رہے ہیں۔ شکریہ دعوت دینے کا۔

    بچوں کا اسکرین ٹائم محدود ہونا چاہیے۔ دخل اندازی کی معزرت۔ وہ شائستگئ سے گویا ہوئی۔

    میرا بیٹا بتاتا ہے کہ جب وہ ارحم سے پوچھتا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتا ہے تو ارحم یہی بتاتا ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا۔بچوں میں مستقل ٹی وی دیکھنے سے انکی ذہنی صلاحیت اور بصارت متاثر ہوتی ہے۔

    جانتئ ہوں میں۔ اس نے بات کاٹ دی تھئ۔

    اس بلا وجہ کے بھاشن پر اسکے چہرے پر خاصی ناگواری اتر آئی تھی جسے بھانپتے ہی سمانتھا نے مسکرا کر ایک۔بار پھر معزرت کی اور پلٹ کر چلی گئ۔

    اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کردیا۔ ایک گونہ سکون کا احساس ہوا تھا۔ اسکے دونوں بیٹے ٹی وی دیکھتے دیکھتے ہی آڑے ترچھے ہو کر سو گئے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر ٹی وی بند کردیا۔

    مجھے خود خیال رہتا ہے اس بات کا۔۔۔آئی بڑی لیکچر جھاڑنے والی۔  وہ بڑبڑائے بنا نہ رہ سکی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ارحم نے بتایا تھا کہ جوزف کی ماما کی طبیعت خراب ہے۔ اس نے پہلے تو نظر انداز کیا مگر پھر سوچا پڑوس کا معاملہ ہے اور سیب کا احسان بھی اتارنا ہے سو گھر پر کیک بیک کیا ایک ٹرے میں سجایا بچوں کو نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنائے اور سمانتھا کے گھر چلی آئی۔ اسکے گھر سے عجیب شور اٹھ رہا تھا بچے چلا رہے تھے چیزیں گھسیٹنے کی آوازیں۔ وہ سوچ میں پڑ گئ کہ اطلاعی گھنٹی بجائے یا نہ بجائے تبھی بند دروازے پر زور سے کوئی چیز آکر لگی۔ جانے اندر کیا ہورہا ہے اس نے گھبرا کر زوردار دستک دے ڈالی۔

    چند لمحوں میں سمانتھا کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔

    ہائے یہ میں لائی تھی آپکے لیئے۔ اس نے بنا تمہید ٹرے اسکی جانب بڑھا دی۔ سمانتھا نے شکریےکہتے ہوئے تھام کر اسے بھئ اندر آنے کی دعوت دی۔ وہ کچھ جھجکتی ہوئی داخل ہوئی تو ایک لمحے تو حیران پریشان ہی رہ گئ۔اسکے دونوں بچے اچھل اچھل کر ممی ہار گئیں چلا رہے تھے۔ سمانتھا مسکرا کر ہار تسلیم کررہی تھی ساتھ کھیل کا اصول بھی بتا رہی تھی کہ  مہمان آجائیں تو کھیل جہاں وہ جیسا ہو رک جاتا ہے۔ انکئ اس بچکانہ گفتگو سے قطع نظر ربیہ کو جو نظر آرہا تھا وہ یہ کہ پورا گھر تلپھٹ ہوا وا تھا۔

    لائونج سے کچن تک ایک کشنز کی ٹرین بنی ہوئی تھی۔ سمانتھا اس دروازے تک آنے کیلئے کشن دروازے پر پھینک کر راستہ بناتی آئی تھی مگر اس سے بات کرتے بھول کر فرش پر کھڑی ہوگئ تھی۔

    فرش تو لاوا تھا اس پر جو پائوں رکھتا جل جاتا۔

    آئو مسز بابر ادھر لائونج میں بیٹھو نا۔

    اسے لابی میں ایستادہ دیکھ کر سمانتھا نے آواز لگائی۔ وہ سر ہلا کر لائونج میں بچوں کا ہاتھ تھام کر چلی آئی۔

    ہیلو آنٹی کیسی ہیں آپ۔

    دونوں بچے ماں کی ہدایت پر اپنے کپڑوں سے ہاتھ صاف کرتے اس سے ہاتھ ملانے آئے تھے۔ اس نے بمشکل اپنی نفاست پسند طبیعت پر جبر کرکے ہاتھ ملایا۔

    ارحم اور معظم ہمارے ساتھ کھیل لیں؟ وہ اب اجازت مانگ رہے تھے۔ وہ کیا روکتی ۔ارحم اور معظم دونوں ہاتھ چھڑا کر انکی جانب لپکے۔

    اب دو کی جگہ چار بچے پورے گھر کے جمع کییئے کشن تکیئوں فلور کشنز پر کودتے اچھلتے پھر رہے تھے۔ جو کشن کی بجائے زمین پر پائوں رکھتا وہ لاوے کی نظر ہوجاتا اور ہار جاتا لہزا زمین سے بچنے کیلئے کبھی صوفے پر چھلانگ ماری جا رہی تھی کبھی کشنز پر۔ سمانتھا جب تک کافی بنا کر لائی اسکا پارہ چڑھ چکا تھا۔یہ لاوا گیم ارحم نے اس جوزف اور اسکی بہن للی سے سیکھی تھی۔ اور ابھی سمانتھا کا گھر تھا اسے اختلاج قلب ہورہا تھااسکا اپنا گھر ہوتا تو شائد وہ ان چاروں کی پٹائی کرکے جیل جا چکی ہوتی۔

    سوری تمہیں انتظار کرنا پڑا۔

    سمانتھا پکی انگریزنی تھی۔بات بے بات معزرت کرنے کی عادت۔

    مگر ربیہ چڑ چکی تھی کہے بنا نہ رہ سکی۔

    تم منع نہیں کرتیں انہیں لاوا جیسا بکواس کھیل کھیلنے سے؟ پورے گھر کے تکیئے کشن برباد کردیئے ہیں۔ ننگے پیر چڑھ رہے اتر رہے صوفے پر کود رہے صوفہ خراب ہوجائے گااسطرح تو۔

    کشن کور پر دھبے پڑ گئے ہیں۔ اوپر سے اتنا شور کررہے تمہاری تو طبیعت خراب نہیں تھی؟ تمہارے آرام میں خلل نہیں پڑرہا اس شور سے۔ اس سے بہتر تھا تم انکو اسکول جانے دیتیں ۔ کم از کم اتنی دیر آرام تو کرلیتیں۔

    اسکے اتنا بولنے پر سمانتھا جو بڑے غور سے اسے سن رہی تھی ایکدم ہنس پڑی۔

    مجھے پتےکا آپریشن بتایا ہے ڈاکٹر نے کل ہوگا آپریشن اسلیئے میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔ چھوٹا سا سہی مگر آپریشن تو ہے۔ اس کیلئے مجھے شور و غل سے فرق نہیں پڑرہا۔ باقی تکیئے غلاف بدل دوں گی میں جب یہ کھیل چکیں گے۔

    اور جو یہ صوفہ انکے اچھلنے سے جو بیٹھ رہا ہے اسکا کیا؟

    ربیہ تیز ہو کر بولی۔

    خراب ہوجائے گا توٹھیک کروالوں گی۔

    وہی نا۔ سب مسلئے پیدا ہونے دو پھر اسکا حل تلاش کرو اسکی بجائے بچوں کو کیوں نہیں روکتیں کہ شور نہ کریں گھر کے کشن برباد نہ کریں۔ میرا گھر دیکھا ہے میں تو بچوں کو سیٹنگ بھی خراب نہیں کرنے دیتی۔

    اس سے کیا ہوتا ہے؟ سمانتھا کافی کا بڑا سا گھونٹ لیکر کپ سائڈ ٹیبل پر ٹکا کر پوچھنے لگی۔

    گھر درست حالت میں رہتا ہے۔

    ربیہ جتانے والے انداز میں بولی

    اور بچے اپنے گھر میں مہمان بن کے بیٹھے رہتے ہیں۔ دیکھو ربیہ صوفے ٹھیک کروا لیئے جائیں گے، غلاف دھل جائیں گے،صفائی پھر ہو جائے گی، یہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہیں گے بڑے ہوجائیں گے، تب نہ صوفوں پر اچھلا کودا کریں گے نہ غلاف گندے کریں گےتب انہیں یہ یاد رہے گا انکی ماں صفائی کے خبط میں انہیں کھیلنے سے نہیں روکا کرتی تھی بلکہ کبھی کبھی انکے ساتھ مل کر کھیلا بھی کرتی تھی۔

    مجھے اچھی یادیں بنانی ہیں۔انکے ساتھ ۔صاف یادیں نہیں جن میں انکو اپنے ساتھ ہنسنے کھیلنے والی ماں کی جگہ چڑچڑی صفائی کے خبط میں مبتلا بدمزاج ماں یاد نہ ہو۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کھانا پکا کر ہاتھ دوپٹے سے صاف کرتی ہوئی لائونج میں  آئی تو دماغ جھنجھنا گیا۔

    جوزف ، سنتھیا( جوزف کی بہن) ارحم اور معظم سب ایک قطار میں بیٹھے تھے۔ سنتھیا کا میک اپ کیا جا رہا تھا اسکی سنگھار میز سے میک اپ کا سامان لا کر اور کیا خوب جوزف نے میک اپ کیا تھا ۔ شائد ماں کا میک اپ استعمال کرنے کی عادت تھی۔ مگر کام ختم ہونے کے بعد اسکا بلش آن ، لپ اسٹک ، اسکا پرفئوم سب صوفے پربکھرا پڑا تھا۔شائد کوئی لوشن کی شیشی کھلی رہ گئ تھئ تو گرے صوفے پر سفید مایا دھبہ پڑچکا تھا۔ سنتھیا کے چہرے پر  سلیقے سے لپ سٹک لگی تھی اسکا نماز کا دوپٹہ اوڑھے سنتھیا دلہن بنی کھڑی تھی اسکا دلہا تھا اسکا اپنا بیٹا ارحم  جوزف پادری بنا ان دونوں سے آئی ڈو آئی ڈو کروا رہا تھا جبکہ معظم پھول پھینک رہا تھا دلہا دلہن پر۔ پھول؟

    ربیہ چونکی۔

    اسکے لائونج میں رکھےسجاوٹی گلدان میں سے سب نقلی پھول نکال کر پتی پتی الگ کرکے ایک پلیٹ میں اکٹھے کر رکھے تھے۔

    یہ کیا ہورہا ہے؟ یہ پہلی دفعہ تھا کہ اسکے منہ سے غصے کی بجائے روہانسی سی آواز نکلی۔ چاروں بچے اپنی اپنی جگہ تھم گئے تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جوزف اور سنتھیا کو کافی دیر ہوگئ تھی پڑوس میں کھیلنے گئے ہوئے اب انکے کھانے کا وقت ہوا چاہتا تھا تو سمانتھا انہیں بلانے آئی تھی۔ خلاف توقع مین ڈور کھلا ہوا تھا وہ دستک دے کر انتظار کرنے لگی۔

    کو چھک چھک۔ ریل گاڑی کی آواز نکالتے ہوئے بچوں کی انسانی ریل گاڑی اندر سے بڑی تیزی سے باہر نکلی وہ ایکدم سے ایک طرف ہو کر

    110

    راستہ دینے لگی ۔ سب سے آگے سمانتھا تھی اسکے پیچھے معظم پھر ارحم پھر جوزف اور سب سے آخری ڈبہ کے طور پر خلاف توقع ربیہ اس ریل گاڑی سے جڑی تھی۔ اسکو دیکھ کر سر کے اشارے سے سلام کرتے ہوئے ریل گاڑی آگے بڑھ گئ تھئ۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا

    پھر بھاگ کر خود بھی اس ریل گاڑی کا حصہ بن گئ تھی۔

    Rating
    Home » Afsanay (short urdu stories) » Lets play Floor is Lava | A cross cultural motherhood story in urdu| written by vaiza zaidi
    https://desikimchi.com/brick-latest-netflix-science-fiction-moviehonest-review/
    https://urduz.com/walimay-ki-dulhan-urdu-heart-touching-story-afsancha/
  • Raphanzel mer gai | urdu horror story of a housewife

    Rating
    @urduz9

    راپنزل۔۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ کہہ رہی تھی کہ آپ مجھے بالکل وقت نہیں دیتے جب سے دوسرے شہر آئے ہیں مصروفیت بڑھ گئ ہے آپکی۔ کہہ تو ٹھیک رہی تھی۔ میں نئے پراجیکٹ کا ہیڈ بنا تھا وقت ہی نہیں ملتا تھا اسکے لیئے۔ اور وہ تھی کہ روز ایک شکوہ کر کرکے تھکتی نہیں تھی۔ آخر کو بھرے پرے گھر سے آئی تھی یہاں بس امی ابا اور چھوٹا بھائی چھوٹا سا سسرال تھا۔ بھائی کی پڑھائی کا مسلئہ نہ ہوتا تو جب لاہور میری نوکری کا انتقال ہوا تو میں انہیں بھی ساتھ لیتا آتا۔ لیکن اب دو سال تو یہیں رہنا تھا اکیلے ہی رہنا تھا۔ سارا دن زارا اکیلے رہتے تنگ آجاتی تھی۔ آس پڑوس میں بھی دوستیاں ہوتے وقت لگنا تھا ایک نوکرانی کا انتظام کیا تھا مگر شام کو وہ بھی چلی جاتی تھی۔ آج میں سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی گھر پہنچ کر اسے باہر کہیں گھمانے لے جائوں گا ۔ کچھ دنوں سے اس نے یہ فرمائش بھی چھوڑ دی تھی۔ ٹی وی میں ایک ڈرامہ دیکھنے لگی تھی۔ اسی جیسی عورت کی کہانی تھی جو سارا دن اکیلی گھر کے کام کرتی شوہر کا انتظار کرتی تھی۔ میں اسکا دل رکھنے کیلئے کہانی میں دلچسپی لیتا پوچھتا آج کیا ہوا جواب میں وہ رافعہ کی ہی روداد سناتی صبح اتنے بجے اٹھی کھانا بنایا صفائی کی وغیرہ۔ اتنا بےکار پلاٹ کا ڈرامہ وہ اتنی دلچسپی سے دیکھتئ تھی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی۔ خیر میں بتا رہا تھا کہ آج میں یہ سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی چلا جائوں گا گھر سو کام ختم ہوتے ہی سیدھا گھر آیا۔ وہ شائد ابھی سب کاموں سے فارغ ہو کر ڈرامہ دیکھنے بیٹھی تھی۔ صاف بولی آپ منہ ہاتھ دھو کر کھانا نکال لیجئے گا سب پکا رکھا ہے میں ڈرامہ دیکھنے لگی ہوں۔ مجھے بھوک تو لگ رہی تھی منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے باورچی خانے میں آیا تو جھٹکا سا لگا ایک ایک پتیلی دھلی ہوئی صاف یوں رکھی تھی جیسے عرصے سے استعمال ہی نہ ہوئی ہوں میں کئی دنوں سے رات باہر کھانا کھا کے آتا تھا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ خود کیا پکا کھا رہی ہے۔ میں نے فریج کھولا تو بدبو کا بھپکا آیا۔ فریج کا بلب بھی آن نہیں تھا۔سبزیوں والی دراز میں گوبھی شملہ مرچ ٹماٹر وغیرہ سب سڑے رکھے تھے۔پانی کی بوتلیں بھی خالی تھیں۔ فریج میں گندھا آٹا بھی سڑ چکا تھا۔ میں نے حیران ہو کر بٹن کو دیکھاتو وہ بند تھا۔ فریج آن کرکے میں زارا سےپوچھنے لائونج میں آیا۔ تو مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔وہ ٹی وی لائونج میں اکیلی بیٹھی دیوار تکتے محظوظ ہو رہی تھی جیسے دلچسپ ڈرامہ دیکھ رہی ہو۔ ٹی وی لیکن اسکے دائیں جانب والی دیوار پر رکھا تھا۔ وہ دیوار تکتے تکتے میری موجودگی محسوس کرکے گردن گھما کر بولی بہت دلچسپ قسط ہے آج کی۔ ہیرو کو کئی دن تک پتہ ہی نہیں چلا بیوی مرچکی ہے۔ آج کچن میں گیا تو دیکھا وہ تو کئی دنوں سے کھا پی بھی نہیں رہی تھی ،ابھی اس سے پوچھنے لائونج میں آیا تو اسکی لاش صوفے پر پڑی تھی۔ پھر مسکرا کر تائید چاہنے والے انداز میں بولی ہے نا دلچسپ قصہ؟#urdu

    ♬ original sound – बब्ली कुमारी
    https://urduz.pk/labubu-doll-cute-trend-or-satanic-ritual-islam-kia-kehta-hay/
    https://desikimchi.com/silent-love-a-unique-tale-of-a-mute-boy-fell-in-love-with-blind-girl
    https://urduz.pk/the-5-elements-of-man-understanding-your-aura-energy-and-spiritual-power
  • Walimay ki dulhan| urdu heart touching story| afsancha

    Home » Afsanay (short urdu stories) » Walimay ki dulhan| urdu heart touching story| afsancha

    https://hajoometanhai.blogspot.com

    maca-vit-men-maca-vit-forte-bundle-of-2

  • Ay larki muskurati kiun nahi |tasveeri urdu afsancha|

    https://desikimchi.com/dead-talent-society-unique-horror-comedy-must-watch/
    https://desikimchi.com/my-dear-nemesis-k-drama-review-a-tale-of-first-love-and-disappointment/
  • Ragon se khench k jaan meri| maut hansti hay| udaas urdu shayari

    آزاد اردو نظم

    موت ہنستئ ہے ۔۔۔

    از قلم ہجوم تنہائی

    واعظہ زیدی

    رگوں سے کھینچ کے جاں میری
    موت ہنستی ہے بتا گئ کہاں تیری
    وہ زندگی جس کو بتانے کے
    ہیں قصے کئی جگ کو سنانے کو
    تیری زندگی میں تجھے سننے کا شائق نہیں کوئی
    تجھے گمان تیری باتوں کے یہاں لائق نہیں کوئی
    تیرا ناک نقشہ لوگوں کو بھول جائے گا
    تیرے سنائے قصے کون یاد رکھ پائے گا

    چلے جانے کا دکھ تجھے رلا رہا ہے
    روک لو نہ جانے دو مجھے،کرلا رہا ہے
    مجھ پر کیا بیتی مجھے سنانے دو
    وقت کم ہے پاس میرے بہانے دو

    ایک یہ ہے کہ خودی سے بے خبر تھا میں
    خود ہی منزل تھا خود ہی سفر تھا میں
    یوں ملی اچانک زندگی کہ سمجھ نہ آئی
    خوشیوں کی آس میں

    دکھوں کی بس قیمت چکائی

    دوسرا یہ کہ جو چاہ تھی مجھے رہی
    زندگی کو ضد تھی بن اسکے گزرکے رہی

    اب گہرے گڑھے میں پہنچ کر سستا رہا ہوں میں
    یہاں بھی رکنا نصیب نہیں آگے جا رہا ہوں میں
    مجھ میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے والو
    میری زندگی میں مجھے بے مول روندنے والو

    جانے دو جو اگر بے جان پڑا ہوں آج میں

    یقین جانو بہت مشکل سے مرا ہوں آج میں۔۔

    Home » Zauq e sukhan urdu shayari » Ragon se khench k jaan meri| maut hansti hay| udaas urdu shayari
    Rating
    https://desikimchi.com/vedmadness-in-love-veds-fiery-tale-of-passion-and-pain/
  • Sakoot Ishq |urdu afsna novel| Episode 1

    ناول سکوت عشق

    شوریدہ کو خاموشی سخت ناپسند تھی۔ جب گھر میں کوئی بول نہ رہا ہوتا تو وہ اپنے موبائل میں شور کی آواز لگا کر گھر کے کام نمٹاتی تھی۔ کبھی ٹریفک کا شور کبھی بارش کی گرج چمک۔

    اب پرسوں کی ہی بات ہےکہرام بے خبر سویا پڑا تھا آواز آئی بچائو بچائو۔ گو شوریدہ کی آواز نہیں تھی لیکن وہ مرد تھا عورت کی آواز اسکے سب حواس خمسہ بیدار کر گئ۔ ایک دم اچھل کر اٹھ بیٹھا۔صبح سات بجے کا وقت تھا۔

    برابر بیڈ پر شوریدہ نہیں تھی۔ وہ گھبرا کر باہر نکلا کہ کہیں شوریدہ تو نہیں آواز بدل کر چیخیں مار رہی۔ لائونج میں آیا تو واقعی شوریدہ ہی آواز بدل کر چیخیں مار رہی تھی۔ اسے دیکھ کر ہنسنے لگی۔ میں اپنی چیخوں کی آواز ریکارڈ کر رہی تھی۔

    تاکہ فارغ وقت میں سن سکوں

    ۔کہرام کو غصہ آیا مگ ضبط کر گیا۔ دیوار پر چلتی چھپکلی کو مکا مار کر پھیس دیا۔ اسکا یہ غصہ دیکھ کر شوریدہ کانپنے لگی۔غصے سے۔

    اچھا بھلا چیخیں مار کر بھگا دیتی مارنا ضروری تھا۔ تم ایک بے حس سنگ دل مرد ہو۔اپنے لیئے یہ القاب سن کر کہرام کے اندر کہرام بپا ہوگیاتم مجھے بے حس اور سنگ دل کہہ رہی ہو خود کیا ہو ؟ نیم پاگل لڑکی ؟ جو مجھ سے محبت میں مبتلا ہے۔ کہرام نے ایکدم لہجہ بدل کر مخمور کرلیا۔

    شوریدہ نے اس چھچھور پن پر ناک چڑھائی اور دھپ دھپ کرتی باورچی خانے میں چلی گئ۔ کہرام گنگناتا ہوا نہانے گھس گیا۔شوریدہ نے خاصی شیطانی ہنسی ہنس کر سوچا۔ اب مزا آئے گا۔دراصل کہرام کو نیلا شیمپو پسند تھاابھی کل ہی کی بات ہے۔ کہرام نے اسکا فیس سیرم مائوتھ واش سمجھ کر منہ میں بھر کر اگل دیا تھا۔ ڈھائی ہزار کی ننھی منی بوتل کا یہ حشر دیکھ کر اس نے کہرام کے بال نوچ دیئے تھے۔ بے چارہ معافیاں مانگتا رہا پھر اسی وقت باہر گیا نئئ بوتل لا کردی مگر شوریدہ نے اسے سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا

    ۔آج تو کہرام کو مزا چکھا کر ہی رہوں گی ہارپک کی بوتل کا ڈھکن کھولتے اس نے عزم کیا۔ اسکے شیمپو کی بوتل میں ہارپک ملا دوں گی گنجا ہوجائے گا۔ شیمپو ہارپک کی بوتل میں بھر دیا۔ شیمپو سے اب کموڈ دھلے گا۔ ہارپک سے کہرام کا کموڈ جیسا منہ۔ وہ ہنسی۔ جانتی تھی کہرام سر پر جو شیمپو لگاتا اسی کے جھاگ سے نہا کر نکل آتا تھا۔

    کہرام ادھر غسل خانے میں گھسا بال گیلے کرکے جیسے ہی شیمپو کی بوتل کھولی ہزار لیموئوں کی خوشبو بکھر گئ۔ اس نے مسحور سا ہو کر بوتل کو سونگھا۔ لگتا یے شوریدہ نیا شیمپو لائی ہے۔ ہزار لیموئوں کی خوشبو والا۔ میں تو اسی سے نکھر گیا اب صابن کیا لگائوں۔وہ حسب عادت گانا گانے لگا۔ کچھ شیمو منہ میں بھی چلا گیا۔

    غرارہ کرکے تھوکا تو اب گانے میں آواز بھی بدل گئ۔ خوش ہوگیا۔کیا کراری آواز میں گا رہا ہوں۔حلق بھی لگتا صاف ہوگیا۔نہا کر باتھ روب پہن کر نکلا تو کمرے میں سنگھا رمیز کے آئینے پر اپنا روپ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔آج تو جادوئی اثر ہوا ہے نہانے کاگورا لگ رہاہوں۔اس نے مڑ کر شوریدہ سے تصدیق چاہی۔ شوریدہ جو منہ کھولے اسکا گورا دمکتا رنگ دیکھ رہی تھی۔ ہارپک نے برسوں پرانا میل بھی چھڑا دیا تھا۔

    ہارپک سے اسکا رنگ گوراہوگیا؟ اس نے سوچا۔ تو میں تو انگریزنی بن جائوں گی۔ میرا فیس واش اب سے غسل خانے کے سرمئی ٹائل جو پہلے سفید تھے انکو چمکانے کے کام آجائے گا۔وہ ہارپک اب فیس واش کی بوتل میں ڈالنے کے ارادے سے غسل خانے کی طرف بڑھ گئ

    ۔پہلی قسط کا اختتام

    دوسری بھئ لکھ سکتی مگر تم لوگ مجھ پر نہ ہارپک پھینک دو اس لیئے ڈر رہی۔

    #sakoot_ishq_novel#vaiza #واعظہ #hajoometanhai#urduz #desikimchi

    https://desikimchi.com/kabhi-main-kabhi-tum-an-addictive-urdu-drama-a-comprehensive-review/