Desi Kimchi Episode 32

قسط 32
منہ ہاتھ دھو کر وہ تولیے سے چہرہ تھپتھپاتی باتھ روم سے نکلی تو عشنا کو خلا میں گھورتے مگن پایا۔ دوسرا کمرہ مچھلی بازار بنا ہوا تھا ان سب کا یقینا آج رت جگے کا ارادہ تھا۔ فاطمہ بھی یقینا آج وہیں سوتی یا جب سونے کا ارادہ باندھتی تو واپس آجاتی یہاں۔عشنا ڈبل بیڈ پر کرائون سے کمر ٹکائے گہری سوچ میں گم تھی۔
واعظہ نے اسکے منہ پر تولیئے کا گولا سا بنا کے دے مارا۔
کیا ہوا۔ وہ چونک کے سیدھی ہوئی
دو دن سے کہاں غائب تھیں؟
اسکا سوال سیدھا کڑا تھا انداز تفتیشی یقینا بنا جواب ٹلنے والی نہیں تھی۔
عشنا نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری پھر سیدھی ہوبیٹھی۔
وہ۔
آئیم سوری واعظہ۔ وہ کہہ کر سر جھکا گئ تھی۔
مجھے یہ بوگس بکواس سوری نہیں چاہیئے۔ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور کل مجھے اس کمرے میں رات کو نظر نہ آنا۔
وہ قطعی انداز میں کہتی اپنے بیڈ کی جانب بڑھ گئ۔
عشنا کو اندازہ تھا اسکا یہی ردعمل ہونا تھا۔ پھر بھی وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی۔
میں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھئ۔ نور کی وجہ سے پہلے ہی آپکو بہت پریشانی اٹھانی پڑی۔ میں کل ہر صورت چلی جائوں گی آپ فکر مت کریں۔ میں نے جھوٹ بولا مگر میں یہاں اتنے عرصے رہنے کا ہر حساب بے باق کر دوں گی۔ بس مجھے
وہ دھیرے سے بول رہی تھی مگر مخاطب کو سننا بھی گوارا
نہیں لگتا تھا جبھی منہ تک کمبل تان کر اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیونگ رو پکا مر مٹا ہے تم پر۔
نور نے نتیجہ نکالا ۔
وہ سب ڈبل بیڈ پر گول میز کانفرنس میں مصروف تھیں۔جیل کا احوال اور نور کے پیٹھ پیچھے جو کچھ ہو گزرا اسکی تفصیل مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے سنائی اور سنی جا رہی تھئ۔
عروج نے اپنے ساتھ گزری بپتا سنائی تو سب کی سب نتیجے نکالنے میں لگ گئیں۔
نہیں یار ایسے کیسے۔ عروج نے جھٹلانا چاہا۔
ہم اتنے عرصے سے ساتھ ہیں اسپیشلائزیشن میں وہ میری مدد کردیتا ہے ہم اچھے دوست ہیں تو ظاہر ہے تجسس ہوتا ہے کہ جس انسان کے ساتھ ہیں آپ اسے دیکھیں بھی۔
اس نے تفصیلا اسی لیئے بتایا کہ اسکے اس اندازے کو مکمل غلط قرار دے سکے۔
وہی تو جب آپ ساتھ ساتھ ہوتے ہو کسی سے بہت باتیں کرتے ہو تو دل آجاتا ہے اس انسان پر جو آپکے سر پر سوار ہو۔
نور اپنے اندازے کو غلط ماننے پر تیار نہ تھی۔
تو اور کیا مجھے نہیں ہے جن سے محبت ہو گئ تھی ؟
عزہ جھٹ ہاتھ ہلا کر بولی سب سکھیوں نے اسے یوں گھورا جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔
اتنا یاد آتا ہے مجھے سمسٹر بریک آئے میں پکا اس سے ملنے اسکے گائوں جائوں گئ۔ بلکہ تم سب بھئ چلنا تم سب کو بھئ تو محبت ہوگئ ہے نا ہے جن سے۔
انکی گھوری کے برعکس وہ بات کو اپنی مرضی سے دوسرا رخ دے چکی تھی۔
افوہ اس محبت کی بات نہیں ہو رہی احمق۔ نور جھلائی۔
پھر کس محبت کئ بات ہو رہی ہے؟ عزہ سابقہ انداز میں پوچھتے ہوئے ہمہ تن گوش ہوئئ۔
دیکھو بلڈ ڈرامے میں جو دکھایا اچھا سا اوپا پے درپے ملاقات پرہوتی ہے اپنے نئے کولیگ سے ۔ہیروئن اس سے چڑتی ہے پر ساتھ ساتھ رہ کر چڑ ختم ہو جاتی ہے پھر وہ دوست سمجھتئ ہے اور پھر ہیرو کی نیت میں بھی فتور آجاتا ہے۔ہیروئن اسے اپنا دلہا اور وہ ہیروئن کو اپنی ہونے والی دلہن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے مگر بظاہر وہ لوگوں کا علاج کر رہے ہیں آپریشن کر رہے اندر کسی کی نبض دیکھتے اپنی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ نور ڈرامائی انداز میں باقائدہ ایکشن کے ساتھ بیان کر رہی تھی۔
نور کو شائد جیل میں یہ لت لگی ہے فارغ بیٹھ کر کہانیاں سوچنے کی۔ عروج الف کے کان میں جھکی۔

اچھا۔۔اس محبت کی بات ہو رہی ہےبلڈ تو نہیں دیکھا میں نے مگر میڈیکل ڈرامے میں ڈاکٹر اسٹرینجر دیکھا۔ ڈاکٹر اسٹرینجر میں جھڑوس سے لی جونگ سوک سے ہیروئن کو ہو گئ تھی محبت ل۔۔
سوچتے ہوئے اسے جھٹکا سا لگا۔
عروج تمہیں ڈاکٹر سیونگ رو سے؟ وہ بھی جھڑوس؟
عروج نے مٹھئ بھر چھلی ہوئی مونگ پھلی اسکے منہ میں ٹھونس دی۔
تم سوچنے کی زحمت مت کرو۔ اس نے چڑ کر کہا۔
فاطمہ نے عزہ کو بھی بغور دیکھا اور نور کو بھی۔ ایک کو اپنے اندازے کی درستگئ پر مان تھا تو دوسری کے چہرے پر تجسس دبا دبا سا جوش تھا۔ تھوڑا تھوڑا اسکے اندازے پر یقین بھی تھا۔ مگر اسکے اندازے کو جھٹلایا اس نے جس سے توقع بھی نہ تھی۔
لو جو ساتھ رہیں ایک دوسرے کے سر پر سوار رہیں انکو محبت ہو جاتی ہے ایک دوسرے سے؟ پھر تو مجھے ژیہانگ سے ہو جانی چاہیئے۔
الف نے نتیجہ نکالا۔
اسکی بات پر سب سہیلیاں گھوم گئ تھیں اسکی جانب۔
کیا کہا تم اور ژیہانگ؟ وہ سب کورس میں چلائیں
ویٹ ویٹ۔۔ الف سٹپٹا سی گئ۔
میں نے تو مثال دی ہے پاگلو۔ اب اس طرح فاطمہ کو سیہون سے ہو جانی چاہیئے کیونکہ یہ دونوں تو رہتے ہی اکٹھے آہ سی۔۔
اسکی بات پر فاطمہ نے بلا لحاظ چپت لگادی تھی
بکواس نہ کرو ہم اکٹھے نہیں ایک ساتھ رہتے ہیں۔
وہ اسکے جملے کی نزاکت اسے باور کرانا چاہ رہی تھی
الفاظ مترادف میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ان الفاظ کا مطلب ایک ہی بنتا تھا۔
عزہ کھسک کر پہلے تو فاطمہ کی دسترس سے دور ہوئئ پھر ڈرتے ڈرتے کہا۔ فاطمہ آگ بگولہ ہو کر لپکی مگر نور اور عروج نے اسے پکڑ کر بچا ہی لیا عزہ کو
مجھے اردو سکھانے بیٹھی نا تو ہنگل میں گالیاں دوں گی بہت یاد ہو گئ ہیں مجھے۔
فاطمہ کے تیور کڑے تھے۔
کیسے۔
وہ سب حیران ہوئیں۔
سیہون کے ساتھ رہنے سے۔۔
فاطمہ نے دانت کچکچائے۔اسکے کندھے پر فلیش بیک نمودار ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائیش۔ جھو دوئے سو۔
좆됐어: meaning Fucked
دیگچی میں پانئ کھول رہا تھا ریمین ڈالتے ہوئے چھپاک سے اڑ کر اسکے بازو پر آلگا۔۔۔
تڑپتے ہوئے اسکے منہ سے نکلا تھا۔
فریج سے پانی کی۔بوتل نکالتے ہوئے فاطمہ نے بغور اسے دیکھا تھا۔
میل باکس سے میلز نکال کر لاتے ہوئے باآوازبلند وہ اپنے بنک کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا جس نے اسکی اسٹیٹمنٹ بھیجی تھی جسکے مطابق اسکے لیئے گئے قرض کی واجب الدا دو اقساط ہو چکی تھیں۔
یائونگ شنگ سہیکی۔۔
병신 새끼 : meaning Ass hole
کچن کائونٹر پر ناشتہ کرتی فاطمہ اسے بڑ بڑاتے آتے دیکھ رہی تھی۔

فٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے اسکی ناپسندیدہ ٹیم نے گول کیا تو منہ میں بھرے بلیک بین نوڈلز کا چھڑکائو کرتے وہ چلایا۔
چیح رائے
지랄:Fuck
اپنے کمرے سے نکلتی فاطمہ نے چونک کر لائونج میں اسے کم از کم چار مرتبہ یہ الفاظ دہراتے دیکھاتھا۔ نہیں سنا تھا کہنا چاہیئے ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوفوہ۔
عزہ نے ہاتھ نچا کر فلیش بیک ختم کیا۔
اتنے معصوم قارئین ہیں ہمارے انکو ہنگل کے اچھے لفظ سکھائو گالیاں کیوں سکھا رہی ہو ؟
میں کیا کروں واعظہ نے یہی لکھا ہے۔
فاطمہ کندھے اچکا کر بولی
اور کہہ سیکئ تو تکیہ کلام ہے سیہون کا۔ ابھی الٹیاں لگی ہوئی تھیں اسے دو دن پہلے مستقل اس بلیک بین نوڈلز والے ریستوران کو کہہ سیکی کہتا رہا میں سمجھی کہ نام ہے ریستوران کا۔
فاطمہ کے کہنے پر سب نے منہ بنایا۔
اتنے کورین ڈرامے دیکھ کر کم از کم اس گالی کا انکو پتہ تھا۔
دیکھا۔ تکیہ کلام بھی پہچاننے لگی ہے فاطمہ۔
نور نے تالی بجائی۔
فاطمہ تمہیں سیہون سے محبت ہو جائے گئ پکا۔ فورا واپس آجائو۔ عزہ سچ مچ ڈر سی گئ۔ فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے ایسے شخص سے کیسے محبت ہو سکتی ہے جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو دلیہ بنا کر لائی ہوں ۔مانا الٹیاں آرہی ہیں تمہیں مگر کچھ تو کھائو ایسے تو کمزوری ہو جائے گی۔
وہ بستر پر چت پڑا ہائے ہائے کر رہا تھا جب وہ ازراہ ہمدردی پیالہ بھر کر دلیہ بنا کر لائی
نہیں میں نہیں کھا سکتا مجھے ابھی بھی الٹی آرہی ہے۔ وہ کہتے کہتے بھی ابکائی لیکراٹھ بیٹھا
فاطمہ جھٹ دو قدم پیچھے ہوئئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ طبیعت تو کسی کی بھی خراب ہو سکتی ہے ایسے تو نہ گھن کھائو۔
فلیش بیک میں ہی سب سہیلیوں نے اینٹری مار دی تھی۔
فاطمہ نے گھور کر دیکھا۔
اسکی بات نہیں کر رہی پورا فلیش بیک دیکھو
فاطمہ کے دانت کچکچانے پر وہ سب فورا سے پیشتر غائب ہوئیں
ہٹو۔ سیہون منہ پر ہاتھ رکھتا اسکے ایک طرف ہوتے ہی باتھ روم بھاگا ۔۔۔۔
کیا بھیانک آوازیں آرہی تھیں۔
کھنکھارنے تھوکنے اور الٹی کی بھی۔
فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر باتھ روم کی جانب بڑھی۔
دروازہ بھڑا ہوا تھا اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا
آر یو آل رائٹ۔
دے۔ سہون نے کہنے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر الٹی کی۔ فاطمہ سے رہا نا گیا دروازہ کھول کر سیدھا سامنے لگے واش بیسن کی جانب بڑھی مگر وہ خالی تھا۔ اسے جھٹکا سا لگا۔ سیہون غائب ہو گیا۔ اس نے سیہون کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو ۔۔ تو۔۔ وہ ٹوائلٹ بول میں سر دیئےپڑا تھا ٹوائلٹ بول کے گرد بانہیں ڈال رکھی تھیں۔ اور سہولت سے فرش پر پڑا تھا ۔
وہ تیر کئ طرح اسکی جانب بڑھئ

تم ۔ٹوائلٹ بول میں کیسے گر گئے۔ ؟ وہ متوحش تھی
اسکی بات پر سیہون نے ٹوائلٹ بول کا سہارا لیتے ہوئے سر اٹھایا ۔اور دوسرے ہاتھ سے ٹٹول کر ٹنکی فلش بھی کردی۔
گرا نہیں ہوں۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر تسلی دینی چاہی۔ فلش چل رہا تھا وہ الٹی کرکے تھوڑی طبیعت بحال کر چکا تھا سو مڑ کر فلش کو تھام کر اٹھنے لگاایسے کہ چلتے فلش میں اسکا چہرا ٹوائلٹ سیٹ پر جھکا ہوا ہی تھا۔
فاطمہ کو بہت زور سے ابکائی آئی تھی اور وہ پلٹ کر باہر بھاگئ۔۔
لگتا یے وائرل ہے اسکی بھی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
فلش کا سہارا لیکر اٹھتے وہ سوچ رہا تھا۔ باآواز بلند۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ تو نہیں مگر وہ سب الٹی روکتی دہری ہوئی وی تھیں۔
صحیح کہہ رہی ہو محبت نہیں ہو سکتی۔
عروج نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے دل میں کہا تھا جو عزہ کی پشت سہلا رہی تھی۔
اوپا کو مسلمان تو ہونا ہی چاہیئے۔ الف مسکرائی۔اور نور کی پشت سہلانے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور نہار منہ صبح صبح جنرل اسٹور کے باہر دہی لینے کھڑے تھے۔ گائے کی بوتھی والا دہی خرید کر پلٹے تو ناک سرخ ہو کر سن ہو چکی تھی۔ انکا ارادہ سیدھا واپس جا کر بستر میں گھس جانے کا تھا۔ عین دفتر جاتے وقت ہی نکلوں گا بستر سے۔ وہ مصمم ارادہ کررہے تھے گھڑی دیکھے بغیر۔ جو انکے دفتر جانے کے وقت سے ریس لگانے کے در پر تھی۔
اسٹاپ پر ننھے منے بچوں کی اسکول بس آچکی تھی۔ جیکٹوں مفلروں میں ملفوف چندی آنکھوں والے بچوں کو انکی مائیں چھوڑنے آئی ہوئئ تھیں۔ سب بچوں کے مزاج برہم تھے اتنی سردی میں صبح صبح اٹھائے جانے پر۔انہیں دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
کوریا میں اتنی ٹھنڈ کیوں پڑتی ہے بھلا۔ اوپر سے اتنی صبح بچوں کو اٹھانا۔
سوچتے ہوئے خیال آیا کہ طوبی بھی انکے جگر گوشوں کو بیدار کر رہی تھی جب وہ ہانک لگا کر کہ ذرا باہر جا رہوں باہر نکل آئے کہ جلدی سے دہی خرید لائیں۔
ہائے معصوم آج اتنئ سردی ہے طوبی سے کہتا ہوں چھٹی کروادے بچوں کو
یہ ارادہ باندھتے ہوئے خود پر فخر سا ہوا کہ کتنے خیال رکھنے والے باپ ہیں۔
سڑک کے اختتام پر موڑ مڑتے وہ بھاگ کر جاتے ہائی اسکولر سے ٹکراسے گئے۔ اسکی ناک انکے کندھے سے لگی تھئ
چھے سو۔
بھاگتے بھاگتے وہ کہتا گیا۔
ارے۔ جتنئ دیر میں وہ سنبھلے وہ دوڑ چکا تھا۔ انہوں نے کندھا جھاڑا تو چپچپا سا محسوس ہوا۔
انہوں نے انگلیاں دیکھیں توتازہ خون بھرا تھا۔ وہ بوکھلا کر پلٹے۔
وہ لڑکا غیر معمولی رفتار سے بھاگتا دور جاتا دکھائی دے رہا تھا۔یقینا اسکی ناک سے خون نکل رہا تھا۔وہ چندلمحے دیکھ کر گہری سانس لیکر پلٹنے لگے تو سامنے سے چھے سات اسی لڑکے کے ہم عمر لڑکے یونیفارم پہنے آتے نظر آئے۔
بچ گیا سالا۔ بھگوڑا۔ مگر ناک پھوڑ دئ ہے سارا دن اسکول میں چہرہ چھپاتا پھرے گا۔
ایک زور زور سے بولتا دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ سب انکے پاس سے باتیں کرتے گزرے چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ کس سے بھڑ آئے؟
طوبئ نے دیکھتے ہی چیخ ماری۔
معمولی سا خون بھرا ہے میں ٹھیک ہوں۔
انہوں نے اپنی طرف سے تسلی دینی چاہی مگر الٹا اثرہوا۔
ہاں آپ تو ٹھیک ہیں نظر آرہا پر کس کا خون تک نکال دیا؟ یہ آپکا اپنا گائوں نہیں وہاں تو چودھراہٹ کا رعب تھا لوگ ابا کی وجہ سے دبتے تھے آپ سے مگر یہاں انجان ملک ہے میں کہاں پولیس وولیس سے آپکو چھڑاتی پھروں گی اوپر سے جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں فٹ سے ڈھونڈ نکالیں گے
یا خدا کوریائی پولیس کو کم نہ سمجھیں انکو تو رشوت بھی
طوبئ کا واویلا جاری تھا وہ تھوڑا جھلا گئے۔
اوفوہ کسی کو نہیں مارا ۔۔ ایک بچہ ٹکراگیا تھا زخمی تھا شائد۔
جھلا کر جیکٹ اتاری انہوں نے۔ناشتہ کچن سے لا کر میز پر لگاتے طوبئ نے بخشا نہیں خوب سنائی۔ وہ بھناتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر آبیٹھے۔
ہاں ایسی تو احمق ہوں میں۔ اور ایسی آپ توپ کہ۔آپ سے ٹکرا کر کوئی زخمی ہوگیا۔ نا بتائیں مجھے مگر یاد رکھیئے گا پولیس آئی تو جھوٹ نہیں بولوں گی ہاں۔
دھمکی دیتی وہ خود تو کچن میں چلی گئ۔
انکی چھوٹی صاحبزادی آنکھیں ملتی وارد ہوئی۔
طوبی بچے اٹھ گئے انکا ناشتہ بھی لے آئو دیرہو رہی ہے انکو۔
انہوں نے موضوع بدلا تھا
تم تیار کیوں نہیں ہوئیں ابھی تک؟
انہوں نے بچی کو نائٹ سوٹ میں ملبوس دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔ طوبی نے وہیں سے آواز لگائی
ہائے اسے کیوں اٹھا دیا اسکی چھٹئ ہے آج۔ایسے تو بچوں کی پڑھائی کی فکر نہیں ہوتی آج چھٹی والے دن بھی اسکول بھجوا رہے۔ ناراضی سے کہتے ہوئے
طوبی نے چائے کا کپ انکے سامنے لا رکھا اور جھٹ آگے بڑھ کر بیٹی کو ساتھ لگا لیا۔
میں نے تو نہیں۔ وہ سٹپٹائے

مما دودو۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
اچھا میں لاتی ہوں جائو بستر میں گھسو وہیں پی کر سوجانا۔
بچی کو بہلا کر بھیجا خود پھر کچن میں گھس گئ۔
اس بار انکی بڑی صاحبزادی یونیفارم پہنے بستہ اٹھائے تشریف لے آئیں۔
تم کیوں یونیفارم پہن کر آگئیں؟ جائو سوئوجا کر آج چھٹی ہے ۔
انکے آخری الفاظ انہیں خود بھی نہیں پتہ تھا کہ ادا ہو بھی پائے یا طوبی کی آواز میں دب چکے۔
بچی کیلئےتوس انڈہ اور دودھ ٹرے میں سجا کر لاتے وہ بھنائی تھی۔
خدایا کیا ہوگیا ہے آپکو اسکے سیشنل امتحان چل رہے چھٹی کروادی تو مارکس کٹ جائیں گے حد ہے بچوں کی تعلیم کی ذرا فکر نہیں چلو شاباش جلدی سے ناشتہ کرو آج پاپا چھوڑ دیں گے اسکول تمہیں۔
دلاور منہ کھول کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہی بے ہنگم سی بھاگ دوڑ انکے گھر میں چل رہی تھی۔ عروج کو اپنا پتلے پانی والے سینیٹائزر کی بوتل نہیں مل رہی تھی۔ عزہ کو ڈینم عبایا درکار تھا وہ بھی عروج کا کیونکہ رات کو اپنا عبایا دھو کر ڈالا تھا جو صبح تک سوکھ نہیں پایا تھا۔ الف اسکارف سر پر جمانے میں مصروف تھی فاطمہ کو چونکہ کہیں نہیں جانا تھا لہذا ان سب کیلئے انڈے پراٹھے کا ناشتہ بنا کر کچن سے آوازیں دے رہی تھی
نور اپنے بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ان سب کو بغور تک رہی تھی۔
تمہیں یہ کہتے عجیب تو لگ رہا مگر کیا کروگی گھر میں رہ کر ہمارے ساتھ یونیورسٹی چلو میری دوہی کلاسیں ہیں تم گھوم پھر لینا پھر ہم اکٹھے کہیں چلیں گے۔
یہ عزہ نے مشورہ دیا تھا جوابا وہ ہلکے سے مسکرا کر رہ گئ۔
ہاں چلو جا کر پتہ تو کرو پولیس نے یونیورسٹی کو مطلع کردیا تھا پھر بھی اتنی چھٹیوں کے بعد کیا کہتے یونی والے امتحان تو اگلے ہفتے ہیں ہو سکے تو دے ڈالو
الف اسکارف سرپر ٹکا چکی تھی۔ سو سہولت سے کہتی اسکے پاس آ بیٹھئ۔
اب اسکی ضرورت نہیں۔ نور نے گہری سانس لیکر دھیرے سے کہا تھا۔
کیوں؟ الف نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہ کیا
کیونکہ میں اسی ہفتے پاکستان واپس جا رہی ہوں ہمیشہ کیلئے۔
اس نے سابقہ ہی انداز میں جواب دیا ۔
۔ سیٹی ٹائزر بیگ میں رکھتی عروج جھکی رہ گئ تھی ، الف کا منہ کھل سا گیا تو عزہ بھی سب چھوڑ چھاڑ اسکے سامنے دھپ سے آ بیٹھی۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟
عزہ نے رونی صورت بنائئ
انکل نے کہا ہوگا ہم بات کریں منا لیں گے انکو فکر نہ کرو
عروج نے کہا تو الف نے زور و شور سے سر ہلایا
ہاں تو اور کیا ایسے کیسے تمہاری تعلیم ادھوری رہ جائے گی اور یہ تو اتفاق تھا نا گہانی مصیبت تھی شکر ہے ختم ہوئی اسکی سزا تو نہیں۔۔
انکل نے ظاہرہے یہی کہنا تھا نا وہ بھی غلط۔۔
عزہ نے کہنا چاہا مگر نور نے بات کاٹ دی۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ میرا اپنا فیصلہ ہے۔
وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھی۔
کیا فیصلے ہو رہے ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
فاطمہ دروازہ کھول کر جھانکتے ہوئے چلائی۔
جوابا چاروں ٹس سے مس نہ ہوئیں تو خود بھی پاس چلی آئی
کیا ہوا؟
تم ایسا کیوں کر رہی ہو اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے آرام سے اپنی تعلیم مکمل کرو برا خواب سمجھ کر بھول جائو۔
عروج نے سمجھانا چاہا۔
یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
نور مضطرب سی ہوئی۔۔۔۔۔
مجھے گھروالے امی بابا بہن بھائی سب بہت یاد آرہے ہیں مجھے نہیں لگتا اب مزید میں یہاں ان سب سے دور رہ پائوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود گر گئ تھئ سیڑھی سے۔
آٹھ سالہ نور پرنسپل آفس میں اپنا مقدمہ خود لڑ رہی تھی۔
اسکی سہیلی کا سر پھٹ گیا تھا اسکے والد بیٹی کے سر پر پٹی بندھی دیکھ کر سیخ پا ہو چکے تھے والدہ کو بچی سمیت گھر بھیج کر وہ باقائدہ نور کے والد سے معافی کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ نور کا نام اسکول سے کٹوانے کی بھی استدعا کر رہے تھے۔
پرنسپل نے دونوں کو باہمی گفتگو کے ذریعے معاملہ۔نپٹانے کا مشورہ دیا تھا۔
جانے کیسے والدین ہیں بچوں کی کوئی تربیت ہی نہیں کرتے۔ احساس ہی نہیں انکو کہ انکی بچی کی وجہ سے میری بچی موت کے منہ سے ہو کر آئی ہے۔ سرپھٹ گیا پندرہ سیڑھیوں سے نیچے آگری کچھ ہو جاتا اسے تو کون ذمہ دار تھا؟ اور اتنے چھوٹے بچے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے ہیں کوئی انہیں دھکا دے دیتا ہے کیسا اسکول ہے
وہ انکل بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے۔
دیکھیں دونوں کم عمر ہیں بچوں کو ہم سیڑھیوں کے قریب کھیلنے بھاگنے دوڑنے نہیں دیتے چھوٹی کلاسز کی تو دوسری منزل پر کلاس بھی نہیں ہوتی۔۔
معاملہ اپنے خلاف جاتا دیکھ کر پرنسپل صاحب نے فوری صفائی پیش کی تھی۔
پھر کیسے میری بچی سیڑھی سے گر گئ؟
ہمدانی صاحب جوش میں میز پر ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

اس بچی کو دیکھیں ابھی بھی یوں کھڑی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ساری بات تربیت کی ہوتی ہے۔ سوری تک نہیں بولا اس بچی نے اور باپ ہے کہ
انہوں نے خاموش کھڑی نور کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
اسکے بالکل خاموش بیٹھے بابا غیر محسوس سے انداز میں اٹھ کراسکی جانب بڑھے۔
اسکے قد کے برابر آکر خشک سے انداز میں پوچھا
کیا واقعی تم نے دھکا دیا تھا عالیہ کو؟
نہیں بابا ۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود سیڑھیوں سے گر گئ تھئ ۔وہ بھاگ رہی تھی۔
انہوں نے خاموشی سے ایک نظر اسے دیکھا۔
اب ظاہر ہے یہ یہی کہے گی مانے گی تھوڑی کہ
ہمدانی صاحب پھر کچھ کہنے لگے تھے کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
نور بہر حال آپکی سہیلی کو آپکے ساتھ کھیلتے ہوئے چوٹ لگ گئ ہے۔ آپ انکل سے سوری بولو اور وعدہ کرو آئیندہ شرارت نہیں کروگی۔
آٹھ سال کی عمر میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ اسکو غلط سمجھا گیا ہے اس سے اس غلطی کی معزرت کروائی جا رہی ہے جو اسکی غلطی کہیں سے نہیں تھی۔
یہ جملے دہراتے وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔ ہمدانی صاحب کا کچھ غصہ ٹھنڈا پڑا تھا مگر نور کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوا تھا کہ بابا اسے غلط سمجھ رہے ہیں۔
اسپتال میں باپ کی شکل دیکھ کر بت بن جانے والی نور کو دیکھ کر اسکے بابا کو کئی برس قبل کا یہ واقعہ یاد آیا تھا۔ جانے کیوں۔ شائد اسکے تاثرات دیکھ کر۔
نور کی آنکھوں میں جانے انہیں دیکھ کر یہ اعتماد کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے اسکے بابا سب سنبھال لیں گے نظر آنے کی بجائے ایک خوف سا دکھائی دیا انہیں کہ جانے بابا اسکا یقین کریں گے یا نہیں۔
برسوں قبل بھی انکو معلوم تھا کہ انکی بیٹی جھوٹ نہیں بولتی غلط نہیں مگر اس وقت انہیں ہمدانی صاحب کا غصہ ٹھنڈا کرنا ذیادہ ضروری لگا تھا یہ تو سوچا ہی نہ تھا کہ بیٹی کیلئے اس وقت انکا اس پر اعتماد کا اظہار کرنا ذیادہ ضروری تھا جبھی تو اس وقت بھی وہ کشمکش کا شکار لگ رہی تھی جانے بابا میرا یقین کریں گے کہ نہیں۔
ٹپ ٹپ کتنے آنسو انکی بیٹی کے چہرے پر پھسل آئے تھے۔ وہ سب بھول گئے یاد رہا تو بس یہ کہ انکی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔تڑپ کر آگے بڑھ کر انہوں نے اسے گلے سے لگا لیا تھا۔
مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
میں نے کچھ نہیں کیا بابا
وہ بابا سے جب کہنے لگی تو انہوں نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔مت گھبرائو میں آگیا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ رونا بند کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کھچا کھچ بھری تھی عزہ الف دونوں ہی کو بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی تھئ۔چونکہ صبح کا وقت تھا ذیادہ تر اسکول جانے والی عوام ہی تھی۔ وہ چار پانچ لڑکیوں جنہوں نےہائی اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا انکے قریب جا کھڑی ہوئیں۔ اس سے دیگر مرد حضرات سے بچت ہوگئ۔
سچ کہوں تو میرا بھی دل کر رہا نور کی طرح سب پڑھائی وڑھائئ چھوڑ کر پاکستان واپس چلے جانے کا۔ امی یاد آرہی ہیں۔
عزہ بسوری۔
مجھے نہیں لگتا کہ نور محض گھر والے یاد آرہے ہیں اسلیئے واپس جانے کا فیصلہ کر رہی ہے یقینا اسکے بابا نے کہا ہوگا۔
الف نے خیال ظاہر کیا۔
ظاہر ہے جیل میں رہی ہے وہ معمولی بات تھوڑی اسکے بابا جتنا غصہ کریں وہ کم ہے۔ پھر دیکھو یہاں ہم تو اسکی کوئی مدد نہیں کر پائے اسکے گھر والے ہی آکر اسے چھڑوا سکے تو پھر وہ یہاں اسے اکیلا کیوں رہنے دیں گے۔
عزہ کو اسکے بابا بالکل بھی غلط نہ لگے اگر وہ ایسا سوچ بھی رہے تھے تو صحیح سوچ رہےتھے۔
میں نے کب کہا کہ وہ غلط کر رہے ہیں بس مجھے لگا کہ نور ذیادہ ہی ڈر گئ ہے اسے کم از کم اپنے بابا کو سمجھانا تو چاہیئے۔۔۔
الف نے کندھے اچکائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاقات کے مخصوص اوقات میں اسکے بابا اس سے ملنے آئے تھے۔ پولیس افسرنئ اسکو کیبن میں چھوڑ کر پلٹ گئ تھی۔ وہ مرے مرے سے قدموں سے چلتی شیشے کی دیوار کے مقابل نشست آن بیٹھئ۔ شیشے کے پار اسکے بابا اسکے لیئے قانونئ مدد فراہم کرنے والے وکیل کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ اس نے سلام تک نہ کیا تھا۔ یاد ہی نہ رہا تھا۔ ہر بار بابا کو جیل میں ملنے آتے دیکھ کر اسکے دل پر منوں بوجھ آگرتا تھا۔ وہ سرجھکا گئ۔
ان شا اللہ کل تمہاری ضمانت ہو جائے گی۔ سب کاروائی مکمل ہو گئ ہے تم بس ان کاغذات پر دستخط کر دو۔
اسکو بتاتے ہوئے اسکے بابا مسکرا رہے تھے مگر انکی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔
اس نے میکانکی انداز میں خالی خالی نگاہوں سے سر اٹھا کر دیکھا۔ وکیل نے اسکے سامنے ایک فائل بڑھا دی۔ اس کے احساسات برف سے ہو رہے تھے۔ جیل میں رہتے لگتا تھا زندگی بس یہیں تمام ہو جائے گئ جب مایوسی کی انتہا پر رونا بھی چھوڑا تو اچانک۔۔
ضمانت۔
وہ چونکی۔
اسکا مطلب کچھ عرصے کی رہائئ بس؟ اسکا کیس جانے کتنے عرصے چلنے والا ہے وہ تب تک کیا
بابا مجھے پاکستان جانا ہے واپس فورا۔
دستخط کرتے کرتے رک کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ بے تابی سے شیشے کی دیوار یوں کھٹکانے لگی جیسے توڑ کر باہر نکل آئے گی۔
بابا مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں بابا۔
وہ دیوار کو بے تابی سے ہاتھ مار رہی تھی۔ ہزیانی سے انداز میں چیختے وہ بس ایک ہی جملہ کہے جا رہی تھی
بابا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔۔
۔ اسکے بابا اسکو یوں مضطرب دیکھ کر بری طرح بے چین ہو گئے
ہاں ہم پاکستان چلیں گے خود کو سنبھالو بیٹا
بابا مجھے ساتھ جانا ہے آپکے۔
بابا۔ وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔ اسکی پکار سن کر دو پولیس والیاں بھاگئ آئیں۔ انہوں نے اسکو پکڑ کر پیچھے کیا تووہ اور بری طرح مچل مچل کر رونے لگی
بابا ۔ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔
نور میری جان صبر کرو
بیٹا میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا
دیکھو۔
اسکے بابا بیٹی کی حالت دیکھ کر خود بھی رو پڑےتھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 31

قسط 31

سیونگ رو ہنسا تھا پھر ہنستا چلا گیا تھا۔ وہ غصے میں منہ پھلا کے اسے گھورتی رہی۔
اب اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے۔ اسکا انداز خفگی بھرا تھا۔
وہ دونوں دریا کے کنارے یونہی ٹہلنے چلے آئے تھے۔ قریب ہی کچھ نوجوان بچے گٹار وغیرہ سجائے گانے گانے میں مصروف تھے۔وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سرجھٹک کر آگے قدم بڑھا دیئے۔ سیونگ رو ہنستے ہنستے چپ ہوا چند لمحے اسے قدم بہ قدم خود سے دور جاتا دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر اسکی جانب بھاگ کر آیا۔
ہم طیش میں آکر اکثر ایسا ردعمل دے ڈالتے ہیں جو ہمیں تو بالکل جائز لگتا ہے مگر کسی دوسرے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔اگر ہم بس لمحہ بھر کو اپنے طیش پر قابو پا لیں تو کسی کا بہت نقصان کرنے کی بجائے اپنی بات اسے سمجھا کر اپنا اور اسکا دونوں کا نقصان ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
سیونگ رو کی اس لمبی تقریر پر اس نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟
اس نے گہری سانس بھری پھر اپنا موبائل نکال کر اس پر انگلیاں چلانے لگا کچھ نکال کر اسکرین اسکے سامنے کردی۔
بین مشیل، بین مشیل وی لاگز، اسٹاپ مسلم فوبیا، مشیل ازایکسٹریمسٹ، بائکاٹ مشیل ۔۔۔۔۔۔۔بیانئے مسلم آگاشی( معاف کردو مسلمان لڑکی)۔۔
وہ اسکرال کرتے کرتے تھکنے لگی۔
کوریا کے سوشل میڈیا پر ٹاپ تھری ٹرینڈز مشیل کے خلاف چل رہے تھے۔ لوگ اس کے خلاف بلاگز لکھ رہے تھے۔ اسکا یو ٹیوب چینل بند ہو چکا تھا۔ وہ ایک ویڈیو میں روتے ہوئے معزرت کر رہی تھئ۔
اس نے موبائل واپس کردیا۔ اب اسکے ساتھ جو بھی ہو اسے دلچسپی نہیں تھئ۔
اتنی چھوٹی سی بات پر پتہ ہے تم نے مشیل کا کیریئر ہی ختم کردیا ہے۔ سیونگ رو نے دھیرے سے کہا تو اسکے تن بدن میں آگ ہی لگ گئ۔چیخ ہی تو پڑی
چھوٹی سئ بات؟ یہ چھوٹی بات ہے مجھے دھوکے سے بلا کر جھوٹی کہانی سنا کر براہ راست میرے چہرے سے نقاب نوچ کر وہ دنیا کو میرا چہرہ دکھانے لگی تھی۔ ؟
تمہارا چہرہ کیا دنیا نہیں دیکھ سکتی؟
سیونگ رو نے سادگی سے سوال کیا۔
وہ جینز او رکرتے کے اوپر ہاسپٹل گائون میں ملبوس سر پر اسکارف اور چہرے پر ماسک پہنے ابھی بھی اپنے روز کے حلیئے میں ہی تھئ۔
میں پردہ کرتی ہوں۔ مکمل شرعی پردہ۔ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو حق نہیں کہ میرا پردہ برباد کرنے کا سوچے بھی۔
اسکا انداز قطعی تھا۔
یہ بات تم نے مشیل کو بتائی تھی؟ اس سے یہ بات کی تھی کہ تم اپنا چہرہ دنیا کو نہیں دکھا سکتیں؟ کیونکہ تمہارا مذہب منع کرتا ہے تمہیں اس سے؟
سیونگ رو رک کر اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
وہ تیزئ سے کہنے لگی تھی کچھ مگر چپ سی ہوگئی۔
اس نے جب پہلی ملاقات میں چہرہ دکھانے کی۔بات کی تھی تب اس نے صاف منع کیا تھا وجہ نہیں بتائی تھی پھر بھی مشیل کی غلطی ہر طرح سے تھی۔ سیونگ رو کو شائد اپنی ہم وطن کا درد فضول میں اٹھ رہا تھا۔
اسے خاموش دیکھ کر سیونگ رو جانے کیا سمجھا مزید اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا۔
تمہاری ویڈیو وائرل ہوئی تھی تو میں نے بھی دیکھی تھی تمہارے عبایا سے تمہیں فورا پہچان لیا تھا۔ وییڈیو کے نیچے کمنٹس میں لوگ مشیل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے کہ اس نے پیڈ ایکٹریس سے کلپ بنوایا ہے جبھی اتنا مکمل بنا ہے۔ اس کے پاس یہی راستہ تھا کہ تم سے وضاحت دلوادے۔ اب خود سوچو وہ تمہیں آکر یہ کہتی کہ لوگ تمہارے مزاحیہ ردعمل پر چسکا لیتے ہوئے تمہاری حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو کیا تم جاتیں اس کے چینل پر؟ چھے ملینز فالوورز کا اسکا چینل اسکی کمائی کا ذریعہ تھا۔ اس نے غلط بیانی کی مگر تم اسکے گھر اسکے اسٹوڈیو میں کھڑی تھیں اس نے جزباتی پن دکھایا مگر یہ بھی تو دیکھو وہ اور اسکا بوائے فرینڈ دونوں نے تم دونوں کو قطعی کوئی نقصان پہچانے کی کوشش نہیں کی۔تم لوگ اسکا کیمرہ توڑ کر آئیں تھیں۔ اس نے تم دونوں سے نقصان کی بھرپائی تک نہیں مانگی۔۔۔۔
اس سب کئ بجائے اگر تم وہیں اس سے براہ راست وضاحت کردیتیں تو بہتر نہ رہتا ؟
عروج کو یاد آیا تھا اس نے اس ٹرائی پوڈ کو غصے سے دھکا دیا تھا وہ اسکے سامنے پٹاخ سے کیمرہ سمیت زمین پر گرا تھا۔ مشیل آندے کرتی کیمرے کی جانب لپکی تھی تب وہ تن فن کرتی باہر نکل آئی تھی۔ اسکے پیچھے مشیل کے بولنے کی آواز آئی تھی مگر اس نے انکا پیچھا نہیں کیا تھا۔
سیونگ رو کی بات پر اسکی پیشانی تپ اٹھی تھی
تم وہاں موجود نہیں تھے۔ انتہائی بدتمیزی اور جارحانہ انداز میں وہ مجھ پر پل پڑی تھی۔۔ اگر میں اس وقت یہ سب نہ کرتی تو یقینا وہ میرا تماشا بنا چکی ہوتی دنیا میں۔مگر تمہیں وہ غلط نہیں لگ رہی کیونکہ وہ کورین ہے۔ یہ اسکا ملک ہے غلط میں ہوں جو یہاں ہوں ۔ نہ معاشرتی مماثلت ہے ہم میں نہ مذہبی اسکا قدم قدم پر احساس ہوتا ہے مجھے۔ ناحق کوریا آئی نہیں آنا چاہیئے۔تھا۔
وہ دانت کچکچا رہی تھی مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
۔میں نے زندگی میں کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہاں کوریا میں مجھے یہ کام بھی کرناپڑا، زندگی میں کبھی ویڈیو نہیں بنوائی یہاں میری ویڈیو بن کر وائرل ہوگئ۔ زندگی میں۔
وہ کہتے کہتے رک گئ۔
فارگیٹ اٹ۔ اس نے سرجھٹکا۔
کیا فائدہ تھا اس تقریر کو جھاڑنے کا۔ سیونگ رو نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
کیا میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں؟۔
سیونگ رو کی بات پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اتنا حیران ہوئی کہ پلک جھپکن ہی بھول گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اور سیہون بھاگے بھاگے پولیس اسٹیشن آئے تھے۔ نور اپنے والد کے ہمراہ پولیس اسٹیشن کے تفتیشئ کمرے میں بیٹھئ تھئ۔ ایک وکیل اسکی ضمانت کی کاروائی مکمل کروا رہا تھا۔ وہ بے چینی سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔ کاغذی کاروائئ مکمل کرکے جیسے ہی نور کمرے سے باہر آئی وہ بھاگ کے اس سے لپٹ گئ
بہت بہت مبارک ہو۔
نور کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ وہ واعظہ سے لپٹ کر رو دی۔
نور کے والد ہمراہ تھے سیہون نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا تو وہ بھی اپنی جھلمل آنکھیں پونچھتے دکھائی دیئے۔ اس نے انکو سہارا دے کر ویٹنگ ایریا میں لگے بنچ پر بٹھایا اور انکے لیئے پانی لینے چلا گیا۔
بس بس اب مت رو۔ واعظہ نے اسکی ہچکی بندھتے دیکھئ تو اپنے سے الگ کرکے ڈانٹنے لگی۔
اتنی ہمت دکھائی اتنے دن اب اچانک کیا ہوگیا ہے۔ حوصلہ کرو انکل بھی پریشان ہو گئے ہیں۔
اسکے ڈپٹنے پر اس نے اپنی آنکھیں پونچھ کر باپ کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ چہرے پر تھکن تھی مگر آنکھوں میں اطمینان تھا۔ وہ باپ کے پاس ہی بیٹھ گئ
آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں نا ابو؟
انکے شانے پر سر ٹکا کر وہ رندھی سی آواز میں پوچھ رہی تھی۔
انہوں نے اسکو پیار سے ساتھ لگا لیا اور سر تھپکنے لگے۔
سیہون پانی لیکر آیا تو اکیلا نہیں تھا ساتھ یون بے تھئ۔ ہاتھ میں ایک ٹفن کا ڈبہ پکڑے۔
مبارک ہو نور۔
کس دقت سے اس نے یہ لفظ بولا تھا اسکے چہرے سے نمایاں تھا۔ نور اور واعظہ دونوں کو ہنسی آگئ تھی مگر چھپا گئیں۔ اس نے جھک کر روایتی انداز میں سلام کرتے ہوئے اسے ڈبہ پکڑایا۔
کھمسا۔ نور کو بھئ بس اتنی ہی ہنگل آتی تھی۔
میں نے کہا تھا نا نور۔ہم بے گناہوں کو سزا نہیں دیتے بلکہ تفتیش کے ذریعے اصل مجرم تک پہنچنا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے اس لوکل گینگ کو پکڑنے کیلئے اپنی تمام تر مشنری لگا رکھی تھی۔ دو دن قبل غیر قانونی طور پر کشتی کے ذریعے ملزم چین جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہم بروقت پہنچ گئے۔ اور جیسے ہی اس نے قبولا اپنا جرم ہم نے تمہارا نام اس سب سے کلیئر کر دیا۔ آزادی مبارک ہو۔
اس نے شستہ ہنگل میں تفصیل سنائی تو جوابا سیہون نے مترجم کے فرائض نبھائے
بہت شکریہ۔ اسکے والد یون بے کا شکریہ ادا کررہے تھے۔
تمہارا تین ہفتوں میں پڑھائی کا کافی حرج ہوگیا ہوگا۔
واعظہ کو خیال آیا تو وہ جیسے چونک اٹھی
بس تین ہفتے؟ مجھے تو لگنے لگا تھا کہ سالوں سے جیل میں ہوں۔
وہ دن رات یاد کرکے پھر آبدیدہ ہو چلی تھی۔
بس اب مت رونا۔ گھر چلو نہائو نماز شکرانہ ادا کرو یہ وقتی مصیبت ختم ہوئی۔ واعظہ نے گھرکا تو وہ سر ہلانے لگی۔
باقی سب کیسی ہیں؟ آئی کیوں نہیں؟
اس نے سوال کیا۔ اس سے قبل کہ واعظہ جواب دے پاتی یون بے نے انکو مخاطب کر لیا۔
یہ کوڑا بنایا ہے میں نے۔ آپ لوگ کھا کر تو بتائیں کیسی بنی ہے؟ دراصل مجھے بہت شوق تھا آپ لوگوں سے رائے لینے کا میرے گھر تو سب کو بہت پسند آئے کوڑا ( ہاں کوڑے والا کوڑا ہی کہا تھا)۔
اسکی بات پر ان دونوں کے منہ کھل سے گئے۔
کیا بنایا ہے؟ نور پوچھے بنا نہ رہ سکی
کوڑا۔کھا کر تو دیکھو وہی ترکیب آزمائی تھی جو وازیہ نے بتائی تھی۔
اس نے جوش سے مسکرا کر کہا توواعظہ سٹپٹا گئ۔
نا کرو۔کس نے کہا تھا کہ میری بتائی ترکیب ہی آزمائو۔
اسکے بڑ بڑانے پر نور نے نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے ٹفن کھولا ۔
اندر گہرے بھورے رنگ کے گول گول پکوڑے گرم گرم سجے تھے۔
کھائو۔ یون بے مشتاق تھئ
یہ؟ نور متزبزب تھی۔
یہ وہی ہے نا جب ہم تم لوگوں کے گھر گرفتار کرنے آئے تھے تو تم لوگ کھا رہے تھے ہمیں بھی کھلایا تھا۔
لفظ بہ لفظ ترجمہ کرتا سیہون بھی واعظہ کی شکل دیکھ کر گڑ بڑ کو بھانپ گیا تھا۔
ویجی ٹیرین ہے آلو اور گوبھی اور پالک ہے یہ۔
اس نے وضاحت کی۔ نور نے مدد طلب نگاہوں سے واعظہ کو دیکھا وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
پکوڑے لگ رہے ہیں کھا لو نا نور۔
اسکے ابو نے کہا تو نور نے ڈرتے ڈرتے ایک توڑ کر منہ میں رکھ لیا۔ پالک اور آلو باریک کٹے ہوئے تھے اور گوبھی کا پھول پورا تھا۔ یہ پکوڑا ان تینوں کا تھوڑا تھوڑا ذائقہ دے رہا تھا مگر پکوڑے کا ہی ذائقہ نہیں آیا اسے
کھائو نا تم بھی۔تمہاری بتائی ترکیب ہے۔
یون بے اب واعظہ سے کہہ رہی تھی۔ اس نے بے چارگی سے نور کو دیکھا جو منہ میں پکوڑا بھرے اسے یوں گھور گھور کر چبا رہی تھی جیسے پکوڑے کی جگہ واعظہ اسکے دانتوں تلے ہو۔
تم بھی کھائو بیٹا۔ نور کے ابو نے سیہون اور یون بے کو بھی دعوت دی۔ بھر کے بڑا سا ٹفن تھا۔ ایک انہوں نے بھی چکھنے کیلئے اٹھا لیا تو سیہون اور واعظہ کو بھی اٹھا کے کھانا پڑا۔
پکوڑا پکوڑا ہی تھا واعظہ کی بتائی ترکیب سے ہی بنا تھا بس جب یون بے ان دونوں کو ڈھوںڈ کر پکوڑے کی ترکیب پوچھنے آئی تھی تب واعظہ کو غصہ تو آنا ہی تھا۔ جان نکال دی تھئ اس فالتو ترکیب کے پیچھے۔
یہ کس چیز کا پکوڑا ہے؟ اسکے ابو بھی درست اندازہ نہیں لگا پائے تھے۔
یہ مکئی کے آٹے کا پکوڑا ہے۔ یون بے آئیندہ اسی ترکیب میں بیسن ڈال کر بھی دیکھنا وہ اس سے بھی مزے کا بنے گا۔
نور کی گھورتی نگاہوں سے نظر چرا کر وہ یون بے کو ہدایت دے رہی تھی۔
ہاں ضرور اگلی دفعہ بیسن اور گندم کے آٹے سے بھی بنا کر دیکھوں گئ۔ یون بے پر جوش انداز میں کہتے ہوئے سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی گاڑئ میں اسکے بابا کو ہوٹل میں ڈراپ کرکےسیہون اسے اور واعظہ کو اپارٹمنٹ چھوڑنے آیا تھا۔
آئو کھانا کھا کر جانا ۔ واعظہ دعوت دے رہی تھی مگر وہ سہولت سے انکار کر گیا۔
صبح دفتر جانا ہے تم سہیلیاں تو آج رت جگا منائوگی ہے نا۔
وہ مسکرا کر بولا تو واعظہ بھی نور کو دیکھتے مسکرا کر سر ہلا گئ۔ وہ تیزی سے گاڑی باہر نکال لے گیا۔واعظہ اسکا چھوٹا سا یونیورسٹی بیگ اٹھائے اندر کی جانب بڑھنے کو تھی جب سر اٹھا کر اس وسیع و عریض عمارت کو دیکھتئ نور حسرت بھرے سے انداز میں بولی۔
کچھ بھی نہیں بدلا یہاں ہے نا واعظہ۔
ہاں۔ واعظہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔
بس میں بدل گئ ہوں۔
یہ جملہ اس نے منہ ہی منہ میں بدبدا کر کہا تھا۔
چلیں۔ واعظہ اسکا انتظار کررہی تھئ۔
ہم ۔وہ بھاگ کر اسکے ہم قدم ہو لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو بندہ بیوی کا فرمانبردار بھی نہ ہو۔ سب کچھ لے کر آیا ایک دہی بھول گیا رات کے گیارہ بجے لینے بھیج دیا۔ جیسے صبح ناشتے میں دہی نہیں ہوگا تو ناشتہ حرام ہو جائے گا۔ اب یہاں اس وقت کتنی ٹھنڈ پڑنے لگی ہے۔ دہی کھانا چاہیئے بھلا۔ اتنئ ٹھنڈ میں گلا خراب ہوگا۔
زور و شور سے اپر کا ہڈ چڑھا کر سر پر درست کرتے سرخ ہوتی ناک رگڑ کر وہ بڑ بڑاتے ہوئے دکان میں داخل ہوئے۔
ایک انکا ہی ہم۔عمر چندی آنکھوں والا شخص کائونٹر پر بیٹھا اونگھ رہا تھا۔
وہ والا دہی لینا جس پر گائے بنی ہوئی ہے بھوری سی اور منہ کھول کر دیکھ رہی ہے کیمرے میں۔
فریج کھولا ہی تھا کندھے کے پاس سے طوبی کا تصوراتی ہیولہ منہ نکال کے بولا۔
پہلے تو انہوں نے دہی کو ہی پہچاننا شروع کیا۔ تکونے کم باپ سے بھرے فریج میں سے عجیب کچی کچی سی مہک بھی اٹھ رہی تھی۔جھک کر اوپر نیچے ٹٹولتے جب انہیں کافی دیر ہو چلی تو یونہی زرا کمر سیدھی کرتے ہوئے جو مڑ کر دیکھا تو انکے پیچھے قطار بنی ہوئی تھی۔ چار پانچ لوگ اپنئ چندی آنکھیں بڑئ کرکے گھور رہے تھے۔ وہ کھسیا کے پیچھے ہوئے۔
آپ لے لیں۔
یہ خیال ہی نہ رہا کہ ہنگل یا انگریزئ میں بولتے ۔ مگر انکی اردو بھی اس چھوٹے سے اٹھارہ انیس سالہ لڑکے کو سمجھ آگئ تھی جبھئ آگے بڑھ کر اپنے لیئے سوجو کی بوتل نکالنے لگا۔
آپکو کیا چاہیئے۔ ؟
وہ اپنی دونوں بوتلیں سنبھال کر اب ان سے پوچھ رہا تھا۔
دہی۔ انہوں نے انگریزئ میں بتایا۔
اس نے ایک لمحہ تو حیران ہو کر گھورا پھر نچلے خانے میں سب سے آگے رکھا دہی کا پیکٹ نکال کر تھمایا۔
یہ نہیں جس پر گائے کی تصویر بنی ہو۔ کیمرے کے ساتھ۔
انہوں نے دہی کا پیکٹ الٹ پلٹ کیا پھر سمجھانے لگے۔
وہ لڑکا اور اسکے گرد دیگر اسکے ہم وطن منہ کھول کر دلاور کو دیکھ رہے تھے جو فلیش بیک میں کھڑے کھڑے جا چکے تھے۔
انکے منمنانے پر کہ اگر گائے کی شکل والا دہی نہ ملا تو؟دوسرا کوئی چلے گا؟
طوبی سمجھانے والے انداز میں بولی
ہوگا تو وہ دہی ہی مگر گائے کی تصویر پر اس لیئے زور دے رہی ہوں کہ گائے بنی ہے تو مطلب گائے کے دودھ سے ہی بنا دہی ہے یہ ثبوت ہوا نا۔ کوریا والے تھوڑی یہ کرتے ہونگے گائے کی تصویر بنا کر اندر سور کے دودھ کا دہی بھر دیں؟
بات میں دم تھا۔ وہ منڈیا ہلانے لگے تھے۔
اس لڑکے نے دہی انکے ہاتھ سے لیکر واپس فریج میں رکھا دروازہ بند کیا اور انہیں گھورتا ہوا کائونٹر کی جانب بڑھ گیا۔
انہوں نے آگے بڑھ کر دوبارہ فریج کے ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا تو قطار میں لگے انکے ہی قریبا ہم عمر نے بہت تمیز سے انکے ہاتھ کو پرے کرتے ہوئے ہینڈل تھام کر فریج کھولا اور مطلوبہ چیز نکالنے لگے۔ یہ ترکیب کارگر رہی قطار میں موجود بقیہ پانچ چھے لوگوں نے بھی آزمائی ۔دلاور صبر سے باری کا انتظار کرتے رہے۔
کائونٹر پر پیمنٹ کرتے اس لڑکے کی یونہی جاتے جاتے نگاہ پڑی تو دلاور کو پھر فریج سے نبرد آزما پایا۔
آہجوشی۔
پکارنے پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہی لڑکا گائے کی شکل والا دہی اٹھائے کھڑا تھا۔
یہ لیں۔
وہ خوش ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے
یہ کہاں تھا؟ وہ جھٹ تھام کر پوچھنے لگے۔
اس لڑکے نے فریج کا دروازہ بند کیا اور اسکے بالکل برابر ہی دوسرے قد آدم فریج کئ جانب اشارہ کیا۔
گلاس ڈور سے پورے ریک میں گائے جھانک رہیں تھیں باہر
دلاور کھسیا سے گئے۔ابھی انکی ایک فریج کی تلاش ہی مکمل نہ ہوئی تھئ۔
گھمسامنیدہ۔
انہوں نے جھک کر اسکا شکریہ ادا کرنا چاہا۔کمر سے چٹاخ پٹاخ کی آواز آئی۔ سیدھا ہو کر اس شکریہ کا جواب وصولنا چاہا تو معلوم ہوا راہی تو جا چکا۔ وہ لڑکا تیز تیز قدم اٹھاتا دروازے کی جانب بڑھ چکا تھا۔ وہ کمر سہلاتے کائونٹر کی جانب بڑھ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ موبائل میں لگی تھی۔ اسی نے ہی فلور کا بٹن دبایا لفٹ میں۔۔دروازہ بند ہونے ہی لگا تھا جب خراماں خراماں چلتے دلاور آتے دکھائی دییئے۔
اس نے خیر سگالی انداز میں دروازہ بند نہ ہونے دیا۔ وہ اسے پہچانتے نہیں تھے پھر بھی اس نے سلام۔کر دیا۔ جواب انہوں نے سر کے اشارے سے دیا تھا اور سلام۔طلب نگاہوں سے واعظہ کو دیکھنے لگے۔ مگر اس نے سر اٹھا کے نہ دیا۔
وہ بھی تھوڑا رخ پھیر گئے۔
فلور آتے ہی سب سے پہلے دلاور نکلے تھے۔ ان لڑکیوں سے انکے ستارے جانے کیوں گردش کھانے لگ جاتے تھے کسی بھی بری قسمت سے بچنے کو یہی بہتر تھا کہ ان سے دور رہا جائے۔ یہی سب سوچتے وہ سیدھا اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے۔ اور جلدی سے اطلاعی گھنٹی بجانے لگے۔
وہ دونوں لڑکیاں اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے کی جانب بڑھ گئیں۔
یار کچھ ذیادہ خاموشی نہیں سب سو رہے ہیں کیا۔
دروازہ کھولتے ہوئے نور نے کہا تھا۔ انکی پشت تھی انہوں نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان لڑکیوں کی خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
طوبی ۔۔
وہ دروازہ نہ کھلنے پر جھلا کر پکارنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپارٹمنٹ میں گھپ اندھیرا سا تھا۔
اتنا اندھیرا کیوں ہو رہا ہے ہے جن سو رہا ہے کیا لائونج میں؟
نور نے اندازہ لگایا۔
اندھیرا کچھ ذیادہ ہی تھا سو واعظہ نے ٹارچ آن کردی۔
ہلکی ملگجی روشنی میں وہ آگے بڑھئ راہداری۔ختم ہوتے ہی سامنے کچھ ہیولے سے دکھائی دیئے۔
اس سے قبل کے وہ سمجھ پاتی۔ زور دار پٹاخہ سا بجا جھماکے سے روشنی ہوئی عزہ سوئچ بورڈ کے پاس ہی کھڑی تھئ۔
ویلکم ہوم نور۔
عزہ، عشنا ، فاطمہ، عروج ، الف طوبی سب ہی پرجوش انداز میں چلائیں ان سب کے ہاتھوں میں پارٹی پاپرز تھے اسکے قریب آتے ہیں وہ چمکیلی پنیوں میں نہا سی گئ اسکےچاروں طرف افشان رقص کر رہی تھی۔کوئی غبارے پھاڑ رہی تھی تو کوئی پارٹی پاپرز طوبئ پلیٹ میں پنیوں سے بھری مٹھائی لیئے اسے کھلانے پر تلی تھی تو الف آنسو پونچھتی اسکا ہاتھ تھامے جانے کلائی میں کیا چڑھا رہی تھی۔ اسکی سکھی سہیلیاں خوشی سے جھومتی چیختی اس سے آلپٹی تھیں۔ وہ جو ایسے لمحوں میں ہمیشہ ایک طرف ہو کر وییڈیو بناتی رہتی آج احساس ہوا تھا کہ لمحوں کو اسی وقت جینا ذیادہ خوش کن احساس ہے بہ نسبت گزر جانے والے لمحوں کی یادیں اسکرین پر دیکھتے جانا۔ آج وہ یہ سب اپنے ذہن میں ریکارڈ کر رہی تھی۔ پھول تحفے مسکراہٹیں محبتیں خلوص کی تیز بارش برس رہی تھی اس پر آج وہ اس بارش میں نہا کر خوش ہوئی تھی بہت خوش۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزا بار سوچا تھا اب نہیں دہلنا کچھ ہو جائے چیخیں دھماکا بم ہی پھٹ جائے وہ حواس بحال رکھیں گے۔ آج کامیاب بھی رہے۔ حسب توقع اس خاموشی کا شور و غل بے ہنگم دھماکوں کی گونج سے اختتام ہوا تھا۔
زرا سا فطری طور پر ہی چونکے پھر سر جھٹک کر مبارکباد دئ خود کو
دل کر رہا تھا زور زور سے چلائیں وہ بھی I survived
اپنی بچکانہ سوچ سے محظوظ ہوتے دروازے کے کھلتے ہی خوشی خوشی اندر داخل ہوئے۔یہ انکی بڑی بیٹی تھی جو دروازہ کھول کر انکو اندر آنے کا راستہ دیتی ایک طرف ہو گئ ۔مگر انکی ایک ہی بیٹی تھوڑی تھی بس۔ دوسری بھی آس پاس ہی تھی جسکو انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔ بابا کہتی ٹانگ سے لپٹی۔وہ جو اپنی جھونک میں سیدھے اندر چلے آئے بیٹی کو ہی پائوں تلے دینے لگے تھے۔
اوہ اوہ۔ بمشکل دیوار کا سہارا لیکر انہوں اسے بچایا تھا دونوں ہاتھوں سےاوپن کچن کے کائونٹر سلیب کو تھام کر ایک اور چوٹ لگنے سے خود کو اور بچی کو بچالیا۔
مگر دونوں ہاتھ سنگئ دیوار پر تھے تو جو ہاتھ میں تھا وہ کہاں گیا۔
بابا سارا دہی گر گیا اب امی ڈانٹیں گی۔
بیٹی کی آواز پر جو مڑ کر زمین پر دیکھا تو ہزار جوکھم اٹھا کر لایا گیا دہی کا پیکٹ زمین بوس ہو کرپھٹ چکا تھا۔۔۔
آہش۔
جی بالکل کورین آہجوشی کی طرح ہی بولے تھے دلاور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام۔۔۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 30

قسط 30
سعدیہ اسپیشل۔۔

تمہیں کوئی آسان سی ڈش نہیں سوجھی تھی یہ انوکھا تجربہ ضرور کرنا ہے تمہیں۔۔
الف جھلائی ہوئی اسکے ساتھ سپر اسٹور میں گھوم رہی تھی
بہت سادہ اور شان ترکیب ہے۔تم دیکھنا سب کو پسند آئے گی۔
عزہ پر جوش تھئ۔ الف سرجھٹک کر آگے بڑھ گئ۔ عزہ گھوم گھوم کے چیزیں اکٹھی کرنے میں لگی تھی۔ تیتر کے انڈوں کا لفافہ اٹھا کر مطمئن ہو کر مڑ کر دیکھا تو الف غائب ہو چکی تھی۔
اب یہ کہاں گئ۔ اس نے ٹرالی گھسیٹتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا تو دور کھڑی نظر آہی گئ۔
وہ دبے قدموں اسکی جانب بڑھی۔ وہ کاسمیٹکس والے حصے میں کھڑی تھئ۔ کریم اور لوشن ہاتھوں پر لگا لگا کر دیکھتی مگن کھڑی تھئ۔
اس نے اسکے قریب جا کر اسکی کمر میں انگلیاں پستول کی طرح گھونپ کرکان میں زور سے پکارا
ہینڈ اپ۔۔
پٹاخ سے کریم کی نئی شیشی اسکے ہاتھ سے گر کر ٹوٹی تھی۔ بری طرح دہل کر الف خود بھئ کائونٹر کا سہارا لیئے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ سیلز گرل ان دونوں کو دیکھتی کائونٹر چھوڑ کر بھاگی تھی۔
عزہ کی بچی دم نکل جاتا ابھی میرا۔ چند لمحے لگے تھے الف کو سنبھلنے میں سیدھی ہو کر عزہ کا کندھا بجا دیا۔
توبہ ہے کتنا بھاری ہاتھ ہے۔ نقاب پوش عزہ تڑپ کر رہ گئ۔
دن دہاڑے اتنا ڈرتا ہے کوئی بھلا۔ اب جانے کتنی مہنگی کریم توڑ دئ
ٹرالی ایک طرف کرکے وہ جھک کر شیشی او راس سے بہتے سفید مواد کو دیکھنے لگی
اب جتنا بھی مہنگا ہو پیسے تم دوگی تمہاری وجہ سے ٹوٹی ہے۔
الف نے فورا حساب کرنا چاہا۔ عزہ گھور کر رہ گئ
اب ہاتھ کیوں لگا رہی ہو کانچ چبھ جائے گا۔ فکر بھی تھی اسے عزہ کی۔
ریپر دیکھ رہئ ہوں قیمت کا اندازہ تو کریں اس سے قبل کہ یہ ہمیں مہنگی بتا کر لوٹنے کی کوشش کریں۔
آپس کی باتوں میں انہوں نے دھیان ہی نہ دیا کہ عجیب سا بے ہنگم شور ہے انکے گرد اور باقی لوگ تیزی سے داخلی دروازے کی جانب بھاگ رہے ہیں۔
یہ اسٹور خالی کیوں ہو گیا اتنا جلدی؟
الف حیران ہو کر مڑی۔
ہینڈز اپ۔ ایک بار پھر انکو سنائی دیا تھا۔ دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ڈیپارٹمنٹ کے سیکیورٹی گارڈز ان پر پستول تانے کھڑے تھے۔
وہ عبایا پوش لڑکی اس اسکارف پوش لڑکی کے قدموں میں بیٹھئ تھی ۔ صورت حال غیر متوقع تھی۔ مگر انہیں ان دونوں پر گمان دہشت گرد کا ہی ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگتا تھا کہ بس ہم پاکستانی ہی سوری کا بے جا استعمال کرکے جان بچاتے ہیں مگر پوری دنیامیں ہی معزرت کے الفاظ کو اسی طرح ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
الف مٹھیاں بھینچ رہی تھی مگر چونکہ دونوں ہاتھ شاپروں سے بھرے تھے سو ایسا ممکن نہ ہوسکا
خیر انہوں نے کریم کے پیسے بھی نہیں لیئے بلکہ اسی طرزکی نئی شیشئ دے دی ہے۔ خوشبو تو اچھی ہے کریم کی۔۔
عزہ کے بھی دونوں ہاتھوں میں شاپر بھرے تھے مگر سرد ہوا چلنے سے ناک بھی چل پڑی تھی سو ایک ہاتھ بار بار اسکا ناک پونچھنے کے کام آرہا تھا۔ وقفے وقفے سے وہ ہاتھ شاپر سمیت اٹھا کر ٹشو سے سڑ سڑ کرتی۔
کوئی احسان نہیں کیا۔ ہم سو کر سکتے تھے ان پر جو انہوں نے بے عزتی کی ہماری۔
الف غصے سے بھری تھئ۔ عزہ کو پھر چھینک آگئ۔ دونوں قریبی اسٹور تک ہی آئی تھیں سو پیدل ہی دو ذیلی گلیاں پار کرنی تھیں۔ سہ پہر کا وقت تھا لوگ کم ہی تھے اور جو تھے وہ اپنے کام سے کام رکھتے جا رہے تھے۔
تم نے بھی تو حد کی۔ عزہ چھینک مار کر فارغ ہوئی
ہینڈز اپ کہا تھا بس تم تو ایسے ڈریں جیسے سچ مچ گولی مار دی میں نے۔
ہاں تو انجان ملک اکیلی لڑکی میں ۔ اوپر سے اتنے عرصے کے بعد کریم دیکھی میں نے کھو گئ تھی میں۔
الف منظر یاد کرتے ہوئے ہی کہیں گم سی گئ۔۔
ہاں تو اتنی خود اپنے ہاتھوں سے کریم و لوشن بنا کے دیئے انکی کوئی قدر نہیں۔ ۔
عزہ نے منہ پھلایا تو الف بھنا کر اسے گھورنے لگی۔ ان دونوں کے سر پر فلیش بیک چالو ہوا تھا۔۔
یہ رہی 99 % ایلوویرا جیل اور یہ رہی کافی۔
دونوں کو برابر ملایا تو بن گئ نائٹ کریم ٹا ڈا۔۔
نہیں کورین کیا کہتے۔ چن۔۔۔
عزہ نے چٹکی بجائی۔ وہ سب اسکی اوور ایکٹنگ سے بیزار نائٹ کریم کے اس متبادل کو منہ پر ملنے لگیں۔عزہ الف عشنا عروج نور اور فاطمہ سب بھورا ماسک منہ پر لگاکے سوئی تھیں۔
اور صبح۔
سب کی سب افریقنیں لگ رہی تھیں۔ سب کا رنگ نا سفید رہا نا سانولا ۔ سب کی سب تانبے کی رنگت والی افریقی لڑکیوں سی رنگت چرا لائی تھیں
یوٹیوب ویڈیو میں تو جلد اچھی ہوگئ تھی۔ عزہ بسوری
گرائونڈ کافی ڈالنی تھی وہ بھی تھوڑی سی کس نے مشورہ دیا تھا ایکسپریسو وہ بھی چمچ بھر بھر کے ڈالو۔
یہ فاطمہ تھی مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی۔ ایک ان سب میں اسکا ہی رنگ سب سےگورا تھا اب وہ بھی بھورا ہو چکا تھا۔۔
واعظہ منے صوفے پر بیٹھی انکا حال دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی
آج یہ خاص ہلدی کوکونٹ آئل اور خشخاش والا ماسک لگائیں گے تم سب کا رنگ ایکدم نکھر جائے گا۔
عزہ اگلے دن رات کو پھر نئے ماسک کے ساتھ حاضر تھی۔
خشخآش؟ واعظہ نے سرکھجایا۔
مل گئ تھی یہاں؟
اگلا دن اس سے بھیانک نتیجہ لایا تھا۔
فاطمہ کی جلد پر چھوٹے چھوٹے لال دانے نکل آئے تھے ،عروج کو چہرے پر خارش اتنی ہو رہی تھی کہ اس نے مسل مسل کر گال لال کر لیئے تھے۔ عشنا کا چہرہ اکڑ سا گیا تھا وہ بولنے میں بھی احتیاط کر رہی تھی۔ الف کے چہرے پر فی الحال کچھ نہ تھا مگر ان سب کا حال دہلا گیا تھا اسے۔
عزہ اپنے چہرے پر برف کی ڈلی پھیرتے اور عروج کو برف دیتے اسے ڈرتے ڈرتے دیکھ رہی تھی۔
میں رات کو اٹھی تھی تو منہ دھو لیا تھا۔ اس نے حیرانی دور کی ۔۔
مگر یہ خشخاش لگ تو نہیں رہی۔
واعظہ نے آگے بڑھ کر شیشی اٹھائی۔۔
عزہ نے ہاتھ مار کر فلیش بیک ختم کیا
بس کرو۔ کتنا تو تم سب لڑیں تھیں دل بھرا نہیں جو یہ قصہ لے بیٹھیں دوبارہ۔
تمہاری اس فضول شاپنگ جس میں تم نجانے کون کون سے اوٹ پٹانگ ٹوٹکے کرنےکیلئے جڑی بوٹیاں تک اٹھا لائیں تھیں میرے سارے پیسے برباد الگ ہوئے تھے اور اچھی جلد کیلئے ترس الگ گئ تھی میں۔ جبھی تو آج کریم دیکھ کر مجھ سے رہا نا گیا اور کھو گئ میں پینڈوئوں کی طرح اسے دیکھ کر۔
الف دانت کچکچا رہی تھی۔
اوہو لیکن دیکھو فائدہ ہوا۔ اپنے غلط اندازے پر شرمندہ ہو کر معافی مانگتے ہوئے انہوں نے نا صرف ہمیں دس فیصد رعائیت دی بلکہ کریم کے پیسے ما نگنے کی بجائے مفت میں دے دئ اتنی اچھی کریم۔۔
عزہ نے مثبت پہلو نکال لیا۔
اور جو مفت کی بے عزتئ ہوئی۔
الف گھور کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائیو اسٹریم میں بے عزت ہوئی ہے۔ اب اصل ہو تو چینل بھی بند کرلے اپنا۔ عروج مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔ وہ دونوں بس میں بیٹھی تھیں۔ جو لبا لب بھری ہوئی تھی۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کوئی مردو زن کی تشخیص نہیں تھی۔ عروج کھڑکی کی جانب بیٹھی تھی ۔ جھٹکا لگنے پر واعظہ کے منہ سے ہائے سی نکل گئ کیونکہ سر پر کھڑی لڑکی کا بیگ سیدھا ناک پر لگا تھا اسکے۔
بیانیئے سننے کو سر اٹھایا تو موصوفہ کو موبائل میں گم پایا۔ ٹھنڈی سانس بھر کر اس نے رخ عروج کی جانب کیا۔
میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اتنی مکار چڑیل لڑکی ہوگی۔مگر جانتی نہیں کس سے پالا پڑا ہے اسکا۔
اگر وہ کوریا کی چڑیل ہو سکتی ہیں تو ہم پاکستانی لڑکیاں بھی ڈائن سے کم نہیں۔ سمجھتی کیا ہے خود کو۔
اسکی تشبیہہ پر واعظہ کھانس کر رہ گئ۔
مطلب کوئی آخری حد نہیں۔ چڑیل بمقابلہ ڈائن۔
اس کا تخیل ویسے ہی اڑان بھرتا رہتا تھا۔فورا منظر تیار تھا۔
مشیل اور عروج دونوں ریسلنگ کے رنگ میں کھڑی تھیں۔
مشیل لال جوڑے میں ملبوس پھنکاری ۔ انتہائی خوبصورت چندی آنکھوں والی دوشیزہ نے گھونگھٹ اٹھا کر ترچھی نگاہ ڈالی تھی۔ لال کرتی جس پر گوٹا کناری لہنگا جس کا ذرا سا کونا اس نے سمیٹا تو اسکے پائوں دکھائی دیئے۔ پائوں کی گلابی ایڑیاں۔
ہیں۔ اس نے جھٹ اوپر دیکھا چہرہ سامنے ہی تھا دوبارہ پیر پر نگاہ کی۔۔ پیر تو الٹے تھے۔
عروج۔ اس نے مڑ کر عروج کو دیکھا۔
ڈاکٹرز والے مخصوص گائون میں منہ پر ماسک چڑھائے وہ اب آستین بھی چڑھا رہی تھی۔
مشیل لپکی عروج کی گردن میں دانت گاڑےعروج کو ایک جانب پھینکا اور اسکی جانب متوجہ ہوئی
بتائو ہم میں سے کون جیتا۔ ؟
چندی آنکھوں والی چڑیل اسکی۔جانب بڑھی۔
واعظہ تھر تھر کانپتے پیچھے ہوئی تو رنگ کے رسے سے ٹکرا گئ۔ چڑیل اسکی جانب بڑھے جا رہی تھی۔
مم۔ مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔میں کیوں بتائوں؟
کانپتے لبوں سے بمشکل پوچھا۔ پھر اپنے حلیئے پر نگاہ کی تو ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریفری کی طرح کی دھاری دار شرٹ اور کالی پتلون میں خود کو ملبوس پایا۔ یعنی وہ ریفری؟؟؟
دے؟ ہنگل میں بولو مجھے اردو نہیں آتی۔
چندی آنکھوں والی اردو فراٹے سے بولی تھی۔ ( بھئی اب سچ مچ تھوڑی مشیل تھی وہ تو واعظہ کا تصور تھا اور تصور میں کچھ بھی ہو سکتا)
مم۔ اسکی سٹی گم ہوگئ تھی
بولو اب چپ کیوں ہو۔ چڑیل تن فن کرتی بڑھی کہ اچانک ٹھٹھکی اسکے منہ سے خون کا فوارہ نکلا جو واعظہ کے چہرے پر چھینٹوں کی صورت پڑا۔ اس نے آنکھیں میچ لی تھیں
آخ آخ۔ اسکے منہ سے چیخ نکلی چڑیل اسکے قدموں میں ڈھیر ہو چکی تھی۔
اس نے خود کو ٹٹولا تو ثابت سالم پایا جھٹ آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو ٹیڑھئ گردن سے دیکھتی عروج ہاتھ میں ایک لال نرم سی چیز پکڑے چبا رہی تھی
کھائو گی؟ اس نے اسکی جانب بڑھایا
آخ۔ ایسا خونخوار تخیل اسے الٹی ہی آگئ۔
فورا حال میں تشریف آوری ہوئی۔
میں اس پر سو کروں گی دیکھنا سمجھتی کیا ہے خود کو پھینی ناک والی۔
عروج ابھی تک بڑ بڑا رہی تھی۔
اب بس بھی کرو سبق سکھا دیا نا ہم نے اس فضول یو ٹیوبر کو۔
واعظہ نے تسلی دینا چاہی۔
یو ٹیوبر مجھے تو یو ٹیوب سے بھی نفرت ہوگئ ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موبائل کائونٹر پر نمک دانی سے ٹکا کر اس نے یوٹیوب پر مطلوبہ ویڈیو کھولی۔ اس ویڈیو کی ڈسکرپشن میں ایک عدد ویب سائیٹ کا لنک تھا جسے کھولنے پر پوری اسکرین پر کیڑے مکوڑے بکھر گئے۔
اب یہ کونسی زبان ہے؟ الف نے حیران ہو کر پوچھا۔
مجھے کیا پتہ کوئی سائوتھ انڈین زبان ہی ہے ۔ نیچے دیکھو انگریزی میں بھئ لکھی ہے ترکیب۔
عزہ دیگچی میں مصالحہ بھون رہی تھی وہیں سے پکاری۔
زیر لب بڑ بڑاتے الف نے ترکیب پڑھنی شروع کی۔
یار یہ کہاں ہڑپہ کے کھنڈرات سے کھود کے نکالی ہے ترکیب ۔یہ تیتر کے انڈے کون مرغی کا پیٹ کھول کر اس میں بھرتا ہے بھلا؟
الف کی حیرانی عروج پر پہنچی۔
یار نئی چیز ہے سوچا آزما کے دیکھوں۔ عزہ پر جوش تھی۔
الف کو بھی جوش چڑھ گیا چٹکی بجا کے بولی۔
چلو پھر میں کوئی میٹھی چیز بناتی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج اور واعظہ جب تھکی تھکی گھر میں داخل ہوئیں تو چاول کے دم نکلنے کی خوشبو پھیلی تھی جبکہ الف کسٹرڈ بنا کر فریج میں رکھ رہی تھی۔
دونوں منے صوفے پر ڈھیر ہوئیں تو انکی اتری شکلیں دیکھ کر دونوں پاس چلی آئیں۔فکر مندہو کر نہیں متجسس ہو کر۔
کیا ہوا؟ منہ کیوں سوجے ہیں تم دونوں کے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشیل کا اپنا ذاتئ دو کمروں کا فلیٹ تھا جس کے ایک کمرے کو اس نے اسٹوڈیو بنا رکھا تھا۔ وہ دونوں اسکے گھر میں داخل ہوتے ہوئے جھجک سی گئیں۔ عروج نے چٹکی ہی کاٹ لی واعظہ کے بازو میں۔
آہ۔ وہ سسکی بھر کے رہ گئ۔
آجائو اندر۔۔ آرام سے آئو۔ مشیل نے انکو دروازے میں رکتے دیکھا تو مسکرا کر بولی
تم اکیلی رہتی ہو یہاں۔ بازو سہلاتے ہوئے واعظہ نے پوچھا۔
ہاں۔ یہاں آجائو یہ اسٹوڈیو ہے میرا ۔وہ مصروف سے انداز میں کہتی ایک کمرے کا دروازہ کھول کر انکو اندر آنے کی دعوت دینے لگی
اوہ ۔دونوں اطمینان سے آگے بڑھ آئیں
بس میرا بوائے فرینڈ ہی ہوتآ ہے یہاں میرے ساتھ۔
اسکا جملہ اب مکمل ہوا تھا۔ دونوں سٹپٹا گئیں۔ وہ ایک نسبتا درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس کے ایک کونے میں صوفے رکھے تھے دوسرے کونے کو اس نے سجا بنا رکھا ایک جانب کیمرے رکھے تھے بڑا سا اسٹینڈ لائٹ ٹرائی پوڈ دیوار پر اسکے یو ٹیوب چینل کا مخصوص بیک گرائونڈ وال اسٹیکرز کے زریعے بنا رکھا تھا ایک طرف چھوٹی الماری سی تھی جس میں مائکس وغیرہ رکھے نظر آرہے تھے تو اسکے بالکل مخالف ایک چندی آنکھوں والا لمبا سا لڑکا سجا تھا جو ایک کیمرہ کھولے نجانے اسکے کیا کل پرزے دیکھ رہا تھا۔
واعظہ تمہیں پٹخنی دینی آتی ہے نا؟
عروج کی ہنگل انگریزئ سب بھک سے اڑ گئ تھی۔
ہاں مگر ابھی کاسٹ اترے ذیادہ دن نہیں ہوئے۔
واعظہ نے اپنا مجروح بازو چھوتے ہوئے خود پر ترس کھایا۔
اس چندی آنکھوں والے لمبوترے لڑکے کے بازو کی مچھلیاں بلا مبالغہ بلیوں سی موٹی تھیں۔
منہ اٹھا کے دونوں اوکھلی میں سر دینے آگئی تھیں اب سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا حال ہوتا یا موصلوں سے ڈرنا نصیب میں لکھا جو بھی تھا بھگتنا ہی تھا۔
آجائو۔ہم پہلے بات کر لیتے ہیں پھر لائیو اسٹریم شروع کریں گے۔
وہ اسٹوڈیو والے کونے میں سجے دو اسٹولوں میں سے ایک پر بیٹھ گئ اور دوسرے پر اسے بیٹھنے کی دعوت دینے لگی
عروج نے واعظہ کو دیکھا پھر اسکے آنکھوں سے اشارہ کرنے پر گہری سانس لیتی اسکے مقابل آبیٹھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج مشیل کا چینل کھولے بیٹھی تھی وہ سب اسکے موبائل پر جھک آئیں صرف پندرہ منٹ کی اسٹریم دو گھنٹے میں ملین ویوز کراس کر چکی تھی۔دھڑا دھڑ کمنٹ بڑھ رہے تھے
تو جناب جو جو لوگ مجھے چیلنج دے رہے تھے انکو بتا دوں کہ آج میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ میری ویڈیو فیک نہیں تھی وہی لڑکی جو میری ویڈیو میں زور زور سے چیخیں مار رہی تھی میرے ساتھ بیٹھی ہے۔ انہی کپڑوں میں۔
میں نے اپنا پہلا چیلنج پورا کر دیا ہے۔
اب چیلنج کا اگلا حصہ پورا کرنا ہے سو جلدی جلدی سب آجائو۔
وہ خالص ہنگل میں بول رہی تھی۔
اور عروج ذرا ناظرین کو بتائیں اپنے بارے میں؟
اس بار وہ عروج کی طرف مڑ کر انگریزی میں پوچھ رہی تھی۔
عروج روانی سے انگریزی میں اپنا تعارف کروانے لگی۔
واعظہ کی اسکے الفاظ پر اور حرکات پر بھرپور نگاہ تھی۔
میرانام عروج ہے ۔پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں ۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے میں یہاں ہانگوک یونیورسٹی ہاسپٹل میں کام کرتی ہوں۔ مجھے تقریبا چار سال ہو رہے ہیں کوریا میں۔ بہت ذیادہ اچھی تو نہیں مگر کچھ ہنگل سمجھ لیتی ہوں میں۔ وہ مسکرا کر بولی۔
مشیل کا واضح طور پر رنگ سا اڑا تھا۔
۔ اس نے تھوڑا گڑ بڑا کر اپنے بوائے فرینڈ کو دیکھا تھا جو بظاہر بے نیازی سے موبائل پکڑے ایک جانب کھڑا تھا
یو ٹیوب پرلائیو اسٹریم سامنے اسٹینڈ پر ایک فوکس پر رکے کیمرے سے ہو رہی تھی تو اسکا بوائے فرینڈ کیوں اتنا ساکت کھڑا ہے۔
اسکی نگاہوں کے ساتھ واعظہ کی بھی نگاہ اس پر گئ تھی پھر اسکا سر بھی گھوما تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو دیکھتےہوئے وہ دونوں بھی بالکل سنجیدہ ہو چکی تھیں۔۔
یقینا اگلے کچھ منٹ بہت دھماکے دار ہونے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے چیلنج کا دوسرا حصہ جلد ہی پیش خدمت ہے آپ لوگ تحائف بھیجتے رہیئے یونہی جلدی جلدی۔
بیچ میں رک کر وہ ایک ادا سے بولی تھی۔
وہ کسی دوسری ایپ سے بھی آن لائن تھی یقینا جس میں ورچوئل گفٹس کسی گھٹیا چیلنج کو پورا کرنے کیلئے اکٹھے کیئے جا رہے تھے۔
تو تم مسلمان لڑکیاں اپنا چہرہ ڈھانپ کے رکھتی ہو؟ کیوں بھئی رنگ کم ہوتا ہے تم لوگوں کا اسلیئے؟
اسکا انداز تسمخر اڑانے والا تھا۔
نہیں بلکہ۔ عروج نے تپ کر جواب دینا چاہا
واٹ ایور۔ وہ ہاتھ ہلا کر بات بدل گئ۔
میرے لیئے بڑی دلچسپ بات ہے میرے ساتھ ایسی لڑکی بیٹھی ہے جسکا چہرہ دنیا میں کسی نے نہیں دیکھ رکھا ہا ہا ہا۔ گھر والوں نے بھئ نہیں ہا ہا ہا۔
بھئ تم خود اپنا چہرہ دیکھتی ہو یا خود بھی ماسک لگا کے آئینہ دیکھتی ہو۔
وہ ٹھٹھا لگا کے ہنس رہی تھی۔
یہ ہرگز بھئ اچھا مزاق نہیں ہے۔ عروج تپ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔تمہیں اس طرح اسلامئ شعائر کا مزاق اڑانے کا کوئی حق نہیں۔
اوہو کہاں جا رہی ہو۔ مشییل نے لپک کر اسکا بازوپکڑا۔
بیٹھو بھئ ابھی تو سب سے اہم کام باقی ہے۔
اسکی گرفت غیر معمولی طور پر سخت تھی اس نے کھینچ کر عروج کو اسٹول پر دھکا ہی جیسے دے ڈالا عروج ابھی سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اسکے کان میں مشیل کی تمسخرانہ آواز گونجی
تو جناب دیکھیں میری ویڈیو میں موجود لڑکی کا اصل چہرہ ۔۔۔۔۔۔
میں نے آپکا دیا چیلنج پورا کردیا ۔
اس نے کہتے ساتھ ہی عروج کے چہرے سے ماسک نیچے کرڈالا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحوں کا پردہ پڑا تھا کیمرے پر اتنا ہی وقت عروج کو سنبھلنے کو درکار تھا۔ وہ فورا ہاتھوں میں چہرہ چھپاتی کیمرے کے فوکس سے نکل گئ۔جھٹ ماسک ٹھیک کرنے لگی
مشیل کو عروج کا بازوپکڑ کر کھینچتے دیکھ کر واعظہ نے لمحہ بھر کا بھی موقع نہیں دیا تھا۔ اس نے اپنے گلے میں سے اسکارف کھینچ کر اسٹینڈ پر لگے کیمرے پر ڈالا تھا اور گھوم کر لات ماری تھئ اسکے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں پر موبائل اسکے ہاتھ سے گولی کی طرح نکلا تھا۔ اوپر پھر دھڑام سے زمین پر۔
اسکا بوائے فریںڈ اس اچانک حملے سے سنبھل کر ایکدم واعظہ کی جانب لپکا تھا جب عروج نے اسٹینڈ گھما کر کیمرے کا رخ اسکی جانب کیا۔
کیمرے میں فیچر ہوتے دیکھ کر وہ فورا رکا تھا۔ لائیو ایک دنیا دیکھ رہی تھی کہ وہ لڑکی پر ہاتھ اٹھائے لپکا تھا۔تبھئ بھونچکا کھڑئ مشیل عروج کی جانب لپکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی دھوکے باز لڑکی نکلی۔ تم دونوں کو اسکے دانت توڑ دینے چاہیئے تھے۔
الف کا خون کھول اٹھا تھا۔
ہم نے اسکی ساکھ برباد کر دی ہے۔ اسکی ویڈیو پر اسلام و فوبیا بحث چل پڑی ہے پوری دنیا کے مسلمان غصے میں بھر کر اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ یہ اسٹریم یقینا بلاک ہو جائے گی
عروج کو کمنٹس دیکھتے ہوئے اطمینان سا ہوا تھا۔
پھر بھی۔ بہت غلط حرکت کی ہے اس نے۔ عزہ کو بھی غصہ آرہا تھا۔
مجھے تو پتہ بھی نہ چلتا کہ اسکے کیا ارادے ہیں میں احمق سمجھی کہ واقعی وہ میرا ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے انٹرویو لینا چاہ رہی ہے۔یہ تو واعظہ نے کمنٹس کھول کر دیکھے تو پتہ چلا کہ اسے نیٹیزنز نے یہ چیلنج دیا تھا کہ اصل شکل دکھائے ماسک والی لڑکی کی تو یقین کریں گے کہ ویڈیو فیک نہیں ورنہ جس طرح لڑکی ڈر کر چیخ رہی ہے یقینا کوئی پیڈ ایکٹریس ہے جو منہ چھپائے اداکاری کر رہی ہے۔
اور اس نے چیلنج قبولتے کہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو ڈھونڈ نکالے گی اور اسکا لائیو چہرہ دکھائے گی۔ ۔
عروج نے تفصیل سے بتایا۔
کمینی گھٹیا لڑکی میں ہو تی تو منہ توڑ دیتی دوبارہ اپنی بوتھی دکھانے لائق نہ رہتی۔
اسکا چینل رپورٹ کرتے ہیں
الف اور عزہ اسکے غائبانہ لتے لینے لگیں۔
واعظہ انکی گفتگو سے الگ بالکل خاموش بیٹھئ سوچ میں گم تھی۔
تم کیا سوچنے بیٹھ گئیں۔
عروج اس سے پوچھے بنا نہ رہ سکی
میں یہ سوچ رہی تھی ہمیں جانا ہی نہیں چاہیئے تھا ۔ اس نے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ہم نے اسکا نقصان کردیا ہے۔
وہ جو بھی سوچ رہی تھی کم از کم یہ سوچ آئی ہوگی اسکے دماغ میں اسکا ان تینوں کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔

کیا مطلب دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟
۔تینوں بھونچکا ہی رہ گئ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آندھی طوفان کی طرح وہ لڑکی بھاگتی ہوئی آئی تھی لفٹ میں۔ لفٹ کا دروازہ بند ہونے کو تھا جب اس نے زبردستی اینٹری ماری تھئ۔ سعدیہ فورا ایک قدم پیچھے ہوئی ورنہ وہ لڑکی اس سے آر پار ہو جاتی۔ طوبی بھئ ہاتھ بچاتی پیچھے ہوئی۔۔ گھورنا چاہا اس بے نتھے بیل کو شناسائی کی رمق آنکھوں میں در آئی
ایک تو میں نہ ہوں تو ضرور کسی مصیبت میں ٹانگ پھنسائے بیٹھئ ہوتی ہیں یہ۔ بڑ بڑاہٹ۔
فاطمہ ۔طوبی نے پکارا تو وہ بڑبڑاہٹ روک کر مڑی۔
ارے طوبی کیسی ہیں آپ کہاں سے آرہی ہیں؟ یہ ہاتھ کو کیا ہوا۔
فاطمہ پرتپاک سے انداز میں طوبی سے گلے ملی اور ہاتھ پکڑ ہی لیا۔ سعدیہ کے منہ سے بے ساختہ سسکاری سی نکلی۔ مگر طوبی بے نیاز ی سے بولی
کچھ نہیں ذرا سا جل گیا۔چاولوں کی پیچ سے
ذرا سا بہت جل گیا ہے چلیں ڈاکٹر کے پاس ۔ فاطمہ بند لفٹ میں ہی اسکا ہاتھ تھامتی چل پڑی تھی
ارے میں دوا لے آئی ہوں عروج کودکھا دوں گی۔
طوبی کو پیار ہی آگیا اسکئ فکر پر۔
ارے تم دونوں کا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔ یہ فاطمہ ہے ہماری پڑوسی اور فاطمہ یہ سعدیہ ہے۔
ہیلو۔ سعدیہ نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا جسے فاطمہ نے بھی گرم جوشی سے تھام لیا
آپکی بہن ہے یہ طوبی؟ بالکل آپ جیسی۔
فاطمہ نے فوری اندازہ لگایا۔
نہیں۔ سعدیہ ہنس دی
اچھا اچھا دلاور بھائی کی بہن ہے نند ہوئی آپکی۔
فاطمہ نے سر ہلایا۔
ارے نہیں میری نند نہیں یہ تو ۔۔اس بار طوبی نے غلط فہمی دور کرنی چاہی
اوہ تو واعظہ نے اسے کرایہ دار رکھ لیا۔
اس نے لمحہ بھی نہ۔لگایا اگلا اندازہ لگانے میں اور فورا غصے میں بھر گئ۔
اف کہا بھی تھا میری جگہ کسی کو نہ دے میں نے ہمیشہ تھوڑی حد ہے مجھے نکال ہی دیا کے فلیٹ سے ابھی پوچھتی ہوں۔
تبھی لفٹ کا دروازہ کھلا تو ان دونوں سے وضاحت لیئے بنا تن فن کرتی باہرنکلی۔
چلو۔ طوبی نے حیران کھڑی اس آندھی طوفان سی لڑکی کو دیکھتئ معصوم سی سعدیہ سے کہا
ہم نے بھی اسی فلور پر جانا ہے۔
طوبی نے وضاحت کی تو وہ سر ہلا گئ۔ اسی فلور پر آگے بڑھنا خطرے سے خالی نہیں لگ رہا تھا۔
فاطمہ اپنے فلیٹ کے دروازے سے کان لگائے کھڑی۔تھی۔ سعدیہ سے باتیں کرتی اپنے فلیٹ کئ گھنٹی بجاتئ طوبئ نے اسے دیکھا تو رہا نا گیا۔ تشویش میں مبتلا ہو کر اسکی جانب بڑھ آئی۔
کیا ہوا۔؟
طوبی اندر سے کوئی آواز نہیں آرہی نا چیخنے کی نا لڑنے کی۔سب ٹھیک تو ہیں نا۔ فاطمہ گھبرائی
ہاں ٹھیک ہی ہونگی خدا خیر کرے۔طوبی بھی گھبرا سی گئ
کورین اپارٹمنٹ سائونڈ پروف ہوتے ہیں عموما۔
سعدیہ نے تسلی دینی چاہی۔ دونوں نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ چپکی سی ہو رہی۔
یہ نہیں جانتی کہ اندر آوازیں کونسی ہوتی ہیں جو سات محلوں تک زندگی کا پتہ دیں۔
فاطمہ نے دروازہ زور سے کھٹکایا۔
طوبی نے جھٹ سے ہینڈل پورا گھما دیا ۔ پنجابی تشویش زدہ لڑکی کے ہاتھ لگنے سے سال۔خوردہ ہینڈل نے مزید احتجاج مناسب نہ سمجھا۔
دروازہ کھلا۔دلاوربنیان اور کھلے پاجامے میں مسکراتے ہوئے نکلے
آگئیں جان میں ابھئ۔
آگے کا جملہ منہ میں روح فنا۔
طوبی کی جگہ اجنبی پیاری سی لڑکی کھڑی تھی۔
وہ۔ سعدیہ نے بتانا چاہا کہ دلاور نے سٹپٹا کر دروازہ بند کردیا۔
ہائش۔ اسکے منہ پر دروازہ بند ہوا تو اس نے چارو ناچار مڑ کر طوبی کو دیکھنا چاہا۔ سامنے والے فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا اور طوبی اور فاطمہ غائب تھیں۔ اس نے کندھے اچکائے اور اسی دروازے کی جانب بڑھ گئ۔
دھڑ دھڑ دل قابو کرتے وہ جلدی میں بھاگ کر آئے اور اپنی ٹی شرٹ پہنی۔ اجنبی جوان جہان لڑکی کے سامنے وہ بنیان میں۔ انہوں نے جھرجھری لی۔
بھاگے بھاگے آئے دوبارہ دروازہ کھولا تو لڑکی گم۔ اور انکی سٹی بھی۔
ڈھلتی سہ پہر میں جنوبی کوریا میں خالص پاکستانی شکل کی لڑکی دیکھنا اور اسکا یوں غائب بھی ہونا۔
کون تھی وہ لڑکی بھی تھی یا؟
یہ خیال انکی رگوں میں خون جما گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی اندر زور و شور سے بحث جاری تھی۔
منے لائونج میں وہ سب اکٹھی تھیں۔ آلتی پالتی مار کے کانفرنس ہو رہی تھی سوائے فاطمہ کے سب آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ واعظہ اور عروج صوفے پر طوبی عزہ اور الف کارپٹ پر۔۔ جبکہ فاطمہ اس منے لائونج میں بھی ٹہل ٹہل کر شائد گینیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
یہ یو ٹیوبرز ایسے ہی ہوتے ہیں چار ویوز اور لائکس کیلئے کوئی بھی گرا ہوا کام کرسکتے تم دونوں کو سوجھی کیا تھی۔
کیا شوق آیا تھا یو ٹیوب ویڈیو میں آکر اپنا تماشہ بنانے کا۔
فاطمہ بڑھ بڑھ کر بول رہی تھی۔چلتے چلتے عزہ کا ہاتھ پائوں کے نیچے دے دیا وہ ہاتھ دباتی دہری ہوگئ۔
ہٹو موٹو۔ اس نے تڑپ کر اسکی ٹانگ پر چپت لگائی۔
فاطمہ کی بات جاری تھی یہ لفظ بھی اچک لیا
یا رموٹو بھئ کوئی۔۔بولتے بولتے عزہ کو گھورا پھر تصحیح کی۔
اوہو عقل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
یار مسلئہ ہمارے ثقافتی فرق کا ہے اورکچھ نہیں اس کو گمان نہیں گزرا کہ پردہ اتنا بڑا مسلئہ ہو سکتا ہے ہمارے لیئے۔
یہ واعظہ تھی الگ ہی کوئی منطق سمجھانے میں مصروف۔۔۔

دیکھو وہ لڑکی اگر واقعی اچھی نیت سے کام کرتی تو یہاں کتنی ساری پاکستانی اور انڈین لڑکیاں بھی کام کر رہی ہیں یو ٹیوب چینل چلا رہی ہیں انکا انٹرویو لیتی سعدیہ کا لے لیتی۔ تمہیں یہاں کوئی جانتا نہیں پہچانتا نہیں تمہیں بلایا اور تم چلی بھی گئیں۔
یہ طوبی تھی رسان سے سمجھانے لگی۔
بالکل سعدیہ کو بلاتی۔ فاطمہ نے ہاں میں ہاں ملائی پھر مڑ کر طوبی سے پوچھنے لگی
کون سعدیہ؟
سعدیہ یو ٹیوبر ہے نا ۔عزہ نے چٹکی بجائی۔
یہیں کوریا میں ہوتی ہے وی لاگ بناتی ہے۔ اتنی مزے کی ویڈیوز ہوتی ہیں اپنے دن رات کی روٹین دکھاتی ہے۔ کوریا کی سیر کرواتی ہے میں اسکی ہر ویڈیو شوق سے دیکھتی ہوں
صرف دیکھا کرو نا مرغی کے پیٹ میں تیتر کے انڈے بھر کر پکانے نا بیٹھ جایا کرو۔ بھوک سے آنتیں پلٹ رہی ہیں شاہی کھانا ہی پک کے نہیں دے رہا۔۔۔یہ کون ہے ۔
طوبی عزہ کی پشت تھی الف صوفے سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھئ تھئ تو اسی کی بولتے بولتے سب سے پہلے نگاہ لائونج کی دیوار کے پاس جھجکی سی کھڑی سعدیہ پر پڑی تھی سو روانی میں بولتی گئ۔
یہ لڑکی میں نے کہیں دیکھی ہے۔ ہے یاد نہیں آرہا
اسکے کہنے پر سب نے مڑ کردیکھا تو سعدیہ سٹپٹا سی گئ
اسلام و علیکم۔
یہ سعدیہ ۔۔ سعدیہ ہے نا؟
عزہ خوشی سے اچھل کر کھڑی ہوگئ۔
واعظہ نے بھی اسکی ویڈیوز دیکھ رکھی تھیں سو پہچان کر فورا استقبال کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ہاں یہ وہی تو ہے جسکی وجہ سے عزہ مرغی کے پیٹ میں تیتر کےانڈے بھر رہی تھی۔
الف نے اس بار۔ پہچان لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ :یہ بتائو تم کب سے ہو یہاں؟
عزہ: پتہ یےمیں سال بھر سے تمہاری سب وی لاگز دیکھ رہی ہوں
طوبی: یہ دائود کم کی ویڈیو میں بھی آئی تھی
عروج : تمہیں ہنگل پوری سمجھ آجاتی ہے؟
الف: یار مجھے تو ایک لفظ ابھی تک نہیں سمجھ آتی
طوبی: یار یہاں کھانے پینے کا کیا حل ہے ہم میاں بیوی تو سوکھے منہ واپس آجاتے سمجھ نہیں آتا کچھ کھا سکتے ہیں کہ نہیں؟
عزہ: ہمدردی سے: تو طوبی آپ پاکستانی یا انڈین ریسٹورنٹ چلی جایا کریں نا
طوبی آہ بھر کر: اب کوریا میں رہ کر بھی دیسی ہی کھانا ہے تو کیا فائدہ
الف: سعدیہ تم ویسےکیا پڑھ رہی ہو یہاں؟
عزہ: تم اکیلی رہتی ہو ؟ ڈر نہیں لگتا؟
فاطمہ: ڈر کیسا کوریا ہے یہ
عروج : یار اکیلے رہتے لگتا ہی ہوگا اندھیرے سے بھوت پریت سے۔
عروج کئ بات پر سعدیہ تھوڑا گھبرائی۔
عزہ: کوریا میں بھی بھوت ہوتے ہونگے؟
الف:ہاں ہونگے تو مگر ایک فائدہ ہے
سعدیہ بوکھلا کر : کیا؟
الف : پیارے ہی ہوتے ہونگےسامنے آ بھی جائیں تو ڈر نہیں لگے گا 😍
الف کی بات پر عزہ نے اسکے سر پر بلا تکلف چپت لگائی سعدیہ کی بھی اسکا جملہ سن کر جان میں جان آئی۔
منے لائونج میں اب سعدیہ بھی کارپٹ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ان سب کے نرغے میں اور سوالوں کی۔بوچھاڑ جاری تھی سب اکٹھے پوچھ رہی تھیں اکٹھے ہی جواب دے رہی تھیں۔ خود ہی سوال خود ہی جواب۔ اچھا انٹرویو ہو رہا تھا سعدیہ کا۔
بس کرو اسکو اتنا تنگ مت کرو کہ دوبارہ کبھی ملنے کا سوچ کر بھی کانوں کو ہاتھ لگائے۔
یہ واعظہ تھی مسکرا کر ان اوور ایکسائیٹڈ لڑکیوں کو ٹوکا۔وہ کچن سے ٹرے میں کھانا لگا کے لارہی تھی۔
اسے کھانا لاتے دیکھ کر جھٹ پٹ الف اور عزہ بھی اٹھ گئیں
پلیٹیں چمچ گلاس منا دسترخوان بچھا کھانا سجا
کھانا ایک الگ سرپرائز تھا
یہ کیا ہے۔
فاطمہ طوبی عروج کے منہ سے استعجابیہ اور صدماتی جملہ نکلا تو سعدیہ خوشگوار حیرت میں پڑ گئ۔ واعظہ الف کو یہ صدمہ پہلے پہنچ چکا تھا ایک بڑی سی طشتری میں سالم روسٹ مرغ مصالحے دار چاولوں پر اکڑا بیٹھا تھا اکڑا یوں بیٹھا تھا کہ چونکہ پیٹ میں افراد کو مد نظر رکھتے ہوئے عزہ نے انڈے بھرے تھے تو کچھ ذیادہ بھر گئے نتیجتا اسکو بٹھانا پڑ گیا تھاہاں ٹانگوں میں رسی مطلب دھاگا بندھا تھا۔
یہ تو۔۔ سعدیہ حیران سی رہ گئ تھئ
کوزی نرا چاٹو ۔۔۔ چن۔
عزہ خالصتا کوریائی انداز میں دونوں ہاتھوں سے انگلی انگوٹھے والا دل بنا کر لہرائی۔
تمہاری ویڈیو دیکھ کر اسکو بنانے کا دل کیا تم سب لوگ اتنا چٹخارے لیکر کھا رہے تھے کہ میں نے ٹھان لی کہ ضرور یہ بنائوں گی۔
عزہ بچوں کی طرح پرجوش تھی۔ سعدیہ اسکے انداز پرہنس دی۔
چکھ کر بتائو کیسا بنا۔
عزہ بڑے اشتیاق سے اس سے کہہ رہی تھی۔ سعدیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی پلیٹ میں چاول نکال لیئے۔
پہلا نوالہ چمچ سے لیکر منہ میں رکھنے لگی تو ٹھٹک سی گئ
وہ سب اسےبغور دیکھ رہی تھیں۔
اس نے جھجکتے ہوئے نوالہ منہ میں لیا۔۔
دیکھنے میں وہ بیٹھا ہوا مرغ جتنا بھی عجیب لگ رہا ہو ذائقہ چاولوں کااصل پکوان سے قریب قریب تھا۔کافی مزے کا
بہت مزے کا بنا ہے عزہ۔ سعدیہ نےکھلے دل سے تعریف کی تو عزہ کو لگا محنت وصول ہوگئ
اسکو اطمینان سے کھاتے دیکھ کر باقیوں نے بھی ہمت کی اور اپنی پلیٹ میں نکالنے شروع کیئے چاول
یار یہ انڈے اتنے چھوٹے کیوں ہیں؟
عروج نے ہی مرغ کا آپریشن سب سے پہلے کیا تھا
یہ تیتر کے انڈے ہیں۔ سعدیہ نے حیرت دور کرنی چاہی اسکی
تیتر حلال ہوتا یے نا۔۔
الف کے منہ سے بے ساختہ نکلا
ہاں نا یہ ڈش سعدیہ خود بیٹھی کھا رہی تھی اسی کے چینل سے تو پتہ چلاکوزی نرا چاٹو بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
عزہ نے سمجھایا تو طوبی جھٹ بولی
یہ عید والی ویڈیو تھی نا اس میں تم نے سرخ سوٹ پہنا ہوا تھا نا میں نے بھی دیکھ رکھی ہے۔

انکی یادداشت پر سعدیہ حیران ہو کر ہنس دی
مجھے نہیں پتہ تھا آپ لوگ میری وییڈیوز اتنے شوق سے دیکھتے ہیں۔
اچھا ایک بات بتائو جو لوشن وغیرہ تمہاری ویڈیوز میں ہوتے ہیں ان میں سور یا گھوڑے کی۔چربی تو نہیں ہوتی نا ہم وہ استعمال کر سکتے ہیں؟
طوبی کواچانک خیال آیا تو پوچھ بیٹھی۔
ہیں سعدیہ حیران رہ گئ تھئ
ایسا بھی ہوسکتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طویل ترین دن کا اختتام ہوا تھا کھانے کے بعد باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں لگا تھا ۔واپسی پر سب سعدیہ اور فاطمہ کوبس ااسٹاپ تک چھوڑنے آئی تھیں۔ سعدیہ اور فاطمہ بس میں چڑھ گئیں توان سب نے ہاتھ ہلا ہلا کر خدا حافظ کہا بس نظروں سے اوجھل ہوگئ۔پھر واپسی کی راہ لی۔ رات کے ساڑھے نو ہو رہے تھے اس وقت بس اسٹاپ پر بالکل رش نہیں تھا ۔وہ سب آرام سے چہل قدمی کر رہی تھیں۔موسم سرد سا تھا۔ خنک سی ہوا جسم میں پھریری سی دوڑا دیتی تھئ۔
یار یہ کیا مزاق ہے یہاں اتنی سردی کیوں ہوگئ ہے ابھی سے۔
الف بھنائی۔ وہ سب دو دو کرکے چل رہی تھیں۔عروج اور واعظہ پیچھے تھیں آگے الف اور عزہ
یار ویسے سعدیہ کتنی سویٹ سی ہے نا؟
عزہ دل سے خوش ہوئی تھی اس سے مل کر باتیں کرکے۔
میں نے اس سے کہا ہے اگلی ویڈیو میں ہم سب کا نام۔لے۔
عزہ نے مڑ کر عروج کو بتایا تو وہ چھیڑنے لگئ
ہاں ساتھ یہ بھی بتائے کیسے الف نے کھولتا ہوا کسٹرڈ کھلا کر اسکا منہ ہی جلا دیا تھا۔
جان کے تھوڑی کیا تھا۔ کب سے تو کسٹرڈ فریج میں رکھا تھا اب وہ اوپر سے جم گیا مگر اندر سے کھولتا ہوا نکلا۔
الف کھسیا سئ گئ تھئ۔ سعدیہ کا چہرہ ایکدم سرخ ہوا تھا
کسٹرڈ کو فورا فریج میں نہیں رکھتے احمق پہلے روم ٹیمپریچر پر ٹھنڈا کرتے ہیں۔ عروج اسے مت دے رہی تھی۔
مجھے کیا پتہ تھا۔الف نے کندھے اچکائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف اپنے گھر میں جیسے ہی داخل ہوئی اسکا پالتو کتالوسی دوڑتا ہوا آیا تھا اور اسکے قدموں میں لوٹنے لگا۔۔
ہائے لوسی۔۔ اس نے فورا اسکو بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔
تھکی تھکئ سی کمرے میں آکر وہ فورا بستر پر دراز ہوئی ۔
اف تھک گئ۔ کتنا بولتی ہیں یہ لڑکیاں مگر مزا آیا اتنے سارے ہم وطنوں اور ہم زبانوں سے مل کر۔
اس نے اپنے موبائل میں ابھی تازہ کھینچی ڈھیروں ڈھیر تصویروں کو اسکرال کرنا شروع کیا۔
پھر اپنی آج کی تصویر انسٹا پر لگا کر عنوان دینے لگی۔
کچھ یادیں ہم کیمرے میں قید نہیں کر پاتے مگر وہ دل میں قید ہو جاتی ہیں اور ہمیشہ ایک مسرت بھرا احساس ہمراہ رہ جاتاہے۔ عزہ ، الف ، واعظہ ، عروج اور طوبی جن سے میری ملاقات تصوراتی رہی مگر دلچسپ بھی۔ یہ احوال وی لاگ کے ذریعے دیکھنے کو نہ سہی مگر بلاگ کی صورت میں آپ سب کو پڑھنے کو مل سکتا ہے۔سو ضرور پڑھیئے گا دیسی کمچی۔
پھر ملیں گے انشا اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔۔ جاری ہے۔