قسط 32
منہ ہاتھ دھو کر وہ تولیے سے چہرہ تھپتھپاتی باتھ روم سے نکلی تو عشنا کو خلا میں گھورتے مگن پایا۔ دوسرا کمرہ مچھلی بازار بنا ہوا تھا ان سب کا یقینا آج رت جگے کا ارادہ تھا۔ فاطمہ بھی یقینا آج وہیں سوتی یا جب سونے کا ارادہ باندھتی تو واپس آجاتی یہاں۔عشنا ڈبل بیڈ پر کرائون سے کمر ٹکائے گہری سوچ میں گم تھی۔
واعظہ نے اسکے منہ پر تولیئے کا گولا سا بنا کے دے مارا۔
کیا ہوا۔ وہ چونک کے سیدھی ہوئی
دو دن سے کہاں غائب تھیں؟
اسکا سوال سیدھا کڑا تھا انداز تفتیشی یقینا بنا جواب ٹلنے والی نہیں تھی۔
عشنا نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری پھر سیدھی ہوبیٹھی۔
وہ۔
آئیم سوری واعظہ۔ وہ کہہ کر سر جھکا گئ تھی۔
مجھے یہ بوگس بکواس سوری نہیں چاہیئے۔ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور کل مجھے اس کمرے میں رات کو نظر نہ آنا۔
وہ قطعی انداز میں کہتی اپنے بیڈ کی جانب بڑھ گئ۔
عشنا کو اندازہ تھا اسکا یہی ردعمل ہونا تھا۔ پھر بھی وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی۔
میں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھئ۔ نور کی وجہ سے پہلے ہی آپکو بہت پریشانی اٹھانی پڑی۔ میں کل ہر صورت چلی جائوں گی آپ فکر مت کریں۔ میں نے جھوٹ بولا مگر میں یہاں اتنے عرصے رہنے کا ہر حساب بے باق کر دوں گی۔ بس مجھے
وہ دھیرے سے بول رہی تھی مگر مخاطب کو سننا بھی گوارا
نہیں لگتا تھا جبھی منہ تک کمبل تان کر اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیونگ رو پکا مر مٹا ہے تم پر۔
نور نے نتیجہ نکالا ۔
وہ سب ڈبل بیڈ پر گول میز کانفرنس میں مصروف تھیں۔جیل کا احوال اور نور کے پیٹھ پیچھے جو کچھ ہو گزرا اسکی تفصیل مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے سنائی اور سنی جا رہی تھئ۔
عروج نے اپنے ساتھ گزری بپتا سنائی تو سب کی سب نتیجے نکالنے میں لگ گئیں۔
نہیں یار ایسے کیسے۔ عروج نے جھٹلانا چاہا۔
ہم اتنے عرصے سے ساتھ ہیں اسپیشلائزیشن میں وہ میری مدد کردیتا ہے ہم اچھے دوست ہیں تو ظاہر ہے تجسس ہوتا ہے کہ جس انسان کے ساتھ ہیں آپ اسے دیکھیں بھی۔
اس نے تفصیلا اسی لیئے بتایا کہ اسکے اس اندازے کو مکمل غلط قرار دے سکے۔
وہی تو جب آپ ساتھ ساتھ ہوتے ہو کسی سے بہت باتیں کرتے ہو تو دل آجاتا ہے اس انسان پر جو آپکے سر پر سوار ہو۔
نور اپنے اندازے کو غلط ماننے پر تیار نہ تھی۔
تو اور کیا مجھے نہیں ہے جن سے محبت ہو گئ تھی ؟
عزہ جھٹ ہاتھ ہلا کر بولی سب سکھیوں نے اسے یوں گھورا جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔
اتنا یاد آتا ہے مجھے سمسٹر بریک آئے میں پکا اس سے ملنے اسکے گائوں جائوں گئ۔ بلکہ تم سب بھئ چلنا تم سب کو بھئ تو محبت ہوگئ ہے نا ہے جن سے۔
انکی گھوری کے برعکس وہ بات کو اپنی مرضی سے دوسرا رخ دے چکی تھی۔
افوہ اس محبت کی بات نہیں ہو رہی احمق۔ نور جھلائی۔
پھر کس محبت کئ بات ہو رہی ہے؟ عزہ سابقہ انداز میں پوچھتے ہوئے ہمہ تن گوش ہوئئ۔
دیکھو بلڈ ڈرامے میں جو دکھایا اچھا سا اوپا پے درپے ملاقات پرہوتی ہے اپنے نئے کولیگ سے ۔ہیروئن اس سے چڑتی ہے پر ساتھ ساتھ رہ کر چڑ ختم ہو جاتی ہے پھر وہ دوست سمجھتئ ہے اور پھر ہیرو کی نیت میں بھی فتور آجاتا ہے۔ہیروئن اسے اپنا دلہا اور وہ ہیروئن کو اپنی ہونے والی دلہن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے مگر بظاہر وہ لوگوں کا علاج کر رہے ہیں آپریشن کر رہے اندر کسی کی نبض دیکھتے اپنی دھڑکنیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ نور ڈرامائی انداز میں باقائدہ ایکشن کے ساتھ بیان کر رہی تھی۔
نور کو شائد جیل میں یہ لت لگی ہے فارغ بیٹھ کر کہانیاں سوچنے کی۔ عروج الف کے کان میں جھکی۔

اچھا۔۔اس محبت کی بات ہو رہی ہےبلڈ تو نہیں دیکھا میں نے مگر میڈیکل ڈرامے میں ڈاکٹر اسٹرینجر دیکھا۔ ڈاکٹر اسٹرینجر میں جھڑوس سے لی جونگ سوک سے ہیروئن کو ہو گئ تھی محبت ل۔۔
سوچتے ہوئے اسے جھٹکا سا لگا۔
عروج تمہیں ڈاکٹر سیونگ رو سے؟ وہ بھی جھڑوس؟
عروج نے مٹھئ بھر چھلی ہوئی مونگ پھلی اسکے منہ میں ٹھونس دی۔
تم سوچنے کی زحمت مت کرو۔ اس نے چڑ کر کہا۔
فاطمہ نے عزہ کو بھی بغور دیکھا اور نور کو بھی۔ ایک کو اپنے اندازے کی درستگئ پر مان تھا تو دوسری کے چہرے پر تجسس دبا دبا سا جوش تھا۔ تھوڑا تھوڑا اسکے اندازے پر یقین بھی تھا۔ مگر اسکے اندازے کو جھٹلایا اس نے جس سے توقع بھی نہ تھی۔
لو جو ساتھ رہیں ایک دوسرے کے سر پر سوار رہیں انکو محبت ہو جاتی ہے ایک دوسرے سے؟ پھر تو مجھے ژیہانگ سے ہو جانی چاہیئے۔
الف نے نتیجہ نکالا۔
اسکی بات پر سب سہیلیاں گھوم گئ تھیں اسکی جانب۔
کیا کہا تم اور ژیہانگ؟ وہ سب کورس میں چلائیں
ویٹ ویٹ۔۔ الف سٹپٹا سی گئ۔
میں نے تو مثال دی ہے پاگلو۔ اب اس طرح فاطمہ کو سیہون سے ہو جانی چاہیئے کیونکہ یہ دونوں تو رہتے ہی اکٹھے آہ سی۔۔
اسکی بات پر فاطمہ نے بلا لحاظ چپت لگادی تھی
بکواس نہ کرو ہم اکٹھے نہیں ایک ساتھ رہتے ہیں۔
وہ اسکے جملے کی نزاکت اسے باور کرانا چاہ رہی تھی
الفاظ مترادف میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ان الفاظ کا مطلب ایک ہی بنتا تھا۔
عزہ کھسک کر پہلے تو فاطمہ کی دسترس سے دور ہوئئ پھر ڈرتے ڈرتے کہا۔ فاطمہ آگ بگولہ ہو کر لپکی مگر نور اور عروج نے اسے پکڑ کر بچا ہی لیا عزہ کو
مجھے اردو سکھانے بیٹھی نا تو ہنگل میں گالیاں دوں گی بہت یاد ہو گئ ہیں مجھے۔
فاطمہ کے تیور کڑے تھے۔
کیسے۔
وہ سب حیران ہوئیں۔
سیہون کے ساتھ رہنے سے۔۔
فاطمہ نے دانت کچکچائے۔اسکے کندھے پر فلیش بیک نمودار ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائیش۔ جھو دوئے سو۔
좆됐어: meaning Fucked
دیگچی میں پانئ کھول رہا تھا ریمین ڈالتے ہوئے چھپاک سے اڑ کر اسکے بازو پر آلگا۔۔۔
تڑپتے ہوئے اسکے منہ سے نکلا تھا۔
فریج سے پانی کی۔بوتل نکالتے ہوئے فاطمہ نے بغور اسے دیکھا تھا۔
میل باکس سے میلز نکال کر لاتے ہوئے باآوازبلند وہ اپنے بنک کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا جس نے اسکی اسٹیٹمنٹ بھیجی تھی جسکے مطابق اسکے لیئے گئے قرض کی واجب الدا دو اقساط ہو چکی تھیں۔
یائونگ شنگ سہیکی۔۔
병신 새끼 : meaning Ass hole
کچن کائونٹر پر ناشتہ کرتی فاطمہ اسے بڑ بڑاتے آتے دیکھ رہی تھی۔

فٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے اسکی ناپسندیدہ ٹیم نے گول کیا تو منہ میں بھرے بلیک بین نوڈلز کا چھڑکائو کرتے وہ چلایا۔
چیح رائے
지랄:Fuck
اپنے کمرے سے نکلتی فاطمہ نے چونک کر لائونج میں اسے کم از کم چار مرتبہ یہ الفاظ دہراتے دیکھاتھا۔ نہیں سنا تھا کہنا چاہیئے ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوفوہ۔
عزہ نے ہاتھ نچا کر فلیش بیک ختم کیا۔
اتنے معصوم قارئین ہیں ہمارے انکو ہنگل کے اچھے لفظ سکھائو گالیاں کیوں سکھا رہی ہو ؟
میں کیا کروں واعظہ نے یہی لکھا ہے۔
فاطمہ کندھے اچکا کر بولی
اور کہہ سیکئ تو تکیہ کلام ہے سیہون کا۔ ابھی الٹیاں لگی ہوئی تھیں اسے دو دن پہلے مستقل اس بلیک بین نوڈلز والے ریستوران کو کہہ سیکی کہتا رہا میں سمجھی کہ نام ہے ریستوران کا۔
فاطمہ کے کہنے پر سب نے منہ بنایا۔
اتنے کورین ڈرامے دیکھ کر کم از کم اس گالی کا انکو پتہ تھا۔
دیکھا۔ تکیہ کلام بھی پہچاننے لگی ہے فاطمہ۔
نور نے تالی بجائی۔
فاطمہ تمہیں سیہون سے محبت ہو جائے گئ پکا۔ فورا واپس آجائو۔ عزہ سچ مچ ڈر سی گئ۔ فاطمہ نے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے ایسے شخص سے کیسے محبت ہو سکتی ہے جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو دلیہ بنا کر لائی ہوں ۔مانا الٹیاں آرہی ہیں تمہیں مگر کچھ تو کھائو ایسے تو کمزوری ہو جائے گی۔
وہ بستر پر چت پڑا ہائے ہائے کر رہا تھا جب وہ ازراہ ہمدردی پیالہ بھر کر دلیہ بنا کر لائی
نہیں میں نہیں کھا سکتا مجھے ابھی بھی الٹی آرہی ہے۔ وہ کہتے کہتے بھی ابکائی لیکراٹھ بیٹھا
فاطمہ جھٹ دو قدم پیچھے ہوئئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ طبیعت تو کسی کی بھی خراب ہو سکتی ہے ایسے تو نہ گھن کھائو۔
فلیش بیک میں ہی سب سہیلیوں نے اینٹری مار دی تھی۔
فاطمہ نے گھور کر دیکھا۔
اسکی بات نہیں کر رہی پورا فلیش بیک دیکھو
فاطمہ کے دانت کچکچانے پر وہ سب فورا سے پیشتر غائب ہوئیں
ہٹو۔ سیہون منہ پر ہاتھ رکھتا اسکے ایک طرف ہوتے ہی باتھ روم بھاگا ۔۔۔۔
کیا بھیانک آوازیں آرہی تھیں۔
کھنکھارنے تھوکنے اور الٹی کی بھی۔
فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر باتھ روم کی جانب بڑھی۔
دروازہ بھڑا ہوا تھا اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا
آر یو آل رائٹ۔
دے۔ سہون نے کہنے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر الٹی کی۔ فاطمہ سے رہا نا گیا دروازہ کھول کر سیدھا سامنے لگے واش بیسن کی جانب بڑھی مگر وہ خالی تھا۔ اسے جھٹکا سا لگا۔ سیہون غائب ہو گیا۔ اس نے سیہون کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو ۔۔ تو۔۔ وہ ٹوائلٹ بول میں سر دیئےپڑا تھا ٹوائلٹ بول کے گرد بانہیں ڈال رکھی تھیں۔ اور سہولت سے فرش پر پڑا تھا ۔
وہ تیر کئ طرح اسکی جانب بڑھئ

تم ۔ٹوائلٹ بول میں کیسے گر گئے۔ ؟ وہ متوحش تھی
اسکی بات پر سیہون نے ٹوائلٹ بول کا سہارا لیتے ہوئے سر اٹھایا ۔اور دوسرے ہاتھ سے ٹٹول کر ٹنکی فلش بھی کردی۔
گرا نہیں ہوں۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر تسلی دینی چاہی۔ فلش چل رہا تھا وہ الٹی کرکے تھوڑی طبیعت بحال کر چکا تھا سو مڑ کر فلش کو تھام کر اٹھنے لگاایسے کہ چلتے فلش میں اسکا چہرا ٹوائلٹ سیٹ پر جھکا ہوا ہی تھا۔
فاطمہ کو بہت زور سے ابکائی آئی تھی اور وہ پلٹ کر باہر بھاگئ۔۔
لگتا یے وائرل ہے اسکی بھی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
فلش کا سہارا لیکر اٹھتے وہ سوچ رہا تھا۔ باآواز بلند۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ تو نہیں مگر وہ سب الٹی روکتی دہری ہوئی وی تھیں۔
صحیح کہہ رہی ہو محبت نہیں ہو سکتی۔
عروج نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے دل میں کہا تھا جو عزہ کی پشت سہلا رہی تھی۔
اوپا کو مسلمان تو ہونا ہی چاہیئے۔ الف مسکرائی۔اور نور کی پشت سہلانے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور نہار منہ صبح صبح جنرل اسٹور کے باہر دہی لینے کھڑے تھے۔ گائے کی بوتھی والا دہی خرید کر پلٹے تو ناک سرخ ہو کر سن ہو چکی تھی۔ انکا ارادہ سیدھا واپس جا کر بستر میں گھس جانے کا تھا۔ عین دفتر جاتے وقت ہی نکلوں گا بستر سے۔ وہ مصمم ارادہ کررہے تھے گھڑی دیکھے بغیر۔ جو انکے دفتر جانے کے وقت سے ریس لگانے کے در پر تھی۔
اسٹاپ پر ننھے منے بچوں کی اسکول بس آچکی تھی۔ جیکٹوں مفلروں میں ملفوف چندی آنکھوں والے بچوں کو انکی مائیں چھوڑنے آئی ہوئئ تھیں۔ سب بچوں کے مزاج برہم تھے اتنی سردی میں صبح صبح اٹھائے جانے پر۔انہیں دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
کوریا میں اتنی ٹھنڈ کیوں پڑتی ہے بھلا۔ اوپر سے اتنی صبح بچوں کو اٹھانا۔
سوچتے ہوئے خیال آیا کہ طوبی بھی انکے جگر گوشوں کو بیدار کر رہی تھی جب وہ ہانک لگا کر کہ ذرا باہر جا رہوں باہر نکل آئے کہ جلدی سے دہی خرید لائیں۔
ہائے معصوم آج اتنئ سردی ہے طوبی سے کہتا ہوں چھٹی کروادے بچوں کو
یہ ارادہ باندھتے ہوئے خود پر فخر سا ہوا کہ کتنے خیال رکھنے والے باپ ہیں۔
سڑک کے اختتام پر موڑ مڑتے وہ بھاگ کر جاتے ہائی اسکولر سے ٹکراسے گئے۔ اسکی ناک انکے کندھے سے لگی تھئ
چھے سو۔
بھاگتے بھاگتے وہ کہتا گیا۔
ارے۔ جتنئ دیر میں وہ سنبھلے وہ دوڑ چکا تھا۔ انہوں نے کندھا جھاڑا تو چپچپا سا محسوس ہوا۔
انہوں نے انگلیاں دیکھیں توتازہ خون بھرا تھا۔ وہ بوکھلا کر پلٹے۔
وہ لڑکا غیر معمولی رفتار سے بھاگتا دور جاتا دکھائی دے رہا تھا۔یقینا اسکی ناک سے خون نکل رہا تھا۔وہ چندلمحے دیکھ کر گہری سانس لیکر پلٹنے لگے تو سامنے سے چھے سات اسی لڑکے کے ہم عمر لڑکے یونیفارم پہنے آتے نظر آئے۔
بچ گیا سالا۔ بھگوڑا۔ مگر ناک پھوڑ دئ ہے سارا دن اسکول میں چہرہ چھپاتا پھرے گا۔
ایک زور زور سے بولتا دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ سب انکے پاس سے باتیں کرتے گزرے چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ کس سے بھڑ آئے؟
طوبئ نے دیکھتے ہی چیخ ماری۔
معمولی سا خون بھرا ہے میں ٹھیک ہوں۔
انہوں نے اپنی طرف سے تسلی دینی چاہی مگر الٹا اثرہوا۔
ہاں آپ تو ٹھیک ہیں نظر آرہا پر کس کا خون تک نکال دیا؟ یہ آپکا اپنا گائوں نہیں وہاں تو چودھراہٹ کا رعب تھا لوگ ابا کی وجہ سے دبتے تھے آپ سے مگر یہاں انجان ملک ہے میں کہاں پولیس وولیس سے آپکو چھڑاتی پھروں گی اوپر سے جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں فٹ سے ڈھونڈ نکالیں گے
یا خدا کوریائی پولیس کو کم نہ سمجھیں انکو تو رشوت بھی
طوبئ کا واویلا جاری تھا وہ تھوڑا جھلا گئے۔
اوفوہ کسی کو نہیں مارا ۔۔ ایک بچہ ٹکراگیا تھا زخمی تھا شائد۔
جھلا کر جیکٹ اتاری انہوں نے۔ناشتہ کچن سے لا کر میز پر لگاتے طوبئ نے بخشا نہیں خوب سنائی۔ وہ بھناتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر آبیٹھے۔
ہاں ایسی تو احمق ہوں میں۔ اور ایسی آپ توپ کہ۔آپ سے ٹکرا کر کوئی زخمی ہوگیا۔ نا بتائیں مجھے مگر یاد رکھیئے گا پولیس آئی تو جھوٹ نہیں بولوں گی ہاں۔
دھمکی دیتی وہ خود تو کچن میں چلی گئ۔
انکی چھوٹی صاحبزادی آنکھیں ملتی وارد ہوئی۔
طوبی بچے اٹھ گئے انکا ناشتہ بھی لے آئو دیرہو رہی ہے انکو۔
انہوں نے موضوع بدلا تھا
تم تیار کیوں نہیں ہوئیں ابھی تک؟
انہوں نے بچی کو نائٹ سوٹ میں ملبوس دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔ طوبی نے وہیں سے آواز لگائی
ہائے اسے کیوں اٹھا دیا اسکی چھٹئ ہے آج۔ایسے تو بچوں کی پڑھائی کی فکر نہیں ہوتی آج چھٹی والے دن بھی اسکول بھجوا رہے۔ ناراضی سے کہتے ہوئے
طوبی نے چائے کا کپ انکے سامنے لا رکھا اور جھٹ آگے بڑھ کر بیٹی کو ساتھ لگا لیا۔
میں نے تو نہیں۔ وہ سٹپٹائے

مما دودو۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
اچھا میں لاتی ہوں جائو بستر میں گھسو وہیں پی کر سوجانا۔
بچی کو بہلا کر بھیجا خود پھر کچن میں گھس گئ۔
اس بار انکی بڑی صاحبزادی یونیفارم پہنے بستہ اٹھائے تشریف لے آئیں۔
تم کیوں یونیفارم پہن کر آگئیں؟ جائو سوئوجا کر آج چھٹی ہے ۔
انکے آخری الفاظ انہیں خود بھی نہیں پتہ تھا کہ ادا ہو بھی پائے یا طوبی کی آواز میں دب چکے۔
بچی کیلئےتوس انڈہ اور دودھ ٹرے میں سجا کر لاتے وہ بھنائی تھی۔
خدایا کیا ہوگیا ہے آپکو اسکے سیشنل امتحان چل رہے چھٹی کروادی تو مارکس کٹ جائیں گے حد ہے بچوں کی تعلیم کی ذرا فکر نہیں چلو شاباش جلدی سے ناشتہ کرو آج پاپا چھوڑ دیں گے اسکول تمہیں۔
دلاور منہ کھول کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح وہی بے ہنگم سی بھاگ دوڑ انکے گھر میں چل رہی تھی۔ عروج کو اپنا پتلے پانی والے سینیٹائزر کی بوتل نہیں مل رہی تھی۔ عزہ کو ڈینم عبایا درکار تھا وہ بھی عروج کا کیونکہ رات کو اپنا عبایا دھو کر ڈالا تھا جو صبح تک سوکھ نہیں پایا تھا۔ الف اسکارف سر پر جمانے میں مصروف تھی فاطمہ کو چونکہ کہیں نہیں جانا تھا لہذا ان سب کیلئے انڈے پراٹھے کا ناشتہ بنا کر کچن سے آوازیں دے رہی تھی
نور اپنے بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ان سب کو بغور تک رہی تھی۔
تمہیں یہ کہتے عجیب تو لگ رہا مگر کیا کروگی گھر میں رہ کر ہمارے ساتھ یونیورسٹی چلو میری دوہی کلاسیں ہیں تم گھوم پھر لینا پھر ہم اکٹھے کہیں چلیں گے۔
یہ عزہ نے مشورہ دیا تھا جوابا وہ ہلکے سے مسکرا کر رہ گئ۔
ہاں چلو جا کر پتہ تو کرو پولیس نے یونیورسٹی کو مطلع کردیا تھا پھر بھی اتنی چھٹیوں کے بعد کیا کہتے یونی والے امتحان تو اگلے ہفتے ہیں ہو سکے تو دے ڈالو
الف اسکارف سرپر ٹکا چکی تھی۔ سو سہولت سے کہتی اسکے پاس آ بیٹھئ۔
اب اسکی ضرورت نہیں۔ نور نے گہری سانس لیکر دھیرے سے کہا تھا۔
کیوں؟ الف نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہ کیا
کیونکہ میں اسی ہفتے پاکستان واپس جا رہی ہوں ہمیشہ کیلئے۔
اس نے سابقہ ہی انداز میں جواب دیا ۔
۔ سیٹی ٹائزر بیگ میں رکھتی عروج جھکی رہ گئ تھی ، الف کا منہ کھل سا گیا تو عزہ بھی سب چھوڑ چھاڑ اسکے سامنے دھپ سے آ بیٹھی۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟
عزہ نے رونی صورت بنائئ
انکل نے کہا ہوگا ہم بات کریں منا لیں گے انکو فکر نہ کرو
عروج نے کہا تو الف نے زور و شور سے سر ہلایا
ہاں تو اور کیا ایسے کیسے تمہاری تعلیم ادھوری رہ جائے گی اور یہ تو اتفاق تھا نا گہانی مصیبت تھی شکر ہے ختم ہوئی اسکی سزا تو نہیں۔۔
انکل نے ظاہرہے یہی کہنا تھا نا وہ بھی غلط۔۔
عزہ نے کہنا چاہا مگر نور نے بات کاٹ دی۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ میرا اپنا فیصلہ ہے۔
وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھی۔
کیا فیصلے ہو رہے ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
فاطمہ دروازہ کھول کر جھانکتے ہوئے چلائی۔
جوابا چاروں ٹس سے مس نہ ہوئیں تو خود بھی پاس چلی آئی
کیا ہوا؟
تم ایسا کیوں کر رہی ہو اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے آرام سے اپنی تعلیم مکمل کرو برا خواب سمجھ کر بھول جائو۔
عروج نے سمجھانا چاہا۔
یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
نور مضطرب سی ہوئی۔۔۔۔۔
مجھے گھروالے امی بابا بہن بھائی سب بہت یاد آرہے ہیں مجھے نہیں لگتا اب مزید میں یہاں ان سب سے دور رہ پائوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود گر گئ تھئ سیڑھی سے۔
آٹھ سالہ نور پرنسپل آفس میں اپنا مقدمہ خود لڑ رہی تھی۔
اسکی سہیلی کا سر پھٹ گیا تھا اسکے والد بیٹی کے سر پر پٹی بندھی دیکھ کر سیخ پا ہو چکے تھے والدہ کو بچی سمیت گھر بھیج کر وہ باقائدہ نور کے والد سے معافی کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ نور کا نام اسکول سے کٹوانے کی بھی استدعا کر رہے تھے۔
پرنسپل نے دونوں کو باہمی گفتگو کے ذریعے معاملہ۔نپٹانے کا مشورہ دیا تھا۔
جانے کیسے والدین ہیں بچوں کی کوئی تربیت ہی نہیں کرتے۔ احساس ہی نہیں انکو کہ انکی بچی کی وجہ سے میری بچی موت کے منہ سے ہو کر آئی ہے۔ سرپھٹ گیا پندرہ سیڑھیوں سے نیچے آگری کچھ ہو جاتا اسے تو کون ذمہ دار تھا؟ اور اتنے چھوٹے بچے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے ہیں کوئی انہیں دھکا دے دیتا ہے کیسا اسکول ہے
وہ انکل بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے۔
دیکھیں دونوں کم عمر ہیں بچوں کو ہم سیڑھیوں کے قریب کھیلنے بھاگنے دوڑنے نہیں دیتے چھوٹی کلاسز کی تو دوسری منزل پر کلاس بھی نہیں ہوتی۔۔
معاملہ اپنے خلاف جاتا دیکھ کر پرنسپل صاحب نے فوری صفائی پیش کی تھی۔
پھر کیسے میری بچی سیڑھی سے گر گئ؟
ہمدانی صاحب جوش میں میز پر ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

اس بچی کو دیکھیں ابھی بھی یوں کھڑی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ساری بات تربیت کی ہوتی ہے۔ سوری تک نہیں بولا اس بچی نے اور باپ ہے کہ
انہوں نے خاموش کھڑی نور کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
اسکے بالکل خاموش بیٹھے بابا غیر محسوس سے انداز میں اٹھ کراسکی جانب بڑھے۔
اسکے قد کے برابر آکر خشک سے انداز میں پوچھا
کیا واقعی تم نے دھکا دیا تھا عالیہ کو؟
نہیں بابا ۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میں نے دھکا نہیں دیا تھا عالی کو وہ خود سیڑھیوں سے گر گئ تھئ ۔وہ بھاگ رہی تھی۔
انہوں نے خاموشی سے ایک نظر اسے دیکھا۔
اب ظاہر ہے یہ یہی کہے گی مانے گی تھوڑی کہ
ہمدانی صاحب پھر کچھ کہنے لگے تھے کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
نور بہر حال آپکی سہیلی کو آپکے ساتھ کھیلتے ہوئے چوٹ لگ گئ ہے۔ آپ انکل سے سوری بولو اور وعدہ کرو آئیندہ شرارت نہیں کروگی۔
آٹھ سال کی عمر میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ اسکو غلط سمجھا گیا ہے اس سے اس غلطی کی معزرت کروائی جا رہی ہے جو اسکی غلطی کہیں سے نہیں تھی۔
یہ جملے دہراتے وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔ ہمدانی صاحب کا کچھ غصہ ٹھنڈا پڑا تھا مگر نور کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوا تھا کہ بابا اسے غلط سمجھ رہے ہیں۔
اسپتال میں باپ کی شکل دیکھ کر بت بن جانے والی نور کو دیکھ کر اسکے بابا کو کئی برس قبل کا یہ واقعہ یاد آیا تھا۔ جانے کیوں۔ شائد اسکے تاثرات دیکھ کر۔
نور کی آنکھوں میں جانے انہیں دیکھ کر یہ اعتماد کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے اسکے بابا سب سنبھال لیں گے نظر آنے کی بجائے ایک خوف سا دکھائی دیا انہیں کہ جانے بابا اسکا یقین کریں گے یا نہیں۔
برسوں قبل بھی انکو معلوم تھا کہ انکی بیٹی جھوٹ نہیں بولتی غلط نہیں مگر اس وقت انہیں ہمدانی صاحب کا غصہ ٹھنڈا کرنا ذیادہ ضروری لگا تھا یہ تو سوچا ہی نہ تھا کہ بیٹی کیلئے اس وقت انکا اس پر اعتماد کا اظہار کرنا ذیادہ ضروری تھا جبھی تو اس وقت بھی وہ کشمکش کا شکار لگ رہی تھی جانے بابا میرا یقین کریں گے کہ نہیں۔
ٹپ ٹپ کتنے آنسو انکی بیٹی کے چہرے پر پھسل آئے تھے۔ وہ سب بھول گئے یاد رہا تو بس یہ کہ انکی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔تڑپ کر آگے بڑھ کر انہوں نے اسے گلے سے لگا لیا تھا۔
مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
میں نے کچھ نہیں کیا بابا
وہ بابا سے جب کہنے لگی تو انہوں نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔مت گھبرائو میں آگیا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ رونا بند کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کھچا کھچ بھری تھی عزہ الف دونوں ہی کو بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی تھئ۔چونکہ صبح کا وقت تھا ذیادہ تر اسکول جانے والی عوام ہی تھی۔ وہ چار پانچ لڑکیوں جنہوں نےہائی اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا انکے قریب جا کھڑی ہوئیں۔ اس سے دیگر مرد حضرات سے بچت ہوگئ۔
سچ کہوں تو میرا بھی دل کر رہا نور کی طرح سب پڑھائی وڑھائئ چھوڑ کر پاکستان واپس چلے جانے کا۔ امی یاد آرہی ہیں۔
عزہ بسوری۔
مجھے نہیں لگتا کہ نور محض گھر والے یاد آرہے ہیں اسلیئے واپس جانے کا فیصلہ کر رہی ہے یقینا اسکے بابا نے کہا ہوگا۔
الف نے خیال ظاہر کیا۔
ظاہر ہے جیل میں رہی ہے وہ معمولی بات تھوڑی اسکے بابا جتنا غصہ کریں وہ کم ہے۔ پھر دیکھو یہاں ہم تو اسکی کوئی مدد نہیں کر پائے اسکے گھر والے ہی آکر اسے چھڑوا سکے تو پھر وہ یہاں اسے اکیلا کیوں رہنے دیں گے۔
عزہ کو اسکے بابا بالکل بھی غلط نہ لگے اگر وہ ایسا سوچ بھی رہے تھے تو صحیح سوچ رہےتھے۔
میں نے کب کہا کہ وہ غلط کر رہے ہیں بس مجھے لگا کہ نور ذیادہ ہی ڈر گئ ہے اسے کم از کم اپنے بابا کو سمجھانا تو چاہیئے۔۔۔
الف نے کندھے اچکائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاقات کے مخصوص اوقات میں اسکے بابا اس سے ملنے آئے تھے۔ پولیس افسرنئ اسکو کیبن میں چھوڑ کر پلٹ گئ تھی۔ وہ مرے مرے سے قدموں سے چلتی شیشے کی دیوار کے مقابل نشست آن بیٹھئ۔ شیشے کے پار اسکے بابا اسکے لیئے قانونئ مدد فراہم کرنے والے وکیل کے ہمراہ بیٹھے تھے۔ اس نے سلام تک نہ کیا تھا۔ یاد ہی نہ رہا تھا۔ ہر بار بابا کو جیل میں ملنے آتے دیکھ کر اسکے دل پر منوں بوجھ آگرتا تھا۔ وہ سرجھکا گئ۔
ان شا اللہ کل تمہاری ضمانت ہو جائے گی۔ سب کاروائی مکمل ہو گئ ہے تم بس ان کاغذات پر دستخط کر دو۔
اسکو بتاتے ہوئے اسکے بابا مسکرا رہے تھے مگر انکی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔
اس نے میکانکی انداز میں خالی خالی نگاہوں سے سر اٹھا کر دیکھا۔ وکیل نے اسکے سامنے ایک فائل بڑھا دی۔ اس کے احساسات برف سے ہو رہے تھے۔ جیل میں رہتے لگتا تھا زندگی بس یہیں تمام ہو جائے گئ جب مایوسی کی انتہا پر رونا بھی چھوڑا تو اچانک۔۔
ضمانت۔
وہ چونکی۔
اسکا مطلب کچھ عرصے کی رہائئ بس؟ اسکا کیس جانے کتنے عرصے چلنے والا ہے وہ تب تک کیا
بابا مجھے پاکستان جانا ہے واپس فورا۔
دستخط کرتے کرتے رک کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ بے تابی سے شیشے کی دیوار یوں کھٹکانے لگی جیسے توڑ کر باہر نکل آئے گی۔
بابا مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں بابا۔
وہ دیوار کو بے تابی سے ہاتھ مار رہی تھی۔ ہزیانی سے انداز میں چیختے وہ بس ایک ہی جملہ کہے جا رہی تھی
بابا مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔۔
۔ اسکے بابا اسکو یوں مضطرب دیکھ کر بری طرح بے چین ہو گئے
ہاں ہم پاکستان چلیں گے خود کو سنبھالو بیٹا
بابا مجھے ساتھ جانا ہے آپکے۔
بابا۔ وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔ اسکی پکار سن کر دو پولیس والیاں بھاگئ آئیں۔ انہوں نے اسکو پکڑ کر پیچھے کیا تووہ اور بری طرح مچل مچل کر رونے لگی
بابا ۔ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔
نور میری جان صبر کرو
بیٹا میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا
دیکھو۔
اسکے بابا بیٹی کی حالت دیکھ کر خود بھی رو پڑےتھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *