Category: Salam Korea

سیول کوریا کی سیر پر مبنی اردو ویب سیر ناول ہے جس میں نا صرف آپ سیول کوریا کی سیر کر سکیں گے بلکہ دونوں ممالک کی ثقافت کا تقابلی جائزہ دلچسپ پیرائے میں پڑھنے کو ملے گا
fb urdu kahanian, urdu kahanian , urdu novels, urdu web travel novels , urdu adab, salam korea, urduz

  • Salam Korea Episode 2

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    قسط 2


    میں اندھیروں کی باسی۔۔۔
    روشنی سے خوفزدہ ۔۔۔
    ہر صبح۔۔۔
    سے۔۔۔
    ڈر لگتا ہے۔۔۔
    آنکھ کھل نہ جائے۔۔۔
    مجھے اندھیرے ہی راس آتے ہیں۔۔۔۔
    میں آغاز صبح ۔۔۔
    پلکیں موند کر کرتی ہوں۔۔۔
    دن ڈھلے مگر۔۔۔
    اٹھنا پڑتا ہے۔۔۔
    یہ دنیا مجھ سے الٹ چلتی ہے۔۔۔
    میں بیزار سی
    دن گزرنے کا انتظار کرتی ہوں۔۔۔
    خوش قسمتی سے وقت گزر جاتا ہے۔۔۔
    پھر شام ہوتی ہے۔۔۔
    رات آتی ہے۔۔۔
    یہ دنیا جب سو جاتی ہے۔۔۔
    میں آزادی سے۔۔۔
    رات بھر ۔۔۔
    رات ہونے کا جشن مناتی ہوں۔۔۔
    اس نےگہری سانس بلکہ آہ بھر آنکھیں بند کر لی تھیں۔ اسکی آنکھوں کے کنارے اب خشک تھے مگر
    چندی کھنچئ ہوئی آنکھوں والی وہ لڑکی بنا آنسئوں کے روئی تھئ۔ تڑپ تڑپ کر مگر اندر سے۔ برف طوفان تکلیف چیخیں۔۔ فائرنگ۔ کی آواز دھائیں دھائئں۔۔ ایک ایک منظر اسکی آنکھوں میں یوں تازہ تھا جیسے ابھی یہ سب گزرا ہو۔ اس نے آنکھیں کھول کر اپنے سامنے اس دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے مجمعے کو دیکھا۔ سب ساکت خاموش بیٹھے اسکی بپتا سن رہے تھے۔ اسکا لہجہ رواں تھا اس نے جزب سے انگریزی میں یہ نظم پڑھی تھی۔ پورے ہال پر شائد ان الفاظ کا اثر ہوا تھا جو اسکے چپ ہو جانے کے باوجود چند لمحوں تک سب پر۔ خاموشی کی صورت طاری رہا تھا۔
    اسکے خاموش ہونے کے چند لمحوں کے بعد ڈھیر ساری تالیاں بجائی گئی تھیں۔۔

    ہوپ یہ سچ مچ بہت خوبصورت نظم تھی۔ بالکل آپ جیسی ۔۔ آپ نے خود لکھی ہے۔۔۔ میزبان نے تالیوں کا شور تھمنے پر اس سے سوال کیا تھا۔۔۔
    آنیا۔۔۔یہ مجھے پسند آئی تھی ایک فورم پر پڑھی گئ تھی میں نہیں جانتی کس نے لکھی کیوں لکھی۔ مگر مجھے لگتا ہے میرے لیئے میرے حالات پر لکھی گئ ہے۔۔ یہ نظم خوب صورت تو نہیں۔۔۔۔ یہ نظم تو بالکل میرے جیسی ہے بدصورت اور تلخ۔ ۔ ۔۔ ہوپ نے استہزائیہ انداز میں کہا تھا۔میزبان چپ سا رہ گیا۔
    جنوبی کوریائی خوبصورتی کے معیار کے مطابق واقعی ایک بد صورت ترین لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھی۔ بےتحاشہ کھنچی ہوئی آنکھوں ابھری ہوئی گالوں کی ہڈیوں کے بیچ ستواں ناک چھوٹا سا دہانہ۔ اس لڑکی کے نقش اتنے برے نہ تھے مگر فاقہ ذدہ شکل جو پیلی پھٹک چمڑی سے سجی تھی۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا ابھی جھڑ جھڑ کر گرنا شروع ہوجائے گی۔ اسکا دبلاپن اسکے طویل عرصے سے بھوکےرہنے یا کم خوراکی کا نتیجہ تھا۔ بے چارئ شمالی کوریائی محاجر۔
    اسے دیکھ کر ان دل میں تاسف افسوس ترس ہی ابھرتا تھا۔۔
    اسکی خاموشی پر ہوپ مسکرائی تھی۔ میزبان کو پروڈیوسر کی جانب سے کان میں سوال کیا گیا جو اس نے من و دن دہرایا۔
    ہوپ جنوبی کو ریا میں ہو تم نے بہت کچھ سہا ہے کوئی ایسی فرق جو تم جنوبی کوریا کے باشندوں کے رویے میں دیکھتی ہو شمالی کوریائی باشندہ ہونے کی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ کوئی الگ رویہ رکھتے ہوں۔۔۔
    جنوبی کوریائی مجھ پر ترس کھاتے ہیں جو اچھی بات ہے مگر مجھے یہ بات بہت دکھی بھی کر دیتی ہے۔۔۔ میں نے جو جتنا کھونا تھا شمالی کوریا سے جنوبی کوریا تک کے سفر میں کھو دیا میں جب سے سیول میں ہوں مجھے صرف ملا ہے آپ سب کا ساتھ پیار حوصلہ………
    مجھے اب ترس کی ضرورت نہیں۔۔۔ مجھے بس ہوپ کہلانا ہے ہوپ بننا ہے ہر شمالی کوریائی کیلیے۔۔۔۔
    شکریہ۔۔۔۔۔ وہ بہت حوصلے سے مسکرائی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھیبا( زبردست)۔۔۔۔۔
    اسٹیج پر الوداعیہ چل رہا تھا سب مہمان کھڑے اختتامی تقریر سن رہے تھے۔ دو درجن لوگ سب کے سب اونچے اونچے عہدوں پر فائز کوئی سفارت کار تھا کوئی سماجی کارکن کوئی شاعر۔ ان سب میں اس ایک سب سے فالتو لڑکی کے چپکے سے اسٹیج سے اتر جانے کو کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔ وہ آرام سے اتر کر اندر جانے لگئ جب پیچھے سے انی نے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    انی ۔ وہ چونک کے مسکرائی۔
    تھیبا ۔۔ شاباش۔
    گنگشن نے باقائدہ اسے گلے سے لگایا تھا۔
    اتنے بڑے مجمعے کے سامنے ایک لفظ بولا نہیں جاتا اور تم نے اتنے اعتماد سے تقریر کی سب کے پے در پے سوالوں کے مفصل جواب دیئے مجھے کہنے دو ہوپ تم بہت باصلاحیت لڑکی ہو۔
    گنگ شن انی کے اس محبت بھرے برتائو نے اسکے چہرے پر مضمحل سی مسکراہٹ بکھیر دی۔
    انی جو ایک بار تماشہ بن جائے اسکے دل سے سب خوف جاتا رہتا ہے میرا تو کئی بار تماشہ بن چکا ہے۔
    اسکے الفاظ سخت انداز بے رحم سا تھا۔
    میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ ماضی بھلا دو مگر یہ ضرور چاہتی ہوں کہ تم حال میں جینا شروع کردو۔
    وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی گنگشن کے چہرے پر ہمیشہ سی پرشفقت مسکراہٹ تھی جو اس جیسی لڑکی کے دل میں بھی امید جگا دیتی تھی۔ شائد اب کچھ اچھا ہو جائے۔ گنگشن اسکا ہاتھ تھام کر باتیں کرتی بیک اسٹیج کی طرف بڑھیں۔
    ابھی یہیں صحافیوں نے گھیر لینا ہے تم اب بس آرام کرو یہ کانفرنس ہی چار گھنٹے مسلسل بٹھا کر تمہیں Exausted کر گئ ہوگی۔
    ایسا ہی تھا مگر اسے اپنی تکلیفیں بیان کرنے کی عادت ہی نہ تھی۔
    ویسے تمہاری انگریزی اچھی ہے لہجہ رواں ہے ۔ یہ نظم بہت اچھی پڑھی تم نے۔ دیکھنا یہ کلپ وائرل ہو جائے گا۔ وہ سیدھا باہر کھلی فضا میں لے آئی تھیں۔
    وائرل۔ اس نے الجھن سے دیکھا۔
    اس طرح تو آہموجی مصیبت میں پڑ جائیں گی۔جانے انکے ساتھ کیا سلوک ہو۔۔۔
    وہ بری طرح گھبرا گئ
    انی اسی لیئے میں نے کہا تھا میں میڈیا کے سامنے نہیں آنا چاہتی اس طرح تو میرے خاندان والے مزید مصیبت میں پڑجائیں گے۔۔
    گنگشن نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔
    میرا مطلب تھا کہ تم۔۔۔ دراصل میں تعریف کر رہی تھی۔ تمہاری۔ مثال کے طور پر کہا ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ جملہ سوچ ہی گئیں۔
    وہ یونہی شآکی نگاہ سے دیکھتی رہی۔
    اب تم گھر جائو آرام کرو او ردعا کرو کہ جلداپنے خاندان سے مل سکو۔ ۔۔
    انہوں نے مزید کہا تو وہ بحث میں نہیں پڑی سر جھکا کےرہ گئ۔ ڈرائور انکی گاڑی انکے پاس گھما کے لیکر آیا۔۔ انہوں نے ہوپ کو بٹھایا تسلی دینے والے انداز میں کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ پھر جب تک گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئ وہیں کھڑی دیکھتی رہیں۔۔ ذہن میں اپنے منتظم اعلی کے جملے گونج رہے تھے۔
    یہ کلپ اگلے دو گھنٹے میں وائرل ہونا چاہیئے۔۔ہمیں اس کلپ سے بہت سے نئے اسپانسرز مل سکتے ہیں۔
    مگر سر اس طرح تو ہوپ کے خاندان کی زندگی اور مشکل ہوجائے گی۔ انکی بیٹئ دشمن ملک میں کانفرنس اٹینڈ کر رہی ہے اس بات کا کتنا ردعمل آسکتا ہےہم نہیں جانتے کہ شمالی کوریا میں ہیں وہ یا کہیں اور۔۔
    گنگشن چلبلا اٹھی تھیں۔
    نارتھ کوریا میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ نہیں پہنچ پاتا ہے اور ویسے بھی ہوپ یہاں ہے اس بات کو ہم چھپا نہیں سکتے۔ ہاں اس معاملے کا پرچار کرکے ہم غیر ملکی امداد لے سکتے ہیں جو ہوپ جیسے اور بچوں کو معاونت فراہم کرنے میں مددگار ہوگئ۔
    ان پچاس پچپن سال کے منتظم اعلی کے لب و لہجے میں تجربہ بول رہا تھا یقینا وہ ان معاملات کو ان سے بہتر جانتے تھے۔
    ہوپ آئی ہوپ کہ تمہاری ہوپ ختم ہونے سے قبل تمہیں جینا آجائے۔۔۔۔
    وہ گہری سانس لیکر رہ گئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام و علیکم سر۔
    وہ ہلکی سی دستک دے کر اسٹاف روم میں داخل ہوئی۔۔ درجن بھر چھوٹے کیبنز سے سجا بڑا سا اسٹاف روم اس نے متلاشی نظروں سے تلاشا ۔۔ سر کامران سامنے اپنے کیبن میں ہی بیٹھے تھے۔ اسے دیکھ کر خوشدلی سے مسکرائے
    آئو بیٹا بیٹھو۔
    وہ ڈھیر سارے کاغذات میں الجھے ہوئے تھے۔
    کیسی ہو۔ انہوں نے یونہی پوچھا تھا مگر وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دی۔
    ٹھیک ہوں سر۔ انہوں نے اسکے جواب پر بغور اسکی شکل دیکھی۔
    موسم کی مناسبت سے موٹا کھدر کا گلابی سوٹ پہنے تھی جسکا دوپٹہ شال کی طرح لے رکھا تھا۔ چہرے کی رنگت دوپٹے کا ہالہ بھی گلابئ نہ کر سکا تھا ۔ وہ بالکل سفید چہرہ لیئے سپاٹ اور بےزار سے تاثرات سجائے بیٹھی تھئ۔ ۔۔ انہوں نے بشاش سے انداز میں مخاطب کیا۔
    تمہیں پتہ ہے تمہاری نظم ہوپ بین القوامی مقابلے میں ناصرف انعام جیتی ہے بلکہ ایک انٹرنیشنل فورم پر پڑھی بھی گئ ہے۔۔۔۔
    انہیں لگا تھا وہ خوشی سے اچھل پڑے گی۔ مگر وہ چپ چاپ کرسی کے ہتھے پر انگلی پھیرتی رہی۔
    کیا ہوا پریشان ہو۔ خوش نہیں ہوئیں؟
    سر کامران اسکے ردعمل پر متفکر ہوئے

    نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ وہ ذرا سا ہنسی۔
    سر ترجمہ تو آپ نے کیا تھا میں نے تو اردو میں لکھی تھی۔ وہ بات بدل گئ
    تو کیا ہوا۔ سر کامران نے کان پر سے جیسے مکھی اڑائی۔
    اصل تھیم اور کانسیپکٹ تو تمہارا تھا۔سچی بات یہ کہ اردو کی بد قسمتی ہے کہ یہاں اسکی ترویج کیلئے خاطر خواہ کام نہیں کیئے جاتے اگر انڈیا میں بھی ہوتیں نا تم تو یہ نظم تمہیں مشہور کر دیتی ادبی حلقوں میں۔ وہ اسکا حوصلہ بڑھانا چاہ رہے تھے۔
    اسکو کم از کم کسی ڈایجسٹ وغیرہ میں بھیجو دیکھنا چھپ جائے گی۔
    جی۔ اس نے سر ہلادیا۔ بحث میں نہیں پڑی۔
    اچھا میں نے تم سے کچھ پوچھنے کیلئے بلایا تھا۔ تم نے اسکالر شپ کیلئے اپلائی نہیں کیا کیوں؟
    وہ بھئ بات بدل کر بولے
    سر امی مری نہیں جانے دیتیں یونیورسٹی ٹرپ پر کوریا کہاں جانے دیں گئ۔
    وہ بےزاری سے بولی
    مگر مرتضی ایسا نہیں ہے۔ وہ ٹوک گئے
    تم نے مرتضی سے بات کی؟
    اس نے سر جھکا لیا۔
    کرکے دیکھو ۔ مرتضی مان جائے گا بھیجنے کو۔ وہ بچیوں پر پابندیاں لگانے والا انسان نہیں ہے۔ خاص کر پڑھائی کے معاملے میں تو بالکل نہیں۔ پھر یہ بہت اچھا موقع ہے تمہیں اعزازی ڈگری مل جائے گی ۔ کوریا کا تعلیمی نظام ایشیا کا سب سے بہترین تعلیمی نظام ہے وہاں کے انٹرنیشنل اسکول کی ڈگری دنیا میں مانی جاتی ہے۔ اور تم تو پی ایچ ڈی تک کے خواب دیکھتی ہو آگے کینڈا جا کر بھئ مواقع۔۔۔
    وہ اسے سمجھا ریے تھے وہ باتیں جو اسکی عقل میں بھی آتی تھیں مگر۔۔
    سر بات کی تھی بابا سے۔ وہ کہہ رہے تھے اگر سجاد اجازت دیں گے تو ہی میں جا سکتی ہوں۔ اس نے صاف بتا دیا۔
    وہ اسکے باپ کے بچپن کے دوست تھے ان سے کچھ چھپا نہیں تھا۔ وہ بچپن سے ان کی گود میں بھی پلی بڑھی تھی۔
    ہاں۔ وہ ذرا تھمے۔
    کہہ تو ٹھیک رہا وہ بھی۔ تو تم نے سجاد سے بات کی؟
    انکے سوال پر اس نے نفی میں سر ہلادیا
    کرو۔ وہ فورا بولے۔ سمجھدار انسان ہے سجاد کبھی منع نہیں کرے گا۔ پھر تمہیں کینڈا میں آگے تعلیم حاصل کرنے میں بھی فائدہ ہی ہوگا اس اسکالر شپ کا۔ بلکہ اسکو ایکسچینج پروگرام کہنا ذیادہ مناسب ہوگا۔ انکے پانچ طلباء یہاں آکر تعلیم حاصل کریں گے اور جوابا ہمارے پانچ وہاں جا کر۔ ہم تو دس بلا رہے تھے مگر پاکستان کوئی آنا ہی نہیں چاہتا۔اور مزید مضحکہ خیز بات یہ کہ پاکستان سے کوریا بھی جانے والے کم ہی لوگوں نے اپلائی کیا۔ اب کوریا کی شرط ہے دو لڑکیاں بھیجی جائیں۔ ایک لڑکی نے درخواست دی ہے بس اس اسکالر شپ کیلئے وہ بھی تمہاری سہیلی سنتھیا نے۔ اپنی امی کو بتائو سنتھیا بھئ جا رہی ہے مان جائیں گی۔
    وہ انکی لمبی تقریر کے جواب میں بس سر ہلاتی رہ گئ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈورم کا دروازہ کھولتے ہی وہ بری طرح چونکی
    کم چاگیا۔
    جی ہائے سامنے بنکر بیڈ کے لوہے کے ریلنگ پر الٹی سی لٹکی تھی۔ جیسے آسمان کی طرف اکڑوں بیٹھی ہو۔
    ڈرا دیا مجھے۔ گوارا دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی گھور رہی تھی۔
    جی ہائے اطمینان سے لٹکی تھئ۔۔۔۔
    ڈرا تو تم نےمجھے دیا ہے۔ جی ہائے اچھل کر قلابازی کھاتی سیدھئ زمین پر اتری۔۔
    یہ۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے ڈورم کے ساتھ جڑی رائٹنگ ٹیبل سے ایک پلندہ اٹھاکر اسکی جانب بڑھایا۔
    یہ کیا۔
    اس نے نا سمجھتے ہوئے پلندہ کھولا اندر سے اسکی فل سائز پورٹریٹ نکلی۔
    اسکے چہرے پر بے ساختہ جوش و خوشی پھیلی تھی۔ بیڈ پر آرام سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دیکھنے لگی۔ یہ اسکی تصویر تھی مکمل فوٹو شاپ مگر یہ گوارا ہے اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا۔ اسکی چندی آنکھوں پر گرے پپوٹے اب نسبتا اٹھ چکے تھے اسکی پھینی ناک ستواں ہوچکی تھی۔ اسکے بھرے بھرے ہونٹ لبا لب بھر کر انجیلینا جولی سے مقابلے پر اترے تھے اسکا گول چہرہ لمبوترا ہو گیا تھا۔
    یہ سب کرنے والے۔ اس نے تصویر ایک طرف رکھ کر پلندے کے اندر سے مزید کاغذات نکالے۔۔
    کوریا کی بہترین پلاسٹک سرجری کرنے والی کلینک کی جانب سے اسے مکمل پرپوزل بنا کر دیا گیا تھا جس میں اسکی شکل میں مندرجہ بالا تبدیلیاں کرنے کی لاگت بتائی تھی۔
    اور لاگت تھی۔
    صرف فیس لفٹ کے 5,397,130.00 وون
    اس نے آنکھیں پھاڑیں۔
    4,795,800.00 وون آئی لڈ کے۔۔
    اسکو پے درپے صدمے لگ رہے تھے۔
    کین چھنا۔۔ گوارا۔۔ اتنے پیسے تو ہیں تمہارے پاس بس یہ بوٹوکس۔۔۔خود کلامی۔۔۔
    صرف ہونٹوں پر وہ قربانی دے سکتی تھی۔ فی الحال اپنے چہرے پر یہ ہی مناسب لگتے تھے اسے بس۔
    پورے پیکج کے تو وون مجھ سے گنے نہ جا سکے دوبارہ پیدا ہونا پڑے گا تمہیں اسکی فیس اور سیشن کے پیسے جمع کرنے کیلئے۔۔۔۔ جی ہائے تولیہ سے پسینہ پونچھتی اسکے برابر بیٹھتی طنز سے بولی۔
    مگر یار پیسہ وصول کام ہوگا۔ دیکھو میں کتنی حسین لگنے لگوں گئ اس کے بعد۔
    وہ بڑے شوق سے تصویر دکھانے لگی۔
    حسین ؟ ۔جی ہائے نے پورٹریٹ ہاتھ میں لیکر دیکھا۔
    بالکل نہیں۔ تم ابھی اس سب کچھ سے ذیادہ۔بہتر لگتی ہو۔اتنے پیسے لینے کے بعد انہوں نے تمہیں یہ کارٹون بنانا تو بہتر ہے تم یہ پیسے مجھے دے دو۔
    وہ کہہ کر اپنے بیڈ کی۔جانب بڑھ گئ۔
    تمہیں پیسے چاہیئیں۔ گوارا اسکے برعکس سنجیدہ سی ہو کر اٹھئ۔۔
    دے۔ اس نے بیڈ پر گر کر ترنگ میں کہا تھا مگر گوارا کو۔متوحش سا ہوکر اپنے سر پر کھڑے دیکھا تو اٹھ بیٹھی
    تمہیں تمہارے آہبوجی نے ٹیوشن فیس نہیں دی ؟
    ہائش۔۔
    اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔
    دے دی ہے۔ اپنے سو کالڈ فرایض نبھاتے ہیں وہ۔۔
    اپنے ہر فرض سے منہ پھیر کر وہ یہ ڈرامے بازی جاری رکھے ہیں۔
    اسکا لفظ لفظ ذہر میں بجھا تھا۔
    ویسے آہجوشی پیار تو کرتے ہیں تم سے۔
    گوارا نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔ جی ہائے نے ترچھی نگاہ ڈالی
    کیہہ سوری۔۔ ( بکواس)۔۔ تم ذیادہ اس شخص کی وکالت نہ کیا کرو۔ اسے میرا یا میری ماں کا ذرہ برابر بھی خیال ہوتا تو دوسری شادی رچا کے میری ماں کو طلاق دے کر عیش نہ کررہا ہوتا۔۔۔۔ آیا بڑا۔۔ ( گالی)
    ہائش۔ گوارا نے سخت ناپسندیدگی سے دیکھا۔۔۔
    کوئی کہہ سکتا ہے کہ اتنی نرم مزاج اونچی آواز میں بات نہ کرنے والی جی ہائے اپنے باپ کے بارے میں بات کرتے اتنا سخت لب و لہجہ لحظے بھر میں اپنا لیتی ہے۔
    وہ سوچ کے رہ گئ۔ اس وقت اسے ٹوکنے کا مطلب مزید بھڑکانا ہی تھا۔
    اچھا یہ دیکھو مجھے لگتا ہے انہوں نے گال تھوڑے ذیادہ دھنسا دیئے ہیں۔۔
    گوارا اپنا پورٹریٹ اٹھالائی۔ جی ہائے نے افسوس بھرے انداز میں اسے دیکھا۔
    دنیا کی تم پہلی لڑکی ہوگئ جو پیسے دے کر اپنی شکل بگڑوائے گئ۔
    آئو باہر چلیں۔کافی پی کر آتے ہیں۔ گنگم تک۔
    جی ہائے کو اپنا موڈ خود ہی ٹھیک کرنا آتا تھا۔
    گنگم کیوں؟
    گوارا حیران ہوئی
    اسٹریٹ شو بھئ دیکھ لیں گے کوئی۔ جی ہائے سرسری سے انداز میں کہتی الماری کی جانب بڑھئ۔
    چلو۔ گوارا نے کہا ضرور مگر مزید پھیل کر اسکے بیڈ پر بیٹھ گئ تھئ۔اپنا بیگ نکال کر پیسے دیکھنے کے بعد جب جی ہائے نے سر اٹھایا تو اسے ڈھیٹ بنے دیکھ کر آگے بڑھی اور غصے سے اسکے ہاتھ سے پورٹریٹ چھینا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ہے۔
    سخت بیزار ہوئی تھی اریزہ۔ کمبل میں منہ چھپائے وہ درحقیقت پوری دنیا سے منہ چھپائے تھئ۔ سنتھیا نے آکر اسکے منہ پر سے کمبل کھینچا تھا۔
    اٹھو بہت سو لیں تم چلوباہر چلیں۔ سنتھیا نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ
    کہاں باہر ؟
    کوریا۔۔ سنتھیا کھلکھلائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گنگم کی سڑکوں پر شام کا لطف اٹھاتی زندگی۔ وہ دونوں ونڈو شاپنگ کر رہی تھیں۔ ہر اسٹال پر رک کر قیمتیں پوچھتے چیزیں اٹھاتے رکھتے کافی ختم کر رہی تھیں۔ سیول میں بہار کی آمد تھئ۔ خنکی کم ہو چکی تھی۔ قہوے ، تلے ہوئے پکوان کی خوشبو۔
    تھوڑا سا آگے جا کے اسٹریٹ شو ہو رہا تھا۔ غیر معروف نئے اسٹریٹ سنگرز اپنے موسیقی کے آلات لگائے کھڑے تھے۔ایک نوجوان جیکٹ پہنے کان میں بالی ڈالے اپنے لمبے پف والے سر کو جھٹکتا ریپ سانگ گا رہا تھا۔ اسکا ساتھی ایک جانب گٹار بجاتا اسے محظوظ انداز میں بک اپ کر رہا تھا۔ ایک جملہ یہ لڑکا بولتا دوسرا لڑکا خود کو کسی اسٹیج پر ہی سمجھ رہا تھا۔ گنگناتے ہوئے بہت اچھے اسٹیپس بھی اٹھا رہا تھا مگر اس خیال کے ساتھ کہ سانس نہ پھول جائے۔
    یا آئی ایم الائیو۔
    وکس کا موریم اسکول کا نیا ٹائٹل سانگ تھا یہ۔ جو گانا اس بینڈ کے آدھے درجن گلوکاروں نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے گایا تھا یہ اکیلا کھڑا سب کے انداز کی بھر پور نقل کر رہا تھا۔
    اس نے بند مکمل کرکے جھک کر سلام کیا تو سب نے بھرپور تالیاں بجا کر داد دی۔
    تھیبا۔ اعلی۔
    جی ہائے نے بے حد خوش ہو کر داد دی تھی اسے۔
    ایک جانب خوبصورت سا باکس نذرانے کیلیئے رکھا ہوا تھا جس میں تمام شائقین خوشی خوشی پیسے ڈال رہے تھے۔ ریز گاری یا بڑے نوٹ۔ اپنی خوشی یا مرضی سے۔ جتنا جو چاہے۔ کوئی قیمت نہیں۔نہ بھی دو تو بھی چلے گا۔ یہ بھیک نہیں مانگ رہے۔ اپنے ہنر اپنی صلاحیت کا خراج وصول کر رہے ہیں۔ وصولی انکا حق کتنا ملے گا دینے والے کا ظرف۔
    ہائئ اسکولر لگ رہے۔۔
    گوارا نے ان چار پانچ لڑکوں کو دیکھتے تبصرہ کیا جو اب اپنے ساز سمیٹ رہے تھے۔ سب کے چہروں پر نوعمری تھی۔
    مجھے ہائی اسکولرز پر ضرورت سے ذیادہ ترس آتا ہے۔ اور یہ لڑکا باصلاحیت بھئ ہے۔ دینا بنتا ہے۔ گوارا نے فورا اپنا والٹ نکال کر نسبتا بڑا نوٹ نکال کر آگے بڑھ کر انکے شیشے کے باکس میں ڈالا۔ گوارا جیسے ہی ہٹی جی ہائے نے اپنے بیگ سے خاکی لفافہ نکالا اور اس ڈبے کی درز میں گھسیڑنے لگی۔ لفافہ بھاری تھا اس چھوٹی سے درز سے پار نہ ہوسکا۔ اس نے زور لگایا۔ وہ لڑکے انکی۔جانب متوجہ ہوئے
    کیا کر رہی ہو ؟ گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔
    جی ہائے نے باکس پر زور لگانا جاری رکھا۔
    نونا کیا کر رہی ہیں یہ ٹوٹ جائے گا۔
    باکس نازک سا تھا وہ لڑکے بھاگ کے انکے پاس آئے
    اس میں صرف کیش یا کوائنز ڈالیں۔
    ایک نے ٹوکا جوابا جی ہائے نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔ اور وہ لفافہ نکال کر انکی جانب بڑھا دیا۔
    تھوڑے سے تو بچا لو۔
    گوارا منمنائی۔۔
    یہ کیا ہے۔ اس نوعمر لڑکے نے حیرت سے لفافہ تھاما۔ ذرا سا کھول کے دیکھا تو گنگ سا رہ گیا۔ بھاری موٹی بڑے نوٹوں کی گڈی۔
    اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اتنی بڑی رقم تھما رہی ہے۔
    نونا۔ وہ بے یقینی سے دیکھ رہے تھے
    تم سب کی کارکردگی بہترین تھی مجھے بے حد پسند آئی۔ یہ چھوٹا سا تحفہ ہے۔ تم لوگ ہمت نہ ہارنا ایکدن ضرور کامیاب ہوگے فائٹنگ۔
    جی ہائے نے پرخلوص سے انداز میں ان بچوں کو کہا۔ گوارا ہکا بکا سی کھڑی تھی البتہ وہ بچے بے حد خوش ہوئے
    گھمسامنیدہ۔
    تینوں چاروں نے آدھا جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔ انکے معصوم چہرے دمک اٹھے تھے۔جانے کتنے دن کی کمائی انکو یوں اچانک تحفتا مل گئ تھئ۔ نونا یقینا بڑے دل والی تھی۔
    انکے خوشی سے دمکتے چہرے دیکھ کر جی ہائے کو دلی سکون ملا تھا۔
    کھاجا۔ ( چلو) وہ جیسے ہلکی پھلکی سی ہو کر گوارا سے بولی
    آہش۔ گوارا نے مڑ کر جشن مناتے ان لڑکوں کو دیکھا پھر سر پیٹنے والے انداز میں بولی
    پچھلی بار وہ بے گھر آہجومہ اس سے پچھلی دفعہ یتیم خانہ اس سے پچھلی دفعہ۔۔
    وہ جیسے ایک ایک بار گنوانے لگی تھی۔ جی ہائے نے گھورا
    ہاں میں ہر دفعہ ہی یہ رقم ایسے ہی کسی کو دیتی ہوں۔پھر؟

    تمہیں اگر یہ پیسے استعمال نہیں کرنے ہوتے تو آہجوشی کو منع کیوں نہیں کر دیتیں یہ پیسے بھیجنے سے ؟
    گوارا کی بات میں وزن تھا۔جی ہائے نے گہری سانس لی۔
    چہ۔ کیوں منع کروں۔؟ یہ میرا حق ہے جو وہ مجھے بھیجتے ہیں یہ پیسے میں استعمال نہیں کرنا چاہتی جبھی انکو آگے کسی اور کو دے دیتئ ہوں۔ کم ازکم یہ پیسے انکی دوسری بیوی بیٹییوں یا اس سوکالڈ انکے مقصد پر خرچ نہیں ہوتے۔ وہ پیسے کسی نئے آہجوشی کو اپنی طرح بنانے پر خرچ نہیں کر پاتے۔ کم از کم ان پیسوں سے کوئی نئی جی ہائے اپنے باپ کو کھونے نہیں والی۔ کم ازکم
    وہ بولتے بولتے فرسٹریٹ سی ہو کر چلااٹھئ ۔۔
    گنگم کی اس گنجان سڑک پر سینکڑوں لوگ آ جا رہے تھے۔
    ترقی یافتہ مصروف زندگی گزارنے والے اس شہر کے باسیوں نے لحظہ بھر کوبھی رک کر اس چلا اٹھنے والی لڑکی کو دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔ ہوگی کوئی وجہ جو چیخی ہمیں کیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دائیں بائیں سامنے سب گھروں کی چھتوں پر اندھیرا تھا
    اسکے کمرے سے ملحقہ اس کھلے سے ٹیرس کی گیلری سے جھانکتے باتیں کرنا ان دونوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
    باہر سے مراد سنتھیا کا گھر سے باہر بھی مراد نہیں تھا۔ ٹیرس تو گھر کا ہی حصہ۔ہوتا ہے نا۔
    ریلنگ پر بازو ٹکائے کھڑے وہ سامنے والے گھر کی چھت سے جھانکتئ اس سفید بلی کو گھورتی رہی۔ جو اندھیرے میں بھی خوب چمک رہی تھی۔
    کاش میں بلی ہوتی۔
    اس نے حسرت سے دیکھا جو ایک۔جست لگا کر اس گھر پھر دوسرے گھر اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل۔
    مجھے تمہارے گھر آکر کبھی یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ میں مہمان کے طورپر کسی کے گھر آئی ہوں۔
    سنتھیا بڑبڑاتے ہوئے ٹرے تھامے ٹیرس میں آئی تھئ۔
    اریزہ نے مڑ کر دیکھا۔ اس نے ٹرے لا کر ٹیرس میں رکھی لوہے کی میز کرسی پر رکھی۔
    کینڈی بسکٹس کا رول اور دو کپ کافی۔۔۔
    کبھئ تو خاطر مدارت کر دیا کرو میری۔
    سنتھیا مظلوم سی شکل بنا کر کرسی پر بیٹھی پھر فورا ہی کھڑی بھی ہوگئ۔ اریزہ نے کمرے سے آگے شیڈ میں لگی دیوار گیر الماری سے سیٹس اور کشن نکال کر لا کر رکھے۔
    کین کا صوفہ رکھوانا چاہیئے تھا یہ لوہے کا پنجر کیوں بنوا لیا۔
    سنتھیا نے اسکے ہاتھ سے سیٹ اور کشن چھینا
    محترمہ ہم پنڈی میں رہتے ہیں بارشیں ہوتی ہیں یہاں۔کین کا صوفہ رکھواتی تو ہر دوسرے دن مجھے اندر کرنا پڑتا اسے۔
    اریزہ اپنی نشست ٹھیک کرتے ہوئے جتا کر بولی۔۔
    محترمہ مت کہا کرو مجھے۔ سنتھئا نے منہ بنایا۔ کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا۔۔۔
    اریزہ نے بھی اسی وقت گھونٹ بھرا تھا
    سنتھیا کے چہرے پر لطف اٹھانے والے تاثرات آئے تھے اور اریزہ نے برا سا منہ بنایا
    دودھ ہی گرم کرکے لے آتیں ۔کافی ڈالنے کی زحمت ہی کی۔
    اس کو کڑک چائے کڑک ہی کافی پسند تھی۔ جبکہ سنتھیا الٹ تھی۔ کینڈی بسکٹ ڈبوتے چسکے لےرہی تھی۔ ذیادہ میٹھا اسکی کمزوری تھئ۔
    مزا آگیا۔ آج تو غلطئ سے آدھا چمچ کافی۔ڈل۔گئ تھئ مجھے لگا تھا کڑوی ہوجائے گی۔مگر شکر ہے دودھ ذیادہ ڈالنے سے ذائقہ۔ٹھیک ہو گیا۔
    سویٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس سنتھیا آلتی پالتی مار کر صوفہ نما اس لوہے کے پنجر پر سکون سے بیٹھی بسکٹ ڈبو ڈبو کر اب اسے جان بوجھ کے چڑا رہی۔تھئ۔۔ اریزہ نے گرم شال اپنے گرد لپیٹئ۔سویٹ شرٹ پینٹ میں وہ بھی ملبوس تھی مگر اسے ٹھنڈ ذیادہ لگتی تھئ۔
    تمہیں کچھ ذیادہ ہی سردی لگتی ہے۔ کینڈا میں کیا کرو گی وہاں تو سنا ہے برف پڑتی ہے ۔۔
    سنتھیا نے یونہی کہا تھا اریزہ کا منہ سوکھتا گیا۔۔
    ایک تو۔
    وہ بسکٹ منہ میں ڈالتی ہاتھ جھاڑتی سیدھی ہوئی
    مجھے یہ۔بتائو کہ جب سجاد اتنا برا لگتا ہے تو انکار کیوں نہیں کیا اس رشتے سے؟ کتنا کہا تھا انکل سے میں بات کرتی ہوں۔
    یہ بات نہیں ہے۔ اس نے بےزاری سے ٹوکا۔
    اور ویسے بابا اور اماں دونوں کو سجاد پسند آگئے تھے۔ بابا سے بات کرنے کا کیا فائدہ تھا۔میرا کونسا کوئی افئیر چل رہا تھا جس کے لیئے میں انکو مناتی ۔
    پھر ؟ سنتھیا کا سوال وہیں تھا۔
    پھر کیوں اتنا سا منہ نکلاہواہے تمہارا۔
    وہ اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
    آج کامران سر بھئ کہہ رہے تھے مجھے اسکالر شپ۔کیلئے اپلائئ کرنا چاہیئے۔یہ بھی کہ وہ باباسے خود بات کریں گے وغیرہ۔ تم تو جانتئ ہو مجھے نیوز اینکر بننا ہے مجھے خوب پڑھنا ہے قابل بننا ہے بلاگنگ کرنی ہے میں چاہتی ہوں اریزہ زہرا جب کچھے لکھے تو ایک دنیا پڑھے، کہنے لگے تو ایک دنیا اسکی سنے۔ مگر میری تو اس سب سے پہلے ہی شادی ہونے لگی ہے۔۔
    وہ حقیقتا آنکھوں میں آنسو بھرے کہہ رہی تھی۔ سنتھیا کے دل پر بوجھ سا اگرا۔
    جو اریزہ کو چاہیئے تھا اسے پلیٹ میں رکھ کر ملا تھا۔۔
    اسے اسکالر شپ کا فارم بھرتے اپنی بے زاری یاد آئی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
    لائبریری میں میز پر درجنوں کاغذوں کے بیچ ایڈون اسکے کان کھا رہا تھا یہاں یہ لکھو وہاں وہ ۔ اس نے پین پٹخ دیا۔
    کیا فائدہ ہے کوریا جانے کا۔ یہی ڈگری یہی سب ہم یہاں بھی پڑھ رہے ہیں ۔ اور تم تو چلو سمجھ آتا ہے صحافی بننا ہے تمہیں میں یہ ڈگری لے ہی بس تمہاری وجہ سے رہی ہوں نا مجھے کوئی کیریئر بنانا نہ مجھے آگے پڑھنا بس گریجوایشن ہوجائے کافی ہے میرے لیئے۔
    میرے لیئے کافی نہیں۔ ایڈون خاطر میں نہ لایا۔
    میں نے ہر قیمت پر جانا ہے اور میں تمہیں بھی ساتھ لیکر جائوں گا۔۔ کیاکروں گا یار میں وہاں اکیلے۔
    اس نے معصوم سی شکل بنا کر اکسانا چاہا۔
    مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے۔ تم کوریا جائو ہم روز باتیں کیا کریں گے بلکہ اسکائپ پر وییڈیو چیٹ بھی کریں گے۔
    اس پر اثرہوا تو تھا مگر بے نیازی سے بولی۔
    تمہیں کیا پریشانی ہے میں ہوں نا۔ ہم دونوں اکٹھے وہاں پڑھائی کریں گے۔۔
    ایڈون چڑا۔
    یہی تو۔ وہاں صرف تم ہوگے یہاں میری فیملی بہن بھائی سہیلی۔ میں ان سب کے بغیر کیسے رہوں گی۔
    اس نےمسمسی سی شکل بنائئ
    سر کامران اریزہ کے پاپا کو منا لیں گے انہوں نے کہا تھا۔ تمہاری سہیلی جائے گئ ہمارے ساتھ۔۔۔ اور جو یہ بہانے کر رہی ہو۔؟ میں کچھ نہیں ؟ وہ۔خفا ہوا۔
    بعد میں بھئ تو سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس آنا ہوگا۔۔ شادی نہیں کروگی کیا مجھ سے۔
    بولتے بولتے اسکا لہجہ گمبھیر ہوتا گیا۔ گہری سیاہ آنکھیں اس پر پرشوق سی نظریں جما کر گھورتا ایڈون۔ اسکی سانولی رنگت میں بلا کی ملاحت تھی ہمیشہ اسکا مددگار رہنے والا سادہ پرخلوص ساتھی۔ جس کے پیار پر اسکو کوئی شبہ نہ تھا جبھی اسکی پر حدت نگاہوں نے اسکا دل پگھلانا شروع کردیا تھا۔ اسکے سانولے گالوں پر سرخی سی لہرائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیلو؟ کہاں کھو گئیں میڈم؟
    اسے سوچوں میں گم دیکھ کر اریزہ نے چٹکی۔بجائی۔
    وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔ پھر بولی
    یار میں بھی تو جا رہی ہوں تم آنٹی کو بتائو نا۔ انکو یہی مسلئہ نا اتنی دور تمہیں اکیلے نہیں بھیجنا ؟
    ہاں کینڈا تو جیسے اشفاق صاحب کے گھر کا نام ہے۔
    اس نے پڑوسی انکل کا نام۔لیا۔۔
    مسلئہ دور بھیجنے کا ہے ہی نہیں۔ میں ہوں امی کی واحد اکلوتی ذمہ داری جسے سر سے اتار دینا چاہتی ہیں وہ بس اور کچھ نہیں۔
    اریزہ نے بدمزہ کافی کا بڑا سا گھونٹ بھر کر مزید کڑوا سا منہ۔بنایا۔
    تم سجاد بھائئ سے بات کرو پڑھے لکھے ہیں انکو اپنے ایمز ایمبیشنز بتائو کینڈا میں رہتے ہیں اتنے دقیانوسی تو نہ ہوںگے۔ مجھے یقین ہے مان جائیں گے۔
    سنتھیا کے انداز میں جوش در آیا۔ اریزہ نے منہ بنایا
    ایک تو سب کو یقین ہے کہ سجاد مان جائیں گے۔۔۔۔
    بات تو کرکے دیکھو۔
    سنتھیا نے اکسایا۔
    اس نے لمحہ بھر سوچا پھر سر ہلادیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آرام سے لیٹے ایل ای ڈی میں نیٹ فلیکس کی کوئی سیریز دیکھ رہے تھے۔ جب انکا فون بجا۔
    نمبر انجان تھا۔
    ہیلو۔ انہوں نے ریموٹ سے والیم کم کیا۔۔
    ہیلو سجاد میں اریزہ بات کر رہی ہوں۔۔
    وہ تھوڑا سا جھجک۔کر بولی۔۔
    ہاں اریزہ کیسی ہو۔
    وہ نو عمر لڑکے تو تھے نہیں۔ اگلے ہفتے نکاح تھا ان دونوں کا اگر وہ بات کرنا چاہ۔رہی تھی تو یقینا یہ۔کوئی اچنبھے کی۔بات نہیں تھی۔
    میں ٹھیک ہوں آپ۔۔۔۔۔
    اسکے الفاظ منہ میں اٹکنے لگے۔ دل زو رزور سے دھڑکنے لگا۔
    میں بھئ ٹھیک ہوں۔ وہ نرم سے انداز میں بولے۔ اسے بولنے کا۔موقع دینا چاہتے تھے۔
    دراصل۔۔ اس نے تھوک نگلا۔۔ سنتھیا جو اسے گھور کر دیکھ رہی تھی اشارے سے اسے بولنے کا کہنے لگی۔۔
    وہ ایک بات پوچھنی تھئ آپ سے۔۔
    اس نے کہہ دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں بیڈ کرائون سے ٹیک لگایے منہ لٹکائے بیٹھی تھیں۔
    اگلے ہفتے نکاح ہے کہہ تو صحیح رہے ہیں وہ۔
    سنتھیا نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ اسکی۔جانب سے سخت ردعمل کا خطرہ تھا مگر بچت رہی ۔ وہ فون کے بعد سے یونہی چپ تھی۔ سنتھیا سے رہا نہ گیا۔
    آگے ہو کر اسکے مقابل آن بیٹھی
    دیکھو سجاد مجھے اچھے لگے۔ انہوں نے تم سے سبھائو سے بات کی ہے۔ پوری بات سنی ہے تمہاری۔ وہ صحیح کہہ رہے ہیں کہ تمہاری ڈگری بیچ میں رہ ہی جانی ہے چاہے تم یہاں پڑھو یا کوریا جائو۔ بہتر یہی ہوگا کہ تم اپنے پیپرز بنوانے تک انتظار کرو کینڈا جا کر ایک سے ایک بہترین یونیورسٹی میں داخلے کا موقع ہوگا تمہارے پاس۔ وہاں جا کر داخلہ لینا۔ کونسا کوریا کہاں کا۔کوریا۔ سب پانی بھرتے ہیں کینڈا کے آگے۔
    سنتھیا اسے بہلا رہی تھئ۔ وہ مسکرادی۔
    ایک بات کہوں۔۔
    اس نے سنتھیا پر نظر جماتے ڈرامائی وقفہ لیا۔
    سجاد مجھے بھی آج اچھے لگے۔
    وہ ہنس دی۔
    رئیلی۔ سنتھیا۔خوش ہو گئ۔
    ہاں یار۔ مجھے تو ایروگنٹ سے لگتے تھے اوپرسے منگنی والے دن تو صحیح کھڑوس بنے ہوئے تھے مگر آج۔۔آج احساس ہوا کہ وہ ۔۔۔
    وہ بولتے بولتے شائد شرما گئ تھئ۔
    آہاں۔ ایسا کیا احساس ہوا میری بنو۔۔
    سنتھیا شرارت سے کہتی اسے گدگدانے لگی۔
    نہ کرو۔۔ سنتھیا کی بچی۔
    وہ ہنستے ہنستے بے حال۔ہو رہی تھی۔
    چپکے چپکے اور کیا باتیں کر ڈالیں ذرا ہمیں بھی بتائو۔۔۔۔
    سنتھیا مائل بہ شرارت ہوئی۔۔
    ارے خوامخواہ۔۔ اریزہ مصنوعی خفگئ سے کہہ رہی تھی
    کچھ تو کہا ہے وہ جب آہستہ آہستہ بولنے لگی تھیں تم۔۔ سنتھیا کہہ رہی تھی۔۔
    انکی ایک ایک۔بات کان لگا کر سننے والی سنتھیا کو رومانس تو نظر نہیں آیا تھا مگر انکا نرم لب و لہجہ اگر اسکی سہیلی کا دل موہ گیا تھا تو بس اتنا ہی کافی تھا۔۔ ہے نا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آئو گنگشنا۔۔ بیٹھو۔
    آہبوجی۔سگار منہ میں دبائے اپنی میز پر فائلوں میں الجھے بیٹھے تھے جب وہ ہلکی سی دستک دے کر اندرچلی آئیں۔
    آہبوجی نے ذرا کی ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھا تھا۔
    ابھی بھئ فائل پر۔نگاہ گاڑے تھے۔ گنگشن جز بز سی ہونے لگیں۔
    تم نے آگے کا کیا سوچا ہے؟
    وہ فائل سے نگاہ اٹھا نہیں رہے تھے۔
    وہ اس سوال کا مقصد سمجھ نہیں پائی تھیں۔۔ سو جواب دینا مناسب نہ لگا۔ آہبوجی نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر فائل۔بند کرکے میز پر رکھے شراب کے چھوٹے سے گلاس کو اٹھا کر گھونٹ بھرتے انکو پرسوچ نظروں سے دیکھتے رہے۔

    اپنی حماقت سے تم طلاق تو لے چکی ہو اب دوسری شادی کرنے کا کیا سوچا۔۔
    انکے جملے تھے سفاک آری۔ انہوں نے شاکی نگاہ سے اپنے باپ کو دیکھا جس کی زبان کے زخم انکو اپنی روح میں محسوس ہوتے تھے۔
    میں نے آپکو صاف بتایا ہے کہ وہ شخص۔۔۔
    انہوں نے تڑپ کر ہزار بار کی اپنی دی گئ صفائی دوبارہ دینا چاہی۔
    خیر۔۔
    انہوں نے ہنکارہ۔ بھرا۔
    اپنے لیئے کوئی فیصلہ کرلو۔ اور ہایون کو منائو کہ امریکہ جائے اس میڈیا ویڈیا میں کچھ نہیں رکھا۔مجھے اپنی اس بزنس ایمپائر کو چلانے کیلئے ایک ٹرینڈ ذہن درکار ہے۔
    میں اسکو۔۔۔
    ہایون ہی کیوں؟
    ۔ گنگشن تیز ہو کر بولیں۔
    میں بھی آپکی اولاد ہوں۔ آپکے حسب خواہش بزنس ہی پڑھا ہے میں نے۔ مجھے آپ کیوں نہیں۔۔۔
    کیا بکواس لے بیٹھی ہو۔ انہوں نے بےزاری سے بات کاٹی
    تم جیسی جزباتی لڑکی بزنس کے معاملات بھی ذہن سے ذیادہ دل سے حل کرتی۔ ایک شادی تک کا معاملہ تم سے نبھایا نہ جا سکا۔پورا کاروبار۔ انہوں نے سر جھٹکا۔
    گنگشن اٹھ کھڑی ہوئیں
    آہبوجی میں ہزار دفعہ آپکو بتا چکی ہوں کہ مجھے شادی کا طعنہ مت دیا کریں۔ کیایہی سب کہنے کیلئے بلایا تھا آپ نے مجھے؟
    ظاہر ہے نہیں۔ اسکے تنتنے کو وہ کبھی خاطر میں نہیں لائے تھے۔
    ہایون تمہاری بات مانتا ہےاسے منائو۔ مجھے اگلے چھے مہینے میں وہ ہر قیمت پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرتا چاہیئے۔
    ہایون بزنس نہیں پڑھنا چاہتا۔
    وہ کبھی اپنے لیئے باپ کے آگے نہیں کھڑی ہوئی تھیں مگر ہایون کیلئے وہ دنیا سے لڑ سکتی تھیں
    آپکے کہنے پر اسے انٹرنیشنل اسکول میں داخلہ لینے پر مجبور کیا میں نے انگریزئ بھئ سیکھتا ہے وہ مگر میں اسے اسکے ناپسندیدہ مضامین پڑھنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
    وہ اٹل انداز میں بولیں۔
    جب ان مضامین کی فیس دینے کے قابل نہیں رہے گا تو وہ وہی۔پڑھے گا جس کی فیس دی جا چکی ہوگی۔
    آہبوجی نے بوتل سے مزید ایک جام بنایا تھا۔
    گنگشن مٹھیاں بھینچ کر رہ گئئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے ہر کوشش کر لی تھی۔ اب سب معاملہ۔خدا پر چھوڑنے لگی تھی۔ خوب دل سے نماز پڑھ کر خدا کی۔بارگاہ میں ہاتھ اٹھا لیئے۔
    یا اللہ میرے دل کے نہاں خانوں میں چھپے رازوں سے بھی واقف ہے تو۔ مجھے پر رحم کر ۔ جو تو بہتر سمجھ میرے لیئے وہ کردے۔ مجھے سجاد اچھے نہیں لگتے تو برے بھی نہیں لگتے ۔ یہ فیصلہ میرے والدین میرے لیئے کر رہے ہیں تو مجھے اس پر راضی برضا کر دے۔ میرے نصیب میں اگر اینکر بننا نہیں لکھا تو ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی۔ بس تو مجھ پر رحم کردے۔۔۔۔یا مجھے اینکر بنا دے۔ تو تو سب کر سکتا ہے۔
    وہ۔یونہی ہمیشہ دعا مانگا کرتی تھئ دل سے باتیں کرتی تھی
    اکیلےکمرے میں نماز پڑھتے تو بڑبڑا کر دعا مانگتی تھی۔ بس دل۔کو جیسے تسلی ملتی۔تھی کہ جیسے خدا سن رہا ہے۔ ابھی بھئ خوب جزب سے دعا مانگ کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ خوب لمبا سجدہ کیا اٹھئ نماز تہہ کی مڑ کر دیکھا تو صارم اسکی اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھا غور سے اسے دیکھ رہا تھا
    تم۔کب آئے۔
    وہ دہل گئ تھئ
    ابھئ۔۔۔۔ ۔ تمہارے روم کا دروازہ کھلا تھا ۔۔ اس نے جیسے وضاحت کی۔
    تم اینکر بننا چاہتئ ہو؟۔ وہ پرسوچ اندازسے دیکھ رہا تھا۔
    ۔ سب سن لیا کمینے نے۔ دل میں اسے کوس کر رہ۔گئ۔
    ہاں تو۔ اسےخفت محسوس ہو رہی تھی
    یوں دعائیں مانگنے کی بجائے اپنے ابا کو کہنا تھایہ۔
    صارم چڑا۔
    کیا ؟ وہ حیران ہو کر پوچھنے لگی۔
    یہی کہ تم نے اینکر بننا ہے۔ سجاد سے شادی کرکےکونسا اینکر بننا ہے تم نے؟ نوکرانی لیکر جا رہی ہیں نعمانہ خالہ۔
    کینڈا لیجا کر جھاڑو پوچھا کروائیں گی بن گئیں تم اینکر دعائیں مانگ مانگ کے۔
    وہ سخت چڑا ہوا تھا جیسے اسکے انداز پر ہنسی آگئ اسے۔
    دعائیں عرش ہلا دیتی ہیں۔ انکو کم مت سمجھو۔
    اس نے یونہی کہا تھا۔
    مگر تقدیر بدلنے کیلئے محنت اور کوشش کی بھی تاکید ہے۔
    صارم کے پاس بھی مضبوط دلیل تھئ۔
    وہ چپ سی ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئ۔
    میں بابا اماں کو معمولی سا بھی پریشان نہیں کرسکتی۔ انکا اب میرے سوا ہے ہی کون۔ حماد بھائی ہوتے تو اور بات تھئ۔۔ اسکی بات پر صارم نے تاسف سے اسے دیکھا۔

    میرے پاس بس ایک راستہ تھا لڑنے ہٹ دھرمی دکھانے کا اسکی بجائے مجھے یہی بہتر لگا کہ سمجھوتہ کرلوں۔
    اسکی آنکھوں بھر آئی۔تھیں۔ سمجھوتہ اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔۔
    صارم اٹھ کر اسکے برابر آن بیٹھا
    ویسے سجاد بھائئ ہیں اچھے۔ بس تھوڑا سا غصہ ور ہیں۔
    ہوں۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
    تھوڑے سے عمر میں بڑے ذیادہ ہیں۔ باقی شکل ٹھیک ہے۔
    ہوں۔ وہ پھر سر ہلا رہی تھی۔
    تھوڑے سے کالے ذیادہ ہیں کینڈا میں رہ کر بھی اتنے کالے یہاں ہوتے تواندھیرے میں نظر نہ آتے۔
    ہوں۔ اریزہ نے ترچھی نگاہ ڈالی۔
    قد اچھا ہے مگر تمہیں پتہ ہے توند نکل رہی ہے انکی۔
    وہ بھولپن سے بول رہا تھا۔ اریزہ نے رخ پھیر کر اپنا تکیہ قبضے میں کیا۔
    انگریزی اچھی ہے انکی مگر اردو بولتے بالکل گرائیں لگتے ہیں ۔۔ عجیب لہجہ۔
    اسکے منہ پر تکیہ لگا وہ اچھل کر کھڑا ہوا۔۔
    اور۔ اتنے کنجوس ہیں کہ آئی فون کا لیٹسٹ ماڈل آئے مہینہ ہوگیا ابھی تک خریدا۔۔اور
    پے در پے اریزہ کے بیڈ پر رکھے سب کشن تکیئے اسکی جانب اڑتے ہوئے آتے گئے چہرے پر شرارت لیئے۔ وہ بمشکل ان سے بچ رہا تھا مگر بولنے سے باز نہیں آرہا تھا۔
    اریزہ سائیڈ ٹیبل کے گلدان کی جانب بڑھی تب بھاگا تھا وہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈارک میرون میکسی شرارے میں نک سک سے تیار وہ کیا مکمل دلہن لگ رہی تھی گوری رنگت دمک رہی تھی روشن پیشانی پر نازک سا ٹیکا سرخ لب دلہناپے کا روپ یہ تو کوئی اور ہی اریزہ تھی ۔۔ سنتھیا اپنا ہیئر اسٹائل بنوانا بھول کر اسکے پاس اٹھ آئی۔
    نازک سی ستواں ناک میں چپکانے والی نتھ لگانے کی کوشش میں بیوٹیشن اسکی ناک سوجا چکی تھی۔۔
    رہنے دیں نتھ۔ ناک سوج گئ ہے اسکی۔ سنتھیا نے اسکی جان چھڑائئ۔پھر اس سے لپٹ کر جھولا دے ڈالا
    ماشااللہ اتنی پیاری لگ رہی ہو ایکدم حسینہ۔۔۔
    بےساختہ اس نے گال چومنا چاہا پھر خیال آیا۔ ۔میک اپ بیس پر لپ اسٹک کا نشان لگتا تو بیوٹیشن نے اسکی شکل بگآڑ دینی تھی ابھی تو اسکا اپنا دل اچھل۔کر حلق میں آیا۔لگتا تھا۔اسے بری طرح گھور رہی۔تھی۔ اس نے بے نیازی سے رخ پھیرا فورا موبائل سے ایک تصویر بھی کھینچ ڈالی
    دلہن بنی ہوئی منہ پھلائے اریزہ اور پائوٹ بنائے سنتھیا۔۔۔
    میک اپ خراب ہو جائے گا۔۔۔
    بیوٹیشن منمنائی
    میری ناک چینئ ناک بن گئ ہے چپٹی نہیں لگ رہی سوج کے۔
    اس نے کراہتے ہوئے ناک دبائی
    کنٹورنگ کا بیڑا غرق۔ بیوٹیشن کندھے اچکا کر رہ گئی۔۔۔
    سنتھیا نے موبائل سنگھار میز پر رکھا پھر ناقدانہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
    یہاں سے کنٹورنگ ٹھیک نہیں۔۔
    ظاہر ہے۔ بیوٹیشن بڑبڑا کر رہ۔گئ۔
    آپ اپنا میک اپ۔تو کروالیں۔
    اسکی ساتھی بیوٹیشن نے یاد دہانی کروائی مگر سنتھیا ناقدانہ نظروں سے اریزہ کو دیکھ رہی تھی۔

    یہ یہاں سے ڈارک لگ رہا ہے۔
    ۔اس نے ہدایات دینی شروع کی پھر بیوٹیشن کے ہاتھ سے برش لے کر خود شروع ہوگئی
    ٹچ اپ کے بعد اسکا روپ دو آتشہ ہو چکا تھا۔
    وہ اب ماہر کیمرہ مین بنی اسکی ہر ذاویئے سے تصویر لے رہی تھئ۔
    بس کرو۔ اریزہ کو۔ہنسی آگئ۔
    اسکے ہنسنے پر سنتھیا کا ڈی ایس ایل آر حرکت میں آیا اور یہ منظر بھئ قید ہوا۔
    یارکپل فوٹو شوٹ تو کروانا تھا۔ ایڈون کا فرینڈ اتنا اچھا پیکج دے رہا تھا۔
    سنتھیا کو افسوس ہورہا تھا
    گھر میں بیوٹیشن کی ٹیم تو انہوں نے اچھی منگوائی تھی
    مگر فوٹو شوٹ وہ خود تو پروفیشنل نہیں کرسکتی تھی۔
    سجاد کئ امی کو نہیں پسند۔نکاح سے قبل کوئی شوٹ نہیں ہوگی ۔۔
    اریزہ کو خود بھی اعتراض نہ ہواتھا۔ اسے جانے کیوں ابھی بھی سجاد کی شکل۔دیکھ کر ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوتے محسوس ہوتے تھے۔۔
    تیار ہوئی نہیں تم لوگ۔۔
    امی بھی چلی آئیں بیٹی پر نظر پڑی تو دیکھتی رہ گیئں مگر منہ سے تعریف نہ نکلی الٹا ٹوک دیا
    لپ اسٹک تو ہلکی کرو۔ اتنی تیز لگا دی ہے دلہن۔۔۔
    وہ روانی میں بولتے ٹھٹکیں۔۔
    دلہن ہی تو ہے۔۔۔
    انکی آنکھیں جھلملا گئیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاتھوں میں ان ہاتھوں میں لکھ کے مہندی سے سجنا کا نام۔۔۔
    فل آواز میں چلتا ڈیک۔۔۔ سہج سہج کر چلتی دلہن اسپاٹ لائٹ کے فوکس میں مومی گڑیا سی اریزہ ایک لمحے کو سجاد کی نظر پلٹنا بھول گئی۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا اب اسے اسٹیج پر لایا جارہا تھا دو کزن سب سے آگے بکے تھامے چل رہے تھے تو بہنوں اور سہیلیوں نے اسے تھام رکھا تھا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی لہنگے کو تھام کر اسٹیج پر چھڑھتے وہ پہلی سیڑھی پرچڑھی ۔۔۔ سجاد جو اسکو آتے دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا آگے بڑھ کر اسے سہارا دینے لگا ۔۔۔ اسے نہیں معلوم تھا ذرا سا ہاتھ وہ بھی اپنی بیوی کا تھام لینا اتنی بڑی بات بن جائے گی اسکی سہیلیوں اور کزنوں نے زوردار اوووہ کی تھی پھر ہوٹنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔۔۔ گھونگھٹ کی اوٹ سے اریزہ کے چہرے پردمکتی مسکراہٹ بھی اسے نظر آگئ تھی
    اس طرح موضوع بننا اسے پسند نہیں آیا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پیشانی پر ایک نا گواری کی شکن آہی گئی تھی۔۔۔
    اسٹیج پر بیٹھتے ہی رسموں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا دودھ پلائی کیلئیے سنتھیا اور اسکی ایک اور کزن آئی تھیں
    ڈیڑھ لاکھ مانگے تھے
    اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
    کس طرح پیمنٹ چاہیے ؟ کریڈٹ کارڈ کیش یا چیک۔۔۔ سنتھیا تو ایک لمحہ چپ ہی رہ گئ
    پھر مسکرا کر بولی
    ابھی جتنا بھی کیش دے سکیں چلے گا
    ۔۔۔ اس نے والٹ کھولا جتنے بھی نوٹ تھے تھما دیے اور پیچھے مڑ کر اپنی ماں سے بولا
    چلیں۔۔۔
    سنتھیا ہکا بکا نوٹ سارے ڈالرز تھے
    وہ تو کچھ نہ بولی مگر اریزہ کی کزن بھنا کر کچھ بولنے کو تھی سنتھیا نے اسکا ہاتھ تھام کر روک دیا پھر شکریہ کہہ کر اسٹیج سے اتر آئی۔۔۔
    بیٹا آرسی مصحف تو ہو جائے دلہن تو دیکھ لو۔۔ آئنہ لائو
    نعمانہ خالہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے
    دیکھ تو لیا ہے ۔۔۔ وہ ہلکے سے بڑ بڑایا مگر سب الرٹ ہو چکے تھے دلہا کا موڈبگڑنے کو تھا سو جھٹ پٹ سب انتظام کرلیا گیا بڑے سے آئنے کو گود میں رکھ کر جب دلہن پر نظر پڑی تو پلکیں جھکائے وہ چھوٹی سی لڑکی حقیقتا کانپ رہی تھی۔ انہوں نے گہری سانس لی۔۔بلا تمہید انہوں نے کہا تھا۔
    تم کوریا چلی جانا۔ ۔
    اریزہ پوری آنکھیں کھول کر آئنے سے جھانکتے اسکے عکس پر نظر جما کر رہ گئ
    جی؟
    اسے کچھ سمجھ نہ آیا تھا
    اپنی تعلیم مکمل لو وقت ضائع کرنے کی۔ضرورت نہیں۔۔ دو ایک سال تو مجھے لگیں گے۔
    رواں شستہ انگریزئ دھیمی سی آواز۔
    اریزہ دم بخود رہ گئی سر اٹھا کر پہلو میں بیٹھے شوہر کو دیکھا جو بات مکمل کر کے سر سیدھا کر چکا تھا دوپٹہ اسکے سر اونچا کرنے سے گر گیا۔۔ دھیمے دھیمے سرگوشیاں کرتا دلہا حیران پریشان سر اٹھا کر اسے دیکھتی دلہن اور سر پر سوار سب رشتے دار۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں ہمیں بھی بتائیں۔۔۔ دلہن شرما لو تھوڑا ساری عمر انکو ہی دیکھنا۔۔۔ سجاد بھائی ادھر دیکھیں کوئی تصویر کھینچ رہا تھا کوئی مزاق اڑا رہا تھا
    سب کورس میں بول رہے تھے۔۔۔۔
    اسٹیج پر ایک ہنگامہ مچا تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتنے دنوں کی کلفت بے چینی رخصت ہوئی تھی۔۔ کمرے میں آکر کتنی ہی دیر وہ آئنے میں خود کو دیکھتی رہی۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
    وہ سٹپٹا کر دھپ سے اسٹول پر بیٹھ گئی
    کون ہے آجائو۔۔۔
    دھیرے سے دروازہ کھول کر صارم اندر آیا۔۔۔
    چھوڑ آیا تمہاری سہیلی کو بحفاظت اسکے گھر۔۔۔
    کیا نام ہے اسکا ویسے سانولی ہے مگر ہے کشش والی۔۔۔ وہ مزے سے بولتا ہوا اسکے سامنے ہی سنگھار میز ہر جگہ بنا کر ٹک گیا۔۔۔
    سنتھیا کرسچن ہے کسی کام کی نہیں تمہارے منگنی ہو چکی اسکی۔۔۔
    وہ بھی جتاتے ہوئے بولی۔۔۔
    تمہارے جملے میں شکریہ سنائی نہیں دیا۔۔۔ اس نے منہ بنایا
    کیونکہ میں نے کہا ہی نہیں۔۔۔ اس کی بھی بے نیازی دیکھنے لائق تھی۔۔ وہ اسکے انداز پر ہنسا۔۔۔
    سیلفیاں لی ہیں کوئی نہیں؟ وہ پوچھ رہا تھا اسکی سیلفیاں لینے کی عادت تو مشہور تھی
    وہ بازو اونچا کر کے دوپٹے سے پن نکال رہی تھی ۔۔۔
    نہیں یار پتہ نہیں سیل فون کہاں رکھ کر بھول گئی صبح سے گم ہے۔۔۔
    لائو میں لے دیتا ہوں تصویر اس نے فورا اپنا موبائل نکال لیا ۔۔۔ ایک دو تصویر کھنچوا کر وہ جھینپ گئ بس کرو اتنی تو ہو گئی ہیں تصویریں۔۔۔
    ایک میرے ساتھ بھی لے لو بعد میں یہی یاد آئیں گی تصویریں ۔۔۔ اس نے یاسیت سے کہا تھا۔۔۔ اریزہ نے پیار سے اسے دیکھا بظاہر ہر وقت چڑانا اسکا شغل تھا مگر یہ بھی تھا اسکو اریزہ سے لگائو بھی بہت تھا۔۔۔
    ابھی بہت وقت ہے۔۔۔ اس نے اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر خود اسکے ساتھ پوز بنا کر تصویر لی۔۔۔
    صارم کے کندھے سے لگ کر بہت پیار بھرے حق سے اس نے تصویر کھینچی تھی۔۔۔
    دکھائو ۔۔۔ تصویر دیکھ کر دونوں ہی اداس سے ہوگئے۔۔۔
    ویسے تم موٹی دلہن ہی بنیں نا کیا تھا تھوڑا وزن ہی کر لیتیں ڈولی والا ارینج کرلیتے جبران کہہ تو رہا تھا میں نے بتایا
    سکسٹی کے جی اٹھانا پڑے گا تو کینسل کردیا پروگرام۔۔۔ اسکے آدھے جملے میں ہی اریزہ نے اسکی پٹائی شروع کر دی تھی مگر وہ ڈھیٹ ہنستے ہنستے مار کھاتے جملہ مکمل کر کے ہی چپ ہوا۔۔۔
    خدا کرے تمہاری بیوی خوب موٹی بھینس ہو ۔۔۔ میری بد دعا ہے ۔۔ کلس کر کوسا تھا اس نے۔۔۔
    میں کروں گا ہی اسمارٹ سی لڑکی سے شادی۔۔۔ وہ بھی ایک کائیاں تھا
    پھر وہ شادی کے بعد بھینس بن جائے گی دیکھنا۔۔۔
    وہ دوبارہ دوپٹے کی پنوں میں الجھی تو دلاور اٹھ کر پنیں نکالنے میں اسکی مدد کرنے لگا
    اس نے میک اپ اتارنا شروع کیا۔۔۔
    ویسے موبائل جھونکا کہاں ہے ۔۔۔ اتنے تو مہمان تھے ملازم بھی پھر رہے تھے چوری ہی نہ ہو گیا ہو۔۔۔
    پنیں نکال کر وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔
    یار وہ صبح عاصمہ آنٹی کالیں کر رہی تھیں امی سے بات کروائی بعد میں وہ آکر یہیں کہیں رکھ گئیں میں مصروف اتنی تھی موبائل کا خیال ہی نہیں آیا۔۔۔
    بیل دو یہاں سائڈ ٹیبل پر ہوگا یا نیچے گرا ہوگا قالین پر۔۔۔ اسے بھی فکر ہوئی۔۔۔
    دلاور نے سر جھٹکا اور اسے کال ملا لی۔۔۔
    سائلنٹ نہ ہو۔۔۔ اریزہ نے بے چاری شکل بنا لی۔۔۔
    دلاور نے گھور کر دیکھا
    بس اسکی کسر تھی۔۔۔
    میں ڈھونڈتی ہوں۔۔۔ وہ جزباتی ہوکر اٹھی
    دلاور نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا شسس۔۔۔
    اریزہ دم سادھ کر رہ گئی۔۔
    ہلکی ہلکی جھرجھری سی جیسی آواز ۔۔۔
    دلاور نے آواز کے تعقب میں بستر جھاڑا تکیہ اٹھایا بیڈ کے نیچے جھانکا سایڈ ٹیبل۔۔۔ ہاں اسی کے نیچے موبائل کی بتی جل بجھ کر رہی تھی۔۔۔
    اس نے بڑھ کر اٹھا لیا۔۔۔
    شکر۔۔۔ اریزہ مطمئن ہو گئ۔۔۔
    پندرہ مسڈ کالز اور۔۔۔ دیکھتے دیکھتے فون بند۔۔۔ بیٹری تمام ہو چکی تھی
    سایڈ ٹیبل کی ایکسٹینشن میں ہی چارجر لگا تھا اس نے اسکا موبائل چارجنگ پر لگا دیا۔۔
    اچھا میں چلتا ہوں بہت تھک گیا ۔اس نے زوردار انگڑائی لی۔۔۔
    تم بھی سو جائو۔۔۔ اب ۔۔۔ وہ جمائی لے کر بولا تھا
    ہاں مگر نماز پڑھ کر سوئوں گی آج تو سارے دن کی رہ گئ۔۔۔ وہ مصروف انداز میں میک اپ اتارتے ہوئے بتا رہی تھی
    اوکے ڈئیر گڈ نائٹ۔۔۔ وہ شب بخیر کہتا نکل گیا۔۔۔ اس نے شاور لیا جاء نماز بچھا کر نماز پڑھی حسب عادت خدا سے دعا میں باتیں کرنے لگی
    بہت شکریہ اللہ میاں میں اب کافی مطمئن ہوں مجھ پر رحم کرنے اور صبر دینے کا شکریہ۔۔۔ میں نے بہت شکوے کیئے آپ سے اپنے والدین کی شکایت بھی کر ڈالی مگر آپ انہیں کسی آزمائش میں مت ڈالیئے گا انکا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رکھیے گا انہیں صحت دیں اور میری سب شکایتوں کو ان سنی کر دیجیئے گا۔۔۔۔

    ۔۔ دعا مانگ کر مطمئں سی وہ نماز مکمل کرنے لگی یہ سوچے بغیر کہ خدا کچھ بھی ان سنا نہیں کرتا وہ بھی سننے والا جو کبھی کہا بھی نہ جائے وہ کیسے ان سنا کر سکتا جو کہا بھی گیا ہو اس سے۔۔۔
    جاء نماز سمیٹ کر اس نے دوپٹہ اتار کر رکھا بال جھٹکتی بیڈ پر دھم گری موبائل چارج ہو چکا تھا۔۔۔۔ صارم کی مسڈ کال تھی۔
    اس نے موبائل اٹھایا۔ اور میسج ٹائپ کرنے لگی۔
    آپ کیا کہہ رہے تھے کوریا کے بارے میں وہ شور میں سن نہیں پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ یونہی ونڈو شاپنگ کر رہا تھا مال میں جیولری کلچز ٹاپس یون بن نے آدھی دکان الٹوا لی لی تھی مگر مطمئن نہیں ہو رہا تھا ہیون کو کوئی تجربہ نہیں تھا لڑکیوں کی شاپنگ کا سو بس ادھر ادھر تانک جھانک کر وقت گزار رہا تھا اسے ایک کلچ پسند آیا تھا گلابی سا اس نے یون بن کو دکھایا مگر وہ کچھ الگ دینا چاہتا تھا گوارا کو سو صاف انکار کردیا
    پتہ نہیں کیا انوکھا دینا چاہ رہا ہے۔۔۔ اس نے بےزاری سے واپس رکھ دیا۔۔۔
    سر آپ کو پسند آرہا تو آپ تو لے لیجئے خاص ڈیزائنر کولیکشن ہے شاز چیز ہے آپ اسے کھوئے مت۔۔
    سیلز گرل نے پکی سیل مار دی تھی۔۔۔
    وہ۔ہنسا
    نہیں شکریہ۔۔۔ وہ لے بھی تو دے گا کسے یہی سوچ کر واپس رکھ دیا۔۔
    سر اسپیشل ڈسکاوئنٹ ہے اس پر۔۔۔اور نیا ترین فیشن کے مطابق آپ اپنی گرل فرینڈ کو دیں گے تو وہ کافی امپریس ہوگی آپکی پسند سے۔۔۔
    تھا تو واقعی بہت خوبصورت
    لے لے۔۔ شگون کر لے کیا پتہ آج تحفہ لو کل کو گرل فرینڈ بھی مل جائے۔۔۔
    یون بن نے شرارت سے کہا۔۔۔ اسے ایک نیوی بلیو ٹاپ پسند آگیا تھا۔۔۔
    ہیون نے کچھ سوچا پھر خرید ہی لیا۔۔۔ نونا کو پسند آئے گا یہ سوچا اس نے یہی تھا
    یون بن اب کائنٹر پر کھڑا بحث میں الجھا تھا اس نے پرس سامنے رکھا سیلز گرل نے جان چھٹی لاکھوں پائے کی طرح جھپٹا اور بل بنانے لگی۔۔
    میں ہر دفعہ یہاں سے اپنی گرل فرینڈ کو تحفہ لے کر دیتا ہوں آدھی دکان خرید چکا آپ مجھے تین سو یو آن جیسی قلیل رقم رعائیت نہیں کر سکتیں۔۔۔ وہ سراسر جھوٹ بول رہا تھا مگر اعتماد دیدنی تھا۔۔۔ ہیون جونگاسکے انداز پر بمشکل ہنسی روک پایا۔۔۔سر معزرت فکسڈ پرائس ہے۔۔۔ لڑکی نے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا مگر اسکی برداشت کا مادہ ختم ہو چکا تھا۔۔۔
    سر آپ پیمنٹ کیش کریں گے یا کریڈٹ کارڈ ۔۔۔ وہ اب اس سے مخاطب تھی اس نے خاموشی سے کارڈ آگے کیا۔۔۔
    دیکھیئے اس طرح تو آپ اپنے وفادار کسٹمر کھوتے جائیں گے۔۔۔ اور فکسڈ پرائس کی خوب کہی ابھی مہینے بھر میں موسم بدل جائے گا کوڑیوں کے بھائو بکے گا یہ۔۔۔
    دیکھیں اگر آپکو ایسا لگتا تو آپ پھر دو مہینے بعد لی لیجئے گا۔۔۔ وہ عاجز ہی آگئ۔۔۔
    کریڈٹ کارڈ مشین سے گزار کر اسے واپس دیا
    یہی کرتا مگر میری گرلفرینڈ کی سالگرہ کل ہے اب یہ تو نہیں کر سکتا اسے کہوں دو مہینے بعد سالگرہ منانا
    ۔۔۔
    دیکھئے۔۔۔ دونوں نہ ختم ہونے والی بحث میں الجھے تھے
    اس نے دوسری سیلز گرل کو اشارے سے بلا کر کہا اس نے سر ہلا کر کارڈ لے لیا۔۔۔

    سنیے آپ آپ اسکی پیمنٹ بھی اسی سے ادا کیجئے
    اس نے کریڈٹ کارڈ لہرایا۔۔۔
    اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور بحث میں الجھے یون بن کو کندھے پر ہاتھ مار کر بیگ اٹھا کر باہر آنے کو کہا
    اس نے ہڑ بڑا کر جیب سے والٹ نکالا تو سیلز گرل نے بتایا کہ پیمنٹ ہو چکی ہے۔۔۔ وہ شاپر اٹھاتا ہیون کے پیچھے بھاگا۔۔۔
    دکان سے باہر نکل کر دائیں بائیں دیکھا تو وہ برقی سیڑھیوں سے اوپر جاتا دکھائی دیا۔۔۔ اس نے سر جھٹک کر تقلید کی۔۔۔ ہایون کا رخ اپنی پسندیدہ کافی شاپ کی طرف تھا۔۔۔ آرڈر دےکر جب مڑا تو یون بن ایک کونے میں منہ پھلائے گھور رہا تھا
    میری گرل فرینڈ ہے مجھے ہی تحفہ خریدنا تھا۔۔
    تمہاری گرل فرینڈ ہے مگر ہمیشہ میں ہی اسکے لیے تحفہ خریدتا ہوں ۔۔۔
    اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔
    یون۔بن نے کھسیا کر سر کھجایا
    ہاں تب میں بے روزگار تھا اب تو نہیں ۔۔۔
    بس تین سو یو آن کم تھے میرے پاس ۔۔ اس نے جیب سے پیسے نکال کر رکھے میز پر
    باقی ایک دو دن میں دے دوں گا۔۔۔
    رہنے دو مجھے نہیں چاہیئے۔۔۔ ہیون نے سہولت سے انکار کیا۔۔۔
    نہیں لینے پڑیں گے ۔۔۔ پہلے کا حساب تو بےباق نہیں کر سکتا مگر اب سے قرض فورا اتارا کروں گا۔۔۔
    ہیون نے غور سے دیکھا۔۔۔
    اگر ایسی بات تو پھر پورا قرض اتارنا ۔۔۔ تم میری گرل فرینڈ کو گفٹ لے دے نا ٹھیک۔۔۔
    اس نے تجویز دی۔۔۔
    یی بھی ٹھیک۔۔۔ جون تائی فورا مان گیا اور پیسے واپس بٹوے میں رکھنے لگا۔۔۔ بہر حال یہی اسکا کل اثاثہ تھا اور ہیون جونگکی گرل فرینڈ دور دور تک تو وجود رکھتی نہیں تھی جب تک ملتی کیا خبر وہ تب تک کروڑ پتی بن چکا ہو۔۔۔ یہ ہرگز مہنگا سودا نہیں تھا۔۔۔
    ویسے ہایون تمہیں آج تک کسی لڑکی نے بھی منہ نہ لگایا ایسا کیوں۔۔۔
    ہایون نے گھور کر دیکھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسا اس لیے ہے کہ میں سو کالڈ شریف لڑکی ہوں۔۔۔
    وہ او۔لیول میں جو معاز ہوا کرتا تھا یاد ہے۔۔۔۔
    اریزہ کے کہنے پر
    سنتھیا نے یاد داشت کے گھوڑے دوڑائے ۔۔
    ہاں۔۔۔۔۔ وہ دونوں ٹیرس میں سردی کی پروا نہ کرتے کھڑی تھیں۔۔ آج تو اریزہ نے بھی شال نہ اوڑھی تھی شائد موسم بدل رہا تھا اسلییے۔۔
    کتنا مرتا تھا مجھ پر۔۔۔ اس نے کرکرے منہ میں ڈال کر آنکھ ماری۔۔۔ اسکے چہرے پر محسوس کی جا سکنے والی یاسیت تھئ۔۔۔ سامنے والے گھر کی چھت پر بیٹھی اسی سفید بلی کو دیکھتے وہ کہہ رہی تھی۔
    جب ایک بار ٹیسٹ کرتے ہوئے میرے پین میں انک ختم ہو گئ تھی تو اس نے اپنا پین دےدیا تھا جب میں نے کہا وہ۔خود کیا کرے گا تو جھوٹ بولا میں نے ٹیسٹ کر لیا۔۔ اور پھر فیل ہو گیا تھا میرے پیچھے۔۔۔
    ہاں ہاں۔۔۔ سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
    بے چارہ۔۔۔۔ تاسف۔۔
    اور وہ اکیڈمی والے سر رضا۔۔۔
    جب ہم اے لیول میں میتھ کی ٹیوشن کینے جاتے تھے۔۔۔
    یاد آیا۔۔۔
    سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
    وہ تب ایم بی اے کر رہے تھے۔۔۔ وہ تو اتنا سیریس ہو گئے تھے حالانکہ میں بات بھی نہیں کرتی تھی۔۔۔ نہیں کرتی تھی نا ۔۔۔ اس نے گواہی چاہی
    سنتھیا نے سر ہلادیا۔۔۔
    ہاں وہ مجھے ایک بار بلا کر بولے میں اپنے والدین کو آپکے گھر بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔۔ میں نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔
    اور وہ جو تمہارا پڑوسی تھا کتنا گھورتا تھا جب میں اور تم چھت پر واک کرنے جاتے تھے۔۔۔ اور وہ میری جو دور کی چچی کا لڑکا صارم کی بہن کی منگنی پر مجھ پر لٹو ہو گیا تھا۔۔۔ تین بار اسکی امی رشتہ مانگنے آئیں وہ تو امی کی ان سے بنی نہیں تھی کبھی ورنہ وہ ۔پائلٹ ہے اب۔۔۔۔۔
    وہ بڑا بھی تو بہت تھا نا تم سے تم تب سترہ سال کی تھیں تمہاری امی نے ٹھیک کیا تھا۔۔۔ سنتھیا کو وہ بھی یاد تھا۔۔۔

    ہان تو سجاد کونسا ننھا کاکا ہے۔۔۔ خیر اسے بھی چھوڑو۔۔۔ یہاں یونیورسٹی میں دیکھ لو کتنے لڑکے مجھ سے دوستی کے خواہشمند ہے میں نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا کسی کی طرف حالانکہ فیضان کتنا ہینڈسم ہے بہانے بہانے سے بات کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔
    اس سب کا کیا فائدہ ۔کیوں سوچ رہی ہو ان سب کے بارے میں ۔۔۔ سجاد ان سب سے زیادہ سیٹل پڑھا لکھا اور ہینڈسم ہے۔۔۔ سب سے بڑھ کر اب شوہر ہے تمہارا ۔۔مجھے تو لگا تھا تم ۔۔۔ سنتھیا نے بات ادھوری چھوڑ دی
    اریزہ اسکی ادھوری بات بھی سمجھ گئی۔۔۔
    ہاں میں مان گئی تھی بلکہ یوں کہو ماننا پڑا۔۔۔ مگر کل سے میں رہ رہ کر پچھتا رہی ہوں کوئی افئر چلا لیا ہوتا کسی کو اس نظر سے بھی دیکھا ہوتا جب امی میرے صاف انکار پر مشکوک ہو کر پوچھ رہی تھیں کہ کوئی اور پسند تو بتا دوتو چپ نہ رہ جاتی کوئی بھی نام لینے والی ہوتی تو کم ازکم آج مجھ پر سو احسان دھر کے موٹی کم شکل یا بے ڈھنگی سمجھ کر شادی کے احسان کا ٹوکرا میرے سر پر نہ دھرا جاتا۔۔۔ یہ سب جیسے بھی سہی مگر کم ازکم انکو میں پسند تھی مجھے خود اپنا آپ پسند تھا پر اب تو لگتا میں دنیا کی بے کار ترین لڑکی ہوں ایک شادی تک کے قابل نہیں کہاں میں دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتی تھی۔۔۔ بولتے بولتے روہانسی ہو گئ۔۔۔
    کیا ہوا ہے ۔۔۔سنتھیانے گھبرا کر اس کو لپٹا لیا۔۔۔
    کچھ کہا ہے سجاد نے اسکی امی نے۔۔
    بتائو۔۔۔
    کیا کہنا ۔۔۔ وہ بے چارگی سے ہنسی۔۔۔
    میں اپنی قسمت پر حیران ہوں ۔۔ اتنی بے وقعت ہوں میں۔۔۔ اتنی بد نصیب ۔۔۔ میں نے ایسا آج تک زندگی میں کیا برا کیا ہے جسکی مجھے سزا ملے۔۔۔ بتائو سنتھیا۔۔۔ وہ اسکا بازو دبوچ کر پوچھ رہی تھی
    پہیلیاں نہ بجھوائو صاف صاف بتائو۔۔۔
    میرا دل گھبرا رہا۔۔ سنتھیا بری طرح پریشان ہوئی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب میں اسے کال ہی آگئ تھئ۔۔ وہ الرٹ سی ہو کر اٹھ بیٹھی۔
    ہیلو۔
    ہیلو۔۔۔ ہاں یہی بتانے کیلئے تمہیں فون کرتا رہا تھا میں مگر تم نے اٹھایا نہیں۔۔

    جی وہ۔بس۔۔
    وہ۔اتنا ہی کہہ سکی۔

    مجھے کل ہی پتہ لگا تھا میرے وکیل نے مجھے ای۔میل کیا تھا مگر یہ پاکستان عجیب ملک ہے اتنا فالتو خرچہ ایک نکاح کیلیے بھی اتنے فنکشن مہندی وغیرہ رکھ دییئے۔مصروف اتنا رہا کہ ۔۔۔۔خیر ۔ وقت ضائع۔۔
    وہ ابھی بھی انگریزی میں شروع تھا۔
    خیر سینڈی پریگننٹ ہے۔ اور وہ شائد کوئی مصالحت بھی چاہتی ہے۔ میرا ارادہ تو نہیں مصالحت کا مگر بہر حال۔باپ ہوں ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ مجھے کچھ قانونی معاملات دیکھنے ہوں گے۔
    وہ اپنے مخصوص سنجیدہ دوٹوک انداز میں بات کر رہے تھے۔
    کون سینڈی۔۔۔۔
    وہ بمشکل بول۔پائی۔ ۔ باپ ہوں اسکی سماعتوں پر۔ہتھوڑے کی۔طرح برسا تھا
    میری بیوی۔ اسکا نام سینڈی ہے نا۔
    انہوں نے وضاحت کی۔
    اریزہ ساکت سی بیٹھی رہ۔گئ۔
    خیر تمہیں پڑھنے کا شوق ہے اسکالر شپ بھی مل۔رہی ہے مجھے بھی فوری طور پر تمہیں کینڈا بلوانا مشکل ہے تم چلی جائو کوریا تعلیم مکمل۔کرو تب تک میں یہاں کے۔۔۔
    وہ مزید بھی کچھ کہہ رہا تھا اس نے چیخ کربات کاٹ دی
    آپکی ہمت کیسے ہوئئ اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی؟ آپ شادی شدہ ہیں اور یہاں مجھ سے نکاح کر لیا۔۔۔
    میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔
    اسکے چیخنے پر انکی تیوری پر۔بل پڑے۔
    میں شادی شدہ ہوں یہ بات خالہ جانتی ہیں اور یقینا تمہارے والد بھئ۔ میں نے کوئی حقیقت نہیں چھپائی کسی سے۔
    اسکے دعوے پر۔وہ گنگ سی ہوگئ۔

    میں سیدھی صاف بات کرنا پسند کرتا ہوں جھوٹ بے ایمانی دھوکا اس سے مجھے نفرت نہ سہی کبھی نہ کبھی میں نے بھی کیا ہی ہوگا مگر بے وجہ کسی کو اپنی وجہ سے مشکل میں ڈالنا مجھے پسند نہیں ۔۔۔شائد تمہارئ والدین نے تمہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ وہ ذرا سا تھمے۔ اریزہ کو اپنی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ اسکے اپنے والدین اسکے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیسے کر گئے؟
    سو جو کہہ رہا اسے غور سے سنو۔۔
    میں نے آج سے چھے سال پہلے ایک لڑکی سے شادی کی تھی ہم دونوں مطمئن تھے خوش تھے مگر کچھ عرصے قبل ہم اختلافات کا شکار ہوئے اور سینڈی نے مجھ سے طلاق مانگ لی۔۔۔ ہم علیحدہ رہ رہے تھے ابھی کائونسلنگ جاری تھی کہ امی نے تم سے میرا رشتہ طے کر دیا۔۔۔ مجھے تم سے کوئی مسلئہ نہیں تھا میں نے ان سے کہا تم لوگوں سے یہ شادی والی بات نہ چھپائیں۔۔۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ تم لوگوں سے زکر کر چکی ہیں۔۔۔ انہوں نے مجھے شارٹ نوٹس پر بلوا کر منگنی کر دی۔۔اور اب یہ نکاح۔۔
    خیر سنڈی نے وکیل کو بتایا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے اور دوبارہ اس شادی کو ایک موقع دینا چاہتی ہے۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ بچہ میرا ہے میری زمہ داری ہے میں فوری طورپر ابھی اسے طلاق نہیں دے سکتا ہوں ہمارا کیس چل رہا ہے۔ مجھے کافی بھاری جرمانہ ہوگا ابھی بچے کے پیدا ہونے تک کے اخراجات اور دیگر معاملات طے ہونے تک نہ صرف بہت پیسہ درکار بلکہ سال ایک کا وقت بھی درکار ہے اس عرصے میں اپنی بیوی کی حیثیت سے نہ میں تمہیں بلا سکوں گا نہ ہی مالی طور پر مدد کر سکوں گا۔۔۔
    اسی لیئے میں نے تمہیں اجازت دی تھی کہ تم اپنی تعلیم مکمل کرنے اگر کوریا جانا چاہو تو چلی جائو۔ مگر تم تو اس سب معاملے سے انجان ہو۔۔۔
    اریزہ کی۔خاموشی پر وہ کچھ پگھلے۔۔
    اگر کسی نے تمہیں دھوکا دیا ہے تم سے یہ سب چھپایا ہےتو وہ تمہارے اپنے والدین ہیں میں نہیں۔۔
    یہ تمہاری زندگی تم بنا کسی دبائو اور ہچکچاہٹ کے خود فیصلہ کرو بہرحال تم ایک پڑھی لکھی باشعور جوان لڑکی ہو اپنا اچھا برا سمجھ سکتی ہو۔۔۔
    میں جواب کا انتظار کروں گا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ یہ کیا کہہ رہی ہو اریزہ۔۔۔۔۔
    سنتھیا کا بس نہیں تھا کیا کر ڈالے
    اس کی جرات کسے ہوئی تمہاری زندگی کیساتھ اتنا گھنائونا مزاق کرنے کی۔۔۔ تم نے سب جان کر اس سے نکاح کیسے کر لیا مجھے یہ بتائو۔۔۔ بتایا نہیں انکل آنٹی کو۔۔۔
    سنتھیا کا غصے سے برا حال تھا
    ۔۔۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں کہا۔
    رات کو کال بند کرنے کے بعد مجھے تو کچھ سمجھ نہ آیا فورا باہر امی کے پاس بھاگی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کچن میں کھڑی پانی پی رہی تھیں۔۔۔
    اسے حواس باختہ کمرے سے نکلتے دیکھا تو گھبرا کر پکارا۔۔۔
    کیا ہوا اریزہ؟
    اریزہ جو بھاگ کر انکے ہی کمرے میں جا رہی تھی پلٹ کر ان سے آکر لپٹ کر رو دی
    کیا ہوا بیٹا کچھ بتائو تو سہی۔۔۔
    وہ گھبرا گئیں۔۔۔
    امی سجاد پہلے سے شادی شدہ ہے امی۔۔۔ اس نے مجھے خود بتایا اور اسکا بچہ بھی ہے امی ان لوگوں نے ہمیں دھوکا دیا۔۔۔
    آہستہ بولو۔۔ امی نے گھرکا
    وہ بے یقینی سے ان سے الگ ہو کر انکی شکل دیکھنے لگی۔۔۔
    ادھر آئو۔۔۔
    وہ اسے لے کر اسی کے کمرے میں آگئیں پہلے دروازہ بند کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ کر تسلی کی پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے دھیرج سے بیڈ پر بٹھایا۔۔
    انہوں نے دھوکا نہیں دیا بیٹا۔۔۔ بتا دیا تھا ہمیں۔۔۔
    ارے عیسائنی گوری کہاں گھر بساتی ہیں پھنس گیا تھا سجاد اسکے چکر میں ۔۔۔ طلاق دے دی ہے بس ارے لڑکے تو وہاں بنا شادی۔۔۔ سجاد نے تو پھر نکاح کیا ہے۔۔۔ بچہ وچہ کوئی نہیں اسکا تم دل میلا نہ کرو۔۔۔
    آپ جانتی تھیں یہ سب پھر بھی۔۔۔ وہ چیخ اٹھی۔۔۔ اتنی بھاری تھی میں آپ پر مجھے ایک بڑی عمر کے شادی شدہ بیوی بچوں والے شخص کے منڈھ دیا۔۔۔
    بچہ نہیں ہے۔۔۔ وہ زچ ہوئیں
    ہاں ابھی نہیں ہے مگر ہونے والا ہے خود بتایا ہے ۔۔۔ وہ ہچکیاں لے لے کر رو پڑی
    ۔۔۔ مجھے سجاد نے مگر امی کیوں آخر کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا بگاڑا تھا میں نے۔۔۔کیا کمی تھی مجھ میں جو۔۔۔
    تم میں کوئی کمی نہیں بیٹا سجاد بھی لاکھوں میں ایک ہے اپنی ماں پر بھروسہ کرو۔۔
    کبھی کبھی نہیں کرونگی آئندہ آپ پر بابا پر بھروسہ توڑ دیا ہے آپ نے میرا بھروسہ افسوس ہو رہا مجھے اپنے آپ پر کیوں اندھا یقیں رکھا اپنے ماں باپ پر۔۔۔
    شسس آہستہ بولو۔۔ ابھی تم غصے میں ہو صبح بات کروں گی میں تم سے ابھی سو جائو۔۔۔
    مجھے اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنی نہ آپ سے نہ بابا سے مرگئ سمجھیں آپکی بیٹی۔۔۔
    وہ ہزیانی انداز مین چلائی۔۔۔
    آہستہ بولو بیٹا تمھارے بابا اٹھ جائیں گے۔۔۔ ان سے اس بارے میں بات بھی مت کرنا وہ بہت جزباتی ہیں صورت حال کو نہیں سمجھیں گے
    بیٹا تم بھی سمجھو بات کو تمہارا نکاح ہو چکا ہے شوہر ہے اب سجاد تمہارا۔۔
    آپ اب بھی مجھے دبا رہی ہیں۔۔۔ میں ابھی بابا سے بات کرتی ہوں کیوں کیا ہے انہوں نے میرے ساتھ ایسا ۔۔ میری زندگی برباد کر کے آپ لوگ سونا چاہتے۔۔۔ کم از کم آج میں ایک نہیں سنوں گی ۔۔وہ آنسو پونچھتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔ امی نے گھبرا کر کہا۔۔۔
    انہیں خود اس بارے میں نہیں پتہ۔۔۔
    اریزہ کا ہینڈل گھماتا ہاتھ رک گیا۔۔۔
    پلٹ کر بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ۔۔۔ سنتھیا ہکا بکا رہ گئی
    آنٹی ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔۔اتنی بڑی بات انکل سے بھی چھپا لی۔۔۔
    اریزہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی
    کہتی ہیں ۔۔ وہ مجھے مطمئن خوش اور محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔وہ ہنسی۔۔۔ کہتی ہیں حماد کی جوان لاش دفناتے ہوئے وہ اندر سے ٹوٹ گئی تھیں تب انہوں نے فیصلہ کیا تھا وہ اب مجھے نہیں کھو سکتی ہیں۔۔ میں کینڈا جیسے محفوظ ملک میں رہوں جہاں میں ان سے دور سہی مگر محفوظ اور زندہ تو رہوں گی۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیٹا تم ماں کی حالت نہیں سمجھ سکتیں مگر میں تمہاری دشمن نہیں ہوں ۔۔۔ تم جتنی دیر گھر سے باہر رہتی ہو جلے پیر کی بلی کی طرح تمہاری ماں چکراتی پھرتی ہر وقت دعائوں کا حصار باندھتی رہتی ہوں ۔۔ میرے پاس تمہارے سوا اب کچھ نہیں ہےاس ملک میں ہے کیا کبھئ بم دھماکے کبھی ٹرگٹ کلنگ۔ ۔۔۔ میں تمہیں کھو نہیں سکتی بیٹا۔۔۔ میں نے کتنی کوشش کی کہیں کسی دوسرے ملک کا رشتہ ڈھونڈنے کی مگر بالکل انجان لوگوں کو بھی تو نہیں سونپ سکتی تھی بیٹا۔پھر یہاں بھی خاندان میں تمہارے جوڑ کا کوئی ہے بھلا؟ میں بس سجاد یا صارم ہی ہےصارم بھی تمہارا دودھ شریک بھائی نہ ہوتا تو سوچ لیتے اسکے بارے میں
    ۔ بہرحال۔۔۔ سجاد بہت اچھا لڑکا ہے صاف دل اس نے ماں سے وعدہ لیا تھا سب بتا کر رشتہ طے کریں مجھے آپا نے سب بتا دیا تھا۔۔۔
    اسے پھر بھی تسلی نہ ہوئی خود تمہیں سب بتا دیا۔۔اتنا کھرا لڑکا ہے ۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوئی تم سے یہ سب چھپایا۔۔۔مجھے معاف کردو بیٹا۔۔۔ انہوں نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔
    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کو تکے گئ
    مگر یقین کرو میں سب تمہیں نکاح کے بعد بتانے والی تھی۔۔۔ تم پہلے اگر جان لیتیں تو منع کر دیتیں بس اس خوف نے تمہاری ماں سے یہ غلطی کروا دی ہے۔۔۔
    اسکی ماں ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے۔۔۔ رو رہی تھی مگر اسکا دل نہ پگھلا
    آپ چلی جائیں یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔
    اس نے سختی سے کہا۔۔ وہ لجاجت سے اسکا گال چھو کر بولیں
    میری بات
    چلی جائیں آپ یہاں سے مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔ وہ بلا لحاظ ہاتھ جھٹک کر چلائی۔۔۔
    امی مایوس سی ہو کر اٹھ گئیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اف میرے اللہ۔۔۔ اسکو گلے لگا کر رو ہی دی۔۔۔
    یہ کیا ہو گیا ہے اریزہ۔۔۔
    مجھے خود سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ کل میں بہت روئی ہوں ساری رات روتی رہی ۔۔۔ اریزہ کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
    تم طلاق لے لو۔ سنتھیا جزباتی انداز میں بولی۔
    اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ ۔۔۔ امی اسے گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر کچن سے نکل کر پکارتی آئیں اس نے صاف نظر انداز کیا اور دھپ دھپ کرتی سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔۔
    مرتضی کی صبح سے طبیعت تھوڑی بوجھل تھی سو جلدی گھر آگئے تھے سوچا تھا اریزہ کے آنے کا وقت ہے سو اکٹھے کھانا کھا لیں گے ۔۔۔ صفیہ کے پکارنے کی آواز سن کر وہ بھی باہر بکل آئے صفیہ روٹیاں ڈال رہی تھیں شائد اسے کھانے پر ہی روکنا مقصد تھا مگر اریزہ کو ماں کو صاف نظرانداز کرکے اوپر جاتے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے تھے۔۔۔
    کھا کے آئی ہوگی ۔۔ انہیں سیڑھیوں کو تکتا دیکھ کر وہ کھسیا کر بولیں۔۔۔
    آپ۔ہاتھ دھو لیں میں بس کھانا لگا رہی ہوں۔۔۔
    وہ سر ہلا کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
    ہاتھ دھو کر آئے تو صفیہ کھانا چن چکی تھیں میز پر اب بیٹھی انکے آنے کا انتظار کر رہی تھیں
    تم شروع کر لیتیں میں بس آہی رہا تھا۔۔
    انہیں ہمیشہ یہی جملہ کہنے کی عادت تھی صفیہ نے مصنوعی ناراضگی سے دیکھا
    کبھی کھایا ہے آپ سے پہلے ۔۔۔
    وہ ہنکارہ بھر کر خاموش ہو رہے۔۔۔ مٹر قیمہ بنا تھا انکا پسندیدہ۔۔۔ مگر اریزہ قیمہ شوق سے نہیں کھاتی ۔۔۔
    اریزہ مٹر قیمہ نہیں کھاتی تم اسکی پسند کا بنایا کرو کھانا۔۔۔انہوں نے ٹوک دیا۔۔ جبھی کھانے نہیں رکی۔۔۔ وہ یہی سوچ سکے۔۔
    الگ کر دیا ہے سادہ قیمہ بھی بھوک لگے گی تو کھا لے گی۔۔ صفیہ نے لاپرواہ انداز اپنایا۔۔۔
    بہت خاموش نہیں ہے کچھ دن سے دیکھ رہا جلدی سو بھی جاتی ہے صبح بھی جلدی چلی جاتی ہے۔۔۔
    کوئی بات ہوئی ہے کیا۔۔۔
    کیا ہونا۔۔ صفیہ گھبرا گیئیں
    بچی ہے نکاح ہو گیا ہے تھوڑا گھبرا گئی ہے بس ٹھیک ہو جائے گی پھر پڑھائی میں مصروف ہے امتحان ہونے والے ہیں۔۔۔ آپ ناحق فکرمند ہوتے ہیں۔۔۔
    اور لیں نا۔۔۔
    وہ بیوی کی رگ رگ سے واقف تھے اس وقت بھی ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہے تھے وہ گڑبڑا کر پانی کا گلاس منہ سے لگا گئیں اچھو سا ہوا ۔۔۔

    کامران ملا تھا مجھے آج بہت معزرت کر رہا تھا کہ نکاح میں شریک نہ ہو سکا۔۔۔ انہوں نے بات بدل دی
    ہاں بس بیوی آئی تھی یہ وہی کامران نا جو اریزہ کی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔۔۔ انہوں نے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصدق سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔
    ہمم ۔۔۔ انہوں نے ہنکارہ بھرا
    ۔۔۔بتا رہا تھا ایک بین القوامی تعلیمی ادارے نے پینتیس ممالک کے بچوں کے درمیان تحقیقی مقالا لکھنے کا مقابلہ کروایا تھا اور اس میں پاکستان سے دو بچے ٹپ ٹین میں شامل ہوئے ان میں سے ایک اریزہ بھی ہے۔۔۔
    ہاں ہاں دو مہینے پہلے کی بات ہے بتا تو رہی تھی سرٹیفیکیٹ بھی ملا تھا ڈرائنگ روم میں سجا ہے۔۔۔
    انہیں یاد آیا
    مجھے کیوں نہیں بتایا تھا؟ وہ تو ہر بار کوئی بھی انعام ملنے پر میرے پاس آتی ہے دکھانے۔۔۔
    وہ حیران تھے نوالہ پلیٹ میں ہی چھوڑ دیا۔۔۔ آج ریحان سے ملاقات نہ ہوتی تو مجھے پتہ بھی نہ چلتا۔۔۔
    وہ فورا اٹھ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے
    کھانا تو کھا لیں۔۔۔ صفیہ انکے اتائولے پن سے چڑیں پھر خود بھی انکے پیچھے چل پڑیں وہ بہت شوق سے سرٹیفیکیٹ پڑھ رہے تھے اولاد بھی کیا شے ہوتی لگ رہا تھا یہ انکی اپنی کامیابی ہے وہ بہت خوش ہو رہے تھے۔۔۔ صفیہ ٹوکتے ٹوکتے رہ گئیں
    جس دن آپا رشتہ لے کر آئیں تھیں اس دن خوش خوش آئی تھی پھر منگنی نکاح ان چکروں میں پھنس کر بھول بھال گئی ہوگی۔۔۔ انہوں نے بتایا تو وہ سر ہلا کر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ ۔۔ وہ بستر پر اوندھی لیٹی اپنے موبائل میں پرانی تصویریں دیکھ رہی تھی جب نیم وا دروازے سے ہلکی سی دستک کے ساتھ پاپا پکارتے ہوئے داخل ہوئے

    بابا آیئے۔۔۔ وہ فورا سیدھی ہو کر اٹھ بیٹھی
    کیسی طبیعت ہے بیٹا ۔۔۔
    وہ اسکے قریب ہی بستر پر آکر بیٹھ کر فکر مندی سے پوچھ رہے تھے
    ٹھیک ہوں پاپا مجھے تو کچھ نہیں ہوا۔۔۔ وہ حیران ہوئی
    میری بیٹی کئی دن سے چپ چپ ہے کوئی بات ہے تو بتائو مجھے۔۔۔ انہوں نے اسکی آنکھوں میں جھانکا
    کچھ نہیں پاپا ہٹی کٹی تگڑی ہے آپ کی بیٹی۔۔۔ اس نے پینترا بدل لیا خوب شرارت سے ڈولے بناتی ہنس دی
    ماشاللہ سے ۔۔۔ انہوں نے بے ساختہ کہا تھا وہ مسکرا دی
    اچھا میں مبارکباد دینے آیا تھا میری بیٹی نے زندگی میں پہلی بار ایسا کیا کہ کوئی مقابلہ جیت کر آئی اور باپ کو نہیں بتایا۔۔۔
    اب انعام دینے کا تو دل کر نہیں رہا میرا ۔۔۔وہ منہ پھیر کر بیٹھ گئے
    بابا ۔۔ سوری۔۔ وہ انکے کندھے پر جھول گئی
    کان پکڑ کے والا پکا والا سوری۔۔۔ بس وہ اس سب ہنگامے میں ۔۔۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوگئ
    انہوں نے اپنی مصنوعی ناراضگی ختم کی اور مڑ کر اسکی پیشانی چوم لی
    مجھے تم پر بہت فخر ہے بیٹا ہمیشہ کامیاب رہو اور بلند مقام پائو۔۔۔
    انکی دعا پر قسمت اور اریزہ دونوں استہزائیہ ہنس دیئے
    یہ میں تمہارے لیے لایا ہوں ۔۔ انہوں جیب سے ایک پیارا سا بریسلٹ نکال کر دیا
    واہ یہ تو بہت پیارا ہے۔۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔۔۔ وہ پیار سے اسے تکتے رہے اس نے فورا کلائی میں پہن بھی لیا اور گھما گھما کر دیکھنے لگی
    اسے دیکھتے دیکھتے انہیں خیال آیا
    بیٹا تمہاری اسکالر شپ کا کیا بنا پوچھا تھا تم نے سجاد سے؟
    اسکے بریسلٹ گھماتے ہاتھ لمحہ بھر رکے پھر خود کو لاپروا ظاہر کرتی بولی
    نہیں اور اب ضرورت بھی نہیں ہے میں یہاں پڑھ تو رہی ہوں کیا فائدہ دوسرے ملک جانے کا کھڑاگ پالنے کا۔۔۔
    منع کر دیا ہے سجاد نے۔۔۔ وہ پرسوچ انداز سے دیکھ رہے تھے
    نہیں بابا ان کو اعتراض نہیں بس میں کونسا اکیلی اتنی دور آپ سب کے بغیر رہ سکتی۔۔۔ اور ملک بھی کونسا بڑا مشہور ہے۔۔۔ چھوڑیں۔۔ اس نے اپنی طرف سے بات ختم کر دی تھی
    مگر میرا بیٹا اس وقت تو بہت پر جوش تھا جانے کیلیئے تمہاری امی نے روکا ہوگا ہےنا
    ۔۔۔ وہ ٹٹول رہے تھے۔
    نہیں پاپا بس ہونہی اب موڈ بدل گیا۔۔۔
    میں خود بات کروں گا تمہاری امی سے۔۔ سجاد ابھی تو یہیں ہے اگلے ہفتے جا رہا ہے انکی دعوت کیلئے بلاوے کا فون کروں گا تو اس سے لگے ہاتھ پوچھ لوں گا تم فکر مت کرو وکیل ہوں منوا لوں گا اس سے بس تم جانے کی تیاری کرو ۔۔۔
    رہنے دیں پاپا۔۔ کوئی فائدہ نہیں چھوڑیں
    اس کی بے دلی ان سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔
    مجھے کل کامران ملا تھا دفتر آیا تھا کسی کام سے بتا رہا تھا اسکالر شپ پر تمہارے شعبے کی کوئی لڑکی جانے کو تیار نہیں جبکہ تمہارا نام آرام سے اسکالر شپ میں آجانا ہے وہ بتا رہا تھا کہ ایچ او ڈی خود دلچسپی لے رہے تھے کہ اگر تمہارے والدین کو وہ خود بات کرکے راضی کر سکیں مگر تم نے صاف انکار کر دیا کیون بیٹا۔۔۔ میں کیا اتنا تنگ ذہن باپ ہوں؟ مین نے کبھی تم میں اور حماد میں فرق نہیں کیا بیٹا۔۔۔
    مین جانتی ہوں پاپا۔۔۔ اس نے سر جھکا لیا
    بس آپ لوگ اکیلے ہو جائیں گے میں بھی چلی گئی تو ۔۔۔
    یہی سوچ کر۔۔۔
    اور کیا سوچیں گے کوریا والے ہم اپنی بیٹیوں کو اعلی تعلیم نہیں دلاتے یا ہماری بیٹییان نالائق ہیں ۔۔۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں منہ پھلا کر دیکھ رہے تھے وہ انکے انداز پر ہنس پڑی۔۔
    ہر گز نہیں پاکستانی لڑکیاں سب کچھ کر سکتی ہیں میں جا کر کوریا والوں کو بتائوں گی۔۔۔
    ڈیل ۔۔۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا
    ڈیل۔۔۔ وہ بھی ہنس دی۔۔۔
    اور مجھے کینڈی کرش کی ریکویسٹ تو بھیج دو کب سے پانچ سو بیالیسویں لیول پر اٹکا ہوں ۔۔۔
    وہ ہونٹ نکال کر بے چارگی سے بولے
    واقعی؟میرے خدا۔۔۔ وہ حیران رہ گئ
    آپ مجھ سے دو سو لیول آگے ہیں پاپا۔۔۔
    دیکھ لو تمہارا باپ کتنا ٹیلنٹڈ ہے۔۔۔ وہ اترائے۔۔۔
    دروازے پر ابھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر صفیہ نے جھانکا دونوں کو خوشگوار موڈ میں گپ شپ کرتے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔۔۔انہیں ہر دم دھڑکا لگا تھا کہیں اریزہ باپ سے کچھ کہہ نہ دے۔۔ اور اریزہ نہ بھی کہتی ان سے یہ حقیقت کتنی ہی کوئی دیر چھپی رہ سکتی تھی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیول کی شام سے بہتر یا خوب صورت بھی کوئی دنیا کی شے ہو سکتی ہے۔۔۔ اس نے ڈوبتے ہوئے سورج کو بغور دیکھا وہ اس وقت ہنگن دریا کے کنارے موجود تھا۔۔ اکثر اکیلے ہی وہ یہاں آیا کرتا تھا شام سے کچھ پہلے سورج کو ڈوبتا دیکھتا رہتا۔۔۔ ہر بار اسے لگتا سورج اسے کچھ کہہ کر جاتا ہے جیسے آج اسے کہہ رہا تھا
    گما وویو
    کیوں اس نے سورج سے اس اچانک شکریہ ادا کرنے کی وجہ پوچھی
    روز ہی تقریبا آجاتے ہو دیکھنے مجھے ڈوبتے لگتا میں دنیا سے انوکھا کام کرتا جو روز مجھے کوئی آجاتا ہے دیکھنے ۔۔۔ ایویں سلیبرٹی سلیبرٹی سی فیل آتی ۔۔ اس نے شرارت سے کہا۔
    ہایون ساختہ ہنس دیا
    اس سے کچھ فاصلے پر اسیکیچ بک پر منظر نگاری کرتی اس لڑکی نے ہنسی کی آواز پر مڑ کر دیکھا
    وہ ایک چندی آنکھوں والا خالص کوریائی خدو خال والا دراز قد گورا سا لڑکا تھا بے ساختہ ہنسنے پر اسکے چھوٹے سے دہانے سے جھانکتے ایک قطار میں سجے موتیوں جیسے دانت سورج کی پڑتی کرنوں سے دمک اٹھے تھے۔۔۔ وہ اپنے آپ میں مگن تھا تو ہنسا کیوں ۔۔۔ اس نے اسکی مطمئن ہنسی کو یونہی قائم رہنے کی زیر لب دعا دے ڈالی
    اور دوبارہ بک میں نقش بنانے میں مگن ہوگئ
    یہ ایک منظر تھا جو بنتا جا رہا تھا
    ایک چھوٹا سا گھر اسکے آگے کھیت اور دور کہیں سے ڈوبتا سورج مگر کھیت ہل چلانے کے بعد جو زمین پر لکیریں پڑ جاتیں ہیں ویسا تھا یعنی ابھی بیج بونے کا عمل باقی تھا۔۔۔
    کیا اگائوگی اس میں۔۔۔
    کوئی اسکے قریب اچانک سے انگریزی میں بولا وہ بری طرح ڈر گئ۔۔ مخاطب کوئی غیر ملکی تھا نقوش سے امریکی لگتا تھا۔۔ اسے اسکے یوں ڈر جانے کی امید نہیں تھے سو فورا معزرت کرنے لگا
    معزرت میرا مقصد ڈرانا نہیں تھا
    میں بس ابھی آیا تم تصویر بنا رہی تھیں تو رک کر دیکھنے لگا کھیت اچھا ہے مگر سر سبز زیادہ اچھا لگے گا تم اس پر کونسی فصل بونا چاہوگی ؟
    وہ بہت دلچسپی سے اسکی بنائی تصویر دیکھ رہا تھا
    اس پر بارود بویا جا چکا ہے اب بس تباہی لہرا سکتی یہاں۔۔۔
    وہ ہنگل میں بولی تھی
    نیور مائنڈ مگر یہ واقعی اچھی ہے تم میں ٹیلنٹ ہے کیپ اٹ اپ۔۔۔
    اس کو لگا تھا وہ انگریزی نہیں جانتی جبھی بات سمجھانے کیلیئے اس نے اشاروں کنائوں سے کام لیا
    انگوٹھے اور شہادت کی انگلی ملا کر زبردست کا اشارہ کیا وہ جوابا مسکرا دی اور دوبارہ تصویر پر جھک گئ۔۔۔ امریکی نے جیب سے یوآن نکال کر اس کے سامنے دھرے ۔۔۔ اس نے حیران ہو کر پیسے اٹھائے اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
    یہ انعام ہم جب امریکہ میں ساحل پر کسی کو ایسا کرتے دیکھتے تو حوصلہ افزائی کیلیے کچھ پیسے دیتے ۔۔ دونوں ہاتھوں کو چلاتا بازو پھیلا پھیلا کر اسے اپنی بات سمجھانے کی کوشس کرتا وہ کافی مزاحیہ لگ رہا تھا وہ ہنس دی
    تھینک یو۔۔۔ اس نے مسکرا کر قبول کر لیے تھے وہ بھی جواب میں اس سے زیادہ خوشی سے اس کے قبول کر لینے کا شکریہ ادا کرتا پلٹ گیا
    ایکسکیوز می آر یو امیرکن
    اسے جانے کیا خیال آیا اس نے پکار کر پوچھا وہ چلتے چلتے ہی پلٹ کر اسے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا پھر بائے بائے کہتا ہاتھ ہلاتا آگے بڑھ گیا
    اس نے بھی مسکرا کر ہاتھ ہلا دیا
    اپنے ہی الفاظ اسکے کانوں مین گونجے
    اگر چھے کمینے امریکی سامنے کھڑے ہوں اور تم بندوق اٹھا کر چار کمینے امریکیوں کو مار دو تو کتنے کمینے امریکی بچیں گے ؟
    دو کمینے امریکی۔۔۔
    اس نے سر جھٹکا سورج ڈوب چکا تھا فضا میں اندھیرا اور شام کی خنکی پھیل رہی تھی وہ اپنا بیگ اٹھا کر پائوں جھاڑتی اپنے جوتے پہننے لگی
    یونہی خیال آیا تو مڑ کر اس دراز قد کو دیکھنا چاہا مگر اب وہ کونا خالی تھا وہ شائد ڈوبتے سورج کا منظر دیکھ کر جا چکا تھا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا کی برتھ ڈے پارٹی تھی اس کو رات کو سرپرائز دینا تھا سب اسکے اپارٹمنٹ پر دھاوا بولنے والے تھے۔۔۔ یون بن ہایون کم سن تینوں سب کو اکٹھا کرکے اوپر جاتے سو عمارت کے باہر ساز و سامان کے ساتھ آٹھ لڑکے لڑکیاں تھےجمع تھے
    پتہ چلے وہ اوپر کھڑکی سے جھانک رہی ہو سارا سرپرائز دھرا رہ جائے۔۔۔
    ہایون نے خیال ظاہر کیا۔۔۔
    نا ممکن ۔۔یون بن نے قطعی انداز میں کہا
    میں نے اسے کہا ہے کہ میں گائوں جا رہا ہوں پرسوں لوٹوں گا تو اسے غصہ آگیا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کیا مجھے یاد ہے آج کیا تاریخ تو میں نے معصوم سے انداز میں بتا دیا اس نے جواب میں مجھے دفع ہو کہہ کر فون بند کر دیا تھا یہ اس کے غصے کی شروعات تھی۔۔۔ پہلے وہ کمرے میں پیر پٹخ پٹخ کر چکر کھا رہی ہوگی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوووف آہش۔۔۔ وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے غصے میں بھوک بہت لگتی سو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یون بن ہنسا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے دھڑ سے فریج کھولا اور کمچی فرائڈ رایس کا بائول نکالا اور اسی میں شروع ہو گئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھا پی کر اب منہ بسور کر مجھے کوسے گی۔۔۔۔
    یون بن کے کہنے پر کم سن نے اسے ذرا غور سے دیکھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زہریلے انسان مر جائو ایک برتھ ڈے تک یاد نہیں آٹھ سال ہو رہے تم پر بھی لعنت ہو گوارا ابھی تک ہائی اسکول کے بوائے فرینڈ پر اکتفا کیے ہوئے ہو۔۔۔۔

    وہ نوالے چباتے ہوئے گالیاں دے رہی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا زیادہ دیر خود کو برا بھلا نہیں کہہ سکتی وہ خود سے بہت پیار کرتی ہے سو اب تک بستر پر گر کر لمبی تان کر سو چکی ہوگی۔۔۔
    یون بن نے ہاتھ جھاڑے۔ کم سن نے سر اٹھا کر اوپر فلیٹ کو دیکھا جس کی۔بتیاں بجھی ہوئی تھیں
    اور اگر وہ اس وقت اپنے فلیٹ کی بجائے ڈورم میں ہوئی تو ؟
    یہ۔کم سن تھا۔
    جی ہائے ہمارے ساتھ ہے احمق۔
    یون بن کے چڑ کر کہنے پر وہ سب کھل کر ہنسے۔۔کم سن سر کھجانے لگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا کے ہلکے یلکے خراٹے گونج رہے تھے کمرے میں۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہعنی ہم دروازہ بجا بجا کر مر جائیں گے اور وہ سوئی پڑی رہے گی سمجھو غارت ہوا آج کا پلان۔۔۔
    یہ کم سن نے اظہار خیال کیا۔۔۔
    مت مرو مجھے اسکے فلیٹ کا سیکیورٹی پاسورڈ معلوم ہے ہم اسکو اسکے بیڈروم میں جا کر ڈرا کر جگائیں گے۔۔۔
    یاااااہہہہ
    جون تائی اور دیگر نے خوفناک ہیلووین ماسک نکال۔لیے تھے
    یہ کچھ زیادہ ہے وہ ڈر جائے گی ۔۔۔ کم سن کو فورا فکر ہوئی
    ہم اسے ڈرانا ہی چاہتے۔۔۔ جون تائی بے فکر تھا
    ہایون کو بھی یہ آئیڈیا کچھ پسند نہیں آیا
    مجھے بھی مناسب نہیں لگ رہا اس وقت رات کے بارہ بجے کسی کو سوتے سے جگا کر وش کر دینا ہی بہت بڑا سرپرائز ہے یہ ڈرائونے ماسک پہن کر ڈرانے کی کیا ضرورت۔۔۔
    اسکی بات سے کوئی متفق نہیں تھا سب شور کرنے لگ گئے۔۔۔
    چلو چلو بارہ بج رہے ہیں ۔۔۔ سب بھاگتے ہوئے اندر داخل۔ہوئے سب شاپر وغیرہ پکڑے تھے ہایون نے آگے بڑھ کر لفٹ کا بٹن دبایا دو تین بار دبایا تب کھلاکم سن کے ہاتھ میں کیک تھا مورگن ڈیکوریشن تھامے تھا سو چن کے۔۔۔ ہاتھ میں ماسک تھامے تھا باقی سب ساتھ لائے گفٹس بکے تھامے تھے جون تائی کا ہاتھ بھی خالی نہیں تھا خالی ہاتھ تھا تو بس ہیونگ سک۔۔۔
    اس نے گھبرا کر جیب ٹٹولی۔۔۔ کیا ہوا لفٹ نیچے آچکی تھی پہلی شفٹ سوار ہو رہی تھی۔۔۔
    گفٹ تو لایا نہیں تھا کار کی چابی کیا کی؟
    گاڑی میں لگی چھوڑ دی خیال روح فرسا تھا
    وہ فورا پلٹا اسے بھاگنے کو تیار دیکھ کر کم سن نے آواز لگائی
    کدھر جا رہے ؟
    چابی بھول گیا آتا ہوں ۔۔۔ اس نے بھاگتے بھاگتے بتایا۔۔۔
    چوتھے فلور پر آجانا چودہ نمبر فلیٹ ہے۔۔
    کم سن نے زور دار آواز سے کہا تو اس نے سر ہلا دیا۔۔۔
    باہر پارکنگ میں دوڑ کر آتے سانس پھول چکی تھی چابی گاڑی کے دروازے کے نیچے پڑی تھی۔۔۔ شکر۔۔۔ اس نے اندر لاک نہیں کر دیا تھا۔۔۔ اس نے جلدی سے چابی اٹھائی گاڑی پر سرسری نظر ڈال کر اطمینان کرتا ہوا خراماں خرامان چلتا ہوا واپس آیا۔۔۔
    سب جا چکے تھے وہ کندھے اچکاتا لفٹ میں داخل ہوا تبھی سامنے سے ملگجے اندھیرے میں اسے محسوس ہوا کوئی بھاگتا ہوا آرہا تھا۔۔۔ وہ چودھویں فلور کا بٹن دبا چکا تھا دروازہ بند ہونے کو تھا اس نے آنے والے کے خیال سے پائوں اڑا کر دروازے کو بند ہونے سے روکا۔۔۔
    بھاگتے بھاگتے سایہ قریب آیا۔۔ آنے والی لڑکی تھی۔۔ ہلکے گلابی لانگ اسکرٹ سفید بلائوز میں ملبوس تیزی سے اندر آتےہوئے اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئ۔۔۔ ہایان نے نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا وہ دروازے میں کھڑی تھی لفٹ کا دروازہ دو بار بند ہوتے ہوتے رکا تھا۔۔۔ اس نے اسے حیرانی سے دیکھتے اسکے سامنے ہلکے سے چٹکی بجائی۔۔۔ وہ جیسے ہوش میں آئی پھر سر کے اشارے سے معزرت کرتی اندر داخل ہو گئی اسکی منزل بھی شائد چودھواں فلور تھی ایک نظر بورڈ کو دیکھ کر اس نے انتخاب کیلیے اٹھایا ہاتھ نیچے کرلیا
    وہ ایک نظر اسے دیکھ کر اپنا موبائل نکال کر مگن ہو گیا۔۔۔ یونہی اسکو خود پر جمی نظر کا احساس ہوا تو سر اٹھا لیا وہ لڑکی اسے شائد بے خیالی میں دیکھے جا رہی تھی گڑبڑا کر رخ پھیر گئ
    وہ اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا تبھی لفٹ رک گئ اور لفٹ کی لائٹ بند ہو گئ
    ہا ہ آہ۔۔۔ وہ۔لڑکی شائد ڈر گئی تھی اسکے منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز نکل رہی تھی جیسے وہ چیخنا چاہ رہی ہو مگر چیخ نہ پارہی ہو۔۔
    اطمینان رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ پریشان تو وہ بھی ہوا تھا

    مگر لڑکی کو شائد لفٹ سے کوئی فوبیا تھا
    بات سنیں ریلکس کریں ابھی لفٹ ٹھیک ہو جائے گی۔۔ وہ کہہ رہا تھا مگر لڑکی سن بھی نہیں رہی تھی اس نے موبائل کی لائٹ فورا آن کر لی تھی وہ لڑکی اکڑوں بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے سسک رہی تھی
    تین سے چار منٹ کا وقفہ پڑا تھا لفٹ کی لائٹ دوبارہ جل اٹھی تھی۔۔
    دیکھئے آگئ لائٹ۔۔۔
    لفٹ میں کوئی ہے۔۔۔ انتظامیہ سے اعلان ہو رہا تھا اس نے ایمرجنسی بٹن دبا دیا
    ہاں ہم دو لوگ ہیں ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کر اسپیکر میں پیغام دیا
    گھبرائے مت ہم یہیں ہیں تھوڑا سا پاور کٹ تھا ہم جلد سے جلد خرابی دور کر کے آپ کو نکال لیں گے ۔۔۔ آپ پلیز ہم سے بات کرتے رہیے۔۔
    ہاں ہاں میں موجود ہوں
    آپ زخمی تو نہیں۔۔۔ آپریٹر کے پوچھنے پر وہ مڑ کر دیکھنے لگا
    کہیں جھٹکا لگنے سے گر ور تو نہیں گئ جو رو رہی اسے خیال آیا۔۔۔ جھٹکا بہت زور کا نہیں تھا مگر تھا تو وہ ابھی بھی گھٹنے میں منہ دیے تھی
    میں تو ٹھیک ہوں
    میں اس لڑکی سے پوچھتا ہوں۔۔۔
    وہ اسکے سامنے اکڑون بیٹھ گیا
    سنو اوپر دیکھو۔۔۔
    دیکھو لائٹ بھی آگئ اور لفٹ بھی ٹھیک ہو رہی
    ۔۔۔ اسکے دھیرے سے کہنے پر اس نے آہستہ آہستہ سر اٹھا کر اپنے گرد پھیلی روشنی کو دیکھ کر اطمینان کیا۔۔۔
    تبھی لفٹ کو زوردار جھٹکا لگا اس لڑکی نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔
    وہ الٹ کر پیچھے گرتےگرتے بچا تھا۔۔۔
    گوما وویو۔۔۔ شکریہ
    لفٹ پرسکون ہو چکی تھی۔۔۔
    دروازہ کھل رہا تھا۔۔۔
    آپ دونوں سے گزارش ہے لفٹ جس بھی منزل پر رکی ہے آپ لفٹ سے باہر آجائیں اور سیڑھیوں کا استعمال کیجئے آپ کو تکلیف دینے کیلیے معزرت خواہ ہیں برائے مہربانی جلدی کیجئے۔۔۔
    وہ لڑکی تھر تھر کانپ رہی تھی اسے اب احساس ہوا اس لڑکی نے اسے بچانے کیلیے نہیں بلکہ خود خوفزدہ ہو کر اسکا ہاتھ تھاما تھا
    چلیں باہر نکلنا پڑے گا ہمیں وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اسے بھی سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔ لڑکی کا بیگ شانے سے اتر کر گرنے کو تھا اس نے اسے بھی پکڑ لیا
    جلدی کیجئے اور لفٹ سے باہر نکل آیئے۔۔
    آپریٹر انہیں سی سی ٹیوی سے دیکھ رہا تھا
    ہم نکل رہے ہیں وہ کہتا ہوا باہر نکلا لڑکی ابھی بھی مکمل اسکے سہارے پر تھی۔۔ اس نے اسے سامنے سیڑہیوں پر بٹھایا۔۔ پھر ادھر ادھر دیکھا تو دور چلر نصب نظر آیا۔۔۔ وہ تیزی سے اس کی طرف لپکا ایک گلاس بھر کر پہلے خود پیا۔۔۔ سچی بات دل اسکا بھی قابو سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔
    یہ گیارہواں فلور تھا۔۔۔ وہ پانی بھر کر گلاس لے کر آیا تب تک لڑکی آنسو وغیرہ پونچھ چکی تھی۔۔۔
    شکریہ۔۔۔ اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر وہ ایک سانس میں پی گئ تھی۔۔۔
    آپ کو کس فلور جانا ہے ۔۔۔ وہ پانی پی کر اٹھ کھڑی ہوئئ۔۔
    فورٹین۔۔۔ دھیرے سے بولی۔۔
    ہیون جونگنے بہت دلچسپی اسکے گھبرائے روپ کو دیکھا تھا۔۔۔
    اپنے ہی الفاظ کان میں گونج گئے
    لڑکی ایسی ہو نازک سی کہ اسکی ڈھال بن جانے کو دل چاہے ۔۔
    وہ لڑکی اسکے غور سے دیکھنے پر گھبرا گئ۔۔۔
    ہایون چونکا۔۔۔
    میں بھی وہیں جا رہا ہوں چلیے اکٹھے چلتے ہیں ۔۔ اس نے کہا تو لڑکی اثبات میں سر ہلا کر اسکی پیروی کرنے لگی۔۔۔ وہ اس سے ایک قدم پیچھے چل رہی تھی چودھویں فلور پر وہ بنا ایک لفظ کہے دائیں جانب تیز تیز چلتی چلی گئ۔ہیون نے سامنے والے فلیٹ کے نمبر سے اندازہ لگایا اسے بائیں جانب مڑنا تھا نویں فلیٹ کے سامنے سب جمع اسے گھور رہے تھےاس نے مڑ کر دیکھا تو وہ لمبی سی راہداری کے آخری فلیٹ میں داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
    کہاں رہ گئے تھے تم ؟ یون بن جھنجھلا کر دبی دبی آواز میں پوچھ رہا تھا
    اس کم سن نے ہمیں اندر بھی جانے نہیں دیا ۔۔۔ جب تک ہیون نہیں آتا نہ جائو۔۔ کسی لڑکے نے چڑ کر کہا
    یار لفٹ بند ہو گئی تھی ۔۔۔
    ہیں کیا۔۔۔
    تم ٹھیک تو ہو۔۔۔ سب فکر مند ہوئے
    میں ٹھیک ہوں اس نے اطمینان دلایا بارہ بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے
    چلو اندر وقت ضائع نہ کرو۔۔ چلو اس نے جلدی مچائی تو یون بن نے بھی ہاں ہاں کرتے آگے بڑھ کر پاسورڈ لگا کر دروازہ کھولا۔۔
    فلیٹ ملگجے اندھیرے میں ڈوبا تھا۔۔۔
    یہ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کرتے سیدھا گوارا کے کمرے میں داخل ہوئے یون بن سب سے آگے تھا۔۔۔
    ماسک لگا کر اس نے گوارا پر جھکتے دھیرے سے گوارا کا کندھا ہلایا۔۔
    گو ارا۔۔۔
    گوارا ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔
    گوارا اس نے اس بار زور سے ہلایا گوارا بے سدھ تھی یون بن کی شرارت تشویش میں بدل رہی تھی ۔۔۔
    گوارا۔۔۔ اس نے پریشانی سے کہا
    گوارا اس بار وہ چیخ پڑا تھا۔۔۔
    گہرا گاڑھا سیال گوارا کی۔گردن سے بیڈ تک آرہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام ۔۔۔
    جاری ہے

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist? Rate us

    Rating
  • Salam Korea Episode 1

    Salam KOREA

    by vaiza zaidi

    قسط ایک

    اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کے بیچ اس گہری گھاٹی میں  تاحد نگاہ برف کا طوفان تھا جس میں راستہ

    ڈھونڈتا وہ چھے سال کا بچہ بلک بلک کر روتے ہوئے پکار رہا تھا۔

    سن۔۔ سن۔۔ 

    اسے اسکی ماں کی آواز بہت دور سے سنائی دی تھی۔ 

    ماما۔۔ وہ حلق کے بل چلایا۔ مگر تند و تیز ہوائوں میں اسے اپنی آواز خود بھی نہ سنائی دے سکی۔۔ 

    سن۔۔ سن۔۔ 

    اسکی ماں بے تابئ سے پکار رہی تھی۔ 

    ماما۔۔ ماتوشکا۔۔۔ 

    وہ طوفان کی پروا کیئے بنا بھاگا۔ اسکے ننھے پائوں برف میں پھنس گئے وہ منہ کے بل گرا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1 جنوری 2017

    اسکو سوتے ہوئے ذور کا جھٹکا لگا تھا جس سے اسکی آنکھ کھل گئ تھئ۔ وہ اپنے نرم گرم بستر میں کمفرٹر میں ملفوف تھا۔ اس نے حیرت سے اپنے اوپر پڑے اس موٹے کمفرٹر کو گھورا۔اتنئ تمیز سے نیو ائیر پارٹی کرنے کے بعد جب وہ مکمل ہوش کھو چکا تھا اسے شک تھا کہ وہ خود کو ڈھانپ کے یوں سو سکتا ہے۔ اس کے سر میں دھماکے ہورہے تھے۔ اس نے سر تھامتے رات کا منظر یاد کرنے کی کوشش کی۔ 

    اسے ٹیکسئ ڈرائور کندھے سے لگائے سہارا دیئے لایا تھا گھر تک۔ اس نے گھر کے اندرونی داخلی راستے کے دروازے پر اسے شکریہ کہہ کر واپس بھیجا تھا۔ نہیں بلکہ اسے کرائے کیلئے ایک بڑا نوٹ نکال کر دیا تھا۔ جوابا وہ اپنی جیبیں ٹٹولتےہوئے اسکو یقینا بقیہ رقم واپس کرنے والا تھا۔ 

    آنیا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔ 

    رکھ لو بقیہ۔ 

    اسکے یوں فراخدلی سے نوٹ وارنے پر وہ سانولا سا جنوبی ایشیائئ نقوش کا نوجوان ایکدم خوش ہوگیا تھا۔ اسکے چہرے پر چھاتئ خوشی اسے بھی خوش کر گئ تھئ۔ 

    گھمسامنیدہ۔ خالص کوریائی انداز میں آدھا جھک جھک کر اس نے شکریہ ادا کیا تھا۔ جوابا وہ حسب عادت مسکرایا۔

    اسکی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ چندی آنکھوں کھڑی ناک چھوٹا سا دہانہ جس میں قطار سے برابر موتیوں جیسے چھوٹے چھوٹے دانت جن میں کسی قسم کی سرجری کا کوئی کمال نہ تھا۔ شائد روسی جینیات کا تحفہ تھا۔ بھورے بال اور کھڑے کھڑے نقش کورین نقوش کے امتزاج کے ساتھ۔سفیدبرف سی شفاف رنگت اونچا لمبا قد چھے فٹ سے بھی دو انچ اوپر۔ وہ بے حد وجیہہ تھا اس پرسونے پر سہاگہ ایک مکمل مسکراہٹ۔جس پر اسکول کے زمانے سے اس پر لڑکیاں کرش رکھنے پر مجبور ہوجاتی تھیں۔۔۔ اس مسکراہٹ کے اسکے چہرے پر بکھر آنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ وہ یونہی راہ چلتے بھی کسی کو اپنی جانب حیرت سے تکتے پا کر مسکرا دیا کرتا تھا۔ ابھئ بھی مسکرا کر اندر کا رخ کیا۔ حسب معمول گھر بھائئیں بھائیں کر رہا تھا۔ بڑی سی راہداری کے بعد لائونج اوپن کچن  دائیں  جانب لونگ روم تھا ۔۔پرتعیش سامان سے سجا بلکہ تنا ہوا۔۔دوسری جانب اوپر جانے کی سیڑھیاں جنہیں وہ لڑکھڑاتے قدموں سے گزارتا اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا۔ نہیں سیڑھیوں کے پاس آرائشی اسٹول پر رکھا وہ بت جس پر چینی ڈریگن بنا ہوا تھا۔پھن نکال کر آگ برسانے کو تیار منہ کھولے سرخ سا  جسکی آنکھیں میں شرارے تھے۔۔ 

    اس نے اٹھا کر دیکھا۔۔ 

    تم یہاں کیسے آئے ؟ 

    اس نے سنجیدگئ سے پوچھا تھا مگر جواب نہ ملا۔ وہ ڈریگن یونہی شعلہ اگلتی نگاہوں سے گھورتا رہا۔

    اسے احتیاط سے واپس رکھ کر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ سست روی سے ۔۔۔ وہ مکمل مدہوش نہیں تھا۔ پھر بھی اپنے کمرے میں آتے ہی وہ دھپ سے بیڈ پر گر کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگیا تھا۔ تبھئ کسی نے اس پر کمفرٹر ڈال کر اسکے جوتے اتارے اور اسکی ٹانگیں احتیاط سے بیڈ پر درست کیں۔ 

    آنیا۔ مجھے ٹیڑھا ہی سونا ہے۔ 

    اس نے احتجاج کرنا چاہا مگر بڑبڑا کر رہ گیا۔۔ جوابا اسےنسوانی ہنسی سنائی دی تھی۔ 

    پھابو۔ 

    کون ہو سکتا۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔

    نونا۔ وہ چونک کے اٹھ بیٹھا۔۔۔ 

    اس وقت کمرے میں پردے برابر تھے باہر یقینا کہرا تھا جبھئ کمرے تاریک شام کا منظر پیش کر رہا تھا۔اس نے سائیڈ لیمپ جلایا۔سائیڈ ٹیبل پر رکھی ڈریگن کی شکل کی ہی گھڑی پانچ بجے کا وقت دکھا رہی تھئ۔ 

    پانچ۔ اسے کرنٹ سا لگا۔ 

    یہ یقینا شام کے پانچ تھے۔صبح کے پانچ بجے کا وقت اسکے نائٹ کلب میں صوفے پر اوندھے پڑے گزرا تھا۔ اسکا موبائل چارجنگ پر لگا تھا اس نے نکال کر دیکھا۔ 

    نیا سال مبارک۔۔

    مبارکبادوں سے اسکا کاکائوچیٹ انباکس بھرا پڑا تھا۔ سب پیغام گزار کر اس نے سب سے پہلے 12 بجنے سے بھی ایک منٹ پہلے والا پیغام پڑھا۔

    نیا سال اور ہر آنے والا سال تمہیں  ہمیشہ پچھلے سے ذیادہ خوش اورمطمئن کرے آمین۔ 

    نوناکا پیغام اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔ سونگیون کا پیغام تھا۔۔ رات کے کھانے پر ریستوران آنے کی یاددہانی تھئ۔ 

    اسے یاد تھا مگر آج ٹن ہوکے ساری دوپہر گزرگئ تھی سوتے۔ سو تازہ دم ہونے کیلئے وہ بستر چھوڑتا سیدھا نہانے گھس گیا تھا۔ نہا دھو کر تازہ دم ہو کر وہ نیچے چلا آیا۔ اوپن کچن میں ملازمہ اسکی جانب پشت کیئے اسٹو پر کچھ گرم کر رہی تھی۔ اس نے اس پر توجہ دیئے بنا فریج کھولا۔ اورنج جوس نکال کر اوپن کچن کے داخلی حصے پر بنی دلکش سنگئ میز پر لا رکھا۔ گلاس اس پر سجے ہوئے تھے۔ 

    اس نے گلاس اٹھا کر اس میں جوس کا گلاس بھرا۔۔ کنپٹی میں درد کی شدید لہر اٹھی تھئ۔ اس نے آنکھیں میچ کر کنپٹی اپنے انگوٹھے کی مدد سے سہلائی۔ 

    نئے سال کی آمد کا رات بھر جشن منانے والوں کے سر میں   نئے سال کی صبح میں دھماکے ہی  ہوتے ہیں۔۔اور انکے لیئے اورنج جوس سے ذیادہ فائدہ مند ہینگ اوور سوپ ہوتا ہے۔ 

    اسکے عقب سے آواز آئی تھی۔مانوس آواز وہ بے ساختہ مڑا۔ 

    سوپ کا پیالہ میز پر رکھتی وہ مسکرادیں۔ 

    نونا آپ کب آئیں۔ وہ خوشی سے کہتا ان سے لپٹ گیا

    کل۔۔ اور تم رات بھر گھر ہی نہیں آئے۔ وہ مصنوعی خفگی سے بولیں۔

    نیو اییئر نائٹ گھر پر کون گزارتا۔۔ 

    وہ جتانے والے انداز میں بولا

    میں۔وہ کھلکھلائیں۔

    جوابا وہ کان کھجانے لگا۔

    تمہارے لیئے سوپ بنایا تھا صبح مگر تم اٹھے ہی نہیں ابھی اٹھانے آئی کمرے میں توتم نہانے گھسے تھے۔ سو میں نے گرم کردیا۔ 

    بس ایک ہی سوپ کا پیالہ تھا جو وہ اسکی جانب کھسکا چکی تھیں۔ وہ جوس کا گلاس چھوڑ کر سوپ پینے بیٹھ گیا۔ گنگشن نے پیار سے اسکو دیکھا۔۔۔

    کیا حال ہے چینیوں کا۔۔ 

    اس نے برسبیل تذکرہ پوچھا۔ 

    کوئی حال نہیں۔ ویسے ہی سخت دل خشک اور سرد مزاج ہیں جیسے پہلے تھے۔ گہری سانس لیکر وہ بولیں۔ 

    آپکے کورینوں کو ضرورت کیا ہے انکے پاس جانے کی۔بن بلائے مہمانوں کا سواگت کون کرتا ہے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں انہیں چھیڑنے لگا۔ 

    میرے نہیں ہم سب کے کورینز ہیں۔ نونا سنجیدہ سی ہوگئیں۔

    خوف دہشت بھوک موسم کی شدتیں ان میرے تم جیسے انسانوں کو کیا کیا خطرات نہیں لاحق۔ محض جنوبی اور شمالی کے فرق سے ہماری زندگیاں کتنا بدل گئ ہیں۔ ایک جیسی رنگت نسل کے لوگوں کے بیچ سرحدوں نے ہمیں انکا احوال بتانے سے تو روکا ہی ہے بے حس بھی کردیا ہے ہمیں۔۔وہ مریں جئیں ہمیں کیا۔۔۔۔ 

    نونا۔۔ اس نے سر اٹھا کر انکو دیکھا۔ وہ بولتے بولتے افسردہ سی ہو گئ تھیں۔ شائد ان مہاجرین کا حال قریب سے دیکھنے کی وجہ سے وہ ذیادہ شدت سے محسوس کرسکتی تھیں انکی تکلیفوں کو۔ 

    کوئی نیا مہمان لے آئی ہیں آپ چین سے؟ 

    وہ نہایت سنجیدگئ سے آنکھوں میں شرارت بھرے پوچھ رہا تھا۔

    ہاں۔ اتنی پیاری لڑکی ہے۔ پچاس سالہ چینی آدمی نے خریدا تھا اسے وہ بھی جب وہ بس بارہ برس کی تھی۔پچھلے بارہ سالوں سے۔۔۔ 

    وہ فورا جوش سے اسے بتانے لگیں۔ سوپ پیتے اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھی۔ اسے پتہ تھا کسی نئے آنے والے کا غم لاحق ہے انہیں جو سال کے پہلے دن بھی انکو خوش ہونے نہیں دے رہا۔ 

    تم ۔۔ وہ سمجھ کر فورا بریک لگا گئیں۔

    مجھے پتہ تھا۔ وہ اب کی دفعہ کھل کر ہنسا۔ گنگشن اسے گھور کر رہ گئ۔

    نونا صحت نہیں بن پاتی آپکی اسی وجہ سے۔ آپ کا سوشل ورک آپکو دکھی کیوں کر دیتا ہے۔ وہ ہنسی روک کر اب سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔ 

    یقینا وہ جو کوئی بھی دکھیاری ہے اب اسکے دکھوں کا مداوا آپ کردیں گئ اس بات پر آپ خوش ہوجائیں بجائے اسکے کہ اسکے ماضی کی تکلیف دہ یادوں کو سوچ کر خود دکھی ہونا شروع کردیں۔ خوشیاں گننی چاہئیں غم کو اتنی بھی مہلت نہیں دینی چاہیئے کہ اسکا شمار کرنےلگیں۔۔ 

    وہ ایسا ہی تھا۔ہر معاملے ہر مسلئے کا مثبت پہلو دیکھنے والا مثبت سوچ کا حامل۔ گنگشن کو اس پر فخر سا ہوا۔ نثار ہو جانے والی نگاہوں سے اسکا لیکچر سنتی گنگشن۔ وہ خفا سا ہوگیا۔

    میں اتنئ سنجیدہ بات کر رہا تھا آپ مجھے ایسے دیکھ رہی ہیں۔احمق محسوس کر رہا ہوں میں۔ 

    خفا خفا سا ہایون۔ گنگشن نے ہنس کر اسکے دونوں گالوں کو چٹکیوں میں بھر لیا۔ 

    پھابو( پاگل) میں تمہیں ہی سن رہی ہوں۔ اب تم ہو ہی اتنے کیوٹ کیا کروں۔ 

    نونا۔۔ وہ چڑا اپنے گال بھی چھڑائے

    اب میں بچہ تھوڑی ہوں۔ وہ منہ پھلاکر بچوں کی طرح ہی کہہ رہا تھا۔ 

    میرے لیئے تم سدا بچے ہی رہو گے۔ گنگشن پر کوئی اثر نہ تھا۔ ہنس کر کہتی اسکے نیم گیلے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر جھٹکنے لگیں۔ سوپ پیتے ہایون کا منہ جل گیا۔ 

    نونا کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔ نوناا

    بال تو سکھا لیتا ہے بندہ اتنی سردی میں۔ 

    وہ اب اسکا سر ہلا رہی تھیں۔

    نونا سوپ پی رہا ہوں۔ اس نے احتجاج کیا مگر گنگ شن نونا مجال ہے جو کبھی اسکے احتجاج کو خاطر میں لائیں 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گرم گرم گاڑی سے نکلتے ہی اسکو جھرجھری سی آئی تھی۔ دانت بجنے کوتھے۔ سرد اور نم ہوا سیدھا اسکے سینے سے ٹکرائی تھئ۔ کل اور آج برفباری نہیں ہوئی تھی مگر یقینا کل ضرور ہوگئ یا شائد رات تک۔موسم کے تیور بتا رہے تھے۔اس نے اپنے اپر کی زپ چڑھائی۔۔ مستعد گارڈ فورا چابی لینے اسکی جانب بڑھا ۔ پارکنگ میں گاڑی لگانا اور اور اسکی واپسی پر گاڑی پارکنگ سے نکال کر یہیں واپس لگانا اب اسکی ذمہ داری تھئ۔ اسے گاڑی کی چابی تھماتے وہ عجلت میں اس مشہور مگرسیول کے مہنگے ترین ہوٹل میں اندر داخل ہوا تھا۔ اندر حسب توقع خوب روشنیوں اور خوشبوئوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ ایکجانب ایک خوش رو لڑکا بیٹھا دھیمے سروں میں گا رہا تھا۔ میل کتے واں۔۔ یہ گانا گنگشن انی کو بہت پسند تھا۔  وہ رک کر سنے گیا۔ صرف گٹار کی آواز آرہی تھی۔ باقی موسقیقی کے آلات ڈرم پیانو بیٹس وغیرہ لیئے لوگ بیٹھے تو تھے مگر آرام کر رہے تھے۔ لڑکے کی آواز مسحورکن تھی۔ 

    ہایونا۔۔۔۔ 

    پکار پر وہ چونکا۔ دائیں جانب ایک کونے میں وہ سب ساتھئ جمع تھے۔ سونگیون نے ہی آواز لگائی تھئ۔ متوجہ ہونے پر اسے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ سر جھٹک کر انکے پاس چلا آیا۔ 

    کم سن ، سونگیون،  یون بن وہ سب اکٹھے ہو کر بیٹھے تھے۔اسے دیکھ کر پر تپاک انداز سونگھیون اٹھ کر ملا۔تھا باقی دونوں سے تو کل بھی ملاقات رہی تھی سو انہوں نے بیٹھے بیٹھے ہی بس ہاتھ پر ہاتھ مارنے پر اکتفا کیا تھا۔۔ اسکے سوا سب جیکٹوں میں ملبوس تھے۔ یون بن نے تو مشہور ذمانہ گھٹنوں تک والا لمبا فوم والا پیراشوٹ جیکٹ پہن رکھا تھا۔ اس وقت اندر فل ہیٹڈ ہال میں بھی وہ پہنے بیٹھا تھا۔

    کل خیریت سے پہنچ گئے تھے گھر۔

    یون بن نے پوچھا تھا۔ وہ سر ہلاتا بیٹھ گیا خیرت سے پہنچا تھا تبھی تو آج دوبارہ انکے سامنے تھا۔ 

    اس نے ایک نظر سب پر ڈالی۔ خوش گپیوں میں مصروف وہ سب ایک جیسے تھے چندی آنکھوں برف سی رنگت والے اسکے بچپن کے سنگئ ساتھئ۔ پھر بھی ایک دکھائی دینے والا فرق تھا۔ وہ سب اس ریستوران میں  پہلی دفعہ نہیں  آئے تھے۔مگر ہر دفعہ آنے پر ریستوران میں کوئی نئی تبدیلی آچکی ہوتی تھی جس کو وہ ناصرف آرام سے پہچان جاتے تھے بلکہ کھل کر سراہتے بھی تھے۔۔ریستوران کی دلکش انٹیرئر ان سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ اس وقت بھئ سونگیون اور یون بن دیوار پرلگی نادر پینٹنگ کو دیکھتے تبصرہ کر رہے تھے۔ 

    ہایونا۔ یہ والی پینٹنگ وہی ہے نا جسے لینے ہم بوسان گئے تھے ۔ یون بن کو پچھلے سال کی وہ نمائش یاد تھئ جس مین شرکت کیلئے وہ اور ہایون اکٹھے گئے تھے۔۔ 

    پتہ ہے یہ کتنی مہنگی پینٹنگ ہے۔ پورے۔۔۔ 

    آگے قیمت بتا رہا تھا۔ اس نے دانستہ ان پر سے دھیان ہٹایا۔ 

    ہیں ہایون۔ اتنی مہنگی پینٹنگ ہے یہ۔ 

    سونگیوں یون بن کا پسندیدہ ردعمل دے رہا تھا۔ متاثر ہوجانے والا۔ 

    ظاہر ہے اس ریستوران کا اپنا معیار ہے اسکے حساب سے تو یہ۔تصویر کچھ بھئ نہیں۔یون بن متاثر تھا اس ریستوران سے جبکہ یہ ہایون کے باپ کا ریستوران تھا۔ اسکے چہرے کی مسکراہٹ ماند سی پڑنے لگی۔ اس نے دانستہ سر ہلا کر رخ پھیرا۔ وہ جانے کیوں احساس جرم کا شکار ہوجاتا تھا ۔ بے پناہ دولت مند ہونےکا احساس اسے کبھئ خوش نہیں کرسکا تھا کیونکہ۔۔ پاس سے گزرتے ویٹر کی نظر اس پر پڑئ تو   مستعد ہو کر اسکی جانب آیا۔

    اسکے باپ کا ریستوران تھا ویٹر کا رواں رواں کان بن گیا تھا۔ 

    آننیانگ واسے او۔ پرتپاک سلام۔۔ 

    آنیانگ۔ جوابا وہ سنبھل کر سیدھا ہو بیٹھا۔ 

    آرڈر دے لو کیا منگوانا ہے۔ اس نے ہلکا سا میز بجا کر ان سب کو متوجہ کیا۔  

    سن بے ( سینئر) واش روم تک گئے ہیں آتے ہیں تو انکی مرضی سے آرڈر کرتے ہیں۔ یون بن نے کہا۔ تو وہ چونکا

    سن بے؟ 

    سن بے۔۔۔سونگھیون نے وضاحت کی۔  جونگ جے وہی توملنا چاہ رہا تھا تم سب سے۔ جو یہ دعوت رکھی۔ یہ دعوت ہے بھئ انکی جانب سے۔ ورنہ مجھے کیا پاگل سمجھا ہے ان دو ٹکے کے لوگوں کو میں اتنے مہنگے ریستوران لائوں گا۔ سونگھیون کا جملہ ختم ہونے تک یون بن اور کم سن اس پر پل پڑے تھے۔دونوں نے کرارے ہاتھ جمائے تھے اسکی گدی پر جوابا وہ ہنسے گیا ڈھٹائئ سے۔

    اسکے دماغ کی گھنٹئ بجی۔۔۔۔ 

    ارے۔۔  وہ چونک کے سیدھا ہوا۔ 

    ویٹر منتظر کھڑا تھا۔

    تم جائو تھوڑی دیر میں آنا۔ اسے بھیج کر وہ سونگیون کی جانب متوجہ ہوا۔

    جون جے سن بے تو امریکہ میں نہیں تھے؟ 

    اب آگئے ہیں۔بالکل بدل کر۔

    سونگھئون نے کہہ کر ہنکارہ بھرا ۔سامنے جون جے ریستوران کے باہر سے اندر آرہا تھا۔ وہ سب اسکو حیرت سے دیکھنے لگے۔ 

     آنیانگ واسے او ۔۔۔

    آج ہم تقریبا دو سال کے بعد اکٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔

    جون جے نے مسکرا کر قریب آکر اپنے دوستوں کو مخاطب کیا۔۔ 

    سونگھئون کے سوا سب کے چہرے پر اسے دیکھ کر جو حیرت اتری تھئ اسے اندازہ تھا۔جبھی بظاہر کمپوزڈ سا تھا۔ 

    ہایون نے فورا تاثرات قابو میں کیئے اور اٹھ کر گرمجوشی سے ملا۔۔ کم سن یون بن۔ 

    معزرت میں ذرا باہر چلا گیا تھا۔ 

    اپنی غیر موجودگئ کی مختصر سی وضاحت۔ 

    اور کیسے ہو تم سب ۔پڑھائئ جارئ ہے ؟ وہ برسبیل تذکرہ پوچھ رہا تھا۔  ہائی اسکول چھوڑنے کے بعد تو سمجھو پہلی بار ہےیہ ملاقات تم سب سے۔۔۔ 

    دے۔۔ کم سن نے ہی جواب دیا۔ 

    وہ ان سب سے دو سال سینئر تھا۔جبھی اسکے انداز میں بڑا پن اور بے تکلفی تھئ۔ وہ سب جون جے سے بہت متاثر ہوا کرتے تھے ہائی اسکول دور میں۔ بہترین باسکٹ بال پلیئر پوزیشن ہولڈر۔۔۔۔

    اسکی ان سب سے دوستی باسکٹ بال کھیلنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سنجیدہ طبیعت جون جے نہایت غصہ ور ہوتا تھا۔ مگر ایک اتفاقی جھگڑے  نے اسے ان کے گروہ کا حصہ بنادیا تھا ان سب کے ساتھ بھی ہر پارٹئ میں شامل ہوتا تھا اور اسکا اپنا دوستوں کا گروہ الگ تھا۔مگر اس وقت اسکی شکل دیکھ کر انہیں نہیں لگا تھا کہ وہ دنیا کا سنجیدہ ترین انسان ہے جس کیلئے مسکرانا ایک کارگراں تھا۔ غصے کی جگہ اسکے چہرے پر نرمی سی تھی۔ وہ مسکرا نہیں رہا تھا مگر تاثرات ایسے ہی تھے جیسے ایکدم مسکرا دے گا۔

    سونگھیون کو سب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جو دانستہ ان سب سے نظر چرائے مینیو کارڈ میں منہ گھسائے تھا۔

    ہو یون بن  ، پارک سونگھیون ،  کم سن او اور لی ہایون۔۔۔۔۔۔

    جون جے نے طائرانہ نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ سب اس وقت سٹپٹائے ہوئے سے بیٹھے تھے ایک اسکی وجہ سے۔۔ 

    سونگھیون نے مینیو کارڈ سے سر اٹھایا۔ 

    سن بے وہ وقت یاد جب ہم اپنی پورے ہفتے کی کمائی جمع کرتے تھے کسی جگہ کھانا کھانے کیلئےاور پھر بھی پیسے کم پڑتے تھے پھر ہایون شا کسی مددگار جن کی طرح اپنا بٹوہ کھولا کرتا تھا ۔

    ۔یون بن  نے بھئ دماغ کی پٹاری سے پرانی یادیں چھانٹ نکالیں

    وہ یاد ہے جب تم یہاں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ یہاں آئےتھے اور بل دیکھ کر ہوش اڑ گئے تھے تمہارے۔ تمہیں اندازہ ہی نہ وہا کبھی ہایون کی وجہ سے کہ یہ سیول کا مہنگا ترین ہوٹل ہے۔

    سونگھیوں کا چہرہ خفت سے سرخ پڑا۔ 

    کبھئ بھول سکتاہوں۔ ایک تو پہلا پیار اوپر سے پہلے پیار کے سامنے پہلی اخیر پھٹکار ۔۔۔ 

     ہایون  جون جے ساختہ ہنسے  تھے۔۔  باقی بھی یاد کر کے مسکرا اٹھے 

    لیکن ہایون نے اس مینجر کی صحیح بستی کی تھی۔میرے دوست سے یہ سلوک کرنے کی ہمت کیسے کی۔ کم سن نے بھی ہنس کر یاد کیا۔

    بھئی یہ جناب ٹھہرے لی گروپ کے وارث انکے کیا کہنے ۔ کھلا پیسہ موج مستی ۔۔۔ سونگھیون نے رشک سے کہا ہایون کی ہنسی پھیکی پڑنے لگی اگر پیسہ خوش قسمتی کی دلیل ہوتا تو وہ خوش قسمت ترین تھا اور اگر دنیا میں پیسے کے علاوہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو زندگی گزارنے کے لیئے درکا ر تو یقین کرو اس سے زیا دہ بد نصیب کوئی نہیں وہ سوچ کر رہ گیا 

    اور میں اپنے  باپ کے کھلے پیسے کو بس حسرت سے دیکھ کر رہ جاتا تھا اپنے جیب خرچ کے لالے پڑے ہوتے تھے کوئی فائدہ تھا امیر مگر کنجوس باپ کا بیٹا ہونے کا ہائے محنت مزدوری کرکے پڑھائی کی آگے یونیورسٹئ گریجوایشن کے لیئے بھی خوار ہو رہا ۔۔۔ یون بن نے منہ بنایا  اسکے دکھڑے پر سب قہقہ لگا کر ہنس پڑے 

    وہ سب بالکل گئے گزرے نہیں تھے مگر ہایون اور کم سن کا مقابلہ مشکل تھا۔ 

     یون بن جو اتنی مسکینی سے بولا تھا۔۔۔ چندی آنکھوں چوڑے شانوں مگر چست بدن والا دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا اتنا بھئ غریب نہ تھا۔ ہمیشہ اپنے باپ کے اصولوں سے باغی جتنا پڑھائی میں اچھا اتنا ٹھرکی۔ وکالت سے بھاگتا تھا باپ سخت گیر مگر با اصول اور ایماندار وکیل پیسہ آبائی جائداد کی وجہ سے کھلا تھا مگر بیٹے پر شیر کی نظر رکھنے کی وجہ سے محفوظ۔۔

    اسکے دائیں جانب چندی ہی مگر کچھ ذیادہ ہی کھنچی آنکھوں چھوٹے سے چہرے والا کم سن۔ گہرے سیاہ بال لانبا قد دبلی جسامت۔ عام سا کوریائئ نقوش والا نوجوان جو سو لڑکوں میں کھڑا ہو تو بھی نگاہ ٹھٹکا دے۔ وجہ اسکے چہرے پر رہنے والی بے نیازی۔ جوامیری کی دین ہوتئ اگر۔۔۔۔ دراصل

    کم سن ایک کاسمیٹکس چین کے مالک کا بیٹاتھا۔ جسکی ماں دوسری بیوی تھئ۔ اسکے باپ کی پہلئ بیوئ مرچکی تھی ۔ اسکی اپنی ماں بھئ اسکے بچپن میں چھوڑ کر چلی گئ تھی جانے کہاں۔ سو اسکے باپ نے تیسری شادی کی۔ اب تو باپ بھی ایک اسپتال میں کومے میں پڑا آخری دن گن رہا تھا۔ اسکے دو سوتیلے بھائی باپ کی سب جائداد کے وارث بن چکے تھے اسے اور اپنی تیسری ماں کودودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا۔۔ نہایت عیش و آرام میں پلنے والے کم سن کو وہ بے دخل تو کر چکے تھے اپنی طاقت اور پیسے کے بل پر مگر اسکا تعلیم کا خرچ اسکا باپ ہی اٹھا رہا تھا انشورنس کے ذریعے دو تین دکانیں اسکے نام تھیں جنکو فرنچائز کہنا مناسب ہوگا ۔ مصوری اسکا شوق تھا۔ طالب علمی سے اپنا خرچہ خود اٹھا رہا باپ نےایک گھر نام کیا تھا اسکی ماں کے جہاں کبھی کبھی چلا جاتا تھا۔ مگر اب وہ علاقہ بند کرکے وہاں نئے سرے سے سوسائٹی بننے والی تھی سو سب علاقہ خالی کروایا جارہاتھا۔پیسے مل جانے تھے البتہ اسے۔۔

    سونگھیون دبتے قد فربہ سراپے کا مالک ان سب میں سب سے ذیادہ کھانے اور ہنسنے والا لڑکا۔  ماں باپ دونوں زندہ تھے اکٹھے بھی رہتے تھے یہ  مسلئہ تھا اسکا۔ ساتھ ہی چار اور بہن بھائی بھی رہتے تھے اسکو ہمیشہ قلق رہا والدین نے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کیوں نہ کیا یہ سوچے بنا کہ خود اسکا نمبر اس فہرست میں تیسرا بنتا تھا تو اسکی اس دنیا میں آمد ممکن نہ ہوتی اگر اسکے والدین واقعی عمل کرتے ہوتے اوپر سے آیا بھی اکیلا نہیں تھا اسکی ایک جڑواں بہن بھی تھی ساتھ ساتھ رہتی کتابیں بھی دونوں ایک ہی استعمال کرتے تھے اور جیب خرچ بھی انکے درمیان خاموش معاہدہ تھا کتابیں بو را کی پیسے سونگھیون کے۔۔۔ 

    رہا چھا جون جے۔۔ امریکی اور کورین نقوش کا امتزاج اسے کورہائی نقوش سے ذیادہ امریکی نقوش بخش گئے تھے۔ تاہم آنکھیں چندی تھیں۔ چوڑے شانے جم لگا کر خوب مسل بنا رکھے تھے۔ اسکے والد امریکی اور والدہ کوریائی تھے ہائی اسکول میں تھا جب والد کے انتقال کے بعد اسکی والدہ کوریا منتقل ہو گیئں اسکی ابتدائی تعلیم امریکہ کی تھی اور ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد وہ اپنی محبوبہ رچل کے ساتھ اعلی تعلیم کےلیے امریکہ ہی چلا گیا تھا ہائی اسکول کے بعد سب نے اپنےاپنے پسندیدہ شعبے کا انتخا ب کیا تھا سب بچھڑ ہی توگئے تھے مگر ان سب نے تعلق رکھا تھاایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔۔۔ 

    میں ملٹری میں جا رہا ہوں اگلے مہینے۔۔۔ سونگھیون نے اچانک ہی کہا تھا سب خاموش ہو کر شکل دیکھنے لگے۔۔

    ابھی سے؟ ۔۔۔۔۔۔یون بن نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ 

    ہم سب نے فیصلہ کیا تھا ہم اکٹھے جائیں گے۔ 

    کم سن نے بھئ ٹوکا۔۔

    ہم اکٹھے اب کبھی نہیں ہوسکتے ہم سب کی فیلڈز الگ ہیں شوق دلچسپیاں اور سب سے بڑھ کر زندگئ کے رنگ۔۔ 

    کہہ کر وہ  ہنسا۔۔

    میں اس سے قبل کہ پاگل ہو جائوں بہتر ہے سیول چھوڑ جائوں۔ 

    یہ اچانک حملہ تھا ۔۔جون جے نے ناپسندیدگی سے دیکھا 

    پاگل پن کا سیول سے کیا تعلق ہے؟ اور لازمی ملٹری سروس میں خود سے جانا بذات خود پاگل پن ہے۔ 

    ہایون نے  جتایا۔ 

    میں لازمی ملٹری سروس نہیں مکمل ملٹری سروس جوائن کرنے لگا ہوں ۔۔۔سونگھیون  نے اپنی بات کی وضاحت کی

    مگر کیوں تمہیں تو ملٹری میں دلچسپی نہیں تھی۔۔

    کم سن چیخ ہی تو پڑا

    مجھے کچھ تو کرنا ہے میں یونی ورسٹی افورڈ نہیں کر سکتا بو را پڑھائی چھوڑ چکی میں بھی یا تو یہی کروں یا کم ازکم شمالی کوریا کو ڈرا لوں لازمی سروس بھی تو کرنی ہی تھی سو میں نے سوچا یہ برا خیال نہیں کیوں سن بے۔۔ 

    اس نے نسبتا ہلکا پھلکا انداز اپنایا فی الحال سب ابھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیں تھے سو انہیں سونگھوین  سے اتنا اتفاق ضرور تھا کہ اسکی سوچ اسکے حالات کے حساب سے درست تھی

     جون جے اپنے ہی کسی دھیان میں تھا سنا ہی نہیں وہ میز پر سجے خوبصورت گلدان پر نظر جمائے تھا انداز سے ظاہر تھا وہ زہنی طور پر کہیں اور ہی ہے

    ہایون۔۔ اسکا انداز بھانپ گیا۔۔ 

    یہ اس وقت یہاں نہیں رچل کے پاس ہیں  ۔۔۔ سونگھیون تمہیں رچل کو بھی دعوت دینی چاہیے تھی ۔ جب سے رچل انکی زندگی میں آئی ہے ہمارے ساتھ دل کہاں لگتا ہے۔۔۔ہم بھی اپنی پرانی سن بےسے مل لیتے ۔۔۔ وہ روانی میں بولتا گیا تھا دیکھا ہی نہیں سونگھیون  اسے نظروں نظروں میں چپ ہو جانے کا اشارہ کر رہا تو کم سن یکدم سنجیدہ سی شکل بنا کر بات  ہی بدل گیا ۔۔۔

    آرڈر کر یں خالی خولی باتیں بناتے بہت وقت ہوگیا 

     جون جے کے چہرے پر پھیکی سی بےبس سی مسکراہٹ در آئی کم از کم دوستی اسکے نصیب میں تھی وہ بھی مکمل اور پر خلوص۔۔۔

    ہاں یار رچل کوبھی دعوت دینی چاہیئے تھی کیسی ہیں وہ آئی ہیں؟ آپ  لوگوں نے تو شادی کر لی تھی نا چاچو بن گئے ہم کہ نہیں ۔۔۔ یون بن  نے بھی اخلاق جتانا ضروری سمجھا ہایون سب کے چہروں سے کچھ بہت غلط ہے  بھانپ گیا سو یون بن کوآنکھ کے اشارے سے منع کیا 

    جون جے نے اسکے اشارے کو دیکھا پھر ہلکے سے مسکرا کر سر جھٹکا 

    سونگھیون  نے اسے بھی دعوت دی تھی میں بھی ضرور لاتا اگر وہ آسکتی ہوتی ۔۔۔ایک لحظہ رکا پھر جیسے آنکھیں میچ کر کسی درد کو اپنے اندر روکا اپنی چندی آنکھیں کھول کر درد بھر مسکراہٹ لبوں پر سجا ڈالی

    ۔ اگر وہ اب بھی اس دنیا میں ہوتی۔۔۔

    رچل نونا  کا پچھلے سال انتقال ہو چکا ہے ۔۔۔ سونگھئون نے افسردگی سے وضاحت کی ۔۔۔تینوں کے چہرے پر افسوس در آیا۔رچل بہت اچھی لڑکی تھی ان سب سے اچھی دعا سلام تھی اسکی انھیں حقیقتا بہت دکھ پہنچا تھا 

    وہ تو بالکل صحتمند تھی کوئی ایسی جان لیوا بیماری نہیں تھی اسکو پھر کیوں اچانک سوال اہم تھا مگر دوست کا چہرہ دیکھ کر ہمت نہیں تھی پوچھنے کی۔۔۔

    کیا کیسے۔۔۔ بے ساختہ یون بن کے منہ سے نکلا

    سوال تھا کہ نیزے کی انی سیدھا دل میں کھبی تھی جون جے کے۔۔۔ اس نے یک لحظہ سوچا پھر گہری سانس لے بولنا شروع کیا  

    امریکہ کے ایک گائوں  میں ہم ساحل کے کنارے پارٹی کر رہے تھے میں اور رچل تھے بس کچھ غنڈوں نے ہمیں گھیر لیا 

    تین لوگ تھے میں پی کے مدہوش تھا۔۔۔

    اس نے بتاتے بتاتے آنکھیں میچ لیں جیسے وہ منظر دوبارہ تازہ ہو گیا ہو 

    انہوں نے بے رحمی سے اسکوتشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا ۔۔۔ ہمیں طبی امداد صبح مل سکی وہ اسپتال میں دو دن زندگی کی جنگ لڑ کر ہار گئی۔۔۔

    اسکے دل کی تکلیف آنکھوں سے بہہ نکلی 

    یون بن پوچھ کے شرمندہ تھا بعد میں سونگھیون سے پوچھ سکتا تھا اسکی جلدبازی کی عادت ۔۔اس نے جون جے کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینا چاہی 

    ہایون حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا 

    میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ جون جے بدقت مسکرایا 

    پرسوں اسکی برسی ہے میں نے فا۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر مسکرا دیا۔۔۔ جون جے میں بہت تبدیلی آئی تھی وہ بہت غصے کا تیز اور کم مسکرانے والا انسان ہوا کرتا تھا مگر اب بات بے بات مسکراتا رہا تھا دعائیہ خوش آمدیدی کلمات کی ادائیگی کے وقت سے ہایون اسکا بدلا انداز دیکھ رہا تھا 

    اسکی یاد میں تقریب رکھی ہے میرے گھر پر

    تم سب آنا میں اپنا پتہ ایس این ایس (سماجی رابطےکی ویبسائٹ برائے پیغام رسانی )  کر دونگا

    وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا

    اچھا چلتا ہوں۔۔۔

    سونگھیون  نے فورا اسے روکنا چاہا

    کھانا تو کھاتے جائو ہم ڈنر کرنے ہی تو اکٹھے ہوئے تھے۔۔۔

    ہاں ہم بس آرڈر کر دیتے ہیں ۔۔۔ کم سن نے ہڑبڑا کر ویٹر کو آنے کا اشارہ کیا۔۔۔

    بہت شکریہ میں ویسے بھی یہاں کھانا نہیں کھا سکتا البتہ یہ دعوت ہوگی میری طرف سے ہی۔۔۔  وہ مسکرایا۔ 

    تم سب بلا تکلف دعوت اڑانا۔ سچ مچ تم سب کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے مجھے۔ ابھی چلتا ہوں۔مغرب ہو چکی ہے مجھے دیر ہو رہی ہے پھر ملتے تم سب ضرور آنا میں انتظار کروں گا  خدا حافظ۔۔۔ اس نے پھر مسکرا کر تھوڑا سا کندھے جھکا کر الودائیہ کلمات ادا کیے پھر رکا نہیں یہ سب بس دیکھتے ہی رہ گیے اس نے مکمل ہنگل زبان میں بات کی تھی مگر مخصوص کوریائی انداز میں آدھا جھکے بغیرصرف ہلکا سا سر جھکانے پر اکتفا کیا تھا

    یہ کچھ الگ الگ سا دیکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔ کم سن کہے بنا نا رہ سکا

    ہاں بہت اداس ہے داڑھی بھی بڑھی ہوئی تھی اسکی خشخسشی  سہی ۔مگر یاد ہے کیسے نک سک سے درست رہتا تھا لگتا ہے ابھی بھی صدمے میں ہے پیار بھی تورچل سے بہت کرتا تھا۔۔۔ 

    یون بن نے افسوس سے کہا تھا

    سونگھیون  خاموشی سے دیکھ رہا تھا انہیں 

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی

     ہایون پر سوچ انداز میں اس دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا جون جے نکل کر گیا تھا 

    جون جے تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ ہے تین لوگ اسکے قابو سے باہر ہو نہیں سکتے بلکہ جون جے تو دس لوگوں پر بھاری پڑتا تھا ہائی اسکول میں کتنے جھگڑے مول لیے اس نے پھر رچل کو بچا کیوں نہ پایا۔۔۔۔

    ہاں وہ اس سب کے با وجود رچل کو بچا نہیں پایا اور اس نے اپنے آپ کو بہت سزا بھی دی ہے۔۔۔

    سونگھیون  نے افسوس سے اپنے بٹوے سے ایک کارڈ نکال کر انکے سامنے میز پر اس پر تحریرعبارت ہنگل اور انگریزی میں تھی مگر بے انتہا چونکا دینے والی وہ سب بھو نچکا رہ گئے تھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریستوران سے نکل کر وہ سیدھا بس اڈے کی جانب آیا تھا۔سب سے پہلے والٹ کھول کر دیکھا تھا جس میں صرف تھوڑی سی ریزگاری پڑی تھی۔ اس نےان سب کو دعوت دینے کا کہا ضرور تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ سونگھیون اس ریستوران میں سب کو اکٹھا کر لے گا۔ خیر اسے کیا خبر تھئ کہ ۔۔ 

    بس کا ہارن اسے متوجہ کر گیا۔ جلدی سے سر جھٹکتا وہ بس میں چڑھا اور سب سے آخری نشست کی جانب بڑھ گیا۔ آگے بیٹھنے والوں کو بھانت بھانت کے لوگ ٹکرتے جبکہ پیچھے بیٹھنے والوں کو جھٹکے لگتے۔ اسے لوگوں کے دیئے جھٹکوں سے گاڑی کے جھٹکے بہتر لگتے تھے۔

    سیٹ کئ پشت سے سر ٹکا کر اس نے آنکھیں موند لیں۔ اسکا ابھئ لمبا سفر باقی تھا۔ سو وہ لوٹ کے وہیں امریکہ جاپہنچا تھا جہاں سے بھاگ آیا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جو آسمان پر اتنے ستارے ہیں ۔۔۔ 

    نیم اندھیرے ساحل کنارے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے وہ دونوں چہل قدمی کر رہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے جانے رچل کو کیا سوجھی رک کر سر اٹھا کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے بولی 

    ان میں آدھے سیٹلائٹ ہیں ۔۔۔جون جے نے مسخرے پن سے کہہ کر اسکی بات اچک لی 

    ہونہہ ۔۔ رچل نے مصنوعی خفگی سے دیکھا پھر دوبارہ اپنی بات مکمل کی

    یہ جو آسمان پر اتنے ستارے ہیں ان سب میں اگر زندگی ہو ان سب میں اگر میں باری باری پیدا ہوں تو ان سب میں میں جسے سب سے پہلے ڈھونڈوں گی وہ تم ہوگے ۔۔۔اس نے ٹھہر کر بات مکمل کی پھر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکائی ۔۔

    رچل کی گوری رنگت مدھم چاندنی میں دمک رہی تھی رچل کی آنکھیں خالص کوریائی چندی تھیں اسکے پپوٹے اسکی آنکھوں پر ڈھلکے تھے 

    گلابی چھوٹا سا دہانہ گھنے سیاہ بال شانے پر پھیلے تھے وہ اسکی اس  ادا پر فدا ہی تو ہو گیا 

    ذرا اس پر جھک کر بولا

    پر میں تو یہاں ہوں اس دنیا میں ۔۔۔

    تو میں ہمیشہ یہاں اس زمیں پر آنا چاہوں گی ۔۔۔ وہ جزب سے اسے دیکھ رہی تھی 

    اونچا لمبا چھے فٹ سے بھی نکلتا ہو اقد چوڑے کندھے مضبو ط ڈولے والے بازو کیا زور آور شخصیت تھی اسکی مگر اس سب سے الگ گوری رنگت والا چہرہ جس پر سجی چندی آنکھیں محبت کی قندیلوں سے روشن تھیں چھوٹے سے ہونٹ اسکی باتوں کے جواب میں پیار سے مسکرا رہے تھے یہ تھا اسکا ہمیشہ اسکارہنے والا جون جے

    اسکے ہوتے کس کی جرات اسکی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھ لے وہ مغرور ہوئی

    اور میں تمھیں یہاں سے کہیں جانے نہیں دونگا ۔۔۔میرے تمھارے بیچ کوئی نہ آسکے گاخدا بھی نہیں۔۔  ۔۔ اس نے کہتے ہوئے دھیرے سے اسکو بانہوں میں لے لیا 

    اور کوئی آ بھی کیسے سکتا کسی نے کوشش بھی کی تو منہ توڑ دونگا۔۔۔ وہ لہک کر بولا 

    کوئی تو خیر آچکا ہے۔۔۔۔ اس نے کہہ کر جون جے کے تاثرات جانچے وہ چمک کر بولا

    کون؟ جان لے لوں گا میں اسکی۔۔۔ 

    اسکا تم کچھ نہیں بگاڑ پائو گے ۔۔۔ اس نے قصدا لاپروا انداز اپنا کر خو د کر چھڑایا پھر منہ پھیر کر ہونٹوں پر مسکراہٹ دبائے مخالف سمت قدم اٹھانے لگی 

    رچل۔ ہمارے آنے والے بچے کی بات کر رہی ہو نا؟  ۔خلاف توقع وہ بہت سنجیدہ ہوگیا تھا وہیں رک کر اس سے پوچھ رہا تھا اسکے انداز کی سنجیدگی نے رچل کے قدم روک دیئے تھے ان دونوں کے بیچ کچھ قدموں کا فاصلہ در آیا تھا جون جے کی سنجیدگی عروج پر تھی رچل ہنس دی

    اتنا جزباتی کیوں ہورہے ہو ؟ہاں  میرا مطلب تھا ہمارا بےبی ۔۔۔وہ تو آئے گا نا ہمارے بیچ 

    جون جے مسکرایا بھی نہیں 

    وہ آئےگا تو اسکی جگہ الگ ہوگی تم میرے لیے ہمیشہ کچھ اور ہی رہو گی میں تمہیں کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتا تم میرے لیے میرا سب کچھ ہو وہ سب کچھ جو دنیا میں توکوئی کبھی نہیں ہوسکتا یہاں تک کے خدا بھی نہیں۔۔۔وہ گمبھیر انداز میں کہہ رہا تھا

    ساحل کی خنک ہوا دلوں کو گرما رہی تھی سمندر کی لہریں انکے قدموں سے ٹکرا ٹکرا کر پلٹ رہی تھیں وہ مکمل طور پر جون جے کے سحر زدہ انداز کے زیر اثر تھی 

    اس نے بھاگ کر درمیانی فاصلہ طے کیا اور پورے جوش سے اسکے گلے لگ کر بولی۔۔۔

     کون جانے خدا ہے بھی کہ نہیں ہا ں خدا جیسا مکمل شخص میری زندگی میں ہے۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جون جے کو جھٹکا سا لگا تھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔بس تقریبا خالی ہو چکی تھی اس نے سڑک پر نگاہ کی تو ایکدم اٹھنا پڑا۔ اسکا اسٹاپ آگیا تھا۔ 

    آہجوشئ۔ اس نے زور سے ڈرائور کو آواز دی۔ 

    رکنا ذرا۔۔ چھاکے منیو۔

    ڈرائئور نے بدمزا ہو کر اس سوئئ سرکار کو دیکھا مگر بس روک دی۔ وہ تیزی سے جھک کر ڈرائور سے معزرت کرتا اترا تھا۔ بس اسٹاپ پر اکا دکا لوگ تھے۔ وہ نیچے اتر کر گہری سانس لیکر رہ گیا۔ ابھئ یہاں سے اسکی رہائشی عمارت تک کم از کم بھی پندرہ منٹ کی چہل قدمی کرنی پڑتی اسے۔۔ 

    تمہیں کب عادت پڑے گی پیدل چلنے کی۔ اب امیر نہیں رہے تم۔۔

    اسکے انداز میں حسرت نہیں لاپروائئ سی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جونگھئییا۔۔۔ سن بے کا گھر تو نہیں ہے۔ 

    ہایون نے حیرت سے اس چھوٹے سے متوسط طبقے کے گھر کو دیکھا تھا جو کوریائی روایتئ مکان تھا لکڑی کے دروازے کو کھول کر اندر داخل ہونے پر کھلا صحن تھا سامنے کمرے تھے ایک جانب صحن میں بڑی بڑی دو تین دیگیں رکھی تھیں جن پر معمور دو تین نو عمر لڑکے ڈشوں میں ترک پلائو نکال رہے تھے۔

    یہ منظر انکی توقع سے بالکل برعکس تھا ہایون اور کم سن ایک دوسرے کو اچنبھے سے دیکھ رہے تھے جبکہ  جونگھیو  کے اطمینان بھرے انداز کو حیرت سے ۔۔۔ یون بن کو البتہ کچھ کچھ اندازہ تھا سو اسکے تاثرات عام سے ہی تھے وہ ان تینوں کے بر عکس پھلوں کی ٹوکری اٹھائے تھا یہ تینوں حسب روایت گلدستے لے کر آئے تھے انکو اندازہ نہیں تھا کہ گھر کی تقریب اتنی مختلف بھی ہو سکتی ہے برسی کی تقریبات عموما سماجی ادارے میں منعقد ہوا کر تی ہیں جس میں ایک کونہ مختص کر دیا جاتا تھا جہاں مرحوم کی تصاویر سجا دی جاتی تھی لوگ گلدستے عقیدت سے ان کے آگے رکھتے اور مرحوم کی اچھی یادیں بیان کر کے ایک طرف ہوجاتے تواضع مہمانوں کی حسب توفیق روایتی کوریائ کھانوں سے ہو جاتی تھی مگر یہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا

    سامنے ہال نما بڑا سا کمرہ تھا جس کے سب دروازے کھلے تھے ۔کھلے کمرے میں  فرشی چاندنی بچھی تھی جس پر مختلف عمروں کے مرد اور لڑکے ادب سے پیر سمیٹے بیٹھے سنائی دینے والی مگر دھیمی آواز میں کسی غیر فہم زبان کی کتابیں پکڑے بول بول کر پڑھنے میں مصروف تھے ۔۔۔

    رچل کی کوئی تصویر کہیں نظر نہیں آرہی تھی  ایک ادھیڑعمر آہجوشی قہوہ پیش کرتے پھر رہے تھے جسے سب شکریہ کہہ کر تھام ضرور رہے تھے مگر اپنے سامنے رکھ کر دوبارہ پڑھنے میں مشغول ہو جاتے 

    یہ جون جے کے روحانی والد کا گھر ہے۔ یہیں اس نے رچل کی برسی کی تقریب رکھی ہے۔ 

    جونگھیو نے اسکی الجھن دور کی۔

    جون جے کہاں ہے۔۔۔ یون بن نے الجھن بھرے انداز میں سرگوشی کی 

    وہ رہا ۔۔۔جونگھیو نے آہستہ سے سامنے کی طرف اشارہ کیا

    کہاں ۔۔۔ یون بن کو ہرگز سمجھ نہ آیا سب انجانی شکلیں تھیں سب کے سب کورین بھی نہیں تھے اسے تو ان میں کچھ ایشیائی بھی نہیں لگ رہے تھے 

    ادھر ۔۔ ہایون نے پہچان لیا تھا سیدھا اس سمت میں بڑھا ان دو رویہ بیٹھے لوگوں میں وہ ایک کونے میں بیٹھا تھا اس کی جانب جانے کیلئے ان دو رویہ بیٹھے لوگوں کے بیچ سے گزرنا پڑتا 

    بیچ سے نہیں ادھر کونے سے چلو ۔۔۔ سونگ یونگنے باقاعدہ بازو پکڑ کر روکا تھا اور ایک جانب ہو کر خود انکی رہبری کرنے لگا یہ تینوں الجھن سے دیکھ کر پیروی کرنے لگے سونگھیواور جون جے زیادہ قریبی دوست تھے سو وہ جون جے کے طرز عمل میں تندیلی سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اسے اب جون جے کیساتھ کیسے رشتہ نبھانا ہوگا وہ اس سے بھے بہ خوبی آگاہ تھا 

    انہیں قریب آتے دیکھ کر جون جے پہلے تو حیران ہوا شائد اسے لگا تھا وہ اسکی دعوت قبول نہ کریں گے اسکی سچائی انکے رویے بدل دے گی مگر وہ سب نہ صرف آئے بلکہ روائتی انداز سے پھول بھی ہمراہ لائے تھے وہ بے تحاشہ خوش ہوا تھا کہ اسکے دوست نہیں بدلے وہ اپنے اس فیصلے کی پاداش میں اپنوں کو کھو چکا تھا اسکے سگے چچا زاد نے اس سے تعلقات ختم کرلیے تھےکہ انکی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا اسکی سگی ماں بھی ایسا ہی سوچتی تھی اور اسے تنہا چھوڑ چکی تھی وہ گرم جوشی سے انکے استقبال کو بڑھا تھا  ڈھیلے سے پاجامے اور ہمرنگ ترک قمیص میں ملبوس سر پر سفید سی ترک ٹوپی پہنے کمزور سا مگر بالکل مختلف دکھائی دیتا سونگھیو نہ ہوتا تو تینوں پہچان ہی نا پاتے اور شائد دروازے سے ہی واپس ہوجاتے 

    وہ تینوں سے لپٹ کر ملا تھا 

    بہت بہت شکریہ تم لوگ آئے  ۔۔۔۔۔آئو بیٹھو 

    ہایون کے ہاتھ سے ٹوکری لیکر ایک طرف رکھتے ہوئے وہ انہیں خلوص سے بیٹھنے کی پیشکش کر رہا تھا۔

     تینون ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جونگھیو ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس تھا جبکہ یہ تینوں تھری پیس سوٹ پہنے ٹائی لگائے حاضر ہوئے تھے جونگھیو جون جے سے ملکر بڑے آرام سے وہاں فرش پر بیٹھ کر کسی ادھیڑعمر آدمی سے مل رہا تھا انداز سے ظاہر تھا پہلی ملاقات پہلی نہیں ان تینوں کیلیے وہاں بیٹھنا تھوڑا مشکل تھا روائتی طور پر تو وہ سب سوٹ پہن کر اسے بیٹھنے کے عادی تھے مگر یہاں لوگ بے حد مختلف تھے انکی الجھن سمجھ کر جون جے ان کودائیں جانب کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر کمرے میں لے آیا صوفے سے سجا کم فرنیچر والا وہ ایک سادہ سی بیٹھنے کا کمرہ تھا

    تم لوگ شائد حیران ہوئے ہو ؟

    جون جے کے پوچھنے پر وہ کچھ کہہ نہ سکے خاموشی سے صوفے کی نشست سنبھال لی

    شائد جونگھیو نے بتایا ہو تمہیں کہ میں نے مزہب بدل لیا ہے۔ 

    وہ بلا تمہید بولا تھا۔ اس نے بتایا تھا انہیں یہ انکے لیئے نئی اطلاع نہ تھی مگر یہ کیسا مزہب تھا کہ بندے کا حال حلیہ تک بدل دے۔ 

    میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ وہ لحظہ بھر رکا۔۔ 

    وہ تینوں خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔  

    دراصل رچل کے بعد میں بہت مضطرب رہنے لگا تھا کہیں نہ کہیں اسکےساتھ جو ہوا اسکا زمہ دار میں خود کو سمجھتا ہوں اور اسکیلیئے میں خود کو  معا ف بھی نہیں کر پائوں گا عمر بھر۔۔۔

    وہ ان کی خاموشی سے تھک کر انکے سامنے بیٹھ کر خود ہی صفائی دینے لگا 

    مگر جو ہوا اس میں تمھارا کیا قصور ؟

    یون بن کہے بنا نہ رہ سکا 

    میں تائیکوانڈو بلیک بیلٹ تین لوگ جن کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا۔ ایک چھری تھی بس۔  ان سے اپنی بیوی کو نہ بچا سکا میری بیوی رو رہی تھی تڑپ کر مجھے پکار رہی تھی اور میں کچھ نہ کر سکا میں ہلنے جلنے کےقابل نہ تھا میں اپنے آپے میں نہ تھا

    وہ بے قراری سے بات کاٹ گیا خود ترسی کی انتہا تھی وہ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا

    آپ  پینے سے مدہوش تھے کوئی بھی بہت پی لے اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا اپنے ہو ش کھو دینے کے باعث اگر آپ مدد نہیں کر پائے تو اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں رچل بھی آپکو قصوروار نہیں گردانتی ہونگیں۔۔۔ ہایون اٹھ کر اسکے پاس آبیٹھا اور تسلی دینے کے انداز میں اسکا کندھا دبانے لگا۔۔۔۔

    جون جے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو پڑا۔۔

    وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بس کوئی لمحہ ایسا ہوتا کہ انسان اس لمحے کےزیر اثر آ کر کچھ بھی کر جاتا ایسا جو کبھی اسے نا ممکنات میں سے لگتا ہے ۔۔۔سونگھیو متاثر ہو جانے والے انداز میں بتا رہا تھا۔۔

    یون بن گلاس میں مشروب ڈال کر اس نے ہایون کو پیش کیا اور اپنے لیئے گلاس بنانے لگا

     وہ برسی سے واپسی پر ایک قریبی کلب میں آئے تھے۔ مے نوشی کا ارادہ تونہیں تھا مگر کم سن نے منگوا لی تھئ۔ ناچ گانے شور شرابے سے دور اوپر کھلے کیبن میں بیٹھ کر دور سے اچھلتے کودتے لوگوں کودیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے ہلکی ہلکی موسیقی کی آواز آرہی تھی کوئی مشہور پاپ گلوکار کا گانا چل رہا تھا بول فاصلہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم تھے

    جون جے کا احساس جرم اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا جبھی اس نے مزہب بدل لیا۔ سونگھیون نے چسکی لیتے ہوئے بات مکمل کی۔ 

    انسان کو ایک وجہ درکار ہوتی ہے ہر حادثے کے بعد جس وجہ کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو دلاسہ دے سکے۔ جون جے کو بھئ بس یہی فرار چاہیئے تھا  ورنہ شراب چھوڑتا مزہب نہیں۔

    کم سن نے ماہر تجزیہ کار کی طرح کہا تھا۔ یون بن نے سر جھٹکا۔ 

    انکا تو نام بھی بدل گیا ہے۔ سچ کہوں تو مجھے لگا انسان بھی بدل گیا ہے۔ سن بے ایسے نرم مزاج یا روندو تو کبھی نہ تھے۔ 

    یون بن کو دوپہر کی جون جے کی رقیق القلبی یاد آئی۔۔ 

    ہایون نے پرسوچ انداز میں اسے دیکھا اور چسکی لینے لگا

    میں نے کسی سے سنا تھا کہ سن بے  کوریا واپس آگئے ہیں۔۔کوئی آٹھ ماہ پہلے میں پہلی فرصت میں اس سے ملنے گیا تھا یقیں کر و مجھے جھٹکا لگا تھا نچڑ کر آدھے رہ گیئے تھا بہت زہنی دبائو کا شکار رھےمجھ سے  لپٹ کر رو دیئے۔ 

    ۔سونگھیون رکا ہایون ہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ 

    اس سے اگلی بار میں اس سے ایک ہفتے بعد ملا کافی بہتر تھے  اور آہستہ آہستہ ہر بار ملنے پر میں نے اس کو بہتر ہوتے دیکھا میں سمجھا تھا کسی نفسیات دان سے مل رہے ہیں اپناعلاج کروا رہے مگر میرے اندازے کے بر عکس وہ ایک مزہبی عالم سے مل رہے تھے تب میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ میں ہی اس واقعے سے متاثر ہو کر اپنا مزہب تبدیل کر چکے ہے۔۔۔ اب انکا نام چھا محمد علی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کم سن یون بن اور ہایون تینوں بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ 

    کہا تھا نا ان پر وقتی فیز ہے۔غم ہلکا ہوگا تو واپس اپنے مزہب پر آجائیں گے  

    کم سن اپنے اندازے کی درستگی پر داد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔ 

    کوئی نہیں ۔ اس مذہب کو اختیار کرنے کی پاداش میں سن بے تنہا ہو چکے ہیں۔ انکی آہموجی نے انکو جائداد سے بے دخل کر دیا ہے، انکے ساتھی جو انکے ساتھ شراب کے کاروبار میں شریک تھے انکے اپنے آپ کو اس کاروبار سے نکال لینے پر نقصان کی وجہ سے تعلق توڑ چکے ہیں۔ سن بے امریکہ میں اپنی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکے اب بس کورین ماسٹرز کی ڈگری کے ساتھ فی الحال بے روز گار ہیں اور اپنے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اکیلے رہتے ہیں۔ اس سب کے بعد بھی وہ اسی نئے مذہب پر قائم ہیں۔ 

    جونگھیو نے تفصیل سے بتایا ان تینوں کے چہروں پر شدید حیرت تھی۔ 

    مجھے شدید حیرت ہورہی ہے ۔۔ ہایون کہے بنا نہ رہ سکا۔۔۔

    شراب پینے سے نفرت ہوجانا سمجھ آتا کہ کہیں نہ کہیں وہ اپنے ہوش کھو دینے اور اپنی بیوی کو نہ بچا سکنے پر اپنی کمزوری پر شرمندہ ہے مگر اس سے مزہب تبدیل کرنے کا کیا تعلق وہ بھی اتنا مشکل مزہب ساری دنیا میں پسند نہیں کیا جاتا۔۔۔

    پھر بھی سب سے تیزی پھیلنے والے مزاہب میں سے ایک ہے ۔۔۔ جونگھیو نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا

    حیران کن ۔۔۔ کم سن نے کندھے اچکائے ۔

    یون بن نے نیا جام اٹھا لیا۔ اسکو دنیا کی کم ہی پروا ہوتئ تھی۔ سن بے کی مرضی مزہب بدلیں یا جنگلوں میں نکل جائیں انکو حق ہے اپنی زندگی اپنی مرضی سے برباد کرنے کا۔ 

    اسکا مئوقف سادہ تھا۔ جونگھیو بے ساختہ ہنس دیا۔

     اس بے وجہ ہنسی پرتینوں  نے حیرت سے اسے دیکھا 

    برباد ؟ شائد غلط لفظ ہے۔۔ سدھرنا ذیادہ جچے گا یہاں۔۔عجیب بات لگتی ہے مگر کبھی جانا تم علی کے ساتھ ملنا انکے پیشواہ سے انکا طریقہ عبادت دیکھنا بہت دلچسپ ہوتا ہےوہ منظر جب ڈھیرسارے لوگ ایک جیسے طریقےسےاٹھتے بیٹھتے کھڑے ہوتے 

    مزہ آتا دیکھ کر ۔۔ وہ براہ راست یون بن کو بتا رہا تھا۔۔۔۔ ہایون نے اس کے چہرے پر مزاق یا تمسخر ڈھونڈنا چاہا مگر وہ واقعی شائد انکو دیکھ کر بہت مرعوب ہوا تھا 

    مجھے کیا ضرورت ہے میں چرچ نہیں جاتا باقاعدگی سے ۔۔۔یون بن لاپروائی سے کہہ کر گھونٹ بھر رہا تھا سونگھیون نے اپنے گلاس سے ایک چسکی بھی نہیں بھری تھی  

    تم پی کیوں نہیں رہے؟  اس نے کافی اچنبھے سے پوچھا تھا 

    سونگھیون  ہلکے سے ہنسا پھر بڑا سا گونٹ بھر لیا 

    تمہیں پتہ ہے میں نے علی سے کہا تم شراب پی کر مد ہوش ہوگئے اسلیئے مان لیا کہ رچل کی جان گئی مگر اس میں شراب کا قصور نہیں تمہارا ہے تم نے پی زیادہ لی تھی کم پیو آئندہ احتیاط کرنا میں اسکو کلب لایا اور شراب پینے پر منانے لگا

    اس نے میرے سامنے شراب کی بوتل رکھ دی بولا بس اتنی پیو کہ بہکو نہ 

    وہ کہہ کر زور سے ہنسا۔۔۔۔ ان تینوں کو لگ رہا تھا تھوڑا سا دماغ سونگھیون کا بھی کھسک گیا ہے۔۔ 

    ہایون بالکل سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے اپنی چندی آنکھوں کو پورا کھول کر اسے گھور رہا تھا مانا جون جے بہتریں دوست تھا اس نے مزہب بدلا مگر انہوں نے دوست نہیں بدلا ۔۔۔ ٹھیک ہوگیا مگر یہ کیا کہ اس سے متاثر ہوئے چلے جائیں۔۔۔سونگھیون کی بات جاری تھئ۔

    میں نے کہا ٹھیک ہےمیں نے دو جام بنائے پیے تیسرا جام اس نے بنا کر سامنے رکھا میں نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا اس نے روک دیا مجھے یہ نہ پینا ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر مجھے نہیں یاد میں نے کتنے جام چڑھالیے صبح آنکھ کھلی میری میں اسکے گھر اسکے بستر پر سویا پڑا تھا 

    اب یہ کیا بات ہوئی پیتا ہی بندہ بہکنے کے لیے ہے تم نے شرط الٹی لگالی تھی 

    ہایون کو اسکی منطق سمجھ نہ آئی

    شرط نہیں ۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا 

    جون جے شرط نہیں لگاتا کہتا ہے حرام ہے لگانا 

    منطق کیا ہے اس میں ۔۔۔ یون بن جھلایا

    سن بے کہتا ہے اسلام میں شراب پینا منع ہے اسلئے کہ انسان ہوش کھو دیتا اور ہوش کھونے سے کم جتنا پینا اسکے لیے ممکن بھی نہیں ہوتا ۔اگر سامنے میسر ہو شراب تو۔۔۔ چکھ لو تو ذائقہ منہ سے جاتا نہیں پھر ہاتھ رک پاتا نہیں سو نہ پینا بہتر۔۔۔

    بتاتے بتاتے اس نے ایک سانس میں گلاس ختم کرکے رکھ دیا

    مجھے دیکھو ۔۔ہایون نے اپنا گلاس خالی کیا

    میں نے پی لیا میں بہکا نہیں میں اور پی بھی نہیں رہا ۔۔۔منطق ابھی ہی غلط ثابت ہو گئی ۔وہ کہہ کر اسے جتاتے ہوئے انداز میں دیکھ رہا تھا

    جونگھیون ہنس دیا۔۔۔

    میں بھی اسے غلط ہی ثابت کرنا چاہتا ہوں تبھی تو ملٹری جوائن کر رہا۔۔۔۔ اسے کہتے کہتے خیال آیا تو رک گیا ۔۔۔پھر بات بدل دی

    تم لوگوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں کیا ؟ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ گھر آکر سیدھالائونج میں صوفے پر آن گرا تھا۔ نیو ائیر نائٹ کی مے نوشی کا مکمل اثر ختم ہوا ہی تھا۔ اوراگلے ہی دن ان دوستوں نے پھر مزاق مزاق میں چڑھا لی۔ اسکا سر گھوم رہا تھا۔

    لائونج کا ٹی وی آن کرکے ریموٹ اس نے چھوڑ دیا تھا دھپ سے قالین پر گرا۔۔ اس نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا۔ 

    ہوش کھونا اتنا آسان بھئ نہیں ہوتا۔ آرام سے گھر پہنچ گیا ہوں۔ ہاں مگر۔۔۔ اسکی آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔ جانے کتنا وقت گزرا

    کیسے ہو منے بھائی۔۔۔ 

    شن نونا خوش گوار انداز میں اسکے سر پر طبل بجاتی دھم سے اسکے ساتھ صوفے پر آبیٹھیں وہ ہڑبڑا کر آنکھیں کھول بیٹھا۔ 

    سو رہے تھے ۔۔۔وہ حیران ہوئیں 

    بس آنکھ لگ گئ۔۔۔ وہ کسمساتا انگڑائی لیتا اٹھ بیٹھا ۔۔۔اور آپ کب آئیں؟۔۔۔ 

    بس ابھی ابھی ۔۔۔انہوں نے بیچ کی میز پر ہایون  کے برابر ہی ٹانگیں پھیلا لیں ریموٹ نیچے قالین پر لڑھکا پڑا تھا اسے اٹھا کر انہوں نے فورا موسیقی کا چینل لگا لیا تھا شائنی  کی آواز جادو بکھیرنے لگی  وہ دفتر سے لوٹ کر کپڑے بدل چکی تھیں سکرٹ اور لیگنگ کی بجائے ڈھیلے سے پا جامے ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو کیچر میں جکڑےوہ بھرے بھرے جسم چندی آنکھوں بےتحاشہ گوری خالص کوریائی نقوش کی حامل تیس سالہ کنواری مگر خود مختار  دوشیزہ تھیں ہایون کی واحد آٹھ سال بڑی بہن شن ۔۔۔ شکل میں ہایون بالکل ان جیسا نہیں  تھا۔۔۔۔۔۔

    آہبھوجی(والد) نہیں آئے ابھی تک واپس امریکہ سے ؟

     انہوں نے یونہی پوچھا تھا۔۔۔ ہایون بدمزا ہوا تھا۔۔ انکے ذکر پر۔۔۔

    آچکے ہوں گے مجھے کیا پتہ۔۔ 

    آہمی (امی) بھی ابھی تک گھر نہیں آئیں ۔۔۔ یہ بات وہ بتا رہی تھیں ہایون کو ان دونوں میں دلچسپی نہیں تھی سو کندھے جھٹکتا اندر جانے کو اٹھا۔۔۔

    انی نے ہاتھ پکڑ کر روکا

     میں نے چائنیز آرڈر کیا ہے سوچا تو یہی تھا سب خاندان مل کر کھائے مگر چلو ہم دو ہی سہی

    وہ بہت محبت سے دعوت دے رہی تھیں 

    میں چائنیز شوق سے نہیں کھاتا جانتی ہیں آپ۔ ویسے میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔  آپ کھائیے باقی آہمی جی آپکا ساتھ دینے آچکی ہیں ۔۔۔

    گلاس ڈور سےریڈ لانگ سکرٹ اور وہائٹ بلاوز میں گہری تیز لال لپ اسٹک سجائے نک سک سے تیار اسکی اپنی عمر سے کہیں کم نظر آتی کامیاب سوشل ورکر اسکی ماں اندر داخل ہوتی دکھائی دے رہی تھی لمبی اونچی ہیل کی ٹک ٹک کو گنگشن کی آواز بھی دبا نہیں پائی تھی اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑایا

    میں تمہاری پسند کا بھی کچھ آرڈر کر دیتی ہوں رکو تو سہی 

    نونا کہہ تو رہی تھیں مگر ہایون کا جی مکدر ہو چکا تھا

    ہاییون شا۔۔ آدل ( بیٹا) ۔۔۔ سی یان نے اسکو عجلت میں لمبے ڈگ بھرتے جاتے دیکھ کر پیچھے سے آواز دی آج کئ روز کے بعد وہ شکل دیکھ رہی تھیں اسکی مگر وہ صاف نظر انداز کرتا گزر گیا وہ کندھے اچکا کر اندر لائونج میں آگیئیں 

    آنیانگ واسے اوآہموجئ۔  ۔ نونا نے اپنے مخصوص خوش گوار انداز میں ماں سے حال پوچھا 

    تم کب آئیں۔۔چین سے۔۔ 

    وہ پوچھ کر مڑنے کو تھیں۔۔۔ 

    دو دن ہو رہے ہیں۔۔ انہوں نے برا نا مانا۔۔ 

    اچھا۔۔ ہاں کل سیڑھیوں کے پاس نیا ڈریگن دیکھ کر اندازہ ہوا تھا مجھے۔ ۔۔۔وہ ہنسیں۔ 

    ایک۔گھر میں رہتے انکی ملاقات بس یوںہی کبھی آتے جاتے ہوجاتئ تھئ۔

    چلو تم آگئ ہوتو اس سے بات کرنا تمہارے آہبوجی امریکہ بھجوانا چاہ رہے ہیں اسے یہ جانے کو تیار نہیں میری تو دیکھ لو سنتا تک نہیں تم کہہ کر دیکھو۔  

    انہوں نے لگے ہاتھوں کام بتا دیا۔ نونا لمحہ بھر کو چپ سی ہوئیں۔ 

    آہموجی آج میری ترقی منظور ہوئی ہے سو میں نے چائنیز منگوایا ہے آپ نہا لیں تو اکٹھے ڈنر کرتے ہیں 

    انہوں نے جلدی سے بتایا کہیں وہ بھی نا چلتی بنیں 

    آو واقعی میری بیٹی ۔انھوں نے آگے بڑھ کر پیار سے گلے لگایا 

    ہمیشہ کامیاب رہو ۔۔۔ میں ضرور شامل ہوتی ڈنر میں مگر آج میرے ڈائیٹ پلان کا کافی بیڑا غرق ہوا ہے دو سالگرہ کی دعوتیں بھگت کر آرہی ہوں سو ڈنر کا ارادہ نہیں تم اپنی کامیابی کا جشن منائو مزے اڑائو ۔۔۔

    نونا جو ان کے محبت بھرے انداز سے متاثر سی ہوئیں ان کے ارمانوں پر اوس سی گر گئی۔۔ مایوسی سے انھیں جاتا دیکھ کر بڑبڑائیں 

    ہاں میں مزے اڑائوں مگر اکیلے اور یہ۔۔۔ہایون امریکہ کیوں نہیں جانا چاہتا۔۔  بڑبڑاتے ہوئے سوچا تھا انہوں نے۔۔ 

    انکا فون بج رہا تھا شائد انکا منگوایا کھانا گھر پہنچ چکا تھا 

    انہوں نے بے زاری سے فون اٹھایا۔

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     ہایون کے امریکہ جانے سے انکار کی بس ایک ہی وجہ ہے مجھے ناکوں چنے چبوانا اور کیا ۔۔۔ لی بیون ہونگ غصے سے بھرے ہوئے تھے 

    میں چاہتا ہوں اعلی تعلیم کےلیے امریکہ جائے کاروبار کی سند لے کوئی ہنر سیکھے لی ایمپائر کے شایان شان کوئی تو کام کر لے مگر نہیں نہ کوئی مقصد ہے زندگی میں آگے بڑھنے کی دھن کیا کیا خواب نہ دیکھے تھے اسکے لئے اکلوتا بیٹا ہے اسکو کسی ایک کارخانے کا نظام سونپ دوں معاون بنائوں صدارت کے لیے منتخب کروائوں مگر صاحبزادے فرماتے ہیں مجھے دلچسپی نہیں کاروبار میں چلو ٹھیک ہے میں مانتا ہوں بیس اکیس سال کی عمرمیں بچے لاابالی ہوتے میں وقت دینے کو تیار ہوں مگر یہ لڑکا مجھے بہت نا امید کر رہا ہے میں آج مر جائوں تو ڈاریکٹرز منٹوں میں سب لی ایمپائر کے اثاثوں پر قبضہ کرکے اسے سڑک پر لے آئیں گے ۔۔۔

    وہ اپنی صدارتی کرسی پر براجمان گرج رہے تھے

    انکا وفادار سیکٹری ہاتھ باندھے سامنے کھڑا نظریں جھکائے خاموشی سے سن رہا تھا وہ بول بول کر لحظہ بھر تھمے تو اس نے انکو گلاس بھر کر پانی پیش کیا کف اڑاتے انہوں نے اس گلاس کو غنیمت جانا اور گھونٹ بھر لیا

    بیٹی ہے تو میرے ہی کاروباری حریف کی فنڈڈ این جی او میں  دو ٹکے کی نوکری کر رہی باپ اس ایمپائر کا صدر بنانا چاہتا اور وہ ہے کہ 

    وہ بولتے بولتے رک گئے انہیں یاد آیا بیٹی انکی اس ترجیح کا حصہ کبھی نہیں رہی تھی اسکو تو انہوں نے شائد خود ہی کھویا تھا اپنی ایم بی اے کی ڈگری لے کر وہ انکے پاس جاب کیلیئے ہی آئی تھی اور ان کے کارباری زہن نے اس کو خسارے کی سرمایہ کاری قرار دیا تھا 

    اسکی خوشی سے دمکتی شکل اور کچھ سال پرانا منظر نگاہوں کے سامنے روشن ہوگیا

    خیر

    انہوں نے سر جھٹکا

    شنوا گروپ کے ساتھ میٹنگ سے پہلے مجھے ایک بریفنگ چاہیے لی کیمیکلز کے فائدے اور نقصان کے حوالے سے۔۔۔

    وہ واقعی جھٹک چکے تھے ایک اچھے کاروباری آدمی کی طرح وہ غیر پیداواری سوچوں پر کبھی سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے رہا سیکٹری سر اثبات میں ہلا کر انکے اگلے حکم کا منتظر تھا ایک اچھے سیکٹری کی طرح اس نے اپنی رائے محفوظ رکھی تھی وہ انکے ابرو کا اشارہ بھانپ لیتا تھا ابھی بھی اسے اندازہ تھا کہ بات بے شک اس سے کی جا رہی مگر اس سے بات نہیں کی جا رہی تھی یہ صرف خود کلامی تھی ۔۔۔۔

    سر ڈاریکٹر جان آپ سے ملنا چاہتے کل دوپہر کے وقت کی ملاقات طے کر دی جائے ؟

    وہ بورڈ میٹنگ میں مجھ سے کل مل چکا دوبارہ اتنی جلدی ملنے کی کیا وجہ؟

    وہ چونکے 

    شائد کو ئی خاندانی معاملہ زیر بحث لانا چاہتے

    سیکٹری کو اندازہ تھا نوعیت کا کاروباری معاملات تو سب طے پاچکے تھے دوسرا اس نے ان سے پوچھ بھی لیا تھا 

    ہے تو میرا چچازاد مگر ہے شیطان کا چیلا ضرور کوئی نئی سازش تیار کی ہوگی ۔۔۔انہوں نے اندازہ لگایا 

    انکی یہ خودکلامی بلند آواز میں نہیں تھی 

    چلو دیکھتے ہیں جان تم نیا کیا ڈنک تیار کر رہے ہو میرے لیے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک آخری  بازی اس آخری چھٹی کے نام۔

    ہایون اوریون بن نے بلیئرڈ کی اسٹک ٹکرا کر چئیرز کیا۔۔

    وہ  اسنوکر کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ دھڑا دھڑ گیندیں میز پر گھوم کر میز کی جیب میں جا گرتیں۔ یون بن کی شاٹس ہمیشہ کسی نئی ٹرک پر مشتمل ہوتئ تھیں۔اس وقت بھی اسکی ہاف والی گیندیں تھیں جو میز پر سے خالی ہو چکی تھیں۔ ہایون نے اسنوکر لگا کر دیا تھا۔ اسکی فل گیند کے بالکل برابر جوڑ کر ہاف پڑی تھی ۔۔ اسکی چیلنج دیتی نگاہوں کے جواب میں یون بن نے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے شاٹ لگائی سفید گیند سیدھی میز کے کنارے سے ٹکراکر اچھلی اور فل والی گیند کو پار کرکے ہاف سے ٹکرائی۔ باری تو ختم ہوگئ مگر اسنوکر بھئ ہٹ گیا اور پاکٹ کے سامنے یون بن کی گیند آجانے سے ہایون کیلئے شاٹ لینا دشوار ہوگیا۔ 

    ہایون غور سے میز دیکھ رہا تھا۔

    یون بن نے مکا سا بنا کر اسکے چھیڑا۔ 

    ہایون شا۔ فائٹنگ۔۔ 

    ہایون اسکے بچکانہ انداز پر مسکرایا۔ 

    وہ یقینا ہارنے لگا تھا۔ مگر وہ مسکرا کر ہار قبول کرنے والوں میں سے تھا۔۔

      گوارا ان سے کچھ فاصلے پر اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی۔۔

    چندی آنکھوں لمبے سیدھے سیاہ بالوں والی روائتی کورین لڑکی۔انکی ہم جماعت  گھٹنوں تک آتی سرخ  اسکرٹ اور سرخ ہی بلائوز میں ملبوس سردی سے بچنے کو منک کوٹ پہن رکھا تھا۔ اور لیگنگ بھئ۔ لانگ شوز والے پائوں بے چینی سے جھلاتی انہیں گھور رہی تھئ مگردونوں بلا کے مگن تھے۔۔  اس نے دو ایک بار انکو بازی ختم کرنے کا کہا بھی مگر دونوں کان نہیں دھر رہے تھے کمیونٹی کلب تھا اسے اکیلا بیٹھے دیکھ کر دو نوجوان اسے گپ شپ اور رقص کیلئے پوچھ چکے تھے اس نے سہولت سے انکار کیا تھا مگر اب اسے سچ مچ غصہ آرہا تھا 

    یون بن اور وہ ہائی اسکول سے ساتھ تھے اکٹھے پڑھا تھا ان میں دوستی سے کچھ زیادہ تھا وہ اس بات کر چھپاتے نہیں تھے مگر یون بن میں یہ بری عادت تھی اسے کبھی کبھی جیسے بھول ہی جاتا تھا اتنا نظر انداز کر دیتا کہ اسے شک گزرتا کہ کہیں اسکی زندگی میں کسی اور حسینہ کاعمل دخل تو نہیں مگر یہ شک فی الحال شک ہی تھا

    ابھی بھی جلتی کلستی دونوں کو گھوررہی تھی کم سن ڈانس کرکے تھک ہار کر واپس ان لوگوں کے پاس چلا آیا 

    مشروب کا گلاس تھامے اس نے گوارا کو مشروب کی بے دلی سے چسکیاں لیتے دیکھا پھر اسکی نگاہوں کے مرکز کو 

    وہ ہایون کو کھا جانے والی نظروں سے گھو ر رہی تھی

    اس نے ہنس کر اس کے ہاتھ سے گلاس چھینا اور غٹا غٹ چڑھا گیا 

    گوارا نے خاصی نا پسندیدہ نظروں سے اسے گھورا 

    مگر بولی نہیں 

    اس نے اسکے گلاس پر لگے لپ اسٹک کے نشان پر انگلی پھیری پھر جتاتی نظروں سے دیکھ کر بولا

    ابھی بھی وقت ہے مجھ سے پٹ جائو کسی طور یون بن  سے کم نہیں اور کبھی اس طرح تمہیں اکیلا چھوڑنے والا بھی نہیں اسکی طرح۔۔۔

    گوارا  ہنسی

    ہاں ہینڈسم جبھی کنڈر گارٹن سے اب تک ایک گرل فرینڈ تک نہیں تمھاری۔۔۔ 

    یون بن  کی گنی ہیں کبھی تمھیں ملا کر کونسی باری بنتی تمہاری؟  کنڈرگارٹن سے اب تک۔۔ برا مانے بنا بولا

    یہ گوارا کی دکھتی رگ تھی سلگ کر جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی تبھی ہنستے مسکراتے یون بن  اور ہایون چلے آئے 

    کدھر ؟ آئو پیتے ہیں ڈرنک آج میری طرف سے ۔۔۔ یون بن نے گرم جوشی سے اسکے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر روکا اسکا موڈ خوشگوار تھا مگرگوارا کا خراب ہو چکا تھا اسکا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے کرتی پئر پٹختی باہر نکلتی گئ۔۔۔ 

    اسے کیا ہو ا ۔۔۔ یون بن  خود پر لگنے والی فرد جرم سے بے خبر تھا حیران پریشان رہ گیا

    جناب یون بن شی جب آپ دوستوں کے ساتھ آتے تو گرل فرینڈ کو ساتھ نہیں لاتے اور اگر لے آتے تو اسے بور ہونے کیلیئے اکیلا چھوڑنا بد تہزیبی ہوتا ہے آہجوشی ( صاحب) آپکی مادام خفا ہو چکی ہیں منائیے ۔۔۔ انتہائی تادیبی نظروں سے دیکھتے ہوئے بہت شائستہ اور ادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آرام سے صوفے پر پھیلتے کم سن نے طنز داغا

    جون تائی کچھ سمجھا کچھ نہیں ہاں گوارا کے پیچھے جانا ضروری تھا وہ معزرت کرتا اس سمت لپکا ہایون نے اسے تقریبا بھاگتے دیکھا تو اسکی حالت پر ترس کھاتا  مسکرا کر کم سن کے سامنے والی نشست پر براجمان ہو گیا 

    ایک اور ترس کے لائق انسان اسکے سامنے تھا

    بے خیالی میں گوارا کا جھوٹا گلاس تھامے اسکی لپ اسٹک کے نشان پر انگلی پھیر رہا تھا

    یہ گوارا کا گلاس ہے گوارا نہیں رکھ دو میز پر ۔۔۔

    رومیو کی حالت نا گفتہ تھی مگر اس نے کھسیا کر میز پر گلاس رکھ دیا اور دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر انگلیاں پھنسا لیں ایک دوسرے میں جیسے خود سے مزید کسی بے اختیاری کے سر زد ہونے کا خوف لاحق ہو۔۔۔

    آہش۔۔۔ ہیون جونگنے سر جھٹکا 

    عشق میرے دوستوں کے ساتھ دشمنی پر اترا ہوا لگتا ہے سب دیوانے ہوئے جاتے ہیں بے چارے جنوبی کورییائی باشندے ۔۔۔ وہ ترس کھا رہا تھا پھر رکا جیسے کوئی خیال آیا ہو۔۔۔

    کہیں عشق کو شمالی کوریا تو معاونت فراہم نہیں کر رہا ؟ جا عشق جنوبی کوریا ئی جوانوں کو کسی کام کا نہ رہنے دے ۔۔۔۔ اسکی لن ترانی عروج پر تھی کم سن جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اسے تپتے دیکھ کر ہیون جونگنے اپنی زبان کو بریک لگائی اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر بٹھایا

    بیا نیئے۔۔۔ معاف کر دو۔۔۔ مذاق کر رہا تھا کو ابھی یہ خیال کم جونگ ان کو نہیں آیا ورنہ وہ  تھوڑی وہ نیوکلئر بنانے میں سب توانائیاں خرچ کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکےلئے باز آنا مشکل تھا کم سن دوبارہ اٹھا اس بار پہلے سے زیادہ سخت گرفت سے روکا اور بٹھا دیا گیا

    کیا گرل فرینڈ کی طرح نخرے کر رہے ہو بیٹھ جائو۔۔۔

    میں اکیلے کلب نہیں آیا تھا سب چھوڑ گئے مجھے۔۔۔

    وہ خفا ہوا۔ 

    سونگھئون  کہاں ہے ؟آیا تو وہ بھی تھا۔۔۔

    کم سن حیران ہوا

     ہوگا کسی دوشیزہ کے ساتھ ۔۔۔ ہایون نے کان سے مکھی اڑائی

    کم سن نے اٹھ کر کلب پر۔طائرانہ نگاہ ڈالی۔ ڈانس فلور نیچے تھا اور وہاں رقص جاری تھا وہاں اگر جونگھیون تھا بھئ تو نظر نہ آتا لہزا اس نے اسی فلور پر نگاہ دوڑائئ۔ وہ دور ایک لڑکی کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ 

    سونگھیون  جون جے کی وجہ سے پریشان ہے شائد وہ دونوں ہمیشہ سے ایک دوسرے کے زیادہ قریب رہے ہیں ۔۔۔ ہایون  نے خیال ظاہر کیا کم سن نے  کندھے اچکا دیے

    پریشانی تووہ دیکھ ہی چکا تھا۔

    تو اکیلے لوگ ابھی بھی یہاں بیٹھے ہیں ۔۔۔ یون بن  اکیلا واپس آیا تھا آکے دھم سے ہایون کے برابر آگرا 

    گوارا کہاں ہے ؟

    کم سن نے فورا پوچھا

    یار خفا ہوکے گھر چلی گئی ہے اتنا منایا مانی نہیں۔ یون بن  کا انداز لا پروا تھا 

    اب کل اسے گھمائوں پھرائوں گا خریداری کروائوں گا مزاج ٹھیک ہو جائے گا ڈرامہ کوئین ہے ایکدم

    یار مشروب تو منگوائو وہ اسی لا پروا انداز میں کہہ کر اشارے سےبیرے کو بلا رہا تھا 

    ہایون  خا موشی سے گلاس پر نظر جمائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

    بھرا ہوا مشروب تھا اسکے ہاتھ میں۔ مگر اس نے گرفت چھوڑ دی۔۔ 

    تبھی ایک غیر ملکی نقوش کی حامل لڑکی ان کے پاس آرکی۔۔۔

    آپ انگریزی سمجھ سکتے ہیں ؟یون بن  سے مخاطب تھی وہ ۔۔۔

    جی تھوڑی بہت۔۔۔ یون بن کی بانچھیں چر گئیں 

    مجھے ڈرنک آرڈر کرنا مگر میری بات شائد بار ملازم کو سمجھ نہیں آرہی آپ میری مدد کر سکتے ہیں ہیں۔۔۔ بھورے بالوں درمیانے قد بڑی بڑی آنکھوں  کی وہ مکمل بلونڈ لڑکی تھی شا ئد نہیں یقینا امریکی

    ایک تو امریکیوں کو یہ کیوں لگتا ساری دنیا کو انگریزی آتی ہے ۔۔۔ کم سن نے بڑبڑا کر سر جھٹکا بیرا انکے آرڈر کیئے گئے مشروب لا کر رکھ رہا تھا مگر یون بن  جھٹ سے مدد کو تیار اٹھ کھڑا ہوا لڑکی دلفریب مسکراہٹ اچھالتی اسکے ساتھ بڑھ گئی

    ہایون  ہنس دیا

    تو غلط کیا ہے اس میں یہاں دیکھ لو سیول کے اس خالص سیول کے باشندوں سے بھرے اس کلب میں بھی انگریزی کی شد بد رکھنے والے کم از کم تین لوگ مو جود ہی ہیں ۔۔۔

    اس نے گلاس اٹھا کر پی لیا تھا۔ پھر چونکا بھئ۔۔ 

    ہماری مجبوری ہم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہیں ہم پر مسلط ہے انگریزی اگر ہم نے کوئی اسپیشلائزیشن کرنے باہر جانا تو ہمیں سیکھنا پڑے گئ انگریزی  ۔۔۔ کم سن کی اپنی رائے تھی 

    جو بھی وجہ سہی۔۔۔ ہایون  نے بھی کندھے اچکا دیئے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حسب معمول وہ چاروں جماعت میں داخل ہوتے ہی سب سے پیچھے جا کر بیٹھے تھے۔ کم سن ، ہایون، یون بن اور گوارا۔

    ماس کمینیکشن کے اوسط درجے کے طلباء تو نہیں تھے مگرپھر بھئ نمایاں ہونے سے جان جاتی تھی۔ سر ڈیوڈ کا لیکچر شروع ہو چکا تھا ان چاروں نے جماعت کو ڈسٹرب نہیں کیا۔ سر ڈیوڈ بھی ایک نظر دیکھ کر دوبارہ لیکچر میں مگن ہوگئے تھے۔

    نئے تعلیمئ سمسٹر کا آغاز تھا۔ سب طلباء خاموشی سے ہال نما کمرے میں بیٹھے سر کا لیکچر سن رہے تھے۔۔۔۔ 

    رائے عامہ کا شعبہ دنیا کا حساس ترین شعبہ ہوتا ہے

    حکومت بہت حد تک اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے مگر جوں جوں ذرائع ابلاغ ترقی کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کچھ معاملا ت حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں ہم یہاں بیٹھ کر امریکہ کے حالات و واقعات سے باخبر رہتے اسی طرح ہمارے معاملات سیاسی و سماجی تبدیلیاں امریکیوں سے چھپی نہیں ہیں ۔۔۔ہماری رائے بھی ہے اور ہم اپنی رائے کا اظہار ڈھکے چھپے انداز میں کریں یا کھلم کھلا ہم پر منحصر ہے ہم تو چلیں بڑے ہیں پڑھے لکھے ہیں مگر اب بچے بھی اپنے لیے کب کہاں کتنا بولنا ہے جانتے ہیں جب میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا تب میری زندگی کی سب سے بڑی مشکل اپنی سائیکل کی دیکھ بھال ہوا کرتی تھی۔۔

    تمام طلبا انکے انداز پر مسکرا دیے۔۔۔ 

    ہاں یقیں کیجیئے کسی جھگڑے میں یونہی کسی بچکانہ لڑائی میں یا کبھی کسی معمولی حادثے میں میری سائیکل کو خراش بھی آتی میں پہروں دکھی رہتا تھا امریکہ اور سوویت یونین آمنے سامنے ہیں اور جرمن بچہ اپنے گھر کے اسٹور روم میں گھسا اپنی سائکل پر جھنڈیاں لگانے میں مصروف ہے اور اب ایسا نہیں ملکی و غیر ملکی معاملات پر 

     اسکول کا طالب علم بھی اپنی رائے رکھتا ہے اسکا بھی اس دنیا کے سیاسی و خانگی یا ماحولیاتی تبدیلیو ں پر نہ صرف نظر ہے بلکہ اسکی اچھی یا بری رائے ہے ۔۔۔

    پرفیسر ڈیوڈولف اپنا لیکچر دے رہے تھے بنیادی طور پر وہ جرمن تھے انکا پورا لیکچر مکمل انگریزی میں ہوتا تھا ان کے سو کے قریب طلبا میں سے غیر ملکی بمشکل پانچ سات ہونگے باقی سب کوریائی تھے جو اگر انگریزی کی شدبد رکھتے بھی تھے تو اتنی نہیں کہ انکی مکمل بات سمجھ سکیں یہ بات انکے چہرے سے ظاہر تھی پوری جماعت جمائی روک رہی تھی انکی زیرک نگاہ سے یہ چھپا نہ رہ سکا بے ساختہ مسکرا دیے

    اب یہ دیکھئے کہ میں جرمن باشندہ کوریا میں کھڑا انگریزی میں لیکچر دے رہا جو سب سے غور سے ایک ہندوستانی طالب علم سن رہا ہے جس کی مادری زبان شا ئد ہندی ہے ۔۔۔

    انہوں نے سب سے آگے بیٹھے سر پر پگڑی باندھے  اس طالب علم کو شفقت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ 

    واقعی پریم سنگھ پوری توجہ سے سن رہا تھا انکی بات پر خفیف ہو کر مسکرا دیا 

    باقی جماعت بھی دبی دبی ہنسی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔

    نہیں سر میری مادری زبان پنجابی ہے ۔۔۔اس نے کھڑا ہو کر انگریزئ میں تصحیح کی ۔۔۔

    سر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔

    میں چاہتا ہوں کہ آپ سب مجھے کچھ نیا بتائیں آپ سب کا اگلا اسئانمنٹ ہے کسی دور افتادہ علاقے شہر یا گائوں جس کا آپ کے اندازے کے مطابق مجھے علم نہ ہو اس پر رپورٹ لکھ کر مجھے اگلے ہفتے جمع کرائیں۔۔۔

    ان کے اس کام پر سب میں کھلبلی مچی تھی 

    سر ایسا کیسے ممکن ہے ابھی تو آپ نے کہا دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور آپ تو ویسے ہی کتنے ممالک گھوم چکے۔۔۔ ہایون کی زبان میں کھجلی ہوئی

    تمھارا کہنے کا مطلب دنیا بس اتنی ہی چھوٹی سی ہے اور ایک چھپن سالہ بوڑھے جس کی یادداشت جواب دے رہی ہے اسکو گوگل استعمال کرکے بھی متاثر نہیں کرسکتے ہو۔۔ پرفیسر صاحب نے کان سے پکڑا تھا اسے جیسے۔۔۔

    بات میں دم تھا ہیون کھسیا گیا

    اگر اتنا مشکل لگ رہا تو پانچ پانچ لوگ گروپ اسئنمنٹ بنا لو۔۔۔ وہ آج بڑے موڈ میں تھے۔۔۔

    یہ خیال سب کو پسند آیا پوری جماعت کھسر پھسر میں لگ گئ۔۔۔

    ہاں ایک بات ۔۔۔ انھیں جاتے جاتے کوئی خیال آیا 

    کوریا کم میونگ یونیورسٹی نے ایک نئےایشیائی ملک کی یونیورسٹی سے ایکسچینج پروگرام کی داغ بیل رکھی ہے۔۔اسکے عالمی تعلقات کے شعبے کو مزید بڑھانے اور نت نئی تہزیبوں سے روابط بڑھانے کے لئے عالمی تعلقات کے دس طلبا کو اس ملک میں خاص وظیفے پر بھیجنے کے لیئے درخواستیں طلب کئ ہیں آپ میں سے جو بچے جانا چاہیں وہ کم ازکم اپنے دو سمسٹر  وہاں مکمل کر سکیں گے رعائتی فیس کے ساتھ سو مجھے پندرہ مارچ تک آپ ریفرینس اور ریکومنڈیشن کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں ۔۔۔ تر جیح تو میرٹ پر ہی دی جائے گی مگر میں آپکی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔

    کون سا ملک ہے سر ۔۔۔ بہت سے طلبا اس اسکالر شپ میں دلچسپی لیتے نظر آئے ہایون کو بالکل دلچسپی نہیں تھی اسکے آہبھوجی امریکہ اسے بھجوانے کو ایڑھی چوٹی کا زور لگا چکے تھے وہ نہیں گیا اب اس ایشیائی ملک جانے کو کیا تیا ر ہونا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    سجدے میں جا کر جیسے وہ سر اٹھانا ہی بھول گیا

    یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ پگھل ہی جائے گا اسکی آنکھوں سے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے اسے پتہ بھی نہ چلا تھا وہ زور زور سے سسکیاں لینے لگا تھا جماعت کب کی ختم ہوگئی تھی امام صاحب اسے دیکھتے رہے رشک سے دیکھتے دیکھتے انہیں لگا تھا شائد وہ ہوش کھو دے گا انہیں سمجھ نہ آیا تو قریب آکر دھیرے کندھا ہلا کر آواز دی

    علی ۔۔۔

    علی جھرجھری لے کر سیدھا ہوا اسکے گالوں پر سرخی تھی اسکی پیشانی تر تھی اسکی سانسیں بے ترتیب تھیں جیسے کسی ریس میں دوڑ لگا کر سب کو ہرا کر بے دم کھلاڑی ہانپنے لگے اس نےنظریں جھکا کر آنکھیں پونچھ ڈالیں

    محمد ہادی اسے شفقت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے آگے بڑھ کر انہوں نے سہارا دے کر اسے اٹھایا

    میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا ہوں آہجوشی

    بےبسی سے اٹھتے ہوئے اس کے منہ سے نکلا

    محمد ہادی قصدا خاموش رہے اسے لیکر وہ مسجد سے باہر کھلی فضا ء میں لے آئے 

    انکا گھر یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا مگر انکا ارادہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرنے کا تھا

    علی انکو اپنے بچوں کی طرح عزیز تھا وہ بنیادی طور پر کوریا سے تھے۔ پندرہ سال قبل اپنا مذہب بدل کر اسلام قبول کیا اور ایک مراکش خاتون سے شادی کرکے مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔  کوریا کے دانش کدہ میں میں کیمیاء کے استاد۔انکی دو بیٹیاں تھیں۔ علی سے انکی ملاقات اسی مسجد میں ہوئی تھی وہ پچھلے سات سال سے یہاں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے علی سے انکو انسیت تھی اسکا مزہب کی جانب رجحان اوراسکے اسی طرح طویل سجدوں سے دل کھنچا تھا انکا

      سئول کی ٹھنڈی شام  خنک ہوائیں شائد بارش کی آمد کی پیشگی اطلاع کے طور پر چل رہی تھیں کھلی فضاء نے علی کے منتشر اور بےچین اعصاب کو تھوڑا ہی سہی مگر سکون پہنچایا تھا 

    تم خود کو قصوروار مانتے رہو یہ اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دینے سے بہتر ہوتاہے۔نفس کیلئے۔۔۔۔ مگر تمہارا قصور تھا کیا یہ طے ضرور کر لو۔۔۔

    ہادی کی بات پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا وہ انکو اپنی زندگی کے اس بڑے سانحے سے آگاہ کر چکا تھا تب وہ خاموش رہے تھے ہر ملنے والے اس کے چاہنے والے یا خیر خواہ اسکے نفسیات کے معالج کے برعکس انہوں نے یہ جملے کہے تھے سب اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر اسے بری الزمہ قرار دے دیتے مگر یقینا انکے پاس کچھ الگ کہنے کوکچھ تھا

    اس کی اچنبھے سے تکتی نگاہیں ان کے چہرے پر گڑی تھیں 

    وہ مسکرائے 

    تم مدہوش ہوئے کیوں کہ تم پیئے ہوئے تھے تم پیتے تھے کیوں کہ تمھہیں اندازہ نہیں تھا کہ پینا تمہیں بھاری پڑ سکتا۔۔۔

    یہان تک تمہاری کوئی غلطی نہیں ۔۔۔

    اگر تم مسلمان پہلے سے ہوتے تو ضرور میں مان لیتا تمہاری غلطی ہے۔۔۔

    یہ وہ بات تھی جس پر اس نے خود کو سب سے  پہلے قصوروار ٹھہرایا تھا وہ حیران ہوا

    وہ پچھتایا اتنا پچھتایا کہ اسے پینے سے نفرت ہوگئ وہ لڑتا رہا خود سے وہ پیتا کیوں تھا اسکو روکا کیوں نہیں گیا۔۔۔۔ 

    اسے مدد کیلئے آئے اس رضاکار کے جملے نہیں بھولتے تھے جس نے تاسف سے اسکو بیوی سے لپٹ کر روتے دیکھ کر کہاتھا 

    جبھی میرے دین نے شراب کو حرام کہا یہ ام الخبائث ہے ہمیشہ روگ دیتی ہے ۔۔۔

    اور اسے روگ ہی لگ گیا تھا 

    تم اپنی بیوی کے ساتھ تھے اکیلے تھے ساحل کنارے تھے کیوں کہ تمہیں اپنے آپ پر مکمل بھروسہ تھا کہ تم اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دوگے یہ تمہاری غلطی تھی ۔۔۔ 

    یہ امام صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟

    علی کی آنکھوں میں شدید حیرت تھئ۔

    تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ تم اپنی بیوی کو ہر مشکل پریشانی سے بچا لوگے۔ تم صرف بچانے کی کوشش کر سکتے ہو علی۔۔ خود پر بے جا بھروسہ تمہاری غلطی تھئ۔ 

    تم تو ایک معمولی سے انسان ہو علی۔ کسی کی حفاظت کے ضامن کیسے ہو سکتے ہو جبکہ آفات ہمیشہ ناگہانی ہوتی ہیں۔۔ ؟۔۔۔

    وہ جو کہہ رہے تھے اگر کوئی محض سال پیشتر اسے کہتا تو شائد اسکا ردعمل کچھ اور ہوتا مگر اس وقت وہ اپنی کم مائیگی کو محسوس کر رہا تھا۔ گہری سانس بھرتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔۔

     واقعی وہ تو بس ایک معمولی سا انسان ہے۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آہنیانگ واسے او

    نسبتا تھوڑا سا روائتی آگے جھک کر انہوں نے خوش آمدید کیا ڈائریکٹر جان نے فہمائشی مسکراہٹ چہرے پر سجا رکھی تھی لی  ان کا ہر انداز پہچانتے تھے خوب سمجھ رہے تھے آج یقینا کوئی بڑی شرط منوانے کا ارادہ ہے 

    وہ اس وقت ایک اونچے درجے کے پانچ ستارہ ہوٹل میں موجود تھے ان دونوں کے ذاتی سیکٹری ان دونوں کے پیچھے مئودب کھڑے تھے یہ ایک روائتی کوریائی کیوزین تھی زمیں سے تھوڑی ہی اونچی میز جس کے سامنے رکھی نرم گدی پر وہ روئتی انداز سے براجمان تھے۔۔۔

    ان کے منگوائے گئے آرڈر میں فی الحال کچھ وقت تھا 

    ڈاریکٹر جان کچھ تھوڑا سا جھکے جیسے کچھ کہنے ہی لگے ہیں پھر رکے اپنے سیکٹری کو اشارہ کیا اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا اور الٹے قدموں پیچھے ہوتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا 

    مسٹر لی نے تعجب سے دیکھا 

    میں ہمیشہ سیدھی بات کرتا ہوں لی۔۔۔ سو آج بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور تمھارا فائدہ گنوائے بغیر کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ اندازہ میں تم پر چھوڑتا ہوں سو آج میں تمہیں ایک پروپوزل دینے آیا ہوں ۔۔۔

    مسٹر لی کی شفاف پیشانی شکنوں سے بھر گئ

    اپنا ہاتھ اٹھا کر انہوں نے مزید کچھ کہنے سے ڈائرکٹر جان کو روکا اپنے پیچھے کھڑے سیکٹری کو بھی باہر جانے کا اشارہ کر ڈالا 

    یہ محض خیر سگالی کا انداز تھا ورنہ دونوں کے سیکٹری بھی یہ بات جانتے تھے کہ ان دونوں کے بیچ ہو نے والی گفتگو پر ان دونوں سے ہی مشورہ لیا جائے گا۔۔۔

    #۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے تیار ہو کر تیزی سے باہر نکلتے دیکھ کر گنگشن نے آواز دے ڈالی تھی 

    وہ اور آہمی جی لونگ روم میں بیٹھی چائے پی رہی تھی وہ قصدا دونوں پر نگاہ ڈالے بنا گزر جانا چاہتا تھا مگر نونا وہ گہری سانس لے کر رک گیا مگر پلٹ کر بھی نہ دیکھا 

    مجھے سونا تک ڈراپ کر دو میری گاڑی سروس کیلئے گئ ہوئی ہے۔۔۔ 

    نہ اثبات نہ انکار وہ بس کھڑا تھا

    تم میری گاڑی لے جائو میرا شام تک کوئی پروگرام نہیں ہے ۔۔۔

    اسکا بے رخی سے بھرپور انداز آہمی کو ناگوار گزرا تھا ۔۔۔ ہایون تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا

    انی نے باقی ماندہ چائے ایک سانس مین حلق سے اتاری اور اپنا بیگ اٹھا کر لپکیں 

    چابی تو لے جائو۔۔۔ آہموجی نے پکار کر کہا مگر نونا بہت جلدی میں تھیں تقریبا بھاگ کر باہر آئیں حسب توقع ہایون گاڑی میں بیٹھا انکا انتظار کر رہا تھا

    انہوں پیار بھری نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا

    ابو آہمی کے نزدیک لاپروا کھلنڈرا تھوڑا سا بدتمیز نظر آنے والا انکا بھائی اپنی نونا (بہن) پر جان دیتا تھا نا ممکن تھا کہ وہ انکو ٹال کر چلا جاتا

    وہ مسکرا کر اگلی نشست پر آ بیٹھیں

    اس نے بنا کچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کر دی

    میری ترقی کی دعوت کب لے رہے ہو ؟ہایونا

    وہ خوشگوار انداز میں مخاطب تھیں 

    جب آپ واقعی ترقی کر لیں گی۔۔۔ ہیون جونگکا انداز جتاتا ہوا تھا نونا  چپ رہ گئیں اسکا اشارہ کس جانب تھا انہیں اندازہ تھا

    ہیایون نے انکا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھا تو اپنے کہے پر افسوس بھی ہوا۔۔۔ 

    مجھےہماری فوڈ چین کے سوا کہیں پر بھی ٹریٹ چاہئیے ۔۔ وہ بات بدل گیا

    میرا ارادہ تمہیں سی فوڈ کھلانے کا ہے۔۔

    نونا  نے بھی موڈ ٹھیک کر لیا تھا اپنا

    چائینیز کھلائیں گی سی فوڈ بھی مگر وہ نہیں جسکی فرمائش کروں۔۔۔ مجھے بیف کھانا

    وہ مصنوعی خفگی سے کہہ رہا تھا

    تم مجھے ڈیٹ پر لے کر جانے کا وعدہ کرو تو میں تمہیں تمہاری پسند کی ٹریٹ دونگی۔۔ وہ بھی اسکی نونا تھیں فورا شرط رکھ دی سامنے

    نونا  ویسے اور کچھ وراثت میں آہبوجی سے لیا ہو نہ لیا ہو کاروباری زہنیت لی ہے آپ نے۔۔۔ اسکا انداز ہلکا پھلکا تھا 

    نونا ہنس دیں 

    ان کیلیئے بھائی کی توجہ بہت تھی پھر وہ انہیں کالی چڑیل بھی کہہ دے

    سپا کے سامنے گاڑی رک چکی تھی بس اتنا سا سفر 

    وہ خدا حافظ کہہ کر اتر گئیں پیچھے سے ہایون نے پکارا

    نونا۔۔ 

    وہ چونک کر مڑیں

    نیکسٹ ویک اینڈ پر میں فارغ ہوں  ٹریٹ لے سکتا ہوں اور ہاں 

    وہ رکا

    واپسی پر گاڑی منگوا لیجئے گا جب ہم آرہے تھے تو آپکی گاڑی واپس آ چکی تھی۔۔۔ 

    نونا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی ہایون کو بھی بہن کا چہرہ کھلتے دیکھ کر اندر سے بہت اطمینان محسوس ہوا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کم سن یون بن اور ہایو ن تینوں اطمینان سے تھے ان کے پاس گورا تھی ابھی بھی کیمپس میں بیٹھے ڈیل  اور کولڈ ڈرنک اڑا رہے تھے گوارا پیر پٹختی آئی

    تم تینوں کے ساتھ رہنا میری سب سے بڑی غلطی ہے۔۔۔ اسکا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا

     یون بن  نے دلچسپی سے اسکا گلابی چہرہ دیکھا 

    کیا ہوا۔۔۔ 

    ہایون کو اچھو لگا تھا اچھا بھلا سکون سے بیٹھا کولڈڈرنک کا بڑا سا گھونٹ بھرا تھا ایکدم سے پیچھے سے آکر حلق کے بل چلا اٹھی اسکا ہاتھ ڈگمگا گیا آدھی کولڈ ڈرنک سانس کی نالی میں آدھی اسکی شرٹ پر آئی تھی  زور کا پھندا لگا تھا کھانس کھانس کر حشر ہو گیا کم سن جو اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا اسکی پیٹھ سہلانے لگا گوارا نے زرہ بھر اثر نہ لیا پرانے انداز میں شروع ہوگئی

    “پورے پراجیکٹ کی زمہ داری مجھ پر سارا دن انٹرنیٹ پر معلومات اکٹھی کرتی رہی ہوں تو شام اسکی پریزنٹیشن بناتے پورے پانچ دن لگے مجھے اور تم تینوں مدد کرنا تو دور کم ازکم ایک بار پریزنٹیشن دیکھ لو اسکے لیئے بھی بلا بلا کے تھک گئی مطلب میں صاف صاف یہ سمجھوں کہ اس اسائنمنٹ میں بھی ہم سب سے آخری نمبر پر ہونگے۔۔۔کیونکہ سر دو بار مجھے ٹوک چکے کہ آپ کے گروپ میں کوئی اور کبھی پریزنٹیشن کیوں تیار نہیں کرتا اب انہیں بتائوں کوئی اور پراجیکٹ کیلیئے معلومات تک فراہم کرنے کا روادار نہیں ہے سب کچھ میں ہی کرتی ۔۔۔ “

    ہاں تو ہم سب فیمنسٹ ہیں لڑکیوں کی آزادی و خودمختاری کے حامی ہم اپنے سے بھی آگے رکھتے تمہیں ۔۔۔ یون بن کی ڈھٹائی عروج پر تھی مزے سے بچی ہوئی کولڈڈرنک پیش کر رہا تھا اسے

    فیمنسٹ مائی فٹ 

    دانت کچکچا کر اس نے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا ایک رایٹنگ پیڈ اور یو ایس بی نکال کر کم سن کا ہاتھ کھینچ کر اسے تھمایا اپنی مخروطی انگلی سے انہیں دھمکی آمیز اشارہ کرکے بولی

    یہ رہا مواد جو میں نے اکٹھا کر دیا ہے کب کہاں کیسے کس نے پریزنٹیشن بنانی کس نے دینی تم تینوں مل کر فیصلہ کر لو ۔۔۔

    اسکی دھمکی سے تینوں کے ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے 

    سنو گوارا یار غصہ کیوں کر رہی ہو بات تو سنو ۔۔۔ تینوں الرٹ ہو گئے تھے گوارا رعائت دینے کے موڈ میں نہیں تھی کم سن رائٹنگ پیڈ الٹ پلٹ رہا تھا ریفرنس کے ساتھ رائے بھی تھی کافی کچھ تھا بس اسے ترتیب دینا تھا مگر یہ کام بس گوارا ہی کر سکتی تھی کیونکہ کیا کہاں لکھا اسکی لکھائی ناقابل فہم تھی 

    گوارا یہ تو کچھ سمجھ نہیں آریا ۔۔کم سن نے دہائی دی

    ملک کا نام ہے ۔نیپال ۔۔ شہر ہے کھٹمنڈو۔ مجھے یقین ہے سر کو کم از کم اسکا نام نہیں پتہ ہوگا۔ ۔۔۔۔۔ باقی میرا مسلئہ نہیں ۔۔۔ وہ کہہ کر مڑگی دو قدم ہی چلی ہوگی واپس مڑنا پڑا یون بن صدمے سے کم سن پر جھکا ہوا اسکی لکھائی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ایک ہاتھ کم سن کے کندھے پر تھا دوسرے میں کولڈ ڈرنک کا کین تھا اسکے ہاتھ سے کین چھینا پھر تیزی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی یون بن  نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا پھر ہایون کی گدی پر زوردار چپت جما دی 

    یہ کس لیئے ابھی ہی کھانسی رکی تھی ۔۔۔۔بلبلا کر کر گھورا تھا اس نے

    میری گرل فرینڈ پر اکتفا کرکے بیٹھے ہوئے ہو اپنی بھی کوئی بنائی ہوتی تو آج یہ نہ ہوتا ۔۔۔

    ویسے آج کوئی گرل فرینڈ نہ ہونے کا مجھے بھی شدت سے احساس ہو رہا ہے ۔۔۔کم سن متفق تھا

    کیا بڑا مسلئہ ہے ہم بنا لیں گے سب کام کہہ تو رہی ہے کر چکی ہے گوارا ۔۔۔ ہیون نے منہ بنا کر کہا کم سن کے ہاتھ سے لے کر رائٹنگ پیڈ کے صفحے پلٹے 

    یار دو دن ہیں ابھی کوئی گرل فرینڈ بن مل سکتی ہے اتنے کم وقت میں۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #

    وہ ایک اور خوشگوار دن تھا چمکیلی دھوپ سیول پر چھائی ہوئی تھی پچھلے کچھ دنوں کی نسبت اب کافی گرم موسم ہو چکا تھا سو سنسانی پھیلی تھی  پرفیسرڈیوڈ   کی کلاس میں موسم کافی گرم تھا 

    مجھے حیرت ہے آب سب پر کہ اگر آپ کو بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی نہیں تھی تو آخر اس مضمون کا انتخاب کیوں کیا ۔۔۔ تقریبا ساٹھ کے قریب طلبا  اٹھارہ کے قریب اسائنمنٹ گروپ چھے سے آٹھ طلبا مل کر کوئی ایک انوکھا موضوعاتی مواد جمع نہ کر سکے آپ لوگوں نے وکی پیڈیا کا اہم ڈھونڈے جانے والے مواد کو اکٹھا کیا آپ لوگوں نے جو اٹھارہ خاکے جمع کروائے میں نے دو دن میں پڑھ لیے پہلی سطر سے مضمون کے چربہ اور نقل ہونے کو بھانپ لیا میں نے ۔۔تین گروپ نے تو شمالی کوریا کو ہی منتخب کیا اور سوائے چند سنی سنائی باتوں کے مجھے ان میں بھی کچھ متاثر کن نہ لگا فلاں شہر اتنا رقبہ اتنی تعداد میں افراد یہ زبان ۔۔۔ ہائی اسکول کے بچے کو بھی شمالی کوریا کے متعلق اتنی معلومات ہونگی ہی۔۔۔ 

    بہر حال کل پانچ اسائنمنٹ مجھے پسند آئے

    مجھے انکی پریزنٹیشن دیکھنی ہے ہم ایک دن میں دو کم ازکم دیکھیں گے اور ان پانچ خاکوں کے علاوہ باقی سب تسلی رکھیں آپ سب کو میں پاس نہیں کرنے والا اس اسائنمنٹ میں۔۔۔۔ 

    انکا انداز دو ٹوک تھا۔۔کلاس میں بھنبھناہٹیں سی ہونے لگیں۔ 

    آخری رو میں بیٹھے ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کچھوے کی طرح گردن لمبی کر لی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نونا ۔ ہنسے جا رہی تھیں 

    پھر ۔۔۔ بمشکل ہنسی روک کر پوچھا۔۔ 

    پھر۔۔۔ کیا ہیون جونگنے منہ بنایا

    سر نے نام بھی سنا تھا اور وہ نیپال کی اس رسم کماری کے بارے میں بھی جانتے تھے۔ 

    نونا ہنسیں۔۔ 

    میں نے بنائی ہے ساری پریزنٹیشن کافی دلچسپ ہے ۔۔۔

    آپ کو بھی دکھائوں گا بس سر کو پسند آجائے شکر ہے انہوں نے جو پانچ خاکے منتخب کیئے ان میں ہمارا خاکہ شامل تھا۔۔۔

    وہ اس وقت کنگنم اسکوائر میں مخصوص رائس ڈرنک پیتے ہوئے ٹہل رہے تھے نونا کا ارادہ اسے ٹریٹ دینے کا تھا مگر کھائیں کیا اسکا فیصلہ کرنا دشوار تھا یہ ایک طرح کی فوڈ سٹریٹ تھی بھانت بھانے کے پکوان کے ٹھیلے خوشبو اڑا رہے تھے بہت سے دکاندار اپنے کھانے مفت میں چکھا بھی رہے تھے ان دونوں کا ارادہ مگر کہیں سکون سے بیٹھ کر کھانے کا تھا اور بھوک لگانے کو ٹہل بھی رہے تھے

    آہ طلبا کی زندگی بھی کیا خوبصورت زندگی ہوتی مجھے سچ میں اپنا بےفکری سے گزرا یہ دور بہت یاد آتا بعد میں پریکٹیکل لائف بس کام کام یا شادی شدہ لائف یعنی مزید زمہ داریاں۔۔ انی رشک سے کہہ رہی تھیں 

    تبھی آپ دوبارہ اس زمہ داری میں پڑنے سے گریز کر رہی ہیں ۔۔۔ ہیون جونگنے جو سوچا صاف کہہ دیا

    نونا  کے چہرے پر سایہ لہرایا پھر دوبارہ خود کو سمیٹ کر تازہ دم ہو کر بولیں

    کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ میں بھی عام سی ہی انسان ہوں۔۔۔

    آنیا ( نہیں)  میں اپنی جس نونا  کو جانتا ہوں وہ عام سی نہیں ہے ان کے اپنے مستقبل اپنے کام کیلئے بہت سارے پلان تھے وہ ہر دم خوش مطمئن رہتی تھیں 

    وہ اور بھی کہہ رہا تھا انی نے بات کاٹ دی

    وہ تو میں اب بھی ہوں دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔ 

    کریم کلر کی لانگ سکرٹ اور ہلکے گلابی ٹاپ میں ملبوس ہمرنگ لپ اسٹک مسکراتے لبوں پر سجائے باب کٹ بالوں گوری رنگت والی انی مکمل میچور کوریائی لڑکی لگ رہی تھیں جو اپنا خیال خود رکھ سکتی تھی 

    بس دکھائی دیتی ہیں اب آپ ۔۔۔ ہیون بات کاٹے جانے پر منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔۔ انی ہنس دیں

    اب میں بیس اکیس سال والی انی تو نہیں رہی نا بڑی ہو گئی ہوں ۔۔۔ تم ہو اب بیس  اکیس سال کے۔۔

    کوئی گرل فرینڈ تو بنائو یا بنا لی ہے مجھے خبر نہیں۔۔۔

    مزے سے بات پلٹ گئی تھیں وہ

    کوئی نہیں بنائی ۔۔۔ اس نے سر جھٹکا 

    کیوں منے ۔۔۔ وہ آنکھیں پٹپٹا کر مصنوعی حیران ہوئیں

    بس کوئی دل میں کھبی نہیں ۔۔۔ ہیون کا انداز لاپروا تھا اسکا ڈسپوز ایبل گلاس خالی ہو گیا تھا اس نے یونہی ایک جانب اچھا ل دیا۔۔۔

    کیسی لڑکی پسند تمہیں ؟ 

    مجھے۔۔۔ وہ سوچ میں پڑا

    نخریلی لڑکیاں نہیں پسند۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اف میں تھک گئی بس اب اور نہیں چل سکتی۔۔۔

    اسکی سانس پھول چکی تھی ہانپتے ہوئے وہ وہیں کھڑی ہو گئ واکنگ ٹریک پر اسکے ساتھ جاگنگ کرتا صارم  جو اپنی رفتار میں اس سے تھوڑا آگے نکل گیا تھا اسکو اپنے ساتھ محسوس نہ کرکے مڑا تو آدھی جھکی گھٹنوں پر ہاتھ رکھے وہ ہانپتے ہوئے کہہ رہی تھی

    حیرت سے وہ مرنے ہی تو لگا تھا بھاگ کر اپنا اور اسکا درمیانی فاصلہ طے کیا اور چیخ ہی تو پڑا

    ابھی ایک چکر بھی پورا نہیں ہوا اور تم تھک گئیں۔۔۔

    ہاں اس نے جلدی بیگ پیک اپنے کندھے سے اتارا اور اندر سے کین براآمد کر کے جلدی سے منہ کو لگا لیا

    اے ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اس سے کین چھیننا چاہا مگر وہ جھکائی دے گئ

    یہ کونسا طریقہ ہے منہ میں یہ جو فیٹ انڈیل رہی ہو اسکو ہی کم کرنے شائد چہل قدمی کرنے آئیں ہیں آپ محترمہ ۔۔۔ وہ طنزیہ بولا 

    تو کیا تو ہے نا ۔۔۔ اسکی ڈھٹائی عروج پر تھی 

    ویسے مجھے پتہ نہیں تھا نہار منہ پارک میں دوڑکی لگانے سے اردو اچھی ہو جاتی ہے ۔۔۔ اس نے اب بیگ سے موبائل بر آمد کیا تھا ارادہ قریبی بنچ پر بیٹھ کر اسکی ہی جان کو رونے کا تھا دلاور نے ایک لمحے کو سوچا پھر اسکا موبائل چھین کر دوڑ لگا دی۔۔۔ایک لمحے کو تو اسے سمجھ نہ آیا کیا ہوا جب اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھا تو چیخ مار کر دوڑی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ ایسی ہو جو نرم دل ہو۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صارم  کے بچے 

    اسکے پیچھے بھاگتے بھاگتے اسکی سانس پھول رہی تھی اسکا بس نہ چلا تو ہاتھ میں پکڑا کین تاک کر اسکے سر پر دے مارا ابھی اس میں کولڈ ڈرنک تھا کسی پتھر کی طرح آگے آگے بھاگتے دلاور کی گدی پر لگا  وہ وہیں چیخ مار کر ڈھیر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٹھہر ٹھہر کر دھیما دھیما بولتی ہو۔۔۔

    ہایون کی مدح سرائی جاری تھئ نونا بہت دلچسپی سے سن رہی تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے بھاگ کے اسے جا لیا تھا 

    جو زمین پر بے سر و سامانی کی حالت میں بے ہنگم ٹانگیں پھیلائے پڑا سر سہلا رہا تھا اس نے قریب آکے ایک لات اسکے پیٹ پر جمائی وہ دہرا ہو گیا جلدی سے جھک کر  اس سے مو بائل چھینا۔۔ 

    سو بار کہا ہے موبائل کا مزاق نہیں۔۔ اس نے دھمکی دیکر گھورا۔ پھر خیال آیا۔

    ۔ ایک تو تم میری سمجھ سے بالا ہو۔ ۔ کسے صبح صبح نواز شریف پارک آنے کا شوق ہو سکتا وہ بھی جاگنگ کیلئےاوپر سے آنا بھئ  بائک پرہے۔ ۔  دانت بجتے ہیں آتے ہوئے میرے۔۔ 

    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔ سانس پھول گئ تھی۔ مگر زبان تواتر سے چلانے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ 

    ہر اس شخص کو جسے تمہارے جیسا موٹا ٹھلا بن کے پھرنے کا شوق نہ ہو۔ وہ بھڑک کر بولا۔۔ 

    یہ تم تم نے ہر وقت موٹا کہہ کہہ کر اماں کو وہم دیا ہے۔

    اس نے پھر لات جمانی چاہی مگر وہ سرعت سے زمین پر ہی پہلو بدل گیا۔۔ 

    مانا سیخ سلائی نہیں ہوں مگر موٹی بھی کہنا ذیادتی ہے۔ 

    ایک وقت تھا میری گڑیا میری چندا کہہ کر زبردستی کھلایا کرتی تھیں خالی پیٹ یونیورسٹی مت جا ئو اب ہر روز خالی پیٹ یہاں تمہارے ساتھ واک پر بھیج دیتی ہیں کچھ پتہ میرے ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ کا فاصلہ کتنا ہے یہاں بے کار میں تھک کر جاتی وہاں ایک قدم مجھ سے چلا نہیں جاتا تین دن سے۔۔۔۔ وہ بول بول کر پھر تھک گئ۔۔ 

    خود بھی وہیں اس کے ساتھ ڈھیر ہو گئ 

    صارم ابھی بھی پڑا اسے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہا تھا۔

    اس نے گہری سانس لے کر سانسیں بحال کیں پھر سلسلہ کلام جوڑا 

    کلاس نہیں لی میں نے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دھیما بولنے والی نازک سی لڑکی جس کو دیکھ کر اسکی ڈھال بن جانے کیی خواہش پیدا ہو دل میں۔۔۔۔

    ہایون نے بات مکمل کر دی تھئ۔ نونا کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بڑا احسان کیا ۔ وہ چڑگیا۔ 

    سو چنگیز خان ہٹلر مرے ہونگے جو تم پیدا ہوئی تھیں 

    جاہل جنگلی لڑکی ساری آنتیں اوپر نیچے ہو کر رہ گئیں میری۔۔

     پچھلے جنم میں گدھی تو نہیں تھیں بے دریغ لاتیں چلانے سے تو ایسا ہی لگتا۔۔۔ وہ ابھی بھی پیٹ سہلا رہا تھا

    میں اسکو کومپلیمنٹ کے طور پر لیتی ہوں جس کے تم جیسے آستیں کے سانپ بھائی  ہوں انکے ساتھ جانور ہی بن کے رہنا ٹھیک۔۔ وہ لا پرواہ تھی مزے سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔۔

    بلاگ اپڈیٹ کرنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ 

    اس نے یونہی ہاتھ اوپر کرکے دو رویہ درختوں کے بیچ جھانکتے سورج کی تصویر لی۔ 

    صبح روشن۔۔۔اسکے ذہن میں مزیدار سا قول آیا تھا۔۔ جھٹ لکھنے لگی۔ 

    کوئی کہہ سکتا یہ لڑکی پڑھی لکھی ہے ۔۔۔ دلاور ہاتھا پائی تو کر نہیں سکتا تھا سو مخصوص چڑانے والا انداز اپنا لیا

    گریجوئشن کر رہی ہے اگلے ہفتے شادی ہے اسکی۔۔۔

    اسکی ساری لا پروائی رخصت ہوئی 

    موبائل کی اسکریں پر چلتے ہاتھ رک گئے

    شادی نہیں نکاح ہے بس۔۔۔

    وہ کہہ کر فون لاک کرتی اٹھ کھڑی ہوئی دلاور نے اسکے انداز کو غور سے دیکھا پھرخود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

    چلو نکاح سہی مگر  شادی شدہ ہی کہلائو گی۔۔۔

    وہ اسے چھیڑ نہیں رہا تھا اب… اسکا انداز بدلا بدلا وہ کافی دن سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

    ابھی بھی وہ اسکے الفاظ پر چیں بہ چیں ہو کر رہ گئی مگر خاموش رہی 

    خالہ کے الفاظ کانوں میں گونجے۔صارم کئ۔۔

    تم ہی بات کرکے دیکھ لو بجھ سی گئ ہے بہن بھائی کوئی ہے نہیں کسی اور دوست سہیلی سے قریب ہے نہیں مجھ سے تو اتنا چڑ رہی ہے کہ بات کروں تو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہے پوچھو اس سے مسلہ کیا ہے۔۔۔

    مسلئہ ۔۔ اس نے پرسوچ نگاہیں تیز تیز قدم اٹھاتی دور جاتی اریزہ پر جمائیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور ۔۔۔۔نونا  بے حد دلچسپی سے سن رہی تھیں۔۔۔جبھئ مزید بولنے پر اکسایا ۔۔ 

    وہ کنگم کے درمیانے درجے کے  ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ حسب عادت نونا نے کونے والی میز کا رخ کیا تھا۔۔

    اور ۔۔۔۔ 

    ہایون سوچ رہا تھا۔ 

    دونوں میز پر براجمان ہوئے ۔۔۔ویٹر کے قریب آنے پر 

    آرڈر کیا ۔۔

    اور۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اتنی پھرتی کہاں سے آگئی تم میں ابھی تو دو قدم چلنا بھی محال تھا تمھارے لیے۔۔۔ اسکو تیز تیز قدم اٹھاتے مین گیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر کر جملہ کسا

    رکو تو سہی مجھے ساتھ لے کر جائو بنا بائک پیدل کیسے گھر جائو گی ؟

    اس نے  کہا تو وہ خلاف توقع رک گئ اور اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔

    میں چل رہا ہوں نہ تو مجھے لگ رہا کوئی چیز اوپر چلی گئی ہے اندر۔۔۔ چلتے چلتے رک کر خوفزدہ سی شکل بنا کر اس نے کہا تھا۔۔۔

    اوپر چلی گئی میری آنت… خالی ہو گئی ہے جگہ دیکھو۔۔۔

    اپنے دو پیکس والے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکی تشویش دیدنی تھی۔۔۔

    مگر مقابل ٹکرکی  تھی انتہائی پریشانی چہرے پر سجا کر مکا بنا کر بولی

     ایک گھونسا سینے پر بھی جما دیتی ہوں آجائے گی واپس ۔۔۔

    اس سے بعید بھی نہیں تھا وہ ڈر کے پیچھے ہوا۔۔۔

    کتنی پر تشدد لڑکی ہو جانے سجاد بھائی پر کیا گزرے گی تم سے تو وہ لڑ بھی نہیں پائیں گے ادھر انہوں نے کچھ کہا تم نے پنجے تیز کیئے۔۔۔

    اس نے جان کے ذکر نکالا۔۔۔

    وہ بھی سمجھ گئی تھی 

    تم خوشیاں منائو تمہارے پلے تو نہیں پڑی نا اوروں کی فکر میں ہلکان مت ہو۔۔

    میں تو اٹھتے بیٹھتے شکر ادا کرتا ہوں سچی۔۔۔۔۔ 

    بائک نکالتے وہ چڑا رہا تھا مگر چہرے پر سنجیدگی تھی۔ 

    دونوں یونہی لڑتے بھڑتے گھر آگئے 

    انکی آوازیں سنتے ہئ امی نے پکار کے بتایا۔۔ 

    آئو اریزہ ابھی تازہ جوس نکالا ہے۔۔ موسمی کا۔۔

    امی نے تازہ جوس نکال کر رکھا ہوا تھا اس نے صاف انکار کیا۔۔۔

    امی میں تو اور موٹی ہو جائوں گی شادی والے دن بھدی لگوں گی مجھے آپ بھوکا مرنے دیں کم از کم ناک تو نہیں کٹے گی میری وجہ سے۔۔۔ وہ دھپدھپ کرتی تیار ہونے کمرے میں گھس گئی

    دیکھ رہے ہو ۔۔۔ امی نے شکایتی نظروں سے دلاور کو دیکھا

    خالہ اسے اسکے حال پر چھوڑ دیں سچ تو یہ ہے کہ آپ لوگوں نے شادی شادی کر کے اس ذکر سے چڑا دیا ہے اسے کتنی پرجوش تھی میں سی ایس ایس کروں گی یہ کروں گی وہ کروں گی گریجوایشن بھی مکمل نہیں کرنے دے رہیں آپ اسکا چڑنا تو بنتا ہے ۔۔۔ دلاور نے سنجیدگی سے کہاتھا مگر وہ خالصتا پاکستانی ماں مجال ہے جو بچوں کی سن لیں چڑ گئیں۔۔ 

    ہاں دشمن ہوں اسکی اتنے اچھے رشتے کو ہاتھ سے جانے دیتی ۔۔ فضول شوق کے پیچھے باقی کینڈا جا کے جو مرضی پڑھتی رہے ۔ کوئی اعتراض نہیں پھرسجاد گھر کا بچہ ہے سنجیدہ سمجھدار۔۔۔ 

    ۔۔۔

    وہ اپنی دھن میں کہے گئیں اپنی بات کے حق میں سو دلائل تھے انکے پاس ۔۔۔ 

    خیر بچہ تو نہ کہیں۔۔۔ اس نے لائونج کے صوفے پر گرتے ہوئے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا تو لائونج میں لگے دیوار گیر ٹی وی کے نیچے بنی میز پر سجی سجاد اور اریزہ کی منگنی کی تصویرپر نگاہ۔جا رکی۔ اس نے  تادیبی نگاہ سے دیکھا۔۔ اڑتیس  سال کے ہینڈسم مگر سنجیدہ سے سجاد کے ساتھ بیس سال کی اریزہ گڑیا سی لگ رہی تھی۔۔۔

    ماں کے ارشادات اریزہ نے بخوبی سنے تھے دھڑ سے الماری بند کرکے اپنی قسمت کو کوستی اسی سے سر ٹکا کر رہ گئی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا نمبر  ہمیشہ کی طرح اریزہ کے نام تھا 

    نوٹس بورڈ پر مد ٹرم کا رزلٹ لگا تھاسب طلبا نوٹس بورڈ کے گرد جمع تھے وہ دیکھنے آئی تو ساجد نے جو اپنا نام ڈھونڈ رہا تھا جلدی سے اسکا رزلٹ بتایا اور دوبارہ نوٹس بورڈ پر جھک گیا دونوں ہاتھ چلاتے ہوئے وہ ہر نئے آنے والے کو بھی ساتھ ساتھ بتا رہا تھا۔۔۔ اسکو سب آتے جاتے مبارک باد دے رہے تھے۔۔۔

    سنتھیا اسکا بجھا بجھا سا انداز دیکھ تو رہی تھی مگر چھیڑا نہیں اسکا ہاتھ پکڑ کر کینٹین میں لے آئی۔۔۔

    ایڈون کونے میں میز گھیرے سموسے اور کولڈ ڈرنک منگوائے انکا انتظار کر ررہا تھا

    مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ وہ بیٹھ تو گئی تھی مگر کھانے سے صاف انکار کر دیا تھا

    پتہ ہے مجھے تین دن سے ناشتہ نہیں مل رہا تمہیں چلو شرافت سے کھانا شروع کرو۔۔۔ سنتھیا نے اس کے سر پر چپت لگا کر ڈرامہ بازی سے روکا۔۔

    کیوں یہ ظلم کیوں ہو رہا تم پر۔۔

    ایڈون نے آدھا سموسہ منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا

    کیونکہ میں موٹی ہوں اور دلہن بن کر اور موٹی لگوں گی بقول میری ہونے والی ساس کے۔۔۔ ابھی بنی بھی نہیں ہیں ساس۔۔۔مگر میرا کھانا پینا کھٹکنے لگا امی سے صاف کہا اسے ڈائٹنگ کروائیں اب ایک ہفتے میں میں اپنا سارا زائد وزن کم کرکے انکے بیٹے کے قابل بن جائوں سو میری اماں مجھے چھے بجے صارم  کے ساتھ واک پر بھیجتی ہیں اور واپسی پر ایک  ابلا انڈہ اور فریش جوس میرا منتظر ہوتا۔۔

    وہ تقریر ہی کرنے لگ گئ ۔سنتھیا اور ایڈون متاسف نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جوابا انکی نظروں سے  اب جزباتی ہو کر میز پر ہاتھ مار کر بولی۔ 

    مطلب میں کیا ہوں انسان ہوں کہ نہیں مجھے زور سے ہنسنا زور سے بولنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے مجھے وزن کم کر لینا چاہیے کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے مجھے روز چہرے پر ماسک رگڑنا چاہیے تاکہ گوری ہو جائوں کیونکہ میری شادی ہو رہی میں یونیورسٹی آنا چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے ان شارٹ میں اپنی مرضی سے جینا چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے  لڑکی ہونا عزاب ہو گیا ہے میرے لیے کوئی حد ہوتی ہے کسی بات کی بھی کہ نہیں  ۔۔۔ بولتے بولتے اسکی آواز تیز ہو گئی تھی ایڈون سموسہ چبانا بھول گیا سنتھیا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی پوری کینٹین میں یکدم خاموشی چھا گئی تھی سب طلبا ویٹر کاونٹر پر موجود لوگ ہاتھ روک کر اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

    اسے جوش میں اپنے والیم کا اندازہ ہوا ہی نہیں ۔۔۔ سب کو ٹکر ٹکر اپنی طرف دیکھ کر کھسیا کر کرسی پر نیچی ہو کر بیٹھ گئی

    چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سب اپنے اپنے حواسوں میں واپس آئے دوبارہ کینٹیں آوازوں سے بھرنے لگی۔۔۔سنتھیا اور ایڈون نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔۔ 

    ویسے تم موٹی تو نہیں ہو یہ تو زیادتی کی ہے تمھاری ساس نے۔۔۔ سنتھیا نے اسے سرتاپا دیکھتے ہوئے کہا تھا دوست ہونے کے ناطے اسے کافی غصہ آیا تھا۔۔۔

    اسکی بات پر اریزہ آہستہ آہستہ دوبارہ کرسی پر طلوع ہونا شروع ہوئی

    دراصل مجھ سے میرا وزن پوچھا تھا انہوں میں نے سچ بتا دیا۔۔تو۔۔ اس نےمنہ بنا کر سموسے کی جانب ہاتھ بڑھایا

    کتنا وزن ہے تمہارا۔۔۔ ایڈون نے سموسہ نگل کر پوچھا

    سکسٹی ٹو کےجی۔۔ اس نے سموسہ بھرا منہ میں۔۔۔ 

    کیا ۔۔۔ سنتھیا کو کولڈ ڈرنک پیتے اچھو لگا۔۔۔

    لگتا تو نہیں ہے۔۔۔ ایڈون بھی حیران ہوا۔۔۔

    ہاں وہی تو مانا پانچ فٹ چار انچ قد کے حساب سے تھوڑا کم ہو نا چاہیئے پچپن تک ہو مگر میں اتنی بھی موٹی سی تو نہیں لگتی کہ مجھے منہ بھر کر ٹوک دیا جائے۔۔۔ گرے کرتے اور جینز میں ملبوس بڑی سی ہمرنگ شال سلیقے سے اوڑھے وہ ٹھیک ہے بہت ہوا ہوائی نہیں لگتی تھی مگر موٹی بھی نہیں کہہ سکتے تھے اسے ہاں بھرا بھرا جسم تھا اسکا۔۔۔ 

    صحیح کہہ رہی ہے ۔۔سنتھیا متفق تھی اپنے بیٹے کو دیکھا ہے اس کے ساتھ کھڑا ابا لگتا ہے اسکا اس سے تو کہیں پیاری اور چھوٹی ہے یہ ۔۔

     انجانے میں سنتھیا اسکی دکھتی رگ چھیڑ گئی۔۔۔

    نا شکل نہ عادت نہ عمر نہ مزاج کسی طور تو ہم پلہ نہیں ہے سجاد اسکے۔۔ سنتھیا کو غصہ آگیا۔ 

    جتنا یہ شوخ  مزاج کی زندہ دل لڑکی اتنا سجاد سنجیدہ سڑیل منگنی پر یاد ہے جب صارم وغیرہ اس کو چھیڑ رہے تھے رسموں کیلئے بلا رہے تو سجاد کی ناگواری عروج پر تھی بعد میں فون کرکے اسکے کزنز کو چھچھورا بدتمیز اور نہ جانے کیا کیا بنا ڈالا اس نے کچھ کہنا چاہا انکی حمایت میں تو صاف کہا اسے اپنا مزاج تبدیل کر کے انکی زندگی میں شامل ہونا چاہیئے۔۔۔ 

    تیزی سے سموسے کی پلیٹ صاف کرتے اسکے ہاتھ واضح طور پر رکے تھے۔۔ ایڈون نے اسکو دیکھ کر سنتھیا کو آنکھون آنکھوں میں گھرکا تھا۔۔۔ 

    سنتھیا بھی شرمندہ ہو گئی تھی ۔۔۔

    اچھا چھوڑو پتہ ہے نیو اسکالر شپ آئی ہیں ایک ایشین ملک کے ساتھ ہماری یونیورسٹی ماس کمیونیکیشن  کے شعبے سے الحاق کی شروعات  کر رہی ہے پہلے مر حلے میں تجربے کے طور پر پانچ دس انکے طلبا اپنے آخری دو سمسٹر یہاں آکر مکمل کریں گے اسی طرح یہاں سے بھی پانچ طلبا کو اسکالر شپ دی جا رہی کہ وہ وہاں کے تعلیمی ماحول سے فیضیاب ہوں اس طرح ہماری یونیورسٹی کی ڈگری بھی بھی بین الاقوامی سطح پر پہچاانی جائے گی ۔۔۔ مزے کی بات ہے نا۔۔۔ اگلے مہینے تک درخواست جمع کروانی ہے ۔۔۔ایڈون بتا رہا تھا۔۔۔ 

    کس ملک کی اسکالر شپ ہے۔۔۔ اریزہ نے دلچسپی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔ 

    سجاد سے تو میں نے کہا تھا کہ مجھے کینڈا کی یونیورسٹیز کے بارے میں بتائیں مگر انہوں نے تو دلچسپی ہی نہیں لی۔۔۔ مجھے نہیں لگتا مجھے آگے پڑھنے دیں گے یہ لوگ۔۔۔ اسکے انداز میں افسوس تھا۔۔۔ 

    میں نے ایشیائی ملک کہا ہے۔۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ لاپروائی سے بولی

    کونسا ملک ہے چائنہ ہو گا ہےنا۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی نہیں۔۔ نونا نے نفی میں گردن ہلائی

    جنوبی کوریا

     ایک سے ایک حسینہ سے بھرا ہوا  ہے ایسی لڑکی بہت آسانی سے مل جائے گی تمہیں اور  

    میری دعا ہے تمہیں تمہاری پسند ضرور ملے ۔۔۔ انی نے پورے خلوص سے کہا تھا ہیون ہنس دیا 

    اور میری خواہش ہے کہ آپ اپنی پسند کو اپنا لیں ۔۔۔ قسمت ایک بار آپ دونوں کو آزما چکی اس مرتبہ آپ ہایونگ (بڑا بھائی) کو مایوس مت کیجئے۔۔۔ ہیونگ نے بے حد سنجیدگی سے انی کا ہاتھ تھام کر استدعا کی تھی

    نونا  اپنے بھائی کو محبت سے تکنے لگیں 

    میرا بھائی بڑا ہو گیا ہے۔۔۔ 

    اتنے غیر متعلقہ جملے پر ہیون جھلا گیا

    سمجھیں بھی نا ۔۔ بس کہتی ہیں ۔۔۔ آپ۔۔۔ اس نے کمچی کا قیمہ بنا دیا چاپ اسٹکس سے ۔۔۔نونا ہنس دیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے گھر آکر لیپ ٹاپ میں گوگل کیا یو ٹیوب کھول کر دیکھا تھا ہوشربا انکشاف ہوئے تھے 

    شمالی کوریا ایک وسطی ایشیائی ریاست ہے جس پر آمر ۔۔۔ کی حکومت ہے ۔۔۔۔ 

    وہ پڑھتئ جا رہی تھی اور آنکھیں سجل علی کی آنکھوں سے ذیادہ بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگلے دن یونیورسٹی میں  اس نے ایڈون کو جا لیا تھا ایک ایک تفصیل بتائی تھی

    جہنم ہے جہنم 

    سوچنا بھی نہ وہاں جانے کا میں بھی کہوں ایک دنیا جب پاکستان آنے کے نام سے خوف سے تھر تھر کانپتی تو آخر یہ  دس طلبا یہاں آ کیوں رہے تو جناب اسلیئے کہ انکے حالات ہم سے بھی خراب ہیں ۔۔ کم از کم ہم ایک آدھ دھماکہ برداشت کرتے مرتے وہاں  تو لوگوں کے سامنے معمولی معمولی بات پر لوگوں کو بیچ چوراہے میں مار ڈالتے دنیا کے بد ترین آمروں میں سے ایک ہے بادشاہ جا۔۔۔۔ وہ نام بھول گئی

    ایڈون نے تاسف سے دیکھا۔۔۔ 

    ہاں بالکل شمالی کوریا میں ایسا ہی ہے مگر میں جس اسکالر شپ کیلیئےاپلائی کر رہا وہ جنوبی کوریا کی ہے۔۔۔ 

    ہاں وہی تو کوریا۔۔۔ وہ تیز ہو کر بولی پھر بات عقل میں گھسی 

    جنوبی کوریا اچھا مطلب ملک کے دوسرے حصے میں جائوگے۔۔۔

    جی نہیں وہ زور دے کر بولا۔۔۔ ملک ہی دوسرے جا رہا شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں انکو بھی انڈیا پاکستان کی طرح علیحدہ ہوئے نصف صدی ہو نے کو آئی ہے۔۔۔

    اوہ اچھا۔۔۔ وہ شرمندہ ہوئی 

    وہ ایک ہی ملک سمجھی تھی۔۔۔

    مجھے کیا پتہ ہمیشہ میں نے تو بس کورین سیل فون کا ہی سنا تھا میڈ ان کوریا لکھا ہوتا تھا جنوبی شمالی وہ لوگ خود  بھی نہیں لکھتے ۔۔۔ کوریا میں ویسے انسان بھی ہوتے ہیں؟

    اس نے کافی حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔  

    ایڈون نے تاسف سے اسے دیکھا

    تمہیں شادیریا ہو گیا ہے دماغ کام نہیں کر رہا۔۔۔ ویسے تم کیوں نہیں اپلائی کر رہی ہو تمہارا تو نام آسانی سے آجائے گا میرٹ پر دوسرا ابھی تک سنتھیا کے سوا اور کسی لڑکی نے اپلائی بھی نہیں کیا سر جازب کہہ رہے تھے کم سے کم دو تین لڑکیاں بھی بھیجنی ہےانہیں اچھا امپریشن بھی تو دینا لڑکے تو پتہ نہیں واپس بھی آئیں نا آئیں۔ 

    سنتھیا نے بھی اپلائی کیا ہے۔۔۔  اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی اسکی اکلوتی بچپن کی سکھی سہیلی اسے چھوڑ کر جا رہی تھی کوریا۔۔

    ہاں۔۔۔ایڈون نے آرام سے کہا

    اسے گھر سے اجازت مل گئی؟

    وہ صدمے میں تھی

    ہاں میں بھی تو جا رہا ہوں اسکا منگیتر پھر کیسا ڈر۔۔۔

    وہ رکا

    مین تو کہتا تم بھی چلو کینڈا تو پتہ نہیں کتنے عرصے میں جائو سال دو سال آرام سے لگے گا گریجوایشن مکمل کر سکتی ہو تم آرام سے۔۔۔ تب تک

    ۔۔۔۔اریزہ نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔

    یونیورسٹی ٹرپ پر جا نے نہیں دیتیں اماں کوریا تو بابا بھی کبھی جانے نہیں دیں گے مجھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آخر حرج ہی کیا ہے اسمیں میری یونیورسٹی سے بھیجا جا رہا ہے رہائش ہاسٹل میں ہوگی دو سال کی ہی تو بات ہے یہاں بھی تو میں پڑھوں گی ہی۔۔۔ 

    اس نے بات ابا سے کرنی شروع کی تھی رات کو چائے بنا کر ان کے پاس آبیٹھی ابا انداز پہچانتے تھے کچھ منوانے آئی ہے آج سے کچھ عرصہ پہلے شادی سے انکار کرنے آئی تھی۔۔۔۔ اماں کی فورا رگ پھڑکی اسکے پیچھے پیچھے دبے پائون چلتی آئیں ابھی اس نے بات مکمل ہی کی تھی اماں نے لتے لینے شروع کر دیئے 

    اب جو کرنا ہو سسرال جا کر کرنا۔۔۔ کینڈا جاکر جہاں مرضی آئے داخلہ لینا جو مرضی پڑھنا۔۔۔ پتہ نہیں کس دماغ کی لڑکی ہے بجائے اسکے کہ شادی ہونے والی گھرداری میں دلچسپی لو کھانا پکانا سیکھ لو کوریا جائیں گی بتائو نام تک نہ سنا آج تک اس ملک کا۔۔۔  انجان ملک انجان لوگ جان لڑکی کو منہ اٹھا کر بھیج دیں

    ابا چپ چاپ انکے خاموش ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔

    ابا کینڈا بھی تو بھیج رہے ہیں اتنی دور مجھے۔۔۔ وہاں کونسا آپ ہونگے اماں ہونگی وہاں بھی تو میں اکیلی ہونگی۔۔۔۔

    کیسے اکیلی ہوگی۔۔۔ اماں چمک کر بولیں 

    شوہر ہوگا خالہ ہوں گی تمہاری پورا خاندان ہوگا وہاں انکا ۔۔۔ 

    کونسے لوگ جن کو صرف میں نےشکل سے دیکھ رکھا بس۔نہ مزاج پتہ نہ ماحول مانوس ۔۔۔ اکیلی ہونگی میں وہاں پر ۔۔۔ اس نے اکیلی پر زور دیا

    ہمیشہ میں نے آپ کی بات مانی ہے مجھے سجاد بالکل پسند نہیں تھا مگر آپ کے کہنے پر میں نے ایک ہاں کردی آپ میری اتنی سی بات نہیں مان سکتی ہیں۔۔۔ اسکی آنکھون میں آنسو آرہے تھے۔۔۔ باپ کا دل پگھل گیا۔۔

    اماں کو اندازہ تھا جبھی انہیں بولنے کا موقع نہیں دے رہی تھیں

    تو کیا غلط فیصلہ کیا ہے۔۔۔ پڑھا لکھا ہے امیر کبیر ہے کینڈا میں وکیل ہے اتنا قابل لڑکا ہے سمجھدار ہے اور کیا چاہیئے ہوتا ۔۔۔ 

    کینڈا میں ہے کم از کم بھی سال دو سال لگیں گے مجھے وہان جانے میں تب تک اگر میں اپنی تعلیم مکمل کر لوں تو کیا حرج ہے۔۔۔ 

    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔۔ اماں نے سر پیٹ لیا۔۔۔

    صاف بات میں کسی دوسرے شہر اکیلی لڑکی کو نہ بھیجوں دوسرے ملک تو نا ممکن ہے۔۔۔

    تو کیوں بھیج رہی ہیں۔۔۔ مت بھیجیں نہ مجھے کینڈا  بھی۔۔۔

    منع کر دیں اس رشتے سے کریں گی۔۔۔ منع

    وہ جھلا رہی تھی غصہ میں بول رہی تھی یہ تو انکی بیٹی تھی ہی نہیں اس لہجے اس انداز میں تو اس نے کبھی بات نہ کی تھی۔۔۔  مرتضی اسے بہت غور سے دیکھ رہے تھے

    دیکھ رہے ہیں آپ اسے کتنی بدتمیزی کر رہی ہے مجھ سے کئی دن سے دیکھ رہی صاحبزادی کا مزاج ہی نہیں مل رہا ہے بتائو کارڈ چھپ کے بٹ چکے دو دن میں مہمان آنا شروع ہو جائیں گے اور یہ ۔۔۔۔

    تم چپ رہو گی تھوڑی دیر مجھے اس سے بات کرنے دو۔۔۔ بلکہ جائو میں اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ مرتضی کے سختی سے کہنے پر وہ چپ تو ہو گئیں مگر کمرے سے باہر نہ گئیں وہیں کونے میں صوفے پر جا بیٹھیں 

    اریزہ بیٹھو بیٹا۔۔۔ انہوں نے کتاب سایڈ میں رکھ دی عینک اتار کر بغور اسکا خفا خفا چہرہ دیکھا۔۔۔ 

    وہ انکے پاس ہی فلور کشن پر بیٹھ گئی۔۔۔

    بیٹا پڑھائی تو ڈسٹرب نہیں کر رہے آپکی آپ جب تک گریجوایشن مکمل نہیں کر لوگی ہم کینڈا نہیں بھیجیں گے آپکو ٹھیک۔۔۔ تو کوریا کیوں جانا چاہتی ہے میری بیٹی۔۔۔ 

    انکی بات پر وہ چپ ہی رہ گئی کیا بتائے کیا کہے۔۔۔ پڑھائی تو یہاں بھی کر ہی رہی تھی۔۔ ابا نے اپنے تئیں اسے تسلی بھی کرادی پھر کیوں۔۔۔۔۔

    اماں چین بہ چیں ہوئیں مگر ابا نے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کو کہا

    میں تھوڑی تبدیلی چاہتی ہوں۔۔ میں یہاں اس ماحول سے دور جانا چاہتی۔۔۔ جہاں ہر دوسری بات میری شادی سے متعلق ہے میرا دم گھٹ رہا ہے سوچ کر ہی کہ مجھے کتنے سارے سمجھوتے کرنے پڑ گئے ہیں اس شادی کے پیچھے آگے جانے کتنےاور کرنے میں تو سی ایس ایس کرنے کے خواب دیکھتی تھی کچھ کر نے کچھ بننے کے اس ماحول کو تبدیل کرنا چاہتی جو لڑکیوں کے خواب آرزوئیں دبا دیتا اس معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتی جس کے نزدیک لڑکی سوائے بچہ پیدا کرنے کے اور کسی پیداواری سوچ کا حصہ نہیں بن سکتی کیا کوئی جانتا ہے اسکے تھیسس اسکی پرزنٹیشن اسکے لکھے تحقیقی مقالے پوری یونیورسٹی میں مشہور ہیں وہ تقریر کرتی تو ایک دنیا چپ ہو کر اسکے خیالات سنتی بین الاقوامی سطح پر ہونیوالے مقابلے میں اسکی پینتیس ممالک کے طلبا میں ساتویں پوزیشن تھی میرا لکھامقالہ اپنے اچھوتے موضوع کی بنا پر کتنا پسند کیا گیا تھا۔۔۔ میں انعام لے کر خوشی خوشی گھر آئی تو میری خوشی میں شامل ہونا تو درکنار اماں نے دیر سے آنے پر ڈپٹ کر اسے سجاد کی امی کے سامنے لا بٹھایا تھا۔۔۔  

    ماہر مقررہ کی طرح وہ بولی تھئ۔ مگر لط سلے رہ گئے۔ 

    یہ سب اسکے دماغ میں ہی چکرا کر رہ گیا تھا۔۔ 

    اب اسکی  قابلیت اسکے گورے رنگ دبلے جسم اچھے قد کی محتاج تھی اماں کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔ 

    اسے یاد تھا جب اس نے سجاد کے عمر میں زیادہ اور مختلف مزاج ہونے پر اعتراض کیا تھا تو امی نے صاف کہا تم اپنا مزاج بدلو چھوٹی بچی نہیں رہی ہو باقی مرد اپنے مزاج میں ڈھال  لیتاہے  اور عمر کی خوب کہی دو بچے ہونگے اسکی اماں لگنے لگوگی۔۔۔۔

    کچھ نہیں۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

    پلٹ کر جا ہی رہی تھی کہ ابا نے آواز دے کر روکا وہ پلٹی نہیں مگر رک گئ

    مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے میری بیٹی کوریا جا کر پڑھنا چاہتی  ہےضرور پڑھے جہان مرضی ہو اسکی وہاں جا کر پڑھے۔۔۔ 

    ابا کے جملوں پر وہ بے یقینی سے مڑ کر دیکھنے لگی

    کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔ اماں پر تو پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو جیسے۔۔۔۔ 

    مگر بیٹا اب آپ پر مجھ سے زیادہ سجاد کا حق ہے۔۔ 

    آپ اس سے ایک بار پوچھ لو اگر وہ اجازت دے دے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔ انہوں نے بات مکمل کی

    ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں بیٹی کی سسرال ہے انتہائی نازک معاملہ ہے خبردار جو تم نے سجاد سے ایک لفظ بھی اس بارے میں کہا۔۔۔

    تم خاموش رہو۔۔۔ مرتضی چڑ سے گئے۔۔۔ سجاد پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہے تم اس سے پوچھ لو مجھے نہیں لگتا وہ انکار کرےگا۔۔۔

    وہ مزید کہہ رہے تھے۔۔ پھیکی سی مسکراہٹ آگئ تھی اریزہ کے چہرے پر۔کتنی آسانی سے اسکے حقوق ایک انجان آدمی کے سپرد کر دئے گئے تھے یعنی باپ کی اجازت مل بھی گئ تو بھی ابھی سجاد سے پوچھنا باقی ہے۔۔۔ اسے خوب اندازہ تھا یہ سلیقے سے کیا جانے والا انکار تھا اسکے والدین کی جانب سے وہ مایوسی  سر ہلا کر  کمرے میں لوٹ آئی۔۔۔

    بالکل ارادہ نہ تھا پوچھنے کا بھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکو اندازہ بھی ہے اگر آپا کو بھنک بھی پڑ گئ تو کیا ہوگا انہوں نے صاف کہا ہے اریزہ نے جو جتنا پڑھنا ہے شادی سے پہلے پڑھ لے سجاد سیٹل ہے اریزہ کو وہاں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔

    یہ بات آپ نے مجھ سے کیوں چھپائی ۔۔۔ مرتضی بگڑ گئے۔۔۔

    اتنی جاہلانہ سوچ رکھتی ہیں وہ کینڈا میں رہ کر۔۔۔ میری بیٹی اتنی با ہنر پڑھنے کی شوقیں ایسے جاہلوں میں بیاہ دوں کیونکہ وہ آپکی بہن کا بیٹا ہے۔۔۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں اس رشتے کے حق میں نہیں تھا سجاد کا عمر کا فرق بھی نظرانداز کر دینے والا نہیں اوپر سے اکلوتی بیٹی اتنی دور بھیجوں کہ اسکی شکل دیکھنے کو ترسوں ۔۔۔

    بس کیجیے ۔۔۔ وہ پچھتا رہی تھیں کیا منہ سے نکل گیا۔۔۔

    اب سب طے ہو چکا ہے ایسی باتیں نہ کریں

    کیوں نہ کروں اسکی رخصتی نہیں ہونے دوں گا میں اسکی گریجوایشن سے پہلے ۔۔۔ میں خود بات کروں گا سجاد سے۔۔۔

    آپ اور شہہ مت دیں اریزہ کو۔۔۔ وہ بات سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھیں۔۔۔

    اریزہ میں میری جان بند ہے کیا جانتا نہیں میں کیوں جھنجھلائی رہنے لگی ہے دنیا کی لڑکیاں شادی کے نام پر کھل اٹھتی ہیں اور یہ جب سے رشتہ طے ہوا ہے ہنسنا بھول گئی ہے مجھے کیا کچھ نظر نہیں آتا اوپر سےمیری بیٹی اتنی فرمانبردار کہ ماں باپ کے فیصلے پر خاموشی سے سر جھکا دیاایک لفظ نہیں بولی میں نے رشتہ پر حامی آپ کے اصرار پر بھری تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اریزہ کو معمولی سا بھی اعتراض ہوا تو میں صاف انکار کر دوں گا۔اریزہ نے صاف انکار کیا آپ نے یہ بات بھی مجھ سے چھپالی۔۔۔مگر اب میں اسکے ساتھ مزید کوئی زیادتی ہونے نہیں دوں گا سمجھیں آپ۔۔ انکا انداز دو ٹوک تھا

    جبیں انکے انداز سے خائف ہو گئیں اور مزید کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سوتے میں سے ماں کو پکارتے اٹھا تھا۔کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا تھا۔ تبھی کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولا تھا اور لپک کر اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔ 

    آہما۔۔ مجھے آہما کے پاس جانا ہے۔ وہ اس مہربان لمس کو پہچانتا تھا۔ یہ اسکی ماں نہیں تھی۔ 

    بس ابھی چلتے ہیں۔ آئو۔اسکے آنسو پونچھ کر اسکا ہاتھ تھام کر اسے وہ اس بڑے سے جنازہ گاہ میں لے آئی تھی جہاں لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک کونے میں تابوت رکھا تھا جسکا ڈھکنا کھلا تھا۔ وہ جانتا تھا اس میں کون ہے سو لپکا۔ گنگشن سے ہاتھ چھڑاتا پوری قوت سے دوڑتا وہ تابوت کی جانب بھاگا

    تبھی کسی نے بازو سے پکڑ کر اسے کھینچا اور ایک تھپڑ منہ پر لگایا۔ 

    اسکی آنکھ کھلی تھئ۔ لمحہ بھر کو سمجھ نہ آیا کہ کہاں ہے۔ دھیرے دھیرے حواس بحال ہوئے تو سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا ۔رات کے دو۔۔ 

     کمرے میں نائٹ لیمپ جل رہا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل لیمپ جلا دیا اور سستی سے اٹھ بیٹھا۔ بے چینی بے زاری اسکو یہ دونوں احساسات اتنا گھیرے  لیتے تھے کہ اطمینان اور سکون کو جیسے بھول ہی گیا تھا۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔ جب کچھ نا کرنے کو ہو تو پی لینا چاہیئے۔ یہ اسکا خیال تھا۔ اوپن  کچن سے ملحقہ پائوڈر روم میں شیلفس بنے تھے یہاں ایک جانب کمچی اور دیگر اجناس کا ذخیرہ کیا جاتا تھا اور دوسرے کونے میں شراب کا۔ اس نے آگے بڑھ کر پہلے تو قیمتی وائن اٹھائی مگر اسکی سیل مکمل بند تھی۔ یہ بوتل اسے پہلے نظر نہیں آئی تھئ۔ اس نے لیبل پڑھا تو سینکڑوں ڈالر کی امریکی شراب تھی۔ یقینا کسی خاص تقریب کیلئے بطور خاص منگوائی گئ تھئ۔ وہ چند لمحے بوتل ہاتھ میں لیئے کھڑا رہا۔ 

    اپنے ہی گھر میں کسی چیز کو اٹھاتے رکھتے وہ ملکیت کے احساس سے محروم تھا۔ 

    احتیاط سے وہ بوتل واپس رکھ کر اس نے نیچے جھک کر ایک چھوٹی بوتل اٹھا کر پلٹا تو گنگ شن نونا سامنے کھڑی تھیں سینے پر بازو لپیٹے اسکے متوجہ ہونے کی منتظر۔ 

    صبح یونیورسٹی جانا ہے نا؟ رکھو اسے واپس۔ 

    وہ رعب سے بولیں۔ 

    نونا ہائی اسکولر نہیں رہا ہوں میں اب خود کو باور کرالیں۔

    وہ تھوڑا چڑا تھا مگر چڑ لہجے میں جھلک نا پائی تھی۔ 

    رکھو اسے اور میرے ساتھ چلو اچھی سی کافی پلاتی ہوں۔ 

    وہ مسکرا کر لالچ دینے والے انداز میں بولیں۔ 

    ہیون چار و نا چار بوتل واپس رکھ کر انکے ساتھ ہو لیا۔ 

    کچن میں آکر نونا پھرتی سے کیبنٹس کھول بند کر رہی تھیں۔ چولہے پر ایک دیگچی چڑھا کر  کافی میکر میں اجزاء ڈال کر بنا سوئچ آن کیئے اب کپ نکالے جا ریے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر پلگ لگانا چاہا تو ایک کراری چپت ہاتھ پر پڑی۔ 

    پھابو( احمق) کافی ابھی بنا لی تو تمہارے ریمن کھانے تک ٹھنڈی ہو جائے گی۔ چلو وہاں میز پر بیٹھو۔ 

    اسے بازو سے پکڑ کر وہ کھینچتی لائی تھیں اور لا کر کچن میں ایک طرف لگی ڈنر ٹیبل پر لا بٹھایا۔

    نونا بہت زبردستی کرتی ہیں آپ میرے ساتھ۔ وہ بےحد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ اسکے انداز پر ہر وقت سجی رہنے والی مسکراہٹ گنگشن کے چہرے سے یک لخت غائب ہوئی تھئ۔ 

    بیانیئے۔ وہ دھیرے سے اسکا کندھا تھام کر بولیں۔ وہ یونہی خفا سا بیٹھا میز کو گھورتا رہا

    تمہیں بھوک تو لگی ہوگی نا ہیونگ سک۔ آہبوجی سے سامنا نہ ہو اسلیئے تم ڈنر ہی کرنے باہر نہیں نکلے تھے۔ مجھے پتہ تھا تم بنا کھائے ہی سو جائو گے۔ میں دو بار آئی تھی تمہارے کمرے میں۔ مگر تم سو گئے تھے۔ 

    نونا نے اسے پچکارا۔۔

    میں پی کے دوبارہ سو جاتا۔ وہ بچوں کی طرح منہ پھلائے تھا۔ 

    خالی پیٹ پینے سے طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ کھالو پھر پی لینا۔

    نونا اسے واقعی ابھی بھی آٹھ سال کا ہی سمجھتی ہیں۔۔ 

    اس کو اس بات پر ہنسی نہیں آئی۔۔ الٹا دکھ ہوا تھا۔۔ 

    #

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بی بی سی اردو کی وہ ویڈیو دیکھتے وہ بے چین سی ہوگئ تھی۔  کماری کی رسم نیپال میں صدیوں سے رائج تھئ۔ اسے دیکھتے دیکھتے بے چینی سی ہونے لگی۔ 

    ہر ملک میں ہی خواتین کو دبانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہی ہے۔  افسو س سے سوچا تھا اس نے ہھر موبائل بند کر کر سائئڈ پر رکھ دیا۔ 

    ایک اور  کروٹ بدلی۔ بے چین سی ہو کر اٹھ بیٹھئ۔ 

    سجاد سے پوچھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ کینڈا میں رہتے ہیں سجاد دقیانوسی تو نہیں ہوں گے۔ 

    اس نے موبائل اٹھایا۔  پھر گھڑی دیکھ کر واپس بھی رکھ دیا۔ 

    کیا فائدہ ابھئ تو پوچھوں بھی تو ۔۔۔ وہ بستر سے اترآئی۔  نائٹ لیمپ جل رہا تھا جبھئ مکمل اندھیرا نہیں تھا۔ اس نے لائٹ بھئ جلا لی۔ 

    یہ اسکا کمرہ تھا۔ اریزہ مرتضی کا۔ جسکے در و دیوار پر ہوئے روغن سے لیکر سائیڈ ٹئبل پر رکھی الارم کلاک تک اسکی مرضی کی تھئ۔ اسکی پسند او رفرمائش پر لائی سجائی گئ تھئ سوائے اس ایک تصویر کے جو اسکے اسٹڈی ٹیبل پر فریم میں سجی رکھی تھئ۔ ۔۔۔۔ وہ  گہری سانس لیکر اسٹڈی ٹیبل پر آن بیٹھئ۔ہاتھ بڑھا کر تصویر کو دیکھا۔ 

    یہ اسکی اور سجاد کی وہی منگنی کی تصویر تھی جس کی ایک نقل لائونج میں بھئ لگی تھئ۔ 

    اسے یاد تھا منہ پھلائے پڑی تھی بستر پر جب امی تصویریں لیکر اسکے کمرے میں آئی تھیں۔ 

    بتائو کون کونسئ فریم میں لگوانی ہے۔ 

    اس نے شاکی نگاہ سے دیکھا۔۔ 

    یہ۔ انہوں نے تصویر دکھائی۔ 

    یہ واحد تصویر تھی جس میں اس نے نگاہ اٹھا کر کیمرہ مین کو دیکھا تھا۔ شاکی نظریں کیمرہ مین جو مسلسسل اس سے نگاہیں اٹھانے کو کہہ رہا تھا اسکے بعد ایک بار بھی نہیں بولا تھا۔ 

    اس نے انہی نظروں سے امی کو دیکھا جوابا وہ دانستہ نظر انداز کرتی وہی تصویر منتخب کر کے فریم کروآ کرگھر کے ہر کونے میں لگا چکی تھیں۔۔ 

    کوئی اور تصویر فریم کروا لیتیں ۔اس میں تو میں ٹھیک ٹھاک دکھی لگ رہی ہوں۔ 

    وہ تاسف سے بڑبڑائی پھر فریم الٹ کر رکھ دیا۔ 

    اللہ تو ہی بتا دے کیا کروں۔ پوچھوں یا نا پوچھوں۔  

    کہنیاں میز پر ٹکا۔ کر اس نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ 

    یہ خوب رہی پر کاٹ دو پھر کہو بیٹا اونچی اڑان لے لو۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

    اسے غصہ آگیا۔تو سیدھئ ہو بیٹھئ۔  

     اسکا لیپ ٹاپ یہیں رکھا تھا۔ اس نے کھول کر اپنا بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔ وہ آن لائن سافٹ وئیر استعمال کرکے اردو لکھا کرتی تھی۔ وہی کھولا۔ 

    حالیہ بلاگ اسی وییڈیو پر لکھنے لگئ۔

    نیپال میں ایک طویل عرصے سے ایک رواج ہے کماری کا۔ یہ رسم نیپال کی بہت سی مزہبی رسومات میں سے ایک ہے۔

    کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی نے اس پر مکمل رپورٹ تیار کی تھی جو میں نے دیکھی۔ رسم کا نام ہے کماری۔

    ہوتا کچھ یوں ہے کہ نیپال کے معزز اور مزہبی گھرانوں میں سے ایک نوزائدہ بچی کو چن کر خطاب دیا جاتا ہے کماری کا۔اور پھر وہ بچی اعلی درجے کے مندر کو سونپ دی جاتی ہے۔ اس مندر میں اس بچی کی پرورش راجکماریوں کی طرح کی جاتی ہے اسکیلئے اونچی زات کا پنڈت یا مجاور جو بھی اس مندر سے منسلک ہو اسکا خدمت گار ہوتا ہے۔جواس بچی کے اٹھنے بیٹھنے سونے جاگنے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے۔ اس بچی کے پیر زمین پر لگنا بد شگونی سمجھا جاتا یے۔ روز اس بچی کو سجا سنوار کر اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا جاتا ہے جہاں اسکا سارا دن واسطہ عقیدت مندوں سے پڑتا ہے جو اسکے قدموں کو چھو کر اپنے اچھے نصیب کیلئے اس سے آشیرباد یا دعا طلب کرتے ہیں۔بچی سارا دن سج سنور کر آنے والوں کو تبرک بانٹتی ہے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی نیک تمنائیں دیتی ہے۔ صرف ایک قصبے یا شہر کی بات نہیں سب سے اعلی درجے کی کماری جو کہ نیپال کی حکومت کے سرپرست مندر سے منسلک ہو تو پورا ملک اس بچی کو دیوی مان کر پوجتا ہے۔تہواروں پر جب سب بچے کھیلتے کودتے نئے کپڑے پہن کر چیزیں کھاتے کھلاتے نظر آتے ہیں یہ کماری بچپن کی سب ننھی منی خواہشوں کو دباتی کھیل کود سے بے نیاز اپنا بچپن کا سنہرا دور بھگتوں کو آشیر واد دیتے گزارتی ہے۔ اس بچی کو مندر میں رکھا جاتا ہے تو ظاہر ہے اسکے والدین بہن بھائی بھی اس سے ملاقات وقت کے وقت ہی کر پاتے ہیں۔یوں عام بچوں کے برعکس یہ بچی تنہا اور دنیاوی ہر شے سے کٹ کر تارک الدنیا کی سی زندگی گزارتی ہے۔ کماری رسم کے اوائل میں یہ بھی رواج تھا کہ کماری کو دنیاوی تعلیم سے بھی دور رکھا جاتا تھا۔دوست سہیلی کیا ہوتے ایسی بچی نہیں جانتی۔ مگر کیا اسکی ساری زندگی بھگتوں کا ناچ دیکھتے انہیں آشیر باد دیتے گزر جاتی ہے؟

    جواب ہے نہیں۔ یہ شاہانہ مگر قابل رحم طرز زندگی اسے بس اس وقت تک سہنا ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتی ہے۔ بچی کے لڑکپن کو چھوتے ہی اس سے یہ خطاب واپس لے لیا جاتا ہے۔ اسے نجس سمجھتے ہوئے اس دنیا کی عام سی لڑکی بنا دیتے ہیں۔ یہ عام سی لڑکی اپنے والدین کے گھر میں اپنی عام سی زندگی شروع کرتی ہے اور کسی اور اونچے گھرانے کی کسی اور بچی کو کماری چن لیا جاتا ہے۔ اب اس بچی کا حال کیا ہوتا ہے جو دنیا میں بالغ ہو کر واپس آئی ہے نہ دنیا کے گورکھ دھندے کی خبر نہ ہی کوئی علم و ہنر سے آراستہ۔ اس لڑکی کیلئے زندگی کے راستے محدود ہیں۔اس لڑکی کو کماری کا درجہ چھنتے ہی منحوس کا درجہ مل جاتا ہے اور اس سے شادی کرنا بد بختی سمجھا جاتا ہے۔ایسا بھی ہوا ہے کہ ماضی کی کماری کی بقیہ زندگی جسم فروشی یا بھیک مانگتے گزری۔تاہم اب جدید دور کی مناسبت سے کماری کو مندر کے اندر ہی تعلیم دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر اسکے باوجود پچھلے کچھ سالوں کی کماریاں اپنی زندگی سے خوش نظر نہیں آتیں۔ ایک کماری کا کہنا تھا کہ پچھلی زندگی اسے سہانہ خواب محسوس ہوتی ہے اور اسے جدید دور میں دنیا کے ساتھ قدم بڑھاتے بہت دشواریوں کا سامنا رہا جن میں اچھی نوکری ، اچھا رشتہ نہ ملنا اور لوگوں سے ٹاکرا نہ ہونے کے باعث انکی چالاکیاں سمجھ میں نہ آئیں اور دھوکے بھی کھائے۔

    یوں آٹھ دس یا بارہ چودہ سال کی قابل رشک حد تک خدمت لینے کے بعد کماری راجکماری کے سنگھاسن

    سے اٹھا کر زمین پر پٹخ دی جاتی ہے۔۔ یہ کہانی کیوں سنائی؟ 

    اس نے لکھتے لکھتے سوچا۔۔ 

    اسلیئے کہ آج مجھے بھئ ایسا ہی لگا ہے میں کسی سنگھاسن سے اٹھا کر ذمین پر پٹخ دی گئ ہوں۔۔۔ 

    اس ملک میں لڑکیوں کے خواب نہیں ہونے چاہیئے بلکہ اس ملک میں لڑکیوں کو ہی نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔

    اس نے لکھا اور پوسٹ کردیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ

    اوہو چوٹ تو نہیں آئی ایڈمن ؟ ہلدی دودھ پی لو۔۔۔۔۔ 

    دوسرا کمنٹ۔۔ 

    کاش میں نیپال کی کماری ہوتا۔ ہر وقت سب کو آشیر باد دیتا۔ کوئی ٹیڑھئ نگاہ ڈالتا شڑاپ بھی دے ڈالتا۔ پر میں تو پاکستانی لڑکا ہوں۔۔ صبح جسے یونیورسٹی جانا ہے۔۔۔۔ سو سونے دو ۔۔۔ 

    تیسرا کمنٹ۔ 

    نہیں لڑکیوں کو ہونا چاہیئے ورنہ ہمارا کیا ہوگا۔ اتنی محنت 

    سے انجینئر اس لیئے تھوڑی بن رہا کہ کنوارا مر جائوں۔ 

    چوتھا کمنٹ۔ 

    خواب دیکھیں یا لکھیں مگر آنکھیں کھول کر۔ خواب کو جواب لکھ دیا ہے آپ نے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے دانت کچکچا کر کمنٹس پڑھے ۔۔۔ 

    ایک تو مجال ہے کوئی سنجیدہ با شعور انسان میرا بلاگ کبھی پڑھ لے۔ 

    وہ سر جھٹک رہی تھی مگر ایڈٹ کھول کر جواب کو خواب بھی کردیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔ 

    جاری ہے۔۔ 

    Kesi lagi aapko Salam Korea ki pehli qist? Rate us below

    Rating