وہ اس دن خوش تھی۔ بے تحاشہ خوش اتنا کہ جھوم اٹھی۔ جھومی یوں کہ چکر کھانے لگی۔ ہر چکر پر اسکا چہرہ بس ایک سرخوشی دکھاتا۔۔ مسکراہٹ کم سرخوشی جھلکاتا
خوش لڑکی نے سوچا۔۔ یہی تو زندگی ہے۔ میں جوان ، خوبصورت اور سب سے بڑھ خوش۔
بس یہی ایک پل یہی لمحہ یہیں محسوس ہونے والا جذبہ زندگی ہے بس یہیں اسی میں سب وقت گزار دوں۔۔
جھومتی مسکراتی وہ لمحہ بھر کو رک سی گئ۔۔
چہرے کا وہ تاثر ان مٹ ہوگیا۔۔
اس نے اسی پل میں ٹھہرنے کا فیصلہ جو کرلیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں سال بعد۔۔
اس تہزیب کے آثاروں میں یہ آخری نکلنے والا ثابت مجسمہ تھا ۔ مجسمہ ایک پتھر کی لڑکی کا تھا یا لڑکی کا پتھر کا مجسمہ۔
یہ اسکی اب تک کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہو سکتی تھی۔ کھدائی تو سب ہی کر رہے تھے کروا رہے تھے اس نے زمین میں دھنسے اس پتھر کو مجسمہ سمجھا تھا۔ اپنی ماہرین کی ٹیم کو اسے کھوجنے نکالنے پر آمادہ کیا تھا۔ اور جب یہ پتھر باہر نکالا گیا تو دنیا کے آزاروں نے اسکی اصل ہیئت چھپا دی تھی۔ اس مجسمے کو اس کی ٹیم نے یکدم بے کار قرار دیا تھا۔ کسی قسم کی تہزیب کا عکس تلاشنا آسان نہ تھا اس پر وہ اس پرانے کھنڈرات سے ایسے نوادرات اکٹھے کر چکے تھے کہ اس سنگی مجسمے جس نے نہ سونے چاندی کی ملمع کاری کروا رکھی تھی نہ ہی اس پر کوئی متروک زبان کے سہی نقش کنندہ تھے اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا کہ آیا یہ کسی پرانی تہزیب کا حصہ ہے بھی یا کسی فنکار کا عام سا مجسمہ مگر وہ کھوجی طبیعت سے مجبور ضد کرکے اس مجسمے کو لیب لائی دن رات ایک کرکے مجمسے کو محفوظ کیا اسکے ایک ایک نقش سے دھول صاف کی اسکو اسکی اصل شکل میں واپس لانے میں دن رات ایک کیا او رجب مختلف کیمکلز لگا کر اس نے جانفشانی سے اسکے اصل خدو خال کھوج نکالے تو۔۔
جانا یہ ایک سرخوشی سے جھومتی مسکراتی لڑکی ہے جس پر زمانوں کی دھوپ گرد بے اثر رہی تھی آج بھی آب و تاب سے مسکرا رہی تھی۔
اس ماہر آثار قدیمہ نے یک ٹک اسے سرتاپا دیکھا۔پھر چہرے پر ثبت تاثر کو
پھر ٹھنڈی آہ بھری۔۔
یہ جب خوش ہوئی ہوگی تب سوچا ہوگا ایسی ہی رہ جائے۔
مگر اس خوشی کے بعد نہ اسے کوئی خوشی مل سکی نہ غم ایسی ہی رہ گئ بے چاری۔
The Hidden Secret: Woh Kon Thi Aur Saheliyon Se Kya Chupaya?
وہ کون تھی؟؟؟
نیہا اپنی سہیلیوں کے ساتھ کالج ٹرپ پر شمالی علاقہ جات کی سیر کو آئی تھیں۔ سارا دن انکا پہاڑوں پر تصویریں بناتے ہنسی ٹھٹھول کرتے گزرا تھا ۔ آخر اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ پر مغرب کے قریب ہوٹل واپسی ہوئی تھی۔پرائیویٹ کالج تھا خوب پیسے اینٹھے تھے انکے والدین سے جبھی پچیس لڑکیوں کیلئے کمرے بھی دو دو کے حساب سے بک کئے گئے تھے۔ فرسٹ اور سیکنڈ ائیر دونوں کلاسز کو لیکر گئ تھیں بہت سے والدین نے تو بھیجنے سے منع کردیا تھا مگر نیہا کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بلکہ اپنی سہیلیوں شمائلہ، عالیہ اور لیلی کے والدین کو بھی نیہا نے ہی منایا تھا۔جانے کیا سحر پھونکا تھا اپنی بچیوں کو ڈانٹ کر چپ کرادینے والے والدین نیہا کے آگے ایکدم چپ ہو گئے تھے اور میکانکی انداز میں اجازت نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔سب سے ذیادہ حیران تو لیلی ہوئی تھی۔ اسکول کے زمانے میں بھی والدین نے کبھی اسے کسی ٹرپ پر جانے نہیں دیا تھا۔ اور نیہا کے ایک دفعہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے پر کہ لیلی کو ہمارے ساتھ ٹرپ پر جانے دیں اسکے والدین نا صرف خاموشی سے مان گئے بلکہ جیب خرچ بھی دیا تھا لیلی کو۔ لیلی تو خوشی سے نیہا سے لپٹ ہی گئ تھی۔ بہت شکریہ میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ نیہا مسکرا دی
ساتھ تنبیہہ بھی کردی تھی کہ آئندہ مجھ سے دور رہنا۔
اسے بالکل بھی چھوئے جانا پسند نہیں تھا۔ لیلی نے کان پکڑ کر سوری کہا تھا۔ نیہا ان سے ہاتھ بھی نہیں ملاتی تھی بس دور سے سلام کرنا پسند تھا اسے۔ شائد اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ شروع شروع میں جب اس سے ہاتھ ملاتی تھیں تو اچھل پڑتی تھیں۔ اسکے ہاتھ غیر معمولی طور پر نرم تھے۔جیسے اس نے کبھی ہل کر پانی نہ پیا ہو۔
شمائلہ نے تو حیران ہو کر یہ بھی کہہ دیا تھا کیا تمہارے ہاتھ میں ہڈی نہیں ہے؟ اتنا نرم ہاتھ کیسے ہو سکتا کسی کا جبکہ وہ کوئی موٹی سی لڑکی بھی نہیں تھی بلکہ ان سب میں سب سے نازک سراپا تھا اسکا۔ نیہا نے گہری سانس لی اور ہتھیلی پھیلا دی۔
میرے ہاتھ میں لکیریں بھی نہیں ہیں۔ میں اسی لیئے ہاتھ ملاتی ہی نہیں ہوں پھر لوگ الٹے سیدھے تبصرے کرتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا۔
اسکی شفاف سپید ہتھیلی انکے سامنے پھیلی تھی اور تینو ں کی حیرت سے آنکھیں ابل سی آئی تھیں اسکے ہاتھ میں بنیادی بس تین لکیریں تھیں قسمت، زندگی اور تعلیم کی او روہ سب بھی ادھوری تھیں۔خوب گہرئ مگر بمشکل ایک پور کی۔
اب اگر تم لوگوں نے دوستی کرنی ہے مجھ سے تو میری شرط ہے نا تم میں سے کوئی کبھی مجھ سے ہاتھ ملائے گا نہ کبھی پیچھے سے آواز دے گا اگر میں کبھی نظر آئوں تو آواز دینے کی بجائے تم لوگ پاس آجانا یا میسج کردینا ٹھیک؟
وہ تینوں مان گئ تھیں۔ بہر حال نیہا دل کی بہت اچھی لڑکی تھی۔ کھلا خرچ کرتی تھی ان پر پڑھائی میں مدد ہو یا اچھا کھانا وہ پیش پیش رہتی تھی۔ جبھی وہ تینوں کبھی اس کو ناراض نہیں کرتی تھیں۔ ابھی بھی جزباتی ہو کر لیلی نے گلے لگا لیا تو فورا معزرت کر لی تھی۔
آج سارا دن بھی وہ چاروں اپنا الگ گروپ بنائے پہاڑوں پر گھومتی پھری تھیں۔ نیہا انکو ہر جگہ گائڈ بن کر سیر کرا رہی تھی۔
شمائلہ نے کہہ بھی دیا کہ تم تو لگتا ہے یہیں رہتی رہی ہو
اس نے مسکرا کر سر ہلایا ہا ں یہاں قریب ہی میرا ننھیال ہے اکثر آنا جانا ہوتا ہے یہاں۔
غرض خوب تھک تھکا کر وہ جب ہوٹل پہنچیں تو بھوک سے برا حال تھا۔عالیہ اور لیلی کا الگ کمرہ تھا نیہا اور شمائلہ کا الگ لیکن عالیہ اور لیلی اپنا سامان کمرے میں رکھ کر بس اپنے ہینڈ بیگ اٹھا کرانہی کے کمرے میں آگئ تھیں۔ باتیں کرتے وقت گزرنے کا پتہ نہ لگا۔ انکی کلاس فیلو نے آکر انہیں کھانے کیلئے بلایا تو اکٹھی ہی چاروں نیچے آئیں کھانا کھانے مگر ہوٹل کا کھانا انکو پسند نہیں آیا۔۔
عجیب ہیک زدہ اوپر سے بکرا یا دنبہ پکا تھا جو ان تینوں کو بالکل پسند نہیں آیا سو ایک دو نوالے لیکر اٹھ گئیں۔
نیہا یہاں بھی مدد کو آئی ۔ انکی پسند پوچھ کر
نیہا نے اپنے کزن سے کہہ کر گھر سے کھانا منگوا لیا۔ وہ تینوں منع کرتی رہیں مگر نیہا نے مان بھرے انداز میں یہ کہہ کر کہ اسکو کوئی مسلئہ نہیں ویسے بھی چونکہ اسکا ننھیال یہاں ہے تو وہ سب اسکی مہمان ہیں۔ اسکے خلوص پر انہیں خاموش ہونا پڑا۔نیہا کا کزن بھی خوب پھرتیلا تھا انکو ذیادہ انتظار نہیں کروایا۔ پندرہ بیس منٹ میں ہی وہ ہوٹل کے باہر موجود تھا۔نیہا خود جا کر کھانا لیکر آئی کیونکہ ہوٹل کے اندر کوئی باہر کا داخل ہو نہیں سکتا تھا۔ ان تینوں نے کھڑکی سے ہی جھانک کر دیکھا اسکا کزن خوب لمبا چوڑا سا تھا۔ انکو اوپر کی منزل سے نیچے جھانکتے جانے اسے محسوس ہوگیا کیا مسکرا کر ہاتھ بھی ہلا دیا۔ نیہا نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو وہ تینوں خفت ذدہ سی ہوگئیں کیا سوچتی ہوگی ہم اسکے کزن کو تاڑ رہی ہیں۔ جھٹ کھڑکی بند کرکے اندر بیڈ پر آبیٹھیں۔ تبھی نیہا دروازہ کھولتی اندر آگئ۔ انہیں جتائے بنا کھانا لا رکھا۔ کباب مرغ کڑاہی اور تلے ہوئے نان ۔ غرض اچھی خاصی دعوت ہوگئ انکی۔
اتنا مزیدار تکہ میں نے آج تک نہیں کھایا۔
عالیہ نے چٹخارا بھرا تو شمائیلہ اور لیلی نے بھی تائید کی۔
نیہا مسکرا دی۔
کھانا بہت ذیادہ نہیں تھا بلکہ ایک نظر دیکھنے میں لگتا تھا کہ چار لوگوں میں کم پڑ جائے گا مگر ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔
خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔ نیہا نے ان سب کیلئے کافی آرڈر کردی تھی کھانا ختم ہوتے ہی کافی بھاپ اڑاتی سامنے تھے۔
سردی میں کافی سے بہتر کوئی چیز ہو نہیں سکتی
شمائلہ نے گھونٹ بھر کر فتوی داغا۔
ساتھ ڈرائی فروٹس ہوں تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ نیہا نے بیگ سے چلغوزے نکال کر سامنے رکھ دیئے۔ پلیٹ بھر کر چلغوزے کھاتے کافی پیتے انہیں کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ اچانک ایک کونے میں رکھا شمائلہ کا بیگ خود بخود دھڑام سے گر گیا۔ وہ چاروں چونک کر مڑیں۔ نیہا نے گھور کر بیگ کر دیکھا۔
یہ کیسے گر گیا؟ شمائلہ کی خوف سے سرسراتی آواز نکلی۔
ہوا سے گرا ہوگا یا ٹیڑھا رکھا ہوگا۔
نیہا نے لاپروائئ سے کہا۔ مگر عالیہ کو غلط وقت پر غلط بات یاد آئئ۔
یار میں نے سنا ہے یہاں شمالی علاقہ جات میں آسیب وغیرہ کا بہت چکر ہوتا ہے۔ میرا کزن اپنے دوستوں کے ساتھ آیا تھا تو اسی ہوٹل میں رکا تھا ۔ بتا رہا تھا ساری رات کمرے میں عجیب آوازیں آتی رہیں کبھی کوئی ادھر سے ادھر جا رہا کبھی کوئی۔۔۔
کیا بکواس ہے۔ نیہا نے چڑ کر ٹوکا۔
یہ کوئی وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا؟
ہاں صحیح کہہ رہی ہے ۔ سدا کئ ڈرپوک لیلی نے بھی حمایت کی۔
میں نے سنا ہے ان چیزوں کا ذکر کرو تو آجاتی ہیں ۔ نام بھی نہ لینا۔۔۔
ہم لاحول پڑھ کر بھگا دیں گے ۔
شمائلہ ہنس کر بولی۔۔
تم لوگ بھی نا بلا وجہ ڈرتی ہو۔ پتہ ہے ہم کزنز اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسے ایسے قصے سناتے ہیں ڈرائونے ساری رات گزرنے کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ اور مزا اتنا آتا ہے مجھے بتائو کیا ہوا تھا تمہارے کزن کے ساتھ۔۔۔۔
شمائلہ کی شہہ ملنی تھی کہ عالیہ نے قصہ شروع کردیا۔ لیلی نے خفا ہونا چاہا کان بھی بند کرنے چاہے مگر قصہ دلچسپ تھا سو وہ بھی ہمہ تن گوش ہوگئ۔
ہوا کچھ یوں کہ میرا کزن اور اسکے دو دوست یہاں آئے اور نیچے والی منزل پر ایک روم لیا۔ ڈبل بیڈ والا اب ہوا یوں کہ تینوں تھکے ہوئے تھے آئے اور بس بستر پر گر کر سوگئے۔ کوئی رات کے ایک بجے ہوں گے کہ میرے کزن کا کسی نے کندھا ہلایا۔ وہ سمجھا میرا دوست ہوگا کروٹ بدل کر اوں آں کرکے سوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد پھر۔۔
عالیہ مزے لے لیکر کر بتا رہی تھی لیلی کو بھی تجسس ہو نے لگا نیہا بور سی ہو کر ان کے بیچ سے اٹھ گئ۔ آکر کھڑکی میں کھڑی ہوگئی۔ ابھی چونکہ اوائل اکتوبر تھے تو برفباری تو دور دور تک نہ ہوئی تھی مگر ایک ہڈیوں میں گھسنے والی سرد ہوا کا جھونکاضرور آتا تھا۔وہ کھڑکی کھول کر اسی سرد ہوا کے جھونکے کا مزا لے رہی تھی۔
کمرہ ہنسی مذاق سے گونج رہا تھا، عالیہ شمائلہ کا مزاق اڑا رہی تھی جسے آدھا قصہ سن کر ہی ڈر لگ گیا تھا۔
بس کرو میں نے نہیں سننا مجھے ڈر لگتا ہے۔
وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی تو عالیہ ہنستے ہٹا دیتی۔ دونوں کو دیکھتی شمائلہ کو ایکدم سرد ہوا نےجھر جھری سی دلا دی۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا تو نیہا اتنی سخت سردی میں کھڑکی کھولے کھڑی باہر جھانک رہی تھی
“نیہا، نیہا کی بچی ” اس نے آواز دی۔
کھڑکی تو۔۔
نیہا نے چونک کر اپنا سر پیچھے کی طرف موڑا۔ لیکن… صرف سر۔ اس کا جسم وہیں رہا، اور اس کا چہرہ مکمل طور پر پیچھے کی طرف مڑ گیا۔
شمائلہ کے حلق میں باقی جملہ اٹک سا گیا۔ وہ کہنے جا رہی تھی کھڑکی تو بند کرو مگر زبان ایکدم گنگ سی ہوگئ
کیا ہوا؟ نیہا حیران پوچھ رہی تھی
کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ۔
عالیہ اور لیلی بھی اسے دیکھ کر سنٹ سی ہوگئیں
“یہ… یہ کیا تھا؟”عالیہ نے لرزتے ہوئے کہا۔
نیہا نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔ پھر آہستہ سے بولی
:
تو آخر میرا راز کھل گیا
“مجھے لگا تھا میں چھپ سکتی ہوں… لیکن اب تم سب جان گئے ہو۔”
میں نے کہا تھا نا مجھے کبھی پیچھے سے آواز مت دینا
اس کی آواز میں انسانوں جیسا درد نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف بڑھی، اور انکے دیکھتے ہی دیکھتےغائب ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح خاصے جارحانہ انداز میں دروازے پر دستک دینے سے آنکھ کھلی تھی شمائلہ کی۔
تیز دھوپ کھڑکی سے چھن چھن کر پوری مسہری کو گھیر رہی تھی۔ اس نے کسمساتے ہوئے پہلو بدلا توعالیہ اور لیلی دونوں اسکے برابر میں آڑھی ترچھی پڑی سو رہی تھیں۔
دروازہ کھولو عالیہ، شمائلہ، لیلی
یہ انکی پرنسپل کی آواز تھئ وہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی دونوں کو ہلایا ابھی آنکھیں ملتی وہ اٹھ ہی رہی تھیں کہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر ہوٹل اسٹاف کے ہمراہ پرنسپل کڑے تیوروں کے ساتھ انکے کمرے میں داخل ہوگئیں۔
کیا حرکت ہے لیلی یہ؟ آپ اپنے والدین سے اجازت لیئے بنا ٹرپ پر آگئیں؟ آپ جانتی ہیں آپکے والدین نے آپکی گم شدگئ کا پرچہ درج کرادیا ہے؟ پولیس آپکو ڈھونڈتی پھر رہی ہے؟آپکو اندازہ بھی ہے کتنی بڑی مشکل کھڑی کردی ہے آپ نے ہمارے لیئے۔
وہ بنا لحاظ غصے سے چلائیں۔
لیلی اس افتاد پر گھبرا گئ۔
مگر میم میں نے تو اجازت نامہ لا کر جمع کرایا تھا نیہا نے خود بابا سے بات کی تھی میرے پاس والی اجازت نامے کی کاپی ہے میرے پاس۔
کون نیہا؟ اور لیلی آپ نے اپنے والدین کےجعلی دستخط کیئے تھے اجازت نامے پر؟آپ جانتی ہیں اس حرکت پر آپ کو کالج سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔۔
میم نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے دریافت کیا۔
میم ہماری دوست نیہا۔ اسی نے اجازت لی تھئ لیلی کے والدین سے یہیں اسی کمرے میں رکی ہے ہمارے ساتھ یہ سامان ، شمائلہ سہیلی کی مدد کو آئئ
اشارے سے ایک کونے میں رکھے اپنے اور نیہا کے بیگ کی جانب اشارہ کیا تو حیرت سے دیکھتی رہ گئ وہاں بس ایک بیگ تھا اسکا اپنا۔۔
کون نیہا؟ کیسا سامان؟ تم لوگوں کو اندازہ بھی ہے تم لوگوں کی وجہ سے کالج کی ریپوٹیشن پر کیا اثر پڑے گا؟ ابھی اسی وقت اپنا سامان سمیٹو تم تینوں واپس جا رہی ہو فورا۔۔
پرنسپل صاحبہ غصے سے چلا رہی تھیں او رعالیہ شمائلہ اور لیلی کے ذہن میں رات کا منظر تازہ ہوا تھا۔
نیہا تو انکی آنکھوں کے سامنے دھواں بن کے غائب ہوگئ تھئ۔۔
اب کیسے یقین دلائیں وہ پرنسپل صاحبہ کو۔۔
تبھی ایک خوش شکل نوجوان پولیس کی وردی میں داخل ہوا۔
میم لیلی کے والدین نے اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔ انہیں کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔ میرا خیال ہے آپ ان سے بات کرلیں پہلے۔۔
اس نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا وہی انکی جانب بڑھا دیا۔
پرنسپل صاحبہ نے میکانکی انداز میں فون کان سے لگایا اور خاموشی سے باہر نکل گئیں
ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے ان تینوں کو دیکھتا وہ اسٹاف میمبرز کو بھی باہرآنے کا اشارہ کرتا خود بھی باہر نکل گیا۔۔
لیلی عالیہ اور شمائلہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔
یہ سب کیا ہوا ہے؟ نیہا کہاں چلی گئ؟
عالیہ سرسراتی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
ہماری آنکھوں کے سامنے ہی تو غائب ہوئی تھی پھر مجھے کوئی ہوش نہیں میری ابھی شمائلہ کے جگانے پر آنکھ کھلی ہے۔
لیلی کی آواز میں بھی لرزش تھی۔
اگر نیہا کوئی انسان ہے ہی نہیں تو لیلی کے والدین سے بات کس نے کی؟ اور اب کیا ہوگا؟ اسکے والدین تو بہت غصے میں ہوں گے۔
عالیہ نے کہا تو شمائلہ نے گہری سانس لی۔
کچھ نہیں ہوگا نیہا نے سب سنبھال لیا ۔۔۔
کیا مطلب؟ لیلی اور عالیہ نے الجھ کر دیکھا۔
نیہا واپس آگئ ہے؟کیا ہم نے خواب دیکھا تھا جو رات کو ہوا وہ سب؟؟؟
نہیں۔ شمائلہ نے نفی میں سر ہلایا۔
رات جو کچھ ہوا وہ سب سچ تھا۔
لیکن تم لوگوں نے غور نہیں کیا پرنسپل کا غصہ ٹھنڈا کرکے لے جانے والا پولیس انسپیکٹر وہی لڑکا تھا نیہا کا کزن جو رات ہمارے لیئے کھانا لیکر آیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
kesi lagi apko yeh kahani ? rate us below
Rating
kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #Urduhorror
اس نے ضروری بات کرنے کیلئے ملنے کا کہہ کر نزدیکی پارک میں بلایا تھا۔وہ حسب عادت قدرے دیر سے پہنچا تھا۔ وہ دور اکیلی بنچ پر بیٹھی اسکا انتظار کررہی تھی۔ اس نے بائک لائک کی ہیلمٹ اتار کر رکھا۔ بال جلدی جلدی انگلیوں سے سنوارتا تیز قدم اٹھاتا اسکی جانب بڑھا۔
اسلام و علیکم کیسی ہو؟
ہمیشہ کی طرح اس نے ایکدم سے اسکے پیچھے سے آکر زور دار سلام کیا تھا۔ وہ بری طرح چونک کر مڑی تو وہ ہنس دیا
کیا ہوا ڈر گئیں؟
وہ مضمحل سا مسکرا دی ۔نہیں ڈر نہیں لگتا اب مجھے۔وہ مزید بھی کچھ کہتی مگر اس نے بات اچک لی
کیونکہ میں جو پاس ہوں ہے نا۔
وہ ہشاش بشاش سا خوشگوار مزاج کے ساتھ مطمئن نظر آتا تھا۔ اسکے برابر بیٹھتے ہوئے اسکی آنکھیں پارک پر طائرانہ نگاہ دوڑا رہی تھیں۔
کیا بات کرنی تھی تمہیں ؟ وہ پوچھ رہا تھا
کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟اس نے غور سے شکل دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
ہاں ۔ یہ سوال اکثر پوچھا کرتی تھی اور ہمیشہ اس نے فٹ سے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا جواب دیا تھا ہاں
۔وہ جوابا مسکرا دیتی تھی آج نہیں مسکرائی جھوٹ۔۔ وہ ایکدم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
سچ کہہ رہا ہوں کیا ہوا ؟ وہ بوکھلا کر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
تمہاری دادی ایک ہفتے سے اسپتال میں ہیں جہاں تم انکو دیکھنے جاتے ہو؟
ہاں۔ اس کا جواب اب بھی برملا تھا۔
جھوٹ تمہاری دادی کے انتقال کو چار برس گزر چکے ہیں۔ اس نے تاسف سے دیکھا تھا۔
وہ شرمندہ سا ہوکر کان کھجانے لگا میں بتاتا ہوں دراصل ، اسکا ذہن جلدی جلدی بہانہ سوچنے میں مصروف ہوا۔
پچھلے ایک ہفتے سے اسکو کچھ مصروفیت تھی وہ بالکل اسکو وقت نہیں دے پا رہا تھا سو اسکی ناراضگی سے بچنے کو اس نے جھوٹ بولا تھا۔ لیکن مصروفیت کی نوعیت بتانے پر اسکی مزید ناراضگی مول لینے کا اندیشہ تھا جبھی ۔۔
تم جھوٹے ہو میں تم سے مزید کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔۔ وہ غصے سے کہہ کر جانے لگی تھی۔
وہ بھاگ کر اسکے سامنے آیابات تو سنو میں مصروف تھا میں نے جھوٹ بولا لیکن اسکا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا میں بتاتا ہوں نا کیوں جھوٹ بولا دراصل ۔۔۔
مجھے نہیں جاننا تمہاری مصروفیت کی نوعیت۔اس نے سختی سے بات کاٹ دی۔میں بریک اپ کررہی ہوں اب مجھ سے کبھی رابطہ نہ کرنا۔۔
ایک جھوٹ بولنے پر تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو؟ اسے بار بار بریک اپ کی دھمکی پر غصہ آنے لگا تھا۔ جب جھگڑا ہوتا ان میں وہ ایسا ہی کہتی تھی۔
ہاں ایک جھوٹ بولنے پر۔ وہ تنفر سے بولی۔۔
میری کزن آئی ہوئی تھی گائوں سے اسکا علاج ہو رہا ہے یہاں اسپتال میں میں اور میرا کزن اسپتال کی باریاں لگا رہے تھے ۔میں اتنا مصروف تھا کہ مجھے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ پچھلی دفعہ جب وہ آئی تھی یہاں اسپتال میں داخل ہونے تو تم نے اتنا مسلئہ بنایا تھا کہ بہن نہیں ہے وہ میری میں کیوں اسکےلیئے خوارہورہا ہوں جبھی اس دفعہ تمہیں بتانے کی بجائے جھوٹ بول دیا اور تم اب اس بات کو مسلئہ بنا رہی ہو۔وہ جھنجھلا گیا تھااسکے رویئے پر کچھ انداز میں سختی در ہی آئی تھی۔ اسکے چہرے پر معنی خیز سی مسکراہٹ در آئی۔
تم نے یہ نہیں پوچھا کہ مجھے کیسے پتہ چلا کہ تمہاری دادی بیمار نہیں ہیں ؟
کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کا انداز ہنوز تھا۔ وہ اسکے شکی جھگڑالو مزاج سے تنگ آچکا تھا۔ وہ چند ثانیئے اسے دیکھتی رہی۔ پھر گہری سانس لیکر بولی
قطع تعلق کر لیتے ہیں بس اب ہم۔
وجہ؟ اس نے تیوری چڑھائی
تم نے جھوٹ بولا مجھ سے میں تم پر اب اعتبار نہیں کرسکتی۔ اسکے الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسے اپنی بے عزتی سی لگی
۔کیا مطلب ہے اس بات کا؟ انسان ہوں بندہ کبھی جھوٹ کہہ ہی دیتا ہے۔جوابا وہ رخ موڑ کر تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسکی آواز اسکا پیچھا کر رہی تھی۔ وہ دکھی ہوا تھا اسکی بے اعتباری پر جبھی چلا رہا تھا تمہارے اسی انتہا پسند رویئے نے مجھے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا۔ سچ بتاتا تو بھی تم روٹھ جاتیں کہاں جا رہی ہو بات سنو ۔۔۔اسکے قدموں کی رفتار مزید تیز ہوئی۔ اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھ کروہ اسکے پیچھے بھاگ کے آیا تھا
تم نے بھی کبھی جھوٹ بولا ہوگا ؟ اور اسکی کیا ضمانت ہے کہ میرے سوا کوئی تمہاری زندگی میں آئے گا وہ جھوٹ نہیں بولے گا؟
وہ منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اس نے مزید رفتار بڑھائی ۔ اس نے کانوں پر نادیدہ پردے ڈال رکھے تھے کہ اسکی آواز جیسے سن ہی نہیں رہی تھی۔
سنو ۔۔ ارے؟۔۔۔ اچھا میں کال کروں گا رات کو اچھا اٹھا لینافوں ابھی غصے میں ہو بعد میں بات کرتے ہیں۔۔ اسے نہ رکتے نہ پلٹتے دیکھ کر اس نے بھی اسکا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔رک کر آواز لگائی۔ وہ پارک کا گیٹ پار کرگئی تھی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکو آج تک اس نے اتنا نظر انداز نہیں کیا تھا۔قریبی سنگی بنچ پر بیٹھتے وہ خود اپنا احتساب کررہا تھاایک جھوٹ بس ایک جھوٹ بولنے پر اس نے مجھے چھوڑ دیا؟ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ٹہل رہی تھی ۔ اسکی سہیلی اسکے بیڈ پر بیٹھی چائے پی رہی تھی۔جب اس نے دھیرے دھیرے دوپہر کی ساری بات اسے بتائی تھی۔
مجھے لگا تھا وہ مکر جائے گا پھر کوئی جھوٹ بول دے گا اس نے واقعی سچ بتا دیا کہ وہ اسپتال کے چکر لگا رہا تھا اپنی کزن کی وجہ سے؟
اس کی سہیلی روداد سن کے حیران تھی۔ وہ اسکی حیرانی پر۔مسکرادی۔
میں نے کہا تھا نا تم نے خوامخواہ شک کیا اس پر وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولتا۔۔
اچھا ؟ اسکی سہیلی استہزائیہ مسکرائی تو پھر ؟ قطع تعلق کیوں کرلیا؟ اس سے؟
اس نے مجھ سے بس ایک جھوٹ بولا تھا جسے میں برداشت نہیں کر پائی۔ اس نے گہری سانس لی۔
کیا جھوٹ بولا؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ پائی ۔
بتا تو دیا اس نے تمہیں اپنی ایک ہفتے کی مصروفیت۔ اسکی تو تم بھی گواہ ہو اسکی کزن کے برابر والے پرائیویٹ روم میں ہی تو تم بھی داخل تھیں۔ اسکو آتے جاتے دیکھا خود تم نے۔۔ پھر؟
اس نے مجھ سے کوئی اور جھوٹ بولا تھا۔ وہ تھک کر اسکےبرابر آبیٹھی۔ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر سہارا دیا تھا۔ اپنے برابر جگہ بنائی تھی۔ اسکے بیٹھتے ہی تکیہ اسکی جانب بڑھایا تھا تاکہ وہ نیم دراز ہو سکے۔ وہ اسکے اس درجہ خیال رکھنے پر مسکرا دی پھر شرارتئ انداز میں بولی
معمولی آپریشن تھا اپنڈکس کا اکثر لوگوں کا ہوتا ہے کوئی لا علاج بیماری نہیں ہو گئ ہے مجھے۔
پھر بھی آپریشن ہوا ہے تم عام چل پھر بھی رہی ہو تو تکلیف تمہاری چال سے واضح ہے۔ اسکی سہیلی محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر کہہ رہی تھی۔
اتنا واضح ہے میری تکلیف میری چال سے؟ وہ حیران نہیں تھی۔ پھر بھی پوچھ رہی تھی۔
ہاں تو؟ اسکی سہیلی سمجھ نہ سکی اسےتو پتہ بھی نہیں چلا ۔۔اسکی آنکھوں میں کرب اتر آیا۔ اسکی سہیلی اسے ناسمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
تم پوچھ رہی تھیں نا کہ اس نے مجھ سے کیا جھوٹ بولا تھا؟ جس جھوٹ کو بنیاد بنا کر میں نے اس سے قطع تعلق کرلیا؟ جانتئ ہو اس نے مجھ سے کیا جھوٹ کہا تھا۔ ؟
وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھئ۔ اسکی سہیلی ہمہ تن گوش تھی
Discover My Exclusive SHEIN Picks! ✨😍Handpicked just for you! 🛍️Enter Z8V5Q in SHEIN search box to see my favorites! 🎁 60% OFF coupon for every new user –
A bold metaphor for parenting across cultures—unstable, intense, but full of growth.
written by vaiza zaidi
وہ کچھ دنوں سے دیکھ رہی تھی اسکا آٹھ سالہ بیٹا ارحم جنگلی بچوں والی حرکتیں کرنے لگا تھا۔ لائونج میں صوفے پر کود کود کر اسکے کشن بٹھا دیئے اوپر سے ایک نیا کھیل سیکھ آیا۔ سارے گھر کے تکیوں کشنز وغیرہ کو لائونج میں لا کر ڈھیر کیا اب انہی کشنز پر چلنا تھا زمیں پر پائوں رکھو تو زمین لاوا ہے۔ پائوں رکھنے والا جل جائے گا۔ یہ کھیل وہ اپنے سے دو سال چھوٹے بھائی معظم کے ساتھ کھیلتاتھا۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔
وہ خوش تھی کہ چلو اسکے بیٹے شریف ہیں آرام سے بیٹھ کر گاڑی چلاتے رہتے ہیں کافی ہے۔ باہر وہ جانے نہیں دیتی تھی۔ نیا ملک اجنبی لوگ۔ وہ لوگ ابھی دس ماہ پہلے ہی انگلستان میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ ارد گرد کون رہتا کتنے لوگ رہتے کوئی واقفیت ہی نہیں ہوپائی تھی ابھی اسکی سارا دن وہ اکیلی ہی بچوں کے ساتھ ہوتئ تھی اسکے میاں صبح کے گئے شام کو آتے تھے۔ وہ بچوں کو لائونج میں بٹھا کر خود اوپن کچن سے ان پر نظر بھی رکھتی تھی۔ ذیادہ سے ذیادہ ٹی وی لگا دیا۔ دونوں اب اسکول جاتے تھے۔ دونوں کو ہمیشہ انگریزی اسکول میں ہی پاکستان میں بھی پڑھایا تھا تو یہاں آسانی سے پڑھائی شروع ہوگئ تھی انکی۔ مگر کچھ دنوں سے وہ دیکھ رہی تھی کچھ ذیادہ ہی پرجوش ہو کر آتا تھا اسکول سے ۔ ٹی وی دیکھنے کی کی جگہ اسے لان میں کھیلنا تھا۔ اس نے جانے دیا کہ دن کا وقت تھا اور اپنے شوہر سے کہہ کر اس نے باڑ بھی لگوا لی تھی۔ لیکن وہ سر پیٹ کر رہ گئ جب ارحم اور معظم مٹھی میں لتھڑے پانی کی کیچڑ بنا کر اس سے کھیل رہے تھے۔ پانی انکو فراہم کرنے والا پڑوسیوں کا ارحم کا ہم عمر بچہ تھا جو انکے ساتھ اس گندے کھیل میں شریک تھا۔ اسکو تو کیا کہنا تھا بس اتنا ہی کہا کہ بس اب کھیل ختم اپنے گھر جائو ۔ ان دونوں پر اسکا بس چلتا تھا مار مار کر نہلایا کپڑے بدلائے اس دن کے بعد دوبارہ لان میں جانے نہیں دیا۔ مگر یہ سعی بےکار رہی۔ اسکی پڑوسن اگلے دن ایک ٹوکری میں چند سیب سجائے اسکے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔
اس نے خاصے برے مزاج کے ساتھ دروازہ کھولا تھا جوابا وہ مسکرا کر معزرت خواہانہ انداز میں بولی
میرے بچے لان میں کھیل رہے ہیں تو شور و غل کررہے ہیں اگر آپ کے آرام میں خلل ہو تو فوری بتایئے گا ۔ازالے کے طور پر یہ تحفہ قبول کیجئے۔ اسکے کہنے پر اس نے نظر بھر کر پڑوس میں دیکھا تو بس اسکی عقل پر ماتم کرکے رہ گئ۔ اسکے اپنے تو دو ہی بچے تھے ایک بیٹا ایک بیٹی البتہ اپنے پڑوس سے درجن بچے اکٹھے کرکے ایک ہوا سے بڑھنے والے چھوٹے بچوں کے پول میں ڈھیر سارا پانی بھر کر اچھالتے لان میں کیچڑ مچا کر کھیل رہے تھے۔ شور و غل تو اپنے گھر میں جتنا بھی مچائیں اسکو کیا پروا مگر کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہوتے ان بچوں کو دیکھ کر خلجان ضرور ہوا۔ اسکے اپنے دونوں بچے صاف ستھرے کپڑوں میں ٹی وی پر اینی میٹڈ فلم دیکھ رہے تھے۔
آپ بھی اپنے بچوں کو بھیج سکتی ہیں میں نگرانی کر رہی ہوں انکی۔ایسا نہیں کہ یہ شتر بے مہار کھیل رہے ہوں۔
اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے وہ یہ سمجھی شائد وہ بھی اپنے بچوں کو بھیجنا چاہے گی۔
نہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ ایکدم گھبرا کر بولی
وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اپنے بچوں کو اس غل غپاڑے کا حصہ بنانے کا۔ یہ نگرانی کررہی ہے تب یہ طوفان بدتمیزی ہے بچے اپنے طور پر تو ہلہ مچائیں تو شاید آسمان پر ہی ٹکلی لگائیں۔
اسکے صاف انکار پر جو حیرانی سمانتھا کے چہرے پر ابھری اس پر سٹپٹا کر اس نے وضاحت دی۔
میرا مطلب ہے میرے بچے اس وقت اینی میٹڈ مووی دیکھ رہے ہیں۔ شکریہ دعوت دینے کا۔
بچوں کا اسکرین ٹائم محدود ہونا چاہیے۔ دخل اندازی کی معزرت۔ وہ شائستگئ سے گویا ہوئی۔
میرا بیٹا بتاتا ہے کہ جب وہ ارحم سے پوچھتا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتا ہے تو ارحم یہی بتاتا ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا۔بچوں میں مستقل ٹی وی دیکھنے سے انکی ذہنی صلاحیت اور بصارت متاثر ہوتی ہے۔
جانتئ ہوں میں۔ اس نے بات کاٹ دی تھئ۔
اس بلا وجہ کے بھاشن پر اسکے چہرے پر خاصی ناگواری اتر آئی تھی جسے بھانپتے ہی سمانتھا نے مسکرا کر ایک۔بار پھر معزرت کی اور پلٹ کر چلی گئ۔
اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کردیا۔ ایک گونہ سکون کا احساس ہوا تھا۔ اسکے دونوں بیٹے ٹی وی دیکھتے دیکھتے ہی آڑے ترچھے ہو کر سو گئے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر ٹی وی بند کردیا۔
مجھے خود خیال رہتا ہے اس بات کا۔۔۔آئی بڑی لیکچر جھاڑنے والی۔ وہ بڑبڑائے بنا نہ رہ سکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے بتایا تھا کہ جوزف کی ماما کی طبیعت خراب ہے۔ اس نے پہلے تو نظر انداز کیا مگر پھر سوچا پڑوس کا معاملہ ہے اور سیب کا احسان بھی اتارنا ہے سو گھر پر کیک بیک کیا ایک ٹرے میں سجایا بچوں کو نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہنائے اور سمانتھا کے گھر چلی آئی۔ اسکے گھر سے عجیب شور اٹھ رہا تھا بچے چلا رہے تھے چیزیں گھسیٹنے کی آوازیں۔ وہ سوچ میں پڑ گئ کہ اطلاعی گھنٹی بجائے یا نہ بجائے تبھی بند دروازے پر زور سے کوئی چیز آکر لگی۔ جانے اندر کیا ہورہا ہے اس نے گھبرا کر زوردار دستک دے ڈالی۔
چند لمحوں میں سمانتھا کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔
ہائے یہ میں لائی تھی آپکے لیئے۔ اس نے بنا تمہید ٹرے اسکی جانب بڑھا دی۔ سمانتھا نے شکریےکہتے ہوئے تھام کر اسے بھئ اندر آنے کی دعوت دی۔ وہ کچھ جھجکتی ہوئی داخل ہوئی تو ایک لمحے تو حیران پریشان ہی رہ گئ۔اسکے دونوں بچے اچھل اچھل کر ممی ہار گئیں چلا رہے تھے۔ سمانتھا مسکرا کر ہار تسلیم کررہی تھی ساتھ کھیل کا اصول بھی بتا رہی تھی کہ مہمان آجائیں تو کھیل جہاں وہ جیسا ہو رک جاتا ہے۔ انکئ اس بچکانہ گفتگو سے قطع نظر ربیہ کو جو نظر آرہا تھا وہ یہ کہ پورا گھر تلپھٹ ہوا وا تھا۔
لائونج سے کچن تک ایک کشنز کی ٹرین بنی ہوئی تھی۔ سمانتھا اس دروازے تک آنے کیلئے کشن دروازے پر پھینک کر راستہ بناتی آئی تھی مگر اس سے بات کرتے بھول کر فرش پر کھڑی ہوگئ تھی۔
فرش تو لاوا تھا اس پر جو پائوں رکھتا جل جاتا۔
آئو مسز بابر ادھر لائونج میں بیٹھو نا۔
اسے لابی میں ایستادہ دیکھ کر سمانتھا نے آواز لگائی۔ وہ سر ہلا کر لائونج میں بچوں کا ہاتھ تھام کر چلی آئی۔
ہیلو آنٹی کیسی ہیں آپ۔
دونوں بچے ماں کی ہدایت پر اپنے کپڑوں سے ہاتھ صاف کرتے اس سے ہاتھ ملانے آئے تھے۔ اس نے بمشکل اپنی نفاست پسند طبیعت پر جبر کرکے ہاتھ ملایا۔
ارحم اور معظم ہمارے ساتھ کھیل لیں؟ وہ اب اجازت مانگ رہے تھے۔ وہ کیا روکتی ۔ارحم اور معظم دونوں ہاتھ چھڑا کر انکی جانب لپکے۔
اب دو کی جگہ چار بچے پورے گھر کے جمع کییئے کشن تکیئوں فلور کشنز پر کودتے اچھلتے پھر رہے تھے۔ جو کشن کی بجائے زمین پر پائوں رکھتا وہ لاوے کی نظر ہوجاتا اور ہار جاتا لہزا زمین سے بچنے کیلئے کبھی صوفے پر چھلانگ ماری جا رہی تھی کبھی کشنز پر۔ سمانتھا جب تک کافی بنا کر لائی اسکا پارہ چڑھ چکا تھا۔یہ لاوا گیم ارحم نے اس جوزف اور اسکی بہن للی سے سیکھی تھی۔ اور ابھی سمانتھا کا گھر تھا اسے اختلاج قلب ہورہا تھااسکا اپنا گھر ہوتا تو شائد وہ ان چاروں کی پٹائی کرکے جیل جا چکی ہوتی۔
سوری تمہیں انتظار کرنا پڑا۔
سمانتھا پکی انگریزنی تھی۔بات بے بات معزرت کرنے کی عادت۔
مگر ربیہ چڑ چکی تھی کہے بنا نہ رہ سکی۔
تم منع نہیں کرتیں انہیں لاوا جیسا بکواس کھیل کھیلنے سے؟ پورے گھر کے تکیئے کشن برباد کردیئے ہیں۔ ننگے پیر چڑھ رہے اتر رہے صوفے پر کود رہے صوفہ خراب ہوجائے گااسطرح تو۔
کشن کور پر دھبے پڑ گئے ہیں۔ اوپر سے اتنا شور کررہے تمہاری تو طبیعت خراب نہیں تھی؟ تمہارے آرام میں خلل نہیں پڑرہا اس شور سے۔ اس سے بہتر تھا تم انکو اسکول جانے دیتیں ۔ کم از کم اتنی دیر آرام تو کرلیتیں۔
اسکے اتنا بولنے پر سمانتھا جو بڑے غور سے اسے سن رہی تھی ایکدم ہنس پڑی۔
مجھے پتےکا آپریشن بتایا ہے ڈاکٹر نے کل ہوگا آپریشن اسلیئے میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔ چھوٹا سا سہی مگر آپریشن تو ہے۔ اس کیلئے مجھے شور و غل سے فرق نہیں پڑرہا۔ باقی تکیئے غلاف بدل دوں گی میں جب یہ کھیل چکیں گے۔
اور جو یہ صوفہ انکے اچھلنے سے جو بیٹھ رہا ہے اسکا کیا؟
ربیہ تیز ہو کر بولی۔
خراب ہوجائے گا توٹھیک کروالوں گی۔
وہی نا۔ سب مسلئے پیدا ہونے دو پھر اسکا حل تلاش کرو اسکی بجائے بچوں کو کیوں نہیں روکتیں کہ شور نہ کریں گھر کے کشن برباد نہ کریں۔ میرا گھر دیکھا ہے میں تو بچوں کو سیٹنگ بھی خراب نہیں کرنے دیتی۔
اس سے کیا ہوتا ہے؟ سمانتھا کافی کا بڑا سا گھونٹ لیکر کپ سائڈ ٹیبل پر ٹکا کر پوچھنے لگی۔
گھر درست حالت میں رہتا ہے۔
ربیہ جتانے والے انداز میں بولی
اور بچے اپنے گھر میں مہمان بن کے بیٹھے رہتے ہیں۔ دیکھو ربیہ صوفے ٹھیک کروا لیئے جائیں گے، غلاف دھل جائیں گے،صفائی پھر ہو جائے گی، یہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہیں گے بڑے ہوجائیں گے، تب نہ صوفوں پر اچھلا کودا کریں گے نہ غلاف گندے کریں گےتب انہیں یہ یاد رہے گا انکی ماں صفائی کے خبط میں انہیں کھیلنے سے نہیں روکا کرتی تھی بلکہ کبھی کبھی انکے ساتھ مل کر کھیلا بھی کرتی تھی۔
مجھے اچھی یادیں بنانی ہیں۔انکے ساتھ ۔صاف یادیں نہیں جن میں انکو اپنے ساتھ ہنسنے کھیلنے والی ماں کی جگہ چڑچڑی صفائی کے خبط میں مبتلا بدمزاج ماں یاد نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھانا پکا کر ہاتھ دوپٹے سے صاف کرتی ہوئی لائونج میں آئی تو دماغ جھنجھنا گیا۔
جوزف ، سنتھیا( جوزف کی بہن) ارحم اور معظم سب ایک قطار میں بیٹھے تھے۔ سنتھیا کا میک اپ کیا جا رہا تھا اسکی سنگھار میز سے میک اپ کا سامان لا کر اور کیا خوب جوزف نے میک اپ کیا تھا ۔ شائد ماں کا میک اپ استعمال کرنے کی عادت تھی۔ مگر کام ختم ہونے کے بعد اسکا بلش آن ، لپ اسٹک ، اسکا پرفئوم سب صوفے پربکھرا پڑا تھا۔شائد کوئی لوشن کی شیشی کھلی رہ گئ تھئ تو گرے صوفے پر سفید مایا دھبہ پڑچکا تھا۔ سنتھیا کے چہرے پر سلیقے سے لپ سٹک لگی تھی اسکا نماز کا دوپٹہ اوڑھے سنتھیا دلہن بنی کھڑی تھی اسکا دلہا تھا اسکا اپنا بیٹا ارحم جوزف پادری بنا ان دونوں سے آئی ڈو آئی ڈو کروا رہا تھا جبکہ معظم پھول پھینک رہا تھا دلہا دلہن پر۔ پھول؟
ربیہ چونکی۔
اسکے لائونج میں رکھےسجاوٹی گلدان میں سے سب نقلی پھول نکال کر پتی پتی الگ کرکے ایک پلیٹ میں اکٹھے کر رکھے تھے۔
یہ کیا ہورہا ہے؟ یہ پہلی دفعہ تھا کہ اسکے منہ سے غصے کی بجائے روہانسی سی آواز نکلی۔ چاروں بچے اپنی اپنی جگہ تھم گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوزف اور سنتھیا کو کافی دیر ہوگئ تھی پڑوس میں کھیلنے گئے ہوئے اب انکے کھانے کا وقت ہوا چاہتا تھا تو سمانتھا انہیں بلانے آئی تھی۔ خلاف توقع مین ڈور کھلا ہوا تھا وہ دستک دے کر انتظار کرنے لگی۔
کو چھک چھک۔ ریل گاڑی کی آواز نکالتے ہوئے بچوں کی انسانی ریل گاڑی اندر سے بڑی تیزی سے باہر نکلی وہ ایکدم سے ایک طرف ہو کر
110
راستہ دینے لگی ۔ سب سے آگے سمانتھا تھی اسکے پیچھے معظم پھر ارحم پھر جوزف اور سب سے آخری ڈبہ کے طور پر خلاف توقع ربیہ اس ریل گاڑی سے جڑی تھی۔ اسکو دیکھ کر سر کے اشارے سے سلام کرتے ہوئے ریل گاڑی آگے بڑھ گئ تھئ۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا
راپنزل۔۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ کہہ رہی تھی کہ آپ مجھے بالکل وقت نہیں دیتے جب سے دوسرے شہر آئے ہیں مصروفیت بڑھ گئ ہے آپکی۔ کہہ تو ٹھیک رہی تھی۔ میں نئے پراجیکٹ کا ہیڈ بنا تھا وقت ہی نہیں ملتا تھا اسکے لیئے۔ اور وہ تھی کہ روز ایک شکوہ کر کرکے تھکتی نہیں تھی۔ آخر کو بھرے پرے گھر سے آئی تھی یہاں بس امی ابا اور چھوٹا بھائی چھوٹا سا سسرال تھا۔ بھائی کی پڑھائی کا مسلئہ نہ ہوتا تو جب لاہور میری نوکری کا انتقال ہوا تو میں انہیں بھی ساتھ لیتا آتا۔ لیکن اب دو سال تو یہیں رہنا تھا اکیلے ہی رہنا تھا۔
سارا دن زارا اکیلے رہتے تنگ آجاتی تھی۔ آس پڑوس میں بھی دوستیاں ہوتے وقت لگنا تھا ایک نوکرانی کا انتظام کیا تھا مگر شام کو وہ بھی چلی جاتی تھی۔ آج میں سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی گھر پہنچ کر اسے باہر کہیں گھمانے لے جائوں گا ۔ کچھ دنوں سے اس نے یہ فرمائش بھی چھوڑ دی تھی۔ ٹی وی میں ایک ڈرامہ دیکھنے لگی تھی۔ اسی جیسی عورت کی کہانی تھی جو سارا دن اکیلی گھر کے کام کرتی شوہر کا انتظار کرتی تھی۔ میں اسکا دل رکھنے کیلئے کہانی میں دلچسپی لیتا پوچھتا آج کیا ہوا جواب میں وہ رافعہ کی ہی روداد سناتی صبح اتنے بجے اٹھی کھانا بنایا صفائی کی وغیرہ۔ اتنا بےکار پلاٹ کا ڈرامہ وہ اتنی دلچسپی سے دیکھتئ تھی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی۔
خیر میں بتا رہا تھا کہ آج میں یہ سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی چلا جائوں گا گھر سو کام ختم ہوتے ہی سیدھا گھر آیا۔ وہ شائد ابھی سب کاموں سے فارغ ہو کر ڈرامہ دیکھنے بیٹھی تھی۔ صاف بولی آپ منہ ہاتھ دھو کر کھانا نکال لیجئے گا سب پکا رکھا ہے میں ڈرامہ دیکھنے لگی ہوں۔ مجھے بھوک تو لگ رہی تھی منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے باورچی خانے میں آیا تو جھٹکا سا لگا ایک ایک پتیلی دھلی ہوئی صاف یوں رکھی تھی جیسے عرصے سے استعمال ہی نہ ہوئی ہوں میں کئی دنوں سے رات باہر کھانا کھا کے آتا تھا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ خود کیا پکا کھا رہی ہے۔ میں نے فریج کھولا تو بدبو کا بھپکا آیا۔ فریج کا بلب بھی آن نہیں تھا۔سبزیوں والی دراز میں گوبھی شملہ مرچ ٹماٹر وغیرہ سب سڑے رکھے تھے۔پانی کی بوتلیں بھی خالی تھیں۔ فریج میں گندھا آٹا بھی سڑ چکا تھا۔ میں نے حیران ہو کر بٹن کو دیکھاتو وہ بند تھا۔ فریج آن کرکے میں زارا سےپوچھنے لائونج میں آیا۔ تو مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔وہ ٹی وی لائونج میں اکیلی بیٹھی دیوار تکتے محظوظ ہو رہی تھی جیسے دلچسپ ڈرامہ دیکھ رہی ہو۔ ٹی وی لیکن اسکے دائیں جانب والی دیوار پر رکھا تھا۔ وہ دیوار تکتے تکتے میری موجودگی محسوس کرکے گردن گھما کر بولی بہت دلچسپ قسط ہے آج کی۔ ہیرو کو کئی دن تک پتہ ہی نہیں چلا بیوی مرچکی ہے۔ آج کچن میں گیا تو دیکھا وہ تو کئی دنوں سے کھا پی بھی نہیں رہی تھی ،ابھی اس سے پوچھنے لائونج میں آیا تو اسکی لاش صوفے پر پڑی تھی۔ پھر مسکرا کر تائید چاہنے والے انداز میں بولی ہے نا دلچسپ قصہ؟
راپنزل۔۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ کہہ رہی تھی کہ آپ مجھے بالکل وقت نہیں دیتے جب سے دوسرے شہر آئے ہیں مصروفیت بڑھ گئ ہے آپکی۔ کہہ تو ٹھیک رہی تھی۔ میں نئے پراجیکٹ کا ہیڈ بنا تھا وقت ہی نہیں ملتا تھا اسکے لیئے۔ اور وہ تھی کہ روز ایک شکوہ کر کرکے تھکتی نہیں تھی۔ آخر کو بھرے پرے گھر سے آئی تھی یہاں بس امی ابا اور چھوٹا بھائی چھوٹا سا سسرال تھا۔ بھائی کی پڑھائی کا مسلئہ نہ ہوتا تو جب لاہور میری نوکری کا انتقال ہوا تو میں انہیں بھی ساتھ لیتا آتا۔ لیکن اب دو سال تو یہیں رہنا تھا اکیلے ہی رہنا تھا۔ سارا دن زارا اکیلے رہتے تنگ آجاتی تھی۔ آس پڑوس میں بھی دوستیاں ہوتے وقت لگنا تھا ایک نوکرانی کا انتظام کیا تھا مگر شام کو وہ بھی چلی جاتی تھی۔ آج میں سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی گھر پہنچ کر اسے باہر کہیں گھمانے لے جائوں گا ۔ کچھ دنوں سے اس نے یہ فرمائش بھی چھوڑ دی تھی۔ ٹی وی میں ایک ڈرامہ دیکھنے لگی تھی۔ اسی جیسی عورت کی کہانی تھی جو سارا دن اکیلی گھر کے کام کرتی شوہر کا انتظار کرتی تھی۔ میں اسکا دل رکھنے کیلئے کہانی میں دلچسپی لیتا پوچھتا آج کیا ہوا جواب میں وہ رافعہ کی ہی روداد سناتی صبح اتنے بجے اٹھی کھانا بنایا صفائی کی وغیرہ۔ اتنا بےکار پلاٹ کا ڈرامہ وہ اتنی دلچسپی سے دیکھتئ تھی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی۔ خیر میں بتا رہا تھا کہ آج میں یہ سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی چلا جائوں گا گھر سو کام ختم ہوتے ہی سیدھا گھر آیا۔ وہ شائد ابھی سب کاموں سے فارغ ہو کر ڈرامہ دیکھنے بیٹھی تھی۔ صاف بولی آپ منہ ہاتھ دھو کر کھانا نکال لیجئے گا سب پکا رکھا ہے میں ڈرامہ دیکھنے لگی ہوں۔ مجھے بھوک تو لگ رہی تھی منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے باورچی خانے میں آیا تو جھٹکا سا لگا ایک ایک پتیلی دھلی ہوئی صاف یوں رکھی تھی جیسے عرصے سے استعمال ہی نہ ہوئی ہوں میں کئی دنوں سے رات باہر کھانا کھا کے آتا تھا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ خود کیا پکا کھا رہی ہے۔ میں نے فریج کھولا تو بدبو کا بھپکا آیا۔ فریج کا بلب بھی آن نہیں تھا۔سبزیوں والی دراز میں گوبھی شملہ مرچ ٹماٹر وغیرہ سب سڑے رکھے تھے۔پانی کی بوتلیں بھی خالی تھیں۔ فریج میں گندھا آٹا بھی سڑ چکا تھا۔ میں نے حیران ہو کر بٹن کو دیکھاتو وہ بند تھا۔ فریج آن کرکے میں زارا سےپوچھنے لائونج میں آیا۔ تو مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔وہ ٹی وی لائونج میں اکیلی بیٹھی دیوار تکتے محظوظ ہو رہی تھی جیسے دلچسپ ڈرامہ دیکھ رہی ہو۔ ٹی وی لیکن اسکے دائیں جانب والی دیوار پر رکھا تھا۔ وہ دیوار تکتے تکتے میری موجودگی محسوس کرکے گردن گھما کر بولی بہت دلچسپ قسط ہے آج کی۔ ہیرو کو کئی دن تک پتہ ہی نہیں چلا بیوی مرچکی ہے۔ آج کچن میں گیا تو دیکھا وہ تو کئی دنوں سے کھا پی بھی نہیں رہی تھی ،ابھی اس سے پوچھنے لائونج میں آیا تو اسکی لاش صوفے پر پڑی تھی۔ پھر مسکرا کر تائید چاہنے والے انداز میں بولی ہے نا دلچسپ قصہ؟#urdu
زیورات ۔۔ سسرال والے پرانے زمانے کے لائے۔ ہار تو پہنتے پہنتے کنڈا الگ ہوگیا۔۔
سنگھار میں بیس گہری لگا دی کالی لگنے لگی بلاوجہ
لباس ۔۔جو پسند آیا تھا کچھ زیادہ مہنگا تھا ساس نے بہانہ کرکے سستا والا دلوادیا۔
شادی کے سب لوازمات بھی پورےنہیں ہیں آدھے رشتے دار ناراض ہیں ولیمے پر کیوں نہیں بلایا۔ مہمانوں کے بچوں نے بھاگ دوڑ کرکے شوٹ کرنا مشکل کردیا ہےخوب دھام دھام سے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں بہت خوشحال سسرال ہےمگر دل کے اتنے تنگ کہ ولیمے پر میکے والوں کو کم سے کم لوگ لانے کو کہا ہے اس پر شوہر سے صبح صبح لڑائی بھی ہوگئی۔