Ragon se khench k jaan meri| maut hansti hay| udaas urdu shayari

آزاد اردو نظم

موت ہنستئ ہے ۔۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

واعظہ زیدی

رگوں سے کھینچ کے جاں میری
موت ہنستی ہے بتا گئ کہاں تیری
وہ زندگی جس کو بتانے کے
ہیں قصے کئی جگ کو سنانے کو
تیری زندگی میں تجھے سننے کا شائق نہیں کوئی
تجھے گمان تیری باتوں کے یہاں لائق نہیں کوئی
تیرا ناک نقشہ لوگوں کو بھول جائے گا
تیرے سنائے قصے کون یاد رکھ پائے گا

چلے جانے کا دکھ تجھے رلا رہا ہے
روک لو نہ جانے دو مجھے،کرلا رہا ہے
مجھ پر کیا بیتی مجھے سنانے دو
وقت کم ہے پاس میرے بہانے دو

ایک یہ ہے کہ خودی سے بے خبر تھا میں
خود ہی منزل تھا خود ہی سفر تھا میں
یوں ملی اچانک زندگی کہ سمجھ نہ آئی
خوشیوں کی آس میں

دکھوں کی بس قیمت چکائی

دوسرا یہ کہ جو چاہ تھی مجھے رہی
زندگی کو ضد تھی بن اسکے گزرکے رہی

اب گہرے گڑھے میں پہنچ کر سستا رہا ہوں میں
یہاں بھی رکنا نصیب نہیں آگے جا رہا ہوں میں
مجھ میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے والو
میری زندگی میں مجھے بے مول روندنے والو

جانے دو جو اگر بے جان پڑا ہوں آج میں

یقین جانو بہت مشکل سے مرا ہوں آج میں۔۔

Home » 2024
Rating
https://desikimchi.com/vedmadness-in-love-veds-fiery-tale-of-passion-and-pain/

Sakoot Ishq |urdu afsna novel| Episode 1

ناول سکوت عشق

شوریدہ کو خاموشی سخت ناپسند تھی۔ جب گھر میں کوئی بول نہ رہا ہوتا تو وہ اپنے موبائل میں شور کی آواز لگا کر گھر کے کام نمٹاتی تھی۔ کبھی ٹریفک کا شور کبھی بارش کی گرج چمک۔

اب پرسوں کی ہی بات ہےکہرام بے خبر سویا پڑا تھا آواز آئی بچائو بچائو۔ گو شوریدہ کی آواز نہیں تھی لیکن وہ مرد تھا عورت کی آواز اسکے سب حواس خمسہ بیدار کر گئ۔ ایک دم اچھل کر اٹھ بیٹھا۔صبح سات بجے کا وقت تھا۔

برابر بیڈ پر شوریدہ نہیں تھی۔ وہ گھبرا کر باہر نکلا کہ کہیں شوریدہ تو نہیں آواز بدل کر چیخیں مار رہی۔ لائونج میں آیا تو واقعی شوریدہ ہی آواز بدل کر چیخیں مار رہی تھی۔ اسے دیکھ کر ہنسنے لگی۔ میں اپنی چیخوں کی آواز ریکارڈ کر رہی تھی۔

تاکہ فارغ وقت میں سن سکوں

۔کہرام کو غصہ آیا مگ ضبط کر گیا۔ دیوار پر چلتی چھپکلی کو مکا مار کر پھیس دیا۔ اسکا یہ غصہ دیکھ کر شوریدہ کانپنے لگی۔غصے سے۔

اچھا بھلا چیخیں مار کر بھگا دیتی مارنا ضروری تھا۔ تم ایک بے حس سنگ دل مرد ہو۔اپنے لیئے یہ القاب سن کر کہرام کے اندر کہرام بپا ہوگیاتم مجھے بے حس اور سنگ دل کہہ رہی ہو خود کیا ہو ؟ نیم پاگل لڑکی ؟ جو مجھ سے محبت میں مبتلا ہے۔ کہرام نے ایکدم لہجہ بدل کر مخمور کرلیا۔

شوریدہ نے اس چھچھور پن پر ناک چڑھائی اور دھپ دھپ کرتی باورچی خانے میں چلی گئ۔ کہرام گنگناتا ہوا نہانے گھس گیا۔شوریدہ نے خاصی شیطانی ہنسی ہنس کر سوچا۔ اب مزا آئے گا۔دراصل کہرام کو نیلا شیمپو پسند تھاابھی کل ہی کی بات ہے۔ کہرام نے اسکا فیس سیرم مائوتھ واش سمجھ کر منہ میں بھر کر اگل دیا تھا۔ ڈھائی ہزار کی ننھی منی بوتل کا یہ حشر دیکھ کر اس نے کہرام کے بال نوچ دیئے تھے۔ بے چارہ معافیاں مانگتا رہا پھر اسی وقت باہر گیا نئئ بوتل لا کردی مگر شوریدہ نے اسے سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا

۔آج تو کہرام کو مزا چکھا کر ہی رہوں گی ہارپک کی بوتل کا ڈھکن کھولتے اس نے عزم کیا۔ اسکے شیمپو کی بوتل میں ہارپک ملا دوں گی گنجا ہوجائے گا۔ شیمپو ہارپک کی بوتل میں بھر دیا۔ شیمپو سے اب کموڈ دھلے گا۔ ہارپک سے کہرام کا کموڈ جیسا منہ۔ وہ ہنسی۔ جانتی تھی کہرام سر پر جو شیمپو لگاتا اسی کے جھاگ سے نہا کر نکل آتا تھا۔

کہرام ادھر غسل خانے میں گھسا بال گیلے کرکے جیسے ہی شیمپو کی بوتل کھولی ہزار لیموئوں کی خوشبو بکھر گئ۔ اس نے مسحور سا ہو کر بوتل کو سونگھا۔ لگتا یے شوریدہ نیا شیمپو لائی ہے۔ ہزار لیموئوں کی خوشبو والا۔ میں تو اسی سے نکھر گیا اب صابن کیا لگائوں۔وہ حسب عادت گانا گانے لگا۔ کچھ شیمو منہ میں بھی چلا گیا۔

غرارہ کرکے تھوکا تو اب گانے میں آواز بھی بدل گئ۔ خوش ہوگیا۔کیا کراری آواز میں گا رہا ہوں۔حلق بھی لگتا صاف ہوگیا۔نہا کر باتھ روب پہن کر نکلا تو کمرے میں سنگھا رمیز کے آئینے پر اپنا روپ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔آج تو جادوئی اثر ہوا ہے نہانے کاگورا لگ رہاہوں۔اس نے مڑ کر شوریدہ سے تصدیق چاہی۔ شوریدہ جو منہ کھولے اسکا گورا دمکتا رنگ دیکھ رہی تھی۔ ہارپک نے برسوں پرانا میل بھی چھڑا دیا تھا۔

ہارپک سے اسکا رنگ گوراہوگیا؟ اس نے سوچا۔ تو میں تو انگریزنی بن جائوں گی۔ میرا فیس واش اب سے غسل خانے کے سرمئی ٹائل جو پہلے سفید تھے انکو چمکانے کے کام آجائے گا۔وہ ہارپک اب فیس واش کی بوتل میں ڈالنے کے ارادے سے غسل خانے کی طرف بڑھ گئ

۔پہلی قسط کا اختتام

دوسری بھئ لکھ سکتی مگر تم لوگ مجھ پر نہ ہارپک پھینک دو اس لیئے ڈر رہی۔

#sakoot_ishq_novel#vaiza #واعظہ #hajoometanhai#urduz #desikimchi

https://desikimchi.com/kabhi-main-kabhi-tum-an-addictive-urdu-drama-a-comprehensive-review/

Shehram nagar ke mainduk| a funny urdu afsana| mimicry

کالی چودھویں کے چاند کی تپتی دوپہر میں جو اس نےسر اٹھا کر چاند کی طرف دیکھا۔ اسے چار پانچ اکٹھے نظر آگئے۔
اتنا کالا اندھیرا
وہ خوفزدہ ہوکردو قدم پیچھے ہوئی تو پانچویں صدی کے تیس مار خان کی آخری نشانی وہ سرخ مٹی کا لوٹا اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
خالی لوٹے کے زمین پر ٹن کرکے ٹکرانے سے گونج آواز پیدا ہوئی۔
اس نے ناک پر ہاتھ رکھ لیا۔
تیسرے رخ کی کائنات کا پانچواں ستارہ اسکی ادا پر متاثر ہوتا ہوا ایک وجیہہ شہزادے کے روپ میں ظاہر ہوکر جیسے اسکی آنکھوں کی جھیل میں تیرتے مینڈکوں سے باتیں کرنے لگا۔
کیسے ہو؟
مینڈک ٹرائے۔۔ الوکیدم کو انکی بات سمجھ نہ آسکی۔ حالانکہ وہ عطارد ( سیارہ) کے ایک کال سینڑ میں کاکروچوں کی پیسٹی سائیڈ سے بچائو کے طریقے جاننے کیلئے کی جانے والی کالز لیتا رہا تھا لیکن کسی مینڈک سے براہ راست مخاطب ہونے کا یہ پہلا موقع تھا۔
الوکیکان نے سر اٹھا کر پلکیں جھپکیں۔ کتنے ہی مینڈک اسکے آنسوئوں کے ساتھ اسکے چہرے پر پھسل آئے۔ الوکیدم نے مبہوت ہو یہ نظارہ دیکھا۔ انگلی کی پور پر ایک مینڈک چن کر بولا
تم اس دنیا کی نہیں ہو۔
ہاں سچ کہا۔ اس نے سسکی لی۔
میں پیدا ضرور دنیا میں ہوگئ ہوں مگر مجھے یورینس کے نواحی گائوں میں لگائے ایلون مسک کے اسپیس لیب میں ہونا چاہیئے تھا۔
وہاں کیوں؟
پتہ نہیں۔ آجکل نئی سائنس فکشن سیریز دیکھ رہی ہوں نا اسلیئے۔
سچئ بات تو یہ ہے کہ الوکیکان کو بھی نہیں پتہ تھا وہاں ہونے کا مقصد۔
میں الوکیدم۔
اس حسین شہزادے نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا
الوکیکان نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
کیا ہوا ؟ میں نا محرم ہوں اسلیئے ہاتھ نہیں ملا رہیں؟
الوکیدم کی ایکدم خوشی ہوئی۔ لڑکی تو بہت اچھی نکلی۔ بالکل ٹمرہ مہمند کی ہیروئین کی طرح۔
نہیں میں ابھئ پوری طرح ٹیلی پورٹ نہیں ہوئی کے ٹو کے شاہی قلعے ست یہاں۔ میرے ہاتھ دو گھنٹے تک 2050 میں پہنچیں گے؟
یہ 2050 ہے؟ الوکیدم نے تشویش سے پوچھا۔
ہاں 2024 سے یہی سال ہی چل رہا ہے۔
الوکیکان نے آہ بھری اور پلٹ کر جانے لگی
الوکیدم نے بے تابئ سے پکارا
نام تو بتاتی جائو۔
الوکیکان نے لمحہ سوچا اور بولی
خاکیہ جرار۔۔ وہ اپنا اصل نام پچاسویں قسط میں بتانے کا ارادہ رکھتی تھی۔

۔
۔
۔
باقی آئیندہ
اس تحریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں
کسی قسم کی مطابقت کسی قسم کے ناول یا کردار سے ہوئی تو اس کے لکھاری پر لازم ہے مجھے پچاس لاکھ نقد ادا کرے ورنہ قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔

Rating

https://urduz.pk/khali-peepa-kharakta-hay-ek-sachi-kahawat/

Ek khat apne hi naam |urdu afsancha|

کیسی ہو؟ خوش ہو؟ میں جانتی ہوں تم خوش نہیں ہو مگر کیا تم جانتی ہو کہ دس سال بعد بھی تم یعنی میں خوش نہیں۔ کچھ نہیں بدلا سوائے تمہارے۔ کیسا تم میں اطمینان سا تھا بڑے سے بڑا دکھ سہہ جانے کا حوصلہ تھا تم میں۔ تم اتنی مطمئن تھیں کہ تم نے مانگا ہی نہیں کچھ اپنے لیئے۔ یہ بھول گئیں کہ تمہیں کبھی مجھ میں بھی بدلنا تھا۔تمہیں لگتا تھا سب ٹھیک ہوجائے گا ہوا بھی مگر اس میں تمہارے اپنےلیئےکیا تھا؟کبھی سوچا تھا اگلے دس سال بعد تم ایک مضطر ،متوحش ، بے سکون سی لڑکی بن جائو گی جس کو اب سب کچھ چاہیئے ہوگا۔ وہ سب کچھ جو تمہارے نزدیک اہم تھا ہی نہیں۔ تم نے جس چیز کی خواہش کی تمہیں نہ ملے گی تم نےدعائوں میں کبھی خواہش کو مانگا ہی نہیں۔کیا تم جانتی ہو جو تم نہیں مانگو گی تمہیں نہیں ملے گا۔ 

چونک گئیں نا۔ کسی ایسے ہی شانت دل کے ساتھ بڑے جذب سے دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر مانگا تھا تم نے خدا سے۔ یا خدا میں تجھ سے سب مانگوں گی تو بس دیتا جا۔ضرورت کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اگر تو مانگنے سے خوش ہوتا ہے تو میں تجھ سے مانگوں گی۔کیسا خوش ہوئی تھیں اپنے لیئے خسارہ مانگ کے۔ اطمینان بھر گیا تھا دل میں کہ اب سب ملے گا۔ یہ بھول گئیں کہ تمہیں کیا چاہیئے یہ تم کیسے جان سکتی ہو؟ جس نے بن مانگے تمہیں نواز رکھا تھا اسے سوال کی بندش میں باندھ لیا۔ ہمارےہر لفظ کی آزمائش ہوتی ہے بھول گئی تھیں کیا؟جانتی ہو پھر کیا ہوا۔ تمہیں وہ سب ملتا گیا جو تم نے مانگا۔ اور تم نے بہت تھوڑا مانگا بہت کم مانگا۔ تمہیں شائد بہت ملتا مگر تم نے مانگا نہیں ۔ اپنے لیئے مانگا ہی نہیں تو پھر تمہیں وہ سب کیسے ملتا جو تقدیر میں لکھا تھا۔ تم جانتی ہو تم اب مجھ میں کہیں نہیں ہو۔ گو تمہیں کھو کر میں خوش نہیں  ہوں۔لیکن مجھے تم یاد آتی ہو۔ اگر تم میرے آج میں ہوتیں تو خوش ہوتیں تمہیں وہ سب مل چکا ہے جو تمہیں چاہیئے تھا۔اور میں اگر تمہارے گزرے کل میں ہوتی تو کچھ چاہتی ہی نا۔ چاہنے کی سزا مل جانے کی صورت بھی ملا کرتی ہےنا۔ یا دعا مانگتی مجھے وہ سب دے چاہےمیں مانگوں بھی نا۔وہ تو سب دے سکتا ہے۔ پر اب میں کیا مانگوں؟

تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔

ہو سکے تو کچھ وقت کیلئے ہی مجھے آملو۔ یا یہ دعا کردو کہ مجھے وہ پرانا اطمینان نصیب ہوجائے۔میرا آج بہت برا ہے تمہارے کل سے بھی ذیادہ۔۔

فقط

اپنی میں۔      

Rating
Home » 2024
https://desikimchi.com/bherya-indian-film-full-review-urdu

Home » 2024
https://desikimchi.com/kabhi-main-kabhi-tum-latest-episode-illogical-and-absurd-drama-moments/

Descendents of Dimchies ( urdu afsana about kdrama fans in Pakistan)

Urdu Comic

Descendents of dimchies

2150
پاکستان کے شہر راولپنڈی سے
دادی کی طبیعت خرابی کا سن کر وہ بھاگی بھاگی آئی تھی۔ دادی بستر پر پڑی تھیں اسکے چندی آنکھوں والے چچا تایا پھپو انکے چندی آنکھوں والے بچےسب دادی کے سرہانے موجود تھے۔
بس ایک اسی کا انتظار تھا۔ اس نے آنسو روکتے ہوئے

دادی کا کپکپاتا ہاتھ تھاما۔
دادی میں چو گایون کاڈرامہ چھوڑ کر چلی آئی آپکی طبیعت کا سنتے ہی وہ بتاتے ہوئے بے اختیار روپڑی
دادی کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ دادی سب بیماری بھول کر اٹھ بیٹھین تڑخ کر بولیں۔
تم اس ودیعت کردہ انعام کو کیسے سنبھالوگی اگر اسی طرح کے ڈرامے پر دادی یا دیگر رشتے داروں کو
ترجیح دوگی؟
ہم پاکستانی ہونے کے باوجود چندی آنکھوں والے کیسے بنے؟ جانتی ہو؟ساری ساری رات تمہارے بڑوں نے پورا پورا سیزن ختم کیا ہے۔ دن میں کوئی اور سیریز ختم کرتے تھے رات کو کوئی اور۔ کورین کے چار لفظ سیکھے تھے مگر ہمیشہ ڈرنے پر ہائے اوئی کرنے کی بجائے کم چاگیا کہا، چڑنے پر ہائش، کتنا کمینہ کہنے کی بجائے کہہ سیکی کہہ کر دل کی آگ ٹھنڈی کی اور تو اور نہ ، نا، نہیں کہنے کی بجائے آنیا ، آنی کہنے کی عادت ڈالی تب جا کر ہمارے اطوار اور ہمارے نقوش کورین ہونا شروع ہوئے اور اب ہماری پوری نسل پاکستانی کورین کہلاتی ہے جو رہتے تو پاکستان میں ہیں مگر آج تک کوئی پاکستانی انڈین ڈرامہ نہ دیکھا۔ جنکی آنکھیں تو بڑی ہوتی ہیں مگر کے ڈرمہ دیکھ دیکھ کر آدھی بند ہو کر چندی ہو جاتی ہیں۔اور تم ہماری نسلوں میں تم جیسی لڑکی پیدا نہ ہوئی جسے مرتی ہوئی دادی کے ڈرامہ سے ذیادہ پیاری ہو۔ مجھے خوف ہے تم سے کے ڈرامہ پرستار ہونےکا انعام چھن نہ جائے۔
دادی کا جلال دیکھ کر اسے اور تو کچھ سمجھ نہ آیا گھبرا کر ان کا ہاتھ چھوڑا بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ڈرامہ پاز ہوا وا تھا۔ جلدی سے کانوں میں ہینڈزفری لگائی اور ڈرامہ پلے کرکے دیکھنے لگی۔ پورا سیزن ختم کیا ۔ ایک اور سیریز شروع کردی۔ وہ ختم کی پھر ایک اور۔۔۔ آخری قسط ختم ہونے پر اس کو ہلکی سی آواز سنائی دی اس نے آواز کا منبع جاننے کی کوشش کی اسکے کمرے کئ دروازے پر دستک ہورہی تھی۔
اس نے کانوں پر سے ہینڈزفری اتار کر پوچھا
کون ہے ؟
آہمونی ہوں آدل۔ تمہارے ہارابوجھی کہہ رہے کہ ہارامونی کے جنازے میں تو شریک ہوئی نہیں ہو کم از کم سوئم اور فاتحہ میں ہی شریک ہوجائو۔ پورے تین دن ہو رہے نا تم کمرے سے نکلی ہو ناکسی دستک کا جواب دیا۔ کیا تم کے ڈرامے میں مگن ہو؟ ۔۔
آہمونی اندازہ لگاتے ہوئے خوشی سے لرزتی ہوئی آواز میں بولیں۔
دے۔ وہ چونکی۔
آہمونی کھاجا ۔ میں آرہی ہوں۔
وہ جست لگا کر مسہری سے اتری اپنی سنگھار میز کے بڑے سے آئینے میں اپنی شکل دیکھی۔
تین دن کے پہنے پرانے مسلے ہوئے لباس ، کندھوں پر بکھرے الجھے بال، چہرا ستا ہوا آنکھیں رتجگوں کے خمار سے چندی ہو گئی تھیں۔اس نے بے یقینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
تھائی نیئے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اسکا سراپا مکمل کے پرستاردوشیزہ کی چھپ دکھا رہا تھا۔اس نے اپنا نسلوں سے چلتا آرہا انعام وصول لیا تھا۔ اب وہ مکمل کے پرستار تھی۔ اس نے سکھ کی سانس لی اور اپنے آپکو آئینے میں دیکھتے طمانیت سے مسکرا دی۔

Rating
Home » 2024
https://desikimchi.com/bulbul-bollywood-movie-review-a-genuine-and-unbiased-perspective
https://urduz.pk/salgirah-rants-by-me

https://desikimchi.com/maharaj-indian-movie-a-cinematic-journey-worth-taking

The Sweet Symphony: Unveiling the Falooda – A Short Metaphor Afsancha in Urdu

آج اسکا فالودہ کھانے کا دل کر رہاتھا

شوہر کے دفتر سے واپسی کا وقت ہورہا تھا۔ اس نے اپنی فرمائش اسے موبائل پیغام کی صورت بھیج دی

فوری جواب آیا۔

 

اچھا ٹھیک ہے لاتا ہوں۔

وہ ایکدم خوش ہو گئی۔ بہت عرصے بعد فرمائش کی تھی پوری ہونے کی خوشی دوچند ہوگئی۔ 

اس نے بہت اہتمام سے خود کو سنوارا سجایا پھول کی ٹہنی تھام کر اسکا انتظار کرنے لگی۔

وہ آیا اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی مسکراکر پوچھا

یہ اہتمام کوئی خاص بات ہے؟

وہ مسکرا دی

نہیں بس یونہی دل چاہا تمہیں احساس دلائوں میری زندگی صرف تم سے وابستہ ہے۔

وہ سرخوشی سے جھوم اٹھتا اسکے ہاتھ سے پھول تھامنے بڑھا کہ ہچکچا سا گیا پھول اسکی گرفت میں نہ آسکا۔ اسے یاد آیا۔

وہ واپسی پر فالودہ لانا ہی بھول گیا تھا۔

کیا یہ خوشگوار مزاج اس حقیقت کو جاننے کے بعد بھی قائم رہ پائے گا؟

اس نے اسکے مسکراتے چہرے پر نگاہ جمائے سوچا

وہ اسکے چہرے پر تذبذب کے آثار دیکھ کر جیسے سمجھ گئ۔ایک ادائے دلبرانہ سے پھول کی ٹہنی اسکے کندھے پر مار کر بولی

کیا ہوا فالودہ لانا بھول گئے؟

اس نے کان کھجاتے مجرمانہ انداز میں اثبات میں سر ہلایا۔ 

وہ جیسے ہر سزا کیلئے تیار تھا۔

وہ ہنس دی۔ 

اتنی سی بات؟ چلو باہر چلیں باہر چل کر کھا لیں گے۔

اسکے اتنی جلدی مان جانے پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔غنیمت تھا کہ وہ یوں آسانئ سی مان گئ۔ خوش ہو کر بولا

ٹھیک ہے کھانا کھا کر باہر فالودہ کھانے چلتے ہیں۔ 

کھانا بھی باہر کھا لیں گے۔ دراصل۔

وہ کہتے کہتے ذرا سا رکی پھر معصوم سی شکل بنا کر بولی۔

میں بھی آج کھانا پکانا بھول گئ۔

ختم شد

Rating
Home » 2024
https://urduz.pk/24-june-meri-salgirah-aur-meray-dukhray

TARJEEHAAT :A Painter’s Journey( Discovering the Unexpected Priorities of Her Students)

اس نے اس تصویروں سے سجے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی ان معصوم صورتوں والی ان کم عمر دوشیزائوں کو اپنی جانب جی جان سے متوجہ دیکھا تو بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات قابو کیئے اور اپنے سامنے دھرے ایزل پر سجے خالی کینوس کی طرف متوجہ ہوگئ۔ وہ سب نادان بچیاں مصوری کا ہنر سیکھنے آئی تھیں۔آئی بھی کس کے پاس۔ وہ دل ہی دل میں ہنسی۔خالی کینوس اسے دعوت دینے لگا۔مجھے بھر دو رنگوں سے ۔ اس نے برش کو تازہ بنائے گئے رنگوں پر رگڑ کر کینوس پر پھیرنا شروع کیا۔ جب ذہن میں نہ کوئی سوچ ہو نہ کچھ کر دکھانے کی امنگ تو کاغذ ہو یا کینوس دونوں ہی شاہکار تخلیق کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ بنتا ہے کچھ ایسا جو نا کسی باذوق کی حس کو تسکین دے نہ کسی بد ذوق کو ہنسنے کا موقع فراہم کرے۔ ابھی جیسے اسکا کینوس آڑی ترچھی رنگین لکیروں سے سج گیا تھا۔

اپنے ہر فن پارے کو جب وہ ناقد کی حیثیت سے دیکھتی تو خود کو طفل مکتب تصور کرتی وہ بھی اتنا کند ذہن جو مصوری تو دور ایک خاکہ ایک لکیر درست کھینچ لینے پر قادر نہ تھی۔ اور یہ اسکی طالبات۔ اسکے ہنر اسکی صلاحیتیوں کی تعریف میں ذمین آسمان کے قلابے ملاتیں۔ اسکے فن پاروں کو پکاسو سے تشبیہہ دیتیں۔یہ تک کہتیں کہ وہ ناقدین نہیں ناقدروں کے درمیان ہے۔جنہیں نہ اسکا کوئی شاہکار دکھائی دیا آج تک کوئی اسکی تصاویر کے اندر چھپے مقصد کو نہ جان سکا جبھئ تو وہ یوں گمنام مصورہ بن کے گمنام علاقے میں چند گمنام فنکاروں کو لکیر کھینچنا سکھانے پر معمور ہے۔ یہ تو یقینا ان گنتی کی پانچ طالبات کی محبت تھی۔ وہ خود کبھی سوچتی تھی آخر اسے قدردانوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔اسکا ہنر کسی کی ستائش کا محتاج نہیں۔ اگر اسکا ہنر ان پانچ دیوانی لڑکیوں کو اسکا گرویدہ کر سکتا ہے تو اسے پانچ سو لوگوں کی واہ واہ کیا کرنی  جنہوں نے چار تصاویر دیکھنی دو کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی ہی تصویر بنانی ( ہم نمائش دیکھنے گئے تھے بھئ واہ واہ کرو ہم کتنے باذوق ہیں ) ایک آدھ خریدنی نہیں تو یونہی ہاتھ جھلاتے آرٹ گیلری سے نکل جانا۔ دنیا کی پذیرائی کا تو وہ متمنی ہو جسے دنیا جانتی ہو جو دنیا جان بیٹھے اسکو اسکی بے ثباتی  پر گلہ ہو بھی تو کس سے؟ دنیا سے ؟ یا دنیا بنانے والے سے؟ دونوں سے ہی گلہ کرنے لائق وہ خود کو اہل نہیں سمجھتی تھی ۔

ایک خالی کینوس پر رنگ بکھیرتے وہ انہی لا یعنی لامتناہی سوچوں میں گم تھی۔ اسکی پانچوں شاگرد بیٹھی اسکے چہرے کے اتار چڑھائو سے اسکے خیالات پڑھنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھیں۔ آج انکو نیا سبق ملنا تھا مگر انکی استانی صاحبہ خود کوئی نیا سبق پڑھ رہئ تھیں زندگی کا شائد جبھی گرد و پیش سے بے نیاز کینوس پر نگاہ ٹکائے مسلسل ہاتھوں کو حرکت دیئے جانے کیا الا بلا بنائے چلی جا رہی تھیں۔ جب اسکی ایک شاگرد نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔

آج ہم سے کچھ انوکھا بنوائیں۔

جیسا کہ؟ گمنام مصورہ نے ابرو اچکا کر دیکھا

کچھ ایسا جو اس دنیا سے الگ ہو۔ جو کبھی نہ بنا ہووہ خیال جو دنیا میں اب اترا ہو۔ 

اسکی شاگرد کے انداز میں جوش تھا امنگ تھی تمنا تھئ۔ اسے ہنسی آگئ

لاحاصل کی تمنا نہ پالو۔ ایسا کچھ بنانا اس دنیا کے باسیوں کے لیئے ناممکن ہے۔ بڑے بڑے سورما ہارے۔ انکے کینوس کچھ نیا تخلیق کرجانے کی آس میں خالی رہ گئے۔ اور مصور دنیا خالی کر گئے مگر ناکام رہے ۔ ہم تو جو جیسا بن چکابس اسے اپنا ہنر آزما کر نقل کر سکتے ہیں۔ یوں سمجھو مصور بس نقلچی ہے۔ جو منظر جو شے دیکھی نہ ہو اسکا نہ مقصد سمجھ پاتا ہے نا اسکی منظر کشی کر پاتا ہے۔ ایک مصور کو اپنی حد پتہ ہونی چاہیے۔ 

اسکا انداز ناصحانہ تھا۔ اسکی شاگرد مایوس سی ہوگئ۔ تسلیم کیا

ہاں نہیں بنا پاتے ہم کچھ بھی نیا۔ 

ہم کوئی ایسی مخلوق نہ بنائیں جو دنیا میں پہلی دفعہ آئی ہو؟ خلائی مخلوق؟ 

 وہ اپنے اچھوتے خیال سے اچھل پڑی۔ اسکی باقی چاروں شاگرد بھی چونک کے دیکھنے لگیں۔

ہاں ہم آج خلائی مخلوق بنائیں؟یہ تو آج تک جس نے بھی بنایا کوئی نیا پیکر بنایا ہم بھی خلائی مخلوق کی کوئی نئی شکل تخلیق کرتے ہیں۔ 

وہ سب اتنی پرجوش ہوگئی تھیں کہ مصورہ کو ہار ماننا پڑی۔ 

ٹھیک ہے بنائو مگر ہر خلائی مخلوق کے پیکر کے پیچھے تمہاری اپنی کوئی نئی سوچ کوئی اچھوتا خیال ہونا چاہیئے آخر یہ خلائی مخلوق کیا کرنے آئی ہے کیوں آئی ہے اور تم نے کیوں بنانا چاہا اسے۔  

انکو انکا آج کا کام سمجھاتے مصوری کا ایک اہم باب بھی سکھا دیا تھا۔ 

وہ سب سر ہلا کر جھٹ مصروف ہوئیں۔ایزل درست کیا کینوس لگایا اور پھر کوئی کینوس خالی نہ رہا۔

کئی گھنٹے بیتے اسکی سب شاگردوں کا کام ختم ہونے کو تھا وہ سب کے پاس جا کر ان سے آج کے کام کی بابت پوچھنے لگی۔

پہلی وہی شاگرد تھئ جس نے خیال دیا تھا۔ 

کندھے اچکا کر بولی 

دنیا سے الگ کچھ بنانا تھا جبھی خلائی مخلوق بنا رہی ہوں۔ 

اسکی تصویر مکمل تھی۔ وہ سر ہلا کر دوسری کی جانب بڑھئ اسکی خلائی مخلوق ادھورے بدن سہمی کھڑی تھی کینوس پر۔ 

وہ لڑکی بھی ۔ آنکھوں میں ہراس لیئے بولی

انسانوں سے خوف آتا ہے اسلیئے خلائی مخلوق کی تصویر بنا رہی ہوں۔

اس سے اس کی نگاہوں میں تادیر دیکھا نہ جا سکا نگاہ چرا کر تیسری شاگرد کی جانب بڑھی

اسکی خلائی مخلوق رنگوں سے سجی تھی مگر کیا سر کیا پیر کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ اس لڑکی نے سنجیدگئ سے سر اٹھا کر اسکو مخمصے سے نکالتے ہوئے بتایا۔

یہ دو خلائی مخلوق ہیں۔

مگر یہ تو مجھے ایک ہی مخلوق لگ رہی ہے۔

مصورہ الجھن میں پڑی۔۔

 دونوں آپس دوست ہیں انہوں نے ایک دوسرے کا وجود آپس میں مدغم کرلیا ہے یوں کہ شناخت ممکن نہیں۔

ایساکیوں؟ مصورہ مزید الجھی۔

اس مخلوق کو رنگ نسل مذہب سے فرق نہیں پڑتا۔ 

اس لڑکی کی نگاہوں میں بغاوت کے سائے مدغم ہو رہے تھے۔ وہ سٹپٹاکر آگے بڑھ گئ

آدھی درجن آنکھوں سے سجی یہ خلائی مخلوق بس چہرہ رکھتی تھی۔ نہ خدو خال نہ وجود۔

بنانے والی کا مزید کچھ بنانے کا ارادہ ہی نہ لگتا تھا۔

اسکے کسی سوال سے پہلے ہی اس نے بتایا

میں ایسی مخلوق کی تصویر بنا رہی ہوں جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

اسے بہت زور کی ہنسی آئی

احمق لڑکی۔  

اس نے سوچا ۔لڑکی ستائش کی متمنی تھی مگر اسکو ہنسی آئے چلی جا رہی تھی اس لڑکی کی سنجیدگئ دیکھتے روک کر منہ پھیر کر آگے بڑھ گئ۔ 

پانچویں لڑکی بڑی بڑی آنکھوں والی خلائی مخلوق بنا رہی تھی جو ہوا میں تیر رہی تھی اسکے پر لیکن بازو کی جگہ ٹانگوں پر تھے۔ 

شائد اس نے پرواز افقی طو رپر نہیں عمودی طور پر بھرنی تھی۔ 

آسمانوں پر کمند؟ اس نے سوچا۔

یہ میں ہوں ۔ میں اس دنیا میں خلائی ہی مخلوق ہوں جو دنیا سے مطابقت نہیں رکھتی۔ 

اسکی توقع کے برعکس جواب نے اسے حیرت میں مبتلا کیا۔

اسکی سوچ اسکی تصویر سے عیاں تو نہ ہوتی تھی۔ 

خیر اس نے گہرئ سانس بھری۔ 

بس آج کا یہی سبق تھا تم لوگوں کا۔ اب چھٹی ہوئی تم سب کی۔ 

جی؟ کیا ؟ ہیں؟

ان پانچوں میں کھلبلی مچ گئ 

مگر ہمیں بتائیے تو ہم نے کیا سیکھا؟

وہ یک زبان ہو کر بولیں۔

آج تم لوگوں نے حقیقت اور ترجیحات کا فرق سیکھا ہے۔ حقیقت تم لوگ ہو اور ترجیحات کینوس پر بکھری ہیں۔ 

اس نے مسکرا کر کہا ۔ وہ سب کچھ سمجھتی کچھ نہ سمجھتی مزید بولی کچھ نہیں اپناسامان سمیٹنے لگیں۔

 

مصورہ نے کینوس پر نگاہ جمائی۔ 

بکھرے رنگوں میں چند چہرے ابھر رہے تھے کوئی چہرہ مضمحل تھا کوئی خوشی سے نہال کسی کے چہرے پر حالات ثبت تھے کسی نے خالی سپاٹ تاثرات سجا رکھے تھے سب سے نمایاں تھا ایک حیران متوحش چہرہ۔

یہ چہرہ بوڑھا تھا۔ اس نے دنیا دیکھ رکھی تھی۔ دنیا کی حقیقت بھی۔

 یہ چہرہ اسکا اپنا تھا۔ تصور میں۔ اور حقیقت میں؟ 

اس نے جھک کر اپنے پیروں کے قریب رکھے اپنے بستے سے آئینہ نکالا ۔ اپنا چہرہ ہر زاوئے سے دیکھا۔ دل بھر کے دیکھا  

جواں سال صحتمندی کی چمک لیئے خوبصورت چہرہ ۔

اسکے چہرے کے تاثرات مایوس کن سے ہوتے چلے گئے ۔ 

اسکی شاگرد سامان سمیٹتی اب جا رہی تھیں جاتے ہوئے اسے الوداع کہہ رہی تھیں۔

آج جو سیکھا اس پر خوش تھیں آج جو وہ سب  نہیں سیکھ سکیں اس پر وہ خود اداس ہو رہی تھی۔ 

کینوس پر جگہ نہیں تھی ۔ اس نے آہ بھر کر سوچا

مجھے لوگوں کی حقیقتیں نہیں ترجیحات حیران کرتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

Kesi lagi apko yeh kahani Rate us below

Rating
Desi Kimchi seoul korea based Urdu web travel Novel ALL EPISODES LINKS

Rishta ek aam si kahani urdu ki

“رشتہ اردو کی کہانی: ایک دلکش تجربہ”

بی جان اجی سنتئ ہو؟ بڑی خوشخبری لیکر آئی ہوں
نصیبا بوا ہانپتی کانپتی گھر میں داخل ہوئیں وہیں سے پکاریں
بئ جان بد مزا سی ہوئیں ابھئ نماز سے فارغ ہو کر تخت پر ہی کمر ٹکانے کو نیم دراز ہوئی تھیں ۔ بد اخلاق نہ

تھیں جبھی پکار کر انہیں یہیں آنے کا کہہ ڈالا نصیبب بوا سیدھا بی جان کے پاس چلی آئیں بیٹھنے سے پہلے ہی خوشی سے پھولے نہ سماتی بولیں
لو بہن اس بار تو ایسا رشتہ لائی ہوں انکار کر ہی نہ سکو گی۔ اتنی بہترین لڑکی سیٹیلائٹ سے بھی ڈھونڈو گی نہیں ملے گی۔
بی جان سونے کے ارادے سے لیٹئ تھیں انکے لیئے جگہ بناتی اٹھ بیٹھیں ذرا نخرے سے ناک چڑھا کر بولیں
ہوگی تو اسی دنیا کی نا ایسی کیا انوکھی خبر لائی ہو۔
نصیبا بوا انکے پہلو میں جگہ بناتی بیٹھ کر فاتحانہ انداز میں بولیں۔
وہی تو لڑکی اس دنیا کی ہی نہیں ہے۔ خلائی مخلوق ہے۔ عجوبہ سیارے سے ہے۔ پڑھی لکھی باادب مشتری سے امور خانہ داری کی ہی سند لی ہے کوئئ بھلی سی سب سے بڑی بات باادب ہے دنیا میں رہتی ہے سب ڈھنگ سیکھ لیئے ہیں۔
انکی باتوں سے بی جان کو بھی اشتیاق محسوس ہوا سیدھی ہو بیٹھیں۔نصیبن بوا نے بٹوے میں سے تصویر نکال کر سامنے رکھ دی۔
کیا خوبصورت نین نقشہ تھا۔ بڑی بڑی چار پانچ آنکھیں لمبے بال ہرا کھلتا ہوا رنگ۔ انہیں ایکدم شکلا پسند آگئ۔
نصیبن بوا نے انکے تاثرات سے اندازہ لگایا پھر اپنی معلومات کو دس سے ضرب دے کر انہیں مزید متاثر کرنے کی کوشش کرنے لگیں
دیکھو کیسا کھلتا ہوا ہرا رنگ ہے، اچھا کھانا بنا لیتئ ہے صرف دنیا ہی نہیں مریخ کے بھی کھانوں کو بنانے میں ماہر ہے۔ آٹھ نو ہاتھ ہیں پلک جھپکتے سب کام کر لیتئ ہے اور تو اور پلوٹو میں لڑکی کے نام پلاٹ ہے۔ شادی پر گھر بنوا کر۔۔
جوش خطابت میں وہ سب ایک ہی سانس میں بتاتی چلی گئیں۔ پلوٹو۔ اتنا دور۔ بی جان پر جیسے مانو ایکدم اوس ہی گر گئ۔
ہاں پلوٹو کو کم نہ سمجھو بہت بڑا سیارہ ہے۔ نصیبا بوا سمجھیں کہ شائد بی جان کی معلومات کم ہے۔
ہوں۔ بی جان نے گہری سانس کھینچی۔
ٹھیک ہے مگر دل نہیں مان رہا دیکھو نا میرا اکلوتا بیٹا ہے سو ارمان ہیں میرے۔ عجوبہ کونسا سیارہ ہے نام ہی نہیں سنا ۔کوئی Jupitor کی لڑکی دکھائو میرا لڑکا وہیں جانا چاہتا ہے ۔ اگر لڑکے کو وہ لوگ وہیں سیٹ کرادیں تو اچھا ہے۔
انکی بات۔۔ نصیبن بوا کی خوش امیدوں کے غبارے سے ایکدم ہوا نکال گئ ۔ ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں۔
اچھا اگر یہ ہی شرط ہے تو دیکھتی ہوں jupitor کی کوئی لڑکی بھی۔ ذرا پانی تو پلائو۔
بی جان کو اندازہ تھا کہ برا مان گئیں جبھی انکا گھٹنا دباتی بولیں
پانی کیا کھانا وانا کھا کر جانا میں ابھی چائے بھی بنواتئ ہوں۔
انہیں کام تھا ابھئ نصیبن بوا سے سو اتنی مدارت خوشی خوشی کر سکتی تھیں۔
نصیبن بوا نے سر ہلادیا یہ نیم رضامندی تھی۔ بی جان اٹھیں تو گہری سانس لیکر انہوں نے تصویر دوبارہ بٹوے میں ڈال دی۔ بٹوے سے ایک اور تصویر باہر نکلنے لگی تو اسے بھی ٹھیک کرنے لگیں
یہ jupitor کی لڑکی کی تصویر تھی۔ اسکے گھر والوں کو انہوں نے بی جان کے لڑکے کی تصویر دکھائی تھی تو بی جان کی ہی قبیلے کی وہ خاتون تھیں شائد ناک چڑھا کر بولیں
یہ دنیا کالڑکا؟ آج کل دنیا میں رہتا ہی کون ہے۔ نا شکل اچھی نا کسی دوسرے سیارے میں نوکری ۔ بہن ہمیں کوئی ایسا لڑکا دکھائو جو مارز کا رہائشی ہو شکل صورت سے بھئ کم ازکم میری بیٹی کے جوڑ کا تو ہو۔ اب دنیا میں تو اپنی لاڈوں پلی اکلوتی بیٹی کو دھکیل نہیں سکتی نا۔۔
kuch acha perho

urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen

Anokhi ( Pakistani super heroin) Episode 1

وہ ایک عام سا دن تھا جب انوکھی کو ٹی وی سےخبر ملی کہ فلاں علاقے میں ایک پرانی عمارت میں آگ لگ گئ۔ پہلے تو انوکھی نے سوچا فائر برگیڈ کو فون کرے پھر خیال آیا کہ فائر برگیڈ تو ٹی وی پر صاف آگ بجھاتی نظر آرہی ہے۔ پھر بھی انوکھی نے جا کر جان تو بچانی تھی لوگوں کی۔ انوکھی اٹھی نہا دھو کر تیار ہوئی اپنا پسندیدہ نیلم کا لاکٹ سیٹ پہنا اسکے ساتھ بندے نہیں تھے۔ اب انوکھی نے سوچا کوئی اور سیٹ کے نکال کر پہن لے۔ انوکھی نے ساری سنگھار میز الٹ کر دیکھ لی ہر دراز سے چیزیں نکال لیں کوئی بندہ میچ نہیں کر رہا تھا۔ مجبور ہو کر اپنے پہلے سے پہنے بندوں میں ہی دنیا کو بچانے کا ارادہ کیا۔ اپنا پسندیدہ مارول کا لباس پہنا اور ہلکا پھلکا میک اپ کرکے باہر نکل آئی۔ سامنے پڑوس کے مجو کی سائیکل کھڑی نظر آئی اس نے وہی لی اور فلاں علاقے کی طرف چل پڑی۔ فلاں علاقے میں خوب ہنگامہ تھا۔ پولیس اور فائر برگیڈ عمارت سے زخمیوں کو نکالنے میں لگے ہوئے تھے۔ اس نے خود کو مصروف ظاہر کرنے کیلئے عمارت کا جائزہ لینا شروع کیا سائکل سے دو تین چکر ہی لگائے ہوں گے کہ کچھ بچوں نے آواز دی۔ باجی اپنا دوپٹہ سنبھالیں پہیئے میں آجائے گا۔ اپنے اتنے مہنگے جدید طرز کے مارول لباس کا دوپٹہ تو وہ پہننا بھول ہی گئ تھی۔ اس نے مڑ کر بچوں کو دیکھا۔ تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو یہ جگہ محفوظ نہیں بھاگو یہاں سے۔ بچے ہنسنے لگے ۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کچھ کالی رسیاں نظر آئیں اس سے بچوں کو باندھ کر اڑا کر وہاں سے دور چھوڑ دیا۔بچے چلائے کیا کر رہی ہیں باجی ہم اپنے گھر سے دو کلومیٹر دور آگئے ہیں واپس کیسے جائیں گے؟ ایک بچی کو مزا آیا بولیباجی ایک اور پینگ دے دیں۔ ان میں جو سمجھدار بچہ تھا شکر ادا کرنے لگا کہ آگ لگنے کی وجہ سے علاقے کی بجلی منقطع تھی ورنہ باجی نے رسی سمجھ کر جن بجلی کی تاروں باندھ کر انہیں اڑا دیا تھا ان میں برقی رو ہوتی تو وہ سب تکے بن جاتے۔ انوکھی کا کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ واپس فلاں علاقے میں سائکل چلا کر آئی تو دیکھا عمارت خالی ہوچکی تھی پولیس اور فائر برگیڈ اپنا کام مکمل کر چکے تھے سب زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جا چکا تھا اب صفائی کی جا رہی تھی۔ انوکھئ کو ملال ہوا مگر خوشی بھی تھی کہ اس نے عمارت سے باہر کھیلتے بچوں کو کئی کلو میٹر دور صحیح سلامت پہنچا دیا تھا۔وہ گہری سانس لیکر سائکل پر واپس پلٹنے کو تھی کہ اسے کچھ فاصلے پرایک میلے حلیئے میں عمارت کنارے اکڑوں بیٹھا ایک شخص آگ سے ہاتھ سینکتے ہوئے نظر آیا۔ مئی کے مہینے میں آگ سے ہاتھ کون سینکتا یہی سوچ کر اس نے آگے بڑھ کر اسکو بچایا اٹھا کر کھڑا کیاآدھے گھنٹے کی جھاڑ پلائی آگ کے نقصانات پر اور یہ بھی جتایا کہ آج انوکھی نے بچا لیا ورنہ وہ تو جل کر مرجاتا۔ خاموشی سے سنتا وہ شخص جوابا مسکرا کر بولا شکریہ انوکھی ویسے میں ویلڈنگ کر رہا تھا۔ ویسے تم جیسی لڑکی ہی مجھے پسند ہے کیا مجھے تمہارا نمبر مل سکتا ہے؟انوکھی غصے سے آگ بگولا ہوگئ۔ تن فن کر تی سائکل پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آئی۔ راستے میں اس نے سنا مسجد سے تین بچوں کی گمشدگی کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ واپس گھر پہنچی تو امی جھاڑو لیئے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ مجو اپنی ماں کا دوپٹہ چباتے رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ مجو کی ماں ہاتھ نچا کر لڑ رہی تھی۔ دیکھ لیں انوکھی مجو کی سائکل لیکر نکل گئ تھی۔ میرا بچہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا الٹا آپ نے اسے چوری کا الزام لگانے پر جھاڑو سے پیٹ دیا۔ میرا بچہ سوکھے کی بیماری کا شکار ہواتو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ انوکھئ کی امی نے اس بار خاموشی سے سنا سر ہلایا جھاڑو سیدھی کی۔ اس بار انکا ارادہ انوکھی کی پٹائی کا تھا۔

سبق: کبھی دوسروں کے بچوں کو نہ پیٹیں اپنے بچوں کو پیٹا کریں بس۔ ورنہ محلے والوں سے جھگڑا ہوجائے گا

Tum aur Tum ( urdu afsanchah)

افسانچہ * تم*
اس نے بڑے انداز سے گھٹنے کے بل بیٹھ کر اسکی جانب گلاب کا پھول بڑھاتے ہوئے کہا
قسم سے میری زندگی میں صرف تم ہو۔۔
اس نے نگاہ اٹھا کر اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا پھر شرماتے ہوئے داہنا ہاتھ بڑھانے کو تھی کہ خیال آیا داہنا ہاتھ تو منگنئ کی انگوٹھی سے سجا ہے سو فورا کمر کے پیچھے ہاتھ کرتے ہوئے غیر محسوس انداز میں بایاں ہاتھ بڑھا کر گلاب کا پھول تھام کر بولی
میری زندگی میں آنے والے تم پہلے اور آخری شخص ہو۔۔
خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔پشت پر جھوٹی قسم کے عذاب سے بچنے کو اس نے ایک ہاتھ سے شہادت اور درمیان والی انگلی سے کاٹے کا نشان بنا رکھا تھا۔۔۔

ختم شد

Kesa laga apko yeh Afsancha? Rate us below

Rating
https://vt.tiktok.com/ZSF7Ynu3e