Desi Kimchi Episode 39

قسط 39

بلو ڈینم عبایا اور بلو ڈینم ماسک میں لپٹی عزہ نور اور عروج سر پر نارنجی فراگی اسٹائل اسکارف پہنے لمبا سا نارنجی ٹاپ جینز کے ساتھ اور جاگرز پہنے کھڑی الف اور سفید اور گلابی پھولدار شرٹ بلو جینز میں ملبوس  فاطمہ ، ست رنگا ٹاپ سفید ٹائٹس کے ساتھ پہنے  واعظہ ۔ 

اتنئ ورائٹی دیکھ کر ٹیکسی ڈرائیور کا منہ کھلا رہ گیا 

آپ سب اکٹھے جائیں گی؟ 

پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ 

نہیں ایک پیچھے بھاگی بھاگی آئے گی۔ 

ماسک پہن کر عروج کو لگتا تھا کہ دنیاآسے دیکھ نہیں سکتی جبھئ مزے سے جملہ چست کردیا۔ 

عزہ الف عروج فاطمہ نور آرام سے پیچھلی نشست پر براجمان ہوئیں تو واعظہ نے اگلی نشست کا دروازہ کھولا۔ 

ڈرائیور کا اس اوور لوڈنگ پر منہ کھلنے کو تھا

ابھئ ابیہا ہمارے ساتھ نہیں ورنہ تو ڈرائیور بے ہوش ہوجاتا۔ 

عزہ نے کھی کھی کی

فلیش بیک میں ابیہا اپنا اسمارٹ فون دکھا کر بتا رہی تھی 

یہ دیکھو یہ سیکنڈ ایئر کی طالبہ پاکستانئ لڑکی ایمن سلیم نےورلڈ ریکارڈ بنایا تھا 2010 میں انیس لڑکیاں دو دروازوں والی اسمارٹ کار میں بیٹھی تھیں۔۔

ہم پاکستانی لڑکیاں ہیں 2010 میں انیس پاکستانی لڑکیوں  نے دو دروازوں والی اسمارٹ کار میں بیٹھنے کا ریکارڈ بنایا تھا ہم تو بس چھے ہیں۔

واعظہ کو بھی ابیہا یاد آئی تھی شائد جبھی جتاتے ہوئے اگلی نشست پر براجمان ہوگئ۔ 

میری قسمت میں نمونے لکھے ہیں۔ 

ڈرائیور نے ہنکارا بھرتے ہوئے  گاڑی اسٹارٹ کی مگر بڑبڑانا جانے کیوں ضروری سمجھا۔ 

عروج اور واعظہ نے گھور کر دیکھا۔ 

تو کیا تم واقعی سمجھے تھے کہ ہم میں سے ایک پیچھے میراتھن دوڑ لگاتی آئے گی؟ 

خالص ہنگل میں دونوں چنکی منکی کی طرح اکٹھے بولی تھیں ۔ انکے تیوروں نے ڈرائیور کو گڑبڑا دیا ۔ 

ایک تو ہنگل سب فورا سیکھ لیتے ہیں کوریا آکر ۔ کوئی پرائیویسی ہی نہیں رہی۔ 

اس بارعقل کا استعمال کرتے ہوئے  منہ کا استعمال نہیں کیا تھا صرف سوچ کر رہ گیا۔ 

وہ لوگ کوایکس مال آئی تھیں… ہر مال کی طرح کا یہ مال بھی مہنگے برانڈ کی شیشوں سے سجی دکانوں سے بھرا تھا۔ وہ دلچسپی سے ونڈو شاپنگ کرنے لگیں۔ 

یہ بیگ اچھا ہے ۔۔ عزہ گلاس ڈور کے بالکل ساتھ لگے شوکیس میں سجے بیگ کی جانب لپکی تبھی گلاس ڈور کھولتی بڑے سے اسٹور سے بڑا سا بیگ تھامے الابلا خرید کر  اپنی دھن میں نکلتی لڑکی نےسرتاپا  لبادے میں ملبوس لڑکی کو دیکھ کرننجا ٹرٹلز کی چھوٹی بہن سمجھتے ہوئے زور دار آواز میں  کم چاک گیا کہہ کر بیگ پھینک کردھڑ دھڑ کرتا دل تھاما تھا۔ یک نہ شد دو شد اور عروج کو ملا کر تین شد۔ اسکی حیرت آہستہ آہستہ الجھن میں بدلی پھر دوبارہ حیرت میں بدلنے لگی کیونکہ اب اسکی نگاہیں فاطمہ واعظہ اور الف سے الجھ رہی تھیں۔عزہ نے منہ بنایا جو یقینا اسے نظر نہ آیا۔ فورا بیگ بھول بھال مڑ کر واعظہ سے پیر پٹخ کر بولی

ہم مال کیوں آئے ہیں؟ مجھے مالز میں پھرنا بالکل پسند نہیں۔

کوئی زندگی میں ڈھنگ کی چیز پسند تمہیں؟ 

فاطمہ نے فورا اعتراض جڑا۔

مجھے بھی مالز نہیں پسند عجیب خلائی مخلوق کی طرح دیکھتے ہیں لوگ ہمیں۔۔ نور بھنائی

حالانکہ کالے عبایا نہیں ہیں ہمارے۔ عروج نے اس لڑکی کو ہاتھ ہلا دیا جوابا وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتی جھک کر سامان اٹھانے لگی۔ 

مجھے بھی۔ واعظہ فورا متفق ہوئی۔

عجیب احساس کمتری ہوتا ہے یہاں لوگوں کو مہنگی مہنگی چیزیں سستے ترین انداز میں برانڈز کے بیگز لہرا لہرا کر چھچھوروں کی طرح پھرتے دیکھ کر۔ 

فخریہ لہجے میں کہہ کر اس نے جیسے اترا کر کہا تھا

اسکی بات پر وہ سب اسکی جانب یوں گھومی تھیں جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔ 

جہاں تک مجھے یاد پڑتا تم ہمیں یہاں لیکر آئی ہو۔ 

عروج نے یاد کرایا

پھر ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ الف نے ناک سکوڑی۔ 

ہم سمندری مخلوق دیکھنے آئے ہیں۔ 

اس نے سامنے ایکوریم کے چمکتے ہوئے بورڈ کی جانب اشارہ کیا۔

ہم ایکوریم دیکھنے آئے ہیں؟ عزہ کو یقین نہ آیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان سب کو ٹکٹ لینے کھڑے دیکھ کرٹکٹ افسر نے بڑئ عجیب سی نگاہ ڈالی تھی ان پر۔ 

یہ ہمیں ننجا ٹرٹلز تو نہیں سمجھ رہا؟ 

عزہ منمنائی۔ 

ہم برقع ایونجرز ہیں۔ نور نے گردن اکڑائئ۔ 

تم لوگ ٹکٹ لو ہم تصویر بنواتے ہیں تب تک۔ 

فاطمہ اور واعظہ کو چھوڑ کر وہ چاروں داخلی رستے کی طرف چلی آئیں۔۔۔ 

کریڈٹ کارڈ ڈینائیڈ۔ 

کارڈ چپکا کر اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو واعظہ گہری سانس لیکر اپنا دوسرا کارڈ نکالنے لگی۔ 

تم دن بہ دن غریب ہوتی جا رہی ہو۔ میں تم سے تعلقات ختم کر لوں گی۔ مجھے غربت اور غریب دونوں سے ڈر لگتا ہے۔ 

بیگ میں عمرو عیار کی زنبیل سے بھی ذیادہ چیزیں بھری تھیں۔ 

ہے بھی دوسرا کارڈ کہ نہیں؟ دیکھو پیسے نہیں تو میں تمہیں نہیں جانتی بھئ۔ ابھی تو میری نوکری شروع ہوئی ہے مہینے بھر بعد ہی تنخواہ ملے گی اور خیالوں ہی خیالوں میں میں اپنی تنخواہ خرچ بھی کر چکی ہوں۔ 

اسکیلن ترانی سے بے نیاز واعظہ اب اپنے بیگ کو کائونٹرپر رکھ کر تندہی سے ڈھونڈنے لگی۔ 

یہ میری دور کی جاننے والی ہے۔ میں تو بس ویسے ہی سلام۔کرنے آئی تھی بس۔ یونہی کبھی سر راہ ملاقات ہوجاتی یے۔ زیادہ نہیں جانتی میں اسے۔ 

فاطمہ ٹکٹ چیکر سے مخاطب تھی۔ انگریزی میں وہ بھی ۔ اب جانے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ٹھس سا پکا سا منہ بنائے خاموش کھڑا تھا

جتنی دیر میں اس نے کارڈ نکالا فاطمہ  اس سے تعلقات ختم کر چکی تھئ۔ 

اگر میں بس ایک ٹکٹ لوں تو کوئی ڈسکائونٹ ملے گا؟ اب میں یہاں تک آئی ہوں تو دیکھ ہی لوں نا۔ بس فری لوڈر مجھے پسند نہیں اپنے لیئے ہی لوں گی بس۔ پیسے تو بہت ہیں میرے پاس مگر اب کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو تو اپنے خرچے پر مزے نہیں کروا سکتی نا۔اے لڑکی وقت ضائع کیوں کر رہی ہو پیسے نہیں تو ہٹو۔ 

اصولا اب مجھے چھے کی۔بجائے پانچ ٹکٹ لینے چاہیئیں۔ 

کارڈ نکالتے ہوئے واعظہ نے گھور تے ہوئے کہا جس پر اس نے ڈھٹائی سے بتیس دانتوں کی نمائش کی۔ 

یہ میری بہن ہے۔ ہم بچپن میں اکٹھے چھپن چھپائی کھیلتے تھے۔ 

فاطمہ نے اس ٹھس سے کھڑے ٹکٹ چیکر کو بتایا تو اتنی دیر سے اسکی سب بکواس پر پکا سا منہ بنائے کھڑے اس چندی آنکھوں والے کے چہرے پر مسکراہٹ آہی گئی۔ 

اوئے اسے انگریزی سمجھ آرہی تھی۔ 

واعظہ کے بازو میں زبردستی بازوڈال کرفاطمہ نے سرگوشیانہ انداز میں اردو میں اطلاع دی تھی۔

جتنئ دیر میں فاطمہ اور واعظہ ٹکٹ لے کر پلٹیں وہ سب داخلی راستے کے باہر لگے بڑے بڑے چوڑے گلاس کے ستونوں میں تیرتی مچھلیوں کے ساتھ آدھی درجن تصاویر بنوا چکی تھیں۔

یار یہ مچھلی تیرتی ہوئی جب آئے تب تصویر لینا ۔ الف ایکوریم کی جانب پشت کیئے کھڑی تھی۔ بالشت بھرکی نیلے رنگ کی روشنیوں میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیاں گول گول گھومی جا رہی تھیں۔اس نے ان کے چکر سے اپنی ٹائمنگ ملائی تھی جیسے ہی گھوم کر آئی پورا منہ کھول کر عین اسی وقت الف نے بھی منہ کھولا

بہت بہت مزے کی تصویر آئی ہے ۔۔ نور خوشی سے وہیں اچھلنے لگی تھئ۔ 

دکھائو دکھائو۔ الف بھاگی بھاگی آئی۔ 

فالتو میں ٹکٹ لیئے تم لوگوں نے تو یہیں تصویریں بنوا لیں ۔ واپس کرا آئوں۔ 

واعظہ نے شرارتا سنجیدگی سے پوچھا۔ 

ہاں اب ایکوریم کیلئے ہم ٹکٹ لیکر کر دیکھیں گے اندر بھی تو ایسی ہی مچھلیاں ہوں گئ۔ 

نور نے کندھے اچکائے۔ واعظہ مسکرا دی۔ 

مگر اندر دنیا ہی اور تھی۔ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے ایکوریم میں بھانت بھانت کی سمندری حیات موجود تھی۔ مچھلیوں کی ہی نجانے کتنی درجن اقسام تھیں۔چھوٹے چھوٹے ایکوریم میں چھوٹی چھوٹی مچھلیوں سے شروع ہوا تھا سفر آہستہ آہستہ ایکوریم کا حجم اور مچھلیوں کا حجم بھی بڑھتا گیا۔ سمندری پودے جو زمین پر موجود پودوں سے کہیں مختلف تھے رنگ اور شکل کے اعتبار سے جگہ جگہ انکے ماڈلز رکھے تھے کہیں ایکوریم میں بہار دکھا رہے تھے اور ساتھ ایک بورڈ بھی تھا جو ایکوریم میں موجود حیات کی تفصیلات بھی بتا رہا تھا کونسا رنگ کونسی نسل کہاں کتنی تعداد میں پائی جاتی ہیں ۔ وہ سب بہت دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں۔

ایک۔جانب گلہری کا گھر تھا۔ عزہ بہت شوق سے اسکی جانب بڑھی۔ 

مائک کی طرح اسکی جانب مٹھی بڑھا کر پوچھا

کیا آپکے ٹوتھ پیسٹ میں نمک ہے؟ 

گلہری نے دانت نکوس کر دیکھا پھر غرا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا یوں لپکی جیسے عزہ کی ناک کاٹ دے گی۔عزہ اچھل کر پیچھے ہوئئ۔ 

بد تمیز دانت صاف نہیں کرتی ہوگی جبھی میرے سوال پر غصہ آگیا۔ 

اس نے مڑ کر ڈھٹائی سے الزام لگایا۔

یار یہ سفید مچھلیاں کتنی ڈرائونی ہیں۔ 

نور  ایکوریم کی شیشے کی دیوار سے ناک چپکائے کھڑی تھی۔ 

سفید مچھلیاں اپنے سے ڈرائونی مخلوق دیکھ کرتتر بتر ہونے لگیں

 کیوں مچھلیوں کو ڈرا رہی ہو نور۔ ایک تو

الف مزید بھی کچھ کہتی جو اگر بالکل سامنے والے ایکوریم پر نگاہ نہ پڑ جاتی ۔جملہ ادھورا چھوڑ کر چیخ مار کر بھاگئ

نیمو۔ ۔۔۔۔ اتنے سارے نیمو۔ ۔

نیمو ۔۔۔ 

اسکے یوں بے ساختہ انداز پر ان سب کے ساتھ ساتھ دیگر سیاح بھی گردن گھما کر متوجہ ہوئے۔ 

الف بانہیں پھیلائے ایکوریم کو گلے سے لگائے چمٹی کھڑی تھی۔ 

سب سکھیاں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔ 

نور میری نیمو کے ساتھ تو تصویر لو۔ ہمارے تو کپڑے بھی آج میچنگ میچنگ ہیں۔۔ 

اتنی ڈرامہ بازی کے بعد وہ اب مڑ کر آنکھیں پٹپٹا کر فرمائش کر رہی تھی۔ نارنجی دوپٹہ لہرا کر۔لہرائی تو سارے نیمو اسی سے دور بھاگنے لگے

کہاں چلے نیمو۔۔ اسے تشویش ہوئی تو ایکوریم کھٹکا نے لگی۔ مگر ان ڈھیر ساری کلائون فشزمیں جو فائنڈنگ نیمو کی وجہ بلا وجہ ہی خود کو سیلیبریٹیز سمجھنے لگی تھیں زرا بھی حس مزاح نہیں تھی۔ جبھئ ڈر کر باہر نکلنے کو تیار ہوگئیں۔ 

بنائو پوز میں لوں تمہاری نیمو کے ساتھ تصویر

نور دانت کچکچا کر کیمرہ سنبھالنے لگی۔ 

نیمو۔ الف دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ ٹکائے دوپٹہ لہراتی۔ 

رنگین آنچل رنگین مچھلیاں دوپٹہ اڑے تو جیسے تتلی کے پیر پھیلے ہوں ایسے پھیلا ہو اور پیچھے سے مچھلیوں کا غول آرہا ہو۔ 

دونوں کی بحث پوز بنانے پر ہورہی تھی عروج اور عزہ سیلفیاں لے ریی تھیں 

واعظہ اور فاطمہ پاس سے گزرتے پریشانی سے تکتے لوگوں کو تسلی دے رہی تھیں

ذہنی طور پر نا پختہ ہیں بس تھوڑی سی پاگل نہیں ہیں یہ لڑکیاں گھبرانے کی بات نہیں۔ 

خدا خدا کرکے انکا فوٹو شوٹ مکمل ہوا تو آگے بڑی مچھلیوں کی باری آئی۔ ایک ایکوریم میں ٹیلی فون بوتھ بھی لگا رکھا تھا۔

مچھلیاں کسے فون کرتی ہوںگی؟ 

عروج کو تجسس ہوا۔ 

انکےرشتے دار تو سمندر میں ہونگے نا انکا احوال پوچھتی ہوں گئ۔ 

عزہ نے اندازہ لگایا۔ 

انکے پاس موبائل فون نہیں ہوتےجو بوتھ استعمال کرتی ہیں؟ 

نور کو تشویش ہوئئ

تم اپنا دے جائو کم از کم اس ایکوریم کا بھلا ہو جائے گا۔ 

فاطمہ نے کہہ کر اسکا فون چھینا اور ایکوریم میں ڈالنے لگئ۔ 

نہیں۔ نور نے دہائی دی۔ 

ان سب کے شغل کو کچھ لوگ دلچسپی سے کچھ بیزاری سے بھی دیکھ رہے تھے۔

آپ لوگ ایک طرف ہو جائیں ہم بھی ایکوریم دیکھنے آئے ہیں۔ 

ان چندی آنکھوں والی دو لڑکیوں نے منہ پورا کھول کر بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔  

ہاں ہاں ضرور دیکھئے اپنا ہی ملک سمجھیئے۔ 

عروج اور طنز سہہ جاتی مسکرا کر دل جلانے والے انداز میں ہنگل انڈیلی ان پر اور سر جھٹکتی شان سے آگے بڑھ گئ جوابا یہ سب اس سے ترجمہ پوچھنے کو بھاگیں ایسا کیا کہہ گئیں عروج  کیونکہ جوابا وہ لڑکیاں کہہ سیکی اور جانے کیا کیا بڑ بڑا رہی تھیں۔ 

آگے سب سے بڑا حصہ تھا جہاں کئی کئی فٹ کی مچھلیاں تھیں۔سور کے منہ والی مچھلی ان کو حیرت میں ڈال گئ تھئ۔

عزہ نے بڑے شوق سے اسکے ساتھ تصویر بنوائئ۔ وقت گزرنے کا انہیں بالکل پتہ نہ لگا۔۔۔انکے گرد اب رش بڑھنے لگا تھا۔ 

دیو ہیکل مچھلیوں کے جھرمٹ میں تصویریں بنواتے فاطمہ نے اسکی کمی محسوس کی۔ 

متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو ایک کونے میں رکھے ایکوریم کے ساتھ سہولت سے آلتی پالتی مارے دونوں ہتھیلیاں زمین پر ٹکائے بازو سیدھے کیئے ان کے سہارے لیئے اطمینان سے بیٹھئ ایک ٹک کسی سمندری مخلوق کو گھورتی نظر آئی۔ 

ایک تصویر نہیں بنوائئ تم نے ہم کیا ثبوت پیش کریں گے کہ ہمارے سنگ ایک عدد بوڑھئ روح واعظہ بھی ایکوریم کی سیر کو آئی تھی۔ 

وہ اسکے قریب آکر زور سے بولتے ہوئے ایکوریم کی جانب پشت کرکے واعظہ کے عین سامنے دھم سے بیٹھی تھی مقصد چونکانا تھامگر مجال ہے اسے کوئی چونکا جائے۔ آرام سے گردن موڑ کر اسے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

کسے دیکھ رہی ہو اتنے غور سے۔ ہائے اللہ۔ 

وہ ایکوریم کے بالکل نزدیک تھی مڑ کر اسکی دلچسپی کا منبع جاننا چاہا تو لمحہ بھر کو دل اچھل کر حلق میں ہی آگیا۔

بڑی بڑی مونچھوں والا دیو ہیکل سرمئی بڑا سا اود بلائو منہ کھول کر جمائی لیتے ہوئے تیر کر اوپر ہولیا۔ 

تم بیٹھئ اود بلائو کو دیکھ رہی تھیں۔ فاطمہ کو اسکی ذہنی حالت پر شک نہیں یقین آگیا تھا کہ خراب ہے۔ 

ایک سے ایک خوبصورت مچھلی آکٹوپس سمندری مخلوق موجود ہے تمہیں یہاں یہ اود بلائو ہی دیکھنے کو ملا۔ توبہ استغفار اللہ کی مخلوق ہے ایسا کہنا نہیں چاہییے مگر اچھا خاصا عجیب سا ہے بلکہ ہیں۔ 

وہ مڑ کر ان دو تین موٹے موٹے اود بلائو اور کئی چھوٹے موٹے اود بلائو کو دیکھ رہی تھی۔

ان بظاہر خوش رنگ مخلوق کو دیکھنے کیلئے ایک دنیا امڈ  بھی تو آئی ہے۔ بس یہی جگہ خالی اور پرسکون تھی اسلیئے میں یہاں آئی۔۔۔۔

اسکے انداز پر واعظہ ہلکے سے ہنس دی۔ پھر سیدھی ہوکر بیٹھئ۔۔ 

 لیکن مجھے یہاں آکر پتہ لگا کہ اس مخلوق کو ہماری توجہ چاہیئے۔۔ان خوبصورت مچھلیوں کے پاس جائو تو ہماری توجہ سے بیزار دور ہو جاتئ ہیں جبکہ انکو دیکھو۔ 

وہ بے حد اشتیاق سے ایکوریم کے قریب آکر اپنی ہتھیلی شیشے کے قریب لا کر دکھانے لگی تو کئی اود بلائو جیسے خوشی سے بے تاب ہوتے ہوئے پاس آئےیوں منہ کھولنے لگے جیسے کچھ کہنا چاہ رہے ہوں۔ 

اس نے ہلکے سے انگلیوں کو جنبش دی تو اسکی انگلیوں کے ساتھ سر ہلاتے بے معنی آوازیں نکالتے۔۔ وہ جیسے خوش سے ہوگئے تھے۔ فاطمہ مبہوت سی دیکھنے لگی۔ عام سا سمندری جانور جسے شائد کبھی کوئی پسندیدگئ کی نظر سے نہیں دیکھتا کتنا معصوم سا پیارا سا لگ رہا تھا۔

واہ۔ 

وہ بے اختیار شیشے کی جانب ہاتھ بڑھا بیٹھی تو نرمی سے واعظہ نے تھام لیا۔ 

شیشے کو مت چھونا ابھی انتظامیہ کا کوئی آجائے گا۔ 

ان سے کچھ فاصلے پر انتظامیہ کا رکن شائد اسے ٹوکنے ہی کیلئے الرٹ ہوا تھا مگر پھر رک گیا۔

تبھئ انہیں نور کی چیخ سنائی تھی پھر پے در پے چیخیں ہی بلند ہوتی گئیں۔وہ دونوں ایکدم سے اٹھ کر انکی۔جانب بھاگیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہنگن دریا کے کنارے انہوں نے کیمپ لگایا تھا ۔دسترخوان پر سیخ کباب تکے بیف پلائو مچھلی سلاد رائتے کے ساتھ سجا رکھا تھا۔ یہ کھانا وہ ریستوران سے پیک کروا کر لائی تھیں ۔میٹھے کیلئے واعظہ کا وعدہ تھا واپسی پر آئیسکریم کھلائے گئ۔ موسم آج تھوڑا تپش لیئے ہوئے تھا دوپہرڈھل رہی تھی

دھوپ بہت تیز چبھتی نہیں تھی ڈھلتے سورج کا منظر دریا کے پانیوں میں دیکھنا یقینا بے حد دلچسپ تجربہ ہونا تھا مگر فضا میں بیک گرائونڈ میں نور کی سسکیاں نہ چل رہی ہوتیں تو۔ 

چھوڑو بھئ نور کھانا تو کھالو۔ بھوک نہیں لگ رہی تمہیں۔ 

الف نے چمکارا۔ 

نہیں مجھے نہیں کھانا مجھے گھن آرہی ہے۔ 

وہ منہ بسور رہی تھی

چکھو تو سہی یہ چھپکلی اوہو ۔مچھلی۔۔۔  عروج نے ایک مچھلی کا ٹکڑا اسکی جانب بڑھایا مگر عین وقت پر زبان پھسل گئ۔ 

باقی سب نے تو کھی کھی کی نور کو اور رونا آگیا۔ 

اس کو۔دیکھ کر تو مجھے اور گھن آرہی ہے بار بار وہی منظر۔ آخ۔۔  

چکن تو کھالو۔ 

الف نے بھی بہلانا چاہا۔ 

چاول تو چمچ سے کھالو ۔ 

عزہ نے مشورہ دیا۔وہاں وہی مرغے کی ایک ٹانگ

واعظہ اطمینان سے کھانا کھارہی تھئ ایک دفعہ بھی اسے نہ پچکارا نا سمجھایا۔ 

جلدی کھانا کھائو اور گھر چلو۔ 

نور نے تاکید کی جس پر۔عمل کا انکا کوئی ارادہ نہیں تھا دریا کنارے کھاتے پیتے سبک رو ہوا سے محظوظ ہوتے کس کافر کا دل چاہے گا واپسی کا۔ 

ان سب نے تھک ہار کر اسے اسکے حال پر چھوڑا اور دسترخوان کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ خوب ڈٹ کر کھا کر حواس ٹھکانے پر آنا شروع ہوئے۔

چلو اب ذرا دریا کنارے چلیں۔ عروج نے کہا تو وہ سب ہاں میں ہاں ملاتی اٹھ کھڑی ہوئیں

میں کب سے کہہ رہی ہوں مجھے گھر جانا ہے اب تو کھا پی بھی لیا ہے اب تو گھر چلو۔ 

نور کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا

دیکھو جو ہونا تھا ہوگیا آج آخری دن ہے تمہارا کوریا میں صبح یہاں سے چلی جائو گی پھر جانے کب کوریا آنے کا موقع ملے ہم سے ملنے کا موقع ملے اٹھو انجوائے کرو۔ 

عروج نے کہا تو وہ چٹخ کر بولی

بھرپائی میں سیر و تفریح سے۔بس چلو واپس۔۔ بلکہ اگر اتنا تم لوگوں نے انجوائے کرنا تو میں بابا کو فون کرتی ہوں وہ مجھے پک کر لیں گے یہاں سے۔ 

وہ مصمم ارادہ کرتی اپنا بیگ ٹٹولنے لگی۔ 

اور سامان کا کیا ہوگا؟ وہ تو فلیٹ میں ہے نا۔ 

عزہ نے یاد کرانا چاہا۔ نور کے ہاتھ سست پڑے۔ 

ہاں یار انکل کو پریشان مت کرو یہی پلان ہے نا انکل رات کو تمہیں پک کر لیں گے ابھی ہمارے ساتھ شام کا لطف اٹھائو دیکھو کتنی اچھی ہوا۔۔۔ 

الف نے سمجھانا چاہا تو وہ مزید بگڑ گئ

میں جا رہی ہوں تم لوگ تو یہیں ہوں گے پھر آجانا یہاں کوئی اندازہ ہے میری کیا حالت ہو رہی ہے ایک منٹ مجھ سے یہاں بیٹھا نہیں جا رہا کوئی احساس 

وہ پھر رونے لگ گئ

بس کرونور ایسی بھی کوئی بڑی بات نہیں ہوگئ۔ 

فاطمہ سے اب مزید چپ رہا نہیں جانا تھا۔

ایسی چھوٹئ موٹی چیزیں تو ہوتی رہتی ہیں زندگی میں۔۔ 

یہ یہ چھوٹی چیز ہے؟ 

نور بات کاٹ کر چلا اٹھئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تصویریں بناتے انکو احساس نہ ہوا کہ انکے گرد اچھا خاصا جمگھٹا سا لگ گیا ہے۔ مچھلیوں کے ساتھ پوز بنواتے وہ کسی کی لائیو اسٹریمنگ کا حصہ بن چکی تھیں۔ تو کسی کی تصویر کا بیک گرائونڈ۔

وہ لڑکا ویڈیو بنا رہا ہے۔ 

عزہ نے احساس ہوتے ہی نور کے کان میں سرگوشی کی

نور نے پلٹ کر دیکھا تو وہ کوئی چندی آنکھوں والا لڑکا اپنے ہی وی لاگ میں مگن تھا۔ مچھلیوں کی ویڈیو بناتے بورڈ پڑھتے وہ شائد جب لانگ شاٹ لے رہا ہو تو وہ بھی آگئ ہوں گی۔ 

خیر ہے چہرہ تک تو ڈھکا ہوا ہے ہمارا۔ 

نور مطمئن تھئ۔ عروج اور الف الگ ایک دوسرے کی تصاویر بنانے میں مگن تھیں۔ 

اچھا اب ایک میری تصویر بھی لو۔

نور نے عزہ کو کیمرہ پکڑایا اور خود تھوڑا پرے ہو کر دیوار کے قریب لگے  ایکوریم کے قریب پلر کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ اندرسیاہ مچھلیاں تھیں لمبی جسامت کی مچھلی سے ذیادہ چھپکلی سے مشابہت تھی۔ 

یہ پردہ پوش یہاں بھی پھر رہی ہیں خدا خیر کرے مچھلیاں خیریت سے رہیں۔ 

ہاں اتنا کچھ لپیٹا ہوا ہے خود پر اندر بم ہی چھپا رکھا ہوگا۔ 

ہونہہ۔ 

نیلی آنکھوں بھورے بالوں والی وہ خوب گوری انگریزنیں انکے حلیئے کا مزاق اڑاتی ٹھٹھے لگاتی اتنی اونچی آواز میں بولتی گزری تھیں کہ دونوں آسانی سے سن لیں۔ 

عزہ نے دانت کچکچائے۔ 

اپنی زبان سنبھال لو ورنہ تم سے لپٹ کر ہی پھٹوں گئ میں۔

عزہ کی جانب سے جواب انکے لیئے غیر متوقع تھا۔ 

وہاٹ ؟ تم دھمکی دے رہی ہو بم سے اڑانے کی۔۔ دماغ ٹھیک ہے

کہیں واقعی بامبر تو نہیں۔ ایک۔خوفزدہ بھی ہوگئ

ہاں یہاں ہے جیکٹ اندر سوسائیڈ جیکٹ ۔ٹھاہ۔ 

نور کیوں پیچھے رہتی سینہ ٹھونک کر بولی

سو سائڈ بامبر ہو تم؟ آئی ایس آئی ایس کی رکن ہو کیا تم 

سیکیورٹئ

وہ دونوں حلق کے بل چلانے لگیں ۔ 

اگر واقعی امریکہ ہوتا تو سی آئی اے نمودار ہو چکی ہوتی انکے بم اور آئی ایس آئی ایس کی پکاریں مارتے دیکھ کر مگر ان انگریزنیوں کوکسی نے سنجیدہ نہیں لیا کہ وہاں کوئی انکی زبان سمجھتاہی نہیں لوگ انکی چیخ و پکار کو ناپسندیدگی اور ناگواری سے دیکھتے گزر رہے تھے۔ 

عزہ نے ہاتھ ہلا وش کیا انکو مزید جلایا

دفع کرو انہیں عزہ میری تصویر لو۔ یہ پیچھے سے ایکوریم بھی آئے۔ فرمائش ۔۔۔ 

نور نے بازو جھٹکے تبھی اسے اپنے سر پر سرسراہٹ سی ہوئی۔ 

ستون سے تو دور ہٹو۔ عزہ نے کہا پھر ساکت سی ہوگئ

سی دوز گرلز ۔ 

انکے شور پر انتظامیہ کا اہلکار انکی جانب بھاگا آیا تھا دونوں گٹ پٹ شکایت میں لگی تھیں۔ 

نور چھپکلی۔ 

کیمرہ نیچے کرکے وہ سرسراتی سی آواز میں بولی۔ 

چھوگیو

سیکیورٹی اہلکار نور کی۔جانب آرہا تھا

جلدی تصویر لو یقینا یہ ایکوریم سے دور ہٹنے کو کہے گا آکر۔ 

نور جھلائی۔

عزہ ایک قدم پیچھے ہوئی

نور چھپکلی۔ 

ہاں یہ کالی مچھلیاں عجیب سی ہی ہیں لمبی پتلی پانی پر تیرتی چھپکلی ہی لگ رہی۔ل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہہہہہ

سرسراہٹ اسکے سر سے کندھوں پر آئی یونہی اس نے گردن نیچے کی تو موٹی سی پیلی چھپکلی اسکے متوجہ ہونے پر گھبرا کر اسکے جسم کو ستون کا حصہ سمجھتے واپس اوپر کی جانب پلٹی

آخ۔ چیختے چلاتے وہ بری طرح اپنے ہاتھ جھٹک رہی تھی۔ 

اسکو ایکوریم سے فاصلہ رکھنے کی ہی ہدایت کرنے آیا اہلکار اسے ہراساں دیکھ کر مددکی۔نیت سے آگے بڑھا

مگر وہ موقع نہیں دے رہی تھی۔ اس سے ذیادہ گھبرائی چھپکلی اپنی زلزلے میں آئی نئی پناہ گاہ سے خوف کھاتی اس پر دوڑتی پھر رہی تھی نور نے بازو جھٹکا عزہ اسکی جانب لپکی چھپکلی خود ہی زمین پر جا گری۔ 

اب چھپکلی جانے کہاں گئ ایک دنیا اس چیخ چیخ کر بے حال ہوتی لڑکی کے پاس آن جمع ہوئی تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا عبایا اتارو اور اسکارف بھئ۔ 

واعظہ سنجیدگی سے انکی بات کاٹ کر مخاطب ہوئی نور سے

کیوں؟ 

نور نے اچنبھے سے دیکھا

میں جو کہہ رہی ہوں۔ یہ ٹینٹ لگا ہوا ہے اپنا عبایا اور اسکارف اتارو اندر جا کر بیٹھو کھانا کھائو۔ ہم تب تک ساحل کا چکر لگا کر آتے ہیں۔

واعظہ نے کہا تو انکو بھی اسکی بات سمجھ آئی

تو اور کیا۔ چھپکلی تمہارے اوپر گری زیادہ سے زیادہ عبایا گندا ہوا اسے اتارو اپنا ماسک بھی اور آرام سے اندر بیٹھ کر کھانا کھائو۔ اتنا مسلئہ بنایا ہوا ہے تب سے۔ 

عروج نے بھی تائید کی تو عزہ نے بھی ہمت کی

اور کیا میرے ساتھ بیٹھ کر آئی ہو اس طرح تو میرا عبایا بھی گندا ہو گیا ہوگا اب کیا میں کھانا ہی نہ کھاتی اس چکر میں۔ 

مگر میرے ہاتھ ۔۔۔۔۔ نور نے کہا تو واعظہ نے بچ جانے والی منرل واٹر کی بوتل گہری سانس لیکر دسترخوان سے اٹھائی۔ 

اب نور کو کچھ اطمینان ہوا۔ 

اندر ٹینٹ میں بیٹھ کر اپنا عبایا اسکارف ماسک سب اتار کر شاپر میں ڈالا۔ منرل واٹر سے ہاتھ دھوئے اب ٹھنڈا کھانا کھانے بیٹھ گئ۔ 

واپسی پر کیا کروں گئ؟ 

نئی فکر۔

واعظہ نے اپنا اسکارف اتار کر گولا بنا کر اسکے منہ پر مارا۔ 

اسی سے منہ بھی ڈھک لینا اب خدا کا واسطہ ہے کھانا کھائو۔ 

وہ دانت کچکچا رہی تھی۔ اس نے اپنا کدو جیسا سر ہلایا اور کھانا شروع کر ہی دیا آخر۔

اسکو اطمینان سے اس جھونپڑے میں چھوڑ کر وہ سب گھومنے آگے بڑھیں تو نور بڑ بڑائی۔۔ 

یہ۔کام۔پہلے نہیں کرسکتی تھی۔ بھوک سے آنتیں پلٹ گئیں میری۔۔ 

دریا کنارے چہل قدمی کرتے فاطمہ نےبہت سنجیدگی سے پوچھا

یار عزہ نے تو عبایا پہنا تھا نور میرے بھی تو ساتھ بیٹھی تھی کپڑے تو میرے بھی۔۔۔۔۔ 

اسکا جملہ یہیں تک پہنچا تھا واعظہ نے اسکو سیدھا ہیڈ لاک لگایا تھا۔ساحل کنارے دو لڑکیاں ایک دوسرے کو پکڑ پکڑ کر دھو رہی تھیں

یار یہ دونوں مارپیٹ پر کیوں اتر آتی ہیں فورا۔ 

انکی لڑائی کی وجہ سے لاعلم عزہ نے تاسف سے عروج سے کہا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انکل باہر منے صوفے پر۔بیٹھے تھے یہ سب عروج کے کمرے میں گھسی تھیں۔ 

عروج عزہ واعظہ فاطمہ الف سب نے علیحدہ علیحدہ تحفے دیئے تھے اسے۔ 

بہت یاد آئوگئ نور۔ الف اس سے لپٹ کر بولی تو نور کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ عروج بھئ آبدیدہ ہو کر ان دونوں سے لپٹ گئ۔ عزہ اور فاطمہ نے بھی تقلید کی۔ واعظہ گہری سانس بھر کر اپنا موبائل سنبھالنے لگی۔ ان سب نے لپٹ کر ایک چھوٹا موٹا گلوب ہی بنا لیا تھا۔ ہیومن گلوب۔ تو تصویر تو بنتی ہی تھی۔ 

میں بھئ۔ یہاں گزرا ایک ایک پل یاد گار ہے میرے لیئے۔ 

چند لمحے جذباتی ہوئے رہنے کے بعد نور نے خود کو سنبھالا۔

میری جانب سے تم سب کیلئے۔ 

اس نے ایک بڑا سا باکس اپنے بیڈ سے اٹھا کر انکے آگے بڑھایا۔

کیا ہے اس میں۔ الف کواشتیاق ہوا۔ 

جو بھئ ہے میرے جانے کے بعد کھول کر دیکھنا پلیز۔ 

اس نے لگے ہاتھوں تنبیہہ بھی کردی۔

اب زرا یہ سب رکھنے میں مدد بھی کروائو۔ 

اس نے اپنا اٹیچی بیڈ پر رکھا۔ سب کے تحفے رکھنے لگی تو اٹیچی نے مینار کھڑا کر دیا۔ 

عقل بڑی کہ بھینس۔ 

واعظہ آگے بڑھ کر اسے گھورنے لگی۔ 

کھولو سب گفٹس ابھی دیکھ کر لگے ہاتھوں شکریہ ادا کرو اور آرام سے رکھو انہیں۔ 

اسکے ڈانٹنے پر کھسیا سی گئی نور مگر سر ہلا کر کھولنے لگی۔

سب سے بڑا الف کا گفٹ تھا سب سے پہلے وہی کھولنے لگی تو الف سٹپٹا گئ۔ 

یہ تو پاکستان جا کر کھولنا نا۔ اسکے کہنے پر ان چاروں پانچوں نے گھور کر دیکھا۔ 

مطلب سرپرائز ہے نا۔ 

وہ سر کھجا کے رہ گئ۔ 

بڑا سا دودھ کے چھے ڈبوں والے کارٹن کو اس نے گفٹ ریپ سے بند کیا تھا۔ 

ہے تو ہلکا سا کیا ہے اس میں؟ نور نے اٹھا کر وزن کا اندازہ کرنا چاہا۔ 

تمہارا ہی کوئی دوپٹہ اس نے واپسی کی نیت سے پیک کر دیا ہوگا۔ عزہ نے کہا تو سوائے الف کے سب کھل کر ہنسی تھیں الف اسے گھور رہی تھی مگر عزہ حیران ہو کر پوچھ رہی تھی کیوں ہنس رہی ہو تم سب مزاق نہیں کر رہی  میں سنجیدہ ہوں۔۔ 

خیر تحفہ کھلا اور نور کا منہ بھی۔ 

اتنے بڑے ڈبے میں ایک معصوم چھوٹا سا پیکٹ تھا جس میں ایک عدد خوبصورت سا برسیلیٹ تھا۔ 

وہ اس کے ساتھ ڈبہ تھا نہیں اور گھر سے یہی ڈبہ ملا مجھے۔ الف کھسیائی۔۔ 

نور گھور کر رہ گئ

 بریسلٹ واقعی پیارا تھا۔ 

عروج نے پرفیوم دیا تھا ، فاطمہ نے کورین میک اپ کٹ جس پر نور نے جھٹ پوچھا تھا

اس میں حلال اجزا ء تھے نا؟ میں نے سنا ہے یہ لوگ میک اپ میں کیڑے مکوڑوں اور گھونگھوں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ 

صحیح سنا ہے رہنے دو میں خود استعمال کر لوں گی ان کیڑے مکوڑوں کو۔ 

حسب توقع فاطمہ نے اسکے ہاتھ سے کھینچ لینا چاہا۔ 

نہیں یہ تو تمہاری یاد دلائے گا اسکو سنبھال کر رکھوں گی۔ 

نور کے انداز میں شرارت تھئ۔

عزہ نے پھولدار پرنٹ کا خوبصورت اسکارف دیا تھا۔ 

واعظہ نے بے حد خوبصورت سا فوٹو فریم دیا تھا جس کے ساتھ ننھا سا لیمپ بھی لگا تھا۔ 

نکال کر بے ساختہ وائو نکلا تھا اسکے منہ سے پھر منہ بناکر دیکھنے لگی۔ کیونکہ فوٹو فریم میں اسکی ہی تصویر لگی تھی بڑے سے ماسک سے منہ ڈھکے ہوئے ہی۔ 

میرے پاس یہی اکیلی تصویر تھی تمہاری۔

اس نےکندھے اچکا دیئے تھے۔ فریم کو اس نے اسی کی پیکنگ میں رکھ کر احتیاط سے کپڑوں کے بیچ میں دبا دیا تھا تاکہ ٹوٹے نا۔ اب سب چیزیں آرام سے اسکے اٹیچی میں آگئ تھیں۔ 

ابیہا سے ملنا پہلی فرصت میں۔جب سے گئ ہے بے مروت نے ایک فون تک نہیں کیا۔عروج نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ 

سہیلیوں کے جھرمٹ میں وہ اپنا اٹیچئ سنبھالتی کمرے سے نکلی  تھی۔ ابا اسے دیکھتے ہی فورا کھڑے ہو گئے تھے۔ 

طوبی انکے پاس کھڑی ان سے ہی باتیں کر رہی تھی۔ فورا اسکی جانب ایک شاپنگ بیگ بڑھا دیا۔ 

یہ تمہارے لیئے۔ 

وہ کارڈیگن لائی تھی۔ گو اب یہاں موسم معتدل تھا مگر یہاں کے کارڈیگن وغیرہ جتنے گرم تھے اسکا بس نہیں تھا ایک آدھ بازار بھی اپنے ساتھ پیک کر کے لےجائے

 خیر دوبارہ اٹیچی کھولی گئ کارڈیگن رکھا اٹیچی اب بند نہیں ہو رہا تھا۔ 

اسکو پہن لو ۔ واعظہ کا مشورہ تھا۔ پہلے تو اس نے یوں دیکھا جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہو مگر پھر یہی کرنا پڑا۔ 

ہم ائیر پورٹ پر بھی چھوڑنے آئیں گے۔ 

دروازے سے نکلتے نکلتے بھی وہ سب لپٹ لپٹ رہی تھیں۔اسکے بابا پیار بھرے انداز میں انکی محبت کو دیکھ رہے تھے۔ 

نہیں بیٹا صبح سات بجے کی فلائیٹ ہے دبئی کی۔ آپ لوگ پریشان ہوگی بس یہیں سے خدا حافظ کہہ دو۔ 

انکل نے نرمی سے ٹوکا۔ صبح تو پیر کا دن تھا یقینا سب کو اپنے اپنے کام پر جانا ہوگا یہی سوچ کر انہوں نے سہولت سے منع کیا تھا۔ عزہ سر ہلاتے پھر ںور سے لپٹ گئ۔

اب پورا بیڈ میرا ہوگا۔ 

الف گلے ملتے سرگوشی سے باز نہ آئی۔ نور نے غصے سے گھورنا چاہا مگر اسکے کھلکھلاتے چہرے پر نم آنکھوں نے اسے غصہ کرنے نہ دیا۔ 

ہمیشہ اسکو گلہ رہا کہ یہ اکلوتی کیوں ہے مگر مجھے یقین  ہے اتنی پیاری بہنیں ملنے کے بعد تمہارا شکوہ دور ہو گیا ہوگا۔ 

بابا نے کہا تو وہ آنکھیں پونچھ کر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی۔

اوکے خدا حافظ۔ 

سب سے بالمشافہ ملنے کے بعد اس نے ہاتھ ہلایا۔ اٹیچی گھسیٹتے وہ قصدا رخ موڑ گئ ۔جانے کہاں کہاں سے آنسو امڈ رہے تھے کہ آنکھیں خشک ہو ہی نہ پارہی تھیں۔ اسے لگا کہ مڑ کر دیکھا تو جانا مشکل ہوجائے گا۔  اسکے ساتھ قدم بڑھاتے انکل نے لمحہ بھر کو رک کر اسکی تیزی کو دیکھا پھر پلٹ کر آئے واعظہ کے پاس۔

تمہارا بہت بہت شکریہ بیٹا تم نے جو کیا نور کیلئے اسکا تو میں بدلہ نہیں چکا سکتا یہ ایک چھوٹا سا تحفہ رکھ لو۔ 

ارے انکل اسکی ضرورت نہیں۔اس نے صاف انکار کیا مگر انکل اسکی نا نا کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تحفہ تھما دیا۔ ان سب کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ خدا حافظ کہہ کر نور کا بیگ سنبھالتے لفٹ کی جانب بڑھ گئے جہاں نور بٹن پر ہاتھ رکھے انکا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہی معمول کے مطابق تھی۔ بس ایک فرد کم تھا۔ عزہ اور الف پہلی دفعہ باتھ روم پہلے جانے کی بحث میں نہیں پڑیں۔ عروج کی آج سے نائیٹ تھی سو اس وقت اس نے اٹھنا نہیں تھا۔سو آج کئ لڑائی بس ان دونوں کے درمیان ہونی تھی۔ مگر آج جب عزہ باتھ روم جا رہی تھی الف نے حسب عادت چھلانگ مار کر راستہ نہیں روکا وہ پھر بھی رک گئ اور اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انتہائی شرافت سے الف اسے جانے کا اشارہ کرتی کمرے سے باہر نکل گئ۔ اسکا ارادہ آج واعظہ کا اٹیچ باتھ استعمال کرنے کا تھا۔ فاطمہ ڈبل بیڈ پر خوب پھیل کر لیٹی تھی تو واعظہ اپنے بیڈ پر نیم دراز موبائل استعمال کرنے میں لگی تھی۔ 

سو جائو اب تو۔ 

اس نے جھلا کر ٹوکا یقینا وہ ابھی تک سوئی نہیں تھی واعظہ نے شائد سنا بھی نہیں اثر لینا دور کی بات۔ 

ابیہا عشنا اور اب نور فلیٹ خالی ہوتا جا رہا ہے  

اسے اس وقت کی خاموشی کھلی تھئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

پروگرام ختم کرتے ہی وہ عجلت میں اپنا پرس سمیٹتی باہر نکل آئی۔ ژیہانگ نے اسکی عجلت کو محسوس بھی کیا کچھ کہنے کیلئے منہ بھی کھولا مگر چپ ہو رہا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی عمارت سے باہر نکل آئی۔ شام کے دھندلکے رات کے اندھیروں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ خنک سرد ہوا جسم سے ٹکراتی تو جھر جھری سی آجاتی۔ 

یہاں کی گرمیاں سردیاں مزاق ہیں بس ۔ صحیح کہہ رہی تھی نور مجھے سارے پیسے گرمیوں کے کپڑوں کے برباد کرکے بھئ کوئی خاص فرق تو نہیں پڑا۔ سردیوں کے کپڑے بھی چل گئے آرام سے۔ 

وہ اپنے اپر کی زپ بند کرتی سوچ رہی تھی۔ 

پیدل چلتے اسٹاپ پر آکر اس نے یونہی موبائل نکال کر دیکھا تو تین مسڈ کالز پڑی تھیں۔ ژیہانگ۔۔۔ 

اس نے زیر لب دہرایا۔ 

تبھئ ایک بار پھر کال آنے لگی۔ 

اس کا موبائل سائیلنٹ تھا اس نے لمحہ بھر سوچا پھر اٹھا لیا۔ 

کہاں ہو؟ میں گاڑی لایا ہوں گھر ڈراپ کردیتا ہوں۔ 

اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔ 

آں وہ مجھے آج زرا جلدی تھی تو نکل آئی اب تو بس میں بیٹھی ہوئی ہوں ۔۔ وہ آخر میں ہلکا پھلکا انداز اپنانے کو ہنس بھی دی۔ 

اچھا چلو ٹھیک ہے۔ خیریت سے جائو اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔ 

اس نے ذیادہ اصرار نہیں کیا۔ اسکے جواب کا انتظار کیئے بنا فون رکھ دیا وہ جو جواب دینے کیلئے منہ کھول ہی رہی تھی گہری سانس لیکر رہ گئ۔ 

بس آکر رکی تو وہ سست سے قدم اٹھاتی بس میں چڑھ گئ۔ 

سڑک کے دوسری طرف گاڑی میں بیٹھے ژیہانگ نے اسکی بس چلنے کے بعد ہی گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد ۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 38

قسط 38
لائونج میں اس وقت جیسے دن کا سماء تھا۔
رات کے دو بجے وہ سب الو بلکہ النیں بنی ہوئی کافی اور چاکلیٹ کیک اڑا رہی تھیں۔
منی میز پر چاکلیٹ کیک رکھا ہوا تھا اسکےگرد گھیرا ڈالے واعظہ عروج نور اور عزہ نے باقائدہ چئیرز کرکے کافی کے مگ ٹکرا ئے۔
یار ویسے چئیرز کی جگہ ہمیں اردو میں کچھ کہنا چاہیئے۔
عزہ کو دور کی سوجھی۔ فٹا فٹ گوگل ٹرانسلیٹر کھول لیا۔
اردو میں چئیرز کا مطلب خوشیاں بنتا ہے۔
دوبارہ مگ ٹکرائو ہم اس بار خوشیاں کہیں گے۔
وہ پرجوش تھی۔ ان سب کو کوریا کی سردیوں نے کھولتی کافی پینے کی عادت ڈالدی تھئ سو سب اپنا اپنا مگ منہ سے لگا چکی تھیں۔
پلیز۔ عزہ بسوری تو ناچار سب کو دوبارہ اپنے اپنے مگ ٹکرانے پڑے۔ وہ کھلکھلا دی۔
الف سوگئ کیا ؟ میرا تو خیال تھا آج کے شو کی ڈھیر ساری باتیں بتانے والی ہوںگی اسکے پاس۔۔
واعظہ کوالف کی غیر موجودگی محسوس ہوئی
ہاں تھیں تو مگر شائد تھک بہت گئ ہے۔آتے ہی بستر میں گھس گئ۔
نور نے بتایا تواس نے سر ہلا دیا۔
تو تم پرسوں پکا جا رہی ہو؟
واعظہ نے براہ راست اس سے پوچھا۔اس کو اسکے سوال پر حیرت ہوئئ
تمہارا خیال ہے میں نے فلائٹ ایویں ہی بک کرائی ہے۔پکا واپس جا رہی ہوں میں۔
اس نے جتانے والا انداز اختیار کیا۔
کل تمہارے بابا نے مجھے ملنے بلایا تھا۔۔۔
واعظہ نے کہا تو وہ تینوں حیران ہو کر دیکھنے لگیں اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مقررہ وقت پر کیفے پہنچ گئ تھی۔ ابھی اندر داخل ہو کر متلاشی۔نظروں سے شکیل صاحب کو ڈھونڈنا چاہا تبھی کونے میں میز پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے ہاتھ۔ ہلایا۔ وہ سیدھی انکے پاس ہی۔چلی آئی۔ اسے آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر اٹھ کھڑے ہوئے تھے
اسلام و علیکم انکل۔
اس نے ادب سے قریب آکر سلام کیاتھا۔
بلو جینز پر سفید شرٹ اور سفید ہی اپر پہنے کندھے پر لٹکتا بیگ مکمل مغربی حلیہ مگر مشرقی انداز میں سلام کرکے ہلکا سا سر انکے سامنے جھکا دیا تھا۔ انہوں نے پر شفقت انداز میں سر پر ہاتھ رکھا۔
بیٹھو بیٹا۔۔ کیسی ہو۔ کیا کھائو گی۔ ؟
وہ بے تکلف انداز میں پیار سے پوچھ رہے تھے اس نے جوابا بنا تکلف کیئے فرمائش بتادی۔
بس کافی پیئوں گی انکل۔
اچھا۔ وہ متزبزب ہوئے
مگر بیٹا جانی انکل کو تو بھوک لگی ہے اور یہاں کے حلال ولال ریستوران کا پتہ نہیں سو ذرا مدد کرو آرڈر کرنے میں کیا کھایا جا سکتا ہے یہاں؟
وہ الجھن بھرے انداز میں مینیو کھولے بیٹھے تھے۔
وہ انکے انداز پر کھل کر مسکرا دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں پاکستانی ریستوران لے آئی تھی۔ خالی خولی چائے ناشتے سے یقینا اکتاہٹ ہو رہی تھی انہیں۔۔ یہاں آکر وہ خوش ہوئے۔ مینیو میں ہرقسم کا کھانا تھا۔
چیز نان چکن تندوری پیڑے والی لسی سیخ کباب ۔ کوریا میں پاکستانی ریستوران کے گو ذائقے میں محسوس کیا جانے والا فرق تھا مگر اتنے دنوں کے بعد پاکستانی کھانا کھا کر لطف آگیا تھا انہیں۔
مہینہ ہونے کو آگیا مجھے کوریا میں آئے کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ پاکستانی کھانے مل جاتے ہیں یہاں۔ حد ہے۔ اتنے دنوں سے ہوٹل والے حلال فوڈ کے نام پر سبزیاں یا پھیکے سیٹھے پلائو اور میکرونی کھلا رہے۔ آج میں نے پیٹ بھر کر کھایا۔شکریہ لڑکی تم نے کمال کردیا۔
وہ خوش ہوئے تھے خوب کھا پی کے۔ واعظہ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔کھانا کھا لیا لسی پی لی پھر بھی چائے کی کمی تھی۔
بیٹا یہاں چائے ملے گی؟
انہوں نے واعظہ سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا کر اشارے سے ویٹر کو بلا کر آرڈر دیا۔
ایک کپ چائے اور بل پلیز۔
تم نہیں پیئو گئ ؟
انکل نے پوچھا تو وہ سہولت سے سر نفی میں ہلا گئ۔
نہیں انکل چائے ذیادہ نہیں پیتی میں۔
اس کے کہنے پر وہ ہنکارہ بھر کے خاموش ہو رہے۔
ویٹر میز سمیٹ کر چلا گیا تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
بیٹا تم سوچ رہی ہوگی میں نے تمہیں کیوں بلایا؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
بیٹا تم نور کو منائو سمجھائو کہ اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کرے۔ جو بھی ہوا اس میں اسکا کوئی قصور نہیں تھا۔ مجھے اپنی بیٹی پر پورابھروسہ ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلیش بیک روک کر نور نے بات کاٹ دی۔۔
کیسے میرا کوئی قصور نہیں تھا؟ میرا قصور تھا۔ میں بھول گئ تھی کہ میں انجان ملک میں ہوں۔ جتنا تیس مار خان بن کر میں نے اس لڑکے کا اکائونٹ ہیک کرکے اسے پٹوایا کیا میں ایسا کرنے کا کبھی پاکستان میں سوچ بھی سکتی تھی؟
کبھی نہیں۔ یہاں مجھے کوئی جانتا پہچانتا نہیں اس بات پر اکڑ کر میں نے حد سے باہر نکل جانا چاہا۔ پنگے لے رہی تھی میں میری وجہ سے عزہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنستے پھنستے بچی۔
مجھے کوئی شکایت نہیں تم سے نور۔ عزہ منمنائی
نہ ہو مگر اپنی نگاہ میں مجھے اپنا آپ چھوٹا لگ رہا ہے۔میرے ماں باپ نے مجھ پر بھروسہ کرکے یہاں میری ضد پر پڑھنے بھیجا اور میں یہاں پڑھائی پر سے دھیان ہٹائے پنگے لے رہی تھئ۔ تھا قصور میرا۔مجھے سزا ملنی چاہیئے تھی۔۔
اب اگر اسکو بتائوں کہ ثریا۔۔
واعظہ اسکی شکل دیکھتے سوچ رہی تھی۔۔
اور کیا کہا انہوں نے۔
نور کا انداز دوبدو سوال جواب کا تھا۔
واعظہ نے اپنے کندھے کے اوپر فلیش بیک چلا دیا
اب شکیل صاحب بول رہے تھے اور جواب یہاں نور فلیش بیل روک روک کر دے رہی تھی۔۔
مجھے نور سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں میری بیٹی میرا مان میرا فخر ہے۔ مانا اسکی امی کا تربیت کا انداز اسکے دل میں کافی شکوے بھر چکا ہے مگر بیٹا نورمیری اکلوتی بیٹی ہے۔ بہت محبت کرتا ہوں اس سے۔ ورنہ بیٹا بیٹی دونوں دوسرے ملک میں پڑھ رہے ہیں اکیلے گھر میں ہم میاں بیوی کا وقت کاٹنا مشکل ہوجا تا ہے۔
رکو۔ نور نے فلیش بیک روکا۔
یہ کیا تم انکل کو۔رکو کہہ رہی ہو بدتمیز۔
عروج نے فورا ٹوکا۔
بابا کو نہیں روکا فلیش بیک روکا۔ پھر سر جھکا کر بولی
میں نے جیل میں اکیلا پن تنہائی کاٹتے بہت کچھ سوچا۔ ہمیشہ اپنی امی سے کم چاہے جانے کا شکوہ کرتی تھی ۔جو مجھے لگتا تھا بالکل سچ ہے مگر مانا وہ شائد بھائی کے مقابلے میں مجھ سے محبت میں ڈنڈی مار جاتی ہوں مگر ماں ہیں وہ میری بھی۔ جب ۔بخار ہوتا کبھی تو ساری ساری رات سرہانے بیٹھی رہتیں پڑھ پڑھ کر پھونکتیں۔کبھی مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ یہ سب کرنے والی ماں بھی کبھی تھکتی ہوگی۔ دعائیں پڑھتے ہونٹ زبان خشک ہو جاتی ہوگی اور میں کیسا سکون سے سو جاتی تھی۔ ۔ وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں جیل ہی جیسے خیالوں میں جا پہنچی تھی۔۔
۔جیل میں ایک سو تین بخار پر فرش پر دوا کھا کے لیٹی تھی تب احساس ہوا وہ نرم لمس وہ پیار بھری دعا کیسے بخار بھگا دیتی تھئ ۔۔۔
اس نے سسکی سی لی۔ جیل میں کروٹ بدلتے ہوئے۔۔آہجومہ کے خراٹے گونج رہے تھے۔ خشک ہوتے گلے کو تر کرنے کیلئے اس خود ہی اٹھنا تھا۔ زمین کا سہارا لیتی وہ دو ناکام کوششوں کے بعد ٹھنڈی دیوار کا سہارا لیکر اٹھ پائی تھی۔
کونے میں رکھے چھوٹے سے کولرکیساتھ رکھا اسکا گلاس۔
اس نے ڈولتے قدموں سے آگے بڑھ کر گلاس اٹھایا ۔ملگجے اندھیرے میں گلاس میں اسے کچھ تیرتا سا نظر آیا۔ گلاس یقینا گندا تھا۔ اس نے کولر سے تھوڑا سا پانی لیکر گلاس مل کر دھونا چاہا تبھی اسے یاد آیا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف اتنے برتن۔ ایک تو اتنے ڈھیر سارےلوگوں کو اکٹھے کسے کے گھر جانا نہیں چاہیئے۔جو مہمانداری کرے اسکا تیل ہی نکل جائے۔۔
اپنے کھانے کی پلیٹ واپس کچن میں رکھنے آئی تو کچن میں سنک میں پڑے برتن دیکھ کر موڈ خراب ہوگیا۔
امی توے پر روٹیاں ڈال رہی تھیں۔ اسے چڑتے دیکھا تو رسان سے بولیں
دوپہر کے بھی ہیں اور شام کی چائے کے بھی۔ تمہاری پھپو کے پاس نہ بیٹھو تو شکوہ کرتی ہیں کہ بھاوج بات نہیں کرتی۔کھانے کے برتن دھونے کا وقت نہیں ملا۔۔۔ میں تو رات کے کھانے پر روک رہی تھی مگر صبح بچوں کو اسکول جانا ہوتا ہے وہ رکی ہی نہیں۔
اچھا ہوا ورنہ اتنے ہی رات کے کھانے کے بھی برتن ہو۔جاتے میرے دھو دھو کے ہاتھ ٹوٹ جانے تھے۔
ناک چڑھاتی وہ نلکہ کھول کر شروع ہوگئ۔
پانی کی دھار آہستہ کرو۔ بیٹا پانی ضائع نہیں کرتے۔
امی نے فورا ٹوکا تو غبارے جتنا منہ پھلا کر اس نے پانی کی دھار دھیمی کردی۔
ابھی کوئی ماسی ہوتی نا میری جگہ تو فل ٹونٹی کھول کر دھوتی۔ ویسے میری جگہ ماسی کیوں نہیں؟ اب تو سب گھروں میں برتن دھونے کیلئے ماسی ہی ہوتی ہے بابا کی تنخواہ اتنی تو ہے کہ ہم بھی ماسی افورڈ کر لیں۔
اسکے ہاتھ اور زبان ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ امی نے روٹی اتار کر چولہا بند کیا ہاٹ پاٹ میں رکھ کر بندکرکے بولیں۔
ہاں مگر گھر میں ہوتا ہی کون ہے ہم تین لوگ۔ بس کبھی مہمان آجائیں تو ہی کام بڑھتا وہ ہم ماں بیٹی پھرتی سے کر لیتے ہیں۔وہ چمکار رہی تھیں۔
جائو تم اپنے بابا کو کھانا دے آئو باقی برتن میں دھو لیتی ہوں۔
امی نے کہا تو وہ شرمندہ سی ہوگئ
ارے میں تو یونہی بکواس کرتی ہوں آپ جائیں بابا کو کھانا دیں بس ابھی دھل جاتے ہیں تھوڑے سے ہیں برتن پھر ہم مل کر چائے پیتے ہیں۔
اس نے کندھے سے پکڑ کر امی کا رخ موڑتے ہوئے پیار سے انہیں بھیجا وہ سر ہلا کر کھانا دینے چلی گئیں۔
اتنے تھوڑے بھی نہیں۔
اس ڈھیر کو صابن لگاتے اس نے گہری سانس لی۔ سب برتنوں کو صابن لگا کر جیسے ہی ٹونٹی کھولنے لگی امی واپس کچن میں چلی آئیں۔
اف ہٹو تم ۔ فل ٹونٹی کھول کر دھوئوگی چلو چآئےچڑھائو پانی سے برتن میں نتھار دیتی ہوں۔
امی نے اسے ہٹا ہی دیا تھا سنک میں۔ ہاہ۔ وہ برا مان کر منہ بنا گئ
اتنا بھی پانی ضائع نہیں کرتی میں۔ خفا خفا سی کہتی وہ چائے کا پانی لینے لگی۔ مڑ کر دیکھے بنا چولہا جلانے لگی دیکھ لیتی تو حیران رہ جاتی بیٹی کو ڈانٹ کر پانی سے ہٹانے والی امی مسکرا کر پیار سے اسکا پھولا پھولا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ اسکو ڈانٹ کر ہٹانے کا مقصد صرف اسکی مدد کرانا ہئ نہیں بلکہ اسکو ٹھنڈے یخ پانی سے برتن دھو کر بیمار پڑنے سے بچانا تھا امتحان سر پر جو تھے۔ مگر تھیں تو خالص پاکستانی امی۔ پیار جتا تھوڑی سکتی تھیں۔وہ بھی بیٹئ کو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ سو نخروں سے برتن دھوتئ تھی یا پیاز لہسن کاٹ دیا وہ بھی کرنے سے امی روک دیتی تھیں جب میرے امتحان ہوتے تھے ۔۔۔ اورپتہ ہے۔
نور لمحہ بھر کو رکی۔ اسکی آنکھوں میں پانی سا بھر آیا ۔۔
میں ساری ساری رات جاگتی تو رات میں کتنی ہی دفعہ آکر کبھی مجھے ٹوک کر سونے کا کہتیں تو کبھی چائے بنا کر دے جاتیں۔ میں کھانا پینا چھوڑ دیتی تھی کہ موٹی ہو رہی ہوں کیا کیا جتن کرکے مجھے بہلا پھسلا کرکھلاتی پلاتی تھیں۔کبھی تازہ جوس نکال کر لاتیں کبھی سالن پر سے تری نکال کر مجھے پچکارتیں کھا لو کچھ نہیں ہوگا۔ کپڑے بنوانے میچنگ دوپٹہ لینا اپنی مرضی سے کم پر بالکل نہیں ماننا۔ امی اپنی تھکن بھلائے میرے ساتھ بازار چل پڑتیں۔ ڈینم عبایا بنوانا ہے میرے ساتھ گھنٹوں انار کلی میں پھریں۔ جب تک مطلوبہ۔۔
وہ رو پڑی تھی ماں کو یاد کرکے۔ واعظہ عروج اور عزہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر اپنا اپنا مگ اٹھا کر کافی کی چسکی لینے لگیں۔ ابھئ انکا بولنے کا وقت نہیں آیا تھا۔۔
فلیش بیک دوبارہ شروع ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیلے گھر میں ہم میاں بیوی کا وقت کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔پھربھی میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس پاکستان چلی جائے میرے ساتھ۔ پچھلے تین چار دن میں میں نے اسکی یونیورسٹی کے چکر لگائے ہیں اسکے پروفیسروں سے بات کی ہے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے بات کی ہے پچھلے تین سمسٹروں میں اسکا جی پی اے اتنا اچھا ہے کہ وہ اسکی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ اسے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل جائے گی۔ اورجتنی وہ ذہین ہے ابھی امتحان میں مہینہ پڑا ہے ایکسٹرا کلاسز لگوا کر دیتا ہوں میں یہاں ٹیوٹر کا انتظام کروا دیتا ہوں۔ جو ہوا اسے ڈرائونا خواب سمجھ کر بھول جائے۔۔۔۔جو کچھ ہوا اس اسکے کوریا سے چلے جانے سے کوئی تعلق نہیں۔سچ بتائوں یہاں اتنا تعاون کیا پولیس نے کہ میں سوچنے لگا اگر خدا نخواستہ یہ سب پاکستان میں ہوا ہوتا تو کیا ہوتا۔ وہ یہاں محفوظ ہے بس ایک برے تجربے سے ڈر گئ ہے۔یہ وقت اس ڈر سے یہاں سے بھاگنے کا نہیں بلکہ خود کو مزید مضبوط کر کے مقابلہ کرنے کا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس نے کہا میں اس واقعے کی وجہ سے ڈر کر بھاگ رہی ہوں۔ ؟
اپنے آنسو پونچھ کر وہ ایکدم تیز سی ہو کر بولی
اگر یہ سب پاکستان میں ہوا ہوتا تو ڈر کر بھاگ آتی میں کوریا مگر کوریا سے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ یہاں پر کیا کچھ نہیں سہنا پڑا ہے مجھے دوران تعلیم۔ انٹرنیشنل اسکول ہے پھر بھی اساتذہ انگریزی کی بجائے ہنگل میں پڑھاتے جاتے ہیں۔کچھ بولوتو جواب ملتا ہنگل سیکھو۔ تعصب اتنا ہے کہ عبایا دیکھ کر میرے ساتھ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ان ڈیڑھ سالوں میں ایک دو لڑکیوں سے تھوڑی بہت زبردستی دوستی کی بھی تو ان دونوں نے بوائے فرینڈز بنا لیئے ہیں کلاس ختم ہوتے ہی بھاگ جاتی ہیں اپنے بندوں کے پاس۔
اسکے شکوے پر واعظہ اور عروج نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بمشکل ہنسی ضبط کی ۔جبکہ عزہ سر ہلا رہی تھی
میری بھی جاپانی دوست نے بوائے فرینڈ بنایا ہے کورین۔ دونوں کو ایک دوسرے کی بات بھی سمجھ نہیں آتی اور شکل اتنی ملتی گرل فرینڈ بوائے فرینڈ سے ذیادہ بہن بھائی لگتے ہیں۔
عزہ نے اتنی سادگی سے بتایا کہ تینوں قہقہہ لگا کر ہنس دیں۔
سچ کہہ رہی ہوں۔ عزہ برا مان گئ۔ اسے لگا تینوں کو یقین نہیں آیا۔
ویسے کورین فارن لینگوئج پڑھتے ہیں تھوڑئ بہت چینی تو سکھائی جاتی ہے ہائی اسکول میں۔ ہم ۔۔
واعظہ کوئی قصہ سنانے لگی تھی مگر نور کو کینہ توز نگاہ سے گھورتا دیکھ کر سر کھجانے لگی۔
تم اپنی بات پہلے مکمل کر لو۔
واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلا کر سلسلہ کلام جوڑنے لگی۔

میں اگر کوئی سوال پوچھ لوں تو سیدھا مزاق اڑاتے ہیں کہ پھابو کو اتنا نہیں پتہ۔ اوپر سے اس کمینے جس کی وجہ سے یہ ساری مصیبت مجھ پر آئی پوری کلاس میں جس طرح میرے اسٹیشن پر گندی ویب سائٹ کھول کر مجھے شرمندہ کیا تھا اسکو جتنا بھی بھلا دوں مگر میرے پیٹھ پیچھے کبھی میرے سامنے میرے کلاس فیلو مجھے بے چھن بو کہہ ڈالتے ہیں۔
매춘부( مشکوک کردار کی لڑکی)
کیا۔ عروج واعظہ عزہ تینوں کے منہ سے کافی نکلی تھی۔
شائد غلط وقت تھا گھونٹ بھرنے پر۔
آخ۔۔ نور گھنیا سی گئ۔ اسکے اوپر چھینٹے آئے تھے۔ واعظہ تو بالکل سامنے بیٹھی تھی اسکے۔۔
چھوٹی میز کی دراز سے ٹشو نکال کر بھی اسی نے دیا۔ وہ چہرہ پونچھنے لگی۔
تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا منہ توڑ دیتے ہم
عزہ نے آستین چڑھائی۔
کوئی یونیورسٹی میں ہونے والی بلنگ کا کچھ اکھاڑ سکتا ہے بھلا؟
نور نے جتایا ۔ بات تو سچ تھی
خیر اب ہم واقعی اسکی یونیورسٹی جا کر انکے منہ تو نہیں توڑ سکتے تھے۔مگر تم ایسی کسی چیز کی شکایت اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کر سکتی تھیں۔
واعظہ ٹشو رول میز کی دراز سے نکال کر میز صاف کرتے بولی۔
اسکول کالج یونیورسٹی میں بلنگ پاکستان میں بھی ہوتی ہے۔
ایسے ہی بتا رہی ہوں۔
عروج نے کندھے اچکائے۔
کم از کم بھی پانچ وجوہات ہیں واپس جانے کی پہلی زبان بالکل الگ ہے یہاں رہناتو ہنگل سیکھو اتنئ مشکل زبان ہے حلق میں خراشیں پڑ جائیں صحیح تلفظ میں بولنے ہر۔ ،
دوسرا وہاں بابا خود اسکول کالج چھوڑنے لینے آتے یہاں بس میں لٹک کر جائو وہ بھی لیڈیز کو بٹھانے کا رواج ہی نہیں یہاں نہ ہی الگ الگ حصے ہوتے خواتین اور مردوں کے۔
تیسرے اچھے کھانے کو۔ترس گئ ہوں ہر وقت سبزیاں کھائو باہر جائو تو بس حلال حرام کرتے رہو۔۔
چوتھا سردیاں جاتی ہی نہیں یہاں سے ہر وقت گھر میں بند رہو باہر انکے حساب سے گرمیوں میں بھی ٹیمپریچر 25، 26 ہوتا ہم اے سی کو اتنے پر چلاتے ہیں۔
پانچواں پورا سمسٹر ایک مہینے میں بنا مڈز دیئے کلیئر کرنا آسان بھلا؟
تم فریز کرا لو اگلے سمسٹر سے باقائدہ پڑھائی کرلینا ایک ڈیڑھ مہینے کا ہی تو گیپ پڑے گا۔
عزہ نے سمجھانا چاہا۔ عروج اور واعظہ اسے بغور دیکھ رہی تھیں۔
یہ پانچوں وجوہات بودی ہیں۔تم ڈیڑھ سال سے یہاں رہ ر ہی ہو اسی سب کے ساتھ اور پورے چار سال مکمل کرنے کا ارادہ تھا تمہارا۔۔
عروج کہے بنا نہ رہ سکی۔ واعظہ کا انداز ایسا ہی تھا جیسے اسے عروج سے مکمل اتفاق ہو۔
۔میں۔۔۔۔وہ کہتے کہتے ایکدم چپ ہوگئ۔
وہ تینوں بھی چپ ہو کر اسکو دیکھنے لگیں۔
میں سچ مچ اس واقعے کی وجہ سے ڈر کر بھاگ رہی ہوں۔
اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا۔
میں اکیلے نہیں رہ سکتی۔مجھے امی بابا بہت یاد آرہے ہیں۔ میں انکے بغیر نہیں رہ سکتی کہیں۔۔ مجھے احساس ہوگیا ہے اس بات کا۔پھر یہ سب پریشانیاں کیوں سہوں ؟ وہاں کچھ بھی تھا ایسا سلوک نہیں ہوا کبھی میرے ساتھ۔ کم ازکم ۔۔۔۔۔۔اور یہاں آنے پڑھنے کا کوئی شوق نہیں تھا مجھے۔ صرف امی بابا کو جتانے کیلئے فیصلہ کیا تھا۔ یہ سوچے بنا کہ وہ اکیلے کیسے رہتے ہونگے۔۔ امی بابا دونوں اداس ہیں مگر اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے اسکا اظہار نہیں کرتے۔ بھائی کو ابھی بھی دو تین سال لگیں گے واپس آنے میں۔ تب تک کم از کم مجھے تو انکے پاس ہونا چاہیئے انکا خیال رکھنا چاہیئے۔ میں بیمار ہوتی تھی تو امی ساری رات سرہانے بیٹھی ہوتی تھیں مگر میں نے تو کبھی امی کی خدمت ایسے نہیں کی۔ امی سے جب بات ہوئی وہ صرف میری خیریت پوچھتی رہیں روتی رہیں۔مجھے اپنا خیال رکھنے کو کہتی رہیں ایک بار بھی نہیں کہا بس واپس آجائو۔۔۔۔بابا بتاتے ہیں اب وہ بہت جلد تھک جاتی ہیں۔بی پی بھی ہائی رہنے لگا ہے۔کون خیال رکھتا ہوگا انکا۔ بابا دفتر ہوتے ہیں وہ سارا دن اکیلی رہتی ہیں بہت۔ خاموش ہو گئیں ہیں میں جب گھر میں ہوتی تھی تو سارا وقت بک بک کرتی تھیں انکے آگے پیچھے پھرتی سارے دن کی روداد سناتی تھی مگر جب سے یہاں آئی ہوں ہفتے ڈیڑھ میں ایک دفعہ بھی فون پر بات کرتی تو بات ختم کرنے کی جلدی لگی رہتی تھی یونی جانا کام کرنا یہ کرنا وہ کرنا بعد میں بات کرتے ہیں۔یہ بعد آئی ہی نہ پھر تو؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبئ کی آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ نہ آیا کہاں ہے۔
چکراتے سر کو سنبھالتی اٹھنے لگی تو دلاور نے نرمی سے اسکا بازو تھاما۔
کیا ہوا کچھ چاہیئے۔ ؟
بیڈ پر ملگجے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
میں لاتا ہوں۔
فورا کمبل ایک۔طرف کرتے وہ اٹھ گئے سائیڈ لیمپ جلا کر وہ شائد کچن سے پانی لینے گئے تھے۔
اف۔ مجھے بالکل یاد نہیں میں کب بستر پر آئی کب سوئی۔ زینت صارم گڑیا جانے کیسے سوئے ہوں گے کتنا تنگ کیا ہوگا دلاور کو۔
ذرا سا ہوش آتے ہیں اسکے اندر کی ماں تڑپ سی اٹھی۔ وہ فورا کمبل اتارتی اٹھنے لگی تبھی دلاور پانی کا گلاس بھرے لے آئے
ارے کیوں اٹھ رہی ہو میں لا تو رہا تھا پانی۔
انکا انداز اتنا نرم اتنا اجنبی تھا کہ طوبی انکا بڑھایا ہوا گلاس تھامنے کی بجائے انہیں ٹکر ٹکر دیکھتی رہ گئ۔
لو نا۔ اسے گم صم دیکھ کر انہوں نے ٹوکا تو وہ گڑ بڑا کر گلاس تھام کر غٹا غٹ چڑھا گئ۔
یہ دس سالہ شادی شدہ زندگی میں میرا پہلا گلاس پانی ہے جو میں نے اپنی بیوی کو پلایا۔
دلاور سوچ کر شرمندہ سے ہوگئے۔۔
وہ میں۔
وہ سر کھجاتے ہوئے صفائی دینا چاہ رہی تھی۔
ہاں مجھے پتہ ہے نور اور عزہ نے بتایا تھا کہ تمہاری طبیعت خراب ہوگئ تھی ۔ یہ کورین جانے کیا الا بلا بناتے ہیں ہم دیسی لوگوں کا معدہ کہاں سہار سکتا یہ سب۔ الٹیاں کرکے بالکل ہی بے دم ہوگئ تھیں تم تو۔ اب بتائو بھوک لگی کچھ کھائو گی؟
دلاورنرم سے انداز میں سہولت سے اسکے برابر بیٹھ کر بتانے لگے۔
وہ بچے۔۔ انہوں نے ۔۔۔۔ سوگئے؟
تینوں سکون سے سو رہے ہیں کھانا کھلا دیا تھا میں نے۔ صارم زینت کے پاس سو گیا تھا آرام سے اسے پھر میں یہاں لے آیا سو رہا ہے کاٹ میں ۔ انہوں نے بیڈ کے پاس رکھے کاٹ کی جانب اشارہ کرکے بتایا ۔
اب بتائو کیا کھائو گی؟
وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔
اس نے نگاہ چرا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے ہتھیلیوں میں چہرہ سجائے بڑی پیار بھری حیرت سے اپنے میاں کی پھرتیاں دیکھ رہی تھی۔ مسور کی دال ابل رہی تھی ایک جانب تڑکے کیلئے لہسن زیرہ گھی میں گرم ہو رہا تھا۔ رائس ککرمیں چاول پکنے پر لگا کر وہ سلاد کیلیے کھیرے نکالنے لگے۔ تو اس سے رہا نا گیا
لائیں میں بنا دیتی ہوں سلاد۔
طوبئ نے آگے بڑھ کر چھری انکے ہاتھ سے لینی چاہی تو وہ سہولت سے اسے پرے کر گئے
آج کہا نا میں سب بنائوں گا آج دعوت ہے تمہاری میری طرف سے۔
دعوت؟ طوبی ہنسی۔
کوئی دعوت میں دال چاول کھلاتا ہے بھلاکسی کو؟
اس نے منہ پھلایا۔
اب یہ تمہاری غلطی ہے وقت پر بتاتی نہیں ہو اب چکن وگوشت ختم ہوگیا تھا تو سودے کی فہرست بنا کر رکھنی چاہیئے تھی نا۔ گھرآیا ہوں تو کھانا پکا ہونا تو دور پکانے کیلئے کچھ تھا بھی نہیں۔ بچوں کو تو حلال ریمن سے بہلا دیا مگر اتنی بھوک میں بنا کھانا کھائے میرا تو گزارا نہیں ہو سکتا۔اور یہ میرا اپر پھر بنا جیبیں دیکھے بغیر دھو ڈالا؟
پھوہڑ ہی رہنا تم۔
اگر وہ کچھ گھنٹوں پہلے والے دلاور ہوتے تو یقینا یہی سب کہتے۔
مگر ان چند گھنٹوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔
پکا وعدہ اگلی دفعہ بریانی بنا کر کھلائوں گا۔ ابھی بھی رات کے دو نہ بجے ہوتے تو باہر جا کر سودا لیکرآتا اور پکاتا۔
انہوں نے مسکرا کر کہا تو طوبی کی آنکھیں کھل سی گئیں۔
آپکو بریانی بنانی آتی ہے؟
نہیں۔جواب حسب توقع تھا۔
مگر مجھے دال چاول کونسا بنانے آتے تھےتم سے پوچھ پوچھ کر ہی۔بناتا جیسے یہ بنا رہا ہوں۔
وہ ہنسے طوبی بھی ہنس دی۔۔۔
آج تو بہت مستی میں ہیں پتہ نہیں کل سورج نکلے گا بھی کہ نہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔
دلاور کو موٹی موٹی سلاد کاٹتے دیکھ کر طوبی نے سوچا۔تھا۔
شکر ہے انہیں پتہ نہیں لگا کہ آج میری طبیعت خراب کیوں ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ اور نور کو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ طوبی میز پر سر رکھے شائد سو گئ تھئ اور دلاور چلتےہوئے انکے پاس آئے آپ لوگ یقینا سامنے والے فلیٹ میں رہتی ہیں ہمارے؟
جج۔جی میں عزہ ہوں یہ نور ہے۔
عزہ گڑ بڑا کر تعارف کرانےلگی
طوبی کے پاس چابی ہوگی یقینا گھر کی میں ٹیکسی کرا دیتا ہوں۔
وہ کہہ کر موبائل نکالنے لگے تھے
وہ ہم نے کرا لی ہے بس ہم گھر کے لیئے نکلنے لگے تھے۔ آپ اگر ہمارے ساتھ
نور نے کہا تو وہ سہولت سے انکار کرنے لگے
نہیں مجھے اس وقت کہیں جانا ہے۔ آپ لوگوں کو کوئی مسلئہ تو۔۔۔
وہ ایک۔نظر طوبی کو دیکھ کر قصدا بات ادھوری چھوڑ گئے
نہیں بالکل نہیں ۔ وہ ہم چلے جائیں گے آپ اپنا کام کر لیں۔
نور نے کہا تو وہ سر ہلا کر پلٹنے لگے۔۔ پھر کچھ خیال آیا۔
آپ۔لوگ میرا ذکر مت کیجئے گا کہ میں یہاں ملا ہوں طوبی سے۔۔
انکی ہدایت پر زور و شور سے ان دونوں نے سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں طوبی کو سہارا دے کر اسکے فلیٹ میں لائیں۔
میرا سر گھوم رہا ہے میں مرنے لگی ہوں کیا۔
سر دونوں ہاتھوں میں تھامتی طوبی نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا۔۔
اللہ نہ کرے طوبی ۔۔ عزہ تڑپ کر بولی۔۔
ماما کو کیا ہوا۔
زینت گھبرا رہی تھی ۔۔ ان دونوں نے سہارا دے کر اسے لائونج کے صوفے پر۔بٹھایا تھا مگر وہ لڑھک کر سو گئ تھی۔
اوہ ۔۔ دونوں آگے بڑھی تھیں مگر وہ بے نیاز تھی۔
ماما۔۔زینت بس رونے کو تیار ماں کو ہلا رہی تھی۔۔
کچھ نہیں ہوا بس ابھئ پاپا آتے ہوں گے تم لوگوں کے پریشان نہ ہو۔ نور نے تسلی دی تو وہ سر ہلانے لگی۔
ویسے ماننے والی بات ہے طوبی کی نظریں عقاب جیسی تیز ہیں سچ مچ دلاور بھائی تھے اس کیفے میں ۔۔
نور نے کہا تو عزہ نے جھٹ یاد دلایا۔
انہوں نے منع کیا ہے طوبی کو انکی موجودگی کے بارے میں بتانے سے۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا طوبی سے اتنا ڈرتے ہیں دلاور بھائی۔
نور نے کندھے اچکائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور کو نہ بتانا میں نے غلطی سے شراب پی لی ہے۔
بچوں کو انکے کمرے میں لٹا کر کمبل درست کرکے وہ لائونج میں آئے تھے۔ طوبی کا۔کندھا ہلا کر جگانا چاہا تو وہ کسلمندی ہلی جلی مگر پھر انہیں عزہ یا طوبی سمجھتے ہوئئ خوفزدہ سے انداز میں سرگوشی کرنے لگئ۔۔ آنکھیں میچ میچ کر کھولنے پر بھی منظر دھندلا ہی رہا تھا۔
انکو ہنسی آگئ ۔
اٹھو طوبی شاباش۔ انہوں نے ہلانا چاہا مگر اسکے اگلے جملے سے انکی ہنسی پھیکی پڑگئ۔
جان نکال دیں گے وہ میری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائیں میں کاٹ دوں۔۔
طوبی سے رہا نہیں گیا آگے بڑھ کر انکے ہاتھ سے چھری لینی چاہی تو وہ دانستہ ڈپٹ کر بولے
پتہ ہے بہت سگھڑ ہو تم مگر آج جب میں سب کام کر رہا ہوں تو تم بالکل ہاتھ نہیں لگائو گی سمجھیں۔۔
وہ ڈانٹ رہے تھے مگر انداز پر طوبی کو ہنسی آگئ۔
اچھا بھئ آج سب کچھ آپ کریں میں آرام سے بیٹھوں گی۔
وہ شاہانہ انداز میں کہتی واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئ۔
کھانا بنا کر اسکے سامنے سرو کرکے جب انہوں نے وقت دیکھا تو تین بج چکے تھے۔ زرا سا کھانا پکاتے گھنٹہ کیسے گزرا نہیں پتہ۔ اسے واقعی بھوک لگ رہی تھی فورا دال چاول نکال کر پلیٹ میں شروع ہو گئ۔
کیسا بنا ہے۔ انکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
کتنی معصوم سی خواہش ہے نا کیسا بنا اتنی محنت سے بنا ہے تھوڑی سی ستائش کی خواہش فطری ہے شائد۔
بہت مزے کا۔ زبردست
اس نے فراخ دلی سے کہا۔وہ خوش سے ہوگئے
کیسا بنا؟
طوبئ اشتیاق سے پوچھ رہی تھی
کھا تو رہا ہوں ٹھیک ہے۔ چائے چڑھا دو سر میں درد ہورہا۔
انکو اپنا بے نیازانہ انداز یاد آیا۔
اچھا۔ وہ کھانا چھوڑ کر چائے کا پانی رکھنے اٹھ گئ۔

زندگی میں یہ چھوٹے چھوٹے سے روئیے یا تو دلوں میں گہری محبت جگا دیتے یا گہرا خوف جاگزیں کر جاتے اور زندگی کے ساتھی کم از کم آپ سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے۔
آج طوبی کی باتوں نے جو شائد وہ ان سے عام حالات میں زندگی بھر نہ کہتی مگر آج بے ہوشی میں کہہ ڈالا انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔اب یقینا آگے کی زندگی میں طوبی کو ان سے ایسی شکایت نہیں ہوگی انہوں نے مصمم ارادہ باندھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 37

قسط 37
اسکے تیسری دستک دینے پر دروازہ کھلا تھا۔جون کی نگاہوں میں اسے دیکھ کر خاص قسم کی چمک آگئ تھی جیسے شکاری کو اپنا شکار دیکھائی دے گیا ہو۔
ہاں پیسے لے آئے۔۔
تیجون نے سر ہلایا تو اسے اندر آنے کا اشارہ کرتا جون پلٹ گیا۔ جام بنائے یقینا اپنے اپارٹمنٹ میں جون اس وقت تنہا تھا۔
ایک کمرے کا فلیٹ جسکے لائونج میں کائوچ پر لیپ ٹاپ چپس کے پیکٹ اور۔شراب کے خالی۔کین پڑے تھے۔ سامنے میز پر انسٹنٹ نوڈلز کا بھرا پیالہ اور کئی کین شراب کے پڑے تھے۔اسے دیکھ کر عجیب سے انداز میں مسکراتا وہ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ نوڈلز کا بائول اٹھا کر اطمینان سے کھاتے ہوئے وہ گہری نگاہوں سے تیجون کو دیکھ رہا تھا۔
یہ پیسے۔
تیجون نے جیب سے لفافہ نکال کر اسے دینا چاہا۔ اس نے پیسے تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی نہیں۔
تمہیں پتہ ہے تمہیں میں نے اندر کیوں بلایا؟
اس نے خود ہی یہ پزل حل کرنا چاہا۔
اسے اندر بلانے کا مقصد اسے سمجھ نہ آیا تھا سو چپ چاپ دیکھتا رہا
وہ دیکھو۔ چاپ اسٹکس سے اس نے سامنے دیوار پر لگی ایل ای ڈی کی جانب اشارہ۔ کیا۔
اس نے رخ پھیرا تو ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئ
اسکی اور اسکی گرل فرینڈ کی کرائوکے بار میں خفیہ بنائی گئ ویڈیو اس وقت چل رہی تھی۔
اس سے بچکانہ ویڈیو آج تک نہیں دیکھی میں نے۔
وہ۔ہنس رہا تھا۔
اس کے تو پیسے مانگتے شرم بھی آرہی ہے مجھے مگر دیکھو ہم نے ڈسکائونٹ دیا ہے۔تمہیں۔وہ شرارت بولا
کیونکہ چھوٹے بچوں کی ویڈیو بڑے مسلئے پیدا کر سکتی ہے لہذا حسب وعدہ یہ لو۔۔۔
اس نے ایل ای ڈی سے منسلک اپنے لیپ ٹاپ پر اس ویڈیو کو کٹ پیسٹ کرکے یو ایس بی میں منتقل کیا۔۔
ہم بے ایمانی کا کام ایمانداری سے کرتے ہیں۔
یو ایس بی اسے تھماتے ہوئے اس کو معمولی سا بھی تیجون کی مزاحمت کا خوف نہیں تھا۔
ویسے اتنے پیسے ہائی اسکولر کے پاس آئے کہاں سے؟ ماں کا زیور چرایا ہے ؟
وہ مزاق اڑا رہا تھا۔
تیجون نے یو ایس بی ہاتھ میں پکڑنی چاہی مگر انگلیاں کانپ رہی تھیں۔یو ایس بی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر میز پر جا گری۔ جون ہاتھ سے لفافہ لیکر وہ اطمینان سے صوفے پر بیٹھ کر نوٹ گننے لگا تھا چونکا۔۔ پھر ہنسا
ارے۔
بیان۔
تیجون نے گھبرائے ہوئے انداز میں معزرت کی اور میز پر سے یو ایس بی اٹھاکر الٹے پیر جانے لگا۔
آننیانگ۔
اس نے پیچھے سے آواز لگائی تھی۔مگر تیجون نے مڑ کر نہیں دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکر اس نے سب سے پہلے اپنی گرل فرینڈ کو فون کیا تھا۔
میں لے آیا ہوں اب فکر کی کوئی بات نہیں۔
وہ اسے تسلی دینا چاہ رہا تھا۔
انکے پاس کاپی ہوگی وہ اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ تم نے انکی منت کرنی تھی۔ہمارے پاس روز روز اتنے پیسے نہیں آسکتے۔ آج میری آہموجی اپنا بریسلٹ ڈھونڈتی رہی ہیں۔ میں بہت پریشان ہوں تیجون۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
پریشان مت ہو انکے انداز سے لگ نہیں رہا تھا کہ وہ مزید ہمیں تنگ کریں گے۔
تیجون نے تسلی دینی چاہی جوابا وہ چیخ اٹھی
تم اٹھائئ گیروں بدمعاشوں پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہو۔
اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ انکے پاس اس ویڈیو کی کوئی کاپی نہیں ہوگئ یا وہ ہمیں دوبارہ۔
اس نے خوف کے مارے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔
تیجون نے جیب سے یو ایس بی نکال لی۔
اس نے میرے سامنے کاپی نہیں ویڈیو کٹ کی تھی۔یو ایس بی میرے پاس۔۔
وہ۔کہتے کہتے رک سا گیا۔
جو یو ایس بی اس نے تھمائی تھی وہ بالکل کالی تھی۔ اس یو ایس بی پر لال نشان لگا ہوا تھا۔
میں بعد میں بات کرتا ہوں۔
اس نے فون ایک طرف رکھا پھردوڑ کر اپنی اسٹڈی ٹیبل پر رکھے اپنے لیپ ٹاپ میں یو ایس بی لگا کر دیکھنے لگا۔
وہ یو ایس بی واقعی مختلف تھی۔
اس میں جو مواد تھا وہ کسی کی خفیہ بنائی گئ ویڈیو نہیں تھی بلکہ دن دیہاڑے اسی جیسے کسی اور ہائی اسکولر کو پیٹ کر اس پرغلاظت ڈال کر تماشا بنانے کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر موسم ابر آلود ہو چکا تھا۔موٹے چیک والے سوئٹر مفلراور دستانوں میں ملفوف ہو کر وہ نکلے تھے۔
آہجوشی سوچ لیں ایک بار پھر۔
تیجون منمنایا۔ انکے موٹے اپر میں وہ کہیں بیچ میں ہی کھو گیا تھا۔ دبلا پتلا منحنی سا تیجون ۔۔انہوں نے لمحہ بھر رک کر اسے دیکھا۔ خاور ہی لگا تھا انکو ایک پل کیلئے۔ خاور انکا منا سا چھوٹا بھائی۔ حالانکہ خاور کے لانبے چہرے پر موٹی موٹی آنکھیں تھیں رنگ بھی سانولا سا تھا ڈیل ڈول میں تیجون سے کہیں بڑا صحت مند تھا مگر۔۔۔۔
انہیں رکتے دیکھ کر تیجون بھی رک سا گیا تھا۔یقینا وہ جزباتی ہوکر اسکے ساتھ نکل آئے تھے اب سوچ رہے تھے۔ ایک ٹک اسے دیکھتے صاف لگتا تھا زہن کہیں اور ہی ہے۔
ماتھے پر سات ٹانکے پٹی نیلوں نیل گال وہ غصے میں کھول۔گئے تھے اپنےبھائی کی حالت دیکھ کر
کس سے لڑ کے آئے ہو ؟
وہ دھاڑے تھے۔
وہ بھائی ادھر وہ۔۔
اس سے جواب نہیں بن پڑا تھا بھائی کے غصے سے وہ پہلے ہی ڈرتا تھا
کتنی دفعہ کہا ہے اپنی چوہدراہٹ گھر چھوڑ کر نکلا کرو۔
تمہاری یہ حالت ہے تو جسے پیٹ کر آئے ہو اسکا کیا حال کیا ہے؟
انکے سوال پر خاور نے سر مزید جھکا لیا تھا۔
آئیندہ ایسی شکل بنوا کر میرے سامنے مت آنا ورنہ مزید شکل بگاڑ دوں گا سمجھے۔
انہوں نے اسے زخمی دیکھ کر ہلکا ہاتھ رکھا تھا۔۔
انکے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ انکا صحت مند جوان کڑیل بھائی کسی کو پیٹ کر نہیں بلکہ کسی کی غنڈہ گردی کا شکار ہوا ہے۔
اور جب یقین آیا تب۔۔۔
آہجوشی۔ تیجون نے دھیرے سے پکارا۔
ہوں۔ وہ کسی خیال سے چونکے۔
پھر آگے بڑھ کر اسکی گردن میں لپٹے اسکارف کو مزید ٹھیک کرنے لگے۔
یہ جو بلیک میلر ہوتے ہیں انکی ساری بہادری بس وہاں تک ہوتی ہے جہاں تک انکو مقابل خوفزدہ نظر آتا ہے۔ انکا ڈٹ کر سامنا کرو۔۔ احمق۔
آپ میرے والدین کو نہیں جانتے۔ وہ کبھی میرا یقین نہیں کریں گے۔
تیجون نے سر جھکا لیا۔
ان سے ہم بعد میں بات کریں گے فی الحال یہ بتائو کہاں ملے گاوہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں اس کلب میں لیکر آیا تھا۔ ایک کونے میں نشست سنبھال کر وہ بیٹھ گئے۔تیجون ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ میں وہ داخل ہوا تھا۔ فیڈذ جینز پھلتروں والی کالی لیدر کی جیکٹ کانوں میں آویزے سر پر گھنے بال جنکو بینڈ سے جکڑ رکھا تھا۔ایک ڈریگن ٹیٹو گردن پر اور ہونٹوں پر چھلا چپکائے لوفر انہ مسکراہٹ تھوڑی پر داڑھی سے الگ نقش نگار بنائے تھے حلیئے سے وہ کہیں سے یونیورسٹی کا طالب علم نہیں لگ رہا تھا۔
وہ سیدھا تیجون کے پاس آیا تھا۔
ہاں بھئی مینڈک یو ایس بی لائے ہو؟
تیجون نے ہونٹ بھینچ کر جیب سے یو ایس بی نکال کر سامنے رکھ دی۔
جیسے ہی اس لڑکے نے یو ایس بی اٹھانےکو ہاتھ بڑھایا تیجون نے یو ایس بی پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا۔
میری جو ویڈیو بنائی تھی مجھے وہ ڈیلیٹ کرو پہلے۔
تیجون کے مطالبے پر اس نے منہ بنایا پھر جیب سے اپنا موبائل نکالا اسکی ویڈیو نکال کر اسے دکھاتے ہوئے ڈیلیٹ کا بٹن دباتے دباتے ہاتھ پیچھے کر لیا
پہلے اپنے موبائل میں اسکو لگا کر مجھے دکھائو کہ یہ یو ایس بی اسی ڈیٹا سے بھری ہے بھی کہ نہیں جو مجھے درکار ہے۔
اس نے یقینا کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔
تیجون کا حلق خشک سا ہونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیول کی دوپہریں خاموش تو نہیں ہوتیں مگر اس ہائی اسکول کی عقبی تنگ گلی میں اوندھے منہ پڑے تیجون کو صرف اس دنیا میں اپنے تیز تنفس کی آواز کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اسکی ناک پر پڑنے والا مکا کافی زوردار تھا کہ اسکی ناک سے خون جاری ہو چکا تھا مگر ٹھڈوں لاتوں سے پیٹ میں اس سے کہیں ذیا دہ تکلیف ہو رہی۔تھی۔
میرے پ پاس سچ مچ یو ایس بی نہیں ہے۔ سن بے میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔
اس نے کوئی دسویں بار اپنی بات دہرائی مگروہ یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔
وہ دونوں ان سے دو تین سال سنیئر تھے۔ انکی بدمعاشی غنڈہ گردی سے انکے اسکول سے پاس آئوٹ ہو جانے کے باوجود بھی جان نہیں چھٹ سکی تھی انہوں نے جانے آگے کہیں داخلہ لیا بھی تھا کہ نہیں مگر جس باقاعدگی سے اسکول آنا جانا تھا اس سے یہی لگتا تھا کہ۔انکے پاس کرنے کو مزید کوئی کام نہیں۔
اتنا پٹنے کے بعد بھئ جھوٹ بولے جا رہا ہے سالا۔
جون سن بے نے پھر ایک لات جما دی تھی اسے۔ وہ کراہ کر رہ گیا۔
اب اسکی ویڈیو اپلوڈ کرنی ہی پڑے گی۔
مائک نے دھمکاتے ہوئے جیب سے موبائل نکالا

آندے۔وہ چیخ کر سیدھا ہوا تھا۔
کیوں ڈر لگ گیا؟ چوزے کو؟
جون نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ پکڑ کر سیدھا کیا۔
تو منے پھر اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اور تمہاری گرل فرینڈ کی ویڈیو کل ٹرینڈنگ پر نہ آئے تو کل تک ہر قیمت پر وہ یوایس بی ہمیں واپس لا دینا ۔۔ورنہ۔۔۔
اسکے لہجے اور نگاہوں میں کسی طرح کی رعائت نہیں تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یقینا طوبی تھی۔ انہوں نے اسکو دو عبایا والی لڑکیوں کے ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھا تو ہاتھوں سے طوطے اڑ گیے۔
طوبی یہاں۔وہ۔فورا سے پیشتر میز کے نیچے چھپ بیٹھے۔
تیجون نے خشک ہوتے گلے کے ساتھ گردن ہلکے سے موڑ کر دلاور کو دیکھنا چاہا مگر وہ اسے کہیں نہیں نظر آئے
بے وقوف سمجھا ہوا ہے مجھے۔
جون نے بنا لحاظ اسکا سربالوں سے اٹھا کر میز پرمارا۔۔
چھناکے سے گلاس میز سے اچھل کر نیچے گرا تھا۔
اس نے تیجون کو کالر سے پکڑ کرکھینچا اور گھسیٹ کر باہر لے جانے لگا۔
تیجون کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی۔
کلب سے باہر نکل کر وہ اسے دائیں جانب تنگ سی سنسان گلی میں لے آیا تھا۔
ایک مکا دومکے۔ تین۔
اسکا سر گھوم گیا تھا ناک سے خون بہہ نکلا تھا مزید کوئی گنتی یاد نہ رہی۔
تبھی جون کا سر آکر اسکے کندھے پر لگا۔وہ بے دم سا ہو کر گرنے کو۔تھا جب کسی مہربان ہاتھ نے اسے تھام لیا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تودلاور مسکرا دیئے۔۔
معزرت تھوڑی سی دیر ہوگئ مجھے آنے میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکھڑاتے قدموں سے کائونٹر پر پہنچ کر طوبی نے زور دار آواز میں گرج کر کہا
یہ شربت کھانسی کا۔۔ میرے بچوں کو شراب۔
نہیں یہ کھانسی کا شربت بچوں کیلئےہوتا۔۔ مجھے کھانسی
وہ کائونٹرکا سہارا لیئے ہونق ہوئے ویٹر سے مخاطب تھی۔ وہ ہکا بکا اسکی باتوں کا مفہوم سمجھنے میں لگا تھا
دے؟؟؟
چھے سو نگییو۔
عزہ اور نور نےبھاگ کر آکر طوبئ کو پکڑا۔۔
کہاں لے جا رہی ہو مجھے۔
رخصتئ ہو رہی ہے کیا میری؟ طوبی ہنسی۔ عزہ اور نور اسے پکڑ کر زبردستی باہر لے جانے لگیں۔ کلب سے باہر نکل کر اسے زور دار الٹی آئی تھی۔
اف۔۔ دونوں کا سر گھوم سا گیا۔ عین داخلی دروازے پر الٹی کی۔تھئ۔ اندر آنے والوں کا منہ بننے لگا۔
چھے سو ہمبندا۔۔
دونوں جھک جھک کر معزرت کرتی اسے باہر تازہ ہوا میں لائیں۔ اس وقت مارکیٹ میں رش نہیں تھا وہ سامنے کنونیئس اسٹور کے باہر لگی میز کرسیوں پر اسے لابٹھایا۔
اف انکو تو چڑھ گئ ہے۔۔ عزہ نے جیسے انکشاف کیا۔
بڑی نئی بات بتائئ۔ نور چڑی
مگر ہم نے بھئ تو پی تھی ہمیں تو نہیں چڑھئ اوپر سے خالص الکوحل نہیں تھی یہ ۔۔۔۔
عزہ کھسیائی۔۔مگر اسکی بات میں دم تھا۔
یہ ہم دونوں نے چکھی تھی بس جبکہ طوبی پوری پی گئ تھیں۔ دوسرا بی بی آپ بار میں تھیں کیا معلوم انہوں نے کس تناسب سے الکوحل ڈالی ہوگی ۔ یہ لوگ تو اتنی اتنی پینے کے عادی ہوتے ہیں انکے لیئے اس طرح کی شراب صرف زرا سا جھومنے پر مجبور کر دیتی ہوگی جبکہ ہم نے تو آج تک کبھی زبان پر نہ رکھی ہمارے تو حوا س گم کرنے کو کافی ہے۔
نور نے تفصیل سے کہا تو عزہ نے سر ہلایا۔ طوبی میز پر بازو لمبا کیئے سر بازو پر رکھے بڑ بڑا رہی تھئ۔
مجھے اتنی جلدی رخصت کردیا ۔ اتنا لمبا سفر۔ گھر نہیں آیا۔
سسکی۔
مجھے بھوک لگ رہی۔۔
عزہ نے آگے بڑھ کر طوبی کو دیکھا تو آنسو ایک تواتر سے اسکی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔
میں اکیلی اتنا بڑا گھر اکیلا امی مجھے ڈر لگ رہا۔۔۔۔۔
طوبئ کے جملے پر عزہ سر اٹھا کر نور کو دیکھنے لگی۔
میں کوئی دوا پتہ کرتی ہوں۔ نور اسٹور کے اندر گھس گئ
عزہ طوبی کے مقابل بیٹھ گئ۔ طوبی نے زرا سا چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر سرگوشی کے انداز میں منہ بسور کر کہنے لگی۔
مجھے پراٹھا بنانا آتا ہے پر۔۔۔ سسکی
مجھ سے مٹئ کے چولہے پر روٹی نہیں بنتی۔
آنٹی ڈانٹتئ ہیں مجھے کام نہیں آتا
دلاور بھی ڈانٹتے۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوجاتی ہے۔ پر
اس نے کہتے ہوئے آنکھیں رگڑ یں۔ پر
مجھے شہر جانا ہے امی بابا کے پاس۔
اس وقت طوبی اسے معصوم چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ہونٹ لٹکا کر روتے اسے خیال آیا تو جیسے چونک سی گئی
مگر بابا تو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی کے اپارٹمنٹ میں لانگ صوفے پر بیٹھے وہ اسکے موبائل اور لیپ ٹاپ کو فارمیٹ کررہے تھے۔سنگل صوفے پر بیٹھے جون نے سر اٹھا کر انکو دیکھا پھر ہونٹ بھینچ کر رخ پھیر لیا۔
تیجون ان تینوں کیلئے کافی بنا کر لایا تھا۔ جون کے سامنے کپ رکھ کر وہ دلاور کے ساتھ بیٹھ کر چسکیاں لینےلگا۔
یہ اپارٹمنٹ کس کا ہے؟
انہوں نے سرسری سے انداز میں پوچھا مگر جب جون نے جواب نہیں دیا۔تو ترچھی نگاہ سے اسے دیکھا
ہم تین دوست مل کر رہتے ہیں
وہ دھیمے انداز میں بولا
تیجون کو اسے دیکھ کر چڑ آئی۔ اس کے سامنے کیسے ہیرو بن رہا تھا اب بھیگی بلی بنا بیٹھا ہے۔
اورکون کون شامل یا تم لوگ کس حد تک۔جاتے ہو مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مگر آج کے بعد تیجون کو تمہاری جانب سے معمولی سا بھی گزند پہنچا تو تمہارا اعتراف جرم میرے فون میں محفوظ یے اور یہ یو ایس بی۔۔
انہوں نے یو ایس بی اٹھا کر اسکی نگاہوں کے سامنے لہرائی۔
یہ پہلے ضرور خالی تھی مگر اب اس میں میں نے تمام ڈیٹا کاپی کر لیا ہے۔ یہ دونوں چیزیں تمہیں جیل کی سیر کروانے کیلئے کافی ثبوت ہیں۔سمجھ آئی۔ ؟
وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔ اس نے سر جھکالیا
دے۔ جون کی منحنی سی آواز۔
تین دوست ۔ باقی دونوں کہاں ہیں؟
دلاور نے کہا تو وہ سر جھکا گیا۔
یونیورسٹی گئے ہیں۔
یہ ہائی اسکولرز کو ہی بس بلیک میل کرتےہو یا کوئی بڑی آسامی بھی بھی شکار کرتے ہو؟
دلاور کو لیپ ٹاپ وغیرہ سے اندازہ ہو تو گیا تھا
ہم بس بچوں کو ہم خود طالب علم ہیں ہم کوئی بڑا غلط کام نہیں کرتے۔تیجون کے علاوہ اور کسی کی ایسی ویڈیو نہیں ہمارے پاس۔
گھگھیاتا ہوا صفائی پیش کرتا یہ جون اس جون سے کہیں مختلف تھا جو ابھی کل تک اسے ٹھڈے مار رہا تھا۔ تئجون کو اس سے کراہیئت محسوس ہوئی۔
کوئی بڑا غلط کام ۔۔۔۔
دلاور استہزائیہ ہنس پڑے۔
تم تینوں پر تعلیمی سلسلہ بند ہو سکتا ہے کیریئر برباد ہو سکتا ہے یہ چھوٹا غلط کام جو دھڑلے سے کر رہے ہو تم لوگ۔ کوئی اندازہ ہے اس وقت اگر تیجون پولیس کے پاس جائے تو تم
چھے سو نگئےہو۔( میں معزرت خواہ ہوں)
جون ایکدم سے انکے آگے دو زانو بیٹھ کر رونےلگا۔
مجھے یونیورسٹی فیس کیلئے رقم چاہیئے تھی۔ تین پارٹ ٹائم جابز کے باوجود میرے پاس اتنے پیسے کم
وہ بات مکمل نہ کرسکا۔
بیانیئے۔ آہجوشی
میرا مستقبل تباہ ہو۔جائے گا پلیز۔
اسکے یوں ہچکیاں لیکر رونے پر اسکے کانوں سے لٹکتے آویزے زور زور سے جھول رہے تھے۔ پسینے کی دھاریں اسکی۔گردن پر بہہ رہی۔تھیں۔ سیمی پرممنٹ ٹیٹو گیلا ہو کر۔داغ چھوڑ رہا تھا۔
تو یہ۔تھا وہ خطرناک۔حلیہ۔ ہونٹوں کا چھلا وہ جانے کہاں گرا آیا تھا اب کانپتے لبوں سے معزرت خواہانہ الفاظ۔
دلاور نے تیجون کواسکا لفافہ تھماتےہوئے نکلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔وہ چند لمحوں بعد باہر آئے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں صرف اٹھارہ سال کی تھی۔ ابھی تو میرے انٹر کے امتحان کا نتیجہ آنا تھا مجھے بی اے کرنا تھا کہ ۔۔
طوبی نے جیسے سسکی لی۔
پتہ ہے عزہ ہم بہت خوشحال نہ سہی مگر میرے گھر میں ہر سہولت موجود تھی ہم شہر میں رہتے تھے ۔ایکدم سے گائوں پہنچی تو جیسے بیس سال پیچھے کے دور میں چلی گئ۔ مہینوں لگے بولی سمجھنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور
وہ بے دردی سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔
سالوں لگے لوگوں کو سمجھنے میں۔۔۔دلاور خفا ہیں خوش ہیں مجھ سے سمجھ ہی نہیں آتا تھا۔ ایک نگاہ بس ایک نگاہ اٹھتی تھی میری جانب اس سے سو مفہوم نکالتی پھر بھی غلطی ہو ہی جاتی تھئ۔احمق اتنا کہا گیا مجھے کہ اپنا نام ہی احمق لگنے لگا تھا مجھے۔۔۔طوبی احمق۔۔ احمق طوبی۔۔۔
وہ ہنسنا چاہ رہی تھی مگر رو دی۔ اسکو دیکھتے عزہ کو سمجھ نہ آیا کیا کہے کیا کرے۔۔
میں اٹھا رہ سال کی تھی یار کتنا میچیور سمجھدار ہوسکتی تھی؟ ۔ زندگی میں اسکول کالج کے سوا کیا دنیا دیکھی ہوگی مگرسسرال نے دنیا کے ایسے ایسے رنگ دیکھائے کہ۔۔ پتہ ہے۔
وہ جانے کیا بتانے لگی تھی۔ نور اسٹور سےنکل آئی۔ طوبی کھٹکے پر چپ سی ہوئی۔۔ عزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیا کہے۔ اس نے طوبی کے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔ طوبئ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر سرگوشیاںہ انداز میں بولی۔
پتہ ہے ہر کھٹکے پر اتنا ڈر لگتا تھا مجھے۔ لگتا تھا ابھی کوئی اپنے کمرے سے نکلے گا اور مجھے برا بھلا کہنے لگے گا۔ دلاورگھر آتے تھے تو میں خوف کے مارے۔۔
نور نے اشارے سے عزہ سے پوچھا کیا چل رہا اس نے کندھے اچکا دیئے۔ تبھی سامنے اندھیرے میں مدغم ہوتے سائے پر نگاہ پڑی۔
طوبئ چلیں گھر چلتے ہیں۔۔رات ہوگئ ہے۔۔ نور نے ہینگ اوورڈرنک لا کر سامنے رکھا تو عزہ اسکی پشت پر اس سائے کو دیکھ کر گڑبڑا کر بولی۔
مجھے اپنے گھر جانا ہے۔ میں تھک گئ ہوں عزہ۔
طوبی نے سر میز پر ٹکا دیا۔
کوئی مجھ سے خوش نہیں ہوتا۔ میں کسی کو خوش نہیں رکھ پاتی۔ صرف ایک خاور تھا جو میرے آگے پیچھے پھرتا تھا۔
میرے لیئے لڑ پڑتا تھا اپنی امی سے بہنوں سے۔ اور انہوں نے اسے بھی مجھ سے دور کردیا۔ کہتی تھیں وہ میرا چھوٹا بھائی نہیں دیور ہے۔ مگر میں تو اسے چھوٹا بھائی سمجھتی تھی۔۔
پتہ ہے۔ وہ ایکدم سے سر اٹھا کر بولی
میرا چھوٹا بھائی بھی ہے۔ شادی سے پہلے صرف میرے قابو آتا تھا۔ اسکو تو میں پڑھاتی تھی آپی آپی کہتا میرے پیچھے پیچھے پھرتا تھا۔کسی نے نہیں سوچا وہ میرے بعد کس کے قابو آئے گا۔ اس نے پڑھائئ ادھوری چھوڑ دئ۔۔کتنا روئی میں کسی کو نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔ میں مہینوں اسے یاد کرکے روتی تھی جب گھر جاتی تو میلوں فاصلے ہمارے درمیان آگئے تھے۔ اب اسکوبھئ شائد آپی کی ضرورت نہیں رہی ۔۔جیسے ہے جن کو نہیں رہی۔ میں جس سے پیار کرتی وہ مجھ سے دور ہوجاتاہے۔ عزہ۔
وہ بازوئوں میں چہرہ چھپاگئ۔
وہ سایہ قریب آیا۔ نور اور عزہ ساکت سی رہ گئیں۔
کم از کم اس وقت جب طوبی کی یہ حالت تھی اس کو یہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو اپنے اپنے بستر میں گھس کر بھی ان سب کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔
عروج سٹر پٹر کرتی پھر رہی اپنے چہرے کی سیوا میں مگن تھی۔ جانے کون سا ماسک لوشن منہ پر بھر بھر کر لگاتے آئینے میں گھسی جا رہی تھی۔ الف اپنے بیڈ پر ان سے رخ موڑے لیٹی جانے جاگ رہی تھی یا سو رہی تھی ۔ عزہ اور نور دونوں ڈبل بیڈ پر چت لیٹی چھت گھور رہی تھیں۔
یار آج مجھے بہت دکھ ہوا۔ کتنی مشکل زندگی گزاری ہے طوبی نے۔ گائوں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے۔
نور نے کہا تو عزہ نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
کتنی مشکل ہوتی ہے کیا بات ہوئی مجھے بھی بتائو۔
عروج رخ موڑ کر پوچھنے لگی ۔تو نور اٹھ کر بیٹھ گئ۔
پتہ ہے طوبی اتنی بڑی نہیں ہیں انکی اٹھارہ سال کی عمر میں ہی شادی ہو گئ تھی۔ وہ بھی گائوں میں۔ اتنی مشکلیں سہیں اتنے سنگ دل اور کٹھور سسرال والے تھے انکے۔ اوپر سے دلاور بھائی غصے والے تھے اب جا کے انکا غصہ کم ہوا ہے اتنے سالوں بعد ورنہ طوبی کی جان نکال کے رکھتے تھے اتنا ڈانٹتے تھے طوبی کو اور جب وہ روتی تھیں تو اور غصہ کرتے تھے۔
اچھا؟ عروج کو حیرانی ہوئی۔
ایسے لگتے تو نہیں۔ ہم نے کتنی کتنی درگت بنائی ہے انکی۔
وہ بے چارے تو سیدھے سے لگتے ہیں۔
ہاں تو اب اتنے غصے والے نہیں رہے نا۔ انکا غصہ تب کم ہوا جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو مارا اور وہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ آج تک نہیں پتہ وہ کہاں ہے۔
عزہ بھی جوش میں اٹھ بیٹھی۔
ہیں؟ کیا ؟
عروج تجسس میں سب چھوڑ چھاڑ انکے پاس چلی آئی
کس نے بتایا یہ سب تم لوگوں کو؟
آج ہم جب باہر گئے نا تو غلطی سے طوبی نے الکوحل والی ڈرنک پی لی انکو تو چڑھ گئ۔ میں اور عزہ انکو اتنی مشکل سے باہر لیکر آئے تو انہوں نے رونا شروع کردیا۔ پہلے تو وہ اپنی رخصتی والے دن میں پہنچ گئیں پھر انکو جو ایک ایک دن اپنے سسرال میں گزرا یاد آنا شروع ہوا۔ قسم سے اتنی مشکل سے ضبط کیا میں نے دل کر رہا تھا انکے ساتھ بیٹھ کر رونا شروع کردوں۔
نور واقعی دکھی تھئ۔ عزہ بھی اداس سی شکل۔بنائے بیٹھی تھی۔
یار عروج انسان کی یادداشت پیچھے کو چلی۔جاتی ہے جب وہ شراب پیتاہے ؟ نور نے پوچھا تو عروج اسے گھور کر رہ گئ
مجھے کیا پتہ میں کوئی الکوحلک ہوں؟ ویسے بھی سب کی عجیب عجیب الگ عادتیں ہوتی ہیں پی کے ٹن ہونے کے بعد سب اپنی مرضی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
عروج نے تفصیل سے پھر بھی بتا دیا۔
وہی۔ نور نے منہ۔لٹکا لیا۔
اچھا یہ۔بتائو یہ دلاور بھائی کے بھائی والی کیا بات تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی آپ سو گئیں؟
عزہ نے تھوک نگلتے ہوئے اسکا کندھا ہلایا۔ طوبی ایکدم سے سیدھی ہوبیٹھی۔ اپنے کوٹ کی آستین چڑھا نے لگی۔
نہیں میں نہیں سوئئ سب کام کر لیئے میں نے اور جل۔بھی گئ۔
وہ جیسے ڈر کر اٹھی تھئ۔
طوبی میں عزہ ہوں۔
عزہ نے لاچار سا ہو کر اسکا بازو ہلایا تو وہ چند لمحے خالی خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر۔ سر ہلانے لگی۔
ہاں ہاں۔ عزہ یہ یہ۔ نشان۔ دیکھو۔ اس نے بازو پر لگا ایک پرانا جلے کا نشان دکھایا۔
عزہ میری شادی کو دوسرا ہفتہ تھا میں ناشتہ بنا رہی تھا نا جب ۔ مٹی کے چولہے پر جس میں نا آگ قابو آتی تھی نا دھواں۔ جلتی آنکھوں سے پراٹھا پلٹا تو آگ پر ہاتھ جا پڑا تھا۔ گھر میں زرا تکلیف پ پر گھنٹوں رونے والی طوبی نے بس سسکی بھری تھی ایک سسکی۔ اور۔۔۔
میری ساس بولیں۔۔ مکر کر رہی ہے سچ میں بہت تکلیف ہوئی تھی مجھے۔
نور اور عزہ چپ سی اسے دیکھ رہی تھیں۔
پھر میری ساس بولیں گھر میں اوپر کا سب کام کرنے کیلئے نوکر ہیں بہو سے بس ایک باورچی خانہ نہیں سنبھالا جاتا۔ ایک باورچی خانہ۔۔ تمہیں بتائوں کتنے لوگوں کا کھانا بنتا تھا حویلی کے سب گھر والے نوکر چاکر ڈیرے کے کام والے کل ملا کر پچاس لوگ ہو جاتے تھے۔ سب کہتے شہری لڑکی ہے بھاگ جائے گی۔
میری جٹھانی عمر میں مجھ سے کم ازکم بھی دس سال بڑی تھیں چھے بچے انکے تھے۔ پھر بھی مجھے اکیلے لگا دیکھ کر ہاتھ بٹانے بیٹھ جاتی تھیں۔کہتی تھیں۔ تم بہت نازک ہو اتنا کچھ اکیلے نہیں کر سکتیں آہستہ آہستہ ہی سیکھ جائو گی سب۔
پھر سب سیکھ لیا میں نے۔ساس سسر دیور جیٹھ نندوں سب کا خیال رکھنا بچے سنبھالنا۔سب کچھ۔۔ کب صبح ہوتی کب شام عمر میں سال لگتے گئے کیسے گزرے طوبی کو خبر ہی نہ ہوئی۔۔ اب دیکھو میں لڑکی سے عورت بن گئ تین بچوں کی ماں۔۔ مگر میں طوبی نہیں رہی۔ میں طوبی کہاں رہی
وہ پل پل بدل رہی تھی۔۔
طوبی کہاں گئ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگوں کو دیکھ کر لگ نہیں رہا کہ سونے کا ارادہ ہے کافی بنانے لگی ہوں پیئو گی ؟
ساری بات سن کر عروج ہاتھ جھاڑتی اٹھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
عزہ اور نور دونوں نے سر ہلایا۔
یہ الف سوگئی کیا۔ الف پینی ہے کافی؟
عروج نے اچک کر الف کے بیڈ پر۔جھانکنا چاہا۔اس نے سر پر تکیہ رکھ لیا
نہیں اور تم لوگ باہر جائو میں نے سونا ہے۔
اس نے سخت سے انداز میں کہہ کر کمبل اوپر کھینچ لیا۔
ارے واہ ہم تین لوگ جائیں یہاں سے آئی بڑی شہزادی۔
نور چمک کر بولی۔
یار تھک گئ ہوگی فنکشن سے کتنی دیر میں واپس آئی ہے۔اسے سونے دیتے ہیں باہر چلتے ہیں

عزہ نے امن کا سفید جھنڈا لہرایا
یار ویسے واعظہ تن و تنہا اکیلے کمرے میں راج کر رہی ہے ہم چاروں یہاں ایک۔کمرے میں کیا یہ۔کھلا تضاد نہیں

نور منہ بنا کر کہتی اٹھی۔
جوابا عروج اور عزہ بھی ہاں میں ہاں ملاتی اسکے ساتھ کمرے سے نکل گئیں۔
اس نے ان کے جانے کے بعد زرا سا سر اٹھا کر اطمینان کیا پھر سائیڈ ٹیبل سے ٹشو کا رول۔نکال لیا
اتنی دیر سے مستقل رونے سے چہرہ بھیگا ہوا تھا اس نے بے دردی سے آنکھیں صاف کیں پھر دوبارہ رونے کا کورم پورا کرنے لگی۔ اس بار ٹشو زاد راہ تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے شائد ابیہا کے جانے کے بعد پہلی دفعہ یہ کھڑکی کھولی تھی۔ سنسان گلی کن من مگر مسلسل برستی بارش کے باعث بھیگی ہوئی تھی۔ سرد ہوا کا جھونکا۔۔۔ ۔۔۔اس نے ذرا سا ہاتھ بڑھا کر بارش کے قطرے ہتھیلی میں سمیٹ لیئے۔۔۔
ذہن میں کسی کے غصے سے بھرے جملے گونجے
بالکل کررہا ہوں تم جیسی دس ہزار لڑکیوں میں بھی کھڑی ہو تو پہچان سکتا ہوں اسے

تم دس ہزار لڑکیوں میں بھی چھپ۔کر کھڑی ہو تو بھی پہچان سکتا ہوں۔
اس بار لہجہ نرم آواز مختلف تھئ۔
باہر کن من برستی بارش نے ایکدم تندی اختیار کی اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
یہ کورین لڑکے سب ایک ہی جملہ بولتے ہیں ہرلڑکی کو کیا۔
اس نے سر جھٹکا۔۔ اور کھڑکی کی۔چوکھٹ سے ٹک کر بارش دیکھنے لگی۔۔
محبت بارش سی ہے۔
بھگو دیتی۔۔۔
تن من۔
پر یہ بارش۔۔۔
جو۔۔۔
سمیٹینا چاہو تو مٹھی بھر کا کھیل ہے۔
مٹھی میں آتی ہے۔۔
قطرہ قطرہ ۔۔۔
پھسلتی جاتی ہے۔۔
یہ بارش مٹھئ میں لمحہ بھر ٹھہرتی۔۔
خوش کردیتی یے۔۔۔
ایسے ہی محبت لمحوں کا کھیل ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے۔۔

Desi Kimchi Episode 36

قسط 36
وہ تینوں دکانیں کھنگالتی ہھر رہی تھیں۔
تین دکانوں سے صاف جواب دیا گیا چوتھی نے انکو نئی یو ایس بی بیچنی چاہی۔
ہمیں اسکے اندر جو مواد ہے وہ چاہیئے۔
نور نے اس انگریزی سے نابلد انسان کو سمجھانے میں جی جان لڑا دی۔ جوابا اس نے اپنا بڑا سا کدو جیسا سر ہلا کر نئی نکور یو ایس بی سامنے رکھ دی۔۔ تینوں بری طرح جھلاکر دکان سے ہی باہر نکل آئیں۔ سہ پہر ہورہی تھی۔ دھوپ ڈھل رہی تھی۔ وہ لوگ یونہی چہل قدمی کرتی مارکیٹ سے باہر نکل آئیں۔
عجیب جاہل لوگ ہیں کسی کو انگریزی سمجھ نہیں آتی۔۔
طوبئ نے ناک چڑھائئ۔
اب تو یہی حل رہ گیا ہے کہ آپ دلاور بھائی کو صاف صاف سچائی بتا دیں۔۔
عزہ نے کہا تو وہ بدک اٹھئ
ہرگز نہیں۔۔۔ اب تک انکے پانچ ہزار، پارکر پین وہ بھی سونے کی نب والا، انکے آفیشل وائوچر ، مائکروویو اوون کا اصل وارنٹی کارڈ ، ایک ٹائی پن دھو چکی ہوں۔ ٹائی پن تو جو جا کے واشنگ مشین میں اندر پھنسی تھی کہ مشین چل کے نہ دیمکینک کو بلوا کر مشین ٹھیک کروانی پڑی تھی دو ہزار لگے تھے جانے اندر کونسا پائپ توڑ ڈالا تھا۔ سب بدلنا پڑا تھا۔ اتنے نقصان دینے کے بعد یہ اعتراف کرنا کلہاڑی پر پائوں مارنے کے برابر ہوگا۔۔ اسکے فخریہ انداز میں کہنے پر دونوں منہ کھولے دیکھتی رہ گئیں۔۔
اتنا کچھ دھو لینے کے بعد تو آپکو بیس بیس دفعہ جیبیں چیک کرنے کی عادت پڑ جانی چاہییے تھی۔ نور نے کہا۔ تو عزہ نے تائیدئ گردن ہلائی۔
ہاں جب کبھی رات کو دیر سے آتے ہیں نا تو خوب باریک بینی سے چیک کرتی ہوں یہاں کتنا تو آزاد ماحول ہے ۔ کسی لڑکی کے چکر میں پڑ گئے تو میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ میں تو جیب الٹ الٹ کر دیکھتی ہوں
طوبی نے کہا تو نور نے سر پیٹ لیا۔
میرا مطلب تھا دھونے سے پہلے بھی دیکھ لیا کریں لڑکی جیب میں تھوڑی لیکر پھرتے ہونگے دلاور بھائی۔
عزہ منہ پھیر کر کھلکھلا رہی تھی۔طوبی نے قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا۔
صحیح کہہ رہی ہو۔۔۔۔چلو کچھ کھاتے ہیں ۔ آج بچے ساتھ نہیں ہیں تو آرام سے پھر سکتے ہیں ہم۔ طوبی نے چٹکی بجائی۔
ہمارے ساتھ تو بچے کبھی بھی نہیں ہوتے
عزہ نے سادگی سے کہا تو نور وہیں سر پکڑ کر اکڑوں بیٹھ گئ۔
یہ کوریا میں آخری ہفتہ کچھ ذیادہ ہی لمبا نہیں ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسپتال کے باہر لان میں بنچ پر بیٹھی تھی۔ سیونگ رو نے کافی لا کر اسکے پاس بنچ پر رکھی۔ اس نے گہری سانس لیکر گھونٹ بھرا ۔ کمال اطمینان اور سکون تھا چہرے پر۔ سیونگ رو کا دل کیا اسکے چہرے سے یہ اطمینان نوچ لے وہ اسکے سامنے کھڑا کینہ توز نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔
اس نے گھونٹ بھر کر کافی رکھی پھر گہری سانس لیکر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
میں عروج کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
اور کیسے نقصان پہنچانے کا سوچا جاتا ہے۔۔ وہ چٹخ کر بولا۔
تم کو عروج دوست سمجھتی ہے اور تم اسکے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکی شناخت استعمال کرکے یہاں پھررہی ہو۔ ؟ اوپر سے پولیس کارڈ چرا کر یوں کسی کو اغوا کرنا تمہیں کیا لگا تھا مجھے بھی دھوکا دے لوگی۔ عروج ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی جوتم اسکے نام کو استعمال۔کرتے ہوئے کرتی پھر رہی ہو۔ شرم آنی چاہیئے تمہیں۔ اتنے ایڈونچر کے شوق ہیں تو کہیں اور جا کے پورے کرو اس معصوم لڑکی کو استعمال مت کیا کرو۔
وہ بنا لحاظ چلایا تھا اسکی آنکھوں سے پھوٹتے شرارے ۔کوئی اور لڑکی ہوتی تو ٹپ ٹپ آنسو گرانے لگتی۔۔مگر سامنے بھی واعظہ تھی سکون میں ذرا سا جو فرق آیا ہو۔۔ بات سنی۔۔ سر کھجایا ۔ پھر بنچ پر رکھا کپ اٹھا لیا۔
دوست ہے وہ میری وہ میرے کام آئی تمہیں اتنی تکلیف کیوں ہے۔۔
انداز بڑبڑانے والا تھا مگر سیونگ رو کی سماعتیں قابل رشک تھیں۔ اسکی بات پر تپ اٹھا۔
حد ہوتی ہے ویسے۔۔ اس نے رخ موڑ کر اپنے غصے کو قابو کرنا چاہا۔ چند لمحے چپ رہ کر دوبارہ اسکی جانب رخ کیا اس بار نسبتا متحمل انداز سے کہنے لگا
مجھے نہیں پتہ پاکستان میں تم۔لڑکیاں کتنی آزاد ہو کیسے بلا خوف و خطر پھرتی ہو مگر یہ کوریا ہےہم بہت آزاد خود مختار سہی مگر یہاں کچھ ضابطہ اخلاق کی پابندی ہماری لڑکیاں کرتی ہیں محتاط رہتی ہیں پھر بھی۔ہر سال ہراسگی کے ہزاروں کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ جو منہ اٹھا کے اس عجیب ماحول میں گھس گئ تھیں جانتی ہو وہاں۔۔
جانتی ہوں۔بچپن سے یہیں رہ رہی ہوں۔ اس نے بےزار ہو کر بات کاٹی۔
پھر بھی۔ اسکواسکی بات پر مزید غصہ چڑھا۔۔
یہاں رہتے ہوئے بھی تمہیں معلوم نہیں تھا اس علاقے کی شہرت کیسئ ؟
یہ میرا اور عروج کا معاملہ ہے۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اسکے سچ مچ سر میں درد ہوگیا تھا۔۔ اسکی چخ چخ سے۔۔
یہ میرا بھی معاملہ ہے۔ تم عروج بن کر مجھے استعمال کر رہی تھیں تمہیں کیا لگا تھا میں پہچانوں گا نہیں؟ تم دو چار اور پردے بھی ڈال کر آتیں تو بھی تم میں اور عروج میں فرق کرنا مشکل نہیں میرے لیئے۔
سیونگ رو کے کہنے پر وہ کپ پٹخ کر اٹھ کھڑی ہوئی
کیوں؟بلکہ یہ بتائو کیسے۔ شکل تک جس لڑکی کی نہیں دیکھی اسکو پہچاننے کا دعوی کر رہے ہو۔۔۔
بالکل کررہا ہوں تم جیسی دس ہزار لڑکیوں میں بھی کھڑی ہو تو پہچان سکتا ہوں اسے کیونکہ۔
وہ جانے کیا کہنے جا رہا تھا کہ ایکدم زبان پر تالے سے پڑ گئے۔ لب بھینچ کر چند لمحے گھورتا رہا اسے۔ اسکا جملہ نامکمل رہ گیا۔ وہ ایکدم سرخ سے چہرے کے ساتھ اسے گھورتا پٹختا چلا گیا وہ حیرت سے اسے یوں جاتا دیکھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے بی شارک ڈو ڈو ڈو۔
ٹی وی پر شارکیں ناچ رہی تھیں۔ زینت اور گڑیا بڑے شوق سے ہتھیلیوں کے کٹورے میں چہرہ سجائے ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ الف صارم کو کندھے سے لگائے ٹہلتے ہوئے رو دینے کو تھی۔
فون کان سے لگائے ادھر سے ادھر ٹہلتے اس نے پہلی کال طوبی کو ملائی نمبر بند دوسری نور کو تیسری عزہ کو۔ چوتھی کال ملانے سے قبل بے بسی سے لائونج میں لگے وال کلاک کی سوئیوں کو دیکھا جو تیزی سے بھاگ رہی تھیں اسکے نزدیک۔
صارم اونگھ گیا تو اس نے چوتھی کال ملانے سے قبل اسے منے صوفے پر لٹانا چاہا۔ مگر جانے کوئی سوئچ لگا تھا اس بچے میں کہ کیا اونگھتا اونگھتا صوفے پرکا لمس پاتے ہی حلق کے بل چلا کر رو پڑا۔
کوئی سوئچ لگا ہے کیا تم میں کہ ادھر لٹائو جاگ کے رو پڑتے ہو۔
الف جھلائی نہیں بلکہ حیرانی سے پوچھ رہی۔تھی جوابا اس نے مزید تان بلند کی۔
اس نے دوبارہ گود میں لیا تو دو تھپکیوں پر چپ۔
یہ ایسا ہی کرتا ہے جبھی ممی سارا دن اسے گود میں لیئے رہتی ہیں۔
زینت نے بردبارانہ انداز میں اطلاع دی۔
اچھا۔ وہ روہانسی ہوئی۔
تمہارے بابا کب تک آئیں گے؟
اس نےلگے ہاتھوں معلومات اکٹھا کرنا چاہی جوابا زینت نے دونوں کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا اور دوبار شارکوں کو دیکھنے میں مگن ہوگئ۔
دو گھنٹے کا کہہ کر گئ تھیں اب ان بچوں کو ایسے اکیلے چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتی۔ اف مجھے تیار بھی ہونا ہے۔۔
کونسا منحوس وقت تھا جو دو گھنٹے انکا خیال رکھنے کی حامی بھر لی۔ طوبی کو بھی دیکھو بچوں کا خیال ہی نہیں بازار میں گھوم پھر رہی ہیں۔
وہ ٹہل ٹہل کر بڑ بڑا رہی تھی۔ اس بڑ بڑاہٹ کو صارم لوری سمجھ کر جھپکی لے ہی گیا۔ اس نے شکر کا کلمہ پڑھتے اسے احتیاط سے دوبارہ لٹایا۔۔
اب اطمینان سے وہ فون پر کھری کھری سنا سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو آسان سا کام ہے۔
فاطمہ چہکی۔ وہ اس وقت ایک مشہو ر موبائل فون بنانے والی کمپنی کے آئوٹ لیٹ کے ریسیپشن کائونٹر پر کھڑی تھی۔ کام تھا دن بھر کی سیلز اور کسٹمرز کے ریکارڈ کائونٹر پر بیٹھ کر نگرانی کرنا ۔ ایک طرف ایل سی ڈی تھی جس میں اس آئوٹ لیٹ میں لگے کیمروں کا ڈسپلے تھا دوسری جانب کیش کائونٹر جسکی چابی اب سے اسکے پاس رہتی۔۔
اسکے چہکنے کا نوٹس لیتی وہ چندی آنکھوں والی لڑکی مسکرادی۔
یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے سیہون نے خاص سفارش کی تمہاری۔ تم سیہون کی وائف نہ ہوتیں نا تو کبھی اتنا ذمہ داری کا کام تمہیں یہاں غیر ملکی ہونے کی بنا پر نہ ملتا۔ اب تم خوب دل لگا کر محنت سے کام کرنا۔
کے سئ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اثبات میں زور و شور سے سر ہلا گئ۔
تم کل سے کام پر آسکتی ہو۔ یہاں ریسٹ روم ہے وہاں یونیفارم چینج کر لینا صبح آٹھ بجے یہاں تیار موجود ہونا ہوگا تمہیں۔۔
کے سی اور بھی ہدایتیں دے رہی تھی جسے وہ ہنسی خوشی سنتے سر ہلا رہی۔تھی
شکر ہے جاب تو ملی۔ پیش نظر بس یہی بات تھی۔ وہ خوب خراماں خراماں چلتی شاداں و فرحاں شاپ سے باہر نکلی جب اسکو الف کی کال آئی۔
اب یہ کیوں کال کر رہی ہے۔۔
اس نے حیران ہوتے ہوئے فون اٹھایا۔
فاطمہ۔ جوابا وہ اسکے فون اٹھانے پر ہی خوشی سے ناچ اٹھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال ملی۔۔
تیجون انکے گھٹنے سے لگا بیٹھا تھا۔
ایک تو طوبی فون نہیں اٹھا رہی تھی انہیں پریشانی ہونے لگی تھی دوسرا تیجون نے الگ طبیعت جھک کر دی تھی
تیسری دفعہ کال ملانے پر بھی طوبی کی۔بجائے آپریٹر بولی تووہ بھنا گئے۔
ملی کال۔ تیجون نے کہا تو انکا دل کیا فون اسکے ہی سر پر توڑ دیں۔
ایک تو میری بیوی بچوں کی کوئی خبر نہیں۔ اوپر سے تم الگ دماغ خراب کر رہے ہو۔
آہجوشی۔ انہیں بھڑکتے دیکھ کر وہ ٹھنڈا پڑا۔
ریلیکس۔۔
گھنٹہ ریلیکس۔۔
وہ پریشانی سے اٹھ کر ٹہلنے لگے۔
آپ اپنی بیگم کی لوکیش تو دیکھیں کہاں ہیں آخر؟؟؟
تیجون نے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئے۔ کیا بتاتے ایسی کبھی نوبت ہی نہیں آئی تھی کہ لوکیشن وغیرہ سیٹ کرتے ایک دوسرے کے فون کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بچے تمہیں تنگ کر رہے تھے۔
فاطمہ نے کینہ توز نظروں سے اسے گھورا
زینت اور گڑیا دونوں معصوم سی شکل بنائے بیٹھی منی میز پر رکھے پیالوں میں سے چھوٹے چھوٹے چمچ سے تمیز سے آئسکریم کھا رہی تھیں
انکی اداکاری پر الف غش کھانے کو تھی۔
فاطمہ کو کال ملا کر بس ابھی فاطمہ ہی کہا تھا کہ زینت اور گڑیا کی چینل بدلنے پر لڑائی ہوگئ۔ زینت نے ریموٹ چھین کر گڑیا کو دھکا دیا۔ وہ چند قدم چل کر گری اور حلق پھاڑ کر روئی۔۔ الف دنگ رہ گئ۔
بیسٹ ایکٹریس ایوارڈ اسکو ملنا چاہیئے۔
نہیں بھئ مجھے جاب ملی ہے کوئی ایوارڈ نہیں ملا۔ فاطمہ اسکی بڑ بڑاہٹ پر غلط فہمی دور کرنے لگی۔
بچوں شور نہ کرو بھائی اٹھ۔ جائے۔۔۔
جملہ مکمل بھی نہ ہوا صارم چیخ مار کر اٹھ بیٹھا
آنٹی زینت نے مارا۔ گڑیا روتی اسکی ٹانگوں سے چمٹی
آنٹی تو مت کہو۔ الف کراہی۔۔ کیونکہ وہ اسکے پیر پر ہی کھڑی تھئ۔
میں نے کب آنٹی کیا۔ فاطمہ خفا ہوئی
اوفوہ تمہیں نہیں کہہ رہی۔ چپ رہو۔۔۔الف جھلائی۔۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔۔ زینت خفا ہوئی
مجھے بے بی شارک دیکھنا۔۔ گڑیا رودی
آپی دیکھیں کب سے کارٹون دیکھ رہی ہے مجھے وہ مچھلی والی لڑکی کا ڈرامہ دیکھنا۔۔
زینت ٹھنکی۔
اس نے فون کان سے لگائے لگائےصارم کو اٹھانا چاہا
بولو بھئ الف آواز نہیں آرہی۔ فون سے فاطمہ پکار رہی تھی۔
یار مجھے آج کے بی ایس کے شو میں جانا یہ طوبی وغیرہ آہی نہیں رہیں کب سے گئ ہیں میں ان بچوں کو اکیلے چھوڑ کر کیسے۔
آگے کی بات صارم کے شور میں دب گئ
آئسکریم کھانی ہے آپی۔
گڑیا نے باہر سے آتی ٹن ٹن سن کر نعرہ لگایا۔
میں نے چاکلیٹ۔۔ زینت ٹھنکی۔
فاطمہ گھر آجائو پلیز آئسکریم لیتی آنا۔۔
الف رو دینے کو تھئ۔ فاطمہ کو ترس آگیا تھا۔
نک سک سے تیار ہو کر اس نے رائل بلو لمبا سا ٹیل والا فراک پہنا جس کے گلے اور بازو پر ستاروں کا کام تھا۔ نیچے ٹائٹس تھیں مگر فراک میں چھپی ہوئی تھیں بڑا سا رائل بلو ہی دوپٹہ ستاروں والا بلیک اسکارف اس نے فراگی کی طرح لیا تھا۔آتشی گلابی لپ اسٹک آنکھوں پر ستاروں بھرا دھیما سا نیلا آئی شیڈو۔
وہ ٹھیک ٹھاک گلیمرس لگ رہی تھی۔
میں نے بھی جانا ہے ۔۔
فاطمہ کا دل للچا گیا۔
میرے کنجوس مکھی چوس باس نے بس ایک پاس دیا ہے مجھے ایک ژیہانگ کو کوئی مہمان نہیں لے جا سکتے ہم معزرت۔
وہ اونچی ایڑی کی کالی سینڈل پھنسا رہی تھی پائوں میں۔۔
فاطمہ نے منہ پھلایا۔
سچی اگر میں لے جا سکتی تو ضرور لے جاتی آج تو یوں بھئ تم پر پیار آرہا ہے مجھے اتنی بڑی مشکل سے نکالا ہے تم نے مجھے جیو ہزاروں سال۔
اس نے پرس کندھے پر لٹکاتے جھک کر اسکے گال کو چوم ہی تو لیا۔ فاطمہ پر کافی اثر ہوا مسکراہٹ آ ہی۔گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی ہم کچھ آئوٹ اینڈ آڈ نہیں لگ رہے یہاں۔
ارد گرد ماحول پر طائرانہ نگاہ ڈال کر عزہ منمنائی۔۔۔
وہ ایک مقامی بار تھا۔ ڈسکو لائٹس میں ناچتے نوجوان لڑکے لڑکیاں ڈانس فلور پر خوب ہنگامہ مچا تھا۔ ڈانس فلور سے فاصلے پر میزوں پر جام پر جام چڑھاتے لڑکے لڑکیاں۔ صرف ایک انکی میز پر وہ تین لڑکیاں بیٹھی تھیں وہ بھی مکمل عربی لبادے میں ملبوس چہرے پر نقاب کالے عبایا جنکی آستینوں پر ستارے لگے تھے ساتھ طوبی جو کھدر کا موٹاکرتا پاجامہ اوپر جیکٹ مگر سر پر اس نے بھی دوپٹہ لے رکھا تھا۔ آتے جاتے ویٹرز انکو ٹھٹھک کر دیکھ کر گزر رہے تھے۔
میں دلاور کو پہچاننے میں غلطی نہیں کر سکتی۔ وہ دلاور ہی تھے۔ چیک والے چیسٹر اور لانگ بوٹ میں۔ دیکھو نظر دوڑائو ۔۔ یہیں کہیں کسی لڑکی کے ساتھ ہونگے۔ آج تو رنگے ہاتھوں پکڑوں گئ۔۔طوبی پرعزم تھی
مجھے تو پیاس لگ رہی ہے۔ مینو کارڈ سے فروٹ کاک ٹیل شکل سے پہچان کر منگوانے لگی ہوں۔
نور مینو کارڈ کو کافی دیر سے پڑھ رہی تھی اور ناکام ہو کر تصویر ہر انگلی رکھ کر بولی۔
پکا یہ حلال ڈرنک ہے۔ عزہ کو شک تھا
نہیں ایک تو یی حرام پھلوں سے بنا ہے ۔ اوپر سےپھل کاٹتے وقت بسمہ اللہ اللہ و اکبر نہیں پڑھا انہوں نے۔ وہ چڑ گئ۔ عزہ کھسیا سی گئ
اچھی تو شکل سے یہ لگ رہی ہے۔
ادھر ادھر جائزہ لیکرطوبی زرا سی فارغ ہوئی تو مینیو کارڈ پر نگاہ ڈال کر اپنی پسندبتا دی۔
ایک صفر بھی ذیادہ ہے قیمت میں۔نور نے جتایا
پھر وہ اپنی والی ڈرنک ہی آرڈر کردو۔
طوبی نے فورا ارادہ بدل لیا۔
ویٹر۔
نور نے چٹکی بجا کر دور سرو کرتے ویٹر کو بلانا چاہا۔
ویٹر نے تو سخت ناگواری سے دیکھا ہی ارد گرد کی میزوں سے بھی کئی متاسفانہ نگاہیں اسکی جانب اٹھ گئیں
خیر ہے بھالا مار دیا کیا میں نے؟ نور سٹپٹا سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کی گھنٹی زور سے بجی۔ دلاور چونک کر میز پر رکھے فون کی۔جانب بڑھے مگر یہ انکے فون کی گھنٹی نہیں تھی۔ تیجون نے جیب سے فون نکالا نام دیکھ کر رنگ فق ہوگیا تھا اسکا۔
کیا ہوا کسکا فون ہے؟
دلاور نے آگے بڑھ کر نام دیکھنا چاہا مگر ہنگل میں لکھے اس نام میں انہیں کسی ڈریکولا کی شکل دکھائی نہ دی کہ وہ بھی تیجون کی طرح خوفزدہ وہ جاتے۔
یہ ۔۔۔ انکو یو ایس بی نہ ملی تو مجھے مار دیں گے جان سے۔
تیجون لرزتی ہوئی آواز میں بولا۔
کوئی اتنی آسانی سے جان نہیں لے سکتا۔ یہ ہائی اسکولر پدے دوست تمہارے ان سے ڈرتے ہو۔
یہ نہ ہائی اسکولر ہے نا دوست ہے میرا۔۔۔بلکہ۔۔۔۔۔۔
تیجون نے سر جھکا لیا۔
اسکی بتائی حقیقت انکا سر گھماگئ تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پلائو دم دیا۔۔ منے لائونج میں میز لگا کر دونوں بچیوں کو کھانا نکال کر دیا۔صارم سوتے میں کروٹ بدل کر صوفے سے نیچے آگیا۔ فاطمہ کا دل اچھل۔کر حلق مین۔شکر ہے نیچے فلور کشن۔ تھا۔ سکھ کا سانس لیتئ وہ خود بھی آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر کھانے لگی۔ کسی کی واپسی نہ ہوئی آٹھ بج چکے تھے۔
کہاں رہ گئیں یہ سب۔۔ اس اب تشویش ہونے لگی تھی۔
تبھی دروازے پر کھٹک ہوئی۔
عزہ نور اور طوبئ تھکی۔تھکی سی اندر داخل ہوئیں۔
مما آگئیں۔ زینت اور گڑیا پلیٹ چھوڑ چھاڑ طوبی سے جا لپٹیں۔ جوابا اس نے خالص پاکستانی ماں کی۔طرح جھڑک کر الگ کیا۔
کھانا کھائو۔آرام سے۔۔۔ دونوں منہ بناتی واپس اپنی اپنی جگہ آبیٹھیں۔
کہاں رہ گئ تھیں تم لوگ؟
فاطمہ نے پوچھا تو عزہ جواب دینے کی بجائے اسکی پلیٹ سے چمچ اٹھاکر بے تکلفی سے کھانے لگی۔۔
جائو ابھی دم دیا ہے پلائو اپنے لیئے بھی نکال لائو اور۔
فاطمہ کہہ رہی۔تھی جوابا عزہ نے اسکے ہاتھ سے پلیٹ ہی کھینچ لی۔ اس نے ابھی ایک آدھ نوالہ ہی لیا تھا سو دانت پیس کر خود ہی اٹھ گئ۔
نور اور طوبی صوفے پر۔گری ہوئی تھیں۔
ڈش میں پلائو نکال کر لائی تو طوبی نور بےتابی سے اٹھ آئیں۔۔۔
کدھر رہ گئ تھیں تم لوگ۔اور کچھ خریدا وریدا نہیں؟
فاطمہ نے کہا تو عزہ جو تھوڑا بہت پیٹ پوجا کرچکی تھی منہ بنا کر بولی
مت پوچھو کتنا خوار ہوئے ہیں۔
اسکی بات پر طوبی نے خطرناک تیور سے گھورا مگر وہ مکمل فاطمہ کی جانب متوجہ تھی۔
ایک یو اسی بی کا ڈیٹا ریکور کرنے نکلے آدھے سیول کا چکر لگا کر آئے ہیں۔ یہ۔۔طوبی جی کو ۔۔۔۔
آہم ہام۔
طوبی زور دار آواز میں کھنکاری کہ سچ مچ خراش آگئ حلق میں۔۔
اچھو لگ گیا کھانس کھانس کے برا حال۔ہوگیا
عزہ۔کو بات ادھوری چھوڑ کر پانی لانے اٹھنا پڑا۔ فاطمہ تفتیش بھول بھال کر اسکی کمر سہلانے لگی۔
نور کہہ رہی تھی۔۔
وہ دیکھیں اوپر چڑیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا ہے۔
نقاب کے نیچے سے اسٹرا لے جا کر گھونٹ بھرتے ہی نور نے بلبلا کر کہا تھا۔
آخ۔۔ عجیب سا ذائقہ ہے یہ تو۔
عزہ کے بھی کم و بیش یہی جزبات تھے۔
کیا ہوا لال شربت ہے انار کا ہوگا۔۔ تھوڑا ترش ہوتا ہے۔
نور نے تسلی دیتے ہوئے زرا بڑا سپ لیکر چکھنا چاہا۔
آخ۔۔
یہ تو کھانسی کا شربت ہے۔
طوبئ نے فورا پکڑ لیا تھا ذائقہ۔ اسے اتنا برا نہیں لگا تھا۔۔
مزا تھوڑا الگ ہے مگر اچھا ہے۔۔
کھانسئ کا شربت اور اچھا۔۔
عزہ کو حیرت ہوئی تھی۔
پانچ ہزار وون میں کھانسی کا شربت۔۔پاگل ۔۔کھو کھو کھو۔۔
نور کو گھونٹ بھرتے ہوئے ہی پھندا لگ گیا۔۔
یہ تو واقعی کھانسی کا شربت ہے۔
عزہ نے ایک اور گھونٹ لیکر طوبی کی بات کر مہر ثبت کی۔
طوبی نور کی پشت سہلانے لگی۔
یہ تو گلا پکڑاگیا میرا۔
نور کی آنکھیں ناک منہ سب سرخ ہوگیا تھا کھانس کھانس کے۔۔
یار ہر چیز چکھنئ چاہیئے۔ اب یہ پھل کھانسی کے شربت میں استعمال ہوتا کیا کہتے ہاں بیر یہ اسکا ذائقہ ہے۔ ہم تو بہت شوق سے بیر شہتوت وغیرہ کھاتے ہیں صحت کیلئے اچھا ہوتا ہے۔
طوبی نے تسلی دینی چاہی۔
ہاں لگ رہا ہے کہ اس میں کچھ اور بھی ملا ہوا ہے ٹھہرو چکھ کربتاتی ہوں۔
طوبی نے ایک اور گھونٹ بھرا۔۔
اس میں کارن فلور ملا ہوا ہے۔
طوبی نے پکڑ ہی لیا اجنبی زائقہ۔
کارن فلو ر شربت میں ؟ کیوں بھئی ۔۔
عزہ بھونچکا سی رہ گئ۔
گاڑھا کرتا ہے نا۔طوبی نے سمجھایا۔
کارن فلور نہیں ہوگا۔۔ نور کو یقین نہیں آیا۔
ہے کیا یہ۔ نور کو تجسس ہوا تو مینیو کارڈ پر دوبارہ جھک گئ۔
اس پر اجزا تھوڑی لکھے ہونگے۔۔
عزہ نے جتایا تو وہ گھور نے لگی۔
عقل بڑی کہ بھینس۔
اس نے مینیو کارڈ پر انگریزی میں لکھا نام پڑھا پھر اپنا موبائل نکال کر گوگل کر ڈالا۔
Hongchobulmak (Makgeolli + Blueberry Vinegar + Sikhye + Burn Energy Drink)
چاولوں کی شراب، چاولوں کا شربت جس میں بلو بیری کا سرکہ اور توانائی والا کولڈ ڈرنک ملایا ہوا ہے۔۔
نور کی آنکھیں تفصیل دیکھ کر کھل سی گئ تھیں۔
آخ۔۔۔
عزہ نے اسی وقت بڑا سا گھونٹ لیا تھا۔ اسے تو الٹی آنے لگی۔
کیا ہم نے شراب پی لی ہے؟ طوبی کا صدمے سے برا حال تھا۔۔ اسکا گلاس بس اب ختم ہونے والا تھا۔۔
مکمل شراب نہیں ہے۔
نور نے تسلی دینی چاہی
Mixture:

50% Makgeolli

25% Hongcho Blueberry Vinegar

20% Burn Energy Drink

10% Sikhye
میکگائولی شراب ہوتی یے چاولوں کی وہ صرف 50 % ہے
نور کی تسلی ہرگز تسلی بخش نہیں تھئ۔
اسکی جرائت کیسے ہوئی ہمیں شراب لا کر دینے کی صاف کہا تھا کہ ہمیں شراب نہیں پینی۔
طوبی جزباتی ہوتے ہوئے آستین چڑھا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
طوبئ۔۔
نور عزہ دونوں اٹھیں روکنے کیلئے مگر طوبی واپس بیٹھ چکی تھئ۔
میں ابھی مزا چکھاتئ ہوں۔۔
وہ اس بار ایکدم سے کھڑئ ہوئی اور تیز مگر لڑکھڑاتے قدموں سے چلتی کائونٹر کی طرف بڑھ گئ۔
بھاگو۔نور اور عزہ اسکے پیچھے لپکی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہال کھچا کھچ بھرا تھا سب کی توجہ اسٹیج پر تھی۔ چاروں اطراف لوگوں کیلئے گول میزیں لگی ہوئی تھیں بیچوں بیچ میں بڑا سا گول اسٹیج بنا ہوا تھا جس پر سیلیبریٹیز ناچ رہے تھے۔ ٹیلنٹ ایجنسی سے منسلک تمام لوگ اور کے بی ایس کے ملازمین کی سب سے آگے نشستیں تھیں دور دور تک لوگ ہی لوگ میزیں ہی میزیں۔ اسٹیج پر موجود لوگ بس اچھلتے کودتے نظر آرہے تھے شکل وکل نظر نہیں آرہی تھی۔
ژیہانگ اور اسے کافی پیچھے جگہ ملی تھی یا یوں کہنا چاہیئے ژیہانگ الگ تھلگ جگہ ڈھونڈ کے دو لوگوں کیلئے لگی میز و نشست پر لایا تھا۔
ابھئ تو ہال میں داخل ہوئے ہیں ابھی سے بیٹھ جائیں؟
الف کو اعتراض ہوا ۔۔۔
ابھئ جب سب ناچ ناچ کے تھکنا شروع ہونگے تو سیٹوں کی شدید کمی ہو جائے گئ۔
ژیہانگ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بولا۔
پھر بھئ یہ تو بہت پیچھے ہے کیڑے مکوڑے کی طرح نظر آرہے ہیں لوگ تو۔
اس نے منہ پھلایا۔۔
تم نے آگے جانا ہے ؟ ژیہانگ نے پوچھا تو اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
اچھا میں ابھی آتا ہوں۔
ژیہانگ اپناکوٹ اتار کر کرسی پر ٹکاتا اسی رش میں گھس گیا۔
وہ بہت دلچسپی سے آتے جاتے سیلیبریٹیز کو دیکھنے لگی۔
یہاں سے داخلی دروازہ بالکل پاس ہی تھا۔ کوئی فنکار یا صنعت کار آتا تو تین چار انتظامیہ کے مخصوص یونیفارم میں ملبوس لڑکیاں لڑکے آگے بڑھتے اور انکو انکی نشست تک رہنمائئ دیتے۔ اسے کافی دلچسپ منظر لگ رہا تھاکہنیاں میز پر ٹکا کر وہ سہولت سے ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ ٹکائے تاڑ رہی تھی۔۔
تبھئ پارک بوگم اپنے مینجر کے ساتھ اندر داخل ہوا تو اسکا منہ سچ مچ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
پارک بوگم مخصوص کھلی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ نگاہ ڈالتا اسکے قریب سے گزر کر آگے بڑھ گیا۔ وہم تھا یا سچ مچ وہ اس پر نظر ڈالتا مسکراتا گزرا تھا۔ وہ پوری نشست پر گھوم سی گئ اسکو نگاہوں میں رکھتے رکھتے۔
کیا کوئی دیہاتی شہر کی بتیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہوں گے جو وہ ہوئی تھی۔
کیمرے چل رہے تھے صحافیوں کے۔ اسے خیال آیا۔
ویڈیو ہی بنا لوں۔ اپنا موبائل فٹ سے نکال کر ویڈیو بنانی چاہی تو جانے کون موٹئ توند والے انکل اسی وقت داخل ہوئے۔ اس نے منہ بنایا۔
معاف کیجیئے گا یہ نشستیں انتظامیہ کیلئے مخصوص ہیں آپ آگے تشریف لے جائیے۔۔
انتظامیہ کے مخصوص یونیفارم میں ملبوس وہ لڑکی نہایت شائستگئ سے آکر کہنے لگی۔
جی،؟ الف کو سمجھ نہ آیا تو وہ اسکی مشکل سمجھ کر شستہ انگریزی میں بات دہرانے لگئ۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو اسی یونیفارم میں ملبوس پیچھے ایک دو نشستوں پر لڑکیاں بیٹھی نظر آئیں۔ یقینا انکی۔باریاں لگی ہوئی تھیں۔ کیونکہ ابھی اسے یہی دو لڑکیاں سامنے متحرک نظر آئی تھیں۔
اچھا۔ وہ متذبذب سئ ہوئئ۔ مگراپنا بیگ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ کوٹ۔ اسی لڑکی نے کرسی پر ٹکا ژیہانگ کا کوٹ اٹھا کر اسے تھما دیا۔
آپ سیدھا آگے چلی جائییے دائیں جانب نشستیں ہیں کچھ خالی۔
اس نے مزید تفصیل اسے بتائی۔۔
شکریہ۔
وہ اٹھ تو آئی تھی مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی میلے میں کھو گئ ہو۔
اسکے اسکارف کی وجہ سے اسے اپنے اوپر نظریں ہی نظریں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ایک ہاتھ سے پرس سنبھالتی دوسرے سے کوٹ وہ سہج سہج کر قدم اٹھاتے ہوئے بھی وہ لڑکھڑا سی گئ۔
بے ہنگم موسیقی خوش گپیاں لوگ اجنبی زبان میں باتیں قہقہے برتنوں کی کھنک تصویریں کھنچنے کی فلیش لائٹس رنگ و بو کا سیلاب۔۔ سینڈریلا کو اچانک شہزادے کی پارٹی میں سج سنور کر آتے سب کی نظروں کا مرکز بن کرکیسا لگا ہوگا یقینا ایسا۔۔
الف کو بے وقت فیری ٹیل یاد آئی تھی۔
ٹاور کی اونچی عمارت میں اکیلی رہتی رپینزل نے جب پہلی بار اپنے گنبد سے نکل کر دنیا کی روشنیوں رنگینیوں کو دیکھا ہوگا تو یونہی متحیر سی گھبرائی گھبرائی سی کھڑی ہوگی۔
کسی اور کو بھی اسے دیکھ کر اس وقت دیو مالائی کہانیوں پر یقین آگیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 35

قسط 35
آہجوشی آہجوشی۔۔
وہ خراماں خراماں چلتے اپنے راستے ناک کی سیدھ میں جا رہے تھے جب انہیں اپنے پیچھے پکار سنائی دی۔
آہجوشی۔۔
یقینا یہ انکا نام نہیں تھا۔ دلاور نے زرا سا سر جھٹکا اور چال مزید تیز کر لی کیونکہ موسم کے تیور خراب ہو رہے تھے وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہ رہے تھے۔
آہجوشی۔۔ ہانپتا کانپتا تیجون ان کے کندھے پر پیچھے سے آکر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھلا کر انہیں ہلا نے لگا۔۔ اس افتاد پر وہ بوکھلا کر مڑے
کب سے آوازیں دے رہا ہوں سنتے ہی نہیں۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر وہ جھکتے ہوئے سانسیں بحال کر رہا تھا۔ جانے کب سے انکے پیچھے بھاگتا آرہا تھا۔
دے؟ وہ حیران سے ہوئے۔۔
پہچانا مجھے؟ اس نے سیدھا ہو کر انکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
ہاں۔۔ انہوں نے پہچان کر گرمجوشی سے سر ہلایا
تم وہی ہو نا جس نے گائے کی تصویر والا دودھ کا ڈبہ مجھے فریج سے نکال کر دیا تھا۔
وہ شستہ انگریزی میں بولے جوابا وہ انہیں منہ کھول کر گھورتا رہ گیا۔
کہاں سے انگریز کی اولاد پلے پڑگیا۔ وہ سر جھٹکتے بڑ بڑایا
دلاور کی سماعتیں قاصر رہیں سننے سے ورنہ اتنی ہنگل تو سمجھ آ ہی جاتی تھی انکو۔۔
دے مگر ایک اور جگہ بھی میں آپکو ٹکرا تھا۔۔
اس نے جوابا انگریزی میں اٹک اٹک کر کہا۔
کہاں۔ دلاور سوچ میں پڑے۔۔
پھر اسکی ناک پر لگی بینڈ ایڈ دیکھ کر انہیں یاد آیا۔۔ تو گرمجوشی سے بولے
ہاں تم اس دن بلنگ کا شکار تھے کچھ لڑکے پیٹنا چاہ رہے تھے تمہیں۔
جی اور مزید پٹوں گا میں اگر آپ مجھے اس دن جو میں نے یو ایس بی آپکے کوٹ کی۔جیب میں ڈالی تھی وہ مجھے واپس نہیں کریں گے تو۔
اس لڑکے نے اپنی چوڑی ہتھیلی انکے سامنے پھیلائی۔۔۔
کونسی یو اسی بی۔۔ انکے فرشتوں کو خبر نہ تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے یو ایس بی کو گھما کر دیکھا الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔ اندر سے سب خالی تھا۔۔ منے لائونج میں منی میز پر عزہ طوبی اور نور سر جوڑے بیٹھی تھیں۔۔
اسکے اندر بھی کچھ ہوتا ہے طوبی جی۔۔
عزہ نے یاد دلایا۔۔
ہاں وہ ہے نا۔ طوبی نے دوسری ہتھیلی سامنے پھیلائی۔۔
ہو ایس بی کی کاپر کی پتریاں اور کچھ الم غلم یقینا یو ایس بی کے اندر کا مواد دھرا تھا۔۔
اسکو جوڑ دو۔ پلیز۔ طوبی نے منت بھرے انداز میں نور کو کہا تو وہ بے بسی سے دیکھ کر رہ گئ۔
طوبی ایک تو میں سافٹ ویئر انجینیرنگ کر رہی ہوں ہارڈ ویئر نہیں دوسرا یہ جو حال اس یو ایس بی کا ہوگیا ہے نا اسکو تو کوئی معجزہ ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔ نور نے یو ایس بی کے انجرپنجر لہرائے۔۔
کیا کروں پھر میں؟ یقینا دلاور کے دفتر کی کوئی اہم دستاویز ہوگی اس میں۔ وہ تو بہت خفا ہوں گے کہ میں نے پھر جیبیں دیکھے بغیر انکا اپر دھو ڈالا۔ ایک تو وہ س بات پر بھی ناراض ہونگے کہ اپر کیوں دھو ڈالا۔ اب خود بتائو اپر گندا نہیں ہوتا کیا؟ کب سے پہن رہے تھے پورے دو ہفتے میں چار پانچ بار جب باہر جانا ہو یہی چڑھا لیتے تھے۔مانا پسینہ نہیں آتا کوریا میں سردیوں میں پھر بھی گندا تو ہوتا ہے نا۔
طوبی کی گل افشانیوں پر نور اور عزہ دونوں نے اپنے اپنے اپر پر نگاہ ڈالی پھر سمٹ کر رخ پھیر لیا
میں نے تو جب سے یہ اپر لیا ہے کبھی نہیں دھلوایا۔
نور منمنائئ۔۔
میں نے دھلوایا تو تھا پر پچھلے سیزن میں وہ بھی مارکیٹ سے پتہ یے ڈرائی کلیننگ کا کتنا۔۔
عزہ نے بھی اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔
طوبی چڑئ
کیا باتیں کر رہی ہو دونوں مجھے بھی تو بتائو۔ اب دیکھو میں کیا کروں۔آج آئیں گے تو خود کہہ دوں گی کہ کوئی یو ایس بی تھی ہی نہیں آپ بھول گئےلانا ۔ کیسا یقین کر لیں گے نا؟
طوبی نے چٹکی بجائی
اگر انکے بنا پوچھے آپ انکو بتانے لگیں گی تو بالکل یقین نہیں کریں گے۔ عزہ نے کندھے اچکائے۔
پھر کیا کروں۔بہت خفا ہوں گے۔وہ۔۔۔طوبی نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔
ایک کام کرتے ہیں اسکی ڈپلیکیٹ بنوا لیتے ہیں۔ نور کو آئیڈیا سوجھا۔۔
کورین ڈراموں میں فون تک کی تو کاپی بنوا لیتے ہیں یہ تو معمولی یو ایس بی ہے۔ آخر کوریا اتنا ترقی یافتہ ملک ہے۔۔۔
نورکے جوش پر عزہ نے منہ کھول کر اسے دیکھا
کہاں سے؟ سوال اچھا تھا۔۔
دکان سے۔۔نور نے جیسے اپنا ماتھا پیٹا۔
چلو پھر۔ ان کے آنے سے پہلے ہم بنوا لاتے ہیں۔۔ طوبی جوش سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جب آپ سے ٹکرایا تھا تو میں نے آپکے اپر کی جیب میں یو ایس بی ڈال دی تھی۔ آہجوشی آپ سمجھ نہیں رہے بہت اہم یو ایس بی ہے۔مہربانی ہوگی مجھے واپس کریں۔
وہ منتوں پر اتر آیا تھا
دیکھو اگر تو واقعی تم نے ایسا کیا تو فاتحہ پڑھ لو اس پر یقینا اس ہفتے میری بیوی نے اسے دھو ڈالا ہوگا بنا جیب دیکھے۔۔
دلاور نے اسکو غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔۔انگریزی میں اردو مثالوں کا انگریزی ترجمہ کرکے سمجھایا باقائدہ
کیا پڑھ لوں۔۔
تیجون ہونق ہوا۔۔
میرا مطلب اسکی آخری رسومات بھی ادا ہوچکی ہوں گی نئی لے لو۔ اور مجھ سے پیسے مت مانگنا نئی یو ایس بی لینے کے میں نے نہیں کہا تھا کہ میری جیب میں ڈال دو یو ایس بی۔
دلاور نے ہاتھ جھاڑے
ایسا مت کہیں وہ میرے لیئے زندگی موت کا معاملہ ہے۔۔
تئجون منتوں پر اتر آیا۔۔۔
اسائنمںٹس ہی ہونگئ نا اس میں دوبارہ بنا لو پہلے کونسا خود بنائی ہوگی گوگل سے ہی نقل ماری ہوگی۔۔
دلاور ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر پلٹ کر جانے کو تھے کہ تیجون کی آواز نے انکے قدم روک لیئے۔۔
اس میں۔۔۔۔ غیر اخلاقی مواد ہے۔
تیجون چلاکر بولا تھا
کیا ؟؟؟؟؟ وہ اس بار اردو میں حیرت زدہ تشویش زدہ اور جانے کیا کیا ایکدم ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہجومہ نے کتنی ہی دیر بعد آنکھ کھولی تھی۔متلاشی نگاہیں ہمیشہ کی طرح کمرے کے چاروں کونوں میں لہرا کر ان میں حرکت ہوتے دیکھ کر مستعد ہو کر آگے بڑھتی عروج کے چہرے پر جم گئیں۔
آہجومہ ۔۔۔ کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔
انکی پیشانی سہلاتے اس نے بے حد نرم سے انداز میں ہنگل میں پوچھا۔۔
میری۔۔ میری بیٹی کو بلوا دو۔
بے حد کم آواز میں وہ اٹک اٹک کر ہمیشہ کی طرح یہی جملہ بولی تھیں۔۔
۔آپکی بیٹی آپ سے ملنے آئی ہے۔۔۔ عروج نے دھیرے دھیرے بتایا تو جیسے مردہ تن میں جان سی پڑ گئ۔ بے تاب سا ہو کر انہوں نے اٹھنا چاہا۔۔۔۔ تو عروج نے نرمی سے انکے شانے پر دبائو ڈالتے ہوئے روکا اور خود دھیرے سے ان کے اور انکی بیٹی کے درمیان سے ہٹ گئ۔
دیوار سے ملحقہ نرم سے بنچ پر بیٹھی وہ کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔
مینا۔۔ نحیف سی پکار۔ ضعیفی اور ضعف عروج کا انکی بے بسی پر دل بھر آیا۔۔۔ تو رخ موڑ کر آنکھیں صاف کرنے کگی
اپنے گناہوں کی سزا میں یہاں ایسے یوں پڑی ہوتم۔ مجھے تم سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں۔۔ایک بار اپنے گندے وجود اور بدبو دار ماضی سمیت دنیا سے دفع ہو جائو جان چھوڑو میری۔۔۔
مینا چلائی۔۔عروج ششدر سی پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔۔
دو دل کے دورے پڑ چکے ہیں انہیں۔اچانک خوشی بھی جان لیوا ہو سکتی ہے تبھی اتنی احتیاط سے ملوایا تمہیں اور تم ان پر چلا رہی ہو۔۔
عروج دانت پیستی غرائی تھی مگر دھیمی آواز میں۔ آہجومہ سسکیاں لیکر رو پڑی تھیں۔ مینا نے نفرت سے سر جھٹکا۔۔
مرجائے میری طرف سے کل کی مرتی آج مر جائے۔ یہ جہنم یہ اسکے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اسکی وجہ سے تمام عمر اپنا نام اپنی شناخت بدلتی رہی ہوں چھپاتی رہی ہوں کبھی للی ، ٹریسی ، مینا کیا کیا۔۔۔۔۔ اس نے سسکی لی۔۔
پھر بھی اسکا حوالہ میری زندگی کی ہر کامیابی ہر خوشی کے سامنے رکاوٹ بنتا گیا۔۔ اس نے نفرت سے بیڈ کی جانب اشارہ کیا جہاں پڑا وجود سسکیاں لے رہا تھا۔۔
وہ چلاتے چلاتے رو پڑی تھی۔۔ عروج کو سمجھ نہ آیا اں ماں بیٹی کو کیسے سنبھالے۔ مینا عروج کو ایک طرف کرتی بیڈ کی جانب بڑھی
تمہاری وجہ سے تمہارے ماضی کی وجہ سے میری زندگی میں آج تک کوئی خوشی نہ آسکی۔ نہ میں پڑھ سکی نہ کچھ بن سکی آج تمہارے ہی نقش قدم پر بار میں ناچتی ہوں تو ہر بار تم پر دل سے لعنت بھی بھیجتی ہوں۔ دیکھ لو تم اپنا انجام ماضی کی مشہور اداکارہ جس جسم کے بل پر بالغ صنعت پر حکمرانی کرتی تھئ آج اسی جسم کو دیکھو کیسے گل رہا ہے۔ دیکھو۔۔
وہ چلا کر بے دم سی ہو کر اسکے بیڈ کے پاس گھٹنوں کے بل گر کر اسکی پٹی سے سر ٹکا کر رو رہی تھی۔ آہجومہ پر جیسے ان سب باتوں کا الٹا اثر ہو رہا تھا آنکھیں نیر بہا رہی تھیں مگر چہرے پر مردنی نہیں تھی۔ اٹھ کر زرا سا بیٹی کے گھنے بالوں والے سر پر انگلیاں پھیر کر دھیرے سے بولیں۔۔
میری جان۔ مینا اٹھ کر ان سے لپٹ گئ۔۔
عروج کے لب نیم وا سے ہوئے… ان سب سے بےنیاز زرا ہٹ کے بیٹھئ اپنے موبائل میں مگن آنکھیں مسلتی دھیرے سے وہ باہر نکل آئی۔ دروازہ احتیاط سے بند کر کے وہ ان دونوں ماں بیٹی کو اپنے معاملات سلجھانے کا موقع دینا چاہتی تھی۔ دروازہ بندکرکے سیدھی ہوئی تو بری طرح دہل کر دل پر ہاتھ رکھا۔۔
ہائے اللہ۔۔
سیونگ رو بالکل سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔
اس نے اپنی چوڑی ہتھیلی اسکے سامنے پھیلائی تو وہ جیسے سمجھ کر فورا کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالنے لگی۔۔ ایک جیب دوسری جیب دوبارہ پھر پہلی جیب۔۔ وہ ہونق سی ہوئی۔۔
۔کہاں گیا۔ اس نے واقعی اسکے ہاتھ پائوں پھلا دیئے تھے۔ تشویش زدہ سئ وہ جیبیں کھنگال رہی تھی۔
مل گیا۔۔ شکر معاملہ طوالت نہیں پکڑ پایا۔اس نےخوش ہوتے ہوئے پولیس کارڈ نکال کر اسکی ہتھیلی پر جمایا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھمسامنیدہ۔۔
پولیس افسرنی نے جھک جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔
میں نے کہا تھا اسپتال میں چیزوں کا ہم خیال رکھتے ہیں یہ وہیں سائیڈ ٹیبل کے پیچھے گرا تھا۔ میں معزرت خواہ ہوں آپکو تکلیف اٹھانئ پڑی۔ سیونگ رو کی شخصیت اسکا دھیما انداز بندی وہیں ڈھیر ہونے لگی۔۔
نہیں نہیں معزرت کی کیا بات۔ دراصل اس کارڈ کی گمشدگی کی فوری رپورٹ کرانئ پڑتی ہے کہیں غلط استعمال نہ ہو جائے بس اسلیئے میں فکر مند تھئ آپکا بہت شکریہ ۔ ایک بوجھ دل سے ہٹا ہے میرے۔۔ آپ سچ مچ بہت معاون اور خیال رکھنے والے ڈاکٹر ہیں۔ کبھی کوئی مسلئہ ہو تو آپ بلا جھجک رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس نے اپنا کارڈ بڑھایا تو سیونگ رو نے خندہ پیشانی سے قبول کر لیا
چری ہوئی بانچھیں مدھر انداز۔ اس کو لڑکی ہو کر اسکے لہجے کے شیرے میں اپنا دل رس گلے کی طرح پھولتا محسوس ہورہا تھا جانے سیونگ رو کا کیا حال تھا۔ اسے مکمل نظر انداز کیئے دونوں باتوں میں مگن تھے۔
بہت شکریہ۔ سیونگ رو نے کہا تو وہ اتنا کھل کے مسکرائ کہ بس۔۔۔۔۔جانے کا دل نہیں تھا مگر دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی تھیں سو رخصت لینی پڑی بے چاری کو۔ اسپتال سے نکلتے نکلتے بھی اس نے ایک بار مڑ کر پیچھے دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا تھا۔ عروج نے اسکے نکلتے ہی سر جھٹکا تو پتہ چلا اکیلی کھڑی ہے سیونگ رو لابی کی جانب قدم بڑھا چکا تھا۔۔ یقینا یہ ناراضگئ کا اظہار تھا۔وہ سٹپٹا کر لپکی
آہم۔۔ کورین نامجا عزت ماآب سیونگ رو صاحب کے اوپا کہلانے کے دن آگئے۔۔
اس کے ساتھ قدم ملاتے اسے بھاگنا پڑا تھا۔
ویسے لڑکی کا قد اچھا ہے۔ گوری بھی ہے۔ پیاری تو بہت ہے۔ تمہارے ساتھ جچے گی ہاں شائد ایک دو سال بڑی ہے تم سے اسکے کارڈ پر آسکی سالگرہ کا سال۔۔
لابی میں تیز قدم بڑھاتا سیونگ رو ایکدم رک کر اسکی جانب مڑا۔ وہ سٹپٹا کر بریک لگا گئ
کون ہو تم ؟ اسکا لہجہ دو ٹوک سا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا۔۔
میں۔۔ وہ مزید بوکھلائی۔۔۔
عر۔۔ عروج۔۔ اس نے سنبھلنا چاہا۔
سیونگ رو نے ایکدم اسکا ماسک کھینچ کر اتار دیا تھا۔۔
واعظہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتی رہ گئ تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رائونڈ لگا کر واپس جب آئی تب تک واعظہ اسی جیسا حلیہ بنائے لیپ ٹاپ پر مگن تھی۔
ملی کوئی تفصیل۔
عروج نے کافی کا مگ لا کر اسکے سامنے رکھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔
ثریا نام کی کوئی مریضہ یہاں کبھی داخل ہوئی ہی نہیں ناہی کسی بنگالی لڑکی کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ یقینا یہ سرٹیفیکیٹ جعلی ہے۔
واعظہ مایوسی سے اسکرال کر رہی تھی
ایک تو یہ میرا ذاتی سرورہے اس پر صرف اس وارڈ اور ایمرجنسی کے ہی مریضوں کی تفصیلات مل سکتی ہیں باقی اتنا بڑا اسپتال ہے باقی وارڈز کا ڈیٹا تو پھر ایڈمن کے پاس ہی ہوگا۔ہاں اس سرٹیفیکیٹ کو دیکھ کر اتنا بتا سکتی ہوں کہ یہ جعلی نہیں ہے۔ اس پر اسپتال کی سیل اصل لگی ہے۔
رخ موڑ کر کافی کا گھونٹ بھرتی عروج تفصیل سے بتا رہی تھی۔
ہوں ۔۔ واعظہ نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔
اچھا پھر میں چلتی ہوں شکریہ تمہارا۔۔ وہ کافی پینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھئ سو اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ٹھہرو میں بس ایک مریضہ کو دیکھ لوں پھر فارغ ہوں اکٹھے چلتے ہیں۔
عروج نے کہا تو وہ سر ہلا کر اسکے ساتھ ہی چل پڑی۔
دونوں نے آج ایک جیسا لباس پہن رکھا تھا۔بلیک جینز لانگ شوز بلیک ہی اپر اور اسکارف ہاں عروج کے ساتھ چلتے واعظہ نے اپنا نقاب اتار لیا تھا۔ عروج وارڈ کی۔جانب بڑھ گئ تو وہ ریسیپشن کی طرف چلی آئی۔ یونہی ایک کونے میں صوفے پر بیٹھ کر میگزین دیکھنے لگی۔ عروج پانچ منٹ میں ہی فارغ ہو کے چلی آئی۔
یار سچ میں سخت افسوس ہوتا ہے اس آہجومہ پر جان کنی کا عالم ہے مگر جان اٹکی ہوئی ہے جب شکل دیکھتی ہیں ایک رٹنی لگا لیتی ہیں کہ میری بیٹی کو بلا دو۔ قسم سے دل کر رہا جائوں انکی بیٹی کو ہاتھ پیر باندھ کر یہاں لے آئوں کیسا ماں کو ترسا رہی ہے۔
عروج نے ماسک پہنا ہوا تھا مگر واعظہ کو اندازہ ہورہا تھا کہ اندر چہرہ جزبات کی شدت سے لال بھبوکا ہو رہا ہوگا۔
آئی بڑی تھانیدارنی۔ ہاتھ پیر باندھ کر لائوگی تم شکل دیکھی ہے اپنی۔
واعظہ نے سیدھا چڑایا تھا اور وہ چڑ بھی گئ۔
کیوں کیا ہے میری شکل کو۔ اس کورین تھانیدارنی سے تو ذیادہ رعب دار شکل ہے میری۔
اسکی بات پر واعظہ ہنس پڑی۔
ہاں یہ بات تو سچ ہے۔ اتنئ ادائیں دکھاتے ہوئے سیونگ رو سے ٹیکا لگوایا ایسے منہ بنائے کہ دل کر رہاتھا ایک چٹکی کاٹ ہی لوں اسکے۔۔۔۔ واعظہ یوں تو کونے میں آڑ میں بیٹھی تھی مگر جھانک کر ان دونوں کا دیدار کر لیا تھا۔
دونوں باتیں کرتی اسپتال سے باہر نکل آئیں۔ تب واعظہ کو خیال آیا۔دونوں جیبیں ٹٹولیں اپنی پھر ہراساں سی ہو گئ
اوئے میرا موبائل۔۔
ابھی تو ہاتھ میں نہیں تھا۔۔
عروج کو۔یاد تھا۔۔
پھر یقینا تمہارے ڈیسک پر بھول آئی ہوں لیکر آتی ہوں تم ٹیکسی روکو میں آتی ہوں۔
وہ کہتی اندر بھاگ گئ تو عروج سر جھٹکتی ذیلی سڑک کی۔جانب بڑھ آئی۔
کیا کروں۔ ۔۔۔ اب وہ لڑکی آتی ہی نہیں بلانے پر میرا فون بھی بلاک لسٹ میں ڈال دیا اور کسی کے فون سے کرو کال تو آواز سن کر رکھ دیتی ہے۔ اس تھانیدارنی سے کہتی ہوں جا کے کان سے پکڑ کر لائے۔
ویسے۔۔ تھانیدارنی تو جیسے میرے باپ کی نوکر ہے جو میرے کہنے پر چلی بھی جائے گی۔ واعظہ کاش تھانیدارنی ہوتی تو ۔۔۔۔۔۔اوٹ پٹانگ سوچیں کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی تھی
گاڑی کے قریب آکر رکنے پر اسکے خیالات کا تسلسل ٹوٹا تھا۔
ڈرائیونگ سیٹ پر مانوس شکل دیکھتے ہوئے کوئی خیال سا اسکے ذہن میں کوندا بنا اگلا لمحہ لگائے وہ گاڑی میں بیٹھ کر سیونگ رو سے پوچھ رہی تھی۔۔
ایک کام کروگے ؟ ایک جگہ جانا ہے لے جائوگے مجھے؟
سیونگ رو حیران تو ہوا مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ان خاتون کے سامنے لا کھڑا کیا تھا اسے۔
یہ دیکھو دو دل کے دورے پڑ چکے انکو۔
دوائوں کے زیر اثر گہری نیند سوتی وہ بوڑھی خاتون نہایت معصوم سی لگ رہی تھیں۔
بے چاری۔
واعظہ کو بھی ترس آیا
دیکھا تمہیں بھی ترس آیا نا۔ مگر انکی بیٹی کو نہیں آتا۔ ہر۔کوشش کر چکی نہیں آنے کو تیار وہ ۔
عروج کہتے کہتے رکی۔۔
ہمممم۔۔بےچاری آہجومہ۔۔
واعظہ نے مزید افسوس کا اظہار کیا۔
چلو چلیں۔ وہ کہہ کر مڑکر جانے لگی عروج نے ہاتھ تھام لیا
پلیز تم جا کے اسے لے آئو۔
میں تو بڑی پھپھو لگتی ہوں اسکی جا کر کہوں گی چلو میرے ساتھ ورنہ تمہاری شادی میں آکر رولا ڈال دوں گی کہ۔۔۔
واعظہ کو غصے میں طنزیہ خوب جملے بازی سوجھتی تھی اس وقت بھی ایک دھواں دھار تقریر جھاڑنے کو تھی کہ عروج نے بات کاٹ دی
نہیں تم تھانیدارنئ بن کر جانا وہ جو آج مریضہ آئی ہے نا پولیس والی میں اسکا کارڈ لا کر دیتی ہوں اور ہتھکڑی بھی تم جا کر اسے گرفتار کر لینا۔بس۔ یہ لڑکی ہے۔۔
وہ اپنے فون سے اسکی تصویر اور بائو ڈیٹا نکال کر اسے دکھانے لگی
دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟
واعظہ اسکے پلان کو سنتے ہی اچھل پڑی تھی۔
ایک تو وہ علاقہ ریڈ لائٹ ایریے میں آتا ایک سے ایک غنڈہ بدمعاش وہاں ہوگا تم چاہتئ ہو میں نا صرف وہاں جائوں بلکہ ہتھکڑی لگا کر اس لڑکی کو لیکر آئوں؟ کوئی انڈین فلم چل رہی ہے یہ؟
پلیز یار تم نے تو تائکوانڈو سیکھا ہوا ہے تمہارئ لیئے ایک لڑکی کا بازو مروڑ کر لانا کیا مشکل ہے؟ پھر اکیلے تھوڑی بھیج رہی ہوں سیونگ رو ہوگا نا ساتھ۔
عروج منت کر رہی تھی۔۔
سیونگ رو تو آرنلڈ شوارسنیگر ہے نا ۔ اس لمبو کوتو میں پٹخنی دے کر گرا سکتی ہوں۔ سنگل پسلی بانس جیسا۔ اسکے ساتھ بھیج رہی ہو۔
بی بی مجھے پہلے ہی بہت سے ایڈونچر تم لوگوں کی بدولت مل چکے مزید نہیں چاہیئیں۔
وہ سر نفی میں ہلاتی عروج کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف نکلنے لگی عروج نے اسکاہاتھ تھام لیا۔
قسم سے تمہیں نہ کہتی اگر مجھے اتنا خود پر اعتماد ہوتا کہ میں اسے پیٹ پاٹ کر یہاں لا سکتی ہوں۔ میں نے سیکھا ہوتا نا کوئی تایکوانڈو مارشل آرٹ تو کبھی تمہیں نہ کہتی۔ یار یہ ایک زندگی کا سوال ہے۔ تم ایک بار اس آہجومہ کی حالت دیکھ لو۔
پھر بھئ کوئی عقل کو ہاتھ مارو۔میں پولیس والی کا کارڈ چوری کرکے وہاں جائوں اور لڑکی کو ہتھکڑی لگا کر لائوں یہ تمہیں آسان کام لگ رہا ہے۔
واعظہ کو اسکی دماغی حالت پر شک ہونے لگا تھا
چوری تم تھوڑی کروگی میں لا کر دیتی ہوں نا۔ میں یہاں انتظار کروں گی اسی کمرے میں تم سیونگ رو کے ساتھ جائو اس وقت وہ لڑکی بار میں ہی ہوگی میں نے سب پتہ کیا ہے۔۔۔ اسکی پڑوسن سے منتیں کرکے تفصیلات لی ہیں
اور ایسی بھی کوئی خوفناک جگہ نہیں میں دو تین بار جا چکی ہوں۔ اس سے ملنےاب تو۔۔وہ میری شکل دیکھ کر گالیاں دینے لگتی ہے۔خیر ۔ ایسی ویسی جگہ میں بھیجتی تمہیں کیا؟ او رسب سے بڑھ کر اب بس زور زبردستی سے اسے لایا جا سکتا باقی جو کر سکتی تھئ میں کر چکی ہوں اسی سے اندازہ کرلو یہ معاملہ کتنا اہم ہے میرے لیئے۔
عروج اسے ہر صورت منا لینا چاہتی تھی۔۔ واعظہ اسکی شکل دیکھنے لگی۔ یہ عروج کا انداز نہیں تھا یقینا وہ کافی مجبور ہوچکی تھی۔ اس نے گہری سانس لی۔

اور وہ سیونگ رو وہ تیار ہوگیا ہے اس احمقانہ پلان میں میرے ساتھ جانے پر ؟
واعظہ نے کہا تو وہ گڑبڑائی
ہاں۔۔۔ اس نے جھوٹ بولنا مناسب سمجھا۔۔۔ تم میں بن کر جانا اس وقت تم اور میں نقاب میں ایک جیسے ہی لگ رہے ہیں۔ جیسے یہاں اسٹاف کو پتہ نہیں لگا سیونگ رو کو بھی پتہ نہیں لگے گا کہ تم میں نہیں ہو۔۔۔۔۔
واعظہ گہری سانس لیکر خود کو پرسکون کرنے لگی
دیکھو مانا اس وقت تم نے میرا بہت ساتھ دیا اس طرح مجھے یہاں اپنے ڈیسک سرور تک آنے دیا میں یہاں تم بن کے مریضوں کی تفصیلات دیکھتی رہی یہ بات کھلتی تو تم ٹھیک ٹھاک مصیبت میں آجاتیں مگر یقین کرو اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں تم پر آنچ نہ آنے دیتی پہچاننے سے بھی انکار کردیتی تمہیں۔۔۔
تمہارا احسان تمہاری بہت قدر ہے مجھے مگر جوابا تم جو مجھ سے چاہ رہی ہو یہ سیدھا سیدھا پولیس کیس بنے گا۔
یہ بہت ذیادہ ہے۔۔۔
واعظہ صاف انکار کرکے اسکے ردعمل کا انتظار کرنے لگی۔ وہ۔خاموش ہو کر سر جھکا گئ
آئم سوری اگرتمہیں ایسا لگا کہ میں تم سے اس بات کا صلہ مانگ رہی ہوں۔ آئی سوئیور میرے زہن میں ایسی بات نہیں تھی۔ تمہیں آئندہ بھی کبھی بھی میری مدد کی ضرورت ہوگی تو میں ضرور کروں گی۔۔ جانے دو۔
عروج گہری سانس لیکر مسکرادی۔ واعظہ کو اس سے اتنی جلدی مان جانے کی۔توقع نہیں تھی۔
چلو گھر چلیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ سہولت سے منع کر گئ
تم جائو گھر میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں۔ باہرسیونگ رو انتظار کر رہا ہے وہی مجھے گھر چھوڑدے گا۔
عروج نقاب ٹھیک کرتی اپنا بیگ اٹھانے لگی۔ واعظہ نے سر ہلایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔
عروج نے مڑکر آہجومہ کو تاسف سے دیکھا پھر دل ہی دل میں اپنا عزم دہرایا۔۔
اب میں خود ہی جائوں گی۔۔۔
خبردار۔جو تم نے خود وہاں جانے اور اس فالتو پلان پر عمل درآمد کا سوچا۔۔۔
واعظہ دروازے سے اندر جھانکتی کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی۔۔ عروج کا منہ کھلا۔۔ پھر مسکرا دی۔۔۔۔۔ نقاب میں اسکے مسکراتے لب تو نہیں مسکراتی آنکھیں ضرور دکھائی دے گئ تھیں۔ واعظہ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آہجومہ کے بیڈ پرچڑھی بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی جب عروج بھاگی بھاگی آئی۔۔
یہ لو۔۔ اس نے پھولی سانسوں کے ساتھ کارڈ بڑھایا۔
واعظہ نے ہتھیلی پھیلائی تو عروج نے اس پر پولیس کارڈ لا رکھا۔
ہتھکڑی؟ واعظہ نے بھنوئیں اچکائیں۔۔
یار وہ اسکے ساتھیوں کے پاس ہے۔عروج کھسیائی۔۔
گن ہی لے آتیں اب اس کارڈ کو اسکی کنپٹی پر رکھ کر تو اسے نہیں لائوں گئ۔
واعظہ نے کہتے ہوئے کارڈ اسکی پیشانی پر ہی بجا دیا۔۔
عروج خفت زدہ سی ہنس دی۔
یار سچ مچ گن ڈھونڈتی رہی مگر یہ کورین پولیس والے بہت احتیاط پسند ہیں۔ اسکی گن ہتھکڑی سب قبضے میں لے لیا اپنا سر پھٹا ہوا تھا مگر گھوم گھوم کے کارڈ ڈھونڈ رہا تھا بیڈ کے نیچے سائیڈ ٹیبل پر بڑی مشکل سے چھپایا میں نے کارڈ اسکی نظروں سے۔
عروج اپنا کارنامہ داد چاہنے والے انداز میں سنا رہی تھی۔
ویسے جو دوسرا زخمی ہے اسکو اینستھیزیا دیا ہوا ہے اسکی ہتھکڑی لے آئوں؟۔۔۔۔اسے اچھوتا خیال سوجھا۔۔۔
یہ مجھے پہلے خیال کیوں نہیں آیا۔
وہ سر پر ہاتھ مار کر واپس جانے لگی تو واعظہ نے روکا
بس بہن آج کیلئے اتنا ہی جیمز بانڈ بننا کافی ہے۔ اس سب میں آدھا گھنٹہ ہورہا سیونگ رو ہمارے ابا کا ملازم نہیں جو باہر کھڑا انتظار کرتا رہے۔۔
پندرہ منٹ ہوئے ہیں بس۔۔ عروج کھلکھلائی۔۔
واعظہ گھور کر رہ گئ۔۔
عروج اس سے لپٹ گئ۔۔
شکریہ واعظہ تم بہت اچھی ہو۔۔
بچا کے رکھو اگر ون پیس میں واپسی ہوئی میری تو کام آئے گا
واعظہ آئی ڈی کارڈ کو غور سے دیکھتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں یہیں انتظار کر رہی ہوں۔ عروج نے یاد دہانی کرائی تو وہ چہرے پر ماسک درست کرتی باہر نکل گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوروں کی طرح گھر میں داخل ہوکر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا۔خلاف معمول بے تحاشا خاموشی تھی۔۔
جھکے جھکے اندر داخل ہوکر انہوں نے مڑ کر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر تیجون کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
یہ آپکا گھر نہیں؟ اسے اچنبھا ہوا۔
شسشس۔ دلاور نے مڑ کر گھورا
یہ میرا گھر ہے جبھی میرا یہ حال ہوا وا۔ ہائش تمہیں اور کوئی نہ ملا اپنی گندی یو اسی بی میری جیب میں ڈال دی۔ میں وہی اپر پہن کر نماز پڑھ آیا کل۔۔ہونہہ۔
وہ لہجہ دبا کر گھرک رہے تھے
گھر میں کوئی نہیں۔۔ لگتا یے۔۔ انکے برعکس تیجون مطمئن تھا چاروں اطراف نگاہ دوڑا کر انکو بھی اطمینان دلانا چاہا۔
کیا ؟ دلاور سیدھے ہوئے۔گھر میں ایکدم سناٹا تھا۔۔
میری بیوی تین بچے سب کہاں گئے۔۔۔ وہ پریشان ہوئے پھر اطمینان بھری سانس لی۔
باہرگئے ہیں۔ اور تم چلو فورا اپنی یو ایس بی لو۔اور چلتے بنو۔
اب کی بار انکا انداز لہجہ سب بدل گیا تھا۔تیجون نے منہ بنالیا
پاکستانی مرد بھی بیویوں سے ڈرتے پھرتے ہیں۔۔
دے؟ دلاور نے پلٹ کر گھورا۔۔
آندے آنی۔۔ ( کچھ نہیں) وہ مسکرایا۔دلاور نے بھی بہتری یہی سمجھئ کہ سنی ان سنی کردے۔
انکے بیڈ روم میں انکا وہی اپر سامنے پھیلا تھا۔۔ انہوں نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر سب بتیاں جلا دیں۔۔
تیجون لپکا اور جلدی سے اپر اٹھا کر جیبیں کھنگالنے لگا
اس میں تو نہیں۔
اس میں سے دودھ یا الٹی کی بو آرہی؟
دلاور نے کسوٹی کھیلنی چاہی۔
دے؟ تیجون کا منہ کھلا
کل میرے بیٹے نے میرے کندھے پر الٹی کی تھی بو آرہی ہے؟ بتائو نا؟ دلاور نے کہا تو اس نے سونگھا ۔ ڈٹرجنٹ کی مہک اٹھ رہی تھی۔
نہیں۔اس نے چہک کر بتایا۔۔
بس تو پھر دھل گیا یہ اور تمہاری یو ایس بی بھی۔۔۔
دلاور نے ہاتھ جھاڑ دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔

Desi Kimchi Episode 34

قسط 34
اسے پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا اتنی رات گئے کہاں جائے اپنا بیگ اٹھائے دو دن تو یونہی پبلک پارک میں چوکیدار کی نظر سے بچتے گزار دیئے مگر کوریا کی سردی اسکی ہڈیاں جما رہی تھی۔ اس دن وہ پارک میں بنچ پر سوئی تھی جب ایک چوکیدار نے اسے اٹھا دیا تھا۔
بی بی جائو یہاں سے یہ سونے کی۔جگہ نہیں۔
کھا کھا۔۔ اس نےٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اسے نکلنے کا کہا پھر کھا کھا کہتا رہا۔ اسے بیگ اٹھا کر نکلتے ہی بنی۔
مر جائوگئ یہاں ٹھنڈ میں ۔۔۔
اس نے اضافہ کیا۔ وہ سخت چڑی۔
مروں یا جیئوں تمہیں کیا۔ جوابا وہ اردو میں دھاڑی تھی۔
مگر چوکیدار اسکے تیور دیکھ کر پلٹ گیا۔ وہ چلتے چلتے مین روڈ پر نکل آئی۔ ایک دکان کے تھڑے کے اوپر پناہ لی ۔۔ تب ہی اسے واعظہ اور فاطمہ ٹکری تھیں۔
اس نے انکو سب بتایا سوائے اسکے کہ جو اسناد اور ویزا اس نے انہیں دکھایا تھا وہ جعلی تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باتھ روم سے ہاتھ جھاڑتی نکلی تھی جب کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
سوری۔۔
اس نے فورا کہہ کر سر اٹھایا تو ٹکرانے والا سینے پر ہاتھ لپیٹ کر بہت غور سے سے دیکھنے لگا تھا۔
کیسی ہو؟
ٹھیک ہوں تم۔کیسے ہو؟
وہ سنبھل کر۔مسکرادی
کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ وہ شائد طنز کر رہا تھا
کہنے کو تو میں بھی ٹھیک ٹھاک ہوں۔
اچھی بات ہے۔ وہ اسکے پاس سے گزر کر جانے لگی
سنو۔۔ کیا ہم۔بات نہیں کر سکتے؟ پلیز۔۔
اسکا انداز اسکے قدم روک گیا۔۔
ہاں مجھے شکریہ ادا کرنا تھا تمہاری مدد کا۔تم نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ اور مبارکباد بھی دینی تھی۔ سنا ہے کافی ترقی کر چکے ہو۔۔ اچھی بات ہے تمہارا خواب پورا ہوا اسپیشل فورس میں جانے کا۔ تم سے یہی امید تھی جتنی تم میں لگن تھی کامیابی یقینی تھئ تمہاری۔ اچھا پھر ملیں گے۔
وہ بنا رکے ایک سانس میں کہہ کر چلی۔جانا چاہتی تھی۔
مجھے خالی خولی مبارکباد نہیں چاہیئے نا شکریہ۔
اس کی پھرتی اسکے آنکھوں میں جلتے کئی چراغ بجھا گئ تھئ۔ پھر بھی وہ ہمت نہ ہارا۔۔
مجھے ٹریٹ چاہیئے۔ وقت جگہ تم بتا دینا میں آئونگا۔۔
اس نے خود کو۔خود ہی دعوت دی تھی۔
اسکی جانب پشت ہونے کے باوجود واعظہ کو اپنی پشت میں کھبتی نگاہوں کا احساس ہورہا تھا۔وہ دھیرے سے آگے بڑھا اسکی مٹھی کھول کر اپنا کارڈ تھمایا پھر پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر نکلتا چلا گیا۔
واعظہ نے گہری سانس لیکرکارڈپڑھا۔۔
کم جونگ وون۔
ڈیٹیکٹو۔۔ اسپیشل سروسز۔۔
وہ اپنی پینٹ کی جیب میں کارڈ گھساتی جب واپس آئی تو میز خالی پڑی تھی وہ سب گلاس وال سے ناک چپکائے باہر جھانک۔رہی تھیں۔
یار یہ واعظہ کا کلاس فیلو ہے؟ سچ بتائو۔۔
عزہ پرجوش سی پوچھ رہی تھی۔
اسکی شکل تو ژیہانگ سے ملتی ہے۔۔
یہ الف نے رائے دی تھی
کم از کم بھئ چھے فٹ دو انچ ہوگا قد۔ یہ پاپا کے ساتھ آیا تھا دو ایک بار۔ مگر مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ واعظہ کا فرینڈ ہے اسی نے کہا ہوگا اسے ہماری مدد کرنے کو
نور نے اندازہ لگایا۔۔
اور پتہ ہے یہ سیہون اور واعظہ ہائی اسکول سے اکٹھے پڑھتے آئے ہیں۔ میری جب واعظہ سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تھی نا تائیکوانڈو کلب میں تب یہ سیہون سے ملنے آتا تھا۔ایک۔بار سیہون سے کہہ رہا تھا کہ واعظہ سے کہو کم از کم ایک بار تو مل لے مجھ سے۔۔۔
فاطمہ تفصیل بتا رہی تھی۔
کب کی بات ہے؟ نور چونکی
تین سال۔ہورہے۔
تو واعظہ ملی تھی ؟
عروج نے دلچسپی سےپوچھا۔۔
نہیں۔۔ فاطمہ نے وثوق سے کہا
ہاں۔ واعظہ نے اطمینان سے اقرار کیا۔
تمہیں۔کیسے پتہ۔
فاطمہ نے پلٹ کر کہنا چاہا۔مگر واعظہ کو سینے پر بازو لپیٹے اطمینان سے انہیں گھورتے دیکھ کر جم سی گئ۔
ہیں ملی۔۔۔ عروج بھی کہتے ہوئے پلٹ کر یکدم چپ۔ہوئی
کیا ہوا۔ سب باری باری پلٹ کر خجل ہوتی گئیں۔۔
یہ میرا کلاس فیلو تھا تین سال قبل ملنے آیا تھا مجھ سےاور سیہون کے کہنے پر میں ملی بھی تھی۔ اسکے بعد آج ملاقات ہوئی ہے ہماری۔ اور نور تمہاری مدد کرنے کو میں نے نہیں کہا تھا اسے۔۔۔۔
جو کام۔کیا ہی نہیں اسکا کریڈٹ لینا اسکی سرشست میں نہ تھا
سو اطمینان سے کندھے اچکا کر کرسی گھسیٹ کر۔بیٹھ گئ۔
ان سب نے بھی تقلید کی۔
کیوں ملنا چاہتا تھا؟
عزہ نے اشتیاق سے پوچھا مگر پوچھتے ہی احساس ہوا کچھ غلط کہہ گئ ہے کیونکہ سب نے مشترکہ گھوری دی تھی
اب کیوں ملنا چاہتا ہے؟
فاطمہ نے سیدھا سوال کیا ۔۔ وہ واش روم جانے اٹھی تھی۔جب اس نے کم جونگ وون کو واعظہ سے ٹکراتے دیکھا اور وہیں سے الٹے قدموں واپس ہوئی تھی ان سب کو بتانے۔۔۔۔
واعظہ نے ایک نگاہ ان سب کے مشتاق چہروں پر ڈالی
تین سال قبل اس نے مجھ سے مل کر پوچھا تھا کہ کیا میں اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ اب جانے کیوں ملنا چاہتا ہے۔
اس نے سرسری انداز میں دونوں کو۔جواب دیا تھا
کیسا فیصلہ۔ ان سب نے کورس میں پوچھا تھا تبھی ویٹر آکر کھانا میز پر۔لگانے لگا تھا۔۔۔۔۔ان سب کو۔وقتی طورپر خاموش ہونا پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا پورا ہفتہ نائٹ تھی۔
شیڈول دیکھ کر اس نے اپنا پورا ہاتھ پھیلا کر لعنت بھیجی تھی بورڈ پر چپکے اس کاغذ کو۔۔ وہ بھی تین بار۔
مر کیوں نہیں گئے ایسا شیڈول بنانے کے بعد۔۔
ڈاکٹر جو بیونگ کا نام نیچے منتظمین میں لکھا تھا سو انکو علیحدہ سے یہی خراج تحسین پیش کیا۔
اسکی شفٹ کی تھکان دگنی محسوس ہونے لگی تھی۔
نائیٹ ڈیوٹی ہے اگلا پورا ہفتہ کتنی۔خوش نصیب ہو تم۔۔
اسکی کولیگ ڈاکٹرجنگ دو ہا جسکو دعا کے قریب قریب ہی۔تلفظ سے سب پکارتے تھے اسکے پاس آکر رشک سے بولی
تم لے لو یہ خوش قسمتی میری سب نائٹ سے اپنی مارننگ سویپ کرلو۔۔
عروج یکا یک پرجوش ہوئی تو وہ کھلکھلا دی۔ صفحے پر عروج سے نیچے اسی کا ہی نام جگمگا رہا تھا۔
میری بھی پورا ہفتہ نائیٹ ہے تمہارے ساتھ تبھی تو تمہیں خوش نصیب کہہ رہی تھی۔ اس نے اٹھلا کر اسے کندھا مارا
تم اور خوش نصیبی؟ عروج بدمزہ سی ہوئی۔۔
آہاں میں نہیں ڈاکٹر سیونگ رو۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں اگلا پورا ہفتہ۔۔
وہ شرارت پر آمادہ اسے چھیڑنے کے موڈ میں تھی
عروج نے کندھے اچکا دیئے۔ اور اپنے کمرے کی۔جانب چل پڑی
ارے۔ وہ۔دوڑ کر اسکے ہم قدم۔ہوئئ
ارے مجھے تو لگا تھا تم۔خوش ہوگی یا کہہ کر لگوائی ہوگی۔تم نے یہ ڈیوٹی سیونگ رو کے ساتھ۔
ہاں مامے کا پتر ہے نا وہ میرے اسکے ساتھ ہی رہوں بس میں
عروج نے ہنگل میں منہ چڑایا۔۔
تھیبا پورا جملہ۔ہنگل میں زبان میں وٹ تو نہیں پڑ گئے دکھانا ذرا۔
دعا اسکے کندھے سے جھول۔جھول گئ۔ عروج ہنس دی۔۔ لابی کے اختتام پر اسکا ڈورم تھاانکا رخ اسی کی۔جانب تھا
یار اب اتنا بھئ برا حال نہیں میرا اتنا تو بول ہی۔لیتی ہوں بس مجھے ڈر رہتا غلط سلط بولنے پر مزاق نہ بنے۔۔۔
عروج اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے ہوئے بولی تو دعا سنجیدہ ہوگئ
کورین کبھی مزاق نہیں اڑاتے غلط ہنگل بولنے پر بلکہ۔ہم تو خوش ہوتے ہیں لوگ ہماری زبان ہماری ثقافت سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔الٹا ہم مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مس فٹ نہ محسوس کریں غیرملکی ہمارے یہاں۔ ہاں بس ہم سے انگریزی نہیں سیکھی جاتی۔ بہت مشکل زبان ہے بھئ۔
وہ کہتی ہوئی نچلے بنکر پر گر سی گئ۔
اپنا اوور آل اتار کر تہہ کرتی عروج مسکرا کر دیکھنے لگی
تم لوگوں کو سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہماری تو مجبوری ہے انگریزئ مسلط ہے ہم پر سیکھنا ہماری صوابدید پر نہیں ہم پر لازم ہے کہ سیکھیں اسے۔
وہ کہتے ہوئے اپنی میز پر کھلی کتابیں سمیٹنے لگی۔ اسپیشلائزیشن کئ تیاری کر رہی تھی سو اردگرد بس کتابیں ہی۔کتابیں تھیں۔
اپنی میز کی حالت درست کرکے وہ کرسی پر گر سی گئ
اگر دعا میرے ساتھ ٹنگ کر نہ چلی آئی تو ابھی بستر پر گرتی میں۔۔
اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا تے اس نے کسی گہری سوچ میں گم دعا کو دیکھتےسوچا جب اسکا انہماک ختم نہ ہوا تو چٹکی بجا کرمتوجہ کرڈالا۔ یونہی بنکربیڈ کی۔چھت پر نگاہ۔جمائے کہیں کھوئی دعا جھٹ پٹ واپس آئی
ہوں ۔وہ چونکی پھر اٹھ کر بیٹھ گئ
تم نے سونا ہے ؟ گھنٹہ بھر تو ہے بریک کا اور آج تو خاموشی ہی خاموشی ہے کوئی ایمرجنسی نہیں تو آرام سے دو تین گھنٹے ہیں تمہارے پاس سو لو۔۔۔
یہ منحوس جملہ ضرور بولنا تھا۔
عروج اپنے گلے سے لٹکتا استھیٹسکوپ اسے کھینچ مارا وہ ہنستے ہوئے جھکائی دے گئ
بیان بیان۔۔ وہ ہنستی گئ
یہ میڈیکل ٹیم کی بدقسمتی تھی کہ کیا جب کوئی ان میں سے کہہ دے کہ آج خاموشی ہے تو بس ایمرجنسیوں کا تانتا بندھ جاتا تھا سو اب تو یہ حال تھا کہ ایسا کہنے والے کی ٹھکائی کرتے تھے پکڑ کر۔۔
عروج کرسی پر نیم دراز ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اسے اٹھنا پڑا
آجائو بھئ لیٹ جائو یہاں آرام کر لو۔
وہ اٹھی تو عروج نے مروتا بھی انکار نہیں کیا اس کے اٹھتے ہی بیڈ پر گر سی گئ۔
سر درد کے ساتھ منہ میں بھی درد ہو رہا تھا۔ عجیب بات تھی مگر اسکو صبح سے ہنگل بول بول کر بھی تھکن سی ہو گئ تھی۔ بر صغیرپاک و ہند کی زبانوں میں زبان میں آواز سے ذیادہ الفاظ اہمیت رکھتے ہیں۔ اور وہیں دیگر ایشیائی زبانوں خاص کر چینی زبان سے نکلنے والی زبانوں میں زرا سا آواز بدلی لفظ بدلہ مطلب بدلہ۔ حلق سے بولو کہیں تو کہیں زبان کی مروڑیاں۔ اور اوپر سے لہجہ ۔جو لہجہ اردو زبان میں بدتمیزی میں شمار ہو جاتا وہ وہاں بولنے کا عام لہجہ ہے۔ زرا سا دھیما یا گری گری آواز میں بولنا چاہا وہیں سب طبیعت پوچھنے لگ جاتے۔ اب یہاں پر اسکا ہائوس جاب مکمل ہوچکا تھا اسپیشلائزیشن کی تیاری کر رہی تھی کئی غیر ملکی یونیورسٹیوں میں اپلائی کر بھی رکھا تھا۔ مگر اسکے باوجود اگر یہیں اسپیشلائزئشن کر نی پڑتی تو ہنگل کے بغیر گزارا نہیں تھا۔سو بولنے والی جھجک اسے ہر صورت ختم کرنی تھی یہ الگ بات کہ حلق میں وٹ پڑ رہے تھے اس کوشش میں۔۔
عروج ایک بات پوچھوں۔
چند لمحے اسے آنکھیں موندے ساکت لیٹےدیکھ کر وہ متزبزب سی رہی پھر ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔۔
دے۔ عروج کا بالکل منہ کھولنے کا دل نہیں تھا پھر بھی بمشکل جواب دیا۔
جوابا اس نے وہ سوال کیا تھا جسے سن کر اس نے پٹ سے آنکھیں پوری کھول کر تحیر سے اسے گھورا تھا۔
بزر بجا تھا۔بہت زور سے۔
یقینا ایمرجنسی تھئ۔ دوہا یا اس کے جواب کے انتظار میں کھڑی تھئ وہ بھونچکا دیکھ رہی تھی اور بزر بج رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا۔ایک خاتون اہلکار شدید زخمی تھی بے ہوش تھیں ہمراہ دو مرد حضرات تھے اور عروج کو انکی خونم خون حالت دیکھ کر صاف نظر آرہا تھا کہ ان دونوں کی حالت خاتون سے کہیں ذیادہ خراب ہے۔
ایک کا سر پھٹا تھا دوسرے کا بازو ٹوٹ گیا تھا۔ مگر دونوں تسلی سے بیٹھے مرہم پٹی کروا رہے تھے۔ سیونگ رو سر پھٹوانے والے کی مرہم پٹی کر رہا تھااور بازو ٹوٹنے والے کو اسٹریچر پر بٹھوا کر اس نے ایکسرے کروانے بھیجا خاتون کو عروج دیکھ رہی تھی۔ تبھئ دو مزید اہلکار یقینا حادثے کی اطلاع ملنے پر چلے آئے ۔پہلے خاتون کے پلنگ کی۔جانب بڑھے۔
معمولی چوٹ ہے سر کی احتیاطا سی ٹی اسکین کروالیں۔ میرا خیال ہے خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہیں۔ عروج نے انکو بتایا تو وہ سر ہلا کے دوسرے ساتھی کے پاس آئے۔
کیسے حادثہ ہوا ؟ گاڑی کون چلا رہا تھا؟
اگلوں کو رپورٹ لکھنی تھی۔
ابھی انکو مشکل میں نہ ڈالیں سر پر چوٹ ہے انکے ہم سی ٹی اسکین۔۔ سیونگ رو نے ٹوکنا چاہا مگر زخمی طوطے کی۔طرح تفصیل بتانے لگ گیا
سب انسپکیٹر سوہائو گاڑی چلا رہی تھیں۔ ایک ٹرالہ بائیں جانب سے نکلا گاڑی بچانے کیلئے ایکدم دائیں موڑی تو گاڑی۔بارڈر پر۔چڑھ کر الٹ گئ۔ میں آگے بیٹھا تھا میرا سر پھٹا۔۔ میں باہر نکلا ان دونوں کو نکالا پھر ٹیکسی روک کران تینوں میں بٹھا کر اسپتال لے آیا۔
ٹرالے کا نمبر نوٹ کیا۔؟ کونسا سگنل توڑا تھا اس نے ہم سی سی ٹی وی نکلواتے ہیں۔
انکے ساتھی کو غصہ آیا
اس ٹرالے کا قصور نہیں تھا سگنل ہم نے توڑا تھا۔ اس ٹرالے والے نے تو گاڑی روک کر ہمیں گاڑی۔سے نکالنے میں مدد بھی کی۔
زخمی نے سادگی سے بتایا تو سیونگ رو اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ اور عروج بھی۔
حد ہی ہے۔ موصوفہ سب کو مشکل میں ڈال کر سکون سے سو رہی ہیں۔ اس نے اس چندی آنکھوں والی۔خوبصورت سی انسپکٹر کو بے خبر نیند لیتے دیکھ کر ہنس کر اپنی زبان میں جملہ۔چست کر ڈالا۔ وہ تینوں ہنگل میں شروع تھے اسکا۔کام۔ختم ہو چکا تھا۔ مریضہ کی چیزیں اسکے سرہانے قرینے سے رکھی تھیں۔ پولیس کا۔آئی ڈی کارڈ پرس وغیرہ۔ وہ سرسری نگاہ ڈالتی ہوئی وارڈ سے نکل۔آئی۔ اسکے ذمے آہجومہ جان کنی کے عالم میں تھی۔ کبھی بھی سانس اکھڑ جاتی۔۔ اس نے گہری سانس لی اور اس خیراتی ادارے کے ماتحت کام کرنے والے اس کمرے میں چلی آئی۔ اس کمرے کے مریض جنکے لواحقین سے رابطہ نہ ہو پارہا ہو یا وہ انتہائی غریب ہوں ایسے لوگوں کے علاج معالجے کا خرچ اٹھاتا تھا یہ ادارہ۔ ابھئ بھی انتہائ تشویش ناک حالت میں ان بوڑھی خاتون کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔ انکو دل کے دو دورے پڑچکے تھے۔ ساکت پڑے دھونکنی کی طرح سانس لیتے نحیف و نزاروجود ۔ انکو سکون آور ادویات دی جا چکی تھیں۔۔ وہ نرس سے تفصیل سنتے سرسری سا معائنہ کر رہی تھی۔
خاتون نے عروج کو اپنی نبض ٹٹولتے بڑے غور سے دیکھا تھا۔ انکی نگاہوں سے نگاہیں چراتے عروج سر جھٹک کے رہ گئ۔
ایسی اولاد سے بہتر بندہ بے اولاد رہے کتنا کچھ تو کیا اس غلط علاقے تک جاکے ڈھونڈ آئی مگر اب وہ ملنے کو تیار ہی نہیں تو کیا کروں۔
وہ بڑ بڑاتی اوور آل کے کوٹ میں ہاتھ ڈالتی تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اسپتال سے باہر نکل آئی۔
آج اسکا ارادہ عیاشی کا تھا سو بس اسٹاپ کی جانب بڑھنے کی بجائے ٹیکسی کے انتظار میں سڑک کنارے آکھڑی ہوئی۔
سیونگ رو کی گاڑی اسکے قریب آن رکی تھی۔ڈرائیونگ سیٹ پر سے مسکرا کر دیکھتا سیونگ رو آننیانگ کہہ تھا۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا پھر دروازہ کھول کر اسکے ساتھ بیٹھ گئ۔
ایک کام کروگے؟
کالے لانگ کوٹ میں ملبوس سیونگ رو نے اثبات میں سر ہلادیا۔
جواب حسب توقع تھا۔ وہ فورا گاڑی سے اتر کر اسپتال کے اندر واپس بھاگی تھئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی جس علاقے میں آئی تھی وہ تنگ سڑکوں گلیوں اور پرانے گندے مکانوں پر مشتمل تھا۔ سڑک کنارے ڈھابوں میں لوگ بے فکری سے بیٹھے تاش کھیلتے ہوئے مے نوشی کر رہے تھے۔ ایک دو لڑکیاں خوب تیار اتنی سردی میں بھی شارٹ اسکرٹ میں ملبوس لفٹ کا اشارہ کرر ہی تھیں مگر جب اس پر نگاہ پڑی تو پیچھے ہٹ گئیں۔
سیونگ رو کی مکمل توجہ سڑک کی۔جانب تھی۔
ایک چھوٹی سی گلی کے داخلی راستے پر اس نے ایک جانب گاڑی لگائی۔ سامنے سیڑھیاں تھیں سیڑھیاں سنسان اور اندھیری تھیں مگر سیڑھیوں کے نیچے روشنیوں اور لوگوں کی بہار تھی۔ تنگ گلی خوانچہ فروشوں اور تنبو لگا کے بنائے کھابوں سے سجی تھئ۔ چھوٹی چھوٹی دکانیں اور انکے آگے چھابڑی فروش۔ لوگوں کے ہجوم میں راستہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ۔ عروج فورا گاڑی سے اتر کر تیز تیز قدم اٹھاتی سیڑھیاں اترنے لگی۔ سیونگ رو کو اسکی عجلت دیکھ کر جلدی جلدی گاڑی لاک کرکے پیچھے تقریبا بھاگنا پڑا۔
عروج ایک چینی قحبہ خانے کے سامنے جاکھڑی ہوئی تھی۔
سیونگ رو بھاگا بھاگا اسکے پیچھے آیا تھا مگر وہ بنا اسکا انتظار کیئے اندر منہ اٹھا کے گھس چکی تھی۔
سیونگ رو نے سر اٹھا کر قحبہ خانے کا نام دیکھا تو سر گھوم سا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندر کا ماحول کافی قابل اعتراض تھا۔ چھوٹی چھوٹی میزوں پر مشروبات اورناشتے کا سامان سجا تھا۔ تقریبا سبھی میزیں بھری تھیں لوگ خوش گپیوں میں مگن جام اڑا رہے تھے سامنے مختصر سے اسٹیج پر مختصر لباس میں ایک دوشیزہ مغربی گانے پر محو رقص تھی۔ عروج نے آئو دیکھا نا تائو سیدھا چڑھی دو قدم کی اونچائی پر بنے اس اسٹیج پر اور سیدھا اس لڑکی کی کلائی مروڑ کر کمر سے لگا دی۔
پورے قحبہ خانے میں سناٹا چھایا۔۔
سیونگ رو سٹپٹا کر داخلی دروازے سے چپکا کھڑا رہ گیا۔
چہرے پر ماسک لگائے عروج لہرا لہرا کر کوئی کارڈ دکھا رہی تھی۔
پولیس۔ یہ لڑکی اہم کیس کیلئے مطلوب ہے۔ فی الحال ہمیں سوائے اس سے ضروری معلومات لینے کے کچھ نہیں کرنا سو سب اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہیں۔۔
وہ سیونگ رو کے کالے لانگ کوٹ میں ملبوس تھی۔ اسکا ہیڈ اسکارف اس نے کورین انداز میں گردن سے پیچھے کر رکھا تھا۔ ماسک ناک پر چڑھائے دھڑلے سے اپنا پولیس کارڈ دکھاتی زرا سی بھی خوفزدہ نہ تھی۔۔۔
ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں وہ اس لڑکی کو گھسیٹتی ہوئی باہر لے آئی تھی۔ لڑکی نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔بلکہ اسے یوں گھور رہی تھی جیسے نظروں ہی نظروں میں کھا جائے گی۔
اسکے باہر نکلتے ہی ساکت پڑے لوگوں میں جیسے جان سی آئی کھسر پھسر کوئی شائد انکے پیچھے بھی آتا
سیونگ رو نے لمحہ دیر نہ کی بلکہ جان کے ان کے پیچھے ہو لیا۔ ادھر ادھر محتاط نگاہوں سے دیکھتا۔ سیڑھیوں پار کرکے بجلی کی تیزی سے گاڑی نکالنے لگا۔۔
عروج نے اس لڑکی کو پچھلی نشست پر دھکیلا تھا اور اپنا بلکہ سیونگ رو کاکوٹ اتار کر اس کے منہ پر ہی مار دیا۔ اور خود اگلی نشست کا دروازہ کھول کے بیٹھ گئ۔
سیونگ رو کو ذیلی سڑک سے اہم شاہرہ تک آتے آتے بھی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کوئی انکا پیچھا کر رہا ہوگا۔۔۔ دانت پیستے ہوئے اس لڑکی نے لانگ کوٹ چڑھایا پھر سیونگ رو کو دیکھ کر چٹخ کر بولی۔
کون آئے گا پیچھے اتنی اہم نہیں میں۔ الٹا اس جعلی کہہ سیکی پولیس والی کی وجہ سے میری لگی لگائی نوکری چلی جانی ہےاہم پولیس کیس میں میں مطلوب ہوں۔ لعنتی کہیں کی۔۔ وہ اس بار عروج کو گھور تے غرائی۔۔۔
۔تمہاری بڑھیا مرتے وقت مجھے بھی بھوکا مارے گی جسکی ہمدردی میں پاگل ہو رہی ہو۔
سیونگ رو اور عروج دونوں بھونچکا سے رہ گئے تھے اکٹھے مڑ کر اسے گھورا۔
تو ؟ پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے؟ پتہ نہیں لگے گا مجھے کون ہو تم؟ سارا کوریا اسکارف پہن کر پھرتا ہے تمہاری طرح یا کوئی احمق پولیس والی بنا پستول اس دو نمبر جگہ پر اکیلے گھس آئے گی۔۔ میرے پیچھے میرے رہائشی علاقے تک پہنچنے والی ایک ہی گدھے جیسی بڑی آنکھوں والی لڑکی ہے جو مجھے تو نہیں مگر میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔۔
وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ عروج اور سیونگ رو دونوں کان دبا گئے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی نے کھچڑی پکائی تھی۔ بطور خاص انکے لیئے لیکر آئی۔۔ دروازہ عزہ نے کھولا تھا۔ اشتیاق سے اسی وقت پلیٹ پر ڈھکا کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ارمانوں پر اوس سی گر گئ
اسکی کیا ضرورت تھی۔ بڑی سی ٹرے نما پلیٹ پکڑتے ہوئے عزہ نے تکلفا نہیں کہا تھا سچ میں منہ بن گیا تھا اسکا۔ اب بندہ کھچڑی بھی پڑوسیوں کو بھجواتا ہے بھلا۔
ہاں وہ تمہارے بھائی کا پیٹ خراب تھا تو بنا لی۔ اب سچی بات مجھے خود نہیں پسند اپنے اور بچوں کیلئے نگٹس بنائے مگر پھر دیگچی اتنی بھری تھی دلاور۔کتنا کھاتے سوچا تم لوگوں کیلیئے لیتی چلوں۔ طوبی مخصوص انداز میں کہتی اسکے پاس سے ہوکر اندر چلی آئی۔
الف منے صوفے پر گری ہوئی تھی۔ نور اسکے پاس ہی آلتی پالتی مارے قالین پر بیٹھی تھی۔ دونوں نیٹ فلیکس پر زندگی گلزار ہے دیکھ رہی تھیں۔
اس میں اسکی شادی اسی سے ہی ہوگی ۔۔
کشف کو یونیورسٹی میں زارون سے تھپڑ پڑنے لگا جب طوبی نے گوہر افشانی کی۔
بڑا اچھا ڈرامہ ہے لڑکا امیر ماں باپ کا بگڑا ہوا بیٹا ہوگا جبکہ یہ لڑکی کشف غریب سی ہوتی ہےانتہائی محنتی ہوتی ہے اپنا خرچ اپنی بہنوں کا تعلیمی خرچ برداشت کرتی ہے پڑھ لکھ کر سی ایس ۔۔۔۔
طوبی نور کے پاس بیٹھتے بیٹھے آدھا ڈرامہ بتا چکی تھی۔
الف نے گہری سانس لی۔ نور البتہ پوری طوبی کی جانب متوجہ ہوگئ ۔
پھر۔۔۔
پھر یہ کہ۔ طوبی دوبارہ شروع ہونے لگی تھی کہ عزہ نے بات اچک لی۔
یہ کھچڑی مزے کی بنی ہے میرے تو کھانے کا انتظام ہوگیا۔۔
وہ کچن میں چمچ کھڑکا رہی تھی
ادھر لے آئو میرا بھی آلو کی ترکاری کا موڈ نہیں ہو رہا۔
الف سر کھجاتے ہوئے اٹھ بیٹھئ۔
عزہ کو اندازہ تھا تین چمچ لیکر جب تک آئی تب تک نور نے منی میز کھینچ لی تھی تینوں اس میز پر ٹرے رکھ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے شروع ہوگئں۔
عروج نہیں آئی ابھی تک۔ طوبی نے طائرانہ نگاہ اپارٹمنٹ پر ڈالی۔
نہیں آنے والی ہوگی کل سے نائٹ لگ جانی ہے اسکی ڈیوٹی لگتے ہی ایک تو سب کو اپنا شیڈول واٹس ایپ کر دیتی ہے۔ الف نے شکائت لگائی
کیوں؟ طوبی حیران ہوئئ
ایسا اس لیئے کہ ہم اسکی روم میٹس اسکے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے معمولات زندگی اسکی ڈیوٹی کے ساتھ ایڈجسٹ کر لیں۔
عزہ نے نوالہ نگلتے ہوئے تفصیلا بتایا۔
جیسے کہ صبح جب وہ آئے تو ہم اپنا ناشتہ بناتے ہوئے اسکو بھی ناشتہ کرادیں۔ پھر سارا دن جو جو آئےگھر آتے ہی چپ
شاہ کا روزہ رکھ لے بنا آہٹ کیئے کمرے میں داخل ہو جب تک وہ سو رہی ہو سانس تک اونچی آواز میں لینا منع ہو جاتا ہے اسکے روم میٹس پر۔
طوبی کی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔
اتنا سخت پہرہ۔۔
بس اتنا سمجھیں کہ۔ہم سب کو جیل ہو جاتی ہے عروج کی نائٹ لگے تو۔
نور ہنسی۔
ویسے سچی بات جیل میں کوئی کسی کے آرام کا خیال نہیں رکھتا ایک سے ایک ہنگامہ مچتا ہے رات کو۔ شائد ہی کوئی رات میں سوئی ہوں۔ سردی اکیلا پن تنہائی ایک طرف رات کو روز ہی کوئی نہ کوئی فتنہ کھڑا ہوتا ۔ بھانت بھانت کی عورتیں عجیب عجیب سے جرم میں قید تھیں۔ سب میں غصہ نفرت انتقام بھرا تھا۔ کوئی کوستی بیٹھ کے لوگوں کو کوئی چیخ چیخ کر اپنا دکھ بیان کرتی۔ کوئی رونے بیٹھ جاتئ۔
نور کو جیل سے جیل ہی یاد آگئ۔ تو انداز سنجیدہ سا ہوگیا
ایک عورت تھی رات ہوتی تھی تو زور زور سے روتی تھی اپنے بچے کو یاد کر کے۔ اسکا چھوٹا سا بچہ تھا دودھ پیتا تھا شائد۔ اسکا رونا دل ہلا دیتا تھا۔۔۔۔۔ گھنٹوں سسکیاں لیتی۔ایک آہجومہ تھیں انکو السر تھا۔۔ سارا دن سکون سے رہتیں رات کا کھانا کھا کر جو طبیعت بگڑتی گھنٹوں کراہتی تھیں۔ جیلر کہتی تھی مکر کر رہی ہے۔ کبھی کبھی لگتا تھا واقعی۔۔
وہ بولتے بولتے چپ ہو گئ۔
میں بھی کیا باتیں لے بیٹھئ۔ اس نے ہنس کر بات کی سنگینی ٹالنی چاہی۔ الف طوبی اور عزہ تاسف سے اسے دیکھ رہی تھیں
بہت مشکل وقت گزرا نا تمہارا۔جبھئ کوریا سے دل اٹھ گیا۔
طوبی نے کہا تو وہ ہنس دی
سچ کہوں تو کوریا صرف ضد میں آئی تھی میں۔ بھائی کو چین میں اسکالر شپ ملی تھی۔ ڈاکٹر بن رہا ہے وہ۔ ہم۔بس دو ہی بہن بھائی ہیں۔ مجھے ہمیشہ لگا تھا ماما بابا مجھ پر بھائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر جگہ ہر بات میں۔ بھائی کی مثال بھائی ایسا بھائی ویسا۔ ۔ میں تو جیسے تھی ہی نہیں انکے لیئے انکے سب خواب بھی بھائی سے جڑے تھے۔ میں جلنے لگی تھی اپنے ہی بھائی سے شائد۔جب ماما نے کہا کہ میں بھی ایف ایس سی میں بھائی کی طرح میڈیکل رکھوں تو میں چڑ سی گئ یہاں بھی بھائی کی طرح۔ میں نے کہا میں انجینئرنگ پڑھوں گی۔ بھائی چین گیا تو امی بابا اسکے لیئے پہلے سے ذیادہ فکر و محبت کا اظہار کرنے لگے۔ اسکے فون کا انتظار اسکے لیئے تحفے بھجوانے ہوں بھائی کا بائک سے گر کر ٹانگ پر فریکچر آیا مجھے ماموں کے گھر چھوڑ کر اماں ابا چین گئے ان سے ملنے۔
کوئی سوچ سکتا ہے کتنا فالتو غیر اہم سمجھا میں نے خود کو۔ مجھے بھی لے جاسکتے تھے مگر۔۔۔۔۔
۔نور کی آواز بھرا سی گئ۔۔۔۔۔۔
طوبی الف اور عزہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی۔تھیں۔
میں نے بی ایس کمپیوٹر پڑھنے کی ضد کی۔۔۔ امی نے کہا کیا فائدہ اس ڈگری کا میں نے ضد پکڑ لی۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا وہیں کورین اسکالر شپس کا سنا اپلائی کردیا بیٹے کو ہنسی خوشی چین بھیجنے والے والدین بیٹی کی فرمائش پر بر افروختہ ہو گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیلی لڑکی کو اٹھا کے کوریا بھیج دیں پاگل کردو گی کیا نور تم ہمیں۔ ہر وقت ضد ہر وقت کوئی الٹی فرمائش۔
امی نے بنا لحاظ لتاڑکے رکھ دیا
بھائی کو بھی تو بھیجا چین مجھے بھیجنے میں کیا مسلئہ؟
وہ غصے سے چلائی۔۔
زبان مت چلائو۔ وہ لڑکا ہے اسکا تمہارا کیا مقابلہ پھر وہ تمہاری طرح کوئی فالتو ڈگری نہیں لے رہا ڈاکٹر بن رہا ہے۔
امی نے ٹوکا تو وہ بھنا گئی
میری ڈگری فالتو نہیں ہے۔ اور اگر میں ڈاکٹر بن رہی ہوتی تب کونسا بھجوانے کو تیار ہوجاتیں آپ۔ بیٹے کو تو خوب پیسہ لگا کر باہر بھیج دیا بیٹی کی باری آئی تو صاف انکار۔جبکہ فل فنڈڈ اسکالر شپ ہے۔ ایک پیسہ آپکا فالتو نہیں لگنا مگر سچ تو یہ ہے کہ میں ہی فالتو ہوں آپکی نظر میں مجھ پر پیسہ لگنا آپکو فالتو لگ رہا۔
ایک تھپڑ لگائوں گی دماغ ٹھکانے آجائے گا تمہارا۔ امی غضبناک ہوگئیں
یونیورسٹی کی بھاری فیس کون ادا کر رہا ہے تمہاری؟ بولو جواب دو۔
جوابا وہ منہ پھلا کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔ امی نے بھئ تھوڑا سمجھانا چاہا۔۔
دو سمسٹر گزارکر نئے سرے سے سال ضائع کرکے کوریا جا کر پڑھنے میں کتنے نفل کا ثواب ملے گا تمہیں؟اتنے تو اچھے نمبر آتے نہیں جس سے اندازہ ہو بہت پڑھنے کا شوق ہے تمہیں۔
ہمیشہ اے گریڈ آتا ہے میرا۔
اس نے جتایا۔ امی ان سنی کر گئیں۔
پھر لڑکی ذات باہر سو طرح کی اونچ نیچ منہ اٹھا کے کیسے بھیج دیں تمہیں۔ اتنی عقل مند تو ہو نہیں تم کہ خود کو سنبھال لو۔ اوپر سے عبایا کرتی ہو غیر مسلم ملک میں جانے کا شوق ہے کوئی اندازہ ہے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے باہر۔۔۔۔
کوریا میں ایسا کچھ نہیں ہے سب معلومات لی ہیں میں نے۔
امی۔۔
وہ سب بھول کر منانے والے انداز میں بولی
ایشیاء میں سب سے اچھا تعلیمی نظام انکا ہے۔ وہاں پر گنز کا نام و نشان تک نہیں۔ تیزی سے ترقی کرتی معیشت ہے انکی۔ سب سے ۔۔۔۔
ہزار دلائل تھے اسکے پاس جنکو بیان کرنے کا موقع امی ہرگز نہیں دینے والی تھیں
دو قدم کے بازار تک تو اکیلی جاتی نہیں ہو دوسرے ملک جائوگی ؟ کیوں پریشان کر رکھا ہے نور تم نے بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں بھلا ہر دوسرے دن نئی ضد نیا مسلئہ لیئے کھڑی ہوتی ہو۔
امی ناراضگئ دکھانے لگیں تو وہ چٹخ سی گئ
کیسی ہوتی ہیں پھر بیٹیاں؟ ان ویزیبل؟ نہ دکھائی دینے والی خاموش چپ جنکی نا کوئی آرزو ہوتی نا فرمائش؟ ایسی بیٹی چاہیئے ہی کیوں ہوتی ہے جسکا ہونا نا ہونا برابر ہو؟
کیا بکواس کر رہی ہو۔ امی اسکے شکوے پر حیرت زدہ سی ہوگیئیں۔
صحیح کہہ رہی ہوں بچپن سے آج تک مجھے کبھی ایسا لگا ہی نہیں کہ میں بھی ہوں آپکی اولاد۔ سالگرہ ہو یا اسکول کا۔پہلا دن ، پہلا دانت نکلا ، آخری دانت ٹوٹا ، اسکول میں پوزیشن لی یا کسی مقابلے میں حصہ لیا ، اے گریڈ لیا تو بائک دلا دی ، اسکالر شپ لیا تو خاندان کی دعوت ہر یاد ہر اہم بات اس گھر کی بس آپکے بیٹے سے جڑی ہے۔ اسکی ہر کامیابی ہر ترقی کی یاد تصویر کی صورت ہر دیوار پر چسپاں ہے تو یاد کی صورت دل میں روشن۔اور میں۔
اونچا اونچا بولتے وہ رو پڑی تھی۔
میری سالگرہ بھی یاد ہے آپکو ۔ ؟ کوئی ایک بچپن کی تصویر میری اکیلی کی لی ہو آپ نے، کبھی میری کسی کامیابی کو منایا؟ بس ایک شاباش ملتی ہے مجھے وہ بھی دل میں جانے خوشی ہوتی بھی ہے آپ دونوں کو کہ نہیں پتہ نہیں۔۔۔۔
امی ساکت سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں۔
مجھے کوریا جانا ہے ہر صورت۔ ایک پیسہ نہیں لگنے دوں گی آپ کا فکر نہ کریں مگر مجھے مت روکیں۔۔
باہر جاکر پڑھوں گی نظروں سے دور ہوں گی تو شائد آپکو احساس ہوکہ آپکی کوئی بیٹی بھی ہے۔ ورنہ تو یہاں وہاں فالتو سامان کی طرح رہتی ہوں میں اس گھر میں۔۔۔۔۔
اپنی آنکھیں بے دردی سے مسلتے وہ مڑی تھی جو دروازے پر پاپا فون لیئےکھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ شائد بھائی کا فون آیا تھا جو امی سے بات کروانے لا رہے تھے۔ یہ سب کچھ نہ صرف امی نے سنا بلکہ ابو اور بھائی نے بھی۔۔۔۔
اور یہ اسکے بھائی کے سمجھانے کا اثر تھا جو وہ اسے یہاں بھیجنے پر مان گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 33

قسط نمبر 33
وہ بے خبر سورہی تھی۔ یہی وقت مناسب تھا اس نے اسکے سرہانے ایک لفافہ رکھا۔ اپنا بیگ اور مختصر سامان وہ پہلے ہی احتیاط سے اٹھا کر باہر لائونج میں لےجا چکی تھی۔ اس پر کمبل درست کرکے وہ دروازہ بند کرکے لائونج میں چلی آئی۔ نور اسکے سامان کو اور پھر اسے خاصے تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔
کہاں کی تیاری ہے؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
میں نے اپنا الگ انتظام کر لیا ہے۔ وہ مسکرا کر بولی
کل تک تو نہیں بتایا۔ اس وقت جا رہی ہو سب سے ملوگی نہیں؟ واعظہ کو تو جگا دو؟ نور نے ٹوکنا ضروری سمجھا تھا
یہیں سیول میں ہی تو ہوں پھر کبھی مل لوں گی بلکہ ٹریٹ دوں گی سب کو۔ عشنا نے کہا تو نور سر ہلا گئ۔
عشنا خدا حافظ کہتی باہر جانے لگی تو اس نے اسکی بے مروتی پر حیران ہو کر ٹوکا۔
مجھ سے تو دوبارہ ملاقات نہیں ہو پائے گی سنا نہیں تھا تم نے میں اس ہفتے واپس پاکستان جا رہی ہوں۔۔
اسکی بات پر عشنا کے تیزی سے بڑھتے قدم رک سے گئے
پاکستان کیوں۔ وہ بے ساختہ پلٹ کر پوچھنے لگی۔ نور اسے یونہی خاموشی سے دیکھتی رہی تو وہ واپس آکر اسکے گلے لگ گئی
آئیم سوری۔ میں بس پتہ نہیں کیا کیا کر رہی ہوں ذہن بہت الجھا ہوا ہے میرا۔
عشنا نے اسکے گلے لگ کر وضاحت کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سستی سے چپل گھسیٹتی جمائی لیتی باہر نکلی تو سب اپنے اپنے معمول پر جا چکی تھیں۔ صرف نور باورچی خانے میں لگی ہوئی کچھ پکانے میں مشغول تھی۔
خیریت ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے۔ فریج سے بوتل نکال کر پانی پیتے وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی
آہاں۔ نور مگن کھڑی تھی اچھل پڑی۔
وہ بس میں نے سوچا جاتے جاتے تم لوگوں کو کچھ اپنے ہاتھ سے پکا کر کھلا کر جائوں۔
وہ سنبھل کر مسکرائی۔
ویسےجاتے ہوئے اچھی یادیں چھوڑ کر جانی چاہیئیں۔
واعظہ اسے مشورہ دیتی منے لائونج کی جانب بڑھ گئ تھی۔
ہوں۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا پھرجب اسکی بات سمجھ آئی تو دانت پیسنے لگی۔
مجھے دیوار پر لٹکی چھپکلی بھی یاد آئے گی مگر یقینا تم نہیں۔۔
وہ جھلا کر چلائی۔ واعظہ نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فل والیم میں ٹی وی آن کر لیا تھا۔۔۔ کے بی ایس کے کسی آنے والے پروگرام کا اشتہار چل رہا تھا
والیم تو کم کر لو۔
نور کو آواز سے سر میں درد ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ واعظہ نے آواز نسبتا دھیمی کر لی۔
ناشتہ واشتہ نہیں کرنا؟ دو بج رہے؟
اسکو اسکی خاموشی سے تشویش سی ہوئی۔
نہیں۔
مختصر جواب آیا۔
عشنا چلی گئ ہے کہہ رہی تھی کہ اس نے الگ انتظام کر لیا ہے۔
اس نے اطلاع دینی چاہی۔۔
وہ پاستا بنا رہی تھی۔ ابلنے کیلئے دیگچی میں چڑھا کر پلٹ کر دیکھا تو صوفے پر دراز ٹی وی پر نگاہ جمائے اسکی بات پر ذرا کان نہ دھرا تھا اس نے شائد۔
وہ ہاتھ پونچھتی اسکے سر پر جا کھڑی ہوئی۔
عشنا کو تم نے گھر سے جانے کو کہا ؟
اس نے تکا لگایا تھا جو صحیح لگ گیا تھا۔
ہاں۔ واعظہ نے اطمینان سے اپنے اور ٹی وی کے درمیان جمے نور کو دیکھتے ہوئے اسے ایک جانب ہونے کا اشارہ کیا ۔
کیوں؟ میں بھی جا رہی ہوں اب تو جگہ اور ہو جائے گئ؟ تمہارے فلیٹ کی لیز بھی ختم ہو رہی ہے بلا وجہ کیوں اسے نکال دیا؟ پیسے نہیں دیتئ تھی؟
نور اسکے برابر دھم سے آبیٹھی
اس نے پیسے آدھے دے دیئے ہیں اور باقی آدھے کا وعدہ کیا ہے کہ دے دے گی۔ اسے اسلیئے نہیں نکالا۔
واعظہ کو اسکا پتہ تھا ٹالنے کی کوشش میں یقینا اس نے مزید کچھ اگلوانے لگ جانا تھا۔
پھر؟ اسکی تسلی اب بھی نہ ہوئی تھی۔
پھر کیا؟ میرا گھر ہے مرضی جسے رکھوں نکالوں۔
واعظہ بگڑ کر بولی۔
ایڈی تم ۔۔ گالی بمشکل نوک زبان پر روکی تھی اس نے۔
فاطمہ کہاں ہے؟۔ اسکے برعکس واعظہ اطمینان سے ادھر ادھر دیکھتے پوچھ رہی تھی۔
اسکو سیہون کا فون آیا تھا چلی گئ ۔۔
اسکی بات منہ میں ہی تھی کہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی فاطمہ اندر آئی۔ پیر پٹختی اپنے اور واعظہ والے کمرے میں گھسنے کو تھی کہ ان دونوں کے اکٹھے استعجابیہ
کیا ہوا۔ کہنے پر جاتے جاتے رکی۔۔
کیا ہوا خیریت؟ واعظہ نے بات دہرائی تو اسکے ضبط کے سب بندھن ٹوٹ سے گئے۔
پلٹ کر آکر واعظہ کے گلےلگ کر رودی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائونج میں ان دونوں کی پیشی لگی تھی۔ کمیونٹی سینٹر کی جانب سے آئی وہ خاتون ان سے تفصیلی انٹرویو لیکر جانے کیا کیا گڑے مردے بھی اکھاڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
آپ صبح صبح کہاں چلی جاتی ہیں۔ ہماری پانچویں ملاقات ہے جن میں سے تین میں آپکو فون کرکے بلوانا پڑاہے؟
روزمیری اس سے تھوڑا خشک لہجے میں مخاطب تھئ۔
ہاں تو مجھ پر گھر کی ساری ذمہ داری ڈال دی ہے صبح صبح انڈے ڈبل روٹی لینے جانا پڑتا ہے سیہون اٹھتا ہی نہیں اب میں کب تک بھوکی بیٹھی رہوں ؟
اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ذرا ڈھیلی پڑی یہ عورت سر پر چڑھ جائے گی سو اس پر الٹ ہی تو پڑی۔
اب پاکستان ہوتا تو دنیا ادھر کی ادھر ہو جاتی اسکو ہی باہر جا کر انڈے ڈبل روٹی لانا پڑتا وہ بھی اپنے پیسوں سے۔ ہم پاکستانئ لڑکیاں چھوٹئ موٹی چیزیں خریدنے کیلئے گھر سے نہیں نکلتیں۔ ہمیں ہمارے باپ بھائی۔۔ بولتے بولتے خیال آیا۔
شوہر بھی گھر پر انڈے ڈبل روٹی لا کر دیتے ہیں وہ بھی اپنے پیسوں سے۔ اس نے پیسوں پر گھور بھی دیا سیہون کو۔
میں عادت ڈال لوں گا ڈارلنگ صبح صبح گروسری شاپنگ کی۔ سیہون نے ہنس کر بات سنبھالنی چاہی۔
بس وہ رات کو کافی دیر سے سویا تو اس وقت جب فاطمہ مجھے کہہ رہی تھی کہ سودا لا دو تو تھوڑا سستی دکھا گیا۔
فاطمہ ہم کورین مرد بھی بہت خیال رکھنے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔
جبھی تو شادی کی تم سے۔ فاطمہ کے انداز میں لگائو دور دور تک نہیں تھا۔ اتنا سپاٹ بولی کہ اگلی گھورنے ہی لگ گئی۔
سیہون بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس چندی آنکھوں والی کی نگاہوں میں جانے کیا تھا اسے جملہ جوڑنا پڑا۔
کیا تعریف کروں وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔۔
ہاں ۔ کیئرنگ بھی۔۔۔۔ کچھ سوجھ ہی گیا تھا اسے۔
آپ کو سیہون میں اور پاکستانی عام مرد میں کیا چیز ایک جیسی لگی؟
وہ اسکو گھر تک پہنچانے پر تل چکی تھی۔۔
سوال نے اسے گڑبڑا دیا۔۔
ذہن نے فورا نقشہ کھینچا تھا۔۔
سیہون اپنا ہر کام خود کرنے کا عادی تھا۔اپنے جوتے احتیاط سے انکی جگہ پر رکھتا برتن دھوتا صفائی کرتا اپنے کپڑے سنبھالتا ۔۔اسکے ذہن میں گھوم گیا۔۔
پاکستانی مرد۔۔ اس نے سوچنا چاہا دور و نزدیک ہر مرد کو اپنے ان معمولی کاموں کیلئے خواتین کو آوازیں لگاتے ہی دیکھا۔۔۔۔
ہاں جمعے والے دن بس نہا دھو کر۔ ایک منٹ۔ اسکے ذہن میں ٹوائلٹ بول میں سر دیئے سیہون جگمگایا۔۔
پاکستانی مرد صاف ستھرے رہتے ہیں( کم از کم جمعے کے دنسوچا)پاکستانی مرد اپنا ہرکام خود کرتے ہیں۔ صفائی کپڑے جوتے اپنے لیئے کھانا بھی خود بنا لیتے ہیں۔ اور باہر کا ہر کام جیسے سودا لانا رات کے تین بجے بھی اٹھا کر کوئی چیز منگوائو ماتھے پر بل نہیں آتا اتوار کے دن بھی صبح صبح نہا دھو کر تیار ہو جاتے ہیں اپنی بیوی کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بھی اپنے خرچے پر بنا لیتےہیں۔ پاکستانی مرد دنیا کے سب سے اچھے مرد ہیں ۔۔۔۔
2020 کی فاطمہ کو کیسا بے وقت یہ جملے کان میں گونجے تھے۔۔ کان سہلا کر رہ گئ۔۔۔
دوپہر کے تین بجے اتوار کی نیند کے مزے لوٹتے اپنے میاں کا کندھا ہلاتے اسے وہ دن یاد آیا تھا۔۔۔۔
یار اتوار کے دن تو سونے دیا کرو۔
ملگجے رات کے ٹرائوزر ٹی شرٹ میں کروٹ بدلتے اسکے شوہر نامدار بڑ بڑائے تھے۔
بریانئ بنا رہی ہوں دہی لادیں بنا رائتے کے کھائی نہیں جائے گئ۔ وہ زچ سی ہوئی۔۔۔
کھالوں گا رہنے دو رائتہ۔ویسے بھی باہر کروناپھیلا ہے۔ غنودگی میں بمشکل جواب دیا۔
دو تین ہنگل کے ایسے الفاظ اسکے منہ سے نکلے جسے دہرانا اچھی بات تو نہیں سو رہنے دیں ہاں اب فاطمہ کی نگاہ فلیش بیک پر تھی
آپ کیا میرے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں؟ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑنے کے موڈ میں چلائی۔۔
ڈر کر فلیش بیک بند کرتے ہیں جانے دیں واپس آتے ہیں۔۔ ماضی میں۔
اور سیہون بالکل ایک مکمل سلجھا ہوا پاکستانی مرد جیسا ہے۔ مجھے خوشی ہے مجھے سیہون ملا۔
۔ کیا تاثرات تھے سیہون کے اسکی یہ باتیں سنتے ہوئے۔ انکو احاطہ تحریر میں لانا ممکن ہی نہیں۔
آدھا منہ کھلا ہوا آنکھیں اپنے حجم سے دگنی خاص کر جب فاطمہ اٹھلا کر بولی تو اسکا تو رنگ بھی سرخ پڑ گیا تھا۔۔
اور آپکو فاطمہ میں اور کورین لڑکیوں میں کیا چیز ایک جیسی لگتی ہے ؟
وہ اب سیہون کی جانب متوجہ ہوئی۔ فاطمہ بھی اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ یاد رہا تو بس اسکی آنکھیں۔۔۔۔
آنکھیں۔۔ اسکی آنکھیں بالکل کورین لڑکیوں جیسی ہیں۔ اسکے منہ سے یہی نکلا۔۔ جہاں روز میری بدمزا سئ ہوئی وہیں
سیہون کے کہنے پر فاطمہ تڑپ سی گئ مانا بھینس جتنے بڑے دیدے منہ پر نہیں لگے تھے مگر اسکی غلافی آنکھیں خالص برصغیرئ نقوش میں جڑی ہرگز بھی کورین لڑکیوں جیسی چندی نہیں تھیں۔
میں عادتوں کی بات کر رہی ہوں۔
فاطمہ بے حد اچھی لڑکی ہے۔ نٹ کھٹ سی ہے۔ صفائی پسند ہے( ذہن میں سفید صوفوں پر جوتوں سمیت چڑھی فاطمہ تھی) بالکل بھی ڈیمانڈنگ نہیں ہے( وہ کچن میں پانی پینے آیا تھا پیچھے سے آواز آئی
کافی بنا رہےہو سیہون؟ میرے لیئے بھی بنا دو)
ہم مل جل کر کام کرتے ہیں ( اپنے برتن دھو کر ریک میں رکھتے ہوئے اس نے گہری سانس لیکرچولہے سے کچن کائونٹر پر یہاں سے وہاں تک پھیلے مصالحوں کے ڈبوں گھی کے چھینٹوں کو دیکھا تھا۔ ایپرن باندھے سالن میں چمچ چلاتے اس نے ذرا زور سے چمچ چلا دیا تھا جب سالن کا چھینٹا سیدھا اسکے منہ پر آکر لگا تھا)
فاطمہ کھانا بہت اچھا بناتی ہے۔۔
( پلیٹ میں چاول نکالتے اس نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔
پھر بریانی؟ ابھی پرسوں ہی تو کھائی تھی
خدایا کوئی بریانی کو دیکھ کر بھی منہ بنا سکتاہے؟ فاطمہ نے آنکھیں پھاڑیں
مجھے زندگی بھر تین وقت بریانی کی پلیٹیں کھانے میں دو تو بھی میں نہ اکتائوں۔۔۔ )
اس نے جلدی جلدی ذہن کے گھوڑے دوڑائے
فاطمہ بے حد اچھے اطوار کی لڑکی ہے۔ اسکو شدید غصے میں بھی میں نے اپنا ٹیمپرامنٹ لوز کرتے نہیں دیکھا۔۔
میری اور فاطمہ کی پہلی ملاقات وہ تھپڑ۔ پلٹ کر بھی اس نے تھپڑ نہیں مارا تھا اسے۔
میں سیہون کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
فاطمہ نے ٹکڑا لگانا ضرورئ سمجھا۔۔ مسکرا کر بولی
ابھی تو پہلا سال ہے آپ دونوں خوش ہی رہیں گے تفرقات تو آہستہ آہستہ محسوس ہونگے آپکو ایک اور بات بھی پوچھنی تھی آپ دونوں سے آپ لوگ احتیاط کر رہے ہیں۔ ؟
اس چندی آنکھوں والی نے ان دونوں سے سوال کیا تھا۔
بالکل بہت احتیاط کر رہے ہیں۔ سیہون سے پہلے فاطمہ بولی تھی۔
ہم ایک دوسرے کی ہر بات غور سے سنتے ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنے روائتی کھانے کھلاتے ہیں۔ رات کو اکٹھے بیٹھ کر موویز دیکھتے ہیں میں نے ہنگل کی کافی گالیاں بھی سیکھ لی ہیں۔۔
وہ باقائدہ گنوا رہی تھی۔سیہون نے گھور کر دیکھنا چاہا ۔ ۔روزانہ کم ازکم پانچ ۔۔۔ وہ زہن پر زور ڈالنے کو تھمی۔۔ نہیں چھے سے آٹھ گھنٹے تو ضرور ساتھ گزارتے ہیں۔ بس سیہون جاب سے آتا یے تو پھر کہیں نہیں جاتا بس میرے ساتھ رہتا ہے ہےنا۔۔
اس نے لاڈ بھرے انداز میں کہہ کر سیہون کو کہنی ماری ۔ خلاف توقع وہ اسے گھور رہا تھا۔
اس نے نگاہوں ہی نگاہوں میں پوچھنا چاہا کہ کیا مسلئہ ہے مگر وہ گہری سانس لیکر سامنے متوجہ ہو گیا وہ خاتون اب منہ میں پنسل دبائے پرسوچ انداز میں دیکھ رہی تھیں۔
میں نے سنا تو تھا کہ گرم علاقوں مڈل ایسٹ وغیرہ کے ممالک میں لوگ ذیادہ۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
فاطمہ کے سر پر سے گزری تھی سیہون نے سر تھام لیا تھا۔
دیکھیئے میں یہ تو مشورہ نہیں دوں گی کہ آپ دونوں الگ الگ رہیں ظاہر ہے محبت ہے نئی نئی شادی ہوئی ہےپھر بھی آپکو یہی مشورہ دوں گی کہ احتیاط کیجئے۔۔ اتنا بھی ساتھ ساتھ نہ رہیں۔۔کہ خاندان بڑھ جائے
فاطمہ کئ آنکھیں اب جتنی بڑی ہوچکی تھیں اگر آئینہ دیکھ لیتی تو بخوشی مان لیتی بھینس کے دیدے لگے ہیں منہ پر۔
روز میری کی تقریری جاری تھی۔
دراصل دو مختلف ثقافتوں میں رشتہ ازدواج کے بعد طلاق کےجتنے کیسز ابھی عدالت میں فیصلے کےمنتظر ہیں ان میں ذیادہ تر جوڑوں نے پہلے ہی سال میں اپنا خاندان بڑھا لیا تھا۔ نتیجتا انکے اختلافات بڑھنے علیحدہ ہونے کی صورت میں انکے بچوں کی حوالگی کے حوالے سے ہمارے پاس اتنی شکایتیں آئی ہیں کہ اس سب بکھیڑے میں پڑنے سے بہتر یہی ہے کہ آپ لوگ اپنا مکمل معائنہ کروائیں اور حتی المقدور ایسی کوئی نوبت نہ آنے دیں۔
کیسا معائنہ؟ فاطمہ احمق پن سے بول پڑی۔۔۔
اس خاتون نے تاسف سے دیکھا تھا اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنا سیہون کی موجودگی کا خیال کیئے اس نے سب کچھ کہہ ڈالا مجھے کیا پتہ تھا اسکے کہنے کا مطلب کیاتھا۔ پورا لیکچر دیا پمفلٹ دیئے فیملی پلاننگ پر نجانے کونسا پلان تک بنا دیا۔۔۔اس نے ہچکیاں لیں۔
خود تو دفع ہوگئ سیہون کی شکل تک دیکھنے کی ہمت نہیں۔ تھی مجھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوں سوں کرتے قصہ سنا رہی تھی۔ واعظہ اور نور ہونٹ بھینچے ساکت بیٹھی تھیں۔
اور پتہ ہے جب وہ جارہی تھی سیہون کیا کہتا ہے مجھے۔۔
اس نے آگے بڑھ کر رازداری سے کہا۔۔۔ سکھیاں ساکت تھیں ہمہ تن گوش بھی سو اس نے انکے ردعمل کا انتظار نہیں کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانئ مرد واقعی اتنے خیال رکھنے والے سلجھے ہوئے ہوتے ہیں۔
روز میری سلام آخر کرتی جا رہی تھیں وہ دونوں اسے لابی تک چھوڑنے آئے تھے۔ روزمیری نے قدم باہر نکالے دروازہ بند کیا فاطمہ نے دڑکی لگا کر اندر بھاگنا چاہا کہ سیہون کی آواز نے روک دیا۔
ہاں کہوں کہ ناں۔ اس ادھیڑ بن میں لگی تھی سیہون اسکے پاس سے ہو کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔
مجھے حیرت ہے کہ پھر تم شادی کیلئے تیار کیوں نہیں ہورہی ہو؟
وہ کائونٹر پر سے بوتل اٹھا کر گلاس بھر رہا تھا۔
فاطمہ کا منہ تھوڑا سا کھل گیا۔
مجھے واعظہ نے یہی بتایا تھا کہ تم پاکستان نہیں جانا چاہتی ہو کیونکہ وہاں گئیں تو تمہاری امی تمہاری شادی کرادیں گی تمہارے کزن سے؟
اسکے چہرے پر بکھری حیرانی دیکھ کر سیہون نے وضاحت کی اپنی بات کی۔
اوہ۔ اس نے سر ہلایا۔ پھر تھکے تھکے انداز میں صوفے پر دھم سے آبیٹھئ۔
سیہون نے چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کیا پھر آکر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔
تمہاری امی تمہاری شادی کروادیں گی کیسے؟
اسکے سوال پر فاطمہ نے الجھن بھرے انداز میں دیکھا۔
میرا مطلب شادی کے اخراجات وہ اٹھائیں گی؟
ہاں اس نے بلا تامل سر ہلایا۔
لڑکا بھی وہ ڈھونڈیں گی؟
اسکو جانے کیا دلچسپی تھئ۔
ہاں لڑکے تو بہت ہیں جانے میرے خاندان کے لڑکوں کی شادیاں کیوں نہیں ہورہیں۔ دھڑا دھڑ رشتے بھجوا رہے میرے لیئے۔ وہ سخت چڑی ہوئی تھی۔
تمہاری پسند شامل ہوگی؟
وہ جانے کیا اگلوانا چاہ رہا تھا۔۔
ظاہر۔ہے۔ جوتی تک اپنی پسند کی لیتی ہوں شوہر تو ہرگز کسی اور کی پسندکا نہیں ہوسکتا۔
اسکا انداز اٹل فیصلہ کن تھا۔
پھر یہاں رہنے کی وجہ؟ پاکستان جائو وہاں جا کر شادی کرو یہاں اتنی مشکل سے نوکری ڈھونڈ رہی ہوجو ٹیمپرامنٹ ہے تمہارا نوکری مل بھی جاتئ یے لڑکا تو بالکل نہیں ملے گا۔۔
فاطمہ دم بخود سی سن رہی تھی اسکی بات پر گھورنا چاہا مگر اسکی بات کا مطلب کچھ اور تھا۔ وہ کہہ رہا تھا
کیونکہ مسلمان تو یہاں ہوتے ہی نہیں۔پھر یہاں اگر کوئی مسلم مل بھی گیا تو وہ تمہارے خرچے خوشی خوشی نہیں اٹھائے گا یہاں بہت ٹف لائف ہے۔ بہت کمپیٹیشن ہے میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں۔ اگر تمہیں پاکستان میں ایسا مرد مل جاتا ہے جو تمہیں اپنے خرچے پر سودا لاکر دے گا تو تمہیں شادی کرلینی چاہیئے اس سے۔ اگریہاں کسی کورین لڑکی کو ایسا پاکستانی ملے تو وہ فورا شادی کرلے۔
شادی زندگی کا مقصد نہیں ہوتا ہے۔ وہ چٹخ کر بولی۔
میں لڑکی ہوں تو کیا ہوا میری اپنی کوئی زندگی نہیں؟ بس شادی کرلوں کیونکہ کوئی کہہ سیکی مجھے اپنے پیسوں سے گھر کا سودا لا کر دینے کو تیار ہوگا؟ میرے خواب ہیں زندگی میں اپنا کوئی مقام کوئی نام بنانا ہے۔ پاکستان سے بھاگنے کی وجہ یہی تھی کہ وہاں کوئی مواقع نہیں تھے میرے لیئے۔ میری تعلیم میرے خواب بس روٹیاں تھوپ کر چولہے کی نذر ہوجاتے۔
یہ اسکی لمبی تقریر کا آغاذ تھا بس پھر فاطمہ بولے سیہون سنے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بولو صحیح کہا نا میں نے؟
فاطمہ نے ساکت سرخ چہروں والی سکھیوں سے تائید چاہی۔
اب بولو بھی بتائو اس دوٹکے کے کورین نے۔۔
فاطمہ دوبارہ شروع ہونے کو تھی کہ نور صوفے سے منے کارپٹ پر لڑھک گئ۔
اسکا جسم ہل رہا تھا
کیا ہوا وہ۔بھونچکا سی رہ گئ۔ واعظہ کی جانب مڑی تو اسکے بھی ضبط کا یارا نہ رہا منے صوفے کے کشن میں منہ چھپاتی اپنے ابلتے قہقہوں کو راستہ دے بیٹھی۔
نور کارپٹ پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ واعظہ بھی صوفے سے ہنستے ہنستے گر چکی تھی۔
تم لوگ کیوں ہنس رہی ہو؟ فاطمہ بے چارگی سے بولی
میں سیہون کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
واعظہ نے ذرا کی ذرا رک کر جملہ کہا نور کا قہقہہ بلند۔۔
احتیاط کیجئے ہو ہو ہا ہا ہا۔
یہ نور تھی۔
تم دونوں کمینیوں مزاق اڑا رہی ہو میرا۔
فاطمہ آگ بگولہ ہو اٹھی صوفے سے کشن کھینچ کر ان دونوں پر پل پڑی۔
فاطمہ ابھی فیملی نہ بڑھانا۔
اسکے پے درپے حملوں میں بھی دونوں باز نہ آئیں اکٹھے بولیں اور ہنستئ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی ریڈیو کی عمارت میں داخل۔ہوئی تھی۔ آج پھر دیر ہو گئ تھی۔ پھولی پھولی سانسوں کے ساتھ وہ راہداری سے ہوتی سیدھی اسٹوڈیو ون کا دروازہ کھول کر غڑاپ سے اندر۔
ژیہانگ پرسکون سے انداز میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔
اف شکرہے وقت پر پہنچ گئ۔
پھولی سانسوں کو بحال کرتی بال اسکارف سنبھالتی الف بمشکل بولی تھی۔
ژیہانگ اسکو دیکھ کر مسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کوئی اسپانسر شو چلنا تھا تو کم از کم سر بتا تو دیتے ایویں بھاگتی آئی میں۔ تمہیں۔۔ وہ گڑبڑا کر رکی
میرا مطلب آپکو پتہ تھا کہ آج شو نہیں ہے؟
وہ اور ژیہانگ اکٹھے ہی ریڈیو کی عمارت سے نکلے تھے۔
نہیں مجھے بھی آکر پتہ لگا تھا۔ اپر کی جیبوں میں ہاتھ گھساتا ژیہانگ اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔
غصہ نہیں آیا آپکو ؟
وہ حیران ہوئئ۔۔ اسکی حیرت پر ژیہانگ ہنس دیا۔
زندگی بہت چھوٹی ہے اور ایسے سرپرائزتو بہت ہی چھوٹی چیز ہیں ان پر ردعمل دینے کا کیا فائدہ۔
ردعمل۔ وہ ہنس پڑی۔
آپکی اردو بہت اچھی ہے۔
بہت محنت سے سیکھی ہے۔ ژیہانگ نے جتانے والے انداز میں کہا۔
کتنا عرصہ لگا تھا اردو سیکھنے میں ؟ وہ دونوں چہل قدمی کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
چار سال پاکستان رہا ہوں۔بی ایس اردو کیا تھا وہاں سے۔ پتہ نہیں کب روانی سے اردو بولنے لگا۔۔ صحیح یاد نہیں۔
اس نے صاف گوئی سے کہا۔
مجھے چینئ سیکھنی ہو تو کتنا وقت لگے گا۔
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
اس پر منحصرہے کہ تم سیکھنا کیوں چاہ رہی ہو۔۔ ایک ڈیڑھ سال بھی لگ سکتا اور ایک عمر بھی۔ دل لگا کر جو کام کیا جائے اسکا صلہ ملتا ہے۔۔۔۔
وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں بولا تھا۔۔۔
دل لگا کر۔۔۔اس نے پرسوچ انداز میں دہرایا
دل لگانا ہو تو اوپا پر لگائوں ہنگل پر کیوں لگانا۔
اس نے حسب عادت بول بال کر ہاتھ جھاڑے مگر خلاف توقع ژیہانگ کو خود کو محظوظ نگاہوں سے گھورتا پایا تو سٹپٹا سی گئ۔۔ اسکا رنگ ایکدم سرخ پڑا تھا اور ژیہانگ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
صحیح کہہ رہی ہو متفق ہوں میں تمہاری بات سے۔
خوب ہنس کر اس نے کہا تھا۔۔ الف زبان دانتوں تلے دبائے تھی
ایک تو مزے سے تبصرہ کر ڈالنے کی عادت ظاہر ہے کوئی سمجھ تو سکتا نہیں کیا کہا سو آرام سے اپنی مادری زبان میں بری بھلی جو منہ میں آئی کہہ دینے کی عادت تھی۔
ژیہانگ قدم بڑھاتا تھوڑے فاصلے پر جا کر رکا تھا مڑ کر دیکھا تو الف خفت کے مارے فریز کھڑی تھی۔
کیا ہوا؟ وہ پلٹ کر واپس آیا۔
آں۔۔ کچھ نہیں۔ وہ۔گڑبڑائی۔
آج موسم اچھا ہو رہا ہے ہے نا۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ بادلوں میں گھرتا آسمان خنک سی چلتی ہوا۔
ہاں۔ لگتا ہے آج بارش ہوگی۔
ژیہانگ کے پیشانی پر بکھرے بال ہوا سے خوب اڑ رہے تھے لاپروائی سے انکو سنوارتا وہ آسمان کو دیکھتے بولا اور الف اسے دیکھتے بول گئ۔۔۔۔
رنگ تو اتنا گورا نہ دیا اتنے سلکی بال ہی مجھے دے دیتے اللہ میاں۔ اس چٹی چمڑی پر تو جو بھی ہیئر اسٹائل ملتا جچنا تھا۔
ژیہانگ چہرے پر دنیا جہاں کی حیرت لیئے اسے دیکھ رہا تھا اس بار اس سے ہنسا نہیں گیا۔۔۔ الف کی آنکھیں حجم میں سجل علی جتنی بڑی ہوگئیں
یہ کیا پھر میں نے جو سوچا وہ بول گئ۔
الف نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب مل کر رات کا کھانا کھانے باہر نکلی تھیں۔۔۔۔ ہلکی ہلکی کن من بارش موسم کو سرد کر رہی۔تھی۔ گھر سے نکلتے وقت موٹے جیکٹ کی بجائے لانگ کوٹ جینز پر گزارا کیا تھا اب یہاں گنگنم میں پھرتے گھگھی سی بندھ رہی تھی سب کی۔
انکی حالت دیکھ کر واعظہ انکو ایک پاکستانی ریستوران لیکر آئی تھی۔
نان چکن کڑاہی کباب اور تکوں کا آرڈر دے کر وہ سب سے کونےمیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر دو میزیں اکٹھے لگوا کر بیٹھی تھیں۔
یہاں بلائنڈز بھی ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔ عزہ نے گلاس وال سے باہر جھانکتے ایسے ہی کہا تھا۔
ہاں یار وہ جو پورٹ ایبل کمپارٹمنٹ ہوتے ہیں نا وہ ہونے چاہیئے تھے یہاں پرائیویسی رہتی۔
نور نے خیال ظاہر کیا۔
ویسے ہم کونے میں بیٹھے ہیں نظروں میں تو نہیں آرہے ہوںگے
عروج نے بیٹھے بیٹھے گردن لمبی کر کے باقی ریستوران پر جھاتی ماری
یار واعظہ یہ ویٹر سے کہہ کر یہاں والی لائیٹس تو بند کروادو۔
الف کیوں پیچھے رہتی۔ واعظہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے ان سب کی ماہرانہ رائے سے مستفید ہورہی تھی
اندھیرے میں کھانا کیسے کھائوگی؟
عزہ ںے ٹوکا
کھانا منہ سے کھاتے ہیں گھپ اندھیرے میں بھی نوالہ لینے بیٹھو گئ تو ہاتھ منہ میں ہی جائے گا ناک میں نہیں۔
عروج نے معلومات جھاڑنا ضروری سمجھا
ہاں یار یہ لائیٹ بند کروا دو تو میں بھی نقاب ہٹا لوں۔
نور الف سے متفق تھی۔
فاطمہ نے باری باری ان سب کی شکل دیکھی سب ٹھیک ٹھاک سنجیدہ تھیں۔
باہر جو اسٹال لگے ہوئے ہیں نا ان سے پوچھتی ہوں کوئی خیمہ خالی پڑا ہو تو دے دیں یہاں لگوادیتی ہوں۔
واعظہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی۔
ہیں واقعی دے دیں گے ؟
نور حیران ہوئی
ہاں یہ ٹھیک رہے گا مگر انہوں نے تو زمین پر کیل گاڑ کر لگائے ہوتے ہیں خیمے یہاں کہاں۔ عزہ کی ہمیشہ سے تصوراتی حس تیز تھی فورا تصور کرلیا خیمہ بس ٹائلوں میں گڑی کیل پر اٹک سی گئ۔
سنجیدہ ہو تم واعظہ؟
عروج کو اسکے انداز پر شک گزرا تھا
واعظہ ہونٹ بھینچ کر دیکھ رہی تھی۔
بالکل ۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں آئیندہ گھر سے کیمپ لیکر نکلا کریں گے جہاں اچھا ریستوران دیکھا خیمہ گاڑ لیا ۔ خیمے پر بڑا بڑا لکھوا بھی لیں گے برقع ایونجرز۔۔
یہ فاطمہ تھی۔ لہک لہک کر بولی۔
واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ پلٹ کر جانے لگی تو نور نے روکنا چاہا
رہنے دو واعظہ یہاں کیمپ کیسے لگائیں گے۔
نور نے اتنی سنجیدگی سے اسے روکا جیسے وہ واقعی سڑک کنارے سے تنبو اکھاڑنے ہی جا رہی ہے۔
واعظہ یار باہر جا رہی ہو تو میرے لیئے
عروج کو جانے کیا یاد آیا اپنا بیگ ٹٹولنے لگی
واش روم جا رہی ہوں۔ وہاں سے کچھ چاہیئے تو بتا دو۔
واعظہ دانت پیس کر بولی تو وہ کھسیا سی گئ
نہیں بس تم ون پیس میں واپس آجانا۔
الف شرارت سے بولی تو وہ گھورتی ہوئی چلی گئ۔ وہ سب ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑیں۔
یار ویسے نور پھر سوچ لو واپس نہ جائو یہاں کتنے تومزے ہیں۔
فاطمہ نے نور کو لالچ دینا چاہا۔
نہیں یار میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ اب میں نے پاکستان ہر صورت واپس جانا ہے۔
نور کا انداز قطعی سا تھا ۔
یار ہمارا گروہ سکڑتا جا رہا ہے ابیہا بھی چلی گئ عشنا بھی اب تم بھی چلی جائو گی۔
فاطمہ نے یونہی کہا تھا مگر جوابا وہ سب جس طرح اسے گھورنے لگیں اسے لگا کچھ غلط نکل گیا ہے منہ سے۔
کیا مطلب ؟ عشنا کہاں چلی گئ ہے؟
الف کی حیرانی دیدنی تھی
رات تک تو فلیٹ میں ہی تھی۔ عروج نے کہا
ہاں خیال ہی نہیں آیا ابھی ہم لوگ ہیں بھی تو کتنے ذیادہ اندازہ ہی نہیں ہوا عشنا ہمارے ساتھ نہیں۔ کہاں رہ گئی فون کروں؟
عزہ بولی تو فاطمہ گہری سانس لیکر بولی
کوئی فائدہ نہیں وہ چلی گئ ہے اب واپس نہیں آئے گی۔
کب کہاں؟
وہ سب اکٹھے چیخی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب انتہائی شدید ردعمل کے انتظار میں کھڑی تھیں۔
خون آلود دیواریں لائونج کونے میں پڑا باکس۔
یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ واعظہ کی نگاہ اسی پر گئ تھی۔
وہ یہ۔
ان سے کوئی بہانہ نہ بن سکا تھا۔۔
وہ چیل کی طرح جھپٹی تھی۔ باکس خالی تھا
اسکئ چیزیں کہاں ہیں۔
مارے صدمے کے اسکی آواز پھٹ سی گئ تھی۔
وہ تمہارے کمرے میں نیچے والی الماری میں۔۔۔۔۔۔
عزہ نے ڈرتے ڈرتے بتایا تو وہ دانت کچکچاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی۔
سب صفائی سے فارغ ہو کر وہ تسلی سے آکر اپنے کمرے میں آبیٹھی تھی۔
اسکی ڈائیریز اسکے نوٹ پیڈ ہائی اسکول کی سالانہ کتاب
وہ ایک ایک چیز سینت سینت کر رکھتی آئی تھی۔
سب کاغذات سنبھالتے اسکے ہاتھ وہ اجنبی سا بھورا پیکٹ لگا تھا۔
یہ تو میرا نہیں ۔ اس نے الٹ پلٹ کر دیکھنا چاہا۔
پھر احتیاط سے کھولا۔
ثریا بنت السلام۔ وزٹ ویزا ۔۔ کاغذات۔
ایک کورٹ کا نوٹس۔۔
اس نے ویزے کی تصویر دیکھی تو کسی بنگلہ دیشی لڑکی کا تھا مگر تصویر۔
اس کو یقین نہیں آیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردیکھنا چاہا۔
تو جس لڑکی کو ڈھونڈتے وہ یہاں آئے تھے وہ نور بھی نہیں تھی۔۔
وہ سناٹے میں آگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں سب بتاتی ہوں۔
عشنا جانے کب اسکے سر پر آکھڑی ہوئی تھی۔ اس نے جھٹکے سے سراٹھا کر اسے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ میری سہیلی ہے ثریا۔ ہم اکٹھے ڈورم میں رہتے تھے۔۔ یا یوں کہو مجھے اسکے ڈورم میں رہنا پڑا۔ ایکدن وہ بہت گھبرائی ہوئی ڈورم میں آئی تھی۔ آتے ہی دروازہ بند کرکے ہانپنے لگی تھی یوں لگتا تھا کہ بہت دور سے بھاگتی ہوئی آئی ہے۔
عشنا نے آنکھیں میچیں جیسے وہ منظر اسکی نگاہوں کے سامنے تازہ ہوگیا ہو۔
کیا ہوا۔ وہ اپنے بنک بیڈ پر نیم دراز موبائل میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب اسکی حالت پر نگاہ پڑی تو فورا موبائل ایک طرف رکھتی اسکے پاس چلی آئی ۔ اتنے سرد موسم میں بھی وہ پسینے میں ڈوبی تھی سوکھے پتے کی طرح اسکا جسم لرز رہا تھا وہ گھبرا سی گئ
کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے؟۔ اس نے پاس جا کر اسکو اپنے کندھے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
وہ وہ۔ مجھے معاف کردو۔۔۔۔ تم تم۔ کہیں چلی جائو وہ تمہیں بھی مار دیں گے۔
وہ روتے روتے ایکم ہراساں سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
اپنی چیزیں سمیٹو۔۔
وہ بھاگ کر بیڈ کے نیچے سے اسکا سوٹ کیس کھینچ کر نکالنے لگی۔
اپنی کتابیں سامان سب رکھو اس میں۔
وہ رونا بھول چکی تھی دیوانوں کی۔طرح اسکے بند بیڈ سے سامان اٹھا اٹھا کر اٹیچی میں ڈالتی
مجھے بتائوگئ آخر ہوا کیا ہے۔
اس نے قریب آکر اسکو کندھے سے جھنجھوڑ ڈالا۔
مجھے مار دیں گے وہ۔آج تم اپنی جان بچائو۔ بھاگو یہاں سے سب سمیٹو۔ اور نکلو یہاں سے۔
ثریا بالکل اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔
مگر میں کیسے۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی مگر ثریا نے اسے کھینچ کھانچ کر ڈورم سے باہر نکال کھڑا کیا۔
جتنی جلدی ہو سکے جتنی دور ہو سکے یہاں سے جائو۔
ثریا نے اسکے جوابی ردعمل کا انتظار نہیں کیا تھا۔
وہ حیران پریشان کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 32

قسط 32
منہ ہاتھ دھو کر وہ تولیے سے چہرہ تھپتھپاتی باتھ روم سے نکلی تو عشنا کو خلا میں گھورتے مگن پایا۔ دوسرا کمرہ مچھلی بازار بنا ہوا تھا ان سب کا یقینا آج رت جگے کا ارادہ تھا۔ فاطمہ بھی یقینا آج وہیں سوتی یا جب سونے کا ارادہ باندھتی تو واپس آجاتی یہاں۔عشنا ڈبل بیڈ پر کرائون سے کمر ٹکائے گہری سوچ میں گم تھی۔
واعظہ نے اسکے منہ پر تولیئے کا گولا سا بنا کے دے مارا۔
کیا ہوا۔ وہ چونک کے سیدھی ہوئی
دو دن سے کہاں غائب تھیں؟
اسکا سوال سیدھا کڑا تھا انداز تفتیشی یقینا بنا جواب ٹلنے والی نہیں تھی۔
عشنا نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری پھر سیدھی ہوبیٹھی۔
وہ۔
آئیم سوری واعظہ۔ وہ کہہ کر سر جھکا گئ تھی۔
مجھے یہ بوگس بکواس سوری نہیں چاہیئے۔ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور کل مجھے اس کمرے میں رات کو نظر نہ آنا۔
وہ قطعی انداز میں کہتی اپنے بیڈ کی جانب بڑھ گئ۔
عشنا کو اندازہ تھا اسکا یہی ردعمل ہونا تھا۔ پھر بھی وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی۔
میں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھئ۔ نور کی وجہ سے پہلے ہی آپکو بہت پریشانی اٹھانی پڑی۔ میں کل ہر صورت چلی جائوں گی آپ فکر مت کریں۔ میں نے جھوٹ بولا مگر میں یہاں اتنے عرصے رہنے کا ہر حساب بے باق کر دوں گی۔ بس مجھے
وہ دھیرے سے بول رہی تھی مگر مخاطب کو سننا بھی گوارا
نہیں لگتا تھا جبھی منہ تک کمبل تان کر اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیونگ رو پکا مر مٹا ہے تم پر۔
نور نے نتیجہ نکالا ۔
وہ سب ڈبل بیڈ پر گول میز کانفرنس میں مصروف تھیں۔جیل کا احوال اور نور کے پیٹھ پیچھے جو کچھ ہو گزرا اسکی تفصیل مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے سنائی اور سنی جا رہی تھئ۔
عروج نے اپنے ساتھ گزری بپتا سنائی تو سب کی سب نتیجے نکالنے میں لگ گئیں۔
نہیں یار ایسے کیسے۔ عروج نے جھٹلانا چاہا۔
ہم اتنے عرصے سے ساتھ ہیں اسپیشلائزیشن میں وہ میری مدد کردیتا ہے ہم اچھے دوست ہیں تو ظاہر ہے تجسس ہوتا ہے کہ جس انسان کے ساتھ ہیں آپ اسے دیکھیں بھی۔
اس نے تفصیلا اسی لیئے بتایا کہ اسکے اس اندازے کو مکمل غلط قرار دے سکے۔
وہی تو جب آپ ساتھ ساتھ ہوتے ہو کسی سے بہت باتیں کرتے ہو تو دل آجاتا ہے اس انسان پر جو آپکے سر پر سوار ہو۔
نور اپنے اندازے کو غلط ماننے پر تیار نہ تھی۔
تو اور کیا مجھے نہیں ہے جن سے محبت ہو گئ تھی ؟
عزہ جھٹ ہاتھ ہلا کر بولی سب سکھیوں نے اسے یوں گھورا جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔
اتنا یاد آتا ہے مجھے سمسٹر بریک آئے میں پکا اس سے ملنے اسکے گائوں جائوں گئ۔ بلکہ تم سب بھئ چلنا تم سب کو بھئ تو محبت ہوگئ ہے نا ہے جن سے۔
انکی گھوری کے برعکس وہ بات کو اپنی مرضی سے دوسرا رخ دے چکی تھی۔
افوہ اس محبت کی بات نہیں ہو رہی احمق۔ نور جھلائی۔
پھر کس محبت کئ بات ہو رہی ہے؟ عزہ سابقہ انداز میں پوچھتے ہوئے ہمہ تن گوش ہوئئ۔
دیکھو بلڈ ڈرامے میں جو دکھایا اچھا سا اوپا پے درپے ملاقات پرہوتی ہے اپنے نئے کولیگ سے ۔ہیروئن اس سے چڑتی ہے پر ساتھ ساتھ رہ کر چڑ ختم ہو جاتی ہے پھر وہ دوست سمجھتئ ہے اور پھر ہیرو کی نیت میں بھی فتور آجاتا ہے۔ہیروئن اسے اپنا دلہا اور وہ ہیروئن کو اپنی ہونے والی دلہن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے مگر بظاہر وہ لوگوں کا علاج کر رہے ہیں آپریشن کر رہے اندر کسی کی نبض دیکھتے اپنی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ نور ڈرامائی انداز میں باقائدہ ایکشن کے ساتھ بیان کر رہی تھی۔
نور کو شائد جیل میں یہ لت لگی ہے فارغ بیٹھ کر کہانیاں سوچنے کی۔ عروج الف کے کان میں جھکی۔

اچھا۔۔اس محبت کی بات ہو رہی ہےبلڈ تو نہیں دیکھا میں نے مگر میڈیکل ڈرامے میں ڈاکٹر اسٹرینجر دیکھا۔ ڈاکٹر اسٹرینجر میں جھڑوس سے لی جونگ سوک سے ہیروئن کو ہو گئ تھی محبت ل۔۔
سوچتے ہوئے اسے جھٹکا سا لگا۔
عروج تمہیں ڈاکٹر سیونگ رو سے؟ وہ بھی جھڑوس؟
عروج نے مٹھئ بھر چھلی ہوئی مونگ پھلی اسکے منہ میں ٹھونس دی۔
تم سوچنے کی زحمت مت کرو۔ اس نے چڑ کر کہا۔
فاطمہ نے عزہ کو بھی بغور دیکھا اور نور کو بھی۔ ایک کو اپنے اندازے کی درستگئ پر مان تھا تو دوسری کے چہرے پر تجسس دبا دبا سا جوش تھا۔ تھوڑا تھوڑا اسکے اندازے پر یقین بھی تھا۔ مگر اسکے اندازے کو جھٹلایا اس نے جس سے توقع بھی نہ تھی۔
لو جو ساتھ رہیں ایک دوسرے کے سر پر سوار رہیں انکو محبت ہو جاتی ہے ایک دوسرے سے؟ پھر تو مجھے ژیہانگ سے ہو جانی چاہیئے۔
الف نے نتیجہ نکالا۔
اسکی بات پر سب سہیلیاں گھوم گئ تھیں اسکی جانب۔
کیا کہا تم اور ژیہانگ؟ وہ سب کورس میں چلائیں
ویٹ ویٹ۔۔ الف سٹپٹا سی گئ۔
میں نے تو مثال دی ہے پاگلو۔ اب اس طرح فاطمہ کو سیہون سے ہو جانی چاہیئے کیونکہ یہ دونوں تو رہتے ہی اکٹھے آہ سی۔۔
اسکی بات پر فاطمہ نے بلا لحاظ چپت لگادی تھی
بکواس نہ کرو ہم اکٹھے نہیں ایک ساتھ رہتے ہیں۔
وہ اسکے جملے کی نزاکت اسے باور کرانا چاہ رہی تھی
الفاظ مترادف میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ان الفاظ کا مطلب ایک ہی بنتا تھا۔
عزہ کھسک کر پہلے تو فاطمہ کی دسترس سے دور ہوئئ پھر ڈرتے ڈرتے کہا۔ فاطمہ آگ بگولہ ہو کر لپکی مگر نور اور عروج نے اسے پکڑ کر بچا ہی لیا عزہ کو
مجھے اردو سکھانے بیٹھی نا تو ہنگل میں گالیاں دوں گی بہت یاد ہو گئ ہیں مجھے۔
فاطمہ کے تیور کڑے تھے۔
کیسے۔
وہ سب حیران ہوئیں۔
سیہون کے ساتھ رہنے سے۔۔
فاطمہ نے دانت کچکچائے۔اسکے کندھے پر فلیش بیک نمودار ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائیش۔ جھو دوئے سو۔
좆됐어: meaning Fucked
دیگچی میں پانئ کھول رہا تھا ریمین ڈالتے ہوئے چھپاک سے اڑ کر اسکے بازو پر آلگا۔۔۔
تڑپتے ہوئے اسکے منہ سے نکلا تھا۔
فریج سے پانی کی۔بوتل نکالتے ہوئے فاطمہ نے بغور اسے دیکھا تھا۔
میل باکس سے میلز نکال کر لاتے ہوئے باآوازبلند وہ اپنے بنک کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا جس نے اسکی اسٹیٹمنٹ بھیجی تھی جسکے مطابق اسکے لیئے گئے قرض کی واجب الدا دو اقساط ہو چکی تھیں۔
یائونگ شنگ سہیکی۔۔
병신 새끼 : meaning Ass hole
کچن کائونٹر پر ناشتہ کرتی فاطمہ اسے بڑ بڑاتے آتے دیکھ رہی تھی۔

فٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے اسکی ناپسندیدہ ٹیم نے گول کیا تو منہ میں بھرے بلیک بین نوڈلز کا چھڑکائو کرتے وہ چلایا۔
چیح رائے
지랄:Fuck
اپنے کمرے سے نکلتی فاطمہ نے چونک کر لائونج میں اسے کم از کم چار مرتبہ یہ الفاظ دہراتے دیکھاتھا۔ نہیں سنا تھا کہنا چاہیئے ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوفوہ۔
عزہ نے ہاتھ نچا کر فلیش بیک ختم کیا۔
اتنے معصوم قارئین ہیں ہمارے انکو ہنگل کے اچھے لفظ سکھائو گالیاں کیوں سکھا رہی ہو ؟
میں کیا کروں واعظہ نے یہی لکھا ہے۔
فاطمہ کندھے اچکا کر بولی
اور کہہ سیکئ تو تکیہ کلام ہے سیہون کا۔ ابھی الٹیاں لگی ہوئی تھیں اسے دو دن پہلے مستقل اس بلیک بین نوڈلز والے ریستوران کو کہہ سیکی کہتا رہا میں سمجھی کہ نام ہے ریستوران کا۔
فاطمہ کے کہنے پر سب نے منہ بنایا۔
اتنے کورین ڈرامے دیکھ کر کم از کم اس گالی کا انکو پتہ تھا۔
دیکھا۔ تکیہ کلام بھی پہچاننے لگی ہے فاطمہ۔
نور نے تالی بجائی۔
فاطمہ تمہیں سیہون سے محبت ہو جائے گئ پکا۔ فورا واپس آجائو۔ عزہ سچ مچ ڈر سی گئ۔ فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے ایسے شخص سے کیسے محبت ہو سکتی ہے جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو دلیہ بنا کر لائی ہوں ۔مانا الٹیاں آرہی ہیں تمہیں مگر کچھ تو کھائو ایسے تو کمزوری ہو جائے گی۔
وہ بستر پر چت پڑا ہائے ہائے کر رہا تھا جب وہ ازراہ ہمدردی پیالہ بھر کر دلیہ بنا کر لائی
نہیں میں نہیں کھا سکتا مجھے ابھی بھی الٹی آرہی ہے۔ وہ کہتے کہتے بھی ابکائی لیکراٹھ بیٹھا
فاطمہ جھٹ دو قدم پیچھے ہوئئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ طبیعت تو کسی کی بھی خراب ہو سکتی ہے ایسے تو نہ گھن کھائو۔
فلیش بیک میں ہی سب سہیلیوں نے اینٹری مار دی تھی۔
فاطمہ نے گھور کر دیکھا۔
اسکی بات نہیں کر رہی پورا فلیش بیک دیکھو
فاطمہ کے دانت کچکچانے پر وہ سب فورا سے پیشتر غائب ہوئیں
ہٹو۔ سیہون منہ پر ہاتھ رکھتا اسکے ایک طرف ہوتے ہی باتھ روم بھاگا ۔۔۔۔
کیا بھیانک آوازیں آرہی تھیں۔
کھنکھارنے تھوکنے اور الٹی کی بھی۔
فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر باتھ روم کی جانب بڑھی۔
دروازہ بھڑا ہوا تھا اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا
آر یو آل رائٹ۔
دے۔ سہون نے کہنے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر الٹی کی۔ فاطمہ سے رہا نا گیا دروازہ کھول کر سیدھا سامنے لگے واش بیسن کی جانب بڑھی مگر وہ خالی تھا۔ اسے جھٹکا سا لگا۔ سیہون غائب ہو گیا۔ اس نے سیہون کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو ۔۔ تو۔۔ وہ ٹوائلٹ بول میں سر دیئےپڑا تھا ٹوائلٹ بول کے گرد بانہیں ڈال رکھی تھیں۔ اور سہولت سے فرش پر پڑا تھا ۔
وہ تیر کئ طرح اسکی جانب بڑھئ

تم ۔ٹوائلٹ بول میں کیسے گر گئے۔ ؟ وہ متوحش تھی
اسکی بات پر سیہون نے ٹوائلٹ بول کا سہارا لیتے ہوئے سر اٹھایا ۔اور دوسرے ہاتھ سے ٹٹول کر ٹنکی فلش بھی کردی۔
گرا نہیں ہوں۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر تسلی دینی چاہی۔ فلش چل رہا تھا وہ الٹی کرکے تھوڑی طبیعت بحال کر چکا تھا سو مڑ کر فلش کو تھام کر اٹھنے لگاایسے کہ چلتے فلش میں اسکا چہرا ٹوائلٹ سیٹ پر جھکا ہوا ہی تھا۔
فاطمہ کو بہت زور سے ابکائی آئی تھی اور وہ پلٹ کر باہر بھاگئ۔۔
لگتا یے وائرل ہے اسکی بھی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
فلش کا سہارا لیکر اٹھتے وہ سوچ رہا تھا۔ باآواز بلند۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ تو نہیں مگر وہ سب الٹی روکتی دہری ہوئی وی تھیں۔
صحیح کہہ رہی ہو محبت نہیں ہو سکتی۔
عروج نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے دل میں کہا تھا جو عزہ کی پشت سہلا رہی تھی۔
اوپا کو مسلمان تو ہونا ہی چاہیئے۔ الف مسکرائی۔اور نور کی پشت سہلانے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور نہار منہ صبح صبح جنرل اسٹور کے باہر دہی لینے کھڑے تھے۔ گائے کی بوتھی والا دہی خرید کر پلٹے تو ناک سرخ ہو کر سن ہو چکی تھی۔ انکا ارادہ سیدھا واپس جا کر بستر میں گھس جانے کا تھا۔ عین دفتر جاتے وقت ہی نکلوں گا بستر سے۔ وہ مصمم ارادہ کررہے تھے گھڑی دیکھے بغیر۔ جو انکے دفتر جانے کے وقت سے ریس لگانے کے در پر تھی۔
اسٹاپ پر ننھے منے بچوں کی اسکول بس آچکی تھی۔ جیکٹوں مفلروں میں ملفوف چندی آنکھوں والے بچوں کو انکی مائیں چھوڑنے آئی ہوئئ تھیں۔ سب بچوں کے مزاج برہم تھے اتنی سردی میں صبح صبح اٹھائے جانے پر۔انہیں دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
کوریا میں اتنی ٹھنڈ کیوں پڑتی ہے بھلا۔ اوپر سے اتنی صبح بچوں کو اٹھانا۔
سوچتے ہوئے خیال آیا کہ طوبی بھی انکے جگر گوشوں کو بیدار کر رہی تھی جب وہ ہانک لگا کر کہ ذرا باہر جا رہوں باہر نکل آئے کہ جلدی سے دہی خرید لائیں۔
ہائے معصوم آج اتنئ سردی ہے طوبی سے کہتا ہوں چھٹی کروادے بچوں کو
یہ ارادہ باندھتے ہوئے خود پر فخر سا ہوا کہ کتنے خیال رکھنے والے باپ ہیں۔
سڑک کے اختتام پر موڑ مڑتے وہ بھاگ کر جاتے ہائی اسکولر سے ٹکراسے گئے۔ اسکی ناک انکے کندھے سے لگی تھئ
چھے سو۔
بھاگتے بھاگتے وہ کہتا گیا۔
ارے۔ جتنئ دیر میں وہ سنبھلے وہ دوڑ چکا تھا۔ انہوں نے کندھا جھاڑا تو چپچپا سا محسوس ہوا۔
انہوں نے انگلیاں دیکھیں توتازہ خون بھرا تھا۔ وہ بوکھلا کر پلٹے۔
وہ لڑکا غیر معمولی رفتار سے بھاگتا دور جاتا دکھائی دے رہا تھا۔یقینا اسکی ناک سے خون نکل رہا تھا۔وہ چندلمحے دیکھ کر گہری سانس لیکر پلٹنے لگے تو سامنے سے چھے سات اسی لڑکے کے ہم عمر لڑکے یونیفارم پہنے آتے نظر آئے۔
بچ گیا سالا۔ بھگوڑا۔ مگر ناک پھوڑ دئ ہے سارا دن اسکول میں چہرہ چھپاتا پھرے گا۔
ایک زور زور سے بولتا دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ سب انکے پاس سے باتیں کرتے گزرے چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ کس سے بھڑ آئے؟
طوبئ نے دیکھتے ہی چیخ ماری۔
معمولی سا خون بھرا ہے میں ٹھیک ہوں۔
انہوں نے اپنی طرف سے تسلی دینی چاہی مگر الٹا اثرہوا۔
ہاں آپ تو ٹھیک ہیں نظر آرہا پر کس کا خون تک نکال دیا؟ یہ آپکا اپنا گائوں نہیں وہاں تو چودھراہٹ کا رعب تھا لوگ ابا کی وجہ سے دبتے تھے آپ سے مگر یہاں انجان ملک ہے میں کہاں پولیس وولیس سے آپکو چھڑاتی پھروں گی اوپر سے جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں فٹ سے ڈھونڈ نکالیں گے
یا خدا کوریائی پولیس کو کم نہ سمجھیں انکو تو رشوت بھی
طوبئ کا واویلا جاری تھا وہ تھوڑا جھلا گئے۔
اوفوہ کسی کو نہیں مارا ۔۔ ایک بچہ ٹکراگیا تھا زخمی تھا شائد۔
جھلا کر جیکٹ اتاری انہوں نے۔ناشتہ کچن سے لا کر میز پر لگاتے طوبئ نے بخشا نہیں خوب سنائی۔ وہ بھناتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر آبیٹھے۔
ہاں ایسی تو احمق ہوں میں۔ اور ایسی آپ توپ کہ۔آپ سے ٹکرا کر کوئی زخمی ہوگیا۔ نا بتائیں مجھے مگر یاد رکھیئے گا پولیس آئی تو جھوٹ نہیں بولوں گی ہاں۔
دھمکی دیتی وہ خود تو کچن میں چلی گئ۔
انکی چھوٹی صاحبزادی آنکھیں ملتی وارد ہوئی۔
طوبی بچے اٹھ گئے انکا ناشتہ بھی لے آئو دیرہو رہی ہے انکو۔
انہوں نے موضوع بدلا تھا
تم تیار کیوں نہیں ہوئیں ابھی تک؟
انہوں نے بچی کو نائٹ سوٹ میں ملبوس دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔ طوبی نے وہیں سے آواز لگائی
ہائے اسے کیوں اٹھا دیا اسکی چھٹئ ہے آج۔ایسے تو بچوں کی پڑھائی کی فکر نہیں ہوتی آج چھٹی والے دن بھی اسکول بھجوا رہے۔ ناراضی سے کہتے ہوئے
طوبی نے چائے کا کپ انکے سامنے لا رکھا اور جھٹ آگے بڑھ کر بیٹی کو ساتھ لگا لیا۔
میں نے تو نہیں۔ وہ سٹپٹائے

مما دودو۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
اچھا میں لاتی ہوں جائو بستر میں گھسو وہیں پی کر سوجانا۔
بچی کو بہلا کر بھیجا خود پھر کچن میں گھس گئ۔
اس بار انکی بڑی صاحبزادی یونیفارم پہنے بستہ اٹھائے تشریف لے آئیں۔
تم کیوں یونیفارم پہن کر آگئیں؟ جائو سوئوجا کر آج چھٹی ہے ۔
انکے آخری الفاظ انہیں خود بھی نہیں پتہ تھا کہ ادا ہو بھی پائے یا طوبی کی آواز میں دب چکے۔
بچی کیلئےتوس انڈہ اور دودھ ٹرے میں سجا کر لاتے وہ بھنائی تھی۔
خدایا کیا ہوگیا ہے آپکو اسکے سیشنل امتحان چل رہے چھٹی کروادی تو مارکس کٹ جائیں گے حد ہے بچوں کی تعلیم کی ذرا فکر نہیں چلو شاباش جلدی سے ناشتہ کرو آج پاپا چھوڑ دیں گے اسکول تمہیں۔
دلاور منہ کھول کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہی بے ہنگم سی بھاگ دوڑ انکے گھر میں چل رہی تھی۔ عروج کو اپنا پتلے پانی والے سینیٹائزر کی بوتل نہیں مل رہی تھی۔ عزہ کو ڈینم عبایا درکار تھا وہ بھی عروج کا کیونکہ رات کو اپنا عبایا دھو کر ڈالا تھا جو صبح تک سوکھ نہیں پایا تھا۔ الف اسکارف سر پر جمانے میں مصروف تھی فاطمہ کو چونکہ کہیں نہیں جانا تھا لہذا ان سب کیلئے انڈے پراٹھے کا ناشتہ بنا کر کچن سے آوازیں دے رہی تھی
نور اپنے بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ان سب کو بغور تک رہی تھی۔
تمہیں یہ کہتے عجیب تو لگ رہا مگر کیا کروگی گھر میں رہ کر ہمارے ساتھ یونیورسٹی چلو میری دوہی کلاسیں ہیں تم گھوم پھر لینا پھر ہم اکٹھے کہیں چلیں گے۔
یہ عزہ نے مشورہ دیا تھا جوابا وہ ہلکے سے مسکرا کر رہ گئ۔
ہاں چلو جا کر پتہ تو کرو پولیس نے یونیورسٹی کو مطلع کردیا تھا پھر بھی اتنی چھٹیوں کے بعد کیا کہتے یونی والے امتحان تو اگلے ہفتے ہیں ہو سکے تو دے ڈالو
الف اسکارف سرپر ٹکا چکی تھی۔ سو سہولت سے کہتی اسکے پاس آ بیٹھئ۔
اب اسکی ضرورت نہیں۔ نور نے گہری سانس لیکر دھیرے سے کہا تھا۔
کیوں؟ الف نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہ کیا
کیونکہ میں اسی ہفتے پاکستان واپس جا رہی ہوں ہمیشہ کیلئے۔
اس نے سابقہ ہی انداز میں جواب دیا ۔
۔ سیٹی ٹائزر بیگ میں رکھتی عروج جھکی رہ گئ تھی ، الف کا منہ کھل سا گیا تو عزہ بھی سب چھوڑ چھاڑ اسکے سامنے دھپ سے آ بیٹھی۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟
عزہ نے رونی صورت بنائئ
انکل نے کہا ہوگا ہم بات کریں منا لیں گے انکو فکر نہ کرو
عروج نے کہا تو الف نے زور و شور سے سر ہلایا
ہاں تو اور کیا ایسے کیسے تمہاری تعلیم ادھوری رہ جائے گی اور یہ تو اتفاق تھا نا گہانی مصیبت تھی شکر ہے ختم ہوئی اسکی سزا تو نہیں۔۔
انکل نے ظاہرہے یہی کہنا تھا نا وہ بھی غلط۔۔
عزہ نے کہنا چاہا مگر نور نے بات کاٹ دی۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ میرا اپنا فیصلہ ہے۔
وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھی۔
کیا فیصلے ہو رہے ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
فاطمہ دروازہ کھول کر جھانکتے ہوئے چلائی۔
جوابا چاروں ٹس سے مس نہ ہوئیں تو خود بھی پاس چلی آئی
کیا ہوا؟
تم ایسا کیوں کر رہی ہو اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے آرام سے اپنی تعلیم مکمل کرو برا خواب سمجھ کر بھول جائو۔
عروج نے سمجھانا چاہا۔
یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
نور مضطرب سی ہوئی۔۔۔۔۔
مجھے گھروالے امی بابا بہن بھائی سب بہت یاد آرہے ہیں مجھے نہیں لگتا اب مزید میں یہاں ان سب سے دور رہ پائوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود گر گئ تھئ سیڑھی سے۔
آٹھ سالہ نور پرنسپل آفس میں اپنا مقدمہ خود لڑ رہی تھی۔
اسکی سہیلی کا سر پھٹ گیا تھا اسکے والد بیٹی کے سر پر پٹی بندھی دیکھ کر سیخ پا ہو چکے تھے والدہ کو بچی سمیت گھر بھیج کر وہ باقائدہ نور کے والد سے معافی کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ نور کا نام اسکول سے کٹوانے کی بھی استدعا کر رہے تھے۔
پرنسپل نے دونوں کو باہمی گفتگو کے ذریعے معاملہ۔نپٹانے کا مشورہ دیا تھا۔
جانے کیسے والدین ہیں بچوں کی کوئی تربیت ہی نہیں کرتے۔ احساس ہی نہیں انکو کہ انکی بچی کی وجہ سے میری بچی موت کے منہ سے ہو کر آئی ہے۔ سرپھٹ گیا پندرہ سیڑھیوں سے نیچے آگری کچھ ہو جاتا اسے تو کون ذمہ دار تھا؟ اور اتنے چھوٹے بچے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے ہیں کوئی انہیں دھکا دے دیتا ہے کیسا اسکول ہے
وہ انکل بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے۔
دیکھیں دونوں کم عمر ہیں بچوں کو ہم سیڑھیوں کے قریب کھیلنے بھاگنے دوڑنے نہیں دیتے چھوٹی کلاسز کی تو دوسری منزل پر کلاس بھی نہیں ہوتی۔۔
معاملہ اپنے خلاف جاتا دیکھ کر پرنسپل صاحب نے فوری صفائی پیش کی تھی۔
پھر کیسے میری بچی سیڑھی سے گر گئ؟
ہمدانی صاحب جوش میں میز پر ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

اس بچی کو دیکھیں ابھی بھی یوں کھڑی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ساری بات تربیت کی ہوتی ہے۔ سوری تک نہیں بولا اس بچی نے اور باپ ہے کہ
انہوں نے خاموش کھڑی نور کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
اسکے بالکل خاموش بیٹھے بابا غیر محسوس سے انداز میں اٹھ کراسکی جانب بڑھے۔
اسکے قد کے برابر آکر خشک سے انداز میں پوچھا
کیا واقعی تم نے دھکا دیا تھا عالیہ کو؟
نہیں بابا ۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود سیڑھیوں سے گر گئ تھئ ۔وہ بھاگ رہی تھی۔
انہوں نے خاموشی سے ایک نظر اسے دیکھا۔
اب ظاہر ہے یہ یہی کہے گی مانے گی تھوڑی کہ
ہمدانی صاحب پھر کچھ کہنے لگے تھے کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
نور بہر حال آپکی سہیلی کو آپکے ساتھ کھیلتے ہوئے چوٹ لگ گئ ہے۔ آپ انکل سے سوری بولو اور وعدہ کرو آئیندہ شرارت نہیں کروگی۔
آٹھ سال کی عمر میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ اسکو غلط سمجھا گیا ہے اس سے اس غلطی کی معزرت کروائی جا رہی ہے جو اسکی غلطی کہیں سے نہیں تھی۔
یہ جملے دہراتے وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔ ہمدانی صاحب کا کچھ غصہ ٹھنڈا پڑا تھا مگر نور کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوا تھا کہ بابا اسے غلط سمجھ رہے ہیں۔
اسپتال میں باپ کی شکل دیکھ کر بت بن جانے والی نور کو دیکھ کر اسکے بابا کو کئی برس قبل کا یہ واقعہ یاد آیا تھا۔ جانے کیوں۔ شائد اسکے تاثرات دیکھ کر۔
نور کی آنکھوں میں جانے انہیں دیکھ کر یہ اعتماد کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے اسکے بابا سب سنبھال لیں گے نظر آنے کی بجائے ایک خوف سا دکھائی دیا انہیں کہ جانے بابا اسکا یقین کریں گے یا نہیں۔
برسوں قبل بھی انکو معلوم تھا کہ انکی بیٹی جھوٹ نہیں بولتی غلط نہیں مگر اس وقت انہیں ہمدانی صاحب کا غصہ ٹھنڈا کرنا ذیادہ ضروری لگا تھا یہ تو سوچا ہی نہ تھا کہ بیٹی کیلئے اس وقت انکا اس پر اعتماد کا اظہار کرنا ذیادہ ضروری تھا جبھی تو اس وقت بھی وہ کشمکش کا شکار لگ رہی تھی جانے بابا میرا یقین کریں گے کہ نہیں۔
ٹپ ٹپ کتنے آنسو انکی بیٹی کے چہرے پر پھسل آئے تھے۔ وہ سب بھول گئے یاد رہا تو بس یہ کہ انکی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔تڑپ کر آگے بڑھ کر انہوں نے اسے گلے سے لگا لیا تھا۔
مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
میں نے کچھ نہیں کیا بابا
وہ بابا سے جب کہنے لگی تو انہوں نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔مت گھبرائو میں آگیا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ رونا بند کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کھچا کھچ بھری تھی عزہ الف دونوں ہی کو بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی تھئ۔چونکہ صبح کا وقت تھا ذیادہ تر اسکول جانے والی عوام ہی تھی۔ وہ چار پانچ لڑکیوں جنہوں نےہائی اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا انکے قریب جا کھڑی ہوئیں۔ اس سے دیگر مرد حضرات سے بچت ہوگئ۔
سچ کہوں تو میرا بھی دل کر رہا نور کی طرح سب پڑھائی وڑھائئ چھوڑ کر پاکستان واپس چلے جانے کا۔ امی یاد آرہی ہیں۔
عزہ بسوری۔
مجھے نہیں لگتا کہ نور محض گھر والے یاد آرہے ہیں اسلیئے واپس جانے کا فیصلہ کر رہی ہے یقینا اسکے بابا نے کہا ہوگا۔
الف نے خیال ظاہر کیا۔
ظاہر ہے جیل میں رہی ہے وہ معمولی بات تھوڑی اسکے بابا جتنا غصہ کریں وہ کم ہے۔ پھر دیکھو یہاں ہم تو اسکی کوئی مدد نہیں کر پائے اسکے گھر والے ہی آکر اسے چھڑوا سکے تو پھر وہ یہاں اسے اکیلا کیوں رہنے دیں گے۔
عزہ کو اسکے بابا بالکل بھی غلط نہ لگے اگر وہ ایسا سوچ بھی رہے تھے تو صحیح سوچ رہےتھے۔
میں نے کب کہا کہ وہ غلط کر رہے ہیں بس مجھے لگا کہ نور ذیادہ ہی ڈر گئ ہے اسے کم از کم اپنے بابا کو سمجھانا تو چاہیئے۔۔۔
الف نے کندھے اچکائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاقات کے مخصوص اوقات میں اسکے بابا اس سے ملنے آئے تھے۔ پولیس افسرنئ اسکو کیبن میں چھوڑ کر پلٹ گئ تھی۔ وہ مرے مرے سے قدموں سے چلتی شیشے کی دیوار کے مقابل نشست آن بیٹھئ۔ شیشے کے پار اسکے بابا اسکے لیئے قانونئ مدد فراہم کرنے والے وکیل کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ اس نے سلام تک نہ کیا تھا۔ یاد ہی نہ رہا تھا۔ ہر بار بابا کو جیل میں ملنے آتے دیکھ کر اسکے دل پر منوں بوجھ آگرتا تھا۔ وہ سرجھکا گئ۔
ان شا اللہ کل تمہاری ضمانت ہو جائے گی۔ سب کاروائی مکمل ہو گئ ہے تم بس ان کاغذات پر دستخط کر دو۔
اسکو بتاتے ہوئے اسکے بابا مسکرا رہے تھے مگر انکی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔
اس نے میکانکی انداز میں خالی خالی نگاہوں سے سر اٹھا کر دیکھا۔ وکیل نے اسکے سامنے ایک فائل بڑھا دی۔ اس کے احساسات برف سے ہو رہے تھے۔ جیل میں رہتے لگتا تھا زندگی بس یہیں تمام ہو جائے گئ جب مایوسی کی انتہا پر رونا بھی چھوڑا تو اچانک۔۔
ضمانت۔
وہ چونکی۔
اسکا مطلب کچھ عرصے کی رہائئ بس؟ اسکا کیس جانے کتنے عرصے چلنے والا ہے وہ تب تک کیا
بابا مجھے پاکستان جانا ہے واپس فورا۔
دستخط کرتے کرتے رک کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ بے تابی سے شیشے کی دیوار یوں کھٹکانے لگی جیسے توڑ کر باہر نکل آئے گی۔
بابا مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں بابا۔
وہ دیوار کو بے تابی سے ہاتھ مار رہی تھی۔ ہزیانی سے انداز میں چیختے وہ بس ایک ہی جملہ کہے جا رہی تھی
بابا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔۔
۔ اسکے بابا اسکو یوں مضطرب دیکھ کر بری طرح بے چین ہو گئے
ہاں ہم پاکستان چلیں گے خود کو سنبھالو بیٹا
بابا مجھے ساتھ جانا ہے آپکے۔
بابا۔ وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔ اسکی پکار سن کر دو پولیس والیاں بھاگئ آئیں۔ انہوں نے اسکو پکڑ کر پیچھے کیا تووہ اور بری طرح مچل مچل کر رونے لگی
بابا ۔ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔
نور میری جان صبر کرو
بیٹا میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا
دیکھو۔
اسکے بابا بیٹی کی حالت دیکھ کر خود بھی رو پڑےتھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 31

قسط 31

سیونگ رو ہنسا تھا پھر ہنستا چلا گیا تھا۔ وہ غصے میں منہ پھلا کے اسے گھورتی رہی۔
اب اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے۔ اسکا انداز خفگی بھرا تھا۔
وہ دونوں دریا کے کنارے یونہی ٹہلنے چلے آئے تھے۔ قریب ہی کچھ نوجوان بچے گٹار وغیرہ سجائے گانے گانے میں مصروف تھے۔وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سرجھٹک کر آگے قدم بڑھا دیئے۔ سیونگ رو ہنستے ہنستے چپ ہوا چند لمحے اسے قدم بہ قدم خود سے دور جاتا دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر اسکی جانب بھاگ کر آیا۔
ہم طیش میں آکر اکثر ایسا ردعمل دے ڈالتے ہیں جو ہمیں تو بالکل جائز لگتا ہے مگر کسی دوسرے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔اگر ہم بس لمحہ بھر کو اپنے طیش پر قابو پا لیں تو کسی کا بہت نقصان کرنے کی بجائے اپنی بات اسے سمجھا کر اپنا اور اسکا دونوں کا نقصان ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
سیونگ رو کی اس لمبی تقریر پر اس نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟
اس نے گہری سانس بھری پھر اپنا موبائل نکال کر اس پر انگلیاں چلانے لگا کچھ نکال کر اسکرین اسکے سامنے کردی۔
بین مشیل، بین مشیل وی لاگز، اسٹاپ مسلم فوبیا، مشیل ازایکسٹریمسٹ، بائکاٹ مشیل ۔۔۔۔۔۔۔بیانئے مسلم آگاشی( معاف کردو مسلمان لڑکی)۔۔
وہ اسکرال کرتے کرتے تھکنے لگی۔
کوریا کے سوشل میڈیا پر ٹاپ تھری ٹرینڈز مشیل کے خلاف چل رہے تھے۔ لوگ اس کے خلاف بلاگز لکھ رہے تھے۔ اسکا یو ٹیوب چینل بند ہو چکا تھا۔ وہ ایک ویڈیو میں روتے ہوئے معزرت کر رہی تھئ۔
اس نے موبائل واپس کردیا۔ اب اسکے ساتھ جو بھی ہو اسے دلچسپی نہیں تھئ۔
اتنی چھوٹی سی بات پر پتہ ہے تم نے مشیل کا کیریئر ہی ختم کردیا ہے۔ سیونگ رو نے دھیرے سے کہا تو اسکے تن بدن میں آگ ہی لگ گئ۔چیخ ہی تو پڑی
چھوٹی سئ بات؟ یہ چھوٹی بات ہے مجھے دھوکے سے بلا کر جھوٹی کہانی سنا کر براہ راست میرے چہرے سے نقاب نوچ کر وہ دنیا کو میرا چہرہ دکھانے لگی تھی۔ ؟
تمہارا چہرہ کیا دنیا نہیں دیکھ سکتی؟
سیونگ رو نے سادگی سے سوال کیا۔
وہ جینز او رکرتے کے اوپر ہاسپٹل گائون میں ملبوس سر پر اسکارف اور چہرے پر ماسک پہنے ابھی بھی اپنے روز کے حلیئے میں ہی تھئ۔
میں پردہ کرتی ہوں۔ مکمل شرعی پردہ۔ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو حق نہیں کہ میرا پردہ برباد کرنے کا سوچے بھی۔
اسکا انداز قطعی تھا۔
یہ بات تم نے مشیل کو بتائی تھی؟ اس سے یہ بات کی تھی کہ تم اپنا چہرہ دنیا کو نہیں دکھا سکتیں؟ کیونکہ تمہارا مذہب منع کرتا ہے تمہیں اس سے؟
سیونگ رو رک کر اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
وہ تیزئ سے کہنے لگی تھی کچھ مگر چپ سی ہوگئی۔
اس نے جب پہلی ملاقات میں چہرہ دکھانے کی۔بات کی تھی تب اس نے صاف منع کیا تھا وجہ نہیں بتائی تھی پھر بھی مشیل کی غلطی ہر طرح سے تھی۔ سیونگ رو کو شائد اپنی ہم وطن کا درد فضول میں اٹھ رہا تھا۔
اسے خاموش دیکھ کر سیونگ رو جانے کیا سمجھا مزید اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا۔
تمہاری ویڈیو وائرل ہوئی تھی تو میں نے بھی دیکھی تھی تمہارے عبایا سے تمہیں فورا پہچان لیا تھا۔ وییڈیو کے نیچے کمنٹس میں لوگ مشیل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے کہ اس نے پیڈ ایکٹریس سے کلپ بنوایا ہے جبھی اتنا مکمل بنا ہے۔ اس کے پاس یہی راستہ تھا کہ تم سے وضاحت دلوادے۔ اب خود سوچو وہ تمہیں آکر یہ کہتی کہ لوگ تمہارے مزاحیہ ردعمل پر چسکا لیتے ہوئے تمہاری حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو کیا تم جاتیں اس کے چینل پر؟ چھے ملینز فالوورز کا اسکا چینل اسکی کمائی کا ذریعہ تھا۔ اس نے غلط بیانی کی مگر تم اسکے گھر اسکے اسٹوڈیو میں کھڑی تھیں اس نے جزباتی پن دکھایا مگر یہ بھی تو دیکھو وہ اور اسکا بوائے فرینڈ دونوں نے تم دونوں کو قطعی کوئی نقصان پہچانے کی کوشش نہیں کی۔تم لوگ اسکا کیمرہ توڑ کر آئیں تھیں۔ اس نے تم دونوں سے نقصان کی بھرپائی تک نہیں مانگی۔۔۔۔
اس سب کئ بجائے اگر تم وہیں اس سے براہ راست وضاحت کردیتیں تو بہتر نہ رہتا ؟
عروج کو یاد آیا تھا اس نے اس ٹرائی پوڈ کو غصے سے دھکا دیا تھا وہ اسکے سامنے پٹاخ سے کیمرہ سمیت زمین پر گرا تھا۔ مشیل آندے کرتی کیمرے کی جانب لپکی تھی تب وہ تن فن کرتی باہر نکل آئی تھی۔ اسکے پیچھے مشیل کے بولنے کی آواز آئی تھی مگر اس نے انکا پیچھا نہیں کیا تھا۔
سیونگ رو کی بات پر اسکی پیشانی تپ اٹھی تھی
تم وہاں موجود نہیں تھے۔ انتہائی بدتمیزی اور جارحانہ انداز میں وہ مجھ پر پل پڑی تھی۔۔ اگر میں اس وقت یہ سب نہ کرتی تو یقینا وہ میرا تماشا بنا چکی ہوتی دنیا میں۔مگر تمہیں وہ غلط نہیں لگ رہی کیونکہ وہ کورین ہے۔ یہ اسکا ملک ہے غلط میں ہوں جو یہاں ہوں ۔ نہ معاشرتی مماثلت ہے ہم میں نہ مذہبی اسکا قدم قدم پر احساس ہوتا ہے مجھے۔ ناحق کوریا آئی نہیں آنا چاہیئے۔تھا۔
وہ دانت کچکچا رہی تھی مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
۔میں نے زندگی میں کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہاں کوریا میں مجھے یہ کام بھی کرناپڑا، زندگی میں کبھی ویڈیو نہیں بنوائی یہاں میری ویڈیو بن کر وائرل ہوگئ۔ زندگی میں۔
وہ کہتے کہتے رک گئ۔
فارگیٹ اٹ۔ اس نے سرجھٹکا۔
کیا فائدہ تھا اس تقریر کو جھاڑنے کا۔ سیونگ رو نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
کیا میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں؟۔
سیونگ رو کی بات پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اتنا حیران ہوئی کہ پلک جھپکن ہی بھول گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اور سیہون بھاگے بھاگے پولیس اسٹیشن آئے تھے۔ نور اپنے والد کے ہمراہ پولیس اسٹیشن کے تفتیشئ کمرے میں بیٹھئ تھئ۔ ایک وکیل اسکی ضمانت کی کاروائی مکمل کروا رہا تھا۔ وہ بے چینی سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔ کاغذی کاروائئ مکمل کرکے جیسے ہی نور کمرے سے باہر آئی وہ بھاگ کے اس سے لپٹ گئ
بہت بہت مبارک ہو۔
نور کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ وہ واعظہ سے لپٹ کر رو دی۔
نور کے والد ہمراہ تھے سیہون نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا تو وہ بھی اپنی جھلمل آنکھیں پونچھتے دکھائی دیئے۔ اس نے انکو سہارا دے کر ویٹنگ ایریا میں لگے بنچ پر بٹھایا اور انکے لیئے پانی لینے چلا گیا۔
بس بس اب مت رو۔ واعظہ نے اسکی ہچکی بندھتے دیکھئ تو اپنے سے الگ کرکے ڈانٹنے لگی۔
اتنی ہمت دکھائی اتنے دن اب اچانک کیا ہوگیا ہے۔ حوصلہ کرو انکل بھی پریشان ہو گئے ہیں۔
اسکے ڈپٹنے پر اس نے اپنی آنکھیں پونچھ کر باپ کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ چہرے پر تھکن تھی مگر آنکھوں میں اطمینان تھا۔ وہ باپ کے پاس ہی بیٹھ گئ
آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں نا ابو؟
انکے شانے پر سر ٹکا کر وہ رندھی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
انہوں نے اسکو پیار سے ساتھ لگا لیا اور سر تھپکنے لگے۔
سیہون پانی لیکر آیا تو اکیلا نہیں تھا ساتھ یون بے تھئ۔ ہاتھ میں ایک ٹفن کا ڈبہ پکڑے۔
مبارک ہو نور۔
کس دقت سے اس نے یہ لفظ بولا تھا اسکے چہرے سے نمایاں تھا۔ نور اور واعظہ دونوں کو ہنسی آگئ تھی مگر چھپا گئیں۔ اس نے جھک کر روایتی انداز میں سلام کرتے ہوئے اسے ڈبہ پکڑایا۔
کھمسا۔ نور کو بھئ بس اتنی ہی ہنگل آتی تھی۔
میں نے کہا تھا نا نور۔ہم بے گناہوں کو سزا نہیں دیتے بلکہ تفتیش کے ذریعے اصل مجرم تک پہنچنا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے اس لوکل گینگ کو پکڑنے کیلئے اپنی تمام تر مشنری لگا رکھی تھی۔ دو دن قبل غیر قانونی طور پر کشتی کے ذریعے ملزم چین جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہم بروقت پہنچ گئے۔ اور جیسے ہی اس نے قبولا اپنا جرم ہم نے تمہارا نام اس سب سے کلیئر کر دیا۔ آزادی مبارک ہو۔
اس نے شستہ ہنگل میں تفصیل سنائی تو جوابا سیہون نے مترجم کے فرائض نبھائے
بہت شکریہ۔ اسکے والد یون بے کا شکریہ ادا کررہے تھے۔
تمہارا تین ہفتوں میں پڑھائی کا کافی حرج ہوگیا ہوگا۔
واعظہ کو خیال آیا تو وہ جیسے چونک اٹھی
بس تین ہفتے؟ مجھے تو لگنے لگا تھا کہ سالوں سے جیل میں ہوں۔
وہ دن رات یاد کرکے پھر آبدیدہ ہو چلی تھی۔
بس اب مت رونا۔ گھر چلو نہائو نماز شکرانہ ادا کرو یہ وقتی مصیبت ختم ہوئی۔ واعظہ نے گھرکا تو وہ سر ہلانے لگی۔
باقی سب کیسی ہیں؟ آئی کیوں نہیں؟
اس نے سوال کیا۔ اس سے قبل کہ واعظہ جواب دے پاتی یون بے نے انکو مخاطب کر لیا۔
یہ کوڑا بنایا ہے میں نے۔ آپ لوگ کھا کر تو بتائیں کیسی بنی ہے؟ دراصل مجھے بہت شوق تھا آپ لوگوں سے رائے لینے کا میرے گھر تو سب کو بہت پسند آئے کوڑا ( ہاں کوڑے والا کوڑا ہی کہا تھا)۔
اسکی بات پر ان دونوں کے منہ کھل سے گئے۔
کیا بنایا ہے؟ نور پوچھے بنا نہ رہ سکی
کوڑا۔کھا کر تو دیکھو وہی ترکیب آزمائی تھی جو وازیہ نے بتائی تھی۔
اس نے جوش سے مسکرا کر کہا توواعظہ سٹپٹا گئ۔
نا کرو۔کس نے کہا تھا کہ میری بتائی ترکیب ہی آزمائو۔
اسکے بڑ بڑانے پر نور نے نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے ٹفن کھولا ۔
اندر گہرے بھورے رنگ کے گول گول پکوڑے گرم گرم سجے تھے۔
کھائو۔ یون بے مشتاق تھئ
یہ؟ نور متزبزب تھی۔
یہ وہی ہے نا جب ہم تم لوگوں کے گھر گرفتار کرنے آئے تھے تو تم لوگ کھا رہے تھے ہمیں بھی کھلایا تھا۔
لفظ بہ لفظ ترجمہ کرتا سیہون بھی واعظہ کی شکل دیکھ کر گڑ بڑ کو بھانپ گیا تھا۔
ویجی ٹیرین ہے آلو اور گوبھی اور پالک ہے یہ۔
اس نے وضاحت کی۔ نور نے مدد طلب نگاہوں سے واعظہ کو دیکھا وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
پکوڑے لگ رہے ہیں کھا لو نا نور۔
اسکے ابو نے کہا تو نور نے ڈرتے ڈرتے ایک توڑ کر منہ میں رکھ لیا۔ پالک اور آلو باریک کٹے ہوئے تھے اور گوبھی کا پھول پورا تھا۔ یہ پکوڑا ان تینوں کا تھوڑا تھوڑا ذائقہ دے رہا تھا مگر پکوڑے کا ہی ذائقہ نہیں آیا اسے
کھائو نا تم بھی۔تمہاری بتائی ترکیب ہے۔
یون بے اب واعظہ سے کہہ رہی تھی۔ اس نے بے چارگی سے نور کو دیکھا جو منہ میں پکوڑا بھرے اسے یوں گھور گھور کر چبا رہی تھی جیسے پکوڑے کی جگہ واعظہ اسکے دانتوں تلے ہو۔
تم بھی کھائو بیٹا۔ نور کے ابو نے سیہون اور یون بے کو بھی دعوت دی۔ بھر کے بڑا سا ٹفن تھا۔ ایک انہوں نے بھی چکھنے کیلئے اٹھا لیا تو سیہون اور واعظہ کو بھی اٹھا کے کھانا پڑا۔
پکوڑا پکوڑا ہی تھا واعظہ کی بتائی ترکیب سے ہی بنا تھا بس جب یون بے ان دونوں کو ڈھوںڈ کر پکوڑے کی ترکیب پوچھنے آئی تھی تب واعظہ کو غصہ تو آنا ہی تھا۔ جان نکال دی تھئ اس فالتو ترکیب کے پیچھے۔
یہ کس چیز کا پکوڑا ہے؟ اسکے ابو بھی درست اندازہ نہیں لگا پائے تھے۔
یہ مکئی کے آٹے کا پکوڑا ہے۔ یون بے آئیندہ اسی ترکیب میں بیسن ڈال کر بھی دیکھنا وہ اس سے بھی مزے کا بنے گا۔
نور کی گھورتی نگاہوں سے نظر چرا کر وہ یون بے کو ہدایت دے رہی تھی۔
ہاں ضرور اگلی دفعہ بیسن اور گندم کے آٹے سے بھی بنا کر دیکھوں گئ۔ یون بے پر جوش انداز میں کہتے ہوئے سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی گاڑئ میں اسکے بابا کو ہوٹل میں ڈراپ کرکےسیہون اسے اور واعظہ کو اپارٹمنٹ چھوڑنے آیا تھا۔
آئو کھانا کھا کر جانا ۔ واعظہ دعوت دے رہی تھی مگر وہ سہولت سے انکار کر گیا۔
صبح دفتر جانا ہے تم سہیلیاں تو آج رت جگا منائوگی ہے نا۔
وہ مسکرا کر بولا تو واعظہ بھی نور کو دیکھتے مسکرا کر سر ہلا گئ۔ وہ تیزی سے گاڑی باہر نکال لے گیا۔واعظہ اسکا چھوٹا سا یونیورسٹی بیگ اٹھائے اندر کی جانب بڑھنے کو تھی جب سر اٹھا کر اس وسیع و عریض عمارت کو دیکھتئ نور حسرت بھرے سے انداز میں بولی۔
کچھ بھی نہیں بدلا یہاں ہے نا واعظہ۔
ہاں۔ واعظہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔
بس میں بدل گئ ہوں۔
یہ جملہ اس نے منہ ہی منہ میں بدبدا کر کہا تھا۔
چلیں۔ واعظہ اسکا انتظار کررہی تھئ۔
ہم ۔وہ بھاگ کر اسکے ہم قدم ہو لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو بندہ بیوی کا فرمانبردار بھی نہ ہو۔ سب کچھ لے کر آیا ایک دہی بھول گیا رات کے گیارہ بجے لینے بھیج دیا۔ جیسے صبح ناشتے میں دہی نہیں ہوگا تو ناشتہ حرام ہو جائے گا۔ اب یہاں اس وقت کتنی ٹھنڈ پڑنے لگی ہے۔ دہی کھانا چاہیئے بھلا۔ اتنئ ٹھنڈ میں گلا خراب ہوگا۔
زور و شور سے اپر کا ہڈ چڑھا کر سر پر درست کرتے سرخ ہوتی ناک رگڑ کر وہ بڑ بڑاتے ہوئے دکان میں داخل ہوئے۔
ایک انکا ہی ہم۔عمر چندی آنکھوں والا شخص کائونٹر پر بیٹھا اونگھ رہا تھا۔
وہ والا دہی لینا جس پر گائے بنی ہوئی ہے بھوری سی اور منہ کھول کر دیکھ رہی ہے کیمرے میں۔
فریج کھولا ہی تھا کندھے کے پاس سے طوبی کا تصوراتی ہیولہ منہ نکال کے بولا۔
پہلے تو انہوں نے دہی کو ہی پہچاننا شروع کیا۔ تکونے کم باپ سے بھرے فریج میں سے عجیب کچی کچی سی مہک بھی اٹھ رہی تھی۔جھک کر اوپر نیچے ٹٹولتے جب انہیں کافی دیر ہو چلی تو یونہی زرا کمر سیدھی کرتے ہوئے جو مڑ کر دیکھا تو انکے پیچھے قطار بنی ہوئی تھی۔ چار پانچ لوگ اپنئ چندی آنکھیں بڑئ کرکے گھور رہے تھے۔ وہ کھسیا کے پیچھے ہوئے۔
آپ لے لیں۔
یہ خیال ہی نہ رہا کہ ہنگل یا انگریزئ میں بولتے ۔ مگر انکی اردو بھی اس چھوٹے سے اٹھارہ انیس سالہ لڑکے کو سمجھ آگئ تھی جبھئ آگے بڑھ کر اپنے لیئے سوجو کی بوتل نکالنے لگا۔
آپکو کیا چاہیئے۔ ؟
وہ اپنی دونوں بوتلیں سنبھال کر اب ان سے پوچھ رہا تھا۔
دہی۔ انہوں نے انگریزئ میں بتایا۔
اس نے ایک لمحہ تو حیران ہو کر گھورا پھر نچلے خانے میں سب سے آگے رکھا دہی کا پیکٹ نکال کر تھمایا۔
یہ نہیں جس پر گائے کی تصویر بنی ہو۔ کیمرے کے ساتھ۔
انہوں نے دہی کا پیکٹ الٹ پلٹ کیا پھر سمجھانے لگے۔
وہ لڑکا اور اسکے گرد دیگر اسکے ہم وطن منہ کھول کر دلاور کو دیکھ رہے تھے جو فلیش بیک میں کھڑے کھڑے جا چکے تھے۔
انکے منمنانے پر کہ اگر گائے کی شکل والا دہی نہ ملا تو؟دوسرا کوئی چلے گا؟
طوبی سمجھانے والے انداز میں بولی
ہوگا تو وہ دہی ہی مگر گائے کی تصویر پر اس لیئے زور دے رہی ہوں کہ گائے بنی ہے تو مطلب گائے کے دودھ سے ہی بنا دہی ہے یہ ثبوت ہوا نا۔ کوریا والے تھوڑی یہ کرتے ہونگے گائے کی تصویر بنا کر اندر سور کے دودھ کا دہی بھر دیں؟
بات میں دم تھا۔ وہ منڈیا ہلانے لگے تھے۔
اس لڑکے نے دہی انکے ہاتھ سے لیکر واپس فریج میں رکھا دروازہ بند کیا اور انہیں گھورتا ہوا کائونٹر کی جانب بڑھ گیا۔
انہوں نے آگے بڑھ کر دوبارہ فریج کے ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا تو قطار میں لگے انکے ہی قریبا ہم عمر نے بہت تمیز سے انکے ہاتھ کو پرے کرتے ہوئے ہینڈل تھام کر فریج کھولا اور مطلوبہ چیز نکالنے لگے۔ یہ ترکیب کارگر رہی قطار میں موجود بقیہ پانچ چھے لوگوں نے بھی آزمائی ۔دلاور صبر سے باری کا انتظار کرتے رہے۔
کائونٹر پر پیمنٹ کرتے اس لڑکے کی یونہی جاتے جاتے نگاہ پڑی تو دلاور کو پھر فریج سے نبرد آزما پایا۔
آہجوشی۔
پکارنے پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہی لڑکا گائے کی شکل والا دہی اٹھائے کھڑا تھا۔
یہ لیں۔
وہ خوش ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے
یہ کہاں تھا؟ وہ جھٹ تھام کر پوچھنے لگے۔
اس لڑکے نے فریج کا دروازہ بند کیا اور اسکے بالکل برابر ہی دوسرے قد آدم فریج کئ جانب اشارہ کیا۔
گلاس ڈور سے پورے ریک میں گائے جھانک رہیں تھیں باہر
دلاور کھسیا سے گئے۔ابھی انکی ایک فریج کی تلاش ہی مکمل نہ ہوئی تھئ۔
گھمسامنیدہ۔
انہوں نے جھک کر اسکا شکریہ ادا کرنا چاہا۔کمر سے چٹاخ پٹاخ کی آواز آئی۔ سیدھا ہو کر اس شکریہ کا جواب وصولنا چاہا تو معلوم ہوا راہی تو جا چکا۔ وہ لڑکا تیز تیز قدم اٹھاتا دروازے کی جانب بڑھ چکا تھا۔ وہ کمر سہلاتے کائونٹر کی جانب بڑھ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ موبائل میں لگی تھی۔ اسی نے ہی فلور کا بٹن دبایا لفٹ میں۔۔دروازہ بند ہونے ہی لگا تھا جب خراماں خراماں چلتے دلاور آتے دکھائی دییئے۔
اس نے خیر سگالی انداز میں دروازہ بند نہ ہونے دیا۔ وہ اسے پہچانتے نہیں تھے پھر بھی اس نے سلام۔کر دیا۔ جواب انہوں نے سر کے اشارے سے دیا تھا اور سلام۔طلب نگاہوں سے واعظہ کو دیکھنے لگے۔ مگر اس نے سر اٹھا کے نہ دیا۔
وہ بھی تھوڑا رخ پھیر گئے۔
فلور آتے ہی سب سے پہلے دلاور نکلے تھے۔ ان لڑکیوں سے انکے ستارے جانے کیوں گردش کھانے لگ جاتے تھے کسی بھی بری قسمت سے بچنے کو یہی بہتر تھا کہ ان سے دور رہا جائے۔ یہی سب سوچتے وہ سیدھا اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے۔ اور جلدی سے اطلاعی گھنٹی بجانے لگے۔
وہ دونوں لڑکیاں اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے کی جانب بڑھ گئیں۔
یار کچھ ذیادہ خاموشی نہیں سب سو رہے ہیں کیا۔
دروازہ کھولتے ہوئے نور نے کہا تھا۔ انکی پشت تھی انہوں نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان لڑکیوں کی خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
طوبی ۔۔
وہ دروازہ نہ کھلنے پر جھلا کر پکارنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپارٹمنٹ میں گھپ اندھیرا سا تھا۔
اتنا اندھیرا کیوں ہو رہا ہے ہے جن سو رہا ہے کیا لائونج میں؟
نور نے اندازہ لگایا۔
اندھیرا کچھ ذیادہ ہی تھا سو واعظہ نے ٹارچ آن کردی۔
ہلکی ملگجی روشنی میں وہ آگے بڑھئ راہداری۔ختم ہوتے ہی سامنے کچھ ہیولے سے دکھائی دیئے۔
اس سے قبل کے وہ سمجھ پاتی۔ زور دار پٹاخہ سا بجا جھماکے سے روشنی ہوئی عزہ سوئچ بورڈ کے پاس ہی کھڑی تھئ۔
ویلکم ہوم نور۔
عزہ، عشنا ، فاطمہ، عروج ، الف طوبی سب ہی پرجوش انداز میں چلائیں ان سب کے ہاتھوں میں پارٹی پاپرز تھے اسکے قریب آتے ہیں وہ چمکیلی پنیوں میں نہا سی گئ اسکےچاروں طرف افشان رقص کر رہی تھی۔کوئی غبارے پھاڑ رہی تھی تو کوئی پارٹی پاپرز طوبئ پلیٹ میں پنیوں سے بھری مٹھائی لیئے اسے کھلانے پر تلی تھی تو الف آنسو پونچھتی اسکا ہاتھ تھامے جانے کلائی میں کیا چڑھا رہی تھی۔ اسکی سکھی سہیلیاں خوشی سے جھومتی چیختی اس سے آلپٹی تھیں۔ وہ جو ایسے لمحوں میں ہمیشہ ایک طرف ہو کر وییڈیو بناتی رہتی آج احساس ہوا تھا کہ لمحوں کو اسی وقت جینا ذیادہ خوش کن احساس ہے بہ نسبت گزر جانے والے لمحوں کی یادیں اسکرین پر دیکھتے جانا۔ آج وہ یہ سب اپنے ذہن میں ریکارڈ کر رہی تھی۔ پھول تحفے مسکراہٹیں محبتیں خلوص کی تیز بارش برس رہی تھی اس پر آج وہ اس بارش میں نہا کر خوش ہوئی تھی بہت خوش۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزا بار سوچا تھا اب نہیں دہلنا کچھ ہو جائے چیخیں دھماکا بم ہی پھٹ جائے وہ حواس بحال رکھیں گے۔ آج کامیاب بھی رہے۔ حسب توقع اس خاموشی کا شور و غل بے ہنگم دھماکوں کی گونج سے اختتام ہوا تھا۔
زرا سا فطری طور پر ہی چونکے پھر سر جھٹک کر مبارکباد دئ خود کو
دل کر رہا تھا زور زور سے چلائیں وہ بھی I survived
اپنی بچکانہ سوچ سے محظوظ ہوتے دروازے کے کھلتے ہی خوشی خوشی اندر داخل ہوئے۔یہ انکی بڑی بیٹی تھی جو دروازہ کھول کر انکو اندر آنے کا راستہ دیتی ایک طرف ہو گئ ۔مگر انکی ایک ہی بیٹی تھوڑی تھی بس۔ دوسری بھی آس پاس ہی تھی جسکو انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔ بابا کہتی ٹانگ سے لپٹی۔وہ جو اپنی جھونک میں سیدھے اندر چلے آئے بیٹی کو ہی پائوں تلے دینے لگے تھے۔
اوہ اوہ۔ بمشکل دیوار کا سہارا لیکر انہوں اسے بچایا تھا دونوں ہاتھوں سےاوپن کچن کے کائونٹر سلیب کو تھام کر ایک اور چوٹ لگنے سے خود کو اور بچی کو بچالیا۔
مگر دونوں ہاتھ سنگئ دیوار پر تھے تو جو ہاتھ میں تھا وہ کہاں گیا۔
بابا سارا دہی گر گیا اب امی ڈانٹیں گی۔
بیٹی کی آواز پر جو مڑ کر زمین پر دیکھا تو ہزار جوکھم اٹھا کر لایا گیا دہی کا پیکٹ زمین بوس ہو کرپھٹ چکا تھا۔۔۔
آہش۔
جی بالکل کورین آہجوشی کی طرح ہی بولے تھے دلاور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام۔۔۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 30

قسط 30
سعدیہ اسپیشل۔۔

تمہیں کوئی آسان سی ڈش نہیں سوجھی تھی یہ انوکھا تجربہ ضرور کرنا ہے تمہیں۔۔
الف جھلائی ہوئی اسکے ساتھ سپر اسٹور میں گھوم رہی تھی
بہت سادہ اور شان ترکیب ہے۔تم دیکھنا سب کو پسند آئے گی۔
عزہ پر جوش تھئ۔ الف سرجھٹک کر آگے بڑھ گئ۔ عزہ گھوم گھوم کے چیزیں اکٹھی کرنے میں لگی تھی۔ تیتر کے انڈوں کا لفافہ اٹھا کر مطمئن ہو کر مڑ کر دیکھا تو الف غائب ہو چکی تھی۔
اب یہ کہاں گئ۔ اس نے ٹرالی گھسیٹتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا تو دور کھڑی نظر آہی گئ۔
وہ دبے قدموں اسکی جانب بڑھی۔ وہ کاسمیٹکس والے حصے میں کھڑی تھئ۔ کریم اور لوشن ہاتھوں پر لگا لگا کر دیکھتی مگن کھڑی تھئ۔
اس نے اسکے قریب جا کر اسکی کمر میں انگلیاں پستول کی طرح گھونپ کرکان میں زور سے پکارا
ہینڈ اپ۔۔
پٹاخ سے کریم کی نئی شیشی اسکے ہاتھ سے گر کر ٹوٹی تھی۔ بری طرح دہل کر الف خود بھئ کائونٹر کا سہارا لیئے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ سیلز گرل ان دونوں کو دیکھتی کائونٹر چھوڑ کر بھاگی تھی۔
عزہ کی بچی دم نکل جاتا ابھی میرا۔ چند لمحے لگے تھے الف کو سنبھلنے میں سیدھی ہو کر عزہ کا کندھا بجا دیا۔
توبہ ہے کتنا بھاری ہاتھ ہے۔ نقاب پوش عزہ تڑپ کر رہ گئ۔
دن دہاڑے اتنا ڈرتا ہے کوئی بھلا۔ اب جانے کتنی مہنگی کریم توڑ دئ
ٹرالی ایک طرف کرکے وہ جھک کر شیشی او راس سے بہتے سفید مواد کو دیکھنے لگی
اب جتنا بھی مہنگا ہو پیسے تم دوگی تمہاری وجہ سے ٹوٹی ہے۔
الف نے فورا حساب کرنا چاہا۔ عزہ گھور کر رہ گئ
اب ہاتھ کیوں لگا رہی ہو کانچ چبھ جائے گا۔ فکر بھی تھی اسے عزہ کی۔
ریپر دیکھ رہئ ہوں قیمت کا اندازہ تو کریں اس سے قبل کہ یہ ہمیں مہنگی بتا کر لوٹنے کی کوشش کریں۔
آپس کی باتوں میں انہوں نے دھیان ہی نہ دیا کہ عجیب سا بے ہنگم شور ہے انکے گرد اور باقی لوگ تیزی سے داخلی دروازے کی جانب بھاگ رہے ہیں۔
یہ اسٹور خالی کیوں ہو گیا اتنا جلدی؟
الف حیران ہو کر مڑی۔
ہینڈز اپ۔ ایک بار پھر انکو سنائی دیا تھا۔ دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ڈیپارٹمنٹ کے سیکیورٹی گارڈز ان پر پستول تانے کھڑے تھے۔
وہ عبایا پوش لڑکی اس اسکارف پوش لڑکی کے قدموں میں بیٹھئ تھی ۔ صورت حال غیر متوقع تھی۔ مگر انہیں ان دونوں پر گمان دہشت گرد کا ہی ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگتا تھا کہ بس ہم پاکستانی ہی سوری کا بے جا استعمال کرکے جان بچاتے ہیں مگر پوری دنیامیں ہی معزرت کے الفاظ کو اسی طرح ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
الف مٹھیاں بھینچ رہی تھی مگر چونکہ دونوں ہاتھ شاپروں سے بھرے تھے سو ایسا ممکن نہ ہوسکا
خیر انہوں نے کریم کے پیسے بھی نہیں لیئے بلکہ اسی طرزکی نئی شیشئ دے دی ہے۔ خوشبو تو اچھی ہے کریم کی۔۔
عزہ کے بھی دونوں ہاتھوں میں شاپر بھرے تھے مگر سرد ہوا چلنے سے ناک بھی چل پڑی تھی سو ایک ہاتھ بار بار اسکا ناک پونچھنے کے کام آرہا تھا۔ وقفے وقفے سے وہ ہاتھ شاپر سمیت اٹھا کر ٹشو سے سڑ سڑ کرتی۔
کوئی احسان نہیں کیا۔ ہم سو کر سکتے تھے ان پر جو انہوں نے بے عزتی کی ہماری۔
الف غصے سے بھری تھئ۔ عزہ کو پھر چھینک آگئ۔ دونوں قریبی اسٹور تک ہی آئی تھیں سو پیدل ہی دو ذیلی گلیاں پار کرنی تھیں۔ سہ پہر کا وقت تھا لوگ کم ہی تھے اور جو تھے وہ اپنے کام سے کام رکھتے جا رہے تھے۔
تم نے بھی تو حد کی۔ عزہ چھینک مار کر فارغ ہوئی
ہینڈز اپ کہا تھا بس تم تو ایسے ڈریں جیسے سچ مچ گولی مار دی میں نے۔
ہاں تو انجان ملک اکیلی لڑکی میں ۔ اوپر سے اتنے عرصے کے بعد کریم دیکھی میں نے کھو گئ تھی میں۔
الف منظر یاد کرتے ہوئے ہی کہیں گم سی گئ۔۔
ہاں تو اتنی خود اپنے ہاتھوں سے کریم و لوشن بنا کے دیئے انکی کوئی قدر نہیں۔ ۔
عزہ نے منہ پھلایا تو الف بھنا کر اسے گھورنے لگی۔ ان دونوں کے سر پر فلیش بیک چالو ہوا تھا۔۔
یہ رہی 99 % ایلوویرا جیل اور یہ رہی کافی۔
دونوں کو برابر ملایا تو بن گئ نائٹ کریم ٹا ڈا۔۔
نہیں کورین کیا کہتے۔ چن۔۔۔
عزہ نے چٹکی بجائی۔ وہ سب اسکی اوور ایکٹنگ سے بیزار نائٹ کریم کے اس متبادل کو منہ پر ملنے لگیں۔عزہ الف عشنا عروج نور اور فاطمہ سب بھورا ماسک منہ پر لگاکے سوئی تھیں۔
اور صبح۔
سب کی سب افریقنیں لگ رہی تھیں۔ سب کا رنگ نا سفید رہا نا سانولا ۔ سب کی سب تانبے کی رنگت والی افریقی لڑکیوں سی رنگت چرا لائی تھیں
یوٹیوب ویڈیو میں تو جلد اچھی ہوگئ تھی۔ عزہ بسوری
گرائونڈ کافی ڈالنی تھی وہ بھی تھوڑی سی کس نے مشورہ دیا تھا ایکسپریسو وہ بھی چمچ بھر بھر کے ڈالو۔
یہ فاطمہ تھی مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی۔ ایک ان سب میں اسکا ہی رنگ سب سےگورا تھا اب وہ بھی بھورا ہو چکا تھا۔۔
واعظہ منے صوفے پر بیٹھی انکا حال دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی
آج یہ خاص ہلدی کوکونٹ آئل اور خشخاش والا ماسک لگائیں گے تم سب کا رنگ ایکدم نکھر جائے گا۔
عزہ اگلے دن رات کو پھر نئے ماسک کے ساتھ حاضر تھی۔
خشخآش؟ واعظہ نے سرکھجایا۔
مل گئ تھی یہاں؟
اگلا دن اس سے بھیانک نتیجہ لایا تھا۔
فاطمہ کی جلد پر چھوٹے چھوٹے لال دانے نکل آئے تھے ،عروج کو چہرے پر خارش اتنی ہو رہی تھی کہ اس نے مسل مسل کر گال لال کر لیئے تھے۔ عشنا کا چہرہ اکڑ سا گیا تھا وہ بولنے میں بھی احتیاط کر رہی تھی۔ الف کے چہرے پر فی الحال کچھ نہ تھا مگر ان سب کا حال دہلا گیا تھا اسے۔
عزہ اپنے چہرے پر برف کی ڈلی پھیرتے اور عروج کو برف دیتے اسے ڈرتے ڈرتے دیکھ رہی تھی۔
میں رات کو اٹھی تھی تو منہ دھو لیا تھا۔ اس نے حیرانی دور کی ۔۔
مگر یہ خشخاش لگ تو نہیں رہی۔
واعظہ نے آگے بڑھ کر شیشی اٹھائی۔۔
عزہ نے ہاتھ مار کر فلیش بیک ختم کیا
بس کرو۔ کتنا تو تم سب لڑیں تھیں دل بھرا نہیں جو یہ قصہ لے بیٹھیں دوبارہ۔
تمہاری اس فضول شاپنگ جس میں تم نجانے کون کون سے اوٹ پٹانگ ٹوٹکے کرنےکیلئے جڑی بوٹیاں تک اٹھا لائیں تھیں میرے سارے پیسے برباد الگ ہوئے تھے اور اچھی جلد کیلئے ترس الگ گئ تھی میں۔ جبھی تو آج کریم دیکھ کر مجھ سے رہا نا گیا اور کھو گئ میں پینڈوئوں کی طرح اسے دیکھ کر۔
الف دانت کچکچا رہی تھی۔
اوہو لیکن دیکھو فائدہ ہوا۔ اپنے غلط اندازے پر شرمندہ ہو کر معافی مانگتے ہوئے انہوں نے نا صرف ہمیں دس فیصد رعائیت دی بلکہ کریم کے پیسے ما نگنے کی بجائے مفت میں دے دئ اتنی اچھی کریم۔۔
عزہ نے مثبت پہلو نکال لیا۔
اور جو مفت کی بے عزتئ ہوئی۔
الف گھور کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائیو اسٹریم میں بے عزت ہوئی ہے۔ اب اصل ہو تو چینل بھی بند کرلے اپنا۔ عروج مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔ وہ دونوں بس میں بیٹھی تھیں۔ جو لبا لب بھری ہوئی تھی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کوئی مردو زن کی تشخیص نہیں تھی۔ عروج کھڑکی کی جانب بیٹھی تھی ۔ جھٹکا لگنے پر واعظہ کے منہ سے ہائے سی نکل گئ کیونکہ سر پر کھڑی لڑکی کا بیگ سیدھا ناک پر لگا تھا اسکے۔
بیانیئے سننے کو سر اٹھایا تو موصوفہ کو موبائل میں گم پایا۔ ٹھنڈی سانس بھر کر اس نے رخ عروج کی جانب کیا۔
میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اتنی مکار چڑیل لڑکی ہوگی۔مگر جانتی نہیں کس سے پالا پڑا ہے اسکا۔
اگر وہ کوریا کی چڑیل ہو سکتی ہیں تو ہم پاکستانی لڑکیاں بھی ڈائن سے کم نہیں۔ سمجھتی کیا ہے خود کو۔
اسکی تشبیہہ پر واعظہ کھانس کر رہ گئ۔
مطلب کوئی آخری حد نہیں۔ چڑیل بمقابلہ ڈائن۔
اس کا تخیل ویسے ہی اڑان بھرتا رہتا تھا۔فورا منظر تیار تھا۔
مشیل اور عروج دونوں ریسلنگ کے رنگ میں کھڑی تھیں۔
مشیل لال جوڑے میں ملبوس پھنکاری ۔ انتہائی خوبصورت چندی آنکھوں والی دوشیزہ نے گھونگھٹ اٹھا کر ترچھی نگاہ ڈالی تھی۔ لال کرتی جس پر گوٹا کناری لہنگا جس کا ذرا سا کونا اس نے سمیٹا تو اسکے پائوں دکھائی دیئے۔ پائوں کی گلابی ایڑیاں۔
ہیں۔ اس نے جھٹ اوپر دیکھا چہرہ سامنے ہی تھا دوبارہ پیر پر نگاہ کی۔۔ پیر تو الٹے تھے۔
عروج۔ اس نے مڑ کر عروج کو دیکھا۔
ڈاکٹرز والے مخصوص گائون میں منہ پر ماسک چڑھائے وہ اب آستین بھی چڑھا رہی تھی۔
مشیل لپکی عروج کی گردن میں دانت گاڑےعروج کو ایک جانب پھینکا اور اسکی جانب متوجہ ہوئی
بتائو ہم میں سے کون جیتا۔ ؟
چندی آنکھوں والی چڑیل اسکی۔جانب بڑھی۔
واعظہ تھر تھر کانپتے پیچھے ہوئی تو رنگ کے رسے سے ٹکرا گئ۔ چڑیل اسکی جانب بڑھے جا رہی تھی۔
مم۔ مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔میں کیوں بتائوں؟
کانپتے لبوں سے بمشکل پوچھا۔ پھر اپنے حلیئے پر نگاہ کی تو ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریفری کی طرح کی دھاری دار شرٹ اور کالی پتلون میں خود کو ملبوس پایا۔ یعنی وہ ریفری؟؟؟
دے؟ ہنگل میں بولو مجھے اردو نہیں آتی۔
چندی آنکھوں والی اردو فراٹے سے بولی تھی۔ ( بھئی اب سچ مچ تھوڑی مشیل تھی وہ تو واعظہ کا تصور تھا اور تصور میں کچھ بھی ہو سکتا)
مم۔ اسکی سٹی گم ہوگئ تھی
بولو اب چپ کیوں ہو۔ چڑیل تن فن کرتی بڑھی کہ اچانک ٹھٹھکی اسکے منہ سے خون کا فوارہ نکلا جو واعظہ کے چہرے پر چھینٹوں کی صورت پڑا۔ اس نے آنکھیں میچ لی تھیں
آخ آخ۔ اسکے منہ سے چیخ نکلی چڑیل اسکے قدموں میں ڈھیر ہو چکی تھی۔
اس نے خود کو ٹٹولا تو ثابت سالم پایا جھٹ آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو ٹیڑھئ گردن سے دیکھتی عروج ہاتھ میں ایک لال نرم سی چیز پکڑے چبا رہی تھی
کھائو گی؟ اس نے اسکی جانب بڑھایا
آخ۔ ایسا خونخوار تخیل اسے الٹی ہی آگئ۔
فورا حال میں تشریف آوری ہوئی۔
میں اس پر سو کروں گی دیکھنا سمجھتی کیا ہے خود کو پھینی ناک والی۔
عروج ابھی تک بڑ بڑا رہی تھی۔
اب بس بھی کرو سبق سکھا دیا نا ہم نے اس فضول یو ٹیوبر کو۔
واعظہ نے تسلی دینا چاہی۔
یو ٹیوبر مجھے تو یو ٹیوب سے بھی نفرت ہوگئ ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موبائل کائونٹر پر نمک دانی سے ٹکا کر اس نے یوٹیوب پر مطلوبہ ویڈیو کھولی۔ اس ویڈیو کی ڈسکرپشن میں ایک عدد ویب سائیٹ کا لنک تھا جسے کھولنے پر پوری اسکرین پر کیڑے مکوڑے بکھر گئے۔
اب یہ کونسی زبان ہے؟ الف نے حیران ہو کر پوچھا۔
مجھے کیا پتہ کوئی سائوتھ انڈین زبان ہی ہے ۔ نیچے دیکھو انگریزی میں بھئ لکھی ہے ترکیب۔
عزہ دیگچی میں مصالحہ بھون رہی تھی وہیں سے پکاری۔
زیر لب بڑ بڑاتے الف نے ترکیب پڑھنی شروع کی۔
یار یہ کہاں ہڑپہ کے کھنڈرات سے کھود کے نکالی ہے ترکیب ۔یہ تیتر کے انڈے کون مرغی کا پیٹ کھول کر اس میں بھرتا ہے بھلا؟
الف کی حیرانی عروج پر پہنچی۔
یار نئی چیز ہے سوچا آزما کے دیکھوں۔ عزہ پر جوش تھی۔
الف کو بھی جوش چڑھ گیا چٹکی بجا کے بولی۔
چلو پھر میں کوئی میٹھی چیز بناتی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج اور واعظہ جب تھکی تھکی گھر میں داخل ہوئیں تو چاول کے دم نکلنے کی خوشبو پھیلی تھی جبکہ الف کسٹرڈ بنا کر فریج میں رکھ رہی تھی۔
دونوں منے صوفے پر ڈھیر ہوئیں تو انکی اتری شکلیں دیکھ کر دونوں پاس چلی آئیں۔فکر مندہو کر نہیں متجسس ہو کر۔
کیا ہوا؟ منہ کیوں سوجے ہیں تم دونوں کے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشیل کا اپنا ذاتئ دو کمروں کا فلیٹ تھا جس کے ایک کمرے کو اس نے اسٹوڈیو بنا رکھا تھا۔ وہ دونوں اسکے گھر میں داخل ہوتے ہوئے جھجک سی گئیں۔ عروج نے چٹکی ہی کاٹ لی واعظہ کے بازو میں۔
آہ۔ وہ سسکی بھر کے رہ گئ۔
آجائو اندر۔۔ آرام سے آئو۔ مشیل نے انکو دروازے میں رکتے دیکھا تو مسکرا کر بولی
تم اکیلی رہتی ہو یہاں۔ بازو سہلاتے ہوئے واعظہ نے پوچھا۔
ہاں۔ یہاں آجائو یہ اسٹوڈیو ہے میرا ۔وہ مصروف سے انداز میں کہتی ایک کمرے کا دروازہ کھول کر انکو اندر آنے کی دعوت دینے لگی
اوہ ۔دونوں اطمینان سے آگے بڑھ آئیں
بس میرا بوائے فرینڈ ہی ہوتآ ہے یہاں میرے ساتھ۔
اسکا جملہ اب مکمل ہوا تھا۔ دونوں سٹپٹا گئیں۔ وہ ایک نسبتا درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس کے ایک کونے میں صوفے رکھے تھے دوسرے کونے کو اس نے سجا بنا رکھا ایک جانب کیمرے رکھے تھے بڑا سا اسٹینڈ لائٹ ٹرائی پوڈ دیوار پر اسکے یو ٹیوب چینل کا مخصوص بیک گرائونڈ وال اسٹیکرز کے زریعے بنا رکھا تھا ایک طرف چھوٹی الماری سی تھی جس میں مائکس وغیرہ رکھے نظر آرہے تھے تو اسکے بالکل مخالف ایک چندی آنکھوں والا لمبا سا لڑکا سجا تھا جو ایک کیمرہ کھولے نجانے اسکے کیا کل پرزے دیکھ رہا تھا۔
واعظہ تمہیں پٹخنی دینی آتی ہے نا؟
عروج کی ہنگل انگریزئ سب بھک سے اڑ گئ تھی۔
ہاں مگر ابھی کاسٹ اترے ذیادہ دن نہیں ہوئے۔
واعظہ نے اپنا مجروح بازو چھوتے ہوئے خود پر ترس کھایا۔
اس چندی آنکھوں والے لمبوترے لڑکے کے بازو کی مچھلیاں بلا مبالغہ بلیوں سی موٹی تھیں۔
منہ اٹھا کے دونوں اوکھلی میں سر دینے آگئی تھیں اب سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا حال ہوتا یا موصلوں سے ڈرنا نصیب میں لکھا جو بھی تھا بھگتنا ہی تھا۔
آجائو۔ہم پہلے بات کر لیتے ہیں پھر لائیو اسٹریم شروع کریں گے۔
وہ اسٹوڈیو والے کونے میں سجے دو اسٹولوں میں سے ایک پر بیٹھ گئ اور دوسرے پر اسے بیٹھنے کی دعوت دینے لگی
عروج نے واعظہ کو دیکھا پھر اسکے آنکھوں سے اشارہ کرنے پر گہری سانس لیتی اسکے مقابل آبیٹھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج مشیل کا چینل کھولے بیٹھی تھی وہ سب اسکے موبائل پر جھک آئیں صرف پندرہ منٹ کی اسٹریم دو گھنٹے میں ملین ویوز کراس کر چکی تھی۔دھڑا دھڑ کمنٹ بڑھ رہے تھے
تو جناب جو جو لوگ مجھے چیلنج دے رہے تھے انکو بتا دوں کہ آج میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ میری ویڈیو فیک نہیں تھی وہی لڑکی جو میری ویڈیو میں زور زور سے چیخیں مار رہی تھی میرے ساتھ بیٹھی ہے۔ انہی کپڑوں میں۔
میں نے اپنا پہلا چیلنج پورا کر دیا ہے۔
اب چیلنج کا اگلا حصہ پورا کرنا ہے سو جلدی جلدی سب آجائو۔
وہ خالص ہنگل میں بول رہی تھی۔
اور عروج ذرا ناظرین کو بتائیں اپنے بارے میں؟
اس بار وہ عروج کی طرف مڑ کر انگریزی میں پوچھ رہی تھی۔
عروج روانی سے انگریزی میں اپنا تعارف کروانے لگی۔
واعظہ کی اسکے الفاظ پر اور حرکات پر بھرپور نگاہ تھی۔
میرانام عروج ہے ۔پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں ۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے میں یہاں ہانگوک یونیورسٹی ہاسپٹل میں کام کرتی ہوں۔ مجھے تقریبا چار سال ہو رہے ہیں کوریا میں۔ بہت ذیادہ اچھی تو نہیں مگر کچھ ہنگل سمجھ لیتی ہوں میں۔ وہ مسکرا کر بولی۔
مشیل کا واضح طور پر رنگ سا اڑا تھا۔
۔ اس نے تھوڑا گڑ بڑا کر اپنے بوائے فرینڈ کو دیکھا تھا جو بظاہر بے نیازی سے موبائل پکڑے ایک جانب کھڑا تھا
یو ٹیوب پرلائیو اسٹریم سامنے اسٹینڈ پر ایک فوکس پر رکے کیمرے سے ہو رہی تھی تو اسکا بوائے فرینڈ کیوں اتنا ساکت کھڑا ہے۔
اسکی نگاہوں کے ساتھ واعظہ کی بھی نگاہ اس پر گئ تھی پھر اسکا سر بھی گھوما تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو دیکھتےہوئے وہ دونوں بھی بالکل سنجیدہ ہو چکی تھیں۔۔
یقینا اگلے کچھ منٹ بہت دھماکے دار ہونے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے چیلنج کا دوسرا حصہ جلد ہی پیش خدمت ہے آپ لوگ تحائف بھیجتے رہیئے یونہی جلدی جلدی۔
بیچ میں رک کر وہ ایک ادا سے بولی تھی۔
وہ کسی دوسری ایپ سے بھی آن لائن تھی یقینا جس میں ورچوئل گفٹس کسی گھٹیا چیلنج کو پورا کرنے کیلئے اکٹھے کیئے جا رہے تھے۔
تو تم مسلمان لڑکیاں اپنا چہرہ ڈھانپ کے رکھتی ہو؟ کیوں بھئی رنگ کم ہوتا ہے تم لوگوں کا اسلیئے؟
اسکا انداز تسمخر اڑانے والا تھا۔
نہیں بلکہ۔ عروج نے تپ کر جواب دینا چاہا
واٹ ایور۔ وہ ہاتھ ہلا کر بات بدل گئ۔
میرے لیئے بڑی دلچسپ بات ہے میرے ساتھ ایسی لڑکی بیٹھی ہے جسکا چہرہ دنیا میں کسی نے نہیں دیکھ رکھا ہا ہا ہا۔ گھر والوں نے بھئ نہیں ہا ہا ہا۔
بھئ تم خود اپنا چہرہ دیکھتی ہو یا خود بھی ماسک لگا کے آئینہ دیکھتی ہو۔
وہ ٹھٹھا لگا کے ہنس رہی تھی۔
یہ ہرگز بھئ اچھا مزاق نہیں ہے۔ عروج تپ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔تمہیں اس طرح اسلامئ شعائر کا مزاق اڑانے کا کوئی حق نہیں۔
اوہو کہاں جا رہی ہو۔ مشییل نے لپک کر اسکا بازوپکڑا۔
بیٹھو بھئ ابھی تو سب سے اہم کام باقی ہے۔
اسکی گرفت غیر معمولی طور پر سخت تھی اس نے کھینچ کر عروج کو اسٹول پر دھکا ہی جیسے دے ڈالا عروج ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اسکے کان میں مشیل کی تمسخرانہ آواز گونجی
تو جناب دیکھیں میری ویڈیو میں موجود لڑکی کا اصل چہرہ ۔۔۔۔۔۔
میں نے آپکا دیا چیلنج پورا کردیا ۔
اس نے کہتے ساتھ ہی عروج کے چہرے سے ماسک نیچے کرڈالا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحوں کا پردہ پڑا تھا کیمرے پر اتنا ہی وقت عروج کو سنبھلنے کو درکار تھا۔ وہ فورا ہاتھوں میں چہرہ چھپاتی کیمرے کے فوکس سے نکل گئ۔جھٹ ماسک ٹھیک کرنے لگی
مشیل کو عروج کا بازوپکڑ کر کھینچتے دیکھ کر واعظہ نے لمحہ بھر کا بھی موقع نہیں دیا تھا۔ اس نے اپنے گلے میں سے اسکارف کھینچ کر اسٹینڈ پر لگے کیمرے پر ڈالا تھا اور گھوم کر لات ماری تھئ اسکے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں پر موبائل اسکے ہاتھ سے گولی کی طرح نکلا تھا۔ اوپر پھر دھڑام سے زمین پر۔
اسکا بوائے فریںڈ اس اچانک حملے سے سنبھل کر ایکدم واعظہ کی جانب لپکا تھا جب عروج نے اسٹینڈ گھما کر کیمرے کا رخ اسکی جانب کیا۔
کیمرے میں فیچر ہوتے دیکھ کر وہ فورا رکا تھا۔ لائیو ایک دنیا دیکھ رہی تھی کہ وہ لڑکی پر ہاتھ اٹھائے لپکا تھا۔تبھئ بھونچکا کھڑئ مشیل عروج کی جانب لپکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی دھوکے باز لڑکی نکلی۔ تم دونوں کو اسکے دانت توڑ دینے چاہیئے تھے۔
الف کا خون کھول اٹھا تھا۔
ہم نے اسکی ساکھ برباد کر دی ہے۔ اسکی ویڈیو پر اسلام و فوبیا بحث چل پڑی ہے پوری دنیا کے مسلمان غصے میں بھر کر اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ یہ اسٹریم یقینا بلاک ہو جائے گی
عروج کو کمنٹس دیکھتے ہوئے اطمینان سا ہوا تھا۔
پھر بھی۔ بہت غلط حرکت کی ہے اس نے۔ عزہ کو بھی غصہ آرہا تھا۔
مجھے تو پتہ بھی نہ چلتا کہ اسکے کیا ارادے ہیں میں احمق سمجھی کہ واقعی وہ میرا ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے انٹرویو لینا چاہ رہی ہے۔یہ تو واعظہ نے کمنٹس کھول کر دیکھے تو پتہ چلا کہ اسے نیٹیزنز نے یہ چیلنج دیا تھا کہ اصل شکل دکھائے ماسک والی لڑکی کی تو یقین کریں گے کہ ویڈیو فیک نہیں ورنہ جس طرح لڑکی ڈر کر چیخ رہی ہے یقینا کوئی پیڈ ایکٹریس ہے جو منہ چھپائے اداکاری کر رہی ہے۔
اور اس نے چیلنج قبولتے کہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو ڈھونڈ نکالے گی اور اسکا لائیو چہرہ دکھائے گی۔ ۔
عروج نے تفصیل سے بتایا۔
کمینی گھٹیا لڑکی میں ہو تی تو منہ توڑ دیتی دوبارہ اپنی بوتھی دکھانے لائق نہ رہتی۔
اسکا چینل رپورٹ کرتے ہیں
الف اور عزہ اسکے غائبانہ لتے لینے لگیں۔
واعظہ انکی گفتگو سے الگ بالکل خاموش بیٹھئ سوچ میں گم تھی۔
تم کیا سوچنے بیٹھ گئیں۔
عروج اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکی
میں یہ سوچ رہی تھی ہمیں جانا ہی نہیں چاہیئے تھا ۔ اس نے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ہم نے اسکا نقصان کردیا ہے۔
وہ جو بھی سوچ رہی تھی کم از کم یہ سوچ آئی ہوگی اسکے دماغ میں اسکا ان تینوں کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔

کیا مطلب دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟
۔تینوں بھونچکا ہی رہ گئ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آندھی طوفان کی طرح وہ لڑکی بھاگتی ہوئی آئی تھی لفٹ میں۔ لفٹ کا دروازہ بند ہونے کو تھا جب اس نے زبردستی اینٹری ماری تھئ۔ سعدیہ فورا ایک قدم پیچھے ہوئی ورنہ وہ لڑکی اس سے آر پار ہو جاتی۔ طوبی بھئ ہاتھ بچاتی پیچھے ہوئی۔۔ گھورنا چاہا اس بے نتھے بیل کو شناسائی کی رمق آنکھوں میں در آئی
ایک تو میں نہ ہوں تو ضرور کسی مصیبت میں ٹانگ پھنسائے بیٹھئ ہوتی ہیں یہ۔ بڑ بڑاہٹ۔
فاطمہ ۔طوبی نے پکارا تو وہ بڑبڑاہٹ روک کر مڑی۔
ارے طوبی کیسی ہیں آپ کہاں سے آرہی ہیں؟ یہ ہاتھ کو کیا ہوا۔
فاطمہ پرتپاک سے انداز میں طوبی سے گلے ملی اور ہاتھ پکڑ ہی لیا۔ سعدیہ کے منہ سے بے ساختہ سسکاری سی نکلی۔ مگر طوبی بے نیاز ی سے بولی
کچھ نہیں ذرا سا جل گیا۔چاولوں کی پیچ سے
ذرا سا بہت جل گیا ہے چلیں ڈاکٹر کے پاس ۔ فاطمہ بند لفٹ میں ہی اسکا ہاتھ تھامتی چل پڑی تھی
ارے میں دوا لے آئی ہوں عروج کودکھا دوں گی۔
طوبی کو پیار ہی آگیا اسکئ فکر پر۔
ارے تم دونوں کا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔ یہ فاطمہ ہے ہماری پڑوسی اور فاطمہ یہ سعدیہ ہے۔
ہیلو۔ سعدیہ نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا جسے فاطمہ نے بھی گرم جوشی سے تھام لیا
آپکی بہن ہے یہ طوبی؟ بالکل آپ جیسی۔
فاطمہ نے فوری اندازہ لگایا۔
نہیں۔ سعدیہ ہنس دی
اچھا اچھا دلاور بھائی کی بہن ہے نند ہوئی آپکی۔
فاطمہ نے سر ہلایا۔
ارے نہیں میری نند نہیں یہ تو ۔۔اس بار طوبی نے غلط فہمی دور کرنی چاہی
اوہ تو واعظہ نے اسے کرایہ دار رکھ لیا۔
اس نے لمحہ بھی نہ۔لگایا اگلا اندازہ لگانے میں اور فورا غصے میں بھر گئ۔
اف کہا بھی تھا میری جگہ کسی کو نہ دے میں نے ہمیشہ تھوڑی حد ہے مجھے نکال ہی دیا کے فلیٹ سے ابھی پوچھتی ہوں۔
تبھی لفٹ کا دروازہ کھلا تو ان دونوں سے وضاحت لیئے بنا تن فن کرتی باہرنکلی۔
چلو۔ طوبی نے حیران کھڑی اس آندھی طوفان سی لڑکی کو دیکھتئ معصوم سی سعدیہ سے کہا
ہم نے بھی اسی فلور پر جانا ہے۔
طوبی نے وضاحت کی تو وہ سر ہلا گئ۔ اسی فلور پر آگے بڑھنا خطرے سے خالی نہیں لگ رہا تھا۔
فاطمہ اپنے فلیٹ کے دروازے سے کان لگائے کھڑی۔تھی۔ سعدیہ سے باتیں کرتی اپنے فلیٹ کئ گھنٹی بجاتئ طوبئ نے اسے دیکھا تو رہا نا گیا۔ تشویش میں مبتلا ہو کر اسکی جانب بڑھ آئی۔
کیا ہوا۔؟
طوبی اندر سے کوئی آواز نہیں آرہی نا چیخنے کی نا لڑنے کی۔سب ٹھیک تو ہیں نا۔ فاطمہ گھبرائی
ہاں ٹھیک ہی ہونگی خدا خیر کرے۔طوبی بھی گھبرا سی گئ
کورین اپارٹمنٹ سائونڈ پروف ہوتے ہیں عموما۔
سعدیہ نے تسلی دینی چاہی۔ دونوں نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ چپکی سی ہو رہی۔
یہ نہیں جانتی کہ اندر آوازیں کونسی ہوتی ہیں جو سات محلوں تک زندگی کا پتہ دیں۔
فاطمہ نے دروازہ زور سے کھٹکایا۔
طوبی نے جھٹ سے ہینڈل پورا گھما دیا ۔ پنجابی تشویش زدہ لڑکی کے ہاتھ لگنے سے سال۔خوردہ ہینڈل نے مزید احتجاج مناسب نہ سمجھا۔
دروازہ کھلا۔دلاوربنیان اور کھلے پاجامے میں مسکراتے ہوئے نکلے
آگئیں جان میں ابھئ۔
آگے کا جملہ منہ میں روح فنا۔
طوبی کی جگہ اجنبی پیاری سی لڑکی کھڑی تھی۔
وہ۔ سعدیہ نے بتانا چاہا کہ دلاور نے سٹپٹا کر دروازہ بند کردیا۔
ہائش۔ اسکے منہ پر دروازہ بند ہوا تو اس نے چارو ناچار مڑ کر طوبی کو دیکھنا چاہا۔ سامنے والے فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا اور طوبی اور فاطمہ غائب تھیں۔ اس نے کندھے اچکائے اور اسی دروازے کی جانب بڑھ گئ۔
دھڑ دھڑ دل قابو کرتے وہ جلدی میں بھاگ کر آئے اور اپنی ٹی شرٹ پہنی۔ اجنبی جوان جہان لڑکی کے سامنے وہ بنیان میں۔ انہوں نے جھرجھری لی۔
بھاگے بھاگے آئے دوبارہ دروازہ کھولا تو لڑکی گم۔ اور انکی سٹی بھی۔
ڈھلتی سہ پہر میں جنوبی کوریا میں خالص پاکستانی شکل کی لڑکی دیکھنا اور اسکا یوں غائب بھی ہونا۔
کون تھی وہ لڑکی بھی تھی یا؟
یہ خیال انکی رگوں میں خون جما گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی اندر زور و شور سے بحث جاری تھی۔
منے لائونج میں وہ سب اکٹھی تھیں۔ آلتی پالتی مار کے کانفرنس ہو رہی تھی سوائے فاطمہ کے سب آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ واعظہ اور عروج صوفے پر طوبی عزہ اور الف کارپٹ پر۔۔ جبکہ فاطمہ اس منے لائونج میں بھی ٹہل ٹہل کر شائد گینیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
یہ یو ٹیوبرز ایسے ہی ہوتے ہیں چار ویوز اور لائکس کیلئے کوئی بھی گرا ہوا کام کرسکتے تم دونوں کو سوجھی کیا تھی۔
کیا شوق آیا تھا یو ٹیوب ویڈیو میں آکر اپنا تماشہ بنانے کا۔
فاطمہ بڑھ بڑھ کر بول رہی تھی۔چلتے چلتے عزہ کا ہاتھ پائوں کے نیچے دے دیا وہ ہاتھ دباتی دہری ہوگئ۔
ہٹو موٹو۔ اس نے تڑپ کر اسکی ٹانگ پر چپت لگائی۔
فاطمہ کی بات جاری تھی یہ لفظ بھی اچک لیا
یا رموٹو بھئ کوئی۔۔بولتے بولتے عزہ کو گھورا پھر تصحیح کی۔
اوہو عقل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
یار مسلئہ ہمارے ثقافتی فرق کا ہے اورکچھ نہیں اس کو گمان نہیں گزرا کہ پردہ اتنا بڑا مسلئہ ہو سکتا ہے ہمارے لیئے۔
یہ واعظہ تھی الگ ہی کوئی منطق سمجھانے میں مصروف۔۔۔

دیکھو وہ لڑکی اگر واقعی اچھی نیت سے کام کرتی تو یہاں کتنی ساری پاکستانی اور انڈین لڑکیاں بھی کام کر رہی ہیں یو ٹیوب چینل چلا رہی ہیں انکا انٹرویو لیتی سعدیہ کا لے لیتی۔ تمہیں یہاں کوئی جانتا نہیں پہچانتا نہیں تمہیں بلایا اور تم چلی بھی گئیں۔
یہ طوبی تھی رسان سے سمجھانے لگی۔
بالکل سعدیہ کو بلاتی۔ فاطمہ نے ہاں میں ہاں ملائی پھر مڑ کر طوبی سے پوچھنے لگی
کون سعدیہ؟
سعدیہ یو ٹیوبر ہے نا ۔عزہ نے چٹکی بجائی۔
یہیں کوریا میں ہوتی ہے وی لاگ بناتی ہے۔ اتنی مزے کی ویڈیوز ہوتی ہیں اپنے دن رات کی روٹین دکھاتی ہے۔ کوریا کی سیر کرواتی ہے میں اسکی ہر ویڈیو شوق سے دیکھتی ہوں
صرف دیکھا کرو نا مرغی کے پیٹ میں تیتر کے انڈے بھر کر پکانے نا بیٹھ جایا کرو۔ بھوک سے آنتیں پلٹ رہی ہیں شاہی کھانا ہی پک کے نہیں دے رہا۔۔۔یہ کون ہے ۔
طوبی عزہ کی پشت تھی الف صوفے سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھئ تھئ تو اسی کی بولتے بولتے سب سے پہلے نگاہ لائونج کی دیوار کے پاس جھجکی سی کھڑی سعدیہ پر پڑی تھی سو روانی میں بولتی گئ۔
یہ لڑکی میں نے کہیں دیکھی ہے۔ ہے یاد نہیں آرہا
اسکے کہنے پر سب نے مڑ کردیکھا تو سعدیہ سٹپٹا سی گئ
اسلام و علیکم۔
یہ سعدیہ ۔۔ سعدیہ ہے نا؟
عزہ خوشی سے اچھل کر کھڑی ہوگئ۔
واعظہ نے بھی اسکی ویڈیوز دیکھ رکھی تھیں سو پہچان کر فورا استقبال کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ہاں یہ وہی تو ہے جسکی وجہ سے عزہ مرغی کے پیٹ میں تیتر کےانڈے بھر رہی تھی۔
الف نے اس بار۔ پہچان لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ :یہ بتائو تم کب سے ہو یہاں؟
عزہ: پتہ یےمیں سال بھر سے تمہاری سب وی لاگز دیکھ رہی ہوں
طوبی: یہ دائود کم کی ویڈیو میں بھی آئی تھی
عروج : تمہیں ہنگل پوری سمجھ آجاتی ہے؟
الف: یار مجھے تو ایک لفظ ابھی تک نہیں سمجھ آتی
طوبی: یار یہاں کھانے پینے کا کیا حل ہے ہم میاں بیوی تو سوکھے منہ واپس آجاتے سمجھ نہیں آتا کچھ کھا سکتے ہیں کہ نہیں؟
عزہ: ہمدردی سے: تو طوبی آپ پاکستانی یا انڈین ریسٹورنٹ چلی جایا کریں نا
طوبی آہ بھر کر: اب کوریا میں رہ کر بھی دیسی ہی کھانا ہے تو کیا فائدہ
الف: سعدیہ تم ویسےکیا پڑھ رہی ہو یہاں؟
عزہ: تم اکیلی رہتی ہو ؟ ڈر نہیں لگتا؟
فاطمہ: ڈر کیسا کوریا ہے یہ
عروج : یار اکیلے رہتے لگتا ہی ہوگا اندھیرے سے بھوت پریت سے۔
عروج کئ بات پر سعدیہ تھوڑا گھبرائی۔
عزہ: کوریا میں بھی بھوت ہوتے ہونگے؟
الف:ہاں ہونگے تو مگر ایک فائدہ ہے
سعدیہ بوکھلا کر : کیا؟
الف : پیارے ہی ہوتے ہونگےسامنے آ بھی جائیں تو ڈر نہیں لگے گا 😍
الف کی بات پر عزہ نے اسکے سر پر بلا تکلف چپت لگائی سعدیہ کی بھی اسکا جملہ سن کر جان میں جان آئی۔
منے لائونج میں اب سعدیہ بھی کارپٹ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ان سب کے نرغے میں اور سوالوں کی۔بوچھاڑ جاری تھی سب اکٹھے پوچھ رہی تھیں اکٹھے ہی جواب دے رہی تھیں۔ خود ہی سوال خود ہی جواب۔ اچھا انٹرویو ہو رہا تھا سعدیہ کا۔
بس کرو اسکو اتنا تنگ مت کرو کہ دوبارہ کبھی ملنے کا سوچ کر بھی کانوں کو ہاتھ لگائے۔
یہ واعظہ تھی مسکرا کر ان اوور ایکسائیٹڈ لڑکیوں کو ٹوکا۔وہ کچن سے ٹرے میں کھانا لگا کے لارہی تھی۔
اسے کھانا لاتے دیکھ کر جھٹ پٹ الف اور عزہ بھی اٹھ گئیں
پلیٹیں چمچ گلاس منا دسترخوان بچھا کھانا سجا
کھانا ایک الگ سرپرائز تھا
یہ کیا ہے۔
فاطمہ طوبی عروج کے منہ سے استعجابیہ اور صدماتی جملہ نکلا تو سعدیہ خوشگوار حیرت میں پڑ گئ۔ واعظہ الف کو یہ صدمہ پہلے پہنچ چکا تھا ایک بڑی سی طشتری میں سالم روسٹ مرغ مصالحے دار چاولوں پر اکڑا بیٹھا تھا اکڑا یوں بیٹھا تھا کہ چونکہ پیٹ میں افراد کو مد نظر رکھتے ہوئے عزہ نے انڈے بھرے تھے تو کچھ ذیادہ بھر گئے نتیجتا اسکو بٹھانا پڑ گیا تھاہاں ٹانگوں میں رسی مطلب دھاگا بندھا تھا۔
یہ تو۔۔ سعدیہ حیران سی رہ گئ تھئ
کوزی نرا چاٹو ۔۔۔ چن۔
عزہ خالصتا کوریائی انداز میں دونوں ہاتھوں سے انگلی انگوٹھے والا دل بنا کر لہرائی۔
تمہاری ویڈیو دیکھ کر اسکو بنانے کا دل کیا تم سب لوگ اتنا چٹخارے لیکر کھا رہے تھے کہ میں نے ٹھان لی کہ ضرور یہ بنائوں گی۔
عزہ بچوں کی طرح پرجوش تھی۔ سعدیہ اسکے انداز پرہنس دی۔
چکھ کر بتائو کیسا بنا۔
عزہ بڑے اشتیاق سے اس سے کہہ رہی تھی۔ سعدیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی پلیٹ میں چاول نکال لیئے۔
پہلا نوالہ چمچ سے لیکر منہ میں رکھنے لگی تو ٹھٹک سی گئ
وہ سب اسےبغور دیکھ رہی تھیں۔
اس نے جھجکتے ہوئے نوالہ منہ میں لیا۔۔
دیکھنے میں وہ بیٹھا ہوا مرغ جتنا بھی عجیب لگ رہا ہو ذائقہ چاولوں کااصل پکوان سے قریب قریب تھا۔کافی مزے کا
بہت مزے کا بنا ہے عزہ۔ سعدیہ نےکھلے دل سے تعریف کی تو عزہ کو لگا محنت وصول ہوگئ
اسکو اطمینان سے کھاتے دیکھ کر باقیوں نے بھی ہمت کی اور اپنی پلیٹ میں نکالنے شروع کیئے چاول
یار یہ انڈے اتنے چھوٹے کیوں ہیں؟
عروج نے ہی مرغ کا آپریشن سب سے پہلے کیا تھا
یہ تیتر کے انڈے ہیں۔ سعدیہ نے حیرت دور کرنی چاہی اسکی
تیتر حلال ہوتا یے نا۔۔
الف کے منہ سے بے ساختہ نکلا
ہاں نا یہ ڈش سعدیہ خود بیٹھی کھا رہی تھی اسی کے چینل سے تو پتہ چلاکوزی نرا چاٹو بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
عزہ نے سمجھایا تو طوبی جھٹ بولی
یہ عید والی ویڈیو تھی نا اس میں تم نے سرخ سوٹ پہنا ہوا تھا نا میں نے بھی دیکھ رکھی ہے۔

انکی یادداشت پر سعدیہ حیران ہو کر ہنس دی
مجھے نہیں پتہ تھا آپ لوگ میری وییڈیوز اتنے شوق سے دیکھتے ہیں۔
اچھا ایک بات بتائو جو لوشن وغیرہ تمہاری ویڈیوز میں ہوتے ہیں ان میں سور یا گھوڑے کی۔چربی تو نہیں ہوتی نا ہم وہ استعمال کر سکتے ہیں؟
طوبی کواچانک خیال آیا تو پوچھ بیٹھی۔
ہیں سعدیہ حیران رہ گئ تھئ
ایسا بھی ہوسکتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طویل ترین دن کا اختتام ہوا تھا کھانے کے بعد باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں لگا تھا ۔واپسی پر سب سعدیہ اور فاطمہ کوبس ااسٹاپ تک چھوڑنے آئی تھیں۔ سعدیہ اور فاطمہ بس میں چڑھ گئیں توان سب نے ہاتھ ہلا ہلا کر خدا حافظ کہا بس نظروں سے اوجھل ہوگئ۔پھر واپسی کی راہ لی۔ رات کے ساڑھے نو ہو رہے تھے اس وقت بس اسٹاپ پر بالکل رش نہیں تھا ۔وہ سب آرام سے چہل قدمی کر رہی تھیں۔موسم سرد سا تھا۔ خنک سی ہوا جسم میں پھریری سی دوڑا دیتی تھئ۔
یار یہ کیا مزاق ہے یہاں اتنی سردی کیوں ہوگئ ہے ابھی سے۔
الف بھنائی۔ وہ سب دو دو کرکے چل رہی تھیں۔عروج اور واعظہ پیچھے تھیں آگے الف اور عزہ
یار ویسے سعدیہ کتنی سویٹ سی ہے نا؟
عزہ دل سے خوش ہوئی تھی اس سے مل کر باتیں کرکے۔
میں نے اس سے کہا ہے اگلی ویڈیو میں ہم سب کا نام۔لے۔
عزہ نے مڑ کر عروج کو بتایا تو وہ چھیڑنے لگئ
ہاں ساتھ یہ بھی بتائے کیسے الف نے کھولتا ہوا کسٹرڈ کھلا کر اسکا منہ ہی جلا دیا تھا۔
جان کے تھوڑی کیا تھا۔ کب سے تو کسٹرڈ فریج میں رکھا تھا اب وہ اوپر سے جم گیا مگر اندر سے کھولتا ہوا نکلا۔
الف کھسیا سئ گئ تھئ۔ سعدیہ کا چہرہ ایکدم سرخ ہوا تھا
کسٹرڈ کو فورا فریج میں نہیں رکھتے احمق پہلے روم ٹیمپریچر پر ٹھنڈا کرتے ہیں۔ عروج اسے مت دے رہی تھی۔
مجھے کیا پتہ تھا۔الف نے کندھے اچکائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف اپنے گھر میں جیسے ہی داخل ہوئی اسکا پالتو کتالوسی دوڑتا ہوا آیا تھا اور اسکے قدموں میں لوٹنے لگا۔۔
ہائے لوسی۔۔ اس نے فورا اسکو بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔
تھکی تھکئ سی کمرے میں آکر وہ فورا بستر پر دراز ہوئی ۔
اف تھک گئ۔ کتنا بولتی ہیں یہ لڑکیاں مگر مزا آیا اتنے سارے ہم وطنوں اور ہم زبانوں سے مل کر۔
اس نے اپنے موبائل میں ابھی تازہ کھینچی ڈھیروں ڈھیر تصویروں کو اسکرال کرنا شروع کیا۔
پھر اپنی آج کی تصویر انسٹا پر لگا کر عنوان دینے لگی۔
کچھ یادیں ہم کیمرے میں قید نہیں کر پاتے مگر وہ دل میں قید ہو جاتی ہیں اور ہمیشہ ایک مسرت بھرا احساس ہمراہ رہ جاتاہے۔ عزہ ، الف ، واعظہ ، عروج اور طوبی جن سے میری ملاقات تصوراتی رہی مگر دلچسپ بھی۔ یہ احوال وی لاگ کے ذریعے دیکھنے کو نہ سہی مگر بلاگ کی صورت میں آپ سب کو پڑھنے کو مل سکتا ہے۔سو ضرور پڑھیئے گا دیسی کمچی۔
پھر ملیں گے انشا اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔۔ جاری ہے۔