Tag: web travel novel

  • Desi Kimchi Episode 43

    قسط 43
    ٹی سی این ۔۔
    ویٹنگ روم میں بیٹھی دفتر کا بورڈ پڑھتے ہوئے فاطمہ کی آنکھیں کھل سی گئ تھیں۔
    تم یہاں جاب کر رہی ہو؟
    فاطمہ کو سوال کرتے ہی اس سوال کے بونگے ہونے کا احساس ہوگیا تھا۔ واعظہ البتہ پوری سنجیدگی سے بیٹھی ریسیپشن کی جانب دیکھ رہی تھی۔
    آپ آجائیے۔
    ریسیپشن پر موجود چندی آنکھوں والی لڑکی نے بلایا تو وہ سرعت سے اٹھی تھی۔
    آپ تھرڈ فلور پر لیفٹ کارنر والے کمرے میں تشریف لے جائیے۔
    گھمسامنیدہ۔ واعظہ جھک کر شکریہ ادا کرکے پلٹی تو متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر فاطمہ کو ڈھونڈا وہ اسے ہال کمرے کی گلاس وال سے ناک چپکائے کھڑی نظر آئی
    چلو۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس آئی
    یہ یہ سونگ کانگ ہے نا ؟
    وہ بے یقینی سے اندر اشارہ کرتے ہوئے بولی اسکے کہنے پر واعظہ نے آگے ہو کر جھانکا تو سونگ کانگ ٹہل ٹہل کر مکالمے یاد کرتا نظر آیا۔
    ہاں وہی ہے۔
    اس نے اس بار اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
    مجھے یقین نہیں آرہا میں نے کورین سیلیبریٹی کو اپنے سامنے یوں چلتے پھرتے دیکھا واہ۔ فاطمہ پرجوش ہو رہی تھی۔ واعظہ کا انداز البتہ ٹھس سا تھا اسکا ہاتھ تھام کر وہ ہی لمبی راہداری گزار کر ایک کمرے کے سامنے لے آئی۔
    دیکھو گھبرانا مت بس پورے اعتماد سے انٹرویو دینا انکو مترجم درکار ہیں اپنے پراجیکٹ کیلئے تم آرام سے سیلیکٹ ہو جائو گی بس انگریزی تواتر سے تڑا تڑ بولنا سمجھیں۔
    عین دروازے کے سامنے کھڑی اسے سمجھا رہی تھی۔
    ہاں اعتمادتو بچپن سے مجھ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔
    اپنے گھنگھریالے بال جھٹک کر وہ ادا سے مسکرائی تبھی کھٹ سے دروازہ کھلا اندر سے کوئی عجلت میں نکلا نہ اسکے اندازے کے مطابق سامنے کسی کو ہونا چاہیئے تھا نا ہی فاطمہ کا خیال تھا نتیجتا دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے ٹکراتے۔۔۔۔۔ بچ گئے۔
    فاطمہ اپنی لمبی ایڑھی والی جوتی پر توازن بحال نہ کر سکی بوکھلا کر پیچھے ہونے پر پیر پھسلا سر کے بل پیچھے جاتی فاطمہ کو بروقت واعظہ نے سہارا دیا تھا اور جسے سہارا دینا چاہیئے تھا اسکے اپنے قدم لڑکھڑا چکے تھے دروازہ تھام کر گرنے سے بچ گیا مگر کود گیا تھا کسی کی نگاہ کی گہری جھیل میں۔
    آئی ایم سوری۔
    بیانیمنتا ، بیانئیے چھے سونگیو والے ملک میں خالص انگریزی معزرت فاطمہ نے بدمزہ سا ہو کر خود کو سنبھالا۔
    وہ گندمی رنگت کا لمباچوڑا بڑی بڑی آنکھوں والا لڑکا خالص برصغیری نقوش کا مالک تھا۔
    اٹس اوکے۔ واعظہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کیا۔ لڑکا راستہ ملنے پر سر ہلا کر شکریہ ادا کرتا باہر نکل گیا۔
    قسمت ہی خراب ہے ٹکر بھئ ہوئی تو دیسی شکل سے
    واعظہ چلو واپس برا شگون ہوگیا یقینا ۔۔
    فاطمہ کی لن ترانی جاری تھی جب واعظہ نے بنا دھیان دیئے کھینچ کھانچ کر اسے چندی آنکھوں والے ان ادھیڑ عمر انکل کے سامنے لاکھڑا کیا جو اسے دیکھ کر ایکدم اچھل کر اپنی باس سیٹ سے کھڑے ہوگئے
    فائنلی تمہیں مل گئ عربی لڑکی
    خوشی کا بے ساختہ اظہار فاطمہ گڑبڑا سی گئ
    یہ عربی نہیں ہے۔
    واعظہ نے فورا تصحیح کی۔
    تو انڈین ہوگی۔ پہلی گوری انڈین لڑکی دیکھی ہے خوشی ہوئی دیکھ کر میں فورا مس روز کو اطلاع دیتا ہوں۔۔
    وہ فورا فون اٹھا کر کسی کو اطلاع دینے لگے
    ارے نہیں۔ واعظہ بوکھلا گئ۔
    ہاں اسے تو کس سین پر اعتراض نہیں ہوگا نا۔فون ملاتے ملاتے انہیں خیال آیا وہ معصومیت سے پوچھ رہے تھے مگر چونکہ۔ہنگل میں لہذا وہ فاطمہ کی باریک ٹیکے کی طرح کھبنے والی چٹکی سے محفوظ رہی تھی۔
    نہیں یہ اداکارہ نہیں ہے اسے تو میں ٹرانسلیٹر کے طور پر لائی ہوں آپکو۔چاہیئے نا عربی اداکاروں کی۔بات سمجھنے کیلئے؟؟؟؟ یہ اسی کیلئے آئی ہے۔
    اوہ۔ وہ تھوڑے مایوس ہوئے۔ فون رکھ دیا۔۔۔سارا جوش جھاگ کی۔طرح بیٹھ گیا
    واعظہ یہ بندہ مجھے شکل سے ہی ٹھیک ٹھاک ٹھرکی لگ رہا ہے نظریں ٹھیک نہیں ہیں اسکی۔فاطمہ ان بڈھے انکل کو بغور دیکھتے ہوئے تبصرہ جھاڑا
    تمہارا رشتہ طے نہیں کر رہی انکے ساتھ بے فکر رہو۔۔
    واعظہ نے اطمینان دلانا چاہا۔
    تو کیا تعلیمی قابلیت ہے آپکی۔ آپکا سی وی۔ ؟
    اس نے فاطمہ سے پوچھا جوابا وہ پلکیں جھپک گئ۔ وہ کونسا انٹرویو کی نیت سے آئی تھی اسکے پاس سی وی چھوڑ بیگ بھی نہیں تھا۔ بیگ کہاں گیا۔ اسکی سٹی گم ہوئی۔
    بیگ ۔۔۔کہاں گیامیرا۔ اس نے دھیرے سے اپنے دونوں پہلو ٹٹولے مگر بیگ کا فیتہ دونوں کندھوں پر نہیں تھا۔
    وہ اسکا سی وی تو مکمل انگریزی میں تھا تو میں نے سوچا آپکو ای میل کر دوں گی۔ ویسے ایم اے انگلش کیا ہے ا س نے فر فر انگریزئ بولتی ہے۔میری سہیلی ہے بہت محنتی اور قابل لڑکی اسکو نوکری دے کر آپ پچھتائیں گے نہیں۔۔ واعظہ اسکو بولنے پر آمادہ نہ دیکھ کر خم ٹھونک کر میدان میں اتری۔۔ انہوں نے فق چہرے والی لڑکی کو گھورا جو لگ رہا تھا ابھی اٹھ کر بھاگ جائے گی۔۔
    ہنگل تو جانتی ہے نا۔۔ وہ اب واعظہ سے ہی پوچھ رہے تھے۔
    سیکھ رہی ہے آجائے گی کچھ دنوں تک۔
    یہ جواب بھی واعظہ نے دیا تھا
    اچھا عربی سیکھی ہے؟
    ہاں۔ عربی پڑھ لکھ سکتئ ہے۔
    واعظہ کا اعتماد دیکھنے لائق تھا۔
    فاطمہ اسکے کان پر جھکی۔
    کیا پوچھ رہے؟ واعظہ نے جوابا اپنے پائوں سے اسکا پائوں دبا دیا وہ سی کرتی گھورتی سیدھی ہوئی
    بڈھے انکل سنجیدہ ہوگئے تھے انہوں نے دراز سے کاغذ کا پلندہ نکال کر اسکے سامنے بڑھایا۔
    تو زرا یہ پڑھئیے
    فاطمہ نے اعتماد سے پلندہ اٹھایا سامنے رکھا۔
    ایک صفحہ دوسرا تیسرا وہ پلٹتی جا رہی تھی۔
    پہلا صفحہ ہی پڑھ لیجئے۔
    انہوں نے اسکئ مشکل آسان کئ۔
    واعظہ کی بچی یہ کیسے پڑھوں۔
    فاطمہ نے بظاہر مسکرا کر مگر درحقیقت کھا جانے والی نگاہ سے واعظہ کو گھورتے پوچھا تھا
    عربی ہے پڑھ تو سکتی ہو قرآن پڑھا ہوا ہے نا؟ اسے بھی بس پڑھ لو الف بے ہی تو ہے۔ بڈھے انکل کو کونسا سمجھ آنا کیا بول رہی ہو۔
    واعظہ نے کہا تووہ بے چارگی سے بولی
    اس پر تو اعراب بھئ نہیں کیسے پڑھوں ؟ واعظہ یار میں اپنا بیگ بھئ کہیں بھول آئی ہوں اس میں میرے سارے پیسے تھے میں مر گئ واعظہ اب کیا ہوگا۔۔۔ میرا موبائل بھی اسی میں رکھا ہوا تھا۔ میرے پاس پھوٹی کوڑی نہیں بچے گی اور موبائل میں تو برقعہ ایونجرز کی تصویریں بھی ہیں لیک ہوگئیں تو۔ واعظہ کی۔بچی کچھ تو بولو میرا دم اٹک رہا ہے۔ تمہیں پکا یاد ہے نا جب میں بس سے اتری تھی تو بیگ لٹکا ہوا تھا میرے کندھے سے؟
    صفحے پلٹتے وہ بولے جا رہی تھی واعظہ کا منہ کھل گیا۔
    میرا بیگ اس نے اپنا بیگ ڈھونڈنا شروع کردیا شکر ہے اسکا منا بیگ کندھے سے لٹکا ہوا تھا۔ اسکی فائل بھی سامنے میز پر رکھی تھی اس نے سکھ کا سانس لیا۔
    بس ٹھیک ہے ۔ بڈھے انکل ٹھیک ٹھاک متاثر ہوگئے تھے
    اب تک پندرہ لوگوں کا انٹرویو لے چکا ہوں اتنی روانی سے عربی کوئی نہ پڑھ پایا۔ یہ اسکرپٹ تو سب کے سروں پر سے گزر جاتا تھا۔ بس ابھی ایک لڑکا یہ پڑھ پایا ہے یا آپ۔
    شستہ ہنگل میں وہ فاطمہ۔کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کر رہے تھے جوابا وہ اور واعظہ ساکت بیٹھی سن رہی۔تھیں۔ واعظہ تو شائد سمجھ بھی رہی تھی کہ کیا کہہ رہے ہیں مگر فاطمہ۔ تبھی دماغ کی۔گھنٹی بجی۔
    جی۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
    بس یہ اتنا بڑا پراجیکٹ ہے کہ کمپنی کوئی رسک لے نہیں سکتی ۔ میں تو لڑکی کو ہی رکھنا چاہ رہا تھا لڑکے لاپروا ہوتے اوپر سے ابھی اتنا دماغ کھا کے گیا ہے میرا یہ بات وہ بات جاب کیسے کیا کرنی اف سر میں درد ہوگیا۔ میں پر ڈے کی بات کر رہا تھا اسے گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ چاہیئے تھی خیر ۔۔۔ وہ سانس لینے رکے۔۔
    جی جی۔ واعظہ نے ٹہوکا دیا وہ پھر سر ہلانے لگی۔
    اب میں نے اسے رکھ تو لیا ہے مگر سچی بات ہے ان عربی اداکاروں کے نخرے بہت ہیں جب سے شوٹ شروع ہوئی ہے انکے کھانے پینے کا مسلئہ ہی حل نہیں ہو کے دے رہا اب وہ بھاگ دوڑ کون کرے بھلا وہ سنبھال لے گا انکے اوپر کے کام اور آپ اسٹوڈیو میں رہ کر ان اداکاروں کو کورین اداکاروں سے آپس میں کیمسٹری بنانے میں مدد کروانا۔ یہاں ہم میں سے تو کسی کو عربی آتی نہیں وہ پانی بھی مانگتے تو ہمارے اسٹاف کو مسلئہ بن جاتا ہے۔انکے معاملات دیکھنے ہوں گے اور ہاں آپ کا کام ہے یہ ڈائلاگ یاد کروانا ہیں کورین اداکاروں کو۔ہمارے پاس مترجم موجود ہیں مگر لب و لہجے پر محنت کروانا تو انکا کام ہے وہ دیکھ بھی لیں گے مگرہمارے اداکار سب نئے ہی سمجھیں ہیرو ہیروئن کا تو پہلا ڈرامہ ہے انکو مکالمے سمجھانا یاد کروانا بہت بڑا کام ہے اداکاری تو وہ کر ہی لیں اب اگر ہنگل میں ہوتی تو انکا مینجر سنبھال لیتا لیکن عربی ۔۔ اوپر سے وقت بہت کم ہے ورنہ ایجنسی والے انکو عربی سکھوا دیتے یوں۔۔۔
    انکا بریک لگانے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔ واعظہ کو ٹوک کر روکنا پڑا۔
    عربئ مکالمے کورینز کو یاد کروانے؟ انکو تو ہنگل یاد کرنے ہونگے نا۔۔۔
    واعظہ کو سمجھ نہ آیا فاطمہ کو تو خیر کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا
    ارے اگر کورینز کو ہنگل مکالمے بلوانے ہوتے تو مسلئہ ہی کیا تھا بھئ دیکھو سنو۔
    ایک طویل ٹوں ٹوں تھی جس پر فاطمہ بنا سمجھے سر ہلا رہی تھی جبکہ واعظہ سمجھنے کے باوجود سر ہلانے سے قاصر تھئ۔۔
    عربی اداکاروں کو انکی مدد کرانا۔ یہ کاپی چاہیں تو ساتھ لے جائیں آپ۔ بس کل سے آجانا ابھی ایچ آر جائو اور ان سے پارٹ ٹائمر کا کارڈ وغیرہ لے لو۔
    انہوں نے بات ہی۔ختم کردی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماتھے پر شکن لائے بنا وہ اسکے ساتھ ساتھ پھر رہے تھے۔
    گنگم اسکوائر پراس وقت ٹھیک ٹھاک رش تھا۔ دو۔رویہ۔دکانیں سامان اور لوگوں سے لدی ہوئی تھیں۔
    تیجون کو جانتے بھی ہیں آپ اچھی طرح یونہی کسی کے حوالے کرآئے بچیوں کو مجھے ہول اٹھ رہے۔۔
    طوبئ نے کہا تو وہ لاپروائی سے بولے
    بچہ ہے اچھا شریف گھر کا فکر نہ کرو۔
    پھر بھی ۔۔۔ ایسا کرتے ہیں باقی سامان پھر لے لیں گے ابھی واپس چلتے ہیں۔۔۔۔ بچیوں پریشان ہو رہی ہوں گی۔۔
    طوبی پرام گھسیٹی انکے پیچھے پہچھے چل رہی تھی ۔ دلاور آگے چل کر راستہ بنا رہے تھے کھوے سے کھوا چھلنے والا ہجوم تھا۔۔
    فکر نہ کرو وہ پریشان ہونے والی نہیں کرنے والی بچیاں ہیں۔۔ مجھے تو تیجون کی فکر ہورہی ہے۔۔
    انہوں نے ہنس کر کہا تو طونی ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
    کچھ ذیادہ ہی خوشگوار مزاج ہو رہا ہے جناب کا۔۔ خدا خیر کرے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لائونج میں صوفے پر کسی مجرم کی طرح بیٹھا تھا اسکے دائیں بائیں زینت اور گڑیا تفتیشی افسروں کی طرح کھڑیں اسے ٹٹولتی نگاہوں سے دیکھ رہی۔تھیں
    یہ ہے جن بھیا جتنے پیارے نہیں۔
    زینت نے افسوس سے سرجھٹکا
    ہے جن بھیا یاد آرہے ہیں۔۔
    گڑیا نے منہ بسورا
    تیجون انکی باتیں سمجھ نہیں پارہا تھا مگر بسورتی بچی کو فورا چمکارنا چاہا
    کیا ہوا ابھی آہبو جی آہموجی آجائیں گے۔۔ آئی مین ماما پاپا۔
    پتہ ہے ہمیں۔ وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر تھوڑی کہیں چلے جائیں گے۔
    زینت نےفورا کہا۔
    ہےجن بھیا کو چھوڑ جاتے ہمارے پاس۔۔ وہ ڈورے مون کارٹون دکھاتے تھے۔۔
    گڑیا اداس ہوئی۔
    اسے ڈورے مون ہی سمجھ آیا جملے میں۔۔
    ڈورے مون کارٹون دیکھنے ہیں میں ابھی لگا دیتا ہوں۔
    تیجون کی جیسے مشکل آسان ہوئی فورا اپنا موبائل ٹٹولنے لگا۔۔
    آپکو ڈورے مون پسند ہے ؟؟؟گڑیا کا سارا دکھ ہوا ہوگیا۔۔
    اسکے بازو کو اپنی جانب کھینچ کر انگریزی میں بولی۔
    دے۔۔ ۔۔ اس نے کہا پھر خیال آیا تو انگریزی میں بولا
    یس۔۔۔
    پاگل یہ بڑے ہیں ان سے بڑوں والے سوال کرو یہ کارٹون تھوڑی دیکھتے ہوں گے۔ تمہارے لیئے لگا رہے ہیں۔ ویسے ہر وقت دیکھ کر تھکتی نہیں ہو تم۔۔
    زینت کمر پر ہاتھ رکھے اسے تیز نظروں سے دیکھتی بہن سے اردو میں مخاطب تھئ۔۔
    نہیں تھکتی۔۔ اور انکو بھی پسند ہیں انہوں نے یس کہا۔ گڑیا نے تصدیق کی۔
    تو تم تو بچی ہو تمہیں تو وہ یہی کہیں گے نا مگر پاپا کہہ کر گئے ہیں بھائی کو بور نہیں کرنا تو ان سے ہمیں باتیں کرنی ہوں گی تاکہ یہ بور نہ ہوں۔
    زینت بڑی امائوں کی۔طرح جانے کیا گٹ پٹ کر رہی تھی۔
    وہ کان کھجا کے رہ گیا۔۔
    ٹھیک ہے میں بڑوں والے سوال کرتی ہوں۔ گڑیا نے سر ہلایا۔۔ پھر سوچ میں پڑی۔ تیجون کو نگاہوں میں رکھتے بڑے پرسوچ انداز میں سینے پر ہاتھ باندھے پھر انگلی گال پر رکھ کر علامہ اقبال والا پوز بھی ماردیا پھر بولی۔۔
    بڑوں والے سوال کونسے ہوتے؟
    بھئ یہ کارٹون تو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔۔ زینت نے اسکی کم عقلی پر سر پیٹا۔
    آپ دونوں کیا کہہ رہی ہو مجھے سمجھ نہیں آرہا۔
    تیجون کے سر پردونوں تفتیشی افسروں کی۔طرح کھڑی تھیں بے چارہ گھگھیا کر انگریزی میں پوچھنے لگا۔
    آپکو موسیقی میں دلچسپی ہے؟
    زینت نے اب انگریزی میں سوال کیا
    آہاں۔ اس نےجھٹ سرہلایا
    ایکسو یا بی ٹئ ایس؟
    یہ سوال گڑیا کی طرف سے آیا تھا
    ایکس۔۔۔۔ ابھی جواب میں تھا کہ علامہ صاحبہ بولیں
    انکو تو لڑکیوں کے گروپ پسند ہوںگے
    یہ بتائیں بلیک پنک یا ٹوائس۔۔؟
    ٹوائس۔۔۔۔ اسکا جواب پورا بمشکل ہوااگلا سوال آیا
    آپکی کوئی گرل فرینڈ ہے؟
    ہاں۔ وہ جھٹ سر ہلا گیا پھر سٹپٹایا۔
    آںدے۔۔ نو۔
    کیا نام ہے؟ زینت پوچھ رہی تھی۔۔
    آپ جتنی ہیں انی؟ گڑیا کو دلچسپی تھی۔۔
    دکھائیں ۔۔۔
    دونوں اسکے گھٹنے پر کہنیاں ٹکا کر فرمائش داغی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا بازار ماتھے پر شکن لائے بنا گزار کر وہ ان بوڑھی۔خاتون کے پاس جا کر خود ہی رک گئے۔
    ان سے سبزیاں لیتی ہو نا؟
    جی۔ وہ اپنے دھیان سے چونک کر بولی
    صارم کا پرام گھسیٹتی انکے پیچھے پیچھے چلتی رکتی وہ دزدیدہ نگاہوں سے میاں کو دیکھ رہی تھی۔
    کیا کیا لینا۔ وہ پوچھ کر خود ہی آہجومہ کی چھابڑی سے سبزیاں ٹٹولنے لگے۔
    پالک گوبھئ مٹر آلو ٹماٹر پیاز سب کلو کلو تلواتے گئے وہ ایک لفظ نہ بولی۔ بینگن ڈیڑھ کلو خرید لیئے۔ کیونکہ ایک کلو کے بعد انکی۔چھابڑی پر دو چار ہی۔بینگن رہ گئے تھے۔ تو ازراہ ہمدردی وہ بھی اٹھا لیئے۔ آہجومہ شکر گزار نظروں سے دیکھ رہی تھیں دلاور کو۔ حلوہ کدو پانچ کلو کا اٹھانے لگے تو طوبی کو اپنے سب اندیشے جھٹک کر ٹوکنا پڑا
    کیا کرتے ہیں اتنا بڑا کون کھائے گا کیسے ختم ہوگا۔
    دلاور کو بھی دل کو لگی حلوہ کدو واپس رکھ دیا چھوٹا سا کدو اٹھا لیا
    اسکا رائتہ بنا دینا۔ وہ خوشگوار انداز میں مسکرا کر کہہ رہے تھے۔ جتنی سبزی خرید لی۔تھی نا اسے لے جانے کا کوئی۔زریعہ۔نہ تھا۔ دلاور نے پرسوچ نگاہوں سے دیکھا۔
    صائم کو اٹھا کے طوبی کی گود میں دیا پرام سبزیوں سے بھرا۔ آہجومہ کے ساتھ والی دکان میں اسے ٹھہرو کہتے ہوئے گھس گئے۔
    شوہر ہے تمہارا۔
    آہجومہ اسکی قمیض کا دامن پکڑ کر متوجہ کرنے لگیں۔۔
    جی؟ اسکی سمجھ میں خاک پتھر نہ آیا
    شوہر۔ کبھی ناک پر انگلی رکھتیں کبھئ اسکے بچے کی جانب اشارہ کرتیں جب اپنے پیٹ پر خوب ہاتھ پھیر کر بڑھنے کا اشارہ کیا تو طوبی سٹپٹا کر اثبات میں سر ہلا گئ۔
    بہت اچھا شوہر ہے تمہارا۔ بہت خیال رکھنے والا۔
    خوش رہو۔
    خوش ہو کرا نہوں نے ہمکتے ہوئے صائم کو کھیرا تھما دیا۔
    سمجھ تو نہیں آرہا آپ کیا کہہ رہی ہیں مگر اچھا ہی کہہ رہی ہوں گی
    اس نے کہتے ہوئے زرا سا سر جھکایا سلام لینے کو۔آگے سے آہجومہ اس سے بھی زیادہ دو دو فٹ آگے جھک گئیں۔
    اس کو ہنسی ہی آگئ۔ انکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر دیا
    چلیں آج آپ کیلئے میری دعائیں سہی۔۔۔۔
    مچھلئ کی دکان سے خوب بڑی مچھلی تلوا کر نکلتے دلاور نے بیوی کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تو انکئ چہرے پر بھی مسکان آگئ۔ تبھی طوبی کی نگاہ انکی۔جانب اٹھی اور اسکی مسکان دھیمئ پڑ گئ
    چلو چلیں۔ انہوں خوشگوار انداز میں مسکراتے ہوئے مچھلی بھی پرام میں لا کر رکھ دی۔
    مچھلی بھی رکھ دیں سبزیاں پہلے ہی پانی ٹپکا رہی ہیں اب خون کا تڑکا بھئ لگ جائے صائم کو اس میں جب بٹھائوں گی نا تو چھچھوندر کی مہک آئے گی پھر اسکے پاس سے۔
    طوبی۔جانے کیوں۔جھلائی۔
    اوہ خیال نہیں رہا اٹھا لیتا ہوں ۔مزید ایک لفظ بھی کہے بنا انہوں نے مچھلی کا شاپر واپس اٹھا لیا۔
    بلکہ ایسا کرو صائم کو مجھے دو تم یہ۔مچھلی اٹھا لو۔ مچھلی کا شاپر تو ہلکا سا ہے میرے گولو بیٹے نے تمہیں تھکا دیا ہوگا۔
    چونچال پیار بھرا انداز اسکو شاپر تھما کر انہوں نے نا صرف صائم کو گود میں لے لیا بلکہ پرام بھی خود گھسیٹنے لگے۔
    طوبئ بہت سمجھدار لڑکی ہو تم تم نے صبر اور عقل سے کام لینا ہے۔ اور تم اکیلی نہیں ہو۔ پانچ بہنیں ہیں یہاں تمہاری ۔۔ تمہاری راجدھانی اتنئ آسانی سے ہلائی نہیں جا سکتی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گئ۔مجھے پہلی فرصت میں۔۔۔۔
    دلاور خراماں خراماں بڑھ رہے تھے جب احساس ہوا انکی ہم سفر کہیں پیچھے رہ گئ۔ چند قدم آگے بڑھ کر مڑ کر دیکھا تو وہ اسی آہجومہ کی چھابڑی کے پاس کھڑی تھی ہکا بکا سی۔
    تبدیلی ایکدم سے آئی ہے حیران ہے شائد مگر اچھی بات یہ ہے کہ مستقل تبدیلی ہے مگر اسکا یقین آہستہ آہستہ ہی آئے گا نا۔۔انہوں نے سوچا۔۔
    آئو نا یے بو۔۔
    انہوں نے دانستہ یے بو کہا زور سے راہ چلتے لوگوں نے چونک کر دیکھا طوبی کی آنکھیں مزید کھل گئیں
    وہ کھل کر مسکرا دیئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انکو انکے اپارٹمنٹ کی عمارت کی پارکنگ میں ڈراپ کیا تو عزہ شکریہ ادا کرتی باہر نکل آئی۔ عروج بھی اترنے لگی تو سیونگ رو نے دروازہ لاک کر دیا۔
    روج مجھے تم سے بات کرنی ہے۔
    سیونگ رو کے چہرے پر گہری سنجیدگی دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔۔۔
    سیونگ رو گاڑی موڑ کر تیزی سے واپس باہر نکال لی
    عروج کے باہر آنے کا انتظار کرتی عزہ کو اپنا آپ کافی احمق محسوس ہوا۔۔۔ کندھے اچکا کر پلٹنے لگی جب اسے سامنے سے زینت اور گڑیا ایک لڑکے کے ساتھ آتی دکھائی دیں۔ وہ ہرگز نہ رکتی اگر لڑکے کے نقوش چندے نہ ہوتے۔۔
    دیکھو پاپا ماما کو مت بتانا کہ میں نے تم دونوں کو اپنی گرل فرینڈ کی۔تصویر دکھائی پنکی پرامس کرو۔
    تیجون نے انکو اپنی چھنگلیا دکھا کر وعدہ کرنا چاہا
    دونوں خاموشی سے دیکھتی رہیں
    پرامس کرو نا۔
    تیجون نے انہیں ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر ٹوکا
    پرامس ایسے تھوڑی کرتے۔
    زینت نے اسکی مٹھی کھول کر ہاتھ ملایا۔
    اچھا جیسے بھی سہی۔ کسی کو بتانا مت۔
    اسکا جملہ پورا نہ ہوا کہ زینت نے دور سے کالے لبادے میں ملبوس لڑکی کو دیکھ کر دوڑ لگا دی۔
    عزہ آپی۔۔
    گڑیا نے بھئ لڑکے کا ہاتھ چھوڑا اور دوڑ کر آکر اس سے لپٹ گئ۔
    میری زینو۔ کیسی ہو کہاں سے آرہی ہو۔۔ وہ پوچھ زینت سے رہی تھی مگر گھور نووارد کو رہی تھی۔ تیجون کو پسینے چھوٹتے محسوس ہوئے۔
    تیجون بھائی ہیں یہ۔ ہم نے انکو کہا ہمیں آئس کریم کھلا کر لائیں تو کھلا کر لائے ہیں۔
    گڑیا بھئ زینت کی دیکھا دیکھی اسکی ٹانگوں میں آلپٹی۔۔
    وہ تو ٹھیک ہے مگر کون ہے یہ؟ چاچو ماموں تو نہیں نا کہاں ہیں طوبی کس مسٹنڈے کے پاس چھوڑ گئیں تم دونوں کو۔
    جھلاہٹ جانے کہاں کہاں سے عود کر آئی تھی اسکے لہجے میں کہ ککھ بھی پلے نہ پڑنے کے باوجود بھی تیجون سٹپٹا سا گیا۔
    آپی تیجون بھیا کی اتنی پیاری گرل فرینڈ ہے۔ بالکل انکی جیسی شکل کی ہے۔۔
    زینت نے بھانڈا پھوڑا۔ نقاب والی لڑکی نے کڑے تیور سے گھورا
    یہ تم دونوں کو اپنی گرل فرینڈ کی تصویر دکھا رہا تھا۔
    عزہ کے تو جیسے تلوئوں سے لگی سر پر بجھی۔ تیجون کے ہاتھوں سے طوطے اڑے ۔۔ جھٹ نو دوگیارہ ہونا چاہا۔۔
    میں چلتا ہوں۔ آنیانگ۔ اس نے جھک کر اجازت لی عزہ نے دونوں بچیوں کو پروں میں سمیٹا جیسے۔
    ویٹ بے بی سٹر ہوتم ؟
    آنیا۔۔ ( نہیں ) وہ نفی میں سرہلا گیا۔ پھر خیال آیا تو بولا ۔د دا دے۔۔ (ہاں)

    آنیا یا دے؟
    وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر تفتیشی انداز میں مخاطب تھی۔
    کس قسم کے بے بی سٹر ہو تم۔ بچیوں کو کسی بھی ایرے غیرے کے پاس چھوڑ کر چلتے بن رہے تھے؟اتنے چھوٹے بچے تو ہر کسی سے بے تکلف ہوجاتے تمہیں پہلے میرا تعارف نہیں لینا چاہییے تھا؟ طوبی آتیں تو کیا جواب دیتے کہاں کس کے پاس چھوڑا بچیوں کو بولو؟
    تیجون خالص انگریزی میں تواتر سے پڑتی ڈانٹ پر بوکھلا سا گیا سوچا انگریزی میں صفائی دے مگر لفظ منہ چڑاتے بھاگ گئے۔ ہنگل میں ہی بڑبڑاتا رہ گیا۔
    وہ میں تو۔۔۔ جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو ۔۔اس نے اپنے کندھے سے اوپر فلیش بیک کی۔جانب اشارہ کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور بچوں کے ساتھ کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے فون پر گیم چل رہی تھی بچوں کو پزل جوڑنے پر لگایا ہوا تھا صائم پاس لیٹا ہاتھ پائوں چلا کر فیڈر پینے میں مگن تھا۔ بچیاں ہر پزل جوڑ کر پہلے انہیں دکھاتیں پھر کھلکھلاتیں ۔
    قتل و غارت کرتے ہوئے وہ مگن تھے گیم میں جب زینت نے پزل جوڑتے ہی انکا ہاتھ ہلا دیا۔
    پاپا دیکھیں۔
    ابے۔۔ وہ بری طرح اچھلے چانس گرگیا ناک پھلا کر گھورا تو بچی الگ سہم گئ۔ اب چانس تو واپس نہیں آسکتا تھا گہری سانس لیتے موبائل ایک طرف رکھا۔
    دکھائو کیا بنایا۔
    کوئی بچوں کا کارٹون کردار تھا وہ بھی اینیمی کا۔ انکو تو نام دور شکل بھی پہلی بار نظر آئی تھی
    بہت پیارا زبردست ۔۔۔
    ایک فائدہ تھا کوریا کا بچوں کو مصروف رکھنے کی طرح طرح کئ بورڈ گیمز لفظ بنانے سے لیکر پزل جوڑنے تک کی باآسانی مل جاتی تھیں وہ بھی سستی۔ اب یہ پزل جوڑ کر ایوارڈ کی طرح دکھاتے دونوں بچیوں کی تصویر لی سیلفی بھی لی دونوں خوش ہوگئیں تو پزل اٹھا کر بیڈ سے اچھال بھی دیا۔
    ارے۔ ہائیں۔ وہ یہی کرتے رہ گئے زینت نے نئی بورڈ گیم کا کاغذ اتارنا شروع کردیا۔
    کوئی حال نہیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھے پزل چن کر واپس اسکے ڈبے میں ڈالا چونکہ اتنی زحمت کرلی تھی کہ بیڈ سے پائوں نیچے اتار لیئے تھے تو سوچا کافی دیر سے غائب بیوی کا بھئ دیدارکر لیا جائے۔ بھرپور خوشگوار مسکراہٹ سجاتے باہر نکلے تو باہر تو طوفان آیا ہوا تھا۔
    برتن پٹخ پٹخ کر باورچی خانہ سمیٹتی طوبی ریکارڈ کی طرح بج رہی تھئ۔
    اتوار کو ایک چھٹی ہوتی تو چلو ٹھیک ہے مانا آرام کا دل کرتا ہوگا مگر اس چھوسک ( کوریائی تہوار) کی وجہ سے ہفتے کے بیچ میں بھی چھٹی آگئ ہے تو بھی میرا ہاتھ بٹاناتو دور باہر کا کوئی کام بھی کرنے کو تیار نہیں۔ دہی ہے سوچا لوکی کا رائتہ بنا لوں مگر سودا لانے سے صاف انکار اب میں ہی جائوں لوکی لیکر آئوں تو رائتہ بنے گا۔ اب اس بے سری مونگ کی کھچڑی کو خالی دہی سے کیسے حلق سے اتارا جائے۔ پیٹ انکا خراب اور کھچڑی ہم سب کھائیں واہ۔۔
    جزباتئ ہو کو دم پر لگی کھچڑی کا ڈھکن پکڑا ہاتھ جلا وہیں زمین پر بیٹھ کر رونا شروع۔
    اتنی جلدی تو کورین ڈراموں کے منظر نہیں بدلتے جتنی جلدی انکی آنکھوں کے سامنے یہ حقیقت بدل رہی تھی۔
    وہ سٹپٹا کر لپکے۔
    اکیلی پڑ گئ ہوں مگر کسی کو احساس ہو تب نا۔ سودا سلف بھی لائوں اوپر سے پکائوں بھی۔ کم از کم سودا سلف لانے کی ذمہ داری تو اٹھا لیں۔ مگر نہ جی۔ ہے جن کیسا میرے ساتھ ساتھ لگا رہتا تھا۔
    بڑ بڑاتے ہوئے اسکا دل جیسے مٹھی میں لے لیا کسی نے۔
    بچے بھی کتنا ہل گئے تھے اس سے۔ جانے کہاں ہوگا کیا کر رہا ہوگا۔ ایک بار بھی یاد نہیں کیا مجھے۔۔ کتنا پیار کرتی تھی تھوڑا سا غصہ کرلیا تو سب بھول گیا۔۔۔۔ خاور کی طرح۔۔۔ گم کر لیا خود کوکھوگیا۔۔ اور۔
    اسکئ جانب بڑھتے دلاور اسکے آخری جملے پر رک سے گئے۔ آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو دلاور کو سنجیدہ نظروں سے خود کو دیکھتا پایا۔ اسکی سٹی گم ہوگئ
    دلاور آپ ۔۔۔ وہ سٹپٹا کر آنسو پونچھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آپ تو سو نے لگے مجھے لگا ۔۔ وہ ہکلا رہی تھی۔
    خود سے بولنے بڑبڑانے کی عادت اسے یوں ہی پڑی کہ سسرال میں سب سے بڑی بہو اور سب سے کم عمر ہونے کا اعزاز اکٹھے اسکے حصے میں آیا تھا۔ سو جگہ ہونٹ سیئے خاموشی سے سہا دلاور کا تو رعب اتنا تھا کہ فرمائش دور کوئی ضرورت کی شے بھی منگوانی ہو تو سو دفعہ سوچتی تھی۔ بس پھر یونہی اکیلے کچن میں چپکے چپکے چیزیں پٹخ لیں بڑ بڑا لیا دل ہلکا کر لیا۔ ابھی بھی اسکے خیال میں دلاور سو رہے تھے۔ یہ والیم بھی کوریا آکر بڑھا تھا ورنہ سرگوشیانہ انداز میں بڑ بڑ کرتی تھی یہاں کون تھا سننے والا بچے تو ابھی اس عمر میں تھے ہی نہیں کہ سن کر معنی نکالتے یا آگے پہنچاتے۔
    تمہیں ہے جن یاد آرہا ہے۔ انہوں نے سنجیدہ نظروں سے دیکھا تھا اسے۔۔
    نن۔۔ وہ نفی میں سر ہلانے کو تھی پھر جیسے تھک کر اعتراف کر لیا۔
    ہاں۔ آپکو شائد میرا یقین نہ آئے مگر مجھے اس میں سچ مچ دانی ( بھائی) کی جھلک آتی تھی۔ دانی تو مجھ سے بات بھی نہیں کرتا کبھی فون اٹھا بھی لے تو ہوں ہاں کرتا ہے بس مگر ہے جن میری گھنٹوں سنتا تھا سہیلی تھا میری۔۔۔ سچ مچ چھوٹے بھائیوں کی طرح چاہتی تھی میں اسے۔ جانے کہاں چلا گیا ہے۔ مجھ سے روٹھ کر۔
    وہ بچوں کی طرح رونے لگی تھی۔۔ دلاور دیکھ اسے رہے تھے مگر ذہن میں منظر کوئی اور تازہ ہوا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور۔ خاور رکو کہاں جا رہے ہو ایسے روٹھ کر بات تو سنو۔۔۔۔
    انیس بیس سالہ خاور طیش میں پیر پٹختا گھر سے نکلا تھا باورچی خانے سے اسکے لیئے کھانا گرم کرکے نکلتی طوبی پکارتی اسکے پیچھے لپکی تھی۔ آگ کا شعلہ سا بھڑکا تھا۔۔
    خاور خاور۔
    مٹھیاں بھینچتے وہ بھی اسی وقت کمرے سے نکلے تھے۔۔۔۔
    خاور کے پیچھے جاتے انکے قدم رکے تھے کیونکہ شعلے ایکدم کسی کو لپیٹ میں لے گئے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    داخلی دروازے کی گھنٹی کی آواز پر وہ چونکے۔ ماضئ سے حال میں لوٹے۔
    میں واعظہ سے کہوں گا ہےجن کا کوئی اتا پتہ دے۔ میں خود اسکو ڈھونڈوں گا کان سے پکڑ کر سامنے لاکھڑا کروں گا اب خوش۔ یہ رونا دھونا تو بند کرو۔
    وہ اسے بچوں کئ طرح بہلا رہے تھے اور وہ بہل بھی گئ۔ واقعی؟؟
    اسکی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔
    ہاں اب چلو منہ دھوئو۔ کیا چیزیں لینی ہیں فہرست بنائو ابھی لیکر آتے ہیں ہم دونوں۔۔
    انہوں نے ٹشو رول کے کئی ٹشوز نکا ل کر اسے تھما دیئے۔
    آپ نے سن لیا۔۔ وہ اور شرمندہ ہوئی۔
    بس میں ایسے ہی کام زیادہ ہو تو بڑ بڑ کرنے لگ جاتی ہوں عادت پڑ گئی ہے۔ کھانا تو بس تیار ہے بچوں کو بلائیں میں لگاتی ہوں۔۔
    سوں سوں کرتی بچوں کی طرح بولتی انہیں وہ عام دنوں سے ذیادہ پیاری لگی یا یوں کہیں لگنے لگی تھی اب اسکی لاپرواہی بچپنے بڑ بڑ کرنے کسی بات پر غصہ آہی نہیں رہا تھا چہرے پر نرم نرم سی مسکراہٹ لیئے وہ فرصت سے تکنا چاہ رہے تھے تبھی اور زور سے گھنٹی بجی۔
    انہوں نے بد مزہ ہو کر دروازے کو گھورا۔
    نہیں ابھی اتنی کوئی بھوک نہیں ایسا کرتے ہیں سودا سلف لے آتے ہیں سادہ رائتے کی بجائے کدو کا رائتہ بنا لو جلدی جھٹ پٹ بن جائے گا ذائقہ بھی بدل جائے گا منہ کا۔
    وہ بڑے پیار سے فرمائش داغ رہے تھے۔
    کدو کا رائتہ۔ طوبئ کا منہ کھلا رہ گیا۔
    سادہ رائتہ بنانا آسان ہوا کہ کدو کا رائتہ ابھی کب لائیں گے کب بنے گا بچوں کو بھوک لگ جائے گئ۔
    طوبئ نے منطق سے سمجھانا چاہا۔۔
    گھنٹی ہھر بج اٹھئ۔
    اوہو پانچ منٹ کے فاصلے پر تو تازہ سبزی ملتی ہے یوں گئے یوں آئے۔
    دلاور نے چٹکی بجائی انکی چٹکی کے ساتھ ہی گھنٹی بجی تھی
    اچھا دروازے پر دیکھیں کون آیا ہے۔
    طوبئ نے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے جھٹک کر بولے
    مجھ سے ملنے کون آئے گا سیلز مین ہوگا کوئی چلا جائے گا دفع کرو۔بس اس وقت کدو کا رائتہ بنے گا فائنل ہوگیا۔۔
    ہاں تو ٹھیک ہے لے آئیں کدو۔۔
    طوبی نے کندھے اچکائے
    ٹیں۔۔۔۔۔۔ گھنٹی بجی۔۔
    اوہو تو تم بھئ چلو نا اپنی مرضی سے سب کچھ ہفتے بھر کا سامان لے آئو میری لائی سبزی پسند نہیں آتی کبھی تو کوئی چیز رہ جاتی ہے۔ سب اکٹھا لے آئو۔
    دلاور اسکے سب شکوے دور کرنا چاہ رہے تھے وہ الٹا چڑ گئ
    حد ہے دلاور۔ بچوں کو اکیلے کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور بچوں کو کہاں لیئے لیئے پھریں گے۔ زینت تو دو منٹ چلنے کے بعد فرمائیشیں شروع کر دیتی ہے یہ کھلائو وہ۔کھلائو۔
    ٹیں۔ گھنٹئ کی طوالت میں اضافہ ہوا
    توکھلا دیں گے۔
    دلاور اسکی۔کج بحثی سے تنگ ہونے لگے۔
    ارے ہر دوسری چیز تو یہاں حرام ملتی ہے ٹھیلوں پر میں انکو۔۔
    ٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکا جملہ گھنٹئ کی آواز میں گم ہوگیا۔
    کون ہے بے صبرا ۔۔
    دونوں اکٹھے جھلائے۔۔
    پاپا کوئی آیا یے۔
    زینت نےبھئ اب آکر بتایا تو انہیں اپنی بحث روکنی پڑی
    پہلے دیکھ لیں کون ہے دروازے پر۔ واعظہ وغیرہ تو اس وقت گھر میں ہی نہیں ہوتیں آپکا کوئی جاننے والا ہوگا۔
    طوبی نے کہا تو وہ سر کھجاتے بڑ بڑاتے دروازے کی جانب بڑھے
    مجھ سے ملنے کون آسکتا یہاں جانتاہی نہیں میں یہاں کسی کو کوئی۔۔۔
    کہتے کہتے دروازہ کھولا تو تیجون جو پھر بیل بجانے والا تھا ایکدم ٹھٹک کر رکا پھر جھک کر بولا
    آننیانگ۔ کیسے ہیں آہجوشی آپ۔
    یہ انکا ہی ملنے والا تھا۔ انہوں نے کھسیا کر مڑ کر دیکھا تو طوبئ اور زینت سینے پر ہاتھ باندھے گھور رہی تھیں انہیں۔
    وہ یہ میں آپکے لیئے لایا تھا۔۔
    اس نے بڑا خوبصورت سا گول سا باکس جس میں چاکلیٹس تھیں انکی جانب بڑھایا
    اسکی کیا ضرورت تھی۔
    وہ خوش ہوگئے تھےچاکلیٹس تو انکی کمزوری تھیں اوپر اوپر سے تکلف کیا۔
    میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
    وہ دروازے میں جمے تھے اندر بھی نہیں بلا رہے تھے
    اسلئے۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ کروم۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سٹپٹا کر مڑنےلگا تھا
    اگر واقعی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تویہ چاکلیٹس کافی نہیں کام کرنا ہوگا تمہیں میرا۔
    دلاور گول سی چاکلیٹ کا ریپر اتار کر منہ میں رکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بولے۔۔
    بسرو چشم۔ وہ انکساری سے جھکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس میں دونوں کو جگہ نہیں ملی تھی۔ واعظہ ہینڈل پکڑے کھڑی تھی تو فاطمہ اسکے کندھے پر سر رکھے وقفے وقفے سے آہ بھر رہی تھی۔
    ہائے ایک چیز ملتی ہے دوسری کھو جاتی۔۔۔۔
    اتنی مشکل سے جاب ملی تو بیگ زمین کھا گئ کہ آسمان نگل گیا۔
    نا زمین نے کھایا نا آسمان نگل گیا۔ زمین و آسمان کو تمہارے بیگ میں ٹکے کی دلچسپی نہیں ہوگی پکا پتہ ہے مجھے۔ واعظہ چڑی۔
    تمہاری لاپروائی کی وجہ سے کہیں آگے پیچھے ہو گیا ہے مل جائے گا اتنی بڑی کمپنی میں تھوڑی ایسے چیزیں گمتی پھرتی ہیں اور نہ ہی چند ہزار وون اتنی بڑی رقم کہ کورین رال ٹپکائیں چوری کرکے اپنے بد اعمال بڑھائیں۔
    پھر بھی تمہارے پیسے گئے ہوتے تو پوچھتی۔ کل متاع تھی میری یہ۔۔۔
    وہ روہانسی ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
    اچھا اپنے بل پر کھڑی ہو میرا کندھا مت توڑو۔
    واعظہ نے جھٹکا لگنے پر اسے دور پھینکا تھا تبھی بس اسٹاپ پر رکی تھئ۔
    یونہی اس نے کھڑکی سے دور کا منظر دیکھا ۔ وہ لانگ اسکرٹ میں ملبوس لڑکی تھی جو کافی شاپ سے نکلی تھی اپنی دھن میں مگن کندھے پر بیگ ٹھیک کرتی وہ بس کے مخالف سمت سڑک پر جا رہی تھی۔
    واعظہ۔
    فاطمہ۔۔۔
    دونوں نے اکٹھے اسے دیکھا تھا پھر ایک دوسرے کو۔۔
    بھاگو پکڑو۔
    آہجوشی بس روکیں۔
    دونوں نے لمحہ بھر کا بھی انتظار کیئے بنا شور مچا دیا۔ بس چل پڑنے کے باوجود ڈرائور کو بریک لگانی پڑی۔ دونوں بھاگم بھاگ بس سے اتر کر اس سمت دوڑیں۔ لمحہ بھر میں نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی لڑکی۔ سڑک کے آخری سرے پر چوراہا تھا جس پر دو رویہ ٹریفک بند تھا تو بقیہ دو سڑکوں پر ٹریفک رواں تھا۔ دونوں کی بھاگنے سے سانسیں پھول چکی تھیں۔ وہ لڑکی یقینا کسی کیب میں بیٹھ کر رفو چکر ہو چکی تھی۔
    سانسیں بحال کرتی دونوں تھک کرواپس مڑیں۔۔
    وہ لڑکی انکی نگاہوں کے سامنے کھڑی تھی۔۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو دونوں۔۔؟ میرے پیچھے بھاگتی آرہی تھیں نا؟
    اس نے مسکرا کرکہا تو وہ دونوں دیکھ کر رہ گئیں اسے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔

    https://urduz.pk/darwaza-kholain-biwi-ki-awaz-me-koi-aur-makhlooq-pukar-rhi-thi/
  • Desi Kimchi Episode 42

    قسط 42
    مس عروج۔
    وہ حسب معمول رائونڈ لگا کر واپس اپنے کیبن میں آکر تھک کر بیٹھی تھی۔ حسب عادت میلز دیکھنی شروع کیں مگر جس میل کا شدت سے انتظار تھا وہ ہی نہیں آئی تھئ۔ تھک کے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں میچ لیں۔
    اللہ میاں پلیز مجھے اسپیشلائزیشن کرنی ہے ہر صورت وسیلہ بنا دیں ۔۔
    دونوں ہاتھ اس نے منت کرنے کے انداز میں جوڑ رکھے تھے۔خوب دل سے دعا کرکے جیسے دل پرسکون سا ہوگیا۔
    نانی اماں کی بات یاد آئی۔
    چودہ سالہ عروج جائے نماز بچھائے دونوں ہاتھ پھیلا کر خوب زور و شور سے آنکھیں بند کیئے نماز پڑھ رہی تھی۔
    اللہ میاں اس والے میتھ کےٹیسٹ میں میرے سب سے ذیادہ نمبر آئیں اور اسکے بعد سالانہ میں بھی۔ پلیز اللہ میاں آپکو پیارے رسول ص کا واسطہ۔ بے شک پورے نہ آئیں مارکس۔ بس رابعہ سے ذیادہ آجائیں۔ اللہ میاں وہ جو سوال کا جواب غلط آیا وہ مس کو نظر نہ آئے وہ مجھے پورے نمبر دے دیں۔ سب اسٹیپس ٹھیک تھے اللہ میاں بس آنسر۔۔۔
    اری بھنو میری صندل کی تسبیح دیکھی کہیں صبح سرہانے تھی اب گدھے کے سر کے سینگ کی مانند غائب۔
    نانی اپنی صندل کی تسبیح ڈھونڈتی کمرے میں آئیں ۔ تو اسکی معصومانہ دعائوں نے انکی توجہ کھینچ لی۔ ایک دھیمی سی مسکراہٹ انکے چہرے پر در آئی۔ کمرے کے کونے میں جاء نماز بچھائے عروج کا بس دایاں رخ ہی نظر آرہا تھا۔ مگر اسکے چہرے پر اضطراب بے چینی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔ وہ وہیں اسکے قریب ہی موڑھا کھئنچ کر آبیٹھیں۔ انکی صندل کی تسبیح اسکی ہتھیلی پرہی دھری تھی۔
    آمین۔ اس نے دعا مانگ کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    نانی آپ۔ وہ انکو اپنے قریب دیکھ کر چونک گئ۔
    میری بیٹی پریشان ہے ٹیسٹ اچھا نہیں ہوا کیا؟
    انہوں اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو وہ کھسیا سی گئ۔
    نانو سب صحیح لکھا بس آنسر غلط ہوگیا۔ مگر میتھ میں اسٹیسپس کے تو مارکس ملتے ہیں۔ تو وہی دعا کر رہی تھی۔۔
    آپکی تسبیح ہاتھ میں لیکر۔ آپ جب یہ تسبیح ہاتھ میں لیکر دعا کرتی ہیں تو پوری ہوتی ہے نا۔
    اس نے تسبیح لہرائی تو نانی اسکی بات پر ہنس دیں۔
    بیٹا دعا وہ قبول ہوتی جو دل سے مانگی جاتی۔ صاف اور سچے دل سے جس دعا میں بس اپنی بھلائی درکار ہو کسی کا برا نہ چاہا ہو۔
    انہوں نے دھیمے سے ٹوکا تو وہ سر کھجا گئی۔
    آپ نے سن لیا۔۔ نانی وہ آپ نہیں جانتی رابعہ بہت شوخی سی ہے اس نے مجھے چیلنج کیا تھا اس بار فرسٹ وہ آئے گی۔ اگر اسکے نمبرمیتھ میں مجھ سے ذیادہ آگئے تو وہ فرسٹ آجائے گی۔
    اس نے معصوم سی شکل بنا کر کہا۔
    تو تمہیں یہ دعا مانگنی چاہیئے تھی کہ تم فرسٹ آئو۔ یہ تو دعا مانگی ہی نہیں تم نے۔
    نانی کے ٹوکنے پر وہ سر پر چپت مار گئ
    اوہو خیال ہی نہیں رہا۔ ابھی دعا مانگتی ہوں مگر نانی دعا تو مکمل کرلی اب دوبارہ مانگوں یا اب کل جب نماز پڑھوں تب مانگوں؟
    دعا کا تو کوئی وقت نہیں دعا تو ہروقت مانگی جا سکتی۔نماز میں انسان سب سے قریب ہوتا ہے اللہ کے تبھی نمازکے بعد آخر میں دعا مانگی جاتی ہے۔ لیکن دعا مانگنے کا طریقہ ہوتا ہے بیٹا۔
    نانی کے ناصحانہ انداز نے اسے سوچ میں ڈال دیا۔
    مجھے پتہ ہے ایسے دونوں ہاتھ اٹھا کے مانگتے ہیں نا ؟
    اس نے ہتھیلیاں جوڑ کر پھیلائیں
    ہاں اور جب ایسے ہاتھ پھیلاتے ہیں نا اللہ کے سامنے تو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے در سے کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتا۔ دعا سنتا ہے اجر دیتا ہے۔ جو مانگو وہ دیتا ہے کیونکہ وہ تو کہتا ہے مجھ سے مانگو میں دوں گا۔ مگر بیٹا دعا جب مانگو تو بس جو مانگنا وہی مانگو اس یقین سے مانگو کہ ملے گا۔ اور جب تک دل نہ ٹھہرے تب تک شدت سے گڑ گڑا کر مانگو۔۔ اللہ کو کبھی یہ نہ بتائو کہ وہ تمہاری دعا قبول کیسے کرے۔ اسکو تو بس یہ بتائو تمہیں کیا چاہیئے۔ دینا اسکا کام ہے کیسے دے وہ بہتر جانتا ہے۔
    دل ٹھہر جانا کیا ہوتا ہے نانی؟
    عروج کا ذہن الجھا۔
    جو اضطراب بے چینی دل میں مانگی گئ چیز کی طلب ظاہر کرے وہ ختم ہوجانا۔ یعنی اللہ نے سنا جو مانگا اب یا تو دے دیا یا اس سے بہتر نصیب میں لکھ دیا۔ اللہ دیکھتا ہے جو تمہیں چاہیئے وہ کتنی شدت سے چاہیئے۔ بہت شدت سے چاہو تو وہ دل کو سکون دے دیتا ہے۔اب پریشان نہ ہو تمہاری سن لی گئ ہے۔۔۔۔
    نانی نے پیار سے سمجھایا۔
    دھڑ دھڑ کرتا دل قابو میں آنے لگا۔
    اب یا تو مجھے مل گیا جو چاہیئے۔۔ یا مجھے اس سے بھی بہتر نصیب ہوگیا ہے۔
    عروج نے خود کلامی کرتے پرسکون ہو کر آنکھیں کھولیں۔
    سامنے ہی ڈاکٹر عبدالقادر کھڑے تھے۔ وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی
    آئم سوری وہ میں اندازہ نہیں لگا پایا کہ آپ جاگ رہی ہیں یا سوگئ ہیں اسلیئے یوں خاموش کھڑا تھا یہاں۔
    انہوں نے سٹپٹا کر صفائی پیش کی۔
    عروج سر ہلا کر رہ گئ۔
    اسے الجھن ہو رہی تھی کیا کام ہے بھئ۔
    ڈاکٹر عروج مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔
    عربی لہجے میں شستہ انگریزی۔۔ عروج نے انہیں سامنے بیٹھنے کی دعوت دی وہ شکریہ کہتے بیٹھ گئے۔۔
    دراصل ۔۔ وہ لمحہ بھر کا وقفہ لیکر گلا صاف کرنے لگے۔۔

    وہ آپ تو جانتی ہیں میں کچھ دنوں میں واپس مراکش جانے والا ہوں۔
    عروج نے ترچھی نگاہ سے ان سن بے کو دیکھا۔
    تو میں کیا کروں؟؟؟
    وہ نقاب کی وجہ سے اسکے تاثرات دیکھ تو نہیں پارہے تھے مگر نگاہوں سے اندازہ یہی لگایا کہ جو بھی کہنا ہے جلد کہنا ہوگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہارئ سینئر ڈاکٹر جو مسلمان ہیں جو مراکش سے ہیں تم سے کوئی پانچ سات سال ہی بڑے ہوں گے اپنے ملک واپس جانے سے قبل تمہیں پرپوز کرگئے۔ واہ۔ زبردست۔ تمہاری تو نکل پڑی عروج۔ میری بہنیا بنے گی دلہنیا۔۔
    فاطمہ تو اچھل ہی پڑی۔ لہک لہک کر گانا بھی شروع کردیا
    واعظہ اور عروج دونوں کو فورا فون کان سے دور کرنا پڑا
    فاطمہ حوصلہ رکھو۔ واعظہ کو ٹوکنا ہی پڑا
    مگر عروج ایسے کیسے دیکھا تک تو ہے نہیں انہوں نے تمہیں۔
    واعظہ کی بات میں دم تھا۔ فاطمہ بھی گانا چھوڑ چھاڑ نئی فکر میں پڑ گئ
    عروج تم نے تو انہیں دیکھا ہے نا کیسے ہیں؟ ہیںڈسم سے ؟ عادات کے کیسے؟ پانچ سال بڑے یا سات سال
    بریک لگائو فاطمہ۔ عروج جھلائی۔
    دس سال بڑے ہیں وہ سرجن ہیں۔ اور میں نے تو دیکھا ہوا ہی ہے انہوں نے بھی مجھے دیکھا ہوا ہے میرا ملازمتی کارڈ جو گلے میں لٹکائے پھرتی ہوں میں تصویروالی طرف اندرکرکے وہی میرے ڈاکٹری پروفائل پک بن کر منتظمیں کے ڈیٹا بیس میں لگئ ہے اور وہ منتظم اعلی ہیں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے میری ایک ایک معلومات انکے ایک کلک پر ہے
    عروج نے تفصیلا بتایا تاکہ کوئی الجھن باقی نہ رہے۔
    اوہ فاطمہ کا جوش و خروش کم ہوا۔
    اچھا پھر بھی عربی ہیں تو پیارے ہونگے ہی۔
    مراکش افریقی مسلم ملک ہے بی بی۔ ہاں رنگ صاف ہے انکا شکلا پاکستانی ہی لگتے۔
    ٹھہرو میں انکی تصویر وٹس ایپ کرتی ہوں
    اسکی تفصیل بتاتے بتاتے ہی۔فاطمہ نے مسترد بھی کردیا
    رہنے دو پھر۔ انکار کردو۔ اب کوریا میں رہ کر بھی پاکستانی۔شکل ملنی تو پاکستانی ہی ٹھیک ہے بہن کم از کم جو بولے گا سمجھ تو آئے گی۔
    عروج نے تصویر بھیجی تھی۔ فاطمہ نے جھٹ کھولی
    شکلا پاکستانی۔۔۔دیکھنے میں بس ٹھیک ہی تھے۔ مگر تصویر دیکھنے کے بعد فاطمہ کا خیال تھا کہ پاکستانیوں کی۔طرح عمر میں ڈنڈی مار گئے ہیں پندرہ بیس سال بڑے ہونگے۔
    یہ تو بہت بڑے ہیں۔ہاں تو نہیں کردی؟
    فاطمہ کو تشویش ہوئئ۔
    نہیں۔ہاں تو اگر یہ لی من ہو بھی ہوتے تو فورا نہ کرتی۔ کل پرسوں تمیز سے انکار کروں گی۔کوئی اخیر پسند آجاتے تو بھی میں سوچتی اب ایویں یونہی بھی تذکرہ کردیا نا گھر والوں سے تو یہیں شادی کروادیں گے یہ سوچ کر کہ۔مجھے پسند آگئے ہیں۔
    عروج نے ہنستے ہوئے کہا تو فاطمہ ہنسنے لگی
    صحیح کہہ رہی ہو۔ یہ واعظہ کہاں گئ۔کال کٹ تو نہیں گئ
    فاطمہ نے کہا تو واعظہ کو بولناپڑا
    میرے بولنے کی جگہ تھی دونوں مستقل تو بول رہی ہو۔ عروج جو تم نے دو تین جگہ اپلائی کیا تھا اسپیشلائزیشن کیلئے تو کیا بنا؟
    اس نے بات ہی بدل دی۔
    ہاں وہ بس دعائیں کر رہی ہوں۔ ابھی تو کہیں سے میل نہیں آئی۔ ویسے آج دعا کرکے سکون سا ملا دل کو یقینا کہیں داخلہ ہونے والا ہے میرا۔
    عروج کے انداز میں اتنا یقین تھا کہ دونوں بے ساختہ آمین کہہ گئیں۔
    اچھا واعظہ یہ تو بتائو جب میں نے بتایا کہ مجھے میرے کولیگ نے پرپوز کیا ہے تو تم نے فٹ سے سیونگ رو کا نام لیا تھا کیوں؟سیونگ رو کہاں سے آگیا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح حسب معمول وہ دس بجے تک اٹھی۔ منہ ہاتھ دھو کر باورچی خانے میں آئی تو فریج پر اسٹکی نوٹ چپکا تھا۔
    اس نے آرائشی ایفل ٹاور کے نیچے چپکا نوٹ اتار کر احتیاط سے اسے واپس لگا دیا۔
    میں گائوں جا رہاہوں چار دن بعد آئوں گا۔
    بندہ معزرت ہی کرلیتا ہے۔ تمہاری پھوپھی کی لڑکی نہیں ہوں جسے اتنا کچھ سنا کر دفع ہو گئے تم۔
    وہ اسٹکی نوٹ کو مسل کر بھنائی۔
    اٹھ گئیں تم۔
    سیہون کی آواز اسکے کندھے کے پیچھے سے آئی تھی۔
    کمرے سے اپنا بیگ کھینچ کر نکالتا وہ پوچھ رہاتھا۔
    فاطمہ بری طرح ڈر گئ۔ اسے حواس باختہ۔دیکھ کر وہ اپنی۔چندی آنکھیں کھول کر گھور نے لگا۔
    کیا ہوا؟
    وہ یہ نوٹ لگا ہوا تھا تو مجھے لگا تم جا چکے ہوگے۔
    اس نے اپنی گھبراہٹ پرقابو پاتے ہوئے بتایا تو وہ۔سر ہلانے لگا
    مجھے لگا تھا تم بارہ ایک تک اٹھو گی جبھی ابھی نوٹ لگا کر جا رہا تھا میں۔ رات تین بجے تک تو یہیں بیٹھی پارٹی کر۔رہی تھیں۔
    اس نے کچن کائونٹر کی جانب اشارہ کیا تو وہ نظر چرا گئ۔
    اپنی طرف سے تو چھپ چھپا کے ٹھونس رہی تھی۔
    میں نے کائونسل کو بتایا ہے کہ ہم دونوں گائوں جا رہے ہیں۔کم ازکم بھی پندرہ دن کیلئے تواس ہفتے وہ نہیں آئے گئ۔
    ہوں۔ میں گروسری رکھ کے جا رہا ہوں ۔ گوشت کے حلال ٹیگ والے ہی پیکٹ لایا ہوں استعمال کر لینا۔
    فاطمہ کو جانے کیوں شرمندگی نے آگھیرا تھا۔ کل جانے اسے کیا ہوا تھا اس وقت وہی سیہون تھا۔ سادہ سا مسکین سا۔ جسکے چہرے اور لہجے میں ہمیشہ کا نرم سا تاثر تھا۔
    آننیانگ۔
    وہ جانے کیلئے مڑا چند قدم اٹھا کر رکا۔ پھر واپس پلٹ کر اسکے مقابل آکھڑا ہوا
    کل شائد میں کچھ سخت لہجہ اختیار کرگیا۔ میں نے بہت کچھ کہا جو شائد مجھے کہنا نہیں چاہیئے تھا۔ میں معزرت خواہ ہوں۔
    کوریائی انداز میں جھک کر معزرت کرتا سیہون۔ وہ لمحہ بھر کو تو سنٹ سی کھڑی رہ گئ۔
    آئیم رئیلی سوری۔
    وہ چند لمحوں بعد کہہ کر دوبارہ جھکا۔ تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔
    نہیں۔
    آئ مین اٹس اوکے۔ ڈونٹ
    ہڑبڑا کر اس نے اسے معزرت کرنے سے روکا۔ مگر الفاظ گم سے رہے تھے۔
    بائے۔ وہ معزرت قبول کروا کر مسکرا کر الوداع کہتا نکل گیا۔۔۔۔
    اس نے گہری سانس لیکر سر جھکالیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو دفعہ۔جھک جھک کے معزرت۔ اس معزرت نے تو اس زلیل کرنے والی تقریر سے ذیادہ شرمندہ کردیا ہے مجھے ۔۔ گوڈے گوڈے ڈوب گئ ہوں شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں۔ بلکہ دلدلد میں اوریہ شرمندگی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے میں ڈوبنے والی ہوں جلد ہی قسم سے میری غیرت جاگ گئی ہے۔ اب میں جاب کر کے رہوں گی۔
    واعظہ کے ساتھ سڑک کنارے تیز تیز قدم اٹھاتے اور سارا قصہ بتاتے سانس پھول رہی تھی اسکی۔ اسکی باتوں پر کان نہ دھرتی لانگ گھٹنوں تک کے گلابی ٹاپ اور سفید ٹائٹس میں پرس کندھے سے اور فائل سینے سے لگائے تقریبا دوڑ ہی رہی تھی ۔فاطمہ سے رہا نہ گیا تو ٹوک ہی دیا
    اوفوہ ایک تو آہستہ چلو ان ننھی ننھی ٹانگوں میں اتنی رفتار موٹر فٹ کروالی ہے کیا کوئی۔
    وہ باقائدہ رک کر اسکے فراک نما گھیر والے ٹاپ کو چٹکی سے پکڑتی جیسے سچ مچ موٹر ڈھونڈنے لگی تھی۔
    واعظہ نے کندھے سے پھسلتا پرس سنبھالا ہاتھ میں پکڑی فائل بنا لحاظ اسکے سر پر جمائئ۔اور چلنے کا شغل جاری رکھا فاطمہ سر سہلاتی لپکی
    کم۔از کم ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تو دو۔
    مسکین سی شکل۔
    تم ڈوبو مرو جو مرضی کرو میرا پیچھا چھوڑو۔ آگے مجھ پر بھی بڑا برا وقت آیا ہے اس بارپکا میں نے کسی پرائے پھڈے میں ٹانگ نہیں اڑانی اور اپنا الو سیدھا کرنا ہے کمینگی دکھانی ہے بس پکی میں نے۔
    وہ دانستہ اسکی شکل نہیں دیکھ رہی تھی۔ فاطمہ دائیں جانب سے اپنا مظلومیت بھرا چہرہ دکھانے آئی تو رخ بائیں جانب کرلیا اور جب وہ گھوم کر آئی تو پوری مڑ گئدوسری جانب۔ بس اسٹاپ آگیا تو وہ جھٹ سے بنچ پر۔جا بیٹھی نتیجتا فاطمہ کو گھنٹے کے بل ہی اسکے سامنے بیٹھ کر اسکے گھٹنوں پر دونوں بازو رکھ کر چہرہ ہتھیلیوں کے پیالے میں دھر کر مسکین سی شکل بنا کردیکھنا پڑا۔ اسے دیکھ کر واعظہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ چند لمحے بند آنکھوں کو دیکھتے فاطمہ کی چونچالی سرد ہوتی گئ ہونٹ لٹکا کر جب سچ مچ مظلومانہ سے تاثرات چہرے پر آگئے شومئی قسمت واعظہ نے تب ہی آنکھیں کھول بھی لیں۔
    دونوں نے اکٹھے اتنی سرد آہ بھری کہ پاس سے گزرتی کورین آہجومہ بازو سکیڑتی بڑبڑا گئیں
    اف ان بوڑھی ہڈیوں کو تو اب ذرا سی ہوا بھی برداشت نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈیوٹئ ختم ہونے پر وہ تھکی تھکی سی بیگ سنبھالتی اسپتال سے نکل رہی تھی۔۔۔ ہاتھ میں بڑا سا بیگ بھی تھا۔ کندھے پر لٹکے پرس کا بوجھ ہی دگنا لگ رہا تھا ۔
    شاپر ایک طرف رکھ کر وہ عزہ کو فون ملانے لگی۔
    ہیلو؟ عزہ نے فورا فون اٹھا لیا تھا۔ وہ لابی میں کلاسیں کھول کھول کر جھانکتی پھر رہی تھی۔ پہلی میں۔۔ کلاس ہو رہی تھی۔ جھک کر اشارتا معزرت کرتی وہ دروازہ بند کرتی باہر نکل آئی
    ہیلو ہاں عزہ فری ہو تو میں گھر جا رہی ہوں کیب کروں گی تمہیں بھی اٹھا لوں؟
    عروج مصروف سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
    کیب کیوں کرنے لگی ہو؟ اسٹاپ تو قریب ہے نا اسپتال سے
    ؟ میٹرو بھی ۔۔۔
    وہ اگلی کلاس کا دروازہ کھول رہی تھی۔۔ اندر ایک جوڑا بیٹھا تھا جتنا زور سے وہ ہڑ بڑایا اس سے ذیادہ زور سے سٹپٹا کر اس نے دروازہ بند کیا۔
    توبہ ہے۔ دانت کچکائے دھڑ دھڑ کرتے دل پر ہاتھ رکھا دروازے کو خوب گھورا
    ہاں وہ بس کچھ سامان ہے ساتھ۔ عروج نے مختصرا جواب دیا
    کیسا سامان؟ شاپنگ کرلی ؟ عزہ پوچھتے ہوئے اب اگلا دروازہ کھول رہی تھی
    نہیں بھئی ایک مریضہ انتقال کر گئ ہے اس نے تحفہ دیا ہے بڑا سا بیگ ہے شاپنگ کا۔
    کیا تحفہ دیا؟ عزہ کا انداز اشتیاق بھرا تھا
    پتہ نہیں کیا ہے اس میں بھاری تو ہے۔ سوچا تھا دیکھ لوں گی مگر پے در پے ایمرجنسیاں ہی آتی رہیں موقع نہیں ملا دیکھنے کا جانے مجھے کیا تحفہ دے گئیں وہ خاتون آخری وقت میں۔ بے چاری۔
    چلو اللہ مغفرت کرے۔۔ عزہ نے تاسف کا اظہار کیا۔
    ہاں بے چاری بہت اذیت میں تھیں۔
    عروج کو تھکن سی محسوس ہوئی تو اسپتال کے باہر بنی سنگی کیاری سے ٹک گئ
    کینسر تھا اتنی تکلیف ہوتی تھی انکو بہت روتی تھیں۔۔ وہ تفصیل سے بتانے لگی
    اوہ ۔۔ ہاں میں نے بھی سنا ہے کینسر کے مریضوں کی جو کیمو تھراپی ہوتی ہے اس میں شدید درد ہوتا ہے۔ سوئیاں چبھنے جیسا۔۔ بال بھئ ختم ہو جاتے ہیں۔۔
    قسمت سے خالی کمرہ مل ہی گیا سکون سے دوڑ کر وہ نرم نرم سے بنچوں کی۔جانب بھاگی۔۔کانفرنس ہال جیسی کلاس تھی سب سے نیچے پہلے بنچ پر وہ جا ٹکی۔ اوپر جو رو تھیں وہاں تک چڑھائی چڑھنے کا ارادہ نہ تھا بیگ رکھ کر آرام سے وہ نیم دراز ہوگئ۔
    ہاں یار بہت برا حال تھا بس یوں سمجھو اذیت ختم ہوئی۔ اب ٹھیک تو ہونا نہیں تھا انہوں نے۔ آخری اسٹیج تھی۔ سانسیں اٹکی۔تھیں بس بیٹی میں۔ وہ آکر ملی تو بس سکون سے آنکھیں موند لیں۔ عروج نے تائید میں سر ہلایا۔
    ہائے۔۔۔ عزہ نے بھی آنکھیں موند لیں۔کمر تختہ۔ہورہی تھی یوں نیم دراز ہو کر سکون ملا تھا۔۔
    اور تم سنائو کیسا گزرا دن۔۔
    گزرا کہاں گزر رہا دو کلاسیں ہوئیں کمر تختہ ہو رہی ہے اس وقت بھی کلاس ہونے والی ہے مگر یہاں کی سیٹیں کتنی آرام دہ ہیں دل کر رہا سو ہی جائوں
    ہوں ۔۔ وہ سوچ میں پڑئ۔۔
    یار ایک کلاس ہے تو مگر اس جاپانی شکل کے کورین انکل کو جانے ہم غیر ملکیوں سے کیا دشمنی ایک لفظ انگریزی کا بولنے کو تیار نہیں ہوتے بیٹھے مکھیاں مارتے ہیں ہم اس دن بھی جب ہم نے درخواست کی تھوڑا سا انگریزی میں سمجھا دیں تو دو تین انگریزی مصنفوں کی کتابوں کے نام۔بتائے اور بھاگ لیئے۔۔
    عزہ کی کہانی شروع تھی۔۔
    اب بتائو ایسے کیسے سب سمجھ آسکتا ہمیں خود ہی۔کتاب پڑھ کے۔۔
    عزہ کی بات پر عروج نے سر ہلایا۔۔
    ہاں ان لوگوں کو انگریزی آتی نہیں نا تو بہت گھبراتے ہیں ہمارے بس ایک استاد۔۔۔۔ بولتے بولتے عروج کو خیال آیا تو چونک کر سر کھجانے لگی۔
    کیا ہوا تمہارے استاد کو؟ آج ویسے بڑی فرصت سے بات کر۔رہی ہو کوئی مریض وریض نہیں آئے تم نیم حکیموں کے ہاتھوں بیڑا غرق کروانے؟
    عزہ چھیڑ رہی تھی۔
    ارے نہیں ڈیوٹی تو کب کی آف ہو چکی دو گھنٹے ایک آن لائن لیکچر لیتی رہی تو لیٹ ہو گئ۔۔ اور۔۔
    عروج کو یاد آگیا جو بھولی تھی تڑپ کر اٹھ کھڑی ہوئی
    اور اب گھر جانا تھا کیب لینے لگی تھی تم نے باتوں میں لگا لیا عزہ کی بچی۔
    وہ چلائی تو عزہ بھی جزباتی ہو کر اٹھ بیٹھی
    کیا کیا۔۔ میں نے باتوں میں لگا لیا ؟ تم نے مجھے فون کیا ہے بی بی۔ ایک تو میں یونیورسٹی میں پڑھائی کے گھنٹوں کے دوران تم سے بات۔۔۔
    اوفوہ تو وہی پوچھنے فون کیا نا کہ کیب لینے لگی ہوں چلنا ہے تم نے۔ عروج کا اپنے بال نوچنے کا دل کرنے لگا تھا۔ ایک تو آپکی زندگی میں ایک۔انسان ایسا ضرور ہوتا ہے
    جس سے کوئی سوال کرو تو جواب میں وہ سوال داغتا ہے وہ بھی بالکل غیر متعلق۔
    عزہ پوچھ رہی تھی۔۔
    اکیلی ہو یا کوئی اور بھی ساتھ ہے؟
    جلدی بتائو آئوں تمہیں لینے کہ نہیں پہلے ہی جان نکلی پڑی ہے تھکن سے اتنا بھاری بیگ اٹھائے ہوں تمہاری کہانیاں نہیں مک رہیں۔
    عروج چیخ ہی پڑئ۔۔ تب ہی سیونگ رو اسکے پاس آکر بولا
    گھر جا رہی ہو۔ آئو میں ڈراپ کردوں
    عروج نے فون کان سے ہٹا کر حیرت سے اسے دیکھا۔
    تم گئے نہیں؟ مجھے تو لگا تھا گھر پہنچ کے سوبھی گئےہوگے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگلے ہفتے سسیو ای جی اور کم سوہیون مہمان ہونگے ہمارے۔
    ژیہانگ نے قریب آکر دھیرے سے اسے بتایا تو بری طرح چونک سی گئ۔ موبائل چھوٹ کر اسی کے قدموں میں جاگرا
    وہ مگن سی اسٹوڈیو میں بیٹھی اپنے موبائل میں فیس بک اسکرال کر رہی تھی۔ اسکی کزن کی شادی ہورہی تھی اوپر نیچے سب خاندان نے بس تصویریں ہی۔تصویریں لگا رکھی تھیں اسکی۔نیوز فیڈ لال ہوئی پڑی تھی ۔
    ژیہانگ نے اسکا فون اٹھا کر اسے تھمایا۔ وہ لاتعلق سی ہوں کرکے دوبارہ فون میں لگ گئ۔
    ناراض ہو ؟
    ژیہانگ نے چند لمحے اسکو دیکھا۔ وہ نظریں محسوس کررہی تھئ مگر بے نیاز بنی بیٹھی رہی
    نہیں۔ کیوں۔
    اس نے جھٹ سے کہا۔ ژیہانگ کو اسکے انداز سے اتنی اجنبیت محسوس ہوئی کہ آگے کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔ رخ موڑ کراپنا مائک وغیرہ سیٹ کرنے لگا۔
    اسکی بے نیازی پر الف کی پیشانی تپ سی گئ۔
    کیا انداز ہے جیسے ٹھیک ہے بھاڑ میں جائو پروا نہیں۔ جیسے کوئی فرق نہیں پڑتا ٹھیک ہے مجھے بھی فرق نہیں پڑتا۔
    وہ موبائل رکھتئ ذہن میں بڑ بڑا رہی تھی۔کہ خیال آیا۔ ہونٹوں پر باقائفہ انگلی رکھ کر دیکھا ہل ول تو نہیں رہے۔ جب سے اسے پتہ لگا تھا کہ۔ژیہانگ اردو جانتا تب سے کوشش کرکے باقائدہ بڑبڑانے کی عادت ختم کرنے کی کوشش کی ۔ پھر بھی برے وقت کا پتہ تو نہیں ہوتا نا۔
    تم چپ ہی ہو۔ جو کہا ہے دل میں کہا ہے فکر نہ کرو۔
    اسکی حرکت ژیہانگ سے چھپی نہیں رہی تھی۔اپنا کافی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگاتے محظوظ سی مسکراہٹ
    الف کو شک گزرا۔ فورا سیدھی ہوئی گڑبڑ ہوہی گئ۔
    بھاڑ میں جائو میں نے تمہیں نہیں کہا۔۔۔ اس نے فورا صفائی دی۔
    میرا مطلب تھا کہ۔تمہارا انداز ایسا ہے کہ بھاڑ میں جائو مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔
    ژیہانگ نے کپ رکھ کر باقائدہ قہقہہ لگایا۔ ہنستا گیا۔ الف کان کھجانے لگی۔
    ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔
    تو تم کہہ رہی۔تھیں۔بھاڑ میں جائو۔
    وہ صحیح لطف لے رہا تھا۔ مسکراتی نگاہیں ہنستا چہرہ۔
    الف نے سر جھکا لیا۔
    کوریا کی ہوا میں ہی کوئی مسلئہ ہے۔لڑکیوں سے خودبخود حماقتیں سرزد ہونے لگتی ہیں ہم ایویں انیوں کو احمق بونگا کہتے تھے یہاں آکر۔
    وہ اس بار ہونٹ بھینچ کر سوچ رہی تھی۔
    ژیہانگ نے اسکا پارہ چڑھتے دیکھا تو ہنسی کو روکتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔پھر بولا۔
    تم نے واقعی کچھ نہیں بولا۔مگر تھینکس اپنے دلی جزبات بول کر بتا دیئے۔ محترمہ سمجھ تو میں گیا۔تھا کہ۔کوئی۔ناراضگی ہے اور پروگرام۔کے بعد پکا تفصیل سے دور کرنے کا بھی ارادہ تھا۔
    محترمہ زندگی میں کبھی اتنا اچھا نہ لگا تھا سننے میں جتنا اب لگا۔
    وہ گھور کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ یونیورسٹی کے باہر ٹہل رہی تھی جب گاڑی کے نام پرچم چم کرتی کالےرنگ کی جن کی بچئ پاس آکر کھڑی ہوگئ۔
    آیا کوئی ممی ڈیڈی بچہ۔
    اس نے منہ بنا کر رخ پھیرا۔
    جانے لوگوں کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آجاتا ہے۔ چم چم تو ایسے کر رہی جیسے شوروم سے سیدھا یہاں آگئ۔
    اوئے عزہ کی بچئ میں ہوں آئو بیٹھو۔
    عروج پسنجر سیٹ سے شیشہ نیچے کرکے چلائی۔
    یہ اتنی بڑی چم چم کرتی۔گاڑی کہاں سے آئی تمہارے پاس؟ تمہیں ڈرائیونگ آتی ہے؟
    عزہ بھرپور حیرانی کا اظہار کرتی اسکی جانب بڑھی
    ہیں اس گاڑی میں اسٹئیرنگ نہیں؟ وہ کھڑکی سے اب اندر جھانک رہی تھی
    بدھو لیفٹ ہینڈ ڈرائیوہے یہاں گاڑی میں نہیں یہ چلا رہا۔
    وہ نشست کی پشت پر چھپکلی کی۔طرح چپک گئ۔ تو عزہ کو اسکے وجود کی آڑ میں چھپا چندی خوب چمکتی آنکھوں اور سو واٹ کے بلب کی طرح روشن ہوئے چہرے والا سیونگ رو دکھائئ دیا۔
    اسلام و علیکم۔
    اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی سلام۔بھی جھاڑا۔
    وعلیکم السلام۔ کم ان۔
    اس نے مسکرا کر کہتے دعوت دی۔ اسکے شستہ جواب شائستہ انداز نے عزہ پر کافی اچھا اثر ڈالا۔
    اوئے یہ مسلمان ہے ؟
    پچھلی نشست سنبھالتے ہی پہلا پیغام عروج کو یہ موصول ہوا۔ سیونگ رو نے گاڑی اسٹارٹ کر لی تھی۔
    نہیں ۔ اور اب مسج مت کرنا۔
    ساتھ غصے والا۔اسمائیلی اس نے جھٹ پیغام بھیج کر موبائل بیگ میں ڈال دیا۔عزہ میسج پڑھ کر کھسک کر عروج کے بالکل پیچھے ہو لی ذرا دیر سوچا پھر
    کون ہے یہ؟
    اس نے کھڑکی کی جانب سے منہ آگے کرکے سرگوشی کی۔
    عروج اچھل پڑی۔
    کولیگ ہے۔ ۔۔دانت کچکچا کر جواب دیا۔ اور رخ موڑ لیا۔
    اس بار بائیں جانب سے کان میں سرگوشی ہوئی وہ بھی پے در پے لگاتار۔
    دوست بھئ ہے تمہارا؟ اتنا امیر کیسے ہے؟ فلموں میں کام کرتا۔۔اسکی شکل لی من ہو سے نہیں ملتی؟
    مانا ہینڈسم ہے مگرلی من ہو کی لک بھی نہیں آرہی۔ عشنا ہوتی تو غش کھا جاتی تمہیں اس میں لی من ہو ڈھونڈتے دیکھ کر۔
    عروج سب احتیاط بھول بھال کر پلٹ کر بحث میں الجھی۔
    کیوں؟ ایسا بھئ کیا۔ عزہ برا مان گئ۔ لی من ہو کوئی دیوتا تھوڑی۔ انسان کی انسانوں سے ہی شکل ملتی ہے۔
    مجھے ویسے اکثر لوگ کہتے ہیں میری شکل لی من ہو سے ملتی ہے۔ شستہ انگریزی دھیما لہجہ انداز محظوظ ہونے والا تھا۔
    آپ اردو سمجھ سکتے ہیں؟
    عزہ کی آنکھیں حجم سے دگنی ہوگئیں۔ عروج کا منہ کھل گیا۔
    دے ؟
    وہ۔سمجھا نہیں۔ تو عزہ کو انگریزی میں بتانا پڑا۔
    آندے۔ وہ کھل کر ہنسا۔
    آپ نے جو بولا اس میں بس ہیلپنگ ورب ہی اردو کے استعمال۔ہوئے ہینڈسم ، لک ، وغیرہ تو عام انگریزی کے الفاظ ہیں اور لی منہو تو واقعی مجھے اکثر لوگ کہہ جاتے ہیں۔ تو مجھے مفہوم سمجھنے میں مشکل نہیں ہوئی اگر میں غلط نہیں تو۔
    وہ بیک ویو مرر سے عزہ سے مخاطب ہوا۔ وہ سر ہلا کر اب ہلکی آواز میں بڑ بڑا نے لگی۔
    نہیں آپ غلط نہیں سمجھے مگر ہماری غلطی ہے انگریزی بھر لی ہے اردو میں کوئی پرائیویسی ۔۔۔ اف کوئی۔۔۔۔
    اس نے ذہن کےگھوڑے دوڑانے چاہے مگر وہ بس ہنہنا کر رہ گئے۔ تو تھوڑا آگے ہو عروج سے ہی پوچھنے لگی۔
    یار ۔۔ عروج پرائویسی کو اردو میں کیا کہتے۔؟؟؟
    میرا سر۔۔عروج یہی۔جواب دے سکتی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری۔یے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 41

    قسط 41

    اچھا وقت گزرا نا؟
    سیونگ رو اسکے ساتھ چلتے ہوئے تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی وہ دونوں اکٹھے ہی اولڈ ہوم سے نکلے تھے۔
    ہاں۔ عروج کو عجیب سا لگ رہا تھا۔ جانے آج کس دھیان میں تھی جو اتنی بڑی غلطی کر بیٹھئ۔
    ویسے آج میں لوگوں کو بہت وجیہہ لگ رہا تھا ۔ کم از کم بھی بارہ آہجومائوں نے مجھے وجیہہ کہا ہے۔
    اسکا عروج کے برعکس مزاج بہت خوشگوار ہو رہا تھا۔ چونچال سے انداز میں بولتے ہوئے اس نے عروج کی جانب دیکھا۔
    مگر وہ قصدا نگاہیں سامنے جمائے تھی۔ وہ دانستہ رکا وہ آگے بڑھتی گئ۔ اس نے اپنی گاڑی تھوڑا سا اولڈ ہوم سے آگے پارک کی تھی تاکہ راستہ نہ رکے ابھی اپنی گاڑی کے پاس سڑک کے دوسری جانب رکا تھا اب یہاں سے سڑک پار کرنی تھی۔
    رکو کہاں جا رہی ہو؟ اسپتال نہیں جانا؟
    اس نے اپنی گاڑی کا لاک سوئچ سے بجایا عروج چونک کر مڑی۔
    آئو۔
    وہ اسے بلا رہا تھا عروج نے کچھ سوچ کر نفی میں سر ہلادیا
    میں بس سے جائوں گی تم جائو۔
    کیوں؟ وہ جیسے شدید حیران ہوا۔
    جب میں گاڑی لایا ہوں اور اسپتال ہی تو جا رہا ہوں۔ ہماری اکٹھے نائٹ لگی ہے اگلے ایک ہفتے تک۔
    اس نے جیسے یاد دلایا
    عروج نے گہری سانس لی۔۔ چند لمحے یونہی اسکی جانب پشت کیئے کھڑی کچھ سوچتی رہی۔اس نے لحظہ بھر اسکے پلٹ آنے کا انتظار کیا مگر اسے یونہی کھڑا دیکھ کر اسکے پاس چلا آیا۔
    کیا ہوا کوئی بات بری لگی ہے ناراض ہو۔
    آں نہیں۔ وہ یقینا چونکی تھی۔ اسے اپنے سامنے پا کر۔
    بس ایسے ہی۔ اچھا نہیں لگتا روز روز تم سے لفٹ لینا اسلیئے میں چلی۔جائوں گی تم جائو۔۔
    وہ ہنگل میں بولی تھی جبھی جملے تکلفات سے عاری تھے سوچ کر بولتی تو شائد بہتر جواب دیتی سیونگ رو یکدم سنجیدہ سا ہوگیا۔
    کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں؟ یہاں کسی آہجومہ نے؟ تم گوشت نہیں کھا رہی تھیں تو یقینا کسی نے ٹوکا ہوگا کوئی بات بری لگ
    وہ اندازے لگا رہا تھا عروج بیزار سی ہوئی
    ارے نہیں بھئ ایسی کوئی بات نہیں نہ تو کسی نے کچھ کہا نا ہی میں اتنی بے وقوف ہوں کہ انجان لوگوں کی بات دل سے لگائوں۔
    اسکا انداز جھلاہٹ بھر رہا تھا تو سیونگ رو چپ کرگیا
    اچھا چلو اسپتال تو چلو سوا سات ہو رہے آٹھ بجے ڈیوٹی شروع ہو جائے گئ۔
    وہ اسے لیئے بغیر ٹلنےوالا نہیں تھا یقینا
    عروج نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
    چلو۔
    وہ اسکا کولیگ تھا اس سے کٹ کر تو نہیں رہ سکتی تھی۔ اسپتال میں جبکہ ڈیوٹی بھی اسی کے ساتھ تھی۔ وہ چل پڑی
    پھرسارا راستہ وہ بالکل خاموش رہا تھا۔
    کیا ہوا بھول۔چوک۔ہو ہی جاتی ہے نہیں خیال رہا مجھے کہ ماسک اتار دیا ہے۔ دیکھ لیا تو دیکھ لیا۔ چار سال سے نہیں بھی تو دیکھا تھا نا۔ اور ۔
    اس نے زرا سا رخ موڑ کر سیونگ رو کو دیکھا
    وہ مکمل سڑک پر نگاہ۔جمائے ڈرائونگ میں مگن تھا
    اف یہ شرمندگی کیسے کم ہوگی۔
    اس نے آنکھیں میچ لیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکے سنگ فلیٹ کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے بھی وہ ہونٹ کاٹ رہی تھی۔ جبکہ سیہون حسب عادت لاک لگا کر جوتے ریک میں رکھ رہا تھا۔
    فاطمہ نے کان کھجایا۔
    سیہون ۔۔۔۔۔ سوری۔
    سلیپر میں پیر پھنساتے سیہون نے چونک کر مڑ کر دیکھا
    ڈونٹ بی۔ ہو جاتا ہے مجھے ویسے تمہیں گھن دلانے کی سزا۔۔۔
    وہ کہہ رہا تھا فاطمہ نے بات کاٹ دی
    اس بات کیلئے نہیں سوری کہہ رہی۔اچھا ہوا میں نے منہ پر الٹی کی آئیندہ بچپن کے گندے قصے فخر سے نہیں سنائوگے کسی کو۔
    سیہون پلکیں جھپکتا رہا
    پھر میری نسل پر احسان کس خوشی میں کیا جا رہا ہے سوری کہہ کر؟
    وہ اپنے مخصوص ٹھنڈے انداز میں پوچھ رہا تھا
    وہ اتنی مشکل سے تم نے اپنی ضمانت پر نوکری لگوائی میری اور میں پہلے ہی دن نہیں گئ جاب پر۔ اسکے لیئے۔ وہ کہہ کر فورا اندر بھاگی۔۔۔
    جوتے اتار کے فاطمہ۔
    سیہون نے آواز لگائی مگر تب تک فاطمہ کچن میں پہنچ چکی تھی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتا خود بھی اندر چلا آیا۔
    سوری سیہون۔۔۔مجھے آج ہر صورت وقت پر پہنچنا چاہییے تھا مگر میری آنکھ ہی نہیں کھلی الارم نہیں بجا۔۔ ورنہ الارم سے آنکھ کھل جاتی ہے میرئ۔۔ میں جب تم سے ملی تب ہی پہنچی تھی دفتر مگر جانے کی ہمت نہ ہوئی۔
    اسکے لیئے وہ پانی کا گلاس بھر کر ٹھنڈی سانس بھرتے مڑ
    کرسر جھکا کر ادب سے پیش کرنے لگی۔۔ سب سچ سچ کہہ ڈالا۔
    سیہون نے اسکے ہاتھ سے گلاس لیکر کائونٹر پر رکھ دیا۔
    جانتا ہوں۔
    اسکی۔بات پر فاطمہ نےجھٹکے سے سر اٹھایا آنکھیں پھاڑیں اس نے اپنے کندھے کے اوپر اشارہ کیا۔
    فلیش بیک چلا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس سے ترنگ میں اتر کر مڑی تو سامنے سے سیہون کو آتےدیکھ کر اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔
    جانے اس نے مجھے بس سے اترتے دیکھا کہ نہیں۔
    فاطمہ نے سوچتے ہوئے نچلا لب دانتوں تلے دبایا ۔۔ وہ اطمینان سے چلتا قریب آیا رکا
    کیسا گزرا جاب کا پہلا دن؟
    وہ سینے پر ہاتھ لپیٹے مسکرا کر پوچھ رہا تھا۔
    نہیں دیکھا۔ فاطمہ نے سکھ کا سانس لیا۔
    گگ گڈ۔ مزا آیا۔ آسان کام ہے۔
    اسے لمحہ بھر لگا تھا سنبھلنے میں۔
    اچھا؟جبھی ساڑھے تین بجے واپسی ہورہی ہے سیہون نے شائد طنز کیا ہوگا مگر وہ سمجھی نہیں
    ہاں وہ پہلا دن تھا نا تو مجھے دو بجے ہی فری کردیا۔ بہت اچھی مینجر ہے یقینا لمبی زندگی پائے گئ۔
    کیسے؟ سیہون کو اسکی بکواس پر ہنسی آئی
    دعا جو دوں گی میں اللہ لمبی زندگی دے اس اچھی مینجر کو۔
    چلو میں گھر چل رہی ہوں۔
    اس نے ایسے پوچھا جیسے خود گاڑی میں آئی ہو۔
    نہیں مجھے ابھی کام ہے۔ سیہون نے گہری سانس بھری
    گائوں جانا ہے تو کچھ چیزیں لینی ہیں تم جائو میں شام تک آئونگا۔
    سیہون نے کہا تو وہ سوچ میں پڑی
    واپس جا کر سو جائوں تو واعظہ مارے گی۔۔۔ اسے یقین تھا میں دفتر کے اندر نہیں جائوں گی۔ عقل کی بات ہے۔ جا کر جتنے بھی جھوٹ بول لوں بےعزتی تو ہونی ہے کیوں کروائوں جب مجھے پتہ ان پیسے پیسے پر جان دینے والے کورینز نے نکال ہی دینا مجھے کیسا اخبار سے تین ٹارڈیز ( وقت پر نہ پہنچنے کے باعث Tardy) پر ایک مہینے کی نوکری کا لحاظ کیئے بنا نکال دیا یہاں تو پہلا دن تھا۔۔خیر واپسی کا کوئی سین نہیں۔ اور سیہون کے فلیٹ میں اکیلی کیا ٹامک ٹوئیاں ماروں گی۔۔۔
    اس نے جلدی جلدی سوچ کر فیصلہ کیا
    کیا لینا ہے۔ میں بھی چلتی ہوں ایک دو چیزیں میں بھی لے لوں گئ۔۔
    اس نے سیہون کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اسکے پروگرام میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہارے خیال میں میں تمہیں تمہارے پہلے دن کیلئے مبارکباد دینے پہنچا تھا وہاں۔ تمہارے دفتر سے بلاوا آیا تھا کہ جن موصوفہ کو آپ اپنی ضمانت پر رکھوا کے گئے ہیں انہوں نے تشریف لانے کی زحمت نہیں کی لہذا آپ زحمت کیجئے اور آکر انکی غیر حاضری کی مفصل وجہ بیان کیجئے۔
    سیہون نے کہا تو وہ سر جھکا گئ دوبارہ۔
    خیر نوکری چلی گئ ہے تمہاری ۔ میں نے بہانے بنانے کی کوشش کی مگر تمہاری اچھی مینجر سے اوپر جو منتظم ہے وہ بالکل اچھی نہیں۔ اگر تم چلی جاتیں تو شائد پھر کوئی امید بن جاتی مگر تمہارا مجھے ایسا کوئی ارادہ نہیں لگا تھا۔ وہ سٹول گھسیٹ کر بیٹھا اور گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا
    فاطمہ کو خفت سی محسوس ہوئی۔
    مجھے سمجھ نہیں آتا تم چاہتی کیا ہو۔ جو تمہارا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے وہ یہاں کوریا میں نہیں چل سکتا۔ جس نوکری کے پیچھے تم اپنی انا کے مینار سے اتر کر زرا سی معزرت کرنے سے کترا رہی تھیں۔ اسکے لیئے یہاں کی لڑکیاں گھٹنے کے بل بھی بیٹھ جائیں۔۔ ( اس نے کوریائی کورنش بجالانے کا حوالہ دیا۔ انتہائی سبکی کی بات ہے کورینز کیلئے گھٹنے کے بل پر بیٹھ کر منت کرنا۔ اور کسی کورین کے سامنے ایسے گڑ گڑا کر مدد مانگی جائے تو وہ انکار بھی نہیں کرتے)
    تم نے زندگی کو برتا نہیں ہے
    وہ اپنے مخصوص انداز میں نرم لہجے میں بات کر رہا تھا مگر جانے کیوں فاطمہ کو لگا کہ اسکے انداز سے مروت کا عنصر مٹ سا گیا ہے۔۔ اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا پھر متانت سے بولتا گیا۔۔
    ۔مجھے نہیں پتہ پاکستان کتنا خوشحال ہے مگر تمہیں کیا لگتا یہاں کی زندگی آسان ہے؟ اس ترقی یافتہ ملک کوریا میں جینا اتنا آسان کام نہیں ہے۔یہاں کےہائی اسکول کے بچے اپنا خرچ چھوٹی موٹی نوکریوں سے خود اٹھاتے ہیں۔ اپنی تعلیم کیلئے لیئے جانے والے لون کتنوں کی زندگی کے قیمتی سال کھا جاتے ہیں۔وہ ویٹر، پلمبر لیبر جیسی چھوٹئ موٹی نوکریاں کرتے ہیں مگرزندگئ کی گاڑی کھینچتے ہیں۔
    کہنے کویہ چھوٹی موٹی نوکریاں ہیں مگر کیا کچھ برداشت کرنا پڑتاہے اسکا اندازہ نہیں تمہیں۔ تم نے زرا سی کافی الٹی مجھ پر ۔۔۔۔وہ ذرا سا مسکرایا۔۔عجیب سرد سی لہر فاطمہ کے رگ وپے میں دوڑ گئ۔ وہ دم سادھے سن رہی تھی۔
    اس نےسلسلہ کلام جوڑا
    ایک غصہ ور صارف نے کھولتا سوپ الٹا تھا مجھ پر اور جوابا میں نے معزرت کرکے اسکا لباس نیپکن سے صاف کیا تھا۔ تین نوکریاں کرتا تھا جب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ چار سال میں شائد ہی کوئی رات میں نے سو کر گزاری ہو۔ پڑھنے کا موقع ہی رات کو ملتا تھا سارا دن تو ۔۔۔ اس نےسر جھٹکا۔
    میں کڑکتی سردی برفباری میں گوشی وون ( چھوٹے سے کمرے پر مشتمل رہائش جس میں بمشکل ایک بستر اور میز ہوتا یے) جیسے دڑبے کا بھی کرایہ ادا کرنے کے قابل نہ ہونے کے باعث سڑکوں پر سکڑتا پھرا ہوں۔ جس دن ایک کھلے گیراج میں کتے کے ساتھ رات گزاری اس دن فیصلہ کیا تھا کہ گٹر صاف کروں گا مگر اپنے اوپر دوبارہ یہ وقت آنے نہیں دوں گا۔ مجھے لگتا ہے ان سب حقیقتوں سے واقفیت کیلئے ایک رات تمہیں بھی ایسی ہی گزارنئ پڑے گی۔ جس کی نوبت ابھی تک واعظہ کی وجہ سے تم پر نہیں آسکی۔۔۔
    وہ اپنی بات مکمل کرکے گلاس کا بچھا کھچا پانی پیتا اٹھا اس پر ایک نگاہ غلط ڈالتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
    اسکے کمرے کا دروازہ بند ہونے پر وہ چونکی تھی۔ وہ جو کہہ گیا تھا اسے سننا تو اتنا مشکل نہ تھا مگر اسکے بین السطور معنی ۔۔۔۔۔۔۔ اسکا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔اس سے کھڑا رہنا دشوار ہوا تو اسٹول گھسیٹ کر گر سی گئ۔
    بے عزتی ہوگی اسلیئے دفتر نہیں گئ مگربے عزتی اور کیا ہوتی ہے ؟
    وہ خود کلامی کے انداز میں بولی۔ زندگی میں کبھی نہ رونے والی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ کئی آنسو چہرے پر گرتے گئے۔
    اس نے نفی میں سر ہلایا۔
    مگر اس نے بےعزتی تو نہیں کی دھیما سا انداز اور حقیقتیں بیان۔ اور حقیقت بس اتنی ہے فاطمہ کہ۔۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    You are just a parasite who just happen to be born with an adventurous soul……
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ حسب معمول سب سے پہلے اس کمرے میں آئی تو نرسیں چادر بدل رہی تھیں کمرے کی صفائی ہو رہی تھی ۔
    اسکا دل انجانے خدشے سے دھڑ دھڑ کرنے لگا۔
    آہجومہ۔۔ اس نے اتنا ہی کہا کہ ایک نرس نے سر اٹھا کر اسے دیکھاپھر تاسف بھرے انداز میں بتایا
    ان بوڑھی خاتون کا انتقال ہوگیا ہے۔ ابھئ گھنٹہ ایک پہلے ہی انکی بیٹی باڈی لیکر گئ ہے۔
    وہ سر ہلاکر پلٹنے لگی۔ ۔ جانے کیوں اسکے دل پر منوں بوجھ آن گرا تھا۔
    وہ روز انکا معائنہ کرنے آتی وہ اسکا بازو کھینچ کر پاس بلاتیں۔ ادھورے ٹوٹے پھوٹے جملے۔ اسکی ہنگل کا اور برداشت کا دونوں کا امتحان ہوتا تھا۔
    سنیں۔
    اسکو پیچھے سے نرس نے پکارا۔
    یہ انکی بیٹی آپکے لیئے دیکر گئ تھی۔
    اس نے چھوٹا سا پیکٹ بڑھایا۔
    یہ کیا ہے؟
    اس نے حیرانی سے پوچھا جوابا وہ کندھے اچکا گئ۔ اس نے سر ہلایا
    تو آپ کی مشکل تمام ہو ہی گئ۔۔ وہ ایک الوداعی نگاہ ڈال کر دروازہ بند کرتی نکل آئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تھکی تھکی سی گھر میں داخل ہوئی تھی۔ گھر کی بتیاں جلانے کی کسی نے زحمت نہیں کی تھی۔ وہ راہداری کی بتی جلاتی اندر داخل ہوئی تو منے لائونج میں سرد ہوا سے استقبال ہوا۔ کانپ کانپ گئ۔۔ وہاں کی بھی بتی جلائی تو پتہ چلا منے لائونج سے ملحقہ چھوٹی سی دو فٹ کی۔گیلری کا دروازہ کھولے عزہ چوکھٹ میں بیٹھی حسرت سے زمین دیکھ رہی تھی۔
    تمہیں کیا ہوا۔
    اس نے قریب آکرہلایا جلایا۔
    میں مرگئ۔۔
    عزہ روہانسی ہوئی۔
    نہیں تو بول تک تو رہی ہو۔
    الف نے یقین دلایا۔
    میں دکھی ہوں شدید دکھی۔
    عزہ نے بتانا چاہا۔ الف نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیکر اسکے دکھ کا منبع جاننے کی کوشش کی پھر لاپروائی سے بولی۔ حسرت ان کپڑوں پر جو بن سوکھے زمین بوس ہوئے
    ان لوگوں نے عارضی الگنی باندھ رکھی تھی گیلری میں وہ اس وقت ٹوٹی پڑی تھی اور اس پر یقینا بوجھ ذیادہ تھی یعنی کپڑے ذیادہ تھے سو سب کے سب نیچے آرہے تھے۔
    ۔ میں کہہ رہی تھی آج کپڑے مت دھوئو کل میں فارغ ہونگی تو اکٹھے دھوئیں گے میرے بھی سب کپڑے میلے ہورہے۔۔ سزا ملی ہے یہ تمہیں
    یہ الف کی بھونڈی تسلی تھی۔ عزہ نے بھنا کر دو ہتھڑ لگائے
    جوابا وہ پنڈلی سہلاتی ہائے ہائے کرتی منے صوفے پر ڈھیر ہوئی
    یا خدایا کتنا بھاری ہاتھ ہے عزہ۔۔ الف بلبلا اٹھی۔
    پائوں بھی بھاری ہے۔ پنگا نہیں چنگا
    اسکا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تھا اٹھ کر ٹھڈے مارنے کی نیت سے بولا مگرخیال آیا تو کھسیا گئ الف صوفے پر اوندھی ہوگری
    کمرے کا دروزہ کھول کر نکلتی واعظہ بھونچکا سی کھڑی رہ گئ۔
    کس کا پائوں بھاری ہے۔۔
    ہکا بکا کھڑئ واعظہ کھسیائی کھڑی عزہ الف اتنی دیر سے جو بنا آواز ہنس رہی تھی اب جاکے آواز واپس آئی۔ ہو ہو ہو۔
    عزہ کا ۔واعظہ عزہ کہہ رہی۔
    الف نے ہنستے ہنستے لوٹ ہوٹ ہوتے اسے بتانا چاہا۔جوابا عزہ اس پر ہی۔کود گئ۔
    احتیاط سے لڑو۔ عزہ۔تمہارا۔۔۔۔۔
    الف پٹ رہی۔تھی باز نہیں آرہی تھی۔ ہنسے جا رہی تھی عزہ دھموکے لگا لگا کے تھکنے لگی۔
    چائے کون کون پیئے گا۔
    واعظہ انکو انکے حال پر چھوڑتی اپنے موبائل میں میسجز کرتی باورچی خانے کی جانب بڑھی۔
    میں ، میں۔
    دونوں کورس میں چلائیں۔ خوب لڑ بھڑ کر اب امن سے تھیں۔عزہ نےصوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیاتو الف صوفے سےپھسلتی منے کارپٹ پر رکھے بڑے سے فلور کشن پر آن ٹکی۔
    وہ سر ہلا کر چائے بنانے کیلئے ساسر نکالنے لگی حسب عادت بڑی سی دیگچی نکالی
    ایک کپ پانی بھر کر ڈالا۔
    اتنی بڑی دیگچی کیوں چڑھا رہی ہوواعظہ بس تین کپ چائے بنے گی۔
    عزہ نے ٹوکا۔۔
    واعظہ نے نا سمجھنے والے انداز میں مڑ کر دیکھا کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر مسکرا کر سر جھٹک دیا۔
    یار گھر خالی۔خالی۔لگ رہا ہے۔ الف نے بھی یاسیت کہتے ہوئے انگڑائی لی۔
    مجھے نور یاد آرہی ہے۔
    عزہ بسوری۔۔۔
    مجھے عشنا بھی۔۔ کوئی اتا پتہ نہیں اسکا۔ اچانک جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی۔گئ۔
    الف نے مڑ کر واعظہ کو دیکھا۔ مگر وہ بے نیازی سے چائے کا پانی چولہے پر رکھ رہی۔تھی۔
    نور پاکستان تو پہنچ چکی ہوگی ہے نا؟ اب تو رات ہورہی۔
    عزہ نے اندازہ لگانا چاہا۔
    کنیکٹنگ فلائٹ ہوتی ہے دبئی پہنچ کر جتنے بھی گھنٹے انتظار کرنا پڑے کوئی پتہ نہیں۔ چاہے فورا فلائٹ مل جائے چاہے انتظار کرنا پڑے۔ ضروری نہیں کہ وہ پاکستان پہنچ چکی ہو۔
    الف نے حسب عادت تفصیلا بتایا۔
    نور ویسے کہہ رہی تھی کہ۔میسج کرے گی فورا پہنچنے کے بعد۔
    عزہ نے تسلی دی۔۔۔ ٹی وی پر ٹو کاپس آرہا تھا۔۔
    مت لگائو بنا سب ٹائٹل خاک پتھر سمجھ آئے گا۔ ایویں دیکھنے کا دل بھی نہیں کرےگا
    الف نے ریموٹ اٹھا کر بدلنا چاہا تو عزہ نے کھینچ لیا
    دیکھنے تو دو کہ وہ کون مین ( لچا آدمی) کیسے لڑے گا ہیرو تو کیسا دھنا دھن ٹھکائی کرتا ہے مگر اب اس میں تو کون مین کی روح ہے اتنے خطرناک موڑ پر ختم ہوئی تھی پچھلی قسط۔
    عزہ نے کہا تو الف منہ بنا کر رہ گئ۔ واعظہ چائے بنا لائی تھی۔ ٹرے میں چائے کے ساتھ میٹھے بن بھی تھے۔لا کر اسی منی میز پر رکھ دیئے ۔
    ویسے واعظہ اب تو کرائے میں کمی ہو جائے نا تمہیں۔ ایسا کرو پھر سے کرائے داروں کیلئے اشتہارلگا دو۔
    الف کو اب واعظہ کی فکر ہوئی۔۔
    اسکی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تین مہینےمیں اس فلیٹ کی۔لیز ایکسپائر ہو جائے گی تو میں رینیو نہیں کروائوں گی۔ اس مہینے بے شک مجھے تم لوگ پیسے نہ دو بس اپنی رہائش کا انتظام کوئی کرلو۔ ابھی پورے دومہینے ہیں تم لوگوں کے پاس۔
    واعظہ نے اطمینان سے بتاتے ہوئے گھونٹ بھرا جبکہ الف اور عزہ کا منہ تک جاتا چائے کا کپ راستے میں ہی رہ گیا۔ دونوں پلکیں جھپکے بنا اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھیں۔
    یہ کیا اچانک؟ ایسے کیسے۔۔ دونوں بھونچکا رہ گئ تھیں
    دو دن پہلے گروپ میں پیغام بھیجا تھا مگر تم میں سے شائد کسی نے پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ مجھے پتہ تھا کہ ریپیٹ ٹیلی کاسٹ چلانی ہی پڑے گی مجھے۔
    وہ اطمینان سے انکا اطمینان غارت کر رہی تھی۔
    مگر یار ہم یہاں ٹھیک ہیں کرایہ بڑھا دیتے ہیں ہم اور تم تم تو یہیں رہتی تھیں نا دو تین سال سے جب ۔۔۔۔
    الف نے یاد دلایا تو وہ۔لاپروائی سے بولی
    ہاں تو میں بھی کہیں اور شفٹ ہو جائوں گی۔ لیکن اس طرح پانچ چھے لڑکیوں کا اکٹھے دوبارہ گھر لیکر رہنا میرے لیئے ممکن نہیں۔
    اسکا انداز قطعی تھا
    عزہ نے کچھ کہنا چاہا تو الف نے اسکا ہاتھ تھام کر روک دیا۔ آنکھ کے اشارے سے کچھ بھی بولنے سے منع کردیا
    یار یہ کون مین کو ہیرو رکھ لیتے مجھے یہ ہیرو اچھا نہیں لگتا۔ کون مین ذیادہ جچتا ہے ہیروئن کے ساتھ ہے نا۔
    وہ دونوں کے ردعمل سے بے نیاز رخ موڑ کر اب ٹی وی کی جانب متوجہ تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کے دو بجے الارم شد و مد سے اسکے سر پر بجا تھا۔
    پہلے پہل تو سمجھ نہ آیا پھر ادھر ادھر بیڈ پر ہاتھ مار کر موبائل تلاشا تو دل کیا موبائل سے اپنا سر پھوڑ لے۔ اسکا لگایا گیا الارم 2 پی ایم کی بجائے 2 اے ایم کا لگا تھا وہ بھی پیر سے جمعے تک کا۔ یعنی کل رات شدومد سے بجا ہوگا اور وہ بند کرکے اہتمام سے سوئی ۔۔
    فاطمہ کی بچی صحیح بستی ہوئی ہے تمہاری۔
    اس نے فون پٹخ کر دوبارہ سوجانا چاہا۔
    چند لمحے آنکھیں بند کرکے بھی نیند نہ آئی تو اٹھ بیٹھی۔ سع کھجایا۔
    بھوک بھی لگ گئ ہے۔ اسے خود پر ترس آیا۔
    اب اتنئ باتیں سننے کے بعد فریج ٹٹول کر کچھ کھانا بے شرمی ہوگی۔۔ میں نے ابھی تک سیہون کو کرایہ نہیں دیا نہ ہی سودا سلف کےپیسے دیئے۔ اس وقت تو بڑا رحم دل بن رہا تھا جاب کرو پھر دینا پیسے۔ آج اتنے طعنے سنا دیئے۔ اتنی باتیں توکسی کی نہ سنتی میں کبھی۔
    وہ بڑ بڑا رہی تھی۔
    ایک یہ کونسل والی بھی کل آجائے گی۔جانے اتنی فرصت کیوں ہے ان لوگوں کو۔
    وہ دھپ سے پیچھے گری۔
    موبائل اٹھایا۔۔
    گروپ کے آٹھ دس میسجز ۔۔ واعظہ کے دو میسج جس میں وہ نوکری کا کیا بنا ہی پوچھ رہی تھی۔
    اف۔
    اس نے جواب نہیں دیا ۔۔ برقعہ ایونجرز گروپ کے میسجز۔
    اس کی آنکھیں پوری کھلیں۔۔
    یار سنا تم لوگوں نے واعظہ نے کیا کہا؟
    عزہ کا روندے اسمائیلی والا پیغام۔
    اس نے گروپ کی چیٹ کا دو دن پراناواعظہ کا میسج شئیر کیا تھا۔
    فلیٹ کی اگلے مہینے لیز ختم ہو رہی ہے جسے مزید بڑھانے کا میرا ارادہ نہیں۔ سو تم سب اپنے لیئے رہائش کا الگ انتظام کرنا شروع کردو اس مہینے کرایہ بھی بے شک مت دو۔
    اوئے یہ تو میں نے اب جا کے پڑھا۔۔
    یہ نور کا جواب تھا۔۔
    واعظہ میں نے پہلے ہی انتظام کرلیا پاکستان پہنچ گئ میں۔
    ہا ہا ہا۔ آگے اسمائیلیز۔
    یاراب کیا کریں؟ میں نے تو یونیورسٹی کے ڈورم کیلئے تو اپلائی بھی نہیں کیا تھا۔۔
    الف کہہ رہی تھی۔
    اگلے مہینے امتحان شروع ہیں بیچ میں شفٹنگ کیسے کریں گے یہ تو سیدھا فیل ہونے کا پروگرام بن رہا۔۔
    عزہ کو فکر ہوئی۔
    دو مہینے کہا ہے میں نے۔۔
    واعظہ کا جواب
    یار کوئی چھوٹا سا فلیٹ لیتے ہیں اکٹھے مل۔کر رہتے ہیں۔ کیا۔خیال ہے۔
    الف نے خیال ظاہر کیا
    فاطمہ میں عروج اور عزہ۔۔
    ہم چاروں مل کر۔۔
    اکٹھے۔۔۔ بلکہ اسی فلیٹ کی کا کرایہ تینوں بانٹ لیتے ہیں۔

    فاطمہ تو پہلے ہی الگ رہ رہی ہے وہ کیوں آئے گی ہمارے ساتھ
    عزہ نے فوری جواب دیا۔۔ فاطمہ نے دانت پیسے۔۔۔
    تیری تو۔۔۔
    یار تم دونوں آپس میں لگی ہوئی ہو۔پرسنل چیٹ کرلو میرا موبائل بجا رہی ہو۔ آگے اسمائیلز کی۔بھرمار
    یہ نور تھی۔۔
    عروج کہاں ہے؟
    عروج ۔۔۔واعظہ کا میسج پڑھا۔۔
    گروپ میں بےچینی پھیلی تھی
    عروج کا۔مختصر۔پیغام تھا جو اس نے واعظہ کا میسج کھول کر جواب دیا۔
    اوکے۔۔
    ۔اسکے بعد خاموشی تھی۔۔۔۔۔
    آہ۔۔
    فاطمہ کے دل میں درد اٹھا۔۔ بے چارگی سے بڑبڑائی
    پریشانی میں تو مجھے اور بھوک لگ جاتی ہے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ اور الف سونے لیٹ چکی تھیں۔ وہ اکیلی تھی اس کمرے میں۔ عشنا ابیہا فاطمہ ایک وقت تھا یہ کمرہ چیزوں اور لوگوں سے بھرا ہوتا تھا۔ وہ اپنے بیڈ پر چت لیٹی چھت گھور رہی تھی۔۔۔۔۔
    تبھی اسکا موبائل چمکنے لگا۔ حسب عادت سائلنٹ پر تھا۔
    اس نے حیران ہو کر دیکھا عروج کالنگ۔
    خیریت۔ اس نے فون اٹھاتے ہی پوچھا۔
    یار یہ دیکھا میں نے کیا بھیجا ہے ؟
    کیا بھیجا ہے۔ اسکے فرشتوں کو خبر نہ تھی۔
    ٹھہرو فاطمہ کو بھی لے لوں کال پر ۔۔۔
    عروج نے اسے ہولڈ کرادیا۔۔ اسکی اسوقت بریک تھی۔ آرام سے اپنے کیبن میں بیٹھی کانوں میں ہینڈز فری لگا کے وہ فرصت سے کال ملائے بیٹھئ تھی۔
    مجھے اس وقت بات کرنے کا دل نہیں۔۔۔۔
    واعظہ نے کہنا چاہا مگر ہولڈ کی ریکارڈنگ چل رہی تھی۔
    کال کاٹنے لگی پھر خیال آیا۔۔
    دوبارہ ملا لے گی کال اس وقت کوئی بات بتانی ہی ہے اسے۔
    بڑ بڑاتے ہوئے اس نے فون کا اسپیکر آن کیا اور کروٹ لے لی۔
    دوسری طرف ملگجی روشنی میں فریج سے چیز اور ڈبک روٹی نکال کر سینڈوچ بناتئ فاطمہ نے پہلی کال تو کاٹ ہی دی۔ عروج نے ڈھٹائی سے فورا دوسری کال ملائی۔۔ توفون اٹھا کےجھلائی۔
    مجھے نہیں بات کرنی جو کہنا عروج میسج کردو۔
    اوفوہ رکو دو منٹ میں واعظہ کو بھی لے لوں۔۔
    عروج نے کان سے ہٹا کر فون میں کانفرنس کی۔ ادھر حسب عادت فاطمہ شروع تھئ۔سینڈوچ بنا کر پلیٹ اٹھائے وہ وہیں پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔
    کیا ہے یار عروج اس وقت کیوں کال کی مجھے؟ پہلے ہی بہت دکھی ہوں۔بھوکی ہوں۔۔ دکھی بھوکی دونوں ہوں۔۔
    کیا ہوا۔ عروج نے کانفرنس ملا دی تھئ ۔۔ واعظہ اسکی بات پر چونکی۔
    میری نوکری چلی گئ ملنے سے پہلے اوپر سے سمجھ نہیں آرہا واعظہ کو کیسے بتائوں کہ میں آج گئ ہی نہیں دفتر۔۔۔۔ سیہون نے بھی آج۔۔۔
    اب مت سوچو کہ کیسے بتائوں تم اسے ابھی ابھی سب بتا چکی ہو۔
    عروج نے ہنسی روک کر کہا۔۔
    کیا کیسے؟ فاطمہ چیخی۔
    کانفرنس کال چل رہی ہے ایسے۔ عروج نے مزید چڑایا۔
    ناممکن۔ کچن کائونٹر کے نیچے بیٹھی دیوار سے ٹیک لگا کر چیز سینڈوچ اڑاتئ فاطمہ کو مزاق لگی یہ بات۔
    اگر واعظہ سن چکی ہوتی تو چلا رہی ہوتی مجھ پر دو تین گالیاں بھی دیتی بلکہ فون سے نکل کر چپیڑ بھی لگا دیتی۔۔
    اس نے اتنے وثوق سے کہا کہ عروج کو بھی شک گزرا ۔۔
    ہے واعظہ سن رہی ہے واعظہ ہماری آواز آرہی ہے ؟ سن رہی ہو ؟
    وہ موبائل ہاتھ میں لیکر دیکھنے لگی کہ واقعی کال کٹ تو نہیں گئی مگر واعظہ کی کال ملی ہوئی تھئ۔
    اور وہ مٹھیاں بھینچے دانت کچکچا رہی تھی۔
    فاطمہ تم سامنے ہوتیں پکا سر توڑ دیتی میں۔ حد ہوتی ہے۔
    واعظہ نے ابھی تمہید ہی باندھی تھی کہ فاطمہ نے روک دیا۔۔
    ملتجی انداز میں بولی
    بس کچھ مت کہنا تمہارا دوست تمہارے حصے کی بھی لعن طعن کر چکا قسم سے زندگی میں کسی کی اتنی باتیں طعنے نہیں سنے ۔۔۔۔ کہتے کہتے یاد آیا۔۔ تو تصحیح کرنے لگی آخر کو قسم اٹھا لی تھئ۔
    سوائے پھپو کے۔ جب انکا بیٹا میٹرک کا امتحان دینے ہمارے گھر پورے چھے مہینے رہ کر گیا تھا تو۔۔۔۔
    اسکی رام کہانی شروع تھی ۔۔ سینڈوچ چباتے بنا وقفہ لیئے اسکو سننےجانے جتنا حوصلہ واعظہ میں نہ تھا۔ بات کاٹ کر چلائی
    فاطمہ کی بچی بکواس بند کرو۔ حد ہوتی ہے لاپروائئ کی جاب پر جانا تھا الارم تو لگالیا ہوتا ۔۔۔۔۔واعظہ کی ڈانٹ
    لگایا تھا واعظہ سچی لگا ہوا تھا جبھی دو بجے اس وقت میں اٹھ کر بیٹھئ ہوں۔ اے ایم لگا لیا تھا پی ایم کی جگہ۔۔
    آخر میں آواز دھیمی۔
    چھوٹے بچے بھئ اب اے ایم پی ایم والی غلطئ نہیں کرتے فاطمہ اورصبح کتنی دفعہ کہا تھا کہ کم از کم دفتر تو جائو مارکر نکال تو نہ دیتے وہ۔ جا کرتو دیکھتی
    بتا تو رہی ہوں کہ۔۔ فاطمہ نے کہنا چاہا پھر کھسیا گئ
    ہاں جانا چاہیئے تھا مگر وہ کیا بستی کرتے جو کثر سیہون نے پوری کی اتنی باتیں سنائی
    میں ہوتی تو پٹائی کرتی تمہاری فاطمہ بچو گی نہیں تم میرے ہاتھوں۔
    ان دونوں کی لڑائی میں بے چاری عروج بیچ بیچ میں اچھا سنو ۔۔ میری بات تو سنو ۔۔۔ فاطمہ۔۔۔ یار ۔۔۔ واعظہ کہتے کہتے
    ایکدم چلائی۔
    مجھے میرے کولیگ نے پرپوز کیا ہے ۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں یوں چپ ہوئیں کہ عروج کو لگا کال۔کٹ گئ ۔۔
    ہیلو۔۔ وہ انکی خاموشی پر گڑبڑائی۔۔
    سیونگ رو نے؟؟؟
    واعظہ لمحہ بھر کے توقف سے پوچھ رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے
    ۔۔

  • Desi Kimchi Episode 40

    قسط 40
    اسے سوئے یقینا کئی گھنٹے ہو چکے تھے تب فاطمہ چیخ مار کر اٹھی تھی یا اٹھ کر چیخ ماری تھی۔ مندی مندی آنکھوں سے دھندلا منظر دیکھا تو اسے بیڈ پر لٹے پٹے مسافر کی طرح بیٹھے بال نوچتے پایا۔
    ہائے اللہ میں لٹ گئ میں برباد ہوگئ۔ ایسی نیند سے بہترسوتی ہی نہ بلکہ اب بھی سوئی رہتی اٹھتی ہی نہ ۔
    وہ بلکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک تو شخصیت کی ڈھٹائی یہ تھی کہ سر پر آسمان بھی گرادو رونا پیٹنا آتا ہی نہیں تھا۔ نہیں رونا نہیں آتا تھا۔ پیٹ تو وہ سکتی تھی ہر اس انسان کو جس سے اسے خراش بھی پہنچے مگر بدقسمتی تھی کہ ہمیشہ اپنے آپ کو خود ہی نقصان پہنچایا۔
    میرا کوئی ڈریس پہن جائو۔
    اس نے مشورہ دیے کر کروٹ بدل لینا چاہی۔
    کہاں جائوں انتظار میں تھوڑی بیٹھے ہوں گے میرے نکال دیا ہوگا مجھے۔میں منحوس گھوڑے بیچ کر سوئی پڑی رہی
    یہ۔۔ الارم ۔۔۔۔ اس نے دانت پیس کر موبائل کو گھورا۔
    قسم سے موبائل کی جگہ ٹائم پیس ہوتا تو دیوار میں مار کر ٹکڑے کردیتی اسکے۔
    اسکی آہ و بکا جاری تھی۔ واعظہ کو نیند بھگانی ہی پڑی۔ اچھا خاصا برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا
    کتنی لیٹ ہوگئ ہو؟
    اس نے اپنے سرہانے ہاتھ مار کر موبائل ٹٹولا
    پورے پانچ بلکہ چھے گھنٹے دو بج۔۔۔۔۔
    اس نے جوابا بتانا چاہا مگر اگلا جملہ واعظہ کے منہ سے ادا ہوا وہ بھی خاصی زور دار چیخ کی صورت
    دو بج گئے۔ وہ بھونچکا سی ہو کر موبائل کو گھورتی اچھل کر اٹھ بیٹھئ
    میں نے کسی سے ملنے جانا تھا اف۔
    وہ ہڑبڑا کر بیڈ سے اتر کر چپلیں ڈھونڈ رہی تھی۔
    سیہون سے کہنا میرے لیئے کسی نئی جاب کا انتظام کر دے۔
    فاطمہ مایوس ہو چکی تھی دھم سے واپس بیڈ کی ہولی
    اوئے اٹھو اتنی مشکل سے ملی ہے جاب پہلا دن ہے اتنا بھی اندھیر کھاتا نہیں مچا کوئی سائنس لڑاتےہیں۔
    واعظہ نے کہا تو وہ یونہی ڈھیلی پڑی رہی۔
    تمہاری غلطی ہے اتوار ہے تو کیا باہر گھماتی پھراتی رہوگی۔ اتنئ دیر سے کل آئے اتنی تھک گئ تھی آنکھ ہی نہیں کھلی الارم سے۔
    فاطمہ نے دھڑلے سے الزام دھرا
    واعظہ جو بیڈ کے نیچے ٹانگ گھسا کر جوتی نکال رہی تھی جوتی نکالتے ہی اٹھا کر اسکی جانب غصےسے بڑھی
    جوتی سے ماروگی مجھے۔ فاطمہ اتنا حیران ہوئی کہ ڈرکے ہٹ بھی نہ سکی
    یہ لو جوتی ۔ سر پر مارو میرے۔ سب میری غلطی ہے تمہیں کوریا میں میں لے کر آئی ، بار بار نوکری تمہاری میں نے چھڑوائئ تمہارا ویزا میں نے ختم کرایا تمہاری نوکری کا تین بار انتظام کیا لعنت بھی بھیجو ساتھ ۔
    واعظہ غرا رہی تھئ جبکہ اسے دانت پیستے دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی
    اچھا جائو پہلے تم واش روم استعمال کر لو میں فی الحال اسی طرح احسان چکا سکتی
    اسکے شاہانہ انداز میں بازو پھیلا کر انگڑائی لینے پر اس نے گھور کر چپل زمین پر پٹخی اور پیر پٹختی ہوئی باتھ روم میں گھس گئ۔
    چند لمحے کسلمندی سے پڑے رہنے کے بعد وہ اٹھ کر عروج کے کمرے میں چلی آئی عروج اسکے دروازہ کھولنے کی آواز پر جاگی تھی۔ مندی آنکھیں کھول کر دیکھا
    ابھی تک سو رہی ہو سات بج رہے شام کے۔
    کہنے میں کیا حرج تھا۔ عروج بوکھلا کر اٹھ بیٹھی
    کیا مجھے اٹھایا کیوں نہیں عزہ کہاں ہے۔
    شکوے شروع تھے۔
    اس نے فورا موبائل ڈھونڈا فاطمہ پھرتی سے باتھ روم کی جانب بھاگی بال بال بچی جیسے ہی دروازہ بند ہوا عروج کی پھینکی چپل دروازے سے ٹکرا کر گری تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس میں سب سے پچھلی نشست پر وہ تینوں برابرمیں بیٹھئ تھیں۔
    پیسے ملیں گے تمہیں۔
    فاطمہ نے گردن موڑ کر رازداری سے اس سے پوچھا
    رضاکارانہ طور پر جا رہے ہیں۔ اولڈ ہوم ہے۔سیونگ رو کسی این جی او سے منسلک ہے ہر ہفتے جاتا ہے اس بار مجھ سے پوچھا تو میں نے حامی بھرلی۔
    عروج نے کندھے اچکا کر لاپروائی سے کہا تھا۔
    پیسے ملتے تو میں بھئ چلتی۔
    فاطمہ نے آہ بھری
    انکا ماہانہ طبی معائنہ کرنے جا رہی ہے عروج تم کیا کرنے جاتیں؟
    واعظہ نے جتایا عروج فٹ سے بولی
    یہ بڑے کام کرسکتی ہے وہاں دو تین کو ہارٹ اٹیک دے سکتی ہے ۔
    فاطمہ نے گھور کر دیکھا واعظہ کہہ رہی۔تھی
    بتا مت دینا اس خوبی کا اسکو وہاں مستقل نوکری پر رکھ لیں گے انکا تو خرچہ ہی
    فاطمہ نے دونوں کے بیچ میں بیٹھے ہونے کافائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں کے بازو میں چٹکی بھرلی
    باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا دونوں کے منہ سے اکٹھے چیخ نکلی بلبلا کر دونوں بازو سہلانے لگیں اس سے پہلے کہ جوابی کاروائی کرتیں وہ اچھل کر انکے بیچ سے نکلی ۔ اسکا اسٹاپ آگیا تھا بس کے رش میں سرعت سے راستہ بناتی اتری پھر کھڑکی سے جھانک کر منہ بھی چڑا دیا۔ بس چل پڑی تو بال سنوارتی ترنگ میں مڑی۔ سامنے ہی سیہون کھڑا تھا دونوں ہاتھ سینے پر باندھے سنجیدگی سے گھورتا۔ اسکی ساری شوخی۔طراری ہوا سی ہوگئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون کو کچھ چیزیں خریدنی تھیں۔ بدلتے موسم کی خریداری کچھ تحائف جو وہ اپنے گائوں بھجوانا چاہتا تھا۔ اس نے چھوٹے بھائی کیلئے دو ڈریس شرٹ پینٹس اپنے لیئے بھی کپڑے لیئے۔ بنا ڈیزائن رنگ دیکھے وہ بس اٹھا رہا تھا چیزیں۔
    سب یہیں سے لے لوگے؟
    فاطمہ نے انگریزی میں ٹوکا۔
    سب مل تو رہا ہے یہاں۔اوپر سے سیل بھی ہے۔ اس نے ایک جانب لگے بورڈ کی طرف اشارہ کیا۔

    یہ کیسی شاپنگ ہوئی آدھی درجن چیزیں لینی ہیں اور وہ بھی بنا بازار گھومے دو تین دکانوں کا مال نکلوا کر مسترد کیئےبنا کیسی شاپنگ بھلا۔ عجیب ہیں کورینز۔
    وہ اردو میں بڑبڑانے لگی۔
    سیلز مین روبوٹ کی طرح شرٹ نکال کر سامنے رکھتا یہ سائز دیکھتا بس۔ لو جی ایک۔طرف رکھ دیا فائنل
    فاطمہ سے رہا نہ گیا جب گرے پینٹ کےبعد شرٹ میں بھورے رنگ کے دو شیڈ لے لیئے
    کریم فان کیمل کتنے تو رنگ ہیں یہ کیچڑ کے رنگ میں کیا سائنس اٹکی ہے تمہاری۔ اپنے بھائی کیلئے بھی مرے ہوئےرنگ اٹھا لیئے حالانکہ کیسا چٹا سا ہے وہ۔
    پورے جملے میں اسے سائنس ہی سمجھ آیا
    سائنس ؟ یہ رنگ مجھے نہیں پتہ کن دو رنگوں کو ملا کر بنایا جاتا ہے بچپن میں کبھئ پڑھا تھا کہ بس اصل رنگ سات یا آٹھ ہوتے باقی ان میں ملا کر۔۔۔۔
    سیہون کی تشریح جاری تھی اس نے گھور کر اسکے ہاتھ سے شرٹ چھینئ
    وہ دکھائو۔ وہ سیدھا دکاندار سے مخاطب تھئ۔
    اسکو کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا۔ جب کے پاپ سے متاثر ہو کر دنیا کے لڑکے اپنی کالی پیلی رنگت نظر انداز کرکے گلابی نارنجی شرٹیں پہن رہے ہیں یہ اصلی نسلی کورین گوتم بدھ بنے پھر رہے۔۔
    اس نے ہلکی گلابی شرٹ جھاڑ کر اسکے ساتھ لگائی۔
    سیہون چپ کرگیا ۔
    یہ دیکھو کیسی جچ رہی۔ اتنے گورے رنگ پر تو ہر رنگ سجتا
    وہ پوچھ رہی تھی انگریزئ میں مگر جواب کا انتظار نہ کیا۔ اور اردو پر اتر آئی۔
    اب تو انڈین ایسی کالی رنگت کے ساتھ چیختے چنگھاڑتے رنگ پہنے نظر آتے ہیں۔
    اسکی بات پر سیلز مین نے جانے کیوں پہلو بدلا
    یہ رنگ بچوں جیسا لگتا مجھے۔اب میں بچہ تھوڑی آہجوشی بن گیا ہوں۔
    سیہون منمنایا۔ فاطمہ نے گھور کر دیکھا۔
    اس پچیس سال کےآہجوشی کو دیکھو زرا۔ وہ بڑ بڑا کر دوسری شرٹ اٹھا نے لگی
    اتنا شوق تھا مجھے لڑکا ہونے کا قسم سے خاص کر گورا لڑکا ایک سے ایک نیا فیشن اور رنگ آزماتی میں ایک تم ہو اتنا گورا رنگ گنوایا۔ پھیکے رنگ پہن کر پھرتے ہو۔
    اس نے فان پینٹ کے ساتھ ڈل گرین کا بے حد خوبصورت شیڈ میچ کر کے دکھایا۔
    دکاندار منہ دوسری طرف کرکے ہنس رہا تھا
    تمہیں سمجھ آرہی یہ کیا کہہ رہی؟
    سیہون نے مشکوک ہو کر گھورا
    فاطمہ نے بھئ۔
    ہیں تمہیں سمجھ آرہی ہے۔؟
    فاطمہ نے مشکوک سا ہو کر دیکھا
    وہ سیلزمین گڑبڑا سا گیا
    جی وہ میں انڈین ہوں۔ ہندی سمجھ لیتا ہوں۔ چھے سو ہمنبدا
    اس نے بے چاری سی شکل بنا کر نقاب نیچے کیا۔
    کان میں بالی منہ پر کالا نقاب۔ آنکھیں چندی نہ تھیں بس۔
    دھت تیرے کی۔ اوپر سے رنگ بھی سانولا۔
    اب بندہ بات کرنے سے پہلے سیلزمین کا ماسک اتروا کر دیکھے اب۔۔۔ ماسک کے پیچھے آنکھیں چندی ہیں یا بھینس کے دیدے لگے ہیں۔ ہونہہ۔
    فاطمہ سوچ کر رہ گئ اب منہ بند ہی کرنا پڑا۔سیہون کے ساتھ ادائگی کرکے نکلےتو شام کے دھندلکے پھیل چکے تھے۔
    مجھے تو بھوک لگ گئ ہے تم نے کب کھانا کھایا تھا دوپہر کا؟
    زرا سا دکان سے باہر نکلنے پر چوراہا تھا سامنے گلی میں قطار سے اسٹال تھے کھانے پینے کی اشیاء کے۔
    میں نے۔ وہ گڑ بڑا سی گئ۔ ناشتہ ہی نہیں کیا تھا گھرسے تیار ہو کر نکلنے کی جلدی تھئ دوپہر سے سیہون کے ساتھ تھئ
    مجھے تو بھوک نہیں۔گھر جا کے ہی کھائوں گی اب۔
    وہ صاف مکر گئ حالانکہ میونگ دونگ کی گلیوں میں پھرتے اسکی بھوک چمک گئ تھی ۔
    مجھے تو لگ رہی ہے۔وہ کندھے اچکا کر سہولت سے سڑک کنارے لگے خیمہ ریستوران میں گھس گیا۔
    فضا میں گوشت کی بو پھیلی تھی کہیں مصالحے کی کہیں سے کچے ابلے سوپ کی۔
    اس نے فورا ناک پر ہاتھ رکھا۔
    سیہون نے جانے کیا کہنے کیلئے مڑ کر دیکھا پھر ہونٹ بھینچ لیئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اولڈ ہوم کا پتہ اس نے موبائل ایپ میں دیکھا تھااورصحیح جگہ پہنچ گئ تھی۔ پرانی طرز کی عمارت ایک جانب بورڈ زمین پر گاڑ کر لگایا ہوا تھا۔ مین گیٹ پاٹوں پاٹ کھلا تھا وہ سہولت سے اندر داخل ہوگئ ۔ چھوٹے سے کچے پکے صحن میں تنبو لگا ہوا تھا جس پر بڑا بڑا سوہیئے چھانسا ( نگران فرشتہ)ہنگل میں لکھا تھا۔ کئی بوڑھے بوڑھیاں ادھر ادھر پھر رہے تھے تنبو کی صرف چھت تھی دیواریں نہیں تھیں اندر ایک جانب کائونٹرز بنائے ہوئے تھے جہاں کئی ڈاکٹرز بیٹھے تھے۔ ایک جانب قطار سے کرسیاں لگی ہوئی تھیں جن پر بزرگ بیٹھے تھے ایک ڈاکٹر کھڑا انکو ہنگل میں کچھ بتا رہا تھا۔ سیونگ رو ان میں نہیں تھا۔
    اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو ایک بوڑھی سی خاتون کو واکر استعمال کرکے بہت دقت سے قدم اٹھاتے دیکھا۔ ہاتھ میں بڑا سا تھیلا تھامے وہ یقینا دشواری محسوس کر رہی تھیں۔ اسکو اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو فورا اشارے سے پاس بلانے لگیں۔
    وہ فورا انکے پاس چلی آئی۔
    آننیانگ ہاسے او۔
    اس نے جھک کر کوریائی طرز کا سلام جھاڑا۔
    کیا میں آپکی مدد کروں۔ اس نے کورین میں پوچھا تھا۔
    جوابا ان خاتون نے بے تکلفی سے اپنا کپڑے کا تھیلا اسکی جانب بڑھا دیا
    وہ بے خیالی میں تھام۔گئ توتھیلا چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
    اچھا خاصا بھاری تھا اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا یہ بوڑھی خاتون اتنا وزن اٹھائے ہونگی۔ اس نے اندر جھانکا تو مصالحے کا بھبکا سا آیا۔ بڑا سا ناشتہ دان تھا ساتھ چھوٹے چھوٹے باکس بھی
    آئیگو۔ ہائش۔
    وہ بری طرح خفا ہوئیں۔
    اتنا سا وزن نہیں اٹھتا آجکل کی لڑکیوں سے ۔ میں تمہاری عمر کی تھی تو دس دس کلو کے کمچی کے مرتبان چٹکی میں اٹھا لیتی تھی۔
    انہوں نے فخریہ انداز میں چٹکی بجائئ تو وہ انہیں دیکھ کر رہ گئ۔ اب یہ یقینا مبالغہ تھا
    چھے سو ہمنبدا۔
    وہ اور کیا کہتی۔
    آئیگو۔ آئیگو مجھے شرمندہ مت کرو۔
    وہ جھک جھک کر ہاتھ ہلا ہلا کر بولیں۔ اب وہ واکر چلاتے ہوئے نسبتا تیز چل رہی تھیں۔ عروج انکی ہمقدم ہولی
    تم یقینا مجھ سے کہیں بہتر انسان ہو۔اپنی عائلی زندگی تج کرکے دائمی زندگی سنوارنے کیلئے خود کو وقف کرنے والی کا مجھ سے کیا مقابلہ۔ میری مضبوطی جسمانی ہے تو تمہاری روحانی۔ دعا کرنا میرے لیئے کہ عیسی ع مجھے بھی کشتی نجات کی سوارئ نصیب کرے۔۔
    وہ گلوگیر لہجے میں کہے جارہی تھیں۔
    عیسی ع۔
    وہ ناسمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔ پھراپنے سر پر پہنے کالے اسکارف کا خیال آیا۔ آج وہ۔کالا ڈینم عبایا جینز کے ساتھ پہنے تھی یقینا وہ اسے نن سمجھ رہی تھیں۔
    میں اپنے اوپر تو اب کیا خرچ کروں میرے بچے ہر ضرورت میری بن کہے پوری کر دیتے ہیں سو یہی سوچا آج یہ جو بچے آرہے ہیں ہمارے طبی معائنے کیلئے انکو اپنے ہاتھوں سے بنا کھانا کھلا دوں۔ صبح سے لگی ہوئی تھی اب جا کے بنے۔
    وہ تنبو کےقریب پہنچیں تو اسے سامنے کائونٹر پر سیونگ رو کچھ لڑکیوں کے ساتھ کھڑا باتیں کرتا نظر آہی گیا۔
    آہجومہ بنا اسکے جواب کا انتظار کیئے خود ہی سب بتائے جا رہی تھیں۔
    اسکو کہاں رکھنا ہے۔ وہ سیونگ رو کے پاس جانا چاہ رہی تھی۔ رجسٹریشن کے بعد ہی وہ کام شروع کر سکتی تھئ ۔
    آئو آئو ساتھ۔
    وہ زور زور سے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی ایک جانب لگی کرسیوں کی طرف بڑھیں جہاں کئئ خواتین بیٹھی تھیں۔
    آئیگو ایسی بے کار مسٹنڈیاں ہیں بڑھاپا کیا آیا سب ہاتھ پیر چھوڑ کر بیٹھ گئیں بس بٹھا کر گپیں ہنکوا لو۔ کسی نے مدد نہیں کروائی میری ۔
    وہ جنکے پاس جا رہی تھیں انکی ہی شان میں بیان کر رہی تھیں۔ عروج سٹپٹائی تو ان خواتین نے یہ تبصرہ سن کر قہقہہ لگایا تھا۔
    دادی جان آپکو اپنے سوا صرف وانیہ کا ہی کام کیا پسند آتا ہے اب میں نے کوشش تو کی تھی مدد کروانے کی۔
    یہ خواتین جنکے سر چٹے سفید تھے چہرے سلوٹ ذدہ تھے مزے سے ان خاتون کو دادی کہہ گئیں۔
    ہاں۔بس وہ ایک بچی خدا سلامت رکھے۔۔۔ وانیہ شی۔
    وہ تعریف کرتی مڑیں اسکی جانب۔ ایسے بتا رہی تھیں جیسے وہ بچپن کی سہیلی ہو وانیہ کی۔ اس نے سر ہلایا
    ارےانتظامیہ کی وانیہ شی اس نے پہلے تو میرے ساتھ سور کا اسٹیک بنوایا ۔۔۔
    سور۔ عروج کے ہاتھ سے دوبارہ ناشتہ دان چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
    پھر ایک ایک کمباپ بنایا میرے ساتھ۔
    وہ آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے ناشتہ دان لینے لگیں۔
    عروج کو کراہت سی محسوس ہونے لگی اپنے ہاتھوں سے۔
    تم کون ہو لڑکی۔
    ایک خاتون نے اس سے پوچھ ہی ڈالا۔
    ارے چرچ سے آئی ہے نن ہوگی حلیئے سے اندازہ نہیں ہورہا۔
    وہ خاتون جھٹ سے بولیں۔
    آج تو چرچ سے کوئی بھی نہیں آیا یہ اکیلی کیوں آگئی؟
    ایک نے مشکوک ہو کر گھورا
    کل تو تقریب ہے چرچ میں سب اسکی تیاری کر رہےہیں آج تو۔
    میں نن نہیں ہوں۔ عروج نے انکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔
    میں ڈاکٹر ہوں رضاکارانہ ٹیم کے ساتھ آئی ہوں۔
    آننیانگ۔
    تو یہ نن والا لباس کیوں پہن رکھا ہے؟
    ایک اور اعتراض حاضر تھا۔ عروج نے گہری سانس بھری
    یہ نن کا لباس نہیں اسلامی لباس ہے میں مسلمان ہوں میرا نام عروج ہے۔
    اس نے جھک کر ہنگل میں بتایا۔
    ڈاکٹر عروج آپ۔کب آئیں
    سیونگ رو اسکے قریب آکر خوشگوار اندازمیں بولا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے بلا مبالغہ کوئی بیس پچیس بوڑھی خواتین کا مکمل معائنہ کیا تھا۔ مگر تھکن جسمانی سے ذیادہ ذہنی تھی۔ ان سب خواتین کو بولنے کا مراق تھا۔ حال بتاتے بتاتے ماضی کے قصے چھیڑ بیٹھتی تھیں۔ سب کا ہلکا پھلکا معائنہ کرنا انکی ذمہ داری تھئ۔ ایک دو ذیادہ بیمار لوگ بھی تھے انکا علاج اسی پناہ گاہ کے ذمے تھا انکو مزید اپنی انشورنس سے علاج کروانا تھا۔ انکا کام ختم ہوا۔ وہ سب ڈاکٹرز اپنی نشستوں سے اٹھ گئے سوہیئے چھانسا نامی این جی او نے ناشتے کا انتظام بھی کیا ہوا تھا۔یقینا سب چائے ناشتے کیلئے اٹھے تھے۔ اسکو اب یہاں سے سیدھا اسپتال جانا تھا۔ سو وہیں کرسی پر کمر سیدھی کرکے بیٹھی۔تبھی وہی بوڑھی خاتون چلی آئیں۔
    ایک ٹرے تھامے نوجوان سی لڑکی کے ساتھ۔ لڑکی نے اسے مسکرا کر آننیانگ کہا اور اسکے سامنے ٹرے کائونٹر پر رکھ کر واپس چلی گئ۔ وہ خاتون اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئیں۔ عروج سیدھی ہوکر بیٹھی۔
    پورک اسٹیک ، کمباپ اور سلاد کے پتے چھوٹی سی پیالی میں کوئی چٹنی اور مرغی کے بھنے پنجے۔
    تم باہر کھانے نہیں آئیں تو سوچا میں تمہارا کھانا یہیں لے آئوں۔
    وہ پیار سے مسکرا کر بولیں۔
    اب مل کر کھاتے ہیں۔
    عروج مسکرا دی۔ مگر وہ خاتون ماسک کی وجہ سے چہرے کےتاثرات دیکھنے سے قاصر تھیں۔ یہی سمجھیں کہ وہ برا مانے ہوئے ہے۔ وہ سنجیدہ ہوگئیں
    میں بس یہی سوچ کر۔آئی کہ۔تم۔یہاں اجنبی ہو شائد اجنبیت محسوس کر رہی ہو۔اسلیئے وہاں ہلہ گلہ کرنے نہیں آئیں۔
    میں چلتی ہوں۔
    وہ واکر کا سہارا لیکر اٹھنے لگیں
    نہیں ۔ آپ بیٹھیں ۔ آپ کھائیے کھانا۔
    اس کے۔جلدی سے وضاحت کرنے پر انکے جھریوں زدہ چہرے پر مسکراہٹ آگئ
    آرام سے بیٹھ کر ٹرے میں سے سلاد کا پتہ اٹھا کر اس میں اسٹیک کی۔بوٹی لپیٹی اور اسکی جانب بڑھا دی۔
    عروج کو ان میں اپنی دادی کی۔جھلک۔دکھائی دی۔ بے ساختہ منہ کھلا۔ جھریاں شائد سب کے چہروں پر ایک سی۔معصومیت لے آتی ہیں۔
    ماسک تو ہٹا ئو۔ وہ خاتون ہنسیں تو وہ۔چونکی۔۔
    یہ آپ کھائیے میں نہیں کھا سکتی یہ کھانا۔ چھے سو ہمنبدا(معزرت)
    اس نے نرمی سے وضاحت کی۔
    کیوں؟ خاتون حیرانی سے دیکھتی رہ گئیں۔ عروج نے اپنا ماسک نیچے کیا یوں بھی اس وقت یہاں بس یہ دونوں تھیں
    در اصل میں مسلمان ہوں مسلمان حلال گوشت کھاتے ہیں بس ہم سور نہیں کھاتے ہمیں منع ہے۔
    اسکی وضاحت پر وہ سر ہلانے لگیں۔
    اچھا پھر یہ چکن فیٹ کھا لو۔
    اب انہوں نے مرغی کا پنجہ لہرایا۔
    فلیش بیک آیا تھا اسکے ذہن میں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شدید فلو میں وہ حال سے بے حال بستر پرلحاف میں گھسی پڑی تھی جب امئ اسکے لیئے سوپ بنا کر لائی تھیں۔
    یہ لو بیٹا چکن سوپ۔
    امی نے کہا تو وہ چکن سوپ کے نام پر جھٹ اٹھ بیٹھی۔
    یہ۔ یہ کیاہے ؟
    اس نے گاڑھے کارن فلور ملے سوپ میں تیرتے دو پنجے دیکھے تو حیران ہی رہ۔گئ۔
    سوپ ہے مرغی کا گرم گرم پیئو۔
    امی نے چمکارا
    مرغی کا نہیں مرغی کے پنجے کا۔ آخ۔
    وہ چٹکی میں پنجہ اٹھاتے گھنیائی
    امی نے جھٹ ایک لگائی تھی اسکے سر پر چپت۔۔۔ غصے سے بولیں
    کھانے پینے کی چیز کو ایسے کراہیت سے نہیں دیکھتے۔ بہت طاقتور ہوتا یے پنجوں کا سوپ بخار کیلئے اکسیر۔
    اور سالن تیار ہو گیا تھا جب تم نے سوپ کی فرمائش کی۔ اب میں دوبارہ مرغی ذبح کرواتی ؟ اسکے پنجے شکر ہے پھینکے نہیں تھے اسی کا سوپ بنا دیا۔۔
    اورپر پھینک دیئے تھے کیا۔۔۔
    عروج نے منہ بنایا تو وہ سمجھیں نہیں۔
    ہاں پر تو ۔۔ خیال آیا تو گھور کر بولیں
    نخرے نہیں کرو جلدی سے پیئو اور بھئ کام ہیں۔ ابھی تو تمہاری بہن کو الگ بہلانا ہے روئے جا رہی ہے اسکا لاڈلا مرغا کٹوا دیا۔ اب بتائو دو دن سے سست تھا مر جاتا تو ضائع ہوجاتا پورا کلو بھر گوشت نکلا۔
    امی کئ وضاحت پر اسکو اور الجھن آئی
    یہ چیکو ہے؟
    اس نے چیخ مار کر پیالہ دور کیا۔۔
    اسکے پنجے کتنے گندے ہوتے تھے امی بٹ بھی ہوتی تھی بھری اس میں۔
    اس نےخفا خفا سے انداز میں کہتے سوپ کھسکا دیا
    ہاں تو دھویا ہے۔ امی نے گھورا۔۔
    پنجوں کی کھال چولہے پر جلا کر الگ کی ناخن ٹوکے سے کاٹ کے الگ کیئے صاف ستھرا کرکے سوپ بنایا گندگئ کھلائوں گی اب میں تمہیں۔ آدھا گھنٹہ لگا ہے اور تم چکھے بغیر۔مین میخ نکالے جا رہی ہو
    امی بری طرح خفا ہو کر اٹھنے لگیں تو اسے سب بھول بھال منانا پڑ گیا۔
    اچھا رکیں سوری چکھتی ہوں۔
    اس نے انکے ہاتھ سے پیالہ لے لیا۔ ڈرتے ڈرتے پہلا چمچ لیا۔
    مرغی کے سوپ جتنا اچھا تو نہیں تھا مگر اچھا تھا
    اورپنجہ بھئ ہلکے سے گوشت اورہڈی کو کڑ کڑا کر کھانا نیا مگر اچھا تجربہ تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مصالحے سےلال مرغی کے پنجے کا ناخن سامنے لہرایا
    کھائو نا۔ آہجومہ نےمتوجہ کیا۔۔
    یہ۔
    وہ۔گڑ بڑا سی۔گئ
    انکے ہاتھ سے مرغی کا پنجہ لے لیا۔۔
    دراصل مسلمان صرف حلال ہوا گوشت۔کھاتے ہیں۔ ایسا جانور جسکے گلے پر۔چھری۔پھیر کر اللہ کا نام لیکر ذبح کیا جائے۔۔ میں یہ سب نہیں کھا سکتی البتہ آپ کا ساتھ ضرور دوں گی۔ میرے پاس بیگ میں بسکٹ ہوں گے۔۔
    وہ کہہ کر اپنے بیگ کو کھنگالنے لگی ایک بسکٹ کا پیکٹ نکل ہی۔آیا۔
    اچھا۔ عجیب بات ہے پہلے ایسا نہیں سنا۔
    وہ تھوڑی مایوس ہوئیں مگر کسی بحث میں نہیں الجھیں۔ خاموشی سے گمباپ کھانے لگیں۔
    یہ لو۔ خاص کر تمہارے لیئے خالص سبزی پلائو لایا ہوں۔چینی ریستوران سے۔ کہہ کر کہ مجھے سب حلال چاہیئے
    سیونگ رو ایک پیکٹ اٹھائے بولتا ہوا داخل ہوا۔ و۔ہ شائد باہرکہیں گیاہوا تھا۔ اسکے انداز میں عجلت تھی۔ وہ مسکرا دی
    سیونگ رو نے کھانا لا کر اسکے سامنے کائونٹر پر سجا دیا
    گما ووئو۔ وہ بے ساختہ شکر گزار ہوئئ
    سیونگ رو نے ایک پل کو اسے نظر بھر کر دیکھا پھرجیسے عجلت میں ہو یوں پلٹ کر آنٹی سے مخاطب ہوا
    دادی اماں آپکے ہاتھ کے ہیں نا۔ میرا حصہ رکھا ہے نا آپ نے
    ہاں آدل تمہیں کیسے بھول۔سکتی ہوں ویسے تو میں نے الگ بچا کے بھی رکھا ہے مگر تم یہ کھالو یہ لڑکی تو ان میں سے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگا رہی۔۔
    آہجومہ نے جیسے شکایت کی
    چھوڑیں اس بد ذوق کو آئیں ہم مل کر کھائیں
    وہ سائیڈ سے میز گھیسٹ کر اسکے سامنے سے ٹرے اٹھا کر اس پر رکھنے لگا۔ آہجومہ بھی رخ موڑ کر دوسری میز کی طرف کرسی کھسکا گئیں۔ سیونگ رو نے اپنے لیئے کرسی گھیسٹی اورمکمل طورپر کھانے کی۔جانب متوجہ۔ہوگیا
    عروج نے میز خالی ہوئی تو اپنے لیئے لایا کھانا سجانا شروع کیا۔ سلاد تھئ کوئی چٹنی تھی جسے اس نے شک کے باعث کھولنے کی بھی زحمت نہیں کی۔چاپ اسٹکس کی جگہ پلاسٹک کا چمچ کانٹا تھا جو الگ سے شائد خریدا گیا تھا۔ وہ پیکنگ کھولتے مسکرا دی۔ چاولوں کا ڈبہ کھولا۔ سیونگ رو کو دیکھا اسکا دایاں رخ ہی نظر آرہا تھا بس۔ وہ رخ موڑ کر۔کھانا کھا سکتی تھی ۔ یہی سوچ کر اس نے چہرے سے ماسک۔ہٹانا چاہا تو چونک سی گئ۔ ماسک تو وہ کب کا۔اتار چکی تھی۔اس نے دزدیدہ نگاہوں سے سیونگ رو کو دیکھا جو مکمل طور پر خاتون کی جانب متوجہ ہنس ہنس کر کھانا کھارہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون مزے لے لے کرفرائئ نوڈلز اڑا رہا تھا ساتھ پورک کےتلے ہوئے پارچے منہ میں رکھ لیتا چاپ اسٹکس سے۔
    کھولتے سوپ سے نوڈلز اٹھا کر چاپ اسٹکس سے سڑکتا جانے زبان ہیٹ پروف تھی یا سوپ جھوٹی بھاپ اڑا رہا تھا
    خیر نوڈلز اسکے منہ میں جگہ گھیرتے ہی تھے کہ وہ پارچہ چاپ اسٹک سے اٹھا کر کلے(گال) میں رکھ لیتا۔اس وقت منہ فٹ بال بنا ہوا تھا پورا بھرا ہوا گول ۔وہ جس طرح کھا رہا تھا اسکی اماں ہوتیں تو
    اس کے تخیل نے بڑا پکا زور لگایا کہ اسکی امی سیہون کے پیچھے نمودار ہوئیں رکھ کے چپیڑ لگائی گدی پر
    انسانوں کی طرح کھائو چبا کر آرام سے منہ بھر لیا ابھی اچھو ہو۔جائے گا۔۔
    امی کا ہیولہ غائب ہوا سیہون کو اچھو سا ہوا۔سوجو کا گھونٹ بھی بھر لیا
    منہ ہے یا عمرو عیار کی زنبیل۔ ایسے کھانے پر عمر بھر ڈانٹیں چپیڑیں کھائی ہیں کوئی دکھائو میری امی کو کہ انسان بھی ایسے کھاتے مجھے اب اپنے بچپن کی سب مار کا ازالہ کرکے دیں زیادتی کی ہے میرے ساتھ
    سیہون پر نگاہ۔جمائے اسکے ذہن میں یہ مکالمے چل رہے تھے۔ چہرے پرجو تاثرات تھے سیہوں نے نگاہ اٹھائئ ڈپٹ کر بولا
    تم اپنا پوپ کیک کھائو ۔ مجھے نظر نہ لگائو۔
    آیا بڑا۔ وہ بھنائی۔
    یہ خالص پاکستانی جملہ ہے۔ اسکے تمام حقوق ہمارے پاس محفوظ ہیں ہم پاکستانیوں کے سوا دنیا میں کسی کو کھانے پر نظر نہیں لگتی۔
    فاطمہ کے کہنے پر اس نے لاپروائی سے کندھے اچکائے
    ہاں تو یہ ڈائلاگ واعظہ کا ہی ہےوہ ہی کہتی ہے اگر کھانے کے دوران اسکی شکل۔دیکھ کر بات کر لیں تو۔ کہتی ہےمجھ سے کھایا نہیں جاتا۔
    ہاں اسکا منہ چھوٹا ہےنا۔ وہ کانشس رہتی ہے۔
    فاطمہ نے اپنے سامنے دھری فومک پلیٹ کو اپنی۔جانب کھسکایا۔
    سیہون کو پھر اچھو لگا۔ وہ زور سے ہنسا
    واعظہ۔کا۔منہ چھوٹا ہے؟ مزاحیہ۔بات ۔ اسکو ہائی اسکول میں ہم کرسٹل جنگ کہا کرتے تھے اسکی شکل کرسٹل جیسی ہوتی تھی۔
    ہاں تو میں نے بھی منہ کا کہا ہے شکل کا نہیں۔
    فاطمہ نے منہ بنایا۔
    یہ پوپ کیک بنانے کا خیال کس گندے دماغ میں آیا تھا۔
    وہ پوپ کیک اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ پوپ کی شکل کا کیک گو دیکھنے میں بس شکلا ہی پوپ ایموجی جیسا لگ رہا تھا مگر اسکا نام ہی گھنیانے کو کافی تھا
    سچ مچ پوپ کا کیک تھوڑی یے۔
    سیہون نے تسلی دینی چاہی
    سچ مچ تو ظاہر ہے کون گو کھاتا پیتا ہوگا۔
    اس نے منہ بناتے ہوئے پہلا لقمہ لیا۔ اسکے دانت لگنے سے اندر سے نرم سی چاکلیٹ ساس نکل آئی۔ شکل پر غور نہ کیا جائے تو بے حد نرم ذائقے دار کیک تھا۔
    ہممم۔ ۔ اسے یقینا مزے کا لگا تھا۔ سیہون کو۔شرارت سوجھی
    ڈرامائی انداز میں چاپ اسٹکس رکھ کر دونوں کہنیاں میز پر ٹکا اسکی۔جانب ذرا سا جھک کر رازداری سے بولا
    اگر میں کہوں ہم اس طرح گو نہیں کھاتے مگر ابھی بھی گائوں وغیرہ میں شراب بنا کر پی جاتی ہے گو کی تو؟
    تو میں کہوں گی ایکدم بکواس کررہے ہو۔فاطمہ نے ناک چڑھائی
    تمہیں لگتا ہے میں گھن کھائوں گی؟ فاطمہ اتنی کمزور لڑکی۔نہیں۔ یہ پوپ کیک ہے نا میں اسکو مزے لیکر کھاتی ہوں
    وہ باقائدہ چڑانے والے انداز میں دکھا دکھا کر کھانے لگی۔
    بڑا سا لقمہ لیکر کسی بسکٹ کے اشتہار کی ماڈل کی طرح لطف اٹھانے کی اداکاری کر رہی تھئ
    ہممم۔ سیہون مایوس ہوا۔ دوبارہ کھانے کی جانب متوجہ ہوا
    ویسے سچ کہہ رہا ہوں۔پہلے زمانے میں جب مغربی دوائیاں نہیں ہوتی تھیں تو دیسی ادویات میں پوپ لیکر یعنی گو کی شراب بنائی جاتی تھی۔ ترجیحا بچوں کا گو لیا جاتا تھا سخت ہو تو بہتر۔ اسے مخصوص طریقے سے مرتبان میں مخصوص مقدار میں اجزاء ڈال کر کئی مہینوں کی۔محنت کے بعد شراب تیار کی جاتی تھی۔ اس شراب کو پینے سے جسم کی۔طاقت فوری بحال ہوتی تھی ۔ بخار میں تو خاص طور سے پلائی جاتی تھی۔
    اس نے کہتے کہتے نگاہ اٹھا کردیکھا تو فاطمہ منہ میں کیک بھرے ہکا بکا شکل دیکھ رہی تھی
    مزاق کر رہے ہونا۔ انداز ایسا تھا کہ اس نے انکار کیا تو گن پوائنٹ پر حلف اٹھوا لے گئ۔
    بالکل نہیں۔ ہمارے گائوں میں آج بھی اس شراب کو بنایا جاتا ہے۔ بلکہ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا ہوتا تھا تو امی مجھے ایک کاغذ دے کر بھیجا کرتی تھیں باتھ روم میں کہ اس میں اپنا فضلہ
    آخ۔بس۔
    فاطمہ کی بس ہوگئ۔ جلدی جلدی کیک نگل کر ہاتھ جوڑ دئئے
    رہنے دو اتنی تفصیل میں نہ جائو۔ حد ہوگئ۔ بچوں کا فضلہ نہ ہوگیا کیک ہوگیا کاغذ میں لپیٹ کر آخ۔۔
    وہ گھن کھاتی ہوئی کافی کا گھونٹ بھرنے لگی
    سن کر اتنا گھن کھارہی ہو۔ سیہون کو اسکی شکل دیکھ کر مزا آیا۔چسکے لینے کو اگلا جملہ بھی چپکا دیا
    بلکہ مجھے تو یاد ایک بار بچپن میں مجھے ٹایفائڈ ہوگیا تھا تو آہموجی میرے لیئے بھی گو کی شراب لائی تھیں نہار منہ اسی سے دوا۔۔۔۔۔۔
    اسکا جملہ۔یہاں تک پہنچا پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی
    فاطمہ کا ابھی ابھی کافی سے گھونٹ بھرا تھا اسکی بات پر اتنی مہلت بھی نہ دی طبیعت نے کہ زرا سا رخ پھیر لیتی نتیجتا ساری کافی اس نے محاورتا نہیں حقیقتا سیہون کے منہ پر الٹی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد

    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 39

    قسط 39

    بلو ڈینم عبایا اور بلو ڈینم ماسک میں لپٹی عزہ نور اور عروج سر پر نارنجی فراگی اسٹائل اسکارف پہنے لمبا سا نارنجی ٹاپ جینز کے ساتھ اور جاگرز پہنے کھڑی الف اور سفید اور گلابی پھولدار شرٹ بلو جینز میں ملبوس  فاطمہ ، ست رنگا ٹاپ سفید ٹائٹس کے ساتھ پہنے  واعظہ ۔ 

    اتنئ ورائٹی دیکھ کر ٹیکسی ڈرائیور کا منہ کھلا رہ گیا 

    آپ سب اکٹھے جائیں گی؟ 

    پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ 

    نہیں ایک پیچھے بھاگی بھاگی آئے گی۔ 

    ماسک پہن کر عروج کو لگتا تھا کہ دنیاآسے دیکھ نہیں سکتی جبھئ مزے سے جملہ چست کردیا۔ 

    عزہ الف عروج فاطمہ نور آرام سے پیچھلی نشست پر براجمان ہوئیں تو واعظہ نے اگلی نشست کا دروازہ کھولا۔ 

    ڈرائیور کا اس اوور لوڈنگ پر منہ کھلنے کو تھا

    ابھئ ابیہا ہمارے ساتھ نہیں ورنہ تو ڈرائیور بے ہوش ہوجاتا۔ 

    عزہ نے کھی کھی کی

    فلیش بیک میں ابیہا اپنا اسمارٹ فون دکھا کر بتا رہی تھی 

    یہ دیکھو یہ سیکنڈ ایئر کی طالبہ پاکستانئ لڑکی ایمن سلیم نےورلڈ ریکارڈ بنایا تھا 2010 میں انیس لڑکیاں دو دروازوں والی اسمارٹ کار میں بیٹھی تھیں۔۔

    ہم پاکستانی لڑکیاں ہیں 2010 میں انیس پاکستانی لڑکیوں  نے دو دروازوں والی اسمارٹ کار میں بیٹھنے کا ریکارڈ بنایا تھا ہم تو بس چھے ہیں۔

    واعظہ کو بھی ابیہا یاد آئی تھی شائد جبھی جتاتے ہوئے اگلی نشست پر براجمان ہوگئ۔ 

    میری قسمت میں نمونے لکھے ہیں۔ 

    ڈرائیور نے ہنکارا بھرتے ہوئے  گاڑی اسٹارٹ کی مگر بڑبڑانا جانے کیوں ضروری سمجھا۔ 

    عروج اور واعظہ نے گھور کر دیکھا۔ 

    تو کیا تم واقعی سمجھے تھے کہ ہم میں سے ایک پیچھے میراتھن دوڑ لگاتی آئے گی؟ 

    خالص ہنگل میں دونوں چنکی منکی کی طرح اکٹھے بولی تھیں ۔ انکے تیوروں نے ڈرائیور کو گڑبڑا دیا ۔ 

    ایک تو ہنگل سب فورا سیکھ لیتے ہیں کوریا آکر ۔ کوئی پرائیویسی ہی نہیں رہی۔ 

    اس بارعقل کا استعمال کرتے ہوئے  منہ کا استعمال نہیں کیا تھا صرف سوچ کر رہ گیا۔ 

    وہ لوگ کوایکس مال آئی تھیں… ہر مال کی طرح کا یہ مال بھی مہنگے برانڈ کی شیشوں سے سجی دکانوں سے بھرا تھا۔ وہ دلچسپی سے ونڈو شاپنگ کرنے لگیں۔ 

    یہ بیگ اچھا ہے ۔۔ عزہ گلاس ڈور کے بالکل ساتھ لگے شوکیس میں سجے بیگ کی جانب لپکی تبھی گلاس ڈور کھولتی بڑے سے اسٹور سے بڑا سا بیگ تھامے الابلا خرید کر  اپنی دھن میں نکلتی لڑکی نےسرتاپا  لبادے میں ملبوس لڑکی کو دیکھ کرننجا ٹرٹلز کی چھوٹی بہن سمجھتے ہوئے زور دار آواز میں  کم چاک گیا کہہ کر بیگ پھینک کردھڑ دھڑ کرتا دل تھاما تھا۔ یک نہ شد دو شد اور عروج کو ملا کر تین شد۔ اسکی حیرت آہستہ آہستہ الجھن میں بدلی پھر دوبارہ حیرت میں بدلنے لگی کیونکہ اب اسکی نگاہیں فاطمہ واعظہ اور الف سے الجھ رہی تھیں۔عزہ نے منہ بنایا جو یقینا اسے نظر نہ آیا۔ فورا بیگ بھول بھال مڑ کر واعظہ سے پیر پٹخ کر بولی

    ہم مال کیوں آئے ہیں؟ مجھے مالز میں پھرنا بالکل پسند نہیں۔

    کوئی زندگی میں ڈھنگ کی چیز پسند تمہیں؟ 

    فاطمہ نے فورا اعتراض جڑا۔

    مجھے بھی مالز نہیں پسند عجیب خلائی مخلوق کی طرح دیکھتے ہیں لوگ ہمیں۔۔ نور بھنائی

    حالانکہ کالے عبایا نہیں ہیں ہمارے۔ عروج نے اس لڑکی کو ہاتھ ہلا دیا جوابا وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتی جھک کر سامان اٹھانے لگی۔ 

    مجھے بھی۔ واعظہ فورا متفق ہوئی۔

    عجیب احساس کمتری ہوتا ہے یہاں لوگوں کو مہنگی مہنگی چیزیں سستے ترین انداز میں برانڈز کے بیگز لہرا لہرا کر چھچھوروں کی طرح پھرتے دیکھ کر۔ 

    فخریہ لہجے میں کہہ کر اس نے جیسے اترا کر کہا تھا

    اسکی بات پر وہ سب اسکی جانب یوں گھومی تھیں جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔ 

    جہاں تک مجھے یاد پڑتا تم ہمیں یہاں لیکر آئی ہو۔ 

    عروج نے یاد کرایا

    پھر ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ الف نے ناک سکوڑی۔ 

    ہم سمندری مخلوق دیکھنے آئے ہیں۔ 

    اس نے سامنے ایکوریم کے چمکتے ہوئے بورڈ کی جانب اشارہ کیا۔

    ہم ایکوریم دیکھنے آئے ہیں؟ عزہ کو یقین نہ آیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ان سب کو ٹکٹ لینے کھڑے دیکھ کرٹکٹ افسر نے بڑئ عجیب سی نگاہ ڈالی تھی ان پر۔ 

    یہ ہمیں ننجا ٹرٹلز تو نہیں سمجھ رہا؟ 

    عزہ منمنائی۔ 

    ہم برقع ایونجرز ہیں۔ نور نے گردن اکڑائئ۔ 

    تم لوگ ٹکٹ لو ہم تصویر بنواتے ہیں تب تک۔ 

    فاطمہ اور واعظہ کو چھوڑ کر وہ چاروں داخلی رستے کی طرف چلی آئیں۔۔۔ 

    کریڈٹ کارڈ ڈینائیڈ۔ 

    کارڈ چپکا کر اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو واعظہ گہری سانس لیکر اپنا دوسرا کارڈ نکالنے لگی۔ 

    تم دن بہ دن غریب ہوتی جا رہی ہو۔ میں تم سے تعلقات ختم کر لوں گی۔ مجھے غربت اور غریب دونوں سے ڈر لگتا ہے۔ 

    بیگ میں عمرو عیار کی زنبیل سے بھی ذیادہ چیزیں بھری تھیں۔ 

    ہے بھی دوسرا کارڈ کہ نہیں؟ دیکھو پیسے نہیں تو میں تمہیں نہیں جانتی بھئ۔ ابھی تو میری نوکری شروع ہوئی ہے مہینے بھر بعد ہی تنخواہ ملے گی اور خیالوں ہی خیالوں میں میں اپنی تنخواہ خرچ بھی کر چکی ہوں۔ 

    اسکیلن ترانی سے بے نیاز واعظہ اب اپنے بیگ کو کائونٹرپر رکھ کر تندہی سے ڈھونڈنے لگی۔ 

    یہ میری دور کی جاننے والی ہے۔ میں تو بس ویسے ہی سلام۔کرنے آئی تھی بس۔ یونہی کبھی سر راہ ملاقات ہوجاتی یے۔ زیادہ نہیں جانتی میں اسے۔ 

    فاطمہ ٹکٹ چیکر سے مخاطب تھی۔ انگریزی میں وہ بھی ۔ اب جانے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ٹھس سا پکا سا منہ بنائے خاموش کھڑا تھا

    جتنی دیر میں اس نے کارڈ نکالا فاطمہ  اس سے تعلقات ختم کر چکی تھئ۔ 

    اگر میں بس ایک ٹکٹ لوں تو کوئی ڈسکائونٹ ملے گا؟ اب میں یہاں تک آئی ہوں تو دیکھ ہی لوں نا۔ بس فری لوڈر مجھے پسند نہیں اپنے لیئے ہی لوں گی بس۔ پیسے تو بہت ہیں میرے پاس مگر اب کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو تو اپنے خرچے پر مزے نہیں کروا سکتی نا۔اے لڑکی وقت ضائع کیوں کر رہی ہو پیسے نہیں تو ہٹو۔ 

    اصولا اب مجھے چھے کی۔بجائے پانچ ٹکٹ لینے چاہیئیں۔ 

    کارڈ نکالتے ہوئے واعظہ نے گھور تے ہوئے کہا جس پر اس نے ڈھٹائی سے بتیس دانتوں کی نمائش کی۔ 

    یہ میری بہن ہے۔ ہم بچپن میں اکٹھے چھپن چھپائی کھیلتے تھے۔ 

    فاطمہ نے اس ٹھس سے کھڑے ٹکٹ چیکر کو بتایا تو اتنی دیر سے اسکی سب بکواس پر پکا سا منہ بنائے کھڑے اس چندی آنکھوں والے کے چہرے پر مسکراہٹ آہی گئی۔ 

    اوئے اسے انگریزی سمجھ آرہی تھی۔ 

    واعظہ کے بازو میں زبردستی بازوڈال کرفاطمہ نے سرگوشیانہ انداز میں اردو میں اطلاع دی تھی۔

    جتنئ دیر میں فاطمہ اور واعظہ ٹکٹ لے کر پلٹیں وہ سب داخلی راستے کے باہر لگے بڑے بڑے چوڑے گلاس کے ستونوں میں تیرتی مچھلیوں کے ساتھ آدھی درجن تصاویر بنوا چکی تھیں۔

    یار یہ مچھلی تیرتی ہوئی جب آئے تب تصویر لینا ۔ الف ایکوریم کی جانب پشت کیئے کھڑی تھی۔ بالشت بھرکی نیلے رنگ کی روشنیوں میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیاں گول گول گھومی جا رہی تھیں۔اس نے ان کے چکر سے اپنی ٹائمنگ ملائی تھی جیسے ہی گھوم کر آئی پورا منہ کھول کر عین اسی وقت الف نے بھی منہ کھولا

    بہت بہت مزے کی تصویر آئی ہے ۔۔ نور خوشی سے وہیں اچھلنے لگی تھئ۔ 

    دکھائو دکھائو۔ الف بھاگی بھاگی آئی۔ 

    فالتو میں ٹکٹ لیئے تم لوگوں نے تو یہیں تصویریں بنوا لیں ۔ واپس کرا آئوں۔ 

    واعظہ نے شرارتا سنجیدگی سے پوچھا۔ 

    ہاں اب ایکوریم کیلئے ہم ٹکٹ لیکر کر دیکھیں گے اندر بھی تو ایسی ہی مچھلیاں ہوں گئ۔ 

    نور نے کندھے اچکائے۔ واعظہ مسکرا دی۔ 

    مگر اندر دنیا ہی اور تھی۔ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے ایکوریم میں بھانت بھانت کی سمندری حیات موجود تھی۔ مچھلیوں کی ہی نجانے کتنی درجن اقسام تھیں۔چھوٹے چھوٹے ایکوریم میں چھوٹی چھوٹی مچھلیوں سے شروع ہوا تھا سفر آہستہ آہستہ ایکوریم کا حجم اور مچھلیوں کا حجم بھی بڑھتا گیا۔ سمندری پودے جو زمین پر موجود پودوں سے کہیں مختلف تھے رنگ اور شکل کے اعتبار سے جگہ جگہ انکے ماڈلز رکھے تھے کہیں ایکوریم میں بہار دکھا رہے تھے اور ساتھ ایک بورڈ بھی تھا جو ایکوریم میں موجود حیات کی تفصیلات بھی بتا رہا تھا کونسا رنگ کونسی نسل کہاں کتنی تعداد میں پائی جاتی ہیں ۔ وہ سب بہت دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں۔

    ایک۔جانب گلہری کا گھر تھا۔ عزہ بہت شوق سے اسکی جانب بڑھی۔ 

    مائک کی طرح اسکی جانب مٹھی بڑھا کر پوچھا

    کیا آپکے ٹوتھ پیسٹ میں نمک ہے؟ 

    گلہری نے دانت نکوس کر دیکھا پھر غرا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا یوں لپکی جیسے عزہ کی ناک کاٹ دے گی۔عزہ اچھل کر پیچھے ہوئئ۔ 

    بد تمیز دانت صاف نہیں کرتی ہوگی جبھی میرے سوال پر غصہ آگیا۔ 

    اس نے مڑ کر ڈھٹائی سے الزام لگایا۔

    یار یہ سفید مچھلیاں کتنی ڈرائونی ہیں۔ 

    نور  ایکوریم کی شیشے کی دیوار سے ناک چپکائے کھڑی تھی۔ 

    سفید مچھلیاں اپنے سے ڈرائونی مخلوق دیکھ کرتتر بتر ہونے لگیں

     کیوں مچھلیوں کو ڈرا رہی ہو نور۔ ایک تو

    الف مزید بھی کچھ کہتی جو اگر بالکل سامنے والے ایکوریم پر نگاہ نہ پڑ جاتی ۔جملہ ادھورا چھوڑ کر چیخ مار کر بھاگئ

    نیمو۔ ۔۔۔۔ اتنے سارے نیمو۔ ۔

    نیمو ۔۔۔ 

    اسکے یوں بے ساختہ انداز پر ان سب کے ساتھ ساتھ دیگر سیاح بھی گردن گھما کر متوجہ ہوئے۔ 

    الف بانہیں پھیلائے ایکوریم کو گلے سے لگائے چمٹی کھڑی تھی۔ 

    سب سکھیاں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔ 

    نور میری نیمو کے ساتھ تو تصویر لو۔ ہمارے تو کپڑے بھی آج میچنگ میچنگ ہیں۔۔ 

    اتنی ڈرامہ بازی کے بعد وہ اب مڑ کر آنکھیں پٹپٹا کر فرمائش کر رہی تھی۔ نارنجی دوپٹہ لہرا کر۔لہرائی تو سارے نیمو اسی سے دور بھاگنے لگے

    کہاں چلے نیمو۔۔ اسے تشویش ہوئی تو ایکوریم کھٹکا نے لگی۔ مگر ان ڈھیر ساری کلائون فشزمیں جو فائنڈنگ نیمو کی وجہ بلا وجہ ہی خود کو سیلیبریٹیز سمجھنے لگی تھیں زرا بھی حس مزاح نہیں تھی۔ جبھئ ڈر کر باہر نکلنے کو تیار ہوگئیں۔ 

    بنائو پوز میں لوں تمہاری نیمو کے ساتھ تصویر

    نور دانت کچکچا کر کیمرہ سنبھالنے لگی۔ 

    نیمو۔ الف دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ ٹکائے دوپٹہ لہراتی۔ 

    رنگین آنچل رنگین مچھلیاں دوپٹہ اڑے تو جیسے تتلی کے پیر پھیلے ہوں ایسے پھیلا ہو اور پیچھے سے مچھلیوں کا غول آرہا ہو۔ 

    دونوں کی بحث پوز بنانے پر ہورہی تھی عروج اور عزہ سیلفیاں لے ریی تھیں 

    واعظہ اور فاطمہ پاس سے گزرتے پریشانی سے تکتے لوگوں کو تسلی دے رہی تھیں

    ذہنی طور پر نا پختہ ہیں بس تھوڑی سی پاگل نہیں ہیں یہ لڑکیاں گھبرانے کی بات نہیں۔ 

    خدا خدا کرکے انکا فوٹو شوٹ مکمل ہوا تو آگے بڑی مچھلیوں کی باری آئی۔ ایک ایکوریم میں ٹیلی فون بوتھ بھی لگا رکھا تھا۔

    مچھلیاں کسے فون کرتی ہوںگی؟ 

    عروج کو تجسس ہوا۔ 

    انکےرشتے دار تو سمندر میں ہونگے نا انکا احوال پوچھتی ہوں گئ۔ 

    عزہ نے اندازہ لگایا۔ 

    انکے پاس موبائل فون نہیں ہوتےجو بوتھ استعمال کرتی ہیں؟ 

    نور کو تشویش ہوئئ

    تم اپنا دے جائو کم از کم اس ایکوریم کا بھلا ہو جائے گا۔ 

    فاطمہ نے کہہ کر اسکا فون چھینا اور ایکوریم میں ڈالنے لگئ۔ 

    نہیں۔ نور نے دہائی دی۔ 

    ان سب کے شغل کو کچھ لوگ دلچسپی سے کچھ بیزاری سے بھی دیکھ رہے تھے۔

    آپ لوگ ایک طرف ہو جائیں ہم بھی ایکوریم دیکھنے آئے ہیں۔ 

    ان چندی آنکھوں والی دو لڑکیوں نے منہ پورا کھول کر بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔  

    ہاں ہاں ضرور دیکھئے اپنا ہی ملک سمجھیئے۔ 

    عروج اور طنز سہہ جاتی مسکرا کر دل جلانے والے انداز میں ہنگل انڈیلی ان پر اور سر جھٹکتی شان سے آگے بڑھ گئ جوابا یہ سب اس سے ترجمہ پوچھنے کو بھاگیں ایسا کیا کہہ گئیں عروج  کیونکہ جوابا وہ لڑکیاں کہہ سیکی اور جانے کیا کیا بڑ بڑا رہی تھیں۔ 

    آگے سب سے بڑا حصہ تھا جہاں کئی کئی فٹ کی مچھلیاں تھیں۔سور کے منہ والی مچھلی ان کو حیرت میں ڈال گئ تھئ۔

    عزہ نے بڑے شوق سے اسکے ساتھ تصویر بنوائئ۔ وقت گزرنے کا انہیں بالکل پتہ نہ لگا۔۔۔انکے گرد اب رش بڑھنے لگا تھا۔ 

    دیو ہیکل مچھلیوں کے جھرمٹ میں تصویریں بنواتے فاطمہ نے اسکی کمی محسوس کی۔ 

    متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو ایک کونے میں رکھے ایکوریم کے ساتھ سہولت سے آلتی پالتی مارے دونوں ہتھیلیاں زمین پر ٹکائے بازو سیدھے کیئے ان کے سہارے لیئے اطمینان سے بیٹھئ ایک ٹک کسی سمندری مخلوق کو گھورتی نظر آئی۔ 

    ایک تصویر نہیں بنوائئ تم نے ہم کیا ثبوت پیش کریں گے کہ ہمارے سنگ ایک عدد بوڑھئ روح واعظہ بھی ایکوریم کی سیر کو آئی تھی۔ 

    وہ اسکے قریب آکر زور سے بولتے ہوئے ایکوریم کی جانب پشت کرکے واعظہ کے عین سامنے دھم سے بیٹھی تھی مقصد چونکانا تھامگر مجال ہے اسے کوئی چونکا جائے۔ آرام سے گردن موڑ کر اسے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

    کسے دیکھ رہی ہو اتنے غور سے۔ ہائے اللہ۔ 

    وہ ایکوریم کے بالکل نزدیک تھی مڑ کر اسکی دلچسپی کا منبع جاننا چاہا تو لمحہ بھر کو دل اچھل کر حلق میں ہی آگیا۔

    بڑی بڑی مونچھوں والا دیو ہیکل سرمئی بڑا سا اود بلائو منہ کھول کر جمائی لیتے ہوئے تیر کر اوپر ہولیا۔ 

    تم بیٹھئ اود بلائو کو دیکھ رہی تھیں۔ فاطمہ کو اسکی ذہنی حالت پر شک نہیں یقین آگیا تھا کہ خراب ہے۔ 

    ایک سے ایک خوبصورت مچھلی آکٹوپس سمندری مخلوق موجود ہے تمہیں یہاں یہ اود بلائو ہی دیکھنے کو ملا۔ توبہ استغفار اللہ کی مخلوق ہے ایسا کہنا نہیں چاہییے مگر اچھا خاصا عجیب سا ہے بلکہ ہیں۔ 

    وہ مڑ کر ان دو تین موٹے موٹے اود بلائو اور کئی چھوٹے موٹے اود بلائو کو دیکھ رہی تھی۔

    ان بظاہر خوش رنگ مخلوق کو دیکھنے کیلئے ایک دنیا امڈ  بھی تو آئی ہے۔ بس یہی جگہ خالی اور پرسکون تھی اسلیئے میں یہاں آئی۔۔۔۔

    اسکے انداز پر واعظہ ہلکے سے ہنس دی۔ پھر سیدھی ہوکر بیٹھئ۔۔ 

     لیکن مجھے یہاں آکر پتہ لگا کہ اس مخلوق کو ہماری توجہ چاہیئے۔۔ان خوبصورت مچھلیوں کے پاس جائو تو ہماری توجہ سے بیزار دور ہو جاتئ ہیں جبکہ انکو دیکھو۔ 

    وہ بے حد اشتیاق سے ایکوریم کے قریب آکر اپنی ہتھیلی شیشے کے قریب لا کر دکھانے لگی تو کئی اود بلائو جیسے خوشی سے بے تاب ہوتے ہوئے پاس آئےیوں منہ کھولنے لگے جیسے کچھ کہنا چاہ رہے ہوں۔ 

    اس نے ہلکے سے انگلیوں کو جنبش دی تو اسکی انگلیوں کے ساتھ سر ہلاتے بے معنی آوازیں نکالتے۔۔ وہ جیسے خوش سے ہوگئے تھے۔ فاطمہ مبہوت سی دیکھنے لگی۔ عام سا سمندری جانور جسے شائد کبھی کوئی پسندیدگئ کی نظر سے نہیں دیکھتا کتنا معصوم سا پیارا سا لگ رہا تھا۔

    واہ۔ 

    وہ بے اختیار شیشے کی جانب ہاتھ بڑھا بیٹھی تو نرمی سے واعظہ نے تھام لیا۔ 

    شیشے کو مت چھونا ابھی انتظامیہ کا کوئی آجائے گا۔ 

    ان سے کچھ فاصلے پر انتظامیہ کا رکن شائد اسے ٹوکنے ہی کیلئے الرٹ ہوا تھا مگر پھر رک گیا۔

    تبھئ انہیں نور کی چیخ سنائی تھی پھر پے در پے چیخیں ہی بلند ہوتی گئیں۔وہ دونوں ایکدم سے اٹھ کر انکی۔جانب بھاگیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہنگن دریا کے کنارے انہوں نے کیمپ لگایا تھا ۔دسترخوان پر سیخ کباب تکے بیف پلائو مچھلی سلاد رائتے کے ساتھ سجا رکھا تھا۔ یہ کھانا وہ ریستوران سے پیک کروا کر لائی تھیں ۔میٹھے کیلئے واعظہ کا وعدہ تھا واپسی پر آئیسکریم کھلائے گئ۔ موسم آج تھوڑا تپش لیئے ہوئے تھا دوپہرڈھل رہی تھی

    دھوپ بہت تیز چبھتی نہیں تھی ڈھلتے سورج کا منظر دریا کے پانیوں میں دیکھنا یقینا بے حد دلچسپ تجربہ ہونا تھا مگر فضا میں بیک گرائونڈ میں نور کی سسکیاں نہ چل رہی ہوتیں تو۔ 

    چھوڑو بھئ نور کھانا تو کھالو۔ بھوک نہیں لگ رہی تمہیں۔ 

    الف نے چمکارا۔ 

    نہیں مجھے نہیں کھانا مجھے گھن آرہی ہے۔ 

    وہ منہ بسور رہی تھی

    چکھو تو سہی یہ چھپکلی اوہو ۔مچھلی۔۔۔  عروج نے ایک مچھلی کا ٹکڑا اسکی جانب بڑھایا مگر عین وقت پر زبان پھسل گئ۔ 

    باقی سب نے تو کھی کھی کی نور کو اور رونا آگیا۔ 

    اس کو۔دیکھ کر تو مجھے اور گھن آرہی ہے بار بار وہی منظر۔ آخ۔۔  

    چکن تو کھالو۔ 

    الف نے بھی بہلانا چاہا۔ 

    چاول تو چمچ سے کھالو ۔ 

    عزہ نے مشورہ دیا۔وہاں وہی مرغے کی ایک ٹانگ

    واعظہ اطمینان سے کھانا کھارہی تھئ ایک دفعہ بھی اسے نہ پچکارا نا سمجھایا۔ 

    جلدی کھانا کھائو اور گھر چلو۔ 

    نور نے تاکید کی جس پر۔عمل کا انکا کوئی ارادہ نہیں تھا دریا کنارے کھاتے پیتے سبک رو ہوا سے محظوظ ہوتے کس کافر کا دل چاہے گا واپسی کا۔ 

    ان سب نے تھک ہار کر اسے اسکے حال پر چھوڑا اور دسترخوان کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ خوب ڈٹ کر کھا کر حواس ٹھکانے پر آنا شروع ہوئے۔

    چلو اب ذرا دریا کنارے چلیں۔ عروج نے کہا تو وہ سب ہاں میں ہاں ملاتی اٹھ کھڑی ہوئیں

    میں کب سے کہہ رہی ہوں مجھے گھر جانا ہے اب تو کھا پی بھی لیا ہے اب تو گھر چلو۔ 

    نور کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا

    دیکھو جو ہونا تھا ہوگیا آج آخری دن ہے تمہارا کوریا میں صبح یہاں سے چلی جائو گی پھر جانے کب کوریا آنے کا موقع ملے ہم سے ملنے کا موقع ملے اٹھو انجوائے کرو۔ 

    عروج نے کہا تو وہ چٹخ کر بولی

    بھرپائی میں سیر و تفریح سے۔بس چلو واپس۔۔ بلکہ اگر اتنا تم لوگوں نے انجوائے کرنا تو میں بابا کو فون کرتی ہوں وہ مجھے پک کر لیں گے یہاں سے۔ 

    وہ مصمم ارادہ کرتی اپنا بیگ ٹٹولنے لگی۔ 

    اور سامان کا کیا ہوگا؟ وہ تو فلیٹ میں ہے نا۔ 

    عزہ نے یاد کرانا چاہا۔ نور کے ہاتھ سست پڑے۔ 

    ہاں یار انکل کو پریشان مت کرو یہی پلان ہے نا انکل رات کو تمہیں پک کر لیں گے ابھی ہمارے ساتھ شام کا لطف اٹھائو دیکھو کتنی اچھی ہوا۔۔۔ 

    الف نے سمجھانا چاہا تو وہ مزید بگڑ گئ

    میں جا رہی ہوں تم لوگ تو یہیں ہوں گے پھر آجانا یہاں کوئی اندازہ ہے میری کیا حالت ہو رہی ہے ایک منٹ مجھ سے یہاں بیٹھا نہیں جا رہا کوئی احساس 

    وہ پھر رونے لگ گئ

    بس کرونور ایسی بھی کوئی بڑی بات نہیں ہوگئ۔ 

    فاطمہ سے اب مزید چپ رہا نہیں جانا تھا۔

    ایسی چھوٹئ موٹی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں زندگی میں۔۔ 

    یہ یہ چھوٹی چیز ہے؟ 

    نور بات کاٹ کر چلا اٹھئ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تصویریں بناتے انکو احساس نہ ہوا کہ انکے گرد اچھا خاصا جمگھٹا سا لگ گیا ہے۔ مچھلیوں کے ساتھ پوز بنواتے وہ کسی کی لائیو اسٹریمنگ کا حصہ بن چکی تھیں۔ تو کسی کی تصویر کا بیک گرائونڈ۔

    وہ لڑکا ویڈیو بنا رہا ہے۔ 

    عزہ نے احساس ہوتے ہی نور کے کان میں سرگوشی کی

    نور نے پلٹ کر دیکھا تو وہ کوئی چندی آنکھوں والا لڑکا اپنے ہی وی لاگ میں مگن تھا۔ مچھلیوں کی ویڈیو بناتے بورڈ پڑھتے وہ شائد جب لانگ شاٹ لے رہا ہو تو وہ بھی آگئ ہوں گی۔ 

    خیر ہے چہرہ تک تو ڈھکا ہوا ہے ہمارا۔ 

    نور مطمئن تھئ۔ عروج اور الف الگ ایک دوسرے کی تصاویر بنانے میں مگن تھیں۔ 

    اچھا اب ایک میری تصویر بھی لو۔

    نور نے عزہ کو کیمرہ پکڑایا اور خود تھوڑا پرے ہو کر دیوار کے قریب لگے  ایکوریم کے قریب پلر کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ اندرسیاہ مچھلیاں تھیں لمبی جسامت کی مچھلی سے ذیادہ چھپکلی سے مشابہت تھی۔ 

    یہ پردہ پوش یہاں بھی پھر رہی ہیں خدا خیر کرے مچھلیاں خیریت سے رہیں۔ 

    ہاں اتنا کچھ لپیٹا ہوا ہے خود پر اندر بم ہی چھپا رکھا ہوگا۔ 

    ہونہہ۔ 

    نیلی آنکھوں بھورے بالوں والی وہ خوب گوری انگریزنیں انکے حلیئے کا مزاق اڑاتی ٹھٹھے لگاتی اتنی اونچی آواز میں بولتی گزری تھیں کہ دونوں آسانی سے سن لیں۔ 

    عزہ نے دانت کچکچائے۔ 

    اپنی زبان سنبھال لو ورنہ تم سے لپٹ کر ہی پھٹوں گئ میں۔

    عزہ کی جانب سے جواب انکے لیئے غیر متوقع تھا۔ 

    وہاٹ ؟ تم دھمکی دے رہی ہو بم سے اڑانے کی۔۔ دماغ ٹھیک ہے

    کہیں واقعی بامبر تو نہیں۔ ایک۔خوفزدہ بھی ہوگئ

    ہاں یہاں ہے جیکٹ اندر سوسائیڈ جیکٹ ۔ٹھاہ۔ 

    نور کیوں پیچھے رہتی سینہ ٹھونک کر بولی

    سو سائڈ بامبر ہو تم؟ آئی ایس آئی ایس کی رکن ہو کیا تم 

    سیکیورٹئ

    وہ دونوں حلق کے بل چلانے لگیں ۔ 

    اگر واقعی امریکہ ہوتا تو سی آئی اے نمودار ہو چکی ہوتی انکے بم اور آئی ایس آئی ایس کی پکاریں مارتے دیکھ کر مگر ان انگریزنیوں کوکسی نے سنجیدہ نہیں لیا کہ وہاں کوئی انکی زبان سمجھتاہی نہیں لوگ انکی چیخ و پکار کو ناپسندیدگی اور ناگواری سے دیکھتے گزر رہے تھے۔ 

    عزہ نے ہاتھ ہلا وش کیا انکو مزید جلایا

    دفع کرو انہیں عزہ میری تصویر لو۔ یہ پیچھے سے ایکوریم بھی آئے۔ فرمائش ۔۔۔ 

    نور نے بازو جھٹکے تبھی اسے اپنے سر پر سرسراہٹ سی ہوئی۔ 

    ستون سے تو دور ہٹو۔ عزہ نے کہا پھر ساکت سی ہوگئ

    سی دوز گرلز ۔ 

    انکے شور پر انتظامیہ کا اہلکار انکی جانب بھاگا آیا تھا دونوں گٹ پٹ شکایت میں لگی تھیں۔ 

    نور چھپکلی۔ 

    کیمرہ نیچے کرکے وہ سرسراتی سی آواز میں بولی۔ 

    چھوگیو

    سیکیورٹی اہلکار نور کی۔جانب آرہا تھا

    جلدی تصویر لو یقینا یہ ایکوریم سے دور ہٹنے کو کہے گا آکر۔ 

    نور جھلائی۔

    عزہ ایک قدم پیچھے ہوئی

    نور چھپکلی۔ 

    ہاں یہ کالی مچھلیاں عجیب سی ہی ہیں لمبی پتلی پانی پر تیرتی چھپکلی ہی لگ رہی۔ل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہہہہہ

    سرسراہٹ اسکے سر سے کندھوں پر آئی یونہی اس نے گردن نیچے کی تو موٹی سی پیلی چھپکلی اسکے متوجہ ہونے پر گھبرا کر اسکے جسم کو ستون کا حصہ سمجھتے واپس اوپر کی جانب پلٹی

    آخ۔ چیختے چلاتے وہ بری طرح اپنے ہاتھ جھٹک رہی تھی۔ 

    اسکو ایکوریم سے فاصلہ رکھنے کی ہی ہدایت کرنے آیا اہلکار اسے ہراساں دیکھ کر مددکی۔نیت سے آگے بڑھا

    مگر وہ موقع نہیں دے رہی تھی۔ اس سے ذیادہ گھبرائی چھپکلی اپنی زلزلے میں آئی نئی پناہ گاہ سے خوف کھاتی اس پر دوڑتی پھر رہی تھی نور نے بازو جھٹکا عزہ اسکی جانب لپکی چھپکلی خود ہی زمین پر جا گری۔ 

    اب چھپکلی جانے کہاں گئ ایک دنیا اس چیخ چیخ کر بے حال ہوتی لڑکی کے پاس آن جمع ہوئی تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپنا عبایا اتارو اور اسکارف بھئ۔ 

    واعظہ سنجیدگی سے انکی بات کاٹ کر مخاطب ہوئی نور سے

    کیوں؟ 

    نور نے اچنبھے سے دیکھا

    میں جو کہہ رہی ہوں۔ یہ ٹینٹ لگا ہوا ہے اپنا عبایا اور اسکارف اتارو اندر جا کر بیٹھو کھانا کھائو۔ ہم تب تک ساحل کا چکر لگا کر آتے ہیں۔

    واعظہ نے کہا تو انکو بھی اسکی بات سمجھ آئی

    تو اور کیا۔ چھپکلی تمہارے اوپر گری زیادہ سے زیادہ عبایا گندا ہوا اسے اتارو اپنا ماسک بھی اور آرام سے اندر بیٹھ کر کھانا کھائو۔ اتنا مسلئہ بنایا ہوا ہے تب سے۔ 

    عروج نے بھی تائید کی تو عزہ نے بھی ہمت کی

    اور کیا میرے ساتھ بیٹھ کر آئی ہو اس طرح تو میرا عبایا بھی گندا ہو گیا ہوگا اب کیا میں کھانا ہی نہ کھاتی اس چکر میں۔ 

    مگر میرے ہاتھ ۔۔۔۔۔ نور نے کہا تو واعظہ نے بچ جانے والی منرل واٹر کی بوتل گہری سانس لیکر دسترخوان سے اٹھائی۔ 

    اب نور کو کچھ اطمینان ہوا۔ 

    اندر ٹینٹ میں بیٹھ کر اپنا عبایا اسکارف ماسک سب اتار کر شاپر میں ڈالا۔ منرل واٹر سے ہاتھ دھوئے اب ٹھنڈا کھانا کھانے بیٹھ گئ۔ 

    واپسی پر کیا کروں گئ؟ 

    نئی فکر۔

    واعظہ نے اپنا اسکارف اتار کر گولا بنا کر اسکے منہ پر مارا۔ 

    اسی سے منہ بھی ڈھک لینا اب خدا کا واسطہ ہے کھانا کھائو۔ 

    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔ اس نے اپنا کدو جیسا سر ہلایا اور کھانا شروع کر ہی دیا آخر۔

    اسکو اطمینان سے اس جھونپڑے میں چھوڑ کر وہ سب گھومنے آگے بڑھیں تو نور بڑ بڑائی۔۔ 

    یہ۔کام۔پہلے نہیں کرسکتی تھی۔ بھوک سے آنتیں پلٹ گئیں میری۔۔ 

    دریا کنارے چہل قدمی کرتے فاطمہ نےبہت سنجیدگی سے پوچھا

    یار عزہ نے تو عبایا پہنا تھا نور میرے بھی تو ساتھ بیٹھی تھی کپڑے تو میرے بھی۔۔۔۔۔ 

    اسکا جملہ یہیں تک پہنچا تھا واعظہ نے اسکو سیدھا ہیڈ لاک لگایا تھا۔ساحل کنارے دو لڑکیاں ایک دوسرے کو پکڑ پکڑ کر دھو رہی تھیں

    یار یہ دونوں مارپیٹ پر کیوں اتر آتی ہیں فورا۔ 

    انکی لڑائی کی وجہ سے لاعلم عزہ نے تاسف سے عروج سے کہا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انکل باہر منے صوفے پر۔بیٹھے تھے یہ سب عروج کے کمرے میں گھسی تھیں۔ 

    عروج عزہ واعظہ فاطمہ الف سب نے علیحدہ علیحدہ تحفے دیئے تھے اسے۔ 

    بہت یاد آئوگئ نور۔ الف اس سے لپٹ کر بولی تو نور کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ عروج بھئ آبدیدہ ہو کر ان دونوں سے لپٹ گئ۔ عزہ اور فاطمہ نے بھی تقلید کی۔ واعظہ گہری سانس بھر کر اپنا موبائل سنبھالنے لگی۔ ان سب نے لپٹ کر ایک چھوٹا موٹا گلوب ہی بنا لیا تھا۔ ہیومن گلوب۔ تو تصویر تو بنتی ہی تھی۔ 

    میں بھئ۔ یہاں گزرا ایک ایک پل یاد گار ہے میرے لیئے۔ 

    چند لمحے جذباتی ہوئے رہنے کے بعد نور نے خود کو سنبھالا۔

    میری جانب سے تم سب کیلئے۔ 

    اس نے ایک بڑا سا باکس اپنے بیڈ سے اٹھا کر انکے آگے بڑھایا۔

    کیا ہے اس میں۔ الف کواشتیاق ہوا۔ 

    جو بھئ ہے میرے جانے کے بعد کھول کر دیکھنا پلیز۔ 

    اس نے لگے ہاتھوں تنبیہہ بھی کردی۔

    اب زرا یہ سب رکھنے میں مدد بھی کروائو۔ 

    اس نے اپنا اٹیچی بیڈ پر رکھا۔ سب کے تحفے رکھنے لگی تو اٹیچی نے مینار کھڑا کر دیا۔ 

    عقل بڑی کہ بھینس۔ 

    واعظہ آگے بڑھ کر اسے گھورنے لگی۔ 

    کھولو سب گفٹس ابھی دیکھ کر لگے ہاتھوں شکریہ ادا کرو اور آرام سے رکھو انہیں۔ 

    اسکے ڈانٹنے پر کھسیا سی گئی نور مگر سر ہلا کر کھولنے لگی۔

    سب سے بڑا الف کا گفٹ تھا سب سے پہلے وہی کھولنے لگی تو الف سٹپٹا گئ۔ 

    یہ تو پاکستان جا کر کھولنا نا۔ اسکے کہنے پر ان چاروں پانچوں نے گھور کر دیکھا۔ 

    مطلب سرپرائز ہے نا۔ 

    وہ سر کھجا کے رہ گئ۔ 

    بڑا سا دودھ کے چھے ڈبوں والے کارٹن کو اس نے گفٹ ریپ سے بند کیا تھا۔ 

    ہے تو ہلکا سا کیا ہے اس میں؟ نور نے اٹھا کر وزن کا اندازہ کرنا چاہا۔ 

    تمہارا ہی کوئی دوپٹہ اس نے واپسی کی نیت سے پیک کر دیا ہوگا۔ عزہ نے کہا تو سوائے الف کے سب کھل کر ہنسی تھیں الف اسے گھور رہی تھی مگر عزہ حیران ہو کر پوچھ رہی تھی کیوں ہنس رہی ہو تم سب مزاق نہیں کر رہی  میں سنجیدہ ہوں۔۔ 

    خیر تحفہ کھلا اور نور کا منہ بھی۔ 

    اتنے بڑے ڈبے میں ایک معصوم چھوٹا سا پیکٹ تھا جس میں ایک عدد خوبصورت سا برسیلیٹ تھا۔ 

    وہ اس کے ساتھ ڈبہ تھا نہیں اور گھر سے یہی ڈبہ ملا مجھے۔ الف کھسیائی۔۔ 

    نور گھور کر رہ گئ

     بریسلٹ واقعی پیارا تھا۔ 

    عروج نے پرفیوم دیا تھا ، فاطمہ نے کورین میک اپ کٹ جس پر نور نے جھٹ پوچھا تھا

    اس میں حلال اجزا ء تھے نا؟ میں نے سنا ہے یہ لوگ میک اپ میں کیڑے مکوڑوں اور گھونگھوں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ 

    صحیح سنا ہے رہنے دو میں خود استعمال کر لوں گی ان کیڑے مکوڑوں کو۔ 

    حسب توقع فاطمہ نے اسکے ہاتھ سے کھینچ لینا چاہا۔ 

    نہیں یہ تو تمہاری یاد دلائے گا اسکو سنبھال کر رکھوں گی۔ 

    نور کے انداز میں شرارت تھئ۔

    عزہ نے پھولدار پرنٹ کا خوبصورت اسکارف دیا تھا۔ 

    واعظہ نے بے حد خوبصورت سا فوٹو فریم دیا تھا جس کے ساتھ ننھا سا لیمپ بھی لگا تھا۔ 

    نکال کر بے ساختہ وائو نکلا تھا اسکے منہ سے پھر منہ بناکر دیکھنے لگی۔ کیونکہ فوٹو فریم میں اسکی ہی تصویر لگی تھی بڑے سے ماسک سے منہ ڈھکے ہوئے ہی۔ 

    میرے پاس یہی اکیلی تصویر تھی تمہاری۔

    اس نےکندھے اچکا دیئے تھے۔ فریم کو اس نے اسی کی پیکنگ میں رکھ کر احتیاط سے کپڑوں کے بیچ میں دبا دیا تھا تاکہ ٹوٹے نا۔ اب سب چیزیں آرام سے اسکے اٹیچی میں آگئ تھیں۔ 

    ابیہا سے ملنا پہلی فرصت میں۔جب سے گئ ہے بے مروت نے ایک فون تک نہیں کیا۔عروج نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ 

    سہیلیوں کے جھرمٹ میں وہ اپنا اٹیچئ سنبھالتی کمرے سے نکلی  تھی۔ ابا اسے دیکھتے ہی فورا کھڑے ہو گئے تھے۔ 

    طوبی انکے پاس کھڑی ان سے ہی باتیں کر رہی تھی۔ فورا اسکی جانب ایک شاپنگ بیگ بڑھا دیا۔ 

    یہ تمہارے لیئے۔ 

    وہ کارڈیگن لائی تھی۔ گو اب یہاں موسم معتدل تھا مگر یہاں کے کارڈیگن وغیرہ جتنے گرم تھے اسکا بس نہیں تھا ایک آدھ بازار بھی اپنے ساتھ پیک کر کے لےجائے

     خیر دوبارہ اٹیچی کھولی گئ کارڈیگن رکھا اٹیچی اب بند نہیں ہو رہا تھا۔ 

    اسکو پہن لو ۔ واعظہ کا مشورہ تھا۔ پہلے تو اس نے یوں دیکھا جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہو مگر پھر یہی کرنا پڑا۔ 

    ہم ائیر پورٹ پر بھی چھوڑنے آئیں گے۔ 

    دروازے سے نکلتے نکلتے بھی وہ سب لپٹ لپٹ رہی تھیں۔اسکے بابا پیار بھرے انداز میں انکی محبت کو دیکھ رہے تھے۔ 

    نہیں بیٹا صبح سات بجے کی فلائیٹ ہے دبئی کی۔ آپ لوگ پریشان ہوگی بس یہیں سے خدا حافظ کہہ دو۔ 

    انکل نے نرمی سے ٹوکا۔ صبح تو پیر کا دن تھا یقینا سب کو اپنے اپنے کام پر جانا ہوگا یہی سوچ کر انہوں نے سہولت سے منع کیا تھا۔ عزہ سر ہلاتے پھر ںور سے لپٹ گئ۔

    اب پورا بیڈ میرا ہوگا۔ 

    الف گلے ملتے سرگوشی سے باز نہ آئی۔ نور نے غصے سے گھورنا چاہا مگر اسکے کھلکھلاتے چہرے پر نم آنکھوں نے اسے غصہ کرنے نہ دیا۔ 

    ہمیشہ اسکو گلہ رہا کہ یہ اکلوتی کیوں ہے مگر مجھے یقین  ہے اتنی پیاری بہنیں ملنے کے بعد تمہارا شکوہ دور ہو گیا ہوگا۔ 

    بابا نے کہا تو وہ آنکھیں پونچھ کر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی۔

    اوکے خدا حافظ۔ 

    سب سے بالمشافہ ملنے کے بعد اس نے ہاتھ ہلایا۔ اٹیچی گھسیٹتے وہ قصدا رخ موڑ گئ ۔جانے کہاں کہاں سے آنسو امڈ رہے تھے کہ آنکھیں خشک ہو ہی نہ پارہی تھیں۔ اسے لگا کہ مڑ کر دیکھا تو جانا مشکل ہوجائے گا۔  اسکے ساتھ قدم بڑھاتے انکل نے لمحہ بھر کو رک کر اسکی تیزی کو دیکھا پھر پلٹ کر آئے واعظہ کے پاس۔

    تمہارا بہت بہت شکریہ بیٹا تم نے جو کیا نور کیلئے اسکا تو میں بدلہ نہیں چکا سکتا یہ ایک چھوٹا سا تحفہ رکھ لو۔ 

    ارے انکل اسکی ضرورت نہیں۔اس نے صاف انکار کیا مگر انکل اسکی نا نا کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تحفہ تھما دیا۔ ان سب کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ خدا حافظ کہہ کر نور کا بیگ سنبھالتے لفٹ کی جانب بڑھ گئے جہاں نور بٹن پر ہاتھ رکھے انکا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح وہی معمول کے مطابق تھی۔ بس ایک فرد کم تھا۔ عزہ اور الف پہلی دفعہ باتھ روم پہلے جانے کی بحث میں نہیں پڑیں۔ عروج کی آج سے نائیٹ تھی سو اس وقت اس نے اٹھنا نہیں تھا۔سو آج کئ لڑائی بس ان دونوں کے درمیان ہونی تھی۔ مگر آج جب عزہ باتھ روم جا رہی تھی الف نے حسب عادت چھلانگ مار کر راستہ نہیں روکا وہ پھر بھی رک گئ اور اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انتہائی شرافت سے الف اسے جانے کا اشارہ کرتی کمرے سے باہر نکل گئ۔ اسکا ارادہ آج واعظہ کا اٹیچ باتھ استعمال کرنے کا تھا۔ فاطمہ ڈبل بیڈ پر خوب پھیل کر لیٹی تھی تو واعظہ اپنے بیڈ پر نیم دراز موبائل استعمال کرنے میں لگی تھی۔ 

    سو جائو اب تو۔ 

    اس نے جھلا کر ٹوکا یقینا وہ ابھی تک سوئی نہیں تھی واعظہ نے شائد سنا بھی نہیں اثر لینا دور کی بات۔ 

    ابیہا عشنا اور اب نور فلیٹ خالی ہوتا جا رہا ہے  

    اسے اس وقت کی خاموشی کھلی تھئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

    پروگرام ختم کرتے ہی وہ عجلت میں اپنا پرس سمیٹتی باہر نکل آئی۔ ژیہانگ نے اسکی عجلت کو محسوس بھی کیا کچھ کہنے کیلئے منہ بھی کھولا مگر چپ ہو رہا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی عمارت سے باہر نکل آئی۔ شام کے دھندلکے رات کے اندھیروں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ خنک سرد ہوا جسم سے ٹکراتی تو جھر جھری سی آجاتی۔ 

    یہاں کی گرمیاں سردیاں مزاق ہیں بس ۔ صحیح کہہ رہی تھی نور مجھے سارے پیسے گرمیوں کے کپڑوں کے برباد کرکے بھئ کوئی خاص فرق تو نہیں پڑا۔ سردیوں کے کپڑے بھی چل گئے آرام سے۔ 

    وہ اپنے اپر کی زپ بند کرتی سوچ رہی تھی۔ 

    پیدل چلتے اسٹاپ پر آکر اس نے یونہی موبائل نکال کر دیکھا تو تین مسڈ کالز پڑی تھیں۔ ژیہانگ۔۔۔ 

    اس نے زیر لب دہرایا۔ 

    تبھئ ایک بار پھر کال آنے لگی۔ 

    اس کا موبائل سائیلنٹ تھا اس نے لمحہ بھر سوچا پھر اٹھا لیا۔ 

    کہاں ہو؟ میں گاڑی لایا ہوں گھر ڈراپ کردیتا ہوں۔ 

    اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔ 

    آں وہ مجھے آج زرا جلدی تھی تو نکل آئی اب تو بس میں بیٹھی ہوئی ہوں ۔۔ وہ آخر میں ہلکا پھلکا انداز اپنانے کو ہنس بھی دی۔ 

    اچھا چلو ٹھیک ہے۔ خیریت سے جائو اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔ 

    اس نے ذیادہ اصرار نہیں کیا۔ اسکے جواب کا انتظار کیئے بنا فون رکھ دیا وہ جو جواب دینے کیلئے منہ کھول ہی رہی تھی گہری سانس لیکر رہ گئ۔ 

    بس آکر رکی تو وہ سست سے قدم اٹھاتی بس میں چڑھ گئ۔ 

    سڑک کے دوسری طرف گاڑی میں بیٹھے ژیہانگ نے اسکی بس چلنے کے بعد ہی گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد ۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 38

    قسط 38
    لائونج میں اس وقت جیسے دن کا سماء تھا۔
    رات کے دو بجے وہ سب الو بلکہ النیں بنی ہوئی کافی اور چاکلیٹ کیک اڑا رہی تھیں۔
    منی میز پر چاکلیٹ کیک رکھا ہوا تھا اسکےگرد گھیرا ڈالے واعظہ عروج نور اور عزہ نے باقائدہ چئیرز کرکے کافی کے مگ ٹکرا ئے۔
    یار ویسے چئیرز کی جگہ ہمیں اردو میں کچھ کہنا چاہیئے۔
    عزہ کو دور کی سوجھی۔ فٹا فٹ گوگل ٹرانسلیٹر کھول لیا۔
    اردو میں چئیرز کا مطلب خوشیاں بنتا ہے۔
    دوبارہ مگ ٹکرائو ہم اس بار خوشیاں کہیں گے۔
    وہ پرجوش تھی۔ ان سب کو کوریا کی سردیوں نے کھولتی کافی پینے کی عادت ڈالدی تھئ سو سب اپنا اپنا مگ منہ سے لگا چکی تھیں۔
    پلیز۔ عزہ بسوری تو ناچار سب کو دوبارہ اپنے اپنے مگ ٹکرانے پڑے۔ وہ کھلکھلا دی۔
    الف سوگئ کیا ؟ میرا تو خیال تھا آج کے شو کی ڈھیر ساری باتیں بتانے والی ہوںگی اسکے پاس۔۔
    واعظہ کوالف کی غیر موجودگی محسوس ہوئی
    ہاں تھیں تو مگر شائد تھک بہت گئ ہے۔آتے ہی بستر میں گھس گئ۔
    نور نے بتایا تواس نے سر ہلا دیا۔
    تو تم پرسوں پکا جا رہی ہو؟
    واعظہ نے براہ راست اس سے پوچھا۔اس کو اسکے سوال پر حیرت ہوئئ
    تمہارا خیال ہے میں نے فلائٹ ایویں ہی بک کرائی ہے۔پکا واپس جا رہی ہوں میں۔
    اس نے جتانے والا انداز اختیار کیا۔
    کل تمہارے بابا نے مجھے ملنے بلایا تھا۔۔۔
    واعظہ نے کہا تو وہ تینوں حیران ہو کر دیکھنے لگیں اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ مقررہ وقت پر کیفے پہنچ گئ تھی۔ ابھی اندر داخل ہو کر متلاشی۔نظروں سے شکیل صاحب کو ڈھونڈنا چاہا تبھی کونے میں میز پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے ہاتھ۔ ہلایا۔ وہ سیدھی انکے پاس ہی۔چلی آئی۔ اسے آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر اٹھ کھڑے ہوئے تھے
    اسلام و علیکم انکل۔
    اس نے ادب سے قریب آکر سلام کیاتھا۔
    بلو جینز پر سفید شرٹ اور سفید ہی اپر پہنے کندھے پر لٹکتا بیگ مکمل مغربی حلیہ مگر مشرقی انداز میں سلام کرکے ہلکا سا سر انکے سامنے جھکا دیا تھا۔ انہوں نے پر شفقت انداز میں سر پر ہاتھ رکھا۔
    بیٹھو بیٹا۔۔ کیسی ہو۔ کیا کھائو گی۔ ؟
    وہ بے تکلف انداز میں پیار سے پوچھ رہے تھے اس نے جوابا بنا تکلف کیئے فرمائش بتادی۔
    بس کافی پیئوں گی انکل۔
    اچھا۔ وہ متزبزب ہوئے
    مگر بیٹا جانی انکل کو تو بھوک لگی ہے اور یہاں کے حلال ولال ریستوران کا پتہ نہیں سو ذرا مدد کرو آرڈر کرنے میں کیا کھایا جا سکتا ہے یہاں؟
    وہ الجھن بھرے انداز میں مینیو کھولے بیٹھے تھے۔
    وہ انکے انداز پر کھل کر مسکرا دی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ انہیں پاکستانی ریستوران لے آئی تھی۔ خالی خولی چائے ناشتے سے یقینا اکتاہٹ ہو رہی تھی انہیں۔۔ یہاں آکر وہ خوش ہوئے۔ مینیو میں ہرقسم کا کھانا تھا۔
    چیز نان چکن تندوری پیڑے والی لسی سیخ کباب ۔ کوریا میں پاکستانی ریستوران کے گو ذائقے میں محسوس کیا جانے والا فرق تھا مگر اتنے دنوں کے بعد پاکستانی کھانا کھا کر لطف آگیا تھا انہیں۔
    مہینہ ہونے کو آگیا مجھے کوریا میں آئے کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ پاکستانی کھانے مل جاتے ہیں یہاں۔ حد ہے۔ اتنے دنوں سے ہوٹل والے حلال فوڈ کے نام پر سبزیاں یا پھیکے سیٹھے پلائو اور میکرونی کھلا رہے۔ آج میں نے پیٹ بھر کر کھایا۔شکریہ لڑکی تم نے کمال کردیا۔
    وہ خوش ہوئے تھے خوب کھا پی کے۔ واعظہ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔کھانا کھا لیا لسی پی لی پھر بھی چائے کی کمی تھی۔
    بیٹا یہاں چائے ملے گی؟
    انہوں نے واعظہ سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا کر اشارے سے ویٹر کو بلا کر آرڈر دیا۔
    ایک کپ چائے اور بل پلیز۔
    تم نہیں پیئو گئ ؟
    انکل نے پوچھا تو وہ سہولت سے سر نفی میں ہلا گئ۔
    نہیں انکل چائے ذیادہ نہیں پیتی میں۔
    اس کے کہنے پر وہ ہنکارہ بھر کے خاموش ہو رہے۔
    ویٹر میز سمیٹ کر چلا گیا تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
    بیٹا تم سوچ رہی ہوگی میں نے تمہیں کیوں بلایا؟
    اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
    بیٹا تم نور کو منائو سمجھائو کہ اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کرے۔ جو بھی ہوا اس میں اسکا کوئی قصور نہیں تھا۔ مجھے اپنی بیٹی پر پورابھروسہ ہے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیش بیک روک کر نور نے بات کاٹ دی۔۔
    کیسے میرا کوئی قصور نہیں تھا؟ میرا قصور تھا۔ میں بھول گئ تھی کہ میں انجان ملک میں ہوں۔ جتنا تیس مار خان بن کر میں نے اس لڑکے کا اکائونٹ ہیک کرکے اسے پٹوایا کیا میں ایسا کرنے کا کبھی پاکستان میں سوچ بھی سکتی تھی؟
    کبھی نہیں۔ یہاں مجھے کوئی جانتا پہچانتا نہیں اس بات پر اکڑ کر میں نے حد سے باہر نکل جانا چاہا۔ پنگے لے رہی تھی میں میری وجہ سے عزہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنستے پھنستے بچی۔
    مجھے کوئی شکایت نہیں تم سے نور۔ عزہ منمنائی
    نہ ہو مگر اپنی نگاہ میں مجھے اپنا آپ چھوٹا لگ رہا ہے۔میرے ماں باپ نے مجھ پر بھروسہ کرکے یہاں میری ضد پر پڑھنے بھیجا اور میں یہاں پڑھائی پر سے دھیان ہٹائے پنگے لے رہی تھئ۔ تھا قصور میرا۔مجھے سزا ملنی چاہیئے تھی۔۔
    اب اگر اسکو بتائوں کہ ثریا۔۔
    واعظہ اسکی شکل دیکھتے سوچ رہی تھی۔۔
    اور کیا کہا انہوں نے۔
    نور کا انداز دوبدو سوال جواب کا تھا۔
    واعظہ نے اپنے کندھے کے اوپر فلیش بیک چلا دیا
    اب شکیل صاحب بول رہے تھے اور جواب یہاں نور فلیش بیل روک روک کر دے رہی تھی۔۔
    مجھے نور سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں میری بیٹی میرا مان میرا فخر ہے۔ مانا اسکی امی کا تربیت کا انداز اسکے دل میں کافی شکوے بھر چکا ہے مگر بیٹا نورمیری اکلوتی بیٹی ہے۔ بہت محبت کرتا ہوں اس سے۔ ورنہ بیٹا بیٹی دونوں دوسرے ملک میں پڑھ رہے ہیں اکیلے گھر میں ہم میاں بیوی کا وقت کاٹنا مشکل ہوجا تا ہے۔
    رکو۔ نور نے فلیش بیک روکا۔
    یہ کیا تم انکل کو۔رکو کہہ رہی ہو بدتمیز۔
    عروج نے فورا ٹوکا۔
    بابا کو نہیں روکا فلیش بیک روکا۔ پھر سر جھکا کر بولی
    میں نے جیل میں اکیلا پن تنہائی کاٹتے بہت کچھ سوچا۔ ہمیشہ اپنی امی سے کم چاہے جانے کا شکوہ کرتی تھی ۔جو مجھے لگتا تھا بالکل سچ ہے مگر مانا وہ شائد بھائی کے مقابلے میں مجھ سے محبت میں ڈنڈی مار جاتی ہوں مگر ماں ہیں وہ میری بھی۔ جب ۔بخار ہوتا کبھی تو ساری ساری رات سرہانے بیٹھی رہتیں پڑھ پڑھ کر پھونکتیں۔کبھی مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ یہ سب کرنے والی ماں بھی کبھی تھکتی ہوگی۔ دعائیں پڑھتے ہونٹ زبان خشک ہو جاتی ہوگی اور میں کیسا سکون سے سو جاتی تھی۔ ۔ وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں جیل ہی جیسے خیالوں میں جا پہنچی تھی۔۔
    ۔جیل میں ایک سو تین بخار پر فرش پر دوا کھا کے لیٹی تھی تب احساس ہوا وہ نرم لمس وہ پیار بھری دعا کیسے بخار بھگا دیتی تھئ ۔۔۔
    اس نے سسکی سی لی۔ جیل میں کروٹ بدلتے ہوئے۔۔آہجومہ کے خراٹے گونج رہے تھے۔ خشک ہوتے گلے کو تر کرنے کیلئے اس خود ہی اٹھنا تھا۔ زمین کا سہارا لیتی وہ دو ناکام کوششوں کے بعد ٹھنڈی دیوار کا سہارا لیکر اٹھ پائی تھی۔
    کونے میں رکھے چھوٹے سے کولرکیساتھ رکھا اسکا گلاس۔
    اس نے ڈولتے قدموں سے آگے بڑھ کر گلاس اٹھایا ۔ملگجے اندھیرے میں گلاس میں اسے کچھ تیرتا سا نظر آیا۔ گلاس یقینا گندا تھا۔ اس نے کولر سے تھوڑا سا پانی لیکر گلاس مل کر دھونا چاہا تبھی اسے یاد آیا۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اف اتنے برتن۔ ایک تو اتنے ڈھیر سارےلوگوں کو اکٹھے کسے کے گھر جانا نہیں چاہیئے۔جو مہمانداری کرے اسکا تیل ہی نکل جائے۔۔
    اپنے کھانے کی پلیٹ واپس کچن میں رکھنے آئی تو کچن میں سنک میں پڑے برتن دیکھ کر موڈ خراب ہوگیا۔
    امی توے پر روٹیاں ڈال رہی تھیں۔ اسے چڑتے دیکھا تو رسان سے بولیں
    دوپہر کے بھی ہیں اور شام کی چائے کے بھی۔ تمہاری پھپو کے پاس نہ بیٹھو تو شکوہ کرتی ہیں کہ بھاوج بات نہیں کرتی۔کھانے کے برتن دھونے کا وقت نہیں ملا۔۔۔ میں تو رات کے کھانے پر روک رہی تھی مگر صبح بچوں کو اسکول جانا ہوتا ہے وہ رکی ہی نہیں۔
    اچھا ہوا ورنہ اتنے ہی رات کے کھانے کے بھی برتن ہو۔جاتے میرے دھو دھو کے ہاتھ ٹوٹ جانے تھے۔
    ناک چڑھاتی وہ نلکہ کھول کر شروع ہوگئ۔
    پانی کی دھار آہستہ کرو۔ بیٹا پانی ضائع نہیں کرتے۔
    امی نے فورا ٹوکا تو غبارے جتنا منہ پھلا کر اس نے پانی کی دھار دھیمی کردی۔
    ابھی کوئی ماسی ہوتی نا میری جگہ تو فل ٹونٹی کھول کر دھوتی۔ ویسے میری جگہ ماسی کیوں نہیں؟ اب تو سب گھروں میں برتن دھونے کیلئے ماسی ہی ہوتی ہے بابا کی تنخواہ اتنی تو ہے کہ ہم بھی ماسی افورڈ کر لیں۔
    اسکے ہاتھ اور زبان ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ امی نے روٹی اتار کر چولہا بند کیا ہاٹ پاٹ میں رکھ کر بندکرکے بولیں۔
    ہاں مگر گھر میں ہوتا ہی کون ہے ہم تین لوگ۔ بس کبھی مہمان آجائیں تو ہی کام بڑھتا وہ ہم ماں بیٹی پھرتی سے کر لیتے ہیں۔وہ چمکار رہی تھیں۔
    جائو تم اپنے بابا کو کھانا دے آئو باقی برتن میں دھو لیتی ہوں۔
    امی نے کہا تو وہ شرمندہ سی ہوگئ
    ارے میں تو یونہی بکواس کرتی ہوں آپ جائیں بابا کو کھانا دیں بس ابھی دھل جاتے ہیں تھوڑے سے ہیں برتن پھر ہم مل کر چائے پیتے ہیں۔
    اس نے کندھے سے پکڑ کر امی کا رخ موڑتے ہوئے پیار سے انہیں بھیجا وہ سر ہلا کر کھانا دینے چلی گئیں۔
    اتنے تھوڑے بھی نہیں۔
    اس ڈھیر کو صابن لگاتے اس نے گہری سانس لی۔ سب برتنوں کو صابن لگا کر جیسے ہی ٹونٹی کھولنے لگی امی واپس کچن میں چلی آئیں۔
    اف ہٹو تم ۔ فل ٹونٹی کھول کر دھوئوگی چلو چآئےچڑھائو پانی سے برتن میں نتھار دیتی ہوں۔
    امی نے اسے ہٹا ہی دیا تھا سنک میں۔ ہاہ۔ وہ برا مان کر منہ بنا گئ
    اتنا بھی پانی ضائع نہیں کرتی میں۔ خفا خفا سی کہتی وہ چائے کا پانی لینے لگی۔ مڑ کر دیکھے بنا چولہا جلانے لگی دیکھ لیتی تو حیران رہ جاتی بیٹی کو ڈانٹ کر پانی سے ہٹانے والی امی مسکرا کر پیار سے اسکا پھولا پھولا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ اسکو ڈانٹ کر ہٹانے کا مقصد صرف اسکی مدد کرانا ہئ نہیں بلکہ اسکو ٹھنڈے یخ پانی سے برتن دھو کر بیمار پڑنے سے بچانا تھا امتحان سر پر جو تھے۔ مگر تھیں تو خالص پاکستانی امی۔ پیار جتا تھوڑی سکتی تھیں۔وہ بھی بیٹئ کو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ سو نخروں سے برتن دھوتئ تھی یا پیاز لہسن کاٹ دیا وہ بھی کرنے سے امی روک دیتی تھیں جب میرے امتحان ہوتے تھے ۔۔۔ اورپتہ ہے۔
    نور لمحہ بھر کو رکی۔ اسکی آنکھوں میں پانی سا بھر آیا ۔۔
    میں ساری ساری رات جاگتی تو رات میں کتنی ہی دفعہ آکر کبھی مجھے ٹوک کر سونے کا کہتیں تو کبھی چائے بنا کر دے جاتیں۔ میں کھانا پینا چھوڑ دیتی تھی کہ موٹی ہو رہی ہوں کیا کیا جتن کرکے مجھے بہلا پھسلا کرکھلاتی پلاتی تھیں۔کبھی تازہ جوس نکال کر لاتیں کبھی سالن پر سے تری نکال کر مجھے پچکارتیں کھا لو کچھ نہیں ہوگا۔ کپڑے بنوانے میچنگ دوپٹہ لینا اپنی مرضی سے کم پر بالکل نہیں ماننا۔ امی اپنی تھکن بھلائے میرے ساتھ بازار چل پڑتیں۔ ڈینم عبایا بنوانا ہے میرے ساتھ گھنٹوں انار کلی میں پھریں۔ جب تک مطلوبہ۔۔
    وہ رو پڑی تھی ماں کو یاد کرکے۔ واعظہ عروج اور عزہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر اپنا اپنا مگ اٹھا کر کافی کی چسکی لینے لگیں۔ ابھئ انکا بولنے کا وقت نہیں آیا تھا۔۔
    فلیش بیک دوبارہ شروع ہوا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اکیلے گھر میں ہم میاں بیوی کا وقت کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔پھربھی میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس پاکستان چلی جائے میرے ساتھ۔ پچھلے تین چار دن میں میں نے اسکی یونیورسٹی کے چکر لگائے ہیں اسکے پروفیسروں سے بات کی ہے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے بات کی ہے پچھلے تین سمسٹروں میں اسکا جی پی اے اتنا اچھا ہے کہ وہ اسکی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ اسے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل جائے گی۔ اورجتنی وہ ذہین ہے ابھی امتحان میں مہینہ پڑا ہے ایکسٹرا کلاسز لگوا کر دیتا ہوں میں یہاں ٹیوٹر کا انتظام کروا دیتا ہوں۔ جو ہوا اسے ڈرائونا خواب سمجھ کر بھول جائے۔۔۔۔جو کچھ ہوا اس اسکے کوریا سے چلے جانے سے کوئی تعلق نہیں۔سچ بتائوں یہاں اتنا تعاون کیا پولیس نے کہ میں سوچنے لگا اگر خدا نخواستہ یہ سب پاکستان میں ہوا ہوتا تو کیا ہوتا۔ وہ یہاں محفوظ ہے بس ایک برے تجربے سے ڈر گئ ہے۔یہ وقت اس ڈر سے یہاں سے بھاگنے کا نہیں بلکہ خود کو مزید مضبوط کر کے مقابلہ کرنے کا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس نے کہا میں اس واقعے کی وجہ سے ڈر کر بھاگ رہی ہوں۔ ؟
    اپنے آنسو پونچھ کر وہ ایکدم تیز سی ہو کر بولی
    اگر یہ سب پاکستان میں ہوا ہوتا تو ڈر کر بھاگ آتی میں کوریا مگر کوریا سے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ یہاں پر کیا کچھ نہیں سہنا پڑا ہے مجھے دوران تعلیم۔ انٹرنیشنل اسکول ہے پھر بھی اساتذہ انگریزی کی بجائے ہنگل میں پڑھاتے جاتے ہیں۔کچھ بولوتو جواب ملتا ہنگل سیکھو۔ تعصب اتنا ہے کہ عبایا دیکھ کر میرے ساتھ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ان ڈیڑھ سالوں میں ایک دو لڑکیوں سے تھوڑی بہت زبردستی دوستی کی بھی تو ان دونوں نے بوائے فرینڈز بنا لیئے ہیں کلاس ختم ہوتے ہی بھاگ جاتی ہیں اپنے بندوں کے پاس۔
    اسکے شکوے پر واعظہ اور عروج نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بمشکل ہنسی ضبط کی ۔جبکہ عزہ سر ہلا رہی تھی
    میری بھی جاپانی دوست نے بوائے فرینڈ بنایا ہے کورین۔ دونوں کو ایک دوسرے کی بات بھی سمجھ نہیں آتی اور شکل اتنی ملتی گرل فرینڈ بوائے فرینڈ سے ذیادہ بہن بھائی لگتے ہیں۔
    عزہ نے اتنی سادگی سے بتایا کہ تینوں قہقہہ لگا کر ہنس دیں۔
    سچ کہہ رہی ہوں۔ عزہ برا مان گئ۔ اسے لگا تینوں کو یقین نہیں آیا۔
    ویسے کورین فارن لینگوئج پڑھتے ہیں تھوڑئ بہت چینی تو سکھائی جاتی ہے ہائی اسکول میں۔ ہم ۔۔
    واعظہ کوئی قصہ سنانے لگی تھی مگر نور کو کینہ توز نگاہ سے گھورتا دیکھ کر سر کھجانے لگی۔
    تم اپنی بات پہلے مکمل کر لو۔
    واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلا کر سلسلہ کلام جوڑنے لگی۔

    میں اگر کوئی سوال پوچھ لوں تو سیدھا مزاق اڑاتے ہیں کہ پھابو کو اتنا نہیں پتہ۔ اوپر سے اس کمینے جس کی وجہ سے یہ ساری مصیبت مجھ پر آئی پوری کلاس میں جس طرح میرے اسٹیشن پر گندی ویب سائٹ کھول کر مجھے شرمندہ کیا تھا اسکو جتنا بھی بھلا دوں مگر میرے پیٹھ پیچھے کبھی میرے سامنے میرے کلاس فیلو مجھے بے چھن بو کہہ ڈالتے ہیں۔
    매춘부( مشکوک کردار کی لڑکی)
    کیا۔ عروج واعظہ عزہ تینوں کے منہ سے کافی نکلی تھی۔
    شائد غلط وقت تھا گھونٹ بھرنے پر۔
    آخ۔۔ نور گھنیا سی گئ۔ اسکے اوپر چھینٹے آئے تھے۔ واعظہ تو بالکل سامنے بیٹھی تھی اسکے۔۔
    چھوٹی میز کی دراز سے ٹشو نکال کر بھی اسی نے دیا۔ وہ چہرہ پونچھنے لگی۔
    تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا منہ توڑ دیتے ہم
    عزہ نے آستین چڑھائی۔
    کوئی یونیورسٹی میں ہونے والی بلنگ کا کچھ اکھاڑ سکتا ہے بھلا؟
    نور نے جتایا ۔ بات تو سچ تھی
    خیر اب ہم واقعی اسکی یونیورسٹی جا کر انکے منہ تو نہیں توڑ سکتے تھے۔مگر تم ایسی کسی چیز کی شکایت اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کر سکتی تھیں۔
    واعظہ ٹشو رول میز کی دراز سے نکال کر میز صاف کرتے بولی۔
    اسکول کالج یونیورسٹی میں بلنگ پاکستان میں بھی ہوتی ہے۔
    ایسے ہی بتا رہی ہوں۔
    عروج نے کندھے اچکائے۔
    کم از کم بھی پانچ وجوہات ہیں واپس جانے کی پہلی زبان بالکل الگ ہے یہاں رہناتو ہنگل سیکھو اتنئ مشکل زبان ہے حلق میں خراشیں پڑ جائیں صحیح تلفظ میں بولنے ہر۔ ،
    دوسرا وہاں بابا خود اسکول کالج چھوڑنے لینے آتے یہاں بس میں لٹک کر جائو وہ بھی لیڈیز کو بٹھانے کا رواج ہی نہیں یہاں نہ ہی الگ الگ حصے ہوتے خواتین اور مردوں کے۔
    تیسرے اچھے کھانے کو۔ترس گئ ہوں ہر وقت سبزیاں کھائو باہر جائو تو بس حلال حرام کرتے رہو۔۔
    چوتھا سردیاں جاتی ہی نہیں یہاں سے ہر وقت گھر میں بند رہو باہر انکے حساب سے گرمیوں میں بھی ٹیمپریچر 25، 26 ہوتا ہم اے سی کو اتنے پر چلاتے ہیں۔
    پانچواں پورا سمسٹر ایک مہینے میں بنا مڈز دیئے کلیئر کرنا آسان بھلا؟
    تم فریز کرا لو اگلے سمسٹر سے باقائدہ پڑھائی کرلینا ایک ڈیڑھ مہینے کا ہی تو گیپ پڑے گا۔
    عزہ نے سمجھانا چاہا۔ عروج اور واعظہ اسے بغور دیکھ رہی تھیں۔
    یہ پانچوں وجوہات بودی ہیں۔تم ڈیڑھ سال سے یہاں رہ ر ہی ہو اسی سب کے ساتھ اور پورے چار سال مکمل کرنے کا ارادہ تھا تمہارا۔۔
    عروج کہے بنا نہ رہ سکی۔ واعظہ کا انداز ایسا ہی تھا جیسے اسے عروج سے مکمل اتفاق ہو۔
    ۔میں۔۔۔۔وہ کہتے کہتے ایکدم چپ ہوگئ۔
    وہ تینوں بھی چپ ہو کر اسکو دیکھنے لگیں۔
    میں سچ مچ اس واقعے کی وجہ سے ڈر کر بھاگ رہی ہوں۔
    اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا۔
    میں اکیلے نہیں رہ سکتی۔مجھے امی بابا بہت یاد آرہے ہیں۔ میں انکے بغیر نہیں رہ سکتی کہیں۔۔ مجھے احساس ہوگیا ہے اس بات کا۔پھر یہ سب پریشانیاں کیوں سہوں ؟ وہاں کچھ بھی تھا ایسا سلوک نہیں ہوا کبھی میرے ساتھ۔ کم ازکم ۔۔۔۔۔۔اور یہاں آنے پڑھنے کا کوئی شوق نہیں تھا مجھے۔ صرف امی بابا کو جتانے کیلئے فیصلہ کیا تھا۔ یہ سوچے بنا کہ وہ اکیلے کیسے رہتے ہونگے۔۔ امی بابا دونوں اداس ہیں مگر اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے اسکا اظہار نہیں کرتے۔ بھائی کو ابھی بھی دو تین سال لگیں گے واپس آنے میں۔ تب تک کم از کم مجھے تو انکے پاس ہونا چاہیئے انکا خیال رکھنا چاہیئے۔ میں بیمار ہوتی تھی تو امی ساری رات سرہانے بیٹھی ہوتی تھیں مگر میں نے تو کبھی امی کی خدمت ایسے نہیں کی۔ امی سے جب بات ہوئی وہ صرف میری خیریت پوچھتی رہیں روتی رہیں۔مجھے اپنا خیال رکھنے کو کہتی رہیں ایک بار بھی نہیں کہا بس واپس آجائو۔۔۔۔بابا بتاتے ہیں اب وہ بہت جلد تھک جاتی ہیں۔بی پی بھی ہائی رہنے لگا ہے۔کون خیال رکھتا ہوگا انکا۔ بابا دفتر ہوتے ہیں وہ سارا دن اکیلی رہتی ہیں بہت۔ خاموش ہو گئیں ہیں میں جب گھر میں ہوتی تھی تو سارا وقت بک بک کرتی تھیں انکے آگے پیچھے پھرتی سارے دن کی روداد سناتی تھی مگر جب سے یہاں آئی ہوں ہفتے ڈیڑھ میں ایک دفعہ بھی فون پر بات کرتی تو بات ختم کرنے کی جلدی لگی رہتی تھی یونی جانا کام کرنا یہ کرنا وہ کرنا بعد میں بات کرتے ہیں۔یہ بعد آئی ہی نہ پھر تو؟۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبئ کی آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ نہ آیا کہاں ہے۔
    چکراتے سر کو سنبھالتی اٹھنے لگی تو دلاور نے نرمی سے اسکا بازو تھاما۔
    کیا ہوا کچھ چاہیئے۔ ؟
    بیڈ پر ملگجے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
    میں لاتا ہوں۔
    فورا کمبل ایک۔طرف کرتے وہ اٹھ گئے سائیڈ لیمپ جلا کر وہ شائد کچن سے پانی لینے گئے تھے۔
    اف۔ مجھے بالکل یاد نہیں میں کب بستر پر آئی کب سوئی۔ زینت صارم گڑیا جانے کیسے سوئے ہوں گے کتنا تنگ کیا ہوگا دلاور کو۔
    ذرا سا ہوش آتے ہیں اسکے اندر کی ماں تڑپ سی اٹھی۔ وہ فورا کمبل اتارتی اٹھنے لگی تبھی دلاور پانی کا گلاس بھرے لے آئے
    ارے کیوں اٹھ رہی ہو میں لا تو رہا تھا پانی۔
    انکا انداز اتنا نرم اتنا اجنبی تھا کہ طوبی انکا بڑھایا ہوا گلاس تھامنے کی بجائے انہیں ٹکر ٹکر دیکھتی رہ گئ۔
    لو نا۔ اسے گم صم دیکھ کر انہوں نے ٹوکا تو وہ گڑ بڑا کر گلاس تھام کر غٹا غٹ چڑھا گئ۔
    یہ دس سالہ شادی شدہ زندگی میں میرا پہلا گلاس پانی ہے جو میں نے اپنی بیوی کو پلایا۔
    دلاور سوچ کر شرمندہ سے ہوگئے۔۔
    وہ میں۔
    وہ سر کھجاتے ہوئے صفائی دینا چاہ رہی تھی۔
    ہاں مجھے پتہ ہے نور اور عزہ نے بتایا تھا کہ تمہاری طبیعت خراب ہوگئ تھی ۔ یہ کورین جانے کیا الا بلا بناتے ہیں ہم دیسی لوگوں کا معدہ کہاں سہار سکتا یہ سب۔ الٹیاں کرکے بالکل ہی بے دم ہوگئ تھیں تم تو۔ اب بتائو بھوک لگی کچھ کھائو گی؟
    دلاورنرم سے انداز میں سہولت سے اسکے برابر بیٹھ کر بتانے لگے۔
    وہ بچے۔۔ انہوں نے ۔۔۔۔ سوگئے؟
    تینوں سکون سے سو رہے ہیں کھانا کھلا دیا تھا میں نے۔ صارم زینت کے پاس سو گیا تھا آرام سے اسے پھر میں یہاں لے آیا سو رہا ہے کاٹ میں ۔ انہوں نے بیڈ کے پاس رکھے کاٹ کی جانب اشارہ کرکے بتایا ۔
    اب بتائو کیا کھائو گی؟
    وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔
    اس نے نگاہ چرا لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے ہتھیلیوں میں چہرہ سجائے بڑی پیار بھری حیرت سے اپنے میاں کی پھرتیاں دیکھ رہی تھی۔ مسور کی دال ابل رہی تھی ایک جانب تڑکے کیلئے لہسن زیرہ گھی میں گرم ہو رہا تھا۔ رائس ککرمیں چاول پکنے پر لگا کر وہ سلاد کیلیے کھیرے نکالنے لگے۔ تو اس سے رہا نا گیا
    لائیں میں بنا دیتی ہوں سلاد۔
    طوبئ نے آگے بڑھ کر چھری انکے ہاتھ سے لینی چاہی تو وہ سہولت سے اسے پرے کر گئے
    آج کہا نا میں سب بنائوں گا آج دعوت ہے تمہاری میری طرف سے۔
    دعوت؟ طوبی ہنسی۔
    کوئی دعوت میں دال چاول کھلاتا ہے بھلاکسی کو؟
    اس نے منہ پھلایا۔
    اب یہ تمہاری غلطی ہے وقت پر بتاتی نہیں ہو اب چکن وگوشت ختم ہوگیا تھا تو سودے کی فہرست بنا کر رکھنی چاہیئے تھی نا۔ گھرآیا ہوں تو کھانا پکا ہونا تو دور پکانے کیلئے کچھ تھا بھی نہیں۔ بچوں کو تو حلال ریمن سے بہلا دیا مگر اتنی بھوک میں بنا کھانا کھائے میرا تو گزارا نہیں ہو سکتا۔اور یہ میرا اپر پھر بنا جیبیں دیکھے بغیر دھو ڈالا؟
    پھوہڑ ہی رہنا تم۔
    اگر وہ کچھ گھنٹوں پہلے والے دلاور ہوتے تو یقینا یہی سب کہتے۔
    مگر ان چند گھنٹوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔
    پکا وعدہ اگلی دفعہ بریانی بنا کر کھلائوں گا۔ ابھی بھی رات کے دو نہ بجے ہوتے تو باہر جا کر سودا لیکرآتا اور پکاتا۔
    انہوں نے مسکرا کر کہا تو طوبی کی آنکھیں کھل سی گئیں۔
    آپکو بریانی بنانی آتی ہے؟
    نہیں۔جواب حسب توقع تھا۔
    مگر مجھے دال چاول کونسا بنانے آتے تھےتم سے پوچھ پوچھ کر ہی۔بناتا جیسے یہ بنا رہا ہوں۔
    وہ ہنسے طوبی بھی ہنس دی۔۔۔
    آج تو بہت مستی میں ہیں پتہ نہیں کل سورج نکلے گا بھی کہ نہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔
    دلاور کو موٹی موٹی سلاد کاٹتے دیکھ کر طوبی نے سوچا۔تھا۔
    شکر ہے انہیں پتہ نہیں لگا کہ آج میری طبیعت خراب کیوں ہوئی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ اور نور کو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ طوبی میز پر سر رکھے شائد سو گئ تھئ اور دلاور چلتےہوئے انکے پاس آئے آپ لوگ یقینا سامنے والے فلیٹ میں رہتی ہیں ہمارے؟
    جج۔جی میں عزہ ہوں یہ نور ہے۔
    عزہ گڑ بڑا کر تعارف کرانےلگی
    طوبی کے پاس چابی ہوگی یقینا گھر کی میں ٹیکسی کرا دیتا ہوں۔
    وہ کہہ کر موبائل نکالنے لگے تھے
    وہ ہم نے کرا لی ہے بس ہم گھر کے لیئے نکلنے لگے تھے۔ آپ اگر ہمارے ساتھ
    نور نے کہا تو وہ سہولت سے انکار کرنے لگے
    نہیں مجھے اس وقت کہیں جانا ہے۔ آپ لوگوں کو کوئی مسلئہ تو۔۔۔
    وہ ایک۔نظر طوبی کو دیکھ کر قصدا بات ادھوری چھوڑ گئے
    نہیں بالکل نہیں ۔ وہ ہم چلے جائیں گے آپ اپنا کام کر لیں۔
    نور نے کہا تو وہ سر ہلا کر پلٹنے لگے۔۔ پھر کچھ خیال آیا۔
    آپ۔لوگ میرا ذکر مت کیجئے گا کہ میں یہاں ملا ہوں طوبی سے۔۔
    انکی ہدایت پر زور و شور سے ان دونوں نے سر ہلایا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں طوبی کو سہارا دے کر اسکے فلیٹ میں لائیں۔
    میرا سر گھوم رہا ہے میں مرنے لگی ہوں کیا۔
    سر دونوں ہاتھوں میں تھامتی طوبی نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا۔۔
    اللہ نہ کرے طوبی ۔۔ عزہ تڑپ کر بولی۔۔
    ماما کو کیا ہوا۔
    زینت گھبرا رہی تھی ۔۔ ان دونوں نے سہارا دے کر اسے لائونج کے صوفے پر۔بٹھایا تھا مگر وہ لڑھک کر سو گئ تھی۔
    اوہ ۔۔ دونوں آگے بڑھی تھیں مگر وہ بے نیاز تھی۔
    ماما۔۔زینت بس رونے کو تیار ماں کو ہلا رہی تھی۔۔
    کچھ نہیں ہوا بس ابھئ پاپا آتے ہوں گے تم لوگوں کے پریشان نہ ہو۔ نور نے تسلی دی تو وہ سر ہلانے لگی۔
    ویسے ماننے والی بات ہے طوبی کی نظریں عقاب جیسی تیز ہیں سچ مچ دلاور بھائی تھے اس کیفے میں ۔۔
    نور نے کہا تو عزہ نے جھٹ یاد دلایا۔
    انہوں نے منع کیا ہے طوبی کو انکی موجودگی کے بارے میں بتانے سے۔۔
    مجھے نہیں پتہ تھا طوبی سے اتنا ڈرتے ہیں دلاور بھائی۔
    نور نے کندھے اچکائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور کو نہ بتانا میں نے غلطی سے شراب پی لی ہے۔
    بچوں کو انکے کمرے میں لٹا کر کمبل درست کرکے وہ لائونج میں آئے تھے۔ طوبی کا۔کندھا ہلا کر جگانا چاہا تو وہ کسلمندی ہلی جلی مگر پھر انہیں عزہ یا طوبی سمجھتے ہوئئ خوفزدہ سے انداز میں سرگوشی کرنے لگئ۔۔ آنکھیں میچ میچ کر کھولنے پر بھی منظر دھندلا ہی رہا تھا۔
    انکو ہنسی آگئ ۔
    اٹھو طوبی شاباش۔ انہوں نے ہلانا چاہا مگر اسکے اگلے جملے سے انکی ہنسی پھیکی پڑگئ۔
    جان نکال دیں گے وہ میری۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لائیں میں کاٹ دوں۔۔
    طوبی سے رہا نہیں گیا آگے بڑھ کر انکے ہاتھ سے چھری لینی چاہی تو وہ دانستہ ڈپٹ کر بولے
    پتہ ہے بہت سگھڑ ہو تم مگر آج جب میں سب کام کر رہا ہوں تو تم بالکل ہاتھ نہیں لگائو گی سمجھیں۔۔
    وہ ڈانٹ رہے تھے مگر انداز پر طوبی کو ہنسی آگئ۔
    اچھا بھئ آج سب کچھ آپ کریں میں آرام سے بیٹھوں گی۔
    وہ شاہانہ انداز میں کہتی واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئ۔
    کھانا بنا کر اسکے سامنے سرو کرکے جب انہوں نے وقت دیکھا تو تین بج چکے تھے۔ زرا سا کھانا پکاتے گھنٹہ کیسے گزرا نہیں پتہ۔ اسے واقعی بھوک لگ رہی تھی فورا دال چاول نکال کر پلیٹ میں شروع ہو گئ۔
    کیسا بنا ہے۔ انکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
    کتنی معصوم سی خواہش ہے نا کیسا بنا اتنی محنت سے بنا ہے تھوڑی سی ستائش کی خواہش فطری ہے شائد۔
    بہت مزے کا۔ زبردست
    اس نے فراخ دلی سے کہا۔وہ خوش سے ہوگئے
    کیسا بنا؟
    طوبئ اشتیاق سے پوچھ رہی تھی
    کھا تو رہا ہوں ٹھیک ہے۔ چائے چڑھا دو سر میں درد ہورہا۔
    انکو اپنا بے نیازانہ انداز یاد آیا۔
    اچھا۔ وہ کھانا چھوڑ کر چائے کا پانی رکھنے اٹھ گئ۔

    زندگی میں یہ چھوٹے چھوٹے سے روئیے یا تو دلوں میں گہری محبت جگا دیتے یا گہرا خوف جاگزیں کر جاتے اور زندگی کے ساتھی کم از کم آپ سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے۔
    آج طوبی کی باتوں نے جو شائد وہ ان سے عام حالات میں زندگی بھر نہ کہتی مگر آج بے ہوشی میں کہہ ڈالا انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔اب یقینا آگے کی زندگی میں طوبی کو ان سے ایسی شکایت نہیں ہوگی انہوں نے مصمم ارادہ باندھا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 37

    قسط 37
    اسکے تیسری دستک دینے پر دروازہ کھلا تھا۔جون کی نگاہوں میں اسے دیکھ کر خاص قسم کی چمک آگئ تھی جیسے شکاری کو اپنا شکار دیکھائی دے گیا ہو۔
    ہاں پیسے لے آئے۔۔
    تیجون نے سر ہلایا تو اسے اندر آنے کا اشارہ کرتا جون پلٹ گیا۔ جام بنائے یقینا اپنے اپارٹمنٹ میں جون اس وقت تنہا تھا۔
    ایک کمرے کا فلیٹ جسکے لائونج میں کائوچ پر لیپ ٹاپ چپس کے پیکٹ اور۔شراب کے خالی۔کین پڑے تھے۔ سامنے میز پر انسٹنٹ نوڈلز کا بھرا پیالہ اور کئی کین شراب کے پڑے تھے۔اسے دیکھ کر عجیب سے انداز میں مسکراتا وہ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ نوڈلز کا بائول اٹھا کر اطمینان سے کھاتے ہوئے وہ گہری نگاہوں سے تیجون کو دیکھ رہا تھا۔
    یہ پیسے۔
    تیجون نے جیب سے لفافہ نکال کر اسے دینا چاہا۔ اس نے پیسے تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی نہیں۔
    تمہیں پتہ ہے تمہیں میں نے اندر کیوں بلایا؟
    اس نے خود ہی یہ پزل حل کرنا چاہا۔
    اسے اندر بلانے کا مقصد اسے سمجھ نہ آیا تھا سو چپ چاپ دیکھتا رہا
    وہ دیکھو۔ چاپ اسٹکس سے اس نے سامنے دیوار پر لگی ایل ای ڈی کی جانب اشارہ۔ کیا۔
    اس نے رخ پھیرا تو ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئ
    اسکی اور اسکی گرل فرینڈ کی کرائوکے بار میں خفیہ بنائی گئ ویڈیو اس وقت چل رہی تھی۔
    اس سے بچکانہ ویڈیو آج تک نہیں دیکھی میں نے۔
    وہ۔ہنس رہا تھا۔
    اس کے تو پیسے مانگتے شرم بھی آرہی ہے مجھے مگر دیکھو ہم نے ڈسکائونٹ دیا ہے۔تمہیں۔وہ شرارت بولا
    کیونکہ چھوٹے بچوں کی ویڈیو بڑے مسلئے پیدا کر سکتی ہے لہذا حسب وعدہ یہ لو۔۔۔
    اس نے ایل ای ڈی سے منسلک اپنے لیپ ٹاپ پر اس ویڈیو کو کٹ پیسٹ کرکے یو ایس بی میں منتقل کیا۔۔
    ہم بے ایمانی کا کام ایمانداری سے کرتے ہیں۔
    یو ایس بی اسے تھماتے ہوئے اس کو معمولی سا بھی تیجون کی مزاحمت کا خوف نہیں تھا۔
    ویسے اتنے پیسے ہائی اسکولر کے پاس آئے کہاں سے؟ ماں کا زیور چرایا ہے ؟
    وہ مزاق اڑا رہا تھا۔
    تیجون نے یو ایس بی ہاتھ میں پکڑنی چاہی مگر انگلیاں کانپ رہی تھیں۔یو ایس بی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر میز پر جا گری۔ جون ہاتھ سے لفافہ لیکر وہ اطمینان سے صوفے پر بیٹھ کر نوٹ گننے لگا تھا چونکا۔۔ پھر ہنسا
    ارے۔
    بیان۔
    تیجون نے گھبرائے ہوئے انداز میں معزرت کی اور میز پر سے یو ایس بی اٹھاکر الٹے پیر جانے لگا۔
    آننیانگ۔
    اس نے پیچھے سے آواز لگائی تھی۔مگر تیجون نے مڑ کر نہیں دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر آکر اس نے سب سے پہلے اپنی گرل فرینڈ کو فون کیا تھا۔
    میں لے آیا ہوں اب فکر کی کوئی بات نہیں۔
    وہ اسے تسلی دینا چاہ رہا تھا۔
    انکے پاس کاپی ہوگی وہ اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ تم نے انکی منت کرنی تھی۔ہمارے پاس روز روز اتنے پیسے نہیں آسکتے۔ آج میری آہموجی اپنا بریسلٹ ڈھونڈتی رہی ہیں۔ میں بہت پریشان ہوں تیجون۔
    وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
    پریشان مت ہو انکے انداز سے لگ نہیں رہا تھا کہ وہ مزید ہمیں تنگ کریں گے۔
    تیجون نے تسلی دینی چاہی جوابا وہ چیخ اٹھی
    تم اٹھائئ گیروں بدمعاشوں پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہو۔
    اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ انکے پاس اس ویڈیو کی کوئی کاپی نہیں ہوگئ یا وہ ہمیں دوبارہ۔
    اس نے خوف کے مارے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔
    تیجون نے جیب سے یو ایس بی نکال لی۔
    اس نے میرے سامنے کاپی نہیں ویڈیو کٹ کی تھی۔یو ایس بی میرے پاس۔۔
    وہ۔کہتے کہتے رک سا گیا۔
    جو یو ایس بی اس نے تھمائی تھی وہ بالکل کالی تھی۔ اس یو ایس بی پر لال نشان لگا ہوا تھا۔
    میں بعد میں بات کرتا ہوں۔
    اس نے فون ایک طرف رکھا پھردوڑ کر اپنی اسٹڈی ٹیبل پر رکھے اپنے لیپ ٹاپ میں یو ایس بی لگا کر دیکھنے لگا۔
    وہ یو ایس بی واقعی مختلف تھی۔
    اس میں جو مواد تھا وہ کسی کی خفیہ بنائی گئ ویڈیو نہیں تھی بلکہ دن دیہاڑے اسی جیسے کسی اور ہائی اسکولر کو پیٹ کر اس پرغلاظت ڈال کر تماشا بنانے کی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باہر موسم ابر آلود ہو چکا تھا۔موٹے چیک والے سوئٹر مفلراور دستانوں میں ملفوف ہو کر وہ نکلے تھے۔
    آہجوشی سوچ لیں ایک بار پھر۔
    تیجون منمنایا۔ انکے موٹے اپر میں وہ کہیں بیچ میں ہی کھو گیا تھا۔ دبلا پتلا منحنی سا تیجون ۔۔انہوں نے لمحہ بھر رک کر اسے دیکھا۔ خاور ہی لگا تھا انکو ایک پل کیلئے۔ خاور انکا منا سا چھوٹا بھائی۔ حالانکہ خاور کے لانبے چہرے پر موٹی موٹی آنکھیں تھیں رنگ بھی سانولا سا تھا ڈیل ڈول میں تیجون سے کہیں بڑا صحت مند تھا مگر۔۔۔۔
    انہیں رکتے دیکھ کر تیجون بھی رک سا گیا تھا۔یقینا وہ جزباتی ہوکر اسکے ساتھ نکل آئے تھے اب سوچ رہے تھے۔ ایک ٹک اسے دیکھتے صاف لگتا تھا زہن کہیں اور ہی ہے۔
    ماتھے پر سات ٹانکے پٹی نیلوں نیل گال وہ غصے میں کھول۔گئے تھے اپنےبھائی کی حالت دیکھ کر
    کس سے لڑ کے آئے ہو ؟
    وہ دھاڑے تھے۔
    وہ بھائی ادھر وہ۔۔
    اس سے جواب نہیں بن پڑا تھا بھائی کے غصے سے وہ پہلے ہی ڈرتا تھا
    کتنی دفعہ کہا ہے اپنی چوہدراہٹ گھر چھوڑ کر نکلا کرو۔
    تمہاری یہ حالت ہے تو جسے پیٹ کر آئے ہو اسکا کیا حال کیا ہے؟
    انکے سوال پر خاور نے سر مزید جھکا لیا تھا۔
    آئیندہ ایسی شکل بنوا کر میرے سامنے مت آنا ورنہ مزید شکل بگاڑ دوں گا سمجھے۔
    انہوں نے اسے زخمی دیکھ کر ہلکا ہاتھ رکھا تھا۔۔
    انکے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ انکا صحت مند جوان کڑیل بھائی کسی کو پیٹ کر نہیں بلکہ کسی کی غنڈہ گردی کا شکار ہوا ہے۔
    اور جب یقین آیا تب۔۔۔
    آہجوشی۔ تیجون نے دھیرے سے پکارا۔
    ہوں۔ وہ کسی خیال سے چونکے۔
    پھر آگے بڑھ کر اسکی گردن میں لپٹے اسکارف کو مزید ٹھیک کرنے لگے۔
    یہ جو بلیک میلر ہوتے ہیں انکی ساری بہادری بس وہاں تک ہوتی ہے جہاں تک انکو مقابل خوفزدہ نظر آتا ہے۔ انکا ڈٹ کر سامنا کرو۔۔ احمق۔
    آپ میرے والدین کو نہیں جانتے۔ وہ کبھی میرا یقین نہیں کریں گے۔
    تیجون نے سر جھکا لیا۔
    ان سے ہم بعد میں بات کریں گے فی الحال یہ بتائو کہاں ملے گاوہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ انہیں اس کلب میں لیکر آیا تھا۔ ایک کونے میں نشست سنبھال کر وہ بیٹھ گئے۔تیجون ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ میں وہ داخل ہوا تھا۔ فیڈذ جینز پھلتروں والی کالی لیدر کی جیکٹ کانوں میں آویزے سر پر گھنے بال جنکو بینڈ سے جکڑ رکھا تھا۔ایک ڈریگن ٹیٹو گردن پر اور ہونٹوں پر چھلا چپکائے لوفر انہ مسکراہٹ تھوڑی پر داڑھی سے الگ نقش نگار بنائے تھے حلیئے سے وہ کہیں سے یونیورسٹی کا طالب علم نہیں لگ رہا تھا۔
    وہ سیدھا تیجون کے پاس آیا تھا۔
    ہاں بھئی مینڈک یو ایس بی لائے ہو؟
    تیجون نے ہونٹ بھینچ کر جیب سے یو ایس بی نکال کر سامنے رکھ دی۔
    جیسے ہی اس لڑکے نے یو ایس بی اٹھانےکو ہاتھ بڑھایا تیجون نے یو ایس بی پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا۔
    میری جو ویڈیو بنائی تھی مجھے وہ ڈیلیٹ کرو پہلے۔
    تیجون کے مطالبے پر اس نے منہ بنایا پھر جیب سے اپنا موبائل نکالا اسکی ویڈیو نکال کر اسے دکھاتے ہوئے ڈیلیٹ کا بٹن دباتے دباتے ہاتھ پیچھے کر لیا
    پہلے اپنے موبائل میں اسکو لگا کر مجھے دکھائو کہ یہ یو ایس بی اسی ڈیٹا سے بھری ہے بھی کہ نہیں جو مجھے درکار ہے۔
    اس نے یقینا کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔
    تیجون کا حلق خشک سا ہونے لگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیول کی دوپہریں خاموش تو نہیں ہوتیں مگر اس ہائی اسکول کی عقبی تنگ گلی میں اوندھے منہ پڑے تیجون کو صرف اس دنیا میں اپنے تیز تنفس کی آواز کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اسکی ناک پر پڑنے والا مکا کافی زوردار تھا کہ اسکی ناک سے خون جاری ہو چکا تھا مگر ٹھڈوں لاتوں سے پیٹ میں اس سے کہیں ذیا دہ تکلیف ہو رہی۔تھی۔
    میرے پ پاس سچ مچ یو ایس بی نہیں ہے۔ سن بے میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔
    اس نے کوئی دسویں بار اپنی بات دہرائی مگروہ یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔
    وہ دونوں ان سے دو تین سال سنیئر تھے۔ انکی بدمعاشی غنڈہ گردی سے انکے اسکول سے پاس آئوٹ ہو جانے کے باوجود بھی جان نہیں چھٹ سکی تھی انہوں نے جانے آگے کہیں داخلہ لیا بھی تھا کہ نہیں مگر جس باقاعدگی سے اسکول آنا جانا تھا اس سے یہی لگتا تھا کہ۔انکے پاس کرنے کو مزید کوئی کام نہیں۔
    اتنا پٹنے کے بعد بھئ جھوٹ بولے جا رہا ہے سالا۔
    جون سن بے نے پھر ایک لات جما دی تھی اسے۔ وہ کراہ کر رہ گیا۔
    اب اسکی ویڈیو اپلوڈ کرنی ہی پڑے گی۔
    مائک نے دھمکاتے ہوئے جیب سے موبائل نکالا

    آندے۔وہ چیخ کر سیدھا ہوا تھا۔
    کیوں ڈر لگ گیا؟ چوزے کو؟
    جون نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ پکڑ کر سیدھا کیا۔
    تو منے پھر اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اور تمہاری گرل فرینڈ کی ویڈیو کل ٹرینڈنگ پر نہ آئے تو کل تک ہر قیمت پر وہ یوایس بی ہمیں واپس لا دینا ۔۔ورنہ۔۔۔
    اسکے لہجے اور نگاہوں میں کسی طرح کی رعائت نہیں تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ یقینا طوبی تھی۔ انہوں نے اسکو دو عبایا والی لڑکیوں کے ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھا تو ہاتھوں سے طوطے اڑ گیے۔
    طوبی یہاں۔وہ۔فورا سے پیشتر میز کے نیچے چھپ بیٹھے۔
    تیجون نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ گردن ہلکے سے موڑ کر دلاور کو دیکھنا چاہا مگر وہ اسے کہیں نہیں نظر آئے
    بے وقوف سمجھا ہوا ہے مجھے۔
    جون نے بنا لحاظ اسکا سربالوں سے اٹھا کر میز پرمارا۔۔
    چھناکے سے گلاس میز سے اچھل کر نیچے گرا تھا۔
    اس نے تیجون کو کالر سے پکڑ کرکھینچا اور گھسیٹ کر باہر لے جانے لگا۔
    تیجون کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی۔
    کلب سے باہر نکل کر وہ اسے دائیں جانب تنگ سی سنسان گلی میں لے آیا تھا۔
    ایک مکا دومکے۔ تین۔
    اسکا سر گھوم گیا تھا ناک سے خون بہہ نکلا تھا مزید کوئی گنتی یاد نہ رہی۔
    تبھی جون کا سر آکر اسکے کندھے پر لگا۔وہ بے دم سا ہو کر گرنے کو۔تھا جب کسی مہربان ہاتھ نے اسے تھام لیا تھا۔
    اس نے سر اٹھا کر دیکھا تودلاور مسکرا دیئے۔۔
    معزرت تھوڑی سی دیر ہوگئ مجھے آنے میں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لڑکھڑاتے قدموں سے کائونٹر پر پہنچ کر طوبی نے زور دار آواز میں گرج کر کہا
    یہ شربت کھانسی کا۔۔ میرے بچوں کو شراب۔
    نہیں یہ کھانسی کا شربت بچوں کیلئےہوتا۔۔ مجھے کھانسی
    وہ کائونٹرکا سہارا لیئے ہونق ہوئے ویٹر سے مخاطب تھی۔ وہ ہکا بکا اسکی باتوں کا مفہوم سمجھنے میں لگا تھا
    دے؟؟؟
    چھے سو نگییو۔
    عزہ اور نور نےبھاگ کر آکر طوبئ کو پکڑا۔۔
    کہاں لے جا رہی ہو مجھے۔
    رخصتئ ہو رہی ہے کیا میری؟ طوبی ہنسی۔ عزہ اور نور اسے پکڑ کر زبردستی باہر لے جانے لگیں۔ کلب سے باہر نکل کر اسے زور دار الٹی آئی تھی۔
    اف۔۔ دونوں کا سر گھوم سا گیا۔ عین داخلی دروازے پر الٹی کی۔تھئ۔ اندر آنے والوں کا منہ بننے لگا۔
    چھے سو ہمبندا۔۔
    دونوں جھک جھک کر معزرت کرتی اسے باہر تازہ ہوا میں لائیں۔ اس وقت مارکیٹ میں رش نہیں تھا وہ سامنے کنونیئس اسٹور کے باہر لگی میز کرسیوں پر اسے لابٹھایا۔
    اف انکو تو چڑھ گئ ہے۔۔ عزہ نے جیسے انکشاف کیا۔
    بڑی نئی بات بتائئ۔ نور چڑی
    مگر ہم نے بھئ تو پی تھی ہمیں تو نہیں چڑھئ اوپر سے خالص الکوحل نہیں تھی یہ ۔۔۔۔
    عزہ کھسیائی۔۔مگر اسکی بات میں دم تھا۔
    یہ ہم دونوں نے چکھی تھی بس جبکہ طوبی پوری پی گئ تھیں۔ دوسرا بی بی آپ بار میں تھیں کیا معلوم انہوں نے کس تناسب سے الکوحل ڈالی ہوگی ۔ یہ لوگ تو اتنی اتنی پینے کے عادی ہوتے ہیں انکے لیئے اس طرح کی شراب صرف زرا سا جھومنے پر مجبور کر دیتی ہوگی جبکہ ہم نے تو آج تک کبھی زبان پر نہ رکھی ہمارے تو حوا س گم کرنے کو کافی ہے۔
    نور نے تفصیل سے کہا تو عزہ نے سر ہلایا۔ طوبی میز پر بازو لمبا کیئے سر بازو پر رکھے بڑ بڑا رہی تھئ۔
    مجھے اتنی جلدی رخصت کردیا ۔ اتنا لمبا سفر۔ گھر نہیں آیا۔
    سسکی۔
    مجھے بھوک لگ رہی۔۔
    عزہ نے آگے بڑھ کر طوبی کو دیکھا تو آنسو ایک تواتر سے اسکی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔
    میں اکیلی اتنا بڑا گھر اکیلا امی مجھے ڈر لگ رہا۔۔۔۔۔
    طوبئ کے جملے پر عزہ سر اٹھا کر نور کو دیکھنے لگی۔
    میں کوئی دوا پتہ کرتی ہوں۔ نور اسٹور کے اندر گھس گئ
    عزہ طوبی کے مقابل بیٹھ گئ۔ طوبی نے زرا سا چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر سرگوشی کے انداز میں منہ بسور کر کہنے لگی۔
    مجھے پراٹھا بنانا آتا ہے پر۔۔۔ سسکی
    مجھ سے مٹئ کے چولہے پر روٹی نہیں بنتی۔
    آنٹی ڈانٹتئ ہیں مجھے کام نہیں آتا
    دلاور بھی ڈانٹتے۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوجاتی ہے۔ پر
    اس نے کہتے ہوئے آنکھیں رگڑ یں۔ پر
    مجھے شہر جانا ہے امی بابا کے پاس۔
    اس وقت طوبی اسے معصوم چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ہونٹ لٹکا کر روتے اسے خیال آیا تو جیسے چونک سی گئی
    مگر بابا تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی کے اپارٹمنٹ میں لانگ صوفے پر بیٹھے وہ اسکے موبائل اور لیپ ٹاپ کو فارمیٹ کررہے تھے۔سنگل صوفے پر بیٹھے جون نے سر اٹھا کر انکو دیکھا پھر ہونٹ بھینچ کر رخ پھیر لیا۔
    تیجون ان تینوں کیلئے کافی بنا کر لایا تھا۔ جون کے سامنے کپ رکھ کر وہ دلاور کے ساتھ بیٹھ کر چسکیاں لینےلگا۔
    یہ اپارٹمنٹ کس کا ہے؟
    انہوں نے سرسری سے انداز میں پوچھا مگر جب جون نے جواب نہیں دیا۔تو ترچھی نگاہ سے اسے دیکھا
    ہم تین دوست مل کر رہتے ہیں
    وہ دھیمے انداز میں بولا
    تیجون کو اسے دیکھ کر چڑ آئی۔ اس کے سامنے کیسے ہیرو بن رہا تھا اب بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے۔
    اورکون کون شامل یا تم لوگ کس حد تک۔جاتے ہو مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مگر آج کے بعد تیجون کو تمہاری جانب سے معمولی سا بھی گزند پہنچا تو تمہارا اعتراف جرم میرے فون میں محفوظ یے اور یہ یو ایس بی۔۔
    انہوں نے یو ایس بی اٹھا کر اسکی نگاہوں کے سامنے لہرائی۔
    یہ پہلے ضرور خالی تھی مگر اب اس میں میں نے تمام ڈیٹا کاپی کر لیا ہے۔ یہ دونوں چیزیں تمہیں جیل کی سیر کروانے کیلئے کافی ثبوت ہیں۔سمجھ آئی۔ ؟
    وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ اس نے سر جھکالیا
    دے۔ جون کی منحنی سی آواز۔
    تین دوست ۔ باقی دونوں کہاں ہیں؟
    دلاور نے کہا تو وہ سر جھکا گیا۔
    یونیورسٹی گئے ہیں۔
    یہ ہائی اسکولرز کو ہی بس بلیک میل کرتےہو یا کوئی بڑی آسامی بھی بھی شکار کرتے ہو؟
    دلاور کو لیپ ٹاپ وغیرہ سے اندازہ ہو تو گیا تھا
    ہم بس بچوں کو ہم خود طالب علم ہیں ہم کوئی بڑا غلط کام نہیں کرتے۔تیجون کے علاوہ اور کسی کی ایسی ویڈیو نہیں ہمارے پاس۔
    گھگھیاتا ہوا صفائی پیش کرتا یہ جون اس جون سے کہیں مختلف تھا جو ابھی کل تک اسے ٹھڈے مار رہا تھا۔ تئجون کو اس سے کراہیئت محسوس ہوئی۔
    کوئی بڑا غلط کام ۔۔۔۔
    دلاور استہزائیہ ہنس پڑے۔
    تم تینوں پر تعلیمی سلسلہ بند ہو سکتا ہے کیریئر برباد ہو سکتا ہے یہ چھوٹا غلط کام جو دھڑلے سے کر رہے ہو تم لوگ۔ کوئی اندازہ ہے اس وقت اگر تیجون پولیس کے پاس جائے تو تم
    چھے سو نگئےہو۔( میں معزرت خواہ ہوں)
    جون ایکدم سے انکے آگے دو زانو بیٹھ کر رونےلگا۔
    مجھے یونیورسٹی فیس کیلئے رقم چاہیئے تھی۔ تین پارٹ ٹائم جابز کے باوجود میرے پاس اتنے پیسے کم
    وہ بات مکمل نہ کرسکا۔
    بیانیئے۔ آہجوشی
    میرا مستقبل تباہ ہو۔جائے گا پلیز۔
    اسکے یوں ہچکیاں لیکر رونے پر اسکے کانوں سے لٹکتے آویزے زور زور سے جھول رہے تھے۔ پسینے کی دھاریں اسکی۔گردن پر بہہ رہی۔تھیں۔ سیمی پرممنٹ ٹیٹو گیلا ہو کر۔داغ چھوڑ رہا تھا۔
    تو یہ۔تھا وہ خطرناک۔حلیہ۔ ہونٹوں کا چھلا وہ جانے کہاں گرا آیا تھا اب کانپتے لبوں سے معزرت خواہانہ الفاظ۔
    دلاور نے تیجون کواسکا لفافہ تھماتےہوئے نکلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔وہ چند لمحوں بعد باہر آئے تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں صرف اٹھارہ سال کی تھی۔ ابھی تو میرے انٹر کے امتحان کا نتیجہ آنا تھا مجھے بی اے کرنا تھا کہ ۔۔
    طوبی نے جیسے سسکی لی۔
    پتہ ہے عزہ ہم بہت خوشحال نہ سہی مگر میرے گھر میں ہر سہولت موجود تھی ہم شہر میں رہتے تھے ۔ایکدم سے گائوں پہنچی تو جیسے بیس سال پیچھے کے دور میں چلی گئ۔ مہینوں لگے بولی سمجھنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور
    وہ بے دردی سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔
    سالوں لگے لوگوں کو سمجھنے میں۔۔۔دلاور خفا ہیں خوش ہیں مجھ سے سمجھ ہی نہیں آتا تھا۔ ایک نگاہ بس ایک نگاہ اٹھتی تھی میری جانب اس سے سو مفہوم نکالتی پھر بھی غلطی ہو ہی جاتی تھئ۔احمق اتنا کہا گیا مجھے کہ اپنا نام ہی احمق لگنے لگا تھا مجھے۔۔۔طوبی احمق۔۔ احمق طوبی۔۔۔
    وہ ہنسنا چاہ رہی تھی مگر رو دی۔ اسکو دیکھتے عزہ کو سمجھ نہ آیا کیا کہے کیا کرے۔۔
    میں اٹھا رہ سال کی تھی یار کتنا میچیور سمجھدار ہوسکتی تھی؟ ۔ زندگی میں اسکول کالج کے سوا کیا دنیا دیکھی ہوگی مگرسسرال نے دنیا کے ایسے ایسے رنگ دیکھائے کہ۔۔ پتہ ہے۔
    وہ جانے کیا بتانے لگی تھی۔ نور اسٹور سےنکل آئی۔ طوبی کھٹکے پر چپ سی ہوئی۔۔ عزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیا کہے۔ اس نے طوبی کے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔ طوبئ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر سرگوشیاںہ انداز میں بولی۔
    پتہ ہے ہر کھٹکے پر اتنا ڈر لگتا تھا مجھے۔ لگتا تھا ابھی کوئی اپنے کمرے سے نکلے گا اور مجھے برا بھلا کہنے لگے گا۔ دلاورگھر آتے تھے تو میں خوف کے مارے۔۔
    نور نے اشارے سے عزہ سے پوچھا کیا چل رہا اس نے کندھے اچکا دیئے۔ تبھی سامنے اندھیرے میں مدغم ہوتے سائے پر نگاہ پڑی۔
    طوبئ چلیں گھر چلتے ہیں۔۔رات ہوگئ ہے۔۔ نور نے ہینگ اوورڈرنک لا کر سامنے رکھا تو عزہ اسکی پشت پر اس سائے کو دیکھ کر گڑبڑا کر بولی۔
    مجھے اپنے گھر جانا ہے۔ میں تھک گئ ہوں عزہ۔
    طوبی نے سر میز پر ٹکا دیا۔
    کوئی مجھ سے خوش نہیں ہوتا۔ میں کسی کو خوش نہیں رکھ پاتی۔ صرف ایک خاور تھا جو میرے آگے پیچھے پھرتا تھا۔
    میرے لیئے لڑ پڑتا تھا اپنی امی سے بہنوں سے۔ اور انہوں نے اسے بھی مجھ سے دور کردیا۔ کہتی تھیں وہ میرا چھوٹا بھائی نہیں دیور ہے۔ مگر میں تو اسے چھوٹا بھائی سمجھتی تھی۔۔
    پتہ ہے۔ وہ ایکدم سے سر اٹھا کر بولی
    میرا چھوٹا بھائی بھی ہے۔ شادی سے پہلے صرف میرے قابو آتا تھا۔ اسکو تو میں پڑھاتی تھی آپی آپی کہتا میرے پیچھے پیچھے پھرتا تھا۔کسی نے نہیں سوچا وہ میرے بعد کس کے قابو آئے گا۔ اس نے پڑھائئ ادھوری چھوڑ دئ۔۔کتنا روئی میں کسی کو نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔ میں مہینوں اسے یاد کرکے روتی تھی جب گھر جاتی تو میلوں فاصلے ہمارے درمیان آگئے تھے۔ اب اسکوبھئ شائد آپی کی ضرورت نہیں رہی ۔۔جیسے ہے جن کو نہیں رہی۔ میں جس سے پیار کرتی وہ مجھ سے دور ہوجاتاہے۔ عزہ۔
    وہ بازوئوں میں چہرہ چھپاگئ۔
    وہ سایہ قریب آیا۔ نور اور عزہ ساکت سی رہ گئیں۔
    کم از کم اس وقت جب طوبی کی یہ حالت تھی اس کو یہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کو اپنے اپنے بستر میں گھس کر بھی ان سب کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔
    عروج سٹر پٹر کرتی پھر رہی اپنے چہرے کی سیوا میں مگن تھی۔ جانے کون سا ماسک لوشن منہ پر بھر بھر کر لگاتے آئینے میں گھسی جا رہی تھی۔ الف اپنے بیڈ پر ان سے رخ موڑے لیٹی جانے جاگ رہی تھی یا سو رہی تھی ۔ عزہ اور نور دونوں ڈبل بیڈ پر چت لیٹی چھت گھور رہی تھیں۔
    یار آج مجھے بہت دکھ ہوا۔ کتنی مشکل زندگی گزاری ہے طوبی نے۔ گائوں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے۔
    نور نے کہا تو عزہ نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
    کتنی مشکل ہوتی ہے کیا بات ہوئی مجھے بھی بتائو۔
    عروج رخ موڑ کر پوچھنے لگی ۔تو نور اٹھ کر بیٹھ گئ۔
    پتہ ہے طوبی اتنی بڑی نہیں ہیں انکی اٹھارہ سال کی عمر میں ہی شادی ہو گئ تھی۔ وہ بھی گائوں میں۔ اتنی مشکلیں سہیں اتنے سنگ دل اور کٹھور سسرال والے تھے انکے۔ اوپر سے دلاور بھائی غصے والے تھے اب جا کے انکا غصہ کم ہوا ہے اتنے سالوں بعد ورنہ طوبی کی جان نکال کے رکھتے تھے اتنا ڈانٹتے تھے طوبی کو اور جب وہ روتی تھیں تو اور غصہ کرتے تھے۔
    اچھا؟ عروج کو حیرانی ہوئی۔
    ایسے لگتے تو نہیں۔ ہم نے کتنی کتنی درگت بنائی ہے انکی۔
    وہ بے چارے تو سیدھے سے لگتے ہیں۔
    ہاں تو اب اتنے غصے والے نہیں رہے نا۔ انکا غصہ تب کم ہوا جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو مارا اور وہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ آج تک نہیں پتہ وہ کہاں ہے۔
    عزہ بھی جوش میں اٹھ بیٹھی۔
    ہیں؟ کیا ؟
    عروج تجسس میں سب چھوڑ چھاڑ انکے پاس چلی آئی
    کس نے بتایا یہ سب تم لوگوں کو؟
    آج ہم جب باہر گئے نا تو غلطی سے طوبی نے الکوحل والی ڈرنک پی لی انکو تو چڑھ گئ۔ میں اور عزہ انکو اتنی مشکل سے باہر لیکر آئے تو انہوں نے رونا شروع کردیا۔ پہلے تو وہ اپنی رخصتی والے دن میں پہنچ گئیں پھر انکو جو ایک ایک دن اپنے سسرال میں گزرا یاد آنا شروع ہوا۔ قسم سے اتنی مشکل سے ضبط کیا میں نے دل کر رہا تھا انکے ساتھ بیٹھ کر رونا شروع کردوں۔
    نور واقعی دکھی تھئ۔ عزہ بھی اداس سی شکل۔بنائے بیٹھی تھی۔
    یار عروج انسان کی یادداشت پیچھے کو چلی۔جاتی ہے جب وہ شراب پیتاہے ؟ نور نے پوچھا تو عروج اسے گھور کر رہ گئ
    مجھے کیا پتہ میں کوئی الکوحلک ہوں؟ ویسے بھی سب کی عجیب عجیب الگ عادتیں ہوتی ہیں پی کے ٹن ہونے کے بعد سب اپنی مرضی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
    عروج نے تفصیل سے پھر بھی بتا دیا۔
    وہی۔ نور نے منہ۔لٹکا لیا۔
    اچھا یہ۔بتائو یہ دلاور بھائی کے بھائی والی کیا بات تھی؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبی آپ سو گئیں؟
    عزہ نے تھوک نگلتے ہوئے اسکا کندھا ہلایا۔ طوبی ایکدم سے سیدھی ہوبیٹھی۔ اپنے کوٹ کی آستین چڑھا نے لگی۔
    نہیں میں نہیں سوئئ سب کام کر لیئے میں نے اور جل۔بھی گئ۔
    وہ جیسے ڈر کر اٹھی تھئ۔
    طوبی میں عزہ ہوں۔
    عزہ نے لاچار سا ہو کر اسکا بازو ہلایا تو وہ چند لمحے خالی خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر۔ سر ہلانے لگی۔
    ہاں ہاں۔ عزہ یہ یہ۔ نشان۔ دیکھو۔ اس نے بازو پر لگا ایک پرانا جلے کا نشان دکھایا۔
    عزہ میری شادی کو دوسرا ہفتہ تھا میں ناشتہ بنا رہی تھا نا جب ۔ مٹی کے چولہے پر جس میں نا آگ قابو آتی تھی نا دھواں۔ جلتی آنکھوں سے پراٹھا پلٹا تو آگ پر ہاتھ جا پڑا تھا۔ گھر میں زرا تکلیف پ پر گھنٹوں رونے والی طوبی نے بس سسکی بھری تھی ایک سسکی۔ اور۔۔۔
    میری ساس بولیں۔۔ مکر کر رہی ہے سچ میں بہت تکلیف ہوئی تھی مجھے۔
    نور اور عزہ چپ سی اسے دیکھ رہی تھیں۔
    پھر میری ساس بولیں گھر میں اوپر کا سب کام کرنے کیلئے نوکر ہیں بہو سے بس ایک باورچی خانہ نہیں سنبھالا جاتا۔ ایک باورچی خانہ۔۔ تمہیں بتائوں کتنے لوگوں کا کھانا بنتا تھا حویلی کے سب گھر والے نوکر چاکر ڈیرے کے کام والے کل ملا کر پچاس لوگ ہو جاتے تھے۔ سب کہتے شہری لڑکی ہے بھاگ جائے گی۔
    میری جٹھانی عمر میں مجھ سے کم ازکم بھی دس سال بڑی تھیں چھے بچے انکے تھے۔ پھر بھی مجھے اکیلے لگا دیکھ کر ہاتھ بٹانے بیٹھ جاتی تھیں۔کہتی تھیں۔ تم بہت نازک ہو اتنا کچھ اکیلے نہیں کر سکتیں آہستہ آہستہ ہی سیکھ جائو گی سب۔
    پھر سب سیکھ لیا میں نے۔ساس سسر دیور جیٹھ نندوں سب کا خیال رکھنا بچے سنبھالنا۔سب کچھ۔۔ کب صبح ہوتی کب شام عمر میں سال لگتے گئے کیسے گزرے طوبی کو خبر ہی نہ ہوئی۔۔ اب دیکھو میں لڑکی سے عورت بن گئ تین بچوں کی ماں۔۔ مگر میں طوبی نہیں رہی۔ میں طوبی کہاں رہی
    وہ پل پل بدل رہی تھی۔۔
    طوبی کہاں گئ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم لوگوں کو دیکھ کر لگ نہیں رہا کہ سونے کا ارادہ ہے کافی بنانے لگی ہوں پیئو گی ؟
    ساری بات سن کر عروج ہاتھ جھاڑتی اٹھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
    عزہ اور نور دونوں نے سر ہلایا۔
    یہ الف سوگئی کیا۔ الف پینی ہے کافی؟
    عروج نے اچک کر الف کے بیڈ پر۔جھانکنا چاہا۔اس نے سر پر تکیہ رکھ لیا
    نہیں اور تم لوگ باہر جائو میں نے سونا ہے۔
    اس نے سخت سے انداز میں کہہ کر کمبل اوپر کھینچ لیا۔
    ارے واہ ہم تین لوگ جائیں یہاں سے آئی بڑی شہزادی۔
    نور چمک کر بولی۔
    یار تھک گئ ہوگی فنکشن سے کتنی دیر میں واپس آئی ہے۔اسے سونے دیتے ہیں باہر چلتے ہیں

    عزہ نے امن کا سفید جھنڈا لہرایا
    یار ویسے واعظہ تن و تنہا اکیلے کمرے میں راج کر رہی ہے ہم چاروں یہاں ایک۔کمرے میں کیا یہ۔کھلا تضاد نہیں

    نور منہ بنا کر کہتی اٹھی۔
    جوابا عروج اور عزہ بھی ہاں میں ہاں ملاتی اسکے ساتھ کمرے سے نکل گئیں۔
    اس نے ان کے جانے کے بعد زرا سا سر اٹھا کر اطمینان کیا پھر سائیڈ ٹیبل سے ٹشو کا رول۔نکال لیا
    اتنی دیر سے مستقل رونے سے چہرہ بھیگا ہوا تھا اس نے بے دردی سے آنکھیں صاف کیں پھر دوبارہ رونے کا کورم پورا کرنے لگی۔ اس بار ٹشو زاد راہ تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے شائد ابیہا کے جانے کے بعد پہلی دفعہ یہ کھڑکی کھولی تھی۔ سنسان گلی کن من مگر مسلسل برستی بارش کے باعث بھیگی ہوئی تھی۔ سرد ہوا کا جھونکا۔۔۔ ۔۔۔اس نے ذرا سا ہاتھ بڑھا کر بارش کے قطرے ہتھیلی میں سمیٹ لیئے۔۔۔
    ذہن میں کسی کے غصے سے بھرے جملے گونجے
    بالکل کررہا ہوں تم جیسی دس ہزار لڑکیوں میں بھی کھڑی ہو تو پہچان سکتا ہوں اسے

    تم دس ہزار لڑکیوں میں بھی چھپ۔کر کھڑی ہو تو بھی پہچان سکتا ہوں۔
    اس بار لہجہ نرم آواز مختلف تھئ۔
    باہر کن من برستی بارش نے ایکدم تندی اختیار کی اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
    یہ کورین لڑکے سب ایک ہی جملہ بولتے ہیں ہرلڑکی کو کیا۔
    اس نے سر جھٹکا۔۔ اور کھڑکی کی۔چوکھٹ سے ٹک کر بارش دیکھنے لگی۔۔
    محبت بارش سی ہے۔
    بھگو دیتی۔۔۔
    تن من۔
    پر یہ بارش۔۔۔
    جو۔۔۔
    سمیٹینا چاہو تو مٹھی بھر کا کھیل ہے۔
    مٹھی میں آتی ہے۔۔
    قطرہ قطرہ ۔۔۔
    پھسلتی جاتی ہے۔۔
    یہ بارش مٹھئ میں لمحہ بھر ٹھہرتی۔۔
    خوش کردیتی یے۔۔۔
    ایسے ہی محبت لمحوں کا کھیل ہے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 24

    قسط 24

    کسی نامانوس سے احساس کےتحت اسکی آنکھ کھلی۔ نیم تاریکی میں اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا تو کمرہ یکسر اجنبی لگا۔ چھوٹا سا کمرہ جس میں اسکے بیڈ کے بالکل برابر کھڑکی پر بھاری پردے تنے تھے۔ ہلکی سی دراڑ سے روشنی کسی بلب کی ہی تھی مدھم سی یعنی شام ہو رہی تھی یا رات ہوگئ تھئ۔ اسے اندازہ نہ ہوا۔۔ اس پر ۔گھبراہٹ کا غلبہ طاری ہوا۔اس نے کہنی پر وزن دیتے فورا اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو کنولا کی سوئی ہاتھ پر زور دینے سے چبھی ۔وہ تڑپ کر واپس تکیئے پر گر سی گئ۔ جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ سے بستر ٹٹولنا چاہا تو کوئی نرم سی چیز ہاتھ میں آئی۔ اس نے جیسے ہی تھاما احساس ہوا وہ بھی کوئی ہاتھ ہی تھا۔
    اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کوئی لڑکی اسٹول بیڈ سے جوڑ کر اس پر بیٹھی اسکے بیڈ پر بازو کا تکیئہ بنائے اس میں منہ چھپائے ٹکی شائد سو رہی تھی۔
    اس نے زرا سا گردن اٹھا کر پہچاننا چاہا شولڈر کٹ بکھرے بال ۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    وہ واعظہ تھی۔اس نے اپنے اردگرد ماحول پر نگاہ کی تو اندازہ ہوا کہ اسپتال کے کمرے میں ہے۔ مگر یہاں کیسے؟ اس نے ذہن پر زور ڈالنا چاہا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ یونہی سڑکوں پر پھرتی پھری تھی۔ سڑک پر چہل پہل تھی۔ لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی وہ اداس سی ہوتی گئ۔
    ان سب کیلئے معمول کے دن کا اختتام ہوا تھا اور اسکا تو عید کا دن تھا۔ پہلی عید جس میں وہ خالی ہاتھ خالی جیب راستہ ناپ رہی تھی۔ اسکے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے تھے کہ وہ بس سے سفر کر لیتی۔تھکے تھکے قدم جب اٹھنے سے انکاری ہوئے تو وہ بس اسٹاپ پرلگے بنچ پر آبیٹھی
    کیا پایا تھا اس نے فین میٹنگ سے۔ مہینوں کی جمع پونجی اور منٹوں کی ملاقات۔ وہ سیلیبریٹی جو اسکرین پر دیکھتے ہوئے کردار ادا کرتے آس پاس کہیں محسوس ہوتا تھا آج جب سامنے بیٹھا تھا تو لگتا تھا میلوں کے فاصلے ہیں درمیان۔اوروہ وقت حسب خواہش تھما ہی نہیں۔اس نے موبائل نکال کر لاک اسکرین پر نظر جما دی۔
    اسکی جانب تحفہ بڑھاتے ہوئے لی منہو کی نگاہ اسکی ہتھیلی پر بنے نقش و نگار پر پڑی۔
    اس نے بڑی دلچسپی سے اس سے پوچھا
    یہ کیا ہے کیسے بنایا؟
    اس نے جوابا اپنی ہتھیلی اسکے سامنے کر دی تھی۔ اور اسے اتنا پسند آیا کہ اپنے مینجر کو کہہ کر تصویر بنوائی مسکراتا ہوا لی من ہو اور اسکی پشت پر دونوں ہتھیلیاں دکھاتی مسکراتی عشنا۔
    تصویر بنوا کر اس نے شکریہ بھی ادا کیا۔ جوابا عشنا نے اپنا موبائل بھی بڑھا دیا۔۔
    اسکے ہاتھ میں لی من ہو کے ہاتھ کی کھنچی سیلفی تھی جس میں وہ خود بھی تھئ۔۔
    لی من ہو ملٹری جا رہا ہے۔ اگلے دو سال اسکے ملٹری میں گزرنے اس بات پر وہ پاکستانی لڑکی بیٹھئ اداس ہو رہی تھی۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
    بے چاری کا لگتا ہے بریک اپ ہوا ہے۔
    پاس کھڑی اب ہائی اسکولر لڑکیوں نے تاسف سے اسے موبائل ہاتھ میں لیئے بے آواز روتے دیکھا۔
    انی۔ دل چھوٹا نہ کرو تمہیں اس سے بہتر مل جائے گا فائٹنگ
    وہ لڑکی اسکی جانب ٹشو بڑھاتئ بڑے خلوص سے کہہ رہی تھی۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ موبائل لاک اسکرین مدھم ہو کر بند ہو چکی تھئ
    اس نے شکریہ کہہ کر آنکھیں رگڑ لی تھیں۔
    کون جانے اس وقت آنکھیں پونچھنے سے ذیادہ ضروری اسکا گھر پہنچنا تھا جسکے لیئے ٹشو نہیں سکے درکار تھے۔
    اب وہ جانے خوش قسمت تھی کہ آنسو پونچھنے والیاں مل گئیں یا بد قسمت کہ گھر پہنچنے کا کوئی سبب نا بن سکا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں بالکل خاموش لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق فلیٹ میں واپس آئے۔ جوتے راہداری میں اتارنے کی دونوں کو عادت نہیں تھی سو سیدھا کچن میں لینڈ کیا۔
    ہے جن البتہ تسمے کھولنے میں لگا تھا
    میں کہہ رہی تھئ کہ یہ جھوٹ نبھے گا نہیں۔طوبی آپی کو روتے دیکھ کر اتنا برا لگا مجھے ہم نے بلاوجہ انکو دھوکا دیا۔ سب اس ہے جن کے بچے کی وجہ سے ہوا ہے کیا ضرورت تھئ اسے اتنی لمبی کہانیاں ڈالنے کی۔ عزہ کا پارہ ہائی ہوا وا تھا۔ٹہل ٹہل کر بولے جا رہی تھئ
    یہ اچھا ہے جو چندی آنکھوں والا ملتا اسے میرا بھائی بنا دیا جاتا ۔ پہلے سیہون اب یہ ہے جن۔ٹھیک ٹھاک بستی ہے جن نے کروادی ہے اب اگلی باری سیہون کی ہوگی۔ جس دن اسے پتہ لگے گا کہ وہ میرا زبردستی منہ بولا بھائی بنا ہوا ہے تو جانے وہ کتنا بولے گا
    فاطمہ فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالنے لگی۔ گلاس میں بھر کر منہ تک لے جانے ہی لگی تھی
    فاطمہ پانی پینے لگی ہو۔اس کی نظر پڑی تو چیخ مارتی اسکے ہاتھ سے گلاس چھین لیا۔ پانی اچھل کر اسکے کپڑوں پر آرہا۔ اس نے خشمگیں نظروں سے گھورا
    تم سیہون کئ بہن ہو یا نہیں کام نندوں والا کیا ہے۔ کیا تکلیف ہے اگرمیں پانی پی لوں تو۔ وہ کپڑے جھاڑنے لگی
    عزہ کھسیا سئ گئ۔ وہ مجھے لگا روزہ ہے۔ اب اتنے دنوں سے اس وقت کوئی پانی پیتا نہیں تو۔عادت وہی پڑی وی۔
    اس نے وضاحت دیتے گلاس اپنے منہ سے لگا لیا۔
    ہے جن آئو کھانا کھا لو۔ عروج نے بریانی بنائی ہے۔
    فاطمہ نے ہے جن کو سر جھکائے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر آواز دی
    مجھے بھوک نہیں۔ اس نے دھیرے سے کہہ کر بڑھ جانا چاہا
    اتنی سی بستی سے پیٹ بھرگیاکیا؟۔
    عزہ طنزیہ انداز میں بولی۔
    مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا بات
    چھوڑو بھئ عزہ۔ فاطمہ نے ٹوکنا چاہا تو وہ گلاس کائونٹر پر پٹخ کر آستین چڑھا کر بولی۔
    تمہاری وجہ سے طوبی آپی بلک بلک کر روئیں اتنا برا مجھے زندگی میں کبھی کسی کا رونا نہیں لگا جتنا طوبی آپی کا لگا عین عید کے دن وہ تمہاری وجہ سے روئیں۔۔تمہارے بے سروپا جھوٹ کی وجہ سے انکا دل ٹوٹ گیا۔کوئی شرم آئی تمہیں؟
    عزی بس کرو ۔ فاطمہ نے اسکو کندھے سے تھام کر روکا
    میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ میں خود جائوں گا ان سے معافی مانگنے
    ہے جن کا چہرہ ست سا گیا تھا۔ سنبھل کر سوچ سوچ کر وہ بولا
    اچھا۔ عزہ استہزائیہ ہنسی پھر چٹخے ہوئے انداز میں بولی۔
    غلطی کا احساس ہے تمہیں؟ کس غلطی کا طوبی آپی سے یہ جھوٹ کہنے کا کہ میں تمہاری بہن ہوں یا انکو بے وقوف بنا کر انکے گھر مسلمان ہونے کا ناٹک کرنے کا؟ جھوٹی نماز پڑھتے جھوٹے روزے رکھتے شرم نہیں آئی تمہیں کس فخر سے مانا تم نے طوبی آپی کے سامنے کہ تم دل سے ابھی بھی بدھ متی ہو اور وہ نماز روزے سب دکھاوا تھا تمہارا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ یہ سب ڈرامہ کر رہا ہے۔
    وہ نماز روزہ سب ڈرامہ تھا دلاور۔ وہ کبھی بھی مسلمان نہیں تھا نہ پیدا ہوتے وقت نہ بعد میں کبھی اس نےسوچا۔ میں ایک کافر کو بھائی بنا کر اسکی خدمت کرتی رہی اسے کھانے پکا پکا کر کھلاتی رہی قرآن تھمادیا اسے ہاتھ میں ۔مجھے کتنا گناہگار کر دیا ہے اس نے۔
    طوبی رو ئے جا رہی تھی۔بچے سہم کر بابا کے پاس بھاگے آئے تھے وہ خود بمشکل اٹھ کر لائونج میں چلے آئے۔ طوبی گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی تھی۔ انہوں نے دھیرے سے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ گلوگیر لہجے میں سر اٹھا کر بولی۔ اسکی آنکھیں موٹے موٹے آنسوئوں سے بھری تھیں
    بیٹا بہن بھائیوں کو لیکر کمرے میں جا کر کھیلو۔۔ بلکہ فریج سے آئیسکریم نکال کر اندر جا کر بیٹھ کر کھائو۔
    دلاور نے بڑی بیٹی کو کہا تو وہ سر ہلاتی دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو ہنکا کر لے گئ
    تم رو کس بات پر رہی ہو ؟ مانا اس نے جھوٹ بولامگر یہ بھی تو دیکھو کیوں۔۔ محبت کرنے لگا ہے وہ تم سے۔ کسی سگے بھائی کی طرح خیال رکھتا رہا ہے تمہارا۔۔ تمہاری خاطر اس نے جو تم نے کہا وہ سب کیا نماز تک پڑھنے کی کوشش کئ صرف تمہیں خوش کرنے کو۔
    وہ اسے سمجھا رہے تھے
    نماز روزہ انسانوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں کیا جاتا دلاور۔
    وہ بپھر کر بولی
    تو پھر انسان ہو کر کسی کے نماز روزے کی فکر کیوں کی تم نے ؟
    دلاور کا سوال کڑا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ بہت سخت الفاظ ہیں تمہارے۔
    فاطمہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔۔ مگر عزہ سن نہیں رہی تھی چبا چبا کر بولی
    ہم سب تک یہ سمجھتے رہے کہ تمہارا دل بدل گیا یے اور تم مسلمان ہونے لگےہویہاں ہمارے سامنے یہ ڈرامہ کرتے رہے کہ تم روزے سے ہو اور باہر سور وغیرہ کھاتے رہے ہوگے۔
    اس دن تو مجھے بھی کھلا دیا۔تم نے ہمارا ہمارے مذہب کا مزاق اڑایا ہے جھوٹ دکھاوا کرکے۔تمہارے روزے سب جھوٹے تھے تمہاری نمازیں
    نونا بس کریں۔
    ہے جن جیسے تڑپ کر چیخا۔مٹھی بھینچ کر وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا
    میں مسلمان ہوا یا نہیں مگر میں نے روزہ ہمیشہ پورا رکھا ۔ اسکا ہر رکن پورا کیا۔ اسکول میں بے ہوش ہوکے گرا ہوں مگر کچھ کھایا پیا نہیں۔ جس دن آپ نے سور چکھ لیا تھا اس دن سے آج تک میں نے سور کو ہاتھ نہیں لگایا جبکہ یہ میرا پسندیدہ کھانا ہے۔
    ہے جن ہم جانتے ہیں تمہیں دل پر مت لو اور۔
    فاطمہ اب ہے جن کو ٹھنڈا کرنا چاپ رہی تھی مگر وہ بھی اسکی ایک نہیں سن رہا تھا
    کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو تمہیں بولو؟ عزہ اسکے انداز کو خاطر میں نہ لائی مزید تیز ہوکر بولی
    خود تم نے اپنے ساتھ کیا جو بھی کیا۔ نہ جھوٹ بولتے نا نبھاتے نا ہی تمہیں یہ سب کرنا پڑتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے ہمدردی ہو گئ تھئ اس سے۔ مجھے سچ مچ وہ اپنا چھوٹا بھائی لگنے لگا تھا۔
    طوبی جیسے تھک کر بولی۔
    اور اب اچانک وہ برا لگنے لگا؟ اسکا مذہب اسکا قطعی ذاتی معاملہ تھا طوبی تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اسکو زبردستی اسلام سکھانے کی جانتی ہو وہ تمہارے سامنے اعتراف کرنے سے پہلے جانتی ہو مجھ سے کیا پوچھ رہا تھا؟ دلاور نے گہری سانس لیکر اپنی احمق مگر بے حد پیار کرنے والی بیوی کی آنکھوں میں جھانکا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں دل سے رکھ رہا تھا کہ نہیں یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے تم میں سے کسی کو میرے نماز روزے سے گناہ نہیں ملا اتنا جان گیا ہوں۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوتا ہے اللہ صرف تمہیں تمہارے گناہ ثواب پر جواب طلبی کرے گا کسی کوریائی ہائی اسکولر ہے جن کے اعمال پر نہیں سمجھیں عزہ نونا۔۔
    وہ جیسے ضبط چھوڑ بیٹھا ۔ اسکے الفاظ اسکی اندرونی کیفیت کو آشکار کر رہے تھے وہ اتنا ہی بے چین اور مضطرب تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھیں ضبط سے سرخ ہو گئ تھیں۔ عزہ بھی اسکا چہرہ دیکھتے لمحہ بھر کو چپ سی پوئی پھر اپنی جون میں واپس آتے ہوئے جواب دینے کو منہ کھولا
    مگر تم۔۔۔۔۔۔۔
    کہ فاطمہ دھاڑی
    بس کرو دوبارہ یہ مسلئہ یہاں شروع کرنے کی ضرورت نہیں تم دونوں کو۔ جو بھی ہوا اس میں ہم سب کی غلطی تھی کسی کی تھوڑی سہی مگر بہر حال اس معاملے کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھو۔ عید کے دن ایسے فضیحتے مت کرو ایک دوسرے کے۔
    دونوں اسکے یوں چلانے پر ایکدم خاموش ہو رہے۔
    چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔۔
    چلو کھانا کھائو ۔بہت بھوک لگ چکی ہے اب مجھے۔
    جتنی زور سے چلائی تھی اب اتنے ہی دھیمے انداز میں کہہ رہی تھئ
    مجھے بھوک نہیں۔دونوں نے اپنی اپنی زبان میں اکٹھے کہا تھا
    اب یہ فالتو بھوک ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں۔
    اس نے انگریزی میں سمجھانا چاہا تو دونوں سر جھٹک کر اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے
    لگتا یے انگریزی سمجھ نہیں آئی انہیں میری۔۔
    وہ کندھے اچکا کر بڑ بڑائی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تھکا ہارا جب گھر پہنچا تو گھر خالی تھا۔ وہ سیدھا کچن میں چلا آیا بھوک کے مارے دم نکل رہا تھا۔ ڈھیر سارا کھانا بنا ہوا تھا خوشبو پورے اپارٹمنٹ میں پھیلی تھی۔۔ اس نے ڈھکن ہٹا کر دیگچی میں جھانکا۔بریانی ۔۔ ساتھ ایک پیالے میں کسٹرڈ۔
    بریانئ۔ اسکا منہ بن گیا۔ جانے یہ لڑکیاں اس مرچیلی مرغی اورچاول کے ملغوبے کو اتنا شوق سے کیوں کھاتی تھیں۔ اور آج کھایا کیوں نہیں تھا۔ ایک ہفتے میں تیسری باروہ یہ کھانے جا رہا تھا۔ پلیٹ بھر کر ایک چھوٹی پیالی میں کسٹرڈ نکال کر وہ وہیں کائونٹر کا اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ چاپ اسٹکس سے نوالہ بنانا چاہا تو کھلے کھلے چاولوں کے دانے بکھرتے چلے گئے
    وہ گہری سانس بھر کر اٹھنے کو تھا کہ اسکے سامنے ایک چمچ لہرایا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو فاطمہ اسے چمچ تھما رہی تھئ۔
    کھمسا۔۔ شکریہ۔ وہ روانی میں ہنگل بولتے ہوئے ٹھٹک کر انگریزی میں بولا۔
    ہے جن کھانا نہیں کھا رہا ۔۔
    اس نے جیسے اطلاع دی۔
    تو ؟ سیہون کو سمجھ نہ آیا کہ اس میں پریشانی والی کیا بات
    عزہ نے بھی نہیں کھایا۔ اس نے ایک اور اطلاع دی۔
    تم نے کھایا؟ سیہون نے الٹا سوال کر ڈالا
    نہیں ۔ وہ اسکے سامنے والا اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ
    وہ گہری سانس لیکر اٹھا دیگچی سے بریانی کی نئی پلیٹ بنائی لا کر سامنے رکھی اسکے۔
    مجھے یہ والی بوٹی پسند نہیں۔
    فاطمہ نے منہ پھلایا۔ وہ دیکھ کر رہ گیا۔ پھر اپنی پلیٹ سے ٹانگ اٹھا کر اسکی پلیٹ میں رکھی اور وہ بڑی سی ریشے والی بوٹی اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔
    اتنی مزے کی بریانی بنائی تھی میں نے۔
    کوئی کھانے کو تیار ہی نہیں۔ وہ خود بریانی سے ٹھیک ٹھاک انصاف کر رہی تھی۔چمچ ایک جانب پڑا تھا پلیٹ کے۔وہ بھی سر جھٹک کر کھانے لگ گیا۔
    واعظہ ہوتی تو دونوں کو سیٹ کر دیتی۔ میری تو سنی ہی نہیں دونوں نے۔ آج کل کے بچے۔ بلکہ نہیں بچے کہنا تو مناسب نہیں۔اتنے بھی چھوٹے نہیں مجھ سے۔
    وہ سوچ میں پڑی پھر مڑ کر بند دروازوں کو گھورا۔
    یہ بڑے بڑے گھوڑے بد تمیزی کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی نہیں کوئی بڑا سامنے کھڑا ۔۔ذیادہ نہ سہی تھوڑی سی تو بڑی ہوں میں۔ تھوڑا سا ہی لحاظ کر لیتے۔
    اسکا جتنی رفتار سے منہ چل رہا تھا اتنی ہی رفتار سے زبان بھی۔
    واعظہ کہاں ہے۔ ؟ اسے پورے جملے میں بس واعظہ ہی سمجھ آیا۔ سو اسی کی بابت سوال کیا فاطمہ چونکی پھر سنبھل کر انگریزی میں بتایا۔
    وہ نور کی طبیعت خراب ہوگئ تو عروج اور واعظہ اسپتال گئی ہیں۔
    کیا ہوا اسے؟ وہ چمچ چھوڑ بیٹھا
    ٹھیک ہے بس شائد بی پی لو ہوگیا یا کیا بے ہوش ہو گئ تھی۔ وہ بروقت اسپتال لے گئے تھے۔ اسکی حالت تشویش ناک نہیں تھی مگر وہ بے ہوشی میں کچھ بول رہی تھی جس میں انہیں یہی سمجھ آیا کہ اپنوں کو بلا رہی ہے سو ۔۔
    فاطمہ کو اسکا انداز تھوڑا عجیب لگا۔ اتنا پریشان کیوں؟۔ لیکن اسکی تسلی کو تفصیل سے بتایا۔۔
    واعظہ سے بات ہوئئ؟ ۔اس نے چمچ ابھی بھی نہیں اٹھایا تھا
    ہاں وہ کہہ رہی تھی ابھی ہوش میں نہیں اسکی نفساتئ دبائو کی وجہ سے طبیعت خرا ب ہوئی تھی۔ سو اسکو نیند آور دوا دے کر سلایا ہوا ہے۔
    فاطمہ کے بتانے پر شائد کچھ تسلی ہوئی تھی اسے۔ سو سر ہلاتا آرام سے کھانا کھانے لگا
    بات سنو۔ وہ میری سے تعلق ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے تمہارا؟ ۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا ۔
    سیہون نے جواب نہیں دیا خاموشی سے کھانا کھاتا رہا
    وہ کوئی میرج انشورنس والے آئے تھے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ تم کب موجود ہوگے۔
    اس نے بتانا شروع کیا سیہون کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ۔سخت متوحش سا ہو اٹھا
    تم نے بتادیا تم میری بیوی ہو؟
    اسکا ردعمل غیر متوقع تو نہیں مگر جارحانہ لگا پہلے تو سوچا مکر جائے مگر پھرسوچا کیا اکھاڑ لے گا غصے میں سو ڈرتے ڈرتے سچ بول ہی دیا
    آہ آں ۔ہاں۔ مجھے لگا وہ این جی او والے ہیں۔
    ہائش ۔۔ وہ جیسے سرپکڑ کر رہ گیا۔
    کیا ہوا؟ کچھ غلط ہو گیا۔کیا
    وہ ہمدردی سے اسکی جانب تھوڑا رازداری سے جھک کر بولئ
    ہاف۔ وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    آندے۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ وہ خالی پلیٹ لیکر اٹھ گیا۔۔
    میرج انشورنس کیا بلا ہے؟ تم نے اور میری نے تو شادی ہی نہیں کی نا؟ تو انشورنس کیسی؟
    اسے سچ مچ تجسس ہو رہا تھا ۔ سیہون سنک میں اپنی پلیٹ اور چمچ دھو رہا تھا وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھاتی اسکے پاس چلی آئی۔
    ہم پچھلے چار سال سے ایک بانڈ بھر رہے تھے جس کے مطابق جب ہم شادی کرتے تو ہمیں شادی کے اخراجات کیلئے ایک معقول رقم ساتھ ایک تحفتا ہنی مون پلان ملنا تھا۔ اگر ہم ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ سیہون کو اتنا تو اسکے بارے میں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ جواب لیئے بنا ٹلے گی نہیں سو بتانے لگا
    کمیٹی ڈال رہے تھے شادی کیلئے۔
    اس نے سمجھ کر سر ہلایا
    ہمارے یہاں یہ کام امیاں کرتی ہیں ۔ جب سے پیدا ہوتی ہیں لڑکیاں۔۔۔ انکے لیئے جوڑ توڑ شروع اور شادی کیلئے چیزیں جمع کرتی ہیں۔پھر کمیٹی کھل جائے تو شادی کے اخراجات اسی سےپورے ہوتے۔ میرا خیال ہے سب ایشیائی ممالک ایک جیسے ہی ہیں۔میری امی نے میرے لیئے اتنا سونا جمع کر رکھا تھا کہ بس ایک اسی وجہ سے کبھی کبھی میرا بھی شادی کرنے کا دل کر ہی جاتا تھا۔
    وہ علامہ بن کر تقریر جھاڑتی کافی میکر میں کافی بنانے لگی۔
    کافی پیئوگے؟ اس سے بھی پوچھ لیا۔اس نے سر اثبات میں ہلایا تو وہ اسکیلیئے بھی کافی بنانے لگی۔ سیہون نے اسکی استعمال شدہ پلیٹ بھی دھونے کی نیت سے اٹھا لی
    تم لوگوں کے ہاں لڑکیوں کی شادی کا خرچ والدین اٹھاتے ہیں۔؟
    اس نے یوں سوال کیا جیسے یہ کوئی انوکھی بات ہو۔
    ہاں۔ اس نے آرام سے کہا۔ یہاں بھی میں نے ڈراموں میں دیکھا والدین شادیاں کرواتے ہیں خرچ اٹھاتے وہاں بھی ایسا ہی ہوتا۔
    اگر والدین ہوں تو نا۔ سیہون نے ہاتھ دھو کر ٹوٹی بند کی پھر پیپر ٹاول اٹھا کر ہاتھ خشک کرنے لگا
    مطلب؟ اسے بات سمجھ نہ آئی
    میری کے والدین نہیں ہیں۔وہ یتیم خانے میں پلی بڑھی ہے جبھی اپنی شادی کیلئے سارے اخراجات اٹھانے کیلئے اس نے انشورنس کرارکھی تھی۔
    تو کلیم کروا کر تم سے شادی کیوں نہیں کی؟ اسے انکے رشتے کے ختم ہونے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
    سیہون نے گہری سانس لی
    ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد ۔۔۔۔ جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 23

    قسط 23
    اپنی جماعت میں تھکے تھکے قدم اٹھاتئ وہ سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئ تھی۔ عید کا جوڑا پہن رکھا تھا مگر اوپر بڑا سا کالا عبایا اور نقاب۔ بس ہاتھ پر لگی مہندی کا رنگ خوب جم کر آیا تھا۔ وہ اسی کو غور سے دیکھنے لگی۔ کوریائی طرز کا شہتیروں والا گھر ساتھ چیری بلاسم کا بڑا سا درخت چھوٹئ سی پگڈنڈی جو کلائی تک آرہی تھی بکھرے پتوں سے سجی تھی۔
    سرخ رنگ سے سجے اس لینڈ اسکیپ پر کسی کا ہنر زوروں پر تھا۔
    بورنگ عید ؟ اس نے گہری سانس لیکر سوچا۔
    تبھئ اسکے سامنے جاپانی ڈمپلنگز کا ٹفن پیک لہرایا۔
    اس نے چونک کر سر اٹھایا تو اسکی واحد جاپانی سہیلی یوگوائے اسے مسکرا کر کہہ رہی تھی
    عید مبارک عزہ۔
    وہ بے ساختہ اٹھ کر اسکے گلے لگ گئ تھی۔
    ………………..۔
    دس بجے اسکی آنکھ کھلی تھی۔انگڑائی لیکر اٹھی تو کمرہ خالی تھا۔ سستی سے چپل گھسیٹتی باہر نکلی تو فاطمہ اپنے بالوں کا جوڑا بنائے چولہے کے پاس کھڑی نظر آئی۔ تھپ تھپ پراٹھا بنانے میں مصروف آہٹ پر مڑ کر دیکھا تو جھٹ کام بتا دیا
    اٹھ گئیں یار واعظہ چائے میں پتی ڈال دو۔
    اسکا منہ بن گیا۔ جانے کونسی منحوس گھڑی اچھی چائے بنادی۔ زندگئ بھر کیلئے چائے پر اسکا نام لکھ گیا تھا۔ نہ کسی اور کو نہ ہی خود کو کسی اور کے ہاتھ کی چائے پسند آتی تھئ۔
    یہ لوگ چلی گئیں۔ ؟ وہ منہ بناتے دھپ دھپ کرتی آئی چائے کا ڈبہ اٹھا کر چمچ بھر بھر کر پتی جھونک دی۔
    اوئے یہ ڈبہ مہینہ بھر چلانا تھا میں نے۔ وہ چیخ ہی توپڑی
    اب نہیں چل پائے گا جلدی ختم ہو جائے گا۔
    واعظہ اطمینان سے بولی تو وہ اسے بیلن مارتے مارتے رہ گئ۔
    سیہون نوکری پر گیا ہوا۔الف عشنا اور عزہ یونیورسٹی گئ ہیں۔ صبح تیار ہوتے کتنا تو شور کیا جگا کے دم لیا مجھے سر میں درد ہوگیا تب سے۔
    وہ باقائدہ جمائی لیتے ہوئے بولی۔
    عروج کہاں ہے۔ اس نے آملیٹ کیلئے پیاز کاٹتے ہوئے پوچھا۔
    ٹیرس پر ۔۔ فاطمہ نے منہ بنایا۔ جب سے اٹھی ہے فون پر لگی ہے اسے کہا تھا کہ آملیٹ بنا دے۔
    گھر بات کر رہی ہوگی عید کا دن ہے۔ واعظہ نے لاپروائی سے کہا تو وہ تپ کر بولی
    ہنگل میں لگی ہوئی ہے۔ اسکے گھر کونسا کورین پیدا ہوگیا ہے۔ پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھا مڑ کر دیکھا تو واعظہ ہاتھ روکے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔
    اسکے دیکھنے پر فاطمہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
    دونوں نے پھراکٹھے دوڑ لگائی ۔ ٹیرس کا گلاس ڈور بند تھا اسے دھیرے سے کھول کر دونوں کے صرف سر درز سے باہر نکلے۔۔ باہر ٹہلتے ہوئے عروج بہت خوشگوار انداز میں کسی سے مخاطب تھی۔
    ہاں۔۔ نہیں۔ بس یہاں کیسی عید شائد شام کو کسی پبلک پارک میں گھومنے جائیں۔ ہاں۔ نہیں پاکستان میں تو سب رشتے دار ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں۔ ہاں۔ ہاں۔ سب سے مزاتب آتا جب۔
    پلٹتے ہوئے ادھ کھلے گلاس ڈور سے لٹکتے دو سروں پر نگاہ پڑی تو آواز حلق میں گھٹ سی گئ ۔بلکہ ہلکی پھلکی چیخ نما بے معنی آواز بھی نکلی دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
    دوسری جانب سیونگ رو چونکا
    کیا ہوا خیریت۔
    دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی اس نے منہ ہی منہ میں دونوں کو گالیاں دیں۔
    آہاں۔ وہ ناشتے کا وقت ہو چلا تو ذرا کھا پی لوں بعد میں بات کرتی ہوں۔ سنبھل کر خدا حافظ کہہ کر فون بند کرکے وہ تن فن کرتی انکے پاس آئی
    سیدھے طریقے سے باہر نکل آتیں دہلا دیا دو سر لٹک رہے ہیں بس۔
    کون تھا؟
    دونوں کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ زرا جو بدمزا ہوئیں ہوں آکٹھے کورس میں دریافت کیا۔
    سیونگ رو تھا۔ وہ چلبلا کر دروازہ پورا کھولتی اندر چلی آئی۔ دونوں سیدھی ہوئیں ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔
    عید کے دن سیونگ رو ۔ یعنی ڈبل عید۔ ڈبل خوشی۔
    واعظہ نے شرارت سے اسکو قریب آکر کندھا مارا۔
    واہ جی۔ فاطمہ کیوں پیچھے رہتی دوسرا کندھا اسکا ہوا
    یہ کب ہوا کیسے ہوا؟؟؟ ہمم بولو
    اوفوہ۔ وہ مصنوعی جھلائی دونوں کو اپنے کندھوں سے جھٹکا پھر بے نیازی سے بولی۔
    ہم اچھے کولیگ ہیں عید کا تہوار آیا تو مبارکباد کیلئے اس نے فون کر دیا ذیادہ اپنے ننھے دماغوں پر زور نہ ڈالو گھس جائیں گے۔ ابھی عمر پڑی ہے انکو رگڑنے کیلئے۔
    وہ سیدھا آملیٹ بنانے اسٹو کی جانب بڑھ گئ تھی۔ واعظہ پیاز کاٹ چکی تھی فاطمہ نے انڈے پھینٹ رکھے تھے۔ سو آرام سے آملیٹ بنانے لگی۔
    بس زبانی عید مبارک۔۔واعظہ نے منہ بنایا پھر شرارت سے گنگنانے لگی۔
    عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیئے۔
    عروج نے بنا لحاظ کائونٹر سے اںڈا ہی اٹھا کر اسے دے مارا۔ وہ ہنستے ہنستے بس لمحہ بھر کی جھکائی دے گئ انڈا فاطمہ اور اسکے درمیان پھٹ سے زمین پر آگرا
    عروج کی۔بچی یہ تم ہی صاف کروگی۔ فاطمہ بھنائی۔ آخر ان سب کے جانے کے بعد گھر اسکی ہی۔ذمہ داری بننا تھا
    ہے جن نہیں اٹھا ابھی۔؟ واعظہ کے کہنے کی دیر تھئ کمرے کا دروازہ کھلا ہے جن تولیہ سے بال رگڑتا برآمد ہوا۔ اپنی دھن میں چلتا ہوا آیا۔ تولیہ کندھے پر رکھ کر گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بے نیازی سے کچن میں چلا آیا۔
    آننیانگ ۔ کائونٹر سے جگ اٹھایا گلاس میں پانی بھرا گلاس اٹھا کر منہ کو لگانے لگا تو دیکھا منظر تو ساکت ہوا وا ہے
    چولہے پر فرائی پین میں انڈہ سلگنے کو آیا تو عروج نے چونک کر نگاہ کئ فاطمہ ہاٹ پاٹ اٹھائے کائونٹر پر رکھنا بھول گئ تھی اور واعظہ اطمینان سے کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے اسٹول پر بیٹھئ باقائدہ منہ کھولےاسے دیکھ رہی۔تھی۔
    کیا ہوا؟۔ اس نے سٹپٹا کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    یار یہ تو اوپا انڈر پراسس ہے۔
    فاطمہ کے ہونٹ وائو کے انداز میں گول ہوئے تھے پھر جھٹ ہوش میں آتے بیان داغا
    ہاں یار کچھ ذیادہ ہی۔حسین لگ رہا ہے یہ تو۔
    عروج آملیٹ پلیٹ میں نکالنے لگی اب واعظہ کے ردعمل کی باری تھئ۔
    وہ گڑبڑا اٹھا۔بے چارگی سے واعظہ کو دیکھنے لگا
    کیا ہوا نونا کچھ غلط کر لیا میں نے اسے ایسے ہی نہیں پہنتے؟
    ایسے ہی یہاں کھڑے رہنا۔
    واعظہ کا کھلا منہ یہ کہہ کر بند ہوا اسے تاکید کرتی وہ سیدھا اٹھ کر کمرے میں گھس گئ۔
    وہ سوالیہ نگاہوں سے عروج اور فاطمہ کو دیکھنے لگا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
    فاطمہ چائے کے کپ لا کر میز پر رکھ رہی تھی جب اسکی واپسی ہوئی۔
    سنجیدگی سے ہے جن کی جانب بڑھی۔ وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا
    اس نے آگے بڑھ کر سات مرتبہ اسکی نوٹ اسکے اوپر سے وارے۔۔
    طوبی کے بنائے کرتے پاجامے میں اسکا گورا رنگ دمک رہا تھا ۔لمبا قد مزید نمایاں ہو رہا تھا آج خالص کوریائی بالوں کا انداز بنانے کی بجائے اس نے ایک جانب مانگ کر لی تھی گھنے چمکیلے سیاہ بال محض انگلیوں کے اشارے پر سج گئے تھے۔
    یہ عیدی ہے؟۔
    اس نے پیسے لینے کو ہاتھ بڑھائے۔مگر واعظہ منہ ہی منہ میں ابھی کچھ پڑھ رہی تھی۔
    عروج اور فاطمہ ہنس دیں۔
    نظر اتار رہی ہے تمہاری۔یہ پیسے کسی غریب کو دینے ہونگے۔ عروج نے ہنس کر کہا۔ تو وہ جیسے سمجھ کر سر ہلانے لگا۔
    واعظہ نے معوذتین پڑھ کر اسکی پیشانی پر پھونک ماری۔
    ماشا اللہ بہت جچ رہے ہو تم۔ اس نے کھلے دل سے تعریف کی تو وہ جھینپ سا گیا
    اب اسے بھائی کہنا مشکل لگ رہا مجھے ۔۔پانچ چھے سال ہی چھوٹا ہوگا یہ ہم۔سے ہے نا۔
    یہ فاطمہ۔تھی۔۔ اسکی لن ترانی پر واعظہ اور عروج دونوں نے گھورا۔
    دے نونا؟ ہے جن کو اسکی۔تعریف کا بھی ترجمہ۔چاہیئے تھا۔
    چلو ناشتہ کرو پھر ہم طوبی سے ملنے جائیں گے تیار ہوکے۔ تیار ہونے کے بعد پھر عیدی دوںگئ تمہیں۔
    پھونک پھانک کر واعظہ نے جواب دیا تو وہ سر ہلانے لگا۔ ۔
    بالکل ہم عید کو بھرپور طریقے سے منائیں گے۔
    فاطمہ نے عزم کیا
    …………………………………
    ڈیڑھ بجے کا وقت تھا وہ ایک بجے ہی اس فین میٹنگ کیلئے مخصوص کیئے گئے ہال میں پہنچ چکی تھی۔ شور کرتی لڑکیاں پرجوش سے لڑکے۔ بینرز پلے کارڈ ہیومن پوسٹرز اٹھائے تھے۔ لی من ہو کے قد آدم اسٹینڈز سج رہے تھے۔
    دو لڑکیاں کے ایف سی کے برگر اٹھائے زور زور سے بولتی اسکے پاس سے گزریں تو وہ چونک کر دیکھنے لگی۔
    کتنا عرصہ ہو چکا تھا اسے اپنی پسند کا کچھ کھائے۔ بچت بچت۔ ایک ایک پیسہ دانتوں سے خرچ کرکے جوڑا تھا۔
    لی من ہو کیلئے برانڈڈ ٹی شرٹ اسکی پورے مہینے کے اوور ٹائم اور کئی مہینوں کی۔بچت ٹھکانے لگا گئ تھئ۔ ایک بوکے بس۔ اپنے لیئے شرٹ سائن کروانا چاہتی تھی مگر اپنے لیئے پیسے بچے ہی نہیں۔
    لاکھوں پرستاروں میں سے ایک ہوں میں۔ اس نے اپنے گرد اس جمع غفیر کو چور نظروں سے دیکھا۔
    فاطمہ بھی تو کچھ ایسا ہی بتا رہی تھی۔
    اسکا ہیولہ اسکے آس پاس ہی کہیں تھا۔ اس نے سر جھٹکا۔
    عید کا دن اپنے پسندیدہ ستارے کے ساتھ گزاروں گی اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی۔۔
    بوکے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی خوشبو محسوس کرتے اس نے سوچا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے گہری سانس لیکر ریڈیو کی عمارت کو دیکھا۔
    شو تو شام کو تھا مگر بلاوا ابھی آچکا تھا اسکا اور شائد ژیہانگ کا بھی۔وہ سرجھٹک کر اندر بڑھ گئ۔
    انکا اسٹوڈیو خالی تھا بس ژیہانگ بیٹھا موبائل میں لگا ہوا تھا۔
    اسکے سامنے خشک میوہ جات کیریمل میں لپٹے پڑے تھے خاص چینی سوغات۔ اس نے ایک بار یہیں سے خرید کر کھائے تھے۔
    اسلام و علیکم۔ وہ روانی میں کہتی اپنا بیگ زمین پر رکھنے لگئ۔ ژیہانگ سے چونک کر سر اٹھایا پھر دھیمی سی مسکراہٹ سے اس سے بولا
    عید مبارک۔ یہ لو کھائو۔۔
    اس نے حسب توقع وہ پلیٹ تھوڑی سی اسکی جانب کھسکا دی تھئ۔
    الف اپنی نشست سنبھال رہی تھی جب اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔ وہ جواب دینا ہی بھول گئ۔ اور پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانا بھئ
    تبھئ پروڈیوسر صاحب حسب معمول افراتفریح میں اسٹوڈیو میں داخل ہوئے ایک پلندہ لا کر اسے اور ژیہانگ کے سامنے میز پر لا رکھا۔۔
    یہ گو تھرو کر لو تم دونوں اچھی طرح۔
    وہ دونوں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے رہ گئے۔
    گو تھرو؟ اس پر تو ریسرچ پیپر لکھنا بھی کم۔پڑے۔۔
    اس نے حجم کا اندازہ لگانا چاہا۔
    یہ کیا ہے۔ دونوں کے منہ سے اکٹھا نکلا۔
    یہ ہیں وہ ٹاپ سرمایہ کار جن کو ہم نے گھیرنا ہے۔ ایس بی ایس ایسے ہی تو نہیں کوریا کا نمبر ون میڈیا نیٹ ورک ہے۔ دنیا جہان سے سرمایہ کار آئیں گے۔ اگر کوئی ایک بھی ہم نے گھیر لیا تو کم ازکم سال بھر کی فرصت ہوگی یہ شو کوئئ مائئ کا لعل بند نہیں کراسکے گا۔
    وہ فخریہ بولے۔
    پر یہ ہے کیا۔
    ژیہانگ نے ایک چھوٹا پلندہ اٹھا کر اسے کھول کر دیکھنا شروع کیا جبکہ الف نے اتنی محنت کی بجائے سیدھا پوچھنا بہتر سمجھا
    یہ مشہور کمپنیوں کی مارکیٹنگ کی ترجیحآت ہیں۔ جیسے یہ
    سوجو برانڈ دیکھ لو اس برانڈ نے بڑے بڑے سیلیبریٹیز کو ہمیشہ ہائر کیا ہے۔ انکی ترجیحات میں ان سیلیبریٹیز کے تمام انٹرویو شوز ہوتے ہیں۔ یعنی ہم نے سیہون کو بلایا تو اگر سیہون انکا کبھی اشتہار کر چکا ہے تو وہ ہمارے شو میں جب جب سیہون آئے گا اشتہار دیں گے۔
    انہوں نے تفصیل سے سمجھانا چاہا
    تو کیا سیہون نے انکا کبھی اشتہار کیا ہے۔
    الف کو لگا تھا اسکا سوال بنتا تھا یہاں۔
    اوہو نہیں کیا مگر کر تو سکتا ہے۔وہ جھلائے
    ہم یہ تفصیلات کا کریں گے کیا؟ الف ان سے زیادہ جھلائی
    بھئ وہاں جا کر اسپانسرز گھیرنا بتانا کہ تم۔لوگوں کے شو میں بڑے بڑے سیلیبریٹیز آتے ہیں ۔اور قسمت مزید یاوری کر گئ کہ اگر تم دونوں میں سے ایک بھی انکا برانڈ ایمبیسیڈر بن گیا تو ہمارے تو وارے نیارے ہونگے تمہاری بھی زندگئ بدل جانی ہے۔
    انکو بچوں کی۔طرح سمجھانا پڑ رہا تھا
    ایک سیہون ہی آیا ہے بے چارہ وہ بھی جانے کیسے۔
    وہ بڑ بڑا کر پلندہ اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اتنی سی دیر میں ژیہانگ چار چھوٹے پلندے ایک طرف کر چکا تھا۔ اس نے جتنی دیر میں پلندہ الٹ پلٹ کیا وہ باقی سب بھی چھانٹ چکا تھا
    اب الف کے ہاتھ سے وائن برانڈ کی۔تفصیلات کا پلندہ کھینچ کر دیکھنے لگا۔ اس نے بدمزا ہو کر دیکھا اسے۔ ژیہانگ نے الٹ پلٹ کرکے اس فائل کو الگ رکھ دیا۔ میز پر دو ڈھیریاں۔بن چکی تھیں۔ ایک بڑی اور ایک چھوٹی سی
    یہ تم نے ترجیحی برانڈ الگ کیئے ہیں؟
    پروڈیوسر صاحب نے اسکی تیزی کو کافی پسندیدہ نگاہ سے دیکھا۔
    نہیں یہ بڑی ڈھیری تمام شراب اورحرام کھانے کے برانڈز ہیں جن کی اسپانسرشپ مجھے مل بھی رہی ہو تو میں نہیں کروں گا۔
    اس نے اطمینان سے کہا ۔تو پروڈیوسر اور الف دونوں کی آنکھیں جیسے ابلنے کو آگئیں
    اتنئ بڑئ حماقت ارے سب سے ذیادہ پیسے انہی برانڈز سے ملتے احمق۔
    وہ جھلائے
    میں نے آپکو شو کا حصہ بننے سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ میں شراب کی تشہیر نہیں کر سکتا ورنہ یہ سوجو برانڈ تو تب بھی ہمارے شو کو اسپانسر کر ہی رہا تھا۔ آپ نے میری اجازت بنا جو اسکی تشہیر میں میرا نام استعمال کیا اس پر میں ہرجانے کا دعوی بھی کر سکتا ہوں
    ژیہانگ کا انداز قطعی تھا۔
    اتنے بھی انتہا پسند نہ بنو۔
    وہ گڑ بڑائے۔ ہاں تو۔ کبھی اسٹوڈیو میں دیکھا تم نے ؟ شراب کا کارٹن ۔ تم لوگوں کیلئے جو تحفتا بھجواتے تھے اسکو میں دیگر میں بانٹ دیتا تھا۔ ابھئ بھئ ایسا ہی ہوگا پتہ بھی نہیں چلے گا تم دونوں کو مگر ہماری روزی پر تو لات نہ مارو نا۔
    انکا انداز ملتجی ہوا۔
    جو انجانے میں ہوا اسکی تو نہیں لیکن اب سے آگے میں اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اگر تو آپکو منظور تو ٹھیک ہے نہیں تو میں اس شو کو چھوڑ دیتا ہوں۔
    ژیہانگ قطعی سے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا تو پروڈیوسر کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے۔ الف بالکل خاموشی سے دونوں کو بحث کرتا دیکھ رہی تھی
    اچھا اچھا۔ خفا نہ ہو۔ اچھا یہ بتائو لوہن سے بات ہوئی تمہاری۔؟ وہ کب آرہا ہے کوریا؟ ہمیں وقت دے گا؟
    انہوں نے بات بدل ڈالی
    ابھی تو ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف ہے سویٹ کومبیٹ نام ہے۔ اسکے بعد ہی فرصت ملے گی اسے کبھی۔ میں نے بات کی ہے اس سے اگر بیچ میں کوریا کا چکر لگا تو ہمارے شو میں ضرور آئے گا۔
    ژیہانگ انکے انداز پر آنکو مزید تنگ نہ کرتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا۔
    چلو جب مرضی۔ سوہو بھی ڈرامے میں مصروف ہے ۔لیکن ہے تو کوریا میں اس سے بات کرکے دیکھنا۔ یہ پلندہ میں لے جاتا ہوں۔
    وہ اسکے مسترد شدہ پلندے کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    تم لوگ بقیہ برانڈز کو آپس میں ڈسکس کرلو۔
    وہ جاتے جاتے بھی ملتجی انداز میں تاکید کر گئے۔
    ژیہانگ سر ہلا کر واقعی ان پلندوں کو چھانٹنے بیٹھ گیا۔ کاغذ الٹ پلٹ کرتے یونہی اسے نظروں کا احساس ہوا تو سر اٹھایا۔ الف بالکل سامنے بیٹھی گھور رہی تھی۔
    کیا ہوا؟ اس نے چونک کر پوچھا؟
    تم نے مجھے عید مبارک کہا۔۔
    اسکا انداز تفتیشی تھا۔۔
    ہاں تو کیا عید نہیں آج؟۔ وہ گڑبڑایا۔
    یہاں بھی کوئی پوپلزئی پیدا ہواگیا کیا کہ۔آدھوں کی آج آدھوں کی کل عید ہو۔۔
    وہ اس بار چینی میں بڑ بڑایا۔
    تم نے کرتا پاجامہ پہن رکھا ہے۔۔
    اس نے جیسے الزام دیا۔
    ژیہانگ سیدھا ہو بیٹھا۔ نیوی بلو کرتا سفید پاجامہ وہ بھی حیدر آبادئ طرز کا۔ پہلی بار پہنا تھا ایک ہندوستانی بوتیک سے لیکر وہ بھی آنلائن اسے کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔ کارٹون لگ رہا ہوں کیا۔ وہ گڑبڑایا۔پھر خود ہی کہنے لگا۔
    صحیح نہیں فٹنگ نا؟ مجھے بھی ڈھیلا لگ رہا ہے۔ اس نے خوب چوڑے پائنچے والے پاجامے کو بلا وجہ ٹھیک کیا۔
    شراب اور حرام اشیاء سے کیا مراد ہے۔ وہ گھور رہی تھی۔
    تم لوگ تو کتے بھی کھا جاتے ہو؟ ہے نا۔
    لاحول ولا۔۔۔ وہ سٹپٹا گیا۔
    بھئی میں نہیں کھاتا۔ ہم نہیں کھاتے بلکہ کوئی مسلمان نہیں کھاتا۔احمق لڑکی۔
    تو تم مسلمان ہو۔ وہ بھونچکا سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آہاں ۔ میں مسلمان ہوں۔ وہ بے چارہ بھی گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔
    مگر تم تو چینی ہو۔ وہ یقین کرنا بھی چاہ رہی تھی نہیں بھی۔
    ژیہانگ اسکے ردعمل پرمسکرا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔لی من ہو کے چہرے پر ایک تکلفاتی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی آگے کوئی لڑکا بیٹھا ہو لڑکی یا کوئی جنگلی جانور۔ بس مسکرا کر آننیانگ کہتا۔ سیلفی بنواتا۔ پوسٹر سائن کرتا اور سلیقے سے آگے بڑھ جانے کا اشارہ کر دیتا۔
    اسکی باری آئی تو وہی مسکراہٹ وہی انداز۔
    اس نے لمبی تقریر یاد کر رکھی تھی۔
    میں آپکی بہت بڑی پرستار ہوں۔ سٹی ہنٹر میرا پسندیدہ ترین اور اب لیجنڈ آف بلو سی بھی۔ اور۔
    ذہن صفا چٹ ہو گیا۔ انگریزی اردو سب غارت۔
    لی من ہو اسکی کیفیت سمجھ کر زور سے ہنسا تھا۔
    اس نے خجل ہو کر شرٹ اسکی جانب بڑھا دی۔ جس کو اس نے سائن کر کے واپس کردیا۔
    یہ آپکے لیئے ہے۔ وہ بمشکل سمجھا پائی۔
    واقعی؟ وہ حیران سا ہوا تھا۔بغور شرٹ دیکھی اسکا برانڈ دیکھا۔ پھر باقائدہ اٹھ کر آدھا جھک کر اسکا شکریہ ادا کیا۔
    گھمسامنیدہ۔
    لی من ہو کی نگاہیں اس پر جمی تھیں اور وہ بس کسی اور جہاں پہنچ گئ تھی۔ کاش وقت یہیں تھم جائے اور۔
    اسکے دل نے بے ساختہ خواہش کی۔
    جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔اچھی عید تھی۔
    ……………………………………
    جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔تکلیف دہ عید تھی۔ بیرک کی دیوار سے ٹیک لگائے وہ صبح سے بھوکی پیاسی بیٹھی تھی۔ ناشتے میں عید کے دن سویوں کی بجائے چاول کمچی اور عجیب گوشت کا ملغوبہ آیا تھا۔ اس نے یونہی آہجومہ سے پوچھا
    یہ کونسا گوشت ہے۔
    پورک۔ منہ بھر کر بمشکل کھاتے آہجومہ نے جواب دیا۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔
    جانے یہ سزا کیوں ملی تھی اسے۔
    دوپہر میں بلیک بین نوڈلز آئے تھے ۔ ان کالے سیاہ نوڈلز کو جنکو کھانے سے آہجومہ کی زبان بھی کالی ہو چلی تھی اسے ذرا اشتہا محسوس نہیں ہوئی۔
    یہ کھا کیوں نہیں رہی ہے۔ حوالدارنی نے آہجومہ سے ہی پوچھا تھا۔
    یہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتی نہ پیتی ہے شام کو جب باہر کھڑکی سے اندھیرا پھیلتا ہے تب پانی پیتی ہے مجھے تو لگتا یے کوئی چلہ کاٹ رہی ہے۔ آہجومہ پلیٹ سمیت اٹھ کر حوالدارنئ کے کان میں گھس گئ تھیں۔ وہ تو بھلا وہ درمیان میں سلاخوں کا کہ سچ مچ نہیں گھس پائی۔
    کالا جادو۔ اس نے اندازہ لگایا۔
    شائد۔ آہجومہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
    لیکن اس جادو کا اثر نہیں ہو سکتا مجھ پر ایک مشہور بدھمتی راہبہ سے لیکر میں نے تعویز پہن رکھا ہے۔ حوالدارنی نے خوفزدہ نگاہوں سے نور کو دیکھتے ہوئے گلے میں لٹکتے تعویذ کو مٹھی میں بھر کر خود کو تسلی دے رہی تھی
    مگر میں نے سنا ہے کالے جادو کا کوئی توڑ نہیں ایسے تعویذ بھاپ بنا کے اڑا دیتا ہے کالا جادو۔
    آہجومہ نے اسکا اطمینان اطمینان سے غارت کیا۔
    دیکھو کہاں جا رہی۔ہے۔۔
    نور لڑکھڑاتے قدموں سے اپنی جگہ سے اٹھی رخ سیدھا روشندان والی دیوار کی جانب تھا دونوں نے دم سادھ لیا۔
    وہ جھکی۔ انکی سانسیں تھمیں۔ جھک کر کولر سےگلاس میں پانی لیا۔ واپس پلٹی
    ان دونوں پر اچٹتی نگاہ ڈالی۔ دونوں اسکی سرخ انگارہ آنکھوں سے مزید خوفزدہ ہو گئیں
    سنو میں جیل سپریٹنڈنٹ کو بتائوں؟
    حوالدارنی نے آہجومہ سے جیسے اجازت چاہی
    مجھے پانی کی بوتل لا کر دو پہلے میں اب اس کولر سے پانی نہیں پی سکتی
    حوالدارنی کے منہ پر آہجمومہ نے ڈکار لی۔ حوالدارنی نے گھور کر دیکھا۔
    نور اپنے بنچ کی جانب بڑھتے ایک بار پھر لہرائی ۔ گلاس اسکے ہاتھ سے چھوٹا یہاں وہاں پانی پھیلتا گیا اور نور بھی۔ وہیں کھڑے قد سے نیچے آرہی۔
    ………………………………………………۔۔۔۔۔۔
    عید مبارک ۔ وہ پھولوں کا بکے اور کیک لیکر طوبی کے گھر آئے تھے دروازہ طوبی نے ہی کھولا۔
    ہلکے سبز پشواز کی فراک میں ملبوس طوبی نکھری نکھری تیار سی سامنے کھڑی تھی۔ انہیں دیکھ کر اسکی جیسے خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔
    الف۔ عروج اور واعظہ کیوں نہیں آئیں اور عشنا میں نے کہا بھی تھا سب آنا مل کر عید منائیں گے۔
    وہ پیار بھرا شکوہ کر رہی تھی۔
    وہ۔ عزہ نے بتانا چاہا مگر فاطمہ نے اسکا ہاتھ دبا کر روک دیا
    وہ عروج ہاسپٹل گئ ہوئی ہے ، واعظہ بھی ساتھ ہے عشنا کی آج فین میٹنگ تھی لی من ہو کی۔ اس کیلئے عید کا لطف دوبالا ہوچکا پہلے ہی الف کا آج شو ہے۔
    اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی طوبی مطمئن ہوئی کہ نہیں سر البتہ ہلا دیا پھر
    عزہ فاطمہ ہے جن وہ باری باری سب سے گلے ملی۔
    ہے جن کو تو دیکھتے ہی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں۔
    کتنا وجیہہ لگ رہا ہے میرا بھائی ماشا اللہ
    عبایا اتار کر مجھے اپنا ڈریس دکھائو۔
    اس نے بڑی بہنوں والے رعب سے عزہ سے کہا تو وہ ہنس کر عبایا اتارنے لگی
    ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ اس نے بے ساختہ دوبارہ عزہ کو گلے لگا لیا۔
    اور میں آپی۔
    ہے جن بھی اسکے کندھے پر جھول گیا۔
    فاطمہ نے بے ساختہ ہونٹوں پر زبان پھیری۔
    یہ بہن بھائیوں کی تکون چلنے ہی دینی چاہیئے جانے طوبی کا ردعمل کیسا ہو سچائی جان کر۔۔۔اس نے سوچا تبھی واعظہ اسکے کندھے کے پاس سے نمودار ہوئی
    تمہاری ذمہ داری ہے طوبی کی غلط فہمی دور کرنا ۔ ہےجن بہت پریشان ہے ہمیں اسکی مدد کرنی چاہیئے اس بچے کے ایک چھوٹے سے جھوٹ کی اسکو کافی کڑی سزا مل رہی ہے اب بس یہ ڈرامہ ختم ہو جانا چاہیئے۔
    فاطمہ نے اثبات میں سر ہلایا تو واعظہ غائب ہوگئ تھی۔
    بہت پیارے ماشا اللہ سے میرے دونوں بہن بھائی حسین لگ رہے ہیںمیں ابھی نظر اتارتی ہوں تم دونوں کی۔ وہ محبت سے کہتی جھپاک سے کچن میں گھس گئ۔
    بچیاں جھلمل فراک اور چوڑی دار پاجامے میں شرمائی شرمائی سی آکر عید ملنے لگیں تو ننھا شہزادہ چھوٹے سے کرتے پاجامے میں ملبوس پرام میں بیٹھا۔انگوٹھا چوس رہا تھا۔ عزہ نے جھکر پیار سے اسکے گال پر چٹکی بھری
    دلاور بھائی کہاں ہیں۔ عزہ نے پوچھا تھا۔
    ادھر کمرے میں۔ چلے جائو جاگ رہے ہیں
    اس نے اوپن کچن سے اشارہ کیا تو وہ تینوں کمرے میں چلے آئے۔۔
    دلاور بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھے سیویاں کھا رہے تھے۔
    انہیں دیکھ کر فورا خیر سگالی انداز میں مسکرا کر اٹھنا چاہا تو ہے جن جھٹ آگے بڑھ کر انہیں سہارا دینے لگا
    بیٹھے رہیئے دلاور بھائئ۔ معزرت ہم پہلے آپکی طبیعت پوچھنے نہ آسکے ۔ فاطمہ نے شرمندہ سے انداز میں معزرت کی۔
    ارے کوئی بڑی بات نہیں معمولی سی چک آئی تھی اب تو کافی ٹھیک ہوں میں۔
    انہوں نے مسکرا کر کہا۔
    طوبی بچوں کیلئے سویاں۔ انکی بات منہ میں ہی تھی کہ طوبی فرائی پین اٹھائے چلی آئی۔
    لال لال مرچیں جلا کر وہ ہے جن کی نظر اتارنے لائی تھی۔
    صبح واعظہ کی اتاری نظر کی اسے دل سے قدر ہوئی جب کڑوا دھواں ناک منہ میں گھستا حلق تک خراشیں ڈالتا گیا۔
    سارا پرفیوم غائب بس دہکتی مرچوں کی دھانس اور دھوئیں میں دھیرے دھیرے ہے جن نمودار ہوتا تو طوبی دوبارہ اسکو سرتاپا اس دھوئیں سے وار دیتی۔۔ کمرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔
    فاطمہ عزہ دونوں بری طرح کھانستی باہر بھاگیں ۔
    چلنے سے معزور دلاور انکی پھرتی کو رشک سے دیکھ کر رہ گئے۔ بری طرح کھانستے ہے جن کا ساتھ دیتے وہ بمشکل کہہ پائے
    بس کرو طوبی ۔بہت دھواں ہو گیا۔
    ہاں ہوگئ۔ طوبی اطمینان سے فرائئ پین لیئے مڑ گئ۔
    ہے جن کا کھانس کھانس کے برا حشر ہو چلا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑکیاں کھولنے لگا پنکھا چلایا تو تھوڑا امن ہوا۔
    دلاور سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی بھرنے لگے۔
    کبھی کبھی تو طوبی حد کر دیتی ہے۔
    وہ مسکرا کر اسکی جانب گلاس بڑھا رہے تھے۔
    اور گئے تم آج عید کی نماز پڑھنے۔ ؟
    میں تو جا نہیں سکا پہلی عید میری ہے ایسی جوعید کی نماز پڑھے بنا گزر رہی۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولے تھے۔ ہے جن کا منہ تک جاتا گلاس راستے میں رک گیا۔ اسکے چہرے کے تاثرات دلاور کو بھی تشویش زدہ کر گئے۔
    کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانئ ہے؟
    دلاور بھائی۔ ۔ اس نے ہمت کرکے گلاس واپس رکھا اور انکے سرہانے گھٹنوں کے بل آبیٹھا۔ انکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر ملتجی سے انداز میں پوچھنےلگا۔
    ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مانیں گے؟
    ہاں پوچھو۔ وہ اسکے انداز پر سنبھل کر بیٹھ گئے
    آپ مسلمانوں کیلئے کسی نو مسلم سے ارکان دین پورے کروانا لازم ہے؟ کیا یہ آپکی عبادت کا حصہ ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم اوپری دل سے ارکان ادا کرے تو کیا آپکو گناہ ملے گا؟
    تم اوپری دل سے نماز روزہ کرتے رہے ہو؟۔ دلاور نے سیدھا سا سوال کر ڈالا تھا۔
    اس نے سر جھکا لیا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ عزہ اور ہے جن لائونج میں سر جھکائے کھڑے تھے۔
    طوبی انکو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
    طوبی ہم سب گڑ بڑائے ہوئے تھے۔ہمیں لگا تھا کہ آپ نجانے کیا خیال کریں ہمارے بارے میں کہ 8 لڑکیوں میں ایک انجان لڑکا رہ رہا ہے تو بس یونہی ہم نے کہہ دیا ۔
    عزہ اور ہے جن کی ہمت نہیں تھی طوبی کی آنکھوں میں جھانکنے کی۔ تو فاطمہ نے ہی انکی جانب سے صفائی دی۔
    یونہی کہہ دیا؟ وہ چٹخ کر بولی۔۔
    پوری کہانی بنالی تم لوگوں نے۔ غیر مسلم ماں بیٹا ماں کے مذہب پر اور بیٹی۔
    اس نے کینہ توز نظروں سے عزہ کو گھورا۔
    تم لوگ دو مہینے سے مجھے بے وقوف بنا رہے تھے اور میں ۔۔ وہ سر تھامتی فلور کشن پر بیٹھتی چلی گئ۔
    ٹوٹے ہوئے گھر کے بچے سمجھ کر تم دونوں سے پیار کر بیٹھئ۔۔ وہ رو دی۔
    کیا کچھ نہ یاد آیا اسے۔ زبردستی ہے جن کو لیکر مارکیٹ جاتی سودا لیتے اسے کبھی چاکلیٹ کبھی کوئی اور کھانے پینے کی چیز دلا دی۔ہر بار اسے تاکید کرنا کہ عزہ کیلئے بھی لیکر جانا وہ لمبے لمبے لیکچرز۔اسکو زبردستی قرآن سنوانا مسجد بھجوانا دلاور کے ساتھ ۔سورتیں۔ یاد کروانا
    ہے جن نے بے بسی سے فاطمہ کو دیکھا۔
    طوبی آپی بات سنیں۔
    عزہ نے آگے بڑھ کر اسکا شانہ تھامنا چاہا۔اس نے بری طرح جھڑک کر اسے دور کردیا
    بالکل مجھے آپی کہنے کی ضرورت نہیں۔کسی کے خلوص کا مزاق اڑاتے شرم نہیں آئی تم لوگوں کو۔ سگے بہن بھائیوں جتنا پیار دیا تم دونوں کو یہ صلہ ملا ہے مجھے۔ نکل جائو دفع ہو جائو میرے گھر سے میں تم دونوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔
    وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔ ہے جن کو جملے تو نہیں مگر لہجے ضرور سمجھ آرہے تھے لب کاٹتے ہوئے اس نے آگے بڑھنا چاہا تو فاطمہ نے بازو تھام کر روک دیا۔
    اس وقت یقینا طوبی کو اکیلے چھوڑ دینا ہی بہتر تھا۔ وہ ان دونوں کو لیکر باہر آگئ تھئ۔
    ………………………………………

    ختم شد

    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 22

    قسط 22
    آسمان صاف نہیں تھا مگر پھر بھئ آخری افطاری انہوں نے ٹیرس میں کرنے کا ارادہ کیاتھا۔ صاف ستھرا میٹ اس پر چادر بچھا کر انہوں نے ٹیرس میں بیٹھنے کی تیاری کر لی تھی۔ عروج آج حاتم طائی بنی ہوئی تھی سب کیلئے آئیسکریم خرید کر لائی تھی یہ بڑی سی آئیسکریم بکٹ (بالٹی)شاپر لا کر باورچی خانے میں رکھتے ہی کمر پکڑ لی۔
    اف تھک گئ میں۔ کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا۔ کوئی کام مت کہنا مجھے اب۔ میں باہر کا سب نپٹا آئی۔
    آیک اچٹتی نظر سب کے مصروف ہاتھوں پر ڈال کر اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر اعلان کردیا۔
    اب رہ ہی کیا گیا کھانا پکا ہوا ہے افطاری تیار کر رہی ہیں ہم پہلے سے ہی۔ عشنا سادگی سے بولی۔ عروج نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا لی۔
    ۔ فاطمہ پکوڑے تل رہی تھی وہیں سے حسب توفیق گھور ڈالا۔ عزہ نے روح افزا بنانے کی ٹھانی تھی .فاطمہ نے پکوڑے کیلئے بیسن گھولتے ہوئے کہا تھا
    عزہ شربت بنا کر ادھر تلنے میں مدد کرانے آجانا۔۔
    اور اب پکوڑے سب تل کر ختم ہونے والے تھے یہ ایک جگ شربت بن نہیں پایا تھا۔
    عشنا اور الف فروٹ چاٹ کیلئے پھل کاٹ رہی تھیں ۔ آج ہے جن بھی کوئی کوریائی طرز کی چنے کی چاٹ بنا رہا تھا۔ لائونج کی سنگی میز کے کائونٹر پر سب مصروف تھے۔
    آئی نہیں واعظہ ابھی تک روزہ کھلنے والا ہے۔
    عروج کو فکر ہوئی۔
    صبح کی گئ ہے ہو سکتا ہے چاند رات اور عید اپنی فیملی کے ساتھ کرے۔ الف نے خیال ظاہر کیا۔
    بتا کے جائے گی اگر عید کرنے جائے گی تو۔ ایسے تھوڑی
    فاطمہ نے پکوڑے چھلنی سے اتارتے ہوئے بڑی سی ٹرے میں رکھ لیئے۔
    ویسے ہم نے ایک دن بھی افطاری باہر نہیں کی کم از کم ایک افطاری تو باہر کرنی چاہیئے تھی۔ الف کے کہنے پر عروج زور سے ہنس پڑی۔
    کوریا میں بیٹھی ہو پاکستان میں نہیں یہاں کون تمہارے لیئے افطار بوفے وغیرہ آفر کر رہا اوپر سے باہر جا کے بنا گوشت سبزیوں کو الا بلا سے مصالحوں میں پکتا کھا کے کیا لطف آنا۔
    ہم عید پر تو ڈنر باہر ہی کریں گے۔ بھلے کسی پاکستانی ریستوران میں ہی سہی۔
    وہ ضدی انداز میں بولی
    اگر کل عید ہوئی تو میری جانب سے ٹریٹ ۔ عروج نے شاہانہ انداز میں کہا تو وہ سب آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگیں۔
    خیر ہےکوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا کیا؟آج سب کو آئیسکریم کھلا رہی ہو کل کھانا کھلانے لگی ہو ؟ فاطمہ کو تجسس ہوا اور ٹھیک ہی ہوا۔ عروج گڑبڑا کر مڑ کر ریک سے برتن اٹھانے لگی
    ایویں۔ ہم سب گھر والوں سے دور ہیں تو کم از کم ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھا پی کے عید منالیں۔
    اسے جواب سوجھ گیا۔
    یار سویئیوں کے نام پر یہاں جو ملا ہے وہ نوڈلز ہی لگ رہا ہے۔
    عزہ روح افزا بنا کر اب عروج کے لائے شاپر کھنگال رہی تھی۔ ایک پیکٹ لہرا کر بولی۔
    ہے جن یہ ورسیچیملی ( سیویاں) ہیں یا نوڈلز۔ ہے جن چنوں پر سویا ساس چھڑکتے چونکا
    نوڈلز ہی ہیں یہ۔ آٹے کے نوڈلز ۔ اس نے وضاحت کی ۔ یہ چاروں عروج کو دانت کچکچا کر گھورنے لگیں۔ وہ کھسیا سی گئ
    اب کوریا میں تھوڑی سیویاں ہوتئ ہوںگئ۔ ہم کل کھیر بنا لیں گے حدیث تھوڑی کہ سیویاں ہی بنیں۔
    وہ قائل کرنے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
    چلو دسترخوان سجا لو وقت ہونے لگا ہے۔ الف جلدی سے گھڑئ دیکھ کر مستعد ہوئی۔
    شام کی آخری پہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آلو ، پیاز، پالک اور بینگن کے پکوڑے کی سجی بھری ٹرے ، چکن رول ، فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ ، روح افزا کا بھرا جگ ملائی ملی کھجوریں ساتھ چکن قورمہ جو ڈھونڈ ڈھانڈ کر حلال ٹیگ والا خریدا گیا تھا۔ چپاتیاں ۔ دسترخوان سجا تو وہ سب آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دعا کرنے لگیں۔
    ہے جن نے بھی انکی دیکھا دیکھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
    اپنے کیریئر مستقبل حال آئندہ آنے والے یونیورسٹی امتحان نوکری جانے کیا کیا دعائیں مانگی جا رہی تھیں ایک ہے جن تھا جس کی دعا ان سب سے الگ اور انوکھی تھی سیدھا دل سے نکلی۔ شائد جبھی ٹھک سے قبولیت کے درجے پر جا پہنچی تھی۔ جبکہ وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر انکی جانب متوجہ ہوا۔
    نونا کل سے ہم اپنی پرانے معمول پر لوٹ آئیں گے ؟ کبھی بھی کچھ بھی کھا سکتے ، جھوٹ بول سکتے تب تو کچھ نہیں ہوگا نا ؟ میرا مطلب رمضان کے علاوہ تو سب کر سکتے نا ۔۔ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا تھا اس سے قطع نظر ان سب کے کھجوروں کئ جانب بڑھتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔۔اسکے الفاظ ان سب کو اندر کہیں بہت زور سے لگے تھے
    یہ سب تو رمضان کے بعد بھی منع ہوتا یے۔ عشنا الف کے کان میں گھسئ۔۔ ہے جن وضاحت کرنے لگا۔
    دراصل میرا پورک اسٹیک کھانے کو دل کر رہا تو عید پر تو کھا سکتا ہوں نا۔
    عزہ کا منہ بن گیا۔
    پورک نہ ہوگیا زندگی ہوگیا بغیر پورک کھائے نہیں رہ سکتا یہ۔ میں تائب ہوتی ہوں اسے بھائی سمجھنے سے۔ گندا
    وہ اردو میں بڑ بڑائی۔ ہے جن منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ کہ شائد وہ ترجمہ بھی کرے مگر وہ روزہ کھولنے میں لگ گئ۔
    جیسے چاہو عید منائو ہے جن مرضی تمہاری۔
    فاطمہ مسکرا کر بولی۔ہے جن مطمئن سا ہو کر افطاری سے انصاف کرنے لگا
    پورک کھا کے یہ دلاور بھائئ کے ساتھ نماز پڑھنے گیا تو ہم پر لعنتیں پڑیں گی ٹھیک ٹھاک۔
    عروج نے ڈرایا
    دلاور بھائی کمر میں چک پڑوائے بستر پر پڑے ہیں۔ ۔۔فاطمہ نے لاپرواہ سے انداز میں کہا
    کل جائیں انکو دیکھنے عید پر طوبی بھی تو اکیلی ہوگی۔۔
    الف نے خیال ظاہر کیا۔
    مجھے مہندی لگانی۔ عشنا بسوری۔۔
    ویسے کل کی کیا پلاننگ ہے کیسے عید منانی کہیں جانا ہے گھومنے؟ عروج پرجوش سی ہوئی اسکے انداز کے برعکس باقی سب کے منہ اتر گئے
    میری کل بھی کلاس ہے۔عزہ بسوری۔
    کل لی من ہو کی فین میٹنگ ہے۔عشنا نے بڑا سا چکن پیس منہ میں رکھا
    میرا کل شو ہے ۔ الف کا تیزی سے چلتا منہ سست پڑا
    اگر کل عید نہ ہوئی تو میں بھی ہاسپٹل میں ہی ہوںگئ۔ عید کے دن۔ عروج کو بھی غم ستانے لگا۔
    دیکھتے ہی دیکھتے مطلع ابر آلود ہونا شروع ہوا
    بینگن کا پکوڑا املی کی چٹنی میں بھگو کر منہ میں رکھتے ہے جن نے سر اٹھایا تو دسترخوان پر سیلاب رواں تھا
    ویئو؟ وہ حیران ہی تو رہ گیا۔
    وہ سب زار و قطار رو رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اتنی چپ اور ساکت بیٹھی تھی کہ آہجومہ کو لگا اس پر سکتا طاری ہو گیا ہے۔
    حوالدارنی کو اشارے سے پاس بلا کر اسکی۔جانب اشارہ کرکے کہنے لگی
    سنو ڈاکٹر سے کہو اسکو دیکھ لے کہیں دماغ پر اثر وثر تو نہیں ہوگیا۔ کتنا تو چیخی چلائی ہے کیا پتہ۔
    وہ اپنی طرف سے آواز دبا کر بول رہی تھی مگر کھسر پھسر پر نور نے خالی خالی نظروں سے سر اٹھا کر دیکھا تو دونوں سٹپٹا سئ گئیں
    کین چھنا۔۔ حوالدارنی اسکا کندھا تھپک کر واپس اپنی جگہ جا بیٹھئ۔
    ملاقات آئی ہے قیدی نمبر 799 کی ۔ وردی میں ملبوس ایک لڑکی تیزی سے اندر آئی سیلوٹ جھاڑا پھر ادب سے حوالدارنی سے بولئ۔ اس نے نے حیرت سے وقت دیکھا
    اس وقت؟
    کوئی خاص موقع ہے خصوصی اجازت نامہ لیکر آئے ہیں
    اسکے رشتے دار۔
    اس نے کاغذ لہرایا تو وہ سرہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ
    اٹھو نوراشئ تمہارے ملاقاتئ آئے ہیں۔
    حوالدارنئ کی بات پر وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کون آیا ہے۔
    اسے بات مکمل سمجھ نا آئی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چندئ آنکھوں والی اہلکار اسے کیبن میں چھوڑ کر دروازہ بند کرتی باہرنکل گئ۔
    گلاس وال کےاس پار بیٹھئ واعظہ اور سیہون ۔ بنا نقاب سیہون کے سامنے کھڑی تھی مگر اس وقت اسے صرف ایک ہی چہرہ نظر آرہا تھا۔
    واعظہ وہ بھاگ کر دیوار سے آلگی۔ واعظہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔گلاس وال سے اسے گلے لگانا ممکن نہ تھا اور وہ دیوار پر سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
    اسے سنبھالتے واعظہ ہلکان ہونے لگی تھی
    خود کو سنبھالو نور ۔ وقتی مشکل ہے یہ سب ٹھیک ہو جائے گا
    مجھے نکالو یہاں سے مجھے نہیں رہنا یہاں۔ نہ جیل میں ۔نہ کوریا میں ۔۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے کہہ رہی تھی
    مجھے گھر جانا امی کے پاس جانا۔
    وہ بلک بلک کر رورہی تھی۔ واعظہ نے بے بسی سے اسے پھر سیہون کو دیکھا جو اسے جتاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
    اسکو نور کے الفاظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے مگر اسکا حال دیکھ رہا تھا۔ چار دن اس پر صدیاں بن کر گزرے تھے اس نے نور کو پہلے نہیں دیکھ رکھا تھا مگر پھر بھی پیلاستا ہوا چہرہ سرخ سوجی آنکھیں اسکا رونا بلکنا۔ سب ظاہر کر رہا تھا۔واعظہ نگاہ چرا کر اسکو متوجہ کرنے لگی
    بیٹھو نور بات سنو میری۔ ہمارے پاس ذیادہ وقت نہیں ہم خاص تمہیں عید کے تہوار کی اجازت ملنے پر آئے ہیں۔ادھر بیٹھو آئو بات سنو۔۔ اسکے کہنے پر نور دوپٹے سے آنسو پونچھتی کرسی پر گر سی گئ۔ واعظہ نے گہری سانس بھرتے اپنی نشست سنبھالی
    گلاس وال میں بنے چھوٹے سے سوراخ سے دونوں ہاتھ اندر کرکے نور کے ہاتھ تھامے۔ ہتھکڑیوں بندھے خشک سے ہاتھ۔ جو فیصلہ اس سے شائد نہ ہوپاتا اس لمحے اس نے کر ڈالا تھا۔ اسکا ہاتھ دھیرے سے تھپک کر اس نے سر جھٹکا۔ پھر ایک شاپر اٹھا کر کائونٹر پر رکھا۔
    اچھا سنو۔ ہم یہ تمہارے لیئے لائے ہیں۔ خاص کر عید کا اجازت نامہ لیکر یہ سب چیزیں انکو دکھوا کر لائے ہیں۔
    یہ تمہارے لیئے چاکلیٹ یہ تسبیح ، جاء نماز دوپٹہ۔ یہ جوڑا۔۔
    اس نے ایک ایک کرکے چیزیں سوراخ سے پار کیں
    کل تم کپڑے بدل سکتی ہو تمہیں اجازت ہوگئ کیونکہ کل تہوار ہے۔صبح تیار ہونا نماز پڑھنا اپنے لیئے دل سے دعا کرنا دیکھنا ایکدم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    وہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔ تسبیح جاء نماز ۔ اس نے آنکھوں سے لگا لی تھیں۔
    شکریہ واعظہ۔ وہ بھرائئ سی آواز میں بولی تو واعظہ مسکرا دی
    اور یہ دیکھو کون مہندی بھی لائی ہوں تمہارے لیئے۔
    اس نے چھوٹا سا شاپر نکالا۔
    دو تین کون مہندیاں۔ وہ ہنس دی
    تمہیں لگتا میں یہاں عید منائوں گی ایسے ۔۔ مہندی لگائوں گی
    وہ پھر رودینے کو تھئ۔
    حوصلہ کرو نور تم اتنی کمزور تو نہیں تھیں۔ ہم میں سب سے ذیادہ حوصلے والی ہو تم یوں ہمت مت ہارو۔یار۔
    واعظہ خود بھی روہانسی ہو چلی تھی۔
    سیہون ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
    میں باہر جا رہا ہوں۔
    وہ کہہ کر نکل گیا۔ واعظہ نے بس سر ہلایا
    اچھا تمہیں بہت اچھی مہندی لگانی آتی ہے نا ؟
    واعظہ کو۔خیال آیا۔ نور آنسو پونچھ کر گھورنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون باہر اسی حوالدارنی سے کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ جب وہ دایاں ہاتھ خود سے الگ سا کیئے ایک ہاتھ سے بیگ کندھے پر ٹھیک کرتی باہر آئی۔ اسے آتے دیکھ کر حوالدارنی گڑبڑا سی گئی۔
    چلیں۔ سیہون اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔ اسے دیکھ کر بولا تو وہ سر ہلا گئ۔
    اسکا دایاں ہاتھ کالا سا ہوا وا تھا سیہون ہی اسکے لیئے داخلی۔دروازے کھولتا آیا تجسس کے مارے رہا نہ گیا۔
    یہ کیا کیا ہوا ہے ہاتھ پر۔
    مہندی یے۔وہی جو کون لیکر گئ تھی اندر اسی سے بنوائی ہے۔
    اس نے ہاتھ ہی اسے دکھا دیا ۔۔ اس نے اپنے اپر کا بازو کہنی تک چڑھا رکھا تھا سپید ہاتھ سے آدھے بازو تک اوپر نیچے بیل بوٹے سے بنے ہوئے تھے۔ وہ ہاتھ بالکل سیدھا کیئے ہوئے تھی۔
    پر اس سے یہ کیا ٹیٹو بنوایا ہے؟ اسے تجسس ہو رہا تھا
    ہاں ٹیٹو ہی سمجھ لو۔ وہ سیکیورٹی والے کمرے تک پہنچے تو موٹی توند والے پولیس افسر نے روک لیا انہیں
    یہ کیا یے؟
    مہندی ہے ابھی آپکو دکھا کر ہی تو لیکر گئ تھی۔
    واعظہ حیران ہوئی
    مگر اس طرح نقش و نگار کیوں بنے ہوئے ؟ کوئی خفیہ۔پیغام لکھا ہوا ہے ان پر ؟
    وہ مشکوک انداز سے گھو ررہا تھا انہیں۔۔
    چلو جی۔ واعظہ اپنا دوسرا ہاتھ سر پر مار کر رہ۔گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریلنگ سے کہنی ٹکائے وہ سب قطار میں کھڑی آسمان پر بادلوں میں چھپے چاند کو تلاش رہی تھیں۔
    یہ آپ سب کی۔خام خیالی ہے کہ اس ابر آلود مطلع میں آپکو باریک چاند دکھائی دے جائے گا۔کوئی اور طریقہ اختیار کر لیں عید کا تعین کرنے کا۔
    ہے جن نے انکو سمجھانا چاہا۔ وہ آئسکریم کا پیالہ لیئے گھر میں ٹہل ٹہل کر ٹونگ رہا تھا۔ ابھی بھی انکی جانب سے حسب منشا ردعمل نا دیکھ کر کہہ کر مڑ گیا۔
    ابھی پاکستان میں ہوتے تو روئیت ہلال کمیٹی بیٹھ چکی ہوتی۔
    عشنا منمنائی
    اور پوپلزئی تو اعلان بھی کر چکے ہوتے۔
    الف ہنسئ
    مجھے مہندی لگانی ہے چاند رات مہندی کے بغیر کیسے منا سکتے بھلا
    عزہ پیر پٹخ کر بولی
    مہندی لے آئو لگا میں دوں گئ۔
    فاطمہ نے کھلے دل سے پیشکش کی
    لگاتو میں بھی سکتی ہوں لیکن اسکے ساتھ تجربہ برا رہا
    عزہ نے منہ بنایا
    کیا برا ہوا۔ الف اور عروج کو دلچسپی ہوئی
    میری کزنز ابھی کچھ ذیادہ ہی۔چھوٹی ہیں انکی منی ہتھیلی پر جب پچھلی عید پر میں نے خوب عرق ریزی سے چھوٹے چھوٹے بیل بوٹے بنائے تو دونوں روتی ہوئی اپنی اماں کے پاس میری شکایت کرنے بھاگ گئ تھیں۔
    اتنی بری مہندی لگاتی ہو تم۔
    عشنا حیران ہوئی۔
    عزہ نے دانت پیسے موبائل میں گیلری سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر تصویریں نکالی۔ منی منی ہتھیلیوں کی تصویریں تھی اور ان پر مہندی جس نے بھی لگائئ تھی کمال کیا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے پھول بل کھاتی بیلیں ننھی پوروں پر بھی نقش و نگار منی ایچر آرٹسٹ کیا فن پارے تخلیق کرتے ہونگے جو اس نے کیئے تھے
    اتنی تو اچھی لگائی ہے پھر۔ ؟؟؟؟ عشنا نے حیرت سے پوچھا تو عزہ گہری سانس بھر کر بولی
    ایک مجھے کہہ رہی تھئ چوکور ڈبا بنا کر اسکے نام کے پہلے حروف لکھ دوں دوسری کو پاکستان کا جھنڈا بنوانا تھا ہتھیلی پر۔
    اسکی بات پر وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں۔ انکی ہنسی کی آواز سن کر لائونج میں داخل ہوتے واعظہ سیہون کے ساتھ ہے جن بھی چونکا تھا۔ واعظہ نے ہے جن کو گھورا
    تم تو کہہ رہے تھے یہ لوگ رو دھو رہی ہیں۔
    نونا سچ مچ رو رہی تھیں پھر چاند دیکھنے لگیں لگتا ہے چاند نظر آگیا۔
    ہےجن کی بات پر واعظہ کو ہنسی آگئ ۔
    یہ ہاتھ پر کیا ہے۔ اسے اب نیا تجسس لاحق تھا ۔
    افطاری کا سامان ابھی بھی ٹیرس میں سجا تھا۔ البتہ سب ڈھکا ہوا۔تھا۔واعظہ کا تو روزہ تھا افطاری دیکھ کر آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگیں۔ بیگ فرش پر پھینک پھانک وہ جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔سیہون کی بھی ساری دوپہر اسکے ساتھ گزری تھی کھانے کا موقع نہ ملا سو وہ بھی بلا تکلف آبیٹھا ہاتھ میں تھاما بڑا سا شاپر اپنے ساتھ احتیاط سے رکھا اور شروع ہوگیا۔
    دونوں افطاری میں مگن تھے جب عزہ نے زور دار چیخ ماری
    چاند کا اعلان ہوگیا۔ کل عید ہے۔
    وہ موبائل میں اپنی عربی دوست کا چاند رات مبارک کا پیغام پڑھ کر خوشی سے اچھل۔پڑی تھئ۔ اسکی بات پر وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگیں۔
    چاند رات مبارک۔ منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ نے آواز لگائی۔
    آگئیں۔۔تم۔ وہ سب چونک کرمڑیں آگے بڑھ کر مبارکباد دینے کو تھیں کہ سیہون کو دیکھ کر رک گئیں وہ بے نیازی سے سر جھکائے فروٹ چاٹ کھا رہا تھا۔
    یہ شاپر اٹھائو میں تم لوگوں کیلئے کچھ چیزیں لائی ہوں۔
    اس نے اشارے سے سیہون کے لا کررکھے گئے شاپر کا بتایا۔
    جائو تم اٹھائو تمہارا منہ بولا بھائی ہے۔
    الف نے عزہ کو کہنی ماری تو وہ اسے گھور کر رہ گئ مگر یہ کام اسے ہی کرنا پڑا شاپر کھولتے ہی۔حیرت و مسرت سے چیخ ہی پڑی۔
    مہندی چوڑیاں۔ یہ کہاں سے مل گئیں تمہیں کوریا میں۔
    خوشی سے اسکی آواز بلند ہوگئ تھئ۔ باقی چاروں بھی بھاگ کر آئیں۔
    واعظہ فروٹ چاٹ پلیٹ میں نکال کر بیٹھی تھی پکوڑے تو اٹھا اٹھا کر توبہ کرتے الٹے ہاتھ سے کھا لیئے مگر فروٹ چاٹ کا چمچ الٹے ہاتھ سے کھانے اور اچانک عزہ کے جوش سے چلانے پر اپنے اوپر گرا بیٹھئ
    ایمبیسی گئ تھئ۔ کل فیسٹول ہے نا تو یہ سب چیزیں آئی ہوئی تھیں تو میں لے آئی۔ کل چلیں گے سب مل کر۔
    سچی۔ عروج ہی خوش ہو۔پائی باقی سب کے اپنئ جھمیلے تھے۔
    وہ چمچ اٹھا کر پلیٹ میں رکھنے لگئ۔ ہے جن کچن سے ٹشو باکس لے آیا۔ واعظہ شکریہ کہہ کر اپنے کپڑے ٹشو سے صاف کرنے لگی تو ہے جن اسکے برابر آ بیٹھا
    لائیں میں کھلائوں۔
    اس نے بڑے پیار سے چمچ بنا کر اسکی جانب بڑھایا۔ واعظہ ممنون سی ہوئی
    تمہارے ہاتھ۔ تم نے مہندی لگائی ہے؟
    فاطمہ چونک کر اسکے پاس چلی آئی۔ احتیاط سے اسکے پاس بیٹھ کر دھیرے سے چھونے لگی تقریبا سوکھ چکی تھی
    یہ نور نے لگائی ہے میرے ۔ واعظہ نے بتایا تو وہ دھیرے سے بڑبڑائی
    مگر تمہیں تو مہندی کی بو سے الرجی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واعظہ اس سے مہندی لگواتے ہوئے جانے کیا کیا سمجھاتی بجھاتی رہی مستقل بولتی رہی ادھر ادھر کے قصے باتیں کچھ دیر کو ہی سہی وہ کھل کر ہنسی۔ بھول گئ بڑے شوق سے اسکی ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتی رہی تھی۔
    میری عید جیل میں گزرے گی کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا میں نے۔
    وہ رو دی تھئ۔
    برا وقت کون بیٹھ کے سوچتا ہے پاگل۔ جب برا وقت آجائے تو یقینا یہ سوچنا چاہیئے کہ اس سے نپٹا کیسے جائے۔ حوصلہ مت ہارو صبر کرو دیکھنا اللہ تمہیں جلد اس مشکل سے نکالے گا۔
    واعظہ دیر تک اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔اسی کا دیا حوصلہ تھا کہ وہ نئی ہمت دی جیسی پا کر وہاں سے اٹھی تھی۔ ۔
    رات کو افطاری کے بعد سبزیوں والا کھانا پیٹ بھر کر کھایا خدا کا شکر ادا کیا نماز پڑھی نفل پڑھے دل کو جیسے ڈھارس سی بندھ گئ۔ تو فرصت سے کون نکال کر بیٹھ گئ۔ سپید ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتے آدھا بازو بھر لیا۔ ایک کون آدھی ہوئی تھی۔ اسکے پاس چار پانچ مزید بھی پڑی تھیں۔
    احمق میں کہہ بھی رہی تھی مجھے کیا کرنی اتنی ساری اب کیا پائوں پر بھی لگا کے بیٹھ جائوں الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر تو نہیں لگا سکتئ ۔ وہ آدھی کون ضائع نہیں کرنا چاہ رہی تھئ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
    آہجومہ چادر کی بکل مارے کب سے پڑی تھیں۔ اسے لگا سو رہی ہیں مگر کسمسا کر چادر کی جھری سے انہوں نے بغور دیکھا اسے کر کیا رہی ہے۔۔ پھر تجسس سے قریب آکر اس سے اپنی زبان میں پوچھنے لگیں
    کیا کر رہی ہو ؟
    اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر گہری سانس لی۔
    یقینا اسکی کون ضائع نہیں جانے والی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ الف کے فاطمہ عروج کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی تھی عشنا صبر سے بیٹھئ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ واعظہ اپنے اور ہے جن کے کپڑے استری کر رہی تھی۔ وہ اسکے ساتھ کھڑا باتیں بگھار رہا تھا۔سیہون باورچی خانے میں کھڑا کافی بنا رہا تھا شائد سب کیلئے کیونکہ کافی دیر سے لگا ہوا تھا۔
    بارہ بج رہے میری مہندی کی باری کب آئے گئ۔
    عشنا بھنا گئ۔ دونوں پورے پورے ہاتھوں بازوئوں تک مہندی لگوا رہی تھئ۔
    اسکے ایکدم بول اٹھنے پر عزہ اور فاطمہ دونوں چونکیں پھر حسب توفیق صلواتیں سنائیں
    ابھی ہاتھ ہل جاتا میرا اتنی محنت سے یہ عربی ڈیزائن چھاپ رہی ہوں اور یہ عروج کی بچی کم از کم موبائل اسکرین کا لاک ٹایم ہی بڑھا دو ہر آدھے منٹ بعد اسکرین بند ہو جاتی۔
    کھول کے دو اب اسے۔
    فاطمہ اس سے نمٹنے کے بعد عروج پر چڑھ دوڑی وہ منماتی کہہ رہی تھی کہ اب ٹچ لاک کھول کھولنا ممکن نہیں دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے مہندی سے بھر گئے ہیں۔
    عزہ کی جان الف نے الگ کھا رکھی تھی۔اس پر ابھی انکشاف ہوا تھا کہ عزہ نے منی ہتھیلیوں پر اتنی اچھی مینا کاری اسلیئے کر لی تھی کہ وہ نمونہ دیکھ کر اس سے تین گنا چھوٹا ڈیزائن بناتی تھی نتیجتا جو مہندی کا ڈیزائن دیکھ کر اسکی ہتھیلی پر چھاپ رہی تھی وہ ماڈل کے بازو تک آرہا تھا اور تقریبا پورا چھاپ دینے کے باوجود اسکی ہتھیلی بھی پوری بھر نہ پائی تھی۔
    عزہ کئ بچی ساتھ ایک مائکرو اسکوپ بھی بخش دو مجھے تاکہ ہر کسی کو مہندی دکھانے میں آسانی رہے سب سے بڑھ کر مجھے آسانئ رہے خود کو بتانے میں کہ میرے ہاتھوں پر ڈیزائن بنا ہوا یے چیونٹیاں نہیں رینگ رہیں۔
    عشنا عروج فاطمہ اور عزہ لوٹ پوٹ ہو گئیں وہ منہ پھلائے گھورتی رہی واعظہ تک استری چھوڑ کر ہنستی چلی گئ۔
    سیہون اور ہے جن منہ کھولے انکو دیکھ رہے تھے
    کیوں ہنس رہی ہو اتنا۔ نونا۔ ہےجن پوچھے بنا نہ رک سکا۔
    واعظہ نے ہنسی روک کر ترجمہ کیا
    ارے اتنئ سئ بات لائیں میں ڈیزائن بنا دوں۔ ہے جن سیدھا شاپر سے کون نکال کر عشنا کے پاس آبیٹھا
    تم ؟ تمہیں مہندی لگانی آتی ہے؟ عشنا کو تامل ہوا
    ارے میں آرٹس کا ہی تو طالب علم ہوں۔ اس نے کالر جھاڑے یہ اطلاع نئی تھئ۔ ان سب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ پڑھ کیا رہا ہے۔
    آپکو کورین آرکیٹیکچر کا فیوژن دکھاتا ہوں بنا کر۔
    اس نے مڑ کر بغور عزہ کا ہاتھ دیکھا اسکے مہندی پکڑنے کا انداز دیکھا اور عشنا کا ہاتھ پکڑ کر شروع ہوگیا۔
    دونوں جب اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا کر فارغ ہوئیں اور عزہ اور فاطمہ اکڑی کمر اور گردن سیدھی کرنے لگیں کہ الف نے چیخ مار دی
    ہے جن نے اسی وقت اتفاق سے ہاتھ روک کر انگلیآں سہلائی تھیں۔
    سیہون اور واعظہ کچن میں سے بھاگے آئے
    کیا ہوا؟
    وہ سب عشنا کے ہاتھ پر جھکی تھیں عشنا کا چہرہ جوش تمتما رہا تھا جبکہ الف روہانسی ہو چلی تھی۔
    ہے جن نے نہایت عرق ریزی سے اسکی ہتھیلی پر ہنبق میں ملبوس شہزادی کے بائیں جانب سے عکس اتارا تھا جو رخ پھیرے اونچے سے پتھر پر بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی ۔ شہزادی کے لباس میں باریک کورین کڑھائی تھی اسکے لمبے سے گائون کے ربن میں اردو میں بڑے خوبصورت سے انداز سے عشنا لکھا تھا۔ اسکا لباس کلائی تک آرہا تھا۔ شہزادی کی لمبی چوٹی بل کھاتی انگوٹھے کے جوڑ تک آرہی تھی تو سر پر پہنا تاج انگلیوں کے جوڑوں پر تھا ۔ایک درخت کا آدھا تنا چھوٹی انگلی اور ہتھیلی کے کے ایک جانب بنا تھا جس میں ننھے منے پھول کھلے تھے کچھ پھول جھڑ کر شہزادی کے اوپربھی آرہے تھے۔ اسکی ہتھیلی ہتھیلی کیا کوئی کینوس تھی جس پر ہے جن نے اپنا ہنر آزما دیا تھا۔
    میں ہاتھ دھونے جا رہی میں نے بھی یہی بنوانا ہے۔
    الف کے کہنے پر عزہ نے بے دریغ اسکے دو تین ہاتھ جما دیئے وہ دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی ہونے کی وجہ سے خود
    کو بچا بھئ نہ پائی۔
    واہ ہے جن ۔ واعظہ نے بھی بے ساختہ تعریف کی۔
    اچھا لگا آپ کو نونا۔ ہے جن خوش ہوگیا تھا۔
    بہت پیارا ہے شکریہ ہے جن ایسی مہندی میں نے زندگی میں کبھی نہیں لگوائی۔
    عشنا بے حد خوش تھئ۔ اترا کر عروج اور الف کو دکھا رہی تھی۔
    اب فوٹو سیشن کی باری تھی عشنا موبائل لیکر روشنی کی تلاش میں اٹھ گئ۔ عزہ اور فاطمہ اب ہے جن کے سامنے ہتھیلیاں پھیلا چکی تھیں۔ہے جن گردن کھجانے لگا۔
    سیہون نے آنکے جوش و خروش پر تبصرہ کیا
    مجھے نہیں پتہ تھا تم لوگ ٹیٹوز کیلئے اتنی کریزی ہوگی
    ہممم۔ مہندی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ سب لڑکیاں بہت شوق سے لگواتی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ گہری نگاہ ڈال کر جتانے والے انداز میں بولا
    تو تم لڑکی نہیں ہو کیا؟
    وہ مستقل اپنا دایاں ہاتھ جیب میں ڈالے تھی پھر بھی مہندی کو بو اسکے کہیں آس پاس ہی تھی۔ وہ ہونٹ بھینچ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔
    جاری ہے