Jehlum ki Tunya aur Jupiter ka Avatar | Urdu Sci-Fi Novel

جہلم کی طنیا اور جوپیٹر کا اوتار۔۔

ازقلم واعظہ زیدی
وہ آج بھی اداس پریشان بیٹھی تھی سوچا کہ کچھ کرے تبھی ناسا کے خلائی اسٹیشن میں بیٹھے مریخ کو دور بین سے دیکھتے کارساز نے ٹیلی پیتھئ سے اسکا دماغ پڑھا۔۔
طنیا جس کا پورا نام قسطنطنیا نہیں تھا بلکہ طنیا کمخور تھا ایک امیر باپ کی بیٹی تھی۔ اسکے مسلئے آج کیا کھانا پکائوں یا آج کس امیر باپ کے بیٹے کو پھنسائوں یونیورسٹی جا کر جیسا کہ لاہور کی لڑکیوں کے ہوتے مسلئے نہیں تھے۔ اسکے مسلئے پنڈی کی لڑکیوں والے تھے حالانکہ وہ جہلم کے قریب ایک قصبے دوٹوک بکواس کے چک نمبر پندرہ ہزار نو سو پینتالیس میں ایک حویلی کی کال کوٹھری میں رہتی تھی۔ اسلیئے کہ اس کی حویلئ میں ایک جن کا بچہ اسے روز آکر رات کو کہتا کہانی سنائے اسکو کہانیاں تو بہت آتی تھیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے اسکا نیٹ پیکج ختم تھا وہ کوئی نیا کورین / چینی /تھائی / ترکی ڈرامہ دیکھ نہ سکی تھی کہ وہاں سے چھاپا مار کر کہانی بنا لیتی ۔سو اس سے چھپنے کو وہ اس کال کوٹھری میں آبیٹھی تھی۔ یہاں کا نو سو پاور کا بلب فیوز تھا کچھ موٹئ مکڑی کے پتلے جالے اس فیوز بلب کی نہ نکلنے والی روشنی میں دمک رہے تھے۔ مگر طنیاکمخور مکڑی کے ان باریک جالوں پر تحقیق نہیں کر رہی تھی۔ بلکہ اسکا اصل مسلئہ توان جالوں کے قریب چپکا تھا۔منہ میں ایک چھوٹا سا کیڑا دبائے۔۔ اس نے آنکھیں بند کرکے سوچا
کاش میرا کوئی منگیتر ہوتا جو میری مدد کرسکتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارساز کوجھٹکا سا لگا اس نے بنا سوچے سیٹ بیلٹ کھولی یہ بھول گیا کہ اس وقت خلاء میں ہے ٹھک سے جا کر اسکا سر چھت میں لگا۔ اسکی پچھلی بارہ سال کی تحقیقات اور پھپو منجولیکا کی سب کڑوی کسیلی باتیں اسے یک بیک یاد آگئیں۔
اپنئ آنکھوں کے سامنے ناچتے تاروں کو گنا تبھئ اسکا سینئیر اور دوست چاہ سلطان نے آکر اسے سہارا دیا اسکا ہاتھ پکڑا وہ ہوامیں تیرتا ہوا نیچے آیا۔ چاہ سلطان کشش ثقل کو شربت کی طرح پی جانے والا ہوا میں پانی کی طرح تیر سکنے والا swim suit پہنے تھا۔
میری طنیا خطرے میں ہے اسے میری ضرورت ہے
کارساز کی آنکھوں میں سر پھوٹنے کی وجہ سے آنسو تیر رہے تھے۔ چاہ سلطان کو ترس آگیا۔ مگر ایک سوال بھی اٹھا ذہن میں
تمہیں کیسے پتہ چلا تم تو اس سے چار ہزار نو سو پندرہ سال چودہ ہفتے تین دن اور نو گھنٹے چھپن بلکہ اب تو اٹھاون منٹ تئیس سیکنڈ دور اس خلائی اسٹیشن میں بیٹھے ہو؟ اور وہ تو پاکستان کے ایک شہر جہلم کے چک پندرہ ہزار نو سو چھیالیس کی ایک گوری حویلی کی کال کوٹھری میں بیٹھئ ہوگی؟
نو سو پنتالیس۔ کارساز نے تصحیح کی۔ اسے خیال ہی نہ آیا کہ چاہ سلطان سے پوچھتا کہ آخر اسے کیسے پتہ کہ وہ گوری حویلی کی کال کوٹھری میں بیٹھی ہے۔
ٹیلی پیتھئ سے۔ کارساز کا جواب مختصر تھا
ٹیلی پیتھئ سے تم اپنی منگیتر سے کب کیسے جڑے؟ مجھے پورا حوالہ متن بمع سیاق و سباق و تشریح کے ساتھ بتائو ۔ چاہ سلطان متجسس تھا۔
سوال تمہارا ہسٹرئ کا ہے جواب تمہیں اردو گرامر انشا پردازی سے چاہیئے۔
کارساز مسکرایا۔
ہاں مجھے لمبا جواب چاہیئے۔ چاہ سلطان کا انداز دوٹوک تھا
اچھا تو سنو۔۔ یہ بات ہے آج سے کئی ہزا سال پہلے دنیا کی ۔۔۔ کارساز نے وقفہ لیکر تھوک نگلا
میں جب پیدا ہونے والا تھا اور میرا رشتہ پھپی منجولیکا نے اپنی نہ ہو سکنے والی بیٹی کوار گندل سے طے کرتے ہوئے اسکے نام کی انگوٹھی امی کی انگلی میں پہنانے کی کوشش کی تھی تب ہی میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں پیدا ہوتے ہی اپنی ہونے والی بیوی کو ڈھونڈ کر اسے ٹیلی پیتھی سے پیغام بھیجوں گا کہ وہ پھپھو منجولیکا کی بجائے چاچو مری روڈ کے گھر پیدا ہوجائے۔ اس وقت میری ٹیلی پیتھی اتنی اچھی نہیں تھی اور طنیا کو میرا پیغام نہ مل سکا اور وہ چاندنی چوک والے ماموں کے ہاں پیدا ہوگئ ۔ یہ بھی کوئی برا سودا نہیں تھا امی کی چچی سے کونسا بنتی تھئ پورے آٹھ سال کا تھا میں تب ۔ اسے سب سے پہلئ گٹھی نا۔۔۔
رک جائو
چاہ سلطان کے کانوں سے دھواں نکلنے لگاوہ اپنے سر پر لگے گول گلوب جیسے شیشے کے ہیلمٹ کے اوپر سے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلا اٹھا
۔ مجھے یہ سب مت بتائو میں کرنج سے مرجائوں گا۔ تم نے گٹھی دی؟ اپنی اپنی ہونے والی بیوی کو جو ابھی پیدا ہوئی تھی۔
میں نے یہ کب کہا؟ کارساز نے خفگی سے گھورا
بات تو پوری سن لو یہ ناول خریج ضاہ تھوڑی لکھ رہی ہے۔ میں تو بتا رہا تھا کہ جب طنیا کمخور کو نانا ابا گھٹی دے رہے تھے میں نے ٹیلی پیتھی سے طنیا کو پیغام بھیجا کہ نانا ابا پر چھینک دے۔ اسکی چھینک اتنی طاقتور تھی کہ نانا ابا کا چہرہ سن گیا تھا اسکے تھوک سے کراہیت سے اسے نانا ابا نے تقریبا چھوڑ دیا تھا اور میں نے بھاگ کر اسے تھاما
پھر کیا ہوا؟ چاہ سلطان کو بھی دلچسپی ہوہی گئ۔
میں بھول گیا تھا کہ میں تو وہاں موجود ہی نہیں میں نے تو اپنا ہیولہ بھیجا تھا ہولوگرام ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ وہ میرے ہیولے کی بانہوں سے آر پار ہوتےدھپ سے زمین پر گری اسکا سر پچک گیا تھا۔ایک لمحے کو تو مر ہی گئ تھی ۔ بس تب سے اسے جنات خلائی مخلوق نظر آتے ہیں۔ مجھے بھی کبھئ کبھی وہ کوئی بھوت ہی سمجھتی ہے۔
تو کیا اس وقت اسے بھوت نظر آرہا ہے جو وہ مصیبت میں ہے خطرے میں ہے؟
چاہ سلطان نے جیسے معاملہ سمجھ لیا۔
نہیں۔ کارساز نے نفی میں سر ہلایا۔ آنکھیں بند کیں چند لمحوں بعد کھولیں۔
اس سے بھی بڑا مسلئہ درپیش ہے اسے۔ مجھے تمہارا یہ ہوا میں تیراکی والا سوٹ چاہیئے۔
تمہیں تو زمین پر جانا ہوگا طنیا کو بچانے کیلئے تم اس سوٹ کا کیا کروگے؟
چاہ سلطان ہچکچایا یہ اس کا نیا سوٹ تھا کارساز کو دے کر اسکی استری خراب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اگر ہچر مچر کرتا تو کارساز کو شک ہوجاتا۔
میں فی الحال تو اس خلائی اسٹیشن میں ہی اگلے کمرے میں جانا چاہتا ہوں اسلیئے۔ کارساز مسکرادیا اسکے روبوٹ جیسے دانت چمک اٹھے اور چاہ سلطان خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا وہی خون جو اسکے کانوں سے کارساز کی کہانی سن کر بہہ نکلا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاطینی امریکہ کی وہ سیاہ فام لڑکی درخت پر جھولتے کالے کپڑے کو غور سے دیکھتی ایک ووڈو ڈول کو سوئیاں چبھو رہی تھی جب اسکے برابر رکھی اینٹ پھڑپھڑانے لگی۔۔
لگتا ہے میرا منتر کام کرنے لگا ہے۔ وہ مسکرائی۔ اینٹ اٹھائی تو دیکھا اس اینٹ کے نیچے جو اس نے چتکبری سنپنی چھپا کر رکھی تھی غائب ہو چکی تھی۔
میری چتکبری سنپنی کہاں گئ؟ وہ پریشان ہو کر وہ ووڈو ڈول پھینک کر درخت پر لٹکا کالا کپڑا زور زور سے کھینچنے لگی۔ کالا سیاہ کپڑا اسکی سیاہ فام چھوٹی بہن کی لنگی کا تھا۔ اس نے جھلا کر چھڑایا
کیوں میری لنگئ کھینچ رہی ہو؟
لوما آرام سے درخت پر بیٹھی بندر سے کیلا چھین کر کھا رہی تھئ بندر اسے روہانسی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس نے جیسے ہی جھک کر لنگی کھینچنے پر بوما کو گھورا بندر اسکے ہاتھ سے کیلا واپس چھین کر لمبئ چھلانگیں لگاتا بھاگ گیا تھا۔کیلا چلا گیا تھا اسکے ہاتھ سے
اسکا غصہ بجا تھا۔
نیچے آئو میری چتکبری چھپکلی غائب ہوگئ ہے۔
اسکی بات سن کر لوما نے چھلانگ لگاتے لگاتے ارادہ بدلا اور درخت سے احتیاط سے اتر کر اسکے پاس آکر بولی
مگر وہ تو ہم انڈونیشیا سے لائے تھے جسے وہ چندی آنکھوں والا جوں کا میاں (نام ہے آدمی کا سچ مچ جوں کا میاں نہیں تھا وہ)پکا کر کھانے والا تھا اس سے کتنی منتوں کے بعد ہم چتکبری چھپکلی واپس لائے تھے کہ وہ ہماری دادی کا دوسرا جنم ہے اب اچانک دادی کہاں چلی گئیں؟
مجھے کیا معلوم۔ بوما بھنائی
میں نے تو اینٹ کے نیچے دبا دیا تھا تاکہ وہ مرجائے اور اس ووڈو ڈول میں سوئیاں چبھو رہی تھی کہ دادی کی روح اس میں آجائے۔ مگر چتکبری چھپکلی
غائب ہوگئ ہے۔
بوما کے روہانسے انداز پر لوما نے تشویش زدہ ہو کر اینٹ اٹھا کر دیکھا۔ نیچے چتکبرا سانپ
پھسا ہوا پڑا تھی اسکی آنکھیں باہر آچکی تھیں۔
تم تو کہہ رہی تھیں کہ دادی کی روح کو اس ڈول میں لائوگئ وہ تو پھر مرگئیں۔ لوما دادی کا دردناک انجام دیکھ کر رودی
مگر اینٹ ہلی تھی میں نے خود دیکھا تھا۔بوما بھی پریشان ہوگئ۔
بھلے سنپنی بن کر وہ ہمیں کاٹتی رہتیں اپنا زہر قطرہ قطرہ ہمارے بدن میں ڈالتی رہتیں مگرزندہ تو رہتیں تم نے تو انکا سر کچل کر مار دیا ۔ لوما بھاں بھاں کرکے بین کرکے رو رہی تھی
اگر دادئ مر بھی گئیں اینٹ بھئ ہلی اور ووڈو ڈول میں بھی نہ آئیں تو انکی روح آخر گئ کہاں؟ بوما نے سوچتی نگاہ سے درخت کو دیکھا۔ تبھی درخت پر ہلچل سی ہوئی بوما کے دماغ میں گھنٹی بجی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارساز ہوا میں تیرنے والا سوٹ پہنے اپنے باس کے سامنے کھڑا تھا۔ سائنسدان خلاباز جیمی اولیور خلا میں فرائیڈ رائس بنا رہے تھے اسکی جانب پلیٹ بڑھا کر بولے
صحیح وقت پر آئے ہو مجھ سے اتنا بد مزا فرائیڈ رائس کھایا نہیں جا رہا تھا تم کھالو۔
فرائڈ رائس سے کچے انڈے کی بو آرہی تھی کوئی اور وقت ہوتا تو کارساز پھر بھی کھاجاتا مگر اس وقت اسکا ذہن طنیا میں اٹکا تھا۔
مجھے گھر جانا ہے میری منگیتر مصیبت میں ہے۔
تم جب تک گھر پہنچوگے یا تو مصیبت ختم ہو چکی ہوگی یا تمہاری منگیتر تم چار ہزار سال دور مریخ کے پاس ناسا کے خلائی اسٹیشن میں موجود ہو یاد ہے یا بھول گئے؟
نہیں سر میں اس وقت ذہنی طور پر دنیا سے بھی آگے جوپیٹر تک پہنچ چکا ہوں میری بریک فیل ہوگئ تھئ۔ اس وقت میرا ہولوگرام آپ سے بات کررہا ہے۔
وہ کہہ کر ایکدم غایب ہوا تھا شائد اسکا رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
اولیور نے ہنکارا بھرا
بہت کمینہ لڑکا ہے ہمیشہ چھٹی لینے آتا ہے اور اصل میں واپس دنیا میں جا چکا ہوتا ہے مجھے پکا یقین ہے کہ یہ اس وقت جہلم پہنچ چکا ہوگا۔ مکار جھوٹا لڑکا۔ خیر دفع دور میرا اپنا بڑا مسلئہ حل طلب ہے کہ
میں اب اس بدمزہ فرائیڈ رائس کا کیا کروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طنیا کہانی سنا دو۔
مانوس آواز اسے اپنے گرد سنائی دی۔
وہی جن کا بچہ انکا بچہ( انکا بچہ نام ہے جن کے بچے کا) اس نے بیزاری سے سوچا۔
اسکو کہانی سنانے سے بہتر ہے میں اس مصیبت کے ساتھ اکیلی تنہا اس کال کوٹھری میں ہی بیٹھی رہوں۔ طنیا نے سوچا۔۔
تبھی اسکے سامنے دو سیاہ ہیولے نمودار ہوئے۔
کالی لنگئ کالے بلائوز میں کالی سیاہ فیام لڑکیاں اسکے سامنے تھیں۔
اب تم دونوں چڑیلیں کون ہو آس حویلی کی تو نہیں لگتیں؟

طنیا نے بدتمیزی سے پوچھا۔
لوما نے بوما کے چٹکی کاٹی
کہا بھی تھا کپڑے بدل لیتے ہیں چڑیلیں سمجھ رہی ہے یہ ہمیں۔
بوما نے گھورا۔ ہم دادی کو ڈھونڈنے نکلے تھے فیشن شو میں جانے کیلئے نہیں۔
ہم تو لیکن اپنے گھر میں ہئ ہیں یہ لڑکی تو ہولوگرام ٹیکنالوجئ سے ہمیں دیکھ رہی ہے۔
لوما نے بتایا
وہی تو جب گھر سے نکلے ہی نہیں تو کپڑے کیوں بدلنے؟
ہم نے تو ہولو گرام ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے چپے چپے میں چتکبرے سانپوں کو ڈھونڈ کر دادی کو تلاش کرنا تھا ہم یہاں اس بد صورت پاکستانی لڑکی کے پاس کیوں آئے؟ لوما کو تجسس بھی تھا۔
طنیا موبائل اٹھائے انکے بولے جملوں کو اے آئی سے ترجمہ کررہی تھی یہ والا جملہ اے آئی نے ایرر کردیا۔۔
ہم یہاں دادی کو ڈھونڈنے تو آئے بھی نہیں ہیں ہمیں تو الو کا پیغام آگے پہنچانا تھا۔
ہاں تو الو کا پیغام بھئ تو اچانک آگیا تھا وہ کام بھی تو کرنا تھا۔
کیا ہو تم دونوں کیا باتیں کررہی ہو مجھے بھی بتائو پہلے ہی میں اکیلی تنہا اس کال کوٹھری جس کی چھت ہئ نہیں ہے دن کی روشنی میں بیٹھی ہوں۔
اوپر سے تم دونوں لاطینی زبان میں بات کررہی ہو۔
مجھے سب سمجھ آرہا ہے کیونکہ میں نے گوگل ٹرانسلیٹر سے سب ٹرانسلیٹ کرلیا ہے۔ کہاں ہے تمہاری دادی؟ کیوں ڈھونڈنا ہے اسے
لو مسلئہ ہی ختم۔ بوما خوش ہوگئ
آگے بڑھ کر اسے ایک روبک کیوب تھما دیا۔ جب تک تمہارا منگیتر تمہیں بچانے نہ آجائے تم اس روبک کیوب سے کھیلو جیسے ہی حل ہوگا تمہارا منگیتر سامنے کھڑا ہوگا اب ہم چلتی ہیں ہمیں دادی کو ڈھونڈنا ہے۔
وہ دونوں سیاہ فام لڑکیاں اچانک غائب ہوگئیں۔
طنیا نے روبک کیوب کو حل کرنا شروع کیا ۔۔ اس طرح تو مجھے کئی ہزار سال لگ جائیں گے آج تک روبک کیوب حل نہ ہوسکا مجھ سے۔ اتنے سالوں میں میرا پیدا ہوا وا منگیتر چھوڑو اسکے پوتے پوتیاں بھی آجائیں گے بچانے اس نے بیزاری سے روبک کیوب ایک طرف رکھا۔
طنیا مجھے پتہ ہے تم کال کوٹھری میں ہو دھوپ میں سایہ بھئ نظر آرہا ہے تمہارا اب تو کوئی کہانی سنادو۔
بور تو طنیا بھی ہوگئ تھی۔ مگر اسے اپنی مصیبت سے جان چھڑانے کا حل سوجھ گیا تھا
پہلے تم اندر آئو۔۔ ایک کام کرو میرا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکا بچہ طنیا سے لپٹا تھر تھر کانپ رہا تھا۔
مجھے معاف کردو میں آئیندہ کبھی تم سے کہانی سننے کی ضد نہیں کروں گا۔ اسکے روہانسے انداز پر طنیا سخت بیزار ہوئی۔اسکی مصیبت دہری ہو گئ تھی۔ کہاں وہ اکیلی کال کوٹھری میں دیوار سے ٹیک لگائے چھت پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی کہاں اب اس سے چپک کر جن کا بچہ بیٹھا بے سرا راگ الاپ رہا تھا۔ وہ اس سے ذیادہ ڈرپوک نکلا تھا۔ طنیا نے اپنی آنکھیں چندی کرکے کالی بلیوں ( بلی مت پڑھ لینا یہ زبر کے ساتھ بلی ہے وہ جو چھتوں پر لکڑی کے ڈنڈے سیدھے ڈالے ہوتے تھے پرانے زمانے میں اسکی بات ہو رہی ہے)
ہاں تو سیاہ بلیوں والی چھت پر سیاہ سفید موٹی بالشت بھر کی چھپکلی تھی عین دروازے کے اوپر والی چھت پر چپکی وقفے وقفے سے کھانس رہی تھی۔ اسکے کھانسنے کی وجہ سے منہ دابا کیڑا دھپ سے زمین پر گرا تھا۔ اسکو لپک کر پکڑنے چھپکلی بھی نیچے آگری تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب طنیا نے سب مصلحتیں بالائے طاق رکھ کا انکا بچہ کو اندر بلا لیا تھا۔مگر انکا بچہ جانے کیسا جن کا بچہ تھا وہ زمین پر ایک کونے میں پڑی چھپکلی کو جو شائد بیمار بھی تھی اسے دیکھ کر تھر تھر کانپ رہا تھا بجائے اسکے کہ کوئی چیز اٹھا مارتا چھپکلی کو الٹا خود طنیا سے لپٹ کر رو رہا تھا ۔
کیسے جن کے بچے ہو ایک چھپکلی سے ڈر رہے ہو
طنیا بے زار ہوئی۔ اس تیز برسات والی گرمی حبس میں یوں ایک فالتو کمرے میں بیٹھ کر آخر کب تک چھپکلی سے ڈرتی۔ وہ بھی جو گرنے کے بعد شائد ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگوا بیٹھی تھی اب ہل بھی نہیں رہی تھی۔
تم ایسا کرو وہاں سے چھڑی لیکر اسکو بھگا دو۔
انکے بچے کئ بات پر طنیا نے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔
تم اپنا منہ بند رکھو۔ تمہیں بلایا اندر اس لیئے تھا کہ دروازے سے آتے اس چھپکلی پر پیر پڑتا یہ مرجاتی میں آرام سے دروازہ کھول کر باہر نکل جاتی مگر تم نکمے نالائق جن کی اولاد دیوار سے آر پار ہوگئے دروازے سے آتے کیا تکلیف تھی تمہیں؟
طنیا کے بری طرح الٹ پڑنے پر وہ روہانسا ہوگیا۔
تم نے اندر کوٹھرئ میں چھپتے دروازے پر کنڈی لگا دی تھئ میری ساری توانائی کنڈی کھولنے میں لگ جاتی اسلئے دیوار پار کرکے آیا میں
اسکی اپنی مجبوری تھی۔ طنیا ایک عزم کرکے کھڑی ہوئئ
یہ جو بھئ چھپکلی ہے ادھ مری یا زندہ اب اسکی جان میں لیکر رہوں گئ بچپن میں کنچے کھیلتی تھی گلئ میں نشانہ پکا ہے میرا ۔ اسکا عزم مصمم دیکھ کر انکا بچہ بھی کھڑا ہوگیا
میں تمہیں کنچے لا کر دیتا ہوں۔ وہ کہہ کر غائب ہوگیا۔ طنیا اسکے کنچے ڈھونڈ کر لانے کا انتظار نہیں کرسکتی تھی اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی اس کمرے میں حویلی کا سارا کاٹھ کباڑ پڑا تھا ٹوٹی کرسیاں ایک پرانی دیگ ایک ڈوئی ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی ایک تانبے کا لوٹا ایک پھٹا ہوا غالیچہ ایک ٹوٹا ہوا گملا ایک بانس دو ٹوٹی ہوئی کرسیاں ۔۔ اچھا چھوڑیں پورے کمرے میں نجانے کیا کیا تھا طنیا کو تانبے کا لوٹا پسند آیا۔ اس نے تاک کر چھپکلی کے سر کا نشانہ لیا اور دھڑام سے تانبے کا لوٹا اسکے سر پر دے مارا۔ ۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ چھپکلی جگہ بھی بدل نہ سکی۔ چند لمحوں طنیا کو چھپکلی کی آواز نہ آئئ تو مرا ہوا سمجھ کر اس نے ایک کونے میں ہاں اس کونے میں ایک لمبا بانس پڑا تھا جالے نکالنے والا اس کونے سے بانس اٹھا کر لوٹے کے سر میں پھنسا کر ہٹایا تو چھپکلی پھسی ہوئی پڑی تھی آنکھیں باہر زبان باہر۔ اسے ڈر سے ذیادہ کراہیت آئی لوٹا ڈنڈے کی مدد سے کونے پر کیا پھر اسی ڈنڈے سے چھپکلی کی لاش کو ٹھیل کر دروازے کے سامنے سے ہٹایا اور بھاگ کر کنڈی کھولی۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیرت کا جھٹکا لگا
چھپکلی اب وہاں نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارساز اور انکا بچہ اکٹھے ٹیلی پورٹ ہو کر آئے تھے۔ انکا بچہ کی نگاہ جن کی طرح اچانک نمودار ہونے والے انسان پر پڑی تو جیسے اسکی روح ہی فنا ہوگئ ایک زور دار چیخ ماری اگر انسان سن سکتے تو یقینا انکے کانوں کے پردے پھٹ جاتے مگر یہ کارساز خود نہیں تھا اسلیئے اسکے کانوں کے پردے بچ گئے۔ وہ جوپیٹر پر رک کر وہاں سے اپنا اوتار بھیج کر واپس خلائی اسٹیشن پر چلا گیا تھا۔ اس اوتار نے آگے بڑھ کر جن کے بچے انکے بچے کے منہ پر ہاتھ رک کر چپ کرانا چاہا مگر وہ خوفزدہ ہو کر غائب ہوگیا
اوتار طائرانہ نگاہ سے چتکبری چھپکلی کو ڈھونڈ رہا تھا۔ ایک کونے میں ابلی آنکھوں پھسے ہوئے چہرے والے چھپکلی کی لاش ۔ اسے انسان نہ ہوتے بھئ ابکائی آگئ۔ تبھی اسکے کان سے لگے آلے میں کارساز کئ آواز آئئ۔
ہاں پہنچ گئے مل گئ چھپکلی؟ مارنا نہیں یہ چھپکلی بوما کی دادی ہیں تم انہیں لیکر سیدھا ناسا اسٹیشن پر لے آئو اب باقی باتیں ہم۔۔
کارساز جتنا بھی ذہین سہی مگر بہت بک بکی تھا اسکا اوتار اسکی پوری بات سنے بنا بولے جانے والی عادت سے خود بیزار تھا۔ چڑ کر ٹوکا۔۔
تمہاری جھانسئ کی رانی منگیترطنیا نے بوما کی دادی کو مار ڈالا ہے۔ کونے میں لاش پڑی ہے لائوں لاش؟
کارساز کافی پی رہا تھا اچھو ہوگیا اسے
کیا واقعی؟اسے پریشانئ بھی ہوئی خوشی بھی ۔
اسکی منگیتر اتنئ بہادر ہے کی چھپکلی مار دی اور
پریشانی یہ تھئ کہ چھپکلی کوئی عام چھپکلی نہیں تھی بوما کی دادی تھیں ۔ اگر بوما جان لیتی تو طنیا کی جان لے لیتی ۔
تبھئ اسے نیٹ فلیکس پر دیکھی سیریز یاد آئی
تم ایسا کرو دادی میرا مطلب ہے چھپکلی کی لاش خلائی اسٹیشن لے آئو۔
وہاں لا کر کیا فائدہ۔ اسکے اوتار کو گھن آرہی تھی دادی کی لاش اٹھاتے۔
میں نے نیٹ فلیکس پر لی من کو کی سیریز دیکھی تھی when the stars gossipاس میں وہ جو والد نہ بن سکتے ہوں ان لوگوں کا۔ آہم سنسر
خلا میں زندہ کرکے انکی اولاد پیدا کرواسکتے تھے ۔ کارساز نے تفصیل سے بتایا
ہم دادئ کے ڈی این اے کو زندہ کرکے انکی کلون چھپکلئ بنا کر بوما کو دے دیں گے۔اسکا منصوبہ مکمل تھا ۔ اوتار شرم سے پانی پانی ہوگیا
تم بے شرم آدمی یہ سیریز دیکھ کر بیٹھے ہو؟ تم طنیا جیسی اچھی لڑکی کے قابل نہیں ہو اچھی لڑکیاں ایسی سیریز دیکھتی ہیں نا ایسی سیریز دیکھنے والے لڑکوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اوتار کے فتوے پر کارساز بھنایا
میں نے بس شروع کی چند قسطیں دیکھی تھیں فورا جج کرنے نہ بیٹھ جایا کرو ۔ وہ ہی اتنی بورنگ تھیں کہ آگے جو کچھ ہوا وہ دیکھا نہیں بس سوشل میڈیا پر سنا تب سے اچھا لڑکا بننے کے چکر میں لی من ہو کا نیا کوئی بھی ڈرامہ نہیں دیکھا ابھی تک گو اس نے کیا بھئ نہیں خیر چھوڑو ۔ جو کہا ہے وہ کرو ۔۔کارساز کے جھلانے پر اوتار کو بھی خیال آیا وہ جانےاسکی منگیتر جانے اوتار کو کیا۔۔ یہی سوچ کر اس نے طنیا کو دروازہ کھولتے دیکھا اور
ناک پر رومال رکھتے ہاتھوں ہر گلوز چڑھا کر چھپکلی کی لاش اٹھائی اور وہاں سے ٹیلی پورٹ ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ سلطان کو اسکے اتنی جلدی واپس آنے کی توقع نہیں تھی اپنی ہی دھن میں تیرتا ہوا وہ لیب میں داخل ہوا توکارساز کو اسکا زیرو گریوٹی سوٹ پہنے تندہی سے ایک چھپکلی کی چیر پھاڑ کرتے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا
تم اتنی جلدی واپس کیسے آگئے؟
وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا
کارساز جو چھپکلی کا دل نکال کر احتیاط سے کنٹینر میں رکھ رہا تھا مصروف سے انداز میں بولا
میں گیا ہی بس جوپیٹر تک وہاں سے اوتار بھیج دیا تھا اپنا۔ اچھا یہ سوٹ لے لو اپنا۔
وہ شرٹ اتارنے لگا تھا کہ چاہ سلطان کو گھن آگئ۔ چھپکلی کی چیر پھآڑ کے دوران خون کے ننھے قطرے اسکے سوٹ کو لگ چکے تھے۔
رہنے دو اب میں دھلوا کر بھی نہیں پہن سکتا یہ سوٹ۔ نیا بنوالوں گا۔
اسکے کہنے پر کارساز نے کندھے اچکا دیے
یہ چھپکلی کیوں چیر رہے ہو؟ اس نے پوچھا مگر دو تین بار دہرانے پر بھی جواب نہ ملا تو اس پر لعنت بھیج کر پلٹ گیا۔
اسکے خلائی فون میں کال آرہی تھی اس نے اپنے کیبن میں آکر وصول کی ۔
بوما تھئ حال احوال کے فورا بعد پوچھنے لگی
کیسے ہو سلطان؟ کارساز کو فون کررہی تھی اٹھا نہیں رہا شائد راستے میں ہے اس کی منگئتر ٹھیک تھی بتادینا اسے ہم اسے تسلی دے آئے تھے روبک کیوب بھی ۔۔
کیوں کیا ہوا تھا اسکی منگیتر کو؟ چاہ سلطان کو دلچسپئ بھی تھی
پتہ نہیں وہ کارساز خود دیکھنے گیا ہوگا ہمیں تو اس نے الو کے اوتار کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ روبک کیوب دے آئیں اسکی منگیتر کو تاکہ اسکے آنے تک کھیل لے مگر اسکی منگیتر کوڑھ مغز ہے مجھے لگتا ہے پھینک دیا ہوگا اس نے۔ اچھا پھر بات کرتی ہوں مجھے ابھی جلدی ہے ایک شامن ( عامل) کے پاس جانا ہے مجھے۔
بوما فون رکھنے ہی والی تھی کہ چاہ سلطان نے پوچھ لیا
کیوں شامن سے کیا کام پڑگیا؟
میری دادی گم گئ ہیں میں انکی روح کو ووڈو ڈول میں لانا چاہ رہی تھی مگر وہ چھپکلی تھیں جانے کہاں کھسک گئیں؟اب حساب کروائوں گی انکا اچھا بعد میں بات کرتی ہوں۔ بوما واقعی جلدی میں تھی فورا فون رکھ دیا
چاہ سلطان اس سارے معاملے کے سرے جوڑنے لگا۔ زمین پر کارساز کی منگیتر مشکل میں تھی کارساز کا اوتار بچانے گیا تو کیا وہ مصیبت بوما کی دادی تو نہیں؟ اس نے پرسوچ نگاہوں سے اپنے کیبن کے دروازے کو دیکھا جسے وہ کھلا چھوڑ آیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا وہ دروازہ بند کیئے بنا سوچ نہیں سکتا تھا سو سوچنے بیٹھا تو سوچوں کے گھوڑےسرپٹ دوڑ پڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانپ کے سروں کی مالا پہنے وہ سیاہ فام عورت آنکھیں بند کیئے کاغذ پر پنسل سے بےتکی لکیریں کھینچ رہی تھی۔ بوما اور لومادونوں بے تابی سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں
تمہاری دادی افریقہ کے جنگل میں نہیں ہیں۔ اس نے آنکھیں کھول کر صفحے کے کونے میں دائرہ بنایااور پھر اسے کاٹا مار دیا۔۔
پاکستان میں طنیا کے گھر میں بھی نہیں ہیں۔ اب وہ دوسرے کونے پر بھی کاٹا ماررہی تھی
خلائی اسٹیشن پر دیکھیں۔بوما کو جانے کیوں یہ خیال آیا۔
اس عورت نے ارتکاز ٹوٹ جانے پر بوما کو گھورا
نہیں وہاں بھی نہیں ہے۔
پھر کہاں ہیں؟لوما کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تھا
اس عورت نے نگاہ اٹھائئ اور سامنے دیوار پر ٹنگی بڑی سی سیاہ تصویر جس میں سیاہ رنگوں سے رات کی منظر کشی کی گئ تھئ اس پر نگاہ جما دی۔ اس کالی تصویر میں چند سفید دھبے حرکت کررہے تھے۔ تینوں دم سادھے ان سفید دھبوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔ وہ دھبے تصویر سے فریم اور فریم سے باہر سفید چونا ملی دیوار پر آگئے تو ان دھبوں کی اصل شکل واضح ہوئی۔
وہ سفید دھبے ایک کالی چھپکلی کے جسم پر تھے جو اب سفید دیوار پر کالی سفید چھپکلی میں بدل چکے تھے
دادی ۔۔۔
بوما لوما دونوں کے منہ سے چیخ کی طرح نکلا دونوں بھاگ کر اس کو پکڑنے لپکیں اس سیاہ فام عورت کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی۔ اسکا پہلا وار کامیاب رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے بچے تم کیسے جنکے بچے ہو جو تم جنوں سے ہی ڈر جاتے ہو۔
انکے بچے کی زبانی کال۔کوٹھری میں ملنے والی مخلوق کا احوال سن کر طنیا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئ۔ وہ اپنے کمرے میں لیٹ کر ڈائجسٹ میں اپنی پسندیدہ لکھاری کا بکواس سا ناول بہت شوق سے پڑھ رہی تھی جب جن کے بچے انکے بچے نے آکر یہ کتھا سنائی۔
نا مانو۔ انکا بچہ چڑ گیا۔۔
میں سچ کہہ رہا ہوں وہ جن نہیں تھا انسان بھی نہیں تھا تم نے اوتار فلم دیکھی ہے وہ بالکل اس فلم کے ہیرو جیسا تھا اوتار تھا وہ جانے کس کا وہ بھی۔ وہ دوبارہ آگیا تو؟
تو کیا میں اس سے شادی کرلوں گئ
طنیا نے مزاق کیا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اوتار سچ مچ اس وقت اسکے کمرے میں موجود تھا۔ اسکی بات پر چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں؟ کس لیئے اب کیا اوتار اسکی بات کو مزاق سمجھ کر ٹالنے والا تھا یا سچ مچ روبوٹ فلم کی طرح طنیا کے عشق میں مبتلا ہوجائے گا
کون جانے اگلئ قسط لکھوں بھی میں یا نہیں۔۔۔
مرضی میرئ۔۔۔

#urduz
#urdunovels
#jehlumkiTunyaJupiterkaAvatar
#urdukahani

Home » 2026

Aik Daily Blogger ki Wall Say | Urdu Short Story

ایک ڈیلی بلاگر باجی کی وال سے کل کی ایک پوسٹ۔۔۔۔
آپکے بہنوئی اتنے مزاحیہ ہیں نا کہ آج صبح صبح سے انکا مرا مزاق چل رہا ہے۔ صبح آنکھ ہی نہیں کھلی میری تو یہ لیٹ ہوگئے دفتر سے آٹھ بجے میری منی سی چوٹی کھینچ کر جگایا اور گال سہلاتے ہوئے مجھے اٹھنے کا کہہ کر خود باتھ روم میں گھس گئے۔ میں سستی سے انگڑائی لیکر اٹھی اٹھ کر آئینہ دیکھا بال سمیٹے جو انکے چوٹی ہلانے سے اجڑ پجڑ گئے تھے پھر چہرہ دیکھا تو انکی سخت انگلیاں ابھر آئی تھیں۔ خیر یہ تو انکا ہمیشہ کا جارحانہ پیار ہے ہر دو ایک دن میں پیار کی نشانی ضرور چھوڑتے ہیں میرے چہرے پر۔ جلدی جلدی ناشتہ بنایا چائے بنا کر میز پر رکھی یہ منہ پھلائے بیٹھے تھے مجھے گھورا تو مجھے ہنسی ہی آگئ۔ خیر انکو خاموشی سے ناشتہ کرتے دیکھتئ رہئ انکو میرے ہاتھ کا پراٹھا اتنا پسند کہ لیٹ ہونے کے باوجود ڈیڑھ پراٹھا کھایا اٹھتے اٹھتے بولے شکر ہے میری آج میٹنگ ساڑھے نو بجے ہے ورنہ تم نے تو لیٹ کرادیا تھا مجھے۔
مجھے ہنسی آگئ کتنے شرارتی ہیں دیر سے جانا تھا خود الارم بند کرکے سوگئے اور الزام بھئ مجھ پر لگا دیا جاتے جاتے قورمے کی فرمائش کرگئے وہ بھی مٹن کی۔ میں سوچ میں پڑ گئ بچوں کو کیا دوں؟ کیونکہ مٹن تو یہ کلو بھر لاتے ہیں اور میں بس ان ہی بھر کا سالن بناتئ ہوں تو چار دفعہ پک جاتا مہینے میں اب یہ سالن میں اور بچے بھی کھائیں تو چار تو بچے ہی ہیں ہمارے دو تو بڑے تو ٹین ایجر ہیں ۔ کلو گوشت لمحوں میں نمٹ جائے۔ ایسے موقع پر انکے لیئے مرغی کا سالن بنا دیتئ ہوں مگر اس وقت سر میں درد ہو رہا شائد پوری قوت سے ہاتھ اٹھا دیا انہوں نے بچے چھٹیوں کی وجہ سے گھر تو ہیں مگر سو ریے ہیں۔ انکے سامنے تو انکے ابا ہاتھ اٹھا نہیں پاتے بچے آجاتے سامنے پھر وہ بھی پٹتے۔ تو میں انکو کہتئ ہوں بچوں کے سامنے غصہ برداشت کرلیا کریں اکیلے میں جو چاہیں کہہ لیں۔اس وقت انہوں نے میری بات مان لی۔ شکر ہے بات مان لیتے ۔
بس پھر جلدی جلدی جا کر میں نے ایلو ویرا جیل منہ دھو کر لگایا بچوں کے اٹھنے تک سرخی بھی کافی کم ہوگئ اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سب کام بھی نپٹا لیا بچے اٹھے تو بیٹی نے مجھے کچن سے نکال دیا کہ امی آپ میرے پراٹھے میں تو گھی لگاتی ہی نہیں ہیں میں خود بنائوں گئ پراٹھا۔ پندرہ سال کی ہے ابھی اورماشااللہ اتنئ سمجھدار ہے کہ میرے بیٹے اور بیٹی میں فرق کرنے کو فورا پہچان جاتی ہے۔ دراصل دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں میرے ۔ اس سے چھوٹا تیرہ سال کا بیٹا ہے بالکل باپ پر گیا ہے باپ جیسا غصہ ہے انکی طرح دو پراٹھے کھاتا ہے وہ بھی سالن بھئ ساتھ ہو اور آملیٹ بھی۔ پہلے تو بڑی بیٹئ کے املیٹ سے اسے تھوڑا سا دے دیتئ تھی مگر جب سے بڑی ہوئی ہے اپنے بنائے انڈے کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی یوں روز کے دو انڈے خرچ ہوتے کہاں ایک ہی انڈے سے نمٹا دیتئ تھئ تینوں بچوں کو پھر نو سالہ بیٹئ ہے معصوم سی اسکو تو میں اسکے ابا کا پراٹھا جو چھوڑتے وہی کھلا دیتی اگر کبھی ذیادہ ضد کرے تو تھپڑ لگادیا لیکن پچھلی بار تھپڑ لگانے پر بڑی بیٹی بیچ میں آگئ ۔ اب وہی ناشتہ بنا کر دونوں بہن بھائیوں کو بٹھا کر کراتئ ہے تین انڈے خرچ ہوجاتے روزکے۔ سب سے چھوٹا میرا بیٹا میری جان پانچ سال کا ہے اسکو دلیہ کھچڑی الگ سے بنا کردیتئ ہوں؟ نہیں وہ سب سے پہلے دو تھپڑ کھاتا ہے پھر جو سامنے رکھ دوں بچاکھچا وہ کھاتا ہے میں بچوں کے لاڈ اٹھانے کی قائل نہیں
خیر ابھی تو وہ قصہ سنا رہی کہ آپکے بہنوئی اور میرا مزاق چل رہا ہے صبح سے تو ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون آیا کہ مٹن قورمہ ذیادہ بنا لینا میرا دوست بھی ساتھ ہوگا۔ شام میں۔ اب انکے دوست خدا جھوٹ نہ بلوائے نوے کلو کا ہے چار بندوں کا کھانا کھاتا ہے پچھلی دفعہ پورے کلو کا مٹن قورمہ بنایا تھا سب ڈکار کر رات کو دال چاول بھئ کھا کر بارہ بجے تک گیا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہہ دیا کہ مہینے کا آخرہے بس پائو والاپیکٹ بچا ہے ۔ بولے الو کی پٹھی اور منگوا لے میں نے بتایا کہ میرے پاس پیسے ختم تو ایک اورموٹی سی گالی دی بولے ابھی جو پرسوں میری امی آئی تھیں میری مٹھی میں پانچ ہزار کا نوٹ رکھ گئی تھیں اسکا منگوا لوں۔ یقین کیجئے اتنی حیران ہوئی میں
انکو کیسے پتہ چلا خدا بخشے جب تک میری ساس زندہ تھیں ایسی جاسوسیاں وہی کرتی تھیں جہاں میرے میکے سے کوئی آیا انکی چار آنکھیں چوکنا ہوجاتی تھیں بچوں سے الگ کرید کر پوچھتی تھیں میرے بڑے والے بیٹے کو انہی سے لگائئ بجھائی کی عادت پڑی ہے۔ کل وہی میرے بھتیجے کے ساتھ امی کے برابر بیٹھا تھا یقینا اسی نے دیکھ کر باپ کو بتا دیا۔ ہائے میری بھولی امی۔ بھائی جو ہر مہینے بھابی سے چھپ کر ہزار روپے رکھتے انکے ہاتھ پر سب جمع کرکے ایک چکر میرے گھر کا لگا کر مجھے دے ڈالتی ہیں۔منع بھی کیا تھا یہ ننھا شیطان بیٹھا ہو تو اسکے سامنے نہ دیا کریں مگر ہوگئ غلطی۔
خیر آپکی بہن کم نہیں۔ انہوں نے تو فون رکھ دیا اب اسئ کو ساتھ لیکر گئ کہ تھوڑی سزا تو ملے ۔ راستے میں کورنیٹو کھلا کر وعدہ لیا کہ ابا کو یہ بتائے کہ بقیہ بچے پیسوں سے اس نے وہ بیٹ بال اور جیومٹیٹرئ باکس لیا ہے جس کو میں اسے پچھلے دو مہینوں میں اپنی بچت سے دلوا چکی ہوں اور وہ باپ کے سامنے ان چیزوں کو چھپا دیتا ہے۔ دراصل انکی اتنی بری عادت ہے کوئی نئی چیز دیکھتے تو بال کی کھال اتارتے کہاں سے پیسے آئے کتنے کے لیئے اور میری بچت تو اور غصہ دلا دیتی ہے کہتے اگر پیسے بچیں تو انکو واپس دیا کروں تاکہ وہ نئے مہینے کے خرچےمیں ڈال لیں یا کٹوتی کرلیں۔
خیر آج میں نے قورمہ بنایا بڑی بیٹی نے چڑچڑا پن دکھایا کہ ہمارے لیئے کیوں نہیں بنتا قورمہ تو سب بچوں کیلئے شوارما منگوادیا کہ باپ سے چھپ کر کھا لینا۔رات کو جب دوست رخصت ہوا تو انہوں نے فورا ساری تفصیل مانگی کہ پانچ ہزار سے کتنے بچے میں نے بیٹے کو آگے کردیا اس نے فر فر سنایاتھوڑا غصہ آیا انہیں مگر میرا بیٹا لاڈلا بھئ ہے انکا دوسرا کئی مہینوں سے ان چیزوں کی ضد کررہا تھا تو انکا ایک خرچہ کم ہوا یہ سوچ کر انہوں نے غصہ تھوک کر مجھ سے چائے کی فرمائش کردی۔میں جھٹ انکے مزید سوال جواب سے بچنے کو اٹھ گئ۔ چائے چڑھائی ڈونگے تو خالی آئے تھے پتیلی پونچھ کر روٹی کھائی جلدی جلدی ورنہ پتیلی میں کھاتے دیکھ کر انہیں بہت غصہ آتا کہ میں اچھی بوٹیاں بچا کر پتیلی میں رکھے رہتی ہوں اور بعد میں کھاتی ہوں۔حالانکہ اب آپ سے کیا چھپانا خالی سالن ہوتا ہے پتیلی میں ۔ ڈونگے تو یوں پچھ پچھا کر آتے کہ کچھ لگا ہی نہیں ہوتا ان میں۔ خیر چائے بنا کر لے جا رہی ہوں انکے لیئے
اب ایک آپکی میری آپس کی بات ہے امی نے ایک نہیں دو نوٹ دییے تھے یہ بات بیٹے کو بھی نہیں بتائی ۔ کیونکہ بیٹیوں کی ضرورت کی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو انکو بتائو تو کہتے فضول خرچی ہے مگر میں تو جانتئ ہوں ان چیزوں کے بغیر بیٹیوں کا گزارہ نہیں ہوتا تو اسی طرح پورا کرتی ہوں انکی چیزیں۔ ابھی تو خیر ایک ہی بڑی ہوئی ہے مگر سال دو سال میں دوسرئ کی بھی باری آجانئ ہے مگرمردوں کو ان معاملات کا تھوڑی اندازہ ہوتا بس اسی لیئے ان سے چھپ کر خرچ کرتی ہوں بیٹئ پر۔ بھلے اسے میرے پیار پر نا انصافئ کا گمان ہوتا ہو مگر بیٹی بھی اولاد ہے میری بیٹے کو اچھا کھلا دیتی ہوں تو بیٹی کا پہننا اوڑھنا اچھا ہوتا ہے ۔
اچھا اب سونے لگی ہوں کل کے بلاگ میں بتائوں گی کہ پوری کوشش کے باوجود بھی چہرے پر نشان دیکھ لیئے بیٹی نے اور جو باپ سے لڑی میں بیچ میں نہ آتی تو اس وقت بائیں کروٹ لیٹتے اسکا گال بھی دکھ رہا ہوتا میری طرح۔۔۔۔۔
#ڈالڈاخاتون
#سگھڑبیگم
#ٹاکسک_میاں_کی_بیوی
#نارسسٹ_میاں
#کنجوس_مرد
#پاکستانیوں_کی_باتیں
#خاتون_خانہ
#گھگھوگھوڑےکی_ماما
#بیٹی_کی_ماں
یہ مجھے ایڈٹ کرکے لکھنا پڑ رہا ہے یہ مکمل تخیلاتی افسانہ ہے ازقلم واعظہ زیدی
وہ ایسا ہی فضول لکھتی ہے کیا کرےبے چاری