رجسٹرار کے پاس ایک نیا بیاہتا جوڑا بیٹھا تھا ۔
رجسٹرار دونوں کو حیران نظروں سے گھورے جا رہا تھا۔۔
وجہ یہ نہیں تھی کہ پہلی بار کسی کوریائی نے غیر ملکی لڑکی سے شادی کی تھی بلکہ وجہ ایسی کسی بھی شادی میں جو نئے بیاہتا جوڑے کے چہرے پر رونق اور چمک ہوتی ہے اسکا فقدان ہونا تھی۔ اور یہ وجہ تو چلو اتنی بڑی نہیں مگر جس طرح دونوں دانت پیس کر ایک دوسرے کو گھور رہے تھے وہ تھی وجہ۔۔
خیر دونوں نے دستخط کر کے قلم پٹخا اور فورا سے پیشتر اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
آپ دونوں کو بہت مبارک ہو۔میری دعا ہے آپ دونوں کا ساتھ مرتے دم تک قائم رہے اور خدا آپکو خوبصورت بچوں سے نوازے آمین۔۔
چندی آنکھوں والا اپنی نشست سے اٹھا اور مخصوص کوریائی انداز میں جھک کر کہتے ہوئے ہاتھ ملانے لگا لڑکی نے تو کھا جانے والی نظر سے گھورنے پر اکتفا کیا مگر لڑکے نے جلدی سے ملا لیا ہاتھ مبادا کہیں لڑکی گھور گھور کر جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی ہے کہیں سچ مچ ہی کچا نا چبا جائے۔۔ مگر
رجسٹرار نے کوئی نئی انوکھی بات نہیں کی تھی۔ ہر شادی کے اندراج کے بعد جوڑے کو نیک تمنائوں کے ساتھ مبارک باد دینا اسکا کام تھا۔۔
مگر یہ جوڑا تھوڑا مختلف تھا۔۔وہ کھسیا کر انکی شادی کی دستخط شدہ فائل کو کھول کر دیکھنے لگا۔۔
کیا کہا اس نے؟۔۔ لڑکی نے غصے سے لڑکے سے انگریزی میں پوچھا تھا۔
لعنت بھیج رہا ہے ۔۔ لڑکا بڑبڑایا۔۔
کیا؟۔ لڑکی حلق کے بل چلائی تھئ پورے دفتر میں لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئ۔۔
اسکی جرائت کیسے ہوئی یہ جانتا نہیں میں کون ہوں ابھی ۔۔۔ابھی اس کی تقریری جاری تھی سیہون نے گھبرا کر دیکھا تو سب انکی جانب متوجہ تھے کچھ تو منہ کھول کر دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ تو لڑکی کے چلانے سے پہلے سے گھور رہے تھے۔۔ دو ملکوں کے لوگ شادیاں کرتے ہی ہیں مگر یہ اور ایسی شکل کے لوگوں کو پہلی بار اکٹھے دیکھا کم از کم وہا ں حاضر لوگوں نے۔۔
شٹ اپ۔۔ وہ آواز دبا کر دانت کچکچا رہا تھا۔۔
معزرت ۔۔ سیہو ن جھک کر کوریائی انداز میں سب سے معزرت کر نے لگا پھر سیدھا ہو کر لڑکی سے بولا۔۔
ہماری شادی شدہ زندگی کے لیئے نیک تمنائوں کا اظہار کر رہا ہے احمق۔۔ اور تم تھوڑی دیر کیلئے منہ بند نہیں رکھ سکتیں۔۔
نہیں میرا منہ ہے میرا جب جو دل چاہے گا بولوں گی۔۔ تم اس سے پوچھو طلاق کا کیا طریقہ کار ہے ۔۔
لڑکی اسکے غصے کو خاطر میں نا لائی بلکہ مزید تیز ہو کر دبنگ انداز میں بولی تھی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
ابیہا کی امی کا فون آیا تھا انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی فورا اسے واپس آنے کو کہہ رہی تھیں۔۔ ابیہا فون سنتے ہی تڑپ اٹھی تھی۔۔ جھٹ کال ملا کر اگلی فلائیٹ دبئی کی بک کروا لی تھی۔۔پھر بیٹھ کر رونا شروع کردیا۔۔
سحری تیار کرتے ہوئے وہ سب باری باری اپنی سی کوشش کر رہی تھیں اسے خاموش کرانے کی۔۔
الف نے اسکا کندھا سہلاتے ہوئے دلگیری سے کہا۔۔
دیکھو اب تم اتنی دور ہو چاہ کر بھی فورا انکے پاس نہیں پہنچ سکتی ہو۔سحری تو کر لو۔۔
نور نے سر پیٹ لیا۔۔ دانت پیس کر بولی
یہ تم دلاسہ دے رہی ہو یا اسے مزید پریشان کر رہی ہو۔۔
فاطمہ کو خوب موقع ملا تھا۔ہنس کر بولی
ایک بار کائی نے آکٹوپس کھایا تو وہ اسکی زبان سے چپک گیا تو جہاں سب میمبرز گھبرا کر اسکو مشورے دینے لگے تو سیہون نے ہنس کر اسے کہا اب تمہاری زبان پر سے جب کیکٹس اترے گا ٹیسٹ بڈز بھی ڈیمج کرکے اترے گا کچھ عرصے تک کسی چیز کا ذائقہ محسوس نہ ہوگا ہاں یہ ہے کہ ٹھیک بھی ہو جائے گا مگر سنا ہے آکٹوپس کے ڈنک ہمیشہ چبھے بھی رہ جاتے ہیں۔۔
عروج نور اور اب تو ابیہا بھی اسے منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں بھلا کیا مقصد ہوا اس بے وقت کی راگنی کا۔ الف کے البتہ تلوے سے لگی آگ اور سر پر جا بجھی۔۔چبا چبا کر بولی
جن اور جنگ کوک کا قصہ یاد ہے کسی کو جب جنگ کوک کو بخار چڑھا تھا تو جن اسکے سرہانے ساری رات بیٹھا رہا تھا مگر صبح جب تائی ہیونگ آیا توجن کو کہنے لگا جنگ کوک بیمار ہے اور تمہارے لگائو سے چڑتا بھی ہے تو تمہیں اس کے قریب رہ کر مزید اسے پریشان نہیں کرنا چاہیئے۔ جن کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے مگر وہ اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔
اب اس بات کو بتانے کا کیا مقصد۔۔عروج پوچھے بنا نا رہ سکی۔
ایکسول کو فالتو بولنے کی عادت ہوتی سوال گندم تو جواب گنا یہ ڈی او کی تربیت ہوتی ہے انکی۔۔ فاطمہ نے کندھے اچکائے
اور آرمی ہمیشہ نا قدرے بے قدرے سنگدل ہوتے ہیں کچھ بھی۔۔۔۔
الف کی ریل گاڑی چل نکلی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پراٹھے واعظہ بنا رہی تھی تھپ تھپ ہاتھ پر بڑھاتی وہ دو مرتبہ تو ہے جن کو لگا فرائی پین پر ہی ہاتھ رکھ گئ ہے مگر اسکی چیخیں نہیں نکلیں تو سمجھا جا سکتا تھا کہ یا تو وہ آگ پروف ہے یا خود ہی جلی بھنی ہوئی اتنا ہے کہ اب باہر کی آگ اثر نہیں کرتی۔۔
ہے جن کی خوشبوئوں سے یا چہل پہل سے آنکھ کھل گئ تھی سو کیٹر پلر زرا سا سر باہر نکالے موبائل میں مگن تھا۔۔
الف اور فاطمہ کی کمرے میں گھمسان کی جنگ چھڑی ہوئی تھی عروج کان دباتی باہر نکلی تو ہے جن نے پوچھ ڈالا
یہ کس بات پر بحث چل رہی ہے؟
کورین خود اتنی اونچی آواز میں بات کرنے کے عادی ہوتے کہ اسے کوئی عجیب بات لگی ہی نہیں۔۔
اس بات پر کہ سخت دل ایکسول ہوتے یا آرمی۔۔
عروج نے کندھے اچکائے ہے جن حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا
واقعئ مجھے تو لگا تھا ہم کورینز سے زیادہ عجیب اور پاگل لوگ نا ہونگے اور بھی کارٹون ہیں بستے بھئی۔۔
وہ ہنگل میں بڑ بڑایا تھا۔۔
یار ان سب سے کہو بھاگ کر آجائیں وقت کم رہ گیا ہے
واعظہ نے مڑ کر عروج سے کہا تو وہ دونوں ہاتھ اوپر کرتی بولی۔۔
نا بابا اس جنگ و جدل سے مجھے پرے ہی رہنے دو۔۔
عشنا یار تم جا کر بلا لائو۔۔
واعظہ نے منت کرنے والے انداز میں کہا تووہ ٹھنڈی ساسنس بھرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اب دوبارہ کس بات پر لڑائی ہو رہی؟
آخری پراٹھا اتارتے ہوئے واعظہ کا انداز سرسری تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دیکھو، یہ دیکھو۔۔
دو عدد چھے چھے انچ کے موبائل اسکی آنکھوں کے سامنے تھے دونوں پر الگ الگ ویڈیوز چل رہی تھیں دونوں گانوں میں کالے لمبے چغے پہنے لڑکے چیخ رہے تھے
ایک ہی کی آواز آتی تو شائد اسکے پلے کچھ پڑتا مگر دونوں کی فل والیم میں آوازیں دائیں بازو پر الف جھکی تھی بائیں پر فاطمہ اور ۔۔۔
تم دونوں مجھے دکھا کیا رہی ہو۔۔
عشنا کو دونوں نے کھسوٹ ڈالا یہ دیکھو یہ دیکھو کرکے بیچاری چلا اٹھی۔۔
یہ کہ نقلچی ہے کون۔۔ ایکسو نے ڈارک تھیم پر یہ ویڈیو پہلے بنائی تھی اور انکا گانا ہٹ گیا ملینز ویوز ہیں اور یہ بی ٹی ایس پوری کی پوری ویڈیو کاپی کر کے انکی محنت چوری کرکے ویوز۔ الف کی سانس پھول رہی۔تھی
اور یہ دیکھو ایکسو نے پوری کی پوری ویڈیو یہ اس انگریز بیںد کی کاپی ماری تھی سب سے پہلے مغرب نے ہی ڈارک تھیم پر ویڈیوز بنانی شروع کی تھیں ایکسو نے حقوق لے رکھے کیا وہ جتنی مرضی نقل کر لیں انکے سوا کوئی ڈارک تھیم پر ویڈیو نا بنائے گا؟۔۔ فاطمہ کا جوش بھی عروج پر تھا بات کاٹ کر شروع ہو چکی تھی۔۔
اف خدایا بس کرو پاگل کردوگی تم دونوں ہمیں۔۔
نور نے سر پکڑ لیا تھا۔۔ اسکے بھنانے پر دونوں یکدم
چپ ہوئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جن اب بستر سے نکل چکا تھا اور دسترخوان لگا رہا تھا۔۔
بے چارہ انکی اس ہڑ بونگ جو صبح سحری کے نام پر یہ سب مچایا کرتی تھیں میں سو تو پاتا نہیں تھا لہزا انکی مدد کروا کر ثوب کمانے لگا تھا۔۔ نا شتہ کرکے تھوڑا بہت پڑھتا پھر اسکول نکل جاتا تھا۔۔
گرم پراٹھے آملیٹ رات کا بچا چنے کا سالن اور گرین ٹی اسکی عادت انکو یہیں آ کر پڑی تھی کیونکہ کالی ٹی آسانی سے دستیاب ہوتی نہیں تھی۔
خلاف معمول سب خاموشی سے آکر بیٹھ گئ تھیں
ہے جن نے گنتی شروع کی سب موجود تھیں سوائے عزہ کے اعزہ نونا کو تو جگا دیں۔۔
اسے اپنی بہن کا خوب خیال تھا بھئ۔۔
ہاں عزہ کو تو اٹھا ئو۔۔ واعظہ کہتے ساتھ ہی نوالہ چھوڑ کر اٹھنے لگی تو نور نے ہاتھ پکڑ کر روکا
اس نے روزہ نہیں رکھنا ۔۔ اس نے کان میں چپکے سے کہا۔۔
پھر ہے جن کو دیکھ کر انگریزی میں بتایا
وہ آج سحری نہیں کرنے کا ارادہ رکھتی۔۔
اب یہ زومعنی جملہ تھا روزے کا زکر نہیں تھا۔ ہے جن سر ہلا کر ناشتے میں مگن ہو گیا۔
اسمیں اتنی رازداری برتنے کی کونسی بات۔۔
عروج ہنسی
رکھنا تو تم نے بھی نہیں تھا روزہ کیوں اٹھ کے بیٹھی ہو؟
واعظہ نے کہا تو عروج نے سستی سے جواب دیا اب کھا کر سوئوں گی تو اٹھوں گی تھوڑی بس اسپتال جاتے وقت اٹھوں گی۔
جانے کس منحوس گھڑئ یہ الفاظ منہ سے نکلے تھے اسکے
کہ۔۔
تم ابیہا کو ائیر پورٹ چھوڑنے نہیں جائوگی؟
الف نے یوں کہا تھا جیسے ایسا نہ کر کے وہ کسی بڑی سعادت سے محروم رہ جائے گئ۔۔ عروج کھسیائی تو ابیہا کو وہیں اپنا جانا یاد آگیا دوبارہ اسی کیفیت میں پہنچ کر جس کیفیت سے فاطمہ اور الف کی لڑائی نے باہر نکالا تھا منہ تک لے جاتا نوالہ واپس پلیٹ میں رکھ دیا ۔ سب الف کو گھور کر رہ گئیں۔ الف میں نے کیا کیا کے مصداق معصوم سئ شکل بنا کر سحری ٹونگنے لگی۔
میں کافی بنانے جا رہی ہوں اور کسی نے پینی ہے ۔
اس سے پہلے کہ باقی سب سحری کرنے پر اصرار کرتیں ابیہا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ واعظہ کا ہاتھ سب سے پہلے کھڑا ہوا تھا۔۔وہیں ایک اعتراض بھئ اٹھ کھڑا ہوا
انی آپ لوگ سارا دن کچھ کھاتی پیتی نہیں ہیں کافی مت پیا کریں پیاس لگتی ہے اس سے۔۔ بڑا سا نوالہ منہ میں بھرے ہے جنپ نے مخصوص کوریائی انداز میں بات کی تھی اور وہیں اسکے حلق میں نوالہ پھنسا
کھوں کھوں۔۔
اسے کھانستے دیکھ کر عزہ نے فورا گلاس پانی کا پیش کیا مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے نیلا پیلا ہونے لگا بلکہ لال ٹماٹر بھی۔۔
اف ۔ان سب کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔۔ ابیہا اسکی پشت پر مکیاں مار رہی تھی تو نور کا بروقت زہن چلا۔۔ انگلی سے چھت کی جانب اشارہ کرکے بولی
وہ دیکھو اوپر چڑیا۔۔
سوائے جن کے سب نے اوپر دیکھا۔۔ کیونکہ موصوفہ نے نا انگریزی نا ہنگل بلکہ حسب عادت اردو میں بولا تھا۔۔جوابا وہ جھلائی۔۔
اوہو تم لوگ نہیں جن کو کہا ۔۔جب بچپن میں نوالہ پھنستا تو سب بڑے ایسے ہی کہتے تھے نا۔۔
مگر وہ اردو میں ہمیں کہتے تھے جن کو خاک سمجھ آنی۔۔ عزہ نے دانت پیسے۔۔ جن کی کھانسی تھمی گہری سانس لینے لگا۔ اور اپنے کندھے سہلانے بھی لگا ۔۔ ابیہا کا ہاتھ کافی بھاری تھا۔۔
اسی لیئے بڑے ہمیں کھانے کے بیچ بات کرنے سے منع کرتے تھے۔ عشنا مدبر بن کر بولی
اور نوالے بھی چھوٹے لینے کا کہتے تھے۔ نور نے تاسف سے جن کی لال شکل دیکھی۔
میں معذرت خواہ ہوں۔طبیعت بحال ہوتے ہی وہ کورنش بجا لایا
مخصوص کوریائی انداز سے بیٹھے بیٹھے ہی جھک کر معزرت کی۔ اپنی غلطی ہو تو بھی معافی نا مانگنے والیاں اس پر نثار ہی تو گئیں۔
آندے آندے۔ الف اور فاطمہ اکٹھے بولیں پھر اکٹھے ہی ایک دوجے کو گھورنے لگیں۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
وہ سب عمارت کے باہر زیلی سڑک پر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ واعظہ نے حسب عادت سر گنے
عشنا ، الف ، نور ، عزہ ، فاطمہ ، 5 لڑکیاں۔ یقینا ایک ٹیکسی سے زائد کی سواری ۔
واعظہ نے گہری سانس لی پھر سڑک کنارے لمبے ڈگ بھرنے لگی۔۔
ارے کدھر جا رہی ہو لغت۔۔ نور کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر زبان دانتوں تلے دبا لی۔ واعظہ نے مڑ کر کڑے تیور سے گھورا
بندے گنو ایک ٹیکسی میں آئوگے؟
ایک دو۔۔ عشنا سڑک پر موجود بندے گننے لگی۔۔
بندے ہمارے ساتھ کیوں آرہے ہیں؟ وہ الف کے کان میں منمنائی۔۔
ہاں تو تم دو ٹیکسیاں بھی یہیں سے کر سکتی ہو۔۔
یہ فاطمہ تھی۔۔
واعظہ نے تاسف سے سر جھٹکا۔۔
ہم میٹرو سے جائیں گے۔۔
یئے۔ عشنا خوش ہو کر تالی بجا گئ۔۔ اسکے بے طرح خوش ہونے پر سب پلٹ کر گھورنے لگیں۔۔
وہ میں آج تک میٹرو سے کہیں نہیں گئیں۔۔
اس نے دھیرے سے کہتے اپنی ایکسائٹمنٹ دبائی
کیا واعظہ دو ٹیکسیاں کر لیتے ہیں نا کیا میٹرو سے جانا اب تنگ ہو کے۔۔
عزہ نے کہا تو واعظہ نے کندھے اچکائے۔
دو ٹیکسی وارا نہیں کھاتی ایک ٹیکسی کی سواری ہو جائو تو چلتے ہیں۔
ہاں تو ایک میں بھئ آجائیں گے مجھے ابیہا گود میں بٹھا لے گی ۔
عزہ مزے سے بولی تو چاروں چونکیں۔۔
ابیہا ۔ وہ کہاں ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت یاد کروں گی تمہیں جانے اب کب آنا ہو میرا پاکستان میں تم رابطہ ضرور رکھنا میں آئی تو ملنے آئوں گی تم سے۔۔
فلیٹ کے باہر راہداری میں طوبی ابیہا کے گلے لگی آنسو بہا رہی تھی۔ ابیہا کی آنکھیں بھی چھم چھم نیر بہا رہی تھیں۔
اسکا سامان باہر لا لاکر رکھتی عروج کا تیسرا چکر تھا دو بڑے اٹیچی ایک چھوٹا بیگ۔
پہلے دونوں چکروں میں بھی وہ ان دونوں کو اسی زاوئیے سے یونہی گلے لگے نیر بہاتے دیکھتی رہی تھی
بہت کم وقت کا ساتھ رہا ہمارا مگر سچ ہے آپ سے بہت اپنائیت محسوس ہوئی ہے کاش ہم کچھ عرصہ اور۔۔
ابیہا آنسو پونچھتی یہیں تک کہہ پائی تھی کہ عروج بول پڑی
یہ عرصہ طویل ہو سکتا ہے اگر تم یہیں ایسے کھڑی روتی رہیں تو فلائیٹ تو مس ہو ہی جائے گی۔
جانے مردوں میں رہ رہ کر جزبات بھی مردہ ہوچکے اس لڑکی کے زرا جو۔۔ طوبی دل ہی دل میں بڑبڑا تی ابیہا سے الگ ہوئی ابیہا کو بھی فلائٹ کا سن کر کرنٹ سا لگا تھا ۔ سیدھی ہوئی اور سامان اٹھانے لگی۔۔
یہ لوگ کہاں ہیں کم از کم بیگ ہی کوئی اٹھا لے جاتی میرے ساتھ۔۔ ابیہا کا شکوہ بجا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاباش ہے جسکی فلائٹ ہے وہ موصوفہ نیچے اتری تک نہیں ہیں۔ حد ہے یار ہم سارے منہ اٹھا کر ائیر پورٹ پہنچے ہوتے مکھیاں مارنے۔۔ یہ نور تھئ تپی ہوئی۔۔ واعظہ نے بیگ سے فون برآمد کیا یقینا ابیہا کو ہی کال ملانے کیلئے۔۔
عزہ نے اپنے لانگ کوٹ سے موٹی سی چاکلیٹ بار نکالی ریپر کھولا ابھئ بڑا سا منہ کھول کر نوالہ لینے ہی لگی تھی۔
عزہ نونا آندے۔۔ ( عزہ باجی نہیں)
یہ جن پکارا تھا اتنا زور سے اتنا اچانک کہ اسکے ہاتھ سے ادھ کھلی چاکلیٹ پٹاخ سے چھوٹ کر زمین پر جا گری۔۔ سراسیمہ ہو کر آواز کے منبع کو دیکھا تو دور سے بڑا سا بیگ اٹھائے ایک اٹیچی کو وہیل سے کھینچتے ابیہا کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے جن ۔
ابیہا بھی ایک عدد اٹیچی کھینچتے اسکے ساتھ چلتے اسے حیرانگئ سے دیکھ رہی تھئ۔۔
آندے نونا آپ بھول رہی ہیں رمضان ہے روزہ ہے آپکا۔۔
وہ تیز تیز قدموں سے چلتا اسکے پاس آکر پھولی سانسوں سے بولا۔۔
آں ہاں وہ میں۔۔ عزہ سٹپٹا سی گئ۔
باقی سب کو خاصی زور سے ہنسی آئی تھی مگر خیر۔۔
چلو ہم میٹرو سے جائیں گے سو سب ساتھ رہنا۔ ہے جن تم بھی چل رہے ہو ہمارے ساتھ؟۔ واعظہ نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے کہا تو ہے جن نے بڑے زور شور سے اپنا کدو ہلایا تھا۔۔
دے میں ہونگ بن یونیورسٹی پر اتر جائوں گا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیر زمین میٹرو ٹرین کے اسٹیشن کی دنیا ہی الگ تھی چم چم پھسلا دینے والا چکنا فرش۔ پیلی سرخ لکیریں دیوار پر ایک مخصوص راستے کی نشاندہی کر رہی تھیں تو بالکل سامنے دیوار پر پورے میٹرو کے راستے کا نقشہ بنا ہوا تھا۔انچیون ائیر پورٹ کا اسٹیشن دیکھ کر سب کو بڑے فخر سے ہے جن نے نام بتایا۔ جو ان سب کے اوپر سے گزرا خیال یہی تھا کہ جہاں سب اتریں گے یا لغت اترے گی وہیں جو چل سو چل۔
واعظہ خود ان کو نقشے کا معائنہ کرتے دیکھ کر ٹیکٹ بوتھ کی جانب بڑھ گئ۔
جب آدھے درجن سے زاید افراد کے ٹکٹ کٹوائے تو ایک لمحے کو اسکو یہی خیال گزرا کہ حماقت ہی کی ہے ٹیکسی کر لینی تھی لیکن اپنی غلطی کا ادراک کر لینے کے بعد اسی غلطی کو مان لینا اور سنگین غلطی ہوتا ہے یہی سوچ کر بے نیازی سے انکی جانب مڑی
چلو یہ پیلی لکیر کا پیچھا کرو سب ۔ سب اندھا دھند اسکے پیچھے چل پڑیں۔ تبھی ٹرین آنے لگی میٹرو میں ٹھیک ٹھاک ہجوم تھا ان سب کو دھکم پیل سے اندر جانے کیسے گھسا ہی iدیا ہجوم نے۔
پاکستان کے برعکس نہ خواتین اور مردوں کی علیحدہ نشستیں تھیں نہ ہی خواتین اور مردوں میں یہ فرق روا تھا کہ خاتون کیلیئے نشست چھوڑ دی جائے۔۔ ریل گاڑی کھچا کھچ بھری تھئ عشنا کا دم گھٹنے لگا تھا ۔ جانے شکل پر کیا بے چارگی چھائی کہ اگلے اسٹیشن پر اترنے کاارادہ باندھتی آہجومہ ازراہ ہمدردی اسے اپنی خالی کی گئ نشست پر براجمان ہونےکا کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ جےہن سے باتوں میں مشغول عزہ نے نشست خالی ہوتے دیکھ کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیٹھ جانا چاہا کہ نازک سی آہجومہ حلق کےبل چلائی۔۔
آندے۔۔عزہ تو عزہ خود عشنا بھی لرز کر رہ گئ
یہ اس لڑکی کیلئے خالی کی ہے میں نے۔۔ چلاتے ہوئے یی
آہجومہ نے عشنا کا ہاتھ پکڑ کر نشست پر بٹھا ڈالا۔۔
عزہ لال پیلی نہیں ہوگئ۔۔
یہ چلا کس خوشی میں رہی ہے۔۔وہ عبایا کی آستین چڑھا کر بڑھی تھی اسکی جانب۔۔۔فاطمہ نے باقائد جپھی ڈال کر روکا تھا۔ ہر اسٹاپ پر انکی منتظر نظریں لغت کے سپاٹ چہرے پر جاتیں ۔ دنیا بھر کے اسٹاپ آگئے انکے نہ آئے ٹرین کا رش آدھا رہ گیا۔عشنا کو بیٹھے بیٹھے اونگھ آگئ۔ ہےجن عزہ کے شروع ہوئے قصےکو بیچ میں روکتا وعدہ کرتا ہوا کہ واپسی پر وہیں سے بات سنے گا جہاں سے منقطع ہوئی ہے ہاتھ ہلاتا بھاگم بھاگ اترا
آدھے گھنٹے کے سفر میں خوب دھکم پیل سہہ کر جب برداشت کی حد تمام ہو چلی تھی دروازے کے قریب جڑی کھڑی واعظہ نے اعلان کیا کہ اگلے اسٹیشن پر اتر جانا ہے۔۔
اب اگر اس نے اترنے کانہ کہا ہوتا تو بھی میں نے اتر جانا تھا۔۔
نور نے دانت کچکچائے۔۔
سب نے اتر کر ٹھیک ٹھاک سنائی۔پلیٹ فارم سے نکل کر برقی سیڑھیاں چڑھتے اسٹیشن سے باہر نکلنے تک واعظہ اپنی سنگین غلطی پر ٹھیک ٹھاک سزا پا چکی تھی مگر اندر سے ۔ باہرسے ازلی ڈھیٹ بے نیاز سی شکل بنائی ہوئی تھی۔جوانکو مزید تپا رہی تھئ مجال ہے جو اثر لے تھوڑاسا جوبھی کہہ لو
میرا تو ہاتھ شل ہو گیا ہینڈل پکڑے پکڑے۔۔
نور بازو سہلا رہی تھی۔
الف کو یہ ایڈونچر بھی مزے لگا تھا سو خاموشی سے انکے ساتھ قدم بڑھا رہی تھی
لغت ویسے اتنے بھی غریب نہیں ہم۔ اب طے ہوچلا ہے واپسی پر ہم میٹرو سے ہرگز نہیں جائیں گے۔
فاطمہ نے ناک چڑھائی واعظہ نے گھور کر دیکھا تو جلدی سے بات بناگئ
ہم بس سے جائیں گے واپس۔
لو کیا فائد خواری تو اس میں بھی ہونی۔۔
عزہ کو سخت اعتراض تھا۔۔
واعظہ سڑک پر ہاتھ دے کر کیب روک رہی تھی۔
اب یہاں سے کیب کے زریعے ائیر پورٹ جانا تھا دس سے پندرہ منٹ کا سفر تھا ارادہ تو اسکا انکو پیدل طے کرانے کا تھا مگر فی الحال کافئ ہوچکی تھی سو چپ کرکے انکو کیب کی راہ دکھا رہی تھی۔۔عزہ ، الف، نور ، ابیہا ، فاطمہ
پانچ ۔
واعظہ ٹھٹکی۔
ایک آگے آکر بیٹھ جائے محترمہ
ڈرائیور پانچ لڑکیوں کو بے دردی سے سوار ہوتے دیکھ کر منمنایا۔۔
کیا بول رہا ہے یہ؟۔ عزہ ابیہا کے کان میں جھکی
پانچ ہو تم لوگ۔۔ واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں
یہ کہہ رہا ؟ بڑی نئی بات بتائی ہمیں بھی پتہ ہم پانچ ہیں
الف ہنسی
گھر سے نکلتے وقت میں نے گنا پانچ سر تھے
پھر جواب واعظہ کی جانب سے آیا تھا۔
ہاں ہم پانچ پورے ہو گئے تم آگے بیٹھ جائو
فاطمہ نے فراخ دلی سے کہا
ہاں تو ہو گئے نا پانچ۔۔ ابیہا نہ سمجھی
تم سب سے آخر میں آئی تھیں تو چھے ہوگئے تھے سر میرے علاوہ اب تم کو ملا کر پانچ ہیں۔۔
واعظہ کے انداز میں فکر در آئی۔۔
وہ ہے جن اتر گیا نا اسٹیشن پر۔۔ عزہ نے تسلی دینی چاہی۔۔
آہجمومہ چلیں۔ ڈرائیور اجنبی زبان میں گٹ پٹ سے بیزار ہوا
الف ، نور ، فاطمہ ، عزہ ، ابیہا ۔ اس نے ایک ایک کو دوبارہ گننا شروع کیا۔۔
عشنا۔۔ عزہ چونکی۔۔ عشنا تو سیٹ پر سو گئ تھی میں نے سوچا تھا کہ اسے اترتے وقت اٹھا دوں گی پر۔۔
عزہ نے کہتے کہتے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا سب کی خشمگیں نظریں اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔
آہجومہ چلیں۔۔ ڈرائیور پھر بولا
پانچ لڑکیاں اکٹھے چلائیں
آندےےےےےےےے
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
آہجومہ آہجومہ۔۔ اسکا سر کسی نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا ہوا تھا اور بڑے دلار سے پکار رہا تھا۔۔
عشنا نے کسمسا کر اسکی نشست کے ڈنڈے کا سہارا لینا چاہا جس کے بل پر سر رکھ کر سوگئی تھی مگر۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ وہی میٹرو ٹرین وہی نشست مگر سب انجانی شکلیں۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے سامنے دیکھا دو تین چندی آنکھوں والے اسکے گرد کھڑے اسکو جگانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
گھمسامنیدہ ۔ میں مزید بھی آپکو اپنا کندھا فراہم کر دیتا سونے کیلئے مگر مجھے اس اسٹیشن پر اترنا ہے۔جاگنے کا شکریہ۔۔
ہنگل سے شروع کرتے ہوئے اس چندی آنکھوں والے پچیس چھبیس سالہ لڑکے کے انداز میں شرارت اور زبان پر انگریزی اتر آئی تھی۔۔ اسکی بات پر اسکے ساتھی قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔۔
معزرت۔۔ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ بری طرح شرمندہ ہو کر سر جھکا گئ۔۔
کوئی بات نہیں۔۔ وہ اسی انداز سے اٹھتا ہوا ہاتھ ہلاتا اسٹیشن سے اتر گیا۔۔
یہ سب کہاں گئیں۔ اس نے پریشان ہو کر میٹرو میں جانی پہچانی شکلیں ڈھونڈنی چاہیں۔۔ سب چندی آنکھوں اور گول چہرے والوں میں ایک وہ تنہا اکیلی لڑکی۔
یقینا اسکی دکھی سہیلیاں اتر چکی تھیں۔ وہ کیا کرے اب؟۔۔ اتر جائوں۔۔ وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے بند ہوگیا۔۔ وہ بے بسی سے گلاس ڈور سے باہر جھانک رہی تھی۔۔
ہنستے مسکراتے چہروں میں سے کسی نے پلٹ کر دیکھا تو پریشان شکل کی گھبرائی سی لڑکی دروازے پر ایستادہ اسکی نظروں میں جم کر رہ گئ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائیر پورٹ کی کیب کروا کر واعظہ نے وہیں سے ابیہا کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ وہ الٹے قدموں واپس پلٹی تھی عشنا کی تلاش میں۔ وہ سب ابیہا کو ائیر پورٹ کے اندر تک چھوڑنے آئی تھیں۔ ابیہا سے گلے لگ کر سب کی آنکھیں نم ہو چلی تھیں۔
خیریت سے جائو۔۔ نور نے نم آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا تھا۔۔
ابیہا مسکرا کر ہاتھ ہلاتی اندر چلتی چلی گئ۔
بس اتنا سا ایڈونچر ۔۔ عزہ نے منہ بنایا۔۔
ہاں تو یہاں تمہاری لی من ہو سے ملاقات کروائوں کیا؟
الف زور سے ہنسی۔۔ ایک بے ہنگم شور بپا ہوا ۔ انہوں نے نگاہ گھمائی تو ایک ہجوم انکی جانب دوڑا چلا آتا دکھائی دیا۔۔ ڈھیر سارے مائکس کیمرے تھامے وہ رپورٹر دوڑے چلے آرہے تھے انکی جانب۔۔ وہ پانچوں گڑبڑا کر رہ گئیں۔۔
یہ سچ مچ ہمیں ایلین تو نہیں سمجھ رہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شش و پنج میں مبتلا دروازے پر کھڑی تھی۔۔ آگے جائے یا رک جائے۔ یقینا وہ کافی آگے آ چکی تھی مزید آگے جانا حماقت ہوتا۔۔ وہ فیصلہ کرکے بند ہوتے دروازے کو غچہ دیتی تیزی سے نکلی تھی تب بھی اسکا پائوں اٹکا تھا وہ منہ کے بل زمین پر آرہی۔۔ ٹرین کا دروازہ سرعت سے بند ہوا لمحہ بھر کی بھی تاخیر اسکا جانے کیا حال کرتی۔۔
اپنی بھیانک موت کا تصور اسے منہ کے بل پڑے پڑے ہی رلا گیا تھا۔۔
آہگاشی۔۔ کین چھنا۔۔ ایک راہ گیر عورت اسکا کندھا ہلا رہی تھی۔۔
ہمت کر کے وہ آنسو پونچھتی اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔
گھٹنے لگ رہا تھا چور ہو چلے ہیں۔۔۔ وہ وہیں بیٹھی گھٹنا دبانے لگی۔۔
کیسی منحوس نیند تھی اور میں اتنی فالتو کہ کسی کو یاد بھی نہ رہی۔۔
چوٹ اجنبیت اور یہ دل دکھا دینے والا احساس وہ گھٹنے میں ہی منہ دے کر سسک اٹھئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آندے۔۔
وہ موبائل میں تصویر دکھا کر اسٹیشن پر لوگوں سے پوچھتی پھر رہی تھی۔ سب نے صاف انکار کیا تھا۔۔
یعنی میرا شک صحیح نکلا وہ ہمارے ساتھ اتری ہی نہیں
واعظہ پریشانی سے اپنے شولڈر کٹ بالوں میں اضطراری انداز میں انگلیاں چلا رہی تھی۔
میپ۔۔ اسے خیال آیا۔۔ پھر بھاگتی ہوئی اسٹیشن کے ایک جانب لگے نقشے کی جانب بڑھی۔ اگلا اسٹیشن۔۔۔ اس نے تیزی سے انگلی چلائی۔۔
اب تم رک جانا عشنا آگے نہ بڑھ جانا۔۔
وہ یوں بڑ بڑائی جیسے عشنا سن ہی تو رہی ہے۔
ایک بار ملو تو سہی ۔۔سر توڑ دوں گی جو آئیندہ بنا موبائل گھر سے نکلی تم۔
اسکا پریشانی بھرا لہجہ دھمکی میں بدل گیا تھا۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
تکیے میں منہ دیئے وہ بے خبر سو رہی تھی جب کسی صور کی طرح موبائل کی گھنٹی بجنی شروع ہوئی۔ پہلے تو وہ اسے وہم ہی سمجھی۔ مگر جب وقفے وقفے سے گھنٹی بجتی گئ تو اس نے کروٹ بدل کر اپنا موبائل ٹٹول کر ڈھونڈا۔
اسکا موبائل سائلنٹ تھا۔۔ وہ سستی سے اٹھ کر بیٹھی۔۔ ساتھ والا بیڈ۔ بیڈ کے نیچے۔ سائڈ ٹیبل۔ اسکی درازیں۔
کرسی ۔ اس پر بکھرے کپڑے اٹھا کر بیڈ پر پٹخے۔ چپل میں پائوں پھنسا کر گالیاں دیتی اٹھی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہماری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں۔۔
وہ چاروں بھونچکا سی کھڑی سامنے ناقابل یقین منظر دیکھ رہی تھیں۔
……………………………..
وہ قریبی پولیس اسٹیشن مدد لینے آئی تھی۔ افسر نے تسلی دینے کے ساتھ ہی اس سے عشنا کا موبائل نمبر مانگا تھا کہ لوکیشن معلوم کر سکے واعظہ گہری سانس بھر کے رہ گئ ۔ اسکے یہ کہنے پر کہ عشنا صاحبہ موبائل گھر بھول گئ تھیں تو اس افسر نے تسلی دے کر رخصت کر دیا تھا کہ ہم ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے پولیس موبائلز کو الرٹ کر دیا تھا۔ شام ہونے کو آئی تھی اسے خوار ہوتے ہوئے۔ وہ تھک کے چور ہو کر گھر واپس آرہی تھی جب سامنے۔۔۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
وہ سب منے لائوج میں ہنگامہ مچائے تھیں۔ عروج کو اپنے اپنے موبائل سے تصویریں دکھانے کے چکر میں فٹ بال بنا رکھا تھا کوئی کندھے پر جھول رہی تھی اسکے تو کسی نے سیدھا گود میں سر رکھا تھا۔ عروج کو کیا اپنی شادی والے دن پروٹوکول ملنا تھا جو آج ان سکھیوں نے دیا تھا۔
میں بتا نہیں سکتی کیا حالت تھئ ہماری ہم انکے اتنے قریب تھے کہ آرام سے چھو سکتے تھے انہیں۔ اف خدایا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ شائنی کا پورا گروپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوگا جونگ جوہیون تو مسکرا کر ہمیں آننیانگ کہتا ہوا گیا تھا۔۔
الف کی آواز جوش سے کانپ رہی تھی۔ نور عزہ فاطمہ کی بھی حالت چنداں مختلف نہ تھی۔
ہم نے تصویریں لیں منہو نے ہمارے ساتھ تصویر کھنچوائی تصور کر سکتی تھیں کہ کسی دن یوں کورین آئیڈلز سے ائیر پورٹ پر ملاقات ہو جائے گی۔
عزہ کا خوشی سے برا حال تھا۔۔
عروج نے سب کے جوش سے سرخ پڑتے چہرے دیکھے تو سر جھٹک کر رہ گئ
شائنئ تم میں سے کسی ایک کا بھی فیورٹ بینڈ نہیں اسکے میمبرز سے مل کر کیا مزا آیا تم لوگوں کو
نور کو اسکا یوں ٹھنڈا انداز ذرا پسند نہ آیا۔۔ آستین چڑھا کو بولی
ہاں تو کیا ہوا مگر پاکستان میں کبھی عطا اللہ عیسی خیلوی تک کو دیکھا ہے آمنےسامنے۔
نہیں دیکھا تو کیا ہوا اگر دیکھ لیتی تو تصویر کھنچواتے وقت یہ تو پتہ ہوتا نا کہ عطا اللہ عیسی خیلوی ہی ہیں۔ ان میں منہو اور جونگ جوہیون کے سوا کسی کا نام تک نہیں معلوم تم لوگوں کو۔۔
عروج صاف مزاق اڑا رہی تھی۔ وہ کھسیا سی گئیں۔۔
یہ بھی سچ تھا۔ سٹی ہنٹر میں جونگ جوہویون کا گانا مشہور نہ ہوا ہوتا تو نام بس منہو کا ہی یاد ہوتا وہ بھی ٹو دی بیوٹی فل یو کی وجہ سے کہ یہ ڈرامہ ان سب نے بڑے شوق سے اکٹھے بیٹھ کر دیکھا تھا۔۔
مگر یار یہ منہو نے تو ماسک تک نہیں اتارا پتہ بھی نہیں لگ رہا کہ منہو ہی ہے۔ فائدہ ایسی تصویر کا۔۔
عزہ موبائل میں ذوم کرکے دیکھ رہی تھی تصویر مایوسی سے بولی۔۔
اگر ایک منہو نے ماسک نہیں اتارا تو کیا ہوا باقی تینوں نے تو اتار کر تصویر بنوائی بھی تو تم عقلمندوں نے نقاب نہیں اتارے ۔۔ یہ تصویریں ہیں بتانا پڑے گا کہ سیلیبریٹیز کے ساتھ آخر کھڑی کون ہے
فاطمہ کفن پھاڑ بولی تھی تینوں نے گھور کر دیکھا تھا
عروج عزہ اور نور نے الف البتہ کسی حد تک متفق تھی اور اپنی تصویروں پر مطمئن بھی۔۔
ہاں تو کیا ذرا سی تصویر کیلئے نقاب اتار دیتے۔۔
عزہ چمک کر بولی۔۔
ویسے تم لوگوں کو انہوں نے قریب کیسے آنے دیا تھا؟
عروج نے پرسوچ انداز میں تصویر دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
تینوں گڑ بڑا سی گئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ یہ کوئی سیلیبریٹیز ہیں ہے نا؟۔
نور نے عزہ کا بازو کھینچا۔۔
لگ تو رہے ہیں۔ عزہ آنکھیں سکیڑ کر دیکھ رہی تھی۔۔
وہ چاروں لمبے دبلے لڑکے ماسک پہن کر بھی صحافیوں اور پرستاروں کے چنگل سے بچ نہ سکے تو منہو کے سوا باقی تینوں نے ماسک اتار کر ہاتھ اٹھا اٹھا کر وش کرنا شروع کیا۔۔
لڑکیوں نے چیخیں ماریں تو صحافیوں نے دھڑا دھڑ تصویریں کھینچنا شروع کر دیں۔۔
ہم بھی تصویریں لیں۔۔ یہ خیال نور کو ہی آیا تھا۔۔
چلو۔ رش بہت ہے ہاتھ مت چھوڑنا۔۔ وہ چاروں مصمم ارادہ کرتی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ناک کی سیدھ میں سر اٹھائے دیکھتیں لڑکیوں میں گھس گئیں۔۔ منی اسکرٹ میں ملبوس گوری گوری لڑکیاں کالے عبایا والی لڑکیوں سے خوف کھاتی پیچھے ہٹتی گئیں۔ راستہ خود بخود بنتا گیا
نہیں۔ یہ عزہ کچھ کہہ رہی تھی
ہٹ جائو آگے سے ورنہ کچلی جائو گی۔
ایک بار اردو میں پھر خیال آنے پر انگریزی میں زور زور سے وارننگ دیتی عزہ خود کش حملہ آور کی چھوٹی بہن ہی لگ رہی تھی۔ باقی تینوں نے بھی یہی جملے دہراتے قدموں کی رفتار تیز کی صحافی تک جان کی امان پاتے ان چاروں کو چھوڑتے پیچھے ہوئے ان چاروں کی سیکیورٹی گارڈز جھٹ دھڑکتے دل کے ساتھ انکو کور کرنے لگے ان چاروں چندی آنکھوں والوں کی آنکھیں جتنی کھل سکتی تھیں اتنی کھل چکی تھیں اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے۔۔
فاطمہ نے یہاں آگے بڑھ کر سیکیورٹی گارڈ کو کہا تھا
ایک طرف ہو جائو ہمیں صرف انکے ساتھ تصویر لینی ہے۔۔
رعب دار انداز اوپر سے انگریزی۔۔ وہ گال پر ہاتھ رکھتا ہٹتا گیا۔۔
دور کہیں ساحل پر کسی لڑکی کے ہاتھوں بنی اپنی اور اپنی گرل فرینڈ کی درگت بروقت یاد آئی تھی اسے۔۔ فاطمہ فاتحانہ انداز میں خوفزدہ سیلیبریٹیز کی جانب بڑھ گئ تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چار لڑکے تھے جو کسی لڑکی کے ساتھ تھے۔ لڑکی جانے کیوں حلیئے سے جانی پہچانی لگی تھی اسے۔ وہ تیزی سے انکی جانب بڑھی۔۔
دیکھیں یہاں تک بھی تو پہنچ گئے آگے بھی ہم۔آپکا گھر ڈھونڈن دیں گے آپ روئیں مت۔
وہ چندی آنکھوں والا عشنا کی آنکھوں سے رواں آبشار کے ہاتھوں خود بھی رونے والا ہوچلا تھا۔۔
مجھے تو گھر کا راستہ بالکل بھی یاد نہیں میں کبھی گھر نہیں پہنچ پائوں گی۔
عشنا نے اردو میں کہہ کر ہچکیاں لینی شروع کردی تھیں۔۔
ہم یہاں کسی دکان سے پتہ کرتے ہیں کہ کوئی فارنرز رہتے ہیں قریب میں۔۔
ایک لڑکا جان چھڑاتا مارکیٹ کی جانب بھاگا۔۔
دوسرے نے بھی تقلید کی۔۔
میں وہاں پتہ کرتا ہوں۔۔
تیسرا بھی بہانہ کرکے جانے کے چکر میں تھا۔ تیجون نے باقاعدہ اسکا ہاتھ تھام کر روکا اور ملتجی انداز میں ہنگل میں بولا
مجھے مت اکیلا چھوڑ میں اکیلا اس لڑکی کے آنسوئوں پر بند نہیں باندھ سکتا۔
تجھے ہی مدد کرنے کی سوجھی تھی اچھا بھلا ہمارا کرائوکے کا پلان تھا اب یہاں ایک غیر ملکی کا گھر ڈھونڈوا اسکے ساتھ..اگلا بھی اس سے چڑا بیٹھا تھا
یار پوری دنیا میں کورین اوپا مشہور ہیں اپنی مددگار طبیعت اور نرم مزاج فطرت کی وجہ سے کیا تاثر جاتا دنیا میں کہ ہم ایک غیر ملکی روتی لڑکی کو اسٹیشن پر چھوڑ کر آگے بڑھ آئے؟ تیجون کی اپنی منطق تھی
میں کیا کروں اب یہ لوگ بھی شائد تنگ ہو رہے ہیں چار گھنٹے سے میرے ساتھ گھوم رہے ہیں۔
عشنا نے سڑ سڑ کرتے ہوئے کہا۔۔
تو یہ تم لوگوں کا کارنامہ تھا۔ کیا ضرورت تھی اسے لیکر گھومنے کی اسٹیشن پر ہی چھوڑ دیتے کم از کم مجھے خوار ہوئے بغیر مل تو جاتی۔۔
واعظہ مٹھیاں بھینچتے قریب آکر ہنگل میں چلائی تھی۔ سارے دن کی خواری لہجے میں چھلک آئی تھی۔۔
ویو؟ دونوں ہکا بکا آنکھیں منہ کھولے اس غیر ملکی نقوش کی غصہ ور آگاشی کو دیکھ رہے تھے۔۔
امی۔۔ عشنا اسے سے لپٹ گئ
ہم تو مدد کرنا چاہ رہے تھے۔۔
تیجون نے صفائی دینا چاہی
واعظہ نے عشنا کو اپنے سے الگ کیا اور بلا لحاظ شروع ہوئی
تم دونوں پاگل کے بچوں کی وجہ سے آج سارا دن خوار ہوا ہے میرا۔ کیا ضرورت تھی ہیرو بننے کی۔ احمق گدھے الو پاجی کہیں کے۔ اوپا بننے کا آئیندہ شوق ہو تو کورین بوتھی دیکھ کر اس پر لٹانا ہمدردی سمجھے۔
دے؟ دونوں ہکا بکا ہوئے
کیا دوں؟ دل تو کر رہا ایک۔جھانپڑ دوں آئے بڑے اوپا کہیں کے۔۔
واعظہ نے دانت کچکچائے
اوپا کہہ رہی یقینا شکریہ ادا کر رہی ہوگی اپنی زبان میں
تیجون شکریہ کے انداز میں جھکا
یہ مجھے لگ تو نہیں رہا کہ شکریہ ادا کر رہی ۔۔
کرس نے واعظہ کے بھبوکا چہرے کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا
اب کیا جم کے کھڑے ہو جائو راستہ ناپو اپنا۔۔
دونوں کو جھکتے دیکھ کر اسے مزید غصہ آیا تھا
دے۔۔ اس بار دونوں نے درست اندازہ لگاتے رفو چکر ہونے میں ہی عافیت جانی۔۔ عشنا اس کے پاس اسکے غصے کی ڈگری ناپتے سہمی سہمی سی کھڑی تھی
اور تم۔ واعظہ نے روئے سخن اسکی جانب موڑا عمیمہ کی طرح چلائی تھی
جب موبائل ساتھ لیکر گھوم نہیں سکتی ہو تو خریدا کیوں تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج جمائیاں لیتی ہوئی بڑ بڑاتی تیار ہو رہی تھی۔۔
حرام ہے جو اس گھر میں کوئی سکون سے آرام کر سکے
اور یہ عشنا صاحبہ آئیندہ موبائل گھر چھوڑ کر گئیں تو توڑ دوں گی ۔۔
ذرا سا جو آنکھ لگے اسکا موبائل بجنا شروع اوپر سے یہ عقلمندیں جو ساتھ گھوم رہی تھیں پھر بھی ایک ایک نے علیحدہ فون کرکے عشنا کہاں ہو یار پوچھا تھا مطلب جب بتا دیا کہ عشنا موبائل گھر چھوڑ گئ ہے تو بھی علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے فون سے کال کرکے پوچھا ۔۔ آخری فون پر تو دل کر رہا تھا فون اٹھا کر دیوار میں مار دوں۔۔
تبھئ بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی
وہ اوور آل پہنتی باہر نکلی ۔ سامنے منہ لٹکائے عشنا اور واعظہ تھکی تھکی سی داخل ہو رہی تھیں۔
وہ غصے میں بھر کر موبائل پر ہی لیکچر دینے والی تھی مگر دونوں کی شکل دیکھ کر موخر کر دیا ارادہ
کچھ کھایا تم۔دونوں نے؟ کہاں سے ملی یہ۔۔؟
اس نے بلا توقف پوچھا۔۔ عشنا نے سر کھجایا۔۔
پچھلی گلی میں بھٹک رہی تھی۔۔ واعظہ کہتی منے لائونج کے منے صوفے پر گر سی گئ۔ ٹانگیں ٹوٹنے کو آگئی تھیں۔ عشنا سر کھجاتئ غڑاپ سے کمرے میں گھس گئ تھی
کیا پکا ہے؟۔ واعظہ کو بھوک لگی تھی۔۔
عروج کو اسکی شکل دیکھ کر ترس آہی گیا۔۔
کچن سے مٹر قیمہ اور ڈبل روٹی لا کر اسکے سامنے رکھا۔۔ اور خود جلدی سے اپنا بیگ اٹھاتی باہر بھاگی۔۔
کھانا کھا کر کچھ دماغ ٹھکانے پر آیا تھا۔
یہ سب سو گئیں کیا اتنی جلدی۔۔
گھر میں غیر معمولی طور پر خاموشی اسے اب محسوس ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں گول دائرہ بنائے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ بیچوں بیچ موبائل اسٹینڈ پر رکھا تھا جسکا اسپیکر آن تھا ویڈیو کال چل رہی تھئ۔ فضا میں الف کی آواز گونج رہی تھی۔۔ عشنا بھی عزہ اور نور کے پاس آ بیٹھی۔
اپنے اسٹوڈیو میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتی بری طرح گھبرائی ہوئی تھی۔
یار میرے ہاتھ پائوں پھول رے کیا کروں سی ہون آنے والا ہے اور اف میرا چہرہ سرخ ہورہا اوہ نو۔۔
اس نے چکر کاٹتے ہوئے سامنے دیوار گیر آئینے میں خود کو دیکھا تو لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر اور گھبرا گئ۔
ریلیکس الف کچھ نہیں ہوادھر دیکھو سب ٹھیک ہے ذرا سا سہیون ہی تو ہے کونسا ہاتھی آرہا اسٹوڈیو میں۔
عزہ نے اپنی طرف سے تسلی ہی دی تھئ نوراورعشنا اسے گھور کر رہ گئیں۔
ہاتھئ آجائے اسٹوڈیو میں میں اسکا انٹرویو کر لوں گی آرام سے۔
الف سرخ گال تھپتھپا رہی تھئ
ہاتھئ کا انٹرویو کرنے کا کیا فائدہ ۔بھلا۔ عزہ کو سمجھ نہ آیا تو نور نے باقائدہ اسکے گھٹنے چھو لیئے
فائدہ تو سہیون کا انٹروئو لیکر بھی نہیں ہونا۔۔
فاطمہ بظاہر بے نیاز سی بنی کچھ فاصلے پر بیڈ پر بیٹھی تھی۔ کانوں میں ہینڈز فری لگی تھی مگر کان انکی کال پر ہی لگے تھے۔ دھیرے سے بڑ بڑائے بنا نہ رہ سکی
یار مجھے بتائو کیسے اپنی نروس نیس کم کروں ۔ ہے جن جے ہن کہاں ہے اسے بلائو ۔
الف دوبارہ چکر کاٹنا شروع کر چکی تھی
ہے جن تو آرمی ہے اس نے کیا کرنا ۔سیہون کا انٹرویو۔ نور سمجھی کہ شائد پروگرام کی وجہ سے کہہ رہی۔۔
افوہ اس سے پوچھو میں آپکی سب سے بڑی کوریا کی نہیں پاکستان کی۔۔
وہ سوچ میں پڑئ۔ بلکہ پوری دنیا کی سب سے بڑی پرستار ہوں اسکو ہنگل میں کیسے کہیں گے؟
اس نے جوش سے کہا تو ان تینوں کا جوش و خروش کم ہوگیا
اتنا عام سا جملہ کہو گی ۔ یہ تو سب ہی اسے کہتے ہونگے۔۔
نور نے منہ بنایا
پھرکیا شادی کیلئے پرپوز کردوں سیدھا؟
الف بھنائئ۔۔
نہیں یار کوئی سوچو نیا جملہ نئی بات کوئی ایسا کمپلیمنٹ جو اسے چونکا دے۔۔
عزہ نے کہا تو فاطمہ کے دماغ کی گھنٹئ بجی۔ پہلو بدل کر بدبدا کر رہ گئ۔
بلائو ہے جن کو۔۔ الف الگ مشکل میں پھنسی تھی
ہے جن تو ابھی گھر لوٹا ہی نہیں ۔ابھی جب میں اور واعظہ آئے تو لائونج والا صوفہ خالی پڑا تھا۔ عشنا نے سادگی سے بتایا تو نور اور عزہ اسے چونک کر دیکھنے لگیں پھر چیخ مار کر لپٹ ہی تو گئیں۔
عشنا۔۔ تم مل گئیں کب آئیں۔۔
فاطمہ کا دل دہل سا گیا موبائل چھوٹ گیا الف اپنے ہی دھیان میں پلٹی اسٹوڈیو کے دروازے سے اندر داخل ہوتے سیہون اور ژیہانگ نظر آجاتے اگر ان دونوں کے گلا پھاڑ کر چیخنے پر اسکا اسپیکر کھلا ہونے کی وجہ اس نے بھی ڈر کر اچھل کر چیخ نہ مار دی ہوتئ۔
ہاتھوں سے موبائل کسی گولی کی طرح نکلا تھا اور اندر داخل ہوتے سیہون کی ناک پر پٹاخ سے لگتا دھاڑ سے زمین پر جا گرا۔
پھر کون سیہون کہاں کا سیہون دل پر ہاتھ رکھتی الف موبائل اٹھانے جھکی
ہائے میرا نیا فون۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی ہی دھن میں گنگناتے سیٹی بجاتے ہے جن نے لفٹ کا بٹن دبایا اور لفٹ آنے کا انتظار کرنے لگا۔
لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی کوئی اس پر جیسے آن ہی گرا ۔ اتنی عجلت میں کسی نے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا اور باہر کی راہ لی کہ وہ موٹی سی گالی جو زبان کی نوک تک آچکی تھی اگل نہ سکا ۔ لمبے چوڑے وجود جس نے کالا سیاہ اپر اور ماسک چڑھا رکھا تھا اسے یقینا کچھ ذیادہ ہی ہلکا لے لیا تھا۔ وہ دانت پیس کر گھورتا ہوا لفٹ میں سوار ہوا۔ اپنے فلور پر پہنچتے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا تو سامنے طوبی کھڑی تھئ
اف شکر کچھ اور بھی مانگ لیتی تو مل جاتا ۔۔
اسے دیکھ کر وہ چہکی تھی۔
دے؟ اسکی خاک سمجھ میں آنا تھا کیا بول رہی بس دے کہہ کر ہی رہ گیا۔۔
آندے۔۔ آندے۔ زرا میرے ساتھ تو چلو نیچے ۔۔
وہ باہر نکلنے کو تھا جب طوبی نے اسکو بازو سے پکڑ کر دبوچ ہی تو لیا اور دوبارہ لفٹ میں گھس گئ۔۔
دوبارہ نہیں۔
جن نے روہانسا سا ہو کر کہا پھر طوبی کے ساتھ کھنچتا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Blog
-
Desi Kimchi Episode 5
-
Desi Kimchi Episode 4
قسط چار
سین ایک۔۔
urdu web novel seol based korean desi kimchi fan fictionسیول کے اس مقامی نائٹ کلب میں گہما گمہی عروج پر تھی۔ ڈے جی نے فل والیم میں موسیقی لگا رکھی تھی ایک جانب من چلے لڑکے لڑکیوں نے ناچ ناچ کر ادھم مچایا ہوا تھا تو دوسری جانب مے خانے کی رونق دیکھنے والی تھی۔ بار کے کائونٹر پر لا تعداد مشروبات سجے تھے اور وہ دونوں اسی کائونٹر پر بازو ٹکائے بچوں کی طرح سر رکھے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔
کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کبھی زندگی یہاں اس مقام پر لے آئے گی۔۔
فاطمہ نے یاسیت سے کہتے اپنے سامنے رکھے گول سے وائن گلاس میں پیش کیا گیا لال مشروب کا گھونٹ بھرا ۔۔ بد مزہ سا منہ بنایا پھر گلاس احتیاط سے رکھ کر سر اٹھا کر نشیلی نظروں سے واعظہ کو دیکھا۔
تم نے سوچا تھا؟
واعظہ نے برا سا منہ بنا کر سر اٹھایا۔۔ اسکے سامنے بھی وائن گلاس ہی تھا مگر اسکے اندر مشروب سیاہی مائل تھا مگر انداز سے واعظہ کے بھی یہی لگتا تھا کہ پی کر مدہوش ہو رہی ہے۔۔
اکثر ۔۔ جانتی ہو میری بچپن کی خواہش تھی ۔ تم ہو میں ہوں اور ایسا سجا سجایا مے خانہ۔۔ واہ۔ اور ۔۔
وہ جھوم کر بولی تھی۔۔ لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر اسکے منہ سے نکل رہے تھے۔۔ فاطمہ چونکی ۔۔ دھیرے سے یونہی پڑے پڑے سر اٹھایا
جھنچا؟۔۔( واقعی) بے یقینی حیرانگی اسکے انداز سے مترشح تھی
آئیگو۔۔ ( ارے اف) ازحد حیرانگی۔۔
کندے۔۔ ( لیکن) وہ چونکی۔۔
فاطمہ نے ساری ہنگل الٹ دی تھئ۔۔ اب اردو پر آنا ہی پڑا اسے
پر بچپن میں تو ہم ملے ہی نہیں تھے ایسی خواہش کیسے پالی تم نے؟۔
اسکی اداکاری دھری رہ گئ تھی سر اٹھا کر ایک ہی سانس میں بول گئ۔
میں نے بڑی بڑی انہوںی خواہشیں پالی ہیں۔
واعظہ کا انداز ہنوز تھا۔۔ آنکھیں چندی کھول کر استہزائیہ انداز میں ہنسی
جیسےجیکی چین کے ساتھ ہیروئن آنے کی خواہش۔۔
فواد خان سے ملنے کی خواہش۔ اور تو اور ہیری پوٹر کے نویں پارٹ میں ایما واٹسن کی جگہ لینے کی خواہش بھی۔
یہ جو دل ہے نا۔۔
اس نے ترچھی نظر سے فاطمہ کو دیکھتے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔
شمشان گھاٹ ہے آرزوئوں کا؟۔
یہ مکالمہ یقینا اسکا اپنا نہیں تھا مگر پھر بھی فاطمہ کو تعجب ہوا۔۔ ۔پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
شمشان گھاٹ کیوں؟ قبرستان کیوں نہیں؟
اچھا سوال ہے۔
واعظہ ہنسی۔۔ پھر گلاس میں بچا کچھا مشروب بھئ حلق میں انڈیلا ۔۔ انتہائی برا منہ بنایا جیسے جانے کوئی کڑوا کسیلا زائقہ منہ میں دوڑ گیا ہو۔۔
اسلیئے کہ قبرستان میں خاموشی ہوتی ہے۔۔ وہ فاطمہ کی جانب زرا سا جھک کر رازداری سے بولی۔
جبکہ یہاں۔۔ اس نے ڈرامائی سا وقفہ لیا تھا فاطمہ جی جان سے متوجہ ہو چکی تھئ یہی اسکی ڈرامائی حس کو تقویت دے رہی تھئ۔۔
یہاں بھانبھڑ جل رہے۔۔ خواہشوں کے تل تل جل کر مرنے سے آہ و فغاں بلند ہو رہی ہے۔۔
اس نے آہ و فغاں پر دونوں ہاتھ اٹھا کر کرلانے کا تاثر دیا تھا۔۔
فاطمہ اسے یونہی ایک ٹک دیکھے گئ۔
واعظہ کے لئے یہ ردعمل غیر متوقع تھا۔۔ کیا فاطمہ متاثر نہ ہوئی تھی۔۔
جبکہ فاطمہ سنجیدگئ سے پوچھنے لگی
بھانبڑ کیا ہوتے۔؟
واعظہ نے سر پیٹنے والے انداز میں دوبارہ کائونٹر پر سر دھاڑ سے دے مارا۔ پھر زرا سا سر اٹھا کر سہلانے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوئے سنو لڑکے۔۔
طوبی بڑے بڑے شاپر اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتی پکاری۔۔اسکی رہائشی عمارت بس چند قدم ہی دور تھی مگر پھر بھی اگر اتنے قریب بھی کسی کی مدد مل جائے تو کیا برا۔۔ اور مدد بھی اگر قریب قریب چھے فٹ کی ہو۔ اور جان پہچان والی بھی تو ہر پاکستانی کی طرح اس نے اپنے حلق کا بھرپور استعمال کیا۔۔ وہ عمارت کے داخلی راستے سے اندر داخل ہو رہا تھا طوبی نے اپنی سب توانائیاں خرچ کرکے رفتار تیز کی اور پکارا
پہلی دو آوازیں تو مخاطب تک نہ پہنچیں۔ جس سست رو انداز میں چل رہا تھا اسکا اور طوبی کا فاصلہ کم سے کم ہوتا جا رہا تھا پھر ایسے نظر انداز کرنے کی تک کیا بنی؟۔
عمارت کے بچوں کے چھوٹے سے میدان سے ہوتے اب سیڑھیوں کی طرف مڑتے پہلا قدم جیسے ہی جن نے سیڑھی پر رکھا کسی نے اسکے کندھے پر بے تکلفی سے ہاتھ مار کر اسکا رخ موڑا تھا۔۔ بھونچکا جن گھبرا کر سیدھا ہوا ۔۔ وہ کل والی بڑی آنکھوں والی لڑکی اسے گھورتی سانسیں بحال کرتی جانے کیا کہے جا رہی تھی۔۔ اس نے ہینڈز فری کھینچی۔۔ خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا اب وہ جو کہہ رہی تھی سنائی تو دے رہا رھا مگر سمجھ ابھی بھی نہیں آرہا تھا۔
دے؟
حد ہے ٹونٹیاں لگائی ہوئی تھیں تم نے؟ جبھی تو میں کہوں سن کیوں نہیں رہے تم۔۔ پکار پکار کر میرا گلا بیٹھ گیا۔
اچھا پکڑو یہ۔۔
اس نے بڑے سے دو شاپر اسکو زبردستی تھما دیئے۔۔ سانس لینے کو رکی تو جے ہن شاپر سنبھالتا بے چارگی سے بولا۔
ٹونٹیاں؟ دے؟ ہنگل ؟ آر انگلش پلیز۔۔
انگلش؟ طوبی نےاسے سر تاپا ٹٹولتی نظروں سے گھورا
بہن سے بھی انگریزی میں بات کرتے ہو؟۔
اسے غصہ آگیا تھا۔۔
دے؟۔ جے ہن مخمصے میں پڑا ۔۔
آہجومہ ہنگل ۔
کیا ہنگل۔ کانٹ یو اسپیک ان اردو؟
طوبی حیران ہی تو رہ گئ۔۔
نو۔ جے ہن بے چارگی سے بولا
تو تم اپنی بہن سے کیسے بات کرتے ہو؟
طوبی انگریزی میں بولی تو جے ہن نے سادگی سے کندھے اچکا دئیے
دے؟ جے ہن چونکا۔۔ ایکدم زاتی سوال
ہنگل میں۔ وہ اور کیا کہتا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیڑھیاں چڑھتے طوبی کے اندر کا سارا تجسس بھلل بھلل باہر آنے لگا تھا۔ ہے جن اس سے ایک قدم آگے اسکے سارے شاپنگ بیگ اٹھائے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔
تو تم دونوب بہن بھائی ہنگل میں بات کرتے ہو۔۔
اس نے بہت سوچ کر جملہ بولا تھا انگریزی میں اور بڑے غور سے جے ہن کی شکل دیکھی۔ اسکے چہرے پر بلا کی سادگی اور معصومیت تھی۔۔
ہاں۔ کبھئ کبھار انگلش میں بھی۔۔ اسکی انگریزی اچھی نہیں ۔میں اکثر اسے پڑھا دیتا ہوں انگریزی ۔۔ ویڈیو کال پر۔
وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔ طوبی نے دھیان نہ دیا اسکے پاس بہت سے سوال اکٹھے ہو چکے تھے۔
بس تم دونوں بہن بھائی رہتے ہو یہاں یہ واعظہ لوگ کزن ہیں تمہاری؟ تمہارے والدین اداس ہوجاتے ہوں گے نا دونوں بچے دوسرے شہر رہتے ہیں۔۔ ویسے تمہاری بہن کی شکل تم سے بالکل نہیں ملتی اسکی آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔۔ تمہارے ابو پر گئ ہوگی؟
طوبی نے اپنی ساری انگریزی جھاڑ دی تھئ اور ہے جن ہکا بکا مڑ کر دیکھ رہا تھا
دے؟ کونسی بہن؟بڑی آنکھوں والی؟ کونسے ابو پر ؟
یور بائولوجیکل سسٹر عزہ۔۔۔ کل جب تعارف ہوا تھا اس نے یہی تو بتایا تھا کہ تم اسکے بھائی ہو۔۔ بھائی نہیں ہو اسکے؟
طوبی نے آنکھیں پھاڑیں۔۔
جبھئ میں سوچ رہی تھی کہ اسکا چندی آنکھوں والا بھائی کیسے ہوا؟
طوبی نے انگریزی میں بھرپور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سرتاپا گھورا۔۔
ہے جن کے زہن میں کل کا واقعہ تازہ ہوا اور یہ بھی کہ کل کونسی لڑکی نے تعارف کروایا تھا جس کے بعد طوبی اسکی جانب مڑی تھئ
دے۔۔ اسکی شکل میرے پاپا سے ملتی ہے۔میرے آہبوجی نے پاکستانی خاتون سے شادی کی تھئ۔۔
اس کا زہن بروقت چلا تھا۔۔اگر اسکی محسن نے جھوٹ بولا تھا تو کوئی وجہ رہی ہوگی۔۔
ہیں۔ طوبی کی بڑی آنکھیں اور بڑی ہوئیں
چندی آنکھوں والے ابو سے شکل ملنے والی لڑکی کی خالص پاکستانی شکل۔۔ یہ اس نے کہا نہیں بس سوچا تھا لیکن سوال چہرے پر چار سو چالیس والٹ کے بلب کی طرح چمک اٹھا تھا ہے جن کیلئے پڑھنا مشکل نہ تھا۔ زبان دانتوں تلے دبا کر جھٹ بات بدلی
آندے۔ میری آہموجی نے ایک پاکستانی مرد سے شادی کی تھی۔۔
طوبی کی آنکھیں اپنے حجم میں واپس آنا شروع ہوئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلامو علیکم خالہ
دروازہ ایک سات آٹھ سال کی بچی نے کھولا تھا انہیں دیکھ کر تپاک سے سلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام۔۔ عزہ نے جھک کر اسکا گال چھوا۔۔
گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی بچی خالص پاکستانی شکل۔
یہ کس کی بچی ہے۔ نور اچنبھے میں پڑی ۔
واعظہ کے رشتے دار ہونگے۔۔ ۔ابیہا کہتی ان دونوں کے بیچ سے ہوتئ فلیٹ میں داخل ہوئی راہداری پر ہی اسے لائونج میں ایک ناقابل توقع نا قابل فہم نا قابل یقین منظر دیکھنے کو ملا ۔ ہکا بکا ہی تو کھڑی رہ گئ اسکی معیت میں آتی الف عشنا پھر عزہ اور نور بھی انہی تاثرات کے ساتھ آتی گئیں اور ہکا بکا ہوتی گئیں
ڈاکٹر عروج خالص پنجابی عورتوں کے انداز میں سر پر دوپٹہ باندھے قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھیں۔ گود میں ایک بچے کو زبردستی تھپک تھپک کر سلانے کی ناکام کوشش کرتےہوئے ساتھ ہی کشن پرسر رکھے لیٹی بچی کے اوپر کمبل درست کررہی تھی۔۔ بچی غالبا سو چکی تھی مگر بچے کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا سو بار بار احتجاجی چیخ مار کر بچی کی نیند میں بھی خلل ڈال رہا تھا۔
عروج اتنے بچے اکٹھے کیسے؟
ابیہا کا جملہ ابھی ادھورا تھا کہ کہنا تھا کہ عروج اتنے بچے اکٹھے کیسے ہوگئے فلیٹ میں مگر غلط فہمی ایسے ہی تو پیدا ہوتی الفاظ کے انتخاب میں لاپروائی اختیار کرنے سے
عروج آدھے جملے سے بننے والی معنی اخذ کرکے چراغ پا ہوگئ تڑخ کر بولی
کیا مطلب میرے تھوڑی ہیں حد ہے کچھ بھی کہتی ہو۔۔ ۔
ارے میرا مطلب تھا۔۔ ابیہا نے سمجھانا چاہا
جو بھی مطلب ہو مجھے غرض نہیں۔۔ عروج روہانسی ہو چلی تھی
ایک تو فاطمہ کی بچی بچے میرے سر ڈال کر نو دو گیارہ ہوگئ اگر سنبھالنے نہیں ہوتے تو بچے پیدا کیوں کرتے ہو؟؟؟ وہ عمیمہ سے بھی دردناک انداز میں چیخی تھی
عزہ اور نور تڑپ کر اسکے دائیں بائیں آموجود ہوئیں
یہ بچے فاطمہ لائی ہے؟ عزہ کو اسکی بات سے یہی مطلب سمجھ آیا تھا
مگر فاطمہ لائی کہاں سے؟ نور کی حیرانی بجا تھی
عروج نے کچھ کہنے کو منہ کھولا۔کہ الف کی قطیعت بھری آواز سنائی دی
فاطمہ کے تو نہیں ہونگے اتنا تو پتہ ہے ۔
بڑی اہم بات بتائی؟ ابیہا طنزیہ ہنسی تھی ساتھ ہی اندازہ بھی لگا لیا
یہ اسکے بھائی کے بچے ہونگے۔۔ ۔
فاطمہ کے بھائی یہیں رہتے ہیں؟ عشنا کو حیرانی ہوئی
عروج نے بھنا کر انکی غلط فہمی دور کرنی چاہی مگر ابھی بھی بس منہ کھول کر رہ گئ کیونکہ نور نے اسے موقع ہی نہ دیا۔۔
نہیں فاطمہ تو اکیلی رہتی یہاں یہ واعظہ کے بچے ۔۔۔
پھر خیال آیا تو رک کر تصحیح کی۔۔
یہ واعظہ کے بھائی کے بچے ہونگے۔۔
نہیں انکو تو میں پہچانتی ہوں انکے بس دو بیٹے ہیں بڑے شرارتئ ہیں دونوں مجھ سے تو کافی دوستی ہے انکی۔۔
ابیہا نے کہا تو عروج نے پھر منہ کھولا کچھ کہنے کو پر اس بار صائم ہمکنے لگا۔۔ اس ساز کا بجنا اچھی نشانی نہیں تھی سو سب سے پہلے صائم کے مصدق اسے تھپکنے لگی زینت انکے پاس آکر بڑی دلچسپی سے انکی باتیں سن رہی تھئ۔۔
آپ کہاں ملیں ان سے؟ عشنا کو تجسس ہوا
آتے رہتے تھے ویک اینڈ تو یہیں گزارتے تھے دونوں بچےاپنی آنو کے پاس۔ پھر جب تم سب یہاں آکر رہنے لگے تو جگہ کی کمی کی وجہ سے آنا کم ہو گیا انکا
ابیہا تفصیلا بتا کر عبایا اتارنے لگی۔۔
ہممم اب تو ایک ہے جن کی جگہ کتنی مشکل سے نکالی ہے ہم نے۔
عزہ نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔ اس نے بھی عبایا اتارنا شروع کردیا تھا۔۔ تھکن سے برا حال تھا
تو کیا یہ بچے ہمارے ساتھ رہیں گے؟
نور کو خدشہ ستایا۔۔
ہیں عروج۔۔ الف نے ڈر کر عروج کا کندھا ہلا کر پوچھا جوابا وہ سشسسس کرتی اسے چپ ہونے کا اشارہ کرنے لگی صائم نے تھک کر آنکھیں بندکی تھیں ابھی ۔۔
یار میں اور ابیہا فاطمہ پہلے ہی تین بندے ہیں ڈبل بیڈ پر انکو کہاں کھپائیں گے؟ عشنا روہانسی ہوئی۔
میں آپکے پاش سو جائوں گی۔۔ زینت کو عزہ پسند آگئ تھی۔۔ لاڈ سے اسکا بازو تھام کر بولی تو عزہ کو اس پر پیار ہی آگیا۔۔
ویسے ہے پیاری۔۔
عزہ نے زینت کی ناک چھوکر دلار سے کہا
بیٹا آپ کس کی بچی ہو۔
یہی مناسب لگا ابیہا کو کہ اسی سے پوچھ لے۔۔
انکی۔۔
اس نے مزے سے دروازے کی جانب اشارہ کر دیا۔۔
دروازے سے داخل ہوتے ہے جن کو دیکھ کر ان سب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔۔
انکی؟ ابیہا نے مڑ کر تصدیق چاہی بچی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
سب کی حیرانگی دوچند ہوگئ تھی ہے جن چھے لڑکیوں کی خود پر جمی حیرانگی بھری نگاہوں سے بری طرح سٹپٹا چکا تھا۔۔ البتہ بچی کا اشارہ اس سے ایک قدم پیچھے آتی طوبی کی جانب تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو میرے اندر بھی بھانبڑ جل رہے۔۔
فاطمہ نے کائونٹر پر پورا بازو پھیلا کر سر ٹکایا۔۔
واعظہ بھی اسی ہی انداز سے کائونٹر پر دھری تھی۔۔
ویٹرس نے تاسف سے ان دونوں کو دیکھا پھر قریب آکر بولی
آپ کو مزید ڈرنک دوں؟
آندے۔۔ واعظہ نے سر اٹھا کر سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا۔۔
تم چاہتی ہو ہم ہوش کھو دیں؟
آندے۔۔ ویٹرس سٹپٹائی۔
تین گلاس پی کر ہی میرا دماغ چکرا رہا ہے اور تم ایک اور پیش کر رہی ہو آہجومہ۔۔ ؟
واعظہ ڈولتے انداز سے کائونٹر کا سہارا لیتی اٹھی مگر قدموں نے ساتھ نہ دیا اسی طرح واپس اسٹول پر آبیٹھی۔۔ فاطمہ نے فورا اسے سہارا دے کر گرنے سے بچایا۔۔
ہوش میں مکمل وہ بھی خود نہ تھی۔۔ خود بھی لڑکھڑا کر رہ گئ
ایسے پیش آتی ہو تارکین وطن کے ساتھ۔۔ہم سات سمندر پار اسلیئے آئیے کہ تم ہمیں پلا پلا کر مدہوش کردو۔۔ ہیں۔۔
بیٹھ کر واعظہ پورے زور سے چلائی۔۔
ایک لمحے کو کلب کی ہلچل میں بھی سناٹا چھایا۔۔
سب مڑ مڑ کر دیکھنے لگے تھے۔۔ ناچتے قدم رکے تھے انکے۔۔
واعظہ کو بھی احساس ہوا کچھ زیادہ ہو گیا۔
اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گلاس تھامے ایک کونے میں باتوں میں مصروف سیہون سر جھٹکتا اپنی گرل فرینڈ سے معزرت کرتا انکے پاس چلا آیا
مانا صدمہ بڑا ہے مگر اس طرح ہوش کھو دینے کا کوئی فائدہ نہیں جائو دونوں گھر جائو گھر جا کر تسلی سے حل سوچو۔۔
نو نیور۔۔ فاطمہ کو اسکا مشورہ قطعی پسند نہ آیا۔
سو ہاتھ اٹھا کر فورا انکار کیا
سیہون گھور کر رہ گیا۔۔
آندے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم دونوں۔۔
واعظہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔ لڑکھڑاتی زبان سے ٹوٹ کر لفظ نکل رہے تھے۔۔
ہم دونوں واپس۔۔ پاکستان۔۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا فاطمہ نے تڑپ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔۔ واعظہ اور فاطمہ کی نظریں ملیں دونوں فرط جزبات سے دیکھتے دیکھتے ضبط کا بندھن کھو بیٹھیں اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر روپڑیں۔۔ جانے فلموں ڈراموں میں کیسے ایسے موقعوں پر نہریں جاری ہو جاتی ہیں ان دونوں کے تو بلکنے پر بھی آنکھیں خشک ہی رہیں۔ سیہون دانت ہیستا انکو گھور رہا تھا۔۔ ویٹرس آنکھوں میں ہزار سمندر روکے ترس کھاتی نظروں سے دیکھ رہی تھی انہیں۔
آہجومہ ۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔
اس سے رہا نہ گیا تو کہہ بیٹھی۔
تم ۔۔ دونوں خونخوار سئ ہو کر اسکی جانب مڑیں۔
تمہاری وجہ سے یہ سب ہوا ہے ۔۔ فاطمہ اردو میں چلائی تھی۔۔
ایک تو ہم پہلے ہی دکھی ترین اوپر سے تم نے ہمیں یہ پلا دیا۔
واعظہ نے اپنا خالی گلاس کائونٹر سے اٹھا کر پٹخا۔
ایک تو بندہ روتا پیٹتا آئے اس کلب اوپر سے یہ زہریلا مواد پلا کر اسکا دکھ دوبالا کردیتی ہو تم کیا دشمنی تھئ ہم سے بولو ہیں جواب دو۔۔
فاطمہ چلا رہی تھی۔۔ تو واعظہ کا بھی غم و غصے سے برا حال تھا۔ویٹرس کانپ کانپ گئ۔۔ انکا بل کائونٹر پر رکھتی کئی قدم پیچھے ہو کر جھک جھک کر چھے سو ہمنیدا کہنے لگی۔۔ واعظہ نے ہاتھ سے بل اپنی طرف کرکے رقم دیکھی تو آنکھین پھٹنے کو آگئیں۔
نئے سرے سے غصہ چڑھ گیا تھا۔
دو ہزار وون ضائع کردئیے ہمارے۔۔ جانتی ہو پاکستانی کتنے روپے بنتے؟
ویٹرس انکی زبان سے انجان تھر تھر کانپ رہی تھی۔ سیہون سر پکڑ رہا کبھی ادھر ادھر دیکھ رہا اسے لگ رہا تھا آج ٹھیک ٹھاک پٹنے والا ہے وہ
کتنے بنتے۔۔ فاطمہ نے دانت کچکچا کر ویٹرس کو گھورتے ہوئے پوچھا۔ واعظہ نے دماغ لڑانا چاہا مگر اتنا حساب اسے آتا ہوتا تو میٹرک۔۔ والی بات۔۔۔۔ کھسیا کر تیز ہو کر بولی
مجھے نہیں پتہ مگر کافی زیادہ ہی بنتے ہونگے۔۔
اتنے زیادہ پیسے ضائع کرادئیے ہمارے۔
فاطمہ نے تنتنا کر کائونٹر پر ہاتھ مارا سارے گلاس لرز کر سیدھے ہوئے۔۔ شکر ہے کوئی توازن کھو کر زمین بوس نہ ہوا۔
مجھے سخت حیرت ہو رہی ہے آپ دونوں کودو گلاس سے نشہ کیوں چڑھ گیا ہے۔۔ آہجوشی۔۔ انکو روکیں نا۔۔
ویٹرس کو کچھ نہ سمجھ آیا تو سیہون سے منت بھرے انداز میں بولی۔
اب اگر تم دونوں اپنے حواسوں میں واپس نہ آئیں تو میں ۔۔ سیہون نے زچ ہو کر دھمکی دینی چاہی جوش جزبات میں کچھ زیادہ ہی زور سےانگریزی میں بول دیا۔۔ایک تو انگریزی اوپر سے فل والیم۔ اس بار بچے کھچے کلب کے لوگ جو ابھی تک متوجہ نہ ہوئے تھے انکی جانب کامیابی سے ہو گئے
ہاں ۔۔ واعظہ اور فاطمہ دونوں ہمہ تن گوش ہوئیں۔
سیہون کو چند لمحے سوچ کر بھی سمجھ نہ آیا ان چنڈالوں کو کیا دھمکی دے۔
تو میں یہ گلاس اپنے سر پر دے ماروں گا۔۔
اس نے اپنے ہاتھ میں تھامے وائن گلاس ہی دھمکانا چاہا۔
فاطمہ اور واعظہ دونوں کے چہرے پر بدمزہ سے تاثرات در آئے۔ یہ۔تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہوا
اتنےسے وائن گلاس سے اس بلیک بیلٹ کی کھوپڑی پر خراش تک نہ آئے گی۔ جو سر پر تربوز پھوڑتا رہا ہو۔
فاطمہ نے منہ بنا کر کہا۔
وائن گلاس کے پیسے دینے پڑیں گے اگر اسے خراش آگئ۔۔ کیونکہ اسکی گرل فرینڈ نے تو رونا پیٹنا مچا کر اسے اسپتال لے جانا ہے۔۔
واعظہ نے دور کھاجانے والی نظروں سے گھورتی اسکی گرل فرنڈ کو دیکھتے ہنکارا بھرا۔
دونوں اطمینان سے بیٹھی صورت حال کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔
بولو مار لوں اپنے سر پر۔۔ دونوں کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر سیہون بلبلایا۔۔ ڈے جے نے موسیقی بند کر دی تھی سب لوگ اس ڈرامے کا ڈراپ سین دیکھنے کو بےتاب تھے۔۔
شنگو یا کھوجو ۔( سہیلی چلو چلیں)
فاطمہ نے بھی دزدیدہ نظروں دے ماحول کا جائزہ لیکر اسے مشورہ دیا۔۔
دے۔۔ واعظہ نے جھومتے ہوئے ہی ٹٹول کر پرس نکالا
بل ۔۔ واعظہ دھاڑی تھئ۔۔ ویٹرس کا ہاتھ کپکپا سا گیا۔۔ ڈرتے ڈرتے بل اسکی جانب بڑھایا۔۔
واعظہ نے گھور کر اسے دیکھتے بل کے پیسے گن کر نکال کر رکھے۔
آہجومہ ۔۔۔ ہاتھ کے اشارے سے اس نے لڑکی کو پاس بلایا۔
وہ ڈرتے ڈرتے آگے ہوئی تو واعظہ اسکے کان میں حلق کے بل چلائی ۔۔
آئیندہ ہم آئیں تو ہرگز ہمیں ٹماٹر کا جوس اور جنسنگ چائے مت دینا سمجھ آئی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
کلب سے نکل کر تازہ ہوا میں دونوں نے گہری گہری سانس لی۔۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سیول کی رونقیں ابھی بھی بحال تھیں لوگ جوق در جوق کلب میں داخل ہورہے تھے۔۔ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی کلب کی گلی سے نکل کر اہم سڑک کی طرف چلی آئیں۔
یار مے کی بو کتنی بری ہوتی میرا تو دم الٹنے کو آگیا۔۔ اتنی بدبو دار چیز لوگ پی کیسے لیتے۔۔
فاطمہ نے برا سامنہ بنا کر کہا تھا۔۔
واعظہ اسکا سہارا لیئے لڑکھڑا رہی تھی۔۔
یاک اتنا برا ذائقہ۔۔ الٹی آرہی اب مجھے۔۔
وہ ابکائیاں لے رہی تھی۔۔
مجھ پر نہ کر دینا۔۔
فاطمہ نے ڈر کر بازو چھڑایا۔
واعظہ نے اسکا بازو چھوڑا اور جلدی سے سڑک کے کنارے رکھے کوڑے دان پر جا جھکی۔۔ اتنی بڑی الٹی آئی تھی اسے۔۔
فاطمہ پریشان ہو کر اسکے پاس چلی آئی اور اسکی پشت سہلانے لگی۔۔
یار کہا تھا میں نے مت پیو وہ کڑوا سیال۔ مگرتم نے کہا دو ڈرنک کے بعد جتنا پیو فری ہے اب دیکھا ۔۔ گرم ہوتا وہ قہوہ ۔۔انکو تو عادت ہوتی الم غلم پینے کی۔۔
فاطمہ کو اس پر غصہ آرہا تھا۔۔
واعظہ اسکا سہارا لیکر سیدھی ہوئی۔۔
یار شغل ہی تو لگا رہے تھے ہم اندازہ ہی نہ ہوا۔۔
ویسے ٹماٹر کا جوس بھی کوئی اچھا خیال نہیں۔۔ ہم تو ٹماٹر کو بس پیس کر ہنڈیا میں ڈالتے اسکا وہی کام ٹھیک۔۔ آیو۔۔ فاطمہ کو اس جوس کا زائقہ یاد آیا تو جھر جھری سی لی۔۔
میری توبہ جو آئیندہ کوئی نیا شربت یا جوس آزمایا کوریا کا۔۔
اس نے عہد ہی کر لیا جیسے۔
پھر کیا واپسی کا ارادہ باندھ لیا ہے تم نے۔۔
واعظہ بیگ سے ٹشو نکال کر چہرہ پونچھتے بظاہر سر سری سے انداز میں کہہ رہی تھی مگر فاطمہ کا جیسے دل ہی اچھل کر حلق میں آگیا ۔۔
جھٹ بولی۔۔
اللہ نہ کرے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔
عزہ تڑپ کر بولی۔۔
طوبی نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔ بے چاری حالات کی سنگینی چھپانا چاہ رہی سیدھی سی بات کون اپنے گھر کی بات یوں کسی کے سامنے کھول کر رکھتا ہے۔۔
ابیہا نے چائے لا کر اسکو تھمائی۔۔ اس نے شکریے کے ساتھ قبول کی۔۔
عزہ اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اسکے برابر ہی جے ہن بیٹھا معصوم سی شکل بنائے کبھی اسے دیکھتا کبھی طوبی کو۔۔
عروج پیر پٹختی تیار ہوتی پھر رہی تھی۔۔
کسی کام سے باورچی خانے میں آئی تو طوبی کی گود میں چہکتے صائم کو گھور کر رہ گئ۔۔
اب کیسا چہک رہا میں تو جیسے بیٹھی چٹکیا ں کاٹ رہی تھی اسے ساری دوپہر۔
وہ بڑ بڑاتی پیر پٹختی اپنے لیئے ٹفن تیار کر رہی تھی۔۔ نور کمرے میں تھئ البتہ الف بھی تیار یوں میں مگن تھی اسکا آج شو تھا۔۔ ہاں اسکے چکر فاطمہ اور واعظہ والے کمرے کے زیادہ لگ رہے تھے۔۔
اتنی چہل پہل طوبی کے اعصاب پر برا اثر ڈال رہی تھی۔
زینت اور عبیرہ منے لائونج کے منے ٹی وی کو دیکھنے میں مگن تھیں کوئی جاپانی اینیمیڈ سیریز کوریا ڈب ہو کر آ رہی تھی۔ سمجھ تو کیا ہی آنا تھا بچیوں کو مگر پھر بھی عروج نے جز بز ہو کر ابیہا کو اشارے سے ٹی وی کا چینل بدلنے کو کہہ دیا۔ ابیہا کو اشارے سمجھ ہی نہ آتے تھے۔ سو جوابا اشارے سے اسے یہی سمجھانے لگی۔
ہق ہاہ۔
طوبی نے چائے کی چسکی لیکر کپ ہر فن مولا میز پر ٹکایا جس پر ابیہا نے گندم کے بسکٹس کی پلیٹ لا سجائی تھی اسکی تواضع کے لیئے۔
مجھے جے ہن نے سب بتا دیا ہے۔ کیسے تمہاری امی اور ابو کے درمیان زبان ثقافت رہن سہن الگ ہونے کی وجہ سے جھگڑے بڑھے اور بات علیحدگی تک آپہنچی۔۔
طوبی ہرگز چسکے نہیں لے رہی تھی بلکہ اسکا سچ مچ دل انکے دکھوں کی تفصیل جان کر خون کے آنسو رو پڑا تھا۔ ابیہا جو اسکے ساتھ بیٹھی عروج کی جانب متوجہ تھی چونک کر عزہ کو دیکھنے لگی جسکی بڑی بڑی آنکھیں ماتھے تک آپہنچی تھیں۔
میرے والدین میں زبان ثقافت رہن سہن الگ ہونے کی وجہ سے جھگڑے۔
اس کا منہ حیرت سے وا ہو گیا تھا۔ میرے والدین تو آپس میں سگے چچا زاد ہیں۔۔مشترکہ خاندانی نظام کی بدولت رہے بھی ایک گھر میں ۔ اسکا زہن اس حقیقت کو ماننے سے قاصر تھا
دیکھیں۔ عزہ بے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر کر اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔ مگر طوبی نے موقع نہ دیا۔
اتنی کم عمری میں والدین سے الگ ہو کر رہنا جب کہ کوئی اور بڑا بہن بھائی بھی نہیں مگر تم دل چھوٹا نہ کرو۔ مجھے اپنی بڑی بہن ہی سمجھو۔
طوبی جزباتی ہو چلی تھی۔ آنکھ میں فرط جزبات سے آموجود ہونے والے آنسو پونچھتئ عزہ کی جانب کھسک آئی۔
اپنے آپ کو کبھی اکیلا نہ سمجھنا میں ہوں اب تمہارے ساتھ۔ اور تمہارا بھائی۔۔
اس نے جے ہن پر نظر ڈالی جو اسکی اپنی جانب توجہ دیکھ کر سٹپٹا اٹھا تھا عزہ ہکا بکا سن رہی تھی۔
تمہاری امی کے ساتھ رہ کر بڈھسٹ ہو چلا ہے اسے دین کی راہ ہم دونوں مل کر دکھائیں گے۔ ہم اسکے دل میں ایمان کی شمع روشن کریں گے۔ دیکھنا بہت جلد یہ مکمل مسلمان بن جائے گا ہم اسکی مدد کریں گے۔
سنو جے ہن آج سے میں بھی تمہاری بڑی بہن ہوں ٹھیک؟ کوئی بھی مسلہ ہو کوئی بھی کام ہو بلا جھجک کہنا مجھے۔ جے ہن سے مخاطب وہ انگریزی میں ہوئی تھئ۔
جے ہن کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا رہا تھا عزہ کو کچھ بہت بڑی غلط فہمی پیدا ہوتی دکھائی دے رہی تھی سو کھنکار کر گلا صاف کر کے اس نے فورا دور کرنی چاہی۔۔
دیکھیں۔
انکی باتوں سے بے نیاز عروج کی نظر ٹی وی پر پڑی تھی۔
جو منظر دکھائی دیا اس سے ضبط کی طنابیں ہاتھ سے چھوڑ بیٹھی۔ دانت کچکچا کر دھاڑی
ابیہا کی بچی اتنی دیر سے کہہ رہی ہوں بند کرو ٹی وی۔ فورا۔سمجھ نہیں آئی میری بات۔
اس کی دھاڑ پر لائونج کے جملہ نفوس سہم کر رہ گئے
دونوں بچیاں ماں سے جا لپٹیں تو ابیہا گھبرا کر ریموٹ ڈھنڈنے لگ گئ چھوٹے سے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتی نکلتی الف دہل کر آئینہ چھوڑ بیٹھی۔۔
اور عزہ جو غلط فہمی دور کرنا چاہ رہی تھی اسکا بھی دھیان بٹ گیا۔
توبہ ہے عروج کتنا چلاتی ہو۔ الف چڑ گئ تھئ۔
اب عروج اور الف میں گولا باری شروع ہو چکی تھی۔۔
عزہ ان میں صلح صفائئ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی طوبی نے چائے کا کپ اٹھا کر بیٹی کو تسلی دی بس چائے پی کر چلتے ہیں گھر۔۔
اور ابیہا۔۔
وہ ریموٹ ڈھونڈ رہی ہے نا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حصہ دو۔۔
تیسری بیل پر دروازہ کھلا تھا۔۔ داخلی دروازے کی نہیں فون کی
ابیہا جارحانہ انداز میں دروازہ کھول کر گھور رہی تھی۔۔ واعظہ نے اندر داخل ہونا چاہا تو اس نے بنا لحاظ کندھے سے پکڑ کر واپس دھکیل دیا ۔۔
اس گھر کے دروازے بند ہیں تم دونوں پر جہاں اتنا وقت گزارا وہیں رات گزارو جا کر۔۔
اس کے تیور کڑے تھے
نائٹ کلب میں۔۔ فاطمہ نے واعظہ کے کان میں سرگوشی کی۔
ابھی ایک ہی۔تو بجا ہے؟ ہم سحری سے پہلے آتو گئے ہیں۔
سحری ہی تو لینے میں دیر ہو گئ۔۔
واعظہ نے گڑبڑا کر بات بنائی۔۔
اچھا پھر کیا لیا؟
ابیہا اس جھانسے میں آنے والی نہ تھی۔۔
وہ ۔۔ واعظہ سٹپٹائی فاطمہ کا البتہ ایسے موقعوں پر خوب دماغ چلتا تھا جھٹ بولی
وہی تو۔۔ کچھ نہیں ملا نا چنے نا نان نا پائے۔۔ اب کافر تھوڑی رمضان میں سحری تک دیگیں چڑھا کر رکھتے مایوس لوٹ آئے۔۔
دنیا جہان کی معصومیت اسکے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔
واعظہ اسے دیکھ کر پھسلتے پھسلتے بچی تھی۔۔ واقعی ۔۔پھسلی۔ سیدھا کھڑا ہونا تو آتا ہی نہیں تھا اسے انکی باتوں کے دوران پائوں کو گھسی لگا رہی تھی سینڈل پھسل ہی گئ۔۔ سیدھی دروازے سے ٹکرائی مگر ابیہا ہوشیا ر تھی بہانے سے اسکے گھر میں گھسنے کی کوشش کو فورا پسپا کرتے ہوئے دروازہ مزید بھیڑ دیا اور دانت کچکچا کر بولی
کسی اور کو بے وقوف بنانا۔۔ ابیہا تپ گئ تھئ
کوریا میں تم لوگ سحری کے لیئے نان چنے پائے ڈھونڈنے نکلی تھیں۔۔
ہاں وہ ملتی ہے نا گنگنم اسٹریٹ میں کئی پاکستانی ریستوران ہیں نا۔۔
فاطمہ اپنے موقف سے انچ بھر پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی
ابیہا نے ان دونوں کو باری باری دیکھا دونوں جتنی معصوم شکل بنا سکتئ تھیں بنا چکی تھیں ۔۔ابیہا بھی لڑکی تھی۔۔ یہیں ہی کیسے پگھل جاتی انگلی اٹھا کر وارننگ دی
تم دونوں پاکستان میں نہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو ۔ حد مچا دی ہے صاف بتا رہی ہوں آئندہ دس بجے تک گھر میں نا پہنچیں تو یہ دروازہ نہیں کھلے گا بلکہ تم لوگوں کا سامان بھی یہیں پڑا ملے گا ڈھونڈ لینا کوئی نیا ٹھور ٹھکانہ رہنا باہر ہی سمجھ آئی۔ ؟۔۔
دے۔۔ دونوں نے سعادتمندی سے سر ہلایا۔۔
ابیہا کڑے تیور کے ساتھ ایک طرف ہو ئی تو دونوں جان چھٹی سو لاکھوں پائے کے مصدق اندر دوڑی آئیں
آرام سے ہے جن سو رہا ہے۔۔
ابیہا نے آواز دبا کر ٹوکا تھا۔۔
سشش واعظہ اور فاطمہ دونوں وہیں جم گئیں۔۔
ہے جن زمین پر سلیپنگ بیگ بچھائے کسی کیٹر پلر کی طرح اس میں ملفوف مدھم خراٹے لے رہا تھا۔۔اب سونے کا کیا فائدہ سحری ہی بنانا شروع کر دیتے ہیں۔۔
فاطمہ نے کہا تو واعظہ نے بھی گھڑی دیکھ کر یہی مناسب سمجھا۔۔
تینوں باورچی خانے میں دبے قدموں سے چلتی آئی تھیں۔۔
چھت کے بلب جلانے کی بجائے آرائشی مدھم روشنی والے چولہے کے پاس والا اور کینبٹس کے نیچے لگے بلبوں سے کام چلایا۔ پھر پلٹ کر چور نظروں سے دیکھا کیٹر پلر کے منہ پر ہلکی سی روشنی پڑ رہی تھی۔۔
مگر کسمسایا تک نہ تھا ۔۔
واعظہ تم ایسا کرو ادھر آکھڑی ہو کام تو نہیں کر سکتی ہو اس بلب کے آگے آڑ بن کے کھڑی رہو کم از کم اسکے منہ پر روشنی نہ پڑے۔۔
یہ ابیہا تھی سرگوشئ کے انداز سے بولتے ہوئے ۔۔ واعظہ کے مجروح کندھے سے اسے پکڑ کر اسے ہے جن کی جانب پشت کر کے کھڑا کر دیا۔۔
ہیں۔۔ اتنئ فکر۔۔ واعظہ کی آنکھیں پھٹی تھیں۔۔ ابیہا نے کوئی توجہ نہ کئ اور مزے سے چائے کا پانی لینے سنک کی طرف بڑھ گئ۔۔
واعظہ نے پلٹ کر دیکھا تو ہے جن پر روشنی کی لکیر سی پڑی جھٹ مڑ کر آڑ بنا کر کھڑی ہوگئ۔۔
فاطمہ نے پراٹھوں کے پیڑھے بنانے شروع کیئے۔۔
ابیہا چائے چڑھا کر اب آملیٹ کیلئے پیاز کاٹ رہی تھی واعظہ باورچی خانے کے بیچ میں جے ہن کی آڑ بنی کھڑی تھی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔
سوہو نے اپنی نئی تصویر انسٹا پر لگائی تھی۔۔ اسی چوہیا جیسی ہیروئن کے ساتھ۔ رچ میں والی۔ الف بڑے شوق سے دیکھ رہی تھی۔۔ سوہو کا انسٹا پر کوئی فین اکائونٹ نہیں تھا خالص زاتی آئی ڈی ۔ جس میں اسکے رشتے دار اور کچھ قریبی کولیگز ہی بس تھے۔ بمشکل تین سو کے قریب پیروکار تھے جن میں اسکی ڈالی گئ تصویروں پر پانچ دس سے زیادہ پسندیدگیاں نہیں تھیں۔
پھر بھی ڈیڑھ سو مراسلوں کو ایک ایک کر کے کھولا آئی ڈیز پر سب نے ہی تقریبا سوہو کے ساتھ والی تصویر شائع کر رکھی تھئ وہ ہر مراسلہ کھولتی اس کوپسند کرنے والے افراد کا کھاتہ کھول کر دیکھتی کیوں؟ اچھا سوال ہے۔ یہ ہے اصلی نسلی پاکستانیت جو کہیں نہ کہیں سے اپنی چھب دکھا جاتئ ہے ہماری شخصیت میں۔ تو جناب جاسوسی کا سب سے مستند اور کامیاب ادارہ آئی ایس آئی پاکستان کا ہی کیوں ہے؟ کیونکہ ہم پاکستانی بال کی کھال نکالنے ٹوہ لینے تفتیش کرنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔۔ تو الف کا بھی یہی حال۔۔
اگر یہ سوہو کی اصل آئی ڈی ہے تو ہو سکتا ہے سیہون نے بھی زاتی استعمال کے لیئے الگ آئی ڈی بنا رکھی ہو جسے کوئی اور نہ جانتا ہو اور اتفاق سے وہ سوہو کی کوئی تصویر پسند کر لے ۔ اور الف اس سے اسکی آئی ڈی تک پہنچ جائے اسے میسج بھیجے سوہو کی تمیز دار پرستار پیغام بھئ بڑا فلسفیانہ انداز کا بھیجے گی
زندگی میں جب سب مل جاتا ہے تو سب مل جانے کی وجہ ڈھونڈنی چاہیئے۔
اس نے یہ سوچا تھا۔ کتنا اعلی جملہ تھا الف خود پر مغرور سی ہوئی۔۔ ایسا پیغام بھیجا ہوگا کسی نے بھلا
سیہون بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی کا پیغام پڑھ کر چونک جائے گا۔۔ سوچ میں پڑ جائے گا آخر سب مل جانے کہ وجہ کیا ہے؟ کچھ سمجھ نہ آئے گا تو الف کوہی۔جوابی سوال کرے گا۔۔
مسکرائے جا رہی ہے کیا وجہ ہوسکتی ہے بھلا؟
یہ سوال سیہون نے نہیں عزہ نے اپنے بیڈ پر آلتی پالتئ مار کر بیٹھتے ہوئےنور سے پوچھا تھا۔۔ وہ حسب عادت بیڈوں سے زرا فاصلے پر اپنی وہی ہر فن مولا میز پر لیپ ٹاپ سجائے بیٹھی تھی۔۔
الف کا دماغ خراب ہو گیا ہے لگتا ہے۔۔ نور نے عزہ کے کہنے پر الف پر نگاہ کی تو اسے بیڈ پر نیم دراز موبائل تکتے مشکوک انداز میں مسکراتے پایا جھٹ فتوی داغ دیا۔
الف ان دونوں سے بے نیاز ایک اور آئی ڈی کی سیر کر رہی تھی۔۔
تصویر میں سیہون ہی تھا مگر نام ہنگل میں لکھا تھا۔۔
سخت پرائیویسی تھی تہتر پیروکار تھے۔۔ اور باون مراسلے۔۔
اس نے بیزار ہو کر واپس جانا چاہا کہ دل نے ایک دھڑکن چھوڑ دئ۔۔ اسکا وجدان چیخا یہی ہے سیہون۔
وہ بے اختیار اٹھ بیٹھی اور خوشی سے چلا اٹھی۔
عزہ نور مل گیا سیہون۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
عشنا منہ کھول کر جمائی لیتی چپل گھسیٹتی سٹر پٹر کرتئ کمرے سے نکلی۔
کتنئ جلدی سوا دو ہو گئے ابھی تو۔
وہ با آواز بلند کہتی ان تینوں کی جانب بڑھی
ہاش سشسسسس۔
تینوں کی جان پر بن آئی ۔۔ ہونٹوں پر انگلی رکھتی سٹپٹاتی ایک نظر ہے جن کو دیکھتیں ایک کڑی نگاہ اس پر۔
باقی جملہ بے چاری کے حلق میں گھٹ گیا۔۔ دزدیدہ نظروں سے انکی تنبیہہ پر لائونج میں پڑے اس جہازی کیٹر پلر پر ڈالی۔۔ جن کی نیند میں خلل پڑا اس نے کسمسکا کر کروٹ بدل لی تھی ۔ عشنا کی جان میں جان آئی۔
اب احتیاط سے سہج سہج کر چلتئ انکے پاس آئی۔۔ تینوں اسے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھیں
ہم لوگوں نے تو روزہ رکھنا ہے اسلیئے اٹھے ہوئے ہیں اس بے چارے نے تو اسکول جانا ہوگا ۔۔ اسکی نیند خراب نہیں کرنی۔
ابیہا نے متانت سے سمجھایا تو عشنا شرمندگی سے سر جھکا گئ
سورئ۔۔ مجھے پتہ نہیں تھا۔۔
وہ بھی سرگوشی میں بولی۔۔
کوئی بات نہیں۔۔ فاطمہ مسکرا دی۔۔
وہ لوگ بے حد احتیاط سے کام کر رہی تھیں۔۔ تبھی فاطمہ نے پیڑا اٹھایا اسے بیلا اور ۔۔۔
اور۔۔
تھپ تھپ ہتھیلی پر بڑھانے لگی۔۔ واعظہ ابیہا عشنا تینوں نے مڑ کر کیٹر پلر کو دیکھا وہ ساکت پڑا تھا۔۔
سکھ کا سانس لیتی تینوں سیدھی ہوئی تھیں کہ ۔۔ کوئی حلق کے بل چلایا۔۔
عزہ نور مل گیا سیہون۔۔
کیٹر پلر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔ واعظہ ابیہا دانت پیس کر رہ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف نے وہیں سے چھلانگ لگائی تھی۔ نور دھک دھک کرتے دل سے اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی تھی اپنا عزیز لیپ ٹاپ فورا بنف کیا تھا اسے لگا تھا سیدھا اسی کے اوپر کریش لینڈنگ کرے گی مگر غنیمت اسکے پاس آگری تھی پکے فرش پر اس ننگے پائوں چھلانگ پر ایک اور چیخ نکلتی مگر ابھی جوش ہی بہت تھا عزہ بھی مارے تجسس قریب اٹھ آئی
یہ دیکھو۔ اس نے فخریہ انداز میں موبائل لہرایا
کمنٹس کھلے تھے تصویر سوہو کی تھی اس پر کمنٹ تھا بھی کیڑے مکوڑے والا۔۔عزہ اور نور دیکھ کر بھی نہ سمجھ سکیں اسے الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگیں۔
یہ کیا کیڑے مکوڑے دکھا رہی ہو۔۔ نور بے زار ہوئی۔۔
یہ دیکھو۔۔
الف نے سی ٹرانسلیشن پر کلک کیا تھا
جملہ کچھ ایسا بنا اب۔۔
ہمارے سرپرست اعلی فرشتے خاصی آگ لگا رہے۔۔
Our guardian angel is on fire
دونوں اب بھی نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
الف نے سر پیٹ لینا چاہا۔
دیکھو۔۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انہیں سمجھانے کو تیار ہوئئ
سوہو کا مطلب ہو تا سرپرست ۔۔ سوہو خود کو ایکسو کا سرپرست کہتا ہے۔ خود سے نہیں کہہ رہی اسکا انٹرویو دیکھا تھا۔۔ ( انکی مشکوک نظروں کے جواب میں اس نے صفائی بھی دی پھر جملہ جاری رکھا)
تو ایکسو کا سرپرست آگ لگا رہا ہے یہ کمنٹ اس آئی ڈی نے کیا ہے اور سوہو نے جوابا اسے یہ جو نشان بنا کر دیاہے اسکا مطلب ہا ہا ہا ۔ کورین ہا ہا میں ہ کی آواز والے کورین حرف کو ہی بس لکھ ڈالتے۔۔ یعنی یہ جو کوئی بھی ہے سوہو کا قریبی ہے اور سرپرست کہہ رہا تو یقینا ایکسو کا ہی کوئی رکن ہے۔ اور دیکھو۔۔
وہ پر جوش انداز میں بتاتی اب موبائل میں اسکی آئی ڈی کھول رہی تھی۔ عزہ اور نور نے ایک دوسرے کو ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں
فارغ ہو گئ ہے لڑکی دماغ سے پکا۔۔
یہ دیکھو۔ آئی ڈی سامنے آچکی تھی
یہ کس کا بایاں رخ ہے؟ وہ دبے دبے جوش سے سرخ چہرہ لیئے تھی۔
عزی نے ہاتھ بڑھا کر موبائل ہاتھ سے لیا منے سے گول ڈی پی میں سا آدھے دھڑ کا بایاں رخ دکھائی دے رہا تھا۔۔ مگر یہ سیہون ہی ہے ؟ یہ پہچاننا ناممکن تھا۔۔ اس نے اسکرین شاٹ لیکر زوم بھی کیا مگر تصویر مزید دھندلا گئ جبکی الف داد چاہنے والے انداز مین پوچھ رہی تھی
ہے نا ۔۔ سیہون ہے نا؟۔
تبھھی دروازہ کھلا ابیہا کڑے تیوروں کے ساتھ کھڑی تھی
کیا شور مچا رکھا ہے۔۔ کسی کا خیال ہے ؟ کوئی سو رہا ہے باہر۔۔ وقت دیکھو اور اپنا والیم دیکھو۔۔
وہ دروازہ بند کرتئ آواز دباتی بھنائی
کون سو رہا ؟ اٹھائو سحری کا وقت ہو گیا ہے چلو بنائیں سحری۔۔
نور کی وقت دیکھو پر سیدھا گھڑی پر نظر گئ تھی سو ہڑبڑا کر اٹھی
ہے جن ۔ اس نے تو روزہ نہیں رکھنا نا۔
ابیہا نے کہا تو سب نے کدو ہلائے۔۔ واقعی۔
جوش میں سب بھول گئ تھیں ۔
ناشتہ بنائو پونے تین ہو رہے۔۔ عزہ بھی گھڑی دیکھ کر حواس باختہ ہوئئ۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب کچن کے سلیب کے گردجمع اسٹولز پربراجمان تھیں
درمیان میں ایمرجنسی لائیٹ رکھی تھئ جس کی روشنی کے آگے کارن فلیکس کے جہازی ڈبے سے آڑ بنا رکھی تھی تاکہ ہے جن پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا سالن پراٹھے دہی آملیٹ گرم بھاپ اڑاتی چائے پرلطف سحری ۔۔
واہ جیو۔۔ فاطمہ۔۔
پہلا نوالہ لیتے ہوئے ابیہا نے سرگوشی میں چٹخارہ بھرا۔۔
گومو ویو۔۔ نور نے بھی شکریہ ادا کیا
ویسے کل سے ہم بھی مدد کرائیں گے مجھے اچھا نہیں لگ رہا ایسے منہ اٹھا کر سحری کرنے آجانا۔
الف شرمندہ ہوئی۔ وہ سب آپس میں آواز دبا کر ہی بات کر رہی تھیں۔۔
کوئی بات نہیں۔۔ اتنا زیادہ کام نہیں تھا بس پراٹھے بنائے ہیں چائے ابیہا نے اور آملیٹ عشنا نے بنایا ہے۔
فاطمہ کبھی کسی اور کے کیئے کام کی توصیف وصول نہیں کر سکتی تھی۔ سو تفصیل سے بیان داغا
اسکے انداز پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئ تھی
ہماری امی نے کوئی کام نہیں کیا۔ عزہ واعظہ کو چھیڑنے لگی
بے چاری واعظہ سے ایک ہاتھ سے کام کرواتے اچھے لگتے ہم۔۔
ابیہا نے ترس بھری نگاہ ڈالی تھی واعظہ پر۔۔ اس نے بھی فورا مظلومیت طاری کی شکل پر۔۔
دوستئ نے ویسے سے سب سے اہم کام کیا ہے۔۔
عشنا نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو واعظہ گھورنے لگی۔۔ اب سب یقینا اسکا مزاق اڑانے والی تھیں۔۔
کیا؟۔ نور متجسس ہوئی
اس بلب کے سامنے آڑ بن کر پورا آدھا گھنٹہ کھڑی رہی تھیں تاکہ ہے جن کے منہ پر اسکی روشنی نہ پڑسکے۔۔
عشنا کا انداز مزاق اڑانے والا نہیں تھا ۔۔ اسے قدر تھی واقعی آدھا گھنٹہ ۔۔
ہیں لغت؟۔ الف بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔
یار تم لوگ واقعی اتنا سوچتے ہو۔۔
نور نے مڑ کر بے خبر سوتے کیٹر پلر کو دیکھا۔۔
سوچنا تو چاہیئے ویسے ہمیں۔۔ عزہ نے قائل ہونے والے انداز میں کہاتھا۔۔
رمضان تو ہے ہی ایک دوسرے کا احساس کرنے کا نام۔۔
وقت کیا ہے ویسے سحری کا ۔ ابیہا نے پوچھا تو واعظہ کی۔نگاہ فورا گھڑی پر گئ۔ تین بج کر پانچ منٹ ہونے کو تھے۔۔ اسکی سحری ختم ہو چکی تھی سو پانی پیتی فورا برش کرنے کی نیت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
تین بج کر چھتیس منٹ ہے وقت کافی وقت ہے واعظہ۔۔
اسے اٹھتے دیکھ کر فاطمہ نے تسلی دینی چاہی۔۔
میں نے سحری کر لی ہے ۔تم لوگ کھائو۔۔
وہ سہولت سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ فاطمہ نے مزید کچھ کہنا چاہا مگر ابیہا نے آنکھ کے اشارے سے روک دیا۔
یار ویسے اسطرح بول بول کر تو حلق میں خراش پڑ رہی ہے۔۔
نور کو کہتے ساتھ ہی کھانسی لگ گئ آواز دبا دبا کر کھانستی۔۔ الف نے جھٹ پانی کا گلاس تھمایا دو تین گھونٹ پی کر ہی تھمی۔۔
یار بات سنو یہاں پر گرمی تو اتنی زیادہ نہیں مگر روزہ ہے بڑا لمبا۔۔سات بج کر سینتیس منٹ پر افطار ہوگا۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سات بج کر سینتیس منٹ تک کچھ کھائیں پئیں گی ہی نہیں؟ اسطرح تو کمزوری ہو جائے گی آپکو۔۔ یہ تو بہت مشکل عبادت ہے۔۔
نرس نے اتنا بڑا منہ کھول کر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔۔
وہ سحری کے لیئے دو روٹی اور سالن گھر سے ڈبے میں لائی تھی۔۔ سحری کے وقت گرم کرکے اپنی ایک دوست ڈاکٹر کے اسپتال سے ملحق ڈورم میں چلی آئی تھی۔۔ دو بیڈوں کا اسکے اپنے گھر کے غسل خانے جتنا ہی ڈورم تھا جس میں بیڈوں کے بعد بس چلنے کی گنجائش تھی بس۔ وہ ایک بیڈ پر ٹک کر کھانے لگی تھی۔ اسکی سہیلی تو ڈیوٹی پر تھی مگر اسکے ناشتہ شروع کرتے ہی اسکی سہیلی کی روم میٹ چلی آئی پہلے تو حیران رہ گئ کہ یہ کونسا کھانے کا وقت۔۔ نائیٹ ڈیوٹی والے تو عموما کھا کر آتے اور صبح ناشتہ کرتے۔۔ اسے تفصیل سے بتانا پڑا مگر اگلی مطمئن نہ ہو سکی۔ جھٹ سوال داغا۔۔
عروج نوالہ بناتے ٹھنڈی سانس لیکر رہ گئ۔۔
یہاں تو موسم اچھا ہے۔۔ پاکستان میں تو چوالیس ڈگری پر بھی لوگ بھوک پیاس برداشت کر رہے ہونگے۔۔ امی اٹھی ہونگی ناشتہ بنا رہی ہونگی سب گھر میں جاگ رہے ہونگے۔ تازہ لسی میں بناتی تھی اب جانے۔۔
وہ سوچ کر ملول سی ہوئی
خدا اتنا ظالم نہیں ہوتا کہ آپکو بھوکا پیاسا رکھ کر مانے۔۔ وہ تو آپ سے بہت پیار کرتا ہے آپ اس سے مانگیں تو یونہی دے دیتا ہے اسکیلئے آپکو سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ کوئی بڑی خواہش ہے جو پوری کروانے کے لیے روزہ رکھ رہی ہو؟۔۔
عروج اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔ سحری کا وقت تنگ ہو رہا تھا اس نے جلدی سے کافی کا گھونٹ بھرا۔۔ یوں تو سحری میں پینی نہیں چاہیئے مگر کوریا میں گرمی کے نام پر درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ تیس تک جاتا ہے اور اس وقت تو آرام سے منفی میں تھا سو ایک طرح سے سرد ی کے ہی روزے تھے پیاس شائد نہ لگتی اتنی ہاں ٹھنڈ سے بچنے کو کافی ضرورئ تھی ۔۔ وہ لے تو دو روٹیاں لائی تھی مگر ایک کے بعد دوسری کی جگہ نہ تھی زبردستی کرکے کہ ضائع نہ ہو اس نے آدھی مزید کھا ڈالی تھی۔
اکیلے اپنوں سے اتنی دور سحری اسکا دل اور آنکھیں دونوں بھر آئی تھیں۔۔
نرس نے اسے ملول دیکھا تو جانے کیا سمجھی۔۔ قریب آکر بیڈ کنارے ٹکتے دلگیری سے بولی۔
سب سے بڑھ کر آپ کو آپ کے ہی کیئے گئے اعمال کا صلہ ملتا۔۔ اچھے اعمال کرو اچھا صلہ ملا ملے گا برے اعمال کا برا۔۔ مانگنے کیلئے تو بس سچی نیت اور پر خلوص دل درکار ہوتا ۔ سچے دل سے مانگو منت پوری ہوگی۔۔ سو بنا کھا پی کر اپنے جسم کو تکلیف مت دو۔۔ اسکو اچھی حالت میں واپس کرو گی تب ہی تو بدھا خوش ہو کر اگلی دفعہ بھی دنیا میں بھیجیں گے میری یہ شاگرد بہت اچھی طرح دنیا میں رہتی ہے اسکو دوبارہ بھی بھیج دیتا ہوں۔۔
اسکا انداز ناصحانہ نہیں تھا ۔ بے حد نرم سے انداز میں میٹھئ زبان سے کہہ رہی تھی۔اسکے گول سے چہرے پر دھیمی سی مسکان تھی۔ وہ بحث کرنے والے انداز میں نہیں کہہ رہی تھئ وہ اپنے انداز سے اسکی غلطی کو نرمی سے جتا رہی تھی۔۔
عروج اسے دیکھتے ہوئے کھو سی گئ۔۔
یہ۔۔ یہ۔ انداز مسنگ ہوتا ہے ہمارے عالموں میں۔ چھوٹتے ہی کسی کو غلط ثابت کرو انداز میں سختی ہو تو وہ غلط ثابت ہو نہ ہو آپ سے متنفر ضرور ہو جاتا ہے۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط چار حصہ تین
صبح سب کی سب جمائیآں لے رہی تھیں۔سوتے سوتے چار بج گئے تھے گو نماز پڑھ کر سونا چاہیئے تھا مگر پہلے روزے میں سب نے خود کو رعائیت دی تھی۔ آگے انشااللہ عادت بن جائے گی نماز پڑھنے تک جاگنے کی۔ ابیہا فیس واش اور کریم اٹھائے باہر نکلی ٹھٹکی۔
پیچھے پیچھے اپنی دھن میں نکلتی عشنا سیدھی اسی سے جا ٹکرائی۔
سوری۔
وہ فورا معزرت خواہانہ انداز میں بولی مگر ابیہا متوجہ نہ تھی۔ ٹھٹکی کھڑی تھی عشنا نے اسکی نظروں کے تعاقب میں لائونج میں دیکھا تو وہ بھی ٹھٹک گئ۔
عروج تھکی تھکی سی داخلی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی
صبح بخیر۔ اف بہت تھک گئ۔۔
ایک تو اسوقت ہے جن ہوتا ہی نہ تھا گھر پر صبح صبح اٹھ کر نکل جاتا تھادوسرا عروج کے منہ سے ویسے بھی اونچی آواز شدید غصے میں ہی کبھی نکلتئ تھی آج تو ویسے بھی روزہ تھا سو آواز کی گھن گھرج معمول سے بھی کم تھئ سو بڑے آرام سے کہتی انکے پاس چلی آئی۔ ٹس سے مس نہ ہوتی دونوں ساکت کھڑی لائونج میں بچھے بڑے سے کیٹر پلر کو دیکھ رہی تھیں۔ اسے انکا انداز غیر معمولی لگا۔ دھیرے سے عشنا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
خیریت۔۔
عشنا چونکی۔۔ ابیہا بھی۔۔
ہے جن حسب معمول سات بجے نہیں اٹھا۔۔ اوپر سے بالکل بے سدھ پڑا ہے سانس لیتا بھی محسوس نہیں ہو رہا۔
ابیہا نے خاصے پریشان انداز میں کہا تو عروج نے سر پیٹ لیا
ارے چار فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو کر اگر اسکی سانسوں کا زیر بم محسوس ہوگا تو یقینا پریشانی والی بات ہے کہ وہ زور زور سے سانس لے رہا ہے کوئی مسلہ ہے اسکے ساتھ۔ ۔ایک عام صحتمند انسان اتنی زور سے سانس نہیں لیتا کہ میلوں دور اسکا جسم ہلتا نظر آئے۔
عروج نے کہا تو دونوں قائل ہونے والے انداز میں سر ہلا گئیں
ہاں یہ بھی ہے۔
دونوں مطمئن ہو کر کچن کی جانب بڑھ گئیں۔۔
روزہ نہیں تم لوگوں کا؟ عروج نے انکا رخ دیکھتے آواز لگائی دونوں نے ہی مڑ کر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر گھورا۔
اور اشارے سے ہے جن کا سونا جتایا۔ عروج نے بھی جوابا اشارے سے ہی معزرت کی۔
دونوں کچن کے سنک کی جانب بڑھی تھیں۔ آج چونکہ واعظہ نے بھی یونی جانے کا احسان کرنے کا ارادہ باندھا تھا سو باتھ روم مصروف تھا۔ وہ دونوں منہ دھونے ادھر چلی آئی تھیں۔
عروج کندھے اچکا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی کہ خیال آیا۔۔رکی پھر پلٹ کر کیٹر پلر پر نظر جما دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے میں نا ہی سمجھوں آج کے لیئے۔
یہ نہیں اٹھنے والی۔
نور نے تیسری بار تقریبا عزہ کو جھنجھوڑا تھا مگر وہ اوں آن کر کے دوبارہ کمبل میں گھس گئ۔ تو ٹھنڈی سانس لیکر بولی موبائل کی موسمی ایپ میں درجہ حرارت دیکھا تو آنکھیں کھل گئیں
۔ منفی۔۔ مطلب حسرت ہی رہے گی کوریا میں گرمیوں کے موسم کی جب صبح اٹھو منفی
وہ بڑبڑائی۔۔
سونے دو۔ ویسے بھی اسکی ہنڈرڈ پلس ہی حاضری ہوگی۔
اپنئ تو کلاس لیتی ہی ہے اپنی اس چندی انکھوں والی سہیلی کے ساتھ بھی اسکی کلاس لینے چلی جاتی ہے۔
الف نے ہرگز بھی متاثر ہونے والے انداز میں نہیں کہا تھا۔
بلکہ انداز اسکی عقل کا ماتم کرنے والا تھا
خیر اسکے باوجود بھی اسکی اٹھتر فیصد تک ہی گئ حاضری۔
نور کو یاد تھی عزہ کی کارکردگی۔۔
الف نے کندھے اچکائے۔۔ گلابی لانگ ٹاپ اور جینز پہن کر وہ نک سک سے تیار اب آئینے کے سامنے گھوم گھوم کر اپنا سراپا جانچ رہی تھی۔ ایکدم ٹھیک اعلی۔ فراگی جیسا نہیں۔ بلکہ الف کا اپنے زاتی انداز کا ہلکا گلابی اسکارف اسکے گول سے چہرے پر ٹھیک ٹھاک جچ رہا تھا۔ لیکن مطمئن نہیں تھئ۔ دوبارہ اسکارف چھیڑنے لگی تو نور نے گہری سانس بھری اپنے سر پر ٹکے لمبے سے اسکارف کا کونا پکڑا نقاب بنائی اور اپنا بستہ اٹھا کر نکلنے کو بالکل تیار ہو گئ۔ جبکہ الف کو اپنے انداز کا اسکارف بالکل نا بھایا تھا سو اب فراگی انداز میں۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیٹر پلر میں واقعی معمولی جنبش تک نہ تھی۔ عروج نے وہم سمجھ کر سر جھٹک کر کمرے کی جانب بڑھ جانا چاہا پھر رک گئ چند لمحے تزبزب سے دیکھا پھر اسکے اندر کی ڈاکٹرنی نہ رہ پائی۔
اپنا بیگ کائوچ پر اچھالتی وہ دھیرے سے چلتی آئی اور کیٹر پلر کے پاس گھٹنے کے بل آبیٹھئ
زپر اوپر تک چڑھائے بمشکل ہلکی سی دراڑ سانس لینے کیلئے چھوڑی ہوئی تھئ۔ اس نے زپر پکڑ کر نیچے کیا تو اندر سے گرمی کی جیسے لو سی نکلی۔ سرخ چہرے سرخ آنکھیں زرا سی کھول کر ہے جن نے دیکھا پھر نقاہت سے بند کر دیں۔
عروج نےاسکی پیشانی چھوئی تو جل رہی تھی۔
اسے تو تیز بخار ہو رہا۔۔ اس نے پریشانی سے کہتے ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی تھی۔
واعظہ ابیہا فاطمہ۔۔ جلدی آئو ادھر۔۔ اسے شدید بخار ہو رہا ہے۔
یہ اسکی وہی مخصوص والیم والی آواز جو ایسے ہی موقعوں پر ہی نکلتی تھی۔ اور کافی زور سے نکلتی تھئ۔ نیم بے ہوش ہوتا جن بھی آنکھیں کھول بیٹھا تھوڑی سی مزید طاقت ہو تی تو نہ صرف اٹھ بیٹھتا بلکہ اپنی عروج انی کو بچانے کیلئے کسی بھی طوفان سے ٹکرا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرا سی آنکھ کھول کر جن نے دیکھا تو آٹھ سروں کو اپنا پریشانئ سے معائنہ کرتے پایا۔ وہ اس وقت واعظہ کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔ نور الف طوبی عشنا اسکے بیڈ کے پیتھیانے کھڑئ تھیں تو ابیہا اسکے سرہانے بیٹھی اسکے ماتھے پر پٹیاں رکھ رہی تھی۔ عروج جمائیاں لیتی ساتھ والے بیڈ پر بیٹھئ وقت دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ایک ٹیکہ لگا دیا تھا پندرہ منٹ تک بخار کم ہو جانا چاہیئے تھا۔ فاطمہ عروج کے پاس تکیہ بازو میں دبائے آلتی پالتی مارے بیٹھی جھوم رہی تھی نیند سےپاس ہی صائم بھی بے خبر سو رہا تھا طوبی اسکے زرا سا کسمسانے پر اسے تھپک دیتی تھئ۔ ۔ واعظہ غائب تھئ عزہ دوسری جانب سے اسکے سرہانے بیٹھئ اسے جانے کیوں گھور رہی تھئ۔۔ طوبی کو دیکھ کر اسے خیال آیا۔ یہ پڑوس والی انی کیوں آئیں۔ اس نے زہن پر زور ڈالا تو کچھ دیر پہلے کا منظر تازہ ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کسے؟۔
واعظہ تولیہ سے منہ پونچھتی گھبرا کر باہر نکل آئی۔
الف اور نور گھبرا کر بھاگی آئیں عزہ البتہ محض بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ۔ سخت دل نہ سمجھو بڑ بڑائی پتہ ہے کیا تھی
پینا ڈول دے دو نا ۔۔ چلا ئو مت۔ اب خر خر ہلکے خراٹے گونج رہے تھے
عروج کے قریب ترین عشنا اور ابیہا تھیں سو وہ جائے وقوعہ پر پہنچ چکی تھیں۔۔
واعظہ۔ میڈیکل باکس لیکر آئو اسکا بخار بہت تیز لگ رہا ہے مجھے۔ ابیہا برف ڈال کر ایک پیالے میں پانی بنا لائو۔
عشنا تم اندر سےکمبل اٹھا لائو۔
عروج نے سب کو مصروف کر دیا تھا جلدی جلدی ہدایت دے کر وہ اب اسکی نبض دیکھ رہی تھی۔ واعظہ اور ابیہا سرعت سے مڑی تھیں۔
ہم بچ گئے۔۔ نور نے الف کے کان میں سرگوشی کی۔جانے عروج نے سن لیا یا اسکی شامت آئی ہوئی ہی تھی۔
نور جائو طوبی کے گھر اسکے شوہر اس وقت گھر پر ہونگے بلا کر لائو انہیں اسے بیڈ پر لٹانا ہوگا زمین سے تو اور ٹھنڈ چڑھے گی اسے۔۔
عروج مصروف سی اسکے سلیپنگ بیگ کا زپر کھول رہی۔تھی۔ جن میں واقعی جیسے جان نہ تھی۔
بے سدھ پڑا تھا۔
نور دانت پیستی پیر پٹختئ دروازے کی جانب بڑھی الف البتہ مسکراہٹ چھپا تی عروج کی مدد کروانے لگی۔۔
عشنا نے دھیرے سے سر کھجایا۔۔
دبلا سا تو ہے اٹھا سکتے ہیں ہم ہی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
دبلا سا تو ہے ہم سہارا دے کر اٹھا لیتے ہیں۔۔
لائونج کے بیچ میں کھڑی طوبی نے کہا تھا تو وہ سب اسے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
عروج نے تھرما میٹر میں بخار دیکھا ایک سو تین سے بھی اوپر جا رہا تھا ایک سو تین اعشاریہ پانچ چھے۔
واعظہ اسے فکر مندی سے دیکھ رہی تھئ۔
عروج وقت ضائع کیئے بنا اپنے بیگ سے پین اور پیپر نکال کر دوائیں گھسیٹنے لگی۔۔
یہ اسکے ہاسپٹل کی پرچی تھی۔ کوریا میں مخصوص نسخے کے بنا دوا لینا ناممکن تھا اس نے بھی بس بخار کی دوا لکھی تھی
ہم ایمبولینس نا منگوا لیں۔۔ پرچی تھامتے واعظہ نے کہا تو عروج اسے دیکھنے لگئ۔
میں تم پر شک نہیں کر رہی مگر پرایا بچہ ہے بخار بھی تیز ہے اگر میڈیکل اسٹور سے دوا نہ دی گئ تو؟
واعظہ نے وضاحت کی تو وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑگئ۔
اسکو اندر تو لے جائو زمین سے تو اور ٹھنڈ چڑھ رہی ہوگی
طوبی نے کیا تو وہ دونوں چونکیں۔یہ * تو دو دن کیلئے شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ نور نے بتایا تو مجھ سے رہا نا گیا ۔۔ایک۔طرف سے تم لوگ کندھے پکڑ لو میں ادھر سے ٹانگیں پکڑ لیتی ہوں۔۔
طوبی نے جیسے چٹکی بجاتے ہی مسلئہ حل کیا۔۔
صائم کو گود میں لیئے دھیرے دھیرے تھپکتی نور نے آنکھیں پھاڑ کر کیٹر پلر کے حجم کو دیکھا پھر طوبی کو۔۔
کندھے سے اٹھانے والے زیادہ وزن اٹھاتے ہیں۔۔
الف واعظہ کے کان میں منمنائی۔۔
عروج اور واعظہ ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہی تھیں۔۔
جن ہوش میں تو تھا مگر اسکے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی اسکے سر پر کیا کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔۔
جن ہمت کرو اٹھ سکتے ہو ؟ عروج نے دھیرے سے اسے ہلا کر ہنگل میں پوچھا۔۔
دے۔۔
بمشکل آواز نکلی تھی اسکی۔ ہمت کرکے اٹھنے لگا تو واعظہ نے آگے بڑھ کر اسے اٹھ کر بیٹھنے میں مدد کی۔
شاباش ہمت کرو ادھر کمرے میں چلو۔
واعظہ اسکی ہمت بندھا رہی تھی۔۔
عروج کو تھوڑا سا عجیب لگ رہا تھا مگر وہ بیمار تھا باقی ہر بات اس بات کے آگے غیر اہم تھی۔۔
اس نے آگے بڑھ کر سہارا دیا ایک جانب سے واعظہ اور دوسری جانب سے عروج اسکو سہارہ دے کر اٹھا ئے تھیں۔
انی کین چھنا۔۔
اسے خود بھی ایسے سہارہ لینا اچھا نہیں لگ رہا تھا سو نقاہت بھری آواز میں بھی منع کر رہا تھا
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائو ۔۔
ابیہا ہدایت دیتی آگے بڑھ کر دروازہ کھولنے لگی۔
ہے جن کو چکر سا آیا بے دم سا ہونے کو تھا۔۔ واعظہ ایک بازو سے سہارا دئیے تھے گرنے ہی لگی طوبی نے فورا آگے بڑھ کر واعظہ کی جگہ لے لی۔
عزہ کہاں ہے بھائی کی اتنی طبیعت خراب ہے ۔۔
طوبی کو اسکی بہن کی بے حسی پر غصہ ہی آگیا تھا۔۔
سارئ کزنیں خوار ہو رہی ہیں سگی بہن صاحبہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں۔۔ غصہ آنے والی بات تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔
بڑئ بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ ماں کی طرح اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھتی ہے اور تمہارے کونسا دو درجن بہن بھائی ہیں لے دے کر ایک ہی ہے ۔ ارے بھائی کا خیال رکھو اسے پیار جتائو تاکہ یہ تمہارے روییے سے متاثر ہو کر لوٹ آئے ۔ تمہیں اچھا لگے گا جنت میں تمہارے ساتھ تمہارا بھائی نہ ہو ؟
طوبی کا انداز سمجھانے والا تھا۔ عزہ نے دانت کچکچا کر جن کو دیکھا۔ جو آنکھیں موندے پڑا تھا۔۔کمبل سینے سے تھوڑا نیچے کیا اسے شائد گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ عزہ نے کھینچ کر اوپر کیا بس نہیں تھا منہ بھی ڈھانک دیتی۔ اسکی وجہ سے طوبی نے نہ صرف اسے سوتے میں جگایا تھا بلکہ ڈانٹا بھی تھا تبھی اب انداز بدل کر سمجھا رہی تھئ۔
کین چھنا۔۔
میں ٹھئک ہوں۔۔
بمشکل خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر اس نے تسلی دینی چاہی۔ عزہ جمائیاں لیتی اسکے سرہانے بیٹھی تھی۔ اسکا بخار کم ہو رہا تھا پسینہ آرہا تھا وہ گھبرا کر کمبل ہٹا کر بازو نکالتا یہ واپس درست کردیتی۔اس وقت تو غصہ آرہا تھا اتنا ڈانٹا تھا طوبی نے چھوٹے بھائی کا خیال نہیں کرتی ہو اتنا تیز بخار تم مزے سے سو رہی ہو بس کان نہین پکڑے تھے اسکے باقی ہر طرح سے چنگی بھلی بستی کی تھی۔۔ جن نے بھنا کر بازو کمبل سے نکالا تھا عزہ نے سرعت سے کمبل درست کر دیا ۔۔
کین چھنا انی۔۔
وہ بے چارہ گھگھیایا تھا۔۔
ایسے کیسے کین چھنا۔۔ ابیہا جھلائی۔۔ اسکے سر پر رکھی پٹئ اٹھا کر برف والے پانی کے پیالے میں ڈبوئی اور اس میں ڈوبی پٹی اٹھا کر اسکے سر پر رکھی۔
ایک سو تین بخار تھا تمہیں۔ عروج بر وقت نہ دیکھتی تو۔
وہ باقائدہ آنکھیں نکال کر اسے گھور رہی تھی۔ جن کیا کہتا آنکھیں موند لیں۔
کچھ کھا لو تاکہ دوا پلائی جا سکے۔
واعظہ ایک ہاتھ سے اسکے لئیے دلیئے کا پیالہ بنا کر لائی تھی۔ اسکے پاس آکر بیٹھتے ہوئے فکر مند انداز میں کہا۔
عروج اسکے کان میں آلہ گھسیڑ کر بخار دیکھ رہی تھی۔
اب سو سے کم ہو چکا تھا۔
روزہ تو نہیں رکھا ہوا نا اس نے۔۔ طوبی نے تسلی کرنا چاہی۔
یہ کیوں رکھے گا روزہ۔
نور نے کہا پھر زبان دانتوں تلے دبا لی۔ عزہ کا بھائی۔
ہاں یہ تو بے چارہ ۔۔ طوبی تاسف سے بولی۔۔
ابیہا نے جن کو سہارا دے کر بٹھایا بیڈ کے سارے تکیئے اسکی پشت پر سہارہ دینے کے لیئے لا ٹکائے۔ اسے اٹھتے دیکھ کر عزہ بھی جان چھٹی سو لاکھوں پائے کے مصدق اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس بات سے انجان طوبی بغور دیکھ رہی تھی اسکا رویہ۔
اور طوبی کو عشنا۔۔
عزہ تو گئیو۔۔
وہ الف کے کان میں بڑ بڑائی تھی۔ الف سو فیصد متفق تھی۔
ٹیکا لگنے سے وہ اٹھ کر بیٹھ تو گیا تھا مگر ابھی کمزوری تھئ۔۔ واعظہ نے پیالہ اسکی گود میں کشن رکھ کر رکھ دیا تھا۔۔ مگر چمچ اٹھاتے اسکے ہاتھ میں واضح کپکپاہٹ تھئ۔ ابیہا فورا بڑھنے کو تھی ہائے منا بھائی کھا بھی نہیں پا رہا۔ کہ طوبی نے عزہ کو کہہ دیا۔
عزہ تم کھلا دو بھائی کو۔۔
میں کیوں۔۔
وہ بدکی۔ طوبی نے تاسف سے گھورا
بھائی بدھ مت ہو یا ہندو بھائی ہی ہوتا کیسی لڑکی ہے بھائی سے لگائو ہی نہیں اسے۔۔
طوبی سوچ کر ہی رہ گئ۔۔
جن انکی۔بات سے بے نیاز دلیہ کا پہلا چمچ منہ میں ڈال رہا تھا۔۔
سب کی سب عزہ کو دیکھ رہی تھیں سب نے آنکھوں میں اسے گھرکا ہی تھا۔۔ وہ گہری سانس لیکر بیٹھ گئ اور جن کے ہاتھ سے پیالہ چھیننے والے انداز میں کھینچ لیا۔۔
جن بھونچکا رہ گیا تھا مگر کھا جانے والی نظروں سے گھورتی عزہ چمچ بھر کر اسی کے آگے بڑھا رہی تھی۔
اس نے اپنا کیا دھرا سوچنا چاہا آخر اسکو اسکی کس بات نے اتنا آگ بگولہ کیا تھا
ایٹ۔۔ ( کھائو) عزی نے دانت پیس کر کہا تو وہ گھبرا کر منہ کھول گیا۔ پورا چمچہ بنا پھونکے عزہ نے منہ میں دیا تھا اسے ۔۔ بے چارہ بھاپ اڑاتا منہ سے نگلنے لگا۔۔ ابیہا کو ترس آیا تھا تو نور کو اسکی لال بھبوکا شکل دیکھ کر ہنسی۔۔
بلکہ عشنا اور الف بھی منہ چھپا کر ہنسی تھیں۔
طوبی البتہ بڑے دلار سےانگریزی میں بولی۔
کتنے خوش قسمت ہو تم بہنیں خدمت کو تیار کھڑی ہیں تمہاری بس اب زیادہ خدمت مت لینا جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔۔
دے۔۔ یس۔۔
وہ گڑبڑایا۔
یہ ساتوں بہنیں ہیں میری ۔۔وہ سر جھکا کر بولا
گھمسامنیدہ انئ۔۔
اسکا معصوم سا انداز عزہ نے دلیہ میں چمچ کا گھوٹا لگایا۔
آیا بڑا میرا بھائی۔ اس نے اس بار بھر کر چمچ اٹھایا
سات بہنیں ؟ طوبی چونکی۔۔ سیون کیوں؟
عزہ ، الف، نور ، عروج ، عشنا ، فاطمہ ، ابیہا اور واعظہ کل آٹھ لڑکیا ں ہوئیں ان میں سے کسے بہن کے عہدے سے سبکدوش کیا اس نے۔
وہ سوچ میں پڑی۔
آٹھ وی آر ایٹ۔۔
وہی بھرا ہوا چمچ اس نے جن کے منہ میں گھسیڑا۔۔
اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ یہ نوالہ بھی چبائے بنا حلق میں سیدھا اترا تھا۔۔
میں بہت خوش قسمت ہوں میر ی آٹھ بہنیں ہیں بلکہ آپکو ملا کر اب تو نو ہو گئی ہیں۔
جن کے لیئے اگلا چمچ تیار تھا مگر جن جھکائی دے گیا بڑے ادب سے مشکور ہوا تھا طوبی نہال ہی ہوگئی۔
یس ۔میں بھی تمہاری بڑی بہن ہوں۔ مت بھولنا۔۔ اچھا میں اب گھر چلتی ہوں کسی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا ٹھیک میں افطاری کے بعد چکر لگائوں گی تمہاری طبیعت پوچھنے۔
وہ جن کے قریب آکر بڑے پیار سے اسکی پیشانی کے بال سمیٹ کر سر سہلا کر بولی
دے انئ۔
وہ بھی جوابا دل سے مشکور ہوا۔
اور بہن کو مزید پریشان مت کرنا دوا ئیں وغیرہ وقت پر لینا سمجھے۔
وہ واقعی ہی بڑی بہن بن چلی تھی۔ ہدایتیں نصیحتیں کرکے صائم کو گود میں اٹھاتی رخصت ہوئی تو عزہ نے اسکے جانے کا اطمینان کرکے پیالے کا آخری چمچ دلیہ کا سمیٹتی جن کے منہ میں گھسیڑ کر عزہ غرائی تھئ۔۔
یہ کس نے شوشا چھوڑا تھا کہ جن میرا بھائی ہے سچ سچ بتا دو۔
وہ دیکھ جن کو رہی تھی مگر مخاطب اردو میں ان ساتوں سے تھی جن کچھ سمجھنے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں چمچ منہ میں دبائے دیکھ رہا تھا
تم نے خود ہی تو کہا تھا۔۔
عروج نے جمائی لیتے ہوئے اٹھنے کا ارادہ باندھا۔۔
میں نے بس اتنا کہا تھا جب طوبی آپی نے پوچھا یہ بھائی ہے تو ہاں۔ میرا بھائی ہے۔ مگر آگےسے اتنی بڑی کہانی کس نے بنا دی کہ میرے والد نے کسی بڈھسٹ آنٹی سے شادی کی ہے ان میں علیحدگی ہوچکی میں والد کے ساتھ رہ کر مسلمان اور یہ والدہ کے ساتھ رہ کر بڈھسٹ ہو چلا ہے وغیرہ وغیرہ ابھی اتنا لمبا واعظ دیا ہے آپی نے کس طرح اسکا خیال کرکے میں اسے مسلمان ہونے پر مائل کروں۔
عزہ جھٹکے سے اٹھ کر چلائی تھی کافی دیر سے دبا غصہ تھا جو یوں پھٹ پڑی۔
واعظ کیا ہوتا؟ عشنا الف کے کان میں گھسی
وہی جو لغت دیتئ رہتی ہے اکثر۔
الف نے اطمینان سے سینے پر بازو لپیٹے
میدان سج چکا تھا اب یقینا گھمسان کا رن پڑنے والا تھا واعظہ اور عزہ کے بیچ
اگر تم مجھ پر شک کر رہی ہو تو یہ کام واقعی اس بار میرا نہیں۔۔
واعظہ ٹھنڈی سانس بھر کر فاطمہ کے پاس ٹکی جو اب مکمل ٹن ہو چکی تھی واعظہ کے پاس بیٹھتے ہی تکیہ پر سر جھکائے جھکائے ہی اس پر لڑھک گئ۔۔ واعظہ نے بمشکل آگے ہو کر اسے خود پر لدنے سے بچایا تو وہ اسکی پشت پر بیڈ پر لڑھک گئ۔
عروج بیڈ سے اتر کر چپل ڈھونڈ رہی تھی ارادہ اب لمبی تان کر سونے کا تھا۔۔
اور کسی کا زہن اتنا نہیں چلتا امی۔ عزہ کو شک نہیں یقین تھا۔۔
کچھ اندازہ ہے رمضان چل رہا اتنا بڑا جھوٹ کیسے نبھائیں گے ہم؟ اوپر سے یہ جو بھائی کو مسلمان کرنے کا ٹاسک طے کر دیا ہے طوبی آپی نے اسکا کیا کریں گے؟
وہ دونوں بازو کمر پر ٹکائے لڑنے والے انداز میں دوبدو تھئ
عروج کی چپل نہیں مل رہی تھی اکڑوں بیٹھ کر بیڈ کے نیچے دیکھنے لگی
نور نے واعظہ کی شکل دیکھی تھکن واضح تھی اسکے چہرے پر اتنئ کہ اپنی صفائی بھی نہیں دے رہی تھی وہ فاطمہ کے پاس جگہ بنا کر لیٹنے کو تھی۔جن ابھی بھی چمچ منہ لیئے موضوع گفتگو جاننے کی کوشش کر رہا تھا
ویو؟ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟
اس سے رہا نہ گیا توچمچ پیالے میں رکھ کر ابیہا سے پوچھ ہی لیا
یار لغت کی تو طوبی سے ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے دوبارہ آج جا کر ملی ہے اس نے کب کہانی جا ڈالنی تھئ۔
نور نے کہا تو واعظہ بس تائیدی نظروں سے دیکھ کر رہ گئ۔
یہ ہوچھ رہی ہے کس نے کہانی بنائی ہے والدین کی علیحدگی اور مزہب والی۔ ابیہا نے بتایا تو وہ عزہ کو دیکھتا اسکے متوقع ردعمل کو سوچنے لگا۔ لگ یہی رہا تھا سچ سن کر بال وال نوچ دے گی اسکے
تو پھر کس نے ڈالی یہ کہانی۔ طوبی آپی نے خود سے تو یہ سب نہیں سوچا ہوگا نا؟ عزہ کا شک دور نہ ہوسکا تھا
ہے جن نے گلا کھنکار کر ہمت باندھئ پھر ڈرتے ڈرتے کہہ ڈالا۔۔
میں نے کہا تھا۔ اس نے انگریزی میں کہہ کر سب کو بھونچکا کر ڈالا تھا۔ عروج چپل بیڈ سے نکالتی رک کر اسے دیکھنے لگی عزہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا واعظہ نے تھک کر آنکھیں بند کر لیں تھیں ایک تو رات کو سوئی نہ تھی اوپر سے روزے کی الگ سستی چڑھ رہی تھی میری آہموجی اگلے ہفتے آرہی ہیں سیول میں نے یونہی باتوں باتوں میں بتایا تھا انکو تو وہ پوچھنے لگیں آہموجی کے بارے میں میں نے سچ ہی بتایا تھا تو بولیں پھر اگر آہموجی کورین ہیں تو آپکی شکل کس سے ملتی ہے
آپ نے انہیں بتایا تھا کہ میں آپکا بھائی ہوں تو مجھے لگا آپ نے کسی وجہ سے ہی کہا ہوگا مجھے آپکی بات رد کرنا مناسب نہ لگا ۔ تومیں نے بس یہی کہا تھا کہ میرے والد پاکستانی تھے اور والدہ کورین سو میری بہن کی شکل والد صاحب سے ملتی ہے۔ ہمارے والدین میں علیحدگی ہو گئ ہے میں اور میری بہن یہاں تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے رہ رہے ہیں۔
جے ہن نے بتایا تھا پھر سر جھکا لیا تھا انداز ایسا ہی تھا جیسے کہہ رہا ہو جو چاہو سزا دے لو۔
عزہ نے اپنا سر تھام لیا۔
یک نہ شد دو شد۔ دو چندی آنکھوں والے بھائی اور اب ایک بڑئ آنکھوں والی بہن ۔۔ ایک امی آنے والی ہیں میر اتو کوریا میں خاندان اکٹھا ہوتا جا رہا ہے۔ اب کل کو ماموں چاچو بھی ڈھونڈ لانا امی تم میرے۔۔
کہتے کہتے وہ بھنا کر واعظہ کو کھا جانے والے انداز سے گھور کر بولی تھی۔
اچھا۔۔
واعظہ نیند میں تھی۔۔ اسکی فرمائش سن کر غنودگی میں ہی حامی بھر لی تھی۔ الف اور نور کھی کھی کرنے لگیں تو عروج کے زہن میں جھماکا سا ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیسی کمچی قسط چار حصہ چار۔
دوپہر کے چار بجے آنکھ کھلی تھی اسکی۔ دوا کھا نے سے خوب گہری نیند آئی تھی۔ مگر اب شائد دوا کااثر کم ہو رہا تھا سر میں خوب درد ہو رہا تھا اور گلا بھی بند محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کسمسا کر پوری ہمت مجتمع کر کے بیڈ کا سہارا لیتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ کمرے میں نیم تاریکی تھی ۔ درمیان کے ڈبل بیڈ پر وہ اکیلا سو رہا تھا جبکہ بائیں جانب سنگل بیڈ پر واعظہ اور فاطمہ لپٹ کر کمبل میں گھسی سو رہی تھیں۔ وہ دل ہی دل میں کافی شرمندہ ہوا تھا۔ اسے پائے خانے جانے کی حاجت تھی سو کافی احتیاط سے بنا آواز
کیئے بستر سے اٹھا تھا۔۔ دائیں جانب کونے میں باتھ روم کا ہی شائد دروازہ تھا۔۔ اس نے آہستگی سے اسے کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ کھٹ سے کھلا اور اسکی ستواں ناک سیدھا دروازے کا نشانہ بنی سی کرتا ناک دباتا پیچھے ہوا ۔۔ یہ ابیہا تھی۔ فورا شرمندہ ہوئی
اوہ سوری۔۔ لگی تو نہیں۔۔
وہ آواز دبا کر سرگوشی والے انداز میں ہی بولی تھی۔
آندے۔۔ کین چھنا۔۔ چے سو ہمنیدہ
نہیں ۔ٹھیک ہوں۔ معزرت
وہ سٹپٹا چکا تھا۔۔جھک جھک کر بولا
وہ مجھے باتھ روم جانا تھا۔۔
وہ سرخ چہرے سے سر جھکا کر بولا جیسے کوئی بڑا جرم سرزد ہوگیا ہو۔
تم جاتے بھی ہو؟ ابیہا بے ساختہ ہنسی
آج تک تو گھر میں باتھ روم استعمال کرتے نہیں دیکھا۔۔
وہ اردو میں ہی محظوظ ہونے والے انداز میں بولی۔
دے۔۔ وہ کچھ نہ سمجھا منہ اٹھا کر بٹر بٹر دیکھنے لگا
آندے۔۔ گپشیدہ
نہیں جائو۔۔
وہ ایک طرف ہو کر اسے راستہ دیتے ہوئے الماری کی جانب بڑھی۔۔ اسے نماز پڑھنی تھی سو الماری سے جائے نماز وغیرہ نکالنے لگی۔
جن تیزی سے اندر گیا تھا۔ اور چند ہی لمحوں میں واپس بھی آگیا۔
انی۔۔
ابیہا جائے نماز نکال کر پلٹی تو وہ مسمسی سی شکل بنائے کھڑا تھا
دے؟ وہ سوالیہ ہوئی
انئ۔۔ وہ۔۔
وہ جھجکا۔۔ پھر رک کر تیزی سے کہہ دیا
انئ اندر ٹوائلٹ رول تو ہے ہی نہیں۔۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشنا نور الف عزہ لائونج میں قطار سے جائے نماز بچھائے نماز پڑھ رہی۔تھیں
ابیہا کمرے سے نکلی تو انہیں دیکھ کر پیار ہی آگیا۔۔
اسکی جانماز بچھانے کی جگہ نہیں تھی سو کائوچ پر رکھتی کچن میں وضو کرنے بڑھ گئ۔
نماز کے انداز میں دوپٹہ لپیٹ کر جب تک آئی عشنا فارغ ہو چکی تھی اسے دیکھ کر فورا جگہ خالہ کر دی۔
یہاں کوریا میں جائے نماز کا ملنا آسان نہیں تھا اگر کوئی پاک قالین وغیرہ خریدنے بھی نکلو تو اس پر جانوروں وغیرہ کی تصاویر ہوتی تھیں ۔ انکو ایک جاپانی لڑکی ایک بڑی نئی واٹر پروف نماز کا بتایا تھا۔ جاپان میں خاص قسم کی واٹر پروف میٹیریل سے بنی نماز جو اتنی تہہ ہو جاتی تھی کہ جیب میں آجائے بنائی جاتی ہے۔ نہایت پتلے میٹیریل کی ہونے کی وجہ سے سجدہ کرنا ایسے ہی ہوتا تھا جیسے زمیں پر ہی کر رہے ہوں۔ انہوں نے آن لائین منگوا لی تھیں۔ پھر بھی اگر کسی کو وہم ہو کہ جانے اس میٹیریل پر سجدہ جائز ہے یا نہیں تو جامع مسجد سے خرید لائی تھیں وہ دو جا ء نمازیں بھی۔ اس وقت لائونج میں دو وہی عام استعمال کی جاء نمازیں تھیں دو جاپانی۔ ابیہا خاص جامع مسجد سے خریدی جاء نماز ہی پر پڑھا کرتی تھی۔
عشنا فارغ بیٹھنے کی بجائے قرآن کھول کر کائوچ پر بیٹھ گئ تھی۔۔
ہے جن کمرے سے نکلا تو ٹھٹک سا گیا۔اسے سمجھ نہ آیا کہاں جائے ۔۔ باہر نکل جانے کی ہمت نہ تھی۔۔ اور صبح نو بجے کا دلیہ کھایا ہوا تھا سو اب بھوک بھی لگ رہی تھی۔ عشنا نے قرآن پڑھتے ہوئے اسکی موجودگی کا احساس کر کے سر اٹھایا تھا۔۔
کیا ہوا؟
عشنا نے اس سے سر کے اشارے سے ہی پوچھا تھا وہ ہلکے سے نفی میں سر ہلاتا باورچی خانے کی جانب بڑھ گیا
عزہ نے جیسے ہی سلام پھیرا عشنا نے اسے پیر سے ٹہوکا دیا۔۔
جائو دیکھو تمہارا بھائی شائد بھوکا ہو رہا ہے۔۔
عزہ نے خشمگیں نظروں سے گھورا تو اس نے سر سے کچن کی جانب اشارہ کیا۔ عزہ نے مڑ کر دیکھا تو جن فریج کھولے کھڑا تھا۔۔
وہ سر جھٹک کر جاء نماز سمیٹتی دوپٹہ ٹھیک کرتی کچن میں چلی آئی۔۔ جن فریج میں آدھا گھسا ہوا تھا۔
آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا پھر فورا گھبرا کر سیدھا ہوا
وہ میں کچھ کھانے کو دیکھ رہا تھا۔۔
اسکا چہرہ ابھی بھی ہلکا سرخ ہو رہا تھا آواز بھی بھاری ہورہی تھی۔۔
عزہ نے ٹھنڈی سانس لی
کیا کھائو گے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چکن کے رات کے بچے سالن میں اس نے چاول ڈال کر دم دے دیا تھا۔۔ خالص کورین انداز کے لجلجے چاول بنے تھے۔پانی کا اندازہ ہی غلط ہو گیا تھا۔۔ چاولوں نے بس اتنی عزت رکھ لی تھی کے پگھل کر ساگودانے کی شکل اختیار نہ کی تھئ۔ کچھ کچھ کھیر جیسا پلائو تھا اگر کھیر کے چاولوں کو گھوٹا نہ لگایا گیا ہو۔۔ اگر یہ عزہ نے امی کے سامنے بنا کر رکھے ہوتے تو امی نے ٹھیک ٹھاک باتیں سنانی تھیں۔۔
مگر سامنے جن تھا۔ اسکی بھوک کا خیال کرکے اسکی انی نے دس منٹ میں چاول دم دئیے تھے وہ مخصوص کوریائی انداز میں شکر گزار ہوا تھا
چھائے موکے سبنیدا۔۔
سلیب پر پلیٹ رکھ کر عزہ نے چاپ اسٹکس اسکے سامنے سجائیں تو وہ ممنون انداز میں بولا۔ابیہا نماز سمیٹ رہی تھی اس نے اونچی آواز میں اسی سے پوچھ لیا
ابیہا چھائے موکے سبنیدا کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
میں پیٹ بھر کر کھائوں گا۔۔
ابیہا سے پہلے جن نے جواب دیا تھا۔۔
آئی ایم سوری مجھے انگریزی میں کہنا چاہیئے تھا۔
وہ شرمندہ بھی ہوا تھا۔
عزہ کو اسکا انداز دلچسپ لگا دھیمی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آہی گئ تھئ۔۔ اس نے فریج سے پانی کی بوتل اور گلاس بھئ اسکے سامنے لا رکھا۔۔ ڈھیلا پلائو اسکی طبیعت پر اچھا اثر ڈال رہا تھا حلق دکھ رہا تھا اور اسے ان چاولوں کو کو کیا چکن کو بھی چبانے کی زحمت نہیں کرنی پڑ رہی تھی۔ ایک تو پہلے ہی رات کو جب ابیہا نے بنایا تھا تو گوشت اتنا گل گیا تھا کہ بکھر رہا تھا اب تو مزید پلائو میں پک کر گھٹ گیا تھا۔۔
وہ سر بھی نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔ چھوٹے چھوٹے نوالے چاپ اسٹک سے بناتا نگلتا۔۔ عزہ کا بھائی۔
صبح یقینا وہ کافی غصہ کر گئ صاف صاف اسے نہ بھی کہا ہو کچھ تو بھی اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اسکی بنائی کہانی عزہ کو کافی گراں گزری ہے۔۔
عزہ پانی رکھ کر جانے لگی تو وہ اسے پکار بیٹھا
انی۔۔
عزہ رک کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
انی میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔
اس نے بڑی ہمت کر کے کہا تھا۔۔
دے؟۔ عزہ نے ہنگل میں ہی کہا تھا۔۔ انداز نرم سا ہی تھا۔۔ جن کی ہمت بندھی
چاپ اسٹکس پلیٹ میں رکھ کر وہ کھڑا ہو گیا تھا۔۔
عزہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔ جن اسکے بالکل سامنے آکر آدھے قد تک جھکا روائتی کورین انداز سے۔۔۔
میں نے آپ سے منسلک جھوٹ بولا میں اسکیلئے آپ سے تہہ دل سے معافی مانگتا ہوں۔۔ میرا مقصد ہرگز بھی آپکو دکھ پہنچانا نہیں تھا۔ پھر بھی اگر میری وجہ سے آپکو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معزرت۔۔
چھے فٹ سے نکلتا قد معصوم سی چندی آنکھوں وال جن جھک کر معزرت کر رہا تھا۔۔
کچھ بھی تھا بے ضرر بچہ تھا معصوم سا۔۔ یقینا کسی اچھے خاندان کی اچھی تربیت کا حامل۔
عزہ کو اسکے انداز پرہنسی بھی آئی اور پیار بھی۔۔
اٹس اوکے۔۔ مسکراہٹ ضبط کر کے اس نے کہا۔۔ ہے جن کی جان میں جان آئی مگر تبھئ پیچھے سے ابیہا فٹ سے بولی جان کر انگریزی میں تاکہ دونوں سمجھ سکیں۔۔
ہم پاکستانی معزرت تب قبول کرتے جب غلطی کرنے والا ہمارا کوئی کام کرکے دیتا ہے
ابیہا کے کہنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگے
مطلب؟
دونوں اپنی اپنی زبان میں بولے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باورچی خانہ ابل رہا تھا لوگوں سے۔۔ سلیب پر سے سر شروع ہو رہے تھے منے کچن میں میلے کا سماء تھا۔ سلیب پر ٹرے رکھے اسٹول پر ٹک کر
ڈھیروں ڈھیر مٹر جن اور عشنا بیٹھے چھیل رہے تھے۔ جبکہ انکے ساتھ ہی نور بیٹھی پالک کاٹ رہی تھی۔
میٹھے دانے مزے سے جن منہ میں ڈال رہا تھا عادت عشنا کی بھی یہی تھی مگر روزہ تھا اسے دیکھ کر رہ گئ۔
عزہ ابیہا فاطمہ نور سب افطاری کی تیاریوں میں لگی تھیں
ویسے انی آپ نے چھلے ہوئے مٹر کیوں نہ لیئے۔ ؟
جن نے میٹھے دانے منہ میں ڈالتے بات برائے بات کہا تھا۔
مگر ابیہا کے زہن میں کوئی پرانا واقعہ تازہ ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عشنا اور طوبی سودا سلف لینے اکٹھے نکلی تھیں۔۔
بچے عروج کے پاس چھوڑ کر۔۔
حسرت سے انہیں جاتے دیکھتی عروج نے کلمہ پڑھ لیا تھا جانے بعد میں موقع ملے نہ ملے۔۔
سپر اسٹور میں پھرتے انہیں بچت کے ایسے ایسے گر معلوم ہوئے کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔
طوبی انکوہر گام پر نیا گر سکھاتی تھی۔۔
ابیہا نے یونہی ٹوتھ پیسٹ اٹھا لیا۔۔ تو تڑپ کر اسکے ہاتھ سے لیا۔۔
ایسے ہی کوئی ٹوتھ پیسٹ نہیں اٹھا لیتے۔۔ منہ میں ڈالنا ہے اسے اجزا ء دیکھا کرو۔ کہیں اس میں جانوروں کے اجزا شامل تو نہیں۔
اسکی بات پر ابیہا نے ٹھنڈی آپ بھری۔۔ پانچ ہزار وون کی خریداری وہ بے گھرمیٹرو اسٹیشن پر سونے والے افراد میں بانٹ آنا یاد آیا۔۔ خاص طور پر وہ اسکا پسندیدہ ترین فیس واش ۔۔ قسم سے ایک دانہ نہیں تھا اسکے چہرے پر کیسی ملائم جلد ہوتی تھی جب سے فیس واش بدلا ہے۔۔
اس نے بے چاری سی شکل بنا کر گال پر ہاتھ پھیرا۔۔ تین ابھرے دانے محسوس کیئے جا سکتے تھے۔۔
طوبی ٹوتھ پیسٹ کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی تھی کچھ انگریزی میں نہیں تھا بس کچھ کوڈز تھے جو پڑھے جا سکتے تھے۔۔ عشنا نہ سمجھنے والے انداز میں ٹوتھ پیسٹ کے ڈبے کا پوسٹ مارٹم ہوتے دیکھ رہی تھی
آپ کیا دیکھ رہی ہیں۔ تجسس عروج پر پہنچا تو پوچھ ہی بیٹھی بے چاری۔
یہ دیکھو کوڈ۔ طوبی نے فاتحانہ انداز میں ٹوتھ پیسٹ کا ڈبہ لہرایا۔۔
یہ کوڈ ہوتے ہیں جن سے پتہ چلتا ٹوتھ پیسٹ کن اجزا سے بنا ہے۔ ان میں ایک کوڈ ہوتا جو سور کے ریشوں کی نشاندہی کرنا وہ کوڈ جس بھی چیز پر لکھا ہو وہ ہرگز نہیں خریدنی چاہیئے۔۔
ٹوتھ پیسٹ میں سور؟
عشنا کے چہرے پر الجھن در آئی۔
کونسا کوڈ۔ ابیہا بھی ڈبے پر جھک آئی
یہ دیکھو نا۔ تین پانچ آٹھ سات لکھا ہوا ہے یہ اور یہ نو بارہ اٹھا رہ ۔۔ طوبی نے دکھایا۔۔
تو یہ کوڈ جس میں ہو اس میں سور ہوتا ہے؟
ابیہا نے آنکھیں پھاڑیں
نہیں ایسا ہی ایک کوڈ ہوتا جو سور کے لیئے مخصوص ہوتا ہے یہ تو میں دکھا رہی تھی کہ کوڈ یہاں لکھے ہیں۔۔
طوبی کھسیائی۔۔
تو سور کے ریشوں والا کوڈ کیا ہوتا۔۔
عشنا کا سوال منطقی تھا۔۔
وہ تو مجھے یاد نہیں۔۔ طوبی بے چاری ہوئی۔
اف۔۔ عشنا اور ابیہا بال نوچنے کو تیار ہوئیں تھیں اپنے اپنے۔۔
گوگل کر لو نا جلدی سے ہم کوڈ دیکھ دیکھ کر چیزیں خریدیں گے۔
طوبی نے چٹکی بجا ئی۔۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔ عشنا اور ابیہا کو بھی خیال۔پسند آیا۔۔
لائو اپنا موبائل۔۔
تینوں نے اکٹھے کہہ کر کر ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔
تینوں کی خالی ہتھیلی سامنے تھی۔
میرا تو موبائل چارجنگ پر لگا ہے گھر میں۔
یہ بھی تینوں اکٹھے ہی بولی تھیں
اف۔۔ تینوں نے ہی اکٹھے ہی اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلیش بیک سے واپس آتے ہی نور فاطمہ عزہ چلائیں۔۔
اس بات کا بغیر چھلے مٹر لینے سے کیا تعلق۔۔
افوہ آگے بھئ تو دیکھو۔۔
عشنا اور ابیہا جھلائیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹوتھ پیسٹ واپس رکھ دیا گیا تھا۔۔ شک کی بنا پر۔۔
اب حلال ٹوتھ پیسٹ کہاں ڈھونڈیں گے؟۔
عشنا ابیہا کے کان میں منمنائی۔۔
آگے رمضان ہے ہمیں حرام حلال کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنا پڑے گا۔۔
یہ جواب طوبی کی جانب سے آیا تھا۔۔ گو اس نے سنا بھی نہیں تھا سوال وہ ان سے ایک قدم آگے خالی ٹرالی لیئے چلتی کہہ رہی تھئ۔ یونہی بر سبیل تزکرہ۔۔
ابیہا نے اثبات میں گردن ہلائی۔۔ یقینا وہ متفق تھی۔
عشنا نے حسرت سے ٹوتھ پیسٹ والے ریک کو دیکھا پھر مارے باندھے انکےہم قدم ہوئی۔
پھر اگلے آدھے گھنٹے میں درجنوں چیزیں ٹرالی میں آ آکر اپنے مقام پر واپس جا پہنچیں۔نہ صرف حلال حرام دیکھا جا رہا تھا بلکہ کفائت شعاری بھی ملحوظ خاطر رکھی جا رہی تھی۔
کالی پتی کے دو ڈبے لینے پر ایک جن سنگ چائے کا ساشے مفت۔ برانڈ گیا بھاڑ میں سب سے پہلے بچت۔
کیچپ کے بڑے والے پائوچ پیک کے ساتھ چھوٹی سا پیکٹ تھا چیز اللہ جانے کیا تھئ مگر مفت تھی اٹھا لو۔
بے بی پائوڈر بے بی لوشن تک لے لیا۔۔
یہ لوگ بچوں کی۔چیزوں میں یہ سب نہیں ملاتے ہونگے
طوبی نے فتوی دیا تھا۔۔
لوشن شیمپو صابن کسی عجیب سے نام۔کا ٹرالی میں بھر لیا۔ ایک۔عدد لٹو اور جھنجھنا اس پورے سامان کو خریدنے کا تحفہ تھا
شیونگ کریم کے ساتھ ریزر مل رہا تھا۔
یہ بھی لے لو۔۔ آفر ہے ساتھ۔۔ طوبی چہک کر کہتی آگے بڑھی۔۔ ابیہا نے جھٹ اٹھا لیا۔۔
عشنا نے جتاتی نظروں سے گھورا تو کھسیا کر واپس بھی رکھ دیا۔۔
عشنا کا اب واقعی بال وال نوچ لینے کا پروگرام بن چکا تھا۔۔
دالیں لوبیہ ہی بس بھر بھر کر اب تک ٹرالی کی زینت بنا تھا۔
فیس واش کی بجائے بیسن کلو بھر زیادہ لے لیا۔۔
اس سے جلد شفاف ہو جاتی ہے۔۔ بلکہ اسکے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں بس زرا سا بیسن ۔۔
کیا ماہرہ خان کہتی ہوگی بس زرا سا لکس جو ابھی طوبی نے کہا جیسے کہا۔۔ واہ آہ۔۔
ٹوائلٹ کلینر ڈش واش لیکیویڈ ہی بس انہوں نے بنا تحقیق کیئے لیا۔ گھوم گھوم کر ٹانگیں شل ہو چکی تھیں۔
گوشت کے حصے پر حلال کا نشان لگے گوشت کے لفافے اٹھاتے اٹھاتے بھی طوبی کے ہاتھ رکے تھے۔
ان پر ٹیگ لگا ہوا ہے یہ تو پکا حلال گوشت ہے۔۔
عشنا روہانسی ہو چلی۔۔
وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر کہیں یہ ٹیگ اسٹور والوں نے یونہی خود ہی لگا نا دئیے ہوں بیچنے کیلئے۔
طوبی شش و پنج کا شکار تھی۔۔
کوریا میں ہیں ہم ۔۔
عشنا کی آواز جوش میں بلند ہو چلی تھی۔
ایسے آئیڈیاز بس پاکستانیوں کو ہی آتے ہیں۔ اور انہیں تو ٹیگ بھی لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے کھلے عام گدھے کا گوشت بیچتے اور کتے کا پکا کر کھلاتے ہیں۔۔
ابیہا اور طوبی منہ کھولے اسکی تقریر سن رہی تھیںان دونوں کو چھوڑ کر عشنا آگے بڑھی گوشت کے لفافے ڈالے ٹرالی۔گھسیٹ کر سامان بھرا اور تن فن کرتی کائونٹر پر بل بنوانے بڑھ گئی۔
سبزیاں تو لی ہی نہیں۔۔
ابیہا کو سبزیوں والے حصے کو دیکھ کر یاد آیا۔۔
فروزن سبزیاں لوگی؟
طوبی حیران ہوئی۔ اور ابیہا پریشان۔۔
یا خدایا۔ فروزن سبزیوں میں بھی سور ملا ہوسکتا کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاں فریزر میں رکھی مہینوں پرانی سبزیوں میں جالی لپیٹ کر مہنگا بیچتے ہیں ۔ یہاں سے لو تازہ سبزیاں۔ یہ بازار ہمارے گھر سے بھی قریب ہے۔۔
طوبی کی فخریہ پیشکش۔ کوریا کی خالص سوغات دیسی انداز کی سبزی منڈی۔ جہاں جگہ جگہ ٹھیلوں پر سبزیاں استراحت فرما رہی تھیں۔ تنگ سی گلی جس میں اتنا رش کہ کی کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔
کولڈ اسٹوریج میں کم از کم بھی چھے مہینوں پرانی سبزیاں اور پھل ہوتے۔ہیں یہاں سے لو تازہ سبزیاں میں نے ایک آنٹی سے دوستی کی ہے پوری مارکیٹ سے دس وون کم لیتی ہیں مجھ سے ۔۔
ڈھیروں ڈھیر شاپر تینوں اٹھائے رش میں جگہ بنا رہی تھیں۔
ایک ادھیڑ عمر انکل بڑی سی مچھلی اٹھائے عشنا سے ٹکراتے گزرے۔عشنا نے گھور کر دیکھنا چاہا پاکستان ہوتا تو پٹ جاتے انکل مگر یہ کوریا تھا مڑ کر دیکھا بھی نہیں انہوں نے خراماں خراماں چلتے گئے۔ ویسے ایک بات یہ بھی تھی کہ ٹکرانے میں ٹھرک سے زیادہ تنگ سڑک کا قصور تھا سو وہ ضبط کر ہی گئ۔
سبزیوں کی ڈھیروں دکانیں ٹھیلے گزارتے وہ بازار کا سینہ چیرتی بازار کے اختتام پر جہاں سے آگے سمندری جانوروں کی منڈی شروع ہو رہی تھی جا پہنچی تھیں۔ بیچ بیچ میں کئی بار ابیہا نے بتانا جتانا چاہا بھی سبزیاں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں چلو لے لیتے ہیں مگر طوبی کی رفتار تیز گام کو مات دے رہی تھی یہ دونوں سامان اٹھائے ہانپتی کانپتی اسکے پیچھے رواں دواں تھیں۔
ستر کے قریب وہ بالکل بوڑھی پھوس خاتون تھیں جو عام منڈی کی نسبت پورے دس وون کم میں تازہ سبزی دیتی تھیں۔۔ وجہ بھی انہیں فوری معلوم ہوگئ تھی۔ انکی چھابڑی کے پاس ہی ایک بڑی سی سمندری۔حیات کی دکان تھی چھوٹے چھوٹے ٹبوں میں کیکڑے آکٹوپس مچھیلیاں جھینگے تیر رہے تھے انتہائی ناقابل برداشت پانی اور مچھلیوں کی ملی جلی بو پھیلی تھی۔ ابیہا اور عشنا کا ایک دم جی مکدر ہوا تھا۔ آنٹی ۔زمین پر کپڑا بچھائے ٹوکریوں میں سبزیاں رکھے وہ ایک بڑا سا ڈنڈا جسکے آگے پھلتروں سے لگے ہوئے تھے کپڑے کے گیلا کر کر کے سبزیوں کو مار مار کر تازہ کیئے ہوئے تھیں۔ اب اگر کوئی یہاں ہمت کرکے کھڑا رہ۔کرسبزی تلوا لے تو ازراہ ہمدردی آنٹی کم از کم آدھا کلوسبزی مفت والی پیشکش بھی دیتیں تو کم ہی تھا۔۔
ایک کلو گوبھی ، بینگن آلو پیاز ٹماٹر ۔۔
طوبی انکی پوری چھابڑی نہ صرف خود خرید رہی تھی بلکہ انکو بھی خریدوا رہی۔تھی۔ تھوڑی تھوڑی سب سبزیاں بچی تھیں واقعی انکا ٹھیلا ختم ہونے کو تھا ۔۔
طوبی نے ایک۔نظر بڑی سی ٹوکری میں ڈھیر مٹروں کو دیکھا ۔
سات آٹھ کلو تو ہونگے ۔۔
اس نے اندازہ لگایا۔۔
آدھے میں لے لیتی ہوں آدھے تم لوگ لے لو۔
طوبی نے جھٹ سے یہ بھی حل نکال لیا ۔
ٹھیک۔۔ وہ ان دونوں سے تائید چاہ رہی تھی۔ دونوں ہی اپنے اپنے کندھے سے اپنی اپنی ناک بند کرتی بے حال جواب دینے کی حالت میں نہ تھیں۔ہاتھوں میں خریداری کے شاپر تھے نا۔۔ طوبی مطمئن ہوئی اور آنٹی نہال۔۔
ایک بات اور۔
گھومتے پھرتے چلتے بچت کرنے گنگم کے بیچوں بیچ میں پہنچی تھیں یہاں سے واپس گھر ٹیکسی میں جاتے ہوئے وہ ساری بچتیں ٹھکانے لگ گئی تھیں جو اتنا گھوم گھوم کر کی گئ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندازہ غلط تھا ۔۔ بیس وون سستے دس کلو مٹر۔
سبزی منڈی سے مٹر سستے خرید لیئے تھے انکے حصے میں آئے پور ے پانچ کلو۔۔
اتنے مٹر نہ کھائے جا سکتے تھے سوتازہ مٹروں کو شاپر میں ڈال کر فریز کرنے تھے اور دس کلو مٹر چھیل کر فریز کرنے میں مدد درکار تھی ابیہا کو۔ ہیں نا ہم سچے پکے پاکستانی چھلی فروزن فوڈ استعمال کرنے کی بجائے تازہ سبزیاں خریدنے والے۔۔
ہے جن نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا
ہنسی تو نور اور عزہ کو بھی آئی تھی مگر عشنا اور ابیہا کے دکھی تاثرات دبانے پر مجبور کر گئے ۔۔
چھے بج چکے تھے ایک گھنٹہ تھا۔۔ پہلی کھیپ کے چھیلے گئے مٹر دھل کر ہنڈیا میں گل رہے تھے فاطمہ اسے دیکھ رہی تھی جانے کونسی منحوس گھڑی تھی جب اسکے منہ سے نکلا تھا
میں پلائو اچھا بناتی ہوں۔
اب چکن پلائو چنے پلائو مٹر پلائو سبزی پلائو وغیرہ بناتے وہ اسی گھڑی کو کوسا کرتی تھی۔۔ ابیہا ویسے اسکی مدد کرا رہی تھی ہاں پکوڑے بھی فاطمہ اچھے بناتی تھی۔۔
سو۔ فاطمہ پکوڑوں کے لئے بیسن گھولنے لگی تو ابیہا فروٹ چاٹ کیلئے فروٹ کاٹنے لگی۔
اسٹار بری ایو کاڈو کاٹتے اسے امرود بے انتہا یاد آرہے تھے۔۔
نور پالک کے پتے اور آلو کاٹ رہی تھی۔
عزہ شربت بنا رہی تھی۔ لیموں کی شکنجبیں
سب سے پہلے واعظہ نے ٹوکا تھا۔۔
سارے دن کے روزے کے بعد شکنجبیں گلا پکڑا جائے گا۔۔
عزہ نے سر جھٹکا۔
سنو سب کی کرو دل کی۔۔
وہ مگن چینی گھول رہی تھی۔
عروج اور الف تیار ہوتی پھر رہی تھیں افطاری شائد انکی راستے میں ہی ہوتی۔۔ کیونکہ الف کا شو تھا آج اور عروج کی نائٹ ۔۔
اور واعظہ ایک ہاتھ سے کام کرتی اچھی لگتی بھلا سو وہ اپنے یو ٹیوب چینل پر ویڈیو ڈال رہی تھی اب کیسی کونسی ویڈیو ڈالتی۔ اسکو آپ یو ٹیوب پر بد تمیز جنکشن لکھ کر ڈھونڈیں تو جو عجیب و غریب نا سمجھ میں آنے والا مواد ملے سمجھ جائیں اسی کا بنایا ہوا ہے۔۔
میری ویڈیو پر کمنٹ آیا ہے۔۔
منے لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی وہ ہر فن مولا میز پر اپنا لیپ ٹاپ رکھے خوشی سے اچھل ہی تو پڑی۔۔
بہت اچھی ویڈیو ہے گائے کا دل چاہ رہا کہ گائے۔۔ ہر گائے کو گانے کا شوق ہوتا ہے شائد کیونکہ گائے کے
زکر سے مجھے جوائے یاد آگئ۔۔
وہ اور ابیہا اکٹھے بولی تھیں۔۔
پھر چونک کر واعظہ اسے گھورنے لگی تھی تو ابیہا سمیت سب کھلکھلا کر ہنسی تھیں۔۔
تمہارے اس ففٹے چینل پر جو گنتی کے سبسکرائبر ہیں وہ ہم ہی تو ہیں ۔۔ تمہیں سمجھنا چاہیئے تھا کہ یہ ہم میں سے ہی کسی نے ترس کھا کر کمنٹ کیا ہوگا۔۔
ابیہا جان کر اسے چڑانے کو بولی۔۔ اور وہ چڑ بھی گئ۔
بہت زہر ہو تم ۔ اب یہ بجھا ہوا جگنو بھی تمہاری آئی ڈی ہے ۔۔
حد ہے ۔۔ مٹا رہی ہوں کمنٹ۔
اس نے جھٹ ڈیلیٹ کیا۔۔
خبر دار جو تم نے ڈیلیٹ کیا ایک تو اتنا وقت لگا کر میں نے تمہارا چینل ڈھونڈا اپنی نئی آئی ڈی سے دانتوں پسینہ آگیا تھا مجھے پھر کمنٹ کیا بجائے میرا احسان مند ہونے کے آگے سے ڈیلیٹ کر رہی ہو۔
ابیہا ایو کاڈو کاٹتے کاٹتے ہی تڑپ کر چھری ہاتھ میں لیئے اسکے سر پر بولتی آئی۔۔
مگر بے سود وہ ڈیلیٹ کر چکی تھی۔
فائیو جی کی رفتار انٹر نیٹ ایکسپلورر بھی اڑتا تھا وہ آرام سے ہوم پر کلک کر چکی تھی۔۔ اب چڑانے والے انداز میں آنکھیں پٹپٹا رہی تھی اسے دیکھتے
ابیہا نے دانت کچکچا کر گھورا پھر اس پر پل پڑی۔۔
کائوچ سے کشن کھینچ کر اسے سنبھلنے کا موقع دئیے بنا دھڑا دھڑ ٹھکائی کر رہی تھی۔۔
انی پٹے جا رہی ہیں۔ انکو اپنا بچائو تو کرنا چاہیئے۔۔
انکی چیخ و پکار پر ہے جن نےپلٹ کر دیکھا تو تاسف سے کہے بنا نا رہ سکا۔۔
یہ اکثر ابیہا کے ہاتھوں پٹتی ہے کوئی نئی بات نہیں۔۔
نور نے کندھے اچکائے۔۔
جھگڑا کس بات کا ہے۔۔؟ ہے جن بے چارگی سے بولاتھا۔۔
انکی اردو میں ہونے والی گفتگو اسکے اوپر سے گزری تھی۔۔
اسے چھوڑو تم یہ چکھ کر بتائو زیادہ کھٹا تو نہیں۔۔
عزہ نے شکنجبین بنا لی تھی سو چکھا کر ذائقہ ٹھیک ہے یا نہیں معلوم کرنا چاہ رہی تھی۔۔
گلاس میں گھونٹ بھر شربت ڈال کر اسکی۔جانب بڑھایا۔
دے؟ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
نور ہنسی۔
انگریزی میں بتائو اسے۔۔
وہ پالک کاٹ چکی تھی ٹرے اٹھا کر جانے لگی کہ خیال آیا۔۔ مڑی۔۔
جن نے عزہ کے ہاتھ سے گلاس لیا ۔۔
نور نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ابیہا اپنے دھیان میں فریج کھولنے جا رہی تھی جب اسکی نظر جن پر پڑی۔۔
جن نے مسکرا کر گلاس تھاما۔ ہونٹوں سے لگایا۔
ناہیں۔۔ سلو موشن میں دیکھا جاتا تو اندازہ لگایا جا سکتا تھا یہ چیخ بر وقت نور کے منہ سے نکلی تھی ۔۔ ابیہا کے ہاتھ سے دہی کا پیالہ جو اس نے رائتہ بنانے کیلئے فریج سے نکالا ہی تھا چھوٹا تھا۔۔
الف کا لپ اسٹک لگاتے ہاتھ بہکا تھا گال کے کنارے تک لکیر بن گئ تھئ۔۔ عروج زمین پر پڑی چھری اٹھانے جھکی تھی وہیں جھکی رہ گئ۔۔
ابیہا واعظہ کو کشن مارتے مارتے ٹھٹکی
عشنا اور فاطمہ بس اس بے وقت چیخ سے دہل کر رہ۔گئیں
عزہ بڑے غور سے جن کو گھونٹ بھرتئ دیکھ رہی تھی۔
جس نے گھونٹ مسکراتے بھرا تھا مگر نگلتے تک اسکی چندی آنکھیں مزید میچ گئیں تھیں اور وہ بے ساختہ جھر جھری لے بیٹھا تھا۔۔
کھٹا زیادہ ہے۔ ؟ اسکے تاثرات دیکھتے ہوئے عزہ کا اندازہ سو فیصدی درست تھا۔ جن کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے
میں اور چینی ملاتی ہوں پھر۔۔
وہ سمجھ کر چینی ملانے اٹھ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔انی آپ لوگ سارا دن کھانا نہیں کھائیں گی؟
جن کے انداز میں حیرانگی تھی۔۔
قسط چار حصہ پانچمنے لائونج میں دسترخوان بچھا ہوا تھا
پکوڑے فروٹ چاٹ دہی بڑے مٹر پلائو شکنجبین کا بھرا ہوا جگ اور کھجور ۔ اہتمام سے افطاری کا سامان سجا کر سب اسکے آگے تمیز سے آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھیں۔
ان سب نے دعا کے انداز میں ہتھیلیاں جوڑی تھیں۔ افطاری سے قبل روزے کی حالت میں جو بھی دعا مانگئ جائے قبول ہوتی ہے ویسے تو دعا خالصتا ذاتی معاملہ ہوتی ہے مگر چلیں ایک نظر ڈال لیں کون کیا دعا مانگ رہا ہے۔
عزہ۔۔
یا اللہ پلیز پلیز میرا پراجیکٹ اپروو ہو جائے زیادہ سے زیادہ جی پی اے بنے اس موٹےامریکی لڑکے کا تو پراجیکٹ اپروو بھی نہ ہو جو مجھے چڑا رہا تھا۔۔
پھر خیال آیا۔۔
نہیں یہ تو بد دعا ہو جائے گی۔۔ توبہ توبہ۔
اسکا بھی اپروو ہو جائے اس نے میرا دل بڑا جلایا ہے۔۔ مگر دل کڑا کرکے معاف کیا ۔۔
اس نے دل کڑا کرنا چاہا مگر ہوا نہیں ۔۔ وہ منظر آنکھوں میں تازہ ہونے ہی لگا تھا کہ ۔ اف رمضان ۔۔
فاطمہ۔۔
اللہ میاں اس سال تو اس پینڈو عادل کی شادی ہو ہی جائے اسکی امی کو کوئی امریکا پلٹ لڑکی کا رشتہ مل جائے آمین میری جان چھٹ جائے کسی طرح ہر مہینے دو مہینے بعد جو امی پر زور ڈالنے آجاتی ہیں اوپر سے امی ہر بار مجھے منانے لگ جاتی ہیں۔ اس سے تو بہتر میں یہاں کسی چندی آنکھوں والے سے شادی کرلوں مسلمان کر کے۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے دعا مانگ رہی تھی یہاں اس نے تنفر سے سر جھٹکا تھا
کسی چندی آنکھوں والے کے دل میں ایمان روشن ہو سکتا ہے اس پینڈو میں تمیز کی شمع روشن ہونا ممکن نہیں۔
آمین۔۔
عشنا۔۔
اللہ میاں میرے لیئے اچانک سے کوئی وسیلہ بنا دے ڈھیر سارے پیسے مل جائیں میں لی منہو کے فین کلب کا حصہ بن سکوں اسکی فیس کا انتظام کر دیں اللہ میاں۔
پھر خیال آیا۔۔
اور میری یونی کی فیس کا بھی اسکالر شپ مجھے ملتی نظر نہیں آرہی ہے ۔۔ بے چارگی سے سوچا گیا
ابیہا۔۔
اللہ میاں عجیب سی خواہش ہے مگر آپ تو سب جانتے ہیں ۔۔ جی چھانگ ووک کو مسلمان کر دیں پلیز۔۔ پلیز۔
اور آپ جانتے ہیں نا اسکا مسلمان ہونا کیوں ضروری ہے میرے لیئے۔
بے چارگی در آئئ۔ اب ایک ہی دفعہ میں کیا کیا قبول کروائے ۔۔ پہلے مسلمان تو ہو جائے اگلی دعا اسکے بعد۔۔
نور۔
یا اللہ میاں تین بار ان کوڈنگ کر لی اس بار تو کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے آپ ہی کسی طرح کچھ ٹھیک کردیں اور سیومی کے بوائے فرینڈ کی آئی ڈی ہیک کرنی ہے معاف کر دیجئیے گا ایڈوانس میں ہی۔۔ سیومی کو اس نے بہت رلایا ہے بس اسی لیئے سبق سکھانا ہے مجھے۔۔
واعظہ۔۔
یا اللہ میاں آپ کو تو پتہ نا میری نیت بس میری مدد کیجئے گا ۔۔۔۔
ہے جن۔۔
یہ ہے جن کو کیا ہوا۔۔ اپنی چندی آنکھیں پوری کھولے بٹر بٹر ایک ایک کی شکل کے زاوئیے بنتے بگڑتے دیکھ رہا
سات بج کر سینتیس منٹ ہو گئے ۔۔
سب نے افطاری کی دعا پڑھ کر کھجور کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔
یہ افطاری کا وقت ہے۔ ہم نے صبح فجر کے وقت جو کھایا پیا اسکے بعد اب ہم اس وقت افطار کر رہے ہیں روزہ۔۔
واعظہ اسکی حیرت بھانپ کر سمجھانے لگی۔
اچھا اچھا۔۔
جن نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ کھجور کو ڈرتے ڈرتے چکھا پھر زائقہ پسند آگیا اسے۔
ویسے سال میں ایک آدھ دن ایسا گزارنا پی چاہیئے۔۔ اسے یہ خیال پسند آیا تھا۔
ہم ایسے پورے تیس دن گزارتے ۔۔آج پہلا دن تھا اب اگلے پورے مہینے ہمارا یہی معمول رہے گا۔
نور نے کہا تو وہ چبانا بھول گیا۔
مطلب؟ آپ لوگ کل بھی سا را دن بغیر کچھ کھائے پیئے گزاریں گی؟ ایسے تو بیمار پڑ جائیں گی۔۔اسے تشویش ہوئی
ایسا نہیں ہوتا۔ واعظہ مسکرائی۔
روزے کے بہت فائدے ہوتے ہیں ۔
مثلا ۔۔
جن ہمہ تن گوش ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم جھوٹ نہیں بولتے کوئی گناہ کا کام نہیں کرتے
دھوکا نہیں دیتے۔ بھوکے رہتے تو غریبوں کی بھوک کا احساس ہوتا ۔۔ پھر ہم نرم دل ہو جاتے
سوچ سوچ کر الف نے بتایا۔۔ وہ اور ژیہانگ اسٹوڈیو میں ہی تیار بیٹھے تھے۔ ژیہانگ پلے لسٹ کے گانے اور سب مائک دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اپنے مائک کو ہٹا کر جگہ بنائے لنچ باکس کھول کر بیٹھئ تھئ۔ افطاری کا وقت ہوتے ہی اس نے دعا مانگ کر کھجور اٹھا لی تھی۔ ژیہانگ اسکی پھرتی دیکھ کر مسکرایا تو اس نے وضاحت کی کہ میرا روزہ تھا صبح سے۔
روزے میں کھانے پینے کے سوا اور کیا کیا ہوتا۔۔
وہ شائد تھوڑا بہت جانتا تھا رمضان کے بارے میں سو سیدھا سوال پوچھ ڈالا تھا۔۔
ہم سارا دن کوئی گناہ نہیں کرتے۔۔
وہ یوں تو پوری تقریر کر سکتی تھئ مگر ابھی افطاری اہم کام تھا سو اسی پر توجہ تھی اسکی۔
وہ گھر سے پکوڑے کھجور اور مٹر پلائو لنچ باکس میں لائی تھئ۔ آٹھ بجے اسکا پروگرام شروع ہو جانا تھا بیس منٹ میں افطاری ختم کرنی تھی سو وہ خاصی جلدی جلدی منہ چلا رہی تھی۔
بڑے غور سے سنتا ژیہانگ چونکا۔۔
بس روزے کے درمیان۔۔ باقی وقت ضرورت نہیں پڑتئ؟
اسکا سوال خاصا غور طلب تھا۔
الف کا نوالہ چباتا منہ رکا۔۔
نہیں منع ہو بعد میں بھی رہتا۔۔ مگر روزے میں سختی سے منع ہوتا تو خود ہی انسان بعد میں بھی اچھی باتوں کا عادی۔ہو۔کر رک جاتا ہے۔ اور نہ رکنے والے روزے میں بھئ نہیں رکتے بعد کی تو بعد کی بات۔۔
اس نے کہا تو ژیہانگ نے کندھے اچکا دئیے۔۔
ویسے مجھے حیرت ہے چین سے ہمیں اتنی کالز کیوں آتی ہیں۔۔۔ اسکی پلیٹ سے کھجور اٹھا کر کھاتے ژیہانگ کو اچھو سا ہوا۔مگر الف مگن بول رہی تھی
۔ اس دن پروڈیوسر انکل بھی حیران تھے اس سے پہلے
کبھی انہیں بین القوامی سامعین نے فون کر کے پروگرام میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ۔ لسن کوریا کی پچھلے ہفتے کی ریٹنگ آٹھ گئ۔
ایویں ہی۔ امریکی بھی تو کال کر رہے تھے ہمیں۔ اور وہ کیا نام تھا ۔۔۔ ژیہانگ سوچ میں پڑا اس بار اچھو لگنے کی باری الف کی تھئ پھندہ ہی لگ گیا۔ پانی کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا۔۔
مارٹن کہ کیا وہ بندہ تو جیسے ہمارا برینڈ ایمباسیڈر ہے۔
جسے دیکھو کال کرکے بتا رہا تھا کہ ہمیں مارٹن نے بتایا آپکے پروگرام کا بہت اچھا ہے۔ اور الف بہت اچھی باتیں کرتی ہے الف کی آواز اچھی ہے ژیہانگ بھی ٹھیک ہی ہے۔
ژیہانگ کہہ کر ہنسا تھا۔
ویسے۔ چینی بھی بس کچھ ہی جملے دہرا تے۔
ژیہانگ بہت اچھی باتیں کرتا اور الف کی آواز بہت اچھی۔
ژیہانگ نے مزید کہہ کر براہ راست الف کی آنکھوں میں جھانکا۔۔ وہ سٹپٹا سی گئ۔حالانکہ اس بات پر سٹپٹانا ژیہانگ کا ہی بنتا تھا۔
سو تم کورین نہیں ہو۔
الف کسی نتیجے پر پہنچ گئ تھی۔ مشکوک نظر سے دیکھتے تائید چاہی۔
ژیہانگ مسکرا دیا۔ اسکی چندی آنکھیں لکیر ہی بن گئیں جیسے۔
الف نے سر ہر چپت ہی لگا لی۔
اب تک تو کورین اور غیر کورین میں پہچان کر ہی لینی چاہیئے تھئ مجھے۔
کیا بتاتی تھی واعظہ
۔ وہ اردو میں بولتے ہوئے سوچ رہی تھی ظاہر ہے ژیہانگ کو اردو تھوڑی آتی ہوگی سو آرام سے اسی کی شکل دیکھ کر سوچ ڈالا بلکہ بول بھی ڈالا۔
میں نے ایک پہچان نکالی ہے کورین جاپانی اور چینیوں کی۔۔
واعظہ مخصوص انداز میں اسے تصور میں بتا رہی تھی۔۔ (فلیش بیک)
جنکی آنکھیں بہت زیادہ کھلتی ہوں کہ جن کا پپوٹا نظر ہی نہ آئے جاپانی ہوتے۔
جن کی نسبتا کم کھلیں اور کبھی کبھار پپوٹا بھی دکھائی دے جائے تو وہ ہوئے کورین
جنکی انہی نقوش کے ساتھ بس گزارے لائق آنکھیں کھلیں اور ہنستے ہوئے تو بالکل بند لکیر سی نظر آئے وہ ہوتے ہمارے پڑوسی چینی۔
مگر آئی کین ناٹ ہگ یو کے ہیرو ہیروئن کی تو بہت آنکھیں کھلتی ہیں۔۔۔ ابیہا نے فلیش بیک میں بھی چمچ مار نا ضروری سمجھا۔۔
ہاں تو چین بھی تو بہت بڑا ہے جو ہانگ کانگ والے اور جاپان کے قریب والے علاقے کے لوگ انکے نقوش بھی جاپانیوں جیسے ہی ہیں نا۔اور فلموں ڈراموں میں تو ویسے بھی حسین چہروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔۔
واعظہ اپنی بات جھٹلائے جانا پسند نہیں کرتی تھی سو اگلی وجہ پیش بھی کر دی۔
اگر اس کلیئے ( تھیوری) کو سچ مانا جائے تو یہ شکل سے صاف چینی لگتا ہے میں نے پہلے کیوں نہیں پہچانا۔۔ جبھی تو چینی کالیں کر کر تھک رہے انہیں کیا پڑی لسن کوریا ایف ایم سننے کی جس میں انگریزی باتیں اور کورین گانے سننے کو ملتے ہوں۔۔
وچ تھیوری؟۔
ژیہانگ نے اسکا فلیش بیک تو نہیں دیکھا تھا ہاں اسکا تجزیہ سن لیا تھا۔
واعظہ کی تھیوری۔۔
الف روانی میں بتاتے بتاتے چونکی۔۔
ہائو ووڈ یو نو ؟۔۔ ( تمہیں کیسے پتہ چلا)
تمہیں اردو سمجھ آتی ہے؟
الف کا منہ گز بھر کھل گیا تھا۔۔ دنیا جہان کی حیرت اس پر عود کر آئی تھئ۔۔
ایکچوئیلی۔
ژیہانگ سٹپٹایا ۔۔ جلدی سے بات بنانے ہی والا۔تھا کہ پروڈیوسر صاحب چہکتے ہوئے دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھول کر داخل ہوئے۔۔ وہ محاورتا نہیں حقیقتا بلیوں اچھل رہے تھے۔۔
بڑی خبر سنو۔۔ سی ہون اگلے ہفتے ہمارے شو میں آنے کو تیار ہو گیا ہے۔ فرانس کے فیشن شو میں حصہ لیکر واپس آنے پر کسی بھی ریڈیو ٹی وی چینل پر پہلی بار اسکا انٹر ویو نشر ہوگا۔ ہم نے اسے سب سے پہلے اپروچ کیا ہے اور پتہ ہے کتنے اسپانسرز ہم سے خود رابطہ کر رہے ہیں۔ ہمارا چینل راتوں رات نمبر ون ہو جائے گا۔۔ ایکسولز ہمارے پروگرام کی ریٹنگ کو اڑا کر رکھ دیں گے۔
وہ ادھیڑ عمر انکل اسٹودیو میں پھدکتے عجیب لگ رہے تھے۔
اچھا سیہون۔ ژیہانگ نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔ وہ کورین گانے کم ہی سنتا تھا
کیا سیہون؟
الف کا سکتا ٹوٹا تھا۔۔
یاہو وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر کھڑے ہوتے ہوئے جھومی تھی چیخی پھر بس نہ چلا تو خوشی کے مارے اچھلنا اور کودنا شروع کر دیا چئیر ایک طرف کر کے چھلانگ مار کر میز پر چڑھ گئ۔۔مائک کھینچ کر سیہون کی طرح جھومم جھوم کر کال می بے بی گا دیا
پروڈیوسر صاحب اور ژیہانگ منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
اف آئی ایم سو ہیپی۔۔ خوشی ی ی ی ی سے پاگل ہو نہ جائوں میں۔
وہ دوپٹہ لہرا کر جھومی میز اسکا وزن نا سہار سکی اور وہ الٹ کر نیچے آگری۔
پروڈیوسر صاحب اپنی ساری خوشی بھول بھال منہ کھولے بٹر بٹر اسکی شکل دیکھ رہے تھے۔۔ ژیہانگ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
کیا ہوا ؟ خوشی نہیں ہوئی تمہیں۔۔
دے؟۔
الف چونک کر اپنے حال میں واپس آئی۔۔ تو وہ سب اسکا تصور ہی تھا۔۔اس پر اوس سی آگری۔۔ ایک خالص پاکستانی لڑکی ایسے خوش ہو بھی کیسے سکتی بھلا۔۔ سکتہ ہی ہوا تھا اسے سیہون کا انٹر ویو ۔۔ اسکی آنکھوں میں پانی تیزی سے جمع ہوا۔۔ پروڈیوسر صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑے۔ الف کے نین کٹورے بھرے پھر چھلک بھی پڑے
سیہون اف۔ میں اسکی اتنی بڑی پرستار ہوں۔۔ مجھے اتنا شوق تھا۔۔
لو پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع۔
ایکسو کی فین میٹنگ کیلئے پیسے جمع کرتی ہوں کپڑوں کی شاپنگ کے سارے پیسے ضائع ہونے کے باوجود میں نے ان پیسوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔
وہ روتی ہوئی کہہ رہی تھی۔
اور اب۔۔ میں خود ہی انکا انٹرویو لوں گی۔ اف خدایا۔۔
میرا دل بھر آیا ہے بہت شکریہ اللہ میاں۔۔
اس نے میز پر بازو رکھے منہ چھپا کر روئے گئی۔
کین چھنا۔۔ پروڈیوسر صاحب کا بس نہیں تھا اسکے ساتھ بیٹھ کر رونا شروع کر دیں۔
ژیہانگ نے اشارے سے انہیں جانے کو اور اطمینان کر لینے کو کہا۔۔ انہوں نے گھڑی دیکھی شو شروع ہونے میں تین منٹ ہی تھے۔۔
اور الف کہہ رہی تھی۔
سیہون کا انٹرویو مگر میں کہوں گی کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر میں کہوں گا کیا؟۔۔
موبائل کان سے لگائے جن نے بے چارگی سے کہا۔۔
کچھ بھی آپ بہت اچھا بولتی ہیں میں آپکا بہت بڑا پرستار ہوں کسی گانے کی فرمائش کر دینا کہنا کال می بے بی لگا دیں۔۔
نور نے اسکرپٹ بتادیا پورا۔
منے لائونج میں سے افطاری کا سامان سمٹ چکا تھا
ابیہا برتن دھو رہی تھی واعظہ اندر کمرے میں تھی جن کو اپنے یہاں رہنے کا تاوان ادا کرنا تھا یعنی الف کے شو میں کال کرنی تھی۔ نور عزہ فاطمہ عشنا اسکو گھیرے بیٹھی تھیں۔۔ بیچ میں چوکور تکیہ رکھ کر فون رکھا ہوا تھا جسکا اسپیکر آن تھا۔ لائن مصروف تھی سو آٹو ری ڈائلر لگا کر سب ہمہ تن گوش تھے۔
مگر میں نے تو آج تک کبھی انکا شو نہیں سنا۔
جن نے بے چاری سی شکل بنائی
جھوٹ بولنا نا اب سچ مچ سنا تو تعریف تھوڑی کر سکو گے۔۔
یہ عزہ تھئ۔۔ نور اور فاطمہ بےساختہ ہنسیں
رمضان میں جھوٹ۔
عشنا کو گناہ کا ڈر ستایا۔۔
ہم تھوڑی بول رہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ کہ میں جان کر فون نہیں کر رہی رمضان میں جھوٹ اور دھوکا دہی کا گناہ بھی زیادہ ہوتا۔
نور نے ہاتھ جھاڑے۔۔
بالکل صحیح۔ عشنا نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔
ہیں۔ تو آپ لوگ مجھ سے کیوں گناہ کر وا رہی ہیں۔۔
جن ڈر کر بدک کر پیچھے ہوا
مسلمان ہو؟
فاطمہ نے کان سے پکڑا اسے واقعی۔۔
نونا کان تو چھوڑیں۔۔
جن بلبلایا۔۔ شائد زور سے پکڑ لیا تھا گال سرخ ہونے لگے تھے۔ عزہ جز بز سی ہوئی جانے کیوں
بولو مسلمان ہو؟۔فاطمہ نے کان نہ چھوڑا بلکہ اس بار چبا چبا کر بولی
آندے۔۔ نو۔۔
تو پھر ؟ تمہیں تھوڑی گناہ ملے گا ۔۔ فاطمہ نے کان چھوڑا۔۔
ہاں مگر بدھا کہتے انسان کو اسکا کرما فورا ملتا ہم جہاں کچھ غلط کہتے کرتے فورا ہماری پکڑ ہوجاتی ہے
وہ اپنے دین کے مطابق بولا تھا۔۔
یعنی کل کو تم کبھی ریڈیو پر بیٹھے ہوگے تو کوئی فون کرکے تمہاری بھی جھوٹی تعریفیں کرے گا۔۔
عشنا فورا سمجھ گئ۔۔ نور فاطمہ عزہ کھلکھلا کر ہنسیں تو وہیں جن جھینپ کر کھسیایا۔۔ پھر سر کھجاتے ہوئے بولا
ہاں ہم جو کرتے ویسا ہی ہمارے ساتھ ہوجاتا۔۔ تو۔ٹھیک ہے کر لیتا ہوں جھوٹی تعریف۔۔
وہ بھی کم نہیں تھا سو احسان دھر کر بولا تھا۔۔
لیکن میں ایکسو کی تعریف نہیں کروں گا پکا آرمی ہوں۔
بلڈ سویٹ اینڈ ٹئیرز سننا ہے مجھے فرمائش کرکے۔۔
آرمی؟۔واقعی؟ رئیلی جھنچا؟ فاطمہ چیخ ہی تو پڑی جن ڈر کر پہچھے کو کھسکا۔۔ وقت رک سا گیا تھا
آرمی اور ایکسول کی خونخوار جھڑپیں ٹویٹر پر جنگ تو معمول کی بات مگر کلبوں کے ارکان کی آپس میں لڑائی آرمی اور ایکسول کے درمیان خونخوار تصادم کئی پرستار زخمی یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب مشہور ایوارڈ شو کیلئے پرستار اپنے پسندیدہ بینڈ کیلئے بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر مارچ کرتے ہوئے گنگم اسٹریٹ میں آمنے سامنے آگئے۔۔ دونوں گروہوں کے درمیان نعرے لگاتے لگاتے جوش میں چیزیں پھینکنے کی شروعات ہوئیں ۔ کئی پرستار زخمی ہو چکے ہیں تعدار پچاس تک پہنچ چکی ہے
مشتعل پرستاروں کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا ہے پولیس کی مداخلت کے بعد اب حالات معمول کے مطابق ہیں پولیس کی جانب سے پرستاروں کو پر امن رہنے کی ہدایت
کے بی ایس نیوز کی چندی آنکھوں والی نیوز کاسٹر فاطمہ کے کندھے کے پاس سے پردے پر خبریں سنا رہی تھی۔۔
جھماکا چند لمحوں پر محیط تھا ۔۔انی ایکسول ہیں کیا؟
اس نے ڈرتے ڈرتے تھوک نگلا۔۔
دے۔۔ ہاں۔۔ وہ سر بھی ہلا رہا تھا
وقت دوبارہ چل پڑا تھا۔۔
یاہو زبردست ۔۔ فاطمہ نے خوشی سے نعرہ لگایا تھا۔۔ نور اور عشنا بد مزہ سی ہوئیں۔ ڈرامے تو پھر چلو ٹھیک مگر کے پاپ کیلئے اتنا پرجوش کوئی کیسے ہو سکتا۔
میں بھی آرمئ ہوں ۔۔
کون پسند سب سے زیادہ۔۔ اسکا جوش کم نہ ہوا تھا۔۔
کسکی آواز۔۔
ت۔۔تائی ہیونگ۔۔ جن کی سانس بحال ہوئی تھی۔۔ مگر پھر بھی اٹک کر ہی بولا ۔جانے اب اگلی کوکی کی فین ہوئی تو۔۔
تائیہونگ میرا بھی پسندیدہ ترین ہے۔۔
فاطمہ خوشی سے پھولے نا سما رہی تھی۔۔
دے۔۔ زبردست۔۔ شکر ہے کوئی تو آرمی آیا۔۔ جن آرمی ہے۔۔ ابیہا۔۔
وہ بہت پرجوش تھئ وہیں سے چیخ مار کر باورچی خانے میں کھڑی ابیہا کو بتایا۔۔ابیہا نے جوابا مسکرا کر سر ہلا دیا۔۔
آپ لوگوں کو کون پسند ۔ جن کا اعتماد بحال ہو چکا تھا
اور فون پر کنکشن بھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔مم۔۔۔۔۔۔
اور جناب جب سے ہم نے اعلان کیا ہے کہ سیہون ہمارے شو میں آنے والے ہیں تب سے کالرز کا تانتا بندھ گیا ہے
ایکسول شدید پرجوش ہیں اور اپنے پیغامات ریکارڈ کروا رہے ہیں ہمارا ایکسٹینشن نمبر اب سے چونیس گھنٹے چالو رہے گا زیادہ سے زیادہ انوکھے سوال پوچھنےوالے کالرز کو ترجیح دی جائے گی۔۔
پورے شو میں الف بس یہی۔جملے دہرا رہی تھی۔۔ ابھی بھی دہرا کر مائک ایک۔طرف کر کے بیٹھ گئ۔ ژیہانگ نے اگلی کال لے لی تھی۔۔
کیونکہ آج کورین عوام بن بادل برسات کی۔طرح برسی تھی اتنے کالرز تھے کہ۔کال ملنا مشکل تھا کورین زبان سے ناواقفیت کی بنیاد پر الف کا ان سے بات کرنا ممکن نہ تھا
ژیہانگ کے میدا تیدا کرتے رشک سے دیکھ رہی۔تھئ۔۔
کیسا تین تین زبانیں بولتا ہے پتہ نہیں لوگ کہاں سے دماغ لاتے۔یہاں تو سال ہونے کو آرہا رہتے ایک۔لفظ کورین نہیں آتی۔ اور یہ چین میں رہ کر کورین انگریزی سیکھے بیٹھا ہے۔
وہ بےد ھیانی میں اسی پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی۔
اور کبھی کبھی تو لگتا اردو بھی سمجھ لیتا۔ ارے ہاں میں نے اس وقت کیا بولا تھا کلیہ۔۔ہاں واعظہ کے ٹوکنے پر اب اردو ہی۔نکلتی ہے منہ سے اس نے تھیوری کہا اسے کیسے۔۔
وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔
ژیہانگ اسکی نظریں محسوس کرکے خیر سگالی انداز میں مسکرا دیا وہ کسی کورین کالر سے بات کر رہا تھا۔۔
نہیں میں نے ہی تھیوری کہہ دیا ہوگا اب چینی کو اردو کیوں آنے لگی بھلا ہم ہی انگریزی کا تڑکہ بلکہ مکس دال ہی بنا ڈالتے اردو کی۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر سیدھی ہوئی۔
لیٹس موو ٹو آر نیکسٹ کالر۔۔
آننیانگ شنگویا۔۔
ژئہانگ نے کہا مگر آواز صاف نہ تھی پھر کھڑ کھڑ کے بعد صاف آواز آئی۔۔
لسن کوریا میں خوش آمدید۔ آپکی کال مل چکی ہے۔۔
ژیہانگ نے متوجہ کرنا چاہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی نہیں۔۔ کے پاپ میں تو قطعی دلچسپی نہیں مرا شور لگتا ایک لفظ سمجھ آتا نہیں اوپر سے چیخ چیخ کر گاتے۔۔
عشنا نے بے لاگ تبصرہ کیا۔۔
اب ایسی بھی بات نہیں میوزک اچھا ہوتا ہے۔
عزہ نے ٹہوکا دیا۔ ایسے بے لاگ کم از کم کورین کے سامنے تو نہیں کہنا چاہیے نا۔۔
تو بندہ خالی موسیقی تو نہیں سنتا نا۔۔
عشنا نے منہ بنایا۔۔
اس دن گانا سن رہی تھی بس لگ رہا چیخیں مار رہے ہیں دو تین لڑکے مل۔کر۔۔ پتہ نہیں ایکسو تھے کہ بی ٹی ایس۔۔
ایکسو ہونگے۔۔۔ فاطمہ نے جملہ اچکا۔۔ انکے گانے سنو تو درجن بھر ارکان ہیں ایک ایک جملہ گاتے تو گانا ختم جبھی نا سمجھ آتا نہ کچھ اور نرا شور۔ تائیونگ کی آواز سنو اتنی گہری میٹھی ہے بندے کا دل دھک۔دھک کرنے لگتا اسکے تان کھینچنے پر۔۔
خیر اب ایسی بھی۔بات نہیں۔۔
ابیہا رہ نہ سکی نلکا بند کرتی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ادھر چلی آئی۔۔
کائی اتنا اچھا ہے۔۔
شکل ہی زیادہ پسند آپکو اسکی ابیہا۔۔
فاطمہ نے منہ بنایا۔۔ ابیہا کھسیائی۔۔ بات تو سچ تھی۔۔
دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔ ایک دنیا ایکسو کی دیوانی ہے اور تم ایسے کہہ رہی ہو۔ تم لوگ آرمی ہوتے ہی ایسے ہو۔۔
بد تمیز اجڈ۔ ایکسو کے پائوں کی دھول بھی نہیں بی ٹی ایس۔
الف چیخی تھی۔۔ ژیہانگ جو کال کاٹنے ہی جا رہا تھا اسکو پرے کرتی وہ خم ٹھونک کر میدان میں آئی تھی۔۔ ژیہانگ ہکا بکا تھا صرف وہی نہیں جن بھی اور
وہ سب بھی۔۔ پھر چپ ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگیں۔۔ یہ کب آئی واپس۔
جن سب سے پہلے آواز کے منبع تک پہنچا مگر۔۔
فاطمہ نے جھپٹ کر فون اٹھایا۔۔
کیا کہا تم نے بی ٹی ایس ایکسو کے پائوں کی دھول کیوں ہونے لگے ؟ ایکسو البتہ بی ٹی ایس کے آگے برساتی بدبودار کیڑے ہیں۔۔ اور جو کہنا مجھے کہو آرمی کو بیچ میں مت لائو۔تم ایکسول جیسے نہیں ہیں ہم جو۔۔
ایکسول اور آرمی میں جنگ چھڑ گئ تھی۔۔ پہلے انگریزی پھر اردو انجام پنجابی پر ہوا تھا۔۔
کوریا ئی پروڈیوسر بال نوچ رہا تھا ژیہانگ غصے سے کف اڑاتئ الف کے پاس نہیں جا پا رہا تھا اور عین اسی وقت سسٹم کنٹرول کرتی ٹیم بے تحاشہ کالز آنے کی وجہ سے سسٹم کو جام ہوئے بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔۔
کال کٹ نہیں رہی تھی اور نامعلوم زبان میں لڑتی دو لڑکیاں کوریا میں براہ راست نشر ہو۔رہی تھیں۔۔ پروگرام۔کو کورین آج بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے۔ پوری گفتگو میں بس آرمی اور ایکسول سمجھ آرہا تھا۔۔
ابیہا عشنا عزہ نور کف اڑاتی فاطمہ کو سنبھالنا چاہ۔رہی تھیں۔ مگر فاطمہ اگر انکے قابو آجاتی تو اسکے سیکھے تائیکوانڈو کی کھلی بے عزتی تھی۔ جن البتہ وہی کر رہا تھا جو ایسے موقع پر ہم کرتے۔۔
ہاں دعا۔۔ کال۔کٹ جانے کی دعا۔۔
اختتام چوتھئ قسط کا۔
desi-kimchi-urdu-web-novel-episode-5-5.html
-
Desi kimchi Episode 3
دیسی کمچی
قسط تین۔۔
یار اس میں چمک ہوئی تو ہے۔۔
ابیہا نے کہا تو نور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاپ اسٹکس سے بنےگھر کو دیکھنے لگی۔۔
مجھے تو ایک قمقمہ بھی جگمگاتا نظر نہیں آرہا۔
نور گھر کو ہی اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔
ٹھہرو بہت کم روشنی ہے میں کمرے کی۔بتیاں بجھا کر دکھاتی ہوں۔
ابیہا کہہ کر فٹ سے اٹھی اور سوئچ بورڈ سے سب بتیوں کے سوئچ بند کر دئیے۔۔ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو جاتا اگر نور کا لیپ ٹاپ نہ دمک رہا ہوتا۔۔
نور نے گھور کر دیکھا وہ بجائے بتیاں جلانے کے بھاگ کے اسکے سامنے آبیٹھی اور لیپ ٹاپ بھی اوپر سے ہاتھ مار کر بند کر دیا۔۔
یہ تو گھپ اندھیرا ہو گیا۔۔
ابیہا کی آواز آئی بس نور کو تصویر نظر نہ آئی۔۔ نور بیٹھی دانت پیس رہی تھی۔۔
ابیہا کی بچی گھپ اندھیرے میں سرکٹ کیسے جوڑوں گی؟۔۔ اس نے بھنا کر ہاتھ نچایا تو چاپ اسٹکس کے گھر کو لگ گیا۔۔ ایک منا سا جھماکا ہوا۔۔
اوئے۔۔
نور چونکی۔۔
پھر گھر کے سرکٹ میں چاپ اسٹک سے دو تین پاکستانی انداز کی تھپکیاں دیں ۔۔ ایک قمقمہ جل بجھ کرتا تھک کر ٹمٹمانے لگا۔۔
جل گیا۔۔ ابیہا نے خوش ہو کر تالی بجائی۔۔
نور کا بس نہیں تھا گھر میں ہی گھس کر دیکھ لے آخر چمکا کیا ہے۔۔
نیم اندھیرے میں دونوں اس چھوٹے سے گتے سے بنے گھر میں جگمگ کرتا قمقمہ دیکھ رہی تھیں۔۔
یار یہ تھوڑی سی روشنی ہوئی تو ہے۔۔
نور نے مایوسی سے گھر میں دمکتا ننھا قمقمہ دیکھا جو ایک کمرے کی دیوار تک کو روشن کر سکنے میں ناکام رہا تھا۔۔
ہم نے گھر تو پورا جوڑ دیا ہے اب یہ ڈی سی پاور سپلائی وغیرہ عزہ جوڑ لے گی ہم اتنا ہی کر سکتے تھے۔۔
ابیہا نے بھی ہار مان کر موبائل ایک طرف رکھ دیا۔۔ یو ٹیوب سے ویڈیوز کھول کھول کر طریقہ کار دیکھ دیکھ کر عزہ کے بنائے گھر سے چھوٹا مگر نیا گھر بنا دیا تھا مگر اب مسلئہ یہ تھا کہ اس گھر میں بجلی کا ربط کیسے دیں۔۔
ڈی سی انور ٹر۔۔
نور نے ہار نہ مانتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔
تم لوگ روح بلا رہی ہو۔ ؟
فاطمہ انکے سر پر آکھڑی ہوئی۔۔
امی۔۔ ہائے اللہ۔۔
دونوں اچھل کر چیخی تھیں۔۔
واعظہ گھبرا کر سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی مگر پائوں بڑے زور سے ہر فن مولا میز سے ٹکرایا جس پر لیپ ٹاپ شان سے براجمان تھا۔۔ وہیں سی کرتی بیٹھ گئ۔
اف اللہ ابھی دم نکل جاتا میرا فاطمہ کی بچی۔۔
ابیہا نے دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ فاطمہ کی ٹانگوں پر دو ہتھڑ جمائے۔۔
اف ابیہا کتنا بھاری ہاتھ ہے۔۔ فاطمہ تڑپ کر سہلاتی اسکے پاس ہی گر سی گئ۔۔
اتنا دبے پائوں کیوں آئی ہو تم لوگ اور وقت دیکھا ہے؟ پاکستان میں نہیں ہو تو کیا گھر واپس بھی نا آئو گی ؟۔ نور نے حواسوں میں آتے ہی ملگجے اندھیرے میں ہی کلاس لی۔۔
اف بتیاں کیوں بجھائے بیٹھی ہو؟ اتنی زور کی۔چوٹ لگی ہے مجھے۔۔
واعظہ بھی قریب ہی کہیں بیٹھی کراہی۔۔
افوہ ہم سرکٹ جوڑ رہے تھے دیکھو انورٹر کام کر نے لگا۔۔نور نے خوش ہو کر تالی بجائی۔۔
توبہ ہے رات کے ایک۔بجے بھی چین نہیں تم لوگوں کو۔۔
الف بڑبڑاتی کمرے سے برآمد ہوئی۔۔ باہر گھپ اندھیرا
کیا ہوا لائٹ چلی گئ؟۔۔
اس نے پوچھا تو ابیہا ہنسی۔۔
پاکستان میں نہیں ہو تم ۔۔ لائٹ بند کی ہوئی ہے جلا لو۔۔
فاطمہ نے چڑ کر کہا تھا۔
شور کم کرو عزہ اٹھ جائے گی ہم صبح اسے اس گھر کو دکھا کر بھونچکا کر دیں گے۔۔۔
یہ نور تھئ اسکی اپنی ہی خوشیا ں تھیں۔۔
تبھی روشنی کا جھماکا ہوا۔۔
کسی نے ساری بتیاں جلا دی تھیں ۔۔ ان سب نے مڑ کر دیکھا تو عزہ تھئ
الف جو سوئچ بورڈ کی۔طرف بڑھ رہی تھی وہیں رک گئی۔۔ عزہ حیران پریشان کھڑی سامنے کسی کو دیکھ رہی تھی۔۔الف نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہ بھی ہکا بکا سی ہو کر دو قدم پیچھے ہوئی
تم لوگ روح بلا رہے تھےنا؟آگئ۔۔الف نے سرسراتی آواز میں کہا۔۔
نہیں ہم تو گھر۔۔ ابیہا نے کہتے سر اٹھایا تو سراسیمہ رہ گئ۔۔
لیکن کوئی روح آگئ ہے ۔۔
ابیہا کے منہ سے نکلا تھا۔۔ واعظہ اور فاطمہ اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں انہیں ابییہا بھاگ کر عزہ کے پاس آئی تھی۔۔
کیا کہہ رہی ہو۔۔ واعظہ پائوں سہلاتے حیران دیکھ رہی تھی۔۔
نور نے حیران ہو کر کہتے مڑ کر دیکھا پھر حلق کے بل چلائی۔۔
آآا۔۔
وہ گھبرا کر ابیہا سے جا لپٹی۔۔
بھاگو فاطمہ لغت۔۔ چڑیل۔۔
لا حول ولا قوت۔۔
الف نے حواس قابو میں کرتے ہوئے زور سے کہا۔
فاطمہ اور واعظہ نے پلٹ کر دیکھا تو بری طرح چونک کر تھوڑا سا سہہ مگر پیچھے کو کھسکی تھیں۔۔
لمبا سا براق سفید ٹاپ سفید ہی جینز کے ساتھ پہنے عشنا خود بھی انکے ردعمل سے سہمی سی کھڑی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بیدار تو ہو ہی گئیں تھیں سب سو چائے کا دور لازمی تھا۔ سب ننھے لائونج میں دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں تھیں بیچ میں چپس رکھے تھے جو عزہ نے چپکے سے اپنے قریب کر لیئے تھے۔۔
یار ویسے براق سفید لباس میں اجنبی شکل گھر میں کھڑی نظر آئے تو انسان نے اسے بھوت ہی سمجھنا ہے۔۔ مگر تمہیں چڑیل کہا اسکیلئے معزرت خواہ ہوں۔۔
شان بے نیازی قابل دید تھی نور کی۔۔ عشنا سے کہہ کر سر جھٹکا پھر چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔۔
میں معزرت خواہ ہوں میری وجہ سے آپکو تکلیف ہوئی۔۔
عشنا نے شرمندہ سے انداز میں سر جھکا کر معزرت کی تھئ۔۔ الف کو چائے کا گھونٹ بھرتے اچھو ہوا۔۔
اتنی اردو۔۔ ایک اور واعظہ۔۔
وہ زیر لب بڑ بڑائی۔۔
اور جو مجھے الٹے سیدھے نام دئیے ہیں اسکی معزرت کون کرے گا۔ واعظہ نے بنا لحاظ کائوچ سے کشن اٹھا کر نور پر اچھالا۔۔ وہ بروقت جھکائی دیتے کپ بچا گئ۔۔
سوری سوری۔۔ بالکل زہن میں نہیں رہا تمہیں منہ پر لغت کہہ گئ معزرت۔۔
اس نے بھی جوابا سفید جھنڈی لہرا دی۔۔
منہ پر یعنی پیٹھ پیچھے مجھے لغت ہی کہتی ہو تم۔۔۔
واعظہ کو شدید صمہ پہنچا تھا۔۔
یار واقعی نور اب منہ پر تو الٹا سیدھا نام لینا بد تمیزی ہے۔ اب عزہ واعظہ کو امی کہتی اسکے روک ٹوک کرنے کی وجہ سے مگر واعظہ کو آج تک پتہ نہیں چلا۔۔
یہ ابیہا تھی۔۔
عزہ نے ماتھا پیٹ لیا۔۔تو الف اور نور کھل کر ہنسی تھیں۔۔عشنا کا منہ کھلا تھا تو ابیہا کو بول چکنے کے بعد احساس ہوا کیا کہہ گئ سو چپ کر کے اپنی چائے پر دھیان کیا۔ ۔
عزہ تم بھی۔۔ واعظہ کہے بنا بس گھور رہی تھی۔۔
یہ چپس۔۔
اس نے کھسیا کر چپس کی پلیٹ اسکی جانب بڑھائی۔۔
یہ منایا جا رہا تھا اسے۔۔
واعظہ بھنا کر اٹھنے لگی تو سب اس سے چمٹ گئیں۔۔
اچھا نا خفا تو نہ ہو۔۔ بھئ اب تم امائوں کی طرح ہمارا خیال رکھو گی تو امی ہی کہوں گی نا تمہیں۔ عزہ لاڈ سے اسکو ساتھ لگا کر بولی تو نور کو بھی معزرت خواہانہ جملہ سوجھا۔۔
تو اور کیا ہر لفظ بولتے تم ٹوک کر اسکی اردو بتائو گی تو لغت ہی کہوں گی نا میں تمہیں۔۔
اور ابھی تو میں نے بتایا ہی نہیں جب تم میرے براہ راست پروگرام میں کال کر کے جھوٹی تعریفیں کرتی ہو میری تو میں تمہیں کیا کہتی۔۔
الف نے کہا تو واعظہ تو واعظہ باقی سب بھی اسکو منہ کھول کر دیکھنے لگیں۔۔
وہ اپنی دھن میں کہہ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو واعظہ ہے نا تمہارا الہ دین کا چراغ اسی کو رگڑو۔۔ مجھے اس وقت بہت کام ہیں میں تمہارے فالتو پروگرام میں کال کر کے جھوٹی تعریفیں نہیں کرنے والی۔۔
عروج اس بھورے امریکی کو گھورتے ہوئے فون کان سے لگائے تھئ۔۔
اخیر کوئی چپکو آدمی تھا۔۔ کہاں اسے اسامہ بن لادن کی بہن سمجھ کر ڈر رہا تھا کہاں ابھی ایک ٹک میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے؟ اس نے نرس کو دیکھتے حیرت سے پوچھا تھا جوابا وہ سر ہلا کر بولی
دیح۔۔
اچھا۔۔ وہ الجھن سے اپنا لیب کوٹ پہنتی اسکے ساتھ چل پڑی۔۔ نرس اسے ایک پرائویٹ روم کے پاس لا کر چھوڑتی جھک کر سلام کرتی آگے بڑھ گئ۔
اس نے ہلکے سے دستک دی تو گاڑھے امریکی لہجے میں کسی نے کہا تھا۔
کم ان۔۔
وہ اندر داخل ہوئی تووہی امریکی مریض جسکے آپریشن میں اس نے مدد کی تھی بیٹھا بیڈ ٹیبل پرسوپ کا پیالہ رکھے سوپ پی رہا تھا اسے دیکھ کر کھل سا گیا۔۔ اتنا کہ عروج لمحہ بھر کو گڑ بڑا ہی گئ۔۔اتنی خوشی تو کبھی آئینہ دیکھ کر مجھے خود تک نہ ہوئی۔اس نے سوچا
۔ پیا لہ چھوڑ چھاڑ مسکرا کر سر جھکا کر بولا
ہیلو ڈاکٹر عروج۔۔
ہیلو۔۔ اب کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔
وہ آگے بڑھ کر اسکی۔فائل دیکھنے لگی
بالکل ٹھیک ہوں۔۔ جب سے آپکے ہاتھوں نے میرے دل کو چھوا ہے یوں لگتا میرا دل اب دوبارہ جوان ہو گیا ہے۔۔یا یوں کہہ لیں ۔۔
واٹ؟۔ عروج اسکی لن ترانی پر پوری آنکھیں کھول کر چلائی۔۔
آہستہ۔۔ ابھی دل اتنا بھی توانا نہیں ہوا میرا۔۔
وہ کراہ کر فورا دل تھام گیا تھا۔۔
اس دن آپکو دیکھ کر سچ تو یہ مجھے آپ پر بنیاد پرست مسلمان ہونے کا گمان ہوا تھا۔۔
دل تھامے وہ رقت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔
یوں لگا تھا آپ مجھے امریکی ہونے کی وجہ سے اپنی نفرت کا نشانہ بنا دیں گی۔۔ مجھے کوئی غلط ٹیکا لگا دیں گی۔۔ وہ اب اپنے بازو میں خیالی ٹیکا گھونپ رہا تھا۔ عروج منہ کھولے تھی مگر ماسک سے باہر تھوڑی دکھائی دے رہا تھا خیرہے۔
یا میری ڈرپ نوچ کر پھینک دیں گی ۔۔ وہ اب ڈرپ نکال رہا تھا۔۔ خیالی۔۔
یا کچھ نہیں کچھ نہیں تو مجھے غیر ضروری دوا کی خوراک دے کر ابدی نیند سلا دیں گی۔۔
وہ ابدی نیند پر بیڈ پر گرنا چاہتا تھا مگر ابھی ایک سو ساٹھ ڈگری والا ہی اینگل بنا پایا تھا کہ میز اس پر الٹنے ہی لگی تھئ عروج نے جلدی سے آگے بڑھ کر میز کو توازن دیتے تھاما ۔۔ وہ بری طرح جلتے بچا تھا اب نہارتی نظروں سے دیکھنے لگا
لیکن آپ تو میرے لئیے جیزز کا بھیجا خاص مسیحا نکلیں۔۔ میری جان بچائی ابھی بھی بچا لی۔۔
آپ میرے لیئے خدا کا بھیجا خاص فرشتہ ثابت ہوئیں ہیں مس عروج۔ بلکہ آپ تو خدا۔۔
بس۔۔ عروج سے مزید سننا محال ہوا۔۔ ہاتھ اٹھا کر اسے بریک لگائی۔۔میز کو ٹکا کر دونوں ہاتھ جیب میں ڈال کر کڑے لہجے میں بولی
میں ڈاکٹر ہوں میرا فرض تھا ۔۔ اور آپکے آپریشن میں میں نے بس سرجن کی معاونت کی تھی اگر آپ واقعی اتنے مشکور ہیں تو میں سرجن کم کو بھیج دیتی ہوں انکا شکریہ ادا کر لیں۔۔
آپکی آواز بھی آپکی طرح میٹھی ہے۔۔ یقینا آپ بہت اچھ دل کی ہو گی۔۔ گو آپ مستقل ماسک پہنے رہتی ہیں میں آپکی شکل تو نہیں دیکھ سکتا مگر مجھے یقین ہے آپ اپنی آواز کی۔طرح خوب صورت ہی ہونگی۔۔
وہ میز پر کہنیاں ٹکائے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
تبھی ڈاکٹر کم دستک دیتے اندر چلے آئے۔۔ وہ نرس کے ساتھ رائونڈ پر نکلے تھے شائد۔ نرس ٹرالی میں دوائیں رکھے مریض کے سرہانے کی جانب بڑھی اور ڈاکٹر صاحب مسکراتے عروج کی جانب۔۔
ہاں تو مل لیئے ڈاکٹر عروج سے آپ۔۔ وہ خوشدلی سے مریض سے انگریزی میں میں۔۔۔مخاطب تھے۔۔
مریض نے نرس سے بی پی چیک کرواتے زور و شور سے گردن ہلائی۔۔
عروج میں نے بتایا انہیں کہ آپ نے آپریشن میں کتنی مدد کروائی تھی میری۔
وہ مزید کہہ رہے تھے
تو یہ آپکا کارنامہ ہے۔۔ عروج نے ہونٹ بھینچے۔
دراصل مجھے نرس نے بتایا تھا اس مریض نے آپکے ساتھ تعصب برتتے ہوئے علاج کروانے سے انکار کیا تھا سو۔۔ میں نے انکو جتانا ضروری سمجھا ڈاکٹر روج۔۔
وہ ہتھیلی کی آڑ کرتے ہوئے اس سے ہنگل میں مخاطب ہوئے تھے۔۔
دے۔۔ وہ سر جھکا کر بولی۔۔
گھمسامنیدہ سن بینیم۔۔ ۔۔( شکریہ جناب)
اس نے کوریائی انداز میں جھک کر کہا تو ڈاکٹر کم زور زور سے ہاتھ ہلانے لگے۔۔
آنیو آنیو۔۔ ( نہیں )۔۔
مطلب شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں۔۔ کوریا میں اگر آپ احسان مند ہو کر کسی کا شکریہ ادا کریں تو وہ آگے سے نہیں نہیں کہتا ہے مطلب جیسے ہم کہتے جوابا کوئی بات نہیں۔۔ وہ بس نہیں کہہ کر ہی گزارا کرتے۔۔
ڈاکٹر کم مجھے رات کو سینے میں درد اٹھ جاتا ہے کیا ایسا ممکن کہ آپ رات کو مجھے دیکھ جایا کریں ۔۔
مریض نے معصوم سی شکل بنائی
ابھئ بھی ہو رہا کہیں درد۔۔ ؟۔ ڈاکٹر کم فورا معائنے کو تیار ہوئے۔۔
نہیں بس رات کو ہوتا۔۔
میری تو ڈیوٹی ختم ہونے والی ہے۔ ڈاکٹر عروج آپ کی رات کی ڈیوٹی ہے نا۔۔
اثبات میں سر ہلاتے عروج اس وقت کو یاد کر رہی تھی جب اس مریض کی زندگی اور موت کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرشل بریک ختم ہونے والی ہے کمرشل بھی نہیں ملے آج تو ہمیں زیادہ پلیز کچھ کر دو نا عروج۔۔
واعظہ فاطمہ کوئی فون نہیں اٹھا رہی ابیہا نے صاف انکار کرکے فون ہی بند کردیا اب تم ہی میرا آخری سہارا ہو۔۔
الف فون کان سے لگائے بس نہیں تھا فون سے ہی عروج کو کھینچ لے۔۔ نظر لمحہ بہ لمحہ گزرتے وقت پر تھئ
یقینا دوسری جانب ہٹلر کی جا نشین ہی رہی ہوگی کوئی اتنی منتوں کے بعد تو شائد ہٹلر بھی پورا شو سننے بیٹھ جاتا۔۔۔
ژیہانگ تاسف سے اپنی ساتھی میزبان کو دیکھا تھا۔۔
نائیٹ ڈیوٹی کا بار سہتی عروج چڑ گئ۔۔
وہی امریکی مریض چہرے ہر ہزار معصومیت سجائے بازو اوپر کیئے بی پی کا معائنہ کروانے کو آستین اوپر چڑھائے تیار بیٹھا تھا وہ ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے ایک ہاتھ سے بی پی اپریٹس کی اسٹرپ لپیٹنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔ مریض اسکی الجھن دیکھ کر بھی مجال ہے جو سرموق جنبش بھی کرنے کو تیار ہو۔۔
مسجمے کی طرح ساکت سانس تک روکے
بیٹھا تھا۔۔
اب کیا کروں ہاسپٹل میں بیٹھی ہوں ایک ٹھرکی مریض کا بی پی دیکھ رہی اسی سے بات کرادوں ؟۔۔
تنگ آکر اس نے کندھا اچکا کر دوسرا ہاتھ بھی خالی کیا اور لپیٹ دیا۔۔
انگریزی آتی ہے اسے تو کروا دو۔۔ زرا جو تم پگھلی ہو۔۔ ترس بھی نہیں آرہا بہن کی نوکری دائو پر لگی ہے۔۔
وہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔
اینی پرابلم ڈاکٹر عروج۔۔
مریض نے آنکھ پٹ پٹائی۔۔ عروج اسے گھورنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہ دین کا چراغ۔۔
واعظہ روہانسی ہوئی۔
پتہ ہے اس نے کال کی اسکے بعد پے در پے ہمیں اتنی ساری انگریزی لوگوں کی کال آئی لوگ امریکہ میں بیٹھ کر ہمارا شو سن رہے تھے۔ انٹر نیٹ پر۔۔ ہا نا مزے کی بات
اس نے خوش ہو کر تالی بجائی۔۔
مزے کی؟ عجیب بات ہے
ابیہا نے ٹوکا۔۔
امریکی انٹرنیٹ پر کوریا کے ایک غیر معروف ریڈیو شو کی غیر معروف میزبان کا شو نہ صرف سن رہے تھے بلکہ اس میں کال بھی کر لی دوسرے ملک میں مانا امریکی دنیا میں عجیب حرکتوں کی وجہ سے مشہور ہیں مگر یہ تو عجیب ترین بات ہے۔۔
ابیہا نے پوری تقریر جھاڑ دی تھی۔۔
عزہ اور عشنا نے ہاں میں ہاں ملائی تو الف تپ ہی تو گئ۔
تمہیں لگتا میں جھوٹ بول رہی؟ واقعی امریکیوں نے ہی کال ملائی تھی ہمارے پاس نمبردکھائی دیتے ہیں۔۔ اور ایسی بھی کوئی بات نہیں ہمیں چینیوں نے بھی کال کر کرکے شو کی کامیابی پر مبارکباد دی۔۔ انہیں زیادہ انگریزی تو آتی نہیں بس چند جملے سب بول رہے تھے۔۔ مگر۔۔
الف کا جوش سے منہ سرخ ہو چلا تھا ایسا کیسے ہو گیا کہ اسکی بات پر یقین ہی نہیں ہورہا کسی کو۔۔
اسے نئی دلیل سوجھی تھی۔۔
اب امریکی چلو نہ یقین کرو چین تو پڑوسی ہے کوریا کا ہم نہیں انڈین پروگرام دیکھتے۔۔ ؟
کیونکہ ہمیں انکی زبان سمجھ آتی ہے۔ نور نے جتایا۔۔
چینیوں کو کورین سمجھ نہیں آتی۔۔ ایکسو گروپ بینڈ بھی ہر گانا چینی ورژن الگ شائع کرتا ہے خاص ان مداحوں کیلئے۔ واعظہ نے بھی بحث میں حصہ لیا
اچھا میں پوری لسٹ کی نقل اٹھا کر کل لیکر آئوں گی دیکھنا تم سب ۔۔
وہ منہ پر ہاتھ پھیرتی اٹھی۔ پیر پٹختی کمرے کی جانب بڑھی۔۔
ہر چیز کو اتنا سنجیدہ کیوں لیتی ہو ۔۔ اس کو
خفا ہو کر جاتے دیکھ کر ابیہا نے آواز لگائی تو فاطمہ نیند میں کسمسائی۔۔ وہ ساری گفتگو کے دوران جانے کب کشن سر کے نیچے ٹکائے بے خبر ہو چلی تھی۔۔ سچی بات تو یہ عشنا بھی آنکھیں مل رہی تھی مگر وہ سب اتنا مگن گپیں ہانک رہی تھیں کہ کہنا بد اخلاقی لگا ورنہ گھڑی سوا چار بجا رہی تھی
یہ تو ٹن ہے۔۔ واعظہ نے اسکا کندھا تھپکا تو وہ واقعی بے خبر ہوگئ۔
عزہ اپنے گھر کا سرکٹ کھولے تھی نور اپنا لیپ ٹاپ بند کر رہی تھی یعنی اسکا سونے کا ارادہ بن چکا تھا۔
چلو عشنا کم از کم آج کیلئے نرم آرام دہ بستر تمہارا ہوا۔۔
واعظہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تو ابیہا نے بھی تقلید کی۔۔
گھڑی نے پونے پانچ بجائے تھے جب عزہ کا گھر جگمگا اٹھا تھا۔۔
یس۔۔ وہ خوش ہوگئ۔
یہ دیکھو پورا روشن
وہ کہتے ہوئے اپنی کارکردگی دکھانے مڑی تو پتہ چلا اکیلی بیٹھئ ہے۔بس ایک فاطمہ کو کارپٹ پر سوتا پایا باقی عوام کب کی۔رخصت ہوچکی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا پڑھنے پڑھانے پر زیادہ یقین نہیں ہے ۔۔؟۔۔
تین دن کلاس ہوتی ہفتے میں اس میں بھی چھٹی کر لیتی ہو حاضری کم۔ہو جائے گی۔۔
سستی سے سر کھجاتی بارہ بجے اٹھ کر آتی واعظہ کو دیکھتے ہی عروج نے آڑے ہاتھوں لیا۔۔
یہ کونسا وقت ہے چپس کھانے کا ؟۔ میں پکوڑے بنانے کیلئے آلو لیکر آئی تھی دو دن بعد رمضان ہے کچھ خبر ہے؟۔
واعظہ کی اسکے سامنے رکھی فرنچ فرائز کی بھاپ اڑاتی پلیٹ پر نظر پڑی تو الٹا اسکو لتاڑ ڈالا۔۔
اور یہ کامیاب زندگی کا اصول ہے جب آپکے پاس جواب نہ ہو تو اگلے سے الٹا ایسا سوال کرو کہ وہ لاجواب ہو کر رہ جائے۔۔
عروج کھسیائی۔۔
ناشتے کا وقت ہے ابھی سو کر اٹھی ہوں۔۔
ناشتے میں فرنچ فرائز کون کھاتا۔۔ وہ منہ بناتی فریج کھول کر دیکھنے لگی۔۔
تم بھی کھالو۔۔
اس نے زرا سا پلیٹ کھسکا کر اسے بھی دعوت دی۔۔ کیونکہ اسے یقین تھا وہ نہیں کھائے گی۔۔ واعظہ کو چپس پسند نہیں تھے بلکہ آلو کی کوئی بھی چیز پسند نہ تھی اور عروج کو اتنا ہی آلو پسند تھے۔۔
ویسے یہ لڑکی کون ہے۔ کہا ں ٹکری؟۔
عروج نے عشنا کو کمرے کے کھلے دروازے سے کھڑکی میں کھڑے باہر جھانکتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی
یار رات کو ملی ہے ۔۔۔
واعظہ کا انداز سر سری سا تھا۔
وہ سا س پین چولہے پر رکھ کر چائے چڑھا رہی تھی۔۔
ہوں۔۔ عروج کا انداز سوچتا ہوا سا تھا۔۔
فاطمہ کہاں ہے؟ موصوفہ جا ب پھر چھوڑ چکی ہیں۔۔
یعنی اس بار کرائے کی امید نہ ہی رکھوں۔۔
واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔
فاطمہ تو گھر میں نہیں ہے میں جب اٹھی تو بس یہ لڑکی ہی جاگ رہی تھی باقی سب جا چکی تھیں
عروج نے بتایا تو واعظہ سوچ میں پڑی۔۔
یار رمضان سر پر ہے ہم عید پر اس بار ہنبک نہ بنوا لیں؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنگنم اسٹریٹ میں وہ چندی آنکھوں والا جوڑا ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھوم رہا تھا۔۔ ہر دکان پر تو لڑکی اٹک جاتی کبھی کوئی ٹاپ پسند آگیا توکبھی کوئی میک اپ کی دکان نظر آگئ۔۔ کبھی جھمکے کبھی گھڑی کچھ نہیں کچھ نہیں تو بڑھیا کے بال دیکھ کر ٹھنک گئ۔
مجال ہے جو کنجوس مکھی چوس لڑکےنے اسے کچھ دلایا ہو۔ ہر جگہ سے ونڈو شاپنگ کر کے باہر۔۔
کاٹن کینڈی کے ٹھیلے پر پر شائد سستا ہونے کی وجہ سے رک کر اسے دلا ہی دیا۔۔ اب دونوں کاٹن کینڈی اپنی اپنی لہرا کر میدا نیدا کر رہے تھے۔۔
میدا نیدا ویسے تو کوئی خاص حرکت ہے نہیں بس وہ کوریائی زبان میں اتنا آتا کہ بس یہی یا د رہ جاتا ۔۔
چلتے چلتے پارک میں گھس گئے۔۔ انکے پیچھے مناسب فاصلہ رکھتی نور فٹ پاتھ پر چل رہی تھی۔۔ دو رویہ چیری بلاسم کے درخت پھول بکھیر رہے تھے۔۔ ہلکی ہلکی سرد چلتی ہوا۔۔ گرمی تو نام کو نہ تھی سو وہ مزے سے گھوم رہے تھے اور اتنا چلنے کی عادت نور کو نہ تھی۔۔ وہیں دم دے گئ۔۔
خدایا ٹانگیں نقلی ہیں کیا انکی پوری گنگم اسٹریٹ پیدل گھوم لی اب بھی اتنی توانائی باقی کہ پارک۔۔
چلتے چلتے کالے غلاف میں لپٹا وجود ہانپ اٹھا۔۔
پاس سے گزرتے چندی آنکھوں والے اسے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔۔
گلے میں کیمرہ لٹکائے وہ مکمل طور پر اپنے آپ میں مگن تھی۔۔
چھوگیو۔ ۔
اسے اچانک کسی نے مخاطب کیا تھا۔۔
چھوگئو۔۔یعنی عزت سے مخاطب کیا تھا۔۔ ایکسکیوز می۔۔کی طرح
دے۔۔ وہ پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔
ایک تصویر بنا دیں ہماری۔۔
وہ ایک اور چندی آنکھوں والا جوڑا تھا خوب گورا سا۔۔ لڑکی نے اسکرٹ پہن رکھی تھی اسکی آنکھیں وہیں جم گئیں۔۔ مطلب اتنا کچھ پہن کر میں کپکپا رہی اور یہ۔؟۔۔
چھوگیو؟۔ لڑکے نے اسکے سامنے چٹکی بجائی تو وہ چونکی۔۔
دے۔۔ اس نے انکے ہاتھ سے موبائل لیکر حسب منشا دو تین تصویریں بنا دیں۔۔ ایک اپنے اچھے والے کیمرے میں بھی کھینچ کر دستی انکو ہوائی ربط سے بھیج دی۔ جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے وہ آگے بڑھے اور وہ اپنے دھندے پر واپس۔۔
پ
اتنے بڑے پارک میں انکو ڈھونڈنا۔۔
وہ ایک۔نظر دوڑا کر ہی ہار مان کر پلٹنے کو تھی جبھی اسکا فون بجا۔۔۔
یہ۔۔ اس نے فون دیکھا پھر ادھر ادھر دیکھا۔۔
کونسا پیچھے کا منظر بہتر رہے گا۔۔ اسکے پاس چند سیکنڈ تھے بس۔۔
امی ویڈیو کال کیوں پسند ہے آپکو اتنی۔۔
بے وقت کال نے اتنا بھونچکا کیا کہ سلام نہ دعا چھوٹتے ہی کہہ بیٹھی۔۔ آگے بھی روائتی پاکستانی امی تھیں۔۔
نہ سلام نہ دعا ساری تمیز کوریا میں بیچ کھائی ہے ؟۔۔
سوری امی۔۔ وہ کھسیائی۔۔
غضب خدا کا انجان ملک میں تنہا جوان لڑکی سو وہم ستاتے میرا بس چلے تو چوبیس گھنٹے کی ویڈیو کال ملائوں۔۔امی جزباتی ہو چکی تھیں۔۔ چوبیس گھنٹے کی۔۔
نور دل ہی دل میں کراہی۔۔
شکل تک دیکھنے کو نہیں ملتی منہ پر نقاب چڑھا کر بیٹھئ رہتی۔ ارے ماں کو کبھی شکل تو دکھا دو۔۔ ہٹائو نقاب۔۔
انہوں نے ڈپٹا تو وہ بے بسی سے بولی
امی گھر نہیں ہوں میں۔نقاب نہیں ہٹا سکتی
جب دیکھو گھر نہیں ہوں سوتی بھی یونیورسٹی میں ہو کیا؟ آجائو بس واپس بہت ہوگیا ۔۔ جو پڑھنا یہیں پڑھو۔۔بتائو زرا اتنا سا منہ نکل آیا ہے تمہارا۔۔
امی پر رقت طاری ہونے لگی تھی اور نور کو ہنسی آگئ۔۔ پارک پر اسکی مستقل نظر تھی امی کو تسلی دیتے بھی آنکھیں گردش میں تھیں
نظر کہاں آرہا ہے میرا منہ امی حد کرتی ہیں اتنی فکر نہ کیا کریں میری۔۔
ہاں تو دکھا دو نا ماں سے بھی پردہ کرنا شروع کر دیا ہے۔۔ حد ہے وہاں اس جب بات کی ساحل کنارے توبھی منہ پر نقاب چڑھایا ہوا تھا۔ عجوبہ ہیں ہماری صاحبزادی پردہ دار بوا۔۔ تم۔۔
اسے نظر آگئے تھے دونوں۔۔ دور ایک سنگی نشست پر بیٹھے وی کا نشان بناتے اپنی تصویر خود لیتے۔
یار ایک تو یہ وی انکی شناختی علامت لگتا ہے۔۔ ہر تصویر میں ایک ہی۔حرکت ۔۔ عاجز نہیں آجاتے۔۔؟
اس نے منہ بنا کر سوچا۔۔
اچھا میں ایسا کرتی ہوں آپکو گھر جا کر ویڈیو کال کرتی ہوں شکل دیکھ لیجئیے گا ٹھیک خدا حافظ۔۔
اس نے جلدی سے کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔ اب تماشا شروع ہونے ہی والا تھا۔
اس نے اب تک کی ساری کھینچی تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھیں اور اس لڑکے کو ٹیگ کیا تھا چند منٹ لگے تھے۔۔
پہلا تبصرہ اسکی ہی محبوبہ کا تھا۔۔
تھی تو ہنگل سی ٹرانسلیشن کیا تو عجیب سا جملہ بنا۔۔
تمہارے گھر میں بندھا کتا میرا پالتو ہے۔۔ جیسا کچھ۔۔
شائد یہی لکھا تھا اس نے۔۔
اس لڑکے کو بھی شائد ویڈیو کال ہی آئی تھی۔۔ اس نے تھوڑا گھبرا کر نو ہی کرنا چاہا تھا کہ لڑکی نے اسےہاتھ سے موبائل چھین کر کال وصول کر لی۔۔
دے؟ اسکی دے اس نے اس سے کافی فاصلے پر کھڑے ہو کر بھی آسانی سے سن لی تھی لڑکے کے کان کا پردہ جانے سلامت رہا ہوگا کہ نہیں
اس مسکراتی لڑکی میں اچانک جان سینا کی روح آسمائی تھی۔۔ بپھری شیرنی کی طرح اسکی۔جانب بڑھی
ناپھودا۔۔
شہہ بال ۔۔ جیہرال۔۔
وہ چندی آنکھوں والی لڑکی بے دریغ گالیاں دیتے اس چندی آنکھوں والے لڑکے کی اپنے پرس سے ٹھکائی کر رہی تھی۔۔
انکے گرد لوگ جمع ہو رہے تھے۔۔
دور نقاب پوش کالے عبایا میں کھڑی لڑکی انکی تصویر کھینچ کر اپلوڈ کر رہی تھی ہیش ٹیگ۔۔
پنگا نہیں چنگا ۔۔۔
دیسی کمچی قسط تین
دوسرا حصہ
یار ویسے مجھے ایک بات بہت پسند ہے کوریا کی پبلک ٹرانسپورٹ۔ اب ہماری کتنی بچت ہو جاتی ہے گھر سے اسٹاپ بھی قریب ہے۔۔ اور یونی سے بھی پیدل کا راستہ ورنہ پاکستان میں تو وین لگانی پڑتی تھی۔۔ اور اسکول اور کالج کے دو سال سب سے پہلے مجھے پک کرتا تھا سب سے آخر میں میں ڈراپ ہوتی تھی۔۔ پورے ڈیڑھ گھنٹے وین میں۔۔
یونیورسٹی سے نکلتے ہوئئ عزہ پر پبلک ٹرانسپورٹ کی اہمیت آشکار ہوئی تھی۔۔ وہ ابیہا اور الف اکٹھے ہی آتی جاتی تھیں ہوتی تو نور بھی ساتھ مگر آج نہیں تھی۔۔ تینوں ہم قدم تھیں۔۔
گھنٹہ تو ہمیں بھی لگ جاتا گھر پہنچتے۔ اور تم گھر کے دروازے پر اترتی تھیں محترمہ ۔۔ ابیہا نے یاد دلایا تو وہ کندھے اچکا گئ۔
ہاں مگر وہاں ایسے گھومنا بھی تو محال تھا نا۔۔ الف نے منہ بنایا۔۔ تبھئ پاس سے گزرتئ چندی آنکھوں والی آنٹی بغور ان تینوں کے حلیئے کو دیکھتی گزریں
ہاں ۔۔۔ یارکیسا لوگ گھور گھور کر دیکھتے ہیں ہمیں۔۔
ابیہا بڑ بڑائی تو الف سمجھی پاکستان کی بات ہو رہی۔۔
ہاں کبھی کبھی ٹھرکی عوام ٹکر جاتی ہی تھی مگر شکر ہے یہاں کوئی گھور گھور دیکھتا نہیں گزرتا۔۔
الف جوش سے بولنا شروع ہوئی پھر آواز مدھم ہوتی چلی گئ۔۔ اس بار باقاعدہ دو چندی آنکھوں والے لڑکے گھورتے گئے تھے انہیں۔۔ مگر انکے دیکھنے میں حیرت نمایاں تھی۔۔
یار سال ہونے کو آرہا ابھی تک لوگ ہمارے عبایا سے مانوس نہیں ہوئے۔۔ عزہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔
یار ا س دن میں نے ایک نئے ڈرامے کی جھلک دیکھی اس میں ہیروئن برقعہ پہنے پھر رہی تھی۔۔
ابیہا کو مس ہمورابی کا ٹریلر بروقت یاد آیا تھا بڑا خوش ہو کر بتایا۔۔
ہیں ؟ مسلمان بنی ہے ؟ کون ہے؟۔۔
عزہ اور الف کو بھی دلچسپی ہوئی
گوارا ہے ۔۔ لڑکا نہیں پتہ بڑا پیارا ہے مگر۔۔ پتہ نہیں کیا کہانی مگر لڑکی نے نقاب تک کیا ہوا تھا۔۔
ابیہا نے آنکھیں میچ کر جوش سے بتایا۔
بس دو دن بلکہ اب تو ایک دن ہی رہ گیا آگے رمضان ہے کے ڈرامے ایک مہینے کیلئے ٹا ٹا با ئے بائے۔۔
عزہ نے ٹھنڈی سانس بھر کر بتایا۔۔
کیوں؟ افطار کے بعد تو دیکھ سکتے۔۔ ابیہا کو اسکا خیال پسند نہ آیا۔۔
ہاں تو اور کیا معصوم سے ڈرامے ہوتے ہم افطار کے بعد دیکھ سکتے۔۔ الف نے بھی ہاں میں ہاں ملائئ۔۔ عزہ کو اعتراض کوئی نہیں تھا اس نے بس یونہی بات کی تھی۔۔
تینوں چلتے چلتے اسٹاپ پر پہنچ گئیں۔۔ دو تین لڑکیاں اسٹاپ پر بنی سنگی نشست پر براجمان تھیں۔۔
انہیں دیکھ کر سسمٹ کر رخ پھیر لیا۔۔
تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔
یار یہ کیا ہے۔۔ ابیہا کی نگاہ تبھی بس اسٹینڈ پر لگے اشتہار پر پڑی۔۔ بھاگ کر اسکے قریب جاکر پڑھنے لگی۔۔ نشستوں پر براجمان لڑکیاں اسکو اپنے اوپر آجھکتے دیکھ کر بھونچکا رہ گئیں مگر وہ اپنی دھن میں تھی لڑکی کا سر دھیرے سے ایک طرف کر کے جی چھانگ ووک کی تصویر اور اس پر لگی عبارت پڑھنے کی۔ناکام کوشش کرنے لگی۔۔ پورا اشتہار ہنگل میں تھا۔
کیا کررہی ہو؟ لڑکی نے بد مزا سا ہو کر اسے پیچھے کیا۔
یہ کیا لکھا ہے ۔۔۔ ابیہا نے بے تابی سے اس کا کندھا ہلایا۔۔
لڑکی نے برا سا منہ بنا کر مڑ کر اپنے سر کے اوپر لگے اشتہار کو دیکھا پھر مڑ کر ساتھی لڑکی کوکان میں کچھ بتایا دونوں اب ابیہا کو دیکھ کر ہنس رہی تھیں۔۔
پلیز بتا دیں۔۔ ابیہا ان سے ہنگل میں ہی مخاطب تھی۔۔
جب اتنی ہنگل بولنی سیکھ لی ہے تو پڑھنی بھی سیکھ لو۔۔
لڑکی مفت مشورے سے نوازتی اپنا بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگئ۔۔ اسکی بس آگئ تھی دونوں انہیں تمسخر سے دیکھتی ہوئی بس میں چڑھ گئیں۔۔ ابیہا مایوسی سے انہیں دیکھ کر رہ گئ۔۔
انکو کیا ہوا تھا؟۔۔ عزہ اور الف ابیہا کے دائیں بائیں آکھڑی ہوئیں۔۔
پتہ نہیں ہنگل پڑھنی نہیں آئی ابھی تک مجھے ووکی کا اشتہار پڑھنے کا کہہ دیا تو مزاق اڑاتی چلی گئیں۔ پتہ نہیں کیا لکھا ہے یہ؟۔۔
وہ مڑ کر حسرت سے اسکے پوسٹر پر ہاتھ پھیرنے لگی جیسے ہاتھ پھیرنے سے تو ہنگل کے حروف بول پڑیں ہم یہ لکھے ہیں موصوفہ۔۔
کسی اور سے پڑھوا لیتے ہیں۔
الف سے اسکی مایوس شکل نہ دیکھی گئ۔۔
ٹھہرو۔۔
وہ آگے بڑھ کر اشتہار کونوچ کر اتارنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ عزہ بھی اسکی مدد کرنے کو آگے ہوئی۔۔
ایک تو کوریا والے بڑی پکی گوند سے چپکاتے ہیں۔۔ ابیہا اشتہار نوچتے جھلائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپ چپ تو محسوس ہی نہیں ہو رہی ۔۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے۔۔
عروج ہاتھ گیلے کیئے ملتی ہوئی غسل خانے سے نکلی۔
کمرے میں بس نور ہی بیڈ پر لیپ ٹاپ کھولے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔۔
کسے چپ چپ کرنا تھا؟۔ اس نے کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے مصروف انداز میں پوچھا۔۔
سینی ٹائزر کو لگ رہا پانی ہاتھ پر مل رہی ہوں۔۔ عروج الجھن سے اپنے ہاتھ دیکھ رہی تھی۔۔ نور چور سی ہوئی۔۔ ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا مگر ابھی عروج پر انکشاف ہوا نہیں تھا۔۔
ہاں تو ایکسپائر ہو گیا ہوگا۔۔ دوسرا لے لو۔۔
اس نے تھوک نگل کر دزدیدہ نظروں سے اسے دیکھتے مشورہ دیا۔۔
پوری شیشی ہے بھری۔۔ مجھے تو لگا تھا آدھی رہ گئ ہوگی مگر یہ تو کافی بچا ہوا ہے۔۔
وہ شیشی ہلا ہلا کر اندازہ لگا رہی تھی۔
خراب جو ہوگیا یے۔۔اسکو پھینکو نیا لے لو۔۔
نور نے اسے منانا چاہا مگر عروج کا ارادہ اپنی حلال کی کمائی کو یوں ضائع کرنے کا نہیں تھا۔۔
ایسے ہی ۔۔ میں اسے جا کر فارمیسی والے کے منہ پر ماروں گی۔۔ دو نمبری کرتا ہے۔۔ پانی بھر کے دے دیا۔۔ یہ پاکستان تھوڑی۔۔فارمیسی کا لائیسنس کینسل ہو جائے گا ۔۔
وہ کہتی یوں جوش سے دروازے کی طرف بڑھی جیسے ابھی جا رہی ہو فارمیسی والے کی شکایت کرنے۔۔
ارے رکو۔۔ نور اچھل کر بیڈ سے اتری اور بھاگ کر اسے کندھے سے جا لیا۔۔
دیکھو اسکی سیل تم نے خود کھولی تھی نا۔۔ فارمیسی والے کا کیا قصور یہ تو کمپنی کا مال ہی غلط آیا ہے نا۔
نور نے کہا تو عروج اسے گھورنے لگی۔۔
پھر بات سمجھ آئی۔ تو سر ہلا کر بولی
ہاں۔۔ مجھے اسکی صارف مددگار میں شکایت کرنی چاہیئے۔ وہ پلٹ کر بیڈ کی جانب فون اٹھانے بڑھی۔۔ نور اچھل کر اسکے سامنے آگئ
تم نے استعمال کر تو لیا تھا سا را بس تھوڑا سا ہی تو بچا تھا آدھی بوتل تک۔۔ اسکی کیا شکایت کرنی۔۔ دفع کرو۔ ایکسپائر ہوگیا ہوگا نیا لے لو۔۔
نور نے حتی المقدور کوشش کرتے ہویے اسے باز رکھنا چاہا۔
آدھا بھی سہی۔۔ اتنی جلدی ایکسپائر تو نہیں ہو جانا چاہیئے نا۔۔ اب کل دو ڈیڈ باڈیز کو چھونا پڑا مجھے۔۔ انکے مردہ ہونے کی تصدیق کرنی تھی ۔۔ ڈیوٹی بھی ختم ہونے والی تھی ہاتھ دھویا مگر سینیٹائزر سے دھونا بھول گئ۔ گھر آکر اسی سے ہاتھ دھوئے تھے اگر یہ ایکسپائر ہو گیا ہوا ہے تو اس نے تو۔۔ ابھی عروج نے اتنا ہی بتایا تھا نور کے زہن میں صبح کا منظر لہرایا۔۔ وہ یونیورسٹی جانے کو تیار کھڑی تھئ جب عروج نے باتھ روم سے آواز لگائئ۔۔
یار عزہ میری تولیہ زمین پر گر گئ ہے نئی پکڑاتی جائو۔
اس نے مصروف سے انداز میں سامنے پڑی اپنی تولیہ ہی اٹھا کر اسے تھما دی تھی اور باہر نکل گئ تھی۔۔
اس نے خوفزدہ ہو کر آنکھیں میچ لیں کانوں پر ہاتھ رکھ کر چیخ اٹھی۔۔
نہیں۔۔
کیا ہوا۔۔ عروج گھبرا کر اسے تھامنے کو بڑھی۔
نہیں دور رہو۔۔
وہ بوکھلا کر پیچھے ہوئی۔۔
مجھے مت چھونا۔۔ پہلے بتائو تم نہائی تو تھیں نا گھر آکر؟
وہ گھبرائے ہوئے انداز میں اس سے تصدیق چاہ رہی تھی۔
ہاں نہائی تھی صبح تم سے ہی تو تولیہ مانگی تھی۔۔
عروج نے معصومیت سے بتایا اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے اچانک ہوا کیا۔۔
چلو۔۔ نہا لیں پاک ہو گئیں مگر جراثیم۔۔ ۔وہ زیر لب بڑ بڑا رہی تھی۔۔
میری تولیہ۔۔ اس نے متلاشی نظروں سے تولیہ کو کمرے مین تلاشا۔۔
وہ رہی۔۔ ابھی تم ہی تو ہاتھ پو نچھ رہی تھیں اس سے۔۔ عروج نے کرسی کی جانب اشارہ کیا جس کی ہتھی پر سوکھنے کی نیت سے لٹکائی تھی۔
میرے ہاتھ۔۔ وہ بوکھلا کر باتھ روم کی جانب دوڑی
اسے کیا ہوا۔۔ عروج الجھن سے اسے دیکھتی جھک کر بیڈ سے فون اٹھانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔
کسی نے شستہ انگریزی میں ان سے پوچھا تھا۔۔ تینوں چونک کر مڑیں تو ایک چندی آنکھوں والا گورا سا لڑکا چہرے پر ماسک پہنے ان سے مخاطب تھا۔۔۔
وہ تینوں سنگئ نشست پر گھنٹنے کے بل چڑھی اشتہار کھرچ رہی تھیں۔ دفتری اوقات کا وقت نہیں تھا جبھی اس وقت رش نہیں تھا بلکہ اس وقت اسٹاپ پر بس وہ تینوں ہی تھیں۔ تینوں فورا سیدھی ہو کر بنچ سے اتر گئیں۔۔ ہمارے یہاں تو عموما چور ڈاکو ہی چہرہ چھپاتے مگر کوریا میں اکثر لوگ دھوپ سے بچنے یا گرد و غبار سے بچنے کو ماسک پہن لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں کسی اور قسم کا ماسک پہنے تھیں ۔۔ ماسک والا لڑکا الجھن میں پڑا تھا۔
وہ ہم یہ اشتہار اتار رہے تھے۔۔ ابیہا نے اسے ہنگل میں بتانا چاہا
آپکو یہ اشتہار پسند ہے؟۔وہ لڑکا ہنگل میں ہی بولا
دے؟۔ ابیہا نے فورا سر ہلایا۔
ماسک والے لڑکے کو ہنسی آگئ تھی۔۔ ماسک کے نیچے یہ اتنی بڑی گالوں کو چیرتی مسکراہٹ در آئی تھی۔۔
تو آپ اسے اتارنے کی بجائے تصویر کھینچ لیں اس کی۔۔
اس نے ابیہا کے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی جانب اشارہ کرکے کہا تو ابیہا کھسیانی سی ہوئی یہ تو خیال ہی نہیں آیا۔
یہ کیا کہہ رہا ہے۔ عزہ نے ابیہا کو کہنی ماری۔
مجھے نہیں پتہ۔۔ ابیہا صاف مکر گئ۔۔
یہ گیلا کر کے اترے گا۔۔ پانی ہے آپکے پاس؟ ۔۔ وہ آگے بڑھ کر اشتہار کو چھو کر دیکھنے لگا۔۔
آنیمیتا۔۔(نہیں) ابیہا نے جواب دیا تو الف اس کے بازو پر چٹکی بھر کر بولی۔۔
اشتہار اتروانے کی بجائے اس سے کیوں نہیں پوچھتی ہو کہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔۔
ابیہا کے بھی دماغ کی گھنٹی بجی۔۔ یہ بھی خیال نہ آیا کیوں بھلا؟۔
لڑکے نے ماسک چہرے سے نیچے کیا اپنا انگوٹھا منہ میں لیکر گیلا کیا اب اشتہار کے کونے پر رگڑا۔۔ کونا اکھڑ آیا۔۔
اور ابیہا عزہ اور الف کو کراہیت ہوئی۔
اب اگر یہ اشتہار اتار بھی دے تو کون پکڑے گا اس اشتہار کو۔۔عزہ کی بات میں وزن تھا ابیہا متفق تھی البتہ
الف اسے دیکھ کر سوچ میں پڑگئی کہاں دیکھا ہے اسے۔۔۔
چھوڑیں اسے۔ مت اکھاڑیں۔ کیا آپ پڑھ کر بتا سکتے ہیں یہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔
عزہ نے سیدھا سیدھا پوچھ لیا اس سے انگریزی میں۔۔
جی ضرور۔۔ اس نے فورا ہاتھ روکے۔۔ اشتہار اکھڑ تو رہا تھا مگر پھٹ بھی رہا تھا۔ وہ ہاتھ جھاڑتا سیدھا ہوا۔۔
یہ جی چھانگ ووک کی پھین میتنگ( فین میٹنگ) کا اشتہار ہے۔۔ وہ رکا۔۔اسکی انگریزی بہت رواں نہیں تھی مگر بات سمجھا سکتا تھا۔۔
ابیہا کی سانس بھی رکی۔۔فین میٹنگ جی چھانگ ووک کیا اسے دیکھ سکنا ممکن ہے۔ وہ خیالوں کی رو میں بہکنے کو تھی۔۔
مگر یہ پرانا اشتہار ہے چھے مہینے پرانا ۔۔ اس نے مسکرا کر انگریزی میں ہی بتایا۔۔
ابیہا کے اوپر یاسیت چھائی۔ نقاب منہ پر ہونے کے باوجود بھی آنکھوں سے چھلکتی مایوسی اس سے مخفی نہ رہ سکی۔
بیانئیے۔ وہ کوریائی انداز میں معزرت کرتا ان سے اجازت لیتا آگے بڑھ گیا۔
یار اسکو میں نے کہیں دیکھا ہے۔ الف اسکی چوڑی پشت کو نظروں میں رکھے رکھے بولی۔ گرے پینٹ اور آف وائیٹ لائننگ والی فل آستینوں والی شرٹ کو اس نے موڑ کر کہنی تک چڑھایا ہوا تھا۔۔
سب ہی تو اسی شکل کے ہیں۔۔۔ عزہ نے ہاتھ جھاڑے۔۔
دور سے اسے بس آتی دکھائی دے رہی تھی۔
ہاں مجھے جی چھانگ ووک کی شکل کا لڑکا ٹکرا تھا پچھلے سال مال میں پھرتے۔۔ جب میں اسے سب بتا چکی کہ میں نے کے ٹو ہیلر کتنی بار دیکھا ہےا سکے پیچھے تب اس نے مجھے بتایا میں جی چھانگ ووک نہیں آگے سے ہنس بھی رہا تھا کمینہ۔۔ دل تو کیا تھا دانت ہی توڑ دوں اسکے۔۔
ابیہا کو پچھلے سال کا واقعہ پوری جزئیات کے ساتھ یاد آیا تھا۔۔ بلبلا کر بتانے لگی۔ عزہ زور سے ہنسی تھی۔
یہ تو صحیح بستی ہوئی پھر تو آپکی۔ وہ ابیہا کو کندھا مار کر چھیڑنے لگی۔ ابیہا بھنا کر اسے پیچھے کرنے لگی
الف ابھئ بھی اسی لڑکے کو ہی دیکھ رہی تھی۔ سڑک کنارے لاپروائی سے کھڑا ادھر ادھر دیکھتے فون پر بات کر رہا تھا۔۔
کا ش کبھی یونہی چلتے پھرتے سیہون ہی مل جائے۔۔
اسے گھورتے جانا کافی غلط بات تھئ سو آہ بھر کر اس نے یونہی اپنا موبائل کی اسکرین روشن کرکے وقت دیکھا۔ ایکسو انگوٹھے اور انگلی والا دل بنائے بڑے انداز سے دیکھ رہے تھے اسکرین پر۔
مانوس چہرے۔۔ اسکے زہن میں جھماکا سا ہوا۔
اس نے چونک کر نظر اٹھائی۔ اس لڑکے کے پاس ٹیکسی آ رکی تھئ۔۔ اس لڑکے کا آدھا چہرہ دکھائی دے رہا تھا اب۔۔
اسکے کانوں میں واعظہ کی آواز گونجی تھی۔۔ اسے بتا رہی تھی
یار رچ مین شروع ہوا ہے تمہارے کیا نام ہے اس لڑکے کا یار۔۔ وہ پیشانی مسل رہی تھی۔
یار وہ جو ایکسو والا لگتا گال میں پان دبا کر بیٹھا ہے ہونٹ بھینچ کر جو بولتا ہے۔۔
اس نے نشانی بتا کر بجھوانا چاہا۔۔
سو ہو۔۔ الف فورا پہچان گئی تھی۔۔
سو۔۔ ۔۔ اسکے لب ہلے۔۔ اس لڑکے نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا
سو ہو۔ اس کے لبوں سے ہلکی سی آواز نکلی۔ لڑکا ایک ٹانگ اندر کر کے آدھا بیٹھا ہی تھا۔۔ اس نے اپنی ساری ہمت مجتمع کر کےجوش کی انتہا پر خوش ہوتے پکار لیا۔ آواز نکلی۔۔ اور کیا پاٹ دار آواز نکلی۔۔
سوووہو۔۔۔۔
بس کے پائدان پر پیر رکھنے کو اٹھاتی ابیہا اچھلی تھی۔
عزہ دہل کر ہاتھ سے موبائل چھوڑ بیٹھی تو آدھا بیٹھا سوہو آواز کے منبع کو جانے بنا بھی گھبرا کر وہیں اسی انداز میں جم کر مڑ کر دیکھنے لگا۔۔
سفید جینز لمبا سا کلیجی رنگ کا لمبا سا کرتا اور ساتھ ہمرنگ لمبا سا لہراتا پردہ۔ ( دوپٹہ) سر پر سفید اسکارف باندھے وہ لڑکی بھاگتی ہوئی اسکی جانب آرہی تھی اور پیچھے اسکے دو کالے لمبے لبادے پہنے لڑکیاں پورے چہرے پر نقاب بس آنکھیں ہی نظر آرہی ہوں۔۔
سو ہو۔۔ سر۔ اس کوپھر آواز آئی تھی۔۔
وہ دھپ سے نشست پر ٹکا۔۔اسکی پرستار ایسے حلیئے میں تو نہیں ہوتی ہیں۔ اور یقینا ابھی ہونے والی گفتگو انکو بھڑکا دینے والی نہیں تھی۔۔ پھر اس طرح بھاگ کر آنے کا مقصد۔
چلیں؟۔ ٹیکسی ڈرائیور مڑ کر اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
ایک ٹانگ سڑک پر دھرے وہ شش و پنج میں تھا آیا دروازہ بند کر کے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹیکسی بھگانے کا کہے یا۔ ۔۔ ۔یا کا موقع ختم ہوا۔۔ وہ تینوں اسکے سر پر آپہنچی تھیں
پھولی سانسوں کو برابر کرتی الف بمشکل جوش و خروش سے سرخ چہرے کے ساتھ کہہ پائی تھی۔۔
آپ آپ۔۔ ہو۔۔ ( سانسیں چڑھی ہوئی تھیں اسکی) سو ہو ہیں نا؟۔۔ سوہو ہو۔۔ سو۔۔ وہی والے وہ رچ ۔۔ والے میں آپکی ۔۔۔۔ بلکہ ایکس۔۔ ہوووو ۔۔ کی ہی۔ الف کوخود پتہ نہیں تھا اسکے منہ سے کیا نکل رہا۔۔ اور پھر ایسے موقع پر انگریزی بھئ کہیں بھاگ جاتی ہے۔۔
تین لڑکیاں اجنبی حلیے میں اجنبی زبان میں جانے اس سے کیا کہہ رہئ تھیں۔
اسکے چہرے پر سراسیمگی سی چھائی تھی تھوک نگل کر اس نے پوچھنا چاہا۔۔
دے؟ واٹ ڈڈ یو سے؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔
دیسی کمچی قسط تین
حصہ سوئم
اس نے صبح سے تین جگہ انٹر ویو دئیے تھے۔۔ تینوں انٹر ویو اسکی زندگی کے یادگاری انڑویو تھے۔۔
گلاس ڈور دھکیلتے ہوئے فاطمہ بڑے اعتماد سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ یہ کوریا کی مشہور موبائل کمپنی کے صارف مددگار کال گاہ( کال سینٹر) کا مرکزی دفتر تھا۔۔
بڑی سے میز پر تین افراد براجمان تھے ایک ادھیڑ عمر مینجر ایک نسبتا جوان لڑکا اور ایک خاتون۔۔
آننیانگ ہاسے او۔۔
فاطمہ نے جھک کر کوریائی انداز میں مسکرا کر سلام کیا۔ آموکچھورو ۔۔( برائے مہربانی)
انجے سے ہیو۔۔
( تشریف رکھئیے)
اھیڑ عمر چندی آنکھوں والے نے بڑی تمیز سے کہا تھا
دیح؟۔۔ دے۔۔
وہ سمجھی نہیں تو انہوں نے اشارے سے بیٹھنے کا کہہ کر جملہ دہرایا۔۔
تھینکس ۔۔ وہ سر ہلا کر بیٹھ گئ۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔۔ چندی آنکھوں والا اس سے خالص ہنگل میں پوچھ رہا تھا۔۔
جی۔۔ اسکے منہ سے اردو نکلی تھئ۔۔
ٹھیل اش شم تھن آبائوٹھ یو۔۔
نسبتا جوان خالص کوریائی لہجے میں اس سے انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔۔
ٹیل اس سم تھنگ ابائوٹ یو۔۔
ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔۔
اچھا۔۔ اس بار اسکا زہن چلا تھا۔ پھر چلتے چلتے پاکستان جا پہنچا۔۔
وہ اس انٹرویو سے پہلے پاکستان میں دیئے جانے والے انٹرویو میں پہنچ گئ۔۔ دفتر کم و بیش وہی تھا ۔مگر سامنے چندی آنکھوں والے کے بجائے بڑی آنکھوں والا گندمی رنگت والا تقریبا جوان بندہ اس سے شستہ انگریزی میں مخاطب تھا۔۔
سو ٹیل می سم تھنگ ابائوٹ یو۔۔
فاطمہ نے گہری سانس لی ۔ پہلا انٹرویو تھا وہ تھوڑا سا گھبرائی ہوئی تھی۔۔ تھوک نگل کر بولنا شروع کیا
میرا نام فاطمہ ہے میں۔
ابھی اتنا ہی بتایا تھا اگلے نے فورا ٹوک دیا۔
انگلش پلیز۔ وی نیڈ گڈ اسپوکن انگلش ایز یو نو۔۔۔۔۔۔۔۔
آگے لمبا سا فراٹے دار انگریزی میں دیا جانے والا واعظ تھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ امریکی اسکول سسٹم میں جو بچے پڑھ رہے ہیں وہ آدھے تیتر آدھے بٹیر ہیں اردو انہیں بس اتنی ہی آتی کہ اپنے ملازم سے اپنا زاتی کام کروا سکیں سو اگر آپ انہیں انگریزی پڑھانا چاہتی ہیں تو آپکو فراٹے سے انگریزی بولنا آنا چاہیئے ۔ لکھنے میں بھلے آپ کو دو سو لفظوں کا مضمون لکھنا آتا ہو۔ انگریزی ادب میں ماسٹر کی فرسٹ ڈویژن میں ڈگری لے رکھی ہو
سب بے کار ہے۔۔ انگریزی بولنا فی زمانہ کامیابی کی دلیل ہے ورنہ آپ زلیل ہیں خوار ہیں ہم جیسوں کے آگے۔
اسکی لمبی تقریر نے گھبرائی ہوئی فاطمہ کی رہی سہی انگریزی بھاپ بنا کر اڑا دی تھی۔۔
اس نے سر جھکا کر کہا تھا ۔۔
جی۔۔
زندگی کا پہلا انٹرویو۔
انگریزی مادری فادری زبان نہ ہونے کے باوجود اس نے سیکھی تھی پڑھی تھئ اسے آتی تھی بولنی بھی آتی ہوتئ اگر اسکے والدین امریکی ہوتے برطانوی ہوتے اسکے آباواجدا دانگریزوں کی غلامی سے نجات کیلئے لڑے نہ ہوتے ابھی بھی غلام ہوتے انگریزوں کے تو کیوں نہ آتی ۔۔ مگر ستر برس قبل اسی تنازعے پر علیحدہ وطن بنا کر انہوں نے انگریزی اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنا چاہی تھی۔۔ مگر نجات مل نہ سکی تھی۔۔ انکی زہین فطین اولاد جس نے انگریزی ادب گھول کر پیا تھا انگریزی طوعا کرہا کیا مجبورا و شوقیہ بھی سیکھی۔۔مگر بولتے تو آپ وہی زبان ہیں نا جو آپکے ارد گرد بولی جاتی ہو جو آپکے اردگرد لوگ سمجھتے ہوں۔۔ جو آپ بچپن سے استعمال کرتے ہوں۔۔ اور پاکستانی معصوم بچی کو انگریزی پڑھا دی سکھا دی سمجھا دی اب بلوانا بھی ضروری کیا؟ کم از کم بولنے کی تو پابندی نا لگائو۔۔ صد افسوس۔
اسے بڑی تہزیب کے ساتھ جواب دیا گیا تھا کسی بھی بڑے ادارے میں جائو کم از کم زلیل کرکے نہیں نکالا جاتا اتنا احسان کر دیتے ہیں پڑھے لکھے لوگ۔۔ خیر اس دن اس نے تہیہ کیا تھا انگریزی بولنا بھی سیکھے گی۔۔
اسکو اپنے پل پل کی محنت مشقت یاد تھی۔۔
گھنٹوں بیٹھ کر بور سے بور سی این این بی بی سی فاکس نیوز کی خبریں سنی تھیں ہر طرح کی ہارر ایکشن انگریزی فلم دیکھی تھی گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر انگریزی بول بول کر اسپوکن انگریزی بہتر کی تھی۔۔ جنون ہو گیا تھا اسےجو اس ایک انٹر ویو میں ہوا ہے وہ آئندہ نہ ہونے پائے۔۔ اور کامیاب بھی رہی۔انگریزی کی بنیاد پر دبئی کے ایک کال سینٹر میں نوکری مل گئ اسے۔۔ وہ جانتی تھی کیسے اپنے گھر والوں کو ضدیں کرکے منایا کس طرح روئی جھگڑی کھانا پینا چھوڑا مگر ضد منوا لی۔۔ دبئی میں د ومہینے نوکری کرکے ہی اسکا کم از کم نوکری کا شوق اترا تھاوہی خاندان والے جو اکیلی لڑکی کو اتنی دور بھیجنے پر سو سو باتیں بنا رہے تھے دھڑا دھڑ اسکیلیئے رشتے بھیجنے لگے مگروہ اب اس ماحول سے نکل آئی تھی سو واپسی ناممکن تھی۔ اسے ایک کوریا میں موجود کسی فلاحی ادارے میں نوکری کا اشتہار ملا۔۔ لمبا چوڑا نام۔ تھا این جی او کا ۔ دبئ آگئ تھئ تو آگے کوریا جانا کیا مشکل تھا۔۔کوریا میں ہنگل کے جانے بغیر جانا مشکل تھا۔ سو اس نے کے پاپ کے ڈرامے دیکھنے شروع کیئے۔ مگر ہنگل اور انگریزی میں ایک بنیادی فرق یہ آیا تھا انگریزی وہ کنڈر گارٹن سے پڑھ اور سیکھ رہی تھی صرف بولنا مشکل تھا ۔ جبکہ ہنگل بولنا پڑھنا سیکھنا سمجھنا۔۔ کچھ بھی آسان نہ رہا تھا خیرکسی طرح ۔۔اسے نوکری مل گئ تھی۔۔ وہ دبئی سے کوریا آگئ۔۔ لیکن۔۔ یہاں آکر احساس ہوا انجمن میں نوکری کرنا آسان کام نہیں۔۔ زہنی بیمار کرنے لگا تھا اسے۔۔کام۔ سارا دن مخصوص موضوعات پر مقالے ڈھونڈنا لکھنا دنیا کی بے ثباتی کیا خوب آشکار ہوئی تھی وہی ہنستا مسکراتا ڈراموں والا خوش لوگوں والا کوریا کدھر ہے؟ شوہروں کے ظلم و ستم کا شکار خواتین،بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں، نوکری کی تلاش میں فلپائن جا کر غلط ہاتھوں میں پڑ کر زندگی برباد کروا لینے والے کوریائی۔۔چین میں شادیاں کر کے واپس آجانے والے انکو ڈھنوڈتے انکے اپنے۔ شمالی کوریائی محاجرین اور ان پر گزری ظلم و ستم کی داستانیں اسکے سامنے آجاتیں۔۔جن کو اسے مضامین کی شکل دینی ہوتی تھی جو پھر انکی دفتری ویب سائٹ اور ماہناموں میں چھاپا جاتا۔ تین چار مہینے میں ہی اسکی بس ہوگئ۔۔ اس نے شد و مد سے نوکری ڈھونڈنا شروع کی مگر اس سے پہلے کہ دوسری نوکری ملتی اسکو نوکری سے نکال دیا گیا۔ وجہ اسکا لکھا ایک مقالہ بنی جس میں اس نے شمالی کوریائی محاجروں کی صرف مشکلات کا زکر کیا تھا۔ خالصتا سچائی۔۔ فرق صرف اتنا تھا کہ شمالی کوریا میں رہتے ہوئے جو مشکلات آئیں انکے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا میں انکے ساتھ ہوا برا سلوک بھی لکھ ڈالا۔ اسکا لکھا مضمون پہلے دیکھا جانا چاہیے تھا مگر ایڈیٹر صاحب کا اس پر اندھا اعتماد کہہ لو یا کام چوری وہ سیدھا چھپ گیا ماہنامے میں۔ بس دفتر ہل گیا اسکو اظہار وجوہ کا نوٹس آیا پھر بحث ہوئی اور آخر میں فاطمہ کے اندر کی دوٹوک بولنے والی لڑکی انگڑائی لیکر جاگ اٹھئ۔۔
المختصر نوکری گئ۔ ویزا کا مسلئہ پڑا پاکستانی ایمبیسی کے چکر لگے وہیں اسکی ملاقات واعظہ سے ہوئی تھی۔
واعظہ جسکے بھائی ایمبیسی میں اچھے عہدے پر فائز تھےوہ کسی کام سے انکے پاس آئی ہوئی تھی جب فاطمہ کا مسلئہ اسکے سامنے آیا۔ وہ ایمبیسی کے روئیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے خوب غصے میں اسکے بھائی پر برس اٹھی تھئ۔ نڈر۔۔ بااعتماد۔ غلط بات پر ہتھے سے اکھڑجانے والی فاطمہ واعظہ کو پسند آگئ۔ بھائی اسکا جانے کیسے ضبط کیئے تھا۔ وہ اسکو سمجھا رہا تھا کہ اگر اسے یہاں نوکری نہیں ملتی تو یہاں رہنا مشکل ہوگا بہتر ہوگا وہ پاکستان واپس چلی جائے جب واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر اپنے بھائی کو روکا اور اسے لیکر باہر لان میں لے آئی۔ اسکا مسلئہ سنا تسلی دی اور پھر حل کرنے کی کوشش بھی۔۔ تب اسے پتہ چلا ۔ واعظہ کے بھائئ بھابی کوریا میں ہی رہتے تھے اپنے بچوں کے ساتھ اور وہ الگ ایک اپارٹمنٹ لیکر سہیلی کے ساتھ رہتی تھئ۔۔ اس نے نا صرف اسکا رہائش کا مسلہ حل کیا بلکہ کہہ سن کر اسکی جاب بھی لگوا دی ایک مقامی انگریزی اخبار میں ڈیٹا انٹری اسکا کام ہوتا تھا سارا دن ٹائیپ کرتے نیوز پڑھتے سناتے کبھی کبھار سوشل میڈیا استعمال کر لیتی تھی۔۔ ایک دفعہ اسے تنبیہہ ملی اور دوسرئ بار نوکری سے برخواستگی کا خط۔۔
ہق ہاہ۔
جس پر اتنا کچھ ہو گزرا ہو اسے نوکری کا شوق نہیں رہتا۔ اب مجبوری تھی اسکی۔
چند لمحوں میں کئی مہینے کی کہانی گھومی تھی اسکی نظروں کے سامنے۔۔
میرا نام فاطمہ ہے ۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں کوریا میں نوکری کیلئے آئی ہوں ۔ میں نے ایم اے انگلش کیا ہے پاکستان کی مشہور یونیورسٹی سے۔۔ ( کونسا جا کر تصدیق کریں گے۔مانتے تو ہیں نہیں پاکستانی ڈگریوں کو ہونہہ۔ ) اس نے فراٹے سے انگریزی بولتے ہوئے دل میں ہی سوچا تھا۔
ساتھ ساتھ مجھے کمپوٹر کی بنیادی معلومات ہیں۔ بلکہ گریجوایشن تک اختیاری مضمون بھی رہا ہے کمپیوٹر۔۔
میں دبئی گھوم چکی ہوں وہاں کال سینٹر میں نوکری کرتی تھئ مگر چونکہ میں مہم جو اور تجربے کرنے شوقین لڑکی ہوں سو مجھے وقت گھما کر یہاں لے آیا۔۔ میں یہاں ایک این جی او کے ساتھ منسلک رہی ہوں میری محنت اور قابلیت نے مجھے مشکل ترین اس نوکری میں سرخرو کیا۔۔ ( اور کیا بتائوں)۔ میں ہر طرح کے ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ مددگار طبیعت ہے میری جتنی محنت سے کام کرتی ہوں اتنے ہی خلوص سے اپنے کام کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ پیش آتی ہوں۔ یہ سب تفصیلات اس سی وی میں میں نے شامل بھئ کی ہیں۔۔
وہ بات ختم کر کے مسکرائی تھی۔۔ تینوں باقائدہ منہ کھولے ششدر سا اسے دیکھ رہے تھے۔ یہ ریل گاڑی اس تھوڑی بہت انگریزی جاننے والے کے بھی سر پر سے گزری تھی یقینا۔ اسکا چہرہ بتاتا تھا۔۔ فاطمہ دل ہی دل میں مغرور سی ہوئی خود کو خیالی تھپکی بھی دے ڈالی۔ شاباش چھکے چھڑا دئیے۔۔نوکری پکی تمہاری انکےخاندان میں کسی نے اتنی انگریزی بولی پڑھی نا سنی ہوگی کیا یاد کریں گے فاطمہ سے پالا پڑا ہے۔۔
اسکا سی وی لیکر ادھیڑ عمر شخص نے بغور دیکھا تھا۔۔ چھے مہینے میں دو نوکریاں بدلنے والی فاطمہ۔ دونوں ہی نوکریاں اور انکا تجربہ انہیں درکار نہ تھا مگر خیر۔ وہ بڑے ادارے والے بات۔ یاد آئی؟۔۔۔۔
ہنگل آرا۔۔۔۔؟۔۔۔۔ کوٹ اسکرٹ پہنے خاتون نے پہلو بدل کر اس سے پوچھا تھا۔۔
ہنگل سمجھ آتی ہے؟۔۔
اتنا تو سمجھ آگیا تھا۔ اسے۔۔
دے۔۔ اس نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔۔ دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔
آپکی انگریزی اچھی ہے مگر ہمیں انگریزی صارفین سے اتنا واسطہ نہیں پڑتا۔ اس مددگار کال سینٹر میں عموما کوریائی لوگ ہی کال کرتے یا رابطہ کرتے ہیں۔ سو ان کی مدد کرنے کیلئے ضروری ہے آپکو ہنگل بھی آتی ہو۔
نسبتا جوان والے ٹو پیس میں ملبوس لڑکے نے شائستگی سے اسے انگریزی میں بتایا تھا۔۔
مگر اشتہار پر تو آپ نے انگریزی بولنے کو ترجیح دیں گے لکھا تھا۔
فاطمہ بگڑ گئ۔ ناحق وقت ضائع کیا میرا۔۔
اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر تینوں کے انداز مزید شائستہ ہوئے۔۔
درست فرمایا اکثر یہا ں پر غیر ملکی صارفین آتے تو انگریزی ہم نے ترجیح رکھی تاکہ ہم انکو بھی سہولت دے سکیں مگر ہمارا واسطہ زیادہ تر ہنگل بولنے والے صارفین سے ہی پڑے گا۔
اس نے مزید مسکرا کر شائیستگی سے بتایا۔۔
بیانئیے۔ ادھیڑ عمر والے چندی آنکھوں والے انکل نے معزرت خواہانہ انداز میں اس سے کہا۔
اورینن ہنگ کھوکمینے سنوہے کوشیہئے تا۔۔
ہم کوریائی قومیت رکھنے والوں کو ترجیح دیں گے۔۔
فاطمہ گہری سانس لیتےواپس جانے کیلئے۔ اٹھ کھڑی ہوئی۔
رکھیں جی اپنے لوگوں کو۔ آپ ہم لوگوں جیسے تھوڑی ہیں۔ ہمارا واسطہ غیر ملکیوں سے ککھ نہیں پڑتا مگر ہماری ترجیح انگریزی بولنے والے ہوتے ۔۔ عجیب ہی حال ہے۔۔
وہ اردو میں خود کلامی کر رہی تھی۔ وہ تینوں اب بھی ہمہ تن گوش تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب صورت حال تھی۔۔ واعظہ نور اور عشنا منے لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی گود میں کشن دبائے اس پر تھوڑی جمائے بیٹھی عروج کو ادھر سے ادھر چکور کی طرح چکر کاٹتے دیکھ رہی تھیں۔۔ عروج منے سے لائونج میں بھی ادھر سے ادھر ٹہلتےصارف مددگار پر کال ملائے برس رہی تھی۔۔
آپ لوگوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں ۔ سینی ٹائزر ایکسپائر ہوگیا اسکا مطلب پتہ ہے؟ میں ڈاکٹر ہوں ایک سے ایک خطرناک بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور لاشوں سے واسطہ پڑتا میرا اگر مجھے کوئی سنگین بیماری لاحق ہو گئ تو؟۔۔
مجھے خبر ہوتی عروج اتنا کھڑاگ پھیلائے گی تو میں تمہاری آنکھیں پھوٹ جانے دیتی اسکا سینی ٹائزر نہ اٹھاتی۔
نور نے دھیرے سے واعظہ کی جانب جھک کر سرگوشی کی تھی۔۔ واعظہ نے دانت پیس کر اسے گھورا تھا۔۔ کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ ساتھ بیٹھی عشنا نے اسکو بازو سے پکڑا اور بڑی معصومیت سے بولی
بات سنیں انکی اتنی اچھی ہے کورین ان سے کہیں مجھے بھی کورین سکھا دیا کریں میں انکو پے کروں گی ۔۔ مجھے ہنگل آجائے تو نوکری آسانی سے مل جائے گی۔
واعظہ نے اب اسکو جواب دینے کی نیت سے منہ کھولا تھا کہ نور جو اسکے بائیں جانب بیٹھی تھی اسکا بازو دبوچ کر بولی۔
کیا خیال ہے ہم ابھی جا کر اسٹور سے نیا سینی ٹائزر نہ لائیں۔۔
ابھی بھی یہ سوچا ہی تھا اس نے۔۔ واعظہ نے پھر دانت پیس کر کچھ کہنا چاہا۔۔
بتائیں نا۔۔ یہ مجھے سکھا دیں گی ہنگل؟ میں نوکری ملتے ہی انکو منہ مانگے پیسے دوں گی۔ پلیز۔
عشنا اسکا دایاں بازو دبوچ کر منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔
دونوں اسکے دائیں بائیں بیٹھی تھیں۔۔
پاکستان سے ہوں جبھئ کہہ رہی ۔غیر ملکیوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں آپ لوگ؟۔ ابھی پاکستان ہوتا تو ملاوٹ زدہ سینی ٹائزر فروخت کرنے پر آپکا اریسٹ وارنٹ جاری ہو جاتا بلکہ آپکی کمپنی کی سیل ہی بند کر دی جاتی تحقیقات مکمل ہونے تک۔۔ کم از کم
عشنا اور نور کی خیر تھی۔۔ واعظہ باقائدہ پورا منہ کھول کر اسے دیکھنے لگی۔ عروج کی چلتے چلتے اس پر نظر پڑی تو کھسیا کر گھوم گئ۔
دوسری جانب لڑکی منمنا کر اسے کہہ رہی تھی۔۔
ہم آپکی شکایت درج کر رہے ہیں مگر آپ نے حکومتی ادارے میں کال ملائی ہے کمپنی میں نہیں سو ہمیں آپکی شکایت پر کام کرنے میں وقت درکار ہے۔
دے۔۔ عروج کو بھی اندازہ ہوا زیادہ ہی جزباتی ہوگئ میں۔۔
سو لہجہ دھیما کیا۔
یار تم روکتی کیوں نہیں ہو عروج کو۔۔ ہزار دو ہزار وون کہ چیز پر اتنا فس۔۔۔
نور کا بس نہیں تھا واعظہ کو ہی اٹھا کر عروج کے سر پر بجا دے۔۔
فس ؟ ۔۔ واعظہ نے فورا اسے ٹوکنااور متبادل اردو لفظ بتانا چاہا کہ عشنا نے کھینچ لیا۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں؟۔ آپ ساتھ ساتھ بتائیں بھی تو لغت۔
عشنا اسکا دایاں بازو کھینچے اشتیاق بھری نظروں سے عروج کو روانی سے ہنگل میں میدا نیدا کرتے دیکھ رہی تھی۔
دے۔۔ گھمسامنیدہ۔۔
عروج نے شکریہ کہہ کر آخر کار فون بند کر دیا۔
شکایت لگا دی میں نے۔ اندھیر کھاتا تھوڑی ۔۔ پاکستان ہوتا تو برداشت کر جاتئ مگر کورینوں کو میں کرپشن کرنے نہیں دے سکتی۔۔
عروج فخر سے جتا کر اترائی۔۔
ہاں کورینوں کا تو سماج سدھار ٹھیکہ لے رکھا تم نے۔ کیا تھا اگرتھوڑی سی غیر معیاری چیز استعمال کرنا پڑ گئ۔۔ باقی تو ہر چیز خالص ملتی ہے با احسان فراموش۔۔ سہہ جاتیں شکایت ضروری تھئ کیا۔۔ نور اس پر چڑھ دوڑی تھی۔۔ عروج اسکے غصے کی وجہ سمجھنے سے قاصر منہ کھولے دیکھ رہی تھی۔۔
تم کیوں اتنا غصے میں آرہی ہو ؟ تمہاری شکایت تھوڑی کی ہے ۔۔ اور یہ کمپنی تمہارے سسرالیوں کی نہیں ہے جو آگ لگ رہی تمہیں۔
یہ شکایت کر رہی تھیں؟۔ کیا خراب ہوگیا انکا؟ عشنا نے اسکا بازو ہلایا۔
خدا نہ کرے جو میرے سسرالی کورین ہوں تم لوگوں کی طرح اوپائوں پر کرش نہیں ہوتے مجھے۔ سمجھیں۔۔
نور کو اسکا طعنہ تیر کی طرح لگا تھا۔۔ بلبلا کر کھڑی ہوگئ عروج کے سامنے۔۔
اب یہ کیا معاملہ کرش ہوتے ہیں ہمیں تو کیا ہمارے سسرالی کورین ہونگے۔ نور کچھ بھی کہتی ہو۔۔
عروج کے زہن میں جانے کیوں سیونگ رو لہرا گیا۔۔ خدا نہ کرے دل میں کہتی دہل کر جوابا حملہ کیا تھا اس نے۔
واعظہ اوپا تو لی من ہو کو کہتے نا؟ انکو بھی لی من ہو پسند ہے؟
عشنا اوپا کے نام پر بس اسی کو جانتی تھی سو واعظہ کے کان میں منمنائی۔۔ واعظہ پھر منہ کھولنے کی کوشش ہی کر کے رہ گئ کیوںکہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوتی جارہی تھیں۔۔
تم نے شروعات کی تھی۔ میرے سسرالی کورین بنا کر۔ واعظہ سچ بتا دو اسے اس سے پہلے کے اسکے سسرالی اسکی شکایت کی تحقیقات کرنے آجائیں۔۔
نور واعظہ کا کندھا ہلا رہی تھئ۔۔
یہ لوگ تو لڑنے لگیں آپ انکو سمجھائیں۔۔
عشنا واعظہ کا دوسرا کندھا ہلا رہی تھی۔۔
اس نے جوابا کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا کہ عروج تنتانی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔۔
دیکھ رہی ہو بار بار کورینز کو میرا سسرالی کہے جا رہئ اس سے کہو زبان سنبھال لے۔۔
اور تم اپنے آپ کو اتنی سی بات کا کتنا بتنگڑ بنا لیا تم نے۔۔ نور کو بھی غصہ آگیا تھا۔۔
عشنا واعظہ سے کہہ رہی تھی
واعظہ آپکو بیچ میں پڑنا چاہیے۔۔
چپ۔۔
واعظہ کی برداشت کی حد تمام ہوئی دونوں ہاتھ اٹھا کر حلق کے بل چلائی پھر تڑپ کرگود میں رکھے کشن پر منہ چھپاگئ۔۔ درد کئ شدید لہریں اٹھی تھیں اسے تینوں اپنی بات بھول کر اسکی جانب لپکیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہو کو بس فین لفظ ہی سمجھ آیا تھا سو وہ مسکراتا ٹیکسی سے اتر آیا تھا۔۔
یہ تینوں تمیز سے راستہ دیتی پیچھے ہٹ گئیں۔۔
میرا نام الف ہے یہ عزہ اور یہ ابیہا۔۔
الف کا چہرہ خوشی سے تمتما گیا تھا نہایت جوش بھرے انداز سے مخاطب تھی۔۔ اسے تو ایکسو شدید پسند تھے ہی عزہ اور ابیہا بھی زندگی میں پہلی بار کسی فنکار کو اتنا قریب سے سامدنے دیکھ رہی تھیں خوش تو ہوئی تھیں مگر لحاظ تینوں کو مانع تھا۔
سوہو مسکرا کر آننیانگ کہتا جھکا تھا جوابا ان تینوں نے بھی کوریائی انداز میں جواب دیا مگر ہاں سر ہی جھکایا بس
ہم آپکی بہت بڑی فین ہیں۔۔ ایکسول ہمارا پسندیدہ ترین بیںڈ ہے۔۔ الف نے کہتے ہوئے عزہ کو کہنی ماری تھی عزہ کی پسلی میں لگی بلبلا اٹھی مگر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔ویسے بھی جو سامنے ہو وہی پسندیدہ ترین پرستاروں کی یہ قسم سب سے بے ضرر اور اچھی ہوتی ہے۔۔
۔۔اور آپکا ڈرامہ بھی ہم شوق سے دیکھ رہے ہیں بہت اچھی اداکاری کرتے ہیں آپ۔۔ رچ مین میرا پسندیدہ ترین ڈرامہ ہے۔۔
گھمسامنیدہ۔۔ وہ خوش دلی سے مسکرا دیا۔۔
وہ محتاط انداز میں سڑک پر بھی نظر ڈال رہا تھا۔۔
اسکارف اور عبایا والی لڑکیاں یقینا فاصلے پر ہی رہتیں۔۔ مگر اگر کوئی مقامی پرستار ٹکر جاتے تو اسکیلئے مصیبت بن جاتی۔۔
ابیہا نے اپنی ڈائری نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔۔
آٹوگراف پلیز۔۔
شیور۔۔ وہ خوشدلی سے اسکے ہاتھ سے لیکر کر آٹوگراف لکھنے لگا۔۔
آپ کس ملک سے ہیں۔۔ انڈیا سے؟ اس نے یونہی بات برائے بات پوچھا تھا
نہیں اسکے پڑوسی۔۔۔ پاکستان۔سے۔۔ تینوں اکٹھے بول پڑیں تھیں۔۔ وہ ہلکے سے ہنسا۔
آپ لوگ جانتے ہیں مجھے جان کر خوشی ہوئی۔۔ انڈیا گیا تھا میں تو وہاں تو لوگ جانتے بھی نہیں تھے ایک مقامی نے تو مجھے اپنا کیمرہ تھما کر تصویر بھی بنوا لی تھی مجھ سے۔۔
وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔۔
جاہل لوگ۔ عزہ کوغصہ آگیا تھا ۔۔۔
کوئی ایکسو سے بھی یہ سلوک کرتا؟۔۔
پرانی بات ہے تب شائد ایکسو اتنا مشہور نہیں تھے۔
اس نے نرمی سے وضاحت کی تھی۔۔
بہرحال آپ سب سے مل کر خوشی ہوئی۔۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر الوداعی کلمات ادا کرنے چاہے
تینوں شش و پنج میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں اتارا کاسٹ زیادہ ٹارزن بننے کا شوق تمہیں۔۔
عروج نے پے در پے دو تین چپتیں اسکے سر پر لگا دیں تھیں۔۔ مجروح ہاتھ دفاع کو اٹھاتی واعظہ دوبارہ رکوع میں چلی گئ تھئ۔۔
ہائے مارو تو نہیں پہلے ہی تکلیف میں ہے۔۔
نور اسے بچانے کو آگے ہوئی۔ واعظہ آنکھوں میں آنسو بھرے معصوم سی شکل بنائے سر اٹھا کر دیکھنے لگی اسے۔۔
عشنا اسکیلئے پانی کا گلاس بھر کر لائی تھی۔
سچ میں اتنا غصہ آرہا ہے ۔مجھے۔ دوائیں بھی نہیں کھا رہی ہوگئ یہ موٹی۔۔
عروج کو بالکل ترس نہ آیا۔۔ اسکے گھٹنے پر لات جما دی۔۔
ہائے موٹی تو نہ کہیں ٹھیک ہیں بہت پتلی بھی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں۔۔
واعظہ کی جانب پانی کا گلاس بڑھاتی عشنا کو بھی ترس آگیا تھا۔۔ واعظہ نے شکریہ کہہ کر گلاس تھاما نور واعظہ کا کاسٹ لگا بازو دھیرے سے سہلا رہی تھی۔۔ تو عشنا دنیا جہان کا ترس اور ہمدردی آنکھوں میں سمائے اسے دیکھ رہی تھئ۔۔
عروج کو ان دونوں پر غصہ آگیا تھا ہاتھ بڑھا کر گلاس واعظہ سے چھین کر غٹا غٹ چڑھا گئ۔۔
میں اور پانی لاتی ہوں۔۔ عشنا اٹھ کر جانے لگی تو واعظہ نے اسے ہاتھ سے روک دیا۔۔
یہ باقی سب آئی کیوں نہیں ابھی تک فاطمہ بھی غائب ہے۔
عروج کا جملہ منہ میں ہی۔تھا کہ تینوں چیخیں مارتی ہوئی داخل ہوئیں۔۔
عروج واعظہ فاطی۔۔ الف بے تابئ سے پکاری۔۔
سنو آج پتہ ہے کیا ہوا۔ابیہا نے تجسس میں ڈالنا چاہا۔
۔ ہمیں سو ہو ملا۔۔ عزہ نے جھٹ بتا دیا۔۔
تینوںکے برعکس یہ تینوں بالکل آرام سے انہیں دیکھتی رہیں۔۔
تو؟۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی بیٹے کو گود میں لیئے دلیہ کھلا رہی تھی جب اچانک چیخوں کی آواز سے دہل کر اسکے ہاتھ سے چمچ چھوٹ گیا۔۔
یا اللہ خیر پڑوس میں کیا ہوگیا۔۔
دہل کر اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔
اسکا بیٹا ماں کی توجہ بٹتے دیکھ کر ہمکنے لگا تھا۔۔
اسکی۔ دونوں بچیا ں ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہی تھیں۔
میں ابھی آتی ہوں بھائی کا دھیان رکھنا ۔۔
وہ بیٹے کے منہ میں نپل ڈال کر احتیاط سے صوفے پر بٹھاکر بچیوں کو ہدایت کرنے لگی۔۔
جی مما۔۔
بچی نے تابعداری سے سر ہلایا۔
یہ دوپٹہ ٹھیک کرتی عجلت میں دروازہ کھولتی باہر نکل آئی۔۔ کھلے سے گولائی میں بنے کاریڈور میں پانچ فلیٹوں کے دروازے کھلتے تھے جن میں دو خالی تھے ایک ساتھ والے میں آیک چھڑا چھآنٹ لڑکا رہتا جو رات گئے ہی واپس آتا تھا یہ آواز یقینا سامنے والے فلیٹ سے آئی تھی۔
وہ تیزی سے بنا سوچے دروازہ کھٹکانے کی نیت سے بڑھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پھر کیا کیا تم لوگوں نے؟۔۔ ملایا ہاتھ سوہو سے؟
عروج نے حیرت بھری چیخ ماری تھی۔۔
ہاتھ ملا لیا؟ یار فنکار ہیں تو کیا ہوا ہیں تو لڑکے۔۔
نور کو شاک لگا تھا۔۔
میں نے آج چھٹی کیوں کر لی۔۔ ہر اہم واقعہ میری غیر موجودگی میں ہی کیوں پیش آتا ہے
واعظہ افسردہ ہوئی۔
آپ کل چلی جائیے گا کیا پتہ کل پھر وہاں آجائے۔۔
عشنا نے فورا ساتھ لگا کر تسلی دی۔۔
روز تھوڑی آئے گا وہ فارغ تھوڑی ۔۔
الف نے برا ہی مان لیا اسکا سوہو ایکسو اتنے فارغ تھوڑی وہ تو اگر انکی شکل اور انداز غیر ملکی نہ ہوتا تو وہ تھوڑی ان سے مخاطب ہوتا اپنے راستے جاتا۔۔
لیکن ہاتھ نہیں ملانا چاہیئے تھا۔
نور کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔۔
ابے ایسا سمجھتی ہو ہمیں۔ ہاتھ کیوں ملاتے ہم؟ کوریا میں ہیں تو کیا ہوا ہیں تو پاکستانی مسلم لڑکیاں ہم۔
ابیہا تنک کر بولی تھی۔۔
وہ خود احتیاط سے کام لے رہا تھا اس نے ہماری جانب ہاتھ بڑھایا ضرور تھا مگر اس ہاتھ میں موبائل تھا۔۔
وہ ہم سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ہمارے ساتھ سیلفی بنوالے۔
عزہ نے سنجیدگی سے کہا تو سب یقین نہ کرنے والے انداز میں گھورنے لگیں
آئی بڑی سیلیبریٹی تم لوگ وہ تم لوگوں کے ساتھ تصویر بنوانے کیلئے پوچھ رہا کم پھینکو اب تو مجھے شک ہو رہا سوہو ہی تھا کہ کوئی راہ چلتا بے وقوف بنا گیا تم لوگوں کو۔۔
نور نے کہا تو عزہ اور ابیہا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں اب کیسے یقین دلائیں واقعی ایسا ہی ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگ برا نہ منائیں تو کیا میں اپنی پاکستانی پرستاروں کے ساتھ تصویر بنا سکتا اسکو میں اپنے پروفائل پر لگانا چاہتا ہوں۔۔ ایک میسج کے ساتھ۔۔
سوہو کے کہے گئے الفاظ پر انہیں یقین نہ آیا تھا۔۔ تینوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔۔
اس نے ٹیکسی ڈرائیور کو مڑ کر معزرت خواہانہ انداز میں انتظار کرنے کو کہا ۔۔ پھر مسکرا کر انہیں جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دیکھو۔۔ خاموشی سے موبائل میں لگئ الف نے سوہو کا انسٹا گرام کھول کر سامنے دکھایا ۔۔ سب اسکے موبائل پر جھک آئیں۔
ایک اسکارف سر پر لپیٹےلڑکی دو پورے برقعے نقاب میں ملبوس لڑکیا ں ان سے ایک قدم آگے کھڑا مسکرا کر سیلفی لیتا سوہو۔۔
آج میرا دن خوشگوار تھا شوٹ سے واپسی پر سر راہ مجھے ایکسو کی پاکستانی پرستار ملیں ۔ مجھ سے مل کر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا مگر انکے انداز سے جھلکتئ تہزیب اور لحاظ مجھے بہت متاثر کر گیا ۔۔ مجھے پرستار تو پوری دنیا کے ملے ہیں مگر مجھے یہ ماننا پڑے گا ان پرستاروں سے سیلفی کا تقاضہ میں نے کیا تھا۔۔
مجھے پاکستان کی انتہائی با تمیزمسلمان لڑکیوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی تھئ۔ مجھے اب پاکستان جانے کا شوق ہوا ہے میں ایسے مزید ایکسو کے پرستاروں سے ملنا چاہتا ہوں۔۔
اسلام و علیکم پاکستان۔
اتنا پیارا پیغام وہ بھی اپنے پسندیدہ ترین فنکاروں میں سے ایک کی۔طرف سے۔۔ ان سب کی آنکھیں بھر آئیں۔۔
پاکستان کا کتنا خوبصورت تاثر پڑا تھا ان پر ۔۔
یار ہمیں اندازہ نہیں ہوتا مگر ہمارا اٹھایا ہر قدم پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ابھی اگر ہم بھی باقی دنیا کے فینز کی طرح ہو جاتے اسکو گھیر لیتے سیلفی کا تقاضا کر تے تنگ کرتے چھونے کی کوشش کرتے یا جب اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا تو اپنی تہزیب بھول کر اس سے ہاتھ ملا لیتے تو۔۔۔۔۔
الف نے جزباتی انداز میں کہا تھا۔
صحیح کہہ رہی ہو۔۔ عروج نے اپنی آنکھیں پونچھیں۔۔
مجھے آج فخر ہو رہا ہے اپنی تربیت پر اپنے پاکستانی ہونے پر۔۔
یہ ابیہا تھی۔۔
ہمیں تو سیلفی لینے کا دھیان بھی نہیں آیا تھا سچی ہم پرجوش ہی اتنے تھے۔۔ عزہ ہنسی۔۔
لیکن ہم نے اچھے الفاظ میں بس اپنی پسندیگی جتائی تھی چھچھوری حرکتیں نہیں کی تھیں جیسے باقی سب کرتے۔۔
الف نے جتانا ضروری سمجھا۔۔
سیلفی کا دھیان نہ آنا تو حماقت تھی تم لوگو ں کی اب آتو گراف کون لیتا سب سیلفی لیتے ہیں۔ نور منہ بنا کر بولی
یار آٹو گراف تو دکھائو۔
عروج کو یاد آیا ۔۔
کیوں دکھائوں ؟ ہم تو نقلی سوہو سے مل کر آئے ہیں نا۔۔
الف نے چڑایا۔۔ ابیہا اپنا بیگ کھول رہی تھئ۔ نور اس کے کندھے سے جھول کر جیسے بیگ میں گھس کر ہی آتو گراف دیکھنے لگی تھئ۔۔ عزہ اور عشنا بھی جملے بازی کرتی ہنس رہی تھیں۔۔
پانچوں چھے یوں میں دھکم پیل مچی ہوئی تھی
واعظہ چوٹ نہ لگ جائے احتیاط سے ان سے تھوڑا سا پیچھے ہٹتئ صوفے کا سہارا لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔
ایک دو تین۔۔
اسے ملا کر سات لڑکیاں ہوئی تھیں۔۔
اب یہ آٹھویں کہاں ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
اگلی جھلک
اف اللہ میرا تو روزہ ہے اتنا چلا مارا ہے ۔۔ افطار سے پہلے لگ رہا میں افطار ہو جائوں گی۔۔
نور نے چمکتے سورج کو ہاتھ کی آڑ کرکے دیکھا تھا۔۔110
دیسی کمچی قسط تین
حصہ چار
شام سے تھوڑا پہلے وہ ہنگن دریا کے پاس آئی تھی۔۔ وہ نسبتا سنسان گوشہ ڈھونڈ کر بنچ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دریا کو گھورنے لگی۔
دور چلتی فیریز نے دریا کے سکوت میں دراڑیں ڈال دی تھیں۔۔ لہریں بن رہی تھیں ہلکی ہلکی سی۔۔ کنارے پر
دریا کےحسب معمول ٹھیک ٹھاک رش تھا۔۔ اور اسے اس وقت چڑ آرہی تھی لوگوں سے۔۔ تبھئ اسکے فون کی بیل گنگنا اٹھی۔۔
امی۔۔
اس نے بیزاری سے کاٹ دیا۔۔
چند لمحوں کے بعد دوبارہ بیل بجی۔۔
کیا ہے۔۔ تکلیف مجھے بات نہیں کرنی کسی سے۔
فون اٹھا کر اس نے حلق کے بل چلا کر کہا تھا ۔۔ سامنے سے گزرتی لڑکی ڈر کر ہاتھ سے کاٹن کینڈی چھوڑ بیٹھی۔۔ اسکا ہاتھ تھام کے چلتے اسکے محبوب نے گھور کر دیکھا تھا اسے اس لیئے نہیں کہ اس کی چند وون کی کاٹن کینڈی گرا دی تھی بلکہ اسلیئے کہ اسکی منی کو ڈرا دیا۔۔
کے ہسیکی۔۔
لڑکی بڑبڑا ئی۔۔
فاطمہ تنتنا کر اٹھ کھڑئ ہوئی۔ فون کان سے ہی لگا تھا۔
تم کے ہسیکی ۔۔ تمہارا یہ للو بوائے فریںڈ ہوگا کے سیکی۔
بلکہ تم خود پاگل ۔۔ ساری چڑ نکلی۔۔ جملوں میں ۔ سرخ بھبوکا چہرہ غصے سے تن فن کرتی یقینا وہ جو کہہ رہی تھئ ان کے اوپر سے گزرا تھا مگر الفاظ نہ سمجھنے کے باوجود فاطمہ کے لہجے کے شعلے ان کی سماعتوں سے گزر کر دل و دماغ تک پہنچ گئے تھے۔۔
چندی آنکھوں والا جوڑا اب چندی آنکھوں والا نہیں رہا تھا دونوں کی آنکھیں حجم سے دگنی کھل چکی تھیں بلکہ منہ بھی پورا کھول کر اسے دیکھ رہے تھے۔
کھوجو۔۔
لڑکے نے حوا س بحال ہوتے ہی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر نکلنے کی کی۔۔
بس ؟ اور نہیں کہنا کچھ۔۔ گالی تو زبان پر اٹکی پڑی منہ کھلا باہر گری۔۔ بد تمیزکہیں کی۔۔ کیا کہا تھا میں نے تمہیں۔۔ جو گالئ دی مجھے۔۔
وہ حلق کے بل چلائی تھی۔۔ واعظہ نے تڑپ کر فون کان سے پیچھے کیا تھا۔ چندی آنکھوں والا جوڑا بھاگا تھا
انکو تیز تیز قدم اٹھا کر جاتے دیکھ کر بھی اسکا پارہ نیچے نہ آیا تھا۔۔
دریا پر بیٹھئ ہو۔۔
واعظہ نے گہری سانس لی۔ اس نے فیری کی آواز سن کر اندازہ لگایا تھا
نہیں مریخ پر بیٹھی ہوں۔ ظاہر ہے کوریا کا ویزا لگا ہوا ہے وہیں ہونگی ہونو لولو تو ہونے سے رہی اور فکر مت کرو بہت جلد واپس جانے والی ہوں۔۔ رہنا آرام سے اماں میری۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔ واعظہ کا اطمینان عروج پر تھا۔۔
وہ کچن میں ایک ہاتھ سے چکن دھو رہی تھی۔ کندھے پر فون ٹکا کر اس سے بات بھی کر رہی تھی۔۔کاسٹ دوبارہ چڑھ چکا تھا اور عروج کی سختی سے ہدایت تھی اتارا تو دوسرا بازو بھی توڑ دے گئ۔
کیو ں فون کیا ہے تم نے۔۔
اسکا لہجہ دھیما پڑا۔۔
چکن پلائو بنا دو آکر۔ دل کر رہا ہے کھانے کا۔۔
عروج تو بھوکی ہی جا رہی ہے ہاسپٹل بے چاری باقی سب کی کوکنگ کا تو پتہ تمہیں۔
واعظہ دنیا جہان کی معصومیت اور بے چارگی لہجے مین سمو کر بولی تھی۔
اچھا آرہی ہوں۔۔
فاطمہ کا پارہ ایکدم سے چڑھنا چاہیئے تھا مگر اتنی ہی تیزی سے نیچے آیا تھا۔۔
ٹھیک۔۔ واعظہ نے فون بند کیا تو وہ گہری سانس لیکر وہیں بنچ پر بیٹھ گئ۔۔
ہنگن ریور پر چہل پہل تھی۔ لوگ ہنس رہے تھے خوش تھے کہیں لوگ خاندان کے ساتھ دریا کی ریت پر بیٹھے پکنک منا رہے تھے تو درجنوں جوڑے دریا کنارے چہل قدمی کر رہے تھے۔
وہ بیزاری سے بیگ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاگل تو نہیں ہو۔۔
عزہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔
اپنے کارنامے کی روداد بتا کر نور نے داد چاہنے والے انداز میں دیکھا تھا مگر ان سب کا ردعمل اسکی توقع کے بالکل بر عکس تھا۔۔
عروج اوور آل پہنتی کمرے سے نکلی تھی جب نور کا قصہ اپنے بام پر پہنچا تھا سو وہ وہیں رک کر کھڑے کھڑے اسکارف وغیرہ ٹھیک کرنے لگی تھی۔ الف چائے کے برتن سمیٹ کر ٹرے اٹھائے کھڑی تھی سن وہ بھی رہی تھی مگر ارادہ تھا کچن میں برتن بھی رکھ آئے اب کچن دور ہی کتنا تھا ویسے بھی نور کا جوش کے مارے آواز کا درجہ بلند ہی تھا۔ سو جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئ۔۔
ابیہا منہ کھولے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔۔ عزہ کی طرح ۔۔ منا لائونج ابھی تک آباد تھا ان سب سے۔۔
پاگل کی اس میں کیا بات۔
نور کو انکے ردعمل سے لگا کچھ غلط ہو گیا ہے۔
کچن میں نلکا بند کرکے واعظہ اطمینان سے مڑی۔
سائبر کرایمزاینڈ کنٹرول کے بارے میں سنا ہے آپ نے محترمہ نور؟ پاکستان میں نہیں ہیں آپ۔ آپکے اس چندی آنکھوں والے کی ایک شکایت پر کہ آپ نے غیر قانونی طور پر اسکی آئی ڈی کھول کر اسکی زاتی معلومات کی تشہیر کی ہے۔۔ نہ صرف پرچہ کٹ سکتا آپکے خلاف بلکہ گھر سے آپکو اٹھا کر لے جائیں گے پولیس والے اور پھر کوریا کی جیل کی سیر بھی کر لینا۔
ہیں۔
نور تو نور الف ٹرے پکڑے ہکا بکا اسکی جانب مڑی۔
واقعی واعظہ؟
واعظہ نے ہیرو کی طرح کا بے نیاز انداز بناتے ہوئے سینے پر بازو لپیٹنے چاہے پھر ناکام ہو کر بازو سہلا کر رہ گئ
تم ٹرے رکھ دو یہ نہ ہو کہ انڈین ہیروئنوں کی طرح اسے چھوڑ بیٹھو۔۔ ایک ایک کپ ہی ہے بس سب کے نام کا بے کپے رہ جائیں گے۔
عروج نے الف کو ٹوکنا ضرور ی سمجھا۔ ۔
ہیں واعظہ۔
ہاں یہ سب سے ہلکا پھلکا کام ہے جو ہو سکتا باقی اگر وہ جزباتی نفسیاتی بندہ ہوا بیر باندھ لیا تو اسکے لیئے آئی پی ایڈریس سے تمہارے گرد و نواح کا اندازہ لگا کر تمہارے گھر تک آپہنچنا مشکل نہیں ہوگا اور پھر یہاں ہے ہی کون ہم لڑکیاں سب الگ الگ وقت پر اپنے اپنے کام سے جاتی ہیں۔ تم سے بدلا لینے پر تل گیا تو۔
نور نے تھوک نگلا۔
یہ عروج تھی۔۔ بظاہر سرسری انداز میں کہہ کر
دنیا جہان کی سنسنی لہجے میں سمو کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔۔ الف ٹرے سمیت عزہ ابیہا اور نور اسکے چہرے پر مزاق کی رمق تلاشنے مڑی تھیں۔
سارا دن پکا سا منہ بنا کر زندگئ موت کی خبر دینے والی عروج کو بھی اپنے تاثرات چھپانے نہ آتے تو کسے آتے۔۔ بے نیازی سے اپنی کلائی پر گھڑی باندھنے لگی۔
واعظہ کو البتہ کوئی مجبوری نہ تھی سو رخ پھیر پر باقاعدہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔ نور نے جھٹلانا چاہا۔۔
کیوں ؟ تم ہیک کر سکتی ہو تو بے چارہ اپنی آئی ڈی ریکور بھئ نہیں کر سکتا ؟ عروج کا انداز ہنوز تھا۔۔
پھر بھی۔۔ میں نے ایسا بڑا کیا کر دیا۔ اس نے پوری کلاس کے سامنے میرے عبایا کا مزاق اڑایا تھا اتنی بستی ہوئی تھی میری سب ہنس رہے تھے مجھ پر یہ جو کورین ڈراموں میں بلنگ کا سین دکھاتے نا بالکل ویسا ہی سین ہوا تھا میرے ساتھ۔۔
نور کی بولتے بولتے آواز بھرا گئ تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمپیوٹر لیب میں سب اپنے اپنے کمپیوٹر پر جھکے مصروف تھے۔ سر نے آئی ٹی کا پراجیکٹ دیا تھا جسکی کل آخری تاریخ تھی سو جن جن نے آجکا کام کل پر ٹالا تھا وہ سب دھڑا دھڑ کی بورڈ بجا رہے تھے۔۔
وہ مطمئن انداز میں اپنا کام کرکے پرزینٹیشن بنا کر سیو پر کلک کر نے ہی لگی تھی جب اسے اسکی کلاس فیلو کی آواز آئی تھی۔۔اس سے دو تین اسٹیشن دور بیٹھی اسے پکار رہی تھی۔۔
نور یہ دیکھ دو۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔
اس نے کہا تو وہ سر ہلاتی اٹھ آئی۔۔ وہ اپنی انسٹا کی آئی ڈی کھولے بیٹھئ تھی۔۔اسکی تصویر پر کسی نے عربی میں تبصرہ کیا ہوا تھا۔۔ ایک تو جب سے کے پاپ کے ڈرامے مشہور ہوئے تھے ان جیسے درجنوں کورینز بھی مشہور ہو گئے تھے ۔ ایک دو کے پاپ ویڈیو یا ڈراموں کی جھلکیاں ڈال کر دنیا بھر سے پیروکار اپنی آئی ڈی پر اکٹھے کیئے تھے اب ٹک ٹاک ایپ سے روز ہی کوئی نہ کوئی ویڈیو بنا کر شئیر کرتی تھی سو ہر طرح کا تبصرہ بھی ملتا تھا۔۔
مجھے نہیں پتہ۔۔ نور کہہ کر کندھے اچکا کر پلٹی ایک طالب علم اسکے اسٹیشن کے پاس سے ہنستا ہوا اٹھا تھا۔اسکی سرسری نظر پڑی تھئ کہ سوہری نے اسکا ہاتھ تھام لیا
پلیز یہ تو دیکھ دو سی ٹرانسلیشن پر کلک کیا ہے۔
وہ لجاجت سے پوچھ رہی تھی۔۔
کورینز ہم لوگوں کی طرح کنڈر گارٹن سے انگریزی نہیں پڑھتے ہمارے پرائمری پاس بچوں کو انکے بیچلرز لیول کے طلبا سے زیادہ انگریزئ آتی ہے ۔ عام بول چال میں بہت سے اپنی بات سمجھا سکنے جتنی انگریزی جاننے کے باوجود وہ انگریزی پڑھنے لکھنے میں کہیں نہ کہیں سٹپٹا جاتے۔ نور نے گہری سانس بھر کر پڑھنا شروع کیا۔۔
If you are dates then I am sacred. So fight to cow and till date awsome so i am cheer ful garden so dates are good. Hahahah انتئ کلبی
نور نے تین بار دھرایا مگر زہن متن سمجھنے سے قاصر تھا۔۔انگریزی بھی اپنی مرضی کی ترجمہ کی تھی ٹرانسلیٹر نے۔۔
ہاں انتی تم ہوتا اور کلب کتے کو کہتے ۔۔ اتنی عربی اسے آتی تھی۔
وہ یہی سمجھا کر پلٹنے کو تھی کہ انکے جرمن پروفیسر بڑے زوردار انداز میں چلائے تھے۔۔
یہ کس کا ہے؟۔۔ کون بیٹھا تھا یہاں؟
وہ ایک اسٹیشن کی۔جانب اشارہ کرکے کہہ رہے تھے۔
سب طلبا سناٹے میں آکر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو چکے تھے۔نور بوکھلا کر اپنے اسٹیشن کی جانب بڑھی تو اندازہ ہوا وہ اسی کے اسٹیشن کے پاس کھڑے چلا رہے تھے۔
سر واٹ ہیپنڈ۔۔ اس نے پوچھا تو انہوں نے ہونٹ بھینچ کر اسکے اسٹیشن کے مانیٹر کی جانب اشارہ کیا۔
اس نے اسکرین پر دیکھا تو وہیں جم گئ ۔۔ اسکرین پر جاپانی کوئی سائیٹ کھلی تھی جو اخلاقیات سے کافی عاری تصاویر دکھا رہی تھئ۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے ونڈو بند کی تھئ۔ پچاس ساٹھ طلبا اسکی جانب متوجہ تھے۔
سر خود تو سر سے پائوں تک لپٹ کر آتی ہے اور شوق ایسے ہیں۔۔
اس لڑکے نے زور سے کہہ کر ساتھی دوست کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا۔ اسکے دوست ہنس پڑے تھے جرمن سر چند لمحے اسے دیکھ کر پلٹ گئےتھے۔ نور کادل کیا تھا زمین پھٹے اور وہیں سما جائے۔۔
لیزا سوہری اٹھ کر اسکے پاس آئی تھیں۔۔ وہ کرسی گھسیٹ کر اس پر ڈھے سی گئ۔۔
کیا ہوا۔؟ وہ دونوں اس سے پوچھ رہی تھیں۔ اسے خود نہیں پتہ تھا ۔۔ جانے کون ان چند منٹوں میں اسکے اسٹیشن پر آکر یہ گھٹیا حرکت کر کے گیا تھا۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر میز پر کہنیاں ٹکائے تھی جب اسکے زہن میں جھماکا ہوا تھا۔وہ جب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر تو صحیح کیا تم نے۔۔ بلکہ اسے دو ایک خود بھی لگانی چاہیئے تھیں۔ پتہ لگتا اسے پنگا کس سے لیا ہے اس نے۔۔
ابیہا جزباتی انداز میں ہاتھ نچا کر بولی تھی۔۔ الف اور عزہ نور کے دائیں بائیں آ بیٹھی تھیں ۔۔الف نے نور کاسر اپنے کندھے سے بھی لگا لیا تھا۔۔نور کا رونے کا ارادہ ہرگز نہیں تھا مگر جزباتی ہو کر رو ہی پڑی۔ عروج کو افسوس ہوا شرارت میں اسے یونہی رلا دیا۔ مگر وقت کم تھا سو تیزی سے خدا حافظ کہتی بیرونی دروازے کی جانب بڑھی ۔دھاڑ سے دروازہ کھولا۔ پھر اتنی ہی زور سے اسکے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔ بری طرح ہاتھ جھٹکتے وہ دو تین چیخیں اور مار گئ
ماتھے پر سرخ ہوتی پٹی گال سوجا ہوا آنکھ کے نیچے نیل کا نشان ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ پکڑے معصوم سی شکل بنائے جے ہن بوکھلا کر دو تین قدم پیچھے ہوا تھا
نونا۔۔۔۔ کین چھنا۔۔ وہ بے چارہ بوکھلا اٹھا تھا تبھی اسکی نظر زمین پر پڑی۔ اسے اسکے چیخنے کا منبع سمجھ آیا ۔ وہ بھی تیزی سے اندر کی جانب بڑھا۔۔
آخ وہ اسکی جانب دیکھے بغیر واپس پلٹی اسکی چیخوں سے بوکھلائی سب کی سب لابی میں بھاگی آئیں
کیا ہوا۔۔ عزہ کا دل دھڑ دھڑ کر رہا تھا
بھاگو یہا ں سے زمین پر چھ۔۔
عروج بد حواس ہوئی ان کو بھی پیچھے کو دھکیل رہی تھی۔
کیا ہوا۔۔
واعظہ باورچی خانے سے دوڑی آئی ابیہا۔۔ اور الف عروج کو پکڑ رہی تھیں
وہ وہاں۔۔عروج کے منہ سے لفظ بھی نہیں نکل رہے تھے۔۔
الف چلائی ۔۔
کون ہے۔۔
پھر خیال آیا انگریزی میں بولی۔۔
ہو از دئیر۔۔یہ سوچے بنا لابی تھی ہی دو تین قدم کی خود وہ لائونج کے سرے پر موجود تھئ۔۔
ابیہا عروج کو تسلی دے رہی تھی ساتھ واعظہ کو کہہ رہی دیکھو کون ہے دروازے پر۔۔ اتنے ہنگامے میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی
نور کو یہی لگا تھا وہ لوفر گھر آپہنچا ہے بھاگ کر کمرے میں گھسی بیڈ سے کیمرہ اٹھایا اور لمحہ بھر بھی ضائع کیئے بنا ریکارڈ نگ آن کرتی باہر بھاگی۔۔
عزہ ہمت کر کے کاریڈور کی جانب بڑھی تو عروج کے اس بری طرح خوفزدہ ہوجانے کی وجہ وہ سفید ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس زخم زخم ہوا کھڑا لڑکا سمجھی۔
سٹی گم ہوئی دو قدم پیچھے ہوئی۔
کورین بھوت تو بڑے دیدہ دلیر ہیں اتنی روشنی میں بھی دکھائی دے رہے۔۔
اسکا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکلنے کو آگیا۔۔
پیچھے ہو عزہ ہٹو۔۔
عروج ابیہا سے لگی تھر تھر کانپتی چلائی۔
ہوا کیا ہے۔۔ ۔واعظہ انکو پیچھے کرتی لابی میں آئی سامنے جے ہن کھڑا سپر مین والا پوز دے رہا تھا۔
ہٹو ہٹو۔۔
نور مووی بناتی نکلی تھی سب کو سامنے سے ہٹاتی واعظہ کے پاس آ کھڑی ہوئی الف نے کاریڈور کی بتی جلا دی تھئ۔۔
تیز چمکتی روشنی میں ٹوٹا پھوٹا سپر مین کھڑا تھا۔ اسکو ویڈیو بناتے دیکھا تو وی کا پوز دیا پھر اپنے جوتے کی جانب اشارہ کیا وہ کیمرے کا رخ اسکے چہرے سے سینے پر کرتی نیچے لائی ٹانگیں شروع ہوئیں ختم بھی پھر جوتا کیمرے کا رخ جوتے پر جیسے ہی ہوا اس نے پائوں اٹھا دیاوہ وہی مخلوق تھی جس سے دنیا کی تقریبا ساری ہی لڑکیاں ڈرتی ہیں ۔۔ ہاں چھپکلی۔ جے ہن کے جوتے کے نیچے آکر اسٹیکر بنی ہوئی اسکی لاش سے خون تو نہ نکلا
موٹی موٹی آنکھیں پھسی ہوئی تھیں۔۔
نور کیمرہ ایک طرف کرتئ ابکائی روکنے لگی۔۔
تبھئ کسی نے بے تابی سے دروازہ بھی کھٹکا دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے پر تھی میں نے دروازہ کھولا تو اسی پر ہاتھ پڑا وہ اچھل کر نیچے گری اور میرے پیچھے ہی آنے لگی تھی۔۔
عروج کی آنکھیں سوجی تھیں گلا بیٹھ گیا تھا۔۔ وہیں لائونج کے صوفے پر اسے بٹھا کر ابتدائی طبی امداد دی جا رہی تھی۔۔
نونا اتنا چھوٹا دل آپ تو ڈاکٹر ہیں۔۔
ہے جن کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔ جوابا عروج نے اسے بری طرح گھورا۔
لاشوں سے ڈر نہیں لگتا صاحب ۔۔ چھپکلی سے لگتا ہے۔
واعظہ نے اپنا مجروح ہاتھ عروج کے کندھے ہر ٹکاتے ہوئے ڈائلاگ مارا تھا۔عروج نے جوابی حملہ کرنا چاہا مگر مجروح بازو کو دیکھ کر رہ گئ۔ ۔ ہے جن کی بات ان دونوں کے سوا بس ابیہا کو سمجھ آئی سو اس نے واعظہ کے ڈائلاگ کا حظ اٹھاتے ہنسنا ضروری سمجھا۔
ہے جن کو اب انکی بات سمجھ سے باہر سو وہ طوبی عشنا الف نور عزہ سب خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔۔
آپ سب یہیں رہتی ہیں۔۔
طوبی کو تعجب ہوا تھا ۔۔
وہ سب چونکی تھیں۔۔ اسکو تو بھول ہی گئی تھیں۔۔ صوفے اور لائونج کے مختصر کارپٹ پر سب کہیں نہ کہیں ٹکی بیٹھی تھیں تو کھڑے صرف دونوں مہمان ہی تھے۔
جی۔
عزہ کو مہمان داری کا خیال آیا ۔۔
آپ بیٹھیں۔۔ چائے پیئیں گئ؟
نہیں میں بس اب چلوں گی بچے اکیلے ہیں گھر میں۔۔
یہ بھائی ہے آپکا۔ ؟ اسے تجسس ہوا تھا ہے جن کو دیکھ کر۔۔
جی۔ میرا بھائی ہے۔
عزہ نے سب کو زحمت سے بچا لیا تھا۔
دل ہی دل میں بڑ بڑائی بھی۔۔ سب چندی آنکھوں والے بھائی ہیں میرے۔
اوہ اچھا۔۔ شکل ملتی ہے۔۔ طوبی نے بغور اسکی چندی آنکھیں دیکھیں۔ وہ بے چارہ سٹپٹا کر جھکا۔
آننیانگ۔ ۔
عزہ بل کھا کر رہ گئ۔۔ میری چندی آنکھیں؟۔۔
ویسے خوشی ہوئی جان کر کہ پڑوس میں ہم وطن رہتی ہیں۔ یہی سوچ رہی تھی کہ کل سحری کے وقت اکیلی اٹھوں گی لگتا ہے مگر شکر ہے دوسراہٹ ہوئی۔۔
طوبی کو واقعی خوشی ہوئی تھی۔۔ بہت خلوص سے عزہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا تھا
جی ۔۔ اس نے بھی جوابا خوشگوار ہی انداز سے مصافحہ کیا۔۔
اسکے بعد نیچے کارپٹ پربیٹھی ابیہا ، الف ، نور صوفے پرعشنا۔۔وہ ہاتھ ملا ملا تھکی سو عروج کو اشارے سے ہی خدا حافظ کہہ دیا واعظہ نے بھی ہاتھ بڑھا دیا تھا مگر نظر انداز ہوا۔۔ اس نے سر جھکا کر واپس کھینچا۔۔
خداحافظ کہہ کر نکلتے ہوئے فاطمہ سے بھی ملاقات ہوگئ۔
سلام دعا کرکے نکلتے وہ چکرا کر سوچ رہی تھی۔
بچوں کو یہاں چھوڑ کر میں کل شاپنگ پر جا سکتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب کچن میں جمع تھیں۔ ننھا کچن ابل رہا تھا۔۔ اتنا کہ چاولوں کو دم لگاتی فاطمہ بھنا گئ۔۔
پیچھے ہٹو ابھئ دیگچی مجھے پر آرہتی۔۔
اس نے غصے سے ابیہا کو کہا تو وہ اس سے تھوڑا ہٹ کر ماربل سلیب سے جا ٹکی۔
واعظہ عشنا نور الف اور عزہ بیچ میں گھیرا ڈال کر کھڑی تھیں۔۔
عروج ہاسپٹل کے لیئے انکی گول کچن دائرہ کانفرنس کو دیکھتی سر جھٹکتی نکلی تھی۔
ہے جن منے صوفے پر دراز بازو آنکھوں پر دھرے پڑا تھا۔۔
جانے جاگ رہا تھا کہ نہیں مگر کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔ اسے کونسا سمجھ آرہا تھا کیا بول رہی ہیں مگر بول مسلسل رہی تھیں گرما گرم بحث چل رہی تھی مگر کیوں؟
دو کمرے ان میں دو ڈبل بیڈ اور ایک سنگل بیڈ ۔ چار چار لڑکیاں ان میں پوری نہیں پڑتی ہیں تم ایک عدد لڑکا بھی گھسا رہی ہو گھر میں۔ ؟ کیوں کیوں کیوں۔۔
یہ ابیہا تھئ۔۔ بس نہیں تھا گنجا ہی کر دے واعظہ کو۔
صحیح کہہ رہی ہیں۔
الف نے سر ہلایا۔۔
تو میں اسے کمرہ تھوڑی دینے کو کہہ رہی ۔ واعظہ سٹپٹائی۔
پھر تو بس کیبنٹس ہی ہیں دیکھ لو اگر جگہ ہو تو۔۔
فاطمہ نے سرسری سے انداز میں کیبنٹ کھولتے ہوئے کہا تھا۔ عشنا اسکے قریب ہی کھڑی تھی تو اپنی جھونک میں کیبنٹ میں جھانک لیا۔ فاطمہ نے گھور کر دیکھا پھر پتی کا ڈبہ نکال کر کیبنٹ پورے زور سے بند کی۔ صوفے پر سویا بنا پڑا ہے جن لرزا تھا
آرام سے۔۔ ٹوٹ جائے گی۔۔
نور نے موبائل میں لگے لگے ٹوکا۔
کیبنٹس میں کوئی کیسے رہ سکتا بھلا۔ الف حیران ہوئی۔
پھر یہ کچن کائونٹر پر سلادینا بستر لگا کر۔۔
ابیہا نے چڑ کر کہا تھا۔۔
ویسے وہ لائونج میں بستر لگا کر سو سکتا ہے صوفہ چھوٹا ہے بے چارہ پورا نہیں آرہا۔
عشنا نے ترس کھاتئ نظروں سے ہے جن کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں وہی تو کہہ رہی۔ بس ایک مہینے کی بات ہے اسکا سمیسٹر مکمل ہو جائے گا تو ظاہر ہے پھر تو کالج میں داخلہ لے گا ابھی تو اسکول بھی اسکا یہیں سے قریب ہے۔
بہت خوددار بچہ ہے۔۔
بچہ؟ چھے فٹ کا؟۔۔ نور نے آنکھیں پھاڑیں
یار ہم سب میں تو سب سے چھوٹا ہے ۔
الف کو بھی اس کی مجروح حالت پر ترس آیا تھا۔۔
مگر آگے رمضان ہے ہم عبادت کریں گے کیسے ہم ایک کافر کو گھر میں گھسا لیں؟
فاطمہ نے حسب عادت لگی لپٹی رکھے بغیر کہا تھا۔۔
ہم اسے گھر میں جگہ دے رہے ہیں ۔ اسکے عقائد اپنانے نہیں لگے۔
عزہ نے سنجیدگئ سے کہا تھا۔۔ واعظہ اسے نثارہوتی نظروں سے دیکھ کر رہ گئ۔۔
صبح اسکول شام کو جاب پر بس رات سونے کیلئے آئے گا
یہاں لائونج میں ایک کونے پر اسکا بستر لگا دیں گے ہم ۔ بالکل تنگ نہیں ہونگے ہم۔
واعظہ کا انداز منانے والا ہو گیا تھا۔۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چھوٹے بھائی جیسا ہی ہے ۔۔
عزہ نے ہاتھ اٹھا کر جیسے اسکے حق میں ووٹ دیا۔۔
مجھے بھی۔۔
نور موبائل میں بری طرح لگی تھی شائد سنا بھی ٹھیک سے نہیں ہوگا مگر ہامی بھر لی
تم عشنا۔۔
واعظہ نے مدد طلب نظروں سے دیکھا۔
ابیہا فاطمہ نظروں سے اسے گھور گھور کر نہیں کا اشارہ کر رہی تھیں وہ بے چاری گڑ بڑا کر رہ گئ۔
میں وہ۔۔ کوئی بات نہیں۔۔ اس نے کہہ ہی دیا۔ واعظہ خوش ہو کر الف کی جانب مڑی۔۔ اور تم۔وہ امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
میری ایک شرط ہے۔ اگر
الف نے ہاتھ اٹھا کر کہا تھا۔۔۔فاطمہ ابیہا اور واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری تھی۔۔ اسکے بتائے بنا بھی اسکی شرط وہ جانتی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے حد ہی تھی۔ ایک چھپکلی پر اتنا ڈر گئ۔۔
عروج مریضہ کے کان سے آلہ نکال کر بخار دیکھتیکر زیر لب بڑ بڑائی۔۔
ہائش۔۔ ایک سو تین۔۔ اسکی آنکھیں کھلیں۔۔
چندی آنکھوں والی وہ ادھیڑ عمر کی خاتون بخار سے تپ رہی تھیں۔۔ بے چینی سے سر پٹختے ہائے ہائے کر رہی تھیں اپنی زبان میں۔۔
نرس انکے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھو۔۔
وہ نرس کو ہدایت دیتی خود انکی ہسٹری دیکھنے لگی۔۔
چھوگیو۔۔
انہوں نے زرا سا سہارا لیکر اٹھتے اسکی کلائی تھام لی۔۔
گرم انگلیوں کا لمس وہ چونک کر مڑی۔
چھنن بونئے کھننل مانیاگو شپھل چھیتا گرے چھوریل پھنا رگو پوتھا کھپ شتھے آگو کھن یو گیاریگے چھونا ہیئے
지난 번에 그녀를 만나고 싶을 때 제 딸에게 저를 방문하라고 부탁하십시오. 그녀에게 전화 해.ٹوٹتی آواز کے ساتھ غنودگی میں جاتے جاتے وہ اسے کہہ گئیں۔۔ انکی گرفت کمزور پڑی تھی اسکی کلائی پر۔
جی۔ ۔۔ عروج کو انکا لہجہ کچھ سمجھ آیا کچھ نہیں۔۔
انکی سانسوں کی آواز مدھم ہوئی تھی دل کی دھڑکن بتاتی مشین ایک دم سے شور کرنے لگی تھی۔۔ ںرس ایک دم مستعد ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-
Desi Kimchi Episode 2
دیسی کمچی
قسط دو۔Desi kimchi episode 2 پہلا منظر
ابیہا نے پانچویں بار عزہ کو فون ملایا تھا۔۔
پہلے ہنگل اور پھر انگریزی میں بتایا گیا کہ آپکا مطلوبہ نمبر فی الوقت بند ہے۔۔
وہ سب سامان اکٹھا کیئے داخلی راستے پر سڑک کنارے کھڑی تھیں۔۔
یہ کیا حرکت ہے۔۔ ابیہا جھلائی۔۔
گئ کہاں آخر۔۔ کم از کم بتا کر تو جاتی۔۔
عروج کو بھی غصہ آرہا تھا۔۔
دو گھنٹے ہورہے اوپرسے فون بھی بند کیا ہوا ہے لاپروائی کی بھی حد ہوتی ہے۔۔
عروج بری طرح تپ چکی تھی۔
گیونگ پوہے پر رات کی سیاہی چھا چکی تھی۔۔
ساحل سے کوسوں دور ہونے کے باوجو د سمندر کی لہروں کا شور سنائی دے رہا تھا۔۔ وہی سمندر جو شام کو خوبصورت اور خوابناک لگ رہا تھا رات کے اندھیرے میں اتنا ہی خوفناک ہو گیا تھا۔۔
وہ سب بری طرح تھکی ہوئی اور بھوکی تھیں اس پر عزہ کا کوئی اتا پتا نہیں کہاں گئ کدھر ہے۔۔
ہم ہیں بھی انجان شہر میں اسکو سوجھی کیا آخر۔۔
اس بار فاطمہ نے پیر پٹخا تھا۔۔
الف اور نور بھی پریشان تھیں مگر ان تینوں کا پارہ چڑھتا دیکھ کر اپنے ردعمل کو محفوظ رکھا ہوا تھا۔۔
کھڑے کھڑے ٹانگیں شل ہو رہی تھیں رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔
نور تھک کر سڑک کنارے بنے چبوترے پر ٹک گئ۔۔
کافی ہو گیا۔۔
واعظہ جو فون کان سے لگائے کسی سے بات کر رہی تھی فون بند کر کے انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
چھو دانگ سن دوبو ولیج یہاں سے قریب ہے پیدل کا راستہ ہے مگر مجھے لگتا تم لوگ چل نہیں پائو گی ٹیکسئ کروا دیتی ہوں جائو کھانا آرڈر کرو۔۔ سامان عزہ کا بھی اٹھا لیا تھا نا؟۔۔
اس نے بے دھیانی سےاپنا بیگ ا ٹھا لیا پھر فورا ہی بازو بدلا۔۔
اور تم؟۔ ابیہا نے پوچھا تو وہ قصدا نظر انداز کرتی سڑک کی طرف بڑھ گئ۔۔ کافی تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔۔
چلو تم لوگ بھئ ۔۔ ٹیکسی یہاں تک تو نہیں آئے گی۔۔
فاطمہ نے اپنا بیگ اٹھاتے کہا تو الف پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
اور عزہ؟ وہ تو ابھی تک نہیں آئی۔۔
کیا کریں یہاں ساری رات تو بیٹھے نہیں رہ سکتے۔۔ انتظامیہ کو شکایت درج کروا دی ہے انہوں نے تعاون کا وعدہ کیا ہے اگر انہیں گرد و نواح میں کہیں نظر آئی تو ہمیں اطلاع کر دیں گے۔۔
ابیہا نے جھلا کر کہا تو وہ چپ ہی ہوگئ۔۔
ابیہا کے انداز سے ہی لگ رہا تھا کس قدر شدید پریشان ہے۔۔
عروج نے اسکا کندھا تھپتپایا۔۔
فکر نہ کرو جب میں اور واعظہ گئے تھے شکایت درج کروانے تو وہ یہی بتا رہے تھے یہاں ہو جاتا ہے سیاح بھٹک جاتے کبھی صنوبر کے درختوں کی۔طرف نکل جاتے وہ جنگل ہے مگر بہت گھنا نہیں ہے وہ ڈھونڈ لیں گے اسے۔۔ ایک بچہ بھی آج گم گیا تھا انہوں نے ڈھونڈ لیا تھا ۔
اس نے کہا تو ان لوگوں کو تسلی تو نہ ہوئی مگر تھوڑا سا حوصلہ ضرور ہوا۔۔
واعظہ دور ٹیکسی کے پاس کھڑی اشارے سے بلا رہی تھی۔۔ چلو۔۔ فاطمہ نے کہا تو وہ سب سامان اٹھا کر اسکی جانب بڑھیں
ایک آگے بیٹھ جائے۔۔
واعظہ نے سامان ڈگئ میں رکھواتے ہوئے کہا۔ عروج گہری سانس بھر کر رضاکارانہ طور پر اگلی نشست کا دروازہ کھولنے لگی۔۔
ایک اور ٹیکسی کرنی پڑے گی۔۔ ابیہا نے کہا تو واعظہ چونکی
نور الف فاطمہ بیٹھ گئیں توبس ایک ہی اور بیٹھ سکتی تھی۔۔
کیوں۔۔ فاطمہ آگے ہو۔۔ اس نے فورا ابیہا کی جگہ بنوائی ۔۔
اور تم گود میں بیٹھو گی میرے۔
ابیہا چڑی۔۔
میں نہیں آرہی۔۔ واعظہ نے کہہ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
مگر کیوں۔۔ سب کو تشویش ہوئی تھی۔۔
عزہ کا پتہ بھی تو کرنا ہے۔۔ تم لوگ جائو کھانا کھائو یہ رکھ لو۔۔
اس نے اپنے پرس سے کریڈٹ کارڈ نکال کر ابیہا کو تھمایا۔۔
مگر تم یہاں کیا کروگی ؟ کیسے ڈھونڈو گی؟۔۔ اکیلے۔۔
عروج بیٹھتے بیٹھتے ٹیکسی سے نکل آئی۔۔
میں پولیس اسٹیشن جا رہی ہوں۔۔ رپورٹ کرنے۔
واعظہ نے گہری سانس لی۔۔
اکیلے؟۔ میں بھی چلتی ہوں۔۔
ابیہا اور عروج دونوں اکٹھے بول پڑیں۔
یار ضد نہ کرو کھانا وانا کھائو میں آدھے گھنٹے تک آجائوں گی وہیں۔۔
مگر پھر بھی اکیلے جانے کی کیا تک میں چلتی ہوں۔۔
عروج نے کہا تو واعظہ زچ ہو گئ۔۔
یار کوئی تو جائے انکے ساتھ ہم تینوں کو پھر تھوڑی بہت کورین آتی انکو تو آئے چھے مہینے بھی نہیں ہوئے آرڈر تک نہیں دے پائیں گی ۔۔ تم لوگ جائو۔۔
میں نے کہا نا آجائوں گی میں۔
ابیہا کو آتی ہے کورین ابیہا تم جائو۔عروج نے کچھ سوچا پھر ٹیکسی کی کھڑکی سے جھانک کر فاطمہ کو ہدایت کرنے لگی
اور فاطمہ ۔ڈیسٹینیشن سیٹ کرو ریستوران کی موبائل میں جائو تم لوگ۔۔
مگر۔۔ ابیہا نے کچھ کہنا چاہا۔۔
بس ہو گیا۔۔ عروج نے موقع نہ دیا۔۔
چلو تم لوگ جائو میں اور واعظہ پولیس اسٹیشن جا رہے ہیں۔۔
آہجومہ آئوسو( محترمہ چلیئے)۔۔۔ ٹیکسی ڈرائیور انکی لمبی گفتگو سے تنگ ہو کر بولا۔۔ابیہا نے ایک نظر دونوں کو دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا کر بیٹھ گئ۔۔
ٹیکسی آگے بڑھی تو عروج مڑ کر سے بولی۔۔
بازو کو کیا ہوا ہے تمہارے؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ عزہ کو تو تیرنا بھی نہیں آتا۔۔
الف نے پریشانی سے کہا
تمہیں کیا لگتا عزہ پانی میں گر گئ؟
فاطمہ نے پوچھا تو ابیہا تڑپ کر بولی
خدا نہ کرے اچھی بات منہ سے نکالو۔۔
یہ الف ہی الٹا سوچ رہی بھئ جسے تیرنا نہیں آتا وہ پانی سے دور ہی رہے گا بھلا عزہ کیوں پانی میں ڈبکی لگائے گی ہم گھومنے آئے تھے خود کشی کرنے تھوڑی۔
فاطمہ نے اپنی طرف سے خاصی منطقی بات کی تھی مگر ابیہا اور الف اسے گھورنے لگیں تو نور کو ٹہوکا دے بیٹھی۔۔
کیوں نور صحیح کہہ رہی ہوں نا میں۔۔
نور نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے گھورا۔۔
توبہ ہی بھلی ہے بھئ۔۔
اس نے خاموش ہو جانے میں ہی عافیت جانی۔۔
تبھی ڈرائیور نے ایک جانب کرکے ٹیکسی روک بھی دی۔۔
یہ کیا ہمیں لوٹنے لگا ہے ۔؟
الف گھبرائی۔۔
ہم پہنچ گئے ریستوران ۔۔ فاطمہ نے موبائل پر دیکھا۔
اتریں؟۔۔ ابیہا کو بھی یقین نہ آیا اتنے قریب۔۔
نہیں ڈرائیور سے کہتے ہیں ہمیں یو ٹرن سے گھما لائے۔۔
فاطمہ کی لن ترانی عروج پر تھی۔۔
ابیہا اور الف گھورتی ہوئی اپنی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتریں۔۔ نور اور وہ بیچ میں پھینسی بیٹھی تھیں۔۔
بہن اترنا نہیں؟۔۔ فاطمہ نے ہلایا تو نور چونکی۔۔
ابیہا اور الف ڈگی سے سامان اتروا رہی تھیں۔۔
واعظہ عروج اور عزہ تینوں کے بیگز بھی تھے انصاف سے بھی اگر وزن بانٹتیں تو سب کے پاس دو دو بیگ آتے ایک کے پاس ایک۔۔
ایسے موقعوں پر نور کا حساب کتاب عروج پر ہوتا تھا ڈاکٹر عروج نہیں عروج و زوال والے عروج پر
مگر انکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب نور نے نہ صرف اپنا بیگ اٹھایا بلکہ عزہ کا بھی اور تو اور واعظہ کا بھی اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا تو الف نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
بس کر پگلی رلائے گی کیا؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھاگم بھاگ پولیس اسٹیشن پہنچی تھیں۔۔اندر داخل ہو کر انہوں نے کائونٹر پر بیٹھی لڑکی سے پوچھا۔۔ اس نے شستہ ہنگل میں انہیں دائیں جانب راہداری میں کسی کمرے میں جانے کو کہا۔ دونوں نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگیں تو مسکرا کر خود اٹھ گئ۔۔ انہیں لا کر اسٹیسشن ہائوس آفیسر کے کیبن تک لے آئی۔۔
گومو وویو۔۔ دونوں کوریائی انداز میں ہی جھک کر شکر گزار ہوئیں۔۔ وہ خوشدلی سے مسکراتی پلٹ گئ۔۔
ایک کھلا سا کمرے جتنا کیبن تھا پولیس افسر میز کے کنارے پر ٹکا فون پر کسی سے بات کرنے میں لگا تھا ان پر نظر پڑی تو سر کے اشارے سے خوش آمدید کیا اور فورا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
عزہ؟ وہ لڑکی جس کا آپ نے زکر کیا تھا۔۔
فاطمہ نے انگریزی میں پوچھا تواس نے کیبن کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا
عزہ انہیں ایک خاتون اہلکار کے ساتھ بیٹھی نظر آگئ۔۔
عروج فورا اسکی۔جانب بڑھی۔۔ اہلکار اسے کافی پیش کر رہی تھی جسے وہ سختی سے منع کر رہی تھی۔۔
عزہ۔۔ عروج نے پکارا تو وہ بے تابی سے اٹھ کر اس سے لپٹ کر رو پڑی۔۔
مسو نری سنن چے؟
(ہوا کیا تھا؟)۔ واعظہ انکی جانب سے اطمینان کر کے پولیس افسر سے پوچھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی واعظہ جواب دینے نہ پائی تھی کہ اسکا فون بج اٹھا۔۔
عزہ کالنگ۔۔
وہ چونکی زیر لب بول کر عروج کو بتاتے فورا فون کان سے لگایا۔۔
دے؟۔۔ (سوالیہ جی)
واعظہ بھونچکا رہ گئ تھی۔۔
دے (جی) آراسو( ٹھیک ہے)۔۔ نیگا کھندا۔۔ (میں آرہی ہوں)
کیا ہوا؟ عروج بے تاب ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل کنارے اپنی پسند کی موسیقی سنتے موسم کا لطف اٹھاتے وہ بالکل اپنے آپ میں مگن چل رہی تھی۔۔ تبھی ایک چھوٹے سےتین چار سسال کے بچے پر نظر پڑی جو ساحلی پٹی کے کنارے صنوبر کے درختوں کے پاس اکیلا بیٹھا تھا۔۔ وہ اتنا فاصلے پر تھا کہ اگر وہ۔ہلتا جلتا نہ تو اسے پتھر سمجھ کر نظر اندا زہی کر دیتی شام کا وقت تھا صبح کے برعکس اس وقت بالکل بھی رش نہیں تھا۔۔
وہ شش و پنج میں پڑی کیا کرے جب اس بچے نے اچانک اٹھ کرچلنا شروع کر دیا تھا۔۔
کیا کروں ۔۔ دور ساحل کے پاس پھر اکا دکا لوگ تھے ان درختوں کے پاس تو کوئی بھی نہیں تھا۔۔ اور بچہ اکیلا بیٹھا ہوا دور دور تک کوئی خاندان یا گھرانہ بھی نہیں تھا کہ چلو بچہ انکے ساتھ ہے۔۔
اس نے سوچا پھر تیز تیز قدم بڑھاتی اس بچے کی طرف بڑھی
سنو بیٹا۔۔ اسکے پکارنے پر اس بچے کے ننھے قدم ٹھٹک کر رکے۔۔ مڑ کر اسے دیکھا تو جیسے ڈر کر ایک قدم اور پیچھے ہو گیا۔۔
اکیلے کیوں ہو؟۔۔ تمہاری امی کہاں ہیں۔۔ ؟۔۔
اس نے پاس آکر پیار سے پوچھا تھا مگر وہ دہل کر رونے لگا۔۔
بویا۔۔ ۔۔
عزہ بھی گھبرا گئ۔۔ اتنا بلک بلک کر روپڑا۔۔
یو گیونگ۔۔
بس یہی لفظ کہے جا رہا تھا۔۔
ارے روئو نہیں۔۔ ڈونٹ کرائے۔۔
ہنگل اسے نہیں آتی تھی اور اردو اور انگریزی بچے کو۔۔
بچہ زیادہ چل نہیں پایا تھا گر گیا تھا مگر دھیرے دھیرے یو گیونگ کہتا اس سے دور ہٹ رہا تھا۔۔
بیٹا انی ۔۔ اس نے اسے بہلانے کو اپنی جانب اشارہ کرکے کہا انئ۔۔
انی ہنگل میں بہن کو کہتے ۔۔ بچہ یونہی بلکتا رہا۔۔ اسکے چہرے کی جانب سے انگلی سے اشارہ کرتا
اور یوگیونگ کہتا۔۔ یو گیونگ یعنی بھوت
یو گیونگ انی۔۔
وہ سمجھی نام لے رہا کسئ کا۔۔ سو بڑے دلار سے اپنی جانب اشارہ کر کے کہا ہاں میں ہوں یو گیونگ۔۔
ابھی اگر اسے مطلب پتہ ہوتا تو صورت حال۔کچھ اور ہوتی۔۔
کیا کروں۔۔ اس نے نقاب نیچے کیا۔۔ دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی زات بچے کو ایسے چھوڑ بھی نہیں سکتی تھئ۔۔
بچہ چپ ہو کر ٹکر ٹکر اسکی شکل دیکھنے لگا۔۔
ہیں تم چپ ہو گئے۔۔
وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔
گھٹنوں کے بل جھک کر اسکی جانب ہاتھ بڑھایا تو بچے نے جھجکتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
گڈ۔۔ وہ خوش ہوئی۔۔
نے ایلعمن عزہ۔۔ ( میرا نام عزہ ہے)
اس نے مسکرا کر بچے کے آنسو پونچھے
تھانگ شن۔۔
(تم؟)
پھاک بونگ شل۔
بچہ اب کم ڈر رہا تھا۔۔
جھجکتے ہوئے بولا۔۔
اچھا بونگ تم یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟۔
عزہ نے پوچھا تو وہ پورا منہ کھول کر بولا
دے؟؟؟۔۔
عزہ نے سر تھام لیا پھر خیال آیا۔۔ تو اشارہ بھی کرکے بتانے لگی۔
آہمونی؟۔۔ ( امئ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے تھوڑی دیر میں ہی بچہ اتنا فری ہو گیا کہ اسکی گود میں چڑھ گیا۔۔
اس نے ساحل کی طرف چلنا شروع کیا۔۔ اس سے وہ دور سے نظر آجاتے۔۔ مگر چند قدم چل کر احساس ہوا اتنا بھی آسان کام نہیں یہ۔۔ بچہ موٹا سا تو نہیں تھا مگر تین چار سال کا تھا دھان پان سی عزہ کی سانس پھولنے لگی۔۔ ایک تو نقاب اوپر سے بچہ بھی گود میں اٹھائے تھی لگتا تھا سانس آج رک ہی جائے گی
اف ۔۔ وہ عجیب الجھن میں پھنسی تھی۔ نہ آگے بڑھ سکتی نہ پیچھے لوٹ سکتی تھی۔۔
بیٹا تھوڑا سا چل لو۔۔
اس نے ہانپ کر اتار دیا۔۔
بچے نے احتجاجا رونا اور ٹھنکنا شروع کردیا۔۔
اف۔۔ اس نے سوچا پھر موبائل نکال لیا۔۔
تین فیصد بیٹری؟۔۔
اسکی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔
بس ایک کال۔ملا دینا پھر بند ہونا۔۔
اس نے گھبرا کر موبائل ڈیٹا بند کیا تین چار ایپس کھلی ہوئی تھیں کچھ ڈائونلوڈنگ پر بھی لگا تھا۔۔
حد۔۔ ہے۔۔ ساری بیٹری چوس گئی تھیں ایپس۔۔گانے تک چل رہے تھے۔
اس نے رابطے کھول کر نمبر نکالا ڈائل کیا پہلی بیل بھی نہ گئ بند۔۔
اف۔ ۔وہ بری طرح جھلائی۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا گھپ اندھیرا۔۔ ساحل کا شور صنوبر کے اونچے اونچے درخت۔۔ دیکھنے میں ہی اتنا خوفناک منظر تھا کہ پلٹنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔
اس نے تھوک نگل کر آگے دیکھنا چاہا۔۔ دور چھوٹی چھوٹی سی بتیاں جلتی نظر آرہی تھیں شائد کوئی ریزورٹ تھا۔۔
اس نے گھٹنوں سے لپٹے مسلسل بجتے اس ننھے باجے کو دیکھا پھر ایک نظر دور چمکتی بتیوں کو۔۔
پھر فیصلہ کرکے باجے کی انگلی تھام۔لی۔۔ اب آگے ہی بڑھ کر دیکھتے ہیں۔۔
کوئی دس پندرہ منٹ کا راستہ آدھے گھنٹے میں طے ہوا ۔۔ بچہ کئی بار تھک کر بیٹھا تو اسے گود میں اٹھا کر بھی چلی کہیں خود بھی دم نکلنے کو آیا تو تھک کر بیٹھ گئ۔پانی تک پاس نہیں تھا۔۔
خدا خدا کرکے ریزورٹ آیا ۔۔ داخلی دروازے کے پاس پہنچ کر سانس بحال کرنے لگی۔۔ بچہ اسکا ہاتھ چھڑا نے لگا۔۔
آہمونی۔۔
ارے۔۔ اس نے بچے کا ہاتھ پکڑا۔۔
بھاگو نہیں۔۔
تبھئ دو پولیس اہلکار اسکے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک پریشان حال جوڑا بچے کی جانب لپکا تھا۔۔ بچہ ماں کو دیکھ کر ہی ہاتھ چھڑا رہا تھا۔۔ اس نے بچے کا ہاتھ چھوڑ دیا بچہ بھاگتا ہوا ان سے جا لپٹا۔
اس نے بھی سکھ کی سانس لی۔۔ مصیبت تمام ہوئی۔۔
مگر نہیں ابھی اسے اپنی شناخت کروانا باقی تھا۔۔
نائو اودی چو شونیا۔۔
اہلکاروں میں سے ایک اس سے بڑی تمیز سے آگے بڑھ کر پوچھا تھا۔۔
جی؟۔۔ عزہ کے منہ سے بس یہی نکل سکا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے پاس نہ پاسپورٹ تھا نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور شناختی علامت۔۔ ہم نے ان سے کہا کہ یہ کسی کا رابطہ نمبر دے دیں انکے پاس وہ بھی نہیں تھا ۔۔ ہم انکی مدد کیلئے ہی یہاں لائے۔۔ موبائل چارج ہوا توسب سے پہلے ہم نے آپ سے رابطہ کیا ہے۔۔
ہم انکو کھانے پینے کی چیزیں بھی دینے کی کوشش کرتے رہے مگر یہ تیار نہیں ہوئیں۔۔ عربی سیاح آتے رہتے ہیں کوریا میں ہم انکی دل سے عزت کرتے ہیں یقین کیجئے ہم نے خاتون پولیس اہلکار سے ہی کہا تھا کہ ان سے بات کریں۔۔ ابھئ بھی دیکھ لیجئے خاتون پولیس اہلکار ہی ان سے بات کر رہی تھیں۔۔
چندی آنکھوں والے نے تفصیل سے واعظہ کو ساری بات بتائی تھی۔۔
وہ عزہ کے رو پڑنے پر خود بھی گھبرا گیا تھا۔
دے۔۔ گھمسامنیدہ
واعظہ شکر گزار ہوئی۔۔ عزہ عروج سے ابھی بھی لپٹی ہوئی تھی۔۔
افسر انہیں باہر تک چھوڑنے آیا تھا بار بار معزرت بھی کی۔ پھر انکے لیئے ٹیکسی بھی کر کے دی۔۔
ٹیکسی میں بیٹھ کر عروج نے عزہ کا کان پکڑا۔۔
پتہ ہے آج کتنا پریشان ہوئے ہیں ہم تمہاری وجہ سے۔۔
سوری۔۔ اس نے اور منہ لٹکا لیا۔
بھوکا مار دیا تم نے ہمیں۔۔ عروج نے کہا تو عزہ رہ نہ سکئ
تومیں کونسا فائو اسٹار میں بیٹھی کھا رہی تھی۔
ہاں مگر تمہیں پوچھ تو رہی تھی بے چاری چندی آنکھوں والی تم نےخود نہ کھایا۔ جوس تو حرام حلال نہیں ہوتا آنٹی وہ تو کھا پی سکتی تھیں منع کیوں کیئے جا رہی تھیں۔ عروج نے کہا تو وہ معصومیت سے بولی۔
وہ نقاب اتارنا پڑتا نا اسی لیئے منع کر رہی تھی۔۔
عروج نے سر پکڑ لیا۔۔
واعظہ ان دونوں کی باتوں سے الگ فاطمہ کو کال ملا کر بتانے لگی۔۔
یار عزہ مل گئ ہے ہم آرہے ہیں تینوں۔۔
آگے سے فاطمہ کا جواب تھا
اچھا ٹھیک ہے۔ ۔۔ یار واعظہ یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ منگوائیں کیا۔۔ٹوفو سوپ کھایا ہے ؟ نئی چیز لگی منگوا لیا ہے اور ساتھ فش ہے۔ویسے۔ کتنی دیر میں آرہی ہو تم لوگ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہےبھی انجان شہر میں اسکو سوجھی کیا آخر۔۔اس بار فاطمہ نے پیر پٹخا تھا۔۔
الف اور نور بھی پریشان تھیں مگر ان تینوں کا پارہ چڑھتا دیکھ کر اپنے ردعمل کو محفوظ رکھا ہوا تھا۔۔
کھڑے کھڑے ٹانگیں شل ہو رہی تھیں رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔
نور تھک کر سڑک کنارے بنے چبوترے پر ٹک گئ۔۔
کافی ہو گیا۔۔
واعظہ جو فون کان سے لگائے کسی سے بات کر رہی تھی فون بند کر کے انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
چھو دانگ سن دوبو ولیج یہاں سے قریب ہے پیدل کا راستہ ہے مگر مجھے لگتا تم لوگ چل نہیں پائو گی ٹیکسئ کروا دیتی ہوں جائو کھانا آرڈر کرو۔۔ سامان عزہ کا بھی اٹھا لیا تھا نا؟۔۔
اس نے بے دھیانی سےاپنا بیگ ا ٹھا لیا پھر فورا ہی بازو بدلا۔۔
اور تم؟۔ ابیہا نے پوچھا تو وہ قصدا نظر انداز کرتی سڑک کی طرف بڑھ گئ۔۔ کافی تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔۔
چلو تم لوگ بھئ ۔۔ ٹیکسی یہاں تک تو نہیں آئے گی۔۔
فاطمہ نے اپنا بیگ اٹھاتے کہا تو الف پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
اور عزہ؟ وہ تو ابھی تک نہیں آئی۔۔
کیا کریں یہاں ساری رات تو بیٹھے نہیں رہ سکتے۔۔ انتظامیہ کو شکایت درج کروا دی ہے انہوں نے تعاون کا وعدہ کیا ہے اگر انہیں گرد و نواح میں کہیں نظر آئی تو ہمیں اطلاع کر دیں گے۔۔
ابیہا نے جھلا کر کہا تو وہ چپ ہی ہوگئ۔۔
ابیہا کے انداز سے ہی لگ رہا تھا کس قدر شدید پریشان ہے۔۔
عروج نے اسکا کندھا تھپتپایا۔۔
فکر نہ کرو جب میں اور واعظہ گئے تھے شکایت درج کروانے تو وہ یہی بتا رہے تھے یہاں ہو جاتا ہے سیاح بھٹک جاتے کبھی صنوبر کے درختوں کی۔طرف نکل جاتے وہ جنگل ہے مگر بہت گھنا نہیں ہے وہ ڈھونڈ لیں گے اسے۔۔ ایک بچہ بھی آج گم گیا تھا انہوں نے ڈھونڈ لیا تھا ۔
اس نے کہا تو ان لوگوں کو تسلی تو نہ ہوئی مگر تھوڑا سا حوصلہ ضرور ہوا۔۔
واعظہ دور ٹیکسی کے پاس کھڑی اشارے سے بلا رہی تھی۔۔ چلو۔۔ فاطمہ نے کہا تو وہ سب سامان اٹھا کر اسکی جانب بڑھیں
ایک آگے بیٹھ جائے۔۔
واعظہ نے سامان ڈگئ میں رکھواتے ہوئے کہا۔ عروج گہری سانس بھر کر رضاکارانہ طور پر اگلی نشست کا دروازہ کھولنے لگی۔۔
ایک اور ٹیکسی کرنی پڑے گی۔۔ ابیہا نے کہا تو واعظہ چونکی
نور الف فاطمہ بیٹھ گئیں توبس ایک ہی اور بیٹھ سکتی تھی۔۔
کیوں۔۔ فاطمہ آگے ہو۔۔ اس نے فورا ابیہا کی جگہ بنوائی ۔۔
اور تم گود میں بیٹھو گی میرے۔
ابیہا چڑی۔۔
میں نہیں آرہی۔۔ واعظہ نے کہہ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
مگر کیوں۔۔ سب کو تشویش ہوئی تھی۔۔
عزہ کا پتہ بھی تو کرنا ہے۔۔ تم لوگ جائو کھانا کھائو یہ رکھ لو۔۔
اس نے اپنے پرس سے کریڈٹ کارڈ نکال کر ابیہا کو تھمایا۔۔
مگر تم یہاں کیا کروگی ؟ کیسے ڈھونڈو گی؟۔۔ اکیلے۔۔
عروج بیٹھتے بیٹھتے ٹیکسی سے نکل آئی۔۔
میں پولیس اسٹیشن جا رہی ہوں۔۔ رپورٹ کرنے۔
واعظہ نے گہری سانس لی۔۔
اکیلے؟۔ میں بھی چلتی ہوں۔۔
ابیہا اور عروج دونوں اکٹھے بول پڑیں۔
یار ضد نہ کرو کھانا وانا کھائو میں آدھے گھنٹے تک آجائوں گی وہیں۔۔
مگر پھر بھی اکیلے جانے کی کیا تک میں چلتی ہوں۔۔
عروج نے کہا تو واعظہ زچ ہو گئ۔۔
یار کوئی تو جائے انکے ساتھ ہم تینوں کو پھر تھوڑی بہت کورین آتی انکو تو آئے چھے مہینے بھی نہیں ہوئے آرڈر تک نہیں دے پائیں گی ۔۔ تم لوگ جائو۔۔
میں نے کہا نا آجائوں گی میں۔
ابیہا کو آتی ہے کورین ابیہا تم جائو۔عروج نے کچھ سوچا پھر ٹیکسی کی کھڑکی سے جھانک کر فاطمہ کو ہدایت کرنے لگی
اور فاطمہ ۔ڈیسٹینیشن سیٹ کرو ریستوران کی موبائل میں جائو تم لوگ۔۔
مگر۔۔ ابیہا نے کچھ کہنا چاہا۔۔
بس ہو گیا۔۔ عروج نے موقع نہ دیا۔۔
چلو تم لوگ جائو میں اور واعظہ پولیس اسٹیشن جا رہے ہیں۔۔
آہجومہ آئوسو( محترمہ چلیئے)۔۔۔ ٹیکسی ڈرائیور انکی لمبی گفتگو سے تنگ ہو کر بولا۔۔ابیہا نے ایک نظر دونوں کو دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا کر بیٹھ گئ۔۔
ٹیکسی آگے بڑھی تو عروج مڑ کر سے بولی۔۔
بازو کو کیا ہوا ہے تمہارے؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ عزہ کو تو تیرنا بھی نہیں آتا۔۔
الف نے پریشانی سے کہا
تمہیں کیا لگتا عزہ پانی میں گر گئ؟
فاطمہ نے پوچھا تو ابیہا تڑپ کر بولی
خدا نہ کرے اچھی بات منہ سے نکالو۔۔
یہ الف ہی الٹا سوچ رہی بھئ جسے تیرنا نہیں آتا وہ پانی سے دور ہی رہے گا بھلا عزہ کیوں پانی میں ڈبکی لگائے گی ہم گھومنے آئے تھے خود کشی کرنے تھوڑی۔
فاطمہ نے اپنی طرف سے خاصی منطقی بات کی تھی مگر ابیہا اور الف اسے گھورنے لگیں تو نور کو ٹہوکا دے بیٹھی۔۔
کیوں نور صحیح کہہ رہی ہوں نا میں۔۔
نور نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے گھورا۔۔
توبہ ہی بھلی ہے بھئ۔۔
اس نے خاموش ہو جانے میں ہی عافیت جانی۔۔
تبھی ڈرائیور نے ایک جانب کرکے ٹیکسی روک بھی دی۔۔
یہ کیا ہمیں لوٹنے لگا ہے ۔؟
الف گھبرائی۔۔
ہم پہنچ گئے ریستوران ۔۔ فاطمہ نے موبائل پر دیکھا۔
اتریں؟۔۔ ابیہا کو بھی یقین نہ آیا اتنے قریب۔۔
نہیں ڈرائیور سے کہتے ہیں ہمیں یو ٹرن سے گھما لائے۔۔
فاطمہ کی لن ترانی عروج پر تھی۔۔
ابیہا اور الف گھورتی ہوئی اپنی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتریں۔۔ نور اور وہ بیچ میں پھینسی بیٹھی تھیں۔۔
بہن اترنا نہیں؟۔۔ فاطمہ نے ہلایا تو نور چونکی۔۔
ابیہا اور الف ڈگی سے سامان اتروا رہی تھیں۔۔
واعظہ عروج اور عزہ تینوں کے بیگز بھی تھے انصاف سے بھی اگر وزن بانٹتیں تو سب کے پاس دو دو بیگ آتے ایک کے پاس ایک۔۔
ایسے موقعوں پر نور کا حساب کتاب عروج پر ہوتا تھا ڈاکٹر عروج نہیں عروج و زوال والے عروج پر
مگر انکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب نور نے نہ صرف اپنا بیگ اٹھایا بلکہ عزہ کا بھی اور تو اور واعظہ کا بھی اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا تو الف نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
بس کر پگلی رلائے گی کیا؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھاگم بھاگ پولیس اسٹیشن پہنچی تھیں۔۔اندر داخل ہو کر انہوں نے کائونٹر پر بیٹھی لڑکی سے پوچھا۔۔ اس نے شستہ ہنگل میں انہیں دائیں جانب راہداری میں کسی کمرے میں جانے کو کہا۔ دونوں نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگیں تو مسکرا کر خود اٹھ گئ۔۔ انہیں لا کر اسٹیسشن ہائوس آفیسر کے کیبن تک لے آئی۔۔
گومو وویو۔۔ دونوں کوریائی انداز میں ہی جھک کر شکر گزار ہوئیں۔۔ وہ خوشدلی سے مسکراتی پلٹ گئ۔۔
ایک کھلا سا کمرے جتنا کیبن تھا پولیس افسر میز کے کنارے پر ٹکا فون پر کسی سے بات کرنے میں لگا تھا ان پر نظر پڑی تو سر کے اشارے سے خوش آمدید کیا اور فورا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
عزہ؟ وہ لڑکی جس کا آپ نے زکر کیا تھا۔۔
فاطمہ نے انگریزی میں پوچھا تواس نے کیبن کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا
عزہ انہیں ایک خاتون اہلکار کے ساتھ بیٹھی نظر آگئ۔۔
عروج فورا اسکی۔جانب بڑھی۔۔ اہلکار اسے کافی پیش کر رہی تھی جسے وہ سختی سے منع کر رہی تھی۔۔
عزہ۔۔ عروج نے پکارا تو وہ بے تابی سے اٹھ کر اس سے لپٹ کر رو پڑی۔۔
مسو نری سنن چے؟
(ہوا کیا تھا؟)۔ واعظہ انکی جانب سے اطمینان کر کے پولیس افسر سے پوچھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی واعظہ جواب دینے نہ پائی تھی کہ اسکا فون بج اٹھا۔۔
عزہ کالنگ۔۔
وہ چونکی زیر لب بول کر عروج کو بتاتے فورا فون کان سے لگایا۔۔
دے؟۔۔ (سوالیہ جی)
واعظہ بھونچکا رہ گئ تھی۔۔
دے (جی) آراسو( ٹھیک ہے)۔۔ نیگا کھندا۔۔ (میں آرہی ہوں)
کیا ہوا؟ عروج بے تاب ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل کنارے اپنی پسند کی موسیقی سنتے موسم کا لطف اٹھاتے وہ بالکل اپنے آپ میں مگن چل رہی تھی۔۔ تبھی ایک چھوٹے سےتین چار سسال کے بچے پر نظر پڑی جو ساحلی پٹی کے کنارے صنوبر کے درختوں کے پاس اکیلا بیٹھا تھا۔۔ وہ اتنا فاصلے پر تھا کہ اگر وہ۔ہلتا جلتا نہ تو اسے پتھر سمجھ کر نظر اندا زہی کر دیتی شام کا وقت تھا صبح کے برعکس اس وقت بالکل بھی رش نہیں تھا۔۔
وہ شش و پنج میں پڑی کیا کرے جب اس بچے نے اچانک اٹھ کرچلنا شروع کر دیا تھا۔۔
کیا کروں ۔۔ دور ساحل کے پاس پھر اکا دکا لوگ تھے ان درختوں کے پاس تو کوئی بھی نہیں تھا۔۔ اور بچہ اکیلا بیٹھا ہوا دور دور تک کوئی خاندان یا گھرانہ بھی نہیں تھا کہ چلو بچہ انکے ساتھ ہے۔۔
اس نے سوچا پھر تیز تیز قدم بڑھاتی اس بچے کی طرف بڑھی
سنو بیٹا۔۔ اسکے پکارنے پر اس بچے کے ننھے قدم ٹھٹک کر رکے۔۔ مڑ کر اسے دیکھا تو جیسے ڈر کر ایک قدم اور پیچھے ہو گیا۔۔
اکیلے کیوں ہو؟۔۔ تمہاری امی کہاں ہیں۔۔ ؟۔۔
اس نے پاس آکر پیار سے پوچھا تھا مگر وہ دہل کر رونے لگا۔۔
بویا۔۔ ۔۔
عزہ بھی گھبرا گئ۔۔ اتنا بلک بلک کر روپڑا۔۔
یو گیونگ۔۔
بس یہی لفظ کہے جا رہا تھا۔۔
ارے روئو نہیں۔۔ ڈونٹ کرائے۔۔
ہنگل اسے نہیں آتی تھی اور اردو اور انگریزی بچے کو۔۔
بچہ زیادہ چل نہیں پایا تھا گر گیا تھا مگر دھیرے دھیرے یو گیونگ کہتا اس سے دور ہٹ رہا تھا۔۔
بیٹا انی ۔۔ اس نے اسے بہلانے کو اپنی جانب اشارہ کرکے کہا انئ۔۔
انی ہنگل میں بہن کو کہتے ۔۔ بچہ یونہی بلکتا رہا۔۔ اسکے چہرے کی جانب سے انگلی سے اشارہ کرتا
اور یوگیونگ کہتا۔۔ یو گیونگ یعنی بھوت
یو گیونگ انی۔۔
وہ سمجھی نام لے رہا کسئ کا۔۔ سو بڑے دلار سے اپنی جانب اشارہ کر کے کہا ہاں میں ہوں یو گیونگ۔۔
ابھی اگر اسے مطلب پتہ ہوتا تو صورت حال۔کچھ اور ہوتی۔۔
کیا کروں۔۔ اس نے نقاب نیچے کیا۔۔ دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی زات بچے کو ایسے چھوڑ بھی نہیں سکتی تھئ۔۔
بچہ چپ ہو کر ٹکر ٹکر اسکی شکل دیکھنے لگا۔۔
ہیں تم چپ ہو گئے۔۔
وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔
گھٹنوں کے بل جھک کر اسکی جانب ہاتھ بڑھایا تو بچے نے جھجکتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
گڈ۔۔ وہ خوش ہوئی۔۔
نے ایلعمن عزہ۔۔ ( میرا نام عزہ ہے)
اس نے مسکرا کر بچے کے آنسو پونچھے
تھانگ شن۔۔
(تم؟)
پھاک بونگ شل۔
بچہ اب کم ڈر رہا تھا۔۔
جھجکتے ہوئے بولا۔۔
اچھا بونگ تم یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟۔
عزہ نے پوچھا تو وہ پورا منہ کھول کر بولا
دے؟؟؟۔۔
عزہ نے سر تھام لیا پھر خیال آیا۔۔ تو اشارہ بھی کرکے بتانے لگی۔
آہمونی؟۔۔ ( امئ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے تھوڑی دیر میں ہی بچہ اتنا فری ہو گیا کہ اسکی گود میں چڑھ گیا۔۔
اس نے ساحل کی طرف چلنا شروع کیا۔۔ اس سے وہ دور سے نظر آجاتے۔۔ مگر چند قدم چل کر احساس ہوا اتنا بھی آسان کام نہیں یہ۔۔ بچہ موٹا سا تو نہیں تھا مگر تین چار سال کا تھا دھان پان سی عزہ کی سانس پھولنے لگی۔۔ ایک تو نقاب اوپر سے بچہ بھی گود میں اٹھائے تھی لگتا تھا سانس آج رک ہی جائے گی
اف ۔۔ وہ عجیب الجھن میں پھنسی تھی۔ نہ آگے بڑھ سکتی نہ پیچھے لوٹ سکتی تھی۔۔
بیٹا تھوڑا سا چل لو۔۔
اس نے ہانپ کر اتار دیا۔۔
بچے نے احتجاجا رونا اور ٹھنکنا شروع کردیا۔۔
اف۔۔ اس نے سوچا پھر موبائل نکال لیا۔۔
تین فیصد بیٹری؟۔۔
اسکی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔
بس ایک کال۔ملا دینا پھر بند ہونا۔۔
اس نے گھبرا کر موبائل ڈیٹا بند کیا تین چار ایپس کھلی ہوئی تھیں کچھ ڈائونلوڈنگ پر بھی لگا تھا۔۔
حد۔۔ ہے۔۔ ساری بیٹری چوس گئی تھیں ایپس۔۔گانے تک چل رہے تھے۔
اس نے رابطے کھول کر نمبر نکالا ڈائل کیا پہلی بیل بھی نہ گئ بند۔۔
اف۔ ۔وہ بری طرح جھلائی۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا گھپ اندھیرا۔۔ ساحل کا شور صنوبر کے اونچے اونچے درخت۔۔ دیکھنے میں ہی اتنا خوفناک منظر تھا کہ پلٹنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔
اس نے تھوک نگل کر آگے دیکھنا چاہا۔۔ دور چھوٹی چھوٹی سی بتیاں جلتی نظر آرہی تھیں شائد کوئی ریزورٹ تھا۔۔
اس نے گھٹنوں سے لپٹے مسلسل بجتے اس ننھے باجے کو دیکھا پھر ایک نظر دور چمکتی بتیوں کو۔۔
پھر فیصلہ کرکے باجے کی انگلی تھام۔لی۔۔ اب آگے ہی بڑھ کر دیکھتے ہیں۔۔
کوئی دس پندرہ منٹ کا راستہ آدھے گھنٹے میں طے ہوا ۔۔ بچہ کئی بار تھک کر بیٹھا تو اسے گود میں اٹھا کر بھی چلی کہیں خود بھی دم نکلنے کو آیا تو تھک کر بیٹھ گئ۔پانی تک پاس نہیں تھا۔۔
خدا خدا کرکے ریزورٹ آیا ۔۔ داخلی دروازے کے پاس پہنچ کر سانس بحال کرنے لگی۔۔ بچہ اسکا ہاتھ چھڑا نے لگا۔۔
آہمونی۔۔
ارے۔۔ اس نے بچے کا ہاتھ پکڑا۔۔
بھاگو نہیں۔۔
تبھئ دو پولیس اہلکار اسکے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک پریشان حال جوڑا بچے کی جانب لپکا تھا۔۔ بچہ ماں کو دیکھ کر ہی ہاتھ چھڑا رہا تھا۔۔ اس نے بچے کا ہاتھ چھوڑ دیا بچہ بھاگتا ہوا ان سے جا لپٹا۔
اس نے بھی سکھ کی سانس لی۔۔ مصیبت تمام ہوئی۔۔
مگر نہیں ابھی اسے اپنی شناخت کروانا باقی تھا۔۔
نائو اودی چو شونیا۔۔
اہلکاروں میں سے ایک اس سے بڑی تمیز سے آگے بڑھ کر پوچھا تھا۔۔
جی؟۔۔ عزہ کے منہ سے بس یہی نکل سکا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے پاس نہ پاسپورٹ تھا نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور شناختی علامت۔۔ ہم نے ان سے کہا کہ یہ کسی کا رابطہ نمبر دے دیں انکے پاس وہ بھی نہیں تھا ۔۔ ہم انکی مدد کیلئے ہی یہاں لائے۔۔ موبائل چارج ہوا توسب سے پہلے ہم نے آپ سے رابطہ کیا ہے۔۔
ہم انکو کھانے پینے کی چیزیں بھی دینے کی کوشش کرتے رہے مگر یہ تیار نہیں ہوئیں۔۔ عربی سیاح آتے رہتے ہیں کوریا میں ہم انکی دل سے عزت کرتے ہیں یقین کیجئے ہم نے خاتون پولیس اہلکار سے ہی کہا تھا کہ ان سے بات کریں۔۔ ابھئ بھی دیکھ لیجئے خاتون پولیس اہلکار ہی ان سے بات کر رہی تھیں۔۔
چندی آنکھوں والے نے تفصیل سے واعظہ کو ساری بات بتائی تھی۔۔
وہ عزہ کے رو پڑنے پر خود بھی گھبرا گیا تھا۔
دے۔۔ گھمسامنیدہ
واعظہ شکر گزار ہوئی۔۔ عزہ عروج سے ابھی بھی لپٹی ہوئی تھی۔۔
افسر انہیں باہر تک چھوڑنے آیا تھا بار بار معزرت بھی کی۔ پھر انکے لیئے ٹیکسی بھی کر کے دی۔۔
ٹیکسی میں بیٹھ کر عروج نے عزہ کا کان پکڑا۔۔
پتہ ہے آج کتنا پریشان ہوئے ہیں ہم تمہاری وجہ سے۔۔
سوری۔۔ اس نے اور منہ لٹکا لیا۔
بھوکا مار دیا تم نے ہمیں۔۔ عروج نے کہا تو عزہ رہ نہ سکئ
تومیں کونسا فائو اسٹار میں بیٹھی کھا رہی تھی۔
ہاں مگر تمہیں پوچھ تو رہی تھی بے چاری چندی آنکھوں والی تم نےخود نہ کھایا۔ جوس تو حرام حلال نہیں ہوتا آنٹی وہ تو کھا پی سکتی تھیں منع کیوں کیئے جا رہی تھیں۔ عروج نے کہا تو وہ معصومیت سے بولی۔
وہ نقاب اتارنا پڑتا نا اسی لیئے منع کر رہی تھی۔۔
عروج نے سر پکڑ لیا۔۔
واعظہ ان دونوں کی باتوں سے الگ فاطمہ کو کال ملا کر بتانے لگی۔۔
یار عزہ مل گئ ہے ہم آرہے ہیں تینوں۔۔
آگے سے فاطمہ کا جواب تھا
اچھا ٹھیک ہے۔ ۔۔ یار واعظہ یہ تو بتایا ہی نہیں تھا کہ منگوائیں کیا۔۔ٹوفو سوپ کھایا ہے ؟ نئی چیز لگی منگوا لیا ہے اور ساتھ فش ہے۔ویسے۔ کتنی دیر میں آرہی ہو تم لوگ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
دیسی کمچی قسط دو
حصہ دوم۔۔۔
وہ لوگ جگہ دیکھ کر ریستوران کے سنسان گوشے میں کونے میں گھس کر بیٹھی تھیں۔۔ چندی آنکھوں والی ویٹریس مسکرا کر انہیں مینیو کارڈ تھما گئ۔۔
دس پندرہ منٹ کے بعد بھی جب وہ دوبارہ آئی تو انہیں مینیو کارڈ حفظ کرتے پایا۔۔
دے؟۔۔ وہ مسکرا کر کاپی تھامے انکے آگے جھکی۔۔
کیا بتائوں مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔
نور نے سب سے پہلے ہار مانی تھی۔۔
ہمیں سبزیاں کھانی ہیں۔۔
فاطمہ نے شستہ انگریزی میں کہا تو وہ جھجکی
دے؟۔۔
ابیہا سبزیوں کو ہنگل میں کیا کہتے؟۔۔ فاطمہ نے پوچھا تو وہ گڑ بڑا ئی
کونسی سبزی کو؟۔۔
اوہو ویسے ہی کوئی بھی سبزی بتا دو۔۔
الف نے کہا تو ابیہا سوچ میں پڑ گئ۔۔ پھر بولی
ریڈش ۔۔ ریڈش سوپ منگوا لیتے ہیں۔۔
اتنا تو اسے پتہ تھا ریڈش سوپ ہوتا ہے کم از کم کوریا میں۔۔
دے؟۔ ویٹریس کی مسکراہٹ پھیکی پڑی اور دے اب سوالیہ ہو چکا تھا
ریڈش تو انگریزی میں گاجر کو نہیں کہتے؟
نور کے دماغ کی بتی جلی۔۔
کیرٹ ہوتا گاجر ریڈش مولی ہوتا۔۔
فاطمہ نے کہا پھر وہ اور الف چونکیں اور ابیہا کو گھورنے لگیں نور البتہ منہ بنا کر کہہ رہی تھی
مولی کا سوپ نہیں پینا مجھے رات کو مولی کون کھاتا اور اگر کوئی کھا لے تو سو نہیں پاتا۔۔
ہم نے کہا تھا ہنگل میں بتائو سبزی کو کیا کہتے۔۔
مجھے کیا پتہ۔۔ میں نے تو انگریزی میں سبزیوں کے نام بھی بچپن میں کبھی یاد کیئے تھے۔۔
ابیہا کے چہرے پر بے چارگی دوڑ گئ۔۔
دے؟۔۔ ویٹرس کے اس بار دے کہنے میں تاثرات پھر بدلے تھے۔۔ یقینا اب دے کا مطلب کچھ اور تھا
یار وہ کونسا سوپ تھا کافو۔۔ وہی منگوا لیتے۔۔
فاطمہ دوبارہ مینیو کارڈ پر جھکی۔۔
یار مچھلی تو منگوائو یہ تو حلال ہی ہوگی نا۔۔
مچھلی؟۔۔ حلال۔۔ ویٹریس سوالیہ نگاہوں سے تکنے لگی۔۔
فش۔۔ ابیہا سمجھی مچھلی کا مطلب پوچھ رہی۔۔
حلال اندے۔ اتوکے ۔۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
کیا کہہ رہی ہے یہ۔
الف کو تجسس ہوا۔۔
یار اس میں مچھلی تو ہے ہی نہیں۔۔
فاطمہ نے کارڈ الٹ پلٹ کر ڈالا۔۔
دے؟۔۔ ویٹریس بھی اب بے چاری سی شکل بنانا شروع ہو گئ تھی۔
اب ایک بار اس نے اور دے کہا تو میں اسے واقعی کچھ دے دوں گی۔۔
نور نے میز سے چاپ اسٹکس اٹھا کر تلوار کی طرح نچائی۔۔
دے؟۔ چندی آنکھوں والی کی آنکھیں پھیلیں
نور نے تلوار اپنی کھوپڑی پر بجا لی۔۔
یار اسکی تو سزا مکائو۔۔
فاطمہ نے کہا تو الف جو ابھی تک مینیو کارڈ میں کھوئی ہوئی تھی پرجوش ہوئی
یہ دیکھو ہے نا مچھلی اور یہ والا سفید سفید ڈلیوں والا ٹوفو سوپ
تین صفحوں کے مینیو کارڈ میں انہیں ہڑ بڑاہٹ میں مچھلی دکھائی ہی نہ دی۔۔
دے۔۔ چندی آنکھوں والی کی رنگت بحال ہوئی۔۔
ہم چھے لوگ ہیں نا۔۔
فاطمہ نے کہا تو نورنے تصحیح کی
نہیں بھئی سات ہیں۔۔
ارے تو عزہ تو ہے ہی نہیں۔۔ فاطمہ نے کہتے ساتھ ہی دانتوں تلے زبان دبائی۔۔ تینوں دانت پیستی گھور رہی تھیں۔۔
فاطمہ نے آرڈر دیا تو وہ جھک کر مسکرا کر بولی
دے۔۔
یار ہم کھائیں گے کیسے۔۔
نور کو فکر ہوئی۔۔
اس سے زیادہ کونہ اب تمہارے لیئے کیا لیں اب بس یہی ہو سکتا میز کے نیچے بیٹھ کر کھا لینا
الف نے چڑ کر کہا تھا مگر نور مطمئن ہوگئ۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔
ابیہا اور فاطمہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں
تبھی فاطمہ کا موبائل بج اٹھا۔۔بات کرکے موبائل رکھا تو تینوں کو بے تابی سے خود کو تکتا پایا۔۔
واعظہ تھی۔۔
اپنے آنے کا بتا رہی تھی۔۔ مل گئ۔ اس نے سرسری سے انداز سے بتایا۔۔
کیا ہوا کیا کہہ رہی تھی۔۔
الف اور نور فکر مند ہوئیں
یار آرہی ہے دس منٹ تک۔۔ فاطمہ نے لاپروائی سے بتایا اور میز پر سے گلاس اٹھا کر پانی پینے لگی
عزہ نہیں ملی؟۔۔
ابیہا کا انداز روہانسا ہو چلا تھا
مل گئ ہے آرہی ہیں تینوں۔۔
اس نے سابقہ انداز میں ہی جواب دیا۔
یار کہاں ہوگی مجھے تو فکر ہو رہی ہے۔۔
الف پریشانئ سے کہہ رہی تھی
فکر مت کرو ٹھیک ہوگی میں نے آیت الکرسی پڑھ دی تھئ۔۔
نور نے تسلی دی۔۔
گلاس سے پانی پیتے فاطمہ کو تعجب سا ہوا۔۔
مل گئ ہے عزہ۔۔
فاطمہ نے گلاس رکھ کر دوبارہ بتایا۔۔
ہاں نا تبھی تو ۔۔
ابیہا نے اپنی رو میں دہرایا پھر چونکی
کیا مل۔گئ عزہ ۔۔
ہاں۔۔ یہی تو بتا رہی۔۔
فاطمہ کو انکی بے یقینی پر خود پر ہی شک ہو گزرا کہیں اسی نے تو غلط نہیں سنا۔سر بھی اثبات میں ہلایا۔۔ ۔
اب بتا رہی ہو۔۔ نور چاپ اسٹک اسکے بازو میں چبھونے کو لپکی۔
وہ سرعت سے کرسی سے اٹھی بال بال بچی تھی اس بے وقت کے ٹیکے لگنے سے۔۔
ارے فورا بتایا مگر تم لوگوں کو یقین ہی نہیں آرہا۔۔
فاطمہ نور کے متوقع حملے کے پیش نظر اسکے حصار سے دور ہٹ کر بیٹھی۔۔
شکر ہے خدا کا۔۔ ابیہا کی جان میں جان آئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریستوران کے داخلی حصے پر ٹیکسی نے اتارا تھا انہیں۔۔ عزہ بڑے شوق سے ریستوران کی سجاوٹ دیکھ رہی تھی پتہ نہیں ہنگل میں کیا لکھا تھا مگر جگر جگر کرتی روشنیوں سے منور تھا بڑے بڑے بینر تھے جن پر پھولوں کی تصویریں تھیں
اسے منظر بہت بھایا سو جھٹ سیلفی لینے لگی۔۔ عروج کا بھی یہی حال تھا ۔۔ کوریائی طرز کی بڑی بڑئ چھتریوں جیسی چھت اسکے سر پر تاج کی طرح آرہی تھی اس نے پے در پے کئی تصویری کھینچ لیں۔۔ واعظہ نے ان دونوں کو اپنی تصویریں بناتے ہوئے ہی تصویر کھینچ لی۔
اس نے بایاں ہاتھ اٹھایا تھا مگر پھر گرا کر دائیں ہاتھ سے ہی موبائل سے تصویر لے لی۔ تبھی عروج کی اس پر نظر پڑی تو عروج نے وہیں واعظہ کو پکڑ لیا۔۔
دکھائو ادھر۔۔ اسکے اندر کی ڈاکٹرنی کم ہی خواب خرگوش کے مزے لیتی تھی سو ابھی بھی جاگ گئ۔
احتیاط سے اسکا بازو اٹھا رہی تھی۔۔ واعظہ بے اختیار ہی سی کرکے رہ گئ
یہ تو سوجا ہوا ہے ہوا کیا ہےا سے۔۔
مجھے تو لگ رہا فریکچر ہے کم از کم۔بھی ہیئر لائن۔۔ عروج کو تشویش ہو رہی تھی۔۔ عزہ بھی پریشان ہو کر قریب چلی آئی۔
نہیں ٹوٹا ہوتا تو اتنے آرام سے تھوڑی پھر رہی ہوتی۔۔
واعظہ نے مسکرا کر تسلی دینی چاہی۔
آرام سے تو نہیں پھر رہی ہو اچھی خاصی تکلیف ہے ۔۔
عروج جتا کر بولی۔
ادھر لائو۔۔ اس نے اسی کے گلے میں جھولتا لمبا سا اسکارف کھینچ کر بازو کو لپیٹ کر باندھ دیا۔۔
کھانے کے بعد کسی اسپتال چل کر ایکسرے کروا لینا۔۔
عروج نے تاکید کی تو واعظہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ عزہ اسکے دائیں بازو سے لگئ کھڑی تھی اسکیلئے ٹھیک ٹھاک پریشان۔۔
میں ٹھیک ہوں عزہ۔۔ واعظہ نے تسلی دلانے والے انداز میں کہہ کر عزہ کو ساتھ لگا لیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے پہنچنے تک کھانا لگ چکا تھا ابیہا فاطمہ نور اور الف بے چارگی سے کھانے کو دیکھ رہی تھیں۔۔انکو آتے دیکھا تو برسوں کے بچھڑے ساتھیوں کی طرح گلے ملنے اٹھیں۔۔ نور الف عزہ سے گلے ملنے لپکیں تو ابیہا کا رخ واعظہ کی۔جانب تھا فاطمہ اور عروج ہی ایک دوسرے کے مقابل رہ گئیں تو منہ بنا کر لگ ہی گئیں گلے۔۔
یہ بازو کو کیا ہوا تمہارے۔۔ ابیہا پریشانی سے اسے دیکھتے پوچھ رہی تھئ۔۔
لمبی کہانی ہے بعد میں۔۔
وہ لاپروائی سے کہتی میز کے اانتہائی کونے میں گھس گئ۔۔ بھوک سے برا حال تھا۔۔
کسی نے بھی کھانا شروع نہیں کیا تھا۔۔
واعظہ نے میز ہر نظر دوڑائی۔۔
ایک کچومر سی سبزیوں کی طشتری تھی جس میں سے سبزیاں پہچاننا اتنا ہی مشکل تھا جتنا شروع شروع میں کے ڈرامہ دیکھ کر اوپائوں کو پہچاننا۔
گرما گرم بھاپ اڑاتا ٹوفو سوپ تھا مگر آنکھوں سمیت تلی ہوئی مچھلی۔۔اور سادے چاول
چھے لوگوں کی میز تھی ساتویں کرسی فاطمہ پڑوسی میز سے کھینچ لائی۔۔
یار اس مچھلی کو دیکھ کر ایسا نہیں لگ رہا کہ اگر ٹوفو سوپ میں ڈالا تو تیرنے لگے گی؟۔۔
واعظہ نے کہا تونور لاپروائی سے بولی
نہیں یار اتنا گرم سوپ ہے جل جائے گی بے چاری۔۔
مچھلی میں کانٹے نہیں ہیں۔۔
ابیہا نے مچھلی کا ٹکڑا کاٹ کر پلیٹ میں رکھتے ہوئے اعلان کیا۔۔
ہیں؟۔۔ واعظہ کا مچھلی کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا۔۔
ہیں واعظہ ۔۔ یہ دیکھو۔
الف نے اپنی پلیٹ سے ٹکڑا اٹھا کر تسلی کرائی۔۔
یہ کیا ہے۔ الف کو سبزیوں کے کچومر میں دلچسپی ہوئی۔
نور نے ڈرتے ڈرتے سوپ چکھا۔۔
شکر ہے اسکا زائقہ اچھا تھا۔ سب کے چہرے کے تاثرات چپکے چپکے نوٹ کرتی عروج نے سوپ اپنی جانب بڑھا کر چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔۔
فاطمہ سرخ آنکھوں اور بھرے منہ کے ساتھ دو ہاتھ پھیلائے اسے خبردار کرتی رہ گئ مگر۔۔
ہونی کو کون ٹال سکتا۔۔
سوپ مزے کا ہے۔
واعظہ نے سوپ چکھ کر سر ٹھایا تو سب کی شکل دیکھنے والی تھی۔۔
ابیہا نے بڑے شوق سے مچھلی کا بڑا سا نوالہ لیا تھا تو احساس ہوا مصالحہ کے نام پر جو کچھ بھی تھا اوپر اوپر ہی تھا اندر سے بالکل تازہ اور پاکستانی لحاظ سے کچی مچھلی تھی۔۔
اسکا چہرہ سرخ ہو چلا تھا نہ اگلتے بن رہی تھی نہ نگلتے۔۔
الف نے سبزیوں کے کچومر کا بڑا سا نوالہ لیا تھا۔۔
لوکی کدو مولی جانے کیا کیا تھا سب ملا جلا خوب مصالحے دار مگر بیچ میں پیاز بھی اتنی ہی موٹی اور تھوڑی سی کچی۔۔
اسکے چہرے پر پیاز کی کڑواہٹ سہتے بڑے دردناک تاثرات ابھرے تھے۔۔
نور نے سوپ پیتے ہوئے ٹوفو کا بھی ایک بڑا سا پیس منہ میں لے لیا تھا۔۔
سویا کی ہلکی سی کڑواہٹ کے ساتھ یہ پنیر کا بھائی نہیں بلکہ سوتیلا بھائی تھا۔ جسکو پاکستانیوں کے زبان کے زائقے سے مانوس ہونے کا قطعی شوق نہ تھا۔۔۔
فاطمہ اور عروج باقاعدہ رو رہی تھیں۔
اتنی مرچیں۔۔
سی سی کرتے دونوں پانی پر لپکیں۔
ان سب کی حالت دیکھ کر واعظہ کے منہ سے قہقہہ نکلا تھا۔۔
اسے بے ساختہ ہنستے دیکھ کر سب کا دل اسکے دانت توڑ دینے کو ہی کر رہا تھا۔۔
معزرت معزرت۔۔
ہنستے ہنستے اس نے بمشکل معزرت کی۔۔
یار مجھے بہت بھوک لگ رہی۔
نور نے بے چارگی سے کہا۔۔
ایسا کرتے ہیں چاول مزید منگوا لیتے ہیں۔۔
الف نے سادے چاول پلیٹ میں نکالتے ہوئے مشورہ دیا۔۔ جو سب کو پسند بھی آگیا۔۔
نور نےچاولوں پر سوپ اور ٹوفو ڈال لیا۔۔
تھوڑی سی کچومر سبزی رکھی اب کچھ کچھ پاکستانی پن دکھانے پرزبان مانوس ہوئی۔۔
ابیہا نے مچھلی کو سوپ میں تیرایا تو زائقہ بہتر ہوگیا تھا۔۔ سوپ واقعی مزے کا تھا سو سی سی کرتی عروج اور فاطمہ سادے چاول کے ساتھ اسکی مرچوں سے نبرد آزما ہو گئیں
بھوک بے تحا شا لگی تھی کہ کیا سب کی سب پھر خاموشی سے پیٹ بھرنے تک کھا گئیں۔۔
اف اب تو سخت نیند آ رہی ہے۔۔
نور نے کہا تو واعظہ کو خیال آیا فورا موبائل اٹھا لیا اٹھاتے ہی بجنے لگا۔۔
ہیلو۔۔ دے؟ دے۔۔
وہ اپنی جگہ پر کھڑی ہو کر ریستوران میں نظر گھمانے لگی کسی کو ہاتھ ہلا کر اشارے سے بلایا پھر دوبارہ بیٹھ کر سوپ ختم۔کرنے کگی۔
کیا ہوا کون ہے؟
ان سب نے بھی اسکے ساتھ ساتھ ہی نظریں گھمائی تھیں مگر کوئی بھی مانوس شکل نہ دکھایی دی۔۔
سیہون ہے نقاب ٹھیک کر لو یہیں آرہا ہے۔۔
اس نے خبردار کیا تو سب پرجوش ہو گئیں
ہیں سیہون واقعی۔۔ مجھے تو دکھائی نہیں دیا۔۔
الف اچک اچک کر ریستوران پر نظر دوڑانے لگی۔۔
تبھی سیہون آکر انکی میز کے پاس ہی آکر کھڑا ہو گیا۔ چندئ آنکھوں بھورے ڈائی بالوں کے ساتھ چھے فٹ سے نکلتا قد اپر اور سویٹ پینٹ میں ملبوس نازک سے فریم کی عینک لگائے اس نے مسکرا کر کوریائئ انداز میں جھک کر کہا
سلامو لیکم۔
خالص کوریائی لہجے میں عربی سلام جھاڑتا سیہون۔ ان سب کے ارمانوں پر اوس سی آگری۔۔
یہ تو واعظہ کا دوست تھا ۔۔ سب مایوس سی ہو گئیں تھیں۔
سیہون کو ویسے بھی ان سے گرمجوشی کی امید نہ تھی۔سو واعظہ کی جانب متوجہ ہوا۔۔
واعظہ پیالہ منہ سے لگا کر غٹا غٹ سوپ پی رہی تھی
الف اور نور منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
وعلیکم السلام۔۔ واعظہ سوپ ختم کر چکی تھی سو اٹھ کر اسے خوش آمدید کیا ۔۔ واعظہ چونکہ کونے میں جا گھسی تھی سو ابیہا اور فاطمہ کو نکلنا پڑا اسے نکالنے کیلیئے۔
کھانا کھایا تم نے؟۔
واعظہ نے اس سے ہنگل میں پوچھا
ہاں چلو میں گاڑی لایا ہوں۔۔ مگر تم سب آجائوگی۔
سیہون نے ان پر نظر دو ڑائی تو واعظہ مزے سے بولی
کین چھنا ۔۔ ہم چھوٹی سے چھوٹی گاڑی میں آ سکتے تم ہمیں جانتے نہیں ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس نے کہا تھا ہم چھوٹی سے چھوٹی گاڑی میں آسکتے ہیں؟۔۔ الف نے ایک نظر گاڑی کو دیکھا پھر گھور کر واعظہ کو۔۔
مہران کے برابر ننھی منھی سی گاڑی کھڑی تھی
اس میں سات لڑکیاں اور ایک سیہون بے چارہ۔۔
یہاں تو اوور لوڈنگ پر فائن بھی ہو جائے گا پاکستان تھوڑی۔۔
عروج نے باز کرنا چاہا۔۔
ابیہا اپنے موبائل میں گوگل۔کھولے تھی ایکدم پرجوش ہو کر انہیں دکھانے لگئ
یہ دیکھو یہ سیکنڈ ایئر کی طالبہ پاکستانئ لڑکی ایمن سلیم نےورلڈ ریکارڈ بنایا تھا 2010 میں انیس لڑکیاں دو دروازوں والی اسمارٹ کار میں بیٹھی تھیں۔۔ واعظہ غلط نہیں کہہ رہی تھی ہم آجائیں گی۔۔
ہیں واقعئ۔ الف اور نور اسکے موبائل پر جھک آئیں۔۔
فاطمہ اور عروج ٹھنڈی سانس بھر کر واعظہ کوگھورنے لگیں۔۔
کیا ضرورت ہے ہمیں پھنس کر جانے کی؟ ایک ٹیکسی کر لیتے ہیں۔۔
عروج نے کہا تو نورالف چٹکی بجا کر بولی۔۔
آجائیں گے ہم انیس لڑکیاں اگر دو دروازوں والی اسمارٹ کار میں آ سکتی ہیں تو ہم تو بس سات ہیں اور یہ گاڑی بھئ بڑی ہے۔۔
مگر ہم کوئی ورلڈ ریکارڈ بنانے نہیں جا رہے ہیں جو ضرور یہاں گھسیں۔
فاطمہ نے پیر پٹخ کر کہا۔
سیہون بے چارہ ڈرائیونگ نشست پر بیٹھا ان کے فیصلہ کرنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔
یار بیس منٹ کی ڈرائیو ہے انجان شہر میں ہیں گزارا کر لو اسی میں مہربانی۔۔
واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ۔۔
تم لوگ جائو میں اور عروج دوسری ٹیکسی سے آجائیں گے۔۔ فاطمہ نے ضدی پن سے کہا تو واعظہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
چلو بیٹھو۔۔ ابیہا نے کہا تو نور الف اورابیہا اندر سمٹ کر بیٹھ گئیں۔۔ عزہ کو ابیہا نے اپنے زانو پر بٹھا لیا تو عروج کی آرام سے جگہ بن گئ۔۔
چلو عروج ٹیکسی کریں ۔۔ فاطمہ نے کہا تو عروج نے ایک نظر اسے دیکھا ایک نگاہ واعظہ پر ڈالی پھر کچھ سوچ کر ابیہا کے ساتھ بیٹھ گئ۔۔
آجائو فاطمہ آرام سے آجائو گی۔۔
الف نے پکار کر کہا تو فاطمہ بھنا کر رہ گئ۔۔ عروج کے بیٹھنے کے بعد دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔۔
سیہون ڈرائیونگ سیٹ پر پہلو بدل کر رہ گیا۔۔
اتنی زور سے۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں اکیلی ہی آرہی ہوں تم۔لوگ جائو۔۔
فاطمہ ہٹ دھرمی سے بولی۔۔
واعظہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولے اسے ملاحظہ کر رہی تھی۔۔
ضدی پن سے کہہ کر وہ سڑک کنارے تھوڑا ہٹ کر کھڑی ہو گئ تھی۔۔
چلیں۔۔ سیہون نے واعظہ کو کہا تو وہ گہری سانس بھر کر احتاط سے بازو تھامتی بیٹھ گئ۔ سیہون نے گاڑی اسٹارٹ کی مگر واعظہ نے دروازہ بند نہ کیا۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے واعظہ کو دیکھ رہا تھا مگر وہ بے نیازی سے سامنے دیکھ رہی تھی۔۔
فاطمہ آجائو یار ۔۔ دس بج رہے ہیں ضد نہ کرو۔۔
عروج نے کھڑکی سے منہ نکال کر آواز دی تو وہ جھلا کر پیرپٹختی آئی اور فرنٹ سیٹ کے کھلے دروازے میں آسمائی۔۔
واعظہ اسکیلئے جگہ چھوڑ کر بیٹھی تھی۔۔
اسکے بیٹھتے ہی سیہون نے گاڑی چلا دی تھی۔۔ بیس منٹ نہیں پورے پینتالیس منٹ کی ڈرائیو تھی۔۔
ابیہا کا گھٹنا سن ہو چکا تھا عزہ خود ہی پندرہ بیس منٹ بعد الف کی گود میں کھسک آئی۔۔
سیول کے برعکس یہاں پر رات ہوتے ہی سناٹا چھانا شروع ہو گیا تھا طویل شفاف سڑک مگر اکا دکا گاڑیاں۔۔
عروج نے ہلکی سی کھڑکی وا کر رکھی تھی اس سے سرد ہوا کے جھونکے جیسے انہیں لوری ہی دینے لگے تھے۔۔
خاموشی رات سیدھی سڑک اور سیہون نے ریڈیو چلا دیاتھا۔۔ مون لورز کا ٹائٹل سانگ فسوں بکھیرنے لگا تھا
نیگا کودھے گیوتھے ایسو سو سو
ہینگو کھمندا۔۔
نیگا کودھےگیوتھے ایسو سو سو
گومول کمہنیدا
نیگا کودھے گیوتھے ایسو سو سو
اوسے سوئے سمھنیدا
نیسا سارامی گیل تھو گھیدو ہمہنیدا۔۔
نیما نی پویو سو۔۔
نوجی شینی می سمکیدھامیان
سچ ہے موسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی ۔۔ سنتے ہوئے ایک لفظ سمجھ نہ آنے کے باوجود ایک ایک لفظ جیسے دل میں اتر رہا تھا۔۔
یار مجھے گیونگ پو پسند آگیا ہے کتنا خاموش سا شہر ہے۔۔
نور دوسری کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی۔۔
فاطمہ کا گاڑی میں بیٹھ کر بھی مزاج برہم ہی تھا
منہ پھیرےخاموشی سے باہر دیکھ رہی۔تھی۔۔
یار ویسے یہ بھی مزا رہا ہم سب اس طرح پھنس کر بیٹھے ہیں۔۔ عزہ نے کہا تو الف دانت پیس کر بولی۔۔
خاک مزا ۔۔۔ مجھ سے پوچھو تم گائے کو تو میں نے گود میں بٹھایا ہوا ہے۔۔
تو بھائی ہی بہنوں کا بوجھ اٹھاتے کونسی بڑی بات۔۔
عزہ مزے سے ہنسی۔۔
ہیں یہ کب سے بھائی بنی تمہارا؟۔۔ ابیہا نے آنکھیں پھاڑیں۔۔
اسکے بھائی بدلتے رہتے یہ ضرورت شریک بھائی بناتی ہے میں بھی اسکا بھائی ہوں اور کل کوتم سے کام پڑا تو تم بھی اسکا بھائی بن جائوگی۔۔
نور نے تفصیل سے بتایا۔۔
ہاں تو کیا برائی ہے اس میں ۔۔۔
عزہ نے کندھے اچکائے۔۔
ہماری کہانی میں شدید کمی ہے میل برادری کی۔۔
میل کو کیا کہتے واعظہ۔۔
خط۔۔ بنا لمحے کے انتظار کے جواب آیا تھا۔۔
ارے میل مردانہ والا۔۔ اسکو اردو میں کیا کہتے۔۔۔۔۔ عزہ نے تشریح کی تو الف اور ابیہا ہنس پڑیں۔۔
الو مردانہ ہی کہتے اردو میں مردانہ برادری کی کمی ہے ہماری کہانی میں۔۔
نور نے تشریح کی تو اسکے سوا سب ہی نے بدمزا سا منہ بنایا۔۔
ایوو۔۔
یار یہ سننے میں کتنا برا لگ رہا مردانہ برادری۔۔
عزہ نے جھرجھری سی لی۔۔
یار ہم ایسے ہی زیادہ مزا کر رہے ہیں۔۔ عروج نے کہا تو ابیہا نے قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا۔۔
ہاں یار یا تو گر ہو بھی تو چندی آنکھوں والا کوئی وجیہہ سا جیسے جی چھانگ ووک۔۔
ابیہا کے لہجے سے بتاتے بتاتے شہد ٹپکنے لگا آنکھوں میں ستارے اتر آئے۔۔
جی چھانگ ووک کیسے آسکتا وہ تو ملٹری چلا گیا۔۔
الف اداس ہوئی۔۔
چلو کوئی اور سہی بس ہو ہینڈسم سا اوپا۔۔
عزہ نے مزے سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ڈرامائی انداز دینے کو ہینڈسم سا کے بعد تھوڑا سا وقفہ بھی لے لیا اوپا کہنے میں۔۔
دے۔۔ سیہون نے بیک ویو مرر سے سوالیہ۔نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔ عزہ گڑبڑا گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھے منزلہ عمارت میں پانچویں منزل پر اسکا فلیٹ تھا ۔۔
شکر ہے لفٹ ٹھیک تھی سیہون انکے جتنے بیگز اٹھا سکتا تھا اٹھا لیئے تھے۔۔ نور ان خوش قسمتوں میں سے نہ تھی سو اپنا بیگ تھامے حسرت سے عروج اور ابیہا کے خالی ہاتھ دیکھ رہی تھی۔۔
لفٹ چھوٹی سی تھئ سو یہ سب گھسیں تو سیہون دیوار سے چپک رہا۔۔
عمارت کے حالات کافی اچھے تھے سیہون یقینا اچھا کما تا رہا ہو گا جبھی اچھی جگہ رہ رہا ہے۔۔
عزہ کو اپنا دو کمروں کا فلیٹ یاد آیا۔۔ تو ابیہا کے کان میں گھسی۔۔
تو نور کو چم چم کرتی لفٹ۔۔ بھا گئ۔۔
ہماری بلڈنگ میں تو لفٹ بھی نہیں ہے۔۔
اس نے اداسئ سے کہا
فاطمہ بیزار سی زمین کو جوتے کی نوک سے کھرچ رہی تھی۔۔
انسان انسان انسان دنیا میں اتنے انسان کیوں ہیں۔۔
عروج اداس سی ہونے لگی۔۔
واعظہ نے ٹہوکا دیا تو نفی میں سر ہلا دیا۔۔ پانچویں منزل تک پہنچتے سب کے سیل ویک ہو چکے تھے۔۔ سیہون نے جب فلیٹ کا دروازہ کھولا تو ان ساتوں کا بس نہیں تھا بس سامنے بستر ہو اور وہ گر جائیں۔۔ مگر۔۔ یہ کیا تھا۔۔
منہ سب کا کھلا تھا مگر چلو نقاب نے تاثرات چھپا لیئے۔۔
الف اور فاطمہ کا منہ کھلا تھا واعظہ نے دائیں بازو سے ٹہوکا دیا تو بند ہوا۔۔
حیرانی کی وجہ تھی۔۔ فلیٹ ۔۔ شروع ہوا اور ختم ۔۔ بس۔۔ سامنے اوپن کچن تھا اسکے ساتھ دائیں جانب بس چھوٹا سا احاطہ تھا جس پر لگژری کائوچ دھرا تھا اور کائوچ کے ساتھ ڈبل بیڈ۔۔
بس۔۔ انکی حیرانی کے برعکس سیہون خوش دلی۔سے انہیں چائے پینے کی دعوت دے رہا تھا۔۔
واعظہ نے مترجم کے فرائض نبھائے۔۔
اب تو میرا سر بھی پھٹنے کو ہے واعظہ ۔۔ عروج نے کنپٹی سہلائی۔۔
واعظہ نے ایک نظر ان سب کی شکل دیکھی پھر سہولت سے شکریہ ادا کر کے معزرت کرلی۔۔
اچھا اس الماری میں سلیپنگ بیگ ہیں اور کمبل کی تو ضرورت نہیں ہوگی گرمی ہے اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو ضرور کہنا۔میں نیچے والی منزل پر ہی اپنے دوست کے ساتھ رہ رہا ہوں آج رات۔۔
سیہوان نے پورا اخلاق نبھا دیا تھا۔۔ واعظہ نے خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ اسے رخصت کیا ۔۔
دروازہ بند کرکے مڑی تو چھے کی چھے کچا چبا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
کیا ہوا۔۔
اس نے جہان بھر کی۔معصومیت طاری کر لی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیسی کمچی دوسری قسط
حصہ سوئم
یہ ڈبل بیڈ یہ ننھا منا فلیٹ۔۔ اس میں ہم سب کیسے رہیں گے واعظہ؟۔۔
الف نے کہا تو وہ مزے سے کندھے اچکا گئ۔۔
شکر کرو سیہون سنگل نہیں ہے ورنہ بیڈ بھی سنگل ہی ہوتا یہاں۔۔
یہ تھی تمہاری پلاننگ ۔
عروج نے طنزیہ انداز میں کہہ کر سینے پر بازو لپیٹے۔۔
واعظہ نے پوری بتیسی چمکائی۔۔
پہلے بتا دوں میں بیڈ کے بغیر سوئوں ایسا ممکن نہیں اور تکیہ کسی اور کو میں لینے دیتی نہیں۔۔
فاطمہ نے ہاتھ اٹھا کر ڈرامائی انداز میں کہا تھا۔۔
نور نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سیدھا بیڈ کی جانب دوڑی۔۔
فاطمہ ایک لمحے کو تو ہکا بکا رہ گئ پھر خود بھی دڑکی لگا دی۔۔
ان دونوں میں اتنی توانائی آتی کہاں سے ہے۔۔
الف نے رشک سے ان دونوں کو بیڈ پر چڑھے ایک دوسرے پر تکیئے سے وار کرتے دیکھا۔۔ خود اس میں تو لگ رہا تھا جان ہی نہیں رہی۔۔
سیہون بھائی کیا کہہ رہے تھے؟۔۔ عزہ نے واعظہ سے پوچھا تو الف ابیہا اور عروج اسے جتاتی نظروں سے دیکھنے لگیں وہ کھسیا سی گئ۔۔ کچھ دیر پہلے کا منظر تازہ ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے دھیان میں وہ پوری توجہ سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔
واعظہ اور وہ عموما کافی بک بک کرنے کے عادی تھے دونوں ہی کو زبان میں کھجلی کا مسلئہ تھا باقیوں کی نسبت ان دونوں نے ایک دوسرے کا سر کھا کھا کر نہ صرف دوستی کر لی تھی بلکہ ایک دوسرے کی کافی مدد بھی کرتے تھے واعظہ کو ہنگل سکھانے میں اسکا کافی ہاتھ تھا تو واعظہ نے اسکی انگریزی کافی بہتر کر دی تھی ۔۔ اتنی کہ گیونگ پوہے پر سیزن لگنے پر جب پوری دنیا سے لوگ چیزی بلاسم فیسٹول دیکھنے آتے تھے تو ا س نے ایک مقامی ادارے میں جز وقتی ملازمت کر لی تھی جو سیاحوں کو کوریائی ثقافت سے متعارف کروانے والے رہنما کے طور پر تھی جب تک یہ میلہ جاری رہتا ایک ڈیڑھ ہفتے تک وہ یہاں رہتا تھا اور انگریزی مترجم کے طور پر سیاحوں کی مدد کرتا تھا۔۔گو یہ وقتی ملازمت تھی مگر اتنا ضرور کما لیتا تھا کہ یہ سب اوپر کی کمائی بچت میں جاتی تھی۔۔ ادارہ بھی کوریا کا بڑا مشہور ادارہ تھا انہوں نے اسے فلیٹ دے رکھا تھا دو ہفتے جب تک یہاں تھا وہ ایک اچھے علاقے کے اچھے فلیٹ میں رہتا تھا ۔۔ یہ اسکا پہلا موسم تھا چیری بلاسم فیسٹول کا اس سے پہلے دو تین چھوٹے میلوں میں ہی شریک رہا تھا۔۔ ابھی بھی جب واعظہ نے بتایا کہ وہ گیونگ پوہے آرہی تو اس نے بڑے خلوص سے اسے اور اسکی سہیلیوں کو اپنے فلیٹ میں رکنے کی دعوت دی تھی۔۔ یہاں سیزن میں کسی ہوٹل میں رکنا کھال اتروادیتا تھا۔ اسکی گرل فرینڈ سیول میں تھی اسکا ہفتے کے آخر میں اس سے ملنے آنے کا ارادہ عین وقت پر کسی مصروفیت کے باعث کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔۔ سو فلیٹ خالی ہی تھا۔۔
بازو کیسے اتر گیا تمہارا؟۔۔
اس نے دیکھ تو لیا تھا مگر پوچھنے کا موقع نہ مل سکا۔۔ سو اب جا کر پوچھا۔۔
مکا بلاک کیا تھا۔۔؟۔ واعظہ ہنسی۔۔
آہنی مکا تھا؟ بلاکج سے بازو اتر گیا ؟ لڑکی تھی یا پہلوان۔۔
وہ بے ساختہ ہنسا۔۔
لڑکی ہی تو نہیں تھی۔۔
واعظہ نے کہا تو اسکا میٹر ہی گھوم گیا۔۔
ہیں۔۔ کس کی جرات ہوئی؟ پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے ؟ کون تھا بد تمیزی کر رہا تھا؟۔۔
ارے ارے سانس لو۔۔ اسکے ردعمل پر واعظہ ہنس ہی پڑی۔۔
یار ساحل پر کچھ امریکی میری دوستوں کا مزاق اڑا رہے تھے تو ان سے جھگڑا ہو گیا۔۔ میری سہیلی اور وہ لڑکی لڑے بیچ میں انکے گروہ کا لڑکا میری سہیلی پر ہاتھ اٹھانے بڑھا میں نے بلاکج کیا پہلی بار زندگی میں اس دائو کو آزمایا تھا کوئی غلطی کی ہوگی۔۔ اب بازو سوج گیا۔۔
اسے پتہ تھا تفصیل سے نہ بتایا تو سیہون کان کھا جائے گا۔۔
میں یہی سمجھا تھا کہ یونہی موچ ووچ آئی ہوگی چلو ابھی ہاسپٹل سے معائنہ کروا لیتے ہیں۔۔ میں اگلے موڑ سے یو ٹرن لیتا ہوں۔
سیہون کافی سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔
سیہون کن چھانا۔۔ ٹھیک ہوں میں ۔۔ اور یہ سب بھی بہت تھکی ہیں پہلے گھر چلو۔۔
اس نے سہولت سے منع کر دیا۔۔
یہ کیا بات ہوئی رات بھر میں تکلیف بڑھ گئ تو۔۔
سیہون کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ اسکی طبیعت کے ضدی پن سے اکثر لوگو ں کے پڑ جاتے تھے۔۔ خاص طور سے اسی کا۔خیال رکھنے والو ں کے۔۔
واعظہ نے گہری سانس بھری۔۔
کین چھنا سیہون ۔۔ میں اب سیول جا کر ہی اسپتال جائوں گی۔۔
ڈھیٹ پنا اپنا میرے ساتھ مت دکھایا کرو۔۔
سیہون نے ڈپٹ کر کہا۔۔ وہ دونوں ہنگل میں ہی باتیں کر رہے تھے مگر پھر بھی واعظہ چونکہ انگریزی پر اتر آئی تھی اپنی بات منوانے کو تو
اتنی دیر سے انکی گفتگو سے یکسر انجان بنی بیٹھی فاطمہ نے بھی مڑ کر اسے دیکھا۔
ہاسپٹل چلنا چاہیے ۔۔ رات تک تکلیف بڑھ گئ تو۔۔ ؟
کچھ نہیں ہوتا یار۔ واعظہ بیزار سی ہوئی۔۔
سیہون سیدھا گھر چلو ۔۔ ایکدم اجنبی بدتمیز انداز میں اس نے کھردرے لہجے میں کہا تو سیہون ہونٹ بھئنچ کر غصے میں رفتار کا چرخہ دبا گیا۔۔ یہ اسکا مخصوص انداز تھا اس کے بعد وہ نہیں سنتی تھی اگلا سر پیٹ لے بھلے۔۔ گاڑی نے اڑنا شروع کر دیا تھا۔۔ پیچھے تینوں اپنی باتوں میں لگی تھیں جبھی امن تھا فاطمہ البتہ بھنا گئ۔۔ اچھا غصہ ہے ۔۔
تبھئ انکی دوستی ہوئی ۔۔ ایک جیسے بد دماغ ہیں
فاطمہ نے منہ بنا کر کھڑکی سے باہر جھانکا ۔۔ چیری بلاسم کے سڑک کنارے درخت شوں شون گزر رہے تھے۔۔
واعظہ پر چنداں اثر نہ تھا مزے سے سامنے سڑک پر نظر جمائے تھئ
عزہ دونوں نشستوں کے بیچ سے نمودار ہوئی۔۔
میل کو کیا کہتے واعظہ۔۔
خط۔۔ بنا لمحے کے انتظار کے جواب آیا تھا۔۔
ارے میل مردانہ والا۔۔ اسکو اردو میں کیا کہتے۔۔۔۔۔ عزہ نے تشریح کی تو الف اور ابیہا ہنس پڑیں۔۔
الو مردانہ ہی کہتے اردو میں مردانہ برادری کی کمی ہے ہماری کہانی میں۔۔
نور نے تشریح کی تو اسکے سوا سب ہی نے بدمزا سا منہ بنایا۔۔
ایوو۔۔
یار یہ سننے میں کتنا برا لگ رہا مردانہ برادری۔۔
عزہ نے جھرجھری سی لی۔۔
یار ہم ایسے ہی زیادہ مزا کر رہے ہیں۔۔ عروج نے کہا تو ابیہا نے قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا۔۔
ہاں یار یا تو گر ہو بھی تو چندی آنکھوں والا کوئی وجیہہ سا جیسے جی چھانگ ووک۔۔
ابیہا کے لہجے سے بتاتے بتاتے شہد ٹپکنے لگا آنکھوں میں ستارے اتر آئے۔۔
جی چھانگ ووک کیسے آسکتا وہ تو ملٹری چلا گیا۔۔
الف اداس ہوئی۔۔
چلو کوئی اور سہی بس ہو ہینڈسم سا اوپا۔۔
عزہ نے مزے سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ڈرامائی انداز دینے کو ہینڈسم سا کے بعد تھوڑا سا وقفہ بھی لے لیا اوپا کہنے میں۔۔
دے۔۔ سیہون نے بیک ویو مرر سے سوالیہ۔نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔
عزہ گڑبڑا گئ۔۔
واعظہ کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی۔۔
وہ میں نے آپکو نہیں کہا۔۔ ہم آپس میں بات کر رہے تھے
عزہ نے اردو میں ہی کہا تھا۔۔
دے؟۔ وہ واعظہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
وہ یہ کہہ رہی کہ تمہاری شکل اسکے بھائی سے ملتی تمہیں دیکھ کر اسے یاد آگیا۔ واعظہ نے دلگیری سے کہا۔ سیہون کی آنکھوں میں ستارے اتر آئے
ہیں؟۔ ابیہا کا پورا منہ کھلا۔۔
چندی آنکھوں والا بھائی؟ کیوں رشتے الجھا رہی ہو واعظہ۔
اس نے قصدا ہنگل میں کہا تھا باقی سب کو اتنی نہیں آتی تھی ہنگل سو خاموش تھیں عروج نے البتہ بے ساختہ مسکراہٹ دبانے کو منہ کھڑکی کی طرف پھیر لیا۔۔
میں آپکے بھائی جیسا ہی تو ہوں۔ مجھے اپنا بھائی ہی سمجھو۔۔ کبھی بھی میری کسی مدد کی ضرورت ہو بلا جھجک کہنا ۔۔ میں اپنی ننھی بہن کا خیال رکھوں گا اب سے۔۔ خود کو تنہا نہ سمجھنا کوریا میں تمہارا یہ بھائی ہے یہاں۔۔
۔ سیہون کے اندر کا بھائئ چارہ ابل ابل کر باہر آنے لگا۔۔ شستہ انگریزی میں بیک ویو مرر سے عزہ سے مخاطب ہوا۔۔
دے؟۔
عزہ کی آنکھیں اپنے حجم سے بڑی ہوگئ تھیں۔۔
ابیہا کو ہنسی روکنے میں اچھو ہی ہو گیا کھون کھوں میں واعظہ نے باقاعدہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی ضبط کی۔۔
تم لوگ بھائی کو کیا کہتے ہو اپنی زبان میں۔۔؟
سیہون کی پوری توجہ ننھی بہن پر تھی۔۔
بھائئ۔۔ عزہ کئ ساری شوخی ہوا ہو گئ تھی
الف نور کے کان میں گھسی تھی۔۔
اسے اچانک کیا ہوا۔۔؟
ایک اوپا ملا کوریا میں۔۔ وہ بھی جھٹ سے بھائی بن گیا
نور کو جانے کیون غصہ آگیا۔۔
اور پہنو عبایا۔۔
الف نے اسے اور چڑایا۔۔
سچی تو یہ بھائی والی کہانی مزے کی تھی الف کو عزہ کے اپنی گود میں چڑھ کر بیٹھنے کا دکھ ہی بھول گیا۔۔
ٹھیک ہے سو آئیم یو ر بھائی۔۔ اوکے۔۔
جی۔۔ عزہ کی آواز اتنی مدھم ہوئی کہ بس اسے ہی سنائی دی۔۔
بہن کو کیا کہتے؟۔۔ اسے خیال آیا۔۔
بہن۔ تم اسے عزہ بہن کہہ لیا کرو۔
واعظہ نے عزہ کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔۔
ہیں۔۔ عزہ نے واعظہ کو گھورنا چاہا۔۔ مگر بھیا کا جی نہیں بھرا تھا۔۔
عزہ بہن۔۔ ٹھیک ہے۔۔ سیہون خلوص سے مسکرا دیا۔۔
گاڑی رکی تو عروج تواور نور تو اتر گئیں مگر ابیہا اور الف گھٹنے سہلاتی رہ۔گئیں۔۔ سیہون ڈگی سے سامان نکال رہا تھا۔۔
یار ویسے ہم نے بھی عالمی ریکارڈ بنایا ہے ۔۔
سب سے زیادہ قومیت کے لوگ اکٹھے ایک گاڑی میں بیٹھ کے پھرے۔۔
یہ نور تھی۔۔ چہک کربولی۔۔ تو فاطمہ نے اسکا بیگ زمین سے اٹھا کر اسے تھما دیا۔
یہ لو انعام ایک نیا عالمی ریکارڈ بنانے کا۔۔
نور منہ بنا کر رہ گئ۔۔ عزہ اقر ابیہا بیگ اٹھانے بڑھیں تو بھیا نے سہولت سے منع کر دیا۔۔
لیو اٹ عزہ بہن۔۔ میں اٹھا لیتا ہوں۔۔
عزہ بہن۔ کوریائی لہجے میں بلکہ سخت کوریائی لہجے میں عزہ بہن سن کر عزہ کا دل اسے فورا اس رشتے سے مکر جانے کو چاہا۔۔
لیکن فائدہ اپنا تھا بھیا نے بقیہ سارے بیگ اپنے اوپر لاد لیے تھے۔ نور کو البتہ فاطمہ کو کچا چبانے کا دل کر رہا تھا۔۔
کیا جلدی تھئ اسکا بیگ اسے تھمانے کی؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہیں فلیٹ میں چھوڑ کر جاتے جاتے بھی عزہ سے اس نے علیحدہ سے پوچھا
کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔
نو۔۔ اس نے سر ہلا۔دیا۔۔
اچھا پھر میں چلتا ہوں۔۔ آنیانگ۔۔
وہ جھک کر انہیں الوداع کرتا جانے لگا۔۔ یہ سب فلیٹ کا جائزہ لینے میں مگن تھی واعظہ اسے چھوڑنے دروازے پر آئی تو وہ دروازے سے نکل کر رک گیا۔۔ پھر پلٹ کر اسے دیکھنے لگا
واعظہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو جھجک کر بولا۔۔۔
یار میری انگریزی بھی زیادہ اچھی نہیں ہے تم۔مگر یہ اسے دے دینا۔۔
اس نے گلے سے زنجیر اتار کر اسے تھمائی۔۔
یہ میری بہن کا تھا۔۔ میری بہن کو دے دینا۔۔
اسکی ضرورت نہیں ہے سیہون۔۔
واعظہ سنجیدہ ہوگئ۔۔ اسکا چھوٹا سا مزاق کافی سنگین ہوتا جا رہا تھا۔۔
مجھے جا رو کے بعد پہلی بار کسی نے بھائی کہا ہے پورے آٹھ سال بعد۔ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔۔
تم نہیں سمجھو گی۔۔
سیہون کی چندی آنکھوں میں واضح نمی چمکی تھی۔۔ ۔مسکرا کر اس نے واعظہ کا ہاتھ تھام کر زنجیر اسکی مٹھی میں رکھ کر بند کر دی۔۔
مگر۔۔ واعظہ نے کچھ کہنا چاہا مگر اس نے موقع نہیں دیا۔ اسکی آنکھوں میں نمی بڑھتی جا رہی تھی۔۔ وہ مزید اسکے سامنے ٹھہر نہیں پایا۔۔
یاد سے دے دینا اسے۔۔ آنناینگ۔۔ وہ مسکرا کر کہتا ہاتھ ہلاتا تیز تیز قدم اٹھاتا بڑھ گیا۔۔
واعظہ نے مٹھی کھول کر لاکٹ دیکھا۔۔
وہ عجیب سی شکل کا علامتی لاکٹ تھا کس لیئے تھا نہیں معلوم ہونے کے باوجود کافی بھاری لگا تھا اسے۔۔
اور یہ وزن اسکئ ہتھیلی پر نہیں دل پر تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے عبایا اتار اتار کر انہوں نے کوٹ اسٹینڈ پر ڈالے تھے۔۔
اف ۔۔ دل۔کرر ہا بس فورا سو جائوں۔۔
فاطمہ باقائدہ جمائی لیکر بولی۔۔ نہانے کی ہمت کسی میں نہ تھی ہاں سب نے کپڑے بدل۔لیئے تھے۔۔ عبایا اتر جانے کے بعد سب کم و بیش ایک جیسے ہی حلیئے میں تھیں سویٹ پینٹ اوراپر۔۔
ویسے مجھے نہیں پتہ تھا کوریائی بھی اتنے جزباتی ہوتے۔۔۔
نور مسہری پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تبصرہ کر رہی تھی۔دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں گھسائے اپر کا ٹوپا سر پر چڑھائے چمکتی آنکھوں سے دیکھتی وہ جیسے فل۔چارج تھئ۔۔
کیا جزباتی پن دکھا دیا کورئینز نے۔۔ عزہ نے پوچھا تو مگر جواب سننے ٹھہری نہیں وہ رات کو ٹہل کر ہی سوتی تھی سو ابھی بھی اس نے اس مختصر سے فلیٹ میں بھی اپنا چہل قدمی کا معمول خراب نہ کیا تھا ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر۔۔ پھر رہی تھی۔۔
عروج کے کندھے سے سر نکال کر جھانکا چائے دم پر تھی مطمئن ہو کر پلٹ آئی۔۔
یہی ایکدم سے یہ نقلی سیہون جزباتی نہیں ہو گیا تم۔نے اوپا کیا کہہ دیا بھائی ہی بن گیا فورا۔۔
نور نے سلسلہ کلام اسکی واپسی پر وہیں سے جوڑا۔۔
عزہ سوچ میں پڑ گئ۔۔
ہوں۔۔ اوپا کا مطلب کیا ہوتا بھلا۔۔ میں نے تو بس فیس بک پر سب کو کورین سیلیبریٹیز کو اوپا کہتے دیکھا بس میں تو سمجھی تھئ سیلیبریٹی کو اوپا کہتے۔۔
اس نے کہا تو فاطمہ ہنسی
میں تو شروع شروع میں پارک ہیونگ سک کا نام اوپا سمجھتی رہی تھئ۔۔
نور نے محظوظ قہقہہ لگایا۔
مجھےتو لگا تھا اوپا کاسٹ ہوتی جیسے ہم شاہ جی کہہ کر مخاطب ہوتے نا سیدوں کو ویسے شائد کورین اوپا کہتے ہونگے۔۔ اونچی زات والوں کو۔۔
اس نے ہنستے ہنستے ہاتھ پر تالی مارنے کو فاطمہ کی جانب بڑھایا اس نے ابھی نائٹ کریم بھر کر ہتھیلی پر نکالی تھی نور نے ہاتھ بڑھایا تو وہی ہتھیلی آگے بڑھا دی۔۔ پورا ہاتھ سن گیا نور کا ۔۔
فاطمہ ہنسے گئ تو وہ بھی منہ بنا کر کریم کو ہاتھوں میں ملنے لگی۔۔
الف ان سے بے نیاز نیم دراز موبائل میں مگن تھی۔۔ اسکا یہ وقت اپنا سوشل میڈیا اکائونٹ اپڈیٹ کرنے کا ہوتا تھا۔۔
سو تصویریں اپلوڈ ہو رہی تھیں لیٹ کر۔۔
فاطمہ نائٹ کریم کا مساج کرنے میں مگن تھی۔۔ ابیہا اور واعظہ الماری میں گھسی بستر نکال رہی تھیں۔ نکال تو ابیہا ہی رہی تھی۔۔ واعظہ بس ساتھ کھڑی باتیں بگھار رہی تھی آج تو واقعی بیچاری کا بازو کام نہیں کر رہا تھا۔۔
ہاں یار میں خود حیران اوپا بھائی کو کہتے ہیں کیا واعظہ؟۔۔
عزہ کو خیال آیا تو اٹھ کر انکے پاس چلی آئی۔۔
ابیہا اور واعظہ ایکدم چپ ہوئی تھیں۔۔
اوپا جناب کی۔طرح استعمال ہوتا لڑکوں کیلئے اگر انہیں آپ نے عزت سے اور تھوڑا ضرورت سے زیادہ فری ہو کر مخاطب کرنا ہو تو۔۔
جواب عروج کی۔جانب سے آیا تھا پیپر کپ میں چائے نکال کر وہ چھوٹی ٹرے میں لائی تھی۔۔ ایک۔عزہ کی طرف بڑھاتے ہوئے تفصیل سے بتایا۔۔
اچھا؟ ۔۔ عزہ حیران ہوئی۔۔ پھر سیہون کو کیا ہوا تھا
اچانک۔
وہ سوچ میں پڑی۔۔
عروج نے جتاتی نظروں سے گھورتے واعظہ کو کپ تھمایا وہ تھوڑی شرمندہ ہو گئ تھی۔۔ سو خاموشی سے کپ اٹھاتی سر جھکا کر کونے میں ہو گئ۔۔
ہاں یار انکے ڈراموں میں ہیروئنیں اوپا کہتی ہیں نا کتنا زیادہ۔۔ بھائی تو ہیونگ ہوتا ہے ہے نا۔۔
الف کے کان ادھر ہی لگے تھے۔۔
جلدی جلدی چائے پیو اور لیٹو سب مجھے سخت نیند آرہی۔۔
ابیہا نے موضوع بدلنے کو کہا۔ خود اپنا کپ زمین پر کونے میں ٹکا کر سلیپنگ بیگز قطار سے بچھانے لگی۔
یار چائے پی کر تو نیند اڑ نہیں جائے گی؟۔
عزہ نے پوچھا مگر سب کو اس سے اتفاق نہیں تھا۔۔
کوئی نہیں ار درد کم ہوگا تو اچھی نیند آئے گی۔۔
یہ نور کی۔تھیوری تھئ۔۔ کیا بی ٹی ایس تھیوریاں نکالتے ہونگے جو نور نکالا کرتی تھئ۔۔
تم لوگ جلدی سوئو صبح میں نے آٹھ بجے جگا دینا ہے۔۔ یہ شوشا ابیہا نے چھوڑا تھا
کیوں بھئ۔۔ سب نے بھرپور احتجاج کیا تھا
الف تک۔اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔
یار صبح جلدی نکلو گے گھومو پھروگے تو ہی ہم شام سے پہلے سیول پہنچ پائیں گے۔۔ پرسوں سب نے یونیورسٹی نہیں جانا؟۔ ابیہا نے گھرکا تو انکو بھی بات دل۔کو لگی۔
یار میں نہیں چائے پی رہی ۔۔ یہ لو۔۔
نور نے جھلاہٹ بھرے انداز میں کہہ کر ابیہا کی۔جانب کپ بڑھایا۔۔
مگر کیوں ۔۔ وہ حیران ہی رہ گئ۔
کپ تھاما تو خالی تھا نور شرارت سے ہنس پڑی۔۔
باز مت آنا تم۔۔ ابیہا نے دانت پیسے
دل تو کیا سر پر ہی مارے کپ۔۔مار بھی دیتی اگر پیپر کپ نہ ہوتا اسے سر پر بجانے سے تو جوں بھی نہ مرتی۔۔
فاطمہ کو سخت نیند سوار ہو رہی تھی اپنا کپ ابیہا کو تھماتے ہی بے دم ہوئی تکیہ پر سر ایک۔کشن منہ پر منٹ بھر میں سو بھی گئ۔۔
دو دو گھونٹوں میں چائے ختم کر کرکے سب بنا جھگڑے سونے کیلئے اپنی اپنی جگہ کی طرف بڑھی تھیں۔۔
نور الف فاطمہ اورعروج مسہری پر سونے لگی تھیں۔۔ عزہ واعظہ اور ابیہا کیلئے سلیپنگ بیگ انکے پیتھیانے بچھا ئے گئے تھے۔۔ کمرے کی چہل۔پہل ایکدم کم ہوئی تھی۔۔
واعظہ سیدھی لیٹنا کروٹ مت لینا۔ ابھی پکا نہیں پتہ کہ بازو کی بچت ہوئی ہے کہ نہیں۔۔
عروج بازو آنکھوں پر رکھ کر سونے ہی لگی تھی کہ خیال آیا تو اٹھ بیٹھی۔۔
وہ الو سوئے گی تب نا۔۔
ابیہا نے سلیپنگ بیگ میں سے کسمسا کر باہر جھانکا تو اسکا پڑوس خالی تھا۔۔ کہاں گئ۔۔ اس نے اٹھ کر دیکھا تو دور پورے کمرے جتنئ بڑئ شیشے کی کھڑکی کے پاس نظر آئی۔۔
ابیہا نے گھور کر واعظہ کو دیکھا ہھر بڑ بڑاتی دوبارہ بیگ میں گھس گئ۔۔عروج گہری سانس بھرتی بیڈ سے اتر آئی۔۔ سامنے ہی عزہ کا سلیپنگ بیگ پڑا تھا۔۔
عزہ سلیپنگ بیگ میں کروٹیں بدل رہی تھی
اس نے جھک کر ہلایا تو اس نے کچھوے کی طرح گردن باہر نکالی۔۔
کیا ہوا ؟ بیگ میں سویا نہیں جا رہا؟۔۔
عروج نے پوچھا تو ردعمل بالکل توقع کے برعکس تھا
نہیں اتنا مزے کا لگ رہا پورا بند ہو جاتا بالکل ٹھنڈ نہیں لگ رہی اوپر سے کتنا نرم سا ہے یہ جیسے کمبل کا غلاف چڑھا لیا ہو خود پر۔۔
انتہائی خوش اور لطف اندوز ہونے والا انداز تھا۔۔
پاگل۔۔
عروج کو اسکے انداز پر ہنسی ہی آگئ۔۔ سر پر چپت لگاتی اسکے پاس سے جگہ بناتی ہوئی آگے آکر سوئچ بورڈ سے بتئ بجھا تی واعظہ کے پاس چلی آئی۔۔
۔۔ شہر کی جھلمل کرتی روشنیاں اونچائی سے دیکھنے میں بہت بھلی لگ رہی تھیں۔۔
واقعی بہت پیارا منظر ہے ۔۔ عروج نے کہا تو واعظہ اپنے ہی کسی دھیان سے چونکی۔۔
ہاں ۔۔ کونسا۔۔
کدھر گم ہیں محترمہ؟۔۔ عروج نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔
یہی سوچ رہی تھی کل اتوار ہے پیر کو سب نے ہی اپنے معمولات پر واپس جانا ہوگا تو ہم کل اگر گھومتے ہوئے دیر لگا بیٹھے تو رات تک مشکل ہو جائے گا سیول پہنچنا اور تھکن سب کو ہی بہت ہے پیر کو صبح اٹھ کر کام۔پر جانا مشکل ہوجائے گا۔۔
واعظہ نے تفصیل سے بتایا مگر عروج کو یقین نہ آیا
یہی سوچ رہی تھیں؟۔۔
ہاں تو؟ تمہیں کیا لگا سیہون کے بارے میں سوچ رہی تھی یار پرایا مال ہو گیا ہے وہ گرل فرینڈ ہے اب اسکی۔۔
وہ ہنس کر ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔۔
عروج مسکرا دی اب اگر کوئی آپکو کچھ نہ بتانا چاہے تو آپ کر بھی کیا سکتے۔۔
ویسے میری کل رات کو نائٹ ہے۔۔
عروج نے کہا تو واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
تم لوگ گھومتے پھرتے میرا ارادہ تھا صبح کی بس پکڑنے کا۔۔ لیکن میرا خیال ہے تم بھی ساتھ ہی چلو میرے انہیں گھومنے دو۔
اسکے مشورے پر واعظہ ہنس پڑی۔۔
انکو اکیلے کیسے چھوڑ کر جا سکتی یار ۔۔۔۔
کیوں نہیں جا سکتی ہو؟۔چھوٹی بچیاں تھوڑی ہیں آجائیں گی پاکستان سے یہاں آسکتی ہیں تو یہاں بھی آرام سے کہیں بھی جا سکتی ہیں۔۔
عروج کا انداز قائل کرنے والا تھا۔۔ واعظہ اسے دیکھتی رہی پھر قصدا بات بدل گئ۔۔
تمہیں ویسے کیا لگتا فریکچر تو نہیں ہے نا یہ؟۔۔
جتنے آرام سے یہاں کھڑی تانکا جھانکی کر رہی ہو اس سے تو نہیں لگتا کہ فریکچر ہے۔۔
عروج کے سارے ہمدردی بھرے جزبات بھاپ بن کر اڑے تھے۔۔ جل کر بولی۔۔ واعظہ زور سے ہنس کر لپٹ گئ۔۔
اچھا نا ناراض کیوں ہو رہی ہو۔۔
وہ منا رہی تھی۔۔
دفع۔۔ عروج نے کہا تو سخت ہی انداز میں دل تو دھکا دیکر پیچھے کر نے کا ہی کیا تھا مگر بے چاری کا بازو۔۔
ترس بھی آگیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے ٹہلتے ٹہلتے تھک گئ تو وقت دیکھا صبح کے ساڑھے پانچ ہو رہے تھے۔۔نیند آنکھوں میں دور تک نہیں تھی۔۔ اسکے سوا یہ سب بے خبر تھیں۔۔ وہ انکی۔نیند پر رشک کرتی رہ۔گئ۔۔
پو پھٹ رہی۔تھئ۔۔ کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے تھے ابھی یہاں سورج کی ساری روشنی پھیل۔جانی تھئ اس نے اٹھ کر سب پردے برابر کیئے اور آکر ابیہا کے برابر بچھے سلیپنگ بیگ میں گھس گئ
ایک آدھ گھنٹے بعد اٹھا دوں گی انہیں۔۔
اگلے دن کا پروگرام بناتے جانے کب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوئی پتہ نہیں۔ چلا۔۔
جانے کتنا وقت بیتا جب غیر مانوس آوازوں کے شور سے آنکھ کھلی تھئ اسکی۔۔ نیم وا آنکھوں سے اس نے جو دو ہیولوں کو آپس میں الجھتے دیکھا تھا۔۔ پٹ آنکھیں کھلی تھیں اسکی۔
وہ ایکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیسی کمچی قسط دو حصہ چہارم
صبح سب سے پہلے فاطمہ کی آنکھ کھلی تھی۔۔ ڈبل بیڈ پر چار لوگ سوئے تھے جس کروٹ جو سویا اسی کروٹ رات گزار دی اسکی بھی گردن اکڑ سی گئ تھی۔۔ انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی تو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔
سب سو رہی ہیں؟ میں ہی کیوں اٹھ بیٹھی۔۔
اسے شدید افسوس ہوا اپنی آنکھ کھلنے پر۔ جمائی لیتے ہویئے موبائل میں وقت دیکھا تو ڈیڑھ ہو رہا تھا۔۔
ہیں۔۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا۔۔ ۔واعظہ نے اٹھایا کیوں نہیں ہم تو لیٹ ہو گئے۔۔
وہ ہڑبڑا کر بستر سے اتری تو واعظہ سلیپنگ بیگ میں گھسی بے خبر سوتی فورا ہی نظر آگئ۔۔
اوہ۔۔ یہ ہی سوتی رہ گئ۔۔
اس نے سوچا کہ جھک کر اٹھائے اسے تبھی دروازے پر اطلاعی گھنٹی بجی۔۔
زور دار آواز پر بس ابیہا ہی کسمسا کر کروٹ بدل گئ۔۔
فاطمہ فی الحال انہیں جگانے کا ارادہ ترک کرتی دروازے پر چلی آئی۔۔
حسب عادت سیدھا دروازہ کھول دیا بنا سیکوریٹی کیمرہ میں دیکھے۔۔ بڑا سا گلدستہ سامنے تھا
سر پرائز۔۔
بڑے پرجوش سے انداز میں مسکرا کر چلاتی وہ ایک حسین کوریائی دوشیزہ تھی۔۔ غیر متوقع شخصیت کو سامنےپا کر اسکے مسکراتے لب ایکدم بھنچ سے گئے۔۔
نائو دگونی؟؟۔ ( کون ہو تم) اس نے کافی درشت انداز میں پوچھا تھا۔۔
ہائے۔ فاطمہ کو سمجھ نہ آیا کیا کہہ رہی سو مسکرا کر انگریزی سلام کردیا۔۔
نائو دگونئ؟۔ وہ اس بار غصے سے چلا اٹھی۔۔
واٹ نائو دگونی؟آئی کانٹ انڈر اسٹینڈ ہنگل ؟
فاطمہ نے اسے بتانا چاہا مگر وہ ایکدم بپھر سی گئ
سیہونا۔۔ وہ اسے ایک طرف کرتی بڑے بھڑکے ہوئے انداز میں اندر داخل ہونے لگی۔۔
ایک منٹ ۔۔ فاطمہ نے بمشکل اسے پکڑ کر بریک لگائی۔۔
ہو آر یو؟۔۔ تم ایسے اندر نہیں آسکتی ہو
فاطمہ نے تحمل سے ہی پوچھا تھا۔۔
ہو آر یو ۔؟
جوبا وہ پورے حلق سے ہنگل میں چلائی۔۔
میرے بوائے فرینڈ کے فلیٹ میں کیا کر رہی ہو تم۔۔
انتہائی غصے سے اس نے فاطمہ کو دھکا دیا۔۔
کالم ڈائون ۔۔
فاطمہ نے آج سارا تحمل کا مظاہرہ کر دینا چاہا۔۔
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے بات کرنے پر آمادہ کر نے کو اسکے آگے آکر اسے مزید اندر گھسنے سے روکنا چاہا۔۔ وہ جھلا کر فاطمہ کو ہٹا تے اندر کی جانب بڑھی مگر فاطمہ کے آگے اسکی تگ و دو بیکار گئ۔۔
نائو دگونی ؟ سییونا ۔۔ کہاں ہو تم سامنے آئو۔۔
سیہونا۔۔ وہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی فاطمہ کو دھکے دے کر اپنے سامنے سے ہٹانے کی کوشش کرتے جب ناکام ہوئی تو فاطمہ پر پل پڑی۔
تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے بوائے فرینڈ کے فلیٹ میں گھسنے کی۔۔
اس نے زور دار تھپڑ فاطمہ کے لگا دیا تھا۔۔
ہنگامے سے سب جاگ اٹھی تھیں۔۔
فاطمہ نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ لیئے۔۔ گو غصہ اتنا ہی آیا تھا کہ دل کیا رکھ کر ایک جوابا اسکے بھی گال پر جما دے مگر سختی سے دانت پیستے اسے روک کر تنبیہہ کی۔
شٹ اپ۔۔ بئ ہیو یور سیلف۔۔
اس نے کہہ کر جھٹکے سے اسکے ہاتھ چھوڑے وہ ایک لمحے تو فاطمہ کے زیر اثر آئی مگر پھر فورا اسی جنون میں اسکی جانب بڑھی۔۔نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی ابیہا معاملہ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی اسے بپھری شیرنی کی طرح فاطمہ پر حملہ کرتے دیکھا تو فورا آگے بڑھ کر اسے روکنے لگی۔۔
ایک دو۔ خود کو چھڑاتے ہوئی میری جنونی ہوئی وی تھی۔۔
۔ الف چھلانگ لگا کر جائے وقعہ پہنچی عزہ عروج اور واعظہ بھی۔۔
ایک دو تین۔۔ لڑکیاں گنتے میری کا سر چکرا گیا۔۔ اسکے جنون کو یک لخت ہی بریک لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس ٹرمینل پر سیہون اپنی دوست کے ساتھ انہیں چھوڑنے آیا تھا۔۔ اس بار واعظہ نے انہیں ٹیکسی کرادی تھی ورنہ عروج پکا اسے کچا چبا جاتی۔۔
میری شرمندہ تو ہوئی تھی مگر انکے عبایا دیکھ کر اب حیران سی کھڑی تھی۔۔
معزرت تو کرو میری۔۔
سیہون درشت نظروں سے میری کو گھورا تو اس نے گڑ بڑا کر نظر ہٹائی۔۔ اور فاطمہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔
میں معزرت خواہ ہوں اپنے بوائے فرینڈ کے فلیٹ میں اچانک انجان لڑکی کو دیکھ کر میرے حواس گل ہو گئے تھے میں نے بہت برا رویہ اپنایا آپکے ساتھ
مجھے معاف کر دئیجئے۔۔
مخصوص کوریائی انداز میں اس نے جھک کر فاطمہ سے ہنگل میں معزرت کی تھی۔۔ اسکے بول چکنے کے بعد سیہون نے اسکی جانب سے ترجمہ کیا تھا۔۔
واعظہ نے فاطمہ کو آنکھ کے اشارے سے معزرت قبول کرلینے کو کہا۔۔ اسکا گال ابھی بھی سرخ سا ہو رہا تھا۔۔ آج پہلی بار ہی کسی کا لحاظ کر لیا تھا سزا بھی فوری ملی۔۔
ابیہا نے بھی ٹہوکا دیا تو اس نے گہری سانس بھر کر کہا۔۔اٹس اوکے۔۔
اسکے تاثرات تنے تنے ہی تھے۔۔۔
وہ یہ بہت جزباتی ہے دل کی بری نہیں بس کبھی کبھی بہت اوور ری اکٹ کر جاتی ہے مگر یقین کیجئیے یہ واقعی دل سے معزرت کر رہی ہے ۔۔ میں بھی بہت شرمندہ ہوں اور اسکی جانب سے میں بھی آپکو سوری کہتا ہوں۔۔
اس بار سیہون آگے بڑھ کر معزرت کر رہا تھا۔۔
اٹس اوکے۔۔
معزرت قبول کر لینے کے باوجود اسکا مزید ابھی کچھ بھی کہنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔ ۔۔
اچھا سیہون پھر اگلے مہینے ملاقات ہوتی ہے۔۔
واعظہ نے کہا تو وہ سرجھکا کر پھر اس سے معزرت کرنے لگا۔۔
واظہ آئی ایم رئیلی ویری ویری سوری۔۔
بس بھی کرو سیہون۔۔ کافی ہو گیا ہے۔۔
واعظہ نے بھی انگریزی میں ہی اسے جواب دیا۔۔
فاطمہ سب سے پہلے بس میں سوار ہوئی تھی۔۔
گڈبائے عزہ بہن۔۔
اس نے عزہ کو علیحدہ سے خدا حافظ کہا تھا۔۔
گ ڈبائے۔ اس نے بھی جوابا اخلاق سے ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔۔
اس بار ان سب کی نشستیں تھیں۔
ٹرپ کا خلاصہ ؟۔۔ نور نے مڑ کر واعظہ کو دیکھا۔۔
ہم نے گیونگ پوہے ساحل دیکھا۔۔
الف کی جانب سے جواب آیا تھا۔۔
فاطمہ نے گوری لڑکی کی ٹھکائی کی۔۔
عزہ فاطمہ کے ساتھ بیٹھی تھی اسی کی جانب اشارہ کرکے چہکی۔ فاطمہ نے برا سا منہ بنا کر کھڑکی کی طرف منہ کرلیا
مرچیلا سوپ پیا اور کچی مچھلی کھائئ۔۔
عروج کو اپنا دکھ تازہ ہوتا محسوس ہوا تھا
میں نے بڑے ہو کر پہلی بار گود میں بیٹھ کر سفر کیا گھس پھنس کر گاڑئ کا سفر کیا سلیپنگ بیگ پر سوئی اور تو اور کھو بھئ گئ۔۔ عزہ کے پاس کافی کچھ تھا بتانے کو۔۔ وہ انگلیوں پر گن رہی تھی
ایک تھانے کا سیر کرنے کی کثر رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہوئی۔۔
ابییہا نے منہ بنا کر کہا۔۔
میں نے گھوم پھر کر ویڈیوز بنائی اتنی اعلی فوٹوگرافی کی ہے دیکھنا ۔۔
نور چہکی۔
ابھی ہم میوزیم اور وہ تاریخی عمارتوں والی جگہ تو جا نہ سکے۔۔ وہاں بھی جاتے تو اور مزا آتا۔۔
الف کو قلق ہوا۔۔ واعظہ کو اس سے بھی زیادہ۔۔۔
خود پر غصہ ہی آگیا۔۔
میری وجہ سے ۔۔ میں منحوس سو گئ۔۔ سو منحوس لوگ مرے ہونگے جو میں پیدا ہوئی ہوں انکی کمی پوری کرنے۔۔ ایسے تو نیند نہیں آرہی تھی سوگئی تو اتنے گھنٹے پڑی سوتی ہی رہ گئ۔۔ معزرت بہنوں۔۔
ابیہا اسکے جملے کے بیچ میں ہی اسے دو تین لگا چکی تھی۔۔ مگر اس نے اپنا جملہ پورا کر ہی دیا۔۔
بکواس بکواس بکواس کروا لو جتنی مرضئ۔۔
ابیہا نے زبانی بھی دھلائی مناسب سمجھی
اتنی بھی بڑی کوئی بات نہیں واعظہ اچھا ہوا سو گئیں تین دن بعد بھی نہ سوتیں تم؟۔
عروج نے بھی گھرکا
ارے یار پھر آجائیں گے۔۔
نور اور الف نے بھئ عروج کی تائید کی۔
اور پہلی بار فاطمہ کا مزاج بھی بگڑتا دیکھا ورنہ یہ تو ہر وقت ہنستی رہتیہے
نور کو آخری بات یاد آئی تو منہ نیچے کرکے دھیمی سی آواز میں بولی۔۔ یہ چاروں آگے پیچھے ہی بیٹھی تھیں عروج واعظہ کے بائیں جانب والی نشست پر اکیلی بیٹھی تھی۔۔ اسے رازداری پر اترتے دیکھ کر وہ بھی انکے قریب ہوئی۔۔
کیا ہوا؟۔ واعظہ نور کی جانب جھکی تو اس نے واعظہ سے پچھلی نشست پر بیٹھی فاطمہ کی جانب اشارہ کیا تھا یہ سب گھوم کر اسے دیکھنے لگیں۔۔
عزہ بیگ سے فاطمہ کی پسندیدہ چاکلیٹ نکال کر اسے دے رہی تھی اور پتہ ہے فاطمہ نے کیا کیا؟۔۔
اس نے نرمی سے منع کر دیا اور منہ پھیر کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیول سینٹرل اسپتال کے باہر ٹیکسی نے انہیں اتارا تھا۔۔ انکے ساتھ ایک ایمبولنس بھی سائرن بجاتی داخل ہوئی تھی۔۔
مستعد عملہ فوری بڑھا تھا ایمبولنس کی جانب دو ڈاکٹر بھی تیزی سے ایمبولنس کی جانب بڑھے تھے۔۔
شائد ایک سے زیادہ مریض تھے۔۔ واعظہ بلا ارادہ ہی رک کر دیکھنے لگی۔۔ شائد کوئی حادثہ ہوا تھا۔۔ اسکا اندازہ درست نکلا پہلا اسٹریچر آکسیجن لگی ہوئی کوئی دبلا سا جوان لڑکا مگر خونم خون اور دوسرا۔
ٹیکسی والے کو معاوضہ ادا کرکے عروج مڑی تو واعظہ کو تاسف سے ایمبولنس سے نکلتے مریضوں کو تکتا پایا۔۔ گہری سانس لیکر اسکے پاس آئی ہلکے سے ٹہوکا دے کر اسے متوجہ کیا۔۔
یہ روز کا معمول ہے۔۔ چلو اندر چلیں۔۔
عروج نے کہا تو وہ سر ہلا گئ۔
اللہ رحم کرے ان پر ۔۔ واعظہ کو بہت تاسف ہورہا تھا
صدق دل سے دونوں نے آمین کہا تھا۔
اسپتال روشنیوں میں جگمگاتا لگ ہی نہین رہا تھا رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے۔۔ اندرداخل ہوتے ہوئے واعظہ نے بڑی سنجیدگی سے عروج سے پوچھا۔۔
عروج اتنے بڑے اسپتال میں کام کرتی ہو؟۔۔
عروج اپنے دھیان میں تھی فورا سر ہلایا۔۔
کام تو کرتی ہو نا۔۔
واعظہ نے کہا تو اس نے تپ کر اسکے کندھے پر ایک۔لگائئ۔۔
نہیں میں کیوں کام۔کرنے لگی۔۔ میرے تو ابا کا اسپتال ہے۔۔
واعظہ کا کندھا ہل گیا تھا۔۔ ہنس بھی نہ سکی اسے چڑا کر کراہ کر رہ گئی۔۔
یہاں پروفائل بنوائو میں زرا اپنی اٹینڈنس لگا آئو۔
عروج اسے کائونٹر پر چھوڑتی خود گیلری میں سے کہیں نکل گئئ۔
آننیانگ ہاسے او۔۔
چندی آنکھوں والی مہربان سی شکل والی نرس نے خوشدلی سے اسے سلام کیا۔۔
آننیانگ۔۔ واعظہ نے بھی جوابا خوشدلی سے ہی جواب دیا۔۔
کیا نام ہے آپکا ۔ سخت کوریائی لہجہ تھا اسکا۔۔
دے؟۔ واعظہ کا انداز استعجابیہ دیکھ کر وہ مسکرا دی۔۔
آپکا نام؟۔۔ اس بار اس نے ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا۔۔
واعظہ۔۔
ووا۔۔۔ وہ لکھتے لکھتے ٹھٹکی۔۔
دے؟۔ واعظہ۔۔ اس نے تائید چاہی تھئ۔۔
دے مائی نیم از واعظہ۔۔
واعظہ زہرا۔۔ اس نے اپنے نام پر زور دے کر کہا تو اس لڑکی کے چہرے پر مسکینی سی اتر آئی۔۔
ز۔۔
تبھی ایک خوش شکل سا کوریائی نوجوان کائونٹر پر آکھڑا ہوا۔۔
آننیانگ ۔۔ ڈاکٹر سے گی آئے ہیں آج؟ اس وقت کہاں ہونگے۔۔
شستہ ہنگل میں اس نے پوچھا تھا۔۔ واعظہ کائونٹر پر بازو ٹکا کر اسکے جانے کا انتظار کرنے لگی۔۔
دے۔۔ اس وقت شعبہ دل کے امراض میں ہیں۔۔
وہ شائد ڈاکٹر تھا ۔۔ نرس نے فورا مڑ کر لیپ ٹاپ میں ڈھونڈ کر بتایا تھا۔۔
ٹھیک ہے۔ شکریہ۔
وہ مسکرا کر پلٹنے کو تھا کہ کچھ یاد آیا۔۔ نرس اب مریضہ کی جانب متوجہ ہوگئ تھی۔۔
عمر۔۔ اسکا اگلا سوال
پینتالیس سال۔۔
واعظہ نے ہنگل میں کہا تھا۔۔
چھا شی بو۔۔
دے؟۔ نرس کی آنکھیں کھل گئ تھیں۔۔
اس ڈاکٹر نے بھی دل چسپی سے اس پینتالیس سالہ بڑھیا کو دیکھا۔۔ گوری سی عربی نقوش کی بمشکل بالشت بھر بالوں کی اونچئ سی پونی بنائے بلیو جینز اور آف وائیٹ ٹاپ میں کھڑی ببل چبا رہی تھی۔
چھا شی بو۔۔ واعظہ سمجھی کہ اسے سمجھ نہیں آیا سو دوبارہ دہرایا۔۔
آندے یہ نہیں ہو سکتا۔۔
نرس نے کہا تو واعظہ منہ بنا گئ۔۔
ایک تومیں اپنی عمر سے بڑی کیوں لگتی۔۔وہ بڑ بڑا گئ۔
دیکھیں میں دیکھنے میں تھوڑی بڑی لگ رہی ہونگی مگر اتنی ہوں نہیں۔۔
اس نے غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔ وہ مسکرا کر آگے بڑھا یقینا زبان کا فرق تھا جو ان دونوں کے درمیان غلط فہمی کا باعث بن رہا تھا۔۔
آندے۔۔ آپ جتنئ عمر بتا رہی ہیں اس سے کم ازکم بھی پندرہ بیس سال چھوٹی لگ رہی ہیں۔۔
اس نے محظوظ سے انداز میں انگریزی میں کہا۔۔
کائونٹر پر بازو ٹکائے واعظہ آواز پر چونک کر مڑی۔۔ آہستہ آہستہ نظر اوپر کو اٹھائی۔۔
سینہ۔۔ پھر سینہ پھر سر اٹھاتے اٹھاتے گردن اب جا کر چہرہ۔۔ اسکا سر پورا اٹھا گیا۔۔
کم از کم بھی وہ اس سے ایک فٹ اونچا تھا۔۔
غلافی آنکھوں ہر نازک سے فریم کا چشمہ لگائے کلین شیو تیکھے نقوش کا سیانگ رو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اسے منہ کھولے اپنا جائزہ لیتے دیکھ کر اسکی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ۔
آہم۔۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
چھا شی بو ہی عمر ہے میری۔۔
اس نے یقین دلانا چاہا۔۔
آپکو پتہ ہے چھا شی بو کا مطلب ہوتا پینتالیس۔۔ آپ پینتالیس سال کی ہیں؟۔۔
سیونگ رو نے انگیریزی میں محظوظ انداز میں پوچھا۔۔
فورٹی فائیو۔۔ واعظہ کی آنکھیں پھیلیں۔۔
اتنی تو مجھے لگتا میری عمر جا بھی نہیں پائی گے۔۔
وہ دھیرے سے بڑ بڑائی۔۔
دے؟۔۔سیونگ رو اسکی زبان سے انجان چونکا۔۔
آندے۔۔ ( کچھ نہیں)۔۔ واعظہ اپنی ساری ہنگل دماغ میں جمع کر رہی تھی۔۔ ۔سیونگ رو نے اسکی الجھن سمجھ لی تھی۔۔
لائیں میں انکا پروفائل بنا دیتا ہوں۔۔ اس نے نرس سے فارم لے لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اسکے بازو پر لپٹا اسکارف اتروا کر اسکو کو ہلا جلا کر معائنہ کرنے کے بعد ایکسرے کروانے کی ہدایت کی تھی۔۔ سیونگ رو نے اسکی یہاں بھی مترجم کی زمہ داری بخوبی نبھائی تھی۔۔
ڈاکٹر کی تجویز کا پرچہ تھامے واعظہ کو اب مزید اسکی مدد لینا اچھا نہ لگا تھا۔۔سو ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتے ہی جھک کر کوریائی انداز میں اسکا شکریہ ادا کرنے لگی۔۔
گھمسامنیدہ۔۔ اب میں آگے ایکسرے خود کروا لوں گی آپکی مدد کا بہت شکریہ۔
آپکو پتہ ہے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے؟۔۔
وہ مسکرا کو پوچھ رہا تھا۔ جواب ظاہر ہے نفی میں تھا۔۔
مجھے شعبہ دل کے امراض میں کچھ کام ہے اسی طرف ہی ہے ریڈیالوجی کا شعبہ میرے ساتھ ہی آجائیے۔
اس نے خوش مزاجی سے کہا تھا۔۔ واعظہ نے ایک لمحے کو سوچا پھر سر ہلا دیا۔۔
آپکی ہنگل کافی اچھی ہے کتنا عرصہ ہو گیا ہے آپکو یہاں رہتے۔
اس نے ساتھ چلتے یونہی بات برائے بات ہنگل میں ہی پوچھا۔
ڈیڑھ سال ہو گیا ہے۔۔ مگر ابھی بھی شائد اتنی اچھی نہیں ہے کہ اپنی بات سمجھا سکوں۔۔
اس نے تھوڑا سا خفت زدہ سا ہو کر کہا۔۔
آپ بات سمجھا سکتی ہیں اگر آپکو سمجھ آجائے آپ ابھی لہجوں سے مانوس نہیں ہیں۔
اس نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔۔
ہاں کہہ سکتے۔۔
واعظہ نے گردن سہلائی
عربی ہیں آپ۔۔؟۔ وہ بات سے بات نکال رہا تھا۔۔
نہیں پاکستانی۔۔
واعظہ نے اس بار اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی
۔۔دل میں سوچا
اس بے چارے کی بیوی کی تو گردن ہی تھک جایا کرے گی اس سے بات کرتے۔ خود اس نے تو بالکل فلیٹ چپل پہنی تھئ اور یہ ڈاکٹر۔
اس نے اسکے جوتے دیکھے۔۔ موٹے سول کے جوتے تھے مگر پھر بھی اندھیر ہی تھا۔۔ یا تو یہا ں کے لوگ پانچ فٹ کے ہونگے یا چھے فٹ سے بھی زیادہ کے درمیان کا رستہ کی نہیں ہے۔
وہ اپنی دھن میں دماغ چلا رہی تھی۔۔ کہ موٹے سول والے جوتے چلتے چلتے رک گئے۔
اس نے سر اٹھایا تو سیونگ رو اسکے متوجہ ہونے کا ہی انتظار کر رہا تھا۔ انگوٹھے کے اشارے سے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی تختی کی جانب اشارہ کیا۔۔ ۔
گھمسامنیدہ۔۔
وہ کھسیا کر اسکا شکریہ ادا کرنے لگی۔۔
وہ بھی ہلکے سے مسکرا کر آننیاگ کہتا آگے بڑھ گیا۔۔
وہ بھی سر جھٹک کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔۔ سامنے ہی عروج ڈاکٹر سے کھڑی بات کر رہی تھئ۔۔
کہاں رہ گئ تھیں؟۔ اتنئ دیر تو نہیں لگتی پرچی بنوانے میں۔۔ دکھائو ۔۔وہ سیدھا اسکے پاس آئی تھئ۔۔
خود ہی سوال خود ہی جواب اس نے خاموشی سے پرچی بڑھا دی۔۔
ایکسرے کرواتے ہوئے بھی عروج اسکے ساتھ ساتھ ہی رہی۔۔ ایکسرے کا نتیجہ آنے میں وقت لگنا تھا سو وہ دونوں باتیں کرتی عروج کے شعبے میں چلی آئیں۔۔
تمہیں ڈانٹ تو نہیں پڑ جائے گی غیر متعلقہ افراد کو یہاں لانے پر؟۔ واعظہ کو فکر ہوئی۔۔
دو بجے تک آئے گا کوئی رائونڈ پر ابھی موج کرو۔۔
وہ لاپروا تھئ۔۔
ایک وارڈ ہے بس میرے زمے اور شکر ہے کوئی بھی تشویش ناک حالت میں نہیں ہے ایک چکر لگا لیا ہے میں نے سب اب سونے کی ہی کریں گے۔
وہ اسے کونے پر بنے اپنے کائونٹر پر لے آئی تھی۔۔
کافی پیو گئ؟۔ اس نے پوچھا تو واعظہ نے بھی تکلف نہیں کیا۔۔ عروج سر ہلاتی کافی لینے چلی گئ۔۔
واعظہ کو اسکے کائونٹر پر لیپ ٹاپ نظر آیا تو اٹھ کر اسکی نشست پر آ بیٹھی۔۔
چونکہ وہ واعظہ کے ساتھ ہی بیٹھی تھئ سو وہ لاک کیئے بنا اٹھا گئ تھی۔۔ اس نے بھی مزے سے اسکی کھولی ونڈو مینی مائز کرکے فیس بک کھول لی تھی۔۔
آپ پیشنٹ کا فیس بک پروفائل دیکھ کر علاج کرتی ہیں۔۔ ؟۔۔کسی نے بڑی سنجیدگی سے اس سے پوچھا تھا
آندے وے؟۔ ( نہیں تو کیوں)۔۔ اس نےاپنی رو میں جواب دیتے سر اٹھایا تو رنگ فق ہو گیا۔۔
وہ کوئی چالیس کے پیٹھے میں سفید کھچڑی بالوں والے یقینا کوئی سینیئر ڈاکٹر تھے۔۔
دونوں ہاتھ سینے ہر لپیٹے یقینا اسکی شامت بلانے کے موڈ میں تھے۔
ڈیوٹئ آورز میں ایس این ایس استمعال کرنا منع ہے آپ اس اصول کو بھول گئیں؟۔
آندے۔۔ ( نہیں ) میں وہ مریضوں کا احوال دیکھ رہی تھی۔ وہ صاف مکر گئ
کافی کے مگ لیکر وارڈ میں داخل ہوتی عروج ٹھٹک کر رکی ۔۔ دور کھڑے سر کم کوانگ بودے کو اس نے پشت سے ہی انکے چوڑے کندھوں سے پہچان لیا تھا۔۔کیا کروں ۔۔۔ اسکے ہاتھوں سے طوطے اڑے تھے۔۔ اسکے پیچھے پیچھے داخل ہوتا سیونگ رو نے ایک نظر اسے پھردوسری نظر اسکی جہاں نظریں تھیں وہاں ڈالی۔۔ وہی کائونٹر والی عربی لڑکی
کھڑی یقینا سر سے ڈانٹ کھا رہی تھی۔۔
اس نے فورا منی مائز کی گئ سب ونڈو کھول کر لیپ ٹاپ انکی جانب گھمایا۔ انکو اور غصہ آگیا۔۔
اپنے پیچھے مڑ کر دیکھیں گلاس ڈور ہے آپکے لیپ ٹاپ کی اسکرین اس پر صاف دکھائی دے رہی تھی ۔۔
انہوں نے کرخت انداز میں کہا تو وہ بے ساختہ گھوم گئ پھر اپنا سر ہی پیٹ لیا۔
میں بہت معزرت خواہ ہوں۔۔
اب سوائے ڈانٹ کھا لینے کے کوئی چارہ نہ تھا۔۔
یہ پہلی بار ہے ڈاکٹر عروج۔۔ ۔۔ انہوں نے اس بار کافی بلند آواز میں کہا تھا۔۔۔
واعظہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔۔
جی۔ اسکی ہنگل بھک سے اڑی۔۔ تو وہ اسے ڈاکٹر ہی سمجھ رہے تھے۔۔ بچت ہوگئ۔۔
اسلیئے جانے دیتا ہوں۔۔ لیکن میک شیور کہ آخری بار یہ لاپرواہی کا مظاہرہ آپکی جانب سے کیا گیا ہے۔۔ سمجھیں آپ۔۔ڈپٹ کر مڑنے لگے تھے کہ خیال آیا۔۔ سیونگ رو بھی چونک کر عروج کی طرف مڑا
اور آپکا اوور آل کوٹ کدھر ہے؟ انہوں نے دوسری غلطی پکڑ لی۔۔
اتنا غیر سنجیدہ انداز اپستال میں۔؟ آپکو کیا لگا تھا آج آپ اوور آل۔کوٹ نہیں پہنیں گی اور ماسک نہیں لگائیں گی تو یہاں کوئی آپکو پہچان نہیں پائے گا؟۔ آپ آرام سے سوشل میڈیا استعمال کر لیں گی؟۔۔ شائد آپ بھول رہی ہیں آپ کوریا میں ہیں اور آپکے سوا باقی اسٹاف میمبرز غلافی آنکھوں کے مالک ہیں اور کسی کے آپ جیسے نقوش نہیں۔۔
میرے خدا۔۔
واعظہ دل ہی دل میں سر پیٹ کر رہ گئ۔
اور آپکو شائد یہ نہیں پتہ کہ آپ سب کی شکلیں ملتی جلتی سہی مگر ہمارے یہاں سب کے نقوش الگ ہوتے اور میرے اور عروج کا قد چلو پھر ایک جتنا سہی مگر شکل بالکل نہیں ملتی ہماری۔۔ نقاب بھی کر لوں میں تو بھئ کوئی عقل کا اندھا ہی بس ہم میں فرق نہ کر پائے
وہ یہ سب دانت پیس کر انہیں کہہ رہی تھی۔۔ مگر دل میں۔۔
اس نے ایک دو بار مزید جھک جھک کر معزرت کی تو وہ ہنکارہ بھرتے پلٹنے لگے۔
عروج نکلو یہاں سے۔۔
سیونگ رو نے انہیں پلٹتے دیکھا تو جھٹ عروج کے اور ڈاکٹر کے بیچ آگیا۔ اسکے لمبے سے وجود کی آڑمیں عروج دور سے کھڑی نظر بھی نہ آرہی تھئ
دے۔۔
اسکو پہلے تو سمجھ نہ آیا مگر اس نے آنکھوں کے اشارے سے اور بے آواز لبوں کی جنبش سے کھا کھا( جائو ) کہا تو جلدی سے باہر کو بھاگی۔۔
آننیانگ ڈاکٹر سیونگ رو۔۔
ڈاکٹر کم نے یکسر بدلے ہوئے لہجے میں مسکرا کر پیچھے سے آکر سیونگ رو کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
آننیاگ۔۔
وہ گڑبڑا کر سیدھا ہوا اور جھک کر سلام کرنے لگا۔۔
کیسے ہو آج پھر نائیٹ ہے؟
وہ شفقت سے کندھا تھپتھپاتے پوچھ رہے تھے۔۔
دے ۔ وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ میں اسکا مکمل معائنہ ہوا تھا۔۔
ڈاکٹر عروج کی دوست ہونے کے ناطے بڑا خاص رویہ تھا ڈاکٹرز کا۔۔
پریشانی کی بات نہیں النا میں معمولی سا اسپلٹ ہے کاسٹ استعمال کرنے سے چار پانچ ہفتوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔۔ ڈاکٹر نے تسلی بھرے انداز میں بتایا تھا واعظہ کو دھچکا لگا۔۔
النا بھئ ہے میرے بازو میں ؟۔
میرے بھی بازو میں ہے ۔۔ سب کے ہوتا؟۔
عروج نے لاپروائی سے کہا۔۔ ڈاکٹر اب دوائیں لکھ رہا تھا سو یہ دونوں آپس میں لگ گئیں۔
ہیں اسکا کوئی علاج نہیں؟۔ وہ پریشان ہوگئ تھی۔۔
کس کا علاج۔۔ عروج الجھن سے دیکھنے لگی
النا کا اور کس کا۔۔
واعظہ بگڑئ۔۔
پاگل ۔۔۔۔النا ہڈی کا نام ہے۔۔ عروج نے سر پیٹ لیا۔۔
کبھی بائیو پڑھی ہوتی تو پتہ ہوتا۔۔
واعظہ تپ کر جواب دینے ہی لگی تھئ کہ ڈاکٹر نے مداخلت کر دی۔۔
دے پاگل۔ گیٹ ویل سون۔۔
ڈاکٹر نے کہتے ہوئے واعظہ کی۔جانب پرچی بڑھائی واعظہ اور عروج دونوں ہی منہ کھول کر اسے دیکھنے لگیں۔۔
یہ نام نہیں آپکا۔۔ ؟ وہ بھی گڑ بڑا گیا۔۔
واعظہ کھا جانے والی نظروں سےعروج کو گھورا جو ماسک کے پیچھے یقینا ہنس رہی تھی۔۔
شکریہ۔۔ وہ دانت پیستی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
کاسٹ اسے لگ چکا تھا اب رخصت ہی ہونا تھا یہاں سے۔۔
بنا عروج کو دیکھے پیر پٹختی باہر نکل گئ۔۔
عروج الوداعی کلمات ادا کرتی اسکے پیچھے بھاگی
ارے سنو کہاں بھاگی جا رہی ہو دوا ئیں تو لے لو۔۔
وہ کاریڈور کے سرے تک پہنچی ہوئی تھی بھاگ کر اسکو پکڑا تھا عروج نے۔۔
یار ایک بات بتائو میری شکل پر لکھا آئو میری بستی کرو۔۔ اور چلو اس ڈاکٹر نے تو تمہاری بستی کی تھی مجھے تم سمجھ کر اسکو میں نے کیا کہا تھا جو مجھے پاگل کہہ رہا ۔۔ خود پاگل ہوگا بندر بٹن جیسی آنکھوں والا۔۔
واعظہ بپھر گئ تھئ۔۔ بھنا کر بولی پھر پلٹ کر اسکے دفتر کو دیکھ کر چلائی۔۔
ہا ہا ہا ۔۔ عروج سے ہنسی ہی ضبط نہیں ہو رہی تھی اسے خاک ٹھنڈا کرتئ۔۔
اسکا قصور نہیں ہم بولتے ہی اتنا ٹھہر ٹھہر کر ہیں کہ ہماری بات کا مطلب سمجھ آئے نہ آئے لفظ آجاتا اب میں نے تمہیں پاگل کہا تو اسے یہی لگا کہ یہ تمہارا نام ہے۔۔
یہ عروج کی مخلصانہ کوشش تھی اسکا غصہ کم کرنے کی۔۔
واعظہ گھور کر رہ گئ۔
چلو۔۔ عروج نے اسکے سالم والے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنا شروع کیا۔۔ وہ بھی منہ بنا کر گھسٹنے لگی۔۔
یار سچی میری کولیگز کو اردو کے سارے برے الفاظ یاد ہو چکے۔۔ گالیاں تو میں نہیں دیتی مگر
کبھی اڑیل مریض کو گدھا احمق وغیرہ کہہ دیتی تھی۔۔ اس دن ایک نرس کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی مریض کی حالت خراب اسٹروک پڑ رہے۔ بڑئ دلگیری سے بولی۔۔
ڈاکٹر صاحبہ یہ مریض بالکل احمق لگ رہا ہے نا گدھا پن دکھا رہا ہے ایکدم۔۔
لعنت ہو اس پر۔۔
کیا؟۔ واعظہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔
ہاہاہا ہاں تو اور کیا۔۔ پورا جملہ سیکھ لیا تھا اس نے جانے میں نے کب کسے کہا تھا اب سوچو مریض کی حالت خراب ہوئی پڑی اور اسے یہ کہہ رہی۔۔
میری روکتے روکتے بھی ہنسی چھوٹ گئ تھی۔۔ مت پوچھو کتنئ بستی محسوس کی میں نے اس دن۔۔
عروج بھی وہ دن یاد کر کے ہنس رہی تھی
پھر بھی یار پورا جملہ کیسے سیکھ لیا اس نے۔۔
واعظہ کو حیرانگی ہو رہی تھی۔۔
میں نے پوچھا اس سے کہتی ہے آپ بولتی ہی اتنا رواں ہیں اور آپکا لہجہ اتنا صاف کہ جملہ سمجھ آئے نہ آئے لفظ پورا سمجھ آتا کیا کہا ۔۔
عروج کا انداز متاثر ہوجانے والا تھا۔
واقعی یہ بات تو ہے اردو میں ہر قسم کی آواز موجود ہے جبھئ ہمارے لہجے اتنے رواں ہوتے ہیں کہ ہم دنیا کی ہر زبان کا ہر لفظ بول سکتے ہیں۔۔ اب جو میں یو ٹیوب پر دنیا کی مختلف زبانوں کے گانے گا کر اپلوڈ کرتی ںیٹو اسپیکر بھی تعریف کرتے کہ بہت قریب قریب تلفظ بولا ہے آپ نے۔۔
واعظہ متفق تھی اس بات سے۔۔
آپکی تو کیا بات ہے جناب۔۔ عروج کو شک نہیں تھا۔۔
وہ چلتے چلتے فارمیسی پر پہنچ گئ تھیں۔۔
عروج نے اسکی دوائوں کا پرچہ فارمیسی والے کو تھمایا۔۔
ویسے ڈاکٹر روج۔۔
اس نے بالکل سیونگ رو کے انداز میں کہا تھا۔۔ عروج چونک کر اسے دیکھنے لگی اس نے بھی ٹھہر کر بڑے انداز سے جملہ مکمل کیا۔۔
کی آنکھیں کافی دلکش ہیں۔۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیسی کمچی قسط دو حصہ پنجم
سو زلیل و خوار لوگ مرے ہونگے جو میں پیدا ہوئئ۔۔
ڈاکٹر کی پشت کو گھورتے اسکا بس نہیں تھا سوراخ ہی کردے۔۔ نظروں سے۔۔
کائونٹر پر کھڑی مسلسل بڑ بڑ کر رہی تھی۔۔
منہ پر لکھا کیا میرے آئو میری بستی کرو۔۔ اور چلو میری تو کرو ہی کسی اور کی بستی کرنی ہو تو بھی میری ہی کرو ۔ وہ حقیقتا مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔۔
فالتو کا سمجھ رکھا مجھے۔۔
اپنی لاڈلی ہوں میں سمجھے۔۔
اسکا بس نہ چلا تو میز سے کوئی ہلکی پھلکی چیز اٹھا کر مارنے کو ڈھونڈنے لگی۔۔ پیپر ویٹ اٹھا لیا پھر کچھ سوچ کر رکھ دیا پین ا چھالا۔۔
ڈاکٹر ویسے ہی اسکے نشانے کے حصار سے دور جا چکا تھا۔۔ بھنا کر
سٹکی نوٹس اٹھا کر اچھال دئیے۔۔
فضا میں ننھے کاغذ اڑے تھے اور انکے بیچ سے نمودار ہوتا مسکراتا ہوا سیونگ رونگ۔۔
تو آپ ڈاکٹر عروج کی سہیلی ہیں۔۔
اس نے انگریزی میں ہی قریب آکر پوچھا ۔۔ واعظہ نے جواب دینے کو ابھئ منہ ہی کھولا
بد قسمتی سے۔۔
عروج نے قریب آکر ٹکڑا جوڑا۔۔ اور گھور کر واعظہ کو دیکھا۔۔ سیونگ رونگ بے ساختہ ہنسا تو واعظہ کے تن بدن میں آگ لگ گئ۔۔
بدقسمتی سے ؟ ۔۔ اس نے سالم ہاتھ کمر پر رکھ کر طبل جنگ بجایا
تو اور کیا ۔۔ عروج بھنائی۔۔
اتنا گند مچا دیا اب یہ کون صاف کرے گا۔۔
اس نے اسکا کافی کا مگ اسکے سامنے حقیقتا پٹخا تھا۔۔
اتنا سب سن کر ٹوٹے بازو کے ساتھ کم از کم میں تو نہیں۔۔
وہ بھی جوابا پیرپٹخ کر ضدی انداز میں بولی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کراہتے ہوئے دو پرچیاں اٹھا کر شاکی نظروں سے عروج کو گھورا جو بالکل بھی اسے رعائیت دینے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔
اسٹکی نوٹ تو نام کے تھے زرا سا اچھالنے پر کیسا بکھرے ہیں یہ منحوس۔۔
اس نے تپ کر دور دور تک پھیلی ان کاغذ کی پرچیوں کو گھورا۔۔ اسے بڑ بڑاتے دیکھ کر سمجھ تو نہ آئی کیا کہہ رہی مگر ترس کھا کر
سیونگ رونگ بھی اسکے ساتھ چننے بیٹھ گیا۔۔
دونوں نے ایک ایک پرچی چنی اور سمیٹ کر عروج کی میز پر رکھی۔۔ عروج نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ہنسی ہی آگئ۔۔
دونوں کچی کے معصوم بچوں کی طرح پھولی سانسوں کو بحال کرتے جیسے اس سے کارکردگی پر شاباشی لینے کھڑے ہو گئے تھے۔۔
نقاب کے پیچھے پوری بتیسی باہر تھی اسکی ہلکی سی بند ہوتی ضرورت سے زیادہ چمکتی آنکھوں اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔۔ واعظہ اسے گھورتی ہوئی کرسی گھسیٹ کر بیٹھئ اپنی کافی کا کپ اٹھا لیا۔۔ ڈاکٹر سیونگ رو کا شکریہ ادا کرنے کو انکی جانب مڑی تو پتہ چلا وہ کہیں اور متوجہ ہیں۔۔
بیٹھو واعظہ۔۔ سیونگ رو۔۔کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے تمہاری۔۔ عروج نے کہا تو ۔۔ڈاکٹر سیونگ رو بھی چونک کر بیٹھ گئے تھے۔
ڈاکٹر سیونگ رو یہ آپ لے لیں۔۔
اس نے اپنے لیئے لائی کافی سیونگ رو کے آگے رکھ دی۔ اسکی موجودگی میں نقاب اتار کر کافی پینا وہسے بھی ممکن نہ تھا۔
اور آپ۔۔ وہ کپ کی طرف ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گیا۔۔
میرا دل نہیں کر رہا۔۔ اس نے بہانہ بنایا۔۔
بال بال بچی ہوں میں ابھی۔۔
عروج نے واعظہ سے اردو میں کہا تھا۔۔ دل ابھی بھی اسکا دھڑ دھڑ کر رہا تھا۔۔
تم جانتی ہو اسے۔ واعظہ نےاپنی دلچسپی کی بات کی۔۔
ہاں میرا کلاس فیلو تھا اب ہم یہاں بھی اکٹھے ہی جاب کر رہے ہیں۔۔
عروج نے اسکی جانب دیکھنے سے احتراظ ہی کیا تھا۔۔
کبھی بتایا نہیں اتنا وجیہہ انسان تمہارے ساتھ کام کرتا ۔۔
واعظہ نے رشک سے اسے دیکھا جو میز سے پیشنٹس کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ رہا تھا۔۔
اس شکل کے کم از اکم پچیس تیس لوگ کام کر رہے ہوتے یہاں۔ عروج نے کان پر سے مکھی اڑائی۔۔
پھر بھی کتنا لمبا ہے ہاتھ بڑھا کر ہی پنکھا صاف کر لیتا ہوگا۔۔
واعظہ نے اسے نظروں میں رکھ کر کافی کا بڑا سا گھونٹ لے لیا۔۔ عروج بے ساختہ ہنس پڑی۔۔
حد ہے واعظہ۔۔
ڈاکٹر سیونگ رو کو جیسے اسکی نظروں کا احساس ہو گیا تھا۔۔ باقاعدہ مڑ کے اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔ وہ بھی جوابا مسکرا۔دی۔۔ اب اردو میں اور بس آپس میں بات کرنا بد اخلاقی تھی۔۔ عروج واپس اپنی جگہ آبیٹھی۔۔
ویسے ڈاکٹر کم عموما بہت تحمل مزاج کے ہیں مگر اصولوں کے سخت انکی حلیم الطبعی مشہور ہے مجھے افسوس ہے آپ پر انکا پہلا ہی تعارف بالکل اچھا نہیں پڑا۔۔
سیونگ رو نے اسے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے اچکا کر بولی
میری قسمت میں بستی لکھی متحمل سے متحمل مزاج انسان کو مجھے صرف دیکھ کر غصہ آجاتا ہے کوئی بات نہیں۔۔
اس بات سے عروج سو فیصد متفق تھی لیپ ٹاپ میں مگن تھئ مگر سر ہلا رہی تھی
میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے مجھے آپکو دیکھ کر بالکل غصہ نہیں آیا۔۔ اور ڈاکٹر عروج کی دوست ہیں آپ یہ جان کر الٹا خوشی ہی ہوئی۔۔
وہ اپنے مخصوص دھیمے سے انداز میں بولا۔۔
اسکی بات پر واعظہ اور عروج دونوں چونکی تھیں
کیوں؟ خوشی تو آج تک عروج کو بھی نہیں ہوئی کہ میری جیسی دوست ہے اسکی۔۔
واعظہ اسکو نظر انداز کرنے والی نہ تھی کپ رکھ کر دوبدو ہوئی۔۔
سیونگ رو نے کافی کا گھونٹ لیکر کپ سامنے رکھا پھر عروج کو دیکھتے ہوئے بولا۔
ڈاکٹر عروج کو پچھلے چار سال سے دیکھ رہا ہوں انکا یہاں کوئی دوست نہیں یہ بناتی بھی نہیں ہیں ۔۔ حالانکہ یہ بہت محنتی ہیں خوش اخلاق بھی مگر لوگ شائد انکے ماسک کو دیکھتے بس ۔
ایسی بات نہیں میری اچھی ہیلو ہائے ہے اپنے کولیگز سے ہاں بس میں انکے ساتھ پارٹی وغیرہ نہیں جاتی اسلیئے شائد آپکو ایسا لگا۔۔
عروج کو برا ہی لگ گیا۔۔
آپکے مزہب میں پارٹی وغیرہ حرام ہے نا۔۔
سیونگ رو نے تائد چاہی۔۔
دونوں کو سمجھ نہ آیا کیا جواب دیں پارٹی کا تصور شائد مختلف ہو باقی دنیا سے مگر ۔
اسلام میں کچھ حدود و قیود رکھ دی گئ ہیں ان پر عمل کرکے آپ زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں بے مقصد اچھل کود اور پی کر بہکنے کا نام اگر پارٹی ہے تو وہ حرام ہے اور اسکو کرنے کا مجھے کوئی شوق بھی نہیں ہے جبھئ۔۔۔۔
عروج ایک دم سنجیدہ ہوئی تھی۔۔ دوٹوک انداز میں بولی تھی سیونگ رو بہت غور سے اسکی بات سن رہا تھا۔۔ واعظہ نے موضوع بدل دینا چاہا۔۔
آپکی انگلش بہت اچھی ہے اور لہجہ بھی بہت رواں ہے حالانکہ کورینز کا لہجہ انوکھا سا ہوتا ہے۔
میں کینڈا میں پیدا ہوا تھا میری اسکولنگ بھی وہیں کی ہے۔۔ سیونگ رو کی پیشانی پر بل تک نہ آیاتھا۔۔
ازلی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا۔۔
ہمم ۔۔۔ واعظہ نے جان کر متاثر ہونے والا انداز اپنایا
اور کامیاب بھی رہی سیونگ رو کی توجہ بھٹک گئ تھی۔۔
تھیبا۔۔
آپ سب پاکستانیوں کی انگریزی بہت اچھی ہوتی ہے
اس نے بھئ جوابا تعریف کی۔۔
خیر۔۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کافی کیلیئے شکریہ ۔۔ میں اب چلتا ہوں ۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی واسیہ۔۔
واعظہ بھی اخلاقا اٹھ کھڑی ہوئی تھی یہی جملہ وہ بھی بولنے والی تھی مگر اسکے جملے کے اختتام پر ارادہ بدل دیا۔۔
واعظہ۔۔
اس نے زور دے کر بتایا۔۔
معزرت آپکی رپورٹ پر واسیہ لکھا تھا تو مجھے غلط فہمی ہوئی۔
ا س نے فورا معزرت خواہانہ انداز میں جھک کر کہا۔۔
تین بار بتایا تھا نرس کو پھر بھی غلط لکھ دیا۔۔
اسے تعجب ہوا۔۔
واا اے زاا۔
صحیح۔۔ اس نے اٹک کر سہی مگر صحیح تلفظ سے بولنے کی کوشش کی۔۔
دے۔۔ واعظہ نے سر ہلایا
اسکی غلطی نہیں ہے ہنگل میں زی کی آواز نہیں ہوتی آپکا نام لکھتے اسے مشکل ہوئی ہوگی۔۔
اس نے بتایا تو عروج اور واعظہ دونوں ہی حیران ہوئیں۔۔
واقعی۔۔
چلو ایک نئی بات پتہ چلی۔۔
عروج ہنسی۔۔ دونوں کا دھیان سیونگ رو سے ہٹ گیا تھا۔۔ وہ جاتے جاتے پلٹ آیا۔۔
چلو آگئی ہوگی ایکسرے رپورٹ ہم بھی لینے چلیں۔۔
عروج کو یاد آیا تو دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
ایکدم سے اٹھنے میں اسکا موبائل بھد سے گر کر میز کے نیچے چلا گیا۔۔
کیا مصیبت ہے وہ منہ بناتی میز کے نیچے اکڑوں بیٹھ کر گھسی۔۔
ویسے عروج اگر کبھی تمہارا آوارہ گردی کا موڈ ہو تو میں مدد کر سکتی تمہاری۔۔ اسکارف پہن کر نقاب کر کے یہا ں بیٹھ جائوں تو کوئی پہچانے گا ہی نہیں کہ تم نہیں کوئی اور ہو۔۔ تم آرام سے بنک کرکے اسپتال کہیں بھی چلی جائو۔
واعظہ نے میز پر سے اضافی ماسک اٹھا کر منہ پر پہن لیا۔ اسے روانی میں احساس بھی نہ ہوا کہ اردو کی بجائے انگریزی بول گئ ہے۔۔
سیونگ رو نے میز پر سے اپنی کار کی رنگ اٹھائی جو وہ جلدی میں بھول گیا تھا۔۔ واعظہ اپنی رو میں اسے اچانک پاس کھڑا دیکھ کر چونکی تو منہ پر نقاب ہونے کے باوجود اسکی حیرت سے پھیلی آنکھیں غماز تھیں کہ اسکی آمد قطعی غیر متوقع تھی اسکیلیئے۔۔
ہاں اور جو غلط دوائیاں دے کر مریضوں کا حال خراب کروگی اسکا کیا۔
عروج میز سے نکل کر کرسی کا سہارا لیکر اٹھتے ہوئے بولی۔۔
سیونگ رو دھیمے سے مسکرا کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا
ایسا ممکن نہیں آپ میں اور ڈاکٹر عروج میں بہت فرق ہے خاص طور سے آنکھوں کا۔۔
وہ ٹھہرا۔۔
ڈاکٹر عروج کی آنکھیں بہت دلکش ہیں۔۔
اس نے ایک نظر عروج کو دیکھا پھر مسکرا کر دھیرے سے کہہ کر رکا نہیں۔۔
واعظہ اور عروج دونوں نے پورا منہ کھولا تھا۔۔ دونوں کے ہی منہ پر نقاب تھا سو مکھی نہ گھس سکی۔۔
واعظہ نے بھاڑ سا منہ کھولے کھولے ماسک نیچے کیا۔۔ اونچا لمبا سیونگ رو بڑے بڑے ڈگ بھرتا وارڈ کے دروازے سے پار ہوا تو منہ بند کیا مگر بس لمحہ بھر کو۔۔جھٹ عروج کی طرف مڑی
یہ کیا کہہ گیا؟۔ واعظہ نے کہا تو عروج قصدا لاپروائی سے ٹال گئ۔۔
ایسے ہی بولتا رہتا چلو ہم رپورٹ لینے چلیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح بارہ بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی تھی کسمسا کر احتیاط سے اٹھتے ہوئے اس نے کمرے پر نظر دوڑائی کمرہ خالی تھا یقینا ابیہا یونیورسٹی اور فاطمہ جاب پر گئ ہوگئ۔۔ آرام سے منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو خلاف توقع فاطمہ کچن میں مصروف تھی۔۔
تم دفتر نہیں گئیں؟۔۔ اس نے باورچی خانے کے پاس آکر پوچھا۔۔
وہ آج۔۔ فاطمہ چائے میں پتی ڈال کر مڑی تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔
واعظہ کے سارے بال بکھرے ہوئے تھے۔
کنگھی کرتا ہے بندا صبح اٹھ کر۔۔
فاطمہ نے منہ بنایا۔۔
اس نے اپنا ایک ہاتھ ہلا کر بے چارہ سا منہ بنایا۔۔
چائے بنا دی ہے تمہاری بھی دیکھو ابل نہ جائے ۔۔
فاطمہ اسے کہتی خود کمرے میں چلی گئ۔ واعظہ چولہے کے پاس آکر دیکھنے لگی اپنی رو میں چولہا بند کر کے اس نے دوسرے ہاتھ سے کپ اٹھانا چاہا درد کی لہر پورے بازو میں دوڑ گئ۔۔
نکالنے کو نہیں کہا تھا ہٹو میں نکال دیتی ہوں۔۔
فاطمہ کنگھا اور پونی لیکر واپس آئی تھی۔۔ اسے ہٹا کر خود چائے نکالنے لگی۔۔ واعظہ فریج سے مارجرین نکال کر سلائس پر لگانے لگی۔۔
چائے کا کپ بنا کر اسکے سامنے رکھا اور خود اسکے بالوں میں کنگھی کرنے لگی۔۔
اف آرام سے۔۔
اسکے بال نچے تو سلائیس دانتوں میں دبائے ہی چیخی۔۔ اس نے جوابا اسکے سارے بال پونی کے انداز میں مٹھی میں بھر لیئے۔۔
اف فاطمہ کی بچی۔۔ جوابا وہ زور سے چیخی فاطمہ کھلکھلائے گئ۔
واعظہ ایک بات بتائوں غصہ تو نہیں کروگی۔۔
وہ ایکدم سنجیدہ ہوئی۔۔
بولو۔۔ واعظہ کا دھیان پورا ناشتے پر تھا۔ کپ اٹھا کر منہ کولگایا۔۔فاطمہ نے اسکے مٹھی میں لیئے بالوں پر کنگھا پھیرا
یار وہ میں نے یہ جاب بھی چھوڑ دی۔۔
اس نے ایک پل کو سوچا پھر جھٹ کہہ ڈالا۔۔
واعظہ کو اچھو ہوا تھا گرم گرم چائے ہونٹ جلاگئ۔۔
کیا۔۔ وہ استعجابیہ چیخی اور سر آگے کیا تو وہی چیخ کراہ میں بدل گئ۔۔۔ آاا۔۔ بال تو چھوڑو
یار وہ باس بہت ڈانٹتا تھا میں کیا کرتئ زرا سا فیس بک کیا استعمال کرلی اتنا لیکچر دے ڈالا میں کام تو پورا کرکے بیٹھی تھی نا۔۔ کیا تکلیف تھی پھر اسے۔۔
فاطمہ بسوری ۔۔ دو بل ڈال کر پونی بنا کر اسکا سر چھوڑا۔۔
کوئی ردعمل نہیں۔۔ وہ حیران سی ہو کر گھوم کر واعظہ کے سامنے آئی ۔۔
وہ پورے دھیان سے سلائس ٹونگ رہی تھی۔۔
کیا کروں ؟ چھوڑ تو چکی ہو تم جاب ۔۔
واعظہ اسکی سوالیہ نظریں محسوس کر کے بولی۔۔ اسکی نظریں بھی اپنی چائے پر تھیں۔
باقی جانے ان کورینز نے سوشل میڈیا کو اتنا ہوا کیوں بنایا ہوا ہے۔۔ کسی کو استعمال کرتے دیکھ لیں توجل کے خاک ہو جاتے۔۔
اسے رات والی بات پر پھر غصہ آگیا تھا۔۔
ہے نا ۔۔ ایک دنیا سوشل میڈیا استعمال کرتی اور میں کونسا کوئی غلط کام کر رہی تھی؟۔۔ایک پیج نے بی ٹی ایس کی ویڈیو شئیر کی تھی فنی وہی دیکھ رہی تھی۔۔ بجائے کہ خوش ہو جاتے انکے ملک کا پاپ مشہور ہورہا۔۔
فاطمہ نے برا سا منہ بنایا۔۔ پھر تشویش سے اسکا کائوٹر پر دھرا بازو دیکھنے لگئ۔۔
تم بتائو کب تک یہ بازو بندھا رہے گا؟ زیادہ چوٹ ہے ؟ ہڈی ٹوٹ گئ۔۔ ؟ رات کو تو اتنی دیر سے تم آئیں میں سو گئ تھی۔۔
دو تین ہفتوں کا کہا ہے۔۔ پین کلرز دئیے ہیں۔۔ رمضان بھئ قریب ہے رمضان بھر میں کیا بازو لٹکائے پھروں گی۔۔
واعظہ سوچ کر کانپ گئ۔۔
ٹھیک ہو جائےبس ریسٹ زیادہ سے زیادہ کرو وزن نہ اٹھانا۔۔ اور کوئی کام ہو مجھ سے کہنا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میرا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔۔
وہ مارٹ سے نکلتے روہانسی ہوئی۔۔
تین لبا لب بھرے بڑے بڑے شاپنگ بیگز اسکے ہاتھ میں تھے اور ایک نسبتا چھوٹا مگر اشیا خورد و نوش سے بھرا بیگ واعظہ تھامے تھی۔۔
رمضان اسلیئے آتا ہے کہ کھانا پینا کم کردیں اسلیئے نہیں کہ اشیا خوردونوش کا ڈھیر لگا لیں اسکے آنے کا سن کر ہی۔۔
یہ لیکچر فاطمہ کبھی نہ دیتی اگر اس شاپنگ پر نہ آئی ہوتی۔۔ لیکن اس بوجھ کو جس نے اگلے ایک مہینے میں اسکے پیٹ میں منتقل ہو جانا تھا اٹھاتے اسے یہ زریں خیالات ہی سوجھنے تھے نا۔۔
ویسے موسم اچھا ہو رہا۔۔
واعظہ نے چنداں توجہ نہ کی بلکہ سر اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگئ۔۔ جس پر کالے کالے بادل چھا رہے تھے۔۔
لگتا ہے بارش ہونے والی۔۔
فاطمہ بھی پرجوش ہوئی۔۔ پھر دونوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
نہیں۔۔ دونوں کے اکٹھے منہ سے نکلا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں۔۔ بارش نہیں۔۔
سر پر جمے اسکارف کو پیشانی پر کھینچتے الف بے بسی سے برسنے کو تیار بادلوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
اسٹاپ سے اسکی ریڈیو اسٹیشن والی عمارت کا فاصلہ تقریبا پانچ سات منٹ کا تو تھا بیچ میں سڑک بھی پار کرنی تھی اسکا بس نہیں تھا دوڑنا شروع کر دے۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سڑک کنارے اکیلی لڑکی تھی۔۔ مغرب ہونے والی ہوگی اوپر سے کالی گھٹا ۔۔ اسکا دفتر تھا بھی ایسے علاقے میں جہاں پر رش کم ہی ہوتا تھا عام دنوں میں آج تو موسم کے تیور بھی خطرناک تھے۔۔ بارش کا پتہ ہوتا تو چھتری لے آتی۔۔
اس نے جھلا کر سوچا۔۔ کے ہیروئن نہ تھی مگر شائد کوریا میں آکر سب ہی چھتری لانا بھول جاتے۔۔اور اسکیلئے کونسا کوئی اوپا چھتری لیکر کھڑا ہونا تھا سو بھیگنے کا خوف لاحق تھا۔۔
جینز تو اس نے میرون چڑھائی ہوئی تھی مگر ٹاپ بالکل سفید تھا۔ سفید ہی بڑا سا فراگی کے انداز کا حجاب لیا ہوا تھا سفید جارجٹ کا دوپٹہ۔۔
ہوا سے اڑتا اسے آرام سے سپر مین کی آپا بنا رہا تھا۔۔
تیز تئز قدم اٹھاتئ وہ سڑک کے اختتام پر آپہنچی تھی۔۔ یہاں سے اسےسڑک پار کرنی تھی شومئی قسمت بارش کی پہلی بوند اس کی ناک پر آگری تھی وہیں سگنل بھی کھل گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش نہیں۔۔
پلیز اللہ میاں۔۔
کم از کم اب بارش نہیں۔۔
پارک میں درخت کے نیچے سنگی بنچ پر اپنا سامان رکھ کر اس نے زرا سا سی دیر سستانے کو آنکھیں بند کی تھیں جب ایک بوند آکر اسکی پیشانی پر گری۔۔ آنکھیں کھول کر وہ بے آواز لبوں سے گڑ گڑائی مگر شائد وقت قبولیت کا نہ تھا
بے بسی سے اٹھ بیٹھئ۔۔
بارش کی وہ کتنی دیوانی تھی مگر اس وقت یہ رحمت اسکیلئے عزاب بن کر اتری تھی۔۔ یہ تیسری رات وہ چوکیداروں سے چھپ کر یہا ں اس پارک میں گزارنے والی تھی۔ گو پاکستان کے لحاظ سے گرمی میں بھی رات کھلے آسمان تلے گزارنا آسان نہ تھا مگر پھر بھی وہ یہ کر رہی تھی۔۔ بڑا سا گھٹنوں تک کا اس بار مشہور ہونے والا کوریا کا کمبل جیسا جیکٹ اس نے کرسمس پر سیل سے خریدا تھا اب مئی میں بھی اسے پہنے رہتی اندر سوئٹر اور گرم پاجامہ بھی جبھی کھلے آسمان تلے رات گزر رہی تھی مگر آج بارش ہو گئ۔۔
اپنا اکلوتا بڑا سا بیگ سنبھالتی وہ چھپر کی تلاش میں پارک سے باہر نکل آئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہٹو بچو آگےسے۔۔
فاطمہ بائک کا ہینڈل تھامے خیالی کرداروں کو اپنی بائک کے آگے سے ہٹنے کو کہہ رہی تھی۔۔
مروگے خود ہٹ جائو آج فاطمہ کسی کی نہیں سننے والی ہے۔۔ ہینڈل کو گھمائے وہ بھرپور جوش سے چلا رہی تھی۔۔
فاطمہ بی بئ ہارنے کا زہن بنا لیں آج آپکو کوئی مجھ سے نہیں بچا سکتا۔۔
ایک ہاتھ سے ہینڈل تھامے اوور ٹیک کرتی واعظہ نے اسے منہ چڑایا تھا۔۔ فاطمہ نے اسے گھور کر دیکھا پھر ایکدم بائیک کو ریس دے کر اسکے برابر آگئ۔۔
مجھ سےکوئی آگے نہیں نکل سکتا۔۔ اور کوئی مجھے پیچھے چھوڑ جائے ایسا میں ہونے نہیں دیتی۔۔
واعظہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے ایک انداز سے کہا تھا پھر رفتار بڑھا دی تھی۔۔ واعظہ کو اسکا انداز چیلنج دیتا لگا سو اس نے بھی ایکسیلرٹر دبا دیا تھا۔۔
کم آن یو کین ڈو اٹ۔۔
فائیٹنگ۔۔
لوگوں کا ہجوم چلا رہا تھا مگر انکا پورا دھیان کھیل کی جانب تھا۔
وہ دونوں گیمنگ زون میں گھسی بائک ریس لگائے تھیں۔۔ بڑی بڑی ہیوی بائک پر بیٹھی تھیں آگے ویڈیو گیم کی حرکی تصویر چل رہی تھی۔۔ خوب چیخیں مار مار کر وہ بائک چلا رہی تھیں۔ دونوں کا آپس میں ہی مقابلہ تھا۔۔
فاطمہ کی بچی بے ایمانی مت کرو۔۔
واعظہ بے چاری پہلے ہی ایک ہاتھ سے ہینڈل پکڑے تھی بیچ بیچ میں فاطمہ ایک ہاتھ مارتی اسکا ہینڈل موڑ دیتی۔۔ وہ پوری جان لگا کر توازن بحال کرتی۔۔
ابھی تک موقع ضائع نہیں ہوا تھا یہی چیز فاطمہ کو بار بار اسی حرکت پر اکسا رہی تھی۔
فاطمہ۔۔ آآآ
آخر کب تک۔۔ فاطمہ کا ہاتھ پھر ہینڈل پر بڑھا تھا واعظہ ہزار کوشش کے باوجود توازن کھو بیٹھی۔ موقع ضائع پردے پر بڑا بڑا فاطمہ وون لکھا آیا تو۔۔
فاطمہ نے خوش ہوکر یاہو پکارا تھا تو واعظہ بھنا کر چیخی۔۔
دونوں کی آوازوں کا ملاپ پورے گیمنگ زون میں گونجا تھا۔۔
یا ہووووو۔
فاطمہ آآآ۔۔
تیسری آواز زور دار تالیوں اور ہوٹنگ کی تھی
دونوں نے ایک دوسر ے کو دیکھا پھر چونک کر مڑیں تو پورے گیمنگ زون انکے پیچھے کھڑا انکے کھیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔
فائیٹنگ۔۔
ویلڈن گرلز۔۔
چندی آنکھوں والے لڑکے لڑکیاں انکا دل بڑھا رہے تھے۔۔
دونوں کھسیا کر بائک سے اتریں۔۔ وہ آوازیں جو کھیلتے ہوئے انہیں ویڈیو گیم کا شور لگ رہی تھیں اصلی تھیں۔۔
گھمسامنیدہ۔۔ واعظہ نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔۔ تو فاطمہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔ جھکے جھکے ہی واعظہ اور اسکی۔نظر ملی تو اس نے اسے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔۔ فاطمہ گڑ بڑا کر جھک گئ۔۔
گھمسامنیدہ۔۔
انکیلئے تالیاں بجا کر سب تتر بتر ہونے لگے تھے۔۔ شغل لگایا مزا کیا بس اب تم اپنے راستے ہم اپنے راستے۔۔
بعد میں دونوں ہنستی ہوئی باہر نکلی تھیں۔۔
یار ویسے مزا آیا۔۔ بارش سے بچنے کو گیمنگ کلب میں گھسنے کا خیال اچھا تھا۔۔ فاطمہ ہنسی۔۔
واعظہ نے گردن اکڑائی اسی کا خیال تھا۔۔
بارش اب موصلہ دھار نہیں ہو رہی تھی ہلکی ہلکی سی پھوار تھئ۔۔ ۔سیول کی سڑک دھل کر شفاف ہو چکی تھی۔۔ ہلکی ہلکی سرد ہوا ان کے جسم میں کپکپی دوڑا رہی تھئ مگر دونوں خوش تھیں
سڑک پر گزرتی گاڑیاں اکا دکا آتے جاتے لوگ سڑک کنارے پوری روشنیوں سے دمکتی دکانیں اپنے کام سے کام رکھتے لوگ۔۔ غیر ملک انجان لوگ غیر مسلم اور وہ دونوں اکیلی لڑکیا ں۔۔ مگر ۔۔۔
تحفظ کا احساس آزادی سے اپنے معمولات نپٹاتی۔۔
فاطمہ کو عجیب سا احساس ہوا تھا۔۔چلتے چلتے رک کر واعظہ سے کہنے لگی۔۔
ہم پاکستان میں تو ایسے نہیں پھر سکتے ۔۔ ہے نا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا تو ٹپ ٹپ مزید کئی بوندیں سر پر آرہیں۔۔
سارے جہاں کی بے چارگی اسکی آنکھوں میں اتر آئی۔۔
تبھئ اسکے اوپر چھتری آتنی۔
اسکی آنکھیں حجم سے بڑی ہو چلیں۔۔
یہ لو۔۔
کسی نے اسے جلدی اے ہینڈل تھمایا تھا ۔۔ سگنل تبھی بند ہوا اور پیدل چلنے والوں کا اشارہ کھل گیا تھا۔۔ کہنے والے کا چہرہ چھتری کی آڑ میں تھا ہینڈل تھماتے اس نے فورا دستہ چھوڑا تھا الف کے ہاتھ بے ساختہ چھتری کا دستہ پکڑ گئے ورنہ چھتری اسکے قدموں میں ڈھیر ہو تی۔۔ اس نے جھٹ چھتری پیچھے کر کے دینے والے کا چہرہ۔دیکھنا چاہا مگر وہ اپنا جیکٹ سر پر کرتا پیدل چلنے والے راستے پر بھاگا تھا۔۔
اسے بس اسکی چوڑی پشت اور لانبا سراپا ہی دکھائی دیا۔یقینا کوئی انڈین یا پاکستانی ہوگا ۔ اس نے حیرانی سے اسے بھاگتے دیکھا
یہ لو؟کیونکہ۔۔ اسے یقین تھا دینے والے نے اردو بولی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بستر انکے صاف شفاف ہونگے مگر پورا کمرا پھیلا رکھا ہے۔۔ یہ دونوں الو روم میٹ مجھے ہی ٹکرنی تھیں۔۔
ابیہا اپنے کمرے کی۔صفائی کرتی بھنا رہی۔تھی۔۔
منے لائونج میں اپنی پسندیدہ پیڑھی میز سجائے اس پر لیپ ٹاپ رکھے نور حسب معمول مگن تھی۔۔ پاس ہی عزہ ڈھیر سارے گتے بکھرائے ایک گھر بنائے اور اسکے ساتھ جانے کون کونسی تاریں اور بیٹریاں جوڑے بیٹھی تھی۔۔
عزہ اپنے کپڑے سمیٹ لو اسٹینڈ سے سے سوکھ گئے ہیں دو دن سے پڑے ہیں۔۔ یہ عروج پکاری تھی۔۔ عزہ نے تار جوڑتے جوڑتے بدمزہ سی شکل بنائی۔۔
مگر سب ویسے ہی چھوڑتی اٹھ گئ۔۔
کمرے میں ہی ایک طرف کپڑےسکھانے والے اسٹینڈ کھڑے کر رکھے تھے ڈرائیر سے گھما کر بس ہلکی سی نمی رہ جاتی تھی سو وہ ایک دو دن کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑنے سے ہی۔مکمل سوکھ جاتے تھے۔۔
عروج تیار ہوکرلیب کوٹ پہنتی کمرے سے نکلی۔۔
آج الف کے شو میں کوئی فون نہیں کرنے والا؟۔۔ وہ نارض ہوگی آکر ہفتے میں بمشکل دو ہی دن ملے ہیں اسے۔۔ وہ بولتی کائونٹر سے بوتل اٹھا کر پانی گلاس میں نکالنے لگی۔۔
وہ بھئ ہماری ہی وجہ سے باقائدگی سے کالیں کر کر کے آوازیں بدل۔بدل کر اسکے شو کی ریٹنگ بڑھوائی ہے ہم نے ورنہ تو ایک ہفتے میں ہی بند ہو جانا تھا۔۔ لیپ ٹاپ پہ انگلیاں چلاتی نور ہنسی۔۔
میں تو نہیں کر سکتی کال صفائی کر رہی ہوں ۔۔ جتنا گند نکل رہا نا کمرے سے ایک ہفتہ مزید لگے گا مجھے۔۔
ابیہا نے دروازے سے جھانک کر ہری جھنڈی دکھائی۔۔
تم کر لو نور کیا کر رہی ہو بیٹھی ہوئی۔۔
عروج نے اسے کہا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر بولی
پڑھ رہی ہوں۔۔ فالتو نہیں بیٹھی ہوئی۔۔
پتہ مجھے کتنا پڑھتی ہو تم پھر کسی کی آئی ڈی ہیک کی ہوگی۔۔
عروج گلاس پٹختی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی ۔۔ نور نے جلدی اسکرین لاک کی۔۔ عروج کے پہنچنے تک سب کارکردگی چھپ چکی تھی۔۔
اگر واقعی پڑھ رہی۔تھیں تو یہ راز داری کیوں۔۔
عروج اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھی۔۔
کائوچ سے کشن اٹھا کر اسکے سر پر بجایا
ایک دو تو اس نے کھا لیئے پھر اس سے کشن لیکر ایک طرف اچھال دیا۔۔
ہاہ۔۔ عروج کا منہ کھلا رہ گیا۔۔
کیا ہوا۔۔ نور نے اسکے ردعمل پر حیران ہوتے اسکی نظروں کا تعاقب کیا تو اس سے بھی بڑا منہ کھول بیٹھی۔۔
اسکا کشن سیدھ عزہ کے بنائے ماڈل گھر پر گرا تھا آئسکریم اسٹکس سے بنا ابھی گلو نہ سوکھ چکی ہونے کی وجہ سے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا سو بیچ سے گھپ نیچے آرہا ۔۔
بچو خیر نہیں اب تمہاری۔۔
عروج نے کندھے اچکائے۔۔ اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
عروج۔۔ رکو پلیز۔۔ عزہ جان لے لیگی میری۔۔ نہیں چھوڑے گی مجھے
نور گھبرا کر اسکو پکڑنے لگی۔
نہیں چھوڑوںگئ آلینے دو انہیں۔ آج دیکھنا اس اپارٹمنٹ سے ضرور ایک بندی کم۔ہوگی میرے ہاتھوں۔۔ ابیہا بھنائی ہوئی باہر نکلی۔۔
یہ دیکھو۔۔ میرا سار ا لوشن گرا دیا اتنی مشکل سے پانچ سپراسٹور چھان کر حلال اجزا والا لوشن خریدا تھا دبئی کی کسی کمپنی کا اتنا مہنگا ۔۔ ڈھکن تک بند کرنے کی توفیق نہیں ہوئی سب بہا دیا۔۔
اب فیصلہ ہو کر رہے گا۔۔ ۔۔
یا تو یہ دونوں رہیں گی یا میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں آپکے ساتھ رہوں گی۔۔
اس نے معصومیت سے کہا تھا
فاطمہ اور واعظہ اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
اگلی جھلک۔۔
ناپھودا۔۔
شہہ بال ۔۔ جیہرال۔۔
وہ چندی آنکھوں والی لڑکی بے دریغ گالیاں دیتے اس چندی آنکھوں والے لڑکے کی اپنے پرس سے ٹھکائی کر رہی تھی۔۔
انکے گرد لوگ جمع ہو رہے تھے۔۔
دور نقاب پوش کالے عبایا میں کھڑی لڑکی انکی تصویر کھینچ کر اپلوڈ کر رہی تھی ہیش ٹیگ۔۔
پنگا نہیں چنگ
دیسی کمچی قسط دو
حصہ ششم
وہ ایک بند دکان کے باہر بنے چبوترے پر بیٹھ گئ دکان پر آگے تک جھکا کسی کمپنی کا ہنگل اشتہار اسکیلئے چھت کا کام دے رہا تھا۔
سرد ہوا انجان ملک سڑک کنارہ۔۔ گہری ہوتی رات۔
اسکی پلکیں بھیگنے لگیں۔
کئی آنسو گالوں پر پھسلتے چلے آئے۔۔ اس نے خود کو سنبھالنا چاہا مگر بے بس ہو کر رو ہی پڑی۔۔
تھوڑا تیز چلو یہیں رات گزارنی ہے کیا؟۔۔
اسے جھوم۔جھوم کر چلتے دیکھ کر واعظہ نے ٹوکا۔۔
مزے لینے دو تازہ ہوا اور آزادی کے۔۔ یار واعظہ ہم پاکستان میں تو ایسے نہیں پھر سکتے ہے نا۔۔
فاطمہ اداس ہوئی۔۔
ہاں ابھی ہم ان لوگوں سے کئی دہائی پیچھے ہیں۔ اپنے کام سے کام رکھنا ہم نے ابھی تک نہیں سیکھا۔۔
واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔
ساڑھے گیارہ ہو رہے۔۔ فاطمہ نے دونوں ہاتھوں میں شاپر ہونے کی وجہ کلائی پر بندھی گھڑی سے کافی دقت سے وقت دیکھا۔۔
یہاں کتنی روشنیاں ہیں پتہ ہی نہیں لگ رہا۔۔ ورنہ تو دس بجے کے بعد تو میں گھر کی چھت پر بھی نہ جائوں ڈر کے مارے۔۔
فاطمہ نے صاف گوئی سے کہا تو واعظہ ہنسی
ہاں جانا چاہیئے بھی نہیں رات کو تمہارے گھر کی چھت پر ہوائی مخلوق ہوتی ہے۔ آہٹیں محسوس ہوتی ہیں۔۔تم لوگوں کو۔۔ہے نا
اس نے مجروح بازو والا کندھا ہی اسے مار کر چھیڑا
شی۔۔سش۔۔ فاطمہ نے فورا ٹوکا۔۔
میری امی کہتی ہیں کہ اس مخلوق کا نام لو تو حاظر ہو جاتئ ہے۔۔ زکر بھی نہیں کرنا چاہیئے بے وقت ۔۔
ہم ویسے بھی اکیلی لڑکیاں ہیں۔۔بارہ بج رہے ہیں یار مزاق میں بھی انہیں بلا مت لینا۔۔
فاطمہ نے کہا تو واعظہ حیرانی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی خلاف توقع وہ مزاق نہیں کر رہی تھی بالکل سنجیدہ تھی۔۔
میں نے نام تو نہیں لیا مگر۔۔
واعظہ کہتے کہتے رکی فاطمہ نے سوالیہ نظریں اسکے چہرے پر جمائیں۔۔
لیکن تمہارے گھر والے بھوت یہاں آ بھی جائیں تو پاکستان سے یہاں آنے میں کافی وقت لگے گا انہیں۔۔
وہ شرارت سے کہہ کر اسکے متوقع وار سے بچنے کو پیچھے ہوئی۔۔ عین اسی جگہ فاطمہ کے دائیں ہاتھ والا شاپر بھد سے آیا تھا۔۔ یقینا اگر وہ اتنی تیزی نا دکھاتئ تو اسکی ٹانگ بج جاتی۔۔
کہہ رہی ہوں نا نام مت لو آجاتی ہے یہ مخلوق۔۔
فاطمہ بھنائی۔۔ واعظہ ہنستی ہنستی اسے مزید چھیڑنے لگی۔۔ ایکدم سے ڈر جانے والی شکل بنا کر اسکے پیچھے دیکھنے لگی۔۔
فاطمہ آگئ وہ دیکھو ۔۔
کہاں۔۔ وہ اپنی جھونک میں مڑی تو کوئی بھی نہ تھا۔
واعظہ کی بچی۔۔
اس نے بھنا کر دیکھا تو واعظہ کھلکھلاتی اس سے آگے آگے بھاگ پڑی تھی۔۔
ٹھہرو۔۔ وہ دونوں شاپر سنبھالتی خود بھی اسکے پیچھے بھاگ اٹھی۔۔
بھاگتے بھاگتے واعظہ کے قدم سست پڑے تھے وہ رک گئ۔ تو پیچھے سے آکر فاطمہ نے اسے بھرپور ٹکر مار کر دو شاپر بھی لگا دئیے اسے۔۔
واعظہ خاموشی سے پٹ گئ تو اس نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ سڑک کنارے کسی چیز پر نگاہ جمائے تھی۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو دو بڑے بڑے بیگ سڑک کنارے ایک دکان کے پاس نظر آئے۔۔
کیا ہوا بیگ ہیں۔۔ فاطمہ نے کہا پھر بری طرح ڈر گئ۔
بھاگو یہاں سے نامعلوم لا وارث بیگ ہیں پھٹ گئے تو۔ وہ واعظہ کو کھینچنے لگی۔۔ واعظہ نے کراہ کر بازو چھڑایا۔۔
پاکستان میں نہیں ہیں ہم ۔۔ اور دونوں بیگ بھی نہیں ہیں ایک تو ہل بھی رہا ہے۔۔ وہ غور سے دیکھ رہی تھی۔۔
پھر تو پکا پھٹے گا۔۔ فاطمہ گھبرائی۔۔
واعظہ نے توجہ نہ بلکہ بیگ کی۔طرف بڑھ گئ۔۔
واعظہ کی بچی تیس مار خان مت بنو کوئی ہوم لیس بے گھر ہوگا بارش سے بچنے بیٹھ گیا وہاں۔۔
اس نے پیچھے سے پکار کر کہا مگر وہ بڑھتی گئ چارو نا چار اسے پیچھے آنا پڑا۔۔۔
لڑکیوں کو تائیکوانڈو نہیں آنا چاہیئے۔۔ ایک جو ضروری ڈر ہوتا جو مشکلوں سے بچاتا ختم ہو جاتا۔۔
یہ بھئ یاد نہ رہا کہ موصوفہ ٹنڈی ہوئی پڑی ہیں مگر نہ جی۔۔ اب مجھے ہی اسے بچانا ہوگا۔۔
وہ باقاعدہ فضیحتے کرتی اسکے پیچھے آرہی تھی
آننیانگ۔۔آہجومہ۔۔ واعظہ نے ہوا سے اڑتی اسکی پونی دیکھ لی تھی۔۔ سو اتنا اسے اندازہ تھا کہ لڑکی ہے۔۔
قریب آکر جھک کر اس سے پوچھا تو گھٹنوں میں منہ دئیے سسکتی لڑکی نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا
آپ انڈین ہیں۔۔ خیریت رو کیوں رہی ہیں۔۔
اسکا اندازہ درست تھا لڑکی ہی تھی۔۔ مگر برصغیر کے نقوش کی یقینا انڈین یا پاکستانی۔ گول چہرہ کھلتا ہوا رنگ ۔۔سرخ آنکھوں سردی سے سرخ ہوگی ناک وہ سسکنے کے ساتھ سرد ہوا کے جھونکوں سے کانپ بھی رہی تھی۔۔
آپ انڈین ہیں۔۔؟ وہ لڑکی جوابا کانپتی ہوئی ہی آواز میں پوچھ رہی تھی۔۔
فاطمہ قریب آتے آتے رک گئ۔۔ رات کو اور لڑکی۔۔
پکا۔۔ ہوائی۔۔
اس نے خود کو دل میں ڈپٹا
نام مت لے بیٹھنا۔۔ وہ جھک کر اس بڑے سے بیگ کے پائوں دیکھ رہی تھی سیدھے بھی ہیں کہ نہیں
نہیں پاکستانی ہوں۔۔ واعظہ نے کہا تو وہ اٹھا کر واعظہ سے لپٹ گئ۔۔
پلیز میری مدد کریں۔۔ میں بہت مشکل میں ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں جنرل اسٹور کے ایک کونے میں میز پر بیٹھی تھیں۔۔ واعظہ اور فاطمہ کافی پی رہی تھیں اور وہ لڑکی کافی کے ساتھ ویجیٹیبل اور چیز سینڈوچ۔۔
بھی کھا رہی تھی۔۔ کافی تیزی سے اس نے سینڈوچ ختم کیئے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کافی بھوکی ہو رہی تھی۔۔
میرا نام عشنا ہے۔۔ کھا پی کے اس کی تھوڑی جان میں جان آئی تو اس نے تمہید باندھی۔۔
واعظہ اور فاطمہ دونوں ہمہ تن گوش تھیں
میں یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں مجھے پاکستان سے آئے بس چھے مہینے ہی ہوئے ہیں۔ وہ سانس لینے رکی
یار یہ وہی پاکستان ہے نا جو اپنی لڑکیوں کو اعلی تعلیم نہیں دلواتے ۔۔۔
فاطمہ کان میں گھسی واعظہ کے۔۔
اور یہاں دھڑا دھڑ اعلی تعلیم کی غرض سے آئی لڑکیا ں ٹکر رہی ہیں ہمیں۔۔ پاکستان کو کیا ہوگیا ہے سب کو کوریا کیوں بھیجے جا رہے؟۔
اس کی لن ترانی عروج پر تھی واعظہ نے اسے گھورا
تو ہمیں بھی بائیس کروڑ کی آبادی میں سات لڑکیاں ہی دوسرے ملک میں ملی ہیں۔۔ کونسا پورا پاکستان اٹھ آیا ہے۔۔
میں اسکالر آپ پر نہیں آئی تھی سو یہا ں چھوٹی موٹی جاب کرکے ایک کمرہ لیکر رہ رہی تھی ۔۔ میری جز وقتی نوکری اچانک ختم ہوگئی تو میں کرایہ نہیں دے پائی اسلیئے مجھ سے کمرہ چھن گیا ہے۔۔ دو ایک دن میں نے سانا میں رات گزاری مگر جب انہوں نے پیسوں کا تقاضا کیا تو مجھے پارک میں بھی رات گزارنی پڑی ہے۔۔
ایک منٹ ۔۔ فاطمہ نے اسکی گفتگو کو روک دیا۔۔
آپ کو کھانا کھلا دیا ہے آپکو پیسے چاہیئے ہم دے دیتے ہیں۔۔
اس نے اپنے پرس سے چند وون کے نوٹ نکال کر میز پر رکھ دییے۔
بارہ بج رہے ہمیں دیر ہو رہی ہے چلو واعظہ گھر چلیں۔۔
اس نے کہتے ہوئے کرسی کے پاس رکھے شاپراٹھا لیئے اور کھڑی ہو گئ۔۔ انداز موقع نہ دینے والا تھا۔ واعظہ الجھن میں پھنسی۔۔ اس لڑکی نےنوٹ کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تھے بلکہ کسی حد تک مایوسی بھی اسکے چہرے پر پھیل گئ تھی
مجھے آپ پیسے مت دیجئے مجھے بس رہنے کی جگہ چاہیئے میں نوکری ڈھونڈ رہی ہوں ملتے ہی رہنے کا انتظام بھی کر لوں گی بس چند دن اگر آپ لوگ ۔۔
عشنا نے کہا تو واعظہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اپنا منا فلیٹ اور آدھے درجن سے زیادہ بھری مرغیاں ان میں ایک اور اضافہ یقینا وہ سب اسکا گلا دبا دیتیں۔۔
خدا حافظ ۔۔ بے مروتی سے کہہ کر دونوں جانے لگیں تو وہ بھی اٹھ کھڑئ ہوئی
پلیز ۔۔ میں ۔۔میری بات تو۔۔
اسکے انداز میں لجا جت تھی۔۔ دونوں نے بشکل دل سخت کیئے اور کان بند کر لینے چاہیئے مگر ایک ہدایت بھول گئیں۔۔ جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیئے۔۔
یار ویسے معصوم سی لڑکی لگ رہی ہےہمیں مدد کرنی چاہیئےانجان ملک ہے۔ واعظہ منمنائی۔
جو بھی ہو تم نے ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا غیر ملک میں پاکستانی لڑکیوں کا جن پانچ کی اماں بن کر بیٹھی ہو نا کافی ہیں ایک اور زمہ داری اٹھانے کی ضرورت نہیں۔۔ پیسے تک نہیں اسکے پاس کرایہ ملنا نہیں۔۔ فاطمہ کی اتنی تقریر کا مقصد اسے باز رکھنا تھا۔۔ اسٹور کے داخلی دروازے کی طرف بڑھتے اسے احساس ہوا تھا کہ اکیلی ہی ہے سو مڑ کر دیکھا واعظہ دو قدم پیچھے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔۔
کیا؟ میری بات اور ہے میں تو جاب ملتے ہی کرایہ دے دوں گی پہلی تنخواہ سے۔۔ پکا۔۔
وہ پلٹ کر اسکے قریب آئی۔۔ واعظہ کی اس گھوری کا مطلب وہ بالکل صحیح سمجھی تھی۔
اور مجھے تو تم جانتی ہو اس لڑکی کا کیا بھروسہ سچ بھی کہہ رہی ہے کہ جھوٹ۔۔ جانے واقعی یہاں پڑھ رہی ہے کہ نہیں۔۔
وہ آواز دبا کر بولی تو واعظہ نے جتایا۔۔
محترمہ آپ کو بھی میں آٹھ مہینے سے ہی جانتی ہوں گودوں کھلائی نہیں ہو تم میری۔۔ پی جی کا ایڈ دیکھ کر آئی تھیں تم۔۔
ہاں تو ۔۔ وہ کھسیائی۔۔
پھر بھی میرے سب ڈاکومنٹس تھے دکھائے تھے میں نے تبھی تم نے پی جی رکھا تھا مجھے۔
تو اسکے پاس بھی ہونگے۔۔
واعظہ نے مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی وہیں دونوں ہاتھوں میں سر دئیے بیٹھی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ اپنے زمین بوس گھر کے پاس دونوں ہاتھوں میں سر دئیے ہکا بکا سی بیٹھی تھی۔۔ ابیہا عروج اور نور اسکے سر پر کھڑی اسے گھور رہی تھیں۔
صدمے سے سکتا تو نہیں ہو گیا۔۔
ابیہا کو فکر ہوئی۔۔
اسکو ہلا جلا لو اگر حالت تشویشناک ہے تو میں ابھی یہیں ہوں ابتدائی طبی امداد دے کر جاتی ہوں اسے۔۔
یہ عروج تھی۔۔ اپنا بیگ شانے پر درست کرتی گھڑی دیکھتے ہوئے بولی۔۔ اسے دیر ہونے ہی والی تھی۔۔
نور ڈرتے ڈرتے اسے ہلانے جلانے لگی۔۔
عزہ۔۔
عزہ کے ساکت وجود میں جیسے بجلی دوڑی حواسوں میں واپس آتے ہی اپنے ٹوٹے ہوئے گھر کو دیکھا پھر چیخ مار کر اس سے لپٹ کر رو پڑی۔۔
یہ اچھا ہوا ۔۔ عروج نے گہری سانس بھری۔۔
میں چلتی ہوں اب اگر ان دونوں کی لڑائی میں کوئی زیادہ زخمی ہو جائے تو ون ون نائن ہے ایمرجنسی نمبر ملا لینا۔ ابیہا نے اچنبھے سے دیکھا ۔۔ تو عروج مسکرا دی۔۔
اسے یاد تھا ابیہا بس میں ون ون ٹوٹو ملاتی رہی تھی سو اسے خاص طور پر نمبر بتا کر جتایا۔۔
ون ون ٹو ٹو پاکستان کی ایمرجنسی سروس ہے سمجھیں۔۔
ابیہا نے سر ہلایا اور عزہ اور نور کی طرف دوبارہ توجہ کی۔۔
میرا پورا گھر توڑ دیا۔۔
وہ گھٹنوں میں منہ دئیے روئے جا رہی تھی
دوبارہ بنا دیتے ہیں عزہ مت رو۔۔
نور نے ڈرتے ڈرتے اسکے کندھے پر۔ہاتھ رکھا۔۔
وقت دیکھا ہے؟۔ وہ بپھری شیرنی کی طرح اسکی جانب مڑی۔۔
آٹھ بج رہے صبح پریزنٹیشن ہے میری یہ ایک ہفتے میں بنا تھا ۔۔ جو چور چور کر دیا ہے تم نے اب کل میں پکا فیل ہوجائوں گی وہ بھی تمہاری وجہ سے۔۔
وہ انگلی اٹھا کر بولی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ بجے آپکا شو ہے اور آپ اب پہنچ رہی ہیں۔۔ ؟
کھڑوس باس نے اسکا اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی استقبال کیا تھا۔۔
ڈانٹ خالص انگریزی میں تھی۔۔
میں معزرت خواہ ہوں سر وہ یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے دیرہوگئ۔۔
چھتری بند کرتے ہوئے اس نے سر جھکا کر معزرت کی سر اچھل کر دو قدم پیچھے ہوئے چھتری کا سارا پانی ٹپ ٹپ انکے جوتوں پر آرہا تھا۔۔
آئی ایم سوری سر۔۔
وہ کوریائ انداز میں جھک گئ۔۔
ڈیمن۔۔ چندی آنکھوں والے چالیس کے پیٹھے میں بھی چیتے جیسی کمر پر ہاتھ رکھے پیشانی کھجاتے اسکے باس یقینا اس وقت کو کوس رہے تھے جب الف کو نوکری پر رکھا تھا۔۔
آپکو کہا بھی تھا آج آپ کے ساتھ ایک نیو پریزنٹر ڈیبیو کرے گا آپ کم از کم ایک گھنٹہ پہلے آکر اس سے گفت و شنید کر لیں تاکہ تھوڑی سی آپ لوگوں میں بے تکلفی ہو جائے اور آپ آسانی سے لائیو جا سکیں۔۔ اور آپ پندرہ منٹ پہلے تشریف لا رہی ہیں۔۔
چندی آنکھوں والے ان انکل نے مزید چندی آنکھیں کر لی تھیں۔۔ انکے غصے کا اس نے بالکل برا نہ مانا ویسے ہی کوریائی چیخ چیخ کر بولتےعام انداز میں بولتے بھی لگتا غصے سے دیوانے ہوئے پڑیں ہیں اورغصے میں چلاتے بھی تو ویسے ہی انکی نیدا ایکا کی عادت ہو ہی چکی ہوتی ہے سو مزے سے الف نے بیگ شانے پر درست کر کے تصحیح کی۔
سر دس منٹ پہلے۔۔ اور اب تو بس پانچ منٹ رہ گئے۔۔
دل تو کیا صاف کہے پانچ منٹ آپ نے اس فضول بکواس میں ضائع کر دئیے ہیں۔۔
بھاگو جائو۔۔ سر چلائے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا پاسپورٹ یونیورسٹی آئی کارڈ اس نے اپنی ڈگریاں تک سامنے رکھ دیں۔۔
ہر طرح سے اطمینان کر لینے کے باوجود بھی دونوں ہچکچا رہی تھیں۔۔
یار ہم تو پہلے ہی تین لڑکیاں ایک کمرے میں ہیں۔۔
اور عروج وغیرہ تو چار ہیں۔۔ اسکو کہاں کھپائیں گے۔۔
فاطمہ پھر واعظہ کے کان میں گھسی۔۔
عروج وغیرہ چار رہ سکتی ہیں ایک کمرے میں تو ہم بھی رہ سکتی ہیں۔۔ واعظہ نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔۔ پھر عشنا سے پوچھنے لگی۔۔
تم رہ لوگی ہمارے ساتھ؟۔۔ایک ہی کمرے میں۔۔
عشنا نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا۔۔
دیکھنے میں تو سلجھئ ہوئی ہی لگ رہی تھیں اس نے سے باری باری دونوں کی شکل دیکھی پھر
معصومیت سے بولی۔۔
ہاں رہ لوں گی آپ لوگوں کے ساتھ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنیانگ ہاسے او
اس نے مصروف سے انداز میں اسٹوڈیو میں بیٹھے لڑکے کو سلام کیا اور جھٹ کانوں پر ہیڈ گئیر چڑھا لیئے۔۔ چندی آنکھوں والا ژیہیانگ اسے دیکھ کر واضح طور پر چونکا تھا مگر وہ لاپروا
مائک وغیرہ چیک کررہی اس کے پاس بس دو منٹ تھے۔۔ اسکے پاس ساتھ بیٹھے ڈیبو ٹانٹ کو تسلی دلاسے دینے کا وقت نہیں تھا سو۔۔ اس نے ایک نظر چلتے ٹائمر پر ڈالی اور اسکی جانب مڑی۔۔
ہمارے پاس دو منٹ ہیں گھبرانا مت ہم لائیو ہونگے انگریزی میں بات کرنی ہوگی جہاں اٹکو چپ ہو جانا میں سنبھال لوں گی دو منٹ کے تعارف کے بعد دو تین گانے اکٹھے چلا دوں گی اتنی دیر میں اپنا اعتماد بحال کر لینا ٹھیک۔
تقریر جھاڑ کر وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
اس کے انداز میں شناسائی کی رمق تک نہ تھی۔۔
ژیہانگ نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ مطمئن ہو کر مڑ گئئ۔
آن ائیر جانے میں چند سیکنڈ تھے۔۔
پانچ چار تین دو ایک۔
آننیانگ شنگوز۔۔ سلام فرینڈز میں ہوں آپکی ہر دل عزیز میزبان ایلف ۔ کیا حال ہیں آپ سب کے۔۔ مجھے امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے۔۔ ویکاینڈ فن کے ایک اور تفریح سے بھرپور شو میں خوش آمدید ۔۔ سیول کا موسم آج پھر بھیگا سا ہے اور ایسے ہی آج سب ٹریک میں نے لائن اپ کیئے ہیں سو اگر کچھ اور بھی کرنے کا ارادہ ہے تو ترک کیجئیے اور لطف اٹھائیں میرے ساتھ موسم کا میرا پہلا ٹریک ہے۔۔
نان اسٹاپ بولتی الف ۔ میں بجلی سی بھر گئ تھی۔۔ ہاتھ ہلا ہلا کر خوب جوش سے بولتی اسکی لفظوں کی ریل گاڑئ چھک چھک کرتی گزرتی جا رہی تھی۔۔
اور اپنا تعارف کرائے جانے کا منتظر ژیہانگ مسکراتی آنکھوں سے مائک کے کاوئٹر پر کہنیاں جمائے اسے دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ اسطرح رونے سے سب جڑ تو نہیں جائے گا۔۔
ابیہا تیسری بار اسے ہلا جلا کر کھانے پر آمادہ کرنے آئی تھی۔۔ وہ اپنی مسہری پر لیٹی چادر اوڑھے منہ پر تکیہ رکھے رو رہی تھی۔۔
نہیں مگر رونے سے دل تو ہلکا ہو جائے گا بیٹھے بٹھائے بیس نمبر غارت ہونے والے ہیں کم از کم اس نقصان پر رو کر جی تو ہلکا کر لینے دیں۔۔
تکیہ رکھے رکھے وہ چلائی۔۔
ہاں منطق تو ٹھیک ہے۔۔ابیہا نے قائل ہو جانے والے انداز میں سر ہلایا۔
پتہ ہے اس دن میں یو ٹیوب پر دیکھ رہی تھی ایک تحقیق کے مطابق رونے سے انسان کا اضطراب کم ہوتا ہے اور۔۔
وہ مزید بھی پوری ویڈیو کا متن سناتی مگر عزہ نے تکیہ ہٹا کر سرخ آنکھوں سے بری طرح گھورا تھا۔۔ میں کھانے کیلئے اٹھانے آئی تھی ۔۔
ابیہا کھسیائی۔۔
مگر لگتا ہے تم کھانا کھائوگی نہییں چلو روتے روتے سو جانا شب بخیر۔۔
وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہوئی عزہ گھورے ہی جا رہی تھئ۔۔ تیزی سے اپنے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا اور غڑاپ سے باہر۔۔
باہر نکل کر سانسیں درست کرنے لگی۔۔ نور اپنی ہر فن مولا میز پر کھانا رکھے آلتی پالتی مار کر بیٹھی تناول فرما رہی تھی۔۔ اسکی بگڑتی حالت دیکھی تو ہنس کر بولی۔۔
مجھے پتہ تھا نہیں مانے گی صبح تک غصہ کم ہوگا تو دوبارہ معزرت کر لوں گی تم بھی آئو کھانا کھائو۔۔ ٹھنڈا ہو رہا۔۔
اسکا اطمینان دیکھ کر ابیہا گھور کر رہ گئ۔۔
ہم ہی اسے جوڑ لیتے ہیں۔۔
وہ تاسف سے کہتی شہید گھر کے ٹکڑے جمع کرنے لگی۔۔
چار دن میں بنایا تھا ہم چار گھنٹے میں کیسے جوڑ سکتے وہ کہتے ہیں نا گھر بنتے سالوں میں ہیں ٹوٹتے لمحوں میں۔ ہیں۔
منہ میں نوالا رکھے وہ فلسفہ بگھارتی سچ مچ ملول ہوگئ۔۔
کھاتے وقت بک بک نہیں کرتے۔۔ ابیہا نے تپ کر ٹوکا۔۔جانے اتنا اطمینان اس میں آتا کہاں سے تھا۔۔کسی کا گھر ٹوٹ گیا اور وہ ملبے پر بیٹھی چکن کڑاہی تناول فرما رہی تھی۔
یہ سب پاکستانی باتیں ہیں۔۔ اس نے کان پر سے مکھی اڑائی۔۔
گرم گرم نوالا منہ میں نہ رکھو، چھوٹے نوالے بنائو، کھاتے وقت بولو نہ۔۔ کورینز کو دیکھا ہے۔۔ کھولتے نوڈلز منہ میں رکھے منہ سے دھواں چھوڑتے ہیں اتنے باادب سے اوپا منہ سے بھی بڑے نوالے ڈال کر کپا منہ بنائے چبا رہے ہوتے اور ایک سے ایک۔ضروری کنفیشن کھانا کھاتے ہوئے کرتے ۔۔ اس دن ڈرامہ دیکھتے ہوئے کھانے کا منظر آگے کیا پتہ چلا اظہار محبت کر گزرے کھاتے ہوئے ۔۔ واپس کرکے دوبارہ دیکھا تو اوپا نے کپا گال کیا ہواتھا نوالے بھر کر اور کنفیسس کررہے۔۔
وہ بولتے بولتے ٹھٹکی۔
کنفیشین کو اردو میں کیا کہتے؟۔ اسکی لغت جواب دے گئ تھی۔۔
ابیہا نے گہری سانس بھری اور ملبہ سمیٹنے لگی۔۔
یآر ہماری لغت کہاں ہے اسے ضرور پتہ ہوگا کنفیشن کو اردو میں کیا کہتے؟۔
کون لغت۔۔ ابیہا اسکی بے سرپا باتوں پر دھیان نا دینے کا عزم کر کے بیٹھی تھی پھر بھی چونکی۔۔ لفت تو ان ساتوں میں سے کسی کا نام بھی نہ تھا۔۔
واعظہ ۔۔ اور کون۔۔ اور کون ہے چلتی پھرتی جیتی جاگتی بولتی بالتی لغت جہاں انگریزی بولو ٹوک کر اسکا اردو مترادف بتانے والی۔۔ لغت نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔
نوالہ منہ میں پان کی طرح دبائے وہ آنکھیں پٹپٹا رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت پر پہنچ گئ ابتدائیہ دے دیا گانا بھی لگا دیا ہر کام سے فارغ ہو گئ تب بھی بس آٹھ بج کر پانچ منٹ ہی ہوئے ہیں۔ ریوالونگ چئیر پر مزے سے آلتی پالتی مار کر آرام دہ حالت میں بیٹھئ وہ خود کو خود ہی شاباشی دے رہی تھئ۔۔
اس نے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے موبائل مین وقت دیکھا۔یہ عادت اسے اسی نوکری سے پڑی تھی اکیلی آواز بند اسٹوڈیو میں بیٹھتی تھی کوئی اردوسمجھنے والا نزدیک نہیں سو گانے لگا کر دن بھر کی بھڑاس نکالا کرتی تھئ بول بول کر۔۔ ابھی تو اس بے موقع کا جھاڑ کا غصہ بھی چڑھا تھا۔ اس نے گھور خر اسٹوڈیو کی شیشے کی دیوار سے جھڑوس بڈھے انکل کو ہاتھ نچا نچا کر اسے کچھ کہتے دیکھ کر تاسف سے سر جھٹکا۔۔
ایویں یہ چندی آنکھوں والا کھڑوس پیچھے پڑا رہتا۔۔
میرے اب دیکھو گدھے۔۔ سب کام تو کر لیا میں نے تمہاری بڑ بڑ جاری ہے۔۔ وہ مسکرا کر انہیں دیکھتی یوں کہہ رہی تھی جیسے انکی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہو۔۔
آنکل اب چپ ہو کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔
ایک آواز نہیں آئی آپکی مگر لگتا دنیا کا ایک شور کم ہوا ہے ویسے اگر اب بھی آپکی بولتی بند نہ ہوتی تو پکا میں نے آپکے منہ میں آپکی اس بھوری ٹائی کا گولا بنا کر ٹھونس دینا تھا۔۔ زہر لگتی ہے آپکی یہ ٹائی اور آپ ہیں کہ۔۔
اسکی باتیں سنتے ژیہانگ کا ضبط کرتے کرتے بھی قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔الف بری طرح چونک کر مڑی۔۔
یہ بھی تو بیٹھا تھا اسکے ساتھ اسے تو یاد ہی نہ رہا۔۔ اوپر سے یہ ہنس کیوں رہا؟ وہ بھونچکا رہ گئ۔۔
اسے اردو سمجھ آتی ہے کیا؟ اسے خوف آیا۔۔اسکے نقوش کھوجتی نظروں سے دیکھے۔۔ گھنے سیاہ بال مخصوص کوریائی انداز میں ماتھے پر بکھرے تھے باریک لب کھڑی ناک اور تھوڑی سی حجم میں بڑی مگر غلافی
چندی آنکھوں والا ژیہانگ کھل کر ہنس رہا تھا۔۔ روائیتی کورین مال تھا۔۔ اسے کیوں اردو آنے لگی۔۔
اس نے اپنے احمقانہ خیال کو جھٹکا۔۔ باس مزید ضبط نہ کر سکے دروازہ کھول کر اندر گھس آئے۔۔
مس ایلف آپکا دھیان آخر ہے کدھر ۔۔؟ ژیہانگ نے آپکے ساتھ اوپننگ گریٹنگ دینی تھئ اور آپ نے اسکا کوئی زکر تک نہ نہیں کیا اور گانا لگا دیا۔۔
سر اس پر بنا لحاظ چلائے تھے
اس سے تو سیدھے ہو کر بیٹھا بھی نا گیا بس سر جھکا لیا۔۔
اتنی ڈانٹ تو زندگی میں امی سے بھی نہ کھائی حالانکہ انکو تو میری شکل دیکھ کر غصہ آجاتا ہوتا ہے۔۔ آج صبح کسکی شکل دیکھی۔۔
وہ مسمسی سی صورت بنا کر دل میں سوچ رہی تھی۔۔
وہ میں تھوڑا سا کنفیوز سا محسوس کر رہا تھا میں نے ہی ان سے گزارش کی تھی کہ آپ پہلے گانے لگا دیں ہم پانچ سات منٹ باتیں کر لیں تو پھر میں براہ راست جائوں گا۔۔ شستہ انگریزی میں یہ ژیہانگ اسکی حمایت کر رہا تھا۔۔ اس نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا۔ وہ مکمل طور پر باس جانب متوجہ تھا۔۔باس نے ہنکارہ بھر کر دونوں پر قہر بھری نظر ڈالی۔۔ اب اس نے جھوٹ کیوں بولا۔۔ الف نے سوچا
ژیہانگ کو یقینا اس پر ترس آگیا تھا۔۔ ۔
آج کی ریٹنگ پچھلے ہفتے سے بھی گئ گزری ہے۔۔
انگریزی گانے کوریائی ایک مخصوص طبقہ سنتا اور انگریزی پروگرام تو اس سے بھی کم کچھ ہائی اسکول کے بچے سن بھی لیتے تھے انگریزی بہتر کرنے کے واسطے تو یقینا آج انکا بھی دل اٹھ گیا ہے اس پروگرام سے۔۔ ہمیں کچھ کرنا ہوگا ہم اگلے ہفتے کے لیئے کوشش کر رہے مشہور پاپ سنگرز کو بلانے کی کوئی انگریزی پروگرام میں آنے کو تیار ہی نہیں اگر یہی حال رہاتو مس ایلف یہ شو بند ہو جایے گا تھوڑی سی محنت کر لیں آپ بھی اور ژیہانگ کے ساتھ مل کر کوئی نیا آئیڈیا لائیں۔۔ مجھے امید ہے آپ دونوں مل کر اس شو کو بے موت مرنے سے بچا لیں گے۔۔
سخت سست سناتے انکا لہجہ دھیما پڑتا گیا تھا۔۔ یقینا وہ خود بھی پریشان تھے۔۔
جی سر۔
دونوں نے سعادتمندی سے سر ہلایا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں لگتا میں اسپتال میں ٹپے گا رہی ہوں۔۔ کوئی کام وام نہیں مجھے؟ بیٹھ کر تمہارے فضول شو میں کال ملا کر بیٹھ جائوں۔۔ ابیہا کو کہہ دو۔۔
عروج بھنائی تھی۔۔ ایک تو یہ مریض اتنا عاجز کئیے تھا اوپر سے الف کی فون کر کے کی جانے والی فرمائیش۔
پلیز عروج بہن ہوگی ابیہا نے صاف انکار کیا ہے فاطمہ اور واعظہ گھر پر نہین ہیں صرف تم۔ہی میری مدد کرسکتی وہ وعدہ میں تمہارے لیئے نیا سینیٹائزر لیکر آئوں گی۔۔
اسکا بس نہیں تھا فون میں سے نکل کر عروج کی منتیں کرنا شروع کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں دبے قدموں گھر میں داخل ہوئی تھیں انکے پیچھے اسی رازداری کے ساتھ عشنا بھی۔۔
ہاہ۔۔لائونج میں داخل ہوتے ہی جو منظر سامنے تھا اس سے تینوں کا سانس اوپر کا اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔۔ دھڑ دھڑ کرتا دل تھامے وہ بمشکل بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
اگلی جھلک۔۔
کیا واقعی تم سیہون کا انٹرویو لو گی؟ایکسو کے سیہون کا؟۔۔ ابیہا واعظہ فاطمہ عروج عزہ کورس میں چلائی تھیں۔۔ اور عشنا بے چاری ان سب کی حیرت بھری خوشی سے بے نیاز پوچھ رہی تھئ سیہون کون ہے؟
ا
-
Urdu Web Travel Novel Desi Kimchi Episode 1
دیسی کمچی۔۔
قسط نمبر ایک
منظر پہلا۔۔۔۔
نا پھی ٹھام نمیئول نا ماجیک ما چھمیول۔۔
غیر فہم الفاظ میں کوئی کان پر چیخا تو میری پٹ سے آنکھیں کھلی تھیں۔۔ چند لمحے تو سمجھ نہ آیا کہاں کس دیار میں بیدار ہوئی ہوں۔۔ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹا کر بمشکل آنکھیں کھولیں تو احساس ہوا اپنے کمرے میں پڑی دھوپ سینک رہی ہوں۔۔
میرے پورے بیڈ پر کھڑکی سے چھن چھن کر آتی دھوپ میرا چہرا تک تپا چکی تھی۔
ابیہا کی بچی۔۔
جھلا کر اٹھتے ہی میں چلائی۔ منہ دھو کر کمرے میں تولیہ سے منہ پونچھتی آتی ابیہا دہل کر تولیہ ہی چھوڑ بیٹھی۔
کیا ہوا۔۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ وہ ہونق سی ہوئی تھی۔۔
صبح صبح کیا شوق چڑھتا ہے سورج شاور لینے کا تمہیں ۔؟۔ میں جھلاتی اٹھ بیٹھی۔۔
کانوں میں ٹھنسی ہینڈ فری نکال کر بی ٹی ایس کو بھی تھوڑا آرام کرنے کا موقع دیا رات جانے کب گانے سنتے آنکھ لگ گئ پتہ نہیں بے چارے پوری رات لگا تار میرے موبائل کی بیٹری چوستے کانسرٹ کرتے رہے اور میں ایسی بے ہوش سوئی کہ صبح بھی انہی کے گانے سے آنکھ کھل پائی۔۔
میں اب بستر جھاڑتی چارجر ڈھونڈ رہی تھی پانچ فیصد بیٹری رہ گئ تھی۔۔
صرف سورج شاور نہیں لیا ہے پانی شاور بھی لیکر آئی ہوں۔۔ اور میڈم یہ صبح صبح نہیں ہے بارہ بج رہے ہیں ایک دنیا اپنا آدھا دن کام کاج کر کے گزار چکی جب موصوفہ کی سواری باد بہاری نندیا پور سے واپس آئی ہے۔۔
ابیہا نے جھک کر تولیہ اٹھاتے ہوئے خشمگیں نظروں سے مجھے گھورا ۔۔
موصوفہ طنزیات میں پی ایچ ڈی کر چکی ہیں ایسی ایسی تشبیہات اور استعارے استعمال کر کے زلیل کرتی ہے کہ زلیل ہونے والے کی اردو اچھی ہو جاتی ہے۔۔ میرے جیسی جسکو اچھا خاصا فخر تھا اردو اچھی ہونے پر اس سے مقابلے میں تھوڑا تھم کر ہی رہتی اور ابھی تو لڑائی کو اگے بڑھانا مناسب تھا بھی نہیں سو امن کی جھنڈی لہراتی میں ادھار رکھ گئ ۔۔
کیونکہ مجھے ابھی اسی سے چارجر چاہیئے تھا۔۔
سو قصدا اسکی تقریر نظر انداز کرتی مصالحت بھرے انداز میں بولی۔۔
یار تو اٹھا دیتیں نہ مجھے۔
میں اس سے نظریں چراتی اسکے بیڈ پر سے چپکے سے اسکی نظروں میں آئے بنا اسکا چارجر اٹھانے بڑھی۔۔
جنمن ، وی شوگا کوکی صبح سے کانوں میں چیخیں مار مار کر تمہیں اٹھا نہ سکے میری کیا مجال۔۔ آئی نیڈ یو گرل سے میری اپنی آنکھ تک کھل گئ تم جانے کیا بھنگ لیکر سوتی ہو۔۔
ابیہا بھناتی کمرے کے ایک کونے میں رکھی دھلنے والے کپڑوں کی ٹوکری کی جانب بڑھی۔۔
رکو۔۔ میں نے اپنی جانب سے لمحے بھر کا توقف کیئے بغیر دونوں ہاتھ پھیلا کر اسےچیخ کر روکا مگر تب تک دیر ہو چکی تھی وہ ٹوکری کا ڈھکن اٹھا کر اس میں تولیہ ڈال چکی تھی۔۔
میں دانت پیس کر رہ گئ
اب اپنا رخ روشن کس سے پونچھو گی؟۔۔ میں دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی۔۔
تمہاری تولیہ سے اور کس سے۔۔ اس نے بھی ازلی اطمینان سے جواب دیا۔
میری تولیہ تو تمہارے چیخنے سے زمین پر گر گئ تھی اب دھوئے بغیر تو استعمال کرنے سے رہی۔
کہاں ہے تمہاری تولیہ؟۔۔
اپنے مخصوص طنزیہ انداز سے کہتی وہ میری جانب واپس مڑی تھی
وہیں ہے جہاں تمہاری تولیہ ابھی ابھی گئ ہے
میں اطمینان سے بتاتی سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی
کیا؟۔۔ تمہارے جیسی پھوہڑ لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔۔ ایک تولیہ تک تم دھو نہیں سکتی ہو۔۔ حد ہے واعظہ
ابیہا فل چارج ہو کر اب میرے قصیدے پڑھنے لگی تھی ۔۔ میں نے موبائل کو چارجنگ پر لگا کر کمرے کی کھلی کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔
آج مطلع صاف تھا دور دور تک متوسط طبقے کی اونچی مگر بوسیدہ عمارتوں سے بیچ میں راستہ بناتی دھوپ نرم گرم سی ہمارے اس چھوٹے سے دو کمروں کے اپارٹمنٹ تک چھن چھن کر آتی اچھی لگ رہی تھی۔۔ شائد صرف مجھے۔۔ تیس یا شائد اکتیس درجہ حرارت کی یہ مئی کی دھوپ اس شہر کے لوگوں کیلئے اچھی خاصی شدید گرمی میں شمارہوتی تھی۔
مگر میرے اور ابیہا کےلیئے یہ نعمت غیر مترقبہ تھی شدید ٹھنڈ اور برفباری سہتی ہم جب گرمی کی امید بھی چھوڑ چکی تھیں تب موسم بدلا تھا ۔۔ ابھی بھی ٹھنڈ ہڈیوں میں اتنا جم چکی تھی کہ اتنی دیر سے دھوپ میں کھڑے رہ کر بھی گرمی نہ لگی تھی۔۔
یہ لو۔۔
ابیہا نیا تولیہ نکال کر میرے سر پر جما کر بولی
لو جائو نہا کر آئو اکٹھے ناشتہ کریں گے۔
محبت کا ایسا جارحانہ مظاہرہ بھی میری آنکھین نم کر گیا یہاں اسکے سوا میرا تھا ہی کون
گومو یو۔۔
میں کہہ دیتی اگر ابیہا کے انداز میں کڑختگی نہ ہوتی
جلدی بھوک سے مرنے لگی ہوں انتظار نہیں ہوگا مجھ سے۔۔
وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید گھور نے کے چکر میں انکے اصل حجم سے دو گنی کر چکی تھی
ابیہا یہاں کے لوگ ایویں پلاسٹک سرجری کروا کر ڈبل آئی لڈ بنواتے تم انہیں یہ طریقہ کیوں نہیں سکھاتیں کہ اپنی معصوم روم میٹ کو گھور گھور کر اسکا خون خشک کر دیا کرو بڑی ہو جائیں گی آنکھیں۔۔
آرام سے بولتے بولتے آخر میں میرا لہجہ تیز ہو گیا تھا ابیہا زرا متاثر نہ ہوئی مجھ سے زیادہ توانائی اور تیز لہجے کے ساتھ بولی۔۔
نہیں ہونگی کیونکہ دنیا میں اور کسی کی روم میٹ تمہارے جتنی ارریٹیٹنگ اور پھوہڑ نہیں ہوگی یہ اعزاز بلکہ یہ عزاب مجھے ملا ہے بس۔۔
کیا میں عزاب؟۔۔
میں غم و غصے سے چلائی
ہم دونوں کے درمیان تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ میرے موبائل کی بیٹری اٹھائیس فیصد ہو چکی ہے جیسے موبائل کو بجلی کی ضرورت پڑتی توانائی حاصل کرنے کیلیئے میں اور ابیہا لڑائی کرکے خود کو چارج کرتے ہیں کیونکہ اپنے اپنے گھر سے دور دیس اجنبی ملک اجنبی زبان کے ساتھ بس ہم ایک دوسرے سے ہی شناسا ہیں کیمو ( اسکا کوریائی نام یہاں چھے مہینے گزار کر بھی یاد نہ ہو پایا ہمیں) یونیورسٹی کی پاکستانی اسکالر شپ پر گئی طالبائیں جو علم حاصل کرنے چین کے پڑوس کوریا جا پہنچی ہیں
اور گنگم اسکائر کی ایک بوسیدہ عمارت میں رہائش پزیر ہیں۔۔
ہق ہاہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
#desikimchiدوسرا منظر۔۔
جھاڑو لگاتے الف ویڈیو بنا رہی تھی۔۔
مائک کی طرح جھاڑو کا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے ایک ہاتھ سے موبائل تھامے جزباتی انداز جیسے آنکھوں میں سمندر موجزن ہو ۔ مگر بارہ میگا پکسل فرنٹ کیم بھی آنکھوں کے ساحل سے آنسو کا ایک موتی بھی ڈھونڈ دکھانے میں ناکام تھا
امی دیکھ رہی ہیں یہ۔۔
اس نے اپنے ارد گرد کا چم چم کرتا فرش دکھایا۔۔
آپ ۔۔ قدر آئی آپکو کتنی معصوم بیٹی تھی میں۔۔ یہ ۔۔ یہ دیکھیں یہ میں ہی ہوں۔۔
اب جانے آنسو کیوں نہیں آ پارہے تھے مگر اس نے جھاڑو جھنجھوڑ دی تھی۔۔ امی سامنے ہوتیں تو متاثر ہو جاتیں۔۔
صفائی جھاڑو پوچھا کرتی آپکی لاڈلی شہزادی جیسی بیٹی۔۔ انداز میں رقت در آئی۔۔
اور یہ دیکھیں ۔۔ کسی کی پھوہڑ بیٹیاں ۔۔
اس نے قطار میں بچھے بیڈوں پر کمبل میں گھسی نور اور عزہ پر کیمرے کا رخ کیا۔۔
خبردار جو میری ویڈیو بنائی الف کی بچی۔۔
عزہ نے کسمسما کر گردن باہر نکالی ہی تھی کہ الف کا موبائل گھماتا ہاتھ دکھائی دے گیا۔۔ سو فورا چیخ کر خبردار کرتی حفظ ماتقدم کے طور دوبارہ کمبل تان لیا۔۔
ہق ہاہ۔۔ دیکھ رہی ہیں نا آپ۔۔ یہ سب کام میرے زمے ہیں میری روم میٹ دونوں پڑی سو رہی ہیں یہ دیکھیں بارہ بج رہے۔۔
اب اس نے باقاعدہ وال کلاک کا شاٹ بنایا۔۔ کیا تھری سکسٹی ویڈیوز یو ٹیوبر بناتے ہونگے جو الف جادو جگا رہی تھی۔۔
عزہ نے چونک کر کمبل نیچے کیا۔۔
بارہ بج گئے۔
کمبل کا نقاب کرتے اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر مزید بڑی کر لیں تھیں۔۔
صبح نو بجے اٹھ کر نہار منہ بنا کھائے پیئے صفائی کرتی ہوں دیکھیں پورا کمرہ صاف کیا ۔۔ تھری سکسٹی اینگل پر گھماتے کمرے کا انتہائی کونہ دکھائی دے گیا تھا جہاں کرسی پر کپڑوں کا ڈھیر پڑا تھا ان تینوں کی باہر جانے آنے والی سینڈلیں بکھری پڑی تھیں اور میز جو عموما پڑھنے پڑھانے کے کام آتی ہے اس وقت ان تینوں کی آن لائن آج صبح ہی آئی ڈیلیوری کے تازہ شاپنگ بیگز سے لبا لب بھری تھی۔۔
یہ میں ابھی سمیٹنے ہی جا رہی تھی۔۔
اس نے گڑبڑا کر ویڈیو میں ریکارڈ کیا اور جلدی سے ریکارڈنگ بند کر دی۔۔ عزہ یہ جملہ نہ سہہ سکی تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔۔
جھوٹی صبح نو بجے بے ہوش پڑی تھیں تم۔۔ یہ جو برباد کیئے ہیں نا پیسے تم نے اسکی ڈیلیوری کیلئے جو لڑکا آیا تھا دروازہ بجا بجا کر تھک گیا تمہاری آنکھ نہ کھلی اور پھر اس نے مجھے فون کیا ۔۔ ادھ کھلی آنکھوں سے نور کا دوپٹہ اوڑ ھ کر گئ یہ سب وصول کیا۔۔
عزہ کے کہنے پر الف تھوڑا سا کھسیائی تو کافی دیر سے یونہی کسمسا کسمسا کر کروٹ بدلتی نور کے کان کھڑے ہوئے۔۔
کیا کیا ہوا میرے دوپٹے کو؟۔۔ وہ کمبل اتارتی جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ اپنی چیزوں کے معاملے میں وہ اتنی ہی حساس تھی۔۔
سی ہون مانگنے آیا تھا اسے دے دیا۔۔ اب اگلے کانسرٹ میں وہ گلے میں ڈال کر گانا گائے گا۔۔
یہ شوشہ الف نے چھوڑا تھا۔۔ایکسو اسکا پسندیدہ بینڈ تھا اکثر دوران گفتگو انکا زکر کسی طرح نکال لینا اسکا پسندیدہ مشغلہ۔۔
کیا۔؟ اسکے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔۔
یقینا ابھئ وہ پوری طرح جاگی نہیں تھی۔۔
الف اور عزہ تاسف سے اسکا ردعمل دیکھ رہی تھیں۔۔ گھبرا کر کمبل الٹ پلٹ کرنے لگی بستر سے اتر کر تکیہ تک اٹھا کے دیکھ لیا ۔۔ روہانسی ہوئی ساتھ ساتھ بولے بھی جا رہی تھی۔۔
کیوں دیا۔۔ اف میں نے اپنی ہر چیز کل سمیٹ دی تھی بس یہ ایک بلو دوپٹہ نئے سوٹ کا اوڑھے پھر رہی تھی وہی اٹھا کے دے دیا۔ رات کو اتار کر سرہانے رکھا تھا۔۔ تم لوگوں۔۔
الف کے بر عکس آنسو بس آیا ہی چاہتے تھے آنکھوں میں عزہ کے بیڈ پرکہتے کہتے نگاہ گئ تو عزہ کے تکئے پر نیلا دوپٹہ گول مول ہوا پڑا تھا۔
تڑپ کر اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔۔
میرا نیا دوپٹہ۔۔۔
ہو گیا؟۔۔ عزہ نے ہاتھ اٹھا کر اس سے پوچھا ۔۔
اس نے نادیدہ آنسو اسی جارجٹ کے دوپٹے سے پونچھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہون۔۔ عزہ فرصت سے اب الف کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
تمہارے آن لائین منگوائے سامان لانے والا ڈیلیوری بوائے مجھے کیوں فون کر رہا تھا؟۔۔
عزہ کے دانت کچکچا کر پوچھنے پر الف کان کھجاتی دو قدم پیچھے ہوئی۔۔
وہ میں ۔ میرا فون تو سائیلنٹ پر ہوتا تو اسی لیئئے ادر کانٹیکٹ نمبر میں تمہارا نمبر لکھ دیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیاا آ آ آ۔۔۔
تین اپارٹمنٹ تک آواز گئ ہوگی جو واعظہ چلائی تھی۔۔
آہستہ ۔۔ کان پھاڑو گی کیا میرے۔۔
ابیہا نے بند ہوتے کان سہلائے۔۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ابیہا کی بچی۔۔
غسل خانے کے بند دروازے کے پیچھے واعظہ یقینا ابیہا کو کچا چبانے سے قاصر تھی ورنہ اب تک یہ کام کر چکی ہوتی۔۔
خیال ہی نہیں رہا اتنا تو فضول بولتی ہو زہن سے ہی نکل گیا باہر آکر بتانا۔۔
ابیہا نے بال جھٹک کر سکھاتے اطمینان سے اسی پر الزام دھرا۔۔
ابیہا خدا پوچھے تمہیں۔۔ اب میں کیا کروں۔۔
واعظہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔
یار میرے نہاتے وقت پانی کم ہوا تھا ختم نہیں ۔۔ اور تم تھوڑا احتیاط سے پانی خرچ کرتیں نا ۔۔توتم بھی نہا لیتیں۔۔ ںلکوں میں آ تو رہا تھا پانی۔۔
ابیہا کو اسکی فکر بھی تھی دلگیری سے اسے ہی ٹوکا۔۔
میڈم لیکچر بند کرو۔۔ پانی بالکل ختم ہو چکا منہ پر صابن لگا ہوا ہے میرے پانی کا انتظام کرو میری آنکھیں جل رہی ہیں میری۔۔
واعظہ نے ٹٹول ٹٹول کر دروازہ کھولا ابیہا جھٹکے سے رخ موڑ گئ۔۔
صبر کرو باہر تو مت آئو۔۔
ابیہا کی بچی ڈرامہ بند کرو فریج سے پانی لا کر دے دو نہا نہیں رہی تھئ میں عقلمندی کی پہلے پانی دیکھ لیا کم آرہا تھا تو سوچا منہ ہی دھو لوں بس۔۔ اب منہ دھونے کو بھی ختم ہوا پڑا ہے پانی۔
کیا وقت تھا جلتی آنکھوں کے ساتھ بھی اسے اپنی وکالت خود کرنی تھی سو تفصیل سے
واعظہ نے صفائی پیش کی ۔ابیہا نے مڑ کر دیکھا تسلی ہوئی۔۔
بے چاری واقعی جھاگوں جھاگ منہ پر بھرے پانی کیلیئے دہائی دے رہی تھی۔۔
اچھا صبر کرو۔۔ لاتی ہوں۔۔ ابیہا مزے سے اپنا تولیہ مسہری پر اچھالتی پانی لینے باہر چلی آئی۔۔
عزہ آنکھیں مسلتی چھوٹے سے اوپن کچن کے کونے میں رکھے فریج کا دروازہ کھولے معائنہ کر رہی تھی۔
دو فٹ کا لائونج ڈیڑھ فٹ کا کچن ۔۔ دو قدم بے دھیانی سے اٹھا لو تو ٹکر یقینی ۔۔ ابیہا نے وہی کیا جو ہم پاکستانی کرتے۔۔
عزہ فریج کھولا ہوا ہے تو پانی کی بوتل ایک نکال کے دے دو۔۔
عزہ نے ایک بھوئیں اچکا کر اسے دیکھا پھر کندھے اچکا کر پانی کی بوتل نکال کر سلیب پر رکھ دی۔۔
گومو ویو۔
ابیہا ہنگل میں شکر گزار ہوئی آگے بڑھ کر بوتل اٹھائی پلٹنے کو تھی کہ ٹھٹکی۔۔
بوتل بالکل خالی تھئ۔۔
دوسری دو نا جس میں پانی ہو۔۔
اس نے مڑ کر عزہ سے کہا عزہ دوسری بوتل سے اپنا گلاس بھر رہی تھی گلاس بھر کر خالی ہو جانے والی بوتل اسے اہتمام سے پکڑا دی۔۔
یہ بھی خالی ہے عزہ کوئی اور بوتل دو نا پانی چاہیئے۔
ابیہا جھلائی تو عزہ کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
کاٹ دار طنزیہ۔۔ مزے سے لہرا کر دونوں ہاتھوں سے کچن سنک کی جانب اشارہ کیا جہاں بقیہ تینوں بوتلیں خالی استراحت فرما رہی تھیں۔۔
ہاہ۔۔
ابیہا کے ہاتھوں سے طوطے اڑے۔۔
فریج سے پینے کے پانی کی بوتل نکالا کرو تو بھر کر واپس بھی رکھا کرو ٹھنڈا پانی چاہیئے ہوتا ہے تم۔لوگوں کو بھرنے کی توفیق نہیں ہوتی کسی کو۔۔
ابیہا کی امی کچن کے بیچ میں چند لمحے کو خیالی تصور کے طور پر نمودار ہوکر چلائی تھیں۔۔
سوری امی۔۔
ابیہا کی آنکھوں میں شرمندگئ در آئی۔۔
امی؟۔ عزہ ٹھٹک گئ۔۔
ہایے بے چاری بچی ماں یاد آگئ۔۔
عزہ بھی تو اماں بن کر لگی تھی ڈانٹنے۔۔جملے وہی تھے جو ابیہا کو امی کا تصوراتی خاکہ کہتا دکھائی دیا تھا یہ الگ بات ادا عزہ کے منہ سے ہوئے تھے۔۔
کیا عزہ ہوجاتا ہے اسطرح فریج خالی ہو جاتا پانی کی بوتلیں ختم ہو جاتی ہیں ایسے ڈانٹنے کی کیا بات۔۔ عزہ کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا۔۔ ابیہا نے بچوں کی طرح سر جھکا لیا تھا تھوڑی سینے سے جا لگی تھی۔۔
کوئی بات نہیں ابیہا ۔۔ آئندہ بھر دیا کرنا۔۔
آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دے ڈالی۔
واعظہ مار ڈالے گی مجھے۔
ابیہا نے سر اٹھا کر لرزتے ہوئے لہجے میں کہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں بچوں گی۔۔ پکا مار دی جائوں گی۔۔
ایک ایک شاپر کھولتی اندر سے کپڑے نکالتی اور اپنے بیڈ پر پھینکتی زور زور سے سر ہلاتی الف بس یہی ایک جملہ بول رہی تھی۔۔
بلکہ نہیں خود کشی کرلوں گی۔۔ مجھے خود کشی ہی کر لینی چاہیئے۔۔
دیکھ کر آرڈر نہیں کیئے تھے کیا؟۔۔
نور نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے اسکا آن لائین آرڈر سے آیا ٹاپ بیڈ سے اٹھا کر لہرایا۔۔
سلیو لیس بیک لیس اور فرنٹ بھی لیس ہی سمجھو وہ دو تین بالشت کا ٹاپ تھا۔۔ رنگ واقعی بے حد پیارا سا پیچ کلر تھا مگر۔۔۔
دیکھا تھا نا پارک بو ینگ نے پہنا تھا اسکے گھٹنوں سے بس زرا سا اونچا تھا اور اوپر سے وہ آف وائیٹ سا شرگ بھی پہنے تھی مجھے کیا پتہ تھا مجھے بس اندر کی شمیز ہی بھیج دیں گے اگر شرگ ساتھ نہیں تھا تو اس نے کیوں پہنا تھا؟۔۔
اس بار واقعی الف کی آنکھوں میں سمندر موجزن تھا اور پلکوں کے ساحل بھی بھیگ چلے تھے۔۔ مگر بجائے یہ دکھی منظر دیکھ کر نور آبدیدہ ہوتی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
احمق وہ پانچ فٹ کی بو ینگ اگر اسکے گھٹنے سے اوپر ٹاپ تھا تو میڈم آپ اس سے کئی انچ اونچی ہیں۔۔
آپکو عقل سے کام لینا چاہیئے تھا اگر اسکے گھٹنوں سے اونچا ہے تو تمہاری کمر تک بھی بمشکل آئے گا۔۔
وہ پیچ کلر والا۔ہی ٹاپ لہرا رہی تھی۔۔
کسی کا بھی اپر نہیں بھیجا سارے انر بھیج دیئے اگر نہیں بھیجنا تھا تو کیوں ماڈلز پہنے دھوکا دے رہی تھیں۔۔ میرے سارے پیسے لگ گئے ۔۔
وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھ گئ ۔۔ اس پر رقت طاری ہونے لگی تھی۔ نور کو ترس آہی گیا ۔۔ ایک ٹاپ اٹھا کر اسکے پاس ہی گھٹنوں کے بل آبیٹھئ
ویسے اتنے برے بھی نہیں ہیں۔۔ پہن تو انہیں سکتی ہو۔۔
اس نے ٹاپ سیدھا کیا۔۔
کراپ ٹاپ وہ بھی بیک لیس۔۔
الف نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا
بس اوپر سے کچھ اور بھی پہن لینا۔۔
نور نے ہونٹ بھینچ کر جملہ پورا کیا۔۔
میرے سارے پیسے لگ گئے۔۔ موسم بھی بدل گیا ہے ۔۔ میں نے اتنے شوق سے زندگی میں پہلی بار آن لائن شاپنگ کی تھئ۔۔
وہ اب سچ مچ رو دینے کو تھی۔۔
یار۔۔ یہاں پاکستان والی گرمی تھوڑی پڑتی بمشکل تیس پینتیس تک جاتا ٹمپریچر تم سردیوں والے کپڑے آرام سے پہن سکتی ہو بس اوپر سے سوئٹر مت پہننا۔۔
اپنی طرف سے نور نے بڑے خلوص سے مشورہ دیا تھا مگر الف کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔
بے فکر رہو جون جولائی میں سوئٹر پہن کر گزارا کر لوں گی تم سے تمہارا ایک جوڑا بھی نہیں مانگوں گی خوش۔۔
چبا چبا کر بولی تو نور نے چوری پکڑے جانے والے انداز میں رخ بدلا پھر بات ہی بدل ڈالی۔۔
ہیئر ڈرائیر کدھر ہے نظر نہیں آرہا۔۔
کہتی اٹھ ہی کھڑی ہوئی۔۔
ہیئر ڈرائر کیا کرنا ہے تم نے؟۔ الف نے حیرت سے اسکے لمبے سوکھے بالوں کو دیکھا۔۔ جنہیں اس نے سلجھانے کی نیت سے کھولا تھا۔۔
کرنا تو کچھ نہیں تھا ایسے ہی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اٹھتے کچھ نہ سوجھا تو ڈرائیر کا ہی پوچھ لیا یونہی موضوع بدل دینے کیلیئے۔۔
جواب کا انتظار کرتے کرتے تھک کر الف اپنے خریدے بلکہ پیسہ جھونک کر کر خریدے کپڑے تہہ کرنے لگی۔۔
ویسے ابھی ابیہا لیکر گئ ہے نہا کر نکلی ہے بال سکھانے ہوں گے۔۔
الف نے بتا بھئ دیا۔۔
یہ بات الف کی اچھی تھی کچھ پوچھ لو جواب ضرور دیتی تھی چاہے دس سال بعد دے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچن کی سلیب پر آئیس کیوب کی ٹرے جگ میں ڈال کر ابیہا اسے نظروں سے پگھلا رہی تھی۔۔ تو ساتھ ساتھ برف کا جما پیالہ سلیب پر رکھ کر اس پر ہیئر ڈرائر ہاٹ پر کر کے عزہ پیالے کو سینک رہی تھی۔۔
پگھل تو رہی ہے برف۔۔
ابیہا نے عزہ سے زیادہ خود کو تسلی دی۔۔
مسکراہٹ دباتی بالوں کو کیچر میں سمیٹتی نور ادھرآئی تو مسکراہٹ بیچ میں ہی کہیں رہ گئی منہ حیرت سے تھوڑا اور کھل گیا۔۔
یہ کیا کر رہی ہو؟۔۔ برف سکھا رہی۔ہو؟۔۔
اتنی عقلمندی کی بات پر دونوں نے ہی اسے خراج تحسین پیش کرتی نظروں سے گھورا تھا۔۔
برف سکھا سکتا ہے بھلا کوئی؟ پگھلا رہے ہیں تاکہ تھوڑا پانی بن جائے۔۔
عزہ جھلائی۔۔
مگر کیوں۔ ؟ فریج سے پانی کی بوتل لے لو نا۔۔
نور کی حیرت دو چند ہوئی۔۔
اتنی عقل جو نہیں ہم میں۔ یہ ابیہا نے طنز کیا تھا۔۔
ارے تو مجھ سے لے لو تھوڑئ۔۔
نور کہتی فریج کی طرف بڑھی
ابیہا نے وہیں اسے کان سے پکڑا
کل جب رات کو پانی پی رہی تھیں تو میں نے برتن دھوتے ہوئے تمہیں کیا کہا تھا؟ بوتلیں بھر کر رکھنا ۔۔
اوہو کان تو چھوڑو۔۔
اس نے سی کر کے کان چھڑایا۔۔
دو گھونٹ پیئے تھے بس میں نے بھری بوتل رکھی تھی واپس فریج میں۔۔ صرف میں تو پانی نہیں پیتی صرف میں کیوں بوتلیں بھر کر رکھا کروں۔۔ ؟۔۔
اسکے پاس دلیل تھی۔ مگرابیہا کے پاس کیا تھا۔
اس سے بھی بڑی دلیل۔۔
کھانا بھی صرف میں نہیں کھاتی مگر برتن کل رات میں نے سب دھوئے تھے۔۔
فرضی آستین چڑھا کر وہ بولی تھی۔۔
تم نے برتن دھوئے تھے؟ یہ گلاس ڈسٹ بن میں پڑا ہوا یہ تمہارا کام ہے؟۔۔
عزہ نے چونک کر اپنی توپوں کا رخ بلکہ ہیئر ڈرائیر کا رخ بھی اسکی جانب موڑا۔ فلمی سین کی طرح ابیہا کی لٹیں اڑی تھیں۔۔ ابیہا سٹپٹائی۔۔ ابھئ کوئی جواب بن نہیں پڑا تھا الف زور زور سے بولتی چلی آئی۔۔ کوئی باتھ روم نہ جائے بھئ۔۔
پانی نہیں آرہا باتھ روم میں شکر ہے میں نے پہلے چیک کر لیا۔
ہاں پتہ ہے۔۔ عزہ بد مزہ ہوکر سیدھی ہوئی اور دوبارہ ہیئر ڈرائیر سے برف پگھلانے لگی۔۔
یہ کیا کر رہی ہو ۔۔ سلیب کے ساتھ رکھے اسٹول پر ٹک کر
الف نے بڑے اشتیاق سے پیالہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی ٹھنڈک محسوس کی۔۔
یہ پانی بنایا ہے۔عزہ منہ بنا کر بولی
اچھا ۔۔ الف نے برف پر پگھل کر تیرتے شفاف پانی کو دیکھا۔۔
فریج میں پانی ہی نہیں ہے اسی کو پگھلا کر پانی بنا رہی ہے۔۔
نور نے بتایا۔۔ الف نے ایک نظر تینوں کو باری باری دیکھا ۔۔ پھر لپک کر پیالہ منہ سےلگا کر غٹا غٹ پگھل جانے والا پانی پی گئی۔۔
رکو۔۔ تینوں اکٹھے چیخی تھیں مگر بے سود۔۔
الف نے پانی پی کر الحمدوللہ کہا۔۔
پانی پی لر پیالہ واپس رکھا تو تینوں اسکے عقب میں کسی کو دیکھتی ساکت کھڑی تھیں۔۔
کیا ہوا۔۔ بھوت دیکھ لیا کیا۔
اس نے تجسس سے کہتے ہوئے رخ پھیر کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو منہ سے ہلکی سی چیخ ہی نکل گئ۔
سرخ آنکھوں سفید ماسک لگائے چہرے کے ساتھ واعظہ کسی چڑیل کی طرح ہی انکا خون پی جانے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
تیسرا منظر۔۔
واعظہ کچن سنک پر جھکی تھی ہتھیلیوں کا پیالہ بنا کر نور کے کسی بوتل سے الٹے گئے محلول کو جمع کر کے منہ پر چھپاکے مار مار کر چہرہ دھو رہی تھی۔۔
تبھی چہرے پرہلکی ہلکی چبھن سے واعظہ چونکی۔۔
یہ ہے کیا آخر۔۔
اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو چرر چرر کی آواز آئی جیسے پلیٹ کو کسی اچھے ڈش واشر سے دھو تو انگلی پھیرنے پر آواز آتی ہے۔۔
عروج کا اسٹر لائزر ہے۔۔
اس نے اطمینان سے جواب دیا تو واعظہ ابیہا کے تھمائےتولیہ سے چہرہ پونچھ رہی تھی وہیں تھم گئ۔۔
ابیہا کا منہ استعجاب کے مارے کھل سا گیا۔۔
الف جو رائس کیک کتر کتر چبا رہی تھی چبانا بھول کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔
عزہ کے ہاتھ سے نوڈلز کا بائو ل چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
سب اسٹار پلس کے کسی ڈرامے کی طرح اپنے اپنے ردعمل دیئے ساکت کھڑی تھیں۔۔
نور نے ایک ایک کا چہرہ دیکھا پھر خالی ہوئی بوتل سنک کے کنارے رکھ کر کندھے اچکا کر بولی۔۔
اور کیا کرتی گھر میں ایک قطرہ پانی نہیں تھا اور واعظہ کا حال دیکھا تھا۔۔ اتنی دیر سے فیس واش منہ پر ملے کھڑی تھی کوئی اسکن انفیکشن ہو جاتا تو اب تو اسٹرلائز ہوگیا اسکا منہ کچھ نہیں ہوگا۔۔
اسکے اتنے جملے سن کر بھی سب یونہی جمی کھڑی تھیں۔۔
آننایگ ہاسے او۔۔
فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہی فاطمہ نے زور دار آواز لگائی تھی۔ جوتے کے ریک پر جوتی اتارتی گھر والی چپل میں پائوں گھساتی وہ سیدھا کچن میں آئی تھی۔۔
ان سب کو ساکت کھڑے دیکھ کر چونکی۔۔
تم لوگوں کو کوئی جادو سے ساکت کر گیا ہے کیا؟۔۔
سوال اہم تھا۔۔ سب نے ہوش کی دنیا میں واپس آنا شروع کیا۔۔
کر جاتا بہتر تھا ۔۔
عزہ نے تھکے تھکے انداز میں نوڈلز کا بائول سلیب پر رکھا اور اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔ واعظہ تولیہ سے منہ تھپتھپاتی اپنے آپکو شانت کر نے لگی۔۔
ابیہا نے گہری سانس لیکر منہ بند کیا ۔۔ اور الف رائس کیک کی کتر کتر چبانے کی آواز دوبارہ گونجنے لگی۔۔
کیوں کیا ہوا۔
فاطمہ پرس کائونٹر پر دھرتی پوچھ رہی تھی۔۔
صبح سے پانی نہیں آرہا۔۔ جواب نور کی جانب سے آیا تھا۔۔
تو نوڈلز کیسے بنا لیئے۔۔ فاطمہ حیران ہوئی۔۔
پڑوس سے پانی کی بوتل مانگ کر لائی تھی ۔۔
عزہ نے کانٹے میں نوڈلز لپیٹ کر منہ میں رکھے۔۔ پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے دبا لی ۔۔ اور واعظہ کو چور نظروں سے دیکھا مگر اسکا دھیان کہیں اور تھا بچت ہوگئ۔۔
تبھی سنک کے نلکے سے تیز دھار سے پانی آنا شروع ہوگیا۔۔
نور نے بھاگ کر نلکا بند کیا۔۔
بس اس نے میرا ہی چہرہ جلانا تھا۔۔
واعظہ روہانسی ہوئی۔۔
میں دیکھوں باتھ روم میں بھی کوئی نلکا کھلا نہ رہ گیا ہو۔۔
ابیہا اندر بھاگی۔۔
واعظہ تین چار دن کے پیاسے کی طرح سنک کہ طرف لپکی اور بھر بھر چھپاکے مار کر منہ دھویا۔۔
اب اسکا کیا کروں ؟ نور کو عروج کے اسٹرلائزر کی فکر ہوئی۔۔
بھر کے رکھ دو ۔ دیکھنے میں پانی ہی جیسا تو تھا۔۔
منہ پر پانی ڈالتی واعظہ نے مزاقا کہا تھا مگر نور کو خیال پسند آگیا۔۔ جھٹ واعظہ کے ہٹتے بوتل بھرنے لگی۔۔فاطمہ کو شدید بھوک کا احساس ہو رہا تھا جھٹ عزہ کے پیالے میں نیا کانٹا اٹھا کر نوڈلز لپیٹ کر منہ میں رکھا پھر برا سا منہ بنا لیا۔۔
اف پھیکا کھا رہی ہو ٹیسٹ میکر بھی ڈالا جاتا ہے نوڈلز میں ۔۔
فاطمہ نے چڑ کر کہا تو عزہ نے اطمینان سے اپنے کانٹے میں نوڈلز لپیٹے۔۔
بالکل لیکن اگر حلال نوڈلز ہوں۔۔ اس پیکٹ پر حلال کہیں نہیں لکھا تھا اور چکن ٹیسٹ میکر ڈال کر میں نے حرام لقمے تھوڑی کھانے تھے۔۔
اس نے واقعئ صبر شکر کر کے نوڈلز ٹونگ لیئے تھے۔
مجھے شدید بھوک لگی ہوئی ہے ۔۔۔ فاطمہ نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔
صبح ناشتہ بھی کرکے نہیں گئ تھی۔۔
ہم بھی صبح سے پانی نہ ہونے کے غم میں مبتلا ہیں ناشتہ تک نہیں کیا دو بجنے کو آگئے۔۔
نور نے مظلومیت سے وال کلاک کو دیکھتے رونا رویا۔۔
نوڈلز رکھے ہوئے ہیں ٹیسٹ میکر ڈالے بغیر نمک ڈال کر ابالو اور کھا لو۔۔
عزہ نے سادہ سا حل پیش کیا تو سب اسے با جماعت گھور کر رہ گئیں۔۔
ایسے کام چلائو کام تمہیں ہی مبارک ہوں۔۔
واعظہ نے کہا تو سب نے متفق انداز میں گردن ہلائی۔۔
پھر جائو باہر کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں جا کر لنچ کرو ۔۔ عزہ نے صریحا طنز کیا تھا۔۔
گڈ آئیڈیا۔ الف نے خوش ہو کر چٹکی بجائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب کچن کے بیرونی طرف بنی سلیب ٹیبل کے گرد اسٹول سجائے بیٹھی تھیں سب کے آگے ایک ایک بائول سوپ نوڈلز کا تھا جس میں ٹیسٹ میکر نہیں ڈالا گیا تھا سفید ابلے پانی میں نمک اور کالی مرچ میں تیرتے نوڈلز۔۔ سب کے چہرے ستے تھے مگر صبر شکر کر کے نگل رہی تھیں۔۔ عزہ چولہے پر پانی چڑھائے ان کو دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ اسے چائے بہت اچھی بنانی آتی تھی مگر چائے بنا کر پلانا اتنا ہی برا لگتا تھا سو سال میں ایک آدھ بار وہ چائے بنا کر پلانے کا احسان ان لوگوں پر کر ہی دیتی تھئ۔۔
واعظہ نے پانچویں بار نمک دانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو فاطمہ نے اسکے ہاتھ پر چپت لگا کر نمک دانی چھین لی۔۔
بار بار نمک ڈالنے سے نمک چکن ٹیسٹ نہیں دینے لگے گا۔۔
یار بہت پھیکا ہے یہ۔۔ واعظہ نے بے چاری سی شکل بنا لی تھی۔۔
یار قسم سے قدر آرہی پاکستان کی دل سے۔۔ کیا یار گوشت ہی نہیں کھا سکتے جب سے کوریا آئے ہیں۔۔
نور کو بھی دل سے دکھ محسوس ہو رہا تھا پھیکے نوڈلز کھانے کا۔۔
بس کھانے پینے میں ہی پاکستان یاد آتا ہے سب کو۔۔ پچاس سالوں سے سب پاکستان کو کھا رہے ۔۔ پاکستان نہ ہو گیا بریانی کی دیگ ہو گیا کیا۔۔۔۔۔ وہ بھی لنگر کی جسے دیکھو کھانے
یہ ابیہا تھی۔۔
کسی بھی بات میں اپنی مرضی کی بات نکال کر تقریر جھاڑ دینا کوئی اس سے سیکھے۔
ابھی بھی کھانے کو کرپشن سے جوڑا اور شروع ہو گئی تھی۔۔
فاطمہ اور واعظہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں اکٹھی ہی ابیہا سے چمٹ گئیں ایک نے اسکے بازو پکڑے ایک نے کانٹے میں نوڈلز پرو کر اسکے منہ میں بھر دئیے۔۔ خود کو چھڑانے کی کوشش میں ابیہا کا منہ سرخ ہو چلا تھا اور منہ میں نوڈلز بھرے چلانے کی ناکام کوشش بھی کر رہی تھی۔۔
نور نے جلدی سے موبائل اٹھا کر تصویر بنا لی۔۔
یہ اسکا خفیہ مشغلہ تھا۔۔ ایسے بہت سے واقعات اسکے پاس تصویری شکل میں محفوظ تھے مگر ان میں سے کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی ابھی بھی الف اور عزہ سمیت سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں عزہ ابیہا کی مدد کو آئی تھی مگر ابھی تک اسے چھڑانے میں ناکام رہی تھی ۔۔ نور نے مزے سے تصویریں بنا کر موبائل ایک۔طرف رکھا اور نوڈلز ٹونگنے لگی۔
یار۔۔ واعظہ نے ابیہا کو چھوڑ پر پھولی سانسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔
کل ہفتہ ہے سمندر کنارے چلیں؟۔۔ بڑے دن ہوگئے گھومے پھرے نہیں۔۔
خیال اچھا تھا۔۔ سب نے فورا تائید کی۔۔
ویک اینڈ اور ساحل سمندر۔۔ اس سے زیادہ بکواس خیال نہیں ہو سکتا۔۔
یہ نور تھی۔۔
سارا کوریا پہنچا ہوگا اور ہمیں خلائی مخلوق سمجھ کر تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دے گا۔۔
کالی وردی مین گھومتی خلائی مخلوق کیپشن کے ساتھ۔۔
نور نے کہا تو ہنس تو کوئی بھی نہ سکی مگر مایوس ہو چلی تھیں۔۔
یار واقعی۔ عزہ الف بھی متفق تھیں۔۔
فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئیں۔۔
یار تم۔لوگ بھی نا کیا ضروری ہے عبایا پہن کر جائو۔۔ کوریا میں ہو کسی کو کیا پتہ چلنا کہ۔۔
یہ واعظہ تھی ۔۔ بول گئی معاملے کی سنگینی کا خیال کیئے بغیر۔۔
آدھے ہی جملے میں جب نور کو کانٹا پٹخ کر عزہ کو دانت پیس کر اور الف کو تیوریاں چڑھا کر خود کو گھورتے پایا تو ادھورا چھوڑنا پڑا جملہ۔۔
میرا مطلب ۔۔ اس نے گڑبڑا کر تھوک نگلا۔۔
کوئی لمبا سا شرگ پہن لو ماسک پہن لو حجاب لو مگر کسی پرنٹڈ اسکارف کا لے لو کم ازکم پورے کالے عبایا والا سین تو نہیں بنے گا نا۔۔
اسکی وضاحت پر تینوں کے چہروں کا تنائو کم ہونا شروع ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریض کی کیس ہسٹری والی فائل اٹھا کر چند لمحے اس نے عبارت پر نظر دوڑائی۔۔ پھر ٹھنڈی سانس بھرکر ساتھ کھڑی نرس کو فائل تھما دی۔۔
سب کچھ ہنگل میں تھا سر پر سے گزرا۔۔ اتنے عرصے یہاں رہ کر تھوڑی بہت ہنگل سمجھ آنی شروع ہو گئ تھی مگر پڑھنا اب بھی آسان نہیں ہوا تھا ۔نرس اسکی الجھن سمجھ کر اسکو بی پی وغیرہ کتنا ہے کیا دوا دی ہوئئ ہے کونسی دوا دینی ہے مریض کو کیا تکلیف تفصیل سے بتانے لگی۔۔
عروج ہمہ تن گوش تھی نرس حتی المقدور کوشش کر رہی تھی اسے انگریزی الفاظ کے استعمال سے بات سمجھانے کی۔۔ کچھ آیا کچھ اوپر سے گزرا۔
اپنے چہرے پر ماسک خوامخواہ میں برابر کرتی اسکی مریض پر نظر پڑی تو اسے جی جان سے اپنی جانب دیکھتا پا کر گڑ بڑا گئ۔۔
مریض کے چہرے سے تنائو خوف کی ملی جلی کیفیت مترشح تھی۔۔ بھورے بالوں خشخشی سی بڑھی ہوئی شیو نیلی آنکھوں والا وہ خالص امریکی تیس پینتیس سال کا مرد تھا ۔۔
آر یو اوکے؟۔۔
عروج نے حسب عادت کالا اسکارف سر پر بلا وجہ ٹھیک کیا۔ یہ عادت اسے کوریا آکر ہی پڑی تھی۔۔ ممکمل عبایا نقاب کے ساتھ کرتی تھی۔۔ مگر ایک کالے برقعے میں لپٹی لپٹائی مخلوق کو اپنے درمیان دیکھ کر کورین جس طرح اسے مائی لو فرام این ادر اسٹار کے دو من جون کی بہن سمجھ کر گھورتے تھے اسے عبایا کی قربانی دینی پڑی تھی۔۔ اب لانگ شرگز اور اور آل کوٹ سے کام چلا لیتی تھی۔۔ اور اسکارف سے نقاب کرنے کی بجائے حجاب لیکر ڈسٹ الرجی سے بچنے والا ہلکا سبز ماسک پہن کر پھرتئ۔ اب گھورنا کم۔ہو گیا تھا مگر ابھی بھی یہ امریکی جیسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا لگ یہی رہا تھا کہ وہ اسے اسامہ بن لادن کی چھوٹی بہن ہی سمجھ رہا ہے۔
آر یو مسلم۔۔
اس کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی تھی۔۔
یس۔۔ عروج نے گہری سانس بھری۔۔
اب یقینا اسکا اگلا مطالبہ کسی دوسرے ڈاکٹر سے علاج کروانے کا ہی ہونا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باتھ روم میں رگڑ رگڑ کر ہاتھ دھوتے اسکا پارہ بری طرح چڑھ چکا تھا۔۔
عبایا اتار دیا۔۔ نقاب کرنا چھوڑ دیا۔۔ یہ میڈیکل ماسک پر آگئ میں حجاب کیلئے بھی کالے رنگ کی بجائے پھولوں والے رنگ برنگے اسکارف لینا شروع کر دئیے مگر تعصب کا وہی عالم ہے بھلا بتائو۔۔
ماسک نیچے کر کے وہ آئینے مین دیکھتی باقاعدہ غرائی تھی۔
آر یو مسلم۔۔ پوچھ ایسے رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو آر یو چڑیل۔۔
ہاں ہوں میں مسلم بلکہ ہوں چڑیل اور صرف امریکی خون پیتی ہوں احمق جاہل تنگ نظر آدمی۔۔
جوش جزبات میں آواز بلند ہوئی حلق کے بل اپنے عکس کو دیکھتئ چلائی تو ٹوائلٹ سے نکلتی لڑکی بری طرح گھبرا کر دروازے سے ہی جا لگی۔۔
تھر تھر کانپتی لڑکی اپنے عقب میں دکھائی دی تو وہ کھسیا کر مڑی۔ مسکرا کر پارہ نیچے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
آننیانگ ہاسے او۔۔
اس نے کوریائی انداز میں ہی آدھا جھک کر سلام کیا تھا۔
آننیانگ۔۔
چندی آنکھوں والی اس نرس نے گھبرا ہٹ پر قابو پاتے ہوئے اپنے باب کٹ بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا۔۔ چہرہ جانے کیوں تھپتھپا بیٹھی۔۔ پھر اپنی اسکرٹ پر ہاتھ پھیرتی بیسن کی جانب بڑھی۔۔
فل ٹونٹئ کھول کر ہاتھ دھوئے اور ہکا بکا کھڑی عروج کو الجھن سے دیکھتئ باہر نکلتی گئ۔۔
بال چھو لیئے چہرہ تھپتھپا لیا کپڑوں کو ہاتھ لگا لیا اب ہاتھ دھونے کی کیا ضرورت باقی رہ گئ تھی گندی لڑکی۔۔ جب ہر جگہ ہاتھ لگا چکنا تھا تو ہاتھ دھوتے کیوں ہوو و ۔۔
عمائمہ کی طرح چلا کر
اسکے جاتے ہی عروج نے گھنیا کر جھر جھری سی لی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
وہ سب ننھے منے سے لائونج میں بچھے کارپٹ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔کھا پی کر تھوڑی بہت توانائی آہی گئ تھئ۔۔ سو اس وقت انکی آوازوں سے پورا اپارٹمنٹ گونج رہا تھا۔۔
یار بیچ ڈن پھر؟۔۔
عزہ گھونٹ بھر کر کپ ایک طرف رکھتی پرجوش ہوئی
ہاں نا۔۔ واعظہ نے جھٹ تائید کی تھی
تم نے ویک اینڈ پر بھائی کے ہاں نہیں جانا؟۔۔
ابیہا نے یاد دلایا۔۔
فرض تھوڑی ویسے بھی بھابی کے ساتھ سارا دن گزارنا کوئی اتنا بھی خوشکن خیال نہیں۔۔
اس نے مزے سے کندھے اچکائے۔۔
تو پھر ڈن ہے ۔۔ کل سب صبح آٹھ بجے اٹھ جانا۔۔
ہمیں بیچ جانے پر بھی وقت لگے گا دو گھنٹے تو سیدھا سیدھا بس پر لگیں گے۔۔
نور نے چٹکی بجائئ۔۔
کپڑے وپڑے پریس کرلینا آج ہی۔۔
ابیہا نے ہدایت دی تو الف کپ ہونٹوں سے لگائے گھونٹ بھرنا بھول گئ۔ ۔۔میرے کپڑے۔۔
اسکا پھر دل بھر آیا اکتا کر کپ نیچے رکھ دیا۔۔
تم لوگ ویسے سب کی سب آج گھر میں کیوں ہو؟۔۔ خیریت؟۔۔
فاطمہ کو یاد آیا۔۔ وہ تو اپنے باس سے ٹھیک ٹھاک سن سنا کر آئی تھی۔۔ یہ سب تو مزے سے پھیکا ناشتہ اڑا رہی تھیں ۔۔۔
کورین فیسٹول چل رہا کوئی فضول سا۔۔ یونیورسٹی میں کیا کرنا تھا جا کر کلاس تو ہونی نہیں تھی ۔۔۔
الف نے بے زاریت سے بتایا۔۔
یہ وہی ہے نا جس نے بڑے شوق سے ہنبک خریدا تھا شروع شروع میں یہاں آئی تھی تو بڑے شوق سے ہر فضول سے فضول ایونٹ میں ہمیں زبردستی لیکر جاتی تھی اسکے پیچھے وہ فضول سات بیویوں والا اسٹیج ڈرامہ بھی دیکھا تھا
نور کو اسکے سارے قصور بر وقت یاد آئے تھے۔۔ الف کھسیائی۔۔
تم نے کہاں دیکھا تھا میں نے دیکھا تھا تم تینوں تو سو گئیں تھیں انٹرویل تک پھر جاتے وقت ہی اٹھایا تھا میں نے۔۔
واعظہ نے کہا تو فاطمہ کو بھی اس منحوس دن کی یاد آئی۔۔ فورا بولی
پورا ڈرامہ ہنگل گٹ پٹ ایک لفظ پلے نہ پڑے اور یہ پوری آنکھیں کھولے اس آدھی بند آنکھوں والے کو تاڑ رہی تھی۔
ہاں تو تب تو نیا نیا تھا سب کچھ اب سال ہونے کو آیا ہے یہاں رہتے اب تو اکتاہٹ ہونی ہی تھی نا۔۔
الف کھسیائی تو تھئ مگر ڈھٹائی سے مسکرا کر کندھے اچکائے۔۔
واہ ایک سال میں اکتا گئیں کوریا سے؟۔۔ عزہ نےہنس کر مزاق اڑایا۔۔
سی ہون سے بھی اکتاہٹ ہوگئ ہوگی۔۔ اب تک تو میں لے لوں؟۔۔ ابیہا نے کہا تو الف کو پتنگے ہی تو لگ گئے۔۔
وہ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا نہیں ہے اچھا نا اس سے میرا دل نہیں بھر سکتا۔۔
ہاتھ ہلا کر اس نے تقریر جھاڑی تھی۔۔
کیوں وہ بھی تو کوریا کا ہی ہے اس سے کیوں دل نہ بھرا ؟؟؟؟۔ نور بھی بحث میں شامل ہوئی۔۔
کوریا پورا ملک ہے سیہوں کوریا کیسے ہو سکتا۔
ابیہا الجھی۔۔
کوریا کا ہو نہ سہیون میر اہے میرا رہے گا۔
الف نے اعلان کیا۔۔
افوہ کیا فضول بحث میں پڑے ہو تم لوگ۔۔
فاطمہ جھلائی۔
یار میں نے سوچا ہے تم سب عبایا کی بجائے لانگ شرگز پہن لو اور اسکارف لو مگر عروج کی طرح ماسک پہن لو کیسا۔۔ اس طرح لوگ تم لوگوں کو گھور گھور کر بھی نہیں دیکھیں گے
واعظہ کو اپنی الگ فکر لگی تھی۔۔
اتنا تم۔ہمیں عبایا نہ پہننے پر کنوینس کرتی ہو اتنا اگر انڈیا کو کشمیر چھوڑ دینے پر کنسوینس کرتیں تو وہ مان جاتا۔۔عزہ چڑی۔۔
ہاں انڈیا کشمیر دینے پر مان سکتا تم لوگ معمولی سی بات نہیں مان سکتیں ۔۔ بڑا اچھا لگتا جب سب گھور گھور کر دیکھتے کالی مخلوق کو۔
واعظہ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔
ہاں اچھا لگتا دور سے پتہ لگ جاتا مسلمان لڑکی ہوں
ورنہ یاد ہے تمہیں اس دن ریسٹورنٹ میں انڈین سمجھا وہ فرنچ لڑکا۔۔
عزہ کا لہجہ تیز ہو چلا۔تھا۔۔
اس بات کا یہاں کیا زکر ۔ مطلب کیا ہے تمہارا۔۔
واعظہ کی پیشانی پر بل پڑے۔
مطلب وہی ہے مجھے فخر ہے میں عبایا کرتی ہوں اور اگر تمہیں مجھے ساتھ لے جاتے شرم آرہی ٹھیک ہے جائو تم سب میں گھر میں ہی رہوں گی۔۔
عزہ سختی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
کیا وہی مطلب ہے ؟ میں عبایا نہیں کرتی تو کیا مسلمان نہیں لگتی یا مسلمان رہی ہی نہیں؟
واعظہ کے سر سے لگی تلوے پر جابجھی۔۔ تنتناتی ہوئی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
جو مرضی سمجھو۔۔
عزہ کا بھی پارہ چڑھ چکا تھا اسے ایک طرف کرتی تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے میں چلی گئی۔۔
سیہون کا دیکھنا ایکدن انٹرویو لوں گی میں کب سے اپنے ڈاریکٹر کو کنوینس کر رہی ہوں میں۔
الف بولی۔۔
پہلے ہنگل تو سیکھ لو کبھی نہیں آئے گا وہ تمہارے گٹ پٹ انگریزی والے پروگرام میں۔۔۔ نور نے چڑایا۔
زور دار چھناکے کی آواز سے تینوں چونک کر ساکت ہوئی تھیں۔۔
واعظہ نے سلیب سے کپ اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر دے مارا تھا۔۔
کیا ہوا؟۔
ابیہا فورا اسکے پاس آئی تھی۔۔
سپاٹ چہرے کے ساتھ کپ کے ٹکڑوں پر نظر جمائے وہ دانت سختی سے دانتوں پر جما کر خود کو شانت کر رہی تھی۔۔
غصہ آگیا تھا اسلیئے اسے توڑ دیا ابھی صاف کر دیتی ہوں۔۔
چند لمحے لگے تھے اسے اپنے آپے میں واپس آنے میں۔۔
گہری سانس لیکر ابیہا کو مسکرا کر بتا رہی تھی پھر جھاڑو اٹھا کر صاف کرنے بھی بڑھ گئ۔۔
ہیں مگر۔۔ فاطمہ حیران سی اس سے پوچھنے بڑھی مگر ابیہا نے اسے بازو سے تھام لیا۔۔فاطمہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ابیہا نےا سے آنکھ کے اشارے سے ہی چپ رہنے کو کہا۔۔ ابیہا اور واعظہ بچپن کی سہیلیاں تھیں کب کہاں کتنا میٹر گھومتا دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔۔
واعظہ اب تندہی سے اپنا پھیلاوا سمیٹ کر پوچھا لگا رہی تھی۔۔
یہ کیا تھا؟۔۔
الف اور نور حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھکی تھکی سی وہ کھانا کھانے کیفے میں آئی تھی۔۔
صبح سے ایک کے بعد ایک مریض بھگت کر اب یہ حال تھا کہ لگ رہا تھا کہ گردن کے اوپر اسکا نازک سا پیارا سا سر نہیں کوئی پانچ چھے کلو کا تربوز رکھا ہوا ہے۔۔ گردن سہلاتی ٹرے اٹھا کر وہ قطار میں سجے خوشبو اڑاتے گرم پکوانوں کے ڈونگوں کی طرف چلی آئی۔۔
فضا میں مصالحوں کی مہک رچی تھی۔۔
کھانے کا وقت تھا تو کافی لوگ کیفے میں موجود تھے اسے بھی قطار میں لگنا پڑا ۔۔
خدا خدا کر کے پہلی طشتری کا ڈھکن اٹھایا۔۔
ساسجز۔۔
وہ آگے بڑھی۔۔ سادے ابلے ہوئے چاول۔۔
اس نے وہی نکال لیئے۔۔
اس سے پیچھے کھڑی لڑکی نے کئی ساسجز پلیٹ میں رکھتے اس پر ترچھی سی نظر ڈالی تھی۔۔
اگلی ڈش۔۔ پورک بیلی سوپ۔۔
وہ ڈھکنا چھوڑ بیٹھی ۔۔
چھن کی آواز سے اسٹیل کے ڈونگے پر اسٹیل کا ڈھکن بجا۔۔ لمحہ بھر کو کھانا لیتے سبھی کےہاتھ رکے چونک کر اسے دیکھنے لگے۔۔
آئی ایم سوری۔۔
اس نے جھک کر معزرت کی۔۔ ابھی بھی ہنگل دماغ میں نہ آ سکی تھی۔۔ خیر سوری کا مطلب تو سب ہی سمجھتے تھے
سب واپس اپنے اپنے کام میں مگن ہوئے
اگلی ڈش چکن اسٹیک۔۔
وہ صبر شکر کرتی سلاد والے حصے میں آگئ۔۔
ابلے انڈے کے ٹکڑے سجے گاجر مولی سلاد کے پتے۔
دل بھر کر پلیٹ میں ڈال کر وہ اب کسی کونے کی تلاش میں تھی۔۔
دور ہال کی فرنچ ونڈو کے کونے میں لگی میز پر دو لڑکیاں بیٹھی تھیں۔۔ وہ وہیں چلی آئی۔۔
اسلام و علیکم ۔۔ اس نے سلام تو کیا تھا مگر کوریائی انداز میں جھک کر۔۔ یہ بھی مسلئہ جانے کب تک رہنے والا تھا کہ منہ پہلی دفعہ میں ہنگل نکلتی ہی نہیں تھی۔
چندی آنکھوں والی دونوں لڑکیوں نے اچنبھے سے اسے دیکھا پھر جیسے بدمزہ سی ہوگئیں۔۔
ابھی عروج کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ دونوں کھٹاک سے اپنی اپنی کھانے کی ٹرے اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
عروج نے ٹھںڈی سانس لی۔۔
اسکا اسکارف پہنے ہونا میڈیکل ماسک پہننے کے باوجود بھی چیخ چیخ کر میں مسلمان ہوں بتا دیتا تھا۔ کورین تعصبی تو نہیں تھے مگر اس سے جھجک ضرور جاتے تھے ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔
اس نے تھوڑا سا رخ پھیر کر دیوار کی طرف منہ کیا ماسک ہونٹوں سے تھوڑا سا اوپر کرکے آڑ کرکے ابلے انڈے ابلے چاولوں پر رکھ کر کھانے لگی۔۔
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ۔۔
اسکے زہن میں یہی جملہ گھوم کر رہ گیا۔۔
کوریا میں بس بابر کا عیش ہی نصیب تھا۔۔
اپنی کھانے کی پلیٹ تیار کر کے وہ مناسب جگہ دیکھ کر بیٹھنا چاہ رہا تھا۔۔ ہر میز پر دو چار لوگ بیٹھے کھانے پینے کے ساتھ خوش گپیوں میں مگن تھے۔۔
دور اوور آل پہنے ایک لڑکی دیوار کی طرف چہرہ کرکے بیٹھی تھی۔۔
اسکی میز پر اسکے سوا کوئی نہ بیٹھا تھا وہ سیدھا اسی جانب بڑھا ۔۔ چند قدم ہی بڑھائے ہوں گے کہ ٹھٹک کر رکا۔۔
ڈاکٹر روج۔۔ جسکو آپ روز ملتے ہوں اسکو آپ دور سے پشت سے بھی پہچان سکتے اور روج کو تو وہ سو لڑکیوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔ ایک پھیکی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی۔۔ آگے بڑھنے کی بجائے مڑ کر قریب ترین نشست گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔
یوں کہ روج کینجانب اب اسکی پشت تھی۔۔
انسان ہوں میں ۔۔ انسانوں کو تو نہیں کھاتی نا ۔۔ عروج کی آنکھیں بھر رہی تھی۔
ساتھ بیٹھ کر کھالیتیں تو کیا چلا جاتا انکا۔یوں اٹھ کر گئ ہیں جیسے میں اچھوت ہوں۔۔
وہ نوالے نگلتی آنسو بھی پی رہی تھی۔۔ تبھی اسکا فون بج اٹھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار ویسے اتنا حساس ہونے کی ضرورت نہیں تھی واعظہ نے غلط نیت سے تو نہیں کہا تھا۔۔ ہمارے ساتھ ایسا کئی بار ہو چکا ہے پانچ لڑکیاں عبایا پہن کر اکٹھے گئ ہیں تو لوگوں نے ٹھیک ٹھاک بلی اینگ کی ہے ہماری۔۔میں اور واعظہ اکٹھے گھومتے پھرتے کوئی غور سے دیکھتا بھی نہیں ہمیں۔۔
فاطمہ کا انداز ناصحانہ تھا عزہ نے خاصی ناپسندیدگی سے دیکھا۔۔
ٹھیک ہے تم لوگ جائو میں گھر میں ٹھیک ہوں۔۔
عزہ کا صاف فیصلہ تھا۔۔
وہ سب عزہ کے کمرے میں جمع تھیں۔۔ الف اپنی شاپنگ پھر کھول کر بیٹھی تھی کل جانے کیلیئے کپڑے چننے تھے۔۔ نور کپڑے استری کرتی انکی باتوں پر ہی کان لگائے تھی استری ایک طرف رکھتی مڑی۔۔ کمر پر ہاتھ رکھتئ چبا چبا کر بولی
لڑائی تمہاری اور واعظہ کی ہوئی ہے تم نہیں جا رہیں تو ٹھیک مگر میں تو جا رہی ہوں عبایا پہن کر ہی جائوں گی واعظہ کیا کرے گی؟
یک نہ شد دو شد ۔فاطمہ اور الف سر پکڑ کر رہ گئیں۔۔
اس نے کیا کرنا یہ عزہ اسے انڈین کہہ کر چلی گئ بجائے اسکے اس سے لڑتی کپ توڑ دیا اس نے اب شائد گلاس توڑ دے گی زیادہ سے زیادہ۔۔
الف نے معصومیت سے تجزیہ کیا۔
فاطمہ اسے گھور کر رہ گئ۔۔
تو آخری فیصلہ تم دونوں کا؟۔۔ فاطمہ نے کھڑے ہوتے ہو ئے پوچھا۔۔
ہاں ۔۔
اگر جائوں گی تو عبایا میں جائوں گی ورنہ نہیں جائوں گی۔۔
عزہ نے ضدی پن سے کہا۔۔ تبھی تھکی تھکی سی عروج کمرے میں داخل ہوئی۔۔
اسلام علیکم ۔۔ ماسک نیچے کرتے ہوئے اس نے تھکے تھکے انداز میں ہی سلام کیا۔۔
یار عروج بھی تو ہے۔
فاطمہ کو دلیل سوجھی۔
اوور آل کوٹ گلابی حجاب اور میڈیکل ماسک۔ ایکدم سے تو آئوٹ اینڈ آڈ نہیں لگنے لگتی یہ۔۔ ؟۔۔
فاطمہ نے کہا تو چاروں عروج کو ہی دیکھنے لگیں
اتنا کچھ کرکے بھی لگتی ہوں آج بھی ایک امریکی مریض مجھ سے ڈر گیا مسلم ہو؟۔۔ عروج پہلے ہی بھری بیٹھی تھی تپ کر بولی۔۔
کھانا کھانے گئ تو جہاں جا کر بیٹھ رہی تھی لوگ اٹھ اٹھ کر چلے جاتے وہاں سے۔۔
اس سے تو بہتر تھا عبایا ہی کرتی رہتی روز کپڑے تو استری نہ کرنے پڑتے۔۔
اوور آل کوٹ اتارتی وہ ساری بھڑاس نکال رہی تھی۔۔
آج کا دن ہی برا ہے۔۔ فاطمہ سر پکڑ کر رہ گئ۔۔
اف آپریشن کر کے آئی ہوں اس امریکی کو ہی اسٹروک پڑ رہے تھے ۔۔ مجھ سے علاج کروانے کو تیار نہ تھا خدا کا کرنا ایسا ہوا اسٹروک پڑ رہے تھے اسے فوری آپریشن کرنا پڑا ایمرجنسی میں میں نے ہی اسسسٹ کیا ڈاکٹر یانگ جو جو۔ بڑا مزا آیا۔۔
عروج پر جوش ہوئی۔۔
مریض کو تکلیف میں دیکھ کر۔۔ ؟۔ الف حیران ہوئی۔
ارے نہیں پاگل آپریشن ہوتے دیکھ کر ۔۔ سب کچھ جو بس کتابوں میں پڑھا تھا اسے حقیقت میں سامنے ہوتے دیکھنا اتنا مزے کا تجربہ تھا اتنا کچھ سیکھا میں نے۔۔
بولتے بولتے تالی کی طرح دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر وہ بہت خوش ہوئی۔۔ تھی۔۔ آنکھیں میچ کر جھوم کر جب آنکھیں کھولیں تو کسی کو اپنی جانب متوجہ نہ پایا۔۔ اسکی میڈیکل ٹرمز والی تفصیل سننے میں کسی کو دلچسپی نہ تھئ۔۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھیں۔۔
الف دوبارہ ایک ایک جوڑا واپس ڈال رہی تھی نور عبایا استری کرکے کونےکھونٹی میں لٹکا کر اب اپنا جوڑا استری کرنے لگی تھی
عزہ موبائل میں لگی تھی فاطمہ جانے کیوں چپکے دے کھونٹی کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی عروج نے تاسف سے ان کو دیکھا۔۔
مجھ سے سیکھنے والی ہوتیں تو آدھی ڈاکٹرنیاں بن چکی ہوتیں میرے ساتھ صحیح ہے چراغ تلے اندھیرا۔۔
وہ کندھے اچکاتی اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اسٹر لائزر کی بوتل اٹھا کر باتھ روم۔میں گھس گئ۔۔ باتھ روم کا دروازہ بند ہوتے ہی نور کی بے نیازی ختم ہوئی تھی۔۔ دزدیدہ نظروں دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ وہ اسکے اگلے ردعمل کا انتظار کر رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابیہا اور واعظہ ہفتہ وار سودا سلف لینے قریبی سپر مارکیٹ آئی تھیں۔۔ ٹرالی گھسیٹتے ایک ایک چیز اٹھاتے ہوئے اسکے اجزا پڑھ پڑھ کر ٹرالی میں رکھ رہی تھیں۔۔
حلال میٹ کے ٹیگ کے ساتھ گوشت کا پیکٹ اٹھاتے واعظہ شکایتی انداز میں ابیہا کو دوپہر میں گزری واردات بتا رہی تھی
یار عزہ خود کو سمجھتی کیا ہے عبایا کرتی ہے تو کیا اچھی مسلمان ہے؟ مجھے کہتی میں انڈین لگتی کیونکہ میں عبایا نہیں کرتی یہ کیا بات ہوئی میں عبایا نہیں کرتی تو کیا مسلمان نہیں رہی؟
عبایا نہ کرنے والے انڈین لگتے ؟ یہ بات مجھےآج پتہ چلی ہا ہا ہا۔۔
ابیہا کھل کر ہنسی تھئ۔۔
واعظہ اسکے ردعمل پر اسے گھور کر ہی رہ گئ۔۔
یار پھر تو میں بھی انڈین ہوں۔۔
وہ لمبا سا پیچ کلرکا شرگ عبایا کی جگہ پہنے تھی پرنٹڈ نارنجی گلابی پھولوں والا حجاب لیکر اس نے ماسک پہن رکھا تھا کافی کول سی لگ رہی تھی ابھی بھی مزے سے شرگ کا دامن پکڑ کر گول گھوم کر اسے دکھایا۔۔
ابیہا زہر عورت ہو تم۔۔
واعظہ اسکی پرفارمنس دیکھ کر طنز سے تالی بجاتی اسے گھور کر ٹرالی آگے بڑھا لے گئ تو ابیہا سٹپٹا کر پیچھے بھاگی۔۔
ارے سنو تو۔۔ پتہ ہے جب میں میٹرک میں تھی نا تب جو گائون بنایا تھا نا میں نے وہ کوٹ جیسا تھا یہ بڑی بڑی جیبیں تھیں۔۔
اس نے ہاتھ پھیلا کر کچھ زیادہ ہی بڑی بڑی جیبوں کا اشارہ کیا۔۔ واعظہ رک کر دیکھنے لگی۔۔
تو؟۔۔
یاد ہے اسری وغیرہ مجھے تنگ کرتی تھیں بات کرتے کرتے جیب مین ہاتھ ڈال۔لیتی تھیں سخت برا لگتا تھا مجھے کتنی لڑائی ہوئی ہے ہماری اس بات پر۔۔ تم سمیت ان میں سے کوئی بھی گائون نہیں لیتی تھی۔۔
تو یہ بات کہاں سے یاد آگئ؟۔۔
واعظہ حیران ہوئی۔۔
وہ تم نے ابھی گائون والی بات کی نا تو۔۔اس پر۔۔ اب تم مجھے بتا رہی تھیں عزہ سے لڑائی ہوئی تو میں جانتی تو ہو ایسا ہی ہوتا میرے ساتھ ایکدم خالی کچھ آیا ہی نہیں زہن میں کیا بولوں تو یہ بول دیا۔
ابیہا معصومیت سے کہہ رہی تھی۔۔
واعظہ کو اسکے انداز پر ہنسی ہی آگئ۔۔
اسے ہنستے دیکھ کر ابیہا کی بھی جان میں جان آئی چپ ساتھ چل رہی تھی اسکے بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کی بات کیا بری لگی تھی۔۔
ابیہا تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ واعظہ ہنستے ہنستے بولی۔
یار ایویں برا مانا تم نے تم اور انڈین۔؟ کسی عقل کے اندھے کو ہی انڈین لگ سکتی ہو۔۔ دودھ جیسا تو رنگ ہے تمہارا اتنی گوری آج تک میں نے کوئی انڈین لڑکی نہیں دیکھی۔۔
ابیہا اسکے کندھے پر جھول ہی گئ۔ واعظہ کا موڈ ٹھیک ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی نے انہیں پکار لیا۔۔
آپ انڈین ہیں نا ؟۔۔ پلیز میری مدد کیجئے گا ۔۔
دونوں چونک کر مڑی تھیں۔۔
وہ دبلی پتلی سی پرنٹڈ شلوار قمیض میں ملبوس بڑی سی چادر سر تک اوڑے گلابی رنگت والی لڑکی چھوٹے سے بچے کو گود میں لیئے جھجکتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔۔
جی۔۔ دونوں کے منہ سے مری مری سی آواز نکلی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔
وہ مجھے حلال ہی سب چیزیں لینی تھیں انکے اجزا ء سب کورین میں ہی لکھے ہوئے تو مجھے سمجھ نہ آرہے تھے۔۔ آپ دونوں کا بہت شکریہ آپکی وجہ سے میں ساری شاپنگ آرام سے کر سکی۔۔
تینوں کائونٹر پر اپنا سامان رکھ کر بل بنوا رہی تھیں جب طوبی نے مڑ کر انکا شکریہ ادا کیا۔۔ اسکا بیٹا اب بے چین ہو کر ہمک رہا تھا۔۔ اسکو تھپکتی نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے طوبی واقعی احسان مند تھئ۔۔
جی۔۔
اسکے پیارے سے دو ڈھائی سال کے بیٹے کو چمکارتی ابیہا ٹھٹکی تھی تو کریڈٹ کارڈ سیلز گرل کو تھماتی واعظہ بھی ٹھٹکی۔۔ دونوں نے باقاعدہ مڑ کر ایک دوسرے کو دیکھا پھر اپنی خریداری کی بھری ہوئئ ٹرالی کو۔۔
اب ہم غیر مسلم ملک میں ہیں یہ لوگ تو حلال حرام نہیں دیکھتے جانوروں کے اجزا ء بکثرت استعمال کرتے ہیں صابن ٹوتھ پیسٹ وغیرہ میں اب ہم تو نہیں ایسی چیزیں استعمال کر سکتے۔۔ میں وہاں موجود لڑکی سے یہی پوچھ رہی تھی کہ اس میں جانوروں کے اجزا ء شامل تو نہیں مگر عجیب جاہل لوگ ہیں یہاں کے کسی کو انگریزی ہی نہیں آتی۔۔ طوبی چڑ کر سیلز گرل کو گھورنے لگی۔۔
بس جھک جھک کر پتہ نہیں کیا کہے جا رہی تھی
خیر شکر ہے کوئی ہم زبان ملا ایک ہفتے سے تو حقیقتا منہ بند کر کے وقت گزر رہا میرا
جی۔۔ ۔ابیہا اور واعظہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔
گومو ویو۔۔
سیلز گرل نے انکا سامان شاپر میں ڈال کر تھمایا اور پھر جھک کر بولی۔
دیکھا یہ کیئے جا رہی بس۔۔ ایک دو بار تو میں جھکی مگر بچے کے ساتھ جھکنا آسان ہے بھلا۔۔
طوبی نے فورا نوٹ کیا باقاعدہ اشارہ کرکے بتایا۔۔ سیلز گرل کا رنگ فق ہو گیا۔۔
دے؟۔۔ وہ جواب طلب نظروں سے انہین دیکھنے لگی۔۔
تعریف کر رہی ہیں آپکی۔۔
سٹپٹا کر ابیہا نے ایک سال میں جتنی ٹوٹی پھوٹی ہنگل سیکھی جھاڑ دی۔۔ گومو وویو۔۔
سیلز گرل کی رنگت بحال ہوئی واعظہ مسکراہٹ دباتی شاپر اٹھانے لگی۔۔
طوبی منہ بنا کر اپنا سامان کائونٹر پر رکھنے لگی۔۔
آپ سے مل کر خوشی ہوئی خدا حافظ۔۔
شاپر اٹھا کر ابیہا نے الوداعی کلمات ادا کرنے چاہے مگر طوبی مکمل طور پر سیلز گرل کی جانب متوجہ ہو گئ تھی۔۔ انکی جانب پشت کرکے وہ ٹرالی سے سامان اٹھا اٹھا کر کائونٹر پر دھر رہی تھی۔۔
چلو۔۔ واعظہ نے بازو پکڑ کر اسے گھمایا۔۔ دونوں ہنستی ہوئی باہر نکل آئیں۔۔ شام کے ساڑھے سات ہو رہے تھے۔۔ آسمان پر اندھیرا چھا رہا تھا تو سیول روشنیوں سے جگمگا اٹھا تھا۔ یہ انکے گھر کے قریب ترین مارکیٹ تھی تو بھی دس منٹ کا پیدل کا راستہ تھا۔ ابیہا کا بس چلتا تویہاں بھی بس سے یا ٹیکسی کرکے آتی مگر واعظہ ساتھ ہوتی تو اسے اتنا تو چلا ہی لیتی تھی۔ ابھی بھی انصاف سے سامان آدھے آدھے وزن کے ساتھ بانٹے ایک ہاتھ میں ایک ایک شاپر تھامے ایک ایک ہاتھ سکھی سہیلیوں کی طرح حمائل کیئے دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہی تھیں۔۔
مارکیٹ میں لوگوں کا رش تو نہیں تھا مگر پھر بھی اپنے کام سے کام رکھتے لوگ آ جا رہے تھے۔۔ کسی کو کسی سے سروکار نہیں نہ دو لڑکیاں شپنگ بیگ تھامے انکیلئے کوئی انوکھا نظارہ تھیں کہ مڑ کر دیکھتے یا جملہ چست کر جاتے۔۔شرمندگئ کی بات تھی مگر پاکستان سے زیادہ آسانی اور آزادی کے ساتھ وہ پھر رہی تھیں۔۔
یار ویسے ہمارے ساتھ بھی یہی ہوتا تھا ایک سال پہلے ککھ سمجھ نہ ہمیں انکی آتی تھی نہ انہیں ہماری۔۔ ساتھ سے گزرتی چندی آنکھوں والی آنٹی کو تھکے تھکے قدم اٹھاتے بس اسٹاپ کی طرف بڑھتے دیکھتی ابیہا کو خیال آیا۔۔
اب کونسا ہم ہنگل کے ماہر ہو چکے ہیں۔۔ واعظہ ہنسی
ہاں ابھی بھی سمجھ ومجھ خاک پتھر ہی آتی ہے ہمیں۔۔ ابیہا نے تائید کی۔۔
یار ویسے لڑکی پیاری تھی گوری سی بچہ تو اسکا لگ ہی نہیں رہا تھا۔۔
ابیہا نے کہا تو واعظہ حیران رہ گئ۔
کیوں بچہ بھی اچھا خاصا گورا سا پیارا سا ہی تھا۔۔
واعظہ کے کہنے پر ابیہا سر پیٹنے والے انداز میں بولی
میرا مطلب چھوٹئ سی لگ رہی تھی شادی شدہ نہیں لگ رہی تھی۔۔
ہو سکتا ہے خالہ والہ ہو اس بچے کی ضروری تو نہیں ماں ہی گود میں لیکر پھرے بس۔۔ میں نہیں خاور بھائی کے بچوں کو شاپنگ پر لے کر جاتی۔۔
واعظہ کی اپنی منطق ہوتی تھی۔۔
اف۔۔ ابیہا نے سر ہی پکڑ لیا۔۔
یار ویسے ایک بات ہے۔ واعظہ کے دماغ کی گھنٹی بجی۔
ہم نے کبھی اجزا دیکھ کر شاپنگ نہیں کی کیا پتہ ہم بھی جانوروں کےاجزا سے بنا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے رہے ہوں اور صابن۔۔ اور ہم نے تو اس لڑکی کو بھی بس اسکی لسٹ میں موجود چیزیں ٹرالی میں بھر دی تھیں۔ اجزا تو نہیں دیکھے تھے۔۔
واعظہ نے کہا تو ابیہا کے زہن میں وہ۔منظر تازہ ہو گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ٹرالی گھسیٹتی اسکے پاس ہی چلی آئیں۔۔
جی کہیئے۔۔ واعظہ نے خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا تھا
اسلام و علیکم۔۔
اس نے بڑے تپاک سے سلام۔کیا ۔۔
وعلیکم السلام۔۔ دونوں نے کورس میں ہی جواب دیا تھا
وہ میں خریداری کرنا چاہ رہی تھی۔۔ ۔۔
اس نے اپنے بے چین فطرت بیٹے کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کرتے ہوئے معزرت خواہانہ انداز سے کہا
حلال چیزیں درکار ہیں مجھے ۔ آپکو اسکارف پہنے دیکھا تو سوچا آپ سے مدد لے لوں۔۔
واعظہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔۔
جی کیوں نہیں حلال گوشت آپکو اسک کونے سے ملے گا۔۔
ابیہا نے اشارے سے گوشت والے حصے کا بتایا۔۔
اچھا۔۔ طوبی تھوڑی سی مایوس ہوئی تھی۔۔کافی بڑا اسٹور تھا اور گوشت والا حصہ بالکل ایک کونے پر اور وہ لوگ بیچ میں کھڑی تھیں۔تبھئ
بچے نے اچانک ہی زور دار چیخ مار کر رونا شروع کر دیا تھا۔
آلے آلے۔۔ وہ اسے تھپک تھپک کر بہلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ مگر بچے کی آواز بلند سے بلند ہوتی جا رہی تھئ۔۔
دھان پان سی لڑکی گپلو سا بچہ گود میں لیئے شاپنگ کم کر رہی تھی ہلکان زیادہ ہو رہی تھی
واعظہ کو ترس ہی آگیا۔۔
لائیں لسٹ ہم آپکی بھی چیزیں لے لیتے ہیں۔۔
اس نے آگے بڑھ کر اسکی ٹرالی تھام لی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م
میں تو یہی سمجھی تھی کہ بچے کی وجہ سے پریشان ہے سو اسکی لسٹ کے مطابق چیزیں جمع کردیں ٹرالی میں حلال کے ٹیگ والا گوشت بھی لیا مجھے کیا پتہ تھا اسے ٹوتھ پیسٹ تک حلال ہی چاہیئے تھا۔۔ہم نے تو کبھی خود اپنی شاپنگ ایک ایک چیز کے اجزا ء پڑھ کے نہیں کی۔۔ ویسے انگلش میں بھی لکھے ہوتے ہیں اجزا۔۔ دیکھ لے گی گھر جا کر ۔۔ یہاں تو بچے کی وجہ سے شائد گھبرا گئ ہوگی
واعظہ کی بات میں د م تھا ۔
ہمیں بھی ویسے دیکھنا چاہیئے تھا۔۔ اسکی چیزوں میں بھی اور اپنی چیزوں میں بھی کہ حلال اجزا ہیں کہ نہیں۔۔
ابیہا نے کہا تو واعظہ چڑی
اب ہم۔لے چکے چیزیں واپس تھوڑی ہوںگی۔۔
پھر بھی ہم استعمال تو نہیں کریں نا ۔۔
ابیہا کی بھی بات میں وزن تھا۔۔
ٹھیک ہے یہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ایک ایک چیز نکال کر اسکے اجزا پڑھتے ہیں جو جو چیز حرام نکلے گی کسی ہوم لیس کے آگے رکھ کر ہاتھ جھاڑتے گھر چلیں گے ٹھیک۔۔
واعظہ نے کہا تو ابیہا ہنس پڑی۔۔
اب یہاں سڑ ک پر تھوڑئ بیٹھ سکتے ہم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنگنم اسکوائر کو جانے والی بس نمبر پچیس بس اسٹاپ پر آکر رکی تھی۔۔
چندی آنکھوں والے بس اسٹاپ پر انتظار کرتے مسافرمرد و عورتیں بس میں سوار ہوتے ہوئے بھی مڑ مڑ کر بس اسٹاپ پر موجود بنچ پر بیٹھی دو غیر ملکی نقوش کی لڑکیوں دیکھ رہےتھے۔۔ اسلیئے نہیں کہ وہ غیر ملکی تھیں، اسلیئے بھی نہیں کہ وہ لڑکیاں تھیں۔۔ بلکہ اسلیئے کہ دونوں پیروں میں شاپنگ بیگ رکھے اپنی خریدی گئ ایک ایک چیزکو باہر نکال کراس کا ریپر پڑھ رہی تھیں بنچ کے ایک جانب ڈھیر لگا ہوا تھا مسترد کی گئ اشیا کا جن میں ٹوتھ پیسٹ صابن شیمپو تک شامل تھا غیر مسترد کی گئی اشیا میں بس انڈے اور دودھ سے بنی چیزیں تھیں یا کچھ سبزیاں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا دس بج رہے ہیں؟۔۔ سات بجے کی گئ ہوئی ہو تم دونوں کہاں رہ گئ تھیں؟
دروازہ کھولتے ہی ابیہا کی امی چلائی تھیں۔۔
وہ میں۔۔۔ ابیہا گڑ بڑا اٹھئ۔۔
آوارہ گردی کر رہے تھے ہم دیر تو لگنی ہی تھی۔۔
واعظہ تھکے تھکے انداز میں فاطمہ کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ ابیہا نے دز دیدہ نظروں سے دیکھا تو امی کا ہیولہ فاطمہ کا روپ دھار چکا تھا۔۔
اف ۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔
واعظہ لائونج میں کارپٹ پر سامان ڈھیر کرتی بمشکل د ولوگوں کے بیٹھنے کے قابل چھوٹے سے کائوچ پر جا گری تھی۔۔ آج تو چل چل کر حالت بری ہو گئ تھی۔۔ سر کےنیچے کشن گھساتی وہ کنپٹی مسل رہی تھی۔۔
ابیہا کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی تھی مگر ہمت کر کے کچن سے پانی کی بوتل اور گلاس اٹھا لائی بھر کر واعظہ کو تھمایا۔۔ غٹا غٹ چڑھا کر واعظہ کے حواس بحال ہوئے۔۔ فاطمہ وہیں قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر انکی لائی چیزیں دیکھنے لگی۔۔
میرا فیس واش لائی ہو۔۔ وہ شاپر کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔۔ ابیہا اور واعظہ نظر چرا گئیں۔۔
سب سو گئیں۔۔
واعظہ نے گھر میں پھیلی غیر معمولی خاموشی محسوس کر کے حیرانی سے پوچھا۔۔
فاطمہ شاپر خالی کر چکی تھی اب تسلی کیلئے دوبارہ ہر چیز الٹ پلٹ کر رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ جواب بھی دے رہی تھی۔۔
ہاں کھانا کھا کر سب لیٹ گئیں عروج تو تھکی ہوئی بہت ہوتی عزہ منہ تک چادر لپیٹے ہے دوپہر سےکھانا کھانے اٹھی تھی بس۔ الف کہہ رہی تھی مجھے کل نہیں جانا کہیں سو مجھے صبح نہ اٹھانا اور نور۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے سے کمرے میں ایک ڈبل بیڈ ایک سنگل بیڈ بچھنے کے بعد بس چلنے پھرنے کی ہی جگہ بچی تھی۔۔ ڈبل بیڈ پر الف اور عروج بے خبر سو رہی تھیں عزہ کا بیڈ الگ تھا مگر وہ بھی سر تک چادر تانے بے خبر تھی۔۔ انکے پیتھیانے زمین پر فلور کشن پر آلتی پالتی مارے کمبل گرد تانے نور بیٹھی تھی۔۔ سامنے کوریائی طرز کی زمین سے بس تھوڑی سی اونچی پیڑھی نما میز دھری تھی عموما اس میز پر کھانا چن کر کوریائی بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں مگر یہاں یہ لیپ ٹاپ کی آرام گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ سو لیپ ٹاپ چین سے اس پر دھرا نور کی جانب ہمہ تن گوش تھا۔۔ اسکرین پر عجیب و غریب لکیریں اور نقطے چل رہے تھے
ملگجے اندھیرے میں لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نکلتی نیلگوں روشنی میں نور کا چہرہ دبے دبے جوش کو چھپانے کی کوشش میں سرخ ہوتا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔
جانے کیا کامیابی ملی تھی خوش ہو کر اسے زور سے تالی بجا بیٹھی خاصی اونچی آواز میں
یس۔۔۔۔۔ بھی کہہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یس کی آواز باہر تک آئی تھی۔
پتہ لگ گیا مجھے کوئی نیا پنگا کر رہی ہے بیٹھی ہوئی۔۔
واعظہ سر ہلاتی اٹھ بیٹھی۔۔
اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔
ابیہا متفق تھی۔۔
میرے فیس واش کا کیا ہوا تم لوگ نہیں لائیں؟۔۔
فاطمہ کو آخر اس تلخ حقیقت کو ماننا ہی پڑا کہ دو بار بھی دونوں شاپر خالی کر کے بھر کے بھی اسکا فیس واش نہیں نکلا ہے تو اسکا مطلب سادہ سا ہے نہیں آیا۔
نہیں ملا؟۔۔
فاطمہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھئ۔۔
نہیں ملا تو۔۔
ابیہا نے چور نظروں سے واعظہ کو دیکھا۔۔
پھر لیا کیوں نہیں پیسے نہیں بچے تھے؟۔۔
فاطمہ بےتاب ہوئی
نہیں پیسے تو تھے خریدا بھی۔۔
واعظہ نے کہتے ہوئے مدد طلب نظروں سے ابیہا کو دیکھا وہ دانستہ نظر چراتی پانی کی بوتل اٹھاتی کچن کی طرف بڑھ گئ۔۔
پھر کہاں گیا؟۔۔
فاطمہ زچ ہو گئ۔۔
اس نے کہا کسی غریب کو دے دیتے ہیں تو ہم انہیں پل کے نیچے رہنے والے بے گھر افراد کو دے آئے۔۔
واعظہ نے ہاتھ سے ابیہا کی جانب اشارا کر کے ہمت کرکے کہہ دیا۔۔
فریج کھول کر بوتل رکھتئ ابیہا سنٹ ہو کر بند کرنا بھول۔گئ۔۔ کہا تو اسی نے تھا مگر۔۔
کیا کیوں؟ اور فیس واش کون دیتا ہے چیریٹی میں؟ وہ بھی میرادے دیا۔۔ اگر دینا تھا تو اپنا دیتیں۔۔
فاطمہ ابیہا کی جانب گھوم گئ۔۔
وہ اپنا بھی دیا ہے۔۔ ابیہا گڑبڑائی۔۔
میرا بھی اور عروج اور نور کی نائیٹ کریم لوشن سب۔۔ ماسک بھی دے آئے ۔۔۔ کتنے یوآن کا بل تھا ۔۔
واعظہ نے دماغ پر زور ڈالا
میں نے بل کی رسید بھی چیریٹی میں دے دی نہ دیکھوں گی نا ہی پریشانی ہوگی خوامخواہ ۔
واعظہ نے ہاتھ جھاڑے۔۔
یہ ہو کیا رہا ہے۔۔چیریٹی کی کیوں سوجھی؟ بےگھر افراد کو کھانے پینے کی چیز دی جاتی فیس واش صابن تھوڑی۔۔ فاطمہ نے کہا تو ابیہا کو غلط موقع پر صحیح بات سوجھی
یار ویسے یہ سب چیزیں بھی دینی چاہیئیں ۔۔ بنیادی ضروریات ہیں یہ انکو بھی منہ ہاتھ دھونا ہوتا ہوگا نہانا وغیرہ کیا کرتے ہونگے؟۔۔
ابیہا نے کہا تو واعظہ کو اپنے کریڈٹ کارڈ کا غم زائل ہوتا محسوس ہوا۔۔
یہ تو صحیح کہہ رہی ہو۔۔ کتنا خو ش ہو گئے تھے چیزیں لیکر وہ لوگ۔۔ ۔واعظہ نے کہا تو ابیہا بھی ہاں میں ہاں ملانے لگی۔۔ ان دو بے وقوفوں میں فاطمہ کو اپنا آپ احمق لگنے لگا تھا۔
اچانک تم لوگوں میں حاتم طائی کی روح حلول کر گئ یے کیا؟
فاطمہ روہانسی ہو چلی۔ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور فاطمہ ابیہا اور واعظہ نورکی ہر فن مولا میز پر آلو کی ترکاری کا ڈونگہ رکھے ساتھ روٹیوں کی چنگیر رکھے کارپٹ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔۔
جب ہم پاکستان میں ہوتے تھے تو طشتری میں کھانا رکھ کر کھاتے تھے۔۔
اتنی گاڑی اردو میں طنز یقینا واعظہ ہی کر سکتی تھی۔۔۔ ابیہا نے جھٹ پاس سے موبائل۔اٹھا کر نوٹس کاآپشن کھول کر ٹائپ کیا۔۔
ت شین۔۔ ت ر ی۔۔
وہ حسب عادت بول۔کر ہجے کر رہی تھی۔۔
ط سے ہوتا طشتری۔۔ واعظہ نے ہونٹ بھینچ کر تصحیح کی۔۔
اوہ اچھا۔۔ شکریہ۔۔ ابیہا شکر گزار تھی جھٹ ت کاٹ ط لکھا۔۔
مطلب؟۔ ابیہا نے کہا تو واعظہ والے تاثرات فاطمہ کے چہرے پر بھی آ سجے۔۔
بہن کھانے کی میز پر پلیٹیں ہی نہیں ہیں۔ یقینا پلیٹ کو ہی کہتےہیں طشتری۔۔ ابیہا کی آنکھوں میں جھانک کر وضاحت کی تو ابیہا بھی چونکی۔۔ میز پر ڈونگہ تھا روٹیوں کو کپڑے میں لپیٹ کر بڑے سے چھنے میں رکھا گیا تھا پانی کی بوتل اور ایک۔گلاس بھی قریب ہی کہیں تھا نہیں تھیں تو پلیٹیں نہیں تھیں۔۔
۔۔ نور بی بی۔۔ پلیٹیں کہاں ہیں؟۔۔
یہ ابیہا نے ہی پوچھا تھا۔۔
نور نے اطمینان سے روٹی نکال کر ڈونگے میں ہاتھ ڈال کر نوالہ بنایا
وہ باقی سب تو کھا چکی ہیں ہم چاروں ہی ہیں ترکاری بھی تھوڑی سی ہی ہے پلیٹ کی کیا ضرورت اسی سے نوالے بنا لو ویسے بھی مل بانٹ کر کھانے سے محبت بڑھتی ہے۔
پوری تقریر جھاڑ کر اس نے نوالہ منہ میں رکھ لیا۔۔ تینوں اسے ایک ٹک گھور رہی تھیں۔۔
یار کھا لو نا ایسے ہی۔۔
نور کے چہرے پر مسکینی چھائی۔۔
روٹیاں میں نے ڈالی ہیں ترکاری تم نے بنائی ابیہا نے کل برتن دھوئے تھے تو آج ۔۔۔۔ واعظہ پر سوچ انداز میں کہتی باری باری سب کی شکل دیکھ رہی تھی۔۔ سب نے اپنے مقررہ کام کیئے ہوئے تھے تو۔۔
برتن دھونے کی باری نور کی ہے جبھی۔۔
یہ جملہ تینوں اکٹھے بولی تھیں۔۔
نور کھسیا کر ہنسی۔۔
کتنی تیز ہے یہ۔۔ ابیہا کو رشک بھی آیا۔۔
کل اتنا ڈھیر برتنوں کا دھویا تھا میں نے مجھے نہ ایسا کوئی خیال آیا۔۔
ابیہا کو نیا دکھ لگ گیا۔۔
خبر دار جو اس سے کوئی سبق سیکھا۔۔ ایک ہی بہت ہے کافی ہے ہمارے لیئے۔۔
فاطمہ نے حقیقتا ہاتھ جوڑے ۔مجال ہے جو نور نے کوئی اثر لیا ہو مزے سے نوالے بنا رہی تھی۔۔
کھائو تم لوگ بھی ٹھنڈا ہو رہا کھانا۔۔
اف فکر بھی تھی نا معصوم بچی ۔۔
اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹاتی دنیا جہا ں کی معصومیت ٹپکا رہی تھی۔۔
میں پلیٹیں لاتی ہوں۔۔ فاطمہ کہہ کر اٹھنے لگی تو واعظہ نے ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔
چھوڑو ایسے ہی کھا لو واقعی ٹھنڈا ہو رہا کھانا۔۔
گہری سانس لیتی تینوں بھی خدا کا نام لیکر شروع ہو گئیں۔۔
ہاں الف کیوں کہہ رہی تھی میں نہیں جا رہی مجھے مت اٹھانا۔۔ اسے کیا ہوا۔؟
واعظہ نے پوچھا تو فاطمہ ہنسی
اسکو قلق ہے کہ نیا اسکے پاس کوئی جوڑا نہیں جو شاپنگ اس نے کی اسے وہ پہن نہیں سکتی سو وہ نہیں جا رہی۔۔ فاطمہ نے کہا تو واعظہ نے لاپروائی سے کہا
صبح سب سے پہلے وہی تیار ہوگی دیکھنا۔۔۔
صبح کتنے بجے اٹھنا ہے؟۔ فاطمہ نے پوچھا تھا ۔
سات بجے تک نکلنا ہے۔۔ واعظہ نے کہا تو تینوں ہاتھ روک کر اسکے چہرے پر مزاق کی رمق تلاشنے لگیں۔۔
سنجیدہ ہوں واقعی صبح جلدی اٹھنا ہے۔۔
واعظہ کو سر اٹھائے بغیر بھی انکی نظریں اپنے چہرے پر مرکوز محسوس ہو گئ تھیں۔۔
مگر کیوں۔۔ اتنی صبح کیوں۔۔
نور نے احتجاج کیا۔۔
اعتراض فاطمہ کو بھی تھا مگر واعظہ نے کہا ہےتو کسی وجہ سے ہی کہا ہوگا سوچ کر چپ رہی
کیونکہ میں کہہ رہی۔۔ واعظہ نے اطمینان سے کہا۔
نور کو اسکا یہ انداز چڑاتا تھا۔۔ ایکدم سرد میں جو کہہ رہی کرو۔۔ جیسا۔۔
آئی بڑی اماں۔۔ اس نے دل میں ہی سوچا پھر اٹھ کھڑی ہوئی
خیر جب بھی جانا ہو ایک بات بتا دوں عبایا پہن کر جائوں گی میں۔۔ نقاب بھی کروں گی پھر چاہے کسی کی ناک کٹے شان گھٹے۔۔ اور میں عزہ بھی نہیں کہ گھر بیٹھ جائوں میں نہیں جائوں گی تو کسی کو جانے بھی نہیں دوں گی سمجھیں۔۔۔ تو مجھے کوئی رعب نہ دے کہ جو میں کہہ رہی وہی ہوگا۔۔ بلکہ جو میں کہوں گی وہ ہوگا۔
وہ ہاتھ اٹھا کر کہتی سیدھا سیدھا دھمکا رہی تھی۔۔
فاطمہ اور ابیہا حق دق اسکی شکل دیکھ رہی تھیں
اسے کیا ہوا بیٹھے بٹھائے ۔۔
واعظہ نے اطمینان سے اپنی روٹی ختم کی ہاتھ بڑھا کر کائوچ کے پاس رکھی تپائیپر رکھے ٹشو پیپر باکس سے ٹشو اٹھائے اور ہاتھ پونچھتی اٹھ کر نور کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔
ابیہا اور فاطمہ چوتھی جنگ عظیم کی تیاری ہوتے دیکھ کر بھونچکا تھیں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ واعظہ سنو۔۔
نور اسے جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی
کل کون کہاں کیسے کس حلیئے میں جائے گا کل دیکھیں گے۔۔۔۔
واعظہ اطمینان سے کہتے مسکرائی۔۔ اسکے کندھے پر بازو دراز کیا اور سیدھا شکنجے مین گردن میں جکڑ کر جھکا لیا۔۔نور وہیں سارا ڈرامہ بھول گئ۔۔ واعظہ نے بات جاری رکھی
ابھی فی الحال کچن میں سنک پر جو برتن پڑے ہوئے انہیں دھو اور کم از کم میرے ساتھ یہ چالاکیاں مت مارا کرو بہت اچھی طرح جانتی ہوں تمہیں۔۔ جتنا مرضی لڑ لو کام کرنا ہی پڑے گا ؟ کام سے بھاگ رہی تھیں نا تم۔۔
خود کو چھڑاتی نور اب کھلکھلا رہی تھی۔۔
ارے بابا چھوڑو مزاق کر رہی تھی نا ابھی دھوئوں گی میں برتن اور کون دھوئے گا۔۔
وہ پھڑ پھڑا رہی تھی مگر واعظہ کا ابھی چھوڑنے کا ارادہ نہیں تھا ابیہا اور فاطمہ انکے جنگ و جدل پر اطمینان کا سانس لیتی برتن سمیٹنے لگیں
چائے بنا رہی ہوں پیو گی؟۔۔ ابیہا نے پوچھا تو واعظہ نور کر چھوڑتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔
نور گردن سہلاتی بڑبڑا ئی
رہنے دو نا چائے پھر چار کپ جمع ہو جائیں گے۔۔
آواز دھیمی تھی مگر اتنی ضرور تھی کہ تینوں سن لیں تینوں نے گھورا تو ڈھٹائی سے ہنس کر بولی
میرا مطلب چار کپ ہونگے نا میں بھی توپیوںگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھے بجے کا الارم بجا تو ابیہا کو ایسا لگا جیسے ابھی آنکھ بند ہوئی تھی اور الارم بج اٹھا۔۔
کسمسا کر موبائل اٹھا کر بند کیا ۔۔ فاطمہ بے خبر سوئی ہوئی تھئ۔۔ اسکی نیند پر رشک کرتی اٹھ بیٹھی۔۔ وہ اور فاطمہ ڈبل بیڈ پر سوتی تھیں۔ واعظہ کا ایک طرف سنگل بیڈ ڈالا ہوا تھا جس اس وقت خالی تھا۔۔
اس نے چونک کر کمرے میں ڈھونڈا کمرے میں بھی نہیں تھی۔۔
وہ کمبل ایک۔طرف کرتی اٹھی تو سرد ہوا سے کپکپا سے گئ۔۔
یہ مئی چل رہا ہے یہاں۔۔ اس نے بےزاری سے سوچا ۔۔
وہ سویٹ پینٹ( پسینہ آور پینٹ) اور اپر میں ملبوس تھی پھر بھی موسم کی خنکئ احوال پوچھ گئ تھئ۔۔فاطمہ کو ہلانے کو ہاتھ بڑھایا مگر پھر رک گئ ابھی اٹھانے کا مطلب بیٹھے بٹھائے باتھ روم کی ایک اور سواری بڑھانا تھا سو دبے پائوں چلتی تیزی سے باتھ روم میں گھس گئ۔۔ پانچ سات منٹ بعد واپسی پر بھی فاطمہ کی قابل رشک نیند ٹوٹی نہ تھی۔۔
تولیئے سے چہرہ تھپتھپاتی اسے جھک کر ہلایا۔۔
اٹھ جائو چھے بج گئے ہمیں سات تک نکلنا ہے۔۔
فاطمہ کے کانوں میں جیسے کسی نے صور ہی تو پھونک دیا۔
کیا؟ تو پانچ بجے اٹھانا تھا ایک گھنٹے میں سات لڑکیاں کیسے تیار ہو سکتی ہیں؟۔۔۔
اس نے آنکھ کھولتے ہی حیرانی سے چیخ ماری تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈبل روٹی انڈے ملک شیکس لا کر اس نے کچن کائونٹر پر ڈھیر کر دئیے۔۔ سفر کیلئے بھی کچھ چیزیں خرید لی تھیں سو اب تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی کچھ رہ تو نہیں گیا۔۔ مطمئن ہو کر دیگچی اٹھا کر چائے کیلئے پانی بھرنے لگی۔۔ چائے کا پانی چڑھا کر فرائینگ پین اٹھا رہی تھی۔۔ جب ابیہا بال سمیٹتی چلی آئی۔۔
تم کب اٹھیں واعظہ۔۔ وہ بھونچکا ہی تو رہ گئ سوا چھے بجے باہر کا بھی چکر لگا آئی۔۔
میں سوئی ہی نہیں۔۔
واعظہ نے مصروف سے انداز میں ہی جواب دیا۔۔
کیوں یار ۔۔ تم۔۔
ابیہا کو اسکی فکر ہوئی واعظہ نے مڑ کر تادیبی نظر سے دیکھا تو باقی جملہ منہ میں ہی روک کر بات پلٹ گئ۔۔
عزہ وغیرہ میں سے کوئی نہیں اٹھا؟ مجھے نہیں لگتا سات بجے تک ہم نکل پائیں گے۔۔
ابیہا نے کہا تو واعظہ ہنس دی۔۔
انہیں جگا کر باہر گئ تھی تم سمیت سب کے پاس پینتالیس منٹ ہیں اپنا اپنا بیگ تیار کرو کم از کم دو جوڑے رکھو ۔۔ اور پینتالیس منٹ میں ناشتہ بھی کر چکنا ہے یاد رہے۔۔
واعظہ نے کہا تو ابیہا پریشان ہو کر گھڑی دیکھنے لگی۔۔
واقعی؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ نے بھی یہاں آکر لازمی ملٹری سروس توو جوائن نہیں کر لی تھی؟
برش کرتے ہوئے نور کو خیال آیا۔۔
الف جو اسکے ساتھ ہی منہ میں پیسٹ بھرے بیسن پر جھکی تھی چونکی۔۔
ایک سال سے یہاں ہیں اگر ملٹری سروس کر رہی ہوتی تو ہمارے ساتھ تھوڑی رہ رہی ہوتی۔۔
جھاگ تھوک کر اس نے جواب دینا ضروری سمجھا تھا
طنز کر رہی تھی میں۔۔ نور بھنائی۔۔
تم دونوں جو بھی کر رہی ہو باہر آکر کرو ۔۔
عزہ آکر بولی۔۔
کیوں۔۔ دونوں کورس میں گھورنے لگیں
کیونکہ تم لوگ باہر جا کر برش کر سکتی ہو مجھے جو کرنا وہ میں یہیں کر سکتی بس۔۔
عزہ نے چبا چبا کر بولتے وضاحت کی بلکہ ہاتھ پکڑ کر دونوں کو باہر بھی نکال دیا۔۔
یہ غنڈہ گردی ہے عزہ۔۔ نور بھنائی
غنڈی گردی۔۔ ہتھیلی تھوڑی کے نیچے جما کر جھاگ بھرے منہ سے بھی الف نے تصحیح ضروری سمجھی۔۔
دونوں منہ اونچا کر کے جھاگ کو نیچے گرنے سے بچا رہی تھیں
دوسرا باتھ روم
دونوں کو خیال بھی اکٹھے آیا۔۔ ایک دوسرے سے سبقت کے جانے کے چکر میں اکٹھے بھاگی تھیں۔ دونوں کا رخ ابیہا وغیرہ کے کمرے کا تھا اندھا دھند گرتی پڑتی
دوسرے کمرے سے نکلتی فاطمہ سے بری طرح ٹکرا بھی گئیں۔
کدھر؟۔۔
فاطمہ جو تولیہ سے منہ تھپتھپا رہی تھی اچانک حملے کیلیئے تیار نہ تھی دروازہ تھام کر بمشکل خود کو زمیں بوس ہونے سے بچایا۔ اور گھور کر بولی۔۔
عروج ہے اس والے باتھ روم۔میں ۔۔
دونوں اسے نظر انداز کرتی سیدھا باتھ روم کے بند دروازے سے جا ٹکرائیں۔۔
فاطمہ نے پیچھے سے آواز لگا کر مطلع کیا تھا۔۔
دونوں کی تیزیاں غارت ہوئیں مرے مرے قدموں سے واپس آئیں۔۔
ابیہا نور کی میز کارپٹ پر رکھے آلتی پالتی مار کر بیٹھی واعظہ کے ساتھ ناشتہ اڑا رہی تھی۔۔ ڈبل روٹی اور ہری مرچوں والا گرما گرم بھاپ اڑاتا آملیٹ۔۔
بیس منٹ رہ گئے ہیں بس تم لوگوں کے پاس جلدی کرو۔۔
فاطمہ خود تو منہ ہاتھ دھو چکی تھی سو مزے سے لقمہ دیتی انکے پاس ںاشتہ کرنے آبیٹھی۔۔
دونوں اسے گھورتی کچن سنک کی طرف بڑھیں
ہم ویسے جا کہاں رہے ہیں واعظہ؟۔۔ سیول میں تو سمندر ہے ہی نہیں۔۔
بریڈ کا نوالہ بناتی ابیہا کو اب خیال آیا تھا۔۔
جیجو آئی لیںڈ۔ ابھی واعظہ نے اتنا کہہ کر ڈرامائی انداز میں وقفہ لیا تھا کہ
الف اور نور حیرت کے جھٹکے سے مڑ کر پورا منہ کھول بیٹھیں۔۔
جھاگ فوارے کی طرح انکے منہ سے نکلا تھا۔۔
یہ تینوں ان سے فاصلے پر بیٹھی تھیں سو بس اتنی بچت ہوگئ کہ انکے اوپر انکی حیرانی کا فوارہ نہ آیا ورنہ کثر نہیں چھوڑی تھی انہوں
کیا واقعی۔۔
الف پرجوش ہو کر ہتھیلی سے منہ صاف کرتی بولی۔۔
پورا جملہ سن لو۔۔
واعظہ نے منہ بنایا۔۔
جیجو آئی لینڈ نہیں جا رہے گیونگ پو ہے جا رہے ہیں۔۔
واعظہ کے سوا سب کے ارمانوں پر اوس آگری۔۔
وہاں ؟۔۔ بہت رش ہوگا یار۔۔
فاطمہ نے کہا تو ابیہا نے بھی تائید کی۔۔
ہاں یار جیجو آئی لینڈ ہی چلتے ہیں۔۔
جیجو آئی لینڈ جانا کوئی لالا جی کا گھر نہیں ہم سب اپنی ساری بچت بھی لگا دیں تو بھی نہیں جا سکتے
سو اوقات کے مطابق اپنی لینڈ کروزر میں تم لوگوں کو بس یہیں تک لے جا سکتی۔۔
ہم لینڈ کروزر میں جائیں گے۔۔
سب دوبارہ پرجوش ہوئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔ممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سات بجنے میں پانچ منٹ پر سب جانے کو تیار کھڑی تھیں۔۔
واعظہ نے قطار میں کھڑی لڑکیوں کا جائزہ لیا۔۔
عزہ پورا کالا عبایا اسکارف سے نقاب تک کرکے نک سک سے تیار کھڑی تھئ۔۔ عبایا کے نیچے سے جینز اور جاگرز جھانک رہے تھے۔۔کندھوں پر کالا بیگ جس میں یقینا اسکے کپڑے وغیرہ ہونگے
عروج ۔۔ پنک کلر کی لانگ فراک اور جینز کے اوپر لمبا سا ڈھیلا ڈھالا شرگ پنک اورسفید پرنٹڈ حجاب چہرے پر ہلکا سبز ماسک۔۔ ایک کندھے پر بیگ ۔۔
اسے بچوں کی طرح بیگ لینا پسند نہیں تھا
نور پوری ڈھکی چھپی جینز کا عبایا ۔۔ نقاب گلے میں لٹکا ڈی ایس یل آر جوگرز جینز کی پینٹ۔۔ دونوں کندھو ں پر بیگ کی اسٹریپ بالکل اسکول جانے کو تیار کھڑئ تھئ
واعظہ نے نظر دوڑا کر آگے نگاہ کی پھر چونکی۔۔
جینز کا عبایا۔۔
حیرت سے بڑ بڑائی تو فاطمہ جو اسکے ساتھ ہی کھڑی تھئ کان میں منمنائی۔۔
یار اسکا عبایا کل چھپا تو دیا تھا کم از کم ایک عبایا والی تو کم ہو یہ نجانے کہاں سے جینز کا نکال لائی ہے۔۔
چلو۔۔ یہ ایک نیا جھگڑا شروع ہونے والا تھا واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔
اگلی باری الف کی تھی۔۔
فل بلیک عبایا نقاب نہیں تھا بیگ گود میں ایسے پکڑ رکھا تھا جیسے بچہ اٹھایا ہو۔۔ مگر ۔۔
ایک منٹ۔۔ واعظہ نے حقیقتا کان سے پکڑا۔۔
تم نے کب سے عبایا لینا شروع کر دیا؟۔۔
وہ بھی میرا۔
نور نے بھی اپنا عبایا پہچان کر پنجے تیز کیئے۔۔
فاطمہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی۔۔
تمہارا نہیں ہے۔فاطمہ کا ہے۔۔ ۔ الف بلبلائئ۔۔
نور نے گھور کر فاطمہ کو دیکھا۔۔
جو گرے کلر کی جینز ٹاپ میں ملبوس تھی کندھے تک بال کھول رکھے تھے گلے میں گرے ہی پیارا سا اسکارف ڈال رکھا تھا۔۔ فاطمہ کا عبایا؟۔ سوال ہی جواب تھا اس بات کا۔۔
کان تو چھوڑو واعظہ ۔۔ اتنا تو کبھی میری امی نے بھی میرے کان نہیں کھینچے ہونگے جتنا تم کھینچتی ہو۔۔
اس نے چھڑانا چاہا مگر واعظہ نے چھوڑا نہیں
تم نے کیوں عبایا چڑھایا ہے؟۔۔
یار کپڑے ہی نہیں میرے پاس۔۔ بتایا تو تھا برباد ہوگے سب پیسے آن لائن شاپنگ میں۔۔ فاطمہ کی وارڈروب کھولی تھی کہ کوئی ٹاپ لے لوں تو عبایا نظر آگیا میں نے چڑھا لیادیکھو نقاب تو نہیں کیا میں نے۔۔
بمشکل کان چھڑاتے الف نے صفائی پیش کی۔۔
فاطمہ میرا عبایا تمہاری وارڈروب میں کیا کر رہا تھا۔۔
نور نے آستین چڑھائی تو فاطمہ نے جان بچا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی ۔۔ بھاگ کر اپارٹمنٹ سے باہر۔ نور اسکے پیچھے دوڑی۔۔
چلو تم میرے ساتھ۔۔
واعظہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئ۔۔
عزہ بیچ میں کھڑی فیصلہ کرنے لگی اندر جائے یا باہر۔۔ پھر عروج کو کندھے اچکا کر باہر نکلتے دیکھا تو اسی کیساتھ ہولی۔۔
ابیہا آرام سے گھڑی دیکھتی موبائل میں گیم لگا کر لاونج میں بچھے کاوچ پر دراز ہو گئ۔۔
وقت ہوا تھا سوا سات۔۔
یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سات لڑکیاں ایک گھنٹے کے نوٹس پر تیار نہیں ہو سکتی ہیں۔۔
چاہے انہیں میک اپ نہ بھی کرنا ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پونے آٹھ بجے گنگم اسٹیشن کے باہر کھڑی تھیں۔۔سب۔۔
الف کو واعظہ نے اورنج ٹاپ اور جینز پہنوایا تھا بیگ ابھی بھی اسکی گود میں تھا ہلکے سے نارنجی ہی رنگ کا اس نے حجاب لیا ہوا تھا۔۔ اب عبایا والیاں دو ہی رہ گئی تھیں۔۔
انکی لینڈ کروزر آدھے گھنٹے کے وقفے سے آئی تھی۔۔
بڑی سی گنگم سے دوسرے شہر جانے والی بس بھری ہی سی آئی تھی۔۔
انکو اسی پر گزارا کرنا تھا۔۔ گہری سانس لیکر چڑھنا شروع ہوئیں۔۔
واعظہ سب سے آخر میں اطمینان کرکے کہ کوئی رہ تو نہیں گیا چڑھی تھی۔۔
اب پاکستان تو تھا نہیں کہ خواتین کی بس میں علیحدہ جگہ ہوتی۔۔ بس میں سات نشستیں خالی بھی نہیں تھیں ایک دو خالی تھیں بھی تو ایک انکل ٹائپ تھے انکے برابر جگہ خالی تھی ایک اسکول کا کوئی لڑکا ہوگا پندرہ سولہ سال کا۔۔ چندی آنکھوں والے ان سب کو اکٹھے دیکھ کر چونک سے گئے تھے۔۔
ایک خاتون کے برابر والی نشست خالی تھی۔۔ عزہ موقع دیکھ کر بیٹھ گئ۔۔
عروج نے طوہا کرہا انکل کے برابر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ کم از کم بھی تین سے چار گھنٹے کا سفر تھا کھڑے ہو کر نہیں گزر سکتا تھا۔۔
ٹکٹ بنواتے ہوئے نشستیں بھی گننی تھیں واعظہ۔۔ الف واعظہ کے کان میں بڑ بڑائی۔۔
واعظہ مسکرا کر اس لڑکے کے برابر جا بیٹھی۔۔
الف نور فاطمہ ابیہا ہینڈل پکڑے اگلے آدھے گھنٹے تک کھڑی رہیں جب لگا کہ گیونگ پوہے جانے تک بچیں گی نہیں تب اگلے اسٹاپ پرکئی لوگ اتر گئے اوران بے چاریوں کی سزا مکی۔۔
ابیہا کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر لپکی تھی
واعظہ نے اپنی مصروفیت ڈھونڈ لی تھی۔۔ پٹاخ پٹاخ اس لڑکے سے باتیں کیئے جا رہی تھی۔۔
الف نے جگہ ملتے ہی اونگھنا شروع کر دیا تھا۔۔ عروج کو باہر کے نظاروں میں دلچسپی تھی سیدھی شفاف سڑک کے کنارے اونچے اونچے پہاڑ جو چیری بلاسم سے لدے تھے ۔۔ شکر ہے ٹریفک زیادہ نہیں تھا امید قوی تھئ تین گھنٹوں تک ساحل پر پہنچ ہی جائیں گے۔ نور کھڑکی سے باہر جھانکتی بھاگتی دوڑتی زندگی و نظاروں کی ویڈیو بنا رہی تھی۔۔
پانچ چھے منٹ کی بنا کر اس میں اپنی پسند کا گانا ڈال کر دستی اپلوڈ کی تھئ۔۔
عزہ اس کے ساتھ ہی بیٹھی بے نیازی سے کوئی کتاب کھولے مگن تھئ۔۔
اب کیا کروں۔۔
اپنا من پسند مشغلے سے فارغ ہو کر اسے دوبارہ بوریت کا دورہ پڑا تھا۔۔
تبھی اس سے اگلی نشست پر ماں کے ساتھ بیٹھے دو تین سال کے بچے نے نشست پر کھڑے ہو کر دونوں نشستوں کے بیچ والی جگہ سے گردن باہر نکالی۔۔ ۔یہ اتنا اچانک تھا اپنی دھن میں بیٹھی نور اچھل ہی گئ۔۔
دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ گھورا تو بچہ کھلکھلا کر ہنسا۔۔
اور اشارے سے پاس بلانے لگا۔۔
ساتھ ساتھ کچھ ہنگل میں بول بھی رہا تھا۔۔
کیا کہہ رہے ہو؟۔۔ نور نے پوچھا پھر خیال آیا تو انگریزی میں پوچھا۔۔
بچہ دونوں زبانوں سے انجان پھر کچھ بولنے لگا۔۔
کیا؟۔۔ وہ چہرہ قریب لائی۔۔ تو بچے نے ناک سے اسکا نقاب مٹھی میں جکڑا اور کھینچ لیا۔۔
آہ۔۔نور بھونچکا رہ گئ تو عزہ نے ہنستے ہنستے کتاب میں منہ چھپا لیا۔۔ بچہ اپنی حرکت پر کھلکھلا کر ہنسا۔۔ ۔
یہ بڑا ہو کر ٹھرکی ہی نکلے گا۔۔
نور اسے گھورتی نقاب درست کرنے لگی۔۔ بچے کی ماں نے اسکی کھلکھلاہٹ پر چونک کر مڑ کر دیکھا ۔نور کا نقاب دیکھ کر ناپسندیدہ نظر ڈال کر بچے کو اپنی جانب متوجہ کرکے واپس بٹھا دیا۔
اس ناپسندیدہ نظر پر نور چڑ ہی گئ۔۔
منہ بنا کر سیدھی ہو بیٹھئ۔۔
آہجومہ۔۔
منی سی مٹھئ پھر اسکے سامنے تھی۔
بچہ دوبارہ نشست کے سرہانے والے جگہ سے گردن باہر نکالے تھا۔۔
نور نے گھورا تو معصومیت سے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔۔
ادھ کھلے ریپر سے چاکلیٹ اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔۔
نور نے اسکی ماں کی مصروفیت جاننی چاہی تو وہ بچے کو چاکلیٹ تھما کر فون کانوں سے لگائےکسی سے بات کرنے میں مگن تھئ۔۔
یہ میں لے لوں۔۔ اس نے تصدیق چاہی۔۔ اشارے سے لے لوں پوچھا بچے نے اثبات میں سر ہلایا۔
معصوم فرشتہ۔۔
اسے چاکلیٹ پوچھ رہا تھا۔۔ نور کا دل موم ہوا۔۔
بچے واقعی فرشتے جیسے معصوم ہی تو ہوتے۔۔
کیا کہتے ہنگل میں شکریہ کو۔۔ نور نے زہن پر زور ڈالا۔۔
ہاں گومو وویو۔
اس نے کوریائی انداز میں جھک کر اس چندی آنکھوں والے بچے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چاکلیٹ تھامنی چاہی بچے نے سرعت سے ہاتھ واپس کھینچ لیا اور کھلکھکلا کر ہنسا۔۔ ۔
نور کا منہ کھلا رہ گیا۔۔
شیطان کہیں کا۔۔اسے بے وقوف بنا کر خوش ہو رہا تھا۔۔
اس نے دانت پیسے۔۔ بچہ اپنی حرکت سے محظوظ ہو کر ہنسے جا رہا تھا۔۔
ایک پل کو نور نے سوچا پھر ہاتھ بڑھا کر چاکلیٹ چھین کر اکٹھے ہی نقاب نیچے کر کے منہ میں رکھ لی۔۔ منہ بھر کر دگنے حجم کا ہوگیا تھا مگر خیر ہے نقاب میں کیا دکھائی دینا تھا۔۔
بچہ چند لمحے بھونچکا اسے دیکھتا رہا۔۔ اب جو اس نے تان بلند کی تو پوری بس اسکی چیخ سے ہل کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
دیسی کمچی قسط اول پانچواں حصہ۔۔۔
ساتھ بیٹھے ادھیڑ عمر چندی آنکھوں والے انکل جانے کس تکلیف میں تھے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہنکارہ بھرتے کبھی کھنچی کھنچی سی سانس لیتے انہوں نے جب چوتھی بار گہری آہ بھری تو عروج کے اندر کی ڈاکٹرنی انگڑائی لیکر بیدار ہوئی۔۔
کین چھا نائیو۔۔ ( آپ ٹھیک ہیں؟)
اس نے ہمدردی سے پوچھا اور انکل بھی جیسے برسوں سے کسی کے دو حرف ہمدردی کے سننے کو منتظر تھے۔۔ آنکھیں بھر آئیں۔۔
آہجومہ کیا بتائوں ۔۔کوئی ایک مصیبت جان کو لگی ہو تو۔۔تیرہ سال سے زیابیطس کا مریض ہوں ۔۔۔کھانا پینا سب چھٹ چکا ہے۔۔
انکل نے بے چارگی سے بتانا شروع کیا تو عروج کی نظر بے ساختہ انکی منی سی توند پر جا ٹکی۔۔
انکل اسکی نظروں سے بے نیاز بول رہے تھے۔۔
صبح صبح میری بیوی نے مجھے کمچی چاول کھلا دئیے حالانکہ ایک عرصہ ہو گزرا ہے میں صبح چاول نہیں کھاتا مگر میری بیوی بھی اب بوڑھی ہو گئ ہے کھانا وانا پکاتے تھک جاتی رات کو جو پکا ہوتا وہی کھلا دیتی صبح بھی اب جب سے چاول کھائے ہیں طبیعت بھاری ہے سینے پر بوجھ ہے تھوڑا خون میں چکنائی( کولیسٹرول ) کا بھی مسلہ رہتا اس وقت تو لگ رہا مجھے دل کا دورہ پڑنے ہی والا ہے۔۔ دیکھو ٹھنڈے پسینے آرہے۔۔
انہوں نے پیشانی پر ہاتھ پھیر کر دکھایا بھی ۔۔
گو پسینہ تو نہیں آرہا تھا انہیں مگر عروج کو انکی حالت سن کر تشویش ہو گئ۔۔
معدے کا بھی مسلہ ہے مجھے۔۔
ابھی انکی بیماریاں ختم تھوڑی ہوئی تھیں۔۔
جب چاول کھاتا ہوں ڈکاریں۔۔ انہوں نے منہ پھیر کر منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے ڈکار لی۔۔
سانس تک رکنے لگتی ہے میری۔۔ دل کی دھڑکن قابو میں نہیں آ رہی میرے ۔۔ وہ بے چین سے ہو رہے تھے
آپکو اتنی خراب حالت میں دوسرے شہر کے سفر پر نہیں نکلنا چاہیئےتھا۔۔
عروج نے کہا تو چندی آنکھوں والے انکل مسکرا دئیے۔
ارے بیٹا۔۔کام دھندہ تو جان نہیں چھوڑتا ۔۔ میرے کچھ واجبات ہیں ایک مہینے سے ٹال رہا ہے کمینہ۔۔ معاف کرنا۔۔ انکل روانی میں گالی دے گئے پھر خیال آیا تو فورا عروج سے معزرت بھئ کی۔ عروج نے سر ہلایا تو سلسلہ کلام دوبارہ جوڑ لیا۔۔
ہاں وہ مینجر پیسے اینٹھ کر بیٹھ گیا تھا پورا مہینہ ٹال کر آج بلایا تھا کہ سب پیسے واپس کرے گا اب میں اسے ٹال دیتا تو جانے کب دوبارہ راضی ہوتا سو اسی لیئے جان پر کھیل رہا ہوں۔۔ لگتا ہے پہنچ نہیں پائوں گا۔۔ انہوں نے جیب سے کانپتے ہاتھوں سے ایک گولی نکال کر زبان کے نیچے رکھی۔۔
اللہ نہ کرے۔۔ بے ساختہ عروج کے منہ سے نکلا۔۔ اسکے بابا کی ہی عمر کے ہونگے۔ گورے چٹے مگر چندی آنکھوں والے اوپر سے لگاتار بولتے بے حد معصوم سے لگ رہے تھت۔۔
کیا بولیں بیٹا؟۔۔ انہیں سمجھ نہ آیا تو عروج نے فورا ہنگل میں ترجمہ کیا۔۔
ہنسس دئیے۔۔
آواز سے چھوٹی سی لگتی ہو سانس کا تمہیں بھی مسلئہ ہے؟۔۔ وہ اسکے ماسک کا پوچھ رہے تھے ۔۔
عروج نے گردن ہلائی پھر بیگ پین اور پیپر نکال کر کچھ لکھنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگ کاسٹیوم پارٹی پر جا رہی ہیں۔۔
بڑی دیر سے متجسس ہے جن پوچھ ہی بیٹھا۔۔
آنیو۔۔ واعظہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔
صبح صبح کونسی کاسٹیوم پارٹی۔۔
واعظہ ہنسی۔۔
پھر یہ کیا پہنے ہیں۔؟ اس نے اچک کر عزہ اور نور کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔۔
اچھا یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ مزہبی لباس ہے انکا۔۔
واعظہ کو سوجھا نہیں کہ عبایا کو انگریزی میں کیا کہے۔۔۔۔
ہے جن ہائی اسکول کا طالب علم تھا سیول میں پڑھتا تھا ہفتے کے آخر میں اپنے گائوں جا رہا تھا سیول میں بھی اسکول جانے والے بچے انگریزی پڑھتے اور سیکھتے ہیں اتنی کہ ہماری طرح بات کر ہی سکتے ہیں۔۔ تھوڑا سوچ کر سہی۔
ہمم۔ تو یہ اسلامی نن ہیں۔ جیسے کرسچنز کی نن ہوتی ہیں ویسی یہ ڈیوٹڈ ہیں اسلام کیلئے۔۔
ہے ان نے اندازہ لگایا پھر تصدیق چاہنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔۔
نہیں ڈیوشن کا کانسیپٹ اسلام میں نہیں ہے۔ بس یوں کہہ لو یہ مزہبئ ہیں مگر اسلام آپکو دین کیلئے دنیا چھوڑ دینے کا درس نہیں دیتا۔۔ ہم عام زندگی گزارتے ہیں مگر اسلامی اصولوں کے ساتھ۔۔
واعظہ نے اپنی طرف سے مدلل جواب دیا۔۔
خیر ۔۔ ہے جن نے گہری سانس لی۔۔
میں بھی ڈیووٹ کردوں گا خود کو اگلے کچھ سالوں میں میں خود کو نارنجی چولے میں مالائیں گلے میں ڈال کر سر منڈوائے کسی ویران پہاڑی پر آسن جمائے بیٹھا دیکھتا ہوں۔۔
آنکھیں بند کرتا وہ جیسے سچ مچ خود کو بدھ مت کا راہب بنا تصور کر رہا تھا جیسے۔۔
یہ تصور اتنا روشن تھا کہ ایک لمحے کو واعظہ بھی خود کو کسی ویران پہاڑی پر ایک سترہ سالہ گنجے
نارنجی لبادے میں ملبوس راہب کے سامنے بیٹھا محسوس کرنے لگئ۔۔
نہیں۔۔
اس نے جھر جھری لی اور چونک کر جے ہن کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ آنکھیں بند کیئے جے ہن کیلئے بھی تصور اتنا روشن تھا کہ اسکی چندی آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے تھے واعظہ کا دل موم ہوگیا۔۔
بمشکل سولہ سترہ سال کا دبلا پتلا سا ہے جن جسکی مسیں بھئ ابھی پوری نہ بھیگی تھیں ہلکا سا ہی رواں تھا ابھی جوانی ڈھنگ سے آئی نہیں تھی اور دنیا تیاگ دینے کو تیار بیٹھا تھا۔۔
نہیں منے میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔
واعظہ کے اندر کی بڑی بہن جاگ اٹھی تھی۔۔
واٹ؟۔ منا آنکھیں کھول کر ان جملوں کو سمجھنے کی ناکام کو شش کرنے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔ممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابیہا باہر کے نظاروں میں گم تھی الف اس سے اگلی نشست پر سو رہی تھی واعظہ اسکے بالکل پیچھے بیٹھی اس بچے سے گٹ پٹ انگریزی میں شروع تھی عروج انکل کے ساتھ بیٹھی تھی جانے انکل کونسے قصے کہانیاں لے بیٹھے تھے اور عروج یوں ہمہ تن گوش تھی جیسے داستان امیر حمزہ سن رہی ہو۔۔
فاطمہ پر بوریت کا شدید دورہ پڑا تھا۔۔
یہ عزہ اور نور کیا کر رہی ہیں۔۔
وہ چلتی بس میں کھڑی ہو کر اچک اچک کر اپنے سے دو سیٹیں آگے بیٹھی عزہ اور نور کو دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔
یار کیا بکواس ہے اگلے دو گھنٹے بھی اسی طرح بیٹھنا پڑا تو کمر اکڑ جائے گئ اور اگلے دو دن سب کام ہو سکیں گے مگر تشریف نہیں رکھی جا سکے گی۔۔
فاطمہ بڑ بڑائی۔۔ اسے شدید قسم کی مہم جوئی آئی ہوئی تھئ۔۔
اٹھو فاطی کچھ کرو۔۔ تم دنیا کی ناک میں دم کرنے کیلئے ہی تو پیدا ہوئی ہو۔۔
وہ جوش سے اٹھ ہی کھڑئ ہوئی۔۔
بس کے کھڑے ہونے والوں کیلئے لٹکتے سہارے تھامتی اس نے آگے کی جانب سفر شروع کیا۔
بس میں پندرہ بیس ہی لوگ بچے تھے وہ آرام سے انکا سروے کرسکتی تھی
عزہ کتاب پڑھ رہی تھی نور اپنی اگلی نشست پر بیٹھے بچے سے کھیل رہی تھی۔۔
بورنگ۔۔
اس نے ناک چڑھائی۔۔
آگے ایک کپل بیٹھا تھا انکے پاس چلتے چلتے پہنچی تو دونوں گڑبڑا گئے۔۔ اور ان سے زیادہ فاطمہ خود۔
جلدی سے آگے بڑھی۔۔
ایک خاتون ٹوکری کو اپنے ساتھ بٹھائے اونگھ رہی تھیں ٹوکری کے اوپر کپڑا ڈال رکھا تھا اسے یونہی تجسس ہوا دھیرے سے کونا اٹھا کر دیکھنا چاہا آہجومہ کرنٹ کھا کر چندی آنکھیں پوری کھول کر گھور نے لگیں۔۔
کسی کا سر کاٹ کر لائیں ہیں اس میں کیا۔۔
فاطمہ نے چڑ کر پوچھا جوابا وہ اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اسکی انجان زبان سے خوفزدہ ہو کر ٹوکری کو بانہوں میں لے بیٹھیں۔۔
سنبھالیں اپنی سونے کی ٹوکری۔۔
وہ منہ بنا کر آگے بڑھی۔۔ اگلی دو نشستیں خالی۔تھیں۔۔
یہاں نہ آجائوں ۔۔ اسے خیال آیا پھر سوچا اور آگے بھی دیکھ لے آگے بھی کسی کا سر نشست سے ٹکا دکھائی تو نہیں دے رہا تھا شائد آگے بھی خالی تھیں وہ
دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی سہارے تھامتی ڈرائیور کے پیچھے والے بس سے نکلنے والے دروازے کی سیڑھی تک چلتی آئی۔۔
سب سے اگلی رو میں بس ایک لڑکی بیٹھی تھی موبائل ہاتھ میں تھامے کسی تصویر پر انگلی پھیرتی
فاطمہ دیکھ کر پلٹنے لگی پھر چونک کر مڑی۔۔
وہ لڑکی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔ اپنی آواز دباتی پھر بھی ایک آدھ سسکی اسکے منہ سے نکل رہی تھی۔۔
کیا کروں ؟۔ پوچھوں پلٹوں۔۔فاطمہ ابھی شش و پنج میں ہی تھی کہ لڑکی کو جیسے اسکی موجود گی کا احساس ہو گیا نظر اٹھا کر دیکھا تو فاطمہ کو چہرے پر ہمدردانہ تاثرات سجائے خود کو تکتے پایا۔۔
گھبرا کر آنسو پونچھتی سیدھی ہوئی۔۔
گومو ویو۔۔؟
اس نے ہمدردی سے پوچھا۔۔ چندی آنکھوں والی رو رو کے سرخ ہوئی ناک کے ساتھ منہ کھول کر تعجب سے دیکھ رہی تھی۔۔
آنیا ۔۔۔ (نہیں)۔۔ اسے احساس ہوا غلط بول گئ۔ گومو وویو تو شکریئے کو کہتے۔۔
اس نے اپنے سر پر چپت لگائئ۔۔
اتوکے۔۔ ۔۔ اگلا لفظ۔۔
وہ بھی غلط۔۔
چندی آنکھوں والی کی آنکھیں سجل علی کی آنکھوں جتنئ ہوگئیں۔۔
اوفوہ۔۔اس نے جھلا کر وہیں سے زور دار آواز لگائئ۔۔
عزہ آا۔۔۔آ کیا کہتے ٹھیک ہو کو ہنگل میں۔؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکل آپ گہری سانس لیں ۔۔۔
عروج انکی نشست بٹن دبا کر پیچھے کر رہی تھی۔۔
بازو سیدھے کیجئے ۔۔
آرام دہ انداز نشست اپنائیے۔۔
عروج دھیرے دھیرے کہتی انکے ہاتھ کی انگلیاں سیدھی کر رہی تھی۔۔
انکل کی واقعی حالت خراب ہو رہی تھی انگلیاں سوج رہی تھیں۔۔
اسکی ہیدایت پر من و عن عمل کرتے بھی انکل ہانپ رہے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نہیں جانتی ہیں زندگی کتنی دشوار ہے میرے لیئے۔۔
ہے جن روہانسا ہو چلا تھا۔۔
بتائو تو سہی۔۔
واعظہ کا دل تڑپ اٹھا۔۔
ہائے معصوم۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیچ رنگ والے ٹاپ کے نیچے گہرے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ پہن کر وہ جب اس بڑے سے مال کے ڈریسنگ روم سے باہر آئی اسکی امی جو چندی آنکھوں والی سے پیسے کم کروانے پر بحث کر رہی تھیں اسکو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں۔۔
گہرے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ اور سرخ رنگ کی جینز کے ساتھ فرنٹ لیس بیک لیس والا پیچ ٹاپ ۔۔پیچ رنگ کے نیچے جھانکتی نیلی ٹی شرٹ؟
رنگوں کی۔جیسے بہار۔۔ نہیں خزاں آئی تھی۔ پسند کا خاصا فقدان تھا کیونکہ حجاب کا رنگ نارنجی تھا۔
یہ انکی بیٹی تھا یا کوئی جوکر۔۔
انکی بیٹی ہی تھی۔۔ ماں کو دیکھ کر اسکا رنگ فق ہو چکا تھا۔۔
امی آپ یہاں۔؟۔۔
بے آواز اسکے منہ سے نکلا تھا۔۔
یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے لڑکی؟۔۔
وہ شدید جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی تھیں
نہیں۔۔ اس نے دونوں بازو سامنے کر کے انکے وار سے خود کو بچانا چاہا۔۔
ایک زور دار چیخ بھی اسکے منہ سے نکلی تھی۔۔
نہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی کیا بتائوں۔۔
ہے جن کہہ کر بتانے ہی والا۔تھا۔۔
انکل آپ اگلے اسٹاپ پر اتر کر طبی معائنہ کروا ہی لیں۔۔
عروج دلگیری سے کہہ رہی تھی۔۔
ابیہا کی اب جا کر تھک کر آنکھ لگنے ہی لگی تھی۔۔
ایک بچہ حلق پھاڑ کر چیخا
ایک لڑکی پورے گلے سے چلا کر نہیں کہتی اٹھ بیٹھی
ایک اور لڑکی بس کے ایک کونے پر بس کے اندرونی شور کو دبانے کو اپنی پوری آواز کے ساتھ عزہ کو پکار بیٹھی تھی۔۔
تین آوازیں وہ بھی اونچے ترین سر کی بس ڈرائیور اچھلا تھا بس کا اسٹیرنگ گھوما تھا بس سیدھی جاتے جاتے اچانک دائیں مڑنے لگی تھی۔۔
فاطمہ لڑکھڑا کر اسی لڑکی کی گود میں جا گری تھی
بس کے ایکدم مخالف سمت مڑنے پر واعظہ توازن کھو کر گرتے گرتے بچی تو ہے جن بے چارے کا سر کھڑکی میں لگا جا کر
اور انکل اس صور پھونکے جانے سے وہیں نشست سے دھڑام سے زمیں پر آرہے ۔۔
انہیں سچ مچ دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔
بس دائیں مڑیں پھر بائیں بمشکل ڈرائیور نے جان کی بازی لگا کر اسے دائیں جانب کچے میں اتار کر روکا۔۔
صد شکر ٹریفک زیادہ نہ ہونے کے باعث بس بے قابو تو ہوئی مگر کسی کار وغیرہ سے ٹکرانے سے بچ گئ۔۔
دھڑ دھڑ دل کو تھامے ڈرائیور ہانپ رہا تھا۔۔
آہجوشی۔۔
یہ بس رکنے کے بعد چیخ گونجی تھی۔۔
پوری بس میں سناٹا چھایا تھا۔۔
انکل زمین پر سیدھے سیدھے پڑے تھے عروج انہیں ابتدائی طبی امداد دینےکی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔
طبی ہیلپ لائن کو کال ملائو۔۔
اس نے کہا تو ابیہا نے جھٹ 1122 کو کال ملا دی۔۔
آپکا ملایا ہوا نمبر موجود نہیں۔۔
واعظہ 1122 تو ملا ہی نہیں رہا۔۔
اس نے فورا مڑ کر واعظہ کو بتایا۔
واعظہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
خیر عروج کے کہنے پر زبان نہ سمجھتے ہوئے بھی پیچھے بیٹھے کسی نے عقل استعمال کرتے ہوئے ایمبولینس کو کال ملا دی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکل کی بروقت طبی امداد ملنے سے جان بچ گئ تھی۔۔
انکو ایمبولنس میں بھیج کر بس نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا تھا۔۔
ٹھیک ایک۔گھنٹے بعد وہ لوگ ہیونگ پوہے پہنچی تھیں۔۔
دوپہر کے ڈیڑھ ہو رہے تھے دھوپ بھرا دن چھایا ہوا تھا۔۔
بس سے اترتے ہی سب نے خدا کا شکر ادا کیا تھا۔۔
عروج اترتے اترتے بھی انکل کی حالت کے بارے میں فکر مند ہو رہی تھئ تو فاطمہ کے اس لڑکی کو خیر سگالی مسکراہٹ دینے پر اس نے برا سا منہ بنا کر ہونہہ کیا تھا۔۔ اور پیر پٹختی آگے چلی گئ تھی۔۔
نور کو اس تین سالہ بچے کی ماں اترتے ہوئے جانے کیا کہہ گئ تھی نور کو سمجھ تو خاک پتھر آیا مگر انداز سے لگتا یہی تھا کوئی گالی والی دے کر گئی ہوگی۔عزہ نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ منہ پھیر کر نور سے چھپائی تھی۔۔ بچہ بےچارہ اب تھک کر اونگھ چکا تھا ماں کے کندھے پر سر رکھے سو اس نے کوئی ردعمل نہ دیا۔
اپنا خیال رکھنا سیول آنا تو ملنا مجھ سے سمجھے۔۔
بس سے اترتے واعظہ نے اپنے بس شریک بھائی کو بڑی بہنوں کی طرح تاکید کی۔۔
ضرور انی۔۔ اس نے بھی مخصوص کوریائی انداز میں جھک کر مان بڑھانے والے انداز میں ہی کہا تھا۔۔
یار ہمارا سفر خاصا پھیکا سا نہیں تھا؟۔۔
ابیہا کواب احساس ہوا تو الف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلگیری سے بولی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیچ پر ٹھنڈی یخ ہوا چل رہی تھی۔۔۔
ان سب نے اپر وغیرہ ساتھ لیئے ہوئے تھے اب لگ رہا تھا کہ ضرورت پڑ جائے گی۔۔
واعظہ بچوں کی طرح انہیں قطار میں کھڑا کر کے گن رہی تھی۔۔
ایک دو تین چار پانچ۔۔
سات۔۔ اسے دھچکا لگا۔۔
کیا ہوا۔۔ اسکے گھبرانے پر سب پریشان ہوئیں
کوئی رہ۔گئ بس میں۔۔ اس نے پریشانی سے کہا اور مڑ کر لمحہ بہ لمحہ نظروں سے دور ہوتی بس کو تشویش سے دیکھنے لگی۔۔
کوئی نہیں ہم سب ہیں یہاں۔
ابیہا نے فورا گنے۔۔
میں نے آٹھ ٹکٹ لیئے تھے۔۔ ہم سات لڑکیاں ہیں۔۔
واعظہ نے کہا تو فاطمہ ہنسی
ہم سات ہی ہیں تم نے ایک اضافی ٹکٹ کیوں لے لیا۔۔؟۔۔
ہم بس سات ہیں؟واعظہ بے یقین تھی۔۔
جی۔۔ سب نے کورس میں جواب دیا۔۔
میرے پیسے ضائع ہو گئے۔۔
وہ پیر پٹخنے لگی۔۔
تم نہیں بتا سکتی تھیں مجھے ہم سات ہیں آٹھ نہیں۔۔
وہ ابیہا سے کہہ رہی تھی۔۔
مگر تمہیں نہیں پتہ کیا ہم سات لڑکیاں ہیں آٹھ نہیں۔۔
ابیہا اور وہ بحث میں الجھ گئ تھیں۔۔ ان لوگوں نے گہری سانس بھر کر انہیں دیکھا اور انہیں بحث میں الجھا چھوڑ کر ساحل کی طرف بڑھنے لگیں
ہفتے کا آخر ہونے کی وجہ سے کافی سارے لوگ موجود تھیےغیر ملکیوں کی۔بھی کثیر تعداد موجود تھی۔۔
یار ٹیمپریچر دیکھو کتنا ہے اتنی دھوپ میں بھی ٹھنڈ کیوں لگ رہی۔۔
عروج نے اپنے شرگ کی جیبوں میں ہاتھ گھسیڑ کر جھرجھری سی لی۔۔
فاطمہ نے موسم کی ایپ اپڈیٹ کی تو آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔
چودہ ڈگری۔۔
مزاق ہے کیا یہ
۔۔ اسے یقین نہ آیا باقیوں کو بھی نہیں سب اسکے موبائل پر جھک آئیں۔ ۔۔دوبارہ ایپ اپڈیٹ کی۔۔
یار اتنے میں تو ہم سوئٹریں نکال لیتے اکتوبر نومبرمیں جاتا اتنا کم ۔۔ اور یہ۔۔
الف روہانسی ہوئی۔
اور یہ۔۔
عزہ نے اشارہ کیا تو سب اسکے اشارے پر گھوم گئیں کئی گوری گوری یورپی لڑکیاں اور لڑکے ساحل کی۔مناسبت سے بکنی اور شارٹس پہنے پھر رہے تھے۔۔دور سمندر کی لہریں ساحل کو چوم چوم کر لوٹ رہی تھیں۔۔ ان لوگوں نے بھی اپنی تین گھنٹے سے بیٹھی اکڑی ٹانگوں کو ہلانا جلانا شروع کیا۔ پانچ لڑکیاں جنہوں نے ساحل کی مناسبت سے تو دور ضرورت سے بھی دگنے کپڑے چڑھا رکھے تھے سب کی سب حجاب والی جوگرز سے ساحل کی ریت کچلتی آگے بڑھ رہی تھیں۔۔ لوگ ٹھٹک ٹھٹک کر پیچھے ہٹ رہے تھے
یار سیلیبریٹی والی فیلنگ آرہی۔۔
عزہ نے شان سے گردن اکڑائی۔۔ کیا جون جے ہیون نے مائی لو فرام این ادر اسٹار میں نخرے کیئے ہونگے جتنا سریہ عزہ نے اپنی گردن میں فٹ کیا تھا۔۔ مزاج خود ہی اچھا ہو گیا تھا۔۔ ویسے یہ بھی کتنے مزے کا احساس ہے آپ سب کو دیکھ سکتے کوئی آپکو نہیں۔۔
عروج نے ماسک پہنا تھا تو نور اور عزہ فل کالے عبایا اور نقاب میں تینوں پر جو نظر ڈالتا پھر باقیوں کو بھی غور سے دیکھتا بیچ میں دو چہرے نظر آتے تو انکے حصے کا بھی انہیں گھور رہے تھے
فاطمہ جس نے حجاب نہیں کیا تھا اور الف جس نے بس حجاب کیا تھا گڑبڑا کر دونوں ان سے ایک قدم پیچھے ہوگئیں۔ ان تینوں کا آج اعتماد ہی آسمان کو چھو رہا تھا ۔لہک لہک کر آگے بڑھ رہی تھیں۔۔
تبھی تین چار چندی آنکھوں والے لڑکے ہاتھ میں بڑے بڑے سرفنگ بورڈ لیئے گزرے ۔۔ چاروں نے باقیوں کی نسبت انہیں آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا آپس میں گپیں مارتے ہنستے جا رہے تھے صرف شارٹس میں ملبوس بالوں پر پانی میں دیکھنے والی عینکیں سجائے انکے آگے سے گزرے توالف کی زبان میں کھجلی ہوئی۔
یہ لوگ اوپر سے گینڈے کی کھال لگوا کر آئے ہیں کیا
۔۔ٹھنڈ ونڈ نہیں لگ رہی ان ننگے پنگوں کو؟
باقی تینوں تو نہیں چوتھا مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
الف گڑبڑا سی گئ۔۔ وہ آواز کے منبع کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔
فاطمہ کا بازو دبوچ لیا۔۔
یار اسے سمجھ تو نہیں آگیا میں میں نے کیا کہا۔۔ اس نے سرگوشی کی تھی۔
لڑکا منہ کھول کر کچھ کہنے ہی والا تھا فاطمہ نے اپنے ازلی فل والیم میں کہا۔۔
اس چندی آنکھوں والے کی جانے بلا گینڈا کیا ہوتا اور غلط کیا کہا ہم اتنا کچھ پہن کر ٹھنڈ سے مر رہے ہیں اور انکو دیکھو ۔۔ مجھے لگتا یہ جو الم غلم کھاتے رہتے نا اسکی وجہ سے انکا خون ہی گرم ہے ۔۔
لڑکا آنکھیں پوری کھولے دیکھ رہا تھا۔۔ عروج عزہ اور نور بھی چلتے چلتے رک کر دیکھنے لگی تھیں۔
یار خون وون گرم کوئی نہیں ہوتا ہاں یہ ہے غذا سے قوت مدافعت اچھی ہو جاتی ہے اگر تم لوگ بھی۔۔
عروج سے اتنی غیر سائنسی وجہ ہضم نہ ہو سکی۔۔
پلٹ کر تصحیح کرنے لگی۔
بس میڈیکل میں اتنی دلچسپی ہوتی تو ایم اے انگلش نہ کرتی تمہاری طرح ڈاکٹر بن رہی ہوتی۔۔ فاطمہ نے ہنستے ہوئے ہاتھ جوڑے تھے۔۔
بس کوئی کام کی بات نہ سیکھنا نا جاننا ۔ عروج خفا ہو چلی تھی۔۔
ارے ناراض نہ ہو مجھے بتائو۔۔
عزہ لاڈ سے اسکے کندھے پر جھول گئ۔۔ چاروں اکٹھے بول رہی تھیں اکٹھے ہی ہنس رہی تھیں۔۔
الف نے پلٹ کر دیکھا تو چندی آنکھوں والا تھوڑے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اسکے دوست چلتے ہویے کافی آگے چلے گئے تھے یہ کیوں کھڑا رہ گیا۔۔
الف کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔ چندی آنکھوں والا جیسے اسکے متوجہ ہونے کا ہی منتظر تھا مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ اور ہلکا سا سر جھکا کر جیسے خیر مقدمی انداز سے ہم سر کے اشارے سے سلام۔کر دیتے اسی طرح سر کو خم دے کر پلٹ گیا۔۔
آلف منہ بنا کر رہ گئ۔۔
انکے حلیئے کا رعب تھا کہ سب انکو خود کش حملہ آور میں سے ہی سمجھ رہے تھے وہ لوگ پانی کے پاس آئیں تو جھٹ پٹ لوگ تتر بتر ہو گئے۔۔ کئی کوس تک جگہ خالی ہی ہوگئ۔ وہ ایک جانب سب بیگ وغیرہ رکھ کرجوتے اتارتی تیزی سے ساحل کی طرف دوڑ پڑیں۔۔
اسلیئے واعظہ کہہ رہی تھی۔۔ ایویں آئوٹ اینڈ آڈ کا سین بنا دیا تم لوگوں نے۔۔
فاطمہ جینز کے پائنچے موڑتی جتا کر کر بولی۔۔
پانی کی برفیلی لہر انکے پیروں سے ٹکرا کر لوٹی تھی۔۔
اچھی بات ہے نا سب چلے گئے ہم آرام سے مزے کریں گے یہ ساحل عبایا والیوں کا ہوا۔۔
نور پر کوئی اثر نہ تھا دونوں بازو پھیلا کر مزے سے جھوم گئ۔۔ گول چکر کھا کر جیسے ہی سیدھی ہوئی فاطمہ نے دونوں ہاتھوں میں پانی بھر کر اچھالا۔۔ عزہ اور عروج بروقت پیچھے ہٹیں۔۔ پوری دھار بنی نور کے چہرے تک کو بھگو گیا تھا پانی۔۔
تمہارئ تو۔
نور کہاں چھوڑنے والی تھی جھٹ پانی کی طرف بڑھی فاطمہ کھلکھلا کر واپس بھاگی۔۔
نور نے جھک کر پانی مٹھیوں میں بھرنا چاہا تب تک عزہ اور عروج لہروں سے پانی اکٹھا کرتی اکٹھے اس پر وار کرکے بھگو چکی تھیں
ساحل پر نامانوس لبادوں میں ملبوس لڑکیاں دنیا سے بے نیاز شغل لگا رہی تھیں۔۔
فاطمہ کی رگ شرارت دوبارہ پھڑکی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پندرہ ہزار وون کی ایک چھتری؟۔۔
دونوں کے منہ کھلے رہ۔گئے تھے۔۔
چندی آنکھوں والی لڑکی پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے انہیں دیکھتی رہی۔۔
دے۔۔ آہجومہ۔۔
لے لیتے ہیں ہمارے چاند سے روشن چمکتے چہرے دھوپ میں کملا جائیں گے۔۔
واعظہ گہری سانس لیکر اپنا پرس کھولنے لگی۔۔
تین ؟۔۔ واعظہ نے سوالیہ نظروں سے ابیہا کو دیکھا۔۔ تین کیا کرنی ہیں۔۔ ابیہا نے فورا ٹوکا
یار ہم آٹھ لڑکیاں ہیں دو دو بھی ایک چھتری لیں تو۔۔۔
بولتے بولتے واعظہ ٹھٹکی
۔ چار چاہیئے ہوںگی ۔۔اس نے سر کھجایا۔۔
ایسے ہی تو نہیں میٹرک میں فیل ہوئی تھی میں۔ حساب خاصا خراب ہے میرا۔۔
اسکو کبھی اپنی ناکامیاں جتانے پر شرمندگی نہ ہوئی تھی۔۔ جو اس سے پانچ سات منٹ سے زیادہ بات کرنے کا شرف حاصل کر لیتا تھا اسے اسکی کوئی نہ کوئی تازہ جھیلی گئ ناکامی ضرور گوش گزار کرتی تھی۔۔ میٹرک میں فیل ہونے والی تو باتوں باتوں میں بڑے شوق سے بتا دیتی تھی۔۔
ہم سات ہیں۔۔ ابیہا نے گھورا۔۔
اور اتنی تو ٹھنڈ ہو رہی دھوپ سینکتے ہیں ۔ اتنے پیسے یہاں جھونک دوگی تو ہم کھائیں گے کیا۔۔
ابیہا نے مت دی تو اس نے قائل ہوجانے والے انداز میں اپنا کدو جیسا سر ہلایا۔۔
پھر بھی دو تو لیں نا۔۔
دونوں کا فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا چندی آنکھوں والی بیزار سی ہوئی۔۔
ہمارے پاس بس دو بچی ہیں۔۔
غیر ملکی شکل دیکھ کر وہ ہاتھ کے اشارے سے بتا رہی تھی ساتھ ساتھ۔۔
ہنا ۔ابیہا نے انگشت شہادت سے اشارہ کیا
دو۔۔ واعظہ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی سے دو کا اشارہ کیا۔۔
ہنا ؟۔۔ چندی آنکھوں والی نے تصدیق چاہی۔۔
ہنا۔۔
واعظہ نے اپنا ہاتھ نیچے کر لیا۔۔
پشت سے بیگ پیک اتار کر زمین پر رکھا اور شولڈر بیگ نکال کر اس میں سے بٹوہ ڈھونڈنے لگی۔۔
دو تین ہاتھ مار کر پھر تھک کر چیزیں نکال کر ابیہا کو تھمانا شروع کر دیا۔۔
چپس کے پیکٹ ببلیں چھوٹے سے کوریائی طرز کے چاولوں کے لڈو۔۔ کے ننھے ننھے پیک۔۔
ابیہا نے شکائیتئ نظروں سے گھورا۔۔
یار کھانے کیلئے ہی لیئے تھے سفر میں بھول ہی گئ نکالنا۔۔واعظہ کھسیائی۔
برش کیچر مچھر بھگایو اسپرے ہینڈ سینیٹائزر لوشن میک اپ پائوچ۔۔ جیولری سب نکلا نہیں نکلا تو بٹوہ نہیں۔۔
واعظہ نے سر اٹھا کر خوف بھری نگاہ سے ابیہا کو دیکھا۔
دوسرا بیگ دیکھو۔۔
ابیہا کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے۔
دونوں ہاتھوں کو بھرے وہ صرف مشورہ ہی دے سکتی تھی۔۔
واعظہ نے بیگ پیک کھول کر الٹ پلٹ کیا تو پائوچ نظر آہی گیا۔۔
اتنی دیر میں چندی آنکھوں والی ایک اور صارف بھگتا چکی تھئ۔۔
یہ لیں دو۔۔ واعظہ نے پیسے دئیے تو اس نے خندہ پیشانی سے مسکرا کرآدھے پیسے واپس تھما دئیے۔۔
اب ایک ہی چھتری بچی ہے آہجومہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکھی سہیلیاں دور سے ہی نمایاں تھیں۔۔ پانی اچھالتی ہنستی مسکراتی پانچوں خوب مزے اڑا رہی تھیں۔۔ نور کا کیمرہ حرکت میں تھا۔۔ جب عروج فاطمہ عزہ اور الف نے مل کر پوز مار کر تصویر بنوائی تو ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا چندی آنکھوں والاجوڑا باقائدہ منہ کھول کر انہیں دیکھتا پایا گیا۔۔چہرے نقاب میں اور تصویر؟؟؟
یہ لوگ چھتری لگا کر سامان رکھ کر وہیں بیٹھ گئیں۔۔
تمہارا ارادہ نہیں ہے پانی میں جانے کا۔۔
ابیہا نے اسے بیگ کا تکیہ بنا کر لیٹتے دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔
واعظہ نے دور کھڑی زندگی سے بھرپور لڑکیوں کو ایک۔نظر دیکھا پھر آنکھیں موند لیں۔۔
مجھے بیچ پر بڑے مزے کی نیند آتی ہے میں تھوڑا سا آرام کر لوں۔۔۔ وہ بالکل سیدھی لیٹی تھی۔
ان لوگوں کو بھوک ووک نہیں لگ رہی ؟۔۔ ابیہا بھی اسکے ساتھ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔
یار افسوس ہو رہا مجھے۔ واعظہ اٹھ بیٹھی۔۔
اتنا کچھ لیا میں نے سفر میں کھانے کیلیئے اور نکالنا بھول گئ۔۔ سب نے صبح سات بجے کا ناشتہ کیا ہوا ہے بھوک لگ گئی ہوگی۔۔
اسے شرمندہ ہوتے دیکھ کر ابیہا نے اسکا کندھا تھپتھپادیا۔۔
یار بچیاں تھوڑی ہیں کچھ کھانے پینے کا دل کرتا تو کھا چکی ہوتیں۔۔
واعظہ ہنکارا بھر کر موبائل اٹھا کر کوئی نمبرملانے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ساحل کی سرد ہوا نے انکو ٹھٹھرانا شروع کر دیا تب پانئ سے ہٹیں۔۔۔ سچ مچ گگھی بندھ رہی تھی۔۔لوگوں کو پانی میں مستیاں کرتے رشک اور حیرانی سے دیکھتی وہ لوگ بھی ابیہا اور واعظہ کے پاس چلی آئیں۔۔
واعظہ نے کچھ کھانے پینے کو منگوایا تھا ڈیلیوری بوائے اسکے پاس ہی کھڑا تھا زمین پر چادر بچھا کر انہوں نے کھانے پینے کی چیزیں ترتیب سے رکھی تھیں۔۔
آگئیں تم لوگ ہم بلانے ہی والے تھے تم لوگوں کو۔۔
ابیہا چیزیں سجاتی خوشدلی سے انہیں دیکھ کر بولی۔۔
ہم تو سب بھیگے ہیں وہ جھجک کر باہر ہی رک گئیں۔۔
ریت پر ٹپ ٹپ گرتے پانی نے دستی کیچڑ کرنی شروع کردی تھی۔۔
ڈیلوری بوائے کوریائی انداز میں جھک کر سلام کرتا مڑا تو واعظہ انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
کافی منگوائی ہے کچھ رائس ڈمپلنگ ہیں۔۔ ایک فش ریسٹورنٹ ہے یہاں قریب اور ایک ویجی کیا کھانا طے کر لو پھر کھانے چلتے ہیں۔۔
پانچوں نے آنکھیں پھیلا کر چادر پر سجی چیزوں کو دیکھا۔۔
کیک پیسٹری سینڈوچز تھے فرائز اور کوریائی جھٹ پٹ کھانے سوکھے ہوئے نمکین چاولوں کے کیک جو پاپڑ کی طرح کے تھے۔۔
ہمیں ہتھنیاں سمجھ رکھا کیا اس سب کے بعد کھانا بھی؟۔۔
الف نے آنکھیں پھاڑیں۔
مجھے رائس کیک پکڑا دو۔۔
عروج نے کھڑے کھڑے ہی ابیہا کو کہا۔۔
واعظہ نے ایک نظر انکے ٹپ ٹپ پانی ٹپکاتے کپڑوں کو دیکھا پھر ڈپٹ کر بولی۔۔
اتارو اپنے عبایا ساری۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاس سے گروپ اٹھ کر گیا تو واعظہ انکی چھتری اکھاڑ لائی اسے تھوڑا سا ریت پرکھود کر آدھا اندر دبا دیا۔۔ دونوں چھتریوں کے سر پر چادر باندھ کر آڑ کی۔۔ فاطمہ اسکی برابر مدد کروا رہی تھی۔۔
یہ پانچوں بھیگی بلیاں بنی کھڑی تھیں۔۔
خیمہ سا بنوا کر سب کے عبایا اتروائے ۔ انکو کافی اور کھانے پینے کی چیزیں تھما کر واعظہ اور فاطمہ نے سب کے عبایا اٹھالیئے۔۔
ان سے کچھ فاصلے پر ایک یورپی لڑکے لڑکیوں کا گروپ انہیں حیرت سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔
مجھے پتہ ہوتا انکے عبایا سکھانے مجھے ہی پڑیں گے تو ہرگز انہیں نہ بھگوتی۔۔
فاطمہ نے کہا تو واعظہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔۔
مجھے پتہ تھا یہاں آکر بھی تم لوگوں نے کوئی چاند چڑھانا ہی ہے سو زہنی طور پر تیار تھی۔۔
مجھے شدید حیرت ہو رہی یہاں کے لوگوں کو دیکھ کر ؟۔ بیچ پر فل کافتان شارٹس ٹی شرٹس پہن کر گھوم رہے ہیں یہ کوریائی۔۔
بکنی میں ملبوس اس یورپی نقوش والی لڑکی نے ناک چڑھا کر شستہ انگریزی میں کہا تھا۔۔
فاطمہ اور واعظہ کے قدم انکے پاس سے گزرتے سست پڑے۔۔
اوپر سے دھوپ سے بچنے کو چھتریاں بھی کرائے پر لے رہے۔۔ ہم تو ساحل پر جاتے ہی رنگ جھلسانے ہیں۔۔ عجیب لوگ ہیں۔۔ تانبے جیسا رنگ کروانے سے ڈرتے ہیں۔۔
اسکی سہیلی بھی ہمنوا تھی۔۔
اور ان عربیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جو وہاں خیمہ تان کر بیٹھی ہیں۔۔
ایک لڑکا انکے ہی خیمے پر اشارہ کرکے ہنسا۔۔
بے چاریاں انکی تہزیب ہی یہی ہے۔۔ یہ سب کسی ایک ہی چوغے والی کی بیویاں ہونگی ۔۔
ایک تو منہ پرکالا نقاب بھی چڑھائے تھی۔۔
دوسرے لڑکے نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔۔
واعظہ اور فاطمہ ایک دوسرے کر رک کر دیکھنے لگیں۔۔
بے چاریاں انہیں پتہ ہی نہیں ہے اپنے بنیادی حقوق کا۔۔
وہ سب ترس کم کھا رہے تھے مزاق زیادہ اڑا رہے تھے۔۔دونوں سر جھٹکتی آگے بڑھنے کو ہی تھیں کہ
ہے گرلز وانٹ سم مور کلوتھز؟۔۔
انہیں دیکھ کر اس لڑکی کو شرارت سوجھی بیچ پر بچھائی چادر انکی جانب اچھال کر زور سے ہنسی۔۔
واعظہ کے اوپر گولے کی طرح آکر لگی۔۔ فاطمہ کا میٹر گھوم گیا عبایا واعظہ کو تھماتی جارحانہ انداز میں انکی جانب بڑھی۔۔
رکو فاطمہ۔۔
واعظہ بوکھلا کر اسے روکنے لگی۔
بازو پکڑ لیا
ٹھہرو مزا چکھاتی ہوں انہیں بد تمیزی کی کوئی حد ہوتی ہے۔۔
واعظہ سے ہاتھ چھڑاتی وہ بالکل بے قابو ہو رہی تھی۔۔
رک جا بہن احسان ہوگا۔۔
واعظہ کو عبایا گرا کر اسے دبوچ کر روکنا پڑا۔۔
نینسی باٹ
دس از ٹو مچ۔۔
انکا ردعمل دیکھ کر نینسی کی دوست نے بھی اسےٹوکا۔۔
میں نے تو انکو بس چادر دی ہے ۔۔ وہ ڈھیٹ پنے سے بولی۔۔
اے بھوری بندریا اپنی حد میں رہو ۔ اور یہ چادر کی ہمیں نہیں تمہیں ضرورت ہے گھر سے نکلتے کپڑے پہننا بھول گئیں تم پاگل عورت۔۔
آگے بڑھنے سے تو واعظہ نے کسی طرح روک دیا تھا مگر زبان کا کیا کرتی۔۔ فاطمہ غصے میں انگریزی بھول چکی تھی دو چار پنجابی کی موٹی موٹی گالیاں بمشکل روکی تھیں۔۔ مگر بھوری بندریا اور پاگل عورت جس طرح کہا تھا انہیں اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ عزت ہی کی گئی ہے انکی سو مشہور زمانہ انگریزی گالیاں اس لڑکی نے بے دریغ منہ سے نکالی تھیں۔۔ پھر فاطمہ واعظہ کے بس سے باہر ہو چکی تھی۔۔
واعظہ کو دھکا دے کر گراتی وہ اسکے خشخشی بھورے روکھے بالوں پر لپکی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل پر دو لڑکیوں کو گتھم گتھا ہوتے دیکھ کر انتظامیہ کےچندی آنکھوں والے حفاظتی اہلکار فورا پہنچے تھے۔۔ مگر تب تک
فاطمہ نے اسکے بال جکڑ کر اسے گول گھمایا تھا ایک طمانچہ جڑا ۔۔ پھر کندھے سے پکڑ کر الٹا گھما کر زمین پر پٹخ دیا تھا۔۔
لڑکی کیلئے اس طرح تائکوانڈو کا دائو سہنا غیر متوقع تھا سیدھی ڈھیر ہوئی تھی زمین پر۔۔ اسکے دائو دیکھ کر بھوری بندریا کی سہیلی بجائے بچانے کو ڈر کر پیچھے ہٹ گئ۔۔ اسکے بوائے فرینڈ کے سر پر لگی تلوے پر بجھی ۔
سیدھا فاطمہ پر غصے سے بلبلاتا جھپٹا تھا۔۔
واعظہ جو فاطمہ کو روک ہی رہی تھی اسے فاطمہ کی جانب بڑھتے دیکھ کر اسکے اور فاطمہ کے بیچ میں آگئ۔۔
اسکا بھرپور مکا واعظہ نے بازو پر روک لیا تھا۔۔یہ بنیادی خود کو بچائو کا دائو تھا۔۔
بھرپور قوت کا یہ مکا پڑا تو نہیں تھا اسے مگر بازو رہ گیا تھا اسکا۔۔
فاطمہ نے پلٹ کر دیکھا تو غصے سے آگ بگولا ہو کر اس لڑکے پر جھپٹنا چاہا مگر تب تک انتظامیہ کے اہلکاروں نے فوری مداخلت کی تھی۔۔ ایک لڑکے نے اس لڑکے کو قابو کیا تھا دوسرے نے فاطمہ کو۔۔
فاطمہ نے فورا خود کو چھڑایا اور دانت پیستی انہیں گھورنے لگی۔۔
ان سب کو وہ انتظامیہ کے دفتر میں لے گئے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریری معافی نامہ لکھوا کر ان سب سے دستخط کروائے تھے پولیس نہ بلوانے کی شرط پر۔۔
پاکستانی جہاں جاتے ایسے ہی طوفان بدتمیزی مچاتے ہیں۔ ٹرمپ صحیح کر رہا ان لوگوں کی۔۔
بھوری بندریا آنسوئوں سے روتی چلائی۔۔
اسکا بوائے فرینڈ اسے کندھے سے لگائے تھپک رہا تھا اور ان کو گھور رہا تھا بس چلتا تو فاطمہ کو کچا چبا جاتے دونوں۔۔
ہے مائینڈ یور لینگوئیج ۔۔۔
فاطمہ بھڑکی۔۔ واعظہ اور انکے گروہ کا ایک لڑکا ثالثی بنے ہوئے تھےمعزرت نامہ لکھتے دونوں کا بس نہیں تھا باقیوں کے منہ پر ٹیپ چپکا دیں۔۔۔ دونوں کے تاثرات بس یہی تھے کہ خدایا چپ ہو جائو تھانے ضرور جانا ہے تم لوگوں نے؟۔۔
چندی آنکھوں والے اس تیس بتیس سال کے افسر نے خشک اور پیشہ ورانہ انداز میں نشست سے اٹھتے ہویے ٹوکا۔
ویسے آپ امریکی بھی کم نہیں ہیں۔ پاکستانی سیاحوں کا معاملہ ہم تک پہلی بار پہنچا ہے مگر امریکی سیاح جب جب یہاں آتے ہیں کسی نہ کسی جھگڑے میں ضرور الجھتے ہیں۔۔۔ ابھی بھی آپ لوگوں کی جانب سے پہل ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عربی سیاح ضرور شکایت کرتے ہیں کہ انکے لباس پر ہوٹنگ کی گئ ہے اور وہ کبھی مقامی باشندوں کی جانب سے نہیں کی جاتی۔۔
اوپر سے لڑکیوں کی لڑائی میں آپ ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔۔ اگر یہ معاملہ یہاں ختم نہ کریں تو بلنگ اور ہیرسنگ کے چارجز پرآپ کو جیل جانا پڑ سکتا ہے۔۔
بولتا ہوا وہ انکے سامنے آکھڑا ہوا تو اس امریکی نے سر جھکا لیا۔۔
اور آپ۔۔ تائیکوانڈو کے دائو آزما رہی ہیں ایک۔کمزور سی لڑکی پر جو آپکا مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔ تائیکوانڈ و کے بنیادی ادب آداب میں سب سے پہلے یہی چیز سکھائی جاتی ہے غالبا کہ اپنے غصے اور جارحانہ عزائم پر قابو کیسے کرنا ہے؟
افسر اب فاطمہ کی جانب مڑا تھا۔۔
فاطمہ کو بھی احساس ہوا اپنی غلطی کا۔۔ وہ امریکی لڑکی اس سے ٹھیک ٹھاک پٹ گئ تھی۔۔
مگر غصہ ہی اسے اتنا آیا تھا۔۔ ف والی گالی تو ان امریکیوں کی زبان پر ایسے چڑھی تھی جیسے بڑی کوئی اعزاز کی بات ہو۔۔
صلح صفائی کروا کر انہیں جانے کی اجازت ملی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہاں رہ گئیں؟۔ عزہ کو بے چینی ہوئی۔۔
دو تین گھنٹے ہو رہے تھے شام کا وقت ہو چلا تھا انکی کافی وغیرہ یخ ہو گئی تھئ۔۔
عبایا نہ ہونے کی وجہ سے وہ تو وہیں رہی الف اور ابیہا ساحل کنارے ٹہل رہی تھیں۔۔
پیٹ پوجا کرکےعروج وہیں اونگھ گئ تھی تو نور اپنے ساتھ لائی چادر نکال کر نقاب بناتی کیمرہ اٹھائے نکل گئ تھی۔۔
تب دور سے فاطمہ اور واعظہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی چلی آئیں۔۔ قریب ہی کوریائی طرز کا گیسٹ ہائوس تھا سو وہاں کے لانڈری روم میں جا کر مشین میں سب عبایا دھو کر سکھا کر فاطمہ اور واعظہ لیکر آئی تھیں۔۔
یہ لو۔۔ فاطمہ نے اسے عبایا تھمائے۔۔ دونوں کے چہرے اترے ہوئے تھے۔۔
کیا ہوا تم لوگوں کو؟۔
عزہ کو پریشانی ہونے لگی۔۔
وہ۔۔ فاطمہ۔۔ نے ایک۔نظر واعظہ کو دیکھاپھر بتانے ہی لگی تھی کہ۔۔
واعظہ یکسر بدلے ہوئے انداز میں خوشگوار انداز میں بولی۔۔
کچھ نہیں مٹی لگ گئی تھی عبایا پر اور سمندر کے پانی سے بو بھی اٹھ رہی تھی وہی دھونے میں سکھانے میں وقت لگ گیا۔۔
واعظہ کو بھوک لگ رہی تھی بے تابی سے چیزیں الٹ پلٹ کر رہی تھی۔۔ فاطمہ بھی چپ کر گئ۔۔
کافی تو دونوں کی ٹھنڈی پالا ہو گئ تھی سو صبر شکر کرکے کیک وغیرہ ہی کھانے لگیں۔۔
چاکلیٹ فلیور ہی کوریائی طرز کے چاولوں کے لجلجے سے حلوے کی۔طرز کے کیک تھے واعظہ نے ہاتھ بڑھایا پھر چاکلیٹ دیکھ کر چھوڑ دیا۔
عزہ کو پتہ تھا اسے چاکلیٹ پسند نہیں اس ایک اس نے علیحدہ کر کے اپنے بیگ میں ڈال لیا تھا۔۔
ابھی وہی نکال کر سامنے رکھا اور خود عبایا پہننے لگی۔۔
واعظہ نے ایک۔نظر اسے دیکھا۔۔ پھر مسکراہٹ دبا کر کھانے لگی۔۔
معزرت کا لفظ منہ سے نہیں نکلنا تھا مگر اسے فکر بھی تھئ اسکی۔۔ سو ایسے ہی منا لیا تھا اسے اور واعظہ مان بھی گئ۔۔
باقی سب کہاں ہیں۔۔
عروج انکی باتوں سے اٹھ گئ تھی۔ سو آنکھیں مسلتی پوچھنے لگی۔۔
ساحل کنارے پر ہیں۔۔ عزہ نے کہا تو فاطمہ حیرت سے بولی
ساحل پر تم نہیں گئیں؟ اتنی دیر سے یہیں بیٹھی تھیں؟۔ فاطمہ کی حیرت پر وہ مسکرا کر نقاب بنانے لگی۔۔
چلو پھر اب چلتے ہیں۔۔ سورج ڈوبنے کا منظر بہت خوبصورت ہوگا ساحل پر۔۔
واعظہ کھا پی کر ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ ان تینوں نے بھی کپڑے جھاڑ کر اٹھتے اسکی تقلید کی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
گیونگ پو ہے پر شام اتر رہی تھی۔۔ سارا دن کا تھکا ہارا سورج اب پانیوں میں ڈوبنے کی تیاری میں تھا۔آسمان پر نارنجی رنگ پھیلتا جا رہا تھا ۔ ابیہا فاطمہ اور واعظہ دور لہروں کے قریب ٹہل رہی تھیں۔۔ کوئی زور کی لہر آتی تو ابیہا پیچھے ہٹتی اور واعظہ اسے واپس ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیتی۔۔ انکی کھلکھکلاہٹوں کی دھیمی سی آواز یہاں تک سنائی دے رہی تھی۔۔
یہ شام مجھ سے کچھ کہہ رہی ہے۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ریت میں پیر گھسائے عروج نارنجی سورج کی شعاعوں کو خود میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ گہری سانس لیکر نم ہوا کی تازگی محسوس کرتے اسکا انداز شاعرانہ ہوچلا تھا
ہاں کہہ رہی ہوگی رات ہونے سے پہلے گھر واپس چلی جانا مغرب کے وقت ہوائی مخلوق ہوتئ ہے پانی کے نزدیک۔۔
نور نے منہ بنا کر کہا۔۔ اس کے اوپر ابھی بھی ویڈیو کال کا سحر طاری تھا۔۔ اسکی امی نے اسے کال کی تھی جوابا اس نے ویڈیو کال ملا کر بیس پچیس منٹ بات کی تھئ۔عروج کے برعکس وہ ریت پر ایک چھوٹے سے تنکے سے کچھ لکھ لکھ کر مٹا رہی تھی۔۔
عروج اسکے انداز پر ہنس پڑی۔
لکھ کیا رہی ہو۔۔
اس نے تجسس سے اسکا لکھا پڑھا پھر چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔۔
نور خفا خفا سی پھر اپنا لکھا مٹانے میں مصروف تھی۔۔
الف کہاں گئ۔۔ عروج کو خیال آیا تو سر اونچا کرکے اسے ڈھونڈنے لگی۔۔ تھوڑی سی ہی کوشش سے نظر آگئ۔۔
الف ایک بڑے سے پتھر پر چڑھ کر نارنجی شعاعوں کے عکس میں سیلفیاں لینے کی کوشش میں تھی۔۔ نارنجی اسکارف نارنجی فراک میں وہ دور سے سورج کا ہی گمشدہ حصہ لگ رہی تھیعزہ ان سب سے دور اپنی ہی دھن میں چل رہی تھی اسکا رخ ساحل سے بالکل مخالف سمت تھا۔۔۔
اختتام پہلی قسط کا۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-
Khud se khafa houn main
خود سے خفا ہوں میں میرا میں مٹ نہیں پاتا
لکھتا ہوں توخود تحریر میں ، میں سمٹ نہیں پاتا
خود کو سمجھتا ہوں میں نہ جانے کیا کیا
بڑھ چکا ہوں خود پرستی میں آگے میں پلٹ نہیں پاتا
دنیا خاک اڑا گزری مجھ پر میں بت بنا کھڑا رہا
خود کو ٹھوکر ہوں خود مارتا اورمیں رپٹ نہیں پاتا
ہر روز نیے موضوع کا امتحان لیتی ہے زندگی
نصاب دنیا کا نہ جان سکا کیسےمیں بھلا رٹ پاتا
راستے میرے بھی وہی تھے پیچھا تھوڑی تھا کرتا
ٹاکرا ہو ا اس سے بھی میں سامنے سے کیسے ہٹ پاتا
اندھیرا چھٹا تو جانا یہ اکیلا رہ گیا ہوں میں
رونا آیا رو بھی نہ سکا خود سے کیسے لپٹ پاتا
میرے گرد لوگ جمع ہوئےیوں تقسیم کر گیے مجھے
میں تنہائی کا دلدادہ بھلا ہجوم سے کہاں نمٹ پاتاازقلم ہجوم تنہائی
18 oct 2014
-
main ne zindagi guzardi kisi ki dastak k intezar me
میں نے زندگی گزاردی کسی کی دستک کے انتظار میں …
ایک امر وہ میرے دروازے پہ گزار کے پلٹ گیا …میں نے چاہا بہت کہ دیکھ لے وہ مڑ کے مجھے کبھی
میں پکارتا رہا اسے پھر پکار کے پلٹ گیانا واسطہ رکھنا تھا جبھی رابطہ بڑھایا نہیں
میں نے جب بڑھائے قدم وہ پاس آ کے پلٹ گیاہم کلام ہوئے ہم راز ہوئے ہم خیال بھی ہوتے مگر
مجھے خود سا نہ کر سکا تو مرے جیسا ہو کے پلٹ گیاجان لینے کے شوق میں جاننے والے مرے اجنبی ہوئے
مرے احباب میں انجان تھے لوگ وہ یہ جان کے پلٹ گیامیں ہجوم تھا اپنا مگر تنہائی میں اسکا ہی تھا
مرے ہجوم میں شامل تو ہوا میری تنہائی میں آ کے پلٹ گیاmain ne zindagi guzardi kisi ki dastak k intezar me…
ek umar wo mery darwazy pe guzaar k palat gaya…
mainy chaha boht k dekh le wo mur k mujhay kabi..
.main pukarta reha usay phr pukar k palat gaya.
..na wasta rekhna tha jabi rabta berhaya nahi…
me ne jab berhaye qadam wo pass aa k palat gaya…
humkalam hoe hum raaz hoe hum khayal b hotay mager
…mujhe khud sa na ker saka meray jesa ho k palat gaya…
jaan lenay k shoq main jannay walay meray ajnabi hue.
..meray ahbab me anjaan thay log wo yeh jaan k palat gaya
…Main hajoom tha apna mager main tanhai me uska hi tha..
.mery hajoom me shamil hoa meri tanhai me aa k palat gaya…
-
kon kon hay kon kia kia hay
kon kon hay kon kia kia hay…
kon kon yehan Kia Kia jan paya hay…
kon kon nahi shamil reha is sang bari me…
kis kis ne mujhe abhi zakham nahi lagaya hay…
kisi ke kehnay pe kisi ne kia hay yeh sitam…
hr ek pe aj mene yeh ilzam lagaya hay…
kisi ko aj shikwa reha hay meri dil azari say…
kisi ki baat ko dil pe le k kisi ka dil dukhaya hay…
kon kon hay shamil kisi k ahbab me dekho zara…
kisi ko mene kisi ne mujhko aisay azmaya hay…
kisi se wasta itna k ahwal se ba khabar rehna…
kon janay in rawabit ne kis ko kitna bhulaya hay…
Hajoom kis ka hay kis ki tanhai hay…
sab ko mene yeh poch k aaj hunsaya hay…
کون کون ہے کون کیا کیا ہے۔۔
کون کون یہاں کیا کیا جان پایا ہے۔۔۔
کون کون نہیں شامل رہا اس سنگ باری میں۔۔۔
کس کس نے مجھے ابھی زخم نہیں لگایا ہے۔۔۔
کسی کے کہنے پہ کسی نے کیا ہے یہ ستم۔۔
ہر ایک پہ آج میں نے یہ الزام لگایا ہے۔۔
کسی کو آج شکوہ رہا ہے میری دل آزاری سے۔۔۔
کسی کی بات کو دل پہ لیکر کسی کا دل دکھایا ہے۔۔
کون کون ہے شامل کسی کے احباب میں دیکھو ذرا۔۔
کسی کو میں نے کسی نے مجھ کو ایسے آزمایا ہے۔۔۔
کسی سے واسطہ اتنا کہ احوال سے با خبر رہنا۔۔
کون جانے ان روابط بے کس کو کتنا بھلایا ہے۔۔
ہجوم کس کا ہے کس کی تنہائی ہے۔۔
سب کو میں نےیہ پوچھ پوچھ کے آج ہنسایا ہے -
Na dhalta dekha na ubharta dekha…Dekha jab b sar per charta dekha…
Na dhalta dekha na ubharta dekha…
Dekha jab b sar per charta dekha…
Suna hay k jalati hay tapish iski boht…
Mainy mager raat main na kabi isko dekha…
Sard say ehsas main mana taqwiyat thi mili…
Haan mager is say apna rang b jalta dekha…
Najanay kia israar shaksiyat main hay iski…
Mainy dunya ko gird iskay hamesha ghomta dekha…
Boht uljha rehi hay baat tumhari hajoom ko…
Tumnay kia pehli baar aaj suraj ko tanha dekha… ???نہ ڈھلتا دیکھا نہ ابھرتا دیکھا …
دیکھا جب بھی سر پر چرتا دیکھا …
سنا ہے کہ جلتی ہے تپش اسکی بوہت …
میں نے مگر رات میں نہ کبی اسکو دیکھا …
سرد سے احساس میں مانا تقویت تھی ملی …
ہاں مگر اس سے اپنا رنگ بھی جلتا دیکھا …
نجانے کیا اسرار شخصیت میں ہے اسکی …
میں نے دنیا کو گرد اسکے ہمیشہ گھومتا دیکھا …
بہت الجھا رہی ہے بات تمہاری ہجوم کو …
تم نے کیا پہلی بار آج سورج کو تنہا دیکھا … ؟ -
Kahay ki tag o do main phansatay ho khud ko
kahay ki tag o do main phansatay ho khud ko…
aik din tera yehan naam o nishaan b nahi rehna…
kayam zaat bus aik he ho gi baki abad tak…
tu nay nahi rehna hay mainy b nahi rehna…
aasmaan ko choonay ki koshish hain sab kertay…
suna hay aik din hm nay zameen me b nahi rehna…
dushwaryaan juri hain isi zindagi say agar…
aik na aik din tau humain zinda b nahi rehna…
kehnay ko kehtay rehain gay sabhi boht kuch…
sunnay k mager kabil ab hm nay nhi rehna…
ayay thay akelay yehan jana b ho go tanha…
bus dunya ka chonchla hay k tanha nahi rehna…کاہے کی تگ و دو میں پھنساتے ہو خود کو .
ایک دن تیرا یہاں نام و نشان بھی نہیں رہنا …قایم ذات بس ایک ہی ہو گی باقی ابد تک …
تو نے نہیں رہنا ہے میں نے بھی نہیں رہنا
…
آسمان کو کھودنے کی کوشش ہیں سب کرتے …
سنا ہے ایک دن ہم نے زمین میں بھی نہیں رہنا …دشواریاں جڑی ہیں اسی زندگی سے اگر …
ایک نہ ایک دن تو ہمیں زندہ بھی نہیں رہنا …کہنے کو کہتے رہیں گے سبھی بہت کچھ …
سننے کے مگر قبل اب ہم نے نہی رہنا …آیے تھے اکیلے یہاں جانا بھی ہو گو تنہا …
بس دنیا کا چونچلا ہے کہ تنہا نہیں رہناaz qalam hajoom e tanhai …