Blog

  • Desi Kimchi Episode 35

    قسط 35
    آہجوشی آہجوشی۔۔
    وہ خراماں خراماں چلتے اپنے راستے ناک کی سیدھ میں جا رہے تھے جب انہیں اپنے پیچھے پکار سنائی دی۔
    آہجوشی۔۔
    یقینا یہ انکا نام نہیں تھا۔ دلاور نے زرا سا سر جھٹکا اور چال مزید تیز کر لی کیونکہ موسم کے تیور خراب ہو رہے تھے وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہ رہے تھے۔
    آہجوشی۔۔ ہانپتا کانپتا تیجون ان کے کندھے پر پیچھے سے آکر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھلا کر انہیں ہلا نے لگا۔۔ اس افتاد پر وہ بوکھلا کر مڑے
    کب سے آوازیں دے رہا ہوں سنتے ہی نہیں۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر وہ جھکتے ہوئے سانسیں بحال کر رہا تھا۔ جانے کب سے انکے پیچھے بھاگتا آرہا تھا۔
    دے؟ وہ حیران سے ہوئے۔۔
    پہچانا مجھے؟ اس نے سیدھا ہو کر انکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
    ہاں۔۔ انہوں نے پہچان کر گرمجوشی سے سر ہلایا
    تم وہی ہو نا جس نے گائے کی تصویر والا دودھ کا ڈبہ مجھے فریج سے نکال کر دیا تھا۔
    وہ شستہ انگریزی میں بولے جوابا وہ انہیں منہ کھول کر گھورتا رہ گیا۔
    کہاں سے انگریز کی اولاد پلے پڑگیا۔ وہ سر جھٹکتے بڑ بڑایا
    دلاور کی سماعتیں قاصر رہیں سننے سے ورنہ اتنی ہنگل تو سمجھ آ ہی جاتی تھی انکو۔۔
    دے مگر ایک اور جگہ بھی میں آپکو ٹکرا تھا۔۔
    اس نے جوابا انگریزی میں اٹک اٹک کر کہا۔
    کہاں۔ دلاور سوچ میں پڑے۔۔
    پھر اسکی ناک پر لگی بینڈ ایڈ دیکھ کر انہیں یاد آیا۔۔ تو گرمجوشی سے بولے
    ہاں تم اس دن بلنگ کا شکار تھے کچھ لڑکے پیٹنا چاہ رہے تھے تمہیں۔
    جی اور مزید پٹوں گا میں اگر آپ مجھے اس دن جو میں نے یو ایس بی آپکے کوٹ کی۔جیب میں ڈالی تھی وہ مجھے واپس نہیں کریں گے تو۔
    اس لڑکے نے اپنی چوڑی ہتھیلی انکے سامنے پھیلائی۔۔۔
    کونسی یو اسی بی۔۔ انکے فرشتوں کو خبر نہ تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نور نے یو ایس بی کو گھما کر دیکھا الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔ اندر سے سب خالی تھا۔۔ منے لائونج میں منی میز پر عزہ طوبی اور نور سر جوڑے بیٹھی تھیں۔۔
    اسکے اندر بھی کچھ ہوتا ہے طوبی جی۔۔
    عزہ نے یاد دلایا۔۔
    ہاں وہ ہے نا۔ طوبی نے دوسری ہتھیلی سامنے پھیلائی۔۔
    ہو ایس بی کی کاپر کی پتریاں اور کچھ الم غلم یقینا یو ایس بی کے اندر کا مواد دھرا تھا۔۔
    اسکو جوڑ دو۔ پلیز۔ طوبی نے منت بھرے انداز میں نور کو کہا تو وہ بے بسی سے دیکھ کر رہ گئ۔
    طوبی ایک تو میں سافٹ ویئر انجینیرنگ کر رہی ہوں ہارڈ ویئر نہیں دوسرا یہ جو حال اس یو ایس بی کا ہوگیا ہے نا اسکو تو کوئی معجزہ ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔ نور نے یو ایس بی کے انجرپنجر لہرائے۔۔
    کیا کروں پھر میں؟ یقینا دلاور کے دفتر کی کوئی اہم دستاویز ہوگی اس میں۔ وہ تو بہت خفا ہوں گے کہ میں نے پھر جیبیں دیکھے بغیر انکا اپر دھو ڈالا۔ ایک تو وہ س بات پر بھی ناراض ہونگے کہ اپر کیوں دھو ڈالا۔ اب خود بتائو اپر گندا نہیں ہوتا کیا؟ کب سے پہن رہے تھے پورے دو ہفتے میں چار پانچ بار جب باہر جانا ہو یہی چڑھا لیتے تھے۔مانا پسینہ نہیں آتا کوریا میں سردیوں میں پھر بھی گندا تو ہوتا ہے نا۔
    طوبی کی گل افشانیوں پر نور اور عزہ دونوں نے اپنے اپنے اپر پر نگاہ ڈالی پھر سمٹ کر رخ پھیر لیا
    میں نے تو جب سے یہ اپر لیا ہے کبھی نہیں دھلوایا۔
    نور منمنائئ۔۔
    میں نے دھلوایا تو تھا پر پچھلے سیزن میں وہ بھی مارکیٹ سے پتہ یے ڈرائی کلیننگ کا کتنا۔۔
    عزہ نے بھی اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔
    طوبی چڑئ
    کیا باتیں کر رہی ہو دونوں مجھے بھی تو بتائو۔ اب دیکھو میں کیا کروں۔آج آئیں گے تو خود کہہ دوں گی کہ کوئی یو ایس بی تھی ہی نہیں آپ بھول گئےلانا ۔ کیسا یقین کر لیں گے نا؟
    طوبی نے چٹکی بجائی
    اگر انکے بنا پوچھے آپ انکو بتانے لگیں گی تو بالکل یقین نہیں کریں گے۔ عزہ نے کندھے اچکائے۔
    پھر کیا کروں۔بہت خفا ہوں گے۔وہ۔۔۔طوبی نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔
    ایک کام کرتے ہیں اسکی ڈپلیکیٹ بنوا لیتے ہیں۔ نور کو آئیڈیا سوجھا۔۔
    کورین ڈراموں میں فون تک کی تو کاپی بنوا لیتے ہیں یہ تو معمولی یو ایس بی ہے۔ آخر کوریا اتنا ترقی یافتہ ملک ہے۔۔۔
    نورکے جوش پر عزہ نے منہ کھول کر اسے دیکھا
    کہاں سے؟ سوال اچھا تھا۔۔
    دکان سے۔۔نور نے جیسے اپنا ماتھا پیٹا۔
    چلو پھر۔ ان کے آنے سے پہلے ہم بنوا لاتے ہیں۔۔ طوبی جوش سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں جب آپ سے ٹکرایا تھا تو میں نے آپکے اپر کی جیب میں یو ایس بی ڈال دی تھی۔ آہجوشی آپ سمجھ نہیں رہے بہت اہم یو ایس بی ہے۔مہربانی ہوگی مجھے واپس کریں۔
    وہ منتوں پر اتر آیا تھا
    دیکھو اگر تو واقعی تم نے ایسا کیا تو فاتحہ پڑھ لو اس پر یقینا اس ہفتے میری بیوی نے اسے دھو ڈالا ہوگا بنا جیب دیکھے۔۔
    دلاور نے اسکو غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔۔انگریزی میں اردو مثالوں کا انگریزی ترجمہ کرکے سمجھایا باقائدہ
    کیا پڑھ لوں۔۔
    تیجون ہونق ہوا۔۔
    میرا مطلب اسکی آخری رسومات بھی ادا ہوچکی ہوں گی نئی لے لو۔ اور مجھ سے پیسے مت مانگنا نئی یو ایس بی لینے کے میں نے نہیں کہا تھا کہ میری جیب میں ڈال دو یو ایس بی۔
    دلاور نے ہاتھ جھاڑے
    ایسا مت کہیں وہ میرے لیئے زندگی موت کا معاملہ ہے۔۔
    تئجون منتوں پر اتر آیا۔۔۔
    اسائنمںٹس ہی ہونگئ نا اس میں دوبارہ بنا لو پہلے کونسا خود بنائی ہوگی گوگل سے ہی نقل ماری ہوگی۔۔
    دلاور ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر پلٹ کر جانے کو تھے کہ تیجون کی آواز نے انکے قدم روک لیئے۔۔
    اس میں۔۔۔۔ غیر اخلاقی مواد ہے۔
    تیجون چلاکر بولا تھا
    کیا ؟؟؟؟؟ وہ اس بار اردو میں حیرت زدہ تشویش زدہ اور جانے کیا کیا ایکدم ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آہجومہ نے کتنی ہی دیر بعد آنکھ کھولی تھی۔متلاشی نگاہیں ہمیشہ کی طرح کمرے کے چاروں کونوں میں لہرا کر ان میں حرکت ہوتے دیکھ کر مستعد ہو کر آگے بڑھتی عروج کے چہرے پر جم گئیں۔
    آہجومہ ۔۔۔ کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔
    انکی پیشانی سہلاتے اس نے بے حد نرم سے انداز میں ہنگل میں پوچھا۔۔
    میری۔۔ میری بیٹی کو بلوا دو۔
    بے حد کم آواز میں وہ اٹک اٹک کر ہمیشہ کی طرح یہی جملہ بولی تھیں۔۔
    ۔آپکی بیٹی آپ سے ملنے آئی ہے۔۔۔ عروج نے دھیرے دھیرے بتایا تو جیسے مردہ تن میں جان سی پڑ گئ۔ بے تاب سا ہو کر انہوں نے اٹھنا چاہا۔۔۔۔ تو عروج نے نرمی سے انکے شانے پر دبائو ڈالتے ہوئے روکا اور خود دھیرے سے ان کے اور انکی بیٹی کے درمیان سے ہٹ گئ۔
    دیوار سے ملحقہ نرم سے بنچ پر بیٹھی وہ کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔
    مینا۔۔ نحیف سی پکار۔ ضعیفی اور ضعف عروج کا انکی بے بسی پر دل بھر آیا۔۔۔ تو رخ موڑ کر آنکھیں صاف کرنے کگی
    اپنے گناہوں کی سزا میں یہاں ایسے یوں پڑی ہوتم۔ مجھے تم سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں۔۔ایک بار اپنے گندے وجود اور بدبو دار ماضی سمیت دنیا سے دفع ہو جائو جان چھوڑو میری۔۔۔
    مینا چلائی۔۔عروج ششدر سی پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔۔
    دو دل کے دورے پڑ چکے ہیں انہیں۔اچانک خوشی بھی جان لیوا ہو سکتی ہے تبھی اتنی احتیاط سے ملوایا تمہیں اور تم ان پر چلا رہی ہو۔۔
    عروج دانت پیستی غرائی تھی مگر دھیمی آواز میں۔ آہجومہ سسکیاں لیکر رو پڑی تھیں۔ مینا نے نفرت سے سر جھٹکا۔۔
    مرجائے میری طرف سے کل کی مرتی آج مر جائے۔ یہ جہنم یہ اسکے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اسکی وجہ سے تمام عمر اپنا نام اپنی شناخت بدلتی رہی ہوں چھپاتی رہی ہوں کبھی للی ، ٹریسی ، مینا کیا کیا۔۔۔۔۔ اس نے سسکی لی۔۔
    پھر بھی اسکا حوالہ میری زندگی کی ہر کامیابی ہر خوشی کے سامنے رکاوٹ بنتا گیا۔۔ اس نے نفرت سے بیڈ کی جانب اشارہ کیا جہاں پڑا وجود سسکیاں لے رہا تھا۔۔
    وہ چلاتے چلاتے رو پڑی تھی۔۔ عروج کو سمجھ نہ آیا اں ماں بیٹی کو کیسے سنبھالے۔ مینا عروج کو ایک طرف کرتی بیڈ کی جانب بڑھی
    تمہاری وجہ سے تمہارے ماضی کی وجہ سے میری زندگی میں آج تک کوئی خوشی نہ آسکی۔ نہ میں پڑھ سکی نہ کچھ بن سکی آج تمہارے ہی نقش قدم پر بار میں ناچتی ہوں تو ہر بار تم پر دل سے لعنت بھی بھیجتی ہوں۔ دیکھ لو تم اپنا انجام ماضی کی مشہور اداکارہ جس جسم کے بل پر بالغ صنعت پر حکمرانی کرتی تھئ آج اسی جسم کو دیکھو کیسے گل رہا ہے۔ دیکھو۔۔
    وہ چلا کر بے دم سی ہو کر اسکے بیڈ کے پاس گھٹنوں کے بل گر کر اسکی پٹی سے سر ٹکا کر رو رہی تھی۔ آہجومہ پر جیسے ان سب باتوں کا الٹا اثر ہو رہا تھا آنکھیں نیر بہا رہی تھیں مگر چہرے پر مردنی نہیں تھی۔ اٹھ کر زرا سا بیٹی کے گھنے بالوں والے سر پر انگلیاں پھیر کر دھیرے سے بولیں۔۔
    میری جان۔ مینا اٹھ کر ان سے لپٹ گئ۔۔
    عروج کے لب نیم وا سے ہوئے… ان سب سے بےنیاز زرا ہٹ کے بیٹھئ اپنے موبائل میں مگن آنکھیں مسلتی دھیرے سے وہ باہر نکل آئی۔ دروازہ احتیاط سے بند کر کے وہ ان دونوں ماں بیٹی کو اپنے معاملات سلجھانے کا موقع دینا چاہتی تھی۔ دروازہ بندکرکے سیدھی ہوئی تو بری طرح دہل کر دل پر ہاتھ رکھا۔۔
    ہائے اللہ۔۔
    سیونگ رو بالکل سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔
    اس نے اپنی چوڑی ہتھیلی اسکے سامنے پھیلائی تو وہ جیسے سمجھ کر فورا کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالنے لگی۔۔ ایک جیب دوسری جیب دوبارہ پھر پہلی جیب۔۔ وہ ہونق سی ہوئی۔۔
    ۔کہاں گیا۔ اس نے واقعی اسکے ہاتھ پائوں پھلا دیئے تھے۔ تشویش زدہ سئ وہ جیبیں کھنگال رہی تھی۔
    مل گیا۔۔ شکر معاملہ طوالت نہیں پکڑ پایا۔اس نےخوش ہوتے ہوئے پولیس کارڈ نکال کر اسکی ہتھیلی پر جمایا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھمسامنیدہ۔۔
    پولیس افسرنی نے جھک جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔
    میں نے کہا تھا اسپتال میں چیزوں کا ہم خیال رکھتے ہیں یہ وہیں سائیڈ ٹیبل کے پیچھے گرا تھا۔ میں معزرت خواہ ہوں آپکو تکلیف اٹھانئ پڑی۔ سیونگ رو کی شخصیت اسکا دھیما انداز بندی وہیں ڈھیر ہونے لگی۔۔
    نہیں نہیں معزرت کی کیا بات۔ دراصل اس کارڈ کی گمشدگی کی فوری رپورٹ کرانئ پڑتی ہے کہیں غلط استعمال نہ ہو جائے بس اسلیئے میں فکر مند تھئ آپکا بہت شکریہ ۔ ایک بوجھ دل سے ہٹا ہے میرے۔۔ آپ سچ مچ بہت معاون اور خیال رکھنے والے ڈاکٹر ہیں۔ کبھی کوئی مسلئہ ہو تو آپ بلا جھجک رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس نے اپنا کارڈ بڑھایا تو سیونگ رو نے خندہ پیشانی سے قبول کر لیا
    چری ہوئی بانچھیں مدھر انداز۔ اس کو لڑکی ہو کر اسکے لہجے کے شیرے میں اپنا دل رس گلے کی طرح پھولتا محسوس ہورہا تھا جانے سیونگ رو کا کیا حال تھا۔ اسے مکمل نظر انداز کیئے دونوں باتوں میں مگن تھے۔
    بہت شکریہ۔ سیونگ رو نے کہا تو وہ اتنا کھل کے مسکرائ کہ بس۔۔۔۔۔جانے کا دل نہیں تھا مگر دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی تھیں سو رخصت لینی پڑی بے چاری کو۔ اسپتال سے نکلتے نکلتے بھی اس نے ایک بار مڑ کر پیچھے دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا تھا۔ عروج نے اسکے نکلتے ہی سر جھٹکا تو پتہ چلا اکیلی کھڑی ہے سیونگ رو لابی کی جانب قدم بڑھا چکا تھا۔۔ یقینا یہ ناراضگئ کا اظہار تھا۔وہ سٹپٹا کر لپکی
    آہم۔۔ کورین نامجا عزت ماآب سیونگ رو صاحب کے اوپا کہلانے کے دن آگئے۔۔
    اس کے ساتھ قدم ملاتے اسے بھاگنا پڑا تھا۔
    ویسے لڑکی کا قد اچھا ہے۔ گوری بھی ہے۔ پیاری تو بہت ہے۔ تمہارے ساتھ جچے گی ہاں شائد ایک دو سال بڑی ہے تم سے اسکے کارڈ پر آسکی سالگرہ کا سال۔۔
    لابی میں تیز قدم بڑھاتا سیونگ رو ایکدم رک کر اسکی جانب مڑا۔ وہ سٹپٹا کر بریک لگا گئ
    کون ہو تم ؟ اسکا لہجہ دو ٹوک سا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا۔۔
    میں۔۔ وہ مزید بوکھلائی۔۔۔
    عر۔۔ عروج۔۔ اس نے سنبھلنا چاہا۔
    سیونگ رو نے ایکدم اسکا ماسک کھینچ کر اتار دیا تھا۔۔
    واعظہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتی رہ گئ تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ رائونڈ لگا کر واپس جب آئی تب تک واعظہ اسی جیسا حلیہ بنائے لیپ ٹاپ پر مگن تھی۔
    ملی کوئی تفصیل۔
    عروج نے کافی کا مگ لا کر اسکے سامنے رکھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔
    ثریا نام کی کوئی مریضہ یہاں کبھی داخل ہوئی ہی نہیں ناہی کسی بنگالی لڑکی کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ یقینا یہ سرٹیفیکیٹ جعلی ہے۔
    واعظہ مایوسی سے اسکرال کر رہی تھی
    ایک تو یہ میرا ذاتی سرورہے اس پر صرف اس وارڈ اور ایمرجنسی کے ہی مریضوں کی تفصیلات مل سکتی ہیں باقی اتنا بڑا اسپتال ہے باقی وارڈز کا ڈیٹا تو پھر ایڈمن کے پاس ہی ہوگا۔ہاں اس سرٹیفیکیٹ کو دیکھ کر اتنا بتا سکتی ہوں کہ یہ جعلی نہیں ہے۔ اس پر اسپتال کی سیل اصل لگی ہے۔
    رخ موڑ کر کافی کا گھونٹ بھرتی عروج تفصیل سے بتا رہی تھی۔
    ہوں ۔۔ واعظہ نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔
    اچھا پھر میں چلتی ہوں شکریہ تمہارا۔۔ وہ کافی پینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھئ سو اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ٹھہرو میں بس ایک مریضہ کو دیکھ لوں پھر فارغ ہوں اکٹھے چلتے ہیں۔
    عروج نے کہا تو وہ سر ہلا کر اسکے ساتھ ہی چل پڑی۔
    دونوں نے آج ایک جیسا لباس پہن رکھا تھا۔بلیک جینز لانگ شوز بلیک ہی اپر اور اسکارف ہاں عروج کے ساتھ چلتے واعظہ نے اپنا نقاب اتار لیا تھا۔ عروج وارڈ کی۔جانب بڑھ گئ تو وہ ریسیپشن کی طرف چلی آئی۔ یونہی ایک کونے میں صوفے پر بیٹھ کر میگزین دیکھنے لگی۔ عروج پانچ منٹ میں ہی فارغ ہو کے چلی آئی۔
    یار سچ میں سخت افسوس ہوتا ہے اس آہجومہ پر جان کنی کا عالم ہے مگر جان اٹکی ہوئی ہے جب شکل دیکھتی ہیں ایک رٹنی لگا لیتی ہیں کہ میری بیٹی کو بلا دو۔ قسم سے دل کر رہا جائوں انکی بیٹی کو ہاتھ پیر باندھ کر یہاں لے آئوں کیسا ماں کو ترسا رہی ہے۔
    عروج نے ماسک پہنا ہوا تھا مگر واعظہ کو اندازہ ہورہا تھا کہ اندر چہرہ جزبات کی شدت سے لال بھبوکا ہو رہا ہوگا۔
    آئی بڑی تھانیدارنی۔ ہاتھ پیر باندھ کر لائوگی تم شکل دیکھی ہے اپنی۔
    واعظہ نے سیدھا چڑایا تھا اور وہ چڑ بھی گئ۔
    کیوں کیا ہے میری شکل کو۔ اس کورین تھانیدارنی سے تو ذیادہ رعب دار شکل ہے میری۔
    اسکی بات پر واعظہ ہنس پڑی۔
    ہاں یہ بات تو سچ ہے۔ اتنئ ادائیں دکھاتے ہوئے سیونگ رو سے ٹیکا لگوایا ایسے منہ بنائے کہ دل کر رہاتھا ایک چٹکی کاٹ ہی لوں اسکے۔۔۔۔ واعظہ یوں تو کونے میں آڑ میں بیٹھی تھی مگر جھانک کر ان دونوں کا دیدار کر لیا تھا۔
    دونوں باتیں کرتی اسپتال سے باہر نکل آئیں۔ تب واعظہ کو خیال آیا۔دونوں جیبیں ٹٹولیں اپنی پھر ہراساں سی ہو گئ
    اوئے میرا موبائل۔۔
    ابھی تو ہاتھ میں نہیں تھا۔۔
    عروج کو۔یاد تھا۔۔
    پھر یقینا تمہارے ڈیسک پر بھول آئی ہوں لیکر آتی ہوں تم ٹیکسی روکو میں آتی ہوں۔
    وہ کہتی اندر بھاگ گئ تو عروج سر جھٹکتی ذیلی سڑک کی۔جانب بڑھ آئی۔
    کیا کروں۔ ۔۔۔ اب وہ لڑکی آتی ہی نہیں بلانے پر میرا فون بھی بلاک لسٹ میں ڈال دیا اور کسی کے فون سے کرو کال تو آواز سن کر رکھ دیتی ہے۔ اس تھانیدارنی سے کہتی ہوں جا کے کان سے پکڑ کر لائے۔
    ویسے۔۔ تھانیدارنی تو جیسے میرے باپ کی نوکر ہے جو میرے کہنے پر چلی بھی جائے گی۔ واعظہ کاش تھانیدارنی ہوتی تو ۔۔۔۔۔۔اوٹ پٹانگ سوچیں کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی تھی
    گاڑی کے قریب آکر رکنے پر اسکے خیالات کا تسلسل ٹوٹا تھا۔
    ڈرائیونگ سیٹ پر مانوس شکل دیکھتے ہوئے کوئی خیال سا اسکے ذہن میں کوندا بنا اگلا لمحہ لگائے وہ گاڑی میں بیٹھ کر سیونگ رو سے پوچھ رہی تھی۔۔
    ایک کام کروگے ؟ ایک جگہ جانا ہے لے جائوگے مجھے؟
    سیونگ رو حیران تو ہوا مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ان خاتون کے سامنے لا کھڑا کیا تھا اسے۔
    یہ دیکھو دو دل کے دورے پڑ چکے انکو۔
    دوائوں کے زیر اثر گہری نیند سوتی وہ بوڑھی خاتون نہایت معصوم سی لگ رہی تھیں۔
    بے چاری۔
    واعظہ کو بھی ترس آیا
    دیکھا تمہیں بھی ترس آیا نا۔ مگر انکی بیٹی کو نہیں آتا۔ ہر۔کوشش کر چکی نہیں آنے کو تیار وہ ۔
    عروج کہتے کہتے رکی۔۔
    ہمممم۔۔بےچاری آہجومہ۔۔
    واعظہ نے مزید افسوس کا اظہار کیا۔
    چلو چلیں۔ وہ کہہ کر مڑکر جانے لگی عروج نے ہاتھ تھام لیا
    پلیز تم جا کے اسے لے آئو۔
    میں تو بڑی پھپھو لگتی ہوں اسکی جا کر کہوں گی چلو میرے ساتھ ورنہ تمہاری شادی میں آکر رولا ڈال دوں گی کہ۔۔۔
    واعظہ کو غصے میں طنزیہ خوب جملے بازی سوجھتی تھی اس وقت بھی ایک دھواں دھار تقریر جھاڑنے کو تھی کہ عروج نے بات کاٹ دی
    نہیں تم تھانیدارنئ بن کر جانا وہ جو آج مریضہ آئی ہے نا پولیس والی میں اسکا کارڈ لا کر دیتی ہوں اور ہتھکڑی بھی تم جا کر اسے گرفتار کر لینا۔بس۔ یہ لڑکی ہے۔۔
    وہ اپنے فون سے اسکی تصویر اور بائو ڈیٹا نکال کر اسے دکھانے لگی
    دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟
    واعظہ اسکے پلان کو سنتے ہی اچھل پڑی تھی۔
    ایک تو وہ علاقہ ریڈ لائٹ ایریے میں آتا ایک سے ایک غنڈہ بدمعاش وہاں ہوگا تم چاہتئ ہو میں نا صرف وہاں جائوں بلکہ ہتھکڑی لگا کر اس لڑکی کو لیکر آئوں؟ کوئی انڈین فلم چل رہی ہے یہ؟
    پلیز یار تم نے تو تائکوانڈو سیکھا ہوا ہے تمہارئ لیئے ایک لڑکی کا بازو مروڑ کر لانا کیا مشکل ہے؟ پھر اکیلے تھوڑی بھیج رہی ہوں سیونگ رو ہوگا نا ساتھ۔
    عروج منت کر رہی تھی۔۔
    سیونگ رو تو آرنلڈ شوارسنیگر ہے نا ۔ اس لمبو کوتو میں پٹخنی دے کر گرا سکتی ہوں۔ سنگل پسلی بانس جیسا۔ اسکے ساتھ بھیج رہی ہو۔
    بی بی مجھے پہلے ہی بہت سے ایڈونچر تم لوگوں کی بدولت مل چکے مزید نہیں چاہیئیں۔
    وہ سر نفی میں ہلاتی عروج کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف نکلنے لگی عروج نے اسکاہاتھ تھام لیا۔
    قسم سے تمہیں نہ کہتی اگر مجھے اتنا خود پر اعتماد ہوتا کہ میں اسے پیٹ پاٹ کر یہاں لا سکتی ہوں۔ میں نے سیکھا ہوتا نا کوئی تایکوانڈو مارشل آرٹ تو کبھی تمہیں نہ کہتی۔ یار یہ ایک زندگی کا سوال ہے۔ تم ایک بار اس آہجومہ کی حالت دیکھ لو۔
    پھر بھئ کوئی عقل کو ہاتھ مارو۔میں پولیس والی کا کارڈ چوری کرکے وہاں جائوں اور لڑکی کو ہتھکڑی لگا کر لائوں یہ تمہیں آسان کام لگ رہا ہے۔
    واعظہ کو اسکی دماغی حالت پر شک ہونے لگا تھا
    چوری تم تھوڑی کروگی میں لا کر دیتی ہوں نا۔ میں یہاں انتظار کروں گی اسی کمرے میں تم سیونگ رو کے ساتھ جائو اس وقت وہ لڑکی بار میں ہی ہوگی میں نے سب پتہ کیا ہے۔۔۔ اسکی پڑوسن سے منتیں کرکے تفصیلات لی ہیں
    اور ایسی بھی کوئی خوفناک جگہ نہیں میں دو تین بار جا چکی ہوں۔ اس سے ملنےاب تو۔۔وہ میری شکل دیکھ کر گالیاں دینے لگتی ہے۔خیر ۔ ایسی ویسی جگہ میں بھیجتی تمہیں کیا؟ او رسب سے بڑھ کر اب بس زور زبردستی سے اسے لایا جا سکتا باقی جو کر سکتی تھئ میں کر چکی ہوں اسی سے اندازہ کرلو یہ معاملہ کتنا اہم ہے میرے لیئے۔
    عروج اسے ہر صورت منا لینا چاہتی تھی۔۔ واعظہ اسکی شکل دیکھنے لگی۔ یہ عروج کا انداز نہیں تھا یقینا وہ کافی مجبور ہوچکی تھی۔ اس نے گہری سانس لی۔

    اور وہ سیونگ رو وہ تیار ہوگیا ہے اس احمقانہ پلان میں میرے ساتھ جانے پر ؟
    واعظہ نے کہا تو وہ گڑبڑائی
    ہاں۔۔۔ اس نے جھوٹ بولنا مناسب سمجھا۔۔۔ تم میں بن کر جانا اس وقت تم اور میں نقاب میں ایک جیسے ہی لگ رہے ہیں۔ جیسے یہاں اسٹاف کو پتہ نہیں لگا سیونگ رو کو بھی پتہ نہیں لگے گا کہ تم میں نہیں ہو۔۔۔۔۔
    واعظہ گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرنے لگی
    دیکھو مانا اس وقت تم نے میرا بہت ساتھ دیا اس طرح مجھے یہاں اپنے ڈیسک سرور تک آنے دیا میں یہاں تم بن کے مریضوں کی تفصیلات دیکھتی رہی یہ بات کھلتی تو تم ٹھیک ٹھاک مصیبت میں آجاتیں مگر یقین کرو اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں تم پر آنچ نہ آنے دیتی پہچاننے سے بھی انکار کردیتی تمہیں۔۔۔
    تمہارا احسان تمہاری بہت قدر ہے مجھے مگر جوابا تم جو مجھ سے چاہ رہی ہو یہ سیدھا سیدھا پولیس کیس بنے گا۔
    یہ بہت ذیادہ ہے۔۔۔
    واعظہ صاف انکار کرکے اسکے ردعمل کا انتظار کرنے لگی۔ وہ۔خاموش ہو کر سر جھکا گئ
    آئم سوری اگرتمہیں ایسا لگا کہ میں تم سے اس بات کا صلہ مانگ رہی ہوں۔ آئی سوئیور میرے زہن میں ایسی بات نہیں تھی۔ تمہیں آئندہ بھی کبھی بھی میری مدد کی ضرورت ہوگی تو میں ضرور کروں گی۔۔ جانے دو۔
    عروج گہری سانس لیکر مسکرادی۔ واعظہ کو اس سے اتنی جلدی مان جانے کی۔توقع نہیں تھی۔
    چلو گھر چلیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ سہولت سے منع کر گئ
    تم جائو گھر میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں۔ باہرسیونگ رو انتظار کر رہا ہے وہی مجھے گھر چھوڑدے گا۔
    عروج نقاب ٹھیک کرتی اپنا بیگ اٹھانے لگی۔ واعظہ نے سر ہلایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔
    عروج نے مڑکر آہجومہ کو تاسف سے دیکھا پھر دل ہی دل میں اپنا عزم دہرایا۔۔
    اب میں خود ہی جائوں گی۔۔۔
    خبردار۔جو تم نے خود وہاں جانے اور اس فالتو پلان پر عمل درآمد کا سوچا۔۔۔
    واعظہ دروازے سے اندر جھانکتی کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی۔۔ عروج کا منہ کھلا۔۔ پھر مسکرا دی۔۔۔۔۔ نقاب میں اسکے مسکراتے لب تو نہیں مسکراتی آنکھیں ضرور دکھائی دے گئ تھیں۔ واعظہ کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آہجومہ کے بیڈ پرچڑھی بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی جب عروج بھاگی بھاگی آئی۔۔
    یہ لو۔۔ اس نے پھولی سانسوں کے ساتھ کارڈ بڑھایا۔
    واعظہ نے ہتھیلی پھیلائی تو عروج نے اس پر پولیس کارڈ لا رکھا۔
    ہتھکڑی؟ واعظہ نے بھنوئیں اچکائیں۔۔
    یار وہ اسکے ساتھیوں کے پاس ہے۔عروج کھسیائی۔۔
    گن ہی لے آتیں اب اس کارڈ کو اسکی کنپٹی پر رکھ کر تو اسے نہیں لائوں گئ۔
    واعظہ نے کہتے ہوئے کارڈ اسکی پیشانی پر ہی بجا دیا۔۔
    عروج خفت زدہ سی ہنس دی۔
    یار سچ مچ گن ڈھونڈتی رہی مگر یہ کورین پولیس والے بہت احتیاط پسند ہیں۔ اسکی گن ہتھکڑی سب قبضے میں لے لیا اپنا سر پھٹا ہوا تھا مگر گھوم گھوم کے کارڈ ڈھونڈ رہا تھا بیڈ کے نیچے سائیڈ ٹیبل پر بڑی مشکل سے چھپایا میں نے کارڈ اسکی نظروں سے۔
    عروج اپنا کارنامہ داد چاہنے والے انداز میں سنا رہی تھی۔
    ویسے جو دوسرا زخمی ہے اسکو اینستھیزیا دیا ہوا ہے اسکی ہتھکڑی لے آئوں؟۔۔۔۔اسے اچھوتا خیال سوجھا۔۔۔
    یہ مجھے پہلے خیال کیوں نہیں آیا۔
    وہ سر پر ہاتھ مار کر واپس جانے لگی تو واعظہ نے روکا
    بس بہن آج کیلئے اتنا ہی جیمز بانڈ بننا کافی ہے۔ اس سب میں آدھا گھنٹہ ہورہا سیونگ رو ہمارے ابا کا ملازم نہیں جو باہر کھڑا انتظار کرتا رہے۔۔
    پندرہ منٹ ہوئے ہیں بس۔۔ عروج کھلکھلائی۔۔
    واعظہ گھور کر رہ گئ۔۔
    عروج اس سے لپٹ گئ۔۔
    شکریہ واعظہ تم بہت اچھی ہو۔۔
    بچا کے رکھو اگر ون پیس میں واپسی ہوئی میری تو کام آئے گا
    واعظہ آئی ڈی کارڈ کو غور سے دیکھتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں یہیں انتظار کر رہی ہوں۔ عروج نے یاد دہانی کرائی تو وہ چہرے پر ماسک درست کرتی باہر نکل گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چوروں کی طرح گھر میں داخل ہوکر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا۔خلاف معمول بے تحاشا خاموشی تھی۔۔
    جھکے جھکے اندر داخل ہوکر انہوں نے مڑ کر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر تیجون کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
    یہ آپکا گھر نہیں؟ اسے اچنبھا ہوا۔
    شسشس۔ دلاور نے مڑ کر گھورا
    یہ میرا گھر ہے جبھی میرا یہ حال ہوا وا۔ ہائش تمہیں اور کوئی نہ ملا اپنی گندی یو اسی بی میری جیب میں ڈال دی۔ میں وہی اپر پہن کر نماز پڑھ آیا کل۔۔ہونہہ۔
    وہ لہجہ دبا کر گھرک رہے تھے
    گھر میں کوئی نہیں۔۔ لگتا یے۔۔ انکے برعکس تیجون مطمئن تھا چاروں اطراف نگاہ دوڑا کر انکو بھی اطمینان دلانا چاہا۔
    کیا ؟ دلاور سیدھے ہوئے۔گھر میں ایکدم سناٹا تھا۔۔
    میری بیوی تین بچے سب کہاں گئے۔۔۔ وہ پریشان ہوئے پھر اطمینان بھری سانس لی۔
    باہرگئے ہیں۔ اور تم چلو فورا اپنی یو ایس بی لو۔اور چلتے بنو۔
    اب کی بار انکا انداز لہجہ سب بدل گیا تھا۔تیجون نے منہ بنالیا
    پاکستانی مرد بھی بیویوں سے ڈرتے پھرتے ہیں۔۔
    دے؟ دلاور نے پلٹ کر گھورا۔۔
    آندے آنی۔۔ ( کچھ نہیں) وہ مسکرایا۔دلاور نے بھی بہتری یہی سمجھئ کہ سنی ان سنی کردے۔
    انکے بیڈ روم میں انکا وہی اپر سامنے پھیلا تھا۔۔ انہوں نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر سب بتیاں جلا دیں۔۔
    تیجون لپکا اور جلدی سے اپر اٹھا کر جیبیں کھنگالنے لگا
    اس میں تو نہیں۔
    اس میں سے دودھ یا الٹی کی بو آرہی؟
    دلاور نے کسوٹی کھیلنی چاہی۔
    دے؟ تیجون کا منہ کھلا
    کل میرے بیٹے نے میرے کندھے پر الٹی کی تھی بو آرہی ہے؟ بتائو نا؟ دلاور نے کہا تو اس نے سونگھا ۔ ڈٹرجنٹ کی مہک اٹھ رہی تھی۔
    نہیں۔اس نے چہک کر بتایا۔۔
    بس تو پھر دھل گیا یہ اور تمہاری یو ایس بی بھی۔۔۔
    دلاور نے ہاتھ جھاڑ دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 34

    قسط 34
    اسے پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا اتنی رات گئے کہاں جائے اپنا بیگ اٹھائے دو دن تو یونہی پبلک پارک میں چوکیدار کی نظر سے بچتے گزار دیئے مگر کوریا کی سردی اسکی ہڈیاں جما رہی تھی۔ اس دن وہ پارک میں بنچ پر سوئی تھی جب ایک چوکیدار نے اسے اٹھا دیا تھا۔
    بی بی جائو یہاں سے یہ سونے کی۔جگہ نہیں۔
    کھا کھا۔۔ اس نےٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اسے نکلنے کا کہا پھر کھا کھا کہتا رہا۔ اسے بیگ اٹھا کر نکلتے ہی بنی۔
    مر جائوگئ یہاں ٹھنڈ میں ۔۔۔
    اس نے اضافہ کیا۔ وہ سخت چڑی۔
    مروں یا جیئوں تمہیں کیا۔ جوابا وہ اردو میں دھاڑی تھی۔
    مگر چوکیدار اسکے تیور دیکھ کر پلٹ گیا۔ وہ چلتے چلتے مین روڈ پر نکل آئی۔ ایک دکان کے تھڑے کے اوپر پناہ لی ۔۔ تب ہی اسے واعظہ اور فاطمہ ٹکری تھیں۔
    اس نے انکو سب بتایا سوائے اسکے کہ جو اسناد اور ویزا اس نے انہیں دکھایا تھا وہ جعلی تھا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ باتھ روم سے ہاتھ جھاڑتی نکلی تھی جب کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
    سوری۔۔
    اس نے فورا کہہ کر سر اٹھایا تو ٹکرانے والا سینے پر ہاتھ لپیٹ کر بہت غور سے سے دیکھنے لگا تھا۔
    کیسی ہو؟
    ٹھیک ہوں تم۔کیسے ہو؟
    وہ سنبھل کر۔مسکرادی
    کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ وہ شائد طنز کر رہا تھا
    کہنے کو تو میں بھی ٹھیک ٹھاک ہوں۔
    اچھی بات ہے۔ وہ اسکے پاس سے گزر کر جانے لگی
    سنو۔۔ کیا ہم۔بات نہیں کر سکتے؟ پلیز۔۔
    اسکا انداز اسکے قدم روک گیا۔۔
    ہاں مجھے شکریہ ادا کرنا تھا تمہاری مدد کا۔تم نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ اور مبارکباد بھی دینی تھی۔ سنا ہے کافی ترقی کر چکے ہو۔۔ اچھی بات ہے تمہارا خواب پورا ہوا اسپیشل فورس میں جانے کا۔ تم سے یہی امید تھی جتنی تم میں لگن تھی کامیابی یقینی تھئ تمہاری۔ اچھا پھر ملیں گے۔
    وہ بنا رکے ایک سانس میں کہہ کر چلی۔جانا چاہتی تھی۔
    مجھے خالی خولی مبارکباد نہیں چاہیئے نا شکریہ۔
    اس کی پھرتی اسکے آنکھوں میں جلتے کئی چراغ بجھا گئ تھئ۔ پھر بھی وہ ہمت نہ ہارا۔۔
    مجھے ٹریٹ چاہیئے۔ وقت جگہ تم بتا دینا میں آئونگا۔۔
    اس نے خود کو۔خود ہی دعوت دی تھی۔
    اسکی جانب پشت ہونے کے باوجود واعظہ کو اپنی پشت میں کھبتی نگاہوں کا احساس ہورہا تھا۔وہ دھیرے سے آگے بڑھا اسکی مٹھی کھول کر اپنا کارڈ تھمایا پھر پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر نکلتا چلا گیا۔
    واعظہ نے گہری سانس لیکرکارڈپڑھا۔۔
    کم جونگ وون۔
    ڈیٹیکٹو۔۔ اسپیشل سروسز۔۔
    وہ اپنی پینٹ کی جیب میں کارڈ گھساتی جب واپس آئی تو میز خالی پڑی تھی وہ سب گلاس وال سے ناک چپکائے باہر جھانک۔رہی تھیں۔
    یار یہ واعظہ کا کلاس فیلو ہے؟ سچ بتائو۔۔
    عزہ پرجوش سی پوچھ رہی تھی۔
    اسکی شکل تو ژیہانگ سے ملتی ہے۔۔
    یہ الف نے رائے دی تھی
    کم از کم بھئ چھے فٹ دو انچ ہوگا قد۔ یہ پاپا کے ساتھ آیا تھا دو ایک بار۔ مگر مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ واعظہ کا فرینڈ ہے اسی نے کہا ہوگا اسے ہماری مدد کرنے کو
    نور نے اندازہ لگایا۔۔
    اور پتہ ہے یہ سیہون اور واعظہ ہائی اسکول سے اکٹھے پڑھتے آئے ہیں۔ میری جب واعظہ سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تھی نا تائیکوانڈو کلب میں تب یہ سیہون سے ملنے آتا تھا۔ایک۔بار سیہون سے کہہ رہا تھا کہ واعظہ سے کہو کم از کم ایک بار تو مل لے مجھ سے۔۔۔
    فاطمہ تفصیل بتا رہی تھی۔
    کب کی بات ہے؟ نور چونکی
    تین سال۔ہورہے۔
    تو واعظہ ملی تھی ؟
    عروج نے دلچسپی سےپوچھا۔۔
    نہیں۔۔ فاطمہ نے وثوق سے کہا
    ہاں۔ واعظہ نے اطمینان سے اقرار کیا۔
    تمہیں۔کیسے پتہ۔
    فاطمہ نے پلٹ کر کہنا چاہا۔مگر واعظہ کو سینے پر بازو لپیٹے اطمینان سے انہیں گھورتے دیکھ کر جم سی گئ۔
    ہیں ملی۔۔۔ عروج بھی کہتے ہوئے پلٹ کر یکدم چپ۔ہوئی
    کیا ہوا۔ سب باری باری پلٹ کر خجل ہوتی گئیں۔۔
    یہ میرا کلاس فیلو تھا تین سال قبل ملنے آیا تھا مجھ سےاور سیہون کے کہنے پر میں ملی بھی تھی۔ اسکے بعد آج ملاقات ہوئی ہے ہماری۔ اور نور تمہاری مدد کرنے کو میں نے نہیں کہا تھا اسے۔۔۔۔
    جو کام۔کیا ہی نہیں اسکا کریڈٹ لینا اسکی سرشست میں نہ تھا
    سو اطمینان سے کندھے اچکا کر کرسی گھسیٹ کر۔بیٹھ گئ۔
    ان سب نے بھی تقلید کی۔
    کیوں ملنا چاہتا تھا؟
    عزہ نے اشتیاق سے پوچھا مگر پوچھتے ہی احساس ہوا کچھ غلط کہہ گئ ہے کیونکہ سب نے مشترکہ گھوری دی تھی
    اب کیوں ملنا چاہتا ہے؟
    فاطمہ نے سیدھا سوال کیا ۔۔ وہ واش روم جانے اٹھی تھی۔جب اس نے کم جونگ وون کو واعظہ سے ٹکراتے دیکھا اور وہیں سے الٹے قدموں واپس ہوئی تھی ان سب کو بتانے۔۔۔۔
    واعظہ نے ایک نگاہ ان سب کے مشتاق چہروں پر ڈالی
    تین سال قبل اس نے مجھ سے مل کر پوچھا تھا کہ کیا میں اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ اب جانے کیوں ملنا چاہتا ہے۔
    اس نے سرسری انداز میں دونوں کو۔جواب دیا تھا
    کیسا فیصلہ۔ ان سب نے کورس میں پوچھا تھا تبھی ویٹر آکر کھانا میز پر۔لگانے لگا تھا۔۔۔۔۔ان سب کو۔وقتی طورپر خاموش ہونا پڑا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگلا پورا ہفتہ نائٹ تھی۔
    شیڈول دیکھ کر اس نے اپنا پورا ہاتھ پھیلا کر لعنت بھیجی تھی بورڈ پر چپکے اس کاغذ کو۔۔ وہ بھی تین بار۔
    مر کیوں نہیں گئے ایسا شیڈول بنانے کے بعد۔۔
    ڈاکٹر جو بیونگ کا نام نیچے منتظمین میں لکھا تھا سو انکو علیحدہ سے یہی خراج تحسین پیش کیا۔
    اسکی شفٹ کی تھکان دگنی محسوس ہونے لگی تھی۔
    نائیٹ ڈیوٹی ہے اگلا پورا ہفتہ کتنی۔خوش نصیب ہو تم۔۔
    اسکی کولیگ ڈاکٹرجنگ دو ہا جسکو دعا کے قریب قریب ہی۔تلفظ سے سب پکارتے تھے اسکے پاس آکر رشک سے بولی
    تم لے لو یہ خوش قسمتی میری سب نائٹ سے اپنی مارننگ سویپ کرلو۔۔
    عروج یکا یک پرجوش ہوئی تو وہ کھلکھلا دی۔ صفحے پر عروج سے نیچے اسی کا ہی نام جگمگا رہا تھا۔
    میری بھی پورا ہفتہ نائیٹ ہے تمہارے ساتھ تبھی تو تمہیں خوش نصیب کہہ رہی تھی۔ اس نے اٹھلا کر اسے کندھا مارا
    تم اور خوش نصیبی؟ عروج بدمزہ سی ہوئی۔۔
    آہاں میں نہیں ڈاکٹر سیونگ رو۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں اگلا پورا ہفتہ۔۔
    وہ شرارت پر آمادہ اسے چھیڑنے کے موڈ میں تھی
    عروج نے کندھے اچکا دیئے۔ اور اپنے کمرے کی۔جانب چل پڑی
    ارے۔ وہ۔دوڑ کر اسکے ہم قدم۔ہوئئ
    ارے مجھے تو لگا تھا تم۔خوش ہوگی یا کہہ کر لگوائی ہوگی۔تم نے یہ ڈیوٹی سیونگ رو کے ساتھ۔
    ہاں مامے کا پتر ہے نا وہ میرے اسکے ساتھ ہی رہوں بس میں
    عروج نے ہنگل میں منہ چڑایا۔۔
    تھیبا پورا جملہ۔ہنگل میں زبان میں وٹ تو نہیں پڑ گئے دکھانا ذرا۔
    دعا اسکے کندھے سے جھول۔جھول گئ۔ عروج ہنس دی۔۔ لابی کے اختتام پر اسکا ڈورم تھاانکا رخ اسی کی۔جانب تھا
    یار اب اتنا بھئ برا حال نہیں میرا اتنا تو بول ہی۔لیتی ہوں بس مجھے ڈر رہتا غلط سلط بولنے پر مزاق نہ بنے۔۔۔
    عروج اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے ہوئے بولی تو دعا سنجیدہ ہوگئ
    کورین کبھی مزاق نہیں اڑاتے غلط ہنگل بولنے پر بلکہ۔ہم تو خوش ہوتے ہیں لوگ ہماری زبان ہماری ثقافت سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔الٹا ہم مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مس فٹ نہ محسوس کریں غیرملکی ہمارے یہاں۔ ہاں بس ہم سے انگریزی نہیں سیکھی جاتی۔ بہت مشکل زبان ہے بھئ۔
    وہ کہتی ہوئی نچلے بنکر پر گر سی گئ۔
    اپنا اوور آل اتار کر تہہ کرتی عروج مسکرا کر دیکھنے لگی
    تم لوگوں کو سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہماری تو مجبوری ہے انگریزئ مسلط ہے ہم پر سیکھنا ہماری صوابدید پر نہیں ہم پر لازم ہے کہ سیکھیں اسے۔
    وہ کہتے ہوئے اپنی میز پر کھلی کتابیں سمیٹنے لگی۔ اسپیشلائزیشن کئ تیاری کر رہی تھی سو اردگرد بس کتابیں ہی۔کتابیں تھیں۔
    اپنی میز کی حالت درست کرکے وہ کرسی پر گر سی گئ
    اگر دعا میرے ساتھ ٹنگ کر نہ چلی آئی تو ابھی بستر پر گرتی میں۔۔
    اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا تے اس نے کسی گہری سوچ میں گم دعا کو دیکھتےسوچا جب اسکا انہماک ختم نہ ہوا تو چٹکی بجا کرمتوجہ کرڈالا۔ یونہی بنکربیڈ کی۔چھت پر نگاہ۔جمائے کہیں کھوئی دعا جھٹ پٹ واپس آئی
    ہوں ۔وہ چونکی پھر اٹھ کر بیٹھ گئ
    تم نے سونا ہے ؟ گھنٹہ بھر تو ہے بریک کا اور آج تو خاموشی ہی خاموشی ہے کوئی ایمرجنسی نہیں تو آرام سے دو تین گھنٹے ہیں تمہارے پاس سو لو۔۔۔
    یہ منحوس جملہ ضرور بولنا تھا۔
    عروج اپنے گلے سے لٹکتا استھیٹسکوپ اسے کھینچ مارا وہ ہنستے ہوئے جھکائی دے گئ
    بیان بیان۔۔ وہ ہنستی گئ
    یہ میڈیکل ٹیم کی بدقسمتی تھی کہ کیا جب کوئی ان میں سے کہہ دے کہ آج خاموشی ہے تو بس ایمرجنسیوں کا تانتا بندھ جاتا تھا سو اب تو یہ حال تھا کہ ایسا کہنے والے کی ٹھکائی کرتے تھے پکڑ کر۔۔
    عروج کرسی پر نیم دراز ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اسے اٹھنا پڑا
    آجائو بھئ لیٹ جائو یہاں آرام کر لو۔
    وہ اٹھی تو عروج نے مروتا بھی انکار نہیں کیا اس کے اٹھتے ہی بیڈ پر گر سی گئ۔
    سر درد کے ساتھ منہ میں بھی درد ہو رہا تھا۔ عجیب بات تھی مگر اسکو صبح سے ہنگل بول بول کر بھی تھکن سی ہو گئ تھی۔ بر صغیرپاک و ہند کی زبانوں میں زبان میں آواز سے ذیادہ الفاظ اہمیت رکھتے ہیں۔ اور وہیں دیگر ایشیائی زبانوں خاص کر چینی زبان سے نکلنے والی زبانوں میں زرا سا آواز بدلی لفظ بدلہ مطلب بدلہ۔ حلق سے بولو کہیں تو کہیں زبان کی مروڑیاں۔ اور اوپر سے لہجہ ۔جو لہجہ اردو زبان میں بدتمیزی میں شمار ہو جاتا وہ وہاں بولنے کا عام لہجہ ہے۔ زرا سا دھیما یا گری گری آواز میں بولنا چاہا وہیں سب طبیعت پوچھنے لگ جاتے۔ اب یہاں پر اسکا ہائوس جاب مکمل ہوچکا تھا اسپیشلائزیشن کی تیاری کر رہی تھی کئی غیر ملکی یونیورسٹیوں میں اپلائی کر بھی رکھا تھا۔ مگر اسکے باوجود اگر یہیں اسپیشلائزئشن کر نی پڑتی تو ہنگل کے بغیر گزارا نہیں تھا۔سو بولنے والی جھجک اسے ہر صورت ختم کرنی تھی یہ الگ بات کہ حلق میں وٹ پڑ رہے تھے اس کوشش میں۔۔
    عروج ایک بات پوچھوں۔
    چند لمحے اسے آنکھیں موندے ساکت لیٹےدیکھ کر وہ متزبزب سی رہی پھر ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔۔
    دے۔ عروج کا بالکل منہ کھولنے کا دل نہیں تھا پھر بھی بمشکل جواب دیا۔
    جوابا اس نے وہ سوال کیا تھا جسے سن کر اس نے پٹ سے آنکھیں پوری کھول کر تحیر سے اسے گھورا تھا۔
    بزر بجا تھا۔بہت زور سے۔
    یقینا ایمرجنسی تھئ۔ دوہا یا اس کے جواب کے انتظار میں کھڑی تھئ وہ بھونچکا دیکھ رہی تھی اور بزر بج رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پولیس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا۔ایک خاتون اہلکار شدید زخمی تھی بے ہوش تھیں ہمراہ دو مرد حضرات تھے اور عروج کو انکی خونم خون حالت دیکھ کر صاف نظر آرہا تھا کہ ان دونوں کی حالت خاتون سے کہیں ذیادہ خراب ہے۔
    ایک کا سر پھٹا تھا دوسرے کا بازو ٹوٹ گیا تھا۔ مگر دونوں تسلی سے بیٹھے مرہم پٹی کروا رہے تھے۔ سیونگ رو سر پھٹوانے والے کی مرہم پٹی کر رہا تھااور بازو ٹوٹنے والے کو اسٹریچر پر بٹھوا کر اس نے ایکسرے کروانے بھیجا خاتون کو عروج دیکھ رہی تھی۔ تبھئ دو مزید اہلکار یقینا حادثے کی اطلاع ملنے پر چلے آئے ۔پہلے خاتون کے پلنگ کی۔جانب بڑھے۔
    معمولی چوٹ ہے سر کی احتیاطا سی ٹی اسکین کروالیں۔ میرا خیال ہے خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہیں۔ عروج نے انکو بتایا تو وہ سر ہلا کے دوسرے ساتھی کے پاس آئے۔
    کیسے حادثہ ہوا ؟ گاڑی کون چلا رہا تھا؟
    اگلوں کو رپورٹ لکھنی تھی۔
    ابھی انکو مشکل میں نہ ڈالیں سر پر چوٹ ہے انکے ہم سی ٹی اسکین۔۔ سیونگ رو نے ٹوکنا چاہا مگر زخمی طوطے کی۔طرح تفصیل بتانے لگ گیا
    سب انسپکیٹر سوہائو گاڑی چلا رہی تھیں۔ ایک ٹرالہ بائیں جانب سے نکلا گاڑی بچانے کیلئے ایکدم دائیں موڑی تو گاڑی۔بارڈر پر۔چڑھ کر الٹ گئ۔ میں آگے بیٹھا تھا میرا سر پھٹا۔۔ میں باہر نکلا ان دونوں کو نکالا پھر ٹیکسی روک کران تینوں میں بٹھا کر اسپتال لے آیا۔
    ٹرالے کا نمبر نوٹ کیا۔؟ کونسا سگنل توڑا تھا اس نے ہم سی سی ٹی وی نکلواتے ہیں۔
    انکے ساتھی کو غصہ آیا
    اس ٹرالے کا قصور نہیں تھا سگنل ہم نے توڑا تھا۔ اس ٹرالے والے نے تو گاڑی روک کر ہمیں گاڑی۔سے نکالنے میں مدد بھی کی۔
    زخمی نے سادگی سے بتایا تو سیونگ رو اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ اور عروج بھی۔
    حد ہی ہے۔ موصوفہ سب کو مشکل میں ڈال کر سکون سے سو رہی ہیں۔ اس نے اس چندی آنکھوں والی۔خوبصورت سی انسپکٹر کو بے خبر نیند لیتے دیکھ کر ہنس کر اپنی زبان میں جملہ۔چست کر ڈالا۔ وہ تینوں ہنگل میں شروع تھے اسکا۔کام۔ختم ہو چکا تھا۔ مریضہ کی چیزیں اسکے سرہانے قرینے سے رکھی تھیں۔ پولیس کا۔آئی ڈی کارڈ پرس وغیرہ۔ وہ سرسری نگاہ ڈالتی ہوئی وارڈ سے نکل۔آئی۔ اسکے ذمے آہجومہ جان کنی کے عالم میں تھی۔ کبھی بھی سانس اکھڑ جاتی۔۔ اس نے گہری سانس لی اور اس خیراتی ادارے کے ماتحت کام کرنے والے اس کمرے میں چلی آئی۔ اس کمرے کے مریض جنکے لواحقین سے رابطہ نہ ہو پارہا ہو یا وہ انتہائی غریب ہوں ایسے لوگوں کے علاج معالجے کا خرچ اٹھاتا تھا یہ ادارہ۔ ابھئ بھی انتہائ تشویش ناک حالت میں ان بوڑھی خاتون کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔ انکو دل کے دو دورے پڑچکے تھے۔ ساکت پڑے دھونکنی کی طرح سانس لیتے نحیف و نزاروجود ۔ انکو سکون آور ادویات دی جا چکی تھیں۔۔ وہ نرس سے تفصیل سنتے سرسری سا معائنہ کر رہی تھی۔
    خاتون نے عروج کو اپنی نبض ٹٹولتے بڑے غور سے دیکھا تھا۔ انکی نگاہوں سے نگاہیں چراتے عروج سر جھٹک کے رہ گئ۔
    ایسی اولاد سے بہتر بندہ بے اولاد رہے کتنا کچھ تو کیا اس غلط علاقے تک جاکے ڈھونڈ آئی مگر اب وہ ملنے کو تیار ہی نہیں تو کیا کروں۔
    وہ بڑ بڑاتی اوور آل کے کوٹ میں ہاتھ ڈالتی تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اسپتال سے باہر نکل آئی۔
    آج اسکا ارادہ عیاشی کا تھا سو بس اسٹاپ کی جانب بڑھنے کی بجائے ٹیکسی کے انتظار میں سڑک کنارے آکھڑی ہوئی۔
    سیونگ رو کی گاڑی اسکے قریب آن رکی تھی۔ڈرائیونگ سیٹ پر سے مسکرا کر دیکھتا سیونگ رو آننیانگ کہہ تھا۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا پھر دروازہ کھول کر اسکے ساتھ بیٹھ گئ۔
    ایک کام کروگے؟
    کالے لانگ کوٹ میں ملبوس سیونگ رو نے اثبات میں سر ہلادیا۔
    جواب حسب توقع تھا۔ وہ فورا گاڑی سے اتر کر اسپتال کے اندر واپس بھاگی تھئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گاڑی جس علاقے میں آئی تھی وہ تنگ سڑکوں گلیوں اور پرانے گندے مکانوں پر مشتمل تھا۔ سڑک کنارے ڈھابوں میں لوگ بے فکری سے بیٹھے تاش کھیلتے ہوئے مے نوشی کر رہے تھے۔ ایک دو لڑکیاں خوب تیار اتنی سردی میں بھی شارٹ اسکرٹ میں ملبوس لفٹ کا اشارہ کرر ہی تھیں مگر جب اس پر نگاہ پڑی تو پیچھے ہٹ گئیں۔
    سیونگ رو کی مکمل توجہ سڑک کی۔جانب تھی۔
    ایک چھوٹی سی گلی کے داخلی راستے پر اس نے ایک جانب گاڑی لگائی۔ سامنے سیڑھیاں تھیں سیڑھیاں سنسان اور اندھیری تھیں مگر سیڑھیوں کے نیچے روشنیوں اور لوگوں کی بہار تھی۔ تنگ گلی خوانچہ فروشوں اور تنبو لگا کے بنائے کھابوں سے سجی تھئ۔ چھوٹی چھوٹی دکانیں اور انکے آگے چھابڑی فروش۔ لوگوں کے ہجوم میں راستہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ۔ عروج فورا گاڑی سے اتر کر تیز تیز قدم اٹھاتی سیڑھیاں اترنے لگی۔ سیونگ رو کو اسکی عجلت دیکھ کر جلدی جلدی گاڑی لاک کرکے پیچھے تقریبا بھاگنا پڑا۔
    عروج ایک چینی قحبہ خانے کے سامنے جاکھڑی ہوئی تھی۔
    سیونگ رو بھاگا بھاگا اسکے پیچھے آیا تھا مگر وہ بنا اسکا انتظار کیئے اندر منہ اٹھا کے گھس چکی تھی۔
    سیونگ رو نے سر اٹھا کر قحبہ خانے کا نام دیکھا تو سر گھوم سا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندر کا ماحول کافی قابل اعتراض تھا۔ چھوٹی چھوٹی میزوں پر مشروبات اورناشتے کا سامان سجا تھا۔ تقریبا سبھی میزیں بھری تھیں لوگ خوش گپیوں میں مگن جام اڑا رہے تھے سامنے مختصر سے اسٹیج پر مختصر لباس میں ایک دوشیزہ مغربی گانے پر محو رقص تھی۔ عروج نے آئو دیکھا نا تائو سیدھا چڑھی دو قدم کی اونچائی پر بنے اس اسٹیج پر اور سیدھا اس لڑکی کی کلائی مروڑ کر کمر سے لگا دی۔
    پورے قحبہ خانے میں سناٹا چھایا۔۔
    سیونگ رو سٹپٹا کر داخلی دروازے سے چپکا کھڑا رہ گیا۔
    چہرے پر ماسک لگائے عروج لہرا لہرا کر کوئی کارڈ دکھا رہی تھی۔
    پولیس۔ یہ لڑکی اہم کیس کیلئے مطلوب ہے۔ فی الحال ہمیں سوائے اس سے ضروری معلومات لینے کے کچھ نہیں کرنا سو سب اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہیں۔۔
    وہ سیونگ رو کے کالے لانگ کوٹ میں ملبوس تھی۔ اسکا ہیڈ اسکارف اس نے کورین انداز میں گردن سے پیچھے کر رکھا تھا۔ ماسک ناک پر چڑھائے دھڑلے سے اپنا پولیس کارڈ دکھاتی زرا سی بھی خوفزدہ نہ تھی۔۔۔
    ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں وہ اس لڑکی کو گھسیٹتی ہوئی باہر لے آئی تھی۔ لڑکی نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔بلکہ اسے یوں گھور رہی تھی جیسے نظروں ہی نظروں میں کھا جائے گی۔
    اسکے باہر نکلتے ہی ساکت پڑے لوگوں میں جیسے جان سی آئی کھسر پھسر کوئی شائد انکے پیچھے بھی آتا
    سیونگ رو نے لمحہ دیر نہ کی بلکہ جان کے ان کے پیچھے ہو لیا۔ ادھر ادھر محتاط نگاہوں سے دیکھتا۔ سیڑھیوں پار کرکے بجلی کی تیزی سے گاڑی نکالنے لگا۔۔
    عروج نے اس لڑکی کو پچھلی نشست پر دھکیلا تھا اور اپنا بلکہ سیونگ رو کاکوٹ اتار کر اس کے منہ پر ہی مار دیا۔ اور خود اگلی نشست کا دروازہ کھول کے بیٹھ گئ۔
    سیونگ رو کو ذیلی سڑک سے اہم شاہرہ تک آتے آتے بھی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کوئی انکا پیچھا کر رہا ہوگا۔۔۔ دانت پیستے ہوئے اس لڑکی نے لانگ کوٹ چڑھایا پھر سیونگ رو کو دیکھ کر چٹخ کر بولی۔
    کون آئے گا پیچھے اتنی اہم نہیں میں۔ الٹا اس جعلی کہہ سیکی پولیس والی کی وجہ سے میری لگی لگائی نوکری چلی جانی ہےاہم پولیس کیس میں میں مطلوب ہوں۔ لعنتی کہیں کی۔۔ وہ اس بار عروج کو گھور تے غرائی۔۔۔
    ۔تمہاری بڑھیا مرتے وقت مجھے بھی بھوکا مارے گی جسکی ہمدردی میں پاگل ہو رہی ہو۔
    سیونگ رو اور عروج دونوں بھونچکا سے رہ گئے تھے اکٹھے مڑ کر اسے گھورا۔
    تو ؟ پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے؟ پتہ نہیں لگے گا مجھے کون ہو تم؟ سارا کوریا اسکارف پہن کر پھرتا ہے تمہاری طرح یا کوئی احمق پولیس والی بنا پستول اس دو نمبر جگہ پر اکیلے گھس آئے گی۔۔ میرے پیچھے میرے رہائشی علاقے تک پہنچنے والی ایک ہی گدھے جیسی بڑی آنکھوں والی لڑکی ہے جو مجھے تو نہیں مگر میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔۔
    وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ عروج اور سیونگ رو دونوں کان دبا گئے تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبی نے کھچڑی پکائی تھی۔ بطور خاص انکے لیئے لیکر آئی۔۔ دروازہ عزہ نے کھولا تھا۔ اشتیاق سے اسی وقت پلیٹ پر ڈھکا کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ارمانوں پر اوس سی گر گئ
    اسکی کیا ضرورت تھی۔ بڑی سی ٹرے نما پلیٹ پکڑتے ہوئے عزہ نے تکلفا نہیں کہا تھا سچ میں منہ بن گیا تھا اسکا۔ اب بندہ کھچڑی بھی پڑوسیوں کو بھجواتا ہے بھلا۔
    ہاں وہ تمہارے بھائی کا پیٹ خراب تھا تو بنا لی۔ اب سچی بات مجھے خود نہیں پسند اپنے اور بچوں کیلئے نگٹس بنائے مگر پھر دیگچی اتنی بھری تھی دلاور۔کتنا کھاتے سوچا تم لوگوں کیلیئے لیتی چلوں۔ طوبی مخصوص انداز میں کہتی اسکے پاس سے ہوکر اندر چلی آئی۔
    الف منے صوفے پر گری ہوئی تھی۔ نور اسکے پاس ہی آلتی پالتی مارے قالین پر بیٹھی تھی۔ دونوں نیٹ فلیکس پر زندگی گلزار ہے دیکھ رہی تھیں۔
    اس میں اسکی شادی اسی سے ہی ہوگی ۔۔
    کشف کو یونیورسٹی میں زارون سے تھپڑ پڑنے لگا جب طوبی نے گوہر افشانی کی۔
    بڑا اچھا ڈرامہ ہے لڑکا امیر ماں باپ کا بگڑا ہوا بیٹا ہوگا جبکہ یہ لڑکی کشف غریب سی ہوتی ہےانتہائی محنتی ہوتی ہے اپنا خرچ اپنی بہنوں کا تعلیمی خرچ برداشت کرتی ہے پڑھ لکھ کر سی ایس ۔۔۔۔
    طوبی نور کے پاس بیٹھتے بیٹھے آدھا ڈرامہ بتا چکی تھی۔
    الف نے گہری سانس لی۔ نور البتہ پوری طوبی کی جانب متوجہ ہوگئ ۔
    پھر۔۔۔
    پھر یہ کہ۔ طوبی دوبارہ شروع ہونے لگی تھی کہ عزہ نے بات اچک لی۔
    یہ کھچڑی مزے کی بنی ہے میرے تو کھانے کا انتظام ہوگیا۔۔
    وہ کچن میں چمچ کھڑکا رہی تھی
    ادھر لے آئو میرا بھی آلو کی ترکاری کا موڈ نہیں ہو رہا۔
    الف سر کھجاتے ہوئے اٹھ بیٹھئ۔
    عزہ کو اندازہ تھا تین چمچ لیکر جب تک آئی تب تک نور نے منی میز کھینچ لی تھی تینوں اس میز پر ٹرے رکھ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے شروع ہوگئں۔
    عروج نہیں آئی ابھی تک۔ طوبی نے طائرانہ نگاہ اپارٹمنٹ پر ڈالی۔
    نہیں آنے والی ہوگی کل سے نائٹ لگ جانی ہے اسکی ڈیوٹی لگتے ہی ایک تو سب کو اپنا شیڈول واٹس ایپ کر دیتی ہے۔ الف نے شکائت لگائی
    کیوں؟ طوبی حیران ہوئئ
    ایسا اس لیئے کہ ہم اسکی روم میٹس اسکے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے معمولات زندگی اسکی ڈیوٹی کے ساتھ ایڈجسٹ کر لیں۔
    عزہ نے نوالہ نگلتے ہوئے تفصیلا بتایا۔
    جیسے کہ صبح جب وہ آئے تو ہم اپنا ناشتہ بناتے ہوئے اسکو بھی ناشتہ کرادیں۔ پھر سارا دن جو جو آئےگھر آتے ہی چپ
    شاہ کا روزہ رکھ لے بنا آہٹ کیئے کمرے میں داخل ہو جب تک وہ سو رہی ہو سانس تک اونچی آواز میں لینا منع ہو جاتا ہے اسکے روم میٹس پر۔
    طوبی کی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔
    اتنا سخت پہرہ۔۔
    بس اتنا سمجھیں کہ۔ہم سب کو جیل ہو جاتی ہے عروج کی نائٹ لگے تو۔
    نور ہنسی۔
    ویسے سچی بات جیل میں کوئی کسی کے آرام کا خیال نہیں رکھتا ایک سے ایک ہنگامہ مچتا ہے رات کو۔ شائد ہی کوئی رات میں سوئی ہوں۔ سردی اکیلا پن تنہائی ایک طرف رات کو روز ہی کوئی نہ کوئی فتنہ کھڑا ہوتا ۔ بھانت بھانت کی عورتیں عجیب عجیب سے جرم میں قید تھیں۔ سب میں غصہ نفرت انتقام بھرا تھا۔ کوئی کوستی بیٹھ کے لوگوں کو کوئی چیخ چیخ کر اپنا دکھ بیان کرتی۔ کوئی رونے بیٹھ جاتئ۔
    نور کو جیل سے جیل ہی یاد آگئ۔ تو انداز سنجیدہ سا ہوگیا
    ایک عورت تھی رات ہوتی تھی تو زور زور سے روتی تھی اپنے بچے کو یاد کر کے۔ اسکا چھوٹا سا بچہ تھا دودھ پیتا تھا شائد۔ اسکا رونا دل ہلا دیتا تھا۔۔۔۔۔ گھنٹوں سسکیاں لیتی۔ایک آہجومہ تھیں انکو السر تھا۔۔ سارا دن سکون سے رہتیں رات کا کھانا کھا کر جو طبیعت بگڑتی گھنٹوں کراہتی تھیں۔ جیلر کہتی تھی مکر کر رہی ہے۔ کبھی کبھی لگتا تھا واقعی۔۔
    وہ بولتے بولتے چپ ہو گئ۔
    میں بھی کیا باتیں لے بیٹھئ۔ اس نے ہنس کر بات کی سنگینی ٹالنی چاہی۔ الف طوبی اور عزہ تاسف سے اسے دیکھ رہی تھیں
    بہت مشکل وقت گزرا نا تمہارا۔جبھئ کوریا سے دل اٹھ گیا۔
    طوبی نے کہا تو وہ ہنس دی
    سچ کہوں تو کوریا صرف ضد میں آئی تھی میں۔ بھائی کو چین میں اسکالر شپ ملی تھی۔ ڈاکٹر بن رہا ہے وہ۔ ہم۔بس دو ہی بہن بھائی ہیں۔ مجھے ہمیشہ لگا تھا ماما بابا مجھ پر بھائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر جگہ ہر بات میں۔ بھائی کی مثال بھائی ایسا بھائی ویسا۔ ۔ میں تو جیسے تھی ہی نہیں انکے لیئے انکے سب خواب بھی بھائی سے جڑے تھے۔ میں جلنے لگی تھی اپنے ہی بھائی سے شائد۔جب ماما نے کہا کہ میں بھی ایف ایس سی میں بھائی کی طرح میڈیکل رکھوں تو میں چڑ سی گئ یہاں بھی بھائی کی طرح۔ میں نے کہا میں انجینئرنگ پڑھوں گی۔ بھائی چین گیا تو امی بابا اسکے لیئے پہلے سے ذیادہ فکر و محبت کا اظہار کرنے لگے۔ اسکے فون کا انتظار اسکے لیئے تحفے بھجوانے ہوں بھائی کا بائک سے گر کر ٹانگ پر فریکچر آیا مجھے ماموں کے گھر چھوڑ کر اماں ابا چین گئے ان سے ملنے۔
    کوئی سوچ سکتا ہے کتنا فالتو غیر اہم سمجھا میں نے خود کو۔ مجھے بھی لے جاسکتے تھے مگر۔۔۔۔۔
    ۔نور کی آواز بھرا سی گئ۔۔۔۔۔۔
    طوبی الف اور عزہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی۔تھیں۔
    میں نے بی ایس کمپیوٹر پڑھنے کی ضد کی۔۔۔ امی نے کہا کیا فائدہ اس ڈگری کا میں نے ضد پکڑ لی۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا وہیں کورین اسکالر شپس کا سنا اپلائی کردیا بیٹے کو ہنسی خوشی چین بھیجنے والے والدین بیٹی کی فرمائش پر بر افروختہ ہو گئے تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اکیلی لڑکی کو اٹھا کے کوریا بھیج دیں پاگل کردو گی کیا نور تم ہمیں۔ ہر وقت ضد ہر وقت کوئی الٹی فرمائش۔
    امی نے بنا لحاظ لتاڑکے رکھ دیا
    بھائی کو بھی تو بھیجا چین مجھے بھیجنے میں کیا مسلئہ؟
    وہ غصے سے چلائی۔۔
    زبان مت چلائو۔ وہ لڑکا ہے اسکا تمہارا کیا مقابلہ پھر وہ تمہاری طرح کوئی فالتو ڈگری نہیں لے رہا ڈاکٹر بن رہا ہے۔
    امی نے ٹوکا تو وہ بھنا گئی
    میری ڈگری فالتو نہیں ہے۔ اور اگر میں ڈاکٹر بن رہی ہوتی تب کونسا بھجوانے کو تیار ہوجاتیں آپ۔ بیٹے کو تو خوب پیسہ لگا کر باہر بھیج دیا بیٹی کی باری آئی تو صاف انکار۔جبکہ فل فنڈڈ اسکالر شپ ہے۔ ایک پیسہ آپکا فالتو نہیں لگنا مگر سچ تو یہ ہے کہ میں ہی فالتو ہوں آپکی نظر میں مجھ پر پیسہ لگنا آپکو فالتو لگ رہا۔
    ایک تھپڑ لگائوں گی دماغ ٹھکانے آجائے گا تمہارا۔ امی غضبناک ہوگئیں
    یونیورسٹی کی بھاری فیس کون ادا کر رہا ہے تمہاری؟ بولو جواب دو۔
    جوابا وہ منہ پھلا کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔ امی نے بھئ تھوڑا سمجھانا چاہا۔۔
    دو سمسٹر گزارکر نئے سرے سے سال ضائع کرکے کوریا جا کر پڑھنے میں کتنے نفل کا ثواب ملے گا تمہیں؟اتنے تو اچھے نمبر آتے نہیں جس سے اندازہ ہو بہت پڑھنے کا شوق ہے تمہیں۔
    ہمیشہ اے گریڈ آتا ہے میرا۔
    اس نے جتایا۔ امی ان سنی کر گئیں۔
    پھر لڑکی ذات باہر سو طرح کی اونچ نیچ منہ اٹھا کے کیسے بھیج دیں تمہیں۔ اتنی عقل مند تو ہو نہیں تم کہ خود کو سنبھال لو۔ اوپر سے عبایا کرتی ہو غیر مسلم ملک میں جانے کا شوق ہے کوئی اندازہ ہے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے باہر۔۔۔۔
    کوریا میں ایسا کچھ نہیں ہے سب معلومات لی ہیں میں نے۔
    امی۔۔
    وہ سب بھول کر منانے والے انداز میں بولی
    ایشیاء میں سب سے اچھا تعلیمی نظام انکا ہے۔ وہاں پر گنز کا نام و نشان تک نہیں۔ تیزی سے ترقی کرتی معیشت ہے انکی۔ سب سے ۔۔۔۔
    ہزار دلائل تھے اسکے پاس جنکو بیان کرنے کا موقع امی ہرگز نہیں دینے والی تھیں
    دو قدم کے بازار تک تو اکیلی جاتی نہیں ہو دوسرے ملک جائوگی ؟ کیوں پریشان کر رکھا ہے نور تم نے بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں بھلا ہر دوسرے دن نئی ضد نیا مسلئہ لیئے کھڑی ہوتی ہو۔
    امی ناراضگئ دکھانے لگیں تو وہ چٹخ سی گئ
    کیسی ہوتی ہیں پھر بیٹیاں؟ ان ویزیبل؟ نہ دکھائی دینے والی خاموش چپ جنکی نا کوئی آرزو ہوتی نا فرمائش؟ ایسی بیٹی چاہیئے ہی کیوں ہوتی ہے جسکا ہونا نا ہونا برابر ہو؟
    کیا بکواس کر رہی ہو۔ امی اسکے شکوے پر حیرت زدہ سی ہوگیئیں۔
    صحیح کہہ رہی ہوں بچپن سے آج تک مجھے کبھی ایسا لگا ہی نہیں کہ میں بھی ہوں آپکی اولاد۔ سالگرہ ہو یا اسکول کا۔پہلا دن ، پہلا دانت نکلا ، آخری دانت ٹوٹا ، اسکول میں پوزیشن لی یا کسی مقابلے میں حصہ لیا ، اے گریڈ لیا تو بائک دلا دی ، اسکالر شپ لیا تو خاندان کی دعوت ہر یاد ہر اہم بات اس گھر کی بس آپکے بیٹے سے جڑی ہے۔ اسکی ہر کامیابی ہر ترقی کی یاد تصویر کی صورت ہر دیوار پر چسپاں ہے تو یاد کی صورت دل میں روشن۔اور میں۔
    اونچا اونچا بولتے وہ رو پڑی تھی۔
    میری سالگرہ بھی یاد ہے آپکو ۔ ؟ کوئی ایک بچپن کی تصویر میری اکیلی کی لی ہو آپ نے، کبھی میری کسی کامیابی کو منایا؟ بس ایک شاباش ملتی ہے مجھے وہ بھی دل میں جانے خوشی ہوتی بھی ہے آپ دونوں کو کہ نہیں پتہ نہیں۔۔۔۔
    امی ساکت سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں۔
    مجھے کوریا جانا ہے ہر صورت۔ ایک پیسہ نہیں لگنے دوں گی آپ کا فکر نہ کریں مگر مجھے مت روکیں۔۔
    باہر جاکر پڑھوں گی نظروں سے دور ہوں گی تو شائد آپکو احساس ہوکہ آپکی کوئی بیٹی بھی ہے۔ ورنہ تو یہاں وہاں فالتو سامان کی طرح رہتی ہوں میں اس گھر میں۔۔۔۔۔
    اپنی آنکھیں بے دردی سے مسلتے وہ مڑی تھی جو دروازے پر پاپا فون لیئےکھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ شائد بھائی کا فون آیا تھا جو امی سے بات کروانے لا رہے تھے۔ یہ سب کچھ نہ صرف امی نے سنا بلکہ ابو اور بھائی نے بھی۔۔۔۔
    اور یہ اسکے بھائی کے سمجھانے کا اثر تھا جو وہ اسے یہاں بھیجنے پر مان گئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 33

    قسط نمبر 33
    وہ بے خبر سورہی تھی۔ یہی وقت مناسب تھا اس نے اسکے سرہانے ایک لفافہ رکھا۔ اپنا بیگ اور مختصر سامان وہ پہلے ہی احتیاط سے اٹھا کر باہر لائونج میں لےجا چکی تھی۔ اس پر کمبل درست کرکے وہ دروازہ بند کرکے لائونج میں چلی آئی۔ نور اسکے سامان کو اور پھر اسے خاصے تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔
    کہاں کی تیاری ہے؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
    میں نے اپنا الگ انتظام کر لیا ہے۔ وہ مسکرا کر بولی
    کل تک تو نہیں بتایا۔ اس وقت جا رہی ہو سب سے ملوگی نہیں؟ واعظہ کو تو جگا دو؟ نور نے ٹوکنا ضروری سمجھا تھا
    یہیں سیول میں ہی تو ہوں پھر کبھی مل لوں گی بلکہ ٹریٹ دوں گی سب کو۔ عشنا نے کہا تو نور سر ہلا گئ۔
    عشنا خدا حافظ کہتی باہر جانے لگی تو اس نے اسکی بے مروتی پر حیران ہو کر ٹوکا۔
    مجھ سے تو دوبارہ ملاقات نہیں ہو پائے گی سنا نہیں تھا تم نے میں اس ہفتے واپس پاکستان جا رہی ہوں۔۔
    اسکی بات پر عشنا کے تیزی سے بڑھتے قدم رک سے گئے
    پاکستان کیوں۔ وہ بے ساختہ پلٹ کر پوچھنے لگی۔ نور اسے یونہی خاموشی سے دیکھتی رہی تو وہ واپس آکر اسکے گلے لگ گئی
    آئیم سوری۔ میں بس پتہ نہیں کیا کیا کر رہی ہوں ذہن بہت الجھا ہوا ہے میرا۔
    عشنا نے اسکے گلے لگ کر وضاحت کی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سستی سے چپل گھسیٹتی جمائی لیتی باہر نکلی تو سب اپنے اپنے معمول پر جا چکی تھیں۔ صرف نور باورچی خانے میں لگی ہوئی کچھ پکانے میں مشغول تھی۔
    خیریت ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے۔ فریج سے بوتل نکال کر پانی پیتے وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی
    آہاں۔ نور مگن کھڑی تھی اچھل پڑی۔
    وہ بس میں نے سوچا جاتے جاتے تم لوگوں کو کچھ اپنے ہاتھ سے پکا کر کھلا کر جائوں۔
    وہ سنبھل کر مسکرائی۔
    ویسےجاتے ہوئے اچھی یادیں چھوڑ کر جانی چاہیئیں۔
    واعظہ اسے مشورہ دیتی منے لائونج کی جانب بڑھ گئ تھی۔
    ہوں۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا پھرجب اسکی بات سمجھ آئی تو دانت پیسنے لگی۔
    مجھے دیوار پر لٹکی چھپکلی بھی یاد آئے گی مگر یقینا تم نہیں۔۔
    وہ جھلا کر چلائی۔ واعظہ نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فل والیم میں ٹی وی آن کر لیا تھا۔۔۔ کے بی ایس کے کسی آنے والے پروگرام کا اشتہار چل رہا تھا
    والیم تو کم کر لو۔
    نور کو آواز سے سر میں درد ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ واعظہ نے آواز نسبتا دھیمی کر لی۔
    ناشتہ واشتہ نہیں کرنا؟ دو بج رہے؟
    اسکو اسکی خاموشی سے تشویش سی ہوئی۔
    نہیں۔
    مختصر جواب آیا۔
    عشنا چلی گئ ہے کہہ رہی تھی کہ اس نے الگ انتظام کر لیا ہے۔
    اس نے اطلاع دینی چاہی۔۔
    وہ پاستا بنا رہی تھی۔ ابلنے کیلئے دیگچی میں چڑھا کر پلٹ کر دیکھا تو صوفے پر دراز ٹی وی پر نگاہ جمائے اسکی بات پر ذرا کان نہ دھرا تھا اس نے شائد۔
    وہ ہاتھ پونچھتی اسکے سر پر جا کھڑی ہوئی۔
    عشنا کو تم نے گھر سے جانے کو کہا ؟
    اس نے تکا لگایا تھا جو صحیح لگ گیا تھا۔
    ہاں۔ واعظہ نے اطمینان سے اپنے اور ٹی وی کے درمیان جمے نور کو دیکھتے ہوئے اسے ایک جانب ہونے کا اشارہ کیا ۔
    کیوں؟ میں بھی جا رہی ہوں اب تو جگہ اور ہو جائے گئ؟ تمہارے فلیٹ کی لیز بھی ختم ہو رہی ہے بلا وجہ کیوں اسے نکال دیا؟ پیسے نہیں دیتئ تھی؟
    نور اسکے برابر دھم سے آبیٹھی
    اس نے پیسے آدھے دے دیئے ہیں اور باقی آدھے کا وعدہ کیا ہے کہ دے دے گی۔ اسے اسلیئے نہیں نکالا۔
    واعظہ کو اسکا پتہ تھا ٹالنے کی کوشش میں یقینا اس نے مزید کچھ اگلوانے لگ جانا تھا۔
    پھر؟ اسکی تسلی اب بھی نہ ہوئی تھی۔
    پھر کیا؟ میرا گھر ہے مرضی جسے رکھوں نکالوں۔
    واعظہ بگڑ کر بولی۔
    ایڈی تم ۔۔ گالی بمشکل نوک زبان پر روکی تھی اس نے۔
    فاطمہ کہاں ہے؟۔ اسکے برعکس واعظہ اطمینان سے ادھر ادھر دیکھتے پوچھ رہی تھی۔
    اسکو سیہون کا فون آیا تھا چلی گئ ۔۔
    اسکی بات منہ میں ہی تھی کہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی فاطمہ اندر آئی۔ پیر پٹختی اپنے اور واعظہ والے کمرے میں گھسنے کو تھی کہ ان دونوں کے اکٹھے استعجابیہ
    کیا ہوا۔ کہنے پر جاتے جاتے رکی۔۔
    کیا ہوا خیریت؟ واعظہ نے بات دہرائی تو اسکے ضبط کے سب بندھن ٹوٹ سے گئے۔
    پلٹ کر آکر واعظہ کے گلےلگ کر رودی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لائونج میں ان دونوں کی پیشی لگی تھی۔ کمیونٹی سینٹر کی جانب سے آئی وہ خاتون ان سے تفصیلی انٹرویو لیکر جانے کیا کیا گڑے مردے بھی اکھاڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
    آپ صبح صبح کہاں چلی جاتی ہیں۔ ہماری پانچویں ملاقات ہے جن میں سے تین میں آپکو فون کرکے بلوانا پڑاہے؟
    روزمیری اس سے تھوڑا خشک لہجے میں مخاطب تھئ۔
    ہاں تو مجھ پر گھر کی ساری ذمہ داری ڈال دی ہے صبح صبح انڈے ڈبل روٹی لینے جانا پڑتا ہے سیہون اٹھتا ہی نہیں اب میں کب تک بھوکی بیٹھی رہوں ؟
    اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ذرا ڈھیلی پڑی یہ عورت سر پر چڑھ جائے گی سو اس پر الٹ ہی تو پڑی۔
    اب پاکستان ہوتا تو دنیا ادھر کی ادھر ہو جاتی اسکو ہی باہر جا کر انڈے ڈبل روٹی لانا پڑتا وہ بھی اپنے پیسوں سے۔ ہم پاکستانئ لڑکیاں چھوٹئ موٹی چیزیں خریدنے کیلئے گھر سے نہیں نکلتیں۔ ہمیں ہمارے باپ بھائی۔۔ بولتے بولتے خیال آیا۔
    شوہر بھی گھر پر انڈے ڈبل روٹی لا کر دیتے ہیں وہ بھی اپنے پیسوں سے۔ اس نے پیسوں پر گھور بھی دیا سیہون کو۔
    میں عادت ڈال لوں گا ڈارلنگ صبح صبح گروسری شاپنگ کی۔ سیہون نے ہنس کر بات سنبھالنی چاہی۔
    بس وہ رات کو کافی دیر سے سویا تو اس وقت جب فاطمہ مجھے کہہ رہی تھی کہ سودا لا دو تو تھوڑا سستی دکھا گیا۔
    فاطمہ ہم کورین مرد بھی بہت خیال رکھنے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔
    جبھی تو شادی کی تم سے۔ فاطمہ کے انداز میں لگائو دور دور تک نہیں تھا۔ اتنا سپاٹ بولی کہ اگلی گھورنے ہی لگ گئی۔
    سیہون بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس چندی آنکھوں والی کی نگاہوں میں جانے کیا تھا اسے جملہ جوڑنا پڑا۔
    کیا تعریف کروں وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔۔
    ہاں ۔ کیئرنگ بھی۔۔۔۔ کچھ سوجھ ہی گیا تھا اسے۔
    آپ کو سیہون میں اور پاکستانی عام مرد میں کیا چیز ایک جیسی لگی؟
    وہ اسکو گھر تک پہنچانے پر تل چکی تھی۔۔
    سوال نے اسے گڑبڑا دیا۔۔
    ذہن نے فورا نقشہ کھینچا تھا۔۔
    سیہون اپنا ہر کام خود کرنے کا عادی تھا۔اپنے جوتے احتیاط سے انکی جگہ پر رکھتا برتن دھوتا صفائی کرتا اپنے کپڑے سنبھالتا ۔۔اسکے ذہن میں گھوم گیا۔۔
    پاکستانی مرد۔۔ اس نے سوچنا چاہا دور و نزدیک ہر مرد کو اپنے ان معمولی کاموں کیلئے خواتین کو آوازیں لگاتے ہی دیکھا۔۔۔۔
    ہاں جمعے والے دن بس نہا دھو کر۔ ایک منٹ۔ اسکے ذہن میں ٹوائلٹ بول میں سر دیئے سیہون جگمگایا۔۔
    پاکستانی مرد صاف ستھرے رہتے ہیں( کم از کم جمعے کے دنسوچا)پاکستانی مرد اپنا ہرکام خود کرتے ہیں۔ صفائی کپڑے جوتے اپنے لیئے کھانا بھی خود بنا لیتے ہیں۔ اور باہر کا ہر کام جیسے سودا لانا رات کے تین بجے بھی اٹھا کر کوئی چیز منگوائو ماتھے پر بل نہیں آتا اتوار کے دن بھی صبح صبح نہا دھو کر تیار ہو جاتے ہیں اپنی بیوی کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بھی اپنے خرچے پر بنا لیتےہیں۔ پاکستانی مرد دنیا کے سب سے اچھے مرد ہیں ۔۔۔۔
    2020 کی فاطمہ کو کیسا بے وقت یہ جملے کان میں گونجے تھے۔۔ کان سہلا کر رہ گئ۔۔۔
    دوپہر کے تین بجے اتوار کی نیند کے مزے لوٹتے اپنے میاں کا کندھا ہلاتے اسے وہ دن یاد آیا تھا۔۔۔۔
    یار اتوار کے دن تو سونے دیا کرو۔
    ملگجے رات کے ٹرائوزر ٹی شرٹ میں کروٹ بدلتے اسکے شوہر نامدار بڑ بڑائے تھے۔
    بریانئ بنا رہی ہوں دہی لادیں بنا رائتے کے کھائی نہیں جائے گئ۔ وہ زچ سی ہوئی۔۔۔
    کھالوں گا رہنے دو رائتہ۔ویسے بھی باہر کروناپھیلا ہے۔ غنودگی میں بمشکل جواب دیا۔
    دو تین ہنگل کے ایسے الفاظ اسکے منہ سے نکلے جسے دہرانا اچھی بات تو نہیں سو رہنے دیں ہاں اب فاطمہ کی نگاہ فلیش بیک پر تھی
    آپ کیا میرے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں؟ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑنے کے موڈ میں چلائی۔۔
    ڈر کر فلیش بیک بند کرتے ہیں جانے دیں واپس آتے ہیں۔۔ ماضی میں۔
    اور سیہون بالکل ایک مکمل سلجھا ہوا پاکستانی مرد جیسا ہے۔ مجھے خوشی ہے مجھے سیہون ملا۔
    ۔ کیا تاثرات تھے سیہون کے اسکی یہ باتیں سنتے ہوئے۔ انکو احاطہ تحریر میں لانا ممکن ہی نہیں۔
    آدھا منہ کھلا ہوا آنکھیں اپنے حجم سے دگنی خاص کر جب فاطمہ اٹھلا کر بولی تو اسکا تو رنگ بھی سرخ پڑ گیا تھا۔۔
    اور آپکو فاطمہ میں اور کورین لڑکیوں میں کیا چیز ایک جیسی لگتی ہے ؟
    وہ اب سیہون کی جانب متوجہ ہوئی۔ فاطمہ بھی اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ یاد رہا تو بس اسکی آنکھیں۔۔۔۔
    آنکھیں۔۔ اسکی آنکھیں بالکل کورین لڑکیوں جیسی ہیں۔ اسکے منہ سے یہی نکلا۔۔ جہاں روز میری بدمزا سئ ہوئی وہیں
    سیہون کے کہنے پر فاطمہ تڑپ سی گئ مانا بھینس جتنے بڑے دیدے منہ پر نہیں لگے تھے مگر اسکی غلافی آنکھیں خالص برصغیرئ نقوش میں جڑی ہرگز بھی کورین لڑکیوں جیسی چندی نہیں تھیں۔
    میں عادتوں کی بات کر رہی ہوں۔
    فاطمہ بے حد اچھی لڑکی ہے۔ نٹ کھٹ سی ہے۔ صفائی پسند ہے( ذہن میں سفید صوفوں پر جوتوں سمیت چڑھی فاطمہ تھی) بالکل بھی ڈیمانڈنگ نہیں ہے( وہ کچن میں پانی پینے آیا تھا پیچھے سے آواز آئی
    کافی بنا رہےہو سیہون؟ میرے لیئے بھی بنا دو)
    ہم مل جل کر کام کرتے ہیں ( اپنے برتن دھو کر ریک میں رکھتے ہوئے اس نے گہری سانس لیکرچولہے سے کچن کائونٹر پر یہاں سے وہاں تک پھیلے مصالحوں کے ڈبوں گھی کے چھینٹوں کو دیکھا تھا۔ ایپرن باندھے سالن میں چمچ چلاتے اس نے ذرا زور سے چمچ چلا دیا تھا جب سالن کا چھینٹا سیدھا اسکے منہ پر آکر لگا تھا)
    فاطمہ کھانا بہت اچھا بناتی ہے۔۔
    ( پلیٹ میں چاول نکالتے اس نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔
    پھر بریانی؟ ابھی پرسوں ہی تو کھائی تھی
    خدایا کوئی بریانی کو دیکھ کر بھی منہ بنا سکتاہے؟ فاطمہ نے آنکھیں پھاڑیں
    مجھے زندگی بھر تین وقت بریانی کی پلیٹیں کھانے میں دو تو بھی میں نہ اکتائوں۔۔۔ )
    اس نے جلدی جلدی ذہن کے گھوڑے دوڑائے
    فاطمہ بے حد اچھے اطوار کی لڑکی ہے۔ اسکو شدید غصے میں بھی میں نے اپنا ٹیمپرامنٹ لوز کرتے نہیں دیکھا۔۔
    میری اور فاطمہ کی پہلی ملاقات وہ تھپڑ۔ پلٹ کر بھی اس نے تھپڑ نہیں مارا تھا اسے۔
    میں سیہون کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
    فاطمہ نے ٹکڑا لگانا ضرورئ سمجھا۔۔ مسکرا کر بولی
    ابھی تو پہلا سال ہے آپ دونوں خوش ہی رہیں گے تفرقات تو آہستہ آہستہ محسوس ہونگے آپکو ایک اور بات بھی پوچھنی تھی آپ دونوں سے آپ لوگ احتیاط کر رہے ہیں۔ ؟
    اس چندی آنکھوں والی نے ان دونوں سے سوال کیا تھا۔
    بالکل بہت احتیاط کر رہے ہیں۔ سیہون سے پہلے فاطمہ بولی تھی۔
    ہم ایک دوسرے کی ہر بات غور سے سنتے ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنے روائتی کھانے کھلاتے ہیں۔ رات کو اکٹھے بیٹھ کر موویز دیکھتے ہیں میں نے ہنگل کی کافی گالیاں بھی سیکھ لی ہیں۔۔
    وہ باقائدہ گنوا رہی تھی۔سیہون نے گھور کر دیکھنا چاہا ۔ ۔روزانہ کم ازکم پانچ ۔۔۔ وہ زہن پر زور ڈالنے کو تھمی۔۔ نہیں چھے سے آٹھ گھنٹے تو ضرور ساتھ گزارتے ہیں۔ بس سیہون جاب سے آتا یے تو پھر کہیں نہیں جاتا بس میرے ساتھ رہتا ہے ہےنا۔۔
    اس نے لاڈ بھرے انداز میں کہہ کر سیہون کو کہنی ماری ۔ خلاف توقع وہ اسے گھور رہا تھا۔
    اس نے نگاہوں ہی نگاہوں میں پوچھنا چاہا کہ کیا مسلئہ ہے مگر وہ گہری سانس لیکر سامنے متوجہ ہو گیا وہ خاتون اب منہ میں پنسل دبائے پرسوچ انداز میں دیکھ رہی تھیں۔
    میں نے سنا تو تھا کہ گرم علاقوں مڈل ایسٹ وغیرہ کے ممالک میں لوگ ذیادہ۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
    فاطمہ کے سر پر سے گزری تھی سیہون نے سر تھام لیا تھا۔
    دیکھیئے میں یہ تو مشورہ نہیں دوں گی کہ آپ دونوں الگ الگ رہیں ظاہر ہے محبت ہے نئی نئی شادی ہوئی ہےپھر بھی آپکو یہی مشورہ دوں گی کہ احتیاط کیجئے۔۔ اتنا بھی ساتھ ساتھ نہ رہیں۔۔کہ خاندان بڑھ جائے
    فاطمہ کئ آنکھیں اب جتنی بڑی ہوچکی تھیں اگر آئینہ دیکھ لیتی تو بخوشی مان لیتی بھینس کے دیدے لگے ہیں منہ پر۔
    روز میری کی تقریری جاری تھی۔
    دراصل دو مختلف ثقافتوں میں رشتہ ازدواج کے بعد طلاق کےجتنے کیسز ابھی عدالت میں فیصلے کےمنتظر ہیں ان میں ذیادہ تر جوڑوں نے پہلے ہی سال میں اپنا خاندان بڑھا لیا تھا۔ نتیجتا انکے اختلافات بڑھنے علیحدہ ہونے کی صورت میں انکے بچوں کی حوالگی کے حوالے سے ہمارے پاس اتنی شکایتیں آئی ہیں کہ اس سب بکھیڑے میں پڑنے سے بہتر یہی ہے کہ آپ لوگ اپنا مکمل معائنہ کروائیں اور حتی المقدور ایسی کوئی نوبت نہ آنے دیں۔
    کیسا معائنہ؟ فاطمہ احمق پن سے بول پڑی۔۔۔
    اس خاتون نے تاسف سے دیکھا تھا اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بنا سیہون کی موجودگی کا خیال کیئے اس نے سب کچھ کہہ ڈالا مجھے کیا پتہ تھا اسکے کہنے کا مطلب کیاتھا۔ پورا لیکچر دیا پمفلٹ دیئے فیملی پلاننگ پر نجانے کونسا پلان تک بنا دیا۔۔۔اس نے ہچکیاں لیں۔
    خود تو دفع ہوگئ سیہون کی شکل تک دیکھنے کی ہمت نہیں۔ تھی مجھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سوں سوں کرتے قصہ سنا رہی تھی۔ واعظہ اور نور ہونٹ بھینچے ساکت بیٹھی تھیں۔
    اور پتہ ہے جب وہ جارہی تھی سیہون کیا کہتا ہے مجھے۔۔
    اس نے آگے بڑھ کر رازداری سے کہا۔۔۔ سکھیاں ساکت تھیں ہمہ تن گوش بھی سو اس نے انکے ردعمل کا انتظار نہیں کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستانئ مرد واقعی اتنے خیال رکھنے والے سلجھے ہوئے ہوتے ہیں۔
    روز میری سلام آخر کرتی جا رہی تھیں وہ دونوں اسے لابی تک چھوڑنے آئے تھے۔ روزمیری نے قدم باہر نکالے دروازہ بند کیا فاطمہ نے دڑکی لگا کر اندر بھاگنا چاہا کہ سیہون کی آواز نے روک دیا۔
    ہاں کہوں کہ ناں۔ اس ادھیڑ بن میں لگی تھی سیہون اسکے پاس سے ہو کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔
    مجھے حیرت ہے کہ پھر تم شادی کیلئے تیار کیوں نہیں ہورہی ہو؟
    وہ کائونٹر پر سے بوتل اٹھا کر گلاس بھر رہا تھا۔
    فاطمہ کا منہ تھوڑا سا کھل گیا۔
    مجھے واعظہ نے یہی بتایا تھا کہ تم پاکستان نہیں جانا چاہتی ہو کیونکہ وہاں گئیں تو تمہاری امی تمہاری شادی کرادیں گی تمہارے کزن سے؟
    اسکے چہرے پر بکھری حیرانی دیکھ کر سیہون نے وضاحت کی اپنی بات کی۔
    اوہ۔ اس نے سر ہلایا۔ پھر تھکے تھکے انداز میں صوفے پر دھم سے آبیٹھئ۔
    سیہون نے چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کیا پھر آکر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔
    تمہاری امی تمہاری شادی کروادیں گی کیسے؟
    اسکے سوال پر فاطمہ نے الجھن بھرے انداز میں دیکھا۔
    میرا مطلب شادی کے اخراجات وہ اٹھائیں گی؟
    ہاں اس نے بلا تامل سر ہلایا۔
    لڑکا بھی وہ ڈھونڈیں گی؟
    اسکو جانے کیا دلچسپی تھئ۔
    ہاں لڑکے تو بہت ہیں جانے میرے خاندان کے لڑکوں کی شادیاں کیوں نہیں ہورہیں۔ دھڑا دھڑ رشتے بھجوا رہے میرے لیئے۔ وہ سخت چڑی ہوئی تھی۔
    تمہاری پسند شامل ہوگی؟
    وہ جانے کیا اگلوانا چاہ رہا تھا۔۔
    ظاہر۔ہے۔ جوتی تک اپنی پسند کی لیتی ہوں شوہر تو ہرگز کسی اور کی پسندکا نہیں ہوسکتا۔
    اسکا انداز اٹل فیصلہ کن تھا۔
    پھر یہاں رہنے کی وجہ؟ پاکستان جائو وہاں جا کر شادی کرو یہاں اتنی مشکل سے نوکری ڈھونڈ رہی ہوجو ٹیمپرامنٹ ہے تمہارا نوکری مل بھی جاتئ یے لڑکا تو بالکل نہیں ملے گا۔۔
    فاطمہ دم بخود سی سن رہی تھی اسکی بات پر گھورنا چاہا مگر اسکی بات کا مطلب کچھ اور تھا۔ وہ کہہ رہا تھا
    کیونکہ مسلمان تو یہاں ہوتے ہی نہیں۔پھر یہاں اگر کوئی مسلم مل بھی گیا تو وہ تمہارے خرچے خوشی خوشی نہیں اٹھائے گا یہاں بہت ٹف لائف ہے۔ بہت کمپیٹیشن ہے میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں۔ اگر تمہیں پاکستان میں ایسا مرد مل جاتا ہے جو تمہیں اپنے خرچے پر سودا لاکر دے گا تو تمہیں شادی کرلینی چاہیئے اس سے۔ اگریہاں کسی کورین لڑکی کو ایسا پاکستانی ملے تو وہ فورا شادی کرلے۔
    شادی زندگی کا مقصد نہیں ہوتا ہے۔ وہ چٹخ کر بولی۔
    میں لڑکی ہوں تو کیا ہوا میری اپنی کوئی زندگی نہیں؟ بس شادی کرلوں کیونکہ کوئی کہہ سیکی مجھے اپنے پیسوں سے گھر کا سودا لا کر دینے کو تیار ہوگا؟ میرے خواب ہیں زندگی میں اپنا کوئی مقام کوئی نام بنانا ہے۔ پاکستان سے بھاگنے کی وجہ یہی تھی کہ وہاں کوئی مواقع نہیں تھے میرے لیئے۔ میری تعلیم میرے خواب بس روٹیاں تھوپ کر چولہے کی نذر ہوجاتے۔
    یہ اسکی لمبی تقریر کا آغاذ تھا بس پھر فاطمہ بولے سیہون سنے۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بولو صحیح کہا نا میں نے؟
    فاطمہ نے ساکت سرخ چہروں والی سکھیوں سے تائید چاہی۔
    اب بولو بھی بتائو اس دوٹکے کے کورین نے۔۔
    فاطمہ دوبارہ شروع ہونے کو تھی کہ نور صوفے سے منے کارپٹ پر لڑھک گئ۔
    اسکا جسم ہل رہا تھا
    کیا ہوا وہ۔بھونچکا سی رہ گئ۔ واعظہ کی جانب مڑی تو اسکے بھی ضبط کا یارا نہ رہا منے صوفے کے کشن میں منہ چھپاتی اپنے ابلتے قہقہوں کو راستہ دے بیٹھی۔
    نور کارپٹ پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ واعظہ بھی صوفے سے ہنستے ہنستے گر چکی تھی۔
    تم لوگ کیوں ہنس رہی ہو؟ فاطمہ بے چارگی سے بولی
    میں سیہون کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
    واعظہ نے ذرا کی ذرا رک کر جملہ کہا نور کا قہقہہ بلند۔۔
    احتیاط کیجئے ہو ہو ہا ہا ہا۔
    یہ نور تھی۔
    تم دونوں کمینیوں مزاق اڑا رہی ہو میرا۔
    فاطمہ آگ بگولہ ہو اٹھی صوفے سے کشن کھینچ کر ان دونوں پر پل پڑی۔
    فاطمہ ابھی فیملی نہ بڑھانا۔
    اسکے پے درپے حملوں میں بھی دونوں باز نہ آئیں اکٹھے بولیں اور ہنستئ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بھاگتی ہوئی ریڈیو کی عمارت میں داخل۔ہوئی تھی۔ آج پھر دیر ہو گئ تھی۔ پھولی پھولی سانسوں کے ساتھ وہ راہداری سے ہوتی سیدھی اسٹوڈیو ون کا دروازہ کھول کر غڑاپ سے اندر۔
    ژیہانگ پرسکون سے انداز میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔
    اف شکرہے وقت پر پہنچ گئ۔
    پھولی سانسوں کو بحال کرتی بال اسکارف سنبھالتی الف بمشکل بولی تھی۔
    ژیہانگ اسکو دیکھ کر مسکرا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج کوئی اسپانسر شو چلنا تھا تو کم از کم سر بتا تو دیتے ایویں بھاگتی آئی میں۔ تمہیں۔۔ وہ گڑبڑا کر رکی
    میرا مطلب آپکو پتہ تھا کہ آج شو نہیں ہے؟
    وہ اور ژیہانگ اکٹھے ہی ریڈیو کی عمارت سے نکلے تھے۔
    نہیں مجھے بھی آکر پتہ لگا تھا۔ اپر کی جیبوں میں ہاتھ گھساتا ژیہانگ اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔
    غصہ نہیں آیا آپکو ؟
    وہ حیران ہوئئ۔۔ اسکی حیرت پر ژیہانگ ہنس دیا۔
    زندگی بہت چھوٹی ہے اور ایسے سرپرائزتو بہت ہی چھوٹی چیز ہیں ان پر ردعمل دینے کا کیا فائدہ۔
    ردعمل۔ وہ ہنس پڑی۔
    آپکی اردو بہت اچھی ہے۔
    بہت محنت سے سیکھی ہے۔ ژیہانگ نے جتانے والے انداز میں کہا۔
    کتنا عرصہ لگا تھا اردو سیکھنے میں ؟ وہ دونوں چہل قدمی کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
    چار سال پاکستان رہا ہوں۔بی ایس اردو کیا تھا وہاں سے۔ پتہ نہیں کب روانی سے اردو بولنے لگا۔۔ صحیح یاد نہیں۔
    اس نے صاف گوئی سے کہا۔
    مجھے چینئ سیکھنی ہو تو کتنا وقت لگے گا۔
    وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
    اس پر منحصرہے کہ تم سیکھنا کیوں چاہ رہی ہو۔۔ ایک ڈیڑھ سال بھی لگ سکتا اور ایک عمر بھی۔ دل لگا کر جو کام کیا جائے اسکا صلہ ملتا ہے۔۔۔۔
    وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں بولا تھا۔۔۔
    دل لگا کر۔۔۔اس نے پرسوچ انداز میں دہرایا
    دل لگانا ہو تو اوپا پر لگائوں ہنگل پر کیوں لگانا۔
    اس نے حسب عادت بول بال کر ہاتھ جھاڑے مگر خلاف توقع ژیہانگ کو خود کو محظوظ نگاہوں سے گھورتا پایا تو سٹپٹا سی گئ۔۔ اسکا رنگ ایکدم سرخ پڑا تھا اور ژیہانگ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
    صحیح کہہ رہی ہو متفق ہوں میں تمہاری بات سے۔
    خوب ہنس کر اس نے کہا تھا۔۔ الف زبان دانتوں تلے دبائے تھی
    ایک تو مزے سے تبصرہ کر ڈالنے کی عادت ظاہر ہے کوئی سمجھ تو سکتا نہیں کیا کہا سو آرام سے اپنی مادری زبان میں بری بھلی جو منہ میں آئی کہہ دینے کی عادت تھی۔
    ژیہانگ قدم بڑھاتا تھوڑے فاصلے پر جا کر رکا تھا مڑ کر دیکھا تو الف خفت کے مارے فریز کھڑی تھی۔
    کیا ہوا؟ وہ پلٹ کر واپس آیا۔
    آں۔۔ کچھ نہیں۔ وہ۔گڑبڑائی۔
    آج موسم اچھا ہو رہا ہے ہے نا۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ بادلوں میں گھرتا آسمان خنک سی چلتی ہوا۔
    ہاں۔ لگتا ہے آج بارش ہوگی۔
    ژیہانگ کے پیشانی پر بکھرے بال ہوا سے خوب اڑ رہے تھے لاپروائی سے انکو سنوارتا وہ آسمان کو دیکھتے بولا اور الف اسے دیکھتے بول گئ۔۔۔۔
    رنگ تو اتنا گورا نہ دیا اتنے سلکی بال ہی مجھے دے دیتے اللہ میاں۔ اس چٹی چمڑی پر تو جو بھی ہیئر اسٹائل ملتا جچنا تھا۔
    ژیہانگ چہرے پر دنیا جہاں کی حیرت لیئے اسے دیکھ رہا تھا اس بار اس سے ہنسا نہیں گیا۔۔۔ الف کی آنکھیں حجم میں سجل علی جتنی بڑی ہوگئیں
    یہ کیا پھر میں نے جو سوچا وہ بول گئ۔
    الف نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب مل کر رات کا کھانا کھانے باہر نکلی تھیں۔۔۔۔ ہلکی ہلکی کن من بارش موسم کو سرد کر رہی۔تھی۔ گھر سے نکلتے وقت موٹے جیکٹ کی بجائے لانگ کوٹ جینز پر گزارا کیا تھا اب یہاں گنگنم میں پھرتے گھگھی سی بندھ رہی تھی سب کی۔
    انکی حالت دیکھ کر واعظہ انکو ایک پاکستانی ریستوران لیکر آئی تھی۔
    نان چکن کڑاہی کباب اور تکوں کا آرڈر دے کر وہ سب سے کونےمیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر دو میزیں اکٹھے لگوا کر بیٹھی تھیں۔
    یہاں بلائنڈز بھی ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔ عزہ نے گلاس وال سے باہر جھانکتے ایسے ہی کہا تھا۔
    ہاں یار وہ جو پورٹ ایبل کمپارٹمنٹ ہوتے ہیں نا وہ ہونے چاہیئے تھے یہاں پرائیویسی رہتی۔
    نور نے خیال ظاہر کیا۔
    ویسے ہم کونے میں بیٹھے ہیں نظروں میں تو نہیں آرہے ہوںگے
    عروج نے بیٹھے بیٹھے گردن لمبی کر کے باقی ریستوران پر جھاتی ماری
    یار واعظہ یہ ویٹر سے کہہ کر یہاں والی لائیٹس تو بند کروادو۔
    الف کیوں پیچھے رہتی۔ واعظہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے ان سب کی ماہرانہ رائے سے مستفید ہورہی تھی
    اندھیرے میں کھانا کیسے کھائوگی؟
    عزہ ںے ٹوکا
    کھانا منہ سے کھاتے ہیں گھپ اندھیرے میں بھی نوالہ لینے بیٹھو گئ تو ہاتھ منہ میں ہی جائے گا ناک میں نہیں۔
    عروج نے معلومات جھاڑنا ضروری سمجھا
    ہاں یار یہ لائیٹ بند کروا دو تو میں بھی نقاب ہٹا لوں۔
    نور الف سے متفق تھی۔
    فاطمہ نے باری باری ان سب کی شکل دیکھی سب ٹھیک ٹھاک سنجیدہ تھیں۔
    باہر جو اسٹال لگے ہوئے ہیں نا ان سے پوچھتی ہوں کوئی خیمہ خالی پڑا ہو تو دے دیں یہاں لگوادیتی ہوں۔
    واعظہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی۔
    ہیں واقعی دے دیں گے ؟
    نور حیران ہوئی
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا مگر انہوں نے تو زمین پر کیل گاڑ کر لگائے ہوتے ہیں خیمے یہاں کہاں۔ عزہ کی ہمیشہ سے تصوراتی حس تیز تھی فورا تصور کرلیا خیمہ بس ٹائلوں میں گڑی کیل پر اٹک سی گئ۔
    سنجیدہ ہو تم واعظہ؟
    عروج کو اسکے انداز پر شک گزرا تھا
    واعظہ ہونٹ بھینچ کر دیکھ رہی تھی۔
    بالکل ۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں آئیندہ گھر سے کیمپ لیکر نکلا کریں گے جہاں اچھا ریستوران دیکھا خیمہ گاڑ لیا ۔ خیمے پر بڑا بڑا لکھوا بھی لیں گے برقع ایونجرز۔۔
    یہ فاطمہ تھی۔ لہک لہک کر بولی۔
    واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ پلٹ کر جانے لگی تو نور نے روکنا چاہا
    رہنے دو واعظہ یہاں کیمپ کیسے لگائیں گے۔
    نور نے اتنی سنجیدگی سے اسے روکا جیسے وہ واقعی سڑک کنارے سے تنبو اکھاڑنے ہی جا رہی ہے۔
    واعظہ یار باہر جا رہی ہو تو میرے لیئے
    عروج کو جانے کیا یاد آیا اپنا بیگ ٹٹولنے لگی
    واش روم جا رہی ہوں۔ وہاں سے کچھ چاہیئے تو بتا دو۔
    واعظہ دانت پیس کر بولی تو وہ کھسیا سی گئ
    نہیں بس تم ون پیس میں واپس آجانا۔
    الف شرارت سے بولی تو وہ گھورتی ہوئی چلی گئ۔ وہ سب ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑیں۔
    یار ویسے نور پھر سوچ لو واپس نہ جائو یہاں کتنے تومزے ہیں۔
    فاطمہ نے نور کو لالچ دینا چاہا۔
    نہیں یار میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ اب میں نے پاکستان ہر صورت واپس جانا ہے۔
    نور کا انداز قطعی سا تھا ۔
    یار ہمارا گروہ سکڑتا جا رہا ہے ابیہا بھی چلی گئ عشنا بھی اب تم بھی چلی جائو گی۔
    فاطمہ نے یونہی کہا تھا مگر جوابا وہ سب جس طرح اسے گھورنے لگیں اسے لگا کچھ غلط نکل گیا ہے منہ سے۔
    کیا مطلب ؟ عشنا کہاں چلی گئ ہے؟
    الف کی حیرانی دیدنی تھی
    رات تک تو فلیٹ میں ہی تھی۔ عروج نے کہا
    ہاں خیال ہی نہیں آیا ابھی ہم لوگ ہیں بھی تو کتنے ذیادہ اندازہ ہی نہیں ہوا عشنا ہمارے ساتھ نہیں۔ کہاں رہ گئی فون کروں؟
    عزہ بولی تو فاطمہ گہری سانس لیکر بولی
    کوئی فائدہ نہیں وہ چلی گئ ہے اب واپس نہیں آئے گی۔
    کب کہاں؟
    وہ سب اکٹھے چیخی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب انتہائی شدید ردعمل کے انتظار میں کھڑی تھیں۔
    خون آلود دیواریں لائونج کونے میں پڑا باکس۔
    یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ واعظہ کی نگاہ اسی پر گئ تھی۔
    وہ یہ۔
    ان سے کوئی بہانہ نہ بن سکا تھا۔۔
    وہ چیل کی طرح جھپٹی تھی۔ باکس خالی تھا
    اسکئ چیزیں کہاں ہیں۔
    مارے صدمے کے اسکی آواز پھٹ سی گئ تھی۔
    وہ تمہارے کمرے میں نیچے والی الماری میں۔۔۔۔۔۔
    عزہ نے ڈرتے ڈرتے بتایا تو وہ دانت کچکچاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی۔
    سب صفائی سے فارغ ہو کر وہ تسلی سے آکر اپنے کمرے میں آبیٹھی تھی۔
    اسکی ڈائیریز اسکے نوٹ پیڈ ہائی اسکول کی سالانہ کتاب
    وہ ایک ایک چیز سینت سینت کر رکھتی آئی تھی۔
    سب کاغذات سنبھالتے اسکے ہاتھ وہ اجنبی سا بھورا پیکٹ لگا تھا۔
    یہ تو میرا نہیں ۔ اس نے الٹ پلٹ کر دیکھنا چاہا۔
    پھر احتیاط سے کھولا۔
    ثریا بنت السلام۔ وزٹ ویزا ۔۔ کاغذات۔
    ایک کورٹ کا نوٹس۔۔
    اس نے ویزے کی تصویر دیکھی تو کسی بنگلہ دیشی لڑکی کا تھا مگر تصویر۔
    اس کو یقین نہیں آیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردیکھنا چاہا۔
    تو جس لڑکی کو ڈھونڈتے وہ یہاں آئے تھے وہ نور بھی نہیں تھی۔۔
    وہ سناٹے میں آگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں تمہیں سب بتاتی ہوں۔
    عشنا جانے کب اسکے سر پر آکھڑی ہوئی تھی۔ اس نے جھٹکے سے سراٹھا کر اسے دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ میری سہیلی ہے ثریا۔ ہم اکٹھے ڈورم میں رہتے تھے۔۔ یا یوں کہو مجھے اسکے ڈورم میں رہنا پڑا۔ ایکدن وہ بہت گھبرائی ہوئی ڈورم میں آئی تھی۔ آتے ہی دروازہ بند کرکے ہانپنے لگی تھی یوں لگتا تھا کہ بہت دور سے بھاگتی ہوئی آئی ہے۔
    عشنا نے آنکھیں میچیں جیسے وہ منظر اسکی نگاہوں کے سامنے تازہ ہوگیا ہو۔
    کیا ہوا۔ وہ اپنے بنک بیڈ پر نیم دراز موبائل میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب اسکی حالت پر نگاہ پڑی تو فورا موبائل ایک طرف رکھتی اسکے پاس چلی آئی ۔ اتنے سرد موسم میں بھی وہ پسینے میں ڈوبی تھی سوکھے پتے کی طرح اسکا جسم لرز رہا تھا وہ گھبرا سی گئ
    کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے؟۔ اس نے پاس جا کر اسکو اپنے کندھے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
    وہ وہ۔ مجھے معاف کردو۔۔۔۔ تم تم۔ کہیں چلی جائو وہ تمہیں بھی مار دیں گے۔
    وہ روتے روتے ایکم ہراساں سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
    اپنی چیزیں سمیٹو۔۔
    وہ بھاگ کر بیڈ کے نیچے سے اسکا سوٹ کیس کھینچ کر نکالنے لگی۔
    اپنی کتابیں سامان سب رکھو اس میں۔
    وہ رونا بھول چکی تھی دیوانوں کی۔طرح اسکے بند بیڈ سے سامان اٹھا اٹھا کر اٹیچی میں ڈالتی
    مجھے بتائوگئ آخر ہوا کیا ہے۔
    اس نے قریب آکر اسکو کندھے سے جھنجھوڑ ڈالا۔
    مجھے مار دیں گے وہ۔آج تم اپنی جان بچائو۔ بھاگو یہاں سے سب سمیٹو۔ اور نکلو یہاں سے۔
    ثریا بالکل اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔
    مگر میں کیسے۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی مگر ثریا نے اسے کھینچ کھانچ کر ڈورم سے باہر نکال کھڑا کیا۔
    جتنی جلدی ہو سکے جتنی دور ہو سکے یہاں سے جائو۔
    ثریا نے اسکے جوابی ردعمل کا انتظار نہیں کیا تھا۔
    وہ حیران پریشان کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 32

    قسط 32
    منہ ہاتھ دھو کر وہ تولیے سے چہرہ تھپتھپاتی باتھ روم سے نکلی تو عشنا کو خلا میں گھورتے مگن پایا۔ دوسرا کمرہ مچھلی بازار بنا ہوا تھا ان سب کا یقینا آج رت جگے کا ارادہ تھا۔ فاطمہ بھی یقینا آج وہیں سوتی یا جب سونے کا ارادہ باندھتی تو واپس آجاتی یہاں۔عشنا ڈبل بیڈ پر کرائون سے کمر ٹکائے گہری سوچ میں گم تھی۔
    واعظہ نے اسکے منہ پر تولیئے کا گولا سا بنا کے دے مارا۔
    کیا ہوا۔ وہ چونک کے سیدھی ہوئی
    دو دن سے کہاں غائب تھیں؟
    اسکا سوال سیدھا کڑا تھا انداز تفتیشی یقینا بنا جواب ٹلنے والی نہیں تھی۔
    عشنا نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری پھر سیدھی ہوبیٹھی۔
    وہ۔
    آئیم سوری واعظہ۔ وہ کہہ کر سر جھکا گئ تھی۔
    مجھے یہ بوگس بکواس سوری نہیں چاہیئے۔ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور کل مجھے اس کمرے میں رات کو نظر نہ آنا۔
    وہ قطعی انداز میں کہتی اپنے بیڈ کی جانب بڑھ گئ۔
    عشنا کو اندازہ تھا اسکا یہی ردعمل ہونا تھا۔ پھر بھی وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی۔
    میں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھئ۔ نور کی وجہ سے پہلے ہی آپکو بہت پریشانی اٹھانی پڑی۔ میں کل ہر صورت چلی جائوں گی آپ فکر مت کریں۔ میں نے جھوٹ بولا مگر میں یہاں اتنے عرصے رہنے کا ہر حساب بے باق کر دوں گی۔ بس مجھے
    وہ دھیرے سے بول رہی تھی مگر مخاطب کو سننا بھی گوارا
    نہیں لگتا تھا جبھی منہ تک کمبل تان کر اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیونگ رو پکا مر مٹا ہے تم پر۔
    نور نے نتیجہ نکالا ۔
    وہ سب ڈبل بیڈ پر گول میز کانفرنس میں مصروف تھیں۔جیل کا احوال اور نور کے پیٹھ پیچھے جو کچھ ہو گزرا اسکی تفصیل مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے سنائی اور سنی جا رہی تھئ۔
    عروج نے اپنے ساتھ گزری بپتا سنائی تو سب کی سب نتیجے نکالنے میں لگ گئیں۔
    نہیں یار ایسے کیسے۔ عروج نے جھٹلانا چاہا۔
    ہم اتنے عرصے سے ساتھ ہیں اسپیشلائزیشن میں وہ میری مدد کردیتا ہے ہم اچھے دوست ہیں تو ظاہر ہے تجسس ہوتا ہے کہ جس انسان کے ساتھ ہیں آپ اسے دیکھیں بھی۔
    اس نے تفصیلا اسی لیئے بتایا کہ اسکے اس اندازے کو مکمل غلط قرار دے سکے۔
    وہی تو جب آپ ساتھ ساتھ ہوتے ہو کسی سے بہت باتیں کرتے ہو تو دل آجاتا ہے اس انسان پر جو آپکے سر پر سوار ہو۔
    نور اپنے اندازے کو غلط ماننے پر تیار نہ تھی۔
    تو اور کیا مجھے نہیں ہے جن سے محبت ہو گئ تھی ؟
    عزہ جھٹ ہاتھ ہلا کر بولی سب سکھیوں نے اسے یوں گھورا جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔
    اتنا یاد آتا ہے مجھے سمسٹر بریک آئے میں پکا اس سے ملنے اسکے گائوں جائوں گئ۔ بلکہ تم سب بھئ چلنا تم سب کو بھئ تو محبت ہوگئ ہے نا ہے جن سے۔
    انکی گھوری کے برعکس وہ بات کو اپنی مرضی سے دوسرا رخ دے چکی تھی۔
    افوہ اس محبت کی بات نہیں ہو رہی احمق۔ نور جھلائی۔
    پھر کس محبت کئ بات ہو رہی ہے؟ عزہ سابقہ انداز میں پوچھتے ہوئے ہمہ تن گوش ہوئئ۔
    دیکھو بلڈ ڈرامے میں جو دکھایا اچھا سا اوپا پے درپے ملاقات پرہوتی ہے اپنے نئے کولیگ سے ۔ہیروئن اس سے چڑتی ہے پر ساتھ ساتھ رہ کر چڑ ختم ہو جاتی ہے پھر وہ دوست سمجھتئ ہے اور پھر ہیرو کی نیت میں بھی فتور آجاتا ہے۔ہیروئن اسے اپنا دلہا اور وہ ہیروئن کو اپنی ہونے والی دلہن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے مگر بظاہر وہ لوگوں کا علاج کر رہے ہیں آپریشن کر رہے اندر کسی کی نبض دیکھتے اپنی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ نور ڈرامائی انداز میں باقائدہ ایکشن کے ساتھ بیان کر رہی تھی۔
    نور کو شائد جیل میں یہ لت لگی ہے فارغ بیٹھ کر کہانیاں سوچنے کی۔ عروج الف کے کان میں جھکی۔

    اچھا۔۔اس محبت کی بات ہو رہی ہےبلڈ تو نہیں دیکھا میں نے مگر میڈیکل ڈرامے میں ڈاکٹر اسٹرینجر دیکھا۔ ڈاکٹر اسٹرینجر میں جھڑوس سے لی جونگ سوک سے ہیروئن کو ہو گئ تھی محبت ل۔۔
    سوچتے ہوئے اسے جھٹکا سا لگا۔
    عروج تمہیں ڈاکٹر سیونگ رو سے؟ وہ بھی جھڑوس؟
    عروج نے مٹھئ بھر چھلی ہوئی مونگ پھلی اسکے منہ میں ٹھونس دی۔
    تم سوچنے کی زحمت مت کرو۔ اس نے چڑ کر کہا۔
    فاطمہ نے عزہ کو بھی بغور دیکھا اور نور کو بھی۔ ایک کو اپنے اندازے کی درستگئ پر مان تھا تو دوسری کے چہرے پر تجسس دبا دبا سا جوش تھا۔ تھوڑا تھوڑا اسکے اندازے پر یقین بھی تھا۔ مگر اسکے اندازے کو جھٹلایا اس نے جس سے توقع بھی نہ تھی۔
    لو جو ساتھ رہیں ایک دوسرے کے سر پر سوار رہیں انکو محبت ہو جاتی ہے ایک دوسرے سے؟ پھر تو مجھے ژیہانگ سے ہو جانی چاہیئے۔
    الف نے نتیجہ نکالا۔
    اسکی بات پر سب سہیلیاں گھوم گئ تھیں اسکی جانب۔
    کیا کہا تم اور ژیہانگ؟ وہ سب کورس میں چلائیں
    ویٹ ویٹ۔۔ الف سٹپٹا سی گئ۔
    میں نے تو مثال دی ہے پاگلو۔ اب اس طرح فاطمہ کو سیہون سے ہو جانی چاہیئے کیونکہ یہ دونوں تو رہتے ہی اکٹھے آہ سی۔۔
    اسکی بات پر فاطمہ نے بلا لحاظ چپت لگادی تھی
    بکواس نہ کرو ہم اکٹھے نہیں ایک ساتھ رہتے ہیں۔
    وہ اسکے جملے کی نزاکت اسے باور کرانا چاہ رہی تھی
    الفاظ مترادف میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ان الفاظ کا مطلب ایک ہی بنتا تھا۔
    عزہ کھسک کر پہلے تو فاطمہ کی دسترس سے دور ہوئئ پھر ڈرتے ڈرتے کہا۔ فاطمہ آگ بگولہ ہو کر لپکی مگر نور اور عروج نے اسے پکڑ کر بچا ہی لیا عزہ کو
    مجھے اردو سکھانے بیٹھی نا تو ہنگل میں گالیاں دوں گی بہت یاد ہو گئ ہیں مجھے۔
    فاطمہ کے تیور کڑے تھے۔
    کیسے۔
    وہ سب حیران ہوئیں۔
    سیہون کے ساتھ رہنے سے۔۔
    فاطمہ نے دانت کچکچائے۔اسکے کندھے پر فلیش بیک نمودار ہوا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہائیش۔ جھو دوئے سو۔
    좆됐어: meaning Fucked
    دیگچی میں پانئ کھول رہا تھا ریمین ڈالتے ہوئے چھپاک سے اڑ کر اسکے بازو پر آلگا۔۔۔
    تڑپتے ہوئے اسکے منہ سے نکلا تھا۔
    فریج سے پانی کی۔بوتل نکالتے ہوئے فاطمہ نے بغور اسے دیکھا تھا۔
    میل باکس سے میلز نکال کر لاتے ہوئے باآوازبلند وہ اپنے بنک کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا جس نے اسکی اسٹیٹمنٹ بھیجی تھی جسکے مطابق اسکے لیئے گئے قرض کی واجب الدا دو اقساط ہو چکی تھیں۔
    یائونگ شنگ سہیکی۔۔
    병신 새끼 : meaning Ass hole
    کچن کائونٹر پر ناشتہ کرتی فاطمہ اسے بڑ بڑاتے آتے دیکھ رہی تھی۔

    فٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے اسکی ناپسندیدہ ٹیم نے گول کیا تو منہ میں بھرے بلیک بین نوڈلز کا چھڑکائو کرتے وہ چلایا۔
    چیح رائے
    지랄:Fuck
    اپنے کمرے سے نکلتی فاطمہ نے چونک کر لائونج میں اسے کم از کم چار مرتبہ یہ الفاظ دہراتے دیکھاتھا۔ نہیں سنا تھا کہنا چاہیئے ہے نا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوفوہ۔
    عزہ نے ہاتھ نچا کر فلیش بیک ختم کیا۔
    اتنے معصوم قارئین ہیں ہمارے انکو ہنگل کے اچھے لفظ سکھائو گالیاں کیوں سکھا رہی ہو ؟
    میں کیا کروں واعظہ نے یہی لکھا ہے۔
    فاطمہ کندھے اچکا کر بولی
    اور کہہ سیکئ تو تکیہ کلام ہے سیہون کا۔ ابھی الٹیاں لگی ہوئی تھیں اسے دو دن پہلے مستقل اس بلیک بین نوڈلز والے ریستوران کو کہہ سیکی کہتا رہا میں سمجھی کہ نام ہے ریستوران کا۔
    فاطمہ کے کہنے پر سب نے منہ بنایا۔
    اتنے کورین ڈرامے دیکھ کر کم از کم اس گالی کا انکو پتہ تھا۔
    دیکھا۔ تکیہ کلام بھی پہچاننے لگی ہے فاطمہ۔
    نور نے تالی بجائی۔
    فاطمہ تمہیں سیہون سے محبت ہو جائے گئ پکا۔ فورا واپس آجائو۔ عزہ سچ مچ ڈر سی گئ۔ فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا۔
    مجھے ایسے شخص سے کیسے محبت ہو سکتی ہے جو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ لو دلیہ بنا کر لائی ہوں ۔مانا الٹیاں آرہی ہیں تمہیں مگر کچھ تو کھائو ایسے تو کمزوری ہو جائے گی۔
    وہ بستر پر چت پڑا ہائے ہائے کر رہا تھا جب وہ ازراہ ہمدردی پیالہ بھر کر دلیہ بنا کر لائی
    نہیں میں نہیں کھا سکتا مجھے ابھی بھی الٹی آرہی ہے۔ وہ کہتے کہتے بھی ابکائی لیکراٹھ بیٹھا
    فاطمہ جھٹ دو قدم پیچھے ہوئئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ طبیعت تو کسی کی بھی خراب ہو سکتی ہے ایسے تو نہ گھن کھائو۔
    فلیش بیک میں ہی سب سہیلیوں نے اینٹری مار دی تھی۔
    فاطمہ نے گھور کر دیکھا۔
    اسکی بات نہیں کر رہی پورا فلیش بیک دیکھو
    فاطمہ کے دانت کچکچانے پر وہ سب فورا سے پیشتر غائب ہوئیں
    ہٹو۔ سیہون منہ پر ہاتھ رکھتا اسکے ایک طرف ہوتے ہی باتھ روم بھاگا ۔۔۔۔
    کیا بھیانک آوازیں آرہی تھیں۔
    کھنکھارنے تھوکنے اور الٹی کی بھی۔
    فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر باتھ روم کی جانب بڑھی۔
    دروازہ بھڑا ہوا تھا اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا
    آر یو آل رائٹ۔
    دے۔ سہون نے کہنے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر الٹی کی۔ فاطمہ سے رہا نا گیا دروازہ کھول کر سیدھا سامنے لگے واش بیسن کی جانب بڑھی مگر وہ خالی تھا۔ اسے جھٹکا سا لگا۔ سیہون غائب ہو گیا۔ اس نے سیہون کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو ۔۔ تو۔۔ وہ ٹوائلٹ بول میں سر دیئےپڑا تھا ٹوائلٹ بول کے گرد بانہیں ڈال رکھی تھیں۔ اور سہولت سے فرش پر پڑا تھا ۔
    وہ تیر کئ طرح اسکی جانب بڑھئ

    تم ۔ٹوائلٹ بول میں کیسے گر گئے۔ ؟ وہ متوحش تھی
    اسکی بات پر سیہون نے ٹوائلٹ بول کا سہارا لیتے ہوئے سر اٹھایا ۔اور دوسرے ہاتھ سے ٹٹول کر ٹنکی فلش بھی کردی۔
    گرا نہیں ہوں۔
    اس نے ہاتھ اٹھا کر تسلی دینی چاہی۔ فلش چل رہا تھا وہ الٹی کرکے تھوڑی طبیعت بحال کر چکا تھا سو مڑ کر فلش کو تھام کر اٹھنے لگاایسے کہ چلتے فلش میں اسکا چہرا ٹوائلٹ سیٹ پر جھکا ہوا ہی تھا۔
    فاطمہ کو بہت زور سے ابکائی آئی تھی اور وہ پلٹ کر باہر بھاگئ۔۔
    لگتا یے وائرل ہے اسکی بھی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
    فلش کا سہارا لیکر اٹھتے وہ سوچ رہا تھا۔ باآواز بلند۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ تو نہیں مگر وہ سب الٹی روکتی دہری ہوئی وی تھیں۔
    صحیح کہہ رہی ہو محبت نہیں ہو سکتی۔
    عروج نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے دل میں کہا تھا جو عزہ کی پشت سہلا رہی تھی۔
    اوپا کو مسلمان تو ہونا ہی چاہیئے۔ الف مسکرائی۔اور نور کی پشت سہلانے لگی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور نہار منہ صبح صبح جنرل اسٹور کے باہر دہی لینے کھڑے تھے۔ گائے کی بوتھی والا دہی خرید کر پلٹے تو ناک سرخ ہو کر سن ہو چکی تھی۔ انکا ارادہ سیدھا واپس جا کر بستر میں گھس جانے کا تھا۔ عین دفتر جاتے وقت ہی نکلوں گا بستر سے۔ وہ مصمم ارادہ کررہے تھے گھڑی دیکھے بغیر۔ جو انکے دفتر جانے کے وقت سے ریس لگانے کے در پر تھی۔
    اسٹاپ پر ننھے منے بچوں کی اسکول بس آچکی تھی۔ جیکٹوں مفلروں میں ملفوف چندی آنکھوں والے بچوں کو انکی مائیں چھوڑنے آئی ہوئئ تھیں۔ سب بچوں کے مزاج برہم تھے اتنی سردی میں صبح صبح اٹھائے جانے پر۔انہیں دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
    کوریا میں اتنی ٹھنڈ کیوں پڑتی ہے بھلا۔ اوپر سے اتنی صبح بچوں کو اٹھانا۔
    سوچتے ہوئے خیال آیا کہ طوبی بھی انکے جگر گوشوں کو بیدار کر رہی تھی جب وہ ہانک لگا کر کہ ذرا باہر جا رہوں باہر نکل آئے کہ جلدی سے دہی خرید لائیں۔
    ہائے معصوم آج اتنئ سردی ہے طوبی سے کہتا ہوں چھٹی کروادے بچوں کو
    یہ ارادہ باندھتے ہوئے خود پر فخر سا ہوا کہ کتنے خیال رکھنے والے باپ ہیں۔
    سڑک کے اختتام پر موڑ مڑتے وہ بھاگ کر جاتے ہائی اسکولر سے ٹکراسے گئے۔ اسکی ناک انکے کندھے سے لگی تھئ
    چھے سو۔
    بھاگتے بھاگتے وہ کہتا گیا۔
    ارے۔ جتنئ دیر میں وہ سنبھلے وہ دوڑ چکا تھا۔ انہوں نے کندھا جھاڑا تو چپچپا سا محسوس ہوا۔
    انہوں نے انگلیاں دیکھیں توتازہ خون بھرا تھا۔ وہ بوکھلا کر پلٹے۔
    وہ لڑکا غیر معمولی رفتار سے بھاگتا دور جاتا دکھائی دے رہا تھا۔یقینا اسکی ناک سے خون نکل رہا تھا۔وہ چندلمحے دیکھ کر گہری سانس لیکر پلٹنے لگے تو سامنے سے چھے سات اسی لڑکے کے ہم عمر لڑکے یونیفارم پہنے آتے نظر آئے۔
    بچ گیا سالا۔ بھگوڑا۔ مگر ناک پھوڑ دئ ہے سارا دن اسکول میں چہرہ چھپاتا پھرے گا۔
    ایک زور زور سے بولتا دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ سب انکے پاس سے باتیں کرتے گزرے چلے گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہائے اللہ کس سے بھڑ آئے؟
    طوبئ نے دیکھتے ہی چیخ ماری۔
    معمولی سا خون بھرا ہے میں ٹھیک ہوں۔
    انہوں نے اپنی طرف سے تسلی دینی چاہی مگر الٹا اثرہوا۔
    ہاں آپ تو ٹھیک ہیں نظر آرہا پر کس کا خون تک نکال دیا؟ یہ آپکا اپنا گائوں نہیں وہاں تو چودھراہٹ کا رعب تھا لوگ ابا کی وجہ سے دبتے تھے آپ سے مگر یہاں انجان ملک ہے میں کہاں پولیس وولیس سے آپکو چھڑاتی پھروں گی اوپر سے جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں فٹ سے ڈھونڈ نکالیں گے
    یا خدا کوریائی پولیس کو کم نہ سمجھیں انکو تو رشوت بھی
    طوبئ کا واویلا جاری تھا وہ تھوڑا جھلا گئے۔
    اوفوہ کسی کو نہیں مارا ۔۔ ایک بچہ ٹکراگیا تھا زخمی تھا شائد۔
    جھلا کر جیکٹ اتاری انہوں نے۔ناشتہ کچن سے لا کر میز پر لگاتے طوبئ نے بخشا نہیں خوب سنائی۔ وہ بھناتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر آبیٹھے۔
    ہاں ایسی تو احمق ہوں میں۔ اور ایسی آپ توپ کہ۔آپ سے ٹکرا کر کوئی زخمی ہوگیا۔ نا بتائیں مجھے مگر یاد رکھیئے گا پولیس آئی تو جھوٹ نہیں بولوں گی ہاں۔
    دھمکی دیتی وہ خود تو کچن میں چلی گئ۔
    انکی چھوٹی صاحبزادی آنکھیں ملتی وارد ہوئی۔
    طوبی بچے اٹھ گئے انکا ناشتہ بھی لے آئو دیرہو رہی ہے انکو۔
    انہوں نے موضوع بدلا تھا
    تم تیار کیوں نہیں ہوئیں ابھی تک؟
    انہوں نے بچی کو نائٹ سوٹ میں ملبوس دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔ طوبی نے وہیں سے آواز لگائی
    ہائے اسے کیوں اٹھا دیا اسکی چھٹئ ہے آج۔ایسے تو بچوں کی پڑھائی کی فکر نہیں ہوتی آج چھٹی والے دن بھی اسکول بھجوا رہے۔ ناراضی سے کہتے ہوئے
    طوبی نے چائے کا کپ انکے سامنے لا رکھا اور جھٹ آگے بڑھ کر بیٹی کو ساتھ لگا لیا۔
    میں نے تو نہیں۔ وہ سٹپٹائے

    مما دودو۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
    اچھا میں لاتی ہوں جائو بستر میں گھسو وہیں پی کر سوجانا۔
    بچی کو بہلا کر بھیجا خود پھر کچن میں گھس گئ۔
    اس بار انکی بڑی صاحبزادی یونیفارم پہنے بستہ اٹھائے تشریف لے آئیں۔
    تم کیوں یونیفارم پہن کر آگئیں؟ جائو سوئوجا کر آج چھٹی ہے ۔
    انکے آخری الفاظ انہیں خود بھی نہیں پتہ تھا کہ ادا ہو بھی پائے یا طوبی کی آواز میں دب چکے۔
    بچی کیلئےتوس انڈہ اور دودھ ٹرے میں سجا کر لاتے وہ بھنائی تھی۔
    خدایا کیا ہوگیا ہے آپکو اسکے سیشنل امتحان چل رہے چھٹی کروادی تو مارکس کٹ جائیں گے حد ہے بچوں کی تعلیم کی ذرا فکر نہیں چلو شاباش جلدی سے ناشتہ کرو آج پاپا چھوڑ دیں گے اسکول تمہیں۔
    دلاور منہ کھول کر رہ گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح وہی بے ہنگم سی بھاگ دوڑ انکے گھر میں چل رہی تھی۔ عروج کو اپنا پتلے پانی والے سینیٹائزر کی بوتل نہیں مل رہی تھی۔ عزہ کو ڈینم عبایا درکار تھا وہ بھی عروج کا کیونکہ رات کو اپنا عبایا دھو کر ڈالا تھا جو صبح تک سوکھ نہیں پایا تھا۔ الف اسکارف سر پر جمانے میں مصروف تھی فاطمہ کو چونکہ کہیں نہیں جانا تھا لہذا ان سب کیلئے انڈے پراٹھے کا ناشتہ بنا کر کچن سے آوازیں دے رہی تھی
    نور اپنے بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ان سب کو بغور تک رہی تھی۔
    تمہیں یہ کہتے عجیب تو لگ رہا مگر کیا کروگی گھر میں رہ کر ہمارے ساتھ یونیورسٹی چلو میری دوہی کلاسیں ہیں تم گھوم پھر لینا پھر ہم اکٹھے کہیں چلیں گے۔
    یہ عزہ نے مشورہ دیا تھا جوابا وہ ہلکے سے مسکرا کر رہ گئ۔
    ہاں چلو جا کر پتہ تو کرو پولیس نے یونیورسٹی کو مطلع کردیا تھا پھر بھی اتنی چھٹیوں کے بعد کیا کہتے یونی والے امتحان تو اگلے ہفتے ہیں ہو سکے تو دے ڈالو
    الف اسکارف سرپر ٹکا چکی تھی۔ سو سہولت سے کہتی اسکے پاس آ بیٹھئ۔
    اب اسکی ضرورت نہیں۔ نور نے گہری سانس لیکر دھیرے سے کہا تھا۔
    کیوں؟ الف نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہ کیا
    کیونکہ میں اسی ہفتے پاکستان واپس جا رہی ہوں ہمیشہ کیلئے۔
    اس نے سابقہ ہی انداز میں جواب دیا ۔
    ۔ سیٹی ٹائزر بیگ میں رکھتی عروج جھکی رہ گئ تھی ، الف کا منہ کھل سا گیا تو عزہ بھی سب چھوڑ چھاڑ اسکے سامنے دھپ سے آ بیٹھی۔
    ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟
    عزہ نے رونی صورت بنائئ
    انکل نے کہا ہوگا ہم بات کریں منا لیں گے انکو فکر نہ کرو
    عروج نے کہا تو الف نے زور و شور سے سر ہلایا
    ہاں تو اور کیا ایسے کیسے تمہاری تعلیم ادھوری رہ جائے گی اور یہ تو اتفاق تھا نا گہانی مصیبت تھی شکر ہے ختم ہوئی اسکی سزا تو نہیں۔۔
    انکل نے ظاہرہے یہی کہنا تھا نا وہ بھی غلط۔۔
    عزہ نے کہنا چاہا مگر نور نے بات کاٹ دی۔
    ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ میرا اپنا فیصلہ ہے۔
    وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھی۔
    کیا فیصلے ہو رہے ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
    فاطمہ دروازہ کھول کر جھانکتے ہوئے چلائی۔
    جوابا چاروں ٹس سے مس نہ ہوئیں تو خود بھی پاس چلی آئی
    کیا ہوا؟
    تم ایسا کیوں کر رہی ہو اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے آرام سے اپنی تعلیم مکمل کرو برا خواب سمجھ کر بھول جائو۔
    عروج نے سمجھانا چاہا۔
    یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
    نور مضطرب سی ہوئی۔۔۔۔۔
    مجھے گھروالے امی بابا بہن بھائی سب بہت یاد آرہے ہیں مجھے نہیں لگتا اب مزید میں یہاں ان سب سے دور رہ پائوں گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بابا میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود گر گئ تھئ سیڑھی سے۔
    آٹھ سالہ نور پرنسپل آفس میں اپنا مقدمہ خود لڑ رہی تھی۔
    اسکی سہیلی کا سر پھٹ گیا تھا اسکے والد بیٹی کے سر پر پٹی بندھی دیکھ کر سیخ پا ہو چکے تھے والدہ کو بچی سمیت گھر بھیج کر وہ باقائدہ نور کے والد سے معافی کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ نور کا نام اسکول سے کٹوانے کی بھی استدعا کر رہے تھے۔
    پرنسپل نے دونوں کو باہمی گفتگو کے ذریعے معاملہ۔نپٹانے کا مشورہ دیا تھا۔
    جانے کیسے والدین ہیں بچوں کی کوئی تربیت ہی نہیں کرتے۔ احساس ہی نہیں انکو کہ انکی بچی کی وجہ سے میری بچی موت کے منہ سے ہو کر آئی ہے۔ سرپھٹ گیا پندرہ سیڑھیوں سے نیچے آگری کچھ ہو جاتا اسے تو کون ذمہ دار تھا؟ اور اتنے چھوٹے بچے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے ہیں کوئی انہیں دھکا دے دیتا ہے کیسا اسکول ہے
    وہ انکل بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے۔
    دیکھیں دونوں کم عمر ہیں بچوں کو ہم سیڑھیوں کے قریب کھیلنے بھاگنے دوڑنے نہیں دیتے چھوٹی کلاسز کی تو دوسری منزل پر کلاس بھی نہیں ہوتی۔۔
    معاملہ اپنے خلاف جاتا دیکھ کر پرنسپل صاحب نے فوری صفائی پیش کی تھی۔
    پھر کیسے میری بچی سیڑھی سے گر گئ؟
    ہمدانی صاحب جوش میں میز پر ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

    اس بچی کو دیکھیں ابھی بھی یوں کھڑی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ساری بات تربیت کی ہوتی ہے۔ سوری تک نہیں بولا اس بچی نے اور باپ ہے کہ
    انہوں نے خاموش کھڑی نور کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
    اسکے بالکل خاموش بیٹھے بابا غیر محسوس سے انداز میں اٹھ کراسکی جانب بڑھے۔
    اسکے قد کے برابر آکر خشک سے انداز میں پوچھا
    کیا واقعی تم نے دھکا دیا تھا عالیہ کو؟
    نہیں بابا ۔
    اس نے نفی میں سر ہلایا۔
    میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود سیڑھیوں سے گر گئ تھئ ۔وہ بھاگ رہی تھی۔
    انہوں نے خاموشی سے ایک نظر اسے دیکھا۔
    اب ظاہر ہے یہ یہی کہے گی مانے گی تھوڑی کہ
    ہمدانی صاحب پھر کچھ کہنے لگے تھے کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
    نور بہر حال آپکی سہیلی کو آپکے ساتھ کھیلتے ہوئے چوٹ لگ گئ ہے۔ آپ انکل سے سوری بولو اور وعدہ کرو آئیندہ شرارت نہیں کروگی۔
    آٹھ سال کی عمر میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ اسکو غلط سمجھا گیا ہے اس سے اس غلطی کی معزرت کروائی جا رہی ہے جو اسکی غلطی کہیں سے نہیں تھی۔
    یہ جملے دہراتے وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔ ہمدانی صاحب کا کچھ غصہ ٹھنڈا پڑا تھا مگر نور کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوا تھا کہ بابا اسے غلط سمجھ رہے ہیں۔
    اسپتال میں باپ کی شکل دیکھ کر بت بن جانے والی نور کو دیکھ کر اسکے بابا کو کئی برس قبل کا یہ واقعہ یاد آیا تھا۔ جانے کیوں۔ شائد اسکے تاثرات دیکھ کر۔
    نور کی آنکھوں میں جانے انہیں دیکھ کر یہ اعتماد کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے اسکے بابا سب سنبھال لیں گے نظر آنے کی بجائے ایک خوف سا دکھائی دیا انہیں کہ جانے بابا اسکا یقین کریں گے یا نہیں۔
    برسوں قبل بھی انکو معلوم تھا کہ انکی بیٹی جھوٹ نہیں بولتی غلط نہیں مگر اس وقت انہیں ہمدانی صاحب کا غصہ ٹھنڈا کرنا ذیادہ ضروری لگا تھا یہ تو سوچا ہی نہ تھا کہ بیٹی کیلئے اس وقت انکا اس پر اعتماد کا اظہار کرنا ذیادہ ضروری تھا جبھی تو اس وقت بھی وہ کشمکش کا شکار لگ رہی تھی جانے بابا میرا یقین کریں گے کہ نہیں۔
    ٹپ ٹپ کتنے آنسو انکی بیٹی کے چہرے پر پھسل آئے تھے۔ وہ سب بھول گئے یاد رہا تو بس یہ کہ انکی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔تڑپ کر آگے بڑھ کر انہوں نے اسے گلے سے لگا لیا تھا۔
    مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
    میں نے کچھ نہیں کیا بابا
    وہ بابا سے جب کہنے لگی تو انہوں نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔
    کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔مت گھبرائو میں آگیا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ رونا بند کرو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس کھچا کھچ بھری تھی عزہ الف دونوں ہی کو بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی تھئ۔چونکہ صبح کا وقت تھا ذیادہ تر اسکول جانے والی عوام ہی تھی۔ وہ چار پانچ لڑکیوں جنہوں نےہائی اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا انکے قریب جا کھڑی ہوئیں۔ اس سے دیگر مرد حضرات سے بچت ہوگئ۔
    سچ کہوں تو میرا بھی دل کر رہا نور کی طرح سب پڑھائی وڑھائئ چھوڑ کر پاکستان واپس چلے جانے کا۔ امی یاد آرہی ہیں۔
    عزہ بسوری۔
    مجھے نہیں لگتا کہ نور محض گھر والے یاد آرہے ہیں اسلیئے واپس جانے کا فیصلہ کر رہی ہے یقینا اسکے بابا نے کہا ہوگا۔
    الف نے خیال ظاہر کیا۔
    ظاہر ہے جیل میں رہی ہے وہ معمولی بات تھوڑی اسکے بابا جتنا غصہ کریں وہ کم ہے۔ پھر دیکھو یہاں ہم تو اسکی کوئی مدد نہیں کر پائے اسکے گھر والے ہی آکر اسے چھڑوا سکے تو پھر وہ یہاں اسے اکیلا کیوں رہنے دیں گے۔
    عزہ کو اسکے بابا بالکل بھی غلط نہ لگے اگر وہ ایسا سوچ بھی رہے تھے تو صحیح سوچ رہےتھے۔
    میں نے کب کہا کہ وہ غلط کر رہے ہیں بس مجھے لگا کہ نور ذیادہ ہی ڈر گئ ہے اسے کم از کم اپنے بابا کو سمجھانا تو چاہیئے۔۔۔
    الف نے کندھے اچکائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملاقات کے مخصوص اوقات میں اسکے بابا اس سے ملنے آئے تھے۔ پولیس افسرنئ اسکو کیبن میں چھوڑ کر پلٹ گئ تھی۔ وہ مرے مرے سے قدموں سے چلتی شیشے کی دیوار کے مقابل نشست آن بیٹھئ۔ شیشے کے پار اسکے بابا اسکے لیئے قانونئ مدد فراہم کرنے والے وکیل کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ اس نے سلام تک نہ کیا تھا۔ یاد ہی نہ رہا تھا۔ ہر بار بابا کو جیل میں ملنے آتے دیکھ کر اسکے دل پر منوں بوجھ آگرتا تھا۔ وہ سرجھکا گئ۔
    ان شا اللہ کل تمہاری ضمانت ہو جائے گی۔ سب کاروائی مکمل ہو گئ ہے تم بس ان کاغذات پر دستخط کر دو۔
    اسکو بتاتے ہوئے اسکے بابا مسکرا رہے تھے مگر انکی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔
    اس نے میکانکی انداز میں خالی خالی نگاہوں سے سر اٹھا کر دیکھا۔ وکیل نے اسکے سامنے ایک فائل بڑھا دی۔ اس کے احساسات برف سے ہو رہے تھے۔ جیل میں رہتے لگتا تھا زندگی بس یہیں تمام ہو جائے گئ جب مایوسی کی انتہا پر رونا بھی چھوڑا تو اچانک۔۔
    ضمانت۔
    وہ چونکی۔
    اسکا مطلب کچھ عرصے کی رہائئ بس؟ اسکا کیس جانے کتنے عرصے چلنے والا ہے وہ تب تک کیا
    بابا مجھے پاکستان جانا ہے واپس فورا۔
    دستخط کرتے کرتے رک کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ بے تابی سے شیشے کی دیوار یوں کھٹکانے لگی جیسے توڑ کر باہر نکل آئے گی۔
    بابا مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں بابا۔
    وہ دیوار کو بے تابی سے ہاتھ مار رہی تھی۔ ہزیانی سے انداز میں چیختے وہ بس ایک ہی جملہ کہے جا رہی تھی
    بابا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔۔
    ۔ اسکے بابا اسکو یوں مضطرب دیکھ کر بری طرح بے چین ہو گئے
    ہاں ہم پاکستان چلیں گے خود کو سنبھالو بیٹا
    بابا مجھے ساتھ جانا ہے آپکے۔
    بابا۔ وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔ اسکی پکار سن کر دو پولیس والیاں بھاگئ آئیں۔ انہوں نے اسکو پکڑ کر پیچھے کیا تووہ اور بری طرح مچل مچل کر رونے لگی
    بابا ۔ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔
    نور میری جان صبر کرو
    بیٹا میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا
    دیکھو۔
    اسکے بابا بیٹی کی حالت دیکھ کر خود بھی رو پڑےتھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 31

    قسط 31

    سیونگ رو ہنسا تھا پھر ہنستا چلا گیا تھا۔ وہ غصے میں منہ پھلا کے اسے گھورتی رہی۔
    اب اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے۔ اسکا انداز خفگی بھرا تھا۔
    وہ دونوں دریا کے کنارے یونہی ٹہلنے چلے آئے تھے۔ قریب ہی کچھ نوجوان بچے گٹار وغیرہ سجائے گانے گانے میں مصروف تھے۔وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سرجھٹک کر آگے قدم بڑھا دیئے۔ سیونگ رو ہنستے ہنستے چپ ہوا چند لمحے اسے قدم بہ قدم خود سے دور جاتا دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر اسکی جانب بھاگ کر آیا۔
    ہم طیش میں آکر اکثر ایسا ردعمل دے ڈالتے ہیں جو ہمیں تو بالکل جائز لگتا ہے مگر کسی دوسرے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔اگر ہم بس لمحہ بھر کو اپنے طیش پر قابو پا لیں تو کسی کا بہت نقصان کرنے کی بجائے اپنی بات اسے سمجھا کر اپنا اور اسکا دونوں کا نقصان ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
    سیونگ رو کی اس لمبی تقریر پر اس نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔
    کیا مطلب ہے تمہارا؟
    اس نے گہری سانس بھری پھر اپنا موبائل نکال کر اس پر انگلیاں چلانے لگا کچھ نکال کر اسکرین اسکے سامنے کردی۔
    بین مشیل، بین مشیل وی لاگز، اسٹاپ مسلم فوبیا، مشیل ازایکسٹریمسٹ، بائکاٹ مشیل ۔۔۔۔۔۔۔بیانئے مسلم آگاشی( معاف کردو مسلمان لڑکی)۔۔
    وہ اسکرال کرتے کرتے تھکنے لگی۔
    کوریا کے سوشل میڈیا پر ٹاپ تھری ٹرینڈز مشیل کے خلاف چل رہے تھے۔ لوگ اس کے خلاف بلاگز لکھ رہے تھے۔ اسکا یو ٹیوب چینل بند ہو چکا تھا۔ وہ ایک ویڈیو میں روتے ہوئے معزرت کر رہی تھئ۔
    اس نے موبائل واپس کردیا۔ اب اسکے ساتھ جو بھی ہو اسے دلچسپی نہیں تھئ۔
    اتنی چھوٹی سی بات پر پتہ ہے تم نے مشیل کا کیریئر ہی ختم کردیا ہے۔ سیونگ رو نے دھیرے سے کہا تو اسکے تن بدن میں آگ ہی لگ گئ۔چیخ ہی تو پڑی
    چھوٹی سئ بات؟ یہ چھوٹی بات ہے مجھے دھوکے سے بلا کر جھوٹی کہانی سنا کر براہ راست میرے چہرے سے نقاب نوچ کر وہ دنیا کو میرا چہرہ دکھانے لگی تھی۔ ؟
    تمہارا چہرہ کیا دنیا نہیں دیکھ سکتی؟
    سیونگ رو نے سادگی سے سوال کیا۔
    وہ جینز او رکرتے کے اوپر ہاسپٹل گائون میں ملبوس سر پر اسکارف اور چہرے پر ماسک پہنے ابھی بھی اپنے روز کے حلیئے میں ہی تھئ۔
    میں پردہ کرتی ہوں۔ مکمل شرعی پردہ۔ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو حق نہیں کہ میرا پردہ برباد کرنے کا سوچے بھی۔
    اسکا انداز قطعی تھا۔
    یہ بات تم نے مشیل کو بتائی تھی؟ اس سے یہ بات کی تھی کہ تم اپنا چہرہ دنیا کو نہیں دکھا سکتیں؟ کیونکہ تمہارا مذہب منع کرتا ہے تمہیں اس سے؟
    سیونگ رو رک کر اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
    وہ تیزئ سے کہنے لگی تھی کچھ مگر چپ سی ہوگئی۔
    اس نے جب پہلی ملاقات میں چہرہ دکھانے کی۔بات کی تھی تب اس نے صاف منع کیا تھا وجہ نہیں بتائی تھی پھر بھی مشیل کی غلطی ہر طرح سے تھی۔ سیونگ رو کو شائد اپنی ہم وطن کا درد فضول میں اٹھ رہا تھا۔
    اسے خاموش دیکھ کر سیونگ رو جانے کیا سمجھا مزید اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا۔
    تمہاری ویڈیو وائرل ہوئی تھی تو میں نے بھی دیکھی تھی تمہارے عبایا سے تمہیں فورا پہچان لیا تھا۔ وییڈیو کے نیچے کمنٹس میں لوگ مشیل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے کہ اس نے پیڈ ایکٹریس سے کلپ بنوایا ہے جبھی اتنا مکمل بنا ہے۔ اس کے پاس یہی راستہ تھا کہ تم سے وضاحت دلوادے۔ اب خود سوچو وہ تمہیں آکر یہ کہتی کہ لوگ تمہارے مزاحیہ ردعمل پر چسکا لیتے ہوئے تمہاری حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو کیا تم جاتیں اس کے چینل پر؟ چھے ملینز فالوورز کا اسکا چینل اسکی کمائی کا ذریعہ تھا۔ اس نے غلط بیانی کی مگر تم اسکے گھر اسکے اسٹوڈیو میں کھڑی تھیں اس نے جزباتی پن دکھایا مگر یہ بھی تو دیکھو وہ اور اسکا بوائے فرینڈ دونوں نے تم دونوں کو قطعی کوئی نقصان پہچانے کی کوشش نہیں کی۔تم لوگ اسکا کیمرہ توڑ کر آئیں تھیں۔ اس نے تم دونوں سے نقصان کی بھرپائی تک نہیں مانگی۔۔۔۔
    اس سب کئ بجائے اگر تم وہیں اس سے براہ راست وضاحت کردیتیں تو بہتر نہ رہتا ؟
    عروج کو یاد آیا تھا اس نے اس ٹرائی پوڈ کو غصے سے دھکا دیا تھا وہ اسکے سامنے پٹاخ سے کیمرہ سمیت زمین پر گرا تھا۔ مشیل آندے کرتی کیمرے کی جانب لپکی تھی تب وہ تن فن کرتی باہر نکل آئی تھی۔ اسکے پیچھے مشیل کے بولنے کی آواز آئی تھی مگر اس نے انکا پیچھا نہیں کیا تھا۔
    سیونگ رو کی بات پر اسکی پیشانی تپ اٹھی تھی
    تم وہاں موجود نہیں تھے۔ انتہائی بدتمیزی اور جارحانہ انداز میں وہ مجھ پر پل پڑی تھی۔۔ اگر میں اس وقت یہ سب نہ کرتی تو یقینا وہ میرا تماشا بنا چکی ہوتی دنیا میں۔مگر تمہیں وہ غلط نہیں لگ رہی کیونکہ وہ کورین ہے۔ یہ اسکا ملک ہے غلط میں ہوں جو یہاں ہوں ۔ نہ معاشرتی مماثلت ہے ہم میں نہ مذہبی اسکا قدم قدم پر احساس ہوتا ہے مجھے۔ ناحق کوریا آئی نہیں آنا چاہیئے۔تھا۔
    وہ دانت کچکچا رہی تھی مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
    ۔میں نے زندگی میں کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہاں کوریا میں مجھے یہ کام بھی کرناپڑا، زندگی میں کبھی ویڈیو نہیں بنوائی یہاں میری ویڈیو بن کر وائرل ہوگئ۔ زندگی میں۔
    وہ کہتے کہتے رک گئ۔
    فارگیٹ اٹ۔ اس نے سرجھٹکا۔
    کیا فائدہ تھا اس تقریر کو جھاڑنے کا۔ سیونگ رو نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
    کیا میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں؟۔
    سیونگ رو کی بات پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اتنا حیران ہوئی کہ پلک جھپکن ہی بھول گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اور سیہون بھاگے بھاگے پولیس اسٹیشن آئے تھے۔ نور اپنے والد کے ہمراہ پولیس اسٹیشن کے تفتیشئ کمرے میں بیٹھئ تھئ۔ ایک وکیل اسکی ضمانت کی کاروائی مکمل کروا رہا تھا۔ وہ بے چینی سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔ کاغذی کاروائئ مکمل کرکے جیسے ہی نور کمرے سے باہر آئی وہ بھاگ کے اس سے لپٹ گئ
    بہت بہت مبارک ہو۔
    نور کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ وہ واعظہ سے لپٹ کر رو دی۔
    نور کے والد ہمراہ تھے سیہون نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا تو وہ بھی اپنی جھلمل آنکھیں پونچھتے دکھائی دیئے۔ اس نے انکو سہارا دے کر ویٹنگ ایریا میں لگے بنچ پر بٹھایا اور انکے لیئے پانی لینے چلا گیا۔
    بس بس اب مت رو۔ واعظہ نے اسکی ہچکی بندھتے دیکھئ تو اپنے سے الگ کرکے ڈانٹنے لگی۔
    اتنی ہمت دکھائی اتنے دن اب اچانک کیا ہوگیا ہے۔ حوصلہ کرو انکل بھی پریشان ہو گئے ہیں۔
    اسکے ڈپٹنے پر اس نے اپنی آنکھیں پونچھ کر باپ کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ چہرے پر تھکن تھی مگر آنکھوں میں اطمینان تھا۔ وہ باپ کے پاس ہی بیٹھ گئ
    آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں نا ابو؟
    انکے شانے پر سر ٹکا کر وہ رندھی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
    انہوں نے اسکو پیار سے ساتھ لگا لیا اور سر تھپکنے لگے۔
    سیہون پانی لیکر آیا تو اکیلا نہیں تھا ساتھ یون بے تھئ۔ ہاتھ میں ایک ٹفن کا ڈبہ پکڑے۔
    مبارک ہو نور۔
    کس دقت سے اس نے یہ لفظ بولا تھا اسکے چہرے سے نمایاں تھا۔ نور اور واعظہ دونوں کو ہنسی آگئ تھی مگر چھپا گئیں۔ اس نے جھک کر روایتی انداز میں سلام کرتے ہوئے اسے ڈبہ پکڑایا۔
    کھمسا۔ نور کو بھئ بس اتنی ہی ہنگل آتی تھی۔
    میں نے کہا تھا نا نور۔ہم بے گناہوں کو سزا نہیں دیتے بلکہ تفتیش کے ذریعے اصل مجرم تک پہنچنا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے اس لوکل گینگ کو پکڑنے کیلئے اپنی تمام تر مشنری لگا رکھی تھی۔ دو دن قبل غیر قانونی طور پر کشتی کے ذریعے ملزم چین جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہم بروقت پہنچ گئے۔ اور جیسے ہی اس نے قبولا اپنا جرم ہم نے تمہارا نام اس سب سے کلیئر کر دیا۔ آزادی مبارک ہو۔
    اس نے شستہ ہنگل میں تفصیل سنائی تو جوابا سیہون نے مترجم کے فرائض نبھائے
    بہت شکریہ۔ اسکے والد یون بے کا شکریہ ادا کررہے تھے۔
    تمہارا تین ہفتوں میں پڑھائی کا کافی حرج ہوگیا ہوگا۔
    واعظہ کو خیال آیا تو وہ جیسے چونک اٹھی
    بس تین ہفتے؟ مجھے تو لگنے لگا تھا کہ سالوں سے جیل میں ہوں۔
    وہ دن رات یاد کرکے پھر آبدیدہ ہو چلی تھی۔
    بس اب مت رونا۔ گھر چلو نہائو نماز شکرانہ ادا کرو یہ وقتی مصیبت ختم ہوئی۔ واعظہ نے گھرکا تو وہ سر ہلانے لگی۔
    باقی سب کیسی ہیں؟ آئی کیوں نہیں؟
    اس نے سوال کیا۔ اس سے قبل کہ واعظہ جواب دے پاتی یون بے نے انکو مخاطب کر لیا۔
    یہ کوڑا بنایا ہے میں نے۔ آپ لوگ کھا کر تو بتائیں کیسی بنی ہے؟ دراصل مجھے بہت شوق تھا آپ لوگوں سے رائے لینے کا میرے گھر تو سب کو بہت پسند آئے کوڑا ( ہاں کوڑے والا کوڑا ہی کہا تھا)۔
    اسکی بات پر ان دونوں کے منہ کھل سے گئے۔
    کیا بنایا ہے؟ نور پوچھے بنا نہ رہ سکی
    کوڑا۔کھا کر تو دیکھو وہی ترکیب آزمائی تھی جو وازیہ نے بتائی تھی۔
    اس نے جوش سے مسکرا کر کہا توواعظہ سٹپٹا گئ۔
    نا کرو۔کس نے کہا تھا کہ میری بتائی ترکیب ہی آزمائو۔
    اسکے بڑ بڑانے پر نور نے نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے ٹفن کھولا ۔
    اندر گہرے بھورے رنگ کے گول گول پکوڑے گرم گرم سجے تھے۔
    کھائو۔ یون بے مشتاق تھئ
    یہ؟ نور متزبزب تھی۔
    یہ وہی ہے نا جب ہم تم لوگوں کے گھر گرفتار کرنے آئے تھے تو تم لوگ کھا رہے تھے ہمیں بھی کھلایا تھا۔
    لفظ بہ لفظ ترجمہ کرتا سیہون بھی واعظہ کی شکل دیکھ کر گڑ بڑ کو بھانپ گیا تھا۔
    ویجی ٹیرین ہے آلو اور گوبھی اور پالک ہے یہ۔
    اس نے وضاحت کی۔ نور نے مدد طلب نگاہوں سے واعظہ کو دیکھا وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
    پکوڑے لگ رہے ہیں کھا لو نا نور۔
    اسکے ابو نے کہا تو نور نے ڈرتے ڈرتے ایک توڑ کر منہ میں رکھ لیا۔ پالک اور آلو باریک کٹے ہوئے تھے اور گوبھی کا پھول پورا تھا۔ یہ پکوڑا ان تینوں کا تھوڑا تھوڑا ذائقہ دے رہا تھا مگر پکوڑے کا ہی ذائقہ نہیں آیا اسے
    کھائو نا تم بھی۔تمہاری بتائی ترکیب ہے۔
    یون بے اب واعظہ سے کہہ رہی تھی۔ اس نے بے چارگی سے نور کو دیکھا جو منہ میں پکوڑا بھرے اسے یوں گھور گھور کر چبا رہی تھی جیسے پکوڑے کی جگہ واعظہ اسکے دانتوں تلے ہو۔
    تم بھی کھائو بیٹا۔ نور کے ابو نے سیہون اور یون بے کو بھی دعوت دی۔ بھر کے بڑا سا ٹفن تھا۔ ایک انہوں نے بھی چکھنے کیلئے اٹھا لیا تو سیہون اور واعظہ کو بھی اٹھا کے کھانا پڑا۔
    پکوڑا پکوڑا ہی تھا واعظہ کی بتائی ترکیب سے ہی بنا تھا بس جب یون بے ان دونوں کو ڈھوںڈ کر پکوڑے کی ترکیب پوچھنے آئی تھی تب واعظہ کو غصہ تو آنا ہی تھا۔ جان نکال دی تھئ اس فالتو ترکیب کے پیچھے۔
    یہ کس چیز کا پکوڑا ہے؟ اسکے ابو بھی درست اندازہ نہیں لگا پائے تھے۔
    یہ مکئی کے آٹے کا پکوڑا ہے۔ یون بے آئیندہ اسی ترکیب میں بیسن ڈال کر بھی دیکھنا وہ اس سے بھی مزے کا بنے گا۔
    نور کی گھورتی نگاہوں سے نظر چرا کر وہ یون بے کو ہدایت دے رہی تھی۔
    ہاں ضرور اگلی دفعہ بیسن اور گندم کے آٹے سے بھی بنا کر دیکھوں گئ۔ یون بے پر جوش انداز میں کہتے ہوئے سر ہلایا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی گاڑئ میں اسکے بابا کو ہوٹل میں ڈراپ کرکےسیہون اسے اور واعظہ کو اپارٹمنٹ چھوڑنے آیا تھا۔
    آئو کھانا کھا کر جانا ۔ واعظہ دعوت دے رہی تھی مگر وہ سہولت سے انکار کر گیا۔
    صبح دفتر جانا ہے تم سہیلیاں تو آج رت جگا منائوگی ہے نا۔
    وہ مسکرا کر بولا تو واعظہ بھی نور کو دیکھتے مسکرا کر سر ہلا گئ۔ وہ تیزی سے گاڑی باہر نکال لے گیا۔واعظہ اسکا چھوٹا سا یونیورسٹی بیگ اٹھائے اندر کی جانب بڑھنے کو تھی جب سر اٹھا کر اس وسیع و عریض عمارت کو دیکھتئ نور حسرت بھرے سے انداز میں بولی۔
    کچھ بھی نہیں بدلا یہاں ہے نا واعظہ۔
    ہاں۔ واعظہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔
    بس میں بدل گئ ہوں۔
    یہ جملہ اس نے منہ ہی منہ میں بدبدا کر کہا تھا۔
    چلیں۔ واعظہ اسکا انتظار کررہی تھئ۔
    ہم ۔وہ بھاگ کر اسکے ہم قدم ہو لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک تو بندہ بیوی کا فرمانبردار بھی نہ ہو۔ سب کچھ لے کر آیا ایک دہی بھول گیا رات کے گیارہ بجے لینے بھیج دیا۔ جیسے صبح ناشتے میں دہی نہیں ہوگا تو ناشتہ حرام ہو جائے گا۔ اب یہاں اس وقت کتنی ٹھنڈ پڑنے لگی ہے۔ دہی کھانا چاہیئے بھلا۔ اتنئ ٹھنڈ میں گلا خراب ہوگا۔
    زور و شور سے اپر کا ہڈ چڑھا کر سر پر درست کرتے سرخ ہوتی ناک رگڑ کر وہ بڑ بڑاتے ہوئے دکان میں داخل ہوئے۔
    ایک انکا ہی ہم۔عمر چندی آنکھوں والا شخص کائونٹر پر بیٹھا اونگھ رہا تھا۔
    وہ والا دہی لینا جس پر گائے بنی ہوئی ہے بھوری سی اور منہ کھول کر دیکھ رہی ہے کیمرے میں۔
    فریج کھولا ہی تھا کندھے کے پاس سے طوبی کا تصوراتی ہیولہ منہ نکال کے بولا۔
    پہلے تو انہوں نے دہی کو ہی پہچاننا شروع کیا۔ تکونے کم باپ سے بھرے فریج میں سے عجیب کچی کچی سی مہک بھی اٹھ رہی تھی۔جھک کر اوپر نیچے ٹٹولتے جب انہیں کافی دیر ہو چلی تو یونہی زرا کمر سیدھی کرتے ہوئے جو مڑ کر دیکھا تو انکے پیچھے قطار بنی ہوئی تھی۔ چار پانچ لوگ اپنئ چندی آنکھیں بڑئ کرکے گھور رہے تھے۔ وہ کھسیا کے پیچھے ہوئے۔
    آپ لے لیں۔
    یہ خیال ہی نہ رہا کہ ہنگل یا انگریزئ میں بولتے ۔ مگر انکی اردو بھی اس چھوٹے سے اٹھارہ انیس سالہ لڑکے کو سمجھ آگئ تھی جبھئ آگے بڑھ کر اپنے لیئے سوجو کی بوتل نکالنے لگا۔
    آپکو کیا چاہیئے۔ ؟
    وہ اپنی دونوں بوتلیں سنبھال کر اب ان سے پوچھ رہا تھا۔
    دہی۔ انہوں نے انگریزئ میں بتایا۔
    اس نے ایک لمحہ تو حیران ہو کر گھورا پھر نچلے خانے میں سب سے آگے رکھا دہی کا پیکٹ نکال کر تھمایا۔
    یہ نہیں جس پر گائے کی تصویر بنی ہو۔ کیمرے کے ساتھ۔
    انہوں نے دہی کا پیکٹ الٹ پلٹ کیا پھر سمجھانے لگے۔
    وہ لڑکا اور اسکے گرد دیگر اسکے ہم وطن منہ کھول کر دلاور کو دیکھ رہے تھے جو فلیش بیک میں کھڑے کھڑے جا چکے تھے۔
    انکے منمنانے پر کہ اگر گائے کی شکل والا دہی نہ ملا تو؟دوسرا کوئی چلے گا؟
    طوبی سمجھانے والے انداز میں بولی
    ہوگا تو وہ دہی ہی مگر گائے کی تصویر پر اس لیئے زور دے رہی ہوں کہ گائے بنی ہے تو مطلب گائے کے دودھ سے ہی بنا دہی ہے یہ ثبوت ہوا نا۔ کوریا والے تھوڑی یہ کرتے ہونگے گائے کی تصویر بنا کر اندر سور کے دودھ کا دہی بھر دیں؟
    بات میں دم تھا۔ وہ منڈیا ہلانے لگے تھے۔
    اس لڑکے نے دہی انکے ہاتھ سے لیکر واپس فریج میں رکھا دروازہ بند کیا اور انہیں گھورتا ہوا کائونٹر کی جانب بڑھ گیا۔
    انہوں نے آگے بڑھ کر دوبارہ فریج کے ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا تو قطار میں لگے انکے ہی قریبا ہم عمر نے بہت تمیز سے انکے ہاتھ کو پرے کرتے ہوئے ہینڈل تھام کر فریج کھولا اور مطلوبہ چیز نکالنے لگے۔ یہ ترکیب کارگر رہی قطار میں موجود بقیہ پانچ چھے لوگوں نے بھی آزمائی ۔دلاور صبر سے باری کا انتظار کرتے رہے۔
    کائونٹر پر پیمنٹ کرتے اس لڑکے کی یونہی جاتے جاتے نگاہ پڑی تو دلاور کو پھر فریج سے نبرد آزما پایا۔
    آہجوشی۔
    پکارنے پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہی لڑکا گائے کی شکل والا دہی اٹھائے کھڑا تھا۔
    یہ لیں۔
    وہ خوش ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے
    یہ کہاں تھا؟ وہ جھٹ تھام کر پوچھنے لگے۔
    اس لڑکے نے فریج کا دروازہ بند کیا اور اسکے بالکل برابر ہی دوسرے قد آدم فریج کئ جانب اشارہ کیا۔
    گلاس ڈور سے پورے ریک میں گائے جھانک رہیں تھیں باہر
    دلاور کھسیا سے گئے۔ابھی انکی ایک فریج کی تلاش ہی مکمل نہ ہوئی تھئ۔
    گھمسامنیدہ۔
    انہوں نے جھک کر اسکا شکریہ ادا کرنا چاہا۔کمر سے چٹاخ پٹاخ کی آواز آئی۔ سیدھا ہو کر اس شکریہ کا جواب وصولنا چاہا تو معلوم ہوا راہی تو جا چکا۔ وہ لڑکا تیز تیز قدم اٹھاتا دروازے کی جانب بڑھ چکا تھا۔ وہ کمر سہلاتے کائونٹر کی جانب بڑھ گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واعظہ موبائل میں لگی تھی۔ اسی نے ہی فلور کا بٹن دبایا لفٹ میں۔۔دروازہ بند ہونے ہی لگا تھا جب خراماں خراماں چلتے دلاور آتے دکھائی دییئے۔
    اس نے خیر سگالی انداز میں دروازہ بند نہ ہونے دیا۔ وہ اسے پہچانتے نہیں تھے پھر بھی اس نے سلام۔کر دیا۔ جواب انہوں نے سر کے اشارے سے دیا تھا اور سلام۔طلب نگاہوں سے واعظہ کو دیکھنے لگے۔ مگر اس نے سر اٹھا کے نہ دیا۔
    وہ بھی تھوڑا رخ پھیر گئے۔
    فلور آتے ہی سب سے پہلے دلاور نکلے تھے۔ ان لڑکیوں سے انکے ستارے جانے کیوں گردش کھانے لگ جاتے تھے کسی بھی بری قسمت سے بچنے کو یہی بہتر تھا کہ ان سے دور رہا جائے۔ یہی سب سوچتے وہ سیدھا اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے۔ اور جلدی سے اطلاعی گھنٹی بجانے لگے۔
    وہ دونوں لڑکیاں اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے کی جانب بڑھ گئیں۔
    یار کچھ ذیادہ خاموشی نہیں سب سو رہے ہیں کیا۔
    دروازہ کھولتے ہوئے نور نے کہا تھا۔ انکی پشت تھی انہوں نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان لڑکیوں کی خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
    طوبی ۔۔
    وہ دروازہ نہ کھلنے پر جھلا کر پکارنے لگے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپارٹمنٹ میں گھپ اندھیرا سا تھا۔
    اتنا اندھیرا کیوں ہو رہا ہے ہے جن سو رہا ہے کیا لائونج میں؟
    نور نے اندازہ لگایا۔
    اندھیرا کچھ ذیادہ ہی تھا سو واعظہ نے ٹارچ آن کردی۔
    ہلکی ملگجی روشنی میں وہ آگے بڑھئ راہداری۔ختم ہوتے ہی سامنے کچھ ہیولے سے دکھائی دیئے۔
    اس سے قبل کے وہ سمجھ پاتی۔ زور دار پٹاخہ سا بجا جھماکے سے روشنی ہوئی عزہ سوئچ بورڈ کے پاس ہی کھڑی تھئ۔
    ویلکم ہوم نور۔
    عزہ، عشنا ، فاطمہ، عروج ، الف طوبی سب ہی پرجوش انداز میں چلائیں ان سب کے ہاتھوں میں پارٹی پاپرز تھے اسکے قریب آتے ہیں وہ چمکیلی پنیوں میں نہا سی گئ اسکےچاروں طرف افشان رقص کر رہی تھی۔کوئی غبارے پھاڑ رہی تھی تو کوئی پارٹی پاپرز طوبئ پلیٹ میں پنیوں سے بھری مٹھائی لیئے اسے کھلانے پر تلی تھی تو الف آنسو پونچھتی اسکا ہاتھ تھامے جانے کلائی میں کیا چڑھا رہی تھی۔ اسکی سکھی سہیلیاں خوشی سے جھومتی چیختی اس سے آلپٹی تھیں۔ وہ جو ایسے لمحوں میں ہمیشہ ایک طرف ہو کر وییڈیو بناتی رہتی آج احساس ہوا تھا کہ لمحوں کو اسی وقت جینا ذیادہ خوش کن احساس ہے بہ نسبت گزر جانے والے لمحوں کی یادیں اسکرین پر دیکھتے جانا۔ آج وہ یہ سب اپنے ذہن میں ریکارڈ کر رہی تھی۔ پھول تحفے مسکراہٹیں محبتیں خلوص کی تیز بارش برس رہی تھی اس پر آج وہ اس بارش میں نہا کر خوش ہوئی تھی بہت خوش۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہزا بار سوچا تھا اب نہیں دہلنا کچھ ہو جائے چیخیں دھماکا بم ہی پھٹ جائے وہ حواس بحال رکھیں گے۔ آج کامیاب بھی رہے۔ حسب توقع اس خاموشی کا شور و غل بے ہنگم دھماکوں کی گونج سے اختتام ہوا تھا۔
    زرا سا فطری طور پر ہی چونکے پھر سر جھٹک کر مبارکباد دئ خود کو
    دل کر رہا تھا زور زور سے چلائیں وہ بھی I survived
    اپنی بچکانہ سوچ سے محظوظ ہوتے دروازے کے کھلتے ہی خوشی خوشی اندر داخل ہوئے۔یہ انکی بڑی بیٹی تھی جو دروازہ کھول کر انکو اندر آنے کا راستہ دیتی ایک طرف ہو گئ ۔مگر انکی ایک ہی بیٹی تھوڑی تھی بس۔ دوسری بھی آس پاس ہی تھی جسکو انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔ بابا کہتی ٹانگ سے لپٹی۔وہ جو اپنی جھونک میں سیدھے اندر چلے آئے بیٹی کو ہی پائوں تلے دینے لگے تھے۔
    اوہ اوہ۔ بمشکل دیوار کا سہارا لیکر انہوں اسے بچایا تھا دونوں ہاتھوں سےاوپن کچن کے کائونٹر سلیب کو تھام کر ایک اور چوٹ لگنے سے خود کو اور بچی کو بچالیا۔
    مگر دونوں ہاتھ سنگئ دیوار پر تھے تو جو ہاتھ میں تھا وہ کہاں گیا۔
    بابا سارا دہی گر گیا اب امی ڈانٹیں گی۔
    بیٹی کی آواز پر جو مڑ کر زمین پر دیکھا تو ہزار جوکھم اٹھا کر لایا گیا دہی کا پیکٹ زمین بوس ہو کرپھٹ چکا تھا۔۔۔
    آہش۔
    جی بالکل کورین آہجوشی کی طرح ہی بولے تھے دلاور۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام۔۔۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 30

    قسط 30
    سعدیہ اسپیشل۔۔

    تمہیں کوئی آسان سی ڈش نہیں سوجھی تھی یہ انوکھا تجربہ ضرور کرنا ہے تمہیں۔۔
    الف جھلائی ہوئی اسکے ساتھ سپر اسٹور میں گھوم رہی تھی
    بہت سادہ اور شان ترکیب ہے۔تم دیکھنا سب کو پسند آئے گی۔
    عزہ پر جوش تھئ۔ الف سرجھٹک کر آگے بڑھ گئ۔ عزہ گھوم گھوم کے چیزیں اکٹھی کرنے میں لگی تھی۔ تیتر کے انڈوں کا لفافہ اٹھا کر مطمئن ہو کر مڑ کر دیکھا تو الف غائب ہو چکی تھی۔
    اب یہ کہاں گئ۔ اس نے ٹرالی گھسیٹتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا تو دور کھڑی نظر آہی گئ۔
    وہ دبے قدموں اسکی جانب بڑھی۔ وہ کاسمیٹکس والے حصے میں کھڑی تھئ۔ کریم اور لوشن ہاتھوں پر لگا لگا کر دیکھتی مگن کھڑی تھئ۔
    اس نے اسکے قریب جا کر اسکی کمر میں انگلیاں پستول کی طرح گھونپ کرکان میں زور سے پکارا
    ہینڈ اپ۔۔
    پٹاخ سے کریم کی نئی شیشی اسکے ہاتھ سے گر کر ٹوٹی تھی۔ بری طرح دہل کر الف خود بھئ کائونٹر کا سہارا لیئے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ سیلز گرل ان دونوں کو دیکھتی کائونٹر چھوڑ کر بھاگی تھی۔
    عزہ کی بچی دم نکل جاتا ابھی میرا۔ چند لمحے لگے تھے الف کو سنبھلنے میں سیدھی ہو کر عزہ کا کندھا بجا دیا۔
    توبہ ہے کتنا بھاری ہاتھ ہے۔ نقاب پوش عزہ تڑپ کر رہ گئ۔
    دن دہاڑے اتنا ڈرتا ہے کوئی بھلا۔ اب جانے کتنی مہنگی کریم توڑ دئ
    ٹرالی ایک طرف کرکے وہ جھک کر شیشی او راس سے بہتے سفید مواد کو دیکھنے لگی
    اب جتنا بھی مہنگا ہو پیسے تم دوگی تمہاری وجہ سے ٹوٹی ہے۔
    الف نے فورا حساب کرنا چاہا۔ عزہ گھور کر رہ گئ
    اب ہاتھ کیوں لگا رہی ہو کانچ چبھ جائے گا۔ فکر بھی تھی اسے عزہ کی۔
    ریپر دیکھ رہئ ہوں قیمت کا اندازہ تو کریں اس سے قبل کہ یہ ہمیں مہنگی بتا کر لوٹنے کی کوشش کریں۔
    آپس کی باتوں میں انہوں نے دھیان ہی نہ دیا کہ عجیب سا بے ہنگم شور ہے انکے گرد اور باقی لوگ تیزی سے داخلی دروازے کی جانب بھاگ رہے ہیں۔
    یہ اسٹور خالی کیوں ہو گیا اتنا جلدی؟
    الف حیران ہو کر مڑی۔
    ہینڈز اپ۔ ایک بار پھر انکو سنائی دیا تھا۔ دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ڈیپارٹمنٹ کے سیکیورٹی گارڈز ان پر پستول تانے کھڑے تھے۔
    وہ عبایا پوش لڑکی اس اسکارف پوش لڑکی کے قدموں میں بیٹھئ تھی ۔ صورت حال غیر متوقع تھی۔ مگر انہیں ان دونوں پر گمان دہشت گرد کا ہی ہوا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے لگتا تھا کہ بس ہم پاکستانی ہی سوری کا بے جا استعمال کرکے جان بچاتے ہیں مگر پوری دنیامیں ہی معزرت کے الفاظ کو اسی طرح ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
    الف مٹھیاں بھینچ رہی تھی مگر چونکہ دونوں ہاتھ شاپروں سے بھرے تھے سو ایسا ممکن نہ ہوسکا
    خیر انہوں نے کریم کے پیسے بھی نہیں لیئے بلکہ اسی طرزکی نئی شیشئ دے دی ہے۔ خوشبو تو اچھی ہے کریم کی۔۔
    عزہ کے بھی دونوں ہاتھوں میں شاپر بھرے تھے مگر سرد ہوا چلنے سے ناک بھی چل پڑی تھی سو ایک ہاتھ بار بار اسکا ناک پونچھنے کے کام آرہا تھا۔ وقفے وقفے سے وہ ہاتھ شاپر سمیت اٹھا کر ٹشو سے سڑ سڑ کرتی۔
    کوئی احسان نہیں کیا۔ ہم سو کر سکتے تھے ان پر جو انہوں نے بے عزتی کی ہماری۔
    الف غصے سے بھری تھئ۔ عزہ کو پھر چھینک آگئ۔ دونوں قریبی اسٹور تک ہی آئی تھیں سو پیدل ہی دو ذیلی گلیاں پار کرنی تھیں۔ سہ پہر کا وقت تھا لوگ کم ہی تھے اور جو تھے وہ اپنے کام سے کام رکھتے جا رہے تھے۔
    تم نے بھی تو حد کی۔ عزہ چھینک مار کر فارغ ہوئی
    ہینڈز اپ کہا تھا بس تم تو ایسے ڈریں جیسے سچ مچ گولی مار دی میں نے۔
    ہاں تو انجان ملک اکیلی لڑکی میں ۔ اوپر سے اتنے عرصے کے بعد کریم دیکھی میں نے کھو گئ تھی میں۔
    الف منظر یاد کرتے ہوئے ہی کہیں گم سی گئ۔۔
    ہاں تو اتنی خود اپنے ہاتھوں سے کریم و لوشن بنا کے دیئے انکی کوئی قدر نہیں۔ ۔
    عزہ نے منہ پھلایا تو الف بھنا کر اسے گھورنے لگی۔ ان دونوں کے سر پر فلیش بیک چالو ہوا تھا۔۔
    یہ رہی 99 % ایلوویرا جیل اور یہ رہی کافی۔
    دونوں کو برابر ملایا تو بن گئ نائٹ کریم ٹا ڈا۔۔
    نہیں کورین کیا کہتے۔ چن۔۔۔
    عزہ نے چٹکی بجائی۔ وہ سب اسکی اوور ایکٹنگ سے بیزار نائٹ کریم کے اس متبادل کو منہ پر ملنے لگیں۔عزہ الف عشنا عروج نور اور فاطمہ سب بھورا ماسک منہ پر لگاکے سوئی تھیں۔
    اور صبح۔
    سب کی سب افریقنیں لگ رہی تھیں۔ سب کا رنگ نا سفید رہا نا سانولا ۔ سب کی سب تانبے کی رنگت والی افریقی لڑکیوں سی رنگت چرا لائی تھیں
    یوٹیوب ویڈیو میں تو جلد اچھی ہوگئ تھی۔ عزہ بسوری
    گرائونڈ کافی ڈالنی تھی وہ بھی تھوڑی سی کس نے مشورہ دیا تھا ایکسپریسو وہ بھی چمچ بھر بھر کے ڈالو۔
    یہ فاطمہ تھی مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی۔ ایک ان سب میں اسکا ہی رنگ سب سےگورا تھا اب وہ بھی بھورا ہو چکا تھا۔۔
    واعظہ منے صوفے پر بیٹھی انکا حال دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی
    آج یہ خاص ہلدی کوکونٹ آئل اور خشخاش والا ماسک لگائیں گے تم سب کا رنگ ایکدم نکھر جائے گا۔
    عزہ اگلے دن رات کو پھر نئے ماسک کے ساتھ حاضر تھی۔
    خشخآش؟ واعظہ نے سرکھجایا۔
    مل گئ تھی یہاں؟
    اگلا دن اس سے بھیانک نتیجہ لایا تھا۔
    فاطمہ کی جلد پر چھوٹے چھوٹے لال دانے نکل آئے تھے ،عروج کو چہرے پر خارش اتنی ہو رہی تھی کہ اس نے مسل مسل کر گال لال کر لیئے تھے۔ عشنا کا چہرہ اکڑ سا گیا تھا وہ بولنے میں بھی احتیاط کر رہی تھی۔ الف کے چہرے پر فی الحال کچھ نہ تھا مگر ان سب کا حال دہلا گیا تھا اسے۔
    عزہ اپنے چہرے پر برف کی ڈلی پھیرتے اور عروج کو برف دیتے اسے ڈرتے ڈرتے دیکھ رہی تھی۔
    میں رات کو اٹھی تھی تو منہ دھو لیا تھا۔ اس نے حیرانی دور کی ۔۔
    مگر یہ خشخاش لگ تو نہیں رہی۔
    واعظہ نے آگے بڑھ کر شیشی اٹھائی۔۔
    عزہ نے ہاتھ مار کر فلیش بیک ختم کیا
    بس کرو۔ کتنا تو تم سب لڑیں تھیں دل بھرا نہیں جو یہ قصہ لے بیٹھیں دوبارہ۔
    تمہاری اس فضول شاپنگ جس میں تم نجانے کون کون سے اوٹ پٹانگ ٹوٹکے کرنےکیلئے جڑی بوٹیاں تک اٹھا لائیں تھیں میرے سارے پیسے برباد الگ ہوئے تھے اور اچھی جلد کیلئے ترس الگ گئ تھی میں۔ جبھی تو آج کریم دیکھ کر مجھ سے رہا نا گیا اور کھو گئ میں پینڈوئوں کی طرح اسے دیکھ کر۔
    الف دانت کچکچا رہی تھی۔
    اوہو لیکن دیکھو فائدہ ہوا۔ اپنے غلط اندازے پر شرمندہ ہو کر معافی مانگتے ہوئے انہوں نے نا صرف ہمیں دس فیصد رعائیت دی بلکہ کریم کے پیسے ما نگنے کی بجائے مفت میں دے دئ اتنی اچھی کریم۔۔
    عزہ نے مثبت پہلو نکال لیا۔
    اور جو مفت کی بے عزتئ ہوئی۔
    الف گھور کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لائیو اسٹریم میں بے عزت ہوئی ہے۔ اب اصل ہو تو چینل بھی بند کرلے اپنا۔ عروج مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔ وہ دونوں بس میں بیٹھی تھیں۔ جو لبا لب بھری ہوئی تھی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کوئی مردو زن کی تشخیص نہیں تھی۔ عروج کھڑکی کی جانب بیٹھی تھی ۔ جھٹکا لگنے پر واعظہ کے منہ سے ہائے سی نکل گئ کیونکہ سر پر کھڑی لڑکی کا بیگ سیدھا ناک پر لگا تھا اسکے۔
    بیانیئے سننے کو سر اٹھایا تو موصوفہ کو موبائل میں گم پایا۔ ٹھنڈی سانس بھر کر اس نے رخ عروج کی جانب کیا۔
    میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اتنی مکار چڑیل لڑکی ہوگی۔مگر جانتی نہیں کس سے پالا پڑا ہے اسکا۔
    اگر وہ کوریا کی چڑیل ہو سکتی ہیں تو ہم پاکستانی لڑکیاں بھی ڈائن سے کم نہیں۔ سمجھتی کیا ہے خود کو۔
    اسکی تشبیہہ پر واعظہ کھانس کر رہ گئ۔
    مطلب کوئی آخری حد نہیں۔ چڑیل بمقابلہ ڈائن۔
    اس کا تخیل ویسے ہی اڑان بھرتا رہتا تھا۔فورا منظر تیار تھا۔
    مشیل اور عروج دونوں ریسلنگ کے رنگ میں کھڑی تھیں۔
    مشیل لال جوڑے میں ملبوس پھنکاری ۔ انتہائی خوبصورت چندی آنکھوں والی دوشیزہ نے گھونگھٹ اٹھا کر ترچھی نگاہ ڈالی تھی۔ لال کرتی جس پر گوٹا کناری لہنگا جس کا ذرا سا کونا اس نے سمیٹا تو اسکے پائوں دکھائی دیئے۔ پائوں کی گلابی ایڑیاں۔
    ہیں۔ اس نے جھٹ اوپر دیکھا چہرہ سامنے ہی تھا دوبارہ پیر پر نگاہ کی۔۔ پیر تو الٹے تھے۔
    عروج۔ اس نے مڑ کر عروج کو دیکھا۔
    ڈاکٹرز والے مخصوص گائون میں منہ پر ماسک چڑھائے وہ اب آستین بھی چڑھا رہی تھی۔
    مشیل لپکی عروج کی گردن میں دانت گاڑےعروج کو ایک جانب پھینکا اور اسکی جانب متوجہ ہوئی
    بتائو ہم میں سے کون جیتا۔ ؟
    چندی آنکھوں والی چڑیل اسکی۔جانب بڑھی۔
    واعظہ تھر تھر کانپتے پیچھے ہوئی تو رنگ کے رسے سے ٹکرا گئ۔ چڑیل اسکی جانب بڑھے جا رہی تھی۔
    مم۔ مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔میں کیوں بتائوں؟
    کانپتے لبوں سے بمشکل پوچھا۔ پھر اپنے حلیئے پر نگاہ کی تو ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریفری کی طرح کی دھاری دار شرٹ اور کالی پتلون میں خود کو ملبوس پایا۔ یعنی وہ ریفری؟؟؟
    دے؟ ہنگل میں بولو مجھے اردو نہیں آتی۔
    چندی آنکھوں والی اردو فراٹے سے بولی تھی۔ ( بھئی اب سچ مچ تھوڑی مشیل تھی وہ تو واعظہ کا تصور تھا اور تصور میں کچھ بھی ہو سکتا)
    مم۔ اسکی سٹی گم ہوگئ تھی
    بولو اب چپ کیوں ہو۔ چڑیل تن فن کرتی بڑھی کہ اچانک ٹھٹھکی اسکے منہ سے خون کا فوارہ نکلا جو واعظہ کے چہرے پر چھینٹوں کی صورت پڑا۔ اس نے آنکھیں میچ لی تھیں
    آخ آخ۔ اسکے منہ سے چیخ نکلی چڑیل اسکے قدموں میں ڈھیر ہو چکی تھی۔
    اس نے خود کو ٹٹولا تو ثابت سالم پایا جھٹ آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو ٹیڑھئ گردن سے دیکھتی عروج ہاتھ میں ایک لال نرم سی چیز پکڑے چبا رہی تھی
    کھائو گی؟ اس نے اسکی جانب بڑھایا
    آخ۔ ایسا خونخوار تخیل اسے الٹی ہی آگئ۔
    فورا حال میں تشریف آوری ہوئی۔
    میں اس پر سو کروں گی دیکھنا سمجھتی کیا ہے خود کو پھینی ناک والی۔
    عروج ابھی تک بڑ بڑا رہی تھی۔
    اب بس بھی کرو سبق سکھا دیا نا ہم نے اس فضول یو ٹیوبر کو۔
    واعظہ نے تسلی دینا چاہی۔
    یو ٹیوبر مجھے تو یو ٹیوب سے بھی نفرت ہوگئ ہے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    موبائل کائونٹر پر نمک دانی سے ٹکا کر اس نے یوٹیوب پر مطلوبہ ویڈیو کھولی۔ اس ویڈیو کی ڈسکرپشن میں ایک عدد ویب سائیٹ کا لنک تھا جسے کھولنے پر پوری اسکرین پر کیڑے مکوڑے بکھر گئے۔
    اب یہ کونسی زبان ہے؟ الف نے حیران ہو کر پوچھا۔
    مجھے کیا پتہ کوئی سائوتھ انڈین زبان ہی ہے ۔ نیچے دیکھو انگریزی میں بھئ لکھی ہے ترکیب۔
    عزہ دیگچی میں مصالحہ بھون رہی تھی وہیں سے پکاری۔
    زیر لب بڑ بڑاتے الف نے ترکیب پڑھنی شروع کی۔
    یار یہ کہاں ہڑپہ کے کھنڈرات سے کھود کے نکالی ہے ترکیب ۔یہ تیتر کے انڈے کون مرغی کا پیٹ کھول کر اس میں بھرتا ہے بھلا؟
    الف کی حیرانی عروج پر پہنچی۔
    یار نئی چیز ہے سوچا آزما کے دیکھوں۔ عزہ پر جوش تھی۔
    الف کو بھی جوش چڑھ گیا چٹکی بجا کے بولی۔
    چلو پھر میں کوئی میٹھی چیز بناتی ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج اور واعظہ جب تھکی تھکی گھر میں داخل ہوئیں تو چاول کے دم نکلنے کی خوشبو پھیلی تھی جبکہ الف کسٹرڈ بنا کر فریج میں رکھ رہی تھی۔
    دونوں منے صوفے پر ڈھیر ہوئیں تو انکی اتری شکلیں دیکھ کر دونوں پاس چلی آئیں۔فکر مندہو کر نہیں متجسس ہو کر۔
    کیا ہوا؟ منہ کیوں سوجے ہیں تم دونوں کے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مشیل کا اپنا ذاتئ دو کمروں کا فلیٹ تھا جس کے ایک کمرے کو اس نے اسٹوڈیو بنا رکھا تھا۔ وہ دونوں اسکے گھر میں داخل ہوتے ہوئے جھجک سی گئیں۔ عروج نے چٹکی ہی کاٹ لی واعظہ کے بازو میں۔
    آہ۔ وہ سسکی بھر کے رہ گئ۔
    آجائو اندر۔۔ آرام سے آئو۔ مشیل نے انکو دروازے میں رکتے دیکھا تو مسکرا کر بولی
    تم اکیلی رہتی ہو یہاں۔ بازو سہلاتے ہوئے واعظہ نے پوچھا۔
    ہاں۔ یہاں آجائو یہ اسٹوڈیو ہے میرا ۔وہ مصروف سے انداز میں کہتی ایک کمرے کا دروازہ کھول کر انکو اندر آنے کی دعوت دینے لگی
    اوہ ۔دونوں اطمینان سے آگے بڑھ آئیں
    بس میرا بوائے فرینڈ ہی ہوتآ ہے یہاں میرے ساتھ۔
    اسکا جملہ اب مکمل ہوا تھا۔ دونوں سٹپٹا گئیں۔ وہ ایک نسبتا درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس کے ایک کونے میں صوفے رکھے تھے دوسرے کونے کو اس نے سجا بنا رکھا ایک جانب کیمرے رکھے تھے بڑا سا اسٹینڈ لائٹ ٹرائی پوڈ دیوار پر اسکے یو ٹیوب چینل کا مخصوص بیک گرائونڈ وال اسٹیکرز کے زریعے بنا رکھا تھا ایک طرف چھوٹی الماری سی تھی جس میں مائکس وغیرہ رکھے نظر آرہے تھے تو اسکے بالکل مخالف ایک چندی آنکھوں والا لمبا سا لڑکا سجا تھا جو ایک کیمرہ کھولے نجانے اسکے کیا کل پرزے دیکھ رہا تھا۔
    واعظہ تمہیں پٹخنی دینی آتی ہے نا؟
    عروج کی ہنگل انگریزئ سب بھک سے اڑ گئ تھی۔
    ہاں مگر ابھی کاسٹ اترے ذیادہ دن نہیں ہوئے۔
    واعظہ نے اپنا مجروح بازو چھوتے ہوئے خود پر ترس کھایا۔
    اس چندی آنکھوں والے لمبوترے لڑکے کے بازو کی مچھلیاں بلا مبالغہ بلیوں سی موٹی تھیں۔
    منہ اٹھا کے دونوں اوکھلی میں سر دینے آگئی تھیں اب سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا حال ہوتا یا موصلوں سے ڈرنا نصیب میں لکھا جو بھی تھا بھگتنا ہی تھا۔
    آجائو۔ہم پہلے بات کر لیتے ہیں پھر لائیو اسٹریم شروع کریں گے۔
    وہ اسٹوڈیو والے کونے میں سجے دو اسٹولوں میں سے ایک پر بیٹھ گئ اور دوسرے پر اسے بیٹھنے کی دعوت دینے لگی
    عروج نے واعظہ کو دیکھا پھر اسکے آنکھوں سے اشارہ کرنے پر گہری سانس لیتی اسکے مقابل آبیٹھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج مشیل کا چینل کھولے بیٹھی تھی وہ سب اسکے موبائل پر جھک آئیں صرف پندرہ منٹ کی اسٹریم دو گھنٹے میں ملین ویوز کراس کر چکی تھی۔دھڑا دھڑ کمنٹ بڑھ رہے تھے
    تو جناب جو جو لوگ مجھے چیلنج دے رہے تھے انکو بتا دوں کہ آج میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ میری ویڈیو فیک نہیں تھی وہی لڑکی جو میری ویڈیو میں زور زور سے چیخیں مار رہی تھی میرے ساتھ بیٹھی ہے۔ انہی کپڑوں میں۔
    میں نے اپنا پہلا چیلنج پورا کر دیا ہے۔
    اب چیلنج کا اگلا حصہ پورا کرنا ہے سو جلدی جلدی سب آجائو۔
    وہ خالص ہنگل میں بول رہی تھی۔
    اور عروج ذرا ناظرین کو بتائیں اپنے بارے میں؟
    اس بار وہ عروج کی طرف مڑ کر انگریزی میں پوچھ رہی تھی۔
    عروج روانی سے انگریزی میں اپنا تعارف کروانے لگی۔
    واعظہ کی اسکے الفاظ پر اور حرکات پر بھرپور نگاہ تھی۔
    میرانام عروج ہے ۔پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں ۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے میں یہاں ہانگوک یونیورسٹی ہاسپٹل میں کام کرتی ہوں۔ مجھے تقریبا چار سال ہو رہے ہیں کوریا میں۔ بہت ذیادہ اچھی تو نہیں مگر کچھ ہنگل سمجھ لیتی ہوں میں۔ وہ مسکرا کر بولی۔
    مشیل کا واضح طور پر رنگ سا اڑا تھا۔
    ۔ اس نے تھوڑا گڑ بڑا کر اپنے بوائے فرینڈ کو دیکھا تھا جو بظاہر بے نیازی سے موبائل پکڑے ایک جانب کھڑا تھا
    یو ٹیوب پرلائیو اسٹریم سامنے اسٹینڈ پر ایک فوکس پر رکے کیمرے سے ہو رہی تھی تو اسکا بوائے فرینڈ کیوں اتنا ساکت کھڑا ہے۔
    اسکی نگاہوں کے ساتھ واعظہ کی بھی نگاہ اس پر گئ تھی پھر اسکا سر بھی گھوما تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویڈیو دیکھتےہوئے وہ دونوں بھی بالکل سنجیدہ ہو چکی تھیں۔۔
    یقینا اگلے کچھ منٹ بہت دھماکے دار ہونے والے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے چیلنج کا دوسرا حصہ جلد ہی پیش خدمت ہے آپ لوگ تحائف بھیجتے رہیئے یونہی جلدی جلدی۔
    بیچ میں رک کر وہ ایک ادا سے بولی تھی۔
    وہ کسی دوسری ایپ سے بھی آن لائن تھی یقینا جس میں ورچوئل گفٹس کسی گھٹیا چیلنج کو پورا کرنے کیلئے اکٹھے کیئے جا رہے تھے۔
    تو تم مسلمان لڑکیاں اپنا چہرہ ڈھانپ کے رکھتی ہو؟ کیوں بھئی رنگ کم ہوتا ہے تم لوگوں کا اسلیئے؟
    اسکا انداز تسمخر اڑانے والا تھا۔
    نہیں بلکہ۔ عروج نے تپ کر جواب دینا چاہا
    واٹ ایور۔ وہ ہاتھ ہلا کر بات بدل گئ۔
    میرے لیئے بڑی دلچسپ بات ہے میرے ساتھ ایسی لڑکی بیٹھی ہے جسکا چہرہ دنیا میں کسی نے نہیں دیکھ رکھا ہا ہا ہا۔ گھر والوں نے بھئ نہیں ہا ہا ہا۔
    بھئ تم خود اپنا چہرہ دیکھتی ہو یا خود بھی ماسک لگا کے آئینہ دیکھتی ہو۔
    وہ ٹھٹھا لگا کے ہنس رہی تھی۔
    یہ ہرگز بھئ اچھا مزاق نہیں ہے۔ عروج تپ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔تمہیں اس طرح اسلامئ شعائر کا مزاق اڑانے کا کوئی حق نہیں۔
    اوہو کہاں جا رہی ہو۔ مشییل نے لپک کر اسکا بازوپکڑا۔
    بیٹھو بھئ ابھی تو سب سے اہم کام باقی ہے۔
    اسکی گرفت غیر معمولی طور پر سخت تھی اس نے کھینچ کر عروج کو اسٹول پر دھکا ہی جیسے دے ڈالا عروج ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اسکے کان میں مشیل کی تمسخرانہ آواز گونجی
    تو جناب دیکھیں میری ویڈیو میں موجود لڑکی کا اصل چہرہ ۔۔۔۔۔۔
    میں نے آپکا دیا چیلنج پورا کردیا ۔
    اس نے کہتے ساتھ ہی عروج کے چہرے سے ماسک نیچے کرڈالا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند لمحوں کا پردہ پڑا تھا کیمرے پر اتنا ہی وقت عروج کو سنبھلنے کو درکار تھا۔ وہ فورا ہاتھوں میں چہرہ چھپاتی کیمرے کے فوکس سے نکل گئ۔جھٹ ماسک ٹھیک کرنے لگی
    مشیل کو عروج کا بازوپکڑ کر کھینچتے دیکھ کر واعظہ نے لمحہ بھر کا بھی موقع نہیں دیا تھا۔ اس نے اپنے گلے میں سے اسکارف کھینچ کر اسٹینڈ پر لگے کیمرے پر ڈالا تھا اور گھوم کر لات ماری تھئ اسکے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں پر موبائل اسکے ہاتھ سے گولی کی طرح نکلا تھا۔ اوپر پھر دھڑام سے زمین پر۔
    اسکا بوائے فریںڈ اس اچانک حملے سے سنبھل کر ایکدم واعظہ کی جانب لپکا تھا جب عروج نے اسٹینڈ گھما کر کیمرے کا رخ اسکی جانب کیا۔
    کیمرے میں فیچر ہوتے دیکھ کر وہ فورا رکا تھا۔ لائیو ایک دنیا دیکھ رہی تھی کہ وہ لڑکی پر ہاتھ اٹھائے لپکا تھا۔تبھئ بھونچکا کھڑئ مشیل عروج کی جانب لپکی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کتنی دھوکے باز لڑکی نکلی۔ تم دونوں کو اسکے دانت توڑ دینے چاہیئے تھے۔
    الف کا خون کھول اٹھا تھا۔
    ہم نے اسکی ساکھ برباد کر دی ہے۔ اسکی ویڈیو پر اسلام و فوبیا بحث چل پڑی ہے پوری دنیا کے مسلمان غصے میں بھر کر اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ یہ اسٹریم یقینا بلاک ہو جائے گی
    عروج کو کمنٹس دیکھتے ہوئے اطمینان سا ہوا تھا۔
    پھر بھی۔ بہت غلط حرکت کی ہے اس نے۔ عزہ کو بھی غصہ آرہا تھا۔
    مجھے تو پتہ بھی نہ چلتا کہ اسکے کیا ارادے ہیں میں احمق سمجھی کہ واقعی وہ میرا ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے انٹرویو لینا چاہ رہی ہے۔یہ تو واعظہ نے کمنٹس کھول کر دیکھے تو پتہ چلا کہ اسے نیٹیزنز نے یہ چیلنج دیا تھا کہ اصل شکل دکھائے ماسک والی لڑکی کی تو یقین کریں گے کہ ویڈیو فیک نہیں ورنہ جس طرح لڑکی ڈر کر چیخ رہی ہے یقینا کوئی پیڈ ایکٹریس ہے جو منہ چھپائے اداکاری کر رہی ہے۔
    اور اس نے چیلنج قبولتے کہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو ڈھونڈ نکالے گی اور اسکا لائیو چہرہ دکھائے گی۔ ۔
    عروج نے تفصیل سے بتایا۔
    کمینی گھٹیا لڑکی میں ہو تی تو منہ توڑ دیتی دوبارہ اپنی بوتھی دکھانے لائق نہ رہتی۔
    اسکا چینل رپورٹ کرتے ہیں
    الف اور عزہ اسکے غائبانہ لتے لینے لگیں۔
    واعظہ انکی گفتگو سے الگ بالکل خاموش بیٹھئ سوچ میں گم تھی۔
    تم کیا سوچنے بیٹھ گئیں۔
    عروج اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکی
    میں یہ سوچ رہی تھی ہمیں جانا ہی نہیں چاہیئے تھا ۔ اس نے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ہم نے اسکا نقصان کردیا ہے۔
    وہ جو بھی سوچ رہی تھی کم از کم یہ سوچ آئی ہوگی اسکے دماغ میں اسکا ان تینوں کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔

    کیا مطلب دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟
    ۔تینوں بھونچکا ہی رہ گئ تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آندھی طوفان کی طرح وہ لڑکی بھاگتی ہوئی آئی تھی لفٹ میں۔ لفٹ کا دروازہ بند ہونے کو تھا جب اس نے زبردستی اینٹری ماری تھئ۔ سعدیہ فورا ایک قدم پیچھے ہوئی ورنہ وہ لڑکی اس سے آر پار ہو جاتی۔ طوبی بھئ ہاتھ بچاتی پیچھے ہوئی۔۔ گھورنا چاہا اس بے نتھے بیل کو شناسائی کی رمق آنکھوں میں در آئی
    ایک تو میں نہ ہوں تو ضرور کسی مصیبت میں ٹانگ پھنسائے بیٹھئ ہوتی ہیں یہ۔ بڑ بڑاہٹ۔
    فاطمہ ۔طوبی نے پکارا تو وہ بڑبڑاہٹ روک کر مڑی۔
    ارے طوبی کیسی ہیں آپ کہاں سے آرہی ہیں؟ یہ ہاتھ کو کیا ہوا۔
    فاطمہ پرتپاک سے انداز میں طوبی سے گلے ملی اور ہاتھ پکڑ ہی لیا۔ سعدیہ کے منہ سے بے ساختہ سسکاری سی نکلی۔ مگر طوبی بے نیاز ی سے بولی
    کچھ نہیں ذرا سا جل گیا۔چاولوں کی پیچ سے
    ذرا سا بہت جل گیا ہے چلیں ڈاکٹر کے پاس ۔ فاطمہ بند لفٹ میں ہی اسکا ہاتھ تھامتی چل پڑی تھی
    ارے میں دوا لے آئی ہوں عروج کودکھا دوں گی۔
    طوبی کو پیار ہی آگیا اسکئ فکر پر۔
    ارے تم دونوں کا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔ یہ فاطمہ ہے ہماری پڑوسی اور فاطمہ یہ سعدیہ ہے۔
    ہیلو۔ سعدیہ نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا جسے فاطمہ نے بھی گرم جوشی سے تھام لیا
    آپکی بہن ہے یہ طوبی؟ بالکل آپ جیسی۔
    فاطمہ نے فوری اندازہ لگایا۔
    نہیں۔ سعدیہ ہنس دی
    اچھا اچھا دلاور بھائی کی بہن ہے نند ہوئی آپکی۔
    فاطمہ نے سر ہلایا۔
    ارے نہیں میری نند نہیں یہ تو ۔۔اس بار طوبی نے غلط فہمی دور کرنی چاہی
    اوہ تو واعظہ نے اسے کرایہ دار رکھ لیا۔
    اس نے لمحہ بھی نہ۔لگایا اگلا اندازہ لگانے میں اور فورا غصے میں بھر گئ۔
    اف کہا بھی تھا میری جگہ کسی کو نہ دے میں نے ہمیشہ تھوڑی حد ہے مجھے نکال ہی دیا کے فلیٹ سے ابھی پوچھتی ہوں۔
    تبھی لفٹ کا دروازہ کھلا تو ان دونوں سے وضاحت لیئے بنا تن فن کرتی باہرنکلی۔
    چلو۔ طوبی نے حیران کھڑی اس آندھی طوفان سی لڑکی کو دیکھتئ معصوم سی سعدیہ سے کہا
    ہم نے بھی اسی فلور پر جانا ہے۔
    طوبی نے وضاحت کی تو وہ سر ہلا گئ۔ اسی فلور پر آگے بڑھنا خطرے سے خالی نہیں لگ رہا تھا۔
    فاطمہ اپنے فلیٹ کے دروازے سے کان لگائے کھڑی۔تھی۔ سعدیہ سے باتیں کرتی اپنے فلیٹ کئ گھنٹی بجاتئ طوبئ نے اسے دیکھا تو رہا نا گیا۔ تشویش میں مبتلا ہو کر اسکی جانب بڑھ آئی۔
    کیا ہوا۔؟
    طوبی اندر سے کوئی آواز نہیں آرہی نا چیخنے کی نا لڑنے کی۔سب ٹھیک تو ہیں نا۔ فاطمہ گھبرائی
    ہاں ٹھیک ہی ہونگی خدا خیر کرے۔طوبی بھی گھبرا سی گئ
    کورین اپارٹمنٹ سائونڈ پروف ہوتے ہیں عموما۔
    سعدیہ نے تسلی دینی چاہی۔ دونوں نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ چپکی سی ہو رہی۔
    یہ نہیں جانتی کہ اندر آوازیں کونسی ہوتی ہیں جو سات محلوں تک زندگی کا پتہ دیں۔
    فاطمہ نے دروازہ زور سے کھٹکایا۔
    طوبی نے جھٹ سے ہینڈل پورا گھما دیا ۔ پنجابی تشویش زدہ لڑکی کے ہاتھ لگنے سے سال۔خوردہ ہینڈل نے مزید احتجاج مناسب نہ سمجھا۔
    دروازہ کھلا۔دلاوربنیان اور کھلے پاجامے میں مسکراتے ہوئے نکلے
    آگئیں جان میں ابھئ۔
    آگے کا جملہ منہ میں روح فنا۔
    طوبی کی جگہ اجنبی پیاری سی لڑکی کھڑی تھی۔
    وہ۔ سعدیہ نے بتانا چاہا کہ دلاور نے سٹپٹا کر دروازہ بند کردیا۔
    ہائش۔ اسکے منہ پر دروازہ بند ہوا تو اس نے چارو ناچار مڑ کر طوبی کو دیکھنا چاہا۔ سامنے والے فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا اور طوبی اور فاطمہ غائب تھیں۔ اس نے کندھے اچکائے اور اسی دروازے کی جانب بڑھ گئ۔
    دھڑ دھڑ دل قابو کرتے وہ جلدی میں بھاگ کر آئے اور اپنی ٹی شرٹ پہنی۔ اجنبی جوان جہان لڑکی کے سامنے وہ بنیان میں۔ انہوں نے جھرجھری لی۔
    بھاگے بھاگے آئے دوبارہ دروازہ کھولا تو لڑکی گم۔ اور انکی سٹی بھی۔
    ڈھلتی سہ پہر میں جنوبی کوریا میں خالص پاکستانی شکل کی لڑکی دیکھنا اور اسکا یوں غائب بھی ہونا۔
    کون تھی وہ لڑکی بھی تھی یا؟
    یہ خیال انکی رگوں میں خون جما گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی اندر زور و شور سے بحث جاری تھی۔
    منے لائونج میں وہ سب اکٹھی تھیں۔ آلتی پالتی مار کے کانفرنس ہو رہی تھی سوائے فاطمہ کے سب آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ واعظہ اور عروج صوفے پر طوبی عزہ اور الف کارپٹ پر۔۔ جبکہ فاطمہ اس منے لائونج میں بھی ٹہل ٹہل کر شائد گینیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    یہ یو ٹیوبرز ایسے ہی ہوتے ہیں چار ویوز اور لائکس کیلئے کوئی بھی گرا ہوا کام کرسکتے تم دونوں کو سوجھی کیا تھی۔
    کیا شوق آیا تھا یو ٹیوب ویڈیو میں آکر اپنا تماشہ بنانے کا۔
    فاطمہ بڑھ بڑھ کر بول رہی تھی۔چلتے چلتے عزہ کا ہاتھ پائوں کے نیچے دے دیا وہ ہاتھ دباتی دہری ہوگئ۔
    ہٹو موٹو۔ اس نے تڑپ کر اسکی ٹانگ پر چپت لگائی۔
    فاطمہ کی بات جاری تھی یہ لفظ بھی اچک لیا
    یا رموٹو بھئ کوئی۔۔بولتے بولتے عزہ کو گھورا پھر تصحیح کی۔
    اوہو عقل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
    یار مسلئہ ہمارے ثقافتی فرق کا ہے اورکچھ نہیں اس کو گمان نہیں گزرا کہ پردہ اتنا بڑا مسلئہ ہو سکتا ہے ہمارے لیئے۔
    یہ واعظہ تھی الگ ہی کوئی منطق سمجھانے میں مصروف۔۔۔

    دیکھو وہ لڑکی اگر واقعی اچھی نیت سے کام کرتی تو یہاں کتنی ساری پاکستانی اور انڈین لڑکیاں بھی کام کر رہی ہیں یو ٹیوب چینل چلا رہی ہیں انکا انٹرویو لیتی سعدیہ کا لے لیتی۔ تمہیں یہاں کوئی جانتا نہیں پہچانتا نہیں تمہیں بلایا اور تم چلی بھی گئیں۔
    یہ طوبی تھی رسان سے سمجھانے لگی۔
    بالکل سعدیہ کو بلاتی۔ فاطمہ نے ہاں میں ہاں ملائی پھر مڑ کر طوبی سے پوچھنے لگی
    کون سعدیہ؟
    سعدیہ یو ٹیوبر ہے نا ۔عزہ نے چٹکی بجائی۔
    یہیں کوریا میں ہوتی ہے وی لاگ بناتی ہے۔ اتنی مزے کی ویڈیوز ہوتی ہیں اپنے دن رات کی روٹین دکھاتی ہے۔ کوریا کی سیر کرواتی ہے میں اسکی ہر ویڈیو شوق سے دیکھتی ہوں
    صرف دیکھا کرو نا مرغی کے پیٹ میں تیتر کے انڈے بھر کر پکانے نا بیٹھ جایا کرو۔ بھوک سے آنتیں پلٹ رہی ہیں شاہی کھانا ہی پک کے نہیں دے رہا۔۔۔یہ کون ہے ۔
    طوبی عزہ کی پشت تھی الف صوفے سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھئ تھئ تو اسی کی بولتے بولتے سب سے پہلے نگاہ لائونج کی دیوار کے پاس جھجکی سی کھڑی سعدیہ پر پڑی تھی سو روانی میں بولتی گئ۔
    یہ لڑکی میں نے کہیں دیکھی ہے۔ ہے یاد نہیں آرہا
    اسکے کہنے پر سب نے مڑ کردیکھا تو سعدیہ سٹپٹا سی گئ
    اسلام و علیکم۔
    یہ سعدیہ ۔۔ سعدیہ ہے نا؟
    عزہ خوشی سے اچھل کر کھڑی ہوگئ۔
    واعظہ نے بھی اسکی ویڈیوز دیکھ رکھی تھیں سو پہچان کر فورا استقبال کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ہاں یہ وہی تو ہے جسکی وجہ سے عزہ مرغی کے پیٹ میں تیتر کےانڈے بھر رہی تھی۔
    الف نے اس بار۔ پہچان لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فاطمہ :یہ بتائو تم کب سے ہو یہاں؟
    عزہ: پتہ یےمیں سال بھر سے تمہاری سب وی لاگز دیکھ رہی ہوں
    طوبی: یہ دائود کم کی ویڈیو میں بھی آئی تھی
    عروج : تمہیں ہنگل پوری سمجھ آجاتی ہے؟
    الف: یار مجھے تو ایک لفظ ابھی تک نہیں سمجھ آتی
    طوبی: یار یہاں کھانے پینے کا کیا حل ہے ہم میاں بیوی تو سوکھے منہ واپس آجاتے سمجھ نہیں آتا کچھ کھا سکتے ہیں کہ نہیں؟
    عزہ: ہمدردی سے: تو طوبی آپ پاکستانی یا انڈین ریسٹورنٹ چلی جایا کریں نا
    طوبی آہ بھر کر: اب کوریا میں رہ کر بھی دیسی ہی کھانا ہے تو کیا فائدہ
    الف: سعدیہ تم ویسےکیا پڑھ رہی ہو یہاں؟
    عزہ: تم اکیلی رہتی ہو ؟ ڈر نہیں لگتا؟
    فاطمہ: ڈر کیسا کوریا ہے یہ
    عروج : یار اکیلے رہتے لگتا ہی ہوگا اندھیرے سے بھوت پریت سے۔
    عروج کئ بات پر سعدیہ تھوڑا گھبرائی۔
    عزہ: کوریا میں بھی بھوت ہوتے ہونگے؟
    الف:ہاں ہونگے تو مگر ایک فائدہ ہے
    سعدیہ بوکھلا کر : کیا؟
    الف : پیارے ہی ہوتے ہونگےسامنے آ بھی جائیں تو ڈر نہیں لگے گا 😍
    الف کی بات پر عزہ نے اسکے سر پر بلا تکلف چپت لگائی سعدیہ کی بھی اسکا جملہ سن کر جان میں جان آئی۔
    منے لائونج میں اب سعدیہ بھی کارپٹ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ان سب کے نرغے میں اور سوالوں کی۔بوچھاڑ جاری تھی سب اکٹھے پوچھ رہی تھیں اکٹھے ہی جواب دے رہی تھیں۔ خود ہی سوال خود ہی جواب۔ اچھا انٹرویو ہو رہا تھا سعدیہ کا۔
    بس کرو اسکو اتنا تنگ مت کرو کہ دوبارہ کبھی ملنے کا سوچ کر بھی کانوں کو ہاتھ لگائے۔
    یہ واعظہ تھی مسکرا کر ان اوور ایکسائیٹڈ لڑکیوں کو ٹوکا۔وہ کچن سے ٹرے میں کھانا لگا کے لارہی تھی۔
    اسے کھانا لاتے دیکھ کر جھٹ پٹ الف اور عزہ بھی اٹھ گئیں
    پلیٹیں چمچ گلاس منا دسترخوان بچھا کھانا سجا
    کھانا ایک الگ سرپرائز تھا
    یہ کیا ہے۔
    فاطمہ طوبی عروج کے منہ سے استعجابیہ اور صدماتی جملہ نکلا تو سعدیہ خوشگوار حیرت میں پڑ گئ۔ واعظہ الف کو یہ صدمہ پہلے پہنچ چکا تھا ایک بڑی سی طشتری میں سالم روسٹ مرغ مصالحے دار چاولوں پر اکڑا بیٹھا تھا اکڑا یوں بیٹھا تھا کہ چونکہ پیٹ میں افراد کو مد نظر رکھتے ہوئے عزہ نے انڈے بھرے تھے تو کچھ ذیادہ بھر گئے نتیجتا اسکو بٹھانا پڑ گیا تھاہاں ٹانگوں میں رسی مطلب دھاگا بندھا تھا۔
    یہ تو۔۔ سعدیہ حیران سی رہ گئ تھئ
    کوزی نرا چاٹو ۔۔۔ چن۔
    عزہ خالصتا کوریائی انداز میں دونوں ہاتھوں سے انگلی انگوٹھے والا دل بنا کر لہرائی۔
    تمہاری ویڈیو دیکھ کر اسکو بنانے کا دل کیا تم سب لوگ اتنا چٹخارے لیکر کھا رہے تھے کہ میں نے ٹھان لی کہ ضرور یہ بنائوں گی۔
    عزہ بچوں کی طرح پرجوش تھی۔ سعدیہ اسکے انداز پرہنس دی۔
    چکھ کر بتائو کیسا بنا۔
    عزہ بڑے اشتیاق سے اس سے کہہ رہی تھی۔ سعدیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی پلیٹ میں چاول نکال لیئے۔
    پہلا نوالہ چمچ سے لیکر منہ میں رکھنے لگی تو ٹھٹک سی گئ
    وہ سب اسےبغور دیکھ رہی تھیں۔
    اس نے جھجکتے ہوئے نوالہ منہ میں لیا۔۔
    دیکھنے میں وہ بیٹھا ہوا مرغ جتنا بھی عجیب لگ رہا ہو ذائقہ چاولوں کااصل پکوان سے قریب قریب تھا۔کافی مزے کا
    بہت مزے کا بنا ہے عزہ۔ سعدیہ نےکھلے دل سے تعریف کی تو عزہ کو لگا محنت وصول ہوگئ
    اسکو اطمینان سے کھاتے دیکھ کر باقیوں نے بھی ہمت کی اور اپنی پلیٹ میں نکالنے شروع کیئے چاول
    یار یہ انڈے اتنے چھوٹے کیوں ہیں؟
    عروج نے ہی مرغ کا آپریشن سب سے پہلے کیا تھا
    یہ تیتر کے انڈے ہیں۔ سعدیہ نے حیرت دور کرنی چاہی اسکی
    تیتر حلال ہوتا یے نا۔۔
    الف کے منہ سے بے ساختہ نکلا
    ہاں نا یہ ڈش سعدیہ خود بیٹھی کھا رہی تھی اسی کے چینل سے تو پتہ چلاکوزی نرا چاٹو بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
    عزہ نے سمجھایا تو طوبی جھٹ بولی
    یہ عید والی ویڈیو تھی نا اس میں تم نے سرخ سوٹ پہنا ہوا تھا نا میں نے بھی دیکھ رکھی ہے۔

    انکی یادداشت پر سعدیہ حیران ہو کر ہنس دی
    مجھے نہیں پتہ تھا آپ لوگ میری وییڈیوز اتنے شوق سے دیکھتے ہیں۔
    اچھا ایک بات بتائو جو لوشن وغیرہ تمہاری ویڈیوز میں ہوتے ہیں ان میں سور یا گھوڑے کی۔چربی تو نہیں ہوتی نا ہم وہ استعمال کر سکتے ہیں؟
    طوبی کواچانک خیال آیا تو پوچھ بیٹھی۔
    ہیں سعدیہ حیران رہ گئ تھئ
    ایسا بھی ہوسکتا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک طویل ترین دن کا اختتام ہوا تھا کھانے کے بعد باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں لگا تھا ۔واپسی پر سب سعدیہ اور فاطمہ کوبس ااسٹاپ تک چھوڑنے آئی تھیں۔ سعدیہ اور فاطمہ بس میں چڑھ گئیں توان سب نے ہاتھ ہلا ہلا کر خدا حافظ کہا بس نظروں سے اوجھل ہوگئ۔پھر واپسی کی راہ لی۔ رات کے ساڑھے نو ہو رہے تھے اس وقت بس اسٹاپ پر بالکل رش نہیں تھا ۔وہ سب آرام سے چہل قدمی کر رہی تھیں۔موسم سرد سا تھا۔ خنک سی ہوا جسم میں پھریری سی دوڑا دیتی تھئ۔
    یار یہ کیا مزاق ہے یہاں اتنی سردی کیوں ہوگئ ہے ابھی سے۔
    الف بھنائی۔ وہ سب دو دو کرکے چل رہی تھیں۔عروج اور واعظہ پیچھے تھیں آگے الف اور عزہ
    یار ویسے سعدیہ کتنی سویٹ سی ہے نا؟
    عزہ دل سے خوش ہوئی تھی اس سے مل کر باتیں کرکے۔
    میں نے اس سے کہا ہے اگلی ویڈیو میں ہم سب کا نام۔لے۔
    عزہ نے مڑ کر عروج کو بتایا تو وہ چھیڑنے لگئ
    ہاں ساتھ یہ بھی بتائے کیسے الف نے کھولتا ہوا کسٹرڈ کھلا کر اسکا منہ ہی جلا دیا تھا۔
    جان کے تھوڑی کیا تھا۔ کب سے تو کسٹرڈ فریج میں رکھا تھا اب وہ اوپر سے جم گیا مگر اندر سے کھولتا ہوا نکلا۔
    الف کھسیا سئ گئ تھئ۔ سعدیہ کا چہرہ ایکدم سرخ ہوا تھا
    کسٹرڈ کو فورا فریج میں نہیں رکھتے احمق پہلے روم ٹیمپریچر پر ٹھنڈا کرتے ہیں۔ عروج اسے مت دے رہی تھی۔
    مجھے کیا پتہ تھا۔الف نے کندھے اچکائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اف اپنے گھر میں جیسے ہی داخل ہوئی اسکا پالتو کتالوسی دوڑتا ہوا آیا تھا اور اسکے قدموں میں لوٹنے لگا۔۔
    ہائے لوسی۔۔ اس نے فورا اسکو بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔
    تھکی تھکئ سی کمرے میں آکر وہ فورا بستر پر دراز ہوئی ۔
    اف تھک گئ۔ کتنا بولتی ہیں یہ لڑکیاں مگر مزا آیا اتنے سارے ہم وطنوں اور ہم زبانوں سے مل کر۔
    اس نے اپنے موبائل میں ابھی تازہ کھینچی ڈھیروں ڈھیر تصویروں کو اسکرال کرنا شروع کیا۔
    پھر اپنی آج کی تصویر انسٹا پر لگا کر عنوان دینے لگی۔
    کچھ یادیں ہم کیمرے میں قید نہیں کر پاتے مگر وہ دل میں قید ہو جاتی ہیں اور ہمیشہ ایک مسرت بھرا احساس ہمراہ رہ جاتاہے۔ عزہ ، الف ، واعظہ ، عروج اور طوبی جن سے میری ملاقات تصوراتی رہی مگر دلچسپ بھی۔ یہ احوال وی لاگ کے ذریعے دیکھنے کو نہ سہی مگر بلاگ کی صورت میں آپ سب کو پڑھنے کو مل سکتا ہے۔سو ضرور پڑھیئے گا دیسی کمچی۔
    پھر ملیں گے انشا اللہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 29

    قسط 29

    عشنا کا پتہ کرو کہاں ہے دو دن سے۔
    چائے پیالی میں نکالتے ہوئے واعظہ کو خیال آیا تو مڑ کر ہانک لگائی۔ عزہ الف عروج قطار سے بیٹھی ایک دوسرے کے سر میں تیل لگا رہی تھیں۔
    یار فون بند جا رہا ہے اسکا۔ عزہ نے الف کے سر میں تیل جھسا۔ جیسے ہی ہتھیلی پیچھے کو کی وہ سر کے بل عزہ کے اوپر آئئ گردن بھی کھنچ گئ۔
    آہ۔ آرام سے بال نچ گئے میرے۔ الف کا توازن خراب ہوا تو عروج کے سر سے مٹھی نکالے بنا ہی توازن درست کیا نتیجتا اسکے مٹھی بھر بال کھنچےتو اگلی چیخ اسکے منہ سے برآمد ہوئی۔
    انسان بنو الف کی بچی۔ میرے بالوں کو کھینچ لیا ہاتھ میں ہی آگئے ہونگے۔ اس نے تڑپ کر سر چھڑاتے ہوئے چندیا سہلائی۔
    نہیں تو۔ الف نے جھٹ نفی میں سر ہلایا۔چپکے سے ہتھیلی دیکھی تو اس میں کئی بال چپکے تھے۔ فورا ہاتھ پیچھے کر لیا۔عروج مشکوک سی دیکھ رہی تھی۔
    عروج پورے مٹھی بھر بال توڑے ہیں اس نے۔ عزہ نے شکایت لگائی۔ الف نے مڑ کر گھورنا چاہا تو عروج نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوابا اسکے گھونسلے سے مٹھی بھر لی
    الف کی بچی گنجا کررہی تھیں مجھے۔ عروج نے دانت کچکچائے
    عزہ بہت ہی کوئی کمینی نکلی ہو تم۔۔ الف کو عزہ پر سخت تائو آیا
    اوہو ایک دوسرے کے بال نوچو میں نے کیا بگاڑا۔ عزہ نے مظلومیت کا رونا رویا۔
    ۔منے لائونج میں ورلڈ وار تھری چھڑ گئ تھی۔ الف کے ہاتھوں میں عروج کے بال نہ آسکے تو عزہ کے سر پر دونوں ہاتھوں سے حملہ کردیا۔ تینوں جذباتی ہو کر اب کھڑی ہو چکی تھیں۔گول گول چکر کاٹتے ہوئے تینوں نے ایک دوسرے کو بالوں سے پکڑ رکھا تھا
    میرے تو ابھی تیل بھی نہیں لگا تھا الف چھوڑو بال ٹوٹ رہے میرے۔
    واعظہ چھوٹی ٹرے میں چائے کے چار کپ لیکر لائونج میں آئی تو بوکھلا سی گئ
    اوہو۔ چائے گر جائے گی۔ عزہ کی کہنی سے ٹرے بچاتی جھلائی۔
    بے ہنگم چیخ و پکار سے پورا اپارٹمنٹ لرز رہا تھا۔
    اوہو رکو بال چھوڑو۔۔ کیا ہنگامہ ہے ہوش کرو۔
    چائے اسکے ہاتھوں میں ٹھنڈی ہونے لگی تھی۔ تبھی دروازے پر زوردار اطلاعی گھنٹی بجی۔واعظہ کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اپنی مخصوص گونج دار اونچی آواز جسکو وہ شاز ہی استعمال کرتی تھی استعمال کرتے ہوئے چلائی۔
    بس کرو بچپنا پڑوسیوں نے پولیس بلا لی ہے۔
    پولیس کا نام سنتے ہی انکی زبان ہاتھ سب رکے تھے۔
    فلیٹ میں خاموشی چھا گئ۔ واعظہ نے حسب توفیق گھورا۔
    چائے منی میز پر رکھتی دروازہ کھولنے چل دی۔ تینوں لاوئنج کی دیوار سے لگ کر سر نکال کر راہداری میں جھانکنے لگیں۔ واعظہ نے دروازہ کھولا تو طوبی بڑی سی ٹرے لیئے سامنے کھڑی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منے لائونج کے صوفے پر طوبی کو مہمان ہونے کا رتبہ بخشتے ہوئے بٹھایا تھا وہ سب قطار میں لائونج میں بیچوں بیچ آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ بیچ میں ڈش رکھی تھی
    انہوں نے پلیٹوں کا تکلف نہیں کیا بڑی ڈش میں ہی شروع ہوگئیں بس چمچے لے آئی تھیں اندر سے۔
    طوبی نے گہری سانس بھری۔ اسکے چہرے پر اداسی سی چھا گئ تھئ۔
    اسکے برابر میں ہی واعظہ کی۔بنائی چائے کی ٹرے رکھی تھی۔
    آپ چائے تو لیجئے طوبی۔ عروج نے کہا تو وہ یونہی سر ہلاگئ۔ وہ سب ٹھیک ٹھاک بھوکی ہو رہی تھیں۔ اسکا اندازہ انکی کھانے کی رفتار دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔
    وہ چند لمحے سر جھکائے کچھ سوچتی رہی پھر کہے بنا نہ رہ سکی۔
    تو وہ مجھ سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ مجھے مانا بہت غصہ آیا ہوا تھا پر مجھ سے مل کر تو جاتا۔ آپی کہتا تھا مجھے۔ بس کہتا تھا ؟ مانتا نہیں تھا۔
    ایسی بات نہیں ہے طوبی۔ واعظہ نے فورا ہاتھ روک کر سر اٹھایا۔
    وہ بس کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہے۔ بچہ ہی تو ہے۔ جو کچھ اس نے سہا کیا وہ سب اسکے لیئے بہت ذیادہ تھا۔وہ اگر آپی نا سمجھتا تو خط تھوڑا لکھتا ۔
    پھر بھی۔ وہ بے قراری سے بات کاٹ گئ۔
    مجھ سے مل کر تو جانا چاہیئے تھا۔ تم لوگوں کے تو ساتھ تھا مل کر تو گیا ہوگا
    وہ ہم میں سے کسی سے مل کر نہیں گیا طوبی۔ عروج نے اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی
    لغ۔۔ الف کی زبان میں کھجلی ہوئی۔ جھٹ دانتوں تلے دبا کر پینترا بدلا
    صرف واعظہ کو بتا کے گیا ہے۔ ہم تو سمجھے تھے تھوڑی دیر تک آجائے گا۔وہ تو۔۔
    خاموشی سے سب کی باتیں سنتی عزہ نے سر اٹھا کر براہ راست طوبی کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
    آپ مل لیتیں اس سے طوبی جی؟
    وہ ہاں کہتے کہتے رک سی گئ۔ شائد وہ ملنے آتا تو ڈانٹ ہی دیتی یا ملنے سے انکار کر دیتی۔ اسے اتنا ہی۔غصہ تھا۔مگر اب جب وہ یوں چلا گیا تھا بنا ملے تو سارا غصہ کہیں غائب ہو گیا تھا۔بس ایک خلش سی تھی۔
    اسے بے اختیار اپنے الفاظ یاد آئے
    میں ایک غیر مسلم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبی کی آنکھوں میں آنسو بھر رہے تھے۔ ان سب کے کھانے کی رفتار کم ہو چکی تھی۔
    چائے پی لو طوبی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
    واعظہ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اٹھتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تو کچھ سوچتی طوبی چونک گئ

    میں اس سے ملوں گی۔ واعظہ اسکا پتہ بتائو مجھے میں اس سے ملنے جائوں گئ۔
    وہ ایکدم مضبوط سے لہجے میں واعظہ سے مخاطب ہوئی۔
    پہلے چائے پی لو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
    واعظہ اطمینان سے کہتی کچن کی۔جانب بڑھ گئ ۔ فریج کھول کر گلاس بھرتی۔۔ پیتی۔ اس سے ذیادہ مصروف کوئی۔نا تھا۔ طوبی تو طوبی باقی تینوں بھی اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    کہاں رہتا ہے ۔۔۔نہیں۔کس ہائی اسکول میں اس نے تبادلہ کرایا ہے کس گائوں گیا ہے سب تفصیل بتائو ہم سب اکٹھے چلیں گے۔
    عزہ کو یہ خیال بھایا تھا جھٹ چٹکی بجاتے ہوئے پرجوش سی ہوئی
    ہاں۔یہ ٹھیک ہے کان سے پکڑ کرلائیں گے اسے واپس۔
    طوبی بھی خوش ہوگئ۔
    چار کپ ہیں چائے کے تم چاروں ایک ایک لے لو۔ میرا دل نہیں چاہ رہا اب پینے کا۔
    واعظہ نے پانی پی کر گلاس کائونٹر پر رکھ کر مشورہ دیا
    اوہو دفع کرو چائے کو بتائو کہاں
    عروج جھلائی
    کیا مطلب دفع کرو۔ اتنی تھکی ہوئی آئی ہوں میں اتنا برا اور بڑا دن گزار کر آتے ہی مجھ سے چائے بنوا لی کہ میرے سوا کسی کے ہاتھ کی چائے ہی نہیں پسند اور اب دفع کرو چائے۔ پیئو سب خبردار جو ضائع کی۔
    وہ پلٹ کر چلائی۔
    سونے کی چائے بنائی ہے جو اتنی باتیں سنا رہی ہو۔ عروج کو اسکے یوں چیخنے پر غصہ ہی آگیا
    کیا ہوگیا ہے۔ الف نے ٹوکنا چاہا
    اچھا میں پی رہی ہوں چائے ضائع نہیں کر رہے ہم
    طوبی نے جھگڑا نپٹانے کو کپ اٹھا کر منہ سے ہی لگا لیا
    گرم گرم چائے سے ہونٹ بھی ذرا سا جلا ۔ مگر اس وقت اہم معاملہ درپیش تھا
    خود بتائو طوبی صبح بنا ناشتے کے نکلی تھی میں پوری دوپہر اس منحوس چینل نے برباد کی ابھی گھر آئی ہوں تو کھانا تک کسی نے نہیں بنایا ہوا تھا الٹا چائے کی فرمائش کردی اب بنا کر لائی ہوں تو کوئی پینے کو تیار نہیں۔سخت زہر لگتا ہے مجھے کہ میں چائے بنائوں اور اسے کوئی پیئے نا۔ بے حرمتی ہے میری چائے کی یہ۔
    وہ اتنی سنجیدگی سے یہ شکایت کر رہی تھی کہ طوبی تو طوبی عروج عزہ اور الف بھئ چپ سی ہو کر دیکھنے لگیں
    نہیں ہم بے حرمتی نہیں کریں گے چائے کی ہم پیئیں گے۔ ابھی کھانا کھا رہے تھے واعظہ۔
    عزہ نے منانا چاہا۔
    بالکل ۔ اور الف یہ جو برتن نہ دھونے کے چکر میں سب نے ٹرے میں ہی کھالیا نا کپ تم دھو کر رکھنا سمجھیں۔
    وہ وارننگ دیتی رکی نہیں کمرے میں جاگھسی دروازہ بھی بند کر دیا تھا۔
    بے چاری الف نے توآئیڈیا نہیں دیا تھا میں ہی چمچ اٹھا لائی تھی ۔عروج ہنسی۔
    اسکا کوئی اسکرو ڈھیلا۔ہوگیا ہے۔ عزہ بھی حیران ہوئی ۔
    مجھے بھی بہت غصہ آتا جب دلاور کی چائے بنا کر رکھ دوں اور وہ ٹھنڈی ہوتی رہنے دیتے ہیں دو تین بار بتائو تب کپ منہ کو لگاتے۔ بھئ ٹھنڈی چائے پینے کا کیا فائدہ۔
    طوبی کی بات پر وہ دونوں سر کھجانے لگیں
    مجھ سے نہیں کھولتی چائے پی جاتی۔ عزہ نے کندھے اچکائے۔
    اور مجھ سے خالی پیٹ نہیں پی جاتی۔ شکریہ طوبی بہت مزے کا کھانا تھا پیٹ بھر گیا میرا۔ الف چائے پکڑا دو۔
    عروج پر کھا کے سستی سی سوار ہونے لگی تھی۔
    تم لوگوں کو اور چاہیئئے ہوں چاول تو لا دوں؟ ابھئ عشنا بھی آتی ہوگی ۔۔
    طوبی نے تقریبا صاف ہوئی ڈش دیکھ کر پوچھا۔
    نہیں ہم نے کھا لیا بس تھینک یو طوبی۔ عروج نے فورا منع کیا۔
    عشنا کیلئے تو ۔۔۔۔طوبی نے اٹھنا چاہا تو عزہ نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا۔
    کہاں دو دن سے عشنا گئ ہوئی ہے کسی سہیلی کے ہاں اب تو فون بھی نہیں اٹھا رہی
    کہاں گئ ہوئی ہے حد یے لاپروائی کی۔طوبی کے اندر کی خیال رکھنے والی اماں بیدار ہوگئیں۔
    ایسے ہی کرتی ہے یاد نہیں کیسے فون گھر بھول کر سب وے میں گم ہوگئ تھی ۔۔ عزہ نے یاد دلایا تو عروج کو اپنا دکھ یاد آگیا
    اور ان سب نے فون کر کرکے مجھے سونے نا دیا۔
    آلف نے اٹھ کر چائے کی ٹرے اٹھالی۔ عزہ اور عروج کو کپ پکڑا کر اپنا کپ لیکرسوچے بنا نہ رہ سکی۔
    چائے چائے کی رٹ نے بھلا ہی دیا ان سب کو کہ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیانیئے۔
    دنیا کی سب سے معصوم لڑکی اسکے سامنے سر جھکائے کھڑی منمنا کر کہہ رہی تھی۔
    اس نے ایک نگاہ ڈالی پھر صوفے کی رگڑائی میں لگ گیا۔ جانے کونسا لیکویڈ تھا صوفے پر ڈالا اور کپڑا پھیرا داغ آدھا رہ گیا اور نم بھی نہیں ہوا صوفہ۔ وہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
    بیانیئے بولا نا اب تو مان جائو۔
    وہ کپڑا اٹھا کر سیدھا ہوا داغ آخر کار غائب ہو گیا تھا۔ وہ شیشی بند کرتا پلٹا تو وہ عین اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
    دے؟ اسے ککھ سمجھ نا آیا۔
    وہ میں کہہ رہی تھی بیانیئے کہہ رہی ہوں
    اپنے سر پر چپت لگا کر اس بار اس نے انگریزی میں کہا تھا۔
    اب تو بات ختم کرو۔ دیکھو صاف ہوگیا صوفہ۔ وہ سیدھی صوفے کی جانب بڑھی اشارہ کیا۔ سیہون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔اس نے ںگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو ہلکا سا دھبہ ابھی بھی تھا۔ ہونٹ دانتوں تلے کاٹتی اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو جھٹ بیٹھ گئی۔ اس کو روکنے کیلئے جب تک سیہون نے منہ کھولا وہ بیٹھ چکی تھی۔ ایک اور غلط اندازہ۔ اسے بیٹھ کر پتہ لگا کہ صوفہ گیلابھی ہوا تھا۔
    تمہیں کہا کس نے تھا کہ لائونج کیلئے سفید صوفے لو۔ ہم پاکستانی کبھی سفید صوفے نہیں ڈالتے لائونج میں ۔ ہر وقت کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ بھورے ٹھیک رہتے۔ میل خورا رنگ اور ہم مڈل کلاس تو بھورے صوفے پر بھی کور ڈال کر رکھتے۔ زندگی بھر اندر سے صوفے نئے رہتے بھلے کور پرانے اور گندے ہوتے رہیں۔
    اس نے اپنی طرف سے بڑے پتے کی بات بتائی تھی مگر سیہون ذرا متاثر نہ ہوا۔ کہے بغیر نہ رہ سکا
    اس سے بہتر یہ نہیں کہ صوفے ہی استعمال کیئے جائیں اور خراب ہونے پر انکو ہی ٹھیک کروا لیا جائے۔
    بات میں دم ہے۔فاطمہ قائل ہوئی
    مگر تم کیا جانو پرانے صوفے پاکستانی گھرانوں میں گھر کے فرد کی طرح ہوتے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی ذیادہ اہم۔اگر پاکستانی گھرانوں میں بچہ صوفے پر کودتے ہوئے گر جائے تو والدین بچے کا سر ٹوٹنے سے ذیادہ فکر مند صوفے کی ٹانگ ٹوٹنے پر ہوتے ہیں۔
    وہ جوش سے سیدھی ہوئئ
    تمہیں پتہ ہے۔۔میری امی کے جہیز کے صوفے آج تک نئے نکور ہیں۔ ہم نے ڈرائینگ روم میں جب بدلے تو اٹھا کر لائونج میں ڈال لیئے مگر مجال ہے امئ ہمیں صوفے کی بے حرمتی کرنے دیں ۔
    وہ بیٹھے بیٹھے اسپرنگ صوفے پر زرا سا اچھلی۔ صوفہ نیا ہونے کی وجہ سے صحیح جھولے دے گیا اسے خاصا مزا آیا۔
    ہائے کتنے مزے کا ہے۔ یہ خالصتا اردو میں کہا گیا۔ بچوں کی طرح خوش ہوتی صوفے پر جھولتی سیہون کو اسکے بچپنے پر ہنسی آگئ مگر وہ اپنے میں مگن تھی۔ سر جھکائے جھولے کے مزے لیکر دوبارہ انگریزی میں شروع ہوگئ۔
    ایسے تو ناممکن تھا کہ ہم کبھی بچپن میں بھی کر سکیں۔
    زرا ذیادہ دیر بیٹھ جاتے تو اٹھا دیتی تھیں کہ زمین پر فلور کشن پر بیٹھ جائو تھوڑی دیر ۔۔صوفہ خراب ہو رہا ہے۔ دراصل امی کے جہیز کا صوفہ تھا نا۔
    کہتے کہتے جب اس نے سر اٹھا کر مخاطب کو دیکھنا چاہا تو پتہ چلا سیہون صاحب ٹر چکے۔ اب اوپن کچن میں فریج کھولے کھڑے اندر جھانک رہے ہیں۔
    اس نے اٹھنا چاہا پھریاد آیا کہ گیلی جگہ بیٹھ چکی ہے۔
    مجھے بھی آج سفید ٹرائوزر ہی چڑھانا تھا۔
    وہ بے بسی سے بڑبڑائی۔
    سیہون فریج سے چاول نکال کر ان پر ڈھیر ساری کمچی اور بلیک بینز ڈال کر پلیٹ بنا کر جب آیا تو وہ منہ بنائے بڑ بڑ میں ہی لگی تھی۔
    تم نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہوا تھا؟ فاطمہ حیران ہو کر چیخی۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ پڑی تو گھڑئ ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔
    ہمیں کچھ اصول طے کر لینے چاہیئں جب تک ہمیں اکٹھے رہنا ہے۔
    منہ میں نوالہ بھرے چٹخارے لیتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔ چھوٹا سا منہ پھولے کلوں کے ساتھ غبارہ سا بنا ہوا تھا
    فاطمہ دیکھ کر رہ گئ۔
    آٹھ نو سالہ دو پونیاں لہراتی یونیفارم پہنے فاطمہ منہ میں پراٹھے کا پدا سا نوالہ جو اماں نے ہی منہ میں دیا تھا اسے کلے میں دبا کر بڑی ضروری بات بتا رہی تھی۔
    پتہ ہے امی عاصمہ کے گھر میں اتنی بڑی بلی ہے
    فاطمہ پہلے کھا لو پھر بات کرنا کھاتے ہوئے بولتے نہیں ہیں..
    امی نے لمحہ بھی ضائع کیئے بنا ٹوکا تھا۔
    اس گھر کی صفائی ایک دن میں اور ایک دن تم کروگی۔
    یہ اصول نمبر 1 تھا۔ ایک اور فلیش بیک چل پڑا تھا فاطمہ کی آنکھوں کے سامنے ۔۔
    وہ منے لائونج میں صفائی کر رہی تھی۔ برش پیچھے سے آگے کرنے کی بجائے آگے سے اپنی جانب کر رہی تھی نتیجتا ساری گرد اسکے اپنے پائوں پر اور عروج ابیہا اور نور کی حیران نظریں اسکے چہرے پر جم رہی تھیں۔
    فاطمہ پہلی بار جھاڑو دے رہی ہو؟ ۔
    نور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
    نہیں۔ وہ فٹ سے مکر گئ۔ پھر اپنے ارد گرد پھیلے گردباد پر نگاہ ڈال کر سر جھکا لیا۔
    آہ ہاں۔
    رات کو جو بھی گھر نہیں آئے گا یا نہیں آنے کا ارادہ رکھے گا وہ دوسرے کو 11 بجے تک مطلع کر دے گا۔
    سیہون کا ناشتہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا
    دوسرا اصول۔
    کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تم رات کو آئو ہی نا؟
    فاطمہ بھونچکا سی رہ گئ۔
    ہاں ویک اینڈ پر کبھی کسی پارٹی میں لیٹ ہو ہی جاتا ہے، اور ڈرنک ہو جائوں۔۔۔
    وہ کہتے کہتے رکا۔
    تمہاری کوئی خطرناک قسم کی عادتیں تو نہیں ٹن ہو کر؟ وہDrinking Habbits)کا پوچھ رہا تھا۔
    اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر پوچھنا بہترسمجھا۔ فاطمہ اچھل ہی تو پڑی خاصے چبھتے انداز میں بولی۔
    جی نہیں۔ میں مسلمان ہوں ہم ڈرنک نہیں کرتے۔
    اوکے اوکے۔ سیہون نے فورا صلح کا پرچم۔لہرایا
    مانا مسلمانوں میں منع ہوتا ہے مگر سب ہر اصول پر کاربند تو نہیں رہتے نا۔اسلیئے احتیاطا پوچھ لیا۔ اب مسلمان نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔نا میں نے کبھی واعظہ کو دیکھا مسجد جاتے ہوئے نا تم اتنے دنوں میں کبھئ مسجد گئیں۔
    سیہون کا انداز سادہ سا تھا فاطمہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ
    مانا کبھی کبھار چھٹ جاتی ہے نماز مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ وہ پڑھتی ہی نہیں۔۔
    اس نے گلا کھنکارہ
    لڑکیاں مسجد نہیں جاتیں۔ وہ گھر میں پڑھتی ہیں نماز وہ بھی کسی۔۔ وہ نا محرم کا ترجمہ ذہن میں دوڑانے لگی۔ مگر سمجھ نا آیا۔
    کسی اجنبی کے سامنے نہیں۔
    اس نے اسٹرینجر ترجمہ کیا تھا۔
    دے۔۔۔ سیہون نے سر ہلایا۔
    ہم کوریائی گھر میں باہر کے جوتے استعمال نہیں کرتے۔
    اس نے ایک نظر اسکے پائوں پر ڈال کر کہا۔
    اور ہم پاکستانی جوتے بنا گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔
    وہ اردو میں بڑ بڑائی مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ہم اپنا اپنا کھانا اپنی مرضی سے خود پکا لیا کریں گے اور گروسری شاپنگ بھی خود اپنی اپنی الگ کریں گے۔
    یہ شرط فاطمہ نے لگائی تھی۔ سیہون نے ایک نگاہ دیکھ کر اسے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔ مگر ہنگل میں بڑ بڑایا ضرور
    پیسے ہیں بھلا؟ بے روزگار محترمہ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جم گئی یہ بس لیپ ٹاپ کے سامنے رات بھر کے لیئے۔
    اس پر اپنے استری شدہ کپڑے لٹکا دوں تو مجھے قوی امید ہے صبح اسی طرح استری شدہ اسکے سر پر سجے ملیں گے۔
    عروج ہلکی سی دستک دے کر کمرے میں داخل۔ہوئی تو واعظہ کو اپنے بستر پر دراز لیپ ٹاپ پر مگن پایا۔
    کوئی کام تھا۔
    اس نے اطمینان سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
    سنو مجھے ایک مشورہ کرنا ہے۔
    وہ اسکے سامنے بیڈ پر آبیٹھی
    کہو۔
    یار وہ ایک یو ٹیوبر ہے۔وہ مجھے اپنے چینل پر انٹرویو کیلئے بلانا چاہتی ہے پیسے بھی دے گی۔ مگر لائیو اسٹریم ہوگا۔ پیسوں کی خیر ہے مگر یوں اچانک لائیو اسٹریم پر تھوڑا سا جھجک رہی ہوں۔ ملینوں فالورز ہیں اسکے
    وہ تھوڑی پرجوش سی تھی۔ واعظہ نے ایک نگاہ اسکے تمتاتے چہرے پر ڈالی پھر دوبارہ لیپ ٹاپ اسکرین پر نگاہ جما لی۔ ہاتھ کی بورڈ پر چل رہے تھے۔
    کس خوشی میں؟ اسکا سوال منطقی تھا۔
    اس خوشی میں۔ عروج نے اپنے دائیں جانب چٹکی بجا کر اشارہ کیا تو ایک یاد اسکے دائیں جانب چلنے لگی دونوں بغور اس تصوراتی پردے کو گھورنے لگیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لڑکی اسے قریبئ ریستوران لے آئی تھی۔
    کیا پیئوگی؟ اس نے بہت دوستانہ انداز میں اس سے پوچھا۔
    سیلف سروس تھی سو وہ یقینا خود اٹھ کر جاتی
    کچھ نہیں شکریہ۔ آپ کو جو بات کرنی ہے کر لیں۔
    عروج کا لہجہ کھردرا ہو چلا تھا۔ اس لڑکی کے اطمینان میں سرموق فرق نا آیا تھا۔ گلابی شارٹ فراک جیسے لباس میں ملبوس اسکی گوری رنگت اتنا دمک رہی تھی کہ عروج کو اپنا رنگ بھجنگ لگنے لگا تھا حالانکہ عروج تو عروج وہ لڑکی تک عروج کو نقاب کے باعث دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نزاکت سے اپنے ریشمی بال جھٹک کربولی۔
    ضرور مگر ساتھ کوئی اچھی سی ڈرنک بھی ہو تو کیا ہی بات ہے۔ میں لیکر آتی ہوں۔
    وہ موقع دیئے بنا اٹھ گئ۔ عروج کو اسوقت کچھ بھی کھانے پینے کا دل نہیں کر رہا تھا۔مگر وہ چند ہی منٹوں میں دو بھرے ہوئے گلاس پھلوں کی کاک ٹیل کے لے آئی تھی۔
    شکریہ۔ ساری بٹ ناٹ ساری والے انداز میں اسکے منہ سے پھسلا تھا۔
    میرا نام مشیل ہے۔ یو ٹیوبر ہوں اسی نام سے چینل ہے میرا۔ پرسوں وی لاگ بناتے اتفاق سے تم بھی میری ویڈیو کا حصہ بن گئیں تمہارے ری اکشنز اتنے مزے کے تھے کہ نیٹیزنز netizenz نے میری ویڈیو کو بہت اچھا رسپانس دیا۔
    وہ لمحہ بھر رکی جیسے عروج کا ردعمل دیکھا چاہ رہی ہو مگر نقاب کے باعث ناکام رہی۔سو سلسلہ کلام جوڑا۔
    تمہاری ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہوئی ہے کوریا میں۔تم تو بیٹھے بٹھائے سیلیبریٹی بن گئ ہو۔
    اسکا انداز عروج کو بالکل اچھا نا لگا۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔
    آپکو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کسی کو بتائے بغیر اسکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں۔لوگوں کے ریسپانس لیں میں آپکی اس حرکت پر آپ پر سو بھی کر سکتی ہوں۔
    وہ چٹخ کر بولی تو جوابا وہ لڑکی ہنس دی۔
    ریلیکس ڈیئر۔ میں اسی کیلئے معزرت کرنے آئی ہوں۔آپ سے بنا پوچھے آپکی ویڈیو بنانے کیلئے آئی ایم سوری۔
    وہ دھیرے سے سر جھکا کر بولی۔ روائتئ کوریائی انداز میں آدھا جھکی نہیں مگر چونکہ معزرت بھی انگریزی میں تھی اس نے برا نا مانا۔
    اٹس اوکے۔ عروج اسکا کیا بگاڑ سکتی تھئ۔
    آپ پیئیں نا۔ اس نےجوس کی طرف اشارہ کیا۔
    عروج نے ریستوران پر نگاہ دوڑائی تو کافی رش محسوس ہوا۔ وہ نقاب اتار کر یہاں جوس پینا نہیں چاہتی تھی۔
    شکریہ ۔ میں اب چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی تو مشیل بوکھلا سی گئ
    ارے بیٹھیئے ۔ مجھے آپ سے ایک اور بات بھی کرنی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر سچ مچ معزرت کے لیئے آئی تھی تو پہلےویڈیو بھی ڈیلیٹ کرتی نا۔
    واعظہ نے اسکی فلیش بیک میں اینٹرئ ماری
    وہ کہہ رہی تھی یو ٹیوب ویوز ذیادہ ہو جائیں تو ویڈیو کو اون کر لیتی ہے پھرآپ چاہ کر بھی ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔
    عروج نے وہی بتایا جو اسے بتایا گیا تھا۔
    واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جما کر بیٹھ گئ۔ عروج کو اسکے یہی انداز زہر لگتے تھے۔ بندہ اب ضروری بات کر رہا ہے تو اسکی شکل تھوڑی دیر ہی دیکھ لو۔ کہ اسے لگے اسکی سنی جا رہی ہے۔
    میں مسلمان ہوں یہ جان کر وہ حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔کہتی ہے مسلمان لڑکی وہ بھی ڈاکٹر ہے یہاں کوریا میں تو مجھے یقینا اپنے چنگوئوں ، اپنی یو ٹیوب کمیونٹی کو وہ چنگو کہتی ہے ۔ عروج نے وضاحت کی۔
    ہاں تو کہتی ہے مجھے اپنے چنگوئوں کو آپ سے ملوانا چاہیئے اور جو یہ سب پر امپریشن ہے نا کہ مسلمان بیک ورڈ ہوتے ہیں خاص کر لڑکیاں انکے بارے میں دنیا کو ضرور بتانا چاہیئے۔ کہ مسلمان لڑکیاں بھی پڑھی لکھی ہوتی ہیں او۔۔ اسکے پاس اسکی لمبی تقریر بتانے والی تھی مگر واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی جانے سن بھی رہی تھی کہ۔نہیں۔
    اے سن رہی ہو کچھ بتا رہی ہوں میں
    اس نے تپ کر اسکا کندھا ہلایا۔ تو واعظہ نے ہونٹ بھینچ لیئے اور لیپ ٹاپ اسکے سامنے کردیا۔
    وہ اسکی وائرل ویڈیو کے کمنٹس کھولے بیٹھی پڑھ رہی۔تھی۔ مشیل کا ہی چینل مگر کمنٹس۔
    اس نے پڑھنا شروع کیا تو آنکھیں کھلتی سی گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح حسب معمول ہنگامہ خیز تھی۔
    الف عزہ اور عروج حسب معمول اکٹھے اور ایک ہی سنگھار میز کے سامنے تیار ہو رہی تھیں۔
    کوئی ایک تو ساتھ والے کمرے میں چلی جائو۔
    عروج جھلائی۔
    وہاں بھی تو رش۔۔ عزہ کہتے کہتے رک گئ۔
    اب تو ساتھ والے کمرے میں بس واعظہ ہے۔ فاطمہ، نور ابیہا عشنا کوئی بھی تو نہیں ہے۔
    وہ اداس سی ہو چلی تھی۔ الف بال سلجھا رہی تھی ان دونوں سے ہٹ کر پیچھے بیڈ پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ برش چلانے لگی۔
    ابیہا کو دیکھو جب سے پاکستان گئی ہے کوئی اتا پتہ نہیں۔
    عروج کو بھئ اسکی یاد آئی۔
    ہمیں اس کو پوچھنا چاہیئے تھا اسکی امی کی طبیعت خراب تھی۔
    عزہ نے جتایا۔
    وہی ۔ عروج نے سر جھٹکا۔
    یہاں نور والا معاملہ اتنا الجھ گیا تھا کہ ذہن سے ہی نکل گیا اسکی خیریت پوچھنا۔ اوپر سے جیل کی ہوا۔ اف۔ اس نے جھرجھری سی لی۔
    عزہ آئی لائنر لگاتے اسکی کہنی سے جھونک کھا کر گھورنے لگئ
    ابھئ آنکھ میں گھستا برش میری۔
    یہ الف کہاں گئ۔ عروج نے اسکارف سر پر لپیٹتے دائیں بائیں دیکھا تو عزہ بھی ٹشو سے آنکھ صاف کرتی مڑی دیکھا تو بیڈ پر بیٹھی چپکے چپکے نیر بہا رہی تھی۔
    اوئے تمہیں کیا ہوا صبح صبح۔
    عروج تڑپ کر اسکے پاس آئی۔
    امی یاد آگئ ہونگئ۔عزہ کا اندازہ تیار تھا
    نور یاد آگئ۔ صبح میری اسکی ایک بار تو نوک جھوک ضرور ہی ہوتی تھی۔ جانے وہ کیسی ہوگی ہم ایک بار بھی اسے دیکھنے ملنے نا جا سکے۔
    وہ بھرائی سی آواز میں بولی
    ہمیں جانا تو چاہیئے۔ عزہ آئی لائینر لگانے کا ارادہ ترک کرتی اسکے پاس آبیٹھئ۔
    اسکے پاپا اسکی پڑھائی چھڑوا کر واپس لے جائیں گے۔یقینا۔
    الف نے کہا تو وہ دونوں چپ سی ہوگئیں
    جیل جانے سے تو یہ بھی بہتر ہے۔اللہ کرے اسکو وہاں ذیادہ عرصہ نا رہنا پڑے۔ آمین۔
    عروج نے کہا تو تینوں نے صدق دل سے آمین کہا۔
    اچھا سنو تم دونوں آج پہلے آجائوگی مجھے اور واعظہ کو کہیں جانا ہے سو پلیز کھانا تم دونوں مل کر پکا لینا۔
    عروج کی ہدایت پر دونوں گھورنے لگیں
    کیوں؟ آج تمہاری بارئ ہے عروج کھانا پکانے کی۔
    اوہو ایڈجسٹ کر لینا نا ۔
    اسکا انداز بے نیازی بھرا ہو چلا تھا یعنی نو مور بحث
    بتا کے جائو کہاں جائو گی دونوں
    الف اور یوں جان چھوڑ دے
    بس کہیں جانا ہے یوں سمجھ لو کسی سےدو دو ہاتھ کرنے ہیں۔
    عروج نے دانت کچکچا کر کہا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں یہ کر سکتی ہوں۔
    اس بڑے سے دوائوں کے اسٹور کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے گہری سانس لی۔ پھر مٹھی بند کر کرکے عزم کیا۔ اور گلاس ڈور دھکیلتے ہوئے بڑے اعتماد سے کھٹ کھٹ کرتی اندر داخل ہوئی۔ کائونٹر پر کھڑی سیلز گرل اسے دیکھتے ہی مستعد ہوئی۔
    آننیانگ ۔۔ اس نے جھک کر ادب سے سلام کیا۔
    مجھے ایک عدد کریم چاہیئے جو جلن دور کرے مگر اس میں گھوڑے کی چربی استعمال نہ ہوئی ہو ۔۔
    دے۔ ؟ وہ لڑکی ہونق ہوئی۔
    سعدیہ کائونٹر کے قریب ہی ریک میں سے چاکلیٹس دیکھ رہی تھی چونک کر مڑی۔
    بلو جینز پر لانگ سفید کرتا پہنے شدید پاکستانی انداز میں سر پر دوپٹہ لیکر کان کے پیچھے اڑس کر بولتی اس لڑکی نے اسکی توجہ فورا کھینچ لی تھی۔
    یہ میرا ہاتھ دیکھو۔ جل گیا ہے اسکی دوا دو۔ مگر سور گھوڑا بلکہ کسئ جانور کی چربی یا کچھ بھی اس کریم میں نہیں ہونا چاہیئے۔ ۔ اس نے آستین اوپر کرکے دیکھایا۔ساتھ فر فر اپنی سب ڈیمانڈز بھی رکھ دیں۔ اس کورین لڑکی نے تو ہلکی سی چیخ ہی مار دی۔ لال لال گوشت ہلکی سی کھال بھی تولیہ جیسی ہوئی وی تھئ۔
    یہ کیا ہوا۔ اس نے گٹ پٹ شروع کردی تھئ۔
    تمہیں کیاہوا؟ چاولوں کی پیچ گری ہے اتنی زور کی تو میں نے چیخ نہیں ماری تھی۔ ذرا سا جلا ہی تو ہے۔ حد ہوگئ اتنا بڑا منہ اور چڑیا سا دل۔ ذرا سی کھال ہی تو اتر گئ ہے۔ اس نے باقاعدہ کھال چھو کر دکھایا
    جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔
    جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔

    آندے۔ وہ لڑکی یوں گھبرائی جیسے اسکی کھال اترنے لگی ہو طوبی کے ہاتھوں۔۔
    اس طرح مت کیجیئے زخم کھل جائے گا۔
    کیا بولے جا رہی ہو لڑکی۔ جائو کسی پڑھے لکھے کو بلائو جسے انگریزی آتی ہو۔عجیب ملک ہے چار لوگ انگریزی نہیں جانتے کہنے کو ترقی یافتہ ملک ہے۔
    اس نے سر جھٹکا۔
    اوہ یہ تو بہت جل گیا ہے۔آپکو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے۔ کسی نے طوبی کے قریب آکر ہمدردی بھرے انداز میں کہا تو طوبی مڑ کر اپنی جھونک میں بولی
    ۔ ارے نہیں اتنی چوٹ پر دوا بھی نہیں لگاتی یہ تو دلاور مجھ سے ذیادہ گھبرا گئے بہت پیار کرتے ہیں۔کہہ رہے عروج کے پاس چلو اب وہ بے چاری ابھی ہاسپٹل سے آئی کہاں میں ۔۔دوا لے آ۔
    کہتے کہتے نووارد کو دیکھا۔ گھورا۔ پھر چیخ مار کر لپٹ ہی تو گئ
    اوہ تم سعدیہ۔ سعدیہ رند ہو نا۔ یو ٹیوب والی۔؟؟؟
    جج جی۔ اسکے منہ سے بس یہی نکل سکا مگر وہاں سن کون رہا تھا۔
    اوہ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے تم سے مل کر میں بہت شوق سے تمہاری ویڈیوز دیکھتئ ہوں۔
    طوبی کی بانہوں میں نازک سی سعدیہ پھڑ پھڑا رہی تھی۔
    جئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔۔
    جاری ہے ۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 28

    قسط 28

    وہ کائونٹر سے ڈبل روٹی اٹھا کے بھاگ رہی تھی جب واعظہ کمرہ کھول کر نکلی۔
    واعظہ کو نکلتے دیکھ کر اس نے مزید برق رفتاری سے دڑکی لگائی تھئ۔
    ہائیں۔ واعظہ کا کھلا منہ جب تک بند ہوا اپارٹمنٹ کا دروازہ بھی بند ہو چکا تھا۔
    بنا ناشتے جانا ہوگا۔ اس نے یاسیت سے سوچا پھر تیار ہونے واپس کمرے میں گھس گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون نے دروازہ کھولتے ہوئے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
    میں بریڈ لے آئی یوبو۔ چلو ناشتہ کریں۔
    وہ لہرا کر کہتی اسے ایک طرف کرتی اندر داخل ہوئی۔جیسے پتہ نہیں کتنی مصروف ہو۔ صاف شفاف خالی لائونج جس کی میز پر دو خالی کپ اس بات کا اشارہ تھے جن کے لیئے وہ بھاگم بھاگ آئی تھی وہ نا پسندیدہ مہمان واپسی کی راہ لے چکے۔
    یوبو؟ یہ کہاں سے سیکھا تم نے۔ اسکے لہرا کر کہنے پر سیہون نے مسکراہٹ بمشکل روکی تھی اب محظوظ سے انداز میں دروازہ بند کرتے ہوئے لابی سے ہی پوچھتا آرہا تھا۔
    فاطمہ نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
    جب اتنی سی دیر کیلئے آئے تھے تو کوئی بہانہ کر دیتے ایویں مجھے بھگایا ۔ ڈبل روٹی بھی اٹھا لائی میں اب واعظہ بنا ناشتے دفتر جاتی گالیاں دے رہی ہوگی مجھے۔
    اس نے پیکٹ کھول کر ایک سلائیس نکالا اور یونہی چبانے لگی۔
    فریج میں مکھن جیم سب رکھا ہوا ہے۔
    سیہون نے ٹوکا مگر وہ اٹھنےکا ارادہ نہیں رکھتی تھی سو وہ خود گہری سانس بھرتا گیا دونوں چیزیں سلیقے سے ٹرے میں چھری کے ساتھ لیکر آیا۔ لا کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
    اس نے بنا شکریہ ادا کیئے مکھن اٹھا کر اگلے سلائس پر لگانا شروع کردیا۔
    ایک گھنٹہ بیٹھ کر انتظار کیا ہے انہوں نے۔ میں نے بتایا کہ تم سودا سلف لینے گئ ہو آتی ہوگئ ۔ مگر ایک گھنٹے بعد دونوں مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے کل آنے کا کہہ کر چلے گئے۔ وہ سائیڈ والے کائوچ پر نیم دراز ہو کر بتانے لگا۔
    ہممم۔ بھرے منہ کے ساتھ وہ بس یہی جواب دے سکی
    تم ویسے رات کو چلی کیوں گئ تھیں؟ اکیلے گھر میں ڈر لگ رہا تھا؟
    وہ اسے گہری نظر سے دیکھ رہا تھا۔
    نہیں وہ ان سب کے ساتھ گھومتی رہی کل پھرکھانا وہیں کھایا تو رات ذیادہ ہوگئ سوچا اب صبح ہی جائوں گی۔
    اس نے ہبڑ تبڑ دو تین سلائس کھا کر اللہ شکر کرتے ہوئے بتایا۔ ٹرے کھسکا کر وہ آرام سے پائوں اوپر کرکے صوفے پر نیم دراز ہو رہی تھی جب سیہون سرسری سے انداز میں کہتا اٹھا۔ وہ ایکدم جم کر رہ گئ
    کیسا لگا لوہتے ورلڈ۔ اس نے ٹرے اور ڈبل روٹی کا لفافہ اٹھایا اور سگھڑ خاتون خانہ کی طرح چیزیں سمیٹ کر انکی جگہ رکھنے چل پڑا۔ فریج کھول کر مکھن رکھتے ہوئے جیسے ہی مڑا فاطمہ فریج کے ساتھ چپکی اسے گھور رہی تھی۔
    آہش۔ وہ بے ساختہ دہل کر پیچھے ہوا۔
    کس نے بتایا واعظہ نے؟
    اسکی تفتیش ۔۔
    آنیو۔ اس نے نفی میں سر ہلا کر گزر جانا چاہا
    پھر۔ وہ ایکدم سامنے آکھڑئ ہوئی راستہ روکتے ہوئے مشکوک نظروں سے گھورتی۔
    پھر کچھ نہیں۔ سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ ہیں یونہی اندازہ لگایا۔
    وہ جان چھڑا رہا تھا جبکہ فاطمہ جان کو آنے کو تیار تھئ
    سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ نہیں ہیں۔
    جتاتا انداز
    دے۔۔ وہ پھر مڑ کر جانے کو تھا تبھی اسکا موبائل بج اٹھا
    اس نے ٹرائوزر کی جیب سے موبائل نکال کر فون اٹھانا چاہا فاطمہ نے بیچ میں اچک لیا۔
    وے۔ وہ اتنا حیران ہوا کہ ہل بھی نا سکا
    اسکی کال بند کرتی وہ جلدی جلدی مطلوبہ ایپ تلاش رہی تھئ
    کیا کر رہی ہو۔ ادھر دو کس کا فون تھا۔
    وہ جیسے ہوش میں آتا اسکی جانب بھاگا۔ مگر وہ چکمہ دیتی پورے لائونج میں بھاگتی پھر رہی تھی۔
    ارےمیرا فون دو۔
    وہ میز سے ٹکر کھاتئ مطلوبہ ویڈیو کھول چکی تھی جب وہ سامنے آیا اسکےموبائل کی جانب بڑھتے ہاتھ کو جھٹکتی وہ گھومی جوتے سمیت صوفے پر پھر وہاں سے صوفے کے پار جست لگاتی دوبارہ کچن کائونٹر کے پاس پہنچ چکی تھی۔
    فاطمہ۔
    سفید صوفے کور پر کالے جوتوں کے نشان وہ صدمے سے کھڑا ہی رہ گیا۔ اور فاطمہ بھی۔۔ مگر اسے صدمہ کچھ اور پہنچا تھا
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف اور ژیہانگ جمائیاں روک رہے تھے۔ وہ لڑکیوں جیسا لڑکا ست رنگئ شرٹ اور نارنجی چست پتلون میں ملبوس گھوم گھوم کر لہرا لہرا کر بڑے سے پراجیکٹر پرسلائیڈز چلاتا جانے کیا کیا سکھانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
    رواں انگریزی خالص کوریائی لہجہ جس میں الفاظ کے تلفظ وہی تھے جو پاکستان میں بولنے والے کو ہم پیںڈو کہہ کر تمسخر اڑاتے۔
    پورا گھنٹہ مسکراہٹ ضبط کرتے منہ پھیر کر منہ چھپا کر ہنستے گزارا تھا۔ آخر میں تنگ آکر اسکا لیکچر سننے کی کوشش ترک کرکے وہ دھڑ دھڑ ژیہانگ کے چلتے قلم کو رشک سے دیکھنے لگی۔ جانے اس فضولیات میں سے بھی وہ کیا کیا اہم نکات لکھ رہا تھا
    ژیہانگ نے اسکی محویت محسوس کرکے دھیرے سے قلم اور رائیٹنگ پیڈ تھوڑا سا اسکی جانب کھسکا دیا۔
    انگریزی لکھتے ہاتھ رومن اردو پر آگئے۔
    تم کہو تو اپنی شرٹ اس سے تبدیل کر لوں ۔رنگ تھوڑا سا پینڈو ہے مگر استری شدہ ہے۔ اور میں چونکہ اس سے ذیادہ پیارا ہوں تو جچے گا مجھ پر۔
    پڑھتے پڑھتے اسکی آنکھیں حجم سے دگنی ہونے لگیں تو چونک کر سر اٹھا کر ژیہانگ کو دیکھنے لگی۔ لبوں پر مسکراہٹ دبائے بظاہر وہ سامنے اس کارٹون کی جانب متوجہ تھا۔ وہ کھسیا کے سیدھی ہوئی۔
    اپنا رائٹنگ پیڈ اٹھایا اس پر جواب لکھنے لگی
    اس سے بہتر ہوگا۔شرٹ اتار کر ایسے ہی پھر لو۔
    ژیہانگ کے لیئے یہ جواب غیر متوقع تھا۔ اس نے کن انکھوں سے الف کو دیکھا اسکا انہماک عروج پر تھامکمل طور پر کارٹون کی جانب متوجہ۔
    اس نے گہری سانس لی۔ پھر کالر سے نیچے والا بٹن کھولا۔
    پہلا ۔۔ دوسرا۔۔ تیسرا۔۔
    الف کی آنکھیں چکر کھانے لگیں
    اس نے سارے بٹن کھولے اور شرٹ اتار کر ساتھ والی کرسی پر ٹکا دی۔
    ہاہ۔ اس نے رخ پورا پھیر لیا۔ اسکے ردعمل پر ژیہانگ کی بانچھیں چر سی گئ تھیں بے ساختہ امڈ آنے والے قہقہے کو اس نے بمشکل روکا تھا۔
    بھول ہی۔گئ تھی لڑکوں میں شرم حیا نام۔کی کوئی چیز ہوتی نہیں بے غیرت جیسے انتظار میں ہی۔تھا ایک تو کمینہ لڑکا ہے اوپر سے کوریائی بلکہ چینی اتنا خیال بھی نہیں کیا بالکل برابر بیٹھی ہوں۔۔ الو کا۔۔۔
    دانت کچکچا کر وہ منہ ہی منہ میں رخ پھیر کر بڑ بڑاتی گئ۔
    ژیہانگ کی سماعتیں ٹھیک تھیں مگر اتنی بھی اچھی نہ تھیں کہ کسی کے منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے کو بھی سن لیتا۔ ہمہ تن گوش البتہ ہوگیا تھا ا س کوشش میں کہ سن سکے کیا بول رہی ہے۔
    ست رنگئ شرٹ والے نے انتہائی اہم ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے بارے میں بتاتے ہوئے مڑ کر داد چاہنے والے انداز میں دیکھا تو پتہ چلا حاضرین میں سے ایک دائیں جانب رخ موڑ کر گلاس وال پر لگے اسٹیکر کو گھورتے ہوئے بڑ بڑا رہی ہے تو دوسرا کہنیاں میز پر ٹکائے پوری دلچسپی سے اسے دیکھنے میں مشغول ہے۔ گہری سانس لیکر اس نے الیکٹرانک پین میز پر پٹخا۔ دونوں چونک کے سیدھے ہوئے
    آئی گیش یو گائز لوست انترسٹ سو آئیل کوییٹ ہیئر۔
    آئی ہوپ یو گائزہیو انڈل اشٹنڈ مائی ٹودے از لیکچل ۔ٹومالو۔ آئی ول گیو۔
    یہاں تک بولنے پر ہی الف کی مسکراہٹ بے قابو ہوئی۔ پورے دانت باہر آنے کو تیار تھے جنہیں چھپانے کو اس نے مصنوعی کھانسی کا سہارا لیا۔
    آہو کھو کھو ۔۔ وہ مٹھی چہرے کے سامنے کر کے زور زور سے کھانسنے لگی۔
    ژیہانگ اسکا مسلئہ سمجھ کر اسے کافی لطف اندوز ہونے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
    او وہاٹ ہیپند ڈئیل۔ آل یو آل رائت۔
    نزاکت سے چلتے ہوئے وہ اسکے سامنے تشویش زدہ انداز میں لہرایا تو جیسے سونے پر سہاگہ کا کام ہوا۔ وہ ہنستے ہنستے سامنے میز پر سر رکھ کر منہ چھپا گئ۔
    یہ ٹھیک ہے۔ میں اسکو پانی پلاتا ہوں۔ آپکا بہت شکریہ آج ہم نے کافئ کچھ سیکھا آپ سے۔ گھسامنیدہ۔
    ژیہانگ بڑے ادب سے کھڑے ہوکر ہنگل میں اس سے بولا۔ اس پر اس کا خاطر خواہ اثر ہوا جھینپتے ہوئے آنیو آنیو کرتا رہا۔
    یہ بالکل ٹھیک ہے بس کبھی کبھی ہو جاتا اچھو ۔۔ وہ بتاتے ہوئے سامنے کونے میں رکھے ڈسپنسر کی جانب بڑھا۔
    او پور گرل۔ گیت ول شون ڈئیل۔
    میز پر ہلکے سے انگلی۔بجا کر تشویش ظاہر کرتا وہ لہرا۔کر چلا گیا۔الف کی ہنسی رک چکی تھی مگر اس نے سر اٹھانے کی حماقت نہیں کی۔
    پیپر کپ میں پانی لا کر اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دھیرے سے میز پر انگلیوں کے جوڑ سے دستک دی۔
    الف دھیرے سے سیدھی ہوئی ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھائی وہ دوستانہ سے انداز میں مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے پانی کا گلاس اٹھا کے پی لیا۔
    مجھے یہاں سے واپسی پر ابھی جم جانا ہے ۔ جم شرٹ دھلوالی تھیں سو نئی شرٹ ہاتھ میں پکڑ کرلانے کی بجائے پہن آیا تھا میں۔
    اس نے یونہی وضاحت کی۔ الف کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
    اس غیر استری شدہ شرٹ کے نیچے وہ جم کی سفید سلیو لیس سویٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا اسکے بہت ذیادہ مسلز نہیں بنے تھے مگر دبلے سراپے پر بھی جم لگانے سے بازو کے کٹس نمایاں تھے۔
    اب یہ مت کہنا کہ پینٹ کے نیچے جم کا ٹرائوزر بھی پہن رکھا ہے۔
    الف شرارت سے بولی
    دے۔ وہ روانی میں بولا پھر جھینپ کر ہنس پڑا۔
    وہ واقعی سفید شارٹس پہن کر آیا ہوا تھا۔
    الف کا منہ دوبارہ کھل گیا تھا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج کا منہ کھلا پھر صدمے سے کھلا ہی رہ گیا۔
    وہ دونوں نرسیں ہنس ہنس کر جانے کیا موبائل میں دیکھ رہی تھیں وہ انکو ہدایت دینے اور ڈپٹنے کی نیت سے قریب آئی کہ کام۔کے وقت موبائل میں ویڈیوز دیکھنے کا کونسا وقت ہے جب ویڈیو میں سے آتی مانوس سی آواز نے اسکے کان کھڑے کر دیئے۔ کل کا منظر جزئیات سے تازہ ہوا تھا۔
    اس دیو قامت بڑے سے فیری ویل کے نیچے کھڑے ہوکر اوپر نگاہ کی تو گردن میں بل آگیا تھا۔ آسمان کو چھوتا وہ دیو ہیکل جھولا۔ اگر ان سب کے سر پر ٹوپی ہوتی تو وہ گر چکی ہوتی بلکہ عزہ اور واعظہ خرگوش کے کانوں والے پیارے سے جو بینڈ لگائے تھیں کورین لڑکیوں کی دیکھا دیکھی وہ پھسلنے لگے تھے۔ دونوں نے منہ کھول کر سر پر ہاتھ جمائے تھے۔
    وائو۔ میں نے زندگئ میں اتنا بڑا فیری ویل نہیں دیکھا۔
    فاطمہ کی آنکھیں گول سی ہوگئ تھیں اور ہونٹ بھی۔
    اسکو فیری ویل نہیں وچ ویل بلکہ شیطانی ویل کہنا چاہیئے۔ کون احمق اس بھیانک آسمان کو چھوتے جھولے پر بیٹھنا چاہے گا۔
    عروج نے کہا تو وہ سب مڑ کر باقاعدہ اسے گھورنے لگیں۔
    میں نے اسی پر بیٹھنا ہے ٹکٹ لو اسکا
    الف جیسے مچل کر بولی۔ اس نے بڑی سی لائٹ اسٹک لی ہوئی تھی اسے جھلانے پر جل بجھ کرنے لگی وہ ہلا ہلا کر واعظہ کی آنکھوں میں مارنے لگی۔
    اچھا۔بیٹھتے ہیں اس پر بھی اسے تو پرے کرو۔
    واعظہ نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور سر ہلا کر خرگوش کے کان لہرانے لگی
    تو پھر کتنے ٹکٹ لوں۔
    ایک دو تین۔
    اسکی پھر گنتی شروع ہونے لگی تھی
    پانچ لو نا۔ عزہ نے مشکل آسان کی
    نہیں میرا نہیں لینا ۔جائو تم سب میں ہرگز اس پر نہیں بیٹھنے والی بلکہ تم سب کو بھی اگر جان پیاری ہے تو اس پر مت بیٹھو۔ اتنا اونچا جھولا خطرناک پینگ لے گا۔ وہ۔جھر جھری سی لیکر بولی
    اچھا۔۔ الف جیسے حیران ہوئی ۔ اسکی دیکھا دیکھی سب نے ہی حیران ہونے کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے عروج کو منہ چڑایا۔
    کیا تم سب مجھے اکیلا چھوڑ جائوگی؟ میں اکیلی یہاں کیا کروںگئ؟
    عروج ان سب کو ٹکٹ گھر تک منانے آئی۔
    تم جائو تھوڑی دھوپ سینک لو۔
    واعظہ نے کندھے اچکا کر مشورہ دیا
    عروج ادھر پھسلن سیڑھی لگی ہوئی ہے جائو وہاں کھیل لو کئی بچے ہیں اتنی گرمی میں بھی وہاں۔
    عزہ نے دور لگی سلائیڈز کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔
    تم۔ عروج دانت کچکچا کے دیکھ کر رہ گئ۔ یقینا ان بچوں کی تشریف بھی جل رہی ہوگی جو بچہ سلائیڈ سے اترتا سب سے پہلے تشریف سہلاتا۔ اس نے بے زار سا ہوکے نگاہ دوڑائی دور گول گول چکر کھانے والے جھولے لگے تھے جن میں ہاتھی گھوڑا گینڈا وغیرہ بنے تھے ۔
    عزہ تم رک جائو۔ ہم ادھر ہاتھی پر ۔۔ وہ پرجوش سی ہوکر عزہ کو وہاں جانے کا لالچ دینےمڑی تو پتہ چلا سب سکھیاں ٹر چکی ہیں۔ وہ قطار میں لگی کھڑی تھی۔ اسکو متوجہ ہوتے دیکھ کر ٹکٹ گھر پر کھڑا وہ لڑکا پیلے دانتوں کی نمائش کرنے لگا۔
    ایک مجھے بھی۔
    اس نے گہری سانس لیکر ٹکٹ لیا۔
    فیرئ ویل پر ایک وقت میں بس چار لوگ بیٹھ سکتے آپ میں سے ایک ادھر دوسرے کیبن میں آجائے۔
    وہ مسکین شکل والا کورین بابو ان ضدی لڑکیوں کو جھک جھک کر سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ واعظہ عزہ فاطمہ جھٹ سے اندر گھس کر بیٹھ چکی تھیں الف اور عروج اکٹھے چڑھنے لگیں تو آپریٹر نے متانت سے انہیں روکا۔
    آپ میں سے ایک چڑھے بس۔
    کوئی نہیں ہم اکٹھے آئی ہیں اکٹھے بیٹھیں گی۔
    الف نے پیر پٹخا
    تو اور کیا مجھے اکیلے وہاں نا رہنا پڑے اس لیئے اس موت کے جھولے پر بیٹھنے پر رضامند ہوئی ہوں۔
    عروج نے منہ بنایا۔
    دیکھیں ہم ان کوریائی لڑکیوں کی طرح دو کلو کا منہ لیکر نہیں پھرتی ہیں ہم پانچوں کا ملا کر وزن بھی چار کوریائی لڑکیوں کے برابر ہوگا منہ ملا کے۔
    واعظہ نے تفصیل سے ہنگل میں سمجھایا تو اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پاکستانیوں جتنی پھیل گئیں
    یہ کیسی منطق ہے۔
    ایویں ہم کوریائی لڑکیاں آپ سے کہیں کم ہیں وزن اور قد میں ۔
    انکے پیچھے کھڑی اچھی خاصی فربہ لڑکی تنک کر بولی۔
    کیا یہ کالی انڈین ہمیں موٹا کہہ رہی ہیں۔
    اسکی سہیلی کراپ ٹاپ پہنے ننگے بازوئوں پر فرضی آستیںیں چڑھا کر لڑنے کے در پہ ہوئی۔
    یہ کالا کس کو بولا۔
    کالا کہنے پر وہ سب تلملا گئیں۔ عروج نے ڈینم عبایا کی آستین چڑھا لی
    تو کیا کہوں گوری ؟ اتنی اچھی شکل ہوتی تو چھپا کے پھرتیں تم ۔
    موٹی والی نے تمسخرانہ انداز سے دیکھا۔
    شکل تو تمہیں چھپا کے پھرنا چاہیئے کوئی اس پھولے غبارے کو سوئی نا چبھو دے شرارت میں۔ عروج کے پیروں سے لگی سر پر بجھی۔
    کیا کہا۔ وہ موٹی عروج کے اوپر پل پڑنے لگی تو اسکی سہیلی نے کھینچا
    کیا کہہ رہی مجھے بتائو۔ عروج کی سہیلی اسکا کندھا ہلا کے ترجمہ کر نے کو کہہ رہی تھی۔ عروج نے گھور کر دیکھا
    الف نے آئو دیکھا نا تائو لائٹ اسٹک اس موٹی کی آنکھوں کے سامنے نچا دی۔
    سہیلی نے اس موٹو کو تپ کو چھوڑ دیا۔
    چاروں فیری ویل کے کیبن کے سامنے گتھم گتھا تھیں واعظہ عزہ فاطمہ منہ کھولے تھیں صورت حال سمجھ کر باہر نکلنا چاہا۔
    فیری ویل والے نے اپنے بال مٹھئ میں جکڑتے انکا کیبن اوپر چلا دیا اورچلا کر بولا
    اس والے کیبن میں بیٹھنا ہے تم لوگوں نے یا نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یار یہ تو بہت آہستہ چلا رہے ہیں۔
    فاطمہ نے منہ بنا کر نیچے دیکھا۔ پہلا چکر آہستہ سا تھا شائد آہستہ آہستہ رفتار پکڑتا یہ جھولا
    اچھی بات ہے ورنہ تو مجھے جھولے میں چکر آنے لگتے۔
    عزہ نے کہا تو واعظہ اور فاطمہ دونوں نے گھور کر دیکھا۔
    وہ کھسیا سی گئ۔
    نہیں میرا مطلب ہے۔
    اسکی بات ادھوری رہ گئ۔ فیری ویل نے جھٹکا سا لے کر رفتار پکڑی
    پکڑ کر بیٹھو۔ فاطمہ نے تنبیہہ کی۔ جھولے کی راڈ تھام کر اس نے جھٹ موبائل کیمرہ آن کیا
    عزہ نے کلمہ پڑھتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ تھوڑا سا سہارا ہوا ٹھنڈی تیز ہوا کا جھونکا آیا اس نے خوشگوار ہوا کو اندر تک جزب کیا اور آنکھیں کھولیں سامنے واعظہ دہری ہوکر نیچے دیکھ رہی تھی کود کر شائد خود کشی کا ہی ارادہ تھا
    نہیں لغت میں مرنے نہیں دوں گی تمہیں۔ وہ لپک کر واعظہ سے لپٹ گئ
    اس کے چیخ پڑنے پر واعظہ اور فاطمہ دونوں نے جھٹکا کھایا۔ فاطمہ کا موبائل ہاتھ سے چھوٹا مگر شکر ہے کیبن میں ہی گرا۔ اس نے دھڑ دھڑ دل قابو کرتے اٹھایا واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
    میں نیچے دیکھنا چاہ رہی تھی یار یہ نیچے والے کیبن میں غیر معمولی خاموشی نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ چاروں پھولے منہ کے ساتھ ایک دوسرے کو کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھیں۔ سنگل پسلی سہیلی موبائل فون گمبل میں لگا کر جھولے کی راڈ سے لگا کر دھڑا دھڑ موٹو کے ساتھ سیلفیاں لینا شروع ہوگئ۔ تین چار کے بعد انہیں ایک۔نگاہ دیکھ کر ہلکے سے ہونہہ بھی کیا۔
    الف نے اپنا موبائل نکالا اور فورا عروج کے ساتھ سیلفی لی۔
    ان دونوں نے دیکھا تو خود بھی ہونہہ کیا۔
    دوسرے چکر پر موٹو نے ڈر کر اپنی سنگل پسلی سہیلی کا ہاتھ تھاما تو الف نے ہنس کر عروج کے کان میں سرگوشی کی
    موٹو کا چھوٹو سا دل۔۔۔۔۔
    کہتے ساتھ ہی نگاہ کی تو عروج کو اپنا بازو دبوچے آنکھیں بند کیئے سورتیں پڑھتے پایا۔
    موٹو کی سوکھی سہیلی کا گمبل والا ہاتھ ٹکا رہ گیا موٹو اس سے بری طرح لپٹ کر چیخیں مارنے لگی۔ اسکی دل دہلانے والی چیخوں پر عروج نے آنکھیں کھولے بنا ہی یہ سمجھ لیا کہ جھولا ٹوٹ گیا۔
    ہائے اللہ جھولا ٹوٹ گیا امی۔ بابا۔ اللہ میاں۔ آخرمیں کلمہ
    کچھ نہیں ہوا عروج ہوش کرو
    ارد گرد دلفریب نظاروں سے بے نیاز عروج اور وہ موٹو چندی آنکھوں والی لڑکی چیخیں مار مار کر آسمان کے کوے اڑا رہی تھیں۔ الف بھونچکا سی کبھی عروج کو سنبھالتی کبھی موٹو کو چیخنے سے منع کرتی مگر موٹو کے اندر تو کوئی ٹیپ ریکارڈر تھا لمحہ بھر بھی تھک کے چپ نہ ہوتی۔
    اس ہڑبونگ میں سنگل پسلی کا لطف لیتا محظوظ چہرہ دیکھا بھی تو سرسر ی سا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
    پورے تین منٹ کی ویڈیو تھئ جس میں وہ چندی آنکھوں والی لڑکی مسکرا رہی تھی جبکہ اسکی سہیلی کا چیخیں مار مار کر رو رو کے برا حال تھا عقب میں ڈینم عبایا میں چہرے پر کالا نقاب کیئے اسکارف پہنے ایک لڑکی کم و بیش اسی حال میں تھی ایک لڑکی دونوں کو سنبھالنے کی ناکام۔کوشش کر رہی تھی۔
    ویڈیو کل رات وائرل ہوئی تھی اس وقت ٹرینڈنگ میں آرہی تھی ملین ویوز ہو چکے تھے دھڑا دھڑ شئیرنگ جاری تھی۔
    اپنے پیچھے کسی ذی نفس کی موجودگی محسوس کرکے نرسیں پلٹ کر دیکھنے لگیں ۔ پھر ایک نگاہ فون پر۔
    یہ میں نہیں ہوں۔ عروج کے منہ سے بے ساختہ نکلا
    دونوں مشکوک سی ہوئیں
    اتنا بڑا کوریا ہے ہزاروں لڑکیاں عبایا پہنتی ہونگی ایک بس میرے پاس تھوڑی ہے یہ ڈینم عبایا۔
    وہ غصے میں چلا اٹھئ
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    ہاں عبایا تو کوریا کا قومی لباس ہے۔ پورا کوریا ڈینم عبایا پہن کر گھومتا ہے۔ بلکہ یہاں کے تو لڑکے بھی ڈینم عبایا پہنتے ہیں۔
    واعظہ فون کان سے لگائے سڑک پار کر رہی تھی اسکی بات سن کر اتنے آرام سے کہا کہ وہ بس فون دیکھ کر ہی رہ گئ
    یار وائرل ہوئی وی ہے ویڈیو۔ اور تو اور الف کا چہرہ بھی بالکل واضح ہے۔ عروج کا پتہ چلے نا چلے الف کا تو پکا پتہ لگ رہا ہے۔ کچھ کرو
    فاطمہ کچن میں ٹہل ٹہل کر فون پر بات کرتے ہوئے کافی بنا رہی تھی۔ سیہون پھولے منہ کے ساتھ لائونج کے صوفے کو صاف کر رہا تھا اس نے جھٹ رخ موڑا
    میں کل ایک لیپ ٹاپ جا کر نور کو جیل میں دیتی ہوں تاکہ وہ تم لوگوں کیلئے اس لڑکی کا اکائونٹ ہیک کرکے ویڈیو ڈیلیٹ کردے۔
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ جوش میں فاطمہ کہہ بیٹھی پھر کھسیانی سی ہو کر سر کھجانے لگی
    اس بار فون کو ہاتھ میں لیکر گھورنے کی باری واعظہ کی تھی
    تمہیں کیوں پریشانی ہورہی ہے تمہاری تو ویڈیو نہیں بنی سکون کرو پھر۔ واعظہ نے کہہ کر فون بند کرنا چاہا
    اچھا سنو اوپا کے علاوہ بھائئ کو اور کیا کہتے۔
    اسکا ارادہ بھانپ کر جھٹ اگلا سوال داغا
    امجا۔ اس نے بے دھیانی سے کہا
    وہ ایک بار پھرٹی سی این کے دفتر کے سامنے کھڑی تھی۔
    ٹھیک۔ فاطمہ نے جھٹ فون بند کیا۔
    نہیں اورا بونی۔ اسے خیال آیا مگر فون بندہو چکا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور تیزی سے عمارت کی جانب قدم بڑھا دیئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے نہیں پتہ تھا ایس بی ایس کی ایک پارٹی اتنا بڑا مسلئہ ہوگی ہمارے منے سے چینل کیلئے۔ واپسی پر الف ہنس کر کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک اکٹھے ہی آتے تھے ہاں بسیں دونوں کی الگ الگ تھیں۔ بس اسٹاپ پر اس وقت رش تھا۔ بنچ فل تھے ذیادہ تر ادھیڑ عمر افراد ہی بیٹھتے تھے بنچ پر۔ ورنہ نوجوان عوام کھڑے ہی رہتے تھے شائد یہی وجہ تھی سب کی چیتے جیسی کمر تھی۔
    ویسے یہ لڑکا دلچسپ کردار تھا۔ الف نے فیصلہ سنایا تو ژیہانگ ہنس دیا۔ پھر بولا
    اسکا لیکچر بھی دلچسپ تھا۔ کافی کچھ سکھایا ہے اس نے مارکیٹنگ کی رو سے۔ اگر سنتیں تو کام آتا۔
    مارکیٹنگ سیکھنی ہوتی تو مارکیٹنگ پڑھتی نا۔ ہم سادے لوگ۔ سادی ہماری تعلیم۔
    الف نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔اور کندھے اچکا کر سڑک پر نگاہ جما دی سچی بات یہ مارکیٹنگ وارکیٹنگ اسکے بس کا روگ نہیں تھی۔ تبھی بس آکر رکی۔ آدھے لوگ جھٹ پٹ چڑھے۔ یہ ژیہانگ کے روٹ کی بس تھی۔ اس نے چونک کر بس نمبر دیکھا پھر سوالیہ نگاہوں سے ژیہانگ کو دیکھا۔ وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا۔بس کو ہی دیکھ رہا تھا مگر بڑھنے کی بجائے اطمینان سے کھڑا رہا۔ بس سے اترنے والی ایک حاملہ خاتون اترتے اترتے چکرا سی گئیں۔ وہ لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا انکی جانب بڑھا اور سہارا دے کر انہیں بنچ پر لا بٹھایا۔ اسکی بس بھر کر روانہ ہو چکی تھی۔
    بس اسٹاپ پر اور بھی لوگ تھے لڑکے بھی لڑکیاں بھی۔ مگر اتنی پھرتی بس اسی نے دکھائی۔ وہ خاتون اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگیں۔ وہ بھی ازراہ ہمدردی انکی جانب بڑھ آئی۔
    آپکی بس چھوٹ گئ میری وجہ سے۔ وہ خاتون دو گھونٹ پی کر اپنے حواس بحال کرکے شرمندہ سے انداز میں بولیں۔
    کوئی بات نہیں اس بس پر چڑھنے کا ارادہ بھی نہیں تھا میرا۔ وہ لاپروا سے انداز میں بولا
    وہ خاتون مسکرا دیں۔
    خاتون آپ کو گھر پہنچنے میں مدد درکار ہو تو میں حاضرہوں۔
    اس نے آگے بڑھ کر انگریزی میں خدمات پیش کیں۔ خاتون نے سوالیہ سی نظروں سے دیکھا۔
    ژیہانگ نے مترجم کے فرائض نبھائے تو ہنس دیں
    میں ادھر پچھلی گلی میں ہی رہتی ہوں ۔ بالکل ٹھیک ہوں میں ویسے میرے میاں آتے ہی ہونگے مجھے لینے۔ میں نے پیغام بھیجا تھا انکو ۔ آپ میری فکر نہ کریں۔
    آپ دونوں کا شکریہ۔
    وہ جھک کر بولیں۔
    الف تمہاری بس آگئ۔ ژیہانگ نے اسکی بس آتے دیکھ کر اسے خبردار کیا تو وہ جھک کر خاتون کو سلام کرتی ہوشیار ہوئی۔ بس میں رش تھا اسے نشست نہ مل سکی کھڑے ہو کر ہینڈ ہینڈل می ہاتھ پھنسا کر مڑ کر بس اسٹاپ کو دیکھا خاتون کے پاس کوئی مرد آکھڑا ہوا تھا یقینا انکا شوہر ہوگا۔ ژیہانگ کہاں گیا۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے دیکھا اسکے بالکل سامنے ایک انکل سے کھڑے تھے اس نے اچک کر انکے کندھے کے اوپر سے دیکھا تو ژیہانگ ٹیکسی روک رہا تھا۔
    انکل نے اسے تھوڑا حیرت سے گھورا تو وہ کھسیا کر رخ پھیر گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہزاروں بلکہ لاکھوں لڑکیاں جھولوں پر ڈرتی ہونگی چیخیں مارتی ہوںگی ایک میری ہی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ اوپر سے مجھے بھی کل ڈینم عبایا ہی پہننا تھا وہ بھی کوریا میں۔ شکل تک چھپی ہوئی تھی پھر بھی ایک ایک مجھے دیکھ کر فورا فون ان لاک کرنے لگتا جیسے انکو آر پار نظر آرہا۔
    ڈیوٹئ کے دوران عروج کا غصہ بھی عروج پر جاتا رہا تھا۔
    بچے کو پھسلائے بغیر ٹیکا ٹھونک دیا۔ بچہ رونے کی بجائے ٹکر ٹکر شکل ہی دیکھتا رہ گیا۔ آنٹی کو کڑوی دوا بنا پانی کے تھما دی۔ کوئی مریض ہنستا تو لگتا اس پر ہنس رہا ہے۔ ڈیوٹی آورز ختم ہوتے ہی وہ غصے میں سیدھی باہر نکل آئی۔ کھٹ کھٹ پیر پٹخ پٹخ کر چلتی سیدھا پارکنگ لاٹ سے باہر نکلتے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔
    وہ لڑکی کہیں سے میرے سامنے آئے اور میں میں اسکی چندی آنکھیں چیر کر اپنی آنکھوں سے بڑی کردوں۔
    اس نے مٹھیاں بھینچیں۔
    اسکی پھنی ناک اتنی زور سے کھینچوں کہ پنوکیو بن جائے اور اسکے بھاڑ ایسے ہنستے منہ یہ کالی گاڑی ٹھوںس دوں۔ گاڑی۔
    وہ سوچتے سوچتے چونکی۔ یہ کالی گاڑی کیوں اتنی کم رفتار میں اسکے برابر برابر چلے جاری ہے۔ یہ خیال اسے یقینا کافی دیر کے بعد آیا تھا کیونکہ گاڑی اس کے ذرا سا سامنے آکر رک چکی تھی۔ دروازہ کھلنے کیلئے انلاک ہوا۔
    چند لمحے تھے بہادر بن کر اپنا بھاری بیگ جو آدھا کندھا جھکائے تھا گھما کے ڈرائیور کے منہ پر مار کر بھاگ کھڑی ہو یا الٹے پائوں واپسی کی راہ لیتے پانچ سو میٹر ریس کے کسی کھلآڑی سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس ہاسپٹل بھاگے۔چونکہ وہ ایک سیدھی سادی عام سی لڑکی تھی سو بھاگنا اسے دونوں صورتوں میں تھا۔ ۔انہی سوچوں میں نووارد۔خراماں خراماں چلتی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
    آننیانگ۔ چندی آنکھیں لبوں پر کھلتی مسکراہٹ پھنی ناک۔وہ لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھئ اور عروج اتنی ہکا بکا ہوئی کے اپنے سب ارادوں کو عملی جامہ پہنانا ہی بھول گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 27

    قسط27

    وہ سب تیار ہو کر سیہون کے کمرے سے ملحقہ غسل خانے کے دروازے پر کھڑی واعظہ کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھیں
    اللہ کب سے تیار ہو کر کھڑے ہیں تمہارا ناشتے پر انتظار کرتے رہے تم کہاں چلی گئ تھیں صبح صبح۔۔
    عزہ نے دہائی دی
    تم یہاں باتھ روم میں گھسی بیٹھی ہو۔ نکل بھی آئو اب
    عروج جھلائی
    تو اور کیا ہم سب تیار بھی ہوگئے ہیں آج ہم نے گھومنے جانا تھا یاد آیا؟؟؟؟
    الف نے دروازے پر طبلہ بجاتے ہوئے کہا تھا۔
    یار عشنا سے بات ہوئی کہاں ہے کل گھر بھی نہیں آئی؟
    شاور گرنے کی آواز کے ساتھ ہلکی سی واعظہ کی آواز آئی
    ہاں کہہ رہی کہ دوست کے ہاں رکی ہوئی ہے رات کو بتانا بھول گئ تھئ۔
    الف نے لفظ بہ لفظ دہرایا جو اس نے پیغام میں لکھ بھیجا تھا
    تبھی باتھ روم کا دروازہ کھول کر واعظہ
    تولیہ سے سر رگڑتے ہوئے دانستہ ان سب کو نظر انداز کرتی باہر نکل آئی۔ تینوں نے بھنا کر اسے گھورا پھر پیر پٹختی اسکے پیچھے لائونج میں چلی آئیں۔
    نہیں جانا تو صاف کہہ دو۔
    تینوں کے منہ پھولے ہوئے تھے۔ فاطمہ کی تیاری اب جا کے مکمل ہوئی تھی وہ بھی اپنے کمرے سے نمودار ہو ہی گئ۔
    ہم واپسی پر اپنے گھر جائیں گے سو تم لوگ اپنا سامان سمیٹ لو جو بھی ہے یہاں۔
    واعظہ فریج سے پانی نکال کر پی رہی تھی انہیں باہر آتے دیکھ کر ہدایت کردی۔
    تھا کیا ہمارے پاس کپڑے ہی پہنے ہوئے تھے خالی ہاتھ یونیورسٹی گئ ہوں بس عید کے کپڑے ہی ہیں انکو شاپر میں ڈال لیتے ہیں۔
    الف نے حسب عادت تفصیل سے بتایا۔ واعظہ نے ترچھی نگاہ سے دیکھا
    وہ کان دباتی کمرے میں گھس گئ
    ہے جن کہاں ہے؟ صبح سے دکھائی نہیں دے رہا۔ عروج کو۔تجسس ہوا۔ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اسکا انداز سرسری سا تھا
    تم لوگوں نے کچھ سمیٹنا ومیٹنا نہیں ؟ بار بار سیہون کو تنگ تھوڑی کرنا چاہیئے خاموشی سے بے چارہ ہفتہ ہونے کو آیا ہمیں برداشت کر رہا ہے تو ضروری ہے ہم اسکی مروت رخصت کرکے ہی دم لیں۔
    واعظہ ایکدم سے بگڑ کر بولی۔
    ہائیں تمہیں کیا ہوا ہے۔ عزہ اورعروج دونوں نے کورس میں کہا تھا
    مجھے کیا ہونا تم لوگوں کی سستی پر غصہ آرہا میرا انتظار کرنے کی بجائے کم از کم سامان ہی سمیٹ لینا تھا اب گھنٹہ اور چاہیئے ہوگا تم لوگوں کو۔ حد ہی ہے۔
    وہ سابقہ انداز میں ہی بولی۔
    اوئے۔ عروج کو اپنی شان میں گستاخی محسوس ہو ہی گئ۔ تڑپ کر پنجے تیز کرنے چاہے۔
    یہ کس طرح بات کر رہی ہو خیر تو ہے؟
    اسے واقعی حیرت ہوئی تھی۔
    تم تو اپنا سامان سمیٹ لو۔ وہ اسکی بات یکسر نظر انداز کرکے عزہ سے مخاطب تھئ ۔ رخ کمرے کی جانب تھا بیچ میں ذرا کی زرا رک کر عزہ کو کہا تو اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا اور اسکے پیچھے ہولی
    دیکھو کیسے ان سنا کیا اس نے یہ عزہ وغیرہ نے بات سن سن کر اسکو سر پر چڑھا لیا ہے ۔ وہ پلٹ کر اب تک۔خاموشی سے کھڑی فاطمہ سے شکایتی انداز میں بولی۔
    بتائو عزہ وغیرہ کی۔طرح مجھ پر۔یعنی مجھ پر رعب جھاڑ گئ؟
    اسے یقین نہیں آیا تھا ابھی تک۔ فاطمہ نے خاموش رہنے کو ہی ترجیح دی اور اپنے لیئے کافی بنانے چلدی۔ ایک گھنٹہ تو کم از کم انہیں لگنا ہی تھا اب۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب بیچ دوپہر میں لوہتے ورلڈ کے دروازے پر کھڑی تھیں۔22 ڈگری پر جہاں کوریائی گرمی منا کر گھروں میں چھپ بیٹھے تھے یا واٹر سلائڈز کے مزے لینے لوہتے ورلڈ کی مصنوعی جھیل میں گھسے تھے وہاں پانچ لڑکیاں چہلیں کرتی پھر رہی تھیں۔ سب سے پہلے جا گھسیں جھولوں میں ۔
    خوب تپتے جھولوں میں گھوم گھام کر چکر کھا لیئے انگنت تصاویر۔ لوہتے ورلڈ کے ریستوران میں کھانا کھانے کا مطلب باقی مہینہ بنا کھائے گزارنا تھا سو دو تین گھنٹے وہاں برباد کرنے کے بعد وہ سب سب شرافت سے واپسی کی راہ۔لینے لگیں۔ عزہ کو ابھی بھی چکر آرہے تھے تو فاطمہ کا سر گھوم رہا تھا۔ جھولوں پر خوب شور مچانے والی عروج اسوقت تازہ دم تھی۔قریبی ریستوران سے کھانا پیک کروا کر وہ سیدھا گھر چلی آئیں۔ ہفتے بھر بعد گھر آنے کا احساس ہی خوش کن تھا۔
    واعظہ نے دروازہ کھولا تو وہ سب اسکے پیچھے گھسی چلی آئیں۔ جتنی تیزی سے گھسی تھیں اتنی تیزی سے پلٹ کر باہر بھاگیں۔ واعظہ ناک بند کرتی لائونج کی کھڑکیاں کھولنے لگی۔ پیڈسٹل چلایا ایگزاسٹ فین چلایا۔ اندر بدبو کے جھونکے ختم تو نہیں ہوئے مگر کم ضرور ہو گئے تھے۔ بدبو کا منبع تھا۔۔خون۔ جو ٹھیک ٹھاک سڑ چکا تھا۔
    واعظہ لائونج کے بیچوں بیچ کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی روہانسی سی ہوئی گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔ عروج ، عزہ الف اور فاطمہ دھیرے دھیرے راہداری میں آگے بڑھ آئیں اوپن کچن کی بہرونی دیوار کی آڑ سے اندر جھانکنے لگیں۔ واعظہ انہیں گھور کر رہ۔گئ۔
    وہ طوبئ آپی نے چھری پھیر کر جیسے ہی مرغی کو پانی پلانا چاہا وہ انکے ہاتھ سے نکل گئ۔ ادھ کٹی گردن کے ساتھ بھی جانے کہاں سے اس میں اتنی جان آگئ تھی کہ پورے اپارٹمنٹ میں اڑتی پھری۔
    عزہ نے سر جھکا کر بتایا۔ اور دیوار سے ہٹ کر اندر لائونج میں چلی آئی۔ اسکی ہمت کو داد دیتی باقیوں نے بھی پیروی کی۔ کھانے کے شاپر فاطمہ کے پاس تھے انہیں کچن کائونٹر پر ٹکاتے ٹکاتے رک کر اندر چولہے کے پاس رکھنے لگی
    وہ سب لائونج میں کھڑے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔کچن کے کائونٹر سے لائونج کے صوفے تک گاڑھا گاڑھا خون پھیلا تھا وہاں سے شائد مرغی نے اپنے پرانے مسکن واعظہ کے کارٹن پر چھلانگ لگائی سو خون کے چھینٹے جا بجا راہداری کی دیواروں پر بھی پڑے تھے۔مرغی کو تھامنے کی کوشش میں پوری راہداری کو خون سے سرخ کیا ہوا تھا جس سے پھسل کر طوبی کے شوہرکمر میں چک پڑوا بیٹھے
    امیوزمنٹ پارک میں چہلیں کرنے کے بعد کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ صفائی کر سکے مگر ان میں سے کسی کی بھی بے چارگی سے بھری شکل دیکھے بنا واعظہ کمرے میں گھس چکی تھی
    آپریشن صفائی شروع ہونے کو تھا۔
    مگر اپنے نئے کپڑے برباد کوئی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
    سب نے گہری سانس بھری اور جھٹ کپڑے بدل کر باہر آئیں۔ واعظہ نے بالٹی بھر کر لائونج میں لا رکھی تو عروج وائپر اور پوچھا اٹھا لائی۔ عزہ اور الف دیوار پر سے خون صاف کرنے پر معمور ہوئیں تو فاطمہ کچن صاف کرنے لگی۔ عروج اور واعظہ نے لائونج دھو ڈالا۔ صوفے پر پاکستانی عادت کے باعث چادر بچھا رکھی تھی سو اسکی بچت ہو گئ نئی چادر بچھا کر لائونج کا کارپٹ اٹھا کر گیلری میں رکھا اسکو کل دھونے کا ارادہ تھا۔ منے لائونج میں چادر بچھا کر عزہ اور الف نے کھانا چن دیا ۔ تھک کے چور ہونے کے بعد کھانا ملا تو خوب مزے۔لیکر سیر ہو کر کھایا ان سب نے۔
    یار پلائو تھوڑا سا ہے جن کے لیئے بھی بچا لو وہ باہر کھانا نہیں کھاتا۔
    عزہ نے فکر کی تو چاول کی طرف ہاتھ بڑھاتی الف نے سر ہلا کر روٹی اٹھا لی۔
    ہے جن کے لیئے کھانا مت بچائو وہ گائوں چلا گیا ہے۔
    واعظہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تھا
    ہیں اچانک کیوں؟ عروج حیران ہوئی
    کب آئے گا واپس۔ عزہ بے چین۔۔ الف چیخ ہی تو پڑی
    مل کے تو جاتا اسکے گائوں سے میں نے ہانجی ( سلک کے ہاتھ والے پنکھے)منگوانے تھے اتنے خوبصورت تو یہاں ملتے ہی نہیں۔ اس نے بتایا تھا اسکی دادی خود بناتی ہیں
    تم نے کیا کرنے تھے ہانجی؟ فاطمہ حیران ہوئی
    یار وہ کام آجاتے ہیں۔ وہ گڑبڑا سی گئ
    کب تک آئے گا واپس ؟ مجھے اس سے بات کرنی تھی ہم میں تلخ کلامی ہوگئ تھئ۔ میں نے سوچا تھا صبح بات کروں گی اس سے۔ اور ہم نے طوبی آپی کو مل کے منانا بھی تھا
    کب تک آئے گا واپس بتا کے تو گیا ہوگا نا
    عزہ واعظہ کا بازو ہلانے لگی
    ہاں بتا کے گیا ہے کہ ۔ واعظہ کو سمجھ نہ آیا کس طرح کہے۔تو چپ سی ہو کر ہونٹ کاٹنے لگی
    کب آئے گا؟ الف سے رہا نا گیا
    کبھی واپس نہیں آئے گا۔
    اس نے کہہ ہی دیا۔۔
    کیا؟ وہ سب چیخ ہی تو پڑیں۔
    کیوں؟ ایسے کیسے؟
    اسے روکا نہیں تم نے؟ فاطمہ نے واعظہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
    بہت روکا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے۔
    نہیں رکا۔ کہتا ہے کچھ عرصہ اکیلے رہنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنا تبادلہ بھی گائوں کے اسکول میں کروادیا ہے۔
    وہ بہت پریشان تھا فاطمہ۔
    وہ رو ہی پڑی۔ عروج اور فاطمہ تڑپ کر اسکی۔جانب بڑھیں
    فاطمہ نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگئ۔
    میری غلطی ہے اسے ہاتھ تھام کر گڑھے سے نکالتے نکالتے اسے واپس اسی میں دھکیل دیا۔ مجھے اس کو یہاں لانا۔نہیں چاہیئے تھا۔
    وہ بلکتے ہوئے کہے جا رہی تھئ۔ اسکی۔بات انکے پلے نہیں پڑ رہی تھی مگر اسکا یوں رو پڑنا انکے لیئے بے حد اچنبھے کا باعث تھا۔ وہ اور عروج ایک دوسرے کو دیکھ کر۔رہ۔گئیں
    میری وجہ سے ہوا نا؟ مجھ سے خفا ہوکر چلا گیا۔۔
    عزہ بھی جیسے رونے کو تیار تھی۔ اسے گلٹ ہو رہا تھا
    اب تم نہ رونے لگنا۔ الف کے کہنے کی دیر تھی وہ بے تحاشہ رو پڑی
    میں نے اسے کیا کچھ نہ کہہ دیا۔ ہچکی۔
    جبھئ ناراض ہو کر چلا گیا۔۔ چھوٹا سا تو ہے کیسے رہے گا اکیلا
    وہ سچ مچ بڑی بہنوں کی۔طرح پریشان ہو رہی تھی۔
    واعظہ کہاں ہے اسکا گائوں ہم جا کر اسے منا لیں گے۔ ایسے چھوٹے موٹے جھگڑے کہاں نہیں ہوتے مت روئو۔
    فاطمہ نے تسلی دینی چاہی۔
    میں سوری کر لیتی ہوں اس سے ۔۔ عزہ واعظہ کے قریب کر بولی
    آنسوئوں سے تر چہرہ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    وہ بڈھسٹ ہے بڈھسٹ رہے جو کھانا پینا ہے کھائے پیئے ہم نہیں ٹوکیں گے اسے اس سے کہو واپس آجائے۔ ہم طوبی سے بھی مل کر بات کریں گے۔
    عروج نے اپنے تئیں معاملہ نپٹانا چاہا۔
    ہاں تو اور کیا۔ ہم سب نے جھوٹ بولا ہم سب اکٹھے طوبی کو منائیں گے تو مان جائیں گی وہ بھی۔ الف نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
    واعظہ اسے فون کرو نا میں خود بات کرکے معزرت کر لیتی ہوں۔ آنسو پونچھتے عزہ منمنائی۔ ان سب کو دیکھتے واعظہ کے آنسو تھمنے لگے۔ کیا کچھ نا تھا ان کے چہروں پر محبت فکر پریشانی جیسے گھر کا کوئی فرد کہیں چلا گیابنا بتایے اور اسے ہر صورت واپس لانے کیلئے سب گھروالے مصمم ارادہ کر یں۔
    تم۔سب اس سے محبت کرنے لگی ہو نا۔
    اس نے یاسیت سے پوچھا۔
    ہاں تو اتنا تو کیوٹ سا پلا پلایا بھائی ملا ہے ہمیں۔ فاطمہ ہنسی
    دن میں دس بار بھی کوئی چیز منگواتی تو فورا لا کر دیتا تھا ۔ عروج ہنس کر بولی۔ وہ وقت اسکی نظروں کے سامنے آیا جب سینی ٹائزر ، کریم شیمپو سب ابیہا واعظہ بے گھر افراد میں بانٹ آئی تھیں

    میں نے سچ مچ اتنا سلجھا ہوا۔ہائی اسکولر آج تک نہیں دیکھا کوریا تو کوریا پاکستان میں بھئ میرے کزنز تو پھدکتے پھرتے تمیز سے بات کرنا محال۔ فاطمہ نے ناک چڑھائی
    واعظہ فون کرو نا اسے۔
    عزہ نے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ
    اس نے فون نمبر بھی بدل لیا ہے۔ اور وہ تم سے ناراض بھی نہیں ہے عزہ۔
    پھر کیوں چلا گیا ایسے۔ وہ بھرائے ہوئے انداز میں پوچھنے لگی
    ان سب کے چہروں پر پریشانی تھی خیال تھا فکر تھی انہیں دیکھتے دیکھتے اسکی ذہنی رو بہکی
    تم اتنے گندے اور نیچ ہوگے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
    عروج نے نفرت سے منہ پھیرا
    تم جیسے انسان کو میں نے بھائی مان لیا مجھے سوچ کر شرم آتئ ہے۔ عزہ نفرت سے پھنکاری
    نکل جائو یہاں سے آئیندہ شکل بھی مت دکھانا اپنی
    نکلو جائو۔
    ہے جن گھٹنوں کے بل بیٹھا رو رہا تھا
    مجھے معاف کردیں نونا میں نے اپنی اصلیت چھپائی آپ سے۔
    کوئی معافی نہیں مل سکتی تم جیسے دھوکے باز کو
    فاطمہ گرجی
    اور تم واعظہ تم نے ایسے انسان کو لا کر ہمارے بیچ کھڑا کر دیا جو۔
    فاطمہ عزہ الف نور سب اسکی جانب نفرت سے گھورتی مڑی تھیں۔
    واعظہ بولو نا ۔ عزہ نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونک سی اٹھی
    کیوں چلا گیا وہ۔ ؟؟؟
    ہے جن کی منہ بولی بہنیں اسکے لیئے فکرمند تھیں۔مگر ہے جن کا سچ جان کر کیا وہ یہی کرتیں۔
    اس نے سر جھٹکا
    وہ کچھ عرصہ اکیلے رہ کر خود کو سنبھالنا چاہتا ہے۔ تم سب دعا کرنا اسکیلئے وہ سنبھل جائے گر نا پڑے۔ خود سے لڑتے
    واعظہ دھیرے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
    صبح جو بھی سب سے پہلے اٹھے مجھے بھی اٹھادے۔ وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ
    کوئی تو بات ہے لغت رو پڑی۔
    الف نے خیال ظاہر کیا
    یار عادت سی ہوگئ تھی ہمیں ہے جن کی کیسے رہیں گے
    عروج نے ٹھنڈی سانس بھری
    یاد ہے پہلی بار زخمی سا جب آیا تو عزہ تو اسے بھوت ہی سمجھی تھئ۔
    فاطمہ نے کہا تو عزہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئ
    اور جھٹ بھائی بھی تو بنا لیا تھا میں نے۔ تب تو صرف کہا ہی تھا مگراس نے سچ مچ بھائی ہی بن کر دکھایا۔ وہ ملول سی ہوگئ تو الف نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
    منا لائونج منا صوفہ خالی خالی لگ رہا تھا۔
    عزہ کو چاکلیٹس یاد آئیں جو وہ اپنی نونا کیلئے روزانہ لاتا تھا۔ کھٹا چونا لیموں کا شربت چکھ کر آنکھیں میچتا
    الف کی باری پر چپکے سے سارے برتن دھوتا اور الف کائونٹر پر بیٹھی باتیں بگھارتی
    چاول کھاتے اچھو ہو جانا اور ان سب کا پریشانی سے اسکی کمر مسلنا بخار میں اسکو اٹھا کر کمرے میں لے جانا
    تو فاطمہ اور الف کی لڑائی میں بیچ بچائو کراتا، الف کے پروگرام میں لمبے لمبے فون آوازیں بدل بدل کر کرتا
    ہے جن کتنی یادیں چھوڑ گیا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح حسب معمول تھی۔
    عروج عزہ الف کی باتھ روم پر لڑائی ہورہی تھی۔ عروج سب سے پہلے اٹھ کر باتھ روم بھاگی تھی۔ الف اور عزہ اسکی پھرتی ملاحظہ کرتی پہلےتو دنگ رہ گئیں پھر بھاگ کر دروازے سے چپک کر سخت سست سنانے لگیں وہ بھی کان بند کیئے فریش ہورہی تھی ۔ فاطمہ اور واعظہ لمبئ تانے دوسرے کمرے میں سوئی پڑی تھیں
    عروج کے نکلتے ہی عزہ الف کو جھکائی دیتے باتھروم گھس گئ تو الف نے موٹی والی گالی دی
    عروج ہنس پڑئ ۔
    واعظہ کے کمرے میں چلی جائو
    بال تولیہ سے رگڑتے عروج نے مشورہ دیا تو وہ اسے گھورتی پیر پٹختی چل دی
    اسے اٹھا بھی دینا کہہ کر سوئی تھی کہ اٹھا دینا صبح مجھے۔
    پیچھے سے ہانک لگائی۔
    الف یقینا اتنئ احمق نہیں تھی کہ اپنے باتھروم کی ریس میں ایک بندہ اور شامل کر لیتی سو آرام سے باتھروم گھسی نہائی تیار ہو کر گنگناتے نکلی اور بھول بھی گئ عروج کی ہدایت۔ فاطمہ اور واعظہ گوڑ سہیلیوں کی طرح لپٹی بے خبر سو رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکا یونہی مزاج اچھا تھا صبح ہی صبح گنگناتے ہوئے حاضری لگوائئ وارڈ کا چکر لگایا۔ اسکے وارڈ میں داخل ہوتے ہی لمحہ بھر کو خاموشی چھائی۔
    مستقل نقاب ہونے کے باعث اسکی مسکراہٹ تو انکی نگاہوں سے اوجھل رہتی تھی مگر اسکا نرم۔انداز مریضوں کو گرویدہ کر دیتا تھا۔ وہ مسکرا کر اس آٹھ سالہ بچے کو آننیانگ کہتی اسکی فائل دیکھنے لگی۔ بچہ سیڑھیوں سے گر پڑا تھا کل سے پلستر چڑھا تھا اسکی ٹانگ پر تفصیلات پڑھتےاسے اپنے پیچھے کھسر پھسر سی محسوس ہوئی۔ اس نے یونہی پلٹ کر پیچھے دیکھا تو وارڈ کے سب مریض اسکو ہی دیکھ رہے تھے۔ اسکے مڑ کر دیکھتے سناٹا سا ہوگیا۔ اس نے کندھے اچکائے بچے کی دوائیں دیکھیں۔
    بچہ ماں کے کان میں گھسا
    وہی والی نونا۔
    ماں نےاسے چپ کرنے کا اشارہ کرتے چور سا ہو کر عروج کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔متوجہ ہونے پر جھک کر آننیانگ کہتی وہ آگے بڑھ گئ۔
    پھر اگلا بستر اس سے اگلا۔
    سب اسے کچھ ذیادہ ہی غور سے دیکھ رہے تھے وہ سٹپٹا کر باتھ روم چلی آئی۔ آئینے کے سامنے نقاب ہٹا یا۔
    لپ اسٹک ہی لگائی ہے آج میں نے نئی۔ ماسک سے آر پار نظر آرہا کیا؟ ویسے کچھ ذیادہ ہی جچ رہی ہوں میں۔
    وہ غور سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ چہرے سے نگاہ نیچے کی۔ لانگ گرے ٹاپ گرے ہی۔جینز اور لائٹ گرے پرنٹڈ شرگ اور لمبا سا اسکارف ۔ یہ اسکے وہی کپڑے تھے جو اس نے امیوزمنٹ پارک میں جاتے وقت کل پہنے تھے۔ بہت ذیادہ تو نہیں مگر کچھ شکنیں آچکی تھیں۔
    ہاں کپڑے۔ کل سیدھے کر کے رکھ تو دیئے تھے تاکہ دوبارہ استری نا کرنے پڑیں۔ پھربھی شکنیں پڑ گئیں۔ اسی لیئے گھور رہے ہونگے بیوٹی کاںشسس۔
    وہ بڑ بڑا رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پلین وہایئٹ شرٹ شکنوں سے پر تھی ساتھ گریبان کا بٹن بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ گرے پینٹ اتنی ہی جما کے استری ہوئی وی تھی کہ کریز ہلی بھی نا ہو۔ بال نک سک سے تیار جیل لگے ہوئے چم چم کرتے جوتے۔ عجیب ڈب کھڑبہ منظر تھا نگاہوں کے سامنے۔الف کے جو چہرے پر تاثرات اسے دیکھ کر آئے تھے ژیہانگ نے بے ساختہ اپنی در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔ وہ جتنا بدمزا منہ بنائے کھڑی تھی اسے دیکھ کر اسے اتنا ہی مزا آگیا تھا۔
    انکوفنکشن ایٹی کیٹس ٹریننگ کیلئے آج صبح صبح اسٹوڈیو بلایا گیا تھا۔ الف خود نک سک سے تیار تھی بلو جینز نیوی بلو لانگ ٹاپ ساتھ نیوی بلیو اسکارف سر پر لپٹا ہوا نیوی بلیو شیفون کا دوپٹہ۔ وہ لابی میں کھڑئ اسکا ہی انتظار کر رہی تھی
    شرٹ استری کرتے ہوئے بجلی چلی گئ تھی کیا؟
    اس نے تیکھی نگاہ ڈال کر پوچھا تھا
    اسکے طنز پر ژیہانگ زور سے ہنسا
    نہیں بجلی جانے کی خوش قسمتی بس بے چارےپاکستانیوں کے نصیب میں ہے یہاں تو ہر وقت دن رات آتی رہتی ٹک ٹک ٹک ٹک۔
    معصوم سی شکل بنا کر وہ اشتہار کی نقل اتارتے ہوئے ٹک ٹک کہتا انگلی گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھماتا بولا۔
    کسی چینی شکل کو خالص پاکستانی اشتہار کی نقل اتارتے دیکھنا کتنا مزے کا تجربہ تھا الف کھلکھلا کر ہنستی چلی گئ۔
    اسکے ہنسنے پر ژیہانگ بھی ہنس دیا۔
    یہ اشتہار بھی سن رکھا ہے تم ۔۔۔
    وہ کہتے کہتے رکی
    آپ نے؟
    تم مجھے تم کہہ سکتی ہو۔ اس نے مسکرا کر کہا تو وہ سر ہلا گئ۔
    مجھے یہ اشتہار کافی مزے کا لگتا تھا۔ میری بھانجی بالکل اسی بچے کی طرح ٹک ٹک کرتی رہتی تھی۔ بہت ویڈیوز بناتی تھی میں اسکی۔میری انسٹا بھری ہوئی ہے اسکی ویڈیوز سے۔ وہ شوق سے بتا رہی تھی ژیہانگ دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے متانت سے سن رہا تھا
    اچھا ۔۔ دکھانا مجھے بھی۔
    دونوں یونہی باتیں کرتے لفٹ کی جانب چلے آئے
    پاکستان میں کتنا عرصہ رہے ۔۔
    تم اور آپ کے چکر میں پھنسی الف نے دونوں ہی جملے سے نکال دیئے۔ژیہانگ کو اپنے استاد یاد آئے
    جب کسی ہم عمر سے بات کر رہے ہوں تو تم کا استعمال کرتے ہیں کسی سے بے تکلفی ظاہر کرنی ہو تو بھی ،تاہم اجنبیوں اور بڑوں سے ہمیشہ آپ کا صیغہ استعمال کیا۔جاتا ہے۔ آپ میں ادب بھئ ہے اوراجنبیت بھی۔
    تاہم اردو کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اور تم کا استعمال کیئے بنا بھی بات کی جا سکتی ہے اگر مخاطب آپکے سامنے ہو اور آپ فیصلہ نا کر پارہے ہوں کہ اجنبیت کی دیوار قائم رکھنی ہے یا گرا دینی ہے۔
    ہیں؟ الف نے اسے لفٹ کی جانب متوجہ کیا۔ مگر اشارہ اسکا اپنے سوال کی جانب ہی تھا کافی دیر سے جواب نہیں آیا تھا۔
    میں پورے تین سال رہا ہوں پاکستان میں۔ سارا سارا وقت ٹی وی دیکھتا تھا کتنے اشتہار تو مجھے منہ زبانی یاد ہیں۔ یہاں بھی پاکستان سے ہی آیا ہوں۔ سچ پوچھو تو سوچتا تھا اردو بولنے کا موقع جانے کب ملے یہ نہ ہو کہ بھول ہی جائوں ۔ مگر شکر ہے تم مل گئیں۔ وہ لفٹ کے بٹن دباتا آخر میں اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا
    اسکے جملے پر الف چونک گئ تھی مگر اسکا انداز بے حد سادہ تھا لفٹ کے بٹن دبا کر اب وہ اپنا موبائل دیکھ رہا تھا۔
    پاکستان کیسا لگا تھا آپکو؟
    اس نے اشتیاق سے پوچھا تھا مگر جواب اسکا اتنا ہی سرسری اور مختصر تھا
    اچھا تھا۔ وہ مکمل مگن تھا فون میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دس بجے فاطمہ کا فون بجنا شروع ہوا۔فاطمہ تو نہیں اسکی مستقل بجتی گھنٹی سے واعظہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔
    فاطی دیکھو کون کال کررہا۔ اس نے عینک نہیں لگائی تھی سو موبائل پر نام نہیں پڑھ پائی موبائل تھما کر دوبارہ لڑھک گئ۔
    کون ہے۔ بیزاری سے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا بنا دیکھے
    کہاں ہو تم؟ بتایا بھی تھا تمہیں کہ کائونسلرز آئیں گے ملنے اب گھر میں بیٹھے ہیں فورا پہنچو۔
    سیہون کان میں چیخا اس نے پٹ آنکھیں کھولیں۔
    اتنئ صبح۔؟ اسکے منہ سے نکلا
    سیہون فون بند کر چکا تھا
    سامنے وال کلاک دس بجا رہی تھی۔
    دس بج گئے؟ وہ حیران ہوئی پھر پلٹ کر دوبارہ خراٹے لیتی واعظہ کو جھنجھوڑ ڈالا
    اٹھا جائو دس بج گئے کسی نے اٹھایا ہی نہیں ہمیں۔۔
    اسکی آواز تھئ کہ اٹیم بم وہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔
    اس بار تو مجھے دفتر میں گھسنے نہیں دینے والے۔
    اس کو پکا یقین تھا۔ فاطمہ کے البتہ حواس بحال ہو چکے تھے سو واعظہ کے حواس بحال ہونے سے پہلے سیدھا باتھ روم کی جانب بھاگئ۔ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ پھر دھیرے سے بڑ بڑائی
    ہمیشہ دیر۔کر دیتا ہوں میں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 26

    قسط 26
    میں معزرت خواہ ہوں آپ دونوں کو ڈرا دیا میں نے۔
    یون بے ٹھیک ٹھاک شرمندہ سی تھی۔ دونوں اسے کینہ توز نظروں سے ہی گھو ررہی تھیں جان نکال دی تھی اس نے۔ اب سامنے بیٹھی انہی کے پیش کردہ سینڈوچ کو چباتے ہوئے بار بار جھک جھک کر معزرت کر رہی تھی۔
    آنیو۔ (کوئی بات نہیں۔) جس خشک انداز میں واعظہ نے کہا تھا اسکی رہی سہی جان بھی فنا ہو چلی تھی۔
    وہ دراصل مجھے آپکے گھر میں کھائے ان پکوڑوں کا ذائقہ بھولا ہی نہیں۔ مجھے نام بھی نہیں پتہ تھا ورنہ ضرور آن لائن ڈھونڈ ہی لیتی۔ اب یاد رہے گا وہ پکوڑے تھے۔ ابھی آپ کو دیکھ کر مجھے یہی بہتر لگا آپ سے براہ راست ہی ترکیب پوچھ لوں۔
    اسکی چندی آنکھیں مسکراتے ہوئے مزید چندی ہو چلی تھیں۔
    پیاز تھی ، پالک تھی اور بینگن مگر لپیٹا کس چیز میں تھا انکو؟
    بیسن ۔ یہ عروج تھئ۔ اردو میں جواب دیتی
    کارن فلور۔ واعظہ پر بدلہ لینے کا بھوت سوار تھا۔عروج نے گھور کر دیکھا مگر وہ چہرے پر نہایت پر خلوص مسکراہٹ سجائے تھی کہ یون بے کو شک بھی نہ گزرا۔
    اوہ یعنی مکئی کا آٹا۔
    اس نے جیسے خوش ہو کر چٹکی بجائی
    میں ضرور بنائوں گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واعظہ عروج اور سیہون اکٹھے ہی رات گئے گھر میں داخل ہوئے تھے۔گھر میں مکمل خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا۔تینوں کو تھکن اتنی سوار تھی کہ بس سیدھا اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے۔سیہون جب کمرے میں آیا تب ہے جن بے سدھ پڑا تھا وہ آہٹ کیئے بنا احتیاط سے تازہ دم ہونے غسل خانے میں گھس گیا تھا۔اسے پھر بھی آہٹ محسوس ہوئی کہ کیا اس نے پٹ آنکھیں کھول لی تھیں۔
    صبح اتوار تھا سب نے خوب نیند پوری کی گیارہ بجے کے قریب ان سب کے کمزور سیل جان پکڑنا شروع ہوئے۔ ایک ہی باتھ روم تھا ان سب کو ایک دوسرے کا انتظار کرتا جھگڑتا چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔سیہون کے کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھٹکا کر جھانکا پھر سٹپٹا کر بند کردیا۔ ہے جن شرٹ بدل رہا تھا اسے جھجک کر دروازہ بند کرتے دیکھ کر خود دروازہ کھولنے لگا۔ واعظہ پلٹ کر واپس فاطمہ کے کمرے کی جانب مڑ گئ تھی
    آجائیں انی ۔ہے جن نے پکارا تو پلٹی
    تم ہوجائو تیار میں بس ویسے ہی ۔۔ وہ کھسیا سی گئ تھی
    میں بس تیار ہو رہا تھا ہو گیا اچھا ہوا آپ مل گئیں رات کو تو آپ کافی دیر سے واپس آئیں۔
    وہ دروازہ کھول کر بولتا ہوا اندر کمرے میں چلا آیا ۔
    کمرے میں بس ہے جن ہی تھا
    سیہون چلا گیا نوکری پر ۔ اس نے یونہی پوچھا
    جی ۔۔ اسکا جواب مختصر تھا۔ وہ ایک طرف ہوکر اپنے بیڈ پر سے والٹ اٹھانے لگا۔
    واعظہ کی بیڈ پر نگاہ پڑی تو ٹھٹک سی گئ۔ ۔ بیڈ پر اس کا تیار بیگ رکھا تھا اس نے آگے بڑھ کر زپ بند کی ۔ واعظہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ نظر چرا کر تیز تیز بولتا گیا
    مجھے دراصل آپکو بتانا تھا میں فلیٹ سے صبح جا کر اپنا سب سامان لے آیا تھا ہیونگ(بھائی سہیون کے بارے میں بات ہو رہی ہے) سے چابی لے لی تھی میں نے ۔ ویسے تو مل کر ہی جاتا میں اس وقت ذیادہ وقت نہیں میرے پاس۔ بس کا وقت ہونے والا۔ہے میں جا رہا ہوں۔ بس مجھے آپکا بے حد شکریہ ادا کرنا تھا نونا۔ ہے جن کی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔واعظہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے آگے بڑھ کر واعظہ کے ہاتھ تھام لیئے۔
    آپ نے میرا بہت خیال رکھا میری مشکل ترین وقت میں مدد کی۔ میں آپکا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔آپ میری سچ مچ بہن ہیں میری نونا۔ آپ مجھے زندگی کی آخری سانس تک یاد رہیں گی سارانگھیئے نونا۔ اس نے اسکے ہاتھ عقیدت سے چوم لیئے۔
    کیا مطلب کہاں جا رہے ہو؟ وہ بھونچکا سی رہ گئ
    جہاں جانے سے آپ مجھے چند مہینے قبل روک کر یہاں لے آئی تھیں۔
    وہ تھکے تھکے انداز میں مسکرایا۔ اسکی رنگت بے حد زرد مگر آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ جیسے وہ یا بہت رویا ہو یا ساری رات نہ سویا ہو۔
    تم تارک الدنیا۔واعظہ کی آواز گنگ سی ہوتی گئی۔ وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہی تھی جس بچے کو وہ انگلی پکڑ کر چلا کر دنیا میں واپس لائی تھی وہ یوں ایکدم واپس دنیا چھوڑنے جا رہا تھا
    ۔تم تارک الدنیا ہونے جا رہے ہو۔ اس نے پھر تصدیق چاہی ۔ اسے شدید صدمہ پہنچا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کو تو چپ سی کھڑی رہ گئ تھئ
    ہے جن کو اس سے اسی ردعمل کی توقع تھی۔ اور یہ بھی کہ وہ پھر اسے روکے گی ساری رات اس نے وہی حیلے بہانے گڑھتے ہوئے گزاری تھی جن سے وہ اس وقت اس اچھی لڑکی کو مطمئن کر سکتا تھا مگر سب بے سود رائیگاں جاتا نظر آرہا تھا کہ وہ سب کچھ بھول گیا تھا یاد تھا تو اسے چند مہینے قبل کا وہ بس کا منظر۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے نگاہ بس پر دوڑائی تو بس ایک بچےکے برابر کی نشست خالی نظر آئی ۔وہ جھٹ اسکے پاس دھم سے آ بیٹھی۔ کھڑکی سے سر ٹکائے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائےبانہوں میں اسکول بیگ سینے سے بھینچے بیٹھا آنکھیں بند کیئے وہ سولہ سترہ سال کا لڑکاہوگا جو شائد سو رہا تھا ۔ جبھی واعظہ کے برابر آبیٹھنے پر بھی نہ چونکا نا آنکھیں کھولیں۔ پچھلی نشست سے اٹھ کر آتا وہ چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر کرخت سے چہرے والا مرد سخت بد مزا ہوا تھا
    آگاشی۔ یہ میری جگہ ہے؟۔
    اس نے بلا تکلف واعظہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے تڑپ کر اسکا ہاتھ پیچھے کیا
    ہاتھ لگائے بنا بات کریں
    وہ بھنا کر اٹھنے کو تھی کہ بے نیاز سے بیٹھے اس بچے نےبیگ پر سے ہاتھ ہٹا کر واعظہ کی کلائی تھام کر روکا۔
    یہ نشست میرے برابر ہے یہاں وہی بیٹھ سکتا ہے جسے میں بیٹھنے کی اجازت دوں گا۔
    آنکھیں پوری کھول کر جس تحکمانہ انداز میں وہ لڑکا بولا تھا اس نے اس ادھیڑ عمر آدمی کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ بکتا جھکتا وہ پلٹ گیا۔
    اسکو پلٹتے دیکھ کر ہے جن نے کلائی چھوڑی اور سابقہ انداز میں واپس سیدھا ہوبیٹھا۔واعظہ بھنوئویں اور کندھے اچکا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
    او نام کوئئ نیگا ہاسو دامیان۔
    اسکے ہیڈ فون سے آواز باہر تک آرہی تھی۔
    بی ٹی ایس۔ واعظہ کے کان کھڑے ہوئے۔
    یہ اسکا پسندیدہ گانا تھا۔
    وہ یونہی گانے سے محظوظ ہوتی گردن ہلا ہلا کر بول بے آواز گنگنانے لگی۔
    اس لڑکے نے فورا گانا بدل دیا تھا اس نے بد مزا سا ہو کر اسکے ہاتھ میں تھامے اس آئی پوڈ سے ملتے جلتے سستے سے ایم پی تھری پلیئر کو گھورا جو اسکی انگلی کی جنبش کے باعث کسی گانے پر ٹک نہیں رہا تھا۔ اسکی کلائی کے اندرونی جوڑ پر عین نبض کے قریب ایک ٹیٹو سا تھا۔ مٹا مٹا سا اسٹیکر جیسا۔ جیسے اسکو رگڑ کر اتارا جائے تو شائد اتر جائے۔ مگر اس اسٹیکر پر جو لکھا تھا اسکا مفہوم سمجھ نہ آسکا انگریزی میں سکس اور۔ آگے کچھ مٹا مٹا سا تھا
    9 لکھا ہوا تھا یہاں۔
    اسکے کہنے پر وہ جو تھوڑا سا جھک کر غور سے دیکھ رہی تھی سٹپٹا کر سیدھی ہوئی
    چھے سو ہمبندا۔۔ ( میں معزرت خواہ ہوں)
    اس نے جھک کر معزرت کی۔ جوابا وہ بچہ ہنس پڑا۔
    آنیو۔ آپ متجسس تھیں اسلیئے بتا دیا ۔ یہ میرا ماضی ہے آدھا مٹا چکا ہوں آدھا مٹا دوں گا۔ پھر میری کلائی صاف ہو جائے گی۔ وہ دھیرے سے اس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ اسٹیکر جیسا جو اتر رہا تھا وہ کھال تھی اسکی۔
    اوہ کیا کر رہے ہو۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ دوڑی تھی جھٹ اسکو ٹوکا۔
    آپکو کیا ہوا میری کلائی ہے آپ تو یوں ڈری ہیں جیسے آپکی کھال اتر رہی ہو۔
    خالص نوجوان بدتمیز بچوں والے انداز میں وہ تسمخر اڑاتا زور سے ہنسا تھا۔
    میں اپنے ساتھ اتنا ظلم نہیں کر سکتی۔ کہ اپنی کھال خود اتارنے بیٹھ جائوں۔ دنیا کم ہے ستانے کو کہ ہم خود بھی اپنے آپکو تکلیف دینے بیٹھ جائیں۔۔ہمیں تو بلکہ دنیا کے آزار سے خود کو بچانے میں اپنی توانائیاں خرچ کرنی چاہیئں ۔
    واعظہ ذرا جو بدمزا ہوئی ہو۔ اسکے اندر کی جھکی واعظ دینے کو تیار واعظہ انگڑائی لیکر بیدار ہوئی تھی۔ اسکے جملوں نے غیر محسوس سے انداز میں ہے جن پر اثر کیا تھا زخم کریدتی انگلیاں سست پڑیں۔ واعظہ مسکرا دی
    ویسے ٹیٹو تو اب اتر جاتے ہیں لیزر سے انکو یوں اتارنے کی کیا ضرورت ؟
    پیسے لگتے ہیں اس میں۔ اس نے جتایا۔پھر بیگ سے کم باپ نکالنے لگا۔
    آپ ویسے ان کاسٹیوم والی لڑکیوں کی کئیر ٹیکر ہیں کیا؟
    آپ سب سے پہلے بڑھی تھیں بس کی جانب سب سے آخر میں چڑھی تھیں
    کم باپ اسکی جانب بڑھا تے وہ سادگی سے پوچھ رہا تھا۔
    وہ یقینا اتنا بے خبر بیٹھا نہیں تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یار لڑکیاں گنو تو پتہ چلے ہر لڑکی کو پانچ منٹ بھی لگیں تو چالیس منٹ کہیں نہیں گئے۔ یار بارہ ہونے کو آئے ابھی باتھ روم سے فارغ نہیں ہوئے ہیں باہر کیا خاک پتھر جا پائیں گے
    تم لوگ کوئی پروگرام بنانا تو دور بنا بنایا پروگرام بھی برباد کرنے میں ماہر ہو۔
    یہ تقریر الف جھاڑ رہی تھئ۔ فاطمہ کا باتھ روم میں منہ بند کرکے منہ دھونا محال ہوگیا۔بھنا کر بند دروازے کو گھور کر رہ گئ۔ ۔
    یہ حساب کیسے لگایا تم نے؟۔
    عموما ایسا سوال عشنا کی جانب سے آتا تھا مگر آج عروج میتھس ٹیسٹ لینے کے درپے تھئ۔ بیڈ پر دراز موبائل پر انگلیاں چلا رہی تھی۔
    ہم آٹھ لڑکیاں ہیں ایٹ فائوز آر فورٹی۔
    الف نے چٹکئ بجائی
    ہم آٹھ کہاں رہ گئیں؟ عزہ نے انگڑائی لی
    ابیہا پاکستان چلی گئ ، نور جیل میں ہے واعظہ سیہون کے واش روم میں چلی گئ ہے لے دے کر رہ گئیں میں، تم ، عروج اور فاطمہ چار لڑکیاں۔ بس۔
    حساب کرتے کرتے وہ چونکی۔
    ایک دو تین۔ ہم تین لڑکیاں ہیں کمرے میں۔
    عروج بھی چونکی۔
    ہاں تو ایک باتھروم میں ہے نا فاطمہ۔
    الف نے مکھی اڑائی کان پر سے۔
    عروج ، عزہ ، فاطمہ، واعظہ باہر، میں ادھر نور جیل میں ابیہا پاکستان میں۔ رہ کون گیا؟
    الف نے دوبارہ گنتی کی۔
    عشنا۔ تینوں اکٹھے چیخی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا نام پکارے جانے پر وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اسکے پاس پیسے تو تھے نہیں سو قریبی پارک میں بنچ پر آ بیٹھی ۔ واعظہ کو فون ملانا تو دور موبائل کی بیٹری ہی فین میٹنگ کی تصاویر او رویڈیوز بناتے ہوئے ختم ہوچکی تھی۔
    سامنے کالے لانگ عبایا میں ملبوس بھاری تن و توش کی وہ عورت شدید حیرت سے اسے گھور رہی تھی۔
    تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
    خالہ آپ۔ نقاب میں بھی عشنا پہچان کر سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھئ
    تم یہاں کیا کر رہی ہو عشنا وہآں پاکستان میں سب سمجھ رہے ہیں کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جانے کیا اجزاء ہوں کم۔باپ کے اس نے بہت سلیقے سے معزرت کر لی تھی۔وہ کندھے اچکا کر کھانے لگا بڑے بڑے نوالے۔ واعظہ ٹوکتے ٹوکتے رہ گئ۔ انکا رواج ہی اور تھا ۔ ہم جسے بدتہذیبئ بد تمیزی سے کھانا گردانتے وہ انکی ریت تھی۔ چھوٹے سے دہانے میں پورا کم۔باپ ڈال کر کلے پھلا کر کھاتا وہ بالکل بھالو لگ رہا تھا اس نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔ ہے جن نے گہری نگاہ اس پر ڈالی تھی اسکی حرکت چھپی نہ رہ سکی تھی
    آپ پڑھتی ہیں؟ وہ یونہی پوچھ بیٹھا۔
    ہاں۔ اس نے سر ہلایا۔ ماسٹرز کر رہی ہوں اور
    تم تو اسکول میں پڑھتے ہوگے؟ اس نے حسب عادت لمبی بات کی۔
    ہاں ہائی اسکول کا طالب علم ہوں ۔ چھٹی پر گائوں جا رہا ہوں۔ آپ اور آپکی بچیاں بہت مختلف سی لگ رہی ہیں
    آپ لوگ کسی کاسٹیوم پارٹی پر جا رہی ہیں۔۔
    بڑی دیر سے متجسس ہے جن پوچھ ہی بیٹھا۔۔
    آنیو۔۔ واعظہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔
    صبح صبح کونسی کاسٹیوم پارٹی۔۔
    واعظہ ہنسی۔۔
    پھر یہ کیا پہنے ہیں۔؟ اس نے اچک کر عزہ اور نور کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔۔
    اچھا یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ مزہبی لباس ہے انکا۔۔
    واعظہ کو سوجھا نہیں کہ عبایا کو انگریزی میں کیا کہے۔۔۔۔
    ہے جن ہائی اسکول کا طالب علم تھا سیول میں پڑھتا تھا ہفتے کے آخر میں اپنے گائوں جا رہا تھا سیول میں بھی اسکول جانے والے بچے انگریزی پڑھتے اور سیکھتے ہیں اتنی کہ ہماری طرح بات کر ہی سکتے ہیں۔۔ تھوڑا سوچ کر سہی۔
    ہمم۔ تو یہ اسلامی نن ہیں۔ جیسے کرسچنز کی نن ہوتی ہیں ویسی یہ ڈیوٹڈ ہیں اسلام کیلئے۔۔
    ہے ان نے اندازہ لگایا پھر تصدیق چاہنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔۔
    نہیں ڈیوشن کا کانسیپٹ اسلام میں نہیں ہے۔ بس یوں کہہ لو یہ مزہبئ ہیں مگر اسلام آپکو دین کیلئے دنیا چھوڑ دینے کا درس نہیں دیتا۔۔ ہم عام زندگی گزارتے ہیں مگر اسلامی اصولوں کے ساتھ۔۔
    واعظہ نے اپنی طرف سے مدلل جواب دیا۔۔
    خیر ۔۔ ہے جن نے گہری سانس لی۔۔
    میں بھی ڈیووٹ کردوں گا خود کو اگلے کچھ سالوں میں میں خود کو نارنجی چولے میں مالائیں گلے میں ڈال کر سر منڈوائے کسی ویران پہاڑی پر آسن جمائے بیٹھا دیکھتا ہوں۔۔
    آنکھیں بند کرتا وہ جیسے سچ مچ خود کو بدھ مت کا راہب بنا تصور کر رہا تھا جیسے۔۔
    یہ تصور اتنا روشن تھا کہ ایک لمحے کو واعظہ بھی خود کو کسی ویران پہاڑی پر ایک سترہ سالہ گنجے
    نارنجی لبادے میں ملبوس راہب کے سامنے بیٹھا محسوس کرنے لگئ۔۔
    نہیں۔۔
    اس نے جھر جھری لی اور چونک کر جے ہن کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ آنکھیں بند کیئے جے ہن کیلئے بھی تصور اتنا روشن تھا کہ اسکی چندی آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے تھے واعظہ کا دل موم ہوگیا۔۔
    بمشکل سولہ سترہ سال کا دبلا پتلا سا ہے جن جسکی مسیں بھئ ابھی پوری نہ بھیگی تھیں ہلکا سا ہی رواں تھا ابھی جوانی ڈھنگ سے آئی نہیں تھی اور دنیا تیاگ دینے کو تیار بیٹھا تھا۔۔
    نہیں منے میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔
    واعظہ کے اندر کی بڑی بہن جاگ اٹھی تھی۔۔
    واٹ؟۔ منا آنکھیں کھول کر ان جملوں کو سمجھنے کی ناکام کو شش کرنے لگا تھا۔۔
    دے ؟
    میرا مطلب ہے تمہیں کیا پڑی ہے ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے تمہاری ابھی تو تمہاری عمر کے لڑکے کھیلتے کودتے پھرتے ہیں لڑکیوں کے چکر میں پڑتے ہیں پڑھائی مکمل کرتے ہیں کیریر بناتے ہیں تمہیں کیا پڑی ہے اپنی زندگی برباد کرنے کی یوں دنیا تیاگ کر۔ وہ جوش سے کہتی چلی۔گئ۔
    آپ نہیں جانتی زندگی کتنی دشوار ہے میرے لیئے۔
    یہ جملہ اس سترہ سال کے بچے کے منہ سے پھسلاتھا۔
    بریک اپ۔ واعظہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں اندازہ لگایا تھا اور اسکے خیال میں یہ اندازہ سو فیصد درست تھا۔
    میرے لیئے زندگی نے بس دو راستے چھوڑے ہیں۔ یا تو میں بے غیرتی کا تر نوالہ اڑائوں یا عزت کی روٹی کھائوں جنگلوں میں دنیا سے کٹ کر بدھا کی عبادت میں اپنے دانستہ نادانستہ گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے۔ اب دنیا میں رہنے کے قابل نہیں رہا میں ۔
    اسکا انداز چٹخا ہوا سا تھا۔
    یہ کیا بات ہوئی۔ سیول میں کہاں رہتے ہو؟
    اسکی ہمدردانہ طبیعت جوش ما ررہی تھی
    کہیں نہیں ۔ وہ ہنسا۔ میرا سیول میں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔
    اوہ یعنئ رہائش کا مسلئہ ہے؟ سیول میں؟ پڑھتے نہیں ہو کیا اسکول میں تم؟ نوکری کرو۔ پڑھائی کا خرچ اٹھائو جوان بچے ہو کیا کمی ہے زندگی میں؟ اگر رہائش کا بہت مسلئہ تو میں انتظام کر دیتی ہوں میرا ایک فلیٹ ہے سیول میں تم وہاں رہو۔ ویسے ہے تو چھوٹا سا ہم لڑکیاں بھی بہت ذیادہ ہیں ۔مگر کچھ نا کچھ انتظام ہو ہی جائے گا۔ تم بس پڑھائی پر توجہ دو صبح اسکول جائو شام کو جاب کرو سب بچے یہی تو کرتے اتنے مایوس کیوں ہو تم؟
    حسب عادت اپنے ذہن سے اسکے مسائل کا اندازہ لگا کر وہ جھٹ پٹ حل نکالنا شروع ہوگئ تھی۔
    آپ مجھے رکھیں گی اپنے گھر؟ کتنا چارج کریں گی؟ ویسے میں چھوٹا سہی مگر ۔۔۔ اتنا چھوٹا نہیں۔۔
    اسکی بات اسکا انداز واعظہ کے سر پر سے گزرا تھا۔
    آپ ویسے اتنی بڑی تو نہیں ہیں آپکو تو کوئی اچھا بوائے فرینڈ بھی مل جائے گا۔ آپ مجھے کیوں رکھنا چاہتی ہیں۔؟
    وہ استہزائیہ کہہ کر خود ہی جیسے خود پر ہنسا۔
    کیا مطلب اسکا اس بات سے کیا تعلق؟
    وہ الجھئ۔۔
    مطلب بنا مطلب تو آپ مجھے نہیں رکھنے والی ہیں نا؟ میں آپکے مطلب کا ہوں کیا؟ آپ مجھے رہائش دیں گی تو مجھے آپکا مطلب پورا کرنا ہوگا ہے نا۔
    وہ کھل کر بولا انداز استہزائیہ سا تھا زن سے واعظہ کے دماغ میں جیسے کوئی گولی سی گزری تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بے ہنگم شور کے باعث بس الٹتے الٹتے بچی تھی۔ عروج نے اس ادھیڑ عمر آدمی کو فوری طبی امداد دی واعظہ کی توجہ بٹ گئ تھی عروج کی مدد کرواتے ایمبولنس کی آمد تک وہ اور عروج ایک دوسرے سے نامانوس زبان میں باتیں کر رہی تھیں وہ بہت غور سے اسے دیکھتا رہا تھا۔ایمبولنس کی آمد پر جب مریض کو اسٹریچر پر ڈال کے لے جا رہے تھے واضح طور پر اس نے اسے سکھ کا سانس لیتے دیکھا تھا۔ اسکے ساتھ آئی لڑکیاں اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں ایک اسکے کندھے سے جھول کر کچھ کہہ رہی۔تھی تو دوسری اسکا بازو کھینچ کر کچھ بتا رہی تھی۔ اسکی پیشانی پر بل تک نہیں تھا۔ وہ ہنستے ہنستے سر ہلانے لگی تو سب ایکدم سے ہنستی ہوئی اس سے آلپٹی تھیں۔ وہ بھی ہنس دی تھی۔ اسے ہنستا دیکھ کر اسکے اپنے چہرے پر مسکراہٹ در آئی تھی۔ اور احساس ہوتے ہی مدھم بھی پڑ گئ۔ وہ لڑکی عجیب تھئ اس سے چند سال بڑی ہوگی مگر بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسی اسکی ماں ہی ہو۔ اب تک کی زندگی میں اسے ٹکر جانے والی پہلی انسان جس نے اس کو بچہ سمجھا ۔ سترہ سال کا بچہ؟ عجیب ہی تھی۔
    بس روانہ ہونے کو تیار ہوئی سب جھٹ پٹ بس میں سوار ہونے لگے۔ اسے یقین تھا اب وہ اسکے پاس والی نشست پر نہیں آکر بیٹھے گی۔ سو آرام سے اس نشست پر اپنا بیگ رکھا۔ وہ بچہ اور اسکی ماں جس طرح اسے گھور رہے تھے عزہ کیلئے دوبارہ وہاں جا بیٹھنا ممکن نہ تھا ۔
    واعظہ تمہاری جگہ میں بیٹھنے لگی ہوں۔
    عزہ نے اردو میں ہانک لگائی ۔ اسکے مطابق واعظہ نے اس لڑکے کو شرافت ٹیسٹ میں پاس کر دیا تھا۔ سو اسکے ساتھ بیٹھا جا سکتا تھا لیکن جیسے ہی وہ اس نشست کی۔جانب بڑھی جانے جان بوجھ کر یا اتفاقیہ ہے جن نے اپنا بیگ ساتھ والی نشست پر رکھ دیا وہ بد مزہ ہو کر اسے گھورتی واپس اپنی جگہ چلی آئی۔ واعظہ حسب عادت سب سے آخر میں چڑھی ان سب کو گن کر سیدھا اپنی نشست کی جانب بڑھی ہے جن کا بیگ اٹھا کر اسکی گود میں پٹخا اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں
    میں نے سوچا ہے کہ تمہیں رکھ لوں اپنے پاس اپنے مطلب کیلئے۔
    وہ سنجیدگی سے کہتی اسکے پاس بیٹھ گئ۔
    مجھے۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر واعظہ نے موقع نہیں دیا
    میں نے بہت سوچا دماغ سے۔۔ وہ سانس لینے رکی ہوگی
    کب ؟ کس وقت۔ اس نے مزاق اڑانا چاہا۔ مریض کو اسٹریچر پر ڈالتے وقت جو عروج کو سینیٹائزر تھما رہی تھی بیگ سے نکال کر تب ؟ یا سہیلیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے وقت۔
    ۔ اور فیصلہ دل سے کیا ہے۔ مجھے تم اچھے لگے ہو دل سے سو میں تمہیں پیشکش کرتی ہوں کہ میرے گھر میں آکر رہو۔ میرے چھوٹے بھائی بن کر۔ وہ کہہ کر مسکرا دی
    میں نہیں کوئی بھائ۔
    وہ تیزی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چونکا۔ یہ کیا۔کہہ رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ابھی تارک الدنیا نہیں ہورہا۔ میں خود کو سوچنے کا مزید وقت دینا چاہتا ہوں۔ اسلیئے فی الحال سیول سے جا رہا ہوں۔
    اس نے رخ پھیر کر اپنا انداز سادہ رکھ کر وضاحت دی مگر پھر جب واعظہ کا کوئی ردعمل نہ آیا تو چور سی نگاہ اس پر ڈالی۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔
    نونا مت روئیں۔ وہ تڑپ سا گیا۔ اس نے بے دردی سے آنسو پونچھے۔
    تم ان سب کی وجہ سے جا رہے ہو نا ۔مت جائو ۔ تم ہماری وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کرو چھے بال۔ ( پلیز)
    تم یہاں کسی ہاسٹل میں شفٹ ہو جائو پلیز مت جائو میری غلطی ہے میں تمہیں ہم سب میں لے آئی تم مت گھبرائو کچھ نہیں ہوگا تم بڈھسٹ ہی رہو گے ہے جن۔۔
    پلیز اپنے ساتھ ایک اور ظلم مت کرو تم پڑھ لوگے تو زندگی بدل جائے گی تمہاری ہے جن۔
    وہ منت بھرے انداز میں اسکو کہہ رہی تھی۔ اسکیلئے بلک رہی تھی۔ اس نے بانہوں میں بھینچ لیا ۔
    نونا میرے امتحان ہو چکے ہیں ۔اور آگے کیلئے میں نے تبادلے کی درخواست دی ہے پکا وعدہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں گا۔میں گائوں کے اسکول میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھوں گا مت روئیں چھے بال۔
    تم کیوں جا رہے ہو مت جائو نا۔
    اسکے کہنے پر اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ بکھر گئ۔
    نونا مجھے خود کو جاننا ہے میں کیا چاہتا ہوں میں اس وقت بہت مخمصے میں ہوں۔ میرا دل و دماغ بہت الجھا ہوا ہے مجھے کچھ وقت اس سب سے دور اپنے آپ کے ساتھ گزارنا ہے ۔شائد میں اپنی زندگی کا بہتر رخ دیکھ سکوں ۔مجھے مت روکیں نونا۔
    اسکا انداز التجائیہ ہوا تو اسکی ہچکیاں تھمنے لگیں۔بہت حوصلے سے وہ اس سے الگ ہوئی۔ اپنا بیگ اٹھاتا وہ تیزی سے کمرے سے نکلا کہ کہیں باقیوں سے ٹاکرا نا ہوجائے۔ فی الحال سب کمرے میں ہی بند تھے
    عزہ سے تو مل لو۔ اسے تیزی سے بیرونی دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ کر واعظہ نے کہنا چاہا۔اسکے قدم سست پڑے مگر وہ نا پلٹا ذرا سا رک کر بولا۔
    عزہ نونا کو سوری کہہ دیجئے گا میری جانب سے۔ میں ان سے نگاہ نہیں ملا پائوں گا۔ وہ بہت اچھی ہیں انکو ذرا سا جھوٹ برداشت جب انکو پتہ لگے گا کہ میں ہی سراپا جھوٹ ہوں تووہ سہہ نہیں پائیں گی۔ اپنا خیال رکھیئے گا نونا اللہ حافظ۔
    وہ کہہ کر تیزی سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔ واعظہ بس دیکھ کر ہی رہ گئ تھی اسے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپی یہ تھی میری اصلیت یقینا قابل فخر نہیں تھی اگر آپ جانتیں تو کیا تب بھی مجھے اپنا سمجھ پاتیں؟ نہیں نا بس اسی لیئے اپنا ماضی چھپاتا رہا آپ سے آپ مجھ سے
    ناراض ہیں نا ؟ مجھ سے خفا ہیں آپکو ہونا بھی چاہیئے میں اسی لیئے معافی مانگ رہا ہوں معاف کر دیں پلیز خود کو۔ خود پر اپنی سادگی پر آپکو غصہ آرہا ہے نا آپی آپکا قصور نہیں یہ دنیا مجھ جیسوں سے بھری پڑی ہے آپ جیسے لوگ کم ہیں خو دکو نا بدلیئے گا۔ ۔ جو ہوا اس میں آپ کی کہیں کوئی غلطی نہ تھی۔ آپی۔بس یہ جان لیں کہ ایک بدکردار بد قماش انسان آپکو دھوکا دے گیا مگر اس بات پر خود کو بدل کر انسانوں پر اعتبار کرنا مت چھوڑ دیجئے گا۔
    دراصل انی ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم اپنے آپ میں کچھ پیمانے رکھتے ہیں لوگوں کو ناپنے کے انسانوں کو جانچنے کے پھر اس میں کمی بیشی آ جانے پر ہم اپنے آپکو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ ہم نے صحیح نہیں جانچا غلط ماپا مگر دراصل غلط وہ پیمانہ ہوتا جو صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کیلئے ہم نے تھام رکھا ہوتا ہے۔ یہ کام انسانوں کے بس کا ہوتا توجنت کا تصور ہی نہ رہتا۔ ہے نا؟ سب سزا دیتے منصف بن کر سب مجرم ٹھہرتے کسی نا کسی کی عدالت میں۔۔
    میں آپکی عدالت میں مجرم ہوں اور اپنی عدالت میں بھی سب قصور میرے نکلتے ہیں سو معافی کا طلبگار ہوں۔ ایک جرم آپکا بھی ہے میں اس پر معافی بھیج رہا ہوں مگر آپکو ملے گی تب جب آپ اپنا جرم جان جائیں گی۔
    ہے جن ۔۔

    خط پڑھ کر طوبی نے گہری سانس لی تھی۔ناشتے کی میز پر دلاور نے خط لا کر اسے دیا تھا ۔ بچے اتوار کی وجہ سے سو رہے تھے اس نے بھی انکو سونے دیا دونوں میاں بیوی ناشتہ کرنے کیلئے اٹھ گئے تھے۔ دلاور اخبار لینے بیرونی دروازے پر گئے تو چوکھٹ سے اندر انہیں زمین پر پڑا ملا ایک سفید لفافہ۔ لفافے پر نام نہیں تھا سو انہوں نے کھول لیا دو پرچے نکلے تھے انہوں نے تجسس میں پڑھ تو لیا مگر پھر سوچ میں پڑے وہیں کھڑے رہ گئے ۔ طوبی ناشتہ میز پر لگا کر آوازیں دینے لگی تب چونکے۔گہری سانس لیکر کچھ سوچا۔ پھر طوبی کو لفافہ لا تھمایا۔ طوبی نے پوچھا بھی کس کا خط ہے مگر انہوں نے یہی کہا کہ خود پڑھ لو ۔ دلاور بہت غور سے اسکا چہرہ دیکھ رہے تھے
    یہ۔خط آپکو کہاں سے ملا؟ ۔ لفافے سے نکلنے والا پرچہ احتیاط سے لفافے میں ڈالتے ہوئے اس کا انداز سرسری سا تھا۔
    دروازے پر پڑا تھا۔ تم نے معاف کردیا ہے جن کو؟
    دلاور نے بے صبری سے پوچھا۔
    ظاہر ہے۔ پتھر دل تو نہیں ہوں۔معاف ہی کرنا ہے ابھی تو غصہ کم ہوا ہے میرا ختم نہیں۔ ہاں مگر اب پہلے جیسا سب کچھ تو نہیں ہو سکتا جب تک میرا دل صاف نہ ہو جائے۔ بھئ ایسی بھی کیا بات تھی کہ جھوٹ پر جھوٹ گڑھو۔ اور بھئی میری بھی غلطی نکال دی بلکہ کرائم یعنی جرم نکال دیا میرا ۔ ہاں بھئ سب صحیح میں غلط ہوں جسکو سادہ سمجھ کر جسکا جو دل چاہے سلوک کرے۔۔
    وہ بھنا گئ تھی اسکے آخری جملے پر۔اسکے بھنانے پر دلاور ہنس ہی پڑے۔ جوابا وہ اور خفا ہوئی
    ہاں اب یہ رہ گیا کہ آپ بھی مزاق اڑائیں میرا۔ شرافت کا زمانہ ہی نہیں بھئ۔ خیر کب آرہی ہیں یہ لوگ واپس آپ نے پتہ کیا تھانے میں؟ کتنے دن بے چاریوں کو انکے اپنے ہی گھر آنے نہیں دیں گے؟
    معاملہ تو نمٹ گیا اب تو آسکتی ہیں یہ لوگ واپس گھر میرا خیال ہے عید کی وجہ سے دیر ہوئی ہے انہیں۔
    دلاور لقمہ توڑتے ہوئے بتا رہے تھے
    ہممم۔ میں نے غصے میں کل دھیان ہی نہیں دیا فاطمہ عروج واعظہ ان کی بھئ تو دعوت تیار کی تھی اتنا کھانا بچا ہے۔ اگر آج آجاتیں تو انکو گھر ہی۔بھجوا دیتی کھانا پکانے سے بچ جاتیں۔
    وہ حسب عادت بڑ بڑا بڑ بڑا کر سوچ رہی۔تھی
    دلاور ان سے بے نیاز کسی سوچ میں گم تھے۔
    میں چائے لیکر آتی ہوں۔ وہ دم پر رکھی چائے نکالنے اٹھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔
    جاری ہے