Blog

  • Desi Kimchi Episode 25

    قسط 25
    دھیرے سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی اسکے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ واعظہ ابھی بھی بیڈ پر بازوئوں میں سر چھپائے کرسی پر بیٹھی بے سدھ تھی۔ البتہ نور جاگ چکی تھی ۔ بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی مگر آنکھیں بند ہی کی ہوئی تھیں۔۔ ڈرپ ختم ہونے والی تھی۔ وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ڈرپ دیکھنے لگی تو اس نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔
    ڈرپ نکال کر عروج نے اس پر نگاہ کی تو اسے منتظر نظروں سے دیکھتا پایا۔
    کیسی طبیعت ہے؟ اس نے سرگوشیانہ انداز میں پوچھا تھا جوابا اس نے بس سر ہلا دیا۔
    عید کا آدھا دن جیل اور بقیہ آدھا اس وقت ہاسپٹل میں گزر رہا ہو جسکا، اسکا حال پوچھنا نہیں چاہیئے وہ رو ہی دے گا جوابا۔ اسکی آنکھوں کے کنارے سے موٹے موٹے بے آواز بہتے آنسوئوں کی دھار دیکھتے ہوئے اس نے سوچا۔
    اس نے متاسف سا ہو کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
    اس ذرا سے سہارے نے دل اور کاٹ کے رکھ دیا تھا وہ ہچکیاں لیکر رونے لگی۔۔پھر خیال آیا تو ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر واعظہ کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے آواز دبا لی۔
    یہ سیہون کھانا لایا تھا گھر سے بریانی ہے پہلے تو مجھے چیک کرانی پڑ گئ باہر مگر خیر ابھی گرم ہے تم نے کھانا ہے تو کھالو بہت سارئ ہے۔
    عروج سرگوشی میں کہہ رہی تھی جوابا وہ نفی میں سر ہلاتی رہی بھوک پیاس کچھ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
    مجھے کچھ نہیں کھانا پینا۔ اس نے بھی جوابا سسکیاں دباتے سرگوشئ میں جواب دیا۔
    تبھی ان دونوں کی سب احتیاط غارت کرتی ہوئی دھاڑ سے دروازہ کھول کر وہ چندی آنکھوں والی جاسوسہ داخل ہوئی۔
    آننیانگ ہاسے او۔ ملزمہ کو ہوش آگیا ہو تو کیا ہم اسکی ملاقات گھر والوں سے کروا سکتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔
    واعظہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ان دونوں نے گھور کر اسے دیکھا تھا ۔جوابا وہ سٹپٹا سی گئ۔ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔
    دراصل ہم حال پوچھنا چاہ رہے تھے ۔ ہم جیل میں کھانے پینے کی ہر سہولت فراہم کر رہے ہیں مگر یہ خود صبح سے شام تک کھانا نہیں کھاتیں نتیجتا آج بے ہوش ہوگئیں ذہنی دبائو اور خوراک کی کمی کے باعث۔ اب انکے گھروالے ایمبیسئ کے رابطہ کرنے پر ملنے آئے ہیں خصوصی اجازت سے۔
    اسکی نا سمجھ آنے والی بک بک سن کر ٹپ ٹپ دوبارہ نور نیر بہانے لگی۔
    آج آپکا کوئی تہوار بھی ہے شائد۔ ہمیں ایمبیسی کی جانب سے بتایا گیا ہے۔ وہ۔ وہ رکی ۔ پھر اٹک اٹک کر بولی
    عادی موبر۔
    کیا؟ تینوں اکٹھے بول پڑیں۔ موصوفہ پھر سٹپٹا گئیں۔
    عادی مبراک۔
    یہ کونسا تہوار ہے ہمارا۔ واعظہ تشویش زدہ ہوئی
    مجھے تو نہیں پتہ ورنہ مناتی نا میں ؟ عروج کو تشویش لاحق ہوئی ایسا کونسا تہوار ہے جو انکو خود آج تک پتہ نہ چل سکا۔
    کیا کہہ رہی ہے یہ چڑیل۔ عید کے دن بھی مجھے جیل بھیج کر دم لے گئ۔ عروج انکو لکھ دو مجھے کوئی بہت ہی سنگین بیماری ہے یا کہہ دو گرنے سے سر میں شدید چوٹ آئی ہے کم از کم ایک دن تو اسپتال رکھنا ہی پڑے گا ۔۔
    بھلے دکھ کا کوئی عالم ہو عید کا دن بے ہوش ہو کر گرنے کے باعث اسپتال میں گزر رہا ہو اسکے پاس نت نئے آئیڈیاز کی کمی نہیں تھی دلگیری سے عروج کا ہاتھ پکڑے کہہ رہی تھی۔
    عروج اسے دیکھ کر ہی رہ گئ۔
    میں آپکو آپکے تہوار کی مبارکباد دینا چاہ رہی ہوں ۔ اس نے کھسیا کر وضاحت کی ۔
    اوہ اچھا۔ عید نام ہے ہمارے تہوار کا ۔ عید مبارک کہتے ہیں ہم آج کے دن ایک دوسرے کو۔
    عروج کے دماغ کی گھنٹی بج ہی اٹھی۔
    دے دے ۔۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
    ایڈ مبرک۔
    اف۔ واعظہ نے سر پر ہاتھ ہی مار لیا اس بار۔
    ایک اور پیغام ہے آپکی ایمبیسی سے آپکے اہل خانہ تک ہم نے رابطہ کیا ہے۔ وہ آپ سے ملنے آئیں گے۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں۔
    اسکی بات پر عروج نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی جس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑی تھی۔ نور ٹکر ٹکر ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
    وہ لڑکی ان سے بے نیاز اب وہ میسج نکال رہی تھی موبائل میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یار یہ عروج اور واعظہ آج گھر نہیں آئیں گی؟
    چکر لگاتے موبائل میں گم الف سے وہ جھلا کر پوچھ رہی تھی۔ فاطمہ ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر کھانا ہضم کر رہی تھی۔ عزہ اور ہے جن رات ہونے کو آئی تھی بند تھے کمرے میں۔ عشنا کا دور دور تک پتہ نہیں تھا الف البتہ اسکے ساتھ ٹیرس پر موجود تھی۔ ریلنگ سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھی موبائل میں مگن جانے اسے نیا کیا شاک پہنچا تھا۔ بٹر بٹر اسکرین گھو ررہی تھی
    صبح سے بھوکے پیاسے دونوں پڑے ہیں عید کے دن۔ اتنا کہا دوپہر کو ابھی رات کو بھی مگر دونوں کا ایک جواب بھوک نہیں۔ بتائو عید کے کتنے منصوبے بنائے تھے یہ کریں گے وہ کریں گے یہاں جائیں گے وہاں جائیںگے۔ سب ختم۔
    بھلا بتائو۔
    واعظہ آتی دونوں کو کان سے پکڑ کر سیدھا کر دیتی۔ حالانکہ میں بھی ہوں یہاں واعظہ سے کم پرسنیلٹی نہیں میری اور ڈیل ڈول میں بھی برابر ہی ہیں ہم۔
    اس نے فرضی ڈولا بنایا۔
    مگر میرا کوئی رعب ہی نہیں ہے ۔ واعظہ کونسا انکی امی برابر ہے جو اسکے رعب میں سب آجاتے۔ سمجھ نہیں آتا مجھے۔
    دو چکر خاموشی سے لگائے۔۔ پھر شروع ہوئی۔
    اور پتہ ہے سیہون اور میری کا بریک اپ کیوں ہوا؟
    تیسرے چکر پر تیسرا قصہ شروع کر چکی تھی مگر جواب ندارد
    اب تم کیا اتنے غور سے دیکھ رہی ہو۔اس نے آگے بڑھ کر موبائل چھین لیا الف سے۔ ساری گچ پچ چینی کچھ کچھ فیس بک کی چھوٹی بہن جیسی ایپ مگر سب کی سب چینی اشکال۔ چھوٹی چھوٹی آنکھوں والے لوگ اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں۔ الف نے سٹپٹا کر موبائل واپس چھینا۔
    ویبو؟
    فاطمہ کو یقین نا آیا تو تصدیق کرنی چاہی۔
    الف نے ہونٹ کاٹ ڈالے۔
    ہاں۔ مرا مرا سا انداز
    مگر تمہارا کیا کام ویبو پر۔تم اسٹاک کر رہی ہو؟
    فاطمہ چیخ ہی تو پڑی۔
    ہاں۔ الف نے دانت پیسے۔
    مگر کون کسے کیوں؟؟؟۔ یہ چندی آنکھوں والا کون ہے جسے اسٹاک کر رہی ہو وہ بھی ویبو پر جا کر؟؟؟؟؟ اسکی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی تھی دھم سے اسکے پاس ہی آگری وہ بھئ گھٹنوں کے بل۔۔۔۔ اسکے جواب سے قبل ہی ایک عدد چیخ اسکے اپنے منہ سے برآمد ہوئی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں اس وقت ایک چینی ریستوران کے باہر کھڑے تھے
    چلو۔ اسے باہر جمے دیکھ کر ژیہانگ نے ٹوکا۔ وہ سرجھٹک کر اسکے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گئ۔ کونے کی سڑک کنارے شیشے کی دیوار کے ساتھ والی جگہ اس نے منتخب کی تھی۔ ژیہانگ نے آگے بڑھ کر اسکیلئے کرسی کھینچی تھی پھر اسکے بیٹھنے کے بعد ہی خود نشست سنبھالی۔ ایک اسکارف پہنے چندی آنکھوں والی ادھیڑ عمر عورت جس نے لانگ اسکرٹ پر ایپرن باندھا ہوا تھا مسکرا کر جھک کر انہیں نی ہائو کہتی مینیو کارڈ تھما گئ۔ اب یقینا دس پندرہ منٹ بعد وہ اگلا حکم لینے آتی۔
    یہاں حلال کھانا تو ہوگا نا؟ مینیو کارڈ کھول کر دیکھتے الف نے پوچھا۔ مینیو کارڈ دیکھنا بے کار رہا ۔ سب کچھ چینی اور انگریزی میں تھا مگر کھانے کے جو نام تھے وہ یکسر اجنبی تھے بلکہ ان تصویروں میں کھانے کے اجزاء پہچاننا بھی نا ممکن نظر آتا تھا۔
    یہاں سب حلال ہے۔ ژیہانگ مسکرایا۔
    مگر کہیں لکھا ہوا تو نہیں ہے حلال۔ اور اس ریستوران کا نام تو انگریزی میں لکھا بھی نہیں ہے جانے کیا کچھ پکتا ہوگا یہاں۔
    اس نے اعتراض جڑا۔
    ژیہانگ نے مینیو کارڈ میں ایک جگہ انگریزی میں لکھا نام اسے دکھایا جس پر اسکی نظر پڑی ہی نہیں تھی۔
    شومائو سانئین ۔ جسکا لفظی مطلب بنتا ہے فوڈ پانڈا ۔ اس
    چینئ ریستوران کا مالک مسلمان ہے اور وہ تمام چینی کھانے سو فیصد حلال اجزا سے بناتا ہے حالانکہ یہاں ذیادہ تر غیر مسلم آتے ہیں مگر پھر بھی یہاں کبھی تمہیں حرام گوشت کھانے کو نہیں ملے گا۔ پورک وغیرہ نہیں رکھتے یہ لوگ۔
    ژیہانگ نے وضاحت کی مگر الف کی آنکھیں مزید کھل سی گئیں۔ اور تھوڑا سا منہ بھی۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ ژیہانگ نے یہ ساری وضاحت اردو میں کی تھی۔
    رواں لہجہ مکمل صاف جملہ ۔ وہ خاتون اب آرڈر لینے واپس آچکی تھیں۔ژیہانگ اسکے چہرے کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا پھر ان خاتون کو آرڈر لکھوانے لگا۔ شاشلک، چینی چکن فرائیڈ رائس اور اسپرنگ رولز۔
    خاتون جھک کر سلام کرتئ پلٹ گئیں۔
    تم اردو بھی جانتے ہو؟؟؟؟؟۔ الف کا کھلا منہ لمحہ بھر ہی بند ہوا پھر جھٹ اگلا سوال داغ دیا۔
    انگریزی میں تم اور آپ میں فرق نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ ہمیشہ سوچ کر محتاط انداز میں جس طرح بات کرتی تھی ایک تکلف ایک گریز محسوس کیا جاسکتا تھا لیکن ابھی تو تکلف کی سب دیواریں گرا کر وہ صرف اسکا مکمل تعارف چاہ رہی تھئ۔ الف حیران تھی مگر اسکی حیرانی دوچند ہونے والی تھی اسے یہ نہیں پتہ تھا۔
    ژیہانگ اسکے اتائولے پن پر مسکرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ مسکراتا بہت تھا۔ ایک قطار میں سجے برابر سے موتی جیسے دانت سفید رنگت چندی آنکھیں۔وہ مکمل چینی نقوش کا حامل تھا مگر اردو جانتا تھا مسلمان تھا یہ یقینا حیرانی کی بات تھئ۔
    میرا اصل نام ذکریہ ہے اور میرا تعلق چین کے مسلمان کثریتی صوبے شن جانگ سے ہے۔ میرے والد وکیل ہیں والدہ ہائوس وائف۔ مجھے بچپن سے آئیڈل بننے کا شوق تھا سو بیجنگ میں جب ایکسو گروپ کے آڈیشنز کا سنا تو گھر سے بھاگ کر میں بیجنگ چلا آیا۔ میں اور لوہن نے اکٹھے ٹریننگ لی تھی۔ ۔ وہ لمحہ بھر کو تھما تو الف چیخ ہی تو پڑی
    کیا ایکسو کا لوہن وہ چینی رکن تمہارا دوست ہے؟
    ژیہانگ نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
    تم نے ایکسو کیلئے آڈیشن دیا تھا؟ وائو۔ الف پرجوش سی ہوئی
    پھر تم سیلیکٹ نہ ہوسکے اور لوہن ہو گیا؟؟۔ وہ اندازہ لگا رہی تھئ۔
    نہیں۔ اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔

    ہم دونوں ہی ایکسو گروپ کیلئے منتخب ہو گئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ نہا کر نکلا تھا۔ بال خشک کرتا جب اپنے ڈورم کے بیڈ پر آکر بیٹھا تو اسکا فون بج بج کے پاگل ہو چکا تھا۔ اکیس مسڈ کالز ۔ پندرہ مسیجز۔ سب کے سب اسکی امی کے۔
    میرے بچے جانے کیوں بہت دل گھبرایا ہے بہت برا خواب دیکھا ہے میں نے۔ اپنا خیال رکھنا۔۔
    مجھے فرصت ملتے ہی فون کرنا۔۔
    بیٹا صدقہ دے دینا یاد سے۔
    مجھے پتہ ہے تم نماز پابندی سے پڑھتے ہوگے مگر آج تو ضرور پڑھنا اور دعا کرنا اللہ سے کہ وہ تمہیں ہر آفت سے دور رکھے۔
    میرے بچے ماں قربان جائے تمہارے خواب پر تمہارے والد ضرور تم سے تعلق توڑ بیٹھیں مگر وہ بھی بہت اداس ہیں یاد کرتے ہیں تمہیں۔ اللہ کامیاب کرے تمہیں مگر کامیابی ملتے ہی سب سے پہلے باپ کو آکر منا لینا میرے بچے باپ ناراض ہو تو انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔۔
    اچھا میں صدقہ خود یہاں دے رہی ہوں تم بس آج نماز پڑھ لینا۔ پڑھو گے نا؟
    ایک بار بات کرلو ٹھیک تو ہو نا تم۔
    سب پیغامات پڑھتے اسکا دل بھر سا آیا۔ ماں بھی کیا چیز ہے دور کہیں بیٹھی ہے مگر دل اولاد میں اٹکا ہے۔
    نماز ۔ اس نے سر کھجایا۔ تین مہینے ہونے کو آئے تھے اس نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ وقت ہی نہیں ملتا تھا ساری دوپہر ساری شام بس ںاچنے میں گزرتی نہیں تو آواز کے اتار چڑھائو پر قابو پاتے۔ اسکا گلا بالکل بیٹھ چکا تھا۔ کل ایک کوریا کی کمپنی کے آڈیشن دیئے تھے سوچا تھا آکر نماز پڑھ کر خوب گڑ گڑا کر دعا مانگے گا مگر سارا دن پہلے تیاری پھر آڈیشن میں گزرا دس بجے ڈورم میں واپسی ہو پائی تو بے سدھ سا ہوکر بستر پر گرا اور غافل ہو گیا۔
    نماز پڑھ کر دعا مانگوں کہ ایکسو کے آڈیشن میں کامیاب ہو جائوں ؟ اس نے سوچا پھر جھٹ اٹھ کر وضو کر ڈالا۔ واپس ڈورم میں آکر قبلہ رخ چادر بچھا کر کھڑا ہوگیا۔
    آج اس نے معمول سے ذیادہ خشوع و خضوع سے نماز پڑھی مانگنا جو تھا خدا سے اور اسکا تو وعدہ ہے جو دل سے مانگو گے دوں گا۔
    دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے دعا مانگی
    یا اللہ مجھے ایکسو کے آڈیشن میں کامیاب کردے بس اسکے بعد میں کچھ نہیں مانگوں گااپنے لیئے۔ اور ہاں ۔ میرے والدین کو اپنی امان میں رکھنا میں ان سے بہت دور ہو جائوں گا۔
    ذکریہ زکریہ تم اور میں آڈیشن میں کامیاب ہو گئے۔
    لوہن بھاگتا ہوا آیا تھا اور آتے ہی دروازہ کھول کر چلایا تھا۔ اسکی رنگت تمتا رہی تھی خوشی سے سانسیں پھول چلی تھیں۔ وہ بھاگتا اسکے پاس آیا مگر اسے عبادت میں مصروف دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا۔
    دعا مانگتے ذکریہ کی سانس رک سی گئ ۔۔ اور دعا مانگتے لب بھی۔ اب حالانکہ اسکی دعا کے جملے کچھ اور تھے۔ وہ اپنی دادی کی سکھائی دعا کے الفاظ دہرا رہا تھا
    یا اللہ مجھے کبھی غافلوں میں سے نہ کرنا مجھے ہدایت کےراستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما میرے مالک۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم دونوں کو اکٹھے ڈیبیو کرنا تھا۔ اب کچھ طے ہوچکا تھا ایک ہفتے بعد ہم نے کوریا کیلئے نکل جانا تھا۔
    اس رات جب ایکسو کیلئے معاہدہ کرنے لگے تو ایک بات پر میں چونک اٹھا تھا۔ یوں تو پورا معاہدہ ہی مجھے ایک غلامی کا پروانہ لگا تھا مگر جب میں نے وہ شق پڑھی جس میں معاہدہ ختم ہونے تک مجھے جو بھی کھانا پینا تھا اس کا فیصلہ بھی کمپنی کرتی مجھے کھٹکا گیا۔میں حرام نہیں کھاتا تھا اور میں مسلمان تھا سینکڑوں لوگوں کو ہرا کر اس مقام پر پہنچا تھا ایک میرے لیئے وہ شق بدلنا یقینا کمپنی کو گوارا نہ تھا مگر یہ کونسا بڑی بات تھی۔ میرے منہ میں کچھ زبردستی ڈالا تو نہیں جا سکتا تھا۔
    وہ جملے کے آخر میں الف کے انہماک پر تھوڑا سا رکا۔
    پھر کیا ہوا۔؟ وہ بے صبری سے بول اٹھی
    دوسری شق تھی دن کے کچھ گھنٹے مجھے صرف ناچنا اور گانا سیکھنا تھا۔ میں کوئی بہت مزہبی انسان کبھی نہیں رہا تھا۔نمازیں بھی چھٹ جاتی تھیں مگر نماز کیلئے ایسے کبھی معمول نہ بنانے والا اگلے کئی سال کیلئے اپنا معمول بنانے کے سارے اختیارات کمپنی کو سونپنے والا تھا۔ عجیب بات ہے نا؟ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں تھا۔ میں نے بس لمحہ بھر سوچا تھا اور دستخط کرنے کیلئے قلم اٹھا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آگئے ۔ میں انکو لیکر آتی ہوں۔ وہ پیغام پڑھ کر انہیں بتاتی باہر نکل گئ۔
    کیا کہہ رہی تھی یہ۔ نور کی جیسے چھٹی حس بیدار ہوئی تھی
    واعظہ سائیڈ ٹیبل سے ٹھنڈا ہوتا کھانا اٹھا کر کمرے کے کونے میں لگے بنچ پر جا بیٹھی۔ عروج اسکی بے نیازی پر شاباش دے کر رہ گئ۔
    بولو نا عروج کیا کہہ کر گئ ہے یہ؟
    نور عروج کا بازو ہلا رہی تھی۔ عروج نے ٹھنڈی سانس بھر کر واعظہ کو دیکھا جو
    عروج نے ترجمہ کیا تو نور بپھر کر واعظہ کی جانب مڑی
    تم سے میں نے کیا کہا تھا کہ میرے گھر والوں کو خبر نا ہو تم نے انکو باقائدہ رابطہ کرکے بلا لیا؟
    کیوں کیوں دھوکا دیا تم نے مجھے واعظہ۔ وہ حلق کے بل چلا اٹھئ تھئ۔
    نور کیا ہو گیا ہے ۔ ہم اور کیا کرتے تمہارے گھر والوں سے یہ بات کیسے چھپا سکتے تھے؟ واعظہ نا بھی بتاتی تو ایمبیسی سے یہ لوگ خود رابطہ کر چکے تھے۔
    عروج نے بپھری ہوئی نور کو کندھے سے پکڑ کر سنبھالنا چاہا۔ واعظہ کو شدید بھوک لگ رہی تھی ٹھنڈی بریانی بھی خوب خشوع و خضوع سے کھا رہی تھی۔
    میں یہاں نہیں رہ سکتی میں جا رہی ہوں مجھے نہیں جانا مین کیسے امی کو منہ دکھائوں گی ابو تو جان سےمار دیں گے میں انکا سامنا نہیں کر سکتی۔۔وہ دیوانوں کی طرح مچل کر عروج کی بانہوں سے نکلی ۔۔
    نور ہوش کرو بات تو سنو۔ عروج اسکی جانب لپکی مگر
    وہ بری طرح بپھر کر دروازے کی جانب بھاگ اٹھی ۔۔ عروج نے اسے اب روکنے کی کوشش نہ کی۔۔ باہر پولیس کا پہرہ تھا وہ بھاگ کے جا بھی کہاں سکتی تھی۔۔ نور نے دروازہ کھولا تو سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کر اسکے جسم سے جیسے جان ہی نکلتی چلی گئ۔
    اسکے ابو سامنے کھڑے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جبھئ سیہون اتنی آسانئ سے آگیا تھا تم لوگوں کے اس دو ٹکے کے شو میں۔دوست جو تھا ژیہانگ کا۔۔ فاطمہ گھٹنا سہلاتے سر ہلا تے سب سمجھ گئ تھئ۔ الف نے بری طرح تپ کر چپت لگا دی اسکے سر پر۔
    خبردار جو ہمارے شو کی شان میں گستاخی کی۔ الف کا انداز دھمکانے والا تھا۔
    اف اتنے ننھے وجود میں اتنی جان کہاں سے لاتی ہو ۔ فاطمہ بلبلا کر جوابئ حملہ کرتے ہوئے لات ہوا میں ہی روک کر کہنے لگی۔ ایک تو یہ بندہ کبھی تائیکوانڈو کی ٹریننگ نہ لے کم از کم۔ ہاتھ کی بجائے ٹانگ پہلے اٹھتئ تھئ۔
    تم لاتیں کیوں مارنے پر تل جاتی ہو ۔۔ اسکی ٹانگ کو گھورتے وہ حفظ ماتقدم کے طور پر اسکی رسائی سے دور ہو کر چڑ کربولی تھی۔
    یہ تکنیکی خرابی پیدا ہوچکی ہے مجھ میں ۔۔ وہ ڈھٹائی سے کہتی ریلنگ کا سہارا لیتے ہوئے اٹھنے لگی۔ کپڑے جھاڑ جھاڑ کر بغور الف کی شکل دیکھی۔ اسکے چہرے پر خطرناک سی سنجیدگی تھئ۔
    ویسے اس قصے میں مجھے ژیہانگ کو ویبو پر جا کر اسٹاکنے کی تک سمجھ نہیں آئی۔
    یار بہت دکھی کہانی ہے ذکریہ کی ۔ مجھے سچ مچ بہت افسوس ہوا سن کے۔
    الف قصہ پورا سنانا چاہ رہی تھی ۔
    ہاں ایکسو بینڈ کا حصہ نا بن سکا بے چارہ دنیا کا بدقسمت ترین انسان ہوگا وہ تو۔۔ فاطمہ کا انداز سراسر مزاق اڑانے والا تھا۔
    بی ٹئ ایس ہوتا تو بات بھئ تھئ۔
    اس نے کہتے ہی زبان دانتوں تلے دبا لی۔ اتنی مشکل سے عید کے چکر میں بنا کوئی مزید ڈرامہ لگائے دونوں نے پچھلی ساری باتیں بھلا کر بات چیت شروع کر لی تھی اب دوبارہ وہ نادانستگی میں سہی اسے چھیڑ بیٹھی تھی۔
    فاطمہ میں نے تم سے ایکسو کے پیچھے لڑتے ہوئے اگر کوئی ایسی بات کی ہو جو تمہیں دل پر لگی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ مجھے جانے کیا ہوا تھا اس دن ۔ مجھے فین وار بالکل پسند نہیں رہی کبھی بھی اب تو بالکل بھی نہیں کم از کم کے پاپ بینڈ کے پیچھے میں نہیں۔ لڑنا چاہتی ہوں۔
    الف اسکے انداز کے بالکل برعکس سابقہ انداز میں مخاطب تھی
    آہ۔ وہ سٹپٹائی۔ میں بھی اوور ری ایکٹ کر گئ تھی۔ ۔ بی ٹی ایس ٹھیک ہے بہت پسند مجھے مگر اسکا یہ مطلب تھوڑی انکے پیچھے لڑتی پھروں۔ میری بھی غلطی تھی۔
    چھوڑو بس ختم کرو بات۔
    وہ دانستہ رخ پھیر گئ۔
    سورج کل نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا کیا۔ سر کھجاتے وہ سوچ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر بات کہیں ختم ہوئی پیچھے رہ گئ۔ باپ کی شکل دیکھتے ہی بت بن جانے والی لڑکی کو باپ نے آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا تھا۔ بیٹی کی شکل غماز تھی اس پر کیا کچھ بیت چلا ہے۔ باپ کے سینے سے لگتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھئ۔
    ایمبیسی سے آئے دو مزید افراد ایک وکیل اور وہ پولیس افسر سب کمرے میں داخل ہوئے تو وہ اور عروج دونوں کمرے سے نکل آئی تھیں۔۔۔
    مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
    اسکے والد کے جملے دروازہ بند کرتے ہوئے انکے کانوں میں پڑے تھے۔
    دونوں کیفے کی جانب بڑھ گئیں۔ کیفے میں اس وقت ذیادہ رش نہیں تھا۔ سو وہ آرام سے کونے والی میز کرسی کی جانب بڑھ گئیں۔
    کافی پیئو گئ یا کولڈ ڈرنک؟ عروج نے میزبانی نبھائی۔
    کافی۔ واعظہ جمائی لیتے ہوئے میز پر سر رکھ کر آرام سے بیٹھ گئ۔
    کافی بنا کر عروج اسکے اور اپنے لیئے سینڈوچزلے آئی تھی۔
    بریانی ہی اٹھا لاتے ہم حماقت ہوگئ ایک اور ہم سے۔ واعظہ نے سینڈوچ فورا اٹھایا تھا۔ عروج ادھر ادھر دیکھ کر اطمینان کرتے ہوئے چہرے سے ماسک اتارنے لگی۔ واعظہ نے کافی کا بھی جھٹ گھونٹ بھرا تھا۔ انداز میں اتنی بے صبری تھی کہ اسے ہنسی ہی آگئ۔
    کھا تو ایسے ہبڑ تبڑ رہئ تھیں کہ مجھے لگا تھا کہوگی کہ میں نے کھا لیاتھا تم ہی کھائو سینڈوچز۔ عروج نے جتایا تو وہ ڈھیٹ سی بن گئ۔
    ہاں تو ہبڑ تبڑ دو چار لقمے ہی لیئے تھے صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے اب جاکے کھانا نصیب ہوا تھا۔ ویسے بریانی تو نہیں کھا رہے ہونگے وہ لوگ اٹھا لائوں۔؟
    واعظہ خیال آتے ہی جزباتی ہو کر اٹھنے کو تھی کہ عروج نے ہاتھ پکڑ کر روکا
    بیٹھو آرام سے۔ پہلے کتنے فارم بھروا کر تلاشی لیکر تمہیں اندر جانے دیا تھا اب تھوڑی جانے دیں گے۔ ملزمہ ہے وہ ۔ صحافی بو سونگھتے پھر رہے وہ لوگ جتنے محتاط رہیں کم ہوگا۔
    عروج کی بات عقل میں گھسی۔ منہ بنا کر سینڈوچ نگلنے لگی۔
    عید کے دن سینڈوچ کون کھاتا ہے۔ اس کا دکھ عروج پر تھا۔
    عید کے دن انسان ویسے اپنے گھر بھی جاتا ہے تم کیوں نہیں گئیں؟
    عروج نے یونہی پوچھا تھا ۔۔وہ اداس سی ہوگئ تھی
    سب پاکستان گئے ہوئے ہیں۔بھائی بھابی بچے سب۔
    تم بھی چلی جاتیں۔ عروج حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
    کیسے چلی جاتی ؟ جس دن عزہ اغوا ہوتے بچی اس دن رات کی فلائٹ تھی میری۔ وہ مس ہوئی پھر پے در پے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جا نہیں سکی۔ اب تو مما بھی بات نہیں کر رہیں فون نہیں اٹھا رہیں میرا۔ سب ناراض ہیں مجھ سے۔
    واعظہ اداس سے انداز سے کہہ رہی تھی
    تم پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں؟ یہاں کونسا بہت کامیاب کیریر ہے تمہارا ایم بی اے تک چھوڑ بیٹھی ہو پاکستان جائو اور۔۔
    ہر پاکستانئ کی طرح اگلا اسکا جملہ وہی پسندیدہ ترین والا تھا جس کی توقع میں واعظہ نے دانت کچکچا کر گھورنا شروع ہی کیا تھا کہ پھولی سانسوں کے ساتھ وہی پولیس والی بھاگتی انکے پاس آئی ۔ دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر جھک کر سانسیں بحال کرتے ہوئے وہ ہنگل میں بولی
    شکر ہے آپ دونوں مل گئیں پورے اسپتال میں آپ دونوں کو ڈھونڈتئ ہوئی یہاں آئی ہوں۔
    کیوں کیا ہوا خیریت۔۔
    دونوں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
    آندے آندے۔
    اس نے دونوں ہاتھ ہلا۔ہلا کر انہیں کہنا چاہا۔۔۔
    کیا ہوا نور خیریت سے تو ہے؟
    نور ٹھیک ہے؟
    دونوں اکٹھے ہنگل میں چیخی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام ۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 24

    قسط 24

    کسی نامانوس سے احساس کےتحت اسکی آنکھ کھلی۔ نیم تاریکی میں اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا تو کمرہ یکسر اجنبی لگا۔ چھوٹا سا کمرہ جس میں اسکے بیڈ کے بالکل برابر کھڑکی پر بھاری پردے تنے تھے۔ ہلکی سی دراڑ سے روشنی کسی بلب کی ہی تھی مدھم سی یعنی شام ہو رہی تھی یا رات ہوگئ تھئ۔ اسے اندازہ نہ ہوا۔۔ اس پر ۔گھبراہٹ کا غلبہ طاری ہوا۔اس نے کہنی پر وزن دیتے فورا اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو کنولا کی سوئی ہاتھ پر زور دینے سے چبھی ۔وہ تڑپ کر واپس تکیئے پر گر سی گئ۔ جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ سے بستر ٹٹولنا چاہا تو کوئی نرم سی چیز ہاتھ میں آئی۔ اس نے جیسے ہی تھاما احساس ہوا وہ بھی کوئی ہاتھ ہی تھا۔
    اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کوئی لڑکی اسٹول بیڈ سے جوڑ کر اس پر بیٹھی اسکے بیڈ پر بازو کا تکیئہ بنائے اس میں منہ چھپائے ٹکی شائد سو رہی تھی۔
    اس نے زرا سا گردن اٹھا کر پہچاننا چاہا شولڈر کٹ بکھرے بال ۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    وہ واعظہ تھی۔اس نے اپنے اردگرد ماحول پر نگاہ کی تو اندازہ ہوا کہ اسپتال کے کمرے میں ہے۔ مگر یہاں کیسے؟ اس نے ذہن پر زور ڈالنا چاہا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ یونہی سڑکوں پر پھرتی پھری تھی۔ سڑک پر چہل پہل تھی۔ لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی وہ اداس سی ہوتی گئ۔
    ان سب کیلئے معمول کے دن کا اختتام ہوا تھا اور اسکا تو عید کا دن تھا۔ پہلی عید جس میں وہ خالی ہاتھ خالی جیب راستہ ناپ رہی تھی۔ اسکے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے تھے کہ وہ بس سے سفر کر لیتی۔تھکے تھکے قدم جب اٹھنے سے انکاری ہوئے تو وہ بس اسٹاپ پرلگے بنچ پر آبیٹھی
    کیا پایا تھا اس نے فین میٹنگ سے۔ مہینوں کی جمع پونجی اور منٹوں کی ملاقات۔ وہ سیلیبریٹی جو اسکرین پر دیکھتے ہوئے کردار ادا کرتے آس پاس کہیں محسوس ہوتا تھا آج جب سامنے بیٹھا تھا تو لگتا تھا میلوں کے فاصلے ہیں درمیان۔اوروہ وقت حسب خواہش تھما ہی نہیں۔اس نے موبائل نکال کر لاک اسکرین پر نظر جما دی۔
    اسکی جانب تحفہ بڑھاتے ہوئے لی منہو کی نگاہ اسکی ہتھیلی پر بنے نقش و نگار پر پڑی۔
    اس نے بڑی دلچسپی سے اس سے پوچھا
    یہ کیا ہے کیسے بنایا؟
    اس نے جوابا اپنی ہتھیلی اسکے سامنے کر دی تھی۔ اور اسے اتنا پسند آیا کہ اپنے مینجر کو کہہ کر تصویر بنوائی مسکراتا ہوا لی من ہو اور اسکی پشت پر دونوں ہتھیلیاں دکھاتی مسکراتی عشنا۔
    تصویر بنوا کر اس نے شکریہ بھی ادا کیا۔ جوابا عشنا نے اپنا موبائل بھی بڑھا دیا۔۔
    اسکے ہاتھ میں لی من ہو کے ہاتھ کی کھنچی سیلفی تھی جس میں وہ خود بھی تھئ۔۔
    لی من ہو ملٹری جا رہا ہے۔ اگلے دو سال اسکے ملٹری میں گزرنے اس بات پر وہ پاکستانی لڑکی بیٹھئ اداس ہو رہی تھی۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
    بے چاری کا لگتا ہے بریک اپ ہوا ہے۔
    پاس کھڑی اب ہائی اسکولر لڑکیوں نے تاسف سے اسے موبائل ہاتھ میں لیئے بے آواز روتے دیکھا۔
    انی۔ دل چھوٹا نہ کرو تمہیں اس سے بہتر مل جائے گا فائٹنگ
    وہ لڑکی اسکی جانب ٹشو بڑھاتئ بڑے خلوص سے کہہ رہی تھی۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ موبائل لاک اسکرین مدھم ہو کر بند ہو چکی تھئ
    اس نے شکریہ کہہ کر آنکھیں رگڑ لی تھیں۔
    کون جانے اس وقت آنکھیں پونچھنے سے ذیادہ ضروری اسکا گھر پہنچنا تھا جسکے لیئے ٹشو نہیں سکے درکار تھے۔
    اب وہ جانے خوش قسمت تھی کہ آنسو پونچھنے والیاں مل گئیں یا بد قسمت کہ گھر پہنچنے کا کوئی سبب نا بن سکا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں بالکل خاموش لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق فلیٹ میں واپس آئے۔ جوتے راہداری میں اتارنے کی دونوں کو عادت نہیں تھی سو سیدھا کچن میں لینڈ کیا۔
    ہے جن البتہ تسمے کھولنے میں لگا تھا
    میں کہہ رہی تھئ کہ یہ جھوٹ نبھے گا نہیں۔طوبی آپی کو روتے دیکھ کر اتنا برا لگا مجھے ہم نے بلاوجہ انکو دھوکا دیا۔ سب اس ہے جن کے بچے کی وجہ سے ہوا ہے کیا ضرورت تھئ اسے اتنی لمبی کہانیاں ڈالنے کی۔ عزہ کا پارہ ہائی ہوا وا تھا۔ٹہل ٹہل کر بولے جا رہی تھئ
    یہ اچھا ہے جو چندی آنکھوں والا ملتا اسے میرا بھائی بنا دیا جاتا ۔ پہلے سیہون اب یہ ہے جن۔ٹھیک ٹھاک بستی ہے جن نے کروادی ہے اب اگلی باری سیہون کی ہوگی۔ جس دن اسے پتہ لگے گا کہ وہ میرا زبردستی منہ بولا بھائی بنا ہوا ہے تو جانے وہ کتنا بولے گا
    فاطمہ فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالنے لگی۔ گلاس میں بھر کر منہ تک لے جانے ہی لگی تھی
    فاطمہ پانی پینے لگی ہو۔اس کی نظر پڑی تو چیخ مارتی اسکے ہاتھ سے گلاس چھین لیا۔ پانی اچھل کر اسکے کپڑوں پر آرہا۔ اس نے خشمگیں نظروں سے گھورا
    تم سیہون کئ بہن ہو یا نہیں کام نندوں والا کیا ہے۔ کیا تکلیف ہے اگرمیں پانی پی لوں تو۔ وہ کپڑے جھاڑنے لگی
    عزہ کھسیا سئ گئ۔ وہ مجھے لگا روزہ ہے۔ اب اتنے دنوں سے اس وقت کوئی پانی پیتا نہیں تو۔عادت وہی پڑی وی۔
    اس نے وضاحت دیتے گلاس اپنے منہ سے لگا لیا۔
    ہے جن آئو کھانا کھا لو۔ عروج نے بریانی بنائی ہے۔
    فاطمہ نے ہے جن کو سر جھکائے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر آواز دی
    مجھے بھوک نہیں۔ اس نے دھیرے سے کہہ کر بڑھ جانا چاہا
    اتنی سی بستی سے پیٹ بھرگیاکیا؟۔
    عزہ طنزیہ انداز میں بولی۔
    مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا بات
    چھوڑو بھئ عزہ۔ فاطمہ نے ٹوکنا چاہا تو وہ گلاس کائونٹر پر پٹخ کر آستین چڑھا کر بولی۔
    تمہاری وجہ سے طوبی آپی بلک بلک کر روئیں اتنا برا مجھے زندگی میں کبھی کسی کا رونا نہیں لگا جتنا طوبی آپی کا لگا عین عید کے دن وہ تمہاری وجہ سے روئیں۔۔تمہارے بے سروپا جھوٹ کی وجہ سے انکا دل ٹوٹ گیا۔کوئی شرم آئی تمہیں؟
    عزی بس کرو ۔ فاطمہ نے اسکو کندھے سے تھام کر روکا
    میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ میں خود جائوں گا ان سے معافی مانگنے
    ہے جن کا چہرہ ست سا گیا تھا۔ سنبھل کر سوچ سوچ کر وہ بولا
    اچھا۔ عزہ استہزائیہ ہنسی پھر چٹخے ہوئے انداز میں بولی۔
    غلطی کا احساس ہے تمہیں؟ کس غلطی کا طوبی آپی سے یہ جھوٹ کہنے کا کہ میں تمہاری بہن ہوں یا انکو بے وقوف بنا کر انکے گھر مسلمان ہونے کا ناٹک کرنے کا؟ جھوٹی نماز پڑھتے جھوٹے روزے رکھتے شرم نہیں آئی تمہیں کس فخر سے مانا تم نے طوبی آپی کے سامنے کہ تم دل سے ابھی بھی بدھ متی ہو اور وہ نماز روزے سب دکھاوا تھا تمہارا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ یہ سب ڈرامہ کر رہا ہے۔
    وہ نماز روزہ سب ڈرامہ تھا دلاور۔ وہ کبھی بھی مسلمان نہیں تھا نہ پیدا ہوتے وقت نہ بعد میں کبھی اس نےسوچا۔ میں ایک کافر کو بھائی بنا کر اسکی خدمت کرتی رہی اسے کھانے پکا پکا کر کھلاتی رہی قرآن تھمادیا اسے ہاتھ میں ۔مجھے کتنا گناہگار کر دیا ہے اس نے۔
    طوبی رو ئے جا رہی تھی۔بچے سہم کر بابا کے پاس بھاگے آئے تھے وہ خود بمشکل اٹھ کر لائونج میں چلے آئے۔ طوبی گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی تھی۔ انہوں نے دھیرے سے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ گلوگیر لہجے میں سر اٹھا کر بولی۔ اسکی آنکھیں موٹے موٹے آنسوئوں سے بھری تھیں
    بیٹا بہن بھائیوں کو لیکر کمرے میں جا کر کھیلو۔۔ بلکہ فریج سے آئیسکریم نکال کر اندر جا کر بیٹھ کر کھائو۔
    دلاور نے بڑی بیٹی کو کہا تو وہ سر ہلاتی دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو ہنکا کر لے گئ
    تم رو کس بات پر رہی ہو ؟ مانا اس نے جھوٹ بولامگر یہ بھی تو دیکھو کیوں۔۔ محبت کرنے لگا ہے وہ تم سے۔ کسی سگے بھائی کی طرح خیال رکھتا رہا ہے تمہارا۔۔ تمہاری خاطر اس نے جو تم نے کہا وہ سب کیا نماز تک پڑھنے کی کوشش کئ صرف تمہیں خوش کرنے کو۔
    وہ اسے سمجھا رہے تھے
    نماز روزہ انسانوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں کیا جاتا دلاور۔
    وہ بپھر کر بولی
    تو پھر انسان ہو کر کسی کے نماز روزے کی فکر کیوں کی تم نے ؟
    دلاور کا سوال کڑا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ بہت سخت الفاظ ہیں تمہارے۔
    فاطمہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔۔ مگر عزہ سن نہیں رہی تھی چبا چبا کر بولی
    ہم سب تک یہ سمجھتے رہے کہ تمہارا دل بدل گیا یے اور تم مسلمان ہونے لگےہویہاں ہمارے سامنے یہ ڈرامہ کرتے رہے کہ تم روزے سے ہو اور باہر سور وغیرہ کھاتے رہے ہوگے۔
    اس دن تو مجھے بھی کھلا دیا۔تم نے ہمارا ہمارے مذہب کا مزاق اڑایا ہے جھوٹ دکھاوا کرکے۔تمہارے روزے سب جھوٹے تھے تمہاری نمازیں
    نونا بس کریں۔
    ہے جن جیسے تڑپ کر چیخا۔مٹھی بھینچ کر وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا
    میں مسلمان ہوا یا نہیں مگر میں نے روزہ ہمیشہ پورا رکھا ۔ اسکا ہر رکن پورا کیا۔ اسکول میں بے ہوش ہوکے گرا ہوں مگر کچھ کھایا پیا نہیں۔ جس دن آپ نے سور چکھ لیا تھا اس دن سے آج تک میں نے سور کو ہاتھ نہیں لگایا جبکہ یہ میرا پسندیدہ کھانا ہے۔
    ہے جن ہم جانتے ہیں تمہیں دل پر مت لو اور۔
    فاطمہ اب ہے جن کو ٹھنڈا کرنا چاپ رہی تھی مگر وہ بھی اسکی ایک نہیں سن رہا تھا
    کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو تمہیں بولو؟ عزہ اسکے انداز کو خاطر میں نہ لائی مزید تیز ہوکر بولی
    خود تم نے اپنے ساتھ کیا جو بھی کیا۔ نہ جھوٹ بولتے نا نبھاتے نا ہی تمہیں یہ سب کرنا پڑتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے ہمدردی ہو گئ تھئ اس سے۔ مجھے سچ مچ وہ اپنا چھوٹا بھائی لگنے لگا تھا۔
    طوبی جیسے تھک کر بولی۔
    اور اب اچانک وہ برا لگنے لگا؟ اسکا مذہب اسکا قطعی ذاتی معاملہ تھا طوبی تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اسکو زبردستی اسلام سکھانے کی جانتی ہو وہ تمہارے سامنے اعتراف کرنے سے پہلے جانتی ہو مجھ سے کیا پوچھ رہا تھا؟ دلاور نے گہری سانس لیکر اپنی احمق مگر بے حد پیار کرنے والی بیوی کی آنکھوں میں جھانکا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں دل سے رکھ رہا تھا کہ نہیں یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے تم میں سے کسی کو میرے نماز روزے سے گناہ نہیں ملا اتنا جان گیا ہوں۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوتا ہے اللہ صرف تمہیں تمہارے گناہ ثواب پر جواب طلبی کرے گا کسی کوریائی ہائی اسکولر ہے جن کے اعمال پر نہیں سمجھیں عزہ نونا۔۔
    وہ جیسے ضبط چھوڑ بیٹھا ۔ اسکے الفاظ اسکی اندرونی کیفیت کو آشکار کر رہے تھے وہ اتنا ہی بے چین اور مضطرب تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھیں ضبط سے سرخ ہو گئ تھیں۔ عزہ بھی اسکا چہرہ دیکھتے لمحہ بھر کو چپ سی پوئی پھر اپنی جون میں واپس آتے ہوئے جواب دینے کو منہ کھولا
    مگر تم۔۔۔۔۔۔۔
    کہ فاطمہ دھاڑی
    بس کرو دوبارہ یہ مسلئہ یہاں شروع کرنے کی ضرورت نہیں تم دونوں کو۔ جو بھی ہوا اس میں ہم سب کی غلطی تھی کسی کی تھوڑی سہی مگر بہر حال اس معاملے کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھو۔ عید کے دن ایسے فضیحتے مت کرو ایک دوسرے کے۔
    دونوں اسکے یوں چلانے پر ایکدم خاموش ہو رہے۔
    چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔۔
    چلو کھانا کھائو ۔بہت بھوک لگ چکی ہے اب مجھے۔
    جتنی زور سے چلائی تھی اب اتنے ہی دھیمے انداز میں کہہ رہی تھئ
    مجھے بھوک نہیں۔دونوں نے اپنی اپنی زبان میں اکٹھے کہا تھا
    اب یہ فالتو بھوک ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں۔
    اس نے انگریزی میں سمجھانا چاہا تو دونوں سر جھٹک کر اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے
    لگتا یے انگریزی سمجھ نہیں آئی انہیں میری۔۔
    وہ کندھے اچکا کر بڑ بڑائی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تھکا ہارا جب گھر پہنچا تو گھر خالی تھا۔ وہ سیدھا کچن میں چلا آیا بھوک کے مارے دم نکل رہا تھا۔ ڈھیر سارا کھانا بنا ہوا تھا خوشبو پورے اپارٹمنٹ میں پھیلی تھی۔۔ اس نے ڈھکن ہٹا کر دیگچی میں جھانکا۔بریانی ۔۔ ساتھ ایک پیالے میں کسٹرڈ۔
    بریانئ۔ اسکا منہ بن گیا۔ جانے یہ لڑکیاں اس مرچیلی مرغی اورچاول کے ملغوبے کو اتنا شوق سے کیوں کھاتی تھیں۔ اور آج کھایا کیوں نہیں تھا۔ ایک ہفتے میں تیسری باروہ یہ کھانے جا رہا تھا۔ پلیٹ بھر کر ایک چھوٹی پیالی میں کسٹرڈ نکال کر وہ وہیں کائونٹر کا اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ چاپ اسٹکس سے نوالہ بنانا چاہا تو کھلے کھلے چاولوں کے دانے بکھرتے چلے گئے
    وہ گہری سانس بھر کر اٹھنے کو تھا کہ اسکے سامنے ایک چمچ لہرایا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو فاطمہ اسے چمچ تھما رہی تھئ۔
    کھمسا۔۔ شکریہ۔ وہ روانی میں ہنگل بولتے ہوئے ٹھٹک کر انگریزی میں بولا۔
    ہے جن کھانا نہیں کھا رہا ۔۔
    اس نے جیسے اطلاع دی۔
    تو ؟ سیہون کو سمجھ نہ آیا کہ اس میں پریشانی والی کیا بات
    عزہ نے بھی نہیں کھایا۔ اس نے ایک اور اطلاع دی۔
    تم نے کھایا؟ سیہون نے الٹا سوال کر ڈالا
    نہیں ۔ وہ اسکے سامنے والا اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ
    وہ گہری سانس لیکر اٹھا دیگچی سے بریانی کی نئی پلیٹ بنائی لا کر سامنے رکھی اسکے۔
    مجھے یہ والی بوٹی پسند نہیں۔
    فاطمہ نے منہ پھلایا۔ وہ دیکھ کر رہ گیا۔ پھر اپنی پلیٹ سے ٹانگ اٹھا کر اسکی پلیٹ میں رکھی اور وہ بڑی سی ریشے والی بوٹی اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔
    اتنی مزے کی بریانی بنائی تھی میں نے۔
    کوئی کھانے کو تیار ہی نہیں۔ وہ خود بریانی سے ٹھیک ٹھاک انصاف کر رہی تھی۔چمچ ایک جانب پڑا تھا پلیٹ کے۔وہ بھی سر جھٹک کر کھانے لگ گیا۔
    واعظہ ہوتی تو دونوں کو سیٹ کر دیتی۔ میری تو سنی ہی نہیں دونوں نے۔ آج کل کے بچے۔ بلکہ نہیں بچے کہنا تو مناسب نہیں۔اتنے بھی چھوٹے نہیں مجھ سے۔
    وہ سوچ میں پڑی پھر مڑ کر بند دروازوں کو گھورا۔
    یہ بڑے بڑے گھوڑے بد تمیزی کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی نہیں کوئی بڑا سامنے کھڑا ۔۔ذیادہ نہ سہی تھوڑی سی تو بڑی ہوں میں۔ تھوڑا سا ہی لحاظ کر لیتے۔
    اسکا جتنی رفتار سے منہ چل رہا تھا اتنی ہی رفتار سے زبان بھی۔
    واعظہ کہاں ہے۔ ؟ اسے پورے جملے میں بس واعظہ ہی سمجھ آیا۔ سو اسی کی بابت سوال کیا فاطمہ چونکی پھر سنبھل کر انگریزی میں بتایا۔
    وہ نور کی طبیعت خراب ہوگئ تو عروج اور واعظہ اسپتال گئی ہیں۔
    کیا ہوا اسے؟ وہ چمچ چھوڑ بیٹھا
    ٹھیک ہے بس شائد بی پی لو ہوگیا یا کیا بے ہوش ہو گئ تھی۔ وہ بروقت اسپتال لے گئے تھے۔ اسکی حالت تشویش ناک نہیں تھی مگر وہ بے ہوشی میں کچھ بول رہی تھی جس میں انہیں یہی سمجھ آیا کہ اپنوں کو بلا رہی ہے سو ۔۔
    فاطمہ کو اسکا انداز تھوڑا عجیب لگا۔ اتنا پریشان کیوں؟۔ لیکن اسکی تسلی کو تفصیل سے بتایا۔۔
    واعظہ سے بات ہوئئ؟ ۔اس نے چمچ ابھی بھی نہیں اٹھایا تھا
    ہاں وہ کہہ رہی تھی ابھی ہوش میں نہیں اسکی نفساتئ دبائو کی وجہ سے طبیعت خرا ب ہوئی تھی۔ سو اسکو نیند آور دوا دے کر سلایا ہوا ہے۔
    فاطمہ کے بتانے پر شائد کچھ تسلی ہوئی تھی اسے۔ سو سر ہلاتا آرام سے کھانا کھانے لگا
    بات سنو۔ وہ میری سے تعلق ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے تمہارا؟ ۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا ۔
    سیہون نے جواب نہیں دیا خاموشی سے کھانا کھاتا رہا
    وہ کوئی میرج انشورنس والے آئے تھے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ تم کب موجود ہوگے۔
    اس نے بتانا شروع کیا سیہون کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ۔سخت متوحش سا ہو اٹھا
    تم نے بتادیا تم میری بیوی ہو؟
    اسکا ردعمل غیر متوقع تو نہیں مگر جارحانہ لگا پہلے تو سوچا مکر جائے مگر پھرسوچا کیا اکھاڑ لے گا غصے میں سو ڈرتے ڈرتے سچ بول ہی دیا
    آہ آں ۔ہاں۔ مجھے لگا وہ این جی او والے ہیں۔
    ہائش ۔۔ وہ جیسے سرپکڑ کر رہ گیا۔
    کیا ہوا؟ کچھ غلط ہو گیا۔کیا
    وہ ہمدردی سے اسکی جانب تھوڑا رازداری سے جھک کر بولئ
    ہاف۔ وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    آندے۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ وہ خالی پلیٹ لیکر اٹھ گیا۔۔
    میرج انشورنس کیا بلا ہے؟ تم نے اور میری نے تو شادی ہی نہیں کی نا؟ تو انشورنس کیسی؟
    اسے سچ مچ تجسس ہو رہا تھا ۔ سیہون سنک میں اپنی پلیٹ اور چمچ دھو رہا تھا وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھاتی اسکے پاس چلی آئی۔
    ہم پچھلے چار سال سے ایک بانڈ بھر رہے تھے جس کے مطابق جب ہم شادی کرتے تو ہمیں شادی کے اخراجات کیلئے ایک معقول رقم ساتھ ایک تحفتا ہنی مون پلان ملنا تھا۔ اگر ہم ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ سیہون کو اتنا تو اسکے بارے میں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ جواب لیئے بنا ٹلے گی نہیں سو بتانے لگا
    کمیٹی ڈال رہے تھے شادی کیلئے۔
    اس نے سمجھ کر سر ہلایا
    ہمارے یہاں یہ کام امیاں کرتی ہیں ۔ جب سے پیدا ہوتی ہیں لڑکیاں۔۔۔ انکے لیئے جوڑ توڑ شروع اور شادی کیلئے چیزیں جمع کرتی ہیں۔پھر کمیٹی کھل جائے تو شادی کے اخراجات اسی سےپورے ہوتے۔ میرا خیال ہے سب ایشیائی ممالک ایک جیسے ہی ہیں۔میری امی نے میرے لیئے اتنا سونا جمع کر رکھا تھا کہ بس ایک اسی وجہ سے کبھی کبھی میرا بھی شادی کرنے کا دل کر ہی جاتا تھا۔
    وہ علامہ بن کر تقریر جھاڑتی کافی میکر میں کافی بنانے لگی۔
    کافی پیئوگے؟ اس سے بھی پوچھ لیا۔اس نے سر اثبات میں ہلایا تو وہ اسکیلیئے بھی کافی بنانے لگی۔ سیہون نے اسکی استعمال شدہ پلیٹ بھی دھونے کی نیت سے اٹھا لی
    تم لوگوں کے ہاں لڑکیوں کی شادی کا خرچ والدین اٹھاتے ہیں۔؟
    اس نے یوں سوال کیا جیسے یہ کوئی انوکھی بات ہو۔
    ہاں۔ اس نے آرام سے کہا۔ یہاں بھی میں نے ڈراموں میں دیکھا والدین شادیاں کرواتے ہیں خرچ اٹھاتے وہاں بھی ایسا ہی ہوتا۔
    اگر والدین ہوں تو نا۔ سیہون نے ہاتھ دھو کر ٹوٹی بند کی پھر پیپر ٹاول اٹھا کر ہاتھ خشک کرنے لگا
    مطلب؟ اسے بات سمجھ نہ آئی
    میری کے والدین نہیں ہیں۔وہ یتیم خانے میں پلی بڑھی ہے جبھی اپنی شادی کیلئے سارے اخراجات اٹھانے کیلئے اس نے انشورنس کرارکھی تھی۔
    تو کلیم کروا کر تم سے شادی کیوں نہیں کی؟ اسے انکے رشتے کے ختم ہونے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
    سیہون نے گہری سانس لی
    ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد ۔۔۔۔ جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 23

    قسط 23
    اپنی جماعت میں تھکے تھکے قدم اٹھاتئ وہ سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئ تھی۔ عید کا جوڑا پہن رکھا تھا مگر اوپر بڑا سا کالا عبایا اور نقاب۔ بس ہاتھ پر لگی مہندی کا رنگ خوب جم کر آیا تھا۔ وہ اسی کو غور سے دیکھنے لگی۔ کوریائی طرز کا شہتیروں والا گھر ساتھ چیری بلاسم کا بڑا سا درخت چھوٹئ سی پگڈنڈی جو کلائی تک آرہی تھی بکھرے پتوں سے سجی تھی۔
    سرخ رنگ سے سجے اس لینڈ اسکیپ پر کسی کا ہنر زوروں پر تھا۔
    بورنگ عید ؟ اس نے گہری سانس لیکر سوچا۔
    تبھئ اسکے سامنے جاپانی ڈمپلنگز کا ٹفن پیک لہرایا۔
    اس نے چونک کر سر اٹھایا تو اسکی واحد جاپانی سہیلی یوگوائے اسے مسکرا کر کہہ رہی تھی
    عید مبارک عزہ۔
    وہ بے ساختہ اٹھ کر اسکے گلے لگ گئ تھی۔
    ………………..۔
    دس بجے اسکی آنکھ کھلی تھی۔انگڑائی لیکر اٹھی تو کمرہ خالی تھا۔ سستی سے چپل گھسیٹتی باہر نکلی تو فاطمہ اپنے بالوں کا جوڑا بنائے چولہے کے پاس کھڑی نظر آئی۔ تھپ تھپ پراٹھا بنانے میں مصروف آہٹ پر مڑ کر دیکھا تو جھٹ کام بتا دیا
    اٹھ گئیں یار واعظہ چائے میں پتی ڈال دو۔
    اسکا منہ بن گیا۔ جانے کونسی منحوس گھڑی اچھی چائے بنادی۔ زندگئ بھر کیلئے چائے پر اسکا نام لکھ گیا تھا۔ نہ کسی اور کو نہ ہی خود کو کسی اور کے ہاتھ کی چائے پسند آتی تھئ۔
    یہ لوگ چلی گئیں۔ ؟ وہ منہ بناتے دھپ دھپ کرتی آئی چائے کا ڈبہ اٹھا کر چمچ بھر بھر کر پتی جھونک دی۔
    اوئے یہ ڈبہ مہینہ بھر چلانا تھا میں نے۔ وہ چیخ ہی توپڑی
    اب نہیں چل پائے گا جلدی ختم ہو جائے گا۔
    واعظہ اطمینان سے بولی تو وہ اسے بیلن مارتے مارتے رہ گئ۔
    سیہون نوکری پر گیا ہوا۔الف عشنا اور عزہ یونیورسٹی گئ ہیں۔ صبح تیار ہوتے کتنا تو شور کیا جگا کے دم لیا مجھے سر میں درد ہوگیا تب سے۔
    وہ باقائدہ جمائی لیتے ہوئے بولی۔
    عروج کہاں ہے۔ اس نے آملیٹ کیلئے پیاز کاٹتے ہوئے پوچھا۔
    ٹیرس پر ۔۔ فاطمہ نے منہ بنایا۔ جب سے اٹھی ہے فون پر لگی ہے اسے کہا تھا کہ آملیٹ بنا دے۔
    گھر بات کر رہی ہوگی عید کا دن ہے۔ واعظہ نے لاپروائی سے کہا تو وہ تپ کر بولی
    ہنگل میں لگی ہوئی ہے۔ اسکے گھر کونسا کورین پیدا ہوگیا ہے۔ پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھا مڑ کر دیکھا تو واعظہ ہاتھ روکے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔
    اسکے دیکھنے پر فاطمہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
    دونوں نے پھراکٹھے دوڑ لگائی ۔ ٹیرس کا گلاس ڈور بند تھا اسے دھیرے سے کھول کر دونوں کے صرف سر درز سے باہر نکلے۔۔ باہر ٹہلتے ہوئے عروج بہت خوشگوار انداز میں کسی سے مخاطب تھی۔
    ہاں۔۔ نہیں۔ بس یہاں کیسی عید شائد شام کو کسی پبلک پارک میں گھومنے جائیں۔ ہاں۔ نہیں پاکستان میں تو سب رشتے دار ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں۔ ہاں۔ ہاں۔ سب سے مزاتب آتا جب۔
    پلٹتے ہوئے ادھ کھلے گلاس ڈور سے لٹکتے دو سروں پر نگاہ پڑی تو آواز حلق میں گھٹ سی گئ ۔بلکہ ہلکی پھلکی چیخ نما بے معنی آواز بھی نکلی دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
    دوسری جانب سیونگ رو چونکا
    کیا ہوا خیریت۔
    دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی اس نے منہ ہی منہ میں دونوں کو گالیاں دیں۔
    آہاں۔ وہ ناشتے کا وقت ہو چلا تو ذرا کھا پی لوں بعد میں بات کرتی ہوں۔ سنبھل کر خدا حافظ کہہ کر فون بند کرکے وہ تن فن کرتی انکے پاس آئی
    سیدھے طریقے سے باہر نکل آتیں دہلا دیا دو سر لٹک رہے ہیں بس۔
    کون تھا؟
    دونوں کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ زرا جو بدمزا ہوئیں ہوں آکٹھے کورس میں دریافت کیا۔
    سیونگ رو تھا۔ وہ چلبلا کر دروازہ پورا کھولتی اندر چلی آئی۔ دونوں سیدھی ہوئیں ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔
    عید کے دن سیونگ رو ۔ یعنی ڈبل عید۔ ڈبل خوشی۔
    واعظہ نے شرارت سے اسکو قریب آکر کندھا مارا۔
    واہ جی۔ فاطمہ کیوں پیچھے رہتی دوسرا کندھا اسکا ہوا
    یہ کب ہوا کیسے ہوا؟؟؟ ہمم بولو
    اوفوہ۔ وہ مصنوعی جھلائی دونوں کو اپنے کندھوں سے جھٹکا پھر بے نیازی سے بولی۔
    ہم اچھے کولیگ ہیں عید کا تہوار آیا تو مبارکباد کیلئے اس نے فون کر دیا ذیادہ اپنے ننھے دماغوں پر زور نہ ڈالو گھس جائیں گے۔ ابھی عمر پڑی ہے انکو رگڑنے کیلئے۔
    وہ سیدھا آملیٹ بنانے اسٹو کی جانب بڑھ گئ تھی۔ واعظہ پیاز کاٹ چکی تھی فاطمہ نے انڈے پھینٹ رکھے تھے۔ سو آرام سے آملیٹ بنانے لگی۔
    بس زبانی عید مبارک۔۔واعظہ نے منہ بنایا پھر شرارت سے گنگنانے لگی۔
    عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیئے۔
    عروج نے بنا لحاظ کائونٹر سے اںڈا ہی اٹھا کر اسے دے مارا۔ وہ ہنستے ہنستے بس لمحہ بھر کی جھکائی دے گئ انڈا فاطمہ اور اسکے درمیان پھٹ سے زمین پر آگرا
    عروج کی۔بچی یہ تم ہی صاف کروگی۔ فاطمہ بھنائی۔ آخر ان سب کے جانے کے بعد گھر اسکی ہی۔ذمہ داری بننا تھا
    ہے جن نہیں اٹھا ابھی۔؟ واعظہ کے کہنے کی دیر تھئ کمرے کا دروازہ کھلا ہے جن تولیہ سے بال رگڑتا برآمد ہوا۔ اپنی دھن میں چلتا ہوا آیا۔ تولیہ کندھے پر رکھ کر گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بے نیازی سے کچن میں چلا آیا۔
    آننیانگ ۔ کائونٹر سے جگ اٹھایا گلاس میں پانی بھرا گلاس اٹھا کر منہ کو لگانے لگا تو دیکھا منظر تو ساکت ہوا وا ہے
    چولہے پر فرائی پین میں انڈہ سلگنے کو آیا تو عروج نے چونک کر نگاہ کئ فاطمہ ہاٹ پاٹ اٹھائے کائونٹر پر رکھنا بھول گئ تھی اور واعظہ اطمینان سے کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے اسٹول پر بیٹھئ باقائدہ منہ کھولےاسے دیکھ رہی۔تھی۔
    کیا ہوا؟۔ اس نے سٹپٹا کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    یار یہ تو اوپا انڈر پراسس ہے۔
    فاطمہ کے ہونٹ وائو کے انداز میں گول ہوئے تھے پھر جھٹ ہوش میں آتے بیان داغا
    ہاں یار کچھ ذیادہ ہی۔حسین لگ رہا ہے یہ تو۔
    عروج آملیٹ پلیٹ میں نکالنے لگی اب واعظہ کے ردعمل کی باری تھئ۔
    وہ گڑبڑا اٹھا۔بے چارگی سے واعظہ کو دیکھنے لگا
    کیا ہوا نونا کچھ غلط کر لیا میں نے اسے ایسے ہی نہیں پہنتے؟
    ایسے ہی یہاں کھڑے رہنا۔
    واعظہ کا کھلا منہ یہ کہہ کر بند ہوا اسے تاکید کرتی وہ سیدھا اٹھ کر کمرے میں گھس گئ۔
    وہ سوالیہ نگاہوں سے عروج اور فاطمہ کو دیکھنے لگا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
    فاطمہ چائے کے کپ لا کر میز پر رکھ رہی تھی جب اسکی واپسی ہوئی۔
    سنجیدگی سے ہے جن کی جانب بڑھی۔ وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا
    اس نے آگے بڑھ کر سات مرتبہ اسکی نوٹ اسکے اوپر سے وارے۔۔
    طوبی کے بنائے کرتے پاجامے میں اسکا گورا رنگ دمک رہا تھا ۔لمبا قد مزید نمایاں ہو رہا تھا آج خالص کوریائی بالوں کا انداز بنانے کی بجائے اس نے ایک جانب مانگ کر لی تھی گھنے چمکیلے سیاہ بال محض انگلیوں کے اشارے پر سج گئے تھے۔
    یہ عیدی ہے؟۔
    اس نے پیسے لینے کو ہاتھ بڑھائے۔مگر واعظہ منہ ہی منہ میں ابھی کچھ پڑھ رہی تھی۔
    عروج اور فاطمہ ہنس دیں۔
    نظر اتار رہی ہے تمہاری۔یہ پیسے کسی غریب کو دینے ہونگے۔ عروج نے ہنس کر کہا۔ تو وہ جیسے سمجھ کر سر ہلانے لگا۔
    واعظہ نے معوذتین پڑھ کر اسکی پیشانی پر پھونک ماری۔
    ماشا اللہ بہت جچ رہے ہو تم۔ اس نے کھلے دل سے تعریف کی تو وہ جھینپ سا گیا
    اب اسے بھائی کہنا مشکل لگ رہا مجھے ۔۔پانچ چھے سال ہی چھوٹا ہوگا یہ ہم۔سے ہے نا۔
    یہ فاطمہ۔تھی۔۔ اسکی لن ترانی پر واعظہ اور عروج دونوں نے گھورا۔
    دے نونا؟ ہے جن کو اسکی۔تعریف کا بھی ترجمہ۔چاہیئے تھا۔
    چلو ناشتہ کرو پھر ہم طوبی سے ملنے جائیں گے تیار ہوکے۔ تیار ہونے کے بعد پھر عیدی دوںگئ تمہیں۔
    پھونک پھانک کر واعظہ نے جواب دیا تو وہ سر ہلانے لگا۔ ۔
    بالکل ہم عید کو بھرپور طریقے سے منائیں گے۔
    فاطمہ نے عزم کیا
    …………………………………
    ڈیڑھ بجے کا وقت تھا وہ ایک بجے ہی اس فین میٹنگ کیلئے مخصوص کیئے گئے ہال میں پہنچ چکی تھی۔ شور کرتی لڑکیاں پرجوش سے لڑکے۔ بینرز پلے کارڈ ہیومن پوسٹرز اٹھائے تھے۔ لی من ہو کے قد آدم اسٹینڈز سج رہے تھے۔
    دو لڑکیاں کے ایف سی کے برگر اٹھائے زور زور سے بولتی اسکے پاس سے گزریں تو وہ چونک کر دیکھنے لگی۔
    کتنا عرصہ ہو چکا تھا اسے اپنی پسند کا کچھ کھائے۔ بچت بچت۔ ایک ایک پیسہ دانتوں سے خرچ کرکے جوڑا تھا۔
    لی من ہو کیلئے برانڈڈ ٹی شرٹ اسکی پورے مہینے کے اوور ٹائم اور کئی مہینوں کی۔بچت ٹھکانے لگا گئ تھئ۔ ایک بوکے بس۔ اپنے لیئے شرٹ سائن کروانا چاہتی تھی مگر اپنے لیئے پیسے بچے ہی نہیں۔
    لاکھوں پرستاروں میں سے ایک ہوں میں۔ اس نے اپنے گرد اس جمع غفیر کو چور نظروں سے دیکھا۔
    فاطمہ بھی تو کچھ ایسا ہی بتا رہی تھی۔
    اسکا ہیولہ اسکے آس پاس ہی کہیں تھا۔ اس نے سر جھٹکا۔
    عید کا دن اپنے پسندیدہ ستارے کے ساتھ گزاروں گی اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی۔۔
    بوکے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی خوشبو محسوس کرتے اس نے سوچا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے گہری سانس لیکر ریڈیو کی عمارت کو دیکھا۔
    شو تو شام کو تھا مگر بلاوا ابھی آچکا تھا اسکا اور شائد ژیہانگ کا بھی۔وہ سرجھٹک کر اندر بڑھ گئ۔
    انکا اسٹوڈیو خالی تھا بس ژیہانگ بیٹھا موبائل میں لگا ہوا تھا۔
    اسکے سامنے خشک میوہ جات کیریمل میں لپٹے پڑے تھے خاص چینی سوغات۔ اس نے ایک بار یہیں سے خرید کر کھائے تھے۔
    اسلام و علیکم۔ وہ روانی میں کہتی اپنا بیگ زمین پر رکھنے لگئ۔ ژیہانگ سے چونک کر سر اٹھایا پھر دھیمی سی مسکراہٹ سے اس سے بولا
    عید مبارک۔ یہ لو کھائو۔۔
    اس نے حسب توقع وہ پلیٹ تھوڑی سی اسکی جانب کھسکا دی تھئ۔
    الف اپنی نشست سنبھال رہی تھی جب اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔ وہ جواب دینا ہی بھول گئ۔ اور پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانا بھئ
    تبھئ پروڈیوسر صاحب حسب معمول افراتفریح میں اسٹوڈیو میں داخل ہوئے ایک پلندہ لا کر اسے اور ژیہانگ کے سامنے میز پر لا رکھا۔۔
    یہ گو تھرو کر لو تم دونوں اچھی طرح۔
    وہ دونوں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے رہ گئے۔
    گو تھرو؟ اس پر تو ریسرچ پیپر لکھنا بھی کم۔پڑے۔۔
    اس نے حجم کا اندازہ لگانا چاہا۔
    یہ کیا ہے۔ دونوں کے منہ سے اکٹھا نکلا۔
    یہ ہیں وہ ٹاپ سرمایہ کار جن کو ہم نے گھیرنا ہے۔ ایس بی ایس ایسے ہی تو نہیں کوریا کا نمبر ون میڈیا نیٹ ورک ہے۔ دنیا جہان سے سرمایہ کار آئیں گے۔ اگر کوئی ایک بھی ہم نے گھیر لیا تو کم ازکم سال بھر کی فرصت ہوگی یہ شو کوئئ مائئ کا لعل بند نہیں کراسکے گا۔
    وہ فخریہ بولے۔
    پر یہ ہے کیا۔
    ژیہانگ نے ایک چھوٹا پلندہ اٹھا کر اسے کھول کر دیکھنا شروع کیا جبکہ الف نے اتنی محنت کی بجائے سیدھا پوچھنا بہتر سمجھا
    یہ مشہور کمپنیوں کی مارکیٹنگ کی ترجیحآت ہیں۔ جیسے یہ
    سوجو برانڈ دیکھ لو اس برانڈ نے بڑے بڑے سیلیبریٹیز کو ہمیشہ ہائر کیا ہے۔ انکی ترجیحات میں ان سیلیبریٹیز کے تمام انٹرویو شوز ہوتے ہیں۔ یعنی ہم نے سیہون کو بلایا تو اگر سیہون انکا کبھی اشتہار کر چکا ہے تو وہ ہمارے شو میں جب جب سیہون آئے گا اشتہار دیں گے۔
    انہوں نے تفصیل سے سمجھانا چاہا
    تو کیا سیہون نے انکا کبھی اشتہار کیا ہے۔
    الف کو لگا تھا اسکا سوال بنتا تھا یہاں۔
    اوہو نہیں کیا مگر کر تو سکتا ہے۔وہ جھلائے
    ہم یہ تفصیلات کا کریں گے کیا؟ الف ان سے زیادہ جھلائی
    بھئ وہاں جا کر اسپانسرز گھیرنا بتانا کہ تم۔لوگوں کے شو میں بڑے بڑے سیلیبریٹیز آتے ہیں ۔اور قسمت مزید یاوری کر گئ کہ اگر تم دونوں میں سے ایک بھی انکا برانڈ ایمبیسیڈر بن گیا تو ہمارے تو وارے نیارے ہونگے تمہاری بھی زندگئ بدل جانی ہے۔
    انکو بچوں کی۔طرح سمجھانا پڑ رہا تھا
    ایک سیہون ہی آیا ہے بے چارہ وہ بھی جانے کیسے۔
    وہ بڑ بڑا کر پلندہ اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اتنی سی دیر میں ژیہانگ چار چھوٹے پلندے ایک طرف کر چکا تھا۔ اس نے جتنی دیر میں پلندہ الٹ پلٹ کیا وہ باقی سب بھی چھانٹ چکا تھا
    اب الف کے ہاتھ سے وائن برانڈ کی۔تفصیلات کا پلندہ کھینچ کر دیکھنے لگا۔ اس نے بدمزا ہو کر دیکھا اسے۔ ژیہانگ نے الٹ پلٹ کرکے اس فائل کو الگ رکھ دیا۔ میز پر دو ڈھیریاں۔بن چکی تھیں۔ ایک بڑی اور ایک چھوٹی سی
    یہ تم نے ترجیحی برانڈ الگ کیئے ہیں؟
    پروڈیوسر صاحب نے اسکی تیزی کو کافی پسندیدہ نگاہ سے دیکھا۔
    نہیں یہ بڑی ڈھیری تمام شراب اورحرام کھانے کے برانڈز ہیں جن کی اسپانسرشپ مجھے مل بھی رہی ہو تو میں نہیں کروں گا۔
    اس نے اطمینان سے کہا ۔تو پروڈیوسر اور الف دونوں کی آنکھیں جیسے ابلنے کو آگئیں
    اتنئ بڑئ حماقت ارے سب سے ذیادہ پیسے انہی برانڈز سے ملتے احمق۔
    وہ جھلائے
    میں نے آپکو شو کا حصہ بننے سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ میں شراب کی تشہیر نہیں کر سکتا ورنہ یہ سوجو برانڈ تو تب بھی ہمارے شو کو اسپانسر کر ہی رہا تھا۔ آپ نے میری اجازت بنا جو اسکی تشہیر میں میرا نام استعمال کیا اس پر میں ہرجانے کا دعوی بھی کر سکتا ہوں
    ژیہانگ کا انداز قطعی تھا۔
    اتنے بھی انتہا پسند نہ بنو۔
    وہ گڑ بڑائے۔ ہاں تو۔ کبھی اسٹوڈیو میں دیکھا تم نے ؟ شراب کا کارٹن ۔ تم لوگوں کیلئے جو تحفتا بھجواتے تھے اسکو میں دیگر میں بانٹ دیتا تھا۔ ابھئ بھئ ایسا ہی ہوگا پتہ بھی نہیں چلے گا تم دونوں کو مگر ہماری روزی پر تو لات نہ مارو نا۔
    انکا انداز ملتجی ہوا۔
    جو انجانے میں ہوا اسکی تو نہیں لیکن اب سے آگے میں اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اگر تو آپکو منظور تو ٹھیک ہے نہیں تو میں اس شو کو چھوڑ دیتا ہوں۔
    ژیہانگ قطعی سے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا تو پروڈیوسر کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے۔ الف بالکل خاموشی سے دونوں کو بحث کرتا دیکھ رہی تھی
    اچھا اچھا۔ خفا نہ ہو۔ اچھا یہ بتائو لوہن سے بات ہوئی تمہاری۔؟ وہ کب آرہا ہے کوریا؟ ہمیں وقت دے گا؟
    انہوں نے بات بدل ڈالی
    ابھی تو ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف ہے سویٹ کومبیٹ نام ہے۔ اسکے بعد ہی فرصت ملے گی اسے کبھی۔ میں نے بات کی ہے اس سے اگر بیچ میں کوریا کا چکر لگا تو ہمارے شو میں ضرور آئے گا۔
    ژیہانگ انکے انداز پر آنکو مزید تنگ نہ کرتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا۔
    چلو جب مرضی۔ سوہو بھی ڈرامے میں مصروف ہے ۔لیکن ہے تو کوریا میں اس سے بات کرکے دیکھنا۔ یہ پلندہ میں لے جاتا ہوں۔
    وہ اسکے مسترد شدہ پلندے کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    تم لوگ بقیہ برانڈز کو آپس میں ڈسکس کرلو۔
    وہ جاتے جاتے بھی ملتجی انداز میں تاکید کر گئے۔
    ژیہانگ سر ہلا کر واقعی ان پلندوں کو چھانٹنے بیٹھ گیا۔ کاغذ الٹ پلٹ کرتے یونہی اسے نظروں کا احساس ہوا تو سر اٹھایا۔ الف بالکل سامنے بیٹھی گھور رہی تھی۔
    کیا ہوا؟ اس نے چونک کر پوچھا؟
    تم نے مجھے عید مبارک کہا۔۔
    اسکا انداز تفتیشی تھا۔۔
    ہاں تو کیا عید نہیں آج؟۔ وہ گڑبڑایا۔
    یہاں بھی کوئی پوپلزئی پیدا ہواگیا کیا کہ۔آدھوں کی آج آدھوں کی کل عید ہو۔۔
    وہ اس بار چینی میں بڑ بڑایا۔
    تم نے کرتا پاجامہ پہن رکھا ہے۔۔
    اس نے جیسے الزام دیا۔
    ژیہانگ سیدھا ہو بیٹھا۔ نیوی بلو کرتا سفید پاجامہ وہ بھی حیدر آبادئ طرز کا۔ پہلی بار پہنا تھا ایک ہندوستانی بوتیک سے لیکر وہ بھی آنلائن اسے کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔ کارٹون لگ رہا ہوں کیا۔ وہ گڑبڑایا۔پھر خود ہی کہنے لگا۔
    صحیح نہیں فٹنگ نا؟ مجھے بھی ڈھیلا لگ رہا ہے۔ اس نے خوب چوڑے پائنچے والے پاجامے کو بلا وجہ ٹھیک کیا۔
    شراب اور حرام اشیاء سے کیا مراد ہے۔ وہ گھور رہی تھی۔
    تم لوگ تو کتے بھی کھا جاتے ہو؟ ہے نا۔
    لاحول ولا۔۔۔ وہ سٹپٹا گیا۔
    بھئی میں نہیں کھاتا۔ ہم نہیں کھاتے بلکہ کوئی مسلمان نہیں کھاتا۔احمق لڑکی۔
    تو تم مسلمان ہو۔ وہ بھونچکا سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آہاں ۔ میں مسلمان ہوں۔ وہ بے چارہ بھی گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔
    مگر تم تو چینی ہو۔ وہ یقین کرنا بھی چاہ رہی تھی نہیں بھی۔
    ژیہانگ اسکے ردعمل پرمسکرا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔لی من ہو کے چہرے پر ایک تکلفاتی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی آگے کوئی لڑکا بیٹھا ہو لڑکی یا کوئی جنگلی جانور۔ بس مسکرا کر آننیانگ کہتا۔ سیلفی بنواتا۔ پوسٹر سائن کرتا اور سلیقے سے آگے بڑھ جانے کا اشارہ کر دیتا۔
    اسکی باری آئی تو وہی مسکراہٹ وہی انداز۔
    اس نے لمبی تقریر یاد کر رکھی تھی۔
    میں آپکی بہت بڑی پرستار ہوں۔ سٹی ہنٹر میرا پسندیدہ ترین اور اب لیجنڈ آف بلو سی بھی۔ اور۔
    ذہن صفا چٹ ہو گیا۔ انگریزی اردو سب غارت۔
    لی من ہو اسکی کیفیت سمجھ کر زور سے ہنسا تھا۔
    اس نے خجل ہو کر شرٹ اسکی جانب بڑھا دی۔ جس کو اس نے سائن کر کے واپس کردیا۔
    یہ آپکے لیئے ہے۔ وہ بمشکل سمجھا پائی۔
    واقعی؟ وہ حیران سا ہوا تھا۔بغور شرٹ دیکھی اسکا برانڈ دیکھا۔ پھر باقائدہ اٹھ کر آدھا جھک کر اسکا شکریہ ادا کیا۔
    گھمسامنیدہ۔
    لی من ہو کی نگاہیں اس پر جمی تھیں اور وہ بس کسی اور جہاں پہنچ گئ تھی۔ کاش وقت یہیں تھم جائے اور۔
    اسکے دل نے بے ساختہ خواہش کی۔
    جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔اچھی عید تھی۔
    ……………………………………
    جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔تکلیف دہ عید تھی۔ بیرک کی دیوار سے ٹیک لگائے وہ صبح سے بھوکی پیاسی بیٹھی تھی۔ ناشتے میں عید کے دن سویوں کی بجائے چاول کمچی اور عجیب گوشت کا ملغوبہ آیا تھا۔ اس نے یونہی آہجومہ سے پوچھا
    یہ کونسا گوشت ہے۔
    پورک۔ منہ بھر کر بمشکل کھاتے آہجومہ نے جواب دیا۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔
    جانے یہ سزا کیوں ملی تھی اسے۔
    دوپہر میں بلیک بین نوڈلز آئے تھے ۔ ان کالے سیاہ نوڈلز کو جنکو کھانے سے آہجومہ کی زبان بھی کالی ہو چلی تھی اسے ذرا اشتہا محسوس نہیں ہوئی۔
    یہ کھا کیوں نہیں رہی ہے۔ حوالدارنی نے آہجومہ سے ہی پوچھا تھا۔
    یہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتی نہ پیتی ہے شام کو جب باہر کھڑکی سے اندھیرا پھیلتا ہے تب پانی پیتی ہے مجھے تو لگتا یے کوئی چلہ کاٹ رہی ہے۔ آہجومہ پلیٹ سمیت اٹھ کر حوالدارنئ کے کان میں گھس گئ تھیں۔ وہ تو بھلا وہ درمیان میں سلاخوں کا کہ سچ مچ نہیں گھس پائی۔
    کالا جادو۔ اس نے اندازہ لگایا۔
    شائد۔ آہجومہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
    لیکن اس جادو کا اثر نہیں ہو سکتا مجھ پر ایک مشہور بدھمتی راہبہ سے لیکر میں نے تعویز پہن رکھا ہے۔ حوالدارنی نے خوفزدہ نگاہوں سے نور کو دیکھتے ہوئے گلے میں لٹکتے تعویذ کو مٹھی میں بھر کر خود کو تسلی دے رہی تھی
    مگر میں نے سنا ہے کالے جادو کا کوئی توڑ نہیں ایسے تعویذ بھاپ بنا کے اڑا دیتا ہے کالا جادو۔
    آہجومہ نے اسکا اطمینان اطمینان سے غارت کیا۔
    دیکھو کہاں جا رہی۔ہے۔۔
    نور لڑکھڑاتے قدموں سے اپنی جگہ سے اٹھی رخ سیدھا روشندان والی دیوار کی جانب تھا دونوں نے دم سادھ لیا۔
    وہ جھکی۔ انکی سانسیں تھمیں۔ جھک کر کولر سےگلاس میں پانی لیا۔ واپس پلٹی
    ان دونوں پر اچٹتی نگاہ ڈالی۔ دونوں اسکی سرخ انگارہ آنکھوں سے مزید خوفزدہ ہو گئیں
    سنو میں جیل سپریٹنڈنٹ کو بتائوں؟
    حوالدارنی نے آہجومہ سے جیسے اجازت چاہی
    مجھے پانی کی بوتل لا کر دو پہلے میں اب اس کولر سے پانی نہیں پی سکتی
    حوالدارنی کے منہ پر آہجمومہ نے ڈکار لی۔ حوالدارنی نے گھور کر دیکھا۔
    نور اپنے بنچ کی جانب بڑھتے ایک بار پھر لہرائی ۔ گلاس اسکے ہاتھ سے چھوٹا یہاں وہاں پانی پھیلتا گیا اور نور بھی۔ وہیں کھڑے قد سے نیچے آرہی۔
    ………………………………………………۔۔۔۔۔۔
    عید مبارک ۔ وہ پھولوں کا بکے اور کیک لیکر طوبی کے گھر آئے تھے دروازہ طوبی نے ہی کھولا۔
    ہلکے سبز پشواز کی فراک میں ملبوس طوبی نکھری نکھری تیار سی سامنے کھڑی تھی۔ انہیں دیکھ کر اسکی جیسے خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔
    الف۔ عروج اور واعظہ کیوں نہیں آئیں اور عشنا میں نے کہا بھی تھا سب آنا مل کر عید منائیں گے۔
    وہ پیار بھرا شکوہ کر رہی تھی۔
    وہ۔ عزہ نے بتانا چاہا مگر فاطمہ نے اسکا ہاتھ دبا کر روک دیا
    وہ عروج ہاسپٹل گئ ہوئی ہے ، واعظہ بھی ساتھ ہے عشنا کی آج فین میٹنگ تھی لی من ہو کی۔ اس کیلئے عید کا لطف دوبالا ہوچکا پہلے ہی الف کا آج شو ہے۔
    اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی طوبی مطمئن ہوئی کہ نہیں سر البتہ ہلا دیا پھر
    عزہ فاطمہ ہے جن وہ باری باری سب سے گلے ملی۔
    ہے جن کو تو دیکھتے ہی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں۔
    کتنا وجیہہ لگ رہا ہے میرا بھائی ماشا اللہ
    عبایا اتار کر مجھے اپنا ڈریس دکھائو۔
    اس نے بڑی بہنوں والے رعب سے عزہ سے کہا تو وہ ہنس کر عبایا اتارنے لگی
    ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ اس نے بے ساختہ دوبارہ عزہ کو گلے لگا لیا۔
    اور میں آپی۔
    ہے جن بھی اسکے کندھے پر جھول گیا۔
    فاطمہ نے بے ساختہ ہونٹوں پر زبان پھیری۔
    یہ بہن بھائیوں کی تکون چلنے ہی دینی چاہیئے جانے طوبی کا ردعمل کیسا ہو سچائی جان کر۔۔۔اس نے سوچا تبھی واعظہ اسکے کندھے کے پاس سے نمودار ہوئی
    تمہاری ذمہ داری ہے طوبی کی غلط فہمی دور کرنا ۔ ہےجن بہت پریشان ہے ہمیں اسکی مدد کرنی چاہیئے اس بچے کے ایک چھوٹے سے جھوٹ کی اسکو کافی کڑی سزا مل رہی ہے اب بس یہ ڈرامہ ختم ہو جانا چاہیئے۔
    فاطمہ نے اثبات میں سر ہلایا تو واعظہ غائب ہوگئ تھی۔
    بہت پیارے ماشا اللہ سے میرے دونوں بہن بھائی حسین لگ رہے ہیںمیں ابھی نظر اتارتی ہوں تم دونوں کی۔ وہ محبت سے کہتی جھپاک سے کچن میں گھس گئ۔
    بچیاں جھلمل فراک اور چوڑی دار پاجامے میں شرمائی شرمائی سی آکر عید ملنے لگیں تو ننھا شہزادہ چھوٹے سے کرتے پاجامے میں ملبوس پرام میں بیٹھا۔انگوٹھا چوس رہا تھا۔ عزہ نے جھکر پیار سے اسکے گال پر چٹکی بھری
    دلاور بھائی کہاں ہیں۔ عزہ نے پوچھا تھا۔
    ادھر کمرے میں۔ چلے جائو جاگ رہے ہیں
    اس نے اوپن کچن سے اشارہ کیا تو وہ تینوں کمرے میں چلے آئے۔۔
    دلاور بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھے سیویاں کھا رہے تھے۔
    انہیں دیکھ کر فورا خیر سگالی انداز میں مسکرا کر اٹھنا چاہا تو ہے جن جھٹ آگے بڑھ کر انہیں سہارا دینے لگا
    بیٹھے رہیئے دلاور بھائئ۔ معزرت ہم پہلے آپکی طبیعت پوچھنے نہ آسکے ۔ فاطمہ نے شرمندہ سے انداز میں معزرت کی۔
    ارے کوئی بڑی بات نہیں معمولی سی چک آئی تھی اب تو کافی ٹھیک ہوں میں۔
    انہوں نے مسکرا کر کہا۔
    طوبی بچوں کیلئے سویاں۔ انکی بات منہ میں ہی تھی کہ طوبی فرائی پین اٹھائے چلی آئی۔
    لال لال مرچیں جلا کر وہ ہے جن کی نظر اتارنے لائی تھی۔
    صبح واعظہ کی اتاری نظر کی اسے دل سے قدر ہوئی جب کڑوا دھواں ناک منہ میں گھستا حلق تک خراشیں ڈالتا گیا۔
    سارا پرفیوم غائب بس دہکتی مرچوں کی دھانس اور دھوئیں میں دھیرے دھیرے ہے جن نمودار ہوتا تو طوبی دوبارہ اسکو سرتاپا اس دھوئیں سے وار دیتی۔۔ کمرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔
    فاطمہ عزہ دونوں بری طرح کھانستی باہر بھاگیں ۔
    چلنے سے معزور دلاور انکی پھرتی کو رشک سے دیکھ کر رہ گئے۔ بری طرح کھانستے ہے جن کا ساتھ دیتے وہ بمشکل کہہ پائے
    بس کرو طوبی ۔بہت دھواں ہو گیا۔
    ہاں ہوگئ۔ طوبی اطمینان سے فرائئ پین لیئے مڑ گئ۔
    ہے جن کا کھانس کھانس کے برا حشر ہو چلا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑکیاں کھولنے لگا پنکھا چلایا تو تھوڑا امن ہوا۔
    دلاور سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی بھرنے لگے۔
    کبھی کبھی تو طوبی حد کر دیتی ہے۔
    وہ مسکرا کر اسکی جانب گلاس بڑھا رہے تھے۔
    اور گئے تم آج عید کی نماز پڑھنے۔ ؟
    میں تو جا نہیں سکا پہلی عید میری ہے ایسی جوعید کی نماز پڑھے بنا گزر رہی۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولے تھے۔ ہے جن کا منہ تک جاتا گلاس راستے میں رک گیا۔ اسکے چہرے کے تاثرات دلاور کو بھی تشویش زدہ کر گئے۔
    کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانئ ہے؟
    دلاور بھائی۔ ۔ اس نے ہمت کرکے گلاس واپس رکھا اور انکے سرہانے گھٹنوں کے بل آبیٹھا۔ انکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر ملتجی سے انداز میں پوچھنےلگا۔
    ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مانیں گے؟
    ہاں پوچھو۔ وہ اسکے انداز پر سنبھل کر بیٹھ گئے
    آپ مسلمانوں کیلئے کسی نو مسلم سے ارکان دین پورے کروانا لازم ہے؟ کیا یہ آپکی عبادت کا حصہ ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم اوپری دل سے ارکان ادا کرے تو کیا آپکو گناہ ملے گا؟
    تم اوپری دل سے نماز روزہ کرتے رہے ہو؟۔ دلاور نے سیدھا سا سوال کر ڈالا تھا۔
    اس نے سر جھکا لیا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ عزہ اور ہے جن لائونج میں سر جھکائے کھڑے تھے۔
    طوبی انکو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
    طوبی ہم سب گڑ بڑائے ہوئے تھے۔ہمیں لگا تھا کہ آپ نجانے کیا خیال کریں ہمارے بارے میں کہ 8 لڑکیوں میں ایک انجان لڑکا رہ رہا ہے تو بس یونہی ہم نے کہہ دیا ۔
    عزہ اور ہے جن کی ہمت نہیں تھی طوبی کی آنکھوں میں جھانکنے کی۔ تو فاطمہ نے ہی انکی جانب سے صفائی دی۔
    یونہی کہہ دیا؟ وہ چٹخ کر بولی۔۔
    پوری کہانی بنالی تم لوگوں نے۔ غیر مسلم ماں بیٹا ماں کے مذہب پر اور بیٹی۔
    اس نے کینہ توز نظروں سے عزہ کو گھورا۔
    تم لوگ دو مہینے سے مجھے بے وقوف بنا رہے تھے اور میں ۔۔ وہ سر تھامتی فلور کشن پر بیٹھتی چلی گئ۔
    ٹوٹے ہوئے گھر کے بچے سمجھ کر تم دونوں سے پیار کر بیٹھئ۔۔ وہ رو دی۔
    کیا کچھ نہ یاد آیا اسے۔ زبردستی ہے جن کو لیکر مارکیٹ جاتی سودا لیتے اسے کبھی چاکلیٹ کبھی کوئی اور کھانے پینے کی چیز دلا دی۔ہر بار اسے تاکید کرنا کہ عزہ کیلئے بھی لیکر جانا وہ لمبے لمبے لیکچرز۔اسکو زبردستی قرآن سنوانا مسجد بھجوانا دلاور کے ساتھ ۔سورتیں۔ یاد کروانا
    ہے جن نے بے بسی سے فاطمہ کو دیکھا۔
    طوبی آپی بات سنیں۔
    عزہ نے آگے بڑھ کر اسکا شانہ تھامنا چاہا۔اس نے بری طرح جھڑک کر اسے دور کردیا
    بالکل مجھے آپی کہنے کی ضرورت نہیں۔کسی کے خلوص کا مزاق اڑاتے شرم نہیں آئی تم لوگوں کو۔ سگے بہن بھائیوں جتنا پیار دیا تم دونوں کو یہ صلہ ملا ہے مجھے۔ نکل جائو دفع ہو جائو میرے گھر سے میں تم دونوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔
    وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔ ہے جن کو جملے تو نہیں مگر لہجے ضرور سمجھ آرہے تھے لب کاٹتے ہوئے اس نے آگے بڑھنا چاہا تو فاطمہ نے بازو تھام کر روک دیا۔
    اس وقت یقینا طوبی کو اکیلے چھوڑ دینا ہی بہتر تھا۔ وہ ان دونوں کو لیکر باہر آگئ تھئ۔
    ………………………………………

    ختم شد

    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 22

    قسط 22
    آسمان صاف نہیں تھا مگر پھر بھئ آخری افطاری انہوں نے ٹیرس میں کرنے کا ارادہ کیاتھا۔ صاف ستھرا میٹ اس پر چادر بچھا کر انہوں نے ٹیرس میں بیٹھنے کی تیاری کر لی تھی۔ عروج آج حاتم طائی بنی ہوئی تھی سب کیلئے آئیسکریم خرید کر لائی تھی یہ بڑی سی آئیسکریم بکٹ (بالٹی)شاپر لا کر باورچی خانے میں رکھتے ہی کمر پکڑ لی۔
    اف تھک گئ میں۔ کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا۔ کوئی کام مت کہنا مجھے اب۔ میں باہر کا سب نپٹا آئی۔
    آیک اچٹتی نظر سب کے مصروف ہاتھوں پر ڈال کر اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر اعلان کردیا۔
    اب رہ ہی کیا گیا کھانا پکا ہوا ہے افطاری تیار کر رہی ہیں ہم پہلے سے ہی۔ عشنا سادگی سے بولی۔ عروج نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا لی۔
    ۔ فاطمہ پکوڑے تل رہی تھی وہیں سے حسب توفیق گھور ڈالا۔ عزہ نے روح افزا بنانے کی ٹھانی تھی .فاطمہ نے پکوڑے کیلئے بیسن گھولتے ہوئے کہا تھا
    عزہ شربت بنا کر ادھر تلنے میں مدد کرانے آجانا۔۔
    اور اب پکوڑے سب تل کر ختم ہونے والے تھے یہ ایک جگ شربت بن نہیں پایا تھا۔
    عشنا اور الف فروٹ چاٹ کیلئے پھل کاٹ رہی تھیں ۔ آج ہے جن بھی کوئی کوریائی طرز کی چنے کی چاٹ بنا رہا تھا۔ لائونج کی سنگی میز کے کائونٹر پر سب مصروف تھے۔
    آئی نہیں واعظہ ابھی تک روزہ کھلنے والا ہے۔
    عروج کو فکر ہوئی۔
    صبح کی گئ ہے ہو سکتا ہے چاند رات اور عید اپنی فیملی کے ساتھ کرے۔ الف نے خیال ظاہر کیا۔
    بتا کے جائے گی اگر عید کرنے جائے گی تو۔ ایسے تھوڑی
    فاطمہ نے پکوڑے چھلنی سے اتارتے ہوئے بڑی سی ٹرے میں رکھ لیئے۔
    ویسے ہم نے ایک دن بھی افطاری باہر نہیں کی کم از کم ایک افطاری تو باہر کرنی چاہیئے تھی۔ الف کے کہنے پر عروج زور سے ہنس پڑی۔
    کوریا میں بیٹھی ہو پاکستان میں نہیں یہاں کون تمہارے لیئے افطار بوفے وغیرہ آفر کر رہا اوپر سے باہر جا کے بنا گوشت سبزیوں کو الا بلا سے مصالحوں میں پکتا کھا کے کیا لطف آنا۔
    ہم عید پر تو ڈنر باہر ہی کریں گے۔ بھلے کسی پاکستانی ریستوران میں ہی سہی۔
    وہ ضدی انداز میں بولی
    اگر کل عید ہوئی تو میری جانب سے ٹریٹ ۔ عروج نے شاہانہ انداز میں کہا تو وہ سب آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگیں۔
    خیر ہےکوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا کیا؟آج سب کو آئیسکریم کھلا رہی ہو کل کھانا کھلانے لگی ہو ؟ فاطمہ کو تجسس ہوا اور ٹھیک ہی ہوا۔ عروج گڑبڑا کر مڑ کر ریک سے برتن اٹھانے لگی
    ایویں۔ ہم سب گھر والوں سے دور ہیں تو کم از کم ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھا پی کے عید منالیں۔
    اسے جواب سوجھ گیا۔
    یار سویئیوں کے نام پر یہاں جو ملا ہے وہ نوڈلز ہی لگ رہا ہے۔
    عزہ روح افزا بنا کر اب عروج کے لائے شاپر کھنگال رہی تھی۔ ایک پیکٹ لہرا کر بولی۔
    ہے جن یہ ورسیچیملی ( سیویاں) ہیں یا نوڈلز۔ ہے جن چنوں پر سویا ساس چھڑکتے چونکا
    نوڈلز ہی ہیں یہ۔ آٹے کے نوڈلز ۔ اس نے وضاحت کی ۔ یہ چاروں عروج کو دانت کچکچا کر گھورنے لگیں۔ وہ کھسیا سی گئ
    اب کوریا میں تھوڑی سیویاں ہوتئ ہوںگئ۔ ہم کل کھیر بنا لیں گے حدیث تھوڑی کہ سیویاں ہی بنیں۔
    وہ قائل کرنے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
    چلو دسترخوان سجا لو وقت ہونے لگا ہے۔ الف جلدی سے گھڑئ دیکھ کر مستعد ہوئی۔
    شام کی آخری پہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آلو ، پیاز، پالک اور بینگن کے پکوڑے کی سجی بھری ٹرے ، چکن رول ، فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ ، روح افزا کا بھرا جگ ملائی ملی کھجوریں ساتھ چکن قورمہ جو ڈھونڈ ڈھانڈ کر حلال ٹیگ والا خریدا گیا تھا۔ چپاتیاں ۔ دسترخوان سجا تو وہ سب آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دعا کرنے لگیں۔
    ہے جن نے بھی انکی دیکھا دیکھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
    اپنے کیریئر مستقبل حال آئندہ آنے والے یونیورسٹی امتحان نوکری جانے کیا کیا دعائیں مانگی جا رہی تھیں ایک ہے جن تھا جس کی دعا ان سب سے الگ اور انوکھی تھی سیدھا دل سے نکلی۔ شائد جبھی ٹھک سے قبولیت کے درجے پر جا پہنچی تھی۔ جبکہ وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر انکی جانب متوجہ ہوا۔
    نونا کل سے ہم اپنی پرانے معمول پر لوٹ آئیں گے ؟ کبھی بھی کچھ بھی کھا سکتے ، جھوٹ بول سکتے تب تو کچھ نہیں ہوگا نا ؟ میرا مطلب رمضان کے علاوہ تو سب کر سکتے نا ۔۔ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا تھا اس سے قطع نظر ان سب کے کھجوروں کئ جانب بڑھتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔۔اسکے الفاظ ان سب کو اندر کہیں بہت زور سے لگے تھے
    یہ سب تو رمضان کے بعد بھی منع ہوتا یے۔ عشنا الف کے کان میں گھسئ۔۔ ہے جن وضاحت کرنے لگا۔
    دراصل میرا پورک اسٹیک کھانے کو دل کر رہا تو عید پر تو کھا سکتا ہوں نا۔
    عزہ کا منہ بن گیا۔
    پورک نہ ہوگیا زندگی ہوگیا بغیر پورک کھائے نہیں رہ سکتا یہ۔ میں تائب ہوتی ہوں اسے بھائی سمجھنے سے۔ گندا
    وہ اردو میں بڑ بڑائی۔ ہے جن منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ کہ شائد وہ ترجمہ بھی کرے مگر وہ روزہ کھولنے میں لگ گئ۔
    جیسے چاہو عید منائو ہے جن مرضی تمہاری۔
    فاطمہ مسکرا کر بولی۔ہے جن مطمئن سا ہو کر افطاری سے انصاف کرنے لگا
    پورک کھا کے یہ دلاور بھائئ کے ساتھ نماز پڑھنے گیا تو ہم پر لعنتیں پڑیں گی ٹھیک ٹھاک۔
    عروج نے ڈرایا
    دلاور بھائی کمر میں چک پڑوائے بستر پر پڑے ہیں۔ ۔۔فاطمہ نے لاپرواہ سے انداز میں کہا
    کل جائیں انکو دیکھنے عید پر طوبی بھی تو اکیلی ہوگی۔۔
    الف نے خیال ظاہر کیا۔
    مجھے مہندی لگانی۔ عشنا بسوری۔۔
    ویسے کل کی کیا پلاننگ ہے کیسے عید منانی کہیں جانا ہے گھومنے؟ عروج پرجوش سی ہوئی اسکے انداز کے برعکس باقی سب کے منہ اتر گئے
    میری کل بھی کلاس ہے۔عزہ بسوری۔
    کل لی من ہو کی فین میٹنگ ہے۔عشنا نے بڑا سا چکن پیس منہ میں رکھا
    میرا کل شو ہے ۔ الف کا تیزی سے چلتا منہ سست پڑا
    اگر کل عید نہ ہوئی تو میں بھی ہاسپٹل میں ہی ہوںگئ۔ عید کے دن۔ عروج کو بھی غم ستانے لگا۔
    دیکھتے ہی دیکھتے مطلع ابر آلود ہونا شروع ہوا
    بینگن کا پکوڑا املی کی چٹنی میں بھگو کر منہ میں رکھتے ہے جن نے سر اٹھایا تو دسترخوان پر سیلاب رواں تھا
    ویئو؟ وہ حیران ہی تو رہ گیا۔
    وہ سب زار و قطار رو رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اتنی چپ اور ساکت بیٹھی تھی کہ آہجومہ کو لگا اس پر سکتا طاری ہو گیا ہے۔
    حوالدارنی کو اشارے سے پاس بلا کر اسکی۔جانب اشارہ کرکے کہنے لگی
    سنو ڈاکٹر سے کہو اسکو دیکھ لے کہیں دماغ پر اثر وثر تو نہیں ہوگیا۔ کتنا تو چیخی چلائی ہے کیا پتہ۔
    وہ اپنی طرف سے آواز دبا کر بول رہی تھی مگر کھسر پھسر پر نور نے خالی خالی نظروں سے سر اٹھا کر دیکھا تو دونوں سٹپٹا سئ گئیں
    کین چھنا۔۔ حوالدارنی اسکا کندھا تھپک کر واپس اپنی جگہ جا بیٹھئ۔
    ملاقات آئی ہے قیدی نمبر 799 کی ۔ وردی میں ملبوس ایک لڑکی تیزی سے اندر آئی سیلوٹ جھاڑا پھر ادب سے حوالدارنی سے بولئ۔ اس نے نے حیرت سے وقت دیکھا
    اس وقت؟
    کوئی خاص موقع ہے خصوصی اجازت نامہ لیکر آئے ہیں
    اسکے رشتے دار۔
    اس نے کاغذ لہرایا تو وہ سرہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ
    اٹھو نوراشئ تمہارے ملاقاتئ آئے ہیں۔
    حوالدارنئ کی بات پر وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کون آیا ہے۔
    اسے بات مکمل سمجھ نا آئی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چندئ آنکھوں والی اہلکار اسے کیبن میں چھوڑ کر دروازہ بند کرتی باہرنکل گئ۔
    گلاس وال کےاس پار بیٹھئ واعظہ اور سیہون ۔ بنا نقاب سیہون کے سامنے کھڑی تھی مگر اس وقت اسے صرف ایک ہی چہرہ نظر آرہا تھا۔
    واعظہ وہ بھاگ کر دیوار سے آلگی۔ واعظہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔گلاس وال سے اسے گلے لگانا ممکن نہ تھا اور وہ دیوار پر سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
    اسے سنبھالتے واعظہ ہلکان ہونے لگی تھی
    خود کو سنبھالو نور ۔ وقتی مشکل ہے یہ سب ٹھیک ہو جائے گا
    مجھے نکالو یہاں سے مجھے نہیں رہنا یہاں۔ نہ جیل میں ۔نہ کوریا میں ۔۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے کہہ رہی تھی
    مجھے گھر جانا امی کے پاس جانا۔
    وہ بلک بلک کر رورہی تھی۔ واعظہ نے بے بسی سے اسے پھر سیہون کو دیکھا جو اسے جتاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
    اسکو نور کے الفاظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے مگر اسکا حال دیکھ رہا تھا۔ چار دن اس پر صدیاں بن کر گزرے تھے اس نے نور کو پہلے نہیں دیکھ رکھا تھا مگر پھر بھی پیلاستا ہوا چہرہ سرخ سوجی آنکھیں اسکا رونا بلکنا۔ سب ظاہر کر رہا تھا۔واعظہ نگاہ چرا کر اسکو متوجہ کرنے لگی
    بیٹھو نور بات سنو میری۔ ہمارے پاس ذیادہ وقت نہیں ہم خاص تمہیں عید کے تہوار کی اجازت ملنے پر آئے ہیں۔ادھر بیٹھو آئو بات سنو۔۔ اسکے کہنے پر نور دوپٹے سے آنسو پونچھتی کرسی پر گر سی گئ۔ واعظہ نے گہری سانس بھرتے اپنی نشست سنبھالی
    گلاس وال میں بنے چھوٹے سے سوراخ سے دونوں ہاتھ اندر کرکے نور کے ہاتھ تھامے۔ ہتھکڑیوں بندھے خشک سے ہاتھ۔ جو فیصلہ اس سے شائد نہ ہوپاتا اس لمحے اس نے کر ڈالا تھا۔ اسکا ہاتھ دھیرے سے تھپک کر اس نے سر جھٹکا۔ پھر ایک شاپر اٹھا کر کائونٹر پر رکھا۔
    اچھا سنو۔ ہم یہ تمہارے لیئے لائے ہیں۔ خاص کر عید کا اجازت نامہ لیکر یہ سب چیزیں انکو دکھوا کر لائے ہیں۔
    یہ تمہارے لیئے چاکلیٹ یہ تسبیح ، جاء نماز دوپٹہ۔ یہ جوڑا۔۔
    اس نے ایک ایک کرکے چیزیں سوراخ سے پار کیں
    کل تم کپڑے بدل سکتی ہو تمہیں اجازت ہوگئ کیونکہ کل تہوار ہے۔صبح تیار ہونا نماز پڑھنا اپنے لیئے دل سے دعا کرنا دیکھنا ایکدم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    وہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔ تسبیح جاء نماز ۔ اس نے آنکھوں سے لگا لی تھیں۔
    شکریہ واعظہ۔ وہ بھرائئ سی آواز میں بولی تو واعظہ مسکرا دی
    اور یہ دیکھو کون مہندی بھی لائی ہوں تمہارے لیئے۔
    اس نے چھوٹا سا شاپر نکالا۔
    دو تین کون مہندیاں۔ وہ ہنس دی
    تمہیں لگتا میں یہاں عید منائوں گی ایسے ۔۔ مہندی لگائوں گی
    وہ پھر رودینے کو تھئ۔
    حوصلہ کرو نور تم اتنی کمزور تو نہیں تھیں۔ ہم میں سب سے ذیادہ حوصلے والی ہو تم یوں ہمت مت ہارو۔یار۔
    واعظہ خود بھی روہانسی ہو چلی تھی۔
    سیہون ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
    میں باہر جا رہا ہوں۔
    وہ کہہ کر نکل گیا۔ واعظہ نے بس سر ہلایا
    اچھا تمہیں بہت اچھی مہندی لگانی آتی ہے نا ؟
    واعظہ کو۔خیال آیا۔ نور آنسو پونچھ کر گھورنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون باہر اسی حوالدارنی سے کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ جب وہ دایاں ہاتھ خود سے الگ سا کیئے ایک ہاتھ سے بیگ کندھے پر ٹھیک کرتی باہر آئی۔ اسے آتے دیکھ کر حوالدارنی گڑبڑا سی گئی۔
    چلیں۔ سیہون اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔ اسے دیکھ کر بولا تو وہ سر ہلا گئ۔
    اسکا دایاں ہاتھ کالا سا ہوا وا تھا سیہون ہی اسکے لیئے داخلی۔دروازے کھولتا آیا تجسس کے مارے رہا نہ گیا۔
    یہ کیا کیا ہوا ہے ہاتھ پر۔
    مہندی یے۔وہی جو کون لیکر گئ تھی اندر اسی سے بنوائی ہے۔
    اس نے ہاتھ ہی اسے دکھا دیا ۔۔ اس نے اپنے اپر کا بازو کہنی تک چڑھا رکھا تھا سپید ہاتھ سے آدھے بازو تک اوپر نیچے بیل بوٹے سے بنے ہوئے تھے۔ وہ ہاتھ بالکل سیدھا کیئے ہوئے تھی۔
    پر اس سے یہ کیا ٹیٹو بنوایا ہے؟ اسے تجسس ہو رہا تھا
    ہاں ٹیٹو ہی سمجھ لو۔ وہ سیکیورٹی والے کمرے تک پہنچے تو موٹی توند والے پولیس افسر نے روک لیا انہیں
    یہ کیا یے؟
    مہندی ہے ابھی آپکو دکھا کر ہی تو لیکر گئ تھی۔
    واعظہ حیران ہوئی
    مگر اس طرح نقش و نگار کیوں بنے ہوئے ؟ کوئی خفیہ۔پیغام لکھا ہوا ہے ان پر ؟
    وہ مشکوک انداز سے گھو ررہا تھا انہیں۔۔
    چلو جی۔ واعظہ اپنا دوسرا ہاتھ سر پر مار کر رہ۔گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریلنگ سے کہنی ٹکائے وہ سب قطار میں کھڑی آسمان پر بادلوں میں چھپے چاند کو تلاش رہی تھیں۔
    یہ آپ سب کی۔خام خیالی ہے کہ اس ابر آلود مطلع میں آپکو باریک چاند دکھائی دے جائے گا۔کوئی اور طریقہ اختیار کر لیں عید کا تعین کرنے کا۔
    ہے جن نے انکو سمجھانا چاہا۔ وہ آئسکریم کا پیالہ لیئے گھر میں ٹہل ٹہل کر ٹونگ رہا تھا۔ ابھی بھی انکی جانب سے حسب منشا ردعمل نا دیکھ کر کہہ کر مڑ گیا۔
    ابھی پاکستان میں ہوتے تو روئیت ہلال کمیٹی بیٹھ چکی ہوتی۔
    عشنا منمنائی
    اور پوپلزئی تو اعلان بھی کر چکے ہوتے۔
    الف ہنسئ
    مجھے مہندی لگانی ہے چاند رات مہندی کے بغیر کیسے منا سکتے بھلا
    عزہ پیر پٹخ کر بولی
    مہندی لے آئو لگا میں دوں گئ۔
    فاطمہ نے کھلے دل سے پیشکش کی
    لگاتو میں بھی سکتی ہوں لیکن اسکے ساتھ تجربہ برا رہا
    عزہ نے منہ بنایا
    کیا برا ہوا۔ الف اور عروج کو دلچسپی ہوئی
    میری کزنز ابھی کچھ ذیادہ ہی۔چھوٹی ہیں انکی منی ہتھیلی پر جب پچھلی عید پر میں نے خوب عرق ریزی سے چھوٹے چھوٹے بیل بوٹے بنائے تو دونوں روتی ہوئی اپنی اماں کے پاس میری شکایت کرنے بھاگ گئ تھیں۔
    اتنی بری مہندی لگاتی ہو تم۔
    عشنا حیران ہوئی۔
    عزہ نے دانت پیسے موبائل میں گیلری سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر تصویریں نکالی۔ منی منی ہتھیلیوں کی تصویریں تھی اور ان پر مہندی جس نے بھی لگائئ تھی کمال کیا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے پھول بل کھاتی بیلیں ننھی پوروں پر بھی نقش و نگار منی ایچر آرٹسٹ کیا فن پارے تخلیق کرتے ہونگے جو اس نے کیئے تھے
    اتنی تو اچھی لگائی ہے پھر۔ ؟؟؟؟ عشنا نے حیرت سے پوچھا تو عزہ گہری سانس بھر کر بولی
    ایک مجھے کہہ رہی تھئ چوکور ڈبا بنا کر اسکے نام کے پہلے حروف لکھ دوں دوسری کو پاکستان کا جھنڈا بنوانا تھا ہتھیلی پر۔
    اسکی بات پر وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں۔ انکی ہنسی کی آواز سن کر لائونج میں داخل ہوتے واعظہ سیہون کے ساتھ ہے جن بھی چونکا تھا۔ واعظہ نے ہے جن کو گھورا
    تم تو کہہ رہے تھے یہ لوگ رو دھو رہی ہیں۔
    نونا سچ مچ رو رہی تھیں پھر چاند دیکھنے لگیں لگتا ہے چاند نظر آگیا۔
    ہےجن کی بات پر واعظہ کو ہنسی آگئ ۔
    یہ ہاتھ پر کیا ہے۔ اسے اب نیا تجسس لاحق تھا ۔
    افطاری کا سامان ابھی بھی ٹیرس میں سجا تھا۔ البتہ سب ڈھکا ہوا۔تھا۔واعظہ کا تو روزہ تھا افطاری دیکھ کر آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگیں۔ بیگ فرش پر پھینک پھانک وہ جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔سیہون کی بھی ساری دوپہر اسکے ساتھ گزری تھی کھانے کا موقع نہ ملا سو وہ بھی بلا تکلف آبیٹھا ہاتھ میں تھاما بڑا سا شاپر اپنے ساتھ احتیاط سے رکھا اور شروع ہوگیا۔
    دونوں افطاری میں مگن تھے جب عزہ نے زور دار چیخ ماری
    چاند کا اعلان ہوگیا۔ کل عید ہے۔
    وہ موبائل میں اپنی عربی دوست کا چاند رات مبارک کا پیغام پڑھ کر خوشی سے اچھل۔پڑی تھئ۔ اسکی بات پر وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگیں۔
    چاند رات مبارک۔ منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ نے آواز لگائی۔
    آگئیں۔۔تم۔ وہ سب چونک کرمڑیں آگے بڑھ کر مبارکباد دینے کو تھیں کہ سیہون کو دیکھ کر رک گئیں وہ بے نیازی سے سر جھکائے فروٹ چاٹ کھا رہا تھا۔
    یہ شاپر اٹھائو میں تم لوگوں کیلئے کچھ چیزیں لائی ہوں۔
    اس نے اشارے سے سیہون کے لا کررکھے گئے شاپر کا بتایا۔
    جائو تم اٹھائو تمہارا منہ بولا بھائی ہے۔
    الف نے عزہ کو کہنی ماری تو وہ اسے گھور کر رہ گئ مگر یہ کام اسے ہی کرنا پڑا شاپر کھولتے ہی۔حیرت و مسرت سے چیخ ہی پڑی۔
    مہندی چوڑیاں۔ یہ کہاں سے مل گئیں تمہیں کوریا میں۔
    خوشی سے اسکی آواز بلند ہوگئ تھئ۔ باقی چاروں بھی بھاگ کر آئیں۔
    واعظہ فروٹ چاٹ پلیٹ میں نکال کر بیٹھی تھی پکوڑے تو اٹھا اٹھا کر توبہ کرتے الٹے ہاتھ سے کھا لیئے مگر فروٹ چاٹ کا چمچ الٹے ہاتھ سے کھانے اور اچانک عزہ کے جوش سے چلانے پر اپنے اوپر گرا بیٹھئ
    ایمبیسی گئ تھئ۔ کل فیسٹول ہے نا تو یہ سب چیزیں آئی ہوئی تھیں تو میں لے آئی۔ کل چلیں گے سب مل کر۔
    سچی۔ عروج ہی خوش ہو۔پائی باقی سب کے اپنئ جھمیلے تھے۔
    وہ چمچ اٹھا کر پلیٹ میں رکھنے لگئ۔ ہے جن کچن سے ٹشو باکس لے آیا۔ واعظہ شکریہ کہہ کر اپنے کپڑے ٹشو سے صاف کرنے لگی تو ہے جن اسکے برابر آ بیٹھا
    لائیں میں کھلائوں۔
    اس نے بڑے پیار سے چمچ بنا کر اسکی جانب بڑھایا۔ واعظہ ممنون سی ہوئی
    تمہارے ہاتھ۔ تم نے مہندی لگائی ہے؟
    فاطمہ چونک کر اسکے پاس چلی آئی۔ احتیاط سے اسکے پاس بیٹھ کر دھیرے سے چھونے لگی تقریبا سوکھ چکی تھی
    یہ نور نے لگائی ہے میرے ۔ واعظہ نے بتایا تو وہ دھیرے سے بڑبڑائی
    مگر تمہیں تو مہندی کی بو سے الرجی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واعظہ اس سے مہندی لگواتے ہوئے جانے کیا کیا سمجھاتی بجھاتی رہی مستقل بولتی رہی ادھر ادھر کے قصے باتیں کچھ دیر کو ہی سہی وہ کھل کر ہنسی۔ بھول گئ بڑے شوق سے اسکی ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتی رہی تھی۔
    میری عید جیل میں گزرے گی کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا میں نے۔
    وہ رو دی تھئ۔
    برا وقت کون بیٹھ کے سوچتا ہے پاگل۔ جب برا وقت آجائے تو یقینا یہ سوچنا چاہیئے کہ اس سے نپٹا کیسے جائے۔ حوصلہ مت ہارو صبر کرو دیکھنا اللہ تمہیں جلد اس مشکل سے نکالے گا۔
    واعظہ دیر تک اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔اسی کا دیا حوصلہ تھا کہ وہ نئی ہمت دی جیسی پا کر وہاں سے اٹھی تھی۔ ۔
    رات کو افطاری کے بعد سبزیوں والا کھانا پیٹ بھر کر کھایا خدا کا شکر ادا کیا نماز پڑھی نفل پڑھے دل کو جیسے ڈھارس سی بندھ گئ۔ تو فرصت سے کون نکال کر بیٹھ گئ۔ سپید ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتے آدھا بازو بھر لیا۔ ایک کون آدھی ہوئی تھی۔ اسکے پاس چار پانچ مزید بھی پڑی تھیں۔
    احمق میں کہہ بھی رہی تھی مجھے کیا کرنی اتنی ساری اب کیا پائوں پر بھی لگا کے بیٹھ جائوں الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر تو نہیں لگا سکتئ ۔ وہ آدھی کون ضائع نہیں کرنا چاہ رہی تھئ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
    آہجومہ چادر کی بکل مارے کب سے پڑی تھیں۔ اسے لگا سو رہی ہیں مگر کسمسا کر چادر کی جھری سے انہوں نے بغور دیکھا اسے کر کیا رہی ہے۔۔ پھر تجسس سے قریب آکر اس سے اپنی زبان میں پوچھنے لگیں
    کیا کر رہی ہو ؟
    اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر گہری سانس لی۔
    یقینا اسکی کون ضائع نہیں جانے والی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ الف کے فاطمہ عروج کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی تھی عشنا صبر سے بیٹھئ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ واعظہ اپنے اور ہے جن کے کپڑے استری کر رہی تھی۔ وہ اسکے ساتھ کھڑا باتیں بگھار رہا تھا۔سیہون باورچی خانے میں کھڑا کافی بنا رہا تھا شائد سب کیلئے کیونکہ کافی دیر سے لگا ہوا تھا۔
    بارہ بج رہے میری مہندی کی باری کب آئے گئ۔
    عشنا بھنا گئ۔ دونوں پورے پورے ہاتھوں بازوئوں تک مہندی لگوا رہی تھئ۔
    اسکے ایکدم بول اٹھنے پر عزہ اور فاطمہ دونوں چونکیں پھر حسب توفیق صلواتیں سنائیں
    ابھی ہاتھ ہل جاتا میرا اتنی محنت سے یہ عربی ڈیزائن چھاپ رہی ہوں اور یہ عروج کی بچی کم از کم موبائل اسکرین کا لاک ٹایم ہی بڑھا دو ہر آدھے منٹ بعد اسکرین بند ہو جاتی۔
    کھول کے دو اب اسے۔
    فاطمہ اس سے نمٹنے کے بعد عروج پر چڑھ دوڑی وہ منماتی کہہ رہی تھی کہ اب ٹچ لاک کھول کھولنا ممکن نہیں دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے مہندی سے بھر گئے ہیں۔
    عزہ کی جان الف نے الگ کھا رکھی تھی۔اس پر ابھی انکشاف ہوا تھا کہ عزہ نے منی ہتھیلیوں پر اتنی اچھی مینا کاری اسلیئے کر لی تھی کہ وہ نمونہ دیکھ کر اس سے تین گنا چھوٹا ڈیزائن بناتی تھی نتیجتا جو مہندی کا ڈیزائن دیکھ کر اسکی ہتھیلی پر چھاپ رہی تھی وہ ماڈل کے بازو تک آرہا تھا اور تقریبا پورا چھاپ دینے کے باوجود اسکی ہتھیلی بھی پوری بھر نہ پائی تھی۔
    عزہ کئ بچی ساتھ ایک مائکرو اسکوپ بھی بخش دو مجھے تاکہ ہر کسی کو مہندی دکھانے میں آسانی رہے سب سے بڑھ کر مجھے آسانئ رہے خود کو بتانے میں کہ میرے ہاتھوں پر ڈیزائن بنا ہوا یے چیونٹیاں نہیں رینگ رہیں۔
    عشنا عروج فاطمہ اور عزہ لوٹ پوٹ ہو گئیں وہ منہ پھلائے گھورتی رہی واعظہ تک استری چھوڑ کر ہنستی چلی گئ۔
    سیہون اور ہے جن منہ کھولے انکو دیکھ رہے تھے
    کیوں ہنس رہی ہو اتنا۔ نونا۔ ہےجن پوچھے بنا نہ رک سکا۔
    واعظہ نے ہنسی روک کر ترجمہ کیا
    ارے اتنئ سئ بات لائیں میں ڈیزائن بنا دوں۔ ہے جن سیدھا شاپر سے کون نکال کر عشنا کے پاس آبیٹھا
    تم ؟ تمہیں مہندی لگانی آتی ہے؟ عشنا کو تامل ہوا
    ارے میں آرٹس کا ہی تو طالب علم ہوں۔ اس نے کالر جھاڑے یہ اطلاع نئی تھئ۔ ان سب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ پڑھ کیا رہا ہے۔
    آپکو کورین آرکیٹیکچر کا فیوژن دکھاتا ہوں بنا کر۔
    اس نے مڑ کر بغور عزہ کا ہاتھ دیکھا اسکے مہندی پکڑنے کا انداز دیکھا اور عشنا کا ہاتھ پکڑ کر شروع ہوگیا۔
    دونوں جب اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا کر فارغ ہوئیں اور عزہ اور فاطمہ اکڑی کمر اور گردن سیدھی کرنے لگیں کہ الف نے چیخ مار دی
    ہے جن نے اسی وقت اتفاق سے ہاتھ روک کر انگلیآں سہلائی تھیں۔
    سیہون اور واعظہ کچن میں سے بھاگے آئے
    کیا ہوا؟
    وہ سب عشنا کے ہاتھ پر جھکی تھیں عشنا کا چہرہ جوش تمتما رہا تھا جبکہ الف روہانسی ہو چلی تھی۔
    ہے جن نے نہایت عرق ریزی سے اسکی ہتھیلی پر ہنبق میں ملبوس شہزادی کے بائیں جانب سے عکس اتارا تھا جو رخ پھیرے اونچے سے پتھر پر بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی ۔ شہزادی کے لباس میں باریک کورین کڑھائی تھی اسکے لمبے سے گائون کے ربن میں اردو میں بڑے خوبصورت سے انداز سے عشنا لکھا تھا۔ اسکا لباس کلائی تک آرہا تھا۔ شہزادی کی لمبی چوٹی بل کھاتی انگوٹھے کے جوڑ تک آرہی تھی تو سر پر پہنا تاج انگلیوں کے جوڑوں پر تھا ۔ایک درخت کا آدھا تنا چھوٹی انگلی اور ہتھیلی کے کے ایک جانب بنا تھا جس میں ننھے منے پھول کھلے تھے کچھ پھول جھڑ کر شہزادی کے اوپربھی آرہے تھے۔ اسکی ہتھیلی ہتھیلی کیا کوئی کینوس تھی جس پر ہے جن نے اپنا ہنر آزما دیا تھا۔
    میں ہاتھ دھونے جا رہی میں نے بھی یہی بنوانا ہے۔
    الف کے کہنے پر عزہ نے بے دریغ اسکے دو تین ہاتھ جما دیئے وہ دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی ہونے کی وجہ سے خود
    کو بچا بھئ نہ پائی۔
    واہ ہے جن ۔ واعظہ نے بھی بے ساختہ تعریف کی۔
    اچھا لگا آپ کو نونا۔ ہے جن خوش ہوگیا تھا۔
    بہت پیارا ہے شکریہ ہے جن ایسی مہندی میں نے زندگی میں کبھی نہیں لگوائی۔
    عشنا بے حد خوش تھئ۔ اترا کر عروج اور الف کو دکھا رہی تھی۔
    اب فوٹو سیشن کی باری تھی عشنا موبائل لیکر روشنی کی تلاش میں اٹھ گئ۔ عزہ اور فاطمہ اب ہے جن کے سامنے ہتھیلیاں پھیلا چکی تھیں۔ہے جن گردن کھجانے لگا۔
    سیہون نے آنکے جوش و خروش پر تبصرہ کیا
    مجھے نہیں پتہ تھا تم لوگ ٹیٹوز کیلئے اتنی کریزی ہوگی
    ہممم۔ مہندی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ سب لڑکیاں بہت شوق سے لگواتی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ گہری نگاہ ڈال کر جتانے والے انداز میں بولا
    تو تم لڑکی نہیں ہو کیا؟
    وہ مستقل اپنا دایاں ہاتھ جیب میں ڈالے تھی پھر بھی مہندی کو بو اسکے کہیں آس پاس ہی تھی۔ وہ ہونٹ بھینچ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 21

    قسط 21
    تم کھانا کیوں نہیں کھا رہیں بھوک نہیں لگی کیا۔
    اسکو کھانا ایک جانب کھسکا کر خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھ کر اس عورت نے بڑی حیرت سے پوچھا تھا۔ خود وہ سوپ کا پیالہ ڈکار چکی تھی اب مزید سوپ کا مطالبہ کیا تھا جسے سن کر حوالدارنی نے برا سا منہ بنایا مگر مزید لینے چل دئ۔ اسکے چاول بھی ختم ہونے کو تھے اسکی رفتار دیکھ کر لگتا تھا حوالدارنی کو الٹے پیر واپس جانا پڑے گا اسکے لیئے چاول لانے۔
    اپنے ہی کسی دھیان میں چونک کر نور نے اسے دیکھا۔۔ جانے وہ اتنی آنکھیں پھاڑ کر اسے کیا کہہ رہی تھی۔
    دے؟۔ اسے بس اتنی ہی۔ہنگل آ پائی تھی ۔سو اسی کا استعمال کیا۔
    کھانا باپ۔ اس عورت نے اب ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔
    دوپہر کے ایک بج رہے تھے اس نے بنا سحری روزہ رکھا تیمم کرکے نماز بھی پڑھ ڈالی ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ناشتہ آیا تھا۔ اسکا ناشتہ جوں کا توں پڑا رہا ۔ اسکی جیل کی ساتھئ عورت اس سے قصدا بے نیازی برتتے ہوئے ڈٹ کر ناشتہ کرتی رہی تھی۔ صبح اس نے حوالدارنی سے صاف چادر منگوا کر ایک کونے میں بچھا کر قضا فجر پڑھی پھر نفل پڑھتی رہی یہاں تک۔کے تھک کے چور ہوگئ۔ سو چادر سمیٹ کر بنچ پر آبیٹھی۔ جیل کی مخصوص وردی کے اوپر وہ اپنا دوپٹہ ابھی بھی نماز کے انداز میں ہی لپیٹے تھی۔
    بے دھیانئ میں دوپٹہ سر سے اتارا تو ماتھے پر جاندی کی طرح بال بکھرتے چلے گئے۔ دوپٹہ ہٹایا تو احساس ہوا پسینے میں بھیگی ہوئی ہے
    اسکو متوجہ کرنے کی نیت سے اس عورت نے دوبارہ سوال دہرایا اس بار اشارے اور زبان دونوں سے اکٹھے کام۔لیا
    کھانا تو کھا لو بھوکے رہنے سے سزا کم نہیں ہوجائے گئ۔کھالو تھوڑا
    کھا لو۔
    اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔ آنسو پھر گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس عورت نے ہمدردی سے اسے دیکھا۔
    صبح سسے اسکی بے چینی دیکھ رہی۔تھی۔جانے کیا۔تکلیف تھی اسے۔پہلے تو سوچا کھانا کھاتی رہے ۔
    پھر جانے کیا سوچ کر پلیٹ ایک طرف رکھتی اسکے پاس برابر آبیٹھئ۔ اسکی تھالی جس میں چاول تھوڑی سی کمچی اور جانے کیا ملغوبہ رکھا تھا اٹھا کر اسکے سامنے رکھا بڑے پیار سے چاپ اسٹکس کا نوالہ بنایا تھوڑی سی کمچی سجائی اسکے منہ کی جانب بڑھا کر بولی ۔۔ آ۔۔ یہ اشارہ تھاکہ منہ کھولو جیسے ہم بچوں کو بہلانے کو کہتے۔
    ہونٹوں سے پپی کی آواز نکال کر وہ باقائدہ چمکار رہی تھی نور کی اپنی ماں کی طرح ۔ وہ دیکھ اس عورت کو رہی تھی مگر نظر آرہی تھی اسے اسکی اپنی ماں۔
    نخرے مت کرو دیکھو کتنے مزے کی کھچڑی بنائی ہیں کل بنادوں گئ بریانی ۔ چکھ کر تو دیکھو کچھ دن پرہیز کرلو گلا ٹھیک ہوجائے میری بیٹی کو میں اپنے ہاتھوں سے بریانی کھلائوں گئ۔ امی تھوڑا لاڈ سے تھوڑا سا غصہ جتاتے اسے کھانا کھلانے کی سعی کر رہی تھیں۔ اسے بخار گلا بند نزلہ زکام کیا کچھ نہ تھا نتیجتا کھانا پینا بند دوا کھاتے سو نخرے چار دن بعد آج فرمائش کی ماں سے کہ سلائس اور چائے سے تنگ آگئ ہوں تو بریانی بنا دیں اور وہ جھٹ بنا لائیں مگر کھچڑئ سو وہ منہ پھلا کر منہ تک کمبل تان کر لیٹ گئ۔
    اٹھو نا نور تنگ نہیں کرو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اب بھی شام ہونے کو آگئ دوا کھائو ٹھیک ہوجائو پھر ہر فرمائش پوری کردوں گی۔ اٹھ جائو میری اچھی بیٹی۔ انہوں نے کمبل ہٹا کر اسکے پھولے پھولے منہ کو دیکھا پھر مسکرا کر بہلانے لگیں۔ وہ بظاہر منہ بناتئ مگر درحقیقت بھوک سے بے حال ہو کر اٹھ بیٹھئ۔
    مجھ سے نہیں کھائی جاتی پھیکی سیٹھی کھچڑی۔
    اس نے نخرے سے کہا۔
    کل بنائوں گئ نا بریانی چلو شاباش منہ میں لو۔ امی خاطر میں نہ لاتے ہوئے چمچ چاولوں سے بھر کر اسکے منہ کی۔جانب لانے لگیں۔
    ماں کے چمکارنے لاڈ کرنے کچھ بھوک سے نڈھال ہونے پر سو نخروں سے وہ نوالہ منہ میں لے ہی گئ۔
    شاباش بہت پیاری ہے میری بیٹی۔
    اگلا نوالہ تیار تھا جملے کی مار مار میں اسے پوری پلیٹ کھلا کر دم لیا۔
    جوان بیٹی کو بچوں کی طرح چمکارتی اسکی ماں۔ اسکے دل سے ہوک اٹھی۔ آج چوتھا دن تھا اس قید خانے میں اور امی کو پتہ لگا تو کیا ہوگا گھر والے کیا کریں گے اس خوف سے باہر اسے صرف اور صرف ماں یاد آئی تھی۔ ہر مصیبت ذدہ کی طرح اسکو اس وقت بس ماں یاد آرہی تھی بس ماں کسی طرح اسکے سامنے آجائے۔
    اسکے لب وا ہوئے اس سے قبل کہ وہ آہجومہ چاپ اسٹکس سے اسکے منہ میں نوالہ ڈالتی وہ ایکدم جیسے ہوش میں آگئ
    آندے۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی ایکدم بنچ سے اتر کر کھڑی ہوگئ۔ بے چینی اسکے چہرے سے ہویدا تھی۔
    مجھے یہاں نہیں رہنا میں یہاں نہیں رہ سکتی۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلارہی تھئ۔
    ویئو؟۔ وہ آہجومی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
    نور پر دیوانگئ سئ چھانے لگی سلاخوں کو آکر زور زور سے جھنجھوڑنے لگی۔
    مجھے نکالو یہاں سے۔میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے سنو۔
    حوالدارنئ سوپ دینے آئی تو یہاں کا منظراسے مزید کوفت میں مبتلا کر گیا۔
    سلاخوں کو توڑ دینے کے در پر جنونی سی ہوئی نور مستقل اس سے اپنی زبان میں مخاطب تھی ۔۔
    بلائو اس ڈیٹیکٹو کو انسانوں کی پہچان نہیں اسے۔ کیا۔ کیسے لوگ ہو تم لوگ۔ میں ایسی ویسی لڑکی نظر آتی ہوں بھلا۔
    اسکی آواز پھٹ رہی تھی اسکے چیخنے چلانے پر دیگر بیرک کی قیدی خواتیں بھی تجسس سے اٹھ کر اسے دیکھنے آگئ تھیں۔
    کیا کہا ہے تم نے اسے۔ حوالدارنی نے تنگ سا ہو کر اس آہجومہ سے پوچھا
    میں نے کچھ نہیں کہا اسے ۔وہ گڑبڑا کر نور کے بنچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    یہ اسکی پلیٹ ہے نا دو اسے۔
    حوالدارنئ جانے کیا سمجھی ۔
    دیکھو میں بے گناہ ہوں۔ میرا یقین کرو۔ ہچکیوں سے روتے وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے یقین دلا دینا چاہتی تھی۔
    آس عورت کو سوپ کی پلیٹ تھما کر اس نے نور کو کھانے کی پلیٹ تھما دینی چاہی
    نہیں چاہیئے مجھے کھانا سمجھ نہیں آتی بات۔
    اس نے غرا کر کھانے کی پلیٹ کو ہاتھ مارا کھانے کی۔بھری پلیٹ حوالدارنئ کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔ یہاں سے وہاں تک چاول پھیلتے چلے گئے۔ نہ وہ اسکی بات سمجھ رہی تھیں نا ہی مدد کر سکتی تھیں وہ وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
    اسکی شکل جاندی سے نہیں مل رہی؟
    وہ عورت اسے دیکھتے ہوئے حوالدارنی کے قریب آکر بولی۔
    جاندی؟ اس نے حیران ہوکر دیکھا
    کو ہے سن وہی بلڈ والی جس نے بلڈ کے ہیرو سے ہی شادی کر لی ہے۔
    اس کو اپنے اندازے پر تصدیق کروانی تھی سو جلدی سے تعارف کرایا۔
    اوہ کو ہے سن۔ حوالدارنی نے اسے زور زور سے روتے دیکھ کر قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا
    حرکتیں بھئ جاندی والی ہی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نور نے روزہ رکھا ہوگا۔
    آج پھر موسم بھیگا بھیگا سا تھا بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی سبک ہوا میں پیدل چلنا بھی اچھا لگ رہا تھا۔ مگر خالی خالی بھی۔ صبح وہ نور الف تینوں اکٹھے نکلا کرتے تھے۔ نور کو صبح کے وقت بہت بولنے کی عادت تھی۔ پٹاخ پٹاخ نجانے کون کون سے قصے انکے جمائیاں لیتے چہروں کو ہنس ہنس کر دیکھتے بتاتی جاتی تھی۔اس وقت اسکی کمی بے طرح محسوس ہوئی تھی۔
    الف کے ہمراہ یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے عزہ نے بہت دلگیری سے پوچھا تھا۔
    پتہ نہیں۔جیل میں سحری کون کراتا ہوگا اسے۔ الف نے تاسف سے کہا۔
    جیل کیسی ہوتئ ہے الف ۔ اکیلی بند ہوگئ وہ کیا؟
    عزہ نے معصوم سے انداز میں پوچھا تھا مگر الف چلتے چلتے مڑ کر اسے گھورنے لگی
    میں تو پیدا ہی جیسے جیل میں ہوئی تھی۔ مجھے کیا پتہ۔
    الف کے چڑنے پر وہ کھسیا سی گئ۔
    ہمیں ملنے جانا چاہیئے ویسے نور سے۔ اسکی عید لگتا ہے جیل میں گزرے گئ۔
    اسے خیال آیا ۔ الف کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ
    اس نے تصور کی آنکھ سے نور کو بڑے سے اندھیرے کمرے میں سلاخوں کے پیچھےسر جھکائے کھڑا دیکھا۔ وہ اتنی اکیلی تنہا لگ رہی تھئ کہ اس نے تصور میں پکار لیا۔
    اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا
    سرخ آنکھیں سرخ چہرہ ماتھے پر ترتیب سے کٹے ہوئے بال۔
    اسکی۔ہنسی چھوٹ گئ۔
    الف نے حیران ہو کر اسے دیکھا
    کیا ہوا۔
    کچھ نہیں وہ میں نے تصور کیا نور کو جیل میں۔ عزہ بمشکل ہنستے ہنستے بولی
    اور یہ تصور کرکے ہنسی آگئ تمہیں؟ شرم کرو۔۔ الف نے تاسف سے کہا
    نہیں ۔۔ نہیں۔ عزہ نےدونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلا کر غلط فہمی دور کرنی چاہی
    وہ اسکے جاندی اسٹائل بالوں پر ہنسی آگئ۔ جیل میں بھی وہ بکھرے بالوں کے ساتھ ہی کھڑی تھئ میرے تصور میں۔
    بمشکل ہنسی روکتے اس نے بتایا
    ہاں تو چار دن میں بال لمبے تھوڑئ ہو گئے ہوں گے۔
    الف نے اپنی زہانت جھاڑنا ضروری سمجھا۔ عزہ گہری سانس لیکر اپنا سر ہلانے لگئ۔ سڑک پر شام سے کچھ پہلے کا وقت ہونے کے باعث رش تھا۔ ذیادہ۔تر تو یونیورسٹی فیلوز ہی تھے جو اپنی اپنی منزل کو رواں تھے۔ اپنے کام سے کام رکھتے مگن جس نے کسی ساتھی دوست کے ساتھ چلنا تھا وہ اسکے ساتھ اونچی اونچی آواز میں بولتا جائے اور ان جیسی اکیلی جانے والیاں الگ اپنا راستہ ناپ رہی تھیں۔ کسی نے نا لڑکیاں دیکھ کر سیٹی ماری نا ہی کوئی جملہ پھینکا
    یار ہم کتنے سکون سے جا رہے ہیں اپنے راستے کسی نے چھیڑا تک نہیں۔ کوریا بہت سیف ۔۔۔ میرا مطلب محفوظ ہے لڑکیوں کیلئے۔
    عزہ آج نور کی کمی پوری کرنا چاہ رہی۔تھئ اسکی بے تکی بات پر الف ہنس دی پھر جتانے والے انداز میں بولی
    اتنا بھی سیف نہیں تم اپنے گھر سے دو گلی دور اغوا ہوتے ہوتے بچی تھیں۔
    وہ تو نور نے پنگا لیا تھا اور وہ مجھے نہیں نور کو اغوا کرنے آئے تھے بتایا نہیں تھا واعظہ نے۔ ورنہ گھر میں گھس کر نور کے بال کاٹ گئے تھے۔ میں بھی وہیں تھی مجھے کچھ نہ کہا۔
    عزہ زور دے کر بولی۔ الف نے ہنکارہ بھر کر رفتار بڑھا لی۔
    بس اسٹاپ آگیا تھا مگر بس نہیں آئی تھی۔ اسٹاپ پر ٹھیک ٹھاک رش تھا۔بنچ فل نہیں تھا طلباء خوش گپیوں میں مگن کھڑے تھے بنچ پر بس تین لوگ بیٹھے تھے چندی آنکھوں والا لڑکا اور ایک لڑکی مگن سے آپس میں گٹ پٹ کرنے میں لگے تھے یقینا ڈیٹ چل رہی تھی۔ بنچ بیچ سے خالی تھا ان سے ہٹ کر کھنچے ہوئے نقوش کی لڑکی بیٹھی آئیسکریم کھا رہی تھی۔وہ اگر ایک طرف ہو کر بیٹھتی تو یقینا عزہ یا الف میں سے کوئی بیٹھ جاتی مگر انہوں نے بھی کھڑے رہنے کو ترجیح دی اور اسکے پاس آکھڑی ہوئیں۔ اپنے دھیان میں انہوں نے محسوس ہی نہ کیا کہ جینز اور ٹاپ پہنے اس چندی آنکھوں والی نے انکو اپنے پاس آتے دیکھ کر ٹانگیں سکیڑ کر ناپسندیدہ سی نگاہ ڈالی تھی۔ بلکہ کون آئیسکریم کھاتے چہرے پر یکا یک کڑواہٹ بھی چھا گئ تھی۔۔اس سے انجان عزہ کی اسٹاپ کے اوپر شیشے کی دیوار دیکھتے ہوئے آنکھیں چمک اٹھیں۔
    یاد ہے ہم کیسے احمقوں کی طرح یہاں سے پوسٹر اکھاڑ رہے تھے اور اچانک وہ رچ مین پور وومن والا ہیرو سامنے آگیا تھا۔
    عزہ کو بس اسٹاپ پر لگا وہ پرانا پوسٹر جو اب پھٹ کر آدھے سے ذیادہ اتر چکا تھا یاد آیا۔
    کتنے احمق تھے ہم۔ الف ہنسی۔
    بے چارے جی چھانگ ووک کی ناک پر منہو کا پائوں آرہا۔
    وہ دلچسپی سے منہو کا پوسٹر دیکھ رہی تھی۔ سب ہنگل میں لکھا تھا بس کل تاریخ پڑھی جا رہی تھی۔
    ہے کیا یہ اگر کوئی اشتہار ہے تو مصنوعات تو ہیں ہی نہیں بس منہو بتیسی دکھا رہا ہے۔ الف کو بھی تجسس ہوا۔
    ابھی پوچھ لیتے۔ اپنے لمبے عبایا کو سمیٹتی عزہ اعتماد سے اس لڑکی کا کندھا ہلا کر پوچھنے لگی۔
    معاف کیجئے گا بتادیں گی یہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔
    بچھی سا( پاگل ہوگئ ہو)؟۔لڑکی نے غرا کر اسکا ہاتھ یوں اپنے کندھے سے جھٹکا تھا جیسے ہاتھ نہ ہوا کندھے پر سانپ آدھرا ہو
    ہائو ڈئیر ئو ٹچ می۔ فلدھئ بچ۔ ( تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تم غلیظ کتیا۔ )
    شستہ انگریزی میں آگے دو تین مزید گالیاں ٹھونک دی تھیں۔
    عزہ ششدر سی رہ گئ اس نے ایسا کیا کردیا تھا جو وہ یوں بھڑک اٹھی تھئ۔
    میں نے صرف آپ سے پوچھا یہ کیا لکھا ہے آپ گالیاں کیوں دے رہی ہیں۔ آپ انگریزئ نہیں جانتی ہیں کیا؟
    الف نے سنبھل کر اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی۔ مگر وہ جو کوئی بھی تھی بہت اچھی طرح انگریزی جانتی تھی۔
    گندے مسلمان آگئے یہاں بھی گندگی پھیلانے۔ یہاں بھی قتل و غارت کرنی تم لوگوں نے۔دفع ہو جائواپنے ملک ۔
    وہ لڑکی جو بھی تھی خالص امریکی لہجے میں انگریزی بکے جا رہی تھی۔ چلا کر کہتی اس لڑکی نے ٹھیک ٹھاک تماشا لگا دیا تھا
    ویئو؟ کیا ہوا۔
    دیگر بس اسٹاپ پر کھڑے لڑکے لڑکیاں بھی متوجہ ہوچکے تھے۔ کوئی اس لڑکی سے پوچھ رہا تھا کوئی خود قیاس آرائی کر رہا تھا۔
    یہ چورنیاں ہیں کیا؟۔ کسی نے تنفر سے ہنگل میں پوچھا
    آندے دہشت گرد ہیں۔ وہ حلق کے بل چلائی۔
    مسلمان دہشت گرد قوم سے ہیں یہ۔
    شٹ اپ ہمیں تو جو کہہ دیا مسلمانوں کے خلاف بکواس کی تو منہ توڑ دوں گئ ۔ الف بھڑک کر اسکی۔جانب بڑھی ارادہ منہ پر طمانچہ ہی لگا دینے کا تھا۔ عزہ نے گھبرا کر اسکا بازو تھاما۔ اس لڑکی نے جوابا غصے میں ایک اور گالی بکتے آئسکریم بھی اسکی جانب اچھال دی بروقت الف نے جھکائی دی پھر بھی اسکے گال پر سے ہوتی آئیسکریم کپڑوں کو داغدار کرتئ ہوئی زمین پر جا گری۔
    الف غصے سے بپھر کر اسکی جانب بڑھی عزہ نے اسکو بازو سے کھینچا
    صبر سے کام لو الف۔ رمضان ہے ہمارا روزہ ہے۔
    تم ۔۔۔۔ الف نے گالی منہ میں روکی تھئ۔
    صبر کرو الف ہمارا روزہ ہے برداشت سے کرو۔
    عزہ کے الفاظ تھے کہ جیسے اس پر کسی نے ٹھنڈا ٹھار پانی گرا دیا ہو۔ روزہ صرف بھوک کا تو نہیں ہوتا روزہ اپنے آپ پر قابو رکھنے غصہ برداشت کرنے اور صبر کرنے کا نام ہے۔
    وہ لڑکی اس کو ٹھٹک کر رکنے پر شہہ پا کر مزید اسے چڑانے کو بکتی چلی گئ۔ ایک بار بس سوچا کہ صبر کرنا ہے غصے پر قابو پانے کیلئے نجانے کہاں سے ہمت در آئی۔
    بس آگئ تھئ۔ وہ بکتی جھکتی بس میں سوار ہوئی آدھے سے ذیادہ تماشائی بھی چھٹ گئے کچھ ہمدردی کچھ حیرت سے ان دونوں کو خاموشی سے سب سہتا دیکھ رہے تھے۔ ایک لڑکے نے جیب سے رومال نکال کر اسکی۔جانب بڑھایا۔
    یہ لو اس سے صاف کرلو۔
    وہ دونوں ضبط کی انتہا پر چپ سی کھڑی تھیں۔
    میکانیکی انداز میں عزہ نے رومال تھاما تو وہ لڑکا جلدی سے بس میں چڑھ گیا یقینا اسے دیر ہو رہی۔تھی۔
    عزہ نے الف کا گال پونچھا ۔ اسکی اپنی آنکھیں بھی اتنی بے عزتی پر بھر آئی تھیں۔
    بنچ پر بیٹھے جوڑے نے بھی یہ بس پکڑنی تھی مگر دونوں ہی بس کی جانب بڑھے ہی نہیں۔ لڑکی نے ان کے قریب آکر جھک کر سلام کیا۔
    میں معزرت خواہ ہوں ابھی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔
    وہ لڑکی دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہہ رہی تھی۔
    آگے بڑھ کر اشتہار پر انگلی رکھ کر بتانے لگی۔
    آپ اس اشتہار کی بابت جاننا چاہ رہی تھیں۔ یہ لی منہو کی فین میٹنگ کا اشتہار ہے کل ایکوا مال میں منعقد ہوگی ملٹری جانے سے قبل یہ آخری میٹنگ ہوگی اسکی۔ یہ لکھا ہوا ہے۔
    وہ دونوں اس وقت کچھ بھی سننے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھیں۔ پھر بھی اسکے سرجھکا کے شکریہ ادا کردیا۔
    آننیانگ۔ وہ دونوں مسکراتے جھک کر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اور سیہون پولیس اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ دو درجن جگہوں پر دستخط کروا کر نجانے کیا کیا تفصیلات لیکر انکی جان بخشی ہوئی۔اب وہ اپنے فلیٹ جا سکتی تھی۔ طوبی اور دلاور کو بس ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن کی زیارت کرنی تھی ایک ہفتے کے اندر۔ معاملہ نمٹنے پر اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔اب اسے یقینا یہ خوشخبری لڑکیوں کو سنانی تھی وہ جان چھٹنے والے انداز میں جانے کو اٹھی تھی تب ہی سیہون اسے دستاویزات کی فائل تھماتا انتظار کرنے کو کہہ کربیت الخلا چلا گیا تھا۔ وہ پولیس اسٹیشن کے ماحول سے جانے کیوں گھبراہٹ سی محسوس کر رہی تھی۔ سو جھٹ باہر نکل آئی۔ فائل کافی بھاری سی تھی اندرخاکی لفافے میں سیہون کے گھر کی اصل دستاویزات اور اس پورے کیس کے ضمانتی کاغذات کی نقل تھی۔ اس نے ایک نظر ڈال کر لفافہ بند کر دیا فائل میں بھی نقول موجود تھیں سب سے اوپر جو کاغذ تھا اس پر لکھے عنوان نے اسے متوجہ کیا اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا
    کم جونگ وون کی ضمانتی درخواست تھی جس کے مطابق وہ فلیٹ کی مالکہ کے سب اعمال و نقل و حمل کا ذمہ دار تھا۔اس نے گہری سانس لیکر فائل بند کر دی۔
    توبہ اتنے لوگ ایک تو مرد ہونا عذاب ہے کہیں کوئی خلوت (پرائیویسی) نصیب نہیں۔ بارہ لوگوں کی ایک چوہے کے بل جیسی تنگ جگہ میں فراغت کی جگہ بنائی ۔ کوئی حد ہے۔ آننیانگ ایسے کر رہے تھے جیسے پارٹی میں آئے ہیں۔ اوپر سے اتنا گھور گھور کے وہ کمینہ دیکھ رہا مجھے جیسے
    سیہون بڑبڑاتا ہوا آیا ۔ وہ چلتے چلتے ذیلی سڑک تک آگئ تھی۔ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ بھاگتا آیا اور آتے ہی شروع ہوگیا۔
    باس۔ واعظہ نے چڑ کر ٹوکا اسے۔ مجھے مت بتائو۔
    وہ فائل سمیت ہاتھ جوڑتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسے چڑتے دیکھ کر سیہون کو لطف آیا ۔
    کیا نہ بتائوں یہ کہ وہ لڑکا مجھے گھور ۔۔ سہون نے شرارت سے کہنا چاہا اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فائل اسکے سر پر۔بج اٹھی تھئ۔
    سی ۔۔ اس نے تڑپ کر سہلایا سر اور گھورنے لگا۔
    تم جلتی ہو مجھ سے۔تمہیں لفٹ جو نہیں کراتا ۔ ویسے میری تو چلی گئ اب جگہ خالی ہے۔ اس نے شرارت سے آنکھ ماری۔ واعظہ اسکے اس بکواسی موڈ کو خوب پہچانتی تھی۔ بنا سر پیر ہانکے جانا۔ سو ناک کی سیدھ میں دیکھتی قدم اٹھاتی رہی۔ اسے بے نیاز دیکھ کر وہ پھر چھیڑنے لگا۔
    اتنا ہینڈسم ہوں کہ لڑکے بھی مرنے لگتے مجھ پر۔ تم نے کبھی مجھے غور سے دیکھا ہی۔نہیں ہے۔
    وہ فرضی کالر جھاڑ رہا تھا۔اسکے کہنے پر وہ واقعی رک کر اسے غور سے دیکھنے لگی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر خجل سا ہوگیا
    گومو وویو۔ وہ سنجیدگی سے اسے فائل تھماتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ پچھلے چھے سالوں میں میں نے شائد بس ایک یہی ڈھنگ کا کام۔کیا ہے کہ تم جیسا پرخلوص دوست بنایا۔ جونگ وون سے رابطہ کرنے پر تم پر کافی غصہ ہوئی کچھ ذیادہ کہہ بھی گئ اسکے لیئے معزرت۔
    اسکے سنجیدہ سے انداز پر سیہون کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئ۔
    میں خفا نہیں ہوں واعظہ۔ اور یقین کرو میں نے آخری آپشن رکھا تھا کہ جونگیا سے رابطہ کروں۔ اور کوئی چارہ نہ تھا اسکے بابا اسپیشل برانچ میں منتظم نہ ہوتے تو کبھی بھی اس سے رابطہ نہ کرتا۔ انکی وجہ سے ہی یہ خون کی رپورٹ دو دن میں آگئ ورنہ تو۔
    کرم۔ ( بہرحال) واعظہ نے دانستہ ہلکا پھلکا انداز اپنایا۔
    آج میں ان سب کو گھر لے جائوں گی تم ہماری وجہ سے کافی بے آرام رہے۔
    اب یہ تکلفات رہنے ہی دو تم ۔ سیہون کا انداز ڈانٹنے والا ہوچلا تھا۔
    اب اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا وہ جو روم میٹ تمہاری جیل میں ہے اسکو چھڑوانا؟ کہو تو اسکے لیئے بھی بات کروں جونگیا سے؟
    وہ روانی میں اسکو پھر چھیڑ گیا تھا۔
    واعظہ ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔
    اگر وہ گروہ کے دوسرے ارکان نہیں پکڑے جاتے اور وہ کمینہ اپنے بیان پر قائم رہا کہ نور اسکے گروہ کی رکن ہے تو ؟؟؟
    وہ اس کو ڈرا نہیں رہا تھا ہاں کچھ باتیں باور کرانا چاہ رہا تھا جن سے اس نے نگاہ چرائی تھئ۔ اور ابھی بھی دانستہ نگاہ چرائے سامنے سڑک کے اس پار گہما گہمی کو دیکھ رہی تھی۔
    تو۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
    تو یہ کہ پھر مقدمہ درج ہوگا باقائدہ کیس چلے گا پیسہ لگے گا وکیل لینا پڑے گا نئے سرے سے تفتیش ہوگی اور تم جو اسکی نام نہاد سرپرست بنی ہوئی ہو کہاں سے انتظام کروگی۔
    سیہون اسکے انداز پر بری طرح چڑ گیا۔ چیخ ہی پڑا۔
    یہ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کا شوق کیا ہے تمہیں؟ تفریح چاہییے زندگی میں؟ بیزارکن ہے؟ اس طرح کچھ لطف اٹھا لیتی ہو دوسروں کے مسلئے سلجھا کے؟ اپنا کوئی مسلئہ نہیں زندگی میں تو چلو دوسروں کے سہی۔
    ہاں ایسا ہی ہے ۔ پھر؟ اب نہیں ہے میری زندگی میں کوئی تھرل تواگر میں شامل کر بھی لوں تو تمہیں کیا ؟
    جوابا وہ بھی تپ گئ تھی۔
    سڑک کنارے وہ دونوں کھڑے چلا چلا کر لڑتے آتے جاتے لوگوں کی توجہ کا باعث بن رہے تھے مگر کسی کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں تھا کہ کھڑا ہو کر دیکھے انکی لڑائی کا انجام سوائے سڑک کے دوسری جانب پارک ہوئی اس بڑی سی کالی گاڑی کے جس کے شیشے بھی کالے تھے اور ڈرائیور نے اسکے متوجہ ہونے کا خوف لاحق ہوتے ہی ابھی ابھی اوپر کیئے تھے۔
    اتنا شوق ہے نا بیٹیاں پالنے کا تو لیگلی ایڈاپٹ کرلو اس لڑکی کو۔ ورنہ تو کوئی صورت نہیں ۔اسکی مدد کرنے کی۔ تم دو سے تین چکر لگائوگی اس سے ملنے کے ۔۔۔پھرتم بھئ شامل تفتیش ہو جائوگی۔
    اسکی بات پر واعظہ کچھ کہتے کہتے ایکدم چپ ہوئی۔ہونٹ بھینچ کر سر جھکا لیا۔ جوتے کی نوک سے زمین کو بے وجہ کریدنےلگی تھئ۔ وہ بھی اسکو دیکھ کر ٹھنڈا پڑا۔
    ۔ تم اسکے والدین سے کیوں نہیں کہتیں وہ کیوں نہیں آتے یہاں یا کسی سے کہہ سن کر معاملہ سنبھالتے۔
    تم نہیں جانتے پاکستانی والدین کو۔ انکو اگر پتہ لگا کہ انکی بیٹی جیل میں ہے تو وہ وہ جیتے جی مر جائیں گے۔ ہمارے دقیانوسی معاشرے میں جیل جانا بہت معیوب بات ہے وہ بھی لڑکی کا۔ اسکا کیس چلے تو شائد کہیں کوئی راہ نکل آئے بچ جائے وہ تعلیم مکمل کرلےلیکن اسکے والدین کو پتہ لگا تو ۔ وہ پہلی فرصت میں نور کی پڑھائی بندکروا دیں گے۔ اسکو ہر قیمت پر واپس لے جائیں گے۔
    واعظہ کی بات اس نے بہت غور سے سنی۔
    ہمارے یہاں تو بچے پیدا ہی جیل میں ہوتے ہیں۔ سیہون آرام سے بولا۔ واعظہ نے سخت چڑ کر گھورا تو وہ رسان سے کہنے لگا
    جیل جانا کسی معاشرے میں رواج نہیں ہوتا سب برا ہی سمجھتے۔ احمق۔
    اس نے بات جاری رکھی۔
    جتنے بھی سخت گیر ہوں ہے تو انکی بیٹی وہ سب اثاثے لگا کر ہر طریقہ آزما کر اسے بچانا چاہیں گے اور ایسا انہیں ہی کرنا چاہیئے کیونکہ وہ انکی بیٹی ہے انکے سوا کسی اور کا کوئی فرض نہیں بنتا۔دوسری بات۔ تمہیں لگتا کے ڈراموں میں جو سولہ اقساط میں کیس چل کر ختم ہوتا ایسا سادہ او رآسان طریقہ ہے کوریا میں انصاف پانے کا؟ ہزاروں کیسز ہیں جن کی شنوائی کی باری نہیں آتی سالوں۔ اوپر سے یہ اتنا حساس معاملہ ہے یہ بہت لمبا چلے گا۔ تم کب اور کہاں تک اسکا ساتھ دے پائو گئ؟ اور پڑھائی چھٹ جانااور پاکستان چلا جانا
    لاکھ درجے بہتر ہوگا اسکے لیئے بہ نسبت یہاں جیل میں سڑنے کے۔
    اتنے دنوں میں پہلئ بار تھا کہ واعظہ نے چپ۔ہو کر سنی تھی اسکی بات۔ وہ بھئ مزید اسکی سماعتوں کو زحمت دینے کی بجائے اسے سوچنے کا موقع دینا چاہتا تھا
    یہ سب واقعی نہیں سوچا تھا اس نے۔لیکن کوریا کا لڑکا پاکستان کی لڑکی کا مسلئہ کیسے سمجھ سکتا ہے۔
    اسے نور کی آنسو بھری آنکھیں اور منت بھرا لہجہ یاد آیا
    پلیز میرے گھر والوں کو خبر نہ ہونے دینا اس معاملے کی۔
    وہ سرجھٹک کر بولی تو صرف اتنا۔
    شکریہ۔
    جانے وہ سچ مچ قائل ہوئی تھی یا اس سے جان چھڑانے کو کہہ رہی تھی وہ قصدا دو قدم آگے ہوا۔ فائل سنبھال کر سڑک کنارے دور سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ دینے لگا۔ ٹیکسی نے رفتار دھیمی کی تو کن انکھیوں سے اسے دیکھ کر منہ بنا کر بولا۔
    اتنی اکڑی گردن کے ساتھ شکریہ بھی ایسے کہتی ہو کہ جیسے سر پر آینٹ اٹھا کر مار رہی ہو۔
    وہ ڈرامے باز اب حقیقتا اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔
    آہ سر دکھنے لگا ہے تمہارے تکلفات سے۔۔
    اسکا انداز اتنا مسخرانہ ہو چلا تھا کہ وہ ہنس ہی پڑی۔
    کدھر جانا ہے۔ ٹیکسی کا دروازہ اسکے بیٹھنے کیلئے کھول کر وہ پوچھ رہا تھا
    پاکستانی ایمبیسی۔ ۔ اس نے کہتے ساتھ ہونٹ بھینچ لیئے تھے۔
    وہ دروازہ بند کرتے کرتے رک گیا
    میں بھی چلوں؟ اس نے پوچھا تو واعظہ جواب دینے کہ۔بجائے نشست پر آگے کھسک گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 20

    قسط 20
    دھیرے سے دروازہ کھٹکا کر اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے پھر دستک دے کر ذرا سی دروازے کی درز سے جھانکا تو ہے جن مسہری پر سر جھکائے بیٹھا تھا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے کسی گہری سوچ میں گم۔
    اس نے شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے اسکے قریب جا کر ہائو کیا۔ وہ نہ ڈرا نہ چونکا جوں کا توں بیٹھا رہا الٹا منہ پھیر کر جلدی سے آنکھیں صاف کرنے لگا۔ وہ بیگز بیڈ پر پھینک کر اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔ پیار سے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیکر اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہو کر سوجی ہوئی تھیں۔ یقینا ابھی اس نے اپنے آنسو صاف کیئے تھے۔ سرخ ہوتا چہرہ وہ پریشان سی ہو اٹھی
    کیا ہوا خیریت تو ہے ہے جن؟
    اسکے اتنا سا پوچھنے کی دیر تھی وہ اس سے لپٹ کر رو پڑا۔
    کیا ہوا ہے جن بتائو تو سہی۔ اسکی پشت تھپکتے اس کو پرسکون کرنے کی سعی کرتے ہوئے واعظہ پوچھ رہی تھی۔
    نونا میں بہت برا ہوں میں بہت گناہگار ہوگیا ہوں۔ اللہ کا بھی اور بدھا کا بھی۔ میرا کرما میرے سامنے آئے گا تو کیسے سہہ پائوں گا؟
    وہ بلکے جا رہا تھا۔ واعظہ چپ سی ہو گئ۔ کئی لمحوں کے بعد اسکی ہچکیاں تھمی تھیں۔ آنسو پونچھتا وہ سیدھا ہو بیٹھا پھر شرمندہ سے انداز میں کہنے لگا
    پریشان کردیا نا آپکو بھی نونا۔
    اسکی گلابی رنگت سرخ ہو رہی تھی ۔ سرخ ناک سرخ سی آنکھیں وہ بالکل معصوم چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔
    مجھے دل سے نونا سمجھتے ہو نا؟ اس نے ہے جن کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
    دے۔ اس نے معصومیت سے سر ہلایا۔
    بتائو پھر کیا ہوا؟ کیوں پریشان ہو۔ اس نے بہت پیار سے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا جوابا وہ سر جھکا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے طوبی نے فون کرکے بلایا تھا۔ اسے لائونج میں بٹھا کر خود وہ اندر کچھ لینے چلی گئ تھئ۔ بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہے تھے۔ اسکا بیٹا کشن کے سہارے بیٹھا تھا جھنجھنے سے کھیل رہا تھا جب ایکدم سے مڑنے سے منہ کے بل کارپٹ پر آیا۔ چوٹ تو نہیں لگی تھی مگر جانے کیوں خوب زور سے رونے لگا۔
    اس نے آگے بڑھ کر اٹھایا اسے بہلانا چاہا مگر وہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا وہ اسے لائونج سے ملحق لیکر بالکونی میں لے آیا۔ تھپکنے اور باہر کی فضا میں آکر وہ چپ ہو ہی گیا۔ وہ یونہی اسے تھپکتے بالکونی سے جھانکنے لگا تبھی اسکی نگاہ نیچے سے گزرتے چھوٹے سے جلوس پر پڑی دس پندرہ بدھ متی پنڈت گیرواں چولے جیسا لباس پہنے گلے میں مالائیں لٹکائے مخصوص الاپ الاپتے گزر رہے تھے۔ لوگ ان سے دعائیں لیتے کچھ ساتھ ہو جاتے کچھ ہدیہ دیتے آگے بڑھ جاتے۔
    ہے جن ۔ طوبی اسے لائونج میں سے پکار رہی تھی۔
    دے۔ وہ جلدی سے پلٹا۔ طوبی اسکیلئے کچھ شاپر میں لیئے کھڑی تھئ۔
    اسے بٹھائو صوفے پر اور جلدی سے مجھے یہ پہن کر دکھائو ویسے تو سب ناپ واپ کر سیا ہے پھر بھی کوئی کمی بیشی ہو تو مجھے بتائو میں ٹھیک کر دوں۔
    وہ خوشی سے کافی پرجوش تھی۔ اس نے احتیاط سے اسکے بیٹے کو صوفے پر بٹھایا اور طوبی کے ہاتھ سے شاپر لیکر دیکھنے لگا۔
    طوبی نے اپنے ہاتھوں سے اسکے لیئے سفید کرتا پاجامہ سیا تھا جسکے گلے پر کوریائی طرز کے ہنبق پر جو پھول پتیاں بنی ہوتئ ہیں انکو سرمئی اور کالے دھاگوں سے کاڑھا تھا۔کڑھائی کی خوبصورت اور صاف بنت ماہر کاریگری اور کوریائی اور پاکستانی طرز ثقافت کا خوبصورت ملاپ وہ کرتا جدید انداز کا صفائی سے سلا تھا۔ کھڑا پاجامہ پینٹ کی طرز کا سلا تھا۔ اتنا خوبصورت لباس اسکے چہرے پر اشتیاق کے رنگ پھیلتے دیکھ کر طوبی کو لگا اسکی محنت وصول ہوگئ۔
    وہ اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہا تھا
    یہ تمہاراعید کا لباس ہے میری جانب سے تحفہ میرے منے بھائی کیلئے ۔ تم اسکو پہن کر ہی عید کی نماز پڑھنا۔ سمجھے۔ اسکی بات پر ہےجن کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
    طوبی کا۔دھیان اس پر نہیں تھا
    جائو جلدی سے پہن کر دکھائو مجھے بسم اللہ پڑھ کر پہننا آج جمعتہ الوداع ہے۔ بہترین دن ہے۔ جائو جلدی۔ اس نے اسے کمرے کی جانب دھکیلا تھاپھر صدق دل سے دعا کی۔
    اللہ میرے بھائی کو دین پر استقامت سے چلنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا آپکو بتایا تھا نا میں نے میں تارک الدنیا بننا چاہتا ہوں۔ میں واقعی بننا چاہتا ہوں مگر بجائے میں دنیا سے منہ موڑتا میں روزے رکھ رہا ہوں طوبی آپی کو لگتا میں انکے دین پر آتا جا رہا ہوں۔ نماز روزے کی جانب راغب ہوں وہ سمجھتی ہیں میں پورک کو چھوتا بھی نہیں مگر نونا پورک میرا پسندیدہ کھانا ہے۔۔
    ہے جن بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر سر جھٹکتا وہ بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واعظہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
    طوبی نونا مجھے دین کی باتیں بتاتی ہیں میں ان سے جھوٹ کہہ دیتا کہ میں نے پورک کھانا چھوڑ دیا مگر نونا میں نہیں چھوڑ سکتا۔ میں آپ لوگوں کی طرح لمبی لمبی پانچ دفعہ نمازیں نہیں پڑھ سکتا میں ایک دو روزے شغل میں رکھ سکتا ہوں مگر یہ دیکھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے شاپر اٹھایا۔ اس میں سے کرتا پاجامہ نکال کر اسے دکھایا۔
    طوبی نونا نے میرے لیئے خود عید کا کرتا کاڑھا ہے۔ وہ چاہتی ہیں میں یہ کرتا پہن کر عید کی۔نماز پڑھوں۔میں یہ پہن سکتا ہوں عید میں آپ سب کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں مگر۔۔
    اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا پھر جیسے تھک کر بولا۔
    مگرمیں عید کے دن نماز نہیں پڑھ سکتا مجھے قرآن کی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں مگر میں انکو رٹ نہیں سکتا۔میں نے قل آیت الکرسی یاد کی ہیں میں درود پڑھتا ہوں مگر میں ہمیشہ انکو پڑھتا ہوں تو میرے دل پر بوجھ آگرتا ہے۔ مجھے آپ لوگوں کا اللہ ٹھیک لگتا ہے مگر مجھے اپنے بدھا سے بھی محبت ہے۔ میں نہ بدھا کا رہا ہوں نا اللہ کا ہو سکا ہوں۔ مجھے لگتا میری اپنی ماں مجھے شاکی نظروں سے دیکھتی ہے جب طوبی آپی میرے لاڈ اٹھاتی ہیں۔میری ماں مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی اگر اسے پتہ لگا کہ میں یہاں مسلمان بن رہا ہوں۔
    نونا میں مسجد جاتا ہوں سب جیسے ورزش کرتے میں اسکی نقل کرتا ہوں ۔دلاور بھائی روز مجھے اپنے ساتھ وضو کرواتے رہے مجھے نماز سکھاتے رہے مگر نونا مجھے یاد نہیں ہوتی عربی۔۔ بہت مشکل زبان ہے مجھ سے تلفظ بھی صحیح ادا نہیں ہوتا نونا۔ میں نبی ص کے بارے میں کتابیں پڑھتا رہا وہ بھئ اچھے انسان تھے لیکن مجھے بدھا بھی اچھے لگتے ہیں۔
    بے چارگی سے کہتے وہ واعظہ کے سامنے گھٹنے کے بل آبیٹھا۔
    نونا میں نے کچھ بھی کسی کو دھوکا دینے کی نیت سے نہیں کیا۔ مجھے پتہ ہے طوبی آپی مجھے عزہ نونا کا بھائی سمجھتی ہیں اسلیئے وہ مجھے بھی مسلمان بنانا چاہتی ہیں مگر نونا سچ تو یہ نہیں نا۔ میں رمضان میں جھوٹ بولتا رہا روزہ رکھتا رہا مگر پورک بھی کھاتا رہا۔ عزہ نونا اس دن پورک کھا کر اتنا روئیں کہ انکو لگا ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا آپکے مذہب میں پورک اتنا برا سمجھا جاتا ہے اور میں آپکے اللہ کا روزہ رکھتا رہا اور پورک بھی کھاتا رہا وہ تو مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ نونا۔۔ نونا مجھے لگ رہا ۔۔
    وہ ایکدم متوحش سا ہوگیا۔
    میں۔ وہ گھبرا کر اٹھنے لگا تو واعظہ نے اسکو دونوں کندھوں سے تھام کر روکا پھر خود بھی بستر سے اتر کر اسکے سامنے دوزانو ہو بیٹھی۔ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر اسی کے بائیں پہلو پر رکھ کر بولی
    اپنی دھڑکنوں کو محسوس کرو اور غور سے سن کر مجھے جواب دینا۔۔
    وہ یونہی اسے خالی نگاہوں سے دیکھتا رہا ۔ وہ چند لمحے بغور اسے دیکھتی رہی۔
    تم مسلمان ہو؟
    نہیں۔ اس نے بلا توقف جواب دیا۔
    تم بدھ متی ہو۔۔
    وہ اتنا برملا انکار نا کر سکا ۔ سر جھکا لیا۔
    ہاں۔ اس نے کچھ توقف سے جواب دیا۔
    بدھا کیسے تھے ؟ معاف کرنے والے پیار کا درس دینے والے سچے ہمم؟
    وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
    اس نے حیران ہو کر سر اٹھایا۔
    بڈھسٹوں کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے اتنی انجان نہیں تمہارے مذہب سے۔۔
    وہ محظوظ سے انداز میں مسکرائی۔
    ہاں وہ ایسے ہی تھے۔ مگر وہ کہتے کہ اگر کوئی برائی کروگے تو ضرور اسکا بدلہ پائو گے۔
    وہ۔خوفزدہ تھا۔
    اچھا۔ تو تم نے کیا برائی کی ؟ کسی دوسرے مزہب پر گئے کسی لڑکی کے منہ بولے بھائی بنے کسی کا دل نہ توڑنے کی نیت سے اسکے مذہب کئ کچھ روایتوں کی پیروی کی تو اسکا بدلہ تمہیں کیا ملے گا کوئی تمہارا منہ بولا بھائی بن کر تمہارا دل نہ ٹوٹے یہ سوچ کر تمہارے ساتھ بدھ متی روایتوں کی پاسداری کرے گا؟
    وہ بہت نرم سے انداز سے پوچھ رہی تھی۔
    وہ جوابا کچھ بولا نہیں۔
    بدھا اگر برے عمل کا برا نتیجہ ملے گا ایسا کہتے تو تم نے تو اچھا عمل بھی کیا کسی کے پیار کا پیار سے جواب دیا کسی۔
    وہ مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر اندرونی کسی خلفشار سے گھبرا کر وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔
    اور اللہ؟؟ وہ وہ مجھے معاف کردے گا۔
    واعظہ اسکی بے تابی پر مسکرا دی۔
    کم از کم اللہ کے بارے میں میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں۔ وہ تم سے خفا نہیں۔ وہ جس سے خفا ہوتا اسکو بھی نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تو پیار ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ ستر مائوں سے ذیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ وہ غلطی کی سزا فورا نہیں دیتا ہاں عمل کا ثواب فورا دے ڈالتا۔ وہ نیتوں کا حال جانتا تمہارا ہر عمل اس سے چھپا نہیں۔ تم مسلمان نہیں ہوئے مگر مسلمانوں کے ساتھ رہے انکے عقیدے کا احترام کیا انکے ساتھ روزہ رکھا جہاں تک ہو سکا پیروی کی۔کتنے مسلمان ہیں جو روزہ نہیں رکھتے نماز نہیں پڑھتے تم مسلمان نہیں بھی ہو پھربھی اسکے احکامات کی پیروی کی کوشش کرتے ہو۔ ہو سکتا ہے تمہیں اتنا کچھ کرنے کا دل چاہا ہی اسی لیئے کہ اللہ کو تمہاری کوئی ادا پسند آگئ۔ اس نے چاہا کہ تم جانو اسکے بارے میں اسکے پیارے نبی ص کے بارے میں۔
    مگر۔ وہ ابھی بھی بے چین تھا۔ مگر واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
    اگر تمہارے دل پر ابھی بھی بوجھ ہے۔ تو سنو اللہ تمہاری نیت شروع سے جانتا تھا تم مسلمان ہو ہی نہیں تو تم نماز پڑھو نہ پڑھو اس سے اسکو کوئی غرض نہیں۔ تم دل سے نماز نہیں پڑھتے تھے تو بدھا تم سے کیوں خفا ہونگے تم مسلمان ہو تو نہیں گئے نا؟ تم واحد جس کے گناہ گار ہو جس سے تم نے جھوٹ بولا اسکے بارے میں تم نے سوچا ہی نہیں۔
    وہ نرم سے انداز میں جتا کر بولی۔
    کون ۔۔۔۔۔۔ اس نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی
    طوبی۔۔ اس نے کہہ کر توقف لیا
    تم نے اسے کہا کہ تم عزہ کے بھائی ہو اور پھر ہم سب نے اس سے سچائی چھپائی اس جھوٹ میں ہم سب شریک ہوتے گئے تم تو چھوٹے تھے ہمیں سمجھداری سے کام لینا چاہیئے تھا۔اور ہماری اس غلطی کی وجہ سے تمہیں اتنا کچھ کرنا اور سہنا پڑا۔ ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ تمہارے حوالے سے جھوٹ بولنے کی وجہ سے تمہیں جو اتنا کچھ سہنا پڑا اسکے لیئے ہمیں معاف کردو ۔۔۔میں ہم سب کی۔جانب سے تم معافی مانگتی ہوں۔ واعظہ کی آنکھیں بھرسی گئیں ہے جن نے تڑپ کر اسے گلے لگا لیا
    آندے نونا ایسا مت کہیں۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا میں خود جا کر طوبی نونا سے معافی مانگوں گا۔
    ٹھیک ہے اب یہ رونا دھونا بند کرو ۔ واعظہ نے اسے پیار سے چمکارا۔
    یہ کرتا ضرور پہننا عید کے دن اسے پہننے میں حرج نہیں ۔ طوبئ نے بہت پیار سے بنایا ہوگا تمہارے لیئے۔ واعظہ اسے سمجھا نے والے انداز میں کہہ رہی تھی اس نے آنکھیں پونچھ کر سر ہلایا تبھی اسکی نگاہ واعظہ کے لائے شاپنگ بیگ پر پڑی۔ واعظہ توصیفی نگاہ سے کرتا پاجامہ دیکھتے ہوئے اسے احتیاط سے تہہ کرنے لگی۔
    یہ کیا ہے۔ ہے جن نے پوچھا تو وہ چونکی ۔۔
    یہ ۔ وہ مسکرا دی
    تمہارے لیئے عید کا تحفہ لائی تھی۔ ہم سب عید پر خوب اچھی طرح تیار ہوتے ہیں تو تمہارے لیئے مجھے ۔۔
    ہے جن نے اسکا جملہ سنتے ہی جھٹ شاپر کھول لیا تو وہ چپ کر گئ۔
    سی گرین بے حد خوبصورت پلین ڈریس شرٹ تھی ساتھ میچنگ کیمل کلر کا کاٹن ٹرائوزر۔ اسکو بے حد پسند آئی۔۔
    بہت اچھی ہے نونا۔ کھمسامنیدہ۔ میں اسکو چیک کرتا ہوں
    وہ بچوں کی طرح خوش ہوتا ہوا باتھ روم بھاگا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سحری میں وہ سب بیدار تھیں۔ آج جانے سورج کہاں سے نکلا تھا کہ واعظہ سب کیلئے پراٹھے بنانے کھڑی ہوگئ۔ عروج چیز آملیٹ تیار کر رہی تھی فاطمہ چائے بنا رہی تھی۔ عزہ نے جلدی جلدی لسی بنانے کی تیاری شروع کردی تھی۔ الف اور عشنا میز پر سر رکھے اونگھ رہی تھیں۔
    ہے جن کو تو اٹھایا ہی نہیں جائو عزہ اسے تو اٹھا دو۔
    بندیاں گنتے ہوئے عروج کو ہی خیال آیا۔
    میں لسی بنا رہئ۔عزہ نے فٹ انکار کیا۔
    عشنا مارے باندھے سستی سے دوپٹہ کندھے پر برابر کرتی اٹھنے لگی
    رہنے دو اسے رات کو دیر سے سویا ہے سونے دو۔ آخری پراٹھا اتار کر چولہا بند کرتے ہوئے واعظہ نے منع کردیا۔
    ہو سکتا ہے آج آخری روزہ ہو وہ جاگ کر شکوہ کرے گا اٹھا دو۔
    عزہ نے اعتراض کیا تو واعظہ نے قصدا تھوڑا سا سخت انداز میں کہا
    تو کونسا وہ مسلمان ہے اسکا روزہ رکھنا نہ رکھنا برابر ہے ایویں اس بے چارے کو فاقہ کرواتے ہیں اپنے ساتھ۔ کم از کم۔
    اسکی بات ادھوری تھئ کہ دروازہ کھول کر ہےجن جمائی لیتا ہوا باہر آگیا۔وہ چپ ہوگئ۔ عزہ نے جتانے والے انداز میں دیکھا اسے۔
    آپ لوگوں نے اٹھایا ہی نہیں مجھے سحری کا وقت ختم تو نہیں ہوگیا؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
    واعظہ بس ایک نظر دیکھ کر پلٹ گئ ۔ پراٹھوں والا ہاٹ پاٹ یونہی کھول کر دیکھا پھر بند کر دیا۔
    کیا ہوا پراٹھے کم ہیں ؟ آٹا تو ہے لائو میں بنا دیتی ہوں۔
    اسکے ماتھے پر تفکر کی لکیر دیکھ کر فاطمہ یہی سمجھی کہ شائد کم پڑ گئے۔
    آں۔ وہ چونکی۔ نہیں میں ذیادہ ہی بنا گئ ہوں ۔ چلو ناشتہ کریں۔
    واعظہ نے فورا سنبھل کر جواب دیا اور ہاٹ پاٹ اٹھا لیا۔
    ہمارا بھائی کتنے روزے رکھ چکا۔ آملیٹ لا کر میز پر رکھتے ہوئے عروج نے اسکو شرارتا کہنی مار کر پوچھا
    12۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا ان سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
    تو تم جو سارا سارا دن غائب رہتے تھے تو کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے؟ عزہ کو تشویش ہوئی۔اس کے سامنے بھر کر لسی کا گلاس رکھ دیا۔
    اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ وہ سب اسکے جزبے سے شدید متاثر دکھائی دینے لگیں۔
    ایک کلمے کی دیر ہی رہ گئ روزے تو رکھنے لگا ہی ہے یہ اسکو پکا مسلمان بنا دیں گے ہم۔ الف متاثر ہوئی تھی۔
    خود پکے مسلمان ہم بنیں نہ بنیں دوسروں کی خوب فکر رہتی ہے ہمیں۔ واعظہ بڑ بڑائی۔ فاطمہ چونکہ پاس ہی کھڑی تھئ سو صرف وہی سن پائی۔ اسے واعظہ الجھی الجھی سی لگ رہی تھئ۔
    ہےجن جو لسی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگانے لگا تھا جانے کیوں رک سا گیا۔
    فاطمہ ناشتے کا سامان لا کر میز پر رکھنے لگی۔
    واعظہ نے میز پر ہاٹ پاٹ رکھتے ہوئے جان کراردو میں بولی۔
    ایمان لانا الگ ہوتا ارکان دین پورے کرنا الگ۔ جس طرح نماز روزہ نہ رکھنے سے آپ کافر نہیں ہو جاتے اسی طرح نماز روزہ رکھ کر آپ مسلمان کہلائے جانے کے حقدار بھی نہیں ہو جاتے۔ کیا فائدہ جب وہ دل سے ایمان نہیں لایا بھلے وہ کھائے پیئے یا فاقہ کرے ایک ہی بات ہے۔
    اسکا انداز سادہ تھا مگر عروج کو جانے کیوں برا سا لگا
    تم نے بڑا اسکے دل میں جھانک کر دیکھا ہے۔ کیا خبر اسکے روزے خدا کو پسند آرہے ہوں اور وہ ہدایت کے در وا کردے۔
    اسکے ہدایت کے در وا کروانے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے۔
    واعظہ تلخ سے انداز میں بولی۔
    ایک کم عمر اسکول جانے والے بچے کو مخصوص دینی ماحول میں رکھ کر سیدھا سیدھا برین واش کر رہے ہیں ہم اسکا۔
    کیا مطلب واعظہ ہم نے کب اسکی کنپٹی پر بندوق رکھ کر روزہ رکھوایا ہے۔ عزہ بھی حیران ہو کر بحث میں الجھی۔
    ہے جن خاموشی سے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے نہ ہی وہ اندازہ لگا پارہا تھا کہ آیا موضوع گفتگو کیا ہے۔
    ہم نے نہ سہی طوبی نے زبردستی جب سے رمضان شروع ہوا ہے اسکو مسجد بھیجا ہے اپنے میاں کے ساتھ وہاں اسکو نماز بھی سکھاتے رہے وہ اور قرآن بھی پڑھاتے رہے۔ اورطوبئ نے ایسا اسلیئے کیا کہ وہ اسے تمہارا بھائی سمجھتی ہے۔ ہم نے اسکی غلط فہمی اس مقدس مہینے میں بھی دور نہیں کی۔ ہے۔۔ وہ نام لیتے لیتے رکی۔ پھر نام لیئے بنا بولی۔
    مانا اس نے جھوٹ بولا مگر ہم سب اس جھوٹ کو نبھاتے بھی رہے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کل کلاں کو کچھ ہواتو کچے ذہن کو زبردستی اپنے دین پر راغب کرنے کی بھی دفعات
    وہ جوش میں تھوڑا اونچئ آواز میں بولنے لگی الف نے ہاتھ اٹھا کر اس کو روکا۔۔
    ٹھہرو اگر ہے جن نے یہ جھوٹ بولا ہے ہم نے نبھایا ہے تو تم نے بھی تو سیہون کو بیٹھے بٹھائے عزہ کا بھائی بنا دیا تھا خود تم نے بھی تو جھوٹ بولا نا پھر ہم نے تو وہ جھوٹ بھی نبھایا ہے۔
    الف کے اس طرح کہنے پر وہ ایکدم چپ سی ہوگئ۔ اسے یوں چپ ہوتے دیکھ کرعزہ کو برالگا۔
    اب تم اس بات کو یہاں نہ جوڑو۔وہ جھوٹ نہیں تھا۔ چھوٹا سا مزاق تھا بس۔ اور سیہون میرا بھائی بنا ہے تم فکر نہ کرو۔۔

    ہاں تو وہ دھوکا دہی نہیں ہے؟ جب وہ سیہون تمہارے اغوا ہونے کا سن کر دوڑا دوڑا حال پوچھنے آیا تھا اسپتال؟ عروج الف کی مدد کو میدان میں اتر آئی۔
    نونا کیا بحث چل رہی ہے سحری کریں لڑیں مت۔ ہے جن کو معاملہ سنگین ہوتا دکھائی دیا تو میدان میں کودا
    میں۔نے واعظہ تلملا کر جانے کیا کہنے والی تھی کہ
    ۔ تبھی بیرونی دروازے پر آہٹ ہوئی سیہون تھکا تھکا سا اندر داخل ہو رہا تھا۔
    تم لوگ سحری کر لو یہ بحث بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔
    فاطمہ جو اب تک بالکل خاموش بیٹھی تھی سنجیدگی سے بولی۔ تو وہ سب بھی آخری روزے کا خیال کرکے چپ ہوگئیں۔ سیہون ان سب سے بے نیاز سیدھا کمرے میں گھس گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 19

    قسط 19

    کچھ کھائو پیو گی؟ فاطمہ نے فریج سے پانی نکال کر پیتے ہوئے یونہی پوچھا تھا ازراہ تفنن مگر ان سب نے زور و شور سے گردن اثبات میں ہلائی۔۔ تو وہ گھور کر رہ گئ۔
    کمروں کا انسپیکشن مکمل کرکے عشنا تو وہیں بیڈ پر سحری میں اٹھانے کی ہدایت کرتئ بے سدھ ہوئی الف اور عروج کا ارادہ رات کو عبادت کا تھا سو اس وقت کافی پی کر سستی بھگانے کا سوچ کر لائونج کے صوفوں پر سستی سے پڑی تھیں۔ عزہ منہ ہاتھ دھو کر کمر ے کی بتی بجھاتی کچن میں چلی آئی۔
    عروج صبح ہاسپٹل نہیں جانا کیا۔
    کافی کا ایک ساشے کم تھا سو اس نے ڈبہ اٹھا کر بندیاں گنیں پھر عروج سے بڑی آس سے پوچھا۔
    چھٹی ہے میری کل۔ عروج نے دونوں بازو اوپر اٹھا کر انگڑائی لی فاطمہ دانت کچکچا کر رہ گئ۔
    ایکسپریسو کافئ اسٹرانگ ہوتی ایک کپ اور بن جائے گی اگر مکس بنائوں۔۔
    اس نے ساسر پر کھولتے پانی میں دودھ چینی سب اکٹھے چڑھا رکھے تھے ابال آنے پر سارے بچے کھچے ساشے کھول کر پتی کی طرح ڈال دیئے۔
    اب اگلے ابال آنے پر چائے کی طرح تیار کی گئ کافی تیار ہوجانی تھئ۔ خود ہی اپنا کندھا تھپک کر شاباشی بھی دے ڈالی۔ یقینا کوئی امریکی ایکسپریسو کو ایسے بنتے دیکھ لے تو سر پیٹ کر جنگلوں میں نکل جائے۔
    ان سب کیلئے کافی بناتئ فاطمہ خود ہی اپنی حرکت پر ہنس رہی تھی ۔۔ اسکا خوشگوار موڈ دیکھتی عزہ نے اسکے قریب آکر سرسری سے انداز میں پوچھا تھا۔
    تم نے سیہون بھائی سے شادی کیوں کی؟
    فاطمہ کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔
    دزدیدہ نظروں سے لائونج میں خوش گپیوں میں مصروف عروج اور الف کو دیکھا پھر کہنی سے پکڑ کر عزہ کو کھینچ کر قریب کر لیا آواز دبا کر وہ جیسے غرائی۔۔
    خبردار جو منہ سے کوئی بھاپ بھی نکالی۔ مجھے ویزے کی غرض سے پیپر میرج کرنی پڑی ہے بس ۔
    کس سے چھپا رہی ہو؟ عزہ نے اطمینان سے سینے پر بازو لپیٹے
    بستر خالی کرتے ہوئے عروج کو تمارے نئے شناختی کارڈ بنوانے کی درخواست ملی جو اس نے باآواز بلند پڑھی بھی۔
    عروج۔ کی بچی۔ فاطمہ نے الف کی۔کسی بات پر ہنستی عروج کو دانت پیس کر گھورا
    عشنا کو پتہ تھا، واعظہ کو تو ناممکن ہے پتہ نہ ہو ، یعنی ساری رازداری مجھ سے عروج اور الف سے تھی جیسے ہم تمہاری پھپوپھیاں ہیں اور تمہاری شادی کی اطلاع ہونے پر پھڈا ڈال دیں گئ کہ ہمیں کیوں نہیں بلایا
    طنزیہ بولتے اسکی آواز خودبخود بلند ہوگئ تھی۔ الف اور عروج اپنی بات چھوڑ کر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوگئ تھیں
    فاطمہ بھنا کر کپ پٹخ کر اسکی جانب گھومئ۔
    کوئی ایسی فخرکی بات بھی نہیں تھی کہ میں اعلان کرواتی سب کو پکڑ پکڑ کر بتاتئ کہ میری شادی ہوگئ ہے۔اور
    عشنا تو رہتی ہی میرے اور واعظہ کے ساتھ تھی اس سے کیسے چھپا سکتے تھے یہ بات۔۔۔۔ اور سیہون اور میں نے نکاح نہیں کیا صرف میرج پیپر سائن کیا ہے اسکو شادی شادی کہہ کر مجھے گلٹ نہ فیل کرائو۔
    یہ صرف پیپر میرج ہے تو یہاں کیوں رہنے آگئیں؟
    الف سنجیدگئ سے کہتی اٹھ کر انکے پاس آگئ
    کیا مطلب کرائے دار ہوں یہاں جیسے واعظہ کے فلیٹ میں تھی۔ فاطمہ کو اسکا انداز چبھا۔
    مگر فلموں ڈراموں میں ایسے حالات میں ہیرو ہیروئن کو ساتھ رہتے محبت ہوجاتی ہے۔ الف نے جیسے ڈرایا
    ابے چل۔ فاطمہ نے کان پر سے مکھی اڑائی
    خالص پاکستانی ذہنیت…. ساتھ رہو تو محبت بھی کرو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئ ہم ابھی تک لڑکا اور لڑکی ساتھ دیکھ کر بس ایک ہی معاملہ سوچتے۔
    عروج نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
    بالکل۔ فاطمہ کو یہ مدد غیبی لگی
    میں مسلمان وہ بدھسٹ ہمارا رہن سہن زبان مزہب کسی طور بھی کوئی مماثلت نہیں ہم میں کم ازکم میرے ذہن میں ایسی کوئی بات کبھی نہیں آسکتی۔۔
    اس نے جیسے فیصلہ سنایا اور پلٹ کر چولہا بند کرکے کافی کپوں میں نکالنے لگی۔
    اور سیہون کے زہن میں ایسی کوئی بات آگئ تو؟
    الف نے پرسوچ انداز میں کہا تو جانے کیوں کافی نکالتے ہوئے اسکا ہاتھ ڈگمگا سا گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔۔
    برستی بارش میں چھتری کا سایہ کیئے آتئ گرمیوں کی خوشگوار سی ڈھل چکنے والی شام میں گھر کا راستہ ناپتی وہ مانوس راستوں پر تیز تیز قدم اٹھاتی گامزن تھی جب کوئی اسکے پیچھے صدیوں کا فاصلہ طے کرتا بھاگتا آیا تھا۔۔
    وازیہ۔
    مانوس آواز۔۔
    پھولی سانسوں سے جان لگا کر پکارتا کوئی۔ اسکے قدموں کی رفتار دھیمی ہوئی مگر وہ رکی نہیں۔
    وازیہ ۔۔ تم کو کیا ہوا۔ کیا برا لگ گیا تمہیں؟ ایسے کیوں چلی آئیں۔
    اسکو رکتا نہ دیکھ کر وہ جان لگا کر بھاگتا ہوا ایکدم اسکے سامنے آگیا تھا۔ وہ بروقت رکی ورنہ ٹکرا ہی۔جاتی۔
    گرے پینٹ سفید شرٹ والا مخصوص بیج والا یونیفارم بارش میں بھیگ چکا تھا۔ اسکول سے وہ یقینا بھیگتا ہوا بھاگتا آیا تھا۔ اسکے پاس صبح بھی چھتری نہیں تھی مگر صبح خود اسے چھتری شیئر کرکے اسکول تک بنا بھیگے پہنچانے والی وہ لڑکی اس وقت کٹھور سی ہوگئ تھی۔یکسر اجنبی نگاہوں سے کم جونگ وون کو دیکھتی وہ لڑکی ۔
    اس نے سر جھٹکا۔
    اپنی سانسیں بحال کرتا وہ جیب سے پمپ نکال رہا تھا۔ منہ میں انہیلر لیکر اس نے جلدی جلدی دوا حلق میں انڈیلی۔
    ایستھما کا مریض برستی بارش میں بھاگ رہا تھا اسکی سانس بری طرح اکھڑ چکی تھی۔۔۔ کتنے لمحے وہ بات کرنے کے قابل نہ رہا۔ اتنے لمحے کسی کو خود کو سمیٹنے میں لگ گئے تھے
    میرے لیئے تو پارٹی نہیں تھی نہ میں ٹریٹ دے رہی تھی۔ سو میرے رکنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا۔
    لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
    مگر میں نے کچھ پوچھا تھا تم سے۔۔۔۔۔ وہ چیں بہ چیں ہوا۔
    جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سینے پر ہلکے ہلکے مکے مار رہا تھا۔ سانس پھولتی اٹکتی ۔ اسے یقینا بولنا نہیں چاہیئے تھا مگر وہ بول رہا تھا۔بے تابئ سے بے چینی سے۔۔
    تم بنا جواب دیئے ایسے۔۔
    کہا تو تھا آندے۔
    لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور ایک طرف سے ہوکر نکل جانا چاہا۔
    جونگ نے اسکا بازو تھام۔کر روکا
    سرعت سے اس نے بازو چھڑایا تھا۔ جونگ کی چندی آنکھوں میں حیرانی سی اتر آئی۔ وہ لڑکی آج لحاظ کرنے کو تیار نہ تھی کتنا بیمار تھا وہ۔زرا خیال اسکی آنکھوں سے نہ چھلکا۔
    تم ۔۔ تم ایسے کیسے۔ ۔۔ میرا مطلب۔ ہاہ آہ۔
    وہ پھر سانسیں بحال کرنے لگا۔۔
    سوچ کے۔۔ جواب دینا چھے بال۔
    وہ منت کرنے پر اتر آیا۔۔
    میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔
    لڑکی نے پرسکون سے انداز میں اسکی بات سنی پھر ہموارلہجے میں کہتی وہ اٹھارہ سال کی ہائی اسکول کی طالبہ اس وقت جیسے جست لگا کر اسی سال کی بردباری دکھا رہی تھی۔
    کیوں ۔؟ ویئو؟
    وہ جیسے تڑپ سا اٹھا تھا۔
    کیا مطلب کیوں ؟۔۔
    وہ جیسے حیران ہوئی۔۔
    میں اور تم اچھے دوست ہیں بس۔ اس سے ذیادہ اور کچھ نہیں۔
    اس نے کندھے اچکائے۔
    ہم بہت اچھے۔۔ بہت اچھے دوست ہیں۔ ہماری دلچسپیاں، عادتیں ،خیالات سب ملتے ہیں ۔۔ ہم جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ۔۔
    آکھوں ۔۔ وہ کھانسنے لگا تھا۔۔
    میرے دلچسپیاں ، عادتیں خیالات ، کیتھرین سے بھی ملتے اسے ڈیٹ کرنے لگوں کیا؟
    وہ ہنسی۔۔ ہنستے ہوئے جونگ کو وہ دنیا کی سب سے ذیادہ سنگدل اور کٹھور لڑکی لگی تھی۔
    بارش تیز ہورہی ہے بھیگو گے تو طبیعت اور خراب ہوگی گھر جائو صبح ملاقات ہوتی ہے اسکول میں۔ آننیانگ
    نرم سے انداز میں کہہ کر اس نے پھر اپنی راہ لی تھی۔
    چھتری تیز ہوا سے اڑ رہی تھی مگر اس نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔
    اسے جاتے دیکھ کر اسے لگا تھا جیسے وہ اس سڑک سے نہیں اسکی زندگی سے جارہی ہے
    وہ پھر تیزی سے اسکی جانب بڑھا آگے بڑھ کر اسکو کندھے سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا
    اور جیسے ساری توانائیاں لگا کر چیخا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا۔۔
    پکار پر وہ فورا پلٹی۔ہے جن اس سے کچھ فاصلے پر بھاگتا آرہا تھا
    پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے پکار کر اسے روکنا چاہا تھا
    اور وہ رک بھی گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر سیہون سڑک پر ٹیکسی روک رہا تھا۔ ہے جن کو واعظہ کو بلانے کا ٹاسک اسی لیئے دیا تھا کہ یقینا وہ ہے جن کو برستی بارش میں اپنے ساتھ بھگو کر بیمار ہونے نہیں دے گی۔
    اف نونا بہت تیز چلتی ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہیونگ پچھلی گلی میں آدھی گلی تک گئے میں یہاں سڑک کی جانب مڑ گیا تو آپ نظر آئیں پھر ہیونگ کو کال ملاکر بلایا تو آپ پھر غائب۔ اف۔سارا کھانا ہضم ہوگیا میرا۔ اب کل روزہ نہیں رکھا جانا مجھ سے۔۔
    ہے جن شکایتی انداز میں کہہ رہا تھا۔ اسکے انداز پر واعظہ کو ہنسی ہی آگئی۔
    اچھا بہانہ ہے ۔ اس نے اسکے بال بگاڑدیئے۔
    وہ منہ بناکر بال ماتھے پر بکھرانے لگا۔
    سیہون ٹیکسی میں بیٹھ کر ٹیکسی ریورس کروا کر انکے پاس ہی لارہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں بھیگے مرغے بنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔
    ملگجا اندھیرا چھایا ہوا تھا یقینا سب سوچکی تھیں۔سیہون دروازے پر ہی جھجک کر رک گیا۔
    واعظہ اور ہےجن جوتے بدل کر اندر چلے گئے بتیاں جلا۔دیں گھر کا مالک دروازے پر ہی کھڑا رہا۔
    کیا ہوا دعوت نامہ بھیجوں؟ واعظہ حیرانی سے اسے دروازے میں جمے دیکھ کر طنزیہ بولی۔ ہے جن سیہون کے کمرے کا دروازہ کھولنے لگا۔
    وہ دو ہی تو کمرے میں میں۔۔ وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا ہے جن نے دروازہ پورا کھول دیا
    خالی ہے یہ کمرہ۔ آجائیں۔
    ہے جن کے اعلان پر وہ حیران ہو کر اندر چلا آیا۔ کمرے میں جھانکا تو وہ جوں کا توں ویسے کا ویسا تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
    یہ سب لوگ ایک کمرے میں ایڈجسٹ ہوگئ ہونگی۔ ہمیں عادت ہے ایسے رہنے کی تم دونوں کو لیکن کمرہ شئیر کرنا پڑے گا ۔ ہے جن کو کوئی اپنا نائٹ ڈریس دے دو۔ سارا بھیگ گیا ہے۔
    واعظہ کے کہنے پر ہے جن جہاں مسکرایا وہیں سیہون اسکی۔نقل۔اتار کر بولا۔
    ہے جن کو دے دو۔ ہونہہ میرے لیئے تو بارش میں پانی کی۔بجائے دھوپ کی کرنیں گر رہی تھیں سوکھا ہوا ہوں میں ۔
    واعظہ ان سنی کرتی دوسرے کمرے کا دروازہ کھولنے لگی۔
    اندر منظرہی کچھ اور تھا۔
    عشنا ، فاطمہ ، عروج عزہ قطار میں چادریں بچھائے ستائیسویں کے اعمال کرنے میں مشغول تھیں۔
    انکو دیکھ کر اسکی پیشانی عرق آلود سی ہوئی۔
    آج ستائیسویں ہے اور میں بھول ہی۔گئ اعمال کرنا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج ستائیسویں ہے اور مجھے اعمال تو دور نماز کا موقع بھی نہ مل سکا۔
    وہ گھٹنوں میں منہ دے کر سسک اٹھی۔ باہر آسمان بھی چھاجوں مینہ برسا رہا تھا کوٹھری کے چھوٹے سے روشندان سے آتی بادلوں کی گھن گھرج۔۔ نیم تاریکی ۔
    اس چھوٹی سی کوٹھری میں اسکے سوا ایک اور عورت بھی تھی۔ دیوار سے لگے بنچ خوب چوڑے تھے کہ ان میں سے ایک پر وہ خود بیٹھی تھی تو دوسرے پر وہ عورت سر تک چادر تانے جانے سو رہی تھی یا نہیں۔ نہ خراٹوں کی آواز نہ ہل جل۔۔۔
    اسکی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔سحری میں جانے کتنا وقت باقی تھا۔۔ یہاں کون اسے سحری کراتا۔ بنا سحری کے نیت کرلے کیا کرے۔ وہ بے چین ہو کر آنسو پونچھنے لگی۔
    اللہ ہی اس مصیبت کو دور کرے گا۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اللہ۔ بس تو ہی میری مدد کر۔
    بڑ بڑاتے ہوئے وہ خود کو تسلی دیےرہی تھی۔ جیل کی سلاخوں میں سے باہر جھانکنا چاہا تو کچھ فاصلے پر میز کرسی پر ایک موٹی سی حوالدارنی اونگھ رہی تھی۔
    سنو۔ اس نے پکارنا چاہا۔
    خرر خرخر۔ خراٹوں کی آواز بلند ہوئی۔ اس نے مڑ کر بنچ پر سوتی عورت کو دیکھا پھرحوالدارنی کو۔
    جانے دونوں میں سے کس کے خراٹے بلند ہوئے تھے۔
    یا اللہ ایک گھڑی تک نہیں میرے پاس۔ کیا کروں۔
    وہ سلاخوں سے ٹیک لگا کر وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
    ویو۔۔ کسی نے اسکی پسلی میں ڈنڈا سا چبھویا۔ وہ بری طرح ڈر کر سیدھی ہوئی۔ حوالدارنی اسکے بری طرح ڈرنے پر تھوڑا نرم ہوئی۔
    وییو کیا چاہیئے؟۔
    ٹائم۔ ۔۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنی کلائی کو دوسرے ہاتھ سے ٹھونگے مار کر بتایا۔
    سوا چار۔
    وہ کہہ کر جمائی لیتی پلٹ گئ۔
    واٹ؟ ۔۔ اسے سمجھ نہ آیا۔
    ٹائم۔۔ اس نے بے تابی سے دھرایا۔
    کیا مصیبت ہے رو رو کے بھی اسکی توانائیاں ختم نہ ہوئیں کہ اٹھ کر میرے سر پر بک بک کرنے بیٹھ گئ۔ میرا پہلے ہی دماغ خراب ہوا ہے اب اگر یہ سوئی نہیں تو ہمیشہ کیلئے سلادوں گی اسے میں۔
    بنچ پر سوتا وجود ایک جھٹکے سے دھاڑتا ہوا اٹھ بیٹھا
    سرخ آنکھیں سرخ چہرہ بھاری تن و توش کی وہ مخصوص کڑخت تاثرات جو نور کی آمد پر اس کے تھے چہرے پر سجائے کورین آہجومہ۔
    جملے کے معنی ککھ پلے نہ پڑنت خے باوجود نور کی روح فنا ہونے کوآئی تھئ۔
    صبر سے کام لو۔ نئی آئی ہے دو ایک دن میں سیٹ ہو جائے گی۔
    حوالدارنی اسے دیکھتے ہوئے تسلی آہجومہ کو دے رہی تھی۔
    مجھے وقت بتادیں میں نے روزہ رکھنا ہے۔
    نور نےملتجی انداز میں حوالدارنی کو کہا ۔
    بتایا تو یے۔ وہ حیران ہوئی۔۔ یقینا یہاں زبان کا فرق آڑے آرہا تھا۔
    وقت / ٹائم۔ نور نے دوبارہ گھڑی کا اشارہ کیا۔تو وہ حوالدارنی پریشان ہو کر نہ جانے اپنی زبان میں کیا کیا بولنے لگئ
    دے؟ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی جو نور کی پشت پر کسی کو دیکھتی گھبرائی تھی۔ اسکی نگاہوں کے تعقب میں دیکھا تو جم سی گئی۔
    چادر ایک۔طرف کرکے خونخوار نظروں سے گھورتی وہ آہجومہ سیدھا اسکی جانب بڑھ رہی تھی۔ اسے تحمل سے کام۔لینے کا کہتی گھبرائی ہوئی حوالدارنی اور نور جو ڈر کے مارے پیچھے ہوتی سلاخوں سے چپک گئ تھی مزید پیچھے ہونا ممکن نہیں تھا ۔۔ آہجومہ بھنائی ہوئی آئی مکا لہرایا سیدھا اسکے منہ کی جانب نور نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں۔
    چند ثانیوں میں ناک منہ گال پر کوئی مکا پڑنے کا احساس نہ ہوا تو خود ہی ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔
    آہجومہ اسے گھور رہی تھیں مگر اسکے مکے کی جگہ کلائی اسکی نگاہوں کے عین سامنے تھی۔
    جس کے بڑے سے کالے ڈائل پر دمکتی سوئیاں اسے وقت دکھا رہی تھیں۔۔ اسکی سینے میں دم توڑتی سانسیں بحال ہونا شروع ہوئیں۔۔کہ آہجومہ حلق کے بل چلا اٹھی۔
    دیکھو اچھی طرح وقت اور اب اگر تم نے دوبارہ کسی سے بھی وقت پوچھا تو تمہارا وقت الٹا چلا دوں گی سمجھیں۔
    جانے ڈراموں میں کیسے ایسے موقعوں پر لڑکیاں مزے سے بے ہوش ہو جاتی ہیں ۔نور کے تو چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔ یوں لگتا تھا حواس اگلی کئی صدیوں تک ساتھ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افطاری کرتے ہی وہ سب عید کی شاپنگ کرنے گنگم اسکوائر آئی تھیں۔کوئی کورین فیسٹیول قریب نہیں تھا سو رش بھی ذیادہ نہیں تھا اور چونکہ قوت خرید بھی انکی ذیادہ نہیں تھی سو بڑے بڑے مالز میں صرف ونڈو شاپنگ کرکے وہ سب خالص پاکستانی طرز کئ مارکیٹ میں چلی آئیں۔
    اسکرٹ ٹرائوزر جینز۔ بہت ورائٹی تھی۔ لانگ فراکس شرگز بھی مل جاتے تھے سو دھڑا دھڑ شاپنگ شروع ہوچکی تھی۔۔
    انکو انکی۔پسند کے کپڑے چننے کیلئے چھوڑ کر وہ اور فاطمہ مردانہ کپڑوں کی دکان میں چلی آئیں۔
    شرٹ ٹرائوزر نکلواتے اسے یا سب اچھے لگ رہے تھے یا سب کے سب بکواس۔ وہ بے دلی سے چھآنٹ رہی تھئ۔
    کس کیلئے لے رہی ہو؟ سیہون کیلئے؟ فاطمہ نے یونہی پوچھا جوابا واعظہ نے جن نظروں سے دیکھا تو وہ کھسیا کر شرٹ اٹھا کر دیکھنے لگی۔باہر عشنا عروج عزہ اور الف جیولری اور کلپس کے اسٹال کی جانب بڑھ گئیں۔ مگر ہیئر پنز اور کلپس جو یہاں کی لڑکیاں شوقیہ لگائے پھرتی تھیں انکے گھنے لمبے بالوں کیلئے چھوٹے اور ناکافی تھے۔ عزہ عروج عبایا پہنا ہوا تھا تو الف نے اسکارف لے دے کر عشنا کی شامت آئی ۔ اسکے بالوں پر ایک ایک کلپ پن لگا کر دیکھی گئ۔ آدھے سے ذیادہ اسٹال انہوں نے یہ الا بلا کا خرید ڈالا۔ بریسلٹ ، ٹاپس ، انگوٹھیاں ، کیچر مصنوعی جوڑا تک خرید کر وہ سب مطمئن ہوگئ تھیں۔ اب بس مخصوص کورین سریوں والی پنیں ہی بچی تھیں جواب تو شائد کورین لڑکیاں بھی نہ خریدتئ ہوں ۔۔
    جب عشنا ٹھیک ٹھاک کارٹون بن گئ سارے بال اجڑ گئے تب اسکی خلاصی ہوئی۔ آہجومہ نے اتنی ساری کلپس بکتے دیکھ کر ازراہ ہمدردی اسکو آئینہ اور کنگھا فراہم کیا۔
    میں کچھ ذیادہ ہی تم لوگوں کے ساتھ سویٹ نہیں؟ ناجائز فائدہ اٹھاتی ہو تم لوگ میرا۔
    آئینہ دیکھتے ہی وہ مڑ کر انہیں گھورنے لگی۔ نقابوں میں عزہ عروج کی بتیسی تو نہیں نظر آرہی تھئ مگر آنکھیں کورین جیسی چندی ہو چلی تھیں ہنس ہنس کر۔ بال سنوار کر شکریے کے ساتھ اس نے دونوں چیزیں واپس کیں۔
    کوئی تقریب ہے خاص کیا؟ جسکی تیاری ہے؟
    آہجومہ نے بڑے اشتیاق سے ان سب کو اپنا آدھا اسٹال خریدتا دیکھ کر پوچھا تھا۔ اسکی بات عروج نے سمجھ لی تھی سو اسی نے جھک کر جواب دیا۔
    ہماری عید ہے۔ ہمارا مزہبی تہوار اسلیئے ہم اتنی خریداری کر رہی ہیں۔
    دے دے۔ وہ آہجومہ سر ہلا کر انہیں جانے کیا اشارہ کرتی اسٹال انکے اوپر چھوڑکر مڑ کر اپنا سامان کھنگالنے لگیں
    اب یہ کیا کرنے لگیں؟ عشنا حیران ہوئی
    چینج لے رہی ہونگئ۔ الف نے اندازہ لگایا
    بھائو تائو بنا چیز لیتے عجیب سا نہیں لگ رہا ۔۔ عشنا نے کہا تو وہ سب سر ہلانے لگیں۔
    ۔۔۔ کیسا ہم کبھی درزی کے چکر کبھی چوڑیاں کبھی میچنگ کیلئے سب کزنز اکٹھے ہو کر جاتے تھے۔ عزہ نے ہونٹ لٹکا کر کہا
    مجھے کرتا پاجامہ پہننا ہے۔ الف نے بھی اداس سی شکل بنا لی۔۔
    میں تو ہمیشہ چاند رات پر جوتا خریدتی ہوں یہاں تو عید کے دن سر میونگ کی کلاس لے رہی ہونگی۔۔
    عزہ نے اتنی حسرت سے کہا کہ وہ سب اس سے لپٹ ہی تو گئیں۔
    ہم تمہیں چاند رات کو۔جوتا دلانے آجائیں گے۔ سر میونگ کیلئے بھی لے لینا عید کا تحفہ۔
    عروج نے مسخرے پن سے کہا تو وہ سب ہنس پڑیں۔
    مگر عزہ کو اپنی جوائینٹ فیملی سسٹم میں ڈھیروں ڈھیر کزنوں کے ساتھ گزاری عید یاد آرہی تھی چچائوں ماموئوں اور بڑے کزنوں سے اینٹھی گئ عیدی کا بھی خسارہ جھیلنا تھا اس بار تو۔
    کچھ بھی ہو عید کا تصور ہی یہاں محال ہے۔ اس نے فیصلہ سنایا۔
    آگاشی۔۔
    آہجومہ بوری سے خوش خوش جانے کیا برآمد کرکے انکو اشارے سے متوجہ کرنے لگیں۔
    کورین طرز کی شہزادیاں جو سریئے جیسی کلپس لگاتی تھیں بالوں میں جس کے کنارے پر چڑیا پھول اور جانے کیا کیا نقش و نگار تھے پلاسٹک ریپ میں ایکدم چم چم کرتی نئی نکور۔ گن کر چار انکی جانب بڑھانے لگیں
    اتنا کچھ تو لے لیا اب یہ کیا کریں گے لیکر۔ عزہ حیران ہوئی
    عروج ان سے کہو بس بہت چیزیں لے چکے اب عید ہے تو کیا انکی پوری دکاں خرید لیں۔
    الف نے لقمہ دیا۔
    آدھی تو خرید لی ہے پوری بھی لے لیں کیا حرج ہے۔ عروج نے کندھے اچکایے اور بیگ کھولنے لگئ
    ہاں یار کتنی بوڑھی ہیں میری دادی کی عمر کی لگتی ہیں۔ عشنا کو بھی انکے جھریوں زدہ بوڑھے چہرے کو دیکھ کر ترس آگیا۔ آنکھوں میں شوق کا جہاں آباد کیئے وہ انکو دونوں ہتھیلیوں میں پنیں سجائے پکڑا رہی تھیں
    کتنے ہوئے۔ کئی ہزار وون کے نوٹ نکال کر عروج پوچھ رہی تھی
    آندے آندے۔ آہجومہ زور و شور سے نفی میں سر ہلانے لگیں۔
    پھر ہنگل میں کچھ کہتی چلی گئیں عروج کا پیسے بڑھاتا ہاتھ رکا واپس ہوا اس نے آگے بڑھ کر آہجومہ کو جھک کر شکریہ ادا کیا پھر بڑھ کر انکے گلے لگ گئ۔
    اسے کیا ہوا؟ وہ تینوں بھونچکا دیکھتی رہ گئیں۔۔
    آہجومہ کی آنکھیں جھلملا سی گئیں پیار سے عروج کا کندھا تھپتھپا کر وہ آنسو پونچھنے لگیں۔۔
    کیا کہہ رہی تھیں؟ تینوں عروج کے سر ہوگئیں
    انہوں نے کہا۔۔ عروج نے کہنا شروع کیا۔ فلیش بیک میں آہجومہ کی تصویر پر عروج کئ آواز ڈب ہونآ شروع ہوگئ تھی
    تم سب اپنے وطن سے اپنوں سے دور تہوار منا رہی ہو یہ چھوٹا سا تحفہ عید کا سمجھ کر رکھ لو ۔ اپنی ماں جیسی کی طرف سے۔
    فلیش بیک ختم ہو چکا تھا
    آہجومہ نے آنسو پونچھ کر سر اٹھایا تو تین مزید لڑکیاں جزباتی سے انداز میں بانہیں پھیلائے ان سے گلے لگنے کو تیار کھڑی تھیں۔
    کتنی عجیب بات ہے ایک انجان ملک میں انجان عورت انجان گاہک کی خوشی میں شریک ہونے کو تحفے دے رہی اور ایک ہم ہیں عید کا تہوار قریب ہو تو قیمتیں آسمان تک پہنچا دیتے تحفہ تو دور پیسے دے کر بھی مہنگی سے مہنگی چیز دیتے اپنے گاہکوں کو۔ ہم مسلمان قوم۔۔
    عروج نے تاسف سے سوچا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر آتے آتے انہیں ٹھیک ٹھاک دیر ہوگئ تھی۔ سیہون اور ہے جن دونوں گھر میں نہیں تھے۔ واعظہ اپنے شاپرز اٹھا کر سیہون کے کمرے میں رکھ آئی تھی اور اب ان سب کیلئے چائے بنانے کچن میں گھس گئ ۔ یہ اسلیئے تھا کہ خود چائے کی طلب ہو رہی تھی اور کسی اور کے ہاتھ کی پسند نہ تھی اسکا فلسفہ تھا چائے بنانے لگو تو پھر ایک کپ بنائو یا ایک سو کپ کیا فرق پڑتا ۔ ان سب نے سیدھا لائونج میں پڑائو ڈالا
    یہاں سے وہاں تک شاپرز پھیلا دیئے تھے سب شاپنگ کھول کھول کر دیکھی جا رہی تھی
    میں اسے پہن کر آتی ہوں۔
    شوق سے لایا پیچ ٹاپ عزہ جھٹ لیکر کمرے کی جانب دوڑی جب پہن کر آئی تو وہ سب اوہ کر کے رہ گئیں۔
    ٹاپ کھنچنے والے کپڑے کا تھا جو نازک سی عزہ کے جسم سے چپک ہی گیا تھا اور وہ بہت نازک سی لگ رہی تھی۔ ٹاپ گھٹنوں سے اوپر تک تھا جو پیچھے سے تھوڑا گھیر والا تھا آستینیں شکر ہے پوری تھیں گلے پر سلور ستارے سےتھے جو سلور لائننگ کے ساتھ بل کھاتے دامن تک آرہے تھے۔ ٹاپ یقینا بے حد خوبصورت تھا وہ بہت خوش خوش ماڈلز کی طرح پوز مار رہی تھی۔
    سفید ٹائٹس اور سفید اور پیچ خوبصورت سا اسکارف۔ میچنگ پوری تھی
    عزہ عید پر بالوں کو کرل کرکے یہ والی پن لگانا ۔ الف نے سلور سی پن نکال کر دی۔
    میچنگ ائیر رنگ پہن کر وہ جتنی تعریف کروانا چاہ رہی تھی اسکی اتنی تسلی نہیں ہو پائی تھی۔
    واعظہ دیکھو کیسی لگ رہی میں۔
    واعظہ کچن میں تھی بس وہی رہ گئئ تھی سو بطور خاص اسے دکھانے چلی آئئ۔
    پیاری۔ اس نے مسکرا کر تعریف کی۔
    یہ میرا عید کا ڈریس ہے پاکستانی لک دے ہی ڈالی میں نے اسے۔
    وہ اپنا ٹاپ لہرا کر گھومی۔
    ہوں اچھا کیا۔ زبردست۔
    وہ کہہ کر پتی ڈالنے لگی۔۔
    عید پر اسکے ساتھ بال کھول کر کرل کر لوں یا اسٹریٹ ذیادہ اچھالگے گا؟
    اسے تسلی نہیں ہو رہی تھی شائد اسکا دبا دبا جوش دیکھ کر وہ جوش آتئ چائے کا چولہا دھیما کرکے اسکی جانب مڑی۔
    تم اتنا تیار ہو کر پھر اسکے اوپر عبایا پہن کر یونیورسٹی جائوگی؟
    یونیورسٹئ کیوں عید کے دن کون۔۔ جاتا۔
    بولتے بولتے خیال آیا تو وہ بجھ سی گئ ۔جوش جھاگ کی طرح بیٹھتا گیا۔
    یونیورسٹی تو عبایا کرکے جاتی ہوں چھٹی بھی نہیں ہوگی یہاں تو۔ ایویں اتنا کھڑاگ کیا۔ عید تو سر کا لیکچر سنتے گزرنی ۔۔
    وہ بری طرح اداس ہو کر رہ گئ۔ سر جھکاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتئ کمرے کی جانب بڑھ گئ کپڑے بدلنے۔ واعظہ مڑ کر چائے کپوں میں نکالنے لگی
    کیا واعظہ حقیقت کا تھپڑ مارنا ضروری تھا؟ بچی خوش ہو رہی تھئ۔
    فاطمہ اپنے لیئے کافی بنانے آئی تو انکی گفتگو سن کر کہے بغیر نہ رہ سکی۔۔۔ آگے بڑھ کر چینی کا ڈبہ اٹھانے لگی تو واعظہ نے اسکے ہاتھ پر چپت لگادی فاطمہ ہاتھ سہلاتی گھورکرررہ گئ
    اب یہ کس لیئے؟ اسے غصہ آگیا تھا۔
    اتنی کافی مت پیا کرو چائے بنا دی ہے اسی کو پیو۔
    ایک کپ اسکی جانب بڑھا کر وہ ٹرے میں کپ لگا نے لگی۔
    فاطمہ نے بھنا کر کافی بنانے کا ارادہ کیا پھر اسے ایک مرتبہ پھر گھور کر اپنا کپ شرافت سے اٹھا کر لائونج میں چلی آئی۔ یہاں ۔ عروج کو نیا دکھ لگا تھا۔عید کیلئے لایا ٹاپ بنا شرگ پہننے لائق نہ تھا۔
    یار وہاں میں نے غور ہی نہیں کیا کہ شرگ کے بغیر اس میں آستین ہی نہیں۔ بتائو شرگ علیحدہ سے لاکھ وون کا تھا کیوں لیتی اتنا مہنگا میں مگر اب اسکا کیا کروں۔
    عروج نے ایک لانگ ٹاپ خود سے لگا کر۔آئینے میں دیکھا وہایٹ پلین لانگ ٹاپ سلیو لیس تھا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر واپس رکھ دیا۔
    ہاں تو تم نے عید کے دن کونسا اپنے سسرال جانا ہے ؟ ڈاکٹرز گائون پہن لوگی اوپر سے کسی کو کیا پتہ لگے گا کہ سلیو لیس ہے۔
    الف دور کی کوڑی لائی۔ عروج نے زور و شور سے کدو ہلایا۔
    منحصر ہے کہ عید 29 کی پڑے یا 30 کی 29 کی عید ہوئی تو میری چھٹی بنتی ہے۔ دعا کرو چاند ہوجائے۔
    عروج کھلکھلا ئی۔
    یہاں تو ہو ہی جائے گا یہاں کونسا چاند دیکھنے پر جھگڑے ہوتے۔۔
    واعظہ چائے کی ٹرے اٹھائے یہیں چلی آئی۔ اسکی بات میں وزن تھا۔
    اعلی چائے واعظہ۔ چائے کا۔کپ اٹھاتے ہی عشنا نے گھونٹ بھر کر داد دی۔
    واعظہ تم تو کہہ رہی تھیں کہ پاکستانی ایمبیسی میں کوئی تقریب ہوگی عید کے دن ہم جائیں گے؟ عروج نے اشتیاق سے پوچھا۔ عزہ کپڑے بدل کر سابقہ موڈ میں واپس آئی آتے ہی وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
    میری کلاس ہوئی تو کوئی بھی نہیں جائے گا سمجھیں۔ سب۔۔۔۔

    اسکی وارننگ کو ان میں سے کسی نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔
    یار ہمیں دلاور بھائی کو دیکھنے جانا چاہیئے تھا۔ ہاسپٹل۔
    عشنا کو اچانک طوبی یاد آئی تو کہہ بیٹھی۔
    دو گھنٹے میں ڈسچارج ہو۔گئے تھے وہ۔ اب تو گھر میں بیڈ ریسٹ پر ہیں چک آگئ ہے انکی کمر میں۔ میں نے اپنے کولیگ سے پتہ کروایا تھا۔
    عروج نے بتایا ۔۔
    تو انکو کوئی وارننگ نہیں ملی انکو گھر جانے دیا پولیس والوں نے ؟
    الف کو خالص پاکستانی تشویش ہوئی۔
    جب ہم گھر نہیں جا سکتے تو وہ کیوں گئے گھر؟
    کیونکہ سارا خونم خون ہمارا گھر ہوا وا تھا بھلے کسی کی بھی وجہ سے۔
    عشنا نے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔
    یار کیا عید ہوگئ ہماری کتنے پلان بنائے تھے نور تو کہہ رہی تھئ ہم بیچ پر جاتے دوبارہ لیکن اب تو۔۔۔ کیا نور ۔۔۔
    نور کی عید جیل میں گزرے گی؟ ۔ عزہ اداس سی ہو گئ تھی
    عید جیل میں گزر جانا بہتر ہے ایک عمر جیل میں گزار دینے سے۔ واعظہ اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولی۔۔
    جو اسکا کیس بنا ہے اس میں معاملہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ میں اسکے والدین سے مزید یہ معاملہ چھپا نہیں سکتی یہ تیسری کال ہے اسکی امی ۔۔ کی۔
    اس نے اپنے موبائل کی اسکرین انکو دکھائی جس پرابھی بھی نور کئ امی کی کال آرہی تھی ۔ ہمیشہ سے سائلنٹ موڈ پر اسکا فون یقینا کسی دن اسے پھنسوانے والا تھا۔
    پلیز ایسا غضب مت کرنا اسکے گھروالے اسکی پڑھائی ختم کرکے واپس بلالیں گے
    الف تڑپ کر بولی۔
    اب تک تو بہانہ بنایا ہی ہے مگر پاکستان ایمبیسی سے وہ لوگ رابطہ کریں گے ہی اور ظاہر ہے معاملہ یونہی ختم نہیں ہو سکتا کیس بنا چلا تو واعظہ نہ نور کی ماں لگتی نا باپ یہ کس طرح اسکی سرپرست کے طور پر کوئی فیصلہ لے سکتی ہے بھلا؟
    فاطمہ حسب عادت تیز ہو کر بولی تو وہ سب چپ ہی رہ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 18

    قسط 18
    وہ دونوں تھکے تھکے سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔
    سیہون دروازے کے پاس رکھے ریک میں جوتے بدلنے رکا تھا تو فاطمہ بے تکلفی سے سیدھا بڑھتی گئ۔
    سیدھی لائونج میں آکر صوفے پر۔گری تھی ۔ بلاک ہیل والے سینڈل والا پائوں صوفے پر جمانے ہی لگی تھی کہ خیال آیا تو اسٹریپ اتارنے لگئ۔۔سیہون نے خاصی ناپسندیدگی سے اسے باہر کے جوتے گھر میں لاتے دیکھا مگر بولنے کی بجائے رخ بدلتا سیدھا کچن میں لینڈ کیا تھا۔ انکے چھوڑے ہوئے برتن جوں کے توں پڑے تھے وہ خاموشی سے پلیٹیں سمیٹنے لگا۔۔ فاطمہ سینڈلز سے پیر آزاد کر کے صوفے پر دراز ہوگئ ۔ نور کا چہرہ اسکی نگاہوں سے جا نہیں رہا تھا۔ کیسا پکار رہی تھی انکو۔ بے چاری۔ کیا خبر تھی اتنا معمولی سا مزاق اتنی مصیبتیں کھڑی کردے گا۔کیا فلمی سین ہوا ہے۔ اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
    بات سنو تم لوگوں کے ہاں رشوت وشوت نہیں چلتی؟ میرا مطلب ہے اگر ہم کچھ دے دلا کر نور کو چھڑواسکیں عید سے پہلے۔۔
    فاطمہ ایکدم پرجوش سی ہو کر اٹھ بیٹھئ۔۔ سیہون نے سرد سے انداز میں اسکا جوش وخروش دیکھا
    عید کب ہے؟ اسکا سوال منطقی تھا۔۔
    آج چھبیسواں روزہ ہے تو اگر انتیس کی عید ہوئی تو دو دن۔ وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئ۔
    اوہ خدایا مجھے لیلتہ القدر یاد نہ رہی حد ہوگئ اتنی بھلکڑ کب ہوئی میں۔ ایک تو جب سے کوریا آئی ہوں مزہب سے ہی دور ہوتی جارہی ہوں امی تو ۔۔۔ اس نے سر پر بلا تکلف دو تین چپیڑیں مار لیں۔ وہ اردو میں بول رہی۔تھی سو سیہون کندھے اچکا کر پلٹ کر چولہا جلانے لگا۔ چولہا جلا کر اس نے سنک سے کپ میں پانی لیا ریک سے دیگچی اٹھا کر چولہے پر رکھی پانی ڈال کر پلٹا تو اوپر کی سانس اوپر نیچے کی نیچے رہ گئ۔اسکے بالکل برابر میں
    فاطمہ دونوں ہاتھ کمر پر جمائے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
    کچھ پوچھا ہے میں نے۔
    کیا؟ اسے واقعی یاد نہیں تھا۔
    کوئی راشئ افسر ہے جان پہچان والا جس سے کہہ سن کر دے دلا کر ہم نور کو دو دن میں چھڑوا لیں؟
    اس نے گہری سانس لیکر رپیٹ ٹیلی کاسٹ چلایا۔
    کتنے پیسے ہیں تمہارے پاس۔
    سیہون نے تولتی نگاہوں سے دیکھا
    میرے پاس۔۔ جوش سے کہتے وہ حساب کرتی گئ اور جیسے اسکی خوش فہمیوں کے غبارے میں سے ہوا بھی نکلتی گئ۔
    میں اپنی بات نہیں کر رہی مطلب اگر نور پیسے دے دلا کر جان چھڑوانا چاہے اس پولیس کیس سے تو۔۔
    اس نے جھٹ پینترا بدل لیا تھا۔ سیہون سر جھٹکتا انسٹنٹ کافی کا پیکٹ نکالنے لگا۔
    کوریا میں اتنا آسان نہیں قانون سے بچ جانا ورنہ میں اور تم یہاں اکٹھے نہ ہوتے۔ اسکا انداز سادہ سا تھا اپنی بات کہہ کر وہ ایک اور کپ پانی کا ساسر میں ڈالنے لگا۔ فاطمہ چپ سی ہوگئی۔
    کافی کپوں میں نکال کر ایک کپ فاطمہ کے آگے رکھ کر وہ سنک میں اکٹھا کیئے برتن دھونے لگا تھا۔ فاطمہ بلا ارادہ اسے دیکھتی رہ گئ۔ نفاست سے ایپرن پہن کر برتن دھوتا وہ یقینا کافی سگھڑ لڑکا تھا۔۔ سگھڑ لڑکا وہ اپنی اصطلاح پر ہنس پڑی۔ پلیٹ دھو کر ریک میں رکھتے سیہون نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ فاطمہ گڑبڑا گئ۔ کیا سوچتا ہوگا اسے گھور رہی ہوں میں سدھر جائو فاطمہ خود کو ڈپٹ کر وہ بات بدل گئ۔ ۔
    تم نے میری سے کیا کہا ۔۔میرے ۔۔ وہ اٹکی۔ میرا مطلب ہے ہمارے بارے میں میں یہاں اس طرح تمہارے اپارٹمنٹ میں کیوں رہ رہی ہوں۔ وہ بھی یہاں آتی ہوگی۔ اگرکبھی آگئ تو۔۔
    مجھے دیکھ کر اسے غلط فہمئ۔ دیکھو ایک بار پٹ گئ بار بار نہیں پٹ سکتئ میں اسکے ہاتھوں ۔۔ پہلے بتادوں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر باقاعدہ وارننگ بھی دے دی۔
    سیہون تین پلیٹیں تندہی سے دھو رہا تھا اتنی تندہی سے کہ فاطمہ وضاحت ہی دیتی چلی گئ ۔ مگر ادھر گہری خاموشی چھائی رہی۔۔ برتن دھو کر ریک میں لگا کر وہ سکون سے نیپکن سے ہاتھ پونچھ رہا تھا۔ فاطمہ کو اپنا آپ احمق لگنے لگا تو اسکے سامنے رکھے دوسرے کپ کو اٹھا کر وہ ذرا سا جھکا۔
    وی بروک اپ ۔۔ ڈونٹ ووری ۔۔ وہ اب یہاں کبھی نہیں آئے گی۔
    سادہ سا گمبھیر لہجہ نہ کوئی نارسائی کا غم چھلک رہا تھا نا لہجے میں کرچیاں بکھری تھیں۔ مسکرا کر وہ کپ اٹھا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
    واہ اتنی آسانی سے بریک اپ نا صنم رہا نہ غم رہا۔
    فاطمہ کو رشک آیا۔
    ہاں بھئ کوریا ہے پاکستانی لڑکوں کو لمحہ نہیں لگتا بھلانے میں اوپا کیوں مایوس کرتے ایک نمبر کے بے وفا لوگ ہیں دنیا میں بے چاری میری۔
    اسے لڑکی ہونے کے ناطے ہمدردی اسئ سے ہوگئ تھی۔ کندھے اچکا کر اس ہمدردئ کا حق ادا کرتے بڑا سا گھونٹ بھرا پھر برا سا منہ بنالیا۔ کڑوی ترین کھولتی ایکسپریسو نا دودھ نہ چینی۔
    یہ زہریلا مواد پلاتا ہوگا اسے جو چھوڑ گئ۔
    اس نے بھنا کر بند دروازے کو گھورا جو اسکے کہتے کے ساتھ ہی کھل گیا۔۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا ۔ سامنے سیہون تھا پریشان سا اسے جلدی جلدی میں موبائل کان سےہٹا کرکال بند کرتا والٹ جیب میں گھسیڑتا ۔۔
    مجھے جانا ہوگا واعظہ کا فون آیا ہے وہ پولیس اسٹیشن میں ہے؟ وہ تیزی سے بتاتا بیرونی دروازے کی جانب بڑھا۔
    کیا ہوا؟
    فاطمہ گھبرا کر اسکے پیچھے آئی
    کیاہوا بتاتے کیوں نہیں؟ کہیں۔
    اسکے زہن کے گھوڑے تیزی سے دوڑے
    جوتے پہنتےہوئے سیہون مناسب الفاظ سوچ رہا تھا کہ فاطمہ نے معاملہ سوچ بھی لیا اور پریشان ہو کر پوچھ بھی لیا
    کہیں۔ کہیں نور نے خود کشی تو نہیں کرلی۔؟؟؟؟
    سیہون دانت پیس کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹھیک آدھے گھنٹے میں وہ سب پھر تھانے میں موجود تھے۔
    کسی پڑوسی نے انکے گھر سے شور و غوغا کی آوازیں سن کر پولیس کو فون کر دیا تھا۔ عین پولیس نے تب چھاپا مارا جب ہے جن ہائے ہائے کرتے دلاور کو سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ درو دیوار خون سے رنگے پولیس والے حق دق ہی رہ گئے وہ تو معمولی گھریلو جھگڑا سمجھے تھے مگر انہیں مزید فورس بلانی پڑی اور دلاور کیلئے ایمبولینس بھئ۔
    سو نتیجتا وہ سب تھانے میں تھے ۔اس بار ہے جن عروج واعظہ کے ہمراہ الف عزہ اور عشنا بھی تھیں۔ ہونا طوبی نے بھی تھا مگر 119 ایمبولینس میں دلاور کو جب لے جا رہے تھے تو اس نے جو نیر بہائے ایمبولینس کو چلنے تک نہ دے رہی تھی ہر بار کہتی۔
    دلاور کچھ تو بولیں۔ دلاور بولتے
    میں ٹھیک ہوں طوبی ۔ مگر اپنی آہ و بکا میں سنتی ہی نہیں اور چیخ مار کر روتی
    ہائے کیا کردیا میرے میاں کو بول بھی نہیں پارہے۔۔
    آخر اسے بھئ ایمبولنس میں بٹھا لیا گیا۔ایک اہلکار انکے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھ کر گیا بقیہ ان سب کو عزت سے پولیس وین میں ہتھکڑیاں ڈال کر بٹھا کرتھانے لے آئے۔
    وہ سب بنچ پر قطار میں سر جھکائے بیٹھی تھیں۔ زندگی میں پہلی بار ان کلائیوں نے چوڑیوں کی بجائے ہتھکڑیاں پہنی تھیں لگ رہا تھا پورے پولیس اسٹیشن میں ایک ایک فرد انہیں گھو ررہا ہے تھو تھو کر رہا ہے۔
    آپ کو شائد غیر ملکی ہونے کے سبب نہیں معلوم مگر جانور کو گھر میں خاص کررہائشی عمارت میں ذبح کرنا منع ہے۔ آپکو اگر مرغی کھانئ تھی تو آپ اسکی گردن بھی دبا کر مار سکتی تھیں یقینا اتنا بڑا مسلئہ پیدا نہ ہوتا۔
    اہلکار نے بڑی فرصت سے انکودیکھتے ہوئے کہا تھا۔ الف نے دانت کچکچا کر گھورا
    کیسا تاڑو ہے سامنے بیٹھ کر گھور رہا ہے آنکھیں نکال نہ دوں اسکی۔
    ششس۔ عزہ نے کہنی مارکر اسے خاموش کرایا۔
    ان میں سے کسی نے اسکو جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔
    ہم نے مرغی قبضے میں لیکر گھر سے خون کے نمونے لیکر لبارٹری میں ٹیسٹ کیلئے بھیج دیئے ہیں۔انکا نتیجہ آنے تک تو کم از کم آپکو جیل کی ہوا کھانی ہی پڑے گی۔
    وہ اہلکار یقینا سلاخوں کے باہرجیسے خاص طور پر انکا دل جلانے کو انگریزی میں بول رہا تھا۔
    اسکی انگریزی کتنی صاف ہے۔ عشنا نے رشک سے اسکی گٹ پٹ سن کر کہا تھا۔
    ہے جن سر تھام لیا۔ان لوگوں کو صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ اس نے رخ موڑ کر واعظہ کو دیکھا۔ وہ بالکل خاموش زمین پر نگاہ جمایے گہری سوچ میں گم تھی
    فاطمہ اور سیہون حواس باختہ سے داخل ہوئے پولیس اسٹیشن میں۔ پہلی نگاہ سیہون کی ہےجن پر پڑی تھی۔ وہ سیدھا اسی کے پاس آیا۔ فاطمہ کو دیکھتے ہی الف اور عزہ کھل اٹھی تھیں۔اسے آتے دیکھ کر لپک کر اٹھیں تبھی انکے قریب بے ضرر بنا کھڑا اہلکار مستعد ہوا۔ عزہ اور الف نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی۔
    تم سب یہاں کیسے پہنچ گئیں۔۔ فاطمہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرغی گھر سے سر کٹی برآمد ہوئی تھی اور گھر میں جتنے بھی افراد رہتے تھے بظاہر صحیح سالم تھے سو قتل کی دفعات نہ لگانے کیلئے سیہون نے اپنے تعلقات استعمال کرکےکہہ سن کر اور نجانے کتنے جتنوں کے بعد اس کیس کو صرف شک کی بنیاد پر قتل یا گھریلو جھگڑا قرار دے کر ایف آئی آر میں مناسب ترامیم کرائیں۔ انکو کم از کم مرغی کے خون کی رپورٹ آنے تک گھر کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔ گھر سیل تھا۔ چونکہ انہیں نفری بلانی پڑی تھی وہ بھی کورین کرائم برانچ کی خصوصی ٹیم کہ کہیں قتل کا معاملہ تو نہیں سو ان سب کی تفصیلات لیکر انکو اگلے ایک ہفتے تک سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سیہون کی ضمانت جو اسکا تازہ تازہ خریدا فلیٹ تھی لی۔گئ تھی۔
    خدا خدا کرکے پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کر سکھ کی سانس لی تھی۔
    یعنی کوریا میں راشی افسر ہوتے ہیں۔ ویسے کم جونگ۔۔
    فاطمہ سیہون کو جتانے والے انداز میں کہہ رہی تھی وہ قصدا ان سنی کرکے آگے بڑھا۔واعظہ کا شدید موڈ آف تھا وہ ان سب سے قصدا پیچھے چل رہی تھی۔
    باہر بارش ہو رہی تھی۔ موسم انکے لحاظ سے سرد اور کوریا کے لحاظ سے خوشگوار ہو گیا تھا۔
    ہم رات کہاں گزاریں گے۔۔۔عشنا کو وہ برستی رات یاد آئی جب وہ مالک مکان کے نکال دینے پر سڑک پر گزارنے والی تھی۔
    اور اسے واعظہ مل گئ تھئ۔ اس نے مڑ کر واعظہ کی جانب دیکھنا چاہا۔ ان میں سے کسی کے پاس چھتری نہیں تھی۔ ہے جن اور سیہون انہیں وہیں رکنے کا کہہ کر آگے سڑک کی جانب بڑھ گئے۔
    سیہون نے ٹیکسی روکی۔ الف عزہ عروج عشنا پیچھے بیٹھ گئیں فاطمہ کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ واعظہ کی جانب متوجہ ہوا۔
    میرا خیال ہے مجھے بڑی آنکھیں اچھی لگنے لگی ہیں۔
    واعظہ بیزار سی شکل بنا کر زمین پر ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔
    تم بہت موٹی ہو بالکل گائے جیسی۔
    اس نے سامنے آکر بغل بجائی۔
    واعظہ شدید چڑ چکی تھی اسے سڑک کنارے سے جوس کی خالی بوتل مل ہی گئ تھئ۔ جھک کر تاک کر سیہون کو دے ماری وہ ہنستا جھکائئ دے گیا۔
    ۔فاطمہ کی ٹیکسی روانہ ہوچکی تھی سو۔۔۔ ہے جن اب دوسری ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا مڑ کر دیکھا۔ سیہون نہایت خوشگوار موڈ میں واعظہ کے گرد گول گول چکر کاٹ رہا تھا۔ اپنے بھیگے ہوئے اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹین ایجرز کی۔طرح مشہور دونوں پائوں اچکا کر ہوا میں ٹخنے بجانے والا ڈانس اسٹیپ کرتے ہوئے۔
    نجانے میرے دل کو کیا گائے۔۔ ابھی ٹو یہیں۔ ٹھا۔۔ آگے۔۔
    اس نے سوچنے کی اداکاری کی واعظہ اب بری طرح تپ چکی تھی۔ اس بار اس نے زمین سے کچھ اٹھا کر مارنے کی بجائے سیدھا سیہون کا بازو مروڑ دیا تھا ۔ وہ آگے سے اور کھل کر ہنسا پولیس اسٹیشن کےشیشے کے آر پار دروازے سے دیکھتا گارڈ اور ٹیکسی روک کر انہیں بلانے کیلئے متوجہ کرتا ہےجن ۔ وہ دونوں ان سے بے نیاز تھے۔ سیہون پٹے جا رہا تھا مگر بولے جا رہا تھا واعظہ غصے سے سرخ ہو رہی تھی
    ویسے جونگی تمہاری آواز پہچان گیا۔۔ عجیب بات ہے نا ؟ چھے سال ہو رہے ہیں تمہاری اسکی۔ بولتے بولتے جب واعظہ کا گھونسا مزید زور کر کندھے پر پڑا تو
    سیہون بازو چھڑاتا بھاگا واعظہ اپنی زبان میں کچھ کہتی اسکے پیچھے بھاگی یہ سارا منظر دیکھتے ہے جن نے مڑ کر ٹیکسی والے کودیکھا پھر کہنے لگا
    میرا خیال ہے اب ہمیں اس ٹیکسی کی ضرورت نہیں پڑے گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون نے کین کھولا گھونٹ بھر کر جھر جھری سی لی۔ پھر اسکی جانب بڑھا کر بولا
    پیوگے؟
    ہے جن نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا۔ تبوکی کو چاپ اسٹکس سے کھاتے ہوئے واعظہ نے کڑے تیور سے گھورا
    بچھی سا؟ (دماغ خراب یے کیا)شرم نہیں آتی بچے کو شراب آفر کر رہے ہو۔
    بچہ جب دو بالغ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوگا تو بچپنا ویسے بھی جاتا رہے گا۔ سیہون کا انداز بے نیاز سا تھا
    مزے سے بیئر کے گھونٹ بھرتا وہ تبوکی کا بھی لطف لے رہا تھا۔
    اس کنوینیس اسٹور کے باہر لگے بنچ پر بارش سے بچاتی وہ بڑی سئ چھتری ان پر سایہ کیئے تھی۔ کن من برستی بوندیں موسم خوشگوار کر گئ تھیں۔ ہے جن کو بھوک لگ رہی تھی مگر ان دونوں کا کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا۔ ایک تبوکی کی پلیٹ بنوا کر چاپ اسٹکس مار رہے تھے۔
    وہ گہری سانس بھرتا اٹھا اور اندر اسٹور میں چلا گیا۔
    انسٹنٹ نوڈلز ساتھ کمچی کا پیکٹ خریدا پیسے سوجو کے ساتھ سیہون کے ذمے ڈلوا کر نوڈلز میں گرم پانی ڈاپنسر سے ڈال کر وہ باہر آگیا۔۔ دونوں اب ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔ وہ خاموشی سے واعظہ کے برابر آبیٹھا اور نوڈل ٹونگنے لگا۔
    تمہیں اس بھری دنیا میں سوائے اسکے کوئی نہ سوجھا؟
    واعظہ نے دانت کچکچائے
    تمہیں اس بھری دنیا میں رات حوالات میں گزارنے چھوڑدیتا تب عقل ٹھکانے آتی۔
    سیہون بھنا کر بولا
    چھوڑ دیتے۔ صبح ویسے بھی انہوں نے رپورٹ آنے پر چھوڑ ہی دینا تھا ہمیں ۔۔ واعظہ نے جزباتی ہو کر میز پر مکا مارا۔ ہے جن کا سوپ چھلک چھلک اٹھا۔
    کس دنیا میں رہتی ہو پرائم منسٹر کی بیٹی ہو جو وہ تمہارئ لیئے صبح صبح ٹیسٹ کرواتے؟ کم ازکم بھی ہفتے بھر میں نتیجہ آئے گا تب تک سڑتیں جیل میں۔
    سیہون نے چبا چبا کر کہتے میز پر ہاتھ مارا۔ جو سوپ واعظہ کے میز پر ہاتھ مارنے سے چھلک نہ سکا اب چھلک ہی گیا۔ کھولتے نوڈلز ہےجن کا منہ جلا گئے اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر پیالہ اٹھا لیا۔
    جب ایک دن جیل۔میں گزار سکتی تو ہفتہ بھی گزار لیتی۔ آئیندہ میں مر بھی رہی ہوں تو میری ایسی مدد کرنے کا سوچنا بھی نا سمجھے۔۔
    واعظہ دونوں ہاتھ میز پر مار کر اٹھتے ہوئے چلائی۔
    میرا واقعی دماغ خراب ہوگا جو میں تمہاری مدد کرنے کا سوچوں بھی۔ کہہ سیکی ۔۔ دماغ سے پیدل لعنتئ ہوں میں۔ جو تمہیں دوست سمجھا اور مدد کیلئے دوڑ پڑا بھگتو تم خود ہی اپنی ان ہم عمر لے پالک بیٹیوں کے کرتوت کسی بیوہ ماں کی طرح۔ جوابا اسی کی طرح چلاتا دھاڑتا سیہون بھی میز پر ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    دنیا میں بڑے سے بڑے احمق گزرے ہوںگے مگر اگر مقابلہ کرایا جائے تو تم سے احمق اور عقل سے پیدل لڑکی دنیا میں کہیں نہ ہوگی۔ اور تم سے بڑا پاگل میں ہوں جو تمہارئ پیچھے۔
    اس نے جھلا کر کین زمین پر مارا ۔۔۔
    واعظہ کچھ کہتے کہتے رک کر لب بھینچ کر دیکھتی رہی پھر پیر پٹختی پلٹ کر مخالف سمت تیز تیز قدم اٹھاتئ چل پڑی۔ سیہون نے چند لمحے گہری سانس لیکر کر خود کو پرسکون کرنا چاہا۔ ہے جن نے پیالہ دوبارہ میز پر رکھ کر کھانا شروع کردیا۔ سیہون برستی بارش میں لمحہ بہ لمحہ دور جاتی واعظہ کو دیکھ رہا تھا یقینا اسکے پیچھے جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے میز سے موبائل اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔اسے جانے کیلئے پرتولتے دیکھ کر وہ جلدی سے نوڈلز نگل کر بولا
    میرے نوڈلز کے پیسے دیتے جائیں۔
    سیہون نے اس کو گھور کر دیکھا۔
    افطار کے وقت پولیس والیاں آگئیں تھیں بھوک سے برا حال ہورہا تھا میرا۔
    اس نے سیہون کو خشمگیں نظروں سے گھورتا دیکھا تو مسکین سی شکل بنائی
    تم میری دم میں کیوں بندھے۔۔ سیہون نے بڑ بڑاتے ہوئے جیب سے اپنا پرس نکالا
    میں جان کے نہیں بندھا۔
    ہے جن برا مان گیا۔
    ان سب کو ٹیکسی میں بٹھا دیا میری جگہ ہی نہیں تھی میرے فرشتوں کو خبر نہیں آپکا فلیٹ کہاں ہے کہاں جاتا میں اگر آپ دونوں کے ساتھ نا آتا تو۔
    ہےجن نے بچی کھچی کمچی بھی نوڈلز پر۔ڈال لی۔ خفا خفا سے انداز میں بولتا ہے جن۔ سیہون نے پیسے نکال کر میز پر رکھے اور جس سمت واعظہ گئ وہاں دوڑ لگا دی
    بچا کھچا سوپ اور نوڈلز منہ میں بھر کر ہے جن نے بھی تقلید کی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ کی رہبری میں وہ سب اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔
    الف کے منہ سے بے ساختہ وائو نکلا تھا۔۔
    ویسے تو باہر عمارت ہی شاندار تھی اپارٹمںٹ کیلئے انکی توقعات بڑھ گئ تھیں مگر یہ انکی توقعات سے زیادہ خوبصورت تھا۔ وہ سب گھوم گھوم کر گھر دیکھنے لگیں۔
    دو کمرے ایک نہایت صاف ستھرا سجا ہوا ۔۔۔بستر کی چادر بے شکن کپڑے سمٹے ہوئے الماریاں بند صاف ستھرا ۔۔
    یہ سیہون کا روم ہے تم لوگ۔ فاطمہ نے انکو تنبیہہ کرنی چاہی مگر وہ لوگ بے مزا سئ ہو کر باہر نکل آئیں
    یہ استعمال ہی نہیں کرتا ہوگا سیہون۔۔عروج نے ناک چڑھائی
    فاطمہ لب بھینچ کر رہ گئ۔
    سب با جماعت دوسرے کمرے کی۔جانب بڑھیں
    کمرے میں جیسے بھونچال آیا ہوا تھا بیڈ سے لیکر کمرے میں سجے صوفہ سیٹ تک کپڑوں کا جیسے سیلاب آیا ہوا تھا ۔ چائے کے ڈسپوزایبل کپس جگہ بے جگہ بکھرے تھے تولیہ زمین پر ایک مانوس سا لیڈیز بیگ بیڈ پر اوندھا کر جانے کیا تلاشا گیا تھا کہ پرس کی چھوٹی چھوٹی اشیاء میک اپ کا سامان سینی ٹایزر آئینہ والٹ سب بیڈ پر بکھرا تھا
    سیہون کی گرل فریںڈ بھی رہتی یے یہاں۔
    بظاہر خواتین کے کپڑے ہی بکھرے تھے سو عروج کا اندازہ کسی حد تک منطقی تھا۔
    مگر یہ ٹاپ تو مجھے لگ رہا کہیں دیکھا ہے میں نے۔
    عزہ نے صوفے پر سے پیچ اور گرے کمبیںیشن کا لانگ ٹاپ اٹھایا
    آہ ہاں لڑکیوں کے ہی ایسے کپڑے ہوتے ہیں فاطمہ کےپاس بھی ایسا ہی ٹاپ ہے ہے نا۔
    عشنا فورا مدد کو آئی۔ اسکی اس مد دپر فاطمہ نے کھاجانے والی نگاہوں سے گھورا اسے۔
    تم لوگ کیا گھر کا جائزہ لینے لگ گئے ہو رات گزارنی ہے بس جیسے تیسے۔
    فاطمہ نے گڑبڑا کر بیگ کو اٹھاکر بیڈ کے نیچے گھسیڑ دیا۔ مگر عروج الف اور عزہ اب کسی اور ہی۔جانب متوجہ تھیں ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھا پیارا سا فریم جس میں سیہون اپنی والدہ اور کسی خوبصورت سی لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔
    عزہ نے آگے بڑھ کر فریم اٹھا لیا۔
    یہ میری تو نہیں ہے۔ عروج نے تصدیق چاہی۔
    ہاں وہ تو پھینی ناک کی ہے یہ تو بہت خوبصورت ہے۔۔ عشنا نے کہا تو وہ سب جھک گئیں۔
    سیہون ڈبل ڈیٹ کر رہا ؟ یہ لڑکی گائوں میں بیوی ہے اور شہر میں وہ میری کو پھنسائے ہے۔
    الف نے کڑیاں ملائیں اور تاسف سے چیخ ہی تو پڑی۔
    سب لڑکے ایک جیسے ہوتے چاہے کورین ہوں یا پاکستانی۔
    کوئی پاکستانی ڈرامہ نہیں چل رہا یہاں۔ فاطمہ جانے کیوں جھلا رہی تھی۔ بیڈ ، صوفے سے کپڑے اٹھا کر گولے بنا رہی تھی عشنا بیڈ کی چیزیں اٹھانے لگی۔۔
    اور تم لوگ ان چیزوں کو مت چھیڑو پتہ ہے نا میری کتنی جنگلی بلی ہے۔ اتنا بھاری ہاتھ ہے اسکا کیوں فاطمہ۔
    عروج بیڈ پر گرتے ہوئئ فاطمہ کو چھیڑ رہی تھی۔
    ویسے مجھے امید تو نہیں تھی فاطمہ سے مگر فاطمہ نے کافی ضبط کیا تھا اس دن گال لال ہوگیا تھا اسکا مگر اس نے پلٹ کر میری کا منہ نہیں توڑا۔
    الف بھی عروج کے ساتھ مل گئ۔
    ادھار رکھا ہوا ہے اسکے کم از کم دو تھپڑ لگائے بنا کوریا سے نہیں جائوں گئ۔ عزم کیا ہوا ہے میں نے۔ فاطمہ بظاہر مزاقا ہی کہہ رہی تھی مگر ایسا عزم اس نے سچ مچ بھی کر رکھا ہوگا عشنا کو اندازہ تھا۔ وہ اسکی الماری میں چیزیں رکھ رہی تھئ جب اسکے سامنے ایک فریم آیا۔ تصویر اچھی طرح دیکھ کر اس نے الٹ کر رکھ دی۔ اور الماری بند کر دی۔ اسکو مخاطب کرنے کی نیت سے عزہ مڑ کر اسے ہی دیکھ رہی تھئ۔ اس نے کندھے اچکا کر سر جھٹکا اور تصویر واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔

    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 17

    قسط 17
    تھکے تھکے قدم اٹھاتی وہ اسپتال سے باہر نکلی تھی۔ آج جتنا لمبا دن گزرا تھا اسکا دل کر رہا تھا بس اگلے تین چار دن بس سوئے۔ اس کا بس سے جانے کو دل نہیں کیا۔ مین روڈ تک آکر وہ ٹیکسی کا انتظار کرنے لگی۔ تبھی ایک چمچماتی کالی گاڑی اسکے سامنے آرکی۔۔اس نے حیران ہو کر شیشے میں دیکھنا چاہا تبھئ ڈرائیونگ سیٹ سے سیونگ رو مسکرا تا ہوا اتر کر اسکے پاس چلا آیا۔
    آئو میں گھر چھوڑ دوں۔۔
    وہ دوستانہ انداز میں مخاطب تھا
    شکریہ میں چلی جائوں گی۔ اس نے انکار کرنا چاہا
    آجائو روج پلیز۔ اسکا انداز ملتجی سا تھا روج صاف انکار نہ کر سکی۔۔ عروج کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد اس نے دروازہ بند کیا پھر خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا اعر گاڑی چلادی۔
    770 فٹ اونچے نام سان ٹاور کے اوپر کھڑے ہوکر نیچے دیکھو دیکھو تو تھوڑی سینے سے آلگتی ہے عروج نے تین سال کوریا میں سیول میں رہ کر بھی آج جانا تھا۔ نیچے دیکھتے ہوئے وہ خفگی سے سیونگ رو سے بولی
    تم نے مجھے ہائی جیک کیا ہے آج ۔۔۔ اس وقت تک میں سو بھی چکی ہوتی۔۔اگر ٹیکسی میں جاتی تو۔
    سیونگ رو اسکے انداز پر کھل کر ہنسا ۔۔
    ہائی جیک نہیں کڈنیپ کیا ہے۔ وہ بےساختہ درستگئ کر گیا عروج نے تیکھی نگاہ سے دیکھا تو کھسیا گیا۔یقینا عروج کا اشارہ اسے نام سان ٹاور کے اوپر یوں لفٹ کے ذریعے پہنچادینے کی جانب تھا۔
    میں جب پہلی بار سیول آیا تھا تو مجھے سب سے پہلے جس مقام کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا وہ یہ نام سن ٹاور تھا۔ جب سب جوڑے دھڑا دھڑ پیار کی نشانی کے طور پر اس گرل میں اپنے اور اپنے محبوب کے نام کے تالے لگا رہے تھے تب میں اکیلا یہاں کھڑا سوچ رہا تھا کتنے بے وقوف لوگ ہیں تالے دلوں پر لگتے ہوتے تو لوگ اپنے اپنے دل سنبھال کر ان پر تالے ڈال لیتے کسی اور پر جزبے ضائع کرنے سے تو بہتر ہے۔ہےنا روج؟
    وہ عروج سے تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا
    لوگ پہلی بار سیول آتے ہیں تو انکو ہنگن دریا دیکھنے کا شوق ہوتا ہے ۔یہاں تو محبت میں مبتلا لوگ ہی آتے ہیں اور جو محبت میں مبتلا لوگ ہوتے ہیں وہ بےبس اور بے چارے ہوتے ہیں انکا دل انکی مرضی سے نہیں چلتا ہے ایسے لوگوں کی عقل پر تالے پڑے ہوتے ہیں۔
    عروج کندھے اچکا کر اپنے مخصوص دو ٹوک انداز میں بولی۔
    سیونگ رو چپ سا ہو کر سیول کی روشنیاں دیکھنے لگا۔۔ پورا شہر نگاہوں کے سامنے تھا یوں لگ رہا تھا ننھے ننھے قمقمے دیئے جل بجھ کر رہے ہوں۔۔ بے حد خوبصورت منظر مگر یکسر اجنبی ماحول۔ اجنبی شکلیں نامانوس جگہ۔ اس نے گہری سانس لیکر آسمان پر نگاہ کی۔ ۔ آسمان سیاہ مگر چمکدار سا لگ رہا تھا مگر اس پر سجا دن بہ دن باریک ہوتا چاند۔۔ رمضان ختم ہونے کو تھا عید سر پر تھی۔ اسے بے طرح اپنا گھر یاد آنے لگا تھا اسکی عید اس بار بھی اپنوں سے میلوں دور گزرنے والی۔تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
    نور کی عید جیل میں گزرے گی ؟۔۔۔
    اسٹوڈیو میں کرسی پر بیٹھی کہنئ کرسی کے ہتھے پر جمائے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اس پر کنپٹی ٹکائے اپنی باری کا انتظارکرتی وہ یہی سوچتی رہی تھی۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر اتنی گہری تھی کہ اپنے اور اسکے لیئے کافی بنا کر لاتا ژیہانگ نوٹ کیئے بنا نہ رہ سکا اسکا کپ سامنے میز پر رکھ کر وہ اپنا کپ لیکر اسکے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا پروگرام شروع ہونے میں پندرہ منٹ تھے وہ ہیڈ فون مائک چیک کرنے لگا۔ الف کا مراقبہ۔ختم۔نہ ہوا۔ ژیہانگ گا ہے بگا ہے اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے رہ نہ سکا۔پوچھ ہی بیٹھا
    کیا ہوا الف؟ کوئی پریشانی ہے؟
    آہ۔۔ ہاں۔ وہ بری طرح چونکی۔ میرا مطلب ہے نہیں کوئی پریشانی نہیں بس وہ پروگرام کا ہی سوچ رہی تھی۔ اس نے جلدی سے بات بنائی۔
    جب سے ہم نے سیہون کا انٹر ویو لیا ہے ہمارے شو کی ریٹنگ ایکدم بڑھ گئ ہے۔ لوگ بہت دلچسپی لے رہے ہیں ہمارے شو میں۔ سوجو کے ایک برینڈ کی اسپانسر شپ بھی مل گئی ہے۔ پروڈیوسر صاحب کافی مطمئن ہیں ہماری کارکردگی سے۔
    ژیہانگ کو یہی لگا کہ شائد پروگرام کی وجہ سے پریشان ہے سو خوش ہو کر اسے بتانے لگا۔
    سوجو؟۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں
    شراب کے بریںڈ کی اسپانسر شپ ۔آخ
    اس نے منہ بنایا
    وہ۔ہمارے شو کی اسپانسر شپ کر رہے ہیں ہمیں پینے کو نہیں کہہ رہے۔ ژیہانگ اسکے منہ بنانے پر کھل کر ہنسا
    الف کھسیا سی گئ۔
    ہاں تو۔ ہے تو گندی چیز پتہ نہیں لوگوں کو کیا مزا آتا ہے ہوش کھو کر۔
    ہوش کھو دینے میں ہی تو اصل مزا ہوتا ۔ آپ بھول جاتے آپ کہاں ہیں کیوں ہیں کس کے ساتھ ہیں
    ژیہانگ نے چٹخارا سا لیا حسب توقع الف بحث کیلئے آستین چڑھا گئ تھئ
    ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا ہوش کھونے کا فائدہ ہے کیا؟ اداس ہو پریشان ہو تو شراب پی کر ہوش کھونے سے نا تو پریشانی ختم ہوگئ نا اداسی الٹا اس پریشانی کا حل نکالنے کے بجائے ہوش ہی کھو کر اس پریشانی کو مزید بڑھاوا دے دیتے ہیں اور خوش ہیں تو بجائے ان لمحوں کو جینے کے ان کا لطف اٹھانے کے ہوش کھو کر خوشی کے ان لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں پینے پلانے کا صرف نقصان ہے فائدہ کوئی نہیں۔
    الف کا جوش میں رنگ سرخ ہوچکا تھا اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے جملے کے آخر میں سامنے میز پر جوش سے ہاتھ مار بیٹھی۔۔کپ چھلک کرالٹ گیا کافی پوری میز پر پھیلتی چلی گئ۔ ژیہانگ میز کو پائوں مار کر اپنی سیٹ بروقت پیچھے کر کے اپنے کپڑے بچا گیا تھا۔۔ الف البتہ گھبرا کر ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشو کھینچنے لگی۔۔ اس بہتے دریا کو ٹشو باکس کا آدھا ڈبہ ہی روک پایا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا مرغی ابھی تک ڈبے میں بند ہے۔۔ فلیش بیک ختم ہوچلا تھا فاطمہ چیخی۔سیہون کے ہاتھ سے چاپ اسٹکس چھوٹ ہی۔گئیں کینہ۔توز نظروں سے اسے گھورنے لگا
    اس طرح چیخنے سے نکل تھوڑی آئے گی۔۔
    واعظہ نے اطمینان سے کہا ۔۔
    مجھے تم دونوں جب تک ہارٹ اٹیک نہیں کروائوگئ چین نہیں آئے گا تم دونوں کو۔ وہ بھناتا اٹھ گیا۔
    چائے پینی ہے تم لوگوں نے۔ وہ چائے کا پانی چولہے پر رکھتا پوچھ رہا تھا۔
    بالکل نہیں۔ دونوں اکٹھے جان کے چیخیں پھر اسکے گھورنے پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگیں۔
    ہم چائے کالی پتی اور دودھ والی کو کہتے تم جو یہ جڑی بوٹیاں ابال کر اسے چائے کا نام۔دیتے ہو نا اس سیال کو پینے کا کوئی شوق نہیں ہمیں۔
    فاطمہ کئ وضاحت پر اس نے دوبارہ مڑ کر اسے گھورنا چاہا مگر وہ ہنستے ہنستے مںہ پھیر کر کھانے کی جانب متوجہ ہوچکی تھی
    تبھی واعظہ کا موبائل بج اٹھا۔۔ اس نے پیغام کھولا ہےجن کا تھا۔ پیغام پڑھ کر اسکے چہرے پر جو پریشانی کی لہر دوڑی اس نے فاطمہ کو بھی کسی انہونی کا احساس دلا دیا تھا
    کیا ہوا ؟ کس کا پیغام تھا۔۔ فاطمہ نے پوچھا
    ہےجن کا۔۔ واعظہ کا اندازپراسرار سا تھا
    کیا ہوا مرغی مر گئ؟ واعظہ نے گھورکر دیکھا اسے تو وہ کھسیا گئی۔
    کیا ہوا واعظہ خیریت؟ سیہون بھی انکے پاس چلا آیا۔ واعظہ نے آہستگئ سے کہا
    ہے جن کا میسج تھا۔۔۔ نور کو پولیس پکڑ لے گئ۔ ہے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن فاطمہ واعظہ اور سیہون پولیس اسٹیشن میں بیٹھے تھے۔۔انکے سامنے لاک اپ میں نور گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھئ تھی ۔نور کا رو رو کے برا حال تھا۔ اسے فی الحال لاک اپ میں بند کیا ہوا تھا۔
    دیکھیئے بجائے اسکے کہ آپ ہماری مدد کرتے کہ ہماری اپارٹمنٹ میٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئ اسے کوئی حفاظتی گھڑی دیتے اس لڑکی کو جسکا اس معاملے سے دور کا بھی تعلق نہیں پکڑ کر لاک اپ میں بند کر دیا یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔
    فاطمہ جوش سے میز پر ہاتھ مار کر بولی تھی۔ ڈیوٹی پر موجود افسر نے ان چاروں کو باری باری دیکھا پھر سر کھجانے لگا۔ ایک کو اٹھا کر لانے پر چار لوگ ہلہ بول چکے تھے پولیس اسٹیشن پر۔غیر ملکی شکلیں فراٹے سے انگریزی بولتی لڑکیاں باقی بھی جو لوگ شکایتیں لیکر آئے تھے دلچسپئ سے اپنے معاملات سلجھانے کی بجائے اس کائونٹر کی جانب متوجہ تھے۔
    سیہون نے ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے جھٹ فاطمہ کی کہی باتیں ہنگل میں دہرائیں۔
    یہ کون ہیں آپکی۔ ؟ افسر نے کان کھجایا۔۔
    میری ۔۔۔ بیوی ہے۔ سیہون کے منہ میں لفظ اٹک اٹک گئے۔
    کیا؟ ہم تو اسکو غیر شادی شدہ سمجھ رہے ہیں۔ آپ اپنی شناخت کروائیے ثبوت دیجئے ذرا۔ افسر اچھل پڑا۔ واعظہ سیہون اور ہے جن نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگے اسے۔ فاطمہ ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
    سیہون نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا ۔۔ اس نے جھٹ تفصیلات لیپ ٹاپ میں ڈال کر تصدیق کی
    ہائش۔ آپکی بیوی کا نام تو فاطمہ ہے۔اور تصویر ۔۔۔ اس نے اب فاطمہ کو غور سے دیکھا۔
    ہاں تو یہی تو بتایا۔ سیہون بگڑا۔
    میں سمجھا نور کی بات کر رہے ہیں۔ بہر حال ہم تفتیشی مرحلہ مکمل کر رہے ہیں۔ ہمیں انکا بیان چاہیئے۔۔ اس وقت انکو ہم نہیں چھوڑ سکتے میرا مشورہ ہے آپ لوگ گھر جائیے۔آرام کیجئے۔ ہم صبح انکو کورٹ میں پیش کر کے ریمانڈ لیں گے۔
    دیکھیں میں کہہ رہی ہوں نا اس لڑکی کا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپکو ہمیں حفاظت فراہم کرنی چاہیئے الٹا آپ لوگ میرے ہی لوگوں کو اٹھا لایے ہیں۔
    واعظہ ہنگل میں بگڑی
    آپکی سہیلی کا کیس ہمارے علاقے میں درج نہیں ہوا۔ وہاں سے ہمیں بھیجا گیا۔ ہم پہلے ہی گروہ کے سرغنہ کو۔پکڑ چکے ہیں باقی ارکان کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں جلد پکڑ بھی لیں گے۔ جو لوگ خود پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں مفرور ہیں ان سے آپکی سہیلی یا آپکو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ؟ اسی لیئے ہم نے الگ سے کوئی حفاظتی اقدامات کی۔ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہماری اب تک کی تحقیق کے مطابق انکا اصل شکار یہ لڑکی نور تھی۔ آپکے گھر میں چوری چپکے آکر اسی لڑکی کے بال کاٹےگئے دھمکانے کیلئے ۔یہ بات گروہ کا سرغنہ قبول چکا ہے اب وہ یہ کہہ رہا کہ یہ انکی ساتھی ہے معمولی جھگڑے کی وجہ سے انہوں نے سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اب اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے لیئے اس لڑکی کو حراست میں لینا ضروری ہے۔۔
    افسر نے تفصیل سے اسی لیئے بتایا تاکہ مزید سوال کی۔گنجائش نہ رہے۔۔مگر ہے جن جھٹ بولا
    مگر نونا اس گروہ کی رکن نہیں ہیں انکا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی واسطہ نہیں۔
    آپ کیسے کہہ سکتے یہ؟ کون ہیں یہ آپکی۔
    افسر اب چڑنے لگا تھا اسکے سیدھے سوال پر وہ گڑبڑا کر واعظہ کو دیکھنے لگا
    دیکھیں وہ میری بہن جیسی دوست ہے میں اسکی ضمانت لیتی ہوں وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ واعظہ نے گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرکے افسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
    آپکی دوست ہے۔ افسر نے پرسوچ نظروں سے دیکھا۔
    اسکے والدین کا نام گھر کا پتہ ان سے رابطے کا نمبر اس میں سے کچھ بھی تفصیل آپکو معلوم ہو بتایئے۔ ہمیں صبح اس کیس کی سمری پاکستان ایمبیسی کو بھیجنی ہے تاکہ۔یہ تفصیلات ہمیں معلوم ہو سکیں اچھا ہے آپ میرا کام آسان کر دیں ورنہ دو ایک دن تو انہیں بھی لگیں گے یہ تفصیلات ہمیں دینے میں۔ اس نے میز پر سے رائیٹنگ پیڈ اور پین اٹھا کر اسکے سامنے رکھا۔
    فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھنے لگیں۔
    دیکھیں وہ ہماری ہم وطن ہے ہماری دوست ہے سال بھر سے ہمارے ساتھ رہ رہی ہے۔۔
    فاطمہ نے کہنا چاہا تو اس نے سیدھا بات کاٹ دی۔
    تو آپ نہیں جانتئ ہیں یہ تفصیلات۔ وہ دوٹوک پوچھ رہا تھا۔ واعظہ نے سر تھام لیا۔
    ایسی لڑکی جسکی یہ بنیادی معلومات تک آپکو معلوم نہیں ہیں اسکی آپ ضمانت لینے کو تیار ہیں صرف ہم وطن ہونے کے ناطے۔ کیوں پاکستان میں سب فرشتے رہتے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہوتا کبھی سب کی آپ ضمانت لیتی ہیں کہ وہ جرم نہیں کر سکتے۔
    پورے پاکستان کو میں نے اپنے اپارٹمنٹ میں ٹھہرا بھی نہیں رکھا۔ واعظہ سلگ کر بولی۔ سیہون اسکی کرسی کے ہتھے پر ہلکے سے تھپکی دے کر اسے متحمل ہونے کا اشارہ۔کیا
    دیکھیئے۔ آپ۔یہ کیوں سمجھنے کو تیار نہیں ہیں اگر آپکی سہیلی بالکل معصوم ہے تو بھی اسکو ایک بہت بڑے گروہ کا سرغنہ اپنے ساتھ اس کیس میں پھنسانا چاہ رہا ہے تو اسکا کیا مطلب بنتا ہم اسکو شامل تفتیش نہ کریں گھر جانے دیں تو ان سے کسی رحم دلی کی امید کیسے کر سکتی ہیں آپ کل کو وہ اسے اغوا کرلیں سب الزامات سب ثبوت اسکے خلاف جائیں گے اسکا بیان ہمیں نہیں ملے گا تو یہ ہمارے شک کے دائرے میں رہ گی ہم اسکو ملزم تصور کرکے اسکی تلاش میں لگ جائیں اور اصل۔مجرموں کو وقت مل جائے اس پر سب الزام ڈال کر اپنی گردن بچا لینے کا۔ یوں سمجھیئے اگر یہ مجرم نہیں ہے تو اسکی جان کو خطرہ ہے یہاں لاک اپ میں وہ محفوظ ہے سمجھیئے میری بات۔
    اسکے جملے اسکے زچ ہو جانے کے باوجود متحملانہ تھے۔ یہ بات تو انہوں نے سوچی بھی نہیں۔ وہ تو بس یہ سوچ کے پریشان تھے کہ انکی سہیلی اس وقت جیل میں بند ہے۔
    ہم چلتے ہیں۔ سیہون انہیں اٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں دو منٹ اس سے بات کر سکتی ہوں۔ واعظہ کے کہنے پر افسر یوں کرسی پر ہاتھ مار گیا جیسے کہہ رہا ہو کس دیوار میں سر ماروں میں۔
    ان چاروں کو اٹھ کر جاتے دیکھ کر وہ تڑپ کر لاک اپ کی سلاخوں سے آ لپٹی تھی۔
    واعظہ پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائو۔ فاطمہ۔ پلیز ۔
    بات سنو دیکھو واعظہ۔ ہے جن ۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔پلیز میری بات سنو۔۔ وہ انکو اسٹیشن سے نکلتے دیکھ کر سلاخوں سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی
    وہ چاروں مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہ کرسکے تھے۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر سڑک پر آکر وہ سب آگے کیا کریں اسی سوچ میں الجھے تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے نہیں پتہ تھا آج شو میں کیا کہا کیا کیا۔ شو ختم ہوتے ہی وہ کندھے پر بیگ لٹکاتی گھر جانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کہاں جا رہی ہو بیٹھو۔ پروڈیوسر صاحب ہمیشہ کی۔طرح غیر ضروری طور پر خوش اور پرجوش سے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے اسے دیکھ کر ڈپٹنے والے انداز میں بولے۔۔وہ ہونٹ بھینچ کر دھپ سےکرسی پر بیٹھ گئ
    اس ہفتے کی رات کو کے بی ایس نیٹ ورک کی سالگرہ منائی جا رہی تو کنسرٹ کیزین نائٹ گالہ منایا جارہا ہے رات گئے تک ہم پارٹی کریں گے تم دونوں کیلئے اسکا اپیشل انویٹیشن بنوایا ہے سو کوئی بہانہ مت کرنا ضرور جانا۔
    انہوں نے لہراتے ہوئے انکو انویٹیشن کارڈ تھمائے اس نے بے دلی سے کھول کر دیکھا ژیہانگ نے عبارت پر نگاہ دوڑائی
    ہر چینل اپنے سب سے ذیادہ ریٹنگ اٹھانے والے شو کے لوگوں کو ہی بھیجتا ہے میں تو کبھی نہ تم دونوں کو بھیجتا مگر سیہون کے انٹرویو کے بعد پچھلے کچھ عرصے سے تم لوگوں کا شو اس چینل کی سب سے ہائی ریٹنگ لے رہا اخباروں میں بھی اس شو کی خوب خبریں لگ رہی ہیں تو۔۔ مجبوری۔
    انکی بولتے بولتے آواز مدہم ہوتی گئ تھی ژیہانگ انکے انداز پر کھل۔کر مسکرایا۔ الف بے نیاز تھی اس نے کبھی انکی باتوں کو سنجیدہ لیا ہی نہیں تھا سنجیدہ لینے کیلئے ضروری تھا سنی بھی جائے انکی۔ اس پر رعب ڈالنے کیلئے جب وہ سخت کوریائی لہجے میں ٹوٹی پھوٹی انگریزی مارتے تھے تو عموما اسکی ہنسی نکل جاتی تھی جسکا وہ خاصا برا مناتے اس وقت بھی قصدا انکی باتوں سے دھیان ہٹاکروہ کارڈ پڑھ رہی تھئ کارڈ پر سب ہنگل میں درج تھا بس اسے ہوٹل کا نام ہی سمجھ آیا جو خاص انگریزی میں درج تھا پڑھ کر اسکی آنکھیں پھیل گئیں
    گرینڈ رائل پیلس ہوٹل۔ کوریا کا فائیو اسٹار مشہور ہوٹل جسکو سب سیول باسیوں نے بھی نہیں دیکھ رکھا ہوگا۔
    تم دونوں خوب تیار ہو کر آنا غیر ملکی اسپانسرز بھی ہونگے کوشش کرناتم لوگ کسی کو متاثر کر ہی ڈالو باقی میں وہاں لوگوں کو گھیرنے کی الگ کوشش کروں گا آخر اتنی اچھی انگریزی بول۔لیتا ہوں میں۔ تم دونوں کو بھی لے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کہ انگریزی اچھی بول لوگے۔
    انہوں نے کہتے ہوئے ایک ترچھی نگاہ الف پر ڈالی جو کارڈ سے منہ چھپا کر ہنسی روک رہی تھی۔
    جی بالکل آپ فکر ہی نہ کریں ہم دونوں بھرپور محنت کریں گے۔ فائٹنگ۔۔
    ژیہانگ نے مٹھی بھینچ کرمکا بناتے مخصوص کوریائی انداز سے فائٹنگ کہا تو وہ مطمئن ہوگئے۔۔۔
    تمہیں ایکسو پسند ہے یا صرف سیہون۔۔
    انکے اسٹوڈیو سے جاتے ہی ژیہانگ پورا اسکی جانب مڑ کر کرسی کے ہتھے سے کہنی ٹکا کر مٹھی گال پر رکھے پوچھ دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
    الف پورا گھوم گئ تھی اسکی جانب۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج کا موڈ تازہ ہوا کھا کے بہتر ہو گیا تھا۔کہتے ہیں ٹھنڈی ہوا کھانے سے بھوک لگتی ہے۔ سیونگ رو کو بھی شائد بھوک لگ گئ تھئ مگر اسکی حیرت کی انتہا نا رہی جب وہ اسے ایک پاکستانی ریستوران لے آیا تھا۔
    بریانی اور چکن کڑاہی نان کے ساتھ جب اس نے منگوا کر عروج کو دیکھا تو وہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی اسے ہنسی آگئ
    ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ میرے کینڈا میں بہت سے پاکستانی اور انڈین دوست تھے ہم بہت شوق سے اکثر مل کر بریانی کھاتے تھے چکن کڑاہی میری پسندیدہ ترین رہی ہے ہمیشہ سے تمہیں کیا پسند ہے ذیادہ
    ہمیشہ بریانی۔ اسکا جواب دوٹوک تھا۔ بریانی کے آگے کسی دیسی کو۔کچھ اور پسند نہیں آسکتا۔۔لیکن بریانی جو میری امی بناتی ہیں اسکا کوئی ثانی نہیں ویسا ذائقہ دنیا میں کہیں نہیں ۔
    اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ سیونگ رونگ سر ہلانے لگا
    ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے کی کیا ہی بات ہے۔ میری آہموجی بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہیں کسی دن کھلائوں گا انکے ہاتھ کا فرائی چکن نوڈولز مجھے انکے ہاتھ کا سب سے ذیادہ یہی پسند ہے۔
    مگر چکن حلال لینا ورنہ میں نہیں کھائوں گی۔
    عروج نے فورا تنبیہہ کی۔ سیونگ رو کی مسکراہٹ لمحہ بھر کو پھیکی پڑی پھر سنبھل کر زور و شور سے سر ہلانے لگا
    ضرور۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج لفٹ میں داخل۔ہوئی تو سامنے سے الف تھکے تھکے قدم اٹھاتی نظر آئی۔ لفٹ کے بند ہوتے دروازے کو اس نے فورا بٹن دبا کر روکا۔
    تم اب آئی ہو گھر۔ الف نے لفٹ میں داخل ہوتے ہی پہلا سوال کیا
    ہاں ۔۔ وہ۔مختصرا کہہ کر لفٹ بند کرنے لگی تھی کہ سامنے سے ہے جن اور واعظہ آتے دکھائی دیئے اس نے گہری سانس لیکر لفٹ کے بند ہوتے دروازے کو دوبارہ بٹن دبا کر روکا۔
    تمہیں پتہ چلا نور کو پولیس پکڑ کر لے گئ۔ الف اسکی جانب رخ کیئے کھڑی تھی سو اسکی نگاہ ان دونوں پر نہ پڑی
    کیا۔۔ کیوں۔ وہ چلا ہی تو اٹھئ۔
    وہ سمجھ رہے ہیں نور اس گروہ کی رکن ہے جس نے عزہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہے جن اور واعظہ اسی کو چھڑانے گئے ہوئے ہیں
    اس نے اضافہ کیا
    پر یہ تو نور کے بغیر ہی آگئے ہیں۔ عروج انکو لفٹ میں داخل ہوتے دیکھ کر بولی دونوں کے چہرے تھکن سے اترے ہوئے تھے الف بھی گھوم گئ انکی جانب
    کیا ہوا نور کو نہیں لائے؟ الف بے تابی سے بولی
    تم نے ان لوگوں کو بتایا نہیں کہ نور کو عزہ کو اغوا کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو رہتئ ہی ایک جگہ ہیں۔ عروج کو غصہ آیا۔۔
    نور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے صبح اسکا ریمانڈ بھی لے لیں گے۔ وہ بہت برا پھنسی ہے۔۔
    واعظہ نے ہونٹ کاٹ کر کہا۔
    یاخدا کیوں چانک مصیبت آن پڑی ہے ہم پر ۔ عروج اپنی پیشانی سہلائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صدقے کی مرغی گھر میں رکھے ہو اوپر سے اسکی حالت دیکھو کل سے دانہ پانی بھی نہیں دیا اسے اسکو بھی روزہ رکھوادیا بےزبان معصوم جانور اسی وجہ سے نئی مصیبت آئی ہے۔۔ طوبی نے تاسف سے کارٹن میں مرگھلی سی ہوئی مرغی کو دیکھا جو طوبی کو شائد پہچان کر کٹاک کر کے رہ گئ تھئ۔۔
    بتائو لڑکی ذات پولیس اسٹیشن کا منہ دیکھے گئ۔ کیا گزرے گی ماں باپ پر ۔
    وہ بڑ بڑائے جا رہی تھی
    ماں باپ کو کیا پتہ کہ انکی بیٹی کوریا میں کہاں ہے۔ عزہ نے تسلی دینی چاہی طوبی گھورنے لگی
    یہی تم لوگوں کی لاپر وائیاں مصیبتوں کو دعوت دیتی ہیں ۔ کل پھوکا ہوا پانی پیا کم گرایا ذیادہ اب یہ صدقے کی مرغی جو بلا ٹالتی اسکو رات گھر میں رکھ کرمصیبت کو دعوت دے ڈالی ۔۔
    پر اگر صدقے کی مرغی گھر میں رکھ کر بیمار کرنے کی وجہ سے مصیبت آئی ہے تو عزہ پر آنا چاہیئے تھی صدقہ تو اسکا دیا تھا نور پر کیوں آئی۔ عشنا دور کی کوڑی لائے بنا رہ سکتی تھئ۔۔
    ہاں اور کوئی نئئ مصیبت کو پتہ دو میرا اغوا ہوتے ہوتے تک تو بچی ہوں اب کیا قاتل میرے پیچھے لگوانا ہے؟ عزہ بری طرح چڑ گئ۔
    اس مرغی کا وقت کم رہ گیا ہے زبح کرنا پڑے گا ورنہ ضائع جائے گی۔
    طوبئ مرغئ کو ہاتھ میں لیکر تول رہی تھی۔
    آپ کرلیں گی ذبح۔۔
    عزہ کو یقین نہیں آرہا تھا ۔ طوبی کی صلاحیتیوں پر شک۔۔ وہ برا مان گئ۔
    کیوں نہیں ۔کونسا توپ کام ہے ؟ ابھی لو لائو ذرا تیز سی چھری ابھی بسم اللہ اللہ اکبر کرتی ہوں میں اسکا۔
    دلاور بھائئ کو بلا لیں آپی۔
    عشنا منمنائی
    اب کیا سر پر مارنا ہے انکے؟ طوبی نے تیکھی نگاہ ڈالی
    سختی سے منع کیا ہے میں نے اب یہاں کا رخ نہ کریں بھلا بتائو ایک بے چارے میرے معصوم سے میاں ۔۔ بغل میں مرغی دابے اسکا رخ کچن کائونٹر کی جانب تھا
    ایک ہی ہوتے ہیں میاں تو۔ عزہ نے عشنا کے کان میں سرگوشی کی اس نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لفٹ سے تھکے تھکے سے وہ چاروں نکلے جب بے ہنگم چیخ و پکار کی آواز آئی۔۔۔ عزہ نونا۔ ہے جن نے آواز پہچان لی۔ انکے گھر کے سامنے والے گھر سے دلاور سراسیمہ سے نکلے۔
    کیا ہوا ؟ وہ پانچوں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے پھر جواب کا انتظار کیئے بنا گھر کی جانب بھاگے۔ فلیٹ کا دروازہ واعظہ نے کھولا تو اسکا استقبال خون کے دریا نے کیا تھا۔ دہلیز پر خون کا سیلاب سا آیا تھا تو دیواریں تک خون کے چھینٹوں سے رنگی گئ تھیں ۔ ان چاروں کے دل اچھل کر حلق میں آگئے تھے۔قدموں میں جان نہ رہی دلاور ہمت کرکے آگے بڑھے کہیں سے کوئی چیز اڑتی ہوئی آکر انکے سینے سے ٹکرائئ۔انکی ساری بہادری ہوا ہوئی گھبرا کر جو اس چیز سے چیختے ہوئے دور ہونا چاہا تو خون کے تالاب میں پیر پھسلا وہ سر کے بل زمین پر لام لیٹ ہوتے گئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔ جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 16

    قسط 16
    یار ویسے یہ بریانی کے چاول کافی گیلے ہوگئے ہیں مگر ذائقہ ٹھیک ہے۔
    فاطمہ نے نوالہ لیکر چٹخارہ بھرا تھا۔وہ تینوں مل۔کر۔افطاری۔کر رہے تھے۔ کچن میں ماربل ٹیبل پلس کائونٹر جس سے لائونج اور کچن کی حدود متعین تھیں اسکےگرد اونچے اونچے اسٹول لگا کر وہ تینوں کھانے بیٹھ گئے تھے۔ سیہون نے نہایت خوبصورت بھالو اور ستاروں بھری کھیرے ٹماٹر اور پیاز کی سلاد بنائی تھئ۔ فاطمہ نے ہرا دھنیا ہری مرچ ڈال کر خوب چٹپٹا سا رائتہ بنایا تھا۔بریانی۔واعظہ نے دم۔دے ڈلئ تھی اب خوب مزا آرہا تھا تینوں کو ۔۔
    صحیح تو بنے ہیں۔سیہون حیران ہوا۔
    اس سے کم گلے ہوئے تو کچے لگتے ہیں۔ اس نے معلومات میں اضافہ کیا۔
    کورینز کے یہاں۔۔۔۔فاطمہ نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
    ہمارے یہاں ایسے چاول پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔۔۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیااسے تو بریانی کے چاول ہمیشہ کچے لگے تھے اور گوشت زیادہ گلا ہوا۔۔ آج کی طرح۔
    واعظہ اور فاطمہ دونوں ہاتھ سے کھا رہی تھیں دونوں کے ہاتھ چاولوں کی پیچ سے سن چکے تھے سیہون البتہ چاپ اسٹکس سے ننھے ننھے لقمے اٹھا رہا تھا۔
    ویسے چکن بریانی سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ اس نے اضافہ کیا۔
    اوئے چکن سے یاد آیا وہ جو طوبی چکن لائی تھی اسکا کیا کیا تم لوگوں نے۔ فاطمہ کو یاد آیا۔
    وہ دیکھو۔ واعظہ نے اشارہ کیا فاطمہ سمجھ کر ہاتھ سے نوالہ چھوڑ بیٹھی۔
    کیا؟؟؟؟وہ چیخی۔ سیہون چاپ اسٹک چھوڑ بیٹھا۔۔
    اب کیا ہوگیا۔ وہ ہونق ہوا مگر فاطمہ اسکی۔جانب متوجہ نہ ہوئی غم و غصے سے بے حال واعظہ سے مخاطب تھی۔
    یہ وہی چکن ہے؟ واعظہ کی۔بچی صدقے کا چکن کھلا رہی ہو مجھے؟ حد ہے طوبی نے عزہ اور ہے جن کا ہاتھ لگوا دیا تھا اس پر۔
    دماغ خراب ہے کیا فاطمہ۔ وہ بھی چڑ گئ۔
    خود بھی تو یہی ٹھونس رہی ہوں۔ سید ہوں میں صدقے کا چکن کھا سکتی بھلا ؟
    تو پھر یہ چکن کہاں سے آیا وہ کہاں گیا۔۔ اسے اپنے ردعمل پر تھوڑی سی خفت محسوس ہوئی واقعی خود بھی تو وہی۔کھا رہی تھئ۔مگر تجسس برقرارتھا۔
    تم دونوں مجھے دل کا دورہ پڑوا کر ہی رہو گئ۔ سیہون نے گلاس بھر کر پانئ نکالا اور پینے لگا
    وہ دیکھو۔۔ واعظہ نے دانت کچکچائے۔ فاطمہ نے اسکئ اشارے کی سمت اپنے کندھے سے اوپر دیکھا تو اسکرین دمک رہی تھی ایک اور فلیش بیک۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ خوشی سے چلاتی ہوئی کلب میں بھاگی آئی۔ ہاتھ میں موبائل لہراتی جانے کیا نئی خوشی ملی تھی۔
    واعظہ واعظہ۔ سنو۔۔۔
    سیہون واعظہ کو ڈیفنس کک کی پریکٹس کرا رہا تھا دونوں تائکوانڈو کی مخصوص اپنے کلب کی وردی پہنے مکے بنائے دھڑا دھڑ لاتیں مکے چلا رہے تھے۔اس کی ہر دوسری بات اسی طرح جوش سے بھرپور اور فالتو کے سسپنس سے بھری ہونے کے باعث دونوں نے قابل توجہ نہ گردانا۔ لگے رہے
    اوفوہ سنو تو میری بات۔ وہ ان دونوں کے گرد چکرا رہی تھی
    پتہ ہے بی ٹی ایس کی فین میٹنگ کیلئے اپلائی کیا ہوا تھا میں نے۔
    وہ انکے ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی۔
    ہمیں نہیں پتہ ہوگا تو کسے پتہ ہوگا۔ انکی البمیں جو دھڑا دھڑ خریدتی پھری ہو اسکے پیسے ہم سے ہی ادھار لیئے ہیں تم نے۔ سیوہون نے کہتے ہوئے واعظہ کو مکا مارا جسے وہ بروقت جھکائی دے کر بچا گئ اپنا منہ۔
    اور ایک دیو قامت چھے چندی آنکھوں والے لڑکوں کا پوسٹر میرے ہی سرہانے دیوار پر سجا ہے۔ رات کو اچانک نظر پڑے تو لگتا کہ باہر نکل کے کھڑے ہوگئے ہیں کبھی کبھی تو پلکیں بھئ جھپکاتے ہیں۔گھوم کر بائیں پیر کو اٹھا کر سیہون کو کک لگاتے ہوئے پھولی سانسوں سے واعظہ دکھڑا رو رہی تھئ۔ سیہون نے جھکائی دی۔ واعظہ کی یہ والی کک کمزورتھی۔ سیہون نے ٹوکا۔
    تم اپنی فل باڈی اسٹریچ نہیں کرتی ہو اس طرح کمر میں چک آجائے گئ۔
    ہوں۔ واعظہ نے سر ہلایا۔
    اوفوہ میری بھی تو سنو۔ میں نے تین تین البم خریدی تھیں بی ٹی ایس کی اور تین دفعہ قرعہ اندازی میں نام داخل کروایا تھا۔
    فاطمہ نے بات اس فالتو کی پریکٹس کے درمیان بھی پوری کر نی چاہی۔
    ایک تو میرے نام سے ہی اینٹری کرائی ہے۔ واعظہ نے یاد کیا۔ اور گھوم کر مکا چلایا۔ سیہون اسکا مکا روک رہا تھا دونوں مکمل طور پر اپنی پریکٹس میں مگن تھے۔
    واعظہ کے نام والی اینٹری نکل آئی کیا۔ سیہون نے یونہی اندازہ لگایا۔
    نہیں۔ فاطمہ دبے دبے جوش سے بولی۔۔
    مجھے پتہ تھا میں نہ صرف اپنے لیئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی منحوس ثابت ہوتی ہوں جب پیدا ہوئی تھی تو میری دادی کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا ۔۔ اسکے بعد۔۔
    اسکی اپنی منحوسیت ثابت کرنے والے واقعات کی لمبی فہرست تھی جو ان دونوں کو رٹ چکی تھی۔
    اسکے بعد تمہارے ابا کا پارٹنر دھوکا دے کر انکا سارا کاروبار سمیٹ گیا تھا، پھر جس دن تم پہلی بار اسکول گئئیں تو اس سکول کی کرپشن کی داستان کھل گئ اور وہ اسکول بند ہوگیا اور۔۔۔پھر۔
    اس سے اگلے جملے سیہون ہنستے ہنستے دہرا رہا تھا
    میری منحوسیت کی داستان صرف میں ہی سنا سکتی ہوں تم نہیں۔ اس نے بگڑ کر اسکو دو تین لاتیں مار دیں وہ ہنس ہنس کر بلاک کر رہا تھا
    اب میری باری۔ اس نے کہہ کر اب خود حملہ کرنا شروع کیا واعظہ جھکائی دے رہی تھئ
    تم دونوں بک بک بند کرو میری بھی سن لو میرا اپنا نام آگیا ہے۔
    فاطمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا مٹھیاں بھینچ کر چیخ اٹھی۔ سیہون کے حملے روکتے واعظہ لمحہ بھر کر بے دھیان ہوئی سیہون کی بھرپور لات آئی بمشکل منہ بچایاکندھے پر کھا کر وہیں لام لیٹ ہوگئ۔ سیہون کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے گھبرا کر اسے اٹھانے لگا۔
    کین چھنا واعظہ۔ وہ گھبرا کر پوچھ رہا تھا
    واقعی۔ کندھا سہلاتی واعظہ سئہون کے سہارے سیدھی ہوتے ہوئے بے یقینی سے پوچھ رہی تھی
    ہاں نا۔ وہی تو بتانے آئی ہوں۔ سارا جوش ہی پانی کردیا میرا۔
    وہ منہ لٹکا کر اسکے پاس ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے گاڑیاں دھوئی تھیں، پیٹرول پمپ پر ملازمت کی، ایک فوڈ کورٹ میں ویٹرس کی نوکری کی صبح اس این جی اومیں جاتی تھی تو شام کو بھالو کا لبادہ اوڑھ کر ایک مارٹ کے سامنے کھڑے ہو کرپمفلٹ بھی بانٹے۔ کیا کچھ کرکے اس نے پیسے جمع کیئے تھے۔اس ایک ایونٹ میں شرکت کیلئے۔ پھر
    اس نے ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی اپنی سب بچت اڑا دی تھی سب کے سب ارکان کیلیئے تحفے لیئے تھے گھڑی فرینڈ شپ بینڈ چاکلیٹ ہیڈ بینڈ سب ایک جیسے سب کے ڈیبوٹ سے لیکر ڈی این اے البم تک کی تصاویر جمع کرکے البم بنایا انکے لیئے کسٹمائز ڈائری بنوائی اور جو جو سمجھ آیا خرید ڈالا
    تم جس طرح اندھا دھند خرچ کر رہی ہو آگے کیا کروگی کرایہ کھانا پینا کپڑے؟ اسکو خوشی خوشی سب چیزیں بیڈ پر ڈھیر کرتے دیکھ کر ابیہا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    تم بھی کہہ کر دیکھ لو میری تو کسی بات کا اثر نہیں اس پر۔
    واعظہ اسکے ساتھ بازار گئ تھئ سو تھک کر اپنے بیڈ پر ہی گر گئ تھی
    میں نے مالک مکان سے بات کر لی ہے۔۔فکر ناٹ۔
    وہ۔واعظہ کو کن اکھیوں سے دیکھ کر کھلکھلائی اس نے جوابا گہری سانس لیکر منہ پر تکیہ رکھ لیا۔
    اور فین میٹنگ کئ ٹائمنگ دیکھو عین 3 بجے تمہارا باس چھٹی دے گا تمہیں۔۔
    ابیہا نے پھر کوشش کی۔
    یہ سب خرچہ بی ٹی ایس کے آگے کچھ نہیں۔۔
    وہ بی ٹی ایس کے لوگو والی ٹی شرٹ پہنے تھی اس لوگو پر ہاتھ پھیر کر ایک ادا سے جھومی
    اف تم سوچ نہیں سکتیں میں کتنی پرجوش ہوں کل میں اپنے پسندیدہ ترین فنکاروں کے روبرو ہونگئ ہزاروں پرستاروں میں ہم خوش نصیب سو پرستار اس سعادت کو پائیں گے۔ کوئی سوچ سکتا ہے بھلا ان کو قریب سے دیکھنے کا یوں اتفاق ہوگاباس چھٹی دے نا دے میں کل چھٹی کر رہی ہوں ۔۔اف میری نوکری چلی بھی جائے تو بھی پروا نہیں
    وہ سرشار سی ابیہا کے پاس بیڈ پر دھم سے گری تھی۔ اسکا رنگ سرخ ہو رہا تھا خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ ابیہا کی کوئی مستقبل کی حقیقت پسندانہ منظر کشی بھی اسے اس تقریب میں جانے سے نہیں روک سکتی تھی۔ وہ جتنئ بڑی بی ٹی ایس کی پرستار تھی اسکا تائب ہونا ناممکن نظر آتا تھا۔ وہ ہونٹ بھینچ کر اٹھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دو بجے سے تقریب میں پہنچ گئ تھی۔ کوریا بھر سے آئے پرستاروں اور انکےلائے قیمتی تحائف کو دیکھ کر اسکواپنی۔لائی چیزیں ایکدم بے کار اور گھٹیا لگنے لگی تھیں۔ کوئی پلاٹینم جیولری لیکر آئی۔ہوئی تھی۔
    کوئی اپنے ہاتھ سے بی ٹی ایس کے ارکان کے خاکے بنا کر لایا ہوا تھا کسی نے بی ٹی ایس کا ٹیٹیو کھدوایا ہوا تھا اپنے بازو پر۔ ایک پاگل لڑکی توبی ٹی ایس کی درجنوں البمیں خرید چکی تھی آج سب کو بانٹ بھی رہی تھی کہ خریدنے کا مقصد بس قرعہ اندازی میں حصہ لینا تھا۔۔ اسکو دینے آئی تو اس نے معزرت کر لی۔ ڈی این اے کے تین البم تو پہلے ہی۔پڑے تھے اسکے پاس چوتھے کا کیا کرنا ہے۔ ذیادہ تر لڑکیاں تھیں مگر لڑکے بھئ جو تھے وہ لڑکیاں ہی لگ رہے تھے۔ لڑکیاں شارٹ اسکرٹس میں ملبوس تھیں تو لڑکے پھٹی جینز اور برمودہ میں۔ ۔ بالوں کے رنگ سب نے اپنے پسندیدہ فنکار کے بالوں کے رنگ میں رنگ رکھے تھے۔ پونے تین بجے بی ٹی ایس کی وین آئی تھی۔ انکے آنے کی۔خبر سن کر سب ہدایتیں بھول بھال سب پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے بھاگے تھے۔ انکو آدھا گھنٹہ۔لگ گیا تھا اسٹیج تک آنے میں ۔ سئکیورٹی کے دھکے کھاتئ کسئ طرح ان فنکاروں کو چھو لینے کی خواہش میں دیوانی لڑکیوں میں وہ خود کو ان سب سے الگ محسوس کر رہی تھی۔ بی ٹی ایس آکر اسٹیج پر بیٹھے تو شور مچا کر ان لوگوں نے ہال سر پر اٹھا لیاسامنے میز لگا کر ارکان کو بٹھا دیا گیا تھا انکے پیچھے ایک ایک اسٹاف میمبر کھڑا تھا پرستار آگے بڑھتے فنکاروں کی میز کے دوسری جانب اسٹول رکھا تھا جس پر بیٹھ کر وہ ہاتھ ملاتے دو سے تین منٹ بعد اگلے فنکار کے سامنے والے اسٹول پر بیٹھ جاتے اسکی چھوڑی جگہ پر دوسرا پرستار آجاتا۔۔ساتھ ساتھ بیٹھے ان فنکاروں کے ساتھ پرستاروں کا الگ الگ رویہ تھا۔ جن جمن کے پاس سے بہت جلدی اٹھ جاتی تھیں۔ ۔۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی اور یہی سب نوٹ کر رہی تھی اسکی توجہ مستقل اسٹیج پر جاتے لوگوں اور انکے رویوں پر تھی لوگ ویڈیوز بنا رہے تھے زور سے کسی رکن کا نام۔پکارتے وہ چونک کر سر اٹھاتا تو اسکی ویڈیو بناتے۔ جیسے چابی والے کھلونے ہوتے ہیں ۔۔ ہاتھ ملا کر گلے لگ کر اپنے دیئے گئے گفٹ خود پہنا کر سیلفیاں لیتےپرستار اسے بیٹھے ڈیڑھ گھنٹہ ہونے کو آیا تھا مگر مجال ہےان تمام ارکان میں سے کسی ایک کے بھی۔چہرے پر تھکن بیزاری کی رمق نظر آئی ہو۔یا لمحہ بھر کے لیئے مسکراہٹ مدھم ہوئی ہو۔
    اسکے ساتھ بیٹھی لڑکی پورے ایونٹ کی ویڈیو بنا رہی تھی بازو اگلی کرسی کی پشت پر ٹکائے ہاتھ ہلنے نا پائے اسکا پورا دھیان رکھے وہ بیٹھی۔تھئ فوکس اسکا تھا جنگ کوک پر۔ مجال ہے جو اسکا ایک لمحے کا بھی ردعمل اسکے کیمرے سے چھپا رہ سکا ہو۔ اسکی باری جانے کب آئے اس نے یہی سوچ کر ان تمام کی ویڈیو بنانی شروع کردی۔ جنگ کوک تائہیونگ کے پاس سے تو لڑکیاں اٹھنے کو تیار ہی نہ تھیں۔ ایک نے ہاتھوں کا پیالہ سا بنایا تو جنگ کوک نے آگے بڑھ کر اسکی ہتھیلی پر تھوڑی رکھ دی۔ اتنا معصوم اتنا پیارا لگ رہا تھا فاطمہ کو ہنسی آگئ۔ اسکا پورا منظر کیمرے کی آنکھ سے قید کرتے اس نے کیمرہ گھمایا ریپ مونسٹر، شوگا جمن جن۔۔ وہ لڑکی بہت تیزی سے اپنی باری آنے پر انکی۔جانب بڑھی تھی۔ جن نے مسکرا کر اسے دیکھا اپنا ہاتھ بڑھایا ملانے مگر اس نے جھٹک دیا اور تاہیئونگ کے آگے جا بیٹھی۔ اس نے مسکرا کر اسکو خوش آمدید کہا وہ بڑا سا بیگ لائے جانے کیا کیا تحفہ تائیہیونگ کیلئے لائی تھی جسے خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے وہ مسکرا کر ہاتھ ملا۔رہا تھا۔ مگر جن۔۔ اس نےکیمرہ واپس گھمایا۔
    اسکے چہرے پر تاریک سا سایہ لہرا گیا تھا۔ اس نے پچھلے پرستار کی لائی مٹھائی جو اسکے سامنے رکھی تھی اٹھا کر منہ میں ڈالنی چاہی توپیچھے سے اسٹاف میمبر نے سختی سے اسکو کچھ کہہ کر چھین لی۔ لمحہ بھر کو مسکرا کر اس نے سامنے دیکھا تو اتفاق سے عین فاطمہ کے کیمرے پر اسکی نگاہ۔گئ۔ یہ سارا منظر قید کرتی فاطمہ کا ہاتھ ہل سا گیا تھا۔ جن کی آنکھیں بھر سی آئی تھیں اور یہی منظر اسکے پاس محفوظ ہوچکا تھا۔
    ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیش بیک دیکھ کر فاطمہ اداس سی ہوگئ۔
    کیا یاد کرادیا۔ پتہ ہے وہ ویڈیو آج تک میں نے کہیں نہیں ڈالی۔ بلکہ اس دن کے بعد میں نے دیکھی بھی نہیں۔ یقین کرو ۔۔۔ کہتے کہتے جیسے وہ واقعی اسی دن میں پہنچ گئ تھی۔
    بی ٹی ایس بالکل کٹھ پتلیاں لگ رہے تھے ، پتھر کی مورت ، چابی والے کھلونے جیسے پرستار انکو ٹریٹ کر رہے تھے مجھے انسان نہیں ڈمی لگ رہے تھے جنکا کام بس تفریح دینا ہے انکے اپنے کوئی احساس و جذبات نہیں۔
    واعظہ اور سیہون دونوں اکٹھے لفظ با لفظ وہی دہرا رہے تھے جو فاطمہ نے ابھی کہنا تھا۔ ظاہر ہے پچھلے دو سالوں میں جب جب بی ٹی ایس کا نام بھی اسکے سامنے لیا گیا تھا اس نے یہ واقعہ شد و مد سے دہرایا تھا اور اپنے انہی خیالات کا اظہارکیا تھا اور اسکے دوست اس تقریر کو رٹ چکے تھے۔
    ہاں وہی۔۔ وہ۔کھسیائی۔۔
    میں نے چکن کا پوچھا تھا یہ فلیش بیک کہاں سے دکھا دیا۔ اس نے واعظہ کو۔گھورا
    کچھ زیادہ۔ریوائنڈ ہوگیا معزرت اب دیکھ ہی۔لو پورا۔۔ واعظہ کہہ کر دوبارہ پلیٹ پر جھک۔گئ تو فاطمہ نے۔مڑ کر دوبارہ فلیش بیک دیکھنا شروع کر۔دیا۔
    کھانا بھی ساتھ کھائو اس بار میز پر فلیش بیک دیکھ لو۔ واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلاتی اب میز کی۔جانب دیکھنے لگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی باری آئی تو وہ گہری سانس لیکر اٹھی۔ سارا جوش جھاگ کئ طرح بیٹھ گیا تھا گھبراہٹ کہیں غائب ہوچکی تھی۔ کہاں اسے وہ دنیا سے الگ مخلوق لگ رہے تھے کہاں اب اسے ان پر ترس آرہا تھا۔ اسے بی ٹی ایس پر ترس آرہا تھا۔ عجیب بات تھی نا؟
    جن کا کائونٹرسب سے پہلا تھا۔اسے دیکھ کر وہ بہت خوشدلی سے مسکرایا یا ہر پرستار کیلئے ایک زبردست مسکراہٹ۔
    آپکی آواز بہت مختلف اور میٹھی ہے۔ آپکے پرستار کم ضرور ہونگے مگر مختلف اور اچھی آوازیں پسند کرنے والے ہونگے۔
    اس نے مسکرا کر کہا اور اپنی بات پر اسکے چہرے پر پھیلتی خوشی کی۔لہر دیکھ کر طمانیت سی اسکے اندر بھرتی گئ تھئ۔۔
    میری اس پیاری سی پرستار کا نام۔
    وہ مسکرا کر اسکی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔ وہ شش و پنج میں پڑ گئ۔ زندگی میں پہلی بار کسی لڑکے سے ہاتھ ملا لے۔۔ ؟؟؟
    اسے ہنگل سمجھ نہیں آئی ہوگی یہ سوچ کر اس عربی نقوش والی لڑکی کیلئے اسکے مینجر نے ترجمہ کردیا انگریزی میں۔
    فاطمہ۔۔ اس نے جواب دیتے ہوئے سوچا کہ ہاتھ بڑھائے یا نہیں۔۔اسکا پسندیدہ بوائے بینڈ گروپ مگر تھے تو یہ سب لڑکے ہی وہ ملا لے ہاتھ یا نہیں۔۔۔۔۔ کہ جن نے اپنا بڑھا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیا
    آپ مسلم ہیں۔ معزرت مجھے پتہ نہیں چلا تھا۔۔وہ آپ نے اسکارف نہیں لیا ہوا سر پر تو۔۔اسلیئے۔۔۔
    وہ بیٹھے بیٹھے زرا سا جھک کر معزرت کر رہا تھا۔اسکا مینجر اسکا جملہ مکمل ہونے پر ترجمہ بھی ساتھ ساتھ کر رہا تھا۔ وہی سخت دل مینجر جو اس وقت اسے دنیا جہاں کا سخت دل ترین انسان لگ رہا تھا اس وقت عاجزی سے جھک کر بات کرتا دنیا کا رحم دل ترین انسان لگ رہا تھا۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ اس نے سر پر اسکارف نہیں لیا ہوا تھا مگر گہرے نیلے لانگ ٹاپ شرگ اور جینز کے ہمرنگ پرنٹڈ نیلا اور گلابی اسکارف گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔
    ۔ آپکا نام بہت پیارا ہے۔۔ ہمارے جتنے بھی عربی پرستار ہیں ان میں ہمیں یہ نام ضرور سننے کو ملتا ہے۔۔۔ وہ مزید بھی کہہ رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عشنا نے جوابا دھاڑ سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا۔
    ہر انسان کی اپنی خواہشات اور ترجیحات ہوتی ہیں جن کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے تمہیں اگر اسکی یہ ضد بے جا لگ بھی رہی ہے تو تم اسکو روک نہیں سکتیں تجربہ کرنے سے۔۔
    نور نے فاطمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا۔۔
    فاطمہ نے اپنی اس جزباتی تقریر کا آج تک اتنا غیر جزباتی ردعمل نہیں دیکھا تھا۔
    بھاڑ میں جائے اپنی کمائی بھاڑ میں جھونکے مجھے کیا۔۔ وہ تلملاکر بولی۔۔۔ الف کو ایکسو سے اتنی ہی انسیت تھی مگر فاطمہ کی فین میٹنگ کا احوال اسے عبرت ناک لگا۔ قریب تھا سب بھول کے فاطمہ کے گلے لگ جاتی کہ وہ جھٹکے سے اٹھی اور تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھا کر فلیٹ سے ہی نکلتی چلی گئ۔
    ہمیشہ دیر کردیتا ہوں کے مصداق الف اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔
    آپ لوگ نماز پڑھ لیں وقت تنگ ہو رہا ہے۔
    یہ تاکید جہاں سے آئی تھی ان سب کے سر گھوم گئے تھے۔ ہے جن ان سب کو حیرانی سے خود کو تکتا پا کر سٹپٹا گیا۔
    وہ طوبی آپی ایسا ہی کہتی ہیں اس وقت کہ وقت تنگ ہو رہا ہے۔میں نے ان سے سیکھا یہ کوئی برا جملہ تو نہیں؟؟؟ وہ سمجھا شائد اسکی سمجھ میں کوئی کمی رہ گئی۔۔
    نہییں۔۔ الف اور نور ٹھنڈی سانس بھر کر لائونج سمیٹنے لگیں۔عزہ کو بھی بھوک محسوس ہوئی یا ہےجن جیسے چٹخارے بھر کر کھا رہا تھا کھانا اسے دیکھ کر منہ میں پانی آگیا ۔ گول گول سے پیڑے سے بنے ہوئے انڈے کے اندر میں کچھ بھرا ہوا تھا اور کمچی۔۔۔ انڈے تو وہ کھا ہی سکتی تھی۔ خود وہ سوپ نوڈلز کے چاپ اسٹکس سے کھا رہا تھا ساتھ کمچی بھی اٹھا لیتا۔۔
    کھائیں گی آپ؟۔ اس نے عزہ کو دیکھتا پا کر خلوص سے پیشکش کی۔۔ اس نے کمچی کھسکا بھی دی اسکی جانب مگر بند گوبھی کے اس اچار میں جس کے مصالحے کو خوشبو دور سے محسوس ہو جاتئ تھی اسے دلچسپی نہیں تھی۔
    اس نے انڈا اٹھاتے ہوئے پوچھا۔۔
    کھا لوں۔ اس میں چکن تو نہیں ہوگا نا۔
    اس نے جواب کا انتظار کیئے بنا منہ میں رکھ لیا۔ آملیٹ کی طرح تلے ہوئے ایگ رول میں گاجر پیاز اور۔
    وہ چباتے ہوئے چونکی۔ اس میں تو چبانا پڑ رہا ہے گوشت بھی ہے کیا۔
    نہیں چکن نہیں ہے۔۔۔ ہے جن نے سادگی سے سر نفی میں ہلایا۔عزہ نے سکھ کا سانس لیا۔
    ۔ اس میں بیکن ہے۔ ہے جن نے جملہ مکمل کیا اسی وقت اس نے نوالہ نگلا تھا۔
    کیا۔۔ وہ حلق کے بل چلا اٹھی۔۔
    اس انڈے میں سور کا گوشت ہے؟؟؟؟؟ کیوں تم نے بتایا کیوں نہیں۔
    وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ الف اور نور دہل سی گئیں ہے جن گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
    نونا کیا ہوا۔۔
    عزہ سیدھئ کچن سنک کی جانب بھاگئ
    آخ۔۔
    اب کیا قیامت آگئ ہے پہلے دروازے توڑے اب پھر چلا۔۔۔۔۔
    عروج دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولتی باہر نکل کر گرجی مگرسامنے کچن کا منظر دیکھ کر الف اور نور کی۔طرح ہکا بکا سامنے دیکھتئ رہ گئ باقی جملہ منہ میں رہ گیا۔
    عزہ حلق میں انگلی ڈال کر الٹی کرنے کی کوشش کر رہی تھی بیسن میں اور ساتھ ساتھ بلک بلک کر رو رہی تھی۔
    مجھےبتا نہیں سکتے تھے۔۔۔میں سو سو۔۔۔۔۔ کھا گئی آخخخخخخ

    ساتھ کھڑا ہے جن بھئ ہنگل کبھی انگریزی میں اسکی منتیں کر رہا تھا۔
    نونا آئیم سوری مجھے نہیں پتہ تھا۔
    اب اسے کیا ہوا ہے؟ عروج نے بے چارگی سے پوچھا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روزے میں خون سے لت پت وجود میں زندگی کی رمق تلاشتے سارا دن گزرا تھا۔ شکر ہے جان بچ گئ تھی مگر اگلے چوبیس گھنٹے اسکے زمے مریض کیلئے اہم۔تھے۔۔ ڈرپ لگا کر نرس کو اگلی ہدایات دے کر جب وہ ڈیوٹی ختم کرکے باہر نکلی تو سورج ڈھل چکا تھا بلکہ رات پھیل رہی تھی۔ تھکی تھکی سی اپنے کیبن میں آکر بیٹھی۔ اسکی میز پر ایک چھوٹا سا پیکٹ رکھا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔ عجوہ کھجور ایک سینڈوچ اور ایک جوس کا ساشے بند تھا اس میں۔اسے اب یاد آیا اسکا تو آج روزہ تھا۔سارا دن اسے اگر کچھ یاد رہا تھا تو وہ شدید نازک حالت میں آئے حادثے کے مریض۔آج تو نماز بھی نہیں پڑھی۔ اسے افسوس سا ہوا۔ ۔ شدید بھوک پیاس کا ایکدم احساس ہوا تھا۔ اس نے جلدی سے پیکٹ کھول کر دعا پڑھتے ہوئے کھجور منہ میں ڈال لی۔
    اس وقت یہاں اسکے سوا ایک دو اور خاتون ڈاکٹرز ہی آتی تھیں۔سو اطمینان سے اس نے ماسک ہٹا کر افطاری کی۔ اور خدا کا شکر ادا کیا۔
    مریض کی کیس تاریخ درکار تھی وہ جلدی میں اپنے کیبن سے لانا بھول گیا الٹے پیروں واپس آنا پڑا اپنے کیبن کی طرف جاتے ہوئے اسکی یونہی سامنے نگاہ پڑی تو پھر پلٹ ہی نہ سکی۔ ہزار بار سوچا ان بڑی بڑی آنکھوں کے نیچے ناک کتنی ستواں ہوگی ہونٹ گلابی ہونگے یا عنابی اسے مشرقی نین نقش کا اتنا اندازہ تو نہ تھا مگر پھر بھی ایک خیالی پیکر تراش رکھا تھاچار سال سے اسکو دیکھ رہا تھا یا چار سال سے اسکو دیکھا تک نا تھا کسی پہیلی جیسی روج جس نے اسکا راستہ روک رکھا تھا۔ہزار لڑکیاں تھیں گرد وہ ہر لڑکی پر وہ بڑی بڑی مڑی پلکوں والی بھوری آنکھیں جوڑتا اور ہر بار ناکام رہتا۔ کیا کیا نا سوچا تھا اس نے روج ایسی ہوگی ویسی دکھائی دیتی ہوگی۔اور آج اس نے روج کو دیکھ ہی لیا۔ یونہی اچانک سر راہ۔ چلتے چلتے۔۔ اورجتنا بھی سوچا جیسا بھی سوچا کم سوچا تھا۔ وہ اسکی سوچ سے بڑھ کر تیکھے نقوش گلابی رنگت اور تھوڑی پر ڈمپل والی ایک حسین لڑکی تھی۔ اتنی حسین کہ اسکا لمحہ بھر کو دل تھم کر دھڑکا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے ایک طرف ہو کر انکو اندر آنے کا راستہ دیا۔
    یون گے نامی وہ اہلکار دھیرے سے سر جھکاتی اسے سلام کرتی تیزئ سے اندر چلی آئی۔ انکے ہمراہ آیا لڑکا باہر دروازے پر ہی رک گیا البتہ دوسری لڑکی نے بھی اسکی تقلید کی۔۔
    کیا ہوا کون ہے؟ منہ میں پکوڑے بھرے بمشکل الف نے پوچھا پھر نووارد لڑکیوں کو دیکھ کر سٹی سی گم ہوگئ۔
    آننیانگ۔ ہم گنگنم پولیس اسٹیشن سے آئے ہیں۔ مس نور مرتضی کو تحویل میں لینے کا حکم نامہ ہے ہمارے پاس۔۔
    وہ خالص ہنگل میں بولی تھی ۔ ہے جن لقمہ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
    کس جرم میں؟ وہ دوبدو سوال کر رہا تھا
    کیا ہوا کیا کہہ رہی ہیں یہ؟ نور الف دونوں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں
    ہمیں شبہ ہے کہ گنگنم اسٹیشن میں زیر تفتیش آن لائین سیکس اسکینڈل میں گرفتار ملزمان سے مس نور کا تعلق ہے۔ ہم تفتیش کیلئے انکو حراست میں لینا چاہتے ہیں یہ حکم نامہ ہے ۔۔
    اس نے مسکرا کر جس رسان سے بتاتے ہوئے کاغذ انکی جانب بڑھایا اس سے الف اور نور کو گمان تک نا گزرا کہ کیا کہہ رہی ہے۔ ہے جن نے کاغذ پر لکھی تحریر پڑھی۔ اسکے ہونٹ خشک ہو چلے تھے۔۔
    انکو پتہ چل گیا مجھے کس نے اغوا کیا تھا؟۔عزہ ہے جن کا کندھا ہلا کر پوچھ رہی تھی۔
    وہ۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔
    وہ یہ آپکے سامنے ہی ہیں مگر آپ تھوڑی سی مہلت دے دیں انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا صبح چار بجے کے بعد اب یہ کھانا کھا رہی ہیں کھا لیں تو پھر بھلے آپ گرفتار کر لیں۔
    ہے جن دستر خوان کی جانب اشارہ کرکے کچھ کہہ رہا تھا وہ چاروں خفت ذدہ ہوئیں۔
    آئیں آئیں آپ بھی ہمارے ساتھ روزہ افطار کیجئے۔ معاف کیجئے گا ہمیں خود ہی آپکو دعوت دے دینی چاہیئے تھے۔ یہ نور تھی اخلاق جھاڑتی وضاحت کرتی باقائدہ کندھے سے پکڑ کر یون گے کو بلا رہی تھی۔ یون گے نے اپنی ساتھی کو دیکھا ۔
    آئیں نا آپ بھئ کھائیں۔ وہ تینوں دعوت دے رہی۔تھیں۔ اہلکاروں کو یوں کسی مشتبہ گھر میں گرفتاری کی غرض سے جانے کی صورت میں کھانے پینے کی اجازت نہیں۔ہوتی مگر ایسی۔صورت حال میں ملزم اصرار کرکے کھانے کی دعوت بھی نہیں دیا کرتے۔یہ صورت حال انکے لیئے بھی انوکھی تھی۔۔ عشنا دروازے پر موجود اہلکار سے انکی آمد کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ ان تینوں نے اصرار کرکے دونوں اہلکاروں کو بٹھا لیا تھا۔ اب یون بے جھجکتے ہوئے پکوڑا اٹھا رہی تھئ۔ ہے جن نےایک نظر انکے اطمینان بھرے مسکراتے چہروں پر ڈالی پھر جلدی سے ایک میسج لکھ کر کسی کو بھیج ڈالا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے ختم شد۔