Dive into the Exciting World of “Salam Korea” Urdu Novel with the Latest Episode salam korea 

by vaiza zaidi

Salam Korea urdu desi novel web travel Episode 42

قسط 42

شدید طوفان برفباری راستے بند۔ سفر میں احتیاط اور متبادل راستوں کے حوالے سے ایپلیکیشن کا نوٹیفیکیشن آیا تھا۔اس نے چونک کے فون اٹھایا تھا پھر بدمزہ ہوگئ۔ اس نے ایپ پر اپنی نئی لوکیشن اپڈیٹ نہیں کی تھی جبھی سول میں آنے والے آندھی طوفان سے ڈرانے کیلئے ایپ نے پیغام بھیجا تھا۔ اس نے وقت دیکھا صبح کے ساڑھے چھے ہو رہے تھے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی  گوارا اور ہوپ بے خبر سو رہی تھیں۔ اس نے احتیاط سے اپنے اوپر سے کمفرٹر اتارا گوارا کی جیکٹ اٹھا کر پہنتی کمرے سے باہر نکل آئی۔  

باہر لائونج میں آکر صوفے پر بیٹھ کر کال ملا لی۔ 

دوسری یا تیسری بیل پر ہی صارم کی نیند میں ڈوبی آواز سنائی دی

ہیلو۔ 

یہ مت کہنا کہ سو رہے تھے میں نہیں ماننے والی۔ 

اسکی بات پر صارم آنکھیں مسل کر فون دیکھا پھر بھنا کر بولا

رات کے دو بجے میں کیا کبڈی کھیل رہا ہوں گا؟ سو ہی رہا تھا۔

کوئی بات نہیں اب تو جاگ گئے ہو نا۔ اس نے کندھے اچکا دییئے۔

خیریت ؟ 

اسے فکر ہوئی۔ 

ہاں خیریت ہے ۔۔ وہ آرام سے بولی

بتائو اب کیا کھڑاگ پھیلا کر بیٹھی ہو جو میں یاد آیا ہوں اس وقت۔ 

وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔ یقینا کوئی بات اسکی نیند اڑائے ہوئے تھی۔  سو جمائی لیتا سیدھا ہوبیٹھا

کچھ نہیں۔ دل گھبرا رہا تھا۔ سوچا تم سے بات کرلوں۔ اسکے انداز میں کچھ تو ایسا تھا کہ صارم سنجیدہ ہوگیا

تم آجائو واپس گھبرا رہی ہو دل بھی نہیں لگ رہا تووہاں کیوں ہو؟ 

بس تمہیں یہی آتا ہےجب دیکھو ایک ہی بات بس پاکستان آجائو۔ وہاں تو لڈو بٹ رہے ہیں نا۔ 

وہ جھلا کر بولی۔ صارم نے گہری سانس لی۔

کیا ہوا ہے؟

کچھ نہیں بولا نا۔ اسکی آواز رندھنے لگی۔ 

آنکھوں سے آنسو بھی پھسل آئے۔ چند لمحے بے آواز روتے جب آنسو نہ تھمے تو خود پر قابو پا کر بولی

اچھا سو جائو ۔۔ 

خاک سو جائوں؟ وہ چڑ گیا۔

اب بتائو کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟ 

میں تو نہیں رو رہی۔ وہ صاف مکر گئ۔

ہاں جیسے مجھے تو پتہ نہیں چل رہا کچھ ۔ بولو کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ سنتھیا نے پھر کچھ کیا ؟ 

وہ خود ہی اندازے لگانے لگا۔اس نے سوتے میں صارم کو پریشان کردیا تھا۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا۔ سنبھل کر بولی

کچھ نہیں۔ بس تم یاد آرہے تھے توکال کرلی ۔ سوری نیند بھی خراب کردی تمہاری۔ آئیم ریئیلی سوری۔

اریزہ۔ اس نے مصنوعی خفگی سے گھرکا۔ پھر پیار سے بولا

کیا ہوا ہے ؟ بتائو مجھے کیوں پریشان ہو؟۔ 

اسکی بات پر وہ چپ ہوگئ۔پھر کہہ ہی ڈالا

مجھےخود نہیں پتہ۔ بس عجیب بوجھل ہو رہا تھا دل۔ رات کو گوارا کے گھر آتے رستہ بھول گئ تھی۔۔

صارم پریشان ہو اٹھا

پھر ؟ کیسے واپس آئیں ؟ پینک اٹیک تو نہیں ہوا ؟ گوارا کہاں تھی۔

گوارا نہیں تھی پاس۔ وہ بولتے پھر رو پڑی۔

پھر کیا ہوا؟ بول کر بتائو روئو مت۔ بولو شاباش کیا ہواتھا؟ 

صارم اسے بولنے پر اکسا رہا تھا۔ 

بس میں راستہ بھول گئ تھی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے واپس آئوں۔ 

وہ ہچکیاں لے کر رو رہی تھی۔ 

ہمم۔ فون کر لیتیں گوارا کو۔ فون تھا پاس؟۔

صارم کو فکر بھی ہو رہی تھی۔ 

ہوں۔ اس نے دھیرے سے ہنکارا بھرا۔

یاد ہے نا ڈاکٹر نے کیا کہا تھا؟ جو محسوس کرو بولو۔ ابھی بھئ مجھے بول کر سب بتائو۔ رونے سے مسلئہ حل نہیں ہوگا۔ بولو شاباش پھر کیا ہوا۔۔کیسے واپس آئیں ہیون کہاں تھا؟

 

ہیون۔ ہیون نے کال کی تھی۔ اس نے کہا گہری سانس لو۔ میں نے لی۔ پھر کال بھی کٹ گئ۔پھر مجھے پینک اٹیک بھی ہوا اسکے بعد سے آنکھیں بند نہیں کر پا رہی بار بار لگ رہا اسی سڑک پر کھڑی ہوں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ 

اس نے روانی سے بتایا تو صارم چونک سا گیا۔

چند لمحے خاموشی سے رونے کے بعد اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کیئے۔ 

اچھا مجھے نیند آرہی ہے۔ میں سونے جا رہی ہوں تم بھی سوجائو۔ 

ٹھیک ہے۔ صارم نے بحث نہیں کی۔ اریزہ نے فون کاٹ دیا۔ 

اس وقت تو پینک اٹیک تھا۔ اس وقت کیا ہوا ہے تمہیں؟

اسکی کالنگ آئی ڈی پر لگی تصویر دیکھتے وہ پرسوچ انداز میں بولاتھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذہن بوجھل تھا خواب میں بھی سڑک پر ہی بیٹھی رو رہی تھی ۔ جب کسی نے دھیرے سے اسکے شانے کو تھپکا۔ 

سب ٹھیک ہے اریزہ۔ 

اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔ 

مانوس چہرہ ۔۔۔ 

اس نے مطمئن سا ہو کر آنکھیں موند لیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی آنکھ کھلی تو سرمیں درد کی ٹیس اٹھی تھئ۔ اس کا ہاتھ بے ساختہ پیشانی پر گیا۔ سرابھی بھی چکرا رہا تھا۔ شدید پیاس لگ رہی تھی۔ 

پانئ۔ اس نے پکارنا چاہا مگر آواز حلق سےسرسراتئ سی ہی نکلی۔ اسے خود بھی آواز نہیں آئی تو نرس کو الہام ہونے سے رہا۔ اس نے خود ہمت کرکے اٹھنا چاہا تو جسم ہلنے سے بھی قاصر تھا۔ صوفے پر نیم دراز کم سن کی یونہی آنکھ کھلی تو اسے ہلتے جلتے دیکھ کر اٹھ کر آیا۔ 

کین چھنا؟ 

مانوس آواز ایکدم قریب سے آئی تھی۔  چونک کے اس نے بائیں جانب رخ موڑا۔ کم سن فکرمندی سے اس پر جھکا تھا۔

پپ۔پانی۔ 

سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے اس نے بمشکل کہا۔ 

دے؟ وہ سمجھ نہ پایا ۔ اس نے اشارہ کرنے کیلئے بازو اٹھایا توکنولا لگا ہوا تھا ۔درد کی لہر سی اٹھی۔ وہ کراہ کر رہ گئ۔

ایک منٹ ۔ کم سن نےاسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اٹھنے سے منع کیا  

پھر بیڈ کے ریموٹ سے اسکا بیڈ تھوڑا اونچا کردیا۔

پانی۔ اسکا ذہن اتنا بوجھل تھا کہ پانی کے سوااسے کچھ دوسرا متبادل انگریزی لفظ بھی یاد نہ آیا۔ 

کم سن نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر سائیڈ ٹیبل سے فلاسک اٹھا کر گلاس میں پانی انڈیلا۔ اور اسکی جانب بڑھادیا

بل۔ ( پانی)۔ پی لو ۔۔

وہ ہنگل میں بولا پھر خیال آیا تو انگریزی میں ترجمہ کرنے لگا۔ اس نے بمشکل دوسرے ہاتھ سے تھاما اتنی پیاسی ہو رہی تھی کہ ایک سانس میں پیتی گئ۔ کم سن تاسف سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکا رنگ بالکل سیاہ ہو رہا تھا۔ اور ہوںٹ بالکل خشک۔ 

کچھ کھائو گی؟ 

کم سن نے پوچھا تو اس نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا۔ نرس ناشتے کی ٹرے رکھ گئ تھی اسکے سرہانے ۔ اس نے بیڈ کے اوپر میز کا اسٹینڈ لگا کر ناشتہ رکھ دیا۔ دلیہ چکن اور تھوڑا سا بیف ۔ سنتھیا چند لمحے ناشتے کو دیکھتی ہی رہی۔ 

کیا ہوا؟ کچھ اور کھانا چاہتی ہو؟

کم سن نے پوچھا تو وہ سر نفی میں ہلاتی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا گئ۔۔ اسے کافی بھوک محسوس ہو رہی تھی یہ ایک اچھی بات تھی۔ کم سن واپس صوفے پر جا بیٹھا۔ موبائل اسکرال کرتے وہ شائد اسکے کھانا ختم کرنے کا انتظار کر رہا تھا۔

ناشتہ مکمل کرکے وہ کم سن کو دیکھنے لگی۔ بے نیازئ سے فون استعمال کرتا وہ بظاہر اسکی نظروں سے انجان تھا۔ 

آپ کل رات سے یہیں ہیں؟ 

اس نے دھیرے سے پوچھا تھا۔ اتناکم آواز نکلی تھی کہ اسے لگا کہ سوال دہرانا پڑے گا مگر کم سن نے سن کر فورا سر اٹھا کر جواب دیا۔ 

دے؟ 

وہ یقینا ہمہ تن گوش تھا۔ 

آپ کو بہت زحمت ہوئی ہے میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکو میری وجہ سے یہاں بلوالیا گیا۔ نرس کو شائد کوئی غلط فہمی۔۔ 

اس نے وضاحت دینی چاہی ۔ کم سن نے بات کاٹ دی

نرس کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی تھی میں نے اسے کہا تھا کہ میں آپکا یہاں نگہبان ہوں اور آپکو معمولی سی بھی تکلیف پہنچنے پر مجھے ہی بلایا جائے۔ اور کل تو آپکا بی پی بہت ہائی تھا۔

وہ اپنی جگہ بیٹھے اسکے سوال کا جواب دے رہا تھا۔ سنتھیا کی آنکھیں بھرنے لگیں۔ بہت ضبط سے اس نے سوال کیا تھا۔

آپ ایڈون کو بلا سکتے ہیں؟ 

کم سن کے لب وا ہوئے۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے کہنے کا ارادہ ترک کیا۔ اور سر ہلا دیا۔۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔ تقریبا ایک بجے ۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔ وہ اکیلی ہی لیٹی تھی۔ یعنی گوارا اور ہوپ خود ہی اٹھ کر ناشتے کیلئے چلی گئ تھیں۔ اب تو دوپہر کا وقت تھا۔ اسے شرمندگی سی ہوئی۔ شائد صبح دیر تک جاگنے کی وجہ سے یوں بے خبری میسر آئی۔ وہ اٹھ کر پہلے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا کر بال لپیٹتی باہر نکل آئی۔ صحن میں دھوپ پھیلی ہوئی تھی تخت پر کچھ سبزیاں سکھانے کی نیت سے سجی تھیں۔ 

وہ ریستوران میں چلی آئی۔ ریستوران میں اس وقت کافی رش تھا۔ میزیں بھری ہوئی تھیں۔ گوارا ادھر سے ادھر آرڈر پہنچا رہی تھی۔ وہ خاموشی سے کچن میں چلی آئی گوارا کی والدہ سوپ بنا رہی تھیں۔ ہوپ برتن دھو رہی تھی۔ 

اس نے جھک کر آننیانگ کہا تو آہجومہ نےخوش ہو کر جواب دیا 

بیٹھو بیٹھو۔ کیا کھائو گی؟ 

وہ اسکی مشکل سمجھ کر ذرا رک رک کر جملہ بولتی تھیں۔ تاکہ وہ سمجھ سکے ساتھ اشارے بھی کرتی تھیں۔

میں بریڈ کھالوں گی اور انڈہ آپ اپنا کام کیجئے۔ 

اس نے سہولت سے انہیں منع کردیا۔ ہوپ نے اسکی جانب سےترجمہ کیا وہ کونے کے چولہے کی طرف بڑھ گئ۔ دو توس سینک کر انڈہ فرائی کیا  اپنا مختصر سا ناشتہ بنا کر جانے لگی 

کافی نہیں پیوگی؟ ہوپ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑگئ 

وہ پینا تو چاہتی تھی مگر زحمت بھی نہیں دینا چاہتی تھی۔ 

میں بنا کر لاتی ہوں۔ ہوپ سمجھ کربولی تو وہ متشکرانہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔

ریستوران میں جگہ گھیرنے کی بجائے وہ باہر صحن میں  آکر تخت کے کونے میں جگہ بنا کر بیٹھ گئ۔ 

آننیانگ اریزہ شا۔ اب ناشتہ کر رہی ہو؟ اب پاکستان کے حساب سے صبح کرتی ہو اپنی؟ 

یون بن نے اپنے مخصوص انداز میں زور دار سلام کرتے ہوئے کہا ۔ وہ اپنے دھیان میں بیٹھی تھی اچھل پڑی۔ پھر خوشگوار حیرت سے ہنگل میں بولی

آننیانگ ؟ تم کب آئے؟ بڑے دنوں بعد ملاقات ہورہی ہے۔ 

واہ۔ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ 

اتنی ہنگل؟ تم یہاں کیا ناشتے میں ہنگل کھاتی ہو کیا؟ 

یون بن نے خاصا محظوظ ہو کر چھیڑا

یہ جملہ وہ مکمل نہیں سمجھ سکی تھی مگر مفہوم کا اندازہ ہوگیا تو مصنوعی کالر کھڑے کرکے بولی۔

ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ دی پاور آف کامن وومن 

اسکے اندر شاہ رخ خان کلبلایا۔ یون بن کی جانے بلا کندھے اچکا کر اسکے برابر آبیٹھا

کبھی انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کیا بھئی تم واقعی سپر گرل ہو۔اب تو ہنگل بھی سیکھ لی کم از کم تم اب آرام سے رہ لینا یہاں بھاگ نہ جاناباقیوں کی طرح۔ یون بن شائد  بات برائے بات کہہ رہا تھا 

 اس نے سر ہلا کر اسے بھی اخلاقا ناشتے کی دعوت کی اس نے سہولت سے منع کردیا۔ پھر یونہی سوال کرنے لگا

اور سنائو؟ گوارا نے گھمایا پھرایا بھی ہے یا بس اپنے باغ کے پھل اتروا رہی ہے تم سے؟

میں نے دراصل باغ دیکھا بھی نہیں۔ جس دن یہ لوگ گئے پھل اتارنے میں نہیں گئ تھی۔

اسے افسوس تھا۔ یون بن نے بغور اسکی شکل دیکھی۔  ناشتہ ختم کرکے اس نے سر اٹھایا تو یون بن کو ایک ٹک دیکھتا پا کر گڑبڑا سی گئ۔ 

کیا ہوا؟ اسے لگا شائد منہ پر کچھ لگا ہوا ہے سو بے ساختہ منہ پر ہاتھ پھیر کر جھاڑا۔ 

آں آنیا۔ وہ بھی کھسیا کر پہلو بدل گیا

تبھئ ایڈون دھیرے سے چلتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔

کیسی ہو اریزہ۔ 

اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہی پرانا انداز۔ دھیما لہجہ۔ مگر وہ پہلے سے ذیادہ کمزور اور سنولا گیا تھا۔ 

ان دونوں کی آخری ملاقات جس تلخی پر ختم ہوئی تھی اسکو جتانا مناسب نہیں لگا تھا لیکن خفگی باقی تھی۔ سو بس سر ہلا کر رہ گئ۔ 

ایڈون کے چہرے پر۔پھیکی سی مسکراہٹ در آئئ۔ 

ناراض ہو۔ اسکا لہجہ لو دیے رہاتھا۔ 

تمہاری ضمانت ہوگئ کب ہوئی؟ 

اسے ناراضگی ظاہر کرنا مناسب نہ لگا۔روکھے سے انداز میں وہ بولی۔ وہ اب پہلے جیسے دوست نہیں رہے تھے پہلے جیسی مروت اب باقی نہیں رہی تھی تو پہلے جیسی بےتکلفی جتا کر روٹھنے منانے کا کیا فائدہ تھا۔ 

ہاں۔ تمہیں نہیں پتہ؟ وہ الٹا اس سے حیران ہو کر سوال کرنے لگا وہ کھسیا سی گئ۔ اس نے تو پلٹ کر پوچھا بھی نہیں تھا۔ 

سنتھیا خود پیش ہو گئ تھئ تھانے۔ ماموں اسے لے گئے تو میری  بھی جان بخشی ہوگئی۔

ایڈون اسکا گریز سمجھ رہا تھا مگرجتانا مناسب نہیں سمجھا تفصیل سے بتادیا

کیا۔ وہ متاسف سی ہوئی پھر خیال آیا تو پوچھ بیٹھی۔ 

سنتھیا کیسی ہے وہ پاکستان چلی گئ؟  

وہ سول میں ہی ہے۔ 

اس نے جیسے ناچاہتے ہوئے جواب دیا۔ وہ دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تو یون بن خاموشی سے موبائل میں لگ گیا۔ 

کیوں؟ اور وہ سول میں ہے تو تم یہاں کیاکر رہے ہو؟ 

اس کا انداز جرح کرنے والا تھا۔ 

کیونکہ میں اب اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ 

ایڈون کا انداز قطعی تھا۔ 

کیا؟ اسے شاک سا لگا تھا۔ 

تم کیسے اس سے سب تعلق ختم کر سکتے ہو وہ وہ تو ۔۔ وہ بولتے جھجک سی گئ۔

وہ پریگننٹ ہے ۔ ایڈون نے اسکا جملہ مکمل کیا جیسے۔

یہ اسکا فیصلہ تھا۔ اس نے مجھ میں اور بچے میں اس بچے کو چنا۔ اب ہمارے راستے الگ ہیں۔

ایڈون تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے؟تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ وہ تمہارا بھی بچہ ہے۔ سنتھیا اکیلی اس سب کی ذمہ دار نہیں ہے۔تمہیں اسکی بالکل فکر کوئی پروا نہیں ہے ایڈون ۔  وہ کیا کرے گی اب؟ بولو؟ 

اسکو اتنا غصہ آیا کہ اٹھ کر اسکے مقابل آکھڑی ہوئی غصے کے مارے اسکی آواز تھرا گئ تھی۔ ایڈون کو اسکے  انتہائی ردعمل کی توقع تھی پھربھی اس وقت تھوڑا بھونچکا سا رہ گیا۔  ۔ یون بن اسکے تیور دیکھ کر گڑبڑا کر خود بھی کھڑا ہو گیا۔ اب اگر دوبارہ دونوں گتھم گتھا ہونے لگیں تو اسے ہی بیچ بچائو کرانا پڑنا تھا۔ ایڈون نے گہری سانس لیکر اپنی صفائی پیش کرنی چاہی۔ 

میں نے اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا وہ میرا ہی بچہ ہے مگر میں اس وقت ان ذمہ داریوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں نے صاف بتا دیا تھا سنتھیا کو۔ اسکی ضد کا نتیجہ ہے کہ ہم آج الگ ہو چکے ہیں۔ ورنہ میں خود اسکو اسپتال لے کر جاتا رہا ہوں۔ اسکی پروا نہ ہوتی تو اس بچے کا باپ ہوں یہ ماننے سے ہی انکار کردیتا۔ 

ایڈون آج کافی رسان سے بات کر رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ غصے سے لال پڑ گیا

کیا ۔۔۔ کیا کہا تم نے دوبارہ بولو۔ 

وہ شائد دوبارہ اس پر ہاتھ اٹھا دیتی۔ یون بن ایکدم سے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام کے پیچھے کرگیا۔ 

ریلیکس اریزہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

وہ انگریزی میں اسے کہہ رہا تھا مگر اسے سنائی بھی نہیں دے رہا تھا۔ اسکی آنکھیں لبا لب پانی سے بھر گئیں۔ 

تم اتنے کمینے نیچ اور گھٹیا انسان ہو سکتے ہو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔تم نے سنتھیا کی زندگی برباد کر دی ہے ایڈون کوئی احساس ہے تمہیں اس بات کا

احساس ہے مجھے۔ ایڈون زچ ہو کر چلا اٹھا۔ 

مگر کیا تمہیں احساس ہے سنتھیا نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ میرا کیریئر میری تعلیم سب برباد ہوگیا ہے اسکی وجہ سے۔ مجھ پر کرمنل کیس ہو چکا ہے یہاں میں نہ واپس جا سکتا ہوں نہ یہاں نوکری کر سکتا ہوں جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ برباد ہوگیا ہوں میں اسکی ضد کی وجہ سے۔ 

کیسی ضد ۔۔ جوابا وہ حلق کے بل چلائی۔ 

وہ تمہاری وجہ سے تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے۔اور تم نے اسے چھوڑدیا ہے اکیلے سب سہنے کیلیئے۔ ان ذمہ د اریوں میں پڑنا نہیں تھا تو اس لڑکی کو اس حد تک لائے کیوں؟ سگی ماموں ذاد ہے اپنے خاندان کی عزت کا ہی خیال کر لیا ہوتا تم نے ایڈون۔ لعنت ہو تم پر۔۔

یون بن کی گرفت میں وہ حقیقتا پھڑپھڑا کر رہ گئ 

اسکا بس نہیں تھا کہ اسکا گریبان پکڑ لیتئ۔

اریزہ calm down کیا ہوا ہے ؟ 

 یون بن کو سمجھ نہیں آرہی تھی دونوں میں بحث کس بات کی چل رہی ہے ایڈون آج اپنے آپے میں تھا مگر اریزہ اس نے احتیاطا اریزہ  کوپیچھے کیا خود ان دونوں کے بیچ آکھڑا ہوا۔

تم لوگ آرام سے بات کرو کیا ہوا ہے۔ 

یون بن ان دونوں کے بیچ کشمکش کا شکار کھڑا تھا۔اسے خوف تھا دونوں ہی ہاتھا پائی پر اتر آئیں گے۔ ایڈون کا چہرہ ایکدم سرخ پڑ گیا تھا۔

لعنت؟ تم مجھ پر لعنت بھیج رہی ہو؟ 

اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ جملہ اریزہ نے اسے کہا

ہاں لعنت ہو تم جیسے کمینے گھٹیا انسان پر چلو بھر پانی لو اور ڈوب مرو تم۔ نا تمہیں اپنی عزت کا پاس ہے نا خاندان کی عزت کی پروا ۔

اس نے چلو کا اشارہ کرتے ہوئے اتنے تنفر سے کہا تھا کہ اسکی بات سے ذیادہ اسکے حقارت بھرے انداز نے اسے جھلسا دیا۔ 

بعد میں بات کرتے ہیں ایڈون۔

یون بن نے اسکا بازو تھام کر اسے وہاں سے کے جانا چاہا۔ 

مجھے خاندان کی عزت کا ہی خیال تھا جو اسے خاموشی سے اس معاملے کو ختم کرنے کا کہہ رہا تھا۔

 ایڈون کو یقین نہیں آرہا تھا اریزہ اسے اتنا برا بھلا بھی کہہ سکتی ہے۔ اسے اپنی صفائی دینی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اریزہ اسے ایک نیچ کمینہ انسان سمجھ کر نفرت کرنے لگ جائے۔ وہ سنتھیا کی بہترین دوست تھی۔ اسکے پیچھے اس سے لڑتے نفرت بھی کر رہی تھی۔ لیکن وہ اسکی نفرت نہیں سہہ سکتا تھا۔ 

اگر اتنا خاندان کی عزت کا خیال تھا تو ایسی نوبت کیوں آنے دی؟ اریزہ یون بن کو ہٹاتے اسکے مقابل آکر تن کر بولی

سنتھیا ہرگز ایسی لڑکی نہیں تھی جیسی تم نے اسے بنا دیا ہے۔ اس نے تمہاری محبت  پانے کیلئے اپنی عزت تک دائو پر لگا دی اور تم نے تم نے کیا کیا اسکے ساتھ ایڈون۔ اسکو اکیلا چھوڑ دیا۔۔ تم بہت نیچ انسان نکلے ہو ایڈون۔ 

بولتے بولتے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔۔ وہ واقعی سنتھیا سے محبت کرتی تھی۔ اس نے سنتھیا کو ایڈون پر جان وارتے دیکھا تھا ان لمحوں کی گواہ تھی وہ جب سنتھیا دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتی تھی اس سے بات کرتے۔ وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ اس وقت سنتھیا پر کیا گزر رہی ہوگی۔  

اور میں۔۔ میں  کیا ہوں تمہاری نظر میں ؟ آوارہ بد کرداربدمعاش انسان؟

ایڈون کو اسکی بات سے صدمہ پہنچا تھا۔ ساری دنیا اسے برا بھلا کہہ لے برا سمجھ لے اتنا دکھ نہ پہنچتا اسے مگر اریزہ نے جیسے اسے کانٹوں پر گھسیٹ لیا تھا۔ 

اریزہ ہم دونوں بالغ انسان ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے اس میں ہماری باہمی رضامندی شامل تھی۔ سنتھیا کے ساتھ جبر نہیں کیا ہے میں نے۔ وہ خود اپنی مرضی سے۔ 

وہ بولتے بولتے رکا۔اریزہ کے سامنے کہہ دینے کی ہمت نہ ہوسکی۔  جھجک اسے جملہ مکمل کرنے سے روک گئ تھی۔ اریزہ چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ وہ چند لمحے رک کر خود پر قابو پا رہا تھا۔

 یون بن احتیاطا اسے تھامے ہی تھا ۔وہ  یون بن کی گرفت سے بازو چھڑاتا اسکے مقابل آکھڑا ہوا۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شہادت کی انگلی کھڑی کرکے جتانے والے انداز میں کہنے لگا۔ 

ورنہ تم گواہ ہو اس بات کی کہ نا میں نظر باز ہوں نہ بدکردار۔

اریزہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

 تمہیں آج بھی اسی  شدت سے چاہنے کے باوجود بھی  تمہارے انکار کے بعد میں تمہاری راہ میں بھی کبھی نہیں آیا ہوں۔ تمہارا مان رکھ کر سنتھیا سے تعلق بھی نبھا رہا تھا میں۔۔ تم  آئیندہ کم از کم مجھ پر یہ الزام کبھی مت لگانا۔۔۔

فرط جزبات سے اسکی آواز کانپ گئ۔ وہ جملہ مکمل نہ کرسکا۔ اریزہ سکتے کی سی حالت میں  اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ ایڈون اسکی نگاہوں کی تاب نہ لا سکا۔ یون بن نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا مگر وہ جھٹکے سے خود کو چھڑاتا تیز قدم اٹھاتا باہر ہی نکل گیا۔ یون بن نے مڑ کر اریزہ کی شکل دیکھی۔ پھر سر جھٹکتا ایڈون کے پیچھے لپکا۔ 

ایڈون کی باتیں اسکے ذہن میں طوفان اٹھا رہی تھیں۔ وہ سائیں سائیں کرتے ذہن کے ساتھ پلٹی اورکمرے میں آکر بیڈ پر گر سی گئ۔ 

آج بھی؟۔ اسکے ذہن میں یہ لفظ اٹک گیا تھا۔ 

یہ کیا جتا گیا تھا ایڈون اسے۔ سنتھیا اسکی طرف سے جبھئ اتنی بدگمان رہتی تھی۔ وہ اتنی محبت کرتی تھی کہ ناممکن تھا کہ اسے احساس نہ ہوپاتا ۔ اسے پتہ نہ لگتا کہ ایڈون کا دل کس لے پر دھڑکتا ہے۔ اسکی ہر بدگمانی جائز تھی۔ اسکی نفرت اس کا عدم تحفظ سب کی وجہ وہ خود تھی۔ پھر سنتھیا اس کے ساتھ جو سلوک کرتی وہ حق پر تھی۔ 

تمہارا مان رکھ کر۔۔۔ 

سنتھیا سے تعلق نبھانے کی وجہ بھی وہی بن گئ تھی ایڈون کیلئے ۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہییے تھا

وہ تکیئے میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی

آئیم سوری سنتھیا۔ سو سوری۔۔ 

وہ بے قراری سے روتے یہی گردان کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستا ہوا چہرہ سوجی آنکھیں۔ گوارا اور ہوپ نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔  ہوپ تو کوئی سوال کیئے بنا آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔  اپنا اٹیچی کھول جانے کیا الٹ پلٹ کرنے لگی گوارا البتہ فکرمندی سے سوال کر رہی تھی۔

تم مجھے لگا تھا سوتی رہی ہو ابھی تک یہاں تو معاملہ رونے کا لگ رہا ہے۔ 

کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی۔اس نے ٹالنا چاہا۔ 

اس نے ابھی منہ دھویا تھا۔ پھر بھی چہرے کا رنگ اڑا ہواہی تھا۔وہ منہ ہاتھ دھو کر بھی واپس بستر پر آکر لیٹ گئ تھی۔ گوارا کو اطمینان دلانے کو اٹھنا پڑا۔ پیر سمیٹ کر بیٹھتے اس نے گوارا کو بھی بستر پر بیٹھنے کی جگہ دی۔ 

یون بن  بتا رہا تھاتمہارے اور ایڈون کے درمیان کچھ گرما گرمی ہوئی ہے؟ خیریت رہی ہے؟ کیا کہہ رہا تھا؟ یون بن یہ بھی بتا رہا تھا کہ وہ پہلے بھی تم سے لڑچکا ہے کیا معاملہ ہے آخر؟ 

گوارا کو فکر ہورہی تھی۔ کبھی ایسی فکریں سنتھیا کیا کرتی تھی اسکی۔اسکی پھر آنکھیں بھرنے لگیں۔ہوپ نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ صبح وہ کافی بنا کر جب لائی تب ایڈون اور وہ بحث میں الجھے تھے اس نے واپس پلٹ جانا چاہا تو یون بن جس طرح ان دونوں کے بیچ آیا اسے لگا شائد اسکی بھی ضرورت پڑ جائے سو رک کر معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اریزہ کا طیش سے سرخ پڑتا چہرہ جب درد میں ڈھل کر آنسوئوں سے تر ہوا تب وہ آگے بڑھی تھی اسے دلاسہ دینے کو مگر اریزہ نے دیکھا ہی نہیں اسکی طرف وہ اسکے پیچھے کمرے تک آئی ۔ اریزہ کو روتے دیکھا تو پھر خاموشی سے پلٹ گئ۔ ابھی بھی اسے یہی بہتر لگا کہ گوارا کی۔توجہ ہٹائی جائے۔

اریزہ آج گوارا نے پارٹی رکھی ہے تم نے کچھ لینا ہے؟ میں بازار جا رہی ہوں میرے ساتھ چل سکتی ہو۔

ہوپ نے مڑ کرپوچھا۔۔گوارا نے ہونٹ بھینچ کر اسے گھورا مگر وہ بے نیازی سے اریزہ سے مخاطب تھی۔ اریزہ سنبھل کر بولی

مجھے تو کچھ نہیں لینا۔ اگر تم دوسراہٹ کے لیئے مجھے لے جانا چاہو تو میں چلتی ہوں۔ 

اسکا انداد سادہ سا تھا مگر ہوپ ہنس پڑی

دوسراہٹ؟ ( کمپنی) میں تنہا رہنے کی عادی ہوں یہ سب چونچلے مجھے درکار نہیں ہوتے۔ میں اکیلی جا کر بھی لا سکتی ہوں۔ 

وہ کافی بدل گئ تھی ۔ لیکن اندر کی کڑواہٹ جاتے جاتے ہی جاتی۔ اس وقت بلا ارادہ ہی انداز طنزیہ ہوگیا تھا اسکا۔اریزہ نے محسوس تو کیا مگر ٹوکا نہیں۔

اگر تم کہو تو میں یون بن سے کہتی ہوں ایڈون پارٹی میں نہیں آسکتا۔ 

گوارا نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹل انداز میں کہا۔ اریزہ ہنس دی۔ 

ہم بچے تھوڑی ہیں۔ ویسے بھی کرسمس پارٹی میں میرا کیا کام نہ میں نے ڈانس کرنا ہے نا ہی ڈرنک۔ تم ہماری دوستی کی وجہ سے یون بن اور ایڈون کی دوستی خراب نہ کرو۔ 

اریزہ کے سبھائو سے کہنے پر وہ سر ہلا کر چپ کر گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ کے ساتھ قریبی بازار وہ لگ کے ساتھ آئی تھی۔ گوارا اسکی جانب سے کچھ ذیادہ ہی فکر مند تھی۔اسے اطمینان دلانے وہ بظاہر شوق سے بازار آئی ۔ یہاں کی رونق دیکھ کر کچھ مزاج بہتر بھئ ہو گیا۔ 

ہوپ کو کرسمس ٹری کی سجاوٹ کی چیزیں لینی تھیں۔ کچھ گوارا کے بہن بھائیوں کیلئے اس نے تحفے لیئے۔ اسے تو بچوں کی شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہوپ ہر جگہ خود ہی اپنی پسند سے چیزیں خریدتی رہی۔ اسے حقیقتا کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک دو جگہ چھوٹے موٹے مشورے ہی دے پائی۔ جیسے ایک جگہ اسے بڑے قمقمے خریدتے دیکھ کر ٹوکا 

گوارا کے ریستوران کے کونے میں کھڑے کرسمس ٹری کے حساب سے یہ کافی بڑے قمقمے نہیں ہیں؟ 

کرسمس ٹری کیلئے میں نے گوارا کے بھائی سے کہا ہے بڑی شاخیں کاٹ کر لائے چھوٹا سا نہیں چاہییے مجھے۔آج شام گوارا باربی کیو پارٹی کر رہی ہے اپنے دالان میں وہیں سجائیں گے ایک بڑا سا کرسمس ٹری۔ 

ہوپ نے بتایا تو وہ سر ہلا کر رہ گئ۔ یہ نئی اطلاع تھی اسکے لیئے بھی۔

 باربی کیو یقینا گوشت کا ہونا تھا۔بیف چکن یا پورک وہ تو کچھ بھی کھا نہیں سکتی۔۔  اسے اپنے لیئے رات کے کھانے کا کچھ انتظام کرنا چاہیئے۔وہ بھی کسی قسم کا علی کا احسان لیئے بغیر۔ میں کچھ ذیادہ ہی علی پر انحصار کرتی جا رہی ہوں علی کیا سوچتا ہوگا میرے بارے میں ۔ 

 وہ یہی سوچ رہی تھی ہوپ ادائیگی کرکے آگے بھی بڑھنے لگی تب اریزہ پر نگاہ پڑی۔ وہ وہیں کھڑی ایک چھوٹے سے ستارے کو تھامے تھی۔ اس نے اریزہ کو سوچ میں گم دیکھا توپلٹ کر آئی ٹہوکا دے کر بولی

چلو اب یہاں نہ کھو جانا ہیون بے چارے کی ابھی  پچھلے سفر کی تھکن نہیں اتری ہوگی اسے کسی نئ تلاش میں مبتلا نہ کردینا۔۔ 

ہلکے پھلکے انداز میں ہوپ اسے چھیڑ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہ آیا۔

مطلب؟ ہیون کا کیا ذکر؟ 

کیا مطلب؟ بھئ رات کو جیسے ہی موسم بہتر ہوا وہ بنا رکے ڈرائیو کرکے یہاں پہنچا تھا اتنا پریشان تھا تمہارے لیئے جب تک دیکھا نہیں اسے چین نہیں آیا بخار ہو رہا تھااسے پھر سو بھی نہیں رہا تھا۔ گوارا نے زبردستی پلز دے کر سلایا اسے ۔ ابھی سو ہی رہا تھا وہ۔ 

ہوپ بتا رہی تھی اس نے ہوپ کا بازو تھام لیا

کیا؟ ہیون سول سے یہاں آیا؟ کب ؟  کل تو سول میں موسم کافی خراب تھا نا۔

ہاں جبھی تو کافی دیر لگ گی اسے ۔ یون بن پہلے پہنچ گیا تھا وہ بعد میں پہنچا۔ وہ سرسری انداز میں بتا رہی تھی سامنے تبوکی کے اسٹال پرنظر پڑی تو بات بدل کر اس سے پوچھنے لگی۔

تم تبوکی کھائوگئ؟ 

اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔

میں تو کھائوں گی۔ 

وہ شاپروں کا ڈھیر اکیلے اٹھا کر اسٹال کی طرف بڑھ گئ۔ اسکے پیچھے قدم بڑھاتے وہ الجھ رہی تھی۔ 

وہ خواب ہی تھا یا۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو گوارا اریزہ کے بیڈ کی جانب غالبا اسےاٹھانے کیلئے بڑھ رہی تھی۔ 

صبح تو سوئی ہے اسے سونے دو۔ ہوپ نے آواز دبا کر بولتے ہوئے روکا۔ 

اس نے جانے رات کو کھانا کھایا ہے یا نہیں اب اتنی دیر ہو گئ ہے اسکی طبیعت نہ خراب ہو جائے؟ 

گوارا کو فکر ہو رہی تھی۔ 

اسے اس وقت سکون کی ذیادہ ضرورت ہے بھوک لگے گی تو اٹھ جائے گی۔ 

ہوپ کی بات اسکی سمجھ میں آگئ سو سر ہلاتی اسکے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کرتی باہر نکل آئی۔ باہر چمکیلی دھوپ نکل رہی تھی۔ وہ دونوں باتیں کرتی ناشتہ لیکرباہر تخت نما چبوترے پر ہی چلی آئیں۔ نرم گرم دھوپ میں بیٹھ کر ناشتے کا اپنا مزا تھا۔ داخلی دروازے سے یون بن اور ایڈون ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔ ہوپ کا رخ اسی جانب تھا اسے دیکھ کر یون بن نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہ جانے کا اشارہ کیا۔ اسکا ارادہ بولنے کا تھا بھئ نہیں۔ سر جھٹک کر نوالہ منہ میں رکھ لیا۔ اپنا بیگ وہیں ڈیوڑھی میں چھوڑتا  

یون بن دبے قدموں آگے بڑھا اسکا ارادہ گوارا کو چونکانے کا تھا۔ ایڈون نے اسکی بچکانہ حرکت پر سر جھٹک کر اسکا بیگ بھی اٹھا لیا۔ یون بن نے ایکدم پیچھے سے آکر گوارا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ 

تمہارے سوا کون ہو سکتا ہے ایسے بچکانہ پرینک سوچنے والا۔ 

گوارا ذرا حیران نہ ہوئی۔مزے سے بولی وہ گہری سانس لیکر انکے برابر آن بیٹھا

آننیانگ ہوپ کیسی ہو؟

اس نے مروتا پوچھا تھا جوابا اس نے مروتا بس مسکرا کر سر ہلانے پر اکتفا کیا۔فی الحال اسکے نزدیک سب سے اہم ناشتہ تھا۔ سو یون بن دوبارہ متوجہ ہوا گوارا کی جانب۔

مجال ہے جو تم کبھی کسی بات پر حیران ہو جائو گوارا چلو نہ سہی۔اتنے دنوں بعد بوائے فرینڈ کو دیکھ کر خوش ہی دکھائی دینے کی اداکاری کر لو  

اس نے بے چارگی سے کہا۔

تمہیں دیکھ کر خوشی کا کیا سوال اورحیران کس بات پر ہوں؟ وہ الٹا حیران ہو کر بولی

کل میسج کرکے بتا تو دیا تھا تم نے کہ پہنچ کر پہلے اپنے چچا کے گھر جائوگےاور آج آئوگے۔ ساتھ ایڈون بھئ ہے۔ اسے خیال آیا۔ 

ایڈون کہاں ہے؟اسکے پوچھنے پریون بن نے اشارہ کیا۔ ایڈون نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ ہلکا سا سر جھکا کر بولا۔ 

اسلام و علیکم ۔۔پھر خیال آیا توسٹپٹا کر آننیانگ ہاسے او کہا۔

ہائے۔ گوارا نے خیر مقدمی مسکراہٹ سجائی پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

آئو یہاں بیٹھو میں اندر ناشتے کا کہہ آتی ہوں۔ 

وہ اچھی میزبانی نبھارہی تھی۔ 

کوئی جلدی نہیں ہے۔ آپ آرام سے پہلے ناشتہ کر لیں۔ ہم ویسے بھی پہلے فریش ہونا چاہیں گے۔ کافی مشکل سفر رہا ہےہمارا۔

ہیں تم لوگ اب پہنچے ہو؟ گوارا یون بن کی جانب مڑی۔

یون بن نے گھو رکر دیکھا۔ پھر منہ بنا کر بولا

پتہ ہے کل موسم خراب تھا۔ تمہاری وجہ سے کل  میں نکل آیا  انہوں نے راستے بند کر دیئے تھے۔گھنٹوں سڑک پر گزارنے پڑے  تمہاری وجہ سے بھاگم بھاگ پہنچا ہوں یہاں ورنہ آرام سے اپنے کمرے میں کمبل تان کے سورہا ہوتا میں۔ 

ان دونوں کے لو برڈز والے ان جھگڑوں پر ہوپ صرف بیزار سی بیٹھی۔ سر تھام سکتی تھی سو ایک ہاتھ سے پیشانی تھامے خاموشی سے کھا رہی تھی۔ 

ہاں تو کس نے کہا تھا آخری دن تک ٹالو پہلے آجاتے نا۔ ایسے کیسے؟ گوارا چمک کر بولی۔ ہ

ہمیشہ ہم سب  اکٹھے کرسمس مناتے آج پارٹی کرتے تم نے تو آج پہنچنا ہی تھا نہیں تو میں نے سیول پہنچ کر کان سے پکڑ کر تمہیں لانا تھا۔

بولتے بولتے اس نے سچ مچ کان سے پکڑ لیا تھا۔

ارے کان تو چھوڑو۔ 

وہ بلبلا کر کان چھڑانے لگا۔ 

پہلے ایڈون کو کمرے تک لیکر جائو میرا ناشتہ مت کھائو۔ گوارا کے حکمیہ انداز پر یون بن کو اٹھنا پڑا۔ 

باقی سب آرہے ہیں۔؟ ہیون ، کم سن ، جی ہائے۔ 

وہ روانی میں پوچھتا خود ہی چپ ہوگیا۔

جی ہائے تو مجھےبلاک کر چکی ہے کم سن تو نہیں آرہا اس نے معزرت کر لی ہے ہیون اس وقت شائد اسی کے ساتھ ہوگا۔۔

گوارا نے تفصیلا بتایا۔وہ سر ہلاتے آگے بڑھ کر ایڈون کے ساتھ سامان اٹھانے لگا۔تبھئ  ہوپ کی دروازے پر نگاہ گئ۔ 

ہیون تو یہ رہا۔ اسکے کہنے پر گوارا اور یون بن دونوں نے گردن گھما کر دیکھا۔گوارا بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

۔ بکھرے بال چہرے پر تھکن سے ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ ملگجے کپڑے وہ خاصا پریشان حال دکھائی دے رہا تھا۔ ایڈون نے خاصی حیرت سے اسکا حلیہ دیکھا۔ وہ تو ہمیشہ نک سک سے درست تیار رہتا تھا۔ 

یون بن اور گوارا اسکی جانب پریشان ہو کر بڑھے

ہیون؟ تم ٹھیک تو ہو؟

ہاں ۔ ڈرائیو کرکے آیا ہوں اس لیئے تھکا تھکا لگ رہا ہوں۔ 

وہ زبردستی مسکرا کر تسلی دینے والے انداز میں بولا۔

راستے تو بند کر دیئے تھے انہوں نے؟ 

یون بن نے اسکی پیشانی چھوئی پر حدت ہو رہی تھی۔ 

ہاں تھوڑا انتظار کرنا پڑا۔ 

اس نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر الگ کیا۔ 

اریزہ کیسی ہے؟ اسکے بے تابی بھرے سوال میں اسکی یہاں موسم کی ترشی کے باوجود پہنچ جانے کی وجہ پنہاں تھی۔ گوارا اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ ایڈون نے گہری نگاہ سے اسکا جائزہ لیا۔ 

وہ ٹھیک ہے ۔ رات کو خیریت کی اطلاع دے تو دی تھی ہم نے۔ 

گوارا نے جانے کیا جتانا چاہا تھا وہ انجان تھا۔ 

میں مل لوں؟

اس نے پوچھا۔ 

ہاں اسے جگا دینا آکر باہر ناشتہ کر لے ہمارے ساتھ۔ 

جواب گوارا کی بجائے ہوپ نے اونچی آواز میں دیا تھا۔ ہیون نے اسکی موجودگی محسوس ہی اب کی تھی۔ سر کے اشارے سے اسے سلام کرکے وہ اجازت طلب نگاہوں سے گوارا کو دیکھ رہا تھا۔ 

جائو ۔ وہ کمرے کی۔جانب اشارہ کرتی ایک طرف ہو گئ۔ ہیون تیز قدم اٹھاتا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ 

تمہارے پاس بخار کی دوا ہوگی؟ 

یون بن پوچھ رہا تھا۔گوارا نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ 

ایڈون اپنی جگہ کھڑا ہیون کو اندر جاتے دیکھ رہا تھا۔ 

چلو۔ یون بن کو اسے باقائدہ چٹکی بجا کرمتوجہ کرنا پڑا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ کسمسائی تھی مگر شائد نیند نہیں ٹوٹی تھی اسکی۔ وہ دبے قدموں اسکے بیڈ کے پاس آیا تو احساس ہوا وہ خواب میں شائد ڈر رہی تھی۔ بازو موڑے داہنے ہاتھ کی مٹھی گال پر جمائے وہ سو رہی تھی۔مگر اسکا جسم دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔ پیشانی پر تفکر کی گہری لکیر تھی۔ کسی ڈرائونے خواب کے زیر اثر تھی شائد وہ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکو جگانا چاہا تھا تو اسکی آنکھ کھل گئ تھی۔ نیند بھری خمار آلود نگاہوں سے اس نے دیکھا تھا۔ پیشانی سے تفکر کی گہری لکیر مدھم پڑ رہی تھی۔ 

اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اسکا کندھا تھپکا

کین ۔۔ وہ کین چھنا کہتے کہتے رکا۔ پھر دھیرے سے بولا

سب ٹھیک ہے۔ اریزہ۔۔

اسکے الفاظ میں جانے کیا جادوئی اثر تھا اس نے جیسے سچ مچ مطمئن ہو کر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرسمس ٹری سج کر بے تحاشا خوبصورت لگ رہا تھا۔ گوارا اور ہوپ نے بہت دل سے سجایا تھا۔شام ہوتے ہی انہوں نے دعوت کا انتظام کرنا شروع کردیا تھا۔ عارضئ ٹینٹ کی مدد سے پورا صحن ڈھکا تھا۔ باربی کیو کا کافی بڑا انتظام تھا جس سے موسم کی ترشی کم محسوس ہو رہی تھی۔ گوارا کا بھائی ، یون بن اور دو تین لڑکے باربی کیو کرنے کا بار اٹھائے تھے۔ فضا میں گوشت بھننے کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ گائوں میں سب جلدی سو جاتے سو رات گئے کا انتظار نہیں کیا گیا تھا۔ گوارا کے عزیز رشتے دار دوست احباب کی بڑی تعداد مدعو تھی۔سب شام سے آنا شروع ہو گئے تھے۔ ریستوران کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ خوش گپیوں کی آوازوں کے ساتھ سوجو اور بئیر کھلنے کی بھی آوازیں آرہی تھیں۔  بچوں کو ٹھنڈ کئ وجہ سے ریستوران کے اندر ہی رکھا ہوا تھا۔ خواتین بزرگ بھی اندر ہی تھے جبکہ نوجوان سب صحن میں جمع تھے۔ بی ٹی ایس بلیک پنک کے گانے لگے ہوئے تھے۔ گوارا نے اپنی بچپن کی سہیلیوں سے بڑے شوق سے ہوپ اور اسے ملوایا تھا۔ 

جی ہائے نہیں آئی؟ 

ان میں سے ایک نے غور سے ان دونوں کو دیکھ کر گوارا سے پوچھا تھا۔ 

آں۔ وہ مصروف تھئ۔ گوارا بات بنا گئ۔ 

جی ہائے کی ناراضئ کی وجہ اس وقت بلا وجہ دوبارہ شرمندگی محسوس کرکے گھٹنوں میں منہ دینے کو تیار بیٹھی تھی۔

ہوپ نے ٹہوکا دیا تو وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی اس نے مسکرا کر نگاہوں سے سامنے دیکھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا۔۔ ہوپ اسکے گردن گھماتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون کا گوشی وون بند تھا۔ اس نے انتظامیہ سے پتہ کیا تو انہوں نے بتایا وہ کرسمس منانے شہر سے باہر گیا ہے۔ اس نے واپس کب آنا تھا  اسکی خبر نہیں تھی۔ وہ شکریہ ادا کرکے باہر نکل آیا۔ کل کی شدید برفباری کےبعد آج بھی موسم ابر آلود ہی تھا۔ وہ اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تو دفتر سے پی اے کی کال آگئ ضروری ملاقات طے تھی ایک دو جگہ اسکے ضروری دستخط درکار تھے۔ اسکے کئی گھنٹے اسی میں لگے۔ شام کو جا کر وہ فارغ ہوا۔ کل کرسمس کی چھٹی تھی۔ اس نے سب کو گھر بھیج دیا۔ خود اس وقت اپارٹمنٹ میں جا کر اکیلے بیٹھنے کا دل نہیں تھا سو گنگنم چلا آیا۔ سڑک کنارے کئی میوزیکل پروگرام ہو رہے تھے ۔ پوری سڑک دلہن کی طرح سجی تھی۔ کھانے پینے کے ٹھیلے لوگوں کے رش کی وجہ سے کم پڑ رہے تھے۔ کہیں سینٹا کے لباس میں لوگ بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے تو کہیں نئے نویلے جوڑے بانہوں میں بانہیں ڈالیں خوش باش گھوم پھر رہے تھے۔ وہ یونہی ایک نو آموز گلوکار بینڈ کی کارکردگی دیکھنے بیٹھ گیا۔ 

سڑک کنارے کسی بھی بڑے سیٹ اپ کے بنا بھی وہ کرسمس کا مزا دوبالا کر رہے تھے۔ کرسمس کی آرائش کے طور پر انہوں نے اپنے بینڈ کے ہر موسیقی کے آلے کے ساتھ جل بجھ کرتے قمقمے لگا رکھے تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈیڑھ دو فٹ کا کرسمس ٹری بھی خوب قمقموں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے سجا رکھا تھا۔ اسکی نگاہ کو کھینچ گیا ایک ایک چھوٹا سا ننھا فرشتہ  جو کرسمس ٹری میں پر پھیلائے جھول رہا تھا۔ ان لڑکوں کی اپنی تیاری بھی پوری تھی۔ سردی کے لحاظ سے کالےجیکٹ گرم ٹوپی لانبےجوتے پہن رکھے تھے۔ کانوں میں آویزے لٹکائے خوش شکل لڑکے لوگ جوق در جوق جمع ہو رہے تھے۔ مفت کا کانسرٹ دیکھنے۔ہاں کچھ  لوگ ایک کونے میں رکھے انکے آر پار دکھائی دینے والے باکس میں حسب منشاء پیسے ڈال رہے تھے۔ وہ بھی اتنے ہو چکے تھے کہ ڈبہ بھرنے کو تھا۔ وہ کافی مشہور معلوم ہو تے تھےایک مکمل راک بینڈ جو ذرا سا اگر موقع مل جاتا تو شائد کورین پاپ انڈسٹری کا ایک اچھا اضافہ ثابت ہوتے۔ انکا تو اپنا گانا بھی تھا۔ 

زندگی اے میری زندگی

 تو ہی بتا کہ اب کروں میں  کیا

اب تو جی گیا جیسے بھی جیا

 اب جو جی چکا تو مروں میں کیا 

میری آرزو ہوئی پوری مگر 

پھر بھی خوش نہیں میرا دل ہوا

سن اے زندگی میرے پاس آ

مجھے گلے لگا۔۔ 

میں ہوں تھک چکا۔۔۔۔ 

گلوکار نے بہت لمبا کھینچا تھا اس جملے کو۔ 

تبھئ گٹار بجانا چھوڑ کر اسکا ساتھی آگے بڑھا اور ریپ شروع کردیا۔ گلوکار کا کام اب موسیقی کی لے برقرار رکھنا تھا۔ اب ریپرتیز تیز مگر مکمل جملے کہتا وہ اب زندگی کے مکالمے بول رہا تھا۔ زندگی خفا تھی اسکی ناشکری پر اور ڈانٹتے ہوئے بول رہی تھی۔ 

آہاں میں زندگی۔۔۔ 

سن رہی ہوں یہیں کھڑی

تیرے الم تیری بکا

اب سن میرا جواب آ

اے تھکے ہوئے انسان تو

یہاں تھا چار دن کا مہمان تو

چند سکوں کی تجھے تلاش تھئ

جن رشتوں کی تجھے آس تھی

اب میں پوچھتا ہوں تجھ سے اگر

وہی موڑ ہے یہ اور وہی ڈگر

سب  یہاں ہی تھا تو پھر بتا کیوں کہاں گیا

تو نےپایا جوتگ و دو سےوہ ہے جہاں کیا۔۔ 

تجھے آرزو تھی کہ بہت مال ہو

تیری شہرتوں کونہ زوال ہو

تجھے مل جائے بس ایک شخص

چاہے اسکو تیرا نہ خیال ہو

اب جو پا گیا تو سب کچھ یہیں

اب تو سوچ رہا  ہے کہ کہیں

تو نے مانگا ہی خسارہ تھا

تونےاپنا دل جس پر وارا تھا

تو نے صدقہ جسکا اتارا تھا

تیری آہوں پر تجھے جو بخش دیا

تیری دعا کے بدلے جو شخص دیا

اس نےبھی کبھی

 دل سے کسی کو پکارا تھا

وہ نام مگر

 نہ تمہارا تھا۔۔۔۔

کرسمس نائٹ پر اداس گانا بھی خوش ہو کر سن رہے تھے۔گانے والی کی آواز بھی بہت میٹھی تھی اور سر بھی اچھے اٹھا رہا تھا۔ وہ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انہیں سنتا رہا۔۔ سردی بڑھ رہی تھی اور لوگوں کا جوش و خروش بھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی فاصلے پر وہ کسی دوست کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ منٹ گرین ہائی نیک بلیک جینزمیں  وہ سب میں نمایاں دکھائی دے رہاتھا۔ اسکے چہرے پر پڑنے والی روشنی اسکی بے تحاشہ صاف رنگت میں زردی گھول رہی تھی یا وہ اسے ویسے ہی ذرا سا کمزور لگا۔بلا ارادہ وہ اسے دیکھ رہی تھی جب باتیں کرتے اس نے رخ بدل کر اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس نے گڑبڑا کر نگاہوں کا رخ ہوپ کی جانب بدلا وہ پتہ نہیں کب اٹھ کے جا چکی تھی۔ اس نے حیرت سے اپنے برابر خالی کرسی کو دیکھا۔  

کیسی ہو

۔ہیون اسکے متوجہ ہوتے ہی وہ اپنے ساتھ کھڑے لڑکے سے معزرت کرتے سیدھا اسی کے پاس آیا تھا۔

ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟بخار ہوا وا تھا اب کیسی طبیعت ہے۔۔

 اسکی آنکھوں میں دیکھنا اسکے لیئے آج کل مشکل ہوا وا تھا۔ اس وقت تو سرخ بھی ہو رہی تھیں۔ وہ بولتے بولتے نگاہ چرا بھی گئ۔

اب بہتر ہوں۔ بخارنہیں ہے اب۔ 

اس نے سادہ سے انداز میں جواب دیا۔ مگر نگاہیں اس پر بھٹک سی گئیں۔ 

تھائینیے۔ اریزہ نے دھیرے سے کہا۔ 

گرے وولن میکسی میں اسکا رنگ دمک رہا تھا۔ اس نے گرےاور بلیک ہی وولن اسکارف گردن میں ڈال رکھا تھا۔ یہ میکسی اس نے گوارا کے ہمراہ سول میں لی تھی۔ گوارا نے اسی طرح کی گہری نیلی اور ہوپ نے میرون پہن رکھی تھی۔ تینوں کی ایک جیسی لک تھی۔ تینوں نے بال کھول رکھے تھے۔ وہ بہت غور سے اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔ اس کے رخسار تپنا شروع ہو گئے تھے۔ 

تم کمزور لگ رہی ہو۔ کھاپی نہیں رہیں ڈھنگ سے؟ 

اسکا انداز اپنائیت بھرا تھا۔ شائد کوئی خوش فہم اندازہ لگانے پر دل مائل تھا۔

ارے نہیں۔ بہت کھا رہی ہوں۔ بس کل ڈر گئ تھی شائد اسلیئے۔ ویسے۔ کل تم نے میری مدد کی اسکے لیئے دل سے شکریہ۔ میں تو شائد وہیں سڑک پر ہی بیٹھی رہ جاتی۔  وہ پورے خلوص سے  اور محسوس کی جانے والہ اجنبیت سےاسکا شکریہ ادا کررہی تھی۔ 

ہیون کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ ماند پڑگئ۔

جوابا کچھ بول ہی نہ سکا۔اریزہ اٹھنے کا بہانہ سوچنے لگی۔ 

آئی مس یو اریزہ۔ ڈڈ یو مس می؟

( میں نے تمہیں یاد کیا اریزہ، تم بھی مجھے یاد کیا؟)

اس نے صاف کہا تھا۔

اریزہ واضح طور پر چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی ۔ اسکا انداز سادہ نہیں تھا۔ اسکا لہجہ یاسیت بھرا تھا۔ چہرے پر امید سی تھی کہ وہ جواب میں شائد کہے گی۔ ہاں بہت ذیادہ۔ تم سے بھی ذیادہ۔اریزہ جز بز سی ہوگئ۔ اگر اسے ایڈون کی آنکھوں میں اپنے لیئے جگنو دمکتے محسوس ہوتے تھے تو اس وقت ہیون کی آنکھیں میں دیئے جلتے نظر آرہے تھے۔

میں نے تو بہت یاد کیا ۔۔بہت ذیادہ۔ کاش تم بھی۔  

وہ کہہ کر چند لمحے اسکے جواب کا منتظر رہا۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا کیا جواب دے۔ اس کو اسکی باتوں کو اسکی دوستی کو اس نے واقعی یاد کیا اسکے ساتھ اچھی یادیں وابستہ تھیں مگر اگر وہ جواب میں صرف مس یو ٹو بھی کہہ دیتی تو شائد وہ اسے کچھ اور معنوں میں لیتا۔ وہ جملہ ترتیب کرتی رہ گئی وہ مایوس ہو کر چلا ہی گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اکیلی ہی بیٹھی تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سول میں کرسمس کی شروعات ہو چکی تھیں۔ نرس نے دوپہر میں کھڑکی کے پردے ہٹائے تھے اس وقت کھڑکی سے پوری آتش بازئ دکھائی دی تو دل اور اداس ہوگیا۔  یہ اسکی بائیس سالہ زندگی کی پہلی کرسمس تھی جس میں نہ اریزہ پاس تھی نا ایڈون۔ وہ آج اریزہ کو یاد کر رہی تھی۔ اسکے ساتھ بیتے پل ریل کی طرح نگاہوں میں گھومے تو کتنے ہی آنسو گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ نرس نے اندر آتے تاسف سے اسے دیکھا۔پھر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بڑے خلوص سے اسے آکر مبارک باد دی۔ رات کی دوائیں دیں۔ کیک کا ایک پیس وہ بطور خاص اپنی مریضہ کیلئے لائی تھی۔ 

اسکے خلوص سے سنتھیا کا دل بھر آیا تھا۔ 

آج کا دن رونے کا نہیں دعا کرنے کا ہے۔ اپنے لیئے اپنے بچے کیلئے دعا کرو کہ  جب وہ دنیا میں آئے تو تندرست ہو یسوع مسیح کا سچا پیروکار بنے۔ اولاد جیسا خوبصورت تحفہ مل رہا ہےتم تو جتنا شکر ادا کرو کم ہے سنتھیا۔ یہ آخری کرسمس ہوگی تمہاری تنہا۔ اگلی کرسمس پر تو تم اسکے پیچھے بھاگ رہی ہوگی۔ 

اسکی پلکوں سے آنسو چنتے نرس نے ہلکے پھلکے انداز میں اسے ٹوکا مستقبل کی روشن جھلک دکھائی۔ کتنی نئی امیدیں تھما دیں۔

وہ بہل بھی گئ۔ چند مہینے گزریں گے جیتا جاگتا ننھا وجود اسکی بانہوں میں ہوگا۔ایڈون جتنا بھی سخت دل بنتا ہو جب اپنی اولاد کو اپنی گود میں لے گا تو یقینا پگھل جائے گا۔ اسے تو بچے پسند ہوا کرتے تھے۔ یہ سوچ اسکو لمحوں کیلئے سہی ہر فکر سے آزاد کر گئ۔ ایک مسکراہٹ بھئ بھولے بھٹکے ہونٹوں پر در آئی۔ 

نرس نے محبت سے اسکو دیکھا۔

اب اچھا اچھا سوچو اور سونے کی کوشش کرو۔ 

گڈ نائیٹ۔ وہ کہہ کر جانے لگی جب دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھلا۔نووارد کو دیکھ کر وہ مسکرا کر اس سے مخاطب ہوئی۔

لو آگیا تمہارا بوائے فرینڈ تم ناحق اداس ہو رہی تھیں۔

نرس کی بات پر اس نے بےتابی سے مڑ کر دیکھا۔ تو کم سن ایڈون کو سچ مچ لے آیا۔ایڈون مان گیا آخر۔ اس کے خوش فہم دل نے کیا کیا نہ سوچ لیا۔ اسکی ساری خوش پل میں ہی خاک ہوئی۔ چہرے پر یکدم سایہ لہرا گیا۔

یہ کم سن تھا۔ بڑا سا شاپر تھامے ۔

کم سن جو نرس کی غلط فہمی پر کچھ کہنے ہی والا تھا سنتھیا کے چہرے کو پل میں لو دیتے پل میں تاریک پڑتے دیکھ کر اپنی جگہ مجرم سا بن گیا۔ 

میں یہی سوچ رہی تھی روزانہ باقائدگی سے آتے ہو اور کرسمس پر غائب ہو پتہ ہے سنتھیا اداس ہو گئ تھئ۔ تمہارا فرض ہے اب اسکو خوش کرکے جائو۔ 

خوشدلی سے کہتی نرس جواب کا انتظار کیئے بنا باہر نکل گئ تو وہ دروازہ احتیاط سے بند کرتا سنتھیا کے پاس چلا آیا

میری کرسمس۔ 

اس نے شاپر اسکی جانب بڑھایا۔ 

میری کرسمس۔ وہ بمشکل جواب دے پائی۔ مایوسی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ وہ شاپر کی جانب ہاتھ بڑھا ہی نہ سکی۔ کم سن نے خود ہی شاپر میں سے دو بالشت بھر کا چھوٹا سا کرسمس ٹری نکالا۔ 

ہم کرسمس منانے باہر تو جا نہیں سکتے کرسمس  ہی سوچا اندر لے آئوں۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا تھا۔  صوفے کے پاس سے اسٹول اٹھا کر کھڑکی کے پاس رکھا  کرسمس ٹری اسی پر ٹکا دیا۔ ایک چھوٹی سی بیٹری لگی تھی اس نے بٹن دبایا تو کرسمس ٹری جگمگا اٹھا۔ اور اسکے بیچ میں ہوا میں معلق ننھے فرشتے نے پر پھیلائے اور ہلکی سی اڑان بھی بھر لی۔

اتنا پیارا منظر تھا کہ سنتھیا بے ساختہ مسکرا دی۔ کم سن بے ساختہ زیر لب تھائی نیئے کہہ گیا۔پھر باقی شاپر اسکی جانب بڑھادیا۔ 

چھوٹا سا سہی کرسمس کیک بھی ہے اور گفٹ بھی ۔ 

سنتھیا نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ بالشت بھر کے دو عدد ڈبے تھے۔ اس نے تحفہ ایک جانب رکھ کر کیک کھولا۔ کیک واقعی چھوٹا سا تھا۔ کپ کیک۔ اسے ہنسی آگئ۔ 

کم سن نے پھلوں کی ٹوکری سے چھری اٹھا کر اسے تھمائی۔ 

چلو دعا مانگیں۔ سینے پر کراس بنا کر ایک ہاتھ کی مٹھی بنائئ دوسرے ہاتھ سے تھاما آنکھیں بند کرکے باقائدہ دعا بھی مانگی۔ سنتھیا اسے دیکھے جا رہی تھی تو آنکھیں کھول کر اسے آنکھوں سے ہی اپنی تقلید کرنے کا اشارہ کیا۔ سنتھیا نے بھی دعا کا انداز بنا لیا مگر دل بالکل خالی سا تھا کوئی دعا ذہن میں ٹھہر ہی نہ رہی تھی۔ 

چلو کاٹو کیک۔ کم سن کے کہنے پر اس نے آنکھیں کھولیں۔ منے سے کیک کو احتیاط سے چٹکی میں پکڑ کر کاٹا ایک ٹکڑا کیا۔ اسکی جانب بڑھایا جسے اس نے خوشدلی سے تھام کر منہ میں ڈال لیا۔ 

شکریہ۔ اس نے آگے بڑھ کر اگلا ٹکڑا خود اٹھا کر سنتھیا کی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولنے کی بجائے تھام کر ہلکا سا چکھا۔ 

ایڈون نے آنے سے انکار کردیا نا؟

اسےہر برے کی امید تھی۔

ایڈون کرسمس منانے دوسرے شہر گیا ہوا ہے۔ یون بن کے ساتھ۔ گوارا کے گائوں میں۔ 

اس نے سرسری سے انداز میں اطلاع دی۔پھر اضافہ کیا

اریزہ ہیون سب وہیں ہیں۔ 

تو میں سیول میں اکیلی ہوں۔ 

وہ ذرا سا ہنسی۔ پھر خیال آیا تو اگلا سوال بھی کرڈالا

میں تو یہاں اکیلی ہوں لیکن تم اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کیوں نہیں ہو کرسمس کے موقعے پر۔

سنتھیا نے بنا تمہید سوال کیا تھا۔کم سن کو اچھو سا ہوا۔ اس سوال کی کم از کم اس وقت اسے امید نہ تھی۔ 

سنتھیا جواب طلب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھانون نورینونو ائے 

نو اے ایئے چھونن کورسومان

 ایدا میون کی پور تھیندے۔۔ 

ایکسو کا فرسٹ سنو بج رہا تھا اور سب ینگ پارٹی اس پر جوڑوں میں ناچ رہے تھے۔ وہ کچھ فاصلے پر بیٹھی ان سب کو دیکھ دیکھ کر ہی پارٹی کا لطف اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کورینز ویسے بھی غیر ملکیوں سے تھوڑا فاصلے سے رہتے ہیں جبھی کسی نے اسے ڈانس کی صلاح بھی نہیں ماری۔ سب آپس میں ہی رونق میلے میں لگے تھے۔۔ ہوپ گوارا کی والدہ کے ساتھ اندر خواتین کی محفل میں بیٹھی تھی۔ وہ اسکے ساتھ اندر گئ تھی بیٹھنے مگر اسکی شکل دیکھ کر جیسے خاموشی چھائی پھر سب ہی اسکی وجہ سے ذرا تکلف سے بات کرنے لگیں  کچھ نہیں تو سامنے بیٹھی آہجومہ جس طرح ایک ٹک اسے دیکھے گئیں وہ جزبز سی ہوتی معزرت کرکے اٹھ آئی باہر۔یہاں کم از کم سب اسے گھور نہیں رہے تھے انکی اپنی دلچسپیاں تھیں۔اس نے صحن پر طائرانہ نگاہ دوڑائئ۔  ایک طرف  کچھ لڑکے لڑکیاں سوجو پیتے ناچتے ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے۔ شائد چڑھ گئ تھی انہیں۔ کچھ سب بھول کر بس باربی کیو کے پاس کھڑے بس کھانے میں لگے تھے ۔۔ اس وقت یون بن اور گوارا  دونوں مزید کچھ جوڑوں کے ساتھ کپل ڈانس کر رہے تھے ۔ اس پر نگاہ پڑنے پر گوارا نے فٹ سے اسے بلایا۔ اس نے سہولت سے نفی میں سر ہلایا۔وہ یون بن کو کچھ کہنے لگی۔ یقینا وہ یون بن کو پرے کرکے اسکے ساتھ آبیٹھنے والی تھی۔ اریزہ گہری سانس لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے اگر اس پارٹی کا حصہ نہیں بننا تھا تو یہاں بیٹھ کر گوارا کو مروت کی مار بھی نہیں دینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ اٹھ کر کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں باہر کے شور کی آواز کم سہی مگر آرہی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر لگئ گھڑی میں وقت دیکھا۔ پھر سوچ میں پڑ گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شولڈر بیگ لٹکاتی وہ لانگ کوٹ پہنتی گلے میں مفلر لپیٹ کر شوز پہنتی پارٹی سے بچتی باہر نکل آئی تھی۔ اس وقت نو بج رہے تھے۔ اسے بھوک تو نہیں لگ رہی تھی مگر اگر اسے کچھ کھانا پینا تھا تو اسٹور تک جانے آنے میں گھنٹہ لگ جانا تھا۔ گھر سے نکلتے پارٹی کی باقیات کے شور و ہنگامے میں اندازہ ہی نہ ہوا کہ باہر ضرورت سے ذیادہ سنسانی ہے۔ وہ سردی کی وجہ سے کافی تیز قدم اٹھا رہی تھی ۔  پہلی گلی  دوسری گلی پار کر کے احساس ہوا  کہ اتنا سناٹا اور خاموشی ہے۔ آگے شاہراہ تھی۔ جس پرٹریفک بھی ہوتا مگر کیا اس وقت اکیلے اسکا یوں سڑک پر جانا ٹھیک ہوتا؟ اسے اپنی بہادری نری حماقت  محسوس ہوئی کہ آگے جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ سڑک کنارے کھڑی

وہ شش و پنج میں مبتلا سوچ رہی تھی کہ آگےجائے نا جائے ۔ جب اسے پیچھے بھاگتے قدموں کی آواز آئی۔ کسی نے اسے اونچی آواز میں پکارا بھی تھا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون بھاگتا ہوا آرہا تھا۔ 

اتنی رات کو اکیلی کہاں جا رہی ہو؟ میں وہاں سے۔۔  وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر ہانپنے لگا۔

اریزہ خفت زدہ سئ مسکرا دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے حرارت محسوس ہو نے لگی تھی تو پارٹی سے اٹھ کر وہ کمرے میں چلا آیا۔ ٹیبلٹس لیکر ارادہ لمبی تان کر سونے کا تھا۔ تبھی کھڑکی پر نگاہ پڑی تو پردے برابر کرنے کی نیت سے کھڑکی کے پاس آیا ۔تبھئ اسکی ڈیوڑھی سے تیز قدم اٹھا کر نکلتی اریزہ پر نگاہ پڑی۔ وہ یقین کرنے میں متامل ہوا مگر جب اسے دروازہ کھول کر باہر جاتے دیکھا تو فوراموبائل اٹھا کر اسے کال ملائی جو کہ حسب عادت اس نے فون نہیں اٹھایا۔وہ تیز قدم اٹھاتی سڑک پر بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ عجلت میں والٹ اور جیکٹ اٹھاتا اسکے پیچھے بھاگا تھا وہ اتنی ہی دیر میں غائب ہوگئ تھئ۔ 

وہ میں نے سوچا اسٹور سے کچھ کھانے کیلئے لے آئوں۔ 

کھسیا کر اس نے بتایا تھا۔ اس کو شرمندگی ہوئی تھی۔ ایک تو اسکی طبیعت خراب اوپر سے وہ اتنی کڑاکے کی سردی میں اسکے پیچھے بیچ سڑک میں کھڑا تھا۔ 

ہیون سانس بحال کرتا اسے دیکھ کر رہ گیا۔

صبح ہوپ کے ساتھ گئ تو تھیں باہر اس وقت کچھ لے کر آنا چاہیئے تھا۔ اس وقت اتنی سردی اور رات کو اکیلے نکل پڑیں۔ کسی کو ساتھ لے کر ہی آتیں مجھے ہی کہہ دیتیں۔ ابھی یہاں راستہ بھول جاتیں پھر؟ ۔ اسکا انداز سخت نہیں تھا مگر وہ ڈانٹ ہی رہا تھا ۔ 

اریزہ سچ مچ شرمندہ ہوگئ۔ 

مجھے اندازہ نہیں تھا اتنی سنسانی ہوگی یہاں پر۔ پھر قریب ہی تو سڑک ہے بس اس لیئے۔ معزرت۔ 

اپنی غلطی مانتے اس نے فورا معزرت بھئ کرلی۔

چلو واپس میں گاڑی نکالتا ہوں۔ 

اس نے کہا تو وہ سہولت سے منع کر گئ

بس سڑک آ تو گئ میں دو منٹ میں چیز لے کر آتی ہوں۔ تم جائو۔ گاڑی لیکر جب تک آئوگے میری شاپنگ بھی ہو جائے گئ ۔ واپسی میں مجھے لے لینا۔

اس نے جھٹ پٹ پروگرام بنا لیا تھا۔ ہیون کو جانے کیوں ہنسی آگئ۔۔ دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹتے وہ مسکرا کر پوچھ رہاتھا

اسٹور سے چیزیں کیسے لوگی؟

پیسے ہیں میرے پاس۔ 

اس نے تھوڑا برا مانا یہ کیسا سوال ہوا۔ اپنے شانے سے لٹکتا چھوٹا سا بیگ تھپتھپا کر بولی۔

اتنی بھئ احمق نہیں تھی وہ۔ 

ہیون نےسر جھٹکا

چلو۔ اسکا واپس جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ اریزہ جانتی تھی اب وہ اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا۔ سچی بات ہے اس وقت اسکی آمد سے خاصی ڈھارس محسوس ہوئی تھی اسے۔ 

سڑک پر اکا دکا گاڑیاں گزر رہی تھیں ہیون گھوم کر خود سڑک کی طرف آگیا تھا۔ اسکی سردی کے مارے گھگھی سی بندھ رہی تھی ۔ اس نے کن اکھیوں سے ہیون کو دیکھا اسکی بھی ناک سرخ ہو رہی تھی ۔

 اتنی برفانی ہوا کیوں چل رہی ہے؟ اس نے جھنجھلا کر سوچا۔ 

سامنے ہی روشنیوں میں گھرا مارٹ تھا۔ پہنچتے پہنچتے قلفی جم گئی تھی پھر بھی۔  

ایک اور مصیبت تھی سامنے۔ جالی دار سوراخوں والا شٹر گرا ہوا تھا۔ 

یہ تو بند ہے۔

وہ زیر لب بڑبڑائئ۔ ہیون نے آگے بڑھ کر شٹر اٹھا دیا۔ اریزہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔ مگر شیشے کا دروازہ مضبوطئ سے بند تھا۔ 

کرسمس ہے چھٹی ہے مارٹ بند ہوتا ہے۔ گائوں ہے یہ سیول تھوڑی۔ انکو کیا پتہ کہ اریزہ کو بھوک لگتی ہے رات کو۔ 

ہیون کی وضاحت پر وہ اسے گھور کر رہ گئ۔ 

وہ دروازے کے پاس ٹٹولتی نگاہوں سے جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا۔ 

پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔ اس نے چڑ کر کہا۔ 

اب چلو واپس۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ 

ہمارے اسٹورز میں مشین لگی ہوتی ہے سیلف سروس سے آپ اپنے شناختی کارڈ یا بنک کارڈ کو سوائپ کرکے کھول سکتے ہیں مارٹ مگر یہاں لگتا ہے نہیں لگی ہوئی۔ 

وہ مایوسی سے سر ہلا رہا تھا۔ پھر آگے بڑھ کر گلاس ڈور کے لاک اسکرین پر ہاتھ رکھا ۔ اسکرین روشن ہوئئ اسکینر بجا اور دروازہ کھل گیا۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔

آجائو۔ وہ آرام سے دروازہ کھولتا اسے اندر آنے کی دعوت دے رہا تھا۔

یہ اب کیسے کھلا؟ 

وہ حیران تھئ۔ 

میرے ہاتھ کا کمال ہے۔ اس نے شرارت سے اپنے ہاتھ کی انگلیاں نچائیں۔

تم نے لاک کوڈ توڑا؟ مسلئہ تو نہیں ہو جائے گا؟ یہاں تو کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ 

وہ فکر مند ہوگئ تھی۔ اس طرح بند اسٹور میں گھسنا جیل کی سیر نہ کروادے۔

ہم واپس چلتے ہیں۔ 

وہ ڈر کر واپس جانے کو تھی۔ہیون نے اسکو ہاتھ پکڑ کر روکا۔ پھر داہنا ہاتھ لہرا کر بولا  

میں اس ہاتھ سے لی مارٹ کی چین کے کسی اسٹور کو کبھی بھی کھول سکتا ہوں۔ میرا ہاتھ اسکینڈ ہے ہر ایکسسس کیلئے۔ 

وہ اسٹور کے فرنٹ پر جا بجا لگے لی مارٹ کے لوگو کی جانب اشارہ کرکے بتا رہا تھا۔ 

لی مارٹ۔ وہ چونکی۔ یہ اسٹورتو اسی  چین کا حصہ تھا جہاں وہ جاب کر رہی تھی ۔یعنی ہیون کے باپ کا۔ یعنی ہیون کا۔ اسکا ذہن کڑیاں ملا رہا تھا یعنی اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔

کیا ہوا؟ چلو جو لینا ہے لے لو ہمیں واپس جلدی جانا ہوگا برفباری ہونے والی ہے۔ 

اسے سوچ میں پڑا دیکھ کرہیون نے چٹکی بجائئ۔

آہاں۔ وہ چونکی۔ ہاں چلو۔ اسٹور غیر معمولی خنک ہو رہا تھا۔ وہ کوٹ میں بھی جھر جھری سی لے گئ۔ ہیون تیز قدم اٹھاتا اندر کہیں چلا گیا تو وہ سہولت سے گھومنے لگی۔ 

اسٹور اس دن تو بس آگے آگے سے دیکھا تھا اس وقت تو ٹھیک ٹھاک بڑا لگ رہا تھا  کئی رویہ اور وہ بھی سامان سے کھچا کھچ بھرا ہوا۔ ہر بڑے کنوینئنس اسٹور کی طرح ایک کونے میں میز کرسیاں بھی لگی تھیں۔  فروزن /انسٹنٹ فوڈ ہر طرح کی ورائٹئ تھئ۔  کرسمس کی وجہ سے ایک کونے میں کپڑوں کا بھی اسٹال لگا تھا۔ جس کے پاس بڑا سا سینٹا کلاز بھی کھڑا تھا۔ جیکٹس اور سوئٹرز ٹاپس مفلرز۔  ۔وہ کھانا بھول کر جیکٹس دیکھنے لگی۔

تمہیں جو پسند آئے لے سکتی ہو۔  

ہیون نے پاس آکر  کہا تو وہ بھی ترنگ میں آگئ۔ جو سوئٹر جیکٹ پسند آرہی تھی اسے پہن کر دیکھتی۔ بڑا سا پونچو پہن کر اس نے سینٹا کلاس کی ٹوپی چرا کر سر پر رکھی۔ دیوار گیرآئینہ دیکھ کروہ محظوظ ہو رہی تھی۔ بھالو بھالو سی موٹو سی لگ رہی تھی۔

ادھر دیکھو۔ 

ہیون نے متوجہ کیا جیسے ہی اس نے دیکھا ہیون نے فورا اسکی تصویر بنا لی۔ 

کلک۔ 

شٹر سائونڈ کی آواز خاصی تیز محسوس ہوئی تھی۔ 

دکھائو۔ وہ دلچسپی سے آگے بڑھ کر دیکھنے لگی۔ تصویر واقعی اچھی آئی تھی۔ 

اور بھی دکھائو۔ اسکی فرمائش پرہیون کو ہنسی آگئ

یہی کھینچی ہے بس۔ آواز آئی تھی اور کوئی تمہیں؟ 

اچھا۔ پھر یہ تو بھیجو۔ وہ مایوس ہوئی۔پھر خیال آیا۔۔

 ویسے تم سب کورینز شٹر سائونڈ بند کیوں نہیں کرتے ہم لوگ تو بند رکھتے ہیں خاص کر میں مجھے ذہر لگتی تصویر کھنچنے کی آواز بندہ ویسے ہی چوکنا ہوجاتا تصویر کھنچ رہی جانے کیسی آئے گی۔

کوریا میں ذاتی تصاویر لیک ہونے کے کئی اسکینڈلز کے بعد ہر موبائل سے شٹر سائونڈ بند کرنے کی سہولت ہی بند کر دی گئ ہے۔ اب کوئی بھی خاموشی سے کسی دوسرے کی تصویر نہیں کھینچ سکتا۔

ہیون نے کاکائو ٹاک پر اسے تصویر بھیجتے مفصل جواب دیا۔

اریزہ سر ہلاتی اپنے موبائل میں تصویر ذوم کرکے دیکھ رہی تھی۔ اتنا موٹا چوڑا سا پونچو اوپر سے سینٹا کلاز کی ٹوپی پہن کر بھی وہ موٹی نہیں لگ رہی تھی۔ بے ساختہ اچانک پوز بنانے کی وجہ سے ہنستی ہوئی وہ تصویر میں خود کو بھی اچھی لگی۔ 

ہر جیکٹ احتیاط سے واپس لٹکا کر وہ فوڈ آئیٹمز کی طرف آگئ۔ نوڈلز دیکھتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا جب اسے انڈونیشین حلال نوڈلز نظر آگئے۔بڑا بڑا حلال لکھا دیکھ کر اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ۔ بے ساختہ خوش ہو کر بولی

یہ تو حلال نوڈلز ہیں۔ 

کیا ہیں؟ ہیون سمجھا نہیں۔ 

یہ والے میں کھا سکتی ہوں ان پر یہ جو حلال لکھا ہے نا اس وجہ سے۔ 

اس نے عربی میں حلال لکھا سے دکھایا۔ ہیون کو عربی پڑھنی تو کیا آنی تھی ہاں ڈیزائن سمجھ لیا۔

میں یہ کھائوں گی۔ اف اتنے عرصے بعد نوڈلز کھائوں گی میں وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی۔ 

ایک منٹ بنائوں گی کیسے۔؟ اسے نئی فکر سوار ہوئئ۔

ہیون نے ہی یہ پریشانی بھی دور کی۔ انسٹنٹ ریمن کے پیک اٹھا لایا ان کو کھول کر انکے نوڈلز اور ٹیسٹ میکر ایک طرف رکھ کر خالی کرکے اسکی جانب بڑھا دیا۔ ڈسپنسر سے گرم پانی لیکر نوڈلز بنائے ۔ہیون نے خود اپنے لیئے بھی انڈونینشین ہی نوڈلز بنائے تھے۔ 

ریمن کے پیک اور ٹیسٹ میکر ایک شاپر میں کرکے رکھ دیئے۔دونوں اپنا اپنا پیالہ اٹھا کر میز کرسی پر آبیٹھے۔ 

ڈسپوز ایبل کانٹے میں نوڈلز پرو کر پھونک مار کرٹھنڈا کرکے اس نے کافی عجلت میں منہ میں رکھا تھا۔ 

میں نے زندگی میں کبھی حلال نوڈلز نہیں کھائے آج پہلی بار کھائوں گا۔ تم لوگ کیا کہہ کر کھاتے ہو؟ 

وہ چاپ اسٹکس سے نوالہ بناتے پوچھ رہا تھا۔ 

نوڈلز کہتے ہیں ہم بھی اسے۔ 

وہ اسکا سوال سمجھئ نہیں۔ 

نہیں میرا مطلب ہے مسلم لوگ کھانا شروع کرنے سے پہلے کچھ کہتے ہیں نا انڈونینشینز کلاس فیلو کو میں نے دیکھا ہے وہ کچھ پڑھتا ہے پھر کھاتا ہے وہ جملہ بتائو میں حلال نوڈلز کھانے لگا ہوں تو حلال طریقے سے ہی کھائوں گا۔ 

وہ سادہ سے انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بسم اللہ پڑھے بنا وہ خود کھانا شروع کر چکی تھی۔ ادھر ہیون تھا کہ بسم اللہ پڑھ کر ہی حلال نوڈلز کھانا چاہتا تھا۔ 

وہ خود کو کوس کر رہ گئ  ۔ ہیون منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

اس نے آہستہ آہستہ توڑ توڑ کر بتایا تاکہ وہ آرام سے پڑھ سکے۔ 

ہیون نے سنا۔ اور بنا رکے فر فر دھرا دیا۔وہ حیران ہی رہ گئ

اب مطمئن ہو کر کھانا شروع کر چکا تھا۔ 

مجھے لگا تھا تمہارے لیئے بسم اللہ پڑھنا مشکل ہوگا تم نے تو آرام سے پہلی دفعہ میں ہی پڑھ لیا۔

اسکا انداز توصیفانہ تھا

میرے بچپن میں مسلم دوست تھے۔ وہ یہ پڑھتے تھے۔ ان سے سیکھا تھا میں نے پھر کوریا آیا تو بھول بھال گیا۔ ابھی تم نے بولا تو مجھے خود بھی نہیں پتہ مجھے کیسے یاد تھا یہ۔

ہیون سرسری سے انداز میں بتا رہا تھا۔

تم کہاں رہتے تھے؟ جو کوریا آگئے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آئی بات۔

ماسکو۔ میری آہمونی رشین تھیں۔ آہبوجی نے ان سے شادی کی تھی جو کوریا کے قوانین کے مطابق ناجائز تھئ۔ وہ یہاں آ نہیں سکتی تھیں یا یوں کہہ لو آہبوجی لانا نہیں چاہتے تھے۔ اگر میں بیٹی ہوتا تو شائد مجھے بھی نہ لاتے۔ 

وہ جتنا سرسری انداز میں بتا رہا تھا اتنا وہ متجسس سی ہوگئ تھئ۔ جبھی اگلا سوال حاضر تھا۔

تمہاری آہمونی کہاں ہیں وہیں رشیا میں ؟تم جاتے ہو ماسکو اپنی آہموجی سے ملنے۔ 

ہیون کو پہلی بار اسکے کسی سوال سے جھٹکا سا لگا تھا۔ اسکے ہاتھ میں لرزش سی اتر آئئ۔  چاپ اسٹکس ترمرا سی گئیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ وہ میری ماں ہیں نا انکی بیٹی میری بہن۔

کم سن نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا۔ 

کیا مطلب ؟ تم نے خود کہا تھا کہ وہ تمہارے گھر والے ہیں۔ سنتھیا کو اسکے یوں مکرنے پر حیرت ہوئی

جاننا چاہتی ہو؟ متجسس ہو میرے بارے میں۔ 

کم سن ہنس کر بولا۔ اسکا انداز صاف مزاق اڑاتا محسوس ہوا۔ سنتھیا ہونٹ بھینچ گئ۔ 

سوری مجھے تمہاری ذاتیات میں دخل نہیں دینا چاہیئے تھا۔ یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے معزرت۔ 

اس نے سہولت سے معزرت کی۔ کم سن کی حیرت سے آنکھیں کھل سی گئیں۔

پاکستانی لڑکیاں اتنی آسانی سے اپنی غلطی مان لیتی ہیں مجھے نہیں پتہ تھا۔ وہ ابھی بھی سنجیدہ نہیں تھا۔ سنتھیا نے ترچھی نگاہ ڈالی تو وہ شرارت چھوڑ کر ہنس پڑا۔

اچھا اب غصہ نہ کرو ایسی کوئی انوکھی داستان حیات بھی نہیں ہے میری۔ گوگل کرو میرے باپ کا نام تو بھی آجائے گی سامنے میری کہانی۔ 

میں دراصل اپنے باپ کی سیکٹری کا بیٹا ہوں۔ میری ماں مجھے میرے باپ کے منہ پر مار کر چلی گئ تھئ۔ تب میرے باپ کی پہلی بیوی وفات پا چکی تھی اور تین عدد بیٹے تھے۔ میری دیکھ بھال کیلئے انہوں نے ان خاتون سے شادی کرلی جو پہلے سے ایک عدد بیٹی کی ماں تھیں۔ جب آج سے پانچ سال قبل آہبوجی کا انتقال ہوا تو میرے بھائیوں نے مجھے اور انہیں نکال باہر کیا تھا۔جو چند چیزیں میرے والد میرے نام کر چکے تھے اپنی زندگی میں ان سے اور ان خاتون کے نام جو جائداد تھی اسکے بل پر ہم اب تک گزارہ کرتے رہے ہیں۔ اب میں نے کچھ اقرباء سے دبائو ڈلوا کر اپنا کچھ حصہ لے کر اپنی کمپنی کی داغ بیل ڈالی ہے۔ قوی امید ہے اچھا خاصا اسٹیٹس بنالوں گا اب میں اپنا۔ پیسہ ہی پیسہ آنے والا ہے میری آئندہ زندگی میں۔ 

کرسمس پر اپنے اہل خانہ کے بجائے یہاں میرے ساتھ وقت ضائع کرنے کا جواب اس داستان امیر حمزہ میں کہیں نہیں تھا۔

وہ جتا کر بولی تھئ۔ کم سن محظوظ ہو کر زور سے ہنسا۔ 

چلو تمہارے اس سوال کا بھی جواب ہے میرے پاس۔ وہ اطمینان سے اسکے بیڈ پربیٹھ چکا تھا۔ انداز ایسا تھا جیسے جانے کیا اہم بات کرنے والا ہے۔ وہ غیر دلچسپی سے دیکھ رہی تھی جبکہ اصل میں جواب کی منتظر بھی تھی۔ 

 اگر کرسمس پر سگے رشتے داروں سے ملنا ضروری ہوتا ہے تو میرا ان سے ملنے جانا ضروری نہیں ۔ اور اگر خون کے رشتوں سے بڑھ کر قلبی تعلق اہم ہوتے ہیں تو وہ واقعی میری ماں اور بہن ہی ہیں میرے لیئے۔ اور میں ضرور اس وقت انکے ساتھ ہوتا اگر انکے ساتھ ساتھ تم سے بھی مجھے کوئی قلبی تعلق محسوس نہ ہوتا ۔ 

اسکی بات ۔ سنتھیا خاموش ہی رہ گئ۔ وہ بلا ارادہ اس وقت یہ بات لیکر بیٹھ گیا تھا۔ سنتھیا کے ایکدم چپ کر جانے پر اسے افسوس بھی ہوا یہ وقت مناسب نہیں تھا ان باتوں کیلئے۔

سنتھیا چند لمحے سوچتی رہی پھر جملے ترتیب دے کر بولی۔ 

میں ایڈون کو پسند کرتی ہوں۔ تم جانتے ہو یہ بات۔ تمہارے اس خلوص کی میرے نزدیک بہت اہمیت ہے مگر میں خود غرض بن کے کسی کے جزبات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اس طرح میرا دل جیت لوگے تو تم سالوں بھی میرا اس طرح احساس کرو میرا خیال رکھوگے تو بھئ میرا دل ایڈون کی طرف ہی مائل رہے گا۔میرا اس کا تعلق آج کا نہیں ہے ۔ میں بچپن سے اسے چاہتی ہوں۔ تب سے جب محبت کیا ہوتی اسکا ادراک بھی نہیں تھا۔وہ تب سے میرے دل میں براجمان ہے۔ مجھے امید ہے تم سمجھ گئے ہوگے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔

وہ اسکو مایوس کر دینا چاہتی تھی۔ کم سن نے معمولی سا بھی اثر نہ لیا اسکی تقریر کا۔ یونہی مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا۔ اسے اسکے دیکھتے جانے سے الجھن سی ہوئی۔ سچ مچ وہ چکنا گھڑا تھا کیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاموشی سے نوڈلز ختم کرتے اسکی نگاہ گلاس وال سے باہر روئی کے گالوں کی طرح گرتی برف پر پڑی۔ جانے کتنی دیر سے برفباری ہو رہی تھی کہ سامنے اچھی خاصی برف کی تہہ بن گئ تھی۔

اتنی تیزی سی برف گر رہی تھی کہ وہ مبہوت سی دیکھے گئ۔ بے ساختہ اٹھ کر گلاس وال کی طرف چلی آئی۔ تھی۔ اتنی تیز برفباری اس نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ یہاں آکر سول میں برفباری دیکھنے کا اتفاق ہوا تو مگر یوں بطور خاص برفباری کا منظر دیکھنے کا پہلا موقع تھا۔ وہ کتنی دیر دیکھے گئی تو احساس ہوا دیکھتے ہی دیکھتے سامنے والی پوری سڑک نے برف کی چادر اوڑھ لی تھی۔اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی

ہیون۔ اس نے بے ساختہ گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ہیون نوڈلز ختم کرنے میں مگن تھا ابرو اچکا کر دیکھنے لگا

ہیون برفباری ہورہی ہے اور سامنے تو ساری سڑک برف سے ڈھک گئ ہے ہم واپس کیسے جائیں گے؟ باہر تو طوفان آیا ہوا ہے

وہ متوحش سی پوچھ رہی تھی۔ 

ہیون نے سوپ کا پیالہ اٹھا کر لمبا سا گھونٹ بھرا۔ 

ہاں تو۔۔ اتنے طوفان میں تو ہم واپس  نہیں جائیں گے آج  یہیں رہیں گے۔ 

کیا؟ 

وہ چیخ ہی تو پڑی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

جاری ہے۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *