Aik Daily Blogger ki wall say |mukhtasir afsancha| by vaiza zaidi
- Syeda Vaiza Zaidi
- 0
- Posted on
ایک ڈیلی بلاگر باجی کی وال سے کل کی ایک پوسٹ۔۔۔۔
آپکے بہنوئی اتنے مزاحیہ ہیں نا کہ آج صبح صبح سے انکا مرا مزاق چل رہا ہے۔ صبح آنکھ ہی نہیں کھلی میری تو یہ لیٹ ہوگئے دفتر سے آٹھ بجے میری منی سی چوٹی کھینچ کر جگایا اور گال سہلاتے ہوئے مجھے اٹھنے کا کہہ کر خود باتھ روم میں گھس گئے۔ میں سستی سے انگڑائی لیکر اٹھی اٹھ کر آئینہ دیکھا بال سمیٹے جو انکے چوٹی ہلانے سے اجڑ پجڑ گئے تھے پھر چہرہ دیکھا تو انکی سخت انگلیاں ابھر آئی تھیں۔ خیر یہ تو انکا ہمیشہ کا جارحانہ پیار ہے ہر دو ایک دن میں پیار کی نشانی ضرور چھوڑتے ہیں میرے چہرے پر۔ جلدی جلدی ناشتہ بنایا چائے بنا کر میز پر رکھی یہ منہ پھلائے بیٹھے تھے مجھے گھورا تو مجھے ہنسی ہی آگئ۔ خیر انکو خاموشی سے ناشتہ کرتے دیکھتئ رہئ انکو میرے ہاتھ کا پراٹھا اتنا پسند کہ لیٹ ہونے کے باوجود ڈیڑھ پراٹھا کھایا اٹھتے اٹھتے بولے شکر ہے میری آج میٹنگ ساڑھے نو بجے ہے ورنہ تم نے تو لیٹ کرادیا تھا مجھے۔
مجھے ہنسی آگئ کتنے شرارتی ہیں دیر سے جانا تھا خود الارم بند کرکے سوگئے اور الزام بھئ مجھ پر لگا دیا جاتے جاتے قورمے کی فرمائش کرگئے وہ بھی مٹن کی۔ میں سوچ میں پڑ گئ بچوں کو کیا دوں؟ کیونکہ مٹن تو یہ کلو بھر لاتے ہیں اور میں بس ان ہی بھر کا سالن بناتئ ہوں تو چار دفعہ پک جاتا مہینے میں اب یہ سالن میں اور بچے بھی کھائیں تو چار تو بچے ہی ہیں ہمارے دو تو بڑے تو ٹین ایجر ہیں ۔ کلو گوشت لمحوں میں نمٹ جائے۔ ایسے موقع پر انکے لیئے مرغی کا سالن بنا دیتئ ہوں مگر اس وقت سر میں درد ہو رہا شائد پوری قوت سے ہاتھ اٹھا دیا انہوں نے بچے چھٹیوں کی وجہ سے گھر تو ہیں مگر سو ریے ہیں۔ انکے سامنے تو انکے ابا ہاتھ اٹھا نہیں پاتے بچے آجاتے سامنے پھر وہ بھی پٹتے۔ تو میں انکو کہتئ ہوں بچوں کے سامنے غصہ برداشت کرلیا کریں اکیلے میں جو چاہیں کہہ لیں۔اس وقت انہوں نے میری بات مان لی۔ شکر ہے بات مان لیتے ۔
بس پھر جلدی جلدی جا کر میں نے ایلو ویرا جیل منہ دھو کر لگایا بچوں کے اٹھنے تک سرخی بھی کافی کم ہوگئ اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سب کام بھی نپٹا لیا بچے اٹھے تو بیٹی نے مجھے کچن سے نکال دیا کہ امی آپ میرے پراٹھے میں تو گھی لگاتی ہی نہیں ہیں میں خود بنائوں گئ پراٹھا۔ پندرہ سال کی ہے ابھی اورماشااللہ اتنئ سمجھدار ہے کہ میرے بیٹے اور بیٹی میں فرق کرنے کو فورا پہچان جاتی ہے۔ دراصل دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں میرے ۔ اس سے چھوٹا تیرہ سال کا بیٹا ہے بالکل باپ پر گیا ہے باپ جیسا غصہ ہے انکی طرح دو پراٹھے کھاتا ہے وہ بھی سالن بھئ ساتھ ہو اور آملیٹ بھی۔ پہلے تو بڑی بیٹئ کے املیٹ سے اسے تھوڑا سا دے دیتئ تھی مگر جب سے بڑی ہوئی ہے اپنے بنائے انڈے کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی یوں روز کے دو انڈے خرچ ہوتے کہاں ایک ہی انڈے سے نمٹا دیتئ تھئ تینوں بچوں کو پھر نو سالہ بیٹئ ہے معصوم سی اسکو تو میں اسکے ابا کا پراٹھا جو چھوڑتے وہی کھلا دیتی اگر کبھی ذیادہ ضد کرے تو تھپڑ لگادیا لیکن پچھلی بار تھپڑ لگانے پر بڑی بیٹی بیچ میں آگئ ۔ اب وہی ناشتہ بنا کر دونوں بہن بھائیوں کو بٹھا کر کراتئ ہے تین انڈے خرچ ہوجاتے روزکے۔ سب سے چھوٹا میرا بیٹا میری جان پانچ سال کا ہے اسکو دلیہ کھچڑی الگ سے بنا کردیتئ ہوں؟ نہیں وہ سب سے پہلے دو تھپڑ کھاتا ہے پھر جو سامنے رکھ دوں بچاکھچا وہ کھاتا ہے میں بچوں کے لاڈ اٹھانے کی قائل نہیں
خیر ابھی تو وہ قصہ سنا رہی کہ آپکے بہنوئی اور میرا مزاق چل رہا ہے صبح سے تو ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون آیا کہ مٹن قورمہ ذیادہ بنا لینا میرا دوست بھی ساتھ ہوگا۔ شام میں۔ اب انکے دوست خدا جھوٹ نہ بلوائے نوے کلو کا ہے چار بندوں کا کھانا کھاتا ہے پچھلی دفعہ پورے کلو کا مٹن قورمہ بنایا تھا سب ڈکار کر رات کو دال چاول بھئ کھا کر بارہ بجے تک گیا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہہ دیا کہ مہینے کا آخرہے بس پائو والاپیکٹ بچا ہے ۔ بولے الو کی پٹھی اور منگوا لے میں نے بتایا کہ میرے پاس پیسے ختم تو ایک اورموٹی سی گالی دی بولے ابھی جو پرسوں میری امی آئی تھیں میری مٹھی میں پانچ ہزار کا نوٹ رکھ گئی تھیں اسکا منگوا لوں۔ یقین کیجئے اتنی حیران ہوئی میں
انکو کیسے پتہ چلا خدا بخشے جب تک میری ساس زندہ تھیں ایسی جاسوسیاں وہی کرتی تھیں جہاں میرے میکے سے کوئی آیا انکی چار آنکھیں چوکنا ہوجاتی تھیں بچوں سے الگ کرید کر پوچھتی تھیں میرے بڑے والے بیٹے کو انہی سے لگائئ بجھائی کی عادت پڑی ہے۔ کل وہی میرے بھتیجے کے ساتھ امی کے برابر بیٹھا تھا یقینا اسی نے دیکھ کر باپ کو بتا دیا۔ ہائے میری بھولی امی۔ بھائی جو ہر مہینے بھابی سے چھپ کر ہزار روپے رکھتے انکے ہاتھ پر سب جمع کرکے ایک چکر میرے گھر کا لگا کر مجھے دے ڈالتی ہیں۔منع بھی کیا تھا یہ ننھا شیطان بیٹھا ہو تو اسکے سامنے نہ دیا کریں مگر ہوگئ غلطی۔
خیر آپکی بہن کم نہیں۔ انہوں نے تو فون رکھ دیا اب اسئ کو ساتھ لیکر گئ کہ تھوڑی سزا تو ملے ۔ راستے میں کورنیٹو کھلا کر وعدہ لیا کہ ابا کو یہ بتائے کہ بقیہ بچے پیسوں سے اس نے وہ بیٹ بال اور جیومٹیٹرئ باکس لیا ہے جس کو میں اسے پچھلے دو مہینوں میں اپنی بچت سے دلوا چکی ہوں اور وہ باپ کے سامنے ان چیزوں کو چھپا دیتا ہے۔ دراصل انکی اتنی بری عادت ہے کوئی نئی چیز دیکھتے تو بال کی کھال اتارتے کہاں سے پیسے آئے کتنے کے لیئے اور میری بچت تو اور غصہ دلا دیتی ہے کہتے اگر پیسے بچیں تو انکو واپس دیا کروں تاکہ وہ نئے مہینے کے خرچےمیں ڈال لیں یا کٹوتی کرلیں۔
خیر آج میں نے قورمہ بنایا بڑی بیٹی نے چڑچڑا پن دکھایا کہ ہمارے لیئے کیوں نہیں بنتا قورمہ تو سب بچوں کیلئے شوارما منگوادیا کہ باپ سے چھپ کر کھا لینا۔رات کو جب دوست رخصت ہوا تو انہوں نے فورا ساری تفصیل مانگی کہ پانچ ہزار سے کتنے بچے میں نے بیٹے کو آگے کردیا اس نے فر فر سنایاتھوڑا غصہ آیا انہیں مگر میرا بیٹا لاڈلا بھئ ہے انکا دوسرا کئی مہینوں سے ان چیزوں کی ضد کررہا تھا تو انکا ایک خرچہ کم ہوا یہ سوچ کر انہوں نے غصہ تھوک کر مجھ سے چائے کی فرمائش کردی۔میں جھٹ انکے مزید سوال جواب سے بچنے کو اٹھ گئ۔ چائے چڑھائی ڈونگے تو خالی آئے تھے پتیلی پونچھ کر روٹی کھائی جلدی جلدی ورنہ پتیلی میں کھاتے دیکھ کر انہیں بہت غصہ آتا کہ میں اچھی بوٹیاں بچا کر پتیلی میں رکھے رہتی ہوں اور بعد میں کھاتی ہوں۔حالانکہ اب آپ سے کیا چھپانا خالی سالن ہوتا ہے پتیلی میں ۔ ڈونگے تو یوں پچھ پچھا کر آتے کہ کچھ لگا ہی نہیں ہوتا ان میں۔ خیر چائے بنا کر لے جا رہی ہوں انکے لیئے
اب ایک آپکی میری آپس کی بات ہے امی نے ایک نہیں دو نوٹ دییے تھے یہ بات بیٹے کو بھی نہیں بتائی ۔ کیونکہ بیٹیوں کی ضرورت کی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو انکو بتائو تو کہتے فضول خرچی ہے مگر میں تو جانتئ ہوں ان چیزوں کے بغیر بیٹیوں کا گزارہ نہیں ہوتا تو اسی طرح پورا کرتی ہوں انکی چیزیں۔ ابھی تو خیر ایک ہی بڑی ہوئی ہے مگر سال دو سال میں دوسرئ کی بھی باری آجانئ ہے مگرمردوں کو ان معاملات کا تھوڑی اندازہ ہوتا بس اسی لیئے ان سے چھپ کر خرچ کرتی ہوں بیٹئ پر۔ بھلے اسے میرے پیار پر نا انصافئ کا گمان ہوتا ہو مگر بیٹی بھی اولاد ہے میری بیٹے کو اچھا کھلا دیتی ہوں تو بیٹی کا پہننا اوڑھنا اچھا ہوتا ہے ۔
اچھا اب سونے لگی ہوں کل کے بلاگ میں بتائوں گی کہ پوری کوشش کے باوجود بھی چہرے پر نشان دیکھ لیئے بیٹی نے اور جو باپ سے لڑی میں بیچ میں نہ آتی تو اس وقت بائیں کروٹ لیٹتے اسکا گال بھی دکھ رہا ہوتا میری طرح۔۔۔۔۔
#ڈالڈاخاتون
#سگھڑبیگم
#ٹاکسک_میاں_کی_بیوی
#نارسسٹ_میاں
#کنجوس_مرد
#پاکستانیوں_کی_باتیں
#خاتون_خانہ
#گھگھوگھوڑےکی_ماما
#بیٹی_کی_ماں
یہ مجھے ایڈٹ کرکے لکھنا پڑ رہا ہے یہ مکمل تخیلاتی افسانہ ہے ازقلم واعظہ زیدی
وہ ایسا ہی فضول لکھتی ہے کیا کرےبے چاری
