Jehlum ki Tunya aur Jupiter ka Avatar | Urdu Sci-Fi Novel

جہلم کی طنیا اور جوپیٹر کا اوتار۔۔

ازقلم واعظہ زیدی
وہ آج بھی اداس پریشان بیٹھی تھی سوچا کہ کچھ کرے تبھی ناسا کے خلائی اسٹیشن میں بیٹھے مریخ کو دور بین سے دیکھتے کارساز نے ٹیلی پیتھئ سے اسکا دماغ پڑھا۔۔
طنیا جس کا پورا نام قسطنطنیا نہیں تھا بلکہ طنیا کمخور تھا ایک امیر باپ کی بیٹی تھی۔ اسکے مسلئے آج کیا کھانا پکائوں یا آج کس امیر باپ کے بیٹے کو پھنسائوں یونیورسٹی جا کر جیسا کہ لاہور کی لڑکیوں کے ہوتے مسلئے نہیں تھے۔ اسکے مسلئے پنڈی کی لڑکیوں والے تھے حالانکہ وہ جہلم کے قریب ایک قصبے دوٹوک بکواس کے چک نمبر پندرہ ہزار نو سو پینتالیس میں ایک حویلی کی کال کوٹھری میں رہتی تھی۔ اسلیئے کہ اس کی حویلئ میں ایک جن کا بچہ اسے روز آکر رات کو کہتا کہانی سنائے اسکو کہانیاں تو بہت آتی تھیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے اسکا نیٹ پیکج ختم تھا وہ کوئی نیا کورین / چینی /تھائی / ترکی ڈرامہ دیکھ نہ سکی تھی کہ وہاں سے چھاپا مار کر کہانی بنا لیتی ۔سو اس سے چھپنے کو وہ اس کال کوٹھری میں آبیٹھی تھی۔ یہاں کا نو سو پاور کا بلب فیوز تھا کچھ موٹئ مکڑی کے پتلے جالے اس فیوز بلب کی نہ نکلنے والی روشنی میں دمک رہے تھے۔ مگر طنیاکمخور مکڑی کے ان باریک جالوں پر تحقیق نہیں کر رہی تھی۔ بلکہ اسکا اصل مسلئہ توان جالوں کے قریب چپکا تھا۔منہ میں ایک چھوٹا سا کیڑا دبائے۔۔ اس نے آنکھیں بند کرکے سوچا
کاش میرا کوئی منگیتر ہوتا جو میری مدد کرسکتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارساز کوجھٹکا سا لگا اس نے بنا سوچے سیٹ بیلٹ کھولی یہ بھول گیا کہ اس وقت خلاء میں ہے ٹھک سے جا کر اسکا سر چھت میں لگا۔ اسکی پچھلی بارہ سال کی تحقیقات اور پھپو منجولیکا کی سب کڑوی کسیلی باتیں اسے یک بیک یاد آگئیں۔
اپنئ آنکھوں کے سامنے ناچتے تاروں کو گنا تبھئ اسکا سینئیر اور دوست چاہ سلطان نے آکر اسے سہارا دیا اسکا ہاتھ پکڑا وہ ہوامیں تیرتا ہوا نیچے آیا۔ چاہ سلطان کشش ثقل کو شربت کی طرح پی جانے والا ہوا میں پانی کی طرح تیر سکنے والا swim suit پہنے تھا۔
میری طنیا خطرے میں ہے اسے میری ضرورت ہے
کارساز کی آنکھوں میں سر پھوٹنے کی وجہ سے آنسو تیر رہے تھے۔ چاہ سلطان کو ترس آگیا۔ مگر ایک سوال بھی اٹھا ذہن میں
تمہیں کیسے پتہ چلا تم تو اس سے چار ہزار نو سو پندرہ سال چودہ ہفتے تین دن اور نو گھنٹے چھپن بلکہ اب تو اٹھاون منٹ تئیس سیکنڈ دور اس خلائی اسٹیشن میں بیٹھے ہو؟ اور وہ تو پاکستان کے ایک شہر جہلم کے چک پندرہ ہزار نو سو چھیالیس کی ایک گوری حویلی کی کال کوٹھری میں بیٹھئ ہوگی؟
نو سو پنتالیس۔ کارساز نے تصحیح کی۔ اسے خیال ہی نہ آیا کہ چاہ سلطان سے پوچھتا کہ آخر اسے کیسے پتہ کہ وہ گوری حویلی کی کال کوٹھری میں بیٹھی ہے۔
ٹیلی پیتھئ سے۔ کارساز کا جواب مختصر تھا
ٹیلی پیتھئ سے تم اپنی منگیتر سے کب کیسے جڑے؟ مجھے پورا حوالہ متن بمع سیاق و سباق و تشریح کے ساتھ بتائو ۔ چاہ سلطان متجسس تھا۔
سوال تمہارا ہسٹرئ کا ہے جواب تمہیں اردو گرامر انشا پردازی سے چاہیئے۔
کارساز مسکرایا۔
ہاں مجھے لمبا جواب چاہیئے۔ چاہ سلطان کا انداز دوٹوک تھا
اچھا تو سنو۔۔ یہ بات ہے آج سے کئی ہزا سال پہلے دنیا کی ۔۔۔ کارساز نے وقفہ لیکر تھوک نگلا
میں جب پیدا ہونے والا تھا اور میرا رشتہ پھپی منجولیکا نے اپنی نہ ہو سکنے والی بیٹی کوار گندل سے طے کرتے ہوئے اسکے نام کی انگوٹھی امی کی انگلی میں پہنانے کی کوشش کی تھی تب ہی میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں پیدا ہوتے ہی اپنی ہونے والی بیوی کو ڈھونڈ کر اسے ٹیلی پیتھی سے پیغام بھیجوں گا کہ وہ پھپھو منجولیکا کی بجائے چاچو مری روڈ کے گھر پیدا ہوجائے۔ اس وقت میری ٹیلی پیتھی اتنی اچھی نہیں تھی اور طنیا کو میرا پیغام نہ مل سکا اور وہ چاندنی چوک والے ماموں کے ہاں پیدا ہوگئ ۔ یہ بھی کوئی برا سودا نہیں تھا امی کی چچی سے کونسا بنتی تھئ پورے آٹھ سال کا تھا میں تب ۔ اسے سب سے پہلئ گٹھی نا۔۔۔
رک جائو
چاہ سلطان کے کانوں سے دھواں نکلنے لگاوہ اپنے سر پر لگے گول گلوب جیسے شیشے کے ہیلمٹ کے اوپر سے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلا اٹھا
۔ مجھے یہ سب مت بتائو میں کرنج سے مرجائوں گا۔ تم نے گٹھی دی؟ اپنی اپنی ہونے والی بیوی کو جو ابھی پیدا ہوئی تھی۔
میں نے یہ کب کہا؟ کارساز نے خفگی سے گھورا
بات تو پوری سن لو یہ ناول خریج ضاہ تھوڑی لکھ رہی ہے۔ میں تو بتا رہا تھا کہ جب طنیا کمخور کو نانا ابا گھٹی دے رہے تھے میں نے ٹیلی پیتھی سے طنیا کو پیغام بھیجا کہ نانا ابا پر چھینک دے۔ اسکی چھینک اتنی طاقتور تھی کہ نانا ابا کا چہرہ سن گیا تھا اسکے تھوک سے کراہیت سے اسے نانا ابا نے تقریبا چھوڑ دیا تھا اور میں نے بھاگ کر اسے تھاما
پھر کیا ہوا؟ چاہ سلطان کو بھی دلچسپی ہوہی گئ۔
میں بھول گیا تھا کہ میں تو وہاں موجود ہی نہیں میں نے تو اپنا ہیولہ بھیجا تھا ہولوگرام ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ وہ میرے ہیولے کی بانہوں سے آر پار ہوتےدھپ سے زمین پر گری اسکا سر پچک گیا تھا۔ایک لمحے کو تو مر ہی گئ تھی ۔ بس تب سے اسے جنات خلائی مخلوق نظر آتے ہیں۔ مجھے بھی کبھئ کبھی وہ کوئی بھوت ہی سمجھتی ہے۔
تو کیا اس وقت اسے بھوت نظر آرہا ہے جو وہ مصیبت میں ہے خطرے میں ہے؟
چاہ سلطان نے جیسے معاملہ سمجھ لیا۔
نہیں۔ کارساز نے نفی میں سر ہلایا۔ آنکھیں بند کیں چند لمحوں بعد کھولیں۔
اس سے بھی بڑا مسلئہ درپیش ہے اسے۔ مجھے تمہارا یہ ہوا میں تیراکی والا سوٹ چاہیئے۔
تمہیں تو زمین پر جانا ہوگا طنیا کو بچانے کیلئے تم اس سوٹ کا کیا کروگے؟
چاہ سلطان ہچکچایا یہ اس کا نیا سوٹ تھا کارساز کو دے کر اسکی استری خراب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اگر ہچر مچر کرتا تو کارساز کو شک ہوجاتا۔
میں فی الحال تو اس خلائی اسٹیشن میں ہی اگلے کمرے میں جانا چاہتا ہوں اسلیئے۔ کارساز مسکرادیا اسکے روبوٹ جیسے دانت چمک اٹھے اور چاہ سلطان خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا وہی خون جو اسکے کانوں سے کارساز کی کہانی سن کر بہہ نکلا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاطینی امریکہ کی وہ سیاہ فام لڑکی درخت پر جھولتے کالے کپڑے کو غور سے دیکھتی ایک ووڈو ڈول کو سوئیاں چبھو رہی تھی جب اسکے برابر رکھی اینٹ پھڑپھڑانے لگی۔۔
لگتا ہے میرا منتر کام کرنے لگا ہے۔ وہ مسکرائی۔ اینٹ اٹھائی تو دیکھا اس اینٹ کے نیچے جو اس نے چتکبری سنپنی چھپا کر رکھی تھی غائب ہو چکی تھی۔
میری چتکبری سنپنی کہاں گئ؟ وہ پریشان ہو کر وہ ووڈو ڈول پھینک کر درخت پر لٹکا کالا کپڑا زور زور سے کھینچنے لگی۔ کالا سیاہ کپڑا اسکی سیاہ فام چھوٹی بہن کی لنگی کا تھا۔ اس نے جھلا کر چھڑایا
کیوں میری لنگئ کھینچ رہی ہو؟
لوما آرام سے درخت پر بیٹھی بندر سے کیلا چھین کر کھا رہی تھئ بندر اسے روہانسی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس نے جیسے ہی جھک کر لنگی کھینچنے پر بوما کو گھورا بندر اسکے ہاتھ سے کیلا واپس چھین کر لمبئ چھلانگیں لگاتا بھاگ گیا تھا۔کیلا چلا گیا تھا اسکے ہاتھ سے
اسکا غصہ بجا تھا۔
نیچے آئو میری چتکبری چھپکلی غائب ہوگئ ہے۔
اسکی بات سن کر لوما نے چھلانگ لگاتے لگاتے ارادہ بدلا اور درخت سے احتیاط سے اتر کر اسکے پاس آکر بولی
مگر وہ تو ہم انڈونیشیا سے لائے تھے جسے وہ چندی آنکھوں والا جوں کا میاں (نام ہے آدمی کا سچ مچ جوں کا میاں نہیں تھا وہ)پکا کر کھانے والا تھا اس سے کتنی منتوں کے بعد ہم چتکبری چھپکلی واپس لائے تھے کہ وہ ہماری دادی کا دوسرا جنم ہے اب اچانک دادی کہاں چلی گئیں؟
مجھے کیا معلوم۔ بوما بھنائی
میں نے تو اینٹ کے نیچے دبا دیا تھا تاکہ وہ مرجائے اور اس ووڈو ڈول میں سوئیاں چبھو رہی تھی کہ دادی کی روح اس میں آجائے۔ مگر چتکبری چھپکلی
غائب ہوگئ ہے۔
بوما کے روہانسے انداز پر لوما نے تشویش زدہ ہو کر اینٹ اٹھا کر دیکھا۔ نیچے چتکبرا سانپ
پھسا ہوا پڑا تھی اسکی آنکھیں باہر آچکی تھیں۔
تم تو کہہ رہی تھیں کہ دادی کی روح کو اس ڈول میں لائوگئ وہ تو پھر مرگئیں۔ لوما دادی کا دردناک انجام دیکھ کر رودی
مگر اینٹ ہلی تھی میں نے خود دیکھا تھا۔بوما بھی پریشان ہوگئ۔
بھلے سنپنی بن کر وہ ہمیں کاٹتی رہتیں اپنا زہر قطرہ قطرہ ہمارے بدن میں ڈالتی رہتیں مگرزندہ تو رہتیں تم نے تو انکا سر کچل کر مار دیا ۔ لوما بھاں بھاں کرکے بین کرکے رو رہی تھی
اگر دادئ مر بھی گئیں اینٹ بھئ ہلی اور ووڈو ڈول میں بھی نہ آئیں تو انکی روح آخر گئ کہاں؟ بوما نے سوچتی نگاہ سے درخت کو دیکھا۔ تبھی درخت پر ہلچل سی ہوئی بوما کے دماغ میں گھنٹی بجی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارساز ہوا میں تیرنے والا سوٹ پہنے اپنے باس کے سامنے کھڑا تھا۔ سائنسدان خلاباز جیمی اولیور خلا میں فرائیڈ رائس بنا رہے تھے اسکی جانب پلیٹ بڑھا کر بولے
صحیح وقت پر آئے ہو مجھ سے اتنا بد مزا فرائیڈ رائس کھایا نہیں جا رہا تھا تم کھالو۔
فرائڈ رائس سے کچے انڈے کی بو آرہی تھی کوئی اور وقت ہوتا تو کارساز پھر بھی کھاجاتا مگر اس وقت اسکا ذہن طنیا میں اٹکا تھا۔
مجھے گھر جانا ہے میری منگیتر مصیبت میں ہے۔
تم جب تک گھر پہنچوگے یا تو مصیبت ختم ہو چکی ہوگی یا تمہاری منگیتر تم چار ہزار سال دور مریخ کے پاس ناسا کے خلائی اسٹیشن میں موجود ہو یاد ہے یا بھول گئے؟
نہیں سر میں اس وقت ذہنی طور پر دنیا سے بھی آگے جوپیٹر تک پہنچ چکا ہوں میری بریک فیل ہوگئ تھئ۔ اس وقت میرا ہولوگرام آپ سے بات کررہا ہے۔
وہ کہہ کر ایکدم غایب ہوا تھا شائد اسکا رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
اولیور نے ہنکارا بھرا
بہت کمینہ لڑکا ہے ہمیشہ چھٹی لینے آتا ہے اور اصل میں واپس دنیا میں جا چکا ہوتا ہے مجھے پکا یقین ہے کہ یہ اس وقت جہلم پہنچ چکا ہوگا۔ مکار جھوٹا لڑکا۔ خیر دفع دور میرا اپنا بڑا مسلئہ حل طلب ہے کہ
میں اب اس بدمزہ فرائیڈ رائس کا کیا کروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طنیا کہانی سنا دو۔
مانوس آواز اسے اپنے گرد سنائی دی۔
وہی جن کا بچہ انکا بچہ( انکا بچہ نام ہے جن کے بچے کا) اس نے بیزاری سے سوچا۔
اسکو کہانی سنانے سے بہتر ہے میں اس مصیبت کے ساتھ اکیلی تنہا اس کال کوٹھری میں ہی بیٹھی رہوں۔ طنیا نے سوچا۔۔
تبھی اسکے سامنے دو سیاہ ہیولے نمودار ہوئے۔
کالی لنگئ کالے بلائوز میں کالی سیاہ فیام لڑکیاں اسکے سامنے تھیں۔
اب تم دونوں چڑیلیں کون ہو آس حویلی کی تو نہیں لگتیں؟

طنیا نے بدتمیزی سے پوچھا۔
لوما نے بوما کے چٹکی کاٹی
کہا بھی تھا کپڑے بدل لیتے ہیں چڑیلیں سمجھ رہی ہے یہ ہمیں۔
بوما نے گھورا۔ ہم دادی کو ڈھونڈنے نکلے تھے فیشن شو میں جانے کیلئے نہیں۔
ہم تو لیکن اپنے گھر میں ہئ ہیں یہ لڑکی تو ہولوگرام ٹیکنالوجئ سے ہمیں دیکھ رہی ہے۔
لوما نے بتایا
وہی تو جب گھر سے نکلے ہی نہیں تو کپڑے کیوں بدلنے؟
ہم نے تو ہولو گرام ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے چپے چپے میں چتکبرے سانپوں کو ڈھونڈ کر دادی کو تلاش کرنا تھا ہم یہاں اس بد صورت پاکستانی لڑکی کے پاس کیوں آئے؟ لوما کو تجسس بھی تھا۔
طنیا موبائل اٹھائے انکے بولے جملوں کو اے آئی سے ترجمہ کررہی تھی یہ والا جملہ اے آئی نے ایرر کردیا۔۔
ہم یہاں دادی کو ڈھونڈنے تو آئے بھی نہیں ہیں ہمیں تو الو کا پیغام آگے پہنچانا تھا۔
ہاں تو الو کا پیغام بھئ تو اچانک آگیا تھا وہ کام بھی تو کرنا تھا۔
کیا ہو تم دونوں کیا باتیں کررہی ہو مجھے بھی بتائو پہلے ہی میں اکیلی تنہا اس کال کوٹھری جس کی چھت ہئ نہیں ہے دن کی روشنی میں بیٹھی ہوں۔
اوپر سے تم دونوں لاطینی زبان میں بات کررہی ہو۔
مجھے سب سمجھ آرہا ہے کیونکہ میں نے گوگل ٹرانسلیٹر سے سب ٹرانسلیٹ کرلیا ہے۔ کہاں ہے تمہاری دادی؟ کیوں ڈھونڈنا ہے اسے
لو مسلئہ ہی ختم۔ بوما خوش ہوگئ
آگے بڑھ کر اسے ایک روبک کیوب تھما دیا۔ جب تک تمہارا منگیتر تمہیں بچانے نہ آجائے تم اس روبک کیوب سے کھیلو جیسے ہی حل ہوگا تمہارا منگیتر سامنے کھڑا ہوگا اب ہم چلتی ہیں ہمیں دادی کو ڈھونڈنا ہے۔
وہ دونوں سیاہ فام لڑکیاں اچانک غائب ہوگئیں۔
طنیا نے روبک کیوب کو حل کرنا شروع کیا ۔۔ اس طرح تو مجھے کئی ہزار سال لگ جائیں گے آج تک روبک کیوب حل نہ ہوسکا مجھ سے۔ اتنے سالوں میں میرا پیدا ہوا وا منگیتر چھوڑو اسکے پوتے پوتیاں بھی آجائیں گے بچانے اس نے بیزاری سے روبک کیوب ایک طرف رکھا۔
طنیا مجھے پتہ ہے تم کال کوٹھری میں ہو دھوپ میں سایہ بھئ نظر آرہا ہے تمہارا اب تو کوئی کہانی سنادو۔
بور تو طنیا بھی ہوگئ تھی۔ مگر اسے اپنی مصیبت سے جان چھڑانے کا حل سوجھ گیا تھا
پہلے تم اندر آئو۔۔ ایک کام کرو میرا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکا بچہ طنیا سے لپٹا تھر تھر کانپ رہا تھا۔
مجھے معاف کردو میں آئیندہ کبھی تم سے کہانی سننے کی ضد نہیں کروں گا۔ اسکے روہانسے انداز پر طنیا سخت بیزار ہوئی۔اسکی مصیبت دہری ہو گئ تھی۔ کہاں وہ اکیلی کال کوٹھری میں دیوار سے ٹیک لگائے چھت پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی کہاں اب اس سے چپک کر جن کا بچہ بیٹھا بے سرا راگ الاپ رہا تھا۔ وہ اس سے ذیادہ ڈرپوک نکلا تھا۔ طنیا نے اپنی آنکھیں چندی کرکے کالی بلیوں ( بلی مت پڑھ لینا یہ زبر کے ساتھ بلی ہے وہ جو چھتوں پر لکڑی کے ڈنڈے سیدھے ڈالے ہوتے تھے پرانے زمانے میں اسکی بات ہو رہی ہے)
ہاں تو سیاہ بلیوں والی چھت پر سیاہ سفید موٹی بالشت بھر کی چھپکلی تھی عین دروازے کے اوپر والی چھت پر چپکی وقفے وقفے سے کھانس رہی تھی۔ اسکے کھانسنے کی وجہ سے منہ دابا کیڑا دھپ سے زمین پر گرا تھا۔ اسکو لپک کر پکڑنے چھپکلی بھی نیچے آگری تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب طنیا نے سب مصلحتیں بالائے طاق رکھ کا انکا بچہ کو اندر بلا لیا تھا۔مگر انکا بچہ جانے کیسا جن کا بچہ تھا وہ زمین پر ایک کونے میں پڑی چھپکلی کو جو شائد بیمار بھی تھی اسے دیکھ کر تھر تھر کانپ رہا تھا بجائے اسکے کہ کوئی چیز اٹھا مارتا چھپکلی کو الٹا خود طنیا سے لپٹ کر رو رہا تھا ۔
کیسے جن کے بچے ہو ایک چھپکلی سے ڈر رہے ہو
طنیا بے زار ہوئی۔ اس تیز برسات والی گرمی حبس میں یوں ایک فالتو کمرے میں بیٹھ کر آخر کب تک چھپکلی سے ڈرتی۔ وہ بھی جو گرنے کے بعد شائد ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگوا بیٹھی تھی اب ہل بھی نہیں رہی تھی۔
تم ایسا کرو وہاں سے چھڑی لیکر اسکو بھگا دو۔
انکے بچے کئ بات پر طنیا نے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔
تم اپنا منہ بند رکھو۔ تمہیں بلایا اندر اس لیئے تھا کہ دروازے سے آتے اس چھپکلی پر پیر پڑتا یہ مرجاتی میں آرام سے دروازہ کھول کر باہر نکل جاتی مگر تم نکمے نالائق جن کی اولاد دیوار سے آر پار ہوگئے دروازے سے آتے کیا تکلیف تھی تمہیں؟
طنیا کے بری طرح الٹ پڑنے پر وہ روہانسا ہوگیا۔
تم نے اندر کوٹھرئ میں چھپتے دروازے پر کنڈی لگا دی تھئ میری ساری توانائی کنڈی کھولنے میں لگ جاتی اسلئے دیوار پار کرکے آیا میں
اسکی اپنی مجبوری تھی۔ طنیا ایک عزم کرکے کھڑی ہوئئ
یہ جو بھئ چھپکلی ہے ادھ مری یا زندہ اب اسکی جان میں لیکر رہوں گئ بچپن میں کنچے کھیلتی تھی گلئ میں نشانہ پکا ہے میرا ۔ اسکا عزم مصمم دیکھ کر انکا بچہ بھی کھڑا ہوگیا
میں تمہیں کنچے لا کر دیتا ہوں۔ وہ کہہ کر غائب ہوگیا۔ طنیا اسکے کنچے ڈھونڈ کر لانے کا انتظار نہیں کرسکتی تھی اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی اس کمرے میں حویلی کا سارا کاٹھ کباڑ پڑا تھا ٹوٹی کرسیاں ایک پرانی دیگ ایک ڈوئی ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی ایک تانبے کا لوٹا ایک پھٹا ہوا غالیچہ ایک ٹوٹا ہوا گملا ایک بانس دو ٹوٹی ہوئی کرسیاں ۔۔ اچھا چھوڑیں پورے کمرے میں نجانے کیا کیا تھا طنیا کو تانبے کا لوٹا پسند آیا۔ اس نے تاک کر چھپکلی کے سر کا نشانہ لیا اور دھڑام سے تانبے کا لوٹا اسکے سر پر دے مارا۔ ۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ چھپکلی جگہ بھی بدل نہ سکی۔ چند لمحوں طنیا کو چھپکلی کی آواز نہ آئئ تو مرا ہوا سمجھ کر اس نے ایک کونے میں ہاں اس کونے میں ایک لمبا بانس پڑا تھا جالے نکالنے والا اس کونے سے بانس اٹھا کر لوٹے کے سر میں پھنسا کر ہٹایا تو چھپکلی پھسی ہوئی پڑی تھی آنکھیں باہر زبان باہر۔ اسے ڈر سے ذیادہ کراہیت آئی لوٹا ڈنڈے کی مدد سے کونے پر کیا پھر اسی ڈنڈے سے چھپکلی کی لاش کو ٹھیل کر دروازے کے سامنے سے ہٹایا اور بھاگ کر کنڈی کھولی۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیرت کا جھٹکا لگا
چھپکلی اب وہاں نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارساز اور انکا بچہ اکٹھے ٹیلی پورٹ ہو کر آئے تھے۔ انکا بچہ کی نگاہ جن کی طرح اچانک نمودار ہونے والے انسان پر پڑی تو جیسے اسکی روح ہی فنا ہوگئ ایک زور دار چیخ ماری اگر انسان سن سکتے تو یقینا انکے کانوں کے پردے پھٹ جاتے مگر یہ کارساز خود نہیں تھا اسلیئے اسکے کانوں کے پردے بچ گئے۔ وہ جوپیٹر پر رک کر وہاں سے اپنا اوتار بھیج کر واپس خلائی اسٹیشن پر چلا گیا تھا۔ اس اوتار نے آگے بڑھ کر جن کے بچے انکے بچے کے منہ پر ہاتھ رک کر چپ کرانا چاہا مگر وہ خوفزدہ ہو کر غائب ہوگیا
اوتار طائرانہ نگاہ سے چتکبری چھپکلی کو ڈھونڈ رہا تھا۔ ایک کونے میں ابلی آنکھوں پھسے ہوئے چہرے والے چھپکلی کی لاش ۔ اسے انسان نہ ہوتے بھئ ابکائی آگئ۔ تبھی اسکے کان سے لگے آلے میں کارساز کئ آواز آئئ۔
ہاں پہنچ گئے مل گئ چھپکلی؟ مارنا نہیں یہ چھپکلی بوما کی دادی ہیں تم انہیں لیکر سیدھا ناسا اسٹیشن پر لے آئو اب باقی باتیں ہم۔۔
کارساز جتنا بھی ذہین سہی مگر بہت بک بکی تھا اسکا اوتار اسکی پوری بات سنے بنا بولے جانے والی عادت سے خود بیزار تھا۔ چڑ کر ٹوکا۔۔
تمہاری جھانسئ کی رانی منگیترطنیا نے بوما کی دادی کو مار ڈالا ہے۔ کونے میں لاش پڑی ہے لائوں لاش؟
کارساز کافی پی رہا تھا اچھو ہوگیا اسے
کیا واقعی؟اسے پریشانئ بھی ہوئی خوشی بھی ۔
اسکی منگیتر اتنئ بہادر ہے کی چھپکلی مار دی اور
پریشانی یہ تھئ کہ چھپکلی کوئی عام چھپکلی نہیں تھی بوما کی دادی تھیں ۔ اگر بوما جان لیتی تو طنیا کی جان لے لیتی ۔
تبھئ اسے نیٹ فلیکس پر دیکھی سیریز یاد آئی
تم ایسا کرو دادی میرا مطلب ہے چھپکلی کی لاش خلائی اسٹیشن لے آئو۔
وہاں لا کر کیا فائدہ۔ اسکے اوتار کو گھن آرہی تھی دادی کی لاش اٹھاتے۔
میں نے نیٹ فلیکس پر لی من کو کی سیریز دیکھی تھی when the stars gossipاس میں وہ جو والد نہ بن سکتے ہوں ان لوگوں کا۔ آہم سنسر
خلا میں زندہ کرکے انکی اولاد پیدا کرواسکتے تھے ۔ کارساز نے تفصیل سے بتایا
ہم دادئ کے ڈی این اے کو زندہ کرکے انکی کلون چھپکلئ بنا کر بوما کو دے دیں گے۔اسکا منصوبہ مکمل تھا ۔ اوتار شرم سے پانی پانی ہوگیا
تم بے شرم آدمی یہ سیریز دیکھ کر بیٹھے ہو؟ تم طنیا جیسی اچھی لڑکی کے قابل نہیں ہو اچھی لڑکیاں ایسی سیریز دیکھتی ہیں نا ایسی سیریز دیکھنے والے لڑکوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اوتار کے فتوے پر کارساز بھنایا
میں نے بس شروع کی چند قسطیں دیکھی تھیں فورا جج کرنے نہ بیٹھ جایا کرو ۔ وہ ہی اتنی بورنگ تھیں کہ آگے جو کچھ ہوا وہ دیکھا نہیں بس سوشل میڈیا پر سنا تب سے اچھا لڑکا بننے کے چکر میں لی من ہو کا نیا کوئی بھی ڈرامہ نہیں دیکھا ابھی تک گو اس نے کیا بھئ نہیں خیر چھوڑو ۔ جو کہا ہے وہ کرو ۔۔کارساز کے جھلانے پر اوتار کو بھی خیال آیا وہ جانےاسکی منگیتر جانے اوتار کو کیا۔۔ یہی سوچ کر اس نے طنیا کو دروازہ کھولتے دیکھا اور
ناک پر رومال رکھتے ہاتھوں ہر گلوز چڑھا کر چھپکلی کی لاش اٹھائی اور وہاں سے ٹیلی پورٹ ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہ سلطان کو اسکے اتنی جلدی واپس آنے کی توقع نہیں تھی اپنی ہی دھن میں تیرتا ہوا وہ لیب میں داخل ہوا توکارساز کو اسکا زیرو گریوٹی سوٹ پہنے تندہی سے ایک چھپکلی کی چیر پھاڑ کرتے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا
تم اتنی جلدی واپس کیسے آگئے؟
وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا
کارساز جو چھپکلی کا دل نکال کر احتیاط سے کنٹینر میں رکھ رہا تھا مصروف سے انداز میں بولا
میں گیا ہی بس جوپیٹر تک وہاں سے اوتار بھیج دیا تھا اپنا۔ اچھا یہ سوٹ لے لو اپنا۔
وہ شرٹ اتارنے لگا تھا کہ چاہ سلطان کو گھن آگئ۔ چھپکلی کی چیر پھآڑ کے دوران خون کے ننھے قطرے اسکے سوٹ کو لگ چکے تھے۔
رہنے دو اب میں دھلوا کر بھی نہیں پہن سکتا یہ سوٹ۔ نیا بنوالوں گا۔
اسکے کہنے پر کارساز نے کندھے اچکا دیے
یہ چھپکلی کیوں چیر رہے ہو؟ اس نے پوچھا مگر دو تین بار دہرانے پر بھی جواب نہ ملا تو اس پر لعنت بھیج کر پلٹ گیا۔
اسکے خلائی فون میں کال آرہی تھی اس نے اپنے کیبن میں آکر وصول کی ۔
بوما تھئ حال احوال کے فورا بعد پوچھنے لگی
کیسے ہو سلطان؟ کارساز کو فون کررہی تھی اٹھا نہیں رہا شائد راستے میں ہے اس کی منگئتر ٹھیک تھی بتادینا اسے ہم اسے تسلی دے آئے تھے روبک کیوب بھی ۔۔
کیوں کیا ہوا تھا اسکی منگیتر کو؟ چاہ سلطان کو دلچسپئ بھی تھی
پتہ نہیں وہ کارساز خود دیکھنے گیا ہوگا ہمیں تو اس نے الو کے اوتار کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ روبک کیوب دے آئیں اسکی منگیتر کو تاکہ اسکے آنے تک کھیل لے مگر اسکی منگیتر کوڑھ مغز ہے مجھے لگتا ہے پھینک دیا ہوگا اس نے۔ اچھا پھر بات کرتی ہوں مجھے ابھی جلدی ہے ایک شامن ( عامل) کے پاس جانا ہے مجھے۔
بوما فون رکھنے ہی والی تھی کہ چاہ سلطان نے پوچھ لیا
کیوں شامن سے کیا کام پڑگیا؟
میری دادی گم گئ ہیں میں انکی روح کو ووڈو ڈول میں لانا چاہ رہی تھی مگر وہ چھپکلی تھیں جانے کہاں کھسک گئیں؟اب حساب کروائوں گی انکا اچھا بعد میں بات کرتی ہوں۔ بوما واقعی جلدی میں تھی فورا فون رکھ دیا
چاہ سلطان اس سارے معاملے کے سرے جوڑنے لگا۔ زمین پر کارساز کی منگیتر مشکل میں تھی کارساز کا اوتار بچانے گیا تو کیا وہ مصیبت بوما کی دادی تو نہیں؟ اس نے پرسوچ نگاہوں سے اپنے کیبن کے دروازے کو دیکھا جسے وہ کھلا چھوڑ آیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کیا وہ دروازہ بند کیئے بنا سوچ نہیں سکتا تھا سو سوچنے بیٹھا تو سوچوں کے گھوڑےسرپٹ دوڑ پڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانپ کے سروں کی مالا پہنے وہ سیاہ فام عورت آنکھیں بند کیئے کاغذ پر پنسل سے بےتکی لکیریں کھینچ رہی تھی۔ بوما اور لومادونوں بے تابی سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں
تمہاری دادی افریقہ کے جنگل میں نہیں ہیں۔ اس نے آنکھیں کھول کر صفحے کے کونے میں دائرہ بنایااور پھر اسے کاٹا مار دیا۔۔
پاکستان میں طنیا کے گھر میں بھی نہیں ہیں۔ اب وہ دوسرے کونے پر بھی کاٹا ماررہی تھی
خلائی اسٹیشن پر دیکھیں۔بوما کو جانے کیوں یہ خیال آیا۔
اس عورت نے ارتکاز ٹوٹ جانے پر بوما کو گھورا
نہیں وہاں بھی نہیں ہے۔
پھر کہاں ہیں؟لوما کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تھا
اس عورت نے نگاہ اٹھائئ اور سامنے دیوار پر ٹنگی بڑی سی سیاہ تصویر جس میں سیاہ رنگوں سے رات کی منظر کشی کی گئ تھئ اس پر نگاہ جما دی۔ اس کالی تصویر میں چند سفید دھبے حرکت کررہے تھے۔ تینوں دم سادھے ان سفید دھبوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔ وہ دھبے تصویر سے فریم اور فریم سے باہر سفید چونا ملی دیوار پر آگئے تو ان دھبوں کی اصل شکل واضح ہوئی۔
وہ سفید دھبے ایک کالی چھپکلی کے جسم پر تھے جو اب سفید دیوار پر کالی سفید چھپکلی میں بدل چکے تھے
دادی ۔۔۔
بوما لوما دونوں کے منہ سے چیخ کی طرح نکلا دونوں بھاگ کر اس کو پکڑنے لپکیں اس سیاہ فام عورت کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی۔ اسکا پہلا وار کامیاب رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے بچے تم کیسے جنکے بچے ہو جو تم جنوں سے ہی ڈر جاتے ہو۔
انکے بچے کی زبانی کال۔کوٹھری میں ملنے والی مخلوق کا احوال سن کر طنیا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئ۔ وہ اپنے کمرے میں لیٹ کر ڈائجسٹ میں اپنی پسندیدہ لکھاری کا بکواس سا ناول بہت شوق سے پڑھ رہی تھی جب جن کے بچے انکے بچے نے آکر یہ کتھا سنائی۔
نا مانو۔ انکا بچہ چڑ گیا۔۔
میں سچ کہہ رہا ہوں وہ جن نہیں تھا انسان بھی نہیں تھا تم نے اوتار فلم دیکھی ہے وہ بالکل اس فلم کے ہیرو جیسا تھا اوتار تھا وہ جانے کس کا وہ بھی۔ وہ دوبارہ آگیا تو؟
تو کیا میں اس سے شادی کرلوں گئ
طنیا نے مزاق کیا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اوتار سچ مچ اس وقت اسکے کمرے میں موجود تھا۔ اسکی بات پر چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں؟ کس لیئے اب کیا اوتار اسکی بات کو مزاق سمجھ کر ٹالنے والا تھا یا سچ مچ روبوٹ فلم کی طرح طنیا کے عشق میں مبتلا ہوجائے گا
کون جانے اگلئ قسط لکھوں بھی میں یا نہیں۔۔۔
مرضی میرئ۔۔۔

#urduz
#urdunovels
#jehlumkiTunyaJupiterkaAvatar
#urdukahani

Home » admin

Aik Daily Blogger ki Wall Say | Urdu Short Story

ایک ڈیلی بلاگر باجی کی وال سے کل کی ایک پوسٹ۔۔۔۔
آپکے بہنوئی اتنے مزاحیہ ہیں نا کہ آج صبح صبح سے انکا مرا مزاق چل رہا ہے۔ صبح آنکھ ہی نہیں کھلی میری تو یہ لیٹ ہوگئے دفتر سے آٹھ بجے میری منی سی چوٹی کھینچ کر جگایا اور گال سہلاتے ہوئے مجھے اٹھنے کا کہہ کر خود باتھ روم میں گھس گئے۔ میں سستی سے انگڑائی لیکر اٹھی اٹھ کر آئینہ دیکھا بال سمیٹے جو انکے چوٹی ہلانے سے اجڑ پجڑ گئے تھے پھر چہرہ دیکھا تو انکی سخت انگلیاں ابھر آئی تھیں۔ خیر یہ تو انکا ہمیشہ کا جارحانہ پیار ہے ہر دو ایک دن میں پیار کی نشانی ضرور چھوڑتے ہیں میرے چہرے پر۔ جلدی جلدی ناشتہ بنایا چائے بنا کر میز پر رکھی یہ منہ پھلائے بیٹھے تھے مجھے گھورا تو مجھے ہنسی ہی آگئ۔ خیر انکو خاموشی سے ناشتہ کرتے دیکھتئ رہئ انکو میرے ہاتھ کا پراٹھا اتنا پسند کہ لیٹ ہونے کے باوجود ڈیڑھ پراٹھا کھایا اٹھتے اٹھتے بولے شکر ہے میری آج میٹنگ ساڑھے نو بجے ہے ورنہ تم نے تو لیٹ کرادیا تھا مجھے۔
مجھے ہنسی آگئ کتنے شرارتی ہیں دیر سے جانا تھا خود الارم بند کرکے سوگئے اور الزام بھئ مجھ پر لگا دیا جاتے جاتے قورمے کی فرمائش کرگئے وہ بھی مٹن کی۔ میں سوچ میں پڑ گئ بچوں کو کیا دوں؟ کیونکہ مٹن تو یہ کلو بھر لاتے ہیں اور میں بس ان ہی بھر کا سالن بناتئ ہوں تو چار دفعہ پک جاتا مہینے میں اب یہ سالن میں اور بچے بھی کھائیں تو چار تو بچے ہی ہیں ہمارے دو تو بڑے تو ٹین ایجر ہیں ۔ کلو گوشت لمحوں میں نمٹ جائے۔ ایسے موقع پر انکے لیئے مرغی کا سالن بنا دیتئ ہوں مگر اس وقت سر میں درد ہو رہا شائد پوری قوت سے ہاتھ اٹھا دیا انہوں نے بچے چھٹیوں کی وجہ سے گھر تو ہیں مگر سو ریے ہیں۔ انکے سامنے تو انکے ابا ہاتھ اٹھا نہیں پاتے بچے آجاتے سامنے پھر وہ بھی پٹتے۔ تو میں انکو کہتئ ہوں بچوں کے سامنے غصہ برداشت کرلیا کریں اکیلے میں جو چاہیں کہہ لیں۔اس وقت انہوں نے میری بات مان لی۔ شکر ہے بات مان لیتے ۔
بس پھر جلدی جلدی جا کر میں نے ایلو ویرا جیل منہ دھو کر لگایا بچوں کے اٹھنے تک سرخی بھی کافی کم ہوگئ اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سب کام بھی نپٹا لیا بچے اٹھے تو بیٹی نے مجھے کچن سے نکال دیا کہ امی آپ میرے پراٹھے میں تو گھی لگاتی ہی نہیں ہیں میں خود بنائوں گئ پراٹھا۔ پندرہ سال کی ہے ابھی اورماشااللہ اتنئ سمجھدار ہے کہ میرے بیٹے اور بیٹی میں فرق کرنے کو فورا پہچان جاتی ہے۔ دراصل دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں میرے ۔ اس سے چھوٹا تیرہ سال کا بیٹا ہے بالکل باپ پر گیا ہے باپ جیسا غصہ ہے انکی طرح دو پراٹھے کھاتا ہے وہ بھی سالن بھئ ساتھ ہو اور آملیٹ بھی۔ پہلے تو بڑی بیٹئ کے املیٹ سے اسے تھوڑا سا دے دیتئ تھی مگر جب سے بڑی ہوئی ہے اپنے بنائے انڈے کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی یوں روز کے دو انڈے خرچ ہوتے کہاں ایک ہی انڈے سے نمٹا دیتئ تھئ تینوں بچوں کو پھر نو سالہ بیٹئ ہے معصوم سی اسکو تو میں اسکے ابا کا پراٹھا جو چھوڑتے وہی کھلا دیتی اگر کبھی ذیادہ ضد کرے تو تھپڑ لگادیا لیکن پچھلی بار تھپڑ لگانے پر بڑی بیٹی بیچ میں آگئ ۔ اب وہی ناشتہ بنا کر دونوں بہن بھائیوں کو بٹھا کر کراتئ ہے تین انڈے خرچ ہوجاتے روزکے۔ سب سے چھوٹا میرا بیٹا میری جان پانچ سال کا ہے اسکو دلیہ کھچڑی الگ سے بنا کردیتئ ہوں؟ نہیں وہ سب سے پہلے دو تھپڑ کھاتا ہے پھر جو سامنے رکھ دوں بچاکھچا وہ کھاتا ہے میں بچوں کے لاڈ اٹھانے کی قائل نہیں
خیر ابھی تو وہ قصہ سنا رہی کہ آپکے بہنوئی اور میرا مزاق چل رہا ہے صبح سے تو ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون آیا کہ مٹن قورمہ ذیادہ بنا لینا میرا دوست بھی ساتھ ہوگا۔ شام میں۔ اب انکے دوست خدا جھوٹ نہ بلوائے نوے کلو کا ہے چار بندوں کا کھانا کھاتا ہے پچھلی دفعہ پورے کلو کا مٹن قورمہ بنایا تھا سب ڈکار کر رات کو دال چاول بھئ کھا کر بارہ بجے تک گیا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہہ دیا کہ مہینے کا آخرہے بس پائو والاپیکٹ بچا ہے ۔ بولے الو کی پٹھی اور منگوا لے میں نے بتایا کہ میرے پاس پیسے ختم تو ایک اورموٹی سی گالی دی بولے ابھی جو پرسوں میری امی آئی تھیں میری مٹھی میں پانچ ہزار کا نوٹ رکھ گئی تھیں اسکا منگوا لوں۔ یقین کیجئے اتنی حیران ہوئی میں
انکو کیسے پتہ چلا خدا بخشے جب تک میری ساس زندہ تھیں ایسی جاسوسیاں وہی کرتی تھیں جہاں میرے میکے سے کوئی آیا انکی چار آنکھیں چوکنا ہوجاتی تھیں بچوں سے الگ کرید کر پوچھتی تھیں میرے بڑے والے بیٹے کو انہی سے لگائئ بجھائی کی عادت پڑی ہے۔ کل وہی میرے بھتیجے کے ساتھ امی کے برابر بیٹھا تھا یقینا اسی نے دیکھ کر باپ کو بتا دیا۔ ہائے میری بھولی امی۔ بھائی جو ہر مہینے بھابی سے چھپ کر ہزار روپے رکھتے انکے ہاتھ پر سب جمع کرکے ایک چکر میرے گھر کا لگا کر مجھے دے ڈالتی ہیں۔منع بھی کیا تھا یہ ننھا شیطان بیٹھا ہو تو اسکے سامنے نہ دیا کریں مگر ہوگئ غلطی۔
خیر آپکی بہن کم نہیں۔ انہوں نے تو فون رکھ دیا اب اسئ کو ساتھ لیکر گئ کہ تھوڑی سزا تو ملے ۔ راستے میں کورنیٹو کھلا کر وعدہ لیا کہ ابا کو یہ بتائے کہ بقیہ بچے پیسوں سے اس نے وہ بیٹ بال اور جیومٹیٹرئ باکس لیا ہے جس کو میں اسے پچھلے دو مہینوں میں اپنی بچت سے دلوا چکی ہوں اور وہ باپ کے سامنے ان چیزوں کو چھپا دیتا ہے۔ دراصل انکی اتنی بری عادت ہے کوئی نئی چیز دیکھتے تو بال کی کھال اتارتے کہاں سے پیسے آئے کتنے کے لیئے اور میری بچت تو اور غصہ دلا دیتی ہے کہتے اگر پیسے بچیں تو انکو واپس دیا کروں تاکہ وہ نئے مہینے کے خرچےمیں ڈال لیں یا کٹوتی کرلیں۔
خیر آج میں نے قورمہ بنایا بڑی بیٹی نے چڑچڑا پن دکھایا کہ ہمارے لیئے کیوں نہیں بنتا قورمہ تو سب بچوں کیلئے شوارما منگوادیا کہ باپ سے چھپ کر کھا لینا۔رات کو جب دوست رخصت ہوا تو انہوں نے فورا ساری تفصیل مانگی کہ پانچ ہزار سے کتنے بچے میں نے بیٹے کو آگے کردیا اس نے فر فر سنایاتھوڑا غصہ آیا انہیں مگر میرا بیٹا لاڈلا بھئ ہے انکا دوسرا کئی مہینوں سے ان چیزوں کی ضد کررہا تھا تو انکا ایک خرچہ کم ہوا یہ سوچ کر انہوں نے غصہ تھوک کر مجھ سے چائے کی فرمائش کردی۔میں جھٹ انکے مزید سوال جواب سے بچنے کو اٹھ گئ۔ چائے چڑھائی ڈونگے تو خالی آئے تھے پتیلی پونچھ کر روٹی کھائی جلدی جلدی ورنہ پتیلی میں کھاتے دیکھ کر انہیں بہت غصہ آتا کہ میں اچھی بوٹیاں بچا کر پتیلی میں رکھے رہتی ہوں اور بعد میں کھاتی ہوں۔حالانکہ اب آپ سے کیا چھپانا خالی سالن ہوتا ہے پتیلی میں ۔ ڈونگے تو یوں پچھ پچھا کر آتے کہ کچھ لگا ہی نہیں ہوتا ان میں۔ خیر چائے بنا کر لے جا رہی ہوں انکے لیئے
اب ایک آپکی میری آپس کی بات ہے امی نے ایک نہیں دو نوٹ دییے تھے یہ بات بیٹے کو بھی نہیں بتائی ۔ کیونکہ بیٹیوں کی ضرورت کی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو انکو بتائو تو کہتے فضول خرچی ہے مگر میں تو جانتئ ہوں ان چیزوں کے بغیر بیٹیوں کا گزارہ نہیں ہوتا تو اسی طرح پورا کرتی ہوں انکی چیزیں۔ ابھی تو خیر ایک ہی بڑی ہوئی ہے مگر سال دو سال میں دوسرئ کی بھی باری آجانئ ہے مگرمردوں کو ان معاملات کا تھوڑی اندازہ ہوتا بس اسی لیئے ان سے چھپ کر خرچ کرتی ہوں بیٹئ پر۔ بھلے اسے میرے پیار پر نا انصافئ کا گمان ہوتا ہو مگر بیٹی بھی اولاد ہے میری بیٹے کو اچھا کھلا دیتی ہوں تو بیٹی کا پہننا اوڑھنا اچھا ہوتا ہے ۔
اچھا اب سونے لگی ہوں کل کے بلاگ میں بتائوں گی کہ پوری کوشش کے باوجود بھی چہرے پر نشان دیکھ لیئے بیٹی نے اور جو باپ سے لڑی میں بیچ میں نہ آتی تو اس وقت بائیں کروٹ لیٹتے اسکا گال بھی دکھ رہا ہوتا میری طرح۔۔۔۔۔
#ڈالڈاخاتون
#سگھڑبیگم
#ٹاکسک_میاں_کی_بیوی
#نارسسٹ_میاں
#کنجوس_مرد
#پاکستانیوں_کی_باتیں
#خاتون_خانہ
#گھگھوگھوڑےکی_ماما
#بیٹی_کی_ماں
یہ مجھے ایڈٹ کرکے لکھنا پڑ رہا ہے یہ مکمل تخیلاتی افسانہ ہے ازقلم واعظہ زیدی
وہ ایسا ہی فضول لکھتی ہے کیا کرےبے چاری

Bewaqoof Larki | Urdu Alamati Kahani by Vaiza Zaidi

بے وقوف لڑکی کی کہانی۔۔۔

وہ اس دن خوش تھی۔ بے تحاشہ خوش اتنا کہ جھوم اٹھی۔ جھومی یوں کہ چکر کھانے لگی۔ ہر چکر پر اسکا چہرہ بس ایک سرخوشی دکھاتا۔۔ مسکراہٹ کم سرخوشی جھلکاتا

خوش لڑکی نے سوچا۔۔ یہی تو زندگی ہے۔ میں جوان ، خوبصورت اور سب سے بڑھ خوش۔

بس یہی ایک پل یہی لمحہ یہیں محسوس ہونے والا جذبہ زندگی ہے بس یہیں اسی میں سب وقت گزار دوں۔۔

جھومتی مسکراتی وہ لمحہ بھر کو رک سی گئ۔۔

چہرے کا وہ تاثر ان مٹ ہوگیا۔۔

اس نے اسی پل میں ٹھہرنے کا فیصلہ جو کرلیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہزاروں سال بعد۔۔

اس تہزیب کے آثاروں میں یہ آخری نکلنے والا ثابت مجسمہ تھا ۔ مجسمہ ایک پتھر کی لڑکی کا تھا یا لڑکی کا پتھر کا مجسمہ۔

یہ اسکی اب تک کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہو سکتی تھی۔ کھدائی تو سب ہی کر رہے تھے کروا رہے تھے اس نے زمین میں دھنسے اس پتھر کو مجسمہ سمجھا تھا۔ اپنی ماہرین کی ٹیم کو اسے کھوجنے نکالنے پر آمادہ کیا تھا۔ اور جب یہ پتھر باہر نکالا گیا تو دنیا کے آزاروں نے اسکی اصل ہیئت چھپا دی تھی۔ اس مجسمے کو اس کی ٹیم نے یکدم بے کار قرار دیا تھا۔ کسی قسم کی تہزیب کا عکس تلاشنا آسان نہ تھا اس پر وہ اس پرانے کھنڈرات سے ایسے نوادرات اکٹھے کر چکے تھے کہ اس سنگی مجسمے جس نے نہ سونے چاندی کی ملمع کاری کروا رکھی تھی نہ ہی اس پر کوئی متروک زبان کے سہی نقش کنندہ تھے اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا کہ آیا یہ کسی پرانی تہزیب کا حصہ ہے بھی یا کسی فنکار کا عام سا مجسمہ مگر وہ کھوجی طبیعت سے مجبور ضد کرکے اس مجسمے کو لیب لائی دن رات ایک کرکے مجمسے کو محفوظ کیا اسکے ایک ایک نقش سے دھول صاف کی اسکو اسکی اصل شکل میں واپس لانے میں دن رات ایک کیا او رجب مختلف کیمکلز لگا کر اس نے جانفشانی سے اسکے اصل خدو خال کھوج نکالے تو۔۔

جانا یہ ایک سرخوشی سے جھومتی مسکراتی لڑکی ہے جس پر زمانوں کی دھوپ گرد بے اثر رہی تھی آج بھی آب و تاب سے مسکرا رہی تھی۔

اس ماہر آثار قدیمہ نے یک ٹک اسے سرتاپا دیکھا۔پھر چہرے پر ثبت تاثر کو

پھر ٹھنڈی آہ بھری۔۔

یہ جب خوش ہوئی ہوگی تب سوچا ہوگا ایسی ہی رہ جائے۔

مگر اس خوشی کے بعد نہ اسے کوئی خوشی مل سکی نہ غم ایسی ہی رہ گئ بے چاری۔

اس بات سے ناواقف کہ

زندگی گزر جانے میں ہے۔۔ ٹھہر جانے میں نہیں۔۔

از قلم واعظہ زیدی

Home » admin

Woh Kon Thi: Saheliyon Se kia Chupaya Raaz | Khoofnak Urdu Horror Story

The Hidden Secret: Woh Kon Thi Aur Saheliyon Se Kya Chupaya?

وہ کون تھی؟؟؟

نیہا اپنی سہیلیوں کے ساتھ کالج ٹرپ پر شمالی علاقہ جات کی سیر کو آئی تھیں۔ سارا دن انکا پہاڑوں پر تصویریں بناتے ہنسی ٹھٹھول کرتے گزرا تھا ۔ آخر اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ پر مغرب کے قریب ہوٹل واپسی ہوئی تھی۔پرائیویٹ کالج تھا خوب پیسے اینٹھے تھے انکے والدین سے جبھی پچیس لڑکیوں کیلئے کمرے بھی دو دو کے حساب سے بک کئے گئے تھے۔ فرسٹ اور سیکنڈ ائیر دونوں کلاسز کو لیکر گئ تھیں بہت سے والدین نے تو بھیجنے سے منع کردیا تھا مگر نیہا کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بلکہ اپنی سہیلیوں  شمائلہ، عالیہ اور لیلی کے والدین کو بھی نیہا نے ہی منایا تھا۔جانے کیا سحر پھونکا تھا اپنی بچیوں کو ڈانٹ کر چپ کرادینے والے والدین نیہا کے آگے ایکدم چپ ہو گئے تھے اور میکانکی انداز میں اجازت نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔سب سے ذیادہ حیران تو لیلی ہوئی تھی۔ اسکول کے زمانے میں بھی والدین نے کبھی اسے کسی ٹرپ پر جانے نہیں دیا تھا۔ اور نیہا کے ایک دفعہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے پر کہ لیلی کو ہمارے ساتھ ٹرپ پر جانے دیں اسکے والدین نا صرف خاموشی سے مان گئے بلکہ جیب خرچ بھی دیا تھا لیلی کو۔ لیلی تو خوشی سے نیہا سے لپٹ ہی گئ تھی۔ بہت شکریہ میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ نیہا مسکرا دی 

ساتھ تنبیہہ بھی کردی تھی کہ آئندہ مجھ سے دور رہنا۔ 

اسے بالکل بھی چھوئے جانا پسند نہیں تھا۔ لیلی نے کان پکڑ کر سوری کہا تھا۔ نیہا ان سے ہاتھ بھی نہیں ملاتی تھی بس دور سے سلام کرنا پسند تھا اسے۔ شائد اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ شروع شروع میں جب اس سے ہاتھ ملاتی تھیں تو اچھل پڑتی تھیں۔ اسکے ہاتھ غیر معمولی طور پر نرم تھے۔جیسے اس نے کبھی ہل کر پانی نہ پیا ہو۔ 

شمائلہ نے تو حیران ہو کر یہ بھی کہہ دیا تھا کیا تمہارے ہاتھ میں ہڈی نہیں ہے؟ اتنا نرم ہاتھ کیسے ہو سکتا کسی کا جبکہ وہ کوئی موٹی سی لڑکی بھی نہیں تھی بلکہ ان سب میں سب سے نازک سراپا تھا اسکا۔ نیہا نے گہری سانس لی اور ہتھیلی پھیلا دی۔

میرے ہاتھ میں لکیریں بھی نہیں ہیں۔ میں اسی لیئے ہاتھ ملاتی ہی نہیں ہوں پھر لوگ الٹے سیدھے تبصرے کرتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا۔

اسکی شفاف سپید ہتھیلی انکے سامنے پھیلی تھی اور تینو ں کی حیرت سے آنکھیں ابل سی آئی تھیں اسکے ہاتھ میں بنیادی بس تین لکیریں تھیں قسمت، زندگی اور تعلیم کی او روہ سب بھی ادھوری تھیں۔خوب گہرئ مگر بمشکل ایک پور کی۔ 

اب اگر تم لوگوں نے دوستی کرنی ہے مجھ سے تو میری شرط ہے نا تم میں سے کوئی کبھی مجھ سے ہاتھ ملائے گا نہ کبھی پیچھے سے آواز دے گا اگر میں کبھی نظر آئوں تو آواز دینے کی بجائے تم لوگ پاس آجانا یا میسج کردینا ٹھیک؟

وہ تینوں مان گئ تھیں۔ بہر حال نیہا دل کی بہت اچھی لڑکی تھی۔ کھلا خرچ کرتی تھی ان پر پڑھائی میں مدد ہو یا اچھا کھانا وہ پیش پیش رہتی تھی۔ جبھی وہ تینوں کبھی اس کو ناراض نہیں کرتی تھیں۔ ابھی بھی جزباتی ہو کر لیلی نے گلے لگا لیا تو فورا معزرت کر لی تھی۔

آج سارا دن بھی وہ چاروں اپنا الگ گروپ بنائے پہاڑوں پر گھومتی پھری تھیں۔ نیہا انکو ہر جگہ گائڈ بن کر سیر کرا رہی تھی۔ 

شمائلہ نے کہہ بھی دیا کہ تم تو لگتا ہے یہیں رہتی رہی ہو

 اس نے مسکرا کر سر ہلایا ہا ں یہاں قریب ہی میرا ننھیال ہے اکثر آنا جانا ہوتا ہے یہاں۔ 

غرض خوب تھک تھکا کر وہ جب ہوٹل پہنچیں تو بھوک سے برا حال تھا۔عالیہ اور لیلی کا الگ کمرہ تھا نیہا اور شمائلہ کا الگ لیکن عالیہ اور لیلی اپنا سامان کمرے میں رکھ کر بس اپنے ہینڈ بیگ اٹھا کرانہی کے کمرے میں آگئ تھیں۔ باتیں کرتے وقت گزرنے کا پتہ نہ لگا۔ انکی کلاس فیلو نے آکر انہیں کھانے کیلئے بلایا تو اکٹھی ہی چاروں نیچے آئیں کھانا کھانے مگر  ہوٹل کا کھانا انکو پسند نہیں آیا۔۔ 

عجیب ہیک زدہ اوپر سے بکرا یا دنبہ پکا تھا جو ان تینوں کو بالکل پسند نہیں آیا سو ایک دو نوالے لیکر اٹھ گئیں۔ 

نیہا یہاں بھی مدد کو آئی ۔ انکی پسند پوچھ کر 

 نیہا نے اپنے کزن سے کہہ کر گھر سے کھانا منگوا لیا۔ وہ تینوں منع کرتی رہیں مگر نیہا نے مان بھرے انداز میں یہ کہہ کر کہ اسکو کوئی مسلئہ نہیں ویسے بھی چونکہ اسکا ننھیال یہاں ہے تو وہ سب اسکی مہمان ہیں۔ اسکے خلوص پر انہیں خاموش ہونا پڑا۔نیہا کا کزن بھی خوب پھرتیلا تھا انکو ذیادہ انتظار نہیں کروایا۔ پندرہ بیس منٹ میں ہی وہ ہوٹل کے باہر موجود تھا۔نیہا خود جا کر کھانا لیکر آئی کیونکہ ہوٹل کے اندر کوئی باہر کا داخل ہو نہیں سکتا تھا۔ ان تینوں نے کھڑکی سے ہی جھانک کر دیکھا اسکا کزن خوب لمبا چوڑا سا تھا۔ انکو اوپر کی منزل سے نیچے جھانکتے جانے اسے محسوس ہوگیا کیا مسکرا کر ہاتھ بھی ہلا دیا۔ نیہا نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو وہ تینوں خفت ذدہ سی ہوگئیں کیا سوچتی ہوگی ہم اسکے کزن کو تاڑ رہی ہیں۔ جھٹ کھڑکی بند کرکے اندر بیڈ پر آبیٹھیں۔ تبھی نیہا دروازہ کھولتی اندر آگئ۔ انہیں جتائے بنا کھانا لا رکھا۔ کباب مرغ کڑاہی اور تلے ہوئے نان   ۔ غرض اچھی خاصی دعوت ہوگئ انکی۔ 

اتنا مزیدار تکہ میں نے آج تک نہیں کھایا۔

عالیہ نے چٹخارا  بھرا تو شمائیلہ اور لیلی نے بھی تائید کی۔ 

نیہا مسکرا دی۔

کھانا بہت ذیادہ نہیں تھا بلکہ ایک نظر دیکھنے میں لگتا تھا کہ چار لوگوں میں کم پڑ جائے گا مگر ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔ 

خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔ نیہا نے ان سب کیلئے کافی آرڈر کردی تھی کھانا ختم ہوتے ہی کافی بھاپ اڑاتی سامنے تھے۔

سردی میں کافی سے بہتر کوئی چیز ہو نہیں سکتی  

شمائلہ نے گھونٹ بھر کر فتوی داغا۔

ساتھ ڈرائی فروٹس ہوں تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ نیہا نے بیگ سے چلغوزے نکال کر سامنے رکھ دیئے۔ پلیٹ بھر کر چلغوزے کھاتے کافی پیتے انہیں کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ اچانک ایک کونے میں رکھا شمائلہ کا بیگ خود بخود دھڑام سے گر گیا۔ وہ چاروں چونک کر مڑیں۔ نیہا نے گھور کر بیگ کر دیکھا۔

یہ کیسے گر گیا؟ شمائلہ کی خوف سے سرسراتی آواز نکلی۔ 

ہوا سے گرا ہوگا یا ٹیڑھا رکھا ہوگا۔

نیہا نے لاپروائئ سے کہا۔ مگر عالیہ کو غلط وقت پر غلط بات یاد آئئ۔

یار میں نے سنا ہے یہاں شمالی علاقہ جات میں آسیب وغیرہ کا بہت چکر ہوتا ہے۔ میرا کزن اپنے دوستوں کے ساتھ آیا تھا تو اسی ہوٹل میں رکا تھا ۔ بتا رہا تھا ساری رات کمرے میں عجیب آوازیں آتی رہیں کبھی کوئی ادھر سے ادھر جا رہا کبھی کوئی۔۔۔ 

کیا بکواس ہے۔ نیہا نے چڑ کر ٹوکا۔ 

یہ کوئی وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا؟ 

ہاں صحیح کہہ رہی ہے ۔ سدا کئ ڈرپوک لیلی نے بھی حمایت کی۔

میں نے سنا ہے ان چیزوں کا ذکر کرو تو آجاتی ہیں ۔ نام بھی نہ لینا۔۔۔

ہم لاحول پڑھ کر بھگا دیں گے ۔ 

شمائلہ ہنس کر بولی۔۔

تم لوگ بھی نا بلا وجہ ڈرتی ہو۔ پتہ ہے ہم کزنز اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسے ایسے قصے سناتے ہیں ڈرائونے ساری رات گزرنے کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ اور مزا اتنا آتا ہے مجھے بتائو کیا ہوا تھا تمہارے کزن کے ساتھ۔۔۔۔ 

شمائلہ کی شہہ ملنی تھی کہ عالیہ نے قصہ شروع کردیا۔ لیلی نے خفا ہونا چاہا کان بھی بند کرنے چاہے مگر قصہ دلچسپ تھا سو وہ بھی ہمہ تن گوش ہوگئ۔ 

ہوا کچھ یوں کہ میرا کزن اور اسکے دو دوست یہاں آئے اور نیچے والی منزل پر ایک روم لیا۔ ڈبل بیڈ والا  اب ہوا یوں کہ تینوں تھکے ہوئے تھے آئے اور بس بستر پر گر کر سوگئے۔ کوئی رات کے ایک بجے ہوں گے کہ میرے کزن کا کسی نے کندھا ہلایا۔ وہ سمجھا میرا دوست ہوگا کروٹ بدل کر اوں آں کرکے سوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد پھر۔۔ 

عالیہ مزے لے لیکر کر بتا رہی تھی لیلی کو بھی تجسس ہو نے لگا نیہا بور سی ہو کر ان کے بیچ سے اٹھ گئ۔ آکر کھڑکی میں کھڑی ہوگئی۔ ابھی چونکہ اوائل اکتوبر تھے تو برفباری تو دور دور تک نہ ہوئی تھی مگر ایک ہڈیوں میں گھسنے والی سرد ہوا کا جھونکاضرور آتا تھا۔وہ کھڑکی کھول کر اسی سرد ہوا کے جھونکے کا مزا لے رہی تھی۔ 

کمرہ ہنسی مذاق سے گونج رہا تھا، عالیہ شمائلہ کا مزاق اڑا رہی تھی جسے آدھا قصہ سن کر ہی ڈر لگ گیا تھا۔ 

بس کرو میں نے نہیں سننا مجھے ڈر لگتا ہے۔

وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی تو عالیہ ہنستے ہٹا دیتی۔  دونوں کو دیکھتی شمائلہ کو ایکدم سرد ہوا نےجھر جھری سی دلا دی۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا تو نیہا اتنی سخت سردی میں کھڑکی کھولے کھڑی باہر جھانک رہی تھی

“نیہا، نیہا کی بچی ” اس نے آواز دی۔

کھڑکی تو۔۔

نیہا نے چونک کر اپنا سر پیچھے کی طرف موڑا۔ لیکن… صرف سر۔ اس کا جسم وہیں رہا، اور اس کا چہرہ مکمل طور پر پیچھے کی طرف مڑ گیا۔

شمائلہ کے حلق میں باقی جملہ اٹک سا گیا۔ وہ کہنے جا رہی تھی کھڑکی تو بند کرو مگر زبان ایکدم گنگ سی ہوگئ

کیا ہوا؟ نیہا حیران پوچھ رہی تھی

کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ۔

عالیہ اور لیلی بھی اسے دیکھ کر سنٹ سی ہوگئیں 

“یہ… یہ کیا تھا؟”عالیہ نے لرزتے ہوئے کہا۔

نیہا نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔ پھر آہستہ سے بولی

:

تو آخر میرا راز کھل گیا

“مجھے لگا تھا میں چھپ سکتی ہوں… لیکن اب تم سب جان گئے ہو۔”

میں نے کہا تھا نا مجھے کبھی پیچھے سے آواز مت دینا 

اس کی آواز میں انسانوں جیسا درد نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف بڑھی، اور انکے دیکھتے ہی دیکھتےغائب ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح خاصے جارحانہ انداز میں دروازے پر دستک دینے سے آنکھ کھلی تھی شمائلہ کی۔ 

تیز دھوپ کھڑکی سے چھن چھن کر پوری  مسہری کو گھیر رہی تھی۔ اس نے کسمساتے ہوئے پہلو بدلا توعالیہ اور لیلی دونوں اسکے برابر میں آڑھی ترچھی پڑی سو رہی تھیں۔ 

دروازہ کھولو عالیہ، شمائلہ، لیلی

یہ انکی پرنسپل کی آواز تھئ وہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی دونوں کو ہلایا ابھی آنکھیں ملتی وہ اٹھ ہی رہی تھیں کہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر ہوٹل اسٹاف کے ہمراہ پرنسپل کڑے تیوروں کے ساتھ انکے کمرے میں داخل ہوگئیں۔ 

کیا حرکت ہے لیلی یہ؟ آپ اپنے والدین سے اجازت لیئے بنا ٹرپ پر آگئیں؟ آپ جانتی ہیں آپکے والدین نے آپکی گم شدگئ کا پرچہ درج کرادیا ہے؟ پولیس آپکو ڈھونڈتی پھر رہی ہے؟آپکو اندازہ بھی ہے کتنی بڑی مشکل کھڑی کردی ہے آپ نے ہمارے لیئے۔

وہ بنا لحاظ غصے سے چلائیں۔ 

لیلی اس افتاد پر گھبرا گئ۔ 

مگر میم میں نے تو اجازت نامہ لا کر جمع کرایا تھا نیہا نے خود بابا سے بات کی تھی میرے پاس والی اجازت نامے کی کاپی ہے میرے پاس۔ 

کون نیہا؟ اور لیلی آپ نے اپنے والدین کےجعلی  دستخط کیئے تھے اجازت نامے پر؟آپ جانتی ہیں اس حرکت پر آپ کو کالج سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔۔

میم نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے دریافت کیا۔ 

میم ہماری دوست نیہا۔ اسی نے اجازت لی تھئ لیلی کے والدین سے یہیں اسی کمرے میں رکی ہے ہمارے ساتھ یہ سامان ، شمائلہ سہیلی کی مدد کو آئئ

اشارے سے ایک کونے میں رکھے اپنے اور نیہا کے بیگ کی جانب اشارہ کیا تو حیرت سے دیکھتی رہ گئ وہاں بس ایک بیگ تھا اسکا اپنا۔۔

کون نیہا؟ کیسا سامان؟ تم لوگوں کو اندازہ بھی ہے تم لوگوں کی وجہ سے کالج کی ریپوٹیشن پر کیا اثر پڑے گا؟ ابھی اسی وقت اپنا سامان سمیٹو تم تینوں واپس جا رہی ہو فورا۔۔

پرنسپل صاحبہ غصے سے چلا رہی تھیں او رعالیہ شمائلہ اور لیلی کے ذہن میں رات کا منظر تازہ ہوا تھا۔ 

نیہا تو انکی آنکھوں کے سامنے دھواں بن کے غائب ہوگئ تھئ۔۔

اب کیسے یقین دلائیں وہ پرنسپل صاحبہ کو۔۔ 

تبھی ایک خوش شکل نوجوان پولیس کی وردی میں داخل ہوا۔  

میم لیلی کے والدین نے اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔ انہیں کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔  میرا خیال ہے آپ ان سے بات کرلیں پہلے۔۔ 

اس نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا وہی انکی جانب بڑھا دیا۔

پرنسپل صاحبہ نے میکانکی انداز میں فون کان سے لگایا اور خاموشی سے باہر نکل گئیں

ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے ان تینوں کو دیکھتا وہ اسٹاف میمبرز کو بھی باہرآنے کا اشارہ کرتا خود بھی باہر نکل گیا۔۔

لیلی عالیہ اور شمائلہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔

یہ سب کیا ہوا ہے؟ نیہا کہاں چلی گئ؟

عالیہ سرسراتی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔ 

ہماری آنکھوں کے سامنے ہی تو غائب ہوئی تھی پھر مجھے کوئی ہوش نہیں میری ابھی شمائلہ کے جگانے پر آنکھ کھلی ہے۔ 

لیلی کی آواز میں بھی لرزش تھی۔ 

اگر نیہا کوئی انسان ہے ہی نہیں تو لیلی کے والدین سے بات کس نے کی؟ اور اب کیا ہوگا؟ اسکے والدین تو بہت غصے میں ہوں گے۔ 

عالیہ نے کہا تو شمائلہ نے گہری سانس لی۔

کچھ نہیں ہوگا نیہا نے سب سنبھال لیا ۔۔۔

کیا مطلب؟ لیلی اور عالیہ نے الجھ کر دیکھا۔ 

نیہا واپس آگئ ہے؟کیا ہم نے خواب دیکھا تھا جو رات کو ہوا وہ سب؟؟؟

نہیں۔ شمائلہ نے نفی میں سر ہلایا۔

رات جو کچھ ہوا وہ سب سچ تھا۔ 

لیکن تم لوگوں نے غور نہیں کیا پرنسپل کا غصہ ٹھنڈا کرکے لے جانے والا پولیس انسپیکٹر وہی لڑکا تھا نیہا کا کزن جو رات ہمارے لیئے کھانا لیکر آیا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Rating

kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #Urduhorror

  • #UrduHorrorStory
  • #اردو_ہارر
  • #عورت_جن
  • #جنات_کی_کہانی
  • #خوفناک_کہانی
Home » admin
https://desikimchi.com/my-daughter-is-a-zombie-gen-z-zombies-korean-drama-a-satirical-film-breakdown
https://urduz.com/raphanzel-mer-gai-urdu-horror-story-of-a-housewife/
https://urduz.com/qata-taluq-sirf-ek-jhoot-kaha-us-nay-urdu-afsancha/

Qata Taluq |sirf ek jhoot kaha us nay| urdu afsancha

قطع تعلق اردو افسانچہ

اس نے ضروری بات کرنے کیلئے ملنے کا کہہ کر نزدیکی پارک میں بلایا تھا۔وہ حسب عادت قدرے دیر سے پہنچا تھا۔ وہ دور اکیلی بنچ پر بیٹھی اسکا انتظار کررہی تھی۔ اس نے بائک لائک کی ہیلمٹ اتار کر رکھا۔ بال جلدی جلدی انگلیوں سے سنوارتا تیز قدم اٹھاتا اسکی جانب بڑھا۔

اسلام و علیکم کیسی ہو؟

ہمیشہ کی طرح اس نے ایکدم سے اسکے پیچھے سے آکر زور دار سلام کیا تھا۔ وہ بری طرح چونک کر مڑی تو وہ ہنس دیا

کیا ہوا ڈر گئیں؟

وہ مضمحل سا مسکرا دی ۔نہیں ڈر نہیں لگتا اب مجھے۔وہ مزید بھی کچھ کہتی مگر اس نے بات اچک لی

کیونکہ میں جو پاس ہوں ہے نا۔

وہ ہشاش بشاش سا خوشگوار مزاج کے ساتھ مطمئن نظر آتا تھا۔ اسکے برابر بیٹھتے ہوئے اسکی آنکھیں پارک پر طائرانہ نگاہ دوڑا رہی تھیں۔

کیا بات کرنی تھی تمہیں ؟ وہ پوچھ رہا تھا

کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟اس نے غور سے شکل دیکھتے ہوئے پوچھا تھا

ہاں ۔ یہ سوال اکثر پوچھا کرتی تھی اور ہمیشہ اس نے فٹ سے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا جواب دیا تھا ہاں

۔وہ جوابا مسکرا دیتی تھی آج نہیں مسکرائی جھوٹ۔۔ وہ ایکدم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

سچ کہہ رہا ہوں کیا ہوا ؟ وہ بوکھلا کر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

تمہاری دادی ایک ہفتے سے اسپتال میں ہیں جہاں تم انکو دیکھنے جاتے ہو؟

ہاں۔ اس کا جواب اب بھی برملا تھا۔

جھوٹ تمہاری دادی کے انتقال کو چار برس گزر چکے ہیں۔ اس نے تاسف سے دیکھا تھا۔

وہ شرمندہ سا ہوکر کان کھجانے لگا میں بتاتا ہوں دراصل ، اسکا ذہن جلدی جلدی بہانہ سوچنے میں مصروف ہوا۔

پچھلے ایک ہفتے سے اسکو کچھ مصروفیت تھی وہ بالکل اسکو وقت نہیں دے پا رہا تھا سو اسکی ناراضگی سے بچنے کو اس نے جھوٹ بولا تھا۔ لیکن مصروفیت کی نوعیت بتانے پر اسکی مزید ناراضگی مول لینے کا اندیشہ تھا جبھی ۔۔

تم جھوٹے ہو میں تم سے مزید کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔ وہ غصے سے کہہ کر جانے لگی تھی۔

وہ بھاگ کر اسکے سامنے آیابات تو سنو میں مصروف تھا میں نے جھوٹ بولا لیکن اسکا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا میں بتاتا ہوں نا کیوں جھوٹ بولا دراصل ۔۔۔

مجھے نہیں جاننا تمہاری مصروفیت کی نوعیت۔اس نے سختی سے بات کاٹ دی۔میں بریک اپ کررہی ہوں اب مجھ سے کبھی رابطہ نہ کرنا۔۔

ایک جھوٹ بولنے پر تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو؟ اسے بار بار بریک اپ کی دھمکی پر غصہ آنے لگا تھا۔ جب جھگڑا ہوتا ان میں وہ ایسا ہی کہتی تھی۔

ہاں ایک جھوٹ بولنے پر۔ وہ تنفر سے بولی۔۔

میری کزن آئی ہوئی تھی گائوں سے اسکا علاج ہو رہا ہے یہاں اسپتال میں میں اور میرا کزن اسپتال کی باریاں لگا رہے تھے ۔میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ پچھلی دفعہ جب وہ آئی تھی یہاں اسپتال میں داخل ہونے تو تم نے اتنا مسلئہ بنایا تھا کہ بہن نہیں ہے وہ میری میں کیوں اسکےلیئے خوارہورہا ہوں جبھی اس دفعہ تمہیں بتانے کی بجائے جھوٹ بول دیا اور تم اب اس بات کو مسلئہ بنا رہی ہو۔وہ جھنجھلا گیا تھااسکے رویئے پر کچھ انداز میں سختی در ہی آئی تھی۔ اسکے چہرے پر معنی خیز سی مسکراہٹ در آئی۔

تم نے یہ نہیں پوچھا کہ مجھے کیسے پتہ چلا کہ تمہاری دادی بیمار نہیں ہیں ؟

کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کا انداز ہنوز تھا۔ وہ اسکے شکی جھگڑالو مزاج سے تنگ آچکا تھا۔ وہ چند ثانیئے اسے دیکھتی رہی۔ پھر گہری سانس لیکر بولی

قطع تعلق کر لیتے ہیں بس اب ہم۔

وجہ؟ اس نے تیوری چڑھائی

تم نے جھوٹ بولا مجھ سے میں تم پر اب اعتبار نہیں کرسکتی۔ اسکے الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسے اپنی بے عزتی سی لگی

۔کیا مطلب ہے اس بات کا؟ انسان ہوں بندہ کبھی جھوٹ کہہ ہی دیتا ہے۔جوابا وہ رخ موڑ کر تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسکی آواز اسکا پیچھا کر رہی تھی۔ وہ دکھی ہوا تھا اسکی بے اعتباری پر جبھی چلا رہا تھا تمہارے اسی انتہا پسند رویئے نے مجھے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا۔ سچ بتاتا تو بھی تم روٹھ جاتیں کہاں جا رہی ہو بات سنو ۔۔۔اسکے قدموں کی رفتار مزید تیز ہوئی۔ اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھ کروہ اسکے پیچھے بھاگ کے آیا تھا

تم نے بھی کبھی جھوٹ بولا ہوگا ؟ اور اسکی کیا ضمانت ہے کہ میرے سوا کوئی تمہاری زندگی میں آئے گا وہ جھوٹ نہیں بولے گا؟

وہ منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اس نے مزید رفتار بڑھائی ۔ اس نے کانوں پر نادیدہ پردے ڈال رکھے تھے کہ اسکی آواز جیسے سن ہی نہیں رہی تھی۔

سنو ۔۔ ارے؟۔۔۔ اچھا میں کال کروں گا رات کو اچھا اٹھا لینافوں ابھی غصے میں ہو بعد میں بات کرتے ہیں۔۔ اسے نہ رکتے نہ پلٹتے دیکھ کر اس نے بھی اسکا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔رک کر آواز لگائی۔ وہ پارک کا گیٹ پار کرگئی تھی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکو آج تک اس نے اتنا نظر انداز نہیں کیا تھا۔قریبی سنگی بنچ پر بیٹھتے وہ خود اپنا احتساب کررہا تھاایک جھوٹ بس ایک جھوٹ بولنے پر اس نے مجھے چھوڑ دیا؟ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ٹہل رہی تھی ۔ اسکی سہیلی اسکے بیڈ پر بیٹھی چائے پی رہی تھی۔جب اس نے دھیرے دھیرے دوپہر کی ساری بات اسے بتائی تھی۔

مجھے لگا تھا وہ مکر جائے گا پھر کوئی جھوٹ بول دے گا اس نے واقعی سچ بتا دیا کہ وہ اسپتال کے چکر لگا رہا تھا اپنی کزن کی وجہ سے؟

اس کی سہیلی روداد سن کے حیران تھی۔ وہ اسکی حیرانی پر۔مسکرادی۔

میں نے کہا تھا نا تم نے خوامخواہ شک کیا اس پر وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولتا۔۔

اچھا ؟ اسکی سہیلی استہزائیہ مسکرائی تو پھر ؟ قطع تعلق کیوں کرلیا؟ اس سے؟

اس نے مجھ سے بس ایک جھوٹ بولا تھا جسے میں برداشت نہیں کر پائی۔ اس نے گہری سانس لی۔

کیا جھوٹ بولا؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ پائی ۔

بتا تو دیا اس نے تمہیں اپنی ایک ہفتے کی مصروفیت۔ اسکی تو تم بھی گواہ ہو اسکی کزن کے برابر والے پرائیویٹ روم میں ہی تو تم بھی داخل تھیں۔ اسکو آتے جاتے دیکھا خود تم نے۔۔ پھر؟

اس نے مجھ سے کوئی اور جھوٹ بولا تھا۔ وہ تھک کر اسکےبرابر آبیٹھی۔ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر سہارا دیا تھا۔ اپنے برابر جگہ بنائی تھی۔ اسکے بیٹھتے ہی تکیہ اسکی جانب بڑھایا تھا تاکہ وہ نیم دراز ہو سکے۔ وہ اسکے اس درجہ خیال رکھنے پر مسکرا دی پھر شرارتئ انداز میں بولی

معمولی آپریشن تھا اپنڈکس کا اکثر لوگوں کا ہوتا ہے کوئی لا علاج بیماری نہیں ہو گئ ہے مجھے۔

پھر بھی آپریشن ہوا ہے تم عام چل پھر بھی رہی ہو تو تکلیف تمہاری چال سے واضح ہے۔ اسکی سہیلی محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر کہہ رہی تھی۔

اتنا واضح ہے میری تکلیف میری چال سے؟ وہ حیران نہیں تھی۔ پھر بھی پوچھ رہی تھی۔

ہاں تو؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ سکی اسےتو پتہ بھی نہیں چلا ۔۔اسکی آنکھوں میں کرب اتر آیا۔ اسکی سہیلی اسے ناسمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔

تم پوچھ رہی تھیں نا کہ اس نے مجھ سے کیا جھوٹ بولا تھا؟ جس جھوٹ کو بنیاد بنا کر میں نے اس سے قطع تعلق کرلیا؟ جانتئ ہو اس نے مجھ سے کیا جھوٹ کہا تھا۔ ؟

وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھئ۔ اسکی سہیلی ہمہ تن گوش تھی

۔ وہ دھیرے سے بولی

اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا کہ اسے مجھ سے محبت ہے۔۔

از قلم : واعظہ زیدی

#urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza#hajoometanhai

Home » admin
Rating

Discover My Exclusive SHEIN Picks! ✨😍Handpicked just for you! 🛍️Enter Z8V5Q in SHEIN search box to see my favorites! 🎁 60% OFF coupon for every new user –

written by

https://desikimchi.com/bon-appetit-your-majesty-2025-korean-netflix-series-worth-watching-or-not/

Lets play Floor is Lava | A cross cultural motherhood story in urdu| written by vaiza zaidi

Lets play Floor is  Lava

A bold metaphor for parenting across cultures—unstable, intense, but full of growth.

written by vaiza zaidi

وہ کچھ دنوں سے دیکھ رہی تھی اسکا آٹھ سالہ بیٹا ارحم جنگلی بچوں والی حرکتیں کرنے لگا تھا۔ لائونج میں صوفے پر کود کود کر اسکے کشن بٹھا دیئے  اوپر سے ایک نیا کھیل سیکھ آیا۔ سارے گھر کے تکیوں کشنز وغیرہ کو لائونج میں لا کر ڈھیر کیا اب انہی کشنز پر چلنا تھا زمیں پر پائوں رکھو تو زمین لاوا ہے۔ پائوں رکھنے والا جل جائے گا۔ یہ کھیل وہ اپنے سے دو سال چھوٹے بھائی معظم کے ساتھ کھیلتاتھا۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔

وہ خوش تھی کہ چلو اسکے بیٹے شریف ہیں آرام سے بیٹھ کر گاڑی چلاتے رہتے ہیں کافی ہے۔ باہر وہ جانے نہیں دیتی تھی۔ نیا ملک اجنبی لوگ۔ وہ لوگ ابھی دس ماہ پہلے ہی انگلستان میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ ارد گرد کون رہتا کتنے لوگ رہتے کوئی واقفیت ہی نہیں ہوپائی تھی ابھی اسکی سارا دن وہ اکیلی ہی بچوں کے ساتھ ہوتئ تھی اسکے میاں صبح کے گئے شام کو آتے تھے۔ وہ بچوں کو لائونج میں بٹھا کر خود اوپن کچن سے ان پر نظر بھی رکھتی تھی۔ ذیادہ سے ذیادہ ٹی وی لگا دیا۔ دونوں اب اسکول جاتے تھے۔ دونوں کو ہمیشہ انگریزی اسکول میں  ہی پاکستان میں بھی پڑھایا تھا تو یہاں آسانی سے پڑھائی شروع ہوگئ تھی انکی۔ مگر کچھ دنوں سے وہ دیکھ رہی تھی کچھ ذیادہ ہی پرجوش ہو کر آتا تھا اسکول سے ۔ ٹی وی دیکھنے کی  کی جگہ اسے لان میں کھیلنا تھا۔ اس نے جانے دیا کہ دن کا وقت تھا اور اپنے شوہر سے کہہ کر اس نے باڑ بھی لگوا لی تھی۔ لیکن وہ سر پیٹ کر رہ گئ جب ارحم اور معظم مٹھی میں لتھڑے پانی کی کیچڑ بنا کر اس سے کھیل رہے تھے۔ پانی انکو فراہم کرنے والا پڑوسیوں کا ارحم کا ہم عمر بچہ تھا جو انکے ساتھ اس گندے کھیل میں شریک تھا۔ اسکو تو کیا کہنا تھا بس اتنا ہی کہا کہ بس اب کھیل ختم اپنے گھر جائو ۔ ان دونوں پر اسکا بس چلتا تھا مار مار کر نہلایا کپڑے بدلائے اس دن کے بعد دوبارہ لان میں جانے نہیں دیا۔ مگر یہ سعی بےکار رہی۔ اسکی پڑوسن اگلے دن ایک ٹوکری میں چند سیب سجائے اسکے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔

اس نے خاصے برے مزاج کے ساتھ دروازہ کھولا تھا جوابا وہ مسکرا کر معزرت خواہانہ انداز میں بولی

میرے بچے لان میں کھیل رہے ہیں تو شور و غل کررہے ہیں اگر آپ کے آرام میں خلل ہو تو فوری بتایئے گا ۔ازالے کے طور پر یہ تحفہ قبول کیجئے۔ اسکے کہنے پر اس نے نظر بھر کر پڑوس میں دیکھا تو بس اسکی عقل پر ماتم کرکے رہ گئ۔ اسکے اپنے تو دو ہی بچے تھے ایک بیٹا ایک بیٹی البتہ اپنے پڑوس سے درجن بچے اکٹھے کرکے ایک ہوا سے بڑھنے والے چھوٹے بچوں کے پول میں ڈھیر سارا پانی بھر کر اچھالتے لان میں کیچڑ مچا کر کھیل رہے تھے۔ شور و غل تو اپنے گھر میں جتنا بھی مچائیں اسکو کیا پروا مگر کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہوتے ان بچوں کو دیکھ کر خلجان ضرور ہوا۔ اسکے اپنے دونوں بچے صاف ستھرے کپڑوں میں ٹی وی پر اینی میٹڈ فلم دیکھ رہے تھے۔

آپ بھی اپنے بچوں کو بھیج سکتی ہیں میں نگرانی کر رہی ہوں انکی۔ایسا نہیں کہ یہ شتر بے مہار کھیل رہے ہوں۔

اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے وہ یہ سمجھی شائد وہ بھی اپنے بچوں کو بھیجنا چاہے گی۔

نہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایکدم گھبرا کر بولی

وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اپنے بچوں کو اس غل غپاڑے کا حصہ بنانے کا۔ یہ نگرانی کررہی ہے تب یہ طوفان بدتمیزی ہے بچے اپنے طور پر تو ہلہ مچائیں تو شاید آسمان پر ہی ٹکلی لگائیں۔

اسکے صاف انکار پر جو حیرانی سمانتھا کے چہرے پر ابھری اس پر سٹپٹا کر اس نے وضاحت دی۔

میرا مطلب ہے میرے بچے اس وقت اینی میٹڈ مووی دیکھ رہے ہیں۔ شکریہ دعوت دینے کا۔

بچوں کا اسکرین ٹائم محدود ہونا چاہیے۔ دخل اندازی کی معزرت۔ وہ شائستگئ سے گویا ہوئی۔

میرا بیٹا بتاتا ہے کہ جب وہ ارحم سے پوچھتا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتا ہے تو ارحم یہی بتاتا ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا۔بچوں میں مستقل ٹی وی دیکھنے سے انکی ذہنی صلاحیت اور بصارت متاثر ہوتی ہے۔

جانتئ ہوں میں۔ اس نے بات کاٹ دی تھئ۔

اس بلا وجہ کے بھاشن پر اسکے چہرے پر خاصی ناگواری اتر آئی تھی جسے بھانپتے ہی سمانتھا نے مسکرا کر ایک۔بار پھر معزرت کی اور پلٹ کر چلی گئ۔

اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کردیا۔ ایک گونہ سکون کا احساس ہوا تھا۔ اسکے دونوں بیٹے ٹی وی دیکھتے دیکھتے ہی آڑے ترچھے ہو کر سو گئے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر ٹی وی بند کردیا۔

مجھے خود خیال رہتا ہے اس بات کا۔۔۔آئی بڑی لیکچر جھاڑنے والی۔  وہ بڑبڑائے بنا نہ رہ سکی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارحم نے بتایا تھا کہ جوزف کی ماما کی طبیعت خراب ہے۔ اس نے پہلے تو نظر انداز کیا مگر پھر سوچا پڑوس کا معاملہ ہے اور سیب کا احسان بھی اتارنا ہے سو گھر پر کیک بیک کیا ایک ٹرے میں سجایا بچوں کو نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنائے اور سمانتھا کے گھر چلی آئی۔ اسکے گھر سے عجیب شور اٹھ رہا تھا بچے چلا رہے تھے چیزیں گھسیٹنے کی آوازیں۔ وہ سوچ میں پڑ گئ کہ اطلاعی گھنٹی بجائے یا نہ بجائے تبھی بند دروازے پر زور سے کوئی چیز آکر لگی۔ جانے اندر کیا ہورہا ہے اس نے گھبرا کر زوردار دستک دے ڈالی۔

چند لمحوں میں سمانتھا کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔

ہائے یہ میں لائی تھی آپکے لیئے۔ اس نے بنا تمہید ٹرے اسکی جانب بڑھا دی۔ سمانتھا نے شکریےکہتے ہوئے تھام کر اسے بھئ اندر آنے کی دعوت دی۔ وہ کچھ جھجکتی ہوئی داخل ہوئی تو ایک لمحے تو حیران پریشان ہی رہ گئ۔اسکے دونوں بچے اچھل اچھل کر ممی ہار گئیں چلا رہے تھے۔ سمانتھا مسکرا کر ہار تسلیم کررہی تھی ساتھ کھیل کا اصول بھی بتا رہی تھی کہ  مہمان آجائیں تو کھیل جہاں وہ جیسا ہو رک جاتا ہے۔ انکئ اس بچکانہ گفتگو سے قطع نظر ربیہ کو جو نظر آرہا تھا وہ یہ کہ پورا گھر تلپھٹ ہوا وا تھا۔

لائونج سے کچن تک ایک کشنز کی ٹرین بنی ہوئی تھی۔ سمانتھا اس دروازے تک آنے کیلئے کشن دروازے پر پھینک کر راستہ بناتی آئی تھی مگر اس سے بات کرتے بھول کر فرش پر کھڑی ہوگئ تھی۔

فرش تو لاوا تھا اس پر جو پائوں رکھتا جل جاتا۔

آئو مسز بابر ادھر لائونج میں بیٹھو نا۔

اسے لابی میں ایستادہ دیکھ کر سمانتھا نے آواز لگائی۔ وہ سر ہلا کر لائونج میں بچوں کا ہاتھ تھام کر چلی آئی۔

ہیلو آنٹی کیسی ہیں آپ۔

دونوں بچے ماں کی ہدایت پر اپنے کپڑوں سے ہاتھ صاف کرتے اس سے ہاتھ ملانے آئے تھے۔ اس نے بمشکل اپنی نفاست پسند طبیعت پر جبر کرکے ہاتھ ملایا۔

ارحم اور معظم ہمارے ساتھ کھیل لیں؟ وہ اب اجازت مانگ رہے تھے۔ وہ کیا روکتی ۔ارحم اور معظم دونوں ہاتھ چھڑا کر انکی جانب لپکے۔

اب دو کی جگہ چار بچے پورے گھر کے جمع کییئے کشن تکیئوں فلور کشنز پر کودتے اچھلتے پھر رہے تھے۔ جو کشن کی بجائے زمین پر پائوں رکھتا وہ لاوے کی نظر ہوجاتا اور ہار جاتا لہزا زمین سے بچنے کیلئے کبھی صوفے پر چھلانگ ماری جا رہی تھی کبھی کشنز پر۔ سمانتھا جب تک کافی بنا کر لائی اسکا پارہ چڑھ چکا تھا۔یہ لاوا گیم ارحم نے اس جوزف اور اسکی بہن للی سے سیکھی تھی۔ اور ابھی سمانتھا کا گھر تھا اسے اختلاج قلب ہورہا تھااسکا اپنا گھر ہوتا تو شائد وہ ان چاروں کی پٹائی کرکے جیل جا چکی ہوتی۔

سوری تمہیں انتظار کرنا پڑا۔

سمانتھا پکی انگریزنی تھی۔بات بے بات معزرت کرنے کی عادت۔

مگر ربیہ چڑ چکی تھی کہے بنا نہ رہ سکی۔

تم منع نہیں کرتیں انہیں لاوا جیسا بکواس کھیل کھیلنے سے؟ پورے گھر کے تکیئے کشن برباد کردیئے ہیں۔ ننگے پیر چڑھ رہے اتر رہے صوفے پر کود رہے صوفہ خراب ہوجائے گااسطرح تو۔

کشن کور پر دھبے پڑ گئے ہیں۔ اوپر سے اتنا شور کررہے تمہاری تو طبیعت خراب نہیں تھی؟ تمہارے آرام میں خلل نہیں پڑرہا اس شور سے۔ اس سے بہتر تھا تم انکو اسکول جانے دیتیں ۔ کم از کم اتنی دیر آرام تو کرلیتیں۔

اسکے اتنا بولنے پر سمانتھا جو بڑے غور سے اسے سن رہی تھی ایکدم ہنس پڑی۔

مجھے پتےکا آپریشن بتایا ہے ڈاکٹر نے کل ہوگا آپریشن اسلیئے میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔ چھوٹا سا سہی مگر آپریشن تو ہے۔ اس کیلئے مجھے شور و غل سے فرق نہیں پڑرہا۔ باقی تکیئے غلاف بدل دوں گی میں جب یہ کھیل چکیں گے۔

اور جو یہ صوفہ انکے اچھلنے سے جو بیٹھ رہا ہے اسکا کیا؟

ربیہ تیز ہو کر بولی۔

خراب ہوجائے گا توٹھیک کروالوں گی۔

وہی نا۔ سب مسلئے پیدا ہونے دو پھر اسکا حل تلاش کرو اسکی بجائے بچوں کو کیوں نہیں روکتیں کہ شور نہ کریں گھر کے کشن برباد نہ کریں۔ میرا گھر دیکھا ہے میں تو بچوں کو سیٹنگ بھی خراب نہیں کرنے دیتی۔

اس سے کیا ہوتا ہے؟ سمانتھا کافی کا بڑا سا گھونٹ لیکر کپ سائڈ ٹیبل پر ٹکا کر پوچھنے لگی۔

گھر درست حالت میں رہتا ہے۔

ربیہ جتانے والے انداز میں بولی

اور بچے اپنے گھر میں مہمان بن کے بیٹھے رہتے ہیں۔ دیکھو ربیہ صوفے ٹھیک کروا لیئے جائیں گے، غلاف دھل جائیں گے،صفائی پھر ہو جائے گی، یہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہیں گے بڑے ہوجائیں گے، تب نہ صوفوں پر اچھلا کودا کریں گے نہ غلاف گندے کریں گےتب انہیں یہ یاد رہے گا انکی ماں صفائی کے خبط میں انہیں کھیلنے سے نہیں روکا کرتی تھی بلکہ کبھی کبھی انکے ساتھ مل کر کھیلا بھی کرتی تھی۔

مجھے اچھی یادیں بنانی ہیں۔انکے ساتھ ۔صاف یادیں نہیں جن میں انکو اپنے ساتھ ہنسنے کھیلنے والی ماں کی جگہ چڑچڑی صفائی کے خبط میں مبتلا بدمزاج ماں یاد نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کھانا پکا کر ہاتھ دوپٹے سے صاف کرتی ہوئی لائونج میں  آئی تو دماغ جھنجھنا گیا۔

جوزف ، سنتھیا( جوزف کی بہن) ارحم اور معظم سب ایک قطار میں بیٹھے تھے۔ سنتھیا کا میک اپ کیا جا رہا تھا اسکی سنگھار میز سے میک اپ کا سامان لا کر اور کیا خوب جوزف نے میک اپ کیا تھا ۔ شائد ماں کا میک اپ استعمال کرنے کی عادت تھی۔ مگر کام ختم ہونے کے بعد اسکا بلش آن ، لپ اسٹک ، اسکا پرفئوم سب صوفے پربکھرا پڑا تھا۔شائد کوئی لوشن کی شیشی کھلی رہ گئ تھئ تو گرے صوفے پر سفید مایا دھبہ پڑچکا تھا۔ سنتھیا کے چہرے پر  سلیقے سے لپ سٹک لگی تھی اسکا نماز کا دوپٹہ اوڑھے سنتھیا دلہن بنی کھڑی تھی اسکا دلہا تھا اسکا اپنا بیٹا ارحم  جوزف پادری بنا ان دونوں سے آئی ڈو آئی ڈو کروا رہا تھا جبکہ معظم پھول پھینک رہا تھا دلہا دلہن پر۔ پھول؟

ربیہ چونکی۔

اسکے لائونج میں رکھےسجاوٹی گلدان میں سے سب نقلی پھول نکال کر پتی پتی الگ کرکے ایک پلیٹ میں اکٹھے کر رکھے تھے۔

یہ کیا ہورہا ہے؟ یہ پہلی دفعہ تھا کہ اسکے منہ سے غصے کی بجائے روہانسی سی آواز نکلی۔ چاروں بچے اپنی اپنی جگہ تھم گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جوزف اور سنتھیا کو کافی دیر ہوگئ تھی پڑوس میں کھیلنے گئے ہوئے اب انکے کھانے کا وقت ہوا چاہتا تھا تو سمانتھا انہیں بلانے آئی تھی۔ خلاف توقع مین ڈور کھلا ہوا تھا وہ دستک دے کر انتظار کرنے لگی۔

کو چھک چھک۔ ریل گاڑی کی آواز نکالتے ہوئے بچوں کی انسانی ریل گاڑی اندر سے بڑی تیزی سے باہر نکلی وہ ایکدم سے ایک طرف ہو کر

110

راستہ دینے لگی ۔ سب سے آگے سمانتھا تھی اسکے پیچھے معظم پھر ارحم پھر جوزف اور سب سے آخری ڈبہ کے طور پر خلاف توقع ربیہ اس ریل گاڑی سے جڑی تھی۔ اسکو دیکھ کر سر کے اشارے سے سلام کرتے ہوئے ریل گاڑی آگے بڑھ گئ تھئ۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا

پھر بھاگ کر خود بھی اس ریل گاڑی کا حصہ بن گئ تھی۔

Raphanzel mer gai | urdu horror story of a housewife

Rating
@urduz9

راپنزل۔۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ کہہ رہی تھی کہ آپ مجھے بالکل وقت نہیں دیتے جب سے دوسرے شہر آئے ہیں مصروفیت بڑھ گئ ہے آپکی۔ کہہ تو ٹھیک رہی تھی۔ میں نئے پراجیکٹ کا ہیڈ بنا تھا وقت ہی نہیں ملتا تھا اسکے لیئے۔ اور وہ تھی کہ روز ایک شکوہ کر کرکے تھکتی نہیں تھی۔ آخر کو بھرے پرے گھر سے آئی تھی یہاں بس امی ابا اور چھوٹا بھائی چھوٹا سا سسرال تھا۔ بھائی کی پڑھائی کا مسلئہ نہ ہوتا تو جب لاہور میری نوکری کا انتقال ہوا تو میں انہیں بھی ساتھ لیتا آتا۔ لیکن اب دو سال تو یہیں رہنا تھا اکیلے ہی رہنا تھا۔ سارا دن زارا اکیلے رہتے تنگ آجاتی تھی۔ آس پڑوس میں بھی دوستیاں ہوتے وقت لگنا تھا ایک نوکرانی کا انتظام کیا تھا مگر شام کو وہ بھی چلی جاتی تھی۔ آج میں سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی گھر پہنچ کر اسے باہر کہیں گھمانے لے جائوں گا ۔ کچھ دنوں سے اس نے یہ فرمائش بھی چھوڑ دی تھی۔ ٹی وی میں ایک ڈرامہ دیکھنے لگی تھی۔ اسی جیسی عورت کی کہانی تھی جو سارا دن اکیلی گھر کے کام کرتی شوہر کا انتظار کرتی تھی۔ میں اسکا دل رکھنے کیلئے کہانی میں دلچسپی لیتا پوچھتا آج کیا ہوا جواب میں وہ رافعہ کی ہی روداد سناتی صبح اتنے بجے اٹھی کھانا بنایا صفائی کی وغیرہ۔ اتنا بےکار پلاٹ کا ڈرامہ وہ اتنی دلچسپی سے دیکھتئ تھی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی۔ خیر میں بتا رہا تھا کہ آج میں یہ سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی چلا جائوں گا گھر سو کام ختم ہوتے ہی سیدھا گھر آیا۔ وہ شائد ابھی سب کاموں سے فارغ ہو کر ڈرامہ دیکھنے بیٹھی تھی۔ صاف بولی آپ منہ ہاتھ دھو کر کھانا نکال لیجئے گا سب پکا رکھا ہے میں ڈرامہ دیکھنے لگی ہوں۔ مجھے بھوک تو لگ رہی تھی منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے باورچی خانے میں آیا تو جھٹکا سا لگا ایک ایک پتیلی دھلی ہوئی صاف یوں رکھی تھی جیسے عرصے سے استعمال ہی نہ ہوئی ہوں میں کئی دنوں سے رات باہر کھانا کھا کے آتا تھا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ خود کیا پکا کھا رہی ہے۔ میں نے فریج کھولا تو بدبو کا بھپکا آیا۔ فریج کا بلب بھی آن نہیں تھا۔سبزیوں والی دراز میں گوبھی شملہ مرچ ٹماٹر وغیرہ سب سڑے رکھے تھے۔پانی کی بوتلیں بھی خالی تھیں۔ فریج میں گندھا آٹا بھی سڑ چکا تھا۔ میں نے حیران ہو کر بٹن کو دیکھاتو وہ بند تھا۔ فریج آن کرکے میں زارا سےپوچھنے لائونج میں آیا۔ تو مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔وہ ٹی وی لائونج میں اکیلی بیٹھی دیوار تکتے محظوظ ہو رہی تھی جیسے دلچسپ ڈرامہ دیکھ رہی ہو۔ ٹی وی لیکن اسکے دائیں جانب والی دیوار پر رکھا تھا۔ وہ دیوار تکتے تکتے میری موجودگی محسوس کرکے گردن گھما کر بولی بہت دلچسپ قسط ہے آج کی۔ ہیرو کو کئی دن تک پتہ ہی نہیں چلا بیوی مرچکی ہے۔ آج کچن میں گیا تو دیکھا وہ تو کئی دنوں سے کھا پی بھی نہیں رہی تھی ،ابھی اس سے پوچھنے لائونج میں آیا تو اسکی لاش صوفے پر پڑی تھی۔ پھر مسکرا کر تائید چاہنے والے انداز میں بولی ہے نا دلچسپ قصہ؟#urdu

♬ original sound – बब्ली कुमारी
https://urduz.pk/labubu-doll-cute-trend-or-satanic-ritual-islam-kia-kehta-hay/
https://desikimchi.com/silent-love-a-unique-tale-of-a-mute-boy-fell-in-love-with-blind-girl
https://urduz.pk/the-5-elements-of-man-understanding-your-aura-energy-and-spiritual-power

Walimay ki dulhan| urdu heart touching story| afsancha

Home » admin

https://hajoometanhai.blogspot.com

maca-vit-men-maca-vit-forte-bundle-of-2

Ragon se khench k jaan meri| maut hansti hay| udaas urdu shayari

آزاد اردو نظم

موت ہنستئ ہے ۔۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

واعظہ زیدی

رگوں سے کھینچ کے جاں میری
موت ہنستی ہے بتا گئ کہاں تیری
وہ زندگی جس کو بتانے کے
ہیں قصے کئی جگ کو سنانے کو
تیری زندگی میں تجھے سننے کا شائق نہیں کوئی
تجھے گمان تیری باتوں کے یہاں لائق نہیں کوئی
تیرا ناک نقشہ لوگوں کو بھول جائے گا
تیرے سنائے قصے کون یاد رکھ پائے گا

چلے جانے کا دکھ تجھے رلا رہا ہے
روک لو نہ جانے دو مجھے،کرلا رہا ہے
مجھ پر کیا بیتی مجھے سنانے دو
وقت کم ہے پاس میرے بہانے دو

ایک یہ ہے کہ خودی سے بے خبر تھا میں
خود ہی منزل تھا خود ہی سفر تھا میں
یوں ملی اچانک زندگی کہ سمجھ نہ آئی
خوشیوں کی آس میں

دکھوں کی بس قیمت چکائی

دوسرا یہ کہ جو چاہ تھی مجھے رہی
زندگی کو ضد تھی بن اسکے گزرکے رہی

اب گہرے گڑھے میں پہنچ کر سستا رہا ہوں میں
یہاں بھی رکنا نصیب نہیں آگے جا رہا ہوں میں
مجھ میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے والو
میری زندگی میں مجھے بے مول روندنے والو

جانے دو جو اگر بے جان پڑا ہوں آج میں

یقین جانو بہت مشکل سے مرا ہوں آج میں۔۔

Home » admin
Rating
https://desikimchi.com/vedmadness-in-love-veds-fiery-tale-of-passion-and-pain/