Woh Kon Thi: Saheliyon Se kia Chupaya Raaz | Khoofnak Urdu Horror Story

The Hidden Secret: Woh Kon Thi Aur Saheliyon Se Kya Chupaya?

وہ کون تھی؟؟؟

نیہا اپنی سہیلیوں کے ساتھ کالج ٹرپ پر شمالی علاقہ جات کی سیر کو آئی تھیں۔ سارا دن انکا پہاڑوں پر تصویریں بناتے ہنسی ٹھٹھول کرتے گزرا تھا ۔ آخر اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ پر مغرب کے قریب ہوٹل واپسی ہوئی تھی۔پرائیویٹ کالج تھا خوب پیسے اینٹھے تھے انکے والدین سے جبھی پچیس لڑکیوں کیلئے کمرے بھی دو دو کے حساب سے بک کئے گئے تھے۔ فرسٹ اور سیکنڈ ائیر دونوں کلاسز کو لیکر گئ تھیں بہت سے والدین نے تو بھیجنے سے منع کردیا تھا مگر نیہا کے والدین کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بلکہ اپنی سہیلیوں  شمائلہ، عالیہ اور لیلی کے والدین کو بھی نیہا نے ہی منایا تھا۔جانے کیا سحر پھونکا تھا اپنی بچیوں کو ڈانٹ کر چپ کرادینے والے والدین نیہا کے آگے ایکدم چپ ہو گئے تھے اور میکانکی انداز میں اجازت نامے پر دستخط کر دیئے تھے۔سب سے ذیادہ حیران تو لیلی ہوئی تھی۔ اسکول کے زمانے میں بھی والدین نے کبھی اسے کسی ٹرپ پر جانے نہیں دیا تھا۔ اور نیہا کے ایک دفعہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے پر کہ لیلی کو ہمارے ساتھ ٹرپ پر جانے دیں اسکے والدین نا صرف خاموشی سے مان گئے بلکہ جیب خرچ بھی دیا تھا لیلی کو۔ لیلی تو خوشی سے نیہا سے لپٹ ہی گئ تھی۔ بہت شکریہ میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ نیہا مسکرا دی 

ساتھ تنبیہہ بھی کردی تھی کہ آئندہ مجھ سے دور رہنا۔ 

اسے بالکل بھی چھوئے جانا پسند نہیں تھا۔ لیلی نے کان پکڑ کر سوری کہا تھا۔ نیہا ان سے ہاتھ بھی نہیں ملاتی تھی بس دور سے سلام کرنا پسند تھا اسے۔ شائد اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ شروع شروع میں جب اس سے ہاتھ ملاتی تھیں تو اچھل پڑتی تھیں۔ اسکے ہاتھ غیر معمولی طور پر نرم تھے۔جیسے اس نے کبھی ہل کر پانی نہ پیا ہو۔ 

شمائلہ نے تو حیران ہو کر یہ بھی کہہ دیا تھا کیا تمہارے ہاتھ میں ہڈی نہیں ہے؟ اتنا نرم ہاتھ کیسے ہو سکتا کسی کا جبکہ وہ کوئی موٹی سی لڑکی بھی نہیں تھی بلکہ ان سب میں سب سے نازک سراپا تھا اسکا۔ نیہا نے گہری سانس لی اور ہتھیلی پھیلا دی۔

میرے ہاتھ میں لکیریں بھی نہیں ہیں۔ میں اسی لیئے ہاتھ ملاتی ہی نہیں ہوں پھر لوگ الٹے سیدھے تبصرے کرتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا۔

اسکی شفاف سپید ہتھیلی انکے سامنے پھیلی تھی اور تینو ں کی حیرت سے آنکھیں ابل سی آئی تھیں اسکے ہاتھ میں بنیادی بس تین لکیریں تھیں قسمت، زندگی اور تعلیم کی او روہ سب بھی ادھوری تھیں۔خوب گہرئ مگر بمشکل ایک پور کی۔ 

اب اگر تم لوگوں نے دوستی کرنی ہے مجھ سے تو میری شرط ہے نا تم میں سے کوئی کبھی مجھ سے ہاتھ ملائے گا نہ کبھی پیچھے سے آواز دے گا اگر میں کبھی نظر آئوں تو آواز دینے کی بجائے تم لوگ پاس آجانا یا میسج کردینا ٹھیک؟

وہ تینوں مان گئ تھیں۔ بہر حال نیہا دل کی بہت اچھی لڑکی تھی۔ کھلا خرچ کرتی تھی ان پر پڑھائی میں مدد ہو یا اچھا کھانا وہ پیش پیش رہتی تھی۔ جبھی وہ تینوں کبھی اس کو ناراض نہیں کرتی تھیں۔ ابھی بھی جزباتی ہو کر لیلی نے گلے لگا لیا تو فورا معزرت کر لی تھی۔

آج سارا دن بھی وہ چاروں اپنا الگ گروپ بنائے پہاڑوں پر گھومتی پھری تھیں۔ نیہا انکو ہر جگہ گائڈ بن کر سیر کرا رہی تھی۔ 

شمائلہ نے کہہ بھی دیا کہ تم تو لگتا ہے یہیں رہتی رہی ہو

 اس نے مسکرا کر سر ہلایا ہا ں یہاں قریب ہی میرا ننھیال ہے اکثر آنا جانا ہوتا ہے یہاں۔ 

غرض خوب تھک تھکا کر وہ جب ہوٹل پہنچیں تو بھوک سے برا حال تھا۔عالیہ اور لیلی کا الگ کمرہ تھا نیہا اور شمائلہ کا الگ لیکن عالیہ اور لیلی اپنا سامان کمرے میں رکھ کر بس اپنے ہینڈ بیگ اٹھا کرانہی کے کمرے میں آگئ تھیں۔ باتیں کرتے وقت گزرنے کا پتہ نہ لگا۔ انکی کلاس فیلو نے آکر انہیں کھانے کیلئے بلایا تو اکٹھی ہی چاروں نیچے آئیں کھانا کھانے مگر  ہوٹل کا کھانا انکو پسند نہیں آیا۔۔ 

عجیب ہیک زدہ اوپر سے بکرا یا دنبہ پکا تھا جو ان تینوں کو بالکل پسند نہیں آیا سو ایک دو نوالے لیکر اٹھ گئیں۔ 

نیہا یہاں بھی مدد کو آئی ۔ انکی پسند پوچھ کر 

 نیہا نے اپنے کزن سے کہہ کر گھر سے کھانا منگوا لیا۔ وہ تینوں منع کرتی رہیں مگر نیہا نے مان بھرے انداز میں یہ کہہ کر کہ اسکو کوئی مسلئہ نہیں ویسے بھی چونکہ اسکا ننھیال یہاں ہے تو وہ سب اسکی مہمان ہیں۔ اسکے خلوص پر انہیں خاموش ہونا پڑا۔نیہا کا کزن بھی خوب پھرتیلا تھا انکو ذیادہ انتظار نہیں کروایا۔ پندرہ بیس منٹ میں ہی وہ ہوٹل کے باہر موجود تھا۔نیہا خود جا کر کھانا لیکر آئی کیونکہ ہوٹل کے اندر کوئی باہر کا داخل ہو نہیں سکتا تھا۔ ان تینوں نے کھڑکی سے ہی جھانک کر دیکھا اسکا کزن خوب لمبا چوڑا سا تھا۔ انکو اوپر کی منزل سے نیچے جھانکتے جانے اسے محسوس ہوگیا کیا مسکرا کر ہاتھ بھی ہلا دیا۔ نیہا نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو وہ تینوں خفت ذدہ سی ہوگئیں کیا سوچتی ہوگی ہم اسکے کزن کو تاڑ رہی ہیں۔ جھٹ کھڑکی بند کرکے اندر بیڈ پر آبیٹھیں۔ تبھی نیہا دروازہ کھولتی اندر آگئ۔ انہیں جتائے بنا کھانا لا رکھا۔ کباب مرغ کڑاہی اور تلے ہوئے نان   ۔ غرض اچھی خاصی دعوت ہوگئ انکی۔ 

اتنا مزیدار تکہ میں نے آج تک نہیں کھایا۔

عالیہ نے چٹخارا  بھرا تو شمائیلہ اور لیلی نے بھی تائید کی۔ 

نیہا مسکرا دی۔

کھانا بہت ذیادہ نہیں تھا بلکہ ایک نظر دیکھنے میں لگتا تھا کہ چار لوگوں میں کم پڑ جائے گا مگر ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔ 

خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔ نیہا نے ان سب کیلئے کافی آرڈر کردی تھی کھانا ختم ہوتے ہی کافی بھاپ اڑاتی سامنے تھے۔

سردی میں کافی سے بہتر کوئی چیز ہو نہیں سکتی  

شمائلہ نے گھونٹ بھر کر فتوی داغا۔

ساتھ ڈرائی فروٹس ہوں تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ نیہا نے بیگ سے چلغوزے نکال کر سامنے رکھ دیئے۔ پلیٹ بھر کر چلغوزے کھاتے کافی پیتے انہیں کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ اچانک ایک کونے میں رکھا شمائلہ کا بیگ خود بخود دھڑام سے گر گیا۔ وہ چاروں چونک کر مڑیں۔ نیہا نے گھور کر بیگ کر دیکھا۔

یہ کیسے گر گیا؟ شمائلہ کی خوف سے سرسراتی آواز نکلی۔ 

ہوا سے گرا ہوگا یا ٹیڑھا رکھا ہوگا۔

نیہا نے لاپروائئ سے کہا۔ مگر عالیہ کو غلط وقت پر غلط بات یاد آئئ۔

یار میں نے سنا ہے یہاں شمالی علاقہ جات میں آسیب وغیرہ کا بہت چکر ہوتا ہے۔ میرا کزن اپنے دوستوں کے ساتھ آیا تھا تو اسی ہوٹل میں رکا تھا ۔ بتا رہا تھا ساری رات کمرے میں عجیب آوازیں آتی رہیں کبھی کوئی ادھر سے ادھر جا رہا کبھی کوئی۔۔۔ 

کیا بکواس ہے۔ نیہا نے چڑ کر ٹوکا۔ 

یہ کوئی وقت ہے ایسی باتیں کرنے کا؟ 

ہاں صحیح کہہ رہی ہے ۔ سدا کئ ڈرپوک لیلی نے بھی حمایت کی۔

میں نے سنا ہے ان چیزوں کا ذکر کرو تو آجاتی ہیں ۔ نام بھی نہ لینا۔۔۔

ہم لاحول پڑھ کر بھگا دیں گے ۔ 

شمائلہ ہنس کر بولی۔۔

تم لوگ بھی نا بلا وجہ ڈرتی ہو۔ پتہ ہے ہم کزنز اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسے ایسے قصے سناتے ہیں ڈرائونے ساری رات گزرنے کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ اور مزا اتنا آتا ہے مجھے بتائو کیا ہوا تھا تمہارے کزن کے ساتھ۔۔۔۔ 

شمائلہ کی شہہ ملنی تھی کہ عالیہ نے قصہ شروع کردیا۔ لیلی نے خفا ہونا چاہا کان بھی بند کرنے چاہے مگر قصہ دلچسپ تھا سو وہ بھی ہمہ تن گوش ہوگئ۔ 

ہوا کچھ یوں کہ میرا کزن اور اسکے دو دوست یہاں آئے اور نیچے والی منزل پر ایک روم لیا۔ ڈبل بیڈ والا  اب ہوا یوں کہ تینوں تھکے ہوئے تھے آئے اور بس بستر پر گر کر سوگئے۔ کوئی رات کے ایک بجے ہوں گے کہ میرے کزن کا کسی نے کندھا ہلایا۔ وہ سمجھا میرا دوست ہوگا کروٹ بدل کر اوں آں کرکے سوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد پھر۔۔ 

عالیہ مزے لے لیکر کر بتا رہی تھی لیلی کو بھی تجسس ہو نے لگا نیہا بور سی ہو کر ان کے بیچ سے اٹھ گئ۔ آکر کھڑکی میں کھڑی ہوگئی۔ ابھی چونکہ اوائل اکتوبر تھے تو برفباری تو دور دور تک نہ ہوئی تھی مگر ایک ہڈیوں میں گھسنے والی سرد ہوا کا جھونکاضرور آتا تھا۔وہ کھڑکی کھول کر اسی سرد ہوا کے جھونکے کا مزا لے رہی تھی۔ 

کمرہ ہنسی مذاق سے گونج رہا تھا، عالیہ شمائلہ کا مزاق اڑا رہی تھی جسے آدھا قصہ سن کر ہی ڈر لگ گیا تھا۔ 

بس کرو میں نے نہیں سننا مجھے ڈر لگتا ہے۔

وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی تو عالیہ ہنستے ہٹا دیتی۔  دونوں کو دیکھتی شمائلہ کو ایکدم سرد ہوا نےجھر جھری سی دلا دی۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا تو نیہا اتنی سخت سردی میں کھڑکی کھولے کھڑی باہر جھانک رہی تھی

“نیہا، نیہا کی بچی ” اس نے آواز دی۔

کھڑکی تو۔۔

نیہا نے چونک کر اپنا سر پیچھے کی طرف موڑا۔ لیکن… صرف سر۔ اس کا جسم وہیں رہا، اور اس کا چہرہ مکمل طور پر پیچھے کی طرف مڑ گیا۔

شمائلہ کے حلق میں باقی جملہ اٹک سا گیا۔ وہ کہنے جا رہی تھی کھڑکی تو بند کرو مگر زبان ایکدم گنگ سی ہوگئ

کیا ہوا؟ نیہا حیران پوچھ رہی تھی

کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ۔

عالیہ اور لیلی بھی اسے دیکھ کر سنٹ سی ہوگئیں 

“یہ… یہ کیا تھا؟”عالیہ نے لرزتے ہوئے کہا۔

نیہا نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔ پھر آہستہ سے بولی

:

تو آخر میرا راز کھل گیا

“مجھے لگا تھا میں چھپ سکتی ہوں… لیکن اب تم سب جان گئے ہو۔”

میں نے کہا تھا نا مجھے کبھی پیچھے سے آواز مت دینا 

اس کی آواز میں انسانوں جیسا درد نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف بڑھی، اور انکے دیکھتے ہی دیکھتےغائب ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح خاصے جارحانہ انداز میں دروازے پر دستک دینے سے آنکھ کھلی تھی شمائلہ کی۔ 

تیز دھوپ کھڑکی سے چھن چھن کر پوری  مسہری کو گھیر رہی تھی۔ اس نے کسمساتے ہوئے پہلو بدلا توعالیہ اور لیلی دونوں اسکے برابر میں آڑھی ترچھی پڑی سو رہی تھیں۔ 

دروازہ کھولو عالیہ، شمائلہ، لیلی

یہ انکی پرنسپل کی آواز تھئ وہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی دونوں کو ہلایا ابھی آنکھیں ملتی وہ اٹھ ہی رہی تھیں کہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر ہوٹل اسٹاف کے ہمراہ پرنسپل کڑے تیوروں کے ساتھ انکے کمرے میں داخل ہوگئیں۔ 

کیا حرکت ہے لیلی یہ؟ آپ اپنے والدین سے اجازت لیئے بنا ٹرپ پر آگئیں؟ آپ جانتی ہیں آپکے والدین نے آپکی گم شدگئ کا پرچہ درج کرادیا ہے؟ پولیس آپکو ڈھونڈتی پھر رہی ہے؟آپکو اندازہ بھی ہے کتنی بڑی مشکل کھڑی کردی ہے آپ نے ہمارے لیئے۔

وہ بنا لحاظ غصے سے چلائیں۔ 

لیلی اس افتاد پر گھبرا گئ۔ 

مگر میم میں نے تو اجازت نامہ لا کر جمع کرایا تھا نیہا نے خود بابا سے بات کی تھی میرے پاس والی اجازت نامے کی کاپی ہے میرے پاس۔ 

کون نیہا؟ اور لیلی آپ نے اپنے والدین کےجعلی  دستخط کیئے تھے اجازت نامے پر؟آپ جانتی ہیں اس حرکت پر آپ کو کالج سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔۔

میم نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے دریافت کیا۔ 

میم ہماری دوست نیہا۔ اسی نے اجازت لی تھئ لیلی کے والدین سے یہیں اسی کمرے میں رکی ہے ہمارے ساتھ یہ سامان ، شمائلہ سہیلی کی مدد کو آئئ

اشارے سے ایک کونے میں رکھے اپنے اور نیہا کے بیگ کی جانب اشارہ کیا تو حیرت سے دیکھتی رہ گئ وہاں بس ایک بیگ تھا اسکا اپنا۔۔

کون نیہا؟ کیسا سامان؟ تم لوگوں کو اندازہ بھی ہے تم لوگوں کی وجہ سے کالج کی ریپوٹیشن پر کیا اثر پڑے گا؟ ابھی اسی وقت اپنا سامان سمیٹو تم تینوں واپس جا رہی ہو فورا۔۔

پرنسپل صاحبہ غصے سے چلا رہی تھیں او رعالیہ شمائلہ اور لیلی کے ذہن میں رات کا منظر تازہ ہوا تھا۔ 

نیہا تو انکی آنکھوں کے سامنے دھواں بن کے غائب ہوگئ تھئ۔۔

اب کیسے یقین دلائیں وہ پرنسپل صاحبہ کو۔۔ 

تبھی ایک خوش شکل نوجوان پولیس کی وردی میں داخل ہوا۔  

میم لیلی کے والدین نے اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔ انہیں کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔  میرا خیال ہے آپ ان سے بات کرلیں پہلے۔۔ 

اس نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا وہی انکی جانب بڑھا دیا۔

پرنسپل صاحبہ نے میکانکی انداز میں فون کان سے لگایا اور خاموشی سے باہر نکل گئیں

ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے ان تینوں کو دیکھتا وہ اسٹاف میمبرز کو بھی باہرآنے کا اشارہ کرتا خود بھی باہر نکل گیا۔۔

لیلی عالیہ اور شمائلہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئیں۔

یہ سب کیا ہوا ہے؟ نیہا کہاں چلی گئ؟

عالیہ سرسراتی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔ 

ہماری آنکھوں کے سامنے ہی تو غائب ہوئی تھی پھر مجھے کوئی ہوش نہیں میری ابھی شمائلہ کے جگانے پر آنکھ کھلی ہے۔ 

لیلی کی آواز میں بھی لرزش تھی۔ 

اگر نیہا کوئی انسان ہے ہی نہیں تو لیلی کے والدین سے بات کس نے کی؟ اور اب کیا ہوگا؟ اسکے والدین تو بہت غصے میں ہوں گے۔ 

عالیہ نے کہا تو شمائلہ نے گہری سانس لی۔

کچھ نہیں ہوگا نیہا نے سب سنبھال لیا ۔۔۔

کیا مطلب؟ لیلی اور عالیہ نے الجھ کر دیکھا۔ 

نیہا واپس آگئ ہے؟کیا ہم نے خواب دیکھا تھا جو رات کو ہوا وہ سب؟؟؟

نہیں۔ شمائلہ نے نفی میں سر ہلایا۔

رات جو کچھ ہوا وہ سب سچ تھا۔ 

لیکن تم لوگوں نے غور نہیں کیا پرنسپل کا غصہ ٹھنڈا کرکے لے جانے والا پولیس انسپیکٹر وہی لڑکا تھا نیہا کا کزن جو رات ہمارے لیئے کھانا لیکر آیا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Rating

kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #Urduhorror

  • #UrduHorrorStory
  • #اردو_ہارر
  • #عورت_جن
  • #جنات_کی_کہانی
  • #خوفناک_کہانی
Home » Afsanay (short urdu stories) » horror urdu stories
https://desikimchi.com/my-daughter-is-a-zombie-gen-z-zombies-korean-drama-a-satirical-film-breakdown
https://urduz.com/raphanzel-mer-gai-urdu-horror-story-of-a-housewife/
https://urduz.com/qata-taluq-sirf-ek-jhoot-kaha-us-nay-urdu-afsancha/

Raphanzel mer gai | urdu horror story of a housewife

Rating
@urduz9

راپنزل۔۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ کہہ رہی تھی کہ آپ مجھے بالکل وقت نہیں دیتے جب سے دوسرے شہر آئے ہیں مصروفیت بڑھ گئ ہے آپکی۔ کہہ تو ٹھیک رہی تھی۔ میں نئے پراجیکٹ کا ہیڈ بنا تھا وقت ہی نہیں ملتا تھا اسکے لیئے۔ اور وہ تھی کہ روز ایک شکوہ کر کرکے تھکتی نہیں تھی۔ آخر کو بھرے پرے گھر سے آئی تھی یہاں بس امی ابا اور چھوٹا بھائی چھوٹا سا سسرال تھا۔ بھائی کی پڑھائی کا مسلئہ نہ ہوتا تو جب لاہور میری نوکری کا انتقال ہوا تو میں انہیں بھی ساتھ لیتا آتا۔ لیکن اب دو سال تو یہیں رہنا تھا اکیلے ہی رہنا تھا۔ سارا دن زارا اکیلے رہتے تنگ آجاتی تھی۔ آس پڑوس میں بھی دوستیاں ہوتے وقت لگنا تھا ایک نوکرانی کا انتظام کیا تھا مگر شام کو وہ بھی چلی جاتی تھی۔ آج میں سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی گھر پہنچ کر اسے باہر کہیں گھمانے لے جائوں گا ۔ کچھ دنوں سے اس نے یہ فرمائش بھی چھوڑ دی تھی۔ ٹی وی میں ایک ڈرامہ دیکھنے لگی تھی۔ اسی جیسی عورت کی کہانی تھی جو سارا دن اکیلی گھر کے کام کرتی شوہر کا انتظار کرتی تھی۔ میں اسکا دل رکھنے کیلئے کہانی میں دلچسپی لیتا پوچھتا آج کیا ہوا جواب میں وہ رافعہ کی ہی روداد سناتی صبح اتنے بجے اٹھی کھانا بنایا صفائی کی وغیرہ۔ اتنا بےکار پلاٹ کا ڈرامہ وہ اتنی دلچسپی سے دیکھتئ تھی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی۔ خیر میں بتا رہا تھا کہ آج میں یہ سوچ کر دفتر آیا تھا کہ جلدی چلا جائوں گا گھر سو کام ختم ہوتے ہی سیدھا گھر آیا۔ وہ شائد ابھی سب کاموں سے فارغ ہو کر ڈرامہ دیکھنے بیٹھی تھی۔ صاف بولی آپ منہ ہاتھ دھو کر کھانا نکال لیجئے گا سب پکا رکھا ہے میں ڈرامہ دیکھنے لگی ہوں۔ مجھے بھوک تو لگ رہی تھی منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے باورچی خانے میں آیا تو جھٹکا سا لگا ایک ایک پتیلی دھلی ہوئی صاف یوں رکھی تھی جیسے عرصے سے استعمال ہی نہ ہوئی ہوں میں کئی دنوں سے رات باہر کھانا کھا کے آتا تھا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ خود کیا پکا کھا رہی ہے۔ میں نے فریج کھولا تو بدبو کا بھپکا آیا۔ فریج کا بلب بھی آن نہیں تھا۔سبزیوں والی دراز میں گوبھی شملہ مرچ ٹماٹر وغیرہ سب سڑے رکھے تھے۔پانی کی بوتلیں بھی خالی تھیں۔ فریج میں گندھا آٹا بھی سڑ چکا تھا۔ میں نے حیران ہو کر بٹن کو دیکھاتو وہ بند تھا۔ فریج آن کرکے میں زارا سےپوچھنے لائونج میں آیا۔ تو مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔وہ ٹی وی لائونج میں اکیلی بیٹھی دیوار تکتے محظوظ ہو رہی تھی جیسے دلچسپ ڈرامہ دیکھ رہی ہو۔ ٹی وی لیکن اسکے دائیں جانب والی دیوار پر رکھا تھا۔ وہ دیوار تکتے تکتے میری موجودگی محسوس کرکے گردن گھما کر بولی بہت دلچسپ قسط ہے آج کی۔ ہیرو کو کئی دن تک پتہ ہی نہیں چلا بیوی مرچکی ہے۔ آج کچن میں گیا تو دیکھا وہ تو کئی دنوں سے کھا پی بھی نہیں رہی تھی ،ابھی اس سے پوچھنے لائونج میں آیا تو اسکی لاش صوفے پر پڑی تھی۔ پھر مسکرا کر تائید چاہنے والے انداز میں بولی ہے نا دلچسپ قصہ؟#urdu

♬ original sound – बब्ली कुमारी
https://urduz.pk/labubu-doll-cute-trend-or-satanic-ritual-islam-kia-kehta-hay/
https://desikimchi.com/silent-love-a-unique-tale-of-a-mute-boy-fell-in-love-with-blind-girl
https://urduz.pk/the-5-elements-of-man-understanding-your-aura-energy-and-spiritual-power

Aasaibi makan |is ghar main rehne walon ka koi aik fard ghayab ho jata hay |horror urdu story

آسیبی مکان

گاڑی جس پرانے زمانے کے بڑی بڑی محرابوں والے مکان کے باہر رکی تھی اسے دیکھ کر آمنہ نے بڑی شکوہ کناں نگاہ شوہر پر ڈالی جو نظر چرا کر جلدی سےگاڑی بند کرتا باہر نکل کھڑا ہوا چار و ناچار اسے بھی پیروی کرنی پڑی

گھر ارد گرد بنے نیے طرز کے خوبصورت مکانوں کے درمیان اور بھی خستہ حال لگ رہا تھا 

سجاد گاڑی کی ڈگی سے سامان نکلنے لگا تو گھر کو پھر ایک نظر بھر کر دیکھ کر آمنہ کہے بغیر نہ  رہ سکی 

“یہ گھر ہے جس کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟ دیکھنے میں ہی کتنا پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا مکان لگ رہا ہے “

سجاد نے ڈگی کی آڑ میں چہرہ چھپا کر کان کھجایا 

پڑوس کے مکان سے ایک ادھیڑ عمر آدمی اپنی دھن میں نکلا انھیں دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا 

یار اندر سے بہت بہترین ہے سارا گھر سجا ہوا ہے ضرورت کی ہر چیز ہے اتنے کم کرایے میں فرنشڈ گھر ملاہے ورنہ پتا ہے اسلام آباد میں اتنا بڑا گھر پچاس ہزار سے کم میں نہیں ملتا

سجاد ڈگی سے بیگ نکال کر گھوم کر آمنہ کے پاس آیا انداز اتنا پرجوش تھا کہ آمنہ کو لگا تھا ابھی یہیں ناچنا بھی شروع کردیگا 

وہ منہ بنایے گھورتی رہی 

تو ہمیں کیوں ملا ہے اتنا سستا؟یہ نہیں سوچا؟دیکھنے سے ہی خستہ حال لگتا ہے چھتیں گرنے کو تیار لگتی ہیں 

آمنہ نے جتایا تو سجاد کھسیا گیا 

اچھا اندر تو چلو ابھی گزارا کر لو ہم بدل لینگے ایک دو مہینے میں یہ گھر میرے دفتر سے قریب ہے سب سے اچھی بات تو یہ ہے 

اس نے آگے بڑھ کر گیٹ کا تالہ کھولا آمنہ کندھے اچکا کر اندر داخل ہو گئی سجاد گاڑی کے پاس سے بڑا سا بیگ اٹھا کر گھر میں داخل ہونے لگا ابھی پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا وہ بری طرح چونک کر مڑا 

کھچڑی سفید بالوں والے براق سفید شلوار قمیض میں ملبوس زمان صاحب

بہت گھبرائے ہوۓ انداز میں دیکھ رہے تھے 

اسلام و علیکم میرا نام سجاد ہے میں 

سجاد نے بیگ  رکھ کر گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا 

وعلیکم السلام میں زمان ہوں  

زمان صاحب نے بیتابی سے بات کاٹ دی تھی “یہ گھر آپ نے خریدا  ہے ؟

سجاد مسکرا دیا 

نہیں انکل یہ ہم نے کرائے پر لیا ہے 

یہاں پنڈی اسلام آباد میں ہی رہتے ہو؟

وہ نجانے کیا جاننا چاہ رہے تھے 

نہیں میں کراچی سے یہاں ٹرانسفر ہو کے آیا ہوں

کہتے ساتھ ہی سجاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ایک انجان شخص کو بتا دیا کہ پردیسی ہوں اس نے دانتوں تلے زبان دبا لی 

وہی تو 

زمان صاحب کا اندازہ درست نکلا تھا 

یہ گھر اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ پنڈی اسلام آباد کے لوگ تو اس مکان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے 

آپ انجان ہیں اس شہر میں جبھی بھٹی صاحب نے آپکو یہ مکان ٹکرا دیا ہے 

انکے بنا لگی لپٹی رکھے کہنے پر سجاد کی پیشانی پر الجھن کی شکن پڑی

کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپکی بات؟

زمان صاحب گہری سانس لے کر سجاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “یہ مکان فورا چھوڑ دو یہ آسیب زدہ ہے یہاں کوئی دو تین دن سے زیادہ نہیں رہ پاتا سامان تک چھوڑ کر لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے اور جو یہاں رہ بھی گیا اسکے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد پر اسرار طریقے سے غایب ہو جاتا ہے 

سجاد نے غصے سے انکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا 

کیا بکواس ہے یہ میں نہیں مانتا ان فضولیات کو ہمیں بھٹی صاحب نے بتایا تھا کہ یہاں رہنے والا خاندان اپنی عزت  بچانے کیلئے ایسی کہانی بنا کر کہیں چلا گیا کیوں  کہ انکی  اپنی بیٹی رات کو گھر سے بھاگ گئی تھی 

اسکی بات پر زمان صاحب بے  چین  ہو اٹھے  

میں یہاں تیس سال سے رہ رہا ہوں وہ بچی میری بیٹی کی سہیلی تھی میری آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی تھی 

یہ گھر بھی ٹھیک تھا اسکو دوبارہ تعمیر کرا نے کے لئے فرقان صاحب نے صحن کے بیچ میں لگا درخت کٹوا دیا تھا میری بچی اور وہ بچی اسی درخت پر جھولا ڈال کر جھولتی تھیں مگر جب درخت کٹ گیا تو عجیب واقعات ہونے لگے انکے ساتھ 

سجاد انکی فضول باتوں کو اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا سو بات کاٹ کر ہاتھ اٹھا کر بولا 

بس کیجیے انکل مجھے ان فضولیات پر یقین نہیں ہے پرانے مالک مکان کی بچی گھر سے بھاگ گئی یا غائب ہوگئی مجھے دلچسپی نہیں ہے 

اسکی بیزاری پر بھی زمان صاحب نے بات جاری رکھی یوں لگتا تھا وہ خوف زدہ ہیں ایک ہی سانس میں سب بتا دینا چاہتے ہیں

انکی بیٹی اپنی دادی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے میری بچی بھی ساتھ تھی اس بچی کے پاس رات کو ٹھہری تھی رات کو اس نے بھی دیکھا کہ بچی کی دادی اسے بلانے آئیں وہ انکے ساتھ صحن میں گئی مگر جب اسے گیۓ کافی در ہو گئی تو میری بچی اسے ڈھونڈتی صحن میں آئی تو صحن میں کوئی نہ تھا اور جب وہ اندر کمرے میں گئی تو بچی کی دادی بےخبر سو رہی تھیں 

سجاد نے بد تمیزی کی انتہا کرتے ہوئے سر جھٹکا اور انکی بات کے درمیان ہی بیگ اٹھا کر اندر جانے لگا تھا مگر زمان صاحب پھولی سانسوں کے ساتھ تیز تیز قصّہ سناتے چلے گئے سجاد انکی باتوں پر یقین نہیں کر رہا تھا مگر آخری بات پر ٹھٹکا اور فطری تجسس سے مجبور ہو کر پوچھ بیٹھا 

پھر؟

دادی نے کہا کہ وہ تو نہیں بلانے آیئ تھیں بہت تلاشا پھر انہوں نے بچی کو کیا کیا حربہ نہ اپنایا مگر بچی کا سراغ نہیں ملا ایک عامل نے بتایا کہ اس درخت پر جنات کا خاندان آباد تھا درخت کاٹنے سے انکا نقصان ہوا ہے اور وہ بدلے کے طور پر اس گھر سے ایک فرد لے گیۓ ہیں اب یہ گھر انکا ہے جو یہاں آ رہے گا یہ اس پرحاوی 

انکی کہانی سے متاثر ہونے ہی لگا تھا کہ بھٹی صاحب کی بات یاد آئی اپنے پڑوسیوں سے محتاط رہیے گا بہت شر لوگ ہیں اس گھر پر نظر ہے انکی جو اس گھر میں آتے ہیں لوگ انکو الٹی سیدھی کہانیاں سناتے ہیں مقصد یہی ہے کہ یہ گھر کم داموں پر میں تنگ آ کر انکو بچ دوں اب کروڑوں کی پراپرٹی …

زمان صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا 

آپ مرے گھر رہ لیں جب تک دوسرا انتظام نہ ہو آپکو خطرے کا اندازہ نہیں ہے یہاں بوائز ہوسٹل بھی کھلا تھا دس پندرہ لڑکے تھے ایک دن سب رات کو چیختے ہوئے بھاگے تھے کہتے تھے انکا ایک دوست انکے دیکھتے دیکھتے غایب ہو گیا ہے 

سجاد شش و پنج میں پڑ گیا انکا اصرار حد سے زیادہ تھا 

آخر انکو اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دینا ایسا بھی کیا تھا اس گھر میں کہ 

تبھی اندر سے آمنہ کے چیخنے کی آواز آئ بات ادھوری چھوڑ کر دونوں اندر لپکے آمنہ دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی 

ایک موتی تازی بلی صحن میں رکھی اینٹوں اور ٹوٹی کرسی کو پھلانگتی سجاد پر غراتی صحن کے کھلے دروازے سے باہر نکل گئی 

میں اندر کمرے میں جا رہی تھی کہ نجانے کہاں سے بلی سامنے آگئی تو میری چیخ نکل گئی 

آمنہ شرمندہ ہوتے ہوئے بتانے لگی پھر سوالیہ نظروں سے زمان صاحب کو دیکھنے لگی 

زمان صاحب الجھن بھری نظر سے کبھی آمنہ کو کبھی گیراج میں کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے 

یہ ہمارے پڑوسی ہیں زمان انکل یہ میری بیوی ہے آمنہ 

سجاد نے مارے باندھے تعارف کروایا 

کیا ہوا بیٹی کیوں گھبرا گیں ؟

وہ شفقت سے پوچھ رہے تھے 

وہ بلی سے ڈر گئی تھی نکل گئی باہر 

سجاد کو کوفت سی ہی عجیب ہی سے خبطی انسان ہیں پھر تھوڑا سختی سے بولا 

ابھی آپکے سامنے سے تو گزر کر گئی ہے باہر چلو آمنہ اندر چلو 

انکی جرح سے اکتا کر اس نے کندھے سے پکڑ کر آمنہ کا رخ گھر کی جانب کیا دونوں بنا انکو اندر آنے کی دعوت دے اندر چلے گیۓ مگر زمان صاحب برا مانے بغیر الجھن سے سر جھٹک کر باہر نکل آئے 

انکی بڑ بڑ ا ہٹ واضح تھی 

مگر میں نے تو کوئی بلی نہیں دیکھی 

………………………………………………….

آمنہ گنگناتے ہوئے باورچی خانے میں چائیے بنا رہی تھی دونوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا تھا باقی گھر کی صفائی ستھرائی کل سے شروع کرنی تھی تبھی چپکے سے ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کوئی اسکے پیچھے آ کھڑا ہو گیا 

آمنہ نے مسکرا کر چائے کپ میں نکالی اور دو کپ کی ٹرے میں رکھ کر اٹھائی  اور آرام سے کہتی مڑی

مجھے پتا ہے یہ آپ چپکے سے پیچھے آ کھڑے ہوئے ہیں میں اب نہیں ڈرتی جناب 

مڑتے ہی آمنہ کی اوپر کی سانس اپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی ہاتھ سے 

ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی پیچھے کوئی نہیں تھا 

چند لمحے تو اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی اتنا شدید دھوکہ تو اسے پہلے کبھی نہ ہوا  تبھی سجاد کمرے سے بولتا ہوا نکلا سیدھا اسکے پاس چلا آیا 

لو بھئی آمنہ خوش ہو جاؤ تمہارا لاڈلا بھائی آرہا ہے رہنے تمہارے پاس پرسوں آیئیگا پورے دو مہینے کے لئے جب تک اسکی چھٹیاں ختم نہیں ہو جاتیں اب تو نہیں گھبراؤ گی اکیلے رہنے میں؟

سجاد اپنی دھن میں بول رہا تھا مگر آمنہ کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں 

کیا ہوا ایسے بت بن کے کیوں کھڑی ہو؟

اسنے چٹکی بجائی تبھی اسکی نظر سامنے کھلے نل پر پڑی تو اسے ٹوکتا ہوا اسے بند کرنے بڑھ گیا 

کیا لاپرواہی ہے آمنہ فل ٹونٹی کھلی ہویی تھی ابھی سارا پانی بہہ جاتا ٹنکی خالی ہوجاتی 

اسکے کہنے پر آمنہ نے مڑ کر دیکھا تو ٹونٹی واقعی کھلی ہی تھی 

آمنہ حیران رہ گئی پانی گرنے کی آواز کافی تھی 

مگر میں نے تو .. یہ تو بند تھی 

سجاد اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا 

ڈھیلی ہوگی ہوگی کافی عرصے سے تو بند ہے یہ مکان ہاں کل ٹنکی صاف کروا کر بھروائی ہے میں نے کافی بڑی ہے 

کہتے ہوئے اسکی ٹرے سے سجاد نے دونوں کپ اٹھا لئے اور کچن کی بتی بجھاتا اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا چائے سائیڈ میز پر رکھ دی آمنہ بے دھیانی میں خالی ٹرے اٹھائیے چلی آئ تھی

چلو چائیے پیئیں 

یہ چاہیے کا رنگ تھوڑا عجیب سا نہیں ہے 

چائے کا کپ اٹھا کر وہ حیرت سے بولا آمنہ نے آگے بڑھ کر چائے دیکھی تو واقعی رنگ عجیب مٹیالا سا سرخی مائل تھا 

سجاد نے چائے چکھی پھر برا سا منہ بنایابہت بد مزہ چائے ہے لگتا ہے یہاں کا دودھ ٹھیک نہیں کل سے ڈبے کا دودھ لیکر آئوں گا ۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔

کپ میز پر رکھتے ہوئے وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔

بے دھیانی سے بیڈ پر بیٹھتے آمنہ  نے ٹرے کی جانب نگاہ کی تو ٹرے کے خوش رنگ پھولوں پر گری ہوئی چائے اتنی خونی رنگ کی تھئ کہ جیسے ٹرے پر خون ہی گرا ہوا ہو۔ اس نے گھبرا کر ٹرے بیڈ پر رکھ دی ۔تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھئ۔ پھرڈرتے ڈرتے ٹرے کو دوبارہ دیکھا تو ٹرے پر چائے بھی نہیں گری ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح حسب معمول خوشگوار تھی۔ انہیں کراچی کی نسبت یہاں کا معتدل موسم بے حد اچھا لگ رہا تھا۔ آمنہ صبح اٹھ کر باہر صحن میں ہی ٹہلتی رہی تھی۔ صحن کے بیچوں بیچ بڑا سا گھنا درخت اس پر لٹکتا جھولا ۔۔ اس کو بچپن ہی یاد آگیا کافی دیر اس جھولے پر جھولتے اسے کافی سرور ملا تھا ۔۔ سجاد کے اٹھنے کا وقت ہوا تو جلدی جلدی ناشتہ بنا کر میز جھاڑ کر سجا دی۔ آملیٹ پراٹھے بھاپ اڑاتی گرم گرم چائے اور مسکراتی ہوئی تازہ دم سی دکھائی دیتی آمنہ۔ سجاد کا موڈ بھی ایکدم سے اچھا ہو گیا تھا۔۔ 

گرم گرم پراٹھے کا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا ۔۔ اسکے اتائولے پن پر آمنہ ہنس دی۔ پھر نخرے بھرے انداز میں بولی۔۔ 

جلدی آجائیئے گا میں اکیلی اتنا بڑا گھر ۔ وقت بھی نہیں گزرے گا میرا۔۔

اسکے انداز پر سجاد مسکرا دیا پھر تسلی دینے والے انداز میں بولا

یار پہلا دن ہے دفتر کا نا جانے باس کیسا ہو آج کا تو وعدہ  نہیں کر سکتا تم ایسا کرو گھر کی صفائی وغیرہ کر لو کافی دھول مٹی ہے کھانا باہر سے آرڈر کر لینا اور پھر بھی وقت نہ گزرے تو آس پڑوس میں چلی جانا۔۔۔ 

پھر خیال آیا تو منع بھی کرنے لگا

یہ بائیں جانب والے گھر تو بالکل مت جانا کل جو انکل آئے تھے نا وہیں سے آئے تھے بہت عجیب سے تھے ایویں فالتو باتوں کا وہم ڈال دیں گے۔۔

آمنہ اسکے پھا پھا کٹنیوں والے انداز پر کھلکھلا دی۔

بالکل پھاپھا کٹنی کی طرح کہا ہے۔ ویسے کیا کہہ رہے تھے ایسا ؟ مجھے تو ڈرے ہوئے لگے تھے جیسے ہم دونوں بھوت ہوں 

آمنہ ہنسی

سجاد نے ایک نظر اسکے متبسم چہرے پر ڈالی پھر سر جھٹک دیا

بس الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے۔وہی جو بھٹی صاحب نے قصہ سنایا تھاکہ یہاں بچی رہتئ تھی وہ گھر سے بھاگ گئ تو گھر والوں نے مشہور کر دیا کہ اسے ہوائی مخلوق لے گئ ہے۔

آمنہ نے چائے کا گھونٹ بھرا پھر تاسف سے کہنے لگی

بے چارے بدنامی سے بچنے کو اور کیا کہتے آجکل تو بچے کیبل دیکھ کر آپے سے ہی باہر ہو گئے ہیں ایک ہم تھے بابا نے جب تک بڑے نہ ہوگئے گھر میں ڈش کیبل لگوا کر نہ دیا

۔

سجاد نے ناشتہ ختم کر کے ساتھ رکھا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور اٹھ کھڑا ہوا 

ہاں بس یہی حالات ہیں چلو میں چلتا ہوں کوشش کروں گا کہ جلدی آجائوں تم گھر فون کر لینا امی کو یاد سے اور پریشان نہ ہونا دل گھبرائے تو ۔۔ 

اس نے شرارت بھرے انداز میں مسکرا کو چھیڑا

اپنی اس موٹی سہیلی کو فون ملا لینا۔۔ 

ثمیرہ نام ہے اسکا ۔ موٹی مت کہا کریں

حسب توقع وہ بھنا کر چیخی ۔

سجاد زور سے ہنسا تو اسے بھی ہنسی آگئ ۔سجاد گاڑی نکال کر اسے ہاتھ ہلاتا گیا تو وہ احتیاط سے گیٹ بند کر کے صحن میں چلی آئی۔ ارد گرد دو تین منزلہ گھروں کی وجہ سے دھوپ بس اوپری دیوار تک ہی آرہی تھی ۔ اس نے اس خنک ماحول کو گہری سانس بھر کے اپنے اندر جزب کیا پھر بڑے شوق سے دوبارہ جھولے پر جا بیٹھی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی سردی سے آنکھ کھلی  تھئ۔ جھر جھری لیکر وہ سیدھی ہوئی تو بیڈ پر لیٹی تھی۔۔ اس نے سر کھجایا۔۔ جانے کب وہ آکر یوں بے خبر سو گئ۔۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ گئ تو شام کے 7 بج رہے تھے۔۔ 

وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔ 

کھانا منگوانا تو اب ممکن نہیں تھا ۔ گروسری کا سامان تو دو دن پہلے سے سجاد نے لا رکھا تھا۔۔ وہ خود ہی کچھ پکانے کا ارادہ کرکے کچن میں چلی آئی۔ سجاد کو بڑا گوشت پسند تھا ۔ آلو بھی رکھے تھے وہ آلو گوشت ہی بنانے لگی۔۔ 

آمنہ۔۔ سجاد نے کافی اونچی آواز لگائی تھی۔۔ 

جی۔ وہ لمحے بھر کا توقف کیئے بنا ہی جواب دے گئ۔۔ پھر ٹھٹک سی گئ۔۔ یہ کب آئے۔۔ وہ حیران سی ہو کر چولہا دھیما کرتی باورچئ خانے سے باہر نکل آئی۔۔ لائونج خالی پڑا تھا۔۔ 

سجاد۔ اس نے پکارا مگر جواب ندارد تھا۔۔ وہ لائونج کے دروازے پر آئی تووہ بھی اندر سے لاکڈ تھا۔۔ 

سجاد۔ اگر آپ مزاق کر رہے تو بھونڈا مزاق ہے یہ۔۔ 

وہ گھبرا سی گئ تھی۔۔ 

آپ آگئے ہیں جلدی؟

کمرے کے کھلے دروازے سے اسے تیزی سے کوئی گزرتا دکھائی دیا۔۔ 

ایک تو یہ بچپنا نہیں چھوٹے گا۔ پتہ ہے میں اکیلے میں گھبراتی ہوں پھر بھی تنگ کرنا ہے مجھے۔۔ ہونہہ۔  

وہ بڑ بڑاتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی تبھی بڑے زور سے دستک ہوئی لائونج کے دروازے پر۔۔ 

وہ کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوئی لائونج کا دروازہ کھولنے چلی آئی۔ایک پیاری سی تیرہ چودہ سال کی بچی سر پر دوپٹہ رکھے ہاتھ میں  کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر ادب سے سلام کیا

اسلام و علیکم میرا نام مریم ہے یہ ساتھ والے گھر سے آئی ہوں وہ آپکا مین گیٹ کھلا تھا تو اندر چلی آئی۔ یہ امی نے بھجوایا ہے۔۔ 

اس نے ٹرے آگے بڑھائی۔۔ 

وعلیکم السلام کوئی بات نہیں آئو اندر تو آئو میں آمنہ ہوں۔ 

آمنہ نے بھی گرمجوشی سے اسے دعوت دی۔ گرم گرم بریانی وہ بھی بھر کر۔  وہ دل ہی دل میں انکے اخلاق کی قائل ہوئی۔۔ 

نہیں بس وہ برتن دے دیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔

لڑکی جانے کیوں سراسیمہ سی ہوگئ۔ 

ہاں دیتی ہوں برتن اندر تو آجائو میں تمہیں آئسکریم کھلاتی ہوں 

اس نے لالچ دیا۔

نہیں آپی وہ بابا منع کرتے ہیں مجھے یہاں آنے کو۔ابھی بھائی گھر میں نہیں تھا تو امی نے مجھے بھیج دیا مگر بابا کو پتہ لگا تو ڈانٹیں گے مجھے آپ بس برتن لا دیں میں یہیں ہوں۔

وہ ہتھیلیاں مسلتی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔ آمنہ نے پھر اصرار نہیں کیا۔پلٹنے ہی لگی تھی کہ مریم کی گھبرائی سی آواز آئی۔ 

آپی آپکے کچن سے دھواں اٹھ رہا ہے آگ تو نہیں لگ گئ۔ 

مریم کے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو واقعی کافی دھواں اٹھ رہا تھاوہ ٹرے اٹھائے بھاگتی ہوئی کچن میں آئی تو دیکھا ہنڈیا کے نیچے آنچ پوری تھی۔پوری ہنڈیا جل چکی تھی۔مریم بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔ ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر کھانستے ہوئے آمنہ نے ایگزاسٹ فین چلایا چولہا بند کیا پچھلے صحن کا دروازہ کھولا۔

دھواں بہت ذیادہ تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔ 

دھوئیں دھوئیں میں اچانک آمنہ سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ پلٹ کر مریم کو دیکھ کر غرائئ

کہا تھا نا تمہیں یہاں مت آنا۔۔ سمجھ نہیں آتی میری بات۔۔ 

مریم گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔ 

آپ۔ آپ نے ہی تو بلایا۔۔ وہ خوف کے مارے پیلی پڑ گئ تھی۔ 

جائو نکلو یہاں سے دوبارہ مت آنا یہاں سمجھیں۔۔ 

آمنہ حلق کے بل چلائی۔۔ تھر تھر کانپتی مریم الٹے سیدھے قدم اٹھاتئ باہر بھاگی۔۔

اف کیسی غلطی ہوئی سارا کھانا جل گیا۔ بروقت آئی ہو تم بھئ۔ اب ہم دونوں میاں بیوی یہی کھائیں گے۔۔ 

خوشگوار انداز میں کہتی وہ مڑی تو مریم وہاں نہیں تھی۔ دھواں چھٹ چکا تھا وہ حیران ہو کر کچن سے نکلی تو مریم کو بھاگتے ہوئے لائونج کے دروازے سے نکلتے دیکھا 

ارے کیا ہوا۔۔ مریم۔۔ برتن تو لیتی جائو۔  

اسکی آواز سن کر مریم نے بنا مڑے اور تیزی سے دوڑ لگا دی تھی۔گیراج کے کھلے دروازے سے سجاد گاڑی اندر کر رہا تھا مریم گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر رکی نہیں باہر بھاگ گئ۔سجاد حیران سا گاڑی پارک کر کے باہر نکلا۔ 

آمنہ بھی حیران سی لائونج کے دروازے پر کھڑی اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گئ۔ 

تم کیا اس بچی کو مار رہی تھیں۔ اتنا کیوں گھبرائی ہوئی ہے؟

آمنہ خود اچنبھے میں تھی۔

 پتہ نہیں کیا ہوا اسے بریانی لیکر آئی تھی۔اس سے باتوں میں لگ کر میری ہنڈیا جل گئ شائد دھواں دیکھ کر گھبرا گئ۔۔

آمنہ نے تفصیل سے بتایا تو سجاد ہنس پڑا

یعنی ہم اب باہر ڈنر کریں گے۔کھانا ہی جلا دیا تم نے 

اس نے چھیڑا تو آمنہ اسکا بیگ لیکر بتانے لگی 

نہیں کافی ساری بریانی بھجوائی ہے پڑوسیوں نے ہم دونوں آرام سے کھا لیں گے۔

دونوں باتیں کرتے اندر چلے آئے۔ 

اور کیسا گزرا دن میرے بن 

سجاد گنگنایا۔۔ 

آمنہ کھلکھلا دی

بہت اچھا۔۔ صفائی وفائی کچھ نہیں کی بس آرام سے جھولا جھولتی رہی پھر سوگئ۔۔ 

آمنہ کا رخ کچن کی جانب تھا۔ سجاد نے مسکراتی نظروں سے لائونج کو دیکھا کل کی نسبت آج چمک رہا تھا ۔۔ 

جھولا کہاں جھولتی رہیں۔ 

اسے یہی لگا مزاق کر رہی ہے۔ 

وہ جو صحن میں لگا ہے درخت کے نیچے۔ وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر کچن میں چلی گئ۔ 

وہ مڑ کر دروازہ بند کرنے لگا تو صحن کا منظر واضح تھا۔۔ 

صاف ستھرا پکا فرش۔ وہاں نہ کوئی درخت تھا نہ جھولا۔۔

وہ مسکرا دیا۔۔ یقینا سارا دن کام کرنے کے بعد اب وہ طنز کر رہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کرنے لگا۔۔ 

طنز کر رہی ہو آمنہ۔ آج میری بیگم نے بہت کام کیا سو آج رات کو میں اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پلائوں گا۔۔ 

کچن میں بریانی کو پلیٹوں میں نکالتی آمنہ ٹھٹکی

سجاد تو ابھی میرے سامنے اندر آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ملگجے سے اندھیرے میں جھولا جھول رہی تھی۔

اسے یاد نہیں تھا کہ وہ صبح صبح یہاں آئی تھی یا رات کو۔ 

اچانک اسکی پینگ اونچی ہونے لگی۔

وہ ڈرنے سی لگی۔ اوپر بہت اوپر جاتی نیچے آتی تو ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی گھورتی نظر آتی۔

ایک چکر پر نظر آتی دوسرے پر نہیں۔

اس نے چیخنا شروع کردیا۔ جھوکا آہستہ ہوا وہ اچھل کر کود گئ۔۔ گھٹنے چھل گئے وہ گھٹنا سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی

وہی لڑکی عین سامنے کھڑی تھی

کیوں آئی ہو یہاں۔۔ چلی جائو ۔۔ سمجھیں جائو یہاں سے۔۔ ورنہ یہیں رہ جائوگئ۔۔ 

سمجھ رہی ہو میری بات؟۔۔۔

وہ عجیب بھرائی آواز میں چلا رہی تھی۔۔ یوں جیسے اسکا گلا بیٹھا ہو ۔۔ 

آمنہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہوئی۔۔

وہ لڑکی بدستور چلا رہی تھی وہ ڈر کر پیچھے ہٹی وہ لڑکی ایکدم یوں چپ ہوئی جیسے اسے نجانے کیا نظر آرہا ہو آمنہ کے عقب میں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے سجاد کھڑا تھا ۔۔وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئ تو وہ لڑکی جیسے ہوش میں آکر چلائی

دور ہو جائو اس سے

یہ لے جائے گا ساتھ سن رہی ہو تم میری بات

وہ سجاد سے لپٹ کر رو دی۔

سجاد نہ سمجھنے والے انداز میں اسے  اپنے ساتھ لگائے پوچھ رہا تھا

کیا ہوا آمنہ اتنی خوفزدہ کیوں ہو؟ 

سجاد وہ وہ لڑکی۔ اس نے مڑ کر اشارہ کیا تو اب وہاں کوئی نہ تھا۔ 

تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟ 

چلو اندر۔  وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لایا تھا۔  

بیڈ پر بٹھاکر سائیڈ لیمپ جلایا جگ سے پانی نکال کر اسے دیا۔ وہ پسینے پسینے ہو رہی تھی گلا بے حد خشک ہو رہا تھا ایک ہی سانس میں وہ سارا پانی پی گئ۔۔ 

وہ وہ لڑکی تھی باہر جھولا جھول رہی تھی میں تو وہ۔۔ 

ٹوٹے پھوٹے انداز میں اس نے بتانا چاہا تو سجاد مسکرا کر ٹال گیا۔۔ 

رات کے تین بجے صحن میں جھولا جھولو گی تو کچھ الٹی سیدھی مخلوق ہی نظر آئے گی نا؟ 

آمنہ اسکی بات پر چونک کر وال کلاک دیکھنے لگی تین بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔۔ 

مگر میں تو ۔۔ اسے جانے کیوں یاد نہیں آرہا تھا وہ کب صحن میں گئ۔ وہ تو گیارہ بجے بستر پر سونے لیٹی تھی۔۔ 

اسکی پیشانی الجھن بھری لکیروں سے بھر گئ۔ 

چلو سو جائو۔  سجاد نے اسے زبردستی لٹا دیا۔ شل زہن کے ساتھ وہ لیٹتے ہی غنودہ ہونے لگی۔ وہ اسکا شانہ تھپک کر چادر اڑھا رہا تھا جب باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔ سجاد تولیہ سے ہاتھ پونچھتا ہوا آیا ۔۔آمنہ کا بازو بستر سے لٹک رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سیدھا کیا۔۔ غنودہ زہن میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ یہ لمس مانوس ہے مگر اس سے پہلے والا۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سجاد کو حسب عادت سی آف کرنے گیٹ تک آئی سجاد گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب آمنہ کی نظر صحن پر پڑی۔گاڑی اسٹارٹ کرتے سجاد کو یاد آیا۔ 

اچھا سنو میں دفتر سے لنچ بریک میں اٹھ کر باری کو لینے چلا جائوں گا تم کھانا تیار رکھ لینا ہم اکٹھے دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 

آمنہ ایک ٹک صحن پر نگاہ جمائے تھی۔ 

اسکی بے توجہی محسوس کرے وہ پھر بولا۔ 

سن رہی ہو۔۔ 

آمنہ چونکی۔پھر پسنجر سیٹ سے اندر جھانک کر بتانے لگی

سجاد رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا میں نے۔ اس درخت کے جھولے پر میں  بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی آئی مجھے کہنے لگی بھاگ جائو ورنہ وہ تمہیں ساتھ لے جائے گا۔

آمنہ پریشان تھی۔ سجاد نے الجھن سے دیکھا صحن میں تو کوئی درخت نہیں تھا۔ مگر وہ اسے پریشان کیا کرتا خواب میں تو کچھ بھی نظر آتا ہے۔ 

خواب سے ڈر رہی ہو پاگل لاحول پڑھنا تھا۔ خواب میں تو کچھ بھئ نظر آسکتا اور اسکے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں ۔ کل نماز نہیں پڑھئ تھی کیا؟ 

اسکے پوچھنے پر اس نے شرمندگی سے نفی میں سر ہلایا۔  

سجاد نے تاسف سے دیکھا آمنہ کا منہ اترا ہوا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اسے ترس آگیا۔ سو  بہلانے والے انداز میں بولا۔۔ 

آج ضرور پڑھنا۔ آیت الکرسی پڑھ کر پھونک لو خود پر۔ اور مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری نیند بھی پوری نہیں ہوئی جائو سوجائو تھوڑی دیر۔ اٹھ کر کھانا بنا لینا بلکہ باری بھی فاسٹ فوڈ شوق سے کھاتا ہے میں باہر سے ہی کھانا لیکر آئوں گا۔ ٹھیک ہے۔

آمنہ چپ رہی سر ہلا دیا۔ سجاد نے گاڑی ریورس کی مسکرا کر خدا حافظ کہتے گاڑی نکال کر لے گیا۔ 

آمنہ گیٹ بند کرنے لگی تو ساتھ والے گھر سے زمان صاحب کو مریم کو سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھاتے دیکھ کر چونکی۔ مریم کے بال براق سفید ہو رہے تھے ۔۔ 

ابھی کل۔۔ وہ بری طرح چونکی۔۔ 

ایک ادھیڑ عمر عورت بھی انکے ساتھ تھی۔۔ 

اس نے مخاطب کرکے خیریت پوچھنا چاہی مگر وہ بے حد جلدی میں تھے تیزی سے بیٹھ کر چلے گئے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔    

وہ کمرے میں آکر لیٹ گئ۔  آیت الکرسی پڑھ لوں۔ اس نے سوچا مگر اسکا ذہن اتنا غنودہ ہو چلا تھا کہ پڑھ نا سکی۔۔ 

بے خبر سوگئ۔۔ جانے کتنی دیر سوئی ہوگی جب اسے کچھ آوازیں سنائی دیں۔جیسے بچے کھیل رہے ہوں۔ 

شور اتنا ذیادہ تھا کہ اسکی آنکھ کھل گئ۔ کمرے میں شدید گھٹن تھی۔ اسکا حلق بھی خشک ہو رہا تھا۔۔ وہ سن سے ذہن کے ساتھ جیسے کسی ٹرانس میں اٹھی اٹھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹایا باہر جھانکا تو کچھ بچے کھیل رہے تھے فٹ بال اچھالتے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھےایک بچی جھولا جھول رہی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر دیکھا تو مریم تھی۔ مریم نے مڑ کر اسے دیکھا پھر خوشدلی ہاتھ ہلا کر اسے بھی بلانے لگی ۔ وہ مسکرا دی۔ 

شکر ہے اب طبیعت ٹھیک ہے اسکی۔ 

اسے صبح واقعی فکر ہوئی تھی۔ 

آج بھی گیٹ کھلا رہ گیا کیا جو یہ بچے اندر چلے آئے۔وہ باآواز بلند سوچتی کھڑکی بند کرکے مڑی تو سامنے وہی خواب والی لڑکی کھڑی کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھی۔

آمنہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی۔ وہ لڑکی دو قدم آگے بڑھ کر غرائی

سمجھ نہیں آتی بات تمہیں۔ کہا تھا نا بھاگ جائو وہ لے جائے گا تمہیں بھی۔  اٹھو جائو نہائو نماز پڑھو

وہ آگے بڑھی تو آمنہ پیچھے ہٹتی لڑکھڑا کر گر بھی گئ۔۔ 

اٹھو۔۔ وہ اگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا رہی تھی۔خوف کے مارے آمنہ کی آواز بند ہونے لگی۔تبھی اسے سجاد نے پکارا دھیمی سی آواز مگر کہیں قریب سے ہی

آمنہ۔۔

سجاد۔ وہ آواز پہچان کر قوت سے چلائی۔۔ 

آمنہ باہر آئو۔ جلدی

۔ سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا۔۔

لڑکی کے چہرے پر خوف سا در آیا۔

مت جواب دو مت جائو رک جائو۔۔ 

وہ کہہ رہی تھی آمنہ نے ساری ہمت مجتمع کی اور بھاگ کھڑی ہوئی

سجاد لائونج کے دروازے پر کھڑا تھا   

آمنہ ہانپتی کانپتی اسکی جانب بڑھی تبھی لڑکی ایکدم اسکے سامنے آگئ۔  

رک جائو مت جائو میرے ساتھ اندر چلو۔۔

آمنہ اسے دیکھ کر دہشت زدہ رہ گئ۔۔ 

آئو آمنہ۔۔ سجاد نے پھر پکارا ۔ آمنہ لڑکی کے پاس سے ہو کر باہر بھاگی سجاد اب دروازے پر نہیں تھا۔ وہ بھاگتی باہر آئی تو صحن سنسان پڑا تھا۔نہ بچے تھے نہ مریم۔ سجاد گھبرایا ہوا گیٹ کے پاس بے چینی سے کھڑا باہر جھانک رہا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آگئ۔سجاد نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔  گھبراہٹ کے مارے اسکی حالت بری تھی۔مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی لائونج کے دروازے پر کھڑی گھور رہی تھی۔ 

تم ٹھیک کہہ رہی تھیں آمنہ یہ لڑکی یہیں رہتی ہے۔ یہ گھر ٹھیک نہیں ہمیں فورا یہاں سے نکلنا چاہیئے۔ 

سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا آمنہ نے سجاد کا ہاتھ تھاما اور اسکے ساتھ گھر سے باہر نکل گئ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا باری نے دونوں گیٹ پٹ کھولے سجاد نے دھیرے سے گاڑی اندر کی باری اتنے میں گھوم کر گھر کر جائزہ لینے لگا۔۔ 

سجاد گاڑی کی بیک سیٹ سے کھانے پینے کا سامان نکالنے لگا

سجاد بھائی گھر تو شاندار ہے پرانی فلموں میں ہوتا ہے ایسا گھر آپی بتا رہی تھیں جھولا بھی ڈال رکھا ہے۔ کل جب بات ہوئی تو جھولا ہی جھول رہی تھیں۔

جھولا کہاں ڈل سکتا ہے ؟ ہاں اگر تمہاری آپی کو بہت شوق ہے تو اسٹینڈ والا جھولا ڈال لیں گے صحن میں جگہ تو کافی ہے ۔۔

سجاد نے کہا تو وہ منہ بناتے بولا

پچھلے صحن کی بات کر رہی ہوںگی پھربتا رہی تھیں درخت کے نیچے جھولا ڈال رکھا ہے ۔آپی نے کل وعدہ لیا مجھ سے 

کہ انکو پینگ دینے کی ذمہ داری ہے میری۔۔

اسکی بات پر سجاد نے ٹھٹک کر دیکھا۔۔مگر بولا کچھ نہیں

چلو اندر چلیں صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا آمنہ نے خوب بھوکی ہو رہی ہوگی۔۔ 

آمنہ۔ سجاد پکارتا اندر کی جانب بڑھا تو باری نے بھی پیروی کی۔

صحن میں لگے درخت کے نیچے جھولا جھولتی آمنہ بے تاثر چہرے کے ساتھ ان دونوں کو دیکھتی رہی۔ پھر پینگ لینے لگی۔۔

آمنہ آمنہ۔  کہاں ہو۔۔ سجاد پکار رہا تھا

آپی آپی۔۔ باری بھی اسے ایک ایک کمرے میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔

پہلے آرام سے ہھر پریشانی سے دونوں چیخ چیخ کر پکارنے لگے تھے۔۔۔ 

آمنہ کی پینگ اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی تھی۔

اندر دونوں نفوس دیوانہ وار پکار رہے تھے۔ آمنہ کا فون بج رہا تھا۔۔

اندر کمروں کے دروازے کھل بند ہو رہے تھے۔۔ 

آمنہ نے اونچی سی پینگ لی آخر میں جھولا خالی واپس آیا تھا۔۔۔

ختم شد۔۔   

    

https://urduz.pk/kafan-posh-murday-seerhion-per-thay-sachi-daroni-aap-beeti
kafan posh murday dekhay sachi aap beetian perhiyay
https://urduz.pk/ajeeb-ul-khalqat-wajood-darwazay-per-khara-thasachi-daraoni-aap-beetimaryam-faisal

Surprise short urdu horror story|کہانی: “تین بہن بھائیوں کا سرپرائز”

کہانی: “تین بہن بھائیوں کا سرپرائز”

کہانی کا خلاصہ:

تین بہن بھائیوں کی کہانی ہے جن میں دو چھوٹے بہن بھائی اپنی بڑی بہن کے لیے ایک سرپرائز پلان کرتے ہیں۔ لیکن جب ان کی بہن کا ایک حادثہ ہوتا ہے اور اس کی روح ان سے ملنے آتی ہے، تو کہانی ایک جذباتی موڑ لیتی ہے۔


موت ….
ابھی تو مجھے زندگی یوں ہے  چھو
کے گئی کہ
جیسے قضا سے مجھے بچا رہی ہو مگر
ہو ڈر اسے یہ بھی
موت مجھے نہ مہلت دیگی
میں نپٹا سکوں ادھورے کام سب اپنے
….
صبح سے کام کر کر کے دوپہر ہونے کو آئ اسکو ہوش نہ تھا  نا کھانے کا نہ پینے کا
پانچ  بج رہے تھے تو عالیہ کا صبر ختم ہو چلا اٹھ کر اسکی میز کے پاس آئ اور ہاتھ میں پکڑی دو تین فائلیں اکٹھی کر کے اسکے سر پر بجا دیں
اففف رومیلہ نے تڑپ کر سر سہلاتے گھورا
بس کر جاؤ مرے پیٹ کے چوہے کبڈی کھیل رہے ہیں پیٹ میں آج تو ناشتہ بھی نہیں کیا تھا میں نے
عالیہ نے مظلوم سی شکل بنا کر دکھڑا رویا تو گھورتے گھورتے بھی رومیلہ کی ہنسی نکل گئی
کہا تو تھا مجھے رپورٹ تیار کرنی ہے تم جا کے کھانا کھا لو
وہ میز پر بکھری فائلیں سمیٹتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی
ہاں تا کہ آج تو تمارا پکا روزہ ہو جا یے وہ بھی بنا رمضان کے اکیلے رہ گیں تو کھانا گول  ہی کر  جااوگی
وہ عادت سے واقف تھی سو چبا چبا کر طنزیہ انداز میں بولی
ہاں   چھٹی ہونے لگی ہے اب گھر جا کے ہی کھاؤنگی
اس نے جان بوجھ کے سرسری انداز اپنایا
گلہ دبا دونگی تمہارا
عالیہ نے زور دار چیخ ماری رومیلہ نے بے  ساختہ کان پر ہاتھ رکھ لیا
اف کتنا چیختی ہو یار مذاق کر رہی تھی چلو اٹھو…
عالیہ اسے گھورتی بیگ اٹھانے چل دی
دونوں اکٹھے دفتر سے نکلی تھیں
پوری لفٹ سے پارکنگ تک عالیہ بجتی آئ
تمہیں ٹریٹ دینے کے لئے میں تمہاری منّت کر کے سو نخرے اٹھا کر لائی ہوں یہاں کوئی تک بنتی ہے لوگ ترستے ہیں میری جیب سے پیسے نکلوانے کے لئے ایک یہ میڈم ہیں انکو میں کہ رہی ہوں خدا کے واسطے میری منگنی کی خوشی میں مجھ سے ٹریٹ لے لو 
رومیلہ مسکرا کر رہ گئی
اچھے دوست بھی کیا نعمت ہوتے
اسے مسکراتا دیکھ کر وہ اور چڑی
ہاں ہاں جب میں نہیں ہونگی نہ تب مری قدر ہوگی
قدر ہوگی یا سکوں ہوگا
گاڑی سٹارٹ کرتے کرتے اس نے پھر چھیڑ دیا تھا
میں چلتی گاڑی سے کود جاؤنگی میرا اور دل نہ جلاؤ
رومیلہ زور سے ہنس دی اسکے انداز پر بچوں کی طرح منہ بنا ے بیٹھی تھی
عالیہ بھنای پھر یکسر مختلف موڈ میں بولی
ویسے زیادہ سے زیادہ پاؤں ہی مڑے گا میرا
اس نے گاڑی کی انتہائی کم رفتار پر چوٹ کی
رومیلہ کے مسکراتے لب بھینچ گیے
میں تیز گاڑی نہیں چلا سکتی تم جانتی ہو عالیہ
جب سے امی ابو کو کھویا  ہے مجھہ سے تو روڈ پر گاڑی لائی بھی نہیں جاتی تھی کیسے اپنے خوف پر قابو پا کر
میں ڈرا یوکرتی ہوں میں جانتی ہوں
وہ اداس سی ہو گئی تھی
اس بات کو سات سال بیت چکے ہیں وہ بس ایک حادثہ تھا جو بد قسمتی سے تمہاری قسمت میں لکھا تھا ….
عالیہ نے کے   گیر پر رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
رومیلہ کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں سات سال پہلے کا حادثہ اسکی آنکھوں میں اتر آیا تھا
جب وہ سب مل کر اسی طرح دعوت میں جا رہے تھے اور اچانک سے سامنے سے ایک ٹرالر آگیا تھا ابو ڈرائیو کر رہے تھے فوری بریک لگاتے لگاتے بھی زور دار ٹکر ہوئی تھی امی ابو موقع پر ختم ہو گیے تھے وہ اپنے چھوٹے دو بہن بھائی  کے ساتھ پیچھے تھی بس وہی ہوش میں رہی تھی وہ جانتی تھی ٹرالر والا موقع سے فرار ہو گیا ہے  اس پر پچھلی سیٹ کا پورا شیشہ ٹوٹا پڑا تھا ٹرالر سے ٹکراتے گاڑی گول گھومی تھی اسکی  بہن کی جانب کا گاڑی کا پورا حصہ تباہ ہو  گیا تھا
وہ بیچ میں بیٹھی تھی دو لاشوں دو بیہوش زخمیوں کے ساتھ کس طرح اس نے اپنے حواس قابو کے کیسے بھائی کو ٹٹول ٹٹول کر اسکے زخم کا اندازہ کیا کیسے  اسکی جانب سے گاڑی کا دروازہ لات مار کر کھولنے کی کوشش  کی
بھائی بہن کو باہر نکال کر باپ کے مردہ جسم میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے کی کوشش کی اپنی ناکامی پر روتے  روتے انکا موبائل نکال کر پولیس کو اطلاع دی خود اسکو بھی چوٹ آئ تھی مگر اسے اپنی کسی تکلیف کا کوئی احساس نہ تھا اسے حوصلہ کرنا تھا اپنے چوتھے بہن بھایوں کے لئے
آگیا ریستوران
عالیہ کی آواز پر وہ چونک کر حال میں آئ  تھی
کھانا کھا کر دونوں باہر نکل رہی تھیں جب اسے گھر سے کال آئ
رامش اسکا چھوٹا بھائی تھا لائن پر
گھبرایا ہوا
آپی کہاں ہو اتنی دیر ہوگئی ٹھیک ہو نا؟
ہاں میں تو ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا؟
وہ اسکی آواز سے بھانپ گئی
ک کچھ نہیں
آپ آج جلدی گھر آجائیں
پلیز آپی … اس نے کہہ  کر فون بند کر دیا
کیوں کیا ہوا ہیلو ؟
وہ بری طرح گھبرا گئی تھی فورا دوبارہ کال ملائی مگر بیل جا رہی تھی کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا
کیا ہوا عالیہ کو بھی فکر ہوئی
پتہ نہیں
وہ رو دینے کو تھی
انیلہ بھی فون نہیں اٹھا رہی
وہ بار بار دونوں کو فون ملا رہی تھی
عالیہ بھی پریشان ہو گئی تھی
………………
رامش آپی بار بار فون کر رہی ہیں پریشان ہو رہی ہونگی
انیلہ نے فون ہاتھ میں پکڑے پکڑے پندرہ مسڈ کالز گن لی تھیں
مجبوری ہے … پریشان نہیں ہونگی تو آیئنگی نہیں پتہ تو ہے کبھی چھٹی نہیں کرتیں اپنی جاب سے آفس سے سیدھا اخبار کے دفتر چلے جانا تھا اگر انھیں بھنک بھی پڑ  جاتی کہ ہم انکے سالگرہ کا سرپرائز پلان کر رہے ہیں
فالتو کے کام مت کیا کرو وغیرہ وغیرہ کہتے ہوئے
یاد نہیں پچھلے سال کیا کیا تھا ؟ کتنا ڈانٹا تھا
رامش نے یاد دلایا  تو وہ سر ہلا کر رہ گئی دونوں لاونج  کی میز سجا رہے تھے پورے لاونج میں سجاوٹ کا سامان بکھراتھا
مگر وہ تو ابھی بھی بہت ڈانٹیں گی …
انیلہ منمنائی
انیلہ صحیح کہ رہی ہے بچے بہن کو پریشان نہ کرو
بوا بھی ہانپتی کانپتی چلی آین وہ انکے بچپن سے انکے یہاں کام کرتی تھیں ایک طرح سے ان تینوں بچوں کو انہوں  نے ہی پالا تھا ہر فرمائش ہر ضد  پوری کرتی تھیں ان بچوں سے انکو بہت لگاؤ تھا
ابھی بھی کچن میں کباب وغیرہ تل کر ادھر انکا ہاتھ بٹانے آگیں تو ٹوکے بنا نہ رہ سکیں
ڈانٹ لیں چاہیں تو مار بھی لیں
غبارے پھلاتا رامش غبارے سے بھی بڑا منہ پھلا کر بولا
ہم تین ہی تو ہیں بس ایک دوسرے کے لئے میری سالگرہ دھوم دھام سے مناتی ہیں انیلہ کی بھی اپنی دفعہ آرام سے ہمیں ڈانٹ کر  منع  کر دیتی ہیں ہم بھی تو اب بچے نہیں رہے اٹھارہ سال کا ہو رہا ہوں
میں پھر بھی مارنا چاہیں تو مار لیں مگر میں

میں بھی انھیں دوسری لڑکیوں کی طرح خوش دیکھنا چاہتا بلاوجہ کا بڑھاپا طاری کیا ہوا ہے انہوں نے خود پر
انکا کیا قصور ہے کہ امی ابو وقت سے پہلے ہمیں چھوڑ گیے اور ان پر ہماری ذمہ داری آگئی  ہے
وہ بولتے بولتے اداس ہوتا گیا قریب تھا کہ رو پڑتا انیلہ اور بوا اس سے لپٹ گیں
اداس نہیں ہونا مل کر مار کھا لیں گے آپی سے کوئی مسلہ ہی نہیں ہے
انیلا نے چٹکی بجا کر کہا تو دونوں ہنس دیے
…….
عالیہ ٹیکسی لے لیتی ہو تم
رومیلہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں
عالیہ کو اسکی فکر لگ گئی
وہ کوئی بات نہیں تم ڈرائیو کر لوگی مجھے گاڑی چلانی بھی نہیں آتی
ایسا کرتے ہیں گاڑی لاک کرو ہم ٹیکسی کر لیتے ہیں
پہلے تمہارے گھر چلتے ہیں
نہیں یار میں اتنی بھی کمزور نہیں پہلے ہی شام ہو رہی ہے تم جاؤ گھر تمہارے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہونگے
اس نے سہولت سے منع کر دیا پھر عالیہ کے نا نا کرنے کے باوجود اسے ٹیکسی روک کر بیٹھا دیا
گھر جاتے ہی مجھے فون کرنا مجھے فکر رہے گی
جاتے جاتے بھی کھڑکی سے سر نکل کر اس نے تاکید کی
اس نے سر ہلایا پھر تیزی سے اپنی گاڑی میں آ بیٹھی
آدھے گھنٹے کا راستہ اسے طویل ترین لگ رہا تھا
پہلی بار اس نے ایکسلٹر  پر پیر کا دباؤ غیر ضروری حد تک بڑھایا گاڑی کی رفتار تیز سے تیز ہو رہی تھی
ملحقہ سڑک سے جب اہم شاہ راہ کی جانب مڑی تو پہلا سگنل پندرہ سیکنڈ میں بند ہونے کو تھا
اس کے پاس دو راستے تھے یا تو رفتار تیز کر کے پار کر لے یا کم کر کے اگلے دو منٹ انتظار کر لے
اس نے پہلا کام کرنے کا فیصلہ کیا
یہ سوچے بنا کہ یہ پندرہ سیکنڈ اسکی زندگی کے فیصلہ کن پندرہ سیکنڈ بھی ہو سکتے ……..
…….
شام ڈھلنے کو آی دونوں  جانے کب یونہی انتظار کرتے کرتے میز سے سر ٹکا کر بےخبر سو گیے
بوا شام ہونے کے خیال سے بولتی  آ یں  
ازان  کا وقت ہو رہا بچوں بتی جلا لو
انکی آواز پر دونوں کسمسایے
آپی ابھی تک نہیں آہیں ؟
…………..
اسکے اشارے کے قریب آتے آتے اشارہ بند ہو گیا تھا
بریک لگاتے لگاتے بھی اسکی گاڑی کافی آگے نکل آی تھی
دوسری جانب  کا ٹریفک کھل چکا تھا ایک تیز رفتار گاڑی سیدھا اسی کی جانب آ ی
آنے والے نے فوری بریک لگائی مگر پھر بھی ایک زبردست ٹکراو ہونے سے نہ بچ سکا
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی رومیلہ کے سینے میں سٹیرنگ کسی بھلے کی طرح اترا تھا اسکی گاڑی روڈ پر پورا گول گھوم کر الٹ گئی تھی کے گاڑیاں اس کے قریب آ کے رکی تھیں اس کے سر پر گھر جانے کی دھن سوار تھی تیزی سے زخموں کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ باہر نکلی اور تقریبا بھاگ سڑک پار کی اسکا رخ تیزی سے اب بھی گھر کی جانب تھا
….
چلی گئی ہونگی آفس
انیلہ نے اداسی سے کہا
رامش بھی اداس سا چیزیں سمیٹنے لگا
بوا بتی جلانے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی تھیں کہ رومیلا کی گھبرائی ہوئے آواز سنائی دی
رامش انیلا
دونوں ایک دم خوش ہو گیے
انیلہ خوشی سے چلآئ  آپی آگیں
آہستہ شہ شہہ رامش نے ٹوکا
ابھی گیٹ پر ہیں
بوا لائٹ مت جلائیے گا
اس نے تاکید کی
گیٹ سے اندر لاؤنج کے دروازے تک ایک  منٹ لگنتا
اسے اتنے کم وقت میں ہی موم بتی جلانی تھی
اس نے جلدی سے موم بتی جلائی اورانیلہ نے  کیک اٹھا لیا
رامش کے ہاتھ میں چمکیلی پنیوں سے بھرا  چھوٹا سا پٹاخہ تھا جو اس نے رومیلہ کی آمد پر بجانا تھا
بوا پیار سے انکے جوش و خروش کو دیکھ رہی تھیں
انیلہ
بھاگتے بھاگتے اسکی سانس پھول رہی تھی تیزی سے اس نے لاونج کا دروازہ کھولا
سرپرائز
انیلا اور رامش اکٹھے چلایے
پھر کورس میں گانے لگے
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہپی برتھڈے دیر آپی ہپے برتھڈے ٹو یو
ایک پٹاخہ پھوٹا تھا اور اس کے اپر رنگ برنگی پنیوں کی بارش ہونے لگی
رومیلہ کی جان میں جان آی کیا کیا برا نہ سوچ ڈالا تھا اس نے
دونوں اس سے آ کے لپٹ جانا چاہتے تھے مگر رومیلہ کو خفگی بھی جتانی تھی
ہاتھ بڑھا کر روک دیا
کیا حرکت تھی یہ ؟
پتا ہے کتنا پریشان ہو گئی تھی میں
جان نکال دی تم لوگوں نے میری
دونوں کے منہ لٹک گیے
سوری آپی دونوں نے سر جھکا لیا
رومیلہ بیساختہ مسکرا دی
چلو کیک رکھو نیچے
اس نے صاف مسکراہٹ  چھپا کر ڈپٹ  کر کہا
انیلہ نے سر جھکا کر سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیا اور وہیں دو زانو بیٹھ گئی
رامش نے بھی تقلید کی بوا نے بچوں کے منہ اترتے دیکھیے تو اشارے سے رومیلہ کو گھرکا
رومیلہ ان کے سامنے آ بیٹھی
کیک کاٹنے سے پہلے میں اس سال تم لوگوں سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں
خلاف توقع وہ نرمی سے بولی تھی
دونوں سر اٹھا کر دیکھنے لگے اسے
کیسا وعدہ؟
انیلا نے حیرانی سے پوچھا تھا
رومیلہ مسکرائی
ایک تو تم دونوں اپنی تعلیم پر توجہ دوگے مجھے رامش تم سے اس بار اے گریڈ چاہیے
کوئی لا پروائی نہیں چلے گی اب سے سمجھے
میں نے مما بابا کے سرٹیفکیٹس وغیرہ استمعال نہیں کیے تھے وہ اور مرے بینک میں پچھلے تین سالوں کی  کچھ بچت پڑی ہے بہت زیادہ تو نہیں مگر اتنی ہے کہ تم دونوں کوئی اچھی ڈگری لے سکتے ہو تھوڑے سے اخراجات کنٹرل کرنا پڑیں گے مگر اب کہیں تو کمپرومائز کرنا پڑیگا نا
اس نے ان سے تائید چاہی دونوں نے سر ہلا دیا
اب تم دونوں چھوٹے نہیں رہے ہو لڑنا بند کردینا خاص طور سے رامش میرے بعد اب تم گھر کے بڑے ہو انیلہ کا خیال رکھنا اور اب تم چھوٹے سے نہیں رہے کوئی جاب ڈھونڈ لینا مگر پڑھائی چھوڑی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
اسکی دھمکی پر رامش منہ بنا کر بولا
آپ کے ہوتے  ایسا سوچ کر مجھے مرنا ہے کیا
الله نہ کرے
بے ساختہ رومیلہ نے کہا
ویسے میں اپنے بعد کی ہی بات کر رہی
آپ کہاں جا رہی ہیں ؟
انیلہ حیران رہ گئی
رومیلہ لمحہ بھر کو چپ رہ گئی پھر ہلکے پھلکے انداز میں بات بدل گئی
اچھا رامش اور انیلہ ایک بات اور 
بس آپی
دونوں چڑ کر اکٹھے بول پڑے
بوا بھی بولے بنا نہ رہ سکیں 
ہاں رومیلہ بس بھی کرو سالگرہ ماننا چاہ رہے تھے بچے دوپہر سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں تم نے آتے ہی بچوں کو جھاڑنا شروع کر دیا
بوا نے کہا تو دونوں نے مسمسی سی شکل بنا لی انکی چالاکی پر رومیلہ زور سے ہنس پڑی
چلو کیک کاٹو
بوا نے کہا تو رامش کیمرے سنبھال کر  بیٹھ گیا
لائٹ تو جلا لو انیلہ نے کہا تو رامش لائٹ جلانے اٹھ گیا
آپی موم بتی نہ بجھانا ابھی
اس نے تاکید کی
رومیلا مسکرا دی
انیلہ ٹیبل پر جھک کر چیزیں سیٹ کرنے لگی بوا کا دھیان بھی کیک کی جانب تھا
رامش بتی جلا کر مڑا تو ٹھٹھک گیا
آپی کہاں گیں؟
انیلہ اور بوا بھی چونک کر مڑ کر دیکھنے لگیں نجانے اتنی سی دیر میں رومیلا کہاں اٹھ کر چلی گئی تھی 
آپی
رامش نے پکارا
آپی
لاونج کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تبھی میں گیٹ کی بیل بجی
اس وقت کون آگیا وہ جھلاتا ہوا گیٹ کھولنے آیا تو ٹھٹھک گیا گیٹ اندر سے بند تھا
اس نے الجھتے ہوئے گیٹ کھولا تو سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی دو پولیس والے انکے گیٹ کے سامنے تھے
جی؟وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھنے لگا
یہ رومیلہ آفندی کا گھر ہے؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا
آپ انکے رشتے دار ہیں؟
وہ کوئی شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے تھے
جی  بھائی ہوں انکا …ا
خیریت ؟
اسے تشویش ہوئی
ایک بری خبر ہے آپ کے لئے
آج دوپہر کو آپکی بہن کی گاڑی  حادثے کا شکار ہو گئی ہے انھین  فوری  طور پر اسپتال پھنچایا تو گیا مگر  وہ بد قسمتی سے جان بر نہ ہو سکیں انکی گاڑی کی تلاشی لے کر ہم نے آپ سے جتنی جلدی ممکن ہو سکا ہے رابطہ کیا ہے  باڈی کی  شناخت اور دوسری ضروری کاروائی کے لئے آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا
انسپکٹر کے  کہنے پر رامش کو یقین نہ آیا
ایسا کیسے ہو سکتا ابھی تو وہ یہاں تھیں
انیلہ اور بوا جو اسکے پیچھے چلتی گیٹ تک آگئی  تھیں
اسکی بات کی تائید کرنے لگیں ہاں ہاں
ہماری بیٹی تو اندر ہے آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
دونوں  کو یقین نہ آیا
رامش کو مگر یقین  کرنا پڑا 
جب اس نے مڑ کر دیکھا تھا تو رومیلہ لاونج کے دروازے پر کھڑی انکو آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ رہی تھی ….



written by vaiza zaidi



https://urduz.pk/kafan-posh-sayay-seerhyoun-per-sachi-daraoni-aap-beeti/
Rating

Jugnu |urdu horror story| zindagi zyadah heran kun hay

 
بابر کو خوب اچھی طرح تھپک تھپک کر سلاکر اس

نے کمر سیدھی کی۔ جانے دو ایک دن سے خوب چڑ چڑا کیوں ہو رہا تھا ۔ زرا اکیلا چھوڑو جاگ جاتا اور خوب روتا ۔ اب بھی فیڈر پی کر بمشکل سویا تھا۔ پورا  گھر پھیلا پڑا تھا نہ صرف صفائی ہونی باقی تھی بلکہ کھانا بھی پکانا تھا۔ اس نے احتیاط سے چھے مہینے کے گپلو سے بابر کا ماتھا چوم کر اسے کاٹ میں لٹایا۔ صبح تابش نے جاتے ہوئے کمرہ الگ بکھرا دیا تھا۔ تولیہ بیڈ پر کپڑے زمین پر ۔ اس نے گہری سانس لیکر کمرہ سمیٹنا شروع کیا آدھا گھنٹہ لگ گیا اسی میں۔ مگر کمرے کی شکل نکل آئی۔ ابھی دو کارٹن کمرے کے کھلنے والے باقی تھے مگر ابھی وقت نہیں تھا۔ انہیں دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتی باہر آگئ۔ بابر کم از کم بھی دو گھنٹے تو آرام سے سوئے گا سو یہی سوچا کہ کچن اور لائونج سمیٹے کھانا پکائے۔ تابش تو اس سے خفا خفا کسی کام کو۔ہاتھ لگانے کو تیار نہ تھا۔ انہیں ایک ہفتہ ہی ہوا تھا یہاں منتقل ہوئے۔ پہلے وہ بھرے پرے سسرال میں رہتی تھی چار نندیں دو دیور ایک عدد غصہ ور ساس ماتھے پر شکن لائے بغیر اس نے ان سب کی خدمت کی تھی۔مگر شادی کے پانچ سال بعد بھی اسکی گود سونی رہی تو ساس نے خوب ہلہ مچایا اپنی بہن کی بیٹی سے رشتہ بھی پکا کردیا تابش کا۔ انیقہ روٹھ کر میکے جا بیٹھی جب اس کو بابر کی خوش خبری ملی۔  پورے نو مہینے وہ میکے رہی تابش نے شادی تو نہ کی مگر اسکے دل میں گرہ پڑگئ۔ جبھی بابر کے بعد پہلی شرط یہی منوائی کہ الگ گھر لیکر رہے گی۔ یہ معاملہ مزید چھے مہینے کھنچا مگر بیٹے کی ماں بن کر اسکے قدم مضبوط ہو چکے تھے سو تابش کو اسکی ماننی ہی پڑی۔ الگ گھر لیا مگر خفگی کے طور پر کسی کام کو ہاتھ نہ لگایا۔ الٹا روز شام کو ماں کے گھر جا کے کھانا کھا کے رات گئے آتا۔ ایک ہفتہ ہونے کو آیا سامان ابھی تک مکمل نہ کھلا نا ٹھکانے لگ سکا مگر انیقہ نے جتایا تک نہیں خود ہی خاموشی سے لگی رہی خیال یہی تھا کب تک اس معمول کو نبھائیں گے۔ ابھی بھی کھانا پکانے باورچی خانے چلی آئی۔ سوچا تھا بریانی بنا لے گی اور اصرار سے تابش کو کھانے پر یہیں بلا لے گی۔ بریانی ویسے بھی تابش کی کمزوری تھی۔ اس نے چاول بھگوئے اور پیاز چھیلنے بیٹھ گئ۔۔ تبھی اسے بابر کی قلقاری کی آواز سنائی تھی۔ پہلے تو وہ وہم ہی سمجھی مگر پھر جب واضح طور پر آواز آئی تو چھری رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ لائونج میں لگے گھڑیال نے گھنٹے بجانا شروع کیئے۔۔ ایک دو۔ اس نے چونک کر نگاہ کی تو عین بارہ بج رہے تھے تابش کی ایک بجے لنچ بریک ہوتی ہے۔۔ اسکے پیروں میں پہیئےلگ گئے اب بابر اٹھ گیا تو ایک گھنٹے میں بریانی نہیں بن سکتی ۔۔وہ دوڑتی کمرے میں آئی تاکہ جلدی سے تھپک کے سلا دے اسے دوبارہ مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ بابر تکیئے کے سہارے بیڈ پر بیٹھا تھا۔ چھت کو دیکھتے ہوئے قلقاریاں بھر رہا تھا جیسے کسی سے مخاطب ہو۔۔ اسے اچھی طرح یاد تھا وہ تو اسے کاٹ میں لٹا کے گئ تھی۔ چھے مہینے کا بچہ خود سے کروٹ لیکر کہیں بیڈ سے نہ گر جائےیہ خیال اسے ہمیشہ دامن گیر رہتا تھا۔۔ اس نے بھاگ کر اسے گود میں بھر لیا۔۔ بابر کسمسایا اور اسکے سینے سے لگنے کی بجائے اسکے کندھے کے اوپر ہمک ہمک کے دیکھنے لگا۔ دونوں بازو یوں پھیلائے جیسے گود میں جانا چاہتا ہو۔۔ اس نے متوحش ہو کر مڑ کر دیکھا مگر وہاں تو کوئی نہیں تھا۔ پورے گھر میں اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔ اسکی خوف کے مارے جان نکلنے لگی۔۔ بھاگتی ہوئی وہ کمرے سے کیا گھر سے ہی باہر نکل کر گیراج میں آگئ۔ جتنی سورتیں یاد تھیں انکا وردشروع کردیا۔۔ بابر کسمسایا پھر جو چیخیں لگیں اسے کہ اللہ کی پناہ۔۔ وہ ہلکان ہو رہی تھی اسے سنبھالتے قریب تھا کہ خود بھی رو پڑتی کہ مین گیٹ کی گھنٹی بج اٹھی۔۔ وہ بری طرح چونکی پھر ہمت کرکے باہر جھانکا تو ایک خوبصورت سی خاتون نک سک سے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے دروازہ کھولا تو مسکرا کر سلام کرنے لگیں۔ 
اسلام وعلیکم میں شبانہ ہوں آپکے پڑوس میں رہتی ہوں 
جی میں انیقہ۔۔ 
بابر کی چیخ و پکار میں وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بات سن کر شبانہ زور سے ہنس دی۔ وہ دونوں لائونج میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ بابر کو شبانہ نے سونف کا پانی بنوا کر پلایا تو وہ جیسے پرسکون سا ہوکے سو گیا تھا ۔انیقہ نے اسے کمرے میں سلانے کی بجائے یہیں صوفے پر لٹا دیا تھا۔ حالانکہ شبانہ نے کہا بھی کہ اب یہ آرام سے سوئے گا تو اندد کمرے میں لٹا دو مگر انیقہ کو وہم سا بیٹھ گیا تھا۔۔پوری بات بتائی شبانہ کو جسے اس نے کان پر سے مکھی کی طرح اڑا دیا
احمق لڑکی گھر میں پہلی بار اکیلی ہو طرح طرح کے وہم ہونگے ۔ آہستہ آہستہ عادت پڑ جائے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسکی بات کسی حد تک ٹھیک بھی تھی۔ میکہ بھی بھرا پرا پھر سسرال بھی ملا یہ الگ بات اس سسرال نے وہ ناکوں چنے چبوائے اسے کہ اب ایسے ہزار وہم بھی ہوتے رہیں تو واپس سسرال جا کے رہنے کا سوچے بھی نا۔۔
شبانہ اسکے ساتھ بریانی بنوا کر ہی گئ۔۔ اس نےکافی اصرار بھی کیا کہ کھانا کھا کر جائے مگر اپنے بچے کو وہ ساس کے پاس چھوڑ کر آئی تھی اتفاق  تھا کہ وہ یونہی سبزی لینے گیٹ پر آئی تو بابر کے مسلسل رونے کی وجہ سے خیریت پوچھنے آگئ۔ اسکے اپنے دو بچے تھے بڑی بیٹی تیسری جماعت میں تھی اسکول گئ تھی اب واپسی کا وقت تھا بیٹا بابر کا ہی ہم عمر تھا ۔۔۔ اس سے تھوڑی ہی دیر میں کافی دوستی ہوگئ تھی شائد ہم عمر ہونے کی وجہ سے۔ مگر اب انیقہ کافی حد تک مطمئن ہوگئ تھی۔اچھا پڑوس بھی بڑی نعمت ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیلے رہتے اسے صحیح آٹے دال کا بھائو پتہ لگا تھا سسرال میں تو مخصوص رقم دے کر وہ آزاد ہو جاتے تھے اب اس
سے دگنی خرچ ہو رہی تھی بچت نام کو نہ تھی۔۔۔
اوپر سے اکیلے بابر کو سنبھالنا۔ سلا کر دو منٹ کمرے سے نکلتی جاگ جاتا قلقاریاں بھرتا ۔۔ اس دن تو حد ہی ہوگئ دنیا کے سب بچے رات کو جاگتے ہیں تو کسی ضرورت سے رو کر اپنی ضرورت کا اظہار کرتے ہیں اسکی رات کو زور زور سے بابر کی قلقاریاں بھرنے سے انکھ کھلی۔اس نے بابر کو اپنے اور تابش کے بیچ ہی سلایا ہوا تھا۔ وہ دھت بے ہوش سوئے پڑے تھے جبکہ بابر کے کھلکھلا کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز سے اسکی آنکھ کھل چکی تھی۔۔ اس نے آنکھیں مسل کر بابر کو چیک کیا ڈائپر بھی صاف تھا اسے گود میں لیکر تھپکنے لگی۔بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی اٹھا کر وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے۔۔ اس نے بابر کو زور زور سے تھپک کر سلانا چاہا تو ہنستے کھیلتے بابر کا فورا موڈ خراب ہوا چیخ چیخ کر رونے لگا۔۔ تابش کی اب آنکھ کھل ہی گئ۔۔
کیا ہوا سے۔۔ نیند سے بھری سرخ آنکھیں ۔۔۔ اسے ان پر ترس آگیا صبح صبح اٹھنا بھی تھا
کچھ نہیں رو پڑا باہر لے جاتی ہوں۔۔
وہ احتیاط سے جمائی روکتی اٹھ کر باہر لے آئی ۔۔ بابر کی چیخیں بڑھتی جا رہی تھیں۔۔ روہانسی ہوگئ۔۔
دودھ بھی نہ پیئے۔۔۔
اس نے سونف والا پانی بنایا ۔۔۔ اگر پیٹ میں درد ہوتو ٹھیک ہو جائے۔۔
لائونج میں ٹہل ٹہل کر اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگی۔۔

تبھی تابش اٹھ کر باہر آگیا۔۔ لائو اسے مجھے دو۔۔

اس نے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصدق فورا پکڑا دیا۔۔ حیرت انگیز طور پر بابر ایکدم چپ ہو کر باپ کو دیکھ کر قلقاریاں بھرنے لگا۔۔
تو بیٹا آپکا آپ سے ہڑک رہا تھا۔۔
اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا مگر تابش مکمل طور پر بابر کی جانب متوجہ تھا۔۔
دیکھو کہا تھا نا مما کی نیند خراب ہو جائے گی۔ اب سو جائو صبح ملیں گے پھر خوب کھیلیں گے۔۔
وہ بابر کو چمکارتے یوں کہہ رہا تھا کہ جیسے وہ سب سمجھ ہی تو رہا ہے۔ انیقہ نے مسکراہٹ روکی
آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے اسے سب سمجھ آرہی آپ کی بات؟
ہاں تو آرہی ہے نا۔۔
تابش نے فورا کہا۔۔ !آرہی ہے نا میری بات سمجھ بابر۔۔
اس نے بابر سے کہا تو حیرت انگیز طور پر وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گیا۔۔
مما کو بھی بتائو سمجھ آرہی ہے نا میری بات اب تو نہیں روئوگے؟
بابر نے مسکرا کر ماں کو دیکھا اور نفی میں گردن ہلا دی۔۔
اب میں صبح آئوں گا ٹھیک ہے؟
تابش نے مسکرا کر تسلی دی جوابا بابر دوبارہ قلقلاریاں بھرنے لگا
انیقہ حیران ہی تو رہ گئ۔۔ اس سے تو بابر ایسے کبھی ردعمل ظاہر نہیں کرتا تھا سارا دن وہ اس سے مخاطب کرتی تھی
ٹھیک ہے جی ماں کی قدر نہیں سب پیار باپ کیلئے۔۔وہ زیر لب بڑبڑائی۔۔ تابش مسکرادیا
یہ لو اب یہ نہیں روئے گا ۔۔ تابش نے بابر کو واپس اسکی گود میں دینا چاہا۔۔
انیقہ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا اسے تھامنے تو رک گیا۔۔
تم مجھے ایک گلاس پانی تو لادو  میں اسے کمرے میں لٹا دیتا ہوں۔۔
تابش کہہ کر پلٹ گیا۔۔ انیقہ سر ہلا کر کچن میں چلی آئی۔۔
کچی نیند کی وجہ سے سر اسکا سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔۔ فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پہلے خود پیا پھر گلاس میں بھر کر کمرے میں چلی آئی۔۔ تابش نے بابر کو اسکی جگہ پر لٹا دیا تھا خود پیٹھ موڑے لیٹے تھے۔۔
تابش پانی پی لیں۔۔
اس نے قریب جا کر کہا تو پتہ چلا موصوف خراٹے بھی بھر رہے ہیں
تابش مجھے پتہ ہے اتنی جلدی آپ نہیں سو سکتے ڈرامے مت کریں پانی پی لیں۔۔
انیقہ کو یہ بے وقت مزاق قطعی نہ بھایا۔۔ کہتے کندھا ہی ہلا دیا۔۔
آہ ہاں ۔۔ کیا ہوا۔۔ نیند کے خمار سے بھاری آواز سرخ آنکھیں۔۔
انیقہ عش عش کر اٹھئ اپنے میاں کی اداکاری پر۔۔
یہ پانی پیئیں۔
تابش نے حیرت سے دیکھا۔۔
مگر کیوں۔؟
اسلیئے کہ اب میں لے آئی ہوں۔
اس نے بھی انہی کے انداز میں جواب دیا۔۔
تابش نے حیرت سے دیکھتے اس سے گلاس تھاما اور ایک دو گھونٹ بھر کر گلاس پائیں میز پر رکھ دیا۔۔
آنکھیں اتنی بند ہو رہی تھیں۔کہ گلاس رکھتے ہی دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔۔
انیقہ بہر حال کافی شکر گزار تھی اس وقت اپنے میاں کی سو بتی بجھاتی اپنی طرف سے بیڈ پر آکر لیٹ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی الارم سے آنکھ کھلی ہی نہیں۔ اتفاق سے تابش کی آنکھ کھلی اسکا کندھا ہلادیا۔۔ اس نے کھلی بند ہوتی آنکھوں سے بیدار ہو کر جب بیڈ کی سائڈ ٹیبل سے گھڑی کو اٹھا کر وقت دیکھا تو اس میں 3 ہی بج رہے تھے یعنی رات کو گھڑی بند اور اب الارم ہی نہیں بجا۔۔
اس نے فورا گردن گھما کر سامنے وال کلاک میں وقت دیکھا تو سوا آٹھ ہو رہے تھے اس وقت تابش نکل بھی جاتے تھے دفتر کیلئے۔۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔۔
 تابش واپس اپنی جگہ آکر لیٹ چکے تھے ۔۔ وہ جھلا ہی گئ۔ اب یہ کیا حرکت ہے تابش دوبارہ کیوں لیٹ گئے۔۔اٹھیں دیر ہوگئ ہے سوا آٹھ ہو رہے ہیں۔۔
تیزی سے اٹھ کر بیٹھی چپل پیروں سے تلاش کر کے پہنی گھوم کر آئی تابش کو جھنجھوڑ ہی ڈالا تقریبا کہتے ہوئے۔۔
وہ ہکا بکا اٹھا۔ کیا ہوگیا۔۔
آپ دوبارہ کیوں سو گئے مجھے اٹھا کر اٹھیں۔۔ سوا آٹھ ہو رہے ہیں۔۔ میں جا رہی ہوں ناشتہ بنانے دوبارہ اٹھانے نہیں آئوں گی۔۔
دھمکی دیتی وہ تیزی سے کہتی کمرے سے نکل گئ۔۔
تابش نے انگڑائی لیتے ہوئے اپنی رسٹ واچ میں وقت دیکھا تو سات بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔۔
ایک تو یہ انیقہ بھی نا جانے کیا ہوگیا ہے۔فالتو میں اتنا
ڈرامہ۔۔۔۔
تبھی بابر جاگ کر رو پڑا۔۔ 
تابش نے تھپکا مگر اسکا رونا بند نہیں ہوا
انیقہ بابر جاگ گیا ہے اسے پہلے دیکھ لو۔۔ 
اس نے وہیں سے آواز لگائی اور سستی سے چپل پہنتا نہانے گھس گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی یقینا انیقہ ہی تھی سو وہ آرام سے شاور کھول کر فریش ہونے لگا۔۔تھوڑی دیر بعد اسے بابر کے قلقاریاں مارنے کی آواز آئی
اس نے ہلکا سا دروازہ کھول کر جھری سے جھانکا تو نیلا لباس پہنے انیقہ اسکا ڈائپر تبدیل کر رہی تھی۔اسکی جانب پشت تھی لمبے بال پشت پر ہلکے نم بکھرے تھے۔۔وہ مطمئن ہو کر دروازہ بند کرگیا۔۔۔ 
فریش ہو کر باہر نکلا انیقہ اسی وقت کمرے میں داخل ہوئی 
تابش ناشتہ تیار ہو گیا ہے لگا دیا آپ شروع کریں میں یہ بابر کا ڈائپر تبدیل کرکے آتی ہوں۔۔
وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر الماری کی طرف بڑھ گئ
ابھی تو بدلا ہے تم نے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا اسکی بات پر اچنبھے سے کہتا مڑا تو چونک گیا۔۔ انیقہ گلابی پرنٹ کے جوڑے میں ملبوس تھی الجھے بال سمیٹ کر جوڑے کی شکل میں باندھ کر کیچر لگایا ہوا تھا اس نے۔ ۔۔
کہاں اٹھتے ہی تو کچن میں چلی گئ ابھی فیڈر بنا کر لائی ہوں پلا دوں تو آرام سے سوتا رہے گا ورنہ جاگ گیا تو سب کام مشکل ہو جائیں گے اس نے اتنی پٹس مچانی۔۔ 
وہ ہنستے ہوئے کہتی الماری سے اسکا ڈائپر نکالتی بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔
اسکا ڈائپر کھولتے اسے خیال آیا تو سر اٹھا کر دیکھا۔۔ تابش کسی گہری سوچ میں اس پر ہی نگاہ جمائے کھڑا تھا
اس نے چٹکی بجا کر متوجہ کیا
کیا سوچ رہے ناشتہ شروع کریں جا کر ٹھنڈا ہو رہاہے میں آتی ہوں۔
تابش چونکا پھر سر جھٹک کر کنگھا رکھتا جانے ہی لگا تھا کہ انیقہ کی آواز نے پھر چونکا دیا
ارے اس نے لگتا یے سو سو کی ہی نہیں بالکل خشک ہے ڈائپر جیسے ابھی پہنایا ہوا۔۔ چلو۔۔ یہی رہنے دیتی ہوں۔
نہیں۔۔ وہ بے ساختہ مڑا
بدلو اسے فورا ۔۔ 
مگر یہ تو صاف ہے۔۔ 
انیقہ حیران ہوئی اسکے انداز پر
میں جو کہہ رہا ہوں؟؟؟؟ بدلو فورا اسے۔۔ 
اور بھلے ناشتہ مت بنایا کرو صبح میرے لئے میں آفس جا کر کرلوں گا مگر بابر کو اکیلے مت چھوڑا کرو۔۔سمجھیں۔۔
تابش کا انداز کافی سخت تھا انیقہ حیران پریشان دیکھتی رہ گئ
مگر ہوا کیا  تابش۔؟۔۔
اس نے پوچھا تو مگر تابش نظر انداز کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔
وہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکیلے رہتے اسے عادت ہو ہی گئ تھی۔اور بابر کو بھی۔ وہ آرام سے اسے لائونج میں پرام میں بٹھاکر ٹی وی لگا دیتی وہ گھنٹون قلقاریاں بھرتے ٹی وی دیکھتا وہ آرام سے اپنے کام نپٹا لیتی۔۔ کبھی کبھی 
شبانہ آجاتی اپنے بیٹے کو لے کر وہ بابر کا ہی ہم عمر تھا ۔۔ دونوں پرام میں بیٹھےبیٹھے بچپن کے پہلے دوست بن چکے تھے۔۔تم بابر کو بھی اسی اسکول میں ڈالنا جس میں میری ہادیہ جاتی یے اچھا ہے تینوں بچے اکٹھے جایا کریں گے۔۔ شبانہ نے جب 8مہینے کے بابر کو گود میں لیتے کہا تھا تو انیقہ خوب ہنسی تھی پہلے اسے بڑا تو ہو لینے دو۔۔ اور اب پتہ ہی نہ چلا اسکا سکول کا پہلا دن آگیا۔۔
ننھے ننھے قدم اٹھاتے بابر اور شایان۔۔ دونوں اکٹھے ہی ان دونوں کو چھوڑنے آئی تھیں۔۔
بابر ہنستا مسکراتا کلاس میں بیٹھا تھا تو شایان نے رو رو کر پورا اسکول سر پر اٹھایا تھا۔ بمشکل اسے کلاس میں بٹھا کر وہ دونوں اسٹاف روم میں آبیٹھی تھیں۔
ابھی کم از کم ہفتہ بھر مائوں کو بھی آنا تھا جب تک بچوں کو عادت نہ پڑے۔۔
شبانہ کا دل بھر آرہا تھا ۔۔شایان رو ہی اتنا رہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد شایان کی ٹیچر اسے گود میں اٹھائے لے آئی۔۔
معزرت یہ رو ہی اتنا رہا تھا کہ مجھے لانا پڑا آج آپ سے لے جایئے کل تھوڑا سمجھا بجھا کر لائیے گا۔۔
ماں کو دیکھتے ہی شایان لپک کر ماں کی گود میں چڑھا۔۔
شبانہ نے اسکے آنسو پونچھے ماتھا چوما وہ بالکل پرسکون ہو کر کندھے سے لگ کر اونگھنے لگا
اور بابر۔۔ وہ ٹھیک ہے۔۔ انیقہ کو فکر ہوئی
وہ تو ماشا اللہ بہت خوش ہے آرام سے بیٹھا ہے اکیلا مگن کھیل بھی رہا ہے آپ بے فکر ہو کر گھر جاسکتی ہیں۔۔
ٹیچر نے مسکرا کر تسلی دی
آپ نے اسکو بابر کے ساتھ بٹھانا تھا نا یہ دونوں بچے اکٹھے ہی کھیلتے ہیں
 شبانہ نے کہا تو ٹیچر حیران ہوئئ
اچھا؟ مگر میں نے اسکو بابر کے ساتھ ہی بٹھایا تھا مگر تھوڑی دیر بعد یہ رو پڑا کہتا میں نے نہیں بیٹھنا جگنو نے مارا۔۔
آپ بابر کو جگنو کہتی ہیں پیارسے؟
انیقہ اور شبانہ حیران ہوئیں
نہیں تو۔ اور بابر تو بہت سلجھا بچہ ہے وہ تو نہیں مارتا کبھی۔۔
انیقہ کو یقین نہ آیا۔۔
چلیں کوئی بات نہیں بچے ہی تو ہیں۔۔
ٹیچر نے تسلی دے کر جانا چاہا مگر انیقہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
میں ایک نظر بابر کو دیکھ لوں؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابر واقعی آرام سے بیٹھا اپنے آپ میں مگن کھیل رہا تھا۔۔
اس نے کلاس کے داخلی دروازے سے کھڑے ہو کر ہی اندر جھانکا۔۔ باقی بچے آپس میں ہنس بول رہے تھے مگر بابر اکیلا بیٹھا کتاب کھولے اس میں رنگ بھر رہا تھا۔۔
انیقہ جانے کیوں بے چین سی ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن گھر میں بیزار رہنے والا بابر اسکول میں کافی خوش رہتا تھا روز گھر آکر ماں باپ کو نہ جانے کون کونسے قصے سناتا۔  دوست بھی بنا لیا تھا۔۔ شام کو اکثر شبانہ شایان کو بھی بھیج دیتی انیقہ سارا دن فارغ ہی ہوتی تھی سو دونوں کو پڑھا دیا کرتی تھی۔۔ابھی تو ویسے بھی ابتدائی گنتی اور الف بے وغیرہ ہی سیکھ رہے تھے۔۔
اس دن بھی وہ دونوں کو کام کروا کر ڈرائنگ بک میں رنگ بھرنے کا کام دے کر خود شام کی چائے بنانے لگ گئ تابش کے آنے کا وقت ہو رہا تھا تو کباب بھی تلنے شروع کردیئے۔۔تبھی شایان چیخ چیخ کر رو پڑا۔۔
وہ بھاگی بھاگی آئی تو دیکھا بابر اطمینان سے بیٹھا اپنی کتاب میں بنے پھول پر رنگ کر رہا تھا۔۔
اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر شایان کو گود میں بھرا اسکی ہچکیاں بندھ گئ تھیں۔۔ کیا ہوا بیٹا۔۔ بابر کیا ہوا اسے؟۔۔
اس نے شایان کے آنسو پونچھے مگر وہ بلکے جا رہا تھا۔۔تو اسے بابر سے پوچھنا پڑا
اسے جگنو نے مارا ہے۔۔ بابر نے اشارے سے شایان کے برابر دیکھ کر کہا۔۔
کون جگنو ۔۔ اس نے حیرت سے دیکھا وہاں تو بس یہ دونوں بچے تھے۔۔
آنٹی اس نے میری کاپی کھول کر رکھ دی اس میں میں نے رنگ بھرنے تھے مگر اس نے مجھے بھرنے نہیں دیا کہتا جگنو بھررہا ہے۔۔
شایان نے ہچکیاں لیتے بمشکل بتایا۔۔
انیقہ نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا گال پر انگلیوں کے نشان واضح تھے۔۔
بابر آپ نے اپنے دوست کو کیوں مارا ؟ اتنی زور سے دیکھو اسکے گال۔۔ انیقہ کو شدید غصہ آیا تھا دل کر رہا تھا ایک لگا بھی دے بابر کو۔۔ شایان اسکے سینے میں منہ چھپائے روئے جا رہا تھا
مما میں  نے نہیں مارا۔۔ یہ اپنی کاپی کھینچ رہا تھا تو جگنو کو غصہ آگیا منع کیا تھا جگنو کو میں نےمت مارے اسے۔۔
بابر سنجیدگی سے اپنی کاپی رکھ کر بتا رہا تھا۔۔
کون جگنو ؟ یہاں کوئی ہے اپ دونوں کے سوا۔۔ ایک توبد تمیزی کرتے ہو اوپر سے جھوٹ بھی بولتے ہو؟
انیقہ نے کان سے پکڑا تو بابر بھی رونے کو آگیا۔۔
مما میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ جگنو نے مارا اسے۔۔ جگنو بڑا ہے اسکا ہاتھ بھی اتنا بڑا ہے دیکھیں۔۔
بابر نے کہتے ہوئے شایان کے گال سےاپنا ہاتھ چھوا۔۔ انیقہ کو جھٹکا سا لگا۔۔
نہیں مما کو کچھ نہ کہنا۔۔ یہ مما ہیں میری۔۔
بابر ایکدم سے اس سے لپٹ کر کہتا گیا پھر زور زور سے رونے لگا۔۔ بابر کیا ہوا بیٹا رو کیوں رہے ہو؟؟؟؟ وہ بری طرح پریشان ہو گئ۔۔ شایان بھی چپ ہو کر بابر کو دیکھ رہا تھا۔۔
پھر اس نے جو تان بلند کی۔۔
وہ حقیقتاپاگل ہونے لگی تھی دونوں بچے اس سے چمٹے جا رہے تھے اور زور زور سے رونے لگے تھے۔۔
یا خدایا۔۔ کیا کروں۔۔ وہ دونوں کو چپ کرانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
انیقہ انیقہ۔۔ شبانہ پکارتی چلی آئی ہاتھ میں ڈونگا لیئے یقینا وہ کچھ پکا کر لائی تھی۔۔
انیقہ کی جان میں جان آئی۔۔
شبانہ ۔۔ اس نے بے تابی سے پکارا۔۔
شبانہ لائونج میں داخل ہوئی تو اسے گھٹنوں کے بل لائونج کے کارپٹ پر بیٹھے دیکھ کر دہل کر ڈونگا سائڈ ٹیبل پر ٹکاتی دوڑئ آئی
کیا ہوا؟۔۔ شایان ماں کو دیکھتے ہی جا کے لپٹ گیا۔۔
امی چلیں یہاں سے مجھے لے جائیں۔۔ یہ جگہ اچھی نہیں۔۔
شایان ہچکیاں لیتے روئے چلا گیا۔۔
کیا ہوا اسے؟۔۔ شبانہ بھی گھبرا گئ۔۔
پتہ نہیں دونوں بیٹھے کام کر رہے تھے اچانک شایان رونے لگا شائد بابر سے لڑائی ہوئی ہے اسکی۔۔ ڈانٹا ہے میں نے اسے۔۔
اس نے بابر کو تھپک تھپک کر چپ کرایا۔  وہ ابھی بھی اس سے لپٹا کھڑا تھا۔۔
شبانہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے سر ہلا رہی تھی ۔۔ شایان کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔۔
میں پانی لاتی ہوں۔۔ انیقہ بابر کا سر سہلا کر اسے شبانہ کے پاس بٹھا کر پانی لینے چلی گئ۔۔
فریج سے پانی لیکر آئی تو بابر کی آواز کانوں میں پڑی
نہیں مما نے کچھ نہیں کہا مما تو کچن میں تھیں جگنو نے مارا اسے؟۔۔۔
انیقہ اسکی بات پر ٹھٹکی ضرور مگر پانی کا گلاس لا کرشبانہ کو تھمانا چاہا مگر وہ ہاتھ بد لحاظی سے پرے کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ماں کا دل تو نرم ہوتا ہے انیقہ بچہ کسی کا بھی ہو وہ اس کے ساتھ  اپنی اولاد جیسا پیار نہ بھی کرے مگر یوں مار بھی نہیں بیٹھتی اگر شایان نے کوئی بد تمیزی کر بھی دی تھی تو اسے پیارسے سمجھا دیتیں ڈانٹ دیتیں یوں بھر پور تھپڑ تو نا مارتیں اسکے گال پر میں نے آج تک اسے ڈانٹا تک نہیں تم نے اٹھا کر میرے بچے کے پھول سے گال پر طمانچہ دے مارا؟
انیقہ سٹپٹا گئ ۔۔ قسم لے لو شبانہ میں نے نہیں مارا کیوں ماروں گی؟ میں نے تو بابر کو بھی ڈانٹا۔۔ اچھا؟ شبانہ نے شایان کا چہرہ تھوڑی سے تھام کر اسکی جانب رخ موڑا
یہ ہاتھ جو چھپا ہے اسکے گال پر اتنا بڑا ہاتھ ہے بابر کا؟
انیقہ بری طرح ٹھٹکی تھی واقعی ایک تو گال پر انگلیوں کے نشان واضح تھے دوسرا کسی بڑے انسان کا ہاتھ لگ رہا تھا
بچوں کا تو چھوٹا سا ہاتھ چھوٹی چھوٹی انگلیاں ہوتیں۔۔
انیقہ کو چپ دیکھ کر شبانہ نے پہلے تو کچھ کہنا چاہا پھر پیر پٹختی بچے کو لے کر چلی گئ۔۔
کوئی آیا تھا ابھی بابر؟
انیقہ جھک کر بابر کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نرمی سے پوچھنے لگی۔۔
ہاں جگنو۔
بابر نے کہا تو وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ اطمینان سے تابش کو چائے کا کپ تھما کر بابر کے کمرے میں چلی آئی۔۔
بابر سینے تک کمبل تانے سونے کی تیاریوں میں تھا دودھ کا گلاس خالی کر کے اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔
برش کر لیا میرےبیٹے نے۔؟
انیقہ نے اسکے پاس بیٹھ کر پیار سے پوچھا۔۔
بابر ماں کو دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔۔
ہاں۔۔
انیقہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔۔
بیٹا شام کو جب آپ اور شایان کھیل رپے تھے تو آپکے ساتھ کون کھیل رہا تھا؟
جگنو۔۔
بابر نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں انیقہ پر جمائیں۔۔
کون جگنو ؟ انیقہ نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔
میرا دوست ہے نا جگنو۔۔ یہ بیٹھا ہے۔۔
بابر جیسے اسکی جرح سے تنگ آیا اپنےبائیں جانب خالی بیڈ پر اشارہ کرکے بولا۔ 
اچھا ۔۔ یہ ہے جگنو۔۔
انیقہ کو اسکے جھوٹ بولنے پر غصہ آیا مگر ضبط کرکے بولی۔۔
مما کو ملوائو ہیلو جگنو ؟
اس نے خلا میں ہاتھ بڑھایا۔۔
بابر اسے دیکھتا رہا۔۔
اس سے کہو نا مما سے ہاتھ ملائے۔۔  انیقہ اسکے جھوٹ کو انجام دینا چاہتی تھی۔۔
ملایا ہوا تو ہے مما۔۔
بابر نے کہا تو وہ گہری سانس لیکر ہاتھ پیچھے کر گئ۔۔
بیٹا جگنو کی باتیں نہیں کرتے ۔۔ وہ آپکا خیالی دوست ہے نا؟ سچ چ تو نہیں ہے نا کوئی ایسے آپ کہا کروگے تو۔۔
اوہو مما ۔۔ بابر نے جیسے جھلا کر بات کاٹی۔۔
ہے نا یہ بیٹھا ہوا ہے۔۔سچ مچ ہے۔۔
انیقہ بھی جھلا اٹھی۔
اچھا اگر سچ مچ ہے تو مجھے نظر کیوں نہیں آتا اسے کہو دکھائی دے مجھے بھی مجھے تو کوئی نظر نہیں آرہا۔۔
بابر۔۔ ایکدم چپ سا ہوا پھر دھیرے سے بولا۔۔
آپ ڈر جائیں گی ماما۔۔۔
انیقہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابر کے اسکول سے فون آیا تھا۔ وہ گھر لاک کرتی بھاگم بھاگ پہنچی تھی۔۔
بابر پرنسپل آفس میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔ وہ سیدھا اسکے پاس جا کر لپٹا کر پوچھنے لگی۔۔
کیا ہوا بیٹا ٹھیک تو ہو تم۔۔ ؟؟؟
اسکے پوچھنے پر بابر نے سر جھکا لیا ۔۔ اس نے مڑ کر پرنسپل کو دیکھا تو وہ اسے ہی پرسوچ  نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
کیا ہوا؟؟؟؟ بے ساختہ اسکے منہ سے پھسلا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابر آدھی چھٹی میں آرام سے درخت کے سائے میں لگے بنچ پر بیٹھا تھا جبکہ باقی بچے میدان میں کھیل کود میں مصروف تھے۔۔
بابر آئو ہمارے ساتھ فٹ بال کھیلو۔۔
شایان اسے بلانے آیا تھا مگر اس نے نرمی سے انکار کردیا۔۔
نہیں میں یہاں جگنو کے ساتھ ہوں تم جائو۔۔
شایان خالی بنچ کو دیکھتا کندھے اچکا کر چلا گیا۔۔
کھیلتے کھیلتے ایک بچے کو جانے کیا سوجھی شرارت سے گول کی بجائے بال کوبنچ کی جانب رخ کرکے زوردار لات مار دی۔۔ بال بابر کو بہت زور سے لگی اس نے رخ موڑ کر بچنا چاہا تو کندھے پر لگی اور وہ الٹ کر زمین پر گرا۔ بال بابر کو لگ کر واپس اس سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس آئی اور کک مارنے والے بچے کے پیٹ پر لگی وہ الٹ کر پیچھے گرا اور بے ہوش ہوگیا۔۔ سب بچے سنٹ سے کھڑے دیکھتے رہ گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچے کو ہم فوری طور پر اسپتال لیکر گئے ۔ اسکے پیٹ میں اتنی زور سے چوٹ لگی تھی کہ۔۔
پرنسپل صاحبہ سنجیدگی سے بتا رہی تھیں انیقہ نے بات کاٹ کر پوچھا
اب کیسی طبیعت ہے بچے کی؟
وہ گہری سانس لیکر بولیں۔۔
اب تو خیر وہ ہوش میں بھی آگیا ہے اور خطرے سے بھی باہر ہے مگر یہ دو گھنٹے آپ سوچ نہیں سکتیں کس مشکل سے گزارے ہیں ہم نے۔ اسکے والدین تو قانونی چارہ جوئی
انیقہ کی جان میں جان آئی تو تیز ہو کر بولی
بچہ ہے بابر کتنا کوئی زور سے بال پھینک سکتا ہے ؟ اور کھیلتے ہوئے بچوں کو چوٹ بھی لگتی ہے گر بھی پڑتے ہیں اس بات پر قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دینا کیا مطلب
دیکھیں۔۔ پرنسپل صاحبہ نے ہاتھ اٹھا کر انیقہ کو روکنا چاہا۔۔
دیکھیں۔۔ ہمیں بھی پتہ ہے یہ بات مگر بچے کو چوٹ واقعی  شدید آئی ہے اور جو بچے وہاں موجود تھے انکا کہنا بھی یہی ہے کہ بابر نے کک نہیں ماری بال کو بابر خود بھی یہی کہہ رہا ہے کہ اس نے بال نہیں پھینکی۔۔ یہ بچے چھوٹے اتنے ہیں کہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔
پھر؟ انیقہ کی پیشانی شکن آلود ہوئی
جب بابر نے نہیں کچھ کیا تو اس طرح مجھے بلانے کا مقصد؟؟؟
بچے کہہ رہے ہیں کہ بال خود سے اڑتی آئی اب ایسا تو ممکن نہیں مگر جب ہم نے بابر سے پوچھا تو وہ کہتا ہے جگنو نے پھینکی۔۔
اب یہ جگنو کون ہے؟ بچہ ہے یا کوئی بڑا ؟ آپ جانتی ہیں اسےرشتہ دار ہے دوست ہے کون ہےکتنا بڑا ہے؟ اور وہ اسکول کی حدود میں آیاکیوں؟
انیقہ کا رنگ اڑ سا گیا تھا
بابر اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
مما میں جگنو کو منع کرتا ہوں وہ سنتا نہیں۔۔ مما سوری
بابر لپٹ گیا ماں سے۔۔ بابر کو گھبرایا ہوا دیکھ کر پرنسپل صاحبہ بھی نرم پڑ گئیں
دیکھیئے جو ہوا سو ہوا ۔۔ آئیندہ کیلئے جگنو یا جو بھی کوئی آپکا رشتہ دار ہے اسکو منع کیجئے اسکول میں یوں گھس آنا اور کسی بچے کو زخمی کر دینا ہرگز بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگنو؟؟؟؟۔ ہا ہا ہا۔۔
اسکی توقع کے برعکس تابش نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔۔
انیقہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
اس نے اپنی طرف سے خوب سوچ سمجھ کر جب بابرقاری صاحب کے پاس بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا اور تابش دفتر سے آکر آرام کر چکنے کے بعد شام کو حسب عادت ٹی وی لائونج میں آکر ٹی وی دیکھنے لگا تھا تب باورچی خانے سے نکل کر چائے بناتے بناتے نکل کر  اسے آج  کا پورا قصہ سنایا تھا
تابش میں سنجیدہ ہوں یہ ہنسنے کی بات نہیں ہے۔۔۔ انیقہ نے تھوڑا سختی سے کہا تو تابش صوفے پر سیدھا ہو کر ٹی وی کی آواز آہستہ کرتا ہوا اسے تفصیل سے بتانے لگا
ابھی دو دن پہلے ہی مجھ سے پوچھ رہا تھا بابر پاپا جگنو کیا ہوتا ہے میں نے اسے یوٹیوب پر جگنو کی ویڈیوز دکھائیں بڑا خوش ہوا تھا ایسا بھی کیڑا ہوتا جو چمکتا رہتا ہے وہی ذہن میں رہا ہوگا اس نے نام لے دیا۔۔۔
مگر وہ بچہ زخمی ہوا ہے اور وہ اس دن شایان کو جو جگنو نے مارا وہ والی بات بھی بتائی تھی شبانہ اس دن سے جو ناراض ہو کر گئ ہے دوبارہ نہیں آئی۔۔
 تابش گہری سانس لیکر رہ گیا
اب تم دو مختلف باتیں جوڑ رہی ہو ۔۔ بچے کھیلتے ہیں گرتے ہیں چوٹ لگتی ہے اور یہ تو بچوں کی نفسیات ہوتی ہے ڈانٹ کے ڈر سے کسی اور کا نام لگا دینا اپنی شرارت پر۔۔
اب آج اسے جگنو نام یاد رہا کل کو کوئ اور نام لے دے گا
مگر اتنا بڑا ہاتھ چھپا تھا شایان کے گال پر وہ تو میں نے خود دیکھا تھا۔۔ انیقہ کی سوئی اٹکی تھی۔۔
تم نے شبانہ سے دوستی نہیں کی تمہیں جا کے منانا چاہیئے تھا اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہیئے تھی اتنی گہری دوستی یوں ختم نہیں ہونی چاہیئے تھی۔۔
تابش نے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گئ تبھی دروازہ کھٹکا کر شبانہ ہنستی مسکراتی چلی آئی۔۔
اسلام و علیکم تابش بھائی اور تم بے مروت انیقہ خفا ہوں تم سے بندہ خود آجاتا ہے ایسا بھی کیا چٹھی لکھ بھیجی  ہاں مٹھائی کھا لی تھی کھانے پینے سے خفگی نہیں دکھاتی۔۔ تابش بھائی ویسے بہت ہی انا والی ہیں آپکی بیگم۔۔۔۔
شبانہ ہاتھ میں پلیٹیں پکڑے تھی انیقہ کو تھماتے خوشگوار انداز میں کہہ رہی تھی۔۔
بھئی یہ تو آپ دونوں سہیلیوں کا معاملہ ہے خود نمٹائیں۔۔
تابش کہہ کر ہنستا ہوا اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔
ویسے کیا نام تھا اس مٹھائی کا گھر میں سب کو بہت پسند آئی تھی دودھ کھویا کھوپرا اور نجانے کیاکیا ذائقہ تھا اوپر سے ست رنگی ایسی تو میں نے کسی مٹھائی کی دکان پر بھی نہیں دیکھی پھر یہی سوچا تم کوکنک کرتی ہو یقینا کوئی نئی ترکیب آزمائی ہوگی تم نے ۔۔۔
شبانہ کہے جارہی تھی اسے کچھ سمجھ نہ آیا
کیا کہہ رہی ہو شبانہ کونسی مٹھائی؟
کس نے بھیجی؟
شبانہ اسکے حیران ہونے پر حیران ہوئی
بھئی کل جو بھیجی تم نے اوپر سے مٹھائی کے ساتھ معزرت کی چٹ بھی۔۔ یقین جانو شرمندہ ہوگئ تھی میں چٹ پڑھ کر تمہارے بھائی بھی خفا ہوئے کہ بچوں کی بات پر مجھے اتنا ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔ سو آج میں معزرت کرنے آئی ہوں کان پکڑ کر سوری انیقہ ۔۔
کہتے کہتے باقائدہ دونوں کان پکڑ کر اس نے مزاحیہ سے انداز میں کہا۔۔ انیقہ اسے حیران حیران سی دیکھتی رہی
مگر میں نے تو کوئی۔۔
وہ کہنا چاہ رہی تھی جبھی تابش سستی سے چپل گھسیٹ کر چلتا کمرے سے باہر نکل آیا۔۔
بھئ انیقہ چائے بنانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے؟؟؟؟
انیقہ تو انیقہ شبانہ بھی ششدر بیٹھی رہ گئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر تو خالی ہے اس وقت۔۔۔
شبانہ کے رشتے کے چچا کوئی صاحب علم انسان تھے ۔۔ شبانہ انکو لیکر آئی تھی۔  باریش چاق و چوبند مگر 70 کی دہائی کے دبلے پتلے اونچے قد کے انسان جنکی پیشانی پر سجدے کا نشان نمایاں تھا۔۔ سفید براق کڑکڑاتا کرتا اور حیدرآبادی پاجامے میں ملبوس انکی شخصیت کا رعب نمایاں تھا۔ انیقہ بے حد گھبرائی تھی تابش نے تو صاف انکو وہمی کہہ کر ٹال دیا تھا مگر شبانہ ٹھٹک گئ تھی ابھی بھی انیقہ کے ساتھ اسکا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔۔
چاروں جانب گھوم گھوم کر دیکھنے کے بعد انہوں نے آنکھیں بند کرکے کہا تھا۔۔
اسکول میں ہے اس وقت۔۔ جو بھی ہے وہ بچے کے ساتھ ہے۔بچے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے کہے جا رہے تھے
انیقہ تڑپ اٹھی
ہاں بابر اسکول گیا ہوا ہے وہاں ہے کوئی؟ میں جاتی ہوب بابر کے پاس
وہ جیسے جانے ہی لگی تھی شبانہ نے مشکلوں سے روکا۔۔ بزرگ بھی اسکی بے چینی بھانپ گئے تھے
بچے پر آیت الکرسی دم کیا کرو اسے بھی سکھائو ۔۔ ایک تعویز دوں گا اسے اٹھارہ سال تک کا ہونے تک بچے کے گلے سے نا اتارنا ۔۔۔ سمجھیں جو بھی اثر ہے جاتا رہے گا۔۔
بزرگ کی ہر ہدایت وہ بہت غور سے سن رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مما یہ تعویز اتار دوں ؟۔۔
بارہ سالہ بابر گردن میں پڑے تعویز سے الجھن محسوس کرتا کچن میں چلا آیا۔۔
ہنڈیا بھونتی انیقہ نے مسکرا کر اسے دیکھا
ہر دودن بعد تم یہی پوچھتے ہو اب کیا مسلئہ ہے اس سے؟؟؟؟
انیقہ کے کہنے پر بابر نے کھسیا کر کان کھجایا۔۔
وہ میرا سب مزاق اڑاتے ہیں۔۔ اتنا بدنما سا تعویز ہے ۔۔ اور تو کوئی نہیں پہنتا میں ہی کیوں؟؟؟؟
بیٹا  نظر بد کا تعویز ہے ۔۔  اب میرا شہزادہ بیٹا پیارا اتنا ہے کہ مما ڈرتی ہیں کہ نظر نہ لگ جائے اسے۔۔
قد نکالتے بیٹے کو اس نے گدگد ا کر ہنسانا چاہا تو وہ سرخ سا پڑ گیا  انیقہ نے بے ساختہ پیشانی چوم لی تو وہ جھلانے لگا مما میں بڑا ہو گیا ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت پر لگا کر اڑا تھا اسکے بالوں میں کہیں کہیں سفیدی جھلکنے لگی بابر قد میں تابش سےبھی اونچا نکلا تھا ۔۔ دونوں میاں بیوی اسے دیکھ دیکھ کر جیتےتھے۔۔ بابر کا سیکنڈ ایئر  پری انجینئرنگ چل رہا تھا۔۔۔
چونکہ ابھی امتحان دور تھے تو اسکےفٹ بال کے خوب میچز ہو رہے تھے ۔۔ انیقہ بھی پڑھائی پر ذیادہ سخت نہیں تھی۔ بابر ایک ذمہ دار اور سلجھا ہوابچہ تھا گو اب اتنا بچہ بھی نہیں تھا مگر انیقہ کو وہ ابھی بھی چھوٹا بچہ ہی لگتا تھا۔پڑھائی میں غیر زمہ دار نہیں تھا سو اسکے کھیل پر انیقہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔
ابھی بھی وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ڈھلتی سہ پہر میں بیگ کندھے سے لٹکائے وہ فٹ بال کھیل کر پسینے میں ڈوبا ہوا  گھر میں داخل ہوا۔۔۔
اور مما کیسی ہیں۔۔
وہ شرارت سے ماں کو چڑانے کی نیت سے قریب آیا۔
انیقہ نے وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے اسے روک دیا
دور ۔۔۔ جائو نہا کر آئو۔۔ پھر ماں کے پاس آنا۔۔
انیقہ نےکہا تو وہ ہنستے ہوئے پلٹ گیا۔۔
نہا دھو کر آکر ماں کے پاس آبیٹھا۔۔
امتحان کب سے شروع ہو رہے ہیں؟ 
انیقہ نے پوچھا تو وہ کان کھجانے لگا۔۔۔
اگلے ہفتے سے۔۔۔ 
بس پھر اب یہ کھیل کود بند کرو۔۔پڑھائی شروع کردو۔۔ 
بس پرسوں فائنل ہے اسکے بعد پڑھنا ہی ہے۔۔۔ 
انیقہ کے کہنے پر وہ جلدی سے بولا مبادا کہیں فائنل سے نہ روک دے۔۔
تبھی باہر گھنٹی بجی۔۔ 
میں دیکھتا ہوں۔۔ وہ فورا اٹھ گیا۔۔ 
انیقہ ٹی وی پر فلم دیکھ رہی تھی اب انجام قریب تھا وہ انہماک سے دیکھنے لگی۔۔ 
ممی ۔۔ تھوڑی دیر بعد بابر نے قریب آکر جھجکتے ہوئے پکارا۔۔ 
ہوں ۔۔ انیقہ نے بمشکل ٹی وی سے نظر ہٹائی
ممی وہ میرے دوست کے گھر دعوت ہے مجھے بلانے آیا ہے چلا جائوں؟ 
ابھی؟ انیقہ چونکی۔۔
ہاں اسکا گھر دور ہے بتا رہا تھا دو ایک گھنٹے لگیں گے۔۔ 
بابر کا انداز ملتجیانہ ہوا۔۔ 
چلا جائوں؟
ہاں چلے جائو ۔۔ مگر نو بجے تک واپس آجانا سمجھے؟۔۔ انیقہ نے وارننگ دی۔۔ 
بابر نے گھڑی پر نگاہ کی شام کے چار بج رہے تھے 
آجائوں گا اب جائوں؟ 
بابر نے جلدی سے پوچھا۔۔ 
ہاں جائو دوست کا نام تو بتا جائو۔۔ 
دوبارہ ٹی وی کی۔جانب متوجہ ہوتے اسے خیال آیا۔۔
بابر نے چند لمحے سوچا پھر بولا 
جگنو۔۔ 
ہمممم۔ انیقہ نے سر ہلایا بابر پلٹ کر چلا گیا انیقہ کے ذہن میں کوندا سا لپکا۔۔ 
کون ؟ وہ پلٹ کر پکاری  مگر بابر جا چکا تھا۔۔ وہ اٹھ کر تیزی سے باہر بھاگی مین گیٹ بند تھااور اسکے پاس بابر کا تعویز پڑا تھااسے اٹھاتی وہ بےتابی سے بابر کو پکارتی گیٹ کھولنے لگی۔۔ گلی بالکل خالی تھی۔۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ وہ محلہ پہلے جیسا لگ رہا تھا نہ گلی۔۔ مگر اسکا گھر وہ پہچان کر آگے بڑھا۔۔ گھر کا نقشہ بدل چکا تھا اب دو منزلہ پکا مکان تھا اور اسکے ساتھ والا مکان بھی۔۔ 
وہ الجھن بھرے انداز میں گھر کی گھنٹی بجانے لگا۔۔ 
بیٹا یہ گھر خالی ہےدلاور صاحب اپنے خاندان کے ہمراہ کاغان گئے ہوئے ہیں۔۔۔ 
کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کرتے ہوئے بتایا۔۔ بابر چونک کر مڑا۔۔
کون دلاور صاحب؟ یہ تو میرا گھر ہے؟ میرے ممی پاپا کہاں گئے ؟
مخاطب کرنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا کنپٹیوں سے بال سفید گھر کا سودا تھامے اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا۔۔
تم کون ہو بیٹا؟ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے لگتا ہے دلاور صاحب تو پندرہ سال سے یہیں رہ رہے ہیں۔۔ 
اس شخص کے کہنےپر وہ حیرت سے چیخ پڑا
کیا ہوگیا ہے اٹھارہ سال کا تو میں ہو رہا ہوں اور اسی گھر میں رہتا آیا ہوں ابھی گھنٹے دو گھنٹے کیلئے باہر گیا تھا۔۔
کیا ہوگیا ہے بیٹا  نشہ وشہ تو نہیں کرتے ہو؟؟۔۔ یہاں تو دلاور صاحب رہتے ہیں برسوں سے
وہ برابر والے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہے تھے شائد یہ انکا گھر تھا مگر یہاں تو شبانہ آنٹی رہتی تھیں۔ اسے حیرت ہورہی تھی
ان انکل کے کہنے پر اس نے سخت چڑ کر دیکھا۔۔
تابش ہمدانی اور انیقہ ہمدانی کا گھر ہےیہ۔بابر نے جتانے والے انداز میں کہا تواندر جاتے جاتے رک کر وہ شخص پرسوچ انداز میں اسے دیکھتے بولا جیسے کچھ یاد آیا ہو۔۔ اچھا ہاں دلاور صاحب سے پہلے یہاں تابش ہمدانی ہی رہتے تھے مگر جب انکا بیٹ لاپتہ ہوا تو دونوں میاں بیوی گھر بیچ کر آبائی گھر چلے گئے تھے اب تو اس بات کو پچیس تیس سال ہو رہےہیں۔۔
 کیا بات کر رہے ہیں کون ہیں آپ ایسا کیسے ہوسکتا میں بیٹا ہوں انکا  یہ میرا گھر ہے ابھی دوگھنٹے پہلے ہی تو نکلا ہوں گھر سے۔۔
بابر پر کسی انہونی کا احساس ہوا بے تاب ہو کر وہ پڑوس والے گھر کی جانب بڑھا

یہ شبانہ آنٹی کا گھر ہے نا ان سے پوچھتا ہوں۔۔ 
وہ کہتا انکےگھر کی جانب بڑھنے کو تھا کہ وہ اجنبی شخص چونکا۔۔
تم میری امی کو کیسے جانتے ہو؟ اور تم ۔۔۔تم تم بابر ہو؟ مگر تم ایسے کیسے۔۔ 
یہ نہیں ہو سکتا ۔۔ 
وہ ادھیڑ عمر شخص اسے پہچان کر بے حد خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹا۔۔
شبانہ آنٹی تمہاری امی؟ بابر چونکا۔۔ 
شایان۔۔ بابر نے پہچان لیا مگر آنکھوں پر یقین نہ آیا۔۔ شایان تو میرے جتنا تھا اتنا بڑا کیسے۔۔ 
بابر نےاسکی جانب بڑھنا چاہا مگر وہ شخص بری طرح خوفزدہ ہو کر سامان چھوڑتا بابر سے دور ہوتا جلد بازی میں اپنے ہی گیراج میں پشت کے بل گرا اور دیوانہ وار چلانے لگا وہ گھسٹتا پیچھے ہو رہا تھا
ہٹو دور رہو مجھ سے ۔تم بابر نہیں ہوسکتے تم ایسے کیسے پاس مت آنا میرے۔۔۔۔
بابر حیران سا کھڑا اسےدیکھتا رہا تبھی کوئی آکر بابر کے پاس کھڑا ہوا۔۔ بابر نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اس سے کہا۔۔ 
دیکھو نا یہ کیا ہوگیا ہے۔۔ 
جگنو۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔ 

 

از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی)

 

https://urduz.pk/ek-khofnak-shakal-ki-aurat-tasveer-me-muskura-rhi-thi/
urdu horror stories

2024 hottest trends for lip shades a complete blog for fashionable girls