قسط 18
وہ دونوں تھکے تھکے سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔
سیہون دروازے کے پاس رکھے ریک میں جوتے بدلنے رکا تھا تو فاطمہ بے تکلفی سے سیدھا بڑھتی گئ۔
سیدھی لائونج میں آکر صوفے پر۔گری تھی ۔ بلاک ہیل والے سینڈل والا پائوں صوفے پر جمانے ہی لگی تھی کہ خیال آیا تو اسٹریپ اتارنے لگئ۔۔سیہون نے خاصی ناپسندیدگی سے اسے باہر کے جوتے گھر میں لاتے دیکھا مگر بولنے کی بجائے رخ بدلتا سیدھا کچن میں لینڈ کیا تھا۔ انکے چھوڑے ہوئے برتن جوں کے توں پڑے تھے وہ خاموشی سے پلیٹیں سمیٹنے لگا۔۔ فاطمہ سینڈلز سے پیر آزاد کر کے صوفے پر دراز ہوگئ ۔ نور کا چہرہ اسکی نگاہوں سے جا نہیں رہا تھا۔ کیسا پکار رہی تھی انکو۔ بے چاری۔ کیا خبر تھی اتنا معمولی سا مزاق اتنی مصیبتیں کھڑی کردے گا۔کیا فلمی سین ہوا ہے۔ اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
بات سنو تم لوگوں کے ہاں رشوت وشوت نہیں چلتی؟ میرا مطلب ہے اگر ہم کچھ دے دلا کر نور کو چھڑواسکیں عید سے پہلے۔۔
فاطمہ ایکدم پرجوش سی ہو کر اٹھ بیٹھئ۔۔ سیہون نے سرد سے انداز میں اسکا جوش وخروش دیکھا
عید کب ہے؟ اسکا سوال منطقی تھا۔۔
آج چھبیسواں روزہ ہے تو اگر انتیس کی عید ہوئی تو دو دن۔ وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئ۔
اوہ خدایا مجھے لیلتہ القدر یاد نہ رہی حد ہوگئ اتنی بھلکڑ کب ہوئی میں۔ ایک تو جب سے کوریا آئی ہوں مزہب سے ہی دور ہوتی جارہی ہوں امی تو ۔۔۔ اس نے سر پر بلا تکلف دو تین چپیڑیں مار لیں۔ وہ اردو میں بول رہی۔تھی سو سیہون کندھے اچکا کر پلٹ کر چولہا جلانے لگا۔ چولہا جلا کر اس نے سنک سے کپ میں پانی لیا ریک سے دیگچی اٹھا کر چولہے پر رکھی پانی ڈال کر پلٹا تو اوپر کی سانس اوپر نیچے کی نیچے رہ گئ۔اسکے بالکل برابر میں
فاطمہ دونوں ہاتھ کمر پر جمائے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
کچھ پوچھا ہے میں نے۔
کیا؟ اسے واقعی یاد نہیں تھا۔
کوئی راشئ افسر ہے جان پہچان والا جس سے کہہ سن کر دے دلا کر ہم نور کو دو دن میں چھڑوا لیں؟
اس نے گہری سانس لیکر رپیٹ ٹیلی کاسٹ چلایا۔
کتنے پیسے ہیں تمہارے پاس۔
سیہون نے تولتی نگاہوں سے دیکھا
میرے پاس۔۔ جوش سے کہتے وہ حساب کرتی گئ اور جیسے اسکی خوش فہمیوں کے غبارے میں سے ہوا بھی نکلتی گئ۔
میں اپنی بات نہیں کر رہی مطلب اگر نور پیسے دے دلا کر جان چھڑوانا چاہے اس پولیس کیس سے تو۔۔
اس نے جھٹ پینترا بدل لیا تھا۔ سیہون سر جھٹکتا انسٹنٹ کافی کا پیکٹ نکالنے لگا۔
کوریا میں اتنا آسان نہیں قانون سے بچ جانا ورنہ میں اور تم یہاں اکٹھے نہ ہوتے۔ اسکا انداز سادہ سا تھا اپنی بات کہہ کر وہ ایک اور کپ پانی کا ساسر میں ڈالنے لگا۔ فاطمہ چپ سی ہوگئی۔
کافی کپوں میں نکال کر ایک کپ فاطمہ کے آگے رکھ کر وہ سنک میں اکٹھا کیئے برتن دھونے لگا تھا۔ فاطمہ بلا ارادہ اسے دیکھتی رہ گئ۔ نفاست سے ایپرن پہن کر برتن دھوتا وہ یقینا کافی سگھڑ لڑکا تھا۔۔ سگھڑ لڑکا وہ اپنی اصطلاح پر ہنس پڑی۔ پلیٹ دھو کر ریک میں رکھتے سیہون نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ فاطمہ گڑبڑا گئ۔ کیا سوچتا ہوگا اسے گھور رہی ہوں میں سدھر جائو فاطمہ خود کو ڈپٹ کر وہ بات بدل گئ۔ ۔
تم نے میری سے کیا کہا ۔۔میرے ۔۔ وہ اٹکی۔ میرا مطلب ہے ہمارے بارے میں میں یہاں اس طرح تمہارے اپارٹمنٹ میں کیوں رہ رہی ہوں۔ وہ بھی یہاں آتی ہوگی۔ اگرکبھی آگئ تو۔۔
مجھے دیکھ کر اسے غلط فہمئ۔ دیکھو ایک بار پٹ گئ بار بار نہیں پٹ سکتئ میں اسکے ہاتھوں ۔۔ پہلے بتادوں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر باقاعدہ وارننگ بھی دے دی۔
سیہون تین پلیٹیں تندہی سے دھو رہا تھا اتنی تندہی سے کہ فاطمہ وضاحت ہی دیتی چلی گئ ۔ مگر ادھر گہری خاموشی چھائی رہی۔۔ برتن دھو کر ریک میں لگا کر وہ سکون سے نیپکن سے ہاتھ پونچھ رہا تھا۔ فاطمہ کو اپنا آپ احمق لگنے لگا تو اسکے سامنے رکھے دوسرے کپ کو اٹھا کر وہ ذرا سا جھکا۔
وی بروک اپ ۔۔ ڈونٹ ووری ۔۔ وہ اب یہاں کبھی نہیں آئے گی۔
سادہ سا گمبھیر لہجہ نہ کوئی نارسائی کا غم چھلک رہا تھا نا لہجے میں کرچیاں بکھری تھیں۔ مسکرا کر وہ کپ اٹھا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
واہ اتنی آسانی سے بریک اپ نا صنم رہا نہ غم رہا۔
فاطمہ کو رشک آیا۔
ہاں بھئ کوریا ہے پاکستانی لڑکوں کو لمحہ نہیں لگتا بھلانے میں اوپا کیوں مایوس کرتے ایک نمبر کے بے وفا لوگ ہیں دنیا میں بے چاری میری۔
اسے لڑکی ہونے کے ناطے ہمدردی اسئ سے ہوگئ تھی۔ کندھے اچکا کر اس ہمدردئ کا حق ادا کرتے بڑا سا گھونٹ بھرا پھر برا سا منہ بنالیا۔ کڑوی ترین کھولتی ایکسپریسو نا دودھ نہ چینی۔
یہ زہریلا مواد پلاتا ہوگا اسے جو چھوڑ گئ۔
اس نے بھنا کر بند دروازے کو گھورا جو اسکے کہتے کے ساتھ ہی کھل گیا۔۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا ۔ سامنے سیہون تھا پریشان سا اسے جلدی جلدی میں موبائل کان سےہٹا کرکال بند کرتا والٹ جیب میں گھسیڑتا ۔۔
مجھے جانا ہوگا واعظہ کا فون آیا ہے وہ پولیس اسٹیشن میں ہے؟ وہ تیزی سے بتاتا بیرونی دروازے کی جانب بڑھا۔
کیا ہوا؟
فاطمہ گھبرا کر اسکے پیچھے آئی
کیاہوا بتاتے کیوں نہیں؟ کہیں۔
اسکے زہن کے گھوڑے تیزی سے دوڑے
جوتے پہنتےہوئے سیہون مناسب الفاظ سوچ رہا تھا کہ فاطمہ نے معاملہ سوچ بھی لیا اور پریشان ہو کر پوچھ بھی لیا
کہیں۔ کہیں نور نے خود کشی تو نہیں کرلی۔؟؟؟؟
سیہون دانت پیس کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک آدھے گھنٹے میں وہ سب پھر تھانے میں موجود تھے۔
کسی پڑوسی نے انکے گھر سے شور و غوغا کی آوازیں سن کر پولیس کو فون کر دیا تھا۔ عین پولیس نے تب چھاپا مارا جب ہے جن ہائے ہائے کرتے دلاور کو سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ درو دیوار خون سے رنگے پولیس والے حق دق ہی رہ گئے وہ تو معمولی گھریلو جھگڑا سمجھے تھے مگر انہیں مزید فورس بلانی پڑی اور دلاور کیلئے ایمبولینس بھئ۔
سو نتیجتا وہ سب تھانے میں تھے ۔اس بار ہے جن عروج واعظہ کے ہمراہ الف عزہ اور عشنا بھی تھیں۔ ہونا طوبی نے بھی تھا مگر 119 ایمبولینس میں دلاور کو جب لے جا رہے تھے تو اس نے جو نیر بہائے ایمبولینس کو چلنے تک نہ دے رہی تھی ہر بار کہتی۔
دلاور کچھ تو بولیں۔ دلاور بولتے
میں ٹھیک ہوں طوبی ۔ مگر اپنی آہ و بکا میں سنتی ہی نہیں اور چیخ مار کر روتی
ہائے کیا کردیا میرے میاں کو بول بھی نہیں پارہے۔۔
آخر اسے بھئ ایمبولنس میں بٹھا لیا گیا۔ایک اہلکار انکے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھ کر گیا بقیہ ان سب کو عزت سے پولیس وین میں ہتھکڑیاں ڈال کر بٹھا کرتھانے لے آئے۔
وہ سب بنچ پر قطار میں سر جھکائے بیٹھی تھیں۔ زندگی میں پہلی بار ان کلائیوں نے چوڑیوں کی بجائے ہتھکڑیاں پہنی تھیں لگ رہا تھا پورے پولیس اسٹیشن میں ایک ایک فرد انہیں گھو ررہا ہے تھو تھو کر رہا ہے۔
آپ کو شائد غیر ملکی ہونے کے سبب نہیں معلوم مگر جانور کو گھر میں خاص کررہائشی عمارت میں ذبح کرنا منع ہے۔ آپکو اگر مرغی کھانئ تھی تو آپ اسکی گردن بھی دبا کر مار سکتی تھیں یقینا اتنا بڑا مسلئہ پیدا نہ ہوتا۔
اہلکار نے بڑی فرصت سے انکودیکھتے ہوئے کہا تھا۔ الف نے دانت کچکچا کر گھورا
کیسا تاڑو ہے سامنے بیٹھ کر گھور رہا ہے آنکھیں نکال نہ دوں اسکی۔
ششس۔ عزہ نے کہنی مارکر اسے خاموش کرایا۔
ان میں سے کسی نے اسکو جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔
ہم نے مرغی قبضے میں لیکر گھر سے خون کے نمونے لیکر لبارٹری میں ٹیسٹ کیلئے بھیج دیئے ہیں۔انکا نتیجہ آنے تک تو کم از کم آپکو جیل کی ہوا کھانی ہی پڑے گی۔
وہ اہلکار یقینا سلاخوں کے باہرجیسے خاص طور پر انکا دل جلانے کو انگریزی میں بول رہا تھا۔
اسکی انگریزی کتنی صاف ہے۔ عشنا نے رشک سے اسکی گٹ پٹ سن کر کہا تھا۔
ہے جن سر تھام لیا۔ان لوگوں کو صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ اس نے رخ موڑ کر واعظہ کو دیکھا۔ وہ بالکل خاموش زمین پر نگاہ جمایے گہری سوچ میں گم تھی
فاطمہ اور سیہون حواس باختہ سے داخل ہوئے پولیس اسٹیشن میں۔ پہلی نگاہ سیہون کی ہےجن پر پڑی تھی۔ وہ سیدھا اسی کے پاس آیا۔ فاطمہ کو دیکھتے ہی الف اور عزہ کھل اٹھی تھیں۔اسے آتے دیکھ کر لپک کر اٹھیں تبھی انکے قریب بے ضرر بنا کھڑا اہلکار مستعد ہوا۔ عزہ اور الف نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی۔
تم سب یہاں کیسے پہنچ گئیں۔۔ فاطمہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرغی گھر سے سر کٹی برآمد ہوئی تھی اور گھر میں جتنے بھی افراد رہتے تھے بظاہر صحیح سالم تھے سو قتل کی دفعات نہ لگانے کیلئے سیہون نے اپنے تعلقات استعمال کرکےکہہ سن کر اور نجانے کتنے جتنوں کے بعد اس کیس کو صرف شک کی بنیاد پر قتل یا گھریلو جھگڑا قرار دے کر ایف آئی آر میں مناسب ترامیم کرائیں۔ انکو کم از کم مرغی کے خون کی رپورٹ آنے تک گھر کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔ گھر سیل تھا۔ چونکہ انہیں نفری بلانی پڑی تھی وہ بھی کورین کرائم برانچ کی خصوصی ٹیم کہ کہیں قتل کا معاملہ تو نہیں سو ان سب کی تفصیلات لیکر انکو اگلے ایک ہفتے تک سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سیہون کی ضمانت جو اسکا تازہ تازہ خریدا فلیٹ تھی لی۔گئ تھی۔
خدا خدا کرکے پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کر سکھ کی سانس لی تھی۔
یعنی کوریا میں راشی افسر ہوتے ہیں۔ ویسے کم جونگ۔۔
فاطمہ سیہون کو جتانے والے انداز میں کہہ رہی تھی وہ قصدا ان سنی کرکے آگے بڑھا۔واعظہ کا شدید موڈ آف تھا وہ ان سب سے قصدا پیچھے چل رہی تھی۔
باہر بارش ہو رہی تھی۔ موسم انکے لحاظ سے سرد اور کوریا کے لحاظ سے خوشگوار ہو گیا تھا۔
ہم رات کہاں گزاریں گے۔۔۔عشنا کو وہ برستی رات یاد آئی جب وہ مالک مکان کے نکال دینے پر سڑک پر گزارنے والی تھی۔
اور اسے واعظہ مل گئ تھئ۔ اس نے مڑ کر واعظہ کی جانب دیکھنا چاہا۔ ان میں سے کسی کے پاس چھتری نہیں تھی۔ ہے جن اور سیہون انہیں وہیں رکنے کا کہہ کر آگے سڑک کی جانب بڑھ گئے۔
سیہون نے ٹیکسی روکی۔ الف عزہ عروج عشنا پیچھے بیٹھ گئیں فاطمہ کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ واعظہ کی جانب متوجہ ہوا۔
میرا خیال ہے مجھے بڑی آنکھیں اچھی لگنے لگی ہیں۔
واعظہ بیزار سی شکل بنا کر زمین پر ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔
تم بہت موٹی ہو بالکل گائے جیسی۔
اس نے سامنے آکر بغل بجائی۔
واعظہ شدید چڑ چکی تھی اسے سڑک کنارے سے جوس کی خالی بوتل مل ہی گئ تھئ۔ جھک کر تاک کر سیہون کو دے ماری وہ ہنستا جھکائئ دے گیا۔
۔فاطمہ کی ٹیکسی روانہ ہوچکی تھی سو۔۔۔ ہے جن اب دوسری ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا مڑ کر دیکھا۔ سیہون نہایت خوشگوار موڈ میں واعظہ کے گرد گول گول چکر کاٹ رہا تھا۔ اپنے بھیگے ہوئے اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹین ایجرز کی۔طرح مشہور دونوں پائوں اچکا کر ہوا میں ٹخنے بجانے والا ڈانس اسٹیپ کرتے ہوئے۔
نجانے میرے دل کو کیا گائے۔۔ ابھی ٹو یہیں۔ ٹھا۔۔ آگے۔۔
اس نے سوچنے کی اداکاری کی واعظہ اب بری طرح تپ چکی تھی۔ اس بار اس نے زمین سے کچھ اٹھا کر مارنے کی بجائے سیدھا سیہون کا بازو مروڑ دیا تھا ۔ وہ آگے سے اور کھل کر ہنسا پولیس اسٹیشن کےشیشے کے آر پار دروازے سے دیکھتا گارڈ اور ٹیکسی روک کر انہیں بلانے کیلئے متوجہ کرتا ہےجن ۔ وہ دونوں ان سے بے نیاز تھے۔ سیہون پٹے جا رہا تھا مگر بولے جا رہا تھا واعظہ غصے سے سرخ ہو رہی تھی
ویسے جونگی تمہاری آواز پہچان گیا۔۔ عجیب بات ہے نا ؟ چھے سال ہو رہے ہیں تمہاری اسکی۔ بولتے بولتے جب واعظہ کا گھونسا مزید زور کر کندھے پر پڑا تو
سیہون بازو چھڑاتا بھاگا واعظہ اپنی زبان میں کچھ کہتی اسکے پیچھے بھاگی یہ سارا منظر دیکھتے ہے جن نے مڑ کر ٹیکسی والے کودیکھا پھر کہنے لگا
میرا خیال ہے اب ہمیں اس ٹیکسی کی ضرورت نہیں پڑے گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون نے کین کھولا گھونٹ بھر کر جھر جھری سی لی۔ پھر اسکی جانب بڑھا کر بولا
پیوگے؟
ہے جن نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا۔ تبوکی کو چاپ اسٹکس سے کھاتے ہوئے واعظہ نے کڑے تیور سے گھورا
بچھی سا؟ (دماغ خراب یے کیا)شرم نہیں آتی بچے کو شراب آفر کر رہے ہو۔
بچہ جب دو بالغ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوگا تو بچپنا ویسے بھی جاتا رہے گا۔ سیہون کا انداز بے نیاز سا تھا
مزے سے بیئر کے گھونٹ بھرتا وہ تبوکی کا بھی لطف لے رہا تھا۔
اس کنوینیس اسٹور کے باہر لگے بنچ پر بارش سے بچاتی وہ بڑی سئ چھتری ان پر سایہ کیئے تھی۔ کن من برستی بوندیں موسم خوشگوار کر گئ تھیں۔ ہے جن کو بھوک لگ رہی تھی مگر ان دونوں کا کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا۔ ایک تبوکی کی پلیٹ بنوا کر چاپ اسٹکس مار رہے تھے۔
وہ گہری سانس بھرتا اٹھا اور اندر اسٹور میں چلا گیا۔
انسٹنٹ نوڈلز ساتھ کمچی کا پیکٹ خریدا پیسے سوجو کے ساتھ سیہون کے ذمے ڈلوا کر نوڈلز میں گرم پانی ڈاپنسر سے ڈال کر وہ باہر آگیا۔۔ دونوں اب ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔ وہ خاموشی سے واعظہ کے برابر آبیٹھا اور نوڈل ٹونگنے لگا۔
تمہیں اس بھری دنیا میں سوائے اسکے کوئی نہ سوجھا؟
واعظہ نے دانت کچکچائے
تمہیں اس بھری دنیا میں رات حوالات میں گزارنے چھوڑدیتا تب عقل ٹھکانے آتی۔
سیہون بھنا کر بولا
چھوڑ دیتے۔ صبح ویسے بھی انہوں نے رپورٹ آنے پر چھوڑ ہی دینا تھا ہمیں ۔۔ واعظہ نے جزباتی ہو کر میز پر مکا مارا۔ ہے جن کا سوپ چھلک چھلک اٹھا۔
کس دنیا میں رہتی ہو پرائم منسٹر کی بیٹی ہو جو وہ تمہارئ لیئے صبح صبح ٹیسٹ کرواتے؟ کم ازکم بھی ہفتے بھر میں نتیجہ آئے گا تب تک سڑتیں جیل میں۔
سیہون نے چبا چبا کر کہتے میز پر ہاتھ مارا۔ جو سوپ واعظہ کے میز پر ہاتھ مارنے سے چھلک نہ سکا اب چھلک ہی گیا۔ کھولتے نوڈلز ہےجن کا منہ جلا گئے اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر پیالہ اٹھا لیا۔
جب ایک دن جیل۔میں گزار سکتی تو ہفتہ بھی گزار لیتی۔ آئیندہ میں مر بھی رہی ہوں تو میری ایسی مدد کرنے کا سوچنا بھی نا سمجھے۔۔
واعظہ دونوں ہاتھ میز پر مار کر اٹھتے ہوئے چلائی۔
میرا واقعی دماغ خراب ہوگا جو میں تمہاری مدد کرنے کا سوچوں بھی۔ کہہ سیکی ۔۔ دماغ سے پیدل لعنتئ ہوں میں۔ جو تمہیں دوست سمجھا اور مدد کیلئے دوڑ پڑا بھگتو تم خود ہی اپنی ان ہم عمر لے پالک بیٹیوں کے کرتوت کسی بیوہ ماں کی طرح۔ جوابا اسی کی طرح چلاتا دھاڑتا سیہون بھی میز پر ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔
دنیا میں بڑے سے بڑے احمق گزرے ہوںگے مگر اگر مقابلہ کرایا جائے تو تم سے احمق اور عقل سے پیدل لڑکی دنیا میں کہیں نہ ہوگی۔ اور تم سے بڑا پاگل میں ہوں جو تمہارئ پیچھے۔
اس نے جھلا کر کین زمین پر مارا ۔۔۔
واعظہ کچھ کہتے کہتے رک کر لب بھینچ کر دیکھتی رہی پھر پیر پٹختی پلٹ کر مخالف سمت تیز تیز قدم اٹھاتئ چل پڑی۔ سیہون نے چند لمحے گہری سانس لیکر کر خود کو پرسکون کرنا چاہا۔ ہے جن نے پیالہ دوبارہ میز پر رکھ کر کھانا شروع کردیا۔ سیہون برستی بارش میں لمحہ بہ لمحہ دور جاتی واعظہ کو دیکھ رہا تھا یقینا اسکے پیچھے جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے میز سے موبائل اٹھا کر جیب میں رکھ لیا۔اسے جانے کیلئے پرتولتے دیکھ کر وہ جلدی سے نوڈلز نگل کر بولا
میرے نوڈلز کے پیسے دیتے جائیں۔
سیہون نے اس کو گھور کر دیکھا۔
افطار کے وقت پولیس والیاں آگئیں تھیں بھوک سے برا حال ہورہا تھا میرا۔
اس نے سیہون کو خشمگیں نظروں سے گھورتا دیکھا تو مسکین سی شکل بنائی
تم میری دم میں کیوں بندھے۔۔ سیہون نے بڑ بڑاتے ہوئے جیب سے اپنا پرس نکالا
میں جان کے نہیں بندھا۔
ہے جن برا مان گیا۔
ان سب کو ٹیکسی میں بٹھا دیا میری جگہ ہی نہیں تھی میرے فرشتوں کو خبر نہیں آپکا فلیٹ کہاں ہے کہاں جاتا میں اگر آپ دونوں کے ساتھ نا آتا تو۔
ہےجن نے بچی کھچی کمچی بھی نوڈلز پر۔ڈال لی۔ خفا خفا سے انداز میں بولتا ہے جن۔ سیہون نے پیسے نکال کر میز پر رکھے اور جس سمت واعظہ گئ وہاں دوڑ لگا دی
بچا کھچا سوپ اور نوڈلز منہ میں بھر کر ہے جن نے بھی تقلید کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کی رہبری میں وہ سب اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔
الف کے منہ سے بے ساختہ وائو نکلا تھا۔۔
ویسے تو باہر عمارت ہی شاندار تھی اپارٹمںٹ کیلئے انکی توقعات بڑھ گئ تھیں مگر یہ انکی توقعات سے زیادہ خوبصورت تھا۔ وہ سب گھوم گھوم کر گھر دیکھنے لگیں۔
دو کمرے ایک نہایت صاف ستھرا سجا ہوا ۔۔۔بستر کی چادر بے شکن کپڑے سمٹے ہوئے الماریاں بند صاف ستھرا ۔۔
یہ سیہون کا روم ہے تم لوگ۔ فاطمہ نے انکو تنبیہہ کرنی چاہی مگر وہ لوگ بے مزا سئ ہو کر باہر نکل آئیں
یہ استعمال ہی نہیں کرتا ہوگا سیہون۔۔عروج نے ناک چڑھائی
فاطمہ لب بھینچ کر رہ گئ۔
سب با جماعت دوسرے کمرے کی۔جانب بڑھیں
کمرے میں جیسے بھونچال آیا ہوا تھا بیڈ سے لیکر کمرے میں سجے صوفہ سیٹ تک کپڑوں کا جیسے سیلاب آیا ہوا تھا ۔ چائے کے ڈسپوزایبل کپس جگہ بے جگہ بکھرے تھے تولیہ زمین پر ایک مانوس سا لیڈیز بیگ بیڈ پر اوندھا کر جانے کیا تلاشا گیا تھا کہ پرس کی چھوٹی چھوٹی اشیاء میک اپ کا سامان سینی ٹایزر آئینہ والٹ سب بیڈ پر بکھرا تھا
سیہون کی گرل فریںڈ بھی رہتی یے یہاں۔
بظاہر خواتین کے کپڑے ہی بکھرے تھے سو عروج کا اندازہ کسی حد تک منطقی تھا۔
مگر یہ ٹاپ تو مجھے لگ رہا کہیں دیکھا ہے میں نے۔
عزہ نے صوفے پر سے پیچ اور گرے کمبیںیشن کا لانگ ٹاپ اٹھایا
آہ ہاں لڑکیوں کے ہی ایسے کپڑے ہوتے ہیں فاطمہ کےپاس بھی ایسا ہی ٹاپ ہے ہے نا۔
عشنا فورا مدد کو آئی۔ اسکی اس مد دپر فاطمہ نے کھاجانے والی نگاہوں سے گھورا اسے۔
تم لوگ کیا گھر کا جائزہ لینے لگ گئے ہو رات گزارنی ہے بس جیسے تیسے۔
فاطمہ نے گڑبڑا کر بیگ کو اٹھاکر بیڈ کے نیچے گھسیڑ دیا۔ مگر عروج الف اور عزہ اب کسی اور ہی۔جانب متوجہ تھیں ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھا پیارا سا فریم جس میں سیہون اپنی والدہ اور کسی خوبصورت سی لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔
عزہ نے آگے بڑھ کر فریم اٹھا لیا۔
یہ میری تو نہیں ہے۔ عروج نے تصدیق چاہی۔
ہاں وہ تو پھینی ناک کی ہے یہ تو بہت خوبصورت ہے۔۔ عشنا نے کہا تو وہ سب جھک گئیں۔
سیہون ڈبل ڈیٹ کر رہا ؟ یہ لڑکی گائوں میں بیوی ہے اور شہر میں وہ میری کو پھنسائے ہے۔
الف نے کڑیاں ملائیں اور تاسف سے چیخ ہی تو پڑی۔
سب لڑکے ایک جیسے ہوتے چاہے کورین ہوں یا پاکستانی۔
کوئی پاکستانی ڈرامہ نہیں چل رہا یہاں۔ فاطمہ جانے کیوں جھلا رہی تھی۔ بیڈ ، صوفے سے کپڑے اٹھا کر گولے بنا رہی تھی عشنا بیڈ کی چیزیں اٹھانے لگی۔۔
اور تم لوگ ان چیزوں کو مت چھیڑو پتہ ہے نا میری کتنی جنگلی بلی ہے۔ اتنا بھاری ہاتھ ہے اسکا کیوں فاطمہ۔
عروج بیڈ پر گرتے ہوئئ فاطمہ کو چھیڑ رہی تھی۔
ویسے مجھے امید تو نہیں تھی فاطمہ سے مگر فاطمہ نے کافی ضبط کیا تھا اس دن گال لال ہوگیا تھا اسکا مگر اس نے پلٹ کر میری کا منہ نہیں توڑا۔
الف بھی عروج کے ساتھ مل گئ۔
ادھار رکھا ہوا ہے اسکے کم از کم دو تھپڑ لگائے بنا کوریا سے نہیں جائوں گئ۔ عزم کیا ہوا ہے میں نے۔ فاطمہ بظاہر مزاقا ہی کہہ رہی تھی مگر ایسا عزم اس نے سچ مچ بھی کر رکھا ہوگا عشنا کو اندازہ تھا۔ وہ اسکی الماری میں چیزیں رکھ رہی تھئ جب اسکے سامنے ایک فریم آیا۔ تصویر اچھی طرح دیکھ کر اس نے الٹ کر رکھ دی۔ اور الماری بند کر دی۔ اسکو مخاطب کرنے کی نیت سے عزہ مڑ کر اسے ہی دیکھ رہی تھئ۔ اس نے کندھے اچکا کر سر جھٹکا اور تصویر واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔

جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *