Qissa Ek rozay ka ( Ramzan special afsana)

قصہ ایک روزے کا ۔۔۔
مصنف: واعظہ زیدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



صبح اسکی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ نیند ہی پوری نہ ہوئی تھی۔ آج پہلا روزہ تھا آدھی رات تک پورا محلہ جاگ کر سحری کرتا رہا برتنوں کی اٹھا پٹخ ۔ ہلچل۔ پڑوسیوں کو نعتیں سنتے ہوئے سحری کرنے کا شوق تھا ۔ ڈھائی بجے سے سحری جگانے والوں کی آمد شروع ہوگئ۔ ایک گروہ ڈھول بجا کر مسلمانوں کو اٹھاتا رہا تو دوسرے کی باری آگئ اس نے جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہوتے ہوئے گانوں کی طرز پر نعتوں کی ریکارڈنگ چلاتے ہوئے سائکل پر گلی کا چکر لگایا۔ ابھی ایک نعت بھی پوری نہ ہوئی ڈھول والے واپس آگئے ۔ یہ گلی ہماری ہے ۔ ڈھول والے چار لوگ تھے گلے میں پٹکا ڈالے تھے سائکل والا اکیلا تھا مگر جی دار تھا۔ دونوں کے خوب رج کے جھگڑے نے مسلمانوں کو وقت سے کافی پہلے جگادیا۔ جب سائکل والا ڈھول والے کو زمین پر گرا کر بجا رہا تھا تب کچھ گھروں کے دروازے کھلے۔ بڑے بزرگ نکلے جوانوں نے قابو کیا اور اپنی گلی میں دونوں کو ہی بین کرکے واپس اندر چلے گئے۔ مشعل کے کمرے کی کھڑکی گلی میں کھلتی تھی تو یہ سارا شور اس نے خون کے گھونٹ پیتے سنا برداشت کیا نیند غارت ہوئی کوئی گھنٹے دو گھنٹے بعد جا کر نیند مہربان ہوئی وہ سوئی۔ صبح یوں ہوئی جیسے ابھی پلک جھپکی اور صبح ہوگئ۔ امی نے جلدی جلدی پراٹھا بنایا مگر اسکے پاس کھانے کا وقت نہیں تھا۔ بھاگم بھاگ یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوئی ۔ امی نے کہا بھی ناشتہ ساتھ لے جائو یونیورسٹی میں کسی کونے میں بیٹھ کر کھا لینا لیکن پوائنٹ مس ہو جانے کے خوف نے اسکے پیروں میں پہیئے لگا دیئے تھے۔ آج اسکی اہم اسائمننٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی سو چھٹی نہیں کر سکتی تھی۔ کلاس میں بھاگ بھاگ کے پہنچنے تک پیریڈ شروع ہوچکا تھا سر آچکے تھے اسکے اجازت مانگنے پر تیکھی نگاہ سے گھورا مگر چہرے پر بجتے بارہ پھولی سانسوں پر ترس کھا کر کچھ کہا نہیں۔ وہ دھپ سے اپنی مخصوص نشست پر آبیٹھی اپنی عزیز سہیلی رومیصہ کے برابر۔
کیا ہوا؟ دیر کیوں ہو گئ؟
رومیصہ دھیمی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
بس وہ صبح آنکھ نہیں کھلی وقت پر
اس نے مختصر جواب پر اکتفا کیا۔ پے در پے کلاسیں تھیں۔ بریک جو ہوتی تھی وہ رمضان کی وجہ سے بند تھی۔ اسے یاد آیا اس نے گھر سے نکلتے پانی بھی نہیں پیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Birthstone Jewelry Necklace for Women on Birthday Anniversary Presents for Wife Women Necklaces for Valentine's Day, Christmas, Mother's Day Necklaces for Mom - 18K Gold Filled with 925 Sterling Silver

Birthstone Jewelry Necklace for Women

Birthstone Jewelry Necklace for Women on Birthday Anniversary Presents for Wife Women Necklaces for Valentine’s Day, Christmas, Mother’s Day Necklaces for Mom – 18K Gold Filled with 925 Sterling Silver


اس نے آہ بھر کر گھورا۔ پیاس سے برا حال تھا بمشکل ایک پیریڈ کی بریک تھی کہ سر نے چھٹی کر لی تھی تو پیاس سے بے تاب وہ رومیصہ کے ساتھ سیدھا پانی پینے ڈیپارٹمنٹ کے ڈسپنسر کے پاس آئی تھی۔
ڈسپنسر بند تھا ۔ بوتل ہی غائب تھی۔ ظاہر ہے جب رمضان میں کسی نے پانی پینا ہی نہیں تھا تو کیا ضرورت تھی بوتل بدلنے کی الٹا ڈسپنسر بند کرکے بجلی بھی بچا لی گئ۔
ایسا کرتے ہیں انگلش ڈیپارٹمنٹ چلتے ہیں۔ وہاں غیر ملکی طلباء بڑی تعداد میں پڑھتے ہیں وہاں کا ڈسپنسر آن ہوگا ہی۔
رومیصہ نے ہمدردی سے اسے دیکھتے مشورہ دیا۔ خود تو اسکا روزہ تھا لیکن سہیلی کی شدید فکر ہو رہی تھی۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ کونسا پاس تھا۔ تیز چمکتا سورج سر پر تھا اور دور لگ رہا تھا۔ مگر اللہ کا نام لیکر چل پڑیں۔ واقعی یہاں کا ڈسپنسر آن تھا۔ اس نے اکٹھے دو گلاس پی لیئے۔ تھوڑی جان میں جان آئی تو ایکدم شرمندہ سی ہوگئ۔ رومیصہ اسکے ساتھ کھڑی تھی روزے دار اسکے ساتھ اتنا پیدل چلی اور اب وہ بے شرمی سے اسکے سامنے پانی پیتی چلی گئ۔
سوری رومیصہ مجھے خیال نہیں رہا تمہارا تو روزہ ہوگا نا میں کتنی بے شرم ہو تمہارے سامنے پانی پیتی چلی گئ۔
اس نے اتنی معصومیت سے کہا تھا ۔ موبائل میں اسکرال کرتی رومیصہ نے اسکی شکل دیکھ کر ہنستی چلی گئ۔
یار پاگل ہو کیا ۔ اتنا کچا تھوڑی ہے میرا روزہ ۔
پھر بھی یار آئیم سوری۔ مجھے احتیاط کرنی چاہیئے تھئ۔روزے دار کے سامنے۔ مشعل منمنائئ
اوہو کچھ نہیں ہوتا۔اس روزے دار کو الٹا مزید ثواب مل گیا ہوگا۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ہنسی۔
تمہیں مزید ثواب ملا تو مجھے مزید گناہ ملا ہوگا؟
مشعل سوچ کے رہ گئ۔ اسے سوچ میں گم دیکھ کررومیصہ نے اسکے بازو میں بازو حمائل کیا۔
چلو اب کہیں سائے میں بیٹھ کر اسائنمنٹ ڈسکس کر لیں۔قسم سے گھر جا کے بالکل موقع نہیں ملے گا پڑھنے کا مجھے۔ گھر پہنچتے تین بج جانے اور پھر نماز قرآن پڑھتے شام سر پر آجاتی۔ سحری تو امی دیکھ لیتی ہیں مگر افطاری کا سب اہتمام ہم بہنوں کے ذمے ہے۔ اوپر سے بھائی اور ابو تو پکوڑے کے بنا افطار کرتے ہی نہیں ۔۔ وہ سرسری انداز میں اپنی مصروفیات بتا رہی تھی جو رمضان میں دگنئ ہوگئ تھیں۔ وہ دونوں یونہی باتیں کرتی ڈیپارٹمنٹ سے نکل آئیں۔ ارادہ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کسی خالی کمرے کو ڈھونڈ کر بیٹھ کر پڑھنے کا تھا۔مشعل کا سر چکرا رہا تھا دوبارہ فورا پڑھنے کا دل نہیں تھا لیکن رومیصہ پر ترس بھی آرہا تھا۔
روزے میں پکوڑے تیار کروگی ؟ اتنی گرمی ہورہی ہے آجکل تو۔تمہیں تو پیاس لگ جائے گی۔
اسے اپنی سہیلی کی فکر ہونے لگی۔ رومیصہ قہقہہ لگا کر ہنسی۔
ہاں لگ تو جاتی ہے پچھلے سال تو پکوڑے تلتے میں بیہوش ہو کر بھی گر گئ تھی ۔پورے دو دن آرام ملا باہر سے پکوڑے منگوائے تھے۔ تیسرے دن میں پھر کھڑی پکوڑے تل رہی تھی۔
وہ مزاحیہ انداز میں اپنی حالت زار بتارہی تھی۔
مشعل سر ہلا کر رہ گئ۔
تمہارے گھر اہتمام ہوتا ہے جب روزے ہوتے؟
رومیصہ نے سوال کیا۔تو وہ سر جھٹک کر بولی
گھر میں بس ہم دو بہنیں اور امی ابو ہی تو ہیں۔ ہم سادہ کھانا ہی کھا لیتے بہن تو ڈائٹنگ کے نام پر وہ بھی نہیں کھاتی ۔ ابو بھی بلڈ پریشر کی وجہ سے پرہیزی کھاتے لے دے کر میں اور امی کبھی کبھار فروٹ چاٹ وغیرہ بنا لیتے بس۔
وہ سادگئ سے بولی تو رومیصہ رشک بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
اف کتنے سمجھدار گھر والے ہیں تمہارے۔ میرا تو کام کاج کی وجہ سے قرآن بمشکل ختم ہو پاتا ہے وہ بھی ایک۔ افطاری کی تیاری پھر اسکے بعد ڈھیر برتن اسکے بعد رات کا کھانا پھر سحری ۔ نماز قرآن کا وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے قسم سے۔ وہ دونوں اپنے ڈیپارٹمنٹ پہنچ چکی تھیں اب ایک ایک کمرہ کھول کر خالی کمرہ ڈھونڈ رہی تھیں جب ایک کمرہ کھولا تو اندر تو پارٹی کا سماء تھا۔ تین چار لڑکیاں بیٹھیں بریانی کھا رہی تھیں۔ انکے دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر ہڑبڑا سی گئیں۔
تم لوگوں کا روزہ نہیں ہے۔ رومیصہ نے حیرت سے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئیں۔ فرسٹ سمسٹر کی کلاس تھی۔ ان سے جونیئر تھیں اسکے رعب سے نہ پوچھنے کے باوجود بھی گھبرا ہی گئیں۔
نہیں وہ دراصل چھٹیاں چل رہی ہیں۔
ایک نے جلدی سے بہانہ بنایا تو رومیصہ ہنس پڑی
تم سب کی اکٹھی؟ چلو کھائو کھائو ہم خالی کمرہ ڈھونڈ رہی ہیں۔ مخل ہونے کی معزرت۔
جتا کر کہتے ہوئے وہ دروازہ بند کرنے لگی۔
وہ چاروں بھنا ہی گئیں۔ ایک چڑ کر بولی
اسے کیا لگ رہا تھا ہم جھوٹ بول رہی ہیں۔
ہاں تو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اب ہم سب کی چھٹیاں تو واقعی نہیں ہیں۔ میری تو صبح آنکھ ہی نہ کھلی تھی۔
دوسری نے دبے دبے انداز میں ٹوکا۔
بھئی ہماری مرضی ہم روزہ رکھیں نہ رکھیں کسی کو کیا۔ کوئی کون ہوتا ہے پوچھنے والا۔
تیسری نے چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے بات ہی ختم کردی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میکرو اکانومک ڈیولوپمنٹ کے آگے سب الفاظ ناچنے لگے تھے۔ اس نے پلکیں جھپک کر انکا سرا پکڑنا چاہا کہ مسلسل بولتی رومیصہ کی آواز بھی کانوں میں آنی بند ہوگئ۔ قریب تھا گھومتے سر کے ساتھ وہ کرسی سمیت زمین بوس ہو جاتی کہ رومیصہ نے بازو پکڑ کر ہلایا
یہ کیا میں اتنی اہم باتیں کر رہی ہوں اور تم سن بھی نہیں رہیں؟ یہ پوائنٹس تو۔۔۔ووووووو
آگے سب منظر ہی دھندلا گیا
کیا ہوا۔ رومیصہ نے گھبرا کر اسے کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑ ہی ڈالا
یار مجھے لگ رہا میرا بی پی لو ہو رہا ہے۔ بھوک سے چکر آرہے۔
نقاہت بھری آواز میں بمشکل اس نے اپنی حالت بتائئ۔
تم نے ناشتہ نہیں کیا تھا؟ رومیصہ پریشان ہوگئ
نہیں صبح موقع ہی نہ ملا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ ابھی یاد آیا کہ رات کو وہ نیند اتنی میٹھی آرہی تھی کہ امی جب کھانا کھانے کیلیے بلانے آئیں تو صاف منع کردیا کہ سونے لگی ہوں۔ اب بارہ پندرہ گھنٹے کے بعد حقیتا آنتیں پلٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔
اوہ گاڈ کیا کروں ؟ کینٹین بھی بند ہوتی ہے رمضان بھر۔ ٹھہرو دیکھتی ہوں شائد میرے بیگ میں کوئی ٹافی وغیرہ ہو۔
رومیصہ نے حقیقتا اپنا بیگ الٹ دیا۔کرسی پر اپنے بیگ کی ایک ایک چیز نکال کر رکھ دی۔ اتفاق سے کئی دن پرانی رکھی چاکلیٹ نکل آئی
گرمی سے پگھل کر اپنی شکل کھو چکی تھی مگر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ اس نے جلدی ریپر کھول کر اسکی جانب بڑھادی۔ چاکلیٹ کو ریپر سے شہد کی طرح نکال کر کھانا پڑا ۔لیکن بھلا ہو تھوڑی تقویت ملی دل کو طبیعت بھی سنبھل گئی۔ چند منٹ خود کو سنبھالنے میں لگے تو سچ مچ رومیصہ اسے فرشتہ ہی لگنے لگی۔
بہت شکریہ رومیصہ سچی اس وقت تو لگنے لگا تھا جان نکلنے لگی تھی میری۔ مشعل کے دلگیری سے کہنے پر وہ منہ پھلا کر گھورنے لگی
اب تم میرا شکریہ ادا کروگی؟ حد ہے۔ چلو یونیورسٹی میں کینٹین بند سہی باہر سے کوئی چیز دلا لائوں تمہیں۔
رومیصہ نے کہا تو وہ پہلے تو انکار کرنے لگی پھر خیال آیا کہ کہیں دوبارہ طبیعت نہ خراب ہو جائے یونیورسٹی پوائنٹ میں ابھی دیر تھی اور خراب طبیعت کے ساتھ لوکل جانا مناسب نہیں تھا۔
چلو واقعی مجھے مزید طبیعت خراب ہونے سے پہلے کچھ کھا لینا چاہیئے۔ وہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکی یونیورسٹئ سے قریب ترین مرکز ہی لگتا تھا۔وہاں تک جانے کی ہمت نہ تھی اس تیز دھوپ میں۔ ہاں قریب چھپر ہوٹل اور ایک چھوٹی سی ٹک شاپ تھی وہ بھی بند ۔ وہ دونوں منہ لٹکا کے واپس ہوئیں۔
تم پریشان مت ہو تمہارا تو روزہ بھی ہے میری وجہ سے خوار ہو رہی ہو۔
مشعل کو شدید شرمندگی ہو رہی تھی۔
یار ٹیکسئ میں اکیلے گھر بھیجنا مناسب نہیں لگ رہا تمہاری طبیعت بھی خراب ہو رہی ہے۔ میں ساتھ چلتی مگر پھر واپسی پر مجھے کون گھر پہنچائے گا بابا تو کراچی گئے ہوئے ہیں کل آئیں گے واپس۔
رومیصہ فکرمند تھی۔ مشعل ہمت سے کام لے رہی تھی لیکن بی پی شدید لو ہو رہا تھا۔ اب کینٹین ہی واحد سہارا تھی۔ وہ مشعل کو اپنے ساتھ کینٹین ہی کے پاس لے آئی۔ کینٹین کے ملازمیں تو نہیں تھے البتہ کینٹین کے مالک انکل مسجد سے نماز پڑھ کر نکلتے دکھائی دیئے۔رومیصہ خوش ہو گئ۔ پیشانی پر مہراب داڑھی وہ صوم صلوات کے پابند خاصے شریف انسان تھے۔ اس نے سلیقے سے جا کر ان سے مدعا بیان کیا۔ وہ سر ہلاتے فورا کینٹیں کی طرف چل پڑے۔ کینٹین کھول کر ان دونوں کو اندر میز کرسی پر بٹھایا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی وہ چپس چاکلیٹ بسکٹ سینڈوچ جانے کیا کیا اٹھائے چلے آئے۔
بیٹا سینڈوچ ہے تو کل کا مگر فریج میں رکھا تھا خراب نہیں ہوا ہوگا۔ انہوں نے کہتے ڈھیر لگا دیا۔ دو تین طرح کے چپس بسکٹ جوس ۔۔
انکل اتنا کچھ نہیں چاہیئے بہت ذیادہ ہے۔ بس یہ ایک چپس کا پیکٹ اور جوس کافی ہے اس نے بیگ سے پیسے نکال کر دینے چاہے ۔۔
رومیصہ کو پیسوں کی بھی فکر ہو رہی تھی۔ ایک آدھ چپس کا پیکٹ جوس تو ٹھیک تھا مگر اتنا کچھ ۔انہوں نے نرمی سے پیسے لینے سے بھی منع کردیا۔
کوئی بات نہیں بیٹا۔ پیسے کی فکر مت کرو۔ میری بیٹیوں جیسی ہو دونوں اطمینان سے کھا لو۔ دروازہ بند کر دینا میں بعد میں چکر لگا کر تالا لگا لوں گا۔
وہ شفقت بھرے انداز میں سر پر ہاتھ رکھتے کہہ کر خود باہر نکل گئے۔
دونوں؟ رومیصہ چیں بہ چیں ہوئی۔ مشعل نے پھر تکلف نہ کیا۔ سینڈوچ کھا کر جوس پی کر طبیعت بحال ہوئی۔
اف کل دوپہر کو کھانا کھایا تھا رات کو بھی کھانا نہیں کھایا اسوقت صحیح حالت خراب ہوئی وی تھی۔
مشعل کے پیٹ میں کچھ گیا تو توانائی بحال ہونے پر زبان چالو ہوئی۔ رومیصہ ہنس دی۔
چلو اٹھیں اب کلاس شروع ہونے والی ہے۔
اسکے کہنے پر مشعل بھی سر ہلا کر اٹھنے لگی۔ چپس اور باقی بسکٹ احتیاط سے اٹھا کر کائونٹر پر رکھے ایک جوس کے ڈبے کے نیچے دو جوس کے ڈبوں اور سینڈوچ کے پیسے رکھے۔
میں بھی لے لوں یہ مجھے بھی پسند ہے افطار میں پیئوں گی۔ مشہور انرجی ڈرنک دیکھ کر رومیصہ کا بھی دل چاہ گیا۔ اس نے بھی ایک بوتل پکڑ کر اپنے بیگ سے پیسے نکال کر وہیں رکھے۔ کینٹین کی بتیاں بجھا کر احتیاط سے دروازہ بند کردیا۔ ابھی بیگ میں جوس رکھ ہی رہی تھی کہ انکے دو ہم جماعت گزرے اسے دیکھ کر ایک نے جملہ چست کردیا
اوئے کھوجے مار روزہ نہیں رکھا تم نے؟
اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتی اسکے ہمراہ لڑکے نے اسکو کھینچ لیا۔
پاگل ہو ایسے نہیں ٹوکتے لڑکیوں کو۔
وہ اسکے کان میں گھرک رہاتھا۔
وہ دونوں نظریں چرا کر جوس بیگ میں رکھتی آگے بڑھ گئیں سامنے سے انکل آرہے تھے۔ انہیں بتانا ضروری تھا۔
شکریہ انکل ۔ وہ ہم نے کائونٹر پر پیسے رکھ دیےہیں اور کینٹین کا دروازہ بھی بند کردیا۔
اب طبیعت کیسی ہے بیٹے؟ وہ اسی شفقت بھرے انداز میں پوچھ رہے تھے۔
جی بہتر ہے۔ شکریہ آپکا۔
مشعل ممنون سے انداز میں بولی
کوئی بات نہیں۔ مگر بعد میں روزے ضرور رکھ لینا انکی معافی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا تو رومیصہ خاصی شرمندہ سی ہوگئی مشعل نےاسکی کیفیت سمجھ کر سبھائو سےکہا۔
میں رکھتی ہی نہیں ہوں روزے دراصل میں کرسچن ہوں۔
اچھا میں چلتا ہوں۔ آئندہ بھی کبھی ضرورت پڑے توآجانا بیٹے۔ فکر نہ کرنا میں بھی بیٹیوں والا ہوں سمجھ سکتا ہوں۔
وہ جیسے اسکی نادانی پر مسکرائے۔۔ پھر سر جھٹکتے آگے بڑھ گئے۔ ان دونوں کی سمجھ میں نہ آیا انکل کے اس خیال رکھنے والی ادا پر خوش ہوں یا انکی غیر ضروری فکر پر چڑ جائیں۔
حد ہے لڑکیوں نے روزہ نہیں رکھا تو بس ایک ہی خیال آتا ہے ذہن میں ان لوگوں کے۔
مشعل جھلاگئ۔۔
ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں جھوٹ بول رہی ہوں۔حالانکہ میں تو۔۔۔۔ میں تو واقعی عیسائی ہی ہوں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
THE END

Rating

Home » 2024 » Page 2



https://urduz.com/desi-kimchi-episode-1/

Salam Korea urdu desi novel web travel Episode 42

Dive into the Exciting World of “Salam Korea” Urdu Novel with the Latest Episode salam korea 

by vaiza zaidi

Salam Korea urdu desi novel web travel Episode 42

https://desikimchi.com/is-it-doctor-slump-worth-watching-get-the-facts-here-park-hyungsik-and-park-shin-hye-starter-2024-kdrama/

قسط 42

شدید طوفان برفباری راستے بند۔ سفر میں احتیاط اور متبادل راستوں کے حوالے سے ایپلیکیشن کا نوٹیفیکیشن آیا تھا۔اس نے چونک کے فون اٹھایا تھا پھر بدمزہ ہوگئ۔ اس نے ایپ پر اپنی نئی لوکیشن اپڈیٹ نہیں کی تھی جبھی سول میں آنے والے آندھی طوفان سے ڈرانے کیلئے ایپ نے پیغام بھیجا تھا۔ اس نے وقت دیکھا صبح کے ساڑھے چھے ہو رہے تھے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی  گوارا اور ہوپ بے خبر سو رہی تھیں۔ اس نے احتیاط سے اپنے اوپر سے کمفرٹر اتارا گوارا کی جیکٹ اٹھا کر پہنتی کمرے سے باہر نکل آئی۔  

باہر لائونج میں آکر صوفے پر بیٹھ کر کال ملا لی۔ 

دوسری یا تیسری بیل پر ہی صارم کی نیند میں ڈوبی آواز سنائی دی

ہیلو۔ 

یہ مت کہنا کہ سو رہے تھے میں نہیں ماننے والی۔ 

اسکی بات پر صارم آنکھیں مسل کر فون دیکھا پھر بھنا کر بولا

رات کے دو بجے میں کیا کبڈی کھیل رہا ہوں گا؟ سو ہی رہا تھا۔

کوئی بات نہیں اب تو جاگ گئے ہو نا۔ اس نے کندھے اچکا دییئے۔

خیریت ؟ 

اسے فکر ہوئی۔ 

ہاں خیریت ہے ۔۔ وہ آرام سے بولی

بتائو اب کیا کھڑاگ پھیلا کر بیٹھی ہو جو میں یاد آیا ہوں اس وقت۔ 

وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔ یقینا کوئی بات اسکی نیند اڑائے ہوئے تھی۔  سو جمائی لیتا سیدھا ہوبیٹھا

کچھ نہیں۔ دل گھبرا رہا تھا۔ سوچا تم سے بات کرلوں۔ اسکے انداز میں کچھ تو ایسا تھا کہ صارم سنجیدہ ہوگیا

تم آجائو واپس گھبرا رہی ہو دل بھی نہیں لگ رہا تووہاں کیوں ہو؟ 

بس تمہیں یہی آتا ہےجب دیکھو ایک ہی بات بس پاکستان آجائو۔ وہاں تو لڈو بٹ رہے ہیں نا۔ 

وہ جھلا کر بولی۔ صارم نے گہری سانس لی۔

کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بولا نا۔ اسکی آواز رندھنے لگی۔ 

آنکھوں سے آنسو بھی پھسل آئے۔ چند لمحے بے آواز روتے جب آنسو نہ تھمے تو خود پر قابو پا کر بولی

اچھا سو جائو ۔۔ 

خاک سو جائوں؟ وہ چڑ گیا۔

اب بتائو کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟ 

میں تو نہیں رو رہی۔ وہ صاف مکر گئ۔

ہاں جیسے مجھے تو پتہ نہیں چل رہا کچھ ۔ بولو کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ سنتھیا نے پھر کچھ کیا ؟ 

وہ خود ہی اندازے لگانے لگا۔اس نے سوتے میں صارم کو پریشان کردیا تھا۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا۔ سنبھل کر بولی

کچھ نہیں۔ بس تم یاد آرہے تھے توکال کرلی ۔ سوری نیند بھی خراب کردی تمہاری۔ آئیم ریئیلی سوری۔

اریزہ۔ اس نے مصنوعی خفگی سے گھرکا۔ پھر پیار سے بولا

کیا ہوا ہے ؟ بتائو مجھے کیوں پریشان ہو؟۔ 

اسکی بات پر وہ چپ ہوگئ۔پھر کہہ ہی ڈالا

مجھےخود نہیں پتہ۔ بس عجیب بوجھل ہو رہا تھا دل۔ رات کو گوارا کے گھر آتے رستہ بھول گئ تھی۔۔

صارم پریشان ہو اٹھا

پھر ؟ کیسے واپس آئیں ؟ پینک اٹیک تو نہیں ہوا ؟ گوارا کہاں تھی۔

گوارا نہیں تھی پاس۔ وہ بولتے پھر رو پڑی۔

پھر کیا ہوا؟ بول کر بتائو روئو مت۔ بولو شاباش کیا ہواتھا؟ 

صارم اسے بولنے پر اکسا رہا تھا۔ 

بس میں راستہ بھول گئ تھی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے واپس آئوں۔ 

وہ ہچکیاں لے کر رو رہی تھی۔ 

ہمم۔ فون کر لیتیں گوارا کو۔ فون تھا پاس؟۔

صارم کو فکر بھی ہو رہی تھی۔ 

ہوں۔ اس نے دھیرے سے ہنکارا بھرا۔

یاد ہے نا ڈاکٹر نے کیا کہا تھا؟ جو محسوس کرو بولو۔ ابھی بھئ مجھے بول کر سب بتائو۔ رونے سے مسلئہ حل نہیں ہوگا۔ بولو شاباش پھر کیا ہوا۔۔کیسے واپس آئیں ہیون کہاں تھا؟

 

ہیون۔ ہیون نے کال کی تھی۔ اس نے کہا گہری سانس لو۔ میں نے لی۔ پھر کال بھی کٹ گئ۔پھر مجھے پینک اٹیک بھی ہوا اسکے بعد سے آنکھیں بند نہیں کر پا رہی بار بار لگ رہا اسی سڑک پر کھڑی ہوں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ 

اس نے روانی سے بتایا تو صارم چونک سا گیا۔

چند لمحے خاموشی سے رونے کے بعد اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کیئے۔ 

اچھا مجھے نیند آرہی ہے۔ میں سونے جا رہی ہوں تم بھی سوجائو۔ 

ٹھیک ہے۔ صارم نے بحث نہیں کی۔ اریزہ نے فون کاٹ دیا۔ 

اس وقت تو پینک اٹیک تھا۔ اس وقت کیا ہوا ہے تمہیں؟

اسکی کالنگ آئی ڈی پر لگی تصویر دیکھتے وہ پرسوچ انداز میں بولاتھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذہن بوجھل تھا خواب میں بھی سڑک پر ہی بیٹھی رو رہی تھی ۔ جب کسی نے دھیرے سے اسکے شانے کو تھپکا۔ 

سب ٹھیک ہے اریزہ۔ 

اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔ 

مانوس چہرہ ۔۔۔ 

اس نے مطمئن سا ہو کر آنکھیں موند لیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی آنکھ کھلی تو سرمیں درد کی ٹیس اٹھی تھئ۔ اس کا ہاتھ بے ساختہ پیشانی پر گیا۔ سرابھی بھی چکرا رہا تھا۔ شدید پیاس لگ رہی تھی۔ 

پانئ۔ اس نے پکارنا چاہا مگر آواز حلق سےسرسراتئ سی ہی نکلی۔ اسے خود بھی آواز نہیں آئی تو نرس کو الہام ہونے سے رہا۔ اس نے خود ہمت کرکے اٹھنا چاہا تو جسم ہلنے سے بھی قاصر تھا۔ صوفے پر نیم دراز کم سن کی یونہی آنکھ کھلی تو اسے ہلتے جلتے دیکھ کر اٹھ کر آیا۔ 

کین چھنا؟ 

مانوس آواز ایکدم قریب سے آئی تھی۔  چونک کے اس نے بائیں جانب رخ موڑا۔ کم سن فکرمندی سے اس پر جھکا تھا۔

پپ۔پانی۔ 

سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے اس نے بمشکل کہا۔ 

دے؟ وہ سمجھ نہ پایا ۔ اس نے اشارہ کرنے کیلئے بازو اٹھایا توکنولا لگا ہوا تھا ۔درد کی لہر سی اٹھی۔ وہ کراہ کر رہ گئ۔

ایک منٹ ۔ کم سن نےاسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اٹھنے سے منع کیا  

پھر بیڈ کے ریموٹ سے اسکا بیڈ تھوڑا اونچا کردیا۔

پانی۔ اسکا ذہن اتنا بوجھل تھا کہ پانی کے سوااسے کچھ دوسرا متبادل انگریزی لفظ بھی یاد نہ آیا۔ 

کم سن نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر سائیڈ ٹیبل سے فلاسک اٹھا کر گلاس میں پانی انڈیلا۔ اور اسکی جانب بڑھادیا

بل۔ ( پانی)۔ پی لو ۔۔

وہ ہنگل میں بولا پھر خیال آیا تو انگریزی میں ترجمہ کرنے لگا۔ اس نے بمشکل دوسرے ہاتھ سے تھاما اتنی پیاسی ہو رہی تھی کہ ایک سانس میں پیتی گئ۔ کم سن تاسف سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکا رنگ بالکل سیاہ ہو رہا تھا۔ اور ہوںٹ بالکل خشک۔ 

کچھ کھائو گی؟ 

کم سن نے پوچھا تو اس نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا۔ نرس ناشتے کی ٹرے رکھ گئ تھی اسکے سرہانے ۔ اس نے بیڈ کے اوپر میز کا اسٹینڈ لگا کر ناشتہ رکھ دیا۔ دلیہ چکن اور تھوڑا سا بیف ۔ سنتھیا چند لمحے ناشتے کو دیکھتی ہی رہی۔ 

کیا ہوا؟ کچھ اور کھانا چاہتی ہو؟

کم سن نے پوچھا تو وہ سر نفی میں ہلاتی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا گئ۔۔ اسے کافی بھوک محسوس ہو رہی تھی یہ ایک اچھی بات تھی۔ کم سن واپس صوفے پر جا بیٹھا۔ موبائل اسکرال کرتے وہ شائد اسکے کھانا ختم کرنے کا انتظار کر رہا تھا۔

ناشتہ مکمل کرکے وہ کم سن کو دیکھنے لگی۔ بے نیازئ سے فون استعمال کرتا وہ بظاہر اسکی نظروں سے انجان تھا۔ 

آپ کل رات سے یہیں ہیں؟ 

اس نے دھیرے سے پوچھا تھا۔ اتناکم آواز نکلی تھی کہ اسے لگا کہ سوال دہرانا پڑے گا مگر کم سن نے سن کر فورا سر اٹھا کر جواب دیا۔ 

دے؟ 

وہ یقینا ہمہ تن گوش تھا۔ 

آپ کو بہت زحمت ہوئی ہے میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکو میری وجہ سے یہاں بلوالیا گیا۔ نرس کو شائد کوئی غلط فہمی۔۔ 

اس نے وضاحت دینی چاہی ۔ کم سن نے بات کاٹ دی

نرس کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی تھی میں نے اسے کہا تھا کہ میں آپکا یہاں نگہبان ہوں اور آپکو معمولی سی بھی تکلیف پہنچنے پر مجھے ہی بلایا جائے۔ اور کل تو آپکا بی پی بہت ہائی تھا۔

وہ اپنی جگہ بیٹھے اسکے سوال کا جواب دے رہا تھا۔ سنتھیا کی آنکھیں بھرنے لگیں۔ بہت ضبط سے اس نے سوال کیا تھا۔

آپ ایڈون کو بلا سکتے ہیں؟ 

کم سن کے لب وا ہوئے۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے کہنے کا ارادہ ترک کیا۔ اور سر ہلا دیا۔۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔ تقریبا ایک بجے ۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔ وہ اکیلی ہی لیٹی تھی۔ یعنی گوارا اور ہوپ خود ہی اٹھ کر ناشتے کیلئے چلی گئ تھیں۔ اب تو دوپہر کا وقت تھا۔ اسے شرمندگی سی ہوئی۔ شائد صبح دیر تک جاگنے کی وجہ سے یوں بے خبری میسر آئی۔ وہ اٹھ کر پہلے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا کر بال لپیٹتی باہر نکل آئی۔ صحن میں دھوپ پھیلی ہوئی تھی تخت پر کچھ سبزیاں سکھانے کی نیت سے سجی تھیں۔ 

وہ ریستوران میں چلی آئی۔ ریستوران میں اس وقت کافی رش تھا۔ میزیں بھری ہوئی تھیں۔ گوارا ادھر سے ادھر آرڈر پہنچا رہی تھی۔ وہ خاموشی سے کچن میں چلی آئی گوارا کی والدہ سوپ بنا رہی تھیں۔ ہوپ برتن دھو رہی تھی۔ 

اس نے جھک کر آننیانگ کہا تو آہجومہ نےخوش ہو کر جواب دیا 

بیٹھو بیٹھو۔ کیا کھائو گی؟ 

وہ اسکی مشکل سمجھ کر ذرا رک رک کر جملہ بولتی تھیں۔ تاکہ وہ سمجھ سکے ساتھ اشارے بھی کرتی تھیں۔

میں بریڈ کھالوں گی اور انڈہ آپ اپنا کام کیجئے۔ 

اس نے سہولت سے انہیں منع کردیا۔ ہوپ نے اسکی جانب سےترجمہ کیا وہ کونے کے چولہے کی طرف بڑھ گئ۔ دو توس سینک کر انڈہ فرائی کیا  اپنا مختصر سا ناشتہ بنا کر جانے لگی 

کافی نہیں پیوگی؟ ہوپ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑگئ 

وہ پینا تو چاہتی تھی مگر زحمت بھی نہیں دینا چاہتی تھی۔ 

میں بنا کر لاتی ہوں۔ ہوپ سمجھ کربولی تو وہ متشکرانہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔

ریستوران میں جگہ گھیرنے کی بجائے وہ باہر صحن میں  آکر تخت کے کونے میں جگہ بنا کر بیٹھ گئ۔ 

آننیانگ اریزہ شا۔ اب ناشتہ کر رہی ہو؟ اب پاکستان کے حساب سے صبح کرتی ہو اپنی؟ 

یون بن نے اپنے مخصوص انداز میں زور دار سلام کرتے ہوئے کہا ۔ وہ اپنے دھیان میں بیٹھی تھی اچھل پڑی۔ پھر خوشگوار حیرت سے ہنگل میں بولی

آننیانگ ؟ تم کب آئے؟ بڑے دنوں بعد ملاقات ہورہی ہے۔ 

واہ۔ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ 

اتنی ہنگل؟ تم یہاں کیا ناشتے میں ہنگل کھاتی ہو کیا؟ 

یون بن نے خاصا محظوظ ہو کر چھیڑا

یہ جملہ وہ مکمل نہیں سمجھ سکی تھی مگر مفہوم کا اندازہ ہوگیا تو مصنوعی کالر کھڑے کرکے بولی۔

ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ دی پاور آف کامن وومن 

اسکے اندر شاہ رخ خان کلبلایا۔ یون بن کی جانے بلا کندھے اچکا کر اسکے برابر آبیٹھا

کبھی انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کیا بھئی تم واقعی سپر گرل ہو۔اب تو ہنگل بھی سیکھ لی کم از کم تم اب آرام سے رہ لینا یہاں بھاگ نہ جاناباقیوں کی طرح۔ یون بن شائد  بات برائے بات کہہ رہا تھا 

 اس نے سر ہلا کر اسے بھی اخلاقا ناشتے کی دعوت کی اس نے سہولت سے منع کردیا۔ پھر یونہی سوال کرنے لگا

اور سنائو؟ گوارا نے گھمایا پھرایا بھی ہے یا بس اپنے باغ کے پھل اتروا رہی ہے تم سے؟

میں نے دراصل باغ دیکھا بھی نہیں۔ جس دن یہ لوگ گئے پھل اتارنے میں نہیں گئ تھی۔

اسے افسوس تھا۔ یون بن نے بغور اسکی شکل دیکھی۔  ناشتہ ختم کرکے اس نے سر اٹھایا تو یون بن کو ایک ٹک دیکھتا پا کر گڑبڑا سی گئ۔ 

کیا ہوا؟ اسے لگا شائد منہ پر کچھ لگا ہوا ہے سو بے ساختہ منہ پر ہاتھ پھیر کر جھاڑا۔ 

آں آنیا۔ وہ بھی کھسیا کر پہلو بدل گیا

تبھئ ایڈون دھیرے سے چلتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔

کیسی ہو اریزہ۔ 

اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہی پرانا انداز۔ دھیما لہجہ۔ مگر وہ پہلے سے ذیادہ کمزور اور سنولا گیا تھا۔ 

ان دونوں کی آخری ملاقات جس تلخی پر ختم ہوئی تھی اسکو جتانا مناسب نہیں لگا تھا لیکن خفگی باقی تھی۔ سو بس سر ہلا کر رہ گئ۔ 

ایڈون کے چہرے پر۔پھیکی سی مسکراہٹ در آئئ۔ 

ناراض ہو۔ اسکا لہجہ لو دیے رہاتھا۔ 

تمہاری ضمانت ہوگئ کب ہوئی؟ 

اسے ناراضگی ظاہر کرنا مناسب نہ لگا۔روکھے سے انداز میں وہ بولی۔ وہ اب پہلے جیسے دوست نہیں رہے تھے پہلے جیسی مروت اب باقی نہیں رہی تھی تو پہلے جیسی بےتکلفی جتا کر روٹھنے منانے کا کیا فائدہ تھا۔ 

ہاں۔ تمہیں نہیں پتہ؟ وہ الٹا اس سے حیران ہو کر سوال کرنے لگا وہ کھسیا سی گئ۔ اس نے تو پلٹ کر پوچھا بھی نہیں تھا۔ 

سنتھیا خود پیش ہو گئ تھئ تھانے۔ ماموں اسے لے گئے تو میری  بھی جان بخشی ہوگئی۔

ایڈون اسکا گریز سمجھ رہا تھا مگرجتانا مناسب نہیں سمجھا تفصیل سے بتادیا

کیا۔ وہ متاسف سی ہوئی پھر خیال آیا تو پوچھ بیٹھی۔ 

سنتھیا کیسی ہے وہ پاکستان چلی گئ؟  

وہ سول میں ہی ہے۔ 

اس نے جیسے ناچاہتے ہوئے جواب دیا۔ وہ دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تو یون بن خاموشی سے موبائل میں لگ گیا۔ 

کیوں؟ اور وہ سول میں ہے تو تم یہاں کیاکر رہے ہو؟ 

اس کا انداز جرح کرنے والا تھا۔ 

کیونکہ میں اب اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ 

ایڈون کا انداز قطعی تھا۔ 

کیا؟ اسے شاک سا لگا تھا۔ 

تم کیسے اس سے سب تعلق ختم کر سکتے ہو وہ وہ تو ۔۔ وہ بولتے جھجک سی گئ۔

وہ پریگننٹ ہے ۔ ایڈون نے اسکا جملہ مکمل کیا جیسے۔

یہ اسکا فیصلہ تھا۔ اس نے مجھ میں اور بچے میں اس بچے کو چنا۔ اب ہمارے راستے الگ ہیں۔

ایڈون تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے؟تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ وہ تمہارا بھی بچہ ہے۔ سنتھیا اکیلی اس سب کی ذمہ دار نہیں ہے۔تمہیں اسکی بالکل فکر کوئی پروا نہیں ہے ایڈون ۔  وہ کیا کرے گی اب؟ بولو؟ 

اسکو اتنا غصہ آیا کہ اٹھ کر اسکے مقابل آکھڑی ہوئی غصے کے مارے اسکی آواز تھرا گئ تھی۔ ایڈون کو اسکے  انتہائی ردعمل کی توقع تھی پھربھی اس وقت تھوڑا بھونچکا سا رہ گیا۔  ۔ یون بن اسکے تیور دیکھ کر گڑبڑا کر خود بھی کھڑا ہو گیا۔ اب اگر دوبارہ دونوں گتھم گتھا ہونے لگیں تو اسے ہی بیچ بچائو کرانا پڑنا تھا۔ ایڈون نے گہری سانس لیکر اپنی صفائی پیش کرنی چاہی۔ 

میں نے اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا وہ میرا ہی بچہ ہے مگر میں اس وقت ان ذمہ داریوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں نے صاف بتا دیا تھا سنتھیا کو۔ اسکی ضد کا نتیجہ ہے کہ ہم آج الگ ہو چکے ہیں۔ ورنہ میں خود اسکو اسپتال لے کر جاتا رہا ہوں۔ اسکی پروا نہ ہوتی تو اس بچے کا باپ ہوں یہ ماننے سے ہی انکار کردیتا۔ 

ایڈون آج کافی رسان سے بات کر رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ غصے سے لال پڑ گیا

کیا ۔۔۔ کیا کہا تم نے دوبارہ بولو۔ 

وہ شائد دوبارہ اس پر ہاتھ اٹھا دیتی۔ یون بن ایکدم سے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام کے پیچھے کرگیا۔ 

ریلیکس اریزہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

وہ انگریزی میں اسے کہہ رہا تھا مگر اسے سنائی بھی نہیں دے رہا تھا۔ اسکی آنکھیں لبا لب پانی سے بھر گئیں۔ 

تم اتنے کمینے نیچ اور گھٹیا انسان ہو سکتے ہو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔تم نے سنتھیا کی زندگی برباد کر دی ہے ایڈون کوئی احساس ہے تمہیں اس بات کا

احساس ہے مجھے۔ ایڈون زچ ہو کر چلا اٹھا۔ 

مگر کیا تمہیں احساس ہے سنتھیا نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ میرا کیریئر میری تعلیم سب برباد ہوگیا ہے اسکی وجہ سے۔ مجھ پر کرمنل کیس ہو چکا ہے یہاں میں نہ واپس جا سکتا ہوں نہ یہاں نوکری کر سکتا ہوں جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ برباد ہوگیا ہوں میں اسکی ضد کی وجہ سے۔ 

کیسی ضد ۔۔ جوابا وہ حلق کے بل چلائی۔ 

وہ تمہاری وجہ سے تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے۔اور تم نے اسے چھوڑدیا ہے اکیلے سب سہنے کیلیئے۔ ان ذمہ د اریوں میں پڑنا نہیں تھا تو اس لڑکی کو اس حد تک لائے کیوں؟ سگی ماموں ذاد ہے اپنے خاندان کی عزت کا ہی خیال کر لیا ہوتا تم نے ایڈون۔ لعنت ہو تم پر۔۔

یون بن کی گرفت میں وہ حقیقتا پھڑپھڑا کر رہ گئ 

اسکا بس نہیں تھا کہ اسکا گریبان پکڑ لیتئ۔

اریزہ calm down کیا ہوا ہے ؟ 

 یون بن کو سمجھ نہیں آرہی تھی دونوں میں بحث کس بات کی چل رہی ہے ایڈون آج اپنے آپے میں تھا مگر اریزہ اس نے احتیاطا اریزہ  کوپیچھے کیا خود ان دونوں کے بیچ آکھڑا ہوا۔

تم لوگ آرام سے بات کرو کیا ہوا ہے۔ 

یون بن ان دونوں کے بیچ کشمکش کا شکار کھڑا تھا۔اسے خوف تھا دونوں ہی ہاتھا پائی پر اتر آئیں گے۔ ایڈون کا چہرہ ایکدم سرخ پڑ گیا تھا۔

لعنت؟ تم مجھ پر لعنت بھیج رہی ہو؟ 

اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ جملہ اریزہ نے اسے کہا

ہاں لعنت ہو تم جیسے کمینے گھٹیا انسان پر چلو بھر پانی لو اور ڈوب مرو تم۔ نا تمہیں اپنی عزت کا پاس ہے نا خاندان کی عزت کی پروا ۔

اس نے چلو کا اشارہ کرتے ہوئے اتنے تنفر سے کہا تھا کہ اسکی بات سے ذیادہ اسکے حقارت بھرے انداز نے اسے جھلسا دیا۔ 

بعد میں بات کرتے ہیں ایڈون۔

یون بن نے اسکا بازو تھام کر اسے وہاں سے کے جانا چاہا۔ 

مجھے خاندان کی عزت کا ہی خیال تھا جو اسے خاموشی سے اس معاملے کو ختم کرنے کا کہہ رہا تھا۔

 ایڈون کو یقین نہیں آرہا تھا اریزہ اسے اتنا برا بھلا بھی کہہ سکتی ہے۔ اسے اپنی صفائی دینی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اریزہ اسے ایک نیچ کمینہ انسان سمجھ کر نفرت کرنے لگ جائے۔ وہ سنتھیا کی بہترین دوست تھی۔ اسکے پیچھے اس سے لڑتے نفرت بھی کر رہی تھی۔ لیکن وہ اسکی نفرت نہیں سہہ سکتا تھا۔ 

اگر اتنا خاندان کی عزت کا خیال تھا تو ایسی نوبت کیوں آنے دی؟ اریزہ یون بن کو ہٹاتے اسکے مقابل آکر تن کر بولی

سنتھیا ہرگز ایسی لڑکی نہیں تھی جیسی تم نے اسے بنا دیا ہے۔ اس نے تمہاری محبت  پانے کیلئے اپنی عزت تک دائو پر لگا دی اور تم نے تم نے کیا کیا اسکے ساتھ ایڈون۔ اسکو اکیلا چھوڑ دیا۔۔ تم بہت نیچ انسان نکلے ہو ایڈون۔ 

بولتے بولتے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔۔ وہ واقعی سنتھیا سے محبت کرتی تھی۔ اس نے سنتھیا کو ایڈون پر جان وارتے دیکھا تھا ان لمحوں کی گواہ تھی وہ جب سنتھیا دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتی تھی اس سے بات کرتے۔ وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ اس وقت سنتھیا پر کیا گزر رہی ہوگی۔  

اور میں۔۔ میں  کیا ہوں تمہاری نظر میں ؟ آوارہ بد کرداربدمعاش انسان؟

ایڈون کو اسکی بات سے صدمہ پہنچا تھا۔ ساری دنیا اسے برا بھلا کہہ لے برا سمجھ لے اتنا دکھ نہ پہنچتا اسے مگر اریزہ نے جیسے اسے کانٹوں پر گھسیٹ لیا تھا۔ 

اریزہ ہم دونوں بالغ انسان ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے اس میں ہماری باہمی رضامندی شامل تھی۔ سنتھیا کے ساتھ جبر نہیں کیا ہے میں نے۔ وہ خود اپنی مرضی سے۔ 

وہ بولتے بولتے رکا۔اریزہ کے سامنے کہہ دینے کی ہمت نہ ہوسکی۔  جھجک اسے جملہ مکمل کرنے سے روک گئ تھی۔ اریزہ چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ وہ چند لمحے رک کر خود پر قابو پا رہا تھا۔

 یون بن احتیاطا اسے تھامے ہی تھا ۔وہ  یون بن کی گرفت سے بازو چھڑاتا اسکے مقابل آکھڑا ہوا۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شہادت کی انگلی کھڑی کرکے جتانے والے انداز میں کہنے لگا۔ 

ورنہ تم گواہ ہو اس بات کی کہ نا میں نظر باز ہوں نہ بدکردار۔

اریزہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

 تمہیں آج بھی اسی  شدت سے چاہنے کے باوجود بھی  تمہارے انکار کے بعد میں تمہاری راہ میں بھی کبھی نہیں آیا ہوں۔ تمہارا مان رکھ کر سنتھیا سے تعلق بھی نبھا رہا تھا میں۔۔ تم  آئیندہ کم از کم مجھ پر یہ الزام کبھی مت لگانا۔۔۔

فرط جزبات سے اسکی آواز کانپ گئ۔ وہ جملہ مکمل نہ کرسکا۔ اریزہ سکتے کی سی حالت میں  اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ ایڈون اسکی نگاہوں کی تاب نہ لا سکا۔ یون بن نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا مگر وہ جھٹکے سے خود کو چھڑاتا تیز قدم اٹھاتا باہر ہی نکل گیا۔ یون بن نے مڑ کر اریزہ کی شکل دیکھی۔ پھر سر جھٹکتا ایڈون کے پیچھے لپکا۔ 

ایڈون کی باتیں اسکے ذہن میں طوفان اٹھا رہی تھیں۔ وہ سائیں سائیں کرتے ذہن کے ساتھ پلٹی اورکمرے میں آکر بیڈ پر گر سی گئ۔ 

آج بھی؟۔ اسکے ذہن میں یہ لفظ اٹک گیا تھا۔ 

یہ کیا جتا گیا تھا ایڈون اسے۔ سنتھیا اسکی طرف سے جبھئ اتنی بدگمان رہتی تھی۔ وہ اتنی محبت کرتی تھی کہ ناممکن تھا کہ اسے احساس نہ ہوپاتا ۔ اسے پتہ نہ لگتا کہ ایڈون کا دل کس لے پر دھڑکتا ہے۔ اسکی ہر بدگمانی جائز تھی۔ اسکی نفرت اس کا عدم تحفظ سب کی وجہ وہ خود تھی۔ پھر سنتھیا اس کے ساتھ جو سلوک کرتی وہ حق پر تھی۔ 

تمہارا مان رکھ کر۔۔۔ 

سنتھیا سے تعلق نبھانے کی وجہ بھی وہی بن گئ تھی ایڈون کیلئے ۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہییے تھا

وہ تکیئے میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی

آئیم سوری سنتھیا۔ سو سوری۔۔ 

وہ بے قراری سے روتے یہی گردان کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستا ہوا چہرہ سوجی آنکھیں۔ گوارا اور ہوپ نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔  ہوپ تو کوئی سوال کیئے بنا آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔  اپنا اٹیچی کھول جانے کیا الٹ پلٹ کرنے لگی گوارا البتہ فکرمندی سے سوال کر رہی تھی۔

تم مجھے لگا تھا سوتی رہی ہو ابھی تک یہاں تو معاملہ رونے کا لگ رہا ہے۔ 

کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی۔اس نے ٹالنا چاہا۔ 

اس نے ابھی منہ دھویا تھا۔ پھر بھی چہرے کا رنگ اڑا ہواہی تھا۔وہ منہ ہاتھ دھو کر بھی واپس بستر پر آکر لیٹ گئ تھی۔ گوارا کو اطمینان دلانے کو اٹھنا پڑا۔ پیر سمیٹ کر بیٹھتے اس نے گوارا کو بھی بستر پر بیٹھنے کی جگہ دی۔ 

یون بن  بتا رہا تھاتمہارے اور ایڈون کے درمیان کچھ گرما گرمی ہوئی ہے؟ خیریت رہی ہے؟ کیا کہہ رہا تھا؟ یون بن یہ بھی بتا رہا تھا کہ وہ پہلے بھی تم سے لڑچکا ہے کیا معاملہ ہے آخر؟ 

گوارا کو فکر ہورہی تھی۔ کبھی ایسی فکریں سنتھیا کیا کرتی تھی اسکی۔اسکی پھر آنکھیں بھرنے لگیں۔ہوپ نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ صبح وہ کافی بنا کر جب لائی تب ایڈون اور وہ بحث میں الجھے تھے اس نے واپس پلٹ جانا چاہا تو یون بن جس طرح ان دونوں کے بیچ آیا اسے لگا شائد اسکی بھی ضرورت پڑ جائے سو رک کر معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اریزہ کا طیش سے سرخ پڑتا چہرہ جب درد میں ڈھل کر آنسوئوں سے تر ہوا تب وہ آگے بڑھی تھی اسے دلاسہ دینے کو مگر اریزہ نے دیکھا ہی نہیں اسکی طرف وہ اسکے پیچھے کمرے تک آئی ۔ اریزہ کو روتے دیکھا تو پھر خاموشی سے پلٹ گئ۔ ابھی بھی اسے یہی بہتر لگا کہ گوارا کی۔توجہ ہٹائی جائے۔

اریزہ آج گوارا نے پارٹی رکھی ہے تم نے کچھ لینا ہے؟ میں بازار جا رہی ہوں میرے ساتھ چل سکتی ہو۔

ہوپ نے مڑ کرپوچھا۔۔گوارا نے ہونٹ بھینچ کر اسے گھورا مگر وہ بے نیازی سے اریزہ سے مخاطب تھی۔ اریزہ سنبھل کر بولی

مجھے تو کچھ نہیں لینا۔ اگر تم دوسراہٹ کے لیئے مجھے لے جانا چاہو تو میں چلتی ہوں۔ 

اسکا انداد سادہ سا تھا مگر ہوپ ہنس پڑی

دوسراہٹ؟ ( کمپنی) میں تنہا رہنے کی عادی ہوں یہ سب چونچلے مجھے درکار نہیں ہوتے۔ میں اکیلی جا کر بھی لا سکتی ہوں۔ 

وہ کافی بدل گئ تھی ۔ لیکن اندر کی کڑواہٹ جاتے جاتے ہی جاتی۔ اس وقت بلا ارادہ ہی انداز طنزیہ ہوگیا تھا اسکا۔اریزہ نے محسوس تو کیا مگر ٹوکا نہیں۔

اگر تم کہو تو میں یون بن سے کہتی ہوں ایڈون پارٹی میں نہیں آسکتا۔ 

گوارا نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹل انداز میں کہا۔ اریزہ ہنس دی۔ 

ہم بچے تھوڑی ہیں۔ ویسے بھی کرسمس پارٹی میں میرا کیا کام نہ میں نے ڈانس کرنا ہے نا ہی ڈرنک۔ تم ہماری دوستی کی وجہ سے یون بن اور ایڈون کی دوستی خراب نہ کرو۔ 

اریزہ کے سبھائو سے کہنے پر وہ سر ہلا کر چپ کر گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ کے ساتھ قریبی بازار وہ لگ کے ساتھ آئی تھی۔ گوارا اسکی جانب سے کچھ ذیادہ ہی فکر مند تھی۔اسے اطمینان دلانے وہ بظاہر شوق سے بازار آئی ۔ یہاں کی رونق دیکھ کر کچھ مزاج بہتر بھئ ہو گیا۔ 

ہوپ کو کرسمس ٹری کی سجاوٹ کی چیزیں لینی تھیں۔ کچھ گوارا کے بہن بھائیوں کیلئے اس نے تحفے لیئے۔ اسے تو بچوں کی شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہوپ ہر جگہ خود ہی اپنی پسند سے چیزیں خریدتی رہی۔ اسے حقیقتا کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک دو جگہ چھوٹے موٹے مشورے ہی دے پائی۔ جیسے ایک جگہ اسے بڑے قمقمے خریدتے دیکھ کر ٹوکا 

گوارا کے ریستوران کے کونے میں کھڑے کرسمس ٹری کے حساب سے یہ کافی بڑے قمقمے نہیں ہیں؟ 

کرسمس ٹری کیلئے میں نے گوارا کے بھائی سے کہا ہے بڑی شاخیں کاٹ کر لائے چھوٹا سا نہیں چاہییے مجھے۔آج شام گوارا باربی کیو پارٹی کر رہی ہے اپنے دالان میں وہیں سجائیں گے ایک بڑا سا کرسمس ٹری۔ 

ہوپ نے بتایا تو وہ سر ہلا کر رہ گئ۔ یہ نئی اطلاع تھی اسکے لیئے بھی۔

 باربی کیو یقینا گوشت کا ہونا تھا۔بیف چکن یا پورک وہ تو کچھ بھی کھا نہیں سکتی۔۔  اسے اپنے لیئے رات کے کھانے کا کچھ انتظام کرنا چاہیئے۔وہ بھی کسی قسم کا علی کا احسان لیئے بغیر۔ میں کچھ ذیادہ ہی علی پر انحصار کرتی جا رہی ہوں علی کیا سوچتا ہوگا میرے بارے میں ۔ 

 وہ یہی سوچ رہی تھی ہوپ ادائیگی کرکے آگے بھی بڑھنے لگی تب اریزہ پر نگاہ پڑی۔ وہ وہیں کھڑی ایک چھوٹے سے ستارے کو تھامے تھی۔ اس نے اریزہ کو سوچ میں گم دیکھا توپلٹ کر آئی ٹہوکا دے کر بولی

چلو اب یہاں نہ کھو جانا ہیون بے چارے کی ابھی  پچھلے سفر کی تھکن نہیں اتری ہوگی اسے کسی نئ تلاش میں مبتلا نہ کردینا۔۔ 

ہلکے پھلکے انداز میں ہوپ اسے چھیڑ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہ آیا۔

مطلب؟ ہیون کا کیا ذکر؟ 

کیا مطلب؟ بھئ رات کو جیسے ہی موسم بہتر ہوا وہ بنا رکے ڈرائیو کرکے یہاں پہنچا تھا اتنا پریشان تھا تمہارے لیئے جب تک دیکھا نہیں اسے چین نہیں آیا بخار ہو رہا تھااسے پھر سو بھی نہیں رہا تھا۔ گوارا نے زبردستی پلز دے کر سلایا اسے ۔ ابھی سو ہی رہا تھا وہ۔ 

ہوپ بتا رہی تھی اس نے ہوپ کا بازو تھام لیا

کیا؟ ہیون سول سے یہاں آیا؟ کب ؟  کل تو سول میں موسم کافی خراب تھا نا۔

ہاں جبھی تو کافی دیر لگ گی اسے ۔ یون بن پہلے پہنچ گیا تھا وہ بعد میں پہنچا۔ وہ سرسری انداز میں بتا رہی تھی سامنے تبوکی کے اسٹال پرنظر پڑی تو بات بدل کر اس سے پوچھنے لگی۔

تم تبوکی کھائوگئ؟ 

اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔

میں تو کھائوں گی۔ 

وہ شاپروں کا ڈھیر اکیلے اٹھا کر اسٹال کی طرف بڑھ گئ۔ اسکے پیچھے قدم بڑھاتے وہ الجھ رہی تھی۔ 

وہ خواب ہی تھا یا۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو گوارا اریزہ کے بیڈ کی جانب غالبا اسےاٹھانے کیلئے بڑھ رہی تھی۔ 

صبح تو سوئی ہے اسے سونے دو۔ ہوپ نے آواز دبا کر بولتے ہوئے روکا۔ 

اس نے جانے رات کو کھانا کھایا ہے یا نہیں اب اتنی دیر ہو گئ ہے اسکی طبیعت نہ خراب ہو جائے؟ 

گوارا کو فکر ہو رہی تھی۔ 

اسے اس وقت سکون کی ذیادہ ضرورت ہے بھوک لگے گی تو اٹھ جائے گی۔ 

ہوپ کی بات اسکی سمجھ میں آگئ سو سر ہلاتی اسکے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کرتی باہر نکل آئی۔ باہر چمکیلی دھوپ نکل رہی تھی۔ وہ دونوں باتیں کرتی ناشتہ لیکرباہر تخت نما چبوترے پر ہی چلی آئیں۔ نرم گرم دھوپ میں بیٹھ کر ناشتے کا اپنا مزا تھا۔ داخلی دروازے سے یون بن اور ایڈون ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔ ہوپ کا رخ اسی جانب تھا اسے دیکھ کر یون بن نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہ جانے کا اشارہ کیا۔ اسکا ارادہ بولنے کا تھا بھئ نہیں۔ سر جھٹک کر نوالہ منہ میں رکھ لیا۔ اپنا بیگ وہیں ڈیوڑھی میں چھوڑتا  

یون بن دبے قدموں آگے بڑھا اسکا ارادہ گوارا کو چونکانے کا تھا۔ ایڈون نے اسکی بچکانہ حرکت پر سر جھٹک کر اسکا بیگ بھی اٹھا لیا۔ یون بن نے ایکدم پیچھے سے آکر گوارا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ 

تمہارے سوا کون ہو سکتا ہے ایسے بچکانہ پرینک سوچنے والا۔ 

گوارا ذرا حیران نہ ہوئی۔مزے سے بولی وہ گہری سانس لیکر انکے برابر آن بیٹھا

آننیانگ ہوپ کیسی ہو؟

اس نے مروتا پوچھا تھا جوابا اس نے مروتا بس مسکرا کر سر ہلانے پر اکتفا کیا۔فی الحال اسکے نزدیک سب سے اہم ناشتہ تھا۔ سو یون بن دوبارہ متوجہ ہوا گوارا کی جانب۔

مجال ہے جو تم کبھی کسی بات پر حیران ہو جائو گوارا چلو نہ سہی۔اتنے دنوں بعد بوائے فرینڈ کو دیکھ کر خوش ہی دکھائی دینے کی اداکاری کر لو  

اس نے بے چارگی سے کہا۔

تمہیں دیکھ کر خوشی کا کیا سوال اورحیران کس بات پر ہوں؟ وہ الٹا حیران ہو کر بولی

کل میسج کرکے بتا تو دیا تھا تم نے کہ پہنچ کر پہلے اپنے چچا کے گھر جائوگےاور آج آئوگے۔ ساتھ ایڈون بھئ ہے۔ اسے خیال آیا۔ 

ایڈون کہاں ہے؟اسکے پوچھنے پریون بن نے اشارہ کیا۔ ایڈون نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ ہلکا سا سر جھکا کر بولا۔ 

اسلام و علیکم ۔۔پھر خیال آیا توسٹپٹا کر آننیانگ ہاسے او کہا۔

ہائے۔ گوارا نے خیر مقدمی مسکراہٹ سجائی پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

آئو یہاں بیٹھو میں اندر ناشتے کا کہہ آتی ہوں۔ 

وہ اچھی میزبانی نبھارہی تھی۔ 

کوئی جلدی نہیں ہے۔ آپ آرام سے پہلے ناشتہ کر لیں۔ ہم ویسے بھی پہلے فریش ہونا چاہیں گے۔ کافی مشکل سفر رہا ہےہمارا۔

ہیں تم لوگ اب پہنچے ہو؟ گوارا یون بن کی جانب مڑی۔

یون بن نے گھو رکر دیکھا۔ پھر منہ بنا کر بولا

پتہ ہے کل موسم خراب تھا۔ تمہاری وجہ سے کل  میں نکل آیا  انہوں نے راستے بند کر دیئے تھے۔گھنٹوں سڑک پر گزارنے پڑے  تمہاری وجہ سے بھاگم بھاگ پہنچا ہوں یہاں ورنہ آرام سے اپنے کمرے میں کمبل تان کے سورہا ہوتا میں۔ 

ان دونوں کے لو برڈز والے ان جھگڑوں پر ہوپ صرف بیزار سی بیٹھی۔ سر تھام سکتی تھی سو ایک ہاتھ سے پیشانی تھامے خاموشی سے کھا رہی تھی۔ 

ہاں تو کس نے کہا تھا آخری دن تک ٹالو پہلے آجاتے نا۔ ایسے کیسے؟ گوارا چمک کر بولی۔ ہ

ہمیشہ ہم سب  اکٹھے کرسمس مناتے آج پارٹی کرتے تم نے تو آج پہنچنا ہی تھا نہیں تو میں نے سیول پہنچ کر کان سے پکڑ کر تمہیں لانا تھا۔

بولتے بولتے اس نے سچ مچ کان سے پکڑ لیا تھا۔

ارے کان تو چھوڑو۔ 

وہ بلبلا کر کان چھڑانے لگا۔ 

پہلے ایڈون کو کمرے تک لیکر جائو میرا ناشتہ مت کھائو۔ گوارا کے حکمیہ انداز پر یون بن کو اٹھنا پڑا۔ 

باقی سب آرہے ہیں۔؟ ہیون ، کم سن ، جی ہائے۔ 

وہ روانی میں پوچھتا خود ہی چپ ہوگیا۔

جی ہائے تو مجھےبلاک کر چکی ہے کم سن تو نہیں آرہا اس نے معزرت کر لی ہے ہیون اس وقت شائد اسی کے ساتھ ہوگا۔۔

گوارا نے تفصیلا بتایا۔وہ سر ہلاتے آگے بڑھ کر ایڈون کے ساتھ سامان اٹھانے لگا۔تبھئ  ہوپ کی دروازے پر نگاہ گئ۔ 

ہیون تو یہ رہا۔ اسکے کہنے پر گوارا اور یون بن دونوں نے گردن گھما کر دیکھا۔گوارا بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

۔ بکھرے بال چہرے پر تھکن سے ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ ملگجے کپڑے وہ خاصا پریشان حال دکھائی دے رہا تھا۔ ایڈون نے خاصی حیرت سے اسکا حلیہ دیکھا۔ وہ تو ہمیشہ نک سک سے درست تیار رہتا تھا۔ 

یون بن اور گوارا اسکی جانب پریشان ہو کر بڑھے

ہیون؟ تم ٹھیک تو ہو؟

ہاں ۔ ڈرائیو کرکے آیا ہوں اس لیئے تھکا تھکا لگ رہا ہوں۔ 

وہ زبردستی مسکرا کر تسلی دینے والے انداز میں بولا۔

راستے تو بند کر دیئے تھے انہوں نے؟ 

یون بن نے اسکی پیشانی چھوئی پر حدت ہو رہی تھی۔ 

ہاں تھوڑا انتظار کرنا پڑا۔ 

اس نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر الگ کیا۔ 

اریزہ کیسی ہے؟ اسکے بے تابی بھرے سوال میں اسکی یہاں موسم کی ترشی کے باوجود پہنچ جانے کی وجہ پنہاں تھی۔ گوارا اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ ایڈون نے گہری نگاہ سے اسکا جائزہ لیا۔ 

وہ ٹھیک ہے ۔ رات کو خیریت کی اطلاع دے تو دی تھی ہم نے۔ 

گوارا نے جانے کیا جتانا چاہا تھا وہ انجان تھا۔ 

میں مل لوں؟

اس نے پوچھا۔ 

ہاں اسے جگا دینا آکر باہر ناشتہ کر لے ہمارے ساتھ۔ 

جواب گوارا کی بجائے ہوپ نے اونچی آواز میں دیا تھا۔ ہیون نے اسکی موجودگی محسوس ہی اب کی تھی۔ سر کے اشارے سے اسے سلام کرکے وہ اجازت طلب نگاہوں سے گوارا کو دیکھ رہا تھا۔ 

جائو ۔ وہ کمرے کی۔جانب اشارہ کرتی ایک طرف ہو گئ۔ ہیون تیز قدم اٹھاتا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ 

تمہارے پاس بخار کی دوا ہوگی؟ 

یون بن پوچھ رہا تھا۔گوارا نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ 

ایڈون اپنی جگہ کھڑا ہیون کو اندر جاتے دیکھ رہا تھا۔ 

چلو۔ یون بن کو اسے باقائدہ چٹکی بجا کرمتوجہ کرنا پڑا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ کسمسائی تھی مگر شائد نیند نہیں ٹوٹی تھی اسکی۔ وہ دبے قدموں اسکے بیڈ کے پاس آیا تو احساس ہوا وہ خواب میں شائد ڈر رہی تھی۔ بازو موڑے داہنے ہاتھ کی مٹھی گال پر جمائے وہ سو رہی تھی۔مگر اسکا جسم دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔ پیشانی پر تفکر کی گہری لکیر تھی۔ کسی ڈرائونے خواب کے زیر اثر تھی شائد وہ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکو جگانا چاہا تھا تو اسکی آنکھ کھل گئ تھی۔ نیند بھری خمار آلود نگاہوں سے اس نے دیکھا تھا۔ پیشانی سے تفکر کی گہری لکیر مدھم پڑ رہی تھی۔ 

اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اسکا کندھا تھپکا

کین ۔۔ وہ کین چھنا کہتے کہتے رکا۔ پھر دھیرے سے بولا

سب ٹھیک ہے۔ اریزہ۔۔

اسکے الفاظ میں جانے کیا جادوئی اثر تھا اس نے جیسے سچ مچ مطمئن ہو کر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرسمس ٹری سج کر بے تحاشا خوبصورت لگ رہا تھا۔ گوارا اور ہوپ نے بہت دل سے سجایا تھا۔شام ہوتے ہی انہوں نے دعوت کا انتظام کرنا شروع کردیا تھا۔ عارضئ ٹینٹ کی مدد سے پورا صحن ڈھکا تھا۔ باربی کیو کا کافی بڑا انتظام تھا جس سے موسم کی ترشی کم محسوس ہو رہی تھی۔ گوارا کا بھائی ، یون بن اور دو تین لڑکے باربی کیو کرنے کا بار اٹھائے تھے۔ فضا میں گوشت بھننے کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ گائوں میں سب جلدی سو جاتے سو رات گئے کا انتظار نہیں کیا گیا تھا۔ گوارا کے عزیز رشتے دار دوست احباب کی بڑی تعداد مدعو تھی۔سب شام سے آنا شروع ہو گئے تھے۔ ریستوران کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ خوش گپیوں کی آوازوں کے ساتھ سوجو اور بئیر کھلنے کی بھی آوازیں آرہی تھیں۔  بچوں کو ٹھنڈ کئ وجہ سے ریستوران کے اندر ہی رکھا ہوا تھا۔ خواتین بزرگ بھی اندر ہی تھے جبکہ نوجوان سب صحن میں جمع تھے۔ بی ٹی ایس بلیک پنک کے گانے لگے ہوئے تھے۔ گوارا نے اپنی بچپن کی سہیلیوں سے بڑے شوق سے ہوپ اور اسے ملوایا تھا۔ 

جی ہائے نہیں آئی؟ 

ان میں سے ایک نے غور سے ان دونوں کو دیکھ کر گوارا سے پوچھا تھا۔ 

آں۔ وہ مصروف تھئ۔ گوارا بات بنا گئ۔ 

جی ہائے کی ناراضئ کی وجہ اس وقت بلا وجہ دوبارہ شرمندگی محسوس کرکے گھٹنوں میں منہ دینے کو تیار بیٹھی تھی۔

ہوپ نے ٹہوکا دیا تو وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی اس نے مسکرا کر نگاہوں سے سامنے دیکھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا۔۔ ہوپ اسکے گردن گھماتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون کا گوشی وون بند تھا۔ اس نے انتظامیہ سے پتہ کیا تو انہوں نے بتایا وہ کرسمس منانے شہر سے باہر گیا ہے۔ اس نے واپس کب آنا تھا  اسکی خبر نہیں تھی۔ وہ شکریہ ادا کرکے باہر نکل آیا۔ کل کی شدید برفباری کےبعد آج بھی موسم ابر آلود ہی تھا۔ وہ اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تو دفتر سے پی اے کی کال آگئ ضروری ملاقات طے تھی ایک دو جگہ اسکے ضروری دستخط درکار تھے۔ اسکے کئی گھنٹے اسی میں لگے۔ شام کو جا کر وہ فارغ ہوا۔ کل کرسمس کی چھٹی تھی۔ اس نے سب کو گھر بھیج دیا۔ خود اس وقت اپارٹمنٹ میں جا کر اکیلے بیٹھنے کا دل نہیں تھا سو گنگنم چلا آیا۔ سڑک کنارے کئی میوزیکل پروگرام ہو رہے تھے ۔ پوری سڑک دلہن کی طرح سجی تھی۔ کھانے پینے کے ٹھیلے لوگوں کے رش کی وجہ سے کم پڑ رہے تھے۔ کہیں سینٹا کے لباس میں لوگ بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے تو کہیں نئے نویلے جوڑے بانہوں میں بانہیں ڈالیں خوش باش گھوم پھر رہے تھے۔ وہ یونہی ایک نو آموز گلوکار بینڈ کی کارکردگی دیکھنے بیٹھ گیا۔ 

سڑک کنارے کسی بھی بڑے سیٹ اپ کے بنا بھی وہ کرسمس کا مزا دوبالا کر رہے تھے۔ کرسمس کی آرائش کے طور پر انہوں نے اپنے بینڈ کے ہر موسیقی کے آلے کے ساتھ جل بجھ کرتے قمقمے لگا رکھے تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈیڑھ دو فٹ کا کرسمس ٹری بھی خوب قمقموں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے سجا رکھا تھا۔ اسکی نگاہ کو کھینچ گیا ایک ایک چھوٹا سا ننھا فرشتہ  جو کرسمس ٹری میں پر پھیلائے جھول رہا تھا۔ ان لڑکوں کی اپنی تیاری بھی پوری تھی۔ سردی کے لحاظ سے کالےجیکٹ گرم ٹوپی لانبےجوتے پہن رکھے تھے۔ کانوں میں آویزے لٹکائے خوش شکل لڑکے لوگ جوق در جوق جمع ہو رہے تھے۔ مفت کا کانسرٹ دیکھنے۔ہاں کچھ  لوگ ایک کونے میں رکھے انکے آر پار دکھائی دینے والے باکس میں حسب منشاء پیسے ڈال رہے تھے۔ وہ بھی اتنے ہو چکے تھے کہ ڈبہ بھرنے کو تھا۔ وہ کافی مشہور معلوم ہو تے تھےایک مکمل راک بینڈ جو ذرا سا اگر موقع مل جاتا تو شائد کورین پاپ انڈسٹری کا ایک اچھا اضافہ ثابت ہوتے۔ انکا تو اپنا گانا بھی تھا۔ 

زندگی اے میری زندگی

 تو ہی بتا کہ اب کروں میں  کیا

اب تو جی گیا جیسے بھی جیا

 اب جو جی چکا تو مروں میں کیا 

میری آرزو ہوئی پوری مگر 

پھر بھی خوش نہیں میرا دل ہوا

سن اے زندگی میرے پاس آ

مجھے گلے لگا۔۔ 

میں ہوں تھک چکا۔۔۔۔ 

گلوکار نے بہت لمبا کھینچا تھا اس جملے کو۔ 

تبھئ گٹار بجانا چھوڑ کر اسکا ساتھی آگے بڑھا اور ریپ شروع کردیا۔ گلوکار کا کام اب موسیقی کی لے برقرار رکھنا تھا۔ اب ریپرتیز تیز مگر مکمل جملے کہتا وہ اب زندگی کے مکالمے بول رہا تھا۔ زندگی خفا تھی اسکی ناشکری پر اور ڈانٹتے ہوئے بول رہی تھی۔ 

آہاں میں زندگی۔۔۔ 

سن رہی ہوں یہیں کھڑی

تیرے الم تیری بکا

اب سن میرا جواب آ

اے تھکے ہوئے انسان تو

یہاں تھا چار دن کا مہمان تو

چند سکوں کی تجھے تلاش تھئ

جن رشتوں کی تجھے آس تھی

اب میں پوچھتا ہوں تجھ سے اگر

وہی موڑ ہے یہ اور وہی ڈگر

سب  یہاں ہی تھا تو پھر بتا کیوں کہاں گیا

تو نےپایا جوتگ و دو سےوہ ہے جہاں کیا۔۔ 

تجھے آرزو تھی کہ بہت مال ہو

تیری شہرتوں کونہ زوال ہو

تجھے مل جائے بس ایک شخص

چاہے اسکو تیرا نہ خیال ہو

اب جو پا گیا تو سب کچھ یہیں

اب تو سوچ رہا  ہے کہ کہیں

تو نے مانگا ہی خسارہ تھا

تونےاپنا دل جس پر وارا تھا

تو نے صدقہ جسکا اتارا تھا

تیری آہوں پر تجھے جو بخش دیا

تیری دعا کے بدلے جو شخص دیا

اس نےبھی کبھی

 دل سے کسی کو پکارا تھا

وہ نام مگر

 نہ تمہارا تھا۔۔۔۔

کرسمس نائٹ پر اداس گانا بھی خوش ہو کر سن رہے تھے۔گانے والی کی آواز بھی بہت میٹھی تھی اور سر بھی اچھے اٹھا رہا تھا۔ وہ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انہیں سنتا رہا۔۔ سردی بڑھ رہی تھی اور لوگوں کا جوش و خروش بھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی فاصلے پر وہ کسی دوست کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ منٹ گرین ہائی نیک بلیک جینزمیں  وہ سب میں نمایاں دکھائی دے رہاتھا۔ اسکے چہرے پر پڑنے والی روشنی اسکی بے تحاشہ صاف رنگت میں زردی گھول رہی تھی یا وہ اسے ویسے ہی ذرا سا کمزور لگا۔بلا ارادہ وہ اسے دیکھ رہی تھی جب باتیں کرتے اس نے رخ بدل کر اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس نے گڑبڑا کر نگاہوں کا رخ ہوپ کی جانب بدلا وہ پتہ نہیں کب اٹھ کے جا چکی تھی۔ اس نے حیرت سے اپنے برابر خالی کرسی کو دیکھا۔  

کیسی ہو

۔ہیون اسکے متوجہ ہوتے ہی وہ اپنے ساتھ کھڑے لڑکے سے معزرت کرتے سیدھا اسی کے پاس آیا تھا۔

ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟بخار ہوا وا تھا اب کیسی طبیعت ہے۔۔

 اسکی آنکھوں میں دیکھنا اسکے لیئے آج کل مشکل ہوا وا تھا۔ اس وقت تو سرخ بھی ہو رہی تھیں۔ وہ بولتے بولتے نگاہ چرا بھی گئ۔

اب بہتر ہوں۔ بخارنہیں ہے اب۔ 

اس نے سادہ سے انداز میں جواب دیا۔ مگر نگاہیں اس پر بھٹک سی گئیں۔ 

تھائینیے۔ اریزہ نے دھیرے سے کہا۔ 

گرے وولن میکسی میں اسکا رنگ دمک رہا تھا۔ اس نے گرےاور بلیک ہی وولن اسکارف گردن میں ڈال رکھا تھا۔ یہ میکسی اس نے گوارا کے ہمراہ سول میں لی تھی۔ گوارا نے اسی طرح کی گہری نیلی اور ہوپ نے میرون پہن رکھی تھی۔ تینوں کی ایک جیسی لک تھی۔ تینوں نے بال کھول رکھے تھے۔ وہ بہت غور سے اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔ اس کے رخسار تپنا شروع ہو گئے تھے۔ 

تم کمزور لگ رہی ہو۔ کھاپی نہیں رہیں ڈھنگ سے؟ 

اسکا انداز اپنائیت بھرا تھا۔ شائد کوئی خوش فہم اندازہ لگانے پر دل مائل تھا۔

ارے نہیں۔ بہت کھا رہی ہوں۔ بس کل ڈر گئ تھی شائد اسلیئے۔ ویسے۔ کل تم نے میری مدد کی اسکے لیئے دل سے شکریہ۔ میں تو شائد وہیں سڑک پر ہی بیٹھی رہ جاتی۔  وہ پورے خلوص سے  اور محسوس کی جانے والہ اجنبیت سےاسکا شکریہ ادا کررہی تھی۔ 

ہیون کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ ماند پڑگئ۔

جوابا کچھ بول ہی نہ سکا۔اریزہ اٹھنے کا بہانہ سوچنے لگی۔ 

آئی مس یو اریزہ۔ ڈڈ یو مس می؟

( میں نے تمہیں یاد کیا اریزہ، تم بھی مجھے یاد کیا؟)

اس نے صاف کہا تھا۔

اریزہ واضح طور پر چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی ۔ اسکا انداز سادہ نہیں تھا۔ اسکا لہجہ یاسیت بھرا تھا۔ چہرے پر امید سی تھی کہ وہ جواب میں شائد کہے گی۔ ہاں بہت ذیادہ۔ تم سے بھی ذیادہ۔اریزہ جز بز سی ہوگئ۔ اگر اسے ایڈون کی آنکھوں میں اپنے لیئے جگنو دمکتے محسوس ہوتے تھے تو اس وقت ہیون کی آنکھیں میں دیئے جلتے نظر آرہے تھے۔

میں نے تو بہت یاد کیا ۔۔بہت ذیادہ۔ کاش تم بھی۔  

وہ کہہ کر چند لمحے اسکے جواب کا منتظر رہا۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا کیا جواب دے۔ اس کو اسکی باتوں کو اسکی دوستی کو اس نے واقعی یاد کیا اسکے ساتھ اچھی یادیں وابستہ تھیں مگر اگر وہ جواب میں صرف مس یو ٹو بھی کہہ دیتی تو شائد وہ اسے کچھ اور معنوں میں لیتا۔ وہ جملہ ترتیب کرتی رہ گئی وہ مایوس ہو کر چلا ہی گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اکیلی ہی بیٹھی تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سول میں کرسمس کی شروعات ہو چکی تھیں۔ نرس نے دوپہر میں کھڑکی کے پردے ہٹائے تھے اس وقت کھڑکی سے پوری آتش بازئ دکھائی دی تو دل اور اداس ہوگیا۔  یہ اسکی بائیس سالہ زندگی کی پہلی کرسمس تھی جس میں نہ اریزہ پاس تھی نا ایڈون۔ وہ آج اریزہ کو یاد کر رہی تھی۔ اسکے ساتھ بیتے پل ریل کی طرح نگاہوں میں گھومے تو کتنے ہی آنسو گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ نرس نے اندر آتے تاسف سے اسے دیکھا۔پھر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بڑے خلوص سے اسے آکر مبارک باد دی۔ رات کی دوائیں دیں۔ کیک کا ایک پیس وہ بطور خاص اپنی مریضہ کیلئے لائی تھی۔ 

اسکے خلوص سے سنتھیا کا دل بھر آیا تھا۔ 

آج کا دن رونے کا نہیں دعا کرنے کا ہے۔ اپنے لیئے اپنے بچے کیلئے دعا کرو کہ  جب وہ دنیا میں آئے تو تندرست ہو یسوع مسیح کا سچا پیروکار بنے۔ اولاد جیسا خوبصورت تحفہ مل رہا ہےتم تو جتنا شکر ادا کرو کم ہے سنتھیا۔ یہ آخری کرسمس ہوگی تمہاری تنہا۔ اگلی کرسمس پر تو تم اسکے پیچھے بھاگ رہی ہوگی۔ 

اسکی پلکوں سے آنسو چنتے نرس نے ہلکے پھلکے انداز میں اسے ٹوکا مستقبل کی روشن جھلک دکھائی۔ کتنی نئی امیدیں تھما دیں۔

وہ بہل بھی گئ۔ چند مہینے گزریں گے جیتا جاگتا ننھا وجود اسکی بانہوں میں ہوگا۔ایڈون جتنا بھی سخت دل بنتا ہو جب اپنی اولاد کو اپنی گود میں لے گا تو یقینا پگھل جائے گا۔ اسے تو بچے پسند ہوا کرتے تھے۔ یہ سوچ اسکو لمحوں کیلئے سہی ہر فکر سے آزاد کر گئ۔ ایک مسکراہٹ بھئ بھولے بھٹکے ہونٹوں پر در آئی۔ 

نرس نے محبت سے اسکو دیکھا۔

اب اچھا اچھا سوچو اور سونے کی کوشش کرو۔ 

گڈ نائیٹ۔ وہ کہہ کر جانے لگی جب دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھلا۔نووارد کو دیکھ کر وہ مسکرا کر اس سے مخاطب ہوئی۔

لو آگیا تمہارا بوائے فرینڈ تم ناحق اداس ہو رہی تھیں۔

نرس کی بات پر اس نے بےتابی سے مڑ کر دیکھا۔ تو کم سن ایڈون کو سچ مچ لے آیا۔ایڈون مان گیا آخر۔ اس کے خوش فہم دل نے کیا کیا نہ سوچ لیا۔ اسکی ساری خوش پل میں ہی خاک ہوئی۔ چہرے پر یکدم سایہ لہرا گیا۔

یہ کم سن تھا۔ بڑا سا شاپر تھامے ۔

کم سن جو نرس کی غلط فہمی پر کچھ کہنے ہی والا تھا سنتھیا کے چہرے کو پل میں لو دیتے پل میں تاریک پڑتے دیکھ کر اپنی جگہ مجرم سا بن گیا۔ 

میں یہی سوچ رہی تھی روزانہ باقائدگی سے آتے ہو اور کرسمس پر غائب ہو پتہ ہے سنتھیا اداس ہو گئ تھئ۔ تمہارا فرض ہے اب اسکو خوش کرکے جائو۔ 

خوشدلی سے کہتی نرس جواب کا انتظار کیئے بنا باہر نکل گئ تو وہ دروازہ احتیاط سے بند کرتا سنتھیا کے پاس چلا آیا

میری کرسمس۔ 

اس نے شاپر اسکی جانب بڑھایا۔ 

میری کرسمس۔ وہ بمشکل جواب دے پائی۔ مایوسی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ وہ شاپر کی جانب ہاتھ بڑھا ہی نہ سکی۔ کم سن نے خود ہی شاپر میں سے دو بالشت بھر کا چھوٹا سا کرسمس ٹری نکالا۔ 

ہم کرسمس منانے باہر تو جا نہیں سکتے کرسمس  ہی سوچا اندر لے آئوں۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا تھا۔  صوفے کے پاس سے اسٹول اٹھا کر کھڑکی کے پاس رکھا  کرسمس ٹری اسی پر ٹکا دیا۔ ایک چھوٹی سی بیٹری لگی تھی اس نے بٹن دبایا تو کرسمس ٹری جگمگا اٹھا۔ اور اسکے بیچ میں ہوا میں معلق ننھے فرشتے نے پر پھیلائے اور ہلکی سی اڑان بھی بھر لی۔

اتنا پیارا منظر تھا کہ سنتھیا بے ساختہ مسکرا دی۔ کم سن بے ساختہ زیر لب تھائی نیئے کہہ گیا۔پھر باقی شاپر اسکی جانب بڑھادیا۔ 

چھوٹا سا سہی کرسمس کیک بھی ہے اور گفٹ بھی ۔ 

سنتھیا نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ بالشت بھر کے دو عدد ڈبے تھے۔ اس نے تحفہ ایک جانب رکھ کر کیک کھولا۔ کیک واقعی چھوٹا سا تھا۔ کپ کیک۔ اسے ہنسی آگئ۔ 

کم سن نے پھلوں کی ٹوکری سے چھری اٹھا کر اسے تھمائی۔ 

چلو دعا مانگیں۔ سینے پر کراس بنا کر ایک ہاتھ کی مٹھی بنائئ دوسرے ہاتھ سے تھاما آنکھیں بند کرکے باقائدہ دعا بھی مانگی۔ سنتھیا اسے دیکھے جا رہی تھی تو آنکھیں کھول کر اسے آنکھوں سے ہی اپنی تقلید کرنے کا اشارہ کیا۔ سنتھیا نے بھی دعا کا انداز بنا لیا مگر دل بالکل خالی سا تھا کوئی دعا ذہن میں ٹھہر ہی نہ رہی تھی۔ 

چلو کاٹو کیک۔ کم سن کے کہنے پر اس نے آنکھیں کھولیں۔ منے سے کیک کو احتیاط سے چٹکی میں پکڑ کر کاٹا ایک ٹکڑا کیا۔ اسکی جانب بڑھایا جسے اس نے خوشدلی سے تھام کر منہ میں ڈال لیا۔ 

شکریہ۔ اس نے آگے بڑھ کر اگلا ٹکڑا خود اٹھا کر سنتھیا کی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولنے کی بجائے تھام کر ہلکا سا چکھا۔ 

ایڈون نے آنے سے انکار کردیا نا؟

اسےہر برے کی امید تھی۔

ایڈون کرسمس منانے دوسرے شہر گیا ہوا ہے۔ یون بن کے ساتھ۔ گوارا کے گائوں میں۔ 

اس نے سرسری سے انداز میں اطلاع دی۔پھر اضافہ کیا

اریزہ ہیون سب وہیں ہیں۔ 

تو میں سیول میں اکیلی ہوں۔ 

وہ ذرا سا ہنسی۔ پھر خیال آیا تو اگلا سوال بھی کرڈالا

میں تو یہاں اکیلی ہوں لیکن تم اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کیوں نہیں ہو کرسمس کے موقعے پر۔

سنتھیا نے بنا تمہید سوال کیا تھا۔کم سن کو اچھو سا ہوا۔ اس سوال کی کم از کم اس وقت اسے امید نہ تھی۔ 

سنتھیا جواب طلب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھانون نورینونو ائے 

نو اے ایئے چھونن کورسومان

 ایدا میون کی پور تھیندے۔۔ 

ایکسو کا فرسٹ سنو بج رہا تھا اور سب ینگ پارٹی اس پر جوڑوں میں ناچ رہے تھے۔ وہ کچھ فاصلے پر بیٹھی ان سب کو دیکھ دیکھ کر ہی پارٹی کا لطف اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کورینز ویسے بھی غیر ملکیوں سے تھوڑا فاصلے سے رہتے ہیں جبھی کسی نے اسے ڈانس کی صلاح بھی نہیں ماری۔ سب آپس میں ہی رونق میلے میں لگے تھے۔۔ ہوپ گوارا کی والدہ کے ساتھ اندر خواتین کی محفل میں بیٹھی تھی۔ وہ اسکے ساتھ اندر گئ تھی بیٹھنے مگر اسکی شکل دیکھ کر جیسے خاموشی چھائی پھر سب ہی اسکی وجہ سے ذرا تکلف سے بات کرنے لگیں  کچھ نہیں تو سامنے بیٹھی آہجومہ جس طرح ایک ٹک اسے دیکھے گئیں وہ جزبز سی ہوتی معزرت کرکے اٹھ آئی باہر۔یہاں کم از کم سب اسے گھور نہیں رہے تھے انکی اپنی دلچسپیاں تھیں۔اس نے صحن پر طائرانہ نگاہ دوڑائئ۔  ایک طرف  کچھ لڑکے لڑکیاں سوجو پیتے ناچتے ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے۔ شائد چڑھ گئ تھی انہیں۔ کچھ سب بھول کر بس باربی کیو کے پاس کھڑے بس کھانے میں لگے تھے ۔۔ اس وقت یون بن اور گوارا  دونوں مزید کچھ جوڑوں کے ساتھ کپل ڈانس کر رہے تھے ۔ اس پر نگاہ پڑنے پر گوارا نے فٹ سے اسے بلایا۔ اس نے سہولت سے نفی میں سر ہلایا۔وہ یون بن کو کچھ کہنے لگی۔ یقینا وہ یون بن کو پرے کرکے اسکے ساتھ آبیٹھنے والی تھی۔ اریزہ گہری سانس لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے اگر اس پارٹی کا حصہ نہیں بننا تھا تو یہاں بیٹھ کر گوارا کو مروت کی مار بھی نہیں دینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ اٹھ کر کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں باہر کے شور کی آواز کم سہی مگر آرہی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر لگئ گھڑی میں وقت دیکھا۔ پھر سوچ میں پڑ گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شولڈر بیگ لٹکاتی وہ لانگ کوٹ پہنتی گلے میں مفلر لپیٹ کر شوز پہنتی پارٹی سے بچتی باہر نکل آئی تھی۔ اس وقت نو بج رہے تھے۔ اسے بھوک تو نہیں لگ رہی تھی مگر اگر اسے کچھ کھانا پینا تھا تو اسٹور تک جانے آنے میں گھنٹہ لگ جانا تھا۔ گھر سے نکلتے پارٹی کی باقیات کے شور و ہنگامے میں اندازہ ہی نہ ہوا کہ باہر ضرورت سے ذیادہ سنسانی ہے۔ وہ سردی کی وجہ سے کافی تیز قدم اٹھا رہی تھی ۔  پہلی گلی  دوسری گلی پار کر کے احساس ہوا  کہ اتنا سناٹا اور خاموشی ہے۔ آگے شاہراہ تھی۔ جس پرٹریفک بھی ہوتا مگر کیا اس وقت اکیلے اسکا یوں سڑک پر جانا ٹھیک ہوتا؟ اسے اپنی بہادری نری حماقت  محسوس ہوئی کہ آگے جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ سڑک کنارے کھڑی

وہ شش و پنج میں مبتلا سوچ رہی تھی کہ آگےجائے نا جائے ۔ جب اسے پیچھے بھاگتے قدموں کی آواز آئی۔ کسی نے اسے اونچی آواز میں پکارا بھی تھا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون بھاگتا ہوا آرہا تھا۔ 

اتنی رات کو اکیلی کہاں جا رہی ہو؟ میں وہاں سے۔۔  وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر ہانپنے لگا۔

اریزہ خفت زدہ سئ مسکرا دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے حرارت محسوس ہو نے لگی تھی تو پارٹی سے اٹھ کر وہ کمرے میں چلا آیا۔ ٹیبلٹس لیکر ارادہ لمبی تان کر سونے کا تھا۔ تبھی کھڑکی پر نگاہ پڑی تو پردے برابر کرنے کی نیت سے کھڑکی کے پاس آیا ۔تبھئ اسکی ڈیوڑھی سے تیز قدم اٹھا کر نکلتی اریزہ پر نگاہ پڑی۔ وہ یقین کرنے میں متامل ہوا مگر جب اسے دروازہ کھول کر باہر جاتے دیکھا تو فوراموبائل اٹھا کر اسے کال ملائی جو کہ حسب عادت اس نے فون نہیں اٹھایا۔وہ تیز قدم اٹھاتی سڑک پر بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ عجلت میں والٹ اور جیکٹ اٹھاتا اسکے پیچھے بھاگا تھا وہ اتنی ہی دیر میں غائب ہوگئ تھئ۔ 

وہ میں نے سوچا اسٹور سے کچھ کھانے کیلئے لے آئوں۔ 

کھسیا کر اس نے بتایا تھا۔ اس کو شرمندگی ہوئی تھی۔ ایک تو اسکی طبیعت خراب اوپر سے وہ اتنی کڑاکے کی سردی میں اسکے پیچھے بیچ سڑک میں کھڑا تھا۔ 

ہیون سانس بحال کرتا اسے دیکھ کر رہ گیا۔

صبح ہوپ کے ساتھ گئ تو تھیں باہر اس وقت کچھ لے کر آنا چاہیئے تھا۔ اس وقت اتنی سردی اور رات کو اکیلے نکل پڑیں۔ کسی کو ساتھ لے کر ہی آتیں مجھے ہی کہہ دیتیں۔ ابھی یہاں راستہ بھول جاتیں پھر؟ ۔ اسکا انداز سخت نہیں تھا مگر وہ ڈانٹ ہی رہا تھا ۔ 

اریزہ سچ مچ شرمندہ ہوگئ۔ 

مجھے اندازہ نہیں تھا اتنی سنسانی ہوگی یہاں پر۔ پھر قریب ہی تو سڑک ہے بس اس لیئے۔ معزرت۔ 

اپنی غلطی مانتے اس نے فورا معزرت بھئ کرلی۔

چلو واپس میں گاڑی نکالتا ہوں۔ 

اس نے کہا تو وہ سہولت سے منع کر گئ

بس سڑک آ تو گئ میں دو منٹ میں چیز لے کر آتی ہوں۔ تم جائو۔ گاڑی لیکر جب تک آئوگے میری شاپنگ بھی ہو جائے گئ ۔ واپسی میں مجھے لے لینا۔

اس نے جھٹ پٹ پروگرام بنا لیا تھا۔ ہیون کو جانے کیوں ہنسی آگئ۔۔ دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹتے وہ مسکرا کر پوچھ رہاتھا

اسٹور سے چیزیں کیسے لوگی؟

پیسے ہیں میرے پاس۔ 

اس نے تھوڑا برا مانا یہ کیسا سوال ہوا۔ اپنے شانے سے لٹکتا چھوٹا سا بیگ تھپتھپا کر بولی۔

اتنی بھئ احمق نہیں تھی وہ۔ 

ہیون نےسر جھٹکا

چلو۔ اسکا واپس جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ اریزہ جانتی تھی اب وہ اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا۔ سچی بات ہے اس وقت اسکی آمد سے خاصی ڈھارس محسوس ہوئی تھی اسے۔ 

سڑک پر اکا دکا گاڑیاں گزر رہی تھیں ہیون گھوم کر خود سڑک کی طرف آگیا تھا۔ اسکی سردی کے مارے گھگھی سی بندھ رہی تھی ۔ اس نے کن اکھیوں سے ہیون کو دیکھا اسکی بھی ناک سرخ ہو رہی تھی ۔

 اتنی برفانی ہوا کیوں چل رہی ہے؟ اس نے جھنجھلا کر سوچا۔ 

سامنے ہی روشنیوں میں گھرا مارٹ تھا۔ پہنچتے پہنچتے قلفی جم گئی تھی پھر بھی۔  

ایک اور مصیبت تھی سامنے۔ جالی دار سوراخوں والا شٹر گرا ہوا تھا۔ 

یہ تو بند ہے۔

وہ زیر لب بڑبڑائئ۔ ہیون نے آگے بڑھ کر شٹر اٹھا دیا۔ اریزہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔ مگر شیشے کا دروازہ مضبوطئ سے بند تھا۔ 

کرسمس ہے چھٹی ہے مارٹ بند ہوتا ہے۔ گائوں ہے یہ سیول تھوڑی۔ انکو کیا پتہ کہ اریزہ کو بھوک لگتی ہے رات کو۔ 

ہیون کی وضاحت پر وہ اسے گھور کر رہ گئ۔ 

وہ دروازے کے پاس ٹٹولتی نگاہوں سے جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا۔ 

پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔ اس نے چڑ کر کہا۔ 

اب چلو واپس۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ 

ہمارے اسٹورز میں مشین لگی ہوتی ہے سیلف سروس سے آپ اپنے شناختی کارڈ یا بنک کارڈ کو سوائپ کرکے کھول سکتے ہیں مارٹ مگر یہاں لگتا ہے نہیں لگی ہوئی۔ 

وہ مایوسی سے سر ہلا رہا تھا۔ پھر آگے بڑھ کر گلاس ڈور کے لاک اسکرین پر ہاتھ رکھا ۔ اسکرین روشن ہوئئ اسکینر بجا اور دروازہ کھل گیا۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔

آجائو۔ وہ آرام سے دروازہ کھولتا اسے اندر آنے کی دعوت دے رہا تھا۔

یہ اب کیسے کھلا؟ 

وہ حیران تھئ۔ 

میرے ہاتھ کا کمال ہے۔ اس نے شرارت سے اپنے ہاتھ کی انگلیاں نچائیں۔

تم نے لاک کوڈ توڑا؟ مسلئہ تو نہیں ہو جائے گا؟ یہاں تو کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ 

وہ فکر مند ہوگئ تھی۔ اس طرح بند اسٹور میں گھسنا جیل کی سیر نہ کروادے۔

ہم واپس چلتے ہیں۔ 

وہ ڈر کر واپس جانے کو تھی۔ہیون نے اسکو ہاتھ پکڑ کر روکا۔ پھر داہنا ہاتھ لہرا کر بولا  

میں اس ہاتھ سے لی مارٹ کی چین کے کسی اسٹور کو کبھی بھی کھول سکتا ہوں۔ میرا ہاتھ اسکینڈ ہے ہر ایکسسس کیلئے۔ 

وہ اسٹور کے فرنٹ پر جا بجا لگے لی مارٹ کے لوگو کی جانب اشارہ کرکے بتا رہا تھا۔ 

لی مارٹ۔ وہ چونکی۔ یہ اسٹورتو اسی  چین کا حصہ تھا جہاں وہ جاب کر رہی تھی ۔یعنی ہیون کے باپ کا۔ یعنی ہیون کا۔ اسکا ذہن کڑیاں ملا رہا تھا یعنی اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔

کیا ہوا؟ چلو جو لینا ہے لے لو ہمیں واپس جلدی جانا ہوگا برفباری ہونے والی ہے۔ 

اسے سوچ میں پڑا دیکھ کرہیون نے چٹکی بجائئ۔

آہاں۔ وہ چونکی۔ ہاں چلو۔ اسٹور غیر معمولی خنک ہو رہا تھا۔ وہ کوٹ میں بھی جھر جھری سی لے گئ۔ ہیون تیز قدم اٹھاتا اندر کہیں چلا گیا تو وہ سہولت سے گھومنے لگی۔ 

اسٹور اس دن تو بس آگے آگے سے دیکھا تھا اس وقت تو ٹھیک ٹھاک بڑا لگ رہا تھا  کئی رویہ اور وہ بھی سامان سے کھچا کھچ بھرا ہوا۔ ہر بڑے کنوینئنس اسٹور کی طرح ایک کونے میں میز کرسیاں بھی لگی تھیں۔  فروزن /انسٹنٹ فوڈ ہر طرح کی ورائٹئ تھئ۔  کرسمس کی وجہ سے ایک کونے میں کپڑوں کا بھی اسٹال لگا تھا۔ جس کے پاس بڑا سا سینٹا کلاز بھی کھڑا تھا۔ جیکٹس اور سوئٹرز ٹاپس مفلرز۔  ۔وہ کھانا بھول کر جیکٹس دیکھنے لگی۔

تمہیں جو پسند آئے لے سکتی ہو۔  

ہیون نے پاس آکر  کہا تو وہ بھی ترنگ میں آگئ۔ جو سوئٹر جیکٹ پسند آرہی تھی اسے پہن کر دیکھتی۔ بڑا سا پونچو پہن کر اس نے سینٹا کلاس کی ٹوپی چرا کر سر پر رکھی۔ دیوار گیرآئینہ دیکھ کروہ محظوظ ہو رہی تھی۔ بھالو بھالو سی موٹو سی لگ رہی تھی۔

ادھر دیکھو۔ 

ہیون نے متوجہ کیا جیسے ہی اس نے دیکھا ہیون نے فورا اسکی تصویر بنا لی۔ 

کلک۔ 

شٹر سائونڈ کی آواز خاصی تیز محسوس ہوئی تھی۔ 

دکھائو۔ وہ دلچسپی سے آگے بڑھ کر دیکھنے لگی۔ تصویر واقعی اچھی آئی تھی۔ 

اور بھی دکھائو۔ اسکی فرمائش پرہیون کو ہنسی آگئ

یہی کھینچی ہے بس۔ آواز آئی تھی اور کوئی تمہیں؟ 

اچھا۔ پھر یہ تو بھیجو۔ وہ مایوس ہوئی۔پھر خیال آیا۔۔

 ویسے تم سب کورینز شٹر سائونڈ بند کیوں نہیں کرتے ہم لوگ تو بند رکھتے ہیں خاص کر میں مجھے ذہر لگتی تصویر کھنچنے کی آواز بندہ ویسے ہی چوکنا ہوجاتا تصویر کھنچ رہی جانے کیسی آئے گی۔

کوریا میں ذاتی تصاویر لیک ہونے کے کئی اسکینڈلز کے بعد ہر موبائل سے شٹر سائونڈ بند کرنے کی سہولت ہی بند کر دی گئ ہے۔ اب کوئی بھی خاموشی سے کسی دوسرے کی تصویر نہیں کھینچ سکتا۔

ہیون نے کاکائو ٹاک پر اسے تصویر بھیجتے مفصل جواب دیا۔

اریزہ سر ہلاتی اپنے موبائل میں تصویر ذوم کرکے دیکھ رہی تھی۔ اتنا موٹا چوڑا سا پونچو اوپر سے سینٹا کلاز کی ٹوپی پہن کر بھی وہ موٹی نہیں لگ رہی تھی۔ بے ساختہ اچانک پوز بنانے کی وجہ سے ہنستی ہوئی وہ تصویر میں خود کو بھی اچھی لگی۔ 

ہر جیکٹ احتیاط سے واپس لٹکا کر وہ فوڈ آئیٹمز کی طرف آگئ۔ نوڈلز دیکھتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا جب اسے انڈونیشین حلال نوڈلز نظر آگئے۔بڑا بڑا حلال لکھا دیکھ کر اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ۔ بے ساختہ خوش ہو کر بولی

یہ تو حلال نوڈلز ہیں۔ 

کیا ہیں؟ ہیون سمجھا نہیں۔ 

یہ والے میں کھا سکتی ہوں ان پر یہ جو حلال لکھا ہے نا اس وجہ سے۔ 

اس نے عربی میں حلال لکھا سے دکھایا۔ ہیون کو عربی پڑھنی تو کیا آنی تھی ہاں ڈیزائن سمجھ لیا۔

میں یہ کھائوں گی۔ اف اتنے عرصے بعد نوڈلز کھائوں گی میں وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی۔ 

ایک منٹ بنائوں گی کیسے۔؟ اسے نئی فکر سوار ہوئئ۔

ہیون نے ہی یہ پریشانی بھی دور کی۔ انسٹنٹ ریمن کے پیک اٹھا لایا ان کو کھول کر انکے نوڈلز اور ٹیسٹ میکر ایک طرف رکھ کر خالی کرکے اسکی جانب بڑھا دیا۔ ڈسپنسر سے گرم پانی لیکر نوڈلز بنائے ۔ہیون نے خود اپنے لیئے بھی انڈونینشین ہی نوڈلز بنائے تھے۔ 

ریمن کے پیک اور ٹیسٹ میکر ایک شاپر میں کرکے رکھ دیئے۔دونوں اپنا اپنا پیالہ اٹھا کر میز کرسی پر آبیٹھے۔ 

ڈسپوز ایبل کانٹے میں نوڈلز پرو کر پھونک مار کرٹھنڈا کرکے اس نے کافی عجلت میں منہ میں رکھا تھا۔ 

میں نے زندگی میں کبھی حلال نوڈلز نہیں کھائے آج پہلی بار کھائوں گا۔ تم لوگ کیا کہہ کر کھاتے ہو؟ 

وہ چاپ اسٹکس سے نوالہ بناتے پوچھ رہا تھا۔ 

نوڈلز کہتے ہیں ہم بھی اسے۔ 

وہ اسکا سوال سمجھئ نہیں۔ 

نہیں میرا مطلب ہے مسلم لوگ کھانا شروع کرنے سے پہلے کچھ کہتے ہیں نا انڈونینشینز کلاس فیلو کو میں نے دیکھا ہے وہ کچھ پڑھتا ہے پھر کھاتا ہے وہ جملہ بتائو میں حلال نوڈلز کھانے لگا ہوں تو حلال طریقے سے ہی کھائوں گا۔ 

وہ سادہ سے انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بسم اللہ پڑھے بنا وہ خود کھانا شروع کر چکی تھی۔ ادھر ہیون تھا کہ بسم اللہ پڑھ کر ہی حلال نوڈلز کھانا چاہتا تھا۔ 

وہ خود کو کوس کر رہ گئ  ۔ ہیون منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

اس نے آہستہ آہستہ توڑ توڑ کر بتایا تاکہ وہ آرام سے پڑھ سکے۔ 

ہیون نے سنا۔ اور بنا رکے فر فر دھرا دیا۔وہ حیران ہی رہ گئ

اب مطمئن ہو کر کھانا شروع کر چکا تھا۔ 

مجھے لگا تھا تمہارے لیئے بسم اللہ پڑھنا مشکل ہوگا تم نے تو آرام سے پہلی دفعہ میں ہی پڑھ لیا۔

اسکا انداز توصیفانہ تھا

میرے بچپن میں مسلم دوست تھے۔ وہ یہ پڑھتے تھے۔ ان سے سیکھا تھا میں نے پھر کوریا آیا تو بھول بھال گیا۔ ابھی تم نے بولا تو مجھے خود بھی نہیں پتہ مجھے کیسے یاد تھا یہ۔

ہیون سرسری سے انداز میں بتا رہا تھا۔

تم کہاں رہتے تھے؟ جو کوریا آگئے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آئی بات۔

ماسکو۔ میری آہمونی رشین تھیں۔ آہبوجی نے ان سے شادی کی تھی جو کوریا کے قوانین کے مطابق ناجائز تھئ۔ وہ یہاں آ نہیں سکتی تھیں یا یوں کہہ لو آہبوجی لانا نہیں چاہتے تھے۔ اگر میں بیٹی ہوتا تو شائد مجھے بھی نہ لاتے۔ 

وہ جتنا سرسری انداز میں بتا رہا تھا اتنا وہ متجسس سی ہوگئ تھئ۔ جبھی اگلا سوال حاضر تھا۔

تمہاری آہمونی کہاں ہیں وہیں رشیا میں ؟تم جاتے ہو ماسکو اپنی آہموجی سے ملنے۔ 

ہیون کو پہلی بار اسکے کسی سوال سے جھٹکا سا لگا تھا۔ اسکے ہاتھ میں لرزش سی اتر آئئ۔  چاپ اسٹکس ترمرا سی گئیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ وہ میری ماں ہیں نا انکی بیٹی میری بہن۔

کم سن نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا۔ 

کیا مطلب ؟ تم نے خود کہا تھا کہ وہ تمہارے گھر والے ہیں۔ سنتھیا کو اسکے یوں مکرنے پر حیرت ہوئی

جاننا چاہتی ہو؟ متجسس ہو میرے بارے میں۔ 

کم سن ہنس کر بولا۔ اسکا انداز صاف مزاق اڑاتا محسوس ہوا۔ سنتھیا ہونٹ بھینچ گئ۔ 

سوری مجھے تمہاری ذاتیات میں دخل نہیں دینا چاہیئے تھا۔ یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے معزرت۔ 

اس نے سہولت سے معزرت کی۔ کم سن کی حیرت سے آنکھیں کھل سی گئیں۔

پاکستانی لڑکیاں اتنی آسانی سے اپنی غلطی مان لیتی ہیں مجھے نہیں پتہ تھا۔ وہ ابھی بھی سنجیدہ نہیں تھا۔ سنتھیا نے ترچھی نگاہ ڈالی تو وہ شرارت چھوڑ کر ہنس پڑا۔

اچھا اب غصہ نہ کرو ایسی کوئی انوکھی داستان حیات بھی نہیں ہے میری۔ گوگل کرو میرے باپ کا نام تو بھی آجائے گی سامنے میری کہانی۔ 

میں دراصل اپنے باپ کی سیکٹری کا بیٹا ہوں۔ میری ماں مجھے میرے باپ کے منہ پر مار کر چلی گئ تھئ۔ تب میرے باپ کی پہلی بیوی وفات پا چکی تھی اور تین عدد بیٹے تھے۔ میری دیکھ بھال کیلئے انہوں نے ان خاتون سے شادی کرلی جو پہلے سے ایک عدد بیٹی کی ماں تھیں۔ جب آج سے پانچ سال قبل آہبوجی کا انتقال ہوا تو میرے بھائیوں نے مجھے اور انہیں نکال باہر کیا تھا۔جو چند چیزیں میرے والد میرے نام کر چکے تھے اپنی زندگی میں ان سے اور ان خاتون کے نام جو جائداد تھی اسکے بل پر ہم اب تک گزارہ کرتے رہے ہیں۔ اب میں نے کچھ اقرباء سے دبائو ڈلوا کر اپنا کچھ حصہ لے کر اپنی کمپنی کی داغ بیل ڈالی ہے۔ قوی امید ہے اچھا خاصا اسٹیٹس بنالوں گا اب میں اپنا۔ پیسہ ہی پیسہ آنے والا ہے میری آئندہ زندگی میں۔ 

کرسمس پر اپنے اہل خانہ کے بجائے یہاں میرے ساتھ وقت ضائع کرنے کا جواب اس داستان امیر حمزہ میں کہیں نہیں تھا۔

وہ جتا کر بولی تھئ۔ کم سن محظوظ ہو کر زور سے ہنسا۔ 

چلو تمہارے اس سوال کا بھی جواب ہے میرے پاس۔ وہ اطمینان سے اسکے بیڈ پربیٹھ چکا تھا۔ انداز ایسا تھا جیسے جانے کیا اہم بات کرنے والا ہے۔ وہ غیر دلچسپی سے دیکھ رہی تھی جبکہ اصل میں جواب کی منتظر بھی تھی۔ 

 اگر کرسمس پر سگے رشتے داروں سے ملنا ضروری ہوتا ہے تو میرا ان سے ملنے جانا ضروری نہیں ۔ اور اگر خون کے رشتوں سے بڑھ کر قلبی تعلق اہم ہوتے ہیں تو وہ واقعی میری ماں اور بہن ہی ہیں میرے لیئے۔ اور میں ضرور اس وقت انکے ساتھ ہوتا اگر انکے ساتھ ساتھ تم سے بھی مجھے کوئی قلبی تعلق محسوس نہ ہوتا ۔ 

اسکی بات ۔ سنتھیا خاموش ہی رہ گئ۔ وہ بلا ارادہ اس وقت یہ بات لیکر بیٹھ گیا تھا۔ سنتھیا کے ایکدم چپ کر جانے پر اسے افسوس بھی ہوا یہ وقت مناسب نہیں تھا ان باتوں کیلئے۔

سنتھیا چند لمحے سوچتی رہی پھر جملے ترتیب دے کر بولی۔ 

میں ایڈون کو پسند کرتی ہوں۔ تم جانتے ہو یہ بات۔ تمہارے اس خلوص کی میرے نزدیک بہت اہمیت ہے مگر میں خود غرض بن کے کسی کے جزبات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اس طرح میرا دل جیت لوگے تو تم سالوں بھی میرا اس طرح احساس کرو میرا خیال رکھوگے تو بھئ میرا دل ایڈون کی طرف ہی مائل رہے گا۔میرا اس کا تعلق آج کا نہیں ہے ۔ میں بچپن سے اسے چاہتی ہوں۔ تب سے جب محبت کیا ہوتی اسکا ادراک بھی نہیں تھا۔وہ تب سے میرے دل میں براجمان ہے۔ مجھے امید ہے تم سمجھ گئے ہوگے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔

وہ اسکو مایوس کر دینا چاہتی تھی۔ کم سن نے معمولی سا بھی اثر نہ لیا اسکی تقریر کا۔ یونہی مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا۔ اسے اسکے دیکھتے جانے سے الجھن سی ہوئی۔ سچ مچ وہ چکنا گھڑا تھا کیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاموشی سے نوڈلز ختم کرتے اسکی نگاہ گلاس وال سے باہر روئی کے گالوں کی طرح گرتی برف پر پڑی۔ جانے کتنی دیر سے برفباری ہو رہی تھی کہ سامنے اچھی خاصی برف کی تہہ بن گئ تھی۔

اتنی تیزی سی برف گر رہی تھی کہ وہ مبہوت سی دیکھے گئ۔ بے ساختہ اٹھ کر گلاس وال کی طرف چلی آئی۔ تھی۔ اتنی تیز برفباری اس نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ یہاں آکر سول میں برفباری دیکھنے کا اتفاق ہوا تو مگر یوں بطور خاص برفباری کا منظر دیکھنے کا پہلا موقع تھا۔ وہ کتنی دیر دیکھے گئی تو احساس ہوا دیکھتے ہی دیکھتے سامنے والی پوری سڑک نے برف کی چادر اوڑھ لی تھی۔اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی

ہیون۔ اس نے بے ساختہ گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ہیون نوڈلز ختم کرنے میں مگن تھا ابرو اچکا کر دیکھنے لگا

ہیون برفباری ہورہی ہے اور سامنے تو ساری سڑک برف سے ڈھک گئ ہے ہم واپس کیسے جائیں گے؟ باہر تو طوفان آیا ہوا ہے

وہ متوحش سی پوچھ رہی تھی۔ 

ہیون نے سوپ کا پیالہ اٹھا کر لمبا سا گھونٹ بھرا۔ 

ہاں تو۔۔ اتنے طوفان میں تو ہم واپس  نہیں جائیں گے آج  یہیں رہیں گے۔ 

کیا؟ 

وہ چیخ ہی تو پڑی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

جاری ہے۔۔۔

https://urduz.com/desi-kimchi-episode-1/

Ludo Star Urdu alamati afsana

لوڈو سٹار

عجیب بات لگتی نا سمارٹ فون پر لوڈو سٹار کھیلنا

ہم چار پلے کھیل رہے تھے

وہ بھی ماسٹر والی

تین ہم مسلمان تھے ایک کافر

ہم تینوں کافر کو ہرانے کے لئے ایک ہو گیے

میری ہری گوٹیں تھیں

کافر کی سرخ ہم تینوں سرخ کے پیچھے پڑ گیے

دے دھنا دھن پیٹے جا رہے تھے

ایک دوسرے کو گوٹیں چھوڑ دیتے تھے اسکی سب سے پہلے پیٹ ڈالتے

پیٹ پیٹ کر اسکی سب گوٹیاں گھر پہنچا دیں

ہرا

ہم سب ہنسنے والے سمائلی بنا بنا کر چڑا بھی رہے تھے

میں نے کہا

شکر ہے الله کا

پیلی گوٹ والے نے کہا شکر ہے الله نے کافر پر برتری دی

میں ہر بار ،،،،،، کہہ کر پانسا گھماتا تھا چھے آجاتا تھا

میری پیشانی شکن آلود ہوئی

یہ تو غلط عقیدہ ہے

سرخ گوٹ والے کے دو چھے پانچ آیے

نیلی گوٹ والا ہنسا

الله ہمیشہ کافروں پر ہمیں سبقت دیتا ہے

ہمارے ………ہمیشہ کہتے آخر میں جیت حق کی ہوتی

کیا؟

میں اور پیلی گوٹ والا دونوں چیخے

تو کیا نیلی گوٹ والا بھی کافر تھا ؟

ہم دونوں چونک گیے تھے

سرخ گوٹ والا سیدھا نکلا میری پگنے کو تیار بیٹھی گوٹی پیٹ دی

ہم تینوں الگ بحث میں پڑ گیے

چیٹ پر مغلظات کا طوفان امڈ آیا

سرخ گوٹ اب پیلی گوٹ کو نشانہ بنیے تھی

میرا چھے ایک آیا

میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ نیلی گوٹ پیٹ دی

عجیب بات تھی پیلی گوٹ والا بھی دھڑا دھڑ نیلی گوٹ پیٹ رہا تھا

اسکی سب گوٹیں گھر پھنچا دیں

سرخ گوٹ پگ گئی

تبھی میرے دو چھے اکٹھے آیے

میرا نشانہ اب کی دفعہ پیلی گوٹ بنی

میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا سرخ گوٹ سب پگنے کے لئے گھر میں گھس چکی تھیں بس ایک پیلی گوٹ باقی تھی مجھے ہر صورت جیتنا تھا مجھے باری چاہے تھی

ایک اور سرخ گوٹ پگ گئی

پییلی گوٹ والا تلملا کر کچھ کہہ رہا تھا

نیلی گوٹ والا ہنسے جا رہا تھا سرخ گوٹ والا

اپنی آخری باری چل رہا تھا

اسکی ایک باری میں دیکھتے دیکھتے دونوں گوٹیں پگ گئیں

ہم تینوں بھونچکا دیکھتے رہ گیے وہ پہلے نمبر پر آگیا تھا تین گنا زیادہ سکے ملے تھے اسکو

Kesi lagi apko yeh kahani ? rate us below

Rating
Home » 2024 » Page 2

urdukahanicenter #urdukahanihaweli #urdukahaniradio #urdukahaniyaan #urdukahanistudio #urdukahanisangam #urdukahani01 #urdukahaniyancartoon #urdukahanizone #urdukahanidigest

https://desikimchi.com/from-start-to-finish-the-ultimate-derailment-cdrama-review/
chinese drama derailment full review
https://desikimchi.com/exploring-the-tale-of-abdullah-pur-ka-devdas-a-pakistani-drama-review/

Hye Rohingya Urdu short afsana about Rohingya muslims genocide

ہائے روہنگیا

Unraveling the Magic of Urdu Afsancha: Delve into the World of Urdu Short Fiction”

اسکی فیس بک بھری تھی۔۔ اسکی ٹائم لائن پر جائو تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے مراسلے تھے۔۔ خون لاشیں ظلم بربریت۔۔ کہیں ٹکڑے ٹکڑے جسم تھے کہیں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرتے جابر شقی۔۔
وہ آن لائن تھا۔۔
اس نے فورا اسے پیغام بھیجا۔۔
یہ کیا بھیج رہے ہو دل خراب ہوگیا۔۔
جہادی نامی آئی ڈی نے فورا جواب دیا تھا۔۔
یار یہ برما کی تصاویر ہیں۔ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا بربریت کی انتہا ہے مسلمانوں کو چیونٹی کی طرح مسل رہے ہیں۔۔ عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے شقی۔۔
اوہ۔۔ اس کو یاد آیا۔۔ عالمی برادری بھی اس مسلے پر آواز اٹھا رہی تھی۔۔
صحیح۔۔
اس نے بس اتنا ہی ٹائپ کرکے بھیجا آگے سے فوری جواب آیا۔۔
تم بھی شیئر کر و نا ۔۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس ظلم کی اطلاع پہنچے۔ یار ہم مسلمان ایک ہو جائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔

۔

ہمم۔۔ اس نے سوچا اور شئیر کر دیا۔۔
اسے فوری اطلاع آئی۔۔ جہادی نے آپکے اشتراک کیئے گئے مراسلے کو پسند کیا۔۔ پھر شائد اس نے اسکی پوری ٹائیم لائن کے ہر مراسلے کو پسند کرنا شروع کیا۔۔
جہادی نے آپکے جون میں اشتراک کیے گیے مراسلے پر تبصرہ کیا ہے۔۔
اسکو نئی اطلاع آئی۔ اس نے فورا کھولی۔۔
یہ کیا؟ تو شیعہ ہے؟
اس نے فوری جواب دیا۔۔
نہیں بھئی۔۔ میں سنی ہوں۔

فورا اگلا تبصرہ آیا۔۔
پھر یہ ہٹا مراسلہ۔۔
کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
یار دیکھ اس قول میں حضرت علی کے نام کے آگے رضی اللہ کی جگہ علیہ السلام لکھا ہے۔۔
اس نے غور سے دیکھا۔۔
اس نے تو بس خلیفہ کا قول دیکھ کر اشتراک کیا تھا۔۔
قول تھا۔۔
فتنہ اور فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نےابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کیئے ہوں کہ نہ تو اسکی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسکے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہو۔۔۔

تو ؟
اسے الجھن آئی۔۔
یار رضی اللہ لکھنا چاہیے حضرت علی کے نام کے ساتھ
خود تو نے تو رضی اللہ بھی نہیں لکھا۔۔ اس نے ٹوک دیا۔۔
اوہو۔۔ بحث مت کر ہٹا یہ مراسلہ گناہ گار ہو رہا ہے۔۔
جہادی کا فورا پیغام آیا۔

اسکے پاس دلیل تھی۔۔بہت سے علما متفق ہیں اس بات پر کہ حضرت علی کو علیہ السلام کہا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ و علیہ واآل وسلم کا نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد پر درود و سلام بھیجا جاتا ہی ہے ۔۔وہ اہل بیت کو ماننے والا تھا سب سے بڑھ کر اس نے قول شئیر کیا تھا رضی اللہ یا علیہ السلام تو دیکھا بھی نہیں تھا پھر تھے تو وہ صحابی رسول پھر رسول کے داماد چچا زاد اہل بیت میں سے تھے انکا احترام اپنی جگہ تھا۔۔
اس نے سب کچھ لکھتے لکھتے مٹایا۔۔ اور بس اتنا سا تبصرہ لکھا۔۔
تو کہتا ہے نا ہم مسلمان ایک ہوجائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔۔
میں کہتا ہوں مجال ہے جو تمام مسلمان ایک ہو جائیں۔

The End

Rating

urdukahanicenter #urdukahanihaweli #urdukahaniradio #urdukahaniyaan #urdukahanistudio #urdukahanisangam #urdukahani01 #urdukahaniyancartoon #urdukahanizone #urdukahanidigest

Home » 2024 » Page 2

Aks E Zaat| Meta title: “The Deception of Inferiority: One Man’s Journey to a False Sense of superiority

کہانی :عکس ذات 

مصنف : واعظہ زیدی

میتھس ایسی چیز ہے جس میں صرف آپکا دھیان اور توجہ درکار ہے بس۔ تھوڑا سا دھیان بھٹکا اور

 آپ صفر سے شروع کریں گے سوال حل کرنا۔۔

وہ حسب عادت پڑھاتے ہوئےبلیک بورڈ پر سوال حل کر رہا تھا ساتھ ہی  ادھر ادھر کی باتیں کرکے بچوں کی توجہ بلیک بورڈ کی جانب کرنے کی بھرپور کوشش میں مصروف تھا۔اور اس کوشش میں کتنا ناکام تھا اسے اندازہ تھا۔ اسکی شخصیت کی مقناطیسیست پھر طالبات کو مضمون پر توجہ دینے پر اکسا دیتی تھی۔۔۔ اسکا اونچا لمبا قد خوبصورت ناک نقشہ ملیح انداز گفتگو وہ  ایک نہایت خوبصورت مرد کہلاتا تھا اسکول بھر میں اسکا ثانی کوئی نہ تھا۔اسکے کپڑے بچیوں کا پسندیدہ موضوع تھے۔ وہ ہمیشہ نک سک سے درست تیار ہو کر ہی آتا تھا۔ ابھی بھی بہترین گرے قمیض پتلون میں ملبوس تھا۔ ٹائی نہیں لگاتا تھا پرٹائی پن اہتمام سے اسکی قمیض کی اوپری جیب پر ٹکی رہتی۔ اور لڑکیاں متجسس رہتیں آخر اس اسٹائل کا خیال اسے آیا کہاں سے۔ اسکی عمر لگ بھگ تیس پینتیس برس ہوگی مگر وہ آرام سے پچیس تک کا نظر آتا تھا۔   بارہویں کی طالبات اگر اس پر کرش پال رہی تھیں تو وہ دل ہی دل میں انکو حق بجانب ہی سمجھتا تھا۔ ہاں البتہ خود اپنی مکمل توجہ  کو میتھس پڑھا نے پر مرکوز کیئے رکھتا تھا۔ ابھی بھی اپنی پشت پر  گڑی نظریں محسوس کر رہا تھا۔ اور دبی دبی سرگوشیوں کو بھی سن کر نظر انداز کیئے تھا۔بچیوں کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی ان میں سے ۔ایک طالبہ نے تصویر بنائی تھی  دوسری طالبہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسی روکنے کی کوشش میں بے حال تھی۔  پڑھاتے پڑھاتے اس نے مڑ کر دیکھا۔دونوں تصویر پر جھکی تھی۔ دور سے دیکھنے کے باوجود وہ اندازہ کرچکا تھا کہ تصویر میں استاد کی ٹائی پن جو اس نے قمیض کی جیب میں اٹکا رکھی ہے بطور خاص نمایاں کرکے بنائی گئ ہے۔

وہ دبے قدموں انکے سر پر جا کھڑا ہوا  

یہ کیا ہو رہا ہے۔؟

بھاری آواز پر دونوں لڑکیاں گھبرا گئیں ۔جہانزیب نے پھرتی سےوہ کاغذ اٹھا لیا دونوں لڑکیوں کا رنگ فق ہو گیا۔

کاغذ پر اسکی تصویر بنی ہوئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانئ جس پر گھنے بالوں کا گچھا تھا۔گندمی رنگت ہلکی سی داڑھئ جسکے خوبصورت خط بنے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی اس پر عنوان تھا۔ تانیہ کے خوابوں کا شہزادہ

تانیہ اورتبسم کا رنگ فق ہو چکا تھا سر جھکا کےرہ گئیں

 جہانزیب نے غور سے اپنی تصویر کو دیکھا مسکراہٹ دباتے ہوئےبولا یہ آرٹ کلاس نہیں ہے ۔ تبسم ۔میتھس پر دھیان دو ۔۔ پچھلےٹیسٹ میں غالبا تمہارے سو میں سےاسی نمبر تھے نا؟

تبسم او رتانیہ کورس میں  سر جھکا کر بولیں سوری سر

جہانزیب کو اب اپنا رعب دکھانا پڑا۔  آئندہ میں اپنی کلاس کے دوران ایسے فن پارےبناتے نہ دیکھوں سمجھیں دونوں؟ 

تبسم تانیہ ہنوز  سر جھکائے تھیں ۔جی سر

تصویر اسے بے حد اچھی لگی تھی سو جاتے جاتے پلٹ کر بولا ویسے اسکیچنگ اچھی کر لیتی ہو اسکو میں رکھ رہا ہوں۔۔شکریہ

اسکی بات پر تانیہ اور تبسم نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ بے نیازئ سے دوبارہ بلیک بورڈ کی جانب بڑھ گیا

تانیہ تبسم کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی

بال بال بچے مجھے تو لگا تھا سر غصے میں آجائیں گے

تبسم شرمندہ سی تھی۔ میری تو جان نکل گئ تھئ۔ سر کو اپنی تصویر دیکھ کر غصہ آنا چاہیئے تھا 

تانیہ نے دزدیدہ نظروں سے دیکھا تو وہ بلیک بورڈ پر دوبارہ سوال حل کرنے میں منہمک ہو چکا تھا۔ سر بہت سویٹ ہیں یار ہمیں ایسی شرارت انکے ساتھ کرنی نہیں چاہیئے تھی۔ 

تبسم  بھی متفق تھی۔ ہاں یار اب تو مجھے بھی شرمندگی ہورہی ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی کلاس فری تھی۔وہ یونہی باہر نکل آیا تو کینٹین کی جانب جاتی مس ربیعہ پر نظر پڑی تو تیز قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا

مس ربیعہ مس ربیعہ۔ 

وہ پکارتا اس کے سرپر چلا آیا۔

ربیعہ چونک کے مڑی یوں سر راہ پکارتے چلے جانے پر اسکے چہرے پر واضح ناگواری دوڑی تھی۔مگر جہانزیب بے نیازتھا۔ خوشدلی سے پوچھنے لگا ” کیسی ہیں آپ مس ربیعہ آج صبح سے دکھائی نہ دیں کہاں تھیں۔

ربیعہ نے مختصر جواب دیا۔ میں کلاسز لے رہی تھی۔ 

چلیں اب تو ملاقات ہوگئ ہے۔ ویسے مجھے آپ جیسی میچیورخاتون سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میری کل والی بات پر مجھ سے شرمانے لگیں گی۔ اور مجھ سے چھپتی پھریں گی ۔ جہانزیب کا انداز شرارت بھرا تھا

ربیعہ ناگواری سے بولی۔ 

 ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے کل ہی آپکو جواب دے دیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف پروفیشنل تعلق ہے ان سب باتوں کی گنجائیش نہیں نکلتی۔ میں چلتی ہوں۔ 

جہانزیب ہنس پڑا۔

ارےآپ تو برا مان گئیں۔ یہی تو آپکو بتانا چاہ رہا تھا بہت جلدی میں کل آپ نے انکار کر دیا آپکو تھوڑا سوچنے کیلئے وقت لینا چاہیئے تھا۔

 مجھے ضرورت نہیں میں اپنا فیصلہ آپکو بتا چکی ہوں۔ 

سختئ سے کہہ کر ربیعہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اسکی نگاہوں کے سامنےپرچہ لہرایاجہانزیب نے۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔

اس نے ہاتھ پیچھے کرکے پرچے کو بغور دیکھا۔ 

پھر اپنے چہرے کے ساتھ پرچہ لگا کر معصوم سا بن کے پوچھنے لگا۔

یہ میری کلاس کی بچی نے میری تصویربنائی ہے۔ اسکے نزدیک میں اسکے خوابوں کا شہزادہ ہوں۔۔  ہنسی آئی مجھے دیکھ کر۔  پھر ذہن میں سوال لہرایا کہ۔۔۔۔

میں شکل و صورت کا لاجواب ہوں اچھی نوکری کرتا ہوں عادات کا بھی اچھا ہوں تو آخر ربیعہ نے میرے پرپوزل پر فوری انکار کیوں کردیا ۔۔ہوں؟

ربیعہ تصویر دیکھ کر خاصی حیران ہوئی  پھر جہانزیب کی شکل غور سے دیکھی۔ 

 آپکو ان بچیوں کو ڈانٹنا چاہیئے تھا انہیں ایسا فضول مزاق نہیں کرنا چاہیئے تھا

جہانزیب مسکرا دیا۔ 

 ہاں ڈانٹنا تو چاہیئے تھا مگر میں ڈانٹ سکا نہیں۔ بس مجھے یہی خیال آیا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو ربیعہ نے لمحہ بھر بھی سوچے بنا انکار کردیا

ربیعہ جھنجھلا سی اٹھی۔ 

میں آپکو بتا چکی ہوں ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں پھر میری منگنی بھی ہو چکی ہے۔ مجھے بار بار آپکے سامنے یہ دہراتے اچھا نہیں لگ رہا پلیز آئیندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔ 

جہانزیب مایوسی سے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ 

 کیا کمی ہے مجھ میں ؟ آپ گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ آپکو میری صورت  اپنے ہم پلہ بہتر انسان مل چکا ہے آپ۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں وہ  یقینا مان جائیں گے۔

ربیعہ چڑ گئ۔ 

دیکھیں آپ اچھے انسان ہیں یوں اپنی اور میری انسلٹ مت کیجئے۔ 

جہانزیب پر جیسے بالک ہٹ سوار تھی۔ کیا وجہ ہے جو آپ انکار کر دیتی ہیں یوں سختی سے۔۔ میں خوش شکل پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ۔ آپکو پسند کرتا ہوں کیا آپکو۔۔۔ 

اسکے ضدی انداز ہر ربیعہ بری طرح غصے میں آگے سر جھٹک کر آگےبڑھنے کو تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔ 

ربیعہ نے آگ بگولا ہو کر ہاتھ چھڑایا اور سختی سے بولی

بس کیجئے ۔ختم کریں اس تماشے کو ۔ میں آپکو صاف صاف کہہ چکی ہوں مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔بار بار میرا راستہ روک کر مجھے پریشان مت کیا کریں۔

جہانزیب ملتجی انداز میں بولا۔  ربیعہ میں واقعی تم کو پسند کرتا ہوں۔

میں نہیں کرتی ہوں آپکو پسند سمجھے آپ

ربیعہ سختی سے کہہ کر رکی نہیں وہ پکارتا رہ گیا۔

 ربیعہ 

بات تو سنو ربیعہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بیڈ پر بیٹھی پائوں کے ناخنوں پر  نیل پالش لگا رہی تھی جب سونیا کی۔نگاہ اس پر پڑی۔ کوئی چوتھی دفعہ اس نے نیل پالش ریمور سے بوتھا روئی ناخن پر پھیری تو لیپ ٹاپ ایک طرف کرتے وہ اسکی جانب مڑی۔ 

انکار کر تو دیا ہے اب کیوں الجھن کا شکار ہو۔ 

ربیعہ ایکدم چونکی۔ 

نہیں۔ تو۔کوئی الجھن نہیں۔بس وہ۔

وہ صاف انکار نہ کر سکی اسکے اندازے کی درستگی نے اسے سچ مچ حیران کیا تھا۔  

اس نے آج حد پار کی ہے۔ یوں کالج میں سب کے سامنے   ہاتھ پکڑ لینا کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ جانے کس کس نے دیکھا ہوگا کیا کیا باتیں بنائی ہوں گی۔ 

وہی تو۔ ربیعہ نیل پالش بند کرکے اسکی جانب رخ کرتی الرٹ سی ہو بیٹھی۔ 

یہی تو پریشانی ہے مجھے۔ میرے تو امیج کا ستیا ناس ہوگیا ہوگا۔

تمہیں اب اسکی شکایت پرنسپل سے کر دینی چاہیئے۔مستقل تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے الٹی سیدھی

 باتیں کرتا ہے ایویں تمہیں بدنام کر دے گا ۔۔۔ سونیا کی بات میں وزن تھا۔ ربیعہ مگر ابھی بھئ ہچکچاہٹ کا شکار تھئ۔

 یار بس یہی سوچ کر رک جاتی ہوں اچھا انسان ہے۔ سادہ سا ہے بس۔ مجھے پرپوز کرنے سے پہلے اچھا کولیگ تھا اچھی طرح بات کرتا تھا اب اچانک۔۔۔۔ 

ربیعہ کا فون بجنے لگا تو اس نے فون اٹھا کر دیکھا پھر نو کرکے ایک طرف رکھ دیا 

اسکا فون پھر بج اٹھا۔ سونیا کو بھی تجسس ہوا اسکے قریب ہو کر اشتیاق سے پوچھنے لگی

وہی تھا۔۔ 

ربیعہ نے گہری سانس بھری 

ہاں۔۔

 وہ تمہاری گڈ بکس میں آنا چاہ رہا تھا جبھی اتنا اچھا بنا ہوا تھا اب اپنی اصلیت دکھا رہا ہے۔ بتائو گرائونڈ میں تمہارا ہاتھ پکڑ رہا ہے تمہیں تنگ کر رہا ہے آوازیں دے رہا ہے۔حد کردی ہے اس نے۔ لوگوں نے کتنی باتیں بنائی ہوں گی۔ضروربچوں نے بھی دیکھا ہوگا۔

سونیا نے تو پوری کہانی بنا لی تھی۔ 

 یار میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ صبح سے بار بار فون کر رہا ہے تنگ کر رہا ہے جانے مجھ سے چاہتا کیا ہے۔ عاجز کر دیا ہے اس نے مجھے۔۔ ربیعہ ناک تک عاجز آئی ہوئی تھی۔ 

سونیا کو نیا خیال سوجھا۔ ویسے شکل و صورت کا کیسا ہے۔؟

ربیعہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ 

شکل و صورت میں کیا اعتراض کروں تم جانتی ہو میں سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں

 ہوں۔مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اسکے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں اور سچ تو ہے کچھ حد تک درست بھی ہیں۔کوئی کہتا یے احساس کمتری کا شکار ہے کوئی کہتا ہے غصے میں پاگل ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں جو اس نے مالی بابا کو مارا تھا مجھے تو سچی بات ہے یہ بندہ نارمل نہیں لگتا۔ پرنسپل صاحب کا رشتے دار نہ ہوتا تو سیدھا کیس ہوتا اس پر۔

سونیا اسکے تواتر سے جلتے بجھتے موبائل کو دیکھ کر پر سوچ انداز میں بولی۔۔۔   دیکھو ہوتا ہے کچھ لڑکے ہوتے ہیں غصہ ور۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے اسے غصے پر اپنے قابو نہ ہو لوگ وقت کے ساتھ بدل بھی تو جاتے ہیں اور 

احساس کمتری والی بات عجیب کہی۔  اتنی کم عمری میں پی ایچ ڈی کی تیاری کرنے والا خوش شکل ایک سیکیور نوکری کرنے والا احساس کمتری کا شکار کیوں ہوگا۔۔ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔

ربیعہ چڑگئ۔  تم کس خوشی میں مجھے کنوینس کرنے میں لگ گئ ہو۔میں اس سے ہرگز شادی کرنا نہیں چاہتی نہ کروں گی سمجھیں۔۔میں اپنے شہر سے دور یہاں صرف نوکری کی غرض سے آئی ہوں اور مجھے کوئی مزید ناطے نہیں بڑھانے یہاں کے لوگوں سے  

 وہی تو جاننا چاہ رہی ہوں۔ کیوں؟ ۔بڑھانے میں حرج کیا ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری کوئی منگنی ونگنئ نہیں ہوئی وی اور دیہاتی کزن  ہیں سارے تمہارے ان میں سے کسی کے پلے بندھنے کی بجائے اگر یہاں کوئی ویل ایجوکیٹڈ بندہ پرپوز کر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے تمہیں فالتو میں انکار کرنے کی ۔

سونیا بھی تیز ہو کر بولی ۔ 

اسکا مستقل واٹس ایپ بج رہا تھا۔ اس نے وہی سونیا کی نگاہوں کے سامنے کر دیا

واٹس ایپ پر اسکی تصویر لگی ہی تھی اس نے غور سے تصور دیکھی پھر ربیعہ کی شکل 

ٹھہرو اسکو اب میں جواب دیتی ہوں 

اس نے موبائل ہاتھ سے لے لیا.سب پیغامات اب اسکی نگاہوں کے سامنے تھے 

میسج : ربیعہ بس ایک بار فون اٹھا لو

آخری بار میری بات سنو

کیوں تم ایسے کر رہی ہو۔۔ 

ربیعہ ؟

تم ہو وہاں 

کیا کمی ہے مجھ میں کیوں ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ

سونیا ربیعہ کی شکل دیکھنے لگی۔ 

یہ تو دیوانہ ہوا پڑا ہے۔

ربیعہ منہ بنا کر بولی۔ 

سائیکو ہے۔ 

میسج: کیوں میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔

کیوں ہر لڑکی مجھے انکار کر دیتی ہے۔۔ 

کیوں ؟ 

بتائو بولو جواب دو۔

تم لڑکیاں کیوں ایسے کر تی ہومیرےساتھ

سونیا میسج ٹائپ کرتے ہوئے:

باقی لڑکیوں کا تو آپ ان سے ہی پوچھیں میں آپکو جواب دے چکی ہوں میری منگنئ ہو چکی ہے ۔۔ 

میسج: تو توڑ لو نا میری خاطر

سونیا بھی پیغامات پڑھ کر چکرا سی گئ۔ 

یا اللہ کیا چیز ہے یہ لڑکا۔ 

ربیعہ نے جتایا۔  اب سمجھ آئی کیوں میں نے چھوٹتے ہی انکار کیا اور منگنی والا جھوٹ بولا

سونیانے موبائل رکھ دیا۔اسکے پیغامات پڑھنا آسان بات نہ تھی۔

تم اب اسکو کوئی جواب نہ دینا ذیادہ تنگ کرے تو کل یہ سب میسجز دکھا کر ایڈمن میں کمپلین کردینا۔۔ 

ربیعہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔  لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج جہانزیب نے شائد چھٹی کی تھی۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔شکایت کرنے کا ارادہ پکا تھا مگر آج جب وہ آیا ہی نہیں تو اسکا غصہ دھیما پڑ گیا۔ ویسے بھی وہ یوں لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہتی تھی۔خیر جہانزیب کی غیر موجودگی نے اسکا موڈ بہتر کر دیا تھا۔سارا دن بس تھکن ہوئی ذہنی کوفت نہ ہوئی۔وہ  تھکی تھکی سی گھرکا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی کہ اندر داخل ہوتے ہی چونک گئ۔ پورا لائونج بڑے بڑے  تحفوں کے ڈبوں  سے بھرا ہوا تھا۔۔ غبارے اور پارٹی پاپرز ٹیڈی بیئرز وہ خوشگوار حیرت سے آگے بڑھی۔  بالکل سامنے ایک بڑا سا بھالو بیٹھا تھا۔  وہ جیسے ہی اسے چھونے لگی  اسے ہٹا کر ایکدم جہانزیب بھالو کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہوئی

جہانزیب  ایک ہاتھ میں کیک اور دوسرے ہاتھ میں بکے لہراتا ہوا خوشگوار موڈ میں ہے لہرا کر گنگنانے لگا

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر ربیعہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔

سالگرہ مبارک ہو ربیعہ۔ تم جیو ہزارو سال خوش رہو ربیعہ۔۔ میرے ساتھ۔۔

وہ آخر میں شرارت سے مسکرایا۔

ربیعہ نے ناگواری سے گلدستہ  پیچھے کیا۔

یہ کیا حرکت ہے اور تم اندر کیسے آئے؟ 

ربیعہ غصے سےکانپ اٹھی تھی۔

تمہاری سہیلی کی مہربانی سے اندر آسکا۔ 

جہانزیب دلفریب مسکراہٹ سے لائونج کے ایک کونے کی جانب اشارہ کیا اس نے مڑ کر دیکھا  تو جیسے روح فنا ہونےلگی۔ ۔ 

سونیا اس کونے میں لاچار سی پڑی تھی۔  منہ ہاتھ پائوں سب بندھے ہوئے ہیں۔

سونیا۔ اسکے منہ سے چیخ سی نکلی

ربیعہ بے تابی سے  اسکی جانب بڑھی تو جہانزیب نے  اسکا بازو تھام کے روک دیا۔۔ 

جہانزیب۔ اطمینان دلانے لگا۔  ٹھیک ہے وہ۔ بس مجھے اندر آنے نہیں دے رہی تھی اس لیئے اسکے ہاتھ پائوں باندھ کے بٹھانا پڑا۔ اچھا ہے۔ ہم آرام سے اب بات کر لیں گے۔۔ 

ربیعہ نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑانا چاہا۔ 

مجھے تم سےکوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جائو تم یہاں سے۔۔ 

جہانزیب۔سنجیدہ ہوگیا۔۔  مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔

ربیعہ نے جان لگا کر اپنا بازو چھڑایا۔  ہاتھ چھوڑو میرا۔۔

ربیعہ تنفر سےہاتھ چھڑا کر سہیلی کی جانب بھاگی ۔۔ خلاف توقع جہانزیب اسکو آرام سے دیکھتا رہا۔اس نے  آگے بڑھ کر سہیلی کے ہاتھ پائوں کھولنے کی کوشش کی مگر گرہیں بے حد سختی سے بندھی تھی اس نے سونیا کے  منہ سے کپڑا ہٹایا تو وہ بے اختیار رو دی۔  ۔جہانزیب نے آگے بڑھ کر اکڑوں  بیٹھتے ہوئے چھری آسکی جانب بڑھا دی۔۔دونوں ڈر کے پیچھے ہوئیں ۔

یہ لو اس سے کاٹ لو۔۔ اسکا انداز نرم تھا۔

 چھری بڑھتے دیکھ کر سونیا ایکدم سے چلا چلا کر پکارنے لگی

بچائو بچائو کوئی ہے؟ 

جہانزیب نے تنگ آکر اسکا منہ بندکرتے گلے پر چھری رکھ دی۔ چپ کرکے بیٹھو اگر آواز نکالی تو گلا کاٹ دوں گا۔ 

سونیا کی آواز گھٹ سی گئ۔ربیعہ روپڑی۔

پلیز اسے کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو اسے۔اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے۔۔ 

جہانزیب جھلایا۔ وہی تو کہہ رہا ہوں اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے پھر بھی بات نہیں کرنے دے رہی گلا کاٹ دیتا ہوں اسکا۔۔ چپ کرتی ہو کہ نہیں ؟ 

سونیا ۔کی سانس تک رک گئ۔

ربیعہ تڑپ گئ۔۔ تت تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟ 

وہی تو ۔۔ وہی تو بتانا چاہ رہا ہوں میں ۔مگر نا تم سننے کو تیار ہوتی ہو نا یہ مجھے سکون سے بات کرنے دیتی ہے۔۔ 

جہانزیب نے ناراضگئ سے سونیا کو  گھورتے ہوئے کہا۔

ربیعہ سرنڈر کر گئ۔ مم میں سنتی ہوں بولو۔ اسکو چھوڑ دو۔ پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔ 

اس نے حقیقتا اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے

جہانزیب نے پہلے تائید چاہی۔  میری بات سنو گی نا؟

ربیعہ نے سر ہلایا۔ 

آنسو تواتر سے اسکے گالوں پر بہہ نکلے تھے۔ ہاں ہاں پلیز اسے چھوڑ دو۔

 بالکل خاموش بیٹھنا سمجھیں تم ورنہ گردن اڑا دوں گا۔  

جہانزیب کے لہجے کی سختی۔  سونیا  نےبمشکل  سر ہلایا۔ 

جہانزیب نے گرفت ڈھیلی کر دی۔

 اب میں بولوں سنو گی نا؟ 

ربیعہ زو رو شور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئےبولی۔ 

: ہا ۔۔۔ ہاں ۔۔ 

جہانزیب دھیرے سے مسکرایا میں کل ساری رات سوچتا رہا کہ تم نے مجھے سیدھا سیدھا انکار کر دیا کیونکہ میں نے کبھی تمہیں بتایا ہی نہیں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ 

تھوڑا عجیب ہے تمہاری سہیلی کے سامنے اپنا اقرارمحبت کرنا مگر خیر۔ 

سونیا نے اٹھنا چاہا۔  مم میں چلی جاتئ ہوں۔  

تمہیں سمجھ نہیں آتی چپ کرکے بیٹھو۔ایک لفظ اور بولیں تو تمہارے چھرا گھونپ دوں گا۔اس نے دوبارہ اسکی گردن دبوچ لی تھی جہانزیب کے تیور اتنے خطرناک تھے کہ ربیعہ کی روح فنا ہونے لگی

جہانزیب فیصلہ کن نظروں سے اسے اور سونیا کو دیکھنےلگا پھر کانپتی ہوئی سونیا کی گردن چھوڑ دی۔ وہ گھبرا کر ربیعہ سے جا لپٹی۔۔ 

اس نے سونیا کو کھینچ کر بھینچ لیا اپنے سینے میں۔

اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔ 

جہانزیب چڑامگر پھر آرام سے ان دونوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ 

سارا موڈ خراب کردیا۔کہاں تھا میں ؟۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔ 

اق اقرار۔  ربیعہ کی آواز کانپ کانپ گئ۔ محبت لفظ منہ میں کہیں گم سا ہوگیا ۔ جہانزیب مگر اشارہ پا کر مسکرادیا۔ 

ہاں اقرار کر رہا تھا اپنی محبت کا۔۔۔ تو سنو ربیعہ میں پچھلے چار سال سے تم سے محبت کر رہا ہوں۔ تم سے منسوب ایک ایک چیز میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔تمہارا ایک ایک تحفہ سینے سے لگا رکھا ہے۔ 

ربیعہ  نے حیرت سے ٹوکا۔میں نے کبھی تمہیں تحفہ نہیں دیا۔ 

جہانزیب ہنسا۔۔  تم بھول رہی ہو تم نے بہت بار تحفہ دیا ہے مجھے۔سب سنبھال کر رکھے ہیں میں نے دکھاتا ہوں

ایک منٹ۔۔۔۔

اسے ایکدم کچھ یاد آیا تو اٹھ گیا۔بڑے بڑے باکس ادھر ادھر کرتے وہ کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔۔ سونیا اور ربیعہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔ربیعہ کا پرس دور دروازے کے پاس پڑا تھا سونیا کو دیکھ کر دیوانہ وار بھاگتے اسے خیال ہی نہ آیا کہ پرس گر چکا ہے۔ اسکا موبائل یقینا پرس کے اندر ہی تھا۔کیسے کس کو بلائے اطلاع دے۔ 

وہ ایک بڑا سا شاپر اٹھا لایا تھا۔آکراسکے سامنئ بیٹھتے اس شاپر میں سے ایک چیونگم نکال کر دکھانے لگا۔ اسکا ریپر بوسیدہ تھا اور چیونگم شائد پگھل گئ تھی۔ چپ چپ کررہی تھی۔

یہ دیکھو۔یاد آیا تمہیں؟ آج سے چار سال پہلے جب تم پہلی بار مجھ سے ملیں ۔جاب کا پہلا دن تم نے پورے اسٹاف کو یہ چیونگم دی۔ آج تک اسکو سنبھال کر رکھا ہے میں نے۔تمہارا پہلا تحفہ تھا یہ۔کیسے استعمال کر لیتا میں۔

ربیعہ غرائی۔۔ یہ سب کو دی تھی میں نے صرف تمہارے لیئے نہیں تھی۔ 

وہ بولتے بولتے جزباتی ہو کر انکے قریب چلا آیا ربیعہ کےگال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو سونیا نے جھٹک  دیا۔ جہانزیب نے بنا لحاظ تھپڑ ماردیا وہ دور جا گری ربیعہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی جہانزیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو بےدردی سے جکڑ کر غرا کر کہا 

جانتا ہوں اسکے باوجود میں نے اسکو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ اور یہ جوس کا ڈبہ۔ تمہیں یہ جوس ایک طالبہ نے دیا تھا۔اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اسکو کھولنا تو دور پی بھی نہ سکا۔ 

ربیعہ بلبلاکر رو دی۔ تم پاگل ہو گئے ہو۔۔ 

جہانزیب پرسکون سا ہو کر مسکرایا۔ ہاں لیکن تمہارے پیار میں۔ 

او ریہ ٹیچرز ڈے پر تم نے یہ کارڈ دیا تھا۔ بچوں سے خاص طور سے بنوا کر۔ میں اس دن آیا بھی نہیں تھا تم نے اگلے دن جب میں آیا تو مجھے دیا ۔ تم مشرقی لڑکی ہو ایکدم سے اقرار تو نہیں کر سکتی تھیں۔اس کارڈ کا متن پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔۔ 

ربیعہ رو تے ہوئے بولی۔ بچوں نے خود بنایا تھا میں نے ان سے نہیں بب بنوایا تھا

جہانزیب  نے یوں سر جھٹکا جیسے اسکو یقین نہ آیا ہو۔ مگر بولا تو آسانی سے مان گیا۔ 

چلو مان لیا۔۔۔اس نے پلاسٹک کا ڈبہ نکل کر اسکی جانب بڑھایا 

یہ پیسٹرئ۔ یہ تو تم نے مجھے میری سالگرہ والے دن دی تھی۔ پچھلےچار سال سے سنبھال کر رکھی ہے۔

پلاسٹک کے خوبصورت سےٹرانسپیرنٹ  باکس میں پیسٹری سڑ چکی تھی ۔دونوں کو ابکائی  آگئ ناک پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئیں وہ پیسٹری اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔

ربیعہ کا بدبو سے دماغ خراب ہو رہا تھا۔  پاگل ہو گئے ہو ۔یہ ہٹائو سڑ چکی ہے یہ۔پھینکو اسے۔ 

ہاں سڑ گئ مگر میں تم سے محبت کرتا ہوں اسکو کھا سکتا ہوں کھا کر دکھائوں؟ 

اسکی آنکھیں یکا یک چمکنے لگیں۔ اس نے اس سڑی ہوئی پیسٹری کا لقمہ لے لیا تھا۔ ربیعہ اور سونیا کو ابکائی سے برا حال ہوگیا۔

بہت سڑ گئ ہے۔ 

اس نے خود بھی منہ بنایا۔ تھوڑی بہت سڑی چیز تو میں آرام سے کھا لیتا ہوں۔ یہ نہیں کھائی جا رہی۔ 

جہانزیب نے مایوسی سے سر جھکایا۔پھر جیسے ایکدم خیال آیا تو چٹکی بجا کر بولا۔ تبھی تو  ۔ یہ سڑ گئ تبھئ تو۔ میں نے تم سے کہا تھا میری سالگرہ پر مجھے کوئی کھانے پینے کی چیز کا  تحفہ نہ دیا کرو اور تم نے مجھے اگلے سال یہ ٹائ پن دی تھی مجھے۔میں ٹائی نہیں باندھتا ہوں مگر ٹائی پن جیب سے لگا کر رکھتا ہوں ہمیشہ۔۔

ربیعہ سر پیٹ کر رہ گئ۔  میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر تحفہ دیا تھا۔

جہانزیب ایکدم خوش دکھائی دینے لگا۔

 تم۔۔ اف سن کے اچھا لگ رہا ہے تمہارے منہ سے۔ اچھی بات ہے اب ہم میں یوں اجنبیوں کی طرح آپ جناب والا تعلق تو رہا نہیں ہے۔

ربیعہ بے بسی سے ہاتھ جوڑ کر بولی۔

 تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا اب چلے جائو یہاں سے۔ 

 ابھی کہاں دل کی بات کہہ پایا۔۔ ربیعہ یہ پین یہ چاکس یہ تمہارا ڈسپوز ایبل گلاس تم نے مجھے آج تک جو کچھ بھئ دیا ہے میں اسے پھینکنے کی ہمت نہیں کرسکا تو سوچو تمہیں زندگی سے نکلتا دیکھ کر مجھ پر کیا بیت رہی ہوگی۔ ؟ میری جان نکل رہی ہےربیعہ۔ میں کوئی ایسا ویسا انسان تو نہیں ہوں تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرو ایک بار مجھے اپنا۔۔

جزباتی انداز میں بولتا وہ غیر ارادی طو رپر ربیعہ کے کافی قریب آگیا تھا

سونیا نے تڑپ کر اسکی ٹانگ پر لات ماری۔  دور رہ کر بات کرو۔ 

جہانزیب نے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔

ربیعہ گھبرا گئ۔نہیں ۔ سونیا۔ دور ہٹو تم اس سے 

جہانزیب نے تنفر سے سر جھٹکا۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے بھی نہیں۔  

دور ہٹو تم ربیعہ سے مین تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔

سونیا میں اب تھوڑی بہت ہمت آگئ تھی۔ آخر تھا تو وہ اکیلا۔ وہ دونوں دو تھیں۔ قابو پانا اسکے لیئے آسان کام نہیں تھا۔

جہانزیب نے بیزار ہو کر چھری لہرائئ۔  تمہارا گلا ہی کاٹ دیتا ہوں میں۔ ہمیں بات ہی نہیں کرنے دے رہی ہو تم

سونیا کا رنگ فق ہوگیا۔ 

ربیعہ کو اسکے تیور دیکھ کر خوف آرہا تھا۔ ابھی تک وہ بات کر رہا تھا مگر کیا خبر دماغ گھومنے پر وہ کس حد تک بڑھ جائے۔ 

 نن نہیں پلیز اسے مت کہو کچھ۔ پلیز۔میں سن رہی ہوں۔

اب تم آرام سے پڑی رہو سونیا ہمیں تنگ مت کرنا ہم اہم بات کررہے ہیں۔

جہانزیب کا لہجہ ہر قسم کی رعائت سے خالی تھا۔ سخت اور بے رحم

ربیعہ کو یہی سمجھ آیا تھا کہ اسے بھڑکائے بنا محض باتوں میں لگا کر شائد اس مصیبت کو ٹالا جا سکتا ہے۔سو بمشکل خوف پر قابو پاتے سبھائو سے بولی۔ میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔ 

جہانزیب دلبرانہ انداز میں مسکرادیا۔

تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ ۔ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں 

ربیعہ نے ہمت کرکے پوچھ لیا۔ اگرایسا ہے تو تم۔  پھر تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں دھمکا رہے ہو ہمیں۔

جہانزیب فورا شرمندہ ہوا

معزرت بس وہ۔ تھوڑا سا غصہ ہے مجھ میں۔ مگر یقین کرو ربیعہ  میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ۔۔پرامس ۔۔ ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں 

پتہ ہے میں بچپن سے اتنا اچھا لڑکا نہیں تھا کافی شرارتی  تھا۔سب کو بہت تنگ کرتا تھا کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہوتا تھا۔ اور میری کلاس میں ایک بچہ ہوتا تھا بالکل مجھ سے مختلف سب سے چھوٹے قد کا سیاہ رنگت والا بچہ

ربیعہ ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھی اور وہ مکمل ماضی میں کھو گیا تھا   

………………………………………………………. 

   وہ بھی ایک معمول کا دن تھا۔ اسکول میں  بچے کلاس میں شور و غل مچاتے پھر رہے تھے۔ سب بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ تھے مگر کلاس میں سب سے پیچھے ایک کالا سیاہ چھوٹے سے قد کا بچہ بیٹھا سب کو بٹر بٹر دیکھ رہا تھا۔ وہ ان میں سے کسی کا دوست نہیں تھا۔ سب نے اسے بھی نظر انداز ہی کر رکھا تھا۔ لنچ بریک تھی سب کو اپنی سرگرمیوں میں مصروف دیکھ کر اس نے شائد سکھ کا سانس لیتے ہوئے احتیاط سے بیگ سے اپنا لنچ باکس نکالا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس رازداری کی کوئی خاص وجہ تھی۔ حالانکہ سادہ سے نوڈلز تھے اسکے لنچ باکس میں ۔۔اس سے کچھ فاصلے پت۔کلاس میں آگے بیٹھنے والے ایک اور بچے نے بھی اسی وقت بیگ سے لنچ باکس نکالا مگر شائد اسکا لایا کھانا سڑ  گیا ہے سو برا  سا منہ بنایا اور دوسرے بچوں کو اس لنچ باکس سے تنگ کرنے لگا۔ کلاس کا سب سے لمبا خوبصورت لڑکا جو اپنے دوستوں کے ساتھ گیند سے کھیلتےشغل لگا رہا ہے اسکی نظر اس پر پڑی تو چہرے پر شرارت بکھر گئ۔  اپنے دوست کو آنکھ مارتا اسکے پاس چلا آیا۔  

بچے نے لنچ باکس کھولا  اور  تماشا دیکھنے کی نیت سے چند بچے اسکے سر پر آن کھڑے ہوئے 

بچے نے اسکی ٹانگ پر لات سی ماری۔ وہ تڑپ کر سہلانے لگا 

انہوں نے اسکا لنچ باکس چھین لیا۔اور سب مزے لے لے کر کھانے لگے۔

لمبے لڑکے نے آنکھ ماری تو دوسرا بچہ معصوم بن کر لنچ باکس نکال کر دکھانے لگا

وہ سب کالو کو تنگ کر رہے تھے  مگر کالو ان سب کی توجہ پا کر خوش تھا . بچے نے لنچ باکس کھولا اور اپنے ہاتھوں سے پراٹھے انڈے کا نوالہ بنا کر اسے دیا  اس نے شوق سے نوالا منہ میں رکھا.نوالہ بہت بڑا تھا اس سے نہ چباتے بن رہا تھا نہ نگلتے 

سب بچے الٹی کرنے کی ادااکاری کرنے لگے .کالو نے گھبرا کر لنچ باکس سے نیا نوالہ بنایا 

سب بچے اسے کھاتے دیکھنےلگے ہیں اور منہ چھپا کر ہنسنے لگے تھے کالوکی آنکھوں میں آنسو آرہے تھے,پانی کی بوتل منہ سے لگا لی .لمبا بچہ جہانزیب ہنسے جا رہا تھا  بن بن کر پوچھنے لگا  

 اوئے کالو یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو آئو ہمارے ساتھ کھیلو نا۔

کالوکو اسکی شرارت بھری نگاہوں سے ہمیشہ خوف ہی آیا تھا جبھی دل چاہنے کے باوجود نفی میں سر ہلانے لگا , نن نہیں مجھے نہیں کھیلنا۔ 

دوسرا بچہ کہنی مار کر بولا کیوں ابھی تک ٹانگ میں درد ہو رہا ہے ؟ جس پر بال لگی تھی۔

کیا کرتے ہو اسکو پہلے بھی چوٹ لگا دی تھی جبھی تو بے چارہ ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں آتا۔کیوں کالو ناراض ہو نا  ہم سے؟جہانزیب پوچھ رہا تھا    

کالوکی جان نکلنے لگی جیسے 

نن نہیں تو۔ 

جہانزیب کے سب دوست دائیں بائیں بیٹھ گیے اور اس سے تفریح لینے لگے 

 ایک  بولا 

 تم ناراض ہو جبھی تو ہمارے ساتھ نہ کھیلتے ہو نا کھاتے ہو

 نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں

جہانزیب نے مصنوئی ناراضگی دکھائی 

پھر ہمارے ساتھ کھائو نا کیا لائے ہو تم؟

 نوڈلز

اپنی آواز خود اسے بھی بمشکل سنائی دی 

چکھائو کیسے بنے ہیں۔

جہانزیب نے اسکا پورا لنچ باکس لے لیا  وہ اور اسکے دوست مزے لے کر کھانے لگے 

ہمم مزے کا ہے۔۔

 جہانزیب چڑا رہا تھا اسےپھر ایک دم معصوم بن کر دوستو کو ڈانٹنے لگا  

 سب کھا گئے تم سب اب یہ بے چارا کیا کھائے گا۔چلو اپنا لنچ باکس شئیر کرو کالو کے ساتھ

کالو نے انکار کرنا چاہا  نہیں کوئی بات نہیں۔۔ 

نہیں تم ہمارے ساتھ کھائو نا ہم سب مل بانٹ کر کھائیں گے۔

وہی سڑا ہوا لنچ باکس بڑھا کر بولا  

کالونے ڈرتے ڈرتے بتانا چاہا  یہ اچھا نہیں ہے سڑا ہوا ہے۔ 

 ہم اتنے پیار سے تمہیں اپنا لنچ باکس دے رہے ہیں تم کہہ رہے ہو سڑا ہوا ہے کھانا کتنی بری بات ہےکالو

 جہانزیب نے مصنوئی ناراضگی دکھائی  

دوسرا بچہبھی ہاں میں ہاں ملانے لگا 

 دل توڑ دیا۔ 

کالوروہانساساہو کر بولا  نہیں یہ واقعی سڑا ہوا ہے میں نہیں کھا سکتا

: تم ہمیں دوست ہی نہیں سمجھتے ہمارا لنچ نہیں کھارہے ہم بھی تمہارا لنچ واپس کرتے ہیں ۔ 

دوسرے بچے بھی شغل لگانے لگے ہاں ہا ں ہم بھی تمہارے نوڈلز واپس کرتے ہیں

 نن نہیں۔ میں کھا لیتا ہوں

کالو نے نیا نوالہ بنا لیا سب بچے منہ چھپا کے ہنس رہے تھے 

اوئے کالو تمہارے نوڈلز تھوڑے سے بچ گئے ہیں کیا کریں انکا ؟

جہانزیب نے چونکنے کی اداکاری کی  

دوسرے بچے  کو انوکھا خیال آیا 

کالو کے تو تند کرانے کے بعد بال ہی نہیں یے ابھی تک 

 اسکے بال بنا دیتے ہیں 

ہاں یہ ٹھیک رہے گا کالو ریپنزل 

جہانزیب کو اس خیال سے گدگدی ہوئی  سب نوڈل اسکے سر پر الٹ دیے لمبے نوڈلز  لٹوں کی طرح اسکے سر سے لٹک رہے تھے 

سب بچے تالیاں بجا کر اسکو داد دے رہے تھے اور کورس میں گا رہے تھے 

 ریپنزل ریپنزل

……………………………………………………………………………………….

جہانزیب ماضی سے حال میں آیا  ربیعہ اور سونیا دیوار سے لگی اسے حیرت اور خوف سے ملی جلی کیفیت میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں  جہانزیب مسکرایا۔

میرے بچپن کی بات سن کر کافی حیران لگتی ہو۔ بچپن معصوم سادہ ہوتا ہے اچھے برے کی سمجھ

 نہیں ہوتی ہے۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے اس بچے کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے۔ وہ تو کافی ڈر جاتا ہوگا۔ اسکا اتنی بے عزتی کے بعد دل کرتا ہوگا کہ کبھی اسکول واپس نہ آئے جہاں اسکا کوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔ 

یقینا اس بچے کا بھی دل کرتا ہوگا وہ سب کے ساتھ کھیلے باتیں کریں مگر وہ جب جہاں میرے ساتھ کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا میں اسکو مارتا اسکا مزاق اڑاتا سب بچوں کو ڈراتا کہ اگر اس سے بات کی تو میں ناراض ہو جائوں گا میرے ڈر سے کوئی بچہ اسکے پاس پھٹکتا بھی نہ تھا وہ تنہارہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں اکیلا بیٹھا روتا تھا پر مجھے اس پر ترس نہیں آتا تھا میں اسکا مزاق اڑاتا اس بچے اس بچے کا تو دل کرتا ہوگا نا اسکول کی چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائے….

وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ جزباتی انداز میں اضطراری حرکتیں کرتا وہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر… صورتحال بیان کر رہا تھا۔چھت پر چڑھنے پر بازو اونچا کرکے ہوا میں بازو سے سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پہلے چڑھا پھر وہاں سے کودنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایکدم سے منہ کے بل سامنے باقایدہ اچھل کر کودا اور زمین پر اوندھا لیٹ ہی گیا۔ 

ربیعہ اور سونیا بھونچکا سی اسے دئکھ رہی تھیں جو انکے سامنے اوندھا لیٹا ہوا تھا ایکدم سے سر اٹھا کر دیکھا پھر کہنی زمین پر ٹکا کر اپنے ہاتھ کی ٹیک لیکر تھوڑی ٹکائی اور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا

 بہت برا لڑکا تھا نا میں

ربیع ہسٹپٹا گئی ہاں۔ میرا مطلب نن نہیں ۔۔ تم چھوٹے سے تھے بچے شرارت کرتےہیں 

جہانزیب : یہ شرارت لگ رہی ہے

وہ اوندھا لیٹا ایکدم بھڑک اٹھا تھا ۔ ربیعہ اور سونیا بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔وہ غصے سے چلاتے ہوئےکف ڑا رہا تھا

یہ بدتمیزئ تھی۔ اس بچے کا سکون سے پڑھنا محال کردیا تھا میں نے اتنا تنگ کیا تھا اسے شرارت کہتے ہیں؟ اس بچے نے اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔ اسکی ٹانگ ٹوٹ گئ تھی میری وجہ سے ۔ آج تک لڑکھڑا کر چلتا ہے وہ اور تم کہتی ہو شرارت تھئ؟

وہ گھور رہا تھا پھر ایکدم ٹھنڈا ہو کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر بولا 

ویسے وہ بچہ ذیادہ جزباتی ہو گیا احمق ۔ شرارت ہی تو تھی۔ یہ مگر میں بڑے ہو کر بھی نہ بدلا۔ 

وقت کے ساتھ میں بڑا ہواتو اور ہینڈسم ہوتا گیا میرا قد بھی بہت اونچا گیا اور شکل و صورت تو پہلے ہی اچھی تھی 

۔

مجھے ایک لڑکی پسند کرنے لگی۔  سچ بتائوں تو میں دل پھینک بھی تھا۔  ( آنکھ مارتے ہوئے)

اس لڑکی نے میرے بہت نخرے اٹھائے۔ مجھے مہنگے مہنگے تحفے دیتی تھی چار سال اس نے میرے ساتھ گزارے اور ایک دن بھی کینٹین کا بل میں نے نہیں دیا بے چاری بہت محبت کرتی تھی مجھ سے۔میں نے سختی سے کہہ رکھا تھا اسے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے اس بات کا یونیورسٹی میں کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کیسے کرتا۔اس نے ایک دم پکارا 

ربیعہ ۔۔۔۔

ربیعہ گڑبڑا گئی ہ ہاں۔  

جہانزیب : تم سوچ رہی ہوگی میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟ 

ربیعہ نے  تھوک نگلتے سراسیمہ سے انداز میں پوچھا  کک کیوں؟ 

میں زندگی کی نئی شروعات تمہارے ساتھ سب سچ بتا کر کرنا چاہتا ہوں کل کو کوئی تمہیں میرے بارے میں الٹی سیدھی بات بتائے تو تم مجھ سے بدگمان نہ ہو۔ اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو

جہانزیب ہنس دیا ربیعہ کے چہرے پی کی آوارہ لٹیں بکھر آہیں تھیں وہ کسی معمول کی طرح کھینچتا گیا تھا اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر انکو سنوارنے کی خواہش تھی سونیا نے گھبرا کر ٹوکنے کی نیت سے پوچھا  

 پ پھر کیا ہوا؟ میرا مطلب اس لڑکی کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟

جہانزیبنے گہری سانس لی ,اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے

 ایکدن فائنل سے کچھ پہلے وہ اپنی گاڑی پھولوں اور غباروں سے سجا کر لائی 

………………………………………………………………………….

اس خوبصورت لڑکے کی آنکھوں پر پٹی رکھے اسے چلاتی ہوئی پارکنگ لاٹ تک لائی ۔  گاڑی کے پاس لا کر اسکی آنکھوں سے پٹی ہٹائی۔

جہانزیب نے منہ بنایا یہ یہ گاڑی دکھانے لائی ہو تم مجھے احمق ۔۔ دس دفعہ کی دیکھی ہوئی ہے۔

لڑکی ذرا بد مزہ نہ ہوئی چابئ لو اور ڈگی کھولو

جہانزیب :کیوں بھئ؟پھر کوئی تحفہ لے آئی ہو میرے لیئے

ڈگی کھولونا

اسکا چہرہ دبے دبے جوش سے تمتما رہا تھا جہانزیب کو اسکی شکل سے ہی اندازہ  ہو رہا تھا کہ کوئی خاص بات ہے مگر اپنے ازلی بے نیاز سے انداز میں اس نے بظاھر غیر دلچسپی سے منہ بنا کر ڈگی کھولی جب کہ اندر سے اسکا تجسس سے برا حال تھا 

ڈگی کھولنے پر کئی غبارے جو سیٹ سے بندھے ڈگی میں بھرے تھے ایکدم باہر نکلے غباروں کے ساتھ ایک بینر بھی نکلا جس پر سرخ رنگ سے آئی لو یو لکھا تھا۔ ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر باہر جھانکتے ہوئے ایک بڑا سا بوکے دکھانے لگا

جس پر کارڈ او رانگوٹھی کا کیس بھی چپکا تھا

۔ول یو میری می؟ 

لڑکی گھٹنے کے بل جھک کر اسکا ہاتھ مانگ رہی تھی 

کیا بکواس ہے یہ؟ یہ سب کیا ہے ؟ 

لڑکی : میرے دل کی آواز میں سچے دل سے تم سے محبت کرنے لگی ہوں آئی لو یو متین 

جہانزیب غصےسے پاگل ہونے لگا

دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟ پاگل ہو گئ ہو کیا چار دن تم پر ترس کھا کر ذرا سی بات چیت کیا کرلی تم اپنی اوقات بھول گئیں ؟ کالی گٹھی گنجی لڑکی آئینہ تو دیکھ لیتیں ایسی بات کرنے سے پہلے۔ تم ہو کیا؟ اس قابل ہو کہ میرے جیسے خوبصورت لڑکے کے ساتھ برابر میں کھڑی بھی ہو سکتی ہو۔ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو۔ ایڈیٹ نان سنس

سارا موڈ خراب کردیا

لڑکی گڑگڑاتے ہوئے کہہ رہی تھی  میری بات تو سنو 

جہانزیب : ہاتھ مت لگانا مجھے 

اس نے طیش میں آکر منہ پر تھپڑ مار دیا

……………………………………………………………………

دونوں لڑکیاں اسے تاسف سے دیکھ رہی تھیں   سونیا نے اسکو باتوں میں لگا دیکھ کر 

اپنے ہاتھ کھول لیئےتھےاب اشارے سے ربیعہ کو کچھ کہہ رہی تھی مگر ربیعہ متوجہ نا تھی  ربیعہ  جہانزیب کو دیکھے جا رہی تھی اسکے چہرے پر کرب کے تصورات اتنے واضح تھے کہ اسکا سارا خوف کہیں جا سویا تھا بس وہ تاسف سے اسکے شکل دیکھ رہی تھی  

 میں نے بہت غلط حرکت کی اس دن۔ مجھے اس لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا اتنا گھٹیا میں کیسے ہو گیا

پوری یونیورسٹی میں اسکی کیا عزت رہ گئ ہوگی۔

کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی ہوگی۔ سب اسکو دیکھ کر مزاق اڑاتے ہوں گے۔ وہ روتی ہوگی اسکا دل چاہا ہوگا کہ وہ اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لے

بولتے بولتے اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری اپنی کلائی پر رکھی ربیعہ اور سونیا کے منہ سے چیخ نکلی۔۔

ربیعہ چیخ پڑی نن نہیں ۔۔رک جائوایسا مت کرو متین

جہانزیب نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا: 

کیا کک کیا کہا تم نے مجھے۔۔ 

ربیعہ : مم متین۔ یہی نام ہے نا تمہارا؟ 

جہانزیب : نن نہیں میں متین نہیں ہوں میں جہان جہانزیب ہوں ۔۔ 

جہانزیب ہوں میں متین نہیں۔ جہانزیب جہان

وہ ایکدم پاگلوں کی طرح چلاتا اٹھ کھڑاہوا۔ 

ربیعہ او رسونیا بھی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔ 

جہانزیب دونوں ہاتھوں میں سرتھامے ادھر ادھر ڈکراتا چلاتا پھر رہا تھا کہ اسکی نگاہ لائونج میں لگے آئینے پر پڑی۔

آئینے میں

گنجا سا سیاہ رنگت والا بد شکل سا چھوٹے قد کا بد صورت لڑکا کھڑا تھا

اسکی ساری زندگی لمحے میں آنکھوں میں گھوم گئ۔اسکول میں پڑھاتا بدصورت ٹیچر اسکی کارٹون نما بنی تصویر جس میں اسے مزیدبد صورت دکھایا گیا تھا اسکول کی چھت سے کودتا بچہ ، یونیورسٹی میں لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھاتا لڑکا 

منہ پر شادی سے انکار کرتی لڑکی ربیعہ  

ہر جگہ خوبصورت جہانزیب کی جگہ بدصورت متین نے لے لی تھی فرق اتنا تھا کہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہونے والا بس ایک ٹھگنے قد والا لڑکا ہی تھا بد صورت گنجا 

وہ ساکت سا کھڑا اپنے منعکس ہوتے  عکس کو گھورتا رہا 

 بے یقینی سے آگے بڑھ کر آئینے پر ہاتھ رکھا

 نہیں میں جہانزیب نہیں میں تو  میں میں تو متین ہوں۔

ربیعہ رو دی مم متین آئیم سوری

اس نے خالی خالی نگاہوں سے اسکی شکل دیکھی  ربیعہ تم متین سے شادی کروگی؟ 

اسکے چہرے پر نا قبل فہم سے تاثرات تھے ربیعہ ہچکچا تے ہوۓ  نفی میں سر ہلا گئی  

متین نے میکانکی انداز میں سر ہلایا جسے سب سمجھ گیا ہو پھر طائرانہ نگاہ پورے فلیٹ پر بکھری چیزوں پر ڈال ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتا جیسے وہ یہ سب پھیلاوا کرنے پر شرمندہ ہے سر جھکاتا فلیٹ سے نکل گیا .ربیعہ نے تاسف سے اسکو جاتے دیکھا اسکی ایک ٹانگ میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی

……………………………………………………………..

ختم شد

Rating
Home » 2024 » Page 2