Tag: web travel novel

  • Desi Kimchi Episode 21

    قسط 21
    تم کھانا کیوں نہیں کھا رہیں بھوک نہیں لگی کیا۔
    اسکو کھانا ایک جانب کھسکا کر خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھ کر اس عورت نے بڑی حیرت سے پوچھا تھا۔ خود وہ سوپ کا پیالہ ڈکار چکی تھی اب مزید سوپ کا مطالبہ کیا تھا جسے سن کر حوالدارنی نے برا سا منہ بنایا مگر مزید لینے چل دئ۔ اسکے چاول بھی ختم ہونے کو تھے اسکی رفتار دیکھ کر لگتا تھا حوالدارنی کو الٹے پیر واپس جانا پڑے گا اسکے لیئے چاول لانے۔
    اپنے ہی کسی دھیان میں چونک کر نور نے اسے دیکھا۔۔ جانے وہ اتنی آنکھیں پھاڑ کر اسے کیا کہہ رہی تھی۔
    دے؟۔ اسے بس اتنی ہی۔ہنگل آ پائی تھی ۔سو اسی کا استعمال کیا۔
    کھانا باپ۔ اس عورت نے اب ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔
    دوپہر کے ایک بج رہے تھے اس نے بنا سحری روزہ رکھا تیمم کرکے نماز بھی پڑھ ڈالی ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ناشتہ آیا تھا۔ اسکا ناشتہ جوں کا توں پڑا رہا ۔ اسکی جیل کی ساتھئ عورت اس سے قصدا بے نیازی برتتے ہوئے ڈٹ کر ناشتہ کرتی رہی تھی۔ صبح اس نے حوالدارنی سے صاف چادر منگوا کر ایک کونے میں بچھا کر قضا فجر پڑھی پھر نفل پڑھتی رہی یہاں تک۔کے تھک کے چور ہوگئ۔ سو چادر سمیٹ کر بنچ پر آبیٹھی۔ جیل کی مخصوص وردی کے اوپر وہ اپنا دوپٹہ ابھی بھی نماز کے انداز میں ہی لپیٹے تھی۔
    بے دھیانئ میں دوپٹہ سر سے اتارا تو ماتھے پر جاندی کی طرح بال بکھرتے چلے گئے۔ دوپٹہ ہٹایا تو احساس ہوا پسینے میں بھیگی ہوئی ہے
    اسکو متوجہ کرنے کی نیت سے اس عورت نے دوبارہ سوال دہرایا اس بار اشارے اور زبان دونوں سے اکٹھے کام۔لیا
    کھانا تو کھا لو بھوکے رہنے سے سزا کم نہیں ہوجائے گئ۔کھالو تھوڑا
    کھا لو۔
    اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔ آنسو پھر گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس عورت نے ہمدردی سے اسے دیکھا۔
    صبح سسے اسکی بے چینی دیکھ رہی۔تھی۔جانے کیا۔تکلیف تھی اسے۔پہلے تو سوچا کھانا کھاتی رہے ۔
    پھر جانے کیا سوچ کر پلیٹ ایک طرف رکھتی اسکے پاس برابر آبیٹھئ۔ اسکی تھالی جس میں چاول تھوڑی سی کمچی اور جانے کیا ملغوبہ رکھا تھا اٹھا کر اسکے سامنے رکھا بڑے پیار سے چاپ اسٹکس کا نوالہ بنایا تھوڑی سی کمچی سجائی اسکے منہ کی جانب بڑھا کر بولی ۔۔ آ۔۔ یہ اشارہ تھاکہ منہ کھولو جیسے ہم بچوں کو بہلانے کو کہتے۔
    ہونٹوں سے پپی کی آواز نکال کر وہ باقائدہ چمکار رہی تھی نور کی اپنی ماں کی طرح ۔ وہ دیکھ اس عورت کو رہی تھی مگر نظر آرہی تھی اسے اسکی اپنی ماں۔
    نخرے مت کرو دیکھو کتنے مزے کی کھچڑی بنائی ہیں کل بنادوں گئ بریانی ۔ چکھ کر تو دیکھو کچھ دن پرہیز کرلو گلا ٹھیک ہوجائے میری بیٹی کو میں اپنے ہاتھوں سے بریانی کھلائوں گئ۔ امی تھوڑا لاڈ سے تھوڑا سا غصہ جتاتے اسے کھانا کھلانے کی سعی کر رہی تھیں۔ اسے بخار گلا بند نزلہ زکام کیا کچھ نہ تھا نتیجتا کھانا پینا بند دوا کھاتے سو نخرے چار دن بعد آج فرمائش کی ماں سے کہ سلائس اور چائے سے تنگ آگئ ہوں تو بریانی بنا دیں اور وہ جھٹ بنا لائیں مگر کھچڑئ سو وہ منہ پھلا کر منہ تک کمبل تان کر لیٹ گئ۔
    اٹھو نا نور تنگ نہیں کرو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اب بھی شام ہونے کو آگئ دوا کھائو ٹھیک ہوجائو پھر ہر فرمائش پوری کردوں گی۔ اٹھ جائو میری اچھی بیٹی۔ انہوں نے کمبل ہٹا کر اسکے پھولے پھولے منہ کو دیکھا پھر مسکرا کر بہلانے لگیں۔ وہ بظاہر منہ بناتئ مگر درحقیقت بھوک سے بے حال ہو کر اٹھ بیٹھئ۔
    مجھ سے نہیں کھائی جاتی پھیکی سیٹھی کھچڑی۔
    اس نے نخرے سے کہا۔
    کل بنائوں گئ نا بریانی چلو شاباش منہ میں لو۔ امی خاطر میں نہ لاتے ہوئے چمچ چاولوں سے بھر کر اسکے منہ کی۔جانب لانے لگیں۔
    ماں کے چمکارنے لاڈ کرنے کچھ بھوک سے نڈھال ہونے پر سو نخروں سے وہ نوالہ منہ میں لے ہی گئ۔
    شاباش بہت پیاری ہے میری بیٹی۔
    اگلا نوالہ تیار تھا جملے کی مار مار میں اسے پوری پلیٹ کھلا کر دم لیا۔
    جوان بیٹی کو بچوں کی طرح چمکارتی اسکی ماں۔ اسکے دل سے ہوک اٹھی۔ آج چوتھا دن تھا اس قید خانے میں اور امی کو پتہ لگا تو کیا ہوگا گھر والے کیا کریں گے اس خوف سے باہر اسے صرف اور صرف ماں یاد آئی تھی۔ ہر مصیبت ذدہ کی طرح اسکو اس وقت بس ماں یاد آرہی تھی بس ماں کسی طرح اسکے سامنے آجائے۔
    اسکے لب وا ہوئے اس سے قبل کہ وہ آہجومہ چاپ اسٹکس سے اسکے منہ میں نوالہ ڈالتی وہ ایکدم جیسے ہوش میں آگئ
    آندے۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی ایکدم بنچ سے اتر کر کھڑی ہوگئ۔ بے چینی اسکے چہرے سے ہویدا تھی۔
    مجھے یہاں نہیں رہنا میں یہاں نہیں رہ سکتی۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلارہی تھئ۔
    ویئو؟۔ وہ آہجومی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
    نور پر دیوانگئ سئ چھانے لگی سلاخوں کو آکر زور زور سے جھنجھوڑنے لگی۔
    مجھے نکالو یہاں سے۔میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے سنو۔
    حوالدارنئ سوپ دینے آئی تو یہاں کا منظراسے مزید کوفت میں مبتلا کر گیا۔
    سلاخوں کو توڑ دینے کے در پر جنونی سی ہوئی نور مستقل اس سے اپنی زبان میں مخاطب تھی ۔۔
    بلائو اس ڈیٹیکٹو کو انسانوں کی پہچان نہیں اسے۔ کیا۔ کیسے لوگ ہو تم لوگ۔ میں ایسی ویسی لڑکی نظر آتی ہوں بھلا۔
    اسکی آواز پھٹ رہی تھی اسکے چیخنے چلانے پر دیگر بیرک کی قیدی خواتیں بھی تجسس سے اٹھ کر اسے دیکھنے آگئ تھیں۔
    کیا کہا ہے تم نے اسے۔ حوالدارنی نے تنگ سا ہو کر اس آہجومہ سے پوچھا
    میں نے کچھ نہیں کہا اسے ۔وہ گڑبڑا کر نور کے بنچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    یہ اسکی پلیٹ ہے نا دو اسے۔
    حوالدارنئ جانے کیا سمجھی ۔
    دیکھو میں بے گناہ ہوں۔ میرا یقین کرو۔ ہچکیوں سے روتے وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے یقین دلا دینا چاہتی تھی۔
    آس عورت کو سوپ کی پلیٹ تھما کر اس نے نور کو کھانے کی پلیٹ تھما دینی چاہی
    نہیں چاہیئے مجھے کھانا سمجھ نہیں آتی بات۔
    اس نے غرا کر کھانے کی پلیٹ کو ہاتھ مارا کھانے کی۔بھری پلیٹ حوالدارنئ کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔ یہاں سے وہاں تک چاول پھیلتے چلے گئے۔ نہ وہ اسکی بات سمجھ رہی تھیں نا ہی مدد کر سکتی تھیں وہ وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
    اسکی شکل جاندی سے نہیں مل رہی؟
    وہ عورت اسے دیکھتے ہوئے حوالدارنی کے قریب آکر بولی۔
    جاندی؟ اس نے حیران ہوکر دیکھا
    کو ہے سن وہی بلڈ والی جس نے بلڈ کے ہیرو سے ہی شادی کر لی ہے۔
    اس کو اپنے اندازے پر تصدیق کروانی تھی سو جلدی سے تعارف کرایا۔
    اوہ کو ہے سن۔ حوالدارنی نے اسے زور زور سے روتے دیکھ کر قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا
    حرکتیں بھئ جاندی والی ہی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نور نے روزہ رکھا ہوگا۔
    آج پھر موسم بھیگا بھیگا سا تھا بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی سبک ہوا میں پیدل چلنا بھی اچھا لگ رہا تھا۔ مگر خالی خالی بھی۔ صبح وہ نور الف تینوں اکٹھے نکلا کرتے تھے۔ نور کو صبح کے وقت بہت بولنے کی عادت تھی۔ پٹاخ پٹاخ نجانے کون کون سے قصے انکے جمائیاں لیتے چہروں کو ہنس ہنس کر دیکھتے بتاتی جاتی تھی۔اس وقت اسکی کمی بے طرح محسوس ہوئی تھی۔
    الف کے ہمراہ یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے عزہ نے بہت دلگیری سے پوچھا تھا۔
    پتہ نہیں۔جیل میں سحری کون کراتا ہوگا اسے۔ الف نے تاسف سے کہا۔
    جیل کیسی ہوتئ ہے الف ۔ اکیلی بند ہوگئ وہ کیا؟
    عزہ نے معصوم سے انداز میں پوچھا تھا مگر الف چلتے چلتے مڑ کر اسے گھورنے لگی
    میں تو پیدا ہی جیسے جیل میں ہوئی تھی۔ مجھے کیا پتہ۔
    الف کے چڑنے پر وہ کھسیا سی گئ۔
    ہمیں ملنے جانا چاہیئے ویسے نور سے۔ اسکی عید لگتا ہے جیل میں گزرے گئ۔
    اسے خیال آیا ۔ الف کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ
    اس نے تصور کی آنکھ سے نور کو بڑے سے اندھیرے کمرے میں سلاخوں کے پیچھےسر جھکائے کھڑا دیکھا۔ وہ اتنی اکیلی تنہا لگ رہی تھئ کہ اس نے تصور میں پکار لیا۔
    اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا
    سرخ آنکھیں سرخ چہرہ ماتھے پر ترتیب سے کٹے ہوئے بال۔
    اسکی۔ہنسی چھوٹ گئ۔
    الف نے حیران ہو کر اسے دیکھا
    کیا ہوا۔
    کچھ نہیں وہ میں نے تصور کیا نور کو جیل میں۔ عزہ بمشکل ہنستے ہنستے بولی
    اور یہ تصور کرکے ہنسی آگئ تمہیں؟ شرم کرو۔۔ الف نے تاسف سے کہا
    نہیں ۔۔ نہیں۔ عزہ نےدونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلا کر غلط فہمی دور کرنی چاہی
    وہ اسکے جاندی اسٹائل بالوں پر ہنسی آگئ۔ جیل میں بھی وہ بکھرے بالوں کے ساتھ ہی کھڑی تھئ میرے تصور میں۔
    بمشکل ہنسی روکتے اس نے بتایا
    ہاں تو چار دن میں بال لمبے تھوڑئ ہو گئے ہوں گے۔
    الف نے اپنی زہانت جھاڑنا ضروری سمجھا۔ عزہ گہری سانس لیکر اپنا سر ہلانے لگئ۔ سڑک پر شام سے کچھ پہلے کا وقت ہونے کے باعث رش تھا۔ ذیادہ۔تر تو یونیورسٹی فیلوز ہی تھے جو اپنی اپنی منزل کو رواں تھے۔ اپنے کام سے کام رکھتے مگن جس نے کسی ساتھی دوست کے ساتھ چلنا تھا وہ اسکے ساتھ اونچی اونچی آواز میں بولتا جائے اور ان جیسی اکیلی جانے والیاں الگ اپنا راستہ ناپ رہی تھیں۔ کسی نے نا لڑکیاں دیکھ کر سیٹی ماری نا ہی کوئی جملہ پھینکا
    یار ہم کتنے سکون سے جا رہے ہیں اپنے راستے کسی نے چھیڑا تک نہیں۔ کوریا بہت سیف ۔۔۔ میرا مطلب محفوظ ہے لڑکیوں کیلئے۔
    عزہ آج نور کی کمی پوری کرنا چاہ رہی۔تھئ اسکی بے تکی بات پر الف ہنس دی پھر جتانے والے انداز میں بولی
    اتنا بھی سیف نہیں تم اپنے گھر سے دو گلی دور اغوا ہوتے ہوتے بچی تھیں۔
    وہ تو نور نے پنگا لیا تھا اور وہ مجھے نہیں نور کو اغوا کرنے آئے تھے بتایا نہیں تھا واعظہ نے۔ ورنہ گھر میں گھس کر نور کے بال کاٹ گئے تھے۔ میں بھی وہیں تھی مجھے کچھ نہ کہا۔
    عزہ زور دے کر بولی۔ الف نے ہنکارہ بھر کر رفتار بڑھا لی۔
    بس اسٹاپ آگیا تھا مگر بس نہیں آئی تھی۔ اسٹاپ پر ٹھیک ٹھاک رش تھا۔بنچ فل نہیں تھا طلباء خوش گپیوں میں مگن کھڑے تھے بنچ پر بس تین لوگ بیٹھے تھے چندی آنکھوں والا لڑکا اور ایک لڑکی مگن سے آپس میں گٹ پٹ کرنے میں لگے تھے یقینا ڈیٹ چل رہی تھی۔ بنچ بیچ سے خالی تھا ان سے ہٹ کر کھنچے ہوئے نقوش کی لڑکی بیٹھی آئیسکریم کھا رہی تھی۔وہ اگر ایک طرف ہو کر بیٹھتی تو یقینا عزہ یا الف میں سے کوئی بیٹھ جاتی مگر انہوں نے بھی کھڑے رہنے کو ترجیح دی اور اسکے پاس آکھڑی ہوئیں۔ اپنے دھیان میں انہوں نے محسوس ہی نہ کیا کہ جینز اور ٹاپ پہنے اس چندی آنکھوں والی نے انکو اپنے پاس آتے دیکھ کر ٹانگیں سکیڑ کر ناپسندیدہ سی نگاہ ڈالی تھی۔ بلکہ کون آئیسکریم کھاتے چہرے پر یکا یک کڑواہٹ بھی چھا گئ تھی۔۔اس سے انجان عزہ کی اسٹاپ کے اوپر شیشے کی دیوار دیکھتے ہوئے آنکھیں چمک اٹھیں۔
    یاد ہے ہم کیسے احمقوں کی طرح یہاں سے پوسٹر اکھاڑ رہے تھے اور اچانک وہ رچ مین پور وومن والا ہیرو سامنے آگیا تھا۔
    عزہ کو بس اسٹاپ پر لگا وہ پرانا پوسٹر جو اب پھٹ کر آدھے سے ذیادہ اتر چکا تھا یاد آیا۔
    کتنے احمق تھے ہم۔ الف ہنسی۔
    بے چارے جی چھانگ ووک کی ناک پر منہو کا پائوں آرہا۔
    وہ دلچسپی سے منہو کا پوسٹر دیکھ رہی تھی۔ سب ہنگل میں لکھا تھا بس کل تاریخ پڑھی جا رہی تھی۔
    ہے کیا یہ اگر کوئی اشتہار ہے تو مصنوعات تو ہیں ہی نہیں بس منہو بتیسی دکھا رہا ہے۔ الف کو بھی تجسس ہوا۔
    ابھی پوچھ لیتے۔ اپنے لمبے عبایا کو سمیٹتی عزہ اعتماد سے اس لڑکی کا کندھا ہلا کر پوچھنے لگی۔
    معاف کیجئے گا بتادیں گی یہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔
    بچھی سا( پاگل ہوگئ ہو)؟۔لڑکی نے غرا کر اسکا ہاتھ یوں اپنے کندھے سے جھٹکا تھا جیسے ہاتھ نہ ہوا کندھے پر سانپ آدھرا ہو
    ہائو ڈئیر ئو ٹچ می۔ فلدھئ بچ۔ ( تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تم غلیظ کتیا۔ )
    شستہ انگریزی میں آگے دو تین مزید گالیاں ٹھونک دی تھیں۔
    عزہ ششدر سی رہ گئ اس نے ایسا کیا کردیا تھا جو وہ یوں بھڑک اٹھی تھئ۔
    میں نے صرف آپ سے پوچھا یہ کیا لکھا ہے آپ گالیاں کیوں دے رہی ہیں۔ آپ انگریزئ نہیں جانتی ہیں کیا؟
    الف نے سنبھل کر اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی۔ مگر وہ جو کوئی بھی تھی بہت اچھی طرح انگریزی جانتی تھی۔
    گندے مسلمان آگئے یہاں بھی گندگی پھیلانے۔ یہاں بھی قتل و غارت کرنی تم لوگوں نے۔دفع ہو جائواپنے ملک ۔
    وہ لڑکی جو بھی تھی خالص امریکی لہجے میں انگریزی بکے جا رہی تھی۔ چلا کر کہتی اس لڑکی نے ٹھیک ٹھاک تماشا لگا دیا تھا
    ویئو؟ کیا ہوا۔
    دیگر بس اسٹاپ پر کھڑے لڑکے لڑکیاں بھی متوجہ ہوچکے تھے۔ کوئی اس لڑکی سے پوچھ رہا تھا کوئی خود قیاس آرائی کر رہا تھا۔
    یہ چورنیاں ہیں کیا؟۔ کسی نے تنفر سے ہنگل میں پوچھا
    آندے دہشت گرد ہیں۔ وہ حلق کے بل چلائی۔
    مسلمان دہشت گرد قوم سے ہیں یہ۔
    شٹ اپ ہمیں تو جو کہہ دیا مسلمانوں کے خلاف بکواس کی تو منہ توڑ دوں گئ ۔ الف بھڑک کر اسکی۔جانب بڑھی ارادہ منہ پر طمانچہ ہی لگا دینے کا تھا۔ عزہ نے گھبرا کر اسکا بازو تھاما۔ اس لڑکی نے جوابا غصے میں ایک اور گالی بکتے آئسکریم بھی اسکی جانب اچھال دی بروقت الف نے جھکائی دی پھر بھی اسکے گال پر سے ہوتی آئیسکریم کپڑوں کو داغدار کرتئ ہوئی زمین پر جا گری۔
    الف غصے سے بپھر کر اسکی جانب بڑھی عزہ نے اسکو بازو سے کھینچا
    صبر سے کام لو الف۔ رمضان ہے ہمارا روزہ ہے۔
    تم ۔۔۔۔ الف نے گالی منہ میں روکی تھئ۔
    صبر کرو الف ہمارا روزہ ہے برداشت سے کرو۔
    عزہ کے الفاظ تھے کہ جیسے اس پر کسی نے ٹھنڈا ٹھار پانی گرا دیا ہو۔ روزہ صرف بھوک کا تو نہیں ہوتا روزہ اپنے آپ پر قابو رکھنے غصہ برداشت کرنے اور صبر کرنے کا نام ہے۔
    وہ لڑکی اس کو ٹھٹک کر رکنے پر شہہ پا کر مزید اسے چڑانے کو بکتی چلی گئ۔ ایک بار بس سوچا کہ صبر کرنا ہے غصے پر قابو پانے کیلئے نجانے کہاں سے ہمت در آئی۔
    بس آگئ تھئ۔ وہ بکتی جھکتی بس میں سوار ہوئی آدھے سے ذیادہ تماشائی بھی چھٹ گئے کچھ ہمدردی کچھ حیرت سے ان دونوں کو خاموشی سے سب سہتا دیکھ رہے تھے۔ ایک لڑکے نے جیب سے رومال نکال کر اسکی۔جانب بڑھایا۔
    یہ لو اس سے صاف کرلو۔
    وہ دونوں ضبط کی انتہا پر چپ سی کھڑی تھیں۔
    میکانیکی انداز میں عزہ نے رومال تھاما تو وہ لڑکا جلدی سے بس میں چڑھ گیا یقینا اسے دیر ہو رہی۔تھی۔
    عزہ نے الف کا گال پونچھا ۔ اسکی اپنی آنکھیں بھی اتنی بے عزتی پر بھر آئی تھیں۔
    بنچ پر بیٹھے جوڑے نے بھی یہ بس پکڑنی تھی مگر دونوں ہی بس کی جانب بڑھے ہی نہیں۔ لڑکی نے ان کے قریب آکر جھک کر سلام کیا۔
    میں معزرت خواہ ہوں ابھی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔
    وہ لڑکی دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہہ رہی تھی۔
    آگے بڑھ کر اشتہار پر انگلی رکھ کر بتانے لگی۔
    آپ اس اشتہار کی بابت جاننا چاہ رہی تھیں۔ یہ لی منہو کی فین میٹنگ کا اشتہار ہے کل ایکوا مال میں منعقد ہوگی ملٹری جانے سے قبل یہ آخری میٹنگ ہوگی اسکی۔ یہ لکھا ہوا ہے۔
    وہ دونوں اس وقت کچھ بھی سننے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھیں۔ پھر بھی اسکے سرجھکا کے شکریہ ادا کردیا۔
    آننیانگ۔ وہ دونوں مسکراتے جھک کر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اور سیہون پولیس اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ دو درجن جگہوں پر دستخط کروا کر نجانے کیا کیا تفصیلات لیکر انکی جان بخشی ہوئی۔اب وہ اپنے فلیٹ جا سکتی تھی۔ طوبی اور دلاور کو بس ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن کی زیارت کرنی تھی ایک ہفتے کے اندر۔ معاملہ نمٹنے پر اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔اب اسے یقینا یہ خوشخبری لڑکیوں کو سنانی تھی وہ جان چھٹنے والے انداز میں جانے کو اٹھی تھی تب ہی سیہون اسے دستاویزات کی فائل تھماتا انتظار کرنے کو کہہ کربیت الخلا چلا گیا تھا۔ وہ پولیس اسٹیشن کے ماحول سے جانے کیوں گھبراہٹ سی محسوس کر رہی تھی۔ سو جھٹ باہر نکل آئی۔ فائل کافی بھاری سی تھی اندرخاکی لفافے میں سیہون کے گھر کی اصل دستاویزات اور اس پورے کیس کے ضمانتی کاغذات کی نقل تھی۔ اس نے ایک نظر ڈال کر لفافہ بند کر دیا فائل میں بھی نقول موجود تھیں سب سے اوپر جو کاغذ تھا اس پر لکھے عنوان نے اسے متوجہ کیا اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا
    کم جونگ وون کی ضمانتی درخواست تھی جس کے مطابق وہ فلیٹ کی مالکہ کے سب اعمال و نقل و حمل کا ذمہ دار تھا۔اس نے گہری سانس لیکر فائل بند کر دی۔
    توبہ اتنے لوگ ایک تو مرد ہونا عذاب ہے کہیں کوئی خلوت (پرائیویسی) نصیب نہیں۔ بارہ لوگوں کی ایک چوہے کے بل جیسی تنگ جگہ میں فراغت کی جگہ بنائی ۔ کوئی حد ہے۔ آننیانگ ایسے کر رہے تھے جیسے پارٹی میں آئے ہیں۔ اوپر سے اتنا گھور گھور کے وہ کمینہ دیکھ رہا مجھے جیسے
    سیہون بڑبڑاتا ہوا آیا ۔ وہ چلتے چلتے ذیلی سڑک تک آگئ تھی۔ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ بھاگتا آیا اور آتے ہی شروع ہوگیا۔
    باس۔ واعظہ نے چڑ کر ٹوکا اسے۔ مجھے مت بتائو۔
    وہ فائل سمیت ہاتھ جوڑتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسے چڑتے دیکھ کر سیہون کو لطف آیا ۔
    کیا نہ بتائوں یہ کہ وہ لڑکا مجھے گھور ۔۔ سہون نے شرارت سے کہنا چاہا اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فائل اسکے سر پر۔بج اٹھی تھئ۔
    سی ۔۔ اس نے تڑپ کر سہلایا سر اور گھورنے لگا۔
    تم جلتی ہو مجھ سے۔تمہیں لفٹ جو نہیں کراتا ۔ ویسے میری تو چلی گئ اب جگہ خالی ہے۔ اس نے شرارت سے آنکھ ماری۔ واعظہ اسکے اس بکواسی موڈ کو خوب پہچانتی تھی۔ بنا سر پیر ہانکے جانا۔ سو ناک کی سیدھ میں دیکھتی قدم اٹھاتی رہی۔ اسے بے نیاز دیکھ کر وہ پھر چھیڑنے لگا۔
    اتنا ہینڈسم ہوں کہ لڑکے بھی مرنے لگتے مجھ پر۔ تم نے کبھی مجھے غور سے دیکھا ہی۔نہیں ہے۔
    وہ فرضی کالر جھاڑ رہا تھا۔اسکے کہنے پر وہ واقعی رک کر اسے غور سے دیکھنے لگی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر خجل سا ہوگیا
    گومو وویو۔ وہ سنجیدگی سے اسے فائل تھماتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ پچھلے چھے سالوں میں میں نے شائد بس ایک یہی ڈھنگ کا کام۔کیا ہے کہ تم جیسا پرخلوص دوست بنایا۔ جونگ وون سے رابطہ کرنے پر تم پر کافی غصہ ہوئی کچھ ذیادہ کہہ بھی گئ اسکے لیئے معزرت۔
    اسکے سنجیدہ سے انداز پر سیہون کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئ۔
    میں خفا نہیں ہوں واعظہ۔ اور یقین کرو میں نے آخری آپشن رکھا تھا کہ جونگیا سے رابطہ کروں۔ اور کوئی چارہ نہ تھا اسکے بابا اسپیشل برانچ میں منتظم نہ ہوتے تو کبھی بھی اس سے رابطہ نہ کرتا۔ انکی وجہ سے ہی یہ خون کی رپورٹ دو دن میں آگئ ورنہ تو۔
    کرم۔ ( بہرحال) واعظہ نے دانستہ ہلکا پھلکا انداز اپنایا۔
    آج میں ان سب کو گھر لے جائوں گی تم ہماری وجہ سے کافی بے آرام رہے۔
    اب یہ تکلفات رہنے ہی دو تم ۔ سیہون کا انداز ڈانٹنے والا ہوچلا تھا۔
    اب اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا وہ جو روم میٹ تمہاری جیل میں ہے اسکو چھڑوانا؟ کہو تو اسکے لیئے بھی بات کروں جونگیا سے؟
    وہ روانی میں اسکو پھر چھیڑ گیا تھا۔
    واعظہ ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔
    اگر وہ گروہ کے دوسرے ارکان نہیں پکڑے جاتے اور وہ کمینہ اپنے بیان پر قائم رہا کہ نور اسکے گروہ کی رکن ہے تو ؟؟؟
    وہ اس کو ڈرا نہیں رہا تھا ہاں کچھ باتیں باور کرانا چاہ رہا تھا جن سے اس نے نگاہ چرائی تھئ۔ اور ابھی بھی دانستہ نگاہ چرائے سامنے سڑک کے اس پار گہما گہمی کو دیکھ رہی تھی۔
    تو۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
    تو یہ کہ پھر مقدمہ درج ہوگا باقائدہ کیس چلے گا پیسہ لگے گا وکیل لینا پڑے گا نئے سرے سے تفتیش ہوگی اور تم جو اسکی نام نہاد سرپرست بنی ہوئی ہو کہاں سے انتظام کروگی۔
    سیہون اسکے انداز پر بری طرح چڑ گیا۔ چیخ ہی پڑا۔
    یہ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کا شوق کیا ہے تمہیں؟ تفریح چاہییے زندگی میں؟ بیزارکن ہے؟ اس طرح کچھ لطف اٹھا لیتی ہو دوسروں کے مسلئے سلجھا کے؟ اپنا کوئی مسلئہ نہیں زندگی میں تو چلو دوسروں کے سہی۔
    ہاں ایسا ہی ہے ۔ پھر؟ اب نہیں ہے میری زندگی میں کوئی تھرل تواگر میں شامل کر بھی لوں تو تمہیں کیا ؟
    جوابا وہ بھی تپ گئ تھی۔
    سڑک کنارے وہ دونوں کھڑے چلا چلا کر لڑتے آتے جاتے لوگوں کی توجہ کا باعث بن رہے تھے مگر کسی کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں تھا کہ کھڑا ہو کر دیکھے انکی لڑائی کا انجام سوائے سڑک کے دوسری جانب پارک ہوئی اس بڑی سی کالی گاڑی کے جس کے شیشے بھی کالے تھے اور ڈرائیور نے اسکے متوجہ ہونے کا خوف لاحق ہوتے ہی ابھی ابھی اوپر کیئے تھے۔
    اتنا شوق ہے نا بیٹیاں پالنے کا تو لیگلی ایڈاپٹ کرلو اس لڑکی کو۔ ورنہ تو کوئی صورت نہیں ۔اسکی مدد کرنے کی۔ تم دو سے تین چکر لگائوگی اس سے ملنے کے ۔۔۔پھرتم بھئ شامل تفتیش ہو جائوگی۔
    اسکی بات پر واعظہ کچھ کہتے کہتے ایکدم چپ ہوئی۔ہونٹ بھینچ کر سر جھکا لیا۔ جوتے کی نوک سے زمین کو بے وجہ کریدنےلگی تھئ۔ وہ بھی اسکو دیکھ کر ٹھنڈا پڑا۔
    ۔ تم اسکے والدین سے کیوں نہیں کہتیں وہ کیوں نہیں آتے یہاں یا کسی سے کہہ سن کر معاملہ سنبھالتے۔
    تم نہیں جانتے پاکستانی والدین کو۔ انکو اگر پتہ لگا کہ انکی بیٹی جیل میں ہے تو وہ وہ جیتے جی مر جائیں گے۔ ہمارے دقیانوسی معاشرے میں جیل جانا بہت معیوب بات ہے وہ بھی لڑکی کا۔ اسکا کیس چلے تو شائد کہیں کوئی راہ نکل آئے بچ جائے وہ تعلیم مکمل کرلےلیکن اسکے والدین کو پتہ لگا تو ۔ وہ پہلی فرصت میں نور کی پڑھائی بندکروا دیں گے۔ اسکو ہر قیمت پر واپس لے جائیں گے۔
    واعظہ کی بات اس نے بہت غور سے سنی۔
    ہمارے یہاں تو بچے پیدا ہی جیل میں ہوتے ہیں۔ سیہون آرام سے بولا۔ واعظہ نے سخت چڑ کر گھورا تو وہ رسان سے کہنے لگا
    جیل جانا کسی معاشرے میں رواج نہیں ہوتا سب برا ہی سمجھتے۔ احمق۔
    اس نے بات جاری رکھی۔
    جتنے بھی سخت گیر ہوں ہے تو انکی بیٹی وہ سب اثاثے لگا کر ہر طریقہ آزما کر اسے بچانا چاہیں گے اور ایسا انہیں ہی کرنا چاہیئے کیونکہ وہ انکی بیٹی ہے انکے سوا کسی اور کا کوئی فرض نہیں بنتا۔دوسری بات۔ تمہیں لگتا کے ڈراموں میں جو سولہ اقساط میں کیس چل کر ختم ہوتا ایسا سادہ او رآسان طریقہ ہے کوریا میں انصاف پانے کا؟ ہزاروں کیسز ہیں جن کی شنوائی کی باری نہیں آتی سالوں۔ اوپر سے یہ اتنا حساس معاملہ ہے یہ بہت لمبا چلے گا۔ تم کب اور کہاں تک اسکا ساتھ دے پائو گئ؟ اور پڑھائی چھٹ جانااور پاکستان چلا جانا
    لاکھ درجے بہتر ہوگا اسکے لیئے بہ نسبت یہاں جیل میں سڑنے کے۔
    اتنے دنوں میں پہلئ بار تھا کہ واعظہ نے چپ۔ہو کر سنی تھی اسکی بات۔ وہ بھئ مزید اسکی سماعتوں کو زحمت دینے کی بجائے اسے سوچنے کا موقع دینا چاہتا تھا
    یہ سب واقعی نہیں سوچا تھا اس نے۔لیکن کوریا کا لڑکا پاکستان کی لڑکی کا مسلئہ کیسے سمجھ سکتا ہے۔
    اسے نور کی آنسو بھری آنکھیں اور منت بھرا لہجہ یاد آیا
    پلیز میرے گھر والوں کو خبر نہ ہونے دینا اس معاملے کی۔
    وہ سرجھٹک کر بولی تو صرف اتنا۔
    شکریہ۔
    جانے وہ سچ مچ قائل ہوئی تھی یا اس سے جان چھڑانے کو کہہ رہی تھی وہ قصدا دو قدم آگے ہوا۔ فائل سنبھال کر سڑک کنارے دور سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ دینے لگا۔ ٹیکسی نے رفتار دھیمی کی تو کن انکھیوں سے اسے دیکھ کر منہ بنا کر بولا۔
    اتنی اکڑی گردن کے ساتھ شکریہ بھی ایسے کہتی ہو کہ جیسے سر پر آینٹ اٹھا کر مار رہی ہو۔
    وہ ڈرامے باز اب حقیقتا اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔
    آہ سر دکھنے لگا ہے تمہارے تکلفات سے۔۔
    اسکا انداز اتنا مسخرانہ ہو چلا تھا کہ وہ ہنس ہی پڑی۔
    کدھر جانا ہے۔ ٹیکسی کا دروازہ اسکے بیٹھنے کیلئے کھول کر وہ پوچھ رہا تھا
    پاکستانی ایمبیسی۔ ۔ اس نے کہتے ساتھ ہونٹ بھینچ لیئے تھے۔
    وہ دروازہ بند کرتے کرتے رک گیا
    میں بھی چلوں؟ اس نے پوچھا تو واعظہ جواب دینے کہ۔بجائے نشست پر آگے کھسک گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 20

    قسط 20
    دھیرے سے دروازہ کھٹکا کر اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے پھر دستک دے کر ذرا سی دروازے کی درز سے جھانکا تو ہے جن مسہری پر سر جھکائے بیٹھا تھا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے کسی گہری سوچ میں گم۔
    اس نے شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے اسکے قریب جا کر ہائو کیا۔ وہ نہ ڈرا نہ چونکا جوں کا توں بیٹھا رہا الٹا منہ پھیر کر جلدی سے آنکھیں صاف کرنے لگا۔ وہ بیگز بیڈ پر پھینک کر اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔ پیار سے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیکر اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہو کر سوجی ہوئی تھیں۔ یقینا ابھی اس نے اپنے آنسو صاف کیئے تھے۔ سرخ ہوتا چہرہ وہ پریشان سی ہو اٹھی
    کیا ہوا خیریت تو ہے ہے جن؟
    اسکے اتنا سا پوچھنے کی دیر تھی وہ اس سے لپٹ کر رو پڑا۔
    کیا ہوا ہے جن بتائو تو سہی۔ اسکی پشت تھپکتے اس کو پرسکون کرنے کی سعی کرتے ہوئے واعظہ پوچھ رہی تھی۔
    نونا میں بہت برا ہوں میں بہت گناہگار ہوگیا ہوں۔ اللہ کا بھی اور بدھا کا بھی۔ میرا کرما میرے سامنے آئے گا تو کیسے سہہ پائوں گا؟
    وہ بلکے جا رہا تھا۔ واعظہ چپ سی ہو گئ۔ کئی لمحوں کے بعد اسکی ہچکیاں تھمی تھیں۔ آنسو پونچھتا وہ سیدھا ہو بیٹھا پھر شرمندہ سے انداز میں کہنے لگا
    پریشان کردیا نا آپکو بھی نونا۔
    اسکی گلابی رنگت سرخ ہو رہی تھی ۔ سرخ ناک سرخ سی آنکھیں وہ بالکل معصوم چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔
    مجھے دل سے نونا سمجھتے ہو نا؟ اس نے ہے جن کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
    دے۔ اس نے معصومیت سے سر ہلایا۔
    بتائو پھر کیا ہوا؟ کیوں پریشان ہو۔ اس نے بہت پیار سے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا جوابا وہ سر جھکا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے طوبی نے فون کرکے بلایا تھا۔ اسے لائونج میں بٹھا کر خود وہ اندر کچھ لینے چلی گئ تھئ۔ بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہے تھے۔ اسکا بیٹا کشن کے سہارے بیٹھا تھا جھنجھنے سے کھیل رہا تھا جب ایکدم سے مڑنے سے منہ کے بل کارپٹ پر آیا۔ چوٹ تو نہیں لگی تھی مگر جانے کیوں خوب زور سے رونے لگا۔
    اس نے آگے بڑھ کر اٹھایا اسے بہلانا چاہا مگر وہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا وہ اسے لائونج سے ملحق لیکر بالکونی میں لے آیا۔ تھپکنے اور باہر کی فضا میں آکر وہ چپ ہو ہی گیا۔ وہ یونہی اسے تھپکتے بالکونی سے جھانکنے لگا تبھی اسکی نگاہ نیچے سے گزرتے چھوٹے سے جلوس پر پڑی دس پندرہ بدھ متی پنڈت گیرواں چولے جیسا لباس پہنے گلے میں مالائیں لٹکائے مخصوص الاپ الاپتے گزر رہے تھے۔ لوگ ان سے دعائیں لیتے کچھ ساتھ ہو جاتے کچھ ہدیہ دیتے آگے بڑھ جاتے۔
    ہے جن ۔ طوبی اسے لائونج میں سے پکار رہی تھی۔
    دے۔ وہ جلدی سے پلٹا۔ طوبی اسکیلئے کچھ شاپر میں لیئے کھڑی تھئ۔
    اسے بٹھائو صوفے پر اور جلدی سے مجھے یہ پہن کر دکھائو ویسے تو سب ناپ واپ کر سیا ہے پھر بھی کوئی کمی بیشی ہو تو مجھے بتائو میں ٹھیک کر دوں۔
    وہ خوشی سے کافی پرجوش تھی۔ اس نے احتیاط سے اسکے بیٹے کو صوفے پر بٹھایا اور طوبی کے ہاتھ سے شاپر لیکر دیکھنے لگا۔
    طوبی نے اپنے ہاتھوں سے اسکے لیئے سفید کرتا پاجامہ سیا تھا جسکے گلے پر کوریائی طرز کے ہنبق پر جو پھول پتیاں بنی ہوتئ ہیں انکو سرمئی اور کالے دھاگوں سے کاڑھا تھا۔کڑھائی کی خوبصورت اور صاف بنت ماہر کاریگری اور کوریائی اور پاکستانی طرز ثقافت کا خوبصورت ملاپ وہ کرتا جدید انداز کا صفائی سے سلا تھا۔ کھڑا پاجامہ پینٹ کی طرز کا سلا تھا۔ اتنا خوبصورت لباس اسکے چہرے پر اشتیاق کے رنگ پھیلتے دیکھ کر طوبی کو لگا اسکی محنت وصول ہوگئ۔
    وہ اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہا تھا
    یہ تمہاراعید کا لباس ہے میری جانب سے تحفہ میرے منے بھائی کیلئے ۔ تم اسکو پہن کر ہی عید کی نماز پڑھنا۔ سمجھے۔ اسکی بات پر ہےجن کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
    طوبی کا۔دھیان اس پر نہیں تھا
    جائو جلدی سے پہن کر دکھائو مجھے بسم اللہ پڑھ کر پہننا آج جمعتہ الوداع ہے۔ بہترین دن ہے۔ جائو جلدی۔ اس نے اسے کمرے کی جانب دھکیلا تھاپھر صدق دل سے دعا کی۔
    اللہ میرے بھائی کو دین پر استقامت سے چلنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا آپکو بتایا تھا نا میں نے میں تارک الدنیا بننا چاہتا ہوں۔ میں واقعی بننا چاہتا ہوں مگر بجائے میں دنیا سے منہ موڑتا میں روزے رکھ رہا ہوں طوبی آپی کو لگتا میں انکے دین پر آتا جا رہا ہوں۔ نماز روزے کی جانب راغب ہوں وہ سمجھتی ہیں میں پورک کو چھوتا بھی نہیں مگر نونا پورک میرا پسندیدہ کھانا ہے۔۔
    ہے جن بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر سر جھٹکتا وہ بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واعظہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
    طوبی نونا مجھے دین کی باتیں بتاتی ہیں میں ان سے جھوٹ کہہ دیتا کہ میں نے پورک کھانا چھوڑ دیا مگر نونا میں نہیں چھوڑ سکتا۔ میں آپ لوگوں کی طرح لمبی لمبی پانچ دفعہ نمازیں نہیں پڑھ سکتا میں ایک دو روزے شغل میں رکھ سکتا ہوں مگر یہ دیکھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے شاپر اٹھایا۔ اس میں سے کرتا پاجامہ نکال کر اسے دکھایا۔
    طوبی نونا نے میرے لیئے خود عید کا کرتا کاڑھا ہے۔ وہ چاہتی ہیں میں یہ کرتا پہن کر عید کی۔نماز پڑھوں۔میں یہ پہن سکتا ہوں عید میں آپ سب کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں مگر۔۔
    اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا پھر جیسے تھک کر بولا۔
    مگرمیں عید کے دن نماز نہیں پڑھ سکتا مجھے قرآن کی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں مگر میں انکو رٹ نہیں سکتا۔میں نے قل آیت الکرسی یاد کی ہیں میں درود پڑھتا ہوں مگر میں ہمیشہ انکو پڑھتا ہوں تو میرے دل پر بوجھ آگرتا ہے۔ مجھے آپ لوگوں کا اللہ ٹھیک لگتا ہے مگر مجھے اپنے بدھا سے بھی محبت ہے۔ میں نہ بدھا کا رہا ہوں نا اللہ کا ہو سکا ہوں۔ مجھے لگتا میری اپنی ماں مجھے شاکی نظروں سے دیکھتی ہے جب طوبی آپی میرے لاڈ اٹھاتی ہیں۔میری ماں مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی اگر اسے پتہ لگا کہ میں یہاں مسلمان بن رہا ہوں۔
    نونا میں مسجد جاتا ہوں سب جیسے ورزش کرتے میں اسکی نقل کرتا ہوں ۔دلاور بھائی روز مجھے اپنے ساتھ وضو کرواتے رہے مجھے نماز سکھاتے رہے مگر نونا مجھے یاد نہیں ہوتی عربی۔۔ بہت مشکل زبان ہے مجھ سے تلفظ بھی صحیح ادا نہیں ہوتا نونا۔ میں نبی ص کے بارے میں کتابیں پڑھتا رہا وہ بھئ اچھے انسان تھے لیکن مجھے بدھا بھی اچھے لگتے ہیں۔
    بے چارگی سے کہتے وہ واعظہ کے سامنے گھٹنے کے بل آبیٹھا۔
    نونا میں نے کچھ بھی کسی کو دھوکا دینے کی نیت سے نہیں کیا۔ مجھے پتہ ہے طوبی آپی مجھے عزہ نونا کا بھائی سمجھتی ہیں اسلیئے وہ مجھے بھی مسلمان بنانا چاہتی ہیں مگر نونا سچ تو یہ نہیں نا۔ میں رمضان میں جھوٹ بولتا رہا روزہ رکھتا رہا مگر پورک بھی کھاتا رہا۔ عزہ نونا اس دن پورک کھا کر اتنا روئیں کہ انکو لگا ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا آپکے مذہب میں پورک اتنا برا سمجھا جاتا ہے اور میں آپکے اللہ کا روزہ رکھتا رہا اور پورک بھی کھاتا رہا وہ تو مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ نونا۔۔ نونا مجھے لگ رہا ۔۔
    وہ ایکدم متوحش سا ہوگیا۔
    میں۔ وہ گھبرا کر اٹھنے لگا تو واعظہ نے اسکو دونوں کندھوں سے تھام کر روکا پھر خود بھی بستر سے اتر کر اسکے سامنے دوزانو ہو بیٹھی۔ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر اسی کے بائیں پہلو پر رکھ کر بولی
    اپنی دھڑکنوں کو محسوس کرو اور غور سے سن کر مجھے جواب دینا۔۔
    وہ یونہی اسے خالی نگاہوں سے دیکھتا رہا ۔ وہ چند لمحے بغور اسے دیکھتی رہی۔
    تم مسلمان ہو؟
    نہیں۔ اس نے بلا توقف جواب دیا۔
    تم بدھ متی ہو۔۔
    وہ اتنا برملا انکار نا کر سکا ۔ سر جھکا لیا۔
    ہاں۔ اس نے کچھ توقف سے جواب دیا۔
    بدھا کیسے تھے ؟ معاف کرنے والے پیار کا درس دینے والے سچے ہمم؟
    وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
    اس نے حیران ہو کر سر اٹھایا۔
    بڈھسٹوں کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے اتنی انجان نہیں تمہارے مذہب سے۔۔
    وہ محظوظ سے انداز میں مسکرائی۔
    ہاں وہ ایسے ہی تھے۔ مگر وہ کہتے کہ اگر کوئی برائی کروگے تو ضرور اسکا بدلہ پائو گے۔
    وہ۔خوفزدہ تھا۔
    اچھا۔ تو تم نے کیا برائی کی ؟ کسی دوسرے مزہب پر گئے کسی لڑکی کے منہ بولے بھائی بنے کسی کا دل نہ توڑنے کی نیت سے اسکے مذہب کئ کچھ روایتوں کی پیروی کی تو اسکا بدلہ تمہیں کیا ملے گا کوئی تمہارا منہ بولا بھائی بن کر تمہارا دل نہ ٹوٹے یہ سوچ کر تمہارے ساتھ بدھ متی روایتوں کی پاسداری کرے گا؟
    وہ بہت نرم سے انداز سے پوچھ رہی تھی۔
    وہ جوابا کچھ بولا نہیں۔
    بدھا اگر برے عمل کا برا نتیجہ ملے گا ایسا کہتے تو تم نے تو اچھا عمل بھی کیا کسی کے پیار کا پیار سے جواب دیا کسی۔
    وہ مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر اندرونی کسی خلفشار سے گھبرا کر وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔
    اور اللہ؟؟ وہ وہ مجھے معاف کردے گا۔
    واعظہ اسکی بے تابی پر مسکرا دی۔
    کم از کم اللہ کے بارے میں میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں۔ وہ تم سے خفا نہیں۔ وہ جس سے خفا ہوتا اسکو بھی نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تو پیار ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ ستر مائوں سے ذیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ وہ غلطی کی سزا فورا نہیں دیتا ہاں عمل کا ثواب فورا دے ڈالتا۔ وہ نیتوں کا حال جانتا تمہارا ہر عمل اس سے چھپا نہیں۔ تم مسلمان نہیں ہوئے مگر مسلمانوں کے ساتھ رہے انکے عقیدے کا احترام کیا انکے ساتھ روزہ رکھا جہاں تک ہو سکا پیروی کی۔کتنے مسلمان ہیں جو روزہ نہیں رکھتے نماز نہیں پڑھتے تم مسلمان نہیں بھی ہو پھربھی اسکے احکامات کی پیروی کی کوشش کرتے ہو۔ ہو سکتا ہے تمہیں اتنا کچھ کرنے کا دل چاہا ہی اسی لیئے کہ اللہ کو تمہاری کوئی ادا پسند آگئ۔ اس نے چاہا کہ تم جانو اسکے بارے میں اسکے پیارے نبی ص کے بارے میں۔
    مگر۔ وہ ابھی بھی بے چین تھا۔ مگر واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
    اگر تمہارے دل پر ابھی بھی بوجھ ہے۔ تو سنو اللہ تمہاری نیت شروع سے جانتا تھا تم مسلمان ہو ہی نہیں تو تم نماز پڑھو نہ پڑھو اس سے اسکو کوئی غرض نہیں۔ تم دل سے نماز نہیں پڑھتے تھے تو بدھا تم سے کیوں خفا ہونگے تم مسلمان ہو تو نہیں گئے نا؟ تم واحد جس کے گناہ گار ہو جس سے تم نے جھوٹ بولا اسکے بارے میں تم نے سوچا ہی نہیں۔
    وہ نرم سے انداز میں جتا کر بولی۔
    کون ۔۔۔۔۔۔ اس نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی
    طوبی۔۔ اس نے کہہ کر توقف لیا
    تم نے اسے کہا کہ تم عزہ کے بھائی ہو اور پھر ہم سب نے اس سے سچائی چھپائی اس جھوٹ میں ہم سب شریک ہوتے گئے تم تو چھوٹے تھے ہمیں سمجھداری سے کام لینا چاہیئے تھا۔اور ہماری اس غلطی کی وجہ سے تمہیں اتنا کچھ کرنا اور سہنا پڑا۔ ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ تمہارے حوالے سے جھوٹ بولنے کی وجہ سے تمہیں جو اتنا کچھ سہنا پڑا اسکے لیئے ہمیں معاف کردو ۔۔۔میں ہم سب کی۔جانب سے تم معافی مانگتی ہوں۔ واعظہ کی آنکھیں بھرسی گئیں ہے جن نے تڑپ کر اسے گلے لگا لیا
    آندے نونا ایسا مت کہیں۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا میں خود جا کر طوبی نونا سے معافی مانگوں گا۔
    ٹھیک ہے اب یہ رونا دھونا بند کرو ۔ واعظہ نے اسے پیار سے چمکارا۔
    یہ کرتا ضرور پہننا عید کے دن اسے پہننے میں حرج نہیں ۔ طوبئ نے بہت پیار سے بنایا ہوگا تمہارے لیئے۔ واعظہ اسے سمجھا نے والے انداز میں کہہ رہی تھی اس نے آنکھیں پونچھ کر سر ہلایا تبھی اسکی نگاہ واعظہ کے لائے شاپنگ بیگ پر پڑی۔ واعظہ توصیفی نگاہ سے کرتا پاجامہ دیکھتے ہوئے اسے احتیاط سے تہہ کرنے لگی۔
    یہ کیا ہے۔ ہے جن نے پوچھا تو وہ چونکی ۔۔
    یہ ۔ وہ مسکرا دی
    تمہارے لیئے عید کا تحفہ لائی تھی۔ ہم سب عید پر خوب اچھی طرح تیار ہوتے ہیں تو تمہارے لیئے مجھے ۔۔
    ہے جن نے اسکا جملہ سنتے ہی جھٹ شاپر کھول لیا تو وہ چپ کر گئ۔
    سی گرین بے حد خوبصورت پلین ڈریس شرٹ تھی ساتھ میچنگ کیمل کلر کا کاٹن ٹرائوزر۔ اسکو بے حد پسند آئی۔۔
    بہت اچھی ہے نونا۔ کھمسامنیدہ۔ میں اسکو چیک کرتا ہوں
    وہ بچوں کی طرح خوش ہوتا ہوا باتھ روم بھاگا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سحری میں وہ سب بیدار تھیں۔ آج جانے سورج کہاں سے نکلا تھا کہ واعظہ سب کیلئے پراٹھے بنانے کھڑی ہوگئ۔ عروج چیز آملیٹ تیار کر رہی تھی فاطمہ چائے بنا رہی تھی۔ عزہ نے جلدی جلدی لسی بنانے کی تیاری شروع کردی تھی۔ الف اور عشنا میز پر سر رکھے اونگھ رہی تھیں۔
    ہے جن کو تو اٹھایا ہی نہیں جائو عزہ اسے تو اٹھا دو۔
    بندیاں گنتے ہوئے عروج کو ہی خیال آیا۔
    میں لسی بنا رہئ۔عزہ نے فٹ انکار کیا۔
    عشنا مارے باندھے سستی سے دوپٹہ کندھے پر برابر کرتی اٹھنے لگی
    رہنے دو اسے رات کو دیر سے سویا ہے سونے دو۔ آخری پراٹھا اتار کر چولہا بند کرتے ہوئے واعظہ نے منع کردیا۔
    ہو سکتا ہے آج آخری روزہ ہو وہ جاگ کر شکوہ کرے گا اٹھا دو۔
    عزہ نے اعتراض کیا تو واعظہ نے قصدا تھوڑا سا سخت انداز میں کہا
    تو کونسا وہ مسلمان ہے اسکا روزہ رکھنا نہ رکھنا برابر ہے ایویں اس بے چارے کو فاقہ کرواتے ہیں اپنے ساتھ۔ کم از کم۔
    اسکی بات ادھوری تھئ کہ دروازہ کھول کر ہےجن جمائی لیتا ہوا باہر آگیا۔وہ چپ ہوگئ۔ عزہ نے جتانے والے انداز میں دیکھا اسے۔
    آپ لوگوں نے اٹھایا ہی نہیں مجھے سحری کا وقت ختم تو نہیں ہوگیا؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
    واعظہ بس ایک نظر دیکھ کر پلٹ گئ ۔ پراٹھوں والا ہاٹ پاٹ یونہی کھول کر دیکھا پھر بند کر دیا۔
    کیا ہوا پراٹھے کم ہیں ؟ آٹا تو ہے لائو میں بنا دیتی ہوں۔
    اسکے ماتھے پر تفکر کی لکیر دیکھ کر فاطمہ یہی سمجھی کہ شائد کم پڑ گئے۔
    آں۔ وہ چونکی۔ نہیں میں ذیادہ ہی بنا گئ ہوں ۔ چلو ناشتہ کریں۔
    واعظہ نے فورا سنبھل کر جواب دیا اور ہاٹ پاٹ اٹھا لیا۔
    ہمارا بھائی کتنے روزے رکھ چکا۔ آملیٹ لا کر میز پر رکھتے ہوئے عروج نے اسکو شرارتا کہنی مار کر پوچھا
    12۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا ان سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
    تو تم جو سارا سارا دن غائب رہتے تھے تو کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے؟ عزہ کو تشویش ہوئی۔اس کے سامنے بھر کر لسی کا گلاس رکھ دیا۔
    اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ وہ سب اسکے جزبے سے شدید متاثر دکھائی دینے لگیں۔
    ایک کلمے کی دیر ہی رہ گئ روزے تو رکھنے لگا ہی ہے یہ اسکو پکا مسلمان بنا دیں گے ہم۔ الف متاثر ہوئی تھی۔
    خود پکے مسلمان ہم بنیں نہ بنیں دوسروں کی خوب فکر رہتی ہے ہمیں۔ واعظہ بڑ بڑائی۔ فاطمہ چونکہ پاس ہی کھڑی تھئ سو صرف وہی سن پائی۔ اسے واعظہ الجھی الجھی سی لگ رہی تھئ۔
    ہےجن جو لسی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگانے لگا تھا جانے کیوں رک سا گیا۔
    فاطمہ ناشتے کا سامان لا کر میز پر رکھنے لگی۔
    واعظہ نے میز پر ہاٹ پاٹ رکھتے ہوئے جان کراردو میں بولی۔
    ایمان لانا الگ ہوتا ارکان دین پورے کرنا الگ۔ جس طرح نماز روزہ نہ رکھنے سے آپ کافر نہیں ہو جاتے اسی طرح نماز روزہ رکھ کر آپ مسلمان کہلائے جانے کے حقدار بھی نہیں ہو جاتے۔ کیا فائدہ جب وہ دل سے ایمان نہیں لایا بھلے وہ کھائے پیئے یا فاقہ کرے ایک ہی بات ہے۔
    اسکا انداز سادہ تھا مگر عروج کو جانے کیوں برا سا لگا
    تم نے بڑا اسکے دل میں جھانک کر دیکھا ہے۔ کیا خبر اسکے روزے خدا کو پسند آرہے ہوں اور وہ ہدایت کے در وا کردے۔
    اسکے ہدایت کے در وا کروانے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے۔
    واعظہ تلخ سے انداز میں بولی۔
    ایک کم عمر اسکول جانے والے بچے کو مخصوص دینی ماحول میں رکھ کر سیدھا سیدھا برین واش کر رہے ہیں ہم اسکا۔
    کیا مطلب واعظہ ہم نے کب اسکی کنپٹی پر بندوق رکھ کر روزہ رکھوایا ہے۔ عزہ بھی حیران ہو کر بحث میں الجھی۔
    ہے جن خاموشی سے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے نہ ہی وہ اندازہ لگا پارہا تھا کہ آیا موضوع گفتگو کیا ہے۔
    ہم نے نہ سہی طوبی نے زبردستی جب سے رمضان شروع ہوا ہے اسکو مسجد بھیجا ہے اپنے میاں کے ساتھ وہاں اسکو نماز بھی سکھاتے رہے وہ اور قرآن بھی پڑھاتے رہے۔ اورطوبئ نے ایسا اسلیئے کیا کہ وہ اسے تمہارا بھائی سمجھتی ہے۔ ہم نے اسکی غلط فہمی اس مقدس مہینے میں بھی دور نہیں کی۔ ہے۔۔ وہ نام لیتے لیتے رکی۔ پھر نام لیئے بنا بولی۔
    مانا اس نے جھوٹ بولا مگر ہم سب اس جھوٹ کو نبھاتے بھی رہے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کل کلاں کو کچھ ہواتو کچے ذہن کو زبردستی اپنے دین پر راغب کرنے کی بھی دفعات
    وہ جوش میں تھوڑا اونچئ آواز میں بولنے لگی الف نے ہاتھ اٹھا کر اس کو روکا۔۔
    ٹھہرو اگر ہے جن نے یہ جھوٹ بولا ہے ہم نے نبھایا ہے تو تم نے بھی تو سیہون کو بیٹھے بٹھائے عزہ کا بھائی بنا دیا تھا خود تم نے بھی تو جھوٹ بولا نا پھر ہم نے تو وہ جھوٹ بھی نبھایا ہے۔
    الف کے اس طرح کہنے پر وہ ایکدم چپ سی ہوگئ۔ اسے یوں چپ ہوتے دیکھ کرعزہ کو برالگا۔
    اب تم اس بات کو یہاں نہ جوڑو۔وہ جھوٹ نہیں تھا۔ چھوٹا سا مزاق تھا بس۔ اور سیہون میرا بھائی بنا ہے تم فکر نہ کرو۔۔

    ہاں تو وہ دھوکا دہی نہیں ہے؟ جب وہ سیہون تمہارے اغوا ہونے کا سن کر دوڑا دوڑا حال پوچھنے آیا تھا اسپتال؟ عروج الف کی مدد کو میدان میں اتر آئی۔
    نونا کیا بحث چل رہی ہے سحری کریں لڑیں مت۔ ہے جن کو معاملہ سنگین ہوتا دکھائی دیا تو میدان میں کودا
    میں۔نے واعظہ تلملا کر جانے کیا کہنے والی تھی کہ
    ۔ تبھی بیرونی دروازے پر آہٹ ہوئی سیہون تھکا تھکا سا اندر داخل ہو رہا تھا۔
    تم لوگ سحری کر لو یہ بحث بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔
    فاطمہ جو اب تک بالکل خاموش بیٹھی تھی سنجیدگی سے بولی۔ تو وہ سب بھی آخری روزے کا خیال کرکے چپ ہوگئیں۔ سیہون ان سب سے بے نیاز سیدھا کمرے میں گھس گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 19

    قسط 19

    کچھ کھائو پیو گی؟ فاطمہ نے فریج سے پانی نکال کر پیتے ہوئے یونہی پوچھا تھا ازراہ تفنن مگر ان سب نے زور و شور سے گردن اثبات میں ہلائی۔۔ تو وہ گھور کر رہ گئ۔
    کمروں کا انسپیکشن مکمل کرکے عشنا تو وہیں بیڈ پر سحری میں اٹھانے کی ہدایت کرتئ بے سدھ ہوئی الف اور عروج کا ارادہ رات کو عبادت کا تھا سو اس وقت کافی پی کر سستی بھگانے کا سوچ کر لائونج کے صوفوں پر سستی سے پڑی تھیں۔ عزہ منہ ہاتھ دھو کر کمر ے کی بتی بجھاتی کچن میں چلی آئی۔
    عروج صبح ہاسپٹل نہیں جانا کیا۔
    کافی کا ایک ساشے کم تھا سو اس نے ڈبہ اٹھا کر بندیاں گنیں پھر عروج سے بڑی آس سے پوچھا۔
    چھٹی ہے میری کل۔ عروج نے دونوں بازو اوپر اٹھا کر انگڑائی لی فاطمہ دانت کچکچا کر رہ گئ۔
    ایکسپریسو کافئ اسٹرانگ ہوتی ایک کپ اور بن جائے گی اگر مکس بنائوں۔۔
    اس نے ساسر پر کھولتے پانی میں دودھ چینی سب اکٹھے چڑھا رکھے تھے ابال آنے پر سارے بچے کھچے ساشے کھول کر پتی کی طرح ڈال دیئے۔
    اب اگلے ابال آنے پر چائے کی طرح تیار کی گئ کافی تیار ہوجانی تھئ۔ خود ہی اپنا کندھا تھپک کر شاباشی بھی دے ڈالی۔ یقینا کوئی امریکی ایکسپریسو کو ایسے بنتے دیکھ لے تو سر پیٹ کر جنگلوں میں نکل جائے۔
    ان سب کیلئے کافی بناتئ فاطمہ خود ہی اپنی حرکت پر ہنس رہی تھی ۔۔ اسکا خوشگوار موڈ دیکھتی عزہ نے اسکے قریب آکر سرسری سے انداز میں پوچھا تھا۔
    تم نے سیہون بھائی سے شادی کیوں کی؟
    فاطمہ کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔
    دزدیدہ نظروں سے لائونج میں خوش گپیوں میں مصروف عروج اور الف کو دیکھا پھر کہنی سے پکڑ کر عزہ کو کھینچ کر قریب کر لیا آواز دبا کر وہ جیسے غرائی۔۔
    خبردار جو منہ سے کوئی بھاپ بھی نکالی۔ مجھے ویزے کی غرض سے پیپر میرج کرنی پڑی ہے بس ۔
    کس سے چھپا رہی ہو؟ عزہ نے اطمینان سے سینے پر بازو لپیٹے
    بستر خالی کرتے ہوئے عروج کو تمارے نئے شناختی کارڈ بنوانے کی درخواست ملی جو اس نے باآواز بلند پڑھی بھی۔
    عروج۔ کی بچی۔ فاطمہ نے الف کی۔کسی بات پر ہنستی عروج کو دانت پیس کر گھورا
    عشنا کو پتہ تھا، واعظہ کو تو ناممکن ہے پتہ نہ ہو ، یعنی ساری رازداری مجھ سے عروج اور الف سے تھی جیسے ہم تمہاری پھپوپھیاں ہیں اور تمہاری شادی کی اطلاع ہونے پر پھڈا ڈال دیں گئ کہ ہمیں کیوں نہیں بلایا
    طنزیہ بولتے اسکی آواز خودبخود بلند ہوگئ تھی۔ الف اور عروج اپنی بات چھوڑ کر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوگئ تھیں
    فاطمہ بھنا کر کپ پٹخ کر اسکی جانب گھومئ۔
    کوئی ایسی فخرکی بات بھی نہیں تھی کہ میں اعلان کرواتی سب کو پکڑ پکڑ کر بتاتئ کہ میری شادی ہوگئ ہے۔اور
    عشنا تو رہتی ہی میرے اور واعظہ کے ساتھ تھی اس سے کیسے چھپا سکتے تھے یہ بات۔۔۔۔ اور سیہون اور میں نے نکاح نہیں کیا صرف میرج پیپر سائن کیا ہے اسکو شادی شادی کہہ کر مجھے گلٹ نہ فیل کرائو۔
    یہ صرف پیپر میرج ہے تو یہاں کیوں رہنے آگئیں؟
    الف سنجیدگئ سے کہتی اٹھ کر انکے پاس آگئ
    کیا مطلب کرائے دار ہوں یہاں جیسے واعظہ کے فلیٹ میں تھی۔ فاطمہ کو اسکا انداز چبھا۔
    مگر فلموں ڈراموں میں ایسے حالات میں ہیرو ہیروئن کو ساتھ رہتے محبت ہوجاتی ہے۔ الف نے جیسے ڈرایا
    ابے چل۔ فاطمہ نے کان پر سے مکھی اڑائی
    خالص پاکستانی ذہنیت…. ساتھ رہو تو محبت بھی کرو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئ ہم ابھی تک لڑکا اور لڑکی ساتھ دیکھ کر بس ایک ہی معاملہ سوچتے۔
    عروج نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
    بالکل۔ فاطمہ کو یہ مدد غیبی لگی
    میں مسلمان وہ بدھسٹ ہمارا رہن سہن زبان مزہب کسی طور بھی کوئی مماثلت نہیں ہم میں کم ازکم میرے ذہن میں ایسی کوئی بات کبھی نہیں آسکتی۔۔
    اس نے جیسے فیصلہ سنایا اور پلٹ کر چولہا بند کرکے کافی کپوں میں نکالنے لگی۔
    اور سیہون کے زہن میں ایسی کوئی بات آگئ تو؟
    الف نے پرسوچ انداز میں کہا تو جانے کیوں کافی نکالتے ہوئے اسکا ہاتھ ڈگمگا سا گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔۔
    برستی بارش میں چھتری کا سایہ کیئے آتئ گرمیوں کی خوشگوار سی ڈھل چکنے والی شام میں گھر کا راستہ ناپتی وہ مانوس راستوں پر تیز تیز قدم اٹھاتی گامزن تھی جب کوئی اسکے پیچھے صدیوں کا فاصلہ طے کرتا بھاگتا آیا تھا۔۔
    وازیہ۔
    مانوس آواز۔۔
    پھولی سانسوں سے جان لگا کر پکارتا کوئی۔ اسکے قدموں کی رفتار دھیمی ہوئی مگر وہ رکی نہیں۔
    وازیہ ۔۔ تم کو کیا ہوا۔ کیا برا لگ گیا تمہیں؟ ایسے کیوں چلی آئیں۔
    اسکو رکتا نہ دیکھ کر وہ جان لگا کر بھاگتا ہوا ایکدم اسکے سامنے آگیا تھا۔ وہ بروقت رکی ورنہ ٹکرا ہی۔جاتی۔
    گرے پینٹ سفید شرٹ والا مخصوص بیج والا یونیفارم بارش میں بھیگ چکا تھا۔ اسکول سے وہ یقینا بھیگتا ہوا بھاگتا آیا تھا۔ اسکے پاس صبح بھی چھتری نہیں تھی مگر صبح خود اسے چھتری شیئر کرکے اسکول تک بنا بھیگے پہنچانے والی وہ لڑکی اس وقت کٹھور سی ہوگئ تھی۔یکسر اجنبی نگاہوں سے کم جونگ وون کو دیکھتی وہ لڑکی ۔
    اس نے سر جھٹکا۔
    اپنی سانسیں بحال کرتا وہ جیب سے پمپ نکال رہا تھا۔ منہ میں انہیلر لیکر اس نے جلدی جلدی دوا حلق میں انڈیلی۔
    ایستھما کا مریض برستی بارش میں بھاگ رہا تھا اسکی سانس بری طرح اکھڑ چکی تھی۔۔۔ کتنے لمحے وہ بات کرنے کے قابل نہ رہا۔ اتنے لمحے کسی کو خود کو سمیٹنے میں لگ گئے تھے
    میرے لیئے تو پارٹی نہیں تھی نہ میں ٹریٹ دے رہی تھی۔ سو میرے رکنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا۔
    لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
    مگر میں نے کچھ پوچھا تھا تم سے۔۔۔۔۔ وہ چیں بہ چیں ہوا۔
    جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سینے پر ہلکے ہلکے مکے مار رہا تھا۔ سانس پھولتی اٹکتی ۔ اسے یقینا بولنا نہیں چاہیئے تھا مگر وہ بول رہا تھا۔بے تابئ سے بے چینی سے۔۔
    تم بنا جواب دیئے ایسے۔۔
    کہا تو تھا آندے۔
    لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور ایک طرف سے ہوکر نکل جانا چاہا۔
    جونگ نے اسکا بازو تھام۔کر روکا
    سرعت سے اس نے بازو چھڑایا تھا۔ جونگ کی چندی آنکھوں میں حیرانی سی اتر آئی۔ وہ لڑکی آج لحاظ کرنے کو تیار نہ تھی کتنا بیمار تھا وہ۔زرا خیال اسکی آنکھوں سے نہ چھلکا۔
    تم ۔۔ تم ایسے کیسے۔ ۔۔ میرا مطلب۔ ہاہ آہ۔
    وہ پھر سانسیں بحال کرنے لگا۔۔
    سوچ کے۔۔ جواب دینا چھے بال۔
    وہ منت کرنے پر اتر آیا۔۔
    میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔
    لڑکی نے پرسکون سے انداز میں اسکی بات سنی پھر ہموارلہجے میں کہتی وہ اٹھارہ سال کی ہائی اسکول کی طالبہ اس وقت جیسے جست لگا کر اسی سال کی بردباری دکھا رہی تھی۔
    کیوں ۔؟ ویئو؟
    وہ جیسے تڑپ سا اٹھا تھا۔
    کیا مطلب کیوں ؟۔۔
    وہ جیسے حیران ہوئی۔۔
    میں اور تم اچھے دوست ہیں بس۔ اس سے ذیادہ اور کچھ نہیں۔
    اس نے کندھے اچکائے۔
    ہم بہت اچھے۔۔ بہت اچھے دوست ہیں۔ ہماری دلچسپیاں، عادتیں ،خیالات سب ملتے ہیں ۔۔ ہم جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ۔۔
    آکھوں ۔۔ وہ کھانسنے لگا تھا۔۔
    میرے دلچسپیاں ، عادتیں خیالات ، کیتھرین سے بھی ملتے اسے ڈیٹ کرنے لگوں کیا؟
    وہ ہنسی۔۔ ہنستے ہوئے جونگ کو وہ دنیا کی سب سے ذیادہ سنگدل اور کٹھور لڑکی لگی تھی۔
    بارش تیز ہورہی ہے بھیگو گے تو طبیعت اور خراب ہوگی گھر جائو صبح ملاقات ہوتی ہے اسکول میں۔ آننیانگ
    نرم سے انداز میں کہہ کر اس نے پھر اپنی راہ لی تھی۔
    چھتری تیز ہوا سے اڑ رہی تھی مگر اس نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔
    اسے جاتے دیکھ کر اسے لگا تھا جیسے وہ اس سڑک سے نہیں اسکی زندگی سے جارہی ہے
    وہ پھر تیزی سے اسکی جانب بڑھا آگے بڑھ کر اسکو کندھے سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا
    اور جیسے ساری توانائیاں لگا کر چیخا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا۔۔
    پکار پر وہ فورا پلٹی۔ہے جن اس سے کچھ فاصلے پر بھاگتا آرہا تھا
    پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے پکار کر اسے روکنا چاہا تھا
    اور وہ رک بھی گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر سیہون سڑک پر ٹیکسی روک رہا تھا۔ ہے جن کو واعظہ کو بلانے کا ٹاسک اسی لیئے دیا تھا کہ یقینا وہ ہے جن کو برستی بارش میں اپنے ساتھ بھگو کر بیمار ہونے نہیں دے گی۔
    اف نونا بہت تیز چلتی ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہیونگ پچھلی گلی میں آدھی گلی تک گئے میں یہاں سڑک کی جانب مڑ گیا تو آپ نظر آئیں پھر ہیونگ کو کال ملاکر بلایا تو آپ پھر غائب۔ اف۔سارا کھانا ہضم ہوگیا میرا۔ اب کل روزہ نہیں رکھا جانا مجھ سے۔۔
    ہے جن شکایتی انداز میں کہہ رہا تھا۔ اسکے انداز پر واعظہ کو ہنسی ہی آگئی۔
    اچھا بہانہ ہے ۔ اس نے اسکے بال بگاڑدیئے۔
    وہ منہ بناکر بال ماتھے پر بکھرانے لگا۔
    سیہون ٹیکسی میں بیٹھ کر ٹیکسی ریورس کروا کر انکے پاس ہی لارہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں بھیگے مرغے بنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔
    ملگجا اندھیرا چھایا ہوا تھا یقینا سب سوچکی تھیں۔سیہون دروازے پر ہی جھجک کر رک گیا۔
    واعظہ اور ہےجن جوتے بدل کر اندر چلے گئے بتیاں جلا۔دیں گھر کا مالک دروازے پر ہی کھڑا رہا۔
    کیا ہوا دعوت نامہ بھیجوں؟ واعظہ حیرانی سے اسے دروازے میں جمے دیکھ کر طنزیہ بولی۔ ہے جن سیہون کے کمرے کا دروازہ کھولنے لگا۔
    وہ دو ہی تو کمرے میں میں۔۔ وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا ہے جن نے دروازہ پورا کھول دیا
    خالی ہے یہ کمرہ۔ آجائیں۔
    ہے جن کے اعلان پر وہ حیران ہو کر اندر چلا آیا۔ کمرے میں جھانکا تو وہ جوں کا توں ویسے کا ویسا تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
    یہ سب لوگ ایک کمرے میں ایڈجسٹ ہوگئ ہونگی۔ ہمیں عادت ہے ایسے رہنے کی تم دونوں کو لیکن کمرہ شئیر کرنا پڑے گا ۔ ہے جن کو کوئی اپنا نائٹ ڈریس دے دو۔ سارا بھیگ گیا ہے۔
    واعظہ کے کہنے پر ہے جن جہاں مسکرایا وہیں سیہون اسکی۔نقل۔اتار کر بولا۔
    ہے جن کو دے دو۔ ہونہہ میرے لیئے تو بارش میں پانی کی۔بجائے دھوپ کی کرنیں گر رہی تھیں سوکھا ہوا ہوں میں ۔
    واعظہ ان سنی کرتی دوسرے کمرے کا دروازہ کھولنے لگی۔
    اندر منظرہی کچھ اور تھا۔
    عشنا ، فاطمہ ، عروج عزہ قطار میں چادریں بچھائے ستائیسویں کے اعمال کرنے میں مشغول تھیں۔
    انکو دیکھ کر اسکی پیشانی عرق آلود سی ہوئی۔
    آج ستائیسویں ہے اور میں بھول ہی۔گئ اعمال کرنا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج ستائیسویں ہے اور مجھے اعمال تو دور نماز کا موقع بھی نہ مل سکا۔
    وہ گھٹنوں میں منہ دے کر سسک اٹھی۔ باہر آسمان بھی چھاجوں مینہ برسا رہا تھا کوٹھری کے چھوٹے سے روشندان سے آتی بادلوں کی گھن گھرج۔۔ نیم تاریکی ۔
    اس چھوٹی سی کوٹھری میں اسکے سوا ایک اور عورت بھی تھی۔ دیوار سے لگے بنچ خوب چوڑے تھے کہ ان میں سے ایک پر وہ خود بیٹھی تھی تو دوسرے پر وہ عورت سر تک چادر تانے جانے سو رہی تھی یا نہیں۔ نہ خراٹوں کی آواز نہ ہل جل۔۔۔
    اسکی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔سحری میں جانے کتنا وقت باقی تھا۔۔ یہاں کون اسے سحری کراتا۔ بنا سحری کے نیت کرلے کیا کرے۔ وہ بے چین ہو کر آنسو پونچھنے لگی۔
    اللہ ہی اس مصیبت کو دور کرے گا۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اللہ۔ بس تو ہی میری مدد کر۔
    بڑ بڑاتے ہوئے وہ خود کو تسلی دیےرہی تھی۔ جیل کی سلاخوں میں سے باہر جھانکنا چاہا تو کچھ فاصلے پر میز کرسی پر ایک موٹی سی حوالدارنی اونگھ رہی تھی۔
    سنو۔ اس نے پکارنا چاہا۔
    خرر خرخر۔ خراٹوں کی آواز بلند ہوئی۔ اس نے مڑ کر بنچ پر سوتی عورت کو دیکھا پھرحوالدارنی کو۔
    جانے دونوں میں سے کس کے خراٹے بلند ہوئے تھے۔
    یا اللہ ایک گھڑی تک نہیں میرے پاس۔ کیا کروں۔
    وہ سلاخوں سے ٹیک لگا کر وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
    ویو۔۔ کسی نے اسکی پسلی میں ڈنڈا سا چبھویا۔ وہ بری طرح ڈر کر سیدھی ہوئی۔ حوالدارنی اسکے بری طرح ڈرنے پر تھوڑا نرم ہوئی۔
    وییو کیا چاہیئے؟۔
    ٹائم۔ ۔۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنی کلائی کو دوسرے ہاتھ سے ٹھونگے مار کر بتایا۔
    سوا چار۔
    وہ کہہ کر جمائی لیتی پلٹ گئ۔
    واٹ؟ ۔۔ اسے سمجھ نہ آیا۔
    ٹائم۔۔ اس نے بے تابی سے دھرایا۔
    کیا مصیبت ہے رو رو کے بھی اسکی توانائیاں ختم نہ ہوئیں کہ اٹھ کر میرے سر پر بک بک کرنے بیٹھ گئ۔ میرا پہلے ہی دماغ خراب ہوا ہے اب اگر یہ سوئی نہیں تو ہمیشہ کیلئے سلادوں گی اسے میں۔
    بنچ پر سوتا وجود ایک جھٹکے سے دھاڑتا ہوا اٹھ بیٹھا
    سرخ آنکھیں سرخ چہرہ بھاری تن و توش کی وہ مخصوص کڑخت تاثرات جو نور کی آمد پر اس کے تھے چہرے پر سجائے کورین آہجومہ۔
    جملے کے معنی ککھ پلے نہ پڑنت خے باوجود نور کی روح فنا ہونے کوآئی تھئ۔
    صبر سے کام لو۔ نئی آئی ہے دو ایک دن میں سیٹ ہو جائے گی۔
    حوالدارنی اسے دیکھتے ہوئے تسلی آہجومہ کو دے رہی تھی۔
    مجھے وقت بتادیں میں نے روزہ رکھنا ہے۔
    نور نےملتجی انداز میں حوالدارنی کو کہا ۔
    بتایا تو یے۔ وہ حیران ہوئی۔۔ یقینا یہاں زبان کا فرق آڑے آرہا تھا۔
    وقت / ٹائم۔ نور نے دوبارہ گھڑی کا اشارہ کیا۔تو وہ حوالدارنی پریشان ہو کر نہ جانے اپنی زبان میں کیا کیا بولنے لگئ
    دے؟ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی جو نور کی پشت پر کسی کو دیکھتی گھبرائی تھی۔ اسکی نگاہوں کے تعقب میں دیکھا تو جم سی گئی۔
    چادر ایک۔طرف کرکے خونخوار نظروں سے گھورتی وہ آہجومہ سیدھا اسکی جانب بڑھ رہی تھی۔ اسے تحمل سے کام۔لینے کا کہتی گھبرائی ہوئی حوالدارنی اور نور جو ڈر کے مارے پیچھے ہوتی سلاخوں سے چپک گئ تھی مزید پیچھے ہونا ممکن نہیں تھا ۔۔ آہجومہ بھنائی ہوئی آئی مکا لہرایا سیدھا اسکے منہ کی جانب نور نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں۔
    چند ثانیوں میں ناک منہ گال پر کوئی مکا پڑنے کا احساس نہ ہوا تو خود ہی ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔
    آہجومہ اسے گھور رہی تھیں مگر اسکے مکے کی جگہ کلائی اسکی نگاہوں کے عین سامنے تھی۔
    جس کے بڑے سے کالے ڈائل پر دمکتی سوئیاں اسے وقت دکھا رہی تھیں۔۔ اسکی سینے میں دم توڑتی سانسیں بحال ہونا شروع ہوئیں۔۔کہ آہجومہ حلق کے بل چلا اٹھی۔
    دیکھو اچھی طرح وقت اور اب اگر تم نے دوبارہ کسی سے بھی وقت پوچھا تو تمہارا وقت الٹا چلا دوں گی سمجھیں۔
    جانے ڈراموں میں کیسے ایسے موقعوں پر لڑکیاں مزے سے بے ہوش ہو جاتی ہیں ۔نور کے تو چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔ یوں لگتا تھا حواس اگلی کئی صدیوں تک ساتھ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افطاری کرتے ہی وہ سب عید کی شاپنگ کرنے گنگم اسکوائر آئی تھیں۔کوئی کورین فیسٹیول قریب نہیں تھا سو رش بھی ذیادہ نہیں تھا اور چونکہ قوت خرید بھی انکی ذیادہ نہیں تھی سو بڑے بڑے مالز میں صرف ونڈو شاپنگ کرکے وہ سب خالص پاکستانی طرز کئ مارکیٹ میں چلی آئیں۔
    اسکرٹ ٹرائوزر جینز۔ بہت ورائٹی تھی۔ لانگ فراکس شرگز بھی مل جاتے تھے سو دھڑا دھڑ شاپنگ شروع ہوچکی تھی۔۔
    انکو انکی۔پسند کے کپڑے چننے کیلئے چھوڑ کر وہ اور فاطمہ مردانہ کپڑوں کی دکان میں چلی آئیں۔
    شرٹ ٹرائوزر نکلواتے اسے یا سب اچھے لگ رہے تھے یا سب کے سب بکواس۔ وہ بے دلی سے چھآنٹ رہی تھئ۔
    کس کیلئے لے رہی ہو؟ سیہون کیلئے؟ فاطمہ نے یونہی پوچھا جوابا واعظہ نے جن نظروں سے دیکھا تو وہ کھسیا کر شرٹ اٹھا کر دیکھنے لگی۔باہر عشنا عروج عزہ اور الف جیولری اور کلپس کے اسٹال کی جانب بڑھ گئیں۔ مگر ہیئر پنز اور کلپس جو یہاں کی لڑکیاں شوقیہ لگائے پھرتی تھیں انکے گھنے لمبے بالوں کیلئے چھوٹے اور ناکافی تھے۔ عزہ عروج عبایا پہنا ہوا تھا تو الف نے اسکارف لے دے کر عشنا کی شامت آئی ۔ اسکے بالوں پر ایک ایک کلپ پن لگا کر دیکھی گئ۔ آدھے سے ذیادہ اسٹال انہوں نے یہ الا بلا کا خرید ڈالا۔ بریسلٹ ، ٹاپس ، انگوٹھیاں ، کیچر مصنوعی جوڑا تک خرید کر وہ سب مطمئن ہوگئ تھیں۔ اب بس مخصوص کورین سریوں والی پنیں ہی بچی تھیں جواب تو شائد کورین لڑکیاں بھی نہ خریدتئ ہوں ۔۔
    جب عشنا ٹھیک ٹھاک کارٹون بن گئ سارے بال اجڑ گئے تب اسکی خلاصی ہوئی۔ آہجومہ نے اتنی ساری کلپس بکتے دیکھ کر ازراہ ہمدردی اسکو آئینہ اور کنگھا فراہم کیا۔
    میں کچھ ذیادہ ہی تم لوگوں کے ساتھ سویٹ نہیں؟ ناجائز فائدہ اٹھاتی ہو تم لوگ میرا۔
    آئینہ دیکھتے ہی وہ مڑ کر انہیں گھورنے لگی۔ نقابوں میں عزہ عروج کی بتیسی تو نہیں نظر آرہی تھئ مگر آنکھیں کورین جیسی چندی ہو چلی تھیں ہنس ہنس کر۔ بال سنوار کر شکریے کے ساتھ اس نے دونوں چیزیں واپس کیں۔
    کوئی تقریب ہے خاص کیا؟ جسکی تیاری ہے؟
    آہجومہ نے بڑے اشتیاق سے ان سب کو اپنا آدھا اسٹال خریدتا دیکھ کر پوچھا تھا۔ اسکی بات عروج نے سمجھ لی تھی سو اسی نے جھک کر جواب دیا۔
    ہماری عید ہے۔ ہمارا مزہبی تہوار اسلیئے ہم اتنی خریداری کر رہی ہیں۔
    دے دے۔ وہ آہجومہ سر ہلا کر انہیں جانے کیا اشارہ کرتی اسٹال انکے اوپر چھوڑکر مڑ کر اپنا سامان کھنگالنے لگیں
    اب یہ کیا کرنے لگیں؟ عشنا حیران ہوئی
    چینج لے رہی ہونگئ۔ الف نے اندازہ لگایا
    بھائو تائو بنا چیز لیتے عجیب سا نہیں لگ رہا ۔۔ عشنا نے کہا تو وہ سب سر ہلانے لگیں۔
    ۔۔۔ کیسا ہم کبھی درزی کے چکر کبھی چوڑیاں کبھی میچنگ کیلئے سب کزنز اکٹھے ہو کر جاتے تھے۔ عزہ نے ہونٹ لٹکا کر کہا
    مجھے کرتا پاجامہ پہننا ہے۔ الف نے بھی اداس سی شکل بنا لی۔۔
    میں تو ہمیشہ چاند رات پر جوتا خریدتی ہوں یہاں تو عید کے دن سر میونگ کی کلاس لے رہی ہونگی۔۔
    عزہ نے اتنی حسرت سے کہا کہ وہ سب اس سے لپٹ ہی تو گئیں۔
    ہم تمہیں چاند رات کو۔جوتا دلانے آجائیں گے۔ سر میونگ کیلئے بھی لے لینا عید کا تحفہ۔
    عروج نے مسخرے پن سے کہا تو وہ سب ہنس پڑیں۔
    مگر عزہ کو اپنی جوائینٹ فیملی سسٹم میں ڈھیروں ڈھیر کزنوں کے ساتھ گزاری عید یاد آرہی تھی چچائوں ماموئوں اور بڑے کزنوں سے اینٹھی گئ عیدی کا بھی خسارہ جھیلنا تھا اس بار تو۔
    کچھ بھی ہو عید کا تصور ہی یہاں محال ہے۔ اس نے فیصلہ سنایا۔
    آگاشی۔۔
    آہجومہ بوری سے خوش خوش جانے کیا برآمد کرکے انکو اشارے سے متوجہ کرنے لگیں۔
    کورین طرز کی شہزادیاں جو سریئے جیسی کلپس لگاتی تھیں بالوں میں جس کے کنارے پر چڑیا پھول اور جانے کیا کیا نقش و نگار تھے پلاسٹک ریپ میں ایکدم چم چم کرتی نئی نکور۔ گن کر چار انکی جانب بڑھانے لگیں
    اتنا کچھ تو لے لیا اب یہ کیا کریں گے لیکر۔ عزہ حیران ہوئی
    عروج ان سے کہو بس بہت چیزیں لے چکے اب عید ہے تو کیا انکی پوری دکاں خرید لیں۔
    الف نے لقمہ دیا۔
    آدھی تو خرید لی ہے پوری بھی لے لیں کیا حرج ہے۔ عروج نے کندھے اچکایے اور بیگ کھولنے لگئ
    ہاں یار کتنی بوڑھی ہیں میری دادی کی عمر کی لگتی ہیں۔ عشنا کو بھی انکے جھریوں زدہ بوڑھے چہرے کو دیکھ کر ترس آگیا۔ آنکھوں میں شوق کا جہاں آباد کیئے وہ انکو دونوں ہتھیلیوں میں پنیں سجائے پکڑا رہی تھیں
    کتنے ہوئے۔ کئی ہزار وون کے نوٹ نکال کر عروج پوچھ رہی تھی
    آندے آندے۔ آہجومہ زور و شور سے نفی میں سر ہلانے لگیں۔
    پھر ہنگل میں کچھ کہتی چلی گئیں عروج کا پیسے بڑھاتا ہاتھ رکا واپس ہوا اس نے آگے بڑھ کر آہجومہ کو جھک کر شکریہ ادا کیا پھر بڑھ کر انکے گلے لگ گئ۔
    اسے کیا ہوا؟ وہ تینوں بھونچکا دیکھتی رہ گئیں۔۔
    آہجومہ کی آنکھیں جھلملا سی گئیں پیار سے عروج کا کندھا تھپتھپا کر وہ آنسو پونچھنے لگیں۔۔
    کیا کہہ رہی تھیں؟ تینوں عروج کے سر ہوگئیں
    انہوں نے کہا۔۔ عروج نے کہنا شروع کیا۔ فلیش بیک میں آہجومہ کی تصویر پر عروج کئ آواز ڈب ہونآ شروع ہوگئ تھی
    تم سب اپنے وطن سے اپنوں سے دور تہوار منا رہی ہو یہ چھوٹا سا تحفہ عید کا سمجھ کر رکھ لو ۔ اپنی ماں جیسی کی طرف سے۔
    فلیش بیک ختم ہو چکا تھا
    آہجومہ نے آنسو پونچھ کر سر اٹھایا تو تین مزید لڑکیاں جزباتی سے انداز میں بانہیں پھیلائے ان سے گلے لگنے کو تیار کھڑی تھیں۔
    کتنی عجیب بات ہے ایک انجان ملک میں انجان عورت انجان گاہک کی خوشی میں شریک ہونے کو تحفے دے رہی اور ایک ہم ہیں عید کا تہوار قریب ہو تو قیمتیں آسمان تک پہنچا دیتے تحفہ تو دور پیسے دے کر بھی مہنگی سے مہنگی چیز دیتے اپنے گاہکوں کو۔ ہم مسلمان قوم۔۔
    عروج نے تاسف سے سوچا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر آتے آتے انہیں ٹھیک ٹھاک دیر ہوگئ تھی۔ سیہون اور ہے جن دونوں گھر میں نہیں تھے۔ واعظہ اپنے شاپرز اٹھا کر سیہون کے کمرے میں رکھ آئی تھی اور اب ان سب کیلئے چائے بنانے کچن میں گھس گئ ۔ یہ اسلیئے تھا کہ خود چائے کی طلب ہو رہی تھی اور کسی اور کے ہاتھ کی پسند نہ تھی اسکا فلسفہ تھا چائے بنانے لگو تو پھر ایک کپ بنائو یا ایک سو کپ کیا فرق پڑتا ۔ ان سب نے سیدھا لائونج میں پڑائو ڈالا
    یہاں سے وہاں تک شاپرز پھیلا دیئے تھے سب شاپنگ کھول کھول کر دیکھی جا رہی تھی
    میں اسے پہن کر آتی ہوں۔
    شوق سے لایا پیچ ٹاپ عزہ جھٹ لیکر کمرے کی جانب دوڑی جب پہن کر آئی تو وہ سب اوہ کر کے رہ گئیں۔
    ٹاپ کھنچنے والے کپڑے کا تھا جو نازک سی عزہ کے جسم سے چپک ہی گیا تھا اور وہ بہت نازک سی لگ رہی تھی۔ ٹاپ گھٹنوں سے اوپر تک تھا جو پیچھے سے تھوڑا گھیر والا تھا آستینیں شکر ہے پوری تھیں گلے پر سلور ستارے سےتھے جو سلور لائننگ کے ساتھ بل کھاتے دامن تک آرہے تھے۔ ٹاپ یقینا بے حد خوبصورت تھا وہ بہت خوش خوش ماڈلز کی طرح پوز مار رہی تھی۔
    سفید ٹائٹس اور سفید اور پیچ خوبصورت سا اسکارف۔ میچنگ پوری تھی
    عزہ عید پر بالوں کو کرل کرکے یہ والی پن لگانا ۔ الف نے سلور سی پن نکال کر دی۔
    میچنگ ائیر رنگ پہن کر وہ جتنی تعریف کروانا چاہ رہی تھی اسکی اتنی تسلی نہیں ہو پائی تھی۔
    واعظہ دیکھو کیسی لگ رہی میں۔
    واعظہ کچن میں تھی بس وہی رہ گئئ تھی سو بطور خاص اسے دکھانے چلی آئئ۔
    پیاری۔ اس نے مسکرا کر تعریف کی۔
    یہ میرا عید کا ڈریس ہے پاکستانی لک دے ہی ڈالی میں نے اسے۔
    وہ اپنا ٹاپ لہرا کر گھومی۔
    ہوں اچھا کیا۔ زبردست۔
    وہ کہہ کر پتی ڈالنے لگی۔۔
    عید پر اسکے ساتھ بال کھول کر کرل کر لوں یا اسٹریٹ ذیادہ اچھالگے گا؟
    اسے تسلی نہیں ہو رہی تھی شائد اسکا دبا دبا جوش دیکھ کر وہ جوش آتئ چائے کا چولہا دھیما کرکے اسکی جانب مڑی۔
    تم اتنا تیار ہو کر پھر اسکے اوپر عبایا پہن کر یونیورسٹی جائوگی؟
    یونیورسٹئ کیوں عید کے دن کون۔۔ جاتا۔
    بولتے بولتے خیال آیا تو وہ بجھ سی گئ ۔جوش جھاگ کی طرح بیٹھتا گیا۔
    یونیورسٹی تو عبایا کرکے جاتی ہوں چھٹی بھی نہیں ہوگی یہاں تو۔ ایویں اتنا کھڑاگ کیا۔ عید تو سر کا لیکچر سنتے گزرنی ۔۔
    وہ بری طرح اداس ہو کر رہ گئ۔ سر جھکاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتئ کمرے کی جانب بڑھ گئ کپڑے بدلنے۔ واعظہ مڑ کر چائے کپوں میں نکالنے لگی
    کیا واعظہ حقیقت کا تھپڑ مارنا ضروری تھا؟ بچی خوش ہو رہی تھئ۔
    فاطمہ اپنے لیئے کافی بنانے آئی تو انکی گفتگو سن کر کہے بغیر نہ رہ سکی۔۔۔ آگے بڑھ کر چینی کا ڈبہ اٹھانے لگی تو واعظہ نے اسکے ہاتھ پر چپت لگادی فاطمہ ہاتھ سہلاتی گھورکرررہ گئ
    اب یہ کس لیئے؟ اسے غصہ آگیا تھا۔
    اتنی کافی مت پیا کرو چائے بنا دی ہے اسی کو پیو۔
    ایک کپ اسکی جانب بڑھا کر وہ ٹرے میں کپ لگا نے لگی۔
    فاطمہ نے بھنا کر کافی بنانے کا ارادہ کیا پھر اسے ایک مرتبہ پھر گھور کر اپنا کپ شرافت سے اٹھا کر لائونج میں چلی آئی۔ یہاں ۔ عروج کو نیا دکھ لگا تھا۔عید کیلئے لایا ٹاپ بنا شرگ پہننے لائق نہ تھا۔
    یار وہاں میں نے غور ہی نہیں کیا کہ شرگ کے بغیر اس میں آستین ہی نہیں۔ بتائو شرگ علیحدہ سے لاکھ وون کا تھا کیوں لیتی اتنا مہنگا میں مگر اب اسکا کیا کروں۔
    عروج نے ایک لانگ ٹاپ خود سے لگا کر۔آئینے میں دیکھا وہایٹ پلین لانگ ٹاپ سلیو لیس تھا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر واپس رکھ دیا۔
    ہاں تو تم نے عید کے دن کونسا اپنے سسرال جانا ہے ؟ ڈاکٹرز گائون پہن لوگی اوپر سے کسی کو کیا پتہ لگے گا کہ سلیو لیس ہے۔
    الف دور کی کوڑی لائی۔ عروج نے زور و شور سے کدو ہلایا۔
    منحصر ہے کہ عید 29 کی پڑے یا 30 کی 29 کی عید ہوئی تو میری چھٹی بنتی ہے۔ دعا کرو چاند ہوجائے۔
    عروج کھلکھلا ئی۔
    یہاں تو ہو ہی جائے گا یہاں کونسا چاند دیکھنے پر جھگڑے ہوتے۔۔
    واعظہ چائے کی ٹرے اٹھائے یہیں چلی آئی۔ اسکی بات میں وزن تھا۔
    اعلی چائے واعظہ۔ چائے کا۔کپ اٹھاتے ہی عشنا نے گھونٹ بھر کر داد دی۔
    واعظہ تم تو کہہ رہی تھیں کہ پاکستانی ایمبیسی میں کوئی تقریب ہوگی عید کے دن ہم جائیں گے؟ عروج نے اشتیاق سے پوچھا۔ عزہ کپڑے بدل کر سابقہ موڈ میں واپس آئی آتے ہی وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
    میری کلاس ہوئی تو کوئی بھی نہیں جائے گا سمجھیں۔ سب۔۔۔۔

    اسکی وارننگ کو ان میں سے کسی نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔
    یار ہمیں دلاور بھائی کو دیکھنے جانا چاہیئے تھا۔ ہاسپٹل۔
    عشنا کو اچانک طوبی یاد آئی تو کہہ بیٹھی۔
    دو گھنٹے میں ڈسچارج ہو۔گئے تھے وہ۔ اب تو گھر میں بیڈ ریسٹ پر ہیں چک آگئ ہے انکی کمر میں۔ میں نے اپنے کولیگ سے پتہ کروایا تھا۔
    عروج نے بتایا ۔۔
    تو انکو کوئی وارننگ نہیں ملی انکو گھر جانے دیا پولیس والوں نے ؟
    الف کو خالص پاکستانی تشویش ہوئی۔
    جب ہم گھر نہیں جا سکتے تو وہ کیوں گئے گھر؟
    کیونکہ سارا خونم خون ہمارا گھر ہوا وا تھا بھلے کسی کی بھی وجہ سے۔
    عشنا نے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔
    یار کیا عید ہوگئ ہماری کتنے پلان بنائے تھے نور تو کہہ رہی تھئ ہم بیچ پر جاتے دوبارہ لیکن اب تو۔۔۔ کیا نور ۔۔۔
    نور کی عید جیل میں گزرے گی؟ ۔ عزہ اداس سی ہو گئ تھی
    عید جیل میں گزر جانا بہتر ہے ایک عمر جیل میں گزار دینے سے۔ واعظہ اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولی۔۔
    جو اسکا کیس بنا ہے اس میں معاملہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ میں اسکے والدین سے مزید یہ معاملہ چھپا نہیں سکتی یہ تیسری کال ہے اسکی امی ۔۔ کی۔
    اس نے اپنے موبائل کی اسکرین انکو دکھائی جس پرابھی بھی نور کئ امی کی کال آرہی تھی ۔ ہمیشہ سے سائلنٹ موڈ پر اسکا فون یقینا کسی دن اسے پھنسوانے والا تھا۔
    پلیز ایسا غضب مت کرنا اسکے گھروالے اسکی پڑھائی ختم کرکے واپس بلالیں گے
    الف تڑپ کر بولی۔
    اب تک تو بہانہ بنایا ہی ہے مگر پاکستان ایمبیسی سے وہ لوگ رابطہ کریں گے ہی اور ظاہر ہے معاملہ یونہی ختم نہیں ہو سکتا کیس بنا چلا تو واعظہ نہ نور کی ماں لگتی نا باپ یہ کس طرح اسکی سرپرست کے طور پر کوئی فیصلہ لے سکتی ہے بھلا؟
    فاطمہ حسب عادت تیز ہو کر بولی تو وہ سب چپ ہی رہ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 17

    قسط 17
    تھکے تھکے قدم اٹھاتی وہ اسپتال سے باہر نکلی تھی۔ آج جتنا لمبا دن گزرا تھا اسکا دل کر رہا تھا بس اگلے تین چار دن بس سوئے۔ اس کا بس سے جانے کو دل نہیں کیا۔ مین روڈ تک آکر وہ ٹیکسی کا انتظار کرنے لگی۔ تبھی ایک چمچماتی کالی گاڑی اسکے سامنے آرکی۔۔اس نے حیران ہو کر شیشے میں دیکھنا چاہا تبھئ ڈرائیونگ سیٹ سے سیونگ رو مسکرا تا ہوا اتر کر اسکے پاس چلا آیا۔
    آئو میں گھر چھوڑ دوں۔۔
    وہ دوستانہ انداز میں مخاطب تھا
    شکریہ میں چلی جائوں گی۔ اس نے انکار کرنا چاہا
    آجائو روج پلیز۔ اسکا انداز ملتجی سا تھا روج صاف انکار نہ کر سکی۔۔ عروج کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد اس نے دروازہ بند کیا پھر خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا اعر گاڑی چلادی۔
    770 فٹ اونچے نام سان ٹاور کے اوپر کھڑے ہوکر نیچے دیکھو دیکھو تو تھوڑی سینے سے آلگتی ہے عروج نے تین سال کوریا میں سیول میں رہ کر بھی آج جانا تھا۔ نیچے دیکھتے ہوئے وہ خفگی سے سیونگ رو سے بولی
    تم نے مجھے ہائی جیک کیا ہے آج ۔۔۔ اس وقت تک میں سو بھی چکی ہوتی۔۔اگر ٹیکسی میں جاتی تو۔
    سیونگ رو اسکے انداز پر کھل کر ہنسا ۔۔
    ہائی جیک نہیں کڈنیپ کیا ہے۔ وہ بےساختہ درستگئ کر گیا عروج نے تیکھی نگاہ سے دیکھا تو کھسیا گیا۔یقینا عروج کا اشارہ اسے نام سان ٹاور کے اوپر یوں لفٹ کے ذریعے پہنچادینے کی جانب تھا۔
    میں جب پہلی بار سیول آیا تھا تو مجھے سب سے پہلے جس مقام کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا وہ یہ نام سن ٹاور تھا۔ جب سب جوڑے دھڑا دھڑ پیار کی نشانی کے طور پر اس گرل میں اپنے اور اپنے محبوب کے نام کے تالے لگا رہے تھے تب میں اکیلا یہاں کھڑا سوچ رہا تھا کتنے بے وقوف لوگ ہیں تالے دلوں پر لگتے ہوتے تو لوگ اپنے اپنے دل سنبھال کر ان پر تالے ڈال لیتے کسی اور پر جزبے ضائع کرنے سے تو بہتر ہے۔ہےنا روج؟
    وہ عروج سے تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا
    لوگ پہلی بار سیول آتے ہیں تو انکو ہنگن دریا دیکھنے کا شوق ہوتا ہے ۔یہاں تو محبت میں مبتلا لوگ ہی آتے ہیں اور جو محبت میں مبتلا لوگ ہوتے ہیں وہ بےبس اور بے چارے ہوتے ہیں انکا دل انکی مرضی سے نہیں چلتا ہے ایسے لوگوں کی عقل پر تالے پڑے ہوتے ہیں۔
    عروج کندھے اچکا کر اپنے مخصوص دو ٹوک انداز میں بولی۔
    سیونگ رو چپ سا ہو کر سیول کی روشنیاں دیکھنے لگا۔۔ پورا شہر نگاہوں کے سامنے تھا یوں لگ رہا تھا ننھے ننھے قمقمے دیئے جل بجھ کر رہے ہوں۔۔ بے حد خوبصورت منظر مگر یکسر اجنبی ماحول۔ اجنبی شکلیں نامانوس جگہ۔ اس نے گہری سانس لیکر آسمان پر نگاہ کی۔ ۔ آسمان سیاہ مگر چمکدار سا لگ رہا تھا مگر اس پر سجا دن بہ دن باریک ہوتا چاند۔۔ رمضان ختم ہونے کو تھا عید سر پر تھی۔ اسے بے طرح اپنا گھر یاد آنے لگا تھا اسکی عید اس بار بھی اپنوں سے میلوں دور گزرنے والی۔تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
    نور کی عید جیل میں گزرے گی ؟۔۔۔
    اسٹوڈیو میں کرسی پر بیٹھی کہنئ کرسی کے ہتھے پر جمائے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اس پر کنپٹی ٹکائے اپنی باری کا انتظارکرتی وہ یہی سوچتی رہی تھی۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر اتنی گہری تھی کہ اپنے اور اسکے لیئے کافی بنا کر لاتا ژیہانگ نوٹ کیئے بنا نہ رہ سکا اسکا کپ سامنے میز پر رکھ کر وہ اپنا کپ لیکر اسکے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا پروگرام شروع ہونے میں پندرہ منٹ تھے وہ ہیڈ فون مائک چیک کرنے لگا۔ الف کا مراقبہ۔ختم۔نہ ہوا۔ ژیہانگ گا ہے بگا ہے اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے رہ نہ سکا۔پوچھ ہی بیٹھا
    کیا ہوا الف؟ کوئی پریشانی ہے؟
    آہ۔۔ ہاں۔ وہ بری طرح چونکی۔ میرا مطلب ہے نہیں کوئی پریشانی نہیں بس وہ پروگرام کا ہی سوچ رہی تھی۔ اس نے جلدی سے بات بنائی۔
    جب سے ہم نے سیہون کا انٹر ویو لیا ہے ہمارے شو کی ریٹنگ ایکدم بڑھ گئ ہے۔ لوگ بہت دلچسپی لے رہے ہیں ہمارے شو میں۔ سوجو کے ایک برینڈ کی اسپانسر شپ بھی مل گئی ہے۔ پروڈیوسر صاحب کافی مطمئن ہیں ہماری کارکردگی سے۔
    ژیہانگ کو یہی لگا کہ شائد پروگرام کی وجہ سے پریشان ہے سو خوش ہو کر اسے بتانے لگا۔
    سوجو؟۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں
    شراب کے بریںڈ کی اسپانسر شپ ۔آخ
    اس نے منہ بنایا
    وہ۔ہمارے شو کی اسپانسر شپ کر رہے ہیں ہمیں پینے کو نہیں کہہ رہے۔ ژیہانگ اسکے منہ بنانے پر کھل کر ہنسا
    الف کھسیا سی گئ۔
    ہاں تو۔ ہے تو گندی چیز پتہ نہیں لوگوں کو کیا مزا آتا ہے ہوش کھو کر۔
    ہوش کھو دینے میں ہی تو اصل مزا ہوتا ۔ آپ بھول جاتے آپ کہاں ہیں کیوں ہیں کس کے ساتھ ہیں
    ژیہانگ نے چٹخارا سا لیا حسب توقع الف بحث کیلئے آستین چڑھا گئ تھئ
    ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا ہوش کھونے کا فائدہ ہے کیا؟ اداس ہو پریشان ہو تو شراب پی کر ہوش کھونے سے نا تو پریشانی ختم ہوگئ نا اداسی الٹا اس پریشانی کا حل نکالنے کے بجائے ہوش ہی کھو کر اس پریشانی کو مزید بڑھاوا دے دیتے ہیں اور خوش ہیں تو بجائے ان لمحوں کو جینے کے ان کا لطف اٹھانے کے ہوش کھو کر خوشی کے ان لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں پینے پلانے کا صرف نقصان ہے فائدہ کوئی نہیں۔
    الف کا جوش میں رنگ سرخ ہوچکا تھا اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے جملے کے آخر میں سامنے میز پر جوش سے ہاتھ مار بیٹھی۔۔کپ چھلک کرالٹ گیا کافی پوری میز پر پھیلتی چلی گئ۔ ژیہانگ میز کو پائوں مار کر اپنی سیٹ بروقت پیچھے کر کے اپنے کپڑے بچا گیا تھا۔۔ الف البتہ گھبرا کر ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشو کھینچنے لگی۔۔ اس بہتے دریا کو ٹشو باکس کا آدھا ڈبہ ہی روک پایا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا مرغی ابھی تک ڈبے میں بند ہے۔۔ فلیش بیک ختم ہوچلا تھا فاطمہ چیخی۔سیہون کے ہاتھ سے چاپ اسٹکس چھوٹ ہی۔گئیں کینہ۔توز نظروں سے اسے گھورنے لگا
    اس طرح چیخنے سے نکل تھوڑی آئے گی۔۔
    واعظہ نے اطمینان سے کہا ۔۔
    مجھے تم دونوں جب تک ہارٹ اٹیک نہیں کروائوگئ چین نہیں آئے گا تم دونوں کو۔ وہ بھناتا اٹھ گیا۔
    چائے پینی ہے تم لوگوں نے۔ وہ چائے کا پانی چولہے پر رکھتا پوچھ رہا تھا۔
    بالکل نہیں۔ دونوں اکٹھے جان کے چیخیں پھر اسکے گھورنے پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگیں۔
    ہم چائے کالی پتی اور دودھ والی کو کہتے تم جو یہ جڑی بوٹیاں ابال کر اسے چائے کا نام۔دیتے ہو نا اس سیال کو پینے کا کوئی شوق نہیں ہمیں۔
    فاطمہ کئ وضاحت پر اس نے دوبارہ مڑ کر اسے گھورنا چاہا مگر وہ ہنستے ہنستے مںہ پھیر کر کھانے کی جانب متوجہ ہوچکی تھی
    تبھی واعظہ کا موبائل بج اٹھا۔۔ اس نے پیغام کھولا ہےجن کا تھا۔ پیغام پڑھ کر اسکے چہرے پر جو پریشانی کی لہر دوڑی اس نے فاطمہ کو بھی کسی انہونی کا احساس دلا دیا تھا
    کیا ہوا ؟ کس کا پیغام تھا۔۔ فاطمہ نے پوچھا
    ہےجن کا۔۔ واعظہ کا اندازپراسرار سا تھا
    کیا ہوا مرغی مر گئ؟ واعظہ نے گھورکر دیکھا اسے تو وہ کھسیا گئی۔
    کیا ہوا واعظہ خیریت؟ سیہون بھی انکے پاس چلا آیا۔ واعظہ نے آہستگئ سے کہا
    ہے جن کا میسج تھا۔۔۔ نور کو پولیس پکڑ لے گئ۔ ہے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن فاطمہ واعظہ اور سیہون پولیس اسٹیشن میں بیٹھے تھے۔۔انکے سامنے لاک اپ میں نور گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھئ تھی ۔نور کا رو رو کے برا حال تھا۔ اسے فی الحال لاک اپ میں بند کیا ہوا تھا۔
    دیکھیئے بجائے اسکے کہ آپ ہماری مدد کرتے کہ ہماری اپارٹمنٹ میٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئ اسے کوئی حفاظتی گھڑی دیتے اس لڑکی کو جسکا اس معاملے سے دور کا بھی تعلق نہیں پکڑ کر لاک اپ میں بند کر دیا یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔
    فاطمہ جوش سے میز پر ہاتھ مار کر بولی تھی۔ ڈیوٹی پر موجود افسر نے ان چاروں کو باری باری دیکھا پھر سر کھجانے لگا۔ ایک کو اٹھا کر لانے پر چار لوگ ہلہ بول چکے تھے پولیس اسٹیشن پر۔غیر ملکی شکلیں فراٹے سے انگریزی بولتی لڑکیاں باقی بھی جو لوگ شکایتیں لیکر آئے تھے دلچسپئ سے اپنے معاملات سلجھانے کی بجائے اس کائونٹر کی جانب متوجہ تھے۔
    سیہون نے ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے جھٹ فاطمہ کی کہی باتیں ہنگل میں دہرائیں۔
    یہ کون ہیں آپکی۔ ؟ افسر نے کان کھجایا۔۔
    میری ۔۔۔ بیوی ہے۔ سیہون کے منہ میں لفظ اٹک اٹک گئے۔
    کیا؟ ہم تو اسکو غیر شادی شدہ سمجھ رہے ہیں۔ آپ اپنی شناخت کروائیے ثبوت دیجئے ذرا۔ افسر اچھل پڑا۔ واعظہ سیہون اور ہے جن نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگے اسے۔ فاطمہ ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
    سیہون نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا ۔۔ اس نے جھٹ تفصیلات لیپ ٹاپ میں ڈال کر تصدیق کی
    ہائش۔ آپکی بیوی کا نام تو فاطمہ ہے۔اور تصویر ۔۔۔ اس نے اب فاطمہ کو غور سے دیکھا۔
    ہاں تو یہی تو بتایا۔ سیہون بگڑا۔
    میں سمجھا نور کی بات کر رہے ہیں۔ بہر حال ہم تفتیشی مرحلہ مکمل کر رہے ہیں۔ ہمیں انکا بیان چاہیئے۔۔ اس وقت انکو ہم نہیں چھوڑ سکتے میرا مشورہ ہے آپ لوگ گھر جائیے۔آرام کیجئے۔ ہم صبح انکو کورٹ میں پیش کر کے ریمانڈ لیں گے۔
    دیکھیں میں کہہ رہی ہوں نا اس لڑکی کا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپکو ہمیں حفاظت فراہم کرنی چاہیئے الٹا آپ لوگ میرے ہی لوگوں کو اٹھا لایے ہیں۔
    واعظہ ہنگل میں بگڑی
    آپکی سہیلی کا کیس ہمارے علاقے میں درج نہیں ہوا۔ وہاں سے ہمیں بھیجا گیا۔ ہم پہلے ہی گروہ کے سرغنہ کو۔پکڑ چکے ہیں باقی ارکان کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں جلد پکڑ بھی لیں گے۔ جو لوگ خود پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں مفرور ہیں ان سے آپکی سہیلی یا آپکو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ؟ اسی لیئے ہم نے الگ سے کوئی حفاظتی اقدامات کی۔ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہماری اب تک کی تحقیق کے مطابق انکا اصل شکار یہ لڑکی نور تھی۔ آپکے گھر میں چوری چپکے آکر اسی لڑکی کے بال کاٹےگئے دھمکانے کیلئے ۔یہ بات گروہ کا سرغنہ قبول چکا ہے اب وہ یہ کہہ رہا کہ یہ انکی ساتھی ہے معمولی جھگڑے کی وجہ سے انہوں نے سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اب اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے لیئے اس لڑکی کو حراست میں لینا ضروری ہے۔۔
    افسر نے تفصیل سے اسی لیئے بتایا تاکہ مزید سوال کی۔گنجائش نہ رہے۔۔مگر ہے جن جھٹ بولا
    مگر نونا اس گروہ کی رکن نہیں ہیں انکا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی واسطہ نہیں۔
    آپ کیسے کہہ سکتے یہ؟ کون ہیں یہ آپکی۔
    افسر اب چڑنے لگا تھا اسکے سیدھے سوال پر وہ گڑبڑا کر واعظہ کو دیکھنے لگا
    دیکھیں وہ میری بہن جیسی دوست ہے میں اسکی ضمانت لیتی ہوں وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ واعظہ نے گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرکے افسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
    آپکی دوست ہے۔ افسر نے پرسوچ نظروں سے دیکھا۔
    اسکے والدین کا نام گھر کا پتہ ان سے رابطے کا نمبر اس میں سے کچھ بھی تفصیل آپکو معلوم ہو بتایئے۔ ہمیں صبح اس کیس کی سمری پاکستان ایمبیسی کو بھیجنی ہے تاکہ۔یہ تفصیلات ہمیں معلوم ہو سکیں اچھا ہے آپ میرا کام آسان کر دیں ورنہ دو ایک دن تو انہیں بھی لگیں گے یہ تفصیلات ہمیں دینے میں۔ اس نے میز پر سے رائیٹنگ پیڈ اور پین اٹھا کر اسکے سامنے رکھا۔
    فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھنے لگیں۔
    دیکھیں وہ ہماری ہم وطن ہے ہماری دوست ہے سال بھر سے ہمارے ساتھ رہ رہی ہے۔۔
    فاطمہ نے کہنا چاہا تو اس نے سیدھا بات کاٹ دی۔
    تو آپ نہیں جانتئ ہیں یہ تفصیلات۔ وہ دوٹوک پوچھ رہا تھا۔ واعظہ نے سر تھام لیا۔
    ایسی لڑکی جسکی یہ بنیادی معلومات تک آپکو معلوم نہیں ہیں اسکی آپ ضمانت لینے کو تیار ہیں صرف ہم وطن ہونے کے ناطے۔ کیوں پاکستان میں سب فرشتے رہتے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہوتا کبھی سب کی آپ ضمانت لیتی ہیں کہ وہ جرم نہیں کر سکتے۔
    پورے پاکستان کو میں نے اپنے اپارٹمنٹ میں ٹھہرا بھی نہیں رکھا۔ واعظہ سلگ کر بولی۔ سیہون اسکی کرسی کے ہتھے پر ہلکے سے تھپکی دے کر اسے متحمل ہونے کا اشارہ۔کیا
    دیکھیئے۔ آپ۔یہ کیوں سمجھنے کو تیار نہیں ہیں اگر آپکی سہیلی بالکل معصوم ہے تو بھی اسکو ایک بہت بڑے گروہ کا سرغنہ اپنے ساتھ اس کیس میں پھنسانا چاہ رہا ہے تو اسکا کیا مطلب بنتا ہم اسکو شامل تفتیش نہ کریں گھر جانے دیں تو ان سے کسی رحم دلی کی امید کیسے کر سکتی ہیں آپ کل کو وہ اسے اغوا کرلیں سب الزامات سب ثبوت اسکے خلاف جائیں گے اسکا بیان ہمیں نہیں ملے گا تو یہ ہمارے شک کے دائرے میں رہ گی ہم اسکو ملزم تصور کرکے اسکی تلاش میں لگ جائیں اور اصل۔مجرموں کو وقت مل جائے اس پر سب الزام ڈال کر اپنی گردن بچا لینے کا۔ یوں سمجھیئے اگر یہ مجرم نہیں ہے تو اسکی جان کو خطرہ ہے یہاں لاک اپ میں وہ محفوظ ہے سمجھیئے میری بات۔
    اسکے جملے اسکے زچ ہو جانے کے باوجود متحملانہ تھے۔ یہ بات تو انہوں نے سوچی بھی نہیں۔ وہ تو بس یہ سوچ کے پریشان تھے کہ انکی سہیلی اس وقت جیل میں بند ہے۔
    ہم چلتے ہیں۔ سیہون انہیں اٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں دو منٹ اس سے بات کر سکتی ہوں۔ واعظہ کے کہنے پر افسر یوں کرسی پر ہاتھ مار گیا جیسے کہہ رہا ہو کس دیوار میں سر ماروں میں۔
    ان چاروں کو اٹھ کر جاتے دیکھ کر وہ تڑپ کر لاک اپ کی سلاخوں سے آ لپٹی تھی۔
    واعظہ پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائو۔ فاطمہ۔ پلیز ۔
    بات سنو دیکھو واعظہ۔ ہے جن ۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔پلیز میری بات سنو۔۔ وہ انکو اسٹیشن سے نکلتے دیکھ کر سلاخوں سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی
    وہ چاروں مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہ کرسکے تھے۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر سڑک پر آکر وہ سب آگے کیا کریں اسی سوچ میں الجھے تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے نہیں پتہ تھا آج شو میں کیا کہا کیا کیا۔ شو ختم ہوتے ہی وہ کندھے پر بیگ لٹکاتی گھر جانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کہاں جا رہی ہو بیٹھو۔ پروڈیوسر صاحب ہمیشہ کی۔طرح غیر ضروری طور پر خوش اور پرجوش سے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے اسے دیکھ کر ڈپٹنے والے انداز میں بولے۔۔وہ ہونٹ بھینچ کر دھپ سےکرسی پر بیٹھ گئ
    اس ہفتے کی رات کو کے بی ایس نیٹ ورک کی سالگرہ منائی جا رہی تو کنسرٹ کیزین نائٹ گالہ منایا جارہا ہے رات گئے تک ہم پارٹی کریں گے تم دونوں کیلئے اسکا اپیشل انویٹیشن بنوایا ہے سو کوئی بہانہ مت کرنا ضرور جانا۔
    انہوں نے لہراتے ہوئے انکو انویٹیشن کارڈ تھمائے اس نے بے دلی سے کھول کر دیکھا ژیہانگ نے عبارت پر نگاہ دوڑائی
    ہر چینل اپنے سب سے ذیادہ ریٹنگ اٹھانے والے شو کے لوگوں کو ہی بھیجتا ہے میں تو کبھی نہ تم دونوں کو بھیجتا مگر سیہون کے انٹرویو کے بعد پچھلے کچھ عرصے سے تم لوگوں کا شو اس چینل کی سب سے ہائی ریٹنگ لے رہا اخباروں میں بھی اس شو کی خوب خبریں لگ رہی ہیں تو۔۔ مجبوری۔
    انکی بولتے بولتے آواز مدہم ہوتی گئ تھی ژیہانگ انکے انداز پر کھل۔کر مسکرایا۔ الف بے نیاز تھی اس نے کبھی انکی باتوں کو سنجیدہ لیا ہی نہیں تھا سنجیدہ لینے کیلئے ضروری تھا سنی بھی جائے انکی۔ اس پر رعب ڈالنے کیلئے جب وہ سخت کوریائی لہجے میں ٹوٹی پھوٹی انگریزی مارتے تھے تو عموما اسکی ہنسی نکل جاتی تھی جسکا وہ خاصا برا مناتے اس وقت بھی قصدا انکی باتوں سے دھیان ہٹاکروہ کارڈ پڑھ رہی تھئ کارڈ پر سب ہنگل میں درج تھا بس اسے ہوٹل کا نام ہی سمجھ آیا جو خاص انگریزی میں درج تھا پڑھ کر اسکی آنکھیں پھیل گئیں
    گرینڈ رائل پیلس ہوٹل۔ کوریا کا فائیو اسٹار مشہور ہوٹل جسکو سب سیول باسیوں نے بھی نہیں دیکھ رکھا ہوگا۔
    تم دونوں خوب تیار ہو کر آنا غیر ملکی اسپانسرز بھی ہونگے کوشش کرناتم لوگ کسی کو متاثر کر ہی ڈالو باقی میں وہاں لوگوں کو گھیرنے کی الگ کوشش کروں گا آخر اتنی اچھی انگریزی بول۔لیتا ہوں میں۔ تم دونوں کو بھی لے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کہ انگریزی اچھی بول لوگے۔
    انہوں نے کہتے ہوئے ایک ترچھی نگاہ الف پر ڈالی جو کارڈ سے منہ چھپا کر ہنسی روک رہی تھی۔
    جی بالکل آپ فکر ہی نہ کریں ہم دونوں بھرپور محنت کریں گے۔ فائٹنگ۔۔
    ژیہانگ نے مٹھی بھینچ کرمکا بناتے مخصوص کوریائی انداز سے فائٹنگ کہا تو وہ مطمئن ہوگئے۔۔۔
    تمہیں ایکسو پسند ہے یا صرف سیہون۔۔
    انکے اسٹوڈیو سے جاتے ہی ژیہانگ پورا اسکی جانب مڑ کر کرسی کے ہتھے سے کہنی ٹکا کر مٹھی گال پر رکھے پوچھ دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
    الف پورا گھوم گئ تھی اسکی جانب۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج کا موڈ تازہ ہوا کھا کے بہتر ہو گیا تھا۔کہتے ہیں ٹھنڈی ہوا کھانے سے بھوک لگتی ہے۔ سیونگ رو کو بھی شائد بھوک لگ گئ تھئ مگر اسکی حیرت کی انتہا نا رہی جب وہ اسے ایک پاکستانی ریستوران لے آیا تھا۔
    بریانی اور چکن کڑاہی نان کے ساتھ جب اس نے منگوا کر عروج کو دیکھا تو وہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی اسے ہنسی آگئ
    ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ میرے کینڈا میں بہت سے پاکستانی اور انڈین دوست تھے ہم بہت شوق سے اکثر مل کر بریانی کھاتے تھے چکن کڑاہی میری پسندیدہ ترین رہی ہے ہمیشہ سے تمہیں کیا پسند ہے ذیادہ
    ہمیشہ بریانی۔ اسکا جواب دوٹوک تھا۔ بریانی کے آگے کسی دیسی کو۔کچھ اور پسند نہیں آسکتا۔۔لیکن بریانی جو میری امی بناتی ہیں اسکا کوئی ثانی نہیں ویسا ذائقہ دنیا میں کہیں نہیں ۔
    اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ سیونگ رونگ سر ہلانے لگا
    ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے کی کیا ہی بات ہے۔ میری آہموجی بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہیں کسی دن کھلائوں گا انکے ہاتھ کا فرائی چکن نوڈولز مجھے انکے ہاتھ کا سب سے ذیادہ یہی پسند ہے۔
    مگر چکن حلال لینا ورنہ میں نہیں کھائوں گی۔
    عروج نے فورا تنبیہہ کی۔ سیونگ رو کی مسکراہٹ لمحہ بھر کو پھیکی پڑی پھر سنبھل کر زور و شور سے سر ہلانے لگا
    ضرور۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج لفٹ میں داخل۔ہوئی تو سامنے سے الف تھکے تھکے قدم اٹھاتی نظر آئی۔ لفٹ کے بند ہوتے دروازے کو اس نے فورا بٹن دبا کر روکا۔
    تم اب آئی ہو گھر۔ الف نے لفٹ میں داخل ہوتے ہی پہلا سوال کیا
    ہاں ۔۔ وہ۔مختصرا کہہ کر لفٹ بند کرنے لگی تھی کہ سامنے سے ہے جن اور واعظہ آتے دکھائی دیئے اس نے گہری سانس لیکر لفٹ کے بند ہوتے دروازے کو دوبارہ بٹن دبا کر روکا۔
    تمہیں پتہ چلا نور کو پولیس پکڑ کر لے گئ۔ الف اسکی جانب رخ کیئے کھڑی تھی سو اسکی نگاہ ان دونوں پر نہ پڑی
    کیا۔۔ کیوں۔ وہ چلا ہی تو اٹھئ۔
    وہ سمجھ رہے ہیں نور اس گروہ کی رکن ہے جس نے عزہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہے جن اور واعظہ اسی کو چھڑانے گئے ہوئے ہیں
    اس نے اضافہ کیا
    پر یہ تو نور کے بغیر ہی آگئے ہیں۔ عروج انکو لفٹ میں داخل ہوتے دیکھ کر بولی دونوں کے چہرے تھکن سے اترے ہوئے تھے الف بھی گھوم گئ انکی جانب
    کیا ہوا نور کو نہیں لائے؟ الف بے تابی سے بولی
    تم نے ان لوگوں کو بتایا نہیں کہ نور کو عزہ کو اغوا کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو رہتئ ہی ایک جگہ ہیں۔ عروج کو غصہ آیا۔۔
    نور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے صبح اسکا ریمانڈ بھی لے لیں گے۔ وہ بہت برا پھنسی ہے۔۔
    واعظہ نے ہونٹ کاٹ کر کہا۔
    یاخدا کیوں چانک مصیبت آن پڑی ہے ہم پر ۔ عروج اپنی پیشانی سہلائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صدقے کی مرغی گھر میں رکھے ہو اوپر سے اسکی حالت دیکھو کل سے دانہ پانی بھی نہیں دیا اسے اسکو بھی روزہ رکھوادیا بےزبان معصوم جانور اسی وجہ سے نئی مصیبت آئی ہے۔۔ طوبی نے تاسف سے کارٹن میں مرگھلی سی ہوئی مرغی کو دیکھا جو طوبی کو شائد پہچان کر کٹاک کر کے رہ گئ تھئ۔۔
    بتائو لڑکی ذات پولیس اسٹیشن کا منہ دیکھے گئ۔ کیا گزرے گی ماں باپ پر ۔
    وہ بڑ بڑائے جا رہی تھی
    ماں باپ کو کیا پتہ کہ انکی بیٹی کوریا میں کہاں ہے۔ عزہ نے تسلی دینی چاہی طوبی گھورنے لگی
    یہی تم لوگوں کی لاپر وائیاں مصیبتوں کو دعوت دیتی ہیں ۔ کل پھوکا ہوا پانی پیا کم گرایا ذیادہ اب یہ صدقے کی مرغی جو بلا ٹالتی اسکو رات گھر میں رکھ کرمصیبت کو دعوت دے ڈالی ۔۔
    پر اگر صدقے کی مرغی گھر میں رکھ کر بیمار کرنے کی وجہ سے مصیبت آئی ہے تو عزہ پر آنا چاہیئے تھی صدقہ تو اسکا دیا تھا نور پر کیوں آئی۔ عشنا دور کی کوڑی لائے بنا رہ سکتی تھئ۔۔
    ہاں اور کوئی نئئ مصیبت کو پتہ دو میرا اغوا ہوتے ہوتے تک تو بچی ہوں اب کیا قاتل میرے پیچھے لگوانا ہے؟ عزہ بری طرح چڑ گئ۔
    اس مرغی کا وقت کم رہ گیا ہے زبح کرنا پڑے گا ورنہ ضائع جائے گی۔
    طوبئ مرغئ کو ہاتھ میں لیکر تول رہی تھی۔
    آپ کرلیں گی ذبح۔۔
    عزہ کو یقین نہیں آرہا تھا ۔ طوبی کی صلاحیتیوں پر شک۔۔ وہ برا مان گئ۔
    کیوں نہیں ۔کونسا توپ کام ہے ؟ ابھی لو لائو ذرا تیز سی چھری ابھی بسم اللہ اللہ اکبر کرتی ہوں میں اسکا۔
    دلاور بھائئ کو بلا لیں آپی۔
    عشنا منمنائی
    اب کیا سر پر مارنا ہے انکے؟ طوبی نے تیکھی نگاہ ڈالی
    سختی سے منع کیا ہے میں نے اب یہاں کا رخ نہ کریں بھلا بتائو ایک بے چارے میرے معصوم سے میاں ۔۔ بغل میں مرغی دابے اسکا رخ کچن کائونٹر کی جانب تھا
    ایک ہی ہوتے ہیں میاں تو۔ عزہ نے عشنا کے کان میں سرگوشی کی اس نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لفٹ سے تھکے تھکے سے وہ چاروں نکلے جب بے ہنگم چیخ و پکار کی آواز آئی۔۔۔ عزہ نونا۔ ہے جن نے آواز پہچان لی۔ انکے گھر کے سامنے والے گھر سے دلاور سراسیمہ سے نکلے۔
    کیا ہوا ؟ وہ پانچوں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے پھر جواب کا انتظار کیئے بنا گھر کی جانب بھاگے۔ فلیٹ کا دروازہ واعظہ نے کھولا تو اسکا استقبال خون کے دریا نے کیا تھا۔ دہلیز پر خون کا سیلاب سا آیا تھا تو دیواریں تک خون کے چھینٹوں سے رنگی گئ تھیں ۔ ان چاروں کے دل اچھل کر حلق میں آگئے تھے۔قدموں میں جان نہ رہی دلاور ہمت کرکے آگے بڑھے کہیں سے کوئی چیز اڑتی ہوئی آکر انکے سینے سے ٹکرائئ۔انکی ساری بہادری ہوا ہوئی گھبرا کر جو اس چیز سے چیختے ہوئے دور ہونا چاہا تو خون کے تالاب میں پیر پھسلا وہ سر کے بل زمین پر لام لیٹ ہوتے گئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔ جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 16

    قسط 16
    یار ویسے یہ بریانی کے چاول کافی گیلے ہوگئے ہیں مگر ذائقہ ٹھیک ہے۔
    فاطمہ نے نوالہ لیکر چٹخارہ بھرا تھا۔وہ تینوں مل۔کر۔افطاری۔کر رہے تھے۔ کچن میں ماربل ٹیبل پلس کائونٹر جس سے لائونج اور کچن کی حدود متعین تھیں اسکےگرد اونچے اونچے اسٹول لگا کر وہ تینوں کھانے بیٹھ گئے تھے۔ سیہون نے نہایت خوبصورت بھالو اور ستاروں بھری کھیرے ٹماٹر اور پیاز کی سلاد بنائی تھئ۔ فاطمہ نے ہرا دھنیا ہری مرچ ڈال کر خوب چٹپٹا سا رائتہ بنایا تھا۔بریانی۔واعظہ نے دم۔دے ڈلئ تھی اب خوب مزا آرہا تھا تینوں کو ۔۔
    صحیح تو بنے ہیں۔سیہون حیران ہوا۔
    اس سے کم گلے ہوئے تو کچے لگتے ہیں۔ اس نے معلومات میں اضافہ کیا۔
    کورینز کے یہاں۔۔۔۔فاطمہ نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
    ہمارے یہاں ایسے چاول پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔۔۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیااسے تو بریانی کے چاول ہمیشہ کچے لگے تھے اور گوشت زیادہ گلا ہوا۔۔ آج کی طرح۔
    واعظہ اور فاطمہ دونوں ہاتھ سے کھا رہی تھیں دونوں کے ہاتھ چاولوں کی پیچ سے سن چکے تھے سیہون البتہ چاپ اسٹکس سے ننھے ننھے لقمے اٹھا رہا تھا۔
    ویسے چکن بریانی سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ اس نے اضافہ کیا۔
    اوئے چکن سے یاد آیا وہ جو طوبی چکن لائی تھی اسکا کیا کیا تم لوگوں نے۔ فاطمہ کو یاد آیا۔
    وہ دیکھو۔ واعظہ نے اشارہ کیا فاطمہ سمجھ کر ہاتھ سے نوالہ چھوڑ بیٹھی۔
    کیا؟؟؟؟وہ چیخی۔ سیہون چاپ اسٹک چھوڑ بیٹھا۔۔
    اب کیا ہوگیا۔ وہ ہونق ہوا مگر فاطمہ اسکی۔جانب متوجہ نہ ہوئی غم و غصے سے بے حال واعظہ سے مخاطب تھی۔
    یہ وہی چکن ہے؟ واعظہ کی۔بچی صدقے کا چکن کھلا رہی ہو مجھے؟ حد ہے طوبی نے عزہ اور ہے جن کا ہاتھ لگوا دیا تھا اس پر۔
    دماغ خراب ہے کیا فاطمہ۔ وہ بھی چڑ گئ۔
    خود بھی تو یہی ٹھونس رہی ہوں۔ سید ہوں میں صدقے کا چکن کھا سکتی بھلا ؟
    تو پھر یہ چکن کہاں سے آیا وہ کہاں گیا۔۔ اسے اپنے ردعمل پر تھوڑی سی خفت محسوس ہوئی واقعی خود بھی تو وہی۔کھا رہی تھئ۔مگر تجسس برقرارتھا۔
    تم دونوں مجھے دل کا دورہ پڑوا کر ہی رہو گئ۔ سیہون نے گلاس بھر کر پانئ نکالا اور پینے لگا
    وہ دیکھو۔۔ واعظہ نے دانت کچکچائے۔ فاطمہ نے اسکئ اشارے کی سمت اپنے کندھے سے اوپر دیکھا تو اسکرین دمک رہی تھی ایک اور فلیش بیک۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ خوشی سے چلاتی ہوئی کلب میں بھاگی آئی۔ ہاتھ میں موبائل لہراتی جانے کیا نئی خوشی ملی تھی۔
    واعظہ واعظہ۔ سنو۔۔۔
    سیہون واعظہ کو ڈیفنس کک کی پریکٹس کرا رہا تھا دونوں تائکوانڈو کی مخصوص اپنے کلب کی وردی پہنے مکے بنائے دھڑا دھڑ لاتیں مکے چلا رہے تھے۔اس کی ہر دوسری بات اسی طرح جوش سے بھرپور اور فالتو کے سسپنس سے بھری ہونے کے باعث دونوں نے قابل توجہ نہ گردانا۔ لگے رہے
    اوفوہ سنو تو میری بات۔ وہ ان دونوں کے گرد چکرا رہی تھی
    پتہ ہے بی ٹی ایس کی فین میٹنگ کیلئے اپلائی کیا ہوا تھا میں نے۔
    وہ انکے ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی۔
    ہمیں نہیں پتہ ہوگا تو کسے پتہ ہوگا۔ انکی البمیں جو دھڑا دھڑ خریدتی پھری ہو اسکے پیسے ہم سے ہی ادھار لیئے ہیں تم نے۔ سیوہون نے کہتے ہوئے واعظہ کو مکا مارا جسے وہ بروقت جھکائی دے کر بچا گئ اپنا منہ۔
    اور ایک دیو قامت چھے چندی آنکھوں والے لڑکوں کا پوسٹر میرے ہی سرہانے دیوار پر سجا ہے۔ رات کو اچانک نظر پڑے تو لگتا کہ باہر نکل کے کھڑے ہوگئے ہیں کبھی کبھی تو پلکیں بھئ جھپکاتے ہیں۔گھوم کر بائیں پیر کو اٹھا کر سیہون کو کک لگاتے ہوئے پھولی سانسوں سے واعظہ دکھڑا رو رہی تھئ۔ سیہون نے جھکائی دی۔ واعظہ کی یہ والی کک کمزورتھی۔ سیہون نے ٹوکا۔
    تم اپنی فل باڈی اسٹریچ نہیں کرتی ہو اس طرح کمر میں چک آجائے گئ۔
    ہوں۔ واعظہ نے سر ہلایا۔
    اوفوہ میری بھی تو سنو۔ میں نے تین تین البم خریدی تھیں بی ٹی ایس کی اور تین دفعہ قرعہ اندازی میں نام داخل کروایا تھا۔
    فاطمہ نے بات اس فالتو کی پریکٹس کے درمیان بھی پوری کر نی چاہی۔
    ایک تو میرے نام سے ہی اینٹری کرائی ہے۔ واعظہ نے یاد کیا۔ اور گھوم کر مکا چلایا۔ سیہون اسکا مکا روک رہا تھا دونوں مکمل طور پر اپنی پریکٹس میں مگن تھے۔
    واعظہ کے نام والی اینٹری نکل آئی کیا۔ سیہون نے یونہی اندازہ لگایا۔
    نہیں۔ فاطمہ دبے دبے جوش سے بولی۔۔
    مجھے پتہ تھا میں نہ صرف اپنے لیئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی منحوس ثابت ہوتی ہوں جب پیدا ہوئی تھی تو میری دادی کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا ۔۔ اسکے بعد۔۔
    اسکی اپنی منحوسیت ثابت کرنے والے واقعات کی لمبی فہرست تھی جو ان دونوں کو رٹ چکی تھی۔
    اسکے بعد تمہارے ابا کا پارٹنر دھوکا دے کر انکا سارا کاروبار سمیٹ گیا تھا، پھر جس دن تم پہلی بار اسکول گئئیں تو اس سکول کی کرپشن کی داستان کھل گئ اور وہ اسکول بند ہوگیا اور۔۔۔پھر۔
    اس سے اگلے جملے سیہون ہنستے ہنستے دہرا رہا تھا
    میری منحوسیت کی داستان صرف میں ہی سنا سکتی ہوں تم نہیں۔ اس نے بگڑ کر اسکو دو تین لاتیں مار دیں وہ ہنس ہنس کر بلاک کر رہا تھا
    اب میری باری۔ اس نے کہہ کر اب خود حملہ کرنا شروع کیا واعظہ جھکائی دے رہی تھئ
    تم دونوں بک بک بند کرو میری بھی سن لو میرا اپنا نام آگیا ہے۔
    فاطمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا مٹھیاں بھینچ کر چیخ اٹھی۔ سیہون کے حملے روکتے واعظہ لمحہ بھر کر بے دھیان ہوئی سیہون کی بھرپور لات آئی بمشکل منہ بچایاکندھے پر کھا کر وہیں لام لیٹ ہوگئ۔ سیہون کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے گھبرا کر اسے اٹھانے لگا۔
    کین چھنا واعظہ۔ وہ گھبرا کر پوچھ رہا تھا
    واقعی۔ کندھا سہلاتی واعظہ سئہون کے سہارے سیدھی ہوتے ہوئے بے یقینی سے پوچھ رہی تھی
    ہاں نا۔ وہی تو بتانے آئی ہوں۔ سارا جوش ہی پانی کردیا میرا۔
    وہ منہ لٹکا کر اسکے پاس ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے گاڑیاں دھوئی تھیں، پیٹرول پمپ پر ملازمت کی، ایک فوڈ کورٹ میں ویٹرس کی نوکری کی صبح اس این جی اومیں جاتی تھی تو شام کو بھالو کا لبادہ اوڑھ کر ایک مارٹ کے سامنے کھڑے ہو کرپمفلٹ بھی بانٹے۔ کیا کچھ کرکے اس نے پیسے جمع کیئے تھے۔اس ایک ایونٹ میں شرکت کیلئے۔ پھر
    اس نے ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی اپنی سب بچت اڑا دی تھی سب کے سب ارکان کیلیئے تحفے لیئے تھے گھڑی فرینڈ شپ بینڈ چاکلیٹ ہیڈ بینڈ سب ایک جیسے سب کے ڈیبوٹ سے لیکر ڈی این اے البم تک کی تصاویر جمع کرکے البم بنایا انکے لیئے کسٹمائز ڈائری بنوائی اور جو جو سمجھ آیا خرید ڈالا
    تم جس طرح اندھا دھند خرچ کر رہی ہو آگے کیا کروگی کرایہ کھانا پینا کپڑے؟ اسکو خوشی خوشی سب چیزیں بیڈ پر ڈھیر کرتے دیکھ کر ابیہا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    تم بھی کہہ کر دیکھ لو میری تو کسی بات کا اثر نہیں اس پر۔
    واعظہ اسکے ساتھ بازار گئ تھئ سو تھک کر اپنے بیڈ پر ہی گر گئ تھی
    میں نے مالک مکان سے بات کر لی ہے۔۔فکر ناٹ۔
    وہ۔واعظہ کو کن اکھیوں سے دیکھ کر کھلکھلائی اس نے جوابا گہری سانس لیکر منہ پر تکیہ رکھ لیا۔
    اور فین میٹنگ کئ ٹائمنگ دیکھو عین 3 بجے تمہارا باس چھٹی دے گا تمہیں۔۔
    ابیہا نے پھر کوشش کی۔
    یہ سب خرچہ بی ٹی ایس کے آگے کچھ نہیں۔۔
    وہ بی ٹی ایس کے لوگو والی ٹی شرٹ پہنے تھی اس لوگو پر ہاتھ پھیر کر ایک ادا سے جھومی
    اف تم سوچ نہیں سکتیں میں کتنی پرجوش ہوں کل میں اپنے پسندیدہ ترین فنکاروں کے روبرو ہونگئ ہزاروں پرستاروں میں ہم خوش نصیب سو پرستار اس سعادت کو پائیں گے۔ کوئی سوچ سکتا ہے بھلا ان کو قریب سے دیکھنے کا یوں اتفاق ہوگاباس چھٹی دے نا دے میں کل چھٹی کر رہی ہوں ۔۔اف میری نوکری چلی بھی جائے تو بھی پروا نہیں
    وہ سرشار سی ابیہا کے پاس بیڈ پر دھم سے گری تھی۔ اسکا رنگ سرخ ہو رہا تھا خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ ابیہا کی کوئی مستقبل کی حقیقت پسندانہ منظر کشی بھی اسے اس تقریب میں جانے سے نہیں روک سکتی تھی۔ وہ جتنئ بڑی بی ٹی ایس کی پرستار تھی اسکا تائب ہونا ناممکن نظر آتا تھا۔ وہ ہونٹ بھینچ کر اٹھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دو بجے سے تقریب میں پہنچ گئ تھی۔ کوریا بھر سے آئے پرستاروں اور انکےلائے قیمتی تحائف کو دیکھ کر اسکواپنی۔لائی چیزیں ایکدم بے کار اور گھٹیا لگنے لگی تھیں۔ کوئی پلاٹینم جیولری لیکر آئی۔ہوئی تھی۔
    کوئی اپنے ہاتھ سے بی ٹی ایس کے ارکان کے خاکے بنا کر لایا ہوا تھا کسی نے بی ٹی ایس کا ٹیٹیو کھدوایا ہوا تھا اپنے بازو پر۔ ایک پاگل لڑکی توبی ٹی ایس کی درجنوں البمیں خرید چکی تھی آج سب کو بانٹ بھی رہی تھی کہ خریدنے کا مقصد بس قرعہ اندازی میں حصہ لینا تھا۔۔ اسکو دینے آئی تو اس نے معزرت کر لی۔ ڈی این اے کے تین البم تو پہلے ہی۔پڑے تھے اسکے پاس چوتھے کا کیا کرنا ہے۔ ذیادہ تر لڑکیاں تھیں مگر لڑکے بھئ جو تھے وہ لڑکیاں ہی لگ رہے تھے۔ لڑکیاں شارٹ اسکرٹس میں ملبوس تھیں تو لڑکے پھٹی جینز اور برمودہ میں۔ ۔ بالوں کے رنگ سب نے اپنے پسندیدہ فنکار کے بالوں کے رنگ میں رنگ رکھے تھے۔ پونے تین بجے بی ٹی ایس کی وین آئی تھی۔ انکے آنے کی۔خبر سن کر سب ہدایتیں بھول بھال سب پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے بھاگے تھے۔ انکو آدھا گھنٹہ۔لگ گیا تھا اسٹیج تک آنے میں ۔ سئکیورٹی کے دھکے کھاتئ کسئ طرح ان فنکاروں کو چھو لینے کی خواہش میں دیوانی لڑکیوں میں وہ خود کو ان سب سے الگ محسوس کر رہی تھی۔ بی ٹی ایس آکر اسٹیج پر بیٹھے تو شور مچا کر ان لوگوں نے ہال سر پر اٹھا لیاسامنے میز لگا کر ارکان کو بٹھا دیا گیا تھا انکے پیچھے ایک ایک اسٹاف میمبر کھڑا تھا پرستار آگے بڑھتے فنکاروں کی میز کے دوسری جانب اسٹول رکھا تھا جس پر بیٹھ کر وہ ہاتھ ملاتے دو سے تین منٹ بعد اگلے فنکار کے سامنے والے اسٹول پر بیٹھ جاتے اسکی چھوڑی جگہ پر دوسرا پرستار آجاتا۔۔ساتھ ساتھ بیٹھے ان فنکاروں کے ساتھ پرستاروں کا الگ الگ رویہ تھا۔ جن جمن کے پاس سے بہت جلدی اٹھ جاتی تھیں۔ ۔۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی اور یہی سب نوٹ کر رہی تھی اسکی توجہ مستقل اسٹیج پر جاتے لوگوں اور انکے رویوں پر تھی لوگ ویڈیوز بنا رہے تھے زور سے کسی رکن کا نام۔پکارتے وہ چونک کر سر اٹھاتا تو اسکی ویڈیو بناتے۔ جیسے چابی والے کھلونے ہوتے ہیں ۔۔ ہاتھ ملا کر گلے لگ کر اپنے دیئے گئے گفٹ خود پہنا کر سیلفیاں لیتےپرستار اسے بیٹھے ڈیڑھ گھنٹہ ہونے کو آیا تھا مگر مجال ہےان تمام ارکان میں سے کسی ایک کے بھی۔چہرے پر تھکن بیزاری کی رمق نظر آئی ہو۔یا لمحہ بھر کے لیئے مسکراہٹ مدھم ہوئی ہو۔
    اسکے ساتھ بیٹھی لڑکی پورے ایونٹ کی ویڈیو بنا رہی تھی بازو اگلی کرسی کی پشت پر ٹکائے ہاتھ ہلنے نا پائے اسکا پورا دھیان رکھے وہ بیٹھی۔تھئ فوکس اسکا تھا جنگ کوک پر۔ مجال ہے جو اسکا ایک لمحے کا بھی ردعمل اسکے کیمرے سے چھپا رہ سکا ہو۔ اسکی باری جانے کب آئے اس نے یہی سوچ کر ان تمام کی ویڈیو بنانی شروع کردی۔ جنگ کوک تائہیونگ کے پاس سے تو لڑکیاں اٹھنے کو تیار ہی نہ تھیں۔ ایک نے ہاتھوں کا پیالہ سا بنایا تو جنگ کوک نے آگے بڑھ کر اسکی ہتھیلی پر تھوڑی رکھ دی۔ اتنا معصوم اتنا پیارا لگ رہا تھا فاطمہ کو ہنسی آگئ۔ اسکا پورا منظر کیمرے کی آنکھ سے قید کرتے اس نے کیمرہ گھمایا ریپ مونسٹر، شوگا جمن جن۔۔ وہ لڑکی بہت تیزی سے اپنی باری آنے پر انکی۔جانب بڑھی تھی۔ جن نے مسکرا کر اسے دیکھا اپنا ہاتھ بڑھایا ملانے مگر اس نے جھٹک دیا اور تاہیئونگ کے آگے جا بیٹھی۔ اس نے مسکرا کر اسکو خوش آمدید کہا وہ بڑا سا بیگ لائے جانے کیا کیا تحفہ تائیہیونگ کیلئے لائی تھی جسے خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے وہ مسکرا کر ہاتھ ملا۔رہا تھا۔ مگر جن۔۔ اس نےکیمرہ واپس گھمایا۔
    اسکے چہرے پر تاریک سا سایہ لہرا گیا تھا۔ اس نے پچھلے پرستار کی لائی مٹھائی جو اسکے سامنے رکھی تھی اٹھا کر منہ میں ڈالنی چاہی توپیچھے سے اسٹاف میمبر نے سختی سے اسکو کچھ کہہ کر چھین لی۔ لمحہ بھر کو مسکرا کر اس نے سامنے دیکھا تو اتفاق سے عین فاطمہ کے کیمرے پر اسکی نگاہ۔گئ۔ یہ سارا منظر قید کرتی فاطمہ کا ہاتھ ہل سا گیا تھا۔ جن کی آنکھیں بھر سی آئی تھیں اور یہی منظر اسکے پاس محفوظ ہوچکا تھا۔
    ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیش بیک دیکھ کر فاطمہ اداس سی ہوگئ۔
    کیا یاد کرادیا۔ پتہ ہے وہ ویڈیو آج تک میں نے کہیں نہیں ڈالی۔ بلکہ اس دن کے بعد میں نے دیکھی بھی نہیں۔ یقین کرو ۔۔۔ کہتے کہتے جیسے وہ واقعی اسی دن میں پہنچ گئ تھی۔
    بی ٹی ایس بالکل کٹھ پتلیاں لگ رہے تھے ، پتھر کی مورت ، چابی والے کھلونے جیسے پرستار انکو ٹریٹ کر رہے تھے مجھے انسان نہیں ڈمی لگ رہے تھے جنکا کام بس تفریح دینا ہے انکے اپنے کوئی احساس و جذبات نہیں۔
    واعظہ اور سیہون دونوں اکٹھے لفظ با لفظ وہی دہرا رہے تھے جو فاطمہ نے ابھی کہنا تھا۔ ظاہر ہے پچھلے دو سالوں میں جب جب بی ٹی ایس کا نام بھی اسکے سامنے لیا گیا تھا اس نے یہ واقعہ شد و مد سے دہرایا تھا اور اپنے انہی خیالات کا اظہارکیا تھا اور اسکے دوست اس تقریر کو رٹ چکے تھے۔
    ہاں وہی۔۔ وہ۔کھسیائی۔۔
    میں نے چکن کا پوچھا تھا یہ فلیش بیک کہاں سے دکھا دیا۔ اس نے واعظہ کو۔گھورا
    کچھ زیادہ۔ریوائنڈ ہوگیا معزرت اب دیکھ ہی۔لو پورا۔۔ واعظہ کہہ کر دوبارہ پلیٹ پر جھک۔گئ تو فاطمہ نے۔مڑ کر دوبارہ فلیش بیک دیکھنا شروع کر۔دیا۔
    کھانا بھی ساتھ کھائو اس بار میز پر فلیش بیک دیکھ لو۔ واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلاتی اب میز کی۔جانب دیکھنے لگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی باری آئی تو وہ گہری سانس لیکر اٹھی۔ سارا جوش جھاگ کئ طرح بیٹھ گیا تھا گھبراہٹ کہیں غائب ہوچکی تھی۔ کہاں اسے وہ دنیا سے الگ مخلوق لگ رہے تھے کہاں اب اسے ان پر ترس آرہا تھا۔ اسے بی ٹی ایس پر ترس آرہا تھا۔ عجیب بات تھی نا؟
    جن کا کائونٹرسب سے پہلا تھا۔اسے دیکھ کر وہ بہت خوشدلی سے مسکرایا یا ہر پرستار کیلئے ایک زبردست مسکراہٹ۔
    آپکی آواز بہت مختلف اور میٹھی ہے۔ آپکے پرستار کم ضرور ہونگے مگر مختلف اور اچھی آوازیں پسند کرنے والے ہونگے۔
    اس نے مسکرا کر کہا اور اپنی بات پر اسکے چہرے پر پھیلتی خوشی کی۔لہر دیکھ کر طمانیت سی اسکے اندر بھرتی گئ تھئ۔۔
    میری اس پیاری سی پرستار کا نام۔
    وہ مسکرا کر اسکی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔ وہ شش و پنج میں پڑ گئ۔ زندگی میں پہلی بار کسی لڑکے سے ہاتھ ملا لے۔۔ ؟؟؟
    اسے ہنگل سمجھ نہیں آئی ہوگی یہ سوچ کر اس عربی نقوش والی لڑکی کیلئے اسکے مینجر نے ترجمہ کردیا انگریزی میں۔
    فاطمہ۔۔ اس نے جواب دیتے ہوئے سوچا کہ ہاتھ بڑھائے یا نہیں۔۔اسکا پسندیدہ بوائے بینڈ گروپ مگر تھے تو یہ سب لڑکے ہی وہ ملا لے ہاتھ یا نہیں۔۔۔۔۔ کہ جن نے اپنا بڑھا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیا
    آپ مسلم ہیں۔ معزرت مجھے پتہ نہیں چلا تھا۔۔وہ آپ نے اسکارف نہیں لیا ہوا سر پر تو۔۔اسلیئے۔۔۔
    وہ بیٹھے بیٹھے زرا سا جھک کر معزرت کر رہا تھا۔اسکا مینجر اسکا جملہ مکمل ہونے پر ترجمہ بھی ساتھ ساتھ کر رہا تھا۔ وہی سخت دل مینجر جو اس وقت اسے دنیا جہاں کا سخت دل ترین انسان لگ رہا تھا اس وقت عاجزی سے جھک کر بات کرتا دنیا کا رحم دل ترین انسان لگ رہا تھا۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ اس نے سر پر اسکارف نہیں لیا ہوا تھا مگر گہرے نیلے لانگ ٹاپ شرگ اور جینز کے ہمرنگ پرنٹڈ نیلا اور گلابی اسکارف گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔
    ۔ آپکا نام بہت پیارا ہے۔۔ ہمارے جتنے بھی عربی پرستار ہیں ان میں ہمیں یہ نام ضرور سننے کو ملتا ہے۔۔۔ وہ مزید بھی کہہ رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عشنا نے جوابا دھاڑ سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا۔
    ہر انسان کی اپنی خواہشات اور ترجیحات ہوتی ہیں جن کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے تمہیں اگر اسکی یہ ضد بے جا لگ بھی رہی ہے تو تم اسکو روک نہیں سکتیں تجربہ کرنے سے۔۔
    نور نے فاطمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا۔۔
    فاطمہ نے اپنی اس جزباتی تقریر کا آج تک اتنا غیر جزباتی ردعمل نہیں دیکھا تھا۔
    بھاڑ میں جائے اپنی کمائی بھاڑ میں جھونکے مجھے کیا۔۔ وہ تلملاکر بولی۔۔۔ الف کو ایکسو سے اتنی ہی انسیت تھی مگر فاطمہ کی فین میٹنگ کا احوال اسے عبرت ناک لگا۔ قریب تھا سب بھول کے فاطمہ کے گلے لگ جاتی کہ وہ جھٹکے سے اٹھی اور تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھا کر فلیٹ سے ہی نکلتی چلی گئ۔
    ہمیشہ دیر کردیتا ہوں کے مصداق الف اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔
    آپ لوگ نماز پڑھ لیں وقت تنگ ہو رہا ہے۔
    یہ تاکید جہاں سے آئی تھی ان سب کے سر گھوم گئے تھے۔ ہے جن ان سب کو حیرانی سے خود کو تکتا پا کر سٹپٹا گیا۔
    وہ طوبی آپی ایسا ہی کہتی ہیں اس وقت کہ وقت تنگ ہو رہا ہے۔میں نے ان سے سیکھا یہ کوئی برا جملہ تو نہیں؟؟؟ وہ سمجھا شائد اسکی سمجھ میں کوئی کمی رہ گئی۔۔
    نہییں۔۔ الف اور نور ٹھنڈی سانس بھر کر لائونج سمیٹنے لگیں۔عزہ کو بھی بھوک محسوس ہوئی یا ہےجن جیسے چٹخارے بھر کر کھا رہا تھا کھانا اسے دیکھ کر منہ میں پانی آگیا ۔ گول گول سے پیڑے سے بنے ہوئے انڈے کے اندر میں کچھ بھرا ہوا تھا اور کمچی۔۔۔ انڈے تو وہ کھا ہی سکتی تھی۔ خود وہ سوپ نوڈلز کے چاپ اسٹکس سے کھا رہا تھا ساتھ کمچی بھی اٹھا لیتا۔۔
    کھائیں گی آپ؟۔ اس نے عزہ کو دیکھتا پا کر خلوص سے پیشکش کی۔۔ اس نے کمچی کھسکا بھی دی اسکی جانب مگر بند گوبھی کے اس اچار میں جس کے مصالحے کو خوشبو دور سے محسوس ہو جاتئ تھی اسے دلچسپی نہیں تھی۔
    اس نے انڈا اٹھاتے ہوئے پوچھا۔۔
    کھا لوں۔ اس میں چکن تو نہیں ہوگا نا۔
    اس نے جواب کا انتظار کیئے بنا منہ میں رکھ لیا۔ آملیٹ کی طرح تلے ہوئے ایگ رول میں گاجر پیاز اور۔
    وہ چباتے ہوئے چونکی۔ اس میں تو چبانا پڑ رہا ہے گوشت بھی ہے کیا۔
    نہیں چکن نہیں ہے۔۔۔ ہے جن نے سادگی سے سر نفی میں ہلایا۔عزہ نے سکھ کا سانس لیا۔
    ۔ اس میں بیکن ہے۔ ہے جن نے جملہ مکمل کیا اسی وقت اس نے نوالہ نگلا تھا۔
    کیا۔۔ وہ حلق کے بل چلا اٹھی۔۔
    اس انڈے میں سور کا گوشت ہے؟؟؟؟؟ کیوں تم نے بتایا کیوں نہیں۔
    وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ الف اور نور دہل سی گئیں ہے جن گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
    نونا کیا ہوا۔۔
    عزہ سیدھئ کچن سنک کی جانب بھاگئ
    آخ۔۔
    اب کیا قیامت آگئ ہے پہلے دروازے توڑے اب پھر چلا۔۔۔۔۔
    عروج دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولتی باہر نکل کر گرجی مگرسامنے کچن کا منظر دیکھ کر الف اور نور کی۔طرح ہکا بکا سامنے دیکھتئ رہ گئ باقی جملہ منہ میں رہ گیا۔
    عزہ حلق میں انگلی ڈال کر الٹی کرنے کی کوشش کر رہی تھی بیسن میں اور ساتھ ساتھ بلک بلک کر رو رہی تھی۔
    مجھےبتا نہیں سکتے تھے۔۔۔میں سو سو۔۔۔۔۔ کھا گئی آخخخخخخ

    ساتھ کھڑا ہے جن بھئ ہنگل کبھی انگریزی میں اسکی منتیں کر رہا تھا۔
    نونا آئیم سوری مجھے نہیں پتہ تھا۔
    اب اسے کیا ہوا ہے؟ عروج نے بے چارگی سے پوچھا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روزے میں خون سے لت پت وجود میں زندگی کی رمق تلاشتے سارا دن گزرا تھا۔ شکر ہے جان بچ گئ تھی مگر اگلے چوبیس گھنٹے اسکے زمے مریض کیلئے اہم۔تھے۔۔ ڈرپ لگا کر نرس کو اگلی ہدایات دے کر جب وہ ڈیوٹی ختم کرکے باہر نکلی تو سورج ڈھل چکا تھا بلکہ رات پھیل رہی تھی۔ تھکی تھکی سی اپنے کیبن میں آکر بیٹھی۔ اسکی میز پر ایک چھوٹا سا پیکٹ رکھا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔ عجوہ کھجور ایک سینڈوچ اور ایک جوس کا ساشے بند تھا اس میں۔اسے اب یاد آیا اسکا تو آج روزہ تھا۔سارا دن اسے اگر کچھ یاد رہا تھا تو وہ شدید نازک حالت میں آئے حادثے کے مریض۔آج تو نماز بھی نہیں پڑھی۔ اسے افسوس سا ہوا۔ ۔ شدید بھوک پیاس کا ایکدم احساس ہوا تھا۔ اس نے جلدی سے پیکٹ کھول کر دعا پڑھتے ہوئے کھجور منہ میں ڈال لی۔
    اس وقت یہاں اسکے سوا ایک دو اور خاتون ڈاکٹرز ہی آتی تھیں۔سو اطمینان سے اس نے ماسک ہٹا کر افطاری کی۔ اور خدا کا شکر ادا کیا۔
    مریض کی کیس تاریخ درکار تھی وہ جلدی میں اپنے کیبن سے لانا بھول گیا الٹے پیروں واپس آنا پڑا اپنے کیبن کی طرف جاتے ہوئے اسکی یونہی سامنے نگاہ پڑی تو پھر پلٹ ہی نہ سکی۔ ہزار بار سوچا ان بڑی بڑی آنکھوں کے نیچے ناک کتنی ستواں ہوگی ہونٹ گلابی ہونگے یا عنابی اسے مشرقی نین نقش کا اتنا اندازہ تو نہ تھا مگر پھر بھی ایک خیالی پیکر تراش رکھا تھاچار سال سے اسکو دیکھ رہا تھا یا چار سال سے اسکو دیکھا تک نا تھا کسی پہیلی جیسی روج جس نے اسکا راستہ روک رکھا تھا۔ہزار لڑکیاں تھیں گرد وہ ہر لڑکی پر وہ بڑی بڑی مڑی پلکوں والی بھوری آنکھیں جوڑتا اور ہر بار ناکام رہتا۔ کیا کیا نا سوچا تھا اس نے روج ایسی ہوگی ویسی دکھائی دیتی ہوگی۔اور آج اس نے روج کو دیکھ ہی لیا۔ یونہی اچانک سر راہ۔ چلتے چلتے۔۔ اورجتنا بھی سوچا جیسا بھی سوچا کم سوچا تھا۔ وہ اسکی سوچ سے بڑھ کر تیکھے نقوش گلابی رنگت اور تھوڑی پر ڈمپل والی ایک حسین لڑکی تھی۔ اتنی حسین کہ اسکا لمحہ بھر کو دل تھم کر دھڑکا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے ایک طرف ہو کر انکو اندر آنے کا راستہ دیا۔
    یون گے نامی وہ اہلکار دھیرے سے سر جھکاتی اسے سلام کرتی تیزئ سے اندر چلی آئی۔ انکے ہمراہ آیا لڑکا باہر دروازے پر ہی رک گیا البتہ دوسری لڑکی نے بھی اسکی تقلید کی۔۔
    کیا ہوا کون ہے؟ منہ میں پکوڑے بھرے بمشکل الف نے پوچھا پھر نووارد لڑکیوں کو دیکھ کر سٹی سی گم ہوگئ۔
    آننیانگ۔ ہم گنگنم پولیس اسٹیشن سے آئے ہیں۔ مس نور مرتضی کو تحویل میں لینے کا حکم نامہ ہے ہمارے پاس۔۔
    وہ خالص ہنگل میں بولی تھی ۔ ہے جن لقمہ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
    کس جرم میں؟ وہ دوبدو سوال کر رہا تھا
    کیا ہوا کیا کہہ رہی ہیں یہ؟ نور الف دونوں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں
    ہمیں شبہ ہے کہ گنگنم اسٹیشن میں زیر تفتیش آن لائین سیکس اسکینڈل میں گرفتار ملزمان سے مس نور کا تعلق ہے۔ ہم تفتیش کیلئے انکو حراست میں لینا چاہتے ہیں یہ حکم نامہ ہے ۔۔
    اس نے مسکرا کر جس رسان سے بتاتے ہوئے کاغذ انکی جانب بڑھایا اس سے الف اور نور کو گمان تک نا گزرا کہ کیا کہہ رہی ہے۔ ہے جن نے کاغذ پر لکھی تحریر پڑھی۔ اسکے ہونٹ خشک ہو چلے تھے۔۔
    انکو پتہ چل گیا مجھے کس نے اغوا کیا تھا؟۔عزہ ہے جن کا کندھا ہلا کر پوچھ رہی تھی۔
    وہ۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔
    وہ یہ آپکے سامنے ہی ہیں مگر آپ تھوڑی سی مہلت دے دیں انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا صبح چار بجے کے بعد اب یہ کھانا کھا رہی ہیں کھا لیں تو پھر بھلے آپ گرفتار کر لیں۔
    ہے جن دستر خوان کی جانب اشارہ کرکے کچھ کہہ رہا تھا وہ چاروں خفت ذدہ ہوئیں۔
    آئیں آئیں آپ بھی ہمارے ساتھ روزہ افطار کیجئے۔ معاف کیجئے گا ہمیں خود ہی آپکو دعوت دے دینی چاہیئے تھے۔ یہ نور تھی اخلاق جھاڑتی وضاحت کرتی باقائدہ کندھے سے پکڑ کر یون گے کو بلا رہی تھی۔ یون گے نے اپنی ساتھی کو دیکھا ۔
    آئیں نا آپ بھئ کھائیں۔ وہ تینوں دعوت دے رہی۔تھیں۔ اہلکاروں کو یوں کسی مشتبہ گھر میں گرفتاری کی غرض سے جانے کی صورت میں کھانے پینے کی اجازت نہیں۔ہوتی مگر ایسی۔صورت حال میں ملزم اصرار کرکے کھانے کی دعوت بھی نہیں دیا کرتے۔یہ صورت حال انکے لیئے بھی انوکھی تھی۔۔ عشنا دروازے پر موجود اہلکار سے انکی آمد کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ ان تینوں نے اصرار کرکے دونوں اہلکاروں کو بٹھا لیا تھا۔ اب یون بے جھجکتے ہوئے پکوڑا اٹھا رہی تھئ۔ ہے جن نےایک نظر انکے اطمینان بھرے مسکراتے چہروں پر ڈالی پھر جلدی سے ایک میسج لکھ کر کسی کو بھیج ڈالا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے ختم شد۔

  • Desi Kimchi Episode 15

    15 ویں قسط۔۔۔
    انٹرویو دے کر باہر نکلتے ہوئے اسکے قدم شکستہ ہو چلے تھے۔ سو فیصد امکان تھا کہ یہ نوکری بھی نہیں ملے گی۔
    فری لوڈر بننے کا خیال اسے مارے ڈال رہا تھا۔ وہ پھر ہنگن دریا کے کنارے آبیٹھی تھئ۔ بنچ پر بیٹھی دریا پر نظر جمائے اس لڑکی پر سورج کی تیز دھوپ پڑ رہی تھی۔ بلو جینز پر گلابی اپر پہنے اس لڑکی نے ہڈ سر پر جما رکھا تھا اسکے چہرے کا رخ دریا کی جانب تھا مگر وہ اسکا بایاں رخ دیکھ سکتا تھا۔جس سے اسکی رخسار کی نمایاں ہوتی ہڈی نظر آرہی تھی آنکھیں ہرگز بھی غلافی نہیں تھیں بلکہ معمول سے بڑی تھیں یقینا وہ کوریائی باشندہ نہیں تھی۔ ویسے بھی کوئی کوریائی لڑکی ہوتی تو اس جگہ کبھی نہ بیٹھتی ٹوپی پہن کر سن بلاک لگا کر چھتری لیکر بھی نہیں۔ دھوپ سے رنگت جھلسنے کے ساتھ کینسر کا بھی تو خدشہ ہوتا ہے۔ کچھ فاصلے پر درخت کے سائے میں بیٹھے اس چندی آنکھوں والے نے کافی دلچسپی سے اسے دیکھا۔
    اف ایک تو چوبیس ڈگری سے درجہ حرارت آگے بڑھنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ تنگ آگئ ہوں ٹھنڈ سے۔ایک یہاں کی موٹی کھال کی لڑکیاں شارٹ اسکرٹ پہن کر کیسا گرمی منا رہی ہیں۔ کوئی انہیں بتائے امی اتنے ڈگری سے کم پر ہمیں اےسی تک نہیں چلانے دیتیں کہ بل ذیادہ آئے گا۔ اس نے بازو سکیڑ کر گرمی کی حدت کو محسوس کرنا چاہا۔
    اف اس پر بھی اس موٹی کھال کے آدمی نے اے سی چلا رکھا تھا۔۔
    اس نے جھر جھرئ سی لی۔ تبھی اسکے موبائل کی پیغام دھن بج اٹھی۔ واعظہ تھی۔۔
    انٹرویو کیسا رہا؟
    اس نے گہری سانس لی۔
    ناکام رہا۔ شام کو ملو گی سوجو پی کر اس ناکامی کو منائیں گے۔ اس نے یہی لکھ کر بھیج دیا۔
    ہرگز نہیں۔ برملا جواب آیا تھا۔ اسکا جواب پڑھ کر اس نے بے چارہ سا منہ بنا کر ہونٹ لٹکا لیا تھا۔
    مجھ سے تو کوئی ملنا بھی نہیں چاہتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی ہوں اگر دو منٹ کے اندر تم میرے گھر کے سامنے سے نہیں گئیں تو میں پولیس کو فون کردوں گئ۔ کے سہکی۔
    ذرا کی ذرا دروازہ کھول کر وہ بلا لحاظ چلائی اور دھاڑ سے عروج کے منہ پر دروازہ بند کردیا۔
    آہ۔ عروج کو اسکے ردعمل کا اندازہ تھا مگر پورے راستے اتنے جملے ترتیب دیئے تھے کہ کم از کم پانچ منٹ تو وہ اسکی بات سنتی مگر اسکا مدعا سننا تو دور دروازہ کھول کو اسکی شکل دیکھتے ہی پہچان کر وہ چیخی ۔ انداز دیکھ کر لگتا تھا کہ پولیس کو فون نہ بھی کیا تو بھی اگر دوبارہ عروج نے اطلاعی گھنٹی بجائی تو سر پر ڈنڈا مار دے گئ عروج کے۔ وہ گہری سانس لیکر اسکے دروازے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ اس گندی سندی پرانی عمارت کی دوسری منزل تک چڑھتے اور اب اترتے اسکی نگاہوں میں بس وہ بے چارگئ سے عروج کو تکتی بوڑھی آنکھیں چھائی رہی تھیں۔
    اتنی تو کوشش کر لی میں نے اور کیا کروں۔ وہ تھک کر عمارت کے داخلی دروازے پر بنی کیاریوں کے پاس بیٹھ گئ۔
    دھیرے دھیرے سرسراتی ہوا۔ وہ گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرنے لگی۔ روزے میں دوسری منزل تک چلنا اترنا ۔۔پیاس لگا گیا تھا۔
    یہ علاقہ کافی گندا تھا۔ چھوٹے چھوٹے گھر جن کے باہر میلے کچیلے بچے شور مچاتے کھیل رہے تھے۔ یہ عمارت کافی خستہ حال لگتی تھی۔
    کتنے وون لیتئ ہو؟۔ چندی آنکھوں والا لمبا سا لڑکا اسکے اتنے قریب اچانک آکر کھڑا ہوا کہ وہ گھبرا کے اٹھ کھڑئ ہوئی۔
    دے؟۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔
    قیمت پوچھ رہا ہوں مجھے رات بھر کیلئے نہیں بس چند گھنٹے گزارنے ہیں جلدی بولو۔ عربی ہو؟
    وہ جلدی میں تھا ۔۔
    آندے۔ وہ عربی تو نہیں تھی۔۔ سو صاف سر ہلا کر بولی۔
    عروج کو اتنی ہنگل سمجھ تو آتئ تھی مگر وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا ہے۔
    ہمم۔ آنکھیں تو بڑی ہیں آپریشن کرایا ہے۔ وہ بغور اسے سر تاپا دیکھ رہا تھاوہ۔بلو ڈینم عبایا پہنے تھی سر پر بلیک اسکارف تھا اور بلیک ہی ماسک پہن رکھا تھا۔ اس نے تکلفی سے اسکے چہرے سے نقاب کھینچ لینا چاہا۔
    اور شکل دکھائو۔شکل دیکھ کر پیسے۔۔
    اسکا جملہ منہ میں ہی تھا عروج کا ہاتھ اٹھا ایک کرارا تھپڑ اس لڑکے کے منہ پر لگا تھا۔
    ہائو ڈیر یو۔ وہ لال بھبوکا چہرہ لیئے چلائی۔
    لڑکے کا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ یہ تھپڑ اسکے لیئے غیر متوقع تھا ۔ غصے میں بھر کر وہ سیدھا ہوا ارادہ اس تھپڑ کا کرارا جواب دینے کا تھا مگر عروج کو دیکھ کر لمحہ بھر کیلئے چونک سا گیا۔ ایشیائی چہرہ عربی۔ کہیں اسے غلط فہمی ۔۔۔ اپنا ہوا میں اٹھتا ہاتھ اس نے روکا تھا۔ گلی میں کھیلتے بچے کھیل چھوڑ کر آنکھیں منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ عروج کا ردعمل اتنا اچانک تھا کہ اسے خود بھئ اندازہ بعد میں ہوا۔ ایک اجنبی علاقے میں نجانے کس قماش کے لڑکے کو یوں منہ پر تھپڑ مار ڈالا۔ جوابا وہ بھی پلٹ کر مارنے ہی والا تھا۔ اسکا رکتا ہاتھ دیکھ کر اس نے موقع غنیمت جانا اپنا بیگ کندھے پر سیدھا کرتی اس نے دوڑ لگا دی۔ بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بنا پوری جان لگا کر بھاگتی ہوئی وہ ذیلی سڑک تک آئی۔
    سڑک پر بہت رش تو نہیں تھا مگر سنسانی بھی نہ تھی۔شکر ہے اس نے اسنیکرز پہن رکھے تھے جو اس دوڑ میں ساتھ دے گیے اسکی سانس پھول چکی تھی۔ سڑک کنارے رک کر ٹیکسی کو ہاتھ دیتے اس نے مڑ کر دیکھا تو شکر ہے وہ اسکا پیچھا نہیں کر رہا تھا۔ اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔
    ٹیکسی میں بیٹھ کر کتنے لمحے اسے خود کو سنبھالنے میں لگ گئے۔
    پانی ۔۔
    ڈرائیور نے جانے کیا سمجھا مڑ کر پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔
    وہ بے دھیانئ میں بوتل لیکر رخ موڑ کر پینے ہی لگی تھی کہ یاد آیا روزہ ہے۔۔ بوتل کا ڈھکن بند کر کے اپنے برابر نشست پر رکھ لیا۔
    یہ علاقہ اب محفوظ نہیں رہا۔ جانے لوگ آج کل کے اتنے متشدد کیوں ہو چلے ہیں۔ روز ہی کسی نہ کسی لڑکی کو یہاں سے ایسے ہی پریشان جاتے دیکھتا ہوں۔۔۔۔
    ڈرائیور کوئی ٹھیک ٹھاک باتونی انسان تھا۔ اس نے جائزہ لیتی نگاہوں سے دیکھا تو خشخشی سی داڑھی والا وہ کوئی تیس پینتس برس کا ہوگا رنگ دھوپ سے تھوڑا کم ہونے کے باوجود کافی گورا تھا۔ وہ مکمل سڑک کی جانب متوجہ تھا۔ اسے شدید الجھن آتی تھی اگر کیب والا کوئی غیر ضروری بے تکلف ہونے بات سے بات نکالنے والا ٹکر جائے۔ بھئ خاموشی سے گاڑی چلائو ۔ اسکی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں مگر ڈرائیور ان سے بے نیاز اگلا سوال پوچھ بیٹھا۔
    ابھی کسی اور کلائینٹ کے پاس جانا ہے یافارغ ہو؟
    بیک ویو مرر سے پیچھے دیکھتے وہ آہجوشی بے تکلفی سے پوچھ رہا تھا۔ اسکو اسکی بات سمجھ نہ آئی ۔وہ دے کہنے لگی تھی تاکہ وہ وضاحت کرے اپنی بات کی کہ تبھی اسکا فون بج اٹھا۔
    ہاسپٹل سے فون تھا۔ کوئی حادثہ ہوا تھا ایمرجنسی نافذ تھی اسے فوری ہاسپٹل رپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔
    ایسا کرو گاڑی کو سیول ہیلر اسپتال کی جانب موڑ لو۔
    اس نے ڈرائور کو ہدایت کی۔
    کین چھنا؟۔ ( خیریت)۔ طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی؟۔
    دے۔ عروج نے ٹھنڈی سانس لی۔ بہر حال وہ ڈرائور نظر باز نہیں تھا باتونی بےشک بہت تھا۔ اس نے جواب دے دیا۔
    کوئی حادثہ ہوا ہے گنگنم میں۔۔
    اوہ۔ ہاں۔ ابھی آرہا تھا تو دیکھا ایک ٹرک اور گاڑی کا تصادم ہواہے۔دیکھا تھا ایمبولنسیں جارہی تھیں۔ آپ کیوں جا رہی ہیں۔ اسپتال؟ کوئی جاننے والا تھا ان میں۔
    باتونا انسان۔ ۔عروج نے چڑ کر دیکھا
    ڈاکٹر ہوں میں اسلیئے بلائی گئ ہوں۔
    دے؟۔ ڈرائور کا ہاتھ واضح طور پر اسٹیرئنگ پر پھسلا تھا۔
    پھر باقی رستہ خاموشی۔ہی رہی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عید سر پر ہے اور ہم نے ابھی تک ہنبق نہیں سلوائے۔ واعظہ کی بچی جب آئیڈیاز پر عمل نہیں کرنا ہوتا تو دیتی کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔
    الف دف کی طرح ٹرے بجا کر اعلان کر رہی تھی۔
    ویسے الف روزے میں سارا دن گزار کر عین افطار کے وقت اتنی توانائیاں کہاں سے لاتی ہو سر کھانے کی؟۔
    نور حقیقتا حیران تھی۔ پکوڑوں کیلئے آلو چھیلتی وہ بہت تجسس سے دریافت کر رہی تھی۔ عشنا کل سے کمرے میں بند تھی رات کو فاطمہ ساری تقریریں جھاڑ کر چلی گئ تھی اسکے بعد سے عشنا جو کمرے میں گھسی صبح سحری میں واعظہ اپنی اور اسکی سحری کمرے میں لے گئ تھی۔پھر آٹھ بجے اٹھ کر یونیورسٹی چلی گئ اور جب سے واپس آئی تھی تب سے سو رہی تھی۔ عزہ اور ہے جن باہر گئے ہوئے تھے عزہ کو چیزیں لینی تھیں۔ عروج اسپتال گئ ہوئی تھی اور الف بجائے اسکے ساتھ افطاری بنوانے کے عید کی تیاریوں کی فکر میں ہلکان تھی۔
    توانائیاں ہم میں ہوتی ہیں بس ہم کھا کھا کے جمع کرتے رہتے ہیں جو ہم میں فیٹ بن کر جم۔جاتی ہیں ۔روزہ انہی توانائیوں کے استعمال کیلئے ہی ہے۔ بھئ مزید پیٹ میں مت انڈیلو بلکہ جو انڈیلا ہوا ہے اسکو استعمال کرو سو میں اپنی انہی توانائیوں کا استعمال کر رہی ہوں جو تم استعمال نہ کر کر کے پیٹ پر جمع کرتئ جا رہی ہو۔
    الف نے سیدھا سیدھا چوٹ کی۔ نور کے پیٹ پر جا لگی۔ تڑپ کر بولی۔
    کوئی نہیں اتنی بھی کوئی موٹی نہیں ہوگئ زرا سا روزوں کی وجہ سے کھانے پینے کا معمول خراب ہوا ہے تو لگ رہا ہے تھوڑا سا پیٹ نکل رہا ہے۔ ورنہ بالکل اسمارٹ ہوں میں۔
    اتنی اسمارٹ ہو تو برا کیوں مان رہی ہو۔
    اسے چڑتا دیکھے اور مزید چڑائے نا الف یہ تو ہو نہیں سکتا۔
    تم ہنبق مت سلوانا اس میں تو دبلی سے دبلی ہیروئن بھی انجمن لگنے لگتی ہے۔۔واعظہ اسکے لیئے ہنبق کا آرڈر نہ دینا۔ وہ مزے سے مشورہ دے رہی تھی۔
    واعظہ میں نے بھی ہنبق سلوانا ہے جب سب سلوا رہی ہیں تو میں کیوں نہیں۔
    نور کو ڈر لگا کہیں واقعی واعظہ ہنبق کا آرڈر کینسل نہ کر دے۔
    موٹی لگو گئ۔ الف باز نہ آئی۔۔
    جب سب لگیں تو میں بھی لگ لوں گی موٹی فکر مت کرو۔۔ واعظہ۔۔ میرا بھی ہنبق بنوانا۔
    نور نے آلو کاٹنے ہی چھوڑ دیئے۔
    واعظہ ان دونوں کی بحث سے بے نیاز۔ منے لائونج میں فلو کشن پر بیٹھی صوفے سے ٹیک لگائےلیپ ٹاپ کھولے بلاگ لکھنے میں مگن تھی۔ تیسری بار نور نے بات دھرائی تو آرام سے اسکی شکل دیکھ کر بولی
    میں کسی کا بھی نہیں بنوا رہی ۔جتنے کا ہنبق بنے گا اتنے میں چار رسمی پوش بن سکتے ہیں۔ پیسے نہ پھنسائو اس میں۔
    کیا ؟؟؟ رسمی پوش؟ ہم کیا کریں گے اتنی سی تو میز ہے ہماری اور کیا ہم رسمی پوش لپیٹ کر پھریں گے عید پر؟
    الف حق دق سی رہ گئ اسکی منطق پر۔
    ہاں تو اور کیا عید کے کپڑے تو بنوانے ہی ہیں ۔ ہم رسمی پوش۔۔
    نور نے بھئ ہاں میں ہاں ملانا چاہی۔ واعظہ نے سر پیٹ لیا۔
    کیا سمجھ رہی ہو رسمی پوش کا مطلب؟
    میز پر جو کپڑا ڈالتے ٹیبل۔کلاتھ۔۔ اسی کو ہی سنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بولتے بولتے یاد آیا اسے تو میز پوش کہتے۔
    اسے میز پوش کہتے ہیں۔ واعظہ نے جتایا۔۔
    رسمی پوش casual wear کا اردو ترجمہ ہے۔۔ ہر لفظ کا اردو ترجمہ موجود ہے فرق صرف یہ کہ ہم اردو الفاظ بولنے کی بجائے انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
    رسمی پوش۔ الف کو لطف آیا۔
    مجھے تو مزے کا لگا ہے یہ لفظ میں رسمی پوش ہی کہا کہوں گئ اب۔ سے۔
    تو کیا ہم واقعی ہنبق نہیں بنوا رہے؟
    نور کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔
    یار رمضان میں میری بچت بھی ٹھکانے لگ چکی ہے اوپر سے مجھے فاطمہ ابیہا دونوں کا کرایہ اس مہینے کا نہیں ملا۔ جاب میری کوئی ہے نہیں۔ اسی سے خرچے نکالتی ہوں میں۔ عشنا عروج نے کرایہ تو دیا ہے مگر اسکے بعد ان دونوں کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ بمشکل میں نے فلیٹ کا کرایہ دیا ہے اوپر سے یہ ہاسپٹل کا خرچہ پولیس انکوائری یہ سب میری سب بچت ٹھکانے لگ چکی ہے۔ میں تو شائد عید کا جوڑا بھی نہ بنوائوں۔ تم دونوں کے پاس اگر ہیں پیسے تو سلا سلایا خرید لو وہ سستا پڑے گا اور ہنبق میں فٹنگ تو ہوتی بھی نہیں ہے۔ واعظہ کی تقریر پر دونوں چپ ہوگئیں۔
    اب جب سب نہیں بنوا رہے تو ہم کیوں بنوائیں۔۔ ہم بھی نہیں بنواتے۔ نور نے فیصلہ سنایا۔
    تو عزہ اور ہے جن کے ہاسپٹل کا خرچ تم نے اٹھایا ہے؟۔ الف حیران ہوئی۔ واعظہ نے جواب نہیں دیا وہ دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوچکی تھی۔
    یار لیکن عید کیلئے کچھ پلان تو کرو ہم پہلے ہی گھر والوں سے دور ہیں۔۔ الف ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر اسکے پاس ہی آبیٹھی۔
    پاکستانی ایمبیسی کوئی نہ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے چلیں گے وہیں۔ ۔۔ واعظہ نے تسلی دی۔ الف اس پر ہی۔خوش ہوگئ
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔۔۔
    اچھا میں جا رہی ہوں افطار باہر کروں گی تم لوگ افطاری کر لینا۔۔وہ لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
    لو میں نے اتنے آلو چھیل لیئے۔ میں اور الف کتنا کھائیں گے۔
    نور نے چھری رکھ کر آلو کی بھری ٹوکری کو تاسف سے دیکھا۔
    اسکی ترکاری بنا لو کھانا تو بننا ہی ہے چٹپٹے آلو بنالو۔
    الف نے مفت مشورے سے نوازا۔
    کبھئ یہ بھی کہہ دیا کرو یہ بنا لیتی ہوں میں۔ نور کمر پر ہاتھ رکھ کر طنزیہ بولی۔
    جب تم بنا لیتی ہو تو ۔۔۔ الف بھی جوابا الجھنے لگی۔ ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر وہ صوفے سے پرس اٹھاتی باہر نکل گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اسکی۔نظر سب سے پہلے سیہون پر پڑی تھی۔ اوپن کچن میں ایپرن باندھے وہ زور و شور سے کھانا پکانے میں مگن تھا۔ فضا میں بھنے ہوئے گوشت کی مہک تھی۔
    اب یہ سور نہ پکا رہا ہو باقی خیر ہے۔
    فاطمہ نے دل ہی دل میں دعا کی۔ برتن تو اسے وہی استعمال کرنے پڑتے اپنے لیئے افطار تیار کرتے وقت۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھی
    فاطمہ۔ سیہون نے اسے تیزی سے اپنے کمرے کی۔جانب جاتے دیکھ کر آواز دی۔
    دے۔ وہ دروازے کا ہینڈل پکڑنے جا رہی تھی کہ فریز ہوگئ
    بریانی بن رہی ہے تم بھی کھا لینا۔
    وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر دوبارہ ہانڈی کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    کونسا گوشت ہے؟ فاطمہ کے ذہن پر عزہ سوار تھی جھٹ پوچھا۔۔
    سورکا۔ فورا جواب آیا۔
    کیا؟ وہ چیخ پڑی۔ اتنی خوشبو اسکی ناک کے راستے اندر جا چکی تھی وہ بھی حرام گوشت کی۔
    ہرگز نہیں میں سور کا گوشت نہیں کھا سکتی بلکہ کوئی بھی گوشت نہیں کھا سکتی ہم حلال گوشت کھاتے بس تم پکا کر فارغ ہو جائو پھر میں آکر اپنا کھانا بنا لوں گی۔۔اور سنو اپنے یہ سور والے برتن الگ رکھنا میں ان میں پکا بھی نہیں سکتی ہوں۔۔۔۔۔ (آگے اردو)۔۔۔نجس کو انگریزی میں کیا کہتے
    اس نے جھٹ فتوی دیا پھر سوچ میں پڑی۔
    تم لوگ سحری میں ایسا کیا کھاتی ہو جو پورا دن لڑنے کیلئے توانائیاں بحال رہتی ہیں۔ میں ایک کھانا چھوڑ دوں مجھ سے لڑنا بھڑنا دور کچھ کام کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔
    سہون نے سخت بھنا کر اسے دیکھا پھر پلٹ کر لائونج کے صوفے پر دراز وجود سے مخاطب ہوا۔ فاطمہ نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو صوفے پر واعظہ نیم دراز تھی اسکے کہنے پر جمائی لیتی اٹھ بیٹھی۔
    میں تو بس ایک پراٹھا دہی اور انڈے کے ساتھ کھاتی ہوں۔ انداز سادگی بھرا تھا
    مجھے تو ملنے سے صاف انکار کردیا اب یہاں کیا کر رہی ہو؟ میری کو بتائوں میں؟ اسکے بوائے فرینڈ کے گھر کیا کر رہی ہو تم؟۔
    فاطمہ دانستہ اردو میں بولتی گھوم کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
    پہلے میری کو یہ بتانا تم یہاں کیا کررہی ہو سیہون کی بیگم ۔۔
    وہ بھی واعظہ تھی مزے سے بولی۔
    سیہون کو انکی باتوں میں صرف اپنا اور میری کا نام اور بوائے فرینڈ سمجھ آیا تھا کفگیز تھامے وہ بھی تجسس سے انکے پاس چلا آیا۔
    کیا ہوا میری کا کیا ذکر؟
    تم یہاں کیا کر رہے ہو چکن کا کیا بنا؟ دونوں اکٹھئ چیخی تھیں۔
    وہ پانی ڈال کر آیا ہوا ہوں۔ وہ سٹپٹا گیا۔
    بریانی میں پانی؟
    دونوں کچن کی جانب بھاگیں۔ مرغی پانی سے بھری دیگچی میں بطخ بنی تیر رہی تھی۔
    اب الگ سے چاول پکانے کی بجائے اسی شوربے میں ڈال دو۔ فاطمہ نے چکن کے لمبے شوربے کو دیکھ کر مشورہ دیا۔
    یہی کرنا پڑے گا اب۔ واعظہ بھی متفق تھی۔
    شان مصالحہ اپنے ہاتھوں سے ڈال کر اسے صرف بھوننے کا کہہ کر گئ تھئ۔ پانی کس خوشی میں بھر دیا مرغی میں؟ اسے تیراکی سکھا رہے تھے؟۔۔ واعظہ بھنائی۔
    پھر دونوں نے مشترکہ گھوری دی تھی سیہون کو۔۔
    میں کونسا بچپن سے بریانی پکاتا رہا ہوں۔۔ وہ سٹپٹا گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا کیا دیکھ رہی ہو ہر چیز کی پیکنگ میں۔۔ ؟؟؟ ہے جن جھلا ہی گیا آخر۔
    اسکے ساتھ ایک ہی مارٹ میں پھرتے پورے دو گھنٹے ہونے کو آئے تھے اور انکی ٹرالی میں صرف چار چیزیں جمع ہوئی تھیں۔ وجہ تھی ہر چیز اٹھا کر عزہ اسکی پیکنگ پر لکھے اجزا پڑھنا شروع کردیتی۔ جہاں ہنگل میں لکھا ہوتا وہاں ہے جن کی مدد درکار ہوتی۔
    ٹرالی میں شیمپو ایک لوشن ایک کنڈشنر ہی بس جمع ہو سکا تھا۔ ایک اسکن ٹائٹننگ کریم اب اسے تھما کر اس پر لکھے اجزا دہرانے کو کہہ رہی تھئ۔اب عزہ۔۔
    میں یہ دیکھنا چاہ رہی ہوں کہ جو بھی اشیاء خرید رہی ہوں میں ان میں حرام اجزا شامل نہ ہوں۔ اس نے بتایا تو ہےجن گہری سانس بھر کے رہ گیا۔
    سور کے ریشے اسکن پراڈکٹس میں شامل نہیں کیئے جاتے۔
    اسکی کھانے کیلئے ہی مانگ بہت ہے نونا۔۔
    پھر اس پر جانور کے اجزا شامل ہیں یہ کیوں لکھا ہوا ہے؟
    کوئی تو جانور ڈالا ہے نا اسمیں۔ عزہ نے اسکو باقائدہ پیکنگ دکھائی۔
    اف نونا۔ اس طرح تو یہ شیمپو ، کنڈشنر اور یہ لوشن بھی رکھ دو۔ کوئی نہ کوئی جانور کا اجزا ان میں بھی شامل ہے ۔ اس نے جھلا کر جتایا۔ جتاتے وقت اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ عزہ یہ سب واپس رکھنے پر تل جائے گی۔
    تو۔۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں۔ تم سے تبھی تو پوچھ رہی ہوں کہ اجزا دیکھ کر بتائو۔ بتایا کیوں نہیں؟۔ وہ اب ٹرالی گھسیٹ کر ان اشیا کو انکی جگہ واپس رکھنے جا رہی تھی
    اوفوہ نونا ۔ سور تو نہیں ہے ان میں بتایا تو ہے۔
    وہ اسکے انداز میں بے چارگی در آئی۔
    کوئی بھی حرام جانور بلکہ حلال جانور بھی اگر اسلامی طریقے سے ذبح نہیں ہوا تو اسکے اجزا سے بنی کوئی بھی چیز حلال نہیں ہوگئ۔۔
    انکے سر پر ایک اسکرین نمودار ہوئی جس میں سے واعظہ واعظ دے رہی تھی دونوں نے چونک کر اسے دیکھا پھر سر جھکا لیا۔ وہ اب صابن شیمپو کریم والے حصے میں واپس آکر سب چیزیں اپنی اپنی جگہ رکھنے لگے۔ تبھئ ہےجن کو ایک کریم نظر آئی۔ یہ کریم طوبی نے ایک بار اس سے منگوائی تھئ۔
    اسکی خوشبو بہت اچھی ہی اسکا گلابی والا پیک ہی لانا۔
    طوبی اسکو پیکٹ تھما کر تاکید کر رہی تھی۔ وہ تیر کی طرح اس کی جانب بڑھا۔ استعمال کیلئے کھلی شیشی اٹھا کر عزہ کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔
    اچھا یہ کریم رکھ لو طوبی آپی بھی یہی استعمال کرتی ہیں۔وہ تو مسلمان ہیں نا۔۔ اور دیکھو اس میں بس 2 % ہی جانور کے اجزاء ہیں۔
    طوبئ کا نام فتوے کی طرح استعمال کیا تھا ہے جن نے عزہ نے ہچکچاتے ہوئے تھام لی ۔ خوشبو اچھی تھی اس نے اچھی مقدار ہاتھ میں لے لئ۔
    اسکن ٹائٹننگ نائٹ کریم ۔ جلد خشک تو ہو رہی تھی ٹائٹ بھی ہو جائے تو کیا برا۔
    کونسا جانور ہے۔ عزہ نے جی کڑا کیا۔ اب 2% سے کتنا کوئی فرق پڑ جائے گا۔
    جاپانی کریم تھی عجیب سا نام تھا ۔
    گھوڑا۔ گھوڑے کی چربی سے بنی ہے
    عزہ کے ہاتھ سے شیشی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔
    ۔ اسکن کیلئے گھوڑے کی چربی بہت اچھی تصور کی جاتی ہے۔اکثر کورین پراڈکٹس میں گھوڑے کی چربی استعمال کی۔جاتی ہے خاص کر اسکن پراڈکٹس میں۔ جیسے گھوڑے کی کمر چکنی ہوتی ہے شفاف ایسی ہی خواتین کی جلد ہو جائے گی ایسا سوچا گیا۔اور۔۔۔ ۔ ہے جن اپنی دھن میں بتا رہا تھا۔ اور عزہ سوچ رہی تھی طوبئ جب آتی ہے گال سے گال ملا کر ملتئ ہے تو کیا گھوڑے کی چربی۔۔ اسکے بھی گال۔۔ اس نے جھر جھری سی لی۔۔۔
    تبھئ اسکی نگاہ سامنے گلابی پیکنگ پر دمکتی ہوئی مانوس زبان میں لکھی تحریر پر پڑی۔ اسکے چہرے پر بنا کسی اسپیشل ایفیکٹ کے ہزار والٹ کے بلب جل اٹھے۔
    اس نے لپک کر وہ ڈبیا اٹھا لی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیسن، مکئی کا آٹا ، عرق گلاب ایلوویرا
    وہ چیزیں نکال نکال کر منے لائونج میں ڈھیر کر رہی تھی اور نور ، الف اور عشنا کا منہ کھلتا جا رہا تھا۔
    ہے جن کا اسکے ساتھ گھوم گھوم کے سر گھوم چکا تھا سو صوفے پر گرا بازو آنکھوں پر دھرے تھا۔
    تم تومہینے کا شیمپو صابن اور کریمیں لینے گئی تھیں یہ سب ۔۔
    الف نے بے چارگی سے کہا۔
    یہ صابن ہے۔ عزہ نے بیسن لہرایا
    یہ شیمپو کا سامان
    ، ایلوویرا اور مکئی کا آٹا لہرایا
    اور یہ کریم کا۔۔ اب عرق گلاب لہرایا جا رہا تھا۔
    میں ڈی آئی وائی دیکھ کر یہ تینوں چیزیں خود بنا کر دوں گی تم لوگوں کو۔
    عزہ نے عزم کیا۔
    حد ہے یہ تو ابیہا اور واعظہ سے بھی اونچی نکلی۔ انہوں نے اپنی سارئ شاپنگ بے گھر افراد میں بانٹ دی تھی تو یہ سب پیسے ان چیزوں میں جھونک آئی۔ اب بنا لیا اس نے یہ سب اور ہم نے استعمال بھی کر لیا۔
    نور نے حقیقتا سر پیٹ لیا۔
    تم خالی ہاتھ آجاتیں ہم خود ہی اپنے لیئے حرام چیزیں خرید لیتے۔یہ الف بگڑی تھی۔۔
    ویسے حرام اجزاء تو ان تمام چیزوں میں ہیں ہی۔ ہمیں محتاط رہنا ہی چاہیئے۔
    یہ عشنا بولی تھی جوابا عزہ نے نہال نظروں اور باقی دونوں نے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
    افطارئ کب ہوگی مجھے شدید بھوک اور پیاس لگ چکی ہے۔
    یہ ہے جن منمنایا تھا۔۔
    بس افطاری تیار ہے روزہ کھلنے میں بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ سب الرٹ ہوئیں۔ الف نے جھٹ تسلی دی تو وہ دوبارہ منہ پر بازو رکھ گیا۔
    بیسن سے منہ دھو کے منہ خشک ہو جاتا ہے میرا ۔۔ نور کراہی۔
    واحد کریم ملی مجھے وہ تم لوگوں نے دیکھی ہی نہیں۔ عزہ انکا ردعمل دیکھ کر ہونٹ لٹکا کر بولی۔
    دکھائو کونسی ایسی پاک و پاکیزہ کریم مل گئ تمہیں۔
    الف کے طنزیہ انداز کو خاطر میں نہ لاتے اس نے پرجوش سے انداز میں شاپر میں ہاتھ ڈالا۔ پھر ایک ادا سے بیک گرائونڈ موسیقی منہ سے نکالی۔
    ٹن ٹرااااااان۔ آہا یہ کیا ملا مجھے۔
    اس نے کریم کا پیکٹ مٹھی میں بھر کر بازو سیدھا کرکے لہرایا
    اسکے ایٹنیںے کئ طرح تنے بازو اور مٹھی میں ناز پان مصالحے کی طرح بند چھوٹی سی ڈبیاپر کیا نام درج تھا وہ کوشش کے باوجود نہ پڑھ پائیں۔
    اوفوہ کونسئ کریم ہے یہ؟ تینوں کورس میں جھلائیں۔
    فائزہ ۔۔۔ فائزہ بیوٹئ کریم اب کوریا میں بھی ہے۔ وہ گنگنائی
    فائزہ؟ تینوں نے جھپٹا سا مارا اس پر
    یہ تو اردو لکھی ہے۔ الف کو اب پتا لگا۔
    یہ کیا کورین اب اردو میں بھی لکھتے ہیں پیکنگ پر ۔۔ وہ حیران ہوئی۔
    اوہو وہ والا اشتہار بھول گئیں جو اس دن فیس بک پر دیکھا تھا۔ یا فائزہ یا فائزہ حسن عالم مرحبا۔ عزہ گنگنائی۔
    یہ کریم پاکستان میں تیار ہوتی ہے میری کزن لگاتی تھی رنگ گورا کرنے کیلئے۔ عشنا نے کریم پہچان لی تھی۔ سو معلومات میں اضافہ ضروری سمجھا۔
    تو کیا ہوگئ وہ گوری۔ نور نے اشتیاق سے پوچھا۔
    نہیں۔ عشنا کا انداز قطعی تھا۔
    پھر کیا فائدہ اور ہم نے کوریا میں آکر بھی پاکستانی کریمیں ہی استعمال کرنی تھیں۔ میرا خاندان مجھ سے کوریا کی کریمیں منگواتا اور میں یہاں فائزہ بیوٹی کریم استعمال کروں کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔
    الف کو حقیقتا صدمہ پہنچا تھا کریم لیکر قالین پر بیٹھتی ہی چلی گئ۔
    اپنے خاندان والوں کو بھی بتائو منع کرو کہ بنا سوچے سمجھے غیر ملکی کریمیں استعمال نہ کیا کریں یہ لوگ حرام اجزاء کثرت سے استعمال کرتے ہیں سارا نماز روزہ برباد ہو جائے گا ۔۔۔ عزہ نے جتایا۔۔
    نونا دس منٹ ہوگئے۔ ہے جن کی آواز مزید مرگھلی سی ہوچلی تھی۔
    ہائے ہمارا روزے دار بچہ۔ تینوں نے پیار بھری نگاہ ڈالی اس پر۔
    میں بس لگاتی ہوں دستر خوان۔ نور فٹ سے کچن کی جانب بھاگی۔ الف اور عشناافطاری لگانے میں مدد کرانے لگیں۔
    افطاری کا سامان لگا کر سب نے دعا مانگ کر ابھی کھجور کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔
    اس وقت کون آگیا۔۔ الف کو بےزاری ہوئی
    عروج اور واعظہ ہونگی شکر ہے آج پکوڑے ذیادہ بن گئے تھے مجھے یہی فکر تھی کہ بچ جائیں گے۔ نور خوش ہوئئ
    عروج رات کو آئے گی اب ڈیوٹی پوری کرکے اور واعظہ بتا کر گئ ہے افطاری باہر کرلے گی۔۔
    عشنا کہتی کھجور منہ میں ڈال کر دروازہ کھولنے چل دی۔
    دروازہ کھول کر وہ لمحہ بھر کے لیئے جم کر رہ گئ تھی
    کون ہے عشنا؟ نور پکار ی۔
    بن بلایے مہمان۔ یونیفارم میں ملبوس ان دو چندی آنکھوں والی لڑکیوں اور ایک لمبے تڑنگے لڑکے کو دیکھ کر وہ بڑ بڑائی۔
    ہم آجائیں اندر؟ کارڈ دکھا کر اس چندی آنکھوں والی لڑکی نے پوچھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi episode 14

    قسط 14
    وہ سوچوں میں الجھی جب گھر میں داخل ہوئی تو راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ گھر میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ منے کچن میں کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھیں۔ دونوں کمروں کے دروازے پکے بند تھے۔ منا صوفہ خالی پڑا تھا۔ ایک کونے میں ایک بڑا سا کارٹن دھیرے دھیرے ہل رہا تھا اندر سے آواز بھی آرہی تھی جیسے کوئی کراہ رہا ہو۔۔ وہ حیران ہوتی لائونج میں آئی تو ایک اور حیرت ناک منظر سامنے تھا۔
    الف اور فاطمہ دونوں مل کر پھل کاٹ رہی تھیں۔ نور نے پکوڑے تلنے شروع کر دیئے تھے۔ اسکے ساتھ ہی ہے جن کھڑا پکوڑوں کیلئے پالک کے پتے الگ کر رہا تھا۔
    اس نے لائونج میں کھڑے کھڑے ہی طائرانہ نظر ڈال کر جائزہ لے لیا۔
    صلح ہو گئ تم دونوں کی۔
    وہ سرسری سے انداز میں کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی
    ہم صرف پھل کاٹ رہے ہیں۔
    فاطمہ جتانے والے انداز میں بولی تو الف سلگ سی گئ۔
    ہم نہیں صرف تم۔ میں نے اپنے حصے کے پھل کاٹ لیئے ہیں۔
    الف کے کہنے پر فاطمہ نے حیرت سے دیکھا تو واقعی ٹرے میں موجود کیلوں ، سیب، امرودوں اسٹاربریز اور ایووکاڈو تقسیم ہوئے وے تھے اور جانے کس حساب سے کہ الف کے حصے میں سب کٹے ہوئے رکھے تھے وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ نے اپنے حصے کے پھلوں پر نگاہ کی تو وہاں تین چار امرود ابھی بھی منہ چڑا رہے تھے۔
    بات سنو یہ کس حساب سے تقسیم ہوئے ہیں۔
    فاطمہ نے آستیںیں چڑھائیں۔
    میری پھرتی کے حساب سے۔ اللہ کا شکر ہے امی کا ہاتھ بٹانے سے خاصی سگھڑ لڑکی نکلی ہوں میں دو منٹ میں سب کام کر لیتی۔ الف اترائی
    میں بھی پچھلے آدھے گھنٹے سے۔۔۔۔ فاطمہ جانے کیا بتا رہی تھی
    ناٹ اگین۔ واعظہ نے گہری سانس لی اور اپنے کمرے کا دروازہ کھولا۔ سامنے ہی اسکے بیڈ پر عزہ گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھئ تھئ
    تم یہاں کیا کر رہی ہو۔
    ایک اور چھیڑ دینے والا جملہ اسکے منہ سے نکلا ۔ اسکا ارادہ سیدھا باتھ روم میں جانے کا تھا مگر اسکی آواز سن کر عزہ چوکنا ہو بیٹھی۔ متورم آنکھیں گلابی چہرہ وہ صرف گھٹنوں میں منہ دیئے نہیں بیٹھی تھی بلکہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔واعظہ کو دیکھ کر غم تازہ ہوگیا۔
    آگئیں تم۔ پتہ ہے آج کیا ہوا؟
    اسکے کہنے کا انداز ایسا تھا کہ واعظہ سمجھ گئ اگر اسے نہیں بھی پتہ تو اس وقت اسکی معلومات میں اضافہ ہوئے بغیر باتھ روم نصیب نہیں ہونا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور منے صوفے پر نڈھال سے بیٹھے تھے۔طوبی ساتھ ہی بیٹھی انکا کبھی سر دباتی کبھی ہاتھ سہلانے لگتی۔۔
    انکے سر کو سینکیں۔ الف نے مشورہ دیا تو طوبی نے ترچھی نگاہ ڈالی اس پر۔۔مگر مشورہ مان لیا۔
    میرے میاں بے چارے جب تم لوگوں کی مدد کو آتے ہیں پٹ پٹا کے ہی جاتے ہیں۔
    دوپٹے کا گولا بنا کر منہ سے پھونکیں مار کر گرم کرتی طونی نےدہائی دی۔ وہ گرم کرکے میاں کی کنپٹی پر رکھتی جہاں پہلے لال اور اب سیاہی مائل نیل پڑتا جا رہا تھا۔ دلاور کو ابھی تک دنیا گھومتی ہی محسوس ہو رہی تھی۔
    شکر ہے میں کون ہوں کہاں ہوں والی نوبت نہیں آ پائی تھی۔ وہ شائد اسکے اس گھر کے تیسرے چکر میں کثر پوری ہوتی۔
    سنیں یہ کتنی انگلیاں ہیں۔
    طوبی نے میاں کی آنکھوں کے سامنے انگلیاں کیں۔ مگر دو انگلیاں دکھائے یا تین اس میں خود ہی کنفیوز ہوگئ۔ پہلے دو دکھائیں تو تیسرئ بھی ساتھ ہی اٹھ گئ۔
    تین۔ دلاور نے جب تک جواب دیا وہ واپس اپنی تیسری انگلی کو انگوٹھے سے دبا چکی تھی۔
    ہائے انکو تو صحیح سے نظر بھی نہیں آرہا اب ۔ کیا کردیا میرے میاں کو۔ میاں کی کنپٹی سے دوپٹہ اٹھا اس نے آنکھوں پر رکھ کر رونا شروع کر دیا۔۔
    نور عزہ عروج عشنا الف اور ہے جن کچی کے بچوں کی طرح قطار میں سر جھائے کھڑے تھے۔
    طوبی ٹھیک ہو جائیں گے کوریا میں بہت اچھا علاج ہوتا ہے ۔ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی ٹکر کا انتظام ہے یہاں۔
    عروج نے تسلی دینا چاہی
    کوئی نہیں ہم جیسے تو جا کر پھنس ہی جائیں ایک لفظ انگریزی نہیں آتی انکو میں صبح کو تمہیں بلانے کا کہتی رہی نرس کوتو مجھے اٹھا کر باتھ روم لے گئ۔
    عزہ نے اپنا دکھڑا رویا۔
    انکو دیکھو عروج مجھے لگتا ہے انکو دکھائی وکھائی نہیں دے رہا۔ طوبی نے عروج کو کہا تو وہ ٹھنڈی سانس لیکر انکے سامنے اکڑوں آبیٹھئ۔
    یہ کتنی انگلیاں ہیں دلاور بھائی۔
    اس نے بھی تین ہی دکھائیں۔۔
    تین۔ دلاور نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر جواب دیا اور فورا نگاہیں جھکا لیں۔
    طوبی آپی آپ نے انگلیاں ہی ٹھیک کھڑی نہیں کی تھیں۔
    ہے جن نے کہنا چاہا۔
    ایسے چیک کرنے کو نہیں کہا انکی چوٹ دیکھو
    طوبی فکرمند تھی۔
    بیلن پکڑ کر تھوڑی مارا تھا میں نے وہ تو ہاتھ سے چھوٹا تو تھوڑا سا لگ گیا انکو اتنی چوٹ تھوڑی آئی ہوگی کہ۔ وہ مرغی دئکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے تھے۔
    الف چپ رہ جایے ناممکن۔ سہولت سے صفائی پیش کی جس پر طوبی مزید بھنا گئ۔
    بتائو ایک چھوٹی سی مرغی سے اتنا ڈرتی ہو تم لوگ۔ ہاتھی تو نہیں لائی تھی میں۔
    طوبی نے ہاتھ نچایا۔
    ہاتھی کون صدقہ کرتا ہے۔ دلاور پیشانی سہلاتے ہوئے حیران ہوئے۔
    ہاتھئ تو حرام جانور نہیں؟ عزہ کو بھی حیرت ہوئی
    ہاتھی حرام اور نہایت قیمتی جانور ہوتا ہے طوبی جی اسکی پہلے ہی نسل ختم ہو رہی ہے اسکو صدقے ۔۔۔
    عشنا نےبتفصیل بتانا چاہا تو
    اوفوہ مثال دی میں نے۔ طوبی جھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    بہر حال مرغی لا دی ہے تم دونوں بہن بھائی ہاتھ لگا کر کسی غریب کو دے دینا اور مزید مصیبتوں سے بچنا ہو تو اس فلیٹ کو چھوڑو کہیں اور انتظام کرو اپنا۔ چلیں جی۔
    وہ خفا خفا سی ہے جن سے کہہ کر میاں کا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ عروج سٹپٹا کر پیچھے ہوئی اسے طوبی کے تیوروں سے یہی خدشہ لاحق ہوا کہ پیروں میں آکر کچلی جائے گی۔
    کیا کہہ رہیں ہیں آپ طوبی آپی۔
    ہے جن منمنا کر بولا۔
    میں بعد میں ترجمہ کر دوں گی۔
    نور نے اسکو کندھا تھپک کر تسلی دی۔ طوبی سخت آف موڈ میں میاں کے ساتھ فلیٹ سے نکل گئ تو انہوں نے ٹھنڈی سانس لی۔ عروج وہیں صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی زمین پر۔کمر تختہ سی ہو رہی تھی اس نے انگڑائی لیکر اسے سکون پہنچانا چاہا تو گردن 160 کے زاویئے پر گھوم سی گئ اور نگاہ جم سی گئی کونے پر۔
    یہ کارٹن کہاں سے لیا تم لوگوں نے؟
    عروج کو کونے میں ہلتا کارٹن نظر آیا تو تجسس سے پوچھنے لگی۔
    واعظہ کا ہے اس نے اس میں الم۔غلم جانے کیا کیا ڈائریاں رجسٹر بھرا ہوا تھا نکال کر میز کے نیچے رکھ دیا میں نے۔
    نور نے ہاتھ جھاڑے اور اطمینان سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا
    خلاف توقع باقیوں کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی تو دوبارہ توجہ کی انکی جانب چاروں منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
    یہ واعظہ کی ڈائیریاں کس نے نکالیں؟ وہ بہت پوزیسو ہے انکے بارے میں جس نے جہاں سے بھی نکالیں ہیں خود ہی واپس وہیں رکھ دو۔ورنہ خیریت نہیں ہے اسکی جس نے بھی یہ کام کیا ہے۔
    فاطمہ کمرے سے وارننگ دیتی نکلی۔ نور نے مڑ کر اسکے چہرے سے معاملے کی سنگینی بھانپنی چاہی۔
    تمہیں پتہ ہے وہ اسکی بچپن سے اب تک کی ڈائیریز ہیں اور وہ اسکے لیئے اتنی قیمتی ہیں کہ وہ مر بھی سکتی ہے اگر انکو کچھ ہوا تو۔ اس نے خود کہا تھا مجھے۔
    عروج نے نور کو اور ڈرایا۔
    ہاں تو میں ایک اور کارٹن لے آتی ہوں فکر نہ کرو۔ نور نے حسب عادت کندھے جھٹکے۔ مگر اپنی جگہ سے ہلی بھی نہ تھی۔
    واعظہ نے نکال باہر کرنا ہے سب کو اگر اسکی چیزوں کو کچھ ہوا بتا دوں میں۔ عروج وارننگ دیتی کمرے کی۔جانب بڑھ گئ۔
    یار ویسے کچھ ذیادہ ہی۔بھونچال بھری زندگی نہیں ہوگئ ہماری۔
    عزہ جمائی لیتے ہوئے نور کے برابر آگری۔
    ہے جن کو بھوک لگنے لگی تھی سو کچن کی جانب رخ کیا۔
    بھونچال تو زندگی میں آتا ہے۔ بھونچال بھری زندگی کبھی سنا نہیں۔
    عشنا کہتی ہوئی فلور کشن سیدھا کرتی کارپٹ پر ڈھیر ہوئی
    عروج صوفے سے ٹیک لگائے اب اونگھنے کی تیاری میں تھی۔
    عروج کمرے میں جاکر آرام سے سوئو۔۔
    فاطمہ اسے پھلانگ کر عشنا کے پاس آتے ہوئے بولی۔ عروج تھکے تھکے سے انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی
    جارہی ہوں خدارا میری اب نیند غارت مت کرنا دماغ پگھلنےلگا ہے میرا۔ وہ ملتجی انداز میں کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
    دماغ پھٹتا ہے پگھلتا نہیں ۔۔ عشنا ان سب کی نت نئی اصطلاحات کو ہضم نہیں کر پاتی تھی۔ عروج نے دروازے سے مڑ کر پہلے اسے گھورا پھر کمرے میں گھس گئ۔
    تمہارا نام لغت جونئیر رکھ دینا ہے میں نے۔ عزہ اپنی تصحیح کیئے جانے پر بد مزا ہوگئ تھی۔ عشنا نے کندھے اچکا دیئے۔
    فاطمہ نے اسکو اسکا موبائل پکڑایا اور خود اپنا موبائل لیکر کچن میں آگئ,
    200,000.00 میں کیا کیا آجاتا ہے ہے جن؟
    کافی کچھ کیوں؟
    وہ ریمن بنا چکا تھا ساتھ کمچی بھی نکال۔کر رکھی تھی اور ایک سائیڈ ڈش بھی۔ گرم گرم بھاپ اڑاتا نوڈل کا پیالہ اس نے سلیب پر رکھ کر اسٹول گھسیٹا اور سہولت سے بیٹھ کر کھانے لگا۔
    پھر بھی۔ وہ اکسا رہی تھی۔ عشنا کے کان کھڑے ہوئے
    میرے جیسے طالب علم۔کیلئے تو کافی ذیادہ ہیں میں اپنے دوستوں کو ڈنر لنچ کروا سکتا ہوں اسپا میں جا کر مہنگا پیکج لے سکتا ہوں ، اچھا رہنے کا کمرہ لے سکتا ہوں اپنی ٹیوشن کا خرچہ نکال سکتا ہوں گیمنگ زون جائوں تو۔
    ہممم۔ یعنئ کافی کچھ ہو سکتا ہے تم۔کبھی اپنے اتنے پیسے کسی آلتو فالتو کورین آئیڈل کی فین میٹنگ پر خرچ کروگے؟
    فاطمہ پہلیاں بجھوا رہی تھی۔
    میں تو ایک وون بھی نہ خرچ کروں ان پیسے کے پجاریوں پر۔ وہ نوڈلز نگل کر جھٹ سے بولا۔
    عشنا چپکے سے اٹھنے لگی ۔
    یہ فین میٹنگ تو سب سے احمقانہ کام ہے۔ ہزاروں فینز سے اپنی سی ڈیز خریدوا کر پیسہ کھینچتے ہیں پھر ان میں سے سو ایک لوگوں کو لارا لگا کر گھنٹوں لائن میں لگوا کر ہم سے پیسے لیکر ہم خو نخرے دکھا کر اپنے ساتھ دو چار تصویریں بنوانے کو اتنا پیسا لوٹ لیتے ہیں ہم سے ۔ اس سے بہتر بندہ فوٹو شاپ کا کورس کرلے اپنے ساتھ ان آئیڈلز کی۔تصویریں لگوائے پھر دوسروں کو بھی پیسے لیکر فوٹو شاپ کر دے۔
    ہے جن نے تو تقریر ہی جھاڑ دی تھی۔
    کتنے سمجھدار ہو تم ۔ فاطمہ نے رشک سے کہا۔
    لوگ تو اتنے احمق ہیں کہ اپنی یونیورسٹی کی فیس ڈیو ہے کہیں کرائے پر رہ رہے ہیں نوکری پاس ہے نہیں اوپر سے دو لاکھ وون فین میٹنگ کیلئے بھر رہے ہیں۔ انکو تو سی ڈی بھی نہیں ملنی دو چار پوسٹر مل جائیں گے بس۔ فاطمہ باقائدہ عشنا کو۔نظروں میں رکھ کر بول رہی تھی۔
    اس سے بڑی بے وقوفی نہیں ہے سچ مچ۔ میں نے کبھی کسی گروپ یا بینڈ کی فین میٹنگ میں پیسے نہیں جھونکے اتنی مشکل سے پیسے کمائے جاتے ہیں والدین کیا کچھ نہیں قربانیاں دیتے ہمارے لیئے۔ ان فالتو چیزوں پر برباد نہیں کرنے چاہیئے ۔ ہے جن سر ہلا رہا تھا عشنا سے مزید ضبط نہ ہو سکا۔
    میری فیس جمع ہے چھے مہینوں کی، اور میں نے واعظہ کو اپنے کرائے کے پیسے دے دیئے تھے۔ یہ فین میٹنگ کے پیسے میں نے اوورٹائم کر کرے جاب سے خود جمع کیئے ہیں اپنے والدین کا پیسہ نہیں اڑایا ہے ان پر۔
    عشنا کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
    پھر اگر اتنی محنت کر ہی لی تھی تو بچا لیتیں اگلے مہینے اگلے سمسٹر کیلئے کام آجاتا کچھ کپڑے بنوا لیتیں عید سر پر ہے کچھ اچھا کھا لیتیں یوں برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں۔ فاطمہ اسے ڈانٹ رہی تھی۔ اسکا انداز اتنا مختلف تھا کہ عزہ اور نور دونوں اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھیں
    کیا ہوا کس کی فین میٹنگ ہے؟ عزہ نے پوچھا۔
    مجھے یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں اگلا سمسٹر عید یا کھانا پینا جس پر چاہے میں پیسے خرچوں میرا معاملہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھیں
    عشنا ضبط کھو کر انگریزی میں چلانے انداز میں کہہ اٹھی تھی۔
    کیا ملے گا تمہیں لی من ہو کو دیکھ کر یہاں کی پاگل پرستار لڑکیوں کی طرح ہاتھ ملائوگی گلے لگو گی کیا کروگی لی من ہو کو دیکھ کر۔ فاطمہ اس سے زیادہ زور سے چلائی
    آرام سے کیا ہوگیا ہے۔ نور اور عزہ معاملے کی سنگینی بھانپتے بھاگ کے ان کے بیچ آئی تھیں۔ فاطمہ تو ہتھ چھٹ بھی ہے نور نے احتیاطا فاطمہ کو بازو سے پکڑ لیا۔
    تم پاگل ہوگئ ہو کیا بکواس کر رہی ہو؟ عشنا سے تعجب کے مارے بولا ہی نا گیا
    بکواس نہیں سچ کہہ رہی ہوں کیا سرخاب کے پر لگے ہیں لی۔من ہو میں کہ دولاکھ وون اس کی فالتو سی فین میٹنگ پر خرچ کر رہی ہو۔ فاطمہ کو اس پر شدید غصہ آرہا تھا۔
    میرا اتفاق سے قرعہ اندازی میں نام نکل آیا ہے لی من ہو ملٹری جا رہا ہے اسکی یہ آخری فین میٹنگ ہے اسکے بعد وہ دو سال تک جب واپس آئے گا تب تک میں یہاں سے جا چکی ہوں گی۔ میرا پہلا اور آخری موقع ہے اپنے پسندیدہ فنکار سے ملنے کا اس کیلئے جتنے پیسے بھی لگ جائیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔عشنا ضدی سے انداز میں بولی۔
    کیا کروگی لی من ہو سے مل کر یہاں کی لڑکیاں جاتی ہیں تو فنکاروں سے گلے لگتی ہیں ہاتھ ملاتی ہیں تصویر کھنچواتی ہیں تم ان میں سے کیا کیا کروگی؟
    ہاں آپ لوگ تو مسلم ہیں یہ سب الائو نہیں نا آپ کو؟ ہے جن نے سادگی سے پوچھا۔
    کیا مطلب کیا کیا کروں گی؟ تم اگر بی ٹی ایس کی فین میٹنگ ہوتی تو کیا نہ جاتیں؟ اپنی پسند کے فنکاروں سے ملنا انکے ساتھ تصویر کھنچوانق انکو تحفہ دینا جرم ہے کیا ؟ تمہیں موقع ملتا تو تم بھی جاتیں پھر چاہے تمہیں مفت میں کسی اجنبی کے اپارٹمنٹ میں رہنا پڑتا یا ۔ وہ کہتے کہتے ایکدم رک سی گئ۔ فاطمہ کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔
    کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو روزے میں یوں غصے میں بے قابو ہو کر شیطان کو۔خوش کر رہی ہو تم دونوں اور کچھ نہیں۔
    نور نے دونوں کو ڈپٹا۔ عشنا سر جھٹک کر پیر پٹختی اپنے کمرے کی۔جانب بڑھنے لگی۔
    میں جاچکی ہوں بی ٹی ایس کی فین میٹنگ میں ۔۔۔ جمن ، شوگا ، جنگ کوک ایک ایک کے ساتھ تصویر ہے میری۔
    فاطمہ نے سرد سے انداز میں کہا تو عشنا حیرت سے مڑ کر۔دیکھنے لگی۔عزہ اور نور کا بھی منہ کھلے کا کھلا رہ۔گیا تھا۔ہے جن نے سر جھٹکا۔۔
    جبھی عقل آچکی ہے۔ وہ دھیرے سے ہنگل میں بڑ بڑایا۔
    اور میں نے ڈیڑھ سو ڈالر خرچ کیئے تھے اپنی سیونگز کا بڑا حصہ انکے لیئے تحائف لینے پر خرچ کیا ان دوگھنٹوں جن میں سے صرف آٹھ منٹ مجھے اپنے پسندیدہ فنکار سے ملنے کیلئے ملے تھے۔ ان دو گھنٹوں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آرمی سمجھا تھا میں نے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سور کہاں سے آیا اس میں۔ پورا فلیش بیک دیکھ کر واعظہ جھلا سی گئ۔
    بتا رہی ہوں۔ عزہ نے آنسو پونچھے۔
    جلدی بتا دو مجھے باتھ روم جانا ہے۔ واعظہ بے چارگی سے بولی۔۔
    پہلے مجھے یہ بتائو کیا واقعی فاطمہ بی ٹی ایس کی فین میٹنگ میں گئ تھئ؟ اور اسکے پاس ان سب کے سائن والی البم بھی موجود یے؟
    عزہ متجسس تھی۔
    ہاں ۔۔ وہ۔۔اسکے لیئے بھی فلیش بیک میں جانا پڑے گا۔ واعظہ بے کہا تو عزہ نے سر ہلا دیا۔
    پہلے مجھے سور کہاں سے آگیا اس بی ٹی ایس اور لی منہو کے جھگڑے میں وہ بتائو۔۔۔
    واعظہ کو بے چینی ہو رہی تھی۔۔ تجسس سے نہیں۔۔ آہم اسی وجہ سے۔
    اطمینان سے بیٹھو واش روم خالی نہیں عشنا نہا رہی ہے دوسرے کمرے کو عروج نے لاک کیا ہوا ہے اب کم ازکم افطار سے پہلے کسی صورت نہیں کھلے گا۔۔
    واعظہ کو خود پر بے تحاشہ ترس آیا۔
    ایک وقت تھا یہ اپارٹمنٹ پورے دو کمروں کے ساتھ صرف میرا اور ابیہا کا ہوتا تھا۔ ہائے ابیہا کی یاد بھی کن لمحوں میں آئی۔ وہ اداس سئ ہوگئ۔ عزہ قصہ وہیں سے دوبارہ شروع کر چکی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افطار کا وقت ہو چکا تھا وہ سب دسترخوان کے گرد براجمان تھیں۔کھجوریں جن کا پیٹ چاک کرکے ان میں بالائی بھری تھئ ، پکوڑے کٹلس فروٹ چاٹ،مسور کی دال چاول چٹنی سلاد کے ساتھ سجی تھی۔ ایک بڑا سا جگ مکس جوس کا بھرا رکھا تھا۔۔
    عزہ کا چہرہ ستا ہوا تھا وہ دانستہ منے لائونج میں کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ نور عشنا فاطمہ الف عروج سب افطارکے وقت کی دعائیں پڑھنے میں مصروف تھیں۔ واعظہ نے پانی کا جگ لا کر دسترخوان پر رکھا۔
    ہے جن دزدیدہ نگاہوں سے عزہ کو دیکھ رہا تھا۔
    آجائو عزہ افطاری تو کر لو۔ واعظہ نے بلایا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ
    مجھے بھوک نہیں میرا کونسا روزہ تھا جو افطاری کروں۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    نونا بیانئیے۔ معاف کردیں مجھے۔ ذرا بھی خیال نہیں تھا کہ آپ ۔۔
    ہے جن بھی فورا اٹھ کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا
    ہوگیا افطاری کا وقت۔ نور کی۔نگاہیں گھڑی پر تھیں۔ اس کے کہنے پر عروج عشنا الف بھی افطاری کی۔جانب متوجہ ہوئیں ۔ ایک اور نئے ڈرامے سے قبل افطارئ لازمی تھی آخر کو توانائی درکار تھی ناظرین کو بھی۔
    میں نے کچھ بھئ نہیں کہا تمہیں۔ہٹو میرے رستے سے مجھے تمہاری معزرت سے کچھ حاصل نہیں۔
    وہ اسے ایک طرف کرکے کمرے کی۔جانب بڑھنا چاہ رہی تھی ہے جن نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
    نونا میں بہت شرمندہ ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں۔ جو بھی ہوا اس میں میرے ارادے کا عمل دخل نہیں تھا۔
    میں نے کہا نا مجھے تم سے شکایت نہیں چھوڑو میراہاتھ۔
    وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑا گئ۔ تن فن کرتی کمرے کی۔جانب بڑھتی عزہ کے سامنے واعظہ آگئ۔ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی۔
    کہا نا میں نے کچھ نہیں ہوتا ۔ بھول چوک معاف ہوتی ہے۔
    چالیس دن تک جس جانور کا نام۔لینے سے زبان ناپاک رہتی ہے وہ میں نگل گئ یہ چھوٹی بات ہے؟ عزہ چلا کر کہتی پھر روپڑی۔
    تمہیں نہیں پتہ تھا۔ کہ وہ ۔۔۔۔وہ کہتے کہتے رک سی گئ۔
    بولو ۔چپ کیوں ہوگئیں نام لو ۔ اپنی باری نام تک زبان پر نہیں لا رہی ہو۔ عزہ تلملا اٹھی اسکے دوغلے معیار پر۔
    سور۔ سور سور سور ۔۔ اب خوش۔
    واعظہ بھنا کر چلائی۔الف ، عشنا ، نور اور عروج کے چلتے منہ رک گئے چاروں بھونچکا سی بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں۔ عزہ کا بھی تھوڑا سا حیرت سے منہ کھل گیا۔
    کہو تو دس بار پورا کہہ دوں بلکہ کہہ دیتی ہوں۔ گنو عشنا۔ میں نام لینے لگی ہوں جانور کا۔ سور سور سور سور سور سور سور سور ہوگئے پورے۔
    وہ باقائدہ مڑ کر اس سے پوچھ رہی تھی۔
    نہیں آٹھ بار ہوا ہے ابھی صرف۔ عشنا نے ایمانداری سے کہا تو وہ سب باقائدہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورنے لگیں واعظہ بھی دانت پیس کر رہ گئ۔ عشنا نے جلدی سے دوبارہ سر پلیٹ کی جانب جھکا لیا۔
    سور کو حرام جانور قرار دیا گیا ہے اس لیئے اسکو اتنا حرام ہونے کی وجہ سے کراہیت سے نام تک لینے سے ہمیں ٹوکا جاتا ہے کیونکہ جو بھی چیز زبان زد عام ہوتی ہے اس کی برائی کراہیت ہمیں کم محسوس ہوتی ہے کہیں کم محسوس کرتے کرتے ہم کراہیت محسوس کریں ہی نا اسلیئے سور کا نام تک لینے سے ہمیں روکا جاتا ہے۔ نام لینے سے زبان ناپاک ہو تو قرآن میں خنزیر کا زکر کیوںکر ہوتا؟
    مگر میں نےتو کھا لیا ہے۔۔۔ ۔ وہ پھر رو پڑی۔
    ہےجن نے بال نوچ لیئے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسکی ہمدردانہ آفرکا یہ نتیجہ نکلے گا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 13

    قسط 13
    یہ آئی ڈی آپکے گھر سے کھولی گئ ہے جس سے تقریبا 13 لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔ اس کھاتے سے لڑکیوں کو گھیرا جاتا رہا ہے انکی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف ویب گاہوں کو بیچا گیا ہے۔جہاں تک مجھے لگتا ہے یقینا اس آئی ڈی کی وجہ سے ہی آپکی اپارٹمنٹ میٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئ تھئ۔
    چندی آنکھوں والے اس پولیس افسر نے پیشہ ورانہ سنجیدگی کے ساتھ اسے بے تاثر انداز میں بتایا تھا۔ وہ اور سیہون اس تفصیل پر ہکا بکا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
    دیکھیں آپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرے ساتھ صرف لڑکیاں رہتی ہیں وہ ایسا کام نہیں کر سکتیں اور ہے جن تو بچہ ہے ہائی اسکول کا وہ کہاں۔
    واعظہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی اس افسر نے ایک اور کاغذ نکال کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
    ہم نے جب آپ کے اپارٹمنٹ میں رہنے والی لڑکیوں کے کوائف لیئے تو ان میں سے ایک لڑکی کمپیوٹر سائنس پڑھ رہی ہے۔۔ افسر نے لمحہ بھر کا وقفہ لیا۔ واعظہ کا بس نہیں تھا کہ نور کی پٹائی ہی کر ڈالے۔
    ۔ نور۔یہ لڑکی ہے۔۔۔ افسر نے تصویر سامنے رکھی۔۔
    آج سے ٹھیک مہینہ بھر قبل اس لڑکی نے ایک متاثر لڑکی کو فون کر کے ایک تفریح گاہ میں بلایا تھا جہاں اس لڑکی نے اپنے بلیک میلر کو ایک اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ پولیس کیس بنا تھا ۔ وہ لڑکا ابھئ بھی زیر حراست ہے اور لڑکی کا بیان یہی تھا کہ اسے ایک لڑکی نے فون کرکے بلایا تھا۔ نور نامی لڑکی نے اس لڑکی کو بلانے سے قبل یہ آئی ڈی کھولی تھی جو اس لڑکے کی ملکیت تھی اور بعد میں وہ لڑکا بھی اس آئی ڈی کو نہیں کھول پایا تھا۔ بہر حال اس آئی ڈی سے نور کا کیا تعلق ہے اور وہ اس گینگ کی رکن ہے یا نہیں اسکا فیصلہ باقی ہے۔ ہم نور کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔
    مگر دیکھیں آفیسر نور کا اس لڑکے یا گینگ سے کوئی تعلق ہوتا تو وہ اس لڑکی کی مدد کیوں کرتی۔۔۔
    سیہون نے کہنا چاہا تو اس چندی آنکھوں والے نے اطمینان سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
    آپ نور کو کیسے جانتے ہیں؟ سیہون؟
    پولیس والے پھر پولیس والے ہی ہوتے ہیں۔ وہ گڑ بڑا سا گیا۔ وہ کہاں جانتا نام شکل کچھ بھی تو اسے پتہ نہ تھا یہ واعظہ جانے کون کون سی لڑکیاں اپنے اپارٹمنٹ میں بھر کر بیٹھ گئ ہے۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا واعظہ کو۔
    دیکھیں یہ لڑکی طالبہ ہے کنگ سیوجون انسٹیٹیوٹ کی طالبہ ہے اور۔ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔واعظہ نے کہنا چاہا تو وہ افسر اسی سرد سے تاثرات کے ساتھ اپنی دراز سے دو تین تصویر نکال کر اسکے سامنے رکھ دی۔
    وہ سات طلبا کا گروپ فوٹو تھا جن میں دو لڑکیاں تھیں اور باقی سب چندی آنکھوں والے لڑکے۔ لڑکی ایک تو چندی آنکھوں والی تھی دوسری نقاب پہنے تھی ۔
    یہ لڑکی؟ اس نے افسر سے پوچھا۔۔
    نور نام ہے اسکا۔ اس نے یونیورسٹی کا ایڈمٹ کارڈ کی نقل سامنے کی جس میں اسکی تصویر بنا نقاب کے تھی۔
    یہ نور اور عبایا ۔۔ یہ عبایا تو کل عزہ پہنے تھی۔ تو کیا؟ ۔
    وہ چونک سی گئ۔
    دیکھیں یہ انکی اسکول کی ہی تصویر رہی ہوگی ۔ اس سے ۔۔۔
    اس نے کہنا چاہا مگر افسر بے تاثر چہرے کے ساتھ چندی آنکھیں اس پر جمائےبیٹھا تھا
    یہ کیس گنگم پولیس اسٹیشن میں درج تھا وہاں کی تحقیقاتی ٹیم اس لڑکی تک پہنچی ہے۔ یہ سب تفصیل انہوں نے ہمیں دی ہیں۔ وہ اس لڑکی کو حراست میں لیں گے یا نہیں یہ انکا معاملہ ہے۔ مجھے آپ صرف یہ بتائیں کہ ان میں سے کوئی اغواکاروں میں شامل تھا کہ نہیں۔۔
    وہ گہری ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ گہری سانس لیکر تصویریں الٹ پلٹ کرنے لگی
    دوسری تصویر میں پانچ لڑکے عمر بیس سے تیس کے درمیان ہوگی کسی کلب میں شراب کے گلاس لہراتے ہوئے خوش باش تھے۔ اور ایک تصویر میں وہ لڑکی اور ایک اور لڑکا قابل اعتراض حد تک بے تکلف نظر آرہے تھے۔
    ان میں سے یہ لڑکا یہ لڑکی اور یہ کالی چادر میں لپٹی لڑکی ان تینوں کا آپس میں کوئی ربط ضرور ہے باقی ہمیں شبہ ہے یہ پانچوں لڑکے ملے ہوئے ہیں اور اغوا کی کوشش میں ملوث ہیں ان میں سے کسی کو پہچان سکتی ہیں آپ۔
    وہ بہت غور سے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔
    واعظہ نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔ وہ سب چندی آنکھوں والے یا تو سب اجنبی لگ رہے تھے یا سب مانوس۔

    میں نے بتایا میں نہیں دیکھ پائی تھی۔ میں گھبرائی ہوئی تھی میری توجہ بس اپنی سہیلی پر تھی۔
    اس نے سوچ کر جواب دیا تھا۔
    مجھے حیرت ہے کہ اس لڑکی عزہ کو کیوں اغوا کرنے کی کوشش کی گئ جبکہ نہ وہ بلیک میل ہو رہی تھی نا ہی اسکا کسی طرح کوئی ربط نکل رہا ہے اس معاملے سے۔ پھر انہوں نے اسے اغوا کرنے کی کوشش کیوں کی؟۔۔۔۔
    افسر نے پرسوچ انداز میں کہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سوچ نہیں سکتا تھا اتنا کچھ ہو جائے گا اور سب سے آخر میں کسی کو اگر تم بتائو گی تو وہ میں ہوں گا۔۔۔ بس اتنی سی دوستی ہے ہماری؟ میں یاد بھی نہ رہا کہ تم مجھے بتاتیں۔۔ عزہ اسکو تو بہن سمجھا تھا میں نے وہ اغوا ہوتے ہوتے بچی وہ بھی ایک انتہائی بڑے بلیک میلر گروہ کے ہاتھوں واہ واعظہ۔
    پولیس اسٹیشن سے نکلتے ہوئے سیہون نے شکوہ کناں انداز میں کہا تھا۔ وہ سر جھکا کر رہ گئ۔
    تم سب سے پہلے انسان تھے جس سے رابطہ کرنے کی سوچ آئی تھی مجھے اس مشکل کی۔گھڑی میں۔ مگر میں پہلے ہی تم سے بہت شرمسار ہوں۔ میری ہمت نہیں ہوئی تم سے پھر مدد مانگنے کئ۔
    اس نے کہہ ڈالا۔ سیہون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک پیدل جا رہے تھے۔ سرد ہوا ہلکی دھوپ خوشگوار تاثر ڈالتی مگر دونوں اپنی اپنی جگہ بہت الجھے ہوئے تھے۔
    کافی پیوگی۔۔سامنے کافی بار پر نظر پڑی تو وہ اس سے پوچھ بیٹھا۔
    چلو۔ واعظہ بھی کہیں بیٹھنا چاہ رہی تھی۔ سو انکار نہیں کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن اور عزہ منے صوفے پر بیٹھے تھے الف نور عشنا انکی خاطر مدارت میں لگے ہوئے تھے۔
    نور انکے لیئے اسٹاربری شیک بنا کر لائی تھی۔
    مگر دونوں پینے میں متامل تھے۔عزہ اسٹاربری شیک کو منع نہیں کر سکتی تھی خود کو حادثے کا مارجن دیا اوپر سے اسکو تو نیند ایسی سوار تھی کہ خود سے اٹھی بھی تو آٹھ بجے تک سحری کا وقت گزر چکا تھا اور ہے جن کو اسکی چوٹوں کے پیش نظر عروج اور واعظہ نے اٹھایا ہی نہیں سحری میں۔جس پر وہ خفا بھی ہوا بعد میں۔
    نونا آپ لوگوں کا تو روزہ ہے میں آپکے سامنے کیسے کھا پی سکتا ہوں۔
    ہے جن نے کہہ ہی دیا۔ تو نور عشنا اور الف نثار ہی ہوچلیں۔عزہ جو دو تین گھونٹ لے چکی تھی سٹپٹا سی گئ
    کوئی بات نہیں بنا کے بھی تو روزے میں لائی ہے اتنا کچا تھوڑی ہوتا روزہ کہ کسی کو کھاتا پیتا دیکھ کر ٹوٹ جائے۔
    عزہ نے خفت سی مٹائی خوب تیز ہو کر بولی تھی۔
    ہاں ہے جن پیو تمہیں ویسے بھی کمزوری ہو رہی ہوگی۔
    عشنا نے پیار سے کہا۔
    ویسے یار قسم سے عظیم منظر رہا ہوگا ہم محروم رہ گئے فل ایکشن سین۔ الف نے چٹخارا لیا۔
    نور دہل سی گئ۔
    خدا کا شکر ادا کرو ایسا ویسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا جان سولی پر ہوگی اس وقت عزہ کی کیوں عزہ؟ نور نے تائید چاہی عزہ نے گڑبڑا کر سر ہلایا۔ اسکی تو جانے بلا وہ تو آرام سے اچانک سوگئ تھی پھر جب اٹھی تو اسپتال میں چار پریشان شکلیں اس پر جھکی تھیں۔ خیال پوچھتی محبت بھری نظروں سے دیکھتی۔
    عزہ تم نے اسپتال میں تو نقاب نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا۔ عشنا کو دور کی سوجھی۔ ان سب کو خود کو۔گھورتا پایا تو وہ سٹپٹا کر وضاحت دینے لگی۔
    میرا مطلب تھا کہ وہ اغوا کار تو اسپتال میں بھی پیچھا کر سکتے ہیں نا۔۔۔ تو وہ۔ انکو مسلسل گھورتے دیکھ کر اس نے بات ادھوری ہی چھوڑ دی
    نقاب عبایا۔ عزہ کے سر میں سائیں سائیں ہوئی۔
    وہ تو اس وقت عروج اور ہے جن کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر آگئ تھی عبایا تو جانے کہاں رہ گیا۔
    عبایا؟ عزہ کا تو عبایا کمرے میں پڑا ہوا ہے ۔۔ نور کو یاد آیا کرسی کے ہتھے سے لٹکتا ۔۔ اور اسکا عبایا۔ ابھی اسکے زہن نے کڑی ملانی شروع کی تھی۔
    وہ نہیں آئے ہونگے کیونکہ عزہ نونا کے پیچھے آئے ہی نہیں تھے انکا اصل شکار کوئی اور ہے۔ ہے جن نے تجسس کو اور ہوا دی۔
    کیا مطلب۔ وہ سب چونکیں۔
    مطلب یہ کہ جب کھینچا تانی میں نونا کا نقاب ہٹا تو وہ چونک گئے تھے وہ نقاب کی وجہ سے نونا کو پہچانے نہیں سچ تو یہ کل نونا نے عبایا بھی بڑا لمبا سا پیچھے سے دم والا پہن رکھا تھا۔ اور اسکا رنگ بھی ڈبل شیڈڈ تھا نونا تو بالکل بلیک والا پہنتی ہے نا۔وہ عزہ سے تائید چاہ رہا تھا اور عزہ گردن ہلائے تو گردن شکنجے میں کسی جائے کے مصداق ساکت بیٹھی تھی
    لانگ ٹیل عبایا۔ ڈبل شیڈڈ۔ عزہ تم میرا عبایا پہن گئ تھیں؟
    نور کو شدید صدمہ لگا
    جی۔ عزہ نے سر جھکا لیا۔
    عبایا کہاں ہےمیرا عزہ اب۔؟ نور نے دل پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے گھورا
    عزہ نے ایک نظر ان سب کو دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
    میرا اتنا مہنگا خالص عربی اسٹائل کا عبایا جو میری خالہ دبئی سے لیکر آئی تھیں تم نے گما دیا۔
    نور دل تھامے ہوئے تھی۔
    آئیم سو سوری میرا عبایا میلا تھا توپہن گئ تمہارا اوپر سے اچانک یہ حادثہ مجھے نہیں پتہ ہاسپٹل میں کس نے اتارا کیا کیا اسکا مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ میں بنا عبایا گھر آگئ ہوں : عزہ نے صفائی دی مگر نور کو دھچکا لگ چکا تھا۔
    تم بنا عبایا کیسے گھر آگئیں۔ میرا عبایا۔واپس کرو وہ غصے سے لال پیلی ہو چلی تھئ۔ الف جھٹ اس سے لپٹ کر روکنے لگی۔
    ہم عروج سے پوچھیں گے بلکہ آج عروج پتہ کرلے گی ۔ وہ جلدی جلدی تسلی دے رہی تھئ۔
    عروج عروج میرا عبایا چھوڑ آئی ہے یہ عزہ کی۔بچی۔
    وہ وہیں سے آوازیں دینے لگی تھئ۔
    آپ عروج کو نہ جگائیں وہ جان سے مار دیں گی جس نے انہیں آج اٹھایا اسے۔ یہ کہہ کر سوئی ہیں۔ عشنا منمنائی۔
    آئیم سوری ۔ عزہ الف کی وجہ سے بچ رہی تھی۔ البتہ الف کو کئی کراری دھپ لگ چکی تھیں۔
    ہائے نور صبر کرو کتنا بھاری ہاتھ ہے۔ وہ بلبلائی۔
    نور الف۔ عزہ آگئ کیا؟ طوبئ دروازے سے ہی پکارتی آئی۔ تو لمحہ بھر کو تینوں ساکت سی رہ گئیں۔ جیسے کوئی صور پھونکا گیا نور الف عشنا سب بھول بھال الرٹ سی ہو بھاگم بھاگ کونا کھدرا ڈھونڈنے لگیں۔
    کیا ہوا۔ عزہ اور ہے جن آنکھیں پھاڑے انکو کونوں میں چھپتے دیکھ رہےتھے۔ الف کچن کائونٹر کی آڑ میں گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھئ تو عشنا غڑاپ سے اپنے کمرے میں جا گھسی۔ نور اپنے کمرے کی جانب بھاگئ مگر عروج کی وارننگ یاد آئی۔۔
    خبردار جو آج کسی نے چوں کی بھی آواز کی کمرے میں میرے۔ اٹھارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اب اگر کسی نے مجھے وقت سے پہلے جگایا تو آج کو اسکی زندگی کا آخری دن بنادوں گی میں۔
    وہ ہینڈل گھماتے گھماتے پلٹ کر آئی اور عزہ اور ہے جن کے صوفے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئ۔
    طوبی جب تک منی راہداری سے منے لائونج تک پہنچی میدان صاف ہو چکا تھا بس عزہ اور ہے جن ہاتھ میں ملک شیک پکڑے ہونق بنے بیٹھے تھے۔ طوبی ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل اور دوسرے میں کالی مرغی بغل میں دابے اندر داخل ہوئئ انہیں صحیح سالم دیکھ کر مانو نہال ہوگئ جھٹ مرغی سمیت دونوں کو باری باری گلے لگاکر ماتھا چوما۔ مرغی نے اس زبردستی بغل گیر ہونے پر کٹاک کٹاک کرکے زبردست احتجاج بھی کیا جسے وہ خاطر میں نہ لائی محبت سے ہے جن کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی۔
    شکر ہے تم دونوں آگئے۔ بھئ کل سے دل کو پنکھے لگے تھے مجھے رات کو ہرمل اور لوبان کی دھونی دی۔ سب جادو ٹونہ دھرا کا دھرا رہ جائے گا دیکھنا۔اور تم دونوں کئ غائبانہ مرچوں سے نظر اتار کر گئ ہوں ابھی یہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    غائبانہ مرچیں وار دیں غائبانہ تو نماز جنازہ ہی سنا ہے آج تک۔ عزہ بھونچکا رہ گئ۔ ہے جن اسکو کہنی مار کر ترجمہ کرنے کو کہہ رہا تھا۔
    میں کہہ رہی ہوں یہ ہرمل اور لوبان۔ طوبی جوش سے بات دہراتے یہیں اٹک گئ۔
    ہرمل اور لوبان کو انگریزی میں کیا کہتے؟
    پتہ نہیں عزہ نے کندھے اچکائے۔
    مگر یہ خالصتا پاکستانی چیزیں آپکو مل کہاں سے گئیں؟
    اسکا سوال جائز تھا۔
    ارے سب ملتا ہے یہاں ۔ طوبی نے ہے جن کے کندھے پر ہاتھ مار کر ٹھٹھا لگایا۔
    یہ کورین بھی بہت جادو ٹونے جیسی چیزوں کے قائل ہیں۔ انکے بدھ متی خوب لوبان جلاتے ہرمل کی دھونی دیتے لیکن یہ پانی تو میں جامع مسجد سے خاص امام صاحب سے دم کروا کر لائی ہوں۔ وہاں خواتین کے درس میں ایک نو مسلم عورت نے مجھے بتایا یہاں لوگ بہت کالا جادو کرواتے ہیں وہ تو کسی بدھ متی پجارن کا بتا رہی تھی مگر مجھے تو سچی بات اعتقاد نہیں سو اپنے ہی مسلمان مولوی صاحب سے دم کروا لیا۔لو پیئو۔
    جھٹ ہے جن کی جانب پانی بڑھایا۔
    آندے مجھے پیاس نہیں۔ ہے جن ہچکچایا۔
    ایک گھونٹ بس منہ نہ لگانا سب نے پینا ہے اسےبلکہ عزہ یہ مرغی پکڑو میں پلاتی ہوں ۔ طوبی نے حسب عادت بنا موقع دیئےعزہ کی گود میں مرغی پٹخ دی ۔ اور خود بوتل کھول کر ہے جن کو پانی پلانے لگئ۔عزہ اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھی اسکے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی اور مرغی کسی گولی کی طرح اڑتی ہوئی صوفے کے پیچھے بیٹھی نور کے سر پر جا بیٹھئ۔ نور اس افتاد پر چیخ مار کر اٹھ کھڑی ہوئی دور دور سے پانی پیتے ہے جن کو اچھو لگا گیا تھا مرغی نور اور عزہ کی شکل دیکھ کر گھبرائی اور واپس طوبی کی جانب لپکی
    ہائیں ہائیں کرتی طوبی کھانس کھانس اوندھا ہوا ہے جن انکو تحمل سے کام لینے کو بھی کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مرغئ سے ڈر کر چیخیں مارتی عزہ اور نور اور انکی چیخ و پکار سن کر کچن کائونٹر سے نمودار ہوتئ الف بنا صورت حال سے مکمل واقفیت حاصل کیئے کائونٹر سے بیلن اٹھا کر انہیں بچانے دوڑی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح سیہون کی آہموجی اس سے پہلے اٹھی ہوئی تھیں۔ کچن میں کھٹ پٹ جاری تھئ۔سحری کے وقت اسے کون جگاتا سو آج وہ سوتی رہ گئ اب گیارہ بجے آنکھ کھلی تو بنا سحری کے ہی روزے کی نیت کرلی۔
    آننیانگ ۔۔ انکی اسکی جانب پشت تھی سو اس نے سلام کرکے مخاطب کرنا چاہا۔
    اٹھ گئیں تم۔ وہ فورا مڑیں اسے دیکھ کر محبت سے مسکرائیں
    ادھر آئو۔ انہوں نے کہنے کے ساتھ زور زور سے اشارہ کیا۔
    وہ سمجھ کر انکی جانب بڑھی۔ تو وہ فریج کھول کر دکھانے لگیں۔ نجانے کون کون سی سائیڈ ڈشز۔ کمچی وغیرہ اب ڈبوں میں بند سلیقے سے سجا تھا۔
    تم خود بھی آرام سے کھانا اور سیہون کو بھی کھلانا۔ وہ بہت کھانے پینے کا چور ہے جب دیکھتی ہوں پہلے سے کمزور ہوا ہوتا ہے۔
    اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر وہ اپنی جانب سے بے تکلفی جتاتے ہوئے جو کہہ رہی تھیں اس میں سے اسے بس سیہون ہی سمجھ آیا۔ ادھر ادھر نظر دوڑا کر اسکی عدم موجودگی محسوس کی پھر پوچھ ہی ڈالا۔
    سیہون۔ وئئو؟۔ جانے گرامر درست بنتی تھی یا نہیں ویے کیا کو ہی کہتے یہ تو پتہ تھا مگر سیہون کہاں ہے اسکو کیا کہیں گے اسے نہیں پتہ تھا۔
    سیہون اپنی اسی مسلی دوست کے پاس گیا ہے یہ پرچی لگا دی تھی فریج پر۔
    انہوں نے اندازہ لگا کر یقینا درست سمجھا۔ برا سا منہ بنا کر فریج کی۔جانب اشارہ کیا۔
    وہ تیزی سے فریج کی۔جانب بڑھی اسٹکی نوٹ انگریزی میں لکھا تھا۔
    میں واعظہ کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا رہا ہوں۔ میری بہن اوزانگ کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔گئ ہے تم بھی اپنےاپارٹمنٹ کا چکر لگا لو۔
    وہ چٹ پڑھ کر ہکا بکا سی رہ گئ۔
    آپکی بیٹی اغوا ہوتے ہوتے بچی ہے آنٹی۔ آپکو گھر جانا چاہیئے۔ ہڑبڑاہٹ میں وہ اردو میں بولی تھی۔ آنٹی کچھ نہ سمجھتے ہوئے منہ کھول کر دیکھنے لگیں
    ویوئو؟ کیا؟
    بیٹئ کو کیا کہتے ہنگل میں۔ وہ سوچ میں پڑی ۔
    دے ۔ ہاں۔ میں اب نکلتی ہوں بس سے جائوں گی تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی کہ اٹھ جائو۔
    وہ اسکے بولنے کی منتظر تھیں مگر پھر اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر خود ہی بتانے لگیں۔ انکا چھوٹا سا سفری اٹیچی کیس کائونٹر کے ساتھ ہی تھا اسکی جانب اشارہ کیا۔
    دے۔ آپکو جلدی جانا چاہیئے آپکی بیٹی جانے کتنی پریشان ہوگی۔
    وہ کہتے ہوئے جلدی جلدی انکا سامان خود اٹھانے لگی۔ وہ آنٹی اب مزید نثار ہو جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آنٹی کو بس اسٹاپ تک خود چھوڑنے آئی تھی۔ وہ بس میں بیٹھ کر کھڑکی سے ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ بس ٹرمینل سے نکل گئ تو وہ واپس مڑی۔ سیہون اسکا فون نہیں اٹھا رہا تھا نا ہی واعظہ۔
    حد ہے۔ فون اٹھا نہیں سکتے تو رکھتے کیوں ہو۔۔
    اسکے اندر کی عمیمہ حلق کے بل چلائی۔
    لی من ہو لاک اسکرین پر جلوے بکھیر رہا تھا۔ وہ گہری سانس لیکر ٹیکسی روکنے لگی۔
    صرف موبائل واپس نہیں کروں گی عشنا کی خوب خبر لوں گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے سامنے رکھے کولڈ کافی کے دو بڑے گلاسوں میں وہ دو اسٹرا ڈالے ہوئے انکو اکٹھے منہ میں رکھے پی رہا تھا۔
    تم سے بڑی احمق لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔
    گھونٹ بھر کر اس نے سر جھٹکا تھا۔ واعظہ نے اس خطاب کو کسی اعزاز کی طرح سر تسلیم خم کرکے قبول لیا۔
    مطلب تمہیں کوریا کی چوٹی کی ہدایت کارہ اپنے ڈرامے میں کاسٹ کرنا چاہ رہی ہے اور تم اسکا فون نہیں اٹھا رہی ہو۔
    کیا کروں فون اٹھا کر ؟ بلایا تھا آج گیارہ بجے اس نے اور میرا آج سارا دن یہاں لگ گیا ہے تین بج رہے اب ۔ کالز بھی اس نے بارہ بجے کے قریب کی تھیں۔
    واعظہ کا انداز ہرگز بھی پچھتانے والا نہیں تھا سیہون کو رشک آیا اس پر۔
    تو اٹھا کر کوئی بہانہ بنا دیتیں کوئی نئی اپائنٹمنٹ لے لیتیں۔
    سیہون کا سر پیٹنے کو دل چاہا۔ وہ بھی اسکا۔
    روزہ تھا جھوٹ بولتی میں روزے میں۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں
    تو وہ تلملا کر کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔ پھر دوبارہ اسٹرا منہ میں لے لیئے۔ کئی گھونٹ بھر کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔
    تم کرنا کیا چاہ رہی ہو اپنی زندگی کے ساتھ؟ تعلیم مکمل کرنی نہیں نوکری کوئی ہے نہیں لے دے کے ایک اپارٹمنٹ ہے تو اسکی لیز مکمل ہونے والی کیا کروگی پھر؟
    مجھے نہیں پتہ۔ وہ چڑ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے اسکی سر سری سی نظر پڑی۔ پھر باقائدہ چونک کر اس نے اس آہجوشی کو دیکھا جو اسکے چونک کر دیکھنے پر سٹپٹا کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
    عجیب فیشن نکل رہے ہیں بھئی۔ وہ بڑبڑائی ضرور۔
    نین نقش سے تو کورین نہیں لگ رہا تھا بندہ مگر پھر بھی فیشن پورے تھے آگے سے بالوں کا ایک گچھا ماتھے تک آرہا تھا باقی سر پر گول مشین پھیری ہوئی تھی۔
    فلور نمبر چار پر لفٹ کے رکنے پر اس نے ترچھی نگاہ سے اس آدمی کو دیکھا تھا۔ وہ سٹپٹاتا جلدی سے فاطمہ سے پہلے لفٹ سے باہر نکلا۔
    یہ کون ذات شریف ہیں ؟۔ آج سے پہلے تو نہیں دیکھا۔ فاطمہ تفتیشئ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ انکے اپارٹمنٹ کے سامنے والے اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجاتے اس آہجوشی نے شائد نظریں محسوس کر کے مڑکر دیکھا۔
    کہیں یہ طوبی کے شوہر تو نہیں۔ فاطمہ کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔مگر کیا سوجھی انکو یوں لونڈوں لوفروں کی۔طرح کا ہیئر اسٹائل بنوانے کی۔ وہ سر جھٹکتی اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے لگی۔
    آہ آہ۔ عزہ کی چیخ الف کی آواز۔ بے ہنگم شور
    خدا خیر کرے۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے دروازہ کھولا۔ دروازے کی چوکھٹ کے بیچوں بیچ دھاگے سے لٹکتے لیموں کا گچھا سیدھا اسکی آنکھ میں لگا۔
    آہ وہ جلدی سے سہلانے لگی۔ چوٹ سے زیادہ اسے اندر مچی چیخ و پکار کی فکر تھئ۔
    آپ 119 کو کال کریں جلدی ۔ مڑ کر دلاور کو ہدایت دیتی وہ اندر بھاگئ۔
    سچ مچ ایمرجنسی ہے بھی کہ نہیں اپنے منے بالوں کے گچھے پر بلا ارادہ ہاتھ پھیر کر وہ متزبزب ہوئے۔
    طوبی اورہےجن اس فتنی مرغی کو پکڑنے میں ہلکان ادھر سے ادھر جست لگا رہے تھے جو گھبرا کر عزہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اس پر اچھل اچھل کر جا رہی تھی الف اور نور یونہی چیخ چیخ کر ادھر سے ادھر بھاگ رہی تھیں۔فاطمہ ہکا بکا صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
    تبھی دروازے پر دستک دیتے انکی چیخ پکار سے متاثر ہوتے دلاور اندر چلے آئے
    کیا ہو۔۔۔ انکا جملہ منہ میں ہی تھا کہ بیلن کھٹ سے انکی کنپٹی پر آکر لگا۔ یہ الف تھی جس کے پائوں تلے مرغی آگئ تو دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر چیخیں مارتی بیلن چھوڑ بیٹھی تھی۔۔
    نہیں چھوڑوں گی آج۔ آج نہیں بچے گا کوئی مجھ سے۔ جان لے لوں گی میں سب کی۔
    دھاڑ سے دروازہ کھولتی عروج بکھرے بالوں سرخ آنکھوں کے ساتھ چلائی ۔ سوج کے چندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جو سر پر دے مارنے کے لیئے ادھر ادھر چیز ڈھونڈی تو ایک نرم سی کالی سی چیز پیروں میں آلپٹی۔ بس سارا غصہ دھرا رہ گیا اب اسکی بھی چیخیں بلند ہوگئ تھیں۔ ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 12

    قسط بارہ
    وہ کمرے میں جانے کیلئے اٹھی تھی۔ ابھی کمرے کا دروازہ کھولنے کیلئے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ خاتون آندے آندے کہتی ہوئی آئیں۔ اس نے مڑ کر سیہون کو دیکھا تو وہ کندھے اچکا گیا۔ اسے دروازے پر روک کر سیہون کو بھی اسکے پاس لا کھڑا کیا تھا انہوں نے پھر باورچی خانے کی درازیں کھول کھول کر جانے کیا تلاشتی رہیں پھر کچھ نہ کچھ مل ہی گیا انہیں تو خوشی خوشی دوڑی چلی آئیں۔
    ایک طشتری میں تھوڑے سے پھول چراغ اور جانے کونسی جڑی بوٹیاں رکھ کر وہ اسکی نظر اتار رہی تھیں
    تلسئ تو اس وقت گھر سے نکلی نہیں چراغ تو بدھا کے مندر سے کل واپسی پر ایک بچ کر آگیا تھا۔ مگر میری اچھی نیت کا خیال رکھنا میں بس تمہاری روایت کے مطابق تمہارا استقبال کرنا چاہ رہی ہوں۔
    خاتون اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں۔
    سیہون نے ترجمہ کیا۔ تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ مڑ کر پھر ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھایا توایک اور آندے سنائی دیا۔ اس نے سخت چڑ کر سیہون کو دیکھا۔
    ایک پلاسٹک کے چھوٹے سے پیالے میں وہ اب چاول ڈال کر لائی تھیں اسے دروازے کی چوکھٹ میں رکھ دیا۔
    گھر میں داخل ہوتے وقت تو میں یہ رسم پوری نہ کر سکی لیکن اب تم لوگوں کمرے میں داخل ہونے لگے ہو تو اسے ٹھوکر مار کر رسم پوری کر لو۔۔
    وہ کلش گرانےوالی رسم پوری کرنا چاہ رہی تھیں۔ سیہون نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔
    کیا میں یہ چاولوں کے پیالے کو ٹھوکر ماروں ۔؟ میرے خدا اتنی بڑی رزق کی بے حرمتی نہیں کر سکتی میں۔۔ فاطمہ بدک گئ۔ سیہون تو سمجھا تھا کہ وہ آرام سے رسم پوری کرکے کمرے میں چلی جائے گی جان چھٹ جائے گی اسکی مگر یہاں تو وہ بدک کر کھڑی ہوگئ تھی
    کیا کہہ رہی ہے یہ۔ آنٹی کو دستی ترجمہ درکارتھا۔
    ایک تو وہ تمہیں بہو سمجھ کر تمہاری تہزیب و رواج کے مطابق استقبال کرنا چاہ رہی ہیں اور تم نخرے دکھا رہی ہو۔ وہ بھنا گیا۔۔
    بالکل نہیں یہ ہماری تہزیب و رواج نہیں کہ رزق کو ٹھوکر ماریں کبھی چاول تو چھوڑ نمک کا دانہ بھی زمین پر گر جائے امی ڈانٹ کر کہتی تھیں اٹھائو نہیں تو قیامت کے دن تو پلکوں سے چننا پڑ جائے گا۔ نا کہ میں روزے میں چاولوں کو پیروں سے ٹھوکر ماروں۔
    اف۔ سیہون بال نوچنے کو آگیا۔
    اور یہ بتائو تمہاری امی کو یہ سب کیسے پتہ ہے؟ پچھلے جنم میں ہندونی تو نہیں تھیں۔ فاطمہ کو شک گزرا۔
    ہرگز نہیں یہ انکی پہلی زندگی ہے۔ سیہون نے بھنا کر جتایا
    پھر؟ فاطمہ کو جواب درکار تھا۔ اب سہولت سے خالص پاکستانی پنجابن کے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھ کر دوبدو ہوئی۔
    آہموجی انڈین فلمیں اور ڈرامے کورین سب ٹائٹلز کے ساتھ بہت شوق سےدیکھتی ہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک لوکل سینما ہے جس میں وہ فلموں کو کورین سب ٹائٹل اور کبھی کبھار ڈبنگ کے ساتھ بھی دکھاتے ہیں۔انڈین فلمیں بہت پسند ہیں انکو وہاں سب کا مل۔جل کر ایک۔ساتھ رہنے کا ماحول بہت پسند ہے۔ اسلیئے وہ تمہیں خوش کر دینا چاہتی ہیں۔
    سیہون چہرے پر مسکراہٹ سجائے انگریزی بول رہا تھا۔ خاتون کو یہی تاثر جا رہا تھا کہ دونوں یونہی آپس میں کوئی بات کر رہے ہیں۔
    کرو نا۔ خاتون نے پھر اسے ٹھوکر مارنے کو کہا تو وہ مناسب الفاظ میں منع کرنے لگی تھی کہ
    میں کر دیتا ہوں۔ سیہون نے کہتے ہوئے ٹھوکر مار کر کلش گرانا چاہا بروقت فاطمہ نے تائیکوانڈو کی ٹرک آزما کر ٹانگ اڑا کراسکی پنڈلی میں زوردار لات مار کر اسکی ٹانگ روک دی وہ منہ کے بل گرتے بچا تو خشمگیں نظروں سے گھورنے لگا۔
    میں رزق کو ٹھوکر مارنے نہیں دے سکتی سمجھے۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا پھر یکسر بدلے ہوئے نرم سے تاثرات کے ساتھ خاتون کی جانب پلٹی۔
    یہ سب کی ضرورت نہیں بلکہ آپ آج یہاں رہیں گی تو انہی چاولوں سے آپکو اپنے ہاتھ کا بہترین پلائو بنا کر کھلائوں گی۔
    اس نے پیالہ اٹھا کر بہت تمیز سے انکو تھماتے ہوئے کہا تھا۔
    سیہون نےترجمہ کیا تو انکی آنکھیں جھلملا گئیں ۔
    سر ہلا کر جیسے انہوں نے اجازت دی جھٹ فاطمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور سکھ کا سانس لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے کچھ بھی یاد نہیں میں نے تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں کسی نے پیچھے سے میری ناک پر رومال رکھا تھا اور میرا زہن مائوف ہو گیا تھا۔
    عزہ کا بیان پولیس اہلکار ریکارڈ کر رہے تھے۔ وہ سب ہےجن کے کمرے میں ہی موجود تھے۔ عروج ساری رات کی شفٹ لگا کر فی الحال صوفے پر گری ہوئی تھی ۔ ہے جن بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا ساری رات کے آرام کے باعث وہ اب کافی بہتر لگ رہا تھا۔ عزہ بھی صبح ہی اٹھی تھی۔ واعظہ اور عزہ ہےجن کے پاس ہی کھڑی تھیں۔
    اہلکار نے ہنکارہ بھرا۔ پھر اگلا سوال داغ دیا
    ہمیں جائے وقوعہ سے ایک نقاب ملا ہے۔ بھاگتے ہوئے کسی کا گرا تھا ۔ اسکی شکل آپ تینوں میں سے کسی نے دیکھی۔؟
    میں تو ایک سے بھڑا ہوا تھا ہاں واعظہ نونا نے جب دوسرے کو ماراتو اسکے منہ سے نقاب گرا تھا ۔ میں نے جب اسے دیکھا تو وہ اپنے اپر سے چہرہ ڈھانپ چکا تھا مگرمجھے یقین ہے انہوں نے دیکھا ہے اسکا چہرہ۔
    ہے جن نے کہا تو عزہ اور دونوں اہلکار چونک کر اسکی جانب متوجہ ہویے۔ واعظہ گڑبڑا سی گئ۔
    مگر انہوں نے تو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے شکل بھی نہیں دیکھی۔ اہلکار کھردرے سے انداز میں بولا۔ واعظہ کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    آپ نےتو دیکھا ہے نا آپ پہچان لیں گی نا نونا۔ ؟ ہے جن شستہ ہنگل میں اس سے مخاطب تھا۔اسکا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حد ہے کیا مصیبت مول لے لی ہے میں نے۔
    اس نے جھلا کر اپنا پرس بیڈ پر پھینکا۔ اور خود باتھ روم میں گھس گئ۔ منہ پر خوب چھپاکے مار مار کر غصہ ٹھنڈا کیا۔
    ایک کے بعد ایک۔ اوپر سے یہ کورین انڈین ڈراموں کو دیکھتے ہیں مطلب کوئی آخری حد ہے حماقت کی۔ ہم پر تو زبان ایک ہونے کی وجہ سے ہندوستانی مواد مسلط رہا یہ کس خوشی میں گائو ماتا، کلش سیندور جانے کیا کیا سیکھ رہے ہیں۔ حد ہوگئ انڈین فلمیں یہاں چل رہی ہیں۔ پاکستانی پتہ نہیں کہاں سوئے پڑے وے ۔ ہمارے ڈرامے چلیں تو اس سب بکواسیات کو بھول جائیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے منہ جھاگوں جھاگ کر کرکے مل رہی تھی۔
    پاکستانی ڈرامے دیکھے ہوتے تو یوں راتوں رات بیٹے کے بیاہ رچانے اور بہو لا دینے پر بہو کی آرتی اتارنے کی بجائے اسے دھکے دے کر باہر نکالتیں کہاں کلش گروا رہی ہیں مجھ سے۔۔اور بیٹے کا تو فٹا فٹ اپنی بہن کی بیٹی سے نکاح پڑھوا دینا تھا۔ویسے کوریا میں دو شادیوں کی اجازت تو نہیں۔۔
    منہ پر چھپاکے مار کر آئیںے میں چہرہ دیکھا تو ٹھنڈے پانی سے چہرہ جم کر سفید پڑ چکا تھا سیہون کی رنگ کے حساب سے بہن ہی لگ رہی تھی اب
    کہاں سے میں انڈین لگی انکو اتنی تو گوری سی ہوں۔۔
    ۔۔ وہ چند لمحے خود کو دیکھتی ہی رہ گئ۔ ایک چھوٹی سی ہاتھ میں پہننے والی گھڑی آئینے کے نیچے کارنس پر پڑی تھئ۔ اس نے اٹھا کر دیکھی تو برانڈڈ قیمتی رسٹ واچ تھئ۔مگر وقت ابھی برا ہی بتا رہی تھی سوا سات۔ قریبا آدھا گھنٹہ تھا۔۔افطار میں۔
    بھوک لگ رہی ہے اب تو۔ افطار کر کے ہی اب نماز پڑھوں گی۔وہ جسمانی سے ذیادہ ذہنی طور پر تھکن سے نڈھال ہوئی وی تھئ۔
    افطارئ بنائوں جا کے؟ وہاں تو اس وقت کوئی نہ کوئی بنا چکی ہوتی ہے افطاری۔ وہیں رہتی اگر پتہ ہوتا کہ آج یہاں آنٹی آرہی ہیں۔وہ خود پر ترس کھاتی باہر نکلی سیہون بیڈ پر کہنی آنکھوں پر ٹکائے لیٹا ہوا تھا۔
    اب تم کیا کر رہے ہو یہاں۔ ؟ جھلاہٹ تو سوار تھی ہی ۔ اتنی زور سے چیخی کہ سیہون گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    کیا مسلئہ ہے تمہارے ساتھ آرام سے بات نہیں کر سکتی ہو؟۔ وہ بھی بگڑکر بولا
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا
    اپنے کمرے میں آرام کر رہا ہوں اور کیا ۔
    وہ دوبارہ دراز ہو گیا۔ آنکھیں بھی بند کر لیں
    تو پھر میرا کمرہ کونسا ہے ؟ بتائو میں وہاں چلی جاتی ہوں۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ چند لمحے آنکھیں بند کیئے کیئے پرسکون ہوتا رہا پھر آنکھیں بند کیئے کیئے ہی بولا
    دو ہی کمرے ہیں اس گھر میں دوسرے میں آہموجی ہیں۔ وہ کل شام چلی جائیں گئ تو اپنا سامان وہاں رکھ لینا۔
    اور آج ؟ ہم دونوں ایک کمرہ شئیر کریں گے؟ دماغ تو نہیں خراب ہے تمہارا۔ میں ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے پر بالکل راضی نہیں تھی تمہارے ساتھ کجا ایک کمرے میں ناممکن۔ میں ایک منٹ یہاں نہیں رکوں گئ۔ تمہاری آہجومی ۔۔۔۔
    وہ تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھانے لگی تو وہ ساری برداشت و تحمل ایک طرف رکھ کر گرجا
    اسی لیئے صبح سے بار بار فون کرتا رہا تھا کہ تم آج وہیں رہو آج آہموجی آرہی ہیں۔ مگر تم نے ایک بار بھی فون ریسیو نہیں کیا ایک اور نمبر میسج کیا تم نے اس پر الگ میسج بھیجا مگر جواب دور تم الٹا مجھے سرپرائز دینے یہاں موجود تھیں۔
    اسکے بیگ اٹھاتے ہاتھ تھمے۔ عشنا کا خطرناک سا پیٹرن تصویر دیکھ کر تو اس نے کھول لیا تھا مگر اسکا پیغام ہنگل میں تھا یقینا یہ سیہون کی غلطی تھی۔ ابھی انگریزی میں بھیجا تو اس نے پڑھ لیا تھا مگر اس سے قبل والا میسج دیکھ کر اسے تو یہی لگا کہ بلا رہا ہے سو عشنا کو بتا کر وہ بھاگم بھاگ یہاں آپہنچی تھی۔
    اس نے موبائل نکالا دو تین غلط کوششوں کے بعد اسکا موبائل انلاک ہو ہی گیا تھا۔ سو اسکا پیغام نکال کر موبائل اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتا موبائل۔تھام کر دیکھنے لگا۔ ایک پیغام ہنگل میں دوسرا انگریزی میں تھا۔
    چھے سو۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر انگریزئ میں بولا
    آئیم سوری۔ مگر پلیز میری مجبوری سمجھو۔میں اپنی آہموجی کا دل نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے آہبوجی کے بعد بہت مشقتوں سے مجھے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کی ہے۔ مجھ سے انکو بہت امیدیں ہیں۔یہ انکا بے لوث پیار ہی ہے جو میری اچانک بیوی کو اتنا مان دے رہی ہیں۔تم آج کسی طرح گزارا کر لو۔ میں ادھر زمین پر بستر کر لوں گا۔۔وہ منتوں پر اتر آیا تو وہ چپ سی ہوگئ۔ پھر کہے بغیر نہ رہ سکی۔
    اس سے تو بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔۔
    عشنا بٹر بٹر گھورتی انکی نگاہوں سے تنگ سی آگئ
    کیا ہو گیا اسکو موقع ملا ہے وہ کسی کے ساتھ اپارٹمنٹ شیئر کر سکتی ہے تو کر رہی ہے۔
    مگر کون کس کے ساتھ؟ کون ہے اتنا مہربان جو بے روزگار لڑکی کواپارٹمنٹ دے رہا ہے ۔۔ نورحیران بلکہ پریشان ہو چلی تھئ۔
    ویسے اچھا ہی ہوگاآرام سے رہے گی ہم لوگ کیسے مرغیوں کی طرح اتنے لوگ اکٹھے ٹھنسے ہوئے رہتے ہیں ۔۔ الف کو رشک آیا۔
    بتائو نا کون دے رہا ہےاسے مفت میں جگہ؟ نور نے شانہ ہلادیا عشنا کا۔
    دے رہا ہے؟ عشنا نے چونک کر پوچھا۔
    میں نے تو نام بھی نہیں لیا آپکو کیسے پتہ کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گئ؟اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    میں نے تو بس اتنا کہا ہے اسکو ایک اور اپارٹمنٹ میں رہنے کی جگہ مل گئ ہے تو اب وہ وہیں رہے گی۔
    کیا لڑکے کے ساتھ رہے گی؟ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
    دیکھیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
    عشنا گھبرا اٹھی۔
    ابھی تو کہا ہے۔ دیکھو رمضان چل رہا ہے جھوٹ مت بولوسچ بتائو وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گی اب سے؟ نور کا انداز اگلوانے والا ہو چلا تھا۔
    رمضان ہے جبھی تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ عشنا بے چارگی سے بولی۔ اور سچ بتا بھی نہیں سکتی فاطمہ اور واعظہ جان نکال دیں گئ میری۔ آخری جملہ منہ ہی منہ میں بدبدا گئ۔
    توبہ کیا ہے زور سے بولو نا ۔ الف نے اسکا کندھا ہلایا
    بھئ فاطمہ سے خود پوچھو نا مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔ اتنی فکر ہے تو میرے نمبر پر فون کرو بات کرکے اسی سے پوچھ لو مجھے پریشان مت کرو۔ عشنا جھلا ہی گئ۔
    میں کیوں پوچھوں۔ آگے میری اسکی بول چال بند ہے۔ میرے ایکسو کو کیا کچھ نہیں کہا تھا اس نے۔ الف کو اپنے رستے زخم یاد آئے تو دکھی ہوگئ
    تم دونوں کی صلح نہیں ہوئی؟ نور حیران ہوئی۔
    اس دن تو اکٹھے آئی تھیں بلکہ فاطمہ تمہارا آدھا سامان اٹھا کر لائی تھی ہم تو سمجھے تھے دوستی ہوگئ ہے تم۔لوگوں کی۔
    نور نے حیرت سے کہا تووہ نظر چراگئی۔۔
    ہاں مگر بات تو نہیں کی ہم نے آپس میں۔
    پھر بھی پانچ دن بعد عید ہے تم لوگوں کی لڑائی بڑھتی ہی جا رہی ہے تین دن سے ذیادہ ناراضگئ نہیں رہنی چاہیئے رمضان میں تو انسان اور نرم دل ہو جاتا اور لڑائی ہوئی کس فالتو بات پر ہے تم دونوں کی ایکسو بی ٹی ایس دونوں کوریا کے پاپ میوزک بینڈ ہیں۔ انکے گانے پسند کرو ٹھیک ہے مگر یہ کیا دیوانگی ہے کہ ان فنکاروں کیلئے لڑنے مرنے پر اتر آنا جو آپکو جانتے تک نہیں۔ انکی موسیقی کا لطف لو بس کافی ہےانکو پاگلوں کی طرح آئیڈل بنا لینا حماقت ہے وہ بھی میری تمہاری طرح عام انسان ہیں تھوڑے اچھے تھوڑے برے۔ ہاں انکو دکھایا ایسے جاتا کہ لگتا ہے دیوتا ہیں وہ نرم دل مکمل سے انسان۔ مگر حقیقت میں وہ بھی کبھی غصے میں آتے ہونگے کبھی ان سے بھی دل دکھتا ہوگا کسی کا۔ جنگ کوک ایسا سیہون ویسا۔ تم لوگوں کو کیا پتہ وہ کیسے۔ جب انکی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انکو پتہ نہ ہواور وہ قدرتی ردعمل ہی دیں۔ کیا پتہ جو یہ رئیلیٹی شوز چلتے ہیں ان گروپ کے انکے بھی اسکرپٹ بنتے ہوں اس پر وہ اداکاری ہی کرتے ہوں ہمیں لگتا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑک رہے اصل میں کیا خبر انکے تعلقات جانی دشمن جیسے ہوں۔ مگر اپنے پرستاروں کو ان لوگوں نے اپنے ساتھ مصروف رکھا ہوا ہے فالتو ویڈیوز سے۔
    نور ان دونوں کو کب سے یوں سمجھانا چاہ رہی تھی آج جاکے موقع ملا تھا۔ سو سب حقیقتیں کھل کر بیان کر ڈالیں۔ الف تو نہیں عشنا البتہ سر جھکا گئ تھی۔
    ایویں۔ سیہون اور بیکہوں سچ مچ دوست ہیں ہر کنسرٹ میں انکی ایسی کلپس ہوتی ہیں اب ہروقت تو اداکاری نہیں کر سکتے۔ الف کیلئے ابھی یہ سب ہضم کرنا مشکل امر تھا۔۔۔
    جنکا روزگار ہی اسی سے وابستہ ہو وہ کیوں نہیں کر سکتے اداکاری ؟۔ نور کا سوال کڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے افطاری کیلئے چکن پلائو اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ خاتون کو سیہون کی دیکھا دیکھی آہموجی کہا تو وہ جیسے واری صدقے ہو اٹھیں۔
    میز پر کھانا لگا کر وہ خود سیہون کو بلا کر لائی۔ وہ لیپ ٹاپ پر لگا ہوا تھا جب اس نے کھانا لگنے کا بتایا
    آجائو کھانا کھا لو پلائو بنایا ہے چکن کا میں نے۔اور شکریہ حلال ٹیگ والا۔چکن لانے کیلئے۔۔
    وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بنا سر ہلا کر بولا
    جائو کھائو تم نے صبح سے نہیں کھایا ہوگا میں بعد میں کھا لوں گا۔۔
    وہ ہونٹ بھینچے کھڑی گھورتی رہی۔ اسے شائد احساس ہوا کہ کیا نگاہ اٹھائی تو دروازے پر کھڑی گھورتی فاطمہ کو دیکھ کر جھٹ لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    خوشبو دار ہلکے سے زردئ مائل سفید کھلے کھلے چکن پلائو کا دانا دانا الگ تھا اور مہک رہا تھا۔
    ان دونوں کے آگے چاپ اسٹکس رکھی تھیں۔
    ڈش سجی تھی پلیٹیں بھی۔ اس نے انتظار کیا پھر خود ہی آگے بڑھ کر خاتون کی پلیٹ میں چاول نکالے اور خوب بڑی سی بوٹی بھی۔ انکی آنکھیں جھلملا گئئں مگر فاطمہ بے نیازی سےان پر توجہ کیئے بنا اپنی پلیٹ میں چاول نکال رہی تھی۔
    چھائے موکے سبندا۔خاتون نے کہا تو وہ جوابا سیہون کو دیکھنے لگی۔ اس نے ترجمہ کیا۔
    میں خوب پیٹ بھر کر کھائوں گی۔
    ہم تو میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہیں دعوت پر یہ تو کھانا ختم کرکے شرمندہ کردینے کا ارادہ باندھے ہیں۔
    وہ دانستہ اردو میں بڑ بڑائی۔ اب آہجومہ سیہون کو دیکھ رہی تھیں کہ ترجمہ کرے۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیا اسکی۔جانے بلا کیا بڑ بڑا رہئ ہے۔
    اس نے چاپ اسٹک سے چاول اٹھائے تو وہ پھسلتے چلے گئے ۔۔ ایک۔بار دو بار۔اس نے آہموجی دیکھا تو وہ بھئ
    بے چارگی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ دونوں نے فاطمہ کو دیکھا جو مزے سے چمچ بھر کر منہ میں رکھ رہی تھی۔
    یہاں کوریائی ثقافتئ فرق نظر آرہا تھا انکے نزدیک چاول کم گلے تھے جو ہمارے یہاں جڑے ہوئے اور پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے جب کہ وہ خاص کر چاول ذیادہ گلا کر انکو لبٹیوں کی شکل میں گھوٹ لیتے جس سے چاپ اسٹکس سے انکا چھوٹا سا لوتھڑا بنا کر کھانا آسان ہوتا ہے۔ سیہون خاموشی سے چمچ لینے اٹھ گیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون زمین پر کیمپنگ بیڈ بچھا کر سوگیا تھا۔ بیڈ کراوئون سے ٹیک لگائے وہ نیم دراز آگے کا لائحہ عمل طے کرنے اور سوچنے میں مصروف تھئ۔
    اب مجھے ذاتی پسند نا پسند ایک طرف رکھ کر کوئی بھی چھوٹی بڑئ جاب کر لینی چاہیئے۔ سیہون کو تو میں پیسے دیئے بغیر یہاں نہیں رہ سکتی ۔ واعظہ کی بات اور تھی۔ واعظہ کو جانے عشنا نے بتایا کہ نہیں۔۔۔اس نے جوش میں سائیڈ ٹیبل سے موبائل ااٹھایا۔۔ پھر وقت دیکھ کر رک گئ گیارہ ہو رہے تھے۔سحری کیلئے اٹھنے والے اس وقت سو رہے ہوتے ہیں یہ سوچ کر موبائل دوبارہ اسی جگہ رکھا۔۔
    ۔آہجومہ جانے کیا کیا کہتی رہی ہیں یہ کمینہ خود تو آکر سو گیا مجھے پھنسا کر انکے پاس۔ بس دے دے ہی کرتی رہی ہوں ویسے۔مجھے ہنگل بھی اب سیکھنے کیلئے کسی اکیڈمی میں داخلہ لینا چاہیئے۔ مگر اسکے لیئے تو پیسے درکار ہیں۔ اف۔ پاکستان ہی چلی جائوں۔ مگر وہ گنجا عمران ابھی تک اس نے شادی نہیں کی امی نے اس سے نہیں تو کسی اور سے پکا شادی کرا دینی میری اگر پاکستان گئ تو۔ لیکن میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟؟؟ وہ سوچ میں پڑی۔
    نہ میرے پاس ڈھنگ کی جاب نہ ہی کوئی بڑی ڈگری۔ پڑھائی شروع کردوں دوبارہ۔ یہاں ہی شادی نہ کر لوں۔
    اسے اچھوتا خیال سوجھا تو جزبات میں سیدھی اٹھ بیٹھی۔
    سیہون کے ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ سیہون پر نگاہ پڑی تو ہونٹ بھینچ لیئے۔
    ویسے کر تو لی ہے شادی اب تو اگلے چھے مہینے دوسری شادی بھی نہیں کر سکتی۔ میں تو شادی کر ہی نہیں سکتی یہاں کونسا میرے لیئے درجن بھر رشتے موجودہیں۔ وہ خود ہی اپنے خیالوں پر لعنت بھیج کر رہ گئ۔
    اوپا ہوتے تو بڑے زبردست ہیں یہ سیہون بھی اتنا چلائی ہوں اس پر مجال ہے جو ماتھے پر بل بھی آئے زرا سا غصہ کیا بھی تو دس بار سوری بولا۔ احمق۔ اسکو تو وہ میری پیری ٹھیک الو بنا سکتی ہے۔ کتنی لائوڈ لڑکی تھی ویسے۔ آہش۔ کیسا گال پر چماٹ مار دیا ۔ ایک بار تو اسکے بھی منہ پر ویسی چماٹ مارنی ہے مجھے موقع ملے تو سہی۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔
    کیا کچھ سوچے جارہی ہوں موبائل پاس نہ ہو تو بندہ بس سوچ سوچ کر ہی مر جائے۔ اب یہ عشنا کے موبائل میں کیا کروں فیس بک کا پاسورڈ تک یاد نہیں بس موبائل میں لاگ ان رہتی ہے میری تو۔ اس نے سائید ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ پیٹرن بدل کر لاک ہی ختم کر دیا۔ ایک دو ایپس کھول کر دیکھیں۔
    کل پہلی فرصت میں موبائل تو جا کر واپس کروں۔ اسکا موبائل تو سام سنگ کم لی من ہو برانڈ زیادہ لگ رہا ۔ ہر طرف منہو کی تصویریں۔ بے کار۔ وہ اکتا کر رکھنے ہی لگی تھی کہ نیا پیغام آیا۔ اس نے یونہی کھول لیا
    پیغام انگریزی میں تھا ۔ شکریہ ادا کیا گیا تھا کہ انٹرنیشنل لی من ہو کے فین کلب کیلئے اپلائی کرنے پر ۔ اسے شامل کر لیا۔گیا تھا۔ کچھ رقم موصول وصول ہو چکی تھی کچھ مزید طلب کی گئ تھی اور رقم کے آخر میں لکھے صفر گننے شروع کیئے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔ پھر تھوڑا سا منہ بھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل آپ پولیس اسٹیشن آجائیں ہم آپکو کچھ مشتبہ افراد کی تصاویر دکھائیں گےان میں سے شناخت کر لیجئے گا آپ۔
    اہلکار نے کہا تو وہ بمشکل اثبات میں سر ہلا گئ۔
    کرم۔ اہلکاروں نے ہلکا سا جھک کر اجازت چاہی ۔۔ انکے نکلتے ہی عزی واعظہ کی جانب مڑی
    کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ پہچان لو گی۔
    آہا ۔ آں۔۔ وہ۔۔ وہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
    ہاں مجھے پتہ ہے میں نے خود دیکھا ہے نونا نے اسکو مار کر جھکایا تو اسکےچہرے سے نقاب سرک گیا تھا۔ نونا نے دیکھی ہے جھلک اس نے کہنی سے منہ ڈھانپ لینا چاہا تھا مگر نونا جب دوبارہ دیکھیں گی تو پہچان لیں گی۔ ہے نا؟۔ ہے جن روانی میں ہنگل بول کر اس سے تائید چاہ رہا تھا۔
    پہچان ہی نہ لے۔ میرے کولیگ نے اسکی اتنی مدد کی جب لاسٹ ٹائم یہ کاسٹ لگوانے آئی تھی اس سے اتنی باتیں کیں اور کل دوبارہ ملا تو اسکو بالکل یاد نہیں تھا وہ۔
    عروج انگڑائی لیکر اٹھتے ہوئےانگریزی میں بولی۔۔۔
    ہیں؟ ہے جن حیران ہوا تو عزہ بھی اسے چونک کر دیکھ رہی تھی۔
    کل جا ئوں گی پولیس اسٹیشن۔ دیکھو کیا ہوتا۔ وہ انکی۔نظریں محسوس کر کے خود کو سنبھالتی ہوئی بات بدل گئ۔ کچھ دن تم چھٹی کر لو عزہ جب تک ملزمان کا کوئی سراغ نہیں مل جاتا۔
    ویسے عجیب نا تجربہ کار ہی لوگ تھے ۔ جب عزہ نونا کا نقاب ہٹ گیا تو بجائے انکو گاڑی میں ڈالنے کے آپس میں باتوں میں لگ گئے جبھی تو تھوڑا سا مجھے وقت ملا ان پر حملہ کرنے کا ۔۔ایک کہتا یہ دیکھو دوسرا بولا جو بھی ہے لے چلو۔یعنی۔ وہ بولتے بولتے چونکا۔
    ہاں ابھی تم پولیس والوں کو بھی یہی بتا رہے تھے ۔ واہ میں کوئی فالتو تونہیں۔ جو بھی ہے لے چلو۔
    عزہ نے کندھے اچکا کر واعظہ سے تائید چاہی مگر وہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں اس نے سٹپٹا کر عروج کو دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے ہے جن کی جانب رخ کیا تو وہ اس پر سے نگاہ ہٹا کر بولا۔
    جب عزہ کا چہرہ دیکھا تو رک سے گئے تھے پھر بولے جو بھی ہے لے چلو۔۔۔۔۔۔یعنی وہ کسی اور کو لینے آئے تھے؟؟؟
    تینوں نے کم و بیش یہی جملہ بولا تھا وہ بھی اکٹھے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام قسط 12۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 11

    قسط 11

    رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہے جن دوائیوں کے زیر اثر بے خبر سو رہا تھا۔ اسے کمبل اڑھا کر بتی بجھا کر بس رات کا زیرو کا بلب جلا کر آہستگی سے کمرے سے نکل آئی۔ عروج کی اس وقت ڈیوٹی تھی۔ اور آج تو اپنی ڈیوٹی پر وہ تین گھنٹے پہلے ہی آگئ تھی اسکے بلانے پر۔ اس نے اپر کی جیب سے موبائل نکالا پھر گہری سانس لیکر رہ گئ۔ موبائل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ ہے جن کو اس دیو ہیکل آدمی کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر جس طرح دل اچھل کر حلق میں آیا تھا وہیں عزہ کی جانب بڑھتے اس آدمی کو دیکھ کر اسکی روح فنا ہونے لگی تھی سو بلا سوچے سمجھے موبائل ہی اسے اٹھا کر دے مارا ۔ نشانہ ٹھیک بیٹھا سیدھا کنپٹی پر لگا تھا اسکو لہراتے دیکھ کر اسے موقع ملا تھا جو سانڈ کو پیٹ سکی بیگ بھی مارا۔ پھر ان کے بھاگتے ہی ریسکیو کو کال ملانے کیلئے موبائل اٹھایا تو ایک دھچکا اور منتظر تھا اسکا ۔ اسکا موبائل بری طرح سڑک پر رگڑا گیا تھا نا صرف اسکرین پروٹیکٹر کے ساتھ ٹوٹی تھی بلکہ اسکی بیک سائیڈ بھی ننھے منے ٹکڑوں میں بٹ گئ تھی کچھ موبائل سے چپکے رہ۔گئے کچھ شائد سڑک پر پڑے ہونگے۔
    اس نے اسکرین انلاک کی تو الف نے اسے نور کی تصویر بھیجی ہوئی تھی ساتھ ہنستے ہوئے پوچھا تھا کہ جاندی لگ رہی ہے نا یہ؟
    ہاں۔ اس نے بلا توقف لکھ بھیجا
    دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈال کر وہ عروج سے ملنے وارڈ کی طرف نکل آئی۔ وہ ایک مریض کے سرہانے کھڑی گٹ پٹ لگی ہوئی تھی۔اسکو دیکھ کر اشارے سے اپنے کیبن کی جانب جانے کا کہا وہ سمجھ کر اسکے کیبن کی جانب بڑھ گئ۔ اسکے کیبن کے ساتھ والے کیبن میں بیٹھا وہ لمبا سا لڑکا فون پر لگا تھا اسے دیکھ کر استقبالیہ مسکراہٹ اچھالی۔ وہ نظر انداز کرتی ۔ آرام سے عروج کئ میز پر آبیٹھی اورلیپ ٹاپ کھول کر ایٹ بال پول لگا لی۔
    کیسی ہیں آپ واسیہ۔ فون بند کرکے وہ اسکے پاس آکھڑا ہوا۔
    وہ متوجہ بھی نہ ہوئی۔ اس نے پیشانی کھجائی جیسے سوچنے لگا ہو پھر چٹکی بجا کر بولا
    اوہ نہیں واعسہ۔ وائزہ۔ اٹک اٹک کر وہ قریب قریب درست تلفظ سے بولا
    دے۔ وہ اپنے نام پر چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
    کیسی ہیں آپ بڑے دنوں بعد نظر آئیں بازو ٹھیک ہوگیا آپکا؟
    جی۔ وہ حیران سی ہوتئ ہوئی سیدھی ہو بیٹھی۔ اسکا مخالف کافی تیز تھا اسکی شائد باری نہ آتی۔
    اب میں ٹھیک ہوں ۔ اسکے انداز سے صاف ظاہر تھا اسے پہچانی ہی نہیں ہے ۔ وہ بے ساختہ محظوظ ہو کر ہنس دیا۔ کینڈا میں اپنے مخصوص سے نقوش اور نرم سے مزاج کے باعث سب اسے اسکے نام کی بجائے اوپا کہتے تھے لڑکیاں خاص کر اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں ایک بار کسی سے مخاطب ہو لے تو اگلی ملاقات کیلئے اس سے شہہ پا کر لڑکیاں مکھیوں کی طرح منڈلاتی تھیں اسکے گرد۔ یہاں آکر اس سے بھی ذیادہ اسکی طلب میں اضافہ ہوا تھا مگر اسکی شخصیت کی مقناطیسیت شائد ان دو لڑکیوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی تھی شائد یوں کہیں بس اسی قومیت کی لڑکیوں پر بے اثر تھئ۔
    عروج سوکھے ہوئے اخروٹوں کا بڑا سا پیکٹ اٹھائے ادھر ہی چلی آئی۔
    آپ نے مجھے پہچانا نہیں لگتا ہے ۔۔۔۔میں آپکا ساتھی بنا تھا ایک بار ہم مل کر جمعدار بنے تھے ڈاکٹر روج کی مہربانی سے۔
    وہ ہنس کر بول رہا تھا۔۔ عروج خفت زدہ سی اسکی جانب اخروٹ بڑھا کر بولی
    ویسے اس دن میں نے کافی حد کر دی تھی مجھے امید ہے آپ لوگ نرمی سے درگزر کر یں گے۔ شستہ انگریزی۔
    واعظہ کو اتنا تو یاد آگیا تھا کہ ٹوٹے ہاتھ کے ساتھ اسٹکی نوٹس اٹھا رہی تھئ کوئی اسکی مدد کر رہا تھا ، کسی نے کائونٹر پر اسکا فارم بھرا تھا ، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ تک راہنمائی۔ مانا مہینہ ہونے کو آگیا تھا پر اسکو چہرہ بالکل یاد نہیں تھا۔ اور نام۔۔
    عروج کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے لگی تو اسے بھی اخلاقا دعوت دئ۔
    بیٹھیئے۔
    سیونگ رو جیسے انتظار میں تھا سہولت سے اسکے سامنے بیٹھ کر واعظہ پر نظریں جما لیں۔
    واعظہ نے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔ لیپ ٹاپ پر اسکی باری آ چکی تھی
    واعظہ سیونگ رو کہہ رہا تھا کہ ہمیں پرائیوٹ کسی سیکیورٹی سسٹم کو گھر پر لگانا چاہیئے۔ جب تک تفتیش چلتی رہے کم از کم تب تک۔ تھوڑا مہنگا پڑے گا مگر ہم آٹھ لوگ ہیں مل بانٹ کر کر لیں گے۔ کیا کہتی ہو۔
    عروج کو یاد آیا تو جوش سے انگریزی میں بتانے لگی۔ واعظہ مکمل لیپ ٹاپ کے پیچھے چھپی تھی شائد سیونگ رو کی نظروں سے بھی بچنے کی کوشش تھی۔
    اے تم سے کہہ رہی ہوں۔ اس نے لیپ ٹاپ کے آگے ہاتھ لہرایا تو وہ چونک کر پوچھنے لگی
    عزہ کو ہوش آیا۔ ؟ وہ ذہنی طور پر کہیں اور تھی نگاہ لیپ ٹاپ پر تھی مگر ذہن میں منظر ۔ جب اس کے مارنے پر اس آدمی کے چہرے سے ماسک اترا ۔۔
    آندے۔ عروج بدمزا سی ہو کر پیچھے ہوئی۔ ایک بار اٹھی تھی مجھ سے پانی مانگا میں نے جوس لا کر دیا پی کر پھر سو گئ ہے اب صبح ہی اٹھائوں گی۔
    ہمم۔ اس نے ہنکارا بھرا
    روج بتا رہی تھئ تم نے اس غنڈے کی پٹائی بھی کی کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں آئی
    سیونگ رو نے پوچھا تو اس نے مسکرا کر اپنا موبائل سامنے رکھ دیا۔
    مجھے تو نہیں۔ اس کو زخم آئے ہیں ۔۔
    معزرت اسکا علاج میں نہیں کر سکتا ۔۔ وہ محظوظ ہو کر ہنس دیا۔
    ویسے آپ لوگوں کو محتاط رہنا چاہیئے کوریا میں غیر ملکیوں پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں ہےلوگ غیر ملکیوں سے پنگا نہی لیتے خاص کر وسطی ایشیائی ممالک کے باشندوں سے۔ یقینا کسی بڑے گینگ کا کام ہے آپ پہلی فرصت میں۔۔۔ وہ ڈرا نہیں رہا تھا محض منطق کی رو سے دیکھ رہا تھا معاملے کو اسکے محتاط جملوں کے استعمال کا اثر تھا کہ کیا واعظہ نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ ہنس کر بولی
    ہا ہا۔ ارے چھوٹا موٹا گینگ ہی تھا ایک ہائی اسکول کے بچے سے ڈر کر بھاگ گئے عزہ کو چھوڑ کر۔
    سیونگ رو بے چین سا ہوا
    لیکن مجھے لگتا ہے واعظہ ہمیں کسی سیکیورٹی کمپنی سے رابطہ کرکے جدید نظام نصب کروانا چاہیئے۔ عروج کہے بغیر نہ رہ سکی۔
    اب دیکھو گھر کے اندر کوئی گھس کر نور کے بال کاٹ گیا۔ وہ تشویش زدہ انداز میں بولی تو سیونگ رو بھی چونکا۔
    کیا واقعی؟
    ارے ۔۔ واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
    الف یا عشنا کی شرارت ہوگی یا فاطمہ کا کام ہوگا کسی کو کیا پڑی ہے کہ گھر کا تالہ توڑے مگر گھر سے ایک قیمتی چیز لے جانے کی بجائے بس بالوں کی لٹ کاٹ کر لے جائے کوئی تک ہے بھلا؟
    کس کے بال کاٹ دیئے۔ ؟ سیونگ رو کو سمجھ نہ آیا۔
    یار وہ ہماری اپارٹمنٹ میٹ ہے اسکے کسی نے صبح صبح آگے سے بال کاٹ دییے ماتھے سے۔ عروج نے بتایا تو اسکی آنکھیں تھوڑی اور کھل سی گئیں
    یہ جو یہاں داخل ہے لڑکی وہ بھی آپکی اپارٹمنٹ میٹ ہے اور وہ لڑکا بھی یعنی آپ چار لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔؟ کتنا بڑا اپارٹمنٹ لے رکھا ہے؟ اسکی حیرت بجا تھئ
    دو کمروں کا ۔۔ واعظہ اور عروج دونوں نگاہ چرا گئیں
    دو کمروں میں ہمم چار لوگ ہاں ٹھیک ہے رہ سکتے ہیں ۔۔
    چار نہیں آٹھ۔
    اس بار دونوں اکٹھے بولیں مگر زیر لب۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تین لوگ ہیں ہم پھر بھی گھر خالی خالی نہیں لگ رہا؟
    وہ تینوں ڈبل بیڈ پر لاشوں کی طرح پڑی تھیں۔ نیند جو آبھی رہی تھی وہ گھڑی دیکھ کر سحری میں دوبارہ اٹھنے کے خیال سے بھاگ بھاگ جاتی تھی۔
    چار بلکہ پانچ لوگ گھر سے باہر ہیں اسلیئے۔
    عشنا کا حساب ۔ نور اور الف اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    یار واعظہ نے اسپتال آنے سے منع کر دیا کہیں واقعی عزہ کی حالت خراب تو نہیں اور وہ ہمیں بتا نہ رہی ہو؟ الف کو انوکھا خیال سوجھا اٹھ بیٹھی
    بالکل تم اسکی ماں میں اسکی دادی عشنا نانی تینوں ہم کمزور اولاد کا صدمہ دل پر لے کر ہم دل پکڑ لیں گی اسلیئے نہیں بتایا واعظہ نے۔ نور جل کر بولی۔
    الف کھسیا سی گئ۔ یہ بھی ہے۔مگر ہم ایک۔نظر دیکھ لیتے تو بہتر نہ رہتا یا واعظہ ہی واپس آجاتی کیوں نہیں آئی وہ واپس وہاں عروج تو ہے۔۔۔ اس نے نئی منطق سوچ ڈالی
    نور بھی اٹھ کر آلتی پالتی مار بیٹھی
    ہم تینوں چلےجاتے تو گھر پر کون رہتا؟ پولیس والے گھر آکر بیان لیکر گئے ہیں ہم سے عزہ کی پشتوں تک کی معلومات پوچھی ہے کوئی ذاتی دشمنی کوئی پنگا تو نہیں لیا کبھی کسی سے ؟ انٹر نیٹ کا سارا ریکارڈ تک نکلوا نے کا کہہ رہے تھے بلائنڈ ڈیٹ پر گئ کبھئ کیا کچھ نہ پوچھ ڈالا انہوں نے مجھ سے۔ میرے بالوں پر بھی اعتراض جڑ دیا انکو کیا ہوا۔
    سخت چڑ آئی مجھ سے کیوں پوچھ رہے آدھے کوریا کی لڑکیاں یہی بالوں کا انداز بنا کر گھومتی ہیں مجھ سے ایسے پوچھ رہی تھی وہ خبطی لڑکی جیسے میں نے کوئی دنیا سے انوکھا کام کیا ہے۔
    نور منہ لٹکا کر بولی تو الف کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔
    نور نے مانگ نکال کر اس فرینج کو پن ٹھونک کر ایک جانب کر رکھا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی وہی پن نکال دی۔ بال اسکی پیشانی پر آبکھرے تھے۔ اسکے بال ترچھے سے کٹے ہوئے تھے ایک جانب سے زرا سا اونچے تھے ظاہر ہے کاٹنے والے نے فرینج تو نہیں کاٹی ہوگی۔ نور نے ناپسندیدہ نظر ڈالی تووہ آئینہ لے آئی سامنے کیا تو نور کی آنکھوں کے سامنے جھماکا ہوا۔
    میں تو کارٹون لگ رہی ہوں۔ وہ رو دی۔۔
    فاطمہ کو بلائو اسے فرینج کاٹنی آتی ہے اسکی پرانی تصویریں دیکھی ہیں اس نے فرینج ہی کاٹی ہوئی تھی بلائو اسے ٹھیک کرے۔
    نور دہائیاں دے رہی تھی۔ الف اور عشنا نے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں
    فاطمہ تو گھر میں نہیں ہے ۔ عشنا نے بتایا تو دونوں حیرت پوچھنے لگیں
    کہاں گئ ہے؟ وہ توایک بجے کی گھر سے نکلی ہے آئی نہیں ابھی تک؟ نور کو پریشانی لگ گئ
    کہیں فاطمہ کو تو نہیں اٹھا لیا ان لوگوں نے؟ الف کے ذہن کے گھوڑے تیزی سے دوڑےتھے
    نہیں۔ عشنا نے غلط فہمی دور کرنئ چاہی
    یا خدا کیا خطا ہوئی ہم سے ، اتنےسکون سے رہ رہے تھے ہم بہنوں کی طرح۔ نور کے بین
    نہیں بات سنو۔ عشنا نے کہنا چاہا مگر آواز دب گئی الف کا جوش عروج پر تھا۔
    یار واقعی کیا غلطی ہوئی ہے ہم سے؟ عزہ اغوا ہوتے ہوتے بچی فاطمہ غائب ، نور کے بال۔۔ الف کڑیاں ملا رہی تھی دونوں لمحہ بھر بھی موقع نہیں دے رہی تھیں کہ عشنا جواب دے سکے
    واعظہ کو بتایا ؟ نور مڑ کر فون اٹھانے لگی
    اسے تو پتہ بھی نہیں ہوگا فاطمہ بھی غائب ہے۔ الف اف۔۔۔
    مجھے پتہ ہے فاطمہ کہاں ہے۔
    عشنا چلا کر بولی۔ دونوں ایکدم چپ ہو کر دیکھنے لگیں پھر بیک وقت پوچھا
    کہاں ہے فاطمہ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے فلیٹ کے آگے بڑا سا بیگ رکھے اس پر بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے سوتی لڑکی کون۔۔ وہ سٹپٹا یا تبھی فاطمہ کسمسائی تو اسکو باقائدہ جھٹکا لگا۔ ایک۔نظر اسے دیکھا ایک نگاہ اپنے دائیں جانب ڈالی پھر تھوک نگلتے ہوئے پکارا
    فاطمہ۔
    اسکی چونک آنکھ کھلی۔۔سامنے سیہون ہکا بکا کھڑا تھااور۔ سیہون کے ساتھ گلابئ لانگ اسکرٹ اور گلابی مفلر میں ملبوس خاتون کو دیکھ کر وہ جھٹ سیدھی ہو ئی پرس اٹھاتی کھڑی ہوگئ
    یوبو(جان)۔ آگئے آپ ۔ بہت انتظار کرایا آپ نے۔۔
    وہ کورین آگاشی کئ طرح ٹھنک کر بولی۔ سیہون ساکت رہ۔گیا تھا
    تھیبا بہترین اداکارہ نکلی یہ تو۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    آگاشی ویو؟ وہ خاتون اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں۔
    میں انکی بیوی ہوں ۔ فاطمہ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔
    اس نے رواں ہنگل میں ہلکا سا کورنش بجا لانے کی طرح جھک کر کہا تھا تو جہاں ان خاتون کی آنکھیں حجم میں دگنی ہوئیں وہیں سیہون کے ہاتھ میں موجود شاپر گرفت ڈھیلی پڑنے سے دھڑ سے زمین پر آرہا۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔
    اور آپ؟ فاطمہ نے بہت اخلاق سے پوچھا۔ جوابا وہ محترمہ اپنی حیرانی پر قابو پاکر مسکرا کر بولیں۔
    میں سیہون کی والدہ ہوں۔ کیسی ہو تم؟
    اس بار فاطمہ کے ہاتھ سے پرس چھوٹ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انڈے سب ٹوٹ گئے تھے اور شاپر میں موجود ہر چیز میں سے انڈوں کی۔بساندھ آرہی تھئ۔پنیر کا ریپر سب سے ہلکا تھا باقی ٹن اور پراسسیسڈ فوڈ ریمن کے پیکٹ شیونگ کریم نوڈلز سب کے پلاسٹک ریپر انڈوں سے۔نہا لیئے تھے۔
    وہ دزدیدہ نظروں سے اسے ہونٹ بھینچے کچن کائونٹر پر شاپر خالی کرتا دیکھ رہی۔تھئ۔ جو جو ٹن دھل سکتا تھا اسے اس نے سنک کے پاس رکھ دیا تھا۔
    مجھے صاف کہا تھا تم نے کہ نہیں آئوگی اب اچانک کیسے پینترا بدلا تم نے؟ بندہ بتا ہی دیتا ہے۔
    اس نے پیغام ٹائپ کر کے بھیجا۔ فاطمہ کی اپارٹمنٹ کا جائزہ لیتی نگاہیں گول گول گھوم رہی تھیں۔ چھوٹا سا دو کمروں کا اپارٹمنٹ تھا جسکا باورچی خانہ کھلا امریکی طرز کا تھا وہ لائونج میں بیٹھی تھی۔ دونوں کمروں کے دروازے اسی لائونج میں کھلتے تھے ۔ اپارٹمنٹ شاندار تھا اسے پسند آگیا تھا اور وہ ان خاتون کو۔
    سامنے صوفے کی سنگل سیٹ پر بیٹھی اسے ایک ٹک دیکھے جا رہی تھیں۔
    اسکا فون بجا اس نے پیغام پڑھا۔ پیغام بھیجنے والا سرخ بھبوکا منہ لیئے کچن میں ہر چیز کو فاطمہ سمجھ کر پٹخ رہا تھا
    میری مرضی۔ اس نے انگریزئ میں لکھا پھر لگا بارود میں تیلی لگانے کے مترادف ہے تو مٹا کر فون ایک جانب رکھ دیا۔
    سیہون کا منہ غبارے جتنا پھول گیا۔
    وہ خاتون اچھی طرح فاطمہ کا جائزہ لے چکیں تو مطمئن ہو کر مسکرائیں۔
    ہندوستانئ ہو تم؟ ہنگل میں وہ پوچھ رہی تھیں۔ وہ جواب طلب نگاہوں سے سیہون کو دیکھنے لگئ جو اب جان بوجھ کر اسکی جانب دیکھنے سے بھی گریز کرر ہا تھا۔
    میں دیکھتے ہی پہچان گئ تھی۔ خاتون کھلکھلا دیں۔
    یہ نقوش برصغیر کے ہی ہوتے ہیں مگر رنگ ہندوستانیوں کا بہت صاف نہیں ہوتا مگر تم تو پھر بھی کافی نکھرے رنگ کی مالک ہو۔
    وہ انکو گوری نہیں لگ سکی تھئ کیونکہ مقابلہ اپنے چاندنی جیسی رنگت رکھنے والے بیٹے سے تھا جس کا رنگ بلا شبہ دودھ جتنا سفید تھا۔ فاطمہ کی جان مشکل میں پھنسی تھی۔ اس نے جملے رٹے تھے تاکہ کونسلروں کو شک نہ ہو
    میں ہنگل نہیں جانتئ۔ اس نے رواں انگریزی میں بتایا۔ خاتون بے طرح خوش ہوگئیں۔
    واہ انگریزی جانتی ہو پڑھی لکھی بھی ہو؟
    تم کیا کرتی ہو؟ میں نے سنا ہے انڈین لڑکیاں بہت وفادار ہوتی ہیں میرا بیٹا ویسے تو جدیدیت کا حامی ہے مگر اندر سے روایتی کورین مرد ہے۔ اسکو لڑکیاں بھی سادی سی پسند ہیں گھرسنبھالنے والی آگاشی۔ اچھا کھانا کمزوری ہے اسکی۔ اور کمچی تو میرے ہاتھ کی اسے بہت پسند ہے۔ ہم گائوں کے دیہاتی لوگ ہیں روایتوں کو سینے سے لگا کر رکھنے والے۔
    فراٹے سے ہنگل بولتی وہ شائد سانس لینے رکی تھیں
    تھیبا۔ فاطمہ کے منہ سے نکلا۔ اتنی زبردست ہنگل تو ایک عمر لگا کر بھی وہ شائد ہی سیکھ پائے۔ ۔سیہون نے ہاتھ روک کر ترچھی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔وہ خاتون سمجھیں وہ انکی بات سمجھ کر بولی ہے۔اور خوش ہو کر بتانے لگیں
    سیہون نے کافی زور سے فریج کا دروازہ بند کیا تھا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو وہ کافی بنانے مڑ چکا تھا۔
    میرا بیٹا شریف النفس ہے اس نے خود کو بے راہ رو نہیں ہونے دیا۔ یہ تو شراب پی کر بھی اتنا بیبا رہتا ہے۔ کبھی کسی لڑکی کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے بہت ڈر تھا سیول میں کسی ننگی ٹانگوں والی چٹک مٹک لڑکی پر نہ مر مٹے۔
    کافی میکر میں کافی بننے کو لگا کر وہ اپنے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے پانی مگ میں نکال کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔
    ۔ مگر شکر ہے بھلے ہندوستانی ہوتم مگر حیا والی دقیانوسی ہو۔کپڑے مناسب پہن رکھے ہیں۔ انہوں نے اسکے جینز اور گھٹنوں تک آتے لانگ ٹاپ کو پسندیدگی سے دیکھا۔ بولتے بولتے جانے کیا خیال آیا۔ زرا سا جھک کر رازداری سے پوچھنے لگیں۔
    مگر تم گائے کا پیشاب پیتی ہو ؟
    آں ۔۔۔ ۔دے۔ ( آں ۔۔ ہاں) اس نے گڑ بڑا کر سر اثبات میں ہلایا۔ سمجھ ومجھ تو آنہیں رہا تھا کیا بول رہی ہیں تائید چاہنے والا انداز دیکھ کر ہاں میں ہاں ملا دی مگر شائد کچھ غلط ہوگیا تھا۔
    سیہون کو پانی پیتے اچھو ہوا منہ سے پانی فوارے کی طرح باہر نکلا تھا۔ آنٹی کی آنکھیں متوحش سے انداز میں پھیل گئیں وہ مڑ کر سیہون کو دیکھنے لگیں جو اب فاطمہ کو گھور رہا تھا
    یہ ۔ یہ کیا کہہ رہی۔ سیہون اسکو سمجھانا جراثیم ہوتے ہیں اس میں نا پیا کرےاور تم کم ازکم اس سے دور رہنا جب جب یہ پیئے۔ اوف خبردار جو کبھی تم نے اسکے ساتھ بیٹھ کر نوش کیا۔ وہ تحفظات کا شکار ہو گئیں۔
    آندے آہموجی۔ ایسی بات نہیں اسے شائد سمجھ نہیں آئی بات۔
    یہ تو مسلمان۔
    وہ ماں کو تسلی دینے کیلئے انکے پاس ہی چلا آیا۔ انکے صوفے کے ہتھے پر ٹک کر بتانے لگا وہ بات کاٹ گئیں
    چلو۔ انکی روایت ہے۔چلو کر لوں گی برداشت میں۔ اسکے گلے میں اسکارف دیکھ کر مجھے تو دھچکا لگا تھا کہ کہیں مسلمان تو نہیں۔۔ آجکل تو یہ بڑی مصیبت ہے ان انتہاپسندوں نے کوریائی نوجوانوں کو گھیرنا شروع کر دیا ہے وہ لڑکی جو ساتھ ساتھ رہتی تھئ عجیب نام والی شکر ہے تم نے اس سے شادی نہیں کر لی۔ سب نے مجھے یہی ڈرا رکھا تھا سیہون مسلمان لڑکی کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے دیکھنا شادی کر لے گا مگر میرا بچہ نادان تھوڑی ہے۔ وہ نثار ہونے والے انداز میں اسکو دیکھتی نظروں سے بلائیں اتارنے لگی تھیں
    سیہون چپ سا رہ گیا۔ وہ واعظہ اور میری ایک بار چھٹیوں پر گائوں گئے تھے۔ میری اپنے کم کپڑوں اور واعظہ زیادہ کپڑوں کی وجہ سے انکو کھٹکا گئ تھی۔ میری جدیدیت پسند بے باک لگی تھی تو واعظہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انکو اس خوف میں مبتلا کر گئ تھئ۔ ابھی بھی شکر ادا کرتی اپنی ہندونی بہو کی جانب متوجہ ہو گئیں جو بے چاری سی شکل بنائے یہ سب سن رہی تھی کیونکہ سمجھ تو آنہیں رہا تھا۔
    سیہون اس کا ردعمل سوچ کر چپ تھا۔خاتون بڑے ذوق وشوق سے نیا قصہ سنا نے لگیں۔
    یو آن کی شہزادیاں گوریو کے شہزادوں سے بیاہی جاتی تھیں تو انکو عجیب الا بلا کھانے کی عادت تھی اب ایک میز پر بادشاہ سور کا سوپ پی رہا ہوتا تھا توملکہ بلی کھاتی تھی بڑی مشہور کہانی ہے ایک بادشاہ نے بلی پال رکھی تھی ملکہ سے ذیادہ بلی کو چاہتا تھا ملکہ حسد میں مبتلا ہوگئ ایک دن بادشاہ کے سامنے بیٹھ کر اسی بلی کا روسٹ اڑایا۔ پھر۔ تم سمجھ تو رہی ہو نا۔ خاتون نے اسکی عدم دلچسپی بھانپ لی۔ اسکو ترجمہ۔کرکے بتائو کیا کہا میں نے۔ انہوں نے بیٹے کو ٹہوکا دیا۔
    سیہون نے گہری سانس لیکر اسے بتایا تو اسے بے ساختہ کراہیت محسوس ہوئی
    بلی تو ٹھیک مگر سور؟؟؟ اور ان آنٹی کو کراہیت بلی کھانے پر آرہی ہے؟ وہ یوں دیکھ رہی تھی جیسے ان آنٹی کے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ کرو واقعی۔عروج کو گھن سی آگئ۔
    واعظہ کی بھی کم و بیش یہی حالت تھی۔سیونگ رو نے محظوظ سا ہو کر سلسلہ کلام جوڑا۔
    اب ہوا کچھ یوں کہ کینڈا میں اسٹریٹ ڈاگ تو آسانی سے ملتے نہیں شیلٹر ہوم سے میرے چینی اپارٹمنٹ میٹ نے ایک پیارا سا کتا لیا گھر لایا خوب کھلایا پلایا۔ رات کو اسکا سوپ بنادیا۔ صبح میں اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں گرما گرم سوپ سامنے ہے۔ تبھی ہمارے اپارٹمنٹ کی اطلاعی گھنٹی بجی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو شیلٹر ہوم والے انسپیکشن کیلئے موجود تھے کہ ہم نے کتے کا کیا انتظام کر رکھا ہے۔
    پھر کیا ہوا۔ عروج نے بے صبری سے پوچھا تو وہ ہنس کر بولا
    اسکو کافی پیسہ خرچنا پڑا تھا معاملہ دبانے کیلئے۔ گو کینڈا کے قوانین سخت ہیں مگر راشی لوگ تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔
    تم لوگ تو کتے بلیاں نہیں کھاتے ہو؟ واعظہ کو اچنبھا ہوا۔
    میری اسکولنگ یہیں کی ہے میں نے کسی کورین کو یہ سب کھاتے نہیں دیکھا۔۔ سیونگ رو نے متاثر ہونے والے انداز میں دیکھا۔
    بجا فرمایا۔ ایسا ہی ہے ہم ہر طرح کا جانور کھاتے تو ہیں مگر اب ترقی یافتہ ہونے کے بعد ہم کافی بدل چکے ہیں ۔ویسے تو
    کوریا کی تاریخ ہزار سال پر مشتمل ہےاتنا کچھ ہوا ہے یہاں کہ ہمارے بچے تاریخ پڑھتے ہوئے تنگ آجاتے ہیں ہم نے مٹ مٹ کر تباہ ہو ہو کر دوبارہ خود کو تعمیر کیا ہے۔ اپنی زبان کا تشخص بحال کیا ورنہ تو چینیوں نے ہمیں غلام بنا رکھا تھا۔ گوریو انکی ریاست کے مقابلے میں کہیں چھوٹی ریاست ہوتی تھی اس پر قبضہ قائم رکھتے تھے من پسند بادشاہ چنتے اپنی شہزادیوں سے انکی شادئ کروا دیتے تھے۔ ان شہزادیوں نے چینی روایات کا گہرا اثر چھوڑا ہم پر وہ انکی اولادیں ہر قسم کے کتے بلیاں کھا لیتے تھے ہم لوگ جانور کھاتے تو ہیں مگر کم ازکم اب کتے بلیاں محفوظ ہیں ہمارے یہاں۔ ہم انکو نہیں کھاتے۔
    تھائینیئے۔ عروج جیسے سکھ کا سانس لیکر بولی۔
    مجھے ویسے تاریخ دلچسپ لگتی ہے مجھے اتنی تفصیل سے تو نہیں پڑھنے کو ملی غیرملکی ہونے کی وجہ سے مگر ہاں میں نے جتنا پڑھا شوق سے پڑھا۔
    واعظہ نے یونہی کہا تھا سیونگ رو نے بات پکڑ لی۔
    پھر تو تمہیں برصغیر کئ بھی تاریخ پتہ ہوگی مجھے بر صغیر کی تاریخ میں بہت دلچسپی ہے مجھے بتائوگی کچھ؟ کیسے اس پورے بر صغیر کو مسلمانوں نے تبدیل کر کے رکھ دیا؟۔ وہ پرشوق انداز میں پوچھ رہا تھا واعظہ گڑ بڑ ا سی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس سے بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
    وہ منہ کھولے سامنے دیکھ رہی تھی۔ سیہون نے سر پکڑ لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام۔۔۔۔ جاری ہے۔