53
باہر نکلتے فاطمہ ہنستے ہنستے دہری سی ہوگئ تھئ۔ کھاوا تھوڑا کھسیایا ہوا سر کھجا رہا تھا۔
اف خدایا۔ ایک تو شراب وہ بھی ایو۔۔۔۔ اسے سوچ کے گھن آرہی تھئ۔
بہت اچھا ہوا اس عبداللہ کے ساتھ۔ اس دن سور کھا رہا تھا کھڑا ہوا۔ جب سور جیسی غلیظ چیز کھائے گا تو کسی دن اسے اس سے بھی ذیادہ گندبلا کھانے کو مل گیا نا۔
فاطمہ کو مزا آیا تھا اسکی درگت بننے کا سوچ کے۔
میرے منہ میں گند بلا ہوتاہے۔۔ کھاوا نے مصنوعی خفگی جتائی۔۔
بس رال ہوگئ جو میرے منہ میں سے نکلی ہوگی میں نے کون سا کھنکھار کر بلغم۔۔۔
وہ شرارت میں کہتا حد سے بڑھنے کو تھا۔ فاطمہ نے دانت پیس کر ٹوکا۔
بس بس۔ اب مجھے الٹی مت دلائو۔پہلے ہی دو چارنوالے ہی ذہر مار کیئے ہیں۔ باہر آجائیں گے۔ جانے لوگ بنا گوشت کھائے سبزیوں پر زندہ کیسے رہ لیتے ہیں۔ اتنےمصالحے ڈال کر بھی سبزئ سبزی ہی رہی چکن نہ بن سکی ۔۔۔
کھاوا کے ساتھ چلتے وہ باآواز بلند اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھی۔
پسند اپنی اپنی۔ اب مجھے گوشت سے ذیادہ سبزیاں پسند ہیں وہ بھئ ابلی کم مصالحے والی۔ جب گھر میں مرغی وغیرہ بنتی تھی تو میں اتنے برے منہ بناتا تھا اماں گردن سے دبوچ لیتی تھیں اور زبردستی کھلاتی تھیں۔ کہتئ تھیں میں ناشکرا ہوں جو مرغی پکنے پر کریلےمانگتا ہوں۔ مجھے کریلے بہت پسند ہیں۔ اسکی ہلکی سی کڑواہٹ ۔۔۔۔
بولتے بولتے اسے احساس ہوا تو زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
میں بھی کیا فالتو باتیں لیکر بیٹھ گیا۔
فاطمہ نے اسکی خفت زدہ شکل دیکھی تو ہنس دی۔
بیٹھے تو خیر نہیں ہو چل رہے ہو وہ بھی آہستہ اتنا کہ گیارہ بجے والی جو آخری بس ہے وہ اسٹاپ سے نکل جائے گئ ہمارے پہنچنے تک۔۔۔ اس نے سامنے نظر آتے بس اسٹاپ کے کیبن کو دیکھتے ہوئے اسکی سست روی کو جتایا۔
آئیم سوری۔ وہ شرمندہ سا ہوگیا۔
آپ چلیئے میں اگر نہ پہنچ سکا تو ٹیکسی کرلوں گا آپ میری وجہ سے لیٹ نہ ہو جائیں۔
وہ سہولت سے کہہ کر ایک جانب ہوگیا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔۔۔ بجائے اپنی رفتار بڑھانے کے ۔۔ تبھئ پاس سے گزرتی بس کے ہارن نے اسے چونکا دیا۔
یہ اسکی مطلوبہ بس تھی اور سامنے اسٹاپ تھا وہ اگر بھاگتی تو آرام سے پہنچ سکتی تھی۔
اوکے پھر کل ملاقات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔ وہ جلدی سے کہتی بھاگ اٹھئ۔۔
بلیک لانگ خوب گھیر والی اسکرٹ پر پرنٹڈ گلابی پھولوں والا بلائوز گلے میں پرنٹڈ اسکارف ڈالے بے فکر سی فاطمہ کی کندھوں سے تھوڑا نیچے آتے گھنگھریالے بھورے بالوں کی اونچی سی پونی اسکے بھاگنے سے پنڈولم کی طرح جھول رہی تھی۔ لاپروا سی اپنے آپ میں مگن اس لڑکی نے بھاگتے ہوئے تیزی سے اپنی بس پکڑ لی تھی او رلمحوں میں منظر سے اوجھل ہوگئ تھئ۔ بنا سوچے کہ پیچھے رہ جانے والے کی کیا مجبوری رہی ہوگئ ۔
اس نے سوچا پھر خود پر ہنس دیا۔
آگے بڑھنے والے پیچھے رہ جانے والوں کو کہاں مڑ کر دیکھا کرتے ہیں۔اسے اپنی یاسیت پر بے طرح غصہ آیا۔ اسے غصہ آیا تھا کہ وہ زندگی کی شاہراہ پر دوڑتے بھاگتے لوگوں سے وہ کئی قدم پیچھے رہ گیا تھا۔ یا غصہ آجانے کی وجہ سے ۔۔۔۔
پاس سے گزرتی ٹیکسی کو اس نے ہاتھ دے کر روک دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف منہ تک کمفرٹرتانے جانے سو رہی تھی یا بنی ہوئی تھی۔
عروج اور عزہ مگر پوری احتیاط کرتے ہوئے کمرے میں کم سے کم آہٹ کرتے ہوئے اپنے اپنے معمول کے مطابق کام نپٹا رہئ تھیں۔
تمہیں صبح جانا ہےنا ؟ عروج نے عزہ سے سرگوشی میں ہی پوچھا تھا۔۔ اپنے بیڈ پر کمبل تکیہ درست کرتی عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
کیوں؟ عروج کا انداز ہنوز تھا ہاتھوں میں لوشن ملتے ہوئے وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی۔ سنگھار میز کے قریب کھڑی عروج اور بیڈ پر چڑھی بیٹھی عزہ کے بیچ فاصلہ پیغام رسانی میں اہم رکاوٹ تھا۔
صبح اتوار ہے۔۔۔۔
عزہ نے بنا آواز نکالے بتانا چاہا۔
کیا؟ عروج نے بھنوئیں اچکائیں۔
اتواااااار ہے۔ عزہ نے اس بار خوب منہ کھول کھول کر بتایا مگر بنا آواز۔
کیا؟
اتوااااااار۔۔۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو؟؟؟؟ عروج جھلا کر تھوڑا زور سے بول گئ۔
سشس۔ شسس۔ ممم۔۔۔۔۔
کمفرٹر میں سوئی شیرنی کی جانب اشارہ کرتی عزہ نے دنیا جہان کی مسکینیت چہرے پر طاری کرکے جان کی امان مانگی تھی۔
عروج ہونہہ کرکے رخ موڑ گئ۔ عزہ نے ماتھا پیٹا پھر کمرے میں دیوار پر لگا کیلنڈر اٹھا کر اسکے پاس چلی آئی۔
مل مل کر لوشن لگاتے ہوا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو عزہ کیلینڈرہاتھ میں پکڑے اتوار 4 جولائی پر انگلی رکھ کر اسے دکھا رہی تھئ۔
یہ کیا ہے؟
عروج کیلنڈر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
عزہ نے دانت پیسے۔
چہ۔۔ اتوارہےکل18جولائی اتوار کا دن اب سمجھ آئی۔۔
ساری احتیاطیں بھول بھال وہ زور سے بول پڑی۔
تم دونوں نے لیٹ نائٹ بک بک کرنی تو کمرے سے باہر جا کرکرو
کمبل میں سے شیرنی نے منہ نکال کر دھاڑ کر کہاتھا۔
اسکی تو۔عروج سنگھار میز سے ہئیر برش اٹھا کر اسے مارنے دوڑنے لگی کہ عزہ نے روک دیا۔
سشسس۔ صبر کرو بہن بڑا اجر ہے صبر کا۔
عزہ اپنی طرف سے تو پکا سا منہ بنا کر بولی مگر عروج قطعی متاثر نہ ہوئی۔ گھور کر دیکھتے اس سے کیلنڈر چھین لیا۔۔
یہ کیا کیا ہے اسکے ساتھ؟ وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی ۔۔
یار یہ میں نشان لگاتی ہوں جب جب کوئی چھٹی کرتی ہوں تاکہ کلاسز کا اندازہ لگاسکوں۔
عزہ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔۔
تم نے اتنی چھٹیاں کی ہیں؟ عروج نے کیلنڈر لہرایا جو سرخ سرخ نشانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔
عزہ ناسمجھنے والے انداز میں دیکھے گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے دنوں کے بعد وہ فلیٹ واپس آئی تھی چند لمحے کھڑی دروازے کو ہی گھورتی رہی ۔۔
اندر جانے کا ارادہ نہیں ہے؟ سیہون اسکے پیچھے سے آکر بولا تو وہ چونک گئ۔
آننیانگ کیسے ہو؟ اس نے کرٹسی نبھانی چاہی۔
آننیانگ۔ جوابا اس نے مروتا بھئ اسکا احوال نہ پوچھا بلکہ اطمینان سے آگے بڑھ کر دروازہ انلاک کرتا ہوا اسکے اندر آنے کیلئے دروازہ کھلا چھوڑتا آگے بڑھ گیا۔
لڑ کر معزرت کرکے جانے کے بعد اب اگر غصہ دکھا رہا ہے تو میری جوتئ سے۔
اس نے یہی سوچ کر دانت پیسے پھرگہری سانس لیکر اندر آگئ۔ سیہون نے حسب عادت گھر کی لابی میں لگے شو ریک میں جوتے اتار کر سلیپر پہنے ہاتھوں میں وہ دو بڑے بڑے شاپر پکڑے تھا۔ اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اپنے سینڈلز اتارنے لگی۔ اسکی چپلیں یہاں نہیں تھیں سو اندر ننگے پائوں ہی داخل ہونا پڑا۔ بائیں ہاتھ سے سینڈلز تھامے خراماں خراماں چلتی کچن کائونٹر پر سامان رکھتے سیہون نے خاصی حیرت سے اسکے ننگے پائوں کو دیکھا تھا مگر بولا نہیں۔
کچھ کھائو گئ؟ وہ حسب عادت پوچھ رہا تھا۔
آندے۔ وہ کہتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔ دو منٹ میں الٹے پائوں واپسئ ہوئئ
کیا لائے ہو۔ ؟۔۔
انداز سرسری تھا۔ سیہون فریج کھول کر چیزیں رکھ رہا تھا اسے دیکھ کرچیزیں رکھنے کی بجائے اندر سے دودھ کا پیکٹ نکال کر فریج بند کردیا۔۔
مکس سبزی چیز سینڈوچ ۔ اس نے جو چیز پہلے ہاتھ لگی نکال لی۔
سیہون خاموشی سے کافی بنانے لگا۔
میرے۔۔۔ فاطمہ نے کہنا چاہا مگر اسکے کافی میکر کے پاس رکھے دو کپ دیکھ کر چپ کرگئ۔
فریج میں سب کچھ ویسے کا ویسے ہی رکھا ہے گھر بھی دھول سے اٹا ہوا ہے تم دو ہفتے میں ایک دفعہ بھی فلیٹ نہیں آئیں؟
سیہون کا انداز شکایتی نہیں حیران ہونے والا تھا
سلیب پر انگلی پھیر کر دھول چیک کرتا وہ حیرانئ سے پوچھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے سینڈوچ چباتی رہی۔
مجھے اکیلے اس گھر میں ڈر لگتا ہے۔
خاصا مشکل اعتراف تھا مگر وہ سینڈوچ نگلتے ہوئے کر گئ۔
کس سے؟ اس عمارت کی سیکیورٹی بہترین ہے۔ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کوئی غیر متعلقہ شخص یہاں داخل ہونہیں سکتا۔ سیہون حیران ہوا۔
انسانوں سے کون ڈرتا ہے۔
فاطمہ نے منہ بنایا۔
پھر کس سے ڈر لگتا ہے۔۔ سیہون الٹا پوچھنے لگا۔
ہر چیز سے یہ فریج جادوئی الماری لگنے لگتا ہے صوفے پر نادیدہ مخلوق بیٹھی نظر آتی ہے تو کبھی کوئی ادھر ادھر چلتا دکھائی دیتا ہے۔خاص کر جب آپکو پتہ ہو کہ آپ اکیلے ہیں فلیٹ میں اور کسی بھی قسم کی باہر سے آواز نہیں آسکتی تو گھرمیں پھربھئ کوئی آہٹ ہو تو۔۔۔
اس نے جھرجھری سئ لی۔
تبھی کافی میکر نے کافی بن جانے کے اعلان کے طور پر ہلکی سی گھنٹی بجائی۔ سیہون چونکا اور ہنس پڑا۔
نا کرو تم اور ڈرپوک بلی ۔۔۔ وہ ہنسے جا رہا تھا۔
مطلب حد ہے۔ وہ محظوظ انداز میں ہنس رہا تھا۔۔ کافئ نکال کر لا کر اسکے سامنے رکھی تو فاطمہ اسے گھور رہی تھی۔
گھورو نہیں۔ مجھے ویسے ہی حیرت ہوئی کہ تم یوں بچوں کی طرح اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو جبکہ ۔۔۔
اس نے دانستہ اسے دیکھتے جملہ ادھورا چھوڑا۔
مجھے اکیلے رہنے کی عادت نہیں ہے۔ کبھی اکیلے رہی ہی نہیں ہوں میں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا۔
دبئئ میں بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی تھیں؟
اس نے یونہی برسبیل تذکرہ ہی پوچھا تھا۔ فاطمہ چپ رہ گئ۔
سیہون نے چند لمحے انتظار کیا۔۔ وہ اپنے لیئے کمباپ لایا تھا۔سو نکال کر سکون سے کھانے لگا۔
واعظہ بتا رہی تھی تمہیں جاب مل گئ ہے۔ مبارک ہو۔
سیہون کو یاد آیا۔ وہ چپ ہی رہی۔
کھاوا کو آدھی تنخواہ دینے کے بعد اپنے خرچے نکالنے پر کیا اس کے پاس کچھ بچے گا جو وہ سیہون کو اپنے اخراجات کی مد میں دے سکے گی۔ کہا تو خوب اکڑ کر تھا کہ اپنا خرچہ خود اٹھائوں گئ۔
اسکے ارد گرد حساب کتاب کے ڈھیر لگ گئے۔ ہوا میں اپنی تنخواہ سے اخراجات نکالتے وہ میتھ میں بری طرح فیل ہوئی تھی۔
فرئ لوڈر۔ سیہون کا فلیٹ اسکے پیسوں کا سینڈوچ یہ دوسرا آدھا تھا اٹک ہی گیا۔ اسی سے بنوا کر پی جانے والی کافی۔
مطلب خسارے میں تھی وہ بری طرح۔اور یہ سیہون کب تک واعظہ کے ساتھ مروت نبھائے گا۔ پھر اس نے بھی تو کچھ سوچ رکھا ہوگا آگے کیا کرنا۔اس نے شادی کرنی ہوگی یا پھرملٹرئ۔۔۔اسکا دل دھک سے رہ گیا۔
بات سنو تم پر بھی ملٹری لازم ہے نا؟
اس نے ایکدم سے پوچھا تھا سیہون چونک کر شکل دیکھنے لگا۔
میرا مطلب ہے تم۔۔ وہ۔۔
وہ سٹپٹا سی گئ۔
ہاں ۔۔ سیہون نے کافی کا گھونٹ بھرا۔
ملٹری ان لسٹمنٹ میں میرا نام تیس سال کی عمر تک آئے گا اس پہلے میں جانا چاہوں گا تب مجھے خود رابطہ کرکے انلسٹ کروانا پڑے گا خود کو۔ابھی ستائیس سال کا ہوں میں۔
اس نے تفصیلا جواب دئا۔
چھبیس۔فاطمہ نے درستگی کی۔
تم کورین اخیر عجیب ہو ۔۔دنیا کا بس چلے اپنی عمر کے دو چار سال کھا کر کم بتائیں تم لوگ ایک سال خود شامل کر لیتےہو ۔۔۔ہم پاکستانی آرام سے تین چار سال کھا کر بتاتے اپنی عمر کے۔ ۔ اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ سیہون مسکرا دیا
تم کتنے سال کی ہو۔۔
اکیس۔ وہ بے ساختہ بولی۔
کتنےسال کم کرکے بتائے ؟
وہ بھی سیہون تھا ہنس کر پوچھ رہا تھا۔
تین۔۔۔۔۔۔ وہ جھٹ بولی مگر انگلیوں سے چار کا اشارہ کررہی تھی۔
سیہون اسکے انداز پر کھل کر ہنسا تو وہ بھی ہنس دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے یونہی موبائل رکھ کر کروٹ بدلی تو دوسائے خود پر چھکے پائےچونک کے اٹھ بیٹھی۔
عروج اورعزہ اسکے سرہانے بیڈ پر کہنیاں ٹکائے اکڑوں بیٹھی تھیں۔
تم دونوں کیا کر رہی ہو یہاں۔
اس نے اٹھ کر بیڈ کے سائیڈ پر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر بتیاں جلا دیں۔
میں نے کہا تھا نا واعظہ کو ڈر نہیں لگتا ۔ عزہ نے مایوسی سے عروج کو دیکھا۔۔
لے لینا میرا ڈینم عبایا۔کل کیلئے بس میری چھٹی ہے کل۔
عروج جیسے مایوس سی ہو کر اٹھ کر ساتھ والے بیڈ پر بیٹھ گئ
آہ۔۔ عشنا نے کسمسا کر اپنے پائوں سمیٹے جو کمبل میں عروج کے وزن تلے دب گئے تھے۔
عزہ واعظہ کے بیڈ پر ٹک گئ۔
میری بھی کل چھٹی ہے بی بی مجھے پرسوں چاہیئے۔
عزہ ہاتھ نچا کر بولی۔
اچھا لے لینا۔عروج کا انداز سرسری تھا۔
واعظہ موبائل چارجنگ پر لگا کر آلتی پالتی مار کر بیڈ پر بیٹھی منتظر نظروں سے دونوں کو باری باری گھورنے لگی۔
وہ یہ عروج کو اہم بات کرنئ تھی۔
عزہ نے عروج کی جانب اشارہ کیا۔
نہیں عزہ کو اہم بات کرنی تھی۔
عروج سٹپٹائی۔۔
مجھے اہم بات کرنی ہے۔ واعظہ نے ہاتھ جھاڑے۔
دونوں ہمہ تن گوش ہوئیں۔کمبل سے منہ نکال کر عشنا بھی دیکھنے لگی اسکی شکل۔
ابیہا کی شادی ہو رہی ہے اور اسکی ضد ہے ہم سب شامل ہوں اسکئ شادی میں۔ جو کہ ممکن نہیں سو سوچ رہی ہوں ہم ایک ورٹوئل پارٹی اسکے لیئے پلان کریں ۔۔۔
واعظہ نے کہاتو تینوں نے جیسے مایوس ہو کر سر جھکایا۔
آ ہ۔ اچھا۔۔ عشنا نے دوبارہ کمبل منہ تک تان لیا۔
ہاہ۔مجھے لگا تھا تم سب پرجوش ہوجائوگی میرے ساتھ مدد کروائوگی پارٹی کی تیاری میں اور۔۔
واعظہ کو خاصی حیرت ہوئی۔۔
ہاں کروا دیں گے۔عروج نے کندھے پر سے مکھی اڑائی جیسے۔
ابھی اہم معاملہ درپیش ہے۔۔۔ اس نے پراسرار انداز اپنایا۔۔۔۔۔
مجھے امریکی ادارے میں اسکالر شپ مل گئ ہے۔
عروج کا انداز اتنا پھسپھسا تھا کہ عزہ اور واعظہ دونوں نے اظہار افسوس کر ڈالا۔۔
اوہو کوئی بات نہیں امریکہ کا ویسے بھی مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ عزہ نے کندھا تھپکا۔
ہاں اداس نہ ہو چھے مہینے بعد دوبارہ کوشش کرلینا۔
واعظہ نے بھئ دلگیری سے کہا تھا۔
مبارک ہو۔ کمبل سے منہ نکال کر عشنا نے کہا۔
شکریہ بہن۔۔۔عروج شکرگزار ہوئی۔ پھر ان دونوں کو دیکھ کر دانت پیس کر بولی
مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے۔
کیا واقعی؟ دونوں اچھل پڑیں۔
مبارک ہویار یہ تو خوشی کی بات ہے۔۔ واعظہ بے ساختہ بولی
ٹریٹ دو۔۔ عزہ چلائی۔
ایک مسلئہ ہے۔۔۔عروج نے ہونٹ کاٹے۔۔اور وہ ٹیپ سے جڑاخط واعظہ کیجانب بڑھا دیا۔۔
واعظہ نے خط پڑھ کر الجھن بھرے انداز میں اسکی شکل دیکھی۔۔
یہ تو کسی دعا کے نام کی اسکالر شپ ہے۔۔۔۔
عروج نے گہری سانس لی۔۔۔۔پھر دھیرے سے سب قصہ کہہ سنایا۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو۔۔عزہ نے سر پیٹ لیا۔
دعا تمہاری پھپو کی بیٹی ہے جو اسکے الٹے سیدھے الزامات پر ایسے دل برا کر رہی ہو۔ جو مرضی آئے سمجھتئ پھرے تمہاری صحت پر کیا اثر؟
دعا سیونگ رو کو پسند کرتی ہے۔۔ عروج منمنائی۔
مجھے گلٹ ہورہا۔قسم سے بہت اچھی طبیعت کی لڑکی ہے مجھ سے کہیں پیاری۔ سیونگ رو کو پسند آجاتی جب میں بیچ سے نکل ہی گئ ہوں تو۔مگروہ بے وقوف لڑکی اپنا اصلی لیٹر یوں ڈسٹ بن میں پھینک کر چلی گئ میری وجہ سے۔۔
اس کے منمناتے انداز پر عزہ کو غصہ آگیا۔
حد ہے تم کیوں افسوس کر رہی ہو۔ عجیب احمق ہے وہ۔اگر اتنی کوشش کرکے اسکو سیونگ رو کے ساتھ اسپیشلائزیشن کرنے کا موقع مل رہا تھا تو اسے کیا ضرورت تھی تم سے جل بھن کر اپنا نقصان کرنے کی۔
کورین ڈرامے نہیں دیکھتی دعا کیا۔۔۔ کمبل سے عشنا بھی برآمد ہوئی
کیسے سائئڈ ہیروئینیں ہیرو کو پٹانے کیلئے ہرقسم کی چیپ ٹیکٹس اپناتی ہیں لیس ہو جاتی ہیں ہیروئن کی ناک سے لکیریں نکلوا دیتئ ہیں اتنا عاجز کرتی ہیں اسے یہ احمق دعآ خود ہی پیچھے ہٹ گئ۔۔
تو وہ ڈرامہ ہوتا ہے اصل تھوڑی۔ اتنئ پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی ہے اسکی بھئ انا ہوگی۔ اپنئ عزت اسے پیاری ہے جبھی تو بجائے لڑنے کے عزت سے سائیڈ میں ہوگئ۔۔
عزہ نے اختلاف کیا۔ عروج مزید سر جھکا گئ۔
میرا مطلب ہے۔۔ عزہ بول کے ہچھتائئ۔
دیکھو محبت و جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اگر وہ یہ سمجھ بھی رہی ہے کہ عروج اور سیونگ رو کپل ہیں تو بھی جب اسے موقع مل رہا ہے ان کے ساتھ رہ کر انکی ناک میں دم کرنے کا تو اسے ساتھ جا کر انکے بیچ میں آکر قسمت آزمانی چاہیئے۔۔
عشنا اپنی بات پر قائم تھی۔ عزہ جھلائی۔
یہ تم نہیں تمہارے اسٹار پلس والے سیریلز بول رہے۔ وہ کونسا حقیقئ زندگئ دکھا رہے ہوتے تھے۔۔
کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتئ ہے ڈراموں میں بھی ایسے تھوڑی کرتا کوئی دعا کی طرح ۔۔۔۔۔۔تم بھئ تو کچھ بولو واعظہ۔۔
عشنا نے واعظہ سے اپنے موقف کی تائید چاہی۔
خاموشی سے انکی بحث سنتی کیلنڈر پر غور کرتی واعظہ چونکی ۔ انکو کیلنڈر دکھا کر پوچھنے لگی۔
یہ کیلنڈر کو نشان کس وجہ سے لگا رکھے ہیں ؟؟؟؟۔
یہ میں لائی تھئ۔۔عزہ نے مسمسئ سی شکل بنائی۔ ہمارے کمرے کا کیلنڈر ہے۔
جب چھٹی کرتی تھی نشان لگاتی تھئ نیچے سبجیکٹ بھی لکھتی تھئ۔۔ اوراب اس پر روز نشان لگتے لگتے پورا کیلنڈر برباد ہوگیا ہے ۔اس پر میری سب کلاسز کی تفصیل بک مارک تھئ اب مجھے یاد ہی نہیں مین نے کس سبجیکٹ کئ کتنی کلاسز مس کی ہیں۔۔۔ کس نے کی یہ حرکت۔۔
عزہ رو دینے کو تھی۔
واعظہ نے سوالیہ نگاہ سے عروج کو دیکھا وہ زور و شور سے سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
میں نے نہیں کیا یہ کام۔۔
جس نے بھئ کیا اس نے میرے ساتھ زیادتی کر دی ہے اب میں ایک چھٹی بھی نہیں کرسکتی جانے کس سبجیکٹ کی آخری چھٹی خرچ ہوجائے۔ عزہ روہانسی ہوگئ۔
اتنی چھٹیاں کرنی کیوں ہیں تمہیں۔۔واعظہ نے کیلنڈر اسکے سر پر بجایا۔
پھر بھئ کس نے کی یہ حرکت۔ عزہ بلبلااٹھی۔
تمہارے کمرے میں تم دونوں سوا ہے ہی کون اب نور تو پاکستان جا چکی لے دے کے الف ہے اسی نے کیا ہوگا۔
واعظہ نے کہا تو عزہ اچھلی۔
یہ دیکھو بائیس جولائی پر بھی نشان لگا ہوا ہے۔۔ یعنی بائیس جولائی تک ایک ایک دن گن رہی ہے۔الف مگر کیوں؟؟؟؟؟
اسکے سوالیہ انداز پر باقی تینوں بھی چونک کر دیکھنے لگی تھیں اسے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کچھ دن کی بات ہے اسکے بعد وہ ہمیشہ کیلئے کھو جائے گا۔۔ پھر یہ سب اتنا مشکل نہیں لگے گا۔۔
الف نے گہری سانس لیکر ژیہانگ کی تصویر کو سوائپ کیا۔ گیلری سے آخری تصویر بھی ڈیلیٹ کر کے موبائل ایک جانب رکھ دیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں رہ گئے۔ ۔۔ بچوں کو سلا کر وہ جلے پیر کی بلی کی طرح فلیٹ میں چکر لگا رہی تھی۔چلتے چلتےچکر آبھی گیا۔
رات کے بارہ بج رہے تھےاس نے کھانا بھی انتظار میں نہیں کھایا تھا۔
اس نے کچن کائونٹر کا سہارا لیا وہیں اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ۔
بھوک نے برا حال کردیا تھا۔ ذرا سا ذہن قابو میں آیا تو فورا اٹھ کر سالن روٹی نکال کر کھانے بیٹھ گئ۔۔۔
اتنی پریشان طبیعت ہونے کی وجہ سے نا کھانا ڈھنگ سے کھا رہی تھی نہ ڈاکٹر کے بتائے سپلیمنٹس لیئے تھے۔
مجھے دلاور سے یہ بات چھپانا نہیں چاہیئے ۔۔۔
کھانا کھاتے کھاتے ایکدم دل اچاٹ سا ہوا تو اس نے پلیٹ میں روٹی رکھ دی۔
کیا خبر انکو اس نئی ذمہ داری کا احساس ہو جائےاور وہ باز آجائیں۔کون جانے وہ اس وقت بھی کس کے پاس کہاں ہیں۔۔
خیال تھا کہ آری۔ دل لمحہ بھر کو جیسے رک سا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس پرانی سی عمارت کے احاطےمیں کھڑے تھے۔ارد گرد نئی طرز کی عمارتوں کے درمیان وہ خاصی خستہ حال لگ رہی تھی۔نیم اندھیرےمیں خاصی آسیب زدہ بھی۔
رات کے دوسرےپہرمیں بھی یہاں گلی میں خاصی چہل پہل تھی۔لوگ آ جا رہے تھے۔۔ نیم سڑک پر دکانیں ٹھیلے روشنیوں سے سجے تھے۔وہ چند لمحے شش و پنج میں مبتلا رہےپھر جیسے فیصلہ کرکے اس عمارت میں داخل ہوگئے۔
تین منزلہ اس عمارت میں ہر منزل پر دو فلیٹ تھے بس۔ انہوں نے سب نے نیچے والی منزل سے آغاز کیا۔پہلے فلیٹ کا دروازہ کافئ دیر بجانے کے باوجود نہ کھلا تو پاس والے فلیٹ سے آنکھیں ملتا نکلتا وہ ادھیڑعمر شخص بنا لحاظ ان پرچلایا۔
کیا آفت آگئ ہے۔جب اتنا بجانے پر نہیں کھل رہا تو یقینا اندر مکین ابھی گھرنہیں پہنچے۔اتنی عقل نہیں کہ یہ اندازہ لگاسکو۔
چھے سو ہمبندا۔
وہ جھک کر معزرت کرنے لگے۔
دراصل میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں یہاں کیا آپ میری مدد۔
آندے۔ اس نے بے مروتی سے کہہ کر دروازہ بند کیا۔۔
وہ گہرا سانس لیکر اوپر کی منزل کو جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
دوسری منزل پر وہ لڑکی اپنے فلیٹ کا دروازہ ہی کھول رہی تھی۔ان کو دیکھ کر اسکے ہاتھوں میں تیزی آگئ۔ دروازہ کھولتے ہی وہ اندر گھس گئ جھٹ بند بھئ کردیا۔۔۔۔۔ یہاں پر دوسرا فلیٹ مکمل اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ یقینا وہ اس دروازے کو بجاتے تو شائد یہی لڑکی 119 کو بلا لیتی۔
اگلی منزل کی سیڑھیاں سامنے تھیں۔۔ اس منزل پر بھی سناٹا تھا تاہم اوپر چھت سے ہنسی قہقہوں کی آواز آرہی تھی۔وہ بجائےیہاں دروازہ کھٹکانے کے آوازوں کے تعاقب میں سیڑھیاں چڑھ گئے۔
دس بارہ لڑکےلڑکیاں اوپر تخت بچھائے بیٹھےتاش کھیل رہے تھے ساتھ سوجو کا دور بھی چل رہا تھا ایک جانب دو لڑکے پورک کو گرل کر رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ایکدم سب الرٹ سے ہو کر کھڑے ہوگئے۔
انکے کہنے پر سب بدمزا سے ہو کر واپس اپنی اپنی سرگرمی میں مصروف ہونے لگے۔۔
مجھے لگا پولیس ہے۔۔
ایک نے پیسے پھینکتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔
کہہ سیکی۔ دوسرے نے گالی دینےپر ہی اکتفا کیا۔
غیر قانونئ طور پر جوا کھیلا جا رہا تھا یہاں۔۔سب نے انکومکمل نظرانداز کیا تھا۔باتیں شور قہقہے۔۔۔۔
وہ مایوس سے ہو کرپلٹنے لگے۔

آہجوشی۔ گوشت تلتا ایک لڑکا اپنے ساتھی کو چمٹا تھما کر انکے پاس چلا آیا۔۔۔
کیا ہوا کوئی مسلئہ ہے۔۔۔ چندی آنکھوں والا وہ مکمل کوریائی نقوش کا لڑکا تھا مگر انہیں وہ بہت مانوس سا لگا۔ ایسا ہی تو ہوگا وہ بھی۔۔
آہجوشی۔۔ انہیں خود کو تکتےپا کر اس نے دوبارہ پکارا تو وہ جیسے ہوش میں آئے۔
معاف کیجئےگا۔ میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں کیا آپ اس کو جانتے ہیں کیا یہ یہاں اس عمارت میں رہائش پزید ہے؟
انہوں نے جیب سے تصویر نکال کر اسکو دکھائی۔
یہ۔۔ اس نے تصویر تھامی۔۔
بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا وہ جنوبی ایشیائی نقوش کا لڑکا تھا۔ جس نے چیک کی شرٹ پہن رکھی تھی دھیرے سے مسکراتا چمکتی روشن بڑی بڑئ آنکھیں۔۔۔
یہ تو کوئی ہائی اسکولر لگتا ہے۔ یہاں تو ہائی اسکولر کوئی بھی نہیں رہتا سب سے اوپر والی منزل کے دونوں فلیٹ ہمارے ہیں یہ ہم دوست ہیں۔۔۔اس نے فاصلے پر بیٹھے اٹھکیلیوں میں مشغول دوستوں کی۔جانب اشارہ کیا۔۔۔ نیچے کچھ خاندان رہتے ہیں مگر میرا نہیں خیال ان میں کوئی انڈین ہے۔
اس کو جانے انکی شکل پر چھائی مایوسی نے پگھلا دیا تھا یا وہ ویسے ہی کافئ نیک دل تھاسو تفصیل سے بتادیا۔
نیچے تو وہ پہلے ہی دیکھ آئےتھے۔
آپ کچھ پیئیں گے۔
اس نے دعوت دے ڈالی۔
نہیں۔۔ آپکا بہت شکریہ۔۔
وہ بمشکل مسکرا کر شکریہ ادا کر پائے کانپتے ہاتھوں سے تصویر واپس جیب میں احتیاط سے رکھتے ہوئے پلٹ گئے۔۔۔ واپسی پر قدم من من بھر کے ہورہے تھے۔۔ آٹھ دس مہینوں کی پیہم تلاش کا یہ نتیجہ تھا۔۔۔۔۔ آخری منزل کی آخری سیڑھی پر وہ جیسے ڈھے سے گئے۔جیب سے تصویر نکال کر دیکھتےوہیں نیم تاریک گوشےمیں سیڑھی پر بیٹھ کر رو دیئے۔۔
کہاں چھپ گئے ہو؟ کبھی نہیں ملوگے کیا ہمیں؟؟؟ ۔کیا ہماری یاد بھی نہیں ستاتی تمہیں کبھی۔۔۔۔۔۔ اماں بھی یاد نہیں آتیں کبھی؟؟؟؟؟۔۔۔۔
ٹپ ٹپ کتنے ہی آنسو اس تصویر پر آن گرے تو انہوں نے گھبرا کر تصویر کو اپنی آستین سے صاف کیا۔۔
مجھے پتہ ہے تم یہیں کہیں ہو۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا یہ میرا اماں سے وعدہ ہے اسے ضرور پورا کروں گا میں۔۔
انہوں نے ایکدم ہی اپنے آنسو پونچھے اور نئے حوصلے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
نیم تاریک کمپائونڈ سے جس وقت ہو باہر نکل رہے تھے عین اسی وقت اسی فلیٹ کا دروازہ ایک نوجوان بھارتی گانا گنگناتے ہوئے کھول رہا تھاجس کا دروازہ بجا بجا کے وہ مایوس ہو کر جا رہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔
جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *