Ragon se khench k jaan meri| maut hansti hay| udaas urdu shayari

آزاد اردو نظم

موت ہنستئ ہے ۔۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

واعظہ زیدی

رگوں سے کھینچ کے جاں میری
موت ہنستی ہے بتا گئ کہاں تیری
وہ زندگی جس کو بتانے کے
ہیں قصے کئی جگ کو سنانے کو
تیری زندگی میں تجھے سننے کا شائق نہیں کوئی
تجھے گمان تیری باتوں کے یہاں لائق نہیں کوئی
تیرا ناک نقشہ لوگوں کو بھول جائے گا
تیرے سنائے قصے کون یاد رکھ پائے گا

چلے جانے کا دکھ تجھے رلا رہا ہے
روک لو نہ جانے دو مجھے،کرلا رہا ہے
مجھ پر کیا بیتی مجھے سنانے دو
وقت کم ہے پاس میرے بہانے دو

ایک یہ ہے کہ خودی سے بے خبر تھا میں
خود ہی منزل تھا خود ہی سفر تھا میں
یوں ملی اچانک زندگی کہ سمجھ نہ آئی
خوشیوں کی آس میں

دکھوں کی بس قیمت چکائی

دوسرا یہ کہ جو چاہ تھی مجھے رہی
زندگی کو ضد تھی بن اسکے گزرکے رہی

اب گہرے گڑھے میں پہنچ کر سستا رہا ہوں میں
یہاں بھی رکنا نصیب نہیں آگے جا رہا ہوں میں
مجھ میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے والو
میری زندگی میں مجھے بے مول روندنے والو

جانے دو جو اگر بے جان پڑا ہوں آج میں

یقین جانو بہت مشکل سے مرا ہوں آج میں۔۔

Home » Zauq e sukhan urdu shayari
Rating
https://desikimchi.com/vedmadness-in-love-veds-fiery-tale-of-passion-and-pain/

Dil kar raha bakwas karoun URDU SHAYARI

دل کرر ہا بکواس کروں۔۔
کوئی بات نہ خاص ہو۔۔
کروں الٹی سیدھی باتیں میں۔۔
وقت کے ذیاں کا نہ احساس ہو۔۔
بے معنی فضول الفاظ لکھوں۔۔
بس میری کچھ بھڑاس ہو۔۔
خالی ہو جائے دل کسی طرح۔۔
مجھے بھی کہنا آج راس ہو۔۔
مجھ سے بھی پوچھیں لوگ کیا ہوا۔۔
کیوں تم آج اتنی اداس ہو۔۔
میں تھک جائوں کہہ سن کر سبھی۔۔
خاموشی پھر بھی بعید از قیاس ہو۔۔
دنیا بھر میں ہو جائے چرچہ یہ میرا۔۔
یہ کہتی ہی تب ہےجب کوئی نہ پاس ہو۔۔
اتنی ہوس ہے بولنے کی کہ ہجوم نےسوچ کر بھی۔۔
کہا وہی ہے اب جس سے تنہائی کا ستیا ناس ہو۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

#hajoometanhai

urduz #desikimchi

Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Main nay khuda say kaha

میں نے خدا سے کہا

سب کے اصل چہرے مجھے دکھا دے۔اس نے دکھا دیئے۔۔

اب مجھے سب سے نفرت ہوگئ ہے۔۔۔

پھر میں نے آئینہ بھی دیکھ لیا۔۔

اب مجھے سب سے کوئی گلہ نہیں رہا۔۔

مگر میری نفرت کم نہیں ہوئی ہے۔۔

جب آئینہ دیکھتا ہوں۔۔

یہ نفرت بڑھتی ہے۔۔

کیونکہ میں ایسا نہیں تھا جیسا ہوگیا ہوں۔۔

اور جو میں اب ہوگیا ہوں۔۔

سب نے بنایاہے ایسا مجھے۔۔

Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Pathar say Insan urdu udaas shayari

پتھر سے انسان۔۔۔
کبھی چلتے چلتےپتھر سے ٹھوکر کھائی؟
کیا کیا پھر؟
جس پتھر سے ٹھوکر کھائی
اس سے نفرت کی؟
اس سے دور ہوئے؟
اسے ٹھوکر لگادی؟
یا سنبھل کر آگے بڑھ لیئے؟
میں بتائوں میں نے کیا کیا؟
پتھر اٹھایا۔۔
دل سے لگایا۔۔
اب بھی پاس ہے میرے۔۔
یاد دہانی کیلئے۔۔
راستے میں پتھر ہوتے ہیں۔۔
پتھروں سے بچ کر چلنا چاہیئے۔۔
اور پتھر جیسے انسانوں سے بھی۔۔

۔
۔
۔

از قلم ہجوم تنہائی۔۔

Rate us below

Rating
Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Zehar lagtay hain mujhay hunstay chehre

زہر لگتے ہیں مجھے ہنستے چہرے۔۔
بس چلے تو ان پر میں لگا دوں پہرے۔۔
کس بات کی خوشی ہے انکو؟
زندگی کیسی ملی ہے انکو؟
جو گزرے سب دکھ سب بھول گئے؟
ماضی پر کیسی ڈال یہ دھول گئے؟
ایسابھی کیا ملا ہے اب ہمیں بتائو
کیا کبھی نہ تم سےکچھ چھنا؟ ہمیں بتائو
مسکراتے ہوئے دیکھے ہیں ہم نے کہاں لوگ
ہمارے گرد تو ہم جیسے ہیں تہی داماں لوگ
تنہائی میں ملتی ہیں کالی ناگن سی پھنکارتی سوچیں
اپنے سود و زیاں پر کلبلاتی ماضی کو پکارتی سوچیں
یاسیت و اداسی سے بھرے صبح شام سےہیں
چند پل بھی خوشی کے بس نام کے ہیں
اب ان کو بھی یاد کریں تو دل دکھتا ہے
گزرے لمحوں میں رہنے سے کہاں کچھ ملتا ہے۔
ہم جیسے لوگوں کو تو بس قسمت کا لکھا کھا گیا
ہمارے دل میں جانے کیا تھا
جو دکھوں کے موسم کو بھا گیا۔۔
اب کس دل سے دیکھوں میں اس دل میں بستے چہرے؟
تبھی تو زہر لگتے ہیں مجھے اب ہنستے چہرے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

تنہائی کو دل میں اتار رہا ہے

Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Ju hay pas e dewaar udas urdu shayari

نوشتہ دیوار پڑھیئے

جو ہے پس دیوار پڑھیئے

کون کس کا راستہ روک سکا ہے آج تک

ہو سکے تو تاریخ کے ادوار پڑھیئے

خاک چھانتے گزری ہو اک عمر جنکی

انکے چہروں پرہی لکھا ہےآدم بیزار پڑھیئے

انکی خواہش رہی کہ پا لیں چہرے سے راز دل

ارےمیرے لفظوں میں درج ہے میرا احوال پڑھیئے

ایسی بھی کیا قنوطیت کہ سب خوش کن احساس مار لیئے

جواب ہجوم کے پاس نہیں، آپ تنہائی میں زیست کے اوراق پڑھیئے

از قلم ہجوم تنہائی

Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Main youn tau houn yaheen kaheen

میں یوں تو ہوں یہیں کہیں
سچ کہوں تو ہوں کہیں نہیں
میرا پتا بتاتے ہیں وہ لوگ
جنہوں نے دیکھا مجھے کہیں نہیں
میرے ملال مجھے جینے نہ دیں
مر سکوں نہ میں اس ملال میں
میری قدر تو میں خود نہ جان سکا
میری وقعت بھی اب کہیں نہیں
میرے شور و شر سے بے زار تھے
میرے اپنے مجھ سے بد گمان تھے
میں چپ ہوا تو پریشان ہیں
میرا شور تھا کہیں نہیں
مجھے معنی عشق معلوم نہیں
مجھے آداب وفا بھی یاد نہیں
میں الفتوں سے مکر ہوں گیا
میرا دنیا میں کوئی کہیں نہیں
مجھے غرور تھا اپنی ذات پر
اپنی شخصیت اپنے کردار پر
خودی کو روند گیا ہوں خود ہی
میرا اپنا آپ اب کہیں نہیں
اب پوچھ لے ہجوم بھی
کہاں گیے اپنے اور احباب بھی
کیا بتاؤں میں تنہائی میں بھی
میرے اس پاس کہیں نہیں

از قلم ہجوم تنہائی

Behak janay ka nuskha day humain koi

behak janay ka nuskha day humain koi…
peenay ko peeyay hain hum ne jaam boht…

khaloos ki keemat lagatay hain humare woh…
khud unki tau tawajo k bhi hain daaam boht…

asar se intezaar kertay rehay thay jis mehman ka…
aaj nahi aya kehta hay ho gae hay shaam boht…

seeta ki matti ka kasoor tha jo lipat rehi thi pairo se…
nazar nazar ki baat hay go dunya main hain raam boht…

hum unki pairawee main nikal gayay hain usi rastay pe…
lutnay kay shauqeen hain werna us nager main hain gaam boht…

hajoom main tanhai se bachna muhaal hota yun k…
tanhai ko hajoom se hain ab bhi kaam boht…

by hajoom e tanhai


بہک جانے کا نسخہ دے ہمیں کوئی۔۔
پینے کو پیئے ہیں ہم نے جام بہت۔۔۔

خلوص کی قیمت لگاتے ہیں ہمارے وہ۔۔
خود انکی تو توجہ کے بھی ہیں دام بہت۔۔۔

عصر سے انتظار کرتے رہے جس مہمان کا۔۔
آج نہیں آیا کہتا ہے ہوگئ ہے شام بہت۔۔

سیتا کی مٹی کا قصور تھا جو لپٹ رہی تھی پیروں
سے۔۔
نظر نظر کی بات ہے گو دنیا میں ہیں رام بہت۔۔۔

ہم انکی پیروی میں نکل گئے ہیں اسی رستے پر۔۔۔
لٹنے کے شوقین ہیں ورنہ اس نگر میں ہیں گام بہت۔۔۔

ہجوم میں تنہائی سے بچنا محال ہوتا یوں کہ۔۔
تنہائی کو ہجوم سے ہیں اب بھی کام بہت۔۔۔
از قلم ہجوم تنہائی

Rate us below

Rating
behak janay ka nushkha
Home » Zauq e sukhan urdu shayari

Ab thori woh zamanay hain k kahai wohi chahye

اب تھوڑی وہ زمانے ہیں کہ کہیں وہی چاہیئے۔۔
ہمیں اس دنیا سےکچھ بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

دو چار خواہشوں کی ہماری چھوٹی سی فہرست تھی
پرزندگی سے وہی ملا جس پہ کہا اب نہیں
چاہیئے۔۔

واعظ نے گزاری ہے زندگی بلک بلک کر مانگتے جسے۔۔ 

اسی جنت نے ٹھکرایا زاہد تو بہت ہیں یہ اب نہیں
چاہیئے۔۔

کہتے ہیں ملے گا سب اس جہان میں اس جہان میں تو بس۔۔
چند سانسیں ہیں ملی اس سےبھی ہیں تنگ اور اب
نہیں چاہیئے۔۔

احباب مختصر کلام مختصر اب حاصل وصول کا تذکرہ کیا کرنا
ہمیں اور  لوگ تو کیا ہمیں تو ہم بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

ہم نئے مزاج میں ڈھل چکے ہیں محفلوں سے اکتائے ہیں ۔۔
ہم رونقوں  ہجوم سے دورہیں اور تنہائی بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی۔