Blog

  • Desi Kimchi Episode 15

    15 ویں قسط۔۔۔
    انٹرویو دے کر باہر نکلتے ہوئے اسکے قدم شکستہ ہو چلے تھے۔ سو فیصد امکان تھا کہ یہ نوکری بھی نہیں ملے گی۔
    فری لوڈر بننے کا خیال اسے مارے ڈال رہا تھا۔ وہ پھر ہنگن دریا کے کنارے آبیٹھی تھئ۔ بنچ پر بیٹھی دریا پر نظر جمائے اس لڑکی پر سورج کی تیز دھوپ پڑ رہی تھی۔ بلو جینز پر گلابی اپر پہنے اس لڑکی نے ہڈ سر پر جما رکھا تھا اسکے چہرے کا رخ دریا کی جانب تھا مگر وہ اسکا بایاں رخ دیکھ سکتا تھا۔جس سے اسکی رخسار کی نمایاں ہوتی ہڈی نظر آرہی تھی آنکھیں ہرگز بھی غلافی نہیں تھیں بلکہ معمول سے بڑی تھیں یقینا وہ کوریائی باشندہ نہیں تھی۔ ویسے بھی کوئی کوریائی لڑکی ہوتی تو اس جگہ کبھی نہ بیٹھتی ٹوپی پہن کر سن بلاک لگا کر چھتری لیکر بھی نہیں۔ دھوپ سے رنگت جھلسنے کے ساتھ کینسر کا بھی تو خدشہ ہوتا ہے۔ کچھ فاصلے پر درخت کے سائے میں بیٹھے اس چندی آنکھوں والے نے کافی دلچسپی سے اسے دیکھا۔
    اف ایک تو چوبیس ڈگری سے درجہ حرارت آگے بڑھنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ تنگ آگئ ہوں ٹھنڈ سے۔ایک یہاں کی موٹی کھال کی لڑکیاں شارٹ اسکرٹ پہن کر کیسا گرمی منا رہی ہیں۔ کوئی انہیں بتائے امی اتنے ڈگری سے کم پر ہمیں اےسی تک نہیں چلانے دیتیں کہ بل ذیادہ آئے گا۔ اس نے بازو سکیڑ کر گرمی کی حدت کو محسوس کرنا چاہا۔
    اف اس پر بھی اس موٹی کھال کے آدمی نے اے سی چلا رکھا تھا۔۔
    اس نے جھر جھرئ سی لی۔ تبھی اسکے موبائل کی پیغام دھن بج اٹھی۔ واعظہ تھی۔۔
    انٹرویو کیسا رہا؟
    اس نے گہری سانس لی۔
    ناکام رہا۔ شام کو ملو گی سوجو پی کر اس ناکامی کو منائیں گے۔ اس نے یہی لکھ کر بھیج دیا۔
    ہرگز نہیں۔ برملا جواب آیا تھا۔ اسکا جواب پڑھ کر اس نے بے چارہ سا منہ بنا کر ہونٹ لٹکا لیا تھا۔
    مجھ سے تو کوئی ملنا بھی نہیں چاہتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی ہوں اگر دو منٹ کے اندر تم میرے گھر کے سامنے سے نہیں گئیں تو میں پولیس کو فون کردوں گئ۔ کے سہکی۔
    ذرا کی ذرا دروازہ کھول کر وہ بلا لحاظ چلائی اور دھاڑ سے عروج کے منہ پر دروازہ بند کردیا۔
    آہ۔ عروج کو اسکے ردعمل کا اندازہ تھا مگر پورے راستے اتنے جملے ترتیب دیئے تھے کہ کم از کم پانچ منٹ تو وہ اسکی بات سنتی مگر اسکا مدعا سننا تو دور دروازہ کھول کو اسکی شکل دیکھتے ہی پہچان کر وہ چیخی ۔ انداز دیکھ کر لگتا تھا کہ پولیس کو فون نہ بھی کیا تو بھی اگر دوبارہ عروج نے اطلاعی گھنٹی بجائی تو سر پر ڈنڈا مار دے گئ عروج کے۔ وہ گہری سانس لیکر اسکے دروازے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ اس گندی سندی پرانی عمارت کی دوسری منزل تک چڑھتے اور اب اترتے اسکی نگاہوں میں بس وہ بے چارگئ سے عروج کو تکتی بوڑھی آنکھیں چھائی رہی تھیں۔
    اتنی تو کوشش کر لی میں نے اور کیا کروں۔ وہ تھک کر عمارت کے داخلی دروازے پر بنی کیاریوں کے پاس بیٹھ گئ۔
    دھیرے دھیرے سرسراتی ہوا۔ وہ گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرنے لگی۔ روزے میں دوسری منزل تک چلنا اترنا ۔۔پیاس لگا گیا تھا۔
    یہ علاقہ کافی گندا تھا۔ چھوٹے چھوٹے گھر جن کے باہر میلے کچیلے بچے شور مچاتے کھیل رہے تھے۔ یہ عمارت کافی خستہ حال لگتی تھی۔
    کتنے وون لیتئ ہو؟۔ چندی آنکھوں والا لمبا سا لڑکا اسکے اتنے قریب اچانک آکر کھڑا ہوا کہ وہ گھبرا کے اٹھ کھڑئ ہوئی۔
    دے؟۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔
    قیمت پوچھ رہا ہوں مجھے رات بھر کیلئے نہیں بس چند گھنٹے گزارنے ہیں جلدی بولو۔ عربی ہو؟
    وہ جلدی میں تھا ۔۔
    آندے۔ وہ عربی تو نہیں تھی۔۔ سو صاف سر ہلا کر بولی۔
    عروج کو اتنی ہنگل سمجھ تو آتئ تھی مگر وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا ہے۔
    ہمم۔ آنکھیں تو بڑی ہیں آپریشن کرایا ہے۔ وہ بغور اسے سر تاپا دیکھ رہا تھاوہ۔بلو ڈینم عبایا پہنے تھی سر پر بلیک اسکارف تھا اور بلیک ہی ماسک پہن رکھا تھا۔ اس نے تکلفی سے اسکے چہرے سے نقاب کھینچ لینا چاہا۔
    اور شکل دکھائو۔شکل دیکھ کر پیسے۔۔
    اسکا جملہ منہ میں ہی تھا عروج کا ہاتھ اٹھا ایک کرارا تھپڑ اس لڑکے کے منہ پر لگا تھا۔
    ہائو ڈیر یو۔ وہ لال بھبوکا چہرہ لیئے چلائی۔
    لڑکے کا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ یہ تھپڑ اسکے لیئے غیر متوقع تھا ۔ غصے میں بھر کر وہ سیدھا ہوا ارادہ اس تھپڑ کا کرارا جواب دینے کا تھا مگر عروج کو دیکھ کر لمحہ بھر کیلئے چونک سا گیا۔ ایشیائی چہرہ عربی۔ کہیں اسے غلط فہمی ۔۔۔ اپنا ہوا میں اٹھتا ہاتھ اس نے روکا تھا۔ گلی میں کھیلتے بچے کھیل چھوڑ کر آنکھیں منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ عروج کا ردعمل اتنا اچانک تھا کہ اسے خود بھئ اندازہ بعد میں ہوا۔ ایک اجنبی علاقے میں نجانے کس قماش کے لڑکے کو یوں منہ پر تھپڑ مار ڈالا۔ جوابا وہ بھی پلٹ کر مارنے ہی والا تھا۔ اسکا رکتا ہاتھ دیکھ کر اس نے موقع غنیمت جانا اپنا بیگ کندھے پر سیدھا کرتی اس نے دوڑ لگا دی۔ بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بنا پوری جان لگا کر بھاگتی ہوئی وہ ذیلی سڑک تک آئی۔
    سڑک پر بہت رش تو نہیں تھا مگر سنسانی بھی نہ تھی۔شکر ہے اس نے اسنیکرز پہن رکھے تھے جو اس دوڑ میں ساتھ دے گیے اسکی سانس پھول چکی تھی۔ سڑک کنارے رک کر ٹیکسی کو ہاتھ دیتے اس نے مڑ کر دیکھا تو شکر ہے وہ اسکا پیچھا نہیں کر رہا تھا۔ اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔
    ٹیکسی میں بیٹھ کر کتنے لمحے اسے خود کو سنبھالنے میں لگ گئے۔
    پانی ۔۔
    ڈرائیور نے جانے کیا سمجھا مڑ کر پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔
    وہ بے دھیانئ میں بوتل لیکر رخ موڑ کر پینے ہی لگی تھی کہ یاد آیا روزہ ہے۔۔ بوتل کا ڈھکن بند کر کے اپنے برابر نشست پر رکھ لیا۔
    یہ علاقہ اب محفوظ نہیں رہا۔ جانے لوگ آج کل کے اتنے متشدد کیوں ہو چلے ہیں۔ روز ہی کسی نہ کسی لڑکی کو یہاں سے ایسے ہی پریشان جاتے دیکھتا ہوں۔۔۔۔
    ڈرائیور کوئی ٹھیک ٹھاک باتونی انسان تھا۔ اس نے جائزہ لیتی نگاہوں سے دیکھا تو خشخشی سی داڑھی والا وہ کوئی تیس پینتس برس کا ہوگا رنگ دھوپ سے تھوڑا کم ہونے کے باوجود کافی گورا تھا۔ وہ مکمل سڑک کی جانب متوجہ تھا۔ اسے شدید الجھن آتی تھی اگر کیب والا کوئی غیر ضروری بے تکلف ہونے بات سے بات نکالنے والا ٹکر جائے۔ بھئ خاموشی سے گاڑی چلائو ۔ اسکی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں مگر ڈرائیور ان سے بے نیاز اگلا سوال پوچھ بیٹھا۔
    ابھی کسی اور کلائینٹ کے پاس جانا ہے یافارغ ہو؟
    بیک ویو مرر سے پیچھے دیکھتے وہ آہجوشی بے تکلفی سے پوچھ رہا تھا۔ اسکو اسکی بات سمجھ نہ آئی ۔وہ دے کہنے لگی تھی تاکہ وہ وضاحت کرے اپنی بات کی کہ تبھی اسکا فون بج اٹھا۔
    ہاسپٹل سے فون تھا۔ کوئی حادثہ ہوا تھا ایمرجنسی نافذ تھی اسے فوری ہاسپٹل رپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔
    ایسا کرو گاڑی کو سیول ہیلر اسپتال کی جانب موڑ لو۔
    اس نے ڈرائور کو ہدایت کی۔
    کین چھنا؟۔ ( خیریت)۔ طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی؟۔
    دے۔ عروج نے ٹھنڈی سانس لی۔ بہر حال وہ ڈرائور نظر باز نہیں تھا باتونی بےشک بہت تھا۔ اس نے جواب دے دیا۔
    کوئی حادثہ ہوا ہے گنگنم میں۔۔
    اوہ۔ ہاں۔ ابھی آرہا تھا تو دیکھا ایک ٹرک اور گاڑی کا تصادم ہواہے۔دیکھا تھا ایمبولنسیں جارہی تھیں۔ آپ کیوں جا رہی ہیں۔ اسپتال؟ کوئی جاننے والا تھا ان میں۔
    باتونا انسان۔ ۔عروج نے چڑ کر دیکھا
    ڈاکٹر ہوں میں اسلیئے بلائی گئ ہوں۔
    دے؟۔ ڈرائور کا ہاتھ واضح طور پر اسٹیرئنگ پر پھسلا تھا۔
    پھر باقی رستہ خاموشی۔ہی رہی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عید سر پر ہے اور ہم نے ابھی تک ہنبق نہیں سلوائے۔ واعظہ کی بچی جب آئیڈیاز پر عمل نہیں کرنا ہوتا تو دیتی کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔
    الف دف کی طرح ٹرے بجا کر اعلان کر رہی تھی۔
    ویسے الف روزے میں سارا دن گزار کر عین افطار کے وقت اتنی توانائیاں کہاں سے لاتی ہو سر کھانے کی؟۔
    نور حقیقتا حیران تھی۔ پکوڑوں کیلئے آلو چھیلتی وہ بہت تجسس سے دریافت کر رہی تھی۔ عشنا کل سے کمرے میں بند تھی رات کو فاطمہ ساری تقریریں جھاڑ کر چلی گئ تھی اسکے بعد سے عشنا جو کمرے میں گھسی صبح سحری میں واعظہ اپنی اور اسکی سحری کمرے میں لے گئ تھی۔پھر آٹھ بجے اٹھ کر یونیورسٹی چلی گئ اور جب سے واپس آئی تھی تب سے سو رہی تھی۔ عزہ اور ہے جن باہر گئے ہوئے تھے عزہ کو چیزیں لینی تھیں۔ عروج اسپتال گئ ہوئی تھی اور الف بجائے اسکے ساتھ افطاری بنوانے کے عید کی تیاریوں کی فکر میں ہلکان تھی۔
    توانائیاں ہم میں ہوتی ہیں بس ہم کھا کھا کے جمع کرتے رہتے ہیں جو ہم میں فیٹ بن کر جم۔جاتی ہیں ۔روزہ انہی توانائیوں کے استعمال کیلئے ہی ہے۔ بھئ مزید پیٹ میں مت انڈیلو بلکہ جو انڈیلا ہوا ہے اسکو استعمال کرو سو میں اپنی انہی توانائیوں کا استعمال کر رہی ہوں جو تم استعمال نہ کر کر کے پیٹ پر جمع کرتئ جا رہی ہو۔
    الف نے سیدھا سیدھا چوٹ کی۔ نور کے پیٹ پر جا لگی۔ تڑپ کر بولی۔
    کوئی نہیں اتنی بھی کوئی موٹی نہیں ہوگئ زرا سا روزوں کی وجہ سے کھانے پینے کا معمول خراب ہوا ہے تو لگ رہا ہے تھوڑا سا پیٹ نکل رہا ہے۔ ورنہ بالکل اسمارٹ ہوں میں۔
    اتنی اسمارٹ ہو تو برا کیوں مان رہی ہو۔
    اسے چڑتا دیکھے اور مزید چڑائے نا الف یہ تو ہو نہیں سکتا۔
    تم ہنبق مت سلوانا اس میں تو دبلی سے دبلی ہیروئن بھی انجمن لگنے لگتی ہے۔۔واعظہ اسکے لیئے ہنبق کا آرڈر نہ دینا۔ وہ مزے سے مشورہ دے رہی تھی۔
    واعظہ میں نے بھی ہنبق سلوانا ہے جب سب سلوا رہی ہیں تو میں کیوں نہیں۔
    نور کو ڈر لگا کہیں واقعی واعظہ ہنبق کا آرڈر کینسل نہ کر دے۔
    موٹی لگو گئ۔ الف باز نہ آئی۔۔
    جب سب لگیں تو میں بھی لگ لوں گی موٹی فکر مت کرو۔۔ واعظہ۔۔ میرا بھی ہنبق بنوانا۔
    نور نے آلو کاٹنے ہی چھوڑ دیئے۔
    واعظہ ان دونوں کی بحث سے بے نیاز۔ منے لائونج میں فلو کشن پر بیٹھی صوفے سے ٹیک لگائےلیپ ٹاپ کھولے بلاگ لکھنے میں مگن تھی۔ تیسری بار نور نے بات دھرائی تو آرام سے اسکی شکل دیکھ کر بولی
    میں کسی کا بھی نہیں بنوا رہی ۔جتنے کا ہنبق بنے گا اتنے میں چار رسمی پوش بن سکتے ہیں۔ پیسے نہ پھنسائو اس میں۔
    کیا ؟؟؟ رسمی پوش؟ ہم کیا کریں گے اتنی سی تو میز ہے ہماری اور کیا ہم رسمی پوش لپیٹ کر پھریں گے عید پر؟
    الف حق دق سی رہ گئ اسکی منطق پر۔
    ہاں تو اور کیا عید کے کپڑے تو بنوانے ہی ہیں ۔ ہم رسمی پوش۔۔
    نور نے بھئ ہاں میں ہاں ملانا چاہی۔ واعظہ نے سر پیٹ لیا۔
    کیا سمجھ رہی ہو رسمی پوش کا مطلب؟
    میز پر جو کپڑا ڈالتے ٹیبل۔کلاتھ۔۔ اسی کو ہی سنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بولتے بولتے یاد آیا اسے تو میز پوش کہتے۔
    اسے میز پوش کہتے ہیں۔ واعظہ نے جتایا۔۔
    رسمی پوش casual wear کا اردو ترجمہ ہے۔۔ ہر لفظ کا اردو ترجمہ موجود ہے فرق صرف یہ کہ ہم اردو الفاظ بولنے کی بجائے انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
    رسمی پوش۔ الف کو لطف آیا۔
    مجھے تو مزے کا لگا ہے یہ لفظ میں رسمی پوش ہی کہا کہوں گئ اب۔ سے۔
    تو کیا ہم واقعی ہنبق نہیں بنوا رہے؟
    نور کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔
    یار رمضان میں میری بچت بھی ٹھکانے لگ چکی ہے اوپر سے مجھے فاطمہ ابیہا دونوں کا کرایہ اس مہینے کا نہیں ملا۔ جاب میری کوئی ہے نہیں۔ اسی سے خرچے نکالتی ہوں میں۔ عشنا عروج نے کرایہ تو دیا ہے مگر اسکے بعد ان دونوں کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ بمشکل میں نے فلیٹ کا کرایہ دیا ہے اوپر سے یہ ہاسپٹل کا خرچہ پولیس انکوائری یہ سب میری سب بچت ٹھکانے لگ چکی ہے۔ میں تو شائد عید کا جوڑا بھی نہ بنوائوں۔ تم دونوں کے پاس اگر ہیں پیسے تو سلا سلایا خرید لو وہ سستا پڑے گا اور ہنبق میں فٹنگ تو ہوتی بھی نہیں ہے۔ واعظہ کی تقریر پر دونوں چپ ہوگئیں۔
    اب جب سب نہیں بنوا رہے تو ہم کیوں بنوائیں۔۔ ہم بھی نہیں بنواتے۔ نور نے فیصلہ سنایا۔
    تو عزہ اور ہے جن کے ہاسپٹل کا خرچ تم نے اٹھایا ہے؟۔ الف حیران ہوئی۔ واعظہ نے جواب نہیں دیا وہ دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوچکی تھی۔
    یار لیکن عید کیلئے کچھ پلان تو کرو ہم پہلے ہی گھر والوں سے دور ہیں۔۔ الف ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر اسکے پاس ہی آبیٹھی۔
    پاکستانی ایمبیسی کوئی نہ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے چلیں گے وہیں۔ ۔۔ واعظہ نے تسلی دی۔ الف اس پر ہی۔خوش ہوگئ
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔۔۔
    اچھا میں جا رہی ہوں افطار باہر کروں گی تم لوگ افطاری کر لینا۔۔وہ لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
    لو میں نے اتنے آلو چھیل لیئے۔ میں اور الف کتنا کھائیں گے۔
    نور نے چھری رکھ کر آلو کی بھری ٹوکری کو تاسف سے دیکھا۔
    اسکی ترکاری بنا لو کھانا تو بننا ہی ہے چٹپٹے آلو بنالو۔
    الف نے مفت مشورے سے نوازا۔
    کبھئ یہ بھی کہہ دیا کرو یہ بنا لیتی ہوں میں۔ نور کمر پر ہاتھ رکھ کر طنزیہ بولی۔
    جب تم بنا لیتی ہو تو ۔۔۔ الف بھی جوابا الجھنے لگی۔ ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر وہ صوفے سے پرس اٹھاتی باہر نکل گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اسکی۔نظر سب سے پہلے سیہون پر پڑی تھی۔ اوپن کچن میں ایپرن باندھے وہ زور و شور سے کھانا پکانے میں مگن تھا۔ فضا میں بھنے ہوئے گوشت کی مہک تھی۔
    اب یہ سور نہ پکا رہا ہو باقی خیر ہے۔
    فاطمہ نے دل ہی دل میں دعا کی۔ برتن تو اسے وہی استعمال کرنے پڑتے اپنے لیئے افطار تیار کرتے وقت۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھی
    فاطمہ۔ سیہون نے اسے تیزی سے اپنے کمرے کی۔جانب جاتے دیکھ کر آواز دی۔
    دے۔ وہ دروازے کا ہینڈل پکڑنے جا رہی تھی کہ فریز ہوگئ
    بریانی بن رہی ہے تم بھی کھا لینا۔
    وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر دوبارہ ہانڈی کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    کونسا گوشت ہے؟ فاطمہ کے ذہن پر عزہ سوار تھی جھٹ پوچھا۔۔
    سورکا۔ فورا جواب آیا۔
    کیا؟ وہ چیخ پڑی۔ اتنی خوشبو اسکی ناک کے راستے اندر جا چکی تھی وہ بھی حرام گوشت کی۔
    ہرگز نہیں میں سور کا گوشت نہیں کھا سکتی بلکہ کوئی بھی گوشت نہیں کھا سکتی ہم حلال گوشت کھاتے بس تم پکا کر فارغ ہو جائو پھر میں آکر اپنا کھانا بنا لوں گی۔۔اور سنو اپنے یہ سور والے برتن الگ رکھنا میں ان میں پکا بھی نہیں سکتی ہوں۔۔۔۔۔ (آگے اردو)۔۔۔نجس کو انگریزی میں کیا کہتے
    اس نے جھٹ فتوی دیا پھر سوچ میں پڑی۔
    تم لوگ سحری میں ایسا کیا کھاتی ہو جو پورا دن لڑنے کیلئے توانائیاں بحال رہتی ہیں۔ میں ایک کھانا چھوڑ دوں مجھ سے لڑنا بھڑنا دور کچھ کام کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔
    سہون نے سخت بھنا کر اسے دیکھا پھر پلٹ کر لائونج کے صوفے پر دراز وجود سے مخاطب ہوا۔ فاطمہ نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو صوفے پر واعظہ نیم دراز تھی اسکے کہنے پر جمائی لیتی اٹھ بیٹھی۔
    میں تو بس ایک پراٹھا دہی اور انڈے کے ساتھ کھاتی ہوں۔ انداز سادگی بھرا تھا
    مجھے تو ملنے سے صاف انکار کردیا اب یہاں کیا کر رہی ہو؟ میری کو بتائوں میں؟ اسکے بوائے فرینڈ کے گھر کیا کر رہی ہو تم؟۔
    فاطمہ دانستہ اردو میں بولتی گھوم کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
    پہلے میری کو یہ بتانا تم یہاں کیا کررہی ہو سیہون کی بیگم ۔۔
    وہ بھی واعظہ تھی مزے سے بولی۔
    سیہون کو انکی باتوں میں صرف اپنا اور میری کا نام اور بوائے فرینڈ سمجھ آیا تھا کفگیز تھامے وہ بھی تجسس سے انکے پاس چلا آیا۔
    کیا ہوا میری کا کیا ذکر؟
    تم یہاں کیا کر رہے ہو چکن کا کیا بنا؟ دونوں اکٹھئ چیخی تھیں۔
    وہ پانی ڈال کر آیا ہوا ہوں۔ وہ سٹپٹا گیا۔
    بریانی میں پانی؟
    دونوں کچن کی جانب بھاگیں۔ مرغی پانی سے بھری دیگچی میں بطخ بنی تیر رہی تھی۔
    اب الگ سے چاول پکانے کی بجائے اسی شوربے میں ڈال دو۔ فاطمہ نے چکن کے لمبے شوربے کو دیکھ کر مشورہ دیا۔
    یہی کرنا پڑے گا اب۔ واعظہ بھی متفق تھی۔
    شان مصالحہ اپنے ہاتھوں سے ڈال کر اسے صرف بھوننے کا کہہ کر گئ تھئ۔ پانی کس خوشی میں بھر دیا مرغی میں؟ اسے تیراکی سکھا رہے تھے؟۔۔ واعظہ بھنائی۔
    پھر دونوں نے مشترکہ گھوری دی تھی سیہون کو۔۔
    میں کونسا بچپن سے بریانی پکاتا رہا ہوں۔۔ وہ سٹپٹا گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا کیا دیکھ رہی ہو ہر چیز کی پیکنگ میں۔۔ ؟؟؟ ہے جن جھلا ہی گیا آخر۔
    اسکے ساتھ ایک ہی مارٹ میں پھرتے پورے دو گھنٹے ہونے کو آئے تھے اور انکی ٹرالی میں صرف چار چیزیں جمع ہوئی تھیں۔ وجہ تھی ہر چیز اٹھا کر عزہ اسکی پیکنگ پر لکھے اجزا پڑھنا شروع کردیتی۔ جہاں ہنگل میں لکھا ہوتا وہاں ہے جن کی مدد درکار ہوتی۔
    ٹرالی میں شیمپو ایک لوشن ایک کنڈشنر ہی بس جمع ہو سکا تھا۔ ایک اسکن ٹائٹننگ کریم اب اسے تھما کر اس پر لکھے اجزا دہرانے کو کہہ رہی تھئ۔اب عزہ۔۔
    میں یہ دیکھنا چاہ رہی ہوں کہ جو بھی اشیاء خرید رہی ہوں میں ان میں حرام اجزا شامل نہ ہوں۔ اس نے بتایا تو ہےجن گہری سانس بھر کے رہ گیا۔
    سور کے ریشے اسکن پراڈکٹس میں شامل نہیں کیئے جاتے۔
    اسکی کھانے کیلئے ہی مانگ بہت ہے نونا۔۔
    پھر اس پر جانور کے اجزا شامل ہیں یہ کیوں لکھا ہوا ہے؟
    کوئی تو جانور ڈالا ہے نا اسمیں۔ عزہ نے اسکو باقائدہ پیکنگ دکھائی۔
    اف نونا۔ اس طرح تو یہ شیمپو ، کنڈشنر اور یہ لوشن بھی رکھ دو۔ کوئی نہ کوئی جانور کا اجزا ان میں بھی شامل ہے ۔ اس نے جھلا کر جتایا۔ جتاتے وقت اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ عزہ یہ سب واپس رکھنے پر تل جائے گی۔
    تو۔۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں۔ تم سے تبھی تو پوچھ رہی ہوں کہ اجزا دیکھ کر بتائو۔ بتایا کیوں نہیں؟۔ وہ اب ٹرالی گھسیٹ کر ان اشیا کو انکی جگہ واپس رکھنے جا رہی تھی
    اوفوہ نونا ۔ سور تو نہیں ہے ان میں بتایا تو ہے۔
    وہ اسکے انداز میں بے چارگی در آئی۔
    کوئی بھی حرام جانور بلکہ حلال جانور بھی اگر اسلامی طریقے سے ذبح نہیں ہوا تو اسکے اجزا سے بنی کوئی بھی چیز حلال نہیں ہوگئ۔۔
    انکے سر پر ایک اسکرین نمودار ہوئی جس میں سے واعظہ واعظ دے رہی تھی دونوں نے چونک کر اسے دیکھا پھر سر جھکا لیا۔ وہ اب صابن شیمپو کریم والے حصے میں واپس آکر سب چیزیں اپنی اپنی جگہ رکھنے لگے۔ تبھئ ہےجن کو ایک کریم نظر آئی۔ یہ کریم طوبی نے ایک بار اس سے منگوائی تھئ۔
    اسکی خوشبو بہت اچھی ہی اسکا گلابی والا پیک ہی لانا۔
    طوبی اسکو پیکٹ تھما کر تاکید کر رہی تھی۔ وہ تیر کی طرح اس کی جانب بڑھا۔ استعمال کیلئے کھلی شیشی اٹھا کر عزہ کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔
    اچھا یہ کریم رکھ لو طوبی آپی بھی یہی استعمال کرتی ہیں۔وہ تو مسلمان ہیں نا۔۔ اور دیکھو اس میں بس 2 % ہی جانور کے اجزاء ہیں۔
    طوبئ کا نام فتوے کی طرح استعمال کیا تھا ہے جن نے عزہ نے ہچکچاتے ہوئے تھام لی ۔ خوشبو اچھی تھی اس نے اچھی مقدار ہاتھ میں لے لئ۔
    اسکن ٹائٹننگ نائٹ کریم ۔ جلد خشک تو ہو رہی تھی ٹائٹ بھی ہو جائے تو کیا برا۔
    کونسا جانور ہے۔ عزہ نے جی کڑا کیا۔ اب 2% سے کتنا کوئی فرق پڑ جائے گا۔
    جاپانی کریم تھی عجیب سا نام تھا ۔
    گھوڑا۔ گھوڑے کی چربی سے بنی ہے
    عزہ کے ہاتھ سے شیشی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔
    ۔ اسکن کیلئے گھوڑے کی چربی بہت اچھی تصور کی جاتی ہے۔اکثر کورین پراڈکٹس میں گھوڑے کی چربی استعمال کی۔جاتی ہے خاص کر اسکن پراڈکٹس میں۔ جیسے گھوڑے کی کمر چکنی ہوتی ہے شفاف ایسی ہی خواتین کی جلد ہو جائے گی ایسا سوچا گیا۔اور۔۔۔ ۔ ہے جن اپنی دھن میں بتا رہا تھا۔ اور عزہ سوچ رہی تھی طوبئ جب آتی ہے گال سے گال ملا کر ملتئ ہے تو کیا گھوڑے کی چربی۔۔ اسکے بھی گال۔۔ اس نے جھر جھری سی لی۔۔۔
    تبھئ اسکی نگاہ سامنے گلابی پیکنگ پر دمکتی ہوئی مانوس زبان میں لکھی تحریر پر پڑی۔ اسکے چہرے پر بنا کسی اسپیشل ایفیکٹ کے ہزار والٹ کے بلب جل اٹھے۔
    اس نے لپک کر وہ ڈبیا اٹھا لی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیسن، مکئی کا آٹا ، عرق گلاب ایلوویرا
    وہ چیزیں نکال نکال کر منے لائونج میں ڈھیر کر رہی تھی اور نور ، الف اور عشنا کا منہ کھلتا جا رہا تھا۔
    ہے جن کا اسکے ساتھ گھوم گھوم کے سر گھوم چکا تھا سو صوفے پر گرا بازو آنکھوں پر دھرے تھا۔
    تم تومہینے کا شیمپو صابن اور کریمیں لینے گئی تھیں یہ سب ۔۔
    الف نے بے چارگی سے کہا۔
    یہ صابن ہے۔ عزہ نے بیسن لہرایا
    یہ شیمپو کا سامان
    ، ایلوویرا اور مکئی کا آٹا لہرایا
    اور یہ کریم کا۔۔ اب عرق گلاب لہرایا جا رہا تھا۔
    میں ڈی آئی وائی دیکھ کر یہ تینوں چیزیں خود بنا کر دوں گی تم لوگوں کو۔
    عزہ نے عزم کیا۔
    حد ہے یہ تو ابیہا اور واعظہ سے بھی اونچی نکلی۔ انہوں نے اپنی سارئ شاپنگ بے گھر افراد میں بانٹ دی تھی تو یہ سب پیسے ان چیزوں میں جھونک آئی۔ اب بنا لیا اس نے یہ سب اور ہم نے استعمال بھی کر لیا۔
    نور نے حقیقتا سر پیٹ لیا۔
    تم خالی ہاتھ آجاتیں ہم خود ہی اپنے لیئے حرام چیزیں خرید لیتے۔یہ الف بگڑی تھی۔۔
    ویسے حرام اجزاء تو ان تمام چیزوں میں ہیں ہی۔ ہمیں محتاط رہنا ہی چاہیئے۔
    یہ عشنا بولی تھی جوابا عزہ نے نہال نظروں اور باقی دونوں نے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
    افطارئ کب ہوگی مجھے شدید بھوک اور پیاس لگ چکی ہے۔
    یہ ہے جن منمنایا تھا۔۔
    بس افطاری تیار ہے روزہ کھلنے میں بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ سب الرٹ ہوئیں۔ الف نے جھٹ تسلی دی تو وہ دوبارہ منہ پر بازو رکھ گیا۔
    بیسن سے منہ دھو کے منہ خشک ہو جاتا ہے میرا ۔۔ نور کراہی۔
    واحد کریم ملی مجھے وہ تم لوگوں نے دیکھی ہی نہیں۔ عزہ انکا ردعمل دیکھ کر ہونٹ لٹکا کر بولی۔
    دکھائو کونسی ایسی پاک و پاکیزہ کریم مل گئ تمہیں۔
    الف کے طنزیہ انداز کو خاطر میں نہ لاتے اس نے پرجوش سے انداز میں شاپر میں ہاتھ ڈالا۔ پھر ایک ادا سے بیک گرائونڈ موسیقی منہ سے نکالی۔
    ٹن ٹرااااااان۔ آہا یہ کیا ملا مجھے۔
    اس نے کریم کا پیکٹ مٹھی میں بھر کر بازو سیدھا کرکے لہرایا
    اسکے ایٹنیںے کئ طرح تنے بازو اور مٹھی میں ناز پان مصالحے کی طرح بند چھوٹی سی ڈبیاپر کیا نام درج تھا وہ کوشش کے باوجود نہ پڑھ پائیں۔
    اوفوہ کونسئ کریم ہے یہ؟ تینوں کورس میں جھلائیں۔
    فائزہ ۔۔۔ فائزہ بیوٹئ کریم اب کوریا میں بھی ہے۔ وہ گنگنائی
    فائزہ؟ تینوں نے جھپٹا سا مارا اس پر
    یہ تو اردو لکھی ہے۔ الف کو اب پتا لگا۔
    یہ کیا کورین اب اردو میں بھی لکھتے ہیں پیکنگ پر ۔۔ وہ حیران ہوئی۔
    اوہو وہ والا اشتہار بھول گئیں جو اس دن فیس بک پر دیکھا تھا۔ یا فائزہ یا فائزہ حسن عالم مرحبا۔ عزہ گنگنائی۔
    یہ کریم پاکستان میں تیار ہوتی ہے میری کزن لگاتی تھی رنگ گورا کرنے کیلئے۔ عشنا نے کریم پہچان لی تھی۔ سو معلومات میں اضافہ ضروری سمجھا۔
    تو کیا ہوگئ وہ گوری۔ نور نے اشتیاق سے پوچھا۔
    نہیں۔ عشنا کا انداز قطعی تھا۔
    پھر کیا فائدہ اور ہم نے کوریا میں آکر بھی پاکستانی کریمیں ہی استعمال کرنی تھیں۔ میرا خاندان مجھ سے کوریا کی کریمیں منگواتا اور میں یہاں فائزہ بیوٹی کریم استعمال کروں کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔
    الف کو حقیقتا صدمہ پہنچا تھا کریم لیکر قالین پر بیٹھتی ہی چلی گئ۔
    اپنے خاندان والوں کو بھی بتائو منع کرو کہ بنا سوچے سمجھے غیر ملکی کریمیں استعمال نہ کیا کریں یہ لوگ حرام اجزاء کثرت سے استعمال کرتے ہیں سارا نماز روزہ برباد ہو جائے گا ۔۔۔ عزہ نے جتایا۔۔
    نونا دس منٹ ہوگئے۔ ہے جن کی آواز مزید مرگھلی سی ہوچلی تھی۔
    ہائے ہمارا روزے دار بچہ۔ تینوں نے پیار بھری نگاہ ڈالی اس پر۔
    میں بس لگاتی ہوں دستر خوان۔ نور فٹ سے کچن کی جانب بھاگی۔ الف اور عشناافطاری لگانے میں مدد کرانے لگیں۔
    افطاری کا سامان لگا کر سب نے دعا مانگ کر ابھی کھجور کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔
    اس وقت کون آگیا۔۔ الف کو بےزاری ہوئی
    عروج اور واعظہ ہونگی شکر ہے آج پکوڑے ذیادہ بن گئے تھے مجھے یہی فکر تھی کہ بچ جائیں گے۔ نور خوش ہوئئ
    عروج رات کو آئے گی اب ڈیوٹی پوری کرکے اور واعظہ بتا کر گئ ہے افطاری باہر کرلے گی۔۔
    عشنا کہتی کھجور منہ میں ڈال کر دروازہ کھولنے چل دی۔
    دروازہ کھول کر وہ لمحہ بھر کے لیئے جم کر رہ گئ تھی
    کون ہے عشنا؟ نور پکار ی۔
    بن بلایے مہمان۔ یونیفارم میں ملبوس ان دو چندی آنکھوں والی لڑکیوں اور ایک لمبے تڑنگے لڑکے کو دیکھ کر وہ بڑ بڑائی۔
    ہم آجائیں اندر؟ کارڈ دکھا کر اس چندی آنکھوں والی لڑکی نے پوچھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi episode 14

    قسط 14
    وہ سوچوں میں الجھی جب گھر میں داخل ہوئی تو راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ گھر میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ منے کچن میں کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھیں۔ دونوں کمروں کے دروازے پکے بند تھے۔ منا صوفہ خالی پڑا تھا۔ ایک کونے میں ایک بڑا سا کارٹن دھیرے دھیرے ہل رہا تھا اندر سے آواز بھی آرہی تھی جیسے کوئی کراہ رہا ہو۔۔ وہ حیران ہوتی لائونج میں آئی تو ایک اور حیرت ناک منظر سامنے تھا۔
    الف اور فاطمہ دونوں مل کر پھل کاٹ رہی تھیں۔ نور نے پکوڑے تلنے شروع کر دیئے تھے۔ اسکے ساتھ ہی ہے جن کھڑا پکوڑوں کیلئے پالک کے پتے الگ کر رہا تھا۔
    اس نے لائونج میں کھڑے کھڑے ہی طائرانہ نظر ڈال کر جائزہ لے لیا۔
    صلح ہو گئ تم دونوں کی۔
    وہ سرسری سے انداز میں کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی
    ہم صرف پھل کاٹ رہے ہیں۔
    فاطمہ جتانے والے انداز میں بولی تو الف سلگ سی گئ۔
    ہم نہیں صرف تم۔ میں نے اپنے حصے کے پھل کاٹ لیئے ہیں۔
    الف کے کہنے پر فاطمہ نے حیرت سے دیکھا تو واقعی ٹرے میں موجود کیلوں ، سیب، امرودوں اسٹاربریز اور ایووکاڈو تقسیم ہوئے وے تھے اور جانے کس حساب سے کہ الف کے حصے میں سب کٹے ہوئے رکھے تھے وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ نے اپنے حصے کے پھلوں پر نگاہ کی تو وہاں تین چار امرود ابھی بھی منہ چڑا رہے تھے۔
    بات سنو یہ کس حساب سے تقسیم ہوئے ہیں۔
    فاطمہ نے آستیںیں چڑھائیں۔
    میری پھرتی کے حساب سے۔ اللہ کا شکر ہے امی کا ہاتھ بٹانے سے خاصی سگھڑ لڑکی نکلی ہوں میں دو منٹ میں سب کام کر لیتی۔ الف اترائی
    میں بھی پچھلے آدھے گھنٹے سے۔۔۔۔ فاطمہ جانے کیا بتا رہی تھی
    ناٹ اگین۔ واعظہ نے گہری سانس لی اور اپنے کمرے کا دروازہ کھولا۔ سامنے ہی اسکے بیڈ پر عزہ گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھئ تھئ
    تم یہاں کیا کر رہی ہو۔
    ایک اور چھیڑ دینے والا جملہ اسکے منہ سے نکلا ۔ اسکا ارادہ سیدھا باتھ روم میں جانے کا تھا مگر اسکی آواز سن کر عزہ چوکنا ہو بیٹھی۔ متورم آنکھیں گلابی چہرہ وہ صرف گھٹنوں میں منہ دیئے نہیں بیٹھی تھی بلکہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔واعظہ کو دیکھ کر غم تازہ ہوگیا۔
    آگئیں تم۔ پتہ ہے آج کیا ہوا؟
    اسکے کہنے کا انداز ایسا تھا کہ واعظہ سمجھ گئ اگر اسے نہیں بھی پتہ تو اس وقت اسکی معلومات میں اضافہ ہوئے بغیر باتھ روم نصیب نہیں ہونا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور منے صوفے پر نڈھال سے بیٹھے تھے۔طوبی ساتھ ہی بیٹھی انکا کبھی سر دباتی کبھی ہاتھ سہلانے لگتی۔۔
    انکے سر کو سینکیں۔ الف نے مشورہ دیا تو طوبی نے ترچھی نگاہ ڈالی اس پر۔۔مگر مشورہ مان لیا۔
    میرے میاں بے چارے جب تم لوگوں کی مدد کو آتے ہیں پٹ پٹا کے ہی جاتے ہیں۔
    دوپٹے کا گولا بنا کر منہ سے پھونکیں مار کر گرم کرتی طونی نےدہائی دی۔ وہ گرم کرکے میاں کی کنپٹی پر رکھتی جہاں پہلے لال اور اب سیاہی مائل نیل پڑتا جا رہا تھا۔ دلاور کو ابھی تک دنیا گھومتی ہی محسوس ہو رہی تھی۔
    شکر ہے میں کون ہوں کہاں ہوں والی نوبت نہیں آ پائی تھی۔ وہ شائد اسکے اس گھر کے تیسرے چکر میں کثر پوری ہوتی۔
    سنیں یہ کتنی انگلیاں ہیں۔
    طوبی نے میاں کی آنکھوں کے سامنے انگلیاں کیں۔ مگر دو انگلیاں دکھائے یا تین اس میں خود ہی کنفیوز ہوگئ۔ پہلے دو دکھائیں تو تیسرئ بھی ساتھ ہی اٹھ گئ۔
    تین۔ دلاور نے جب تک جواب دیا وہ واپس اپنی تیسری انگلی کو انگوٹھے سے دبا چکی تھی۔
    ہائے انکو تو صحیح سے نظر بھی نہیں آرہا اب ۔ کیا کردیا میرے میاں کو۔ میاں کی کنپٹی سے دوپٹہ اٹھا اس نے آنکھوں پر رکھ کر رونا شروع کر دیا۔۔
    نور عزہ عروج عشنا الف اور ہے جن کچی کے بچوں کی طرح قطار میں سر جھائے کھڑے تھے۔
    طوبی ٹھیک ہو جائیں گے کوریا میں بہت اچھا علاج ہوتا ہے ۔ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی ٹکر کا انتظام ہے یہاں۔
    عروج نے تسلی دینا چاہی
    کوئی نہیں ہم جیسے تو جا کر پھنس ہی جائیں ایک لفظ انگریزی نہیں آتی انکو میں صبح کو تمہیں بلانے کا کہتی رہی نرس کوتو مجھے اٹھا کر باتھ روم لے گئ۔
    عزہ نے اپنا دکھڑا رویا۔
    انکو دیکھو عروج مجھے لگتا ہے انکو دکھائی وکھائی نہیں دے رہا۔ طوبی نے عروج کو کہا تو وہ ٹھنڈی سانس لیکر انکے سامنے اکڑوں آبیٹھئ۔
    یہ کتنی انگلیاں ہیں دلاور بھائی۔
    اس نے بھی تین ہی دکھائیں۔۔
    تین۔ دلاور نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر جواب دیا اور فورا نگاہیں جھکا لیں۔
    طوبی آپی آپ نے انگلیاں ہی ٹھیک کھڑی نہیں کی تھیں۔
    ہے جن نے کہنا چاہا۔
    ایسے چیک کرنے کو نہیں کہا انکی چوٹ دیکھو
    طوبی فکرمند تھی۔
    بیلن پکڑ کر تھوڑی مارا تھا میں نے وہ تو ہاتھ سے چھوٹا تو تھوڑا سا لگ گیا انکو اتنی چوٹ تھوڑی آئی ہوگی کہ۔ وہ مرغی دئکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے تھے۔
    الف چپ رہ جایے ناممکن۔ سہولت سے صفائی پیش کی جس پر طوبی مزید بھنا گئ۔
    بتائو ایک چھوٹی سی مرغی سے اتنا ڈرتی ہو تم لوگ۔ ہاتھی تو نہیں لائی تھی میں۔
    طوبی نے ہاتھ نچایا۔
    ہاتھی کون صدقہ کرتا ہے۔ دلاور پیشانی سہلاتے ہوئے حیران ہوئے۔
    ہاتھئ تو حرام جانور نہیں؟ عزہ کو بھی حیرت ہوئی
    ہاتھی حرام اور نہایت قیمتی جانور ہوتا ہے طوبی جی اسکی پہلے ہی نسل ختم ہو رہی ہے اسکو صدقے ۔۔۔
    عشنا نےبتفصیل بتانا چاہا تو
    اوفوہ مثال دی میں نے۔ طوبی جھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    بہر حال مرغی لا دی ہے تم دونوں بہن بھائی ہاتھ لگا کر کسی غریب کو دے دینا اور مزید مصیبتوں سے بچنا ہو تو اس فلیٹ کو چھوڑو کہیں اور انتظام کرو اپنا۔ چلیں جی۔
    وہ خفا خفا سی ہے جن سے کہہ کر میاں کا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ عروج سٹپٹا کر پیچھے ہوئی اسے طوبی کے تیوروں سے یہی خدشہ لاحق ہوا کہ پیروں میں آکر کچلی جائے گی۔
    کیا کہہ رہیں ہیں آپ طوبی آپی۔
    ہے جن منمنا کر بولا۔
    میں بعد میں ترجمہ کر دوں گی۔
    نور نے اسکو کندھا تھپک کر تسلی دی۔ طوبی سخت آف موڈ میں میاں کے ساتھ فلیٹ سے نکل گئ تو انہوں نے ٹھنڈی سانس لی۔ عروج وہیں صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی زمین پر۔کمر تختہ سی ہو رہی تھی اس نے انگڑائی لیکر اسے سکون پہنچانا چاہا تو گردن 160 کے زاویئے پر گھوم سی گئ اور نگاہ جم سی گئی کونے پر۔
    یہ کارٹن کہاں سے لیا تم لوگوں نے؟
    عروج کو کونے میں ہلتا کارٹن نظر آیا تو تجسس سے پوچھنے لگی۔
    واعظہ کا ہے اس نے اس میں الم۔غلم جانے کیا کیا ڈائریاں رجسٹر بھرا ہوا تھا نکال کر میز کے نیچے رکھ دیا میں نے۔
    نور نے ہاتھ جھاڑے اور اطمینان سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا
    خلاف توقع باقیوں کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی تو دوبارہ توجہ کی انکی جانب چاروں منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
    یہ واعظہ کی ڈائیریاں کس نے نکالیں؟ وہ بہت پوزیسو ہے انکے بارے میں جس نے جہاں سے بھی نکالیں ہیں خود ہی واپس وہیں رکھ دو۔ورنہ خیریت نہیں ہے اسکی جس نے بھی یہ کام کیا ہے۔
    فاطمہ کمرے سے وارننگ دیتی نکلی۔ نور نے مڑ کر اسکے چہرے سے معاملے کی سنگینی بھانپنی چاہی۔
    تمہیں پتہ ہے وہ اسکی بچپن سے اب تک کی ڈائیریز ہیں اور وہ اسکے لیئے اتنی قیمتی ہیں کہ وہ مر بھی سکتی ہے اگر انکو کچھ ہوا تو۔ اس نے خود کہا تھا مجھے۔
    عروج نے نور کو اور ڈرایا۔
    ہاں تو میں ایک اور کارٹن لے آتی ہوں فکر نہ کرو۔ نور نے حسب عادت کندھے جھٹکے۔ مگر اپنی جگہ سے ہلی بھی نہ تھی۔
    واعظہ نے نکال باہر کرنا ہے سب کو اگر اسکی چیزوں کو کچھ ہوا بتا دوں میں۔ عروج وارننگ دیتی کمرے کی۔جانب بڑھ گئ۔
    یار ویسے کچھ ذیادہ ہی۔بھونچال بھری زندگی نہیں ہوگئ ہماری۔
    عزہ جمائی لیتے ہوئے نور کے برابر آگری۔
    ہے جن کو بھوک لگنے لگی تھی سو کچن کی جانب رخ کیا۔
    بھونچال تو زندگی میں آتا ہے۔ بھونچال بھری زندگی کبھی سنا نہیں۔
    عشنا کہتی ہوئی فلور کشن سیدھا کرتی کارپٹ پر ڈھیر ہوئی
    عروج صوفے سے ٹیک لگائے اب اونگھنے کی تیاری میں تھی۔
    عروج کمرے میں جاکر آرام سے سوئو۔۔
    فاطمہ اسے پھلانگ کر عشنا کے پاس آتے ہوئے بولی۔ عروج تھکے تھکے سے انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی
    جارہی ہوں خدارا میری اب نیند غارت مت کرنا دماغ پگھلنےلگا ہے میرا۔ وہ ملتجی انداز میں کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
    دماغ پھٹتا ہے پگھلتا نہیں ۔۔ عشنا ان سب کی نت نئی اصطلاحات کو ہضم نہیں کر پاتی تھی۔ عروج نے دروازے سے مڑ کر پہلے اسے گھورا پھر کمرے میں گھس گئ۔
    تمہارا نام لغت جونئیر رکھ دینا ہے میں نے۔ عزہ اپنی تصحیح کیئے جانے پر بد مزا ہوگئ تھی۔ عشنا نے کندھے اچکا دیئے۔
    فاطمہ نے اسکو اسکا موبائل پکڑایا اور خود اپنا موبائل لیکر کچن میں آگئ,
    200,000.00 میں کیا کیا آجاتا ہے ہے جن؟
    کافی کچھ کیوں؟
    وہ ریمن بنا چکا تھا ساتھ کمچی بھی نکال۔کر رکھی تھی اور ایک سائیڈ ڈش بھی۔ گرم گرم بھاپ اڑاتا نوڈل کا پیالہ اس نے سلیب پر رکھ کر اسٹول گھسیٹا اور سہولت سے بیٹھ کر کھانے لگا۔
    پھر بھی۔ وہ اکسا رہی تھی۔ عشنا کے کان کھڑے ہوئے
    میرے جیسے طالب علم۔کیلئے تو کافی ذیادہ ہیں میں اپنے دوستوں کو ڈنر لنچ کروا سکتا ہوں اسپا میں جا کر مہنگا پیکج لے سکتا ہوں ، اچھا رہنے کا کمرہ لے سکتا ہوں اپنی ٹیوشن کا خرچہ نکال سکتا ہوں گیمنگ زون جائوں تو۔
    ہممم۔ یعنئ کافی کچھ ہو سکتا ہے تم۔کبھی اپنے اتنے پیسے کسی آلتو فالتو کورین آئیڈل کی فین میٹنگ پر خرچ کروگے؟
    فاطمہ پہلیاں بجھوا رہی تھی۔
    میں تو ایک وون بھی نہ خرچ کروں ان پیسے کے پجاریوں پر۔ وہ نوڈلز نگل کر جھٹ سے بولا۔
    عشنا چپکے سے اٹھنے لگی ۔
    یہ فین میٹنگ تو سب سے احمقانہ کام ہے۔ ہزاروں فینز سے اپنی سی ڈیز خریدوا کر پیسہ کھینچتے ہیں پھر ان میں سے سو ایک لوگوں کو لارا لگا کر گھنٹوں لائن میں لگوا کر ہم سے پیسے لیکر ہم خو نخرے دکھا کر اپنے ساتھ دو چار تصویریں بنوانے کو اتنا پیسا لوٹ لیتے ہیں ہم سے ۔ اس سے بہتر بندہ فوٹو شاپ کا کورس کرلے اپنے ساتھ ان آئیڈلز کی۔تصویریں لگوائے پھر دوسروں کو بھی پیسے لیکر فوٹو شاپ کر دے۔
    ہے جن نے تو تقریر ہی جھاڑ دی تھی۔
    کتنے سمجھدار ہو تم ۔ فاطمہ نے رشک سے کہا۔
    لوگ تو اتنے احمق ہیں کہ اپنی یونیورسٹی کی فیس ڈیو ہے کہیں کرائے پر رہ رہے ہیں نوکری پاس ہے نہیں اوپر سے دو لاکھ وون فین میٹنگ کیلئے بھر رہے ہیں۔ انکو تو سی ڈی بھی نہیں ملنی دو چار پوسٹر مل جائیں گے بس۔ فاطمہ باقائدہ عشنا کو۔نظروں میں رکھ کر بول رہی تھی۔
    اس سے بڑی بے وقوفی نہیں ہے سچ مچ۔ میں نے کبھی کسی گروپ یا بینڈ کی فین میٹنگ میں پیسے نہیں جھونکے اتنی مشکل سے پیسے کمائے جاتے ہیں والدین کیا کچھ نہیں قربانیاں دیتے ہمارے لیئے۔ ان فالتو چیزوں پر برباد نہیں کرنے چاہیئے ۔ ہے جن سر ہلا رہا تھا عشنا سے مزید ضبط نہ ہو سکا۔
    میری فیس جمع ہے چھے مہینوں کی، اور میں نے واعظہ کو اپنے کرائے کے پیسے دے دیئے تھے۔ یہ فین میٹنگ کے پیسے میں نے اوورٹائم کر کرے جاب سے خود جمع کیئے ہیں اپنے والدین کا پیسہ نہیں اڑایا ہے ان پر۔
    عشنا کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
    پھر اگر اتنی محنت کر ہی لی تھی تو بچا لیتیں اگلے مہینے اگلے سمسٹر کیلئے کام آجاتا کچھ کپڑے بنوا لیتیں عید سر پر ہے کچھ اچھا کھا لیتیں یوں برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں۔ فاطمہ اسے ڈانٹ رہی تھی۔ اسکا انداز اتنا مختلف تھا کہ عزہ اور نور دونوں اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھیں
    کیا ہوا کس کی فین میٹنگ ہے؟ عزہ نے پوچھا۔
    مجھے یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں اگلا سمسٹر عید یا کھانا پینا جس پر چاہے میں پیسے خرچوں میرا معاملہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھیں
    عشنا ضبط کھو کر انگریزی میں چلانے انداز میں کہہ اٹھی تھی۔
    کیا ملے گا تمہیں لی من ہو کو دیکھ کر یہاں کی پاگل پرستار لڑکیوں کی طرح ہاتھ ملائوگی گلے لگو گی کیا کروگی لی من ہو کو دیکھ کر۔ فاطمہ اس سے زیادہ زور سے چلائی
    آرام سے کیا ہوگیا ہے۔ نور اور عزہ معاملے کی سنگینی بھانپتے بھاگ کے ان کے بیچ آئی تھیں۔ فاطمہ تو ہتھ چھٹ بھی ہے نور نے احتیاطا فاطمہ کو بازو سے پکڑ لیا۔
    تم پاگل ہوگئ ہو کیا بکواس کر رہی ہو؟ عشنا سے تعجب کے مارے بولا ہی نا گیا
    بکواس نہیں سچ کہہ رہی ہوں کیا سرخاب کے پر لگے ہیں لی۔من ہو میں کہ دولاکھ وون اس کی فالتو سی فین میٹنگ پر خرچ کر رہی ہو۔ فاطمہ کو اس پر شدید غصہ آرہا تھا۔
    میرا اتفاق سے قرعہ اندازی میں نام نکل آیا ہے لی من ہو ملٹری جا رہا ہے اسکی یہ آخری فین میٹنگ ہے اسکے بعد وہ دو سال تک جب واپس آئے گا تب تک میں یہاں سے جا چکی ہوں گی۔ میرا پہلا اور آخری موقع ہے اپنے پسندیدہ فنکار سے ملنے کا اس کیلئے جتنے پیسے بھی لگ جائیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔عشنا ضدی سے انداز میں بولی۔
    کیا کروگی لی من ہو سے مل کر یہاں کی لڑکیاں جاتی ہیں تو فنکاروں سے گلے لگتی ہیں ہاتھ ملاتی ہیں تصویر کھنچواتی ہیں تم ان میں سے کیا کیا کروگی؟
    ہاں آپ لوگ تو مسلم ہیں یہ سب الائو نہیں نا آپ کو؟ ہے جن نے سادگی سے پوچھا۔
    کیا مطلب کیا کیا کروں گی؟ تم اگر بی ٹی ایس کی فین میٹنگ ہوتی تو کیا نہ جاتیں؟ اپنی پسند کے فنکاروں سے ملنا انکے ساتھ تصویر کھنچوانق انکو تحفہ دینا جرم ہے کیا ؟ تمہیں موقع ملتا تو تم بھی جاتیں پھر چاہے تمہیں مفت میں کسی اجنبی کے اپارٹمنٹ میں رہنا پڑتا یا ۔ وہ کہتے کہتے ایکدم رک سی گئ۔ فاطمہ کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔
    کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو روزے میں یوں غصے میں بے قابو ہو کر شیطان کو۔خوش کر رہی ہو تم دونوں اور کچھ نہیں۔
    نور نے دونوں کو ڈپٹا۔ عشنا سر جھٹک کر پیر پٹختی اپنے کمرے کی۔جانب بڑھنے لگی۔
    میں جاچکی ہوں بی ٹی ایس کی فین میٹنگ میں ۔۔۔ جمن ، شوگا ، جنگ کوک ایک ایک کے ساتھ تصویر ہے میری۔
    فاطمہ نے سرد سے انداز میں کہا تو عشنا حیرت سے مڑ کر۔دیکھنے لگی۔عزہ اور نور کا بھی منہ کھلے کا کھلا رہ۔گیا تھا۔ہے جن نے سر جھٹکا۔۔
    جبھی عقل آچکی ہے۔ وہ دھیرے سے ہنگل میں بڑ بڑایا۔
    اور میں نے ڈیڑھ سو ڈالر خرچ کیئے تھے اپنی سیونگز کا بڑا حصہ انکے لیئے تحائف لینے پر خرچ کیا ان دوگھنٹوں جن میں سے صرف آٹھ منٹ مجھے اپنے پسندیدہ فنکار سے ملنے کیلئے ملے تھے۔ ان دو گھنٹوں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آرمی سمجھا تھا میں نے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سور کہاں سے آیا اس میں۔ پورا فلیش بیک دیکھ کر واعظہ جھلا سی گئ۔
    بتا رہی ہوں۔ عزہ نے آنسو پونچھے۔
    جلدی بتا دو مجھے باتھ روم جانا ہے۔ واعظہ بے چارگی سے بولی۔۔
    پہلے مجھے یہ بتائو کیا واقعی فاطمہ بی ٹی ایس کی فین میٹنگ میں گئ تھئ؟ اور اسکے پاس ان سب کے سائن والی البم بھی موجود یے؟
    عزہ متجسس تھی۔
    ہاں ۔۔ وہ۔۔اسکے لیئے بھی فلیش بیک میں جانا پڑے گا۔ واعظہ بے کہا تو عزہ نے سر ہلا دیا۔
    پہلے مجھے سور کہاں سے آگیا اس بی ٹی ایس اور لی منہو کے جھگڑے میں وہ بتائو۔۔۔
    واعظہ کو بے چینی ہو رہی تھی۔۔ تجسس سے نہیں۔۔ آہم اسی وجہ سے۔
    اطمینان سے بیٹھو واش روم خالی نہیں عشنا نہا رہی ہے دوسرے کمرے کو عروج نے لاک کیا ہوا ہے اب کم ازکم افطار سے پہلے کسی صورت نہیں کھلے گا۔۔
    واعظہ کو خود پر بے تحاشہ ترس آیا۔
    ایک وقت تھا یہ اپارٹمنٹ پورے دو کمروں کے ساتھ صرف میرا اور ابیہا کا ہوتا تھا۔ ہائے ابیہا کی یاد بھی کن لمحوں میں آئی۔ وہ اداس سئ ہوگئ۔ عزہ قصہ وہیں سے دوبارہ شروع کر چکی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افطار کا وقت ہو چکا تھا وہ سب دسترخوان کے گرد براجمان تھیں۔کھجوریں جن کا پیٹ چاک کرکے ان میں بالائی بھری تھئ ، پکوڑے کٹلس فروٹ چاٹ،مسور کی دال چاول چٹنی سلاد کے ساتھ سجی تھی۔ ایک بڑا سا جگ مکس جوس کا بھرا رکھا تھا۔۔
    عزہ کا چہرہ ستا ہوا تھا وہ دانستہ منے لائونج میں کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ نور عشنا فاطمہ الف عروج سب افطارکے وقت کی دعائیں پڑھنے میں مصروف تھیں۔ واعظہ نے پانی کا جگ لا کر دسترخوان پر رکھا۔
    ہے جن دزدیدہ نگاہوں سے عزہ کو دیکھ رہا تھا۔
    آجائو عزہ افطاری تو کر لو۔ واعظہ نے بلایا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ
    مجھے بھوک نہیں میرا کونسا روزہ تھا جو افطاری کروں۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    نونا بیانئیے۔ معاف کردیں مجھے۔ ذرا بھی خیال نہیں تھا کہ آپ ۔۔
    ہے جن بھی فورا اٹھ کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا
    ہوگیا افطاری کا وقت۔ نور کی۔نگاہیں گھڑی پر تھیں۔ اس کے کہنے پر عروج عشنا الف بھی افطاری کی۔جانب متوجہ ہوئیں ۔ ایک اور نئے ڈرامے سے قبل افطارئ لازمی تھی آخر کو توانائی درکار تھی ناظرین کو بھی۔
    میں نے کچھ بھئ نہیں کہا تمہیں۔ہٹو میرے رستے سے مجھے تمہاری معزرت سے کچھ حاصل نہیں۔
    وہ اسے ایک طرف کرکے کمرے کی۔جانب بڑھنا چاہ رہی تھی ہے جن نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
    نونا میں بہت شرمندہ ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں۔ جو بھی ہوا اس میں میرے ارادے کا عمل دخل نہیں تھا۔
    میں نے کہا نا مجھے تم سے شکایت نہیں چھوڑو میراہاتھ۔
    وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑا گئ۔ تن فن کرتی کمرے کی۔جانب بڑھتی عزہ کے سامنے واعظہ آگئ۔ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی۔
    کہا نا میں نے کچھ نہیں ہوتا ۔ بھول چوک معاف ہوتی ہے۔
    چالیس دن تک جس جانور کا نام۔لینے سے زبان ناپاک رہتی ہے وہ میں نگل گئ یہ چھوٹی بات ہے؟ عزہ چلا کر کہتی پھر روپڑی۔
    تمہیں نہیں پتہ تھا۔ کہ وہ ۔۔۔۔وہ کہتے کہتے رک سی گئ۔
    بولو ۔چپ کیوں ہوگئیں نام لو ۔ اپنی باری نام تک زبان پر نہیں لا رہی ہو۔ عزہ تلملا اٹھی اسکے دوغلے معیار پر۔
    سور۔ سور سور سور ۔۔ اب خوش۔
    واعظہ بھنا کر چلائی۔الف ، عشنا ، نور اور عروج کے چلتے منہ رک گئے چاروں بھونچکا سی بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں۔ عزہ کا بھی تھوڑا سا حیرت سے منہ کھل گیا۔
    کہو تو دس بار پورا کہہ دوں بلکہ کہہ دیتی ہوں۔ گنو عشنا۔ میں نام لینے لگی ہوں جانور کا۔ سور سور سور سور سور سور سور سور ہوگئے پورے۔
    وہ باقائدہ مڑ کر اس سے پوچھ رہی تھی۔
    نہیں آٹھ بار ہوا ہے ابھی صرف۔ عشنا نے ایمانداری سے کہا تو وہ سب باقائدہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورنے لگیں واعظہ بھی دانت پیس کر رہ گئ۔ عشنا نے جلدی سے دوبارہ سر پلیٹ کی جانب جھکا لیا۔
    سور کو حرام جانور قرار دیا گیا ہے اس لیئے اسکو اتنا حرام ہونے کی وجہ سے کراہیت سے نام تک لینے سے ہمیں ٹوکا جاتا ہے کیونکہ جو بھی چیز زبان زد عام ہوتی ہے اس کی برائی کراہیت ہمیں کم محسوس ہوتی ہے کہیں کم محسوس کرتے کرتے ہم کراہیت محسوس کریں ہی نا اسلیئے سور کا نام تک لینے سے ہمیں روکا جاتا ہے۔ نام لینے سے زبان ناپاک ہو تو قرآن میں خنزیر کا زکر کیوںکر ہوتا؟
    مگر میں نےتو کھا لیا ہے۔۔۔ ۔ وہ پھر رو پڑی۔
    ہےجن نے بال نوچ لیئے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسکی ہمدردانہ آفرکا یہ نتیجہ نکلے گا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 13

    قسط 13
    یہ آئی ڈی آپکے گھر سے کھولی گئ ہے جس سے تقریبا 13 لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔ اس کھاتے سے لڑکیوں کو گھیرا جاتا رہا ہے انکی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف ویب گاہوں کو بیچا گیا ہے۔جہاں تک مجھے لگتا ہے یقینا اس آئی ڈی کی وجہ سے ہی آپکی اپارٹمنٹ میٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئ تھئ۔
    چندی آنکھوں والے اس پولیس افسر نے پیشہ ورانہ سنجیدگی کے ساتھ اسے بے تاثر انداز میں بتایا تھا۔ وہ اور سیہون اس تفصیل پر ہکا بکا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
    دیکھیں آپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرے ساتھ صرف لڑکیاں رہتی ہیں وہ ایسا کام نہیں کر سکتیں اور ہے جن تو بچہ ہے ہائی اسکول کا وہ کہاں۔
    واعظہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی اس افسر نے ایک اور کاغذ نکال کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
    ہم نے جب آپ کے اپارٹمنٹ میں رہنے والی لڑکیوں کے کوائف لیئے تو ان میں سے ایک لڑکی کمپیوٹر سائنس پڑھ رہی ہے۔۔ افسر نے لمحہ بھر کا وقفہ لیا۔ واعظہ کا بس نہیں تھا کہ نور کی پٹائی ہی کر ڈالے۔
    ۔ نور۔یہ لڑکی ہے۔۔۔ افسر نے تصویر سامنے رکھی۔۔
    آج سے ٹھیک مہینہ بھر قبل اس لڑکی نے ایک متاثر لڑکی کو فون کر کے ایک تفریح گاہ میں بلایا تھا جہاں اس لڑکی نے اپنے بلیک میلر کو ایک اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ پولیس کیس بنا تھا ۔ وہ لڑکا ابھئ بھی زیر حراست ہے اور لڑکی کا بیان یہی تھا کہ اسے ایک لڑکی نے فون کرکے بلایا تھا۔ نور نامی لڑکی نے اس لڑکی کو بلانے سے قبل یہ آئی ڈی کھولی تھی جو اس لڑکے کی ملکیت تھی اور بعد میں وہ لڑکا بھی اس آئی ڈی کو نہیں کھول پایا تھا۔ بہر حال اس آئی ڈی سے نور کا کیا تعلق ہے اور وہ اس گینگ کی رکن ہے یا نہیں اسکا فیصلہ باقی ہے۔ ہم نور کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔
    مگر دیکھیں آفیسر نور کا اس لڑکے یا گینگ سے کوئی تعلق ہوتا تو وہ اس لڑکی کی مدد کیوں کرتی۔۔۔
    سیہون نے کہنا چاہا تو اس چندی آنکھوں والے نے اطمینان سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
    آپ نور کو کیسے جانتے ہیں؟ سیہون؟
    پولیس والے پھر پولیس والے ہی ہوتے ہیں۔ وہ گڑ بڑا سا گیا۔ وہ کہاں جانتا نام شکل کچھ بھی تو اسے پتہ نہ تھا یہ واعظہ جانے کون کون سی لڑکیاں اپنے اپارٹمنٹ میں بھر کر بیٹھ گئ ہے۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا واعظہ کو۔
    دیکھیں یہ لڑکی طالبہ ہے کنگ سیوجون انسٹیٹیوٹ کی طالبہ ہے اور۔ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔واعظہ نے کہنا چاہا تو وہ افسر اسی سرد سے تاثرات کے ساتھ اپنی دراز سے دو تین تصویر نکال کر اسکے سامنے رکھ دی۔
    وہ سات طلبا کا گروپ فوٹو تھا جن میں دو لڑکیاں تھیں اور باقی سب چندی آنکھوں والے لڑکے۔ لڑکی ایک تو چندی آنکھوں والی تھی دوسری نقاب پہنے تھی ۔
    یہ لڑکی؟ اس نے افسر سے پوچھا۔۔
    نور نام ہے اسکا۔ اس نے یونیورسٹی کا ایڈمٹ کارڈ کی نقل سامنے کی جس میں اسکی تصویر بنا نقاب کے تھی۔
    یہ نور اور عبایا ۔۔ یہ عبایا تو کل عزہ پہنے تھی۔ تو کیا؟ ۔
    وہ چونک سی گئ۔
    دیکھیں یہ انکی اسکول کی ہی تصویر رہی ہوگی ۔ اس سے ۔۔۔
    اس نے کہنا چاہا مگر افسر بے تاثر چہرے کے ساتھ چندی آنکھیں اس پر جمائےبیٹھا تھا
    یہ کیس گنگم پولیس اسٹیشن میں درج تھا وہاں کی تحقیقاتی ٹیم اس لڑکی تک پہنچی ہے۔ یہ سب تفصیل انہوں نے ہمیں دی ہیں۔ وہ اس لڑکی کو حراست میں لیں گے یا نہیں یہ انکا معاملہ ہے۔ مجھے آپ صرف یہ بتائیں کہ ان میں سے کوئی اغواکاروں میں شامل تھا کہ نہیں۔۔
    وہ گہری ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ گہری سانس لیکر تصویریں الٹ پلٹ کرنے لگی
    دوسری تصویر میں پانچ لڑکے عمر بیس سے تیس کے درمیان ہوگی کسی کلب میں شراب کے گلاس لہراتے ہوئے خوش باش تھے۔ اور ایک تصویر میں وہ لڑکی اور ایک اور لڑکا قابل اعتراض حد تک بے تکلف نظر آرہے تھے۔
    ان میں سے یہ لڑکا یہ لڑکی اور یہ کالی چادر میں لپٹی لڑکی ان تینوں کا آپس میں کوئی ربط ضرور ہے باقی ہمیں شبہ ہے یہ پانچوں لڑکے ملے ہوئے ہیں اور اغوا کی کوشش میں ملوث ہیں ان میں سے کسی کو پہچان سکتی ہیں آپ۔
    وہ بہت غور سے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔
    واعظہ نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔ وہ سب چندی آنکھوں والے یا تو سب اجنبی لگ رہے تھے یا سب مانوس۔

    میں نے بتایا میں نہیں دیکھ پائی تھی۔ میں گھبرائی ہوئی تھی میری توجہ بس اپنی سہیلی پر تھی۔
    اس نے سوچ کر جواب دیا تھا۔
    مجھے حیرت ہے کہ اس لڑکی عزہ کو کیوں اغوا کرنے کی کوشش کی گئ جبکہ نہ وہ بلیک میل ہو رہی تھی نا ہی اسکا کسی طرح کوئی ربط نکل رہا ہے اس معاملے سے۔ پھر انہوں نے اسے اغوا کرنے کی کوشش کیوں کی؟۔۔۔۔
    افسر نے پرسوچ انداز میں کہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں سوچ نہیں سکتا تھا اتنا کچھ ہو جائے گا اور سب سے آخر میں کسی کو اگر تم بتائو گی تو وہ میں ہوں گا۔۔۔ بس اتنی سی دوستی ہے ہماری؟ میں یاد بھی نہ رہا کہ تم مجھے بتاتیں۔۔ عزہ اسکو تو بہن سمجھا تھا میں نے وہ اغوا ہوتے ہوتے بچی وہ بھی ایک انتہائی بڑے بلیک میلر گروہ کے ہاتھوں واہ واعظہ۔
    پولیس اسٹیشن سے نکلتے ہوئے سیہون نے شکوہ کناں انداز میں کہا تھا۔ وہ سر جھکا کر رہ گئ۔
    تم سب سے پہلے انسان تھے جس سے رابطہ کرنے کی سوچ آئی تھی مجھے اس مشکل کی۔گھڑی میں۔ مگر میں پہلے ہی تم سے بہت شرمسار ہوں۔ میری ہمت نہیں ہوئی تم سے پھر مدد مانگنے کئ۔
    اس نے کہہ ڈالا۔ سیہون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک پیدل جا رہے تھے۔ سرد ہوا ہلکی دھوپ خوشگوار تاثر ڈالتی مگر دونوں اپنی اپنی جگہ بہت الجھے ہوئے تھے۔
    کافی پیوگی۔۔سامنے کافی بار پر نظر پڑی تو وہ اس سے پوچھ بیٹھا۔
    چلو۔ واعظہ بھی کہیں بیٹھنا چاہ رہی تھی۔ سو انکار نہیں کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن اور عزہ منے صوفے پر بیٹھے تھے الف نور عشنا انکی خاطر مدارت میں لگے ہوئے تھے۔
    نور انکے لیئے اسٹاربری شیک بنا کر لائی تھی۔
    مگر دونوں پینے میں متامل تھے۔عزہ اسٹاربری شیک کو منع نہیں کر سکتی تھی خود کو حادثے کا مارجن دیا اوپر سے اسکو تو نیند ایسی سوار تھی کہ خود سے اٹھی بھی تو آٹھ بجے تک سحری کا وقت گزر چکا تھا اور ہے جن کو اسکی چوٹوں کے پیش نظر عروج اور واعظہ نے اٹھایا ہی نہیں سحری میں۔جس پر وہ خفا بھی ہوا بعد میں۔
    نونا آپ لوگوں کا تو روزہ ہے میں آپکے سامنے کیسے کھا پی سکتا ہوں۔
    ہے جن نے کہہ ہی دیا۔ تو نور عشنا اور الف نثار ہی ہوچلیں۔عزہ جو دو تین گھونٹ لے چکی تھی سٹپٹا سی گئ
    کوئی بات نہیں بنا کے بھی تو روزے میں لائی ہے اتنا کچا تھوڑی ہوتا روزہ کہ کسی کو کھاتا پیتا دیکھ کر ٹوٹ جائے۔
    عزہ نے خفت سی مٹائی خوب تیز ہو کر بولی تھی۔
    ہاں ہے جن پیو تمہیں ویسے بھی کمزوری ہو رہی ہوگی۔
    عشنا نے پیار سے کہا۔
    ویسے یار قسم سے عظیم منظر رہا ہوگا ہم محروم رہ گئے فل ایکشن سین۔ الف نے چٹخارا لیا۔
    نور دہل سی گئ۔
    خدا کا شکر ادا کرو ایسا ویسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا جان سولی پر ہوگی اس وقت عزہ کی کیوں عزہ؟ نور نے تائید چاہی عزہ نے گڑبڑا کر سر ہلایا۔ اسکی تو جانے بلا وہ تو آرام سے اچانک سوگئ تھی پھر جب اٹھی تو اسپتال میں چار پریشان شکلیں اس پر جھکی تھیں۔ خیال پوچھتی محبت بھری نظروں سے دیکھتی۔
    عزہ تم نے اسپتال میں تو نقاب نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا۔ عشنا کو دور کی سوجھی۔ ان سب کو خود کو۔گھورتا پایا تو وہ سٹپٹا کر وضاحت دینے لگی۔
    میرا مطلب تھا کہ وہ اغوا کار تو اسپتال میں بھی پیچھا کر سکتے ہیں نا۔۔۔ تو وہ۔ انکو مسلسل گھورتے دیکھ کر اس نے بات ادھوری ہی چھوڑ دی
    نقاب عبایا۔ عزہ کے سر میں سائیں سائیں ہوئی۔
    وہ تو اس وقت عروج اور ہے جن کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر آگئ تھی عبایا تو جانے کہاں رہ گیا۔
    عبایا؟ عزہ کا تو عبایا کمرے میں پڑا ہوا ہے ۔۔ نور کو یاد آیا کرسی کے ہتھے سے لٹکتا ۔۔ اور اسکا عبایا۔ ابھی اسکے زہن نے کڑی ملانی شروع کی تھی۔
    وہ نہیں آئے ہونگے کیونکہ عزہ نونا کے پیچھے آئے ہی نہیں تھے انکا اصل شکار کوئی اور ہے۔ ہے جن نے تجسس کو اور ہوا دی۔
    کیا مطلب۔ وہ سب چونکیں۔
    مطلب یہ کہ جب کھینچا تانی میں نونا کا نقاب ہٹا تو وہ چونک گئے تھے وہ نقاب کی وجہ سے نونا کو پہچانے نہیں سچ تو یہ کل نونا نے عبایا بھی بڑا لمبا سا پیچھے سے دم والا پہن رکھا تھا۔ اور اسکا رنگ بھی ڈبل شیڈڈ تھا نونا تو بالکل بلیک والا پہنتی ہے نا۔وہ عزہ سے تائید چاہ رہا تھا اور عزہ گردن ہلائے تو گردن شکنجے میں کسی جائے کے مصداق ساکت بیٹھی تھی
    لانگ ٹیل عبایا۔ ڈبل شیڈڈ۔ عزہ تم میرا عبایا پہن گئ تھیں؟
    نور کو شدید صدمہ لگا
    جی۔ عزہ نے سر جھکا لیا۔
    عبایا کہاں ہےمیرا عزہ اب۔؟ نور نے دل پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے گھورا
    عزہ نے ایک نظر ان سب کو دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
    میرا اتنا مہنگا خالص عربی اسٹائل کا عبایا جو میری خالہ دبئی سے لیکر آئی تھیں تم نے گما دیا۔
    نور دل تھامے ہوئے تھی۔
    آئیم سو سوری میرا عبایا میلا تھا توپہن گئ تمہارا اوپر سے اچانک یہ حادثہ مجھے نہیں پتہ ہاسپٹل میں کس نے اتارا کیا کیا اسکا مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ میں بنا عبایا گھر آگئ ہوں : عزہ نے صفائی دی مگر نور کو دھچکا لگ چکا تھا۔
    تم بنا عبایا کیسے گھر آگئیں۔ میرا عبایا۔واپس کرو وہ غصے سے لال پیلی ہو چلی تھئ۔ الف جھٹ اس سے لپٹ کر روکنے لگی۔
    ہم عروج سے پوچھیں گے بلکہ آج عروج پتہ کرلے گی ۔ وہ جلدی جلدی تسلی دے رہی تھئ۔
    عروج عروج میرا عبایا چھوڑ آئی ہے یہ عزہ کی۔بچی۔
    وہ وہیں سے آوازیں دینے لگی تھئ۔
    آپ عروج کو نہ جگائیں وہ جان سے مار دیں گی جس نے انہیں آج اٹھایا اسے۔ یہ کہہ کر سوئی ہیں۔ عشنا منمنائی۔
    آئیم سوری ۔ عزہ الف کی وجہ سے بچ رہی تھی۔ البتہ الف کو کئی کراری دھپ لگ چکی تھیں۔
    ہائے نور صبر کرو کتنا بھاری ہاتھ ہے۔ وہ بلبلائی۔
    نور الف۔ عزہ آگئ کیا؟ طوبئ دروازے سے ہی پکارتی آئی۔ تو لمحہ بھر کو تینوں ساکت سی رہ گئیں۔ جیسے کوئی صور پھونکا گیا نور الف عشنا سب بھول بھال الرٹ سی ہو بھاگم بھاگ کونا کھدرا ڈھونڈنے لگیں۔
    کیا ہوا۔ عزہ اور ہے جن آنکھیں پھاڑے انکو کونوں میں چھپتے دیکھ رہےتھے۔ الف کچن کائونٹر کی آڑ میں گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھئ تو عشنا غڑاپ سے اپنے کمرے میں جا گھسی۔ نور اپنے کمرے کی جانب بھاگئ مگر عروج کی وارننگ یاد آئی۔۔
    خبردار جو آج کسی نے چوں کی بھی آواز کی کمرے میں میرے۔ اٹھارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اب اگر کسی نے مجھے وقت سے پہلے جگایا تو آج کو اسکی زندگی کا آخری دن بنادوں گی میں۔
    وہ ہینڈل گھماتے گھماتے پلٹ کر آئی اور عزہ اور ہے جن کے صوفے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئ۔
    طوبی جب تک منی راہداری سے منے لائونج تک پہنچی میدان صاف ہو چکا تھا بس عزہ اور ہے جن ہاتھ میں ملک شیک پکڑے ہونق بنے بیٹھے تھے۔ طوبی ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل اور دوسرے میں کالی مرغی بغل میں دابے اندر داخل ہوئئ انہیں صحیح سالم دیکھ کر مانو نہال ہوگئ جھٹ مرغی سمیت دونوں کو باری باری گلے لگاکر ماتھا چوما۔ مرغی نے اس زبردستی بغل گیر ہونے پر کٹاک کٹاک کرکے زبردست احتجاج بھی کیا جسے وہ خاطر میں نہ لائی محبت سے ہے جن کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی۔
    شکر ہے تم دونوں آگئے۔ بھئ کل سے دل کو پنکھے لگے تھے مجھے رات کو ہرمل اور لوبان کی دھونی دی۔ سب جادو ٹونہ دھرا کا دھرا رہ جائے گا دیکھنا۔اور تم دونوں کئ غائبانہ مرچوں سے نظر اتار کر گئ ہوں ابھی یہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    غائبانہ مرچیں وار دیں غائبانہ تو نماز جنازہ ہی سنا ہے آج تک۔ عزہ بھونچکا رہ گئ۔ ہے جن اسکو کہنی مار کر ترجمہ کرنے کو کہہ رہا تھا۔
    میں کہہ رہی ہوں یہ ہرمل اور لوبان۔ طوبی جوش سے بات دہراتے یہیں اٹک گئ۔
    ہرمل اور لوبان کو انگریزی میں کیا کہتے؟
    پتہ نہیں عزہ نے کندھے اچکائے۔
    مگر یہ خالصتا پاکستانی چیزیں آپکو مل کہاں سے گئیں؟
    اسکا سوال جائز تھا۔
    ارے سب ملتا ہے یہاں ۔ طوبی نے ہے جن کے کندھے پر ہاتھ مار کر ٹھٹھا لگایا۔
    یہ کورین بھی بہت جادو ٹونے جیسی چیزوں کے قائل ہیں۔ انکے بدھ متی خوب لوبان جلاتے ہرمل کی دھونی دیتے لیکن یہ پانی تو میں جامع مسجد سے خاص امام صاحب سے دم کروا کر لائی ہوں۔ وہاں خواتین کے درس میں ایک نو مسلم عورت نے مجھے بتایا یہاں لوگ بہت کالا جادو کرواتے ہیں وہ تو کسی بدھ متی پجارن کا بتا رہی تھی مگر مجھے تو سچی بات اعتقاد نہیں سو اپنے ہی مسلمان مولوی صاحب سے دم کروا لیا۔لو پیئو۔
    جھٹ ہے جن کی جانب پانی بڑھایا۔
    آندے مجھے پیاس نہیں۔ ہے جن ہچکچایا۔
    ایک گھونٹ بس منہ نہ لگانا سب نے پینا ہے اسےبلکہ عزہ یہ مرغی پکڑو میں پلاتی ہوں ۔ طوبی نے حسب عادت بنا موقع دیئےعزہ کی گود میں مرغی پٹخ دی ۔ اور خود بوتل کھول کر ہے جن کو پانی پلانے لگئ۔عزہ اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھی اسکے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی اور مرغی کسی گولی کی طرح اڑتی ہوئی صوفے کے پیچھے بیٹھی نور کے سر پر جا بیٹھئ۔ نور اس افتاد پر چیخ مار کر اٹھ کھڑی ہوئی دور دور سے پانی پیتے ہے جن کو اچھو لگا گیا تھا مرغی نور اور عزہ کی شکل دیکھ کر گھبرائی اور واپس طوبی کی جانب لپکی
    ہائیں ہائیں کرتی طوبی کھانس کھانس اوندھا ہوا ہے جن انکو تحمل سے کام لینے کو بھی کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مرغئ سے ڈر کر چیخیں مارتی عزہ اور نور اور انکی چیخ و پکار سن کر کچن کائونٹر سے نمودار ہوتئ الف بنا صورت حال سے مکمل واقفیت حاصل کیئے کائونٹر سے بیلن اٹھا کر انہیں بچانے دوڑی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح سیہون کی آہموجی اس سے پہلے اٹھی ہوئی تھیں۔ کچن میں کھٹ پٹ جاری تھئ۔سحری کے وقت اسے کون جگاتا سو آج وہ سوتی رہ گئ اب گیارہ بجے آنکھ کھلی تو بنا سحری کے ہی روزے کی نیت کرلی۔
    آننیانگ ۔۔ انکی اسکی جانب پشت تھی سو اس نے سلام کرکے مخاطب کرنا چاہا۔
    اٹھ گئیں تم۔ وہ فورا مڑیں اسے دیکھ کر محبت سے مسکرائیں
    ادھر آئو۔ انہوں نے کہنے کے ساتھ زور زور سے اشارہ کیا۔
    وہ سمجھ کر انکی جانب بڑھی۔ تو وہ فریج کھول کر دکھانے لگیں۔ نجانے کون کون سی سائیڈ ڈشز۔ کمچی وغیرہ اب ڈبوں میں بند سلیقے سے سجا تھا۔
    تم خود بھی آرام سے کھانا اور سیہون کو بھی کھلانا۔ وہ بہت کھانے پینے کا چور ہے جب دیکھتی ہوں پہلے سے کمزور ہوا ہوتا ہے۔
    اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر وہ اپنی جانب سے بے تکلفی جتاتے ہوئے جو کہہ رہی تھیں اس میں سے اسے بس سیہون ہی سمجھ آیا۔ ادھر ادھر نظر دوڑا کر اسکی عدم موجودگی محسوس کی پھر پوچھ ہی ڈالا۔
    سیہون۔ وئئو؟۔ جانے گرامر درست بنتی تھی یا نہیں ویے کیا کو ہی کہتے یہ تو پتہ تھا مگر سیہون کہاں ہے اسکو کیا کہیں گے اسے نہیں پتہ تھا۔
    سیہون اپنی اسی مسلی دوست کے پاس گیا ہے یہ پرچی لگا دی تھی فریج پر۔
    انہوں نے اندازہ لگا کر یقینا درست سمجھا۔ برا سا منہ بنا کر فریج کی۔جانب اشارہ کیا۔
    وہ تیزی سے فریج کی۔جانب بڑھی اسٹکی نوٹ انگریزی میں لکھا تھا۔
    میں واعظہ کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا رہا ہوں۔ میری بہن اوزانگ کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔گئ ہے تم بھی اپنےاپارٹمنٹ کا چکر لگا لو۔
    وہ چٹ پڑھ کر ہکا بکا سی رہ گئ۔
    آپکی بیٹی اغوا ہوتے ہوتے بچی ہے آنٹی۔ آپکو گھر جانا چاہیئے۔ ہڑبڑاہٹ میں وہ اردو میں بولی تھی۔ آنٹی کچھ نہ سمجھتے ہوئے منہ کھول کر دیکھنے لگیں
    ویوئو؟ کیا؟
    بیٹئ کو کیا کہتے ہنگل میں۔ وہ سوچ میں پڑی ۔
    دے ۔ ہاں۔ میں اب نکلتی ہوں بس سے جائوں گی تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی کہ اٹھ جائو۔
    وہ اسکے بولنے کی منتظر تھیں مگر پھر اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر خود ہی بتانے لگیں۔ انکا چھوٹا سا سفری اٹیچی کیس کائونٹر کے ساتھ ہی تھا اسکی جانب اشارہ کیا۔
    دے۔ آپکو جلدی جانا چاہیئے آپکی بیٹی جانے کتنی پریشان ہوگی۔
    وہ کہتے ہوئے جلدی جلدی انکا سامان خود اٹھانے لگی۔ وہ آنٹی اب مزید نثار ہو جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آنٹی کو بس اسٹاپ تک خود چھوڑنے آئی تھی۔ وہ بس میں بیٹھ کر کھڑکی سے ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ بس ٹرمینل سے نکل گئ تو وہ واپس مڑی۔ سیہون اسکا فون نہیں اٹھا رہا تھا نا ہی واعظہ۔
    حد ہے۔ فون اٹھا نہیں سکتے تو رکھتے کیوں ہو۔۔
    اسکے اندر کی عمیمہ حلق کے بل چلائی۔
    لی من ہو لاک اسکرین پر جلوے بکھیر رہا تھا۔ وہ گہری سانس لیکر ٹیکسی روکنے لگی۔
    صرف موبائل واپس نہیں کروں گی عشنا کی خوب خبر لوں گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے سامنے رکھے کولڈ کافی کے دو بڑے گلاسوں میں وہ دو اسٹرا ڈالے ہوئے انکو اکٹھے منہ میں رکھے پی رہا تھا۔
    تم سے بڑی احمق لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔
    گھونٹ بھر کر اس نے سر جھٹکا تھا۔ واعظہ نے اس خطاب کو کسی اعزاز کی طرح سر تسلیم خم کرکے قبول لیا۔
    مطلب تمہیں کوریا کی چوٹی کی ہدایت کارہ اپنے ڈرامے میں کاسٹ کرنا چاہ رہی ہے اور تم اسکا فون نہیں اٹھا رہی ہو۔
    کیا کروں فون اٹھا کر ؟ بلایا تھا آج گیارہ بجے اس نے اور میرا آج سارا دن یہاں لگ گیا ہے تین بج رہے اب ۔ کالز بھی اس نے بارہ بجے کے قریب کی تھیں۔
    واعظہ کا انداز ہرگز بھی پچھتانے والا نہیں تھا سیہون کو رشک آیا اس پر۔
    تو اٹھا کر کوئی بہانہ بنا دیتیں کوئی نئی اپائنٹمنٹ لے لیتیں۔
    سیہون کا سر پیٹنے کو دل چاہا۔ وہ بھی اسکا۔
    روزہ تھا جھوٹ بولتی میں روزے میں۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں
    تو وہ تلملا کر کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔ پھر دوبارہ اسٹرا منہ میں لے لیئے۔ کئی گھونٹ بھر کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔
    تم کرنا کیا چاہ رہی ہو اپنی زندگی کے ساتھ؟ تعلیم مکمل کرنی نہیں نوکری کوئی ہے نہیں لے دے کے ایک اپارٹمنٹ ہے تو اسکی لیز مکمل ہونے والی کیا کروگی پھر؟
    مجھے نہیں پتہ۔ وہ چڑ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے اسکی سر سری سی نظر پڑی۔ پھر باقائدہ چونک کر اس نے اس آہجوشی کو دیکھا جو اسکے چونک کر دیکھنے پر سٹپٹا کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
    عجیب فیشن نکل رہے ہیں بھئی۔ وہ بڑبڑائی ضرور۔
    نین نقش سے تو کورین نہیں لگ رہا تھا بندہ مگر پھر بھی فیشن پورے تھے آگے سے بالوں کا ایک گچھا ماتھے تک آرہا تھا باقی سر پر گول مشین پھیری ہوئی تھی۔
    فلور نمبر چار پر لفٹ کے رکنے پر اس نے ترچھی نگاہ سے اس آدمی کو دیکھا تھا۔ وہ سٹپٹاتا جلدی سے فاطمہ سے پہلے لفٹ سے باہر نکلا۔
    یہ کون ذات شریف ہیں ؟۔ آج سے پہلے تو نہیں دیکھا۔ فاطمہ تفتیشئ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ انکے اپارٹمنٹ کے سامنے والے اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجاتے اس آہجوشی نے شائد نظریں محسوس کر کے مڑکر دیکھا۔
    کہیں یہ طوبی کے شوہر تو نہیں۔ فاطمہ کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔مگر کیا سوجھی انکو یوں لونڈوں لوفروں کی۔طرح کا ہیئر اسٹائل بنوانے کی۔ وہ سر جھٹکتی اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے لگی۔
    آہ آہ۔ عزہ کی چیخ الف کی آواز۔ بے ہنگم شور
    خدا خیر کرے۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے دروازہ کھولا۔ دروازے کی چوکھٹ کے بیچوں بیچ دھاگے سے لٹکتے لیموں کا گچھا سیدھا اسکی آنکھ میں لگا۔
    آہ وہ جلدی سے سہلانے لگی۔ چوٹ سے زیادہ اسے اندر مچی چیخ و پکار کی فکر تھئ۔
    آپ 119 کو کال کریں جلدی ۔ مڑ کر دلاور کو ہدایت دیتی وہ اندر بھاگئ۔
    سچ مچ ایمرجنسی ہے بھی کہ نہیں اپنے منے بالوں کے گچھے پر بلا ارادہ ہاتھ پھیر کر وہ متزبزب ہوئے۔
    طوبی اورہےجن اس فتنی مرغی کو پکڑنے میں ہلکان ادھر سے ادھر جست لگا رہے تھے جو گھبرا کر عزہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اس پر اچھل اچھل کر جا رہی تھی الف اور نور یونہی چیخ چیخ کر ادھر سے ادھر بھاگ رہی تھیں۔فاطمہ ہکا بکا صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
    تبھی دروازے پر دستک دیتے انکی چیخ پکار سے متاثر ہوتے دلاور اندر چلے آئے
    کیا ہو۔۔۔ انکا جملہ منہ میں ہی تھا کہ بیلن کھٹ سے انکی کنپٹی پر آکر لگا۔ یہ الف تھی جس کے پائوں تلے مرغی آگئ تو دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر چیخیں مارتی بیلن چھوڑ بیٹھی تھی۔۔
    نہیں چھوڑوں گی آج۔ آج نہیں بچے گا کوئی مجھ سے۔ جان لے لوں گی میں سب کی۔
    دھاڑ سے دروازہ کھولتی عروج بکھرے بالوں سرخ آنکھوں کے ساتھ چلائی ۔ سوج کے چندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جو سر پر دے مارنے کے لیئے ادھر ادھر چیز ڈھونڈی تو ایک نرم سی کالی سی چیز پیروں میں آلپٹی۔ بس سارا غصہ دھرا رہ گیا اب اسکی بھی چیخیں بلند ہوگئ تھیں۔ ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 12

    قسط بارہ
    وہ کمرے میں جانے کیلئے اٹھی تھی۔ ابھی کمرے کا دروازہ کھولنے کیلئے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ خاتون آندے آندے کہتی ہوئی آئیں۔ اس نے مڑ کر سیہون کو دیکھا تو وہ کندھے اچکا گیا۔ اسے دروازے پر روک کر سیہون کو بھی اسکے پاس لا کھڑا کیا تھا انہوں نے پھر باورچی خانے کی درازیں کھول کھول کر جانے کیا تلاشتی رہیں پھر کچھ نہ کچھ مل ہی گیا انہیں تو خوشی خوشی دوڑی چلی آئیں۔
    ایک طشتری میں تھوڑے سے پھول چراغ اور جانے کونسی جڑی بوٹیاں رکھ کر وہ اسکی نظر اتار رہی تھیں
    تلسئ تو اس وقت گھر سے نکلی نہیں چراغ تو بدھا کے مندر سے کل واپسی پر ایک بچ کر آگیا تھا۔ مگر میری اچھی نیت کا خیال رکھنا میں بس تمہاری روایت کے مطابق تمہارا استقبال کرنا چاہ رہی ہوں۔
    خاتون اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں۔
    سیہون نے ترجمہ کیا۔ تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ مڑ کر پھر ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھایا توایک اور آندے سنائی دیا۔ اس نے سخت چڑ کر سیہون کو دیکھا۔
    ایک پلاسٹک کے چھوٹے سے پیالے میں وہ اب چاول ڈال کر لائی تھیں اسے دروازے کی چوکھٹ میں رکھ دیا۔
    گھر میں داخل ہوتے وقت تو میں یہ رسم پوری نہ کر سکی لیکن اب تم لوگوں کمرے میں داخل ہونے لگے ہو تو اسے ٹھوکر مار کر رسم پوری کر لو۔۔
    وہ کلش گرانےوالی رسم پوری کرنا چاہ رہی تھیں۔ سیہون نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔
    کیا میں یہ چاولوں کے پیالے کو ٹھوکر ماروں ۔؟ میرے خدا اتنی بڑی رزق کی بے حرمتی نہیں کر سکتی میں۔۔ فاطمہ بدک گئ۔ سیہون تو سمجھا تھا کہ وہ آرام سے رسم پوری کرکے کمرے میں چلی جائے گی جان چھٹ جائے گی اسکی مگر یہاں تو وہ بدک کر کھڑی ہوگئ تھی
    کیا کہہ رہی ہے یہ۔ آنٹی کو دستی ترجمہ درکارتھا۔
    ایک تو وہ تمہیں بہو سمجھ کر تمہاری تہزیب و رواج کے مطابق استقبال کرنا چاہ رہی ہیں اور تم نخرے دکھا رہی ہو۔ وہ بھنا گیا۔۔
    بالکل نہیں یہ ہماری تہزیب و رواج نہیں کہ رزق کو ٹھوکر ماریں کبھی چاول تو چھوڑ نمک کا دانہ بھی زمین پر گر جائے امی ڈانٹ کر کہتی تھیں اٹھائو نہیں تو قیامت کے دن تو پلکوں سے چننا پڑ جائے گا۔ نا کہ میں روزے میں چاولوں کو پیروں سے ٹھوکر ماروں۔
    اف۔ سیہون بال نوچنے کو آگیا۔
    اور یہ بتائو تمہاری امی کو یہ سب کیسے پتہ ہے؟ پچھلے جنم میں ہندونی تو نہیں تھیں۔ فاطمہ کو شک گزرا۔
    ہرگز نہیں یہ انکی پہلی زندگی ہے۔ سیہون نے بھنا کر جتایا
    پھر؟ فاطمہ کو جواب درکار تھا۔ اب سہولت سے خالص پاکستانی پنجابن کے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھ کر دوبدو ہوئی۔
    آہموجی انڈین فلمیں اور ڈرامے کورین سب ٹائٹلز کے ساتھ بہت شوق سےدیکھتی ہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک لوکل سینما ہے جس میں وہ فلموں کو کورین سب ٹائٹل اور کبھی کبھار ڈبنگ کے ساتھ بھی دکھاتے ہیں۔انڈین فلمیں بہت پسند ہیں انکو وہاں سب کا مل۔جل کر ایک۔ساتھ رہنے کا ماحول بہت پسند ہے۔ اسلیئے وہ تمہیں خوش کر دینا چاہتی ہیں۔
    سیہون چہرے پر مسکراہٹ سجائے انگریزی بول رہا تھا۔ خاتون کو یہی تاثر جا رہا تھا کہ دونوں یونہی آپس میں کوئی بات کر رہے ہیں۔
    کرو نا۔ خاتون نے پھر اسے ٹھوکر مارنے کو کہا تو وہ مناسب الفاظ میں منع کرنے لگی تھی کہ
    میں کر دیتا ہوں۔ سیہون نے کہتے ہوئے ٹھوکر مار کر کلش گرانا چاہا بروقت فاطمہ نے تائیکوانڈو کی ٹرک آزما کر ٹانگ اڑا کراسکی پنڈلی میں زوردار لات مار کر اسکی ٹانگ روک دی وہ منہ کے بل گرتے بچا تو خشمگیں نظروں سے گھورنے لگا۔
    میں رزق کو ٹھوکر مارنے نہیں دے سکتی سمجھے۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا پھر یکسر بدلے ہوئے نرم سے تاثرات کے ساتھ خاتون کی جانب پلٹی۔
    یہ سب کی ضرورت نہیں بلکہ آپ آج یہاں رہیں گی تو انہی چاولوں سے آپکو اپنے ہاتھ کا بہترین پلائو بنا کر کھلائوں گی۔
    اس نے پیالہ اٹھا کر بہت تمیز سے انکو تھماتے ہوئے کہا تھا۔
    سیہون نےترجمہ کیا تو انکی آنکھیں جھلملا گئیں ۔
    سر ہلا کر جیسے انہوں نے اجازت دی جھٹ فاطمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور سکھ کا سانس لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے کچھ بھی یاد نہیں میں نے تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں کسی نے پیچھے سے میری ناک پر رومال رکھا تھا اور میرا زہن مائوف ہو گیا تھا۔
    عزہ کا بیان پولیس اہلکار ریکارڈ کر رہے تھے۔ وہ سب ہےجن کے کمرے میں ہی موجود تھے۔ عروج ساری رات کی شفٹ لگا کر فی الحال صوفے پر گری ہوئی تھی ۔ ہے جن بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا ساری رات کے آرام کے باعث وہ اب کافی بہتر لگ رہا تھا۔ عزہ بھی صبح ہی اٹھی تھی۔ واعظہ اور عزہ ہےجن کے پاس ہی کھڑی تھیں۔
    اہلکار نے ہنکارہ بھرا۔ پھر اگلا سوال داغ دیا
    ہمیں جائے وقوعہ سے ایک نقاب ملا ہے۔ بھاگتے ہوئے کسی کا گرا تھا ۔ اسکی شکل آپ تینوں میں سے کسی نے دیکھی۔؟
    میں تو ایک سے بھڑا ہوا تھا ہاں واعظہ نونا نے جب دوسرے کو ماراتو اسکے منہ سے نقاب گرا تھا ۔ میں نے جب اسے دیکھا تو وہ اپنے اپر سے چہرہ ڈھانپ چکا تھا مگرمجھے یقین ہے انہوں نے دیکھا ہے اسکا چہرہ۔
    ہے جن نے کہا تو عزہ اور دونوں اہلکار چونک کر اسکی جانب متوجہ ہویے۔ واعظہ گڑبڑا سی گئ۔
    مگر انہوں نے تو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے شکل بھی نہیں دیکھی۔ اہلکار کھردرے سے انداز میں بولا۔ واعظہ کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    آپ نےتو دیکھا ہے نا آپ پہچان لیں گی نا نونا۔ ؟ ہے جن شستہ ہنگل میں اس سے مخاطب تھا۔اسکا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حد ہے کیا مصیبت مول لے لی ہے میں نے۔
    اس نے جھلا کر اپنا پرس بیڈ پر پھینکا۔ اور خود باتھ روم میں گھس گئ۔ منہ پر خوب چھپاکے مار مار کر غصہ ٹھنڈا کیا۔
    ایک کے بعد ایک۔ اوپر سے یہ کورین انڈین ڈراموں کو دیکھتے ہیں مطلب کوئی آخری حد ہے حماقت کی۔ ہم پر تو زبان ایک ہونے کی وجہ سے ہندوستانی مواد مسلط رہا یہ کس خوشی میں گائو ماتا، کلش سیندور جانے کیا کیا سیکھ رہے ہیں۔ حد ہوگئ انڈین فلمیں یہاں چل رہی ہیں۔ پاکستانی پتہ نہیں کہاں سوئے پڑے وے ۔ ہمارے ڈرامے چلیں تو اس سب بکواسیات کو بھول جائیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے منہ جھاگوں جھاگ کر کرکے مل رہی تھی۔
    پاکستانی ڈرامے دیکھے ہوتے تو یوں راتوں رات بیٹے کے بیاہ رچانے اور بہو لا دینے پر بہو کی آرتی اتارنے کی بجائے اسے دھکے دے کر باہر نکالتیں کہاں کلش گروا رہی ہیں مجھ سے۔۔اور بیٹے کا تو فٹا فٹ اپنی بہن کی بیٹی سے نکاح پڑھوا دینا تھا۔ویسے کوریا میں دو شادیوں کی اجازت تو نہیں۔۔
    منہ پر چھپاکے مار کر آئیںے میں چہرہ دیکھا تو ٹھنڈے پانی سے چہرہ جم کر سفید پڑ چکا تھا سیہون کی رنگ کے حساب سے بہن ہی لگ رہی تھی اب
    کہاں سے میں انڈین لگی انکو اتنی تو گوری سی ہوں۔۔
    ۔۔ وہ چند لمحے خود کو دیکھتی ہی رہ گئ۔ ایک چھوٹی سی ہاتھ میں پہننے والی گھڑی آئینے کے نیچے کارنس پر پڑی تھئ۔ اس نے اٹھا کر دیکھی تو برانڈڈ قیمتی رسٹ واچ تھئ۔مگر وقت ابھی برا ہی بتا رہی تھی سوا سات۔ قریبا آدھا گھنٹہ تھا۔۔افطار میں۔
    بھوک لگ رہی ہے اب تو۔ افطار کر کے ہی اب نماز پڑھوں گی۔وہ جسمانی سے ذیادہ ذہنی طور پر تھکن سے نڈھال ہوئی وی تھئ۔
    افطارئ بنائوں جا کے؟ وہاں تو اس وقت کوئی نہ کوئی بنا چکی ہوتی ہے افطاری۔ وہیں رہتی اگر پتہ ہوتا کہ آج یہاں آنٹی آرہی ہیں۔وہ خود پر ترس کھاتی باہر نکلی سیہون بیڈ پر کہنی آنکھوں پر ٹکائے لیٹا ہوا تھا۔
    اب تم کیا کر رہے ہو یہاں۔ ؟ جھلاہٹ تو سوار تھی ہی ۔ اتنی زور سے چیخی کہ سیہون گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    کیا مسلئہ ہے تمہارے ساتھ آرام سے بات نہیں کر سکتی ہو؟۔ وہ بھی بگڑکر بولا
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا
    اپنے کمرے میں آرام کر رہا ہوں اور کیا ۔
    وہ دوبارہ دراز ہو گیا۔ آنکھیں بھی بند کر لیں
    تو پھر میرا کمرہ کونسا ہے ؟ بتائو میں وہاں چلی جاتی ہوں۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ چند لمحے آنکھیں بند کیئے کیئے پرسکون ہوتا رہا پھر آنکھیں بند کیئے کیئے ہی بولا
    دو ہی کمرے ہیں اس گھر میں دوسرے میں آہموجی ہیں۔ وہ کل شام چلی جائیں گئ تو اپنا سامان وہاں رکھ لینا۔
    اور آج ؟ ہم دونوں ایک کمرہ شئیر کریں گے؟ دماغ تو نہیں خراب ہے تمہارا۔ میں ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے پر بالکل راضی نہیں تھی تمہارے ساتھ کجا ایک کمرے میں ناممکن۔ میں ایک منٹ یہاں نہیں رکوں گئ۔ تمہاری آہجومی ۔۔۔۔
    وہ تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھانے لگی تو وہ ساری برداشت و تحمل ایک طرف رکھ کر گرجا
    اسی لیئے صبح سے بار بار فون کرتا رہا تھا کہ تم آج وہیں رہو آج آہموجی آرہی ہیں۔ مگر تم نے ایک بار بھی فون ریسیو نہیں کیا ایک اور نمبر میسج کیا تم نے اس پر الگ میسج بھیجا مگر جواب دور تم الٹا مجھے سرپرائز دینے یہاں موجود تھیں۔
    اسکے بیگ اٹھاتے ہاتھ تھمے۔ عشنا کا خطرناک سا پیٹرن تصویر دیکھ کر تو اس نے کھول لیا تھا مگر اسکا پیغام ہنگل میں تھا یقینا یہ سیہون کی غلطی تھی۔ ابھی انگریزی میں بھیجا تو اس نے پڑھ لیا تھا مگر اس سے قبل والا میسج دیکھ کر اسے تو یہی لگا کہ بلا رہا ہے سو عشنا کو بتا کر وہ بھاگم بھاگ یہاں آپہنچی تھی۔
    اس نے موبائل نکالا دو تین غلط کوششوں کے بعد اسکا موبائل انلاک ہو ہی گیا تھا۔ سو اسکا پیغام نکال کر موبائل اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتا موبائل۔تھام کر دیکھنے لگا۔ ایک پیغام ہنگل میں دوسرا انگریزی میں تھا۔
    چھے سو۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر انگریزئ میں بولا
    آئیم سوری۔ مگر پلیز میری مجبوری سمجھو۔میں اپنی آہموجی کا دل نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے آہبوجی کے بعد بہت مشقتوں سے مجھے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کی ہے۔ مجھ سے انکو بہت امیدیں ہیں۔یہ انکا بے لوث پیار ہی ہے جو میری اچانک بیوی کو اتنا مان دے رہی ہیں۔تم آج کسی طرح گزارا کر لو۔ میں ادھر زمین پر بستر کر لوں گا۔۔وہ منتوں پر اتر آیا تو وہ چپ سی ہوگئ۔ پھر کہے بغیر نہ رہ سکی۔
    اس سے تو بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔۔
    عشنا بٹر بٹر گھورتی انکی نگاہوں سے تنگ سی آگئ
    کیا ہو گیا اسکو موقع ملا ہے وہ کسی کے ساتھ اپارٹمنٹ شیئر کر سکتی ہے تو کر رہی ہے۔
    مگر کون کس کے ساتھ؟ کون ہے اتنا مہربان جو بے روزگار لڑکی کواپارٹمنٹ دے رہا ہے ۔۔ نورحیران بلکہ پریشان ہو چلی تھئ۔
    ویسے اچھا ہی ہوگاآرام سے رہے گی ہم لوگ کیسے مرغیوں کی طرح اتنے لوگ اکٹھے ٹھنسے ہوئے رہتے ہیں ۔۔ الف کو رشک آیا۔
    بتائو نا کون دے رہا ہےاسے مفت میں جگہ؟ نور نے شانہ ہلادیا عشنا کا۔
    دے رہا ہے؟ عشنا نے چونک کر پوچھا۔
    میں نے تو نام بھی نہیں لیا آپکو کیسے پتہ کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گئ؟اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    میں نے تو بس اتنا کہا ہے اسکو ایک اور اپارٹمنٹ میں رہنے کی جگہ مل گئ ہے تو اب وہ وہیں رہے گی۔
    کیا لڑکے کے ساتھ رہے گی؟ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
    دیکھیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
    عشنا گھبرا اٹھی۔
    ابھی تو کہا ہے۔ دیکھو رمضان چل رہا ہے جھوٹ مت بولوسچ بتائو وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گی اب سے؟ نور کا انداز اگلوانے والا ہو چلا تھا۔
    رمضان ہے جبھی تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ عشنا بے چارگی سے بولی۔ اور سچ بتا بھی نہیں سکتی فاطمہ اور واعظہ جان نکال دیں گئ میری۔ آخری جملہ منہ ہی منہ میں بدبدا گئ۔
    توبہ کیا ہے زور سے بولو نا ۔ الف نے اسکا کندھا ہلایا
    بھئ فاطمہ سے خود پوچھو نا مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔ اتنی فکر ہے تو میرے نمبر پر فون کرو بات کرکے اسی سے پوچھ لو مجھے پریشان مت کرو۔ عشنا جھلا ہی گئ۔
    میں کیوں پوچھوں۔ آگے میری اسکی بول چال بند ہے۔ میرے ایکسو کو کیا کچھ نہیں کہا تھا اس نے۔ الف کو اپنے رستے زخم یاد آئے تو دکھی ہوگئ
    تم دونوں کی صلح نہیں ہوئی؟ نور حیران ہوئی۔
    اس دن تو اکٹھے آئی تھیں بلکہ فاطمہ تمہارا آدھا سامان اٹھا کر لائی تھی ہم تو سمجھے تھے دوستی ہوگئ ہے تم۔لوگوں کی۔
    نور نے حیرت سے کہا تووہ نظر چراگئی۔۔
    ہاں مگر بات تو نہیں کی ہم نے آپس میں۔
    پھر بھی پانچ دن بعد عید ہے تم لوگوں کی لڑائی بڑھتی ہی جا رہی ہے تین دن سے ذیادہ ناراضگئ نہیں رہنی چاہیئے رمضان میں تو انسان اور نرم دل ہو جاتا اور لڑائی ہوئی کس فالتو بات پر ہے تم دونوں کی ایکسو بی ٹی ایس دونوں کوریا کے پاپ میوزک بینڈ ہیں۔ انکے گانے پسند کرو ٹھیک ہے مگر یہ کیا دیوانگی ہے کہ ان فنکاروں کیلئے لڑنے مرنے پر اتر آنا جو آپکو جانتے تک نہیں۔ انکی موسیقی کا لطف لو بس کافی ہےانکو پاگلوں کی طرح آئیڈل بنا لینا حماقت ہے وہ بھی میری تمہاری طرح عام انسان ہیں تھوڑے اچھے تھوڑے برے۔ ہاں انکو دکھایا ایسے جاتا کہ لگتا ہے دیوتا ہیں وہ نرم دل مکمل سے انسان۔ مگر حقیقت میں وہ بھی کبھی غصے میں آتے ہونگے کبھی ان سے بھی دل دکھتا ہوگا کسی کا۔ جنگ کوک ایسا سیہون ویسا۔ تم لوگوں کو کیا پتہ وہ کیسے۔ جب انکی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انکو پتہ نہ ہواور وہ قدرتی ردعمل ہی دیں۔ کیا پتہ جو یہ رئیلیٹی شوز چلتے ہیں ان گروپ کے انکے بھی اسکرپٹ بنتے ہوں اس پر وہ اداکاری ہی کرتے ہوں ہمیں لگتا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑک رہے اصل میں کیا خبر انکے تعلقات جانی دشمن جیسے ہوں۔ مگر اپنے پرستاروں کو ان لوگوں نے اپنے ساتھ مصروف رکھا ہوا ہے فالتو ویڈیوز سے۔
    نور ان دونوں کو کب سے یوں سمجھانا چاہ رہی تھی آج جاکے موقع ملا تھا۔ سو سب حقیقتیں کھل کر بیان کر ڈالیں۔ الف تو نہیں عشنا البتہ سر جھکا گئ تھی۔
    ایویں۔ سیہون اور بیکہوں سچ مچ دوست ہیں ہر کنسرٹ میں انکی ایسی کلپس ہوتی ہیں اب ہروقت تو اداکاری نہیں کر سکتے۔ الف کیلئے ابھی یہ سب ہضم کرنا مشکل امر تھا۔۔۔
    جنکا روزگار ہی اسی سے وابستہ ہو وہ کیوں نہیں کر سکتے اداکاری ؟۔ نور کا سوال کڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے افطاری کیلئے چکن پلائو اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ خاتون کو سیہون کی دیکھا دیکھی آہموجی کہا تو وہ جیسے واری صدقے ہو اٹھیں۔
    میز پر کھانا لگا کر وہ خود سیہون کو بلا کر لائی۔ وہ لیپ ٹاپ پر لگا ہوا تھا جب اس نے کھانا لگنے کا بتایا
    آجائو کھانا کھا لو پلائو بنایا ہے چکن کا میں نے۔اور شکریہ حلال ٹیگ والا۔چکن لانے کیلئے۔۔
    وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بنا سر ہلا کر بولا
    جائو کھائو تم نے صبح سے نہیں کھایا ہوگا میں بعد میں کھا لوں گا۔۔
    وہ ہونٹ بھینچے کھڑی گھورتی رہی۔ اسے شائد احساس ہوا کہ کیا نگاہ اٹھائی تو دروازے پر کھڑی گھورتی فاطمہ کو دیکھ کر جھٹ لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    خوشبو دار ہلکے سے زردئ مائل سفید کھلے کھلے چکن پلائو کا دانا دانا الگ تھا اور مہک رہا تھا۔
    ان دونوں کے آگے چاپ اسٹکس رکھی تھیں۔
    ڈش سجی تھی پلیٹیں بھی۔ اس نے انتظار کیا پھر خود ہی آگے بڑھ کر خاتون کی پلیٹ میں چاول نکالے اور خوب بڑی سی بوٹی بھی۔ انکی آنکھیں جھلملا گئئں مگر فاطمہ بے نیازی سےان پر توجہ کیئے بنا اپنی پلیٹ میں چاول نکال رہی تھی۔
    چھائے موکے سبندا۔خاتون نے کہا تو وہ جوابا سیہون کو دیکھنے لگی۔ اس نے ترجمہ کیا۔
    میں خوب پیٹ بھر کر کھائوں گی۔
    ہم تو میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہیں دعوت پر یہ تو کھانا ختم کرکے شرمندہ کردینے کا ارادہ باندھے ہیں۔
    وہ دانستہ اردو میں بڑ بڑائی۔ اب آہجومہ سیہون کو دیکھ رہی تھیں کہ ترجمہ کرے۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیا اسکی۔جانے بلا کیا بڑ بڑا رہئ ہے۔
    اس نے چاپ اسٹک سے چاول اٹھائے تو وہ پھسلتے چلے گئے ۔۔ ایک۔بار دو بار۔اس نے آہموجی دیکھا تو وہ بھئ
    بے چارگی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ دونوں نے فاطمہ کو دیکھا جو مزے سے چمچ بھر کر منہ میں رکھ رہی تھی۔
    یہاں کوریائی ثقافتئ فرق نظر آرہا تھا انکے نزدیک چاول کم گلے تھے جو ہمارے یہاں جڑے ہوئے اور پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے جب کہ وہ خاص کر چاول ذیادہ گلا کر انکو لبٹیوں کی شکل میں گھوٹ لیتے جس سے چاپ اسٹکس سے انکا چھوٹا سا لوتھڑا بنا کر کھانا آسان ہوتا ہے۔ سیہون خاموشی سے چمچ لینے اٹھ گیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون زمین پر کیمپنگ بیڈ بچھا کر سوگیا تھا۔ بیڈ کراوئون سے ٹیک لگائے وہ نیم دراز آگے کا لائحہ عمل طے کرنے اور سوچنے میں مصروف تھئ۔
    اب مجھے ذاتی پسند نا پسند ایک طرف رکھ کر کوئی بھی چھوٹی بڑئ جاب کر لینی چاہیئے۔ سیہون کو تو میں پیسے دیئے بغیر یہاں نہیں رہ سکتی ۔ واعظہ کی بات اور تھی۔ واعظہ کو جانے عشنا نے بتایا کہ نہیں۔۔۔اس نے جوش میں سائیڈ ٹیبل سے موبائل ااٹھایا۔۔ پھر وقت دیکھ کر رک گئ گیارہ ہو رہے تھے۔سحری کیلئے اٹھنے والے اس وقت سو رہے ہوتے ہیں یہ سوچ کر موبائل دوبارہ اسی جگہ رکھا۔۔
    ۔آہجومہ جانے کیا کیا کہتی رہی ہیں یہ کمینہ خود تو آکر سو گیا مجھے پھنسا کر انکے پاس۔ بس دے دے ہی کرتی رہی ہوں ویسے۔مجھے ہنگل بھی اب سیکھنے کیلئے کسی اکیڈمی میں داخلہ لینا چاہیئے۔ مگر اسکے لیئے تو پیسے درکار ہیں۔ اف۔ پاکستان ہی چلی جائوں۔ مگر وہ گنجا عمران ابھی تک اس نے شادی نہیں کی امی نے اس سے نہیں تو کسی اور سے پکا شادی کرا دینی میری اگر پاکستان گئ تو۔ لیکن میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟؟؟ وہ سوچ میں پڑی۔
    نہ میرے پاس ڈھنگ کی جاب نہ ہی کوئی بڑی ڈگری۔ پڑھائی شروع کردوں دوبارہ۔ یہاں ہی شادی نہ کر لوں۔
    اسے اچھوتا خیال سوجھا تو جزبات میں سیدھی اٹھ بیٹھی۔
    سیہون کے ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ سیہون پر نگاہ پڑی تو ہونٹ بھینچ لیئے۔
    ویسے کر تو لی ہے شادی اب تو اگلے چھے مہینے دوسری شادی بھی نہیں کر سکتی۔ میں تو شادی کر ہی نہیں سکتی یہاں کونسا میرے لیئے درجن بھر رشتے موجودہیں۔ وہ خود ہی اپنے خیالوں پر لعنت بھیج کر رہ گئ۔
    اوپا ہوتے تو بڑے زبردست ہیں یہ سیہون بھی اتنا چلائی ہوں اس پر مجال ہے جو ماتھے پر بل بھی آئے زرا سا غصہ کیا بھی تو دس بار سوری بولا۔ احمق۔ اسکو تو وہ میری پیری ٹھیک الو بنا سکتی ہے۔ کتنی لائوڈ لڑکی تھی ویسے۔ آہش۔ کیسا گال پر چماٹ مار دیا ۔ ایک بار تو اسکے بھی منہ پر ویسی چماٹ مارنی ہے مجھے موقع ملے تو سہی۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔
    کیا کچھ سوچے جارہی ہوں موبائل پاس نہ ہو تو بندہ بس سوچ سوچ کر ہی مر جائے۔ اب یہ عشنا کے موبائل میں کیا کروں فیس بک کا پاسورڈ تک یاد نہیں بس موبائل میں لاگ ان رہتی ہے میری تو۔ اس نے سائید ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ پیٹرن بدل کر لاک ہی ختم کر دیا۔ ایک دو ایپس کھول کر دیکھیں۔
    کل پہلی فرصت میں موبائل تو جا کر واپس کروں۔ اسکا موبائل تو سام سنگ کم لی من ہو برانڈ زیادہ لگ رہا ۔ ہر طرف منہو کی تصویریں۔ بے کار۔ وہ اکتا کر رکھنے ہی لگی تھی کہ نیا پیغام آیا۔ اس نے یونہی کھول لیا
    پیغام انگریزی میں تھا ۔ شکریہ ادا کیا گیا تھا کہ انٹرنیشنل لی من ہو کے فین کلب کیلئے اپلائی کرنے پر ۔ اسے شامل کر لیا۔گیا تھا۔ کچھ رقم موصول وصول ہو چکی تھی کچھ مزید طلب کی گئ تھی اور رقم کے آخر میں لکھے صفر گننے شروع کیئے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔ پھر تھوڑا سا منہ بھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل آپ پولیس اسٹیشن آجائیں ہم آپکو کچھ مشتبہ افراد کی تصاویر دکھائیں گےان میں سے شناخت کر لیجئے گا آپ۔
    اہلکار نے کہا تو وہ بمشکل اثبات میں سر ہلا گئ۔
    کرم۔ اہلکاروں نے ہلکا سا جھک کر اجازت چاہی ۔۔ انکے نکلتے ہی عزی واعظہ کی جانب مڑی
    کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ پہچان لو گی۔
    آہا ۔ آں۔۔ وہ۔۔ وہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
    ہاں مجھے پتہ ہے میں نے خود دیکھا ہے نونا نے اسکو مار کر جھکایا تو اسکےچہرے سے نقاب سرک گیا تھا۔ نونا نے دیکھی ہے جھلک اس نے کہنی سے منہ ڈھانپ لینا چاہا تھا مگر نونا جب دوبارہ دیکھیں گی تو پہچان لیں گی۔ ہے نا؟۔ ہے جن روانی میں ہنگل بول کر اس سے تائید چاہ رہا تھا۔
    پہچان ہی نہ لے۔ میرے کولیگ نے اسکی اتنی مدد کی جب لاسٹ ٹائم یہ کاسٹ لگوانے آئی تھی اس سے اتنی باتیں کیں اور کل دوبارہ ملا تو اسکو بالکل یاد نہیں تھا وہ۔
    عروج انگڑائی لیکر اٹھتے ہوئےانگریزی میں بولی۔۔۔
    ہیں؟ ہے جن حیران ہوا تو عزہ بھی اسے چونک کر دیکھ رہی تھی۔
    کل جا ئوں گی پولیس اسٹیشن۔ دیکھو کیا ہوتا۔ وہ انکی۔نظریں محسوس کر کے خود کو سنبھالتی ہوئی بات بدل گئ۔ کچھ دن تم چھٹی کر لو عزہ جب تک ملزمان کا کوئی سراغ نہیں مل جاتا۔
    ویسے عجیب نا تجربہ کار ہی لوگ تھے ۔ جب عزہ نونا کا نقاب ہٹ گیا تو بجائے انکو گاڑی میں ڈالنے کے آپس میں باتوں میں لگ گئے جبھی تو تھوڑا سا مجھے وقت ملا ان پر حملہ کرنے کا ۔۔ایک کہتا یہ دیکھو دوسرا بولا جو بھی ہے لے چلو۔یعنی۔ وہ بولتے بولتے چونکا۔
    ہاں ابھی تم پولیس والوں کو بھی یہی بتا رہے تھے ۔ واہ میں کوئی فالتو تونہیں۔ جو بھی ہے لے چلو۔
    عزہ نے کندھے اچکا کر واعظہ سے تائید چاہی مگر وہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں اس نے سٹپٹا کر عروج کو دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے ہے جن کی جانب رخ کیا تو وہ اس پر سے نگاہ ہٹا کر بولا۔
    جب عزہ کا چہرہ دیکھا تو رک سے گئے تھے پھر بولے جو بھی ہے لے چلو۔۔۔۔۔۔یعنی وہ کسی اور کو لینے آئے تھے؟؟؟
    تینوں نے کم و بیش یہی جملہ بولا تھا وہ بھی اکٹھے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام قسط 12۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 11

    قسط 11

    رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہے جن دوائیوں کے زیر اثر بے خبر سو رہا تھا۔ اسے کمبل اڑھا کر بتی بجھا کر بس رات کا زیرو کا بلب جلا کر آہستگی سے کمرے سے نکل آئی۔ عروج کی اس وقت ڈیوٹی تھی۔ اور آج تو اپنی ڈیوٹی پر وہ تین گھنٹے پہلے ہی آگئ تھی اسکے بلانے پر۔ اس نے اپر کی جیب سے موبائل نکالا پھر گہری سانس لیکر رہ گئ۔ موبائل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ ہے جن کو اس دیو ہیکل آدمی کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر جس طرح دل اچھل کر حلق میں آیا تھا وہیں عزہ کی جانب بڑھتے اس آدمی کو دیکھ کر اسکی روح فنا ہونے لگی تھی سو بلا سوچے سمجھے موبائل ہی اسے اٹھا کر دے مارا ۔ نشانہ ٹھیک بیٹھا سیدھا کنپٹی پر لگا تھا اسکو لہراتے دیکھ کر اسے موقع ملا تھا جو سانڈ کو پیٹ سکی بیگ بھی مارا۔ پھر ان کے بھاگتے ہی ریسکیو کو کال ملانے کیلئے موبائل اٹھایا تو ایک دھچکا اور منتظر تھا اسکا ۔ اسکا موبائل بری طرح سڑک پر رگڑا گیا تھا نا صرف اسکرین پروٹیکٹر کے ساتھ ٹوٹی تھی بلکہ اسکی بیک سائیڈ بھی ننھے منے ٹکڑوں میں بٹ گئ تھی کچھ موبائل سے چپکے رہ۔گئے کچھ شائد سڑک پر پڑے ہونگے۔
    اس نے اسکرین انلاک کی تو الف نے اسے نور کی تصویر بھیجی ہوئی تھی ساتھ ہنستے ہوئے پوچھا تھا کہ جاندی لگ رہی ہے نا یہ؟
    ہاں۔ اس نے بلا توقف لکھ بھیجا
    دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈال کر وہ عروج سے ملنے وارڈ کی طرف نکل آئی۔ وہ ایک مریض کے سرہانے کھڑی گٹ پٹ لگی ہوئی تھی۔اسکو دیکھ کر اشارے سے اپنے کیبن کی جانب جانے کا کہا وہ سمجھ کر اسکے کیبن کی جانب بڑھ گئ۔ اسکے کیبن کے ساتھ والے کیبن میں بیٹھا وہ لمبا سا لڑکا فون پر لگا تھا اسے دیکھ کر استقبالیہ مسکراہٹ اچھالی۔ وہ نظر انداز کرتی ۔ آرام سے عروج کئ میز پر آبیٹھی اورلیپ ٹاپ کھول کر ایٹ بال پول لگا لی۔
    کیسی ہیں آپ واسیہ۔ فون بند کرکے وہ اسکے پاس آکھڑا ہوا۔
    وہ متوجہ بھی نہ ہوئی۔ اس نے پیشانی کھجائی جیسے سوچنے لگا ہو پھر چٹکی بجا کر بولا
    اوہ نہیں واعسہ۔ وائزہ۔ اٹک اٹک کر وہ قریب قریب درست تلفظ سے بولا
    دے۔ وہ اپنے نام پر چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
    کیسی ہیں آپ بڑے دنوں بعد نظر آئیں بازو ٹھیک ہوگیا آپکا؟
    جی۔ وہ حیران سی ہوتئ ہوئی سیدھی ہو بیٹھی۔ اسکا مخالف کافی تیز تھا اسکی شائد باری نہ آتی۔
    اب میں ٹھیک ہوں ۔ اسکے انداز سے صاف ظاہر تھا اسے پہچانی ہی نہیں ہے ۔ وہ بے ساختہ محظوظ ہو کر ہنس دیا۔ کینڈا میں اپنے مخصوص سے نقوش اور نرم سے مزاج کے باعث سب اسے اسکے نام کی بجائے اوپا کہتے تھے لڑکیاں خاص کر اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں ایک بار کسی سے مخاطب ہو لے تو اگلی ملاقات کیلئے اس سے شہہ پا کر لڑکیاں مکھیوں کی طرح منڈلاتی تھیں اسکے گرد۔ یہاں آکر اس سے بھی ذیادہ اسکی طلب میں اضافہ ہوا تھا مگر اسکی شخصیت کی مقناطیسیت شائد ان دو لڑکیوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی تھی شائد یوں کہیں بس اسی قومیت کی لڑکیوں پر بے اثر تھئ۔
    عروج سوکھے ہوئے اخروٹوں کا بڑا سا پیکٹ اٹھائے ادھر ہی چلی آئی۔
    آپ نے مجھے پہچانا نہیں لگتا ہے ۔۔۔۔میں آپکا ساتھی بنا تھا ایک بار ہم مل کر جمعدار بنے تھے ڈاکٹر روج کی مہربانی سے۔
    وہ ہنس کر بول رہا تھا۔۔ عروج خفت زدہ سی اسکی جانب اخروٹ بڑھا کر بولی
    ویسے اس دن میں نے کافی حد کر دی تھی مجھے امید ہے آپ لوگ نرمی سے درگزر کر یں گے۔ شستہ انگریزی۔
    واعظہ کو اتنا تو یاد آگیا تھا کہ ٹوٹے ہاتھ کے ساتھ اسٹکی نوٹس اٹھا رہی تھئ کوئی اسکی مدد کر رہا تھا ، کسی نے کائونٹر پر اسکا فارم بھرا تھا ، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ تک راہنمائی۔ مانا مہینہ ہونے کو آگیا تھا پر اسکو چہرہ بالکل یاد نہیں تھا۔ اور نام۔۔
    عروج کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے لگی تو اسے بھی اخلاقا دعوت دئ۔
    بیٹھیئے۔
    سیونگ رو جیسے انتظار میں تھا سہولت سے اسکے سامنے بیٹھ کر واعظہ پر نظریں جما لیں۔
    واعظہ نے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔ لیپ ٹاپ پر اسکی باری آ چکی تھی
    واعظہ سیونگ رو کہہ رہا تھا کہ ہمیں پرائیوٹ کسی سیکیورٹی سسٹم کو گھر پر لگانا چاہیئے۔ جب تک تفتیش چلتی رہے کم از کم تب تک۔ تھوڑا مہنگا پڑے گا مگر ہم آٹھ لوگ ہیں مل بانٹ کر کر لیں گے۔ کیا کہتی ہو۔
    عروج کو یاد آیا تو جوش سے انگریزی میں بتانے لگی۔ واعظہ مکمل لیپ ٹاپ کے پیچھے چھپی تھی شائد سیونگ رو کی نظروں سے بھی بچنے کی کوشش تھی۔
    اے تم سے کہہ رہی ہوں۔ اس نے لیپ ٹاپ کے آگے ہاتھ لہرایا تو وہ چونک کر پوچھنے لگی
    عزہ کو ہوش آیا۔ ؟ وہ ذہنی طور پر کہیں اور تھی نگاہ لیپ ٹاپ پر تھی مگر ذہن میں منظر ۔ جب اس کے مارنے پر اس آدمی کے چہرے سے ماسک اترا ۔۔
    آندے۔ عروج بدمزا سی ہو کر پیچھے ہوئی۔ ایک بار اٹھی تھی مجھ سے پانی مانگا میں نے جوس لا کر دیا پی کر پھر سو گئ ہے اب صبح ہی اٹھائوں گی۔
    ہمم۔ اس نے ہنکارا بھرا
    روج بتا رہی تھئ تم نے اس غنڈے کی پٹائی بھی کی کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں آئی
    سیونگ رو نے پوچھا تو اس نے مسکرا کر اپنا موبائل سامنے رکھ دیا۔
    مجھے تو نہیں۔ اس کو زخم آئے ہیں ۔۔
    معزرت اسکا علاج میں نہیں کر سکتا ۔۔ وہ محظوظ ہو کر ہنس دیا۔
    ویسے آپ لوگوں کو محتاط رہنا چاہیئے کوریا میں غیر ملکیوں پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں ہےلوگ غیر ملکیوں سے پنگا نہی لیتے خاص کر وسطی ایشیائی ممالک کے باشندوں سے۔ یقینا کسی بڑے گینگ کا کام ہے آپ پہلی فرصت میں۔۔۔ وہ ڈرا نہیں رہا تھا محض منطق کی رو سے دیکھ رہا تھا معاملے کو اسکے محتاط جملوں کے استعمال کا اثر تھا کہ کیا واعظہ نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ ہنس کر بولی
    ہا ہا۔ ارے چھوٹا موٹا گینگ ہی تھا ایک ہائی اسکول کے بچے سے ڈر کر بھاگ گئے عزہ کو چھوڑ کر۔
    سیونگ رو بے چین سا ہوا
    لیکن مجھے لگتا ہے واعظہ ہمیں کسی سیکیورٹی کمپنی سے رابطہ کرکے جدید نظام نصب کروانا چاہیئے۔ عروج کہے بغیر نہ رہ سکی۔
    اب دیکھو گھر کے اندر کوئی گھس کر نور کے بال کاٹ گیا۔ وہ تشویش زدہ انداز میں بولی تو سیونگ رو بھی چونکا۔
    کیا واقعی؟
    ارے ۔۔ واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
    الف یا عشنا کی شرارت ہوگی یا فاطمہ کا کام ہوگا کسی کو کیا پڑی ہے کہ گھر کا تالہ توڑے مگر گھر سے ایک قیمتی چیز لے جانے کی بجائے بس بالوں کی لٹ کاٹ کر لے جائے کوئی تک ہے بھلا؟
    کس کے بال کاٹ دیئے۔ ؟ سیونگ رو کو سمجھ نہ آیا۔
    یار وہ ہماری اپارٹمنٹ میٹ ہے اسکے کسی نے صبح صبح آگے سے بال کاٹ دییے ماتھے سے۔ عروج نے بتایا تو اسکی آنکھیں تھوڑی اور کھل سی گئیں
    یہ جو یہاں داخل ہے لڑکی وہ بھی آپکی اپارٹمنٹ میٹ ہے اور وہ لڑکا بھی یعنی آپ چار لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔؟ کتنا بڑا اپارٹمنٹ لے رکھا ہے؟ اسکی حیرت بجا تھئ
    دو کمروں کا ۔۔ واعظہ اور عروج دونوں نگاہ چرا گئیں
    دو کمروں میں ہمم چار لوگ ہاں ٹھیک ہے رہ سکتے ہیں ۔۔
    چار نہیں آٹھ۔
    اس بار دونوں اکٹھے بولیں مگر زیر لب۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تین لوگ ہیں ہم پھر بھی گھر خالی خالی نہیں لگ رہا؟
    وہ تینوں ڈبل بیڈ پر لاشوں کی طرح پڑی تھیں۔ نیند جو آبھی رہی تھی وہ گھڑی دیکھ کر سحری میں دوبارہ اٹھنے کے خیال سے بھاگ بھاگ جاتی تھی۔
    چار بلکہ پانچ لوگ گھر سے باہر ہیں اسلیئے۔
    عشنا کا حساب ۔ نور اور الف اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    یار واعظہ نے اسپتال آنے سے منع کر دیا کہیں واقعی عزہ کی حالت خراب تو نہیں اور وہ ہمیں بتا نہ رہی ہو؟ الف کو انوکھا خیال سوجھا اٹھ بیٹھی
    بالکل تم اسکی ماں میں اسکی دادی عشنا نانی تینوں ہم کمزور اولاد کا صدمہ دل پر لے کر ہم دل پکڑ لیں گی اسلیئے نہیں بتایا واعظہ نے۔ نور جل کر بولی۔
    الف کھسیا سی گئ۔ یہ بھی ہے۔مگر ہم ایک۔نظر دیکھ لیتے تو بہتر نہ رہتا یا واعظہ ہی واپس آجاتی کیوں نہیں آئی وہ واپس وہاں عروج تو ہے۔۔۔ اس نے نئی منطق سوچ ڈالی
    نور بھی اٹھ کر آلتی پالتی مار بیٹھی
    ہم تینوں چلےجاتے تو گھر پر کون رہتا؟ پولیس والے گھر آکر بیان لیکر گئے ہیں ہم سے عزہ کی پشتوں تک کی معلومات پوچھی ہے کوئی ذاتی دشمنی کوئی پنگا تو نہیں لیا کبھی کسی سے ؟ انٹر نیٹ کا سارا ریکارڈ تک نکلوا نے کا کہہ رہے تھے بلائنڈ ڈیٹ پر گئ کبھئ کیا کچھ نہ پوچھ ڈالا انہوں نے مجھ سے۔ میرے بالوں پر بھی اعتراض جڑ دیا انکو کیا ہوا۔
    سخت چڑ آئی مجھ سے کیوں پوچھ رہے آدھے کوریا کی لڑکیاں یہی بالوں کا انداز بنا کر گھومتی ہیں مجھ سے ایسے پوچھ رہی تھی وہ خبطی لڑکی جیسے میں نے کوئی دنیا سے انوکھا کام کیا ہے۔
    نور منہ لٹکا کر بولی تو الف کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔
    نور نے مانگ نکال کر اس فرینج کو پن ٹھونک کر ایک جانب کر رکھا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی وہی پن نکال دی۔ بال اسکی پیشانی پر آبکھرے تھے۔ اسکے بال ترچھے سے کٹے ہوئے تھے ایک جانب سے زرا سا اونچے تھے ظاہر ہے کاٹنے والے نے فرینج تو نہیں کاٹی ہوگی۔ نور نے ناپسندیدہ نظر ڈالی تووہ آئینہ لے آئی سامنے کیا تو نور کی آنکھوں کے سامنے جھماکا ہوا۔
    میں تو کارٹون لگ رہی ہوں۔ وہ رو دی۔۔
    فاطمہ کو بلائو اسے فرینج کاٹنی آتی ہے اسکی پرانی تصویریں دیکھی ہیں اس نے فرینج ہی کاٹی ہوئی تھی بلائو اسے ٹھیک کرے۔
    نور دہائیاں دے رہی تھی۔ الف اور عشنا نے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں
    فاطمہ تو گھر میں نہیں ہے ۔ عشنا نے بتایا تو دونوں حیرت پوچھنے لگیں
    کہاں گئ ہے؟ وہ توایک بجے کی گھر سے نکلی ہے آئی نہیں ابھی تک؟ نور کو پریشانی لگ گئ
    کہیں فاطمہ کو تو نہیں اٹھا لیا ان لوگوں نے؟ الف کے ذہن کے گھوڑے تیزی سے دوڑےتھے
    نہیں۔ عشنا نے غلط فہمی دور کرنئ چاہی
    یا خدا کیا خطا ہوئی ہم سے ، اتنےسکون سے رہ رہے تھے ہم بہنوں کی طرح۔ نور کے بین
    نہیں بات سنو۔ عشنا نے کہنا چاہا مگر آواز دب گئی الف کا جوش عروج پر تھا۔
    یار واقعی کیا غلطی ہوئی ہے ہم سے؟ عزہ اغوا ہوتے ہوتے بچی فاطمہ غائب ، نور کے بال۔۔ الف کڑیاں ملا رہی تھی دونوں لمحہ بھر بھی موقع نہیں دے رہی تھیں کہ عشنا جواب دے سکے
    واعظہ کو بتایا ؟ نور مڑ کر فون اٹھانے لگی
    اسے تو پتہ بھی نہیں ہوگا فاطمہ بھی غائب ہے۔ الف اف۔۔۔
    مجھے پتہ ہے فاطمہ کہاں ہے۔
    عشنا چلا کر بولی۔ دونوں ایکدم چپ ہو کر دیکھنے لگیں پھر بیک وقت پوچھا
    کہاں ہے فاطمہ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے فلیٹ کے آگے بڑا سا بیگ رکھے اس پر بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے سوتی لڑکی کون۔۔ وہ سٹپٹا یا تبھی فاطمہ کسمسائی تو اسکو باقائدہ جھٹکا لگا۔ ایک۔نظر اسے دیکھا ایک نگاہ اپنے دائیں جانب ڈالی پھر تھوک نگلتے ہوئے پکارا
    فاطمہ۔
    اسکی چونک آنکھ کھلی۔۔سامنے سیہون ہکا بکا کھڑا تھااور۔ سیہون کے ساتھ گلابئ لانگ اسکرٹ اور گلابی مفلر میں ملبوس خاتون کو دیکھ کر وہ جھٹ سیدھی ہو ئی پرس اٹھاتی کھڑی ہوگئ
    یوبو(جان)۔ آگئے آپ ۔ بہت انتظار کرایا آپ نے۔۔
    وہ کورین آگاشی کئ طرح ٹھنک کر بولی۔ سیہون ساکت رہ۔گیا تھا
    تھیبا بہترین اداکارہ نکلی یہ تو۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    آگاشی ویو؟ وہ خاتون اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں۔
    میں انکی بیوی ہوں ۔ فاطمہ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔
    اس نے رواں ہنگل میں ہلکا سا کورنش بجا لانے کی طرح جھک کر کہا تھا تو جہاں ان خاتون کی آنکھیں حجم میں دگنی ہوئیں وہیں سیہون کے ہاتھ میں موجود شاپر گرفت ڈھیلی پڑنے سے دھڑ سے زمین پر آرہا۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔
    اور آپ؟ فاطمہ نے بہت اخلاق سے پوچھا۔ جوابا وہ محترمہ اپنی حیرانی پر قابو پاکر مسکرا کر بولیں۔
    میں سیہون کی والدہ ہوں۔ کیسی ہو تم؟
    اس بار فاطمہ کے ہاتھ سے پرس چھوٹ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انڈے سب ٹوٹ گئے تھے اور شاپر میں موجود ہر چیز میں سے انڈوں کی۔بساندھ آرہی تھئ۔پنیر کا ریپر سب سے ہلکا تھا باقی ٹن اور پراسسیسڈ فوڈ ریمن کے پیکٹ شیونگ کریم نوڈلز سب کے پلاسٹک ریپر انڈوں سے۔نہا لیئے تھے۔
    وہ دزدیدہ نظروں سے اسے ہونٹ بھینچے کچن کائونٹر پر شاپر خالی کرتا دیکھ رہی۔تھئ۔ جو جو ٹن دھل سکتا تھا اسے اس نے سنک کے پاس رکھ دیا تھا۔
    مجھے صاف کہا تھا تم نے کہ نہیں آئوگی اب اچانک کیسے پینترا بدلا تم نے؟ بندہ بتا ہی دیتا ہے۔
    اس نے پیغام ٹائپ کر کے بھیجا۔ فاطمہ کی اپارٹمنٹ کا جائزہ لیتی نگاہیں گول گول گھوم رہی تھیں۔ چھوٹا سا دو کمروں کا اپارٹمنٹ تھا جسکا باورچی خانہ کھلا امریکی طرز کا تھا وہ لائونج میں بیٹھی تھی۔ دونوں کمروں کے دروازے اسی لائونج میں کھلتے تھے ۔ اپارٹمنٹ شاندار تھا اسے پسند آگیا تھا اور وہ ان خاتون کو۔
    سامنے صوفے کی سنگل سیٹ پر بیٹھی اسے ایک ٹک دیکھے جا رہی تھیں۔
    اسکا فون بجا اس نے پیغام پڑھا۔ پیغام بھیجنے والا سرخ بھبوکا منہ لیئے کچن میں ہر چیز کو فاطمہ سمجھ کر پٹخ رہا تھا
    میری مرضی۔ اس نے انگریزئ میں لکھا پھر لگا بارود میں تیلی لگانے کے مترادف ہے تو مٹا کر فون ایک جانب رکھ دیا۔
    سیہون کا منہ غبارے جتنا پھول گیا۔
    وہ خاتون اچھی طرح فاطمہ کا جائزہ لے چکیں تو مطمئن ہو کر مسکرائیں۔
    ہندوستانئ ہو تم؟ ہنگل میں وہ پوچھ رہی تھیں۔ وہ جواب طلب نگاہوں سے سیہون کو دیکھنے لگئ جو اب جان بوجھ کر اسکی جانب دیکھنے سے بھی گریز کرر ہا تھا۔
    میں دیکھتے ہی پہچان گئ تھی۔ خاتون کھلکھلا دیں۔
    یہ نقوش برصغیر کے ہی ہوتے ہیں مگر رنگ ہندوستانیوں کا بہت صاف نہیں ہوتا مگر تم تو پھر بھی کافی نکھرے رنگ کی مالک ہو۔
    وہ انکو گوری نہیں لگ سکی تھئ کیونکہ مقابلہ اپنے چاندنی جیسی رنگت رکھنے والے بیٹے سے تھا جس کا رنگ بلا شبہ دودھ جتنا سفید تھا۔ فاطمہ کی جان مشکل میں پھنسی تھی۔ اس نے جملے رٹے تھے تاکہ کونسلروں کو شک نہ ہو
    میں ہنگل نہیں جانتئ۔ اس نے رواں انگریزی میں بتایا۔ خاتون بے طرح خوش ہوگئیں۔
    واہ انگریزی جانتی ہو پڑھی لکھی بھی ہو؟
    تم کیا کرتی ہو؟ میں نے سنا ہے انڈین لڑکیاں بہت وفادار ہوتی ہیں میرا بیٹا ویسے تو جدیدیت کا حامی ہے مگر اندر سے روایتی کورین مرد ہے۔ اسکو لڑکیاں بھی سادی سی پسند ہیں گھرسنبھالنے والی آگاشی۔ اچھا کھانا کمزوری ہے اسکی۔ اور کمچی تو میرے ہاتھ کی اسے بہت پسند ہے۔ ہم گائوں کے دیہاتی لوگ ہیں روایتوں کو سینے سے لگا کر رکھنے والے۔
    فراٹے سے ہنگل بولتی وہ شائد سانس لینے رکی تھیں
    تھیبا۔ فاطمہ کے منہ سے نکلا۔ اتنی زبردست ہنگل تو ایک عمر لگا کر بھی وہ شائد ہی سیکھ پائے۔ ۔سیہون نے ہاتھ روک کر ترچھی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔وہ خاتون سمجھیں وہ انکی بات سمجھ کر بولی ہے۔اور خوش ہو کر بتانے لگیں
    سیہون نے کافی زور سے فریج کا دروازہ بند کیا تھا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو وہ کافی بنانے مڑ چکا تھا۔
    میرا بیٹا شریف النفس ہے اس نے خود کو بے راہ رو نہیں ہونے دیا۔ یہ تو شراب پی کر بھی اتنا بیبا رہتا ہے۔ کبھی کسی لڑکی کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے بہت ڈر تھا سیول میں کسی ننگی ٹانگوں والی چٹک مٹک لڑکی پر نہ مر مٹے۔
    کافی میکر میں کافی بننے کو لگا کر وہ اپنے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے پانی مگ میں نکال کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔
    ۔ مگر شکر ہے بھلے ہندوستانی ہوتم مگر حیا والی دقیانوسی ہو۔کپڑے مناسب پہن رکھے ہیں۔ انہوں نے اسکے جینز اور گھٹنوں تک آتے لانگ ٹاپ کو پسندیدگی سے دیکھا۔ بولتے بولتے جانے کیا خیال آیا۔ زرا سا جھک کر رازداری سے پوچھنے لگیں۔
    مگر تم گائے کا پیشاب پیتی ہو ؟
    آں ۔۔۔ ۔دے۔ ( آں ۔۔ ہاں) اس نے گڑ بڑا کر سر اثبات میں ہلایا۔ سمجھ ومجھ تو آنہیں رہا تھا کیا بول رہی ہیں تائید چاہنے والا انداز دیکھ کر ہاں میں ہاں ملا دی مگر شائد کچھ غلط ہوگیا تھا۔
    سیہون کو پانی پیتے اچھو ہوا منہ سے پانی فوارے کی طرح باہر نکلا تھا۔ آنٹی کی آنکھیں متوحش سے انداز میں پھیل گئیں وہ مڑ کر سیہون کو دیکھنے لگیں جو اب فاطمہ کو گھور رہا تھا
    یہ ۔ یہ کیا کہہ رہی۔ سیہون اسکو سمجھانا جراثیم ہوتے ہیں اس میں نا پیا کرےاور تم کم ازکم اس سے دور رہنا جب جب یہ پیئے۔ اوف خبردار جو کبھی تم نے اسکے ساتھ بیٹھ کر نوش کیا۔ وہ تحفظات کا شکار ہو گئیں۔
    آندے آہموجی۔ ایسی بات نہیں اسے شائد سمجھ نہیں آئی بات۔
    یہ تو مسلمان۔
    وہ ماں کو تسلی دینے کیلئے انکے پاس ہی چلا آیا۔ انکے صوفے کے ہتھے پر ٹک کر بتانے لگا وہ بات کاٹ گئیں
    چلو۔ انکی روایت ہے۔چلو کر لوں گی برداشت میں۔ اسکے گلے میں اسکارف دیکھ کر مجھے تو دھچکا لگا تھا کہ کہیں مسلمان تو نہیں۔۔ آجکل تو یہ بڑی مصیبت ہے ان انتہاپسندوں نے کوریائی نوجوانوں کو گھیرنا شروع کر دیا ہے وہ لڑکی جو ساتھ ساتھ رہتی تھئ عجیب نام والی شکر ہے تم نے اس سے شادی نہیں کر لی۔ سب نے مجھے یہی ڈرا رکھا تھا سیہون مسلمان لڑکی کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے دیکھنا شادی کر لے گا مگر میرا بچہ نادان تھوڑی ہے۔ وہ نثار ہونے والے انداز میں اسکو دیکھتی نظروں سے بلائیں اتارنے لگی تھیں
    سیہون چپ سا رہ گیا۔ وہ واعظہ اور میری ایک بار چھٹیوں پر گائوں گئے تھے۔ میری اپنے کم کپڑوں اور واعظہ زیادہ کپڑوں کی وجہ سے انکو کھٹکا گئ تھی۔ میری جدیدیت پسند بے باک لگی تھی تو واعظہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انکو اس خوف میں مبتلا کر گئ تھئ۔ ابھی بھی شکر ادا کرتی اپنی ہندونی بہو کی جانب متوجہ ہو گئیں جو بے چاری سی شکل بنائے یہ سب سن رہی تھی کیونکہ سمجھ تو آنہیں رہا تھا۔
    سیہون اس کا ردعمل سوچ کر چپ تھا۔خاتون بڑے ذوق وشوق سے نیا قصہ سنا نے لگیں۔
    یو آن کی شہزادیاں گوریو کے شہزادوں سے بیاہی جاتی تھیں تو انکو عجیب الا بلا کھانے کی عادت تھی اب ایک میز پر بادشاہ سور کا سوپ پی رہا ہوتا تھا توملکہ بلی کھاتی تھی بڑی مشہور کہانی ہے ایک بادشاہ نے بلی پال رکھی تھی ملکہ سے ذیادہ بلی کو چاہتا تھا ملکہ حسد میں مبتلا ہوگئ ایک دن بادشاہ کے سامنے بیٹھ کر اسی بلی کا روسٹ اڑایا۔ پھر۔ تم سمجھ تو رہی ہو نا۔ خاتون نے اسکی عدم دلچسپی بھانپ لی۔ اسکو ترجمہ۔کرکے بتائو کیا کہا میں نے۔ انہوں نے بیٹے کو ٹہوکا دیا۔
    سیہون نے گہری سانس لیکر اسے بتایا تو اسے بے ساختہ کراہیت محسوس ہوئی
    بلی تو ٹھیک مگر سور؟؟؟ اور ان آنٹی کو کراہیت بلی کھانے پر آرہی ہے؟ وہ یوں دیکھ رہی تھی جیسے ان آنٹی کے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ کرو واقعی۔عروج کو گھن سی آگئ۔
    واعظہ کی بھی کم و بیش یہی حالت تھی۔سیونگ رو نے محظوظ سا ہو کر سلسلہ کلام جوڑا۔
    اب ہوا کچھ یوں کہ کینڈا میں اسٹریٹ ڈاگ تو آسانی سے ملتے نہیں شیلٹر ہوم سے میرے چینی اپارٹمنٹ میٹ نے ایک پیارا سا کتا لیا گھر لایا خوب کھلایا پلایا۔ رات کو اسکا سوپ بنادیا۔ صبح میں اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں گرما گرم سوپ سامنے ہے۔ تبھی ہمارے اپارٹمنٹ کی اطلاعی گھنٹی بجی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو شیلٹر ہوم والے انسپیکشن کیلئے موجود تھے کہ ہم نے کتے کا کیا انتظام کر رکھا ہے۔
    پھر کیا ہوا۔ عروج نے بے صبری سے پوچھا تو وہ ہنس کر بولا
    اسکو کافی پیسہ خرچنا پڑا تھا معاملہ دبانے کیلئے۔ گو کینڈا کے قوانین سخت ہیں مگر راشی لوگ تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔
    تم لوگ تو کتے بلیاں نہیں کھاتے ہو؟ واعظہ کو اچنبھا ہوا۔
    میری اسکولنگ یہیں کی ہے میں نے کسی کورین کو یہ سب کھاتے نہیں دیکھا۔۔ سیونگ رو نے متاثر ہونے والے انداز میں دیکھا۔
    بجا فرمایا۔ ایسا ہی ہے ہم ہر طرح کا جانور کھاتے تو ہیں مگر اب ترقی یافتہ ہونے کے بعد ہم کافی بدل چکے ہیں ۔ویسے تو
    کوریا کی تاریخ ہزار سال پر مشتمل ہےاتنا کچھ ہوا ہے یہاں کہ ہمارے بچے تاریخ پڑھتے ہوئے تنگ آجاتے ہیں ہم نے مٹ مٹ کر تباہ ہو ہو کر دوبارہ خود کو تعمیر کیا ہے۔ اپنی زبان کا تشخص بحال کیا ورنہ تو چینیوں نے ہمیں غلام بنا رکھا تھا۔ گوریو انکی ریاست کے مقابلے میں کہیں چھوٹی ریاست ہوتی تھی اس پر قبضہ قائم رکھتے تھے من پسند بادشاہ چنتے اپنی شہزادیوں سے انکی شادئ کروا دیتے تھے۔ ان شہزادیوں نے چینی روایات کا گہرا اثر چھوڑا ہم پر وہ انکی اولادیں ہر قسم کے کتے بلیاں کھا لیتے تھے ہم لوگ جانور کھاتے تو ہیں مگر کم ازکم اب کتے بلیاں محفوظ ہیں ہمارے یہاں۔ ہم انکو نہیں کھاتے۔
    تھائینیئے۔ عروج جیسے سکھ کا سانس لیکر بولی۔
    مجھے ویسے تاریخ دلچسپ لگتی ہے مجھے اتنی تفصیل سے تو نہیں پڑھنے کو ملی غیرملکی ہونے کی وجہ سے مگر ہاں میں نے جتنا پڑھا شوق سے پڑھا۔
    واعظہ نے یونہی کہا تھا سیونگ رو نے بات پکڑ لی۔
    پھر تو تمہیں برصغیر کئ بھی تاریخ پتہ ہوگی مجھے بر صغیر کی تاریخ میں بہت دلچسپی ہے مجھے بتائوگی کچھ؟ کیسے اس پورے بر صغیر کو مسلمانوں نے تبدیل کر کے رکھ دیا؟۔ وہ پرشوق انداز میں پوچھ رہا تھا واعظہ گڑ بڑ ا سی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس سے بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
    وہ منہ کھولے سامنے دیکھ رہی تھی۔ سیہون نے سر پکڑ لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 10

    دیسی کمچی قسط دس۔
    یہ ٹھیک ہے بس بے ہوشی کی دوا ذیادہ ہونے کی وجہ سے نڈھال ہو گئ تھی ۔ فکر مت کرو۔ اسے جگا سکتی ہوں مگر چونکہ اسے کافی گہرا شاک پہنچا ہے بہتر ہے سو کے اسکے اعصاب پرسکون ہو جائیں۔
    عروج عزہ کے بیڈ کے پاس کھڑے ہے جن کو تسلی دے رہی تھی۔اس نے ابھی عزہ کا دوبارہ چیک اپ کیا تھا۔ اسٹیتھسکوپ کانوں سے ہٹا کر وہ ہے جن کا کندھا تھپتھپا کر تسلی دے رہی تھی خود جسکے سر پر پٹی بندھی تھی۔ بازو پر گہرا زخم تھا شکر ہے ہڈی بچ گئ تھئ۔ اپنے ڈرپ اسٹینڈ سمیت عزہ کے بیڈ کے کنارے کھڑا فکر مند ہو رہا تھا۔ عزہ کی رنگت زرد ہو رہی تھی مگر وہ پرسکون سو رہی تھی۔
    اب تم جا کر سو جائو سارے مسلز اینٹھے ہوئے ہیں تمہارے ۔
    وہ یونہی عزہ کے پاس کھڑا تھا۔ تو عروج کو اسے ٹوکنا پڑا۔
    میں ٹھیک ہوں نونا۔۔ وہ ضدی بچوں کی طرح اینٹھا کھڑا تھا۔
    لغت کہاں گئ۔ عروج نے چڑ کر واعظہ کی تلاش میں نگاہ دوڑائی تو وہ وارڈ کے داخلی دروازے سے آتی دکھائی دی۔
    اسکے ہاتھ میں کچھ شاپر بھی تھے ۔
    انہیں دیکھ کر اسکے قدموں میں بجلی کی تیزی آئی تھی۔
    تم پھر اٹھ آئے ؟ کہا بھی تھا بیڈ پر سے ہلنا مت۔
    اس نے قریب آکر بلا تکلف اسکے مجروح بازو والے کندھے پر مکا لگایا۔
    سن ہی نہیں رہا کب سے اطمینان دلا رہی ہوں اسے کچھ نہیں ہوا۔ عروج نے بھی شکایت لگائی۔
    چلو اب اتنا مہنگا پرائیوٹ روم بک کروایا ہے میرے پیسے ضائع مت کرو چلو جائو اور یہ بھی لیکر جائو کھانا شروع کرو ہم آتے ہیں۔
    واعظہ نے ڈانٹنے والے انداز میں کہا تو وہ سر جھکا گیا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اسٹینڈ گھسیٹنا چپ چاپ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
    تمہاری کیسی سنتا ہے کب سے اسکو کہے جا رہی ہوں کہ جائو کچھ نہیں ہوا میری بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی جیسے۔
    عروج کو دوبارہ غصہ آنے لگا۔ واعظہ آگے بڑھ کر عزہ کی پیشانی چھو کر دیکھنے لگئ۔
    ٹھیک ہے یار یہ۔ بس انہوں نے ڈرگز بہت ہی کوئی ذود اثر استعمال کی تھی یہ تو فوری بے ہوش ہوئی ہوگی۔
    عروج نے خیال ظاہر کیا۔
    واعظہ کی نگاہ میں وہ منظر گھوم گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کو پکارنے پر بھی وہ جب نہ رکا تو اسے جانے کیوں کچھ انہونی کا خوف لاحق ہوا بنا سوچے اس نے بھی دوڑ لگا دی تھی ہے جن کے پیچھے۔
    گاڑی ہستگی سے عزہ کے پاس آتی جا رہی تھی۔ گاڑی میں سے دو دیو ہیکل مرد جنہوں نے کالے اپر پہنے تھے منہ پرکالا نقاب اور سر پر کالی ہی پی کیپ پہنے اترے۔
    لمحوں کا وقفہ ہوگا انکو عزہ کے پیچھے بڑھتے دیکھ کر وہ پوری جان سے چلایا
    عزہ نونا پیچھے دیکھو۔ ہنگل میں چلاتے اسے یہ خیال نہ آیا تھا کہ عزہ کو اسکی بات سمجھ نہیں آئے گی۔ تاہم عزہ نے اپنے نام پر مڑ کر دیکھا تو ان میں سے ایک اسکی ناک پر رومال جما چکا تھا۔
    عزہ نونا۔ چھوڑو عزہ کو۔ وہ چلاتا پکارتا پوری جان سے دوڑ رہا تھا
    پالی پالی۔ ( جلدی کرو)
    ایک نے عزہ کو پکڑا دوسرے نے پاس آجانے والی گاڑی کا دروازہ کھولا سختی سے رومال جمائے جمائے اسکا ہاتھ پھسلا تھا اور عزہ کے چہرے سے نقاب اتر گیا تھا۔
    ریو یہ دیکھو۔ ایک نے گھبرا کر عزہ کا چہرہ دوسرے کو دکھایا
    تب تک ہے جن انکی گاڑی کے قریب آچکا تھا
    جو بھی ہے لے چلو۔
    دوسرے نے ہے جن کو آتے دیکھ کر عجلت میں کہا
    مگر ہے جن پھرتی سے عزہ کا بازو کھینچ کر ان دونوں کے آگے آگیا تھا۔ کورین ہائی اسکولرز کو سکھائی جانے والی سیلف ڈیفنس کی مشق اس وقت کام آئی تھی اس نے ایک ہی چکر میں گھوم کر لات جما دی تھی اغوا کار کے کندھے پر ۔ اسکے ہاتھ سے عزہ کا بازو چھوٹا اب انکا ارادہ راہ فرار اختیار کرنے کا تھا ایک تو گاڑی میں چڑھ گیا دوسرا کندھے پر لات کھا کر گاڑی سے نیچے آگرا ہے جن اس پر پل پڑا لاتیں مکے تبھی دوسرا بھی گاڑی سے اتر کر بری طرح ہے جن کو پیٹنے لگا دیو ہیکل دو مردوں کا مقابلہ دبلا پتلا نازک سا ہے جن نہیں کر سکتا تھا اس بار ڈرائیور نے ہارن بجایا تو انہوں نے ہے جن کو زخمی کرکے دوبارہ عزہ کی جانب بڑھنا چاہا۔۔پتھر کی طرح کوئی چیز ریو کی کنپٹی پر آکر لگی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو کسی لڑکی نے بھاگ کر قریب آتے اب اسے اپنا بیگ بے دریغ منہ ہی منہ پر مارا ساتھ ایک لات اسکی ران پر جما دی۔ اس نے آگے بڑھ کر ہیڈ لاک لگا دیا۔وہ وہیں دہرا ہو کر گرا اسکے ساتھی نے ہے جن کو پلٹ کر مکا مارا۔ یہ دھمکی تھی جسے سمجھ کر واعظہ نے ریو کو چھوڑ دیا ریو کے چہرے سے ماسک اتر گیا تھا ایک لمحے کو اسکا چہرہ واضح ہوا پھر وہ تیزی سے کہنی سے چہرہ ڈھانپتے ہنگل میں چیخ کر اپنے ساتھی کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہتا گاڑی کی جانب دوڑا۔ دونوں نے چھلانگ لگائئ اور گاڑی نے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا رفتار بڑھا دی۔
    ایک انہونی ہونے سے رہ گئ ۔
    منہ اور بازو سے نکلتے خون کی پروا کیئے بنا ہے جن سڑک پر بے ہوش پڑی عزہ کی۔جانب بڑھا۔۔ گھٹنے کے بل بیٹھ کر اس نے عزہ کا سر گود میں لے لیا۔
    عزہ۔ اسکے گال تھپتھپاتے۔ اسکے سر میں ٹیس اٹھی تھی
    اس سے پہلے کہ وہ بھی چکرا کر سڑک پر پڑا ہوتا واعظہ نے اسکو بانہوں میں بھر لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سب اسپتال آنے کو تھیں بہت مشکل سے روکا ہے میں نے ۔۔ کہا کہ صبح تو آجائے گی بھلی چنگی ہو کر سو اسپتال میں رش نہ لگائیں۔
    عروج بتا رہی تھی مگر واعظہ کسی سوچ میں گم رہی تو اس نے آکر اسکا کندھا ہلایا
    تم تو نہیں دوبارہ پٹ آئی ہو؟ دکھائو ابھی تو کاسٹ اترا تھا تم نے بھی ہاتھا پائی ضرور کی ہوگی آس پاس ہو اور مسلئے میں نہ کود پڑو یہ ناممکن ہے تمہارے لیئے۔ عروج اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    نہیں۔ اس نے گہری سانس لی اور سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئ۔
    میں بچ گئ واقعی اس بار۔۔ چلو روزہ کھلنے میں بس پندرہ بیس منٹ ہی رہ گئے ہیں۔ میں کھانے پینے کا سامان لے آئی ہوں ہے جن کے کمرے میں چل کر کھاتے ہیں۔
    عزہ کو آج یہیں رہنے دو میری نائیٹ ہے دیکھ لوں گی اسکو یہاں یہ اکیلی بھی نہیں ہے۔ عروج نے کہا تو وہ بس سر ہلا کر رہ گئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویہئو کیسے ممکن ہے کہ تم اسکے حلیئے کے بارے میں بھی صحیح طرح نہیں بتا رہے ہو پٹتے وقت کوئی جسامت کا اندازہ بھی نہیں ہوا تمہیں؟
    وہ دونوں ہے جن کے کمرے میں داخل ہوئیں تو دو پولیس اہلکار ہنگل میں ہے جن کا بیان نوٹ کر رہے تھے
    آندیو۔ ہے جن بے زار سے انداز میں بولا
    کہہ تو رہا ہوں انہوں نے جسم کو مسلکولر دکھانے والے جیکٹ پہنے ہوئے تھے فوم بھرا ہوا تھا انکے بازوئوں میں ورنہ میرے جیسی جسامت کا لڑکا ان سے بھڑ سکتا تھا؟ اچھے خاصےمکے میں نے بھی مارے ہیں۔
    ہے جن نے بات دہرائی تو وہ گہری سانس لیکر اپنی کاپی بند کرکے اسے بغور دیکھ کر بولا
    ویسے لحیم شحیم تو رہے ہونگے تمہاری جو حالت کی ہے دیکھ کر یہی لگتا۔
    اسکی بات پر جہاں دوسرے اہلکار نے منہ پھیر کر مسکراہٹ دبائی وہاں ہے جن دانت پیسنے لگا تھا
    آہش۔ آراسو۔ ( ہاں مان لیا) وہ کوریا کے اول درجے کے صحتمند طاقتور غنڈے تھے اور تم چوزے جیسے پولیس والوں کے بس کی بھئ بات نہیں انکو پکڑنا۔
    ہے جن نے کہا تو اہلکار تلملا کر اسکے سر پر گھنٹی بجانے ہی لگا تھا کہ واعظہ نے مداخلت کی
    آپکو کہا بھی ہے کل بیان لینے آ جائیں شائد عزہ نے دیکھا ہو ہے جن بھی کل تک کچھ پرسکون ہوگا تو بیان دینے کے قابل ہوپائے گا اتنی عجلت کس بات کی ہے۔
    اسکا انداز سخت تھا دونوں نے کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر رک سے گئے۔
    چھے سو ہمبندا۔ ہم کل آتے ہیں۔ دونوں جھک کر سلام کرتے باہر نکل گئے۔
    چلو کھانا کھائیں۔ کھانا ٹھنڈا ہو گیا ہوگا ان دونوں کو کہہ دینا تھا کہ بعد میں آئیں۔ انکا کام ہے انتظار کریں۔ پہلے اتنا میرا دماغ کھا چکے ہیں۔
    واعظہ بے زاری سے کنپٹی سہلا رہی تھی۔ عروج نے آگے بڑھ کر بیڈ ٹیبل سرکا کر ہے جن کے سامنےلگائی۔ ہے جن کھانے کا شاپر بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اٹھانے بڑھا مگر عروج نے روک دیا اور خود اٹھا کر شاپر سے کھانا نکال کر میز پر سجانے لگی۔
    افطار کا وقت ہو گیا۔۔ ہے جن نے اپنے پیر سمیٹ لیئے تھے وہ دونوں بھی بیڈ پر جگہ بنا کر بیٹھ گئیں۔
    دس منٹ ہیں۔ واعظہ نے گھڑی دیکھی
    چکن برگر کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہے جن رک سا گیا
    تم شروع کرلو۔ بی پی لو تھا تمہارا جبھی ڈرپ لگا دی تھی میں نے۔ کھانا وانا ڈھنگ سے نہیں کھاتے تم کیا؟
    عروج نے کہا تو وہ چپ سا رہ گیا پھر دھیرے سے بولا
    میں بھی دس منٹ بعد کھائونگا آپکے ساتھ۔
    کیوں بھئ شروع کرو اور۔یہ جوس بھی پیئو اتنا خون بہا ہے آج تمہارا تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیئے۔ تمہارا کونسا رمضان چل رہا۔۔
    عروج نے کہا تو وہ بات کاٹ کر بولا
    میرا بھی آج روزہ ہے نونا۔
    اسکی بات پر واعظہ اور عروج دونوں نے چونک کر اسکی شکل دیکھی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم نہیں جا رہیں آج ریڈیو؟
    عشنا نے الف کو منے لائونج کے قالین پر آرام سے بے ترتیب حلیئے میں دراز دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔
    میں نے بتا دیا ہے ژیہانگ کو وہ آج سولو شو کر لے گا۔۔وہ لاپروائی سے چینل بدل کر بولی
    کیوں بھئ؟ کس خوشی میں؟تم نے تو کہا تھا کہ تمہیں چھٹی نہیں ملتی۔۔ عشنا نے پوچھا تو اس نے لمحہ بھر کو نور کے ٹی وی کے آگے سے گزر جانے کا انتظار کیا پھر دوبارہ چینل بدل کر ریموٹ سے اسکی جانب اشارہ کرتے ہوئے جتاتی نظروں سے عشنا کو دیکھا۔۔
    نور منے لائونج میں بھی ادھر سے ادھر ٹہل ٹہل کر اپنی پریشانئ دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔ چلتے چلتے ٹی وی کے سامنے سے گزرتی کوئی اور وقت ہوتا تو الف جھاڑچکی ہوتی مگر اسکی پریشانی کا لحاظ تھا دوسرا خود کونسا پرسکون بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی چینل پر چینل بدل رہی تھی۔
    خوشی ؟ پاگل آج جو کچھ ہوا اسکے بعد اور اس چکور کو چکر کاٹتے دیکھ کر میں کیسے شو کرنے جا سکتی ہوں بھلا؟
    الف نے کہا تو عشنا کچھ کہتے کہتے رک گئ۔
    تم پریشان نہ ہو میں ٹھیک ہوں۔ اور عشنا ہے نا میرے پاس تم جانا چاہو تو چلی جائو۔
    نور اسکی بات سن کر اسکے سامنے آبیٹھی۔ آلتی پالتی مار کر اب انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
    الف نے پیار بھری نگاہ ڈالنی چاہی مگر تاثرات ناپسندیدہ چیز کو دیکھنے جیسے کڑوے ہوگئے
    میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم فرینج کٹوا کر بالکل جاندی لگنے لگو گی۔
    وہ دھیرے سے بڑ بڑائی جسے صرف عشنا ہی سن پائی
    واقعی میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔
    عشنا دھیرے سے سرگوشیانہ انداز میں قریب ہو کر کان میں بولی۔
    دیکھو ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوریا ہے یہاں اندھیر تھوڑی ہے۔کہ دن دیہاڑے کوئی آئے گا پستول دکھا کر ڈاکا ڈال جائے گا۔
    نور اپنے ہاتھ توڑ لینے پر اترئ ہوئی تھی انگلیاں چٹخا چٹخا کر۔۔ چہرے پر گھبراہٹ اوپر سے اسکے جملے ۔ وہ ان سے ذیادہ خود کو تسلی دے رہی۔تھئ۔۔تاثرات بھی کچھ کچھ جاندی جیسے ہی ہو چلے تھے
    ہاں تو ڈاکا تو نہیں ڈالا بس بال کاٹ کے چلا گیا کوئی۔۔
    عشنا نے یاد دلایا تو جہاں الف اسے دانت پیس کر گھورنے لگی وہاں نور کو دوبارہ یاد آگیا۔ اپنی پیشانی پر بکھرے بالوں پر ہاتھ پھیر کر روہانسی سی ہوگئ۔
    تمہیں دیکھ کر ہمدردئ ہونئ چاہیئے پر۔ الف کا جملہ منہ میں تھا جب زوردار اطلاعئ گھنٹی بجنے پر تینوں اچھل پڑیں۔
    کون آگیا۔
    الف شائد اب تک کی دیسی کمچی کی قسطوں میں پہلی بار دروازہ کھولنے کے ارادے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ الف اور عشنا دائیں بائیں اس سے لپٹ گئیں
    مت کھولنا۔جانے کون ہو۔ نور باقائدہ کانپ رہی تھی
    کہیں وہی صبح والا۔ خوف کے مارے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
    صبح والا کیوں ہوگا ۔اب کیوں آئے گا وہ؟۔ الف نے چڑ کر بازو چھڑانا چاہا
    ہو سکتا ہے اب وہ چوٹی کاٹنے آیا ہو۔ عشنا نے خیال ظاہر کیا تو اس بار نور نے دانت کچکچا کر گھورا الف البتہ اپنے شولڈر سے تھوڑا سا نیچے آتے بالوں کی چھوٹی سی چوٹی چھو کر خوفزدہ ہوئی۔۔
    کیوں آئے گا چوٹی کاٹنے میں اسکی ناک کاٹ ڈالوں گی۔
    نور کا خوف غصے میں بدلا۔ جھٹ کچن کائونٹر پر سے چھوٹی سی قینچی جو انہوں نے پیکٹ کھولنے کیلئے رکھی تھی جھپٹ کر اٹھا لائی۔ کسی ہتھیار کی طرح لہراتے وہ سب سے آگے تھئ الف اور عشنا پیچھے۔
    اطلاعی گھنٹی پھر بج اٹھی۔
    کھولو دروازہ الف۔ نور ہمت مجتمع کرکے الف سے کہہ رہی تھی۔
    الف نے گھور کر اسے دیکھا۔ گھنٹی پھر بج اٹھی۔
    لگتا یے کوئی ہے نہیں اندر۔
    مردانہ آواز پر تینوں اچھل پڑیں۔
    مت کھولو اس وقت تو واعظہ اور فاطمہ بھی نہیں۔
    عشنا گھبرا اٹھی
    ہےجن بھی تو نہیں ہے گھر پر۔ نور کو خدشہ ستایا
    ظاہر ہے وہ اور عزہ دونوں اسپتال میں ہیں۔
    عشنا نے جیسے سر پیٹا۔
    کون۔۔
    الف نے ہمت مجتمع کر کے کی ہول سے باہر جھانکا۔
    کوئی اونچا لمبا سا انسان کھڑا تھا کالے لمبے کوٹ میں کی انکی جانب پشت تھی۔۔وہ کچھ بول رہا تھالف کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
    ہم۔تین ہیں وہ ایک۔ میں دروازہ کھولوں گی تم دونوں پیچھے سے حملہ کردینا ٹھیک۔۔
    الف نے کہا تو دونوں نے منڈیا ہلا کر سگنل دیا۔ نہایت آہستہ سے بنا آواز کیئے ہینڈل گھما کر اس نے دروازہ کھولا سال خوردہ دروازے نے چررررر کی اتنی زور دار آواز کی کہ انکے عین دروازے کے سامنے کھڑا وہ آہجوشی چونک کر مڑا ۔ اسکے ہاتھوں میں کچھ تھا جسےدیکھ کر الف اور عشنا
    کی آنکھیں کھل سی گئیں اور وہ ایکدم چونک کر سیدھی ہوئیں انکو ڈرتے دیکھ کر نور نے اپنی آج تک کی زندگی کی جمع شدہ ہمت مجتمع کی اور پیچھے سے قینچی چلاتے ہوئے اس آہجوشی پر دھاوا بول دیا۔ قینچی کا رخ سیدھا آہجوشی کی آنکھ کی جانب تھا جسے اسکے مدافعتی نظام نے انتباہ تصورکرکے ایکدم رخ موڑنے پر مجبور کر دیا۔ اسکے ہاتھ میں موجود پلیٹیں چھوٹیں الف نے کسی ماہر گول کیپر کی طرح چھلانگ لگا کر انکو کیچ کیا تھوڑے سے چاول احتجاجا باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے بقیہ وہ گرتے گرتے بچا گئ عشنا وہ تماشائی تھی جسے بیک وقت دو الگ الگ نظارے دیکھنے تھے سو فرط شوق سے اسکا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ میٹرکس کے ہیرو کی طرح ان تین لڑکیوں کو ڈاج کرتے آہجوشی پشت کے بل دھاڑ سے گرے تھے اور ان سے پہلے انکے ماتھے سے کٹ جانے والا خوبصورت پف وہ بالوں کا گچھا زمین پر آرہا جسے صبح دیکھ کر طوبی نثار ہوچلی تھی۔ اب آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی کہ وہ گچھا اب یادگار کے طور پر فریم کیا جا سکتا تھا آخر اسکے محبوب شوہر کے بال تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا؟ تم نے کس خوشئ میں میرا۔ مطلب۔ عروج گڑ بڑائی
    میں نے نماز بھی پڑھی ہے آج دوپہر کو امام صاحب نے پڑھوائی۔ روزے کے ساتھ نماز ضروری ہوتی ہے نا؟ ۔
    آہاں۔ عروج گڑ بڑائی
    ہے جن سادگی سے بتا رہا تھا۔عروج اچنبھے سے کبھی اسے دیکھ رہی تھی کبھی واعظہ کو۔ جو نہایت سنجیدگی سے ہمہ تن گوش تھی۔
    مجھے دلاور آہجوشی اپنے ساتھ روز مسجد لیکر جاتے رہے ہیں۔ میں نے کافی کچھ اسلام کے بارے میں جان لیا ہے اچھا مذہب ہے۔ وہ مسکرا کرکہہ رہا تھا۔ واعظہ بے چین سی ہو گئ۔
    تم۔ تم سچ بتا دیتے طوبی کو۔ تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اس جھوٹ کو اس حد تک نبھانے کی۔ نماز پڑھنے روزہ رکھنے کو کس نے کہا تھا تم سے۔ میں طوبی سے خود بات کرلوں گی۔تم آئیندہ اس حد تک جانے کی کوشش مت کرنا
    واعظہ رواں ہنگل میں مخاطب تھی انداز بہت سخت تھا۔ہے جن لیئے اسکا ردعمل کافی حیران کن تھا اسے لگا تھا کہ وہ خوش ہوگی حوصلہ افزائی کرے گی پر وہ۔۔ عروج بھی اتنی ہنگل تو جانتی ہی تھی سو اسے ٹوکنے لگی مگر اردو میں۔۔
    کیا ہو گیا ہے۔ اچھی بات ہے یہ تو تمہیں اسکا دل بڑھانا چاہیئے نا کہ ۔۔
    عروج تم چپ کرو۔ تم سمجھ نہیں رہی ہو کہ ہمارا ایک چھوٹا سا مزاق کیسا عجیب موڑ لے گیا ہے۔ خود کو ہے جن کی۔جگہ رکھ کر سوچو۔ میں کہوں تم ہے جن کی بہن ہو اور کوئی تمہیں پکڑ پکڑ کر بدھ مت کے مندر لے جائے بھجن گوائے کیسا لگے گا تمہیں؟
    واعظہ کا انداز ہنوز تھا عروج نے اسے سمجھانا چاہا
    دیکھو بات الگ ہے ہےجن بچہ نہیں ہے اگر وہ روزہ رکھ رہا ہے نماز پڑھتا ہے تو کیا پتہ وہ کل مسلمان ہو جائے۔
    بچہ ہی ہے یہ۔ واعظہ چلا اٹھی۔
    اٹھارہ سال اسکی کورین ایج ہے۔ کوریا میں یہ بچے کی عمر کا حساب اسکے ماں کے بطن میں آنے سے ہی رکھتے ہیں ۔ ورنہ اصل میں سترہ کا بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اتنے چھوٹے سے کچے ذہن کے بچے کو مذہبی تعلیم دے کر کسی راہ پر لگانا بے معنی ہے آج یہ سب کر رہا ہے کل کو اسکا دل بدل سکتا ہے اسکو اسکے ماں باپ بہن بھائی سے کاٹ کر مسلمان بنانا ابھی بالکل غلط ہے ۔ یہ باشعور ہوتا سمجھدار ہوتا
    واعظہ جو کہہ رہی تھی عروج کو وہ بھی بالکل غلط نہیں لگ سکا تھا۔ ان دونوں کو اجنبی زبان میں بحث کرتا دیکھ کر بات سمجھ نہ آنے کے باوجود اسے موضوع گفتگو اپنا آپ ہی لگ رہا تھا سو اسے ٹوکنا پڑا
    نونا تحمل سے بات کریں۔ مانا میں عزہ کا اصل بھائی نہیں ہوں مگر یقین کیجئے آج مجھے احساس ہوا کہ عزہ میرے لیئے اتنی ہی عزیز ہے جتنی مجھے اپنی بہن ہوتی۔ اس جھوٹ کو میں 100 فیصد جھوٹ نہیں مانتا ہوں۔ آپ طوبی آپی کو کچھ مت بتائیے۔۔۔
    اسکے آپی کہنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگی تھیں۔
    میں مانتا ہوں شروع میں وہ زبردستی مجھے لے جاتی تھیں ۔ میں انکو صاف انکار نہیں کر پاتا تھا مگر بعد میں جب امام صاحب کا خطبہ سنتا تھا وہ ہنگل میں جب سمجھاتے تھے آپکی کتاب کا مطلب تو مجھے سننا اچھا لگتا تھا۔ میں بعد میں خود بھی بڑے شوق سے جاتا رہا ہوں۔۔
    ہے جن سر جھکا کر جیسے کسی جرم کا اعتراف کر رہا تھا۔
    تو کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟۔ عروج بے صبری سے بولی تو ہے جن کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں طوبی کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھیں وہ صارم کو گود میں لیئے منے صوفے پر براجمان کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی انہیں۔۔
    سوری طوبی یقین کیجئے یہ سب غلطی سے ہوا آپکے سامنے ہے آج جو کچھ ہوا ہم نے بتا دیا۔ ہم سچ مچ بہت ڈرے ہوئے تھے ہمیں لگا وہی صبح والا بال چور آیا ہے۔
    نور کی تو اب بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی سو الف ہی صفائی دے رہی تھی۔
    غضب خدا کا۔میری مت ماری گئ کہ آج پلائو بنایا افطاری کیلئے تو سوچا تم لوگوں کو بھی بھیجوں ایک بار کہا بس انکو سامنے پلیٹ دے آئیں تراویح پڑھنے جا رہے تھے ایک ذرا سا جو انکار کیا ہو فورا پلیٹ تھام لی ۔ اتنا سادہ معصوم ہے میرا میاں۔۔۔ اور تم لوگ اسے بال چور سمجھ بیٹھیں۔ طوبی غضبناک ہوئی۔۔ پھر سوچ میں بھی پڑی
    بال چور کیا ہوتا ہے؟۔
    وہ اس چور نے بس نور کے بال کاٹے اور وہ بال ہمیں ملے بھی نہیں تویقینا وہ بال چرا کر لے گیا ہے۔۔ ہم نے اسکا نام بال چور اسی لیئے رکھا۔
    عشنا نے تفصیل سے بتایا۔
    مگر چور بالوں کا کیا کرے گا؟ ۔الف کو اچنبھا ہوا۔
    ویسے کورین ڈراموں میں دکھاتے ہیں نا شمن جو ہوتے وہ بالوں کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا پڑھتے۔ عشنا کو خوب معلومات تھیں سو اس نے جھاڑنا ضروری سمجھا۔ الف نے قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا۔
    بال چور۔ طوبی نے ذہن میں کڑیاں ملائیں۔ ان تینوں پر نظر ڈالتے نور پر نگاہ گئ وہ شرمندہ سی ہو کر نظر چرا گئ۔ ہاتھ میں پکڑی قینچی۔ اس نے دونوں ہاتھ جھٹ پیچھے کر لیئے۔ طوبی کی پرسوچ نگاہیں اسکی جاندی جیسی فرینج پر تھیں۔
    ایک لٹ تو اس نے نور کی لے لی اور دوسری۔
    باآواز بلند سوچتے اسے جھٹکا لگا تو جھٹ اٹھ کھڑی ہوئی۔ صارم اسکی گود سے گرتے گرتے بچا اسکو کمر پر سنبھالتی اس نے دوڑ لگا دی تھی رخ داخلی دروازے کی۔جانب تھا عشنا الف نور کچھ نہ سمجھتے پیچھے دوڑیں مگر طوبی کو اپنے میاں کئ اس لٹ کی حفاظت کرنی تھی جو نور کی بدولت انکے سر سے الگ ہو کر بے یارو مددگار دروازے کے باہف
    زمین پر پڑی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دسویوں قسط کا اختتام۔۔

    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 9

    قسط 9
    دروازہ کھٹکا کر وہ تھوڑا سا ہٹ کر کھڑی ہو گئ تھی۔ کیونکہ دروازے پر ایک بڑی سی مکڑی لٹک رہی تھی۔
    مانا گھر کے باہر کا حصہ ہے مگر صفائی ہی کرلیتا ہے بندہ۔ دیوار سے لگ کر فاطمہ نے کوفت سے سوچا تھا۔
    بیل دیئے تقریبا 5 منٹ ہو چکے تھے اس نے عشنا کے موبائل میں وقت دیکھا۔ وال پیپر پر لی من ہو مسکرا رہا تھا
    اف۔ ایک یہ الگ مصیبت۔ وہ جھلائی صبح کا واقعہ ذہن میں تازہ ہوا۔۔
    اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیڈ پر گر چکا تھا مگر وہ اتنی خوش قسمت نہ تھی کہ بیڈ پر گرتی نتیجتا بیڈ کا کنارا پیٹ میں لگا تھا گھٹنے سیدھا زمین میں۔ آہ۔۔ وہ کراہ کر گھٹنا سہلاتی بمشکل اٹھی ٹٹول کر فون کان سے لگایا
    انی خیریت تو ہے چیخی کیوں؟ عشنا پریشان پوچھ رہی تھی فاطمہ بھناگئ۔
    تم بتائو میں خود کو کیسے کال کر رہی ہوں اور تمہارا موبائل میرے ہاتھ میں کیا کررہا؟
    فاطمہ بھنائی تو وہ کھسیا کر بولی
    وہ صبح نکلتے ہوئئ غلطی سے سائیڈ ٹیبل سے آپکا فون اٹھا لائی سوری۔ میں بس کلاس آف ہوتی ہے تو گھر آتی ہوں ہاں وہ سیہون بار بار فون کر رہا ہے کہہ رہا کہ آپ سے کام ہے میں نےاسکا نمبر میسج کیا ہےدیکھ لیں ۔۔ کہتے ہی ٹھک بند فون ۔۔
    ہیلو ہیلو۔۔ عشنا۔ ہائیں۔ فاطمہ موبائل گھور کر رہ گئ۔
    پیٹرن بنا ہوا تھا اسکے موبائل پر درجن دفعہ بھی دیکھ لے تو کھول نہیں سکتی تھی پے در پے تین میسج آئے ۔
    اس نےجھلا کر اسے فون ملانا چاہا اپنے نمبر پر تو پیٹرن منہ چڑانے لگا۔۔
    نفسیاتئ ۔۔ نفسیاتئ ہیں سب یہاں کوئی نارمل نہیں۔ وہ بیڈ کا سہارا لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نفسیاتی نہیں کسی پاگل کا کام ہوسکتا۔ میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ جق میرے بال کاٹ دیئے۔ اب میں یونیورسٹی کیسے جائوں گی اس ہیئر اسٹائل کے ساتھ۔
    آئینہ دیکھ دیکھ کر نور کے بین جاری تھی۔
    تم تو عبایا کرکے جاتی ہو کسی کو کیا پتہ چلنا ۔ عروج جمائی لیتی ہوئی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی تو نور نے بھی اپنا کدو جیسا سرہلایا۔
    وہ تو ٹھیک مگر گھر میں تو عبایا نہیں پہن کر پھرتی ہوں میں تم لوگ تو دیکھو گی، مزاق اڑائیں گی سب میرا۔ آن ۔۔۔۔۔۔
    دیکھو کیسی لگ رہی ہوں ۔۔ نور نے پلٹ کر الف سے پوچھا تو وہ اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے بڑ بڑائی
    عجیب۔بلکہ عجیب ترین
    عروج اور نور نے باقائدہ منہ کھول کر اسے دیکھا تو وہ اپنے ہی دھیان میں موبائل انہیں دکھا کر بتانے لگی
    دیکھو کیا عجیب اسکرہن شاٹ بھیجا ہے فاطمہ نے۔ ایل اور اے ساتھ 1 2 3 بھی سمجھ نہیں آیا۔
    فاطمہ گھٹنا سہلاتی کمرے میں داخل ہوئی
    یار عروج میرا نمبر ملائو عشنا کی بچی میرا موبائل لے گئ ہے اپنا چھوڑ گئی ہےاور اسکے موبائل میں پیٹرن لگا۔۔
    بولتے بولتے نور پر نظر پڑی تو باقی جملہ منہ میں رہ گیا۔ بے ساختہ ہی دو قدم پیچھے ہو کر دل پر ہاتھ رکھ گئ
    تمہیں کیا ہوا۔ ۔۔
    آں ہاں۔۔۔۔۔۔۔نور نے دوبارہ تان بلند کی جبکہ الف سمجھ کر اپنا موبائل اسکو دکھانے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھڑی کھڑی تھک گئ تو اپنا بیگ دیوار سے لگا کر اسی پر بیٹھ کرعشنا کے موبائل میں کوریائی کچھ جملے جو اس نے عروج کی مدد سے ڈائونلوڈ کی گئ ایپ سے سیکھے تھے انکو دھرانے لگی۔ جو اسے ان کونسلروں کو سنانے تھے تاکہ وہ شک نہ کریں اس پر۔
    پھر جانے کب آنکھ ہی لگ گئ۔
    اپنی ہی دھن میں تیز تیز قدموں سے چل کر آتا سیہون اپنے فلیٹ کے آگےپڑی بوری سے ڈر کر دو قدم پہچھے ہو۔
    آہش۔ ۔۔۔۔
    سیہون کے ساتھ آئی خاتون بھی اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یونیورسٹی سے نکلتے وقت موسم ابر آلود تو تھا ہی اب باران رحمت بھی برسنے لگی۔ اپنے اسٹاپ پر اتر کر اس نے شکر کیا کہ پھوار تیز نہیں پاس چھتری تک نہیں تھی اسکے۔
    میں بھی کورین آہجومہ بن گئ ہوں۔ چھتری لیئے بنا ایسے موسم میں نکل آئی ہوں۔ مجھے تو قسمت بھی ایسی کہ کوئی اوپا نہیں ٹکرنے کا بس یہ چھوٹا بلا پیچھے پڑا ہے۔
    اس نے بیگ کو کندھے پر بدلتے ہوئے موبائل کو گھورا۔
    انی میں اسٹاپ پر ہوں آپ کہاں ہیں؟
    ہےجن کا پیغام۔۔
    جھوٹا۔وہ چلتے چلتے اسٹاپ سے تھوڑا آگے ہو گئ تھی سو مڑ کر دیکھا تو اسٹاپ پر بس ایک ادھیڑ عمر عورت بارش سے بچنے کو شیڈ میں بیٹھی تھی۔
    کوئی ضرورت نہیں اسٹاپ پر رکنے کی میں گھر پہنچنے والی ہوں۔
    اس نے میسج لکھا پھر جھوٹ لگا تو مٹا کر موبائل عبایا کی جیب میں ڈال لیا۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی وہ ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز اپنی دھن میں چل رہی تھی۔ مین روڈ سے اپنی عمارت کی جانب ذیلی سڑک پر مڑتے ہوئے اس نے بالکل بھی دھیان نہ دیا کہ آج موسم کی وجہ سے کچھ ذیادہ ہی سنسانی سی تھی۔۔
    ہائے کتنے دن ہو گئے ہم کہیں گھومنے نہیں گئے۔ عزہ اداس سی ہوگئ۔ رمضان میں کسی میں ہمت ہی نہیں ہوتی بس عید پر واعظہ سے کہوں گی ہم دوبارہ سمندر کنارے جائیں گے۔
    اس نےسوچ کر چٹکی بجائی۔
    سارے رمضان ثواب کما کر عید پر سمندر کنارے جا کر گناہوں کی ٹوکری دوبارہ بھر لینا۔
    واعظہ کا خیالی پیکر اسکے کندھے کے پاس سے بولا تھا۔
    اوہ۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔ عید پر تو نہیں چلو پھر عید پر امیوزمنٹ پارک چلیں گے۔ اس نے فورا خیال بدلا اور فون نکال کر اس خیال کو سکھیوں کے ساتھ بانٹنے لگی مگر فون پر دس کے قریب پیغامات تھے۔ سب کے سب ہے جن کے۔
    نونا کہاں ہو ؟
    مجھے ایک لڑکی ۔۔
    اس نے اتنا ہی پڑھا تھا کہ کسی نے اسکے منہ پر سختی سے رومال جمایا وہ بھونچکا سی ہوئی مگر رومال میں یقینا بے ہوشی کی دوا تھئ کہ کیا اسکا ذہن تاریکی میں ڈوبنے لگا۔ مگر مکمل بے ہوش ہونے سے قبل اسے ہے جن کے چیخنے کی آواز آئی تھی اسے ہی پکار رہا تھا وہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لڑکی اسے سیدھا اندر لے آئی تھی۔ اندر ماحول ہی کچھ اور تھا ایک جانب بڑا سا اسٹوڈیو جسکا سیٹ اسے جانے کیوں جانا پہچانا لگا۔ وہ پہچان لیتی اگر اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی وہ آہجومہ اسے موقع دیتی۔ اس نے سیدھا اسے لابی میں گھما پھرا کر ایک بڑے سے دفتر میں لا کھڑا کیا تھا۔ ایک خوبصورت سی کوریائی آہجومہ شان سے کرسی پر براجمان فون پر بات کررہی تھی اسے دیکھ کر کچھ کہہ کر فون جھٹ بند کر دیا۔
    یہ لیں آگئ ہیں یہ موصوفہ۔ وہ آہجومہ تعارف کراایسے رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو پکڑو جانے نا دینا۔
    آننیانگ۔ واعظہ نے کوریائی انداز میں جھک کر سلام کیا۔
    جوابا وہ مسکرا کر جواب دیتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔
    دو کپ چائے لے آئو۔
    آندے۔ وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔ کوریائی قہوہ پی کر اسے منہ کا ذائقہ خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ دونوں خواتین اسے حیرت سے دیکھنے لگیں تو اس نے جلدی سے بات بنائی۔
    وہ آج گرمی ہے نا تو جوس پسند کروں گی۔
    اس نے کہا تووہ خاتون مسکرا دیں۔ اپنی اسسٹنٹ کو جوس لانے بھیج کر فرصت سے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
    کبھی ایکٹنگ کی ہے؟ در اصل تمہاری ایجنسی نے تمہاری جو تفصیلات بھیجی تھیں اس میں تمہارے اپنے ملک میں کافی ڈرامے کرنے کا درج تھا۔عرب انٹرٹینمنٹ میں شائد ابھی بھی کوئی ڈرامہ چل رہا ہے تمہارا۔
    جی واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
    میں عربی نہیں ہوں نہ ہی کوئی اداکارہ۔ میرا خیال ہے آپکو غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ میں تو یہ ٹیکو کیئر میں انٹرویو دینے آئی ہوں۔
    اس نے مزید کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کیلئے کارڈ نکال کر انکی جانب بڑھایا۔
    آہجومہ نے اچنبھے سے دیکھتے ہوئے کارڈ پکڑا۔
    ٹیکو کیئر۔مگر یہ تو ٹیکو کیئر کا دفتر نہیں۔ یہ تو ٹی سی این کمپنی کا دفتر ہے۔ مشہور کیبل ٹی وی نیٹ ورک
    جی؟
    واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کی سانس پھول رہی تھی۔بھاگم بھاگ اسٹاپ پر پہنچنے کی وجہ سے۔چند لمحے تو سانس بحال کرنے میں ہی لگ گئے اسے۔ پیٹ میں بل پڑ رہے تھے وہ رکوع کے انداز میں جھکا سانس بحال کر رہا تھا۔۔اسٹاپ پر عزہ نہیں تھی بس ایک ادھیڑ عمر خاتون بیٹھئ تھیں
    آہجومہ پندرہ نمبر۔۔ بس ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔ آچکی ہے؟؟؟؟
    پھولی سانسوں سے اس نے بمشکل پوچھا تھا۔
    خاتون نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
    سیکی۔ شٹ۔ وہ کندھے پر بیگ ٹھیک کرتا سیدھا ہوا۔
    متلا شی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو وہ اسے موڑ مڑتی دکھائی دی۔
    آہش۔۔ اس نے دوبارہ دوڑ لگا دی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واقعی ۔۔۔
    پھر منہ کھول کر معاہدے کا کاغذ پڑھنے لگی۔
    یعنئ ایک قسط کے ملین وون۔ یعنی۔ وہ حساب کتاب کرتے ہی چکراسی گئ۔ نفیس سے فرنیچروالے اس بڑے سے دفتر میں وہ اور آہجومہ جنکا نام لی سونگ تھا بیٹھی تھیں۔ روایتی باس کی کرسی کی بجایے وہ اسے لیکر نرم سے صوفے پر آبیٹھی تھی ۔ اپنا مدعا بیان کرکے اب مسکرا کر اسکے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
    پر میں تو یہاں۔۔ اس نے تھوک نگل کر کچھ کہنا چاہا مگر اس لڑکی نما عورت جو کم ازکم بھی اسکی امی کی عمر کی ہوگی مگر اتنی نازک اور حسین ۔۔
    میں جانتی ہوں مگر مجھے عربی نقوش کی لڑکی چاہیئے ہمارے ڈرامے کی ڈیمانڈ ہے یہ ۔ہم عربی فوک داستان کا اور کوریائی فوک داستان کا فیوژن بنا رہے ہیں۔ ہم یوں تو کسی بھی عربی اداکارہ کو چن لیتے لیکن ہمیں نیا چہرہ اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والی لڑکی درکار ہے۔ تم سوچ لو پیسے بہت ملیں گے۔ کم ازکم ایک انٹرنی سے تو ذیادہ۔
    تم فورا فیصلہ نہ کرو۔ یہ کمپنی ہمارے دفتر کے بالکل مخالف مغربی سمت میں ہے۔چاہو تو وہاں بھی قسمت آزما سکتی ہو۔ یہ میرا کارڈ ہے۔ مجھے کل شام تک سوچ کر بتا دینا۔
    وہ نرم سے انداز سے اسے کارڈ پکڑاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
    کوریا کی چوٹی کی ہدایت کارہ ٹی سی این کی مینجنگ ڈائریکٹر۔ اور ڈرامہ ںیٹ فلکس کے تعاون سے بن رہا ہے۔
    اسے کارڈ دیکھ کر ہی اپنا آپ کوریا کا سپر اسٹار لگنے لگا تھا ریڈ کارپٹ پر اونچئ ایڑھی کی سینڈل پہن کر ٹک ٹک کرکے لمبی سی سرخ میکسی میں چلتی واعظہ اپنے پرستاروں کو ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دے رہی تھی۔ اسکے بال کٹ چکے تھے چھوٹی سی باب کٹنگ اور ماتھے پر فرینج ۔۔
    اس نے پریشانی سے پیشانی چھوئی۔ اسکے بالکل مقابل ہے جن آکر ایک لمبی سی بالوں کی لٹ لہرا رہا تھا۔
    بس میں زور دار جھٹکا لگنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔
    اس نے چونک کر کھڑکی کے باہر دیکھا تو اسکا اسٹاپ آچکا تھا۔وہ جھٹ اپنا بیگ سنبھالتی بس سے اتری تھی
    عزہ ذیادہ ہی سوچتی ہے۔ ان بچوں کے اسکولوں میں فینسی ڈریس شو ہوتے رہتے ہیں لڑکی بن رہا ہوگا تو ایکسٹینشنز خرید لایا ہوگا۔ کتنی لمبی کہانی لکھ بھیجی مجھے ہے جن نے جانے کس کے بال کاٹ دیئے۔
    اسے سوچ کر ہی ہنسی آگئ۔بھلا ہے جن ایسا کر سکتا؟وہ پاگل تھوڑی ہے۔
    اس نے ذرا سا سر اٹھایا تو وہی ہے جن پاگلوں کی طرح سڑک پر بھاگتا دکھائی دیا۔
    یہ ۔ اسے لگا مغالطہ ہوا ہے اسے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کو بھی لیکر جائییے گا میں اسے بلا کر لاتی ہوں
    میاں کو نہا کر سفید کڑ کڑاتا کرتا پہن کر نکلتے دیکھ کر اس نے دل ہی دل میں بلائیں لے ڈالیں تھیں۔
    کنگھئ کرتے دلاور کے ہاتھ اسکی بات پر ٹھٹکے
    میں لے تو جاتا ہوں مگر اسے نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کروں گا آج بھئ۔ وہ وہاں جا کر قرآن کا انگریزی ترجمہ کھول کر پڑھتا رہتا ہے جتنی دیر میں نماز پڑھتا ہوں اور کل تو سورہ النساء پڑھتے اتنا مگن تھا کہ میں نے اسے چلنے کو کہا تو کہتا ہے آپ جائیں میں بعد میں خود چلا جائوں گا۔
    وہ ہرگز بھی متاثر ہونے والے انداز میں نہیں بتا رہے تھے مگر طوبی بے طرح خوش ہوگئ تھی۔
    ہے جن کو میں پکا مسلمان بنا لوں گی۔ دیکھنا آپ۔ طوبی نے عزم سے دلاور کو بتایا۔
    مسلمان ہونا صرف یہ نہیں کہ وہ تمہارے ساتھ مروت میں خطبہ سن لیتا یا میرے ساتھ تمہارے زبردستی بھیجنے پر مسجد چلا جاتا ہے۔ ایک پورا نظام زندگی ہے طوبی۔ یہاں کے بچے جس آزادانہ زندگی کے حامل ہیں وہ کیونکر مسلمان ہوکر پابندیوں سے پر زندگی اختیار کرے گا؟
    دلاور نے اسکے سر پر انڈوں کی ٹوکری توڑی تھی
    ہاں تو مسلمان باپ ہے اسکا اسکی رگوں میں خون تو مسلمانوں کا ہے۔ اس کا دل بدل سکتا ہے۔
    طوبی کا انداز ضدی ہوا۔
    یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ اس باپ کو خیال کرنا چاہیئے نا جس نے اپنی اولاد کو چھوڑ رکھا ہے نہ بیٹی پاس نہ بیٹا۔مجھے تو یہ فیملی ہی سمجھ نہیں آئی اگر ماں مسلمان نہیں ہوئی تھی تو شادی کیوں کی؟ دو بچے بھی ہوگئے ماں کا دل نہ پگھلا بیٹی کیلئے وہ باپ کو دے دی خود بیٹا رکھ لیا ۔ باپ کو فرق بھی نہیں پڑا بیٹا غیر مسلم ہوگیا باپ سے الگ ہو کر کیا انڈین ڈرامے میں ٹوئسٹ ہوتے ہیں جو انکی کہانی میں ہیں۔
    دلاور الجھن بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ مگر طوبی نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی
    ایک۔یہی مسلئہ ہے آپ مردوں میں ہر بات پر شک رہتا ہے ہر کسی کو تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بھئ مرد تو شادی کر سکتے ہیں غیر مسلم سے بھی۔
    طوبی نے کندھے اچکائے
    غیر مسلم سے نہیں صرف اہل کتاب سے وہ بھی جو کافر نہ ہوں ۔اور کفر ہوتا ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ اور۔فی زمانہ ایسا عقیدہ رکھنے والے اہل کتاب بھی ناپید ہو چکے ہیں۔
    دلاور نے جتانے والے انداز میں تصحیح کی تو کمرے سے نکلتی طوبی نے سر جھٹکا
    بھئی جو بھی ہو ہے جن کے والد نے جو بھی غلطی کی مجھے سروکار نہیں مجھے تو اس بچے میں سچ مچ اپنا چھوٹا بھائی نظر آتا ہے میں اسے جہنم کا ایندھن تھوڑی بننے دوں گی۔
    اپنے دل ہی دل میں مصمم ارادہ کرتی وہ اپنے فلیٹ سے باہر نکل آئی رخ سیدھا واعظہ کے اپارٹمنٹ کی جانب تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دور سے اس نے اس کالے شیشوں والی واکس ویگن کو نہایت دھیمی رفتار سے عزہ کے موڑ مڑتے ہی اسٹارٹ ہوتے اور اسی موڑ کی جانب مڑتے دیکھا تو قدموں میں بجلی کی سی تیزی دوڑ گئ۔ پوری جان لڑا کر وہ برستی بارش کی پروا نہ کرتے ہوئئ دوڑ پڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام ۔۔۔۔
    جاری ہے۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 8

    دیسی کمچی قسط 8
    نور کا آج چھٹی کا ارادہ تھا۔ الف کی آج کلاس ہی نہیں تھی۔ عشنا تیار ہو رہی تھی اسے دیکھ کر بھی عزہ کو تحریک نہیں مل رہی تھی کہ اٹھ کر تیار ہو جائے۔ واعظہ انکے کمرے کی غیر معمولی خاموشی دیکھ کر اپنا لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھی ۔۔ لائونج میں ہے جن منے صوفے پر بیٹھا تیار یونیفارم پہنے جوتے کے تسمے باندھ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر فورا خوشگوار انداز میں آننیانگ کہا وہ بھی جوابا مسکرا دی۔
    ناشتہ کرکے جانا ہےجن۔۔ یہ اسکی روزانہ کی۔تاکید تھی اس نے سر ہلا دیا مگر آج اس نے ناشتہ نہیں کرنا تھا یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا ورنہ وجہ بھی بتانئ پڑتی سو ایک چپ سو سکھ کے مصداق تسمے باندھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ واعظہ عروج کے کمرے میں گھس چکی تھی۔ عشنا کو دیر ہو رہی تھی سو جلدی سے فاطمہ کی سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھاتی تقریبا بھاگتی ہوئی باہر نکلی۔
    نونا۔۔ پیچھے سے ہے جن نے جانے کیا کہنا چاہا مگر اسکے پاس وقت نہیں تھا یہ بھی نوٹ نہ کیا کہ دروازے کا لاک تک اسے آج کھولنا نہیں پڑا تھا وہ تیزی سے اسے بھیڑ کر بھاگ کر لفٹ میں داخل ہوئی۔کوئی اس سے بھی تیزی سے برابر والی لفٹ میں سے نکلا تھا۔
    عروج اپنے بستر پر پڑی باقائدہ خراٹے لے رہی تھی۔ نور اور الف بھی گھوڑے بیچ کر سو رہی تھیں۔ عزہ نے آہٹ پر کمبل سے گردن باہر نکال کر اسے دیکھا۔۔
    کیا بات ہے یونیورسٹی نہیں جانا کسی نے؟
    واعظہ قریب آکر آواز دبا کر پوچھ رہی تھی۔
    جانا تو چاہیئے۔ مگر یہاں گرمیوں میں اتنی سردی کیوں پڑی ہے۔۔
    عزہ ہونٹ لٹکا کر پوچھ رہی تھی۔
    تاکہ سردیوں میں شدید سردئ پڑ سکے۔
    واعظہ اور کسی بات کا جواب نہ دے ۔ عزہ اسکو دیکھ کر رہ گئ۔
    ناشتہ کرنا ہے؟ واعظہ نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا
    وہ جو منکر نکیر کیٹر پلر باہر ہوتا ہے نا اسکے ہوتے میں کر سکتی۔ عزہ نونا رمضان چلا کر پوری دنیا کو بتا دے گا میں نے روزہ نہیں رکھا۔
    وہ شدید چڑے ہوئے انداز میں بولی تو آواز بلند ہو گئ۔واعظہ ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خوفزدہ نظروں سے تینوں کی جانب دیکھنے گئ۔جبکہ تینوں سوئی لڑکیوں نے کسمسا کر بڑ بڑا کر حسب توفیق صلاواتیں سنائیں
    سرپر بڑ بڑ مت۔ الف سوتے میں اتنا ہی بڑ بڑا سکی اور جملہ مکمل کیئے بغیر دوبارہ نیند میں گم ہوگئ
    نور کی آنکھ کھل ہی نہ پائی دس منٹ پہلے جو عزہ نے کندھا ہلا کر پوچھا تھا تو اپنا ہی۔جواب دوبارہ دہرا دیا
    سونے دوووو۔۔۔ مت تنگ کرو۔۔ نہیں جانا بس ایک کلاس ہے میری۔۔۔ نشر مکرر عزہ سر جھٹک کر رہ گئ
    ماں سے مل لو پلیز بیمار ہے وہ۔۔
    عروج خواب میں منتیں کر رہی تھی
    ماں سے یاد آیا۔ ابیہا کی امی کی خیریت پوچھنی چاہیئے ہمیں۔۔
    عزہ کو یاد آیا۔
    کل فون کیا تھا مگر اس نے اٹھایا ہی نہیں چلو اٹھو اگر جانا ہے میں ہےجن سے کہہ دیتی ہوں اسٹاپ تک چھوڑ آئے۔۔
    واعظہ الف کا کمبل برابر کرتے ہوئے سر گوشیانہ انداز میں اسے کہہ رہی تھی۔
    جیسے اسکے پاس تو مرسیڈیز بنیز ہے ۔۔ موٹر سائیکل تک تو ہے نہیں۔ عزہ منہ بنا کر کمبل ایک طرف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    پھر بھی آج اکیلی جائو گی؟ الف اور نور تو نہیں جا رہیں
    ؟ واعظہ کو فکر ہوئی
    اچھی بات یے۔ میرا عبایا میلا ہورہا نور کا اڑاتئ ہوں عزہ چٹکی۔بجا کر بولی۔ پھر جتانے والے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھتی واعظہ کی جانب مڑی
    میڈم ایک تو میں کوئی چھوئی موئی لڑکی نہیں ہوں دانت توڑ سکتی کوئی میری جانب آنکھ اٹھا کر دیکھے تو۔ دوسرا یہ سیول ہے پاکستان نہیں جو مجھے اکیلے دیکھ کر کوئی چھیڑے گا۔۔اسکا انداز زعم بھرا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دروازہ پورا کھولتے ہی کوئی نرم سی چیز اسکے اوپر آن گری
    ہایش۔۔ وہ بری طرح ڈر کر پیچھے ہوا۔
    لمبا سا کالا کپڑا جیسے دروازے پر ٹکایا ہوا تھا اسکے کھولتے ہی اس پر آن گرا۔
    آہش۔ یہ نونا کا۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھانے لگا تو کپڑے میں کوئی چیز بندھئ ہوئی تھی جیسے۔ اس نے تجسس سے اس گٹھری کو کھولا تو ایکدم دل اچھل کر جیسے حلق میں آگیا۔
    ایک چھوٹی سی پرچی بھی تھی
    اوہ۔ چھوٹی مخلوق یہاں کیوں اکڑوں بیٹھی ہو ؟ قدموں کے نیچے آکر کچلے جاتے ابھئ۔
    عزہ اسے دہلیز پر اکڑوں بیٹھا دیکھ کر شرارت سے کہہ رہی تھی۔ اس نے اسکی آواز سنتے ہی جلدی اس کپڑے کو دوبارہ لپیٹ لیا پرچی مروڑ کر جلدی سے جیب میں ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا
    یہ کیا ہے؟ تم نے عبایا پہننا شروع کردیا۔؟
    اسے کالا کپڑا اپنے پیچھے کرتے دیکھ کر اسے تجسس ہوا۔
    آنیا۔۔ ( نہیں) وہ یہ۔ وہ گڑ بڑا سا گیا۔
    جھوٹ نہیں بول سکتا۔ کیا کروں؟
    وہ ہنگل میں بڑ بڑایا۔
    دیکھو لڑکے اگر تم نے سیگریٹ ویگرٹ شروع کی نا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا دکھائو مجھے کیا چھپا رہے۔ عزہ کے اندر کی بہن انگڑائی لیکر جاگ اٹھی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی
    آنیو۔۔ وہ گڑ بڑا کر پیچھے ہوا۔
    تم لوگوں نے دروازے پر کیا تھیٹر لگایا ہوا ہے۔۔ واعظہ نےاپارٹمنٹ کے دروازے سے نکلتے ہوئے دونوں کو ٹوکا۔
    امی یہ دیکھو جانے کیا چھپا رہا ہے۔۔ عزہ نے کہا تو عموما واعظہ جو انکی چھیڑ چھاڑ سہہ جاتی تھی اس وقت تنک کر بولی
    امی ہوگی تم خود میں ہنستی رہتی ہوں تو تم لوگ مزاق بنائے چلے جاتے ہو۔ کبھی لغت کبھی امی ۔ بہت ڈھیل دے دی ہے میں نے تم لوگوں کو۔
    واعظہ خالص کوریائی آہجومہ کی۔طرح چلاتی سچ مچ امی ہی لگی تھئ۔ دونوں مئودب ہوئے۔ گو اس نے کہا اردو میں ہی تھا مگر ہے جن کو سمجھ نہ آنے کے باوجود اپنی بہتری اسی میں لگی کہ بیبا بچہ بن جائے
    آٹھ ہو رہے ہیں دیر نہیں ہو رہی تم لوگوں کو۔ اس نے رعب سے کہا تو دونوں لفٹ کی جانب بھاگے۔
    میرے لیئے بھی لفٹ روکنا ذرا ۔ واعظہ بھی انکے پیچھے بھاگ اٹھئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نسیم صبح موسم بادلوں میں ڈھکا آسمان بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔ بیگ لٹکائے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے وہ دونوں بس اسٹاپ کی جانب رواں تھے۔ انتہائی رومانوی سیر ہوتی جو اگر اسکے ساتھ چلتا احتیاط سے اردگرد کے ماحول پر نگاہ ڈالتا اوپا اس سے عمر میں چھوٹا نہ ہوتا
    عزہ نے تیکھی نگاہ ڈالی۔ ہے جن کا پروٹیکٹیو موڈ آن تھا وہ بھی جانے کیوں۔ ؟ شانوں پر بیگ لٹکائے وہ اس سے اتنا قدم سے قدم ملا کر کیوں چل رہا تھا؟ اسکو تو دیر ہو رہی ہوگی اسکول سے۔؟ اور سب سے بڑھ کر اس نے تو بس سے جانا ہی نہیں تھا۔۔ عزہ کے ذہن میں جھماکا ہوا
    وہ رکی۔ ہے جن اس سے ایک قدم آگے ہو گیا تھا۔ تفتیشی نگاہوں سے اس نے ہے جن کی پشت کو سرتاپا گھورا ۔۔ عام سا گرے پیںٹ سفید شرٹ والا یونیفارم کندھوں پر لٹکا کالا بیگ۔جس پر کورین میں کچھ گٹ پٹ لکھا تھا۔ بیگ سے جھولتے ڈھیر سارے کی رنگز ایک اسپآئڈر میں ، اور لٹ۔ صاف ستھرا چمکتا ہوا یونیفارم۔ اس کی نگاہ چمکتے سفید اسنیکرز پر پڑی جو دیکھتے ہی دیکھتے گھوم چکے تھے اب جوتوں کی ایڑھی بجائے پنجا انکے سامنے تھا۔ وہ چونکی۔ جھٹ اوپر نگاہ کی ہے جن اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
    کیا ہوا رک کیوں گئیں؟۔۔ اس نے حیرت سےپوچھا
    کچھ نہیں۔ وہ سنبھل کر اپنا بیگ سنبھالنے لگی۔
    تم کس خوشی میں اسٹاپ پر جا رہے ہو تمہارا اسکول تو اس طرف ہے۔
    اس نے ہاتھ کے اشارے سے مخالف سمت میں اشارہ کیا۔
    وہ واعظہ نونا نے کہا تھا آپکو اسٹاپ تک چھوڑ آئوں۔
    وہ جیسے اس جواب کیلئے تیار تھا۔۔ چلتے چلتے بس اسٹاپ بس آہی گیا تھا۔
    کب کہا تھا ؟ اسے حیرت ہوئی۔۔ اور کیوں کہا؟ میں بچی تھوڑی ہوں روز آتی جاتی ہوں تم کیوں دیر کر رہے ہو تمہارا اسکول لگنے والا ہوگا جائو اب ۔ اسے غصہ آنے لگا
    پھر کہتئ ہے امی نہ کہو۔ ایسے تو میری امی بھی کبھی۔۔ تم جائو بس آگیا بس اسٹاپ۔۔
    اسکے اندر کی ضدی بڑی بہن انگڑائی لیکر بیدار ہوئی۔
    نونا آپ کی بس آتی ہوگی آپ سوار ہو جائیں تو چلا جائوں گا
    وہ سہولت سے کہہ رہا تھا۔تبھی اسکا موبائل بجا تو ذرا سا رخ موڑ کر وہ فون اٹھانے لگا۔ اس نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ اسکی مطلوبہ بس سامنے سے آرہی تھی۔ بس اسٹاپ پر انکے دونوں کے علاوہ کئی طلبا ء یونیفارم پہنے کھڑے تھے ایک لڑکی نے ہنستے ہوئے اپنے بال پیچھے کیئے تو عزہ کے ذہن میں جھماکا سا ہوا اس نے پلٹ کر دیکھا ہے جن رخ موڑے فون پر بات کر رہا تھا اسکی جانب پشت تھی۔۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسکے بیگ کی ادھ کھلی زپ سے جھانکتے اس شاپر پر جھپٹا سا مارا۔ اور سرعت سے کندھے سے بیگ اتارا اور اپنا ہاتھ اسکی آڑ میں کر لیا۔ ہے جن نے مڑ کر دیکھا تو وہ بس کی جانب اشارہ کرکے بولی۔
    میں جا رہی ہوں ہےجن خدا حافظ۔
    ہے جن نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔وہ ابھی بھی فون پر متوجہ تھا۔
    عزہ تیزی سے بس میں چڑھ گئ تو وہ اپنی راہ لینے لگا۔ بس میں چڑھ کر اس نے جلدی سے وہ چیز اپنے بیگ میں ڈال لی۔ اسکے ساتھ کھڑی لڑکی نے منہ بنا کر اسے دیکھا تھا
    کیا ؟ میرے ہیں پہلی بار دیکھے ہیں کیا؟ ۔عزہ تیز لہجے میں بولی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹیکو کیئر۔
    اس بڑئ سئ عمارت کے داخلی صحن میں کھڑے ہوکر اس نے ایک نگاہ اس پر اوپر سے نیچے تک ڈالی پھر تھوک نگلتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے کارڈ کو دوبارہ پڑھا۔ یہی پتہ تھا۔
    یہی ہے؟ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ کارڈ پر جتنی کم تفصیل لکھی تھئ اس سے تو وہ یہی سمجھی تھی کہ بس کوئی چھوٹی موٹی سئ آئی ٹی کی کمپنی ہوگی۔ مگر یہ چھوٹی ہو کر بھی ٹھیک ٹھاک انفرااسٹرکچر رکھتئ تھئ۔ اس نے گہری سانس لی۔
    اب یہ تو خالی آنا جانا ہی ہوگا۔ رکھ ہی نہ لیں مجھے ۔ویٹ۔
    وہ بڑ بڑاتے ہوئے چونکی۔
    ایم بی اے دیکھ کر مجھے انٹرنی تو نہیں رکھنے کا سوچ رہے مجھے جاب چاہیئے تھی سیہون کے بچے۔ انٹرن شپ نہیں۔ اس نے دانت کچکچائے۔
    پاس سے گزرتی منی اسکرٹ میں ملبوس لڑکی نے اسے اکیلے میں بڑبڑاتے دیکھ کر پاگل نہ سہی نفساتی ضرور سمجھا تھا۔ یہ اسکے چہرے پر لکھا تھا۔
    ویئو؟ وہ بھی جوابا خالص کوریائی انداز میں اسے دیکھ کر غرائی۔ آہجومہ نے قدم تیز کیئے سو اس نے بھی آہ بھرکر اندر کی۔جانب قدم بڑھا دیئے
    گلاس ڈور کھولتے ہوئے اسکا مزاج برہم سا تھا۔ دروازہ کے اس پار جگ مگ کرتی دنیا تھا۔ بڑا سا ریسیپشن جسکے دونوں اطراف پر عمارت کے اندر جانے کے دو بڑے حصے تھے۔ایک جانب تیکنیکی ڈیپارٹمنٹ تھا دوسری جانب ایچ آر ۔
    اس نے سیدھا اسی جانب بڑھ جانا چاہا جب ریسیپشن سے لڑکی نے پکار لیا۔
    محترمہ پہلے اپنی شناخت کرا لیجئے۔
    نرم سا انداز وہ سر ہلا کر ہاتھ میں پکڑی فائل جس میں سی وی اور دیگر دستاویزات تھیں سنبھالتی اسکی جانب بڑھی تبھی کسی نے کہنی سے اسے پکڑ لیا تھا۔
    اس نے جھلا کر مڑ کر دیکھا۔
    ادھر آئو کب سے انتظار ہو رہا ہے تمہارا۔ وہی چندی آنکھوں والی لڑکی دانت کچکچا کر بولی تھئ
    دے؟ وہ حیران ہوئی۔
    چلو میرے ساتھ۔ اس نے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور تکنیکی ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئ۔ اسکے ساتھ گھسٹتے ہوئے اس نے بتانا چاہا تھا کہ وہ تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیڈ وقفے وقفے سے لرز رہا تھا۔ دو تین جھٹکے تو وہ آرام سے سہہ گئ جب جھٹکے تواتر سے آنے لگے تو اسکی آنکھ کھلی تھی۔ کمرے میں وہ اس وقت تنہا تھی نہ عشنا تھی نا واعظہ باہر لائونج میں بھی خاموشی تھی۔
    زلزلہ۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
    الف نور عروج عزہ عشنا زلزلہ آرہا ہے ۔بیٹھ جائو۔
    وہ چلا چلا کر پکارتی ہوئی بیڈ سے نیچے کودی اور زور زور سے کلمہ پڑھنے لگی۔
    اسکے گھبرا کر چلانے پر الف کئ آنکھ کھلی تھی عروج کسمسائی نور غافل ہی پڑی رہی تھی۔
    الف نے ذرا سا اٹھ کر پرسکون سے اپنے کمرے کو دیکھا جس کی نا دیواریں ہل رہی تھیں نا ہی انکے بیڈ۔ پھر بھی مڑ کر ساتھ سوئی نور کا کندھا ہلانے لگی
    اٹھو زلزلہ۔ مندی آنکھیں بمشکل کھول کر اس نے نور کی شکل دیکھی تو حلق کے بل چلا اٹھی۔
    بیڈ سے اتر کر جب زلزلہ تھما تو اسے ہلکی ہلکی زون زون کی آواز بھی آنے لگی۔ آواز کے منبع کی تلاش میں اس نے سیدھا ہو کر بیڈ کو دیکھا تو یہ عشنا کا موبائل وائیبریٹ ہورہا تھا۔ فاطمہ کالنگ۔
    میں خود کو کال کر رہی ہوں۔
    وہ چونکی کال یس کی ہی تھی کہ الف کی زور دار چیخ سے دہل کر اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیڈ پر گرا تھا۔ اور وہ خود بھی ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کس نے کیا۔ نور رو دینے کو تھی ۔ اسکے بالکل سامنے سے ماتھے پر سے کسی نے فرنج کاٹ دی تھی۔ اسے۔آئینہ دکھاتی الف اس سے ذیادہ بھونچکا تھی
    عروج جمائی لیتی کڑی تفتیشئ نگاہ کمرے پر ڈال رہی تھی۔
    یہ یہ تم نے کیا ہے فاطمہ ؟ نور کو جانے کیوں اس پر شک ہوا۔ تم صبح چلا رہی تھیں۔ دیکھو یہ بالکل اچھا مزاق نہیں ہے۔
    انکے سرہانے مورل سپورٹ کی غرض سے کھڑی فاطمہ بھنائی۔
    مجھے کیا ضرورت تمہارے بال کاٹنے کی؟ کاٹنے ہوتے بھی تو میرا ٹارگٹ تمہاری بجائے۔ فاطمہ کہتے کہتے رک سی گئ۔ نگاہ الف پر تھی اس نے منہ بنا کر پہلو بدلانور نے روئے سخن الف کی جانب موڑا
    تو یہ تمہاری شرارت ہے الف ؟ کیوں کیا ایسا بھونڈا مزاق تم نے
    وہ اسکو کندھوں سے پکڑتے ہوئے رو دی۔
    خوامخواہ۔ وہ چیں بہ چیں ہو کر چھڑانے لگی۔
    مجھے خود صبح اتنا زور دار جھٹکا لگا ہے میرے برابر لیٹی تھیں تم میں تو پہچانی بھی نہ تمہیں فورا اور سچ کہوں تو بالکل سوٹ نہیں کر رہی تم پر یہ۔
    الف نے صاف گوئی سے کہا تو نور نے مزید تان بلند کی عروج اور فاطمہ اسے تاسف سے دیکھنے لگیں تو وہ گڑ بڑا گئ
    میرا مطلب ہے ایک سائیڈ پر مانگ نکال لو زرا سے تو بال ۔۔
    جملہ مکمل کرتے اسے مزید نقص امن کا اندیشہ لاحق ہوا تو ادھورا چھوڑ دیا۔
    تمہارا عبایا بھی غائب ہے۔ عروج کی تفتیش مکمل ہوئی تو اس نے ایک اور اطلاع دی۔
    کیا؟ نور سے ذیادہ زور سے الف چلائی تھی۔
    میرا عبایا یہاں اس کرسی پر رکھا تھا کل سوکھا نہیں تھا تو۔۔
    نور اچھل کر بیڈ سے اتری تھی اور عبایا کی تلاش میں کرسی کی۔جانب بڑھی مگر اب کرسی خالی تھی۔
    عبایا تو عزہ۔ الف کے منہ سے پھسلا پھر جلدی سے دانتوں تلے زبان دبا لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا آپکو چھٹی کب ہوگی
    اسے یے جن کا پیغام آیا تھا۔
    ہو گئ یے۔ نکل رہی ہوں یونی سے۔
    اس نے فورا جواب دیا تھا۔
    میں آتا ہوں آپکو لینے آپ وہیں رکیں۔۔۔
    اسکا پیغام آیا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی
    یہ منا سچ مچ بھائی بننے کے چکر میں ہے ذیادہ ہی فری ہو رہا ہے۔ اس نے غصے سے جلدی جلدی ٹائپ کیا
    کس خوشی میں؟ کوئی ضرورت نہیں میں بس سے گھر آرہی ہوں اور تم ذیادہ فالتو فکریں نہ پالو اپنے کام سے کام رکھو ۔
    اس نے میسج بھیج کر سانس لی تھی۔
    بھلا بتائو ذیادہ ہی ابا بن رہا ہے مجھے لینے آئیں گے موصوف ۔ وہ سر جھٹک کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
    بس میں اتفاق سے ںشست مل گئ تھئ۔ اس نے اطمینان سے بیٹھ کر موبائل دیکھا تین پیغام آچکے تھے
    کیا ہوا نونا؟ خفا ہیں
    میں چلیں بس اسٹاپ پر آکر آپکا انتظار کروں گا ٹھیک ہے؟
    مجھ سے کوئی غلطی ہوگئ کیا؟
    جواب کیوں نہیں دے رہیں۔
    پڑھتے پڑھتے وہ چونکی۔
    غلطی۔ اسکے دماغ میں کچھ جھماکا سا ہوا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام ۔۔۔۔
    ۔جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 7

    قسط 7
    آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ژیہانگ تھا۔ ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر پکڑے۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ژیہانگ نے اسے ہی شاپر پکڑادیا۔ برگر چپس اور جوس کا پیکٹ تھا۔ اس کھانا دیکھ کر احساس ہوا کہ پیٹ میں تو چوہے دوڑ رہے ہیں۔ پروگرام کے دوران روزہ افطار کرتے وقت تو بس ایک کھجور منہ میں ڈال لی تھی پھر دوبارہ مصروف ہو گئی تھئ۔ ارادہ یہی تھا چھٹی کے بعد گھر جا کر ایک ہی دفعہ کھائے گئ۔ چپس فرائیڈ تھے اچھی طرح پیک ہوئےجوس بھی مکس فروٹ تھا۔ اس نے چپس اور جوس نکالا اور شروع ہو گئ۔ کچھ پیٹ میں گیا تو حواس بحال ہوئے۔۔
    شکریہ ژی۔ اس نے جھٹ شکریہ بھی ادا کر دیا۔ اسکا نام اچھا خاصا زبان میں وٹ ڈال دیتا تھا سو سب اسے ژی ہی کہتے تھے۔
    ژیہانگ۔ اس نے برگر کھاتے ہوئے جتایا۔ وہ اسکے برابر ہی ایک نشست چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا
    ژیہانگ۔ اس نے صحیح تلفظ سے بولا تھا۔ وہ مسکرادیا۔
    برگر تو کھائو ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اس نے یاد کرایا ۔ الف سوچ میں پڑی۔ یوں صاف صاف کہنا نا مناسب تھا اسے شک۔تھا کہ برگر جانے حلال ہے کہ نہیں اب ژیہانگ لے کر آیا تھا اسکا یقینا احسان تھا۔
    کافی ہے ابھی کیلئے میرے لیئے اتنا۔ یہ گھر لے جائوں گی۔ اس نے مبہم انداز میں کہا۔ گھر لے جا کر جے ہن کو کھلا یا جا سکتا تھا۔ چپس صاف ہو چکے تھے جوس ختم ہوگیا تھا اور وہ کہہ رہی تھی ۔ ژیہانگ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔
    رمضان میں جھوٹ؟ اس نے جتایا۔ الف پوری گھوم گئ اسکی جانب۔ آنکھوں میں بے تحاشہ حیرت دیکھ کر وہ جتانےوالے انداز میں بولا۔
    کھا لو حلال ہے خاص کر مسلم ریستوران سے لیکر آیا ہوں جبھی اتنی دیر لگی مجھے۔ سارا دن روزے سے رہی ہو اب بے ہوش نہ ہو جانا بھوک کے مارے۔
    وہ دھیرے سے کہہ کر اپنا خالی ہو جانے والا جوس کا پیکٹ اور برگر کا ریپر شاپر میں سمیٹتے ہوئے اٹھا اور کچھ فاصلے پر رکھے ڈسٹ بن میں ڈالنے اٹھ گیا۔
    الف نے برگر کا شاپر نکالا تو اسکے ریپر کے ایک کونے میں حلال لکھا تھا۔
    ژیہانگ۔ اس نے جان کر بلند آواز میں کہا۔۔ وہ چونک کر پلٹ کر دیکھنے لگا
    شکریہ۔ اس نے کہہ کر بلا تکلف بڑا سا نوالہ لیا۔ واقعی بھوک میں اتنا بڑا برگر کہاں گیا اسے پتہ نہ چلا۔ البتہ کھا پی کر بے حد دل سے خدا کا شکر ادا کیا تھا اس نے۔
    سیہون کا مینیجر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا آیا اور دھاڑ سے دروازہ کھول کر کمرے میں گھس گیا۔ اسکے ہاتھ میں شائید سیہون کے کپڑے تھے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسکے پیچھے بھاگے۔
    سیہون کے سر پر دھماکے سے دروازہ کھلا تو لمحہ بھر اسے سمجھ بھی نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ مینیجر نے ساری بتیاں جلا دی تھیں۔اسے آنکھیں مسلتے اٹھتا دیکھ کر جلدی سے بولا
    چلیں شوٹ کروا لیں گاڑی آنے ہی والی ہے۔ پھر آپ اپنے گھر چلے جائیے گا۔
    کونسئ شوٹ۔ اسکی پیشانی پر کئی بل پڑے۔
    اس پروگرام کی؟ دونوں وی جے اورپروڈیوسر کے ساتھ تصویریں بنوا لیں پریس ریلیز جاری کرنی ہیں اور انسٹا گرام بھی اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اٹھیں دو گھنٹے ہوچکے ہیں ان لوگوں نے آپکو اٹھا یا ہی نہیں میں کہہ کر گیا تھا کہ جب تک گاڑی ٹھیک نہیں ہوتی شوٹ وغیرہ سب کروالیں۔ آپ نے بھی سارا وقت سونے میں برباد کردیا۔اور بھی کام ہیں مجھے ۔ اب مجھے بھی دیر۔۔
    یہ وہی مینیجر تھا جو سر جھکا کر سیہون کی ڈانٹ سن رہا تھا نیچے؟ الف کو اسکی چلتی زبان دیکھ کر یقین نہ ہوا۔ ایک تو کورین عام بات بھی ایسے کرتے کہ غصے میں لگتے اس وقت تو مینجر کے تاثرات بھی خاصے کڑے تھے۔ دروازے پر الف اور ژیہانگ کو دیکھ کر اسکی چلتی زبان کو فوری بریک لگی تھئ۔ سیہون بےز اری سے اٹھ بیٹھا۔
    نیند نے اسکو تازہ دم ابھی بھی نہیں کیا تھا مگرہاں کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔
    آپ یہ کپڑے پہن لیجئے۔۔ نہایت ادب سے جھک کر مینیجر اسے کپڑے تھما رہا تھا کہیں سے لگ نہیں رہا تھا یہ وہی بندہ ہے جو اکیلے میں قریب قریب سیہون پر چلا رہا تھا۔
    سیہون نے ایک نگاہ غلط بھی اس پر ڈالے بنا کپڑے تھامے اور ملحقہ باتھ روم میں گھس گیا۔ الف نے سوچا پھر ہاتھ میں پکڑا البم اسکے مینیجر کی جانب بڑھانے لگی
    یہ آپ سیہون کو دے دیجئے گا۔
    مینجرنے سرہلا کر البم تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ژیہانگ نے بیچ میں سے اچک لیا۔ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا
    میرا خیال ہے نیچے چلتے ہیں وہاں شوٹ کے بعد خود دے لینا یہ سیہون کو ذیادہ اچھا لگے گا۔۔
    سیہون کو پتہ نہیں اچھا لگے گا بھی نہیں ٹھیک ٹھاک تو مزاج برہم ہے اسکا۔
    الف مایوسی سے بڑبڑا کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون کوریا کے مشہور برانڈ کی شرٹ اور ڈریس پینٹ پہن کر چہرے پر نہایت خوشگوار مسکراہٹ لیئے شوٹ کروا رہا تھا۔ انکی ٹیم کے ساتھ تو شوٹ دس منٹ بھی نہیں لگے ہونگے مکمل بھی ہو گئ تھی اب نجانے کون کون سے پوز بنوا رہا تھا فوٹو گرافر۔ ذرا دیر کی بے زاری سے بالکل مختلف اس وقت سیہون ایک مکمل سیلیبریٹی کے روپ میں تھا۔نہایت متحمل مزاج اور خوشگوار سی شخصیت۔
    فوٹو گرافر اسکی ہر طرح ہر رخ سے تصویر لیکر اسکا شکریہ ادا کرنے لگا تو سیہون کےچہرے کی مسکراہٹ ویسے ہی غائب ہوئی تھی جیسے کسی نے بٹن دبا دیا ہو۔
    چلیں۔ مینجر مستعدی سے اسکو کوٹ پہنانے لگا۔
    چلو الف۔ ژیہانگ اسکے برابر ہی کھڑا تھا ایکدم اسے اپنے ساتھ آنے کا کہتا سیہون کی جانب بڑھا۔ الف حیرانگی سے اسکی پھرتی دیکھ رہی تھی۔ لمبا دبلا سا ژیہانگ لمبے ڈگ بھرتا سیہون سے جا ملا تھا۔ ہاتھ ملاتے ہوئے شستہ ہنگل میں جانے اس نے کیا کہا کہ سیہون مڑ کر اسے ہی دیکھنے لگا وہ خائف سی ہو کر سست قدم اٹھاتی انکی جانب بڑھی
    اسلام و علیکم۔
    اس سے قبل کے وہ سلام کرتی سیہون اسکے قریب آنے پر مسکرا کر سر جھکا کر بولا تھا۔
    جی۔ وہ بھونچکا سی رہ گئ۔ پھر گڑ بڑا کر وعلیکم السلام بولی
    ژیہانگ نے مجھے بتایا آپ پاکستان سے ہیں اور میری بڑی فین ہیں مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایکسو کو پاکستان میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔ بہرحال خوشی ہوئی جان کر۔
    شستہ انگریزی میں سیہون اس سے مخاطب تھا۔ الف اتنی حیران ہوئی کہ اردو انگریزی سب بھول گئ
    اس نے بڑے شوق سے آپکو دینے کیلئے البم بھی بنایا ہے دکھائو الف۔
    ژیہانگ اسکی کیفیت سمجھ کر مدد کو آیا۔
    اچھا واقعی؟ دکھائیں۔۔ سیہون جانے واقعی حیران و خوش تھا یا بن رہا تھا۔ الف اب شائد کبھی نہ جان پائے۔یہ سیلیبریٹیز بہت اچھے اداکار ہیں انکو اپنے تاثرات چھپانے میں ملکہ حاصل تھا۔
    آپکو دیر ہو رہی ہے۔۔ مینجر منمنایا ۔ عوام کے سامنے مینیجرز سے ذیادہ بے ضرر مخلوق کوئی نہ تھئ۔ الف کو اس وقت وہ ذہر لگ رہا تھا۔
    الف نے البم بڑھایا سیہون نے بڑے شوق سے اسکے ہاتھ سے لیا اور فورا کھول کر دیکھنے بھی لگا۔ اسکے ڈیبیو سے لیکر اب تک کی سب تصاویر تھیں یہاں تک کے اسکے بچپن کی بھی۔ بچپن کی تصویر پر اسکا صفحے پلٹتا ہاتھ رک سا گیا۔ اپنی بچپن کی تصویر دیکھ کر اسکی آنکھیں جھلملائی تھیں یا الف کو وہم سا ہوا۔ اس نے اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھا۔
    بہت اچھا تحفہ ہے یہ بہت شکریہ۔ مینجر ایک البم لے آئیں گاڑی سے۔
    سیہون نے البم بند کرتے ہوئے مینجر کو حکم دیا۔ وہ چیں بہ چیں ہوتا ہوا البم لینے چل دیا
    میں ابھی گھر جا رہا ہوں یہ البم دیکھ کر میری آہموجی اور آہپھا( امی ابو) مجھ سے بھی ذیادہ خوش ہونگے اس میں سے بہت سی تصاویر تو میں نے دیکھی بھی آج ہیں۔ بہت شکریہ الف۔
    نرم سے انداز میں بولتا ہوا سیہون ۔ الف فرط مسرت سے بے ہوش سی ہونے لگی۔
    ایک سیلفی ہم لے لیں میں جانتا ہوں آپ تنگ ہو رہے ہوںگے لیکن وہ آفیشل شوٹ تھی ہم دونوں اپنی بھی یادگار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں ۔
    ژیہانگ نے کہا تو وہ ہنس دیا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔
    بڑا سا شاپر لہراتی گنگناتی الف۔ اسٹاپ سے اپنی بلڈنگ تک آتے درجنوں مرتبہ بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ روکتی آئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا جیسے بچپن میں خوب خوش ہوکر بل کھاتی تھی اچھل اچھل کر کود کود کر بھاگتی تھی بالکل ویسے ہی بل کھائے۔ مگر۔۔ پھر بھی داخلی دروازے پر وہ گول چکر کھا ہی گئ۔ اپنی دھن میں لابی میں آگے بڑھتی فاطمہ سے بری طرح ٹکرائی دونوں اس حادثے میں الٹ کر گری تھیں۔ اسکے ہاتھ سے گر کر شاپر پھٹ گیا تھا سب چیزیں بکھر گئیں مگر الف چنداں بدمزہ نہ ہوئی
    سوری۔ ۔ مسکراتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا تو فاطمہ کو ہونٹ بھینچے گھورتا پایا۔ اسکی مسکراہٹ سمٹ گئ۔
    سوری۔۔۔ وہ سنجیدہ سی ہو کر اکڑوں بیٹھ کر چیزیں سمیٹنے لگی۔
    ایکسو کی سائینڈ البم اس نے جھٹ جھاڑ کر سینے سے لگا لی۔ جیسے پتہ نہیں کتنی متبرک چیز گرا دی ہے۔ فاطمہ کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی تھی۔ ایکسو کی مرچنڈائز ، ایکسو کا پین ،کسٹمائز ڈائری ، کی چین ، سیہون کے کارٹونک شکل کا اسٹف ٹوائے، انکی لائٹ اسٹک ، سیہون کے خوب صورت سے پوز والی ٹی شرٹ جس پر اسی نے تازہ تازہ ابھی سائن کر کے دیا تھا۔
    وہ تیزی سے سب سمیٹ رہی تھی مگر شاپر پھٹ جانے کے باعث سب ہاتھ میں ہی اٹھا کر لے جانا پڑتا اوپر سے اسکا بیگ۔ فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکی آدھی چیزیں اٹھا کر بے نیازی سے لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔
    احسان بھی احسان دھر کے کرےگی یہ بلی۔ الف نے دانت پیسے پھر چیزیں سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ اسکے لیئے لفٹ روکے کھڑی تھی۔ وہ اندر داخل ہوئی تو مطلوبہ فلور کا بٹن دبایا
    الف نے فاطمہ کا شکریہ ادا کرنا چاہا مگر اسکے چہرے پر ناقابل فہم قسم کے تاثرات تھے اسکی ہمت نہ پڑی۔ گھر میں دونوں آگے پیچھے داخل ہوئیں۔ نوراورعزہ منے لائونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں اسے دیکھ کر دونوں چیخ پڑیں
    کیسا رہا انٹرویو تم نے دیکھا سیہون کو؟تصویر کھینچی بات کی ؟ تم تو انٹرویو میں بول ہی نہیں رہی تھیں۔
    نور اور عزہ نے تابڑ توڑ حملے شروع کیئے دونوں بے حد پرجوش تھیں اور الف بھی۔
    ہاں سیلفی بھی لی اور یہ دیکھو ایکسو کا تازہ ترین سائیںڈ البم۔۔
    الف نے البم لہرایا تو دونوں اچھل کر کھڑی ہوگئیں پھر تینوں نے باقاعدہ دھمال ڈالنا شروع کر دیا تھا منا لائونج لگتا تھا انکے شور سے اڑ ہی جائے گا۔ فاطمہ اسکی چیزیں صوفے پر رکھتی اپنے کمرے میں آگئ۔ واعظہ اپنے بیڈ پر دراز کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی عشنااپنا گلہ بیڈ پر پھیلا ئے نوٹ گننے میں مصروف تھئ۔۔
    آگئ الف؟ ہینڈز فری میں بھی شائد واعظہ تک آواز گئ تھی جبھی وہ ایک کان سے اتار کر پوچھنے لگی
    ہاں۔ فاطمہ نے دھیرے سے سر ہلایا۔
    تمہیں کیا ہوا ؟ واعظہ نے اسکی شکل پر بارہ بجے دیکھ کر موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
    سیہون سے مل کر آئی ہوں۔ فاطمہ کا انداز ایسا تھا جیسے ابھی رو دے گئ۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔
    سیہون بہت بہت سویٹ ہےاتنا سویٹ کہ کیا بتائوں ۔۔
    الف چہک رہی تھئ۔ عزہ نور اور وہ لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی سیہون کے دیئے ہوئے تحائف کا پوسٹ مارٹم کر رہی تھیں۔
    گائوں جا رہا تھا اپنے۔۔۔ مینجر بار بار ٹوکے جلدی کریں۔ اس نے ڈانٹ دیا آرام سے ہمارے ساتھ تصاویر بنوائیں مجھے اور ژیہانگ دونوں کو ایکسو کی کسٹمائز شرٹس اسٹکس ڈائری اف اوپر سے جو میں شرٹ لیکر گئ تھی اسے بھی الگ سائن کر دیا اور ایکسو کی شرٹس الگ دیں ۔ ایکسو پھر ایکسو ہیں اپنے پرستاروں سے دل سے پیار کرتے ہیں ۔اف آج مجھے اتنا فخر ہوا ایکسول ہونے پر ۔۔
    وہ آنکھیں میچ کر جیسے اس وقت ایکسو کے کانسرٹ میں ہی موجود تھئ۔
    پتہ ہے ایکسو کی فین مینٹنگ ہے اگلے ہفتے اس میں بھی انوائٹ کیا ہمیں۔
    اسکے پاس ابھی بھی بتانے کو بہت کچھ تھا۔ عزہ اور نور ہمہ تن گوش تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری وجہ سے وہ بھی پھنس چکا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اسکے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر نہیں کر سکتی۔ مجھے اتنا گلٹ ہو رہا ہےپھر ۔ اسکی گرل فرینڈ ذرا سا شک ہونے پر اس نے یاد ہے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا تھا سائیکو بن گی تھی اسے شئیر کرنے کا سوچ کر نہ کہ میں سچ مچ اسکے بوائے فرینڈ سے شادی کر چکی ہوں وہ کیا کیا قیامت نہیں مچائے گی سوچو۔
    فاطمہ ابیہا اور عشنا کے مشترکہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔ عشنا گنتی بھول چکی تھی اب آنکھیں اور منہ کھولے بیٹھی کبھی فاطمہ اور کبھی واعظہ کو دیکھتی۔
    کیا واقعی؟؟ فاطمہ نے سیہون سے شادی کر لی ہے۔
    حیرت کی انتہا پر وہ تصدیق کی خاطر پوچھ رہی تھی۔
    فاطمہ نے ٹھںڈی سانس بھر کر سر جھکا لیا تو واعظہ نے دانت پیس کر گھورا۔
    آہستہ۔یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں جانی چاہییے سمجھیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    ہم نے کس کو بتانا ہے بھلا۔ عزہ برا مان گئ اتنی بار الف نے یہ بات دھرائی کہ نور بھی چڑ گئ
    ایسا ہی تھا تو ہمیں نہ بتاتیں ۔۔
    میرے بھی تو پیٹ میں نہیں ٹک رہا تھا۔
    الف کھسیائئ۔
    یار ویسے یہ سیلیبریٹیز کتنے خوش نظر آتے ہیں کون جانے اس لگژری لائف اسٹائل کی کیا قیمت ادا کرتے ہیں وہ۔
    نور اداس سی ہوگئ۔
    تو اور کیا۔ مینجر عوام کے سامنے کیسا میسنا گھنا معصوم بنا ہوتا ہے سیہون پر چلا رہا تھا، اور بے چارہ ائیر پورٹ سے بھوکا پیاسا آیا تھا ہم نے اسے پروگرام کے دوران اسنیکس دیئے یقین کرو سامنے سے اٹھا لے گیا کہ یہ ویٹ بڑھادیں گے اسنیکس نہیں کھانے اور جب سیہون نے کہا۔۔۔
    الف کو جاتے وقت کہا گیا سیہون کا جملہ یاد آیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ژیہانگ اور وہ سیہون کو اسکی وین تک چھوڑنے آئے تھے۔
    الف۔ وین میں بیٹھتے بیٹھتے سیہون کو جانے کیا یاد آیا کہ الف کو مخاطب کر ڈالا
    آپکو زندگی سے کیا چاہیئے؟
    الف گڑبڑائی۔
    وہی سب جو سب کو چاہیئے ہوتا محفوظ مستقبل ، اچھا کیریئر پیسہ پیارا ساتھئ وغیرہ
    اسکی بولتے بولتے سانس پھول گئ تھئ۔
    سیہون مخصوص انداز میں ذرا سا مسکرایا
    اس سب سے ذیادہ ایک انسان کو جانتی ہو کیا چاہیئے ہوتا ہے؟
    وہ براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
    ذہنی و قلبی اطمینان۔۔ اور مجھے بس وہی چاہیئے۔
    وہ کہہ کر ان کو الوداع کہتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ پہلے سے تیار مینجر نے لمحہ بھر کی بھی دیر نہ ہونے دی جھٹ چلا دی تھی گاڑی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم کسی صورت پاکستان نہیں جانا چاہتی ہو واپس تمہارے پاس اسکے سوا کوئی راستہ نہیں کہ تم سیہون کے ساتھ اسکا اپارٹمنٹ شئیر کرو۔
    واعظہ کا انداز قطعی تھا۔
    میں ایک انجان اجنبی کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ کیسے شئیر کر سکتی ہوں دماغ خراب تو نہیں ہو گیا تمہارا؟
    فاطمہ غضبناک ہو کر چلا اٹھئ
    آہستہ بولو۔ واعظہ نے گھبرا کر دروازے کی۔جانب دیکھا تو بند تھا پھر بھی آواز باہر جا سکتی تھئ سو دانت پیس کر بولی
    “یہ سب سوچ کر ہی میں نے سیہون کا انتخاب کیا تھا۔ میں اسے سات سال سے جانتئ ہوں ہائی اسکول سے ہم دوست ہیں ۔ پیپر میرج کیلئے مناسب ماہانہ پیسے دینے سے ایک سے ایک جاب لیس لڑکا مل سکتا تھا مگر میں ان میں سے کسی پر اعتبار نہیں کر سکتی تھئ۔ سیہون کو ہائی اسکول سے صرف اور صرف اس ہی جھنڈولے بالوں والی پر کرش ہے اور اب شدید محبت۔ اگر میں نے اس سے منت سماجت نہ کی ہوتی تو وہ آج کل میں اس سے شادی کرنے والا تھا۔ اب تمہاری وجہ سے اسکی شادی چھے ماہ ٹل چکی ہے۔ جب تک وہ تمہیں طلاق نہیں دے گا وہ دوسری شادی نہیں کر سکتا ۔ اور چھے مہینے سے قبل تم دونوں طلاق فائل نہیں کر سکتے سو اب جو ہو چکاہے اسی کے حساب سے اپنا نہیں تو اسکی قربانی کا خیال کرکے اسکو مزید مشکل میں مت ڈالو پلیز۔ “
    اسے چبا چبا کر بتاتے آخر میں اسکا انداز منت بھرا ہوچلا تھا۔ فاطمہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
    مجھے واپس چلے جانا چاہییے تھا میں سب کو بہت بڑی مشکل میں ڈال چکی ہوں۔
    اس نے بے آواز رونا شروع کر دیا تھا۔ واعظہ اور عشنا اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بات سنو ژیہانگ کس خوشی میں تمہارے ساتھ اتنا کر رہا ہے؟
    لائن تو نہیں مار رہا۔۔ اسکے قصے میں مستقل ژیہانگ کی مدد اور خیال سنتے ہوئے نور کو یہ انوکھا خیال نہیں سوجھا تھا عزہ بھی یقینا یہی پوچھنے والی تھئ۔ اسکی شکل پر لکھا تھا۔ تڑ تڑ چلتی الف کی زبان رکی تھی۔ گڑبڑا کر جھٹ نفی میں زور زور سے سر ہلانے لگئ۔
    نہیں کہاں۔ بس وہ اچھا والا اوپا ہے جیسے سب اوپا ہوتے۔۔ خیال کرنے والے مدد کرنے والے بس ایویں
    اوپا کورین ہوتے ہیں وہ تم نے خود بتایا تھا کہ چینی ہے۔۔
    عزہ نے فورا غلطی پکڑی
    اوفوہ۔۔ وہ جھلا اٹھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کو خاموشی سے کمرے میں بیٹھے بغور سنتے دیکھ کر طوبی کے اندر سرشاری سی دوڑ گئ تھی۔ کارپٹ پر صوفے سے ٹیک لگائے کشن بازو میں لیئے وہ مگن تھا۔ ۔ گرم گرم چائے کا بھاپ اڑاتا کپ ساتھ چکن نگٹس اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں اسکی معصوم صورت کی بلائیں لے ڈالیں۔
    اب سب چھوڑو یہ کھا لو پہلے۔
    طوبی کے کہنے پر وہ چونکا۔ ٹی وی پر جو چل رہا تھا اسکو تو شائد اس نے سنا بھی نہیں وہ تو کسی اور گہری سوچ میں گم تھا۔ گڑبڑا کر وہ سیدھا ہوا۔ طوبی نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا۔
    نونا آپ بھی لیں۔ معاف کیجئے گا۔
    اس نے طوبی کو بھی کھانے کی پیشکش کی پھر رمضان کا خیال آیا تو شرمندہ سا ہوگیا۔ مگر طوبی نے اسکی پلیٹ سے نگٹس اٹھا کر منہ میں ڈال لیئے
    روزہ کھل چکا ہے۔ تم اتنے غور سے مگن سن رہے تھے کہ افطاری کے وقت تمہیں بلانے آئی تو پھر تمہیں مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
    طوبی نے مسکرا کر بتایا۔ تو وہ خجل سا ہوگیا۔
    وہ ہایونگ چلے گئے مسجد۔ اس نے جھجکتے ہوئے طوبی کے شوہر کا پوچھا۔
    ہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے گئے ہیں۔ تمہیں کوئی کام تھا۔ ہے جن نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
    رمضان کے کتنے دن رہ گئےہیں۔ اس نے اگلا سوال داغ دیا تھا۔
    تین یا چار روزے رہ گئے پھر عید ۔ تم ہمارے ساتھ عید منائو گے نا؟ میں تمہارے لیئے اپنے ہاتھوں سے کرتا کاڑھ رہی ہوں بس مکمل ہونے ہی والا ہے تم وہ پہن کر جب عید ملو گے تو تمہیں تمہاری پسند کی عیدی دوں گی۔
    طوبی نے پیار سے دیکھتے ہوئے اسے کہا تو وہ اسکی محبت پر مسکرا کر سر ہلانے لگا۔ طوبی کو خیال آیا۔
    لیکن سنو تمہیں کیا پسند ہے؟ میں بھی تمہاری بڑی نونا ہوں بلا تکلف فرمائش کرو مجھ سے سمجھے۔ وہ لاڈ بھرا رعب جھاڑ رہی تھی۔ ہے جن خوش سا ہوگیا
    آپ واقعی جو میں مانگوں گا دیں گئ
    ہاں کیوں نہیں۔ طوبی نےلمحہ بھر کا بھی توقف نہیں کیا تھا۔ ہے جن کی آنکھین جانے کیا سوچ کے چمک اٹھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 6


    اس کے رائونڈ پر آتے ہی وارڈ میں کھلبلی مچ گئ۔ خالی ہو جانے والے تین بستروں پر پانچ نرسیں نائٹ ڈیوٹی کو سو کر پورا کررہی تھیں۔ آجکل اسپتال میں کوئی خاص رش نہیں تھا سو انکو فرصت کے لمحات مسیر آئے تو کمر سیدھی کرنے لیٹ گئیں ۔ اسکو اندر آتے دیکھ کر ہڑبڑاہٹ میں اٹھیں تو ایک نرس تو بیڈ سے ہی گر گئی۔۔ عروج انہیں دیکھ کر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئ۔ اسے فالتو میں رعب جمانے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔ اسکا رخ سیدھا اپنے کیبن کی جانب ہوا تھا۔ آرام سے کیبن میں آکر اس نے لیپ ٹاپ آن کیا اورپڑھنے بیٹھ گئ۔
    ڈاکٹر روج آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔
    وارڈ بوائے نے آکر اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا۔
    کون؟ اسکا سوال یقینا منطقی تھا مگر وارڈ بوائے کی شکل پر جو انگریزی میں جواب سوچنے کی گھبراہٹ طاری ہوئی تو ٹھنڈی سانس بھر کر لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    وزیٹرز وارڈ میں تو نہیں آ سکتے تھے سو اسے ہی ریسیپشن پر جانا تھا۔
    چندی آنکھوں والی دبلی پتلی سی پیتیس چھتیس برس کی پرانے گھسے ہوئے کپڑوں میں ملبوس بنچ پر بیٹھی ہاتھ مسل رہی تھی۔ لاکھ عروج نے یادداشت پر زور ڈالا مگر اس کا تعارف ذہن کے پردے پر روشن نہ ہوا۔
    آننیانگ۔ عروج نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا تو وہ گھبرا کر اٹھ ہی کھڑی ہوئی
    آننیانگ۔ آگے تیز تیز ہنگل کی گٹ پٹ تھی جو عروج کے سر پر سے گزری۔ دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر جانے وہ کیا کیا بتا رہی تھی سمجھا رہی تھی۔عروج نے چند لمحے اسکے چپ ہونے کا انتظار کیا مگر اسکی رام کہانی لمبی تھی شائد۔ اسے ٹوکنا پڑا۔
    آہجومہ۔۔ معزرت میری ہنگل اتنی اچھی نہیں کہ آپکی ساری بات سمجھ سکوں۔ ٹھہر ٹھہر کر بات کیجئے۔
    اس نے انگریزی میں کہا تھا مگر ہاتھ کے اشاروں سے کچھ کچھ بات وہ آہجومہ سمجھ ہی گئ۔
    دے۔ ایسے جھک کر سر ہلایا جیسے سب بھیجے میں گھس چکا ہے۔ جھٹ اپنی اسکرٹ کی جیب سے ایک لاکٹ نکال لیا اور دائیں بازو کو کہنی سے بائیں بازو سے تھام کر دائیں ہتھیلی اسکے سامنے بڑھا دی۔ یہ کوریائی مخصوص انداز تھا تمیز سے کسی کو چیز دینی ہو تو دائیں ہاتھ سے اگر چیز دے رہے ہوں تو بائیں ہاتھ سے کہنی چھو کر ادب سے جھک کر دیتے ہیں۔عروج نے کچھ سمجھتے کچھ نا سمجھتے تھاما
    لیکن۔ وہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ لاکٹ کا کیا کروں
    یہ آپ بوڑھی خاتون کو دے دیجئے گا۔
    وہ انگریزی میں کہہ کر آنسو پونچھتی اسے کچھ مزید کہنے کا موقع دیئے بغیر جلدی سے مڑ گئ۔
    ارے ۔۔سنو۔ عروج ہائیں ہائیں کرتی رہ گئ آہجومہ نے تو دوڑ ہی لگا دی۔ عروج نے بھی اسکے پیچھے دوڑ لگانا چاہی مگر اپنی ہیل کے باعث صرف چاہ کر ہی رہ گئ ۔ اگلی کینوس شوز میں بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس نے لاکٹ کی ساخت پر غور کیا دل کی شکل کا لاکٹ جس پر چھوٹا سا لاک تھا اس نے چھوا تو نازک سا لاکٹ دو حصوں میں بٹ گیا ایک تو اسی لڑکی کی تصویر تھی دوسری ۔۔۔۔وہ چونک اٹھی
    ارے۔ یہ تو وہی بوڑھی خاتون ہیں۔ وہ اپنی مریضہ پہچان گئ تھی۔
    اس سے کوریائی زبان میں ہر بار جب وہ معائنہ کرنے جاتی تو کچھ کہتی تھیں آخری بار اسے کہنے کے بعد جو بے ہوش ہوئیں ابھی تک کومے میں تھیں۔ اسے تو سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا کہا انہوں نے اس نے اپنی ساتھی نرس سے ذکر کیا تو وہ اداس سی شکل بنا کر بولی یہ صرف آپ سے نہیں ہر اس شخص سے یہی جملہ دہراتی ہیں کہ میری بیٹی کو بلا دو اس سے کہو مجھ سے آخری بار مل لے میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔ ہم نے انکے اہل خانہ سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی ہے انکے فارم پر بس ایک ہی نمبر لکھا ہے جو بند ہوتا ہے۔
    عروج کو افسوس سا ہوا۔ جان کنی کا عالم تھا انکا یقینا انکے گردے ختم ہو چلے تھے ڈائلیسز پر ذندہ تھیں اور نجانے بلند فشار خون اور کون کونسی بیماری لاحق تھی انکو یقینا بیٹی کو یاد کرکے اس سے مل کر ہی دنیا سے جانا چاہ رہی ہوں گی۔
    نجانے اسے کیاہمدردی کا دورہ پڑا کہ انکا فارم نکلوا کر اس نمبر کو اپنے موبائل سے ڈائل کر لیا۔ آگے جو بھی خاتون تھی یقینا اسپتال کا نمبر بلاک کر چکی تھی تبھی بند ملتا تاہم اس کا نمبر اٹھا لیا اور جب عروج نے اس سے اپنا تعارف کروایا تو فٹ سے فون بند کر دیا اس نے تھک کر لمبا سا درد بھرا پیغام اسکی ماں کی حالت اور اسپتال کا پتہ لکھ بھیجا۔ تو آج خود وہ ملنے آئی اور یہ چین دے کر بھاگ گئ۔
    اس لاکٹ سے ماں کی ممتا کو کیا تسلی ہونی ہے۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر لاکٹ کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ فی الحال تو وہ خاتون ہوش میں تھیں ہی نہیں۔۔ لاکٹ دکھانے کا فائدہ نہیں تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فون کالز کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ژیہانگ کو لمحہ بھر کی فرصت نہ تھی سیہون نے انگریزی میں بات کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔ دو ایک سوال کرکے الف چپ سی ہوگئی۔ جب ژیہانگ کو اسکا سوال ہنگل میں ترجمہ کرکے پوچھنا پڑا۔ جوابا سیہون نے جواب دیا تو براہ راست پروگرام ہونے کے باعث ژیہانگ فوری ترجمہ نہ کر سکا تاہم جیسے ہی پروگرام میں وقفہ آیا باقائدہ الف کی جانب مڑ کر سیہون کا جواب لفظ بہ لفظ دہرایا۔
    مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ میں کوئی بہت الگ اور مختلف زندگی گزار رہا ہوں۔ یہ لڑکے میرا خاندان بن چکے ہیں میری پہچان میری شناخت بس ایکسو بوائے بینڈ ہے اور اس سے الگ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ یہ میری زندگی ہے اس سے الگ اگر کبھی میں نے کوئی لمحہ بھی جیا ہے تو مجھے یاد نہیں۔

    الف سیہون کو دیکھ کر رہ گئ۔ سوال گندم جواب چنا تھا۔ اس نے پوچھا تھا۔ سیہون کو زندگی سے اب مزید کیا چاہیئے۔
    وہ وقفے کے دوران مراقبے میں چلا گیا تھا۔ وہ زندہ دلی خوش مزاجی سے اپنے پرستاروں سے بات کرنا جیسے اسکا کوئی سوئچ ہو جو وقفے کے دوران بند ہو جاتا ہو اور پروگرام شروع ہوتے ہی آن ہو کر اس میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہو۔
    اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ان پر اپنی چندی آنکھیں جمائے ہونٹ بھینچے بیٹھا تھا
    الف کے ذہن میں بے شمار سوال مچل رہے تھے مگر وہ خود پر ضبط کیئے بیٹھی تھی۔ سوائے کالرز کے سوالوں کے جو کچھ بھی پوچھ رہے تھے انکے پاس ایک سوال نامہ بنا رکھا تھا جو سی ہون کے مینیجر نے درجنوں سوال کاٹ کر مخصوص کی اجازت دی تھی اور ابھی بھی اسٹوڈیو کے باہر بیٹھا تھا پروڈیوسر کے ساتھ ۔ اسکے ہاتھ میں مائک تھا جس
    سے جڑا ایک آلہ اسکے کان میں اسکی آواز سیہون کو سنا رہا تھا۔۔ وہ اور ژیہانگ جانتے تھے کہ دیوانے پرستاروں جنہوں نے طرح طرح کے سوال کیئے تھے کوئی سیہون کی پسندیدہ خیالی لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا تو کسی کو یہ غرض تھی کہ کسی طرح سیہون کی کامیابی کا راز جان لے ان سب سوالوں کے جوابات سیہون کا مینیجر دے رہا تھا ۔ ایسا بھی ہوا کہ اسکی طویل بات کی وجہ سے سیہون فوری جواب نہیں دے پایا تو ایک طویل خاموشی کا وقفہ آنے لگا تو ژیہانگ یا الف کوئی نہ کوئی بات بنا کر پروگرام کو آگے بڑھاتے رہے۔ اسکا دل چاہا تھا کہ پوچھے سیہون خوش ہے؟ مگر یقینا یہ جواب بھی اسکا مینیجر ہی دیتا ، وہ جاننا چاہتی تھی کہ تین سال بڑے بھائی کے ساتھ سیہون کا رشتہ کیسا ہے ، اسکے والدین اسکی کامیابیوں پر کیسا محسوس کرتے کیا وہ ایکسو کے لڑکوں کے درمیان بھائی کو یاد نہیں کرتا ، کیا واقعی بیکہیون اسکے بھائی جیسا ہے مگر پچیس برس کی عمر کے سیہون کی شکل پر اس وقت پچاسی برس کے کسی زندگی سے اکتائے ہوئے انسان والی بیزاری سجی تھی جسے وہ ریڈیو پروگرام ہونے کے باعث چھپانے کی کو شش بھی نہیں کر رہا تھا۔ اپنے پرستاروں کو ہنستے مسکراتے پیغام دیتے ہوئے بھی یہ تاثر اسکے چہرے سے نہیں گیا تھا۔ جانے کیوں وہ اپنے پسندیدہ ترین فنکار سے مل کر خوش نہیں ہوئی تھی بلکہ اسکو ٹھیک ٹھاک اداسی سی محسوس ہوئی تھی شائد سیہون کے چہرے پر چھانے کی وجہ سے اس پر بھی اثر ہوا تھا۔
    پروگرام ختم کرکے سیہون نے لمحہ بھر کا بھی انتظار نہیں کیا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا ژیہانگ کے الودعائیہ کلمات جاری تھے اور وہ دروازہ کھول کر باہر بھی نکل گیا۔ریڈیو پروگرام کے درمیان دروازہ کھلنے اور لمحہ بھر کی ہی سہی پس منظر آواز کا نشر ہو جانا گناہ کبیرہ تصورکیا جاتا ہے مگر جانے وہ کیوں اتنا بیزار تھا۔ الف اس سے ایکسو کا فوٹو البم سائن کروانا چاہتی تھی جو اس نے خاص کر سیہون کیلئے بنایا تھا جس میں ایکسو میں سیہون کے شامل ہونے سے لیکر اب تک کی تقریبا جو جو بھی اسے یادگار تصویر ملی تھی اس نے بڑی محنت اور شوق سے سجائی تھی۔ کوئی سیلفی کوئی بات وہ سفید ٹی شرٹ جس پر اس نے سیہون کا اپنا پسندیدہ ترین انداز چھپوایا تھا اس پر وہ سیہون کا دستخط لیکر اسے
    فیبرک پینٹ سے امر کر دینا چاہتی تھئ سب دھرا رہ گیا۔
    اسکو بےتابی سے سیہون کو اٹھ کر جاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش منہ کھلا رہ جانے والا منہ مایوسی سے بند کرنا ژیہانگ سے چھپا نہ رہ سکا۔
    باہر سیہون مینیجر سے کافی نا خوش نظر آتا ہلکا سا مکا بنا کر ہتھیلی پر مارتا کبھی بالوں میں اضطراری انگلیاں چلاتا۔
    شیشے کی دیوار کے پار وہ سیہون پر ہی نگاہ جمائے تھی
    سنو ؟ تم نے جو سیلفی لینی تھی، ٹی شرٹ پر دستخط اور وہ البم جو تم نے اسے دینا تھا کیا ہوا؟ ژیہانگ نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر متوجہ کیا تو وہ چونکی۔
    وہ شام سے جب سے آئی تھئ بے انتہا پرجوش تھی بڑے شوق سے اس نے ژیہانگ کو دکھائی تھیں چیزیں ۔ وہ یہی اسے جتا رہا تھا۔
    سیہون مجھے اچھے مزاج میں نہیں لگ رہا تھوڑا سا بیزار ہے۔
    اس نے جواندازہ لگایا تھا وہ غلط نہیں تھا۔
    بے چارہ پیرس سے آج دوپہر ہی پہنچا ہے وہاں ٹھیک ٹھاک تھکا ہوگا نان اسٹاپ اسکو سیدھا ائیر پورٹ سے یہاں لے آیا گیا دو گھنٹے ہم نے سر کھایا ہے اور اسکی وین بھی خراب ہوگئ ہے جتنی دیر یہاں شو چلتا رہا پروڈیوسر نے اسسٹنٹ پروڈیوسر کو اسکی وین لیکر بھیجا ہوا تھا ورکشاپ اور وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔۔ یہ تو بہت برداشت سے کام لے گیا میں تو چین بھی جاتا ہوں واپس تو دو دن تک جہاز سے اترنے کے بعد جیٹ لیگ کا بہانہ کرکے گھر سے نہیں نکلتا۔
    ژیہانگ نے پوری تفصیل سے اسے بتایا۔۔ وہ حیرت سے سنتے ہوئے دوبارہ سیہون کی جانب متوجہ ہوئی ۔
    تمہیں کیسے پتہ ۔۔۔اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا
    تو ژیہانگ ہنس دیا
    اس لیئے کہ یہ میٹنگ ارینج میرے سامنے کروائی گئ تھی اور سیہون کا استقبال میری ہی ذمہ داری تھا۔ پروڈیوسر انکے ٹیم مینجیر کا اچھا دوست نہ ہوتا تو جتنا یہ بےزار یہاں آیا ہے کبھی نہ آتا یہاں۔ اسے ایجنسی نے ذبردستی بھیجا ہوگا۔
    واقعی بے چارےکے ساتھ اچھا تو نہیں ہوا۔اسے ہمدردی محسوس ہو رہی تھئ۔ حسب عادت وہ اردو میں بڑبڑائی۔
    ژیہانگ ہنس کر کچھ کہنے لگا کہ خیال آنے پر زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
    پروڈیوسر صاحب اسٹوڈیو کا دروازہ کھول کر اندر چلے آئے
    ژیہانگ ایک مدد درکار تھئ تمہاری۔۔ وہ ژیہانگ سے کہہ رہے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ کو سیہون کا میسج آیا تھا اور وہ سرعت سے انکو الف کا ریڈیو شو سنتے چھوڑ کر دبے پائوں باہر نکلی۔
    سیہون انکی عمارت کے نیچے داخلی دروازے کے باہر کھڑا جوتے سے زمین کرید رہا تھا۔
    کیا ہوا اب۔ وہ خاصی بیزار شکل بنائے اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔
    کل صبح 10 بجے یونین کونسل کے کچھ ممبران آئیں گے مجھ سے اور تم سے ملنے سو تمہیں آج رات میرے اپارٹمنٹ میں ہی گزارنی ہوگئ۔
    سیہون نے بنا تمہید باندھے اسکے سر پر بم پھوڑا۔۔ وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔
    کیا کس خوشی میں بھئ؟ میں کوئی تمہارے ساتھ واتھ نہیں جانے والی۔ ڈھیلی ڈھالی گلابی سویٹ پینٹ اور اپر میں ملبوس وہ ہڈ سر پر چڑھائے دونوں ہاتھ ہڈ کی جیبوں میں ڈالے زور زور سے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
    سہون کیلئے اسکا ردعمل بالکل غیرمتوقع نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ گھورتا رہا
    اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ دیکھو یہ صرف کاغذی رشتہ ہے اسکو ہم چند مہینوں میں ختم کرنے والے ہیں یہ اپارٹمنٹ میں رہنا بہت ذیادہ ہے۔ میں صبح آجائوں گی ملنے۔
    فاطمہ کو اسکی نگاہیں کافی چبھی تھیں۔۔
    اور میں کونسلروں کو اپنی بے روزگار بیوی کے صبح صبح کہاں چلے جانے کی کہانئ گھڑ کر سنائوں گا؟
    وہ دانت کچکچا کر بولا
    تو کہہ دینا میں دوسرے شہر گئ ہوں اب کیا شادی کے بعد بیویاں کہیں آتی جاتی نہیں ہیں؟ میکے گئ ہوں کہہ دینا
    فاطمہ اسکی عقل پر ماتم کرنے والے انداز میں بولی ۔
    تم نے شادئ کا جو معاہدہ دستخط کیا ہے اسکی شرائط یاد ہیں ؟؟؟ ہم دونوں میں سے کوئی بھی چھے مہینے سے قبل بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا دوسرے شہر بھی نہیں جا سکتے جب تک ہمارے کائونسلنگ کے چھے ہفتوں کے کم از کم بارہ سیشن پورے نہیں ہو جاتے۔
    اس نے چبا چبا کر یاد دلایا۔
    یاد ہے مگر اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم فالتو گٹ پٹ سنیں انکی۔ فاطمہ نے ناک چڑھائئ۔
    ہم پابند ہیں کیونکہ ہم عام جوڑا نہیں ہیں ۔ ہم نے شادی کے معاہدے پر دستخط کیئے ہیں۔ سیہون کو وہ ٹیڑھی کھیر لگ رہی تھی سو اسے ہی سمجھداری سے کام لینا تھا گہری سانس لیکر خود کر ٹھنڈا کر کے بولا
    کیوں بھئ سب شادی شدہ لوگوں کو یہ ایسے باندھ لیتے ہیں فالتو معاہدوں میں چھے مہینے کہیں نہ جائو انکے فالتو کونسلروں کے واعظ سنو۔؟ جبھی کوریا میں بنا شادی کے رہنے کا رواج پڑ رہاہے۔
    وہ ہاتھ نچا نچا کر اونچا اونچا بولی تھی۔ گارڈ اندر اپنے کیبن سے نکل کر انہیں گھورنے لگا۔
    کون ہے یہ آگاشی۔ ( یہ لڑکی کون ہے؟) وہ سیہون سے مخاطب تھا انداز تھا کہ بیٹا لڑکی چھیڑ رہے ہو یہیں مرغا بنا دوں گا۔ سیہون نے کھا جانے والی نظروں سے فاطمہ کو گھورا
    یہ میری بیوی ہے ہم لڑ نہیں رہے بحث کر رہے ہیں تکلیف کیلئے معزرت
    وہ جھک جھک کر بولا تو بھی چوکیدار مشکوک نگاہوں سے گھورتا رہا۔
    کیا کہہ رہے ہو؟ اسے اس پر بھی تکلیف تھئ۔ قریب آکر کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوچھ رہی تھی۔
    یہ دیکھیں ثبوت۔ اس نے جیب سے کاغذ نکال کر تھمایا
    وہ واقعی جیب میں ثبوت لیکر گھوم رہا تھا۔ فاطمہ کو سمجھا نے کیلئے لایا تھا یہاں ثبوت کے طور پر دکھانا پڑ گیا۔
    چوکیدار اسے خوب گھما گھما کر دیکھ رہا تھا۔
    فاطمہ نے جھپٹ لیا
    یہ یہ کیا تم نکاح نامہ لیکر گھوم رہے ہو، مقصد کیا ہے تمہارا مجھے کمزور احمق لڑکی مت سمجھنامیں وقت پڑنے پر جان لے بھی سکتی ہوں۔ فاطمہ غضبناک ہوئی
    مارو ماردو مجھے اس عذاب میں مجھے ڈال دیا ہے اب میرے پاس یہی راستہ رہ گیا ہے تم ابھی مار دو ورنہ بعد میں میری گرل فرینڈ تو مار ہی دے گی مجھے۔
    اسکی بھی جھلاہٹ کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک آواز اونچی ہو چلی
    چوکیدار کو سچ مچ یقین ہوا کہ میاں بیوی ہیں کھنکار کر دونوں کو آرام سے بات کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے چلتا بنا
    سیہون کو غصے میں دیکھ کر تھوڑا خائف ہو کر چپ ہوئئ۔
    سیہون چلانے پر نادم سا ہو کر رخ پھیر کر پیشانی سہلانے لگا۔
    چند لمحے خود کو سنبھال کر وہ مڑا تو فاطمہ اسکیلئے قریبی ڈسپنسر سے پیپر کپ میں پانی لیئے کھڑی تھئ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ژیہانگ سیہون کو اوپر ریسٹ روم میں لیکر آیا تھا اسکے لیئے وی آئی پی روم خالی کروایا گیا تھا۔ پروڈیوسر صاحب نے خاص ژیہانگ کی ذمہ داری لگائی تھی کہ اسکا خیال رکھے ۔اسکی وین ٹھیک نہیں ہوئی تھی اسے اسی میں اپنے گھر جانا تھا سو انتظار کے بغیر چارہ نہ تھا۔ سیہون مینیجر سے ٹھیک ٹھاک خفا ہوا تھا ، مینیجر سر جھکائے سن رہا تھا جب پروڈیوسر صاحب کے کہنے پر ژیہانگ نے سیہون کو اوپر کمرے میں جاکر آرام کی پیشکش کی۔ سیہون ایکدم چپ ہوا تھا اپنے مینیجر کے برعکس اسکا رویہ ژیہانگ سے بہت مروت بھرا تھا۔ کمرے کی بتی جلا کر اے سی آن کرکے ریموٹ اسے تھمایا ۔۔
    کچھ کھائیں گے آپ ؟
    اس کے پوچھنے ہر سیہون کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
    نہیں شکریہ۔ جواب مختصر تھا۔ وہ سر ہلا کر اسے آرام کی تاکید کرتا ہوا باہر نکل آیا۔ سیہون نے اسکے نکلتے ہی بتی بجھائی تھئ اور لمبے جہازی کائوچ پر گر سا گیا۔
    کمرے کے باہر ہی الف کھڑی تھی۔
    ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھامے منتظر۔
    آئو تم لے لو آٹو گراف سیلفی جو بھی فارغ ہے ابھی اور اکیلا بھی۔
    ژیہانگ نے فورا مڑ کر دروازہ کھولنا چاہا مگر الف نے روک دیا۔
    تھکا ہوا بھی۔۔۔۔۔ میں انتظار کر لیتی ہوں۔
    وہ واقعی پرستار تھئ اور اسکو اپنے پسندیدہ ستارے کی فکر بھی تھئ۔ ژیہانگ نے سمجھ کر کندھے اچکا دیئے۔
    وہ لابی میں رکھے صوفے کی جانب بڑھ گئ۔ اسے یہاں بیٹھ کر سیہون کا انتظار کرنا تھا۔ ۔۔ ژیہانگ نے لمحہ بھر سوچا پھر تیز تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوریا میں پچھلے کچھ سالوں سے بہت سے غیر ملکی اور کوریائی باشندے شادی کر رہے ہیں۔ کچھ جزبات سے مجبور ہو کر کچھ ہمارئ طرح رہائش اختیار کرنے کیلئے۔ کوئی محض ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے کی وجہ سے بنا کسی رشتے کے والدین بن گئے۔ ان تمام صورتوں میں دو مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہوئے جن میں رہن سہن بودو باش اور سب سے بڑھ کر زبان کا فرق حائل رہا ۔
    جھگڑوں میں بچوں کی دعوے داری سرفہرست رہی۔ نا ماں ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوتئ نا باپ۔ حکومت کو ایسے معاملوں میں نہ صرف ثالثی کرانی پڑی بلکہ ایسے بچوں کو سرپرستی میں بھی لینا پڑتاہے ۔
    سیہون اور وہ قریبی پارک میں آئے تھے ۔ بنچ پر بیٹھ کر وہ اسے تفصیل سے بتا رہا تھا۔ اسکی آخری بات پر وہ نگاہ چرا گئ تھی۔ایسے بھی والدین ہوتے ہیں بھلا؟ وہ حیران ہوئی سیہون اسکی حیرانگئ کے برعکس اپنی بات جاری رکھے تھا۔
    اسلیئے ان تمام مسائل سے بچنے کیلئے جو جوڑے جن میں ایک ساتھی غیر ملکی ہواور وہ وقتی جذبات یا کسی اور مجبوری کے تحت ایک ہونا چاہتے ہیں انکیلئے نیے سرے سے قانون سازی کی گئ یے۔جس میں بہت شقیں ہیں اسکو سمجھنا آسان نہیں سو کئی ادارے اس طلاق کی شرح کو کم کرنے کیلئے حکومتی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں ۔ایسے ادارے سے منسلک ہو کر شادی کا معاہدہ انکے بنائے معاہدے پر پابند رہتے ہوئے نسبتا آسان ہوتا ہے اسلیئے میں نے ایسے ہی ایک نیم سرکاری ادارے کی مدد لی۔انکے معاہدے کی رو سے۔ ایسے جوڑوں کو کائونسلنگ کےلیئے ادارے سے منسلک ہونا پڑتا ہے یہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو نا صرف مفید مشورے دیتے ہیں بلکہ ایک پروگرام کے تحت کوریا میں آنے والے غیر ملکیوں کو ہنگل سکھانے کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔ یہ کائونسلرز چھے مہینے تک جوڑے پر نظر رکھتے ہیں انکے جھگڑے سلجھاتے ہیں انکی قانونی مدد کرتے ہیں۔ ایسے جوڑے خاندان شروع نہیں کر سکتے کم از کم چھے مہینے تک جب تک یہ ادارہ انکو سند نہ عطا کرے ۔ ایسا سرٹیفیکیٹ جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اس جوڑے نے تمام شرائط سمجھ لی ہیں اور ان میں کسی قسم کا بڑا اختلاف نہیں تب جا کرخلاصی ہوگی۔ جو اس رشتے کو نبھانا چاہیں مبارک جو الگ ہو جانا چاہیں انکی طلاق میں مدد بھی یہی کریں گے ۔ یہ ہفتے میں دو بار ملنے آئیں گے جوڑے سے ایک دفعہ بتا کر ایک بار کبھی بھی۔ اسی لیئے چھے مہینے تک جوڑا پابند ہے کہیں جانے آنے کیلئے۔ اگر جانا بھی ہو تو یہ مطلع کر کے جائیں گے۔ پھر ملک کے جس حصے میں جائیں گے وہاں کوئی کونسلر انکو منتخب کردیا جائے گا۔
    سیہون بولتے بولتے جیسے تھکا۔
    میں نے واعظہ کو اس سب کے بارے میں بتایا تھا مگر شائد اس نے تمہیں نہیں بتایا۔
    بتایا تھا۔ فاطمہ نے سر جھکایا۔ مگر میرے پاس فی الحال اور کوئی راستہ نہیں تھا میرا ویزا ختم ہو جاتا تو مجھے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ۔۔ جبکہ میں نہیں جانا چاہتی میں نے اسے کہا تھا مجھے ہر شرط منظور ہے۔۔۔
    میں اگر تمہاری جگہ ہوتا تو واپس چلا جاتا۔ سیہون کہے بنا نہ رہ سکا۔
    فاطمہ نے اس پر تیکھی نگاہ ڈالی تو وہ وضاحت کرنے لگا
    جیسا واعظہ بتاتی تم پاکستانی لڑکیاں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتئ ہو وہ تم لوگوں کا خرچہ بھی اٹھاتے ہیں شادی کرواتے ہیں سیٹل کرواتے ہیں تمہیں کیا پڑی ہے اتنے مہنگے سیول میں جبکہ تمہارا یہاں کوئی کیریئر بھی نہیں ہے پڑھ بھی نہیں رہی ہو اتنا خجل خوار ہوکر یہاں رہنے کی؟
    پاکستان میں رہو آرام سے جا کر وہ تمہارا اپنا ملک ہے۔۔
    یوں پرائے دیس۔
    اس سے مزید فاطمہ کی نگاہ برداشت نہ ہوئی تو چپ کر گیا۔
    تم کبھی لڑکی رہے ہو اپنی 27 سالہ زندگی میں؟
    فاطمہ کا سوال کم انداز ذیادہ تیکھا تھا۔ وہ حیران سا سر نفی میں ہلا گیا
    تم نے کبھی لڑکی بن کر زندگی گزاری ہے؟ کبھی پاکستان جا کر رہے ہو؟
    جواب ظاہر ہے نفی میں سر ہلاتے جانا ہی تھا۔
    تم نے کبھی پاکستان میں لڑکی کی زندگی نہیں گزاری ہے ۔ تم کبھی بھئ میری جگہ نہیں ہو سکتے۔
    وہ قطعی سے انداز میں کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
    سہون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔