Desi Kimchi Episode 19

قسط 19

کچھ کھائو پیو گی؟ فاطمہ نے فریج سے پانی نکال کر پیتے ہوئے یونہی پوچھا تھا ازراہ تفنن مگر ان سب نے زور و شور سے گردن اثبات میں ہلائی۔۔ تو وہ گھور کر رہ گئ۔
کمروں کا انسپیکشن مکمل کرکے عشنا تو وہیں بیڈ پر سحری میں اٹھانے کی ہدایت کرتئ بے سدھ ہوئی الف اور عروج کا ارادہ رات کو عبادت کا تھا سو اس وقت کافی پی کر سستی بھگانے کا سوچ کر لائونج کے صوفوں پر سستی سے پڑی تھیں۔ عزہ منہ ہاتھ دھو کر کمر ے کی بتی بجھاتی کچن میں چلی آئی۔
عروج صبح ہاسپٹل نہیں جانا کیا۔
کافی کا ایک ساشے کم تھا سو اس نے ڈبہ اٹھا کر بندیاں گنیں پھر عروج سے بڑی آس سے پوچھا۔
چھٹی ہے میری کل۔ عروج نے دونوں بازو اوپر اٹھا کر انگڑائی لی فاطمہ دانت کچکچا کر رہ گئ۔
ایکسپریسو کافئ اسٹرانگ ہوتی ایک کپ اور بن جائے گی اگر مکس بنائوں۔۔
اس نے ساسر پر کھولتے پانی میں دودھ چینی سب اکٹھے چڑھا رکھے تھے ابال آنے پر سارے بچے کھچے ساشے کھول کر پتی کی طرح ڈال دیئے۔
اب اگلے ابال آنے پر چائے کی طرح تیار کی گئ کافی تیار ہوجانی تھئ۔ خود ہی اپنا کندھا تھپک کر شاباشی بھی دے ڈالی۔ یقینا کوئی امریکی ایکسپریسو کو ایسے بنتے دیکھ لے تو سر پیٹ کر جنگلوں میں نکل جائے۔
ان سب کیلئے کافی بناتئ فاطمہ خود ہی اپنی حرکت پر ہنس رہی تھی ۔۔ اسکا خوشگوار موڈ دیکھتی عزہ نے اسکے قریب آکر سرسری سے انداز میں پوچھا تھا۔
تم نے سیہون بھائی سے شادی کیوں کی؟
فاطمہ کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔
دزدیدہ نظروں سے لائونج میں خوش گپیوں میں مصروف عروج اور الف کو دیکھا پھر کہنی سے پکڑ کر عزہ کو کھینچ کر قریب کر لیا آواز دبا کر وہ جیسے غرائی۔۔
خبردار جو منہ سے کوئی بھاپ بھی نکالی۔ مجھے ویزے کی غرض سے پیپر میرج کرنی پڑی ہے بس ۔
کس سے چھپا رہی ہو؟ عزہ نے اطمینان سے سینے پر بازو لپیٹے
بستر خالی کرتے ہوئے عروج کو تمارے نئے شناختی کارڈ بنوانے کی درخواست ملی جو اس نے باآواز بلند پڑھی بھی۔
عروج۔ کی بچی۔ فاطمہ نے الف کی۔کسی بات پر ہنستی عروج کو دانت پیس کر گھورا
عشنا کو پتہ تھا، واعظہ کو تو ناممکن ہے پتہ نہ ہو ، یعنی ساری رازداری مجھ سے عروج اور الف سے تھی جیسے ہم تمہاری پھپوپھیاں ہیں اور تمہاری شادی کی اطلاع ہونے پر پھڈا ڈال دیں گئ کہ ہمیں کیوں نہیں بلایا
طنزیہ بولتے اسکی آواز خودبخود بلند ہوگئ تھی۔ الف اور عروج اپنی بات چھوڑ کر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوگئ تھیں
فاطمہ بھنا کر کپ پٹخ کر اسکی جانب گھومئ۔
کوئی ایسی فخرکی بات بھی نہیں تھی کہ میں اعلان کرواتی سب کو پکڑ پکڑ کر بتاتئ کہ میری شادی ہوگئ ہے۔اور
عشنا تو رہتی ہی میرے اور واعظہ کے ساتھ تھی اس سے کیسے چھپا سکتے تھے یہ بات۔۔۔۔ اور سیہون اور میں نے نکاح نہیں کیا صرف میرج پیپر سائن کیا ہے اسکو شادی شادی کہہ کر مجھے گلٹ نہ فیل کرائو۔
یہ صرف پیپر میرج ہے تو یہاں کیوں رہنے آگئیں؟
الف سنجیدگئ سے کہتی اٹھ کر انکے پاس آگئ
کیا مطلب کرائے دار ہوں یہاں جیسے واعظہ کے فلیٹ میں تھی۔ فاطمہ کو اسکا انداز چبھا۔
مگر فلموں ڈراموں میں ایسے حالات میں ہیرو ہیروئن کو ساتھ رہتے محبت ہوجاتی ہے۔ الف نے جیسے ڈرایا
ابے چل۔ فاطمہ نے کان پر سے مکھی اڑائی
خالص پاکستانی ذہنیت…. ساتھ رہو تو محبت بھی کرو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئ ہم ابھی تک لڑکا اور لڑکی ساتھ دیکھ کر بس ایک ہی معاملہ سوچتے۔
عروج نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
بالکل۔ فاطمہ کو یہ مدد غیبی لگی
میں مسلمان وہ بدھسٹ ہمارا رہن سہن زبان مزہب کسی طور بھی کوئی مماثلت نہیں ہم میں کم ازکم میرے ذہن میں ایسی کوئی بات کبھی نہیں آسکتی۔۔
اس نے جیسے فیصلہ سنایا اور پلٹ کر چولہا بند کرکے کافی کپوں میں نکالنے لگی۔
اور سیہون کے زہن میں ایسی کوئی بات آگئ تو؟
الف نے پرسوچ انداز میں کہا تو جانے کیوں کافی نکالتے ہوئے اسکا ہاتھ ڈگمگا سا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔۔
برستی بارش میں چھتری کا سایہ کیئے آتئ گرمیوں کی خوشگوار سی ڈھل چکنے والی شام میں گھر کا راستہ ناپتی وہ مانوس راستوں پر تیز تیز قدم اٹھاتی گامزن تھی جب کوئی اسکے پیچھے صدیوں کا فاصلہ طے کرتا بھاگتا آیا تھا۔۔
وازیہ۔
مانوس آواز۔۔
پھولی سانسوں سے جان لگا کر پکارتا کوئی۔ اسکے قدموں کی رفتار دھیمی ہوئی مگر وہ رکی نہیں۔
وازیہ ۔۔ تم کو کیا ہوا۔ کیا برا لگ گیا تمہیں؟ ایسے کیوں چلی آئیں۔
اسکو رکتا نہ دیکھ کر وہ جان لگا کر بھاگتا ہوا ایکدم اسکے سامنے آگیا تھا۔ وہ بروقت رکی ورنہ ٹکرا ہی۔جاتی۔
گرے پینٹ سفید شرٹ والا مخصوص بیج والا یونیفارم بارش میں بھیگ چکا تھا۔ اسکول سے وہ یقینا بھیگتا ہوا بھاگتا آیا تھا۔ اسکے پاس صبح بھی چھتری نہیں تھی مگر صبح خود اسے چھتری شیئر کرکے اسکول تک بنا بھیگے پہنچانے والی وہ لڑکی اس وقت کٹھور سی ہوگئ تھی۔یکسر اجنبی نگاہوں سے کم جونگ وون کو دیکھتی وہ لڑکی ۔
اس نے سر جھٹکا۔
اپنی سانسیں بحال کرتا وہ جیب سے پمپ نکال رہا تھا۔ منہ میں انہیلر لیکر اس نے جلدی جلدی دوا حلق میں انڈیلی۔
ایستھما کا مریض برستی بارش میں بھاگ رہا تھا اسکی سانس بری طرح اکھڑ چکی تھی۔۔۔ کتنے لمحے وہ بات کرنے کے قابل نہ رہا۔ اتنے لمحے کسی کو خود کو سمیٹنے میں لگ گئے تھے
میرے لیئے تو پارٹی نہیں تھی نہ میں ٹریٹ دے رہی تھی۔ سو میرے رکنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا۔
لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
مگر میں نے کچھ پوچھا تھا تم سے۔۔۔۔۔ وہ چیں بہ چیں ہوا۔
جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سینے پر ہلکے ہلکے مکے مار رہا تھا۔ سانس پھولتی اٹکتی ۔ اسے یقینا بولنا نہیں چاہیئے تھا مگر وہ بول رہا تھا۔بے تابئ سے بے چینی سے۔۔
تم بنا جواب دیئے ایسے۔۔
کہا تو تھا آندے۔
لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور ایک طرف سے ہوکر نکل جانا چاہا۔
جونگ نے اسکا بازو تھام۔کر روکا
سرعت سے اس نے بازو چھڑایا تھا۔ جونگ کی چندی آنکھوں میں حیرانی سی اتر آئی۔ وہ لڑکی آج لحاظ کرنے کو تیار نہ تھی کتنا بیمار تھا وہ۔زرا خیال اسکی آنکھوں سے نہ چھلکا۔
تم ۔۔ تم ایسے کیسے۔ ۔۔ میرا مطلب۔ ہاہ آہ۔
وہ پھر سانسیں بحال کرنے لگا۔۔
سوچ کے۔۔ جواب دینا چھے بال۔
وہ منت کرنے پر اتر آیا۔۔
میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔
لڑکی نے پرسکون سے انداز میں اسکی بات سنی پھر ہموارلہجے میں کہتی وہ اٹھارہ سال کی ہائی اسکول کی طالبہ اس وقت جیسے جست لگا کر اسی سال کی بردباری دکھا رہی تھی۔
کیوں ۔؟ ویئو؟
وہ جیسے تڑپ سا اٹھا تھا۔
کیا مطلب کیوں ؟۔۔
وہ جیسے حیران ہوئی۔۔
میں اور تم اچھے دوست ہیں بس۔ اس سے ذیادہ اور کچھ نہیں۔
اس نے کندھے اچکائے۔
ہم بہت اچھے۔۔ بہت اچھے دوست ہیں۔ ہماری دلچسپیاں، عادتیں ،خیالات سب ملتے ہیں ۔۔ ہم جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ۔۔
آکھوں ۔۔ وہ کھانسنے لگا تھا۔۔
میرے دلچسپیاں ، عادتیں خیالات ، کیتھرین سے بھی ملتے اسے ڈیٹ کرنے لگوں کیا؟
وہ ہنسی۔۔ ہنستے ہوئے جونگ کو وہ دنیا کی سب سے ذیادہ سنگدل اور کٹھور لڑکی لگی تھی۔
بارش تیز ہورہی ہے بھیگو گے تو طبیعت اور خراب ہوگی گھر جائو صبح ملاقات ہوتی ہے اسکول میں۔ آننیانگ
نرم سے انداز میں کہہ کر اس نے پھر اپنی راہ لی تھی۔
چھتری تیز ہوا سے اڑ رہی تھی مگر اس نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔
اسے جاتے دیکھ کر اسے لگا تھا جیسے وہ اس سڑک سے نہیں اسکی زندگی سے جارہی ہے
وہ پھر تیزی سے اسکی جانب بڑھا آگے بڑھ کر اسکو کندھے سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا
اور جیسے ساری توانائیاں لگا کر چیخا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نونا۔۔
پکار پر وہ فورا پلٹی۔ہے جن اس سے کچھ فاصلے پر بھاگتا آرہا تھا
پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے پکار کر اسے روکنا چاہا تھا
اور وہ رک بھی گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر سیہون سڑک پر ٹیکسی روک رہا تھا۔ ہے جن کو واعظہ کو بلانے کا ٹاسک اسی لیئے دیا تھا کہ یقینا وہ ہے جن کو برستی بارش میں اپنے ساتھ بھگو کر بیمار ہونے نہیں دے گی۔
اف نونا بہت تیز چلتی ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہیونگ پچھلی گلی میں آدھی گلی تک گئے میں یہاں سڑک کی جانب مڑ گیا تو آپ نظر آئیں پھر ہیونگ کو کال ملاکر بلایا تو آپ پھر غائب۔ اف۔سارا کھانا ہضم ہوگیا میرا۔ اب کل روزہ نہیں رکھا جانا مجھ سے۔۔
ہے جن شکایتی انداز میں کہہ رہا تھا۔ اسکے انداز پر واعظہ کو ہنسی ہی آگئی۔
اچھا بہانہ ہے ۔ اس نے اسکے بال بگاڑدیئے۔
وہ منہ بناکر بال ماتھے پر بکھرانے لگا۔
سیہون ٹیکسی میں بیٹھ کر ٹیکسی ریورس کروا کر انکے پاس ہی لارہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں بھیگے مرغے بنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔
ملگجا اندھیرا چھایا ہوا تھا یقینا سب سوچکی تھیں۔سیہون دروازے پر ہی جھجک کر رک گیا۔
واعظہ اور ہےجن جوتے بدل کر اندر چلے گئے بتیاں جلا۔دیں گھر کا مالک دروازے پر ہی کھڑا رہا۔
کیا ہوا دعوت نامہ بھیجوں؟ واعظہ حیرانی سے اسے دروازے میں جمے دیکھ کر طنزیہ بولی۔ ہے جن سیہون کے کمرے کا دروازہ کھولنے لگا۔
وہ دو ہی تو کمرے میں میں۔۔ وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا ہے جن نے دروازہ پورا کھول دیا
خالی ہے یہ کمرہ۔ آجائیں۔
ہے جن کے اعلان پر وہ حیران ہو کر اندر چلا آیا۔ کمرے میں جھانکا تو وہ جوں کا توں ویسے کا ویسا تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
یہ سب لوگ ایک کمرے میں ایڈجسٹ ہوگئ ہونگی۔ ہمیں عادت ہے ایسے رہنے کی تم دونوں کو لیکن کمرہ شئیر کرنا پڑے گا ۔ ہے جن کو کوئی اپنا نائٹ ڈریس دے دو۔ سارا بھیگ گیا ہے۔
واعظہ کے کہنے پر ہے جن جہاں مسکرایا وہیں سیہون اسکی۔نقل۔اتار کر بولا۔
ہے جن کو دے دو۔ ہونہہ میرے لیئے تو بارش میں پانی کی۔بجائے دھوپ کی کرنیں گر رہی تھیں سوکھا ہوا ہوں میں ۔
واعظہ ان سنی کرتی دوسرے کمرے کا دروازہ کھولنے لگی۔
اندر منظرہی کچھ اور تھا۔
عشنا ، فاطمہ ، عروج عزہ قطار میں چادریں بچھائے ستائیسویں کے اعمال کرنے میں مشغول تھیں۔
انکو دیکھ کر اسکی پیشانی عرق آلود سی ہوئی۔
آج ستائیسویں ہے اور میں بھول ہی۔گئ اعمال کرنا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ستائیسویں ہے اور مجھے اعمال تو دور نماز کا موقع بھی نہ مل سکا۔
وہ گھٹنوں میں منہ دے کر سسک اٹھی۔ باہر آسمان بھی چھاجوں مینہ برسا رہا تھا کوٹھری کے چھوٹے سے روشندان سے آتی بادلوں کی گھن گھرج۔۔ نیم تاریکی ۔
اس چھوٹی سی کوٹھری میں اسکے سوا ایک اور عورت بھی تھی۔ دیوار سے لگے بنچ خوب چوڑے تھے کہ ان میں سے ایک پر وہ خود بیٹھی تھی تو دوسرے پر وہ عورت سر تک چادر تانے جانے سو رہی تھی یا نہیں۔ نہ خراٹوں کی آواز نہ ہل جل۔۔۔
اسکی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔سحری میں جانے کتنا وقت باقی تھا۔۔ یہاں کون اسے سحری کراتا۔ بنا سحری کے نیت کرلے کیا کرے۔ وہ بے چین ہو کر آنسو پونچھنے لگی۔
اللہ ہی اس مصیبت کو دور کرے گا۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اللہ۔ بس تو ہی میری مدد کر۔
بڑ بڑاتے ہوئے وہ خود کو تسلی دیےرہی تھی۔ جیل کی سلاخوں میں سے باہر جھانکنا چاہا تو کچھ فاصلے پر میز کرسی پر ایک موٹی سی حوالدارنی اونگھ رہی تھی۔
سنو۔ اس نے پکارنا چاہا۔
خرر خرخر۔ خراٹوں کی آواز بلند ہوئی۔ اس نے مڑ کر بنچ پر سوتی عورت کو دیکھا پھرحوالدارنی کو۔
جانے دونوں میں سے کس کے خراٹے بلند ہوئے تھے۔
یا اللہ ایک گھڑی تک نہیں میرے پاس۔ کیا کروں۔
وہ سلاخوں سے ٹیک لگا کر وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
ویو۔۔ کسی نے اسکی پسلی میں ڈنڈا سا چبھویا۔ وہ بری طرح ڈر کر سیدھی ہوئی۔ حوالدارنی اسکے بری طرح ڈرنے پر تھوڑا نرم ہوئی۔
وییو کیا چاہیئے؟۔
ٹائم۔ ۔۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنی کلائی کو دوسرے ہاتھ سے ٹھونگے مار کر بتایا۔
سوا چار۔
وہ کہہ کر جمائی لیتی پلٹ گئ۔
واٹ؟ ۔۔ اسے سمجھ نہ آیا۔
ٹائم۔۔ اس نے بے تابی سے دھرایا۔
کیا مصیبت ہے رو رو کے بھی اسکی توانائیاں ختم نہ ہوئیں کہ اٹھ کر میرے سر پر بک بک کرنے بیٹھ گئ۔ میرا پہلے ہی دماغ خراب ہوا ہے اب اگر یہ سوئی نہیں تو ہمیشہ کیلئے سلادوں گی اسے میں۔
بنچ پر سوتا وجود ایک جھٹکے سے دھاڑتا ہوا اٹھ بیٹھا
سرخ آنکھیں سرخ چہرہ بھاری تن و توش کی وہ مخصوص کڑخت تاثرات جو نور کی آمد پر اس کے تھے چہرے پر سجائے کورین آہجومہ۔
جملے کے معنی ککھ پلے نہ پڑنت خے باوجود نور کی روح فنا ہونے کوآئی تھئ۔
صبر سے کام لو۔ نئی آئی ہے دو ایک دن میں سیٹ ہو جائے گی۔
حوالدارنی اسے دیکھتے ہوئے تسلی آہجومہ کو دے رہی تھی۔
مجھے وقت بتادیں میں نے روزہ رکھنا ہے۔
نور نےملتجی انداز میں حوالدارنی کو کہا ۔
بتایا تو یے۔ وہ حیران ہوئی۔۔ یقینا یہاں زبان کا فرق آڑے آرہا تھا۔
وقت / ٹائم۔ نور نے دوبارہ گھڑی کا اشارہ کیا۔تو وہ حوالدارنی پریشان ہو کر نہ جانے اپنی زبان میں کیا کیا بولنے لگئ
دے؟ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی جو نور کی پشت پر کسی کو دیکھتی گھبرائی تھی۔ اسکی نگاہوں کے تعقب میں دیکھا تو جم سی گئی۔
چادر ایک۔طرف کرکے خونخوار نظروں سے گھورتی وہ آہجومہ سیدھا اسکی جانب بڑھ رہی تھی۔ اسے تحمل سے کام۔لینے کا کہتی گھبرائی ہوئی حوالدارنی اور نور جو ڈر کے مارے پیچھے ہوتی سلاخوں سے چپک گئ تھی مزید پیچھے ہونا ممکن نہیں تھا ۔۔ آہجومہ بھنائی ہوئی آئی مکا لہرایا سیدھا اسکے منہ کی جانب نور نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں۔
چند ثانیوں میں ناک منہ گال پر کوئی مکا پڑنے کا احساس نہ ہوا تو خود ہی ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔
آہجومہ اسے گھور رہی تھیں مگر اسکے مکے کی جگہ کلائی اسکی نگاہوں کے عین سامنے تھی۔
جس کے بڑے سے کالے ڈائل پر دمکتی سوئیاں اسے وقت دکھا رہی تھیں۔۔ اسکی سینے میں دم توڑتی سانسیں بحال ہونا شروع ہوئیں۔۔کہ آہجومہ حلق کے بل چلا اٹھی۔
دیکھو اچھی طرح وقت اور اب اگر تم نے دوبارہ کسی سے بھی وقت پوچھا تو تمہارا وقت الٹا چلا دوں گی سمجھیں۔
جانے ڈراموں میں کیسے ایسے موقعوں پر لڑکیاں مزے سے بے ہوش ہو جاتی ہیں ۔نور کے تو چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔ یوں لگتا تھا حواس اگلی کئی صدیوں تک ساتھ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افطاری کرتے ہی وہ سب عید کی شاپنگ کرنے گنگم اسکوائر آئی تھیں۔کوئی کورین فیسٹیول قریب نہیں تھا سو رش بھی ذیادہ نہیں تھا اور چونکہ قوت خرید بھی انکی ذیادہ نہیں تھی سو بڑے بڑے مالز میں صرف ونڈو شاپنگ کرکے وہ سب خالص پاکستانی طرز کئ مارکیٹ میں چلی آئیں۔
اسکرٹ ٹرائوزر جینز۔ بہت ورائٹی تھی۔ لانگ فراکس شرگز بھی مل جاتے تھے سو دھڑا دھڑ شاپنگ شروع ہوچکی تھی۔۔
انکو انکی۔پسند کے کپڑے چننے کیلئے چھوڑ کر وہ اور فاطمہ مردانہ کپڑوں کی دکان میں چلی آئیں۔
شرٹ ٹرائوزر نکلواتے اسے یا سب اچھے لگ رہے تھے یا سب کے سب بکواس۔ وہ بے دلی سے چھآنٹ رہی تھئ۔
کس کیلئے لے رہی ہو؟ سیہون کیلئے؟ فاطمہ نے یونہی پوچھا جوابا واعظہ نے جن نظروں سے دیکھا تو وہ کھسیا کر شرٹ اٹھا کر دیکھنے لگی۔باہر عشنا عروج عزہ اور الف جیولری اور کلپس کے اسٹال کی جانب بڑھ گئیں۔ مگر ہیئر پنز اور کلپس جو یہاں کی لڑکیاں شوقیہ لگائے پھرتی تھیں انکے گھنے لمبے بالوں کیلئے چھوٹے اور ناکافی تھے۔ عزہ عروج عبایا پہنا ہوا تھا تو الف نے اسکارف لے دے کر عشنا کی شامت آئی ۔ اسکے بالوں پر ایک ایک کلپ پن لگا کر دیکھی گئ۔ آدھے سے ذیادہ اسٹال انہوں نے یہ الا بلا کا خرید ڈالا۔ بریسلٹ ، ٹاپس ، انگوٹھیاں ، کیچر مصنوعی جوڑا تک خرید کر وہ سب مطمئن ہوگئ تھیں۔ اب بس مخصوص کورین سریوں والی پنیں ہی بچی تھیں جواب تو شائد کورین لڑکیاں بھی نہ خریدتئ ہوں ۔۔
جب عشنا ٹھیک ٹھاک کارٹون بن گئ سارے بال اجڑ گئے تب اسکی خلاصی ہوئی۔ آہجومہ نے اتنی ساری کلپس بکتے دیکھ کر ازراہ ہمدردی اسکو آئینہ اور کنگھا فراہم کیا۔
میں کچھ ذیادہ ہی تم لوگوں کے ساتھ سویٹ نہیں؟ ناجائز فائدہ اٹھاتی ہو تم لوگ میرا۔
آئینہ دیکھتے ہی وہ مڑ کر انہیں گھورنے لگی۔ نقابوں میں عزہ عروج کی بتیسی تو نہیں نظر آرہی تھئ مگر آنکھیں کورین جیسی چندی ہو چلی تھیں ہنس ہنس کر۔ بال سنوار کر شکریے کے ساتھ اس نے دونوں چیزیں واپس کیں۔
کوئی تقریب ہے خاص کیا؟ جسکی تیاری ہے؟
آہجومہ نے بڑے اشتیاق سے ان سب کو اپنا آدھا اسٹال خریدتا دیکھ کر پوچھا تھا۔ اسکی بات عروج نے سمجھ لی تھی سو اسی نے جھک کر جواب دیا۔
ہماری عید ہے۔ ہمارا مزہبی تہوار اسلیئے ہم اتنی خریداری کر رہی ہیں۔
دے دے۔ وہ آہجومہ سر ہلا کر انہیں جانے کیا اشارہ کرتی اسٹال انکے اوپر چھوڑکر مڑ کر اپنا سامان کھنگالنے لگیں
اب یہ کیا کرنے لگیں؟ عشنا حیران ہوئی
چینج لے رہی ہونگئ۔ الف نے اندازہ لگایا
بھائو تائو بنا چیز لیتے عجیب سا نہیں لگ رہا ۔۔ عشنا نے کہا تو وہ سب سر ہلانے لگیں۔
۔۔۔ کیسا ہم کبھی درزی کے چکر کبھی چوڑیاں کبھی میچنگ کیلئے سب کزنز اکٹھے ہو کر جاتے تھے۔ عزہ نے ہونٹ لٹکا کر کہا
مجھے کرتا پاجامہ پہننا ہے۔ الف نے بھی اداس سی شکل بنا لی۔۔
میں تو ہمیشہ چاند رات پر جوتا خریدتی ہوں یہاں تو عید کے دن سر میونگ کی کلاس لے رہی ہونگی۔۔
عزہ نے اتنی حسرت سے کہا کہ وہ سب اس سے لپٹ ہی تو گئیں۔
ہم تمہیں چاند رات کو۔جوتا دلانے آجائیں گے۔ سر میونگ کیلئے بھی لے لینا عید کا تحفہ۔
عروج نے مسخرے پن سے کہا تو وہ سب ہنس پڑیں۔
مگر عزہ کو اپنی جوائینٹ فیملی سسٹم میں ڈھیروں ڈھیر کزنوں کے ساتھ گزاری عید یاد آرہی تھی چچائوں ماموئوں اور بڑے کزنوں سے اینٹھی گئ عیدی کا بھی خسارہ جھیلنا تھا اس بار تو۔
کچھ بھی ہو عید کا تصور ہی یہاں محال ہے۔ اس نے فیصلہ سنایا۔
آگاشی۔۔
آہجومہ بوری سے خوش خوش جانے کیا برآمد کرکے انکو اشارے سے متوجہ کرنے لگیں۔
کورین طرز کی شہزادیاں جو سریئے جیسی کلپس لگاتی تھیں بالوں میں جس کے کنارے پر چڑیا پھول اور جانے کیا کیا نقش و نگار تھے پلاسٹک ریپ میں ایکدم چم چم کرتی نئی نکور۔ گن کر چار انکی جانب بڑھانے لگیں
اتنا کچھ تو لے لیا اب یہ کیا کریں گے لیکر۔ عزہ حیران ہوئی
عروج ان سے کہو بس بہت چیزیں لے چکے اب عید ہے تو کیا انکی پوری دکاں خرید لیں۔
الف نے لقمہ دیا۔
آدھی تو خرید لی ہے پوری بھی لے لیں کیا حرج ہے۔ عروج نے کندھے اچکایے اور بیگ کھولنے لگئ
ہاں یار کتنی بوڑھی ہیں میری دادی کی عمر کی لگتی ہیں۔ عشنا کو بھی انکے جھریوں زدہ بوڑھے چہرے کو دیکھ کر ترس آگیا۔ آنکھوں میں شوق کا جہاں آباد کیئے وہ انکو دونوں ہتھیلیوں میں پنیں سجائے پکڑا رہی تھیں
کتنے ہوئے۔ کئی ہزار وون کے نوٹ نکال کر عروج پوچھ رہی تھی
آندے آندے۔ آہجومہ زور و شور سے نفی میں سر ہلانے لگیں۔
پھر ہنگل میں کچھ کہتی چلی گئیں عروج کا پیسے بڑھاتا ہاتھ رکا واپس ہوا اس نے آگے بڑھ کر آہجومہ کو جھک کر شکریہ ادا کیا پھر بڑھ کر انکے گلے لگ گئ۔
اسے کیا ہوا؟ وہ تینوں بھونچکا دیکھتی رہ گئیں۔۔
آہجومہ کی آنکھیں جھلملا سی گئیں پیار سے عروج کا کندھا تھپتھپا کر وہ آنسو پونچھنے لگیں۔۔
کیا کہہ رہی تھیں؟ تینوں عروج کے سر ہوگئیں
انہوں نے کہا۔۔ عروج نے کہنا شروع کیا۔ فلیش بیک میں آہجومہ کی تصویر پر عروج کئ آواز ڈب ہونآ شروع ہوگئ تھی
تم سب اپنے وطن سے اپنوں سے دور تہوار منا رہی ہو یہ چھوٹا سا تحفہ عید کا سمجھ کر رکھ لو ۔ اپنی ماں جیسی کی طرف سے۔
فلیش بیک ختم ہو چکا تھا
آہجومہ نے آنسو پونچھ کر سر اٹھایا تو تین مزید لڑکیاں جزباتی سے انداز میں بانہیں پھیلائے ان سے گلے لگنے کو تیار کھڑی تھیں۔
کتنی عجیب بات ہے ایک انجان ملک میں انجان عورت انجان گاہک کی خوشی میں شریک ہونے کو تحفے دے رہی اور ایک ہم ہیں عید کا تہوار قریب ہو تو قیمتیں آسمان تک پہنچا دیتے تحفہ تو دور پیسے دے کر بھی مہنگی سے مہنگی چیز دیتے اپنے گاہکوں کو۔ ہم مسلمان قوم۔۔
عروج نے تاسف سے سوچا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آتے آتے انہیں ٹھیک ٹھاک دیر ہوگئ تھی۔ سیہون اور ہے جن دونوں گھر میں نہیں تھے۔ واعظہ اپنے شاپرز اٹھا کر سیہون کے کمرے میں رکھ آئی تھی اور اب ان سب کیلئے چائے بنانے کچن میں گھس گئ ۔ یہ اسلیئے تھا کہ خود چائے کی طلب ہو رہی تھی اور کسی اور کے ہاتھ کی پسند نہ تھی اسکا فلسفہ تھا چائے بنانے لگو تو پھر ایک کپ بنائو یا ایک سو کپ کیا فرق پڑتا ۔ ان سب نے سیدھا لائونج میں پڑائو ڈالا
یہاں سے وہاں تک شاپرز پھیلا دیئے تھے سب شاپنگ کھول کھول کر دیکھی جا رہی تھی
میں اسے پہن کر آتی ہوں۔
شوق سے لایا پیچ ٹاپ عزہ جھٹ لیکر کمرے کی جانب دوڑی جب پہن کر آئی تو وہ سب اوہ کر کے رہ گئیں۔
ٹاپ کھنچنے والے کپڑے کا تھا جو نازک سی عزہ کے جسم سے چپک ہی گیا تھا اور وہ بہت نازک سی لگ رہی تھی۔ ٹاپ گھٹنوں سے اوپر تک تھا جو پیچھے سے تھوڑا گھیر والا تھا آستینیں شکر ہے پوری تھیں گلے پر سلور ستارے سےتھے جو سلور لائننگ کے ساتھ بل کھاتے دامن تک آرہے تھے۔ ٹاپ یقینا بے حد خوبصورت تھا وہ بہت خوش خوش ماڈلز کی طرح پوز مار رہی تھی۔
سفید ٹائٹس اور سفید اور پیچ خوبصورت سا اسکارف۔ میچنگ پوری تھی
عزہ عید پر بالوں کو کرل کرکے یہ والی پن لگانا ۔ الف نے سلور سی پن نکال کر دی۔
میچنگ ائیر رنگ پہن کر وہ جتنی تعریف کروانا چاہ رہی تھی اسکی اتنی تسلی نہیں ہو پائی تھی۔
واعظہ دیکھو کیسی لگ رہی میں۔
واعظہ کچن میں تھی بس وہی رہ گئئ تھی سو بطور خاص اسے دکھانے چلی آئئ۔
پیاری۔ اس نے مسکرا کر تعریف کی۔
یہ میرا عید کا ڈریس ہے پاکستانی لک دے ہی ڈالی میں نے اسے۔
وہ اپنا ٹاپ لہرا کر گھومی۔
ہوں اچھا کیا۔ زبردست۔
وہ کہہ کر پتی ڈالنے لگی۔۔
عید پر اسکے ساتھ بال کھول کر کرل کر لوں یا اسٹریٹ ذیادہ اچھالگے گا؟
اسے تسلی نہیں ہو رہی تھی شائد اسکا دبا دبا جوش دیکھ کر وہ جوش آتئ چائے کا چولہا دھیما کرکے اسکی جانب مڑی۔
تم اتنا تیار ہو کر پھر اسکے اوپر عبایا پہن کر یونیورسٹی جائوگی؟
یونیورسٹئ کیوں عید کے دن کون۔۔ جاتا۔
بولتے بولتے خیال آیا تو وہ بجھ سی گئ ۔جوش جھاگ کی طرح بیٹھتا گیا۔
یونیورسٹی تو عبایا کرکے جاتی ہوں چھٹی بھی نہیں ہوگی یہاں تو۔ ایویں اتنا کھڑاگ کیا۔ عید تو سر کا لیکچر سنتے گزرنی ۔۔
وہ بری طرح اداس ہو کر رہ گئ۔ سر جھکاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتئ کمرے کی جانب بڑھ گئ کپڑے بدلنے۔ واعظہ مڑ کر چائے کپوں میں نکالنے لگی
کیا واعظہ حقیقت کا تھپڑ مارنا ضروری تھا؟ بچی خوش ہو رہی تھئ۔
فاطمہ اپنے لیئے کافی بنانے آئی تو انکی گفتگو سن کر کہے بغیر نہ رہ سکی۔۔۔ آگے بڑھ کر چینی کا ڈبہ اٹھانے لگی تو واعظہ نے اسکے ہاتھ پر چپت لگادی فاطمہ ہاتھ سہلاتی گھورکرررہ گئ
اب یہ کس لیئے؟ اسے غصہ آگیا تھا۔
اتنی کافی مت پیا کرو چائے بنا دی ہے اسی کو پیو۔
ایک کپ اسکی جانب بڑھا کر وہ ٹرے میں کپ لگا نے لگی۔
فاطمہ نے بھنا کر کافی بنانے کا ارادہ کیا پھر اسے ایک مرتبہ پھر گھور کر اپنا کپ شرافت سے اٹھا کر لائونج میں چلی آئی۔ یہاں ۔ عروج کو نیا دکھ لگا تھا۔عید کیلئے لایا ٹاپ بنا شرگ پہننے لائق نہ تھا۔
یار وہاں میں نے غور ہی نہیں کیا کہ شرگ کے بغیر اس میں آستین ہی نہیں۔ بتائو شرگ علیحدہ سے لاکھ وون کا تھا کیوں لیتی اتنا مہنگا میں مگر اب اسکا کیا کروں۔
عروج نے ایک لانگ ٹاپ خود سے لگا کر۔آئینے میں دیکھا وہایٹ پلین لانگ ٹاپ سلیو لیس تھا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر واپس رکھ دیا۔
ہاں تو تم نے عید کے دن کونسا اپنے سسرال جانا ہے ؟ ڈاکٹرز گائون پہن لوگی اوپر سے کسی کو کیا پتہ لگے گا کہ سلیو لیس ہے۔
الف دور کی کوڑی لائی۔ عروج نے زور و شور سے کدو ہلایا۔
منحصر ہے کہ عید 29 کی پڑے یا 30 کی 29 کی عید ہوئی تو میری چھٹی بنتی ہے۔ دعا کرو چاند ہوجائے۔
عروج کھلکھلا ئی۔
یہاں تو ہو ہی جائے گا یہاں کونسا چاند دیکھنے پر جھگڑے ہوتے۔۔
واعظہ چائے کی ٹرے اٹھائے یہیں چلی آئی۔ اسکی بات میں وزن تھا۔
اعلی چائے واعظہ۔ چائے کا۔کپ اٹھاتے ہی عشنا نے گھونٹ بھر کر داد دی۔
واعظہ تم تو کہہ رہی تھیں کہ پاکستانی ایمبیسی میں کوئی تقریب ہوگی عید کے دن ہم جائیں گے؟ عروج نے اشتیاق سے پوچھا۔ عزہ کپڑے بدل کر سابقہ موڈ میں واپس آئی آتے ہی وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
میری کلاس ہوئی تو کوئی بھی نہیں جائے گا سمجھیں۔ سب۔۔۔۔

اسکی وارننگ کو ان میں سے کسی نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔
یار ہمیں دلاور بھائی کو دیکھنے جانا چاہیئے تھا۔ ہاسپٹل۔
عشنا کو اچانک طوبی یاد آئی تو کہہ بیٹھی۔
دو گھنٹے میں ڈسچارج ہو۔گئے تھے وہ۔ اب تو گھر میں بیڈ ریسٹ پر ہیں چک آگئ ہے انکی کمر میں۔ میں نے اپنے کولیگ سے پتہ کروایا تھا۔
عروج نے بتایا ۔۔
تو انکو کوئی وارننگ نہیں ملی انکو گھر جانے دیا پولیس والوں نے ؟
الف کو خالص پاکستانی تشویش ہوئی۔
جب ہم گھر نہیں جا سکتے تو وہ کیوں گئے گھر؟
کیونکہ سارا خونم خون ہمارا گھر ہوا وا تھا بھلے کسی کی بھی وجہ سے۔
عشنا نے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔
یار کیا عید ہوگئ ہماری کتنے پلان بنائے تھے نور تو کہہ رہی تھئ ہم بیچ پر جاتے دوبارہ لیکن اب تو۔۔۔ کیا نور ۔۔۔
نور کی عید جیل میں گزرے گی؟ ۔ عزہ اداس سی ہو گئ تھی
عید جیل میں گزر جانا بہتر ہے ایک عمر جیل میں گزار دینے سے۔ واعظہ اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولی۔۔
جو اسکا کیس بنا ہے اس میں معاملہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ میں اسکے والدین سے مزید یہ معاملہ چھپا نہیں سکتی یہ تیسری کال ہے اسکی امی ۔۔ کی۔
اس نے اپنے موبائل کی اسکرین انکو دکھائی جس پرابھی بھی نور کئ امی کی کال آرہی تھی ۔ ہمیشہ سے سائلنٹ موڈ پر اسکا فون یقینا کسی دن اسے پھنسوانے والا تھا۔
پلیز ایسا غضب مت کرنا اسکے گھروالے اسکی پڑھائی ختم کرکے واپس بلالیں گے
الف تڑپ کر بولی۔
اب تک تو بہانہ بنایا ہی ہے مگر پاکستان ایمبیسی سے وہ لوگ رابطہ کریں گے ہی اور ظاہر ہے معاملہ یونہی ختم نہیں ہو سکتا کیس بنا چلا تو واعظہ نہ نور کی ماں لگتی نا باپ یہ کس طرح اسکی سرپرست کے طور پر کوئی فیصلہ لے سکتی ہے بھلا؟
فاطمہ حسب عادت تیز ہو کر بولی تو وہ سب چپ ہی رہ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 18

قسط 18
وہ دونوں تھکے تھکے سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔
سیہون دروازے کے پاس رکھے ریک میں جوتے بدلنے رکا تھا تو فاطمہ بے تکلفی سے سیدھا بڑھتی گئ۔
سیدھی لائونج میں آکر صوفے پر۔گری تھی ۔ بلاک ہیل والے سینڈل والا پائوں صوفے پر جمانے ہی لگی تھی کہ خیال آیا تو اسٹریپ اتارنے لگئ۔۔سیہون نے خاصی ناپسندیدگی سے اسے باہر کے جوتے گھر میں لاتے دیکھا مگر بولنے کی بجائے رخ بدلتا سیدھا کچن میں لینڈ کیا تھا۔ انکے چھوڑے ہوئے برتن جوں کے توں پڑے تھے وہ خاموشی سے پلیٹیں سمیٹنے لگا۔۔ فاطمہ سینڈلز سے پیر آزاد کر کے صوفے پر دراز ہوگئ ۔ نور کا چہرہ اسکی نگاہوں سے جا نہیں رہا تھا۔ کیسا پکار رہی تھی انکو۔ بے چاری۔ کیا خبر تھی اتنا معمولی سا مزاق اتنی مصیبتیں کھڑی کردے گا۔کیا فلمی سین ہوا ہے۔ اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
بات سنو تم لوگوں کے ہاں رشوت وشوت نہیں چلتی؟ میرا مطلب ہے اگر ہم کچھ دے دلا کر نور کو چھڑواسکیں عید سے پہلے۔۔
فاطمہ ایکدم پرجوش سی ہو کر اٹھ بیٹھئ۔۔ سیہون نے سرد سے انداز میں اسکا جوش وخروش دیکھا
عید کب ہے؟ اسکا سوال منطقی تھا۔۔
آج چھبیسواں روزہ ہے تو اگر انتیس کی عید ہوئی تو دو دن۔ وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئ۔
اوہ خدایا مجھے لیلتہ القدر یاد نہ رہی حد ہوگئ اتنی بھلکڑ کب ہوئی میں۔ ایک تو جب سے کوریا آئی ہوں مزہب سے ہی دور ہوتی جارہی ہوں امی تو ۔۔۔ اس نے سر پر بلا تکلف دو تین چپیڑیں مار لیں۔ وہ اردو میں بول رہی۔تھی سو سیہون کندھے اچکا کر پلٹ کر چولہا جلانے لگا۔ چولہا جلا کر اس نے سنک سے کپ میں پانی لیا ریک سے دیگچی اٹھا کر چولہے پر رکھی پانی ڈال کر پلٹا تو اوپر کی سانس اوپر نیچے کی نیچے رہ گئ۔اسکے بالکل برابر میں
فاطمہ دونوں ہاتھ کمر پر جمائے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
کچھ پوچھا ہے میں نے۔
کیا؟ اسے واقعی یاد نہیں تھا۔
کوئی راشئ افسر ہے جان پہچان والا جس سے کہہ سن کر دے دلا کر ہم نور کو دو دن میں چھڑوا لیں؟
اس نے گہری سانس لیکر رپیٹ ٹیلی کاسٹ چلایا۔
کتنے پیسے ہیں تمہارے پاس۔
سیہون نے تولتی نگاہوں سے دیکھا
میرے پاس۔۔ جوش سے کہتے وہ حساب کرتی گئ اور جیسے اسکی خوش فہمیوں کے غبارے میں سے ہوا بھی نکلتی گئ۔
میں اپنی بات نہیں کر رہی مطلب اگر نور پیسے دے دلا کر جان چھڑوانا چاہے اس پولیس کیس سے تو۔۔
اس نے جھٹ پینترا بدل لیا تھا۔ سیہون سر جھٹکتا انسٹنٹ کافی کا پیکٹ نکالنے لگا۔
کوریا میں اتنا آسان نہیں قانون سے بچ جانا ورنہ میں اور تم یہاں اکٹھے نہ ہوتے۔ اسکا انداز سادہ سا تھا اپنی بات کہہ کر وہ ایک اور کپ پانی کا ساسر میں ڈالنے لگا۔ فاطمہ چپ سی ہوگئی۔
کافی کپوں میں نکال کر ایک کپ فاطمہ کے آگے رکھ کر وہ سنک میں اکٹھا کیئے برتن دھونے لگا تھا۔ فاطمہ بلا ارادہ اسے دیکھتی رہ گئ۔ نفاست سے ایپرن پہن کر برتن دھوتا وہ یقینا کافی سگھڑ لڑکا تھا۔۔ سگھڑ لڑکا وہ اپنی اصطلاح پر ہنس پڑی۔ پلیٹ دھو کر ریک میں رکھتے سیہون نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ فاطمہ گڑبڑا گئ۔ کیا سوچتا ہوگا اسے گھور رہی ہوں میں سدھر جائو فاطمہ خود کو ڈپٹ کر وہ بات بدل گئ۔ ۔
تم نے میری سے کیا کہا ۔۔میرے ۔۔ وہ اٹکی۔ میرا مطلب ہے ہمارے بارے میں میں یہاں اس طرح تمہارے اپارٹمنٹ میں کیوں رہ رہی ہوں۔ وہ بھی یہاں آتی ہوگی۔ اگرکبھی آگئ تو۔۔
مجھے دیکھ کر اسے غلط فہمئ۔ دیکھو ایک بار پٹ گئ بار بار نہیں پٹ سکتئ میں اسکے ہاتھوں ۔۔ پہلے بتادوں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر باقاعدہ وارننگ بھی دے دی۔
سیہون تین پلیٹیں تندہی سے دھو رہا تھا اتنی تندہی سے کہ فاطمہ وضاحت ہی دیتی چلی گئ ۔ مگر ادھر گہری خاموشی چھائی رہی۔۔ برتن دھو کر ریک میں لگا کر وہ سکون سے نیپکن سے ہاتھ پونچھ رہا تھا۔ فاطمہ کو اپنا آپ احمق لگنے لگا تو اسکے سامنے رکھے دوسرے کپ کو اٹھا کر وہ ذرا سا جھکا۔
وی بروک اپ ۔۔ ڈونٹ ووری ۔۔ وہ اب یہاں کبھی نہیں آئے گی۔
سادہ سا گمبھیر لہجہ نہ کوئی نارسائی کا غم چھلک رہا تھا نا لہجے میں کرچیاں بکھری تھیں۔ مسکرا کر وہ کپ اٹھا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
واہ اتنی آسانی سے بریک اپ نا صنم رہا نہ غم رہا۔
فاطمہ کو رشک آیا۔
ہاں بھئ کوریا ہے پاکستانی لڑکوں کو لمحہ نہیں لگتا بھلانے میں اوپا کیوں مایوس کرتے ایک نمبر کے بے وفا لوگ ہیں دنیا میں بے چاری میری۔
اسے لڑکی ہونے کے ناطے ہمدردی اسئ سے ہوگئ تھی۔ کندھے اچکا کر اس ہمدردئ کا حق ادا کرتے بڑا سا گھونٹ بھرا پھر برا سا منہ بنالیا۔ کڑوی ترین کھولتی ایکسپریسو نا دودھ نہ چینی۔
یہ زہریلا مواد پلاتا ہوگا اسے جو چھوڑ گئ۔
اس نے بھنا کر بند دروازے کو گھورا جو اسکے کہتے کے ساتھ ہی کھل گیا۔۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا ۔ سامنے سیہون تھا پریشان سا اسے جلدی جلدی میں موبائل کان سےہٹا کرکال بند کرتا والٹ جیب میں گھسیڑتا ۔۔
مجھے جانا ہوگا واعظہ کا فون آیا ہے وہ پولیس اسٹیشن میں ہے؟ وہ تیزی سے بتاتا بیرونی دروازے کی جانب بڑھا۔
کیا ہوا؟
فاطمہ گھبرا کر اسکے پیچھے آئی
کیاہوا بتاتے کیوں نہیں؟ کہیں۔
اسکے زہن کے گھوڑے تیزی سے دوڑے
جوتے پہنتےہوئے سیہون مناسب الفاظ سوچ رہا تھا کہ فاطمہ نے معاملہ سوچ بھی لیا اور پریشان ہو کر پوچھ بھی لیا
کہیں۔ کہیں نور نے خود کشی تو نہیں کرلی۔؟؟؟؟
سیہون دانت پیس کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک آدھے گھنٹے میں وہ سب پھر تھانے میں موجود تھے۔
کسی پڑوسی نے انکے گھر سے شور و غوغا کی آوازیں سن کر پولیس کو فون کر دیا تھا۔ عین پولیس نے تب چھاپا مارا جب ہے جن ہائے ہائے کرتے دلاور کو سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ درو دیوار خون سے رنگے پولیس والے حق دق ہی رہ گئے وہ تو معمولی گھریلو جھگڑا سمجھے تھے مگر انہیں مزید فورس بلانی پڑی اور دلاور کیلئے ایمبولینس بھئ۔
سو نتیجتا وہ سب تھانے میں تھے ۔اس بار ہے جن عروج واعظہ کے ہمراہ الف عزہ اور عشنا بھی تھیں۔ ہونا طوبی نے بھی تھا مگر 119 ایمبولینس میں دلاور کو جب لے جا رہے تھے تو اس نے جو نیر بہائے ایمبولینس کو چلنے تک نہ دے رہی تھی ہر بار کہتی۔
دلاور کچھ تو بولیں۔ دلاور بولتے
میں ٹھیک ہوں طوبی ۔ مگر اپنی آہ و بکا میں سنتی ہی نہیں اور چیخ مار کر روتی
ہائے کیا کردیا میرے میاں کو بول بھی نہیں پارہے۔۔
آخر اسے بھئ ایمبولنس میں بٹھا لیا گیا۔ایک اہلکار انکے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھ کر گیا بقیہ ان سب کو عزت سے پولیس وین میں ہتھکڑیاں ڈال کر بٹھا کرتھانے لے آئے۔
وہ سب بنچ پر قطار میں سر جھکائے بیٹھی تھیں۔ زندگی میں پہلی بار ان کلائیوں نے چوڑیوں کی بجائے ہتھکڑیاں پہنی تھیں لگ رہا تھا پورے پولیس اسٹیشن میں ایک ایک فرد انہیں گھو ررہا ہے تھو تھو کر رہا ہے۔
آپ کو شائد غیر ملکی ہونے کے سبب نہیں معلوم مگر جانور کو گھر میں خاص کررہائشی عمارت میں ذبح کرنا منع ہے۔ آپکو اگر مرغی کھانئ تھی تو آپ اسکی گردن بھی دبا کر مار سکتی تھیں یقینا اتنا بڑا مسلئہ پیدا نہ ہوتا۔
اہلکار نے بڑی فرصت سے انکودیکھتے ہوئے کہا تھا۔ الف نے دانت کچکچا کر گھورا
کیسا تاڑو ہے سامنے بیٹھ کر گھور رہا ہے آنکھیں نکال نہ دوں اسکی۔
ششس۔ عزہ نے کہنی مارکر اسے خاموش کرایا۔
ان میں سے کسی نے اسکو جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔
ہم نے مرغی قبضے میں لیکر گھر سے خون کے نمونے لیکر لبارٹری میں ٹیسٹ کیلئے بھیج دیئے ہیں۔انکا نتیجہ آنے تک تو کم از کم آپکو جیل کی ہوا کھانی ہی پڑے گی۔
وہ اہلکار یقینا سلاخوں کے باہرجیسے خاص طور پر انکا دل جلانے کو انگریزی میں بول رہا تھا۔
اسکی انگریزی کتنی صاف ہے۔ عشنا نے رشک سے اسکی گٹ پٹ سن کر کہا تھا۔
ہے جن سر تھام لیا۔ان لوگوں کو صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ اس نے رخ موڑ کر واعظہ کو دیکھا۔ وہ بالکل خاموش زمین پر نگاہ جمایے گہری سوچ میں گم تھی
فاطمہ اور سیہون حواس باختہ سے داخل ہوئے پولیس اسٹیشن میں۔ پہلی نگاہ سیہون کی ہےجن پر پڑی تھی۔ وہ سیدھا اسی کے پاس آیا۔ فاطمہ کو دیکھتے ہی الف اور عزہ کھل اٹھی تھیں۔اسے آتے دیکھ کر لپک کر اٹھیں تبھی انکے قریب بے ضرر بنا کھڑا اہلکار مستعد ہوا۔ عزہ اور الف نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی۔
تم سب یہاں کیسے پہنچ گئیں۔۔ فاطمہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرغی گھر سے سر کٹی برآمد ہوئی تھی اور گھر میں جتنے بھی افراد رہتے تھے بظاہر صحیح سالم تھے سو قتل کی دفعات نہ لگانے کیلئے سیہون نے اپنے تعلقات استعمال کرکےکہہ سن کر اور نجانے کتنے جتنوں کے بعد اس کیس کو صرف شک کی بنیاد پر قتل یا گھریلو جھگڑا قرار دے کر ایف آئی آر میں مناسب ترامیم کرائیں۔ انکو کم از کم مرغی کے خون کی رپورٹ آنے تک گھر کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔ گھر سیل تھا۔ چونکہ انہیں نفری بلانی پڑی تھی وہ بھی کورین کرائم برانچ کی خصوصی ٹیم کہ کہیں قتل کا معاملہ تو نہیں سو ان سب کی تفصیلات لیکر انکو اگلے ایک ہفتے تک سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سیہون کی ضمانت جو اسکا تازہ تازہ خریدا فلیٹ تھی لی۔گئ تھی۔
خدا خدا کرکے پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کر سکھ کی سانس لی تھی۔
یعنی کوریا میں راشی افسر ہوتے ہیں۔ ویسے کم جونگ۔۔
فاطمہ سیہون کو جتانے والے انداز میں کہہ رہی تھی وہ قصدا ان سنی کرکے آگے بڑھا۔واعظہ کا شدید موڈ آف تھا وہ ان سب سے قصدا پیچھے چل رہی تھی۔
باہر بارش ہو رہی تھی۔ موسم انکے لحاظ سے سرد اور کوریا کے لحاظ سے خوشگوار ہو گیا تھا۔
ہم رات کہاں گزاریں گے۔۔۔عشنا کو وہ برستی رات یاد آئی جب وہ مالک مکان کے نکال دینے پر سڑک پر گزارنے والی تھی۔
اور اسے واعظہ مل گئ تھئ۔ اس نے مڑ کر واعظہ کی جانب دیکھنا چاہا۔ ان میں سے کسی کے پاس چھتری نہیں تھی۔ ہے جن اور سیہون انہیں وہیں رکنے کا کہہ کر آگے سڑک کی جانب بڑھ گئے۔
سیہون نے ٹیکسی روکی۔ الف عزہ عروج عشنا پیچھے بیٹھ گئیں فاطمہ کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ واعظہ کی جانب متوجہ ہوا۔
میرا خیال ہے مجھے بڑی آنکھیں اچھی لگنے لگی ہیں۔
واعظہ بیزار سی شکل بنا کر زمین پر ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔
تم بہت موٹی ہو بالکل گائے جیسی۔
اس نے سامنے آکر بغل بجائی۔
واعظہ شدید چڑ چکی تھی اسے سڑک کنارے سے جوس کی خالی بوتل مل ہی گئ تھئ۔ جھک کر تاک کر سیہون کو دے ماری وہ ہنستا جھکائئ دے گیا۔
۔فاطمہ کی ٹیکسی روانہ ہوچکی تھی سو۔۔۔ ہے جن اب دوسری ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا مڑ کر دیکھا۔ سیہون نہایت خوشگوار موڈ میں واعظہ کے گرد گول گول چکر کاٹ رہا تھا۔ اپنے بھیگے ہوئے اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹین ایجرز کی۔طرح مشہور دونوں پائوں اچکا کر ہوا میں ٹخنے بجانے والا ڈانس اسٹیپ کرتے ہوئے۔
نجانے میرے دل کو کیا گائے۔۔ ابھی ٹو یہیں۔ ٹھا۔۔ آگے۔۔
اس نے سوچنے کی اداکاری کی واعظہ اب بری طرح تپ چکی تھی۔ اس بار اس نے زمین سے کچھ اٹھا کر مارنے کی بجائے سیدھا سیہون کا بازو مروڑ دیا تھا ۔ وہ آگے سے اور کھل کر ہنسا پولیس اسٹیشن کےشیشے کے آر پار دروازے سے دیکھتا گارڈ اور ٹیکسی روک کر انہیں بلانے کیلئے متوجہ کرتا ہےجن ۔ وہ دونوں ان سے بے نیاز تھے۔ سیہون پٹے جا رہا تھا مگر بولے جا رہا تھا واعظہ غصے سے سرخ ہو رہی تھی
ویسے جونگی تمہاری آواز پہچان گیا۔۔ عجیب بات ہے نا ؟ چھے سال ہو رہے ہیں تمہاری اسکی۔ بولتے بولتے جب واعظہ کا گھونسا مزید زور کر کندھے پر پڑا تو
سیہون بازو چھڑاتا بھاگا واعظہ اپنی زبان میں کچھ کہتی اسکے پیچھے بھاگی یہ سارا منظر دیکھتے ہے جن نے مڑ کر ٹیکسی والے کودیکھا پھر کہنے لگا
میرا خیال ہے اب ہمیں اس ٹیکسی کی ضرورت نہیں پڑے گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون نے کین کھولا گھونٹ بھر کر جھر جھری سی لی۔ پھر اسکی جانب بڑھا کر بولا
پیوگے؟
ہے جن نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا۔ تبوکی کو چاپ اسٹکس سے کھاتے ہوئے واعظہ نے کڑے تیور سے گھورا
بچھی سا؟ (دماغ خراب یے کیا)شرم نہیں آتی بچے کو شراب آفر کر رہے ہو۔
بچہ جب دو بالغ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوگا تو بچپنا ویسے بھی جاتا رہے گا۔ سیہون کا انداز بے نیاز سا تھا
مزے سے بیئر کے گھونٹ بھرتا وہ تبوکی کا بھی لطف لے رہا تھا۔
اس کنوینیس اسٹور کے باہر لگے بنچ پر بارش سے بچاتی وہ بڑی سئ چھتری ان پر سایہ کیئے تھی۔ کن من برستی بوندیں موسم خوشگوار کر گئ تھیں۔ ہے جن کو بھوک لگ رہی تھی مگر ان دونوں کا کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا۔ ایک تبوکی کی پلیٹ بنوا کر چاپ اسٹکس مار رہے تھے۔
وہ گہری سانس بھرتا اٹھا اور اندر اسٹور میں چلا گیا۔
انسٹنٹ نوڈلز ساتھ کمچی کا پیکٹ خریدا پیسے سوجو کے ساتھ سیہون کے ذمے ڈلوا کر نوڈلز میں گرم پانی ڈاپنسر سے ڈال کر وہ باہر آگیا۔۔ دونوں اب ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔ وہ خاموشی سے واعظہ کے برابر آبیٹھا اور نوڈل ٹونگنے لگا۔
تمہیں اس بھری دنیا میں سوائے اسکے کوئی نہ سوجھا؟
واعظہ نے دانت کچکچائے
تمہیں اس بھری دنیا میں رات حوالات میں گزارنے چھوڑدیتا تب عقل ٹھکانے آتی۔
سیہون بھنا کر بولا
چھوڑ دیتے۔ صبح ویسے بھی انہوں نے رپورٹ آنے پر چھوڑ ہی دینا تھا ہمیں ۔۔ واعظہ نے جزباتی ہو کر میز پر مکا مارا۔ ہے جن کا سوپ چھلک چھلک اٹھا۔
کس دنیا میں رہتی ہو پرائم منسٹر کی بیٹی ہو جو وہ تمہارئ لیئے صبح صبح ٹیسٹ کرواتے؟ کم ازکم بھی ہفتے بھر میں نتیجہ آئے گا تب تک سڑتیں جیل میں۔
سیہون نے چبا چبا کر کہتے میز پر ہاتھ مارا۔ جو سوپ واعظہ کے میز پر ہاتھ مارنے سے چھلک نہ سکا اب چھلک ہی گیا۔ کھولتے نوڈلز ہےجن کا منہ جلا گئے اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر پیالہ اٹھا لیا۔
جب ایک دن جیل۔میں گزار سکتی تو ہفتہ بھی گزار لیتی۔ آئیندہ میں مر بھی رہی ہوں تو میری ایسی مدد کرنے کا سوچنا بھی نا سمجھے۔۔
واعظہ دونوں ہاتھ میز پر مار کر اٹھتے ہوئے چلائی۔
میرا واقعی دماغ خراب ہوگا جو میں تمہاری مدد کرنے کا سوچوں بھی۔ کہہ سیکی ۔۔ دماغ سے پیدل لعنتئ ہوں میں۔ جو تمہیں دوست سمجھا اور مدد کیلئے دوڑ پڑا بھگتو تم خود ہی اپنی ان ہم عمر لے پالک بیٹیوں کے کرتوت کسی بیوہ ماں کی طرح۔ جوابا اسی کی طرح چلاتا دھاڑتا سیہون بھی میز پر ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔
دنیا میں بڑے سے بڑے احمق گزرے ہوںگے مگر اگر مقابلہ کرایا جائے تو تم سے احمق اور عقل سے پیدل لڑکی دنیا میں کہیں نہ ہوگی۔ اور تم سے بڑا پاگل میں ہوں جو تمہارئ پیچھے۔
اس نے جھلا کر کین زمین پر مارا ۔۔۔
واعظہ کچھ کہتے کہتے رک کر لب بھینچ کر دیکھتی رہی پھر پیر پٹختی پلٹ کر مخالف سمت تیز تیز قدم اٹھاتئ چل پڑی۔ سیہون نے چند لمحے گہری سانس لیکر کر خود کو پرسکون کرنا چاہا۔ ہے جن نے پیالہ دوبارہ میز پر رکھ کر کھانا شروع کردیا۔ سیہون برستی بارش میں لمحہ بہ لمحہ دور جاتی واعظہ کو دیکھ رہا تھا یقینا اسکے پیچھے جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے میز سے موبائل اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔اسے جانے کیلئے پرتولتے دیکھ کر وہ جلدی سے نوڈلز نگل کر بولا
میرے نوڈلز کے پیسے دیتے جائیں۔
سیہون نے اس کو گھور کر دیکھا۔
افطار کے وقت پولیس والیاں آگئیں تھیں بھوک سے برا حال ہورہا تھا میرا۔
اس نے سیہون کو خشمگیں نظروں سے گھورتا دیکھا تو مسکین سی شکل بنائی
تم میری دم میں کیوں بندھے۔۔ سیہون نے بڑ بڑاتے ہوئے جیب سے اپنا پرس نکالا
میں جان کے نہیں بندھا۔
ہے جن برا مان گیا۔
ان سب کو ٹیکسی میں بٹھا دیا میری جگہ ہی نہیں تھی میرے فرشتوں کو خبر نہیں آپکا فلیٹ کہاں ہے کہاں جاتا میں اگر آپ دونوں کے ساتھ نا آتا تو۔
ہےجن نے بچی کھچی کمچی بھی نوڈلز پر۔ڈال لی۔ خفا خفا سے انداز میں بولتا ہے جن۔ سیہون نے پیسے نکال کر میز پر رکھے اور جس سمت واعظہ گئ وہاں دوڑ لگا دی
بچا کھچا سوپ اور نوڈلز منہ میں بھر کر ہے جن نے بھی تقلید کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کی رہبری میں وہ سب اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔
الف کے منہ سے بے ساختہ وائو نکلا تھا۔۔
ویسے تو باہر عمارت ہی شاندار تھی اپارٹمںٹ کیلئے انکی توقعات بڑھ گئ تھیں مگر یہ انکی توقعات سے زیادہ خوبصورت تھا۔ وہ سب گھوم گھوم کر گھر دیکھنے لگیں۔
دو کمرے ایک نہایت صاف ستھرا سجا ہوا ۔۔۔بستر کی چادر بے شکن کپڑے سمٹے ہوئے الماریاں بند صاف ستھرا ۔۔
یہ سیہون کا روم ہے تم لوگ۔ فاطمہ نے انکو تنبیہہ کرنی چاہی مگر وہ لوگ بے مزا سئ ہو کر باہر نکل آئیں
یہ استعمال ہی نہیں کرتا ہوگا سیہون۔۔عروج نے ناک چڑھائی
فاطمہ لب بھینچ کر رہ گئ۔
سب با جماعت دوسرے کمرے کی۔جانب بڑھیں
کمرے میں جیسے بھونچال آیا ہوا تھا بیڈ سے لیکر کمرے میں سجے صوفہ سیٹ تک کپڑوں کا جیسے سیلاب آیا ہوا تھا ۔ چائے کے ڈسپوزایبل کپس جگہ بے جگہ بکھرے تھے تولیہ زمین پر ایک مانوس سا لیڈیز بیگ بیڈ پر اوندھا کر جانے کیا تلاشا گیا تھا کہ پرس کی چھوٹی چھوٹی اشیاء میک اپ کا سامان سینی ٹایزر آئینہ والٹ سب بیڈ پر بکھرا تھا
سیہون کی گرل فریںڈ بھی رہتی یے یہاں۔
بظاہر خواتین کے کپڑے ہی بکھرے تھے سو عروج کا اندازہ کسی حد تک منطقی تھا۔
مگر یہ ٹاپ تو مجھے لگ رہا کہیں دیکھا ہے میں نے۔
عزہ نے صوفے پر سے پیچ اور گرے کمبیںیشن کا لانگ ٹاپ اٹھایا
آہ ہاں لڑکیوں کے ہی ایسے کپڑے ہوتے ہیں فاطمہ کےپاس بھی ایسا ہی ٹاپ ہے ہے نا۔
عشنا فورا مدد کو آئی۔ اسکی اس مد دپر فاطمہ نے کھاجانے والی نگاہوں سے گھورا اسے۔
تم لوگ کیا گھر کا جائزہ لینے لگ گئے ہو رات گزارنی ہے بس جیسے تیسے۔
فاطمہ نے گڑبڑا کر بیگ کو اٹھاکر بیڈ کے نیچے گھسیڑ دیا۔ مگر عروج الف اور عزہ اب کسی اور ہی۔جانب متوجہ تھیں ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھا پیارا سا فریم جس میں سیہون اپنی والدہ اور کسی خوبصورت سی لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔
عزہ نے آگے بڑھ کر فریم اٹھا لیا۔
یہ میری تو نہیں ہے۔ عروج نے تصدیق چاہی۔
ہاں وہ تو پھینی ناک کی ہے یہ تو بہت خوبصورت ہے۔۔ عشنا نے کہا تو وہ سب جھک گئیں۔
سیہون ڈبل ڈیٹ کر رہا ؟ یہ لڑکی گائوں میں بیوی ہے اور شہر میں وہ میری کو پھنسائے ہے۔
الف نے کڑیاں ملائیں اور تاسف سے چیخ ہی تو پڑی۔
سب لڑکے ایک جیسے ہوتے چاہے کورین ہوں یا پاکستانی۔
کوئی پاکستانی ڈرامہ نہیں چل رہا یہاں۔ فاطمہ جانے کیوں جھلا رہی تھی۔ بیڈ ، صوفے سے کپڑے اٹھا کر گولے بنا رہی تھی عشنا بیڈ کی چیزیں اٹھانے لگی۔۔
اور تم لوگ ان چیزوں کو مت چھیڑو پتہ ہے نا میری کتنی جنگلی بلی ہے۔ اتنا بھاری ہاتھ ہے اسکا کیوں فاطمہ۔
عروج بیڈ پر گرتے ہوئئ فاطمہ کو چھیڑ رہی تھی۔
ویسے مجھے امید تو نہیں تھی فاطمہ سے مگر فاطمہ نے کافی ضبط کیا تھا اس دن گال لال ہوگیا تھا اسکا مگر اس نے پلٹ کر میری کا منہ نہیں توڑا۔
الف بھی عروج کے ساتھ مل گئ۔
ادھار رکھا ہوا ہے اسکے کم از کم دو تھپڑ لگائے بنا کوریا سے نہیں جائوں گئ۔ عزم کیا ہوا ہے میں نے۔ فاطمہ بظاہر مزاقا ہی کہہ رہی تھی مگر ایسا عزم اس نے سچ مچ بھی کر رکھا ہوگا عشنا کو اندازہ تھا۔ وہ اسکی الماری میں چیزیں رکھ رہی تھئ جب اسکے سامنے ایک فریم آیا۔ تصویر اچھی طرح دیکھ کر اس نے الٹ کر رکھ دی۔ اور الماری بند کر دی۔ اسکو مخاطب کرنے کی نیت سے عزہ مڑ کر اسے ہی دیکھ رہی تھئ۔ اس نے کندھے اچکا کر سر جھٹکا اور تصویر واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔

جاری ہے

Desi Kimchi Episode 17

قسط 17
تھکے تھکے قدم اٹھاتی وہ اسپتال سے باہر نکلی تھی۔ آج جتنا لمبا دن گزرا تھا اسکا دل کر رہا تھا بس اگلے تین چار دن بس سوئے۔ اس کا بس سے جانے کو دل نہیں کیا۔ مین روڈ تک آکر وہ ٹیکسی کا انتظار کرنے لگی۔ تبھی ایک چمچماتی کالی گاڑی اسکے سامنے آرکی۔۔اس نے حیران ہو کر شیشے میں دیکھنا چاہا تبھئ ڈرائیونگ سیٹ سے سیونگ رو مسکرا تا ہوا اتر کر اسکے پاس چلا آیا۔
آئو میں گھر چھوڑ دوں۔۔
وہ دوستانہ انداز میں مخاطب تھا
شکریہ میں چلی جائوں گی۔ اس نے انکار کرنا چاہا
آجائو روج پلیز۔ اسکا انداز ملتجی سا تھا روج صاف انکار نہ کر سکی۔۔ عروج کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد اس نے دروازہ بند کیا پھر خود گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا اعر گاڑی چلادی۔
770 فٹ اونچے نام سان ٹاور کے اوپر کھڑے ہوکر نیچے دیکھو دیکھو تو تھوڑی سینے سے آلگتی ہے عروج نے تین سال کوریا میں سیول میں رہ کر بھی آج جانا تھا۔ نیچے دیکھتے ہوئے وہ خفگی سے سیونگ رو سے بولی
تم نے مجھے ہائی جیک کیا ہے آج ۔۔۔ اس وقت تک میں سو بھی چکی ہوتی۔۔اگر ٹیکسی میں جاتی تو۔
سیونگ رو اسکے انداز پر کھل کر ہنسا ۔۔
ہائی جیک نہیں کڈنیپ کیا ہے۔ وہ بےساختہ درستگئ کر گیا عروج نے تیکھی نگاہ سے دیکھا تو کھسیا گیا۔یقینا عروج کا اشارہ اسے نام سان ٹاور کے اوپر یوں لفٹ کے ذریعے پہنچادینے کی جانب تھا۔
میں جب پہلی بار سیول آیا تھا تو مجھے سب سے پہلے جس مقام کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا وہ یہ نام سن ٹاور تھا۔ جب سب جوڑے دھڑا دھڑ پیار کی نشانی کے طور پر اس گرل میں اپنے اور اپنے محبوب کے نام کے تالے لگا رہے تھے تب میں اکیلا یہاں کھڑا سوچ رہا تھا کتنے بے وقوف لوگ ہیں تالے دلوں پر لگتے ہوتے تو لوگ اپنے اپنے دل سنبھال کر ان پر تالے ڈال لیتے کسی اور پر جزبے ضائع کرنے سے تو بہتر ہے۔ہےنا روج؟
وہ عروج سے تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا
لوگ پہلی بار سیول آتے ہیں تو انکو ہنگن دریا دیکھنے کا شوق ہوتا ہے ۔یہاں تو محبت میں مبتلا لوگ ہی آتے ہیں اور جو محبت میں مبتلا لوگ ہوتے ہیں وہ بےبس اور بے چارے ہوتے ہیں انکا دل انکی مرضی سے نہیں چلتا ہے ایسے لوگوں کی عقل پر تالے پڑے ہوتے ہیں۔
عروج کندھے اچکا کر اپنے مخصوص دو ٹوک انداز میں بولی۔
سیونگ رو چپ سا ہو کر سیول کی روشنیاں دیکھنے لگا۔۔ پورا شہر نگاہوں کے سامنے تھا یوں لگ رہا تھا ننھے ننھے قمقمے دیئے جل بجھ کر رہے ہوں۔۔ بے حد خوبصورت منظر مگر یکسر اجنبی ماحول۔ اجنبی شکلیں نامانوس جگہ۔ اس نے گہری سانس لیکر آسمان پر نگاہ کی۔ ۔ آسمان سیاہ مگر چمکدار سا لگ رہا تھا مگر اس پر سجا دن بہ دن باریک ہوتا چاند۔۔ رمضان ختم ہونے کو تھا عید سر پر تھی۔ اسے بے طرح اپنا گھر یاد آنے لگا تھا اسکی عید اس بار بھی اپنوں سے میلوں دور گزرنے والی۔تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
نور کی عید جیل میں گزرے گی ؟۔۔۔
اسٹوڈیو میں کرسی پر بیٹھی کہنئ کرسی کے ہتھے پر جمائے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اس پر کنپٹی ٹکائے اپنی باری کا انتظارکرتی وہ یہی سوچتی رہی تھی۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر اتنی گہری تھی کہ اپنے اور اسکے لیئے کافی بنا کر لاتا ژیہانگ نوٹ کیئے بنا نہ رہ سکا اسکا کپ سامنے میز پر رکھ کر وہ اپنا کپ لیکر اسکے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا پروگرام شروع ہونے میں پندرہ منٹ تھے وہ ہیڈ فون مائک چیک کرنے لگا۔ الف کا مراقبہ۔ختم۔نہ ہوا۔ ژیہانگ گا ہے بگا ہے اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے رہ نہ سکا۔پوچھ ہی بیٹھا
کیا ہوا الف؟ کوئی پریشانی ہے؟
آہ۔۔ ہاں۔ وہ بری طرح چونکی۔ میرا مطلب ہے نہیں کوئی پریشانی نہیں بس وہ پروگرام کا ہی سوچ رہی تھی۔ اس نے جلدی سے بات بنائی۔
جب سے ہم نے سیہون کا انٹر ویو لیا ہے ہمارے شو کی ریٹنگ ایکدم بڑھ گئ ہے۔ لوگ بہت دلچسپی لے رہے ہیں ہمارے شو میں۔ سوجو کے ایک برینڈ کی اسپانسر شپ بھی مل گئی ہے۔ پروڈیوسر صاحب کافی مطمئن ہیں ہماری کارکردگی سے۔
ژیہانگ کو یہی لگا کہ شائد پروگرام کی وجہ سے پریشان ہے سو خوش ہو کر اسے بتانے لگا۔
سوجو؟۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں
شراب کے بریںڈ کی اسپانسر شپ ۔آخ
اس نے منہ بنایا
وہ۔ہمارے شو کی اسپانسر شپ کر رہے ہیں ہمیں پینے کو نہیں کہہ رہے۔ ژیہانگ اسکے منہ بنانے پر کھل کر ہنسا
الف کھسیا سی گئ۔
ہاں تو۔ ہے تو گندی چیز پتہ نہیں لوگوں کو کیا مزا آتا ہے ہوش کھو کر۔
ہوش کھو دینے میں ہی تو اصل مزا ہوتا ۔ آپ بھول جاتے آپ کہاں ہیں کیوں ہیں کس کے ساتھ ہیں
ژیہانگ نے چٹخارا سا لیا حسب توقع الف بحث کیلئے آستین چڑھا گئ تھئ
ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا ہوش کھونے کا فائدہ ہے کیا؟ اداس ہو پریشان ہو تو شراب پی کر ہوش کھونے سے نا تو پریشانی ختم ہوگئ نا اداسی الٹا اس پریشانی کا حل نکالنے کے بجائے ہوش ہی کھو کر اس پریشانی کو مزید بڑھاوا دے دیتے ہیں اور خوش ہیں تو بجائے ان لمحوں کو جینے کے ان کا لطف اٹھانے کے ہوش کھو کر خوشی کے ان لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں پینے پلانے کا صرف نقصان ہے فائدہ کوئی نہیں۔
الف کا جوش میں رنگ سرخ ہوچکا تھا اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے جملے کے آخر میں سامنے میز پر جوش سے ہاتھ مار بیٹھی۔۔کپ چھلک کرالٹ گیا کافی پوری میز پر پھیلتی چلی گئ۔ ژیہانگ میز کو پائوں مار کر اپنی سیٹ بروقت پیچھے کر کے اپنے کپڑے بچا گیا تھا۔۔ الف البتہ گھبرا کر ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشو کھینچنے لگی۔۔ اس بہتے دریا کو ٹشو باکس کا آدھا ڈبہ ہی روک پایا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مرغی ابھی تک ڈبے میں بند ہے۔۔ فلیش بیک ختم ہوچلا تھا فاطمہ چیخی۔سیہون کے ہاتھ سے چاپ اسٹکس چھوٹ ہی۔گئیں کینہ۔توز نظروں سے اسے گھورنے لگا
اس طرح چیخنے سے نکل تھوڑی آئے گی۔۔
واعظہ نے اطمینان سے کہا ۔۔
مجھے تم دونوں جب تک ہارٹ اٹیک نہیں کروائوگئ چین نہیں آئے گا تم دونوں کو۔ وہ بھناتا اٹھ گیا۔
چائے پینی ہے تم لوگوں نے۔ وہ چائے کا پانی چولہے پر رکھتا پوچھ رہا تھا۔
بالکل نہیں۔ دونوں اکٹھے جان کے چیخیں پھر اسکے گھورنے پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگیں۔
ہم چائے کالی پتی اور دودھ والی کو کہتے تم جو یہ جڑی بوٹیاں ابال کر اسے چائے کا نام۔دیتے ہو نا اس سیال کو پینے کا کوئی شوق نہیں ہمیں۔
فاطمہ کئ وضاحت پر اس نے دوبارہ مڑ کر اسے گھورنا چاہا مگر وہ ہنستے ہنستے مںہ پھیر کر کھانے کی جانب متوجہ ہوچکی تھی
تبھی واعظہ کا موبائل بج اٹھا۔۔ اس نے پیغام کھولا ہےجن کا تھا۔ پیغام پڑھ کر اسکے چہرے پر جو پریشانی کی لہر دوڑی اس نے فاطمہ کو بھی کسی انہونی کا احساس دلا دیا تھا
کیا ہوا ؟ کس کا پیغام تھا۔۔ فاطمہ نے پوچھا
ہےجن کا۔۔ واعظہ کا اندازپراسرار سا تھا
کیا ہوا مرغی مر گئ؟ واعظہ نے گھورکر دیکھا اسے تو وہ کھسیا گئی۔
کیا ہوا واعظہ خیریت؟ سیہون بھی انکے پاس چلا آیا۔ واعظہ نے آہستگئ سے کہا
ہے جن کا میسج تھا۔۔۔ نور کو پولیس پکڑ لے گئ۔ ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جن فاطمہ واعظہ اور سیہون پولیس اسٹیشن میں بیٹھے تھے۔۔انکے سامنے لاک اپ میں نور گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھئ تھی ۔نور کا رو رو کے برا حال تھا۔ اسے فی الحال لاک اپ میں بند کیا ہوا تھا۔
دیکھیئے بجائے اسکے کہ آپ ہماری مدد کرتے کہ ہماری اپارٹمنٹ میٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئ اسے کوئی حفاظتی گھڑی دیتے اس لڑکی کو جسکا اس معاملے سے دور کا بھی تعلق نہیں پکڑ کر لاک اپ میں بند کر دیا یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔
فاطمہ جوش سے میز پر ہاتھ مار کر بولی تھی۔ ڈیوٹی پر موجود افسر نے ان چاروں کو باری باری دیکھا پھر سر کھجانے لگا۔ ایک کو اٹھا کر لانے پر چار لوگ ہلہ بول چکے تھے پولیس اسٹیشن پر۔غیر ملکی شکلیں فراٹے سے انگریزی بولتی لڑکیاں باقی بھی جو لوگ شکایتیں لیکر آئے تھے دلچسپئ سے اپنے معاملات سلجھانے کی بجائے اس کائونٹر کی جانب متوجہ تھے۔
سیہون نے ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے جھٹ فاطمہ کی کہی باتیں ہنگل میں دہرائیں۔
یہ کون ہیں آپکی۔ ؟ افسر نے کان کھجایا۔۔
میری ۔۔۔ بیوی ہے۔ سیہون کے منہ میں لفظ اٹک اٹک گئے۔
کیا؟ ہم تو اسکو غیر شادی شدہ سمجھ رہے ہیں۔ آپ اپنی شناخت کروائیے ثبوت دیجئے ذرا۔ افسر اچھل پڑا۔ واعظہ سیہون اور ہے جن نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگے اسے۔ فاطمہ ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
سیہون نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا ۔۔ اس نے جھٹ تفصیلات لیپ ٹاپ میں ڈال کر تصدیق کی
ہائش۔ آپکی بیوی کا نام تو فاطمہ ہے۔اور تصویر ۔۔۔ اس نے اب فاطمہ کو غور سے دیکھا۔
ہاں تو یہی تو بتایا۔ سیہون بگڑا۔
میں سمجھا نور کی بات کر رہے ہیں۔ بہر حال ہم تفتیشی مرحلہ مکمل کر رہے ہیں۔ ہمیں انکا بیان چاہیئے۔۔ اس وقت انکو ہم نہیں چھوڑ سکتے میرا مشورہ ہے آپ لوگ گھر جائیے۔آرام کیجئے۔ ہم صبح انکو کورٹ میں پیش کر کے ریمانڈ لیں گے۔
دیکھیں میں کہہ رہی ہوں نا اس لڑکی کا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپکو ہمیں حفاظت فراہم کرنی چاہیئے الٹا آپ لوگ میرے ہی لوگوں کو اٹھا لایے ہیں۔
واعظہ ہنگل میں بگڑی
آپکی سہیلی کا کیس ہمارے علاقے میں درج نہیں ہوا۔ وہاں سے ہمیں بھیجا گیا۔ ہم پہلے ہی گروہ کے سرغنہ کو۔پکڑ چکے ہیں باقی ارکان کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں جلد پکڑ بھی لیں گے۔ جو لوگ خود پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں مفرور ہیں ان سے آپکی سہیلی یا آپکو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ؟ اسی لیئے ہم نے الگ سے کوئی حفاظتی اقدامات کی۔ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہماری اب تک کی تحقیق کے مطابق انکا اصل شکار یہ لڑکی نور تھی۔ آپکے گھر میں چوری چپکے آکر اسی لڑکی کے بال کاٹےگئے دھمکانے کیلئے ۔یہ بات گروہ کا سرغنہ قبول چکا ہے اب وہ یہ کہہ رہا کہ یہ انکی ساتھی ہے معمولی جھگڑے کی وجہ سے انہوں نے سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اب اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے لیئے اس لڑکی کو حراست میں لینا ضروری ہے۔۔
افسر نے تفصیل سے اسی لیئے بتایا تاکہ مزید سوال کی۔گنجائش نہ رہے۔۔مگر ہے جن جھٹ بولا
مگر نونا اس گروہ کی رکن نہیں ہیں انکا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی واسطہ نہیں۔
آپ کیسے کہہ سکتے یہ؟ کون ہیں یہ آپکی۔
افسر اب چڑنے لگا تھا اسکے سیدھے سوال پر وہ گڑبڑا کر واعظہ کو دیکھنے لگا
دیکھیں وہ میری بہن جیسی دوست ہے میں اسکی ضمانت لیتی ہوں وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ واعظہ نے گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرکے افسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
آپکی دوست ہے۔ افسر نے پرسوچ نظروں سے دیکھا۔
اسکے والدین کا نام گھر کا پتہ ان سے رابطے کا نمبر اس میں سے کچھ بھی تفصیل آپکو معلوم ہو بتایئے۔ ہمیں صبح اس کیس کی سمری پاکستان ایمبیسی کو بھیجنی ہے تاکہ۔یہ تفصیلات ہمیں معلوم ہو سکیں اچھا ہے آپ میرا کام آسان کر دیں ورنہ دو ایک دن تو انہیں بھی لگیں گے یہ تفصیلات ہمیں دینے میں۔ اس نے میز پر سے رائیٹنگ پیڈ اور پین اٹھا کر اسکے سامنے رکھا۔
فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھنے لگیں۔
دیکھیں وہ ہماری ہم وطن ہے ہماری دوست ہے سال بھر سے ہمارے ساتھ رہ رہی ہے۔۔
فاطمہ نے کہنا چاہا تو اس نے سیدھا بات کاٹ دی۔
تو آپ نہیں جانتئ ہیں یہ تفصیلات۔ وہ دوٹوک پوچھ رہا تھا۔ واعظہ نے سر تھام لیا۔
ایسی لڑکی جسکی یہ بنیادی معلومات تک آپکو معلوم نہیں ہیں اسکی آپ ضمانت لینے کو تیار ہیں صرف ہم وطن ہونے کے ناطے۔ کیوں پاکستان میں سب فرشتے رہتے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہوتا کبھی سب کی آپ ضمانت لیتی ہیں کہ وہ جرم نہیں کر سکتے۔
پورے پاکستان کو میں نے اپنے اپارٹمنٹ میں ٹھہرا بھی نہیں رکھا۔ واعظہ سلگ کر بولی۔ سیہون اسکی کرسی کے ہتھے پر ہلکے سے تھپکی دے کر اسے متحمل ہونے کا اشارہ۔کیا
دیکھیئے۔ آپ۔یہ کیوں سمجھنے کو تیار نہیں ہیں اگر آپکی سہیلی بالکل معصوم ہے تو بھی اسکو ایک بہت بڑے گروہ کا سرغنہ اپنے ساتھ اس کیس میں پھنسانا چاہ رہا ہے تو اسکا کیا مطلب بنتا ہم اسکو شامل تفتیش نہ کریں گھر جانے دیں تو ان سے کسی رحم دلی کی امید کیسے کر سکتی ہیں آپ کل کو وہ اسے اغوا کرلیں سب الزامات سب ثبوت اسکے خلاف جائیں گے اسکا بیان ہمیں نہیں ملے گا تو یہ ہمارے شک کے دائرے میں رہ گی ہم اسکو ملزم تصور کرکے اسکی تلاش میں لگ جائیں اور اصل۔مجرموں کو وقت مل جائے اس پر سب الزام ڈال کر اپنی گردن بچا لینے کا۔ یوں سمجھیئے اگر یہ مجرم نہیں ہے تو اسکی جان کو خطرہ ہے یہاں لاک اپ میں وہ محفوظ ہے سمجھیئے میری بات۔
اسکے جملے اسکے زچ ہو جانے کے باوجود متحملانہ تھے۔ یہ بات تو انہوں نے سوچی بھی نہیں۔ وہ تو بس یہ سوچ کے پریشان تھے کہ انکی سہیلی اس وقت جیل میں بند ہے۔
ہم چلتے ہیں۔ سیہون انہیں اٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
میں دو منٹ اس سے بات کر سکتی ہوں۔ واعظہ کے کہنے پر افسر یوں کرسی پر ہاتھ مار گیا جیسے کہہ رہا ہو کس دیوار میں سر ماروں میں۔
ان چاروں کو اٹھ کر جاتے دیکھ کر وہ تڑپ کر لاک اپ کی سلاخوں سے آ لپٹی تھی۔
واعظہ پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائو۔ فاطمہ۔ پلیز ۔
بات سنو دیکھو واعظہ۔ ہے جن ۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔پلیز میری بات سنو۔۔ وہ انکو اسٹیشن سے نکلتے دیکھ کر سلاخوں سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی
وہ چاروں مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہ کرسکے تھے۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر سڑک پر آکر وہ سب آگے کیا کریں اسی سوچ میں الجھے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے نہیں پتہ تھا آج شو میں کیا کہا کیا کیا۔ شو ختم ہوتے ہی وہ کندھے پر بیگ لٹکاتی گھر جانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کہاں جا رہی ہو بیٹھو۔ پروڈیوسر صاحب ہمیشہ کی۔طرح غیر ضروری طور پر خوش اور پرجوش سے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے اسے دیکھ کر ڈپٹنے والے انداز میں بولے۔۔وہ ہونٹ بھینچ کر دھپ سےکرسی پر بیٹھ گئ
اس ہفتے کی رات کو کے بی ایس نیٹ ورک کی سالگرہ منائی جا رہی تو کنسرٹ کیزین نائٹ گالہ منایا جارہا ہے رات گئے تک ہم پارٹی کریں گے تم دونوں کیلئے اسکا اپیشل انویٹیشن بنوایا ہے سو کوئی بہانہ مت کرنا ضرور جانا۔
انہوں نے لہراتے ہوئے انکو انویٹیشن کارڈ تھمائے اس نے بے دلی سے کھول کر دیکھا ژیہانگ نے عبارت پر نگاہ دوڑائی
ہر چینل اپنے سب سے ذیادہ ریٹنگ اٹھانے والے شو کے لوگوں کو ہی بھیجتا ہے میں تو کبھی نہ تم دونوں کو بھیجتا مگر سیہون کے انٹرویو کے بعد پچھلے کچھ عرصے سے تم لوگوں کا شو اس چینل کی سب سے ہائی ریٹنگ لے رہا اخباروں میں بھی اس شو کی خوب خبریں لگ رہی ہیں تو۔۔ مجبوری۔
انکی بولتے بولتے آواز مدہم ہوتی گئ تھی ژیہانگ انکے انداز پر کھل۔کر مسکرایا۔ الف بے نیاز تھی اس نے کبھی انکی باتوں کو سنجیدہ لیا ہی نہیں تھا سنجیدہ لینے کیلئے ضروری تھا سنی بھی جائے انکی۔ اس پر رعب ڈالنے کیلئے جب وہ سخت کوریائی لہجے میں ٹوٹی پھوٹی انگریزی مارتے تھے تو عموما اسکی ہنسی نکل جاتی تھی جسکا وہ خاصا برا مناتے اس وقت بھی قصدا انکی باتوں سے دھیان ہٹاکروہ کارڈ پڑھ رہی تھئ کارڈ پر سب ہنگل میں درج تھا بس اسے ہوٹل کا نام ہی سمجھ آیا جو خاص انگریزی میں درج تھا پڑھ کر اسکی آنکھیں پھیل گئیں
گرینڈ رائل پیلس ہوٹل۔ کوریا کا فائیو اسٹار مشہور ہوٹل جسکو سب سیول باسیوں نے بھی نہیں دیکھ رکھا ہوگا۔
تم دونوں خوب تیار ہو کر آنا غیر ملکی اسپانسرز بھی ہونگے کوشش کرناتم لوگ کسی کو متاثر کر ہی ڈالو باقی میں وہاں لوگوں کو گھیرنے کی الگ کوشش کروں گا آخر اتنی اچھی انگریزی بول۔لیتا ہوں میں۔ تم دونوں کو بھی لے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کہ انگریزی اچھی بول لوگے۔
انہوں نے کہتے ہوئے ایک ترچھی نگاہ الف پر ڈالی جو کارڈ سے منہ چھپا کر ہنسی روک رہی تھی۔
جی بالکل آپ فکر ہی نہ کریں ہم دونوں بھرپور محنت کریں گے۔ فائٹنگ۔۔
ژیہانگ نے مٹھی بھینچ کرمکا بناتے مخصوص کوریائی انداز سے فائٹنگ کہا تو وہ مطمئن ہوگئے۔۔۔
تمہیں ایکسو پسند ہے یا صرف سیہون۔۔
انکے اسٹوڈیو سے جاتے ہی ژیہانگ پورا اسکی جانب مڑ کر کرسی کے ہتھے سے کہنی ٹکا کر مٹھی گال پر رکھے پوچھ دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
الف پورا گھوم گئ تھی اسکی جانب۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج کا موڈ تازہ ہوا کھا کے بہتر ہو گیا تھا۔کہتے ہیں ٹھنڈی ہوا کھانے سے بھوک لگتی ہے۔ سیونگ رو کو بھی شائد بھوک لگ گئ تھئ مگر اسکی حیرت کی انتہا نا رہی جب وہ اسے ایک پاکستانی ریستوران لے آیا تھا۔
بریانی اور چکن کڑاہی نان کے ساتھ جب اس نے منگوا کر عروج کو دیکھا تو وہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی اسے ہنسی آگئ
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ میرے کینڈا میں بہت سے پاکستانی اور انڈین دوست تھے ہم بہت شوق سے اکثر مل کر بریانی کھاتے تھے چکن کڑاہی میری پسندیدہ ترین رہی ہے ہمیشہ سے تمہیں کیا پسند ہے ذیادہ
ہمیشہ بریانی۔ اسکا جواب دوٹوک تھا۔ بریانی کے آگے کسی دیسی کو۔کچھ اور پسند نہیں آسکتا۔۔لیکن بریانی جو میری امی بناتی ہیں اسکا کوئی ثانی نہیں ویسا ذائقہ دنیا میں کہیں نہیں ۔
اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ سیونگ رونگ سر ہلانے لگا
ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے کی کیا ہی بات ہے۔ میری آہموجی بھی بہت اچھا کھانا بناتی ہیں کسی دن کھلائوں گا انکے ہاتھ کا فرائی چکن نوڈولز مجھے انکے ہاتھ کا سب سے ذیادہ یہی پسند ہے۔
مگر چکن حلال لینا ورنہ میں نہیں کھائوں گی۔
عروج نے فورا تنبیہہ کی۔ سیونگ رو کی مسکراہٹ لمحہ بھر کو پھیکی پڑی پھر سنبھل کر زور و شور سے سر ہلانے لگا
ضرور۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج لفٹ میں داخل۔ہوئی تو سامنے سے الف تھکے تھکے قدم اٹھاتی نظر آئی۔ لفٹ کے بند ہوتے دروازے کو اس نے فورا بٹن دبا کر روکا۔
تم اب آئی ہو گھر۔ الف نے لفٹ میں داخل ہوتے ہی پہلا سوال کیا
ہاں ۔۔ وہ۔مختصرا کہہ کر لفٹ بند کرنے لگی تھی کہ سامنے سے ہے جن اور واعظہ آتے دکھائی دیئے اس نے گہری سانس لیکر لفٹ کے بند ہوتے دروازے کو دوبارہ بٹن دبا کر روکا۔
تمہیں پتہ چلا نور کو پولیس پکڑ کر لے گئ۔ الف اسکی جانب رخ کیئے کھڑی تھی سو اسکی نگاہ ان دونوں پر نہ پڑی
کیا۔۔ کیوں۔ وہ چلا ہی تو اٹھئ۔
وہ سمجھ رہے ہیں نور اس گروہ کی رکن ہے جس نے عزہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہے جن اور واعظہ اسی کو چھڑانے گئے ہوئے ہیں
اس نے اضافہ کیا
پر یہ تو نور کے بغیر ہی آگئے ہیں۔ عروج انکو لفٹ میں داخل ہوتے دیکھ کر بولی دونوں کے چہرے تھکن سے اترے ہوئے تھے الف بھی گھوم گئ انکی جانب
کیا ہوا نور کو نہیں لائے؟ الف بے تابی سے بولی
تم نے ان لوگوں کو بتایا نہیں کہ نور کو عزہ کو اغوا کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو رہتئ ہی ایک جگہ ہیں۔ عروج کو غصہ آیا۔۔
نور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے صبح اسکا ریمانڈ بھی لے لیں گے۔ وہ بہت برا پھنسی ہے۔۔
واعظہ نے ہونٹ کاٹ کر کہا۔
یاخدا کیوں چانک مصیبت آن پڑی ہے ہم پر ۔ عروج اپنی پیشانی سہلائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدقے کی مرغی گھر میں رکھے ہو اوپر سے اسکی حالت دیکھو کل سے دانہ پانی بھی نہیں دیا اسے اسکو بھی روزہ رکھوادیا بےزبان معصوم جانور اسی وجہ سے نئی مصیبت آئی ہے۔۔ طوبی نے تاسف سے کارٹن میں مرگھلی سی ہوئی مرغی کو دیکھا جو طوبی کو شائد پہچان کر کٹاک کر کے رہ گئ تھئ۔۔
بتائو لڑکی ذات پولیس اسٹیشن کا منہ دیکھے گئ۔ کیا گزرے گی ماں باپ پر ۔
وہ بڑ بڑائے جا رہی تھی
ماں باپ کو کیا پتہ کہ انکی بیٹی کوریا میں کہاں ہے۔ عزہ نے تسلی دینی چاہی طوبی گھورنے لگی
یہی تم لوگوں کی لاپر وائیاں مصیبتوں کو دعوت دیتی ہیں ۔ کل پھوکا ہوا پانی پیا کم گرایا ذیادہ اب یہ صدقے کی مرغی جو بلا ٹالتی اسکو رات گھر میں رکھ کرمصیبت کو دعوت دے ڈالی ۔۔
پر اگر صدقے کی مرغی گھر میں رکھ کر بیمار کرنے کی وجہ سے مصیبت آئی ہے تو عزہ پر آنا چاہیئے تھی صدقہ تو اسکا دیا تھا نور پر کیوں آئی۔ عشنا دور کی کوڑی لائے بنا رہ سکتی تھئ۔۔
ہاں اور کوئی نئئ مصیبت کو پتہ دو میرا اغوا ہوتے ہوتے تک تو بچی ہوں اب کیا قاتل میرے پیچھے لگوانا ہے؟ عزہ بری طرح چڑ گئ۔
اس مرغی کا وقت کم رہ گیا ہے زبح کرنا پڑے گا ورنہ ضائع جائے گی۔
طوبئ مرغئ کو ہاتھ میں لیکر تول رہی تھی۔
آپ کرلیں گی ذبح۔۔
عزہ کو یقین نہیں آرہا تھا ۔ طوبی کی صلاحیتیوں پر شک۔۔ وہ برا مان گئ۔
کیوں نہیں ۔کونسا توپ کام ہے ؟ ابھی لو لائو ذرا تیز سی چھری ابھی بسم اللہ اللہ اکبر کرتی ہوں میں اسکا۔
دلاور بھائئ کو بلا لیں آپی۔
عشنا منمنائی
اب کیا سر پر مارنا ہے انکے؟ طوبی نے تیکھی نگاہ ڈالی
سختی سے منع کیا ہے میں نے اب یہاں کا رخ نہ کریں بھلا بتائو ایک بے چارے میرے معصوم سے میاں ۔۔ بغل میں مرغی دابے اسکا رخ کچن کائونٹر کی جانب تھا
ایک ہی ہوتے ہیں میاں تو۔ عزہ نے عشنا کے کان میں سرگوشی کی اس نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفٹ سے تھکے تھکے سے وہ چاروں نکلے جب بے ہنگم چیخ و پکار کی آواز آئی۔۔۔ عزہ نونا۔ ہے جن نے آواز پہچان لی۔ انکے گھر کے سامنے والے گھر سے دلاور سراسیمہ سے نکلے۔
کیا ہوا ؟ وہ پانچوں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے پھر جواب کا انتظار کیئے بنا گھر کی جانب بھاگے۔ فلیٹ کا دروازہ واعظہ نے کھولا تو اسکا استقبال خون کے دریا نے کیا تھا۔ دہلیز پر خون کا سیلاب سا آیا تھا تو دیواریں تک خون کے چھینٹوں سے رنگی گئ تھیں ۔ ان چاروں کے دل اچھل کر حلق میں آگئے تھے۔قدموں میں جان نہ رہی دلاور ہمت کرکے آگے بڑھے کہیں سے کوئی چیز اڑتی ہوئی آکر انکے سینے سے ٹکرائئ۔انکی ساری بہادری ہوا ہوئی گھبرا کر جو اس چیز سے چیختے ہوئے دور ہونا چاہا تو خون کے تالاب میں پیر پھسلا وہ سر کے بل زمین پر لام لیٹ ہوتے گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔ جاری ہے۔۔۔

Desi Kimchi Episode 16

قسط 16
یار ویسے یہ بریانی کے چاول کافی گیلے ہوگئے ہیں مگر ذائقہ ٹھیک ہے۔
فاطمہ نے نوالہ لیکر چٹخارہ بھرا تھا۔وہ تینوں مل۔کر۔افطاری۔کر رہے تھے۔ کچن میں ماربل ٹیبل پلس کائونٹر جس سے لائونج اور کچن کی حدود متعین تھیں اسکےگرد اونچے اونچے اسٹول لگا کر وہ تینوں کھانے بیٹھ گئے تھے۔ سیہون نے نہایت خوبصورت بھالو اور ستاروں بھری کھیرے ٹماٹر اور پیاز کی سلاد بنائی تھئ۔ فاطمہ نے ہرا دھنیا ہری مرچ ڈال کر خوب چٹپٹا سا رائتہ بنایا تھا۔بریانی۔واعظہ نے دم۔دے ڈلئ تھی اب خوب مزا آرہا تھا تینوں کو ۔۔
صحیح تو بنے ہیں۔سیہون حیران ہوا۔
اس سے کم گلے ہوئے تو کچے لگتے ہیں۔ اس نے معلومات میں اضافہ کیا۔
کورینز کے یہاں۔۔۔۔فاطمہ نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
ہمارے یہاں ایسے چاول پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔۔۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیااسے تو بریانی کے چاول ہمیشہ کچے لگے تھے اور گوشت زیادہ گلا ہوا۔۔ آج کی طرح۔
واعظہ اور فاطمہ دونوں ہاتھ سے کھا رہی تھیں دونوں کے ہاتھ چاولوں کی پیچ سے سن چکے تھے سیہون البتہ چاپ اسٹکس سے ننھے ننھے لقمے اٹھا رہا تھا۔
ویسے چکن بریانی سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ اس نے اضافہ کیا۔
اوئے چکن سے یاد آیا وہ جو طوبی چکن لائی تھی اسکا کیا کیا تم لوگوں نے۔ فاطمہ کو یاد آیا۔
وہ دیکھو۔ واعظہ نے اشارہ کیا فاطمہ سمجھ کر ہاتھ سے نوالہ چھوڑ بیٹھی۔
کیا؟؟؟؟وہ چیخی۔ سیہون چاپ اسٹک چھوڑ بیٹھا۔۔
اب کیا ہوگیا۔ وہ ہونق ہوا مگر فاطمہ اسکی۔جانب متوجہ نہ ہوئی غم و غصے سے بے حال واعظہ سے مخاطب تھی۔
یہ وہی چکن ہے؟ واعظہ کی۔بچی صدقے کا چکن کھلا رہی ہو مجھے؟ حد ہے طوبی نے عزہ اور ہے جن کا ہاتھ لگوا دیا تھا اس پر۔
دماغ خراب ہے کیا فاطمہ۔ وہ بھی چڑ گئ۔
خود بھی تو یہی ٹھونس رہی ہوں۔ سید ہوں میں صدقے کا چکن کھا سکتی بھلا ؟
تو پھر یہ چکن کہاں سے آیا وہ کہاں گیا۔۔ اسے اپنے ردعمل پر تھوڑی سی خفت محسوس ہوئی واقعی خود بھی تو وہی۔کھا رہی تھئ۔مگر تجسس برقرارتھا۔
تم دونوں مجھے دل کا دورہ پڑوا کر ہی رہو گئ۔ سیہون نے گلاس بھر کر پانئ نکالا اور پینے لگا
وہ دیکھو۔۔ واعظہ نے دانت کچکچائے۔ فاطمہ نے اسکئ اشارے کی سمت اپنے کندھے سے اوپر دیکھا تو اسکرین دمک رہی تھی ایک اور فلیش بیک۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ خوشی سے چلاتی ہوئی کلب میں بھاگی آئی۔ ہاتھ میں موبائل لہراتی جانے کیا نئی خوشی ملی تھی۔
واعظہ واعظہ۔ سنو۔۔۔
سیہون واعظہ کو ڈیفنس کک کی پریکٹس کرا رہا تھا دونوں تائکوانڈو کی مخصوص اپنے کلب کی وردی پہنے مکے بنائے دھڑا دھڑ لاتیں مکے چلا رہے تھے۔اس کی ہر دوسری بات اسی طرح جوش سے بھرپور اور فالتو کے سسپنس سے بھری ہونے کے باعث دونوں نے قابل توجہ نہ گردانا۔ لگے رہے
اوفوہ سنو تو میری بات۔ وہ ان دونوں کے گرد چکرا رہی تھی
پتہ ہے بی ٹی ایس کی فین میٹنگ کیلئے اپلائی کیا ہوا تھا میں نے۔
وہ انکے ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی۔
ہمیں نہیں پتہ ہوگا تو کسے پتہ ہوگا۔ انکی البمیں جو دھڑا دھڑ خریدتی پھری ہو اسکے پیسے ہم سے ہی ادھار لیئے ہیں تم نے۔ سیوہون نے کہتے ہوئے واعظہ کو مکا مارا جسے وہ بروقت جھکائی دے کر بچا گئ اپنا منہ۔
اور ایک دیو قامت چھے چندی آنکھوں والے لڑکوں کا پوسٹر میرے ہی سرہانے دیوار پر سجا ہے۔ رات کو اچانک نظر پڑے تو لگتا کہ باہر نکل کے کھڑے ہوگئے ہیں کبھی کبھی تو پلکیں بھئ جھپکاتے ہیں۔گھوم کر بائیں پیر کو اٹھا کر سیہون کو کک لگاتے ہوئے پھولی سانسوں سے واعظہ دکھڑا رو رہی تھئ۔ سیہون نے جھکائی دی۔ واعظہ کی یہ والی کک کمزورتھی۔ سیہون نے ٹوکا۔
تم اپنی فل باڈی اسٹریچ نہیں کرتی ہو اس طرح کمر میں چک آجائے گئ۔
ہوں۔ واعظہ نے سر ہلایا۔
اوفوہ میری بھی تو سنو۔ میں نے تین تین البم خریدی تھیں بی ٹی ایس کی اور تین دفعہ قرعہ اندازی میں نام داخل کروایا تھا۔
فاطمہ نے بات اس فالتو کی پریکٹس کے درمیان بھی پوری کر نی چاہی۔
ایک تو میرے نام سے ہی اینٹری کرائی ہے۔ واعظہ نے یاد کیا۔ اور گھوم کر مکا چلایا۔ سیہون اسکا مکا روک رہا تھا دونوں مکمل طور پر اپنی پریکٹس میں مگن تھے۔
واعظہ کے نام والی اینٹری نکل آئی کیا۔ سیہون نے یونہی اندازہ لگایا۔
نہیں۔ فاطمہ دبے دبے جوش سے بولی۔۔
مجھے پتہ تھا میں نہ صرف اپنے لیئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی منحوس ثابت ہوتی ہوں جب پیدا ہوئی تھی تو میری دادی کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا ۔۔ اسکے بعد۔۔
اسکی اپنی منحوسیت ثابت کرنے والے واقعات کی لمبی فہرست تھی جو ان دونوں کو رٹ چکی تھی۔
اسکے بعد تمہارے ابا کا پارٹنر دھوکا دے کر انکا سارا کاروبار سمیٹ گیا تھا، پھر جس دن تم پہلی بار اسکول گئئیں تو اس سکول کی کرپشن کی داستان کھل گئ اور وہ اسکول بند ہوگیا اور۔۔۔پھر۔
اس سے اگلے جملے سیہون ہنستے ہنستے دہرا رہا تھا
میری منحوسیت کی داستان صرف میں ہی سنا سکتی ہوں تم نہیں۔ اس نے بگڑ کر اسکو دو تین لاتیں مار دیں وہ ہنس ہنس کر بلاک کر رہا تھا
اب میری باری۔ اس نے کہہ کر اب خود حملہ کرنا شروع کیا واعظہ جھکائی دے رہی تھئ
تم دونوں بک بک بند کرو میری بھی سن لو میرا اپنا نام آگیا ہے۔
فاطمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا مٹھیاں بھینچ کر چیخ اٹھی۔ سیہون کے حملے روکتے واعظہ لمحہ بھر کر بے دھیان ہوئی سیہون کی بھرپور لات آئی بمشکل منہ بچایاکندھے پر کھا کر وہیں لام لیٹ ہوگئ۔ سیہون کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے گھبرا کر اسے اٹھانے لگا۔
کین چھنا واعظہ۔ وہ گھبرا کر پوچھ رہا تھا
واقعی۔ کندھا سہلاتی واعظہ سئہون کے سہارے سیدھی ہوتے ہوئے بے یقینی سے پوچھ رہی تھی
ہاں نا۔ وہی تو بتانے آئی ہوں۔ سارا جوش ہی پانی کردیا میرا۔
وہ منہ لٹکا کر اسکے پاس ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گاڑیاں دھوئی تھیں، پیٹرول پمپ پر ملازمت کی، ایک فوڈ کورٹ میں ویٹرس کی نوکری کی صبح اس این جی اومیں جاتی تھی تو شام کو بھالو کا لبادہ اوڑھ کر ایک مارٹ کے سامنے کھڑے ہو کرپمفلٹ بھی بانٹے۔ کیا کچھ کرکے اس نے پیسے جمع کیئے تھے۔اس ایک ایونٹ میں شرکت کیلئے۔ پھر
اس نے ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی اپنی سب بچت اڑا دی تھی سب کے سب ارکان کیلیئے تحفے لیئے تھے گھڑی فرینڈ شپ بینڈ چاکلیٹ ہیڈ بینڈ سب ایک جیسے سب کے ڈیبوٹ سے لیکر ڈی این اے البم تک کی تصاویر جمع کرکے البم بنایا انکے لیئے کسٹمائز ڈائری بنوائی اور جو جو سمجھ آیا خرید ڈالا
تم جس طرح اندھا دھند خرچ کر رہی ہو آگے کیا کروگی کرایہ کھانا پینا کپڑے؟ اسکو خوشی خوشی سب چیزیں بیڈ پر ڈھیر کرتے دیکھ کر ابیہا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
تم بھی کہہ کر دیکھ لو میری تو کسی بات کا اثر نہیں اس پر۔
واعظہ اسکے ساتھ بازار گئ تھئ سو تھک کر اپنے بیڈ پر ہی گر گئ تھی
میں نے مالک مکان سے بات کر لی ہے۔۔فکر ناٹ۔
وہ۔واعظہ کو کن اکھیوں سے دیکھ کر کھلکھلائی اس نے جوابا گہری سانس لیکر منہ پر تکیہ رکھ لیا۔
اور فین میٹنگ کئ ٹائمنگ دیکھو عین 3 بجے تمہارا باس چھٹی دے گا تمہیں۔۔
ابیہا نے پھر کوشش کی۔
یہ سب خرچہ بی ٹی ایس کے آگے کچھ نہیں۔۔
وہ بی ٹی ایس کے لوگو والی ٹی شرٹ پہنے تھی اس لوگو پر ہاتھ پھیر کر ایک ادا سے جھومی
اف تم سوچ نہیں سکتیں میں کتنی پرجوش ہوں کل میں اپنے پسندیدہ ترین فنکاروں کے روبرو ہونگئ ہزاروں پرستاروں میں ہم خوش نصیب سو پرستار اس سعادت کو پائیں گے۔ کوئی سوچ سکتا ہے بھلا ان کو قریب سے دیکھنے کا یوں اتفاق ہوگاباس چھٹی دے نا دے میں کل چھٹی کر رہی ہوں ۔۔اف میری نوکری چلی بھی جائے تو بھی پروا نہیں
وہ سرشار سی ابیہا کے پاس بیڈ پر دھم سے گری تھی۔ اسکا رنگ سرخ ہو رہا تھا خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔ ابیہا کی کوئی مستقبل کی حقیقت پسندانہ منظر کشی بھی اسے اس تقریب میں جانے سے نہیں روک سکتی تھی۔ وہ جتنئ بڑی بی ٹی ایس کی پرستار تھی اسکا تائب ہونا ناممکن نظر آتا تھا۔ وہ ہونٹ بھینچ کر اٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دو بجے سے تقریب میں پہنچ گئ تھی۔ کوریا بھر سے آئے پرستاروں اور انکےلائے قیمتی تحائف کو دیکھ کر اسکواپنی۔لائی چیزیں ایکدم بے کار اور گھٹیا لگنے لگی تھیں۔ کوئی پلاٹینم جیولری لیکر آئی۔ہوئی تھی۔
کوئی اپنے ہاتھ سے بی ٹی ایس کے ارکان کے خاکے بنا کر لایا ہوا تھا کسی نے بی ٹی ایس کا ٹیٹیو کھدوایا ہوا تھا اپنے بازو پر۔ ایک پاگل لڑکی توبی ٹی ایس کی درجنوں البمیں خرید چکی تھی آج سب کو بانٹ بھی رہی تھی کہ خریدنے کا مقصد بس قرعہ اندازی میں حصہ لینا تھا۔۔ اسکو دینے آئی تو اس نے معزرت کر لی۔ ڈی این اے کے تین البم تو پہلے ہی۔پڑے تھے اسکے پاس چوتھے کا کیا کرنا ہے۔ ذیادہ تر لڑکیاں تھیں مگر لڑکے بھئ جو تھے وہ لڑکیاں ہی لگ رہے تھے۔ لڑکیاں شارٹ اسکرٹس میں ملبوس تھیں تو لڑکے پھٹی جینز اور برمودہ میں۔ ۔ بالوں کے رنگ سب نے اپنے پسندیدہ فنکار کے بالوں کے رنگ میں رنگ رکھے تھے۔ پونے تین بجے بی ٹی ایس کی وین آئی تھی۔ انکے آنے کی۔خبر سن کر سب ہدایتیں بھول بھال سب پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے بھاگے تھے۔ انکو آدھا گھنٹہ۔لگ گیا تھا اسٹیج تک آنے میں ۔ سئکیورٹی کے دھکے کھاتئ کسئ طرح ان فنکاروں کو چھو لینے کی خواہش میں دیوانی لڑکیوں میں وہ خود کو ان سب سے الگ محسوس کر رہی تھی۔ بی ٹی ایس آکر اسٹیج پر بیٹھے تو شور مچا کر ان لوگوں نے ہال سر پر اٹھا لیاسامنے میز لگا کر ارکان کو بٹھا دیا گیا تھا انکے پیچھے ایک ایک اسٹاف میمبر کھڑا تھا پرستار آگے بڑھتے فنکاروں کی میز کے دوسری جانب اسٹول رکھا تھا جس پر بیٹھ کر وہ ہاتھ ملاتے دو سے تین منٹ بعد اگلے فنکار کے سامنے والے اسٹول پر بیٹھ جاتے اسکی چھوڑی جگہ پر دوسرا پرستار آجاتا۔۔ساتھ ساتھ بیٹھے ان فنکاروں کے ساتھ پرستاروں کا الگ الگ رویہ تھا۔ جن جمن کے پاس سے بہت جلدی اٹھ جاتی تھیں۔ ۔۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی اور یہی سب نوٹ کر رہی تھی اسکی توجہ مستقل اسٹیج پر جاتے لوگوں اور انکے رویوں پر تھی لوگ ویڈیوز بنا رہے تھے زور سے کسی رکن کا نام۔پکارتے وہ چونک کر سر اٹھاتا تو اسکی ویڈیو بناتے۔ جیسے چابی والے کھلونے ہوتے ہیں ۔۔ ہاتھ ملا کر گلے لگ کر اپنے دیئے گئے گفٹ خود پہنا کر سیلفیاں لیتےپرستار اسے بیٹھے ڈیڑھ گھنٹہ ہونے کو آیا تھا مگر مجال ہےان تمام ارکان میں سے کسی ایک کے بھی۔چہرے پر تھکن بیزاری کی رمق نظر آئی ہو۔یا لمحہ بھر کے لیئے مسکراہٹ مدھم ہوئی ہو۔
اسکے ساتھ بیٹھی لڑکی پورے ایونٹ کی ویڈیو بنا رہی تھی بازو اگلی کرسی کی پشت پر ٹکائے ہاتھ ہلنے نا پائے اسکا پورا دھیان رکھے وہ بیٹھی۔تھئ فوکس اسکا تھا جنگ کوک پر۔ مجال ہے جو اسکا ایک لمحے کا بھی ردعمل اسکے کیمرے سے چھپا رہ سکا ہو۔ اسکی باری جانے کب آئے اس نے یہی سوچ کر ان تمام کی ویڈیو بنانی شروع کردی۔ جنگ کوک تائہیونگ کے پاس سے تو لڑکیاں اٹھنے کو تیار ہی نہ تھیں۔ ایک نے ہاتھوں کا پیالہ سا بنایا تو جنگ کوک نے آگے بڑھ کر اسکی ہتھیلی پر تھوڑی رکھ دی۔ اتنا معصوم اتنا پیارا لگ رہا تھا فاطمہ کو ہنسی آگئ۔ اسکا پورا منظر کیمرے کی آنکھ سے قید کرتے اس نے کیمرہ گھمایا ریپ مونسٹر، شوگا جمن جن۔۔ وہ لڑکی بہت تیزی سے اپنی باری آنے پر انکی۔جانب بڑھی تھی۔ جن نے مسکرا کر اسے دیکھا اپنا ہاتھ بڑھایا ملانے مگر اس نے جھٹک دیا اور تاہیئونگ کے آگے جا بیٹھی۔ اس نے مسکرا کر اسکو خوش آمدید کہا وہ بڑا سا بیگ لائے جانے کیا کیا تحفہ تائیہیونگ کیلئے لائی تھی جسے خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے وہ مسکرا کر ہاتھ ملا۔رہا تھا۔ مگر جن۔۔ اس نےکیمرہ واپس گھمایا۔
اسکے چہرے پر تاریک سا سایہ لہرا گیا تھا۔ اس نے پچھلے پرستار کی لائی مٹھائی جو اسکے سامنے رکھی تھی اٹھا کر منہ میں ڈالنی چاہی توپیچھے سے اسٹاف میمبر نے سختی سے اسکو کچھ کہہ کر چھین لی۔ لمحہ بھر کو مسکرا کر اس نے سامنے دیکھا تو اتفاق سے عین فاطمہ کے کیمرے پر اسکی نگاہ۔گئ۔ یہ سارا منظر قید کرتی فاطمہ کا ہاتھ ہل سا گیا تھا۔ جن کی آنکھیں بھر سی آئی تھیں اور یہی منظر اسکے پاس محفوظ ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلیش بیک دیکھ کر فاطمہ اداس سی ہوگئ۔
کیا یاد کرادیا۔ پتہ ہے وہ ویڈیو آج تک میں نے کہیں نہیں ڈالی۔ بلکہ اس دن کے بعد میں نے دیکھی بھی نہیں۔ یقین کرو ۔۔۔ کہتے کہتے جیسے وہ واقعی اسی دن میں پہنچ گئ تھی۔
بی ٹی ایس بالکل کٹھ پتلیاں لگ رہے تھے ، پتھر کی مورت ، چابی والے کھلونے جیسے پرستار انکو ٹریٹ کر رہے تھے مجھے انسان نہیں ڈمی لگ رہے تھے جنکا کام بس تفریح دینا ہے انکے اپنے کوئی احساس و جذبات نہیں۔
واعظہ اور سیہون دونوں اکٹھے لفظ با لفظ وہی دہرا رہے تھے جو فاطمہ نے ابھی کہنا تھا۔ ظاہر ہے پچھلے دو سالوں میں جب جب بی ٹی ایس کا نام بھی اسکے سامنے لیا گیا تھا اس نے یہ واقعہ شد و مد سے دہرایا تھا اور اپنے انہی خیالات کا اظہارکیا تھا اور اسکے دوست اس تقریر کو رٹ چکے تھے۔
ہاں وہی۔۔ وہ۔کھسیائی۔۔
میں نے چکن کا پوچھا تھا یہ فلیش بیک کہاں سے دکھا دیا۔ اس نے واعظہ کو۔گھورا
کچھ زیادہ۔ریوائنڈ ہوگیا معزرت اب دیکھ ہی۔لو پورا۔۔ واعظہ کہہ کر دوبارہ پلیٹ پر جھک۔گئ تو فاطمہ نے۔مڑ کر دوبارہ فلیش بیک دیکھنا شروع کر۔دیا۔
کھانا بھی ساتھ کھائو اس بار میز پر فلیش بیک دیکھ لو۔ واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلاتی اب میز کی۔جانب دیکھنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی باری آئی تو وہ گہری سانس لیکر اٹھی۔ سارا جوش جھاگ کئ طرح بیٹھ گیا تھا گھبراہٹ کہیں غائب ہوچکی تھی۔ کہاں اسے وہ دنیا سے الگ مخلوق لگ رہے تھے کہاں اب اسے ان پر ترس آرہا تھا۔ اسے بی ٹی ایس پر ترس آرہا تھا۔ عجیب بات تھی نا؟
جن کا کائونٹرسب سے پہلا تھا۔اسے دیکھ کر وہ بہت خوشدلی سے مسکرایا یا ہر پرستار کیلئے ایک زبردست مسکراہٹ۔
آپکی آواز بہت مختلف اور میٹھی ہے۔ آپکے پرستار کم ضرور ہونگے مگر مختلف اور اچھی آوازیں پسند کرنے والے ہونگے۔
اس نے مسکرا کر کہا اور اپنی بات پر اسکے چہرے پر پھیلتی خوشی کی۔لہر دیکھ کر طمانیت سی اسکے اندر بھرتی گئ تھئ۔۔
میری اس پیاری سی پرستار کا نام۔
وہ مسکرا کر اسکی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔ وہ شش و پنج میں پڑ گئ۔ زندگی میں پہلی بار کسی لڑکے سے ہاتھ ملا لے۔۔ ؟؟؟
اسے ہنگل سمجھ نہیں آئی ہوگی یہ سوچ کر اس عربی نقوش والی لڑکی کیلئے اسکے مینجر نے ترجمہ کردیا انگریزی میں۔
فاطمہ۔۔ اس نے جواب دیتے ہوئے سوچا کہ ہاتھ بڑھائے یا نہیں۔۔اسکا پسندیدہ بوائے بینڈ گروپ مگر تھے تو یہ سب لڑکے ہی وہ ملا لے ہاتھ یا نہیں۔۔۔۔۔ کہ جن نے اپنا بڑھا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیا
آپ مسلم ہیں۔ معزرت مجھے پتہ نہیں چلا تھا۔۔وہ آپ نے اسکارف نہیں لیا ہوا سر پر تو۔۔اسلیئے۔۔۔
وہ بیٹھے بیٹھے زرا سا جھک کر معزرت کر رہا تھا۔اسکا مینجر اسکا جملہ مکمل ہونے پر ترجمہ بھی ساتھ ساتھ کر رہا تھا۔ وہی سخت دل مینجر جو اس وقت اسے دنیا جہاں کا سخت دل ترین انسان لگ رہا تھا اس وقت عاجزی سے جھک کر بات کرتا دنیا کا رحم دل ترین انسان لگ رہا تھا۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ اس نے سر پر اسکارف نہیں لیا ہوا تھا مگر گہرے نیلے لانگ ٹاپ شرگ اور جینز کے ہمرنگ پرنٹڈ نیلا اور گلابی اسکارف گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔
۔ آپکا نام بہت پیارا ہے۔۔ ہمارے جتنے بھی عربی پرستار ہیں ان میں ہمیں یہ نام ضرور سننے کو ملتا ہے۔۔۔ وہ مزید بھی کہہ رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشنا نے جوابا دھاڑ سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا۔
ہر انسان کی اپنی خواہشات اور ترجیحات ہوتی ہیں جن کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے تمہیں اگر اسکی یہ ضد بے جا لگ بھی رہی ہے تو تم اسکو روک نہیں سکتیں تجربہ کرنے سے۔۔
نور نے فاطمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا۔۔
فاطمہ نے اپنی اس جزباتی تقریر کا آج تک اتنا غیر جزباتی ردعمل نہیں دیکھا تھا۔
بھاڑ میں جائے اپنی کمائی بھاڑ میں جھونکے مجھے کیا۔۔ وہ تلملاکر بولی۔۔۔ الف کو ایکسو سے اتنی ہی انسیت تھی مگر فاطمہ کی فین میٹنگ کا احوال اسے عبرت ناک لگا۔ قریب تھا سب بھول کے فاطمہ کے گلے لگ جاتی کہ وہ جھٹکے سے اٹھی اور تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھا کر فلیٹ سے ہی نکلتی چلی گئ۔
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں کے مصداق الف اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔
آپ لوگ نماز پڑھ لیں وقت تنگ ہو رہا ہے۔
یہ تاکید جہاں سے آئی تھی ان سب کے سر گھوم گئے تھے۔ ہے جن ان سب کو حیرانی سے خود کو تکتا پا کر سٹپٹا گیا۔
وہ طوبی آپی ایسا ہی کہتی ہیں اس وقت کہ وقت تنگ ہو رہا ہے۔میں نے ان سے سیکھا یہ کوئی برا جملہ تو نہیں؟؟؟ وہ سمجھا شائد اسکی سمجھ میں کوئی کمی رہ گئی۔۔
نہییں۔۔ الف اور نور ٹھنڈی سانس بھر کر لائونج سمیٹنے لگیں۔عزہ کو بھی بھوک محسوس ہوئی یا ہےجن جیسے چٹخارے بھر کر کھا رہا تھا کھانا اسے دیکھ کر منہ میں پانی آگیا ۔ گول گول سے پیڑے سے بنے ہوئے انڈے کے اندر میں کچھ بھرا ہوا تھا اور کمچی۔۔۔ انڈے تو وہ کھا ہی سکتی تھی۔ خود وہ سوپ نوڈلز کے چاپ اسٹکس سے کھا رہا تھا ساتھ کمچی بھی اٹھا لیتا۔۔
کھائیں گی آپ؟۔ اس نے عزہ کو دیکھتا پا کر خلوص سے پیشکش کی۔۔ اس نے کمچی کھسکا بھی دی اسکی جانب مگر بند گوبھی کے اس اچار میں جس کے مصالحے کو خوشبو دور سے محسوس ہو جاتئ تھی اسے دلچسپی نہیں تھی۔
اس نے انڈا اٹھاتے ہوئے پوچھا۔۔
کھا لوں۔ اس میں چکن تو نہیں ہوگا نا۔
اس نے جواب کا انتظار کیئے بنا منہ میں رکھ لیا۔ آملیٹ کی طرح تلے ہوئے ایگ رول میں گاجر پیاز اور۔
وہ چباتے ہوئے چونکی۔ اس میں تو چبانا پڑ رہا ہے گوشت بھی ہے کیا۔
نہیں چکن نہیں ہے۔۔۔ ہے جن نے سادگی سے سر نفی میں ہلایا۔عزہ نے سکھ کا سانس لیا۔
۔ اس میں بیکن ہے۔ ہے جن نے جملہ مکمل کیا اسی وقت اس نے نوالہ نگلا تھا۔
کیا۔۔ وہ حلق کے بل چلا اٹھی۔۔
اس انڈے میں سور کا گوشت ہے؟؟؟؟؟ کیوں تم نے بتایا کیوں نہیں۔
وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ الف اور نور دہل سی گئیں ہے جن گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
نونا کیا ہوا۔۔
عزہ سیدھئ کچن سنک کی جانب بھاگئ
آخ۔۔
اب کیا قیامت آگئ ہے پہلے دروازے توڑے اب پھر چلا۔۔۔۔۔
عروج دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولتی باہر نکل کر گرجی مگرسامنے کچن کا منظر دیکھ کر الف اور نور کی۔طرح ہکا بکا سامنے دیکھتئ رہ گئ باقی جملہ منہ میں رہ گیا۔
عزہ حلق میں انگلی ڈال کر الٹی کرنے کی کوشش کر رہی تھی بیسن میں اور ساتھ ساتھ بلک بلک کر رو رہی تھی۔
مجھےبتا نہیں سکتے تھے۔۔۔میں سو سو۔۔۔۔۔ کھا گئی آخخخخخخ

ساتھ کھڑا ہے جن بھئ ہنگل کبھی انگریزی میں اسکی منتیں کر رہا تھا۔
نونا آئیم سوری مجھے نہیں پتہ تھا۔
اب اسے کیا ہوا ہے؟ عروج نے بے چارگی سے پوچھا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزے میں خون سے لت پت وجود میں زندگی کی رمق تلاشتے سارا دن گزرا تھا۔ شکر ہے جان بچ گئ تھی مگر اگلے چوبیس گھنٹے اسکے زمے مریض کیلئے اہم۔تھے۔۔ ڈرپ لگا کر نرس کو اگلی ہدایات دے کر جب وہ ڈیوٹی ختم کرکے باہر نکلی تو سورج ڈھل چکا تھا بلکہ رات پھیل رہی تھی۔ تھکی تھکی سی اپنے کیبن میں آکر بیٹھی۔ اسکی میز پر ایک چھوٹا سا پیکٹ رکھا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔ عجوہ کھجور ایک سینڈوچ اور ایک جوس کا ساشے بند تھا اس میں۔اسے اب یاد آیا اسکا تو آج روزہ تھا۔سارا دن اسے اگر کچھ یاد رہا تھا تو وہ شدید نازک حالت میں آئے حادثے کے مریض۔آج تو نماز بھی نہیں پڑھی۔ اسے افسوس سا ہوا۔ ۔ شدید بھوک پیاس کا ایکدم احساس ہوا تھا۔ اس نے جلدی سے پیکٹ کھول کر دعا پڑھتے ہوئے کھجور منہ میں ڈال لی۔
اس وقت یہاں اسکے سوا ایک دو اور خاتون ڈاکٹرز ہی آتی تھیں۔سو اطمینان سے اس نے ماسک ہٹا کر افطاری کی۔ اور خدا کا شکر ادا کیا۔
مریض کی کیس تاریخ درکار تھی وہ جلدی میں اپنے کیبن سے لانا بھول گیا الٹے پیروں واپس آنا پڑا اپنے کیبن کی طرف جاتے ہوئے اسکی یونہی سامنے نگاہ پڑی تو پھر پلٹ ہی نہ سکی۔ ہزار بار سوچا ان بڑی بڑی آنکھوں کے نیچے ناک کتنی ستواں ہوگی ہونٹ گلابی ہونگے یا عنابی اسے مشرقی نین نقش کا اتنا اندازہ تو نہ تھا مگر پھر بھی ایک خیالی پیکر تراش رکھا تھاچار سال سے اسکو دیکھ رہا تھا یا چار سال سے اسکو دیکھا تک نا تھا کسی پہیلی جیسی روج جس نے اسکا راستہ روک رکھا تھا۔ہزار لڑکیاں تھیں گرد وہ ہر لڑکی پر وہ بڑی بڑی مڑی پلکوں والی بھوری آنکھیں جوڑتا اور ہر بار ناکام رہتا۔ کیا کیا نا سوچا تھا اس نے روج ایسی ہوگی ویسی دکھائی دیتی ہوگی۔اور آج اس نے روج کو دیکھ ہی لیا۔ یونہی اچانک سر راہ۔ چلتے چلتے۔۔ اورجتنا بھی سوچا جیسا بھی سوچا کم سوچا تھا۔ وہ اسکی سوچ سے بڑھ کر تیکھے نقوش گلابی رنگت اور تھوڑی پر ڈمپل والی ایک حسین لڑکی تھی۔ اتنی حسین کہ اسکا لمحہ بھر کو دل تھم کر دھڑکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک طرف ہو کر انکو اندر آنے کا راستہ دیا۔
یون گے نامی وہ اہلکار دھیرے سے سر جھکاتی اسے سلام کرتی تیزئ سے اندر چلی آئی۔ انکے ہمراہ آیا لڑکا باہر دروازے پر ہی رک گیا البتہ دوسری لڑکی نے بھی اسکی تقلید کی۔۔
کیا ہوا کون ہے؟ منہ میں پکوڑے بھرے بمشکل الف نے پوچھا پھر نووارد لڑکیوں کو دیکھ کر سٹی سی گم ہوگئ۔
آننیانگ۔ ہم گنگنم پولیس اسٹیشن سے آئے ہیں۔ مس نور مرتضی کو تحویل میں لینے کا حکم نامہ ہے ہمارے پاس۔۔
وہ خالص ہنگل میں بولی تھی ۔ ہے جن لقمہ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
کس جرم میں؟ وہ دوبدو سوال کر رہا تھا
کیا ہوا کیا کہہ رہی ہیں یہ؟ نور الف دونوں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں
ہمیں شبہ ہے کہ گنگنم اسٹیشن میں زیر تفتیش آن لائین سیکس اسکینڈل میں گرفتار ملزمان سے مس نور کا تعلق ہے۔ ہم تفتیش کیلئے انکو حراست میں لینا چاہتے ہیں یہ حکم نامہ ہے ۔۔
اس نے مسکرا کر جس رسان سے بتاتے ہوئے کاغذ انکی جانب بڑھایا اس سے الف اور نور کو گمان تک نا گزرا کہ کیا کہہ رہی ہے۔ ہے جن نے کاغذ پر لکھی تحریر پڑھی۔ اسکے ہونٹ خشک ہو چلے تھے۔۔
انکو پتہ چل گیا مجھے کس نے اغوا کیا تھا؟۔عزہ ہے جن کا کندھا ہلا کر پوچھ رہی تھی۔
وہ۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔
وہ یہ آپکے سامنے ہی ہیں مگر آپ تھوڑی سی مہلت دے دیں انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا صبح چار بجے کے بعد اب یہ کھانا کھا رہی ہیں کھا لیں تو پھر بھلے آپ گرفتار کر لیں۔
ہے جن دستر خوان کی جانب اشارہ کرکے کچھ کہہ رہا تھا وہ چاروں خفت ذدہ ہوئیں۔
آئیں آئیں آپ بھی ہمارے ساتھ روزہ افطار کیجئے۔ معاف کیجئے گا ہمیں خود ہی آپکو دعوت دے دینی چاہیئے تھے۔ یہ نور تھی اخلاق جھاڑتی وضاحت کرتی باقائدہ کندھے سے پکڑ کر یون گے کو بلا رہی تھی۔ یون گے نے اپنی ساتھی کو دیکھا ۔
آئیں نا آپ بھئ کھائیں۔ وہ تینوں دعوت دے رہی۔تھیں۔ اہلکاروں کو یوں کسی مشتبہ گھر میں گرفتاری کی غرض سے جانے کی صورت میں کھانے پینے کی اجازت نہیں۔ہوتی مگر ایسی۔صورت حال میں ملزم اصرار کرکے کھانے کی دعوت بھی نہیں دیا کرتے۔یہ صورت حال انکے لیئے بھی انوکھی تھی۔۔ عشنا دروازے پر موجود اہلکار سے انکی آمد کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ ان تینوں نے اصرار کرکے دونوں اہلکاروں کو بٹھا لیا تھا۔ اب یون بے جھجکتے ہوئے پکوڑا اٹھا رہی تھئ۔ ہے جن نےایک نظر انکے اطمینان بھرے مسکراتے چہروں پر ڈالی پھر جلدی سے ایک میسج لکھ کر کسی کو بھیج ڈالا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ختم شد۔

Desi Kimchi Episode 15

15 ویں قسط۔۔۔
انٹرویو دے کر باہر نکلتے ہوئے اسکے قدم شکستہ ہو چلے تھے۔ سو فیصد امکان تھا کہ یہ نوکری بھی نہیں ملے گی۔
فری لوڈر بننے کا خیال اسے مارے ڈال رہا تھا۔ وہ پھر ہنگن دریا کے کنارے آبیٹھی تھئ۔ بنچ پر بیٹھی دریا پر نظر جمائے اس لڑکی پر سورج کی تیز دھوپ پڑ رہی تھی۔ بلو جینز پر گلابی اپر پہنے اس لڑکی نے ہڈ سر پر جما رکھا تھا اسکے چہرے کا رخ دریا کی جانب تھا مگر وہ اسکا بایاں رخ دیکھ سکتا تھا۔جس سے اسکی رخسار کی نمایاں ہوتی ہڈی نظر آرہی تھی آنکھیں ہرگز بھی غلافی نہیں تھیں بلکہ معمول سے بڑی تھیں یقینا وہ کوریائی باشندہ نہیں تھی۔ ویسے بھی کوئی کوریائی لڑکی ہوتی تو اس جگہ کبھی نہ بیٹھتی ٹوپی پہن کر سن بلاک لگا کر چھتری لیکر بھی نہیں۔ دھوپ سے رنگت جھلسنے کے ساتھ کینسر کا بھی تو خدشہ ہوتا ہے۔ کچھ فاصلے پر درخت کے سائے میں بیٹھے اس چندی آنکھوں والے نے کافی دلچسپی سے اسے دیکھا۔
اف ایک تو چوبیس ڈگری سے درجہ حرارت آگے بڑھنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ تنگ آگئ ہوں ٹھنڈ سے۔ایک یہاں کی موٹی کھال کی لڑکیاں شارٹ اسکرٹ پہن کر کیسا گرمی منا رہی ہیں۔ کوئی انہیں بتائے امی اتنے ڈگری سے کم پر ہمیں اےسی تک نہیں چلانے دیتیں کہ بل ذیادہ آئے گا۔ اس نے بازو سکیڑ کر گرمی کی حدت کو محسوس کرنا چاہا۔
اف اس پر بھی اس موٹی کھال کے آدمی نے اے سی چلا رکھا تھا۔۔
اس نے جھر جھرئ سی لی۔ تبھی اسکے موبائل کی پیغام دھن بج اٹھی۔ واعظہ تھی۔۔
انٹرویو کیسا رہا؟
اس نے گہری سانس لی۔
ناکام رہا۔ شام کو ملو گی سوجو پی کر اس ناکامی کو منائیں گے۔ اس نے یہی لکھ کر بھیج دیا۔
ہرگز نہیں۔ برملا جواب آیا تھا۔ اسکا جواب پڑھ کر اس نے بے چارہ سا منہ بنا کر ہونٹ لٹکا لیا تھا۔
مجھ سے تو کوئی ملنا بھی نہیں چاہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی ہوں اگر دو منٹ کے اندر تم میرے گھر کے سامنے سے نہیں گئیں تو میں پولیس کو فون کردوں گئ۔ کے سہکی۔
ذرا کی ذرا دروازہ کھول کر وہ بلا لحاظ چلائی اور دھاڑ سے عروج کے منہ پر دروازہ بند کردیا۔
آہ۔ عروج کو اسکے ردعمل کا اندازہ تھا مگر پورے راستے اتنے جملے ترتیب دیئے تھے کہ کم از کم پانچ منٹ تو وہ اسکی بات سنتی مگر اسکا مدعا سننا تو دور دروازہ کھول کو اسکی شکل دیکھتے ہی پہچان کر وہ چیخی ۔ انداز دیکھ کر لگتا تھا کہ پولیس کو فون نہ بھی کیا تو بھی اگر دوبارہ عروج نے اطلاعی گھنٹی بجائی تو سر پر ڈنڈا مار دے گئ عروج کے۔ وہ گہری سانس لیکر اسکے دروازے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ اس گندی سندی پرانی عمارت کی دوسری منزل تک چڑھتے اور اب اترتے اسکی نگاہوں میں بس وہ بے چارگئ سے عروج کو تکتی بوڑھی آنکھیں چھائی رہی تھیں۔
اتنی تو کوشش کر لی میں نے اور کیا کروں۔ وہ تھک کر عمارت کے داخلی دروازے پر بنی کیاریوں کے پاس بیٹھ گئ۔
دھیرے دھیرے سرسراتی ہوا۔ وہ گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرنے لگی۔ روزے میں دوسری منزل تک چلنا اترنا ۔۔پیاس لگا گیا تھا۔
یہ علاقہ کافی گندا تھا۔ چھوٹے چھوٹے گھر جن کے باہر میلے کچیلے بچے شور مچاتے کھیل رہے تھے۔ یہ عمارت کافی خستہ حال لگتی تھی۔
کتنے وون لیتئ ہو؟۔ چندی آنکھوں والا لمبا سا لڑکا اسکے اتنے قریب اچانک آکر کھڑا ہوا کہ وہ گھبرا کے اٹھ کھڑئ ہوئی۔
دے؟۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔
قیمت پوچھ رہا ہوں مجھے رات بھر کیلئے نہیں بس چند گھنٹے گزارنے ہیں جلدی بولو۔ عربی ہو؟
وہ جلدی میں تھا ۔۔
آندے۔ وہ عربی تو نہیں تھی۔۔ سو صاف سر ہلا کر بولی۔
عروج کو اتنی ہنگل سمجھ تو آتئ تھی مگر وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا ہے۔
ہمم۔ آنکھیں تو بڑی ہیں آپریشن کرایا ہے۔ وہ بغور اسے سر تاپا دیکھ رہا تھاوہ۔بلو ڈینم عبایا پہنے تھی سر پر بلیک اسکارف تھا اور بلیک ہی ماسک پہن رکھا تھا۔ اس نے تکلفی سے اسکے چہرے سے نقاب کھینچ لینا چاہا۔
اور شکل دکھائو۔شکل دیکھ کر پیسے۔۔
اسکا جملہ منہ میں ہی تھا عروج کا ہاتھ اٹھا ایک کرارا تھپڑ اس لڑکے کے منہ پر لگا تھا۔
ہائو ڈیر یو۔ وہ لال بھبوکا چہرہ لیئے چلائی۔
لڑکے کا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ یہ تھپڑ اسکے لیئے غیر متوقع تھا ۔ غصے میں بھر کر وہ سیدھا ہوا ارادہ اس تھپڑ کا کرارا جواب دینے کا تھا مگر عروج کو دیکھ کر لمحہ بھر کیلئے چونک سا گیا۔ ایشیائی چہرہ عربی۔ کہیں اسے غلط فہمی ۔۔۔ اپنا ہوا میں اٹھتا ہاتھ اس نے روکا تھا۔ گلی میں کھیلتے بچے کھیل چھوڑ کر آنکھیں منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ عروج کا ردعمل اتنا اچانک تھا کہ اسے خود بھئ اندازہ بعد میں ہوا۔ ایک اجنبی علاقے میں نجانے کس قماش کے لڑکے کو یوں منہ پر تھپڑ مار ڈالا۔ جوابا وہ بھی پلٹ کر مارنے ہی والا تھا۔ اسکا رکتا ہاتھ دیکھ کر اس نے موقع غنیمت جانا اپنا بیگ کندھے پر سیدھا کرتی اس نے دوڑ لگا دی۔ بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بنا پوری جان لگا کر بھاگتی ہوئی وہ ذیلی سڑک تک آئی۔
سڑک پر بہت رش تو نہیں تھا مگر سنسانی بھی نہ تھی۔شکر ہے اس نے اسنیکرز پہن رکھے تھے جو اس دوڑ میں ساتھ دے گیے اسکی سانس پھول چکی تھی۔ سڑک کنارے رک کر ٹیکسی کو ہاتھ دیتے اس نے مڑ کر دیکھا تو شکر ہے وہ اسکا پیچھا نہیں کر رہا تھا۔ اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔
ٹیکسی میں بیٹھ کر کتنے لمحے اسے خود کو سنبھالنے میں لگ گئے۔
پانی ۔۔
ڈرائیور نے جانے کیا سمجھا مڑ کر پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔
وہ بے دھیانئ میں بوتل لیکر رخ موڑ کر پینے ہی لگی تھی کہ یاد آیا روزہ ہے۔۔ بوتل کا ڈھکن بند کر کے اپنے برابر نشست پر رکھ لیا۔
یہ علاقہ اب محفوظ نہیں رہا۔ جانے لوگ آج کل کے اتنے متشدد کیوں ہو چلے ہیں۔ روز ہی کسی نہ کسی لڑکی کو یہاں سے ایسے ہی پریشان جاتے دیکھتا ہوں۔۔۔۔
ڈرائیور کوئی ٹھیک ٹھاک باتونی انسان تھا۔ اس نے جائزہ لیتی نگاہوں سے دیکھا تو خشخشی سی داڑھی والا وہ کوئی تیس پینتس برس کا ہوگا رنگ دھوپ سے تھوڑا کم ہونے کے باوجود کافی گورا تھا۔ وہ مکمل سڑک کی جانب متوجہ تھا۔ اسے شدید الجھن آتی تھی اگر کیب والا کوئی غیر ضروری بے تکلف ہونے بات سے بات نکالنے والا ٹکر جائے۔ بھئ خاموشی سے گاڑی چلائو ۔ اسکی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں مگر ڈرائیور ان سے بے نیاز اگلا سوال پوچھ بیٹھا۔
ابھی کسی اور کلائینٹ کے پاس جانا ہے یافارغ ہو؟
بیک ویو مرر سے پیچھے دیکھتے وہ آہجوشی بے تکلفی سے پوچھ رہا تھا۔ اسکو اسکی بات سمجھ نہ آئی ۔وہ دے کہنے لگی تھی تاکہ وہ وضاحت کرے اپنی بات کی کہ تبھی اسکا فون بج اٹھا۔
ہاسپٹل سے فون تھا۔ کوئی حادثہ ہوا تھا ایمرجنسی نافذ تھی اسے فوری ہاسپٹل رپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔
ایسا کرو گاڑی کو سیول ہیلر اسپتال کی جانب موڑ لو۔
اس نے ڈرائور کو ہدایت کی۔
کین چھنا؟۔ ( خیریت)۔ طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی؟۔
دے۔ عروج نے ٹھنڈی سانس لی۔ بہر حال وہ ڈرائور نظر باز نہیں تھا باتونی بےشک بہت تھا۔ اس نے جواب دے دیا۔
کوئی حادثہ ہوا ہے گنگنم میں۔۔
اوہ۔ ہاں۔ ابھی آرہا تھا تو دیکھا ایک ٹرک اور گاڑی کا تصادم ہواہے۔دیکھا تھا ایمبولنسیں جارہی تھیں۔ آپ کیوں جا رہی ہیں۔ اسپتال؟ کوئی جاننے والا تھا ان میں۔
باتونا انسان۔ ۔عروج نے چڑ کر دیکھا
ڈاکٹر ہوں میں اسلیئے بلائی گئ ہوں۔
دے؟۔ ڈرائور کا ہاتھ واضح طور پر اسٹیرئنگ پر پھسلا تھا۔
پھر باقی رستہ خاموشی۔ہی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عید سر پر ہے اور ہم نے ابھی تک ہنبق نہیں سلوائے۔ واعظہ کی بچی جب آئیڈیاز پر عمل نہیں کرنا ہوتا تو دیتی کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔
الف دف کی طرح ٹرے بجا کر اعلان کر رہی تھی۔
ویسے الف روزے میں سارا دن گزار کر عین افطار کے وقت اتنی توانائیاں کہاں سے لاتی ہو سر کھانے کی؟۔
نور حقیقتا حیران تھی۔ پکوڑوں کیلئے آلو چھیلتی وہ بہت تجسس سے دریافت کر رہی تھی۔ عشنا کل سے کمرے میں بند تھی رات کو فاطمہ ساری تقریریں جھاڑ کر چلی گئ تھی اسکے بعد سے عشنا جو کمرے میں گھسی صبح سحری میں واعظہ اپنی اور اسکی سحری کمرے میں لے گئ تھی۔پھر آٹھ بجے اٹھ کر یونیورسٹی چلی گئ اور جب سے واپس آئی تھی تب سے سو رہی تھی۔ عزہ اور ہے جن باہر گئے ہوئے تھے عزہ کو چیزیں لینی تھیں۔ عروج اسپتال گئ ہوئی تھی اور الف بجائے اسکے ساتھ افطاری بنوانے کے عید کی تیاریوں کی فکر میں ہلکان تھی۔
توانائیاں ہم میں ہوتی ہیں بس ہم کھا کھا کے جمع کرتے رہتے ہیں جو ہم میں فیٹ بن کر جم۔جاتی ہیں ۔روزہ انہی توانائیوں کے استعمال کیلئے ہی ہے۔ بھئ مزید پیٹ میں مت انڈیلو بلکہ جو انڈیلا ہوا ہے اسکو استعمال کرو سو میں اپنی انہی توانائیوں کا استعمال کر رہی ہوں جو تم استعمال نہ کر کر کے پیٹ پر جمع کرتئ جا رہی ہو۔
الف نے سیدھا سیدھا چوٹ کی۔ نور کے پیٹ پر جا لگی۔ تڑپ کر بولی۔
کوئی نہیں اتنی بھی کوئی موٹی نہیں ہوگئ زرا سا روزوں کی وجہ سے کھانے پینے کا معمول خراب ہوا ہے تو لگ رہا ہے تھوڑا سا پیٹ نکل رہا ہے۔ ورنہ بالکل اسمارٹ ہوں میں۔
اتنی اسمارٹ ہو تو برا کیوں مان رہی ہو۔
اسے چڑتا دیکھے اور مزید چڑائے نا الف یہ تو ہو نہیں سکتا۔
تم ہنبق مت سلوانا اس میں تو دبلی سے دبلی ہیروئن بھی انجمن لگنے لگتی ہے۔۔واعظہ اسکے لیئے ہنبق کا آرڈر نہ دینا۔ وہ مزے سے مشورہ دے رہی تھی۔
واعظہ میں نے بھی ہنبق سلوانا ہے جب سب سلوا رہی ہیں تو میں کیوں نہیں۔
نور کو ڈر لگا کہیں واقعی واعظہ ہنبق کا آرڈر کینسل نہ کر دے۔
موٹی لگو گئ۔ الف باز نہ آئی۔۔
جب سب لگیں تو میں بھی لگ لوں گی موٹی فکر مت کرو۔۔ واعظہ۔۔ میرا بھی ہنبق بنوانا۔
نور نے آلو کاٹنے ہی چھوڑ دیئے۔
واعظہ ان دونوں کی بحث سے بے نیاز۔ منے لائونج میں فلو کشن پر بیٹھی صوفے سے ٹیک لگائےلیپ ٹاپ کھولے بلاگ لکھنے میں مگن تھی۔ تیسری بار نور نے بات دھرائی تو آرام سے اسکی شکل دیکھ کر بولی
میں کسی کا بھی نہیں بنوا رہی ۔جتنے کا ہنبق بنے گا اتنے میں چار رسمی پوش بن سکتے ہیں۔ پیسے نہ پھنسائو اس میں۔
کیا ؟؟؟ رسمی پوش؟ ہم کیا کریں گے اتنی سی تو میز ہے ہماری اور کیا ہم رسمی پوش لپیٹ کر پھریں گے عید پر؟
الف حق دق سی رہ گئ اسکی منطق پر۔
ہاں تو اور کیا عید کے کپڑے تو بنوانے ہی ہیں ۔ ہم رسمی پوش۔۔
نور نے بھئ ہاں میں ہاں ملانا چاہی۔ واعظہ نے سر پیٹ لیا۔
کیا سمجھ رہی ہو رسمی پوش کا مطلب؟
میز پر جو کپڑا ڈالتے ٹیبل۔کلاتھ۔۔ اسی کو ہی سنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بولتے بولتے یاد آیا اسے تو میز پوش کہتے۔
اسے میز پوش کہتے ہیں۔ واعظہ نے جتایا۔۔
رسمی پوش casual wear کا اردو ترجمہ ہے۔۔ ہر لفظ کا اردو ترجمہ موجود ہے فرق صرف یہ کہ ہم اردو الفاظ بولنے کی بجائے انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
رسمی پوش۔ الف کو لطف آیا۔
مجھے تو مزے کا لگا ہے یہ لفظ میں رسمی پوش ہی کہا کہوں گئ اب۔ سے۔
تو کیا ہم واقعی ہنبق نہیں بنوا رہے؟
نور کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔
یار رمضان میں میری بچت بھی ٹھکانے لگ چکی ہے اوپر سے مجھے فاطمہ ابیہا دونوں کا کرایہ اس مہینے کا نہیں ملا۔ جاب میری کوئی ہے نہیں۔ اسی سے خرچے نکالتی ہوں میں۔ عشنا عروج نے کرایہ تو دیا ہے مگر اسکے بعد ان دونوں کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ بمشکل میں نے فلیٹ کا کرایہ دیا ہے اوپر سے یہ ہاسپٹل کا خرچہ پولیس انکوائری یہ سب میری سب بچت ٹھکانے لگ چکی ہے۔ میں تو شائد عید کا جوڑا بھی نہ بنوائوں۔ تم دونوں کے پاس اگر ہیں پیسے تو سلا سلایا خرید لو وہ سستا پڑے گا اور ہنبق میں فٹنگ تو ہوتی بھی نہیں ہے۔ واعظہ کی تقریر پر دونوں چپ ہوگئیں۔
اب جب سب نہیں بنوا رہے تو ہم کیوں بنوائیں۔۔ ہم بھی نہیں بنواتے۔ نور نے فیصلہ سنایا۔
تو عزہ اور ہے جن کے ہاسپٹل کا خرچ تم نے اٹھایا ہے؟۔ الف حیران ہوئی۔ واعظہ نے جواب نہیں دیا وہ دوبارہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوچکی تھی۔
یار لیکن عید کیلئے کچھ پلان تو کرو ہم پہلے ہی گھر والوں سے دور ہیں۔۔ الف ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر اسکے پاس ہی آبیٹھی۔
پاکستانی ایمبیسی کوئی نہ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے چلیں گے وہیں۔ ۔۔ واعظہ نے تسلی دی۔ الف اس پر ہی۔خوش ہوگئ
ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔۔۔
اچھا میں جا رہی ہوں افطار باہر کروں گی تم لوگ افطاری کر لینا۔۔وہ لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
لو میں نے اتنے آلو چھیل لیئے۔ میں اور الف کتنا کھائیں گے۔
نور نے چھری رکھ کر آلو کی بھری ٹوکری کو تاسف سے دیکھا۔
اسکی ترکاری بنا لو کھانا تو بننا ہی ہے چٹپٹے آلو بنالو۔
الف نے مفت مشورے سے نوازا۔
کبھئ یہ بھی کہہ دیا کرو یہ بنا لیتی ہوں میں۔ نور کمر پر ہاتھ رکھ کر طنزیہ بولی۔
جب تم بنا لیتی ہو تو ۔۔۔ الف بھی جوابا الجھنے لگی۔ ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر وہ صوفے سے پرس اٹھاتی باہر نکل گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اسکی۔نظر سب سے پہلے سیہون پر پڑی تھی۔ اوپن کچن میں ایپرن باندھے وہ زور و شور سے کھانا پکانے میں مگن تھا۔ فضا میں بھنے ہوئے گوشت کی مہک تھی۔
اب یہ سور نہ پکا رہا ہو باقی خیر ہے۔
فاطمہ نے دل ہی دل میں دعا کی۔ برتن تو اسے وہی استعمال کرنے پڑتے اپنے لیئے افطار تیار کرتے وقت۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھی
فاطمہ۔ سیہون نے اسے تیزی سے اپنے کمرے کی۔جانب جاتے دیکھ کر آواز دی۔
دے۔ وہ دروازے کا ہینڈل پکڑنے جا رہی تھی کہ فریز ہوگئ
بریانی بن رہی ہے تم بھی کھا لینا۔
وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر دوبارہ ہانڈی کی جانب متوجہ ہوگیا۔
کونسا گوشت ہے؟ فاطمہ کے ذہن پر عزہ سوار تھی جھٹ پوچھا۔۔
سورکا۔ فورا جواب آیا۔
کیا؟ وہ چیخ پڑی۔ اتنی خوشبو اسکی ناک کے راستے اندر جا چکی تھی وہ بھی حرام گوشت کی۔
ہرگز نہیں میں سور کا گوشت نہیں کھا سکتی بلکہ کوئی بھی گوشت نہیں کھا سکتی ہم حلال گوشت کھاتے بس تم پکا کر فارغ ہو جائو پھر میں آکر اپنا کھانا بنا لوں گی۔۔اور سنو اپنے یہ سور والے برتن الگ رکھنا میں ان میں پکا بھی نہیں سکتی ہوں۔۔۔۔۔ (آگے اردو)۔۔۔نجس کو انگریزی میں کیا کہتے
اس نے جھٹ فتوی دیا پھر سوچ میں پڑی۔
تم لوگ سحری میں ایسا کیا کھاتی ہو جو پورا دن لڑنے کیلئے توانائیاں بحال رہتی ہیں۔ میں ایک کھانا چھوڑ دوں مجھ سے لڑنا بھڑنا دور کچھ کام کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔
سہون نے سخت بھنا کر اسے دیکھا پھر پلٹ کر لائونج کے صوفے پر دراز وجود سے مخاطب ہوا۔ فاطمہ نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو صوفے پر واعظہ نیم دراز تھی اسکے کہنے پر جمائی لیتی اٹھ بیٹھی۔
میں تو بس ایک پراٹھا دہی اور انڈے کے ساتھ کھاتی ہوں۔ انداز سادگی بھرا تھا
مجھے تو ملنے سے صاف انکار کردیا اب یہاں کیا کر رہی ہو؟ میری کو بتائوں میں؟ اسکے بوائے فرینڈ کے گھر کیا کر رہی ہو تم؟۔
فاطمہ دانستہ اردو میں بولتی گھوم کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
پہلے میری کو یہ بتانا تم یہاں کیا کررہی ہو سیہون کی بیگم ۔۔
وہ بھی واعظہ تھی مزے سے بولی۔
سیہون کو انکی باتوں میں صرف اپنا اور میری کا نام اور بوائے فرینڈ سمجھ آیا تھا کفگیز تھامے وہ بھی تجسس سے انکے پاس چلا آیا۔
کیا ہوا میری کا کیا ذکر؟
تم یہاں کیا کر رہے ہو چکن کا کیا بنا؟ دونوں اکٹھئ چیخی تھیں۔
وہ پانی ڈال کر آیا ہوا ہوں۔ وہ سٹپٹا گیا۔
بریانی میں پانی؟
دونوں کچن کی جانب بھاگیں۔ مرغی پانی سے بھری دیگچی میں بطخ بنی تیر رہی تھی۔
اب الگ سے چاول پکانے کی بجائے اسی شوربے میں ڈال دو۔ فاطمہ نے چکن کے لمبے شوربے کو دیکھ کر مشورہ دیا۔
یہی کرنا پڑے گا اب۔ واعظہ بھی متفق تھی۔
شان مصالحہ اپنے ہاتھوں سے ڈال کر اسے صرف بھوننے کا کہہ کر گئ تھئ۔ پانی کس خوشی میں بھر دیا مرغی میں؟ اسے تیراکی سکھا رہے تھے؟۔۔ واعظہ بھنائی۔
پھر دونوں نے مشترکہ گھوری دی تھی سیہون کو۔۔
میں کونسا بچپن سے بریانی پکاتا رہا ہوں۔۔ وہ سٹپٹا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نونا کیا دیکھ رہی ہو ہر چیز کی پیکنگ میں۔۔ ؟؟؟ ہے جن جھلا ہی گیا آخر۔
اسکے ساتھ ایک ہی مارٹ میں پھرتے پورے دو گھنٹے ہونے کو آئے تھے اور انکی ٹرالی میں صرف چار چیزیں جمع ہوئی تھیں۔ وجہ تھی ہر چیز اٹھا کر عزہ اسکی پیکنگ پر لکھے اجزا پڑھنا شروع کردیتی۔ جہاں ہنگل میں لکھا ہوتا وہاں ہے جن کی مدد درکار ہوتی۔
ٹرالی میں شیمپو ایک لوشن ایک کنڈشنر ہی بس جمع ہو سکا تھا۔ ایک اسکن ٹائٹننگ کریم اب اسے تھما کر اس پر لکھے اجزا دہرانے کو کہہ رہی تھئ۔اب عزہ۔۔
میں یہ دیکھنا چاہ رہی ہوں کہ جو بھی اشیاء خرید رہی ہوں میں ان میں حرام اجزا شامل نہ ہوں۔ اس نے بتایا تو ہےجن گہری سانس بھر کے رہ گیا۔
سور کے ریشے اسکن پراڈکٹس میں شامل نہیں کیئے جاتے۔
اسکی کھانے کیلئے ہی مانگ بہت ہے نونا۔۔
پھر اس پر جانور کے اجزا شامل ہیں یہ کیوں لکھا ہوا ہے؟
کوئی تو جانور ڈالا ہے نا اسمیں۔ عزہ نے اسکو باقائدہ پیکنگ دکھائی۔
اف نونا۔ اس طرح تو یہ شیمپو ، کنڈشنر اور یہ لوشن بھی رکھ دو۔ کوئی نہ کوئی جانور کا اجزا ان میں بھی شامل ہے ۔ اس نے جھلا کر جتایا۔ جتاتے وقت اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ عزہ یہ سب واپس رکھنے پر تل جائے گی۔
تو۔۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں۔ تم سے تبھی تو پوچھ رہی ہوں کہ اجزا دیکھ کر بتائو۔ بتایا کیوں نہیں؟۔ وہ اب ٹرالی گھسیٹ کر ان اشیا کو انکی جگہ واپس رکھنے جا رہی تھی
اوفوہ نونا ۔ سور تو نہیں ہے ان میں بتایا تو ہے۔
وہ اسکے انداز میں بے چارگی در آئی۔
کوئی بھی حرام جانور بلکہ حلال جانور بھی اگر اسلامی طریقے سے ذبح نہیں ہوا تو اسکے اجزا سے بنی کوئی بھی چیز حلال نہیں ہوگئ۔۔
انکے سر پر ایک اسکرین نمودار ہوئی جس میں سے واعظہ واعظ دے رہی تھی دونوں نے چونک کر اسے دیکھا پھر سر جھکا لیا۔ وہ اب صابن شیمپو کریم والے حصے میں واپس آکر سب چیزیں اپنی اپنی جگہ رکھنے لگے۔ تبھئ ہےجن کو ایک کریم نظر آئی۔ یہ کریم طوبی نے ایک بار اس سے منگوائی تھئ۔
اسکی خوشبو بہت اچھی ہی اسکا گلابی والا پیک ہی لانا۔
طوبی اسکو پیکٹ تھما کر تاکید کر رہی تھی۔ وہ تیر کی طرح اس کی جانب بڑھا۔ استعمال کیلئے کھلی شیشی اٹھا کر عزہ کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔
اچھا یہ کریم رکھ لو طوبی آپی بھی یہی استعمال کرتی ہیں۔وہ تو مسلمان ہیں نا۔۔ اور دیکھو اس میں بس 2 % ہی جانور کے اجزاء ہیں۔
طوبئ کا نام فتوے کی طرح استعمال کیا تھا ہے جن نے عزہ نے ہچکچاتے ہوئے تھام لی ۔ خوشبو اچھی تھی اس نے اچھی مقدار ہاتھ میں لے لئ۔
اسکن ٹائٹننگ نائٹ کریم ۔ جلد خشک تو ہو رہی تھی ٹائٹ بھی ہو جائے تو کیا برا۔
کونسا جانور ہے۔ عزہ نے جی کڑا کیا۔ اب 2% سے کتنا کوئی فرق پڑ جائے گا۔
جاپانی کریم تھی عجیب سا نام تھا ۔
گھوڑا۔ گھوڑے کی چربی سے بنی ہے
عزہ کے ہاتھ سے شیشی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔
۔ اسکن کیلئے گھوڑے کی چربی بہت اچھی تصور کی جاتی ہے۔اکثر کورین پراڈکٹس میں گھوڑے کی چربی استعمال کی۔جاتی ہے خاص کر اسکن پراڈکٹس میں۔ جیسے گھوڑے کی کمر چکنی ہوتی ہے شفاف ایسی ہی خواتین کی جلد ہو جائے گی ایسا سوچا گیا۔اور۔۔۔ ۔ ہے جن اپنی دھن میں بتا رہا تھا۔ اور عزہ سوچ رہی تھی طوبئ جب آتی ہے گال سے گال ملا کر ملتئ ہے تو کیا گھوڑے کی چربی۔۔ اسکے بھی گال۔۔ اس نے جھر جھری سی لی۔۔۔
تبھئ اسکی نگاہ سامنے گلابی پیکنگ پر دمکتی ہوئی مانوس زبان میں لکھی تحریر پر پڑی۔ اسکے چہرے پر بنا کسی اسپیشل ایفیکٹ کے ہزار والٹ کے بلب جل اٹھے۔
اس نے لپک کر وہ ڈبیا اٹھا لی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیسن، مکئی کا آٹا ، عرق گلاب ایلوویرا
وہ چیزیں نکال نکال کر منے لائونج میں ڈھیر کر رہی تھی اور نور ، الف اور عشنا کا منہ کھلتا جا رہا تھا۔
ہے جن کا اسکے ساتھ گھوم گھوم کے سر گھوم چکا تھا سو صوفے پر گرا بازو آنکھوں پر دھرے تھا۔
تم تومہینے کا شیمپو صابن اور کریمیں لینے گئی تھیں یہ سب ۔۔
الف نے بے چارگی سے کہا۔
یہ صابن ہے۔ عزہ نے بیسن لہرایا
یہ شیمپو کا سامان
، ایلوویرا اور مکئی کا آٹا لہرایا
اور یہ کریم کا۔۔ اب عرق گلاب لہرایا جا رہا تھا۔
میں ڈی آئی وائی دیکھ کر یہ تینوں چیزیں خود بنا کر دوں گی تم لوگوں کو۔
عزہ نے عزم کیا۔
حد ہے یہ تو ابیہا اور واعظہ سے بھی اونچی نکلی۔ انہوں نے اپنی سارئ شاپنگ بے گھر افراد میں بانٹ دی تھی تو یہ سب پیسے ان چیزوں میں جھونک آئی۔ اب بنا لیا اس نے یہ سب اور ہم نے استعمال بھی کر لیا۔
نور نے حقیقتا سر پیٹ لیا۔
تم خالی ہاتھ آجاتیں ہم خود ہی اپنے لیئے حرام چیزیں خرید لیتے۔یہ الف بگڑی تھی۔۔
ویسے حرام اجزاء تو ان تمام چیزوں میں ہیں ہی۔ ہمیں محتاط رہنا ہی چاہیئے۔
یہ عشنا بولی تھی جوابا عزہ نے نہال نظروں اور باقی دونوں نے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
افطارئ کب ہوگی مجھے شدید بھوک اور پیاس لگ چکی ہے۔
یہ ہے جن منمنایا تھا۔۔
بس افطاری تیار ہے روزہ کھلنے میں بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ سب الرٹ ہوئیں۔ الف نے جھٹ تسلی دی تو وہ دوبارہ منہ پر بازو رکھ گیا۔
بیسن سے منہ دھو کے منہ خشک ہو جاتا ہے میرا ۔۔ نور کراہی۔
واحد کریم ملی مجھے وہ تم لوگوں نے دیکھی ہی نہیں۔ عزہ انکا ردعمل دیکھ کر ہونٹ لٹکا کر بولی۔
دکھائو کونسی ایسی پاک و پاکیزہ کریم مل گئ تمہیں۔
الف کے طنزیہ انداز کو خاطر میں نہ لاتے اس نے پرجوش سے انداز میں شاپر میں ہاتھ ڈالا۔ پھر ایک ادا سے بیک گرائونڈ موسیقی منہ سے نکالی۔
ٹن ٹرااااااان۔ آہا یہ کیا ملا مجھے۔
اس نے کریم کا پیکٹ مٹھی میں بھر کر بازو سیدھا کرکے لہرایا
اسکے ایٹنیںے کئ طرح تنے بازو اور مٹھی میں ناز پان مصالحے کی طرح بند چھوٹی سی ڈبیاپر کیا نام درج تھا وہ کوشش کے باوجود نہ پڑھ پائیں۔
اوفوہ کونسئ کریم ہے یہ؟ تینوں کورس میں جھلائیں۔
فائزہ ۔۔۔ فائزہ بیوٹئ کریم اب کوریا میں بھی ہے۔ وہ گنگنائی
فائزہ؟ تینوں نے جھپٹا سا مارا اس پر
یہ تو اردو لکھی ہے۔ الف کو اب پتا لگا۔
یہ کیا کورین اب اردو میں بھی لکھتے ہیں پیکنگ پر ۔۔ وہ حیران ہوئی۔
اوہو وہ والا اشتہار بھول گئیں جو اس دن فیس بک پر دیکھا تھا۔ یا فائزہ یا فائزہ حسن عالم مرحبا۔ عزہ گنگنائی۔
یہ کریم پاکستان میں تیار ہوتی ہے میری کزن لگاتی تھی رنگ گورا کرنے کیلئے۔ عشنا نے کریم پہچان لی تھی۔ سو معلومات میں اضافہ ضروری سمجھا۔
تو کیا ہوگئ وہ گوری۔ نور نے اشتیاق سے پوچھا۔
نہیں۔ عشنا کا انداز قطعی تھا۔
پھر کیا فائدہ اور ہم نے کوریا میں آکر بھی پاکستانی کریمیں ہی استعمال کرنی تھیں۔ میرا خاندان مجھ سے کوریا کی کریمیں منگواتا اور میں یہاں فائزہ بیوٹی کریم استعمال کروں کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔
الف کو حقیقتا صدمہ پہنچا تھا کریم لیکر قالین پر بیٹھتی ہی چلی گئ۔
اپنے خاندان والوں کو بھی بتائو منع کرو کہ بنا سوچے سمجھے غیر ملکی کریمیں استعمال نہ کیا کریں یہ لوگ حرام اجزاء کثرت سے استعمال کرتے ہیں سارا نماز روزہ برباد ہو جائے گا ۔۔۔ عزہ نے جتایا۔۔
نونا دس منٹ ہوگئے۔ ہے جن کی آواز مزید مرگھلی سی ہوچلی تھی۔
ہائے ہمارا روزے دار بچہ۔ تینوں نے پیار بھری نگاہ ڈالی اس پر۔
میں بس لگاتی ہوں دستر خوان۔ نور فٹ سے کچن کی جانب بھاگی۔ الف اور عشناافطاری لگانے میں مدد کرانے لگیں۔
افطاری کا سامان لگا کر سب نے دعا مانگ کر ابھی کھجور کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔
اس وقت کون آگیا۔۔ الف کو بےزاری ہوئی
عروج اور واعظہ ہونگی شکر ہے آج پکوڑے ذیادہ بن گئے تھے مجھے یہی فکر تھی کہ بچ جائیں گے۔ نور خوش ہوئئ
عروج رات کو آئے گی اب ڈیوٹی پوری کرکے اور واعظہ بتا کر گئ ہے افطاری باہر کرلے گی۔۔
عشنا کہتی کھجور منہ میں ڈال کر دروازہ کھولنے چل دی۔
دروازہ کھول کر وہ لمحہ بھر کے لیئے جم کر رہ گئ تھی
کون ہے عشنا؟ نور پکار ی۔
بن بلایے مہمان۔ یونیفارم میں ملبوس ان دو چندی آنکھوں والی لڑکیوں اور ایک لمبے تڑنگے لڑکے کو دیکھ کر وہ بڑ بڑائی۔
ہم آجائیں اندر؟ کارڈ دکھا کر اس چندی آنکھوں والی لڑکی نے پوچھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔۔ جاری ہے۔