Desi Kimchi Episode 54

قسط 54
وہ حد درجہ مایوس گھر واپس آئے تھے۔ آہستگی سے داخلی دروازہ بند کیا کہ آہٹ نہ ہو پلٹے تو دل اچھل کر حلق میں ہی آگیا۔
سفید سلک کے نائٹ سوٹ میں لال بھبوکا چہرہ لیئے طوبی سامنے کھڑی تھی۔ شائد انکے انتظار میں ٹہل رہی تھی
تم سوئی نہیں۔ میرا انتظار نہ کیا کرو سو جایا کرو۔ ایویں نیند خراب کی۔
ذرا دھک دھک کرتا دل قابو میں آیا تو انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر نکل جانا چاہا
کہاں تھے آپ اتنی رات کو۔۔
طوبی نے براہ راست سوال کرنا مناسب سمجھا۔
پرانی آبادی گیا ہوا تھا ۔ کسی سے ملنے پر مل نہ سکا۔ گھر ڈھونڈنے کی کوشش کی ناکام رہا سو واپس آرہا ہوں۔
وہ سہولت سے بتاتے ہوئے کچن کائونٹر پر رکھے جگ میں سے پانی نکال کر پینے لگے۔
کوئی بات نہیں آج ملاقات نہ ہوئی کل کر لیجئے گا۔نہیں تو پرسوں تو ضرور دل کی مراد مل جائے گی آپکو۔
طوبی نے خاصے طنزیہ انداز میں چبا چبا کر کہا مگر چونکہ اسکی جانب پشت تھی سو دلاور اسکا انداز دیکھ نہ پائے مگر بے ساختہ منہ سے نکلا
آمین۔
طوبئ سلگ کر رہ گئ۔
بات سنیں میں نے کیا کمی چھوڑی ہے آپکی زندگی میں۔ گھر سنبھالتی ہوں صاحب اولاد ہیں آپ کبھی آپ سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی۔۔۔۔
وہ پھٹ ہی تو پڑی۔ دلاور خاصی حیرت سے مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔
اس وقت کیا کر رہی ہو؟ دلاور نےجتایا۔
چوٹ لگتی ہے تو انسان چیخ ہی پڑتا ہے۔
وہ انکا طنز خاطر میں نہ لائی۔
کہاں چوٹ لگی ہے ؟ رات کے اس پہر چلانے کا مقصد۔
دلاور کی پیشانی پر بل پڑنے لگے اس بار لہجہ دھیما رکھنے میں انہوں نے کافی توانائیاں لگا دی تھیں۔ جس دن سے سوچا تھا کہ اب سے وہ طوبی کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کریں گے اس دن سے طوبئ نے ان کا وہ وہ ضبط آزمانا شروع کیا تھا کہ الامان۔
دل پر۔وہ چٹخ کر بولی
عورت سب برداشت کر لیتی ہے اپنے شوہر کی شراکت اسے گوارا نہیں ہوتی۔ میں کالی بد صورت بھی ہوتی تو خود کو سمجھا لیتی یہ سوچ کر کہ یہاں گوری چمڑی دیکھ کر پھسل گئے آپ۔ مگر ان چٹی چمڑیوں میں میں چٹی بھی ہوں اور جٹی بھئ۔ اپنی اور اس عورت کی جان ایک کردوں گی جو آپ پر ڈورے ڈال رہی ہے۔۔ سمجھے اس گمان میں نہ رہیئے گا کہ آپ دوسری لا کر میرے سر پر بٹھا دیں گے اور میں اسکی چاکری کیا کروں گی۔ جان سے مار دوں گی اسے بھی اور خود بھی جان دے دوں گی۔۔
کچھ اسی سے ملتے جلتے ڈائلاگ اسکی پسندیدہ سیریل میں ہیروئن نے اپنے بے وفا شوہر کو سنانے کو بولے تھے جوابا شوہر نے اسے ایک زور دار تھپڑ لگا دیا تھا۔جبھی یہ سب کہنے کے بعد اس نے آنکھیں میچ کر سر بھی جھکا لیا تھا۔
آج اسے یہ معاملہ صاف کرنا تھا ہر قیمت پر۔
چند لمحے بعد بھی گال پر کوئی لمس محسوس نہ ہوا تو حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا دلاور خلاف توقع مسکراتے ہوئے اس پر نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
اتنا پیار کرتی ہو مجھ سے ؟
وہ جانے کیا سننا چاہ رہے تھے۔ طوبی گڑبڑا سی گئ۔
جان لے سکتی ہو اور جان دے بھی سکتی ہو میرے لیئے۔
وہ سینے پر بازو لپیٹے محظوظ انداز میں دیکھ رہے تھے اسے۔۔

کیا مطلب کیا آپ واقعی چاہتے میں اپنی اور اپنی اس سوکن کی جان لے لوں اور آپ پھر کسی تیسری کی تلاش میں لگ جائیں۔۔
اسکے تو سر پر آسمان ہی آن گرا جیسے۔اتنی حیرت سے بولی کہ دلاور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے
یار قسم سے پورا ڈرامہ بلکہ فلم ہو تم۔ اور سچ کہوں۔
وہ دلبرانہ انداز میں اسکی جانب بڑھے۔
میرا دل جگر جانم ہو تم۔ ارے یہ تو شعر بن گیا۔ اسے بانہوں کے حلقے میں لیکر وہ شرارت بھرے انداز میں بول رہے تھے۔ برسوں بعد بھئ وہ اسی طرح گھبرائی تھی ان سے جیسے شروع سالوں میں گھبراتئ تھئ ۔پیشانی چمکنے سی لگی بات تو کہیں سے کہیں نکلتی گئ تھی
دلاور اسے دیکھتے رہے پھر چونچال انداز پر سنجیدگی حاوی ہوتی چلی گئ۔
تمہیں پتہ ہے جب پہلی بار تمہیں دیکھا تھا تو میں اماں سے جاکے بہت لڑا تھامیرے لیئے کیا بچی کا انتخاب کرڈالا۔۔ میں گھر کا سب سے بڑا سمجھدار میچیور انسان تھا اپنے جیون ساتھی کے روپ میں ایک سنجیدہ سمجھدار لڑکی کی ہی خواہش کی تھی اور تم تم تو مجھ سے بہت چھوٹی تھیں کم ازکم بھی دس سال۔۔۔پھر تم مجھ سے ڈرتی بھی بہت تھیں جیسے کوئی شرارتی بچہ سخت گیر استاد سے گھبراتا ہے۔ سارا دن دفتر میں کھپا کے آتا تو دل کرتا تھا میری بیوی میری دوست بنے میرے مسلئے مسائل سمجھے مگر میری بیوی تو مجھ سے یوں دور بھاگتی تھی جیسے۔
وہ کہتے کہتے لحظہ بھر کو خاموش ہوئے۔ طوبی نے چونک کر پلکیں اٹھا کر انکا چہرہ دیکھا۔
تم اب بھی خوبصورت ہوخیال رکھنے والی صاف دل معصوم سی۔ ۔ کسی بھی کورین چٹی چمڑی سے کہیں ذیادہ مجھے یہ چٹی جٹی عزیز ہے پر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ تمہیں میں بھی اتنا عزیز ہوں کیا؟ اس گرتے بالوں پھیلتے جسم اور یہ عمر کا دس سال کا فاصلہ تو اب بھی ہمارے درمیان حائل ہے طوبی۔ تمہیں میری کس چیز نے باندھ رکھاہےمیرے ساتھ۔ میں تو ایک سخت گیر شوہر تھا تمہارے لیئے۔تمہیں مجھ سے کیا واقعی محبت ہے؟؟؟
ہے نا۔ جبھی تو۔۔ طوبی گھبرا سی گئ۔ کیسے ہوتےہیں مرد کیسا بات گھما کر مجھ پر ڈال دی اب مجھ سے صفائی لے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اس نے شاکی نگاہ سے دیکھا ۔۔ دلاور نے آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹا لیئے۔
مجھے نہیں پتہ کہ تمہیں مجھ پر یہ شک کیوں ہوا کہ میں تم سے چھپ کر کوئی افئیر چلا رہا ہوں مگر تم کس بات سے ذیادہ خوفزدہ ہوئیں مجھے کھو دینے کے خوف سے یا میرے چھوڑ جانے کے ڈر سے؟
وہ اسے بغور دیکھ رہے تھے۔طوبی نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتئ رہی۔
کھو دینے کا یا چھوڑ جانے کا خوف کیا الگ الگ ہوتا ہے؟
وہ واقعی نہ سمجھ پائی تھی۔ سو پوچھ لیا۔
ہاں۔ انہوں نے قطعیت سے کہا۔
سوچ لو۔جب چاہو جواب دے دینا۔۔مگر یاد رکھنا میں منتظر ہوں۔۔ جواب کا۔۔۔
وہ دھیرے سے اسکے پاس سے ہو کر اندر کمرے کی جانب بڑھ گئے وہ وہیں کھڑی سوچتی رہ گئ
…………………………………………..
انتظار جان لیوا ہوتا ہے اگر کسی سوال کے جواب کا ہو۔ چاہے ہاں میں ہو یا ناں میں۔ جواب سے ذیادہ جان لیوا جواب کا انتظار ہوتا ہے۔۔
سادہ مختصر ای میل۔ اس نے موبائل لاک کیا اور سرہانے بیزاری سے رکھ کر چھت گھورنے لگا۔
وہ بسترپر پڑا تھا۔ جانے کب سے جاگ رہا تھا یا کب ذرا سا سویا تھا۔۔۔ گھڑی موبائل میں بھی تھی سامنے بھی۔کھڑکی کا پردہ ذرا سا سرسرایا تو باہر گھپ اندھیرے کو روشنی نگلنا شروع کر چکی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کی طرف چلا آیا۔ آر پار شیشے کی شفاف سی کھڑکی اسے ٹوکیو کی کہر آلود صبح کا منظر دکھا رہی تھی۔اونچی اونچی عمارتوں ننھی نننھی کھلونا گاڑیوں کے حجم کی گاڑیاں سڑک پر رواں دواں۔کہیں کہیں سڑکوں پرلگی دیو ہیکل بتیوں کی روشنیاں بجھنا شروع ہوئیں کہیں کہیں عمارتوں کی بتیاں جلنا شروع ہوئیں۔۔ علی الصبح کا وقت۔
جانے نماز کا وقت تھا یا گزر گیا تھا۔اسے پچھتاوا ہوا۔
ذکریہ صبح کی نماز کبھی نہ چھوڑنا بیٹا۔اسی وقت رزق بٹتا ہے جب رات کی غفلت بھری نیند چھوڑ کر انسان صبح اٹھکر پہلا کام ذکر الہی کرتا ہے تو اللہ اس کے دل میں سکون ڈال دیتا ہے۔ زندگی میں کبھی بھی بے چینی اور بے کلی کا شکوہ نہ کرنا اگر تم نماز چھوڑ دیتے ہو۔۔۔
چندی آنکھوں محبت بھرے گول چہرے کی مالک اسکی ماں اسے فجر کے وقت اٹھنے پر آنا کانی کرنے پر اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سمجھا رہی تھیں۔
بے چینی بے کلی کیا ہوتی ہے ؟
چودہ سالہ ذکریہ حیرت سےپوچھنے لگا۔۔
اماں سوچ میں پڑ گئیں۔پھر جیسے کچھ یاد آیا اور مسکرا دیں
یاد ہے جب پچھلے سال تم نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ اگر تمہاری جماعت میں اول پوزیشن آئی تو ہم تمہیں ریموٹ کنٹرول والی گاڑی دلائیں گے۔ تو امتحانوں کے بعد رزلٹ والے دن تک تم جو پریشان تھے گھبراتے تھے راتوں کو بھی اٹھ اٹھ کر دعا مانگتے تھے کہ تمہاری پہلی پوزیشن آجائے اسے بے چینی کہتے ہیں۔
سمجھ گیا۔ ذکریہ نے سر ہلایا پھر منہ بنا کر بولا
مگر میری تو دوسری پوزیشن آئی تھی۔
بالکل۔وہ محظوظ ہوئیں۔
رزلٹ کے بعد تم۔جب گھر آئے تھے تو کتنے دکھی تھے کہ اب تمہیں گاڑی نہیں ملے گی۔ تم نے مجھ سے کہا کہ۔میں تمہارے بابا کو نہ بتائوں کہ تمہاری دوسری پوزیشن آئی ہے مگر اسکے باوجود تم پریشان بھی رہے اور گھر میں بولائے بولائےپھرتے رہے جب تک تمہارے بابا گھر نہیں آگئے۔۔
اسے بے کلی کہتےہیں۔ ذکریہ جیسے سمجھ گیا
اور بابا پھر بھی اس دن میرے لیئے گاڑی لے آئے تھے۔
اسے یاد تھا۔
ہاں کیونکہ تم نے اپنی پوری کوشش کی اللہ سے دعا بھی مانگی تو اللہ نے بھی تمہیں نواز دیا گاڑی پھر بھی تمہیں مل ہی گئی
۔انہوں نے پیار سے اسکے سر پر چپت سی لگا دی۔ کیسا دکھی دن تھا اس کیلئے اور اسکا کتنا پیارا انجام تھا۔ کتنا خوش ہوا تھا وہ کہ رات کو بمشکل انکے ڈانٹنے پر سونے لیٹا تھا تو گاڑی سینے سے لگا کر ہی سو پایا۔
مگر پہلی پوزیشن مجھے دے دیتے اگر اللہ میاں تو میں اتنا بےکل اور بے چین تو نہ ہوتا۔
تمہیں پہلی پوزیشن نہیں گاڑی چاہیئے تھی وہ اللہ نے تمہیں دے دی اب پریشان اور بے کل تم یوں رہے کہ تمہیں لگا پہلی پوزیشن آئے گئ تب ہی گاڑی ملے گی یہ خود ہی تم۔نے سوچا۔ہم نے تو تمہارے لیئے پہلی پوزیشن کی شرط نہیں رکھی تھی یہ شرط بھی تم نے خود اپنے لیئے رکھی تھی نا۔
سوچ کا تسلسل ٹوٹا وہ چونک سا گیا
میں نے پھر اپنے لیئے ایک بے حد فالتو سی شرط رکھ لی ہے اور بے چین اور بے کل ہوں۔ اس نے سر جھٹکا۔
آسمان پر مکمل سفیدی نہیں چھائی تھی۔
قضا سہی مگر نماز پڑھوں گا۔ یہ بے چینی اللہ ہی دور کرے میری ۔۔
اس نے خود کو خود ہی تسلی دی اور حیرت انگیز طور پر بہل بھی گیا۔ پردے برابر کیئے اور آستین چڑھاتا باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھئے ہم آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ کسی بھی طالب علم کی ذاتی معلومات دینا ہمارے لیئے جائز نہیں۔ آپ برائے مہربانی ہم پر بے جا دبائو مت ڈالیئے۔شکریہ۔
اس کلرک نے کہا تو مہذب انداز میں تھا مگر لگ یہی رہا تھا کہ اگر مزید اصرار انکی جانب سے ہوا تو سب ادب لحاظ بالائے طاق رکھ دے گا
دیکھیں آپ سمجھ نہیں رہے۔ طوبی نے کائونٹر پر ہاتھ مار کر کہا تو عزہ نے کھسیا کر اسے بازو سے کھینچ لیا
گھمسامنیدہ۔۔ مڑ کر شکریہ بھی کہہ دیا مروتا۔۔
ارے بات تو کرنے دو۔ طوبی مڑنا چاہ رہی۔تھی مگر عزہ کی گرفت مضبوط تھی۔
کھینچ کھانچ کر اسکول کے احاطے سے باہر نکال کر ہی دم لیا۔
ہر اسکول نے ہمیں یہی جواب دیا ہے۔ اگر کوئی ایک آدھ ہوتا تو ہم سمجھ لیتے کہ ٹالا ہے ہمیں۔ مگر سب کا ایک ہی جواب ہے تو اسکا مطلب صاف ہے کہ واقعی وہ طلباء کی معلومات نہیں دے سکتے ہیں۔عزہ نے تفصیل سے کہا تو وہ چڑ گئ
یہ خوب رہی۔ مانا یہ اصول ہے مگر دیکھا نہیں یہ بندہ ماڑا تھا ہم ذرا رعب ڈالتے تو بتا دیتا۔
یقینا یہ خوش فہمی تھی طوبی کی۔مگر عزہ بحث میں نہ پڑی
چلیں جانے دیں۔ ہم نے کوشش تو کر لی۔نہ کرتے تو قلق رہتا ہمیں کہ ہے جن کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہ کی۔
اس بات پر طوبی متفق تھئ۔ سر ہلا کر دونوں خاموشی سے سڑک کی۔طرف نکل آئیں۔
اس علاقے کے تمام اسکول دیکھ لیئے۔ اور یہ تو احسان ہے ان کی انتظامیہ کا کہ ہے جن نام کے جتنے طلباء انکے اسکول میں تھے انکو بلوا کر شاخت پریڈ بھی کروا دیتےتھے پرہمارے ہے جن کا نہ کوئی اتا پتہ ملا نا نام و نشان۔
اتاپتہ اور نام ونشان تو ایک ہی بات ہوئی احمق ہوں میں۔۔۔
عزہ ہنس دی
بات سنو۔ طوبئ ایکدم سے قدم بڑھا کر اسکے مقابل ہوئی
یہ بتائو کھو دینے کا خوف اور چھوڑ جانے کا خوف کیا الگ الگ ہوتا ہے؟ ۔۔عزہ بھی تو الفاظ مترادف میں بات کرتی ہے اسے تو پتہ ہوگا
کیا مطلب؟۔۔ عزہ کو سمجھ نہ آیا
اوہو۔۔ طوبی جھلائی پھر سمجھانے والے انداز میں بولی
دیکھو اگر اس وقت میں یہاں سے چلی جائوں تو تمہیں کیا ڈر لگے گا۔
مجھے کھو دینے کا یا میرے چھوڑ جانے کا
مجھے کوئی ڈر نہیں لگے گا۔ روز کا آنا جانا ہے راستہ آتا ہے مجھے میں اکیلی گھر چلی جائوں گی۔ آپ نے کہیں جانا ہے تو چلی جائیں
عزہ نے اطمینان دلانا چاہا۔وہ یہی سمجھی کہ شائد اسے اچانک کہیں جانا ہے جو ایسے پوچھ رہی ہے
نہیں بھئ مجھے نہیں جانا۔ وہ مایوس ہوگئ۔ یہ گتھی نہ سلجھے گی مجھ سے۔۔خدا نہ کسی کو پہلیاں بجھوانے والا شوہردے۔ اس نے سوچا
پھر کیوں پوچھ رہی ہیں؟ عزہ نے پوچھا تو وہ منہ لٹکا کے دیکھنے لگی
دیکھو کوئی انسان فرض کرو آپ کے پاس یا ساتھ رہتا ہوجیسے نور۔۔۔۔ اسے آخر مثال سوجھ ہی گئ
تمہاری دوست تھی نا۔ وہ تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
وہ جب یہاں سے گئ تو تمہیں دکھ ہوا ہوگا نا ؟ تو اسے کھو دینے کا دکھ ہوا یا اسکےچھوڑ جانے کا؟
کھو جانے کا؟عزہ ہنس دی
نور کھو تو نہیں گئ اب بھی اکثر مسیجنگ کرتی ہے بات بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بس ہمارا ساتھ چھٹ گیا ہے۔
عزہ نے کندھے اچکا کر کہا۔ طوبی مزید الجھن کا شکار ہو کر رہ۔گئ تھئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا جہان کی اداسیاں چہرے پر سجائے منہ سجائے وہ ہنگن دریا کے پل کے اوپر سے نیچے جھانک رہی تھیں۔۔
میرے پاس تو دکھی ہونے کی وجہ ہے میری ذاتی کمائی ہوئی۔ اپنی کمائی ایک اندھے کنوئیں میں پھینک کر ہاتھ جھلا رہی ہوں تم تو اپنی ڈھیروں ڈھیر تنخواہ وصول کر بھی منہ سکھائے بنائے اترائے کھڑی ہو کیا یہ کھلی ناشکری نہیں۔۔
ایک ہی پوز میں کافی دیر اداس شکل بنایے واعظہ کے ساتھ کھڑے کھڑے وہ تھک کر بولی
واعظہ کا جواب دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا
کیا سوچ رہی ہو؟؟؟؟
فاطمہ نے کسوٹی کھیلنا چاہی۔
عروج امریکہ جاکر دعا اور سیونگ رو کا ملاپ کیسے کرائے گئ۔۔؟
نہیں تو۔ واعظہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی
پھر سیہون کا میری کا پیچ اپ کیسے کروائوں؟؟؟
فاطمہ کا انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہی ہو پکڑ لیا نا یہی سوچ رہی ہو نا تم۔۔۔
نہیں یہ کام تو ہرگز نہیں کروانا۔واعظہ تڑپ کر بولی
ایک نمبر کی پیسے کی پجاری لڑکی ہے سیہون کاجتنا فائدہ اٹھانا تھا اٹھا لیا اب اسے مزید بے وقوف۔۔۔۔
پھر عزہ کی کس سبجیکٹ کی حاضری کم ہے اسکا پتہ کیسے لگائوں۔۔ اف مجھے پتہ تھا یہی سوچ رہی ہو گی۔ جانے دو اچھا ہے اسی بہانے پڑھائی پر توجہ دے گی۔
اس بار تو فاطمہ نے چٹکی بجا کر مسلئہ حل بھی کردیا
پاگل سمجھا ہے کیا؟۔ واعظہ چڑ گئ۔
میں کیوں عزہ کی پڑھائی کی ٹنشن لوں گی۔ وہ مجھے امی کہہ ضرور جاتئ ہے مگر میں اسے اپنی اولاد نہیں سمجھتی اچھا نا۔
پھر عشنا کا معاملہ تو سلجھ گیا کس کے مسلئے کا حل سوچنے کو ایسی سنجیدہ شکل بنائی ہے؟ یاد آیا
اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا
یقینا دلاور بھائی ایکسٹرا میریٹل افئیر چلا رہے ہیں ہے نا۔۔ یہی بات ہے نا؟؟
اس بار تو وہ غلط تکا لگا ہی نہیں سکتی تھی
واعظہ گہری سانس بھر کے رہ گئ
یار الف کی امی بہت پریشان ہیں الف مان کے نہیں دے رہی اور اسے سمجھا کے بات کرکے دیکھ لی وہ کسی اور ہی ذہنی کیفیت میں ہے۔۔ اسکو زور زبردستی سے سمجھانے کا تو کبھی ارادہ تھا ہی نہیں میرا پھر بھی ۔۔۔ اب آنٹی صبح شام مجھے فون کر ۔۔۔۔
کہتے کہتے اسکی فاطمہ پر نگاہ پڑی تو وہ تاسف بھری نگاہیں اس پر جمائے کھڑی تھی
واعظہ زندگی میں کبھی اپنے کسی مسلئے کسی پریشانی پر پریشان ہو کر میرے پاس آئو نا ایسا سینے سے لگا کر سب غم سمیٹ لوں تمہارے مگر تم ہو کہ۔۔۔
چبا چبا کر کہتے وہ چیخ پڑی
الف تمہاری بیٹی نہیں ہے آنٹی کی ہے آنٹی پریشان ہوں سمجھ آتا ہے۔ الف انکی پریشانی کا احساس کرے تم آنٹی کی بیٹی نہیں ہو الف ہے اسے انکی پریشانی کا احساس کرنے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی زندگی جیو تمہاری اپنی بھی ایک الگ ذات ہے۔کبھی اسکا بھی سوچ لیا کرو۔
فاطمہ کا بس نہیں تھا کہ اسکی پٹائی کردے۔ وہ یونہی اسے دیکھتی رہی پھر جیسے بحث کو فضول جان کر ریلنگ پر بازو ٹکا کر سر رکھ لیا۔
فاطمہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر رخ دوبار ہنگن دریا کی جانب کر دیا۔ ساکت پڑے دریا پر چمکتے چاند کا عکس منعکس ہورہا تھا۔
مجھے الف کا مسلئہ سمجھ آرہا ہے۔ کوریا ہمارے لیئے ایسا ہی ہے جیسے ہم یہ دریا ہوں اور کوریا چاند۔ جب تک رات ہے ہم اس عکس کو سمو ئے ہیں۔ صبح ہونے پر تو چاند نےغائب ہو ہی جانا ہے۔ مگر صبح ہونے تک تو چاند اس دریا میں تیرتا نظر آتا رہے گا نا۔میری امی بلا بلا کے تھک گئیں۔میرا دل نہیں چاہتا واپس جا کر اسی سیٹ اپ کا حصہ بننے کاالف بھی نہیں واپس جانا چاہتی ہوگی۔
یہاں آکر یہ رہن سہن دیکھ کر واپس جانے کا سوچو تو خوف سا آتا ہے۔
وہ اپنی تمام تر غیر سنجیدگی بالائے طاق رکھ کر بول رہی تھی۔
واعظہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ملگجی روشنی میں اسکی گوری رنگت دمک رہی تھی۔ اپنے خوف بتا کراسکا دل ہلکا ہوا تھا وہ یقینا پرسکون ہوئی تھی۔ جو اسکے چہرے پر جھلکا بھی تھا۔
چاہنے نا چاہنے کے فیصلے کے بیچ ڈولتی فاطمہ کا انداز سنجیدہ ضرور تھا مگر بے چینی بے تابی خود سے مستقل جنگ کی کیفیت میں مبتلا نہیں تھی وہ۔
مگر الف تو۔۔۔ وہ دوبارہ مراقبے میں چلی گئ۔
تمہیں میں پاگل۔لگتی ہوں نا ذرا سا کوریا نہ چھوڑنا پڑے تو شادی تک کر ڈالی مگر یار فاطمہ از ان ہر ونڈر لینڈ وہ یہاں رہنا چاہتی ہے ہر قیمت پر۔۔ ورنہ بہتر ہے مر جائوں۔۔ ہزار دو ہزار وون اور پورا مہینہ گزارا کرنا ہے۔۔ مجھ پر مایوسی طاری ہو رہی ہے واعظہ۔ دل کر رہا ہے کود جائوں۔۔ اس نے مڑ کر باقائدہ واعظہ کے تاثرات ملاحظہ کرنے چاہے پر
اس کی لن ترانی پر بھی واعظہ نے سر نہ اٹھایا ۔۔ مایوس ہو کر وہ واپس ریلنگ کی جانب متوجہ ہوگئ
زندگی نے بہت مایوسیاں دی ہیں پھر بھی۔۔
فاطمہ نے ریلینگ پر ایک قدم چڑھ کر جھک کر نیچے دیکھا
یہاں سے کودنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ فاطمہ مت مرو کیا پتہ تمہارے پاس ڈھیروں ڈھیر پیسہ یکا یک آجائے۔ اسکی آنکھوں میں چمک آگئ۔۔
ہم مسلمانوں کو مایوس ہونے کیلئے ایک ناکامی کافی ہے اور امید باندھنے کیلئے یہ ایک ہزار وون کا لاٹری ٹکٹ۔
اس نے پرس سے لاٹری کا ٹکٹ نکال کر اسٹریٹ لائٹس کی ملگجی روشنی میں خوب غو رسے دیکھنا چاہا۔
یار یہ وہی پل ہے نا جہاں سے کنگ چل ( ڈبلیو ٹو ورلڈ کا مرکزی کردار) نے چھلانگ مارنی چاہی تھی۔
اس نے نہیں اسکے مصنف نے اس سے چھلانگ مروانی چاہی تھی مگر وہ ایک ہاتھ پر لٹک کر گرنے سے بچ گیا تھا
۔واعظہ ریلنگ سے سر ٹکائے ٹکائے بنا اسکی۔جانب دیکھے بولی۔
اور میں گرنے لگی تو؟
فاطمہ کو سچ مچ یہی خدشہ لاحق ہوا جبھی جھٹ اتر آئی
میں بے رحم رائٹر ہوں مار دوں گئ۔
واعظہ کا انداز ہنوز تھا فاطمہ چڑ کر پاس آئی اور سر پر چمٹ جما دی
میں نے کیا بگاڑاہے تمہارا۔سوائے پیسے کے اور کوئی مسلئہ دیا تمہیں۔ اور پیسہ بھی آنے والا ہے۔آج یہ لاٹری کا ٹکٹ لیا ہے دیکھنا میرا ضرور نکلے گا کیونکہ زندگی میں پہلی بار لیا ہے دیکھنا۔
وہ اترااترا کر لہرا رہی تھی
اسکی چمٹ پر جھٹکے سے سر اٹھا کے گھورتی واعظہ کو اسکا لہراتا ٹکٹ مزید غصہ دلا گیا۔ چیخ ہی پڑی
وہ جو پورے مہینے کی ساری تنخواہ کھاوا کو تھمانے کے بعد جو کچھ پیسے بچے بھی اسکا تم نے لاٹری ٹکٹ لے لیا ؟
تمہارا دماغ وماغ ٹھکانے پر ہے کہ نہیں۔
بالکل ٹھکانے پر ہے۔ فاطمہ بھی ڈپٹ کر بولی
اتنے سے پیسوں سے اور کیا بھی کیا جاسکتا تھا۔ اس لاٹری ٹکٹ سے کم از کم یہی امید تو ہے کہ شائد نکل آئے او رمیں ایک دم مالا مال ہوجائوں۔
فاطمہ ترنگ میں تھی۔ واعظہ ناک چڑھا کر بولی
مس فاطمہ شیخ چلی آپکے انڈوں کی ٹوکری ہنگن دریا برد ہوگئ ہے۔ اس سے بہتر تھا تم کنوینیس اسٹو رمیں پارٹ ٹائم کر لیتیں کم از کم مہینے کے آخر میں ایکسپائر فوڈ ہی مل جاتی ۔
فاطمہ کے شوخی بھرے غبارے بنے منہ سے سب ہوا نکلتی گئ۔اتر ہی گیا چہرہ
واعظہ یار کیا کروں ۔ قسم سے سیہون کی شکل دیکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ اتنا اکڑ کر کہا تھا کہ میں پیسے ادا کروں گی رہنے کے کھانے پینے کے۔ مگر کچھ نہ بچا میرے پاس۔
وہ رو دینے کو تھئ۔
کچھ بھی مت کرو سیہون بہت با مروت لڑکا ہے پلٹ کر پوچھے گا بھئ نہیں تم سے پیسوں کے بارے میں۔
اس نے تسلی دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون کی شکل دیکھتے اس نے بمشکل تھوک سا نگلا۔
کائونٹر پر اسکے لئے کافی بنا کر رکھتا سیہون ہمہ تن گوش تھا
کیا ہوا؟ آج پے ڈے تھا نا تمہارا؟ اس لیئے پوچھ رہا ہوں کل گروسری شاپنگ پر چلیں پھر؟ ٹوٹل برابر بانٹ لیں گے۔ یہی صحیح رہے گا۔
اس نے کافی کا مگ اٹھا کر بڑا سا گھونٹ بھر لیا۔ منہ جل بھن گیا۔ اس نے نگل بھی لیا اندر تک آگ لگ گئ کھانسی نے بھرم رکھ لیا۔
آرام سے۔۔۔ کین چھنا۔ اس سے ذیادہ گھبرا کر فریج سے پانی نکال کر دینے لگا۔۔ وہ غٹا غٹ دو گلاس چڑھا گئ۔
دے۔۔۔
ہاں کل چلیں گے میں کل جلدی واپس آجائوں گی۔
اسے یہی جواب سوجھا۔۔
ٹھیک ہے۔ میں اب سونے چلتا ہوں چھائے چھا۔
سیہون بھئ شائد تھکا ہوا تھا اپنا مگ اٹھا کمرے کی۔جانب بڑھ گیا۔
جھوٹی سیہون بامروت لڑکا ہے؟ کوئی نہیں ایک۔نمبر کا شیخ ہے مانگ رہا ہے پیسے اب کل مجھے پیسے دو تاکہ میں اسکے ساتھ جا کر گروسرئ شاپنگ کر سکوں۔
اس نے واعظہ کو وائس میسج ہی کیا تھا۔۔ پھر گھور کر کپ کو دیکھا
اس کڑوی زہر ایکسپریسو کے پیسے بھی دوں جو مفت بھی پینے لائق نہیں ہونہہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ای جی کے ساتھ جیسے ہی میک اپ روم سے باہر نکلی جانے کہاں سے جن بھوت کی طرح فاطمہ نازل ہوئی اسے بازو سے کھینچ کر میک اپ روم میں دھکا دیا اور دروازہ بند بھی کر لیا۔ سہج سہج کرچلتی واعظہ سے باتیں کرتی ای جی کو کوریڈیور کے آخر تک پتہ ہی نہ چلا کہ اسکی مینیجر غائب ہوچکی ہے
تمہیں لگتا ہے تم میرا فون نہیں اٹھائوگئ تو میں پیسے مانگنے سے باز آجائوں گی۔میڈم مجھے دنیا میں کسی سے بھی پیسے مانگتے شرم آسکتی ہےسوائے تمہارے۔ شرافت سے گروسری شاپنگ کیلئے مجھے معقول رقم فراہم کرو۔
وہ اسے دروازے کے پیچھے دیوار سے لگائے اسکے چہرے پر وہ انگلی اٹھا کر وارننگ ایسے دے رہی تھی جیسے انگلی نہیں چھری تھام رکھی ہو
فون۔ واعظہ چونکی۔
فون کہاں چھوڑا ہوا ہے میں نے۔
اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو صوفے کے پاس دیوار کے ساتھ لگے ساکٹ میں اسکا چارجر لگا ہوا تھا
اف۔ ایک یہ۔لڑکی موبائل ایسی چیز ہے بھلا کہ بندہ کہیں رکھ کر بھول جائے
فاطمہ سر پیٹ کر رہ گئ
واعظہ اپنے کندھے سے لٹکتا بیگ اسے تھما کر فون کی۔جانب لپکی۔ شکرہے چارج ہوا تھا ورنہ کچھ بعید نہیں تھا کہ سوئچ بھی آن کرنا بھول جاتی۔
فاطمہ نے اسکے بیگ سے والٹ نکال کر دیکھا تو کیش نام کو نہیں تھا۔
اس نے اسکا کارڈ اسکے سر پر بجایا تو واعظہ اس سے معزرت کرتے ہوئے الیکٹرانک منتقلی کرنے لگی۔
اسکو رقم بھیجنے کے بعد اسکا اکائونٹ خالی ہو چکا تھا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی
کہاں گئ تمہاری تنخواہ؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔ واعظہ مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔۔۔

Desi Kimchi Episode 53

53
باہر نکلتے فاطمہ ہنستے ہنستے دہری سی ہوگئ تھئ۔ کھاوا تھوڑا کھسیایا ہوا سر کھجا رہا تھا۔
اف خدایا۔ ایک تو شراب وہ بھی ایو۔۔۔۔ اسے سوچ کے گھن آرہی تھئ۔
بہت اچھا ہوا اس عبداللہ کے ساتھ۔ اس دن سور کھا رہا تھا کھڑا ہوا۔ جب سور جیسی غلیظ چیز کھائے گا تو کسی دن اسے اس سے بھی ذیادہ گندبلا کھانے کو مل گیا نا۔
فاطمہ کو مزا آیا تھا اسکی درگت بننے کا سوچ کے۔
میرے منہ میں گند بلا ہوتاہے۔۔ کھاوا نے مصنوعی خفگی جتائی۔۔
بس رال ہوگئ جو میرے منہ میں سے نکلی ہوگی میں نے کون سا کھنکھار کر بلغم۔۔۔
وہ شرارت میں کہتا حد سے بڑھنے کو تھا۔ فاطمہ نے دانت پیس کر ٹوکا۔
بس بس۔ اب مجھے الٹی مت دلائو۔پہلے ہی دو چارنوالے ہی ذہر مار کیئے ہیں۔ باہر آجائیں گے۔ جانے لوگ بنا گوشت کھائے سبزیوں پر زندہ کیسے رہ لیتے ہیں۔ اتنےمصالحے ڈال کر بھی سبزئ سبزی ہی رہی چکن نہ بن سکی ۔۔۔
کھاوا کے ساتھ چلتے وہ باآواز بلند اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھی۔
پسند اپنی اپنی۔ اب مجھے گوشت سے ذیادہ سبزیاں پسند ہیں وہ بھئ ابلی کم مصالحے والی۔ جب گھر میں مرغی وغیرہ بنتی تھی تو میں اتنے برے منہ بناتا تھا اماں گردن سے دبوچ لیتی تھیں اور زبردستی کھلاتی تھیں۔ کہتئ تھیں میں ناشکرا ہوں جو مرغی پکنے پر کریلےمانگتا ہوں۔ مجھے کریلے بہت پسند ہیں۔ اسکی ہلکی سی کڑواہٹ ۔۔۔۔
بولتے بولتے اسے احساس ہوا تو زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
میں بھی کیا فالتو باتیں لیکر بیٹھ گیا۔
فاطمہ نے اسکی خفت زدہ شکل دیکھی تو ہنس دی۔
بیٹھے تو خیر نہیں ہو چل رہے ہو وہ بھی آہستہ اتنا کہ گیارہ بجے والی جو آخری بس ہے وہ اسٹاپ سے نکل جائے گئ ہمارے پہنچنے تک۔۔۔ اس نے سامنے نظر آتے بس اسٹاپ کے کیبن کو دیکھتے ہوئے اسکی سست روی کو جتایا۔
آئیم سوری۔ وہ شرمندہ سا ہوگیا۔
آپ چلیئے میں اگر نہ پہنچ سکا تو ٹیکسی کرلوں گا آپ میری وجہ سے لیٹ نہ ہو جائیں۔
وہ سہولت سے کہہ کر ایک جانب ہوگیا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔۔۔ بجائے اپنی رفتار بڑھانے کے ۔۔ تبھئ پاس سے گزرتی بس کے ہارن نے اسے چونکا دیا۔
یہ اسکی مطلوبہ بس تھی اور سامنے اسٹاپ تھا وہ اگر بھاگتی تو آرام سے پہنچ سکتی تھی۔
اوکے پھر کل ملاقات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔ وہ جلدی سے کہتی بھاگ اٹھئ۔۔
بلیک لانگ خوب گھیر والی اسکرٹ پر پرنٹڈ گلابی پھولوں والا بلائوز گلے میں پرنٹڈ اسکارف ڈالے بے فکر سی فاطمہ کی کندھوں سے تھوڑا نیچے آتے گھنگھریالے بھورے بالوں کی اونچی سی پونی اسکے بھاگنے سے پنڈولم کی طرح جھول رہی تھی۔ لاپروا سی اپنے آپ میں مگن اس لڑکی نے بھاگتے ہوئے تیزی سے اپنی بس پکڑ لی تھی او رلمحوں میں منظر سے اوجھل ہوگئ تھئ۔ بنا سوچے کہ پیچھے رہ جانے والے کی کیا مجبوری رہی ہوگئ ۔
اس نے سوچا پھر خود پر ہنس دیا۔
آگے بڑھنے والے پیچھے رہ جانے والوں کو کہاں مڑ کر دیکھا کرتے ہیں۔اسے اپنی یاسیت پر بے طرح غصہ آیا۔ اسے غصہ آیا تھا کہ وہ زندگی کی شاہراہ پر دوڑتے بھاگتے لوگوں سے وہ کئی قدم پیچھے رہ گیا تھا۔ یا غصہ آجانے کی وجہ سے ۔۔۔۔
پاس سے گزرتی ٹیکسی کو اس نے ہاتھ دے کر روک دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف منہ تک کمفرٹرتانے جانے سو رہی تھی یا بنی ہوئی تھی۔
عروج اور عزہ مگر پوری احتیاط کرتے ہوئے کمرے میں کم سے کم آہٹ کرتے ہوئے اپنے اپنے معمول کے مطابق کام نپٹا رہئ تھیں۔
تمہیں صبح جانا ہےنا ؟ عروج نے عزہ سے سرگوشی میں ہی پوچھا تھا۔۔ اپنے بیڈ پر کمبل تکیہ درست کرتی عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
کیوں؟ عروج کا انداز ہنوز تھا ہاتھوں میں لوشن ملتے ہوئے وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی۔ سنگھار میز کے قریب کھڑی عروج اور بیڈ پر چڑھی بیٹھی عزہ کے بیچ فاصلہ پیغام رسانی میں اہم رکاوٹ تھا۔
صبح اتوار ہے۔۔۔۔
عزہ نے بنا آواز نکالے بتانا چاہا۔
کیا؟ عروج نے بھنوئیں اچکائیں۔
اتواااااار ہے۔ عزہ نے اس بار خوب منہ کھول کھول کر بتایا مگر بنا آواز۔
کیا؟
اتوااااااار۔۔۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو؟؟؟؟ عروج جھلا کر تھوڑا زور سے بول گئ۔
سشس۔ شسس۔ ممم۔۔۔۔۔
کمفرٹر میں سوئی شیرنی کی جانب اشارہ کرتی عزہ نے دنیا جہان کی مسکینیت چہرے پر طاری کرکے جان کی امان مانگی تھی۔
عروج ہونہہ کرکے رخ موڑ گئ۔ عزہ نے ماتھا پیٹا پھر کمرے میں دیوار پر لگا کیلنڈر اٹھا کر اسکے پاس چلی آئی۔
مل مل کر لوشن لگاتے ہوا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو عزہ کیلینڈرہاتھ میں پکڑے اتوار 4 جولائی پر انگلی رکھ کر اسے دکھا رہی تھئ۔
یہ کیا ہے؟
عروج کیلنڈر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
عزہ نے دانت پیسے۔
چہ۔۔ اتوارہےکل18جولائی اتوار کا دن اب سمجھ آئی۔۔
ساری احتیاطیں بھول بھال وہ زور سے بول پڑی۔
تم دونوں نے لیٹ نائٹ بک بک کرنی تو کمرے سے باہر جا کرکرو
کمبل میں سے شیرنی نے منہ نکال کر دھاڑ کر کہاتھا۔
اسکی تو۔عروج سنگھار میز سے ہئیر برش اٹھا کر اسے مارنے دوڑنے لگی کہ عزہ نے روک دیا۔
سشسس۔ صبر کرو بہن بڑا اجر ہے صبر کا۔
عزہ اپنی طرف سے تو پکا سا منہ بنا کر بولی مگر عروج قطعی متاثر نہ ہوئی۔ گھور کر دیکھتے اس سے کیلنڈر چھین لیا۔۔
یہ کیا کیا ہے اسکے ساتھ؟ وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی ۔۔
یار یہ میں نشان لگاتی ہوں جب جب کوئی چھٹی کرتی ہوں تاکہ کلاسز کا اندازہ لگاسکوں۔
عزہ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔۔
تم نے اتنی چھٹیاں کی ہیں؟ عروج نے کیلنڈر لہرایا جو سرخ سرخ نشانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔
عزہ ناسمجھنے والے انداز میں دیکھے گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے دنوں کے بعد وہ فلیٹ واپس آئی تھی چند لمحے کھڑی دروازے کو ہی گھورتی رہی ۔۔
اندر جانے کا ارادہ نہیں ہے؟ سیہون اسکے پیچھے سے آکر بولا تو وہ چونک گئ۔
آننیانگ کیسے ہو؟ اس نے کرٹسی نبھانی چاہی۔
آننیانگ۔ جوابا اس نے مروتا بھئ اسکا احوال نہ پوچھا بلکہ اطمینان سے آگے بڑھ کر دروازہ انلاک کرتا ہوا اسکے اندر آنے کیلئے دروازہ کھلا چھوڑتا آگے بڑھ گیا۔
لڑ کر معزرت کرکے جانے کے بعد اب اگر غصہ دکھا رہا ہے تو میری جوتئ سے۔
اس نے یہی سوچ کر دانت پیسے پھرگہری سانس لیکر اندر آگئ۔ سیہون نے حسب عادت گھر کی لابی میں لگے شو ریک میں جوتے اتار کر سلیپر پہنے ہاتھوں میں وہ دو بڑے بڑے شاپر پکڑے تھا۔ اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اپنے سینڈلز اتارنے لگی۔ اسکی چپلیں یہاں نہیں تھیں سو اندر ننگے پائوں ہی داخل ہونا پڑا۔ بائیں ہاتھ سے سینڈلز تھامے خراماں خراماں چلتی کچن کائونٹر پر سامان رکھتے سیہون نے خاصی حیرت سے اسکے ننگے پائوں کو دیکھا تھا مگر بولا نہیں۔
کچھ کھائو گئ؟ وہ حسب عادت پوچھ رہا تھا۔
آندے۔ وہ کہتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔ دو منٹ میں الٹے پائوں واپسئ ہوئئ
کیا لائے ہو۔ ؟۔۔
انداز سرسری تھا۔ سیہون فریج کھول کر چیزیں رکھ رہا تھا اسے دیکھ کرچیزیں رکھنے کی بجائے اندر سے دودھ کا پیکٹ نکال کر فریج بند کردیا۔۔
مکس سبزی چیز سینڈوچ ۔ اس نے جو چیز پہلے ہاتھ لگی نکال لی۔
سیہون خاموشی سے کافی بنانے لگا۔
میرے۔۔۔ فاطمہ نے کہنا چاہا مگر اسکے کافی میکر کے پاس رکھے دو کپ دیکھ کر چپ کرگئ۔
فریج میں سب کچھ ویسے کا ویسے ہی رکھا ہے گھر بھی دھول سے اٹا ہوا ہے تم دو ہفتے میں ایک دفعہ بھی فلیٹ نہیں آئیں؟
سیہون کا انداز شکایتی نہیں حیران ہونے والا تھا
سلیب پر انگلی پھیر کر دھول چیک کرتا وہ حیرانئ سے پوچھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے سینڈوچ چباتی رہی۔
مجھے اکیلے اس گھر میں ڈر لگتا ہے۔
خاصا مشکل اعتراف تھا مگر وہ سینڈوچ نگلتے ہوئے کر گئ۔
کس سے؟ اس عمارت کی سیکیورٹی بہترین ہے۔ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کوئی غیر متعلقہ شخص یہاں داخل ہونہیں سکتا۔ سیہون حیران ہوا۔
انسانوں سے کون ڈرتا ہے۔
فاطمہ نے منہ بنایا۔
پھر کس سے ڈر لگتا ہے۔۔ سیہون الٹا پوچھنے لگا۔
ہر چیز سے یہ فریج جادوئی الماری لگنے لگتا ہے صوفے پر نادیدہ مخلوق بیٹھی نظر آتی ہے تو کبھی کوئی ادھر ادھر چلتا دکھائی دیتا ہے۔خاص کر جب آپکو پتہ ہو کہ آپ اکیلے ہیں فلیٹ میں اور کسی بھی قسم کی باہر سے آواز نہیں آسکتی تو گھرمیں پھربھئ کوئی آہٹ ہو تو۔۔۔
اس نے جھرجھری سئ لی۔
تبھی کافی میکر نے کافی بن جانے کے اعلان کے طور پر ہلکی سی گھنٹی بجائی۔ سیہون چونکا اور ہنس پڑا۔
نا کرو تم اور ڈرپوک بلی ۔۔۔ وہ ہنسے جا رہا تھا۔
مطلب حد ہے۔ وہ محظوظ انداز میں ہنس رہا تھا۔۔ کافئ نکال کر لا کر اسکے سامنے رکھی تو فاطمہ اسے گھور رہی تھی۔
گھورو نہیں۔ مجھے ویسے ہی حیرت ہوئی کہ تم یوں بچوں کی طرح اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو جبکہ ۔۔۔
اس نے دانستہ اسے دیکھتے جملہ ادھورا چھوڑا۔
مجھے اکیلے رہنے کی عادت نہیں ہے۔ کبھی اکیلے رہی ہی نہیں ہوں میں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا۔
دبئئ میں بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی تھیں؟
اس نے یونہی برسبیل تذکرہ ہی پوچھا تھا۔ فاطمہ چپ رہ گئ۔
سیہون نے چند لمحے انتظار کیا۔۔ وہ اپنے لیئے کمباپ لایا تھا۔سو نکال کر سکون سے کھانے لگا۔
واعظہ بتا رہی تھی تمہیں جاب مل گئ ہے۔ مبارک ہو۔
سیہون کو یاد آیا۔ وہ چپ ہی رہی۔
کھاوا کو آدھی تنخواہ دینے کے بعد اپنے خرچے نکالنے پر کیا اس کے پاس کچھ بچے گا جو وہ سیہون کو اپنے اخراجات کی مد میں دے سکے گی۔ کہا تو خوب اکڑ کر تھا کہ اپنا خرچہ خود اٹھائوں گئ۔
اسکے ارد گرد حساب کتاب کے ڈھیر لگ گئے۔ ہوا میں اپنی تنخواہ سے اخراجات نکالتے وہ میتھ میں بری طرح فیل ہوئی تھی۔
فرئ لوڈر۔ سیہون کا فلیٹ اسکے پیسوں کا سینڈوچ یہ دوسرا آدھا تھا اٹک ہی گیا۔ اسی سے بنوا کر پی جانے والی کافی۔
مطلب خسارے میں تھی وہ بری طرح۔اور یہ سیہون کب تک واعظہ کے ساتھ مروت نبھائے گا۔ پھر اس نے بھی تو کچھ سوچ رکھا ہوگا آگے کیا کرنا۔اس نے شادی کرنی ہوگی یا پھرملٹرئ۔۔۔اسکا دل دھک سے رہ گیا۔
بات سنو تم پر بھی ملٹری لازم ہے نا؟
اس نے ایکدم سے پوچھا تھا سیہون چونک کر شکل دیکھنے لگا۔
میرا مطلب ہے تم۔۔ وہ۔۔
وہ سٹپٹا سی گئ۔
ہاں ۔۔ سیہون نے کافی کا گھونٹ بھرا۔
ملٹری ان لسٹمنٹ میں میرا نام تیس سال کی عمر تک آئے گا اس پہلے میں جانا چاہوں گا تب مجھے خود رابطہ کرکے انلسٹ کروانا پڑے گا خود کو۔ابھی ستائیس سال کا ہوں میں۔
اس نے تفصیلا جواب دئا۔
چھبیس۔فاطمہ نے درستگی کی۔
تم کورین اخیر عجیب ہو ۔۔دنیا کا بس چلے اپنی عمر کے دو چار سال کھا کر کم بتائیں تم لوگ ایک سال خود شامل کر لیتےہو ۔۔۔ہم پاکستانی آرام سے تین چار سال کھا کر بتاتے اپنی عمر کے۔ ۔ اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ سیہون مسکرا دیا
تم کتنے سال کی ہو۔۔
اکیس۔ وہ بے ساختہ بولی۔
کتنےسال کم کرکے بتائے ؟
وہ بھی سیہون تھا ہنس کر پوچھ رہا تھا۔
تین۔۔۔۔۔۔ وہ جھٹ بولی مگر انگلیوں سے چار کا اشارہ کررہی تھی۔
سیہون اسکے انداز پر کھل کر ہنسا تو وہ بھی ہنس دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے یونہی موبائل رکھ کر کروٹ بدلی تو دوسائے خود پر چھکے پائےچونک کے اٹھ بیٹھی۔
عروج اورعزہ اسکے سرہانے بیڈ پر کہنیاں ٹکائے اکڑوں بیٹھی تھیں۔
تم دونوں کیا کر رہی ہو یہاں۔
اس نے اٹھ کر بیڈ کے سائیڈ پر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر بتیاں جلا دیں۔
میں نے کہا تھا نا واعظہ کو ڈر نہیں لگتا ۔ عزہ نے مایوسی سے عروج کو دیکھا۔۔
لے لینا میرا ڈینم عبایا۔کل کیلئے بس میری چھٹی ہے کل۔
عروج جیسے مایوس سی ہو کر اٹھ کر ساتھ والے بیڈ پر بیٹھ گئ
آہ۔۔ عشنا نے کسمسا کر اپنے پائوں سمیٹے جو کمبل میں عروج کے وزن تلے دب گئے تھے۔
عزہ واعظہ کے بیڈ پر ٹک گئ۔
میری بھی کل چھٹی ہے بی بی مجھے پرسوں چاہیئے۔
عزہ ہاتھ نچا کر بولی۔
اچھا لے لینا۔عروج کا انداز سرسری تھا۔
واعظہ موبائل چارجنگ پر لگا کر آلتی پالتی مار کر بیڈ پر بیٹھی منتظر نظروں سے دونوں کو باری باری گھورنے لگی۔
وہ یہ عروج کو اہم بات کرنئ تھی۔
عزہ نے عروج کی جانب اشارہ کیا۔
نہیں عزہ کو اہم بات کرنی تھی۔
عروج سٹپٹائی۔۔
مجھے اہم بات کرنی ہے۔ واعظہ نے ہاتھ جھاڑے۔
دونوں ہمہ تن گوش ہوئیں۔کمبل سے منہ نکال کر عشنا بھی دیکھنے لگی اسکی شکل۔
ابیہا کی شادی ہو رہی ہے اور اسکی ضد ہے ہم سب شامل ہوں اسکئ شادی میں۔ جو کہ ممکن نہیں سو سوچ رہی ہوں ہم ایک ورٹوئل پارٹی اسکے لیئے پلان کریں ۔۔۔
واعظہ نے کہاتو تینوں نے جیسے مایوس ہو کر سر جھکایا۔
آ ہ۔ اچھا۔۔ عشنا نے دوبارہ کمبل منہ تک تان لیا۔
ہاہ۔مجھے لگا تھا تم سب پرجوش ہوجائوگی میرے ساتھ مدد کروائوگی پارٹی کی تیاری میں اور۔۔
واعظہ کو خاصی حیرت ہوئی۔۔
ہاں کروا دیں گے۔عروج نے کندھے پر سے مکھی اڑائی جیسے۔
ابھی اہم معاملہ درپیش ہے۔۔۔ اس نے پراسرار انداز اپنایا۔۔۔۔۔
مجھے امریکی ادارے میں اسکالر شپ مل گئ ہے۔
عروج کا انداز اتنا پھسپھسا تھا کہ عزہ اور واعظہ دونوں نے اظہار افسوس کر ڈالا۔۔
اوہو کوئی بات نہیں امریکہ کا ویسے بھی مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ عزہ نے کندھا تھپکا۔
ہاں اداس نہ ہو چھے مہینے بعد دوبارہ کوشش کرلینا۔
واعظہ نے بھئ دلگیری سے کہا تھا۔
مبارک ہو۔ کمبل سے منہ نکال کر عشنا نے کہا۔
شکریہ بہن۔۔۔عروج شکرگزار ہوئی۔ پھر ان دونوں کو دیکھ کر دانت پیس کر بولی
مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے۔
کیا واقعی؟ دونوں اچھل پڑیں۔
مبارک ہویار یہ تو خوشی کی بات ہے۔۔ واعظہ بے ساختہ بولی
ٹریٹ دو۔۔ عزہ چلائی۔
ایک مسلئہ ہے۔۔۔عروج نے ہونٹ کاٹے۔۔اور وہ ٹیپ سے جڑاخط واعظہ کیجانب بڑھا دیا۔۔
واعظہ نے خط پڑھ کر الجھن بھرے انداز میں اسکی شکل دیکھی۔۔
یہ تو کسی دعا کے نام کی اسکالر شپ ہے۔۔۔۔
عروج نے گہری سانس لی۔۔۔۔پھر دھیرے سے سب قصہ کہہ سنایا۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو۔۔عزہ نے سر پیٹ لیا۔
دعا تمہاری پھپو کی بیٹی ہے جو اسکے الٹے سیدھے الزامات پر ایسے دل برا کر رہی ہو۔ جو مرضی آئے سمجھتئ پھرے تمہاری صحت پر کیا اثر؟
دعا سیونگ رو کو پسند کرتی ہے۔۔ عروج منمنائی۔
مجھے گلٹ ہورہا۔قسم سے بہت اچھی طبیعت کی لڑکی ہے مجھ سے کہیں پیاری۔ سیونگ رو کو پسند آجاتی جب میں بیچ سے نکل ہی گئ ہوں تو۔مگروہ بے وقوف لڑکی اپنا اصلی لیٹر یوں ڈسٹ بن میں پھینک کر چلی گئ میری وجہ سے۔۔
اس کے منمناتے انداز پر عزہ کو غصہ آگیا۔
حد ہے تم کیوں افسوس کر رہی ہو۔ عجیب احمق ہے وہ۔اگر اتنی کوشش کرکے اسکو سیونگ رو کے ساتھ اسپیشلائزیشن کرنے کا موقع مل رہا تھا تو اسے کیا ضرورت تھی تم سے جل بھن کر اپنا نقصان کرنے کی۔
کورین ڈرامے نہیں دیکھتی دعا کیا۔۔۔ کمبل سے عشنا بھی برآمد ہوئی
کیسے سائئڈ ہیروئینیں ہیرو کو پٹانے کیلئے ہرقسم کی چیپ ٹیکٹس اپناتی ہیں لیس ہو جاتی ہیں ہیروئن کی ناک سے لکیریں نکلوا دیتئ ہیں اتنا عاجز کرتی ہیں اسے یہ احمق دعآ خود ہی پیچھے ہٹ گئ۔۔
تو وہ ڈرامہ ہوتا ہے اصل تھوڑی۔ اتنئ پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی ہے اسکی بھئ انا ہوگی۔ اپنئ عزت اسے پیاری ہے جبھی تو بجائے لڑنے کے عزت سے سائیڈ میں ہوگئ۔۔
عزہ نے اختلاف کیا۔ عروج مزید سر جھکا گئ۔
میرا مطلب ہے۔۔ عزہ بول کے ہچھتائئ۔
دیکھو محبت و جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اگر وہ یہ سمجھ بھی رہی ہے کہ عروج اور سیونگ رو کپل ہیں تو بھی جب اسے موقع مل رہا ہے ان کے ساتھ رہ کر انکی ناک میں دم کرنے کا تو اسے ساتھ جا کر انکے بیچ میں آکر قسمت آزمانی چاہیئے۔۔
عشنا اپنی بات پر قائم تھی۔ عزہ جھلائی۔
یہ تم نہیں تمہارے اسٹار پلس والے سیریلز بول رہے۔ وہ کونسا حقیقئ زندگئ دکھا رہے ہوتے تھے۔۔
کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتئ ہے ڈراموں میں بھی ایسے تھوڑی کرتا کوئی دعا کی طرح ۔۔۔۔۔۔تم بھئ تو کچھ بولو واعظہ۔۔
عشنا نے واعظہ سے اپنے موقف کی تائید چاہی۔
خاموشی سے انکی بحث سنتی کیلنڈر پر غور کرتی واعظہ چونکی ۔ انکو کیلنڈر دکھا کر پوچھنے لگی۔
یہ کیلنڈر کو نشان کس وجہ سے لگا رکھے ہیں ؟؟؟؟۔
یہ میں لائی تھئ۔۔عزہ نے مسمسئ سی شکل بنائی۔ ہمارے کمرے کا کیلنڈر ہے۔
جب چھٹی کرتی تھی نشان لگاتی تھئ نیچے سبجیکٹ بھی لکھتی تھئ۔۔ اوراب اس پر روز نشان لگتے لگتے پورا کیلنڈر برباد ہوگیا ہے ۔اس پر میری سب کلاسز کی تفصیل بک مارک تھئ اب مجھے یاد ہی نہیں مین نے کس سبجیکٹ کئ کتنی کلاسز مس کی ہیں۔۔۔ کس نے کی یہ حرکت۔۔
عزہ رو دینے کو تھی۔
واعظہ نے سوالیہ نگاہ سے عروج کو دیکھا وہ زور و شور سے سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
میں نے نہیں کیا یہ کام۔۔
جس نے بھئ کیا اس نے میرے ساتھ زیادتی کر دی ہے اب میں ایک چھٹی بھی نہیں کرسکتی جانے کس سبجیکٹ کی آخری چھٹی خرچ ہوجائے۔ عزہ روہانسی ہوگئ۔
اتنی چھٹیاں کرنی کیوں ہیں تمہیں۔۔واعظہ نے کیلنڈر اسکے سر پر بجایا۔
پھر بھئ کس نے کی یہ حرکت۔ عزہ بلبلااٹھی۔
تمہارے کمرے میں تم دونوں سوا ہے ہی کون اب نور تو پاکستان جا چکی لے دے کے الف ہے اسی نے کیا ہوگا۔
واعظہ نے کہا تو عزہ اچھلی۔
یہ دیکھو بائیس جولائی پر بھی نشان لگا ہوا ہے۔۔ یعنی بائیس جولائی تک ایک ایک دن گن رہی ہے۔الف مگر کیوں؟؟؟؟؟
اسکے سوالیہ انداز پر باقی تینوں بھی چونک کر دیکھنے لگی تھیں اسے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کچھ دن کی بات ہے اسکے بعد وہ ہمیشہ کیلئے کھو جائے گا۔۔ پھر یہ سب اتنا مشکل نہیں لگے گا۔۔
الف نے گہری سانس لیکر ژیہانگ کی تصویر کو سوائپ کیا۔ گیلری سے آخری تصویر بھی ڈیلیٹ کر کے موبائل ایک جانب رکھ دیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں رہ گئے۔ ۔۔ بچوں کو سلا کر وہ جلے پیر کی بلی کی طرح فلیٹ میں چکر لگا رہی تھی۔چلتے چلتےچکر آبھی گیا۔
رات کے بارہ بج رہے تھےاس نے کھانا بھی انتظار میں نہیں کھایا تھا۔
اس نے کچن کائونٹر کا سہارا لیا وہیں اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ۔
بھوک نے برا حال کردیا تھا۔ ذرا سا ذہن قابو میں آیا تو فورا اٹھ کر سالن روٹی نکال کر کھانے بیٹھ گئ۔۔۔
اتنی پریشان طبیعت ہونے کی وجہ سے نا کھانا ڈھنگ سے کھا رہی تھی نہ ڈاکٹر کے بتائے سپلیمنٹس لیئے تھے۔
مجھے دلاور سے یہ بات چھپانا نہیں چاہیئے ۔۔۔
کھانا کھاتے کھاتے ایکدم دل اچاٹ سا ہوا تو اس نے پلیٹ میں روٹی رکھ دی۔
کیا خبر انکو اس نئی ذمہ داری کا احساس ہو جائےاور وہ باز آجائیں۔کون جانے وہ اس وقت بھی کس کے پاس کہاں ہیں۔۔
خیال تھا کہ آری۔ دل لمحہ بھر کو جیسے رک سا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس پرانی سی عمارت کے احاطےمیں کھڑے تھے۔ارد گرد نئی طرز کی عمارتوں کے درمیان وہ خاصی خستہ حال لگ رہی تھی۔نیم اندھیرےمیں خاصی آسیب زدہ بھی۔
رات کے دوسرےپہرمیں بھی یہاں گلی میں خاصی چہل پہل تھی۔لوگ آ جا رہے تھے۔۔ نیم سڑک پر دکانیں ٹھیلے روشنیوں سے سجے تھے۔وہ چند لمحے شش و پنج میں مبتلا رہےپھر جیسے فیصلہ کرکے اس عمارت میں داخل ہوگئے۔
تین منزلہ اس عمارت میں ہر منزل پر دو فلیٹ تھے بس۔ انہوں نے سب نے نیچے والی منزل سے آغاز کیا۔پہلے فلیٹ کا دروازہ کافئ دیر بجانے کے باوجود نہ کھلا تو پاس والے فلیٹ سے آنکھیں ملتا نکلتا وہ ادھیڑعمر شخص بنا لحاظ ان پرچلایا۔
کیا آفت آگئ ہے۔جب اتنا بجانے پر نہیں کھل رہا تو یقینا اندر مکین ابھی گھرنہیں پہنچے۔اتنی عقل نہیں کہ یہ اندازہ لگاسکو۔
چھے سو ہمبندا۔
وہ جھک کر معزرت کرنے لگے۔
دراصل میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں یہاں کیا آپ میری مدد۔
آندے۔ اس نے بے مروتی سے کہہ کر دروازہ بند کیا۔۔
وہ گہرا سانس لیکر اوپر کی منزل کو جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
دوسری منزل پر وہ لڑکی اپنے فلیٹ کا دروازہ ہی کھول رہی تھی۔ان کو دیکھ کر اسکے ہاتھوں میں تیزی آگئ۔ دروازہ کھولتے ہی وہ اندر گھس گئ جھٹ بند بھئ کردیا۔۔۔۔۔ یہاں پر دوسرا فلیٹ مکمل اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ یقینا وہ اس دروازے کو بجاتے تو شائد یہی لڑکی 119 کو بلا لیتی۔
اگلی منزل کی سیڑھیاں سامنے تھیں۔۔ اس منزل پر بھی سناٹا تھا تاہم اوپر چھت سے ہنسی قہقہوں کی آواز آرہی تھی۔وہ بجائےیہاں دروازہ کھٹکانے کے آوازوں کے تعاقب میں سیڑھیاں چڑھ گئے۔
دس بارہ لڑکےلڑکیاں اوپر تخت بچھائے بیٹھےتاش کھیل رہے تھے ساتھ سوجو کا دور بھی چل رہا تھا ایک جانب دو لڑکے پورک کو گرل کر رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ایکدم سب الرٹ سے ہو کر کھڑے ہوگئے۔
انکے کہنے پر سب بدمزا سے ہو کر واپس اپنی اپنی سرگرمی میں مصروف ہونے لگے۔۔
مجھے لگا پولیس ہے۔۔
ایک نے پیسے پھینکتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔
کہہ سیکی۔ دوسرے نے گالی دینےپر ہی اکتفا کیا۔
غیر قانونئ طور پر جوا کھیلا جا رہا تھا یہاں۔۔سب نے انکومکمل نظرانداز کیا تھا۔باتیں شور قہقہے۔۔۔۔
وہ مایوس سے ہو کرپلٹنے لگے۔

آہجوشی۔ گوشت تلتا ایک لڑکا اپنے ساتھی کو چمٹا تھما کر انکے پاس چلا آیا۔۔۔
کیا ہوا کوئی مسلئہ ہے۔۔۔ چندی آنکھوں والا وہ مکمل کوریائی نقوش کا لڑکا تھا مگر انہیں وہ بہت مانوس سا لگا۔ ایسا ہی تو ہوگا وہ بھی۔۔
آہجوشی۔۔ انہیں خود کو تکتےپا کر اس نے دوبارہ پکارا تو وہ جیسے ہوش میں آئے۔
معاف کیجئےگا۔ میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں کیا آپ اس کو جانتے ہیں کیا یہ یہاں اس عمارت میں رہائش پزید ہے؟
انہوں نے جیب سے تصویر نکال کر اسکو دکھائی۔
یہ۔۔ اس نے تصویر تھامی۔۔
بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا وہ جنوبی ایشیائی نقوش کا لڑکا تھا۔ جس نے چیک کی شرٹ پہن رکھی تھی دھیرے سے مسکراتا چمکتی روشن بڑی بڑئ آنکھیں۔۔۔
یہ تو کوئی ہائی اسکولر لگتا ہے۔ یہاں تو ہائی اسکولر کوئی بھی نہیں رہتا سب سے اوپر والی منزل کے دونوں فلیٹ ہمارے ہیں یہ ہم دوست ہیں۔۔۔اس نے فاصلے پر بیٹھے اٹھکیلیوں میں مشغول دوستوں کی۔جانب اشارہ کیا۔۔۔ نیچے کچھ خاندان رہتے ہیں مگر میرا نہیں خیال ان میں کوئی انڈین ہے۔
اس کو جانے انکی شکل پر چھائی مایوسی نے پگھلا دیا تھا یا وہ ویسے ہی کافئ نیک دل تھاسو تفصیل سے بتادیا۔
نیچے تو وہ پہلے ہی دیکھ آئےتھے۔
آپ کچھ پیئیں گے۔
اس نے دعوت دے ڈالی۔
نہیں۔۔ آپکا بہت شکریہ۔۔
وہ بمشکل مسکرا کر شکریہ ادا کر پائے کانپتے ہاتھوں سے تصویر واپس جیب میں احتیاط سے رکھتے ہوئے پلٹ گئے۔۔۔ واپسی پر قدم من من بھر کے ہورہے تھے۔۔ آٹھ دس مہینوں کی پیہم تلاش کا یہ نتیجہ تھا۔۔۔۔۔ آخری منزل کی آخری سیڑھی پر وہ جیسے ڈھے سے گئے۔جیب سے تصویر نکال کر دیکھتےوہیں نیم تاریک گوشےمیں سیڑھی پر بیٹھ کر رو دیئے۔۔
کہاں چھپ گئے ہو؟ کبھی نہیں ملوگے کیا ہمیں؟؟؟ ۔کیا ہماری یاد بھی نہیں ستاتی تمہیں کبھی۔۔۔۔۔۔ اماں بھی یاد نہیں آتیں کبھی؟؟؟؟؟۔۔۔۔
ٹپ ٹپ کتنے ہی آنسو اس تصویر پر آن گرے تو انہوں نے گھبرا کر تصویر کو اپنی آستین سے صاف کیا۔۔
مجھے پتہ ہے تم یہیں کہیں ہو۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا یہ میرا اماں سے وعدہ ہے اسے ضرور پورا کروں گا میں۔۔
انہوں نے ایکدم ہی اپنے آنسو پونچھے اور نئے حوصلے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
نیم تاریک کمپائونڈ سے جس وقت ہو باہر نکل رہے تھے عین اسی وقت اسی فلیٹ کا دروازہ ایک نوجوان بھارتی گانا گنگناتے ہوئے کھول رہا تھاجس کا دروازہ بجا بجا کے وہ مایوس ہو کر جا رہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 52

قسط 52
تصویریں آگے پیچھے کرتے اسے جانے کتنی دیر گزر چکی تھی۔ اتنی مگن بیٹھی تصویریں دیکھ رہی تھی کہ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ اسے مگن بیٹھے کتنی دیر سے وہ اسکے سر پر کھڑی اسے دیکھ رہی ہے۔
تصویریں کوئی سو ڈیڑھ سو ہوں گی۔ ختم ہوگئیں جب دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا چاہا تو واعظہ ٹوک بیٹھی۔
میں نے اپنی ہی تصویریں اتنے ذوق و شوق سے حفظ کرتے کسی کو نہیں دیکھا۔
واعظہ اطمینان سے اسکے برابر بیٹھتے بولی تو وہ بری طرح چونک سی گئ۔
مانا پیاری آگئی ہیں مگر ایک سو دو تصویریں دوبارہ دیکھنے میں پھر کافی ٹائم لگ جائے گا سو اب پھر دیکھنے کا شوق گھر جا کر پورا کرنا۔
واعظہ نے بات مکمل کی تو وہ جھٹ فون لاک کرکے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی کہ فارغ ہوجائو تو اکٹھے چلیں گھر۔
جبھئ ای جی کی وین سے منہ چھپا رہی تھیں یہ سوچ کر کہ کہیں اس میں میں نا بیٹھی ہوں۔
وہ کونسا چوکنے والی تھی جتادیا۔
نہیں میں۔ وہ بس۔
اس سے جواب نہ بن پڑا۔
چلو ذرا اکٹھے ہی چلیں گھر۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے بہت ضرورئ
وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ الف نے ہونٹ بھئنچ لیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی ڈیوٹی آف ہونے والی تھی سو وہ آرام سے وارڈ کا چکر لگا کر اپنے کیبن میں آکر بیٹھی۔ سب سے پہلے لیپ ٹاپ آن کرکے میلز دیکھنی چاہیں۔ میل آئی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ کھولی۔
امریکی ادارے نے اسکی درخواست منظو رکر لی تھی۔ وہ اسپیشلائزیشن اب امریکہ سے کر سکتی تھی تاہم ٹیوشن فیس میں اسے پچاس فیصد کی ہی بس رعائیت دیی گئ تھی۔ اسکے لیئے یہی بہت تھا۔
بہت بڑی خوشی اچانک مل جائے تو کیا کرنا چاہیئے۔ اس نے ایک نظر اپنے گرد ڈالی۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ ناچنا شروع کردے۔ مگر یہاں اس وقت یقینا خوشی ایسے نہیں منائی جا سکتی تھی۔
شکر الحمداللہ ۔ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
اپنے ہاتھ دعا کی طرح پھیلا کر اس نے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا۔ الحمد اللہ۔ بس یہی تکرار اسکے لبوں پر جاری تھئ۔
تبھئ کھٹکے پر اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا تو چونک کے سیدھی ہوئی۔
ڈاکٹر دعا جانے کب خاموشی سے آکر اسکی میز کے سامنے آکھڑی ہوئئ تھی۔
کین چھنا؟۔۔ وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
دے۔ وہ ہنس دی۔ ماسک کے پیچھے سرخ ہوتی آنکھیں وہ سچ مچ خوشئ سے رو پڑی تھی
پھر رو کیوں رہی ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا۔ اس نے بنا کچھ کہے لیپ ٹاپ کا رخ اسکی جانب کردیا۔ اس نے الجھن بھرے انداز میں میل پڑھی پھر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے میں امریکہ جارہی ہوں۔ اف میرا خوشی سے برا حال ہے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آخری حل میرے پاس یہی تھا کہ ناروے والی اسکالر شپ لے لوں مگر اسکے لیئے جواب دینے سے پہلے یہ میل آگئ اف خدا میں بہت خوش ہوں۔
وہ بے ربط مگر تواتر سے بول رہی تھی خوشی کے مارے تالی تک بجا لی تھی۔ اس وقت سامنے فاطمہ واعظہ وغیرہ میں سے کوئی ہوتی تو پکا وہ چمٹ چکی ہوتی اس سے مگر کورینز فاصلہ پسند کرتے ہیں۔ دعا سے اسکی اچھی سلام دعا تھی مگر وہ اس سے لپٹ نہیں سکتی تھی۔ میل پڑھتے اسکے تاثرات واضح طو رپر کڑوے ہوتے گئے۔ مسکراہٹ غائب ہوگئ
تو تم نے بھی امریکہ ہی جانا ہے۔ اسکے جوش بھرے انداز
کے برعکس اسکا انداز کافی سرد تھا
ہاں شکر ہے ورنہ مجھے ناروے جانا پڑتا ۔ عروج نے ناک چڑھائی۔ میز پر سے ٹشو نکال کر وہ ماسک ہٹا کر چہرہ صاف کرنے لگی۔ کاجل ہلکا ہلکا پھیل سا گیا تھا۔
تم پھر بھی امریکہ ہی پہنچ جاتیں۔خیر میں یہ پیشنٹ کی فائل دینے آئی تھئ۔ سر جون کو رپورٹ کردینا۔ تمہارےڈیوٹی ختم ہونے کے۔ بعد انکی ہی ذمہ داری ہوگی اس وارڈ کی۔
وہ فائل رکھ کر مڑی ہی تھی کہ عروج نے آواز دے ڈالی
دعا۔ کیا کھائوگی آج کی ٹریٹ میری طرف سے۔
وہ پرخلوص انداز میں دعوت دے رہی تھی۔
کیا کھلائوگی ؟ پورک بیلی کھلائوگی ؟
وہ مڑ کر استہزائیہ انداز میں بولی
ہاں کھلادوں گی۔ اس نے آرام سے کہا۔ اور چیزیں سمیٹتی اٹھنے لگئ۔
کیوں ؟ سیونگ رو کے پیچھے لادین ہونے لگی ہو؟ مسلمان تو پورک سے دور بھاگتے ہیں ہیں نا؟ اب پورک کھانا جائز ہوگیا تمہارے لیئے؟
سینے پر بازو لپیٹتی وہ سخت تنفر سے بولی۔
میں نے تمہیں ٹریٹ دینے کیلئے کہا تھا یہ نہیں کہا کہ میں بھی تمہارے ساتھ پورک کھائوں گئ اور اس سب کے بیچ میں سیونگ رو کہاں سے آگیا؟
عروج چاہتے ہوئے بھئ اپنے لہجے پر قابو نہ پاسکی
یہ تو تم مجھے بتائو۔ جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم سیونگ رو کو پسند کرتی ہو تو تم نے صاف انکار کیا تھا یاد ہے۔؟
وہ اسے وہ دن یاد کرارہی تھی جب اسکے یوں اچانک پوچھنے پر وہ حیرت سے جم سی گئ تھی۔
سائرن بجتے اسکا ذہن ایکدم مائوف سا ہوا تھا۔
میں پوچھ رہی ہوں کیا تم سیونگ رو سے محبت کرتی ہو؟
دعا اسکے بالکل مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔
نہیں تو۔
اس نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہیں کیا تھا۔اسکے یوں فوری جواب پر وہ ڈھیروں اطمینان دعا کے چہرے پر آجھلکا تھا۔
وہ تمہیں اگرپرپوز کردے تو؟ وہ جانے کیا جاننا چاہ رہی تھی۔
تو میں انکار کردوں گی۔ اول تو ہم بس دوست ہیں دوسرا وہ بڈھسٹ ہے میں مسلمان ہماری شادی ہوہی نہیں سکتی۔ اس نے اطمینان سے کہہ کر لیب کوٹ پہنا اور اسٹیتھسکوپ گلے میں ڈال کر جانے کوتیار ہوگئ۔
ایمرجنسئ کیسز ہیں ڈیوٹئ پر موجود ڈاکٹرفورا ایمرجنسی مین آئیں۔
انائونسمنٹ جاری تھئ۔
کیوں؟
دعا نے بے تابی سے پوچھا
پہلے ڈیوٹی پر رپورٹ کرلو یہ فالتو باتیں بعد میں کرنا۔
وہ ناگواری چھپاتے اسے ٹوک کر جلدی سے دروازے کی۔جانب بڑھ گئ تھی۔
اس وقت تو ایمرجنسی کی وجہ سے بات آئی گئ ہوگئی مگر اس وقت وہ جس طرح جرح کر رہی تھی عروج ساکت سی اسکی شکل دیکھنے لگی
پھر اب کیوں اسکے پیچھے امریکہ جا رہی ہو؟ انسان میں کم ازکم اتنی شرافت ہونی چاہیئے کہ سچ کا سامنا کرے جھوٹ نہ بولے۔ اسکی خاموشی پر وہ جیسے بھڑک اٹھئ تھئ
کیا بکوا س کر۔رہی ہو؟ میں نے کیا جھوٹ بولا؟ عروج کو اسکی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔
تم دونوں ساتھ تھے مگر تم دونوں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ صاف کہتے کہ تم دونوں ساتھ ہو۔ میں کبھی اتنی امیدیں نا پالتی۔ تم دونوں نے مجھےبے وقوف بنایا۔ بولتے بولتے اسکی آواز بھرا سی گئ۔
اور میں۔ سب چھوڑ چھاڑ کرجارہی تھی۔۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی۔
کیا مطلب کیا کہہ رہی ہو؟ عروج کو اسکی ایک بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہاں لڑنے کے موڈ میں تھی کہاں اب رونا شروع کردیا۔
کیا ہوا ہے ؟ مجھے بتائو۔
اس نے پاس آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہااس نے تنفر سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ اپنے پرس میں سے ایک خط نکال کر دو ٹکڑے کیئئے اور وہیں فرش پر پھینک کر روتی ہوئی باہر نکل گئ۔
دعا۔۔ اس نے پکارنا چاہا مگر وہ رکی نہیں اس نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا پھر جھک کر اسکا پھینکا ہوا لیٹر اٹھا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واصف کو دیکھتے ہی فاطمہ نے یہی کہا کہ وہ جچے گا تمہارے ساتھ۔
بس کے پائیدان پرقدم رکھتی الف اور اسکے ہم قدم واعظہ خود کار ریکارڈ کی طرح بجتئ ہوئی۔
شکل و صورت تو خیر اچھی ہے ہی مگر کوالیفائڈ انجینئر ہے۔ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ ۔۔ گو اس پر مجھے اور فاطمہ دونوں کو شک ہوا کہ انجینئر اور برسرروزگار تو ہے ہی اوپر سے اتنی تنخواہ؟؟؟ مگر کوئی تنخواہ بڑھا کے کیوں بتائے گا عموما عمر اور تنخواہ لوگ گھٹا کے ہی بتاتے ہیں۔
رنگوں روشنیوں سے جگمگاتی شہر کی پرورنق سڑکیں نیون سائنز کی جگمگ کرتئ روشنیاں دکانوں کی پیشانی پر سجی ہنگل میں تحریریں وہ سڑک پر ایک کنارے بیٹھی بلی کو دم ہلاتے دیکھ کر چونکی ۔ بس کی رفتار تیز تھی وہ مڑ مڑ کر اس بلی کو دیکھ رہی تھی۔ بس کی کھڑکی کے پاس بیٹھنا اسے اسی لیئے پسند تھا ۔ باہر کے دلفریب نظارے۔۔ واعظہ اسکے برابر ہی بیٹھی تھی۔
اوپر سے اکلوتا بیٹا۔ نا بہن نا بھائی۔ ابا بھی نہیں ہیں۔ مطلب یہاں نہیں ہیں۔ یہاں مطلب پاکستان میں نہیں۔ جدہ میں ہوتے ہیں۔ جبھی بیٹے کو انجنیئر بنوا دیا بھئ۔ واہ۔
انکا اسٹاپ آگیا تھا۔ دونوں آگے پیچھے اتری تھیں۔ فٹ پاتھ پر رش نہیں تھا۔ اپنی گلی تک مڑتے وہ ایک ایک دیوار کنارے لگے پودے پتھر کو دیکھتئ آئی تھی۔
اور تو اور گھر بھئ بنوا دیا ہے پورے دس مرلے کا مکان ہے انکا وہ بھی آسٹریچ میں۔ آسٹریچ عجیب نام لگا مجھے بھلا وہاں کیا آسٹریچ کے فارم ہیں جو ۔۔۔
ویسٹریج نام ہے جگہ کا۔ اس نے جھک کر اپنے جوتے کے تسمے دیکھے پھر وہیں اکڑوں بیٹھ کر باندھنے لگی
ہاں ویسٹریج۔ آسٹریچ کہاں سے ذہن پر سوار ہوا میرے۔ وہ سوچ میں پڑی پھر سر جھٹک کر بولی
خیر اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں خود جھک کر اپنے جوتے کے تسمے باندھنے کی زحمت نہ کرنے دی جائےاور ایک ہینڈسم انجنئیر تمہارے جوتے کے تسمے باندھ دیا کرے۔
ہینڈسم انجینئر۔ الف استہزائیہ ہنسی۔۔ اور سیدھی ہو کھڑی ہوئی
میرے جوتے کے تسمے باندھنے کی بجائے وہ اپنے جوتے مجھ سے پالش کروانے کے خواب دیکھ رہا ہوگا۔
اس ساری تفصیل میں یہ بھی شامل کرلو یہ واصف میرے سگے ماموں کا بیٹا ہے۔ ایک نمبر کا غصہ ور کمینہ بچپن میں ہم سب بچوں پر خوب رعب جماتا رہا ہے ہمیں تھپڑ مار کے اور میری تو پونی کھینچ کر بھاگ جایا کرتا تھا ہم سب تنگ تھے اس سے۔
بھنا کر وہ اتنے غصے سے بول رہی تھی کہ گردن کی رگیں تن گئ تھئں۔
ہاں یہ بھی بتایا تھا تمہاری امی نے بھول۔گئ تھی میں۔ واعظہ نے کان کھجایا
مگر وہ بچپن کی بات ہے تمہاری امی کہہ رہی تھیں تم بچپن کی بات دل سے لگا کر انکار کررہی ہو ۔اب تھوڑی وہ بال کھینچ کے بھاگا کرے گا۔ مطلب بال نہیں کھینچے گا ویسے پاکستانی لڑکوں کا بھروسہ بھی کوئی نہیں۔وہ آخر میں بڑبڑاہٹ پر اتر آئی تو الف کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔
کسی کے باپ میں جرات نہیں کہ مجھے ہاتھ لگائے منہ نہ توڑ دوں بال کھینچنے والے کا۔ اور بات سنو تم کون ہوتی ہو مجھے سمجھانے کا بیڑا اٹھانے والی ؟ بولو؟ کیوں میری امی سے بات کی اپنے کام سے کام رکھا کرو نا۔
الف کے یوں بھڑک اٹھنے وہ پر چپ ہوکر بغور اسے دیکھنے لگی۔ طیش سے منہ سرخ ہوچلا تھا۔۔
کیوں انکار کر رہی ہو؟ پھر ؟ اسکا انداز الف بالکل برعکس اطمینان بھرا تھا
میری مرضئ۔ وہ مزید تپ گئ ۔
جو بھی وجہ ہو میں صاف انکار کر چکی ہوں امی کو میں پھر بھی انہوں نے تمہیں فون کرکے مجھے منانے کا ٹاسک دے ڈالا اور تم میری روحانی امی ٹاسک پورا کرنےچلی آئیں ۔
اپنے لانگ ٹاپ کی آستینیں باقائدہ چڑھا لی تھیں اس نے۔ فیڈڈ جینز لانگ گرے ٹاپ میں گرے ہی اسکارف پہنے وہ غصے سے لال ہوئی وی تھئ۔
مجھےایک بات بتائو اتنی پرسکون زندگی کیسے ہے تمہاری ؟ کوئی اپنا ذاتی مسلئہ پریشانی نہیں لاحق کوئی فکر نہیں تمہاری زندگی میں کہ تم دوسروں کے مسلوں میں ٹانگ اڑانے پہنچ جاتی ہو۔۔۔ فاطمہ عروج وغیرہ کو تمہاری اس ہمدردی یا توجہ کی ضرورت ہوتی ہوگئ انکے مسلئے شوق سے حل کرو مگر میرے معاملوں میں ٹانگ نہ اڑایا کرو۔ سمجھیں۔
الف حلق کے بل چلا رہی تھی۔ واعظہ کو یکدم ہی ٹھنڈک سی محسوس ہوئی۔ الف کے برعکس وہ پلین لانگ اسکرٹ میں ملبوس تھئ۔ اس وقت ہوا سے اسکا لباس سرسرارہاتھا رگ و پے میں سخت ٹھنڈک کی لہر دوڑ رہی۔تھی۔ اس نے ہلکی سی جھرجھری سی لی
میری شادی ہو نہ ہو واصف سے ہویا گنگو تیلی سے تمہیں کیا۔ میری امی تمہیں ہر دوسرے دن فون کرتی ہیں تو تم اٹھاتی کیوں ہو بلیک لسٹ میں ڈالدو نمبر مت فون اٹھائو۔ جو مرضی آئے کرو مگر میرا دماغ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھیں۔
اسکو چکنا گھڑا بنے سنتے دیکھ کر وہ مزید بھڑک کر پیر پٹخ کر بولی۔ واعظہ چپ چاپ دیکھتئ رہی۔ اس نے چند لمحے تو واعظہ کے ردعمل کا انتظارکیا پھر تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف بڑھ گئ۔
سڑک کنارے نیم اندھیرے موبائل کی ٹون پھر بج اٹھی تھی۔اس نے گہرا سانس لیکر پرس سے فون نکالا۔
الف کی امی کی ہی کال تھی۔
اس نے چند لمحے سوچا پھر کال کاٹتے کاٹتے بھی اٹھا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔ عروج ابھی ابھی واپس آئی تھی حسب عادت زور دار سلام جھاڑتئ اندر آئی۔ عزہ طوبی عشنا لائونج میں پھسکڑا مارے بیٹھی چپس اڑاتے ہوئے گپیں لڑا رہی تھیں۔ تینوں بچے خاموشی سے بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے جسکی آواز بند تھئ۔
آئو عروج ابھی ابھی چپس بنائے ہیں۔عزہ نے شکل دیکھتے ہی آواز لگائی
آتی ہوں۔ وہ ٹالتی ہوئی کمرے میں گھس گئ۔
عروج اور چپس کو ٹال گئ۔ قیامت کے آثار ہیں۔ طوبی کو حیرت ہوئی۔
کوئی مردہ چیر پھاڑ کر آئی ہوگی۔ نہا کے ہی آئے گی کھانے۔
عشنا نے وثوق سے کہا تھا۔مگر جملہ ختم ہوتے ہی سے عروج کمرے سے برآمد ہوگئ ۔ لیب کوٹ پرس اندر رکھ کر شائد بس ہاتھ دھو کر ہی آئی تھئ۔ہاتھ گیلے تھے جنہیں جھٹکتی وہ بھی انکے برابر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔منی میز پر ٹرے بھر کر چپس رکھے تھے ساتھ ایک پیالی میں کیچپ بھی تھا۔ اس نے جھٹ دوتین اکٹھے اٹھا لیئے۔
نہا تو آئو مردے کو ہاتھ لگا کر آئی ہو۔طوبی ٹوکے بنا نہ رہ سکی
کونسا مردہ۔ وہ تیز تیز چپس چبا رہی تھئ۔ عشنا اور عزہ ہنسنے لگیں
مزاق کر رہی تھی عشنا طوبی جی۔
کیسا مزاق۔ عروج کو اپنے آپ پر حیرت ہوئی
عشنا کہہ رہی تھئ تم نہا کے آئوگی کیونکہ مردے کو ہاتھ لگا کے آئی ہو۔
طوبی نے وضاحت کی۔
ہیں عشنا کو کیسے پتہ لگا؟ آج ویسے دو کیس تھے جنکی ڈیتھ ڈکلیئر کرنی پڑی مجھے۔
وہ کافی تیزی سے منہ چلا رہی تھی۔طوبی نےجو چپس منہ میں بھر لیئے تھے انہیں چبانا بھول گئ
اوہو وہم نہ کریں ہاتھ دھو کے ہی آئی ہے۔ نماز پڑھتے وقت نہا لے گی آپ آرام سے کھائیں۔
عزہ نےتسلی دی تو اس نے چبانا شروع کر ہی دیا
ویسے یہ محفل کیوں سجی ہوئی ہے۔ عروج نے برسبیل۔تذکرہ ہی پوچھا تھا
ہم الف کا شو سننے بیٹھے تھے سیہون اور ای جی آ آئے تھے اتنئ زبردست کمپیئرنگ کی واعظہ نے سیہون تو ہنس ہنس کے پاگل ہورہا تھا اتنا مزا آیا۔
عزہ نے جوش سے چپس چھوڑ چھاڑ اسے رام کہانی سنائی
کیا مطلب الف کا شو۔ اور واعظہ کی۔کمپیئرنگ کر رہی تجی؟
عروج کو۔سمجھ نہ آیا
ہاں۔واعظہ نے ہی ایک طرح سے شو کیا الف تو بولی۔ہی نہیں۔ بس ایک دو بار واعظہ کے بلانے پر بولی پھر خاموش رہی۔
عشنا نے اسکو سمجھانا چاہا۔عروج حیرت سے چپس چھوڑ کر سر کھجانے لگئ۔
آج کوئی بات پہلی دفعہ میں ہی پلے کیوں نہیں پڑ رہی ہے میرے۔
یار واعظہ بھی گئ تھی الف کے شو میں آجکل واعظہ ای جی کی مینجر بنی ہوئی ہے نا۔اور اچھا ہوا واعظہ چلی گئی ورنہ جانے کیا ہوتا الف کو دیکھا ہے نا آجکل کیا ہوا وا چڑچڑی ہوئی وی ہےگھر میں کاٹ کھانے کو تو دوڑتی ہے آج توحد ہی کردی ایک لفظ پورے شو میں بول کے نہ دی سارا شو واعظہ نے کیا بیچ بیچ میں واعظہ بولنے کو کہتئ تو بس ہوں ہاں کرکے چپ پکا اسکی نوکری گئ میں تو۔۔۔
عزہ نے بولتے بولتے یونہی نظر اٹھائی تو الف کو سامنے کھڑا پایا۔۔ پہلی دفعہ اس نے یوں اسکے رویئے پر تبصرہ کیا تھا اور الف نے سن بھئ لیا۔ باقی جملہ وہ منہ میں ہی رکھ گئ۔
اسکو اچانک خاموش ہوتے دیکھ کر تینوں نے مڑ کر دیکھا اور چپ ہی رہ گئیں۔
تم لوگ سن رہے تھے میرا شو۔ ایسے تو میں کہتی رہتی تھی کوئی سنتا نہیں تھا۔
اس کا شکوہ بجا تھا مگر انداز بنا کوشش کے ہی طنزیہ ہوا تھا۔
ہاں وہ تم بتا رہی تھیں کہ یہ آخری شو ہے اسی لیئے ہم نے سوچا ہم تو فون بھئ کرتے مگر ۔۔ ۔۔۔ عشنا نے بات سنبھالنے کی نیت سے کہا تھا مگر وہ جانے کیوں چڑگئ۔
ہاں تو کیا کیوں نہیں فون؟ یہ سب تبصرے فون کرکے پورے کوریا کو سنانے تھے نا۔۔
کیا ہوگیا ہے الف؟ کیوں اتنا چڑی ہوئی ہو؟
طوبی حیران ہوتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
ہاں میں چڑچڑی ہوں دماغ خراب ہوا وا ہے میرا تم سب ہوش مند ہو بس۔
وہ کہتئ پیر پٹختی اندر جانے لگی تو طوبی نے ہاتھ پکڑ لیا۔
کیا بات ہے کس وجہ سے پریشان ہو؟ میں کئی دن سے دیکھ رہی ہوں تم نا ان سب کے ساتھ بیٹھتی ہو نا بات کرتی ہو؟ ہمیں یہی لگا تھا شو کی وجہ سے پریشان ہو مگر آج واعظہ نے سنبھال تو لیا شو بھی ہوگیا اب کیا مسلئہ ہے؟
طوبی کا انداز ناصحانہ ہرگز نہیں تھا بے حد محبت سے فکرمند انداز میں پوچھ رہی تھی۔الف کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔
عشنا اور عزہ دونوں ان دونوں کی جانب ہی متوجہ تھیں عروج نے تیزی سے ہاتھ منہ چلانا شروع کردیا۔ الف نے لابی میں سے واعظہ کو آتے دیکھا تو غصہ پھر عود آیا۔
ہاں شکر گزار ہوں میں اس دیوی کی بہت بڑا احسان عظیم کردیا ۔۔
اس نے باقائدہ واعظہ کی جانب اشارہ کرکے کہا
اس نے میری ذات پر مگر میں احسان رکھوں گی نہیں تنخواہ آئے گئ تو پوری دے دوں گی تمہیں۔
۔ وہ چبا چبا کر کہتی بازو چھڑاتئ کمرے میں بند ہوگئ۔ طوبی نے مڑ کر دیکھا تو واعظہ شائد ابھی ابھی آئی تھی لاوئنج میں داخل ہوتے قدم روکے سن رہی تھی۔
طوبی خفت سے کھڑی کی کھڑی رہ گئ۔
اسکا تو بالکل دماغ خراب ہوگیا ہے۔ عزہ نے تاسف سے سر جھٹکا۔ عروج بے نیازی سےٹرے خالی کر رہی تھی۔
میرا خیال ہے میں گھر چلتی ہوں اب۔ طوبی نے جھک کر صائم کو گود میں اٹھایا زینت اور گڑیا فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
آپ کیوں جا رہی ہیں۔ بیٹھیں آرام سے گھر صرف اسکا نہیں ہے۔عروج نے روکنا چاہا
نہیں بس ویسے بھی چپس بہت کھالیئے اب رات کو کھانا نہیں کھایا جائے گا چلتی ہوں وہ پھر رکی نہیں بچوں کو لیکر چلی گئ۔ واعظہ نے ذرا سا ہٹ کر اسے راستہ دیا۔
آئو واعظہ چپس کھالو۔ عزہ نے پکارا تو وہ نرمی سے منع کر گئ
نہیں شکریہ تم لوگ کھائو۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔
واعظہ بھئ خفا ہوگئ ہیں؟ عشنا نے خیال ظاہر کیا۔
نہیں اسے آلو پسند ہی نہیں ہیں کم کم ہی چپس کھاتی ہے۔ عروج ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی ارادہ خوب نہانے کا تھا۔
کاش تمہیں بھی ناپسند ہوتے۔ عزہ نے حسرت سے خالی ہوتی ٹرے کو دیکھا پھر اسے اپنے قبضے میں کرلیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے ایک جانب منہ بنائے بیٹھی ان سب کو گھور رہی تھی۔ جانے ان کورینوں کو پی کے ٹن ہونے کا کیا شوق تھا۔وہ سب کمپنی کی جانب سے ڈنر پر آئے تھے۔ پوری کاسٹ اور ٹیم کے چیدہ چیدہ ارکان تو آئے ہی تھے ان دونوں کو بھی خاص کر بلایا گیا تھا تاکہ مترجم کے فرائض نبھا سکیں۔ وہ تو آکر ایک کونا سنبھال کر بیٹھ گئ۔خالص کوریائی ثقافت کا ان سب کو نظارہ کرنا تھا سو اس مشہور زمانہ ریستوران کاانتخاب کیا گیا جس میں نا میزیں تھیں نا کرسیاں فرشی نظام تھا چھوٹی چھوٹی چوکیاں رکھی تھیں۔سب کے آگے مرغن مرغ اسٹیک ، پورک اور نوڈلز سوپ کے ساتھ رکھے تھے۔ ان سب کی خوشبوئوں نے اسکے سر میں درد کردیا تھا۔ اس نے اپنے لیئے خاص سبزیوں کا سوپ منگوایا تھا جس میں نوڈلز تیر رہے تھے اور ٹوفو بھی۔ مگر مجال ہے اسکا ایک لقمہ لینے کا بھی دل کیا ہو۔اس نے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر کچھ فاصلے پر بیٹھے لوگوں کو اسٹیک اڑاتے دیکھا وہ ناقدرے دعوت چھوڑ چھاڑ سوجو
پر شرطیں لگا رہے تھے۔ بوتلیں کھل رہی تھیں۔
مصری فنکار مکمل کوریائی ماحول میں مدغم تھے۔
کھاوا عبداللہ کے ساتھ ہی۔بیٹھا تھا۔عبداللہ نے چھوٹا سا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا وہ نا نا کر رہا تھا مگر عبداللہ نے اسکے منہ میں ڈال ہی دیا۔
فاطمہ کو گھن ہی آگئ۔
توبہ ہے۔ ڈھائی سال ہورہے مجھےیہاں رہتے مجال ہے کبھی سوجو کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو مگر صحیح بات ہے سب اصول لڑکیوں کیلیے ہی ہیں۔ وہ تائو کھارہی تھی۔
غصے میں کڑوا کسیلا ٹوفو اٹھا کر منہ میں رکھ لیا۔ کانٹا پلیٹ میں رکھ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کہیں تھوکنے کی جگہ ہی نہ تھی۔
ایسے موقعوں پر پاکستان کیسا یاد آتا ہے۔ آرام سے الٹی ہی کردینی تھی میز کے نیچے میں نے۔ اس نے حسرت سے لکڑی کے اس فرش سے بمشکل ایک ڈیڑھ بالشت اونچی اس چوکی کو دیکھا۔ چارو ناچار نگلنا پڑا۔
عجیب بے چاری شکل بنی تھی کہ کیا تھا کھاوا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ۔ سفید سوڈے کی بوتل اسکے سامنے رکھتے اس نے ذرا سا کھنکھارا تو وہ چونک کرسر اٹھا کے دیکھنے لگی۔ اس نے بوتل آگے بڑھا دی۔ فاطمہ کو غنیمت لگا فورا دو گھونٹ لیئے تب منہ کا ذائقہ بدلا۔
میرا وہاں پورک کی بوسے دل متلانےلگا تھا تو سوچا ادھر آپکے ساتھ بیٹھ کر کھا لوں۔ بیٹھ جائوں۔
وہ معصومیت سے کہتا اسکے بالکل سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا تھا
آپ بیٹھ چکے ہیں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا تھا۔
اوہ ہاں۔ وہ جیسے کھسیایا۔ مگر ڈھیٹ بنا اپنی اسپگیٹی کی پلیٹ جو وہ لبا لب بھر کے لایا تھا تھوڑا سا آگے کھسکا کے رکھی۔
یہاں یہ ڈش پیور ویجیٹیرین ہے ذائقہ بھی اچھا ہے چکھو ۔ اتنی بیزاری سے سوپ کو گھور رہی ہو سوپ ویسے ہی کڑوا ہوچکا ہوگا۔
وہ چاپ اسکٹکس پھیر کر مٹر شمہ مرچ بند گوبھی اور مشرومز دکھا رہا تھا۔۔
فاطمہ نے ایک نگاہ اسکی رنگ برنگی خوب مصالحے دار ڈش کو دیکھا پھر خاموشی سے اپنا سوپ کا پیالہ اپنی جانب کھسکا لیا۔
یہ نئی چاپ اسٹکس لیکر آیا ہوں ویسے بھی مجھ سے چاپ اسٹکس استعمال نہیں ہوتیں۔
اسے یہی لگا شائد وہ جھوٹا ہونے کی وجہ سے نہیں کھا رہی۔
فاطمہ نے ترچھی نگاہ سے دییکھا تو وہ قسم کھانے لگ گیا۔
قسم لے لو۔ وہاں بیٹھا ضرور تھا مگر کھا پی نہیں رہا تھا یہ ڈش ابھی ویٹر نے لا۔کر رکھی میں اٹھا کر تمہارے پاس چلا آیا۔ عبداللہ سے معزرت کرکے۔ وہاں بیٹھ کر سبزیاں کھانا مشکل کام ہے بھنے پورک کی بو ہی بہت تیز ہے بھئی۔ ایویں بندہ دیکھنے لگ جاتا۔
اس نے یقین دلانا چاہا۔تو فاطمہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
ویسے شراب تو پی ہی لی پورک بھی چکھ لیتے کوئی حسرت نہ رہ جاتی کوریا میں رہ کر یہ کام نہیں کیا۔
ارے ۔ وہ بے ساختہ ہنسا۔
قسم لے لو نگلی نہیں سوجو کی خالی بوتل میں تھوک کر آیا ہوں۔ایک منٹ۔ اسے خیال آیا مڑ کر دیکھا وہ سب پارٹی کرنے میں مگن تھے۔عبداللہ میز کے برابر رکھی اس سوجو کی بوتل کو ہنستے ہوئے اٹھا رہا تھا۔
نہیں۔۔۔۔ اسکے حلق سے چیخ کی۔بجائے ہلکی سی سرگوشی نکلی۔لمحے بھر کا وقفہ کیئے بنا وہ چیل کی۔طرح جھپٹا مارنے بڑھا سلو موشن میں عبداللہ جس سوجو کی بوتل کو اٹھانے ہی لگا تھا جب ناگہانی آفت کی طرح کھاوا اڑتا ہوا اس پر آن گرابوتل اسکے ہاتھ سے چھین کر اس نے اپنے قبضے میں کی تھی۔
اس منظر کو پلکیں جھپکے بنا دیکھتی فاطمہ ساکت ہی تھی اس نے مڑ کر فاتحانہ انداز میں بوتل لہرائی۔فاطمہ کا منہ ذرا سا کھلا تھا۔۔
وہ بھری ہوئی سوجو کی بوتل تھی۔ یقینا کھاوا والی بوتل دوسری تھی۔۔۔ جشن مناتے کھاوا نے بھی سٹپٹا کر بوتل کو دیکھا عبداللہ اسکا شانہ ہلا کر اس بے مقصد اچھل کود کی وجہ پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔