ایک ڈیلی بلاگر باجی کی وال سے کل کی ایک پوسٹ۔۔۔۔
آپکے بہنوئی اتنے مزاحیہ ہیں نا کہ آج صبح صبح سے انکا مرا مزاق چل رہا ہے۔ صبح آنکھ ہی نہیں کھلی میری تو یہ لیٹ ہوگئے دفتر سے آٹھ بجے میری منی سی چوٹی کھینچ کر جگایا اور گال سہلاتے ہوئے مجھے اٹھنے کا کہہ کر خود باتھ روم میں گھس گئے۔ میں سستی سے انگڑائی لیکر اٹھی اٹھ کر آئینہ دیکھا بال سمیٹے جو انکے چوٹی ہلانے سے اجڑ پجڑ گئے تھے پھر چہرہ دیکھا تو انکی سخت انگلیاں ابھر آئی تھیں۔ خیر یہ تو انکا ہمیشہ کا جارحانہ پیار ہے ہر دو ایک دن میں پیار کی نشانی ضرور چھوڑتے ہیں میرے چہرے پر۔ جلدی جلدی ناشتہ بنایا چائے بنا کر میز پر رکھی یہ منہ پھلائے بیٹھے تھے مجھے گھورا تو مجھے ہنسی ہی آگئ۔ خیر انکو خاموشی سے ناشتہ کرتے دیکھتئ رہئ انکو میرے ہاتھ کا پراٹھا اتنا پسند کہ لیٹ ہونے کے باوجود ڈیڑھ پراٹھا کھایا اٹھتے اٹھتے بولے شکر ہے میری آج میٹنگ ساڑھے نو بجے ہے ورنہ تم نے تو لیٹ کرادیا تھا مجھے۔
مجھے ہنسی آگئ کتنے شرارتی ہیں دیر سے جانا تھا خود الارم بند کرکے سوگئے اور الزام بھئ مجھ پر لگا دیا جاتے جاتے قورمے کی فرمائش کرگئے وہ بھی مٹن کی۔ میں سوچ میں پڑ گئ بچوں کو کیا دوں؟ کیونکہ مٹن تو یہ کلو بھر لاتے ہیں اور میں بس ان ہی بھر کا سالن بناتئ ہوں تو چار دفعہ پک جاتا مہینے میں اب یہ سالن میں اور بچے بھی کھائیں تو چار تو بچے ہی ہیں ہمارے دو تو بڑے تو ٹین ایجر ہیں ۔ کلو گوشت لمحوں میں نمٹ جائے۔ ایسے موقع پر انکے لیئے مرغی کا سالن بنا دیتئ ہوں مگر اس وقت سر میں درد ہو رہا شائد پوری قوت سے ہاتھ اٹھا دیا انہوں نے بچے چھٹیوں کی وجہ سے گھر تو ہیں مگر سو ریے ہیں۔ انکے سامنے تو انکے ابا ہاتھ اٹھا نہیں پاتے بچے آجاتے سامنے پھر وہ بھی پٹتے۔ تو میں انکو کہتئ ہوں بچوں کے سامنے غصہ برداشت کرلیا کریں اکیلے میں جو چاہیں کہہ لیں۔اس وقت انہوں نے میری بات مان لی۔ شکر ہے بات مان لیتے ۔
بس پھر جلدی جلدی جا کر میں نے ایلو ویرا جیل منہ دھو کر لگایا بچوں کے اٹھنے تک سرخی بھی کافی کم ہوگئ اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سب کام بھی نپٹا لیا بچے اٹھے تو بیٹی نے مجھے کچن سے نکال دیا کہ امی آپ میرے پراٹھے میں تو گھی لگاتی ہی نہیں ہیں میں خود بنائوں گئ پراٹھا۔ پندرہ سال کی ہے ابھی اورماشااللہ اتنئ سمجھدار ہے کہ میرے بیٹے اور بیٹی میں فرق کرنے کو فورا پہچان جاتی ہے۔ دراصل دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں میرے ۔ اس سے چھوٹا تیرہ سال کا بیٹا ہے بالکل باپ پر گیا ہے باپ جیسا غصہ ہے انکی طرح دو پراٹھے کھاتا ہے وہ بھی سالن بھئ ساتھ ہو اور آملیٹ بھی۔ پہلے تو بڑی بیٹئ کے املیٹ سے اسے تھوڑا سا دے دیتئ تھی مگر جب سے بڑی ہوئی ہے اپنے بنائے انڈے کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی یوں روز کے دو انڈے خرچ ہوتے کہاں ایک ہی انڈے سے نمٹا دیتئ تھئ تینوں بچوں کو پھر نو سالہ بیٹئ ہے معصوم سی اسکو تو میں اسکے ابا کا پراٹھا جو چھوڑتے وہی کھلا دیتی اگر کبھی ذیادہ ضد کرے تو تھپڑ لگادیا لیکن پچھلی بار تھپڑ لگانے پر بڑی بیٹی بیچ میں آگئ ۔ اب وہی ناشتہ بنا کر دونوں بہن بھائیوں کو بٹھا کر کراتئ ہے تین انڈے خرچ ہوجاتے روزکے۔ سب سے چھوٹا میرا بیٹا میری جان پانچ سال کا ہے اسکو دلیہ کھچڑی الگ سے بنا کردیتئ ہوں؟ نہیں وہ سب سے پہلے دو تھپڑ کھاتا ہے پھر جو سامنے رکھ دوں بچاکھچا وہ کھاتا ہے میں بچوں کے لاڈ اٹھانے کی قائل نہیں
خیر ابھی تو وہ قصہ سنا رہی کہ آپکے بہنوئی اور میرا مزاق چل رہا ہے صبح سے تو ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون آیا کہ مٹن قورمہ ذیادہ بنا لینا میرا دوست بھی ساتھ ہوگا۔ شام میں۔ اب انکے دوست خدا جھوٹ نہ بلوائے نوے کلو کا ہے چار بندوں کا کھانا کھاتا ہے پچھلی دفعہ پورے کلو کا مٹن قورمہ بنایا تھا سب ڈکار کر رات کو دال چاول بھئ کھا کر بارہ بجے تک گیا تھا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہہ دیا کہ مہینے کا آخرہے بس پائو والاپیکٹ بچا ہے ۔ بولے الو کی پٹھی اور منگوا لے میں نے بتایا کہ میرے پاس پیسے ختم تو ایک اورموٹی سی گالی دی بولے ابھی جو پرسوں میری امی آئی تھیں میری مٹھی میں پانچ ہزار کا نوٹ رکھ گئی تھیں اسکا منگوا لوں۔ یقین کیجئے اتنی حیران ہوئی میں
انکو کیسے پتہ چلا خدا بخشے جب تک میری ساس زندہ تھیں ایسی جاسوسیاں وہی کرتی تھیں جہاں میرے میکے سے کوئی آیا انکی چار آنکھیں چوکنا ہوجاتی تھیں بچوں سے الگ کرید کر پوچھتی تھیں میرے بڑے والے بیٹے کو انہی سے لگائئ بجھائی کی عادت پڑی ہے۔ کل وہی میرے بھتیجے کے ساتھ امی کے برابر بیٹھا تھا یقینا اسی نے دیکھ کر باپ کو بتا دیا۔ ہائے میری بھولی امی۔ بھائی جو ہر مہینے بھابی سے چھپ کر ہزار روپے رکھتے انکے ہاتھ پر سب جمع کرکے ایک چکر میرے گھر کا لگا کر مجھے دے ڈالتی ہیں۔منع بھی کیا تھا یہ ننھا شیطان بیٹھا ہو تو اسکے سامنے نہ دیا کریں مگر ہوگئ غلطی۔
خیر آپکی بہن کم نہیں۔ انہوں نے تو فون رکھ دیا اب اسئ کو ساتھ لیکر گئ کہ تھوڑی سزا تو ملے ۔ راستے میں کورنیٹو کھلا کر وعدہ لیا کہ ابا کو یہ بتائے کہ بقیہ بچے پیسوں سے اس نے وہ بیٹ بال اور جیومٹیٹرئ باکس لیا ہے جس کو میں اسے پچھلے دو مہینوں میں اپنی بچت سے دلوا چکی ہوں اور وہ باپ کے سامنے ان چیزوں کو چھپا دیتا ہے۔ دراصل انکی اتنی بری عادت ہے کوئی نئی چیز دیکھتے تو بال کی کھال اتارتے کہاں سے پیسے آئے کتنے کے لیئے اور میری بچت تو اور غصہ دلا دیتی ہے کہتے اگر پیسے بچیں تو انکو واپس دیا کروں تاکہ وہ نئے مہینے کے خرچےمیں ڈال لیں یا کٹوتی کرلیں۔
خیر آج میں نے قورمہ بنایا بڑی بیٹی نے چڑچڑا پن دکھایا کہ ہمارے لیئے کیوں نہیں بنتا قورمہ تو سب بچوں کیلئے شوارما منگوادیا کہ باپ سے چھپ کر کھا لینا۔رات کو جب دوست رخصت ہوا تو انہوں نے فورا ساری تفصیل مانگی کہ پانچ ہزار سے کتنے بچے میں نے بیٹے کو آگے کردیا اس نے فر فر سنایاتھوڑا غصہ آیا انہیں مگر میرا بیٹا لاڈلا بھئ ہے انکا دوسرا کئی مہینوں سے ان چیزوں کی ضد کررہا تھا تو انکا ایک خرچہ کم ہوا یہ سوچ کر انہوں نے غصہ تھوک کر مجھ سے چائے کی فرمائش کردی۔میں جھٹ انکے مزید سوال جواب سے بچنے کو اٹھ گئ۔ چائے چڑھائی ڈونگے تو خالی آئے تھے پتیلی پونچھ کر روٹی کھائی جلدی جلدی ورنہ پتیلی میں کھاتے دیکھ کر انہیں بہت غصہ آتا کہ میں اچھی بوٹیاں بچا کر پتیلی میں رکھے رہتی ہوں اور بعد میں کھاتی ہوں۔حالانکہ اب آپ سے کیا چھپانا خالی سالن ہوتا ہے پتیلی میں ۔ ڈونگے تو یوں پچھ پچھا کر آتے کہ کچھ لگا ہی نہیں ہوتا ان میں۔ خیر چائے بنا کر لے جا رہی ہوں انکے لیئے
اب ایک آپکی میری آپس کی بات ہے امی نے ایک نہیں دو نوٹ دییے تھے یہ بات بیٹے کو بھی نہیں بتائی ۔ کیونکہ بیٹیوں کی ضرورت کی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو انکو بتائو تو کہتے فضول خرچی ہے مگر میں تو جانتئ ہوں ان چیزوں کے بغیر بیٹیوں کا گزارہ نہیں ہوتا تو اسی طرح پورا کرتی ہوں انکی چیزیں۔ ابھی تو خیر ایک ہی بڑی ہوئی ہے مگر سال دو سال میں دوسرئ کی بھی باری آجانئ ہے مگرمردوں کو ان معاملات کا تھوڑی اندازہ ہوتا بس اسی لیئے ان سے چھپ کر خرچ کرتی ہوں بیٹئ پر۔ بھلے اسے میرے پیار پر نا انصافئ کا گمان ہوتا ہو مگر بیٹی بھی اولاد ہے میری بیٹے کو اچھا کھلا دیتی ہوں تو بیٹی کا پہننا اوڑھنا اچھا ہوتا ہے ۔
اچھا اب سونے لگی ہوں کل کے بلاگ میں بتائوں گی کہ پوری کوشش کے باوجود بھی چہرے پر نشان دیکھ لیئے بیٹی نے اور جو باپ سے لڑی میں بیچ میں نہ آتی تو اس وقت بائیں کروٹ لیٹتے اسکا گال بھی دکھ رہا ہوتا میری طرح۔۔۔۔۔
#ڈالڈاخاتون
#سگھڑبیگم
#ٹاکسک_میاں_کی_بیوی
#نارسسٹ_میاں
#کنجوس_مرد
#پاکستانیوں_کی_باتیں
#خاتون_خانہ
#گھگھوگھوڑےکی_ماما
#بیٹی_کی_ماں
یہ مجھے ایڈٹ کرکے لکھنا پڑ رہا ہے یہ مکمل تخیلاتی افسانہ ہے ازقلم واعظہ زیدی
وہ ایسا ہی فضول لکھتی ہے کیا کرےبے چاری
قطع تعلق اردو افسانچہ
اس نے ضروری بات کرنے کیلئے ملنے کا کہہ کر نزدیکی پارک میں بلایا تھا۔وہ حسب عادت قدرے دیر سے پہنچا تھا۔ وہ دور اکیلی بنچ پر بیٹھی اسکا انتظار کررہی تھی۔ اس نے بائک لائک کی ہیلمٹ اتار کر رکھا۔ بال جلدی جلدی انگلیوں سے سنوارتا تیز قدم اٹھاتا اسکی جانب بڑھا۔
اسلام و علیکم کیسی ہو؟
ہمیشہ کی طرح اس نے ایکدم سے اسکے پیچھے سے آکر زور دار سلام کیا تھا۔ وہ بری طرح چونک کر مڑی تو وہ ہنس دیا
کیا ہوا ڈر گئیں؟
وہ مضمحل سا مسکرا دی ۔نہیں ڈر نہیں لگتا اب مجھے۔وہ مزید بھی کچھ کہتی مگر اس نے بات اچک لی
کیونکہ میں جو پاس ہوں ہے نا۔
وہ ہشاش بشاش سا خوشگوار مزاج کے ساتھ مطمئن نظر آتا تھا۔ اسکے برابر بیٹھتے ہوئے اسکی آنکھیں پارک پر طائرانہ نگاہ دوڑا رہی تھیں۔
کیا بات کرنی تھی تمہیں ؟ وہ پوچھ رہا تھا
کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟اس نے غور سے شکل دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
ہاں ۔ یہ سوال اکثر پوچھا کرتی تھی اور ہمیشہ اس نے فٹ سے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا جواب دیا تھا ہاں
۔وہ جوابا مسکرا دیتی تھی آج نہیں مسکرائی جھوٹ۔۔ وہ ایکدم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
سچ کہہ رہا ہوں کیا ہوا ؟ وہ بوکھلا کر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
تمہاری دادی ایک ہفتے سے اسپتال میں ہیں جہاں تم انکو دیکھنے جاتے ہو؟
ہاں۔ اس کا جواب اب بھی برملا تھا۔
جھوٹ تمہاری دادی کے انتقال کو چار برس گزر چکے ہیں۔ اس نے تاسف سے دیکھا تھا۔
وہ شرمندہ سا ہوکر کان کھجانے لگا میں بتاتا ہوں دراصل ، اسکا ذہن جلدی جلدی بہانہ سوچنے میں مصروف ہوا۔
پچھلے ایک ہفتے سے اسکو کچھ مصروفیت تھی وہ بالکل اسکو وقت نہیں دے پا رہا تھا سو اسکی ناراضگی سے بچنے کو اس نے جھوٹ بولا تھا۔ لیکن مصروفیت کی نوعیت بتانے پر اسکی مزید ناراضگی مول لینے کا اندیشہ تھا جبھی ۔۔
تم جھوٹے ہو میں تم سے مزید کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔ وہ غصے سے کہہ کر جانے لگی تھی۔
وہ بھاگ کر اسکے سامنے آیابات تو سنو میں مصروف تھا میں نے جھوٹ بولا لیکن اسکا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا میں بتاتا ہوں نا کیوں جھوٹ بولا دراصل ۔۔۔
مجھے نہیں جاننا تمہاری مصروفیت کی نوعیت۔اس نے سختی سے بات کاٹ دی۔میں بریک اپ کررہی ہوں اب مجھ سے کبھی رابطہ نہ کرنا۔۔
ایک جھوٹ بولنے پر تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو؟ اسے بار بار بریک اپ کی دھمکی پر غصہ آنے لگا تھا۔ جب جھگڑا ہوتا ان میں وہ ایسا ہی کہتی تھی۔
ہاں ایک جھوٹ بولنے پر۔ وہ تنفر سے بولی۔۔
میری کزن آئی ہوئی تھی گائوں سے اسکا علاج ہو رہا ہے یہاں اسپتال میں میں اور میرا کزن اسپتال کی باریاں لگا رہے تھے ۔میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ پچھلی دفعہ جب وہ آئی تھی یہاں اسپتال میں داخل ہونے تو تم نے اتنا مسلئہ بنایا تھا کہ بہن نہیں ہے وہ میری میں کیوں اسکےلیئے خوارہورہا ہوں جبھی اس دفعہ تمہیں بتانے کی بجائے جھوٹ بول دیا اور تم اب اس بات کو مسلئہ بنا رہی ہو۔وہ جھنجھلا گیا تھااسکے رویئے پر کچھ انداز میں سختی در ہی آئی تھی۔ اسکے چہرے پر معنی خیز سی مسکراہٹ در آئی۔
تم نے یہ نہیں پوچھا کہ مجھے کیسے پتہ چلا کہ تمہاری دادی بیمار نہیں ہیں ؟
کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کا انداز ہنوز تھا۔ وہ اسکے شکی جھگڑالو مزاج سے تنگ آچکا تھا۔ وہ چند ثانیئے اسے دیکھتی رہی۔ پھر گہری سانس لیکر بولی
قطع تعلق کر لیتے ہیں بس اب ہم۔
وجہ؟ اس نے تیوری چڑھائی
تم نے جھوٹ بولا مجھ سے میں تم پر اب اعتبار نہیں کرسکتی۔ اسکے الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسے اپنی بے عزتی سی لگی
۔کیا مطلب ہے اس بات کا؟ انسان ہوں بندہ کبھی جھوٹ کہہ ہی دیتا ہے۔جوابا وہ رخ موڑ کر تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسکی آواز اسکا پیچھا کر رہی تھی۔ وہ دکھی ہوا تھا اسکی بے اعتباری پر جبھی چلا رہا تھا تمہارے اسی انتہا پسند رویئے نے مجھے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا۔ سچ بتاتا تو بھی تم روٹھ جاتیں کہاں جا رہی ہو بات سنو ۔۔۔اسکے قدموں کی رفتار مزید تیز ہوئی۔ اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھ کروہ اسکے پیچھے بھاگ کے آیا تھا
تم نے بھی کبھی جھوٹ بولا ہوگا ؟ اور اسکی کیا ضمانت ہے کہ میرے سوا کوئی تمہاری زندگی میں آئے گا وہ جھوٹ نہیں بولے گا؟
وہ منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اس نے مزید رفتار بڑھائی ۔ اس نے کانوں پر نادیدہ پردے ڈال رکھے تھے کہ اسکی آواز جیسے سن ہی نہیں رہی تھی۔
سنو ۔۔ ارے؟۔۔۔ اچھا میں کال کروں گا رات کو اچھا اٹھا لینافوں ابھی غصے میں ہو بعد میں بات کرتے ہیں۔۔ اسے نہ رکتے نہ پلٹتے دیکھ کر اس نے بھی اسکا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔رک کر آواز لگائی۔ وہ پارک کا گیٹ پار کرگئی تھی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکو آج تک اس نے اتنا نظر انداز نہیں کیا تھا۔قریبی سنگی بنچ پر بیٹھتے وہ خود اپنا احتساب کررہا تھاایک جھوٹ بس ایک جھوٹ بولنے پر اس نے مجھے چھوڑ دیا؟ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ٹہل رہی تھی ۔ اسکی سہیلی اسکے بیڈ پر بیٹھی چائے پی رہی تھی۔جب اس نے دھیرے دھیرے دوپہر کی ساری بات اسے بتائی تھی۔
مجھے لگا تھا وہ مکر جائے گا پھر کوئی جھوٹ بول دے گا اس نے واقعی سچ بتا دیا کہ وہ اسپتال کے چکر لگا رہا تھا اپنی کزن کی وجہ سے؟
اس کی سہیلی روداد سن کے حیران تھی۔ وہ اسکی حیرانی پر۔مسکرادی۔
میں نے کہا تھا نا تم نے خوامخواہ شک کیا اس پر وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولتا۔۔
اچھا ؟ اسکی سہیلی استہزائیہ مسکرائی تو پھر ؟ قطع تعلق کیوں کرلیا؟ اس سے؟
اس نے مجھ سے بس ایک جھوٹ بولا تھا جسے میں برداشت نہیں کر پائی۔ اس نے گہری سانس لی۔
کیا جھوٹ بولا؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ پائی ۔
بتا تو دیا اس نے تمہیں اپنی ایک ہفتے کی مصروفیت۔ اسکی تو تم بھی گواہ ہو اسکی کزن کے برابر والے پرائیویٹ روم میں ہی تو تم بھی داخل تھیں۔ اسکو آتے جاتے دیکھا خود تم نے۔۔ پھر؟
اس نے مجھ سے کوئی اور جھوٹ بولا تھا۔ وہ تھک کر اسکےبرابر آبیٹھی۔ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر سہارا دیا تھا۔ اپنے برابر جگہ بنائی تھی۔ اسکے بیٹھتے ہی تکیہ اسکی جانب بڑھایا تھا تاکہ وہ نیم دراز ہو سکے۔ وہ اسکے اس درجہ خیال رکھنے پر مسکرا دی پھر شرارتئ انداز میں بولی
معمولی آپریشن تھا اپنڈکس کا اکثر لوگوں کا ہوتا ہے کوئی لا علاج بیماری نہیں ہو گئ ہے مجھے۔
پھر بھی آپریشن ہوا ہے تم عام چل پھر بھی رہی ہو تو تکلیف تمہاری چال سے واضح ہے۔ اسکی سہیلی محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر کہہ رہی تھی۔
اتنا واضح ہے میری تکلیف میری چال سے؟ وہ حیران نہیں تھی۔ پھر بھی پوچھ رہی تھی۔
ہاں تو؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ سکی اسےتو پتہ بھی نہیں چلا ۔۔اسکی آنکھوں میں کرب اتر آیا۔ اسکی سہیلی اسے ناسمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
تم پوچھ رہی تھیں نا کہ اس نے مجھ سے کیا جھوٹ بولا تھا؟ جس جھوٹ کو بنیاد بنا کر میں نے اس سے قطع تعلق کرلیا؟ جانتئ ہو اس نے مجھ سے کیا جھوٹ کہا تھا۔ ؟
وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھئ۔ اسکی سہیلی ہمہ تن گوش تھی
۔ وہ دھیرے سے بولی
اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا کہ اسے مجھ سے محبت ہے۔۔
از قلم : واعظہ زیدی
#urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza#hajoometanhai
kesa laga apko yeh afsana Rate us below

Discover My Exclusive SHEIN Picks! ✨😍Handpicked just for you! 🛍️Enter Z8V5Q in SHEIN search box to see my favorites! 🎁 60% OFF coupon for every new user –
written by
افسانہ: تھوڑا سا پیار ہوا ہے۔۔۔
مصنفہ: واعظہ زیدی
نجانے اس دن اسکے دل میں کیا سمائی کہ اپنا ماضی روزینہ کے سامنے کھول بیٹھا۔
راحیلہ ایسی تھی یوں کرتی تھی ۔۔۔اس کے ساتھ اچھا وقت گزرا مگر کس طرح اسکے گھر والوں بنا اس سے پوچھے اسکا رشتہ خاندان میں طے کردیاوہ کتنا روئی یہ خود کتنا رویا بے بسی کی انتہائیں خودکشی تک کا سوچا وغیرہ۔
روزینہ عام بیویوں کی طرح اس سے جھگڑنے کی بجائے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی رہی۔خاموشی سے۔۔ اتنا کہ اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا۔
اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا۔۔
شکر ہے تم میری بیوی سے ذیادہ میری دوست ہو۔ یہ باتیں میں آج تک کسی دوست سے بھی نہ کہہ
پایا۔کجا تم سے کہہ ڈالا۔
روزینہ نے اسی متانت سے سر ہلایا اپنے کام میں مگن ہوگئ۔
پھر تو جیسے اسکے اندر کی گھٹن کو روزن مل گیا۔ پہلا پیار کہاں بھولتا کسی کو۔ اور پہلا پیار کا ذکر کون نہ کرنا چاہے گا۔ پرانی یادیں باتیں قصے۔۔
۔کیا کچھ وہ دل میں دبائے تھاقسمت سے بیوی اچھی مل گئ جو اسکی نا صرف دل جمعی سے سنتی بلکہ کبھی کبھی لقمہ بھی دے ڈالتی
آپ ابھی بھی بہت یاد کرتے ہیں ناراحیلہ کو۔
ہاں۔ وہ صاف گوئی سے کہتا۔
مگر اب سوچتا ہوں وہ مل جاتی تو مجھے تم جیسی شریک حیات کہاں ملتی۔ سچ پوچھو تو مجھے ان تہجد کی نمازوں کا دعائوں کا شکوہ جاتا رہتا یے جو نا مقبول ہوئیں اور مجھے راحیلہ نہ مل سکی۔ مگر اللہ نے اجر کی صورت تم دے دیں مجھے۔۔
روزینہ شرارتی سے انداز میں ہنستی۔۔
یوں کہیں نا تھوڑا سا مجھ سے بھی پیار ہو گیا
ہے۔۔
اس دن بھی جب روزینہ خاموشی سے کپڑے تہہ کرتی اسکی سنے جا رہی تھی
روزینہ مجھے تم سے بھی پیار ہو چلا ہے۔۔
یکدم ہی اس نے بات بدل کر کہا تو وہ مسکرا دی
تھوڑا سا ؟؟؟؟اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔
وہ بھی ہنسا۔ پھر گنگنانے لگا۔۔
تھوڑا سا پیار ہوا ہے تھوڑا ہے باقی۔۔۔
ویسے روزینہ تھوڑا سا اور پیار ہو جائے نا مجھے تم سے میں راحیلہ کو بھول جائوں گا۔۔
وہ جزباتی سا ہو چلا۔۔
راحیلہ تو آپکا پہلا پیار ہے کیسے بھول سکتے ہیں معاذ آپ۔
وہ رخ پھیر گئ تہہ شدہ کپڑے اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔
وہ سانس روکے اسے چند لمحے دیکھتا ہی رہ گیا۔
اسکو لگا روزینہ کی آنکھوں میں نمی سی جھلکی ہے۔۔ اتنی صابر محبت کرنے والی بیوی سے تھوڑی سی سہی مگر اسے بھی تو محبت ہو گئ تھی۔ تڑپ ہی تو گیااٹھا اسکے قریب چلا آیا کندھوں پر ہاتھ رکھ کر جزب سے بولا
پہلا پیار کبھی بھول نہیں سکتا مگر روزینہ وعدہ ہے تم سے تمہارے سوا اب زندگی میں کوئی نہیں آئے گا۔۔
سچ ۔
روزینہ بھیگی پلکوں کو جھپکتے آس سے دیکھ رہی تھی۔
مچ۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلادیا۔۔
وہ دن آخری دن تھاجب میں نے راحیلہ کا نام لیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے روزینہ سے بھی بہت محبت ہوگئ ہے اتنی کہ میں بس اسکو چاہتا ہوں اتناکہ اسکے دل و دماغ میں بلا شرکت غیرے راج کرنا چاہتا ہوں۔۔
یہ تھی میری کہانی ۔۔ اب میری زندگی کا محور بس میری بیوی ہے اب راحیلہ کا ذکر ہمارے درمیان نہیں ہوتا۔۔ مجھے وہ یاد بھی نہیں آتی۔۔میرا پہلا پیار تو موسم سا تھا اچھا تھا گزر بھی گیا۔میری حقیقت میری بیوی ہے۔۔ میری روزینہ اور روزینہ کا میں۔ صرف میں یعنی ساعد مراد۔
Kesi lagi apko yeh kahani? rate us below
میں انسٹاکر ہوں۔ اسٹاکر وہ بھی بس انسٹا کی حد تک۔عجیب لگا نا سن کر۔ حقیقی زندگی سے کہیں بہتر ہے کسی کو بس انسٹا پر بھی دور دور سے تاک لیا جائے۔ دیکھا جائے جی بھر کر اسکے پل پل کی زندگی کی خبر رکھی جائے۔یہ دیکھا جائے کیسی گزر رہی کسی کی زندگی کیا کر رہا وہ آج کل کیا کھایا کہاں گیا سب کچھ تو سب لوگ انسٹا پر ڈال دیتے ہیں۔ اور میرے جیسے بےروزگاروں کا مشغلہ ۔کسی کے گھر جا کر دروازے پر سارا دن کھڑےرہ کر بھی اتنی واقفیت نہ ہو کسی کے حال زندگی سے جتنا آجکل انسٹا پر چپکے چپکے بنا لائک کمنٹ کیئے تکتے جانے سے باخبرہو جایا جائے۔ کوئی لڑکی پسند آجائے تو کبھی کبھار پیغام بھی بھیج لیتا ہوں مگر حرام ہے جو پچھلے سات سالوں میں کسی لڑکی نے بھی جواب دیا ہو۔ سب کے پیغام بنا پڑھے ہی رہ جاتے ہیں۔ انسٹا کو کم از کم اسپیم کا آپشن نہیں نکالنا چاہیئے تھا۔ کم از کم میرا بھلا ہوجایا کرتا مگر اس دل کا کیا کیجئے جو ہزاروں رنگ برنگی تتلیوں میں بس ایک ہی چہرہ کھوجتا ہے۔ روما۔ نام تو پورا رومانہ ہے اسکا مگر انسٹا پر آئی ڈی روما کے نام سے ہی ہے اسکی پبلک پروفائل۔ جس پہلی اور آخری لڑکی نے مجھے انسٹا پر سپیم کرنے کی بجائے جواب دیا تھا۔میں نے ہائی لکھ کربھیجا تھا سات سال قبل اور اس نےمجھے جوابا لکھا ہائے۔ میری آئی ڈی پر میری لاہور میں مینار پاکستان کو چٹکی میں تھامتےمسکراتے ہوئے کیمرے کی آنکھوں میں دیکھتے والی تصویر جو تھی پروفائل پر۔ نظر انداز نہیں کر پائی اور میں بھی تو کچے دھاگے سے بندھا اسکی پروفائل پر گیا تھا اسکی مہندی والے ہاتھوں سے کھڑکی بنا کر کاجل سے سجی مسکارے سے بوجھل پلکیں پٹپٹاتے ہوئے ایک رومانوی گانے پربنئ ٹک ٹاک والی ویڈیو سے۔ ایک لاکھ ویوز تھے مگر پوری پروفائل پر کہیں مکمل چہرے کی تصویر نہ تھی۔ کبھی ہاتھوں میں چہرہ چھپاتے کبھی پیرو میں کھسہ پھنساتے کبھی دھندلی کرکے چہرہ چھپاتے صندلی وجود پر پشواز کی لانبی فراک کا گھیرا بناتے ویڈیو کبھی کرتے پاجامے میں مڑ کر دیکھتی ۔ اس دن میں نے اسکی ستر کے قریب ویڈیوز دیکھی تھیں اس سے ذیادہ ہوتیں تو وہ بھی دیکھ لیتا مگر تھیں ہی بس ستر۔ دو تین گھنٹے بس ایک ایک ویڈیو کو دیکھتا پسند کرتا رہا ہر ویڈیو پر کمنٹ کیا تھا۔ اسے متاثر ہونا پڑا۔ شکر گزار ہوئئ اور میں؟ میں اسکے جواب دینے پر ہوائوں میں اڑتا پھرا تھا۔ تبھی سوچ لیا تھا اس کو ہی اپنے دل کی ملکہ بنائوں گا۔ شکل تک نہ دیکھی تھی۔ مگر جزبہ سچا تھا۔ روز ہی کچھ نہ کچھ اسے بتانے کیلئے ہوتا تھا میرے پاس۔ اسے پیغام بھیجتا وہ دیر سے سہی مگر پڑھ کر جواب ضرور دیتی تھی۔ ہم تقریبا ہم عمر ہی تھے بس کچھ فاصلے تھے ہمارے درمیان میں گجرانوالہ میں رہتا تھا اور وہ کراچی میں۔ مگر تب ہمیں لگتا تھا فاصلے دلوں کےہوتے ہیں بس اور دل تو ہمارے مل گئے تھے۔ آہستہ آہستہ اسے مجھ پر اعتبار آتا گیا۔ اس عید کے دن میں نے اس سے فرمائش داغ دی۔ مجھے اپنی تصویر بھیجو تیار ہو کر۔ مجھے لگا تھا وہ بہانے کرے گی۔ اور میں جتائوں گا اعتبار نہیں مجھ پر؟ مجھ پر شک؟ میں اجنبی ہوں تمہارے لیئے مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اس نے مجھے اپنی تصویر بھیج دی تھی۔میرے تصور سے ذیادہ خوبصورت لڑکی تھی۔رنگ تو شائد اسکا کم تھا مگر بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک بالکل مہوش حیات لگتی تھی یا شائد بس مجھے لگتی تھی۔مجھے مہوش حیات پسند تھی اور وہ اس جیسی تھی۔ زندگی مکمل تھی میری۔ میں نے اس رشتے کو آگے بڑھانا چاہا۔ گھر والوں سے ضدیں کیں کراچی جا کر پڑھوں گا رہوں گا اکیلے کمائوں گا ۔ تب انٹر کا امتحان دیا تھا ۔ گھر والے لاہور تو بھیج دیتے ضد سے مجبور ہو کر مگر کراچی ناممکن۔ہاں بہت ضد کرنے پر کراچی میں ایک رشتے کے ماموں کے پاس بھیج دیا چھٹیاں گزارنے۔ میرے تو دل کی کلی کھل گئ۔ جھٹ روما کو پیغام بھیجا ملنا مجھ سے۔ جوابا وہ بھی شائد اب مجھ سے ملنا چاہ رہی تھی۔ مان گئ۔ کراچی پہنچ کر مجھے لگتا تھا ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔ روما بھی اسی فضا میں سانس لیتی ہے جس میں میں؟ دو ایک دن تو کراچی کی فضا سے مانوس ہونے میں وقت لگایا پھر ماموں کے بیٹے جو میرا ہم عمر ہی تھا اپنے راز میں شریک کیا ۔ وہ بھی پرجوش تھا میرا ساتھ دینے کا وعدہ کرڈالا ہم اگلے دن ملاقات کا وقت طے کر کے ایک مشہور کافی ہائوس جا پہنچے۔ وہاں دو گھنٹے بیٹھے رہے کافی پی اور واپس آگئے۔ رومانہ سے بھی ملے۔ رومانہ بالکل تصویر جیسی ہی تھی۔ اپنی سہیلی کے ساتھ آئی تھی۔اعتماد میں مجھ سے ذیادہ ہی تھی شائد عمر میں بھی تھوڑی سی۔مجھ سے چٹاخ پٹاخ باتیں کرتی رہی میں پورے پندرہ دن کراچی رہا ہم تین مرتبہ ملے واپسی پر ڈھیر سارے دوبارہ ملنےاکٹھےجینے مرنے کے وعدے کرنے کے بعد میں واپس گجرانوالہ چلا آیا۔ آگے داخلہ لیا پڑھائی شروع کردی۔ دو تین سال گزر گئےٹک ٹاک پاکستان میں بین ہو گئ ۔انسٹاگرام سے اچانک رومانہ نے اپنی سب تصویریں ہٹا دیں کچھ وقت گزرا میرے ذہن سے اسکی تصویر مٹتی گئ۔ ہمارے رابطےجو ختم ہوگئے تھے۔رابطے واٹس ایپ کی وجہ سے تھے اور اسکا موبائل چوری ہوگیا تھا۔ یہ اس نے انسٹا پر اسٹوری لگائی تھی میں نے انسٹا پر اسے اپنا نمبر بھیجا تھا پر شائد اسپیم باکس میں پڑا رہ گیا آج تک ان ریڈ پڑا ہے۔پھر یوں ہوا کہ میری زندگی میں سے روما تو چلی گئ فائزہ زینت رابعہ آئیں یکے بعد دیگرے اور پھر میری طویل بے روزگاری کی وجہ سے ان سب سے تعلق ختم ہوئے انکی شادیاں ہو گئیں اور میں انسٹاکر کا انسٹاکر بن کے رہ گیا۔ کبھی کبھی ان تینوں کی انسٹا بھی جا کر دیکھتا ہوں شوہر بچوں کے ساتھ مگن خوش۔ مگر پروفائل پر ڈھیروں پرائیویسی۔میں بس ڈی پی سے انکی خوشگوار زندگی کا اندازہ لگا لیتا ہوں جس پر کبھی شوہر کے ساتھ کھڑی خوب پھیلے وجود پر چہرے کی جگہ ایموجی لگائے تصویر لگی ہوتی ہے تو ذیادہ تربچوں کی اپنے ہر نئے اضافے کے ساتھ ۔کبھئ میں سوچتا ہوں کوئی میری طرح فارغ بھی ہوگا جو گھنٹوں اپنی ایکسوں کی پروفائل تاڑتا ہے انسٹا پر جا کر۔پھر بھی ایک خلش ہے کبھی رومانہ مل جائے۔ اسکی پروفائل کیا آج بھی پبلک ہوگی اب بھی وہ اپنے چہرے کو چھپا کر ویڈیو بناتی ہوگی یا اس نے بھی اپنا آپا بھلا دیا ہوگا خوب موٹی ہوچکی ہوگی دو تین بچے سنبھالتی سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے پتی ورتا قسم کی عورت جس کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا وقت بھئ نہ ہوگا۔اور پھر سوچتا ہوں زندگی کے کسی موڑ پر ملی تو کیا خوش ہوگی کہ وقت پرمجھ جیسے سے رابطے ختم کیئے جو آج بھی ناکام انسان ہے۔ ڈگری مکمل کیئےدس سال ہونے کوآئےمگر آج بھی جوتیاں چٹخا رہا ہےنا عارضئ نوکریاں کرتا ہے اور آج کل تو بالکل ہی فارغ ہے انسٹاکر کہیں کا۔ایسے کسی وقت پر میں دل سے دعا کرتا ہوں خدا کرے کبھی میرا اسکا سامنا نہ ہو۔ روما نام کے پانچ سو کے قریب انسٹاگرام کھاتے ہیں۔ چار سو تیس دیکھ چکا ہوں وہ کہیں نہیں ہے۔اس نے رومانہ نام سے تو آئی ڈی نہیں بنا رکھی۔ چلیں اسکو بھی ڈھونڈ لیتےہیں۔ارے یہ کیا؟ کہتے ہیں نا طلب سچی ہو تو مراد مل ہی جاتی ہےرومانہ کی آئی ڈی مل گئ مجھے۔ مجھے یہ خیال پہلے کیوں نہ آیا۔ رومانہ ہمیشہ یو سے اپنا نام لکھتی تو ہمیشہ آر یو سے روما اور رومانہ ڈھونڈا آج او سے ڈھونڈا ہے۔ اور مل گئ۔ روماتو آج بھی پبلک پروفائل ہی بنائے ہے۔ مگر اب تو بے فکری سے اپنی مکمل تصویر لگا رہی ہے۔ کبھی دریا کنارے ہنستی کبھی جھولے پر بیٹھی ہے کبھی پہاڑوں میں انداز سے مسکراتی کھڑی۔ یہ نظارے تو پاکستان کے ہی نہیں۔ میں ذرا دیکھوں اسکی بائو؟ ارے ؟ یہ تو ناروے میں ہے وہیں سے پڑھائی کی اس نے دس سال ناروے میں گزرنے کی مبارکباد والے مراسلے میں منسلک۔ مطمئن خوش باش۔۔اوہ جبھی تو سب رابطے ختم ہو گئے۔ س نے بتایا تو تھا کہ اسکے پاپا ناروے میں ہوتے ہیں مگر وہ اسکو بلا بھی لیں گے یہ مجھے کیوں نہیں بتایا تھا۔مجھے اب غصہ آنے لگا ہے۔میں نے موبائل بیڈ پر پٹخ دیا ۔ اسٹالکر ہونا آسان نہیں ۔ کوئی بھی دھچکا لگ سکتا جیسا ابھی مجھے لگا۔ چند لمحے خود کو پرسکون کرنے کے طعد میں نے دوبارہ موبائل اٹھانا چاہا تو پتہ لگا زور سسے پٹخ دیا تھا بیڈ سے پھسل کر نیچے زمین پر جا گرا۔اف میں جھلاتے ہوئے جھک کر اسے اٹھانے لگا۔ موبائل انلاک کرکے اب میں نے غصے میں اسکی ایک ایک تصویر دیکھ ڈالنی ہے۔ نہیں ذیادہ تر۔ ہزاروں کی تعداد میں اس نے تصویریں ڈالی ہیں میں چاہ کر بھی پچھلے چھے سال کی تصاویر نہیں دیکھ سکتا اسکی لیکن یہ کیا۔میں اسکرال کرتے چونکا۔ اسکے چہرے پر پیشانی پر ایک شکن ہے۔ ہر تصویر میں ایک ننھی سی شکن اسکے چہرے پرواضح ہے۔۔ کیوں بھلا؟ اتنی خوش باش لڑکی کو کیسا غم لاحق ہے جو یوں چہرے پر آ ثبت ہوا۔بے تابی سےمیں نے اسکی ایک ایک تصویر کو دونوں انگلیوں سے دبا کر زوم کرکر کے دیکھا۔ وہ شکن اسکی پیشانی سے چہرے تک سفر کر رہی ہے۔میرا دل اپنی ایکس کے اس غم سے بوجھل ہوچلا تھا۔ آخر کیا ستم گزرا اس پر جو یہ تفکر کی ایک شکن اسکی ہر مسکراتی تصویر پر بھی حاوی ہے۔ میں نے اسکاانباکس کھول کر میسج لکھا رومانہ میں تمہارا عاصم کیسی ہو دل تو کر رہا تھا سیدھا سوال کروں کہ کیاہوا ہے تمہیں مگر یوں اچانک وہ کیا مجھے پہچانے گی کیا بتائے گی؟ میری آئی ڈی بھی تو۔ میں لکھتے لکھتے چونکا۔ کوئی خیال سرعت سے میرے دماغ میں آدھمکا۔میری یہ آئی ڈی تو پچھلے سال میں نے بنائی ہے پرانی آئی ڈیاں تو عرصہ ہوا پاسورڈ بھولنے پر کھولی ہی نہیں۔کس نام سے تھئ میری پہلی آئی ہاں چوہدری عاصم پاسورڈ۔۔ ریکور کرکے دیکھتے ہیں۔ میں نے اپنادوسرا اکائونٹ کھولناشروع کیا۔ میں ان دنوں رومانہ کے نام سے ہی پاسورڈ رکھتا تھا آر یو ایم اے۔ این اے۔۔غلط پاسورڈ۔اف مجھے خیال آیا۔ یہ آئی ڈی کھول نہ سکنے کی وجہ آر او سے پاسورڈ رکھنا تھئ ۔اتنی سی بات مجھے سمجھ نہ آئی۔میں نے جلدی سے آر او لکھا آئی ڈی کھل گئ۔ درجنوں ان گنت نوٹیفیکیشن تھے اور سو ڈیڑھ سو کے قریب میسج۔میں نے میسج کھولے۔ تو حیرت کا ایک اور جھٹکا منتظر تھا میرا۔ یہ ڈیڑھ سو کے ڈیڑھ سو پیغام رومانہ کی جانب سے ہی آئے تھے۔نمبر بھیجنے سے لیکر رابطہ نہ کرنے پر شکوے ناراضگی خود ہی مان جاتے ہوئےمنانے کی کوشش ناروے جانے کی اطلاع۔خدایا میں سر پکڑ کر رہ گیا۔ میں اپنی آئی ڈی کھول نہیں پایا اور دوسری آئی ڈی سے اسےمیسج پر میسج بھیجتا رہا ؟ میں نے جلدی سے اسکو میسج لکھ کر بھیجا۔پیاری روما کیسی ہو؟ میں نے آج میسج دیکھا۔ تقریبا سات سالوں کے بعد میں جانتا ہوں تم مجھ سے خفا ہوگی مجھ سے بات کرو میں سب ۔۔ میں دھڑا دھڑ میسج لکھ رہا تھا میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے میسج پڑھ لیئے تھے۔روما۔ میں نے بے تابی سے لکھا۔یکدم ہی اسکرین پر انتباہ آموجود ہوا میرے سب پیغام انریڈ جا رہے تھے میں نے اسکی پروفائل کھولی تو سب تصویریں غائب تھیں۔ اس نے جوابا مجھے بلاک کردیا؟ مجھے حیرت نہیں ہونی چاہیئے ہے نا؟ دس سال قبل کے ایکس کو اچانک آپ کے سات سال پرانے پیغامو ں کا جواب دینے کا خیال آجائے توآپ یقینا بلاک ہی تو کریں گے۔ میں نے آہ بھری۔مانا میں یہ آئی ڈی کھول نہیں پایا مگر نئئ آئی ڈی بناکر پیغام بھیجا تو تھا وہ اس پر بھی اپنا نمبر بھیج سکتی تھئ۔مجھے غصہ آنے لگا۔کونسی دوسری آئی ڈی تھی میری۔ آج تک کل ملا کر تین آئی ڈیز ہیں میری ایک جو میں آجکل استعمال کر رہا ہوں باقی۔۔ چلو اس پرانی والی کو کھولتے ہیں فائزہ کیوجہ سے یہ ڈی ایکٹویٹ کی تھی فائزہ کو بہت شک رہتے تھے مجھ پرمجھے ایڈ کرکے اتنی نظررکھی کہ میں نے ڈی اکٹویٹ کا بہانہ کرکے نئی بنا لی۔اب تو وہ بھی قصہ پارینہ ہوئئ۔ لو دوسری آئی ڈی کھل گئ۔ اس سے میں بلاک نہیں ہوں مگر آج بھی اس نے یہ پیغام نہیں کھول کر پڑھا حد ہے بندہ اپنے اسپیم میسجز ہی دیکھ لیتا ہے۔خوامخواہ میں بریک اپ ہوگیا ورنہ کیا خبرمیں بھی آج ناروے میں ہوتا۔اور اسکی پیشانی بے شکن ہوتی۔مجھے افسوس ہو رہا تھا اسکی پروفائل پر دوبارہ اسکی ایک ایک تصویر کھول کر ذوم کرکے میں دیکھنے لگا۔ اتنی محبت کرتی تھئ مجھ سے ورنہ یوں کئی مہینوں تک سینکڑوں میسج کیوں کرتی اور اب تک ماتھے پر تفکرکی لکیر۔ میں نےاسکی تصویر ذوم کی لکیر بڑھتی گئی پیشانی سے چہرےپھر گردن تک دراڑ سی۔۔ میں چونک گیاارے۔۔میں نے انسٹاگرام بند کردی وہ لکیر ابھی بھی موجود تھی۔اوہ میں چونکایہ تویہ لکیر تو میری اسکرین پر پڑی ہوئی ہے مجھے یاد آیاتھوڑی دیر پہلے جو موبائل زمین پر گرا اس سے شائد پروٹیکٹر ٹوٹ گیا تھا۔اور میں سمجھتا رہا کہ مجھے خود پر ہنسی آگئ۔ اس حقیقت کو کہ یہ لکیر میرے فون پر ہے جاننے کے بعد میں نے دوبارہ اب جب کھولی پروفائل تو اس بار ایک ایک خوش باش بے فکر لڑکی کا چہرہ سامنےتھا۔دھت تیرے کی۔ خود کو کوستے میں نے آئی ڈی لاگ آئوٹ کردی۔ اب میں اپنی سب سے نئی والی آئی ڈی سے اسٹالکنے لگا ہوں ۔کیا رومانہ کو؟ نہیں ایک لڑکی ہےگجرانوالہ کی ہی ہے رومانہ کی ہر تصویر
پر کمنٹ کرتی ہے شکل کی اچھی لگی ہے مجھے دیکھتا ہوں اسکی پروفائل میسج کروں گا کیا پتہ یہ جواب دے دے

