ابراہیم انکے اکلوتے پرستار کی فرمائش تھی کوئی تازہ نظم ہو جائے


میں بارہ سال کا تھا جب میں نے اپنی استانی کو گھورا تھا وہ مجھے ڈانٹ رہی تھیں میں نے گھور کر دیکھا تھا وہ اسی وقت گر کر مر گئیں
گزرے وقت کی یاد نے جسے اسے اس ہی مکتب کے کمرے میں پہنچا دیا تھا شاید
آنکھیں بند کر کے وہ اس منظر میں کہیں کھڑا کانپ رہا تھا
پھر ؟
اس نے اسکی تاریخی تفصیل مرض پر نظر ڈالتے ہوئے سرسری لہجے میں پوچھا اسکی پوری توجہ سامنے بیٹھے اس پچیس سالہ نوجوان پر تھی شکل و صورت میں وہ کافی بھلا دکھائی دیتا تھا کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا دراز قد مگر انتہائی گھبراہٹ اسکے چہرے سے مترشح تھی آنکھیں بند اس نے اپنا قصہ سناتے ہوئے کی تھیں مگر ابھی بھی کھولی نہیں تھیں

پھر کیا تب مجھے اندازہ نہیں تھا میں کسی کو دیکھ کر نقصان پہنچا سکتا ہوں میں اسے اتفاق سمجھا تھا مگر پھر میں کالج میں ایک دفعہ ایک لڑکے کی جان لے گیا میں اسکو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا
وہ مجھ سے کسی معمولی بات پر جھگڑ بیٹھا تھا مجھے یقین جانے ڈاکٹر صاحب وجہ بھی یاد نہیں اب
روہانسا ہو کر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا
اسکی آنکھیں خوبصورتی کی تمام شرائط پر پورا اترتی تھیں بڑی سے کالی سیاہ آنکھیں جن میں ہلکی سی سرخی اسکے رونا ضبط کرنے پر در آئی تھی گھنی سیاہ پلکیں
یہ آنکھیں کسی لڑکی کے چہرے پر سجی ہوتی تو کتنا خوش ہوتی مسکارا لگانے کی ضرورت نہ پڑتی
کتنی غیر متعلقہ سوچ اسکے دماغ میں آئی تھی
آپ سن رہے ہیں نا ڈاکٹر ؟
گمان کو شک گزرا تھا اور صحیح گزرا تھا
یقین تو اپنے ذہن میں اسکی آنکھوں پر تبصرہ کرنے میں مشغول تھا جانے اس نے کیا بتایا کیا نہیں
وہ اپنی غائب دماغی کو کوس کر رہ گیا اب اگر وہ اعتراف کر لے کہ واقعی نہیں سنا تو مریض سے کچھ بعید
نہیں پیپر ویٹ اٹھا کر اسکے سر پر ہی مار دے اس نے جلدی سے پیپر ویٹ ڈھونڈا میز پر ایک بار کھا چکا تھا وہ سر پر اتنا بڑا گومرا نکل آیا تھا کئی دن اسپتال آنے کے بھی قابل نہیں رہا تھا
ہاں
اس نے جلدی سے پیپر ویٹ اٹھا کر اپنی میز کی دراز کھول کر رکھ دیا
اس سے یہ کیوں سوچا کہ اس میں تمہارا قصور تھا ؟
اپنے واہمے پر ہی کوئی قصہ سنایا ہوگا
اس نے ہوا میں تیر چلایا
وہاں صرف میں اور وہ تھے
اس کی نظریں اس پر جمی تھیں
اچھا ٹھیک اور کوئی قصہ سناؤ
اس نے بحث ٹالی
پھر میں نے ایک بار اپنے ہی بھائی کو گھورا اس کے ہاتھ کو وہ مجھے چھیڑ رہا تھا اسکا ہاتھ
اسکا ہاتھ
وہ ہچکیاں لے کر رو پڑ ااسکا ہاتھ ٹوٹ گیا دو مہینے پلستر رہا ابھی بھی صحیح طرح جنبش نہیں کرتا
میرا اپنا چھوٹا بھائی مجھ سے ڈرتا ہے میرے پاس نہیں آتا ہے
اس نے مریض کی گزشتہ زندگی کا احوال دوبارہ دیکھاکبھی بھی مکلمل ماضی کے حالات جانے بنا وہ مریض سے ملتا نہیں تھا جہاں تک اسے یاد تھا اسکے بھائی بہن نہیں تھے
واقعی نہیں تھے
ہاتھ دیکھتے دیکھتے ٹوٹ گیا تھا یا وہ تمھارے دیکھنے سے لڑکھڑا کر گر پڑا تھا ؟
سوال اہم تھا وہ رونا بھول کر سوچ میں پڑا
ہاں وہ ہاتھ جھٹک رہا تھا جیسے اسکے ہاتھ میں بہت جلن ہو رہی تھی پھر گھبرا کر گر بھی گیا تھا
ہممم اس نے ہنکارا بھرا
پھر
پھر میری زندگی میں آرزو آئی
میں بہت خوش تھا میں بہت پیار کرتا تھا اس سے وہ بہت پیاری تھی ایک دن
وہ بہت غصے میں میرے پاس آئی کسی اور لڑکی کا نام لے کر بولی میرا اس سے کیا تعلق ہے میں سمجھ نہیں پایا اس دن اسے کیا ہوا تھا اس نے کبھی مجھ پر شک نہیں کیا تھا پر اس دن مجھ پر اعتبار نہیں کر رہی تھی میں نے صفائی دی پھر غصہ آگیا مجھے میں نے اسے گھورا اور وہ
وہ تڑپنے لگی اسکی آنکھیں پگھل گئیں ڈاکٹر صاحب
ہیں کیا ہوا اسکی آنکھوں کو؟
یقین کو تعجب ہوا
اسکی آنکھیں پگھل گئیں
وہ اسکی آنکھیں بہہ گئیں
آپ کو یقین نہیں آرہا تھا میری بات کا آپ کو ملواؤں آرزو سے
مگر نہیں وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتی آپ کو اسکا پتہ بتاؤں جا کے خود دیکھ لیں
کاغذ قلم دیں مجھے
وہ اضطراری انداز میں اسکی میز پر ہاتھ مار رہا تھا
نیکی اور پوچھ پوچھ اس نے فورا اوراق بند اسے اٹھا کر دیا اور قلم بھی
لکھ لے تو آدھا اضطراب کم ہو جائے ہر ذہنی دباؤ کے مریض کو اگر اپنا ماضی الضمیر بتانے میں ہی سب سے بڑی مشکل آتی لکھ لے تو آسانی اسے بھی ہوتی سننا تو خیر آسان ہوتا ہی نہیں
چند جملے گھسیٹ کر اس نے واپس رکھ دیا
ابھی یقین کو گمان پر یقین نہیں آیا تھا جبھی اس نے زحمت نہیں کی پڑھنے کی
دوبارہ گمان کے چہرے پر نظر جما لی
بس یہ تین واقعات کی بنیاد پر تمہیں لگتا کہ تمہاری آنکھیں غیر معمولی قوت رکھتی ہیں؟
نہیں : اس نے صاف انکار کیا
میں نے تب مانا کہ میری آنکھیں غیر معمولی ہیں جب
آرزو کو اندھا کر کے میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا تو میں نے اپنی آنکھوں میں سلاخ گھسیڑ لی تھی
اور دیکھ لیں میری آنکھوں کو کچھ بھی نہیں ہوا
وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا رہا تھا
اب یہ تو واقعی نہ ماننے والی بات تھی کوئی اپنی آنکھوں میں سلاخ گھسیڑ لے اور کچھ بھی نہ ہو ایسا ممکن ہے بھلا
ذہنی دباؤ کے مریض خواب اور حقیقت میں فرق نہیں کر پاتے کبھی کبھی۔ یقینا اس نے خواب میں ایسا کیا ہوگا
اس نے سر جھٹکا
تم اپنے بھائی سے ملوانا مجھے میں اسے سمجھاؤں گا کہ وہ تم سے ڈرے نا تم اس سے بہت پیار کرتے ہو اسکو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے
واقعی اسکی آنکھیں چمکیں
آپ ایسا کریں گے ؟
آپ آرزو کو بھی سمجھائیں گے ؟
اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا
وہ بچوں کی طرح خوش ہوگیا
میں پاگل نہیں ہوں میں نے بہت بار اپنے گھر والوں کو سمجھانے کی کوشش کی میں پیدا ہی ایسے ہوا ہوں کہ میری آنکھوں میں کشش ہے مجھے اپنی اس طاقت کا اندازہ نہیں تھا جبھی میری وجہ سے بہت نقصان پہنچ گیا دوسروں کو مگر آپ کو بتاؤں انسانوں کو میں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے میں اپنی طاقت پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور میں چیزیں پانچ سیکنڈ تک گھور کر دیکھنے سے توڑ سکتا ہوں
اس نے دیوار پر ٹنگی گھڑی کی طرف اشارہ کیا
اس پر لکیر آ چکی ہے
یقین ہنس دیا
آپکو یقین نہیں میری بات پر ؟
اس نے ناراضگی سے پوچھا
نہیں
یقین نے سکون سے کہا
دیکھیں اس نے گھڑی پر نظر جما دی
ایک
دو
تین
چار
پانچ
یقین گنتی گن رہا تھا
چھے
سات
تڑاخ
شیشہ ٹوٹ کر چور ہو کر نیچے گرا تھا
گھڑی دھڑام سے نیچے آرہی
ایک لمحے کو جیسے اسکا پورا دفتر لرز گیا گمان بجائے اپنی بات کے ثابت ہونے پر خوش ہوتا کپکپا اٹھا
یقین نے ہلتی میز کو تھاما
زلزلہ تھا یہ
اسی وقت دروازہ کھول کر اسکا ملازم جمع سیکٹری اندر داخل ہوا
سر زلزلہ آ رہا ہے عمارت ہل رہی ہے
گمان نے بے یقینی سے دیکھا تھا
جاؤ جا کر آرام سے کام کرو ختم بھی ہو گیا ہے زلزلہ
یقین نے آرام سے کہا تو وہ بھی یقین کا یقین کر کے پلٹ گیا
واقعی زلزلہ آیا تھا؟
گمان کا یقین متزلزل ہوا
ہاں اس نے سر ہلایا
مگر پھر میری وجہ میں نے تو
اس نے الجھن سے کہتے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا
دیکھو گمان اور یقین میں بہت بال برابر فرق ہوتا تم نے گمان کیا کہ تمھاری آنکھیں غیر معمولی ہیں اس بات پر یقین پے در پے پیش آنے والے اتفاقات سے تم نے کر لیا
تم خود سے ڈر گیے تم نے گھور کر دیکھنا چھوڑ دیا
تم دیکھو بار بار دیکھو تم ہر چیز کو دیکھو دیکھو گے تو تمہیں خود احساس ہوگا تم میں ایسا کچھ غیر معمولی نہیں
مگر
اس نے بے چینی سے پوچھا
مگر وہ لڑکا کیسے مر گیا میری وجہ سے
کونسا لڑکا
یقین بھول بیٹھا تھا
وہی جو مجھ سے لڑ رہا تھا اس نے میری ناک پر مکا مارا میں نے غصے سے دیکھا اسے وہ لڑکھڑا گیا پھر وہ سیڑھیوں کے پاس ہی کھڑا تھا وہ نیچے اترنے لگا پھر چکرا کر گرا اسکی ناک سے خون نکل آیا
تھا اور
وہ اور بھی کچھ بتا رہا تھا
یقین نے یہ گتھی بھی سلجھا دی ‘
تم خود بتا رہے ہو وہ سیڑھیوں سے گرا گرنے سے سر پر چوٹ آئی وہ مر گیا اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں
کیا آپکو یقین ہے ابھی زلزلہ ہی آیا تھا ؟
ہاں یقین نے سر ہلایا
مجھے کوئی مضبوط چیز دیکھائیں جو آپکو لگتا ہو میری آنکھوں سے نہیں ٹوٹ سکتی
میں یقین کرنا چاہتا ہوں
میں یقین مسکرایا
اتنی دیر سے مجھے دیکھ رہے ہو کہ نہیں ؟
کچھ ہوا مجھے
گمان نے اسے گھورا
آپ کے سر میں درد نہیں ہو رہا؟
یقین کے لئے سوال غیر متوقع تھا
ہو تو رہا تھا سر میں درد مگر صبح سے درجن بھر ذہنی مریض بھگتانے کے بعد سر میں درد نہ ہو تو اور کیا ہو
ہو رہا ہے
یقین نے مسکرا کر کہا
مگر یہ تم سے ملنے پہلے سے ہو رہا ہے صبح سے بنا وقفہ لئے کام کرنے کی وجہ سے ہورہا
اسکا تم سے یا تمہاری آنکھوں سے کوئی تعلق نہیں
گمان چپ چاپ دیکھتا رہا
پیپر ویٹ نہیں ہے آپکی میز پر
میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
یقین نے کندھے اچکا دے اور میز کی دراز سے پیپر ویٹ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا
ایک
دو
تین
یقین اسکو نظروں میں رکھ کر گنتی گن رہا تھا
چار پانچ چھے سات آٹھ نو دس
پیپر ویٹ ثابت سالم میز پر براجمان تھا
گمان نے سوکھے لبوں پر زبان پھیری
یقین نے ابرو اچکا کر مسکرا کر دیکھا
تو اب کیا خیال ہے ؟
گمان اٹھ کر کھڑا ہو گیا
کل دو بجے ہم اگلی ملاقات کریں گے
یقین بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا
اب کل ملنے کی ضرورت نہیں رہی آپ نے واقعی میرا یقین توڑ دیا
وہ مسکرایا
اس وقت کافی بہتر محسوس کر رہا تھا یقین نے کندھے اچکا دے وہ ہاتھ ملا کر خدا حافظ کہتا چلا گیا
ھففف
آخری ملاقات تھی یہ آج کی اف بہت تھک گیا وہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر کرسی پر گر سا گیا انگڑائی لے کر اس نے اپنی چیزیں ترتیب دینا شروع کیں
کچھ کھلونے تھے کچھ آلے مریضوں کی تفصیلی فائل وغیرہ اب جیسے صبح ایک مریض کو وہم تھا میرا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے بھاری ہے
اسکو پیپر ویٹ تھما کر اس نے کس مشکل سے یقین دلایا تھا یہ وہ جانتا تھا
پیپر ویٹ اس نے اسی کے لئے نکالا تھا ورنہ اب ہمیشہ دراز میں ہی رکھتا تھا اس نے دوبارہ یاد آنے پر پیپر ویٹ کو دراز میں رکھنے کی نیت سے اٹھانا چاہا
اس کے چھونے سے چکنا چور ہو گیا جیسے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا بس بظاھر سالم نظر آ رہا تھا
یقین گھبرا کر کھڑا ہو گیا
یہ کیسے ممکن ہے ؟
کیا واقعی اس نے گھور گھور کر توڑ دیا تھا
اس نے فورا اطلا ئی گھنٹی بجائی
اسکا سیکٹری بھاگا بھاگا آیا
وہ مریض جو ابھی نکل کر گیا ہے اسے بلا کر لاؤ
سیکٹری سر ہلا کر پلٹ گیا
اس نے جلدی سے اسکی فائل نکال کر دیکھنی شروع کی
اسکا سگا کوئی بہن بھائی واقعی نہیں تھا ایک کزن تھا جو پڑھائی کی غرض سے اس کے گھر رہتا تھا
اس کا ہاتھ ابھی کچھ مہینے قبل ٹوٹا تھا جسکا ذمےدار وہ خود کو مانتا تھا
وہ مر جانے والا لڑکا جس کا تذکرہ کر رہا تھا پانچ سال پہلے مرا تھا اسکی طبی تحقیق منسلک تھی جس کے مطابق اسکی موت دماغ کی رگ پھٹنے سے ہوئی تھی
سر
پھولی سانسوں کے ساتھ اسکا سیکٹری واپس آیا تھا
سر وہ جا چکا ہے
لفٹ تک دیکھ کر آیا ہوں
سانس بحال کر کے اس نے بتایا تھا
اس کے ساتھ کون آیا تھا ؟
یقین نے بے تابی سے پوچھا تھا
کوئی نہیں سر اکیلا آیا تھا
سیکٹری نے کندھے اچکآیے
اس نے کوئی رابطہ نمبر دیا تھا؟ دیا ہوگا جا کے آج کے مہمانون کی فہرست میں اسکا رابطہ نمبر دیکھ کر بتاؤ مجھے
جاؤ جلدی
وہ خود نہیں جانتا تھا آخر کس بات پر وہ اتنا گھبرا رہا ہے
چند منٹوں میں سیکٹری کی واپسی ہوئی تھی وہ فہرست ہی اٹھا لایا تھا ‘
سر اس میں تو اس نے کچھ بھی نہین لکھا
عجیب سا جملہ لکھا ہے رابطہ نمبر کی بجاے
لکھا ہے میں گمان ہوں جب بلاؤگے آجاؤنگا
اس نے الجھن سے پڑھ کر اسے بتایا
یقین نے اپنے ہونٹ کاٹ لئے آخر کیوں کیسے
سوال اس کے گرد چکر کھا رہے تھے
میں آپکو اسکا پتا بتاتا ہوں
اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا اس نے جلدی سے اوراق بند ڈھونڈا اور تیزی سے صفحے پلٹنے لگا
سیکٹری حیران سا کھڑا اسکو مضطر دیکھ رہا تھا
ایک دو تین اس نے جلدی جلدی صفحے پلتے
زندگی کی سڑک پر قسمت کے مارے جب بن سوچے موڑ مڑتے ہیں تو پہلا گھر آرزو کا آتا ہے جا کے دیکھ لو
آرزو اندھی ہے
گمان کی آرزو ہے مگر یقین جب تک متزلزل رہےگا پہنچ نہیں پا ۓ گا
ایک دو تین بار بار اس نے اس عبارت کو پڑھا تھا
سر
سیکٹری نے پکارا تو وہ بری طرح چونکا
ہاں
سر آپکی ناک سے خون بہ رہا ہے
سیکٹری نے خاصا پریشان ہو کر اشارہ کیا تھا
آپ ٹھیک تو ہیں
اس نے ٹھٹھک کر اپنی ناک پر ہاتھ پھیرا گرم گاڑھا خون اسکی انگلیوں پر پھیل گیا
آپ ٹھیک تو ہیں ؟
وہ خود اپنے سامنے کھڑا خود سے پوچھ رہا تھا
میں گمان ہوں
اس نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا
مجھ میں اور آپ میں بس اتنا سا فرق ہے آپ مجھے جھٹلا دیں تو میں کچھ بھی نہیں
گمان اپنا تعارف کرا رہا تھا مگر
یقین کو گمان پر یقین آ گیا تھا
………………………………………………
از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #visit: hajoometanhai
Support us
بات معمولی سی تھی مگر اصفحانئ صاحب کا مزاج ہی گرم تھا کسی سبب۔ بریک آئوٹ میں چائے بنا کر وہ ماجد سے باتیں کرتے اپنی ہی دھن میں نکلا تو سامنے سے آتے اصفحانئ صاحب سے ٹکرا گیا۔ انکی براق سفید قمیض جسے وہ جمعے کی مناسبت سے خوب کلف لگا کر پہنے اکڑے اکڑے سے آرہے تھےاسکی چائے سے رنگی گئ۔ وہ غالبا نماز کیلئے نکل ہی رہے تھے سو بری طرح جھلا گئے۔
اندھے ہو دیکھ کر نہیں چلتے سارے کپڑے برباد کر دیئے۔
غلطی اپنی تھی سلیم سر جھکا کے سنتا گیا فورئ معزرت بھئ کی مگر پچاس کے پیٹھے میں لمبی داڑھئ شرعئ اونچی ٹخنوں سے اونچئ شلوار پہنے وہ اتنئ آسانی سے معاف کرنے والے نہیں تھے۔ سو بھنا کر بڑ بڑاتے گئے۔
خود تو تم لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں نماز روزے کی فکر نہیں دوسروں کا خراب کرنے آجاتے۔ بہن***۔
ایک تو سیدھا ایمان پر طعنہ اوپر سے گالئ وہ بھڑک اٹھا۔
زبان سنبھال کے بات کریں اصفحانئ صاحب۔
اسکے یوں بھڑک اٹھنے پر تو اصفحانی صاحب کا غصہ دوچند ہو گیا۔
کیوں سچائی کڑوئ لگی؟ نماز پڑھنے کا ارادہ تھا بھلا؟ دس سال سے دیکھ رہا ہوں ایک جمعہ اس ****( گالی) نے پڑھا نہیں بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے نجانے کیا کیا ۔۔
بس بہت ہو گیا آپکی عمر کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ منہ توڑ دیتا اس بکواس پر۔خو دکو بڑا حاجی سمجھتے ہیں ٹکے کی۔۔۔
سلیم جانے کیا کیا کہنے لگا تھا پر انہوں نے آئو دیکھا نا تائو منہ سے مغلظات بکتے ہاتھ اٹھا دیا پے درپے دو تین مکے کس کر اسکے منہ پر جڑ دیئے۔
اپنے اپنے چائے کے کپ تھامے سلیم اور ماجد اس حملے کے لیئے قطعی تیار نہ تھے۔ سو جب تک حواس بحال کرتا ماجد اور دفتر کے دوسرے لوگ ہیں ہیں کرتے آئے وہ سلیم کا منہ سجا چکے تھے۔ سلیم نے عقل کی لگامیں چھوڑ کر پلٹ کر انکو سبق سکھانا چاہا تو ماجد بیچ میں آگیا۔ کھینچ کھانچ کر اسے وہاں سے لے گیا۔
بیچ دوپہر میں جب انتظامیہ جمعے کی چھٹی پر تھی یہ کاروائی ہوئی۔ اب واپسی پر یقینا منتظم کے ہاتھوں انکی پیشی ہونی تھئ۔ماجد کے ذریعے کھنچتے ہوئے اسے کہیں یہ احساس ہوا تھا کہ پچاس کے پیٹھے میں ہونے کے باوجود انکا ہاتھ کافی بھاری تھا اور یہ بھی کہ اگر ماجد اسے اور دفتر کے دیگر افراد اصفحانئ صاحب کو کھینچ کر الگ نہ کر دیتے تو شائد ٹھیک ٹھاک درگت بن جاتی اسکی۔
آفس سے باہر نکل کر ماجد اسے قریبئ کیفے میں لے آیا تھا۔ اسے بٹھا کر ماجد خود کیفے کی سیلف سروس سے دو کپ چائے بنواکر لایا تب تک سلیم میز پر رکھا ٹشو پیپر باکس تقریبا خالی کر چکا تھا۔
اسکے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا آنکھ بھی سوج چکی تھی۔ آنکھ کے نیچے گلابی اور نیلا دھبہ بھی نمودار ہو گیا تھا۔
ماجد نے تاسف سے دیکھتے چائے کے کپ اور ایک پلیٹ میں آئیس کیوبز لا کر اسکے سامنے رکھ دیں۔
چائے میں برف ڈال کے پیئے گا؟
ہونٹوں پر ٹشو رکھتے سلیم نے مزاقا کہا۔
تیرے لیئے ہے برف۔ ہونٹ پر رکھ اور اس سے گال بھئ سینک۔ سارا چہرہ بگاڑ دیا ہے اصفحانئ نے۔
ماجد اسکے انداز کے برعکس سنجیدگئ سے بولا تو وہ سر ہلا کر سنکائئ کرنے لگا۔
اصفحانی لگتا ہے بیوئ سے لڑ کر آیا تھا۔ بیوی کے سامنے گیدڑ بن کر گھگھیا تارہا ہوگا یہاں آکر شیر بن رہا تھا۔ سالا
اس نے طنزیہ کہتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا
برف پھیرنے سے خون تو رک گیا تھا۔ مگرچائے پینے سے جلن ہو رہی تھئ۔
اسٹرا لا دوں؟ ماجد نے پوچھا تو وہ ہلکے سے نفی میں سرہلا گیا۔
اتنے سے کچھ نہیں ہوتا میرا۔اس نے لاپروائی سے کہا۔
ابھئ اصفحانئ کو میرا ہاتھ لگ جاتا نا بستر سے نہ اٹھ پاتا۔
بچ گیا۔
ابھئ تو تم دونوں کی پیشی لگے گئ ذرا ڈار صاحب کو آنے دو۔
ماجد کا انداز ڈرانے والا تھا اسکی غلطئ نہیں تھی سو وہ آرام سے کندھے اچکا گیا۔
چائے پیتے ہوئے یونہی ادھر ادھر کی بات کرتے رہے۔۔ پھر اٹھ گئے۔ حسب توقع پیشی لگئ انکی اصفحانی کو ایک ڈیڑھ گھنٹے میں کافی کچھ سمجھایا تھا دیگر احباب نے سو اس وقت خاصا شرافت کے جامے میں تھا۔ منتظم صاحب نے دونوں کو گھرکا اصفحانئ نے معزرت کی منتظم نے پہلا وارننگ لیٹر جاری کیا اصفحانئ کیلئے بیس پچیس سال کی نوکری میں پہلا دھچکا تھا انکو ڈار صاحب نے لیٹر پر دستخط کرنے سے قبل گھما پھرا کر دو تین بار یہ بات جتائی مگر سلیم معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھاسو انجان بنا رہا۔یوں اصفحانئ صاحب کی معزرت بھی انکے کیریر پر دھبہ لگنے سے نہ بچا سکی۔ وہ سر جھکا کے اور سلیم سینہ تان کرمنتظم کے دفتر سے نکلا تھا۔
پھر باقی دن تو مصروف ہی گزرا ہاں چھٹی کے وقت جب وہ اپنی مہران کی جانب بڑھ رہا تھا تب ماجد ایک بار پھر آیا اس بار اسکے ہاتھ میں میڈیکل اسٹور کا شاپر تھا۔ اس نے نہ سمجھتے ہوئے تھاما تو اندر میڈیکل آئیس پیک آئنمنٹ اور درد کی گولیاں بھی تھیں۔
اوہو اس سب کئ کیا ضرورت تھئ۔ اسے کہنا پڑا۔
ماجد اس کا ماتحت تھا یقینا اسکے آگے پیچھے پھرنا اسکی مجبوری تھئ مگر ماتحت سے یوں چیزیں لینا بھی زیب نہیں دیتا تھا۔ ماجد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
گھر جائوگے۔ بھابئ شکل دیکھ کر پریشان ہو جائیں گئ۔ آنکھ سوجی ہے اور گال اور ہوںٹ دیکھ اپنے۔ حلیہ درست کرکے گھر جا۔
یہ اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ نائلہ تو پریشان ہوتی ہی اسکے بچے بھئ بوکھلا جاتے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اور مڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔
ایک بات سوچئ تو نے؟ پشت پر اسے ماجد کی آواز سنائی دئ۔
اس نے پلٹ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا بے حد سنجیدگی سے گھور رہا تھا۔
بیٹھے بٹھائے یونہی کسی کا غصہ تجھ پر کیوں نکلا؟ پینتیس برس کا ہو کر چھپن برس کے آدمی کے ہاتھوں اس بری طرح منہ ہی منہ پر مکے کیوں کھائے؟ ایک مکا بھی جھکائی نہ دے سکا تو؟
کیوں؟ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔
اسکا مطلب ہے نہیں سوچا۔ اب راستہ بھر سوچتے جانا۔
اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے آرام سے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ماجد نے سر جھٹکا تھا۔ جیسے اسے یقین ہو کہ اس نے سوچنے کی زحمت نہیں کی ہوگی
دماغ خراب تھا بڈھے کا اور کیا۔ چار نمازیں پڑھ کر خود کو حاجی سمجھ رہا تھا۔پہنچ گیا اوقات کو ملی ہے نا وارننگ اب دیکھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ جواب دیئے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ سو چٹخ کر بولنا چاہا ابھئ اسکی بات ختم نہیں ہوئی تھئ مگر ماجد نے ایسے نظر انداز کیا اسے جیسے وہ ہوا سے باتیں کر رہا ہو سر جھٹک کر اطمینان سے قدم اٹھاتا اپنی بائک کی جانب بڑھ گیا۔
اسکی اس حرکت پر سلیم کا خون کھول اٹھا تھا۔ اپنی گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر غصہ قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ ماجد آرام سے اسکی گاڑی کے پاس سے بائک نکالتا چلا گیا تھا۔
ذیادہ ہی سر چڑھا لیا ہے میں نے اسے۔ دوست سمجھ کر ایک دو گھر کی باتیں کیا کر لیں اوقات دکھانے لگا ہے اپنی۔۔۔۔**** گالیاں۔۔
منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے اس نے گاڑی چالو کر دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اسکے بالترتیب آٹھ سالہ اور پانچ سالہ بیٹے بھاگتے آئے اور ٹانگوں سے لپٹ گئے۔
پا پا آگئے۔
وہ اندر تک سرشار ہو گیا دونوں بیٹوں میں اسکی جان بند تھئ ۔سو خوب لپٹا کر پیار کیا۔
پاپا یہ کیا ہوا۔ سعید نے اپنے ننھے ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھام کر تشویش سے پوچھا تھا۔
اسے بیٹے پر پیار ہی آگیا۔
بیٹا پاپا کو چوٹ لگ گئ ہے صبح تک ٹھیک ہو جائے گی۔
بچہ مطمئن ہو گیا تھا۔
پاپا مجھے بھی آج چوٹ لگی اسکول میں۔ نوید کو فورا اپنی چوٹ یاد آئئ۔
کہاں لگی چوٹ۔ وہ جھک کر اس سے پوچھنے لگا
نوید نے اپنی شارٹس اوپر کرکے گھٹنا دکھایا وہاں نیل پڑا ہوا تھا۔
اوہو میرا بیٹا بھی پاپا کی طرح بہادر ہے صبح ایکدم فٹ ہو جائے گا۔ہائئ فائو۔۔
اس نے بہلانے کو ہاتھ بڑھایا تو نوید نے خوش ہو کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
پاپا آج مجھے اسٹار ملا۔ بھائئ پر باپ کی اتنی توجہ چھوٹے میاں کو بالکل نہ بھائی۔ سو ٹھنک کر بتانے لگا۔تو وہ بھی اس کو گود میں اٹھاکر گال چومنے لگا
اچھا شاباش میرا بیٹا ہے ہی جینئس۔
پاپا مجھے تو ایکسیلنٹ ملا یہ اسٹار پر خوش ہو رہا۔ آٹھ سالہ نوید ٹھنک کر بولا تو سعید کو غصہ ہی آگیا۔
جھوٹ کوئی ایکسلیلنٹ نہیں ملا۔
جی ملا ہے کاپی پر ابھی دکھائوں ۔۔۔
دونوں میں نوک جھونک شروع ہوئی تھئ کہ کچن سے نائلہ نے پاٹ دار آواز میں جھڑکا
لڑائی بند کرو اور جائو ڈرائنگ روم میں قارئ صاحب کب سے آئے بیٹھے ہیں تم لوگ منہ ہاتھ دھونے کے بہانے ادھر ادھر پھر رہے ہو۔
ماں کئ پکار پر دونوں دبک گئے۔ اس نے بھی قاری صاحب کی آمد کا سن کر سعید کو گود سے اتار دیا دونوں بچے بھاگ کر بیٹھک کی طرف چلے گئے۔
وہ بھی کچن میں چلا آیا۔ حسب توقع نائلہ چائے دم دے رہی تھی ساتھ کباب تل کے رکھے تھے۔ وہ یونہی اسے مخاطب کرنے کی غرض سے پوچھنے لگا۔
کیا پکایا ہے آج؟
آلو گوشت۔ وہ مختصرا کہہ کر چائے نکالنے لگی۔
وہ چند لمحے یونہی کھڑا رہا پھر پلٹ کر کمرے میں چلا آیا۔
نائلہ یقینا چائے یہیں لے آتئ سو آرام سے تازم دم ہونے بیت الخلا میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھو کر آرام دہ شلوار قمیض پہن کر باہر آیا تو سامنے بیڈ پر ٹرے میں گرما گرم چائے اور کباب رکھے تھے۔ نائلہ کمرے میں نہیں تھی یقینا گھر کا کوئی کام۔نمٹانے میں مصروف ہوگی وہ سر جھٹکتا آرام سے بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔ اس نے کمرے میں ہی ایل ای ڈی لگا رکھی تھی سو ریموٹ پکڑ کر چینل پر چینل بدلنے لگا۔
دھلے ہوئے کپڑوں کو تہہ لگائے ایک بڑا سا ڈھیر اٹھائے نائلہ کمرے میں داخل ہوئی ۔ بیڈ پر جگہ بنا کر رکھے اور الماری کھول کر کپڑے رکھنے لگی۔
اس نے یونہی اس پر نگاہ کی۔ الجھے الجھے بالوں کا جوڑا بنائے وہ سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس تھئ۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی اور ایک دائیں آنکھ کے نیچے دھبا بھی۔
ابھی پچھلے ہفتے کی ہی بات تھی وہ اپنے لیئے دو چار برانڈڈ شرٹس لے آیا تو نائلہ نے جھگڑا شروع کردیا۔
ایسے تو کہہ رہے تھے کہ پیسے نہیں اب یہ اتنی مہنگی شرٹیں کہاں سے آئیں۔ نوید کی یونیفارم کی شرٹ پر داغ پڑ گیا ہے دو ہفتوں سے کہہ رہی ہوں اسے نئی دلا دیں کم از کم آج اپنے ساتھ بچے کی۔بھی لے آتے۔
مہینے کا آخری ہفتہ تھا وہ ویسے بھی جلا بھنا تھا آگے سے بیوی کی کڑوی کسیلی نے غصہ دلا دیا
اپنے ہی پیسوں سے اپنے لیئے کی گی خریداری جرم ٹھہری بھلا۔ بھنا کر بولا۔
دنیا کی عورتیں کیا کیا سلیقہ نہیں آزماتیں داغ دبھے چھڑانے کو ایک تم پھوہڑ عورت ہو کہ زرا سا داغ پڑ گیا شرٹ ہی نئی چاہیئے۔ رگڑ کر دھونی تھئ شرٹ صاف ہو۔جاتی۔
سب آزما کے دیکھ لیا چائے کا داغ ہے سفید قمیض سے نہیں اتر رہا اور اپنے لیئے نہیں مانگ رہی تھئ پیسے آپکی اولاد کیلئے ہی مانگ رہی تھئ خود تو دوسال سے اپنے لیئے ایک جوڑا تک نہ بنا سکی ہوں۔ کم از کم اپنی اولاد کا تو خرچہ اٹھا لیا کریں۔
اسکی بات پر دماغ گھوم گیا تھا
تو کون اٹھاتا ہے خرچہ میکے سے لاکر کھلا تی ہو نوالے میرے بچوں کو؟
آپکا بس چلے تو یہ ذمہ داری بھی میکے پر ڈال دیں میرے۔
وہ بھئ رکی نہیں یوںہی بات بڑھی اس نے بھی ایک کس کے لگا دی منہ پر۔ دو گھنٹے بیٹھ کے روتی رہی۔ خود وہ نوید کو لیکر بازار گیا اسکو شرٹ دلوا کر واپس آیا تب بھی وہ وہیں زمین پر بیٹھئ تھی۔
اب بندہ بشر بھول جاتا ہی ہے۔اتنئ زبان چلانے کی بجائے زرا چپ رہ جاتئ تو مار نہ کھاتئ۔ اس نے بھی خاموشی سے دہی بھلے لا کر اسکے پاس رکھے وہ آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
نائلہ۔ وہ بے ساختہ پکار بیٹھا۔
جی۔ مصروف سے انداز میں کپڑوں کو الماری میں جماتے ہوئے اس نے گردن موڑے بنا فورا جواب دیا تھا
میرے بیگ میں دوائوں کا شاپر ہے اسمیں ایک آئنمنٹ ہے نکال کر لگا لینا۔۔۔ وہ بے ساختہ کہہ اٹھا۔ نائلہ کے برق رفتاری سے چلتے ہاتھ سست پڑے۔
۔ چہرے پر لگتا ہے تمہارے دھبا پڑ گیا ہے۔
اچھا۔ وہ مختصرا کہتی الماری بند کرکے واپس باہر نکل گئ۔
اس نے نا بیگ اٹھایا نا ہی شاپر کھولا۔وہ گہری سانس لیکر چائے کا گھونٹ بھرنے لگا تو ہونٹ پر شدید جلن کا احساس ہوا۔
ایک بار پھر اسے اصفحانی پر شدید غصہ آگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر رات تک نائلہ کو فرصت ہی نہ ملی ۔ اسکے لیئے کھانا لگا کر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی بجائے کچن میں گھس گئ جانے کون کون سے کام نمٹاتی رہی۔ وہ چیں بہ چیں ہو گیا۔
کہاں اسے لگا تھا کہ نائلہ گھبرا جائے گی پریشان ہو جائے گی اسکی ایسی حالت کرنے پر اصفحانئ کو کوسے گی کہاں نائلہ نے پوچھاتک نہیں۔
منہ پر آئنمنٹ کی تہہ لگا کر پھرتا رہا وہ مگر نائلہ نے پوچھ کے نہ دیا بھئ کیا ہوا میاں صاحب۔
رات کو وہ ساڑھے بارہ بجے کمرے میں آئی سب کام نمٹا کر تب وہ بمشکل نیند بھگاکر جاگ رہا تھا۔
منہ ہاتھ دھو کر برش کرکے وہ ایک بجے آکر بستر پر لیٹی تب تک وہ جھلاہٹ کی انتہا تک پہنچ گیا تھا۔
نائلہ۔ ڈھیٹ بن کر پکار ہی لیا۔
ہوں۔ وہ اسکی طرف پشت کیئے لیٹی تھی۔
میں آئنمنٹ لایا تھا لگا لیتیں۔
اس نے کہا تو نائلہ کی بیزار سی آواز آئی
صبح لگا لوں گی اب میں لیٹ گئ ہوں۔
اسکی بات پر وہ دانت پیس کر رہ گیا پھر غصے میں خود بھی کروٹ بدل لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول تھی۔ نہا دھو کر جب وہ غسل خانے سے باہر نکلا تو استری شدہ کپڑے اسکے بستر پر پڑے تھے۔ باہر بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
نائلہ یقینا انکو ناشتہ کرانے تیار کرنے میں مشغول تھی۔
وہ تیار ہو کر خود کو سنگھار میز کے آئنے میں بغور دیکھنے لگا۔
آئنمنٹ یقینا اچھی تھئ جبھی سوجن آدھی رہ گئ تھی بس اب ہلکا سا نیل پڑا ہوا تھا آنکھ نے نیچے ہونٹ پر بھی پپڑی آچکی تھی۔
وہ چہرے پر دوبارہ لگا کر تیار ہو کر باہر نکلا تو اسکا ناشتہ میز پر سجا تھا۔ گرم گرم پراٹھا انڈا تلا ہوا رکھ کر نائلہ پلٹ رہی تھئ۔
کہاں جا رہی ہوتم ناشتہ نہیں کروگی؟۔ وہ کہہ کر شرمندہ سا ہوا۔
نائلہ اسکے جانے کے بعد آرام سے ناشتہ کیا کرتی تھی سب پھیلاوا سمیٹ کر۔ وہ جب تک گھر میں ہوتا تھا کچھ نا کچھ ناشتے میں اسے چاہیئے ہوتا تھا سو نائلہ کی کچن پریڈ لگئ رہتی تھئ۔ سو اس نے ناشتے پر ساتھ بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
چائے نکال لائوں دم پر ہے۔
وہ مختصرا کہہ کر رکی نہیں۔
دو تین نوالے بعد ہی گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا مگ سامنے تھا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ مصروف سے انداز میں بچوں کے ناشتے کے برتن سمیٹ رہی تھی۔
نائلہ نے اسکو دیکھا ہی نہیں یا اسکی چوٹ دیکھ کر بھی انجان بن رہی ہے۔
وہ سوچنے لگا۔ انجان بننے والی بات تکلیف دہ تھی۔ بھلا وہ کیسے اپنے شوہر کی تکلیف یوں نظر انداز کر سکتی ہے؟ دیکھا ہی نہیں ہوگا۔
اس نے سوچ کر ہنکارا بھرا۔
کل اصفحانی سے مڈبھیڑ ہوگئ میری۔عجیب آدمی ہے ہاتھا پائی پر ہی اتر آیا تھا جنگلی جانور۔
پھر سبق سکھا دیا ہوگا آپ نے۔
لمحہ بھر کو برتن سمیٹتے رک کر نائلہ نے کہا اور دوبارہ مڑ کر برتن اٹھاتی کچن میں چلی گئ۔
اس کو اتنا غصہ آیا کہ اگلا گھونٹ چائے کا زرا بڑا بھر لیا۔
ہونٹ پر شدید جلن ہوئی اتنی شدید کہ کراہ اٹھا۔
سی۔۔
اسکے لنچ باکس کو اٹھا کر لاتی نائلہ اسے دیکھ کر لمحہ بھر چونکی۔
کیا ہوا۔
کیا ہوا کیا مطلب اب دیکھا؟ کل سے ہونٹ سوجا ہوا ہے چہرے پر نیل ہے راہ چلتوں نے دیکھ کر حال پوچھا مجھ سے۔
وہ بگڑ کر بولا۔
ہوا کیا۔ نائلہ لنچ باکس رکھ کر رسان سے پوچھ رہی تھی۔
اسکا غصہ ایسا ہی تھا ایکدم بھڑک اٹھتا تھا سو اب اسے عادت ہو چکی تھی۔
بتایا توہے اصفحانی ہاتھا پائی پر اتر آیا معمولی مڈبھیڑ پر۔ وہ تو ماجد بیچ میں آگیا کچھ میں نے اسکی بزرگی کا لحاظ کیا ورنہ ایک میرا مکا پڑ جاتا تو اصفحانی اٹھا نا پاتا ہفتوں بستر سے۔ پورے دفتر کی ہمدردیاں ساتھ تھیں میرے۔ خوب زلیل ہوا۔۔ ایک ایک نے میرا حال پوچھا نہیں پوچھا تو میری ہی بیوی نے نہ پوچھا۔
وہ شکوہ کناں انداز میں کہے بغیر نہ رہ سکا۔
اچھا۔ میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ ابھی دیکھا۔ کوئی آئنمنٹ دیکھتی ہوں پڑا ہوگا تو لگا لیں۔
وہ سادہ سے انداز میں کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
چائے کا گھونٹ بھرتا سلیم اسکے جملے میں اٹک کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاف معمول وہ آج اپنی نشست سے ذیادہ اٹھا ہی نہیں۔ اوپر سے جو سن رہا تھا کل کیا ہوا اسکی تفصیل جاننے اسکے پاس چلا آتا۔
اصفحانی الگ شرمندہ شرمندہ سا اپنے کیبن میں گھسا بیٹھا تھا۔ کھانے کا وقفہ ہوا تو بجائے کیفے جانے کے اس نے ٹفن وہیں اپنی میز پر نکال کر رکھ لیا۔
کیا بات ہے آج اٹھنا نہیں ہے نشست سے اپنی۔
ماجد اپنا کھانے کا ڈبہ لیئے اسکے پاس چلا آیا۔
نہیں یار سب بار بار کل کیا ہوا پوچھ رہے بہتر ہے منظر سے غائب ہی رہوں۔
وہ خود بیزار سا بیٹھا تھا۔ اپنا ٹفن کھول کر دیکھا توچکن اسپگیٹی نکلا۔
وہ بیزار سا ہوا۔ اب یہ کیسے کھائوں گا۔
بھابی کوچاہیئے تھا آج روٹئ یا چاول بنا دیتیں یہ تو منہ میں مزید جلن کرےگا
ماجد نے تاسف سے کہا تو وہ ٹفن بند کرنے لگا۔
میں چنے پلائو لایا ہوں تو یہ کھالے اپنا ٹفن مجھے دے دے۔
ماجد پھر اسکی مدد کو آیا۔
وہ منہ بنائے بیٹھا رہا اسی نے ٹفن کھول کر سامنے رکھ دیا۔
ویسے سپگھیٹئ ہے بہت مزے کی۔
ماجد چٹخارے لیکر کھا رہا تھا۔
اوئے سن آج اصفحانئ کو دیکھا بلیک تھری پیس پہن کر آیا ہے آج منتظم اعلی کیلئے انٹرویو تھا مگر کل ہی وارننگ لیٹر ملا ہے اسے سارئ تیاری دھری رہ گئ بے چارے کا انٹرویو فہرست میں نام ہی نہیں آیا۔
ماجد کی بات پر اسکے کان کھڑے ہوئے۔
واقعی۔ اسے کمینی سی خوشی ہوئی۔
ویسے تیرئ سوجن تو اتر گئ آج۔ تو کل وارننگ لیٹر دینے سے ہی منع کردیتا۔ بھلا ہو جاتا اسکا۔
وہ کن اکھیوں سے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔
ایویں غلطی کی ہے تو سزا بھگتے۔ ویسے مجھے نہیں پتہ تھا انٹرویو ہیں آج۔
سلیم نے کندھے اچکا دیئے۔ اس کا مزاج بہتر ہو چکا تھا اب رغبت سے چاول کھانے لگا تھا۔
تبھی اصفحانی انکے سامنے سے گزرا۔ سلیم اور وہ خوش گپیوں میں لگے تھے۔ اصفحانی کی شکل دیکھتے ہی سلیم کے تاثرات کڑوے ہوئے اور منہ پھیر لیا۔
اصفحانئ نے اچٹتی سی نگاہ ان پر ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔
اصفحانئ دیکھ کر گیا ہے تجھے۔ دیکھا کیسا بن ٹھن کے آیا ہے
ماجد نے چٹکی لی۔
سلیم لاپروائی سے بولا
میں نے تو دیکھا تک نہیں اسے بھاڑ میں جائے میری طرف سے۔
اچھا بھابئ کو کیا بتایا تھوبڑے کا یہ حال کیوں ہوا۔
ماجد ہنسا تو جانے کیوں وہ چڑ سا گیا
جو سچ تھا وہی بتایا۔
پھر بھی پریشان تو ہوئی ہونگی کل اتنا سوجا ہوا تھا تیرا منہ کہ یقین کر ترس آرہا تھا دیکھ کر تجھے۔ بھابی نے ہلدی دودھ پلایا ہوگا کل تو خوب خاطریں کروائی ہونگئ تو نے
اسپگیٹی کھاتے ماجد ہنس رہا تھا وہ چڑ کر کہنے لگا
کوئی بھی نہیں اس نے تو ۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رک سا گیا۔ باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا
دیکھا تک نہیں تھا مجھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول
ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔
مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔
نفسیات دان۔
عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات
ہجوم بیکراں۔
وہ ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا تھا۔ اضطراری انداز میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔ گلے میں گٹار لٹکا رکھا تھا۔دونوں ہاتھ گٹار کو بجانے میں مصروف تھے۔ کہنی کرسی کے ہتھے پر ٹکا ئے ہتھیلی پر تھوڑی جمائے تنہائی اپنی آرام دہ کرسی پر دراز تھی ۔ دوسرا ہاتھ میز پر دھرا تھا جس کی انگلیوں سے وہ گول سا پیپر ویٹ گھما رہی تھی۔ مستقل مسلسل وہ ایک چکر میں تھامگر اس سے بے نیاز بیزاری سے اسکے چلتے وجود کے ساتھ نظریں گھماتی تنہائی مکمل طور پر عزم کی جانب متوجہ تھی۔عزم ٹہلتے ٹہلتے تھکا ہاتھ شل ہو رہے تھے گٹار کی تار ٹوٹی اور اسکی تان بھی۔ رکا ٹھٹکا پھر پلٹ کر تنہائی کی جانب بڑھا۔ م
سنا آپ نے۔ عزم خود کو کسی مشہور پاپ فنکار سے کم نہ سمجھتے ہوئے اس سے داد چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
تنہائی نے نفی میں سر ہلایا۔
کیسے ممکن ہے اتنی دیر سے بجا رہا ہوں گٹار آپ نے سنا ہی نہیں ۔۔
اسکی حیرت دو چند ہو گئ۔ چیخ ہی تو پڑا
تنہائی نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
یہ دیکھیں گٹار بجا بجا کے میری انگلیاں فگار ہو گئیں۔۔
اس نے اپنی زخمی انگلیاں دکھائیں۔
گٹار ٹوٹ گیا یہ لٹکتے تار پر جما یہ خون۔ وہ چلا اٹھا تھا میز پر دونوں ہاتھ مارتے وہ جھلاہٹ کی انتہا پر تھا۔ تنہائی پر اسکے کسی ردعمل کا کوئی اثر نہ تھا اسی بے تاثر چہرے سے دیکھ رہی تھی اسے۔ وہ چند لمحے جواب طلب نظروں سے دیکھتا رہا پھر مایوس سا ہو کر رخ موڑ کر جانے کو تھا کہ تنہائی کی آواز نے ٹھٹکا دیا۔
تم نے کسی اور کو سنایا گٹار کبھی؟
اسکا دم رکنے کو آیا۔ سانس سینے میں اٹکی رہ گئ۔ چند لمحے دم بخود سا رہ گیا۔
تنہائی نے سوال دہرایا تو پلٹ کر سراسیمہ سے انداز میں وہ تنہائی کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
کیا آپکو بھی گٹار کی آواز سنائی نہیں دی؟ کیا آپکو بھی نہ گٹار دکھائی دیا نا ہی میری زخمی انگلیاں؟
اسکی آواز میں خوف لرز رہا تھا۔آنکھوں میں التجا جھلک رہی تھی۔
کہہ دو ہاں۔ دیکھا سنا زخم دیکھے۔
مجھے نہ گٹار دکھائی دیا نا سنائی۔ تمہاری فگار انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں بے چینی سے جیسے انکو اس چھڑی پر چلا رہے تھے زخمی تو ہونا تھا انہوں نے۔
تنہائی تو دنیا سے بھی ظالم نکلی۔ اسکے اپنے اسے جھٹلاتے رہے گٹار کے وجود سے انکاری رہے اسکو نفسیاتی سمجھ کر تنہائی کے پاس علاج کروانے بھیج ڈالا مگر تنہائی نے تو گٹار کو گٹار سمجھا بھی نہیں معمولی چھڑی قرار دے ڈالا۔
وہ وحشت ذدہ سا ہو کر اپنے ہاتھوں میں تھامی چھڑی دیکھنے لگا۔
یہ لو انگلیوں پر لگا لو صبح تک زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔
اسے سوچ میں پڑا دیکھ کر تنہائی نے سیدھا ہو کر اپنی میز کی دراز کھولی۔ آئنمنٹ اور پلاسڑ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔
عزم نے حیرت سے تنہائی کو دیکھا۔
یہ ۔۔ یہ کیا ہے؟
اس نے کاغذ کے ٹکڑوں اور تیل میں بھیگے کوئلے کو آئنمنٹ اور پلاسٹر کہہ کر اسکی جانب پھینکا تھا۔
آئنمنٹ اور پلاسٹر۔
تنہائی کا انداز سادہ سا تھا۔ مزاق کی رمق تک نہ تھی۔
پاگل سمجھا ہے مجھے کیا؟ یہ عزم نے غصے سے دونوں چیزیں اٹھا کر دیکھیں پھر میز پر پھینک دیں
سفید براق کاغذ کالا ہو چلا تھا تو تیل میں بھیگے کوئلے سے اسکی انگلیاں۔
یہ تیل میں بھیگے کوئلے اور کاغذ تم مجھے دوا کہہ کر دے رہی ہو ؟ تم مجھے پاگل سمجھ رہی ہو مگر خود پاگل ہو چکی ہو۔
وہ حلق کے بل چکایا۔
میں کیوں کوئلے تیل میں بھگو کر اپنی دراز میں رکھوں گی بھلا؟
اسکے انداز کے برعکس تنہائی نے نہایت رسان سے
جواب دیا تھا
ادھر لائو میں تمہارا زخم صاف کردوں۔
وہ حیرت زدہ سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ خود اٹھ کر اسکے پاس آئی نرمی سے ہاتھ تھام کر کوئلے کا لیپ کیا اور کاغذ سے انگلی کو لپیٹ دیا۔ کاغذ ٹک نہیں رہا تھا تو سفید ٹیپ میز سے اٹھا کر اس پر چپکا دی۔
تنہائی کی انگلیاں کالی ہو چکی تھیں۔ اپنے چہرے پر آتی بے پروا کالی لٹ کو اس نے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے گال پر کالا نشان لگا لیا تھا۔ مگر اسکا اطمینان قابل دید تھا۔اتنا کہ عزم کو اپنے یقین پر گمان غالب آنے لگا۔جھجکتے ہوئے اس لڑکی سے جو عمر میں چند سال بڑی تھی اس سے کہنے لگا
میں ہوں نا فنکار۔ یہ گٹار بجانا آتا ہے نا مجھے؟
میں کیا جانوں کبھی گٹار بجا کے سنوائو تب ہی بتا سکتی۔
وہ اطمینان سے کہہ کر دوبارہ اپنی نشست کی۔جانب بڑھ گئ۔
وہ مایوس سا ہو گیا تھا۔
پھراسکا کیا کروں؟
اس نے مایوس سے انداز میں پلٹ کر پوچھا۔ تنہائی کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔اسکی بات پرچونکی۔
فی الحال تو گھر جائو اور سو جائو یہ نسخہ ہےاگلی بار اگر پھر اپنا آپ گٹار بجاتے ہوئے محسوس ہو تب ہی آنا ورنہ میرے حساب سے تمہارا علاج ہو گیا ہے۔
وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی تھی۔
میکانکی انداز میں عزم نے اس سے پرچہ پکڑا۔
دو تین کلو دوائیاں پھر اسکے نصیب میں کھانا لکھی تھیں۔
وہ کندھے سے لٹکتے گٹار کے بوجھ کو سہارتا سر اثبات میں ہلاتا مڑ کر جانے لگا۔
اگر بوجھ ذیادہ ہے اس چھڑی کا تو یہاں دروازے پر رکھ دو۔
عقب سے نرم سی آواز آئی تھی تنہائی کی۔
اس نے لمحہ بھر سوچا پھر گٹار کا فیتہ اپنے گلے سے اتار کر احتیاط سے دروازے کے پاس دیوار سے ٹکا دیا۔ اور احتیاط سے دروازہ کھول کر شکستہ سے انداز میں باہر نکل گیا۔ خود۔کار دروازہ اپنے بوجھ سے واپس بند ہوا تو وہ اطمینان سے دراز سے آئینہ نکال کر میز پر رکھے ٹشو باکس سے اکٹھے کئی ٹشوز کھینچ کر چہرے پر لگی کالک صاف کرنے لگی۔
چہرہ صاف کر کے اس نے احتیاط سے آئینہ واپس رکھا۔ اور دراز سے اپنی ذاتی ڈائری نکال کر لکھنے لگی۔
کیس 567
عزم بہت برا گٹار بجاتا ہے اسکو سننے سے بہتر یہی ہے کہ عزم یہ سمجھے کہ گٹار گٹار نہیں چھڑی ہے۔ یقینا اسکی زندگی اب آسان ہو چکی ہوگی۔
اس نے لکھ کر ڈائری بند کردی۔
تو آج مزید کوئی اپائنٹمنٹ نہیں ہے میری ۔
اس نے خوش ہو کر زیر لب کہتے ہوئے دونوں بازو اوپر کر کے زوردار انگڑائی لی۔ اٹھی دفتر پر تنقیدی طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے دروازے کے پاس آئی عزم کے گٹار کو اٹھایا۔ بس ایک ہی تار الگ تھی اسکو نہ چھیڑتے ہوئے وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور گٹار کا فیتہ کندھے سے گزار تے ہوئے آنکھیں بند کرتے ہوئے گٹارپر اپنی پسندیدہ دھن چھیڑ دی۔۔۔۔
ختم شد۔
از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔ نفسیات دان۔عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات
۔۔۔۔۔ لکیر وقت

ایک عمر سے اس نے نگاہ نفسیات دان کی آنکھوں پر جما رکھی تھی۔جیسے
آنکھوں سے اسکے دل کا حال پڑھ لینا چاہتا ہو۔
مگر دل کا حال نگاہوں سے بیان کرنا اسے نہیں آتا تھا۔ جبھی مریض کی نگاہوں کا مرکز وہ نفسیات دان صرف الجھن ذدہ تھی کہ آخر اس ٹھیک ٹھاک سمجھدار دکھائی دینے والے انسان کو کیا معاملہ درپیش ہے جو یوں وحشت زدہ سا پلک جھپکائے بنا اسے گھورے جا رہا تھا۔ آج کا پہلا اور شائد آخری مریض یہی ہونے والا تھا۔ ہجوم کو گھنٹہ لگا تھا اس نتیجے پر پہنچنے میں کہ اگلی ملاقات کو وقت دے یا نہیں۔اس نے گہری سانس لیکر انٹرکام پر اپنی ذاتی معاون ملازمہ کو ہدایت دی کہ بقیہ تمام ملاقاتیں منسوخ کرکے انکو نئے اوقات کار بتا دے۔
فون رکھ کر اس نے بلا ارادہ اس نے میز پر دھری اپنی پسندیدہ تجریدی عجیب و غریب گھڑی کو دیکھا جو صرف چار سوئیوں پر مشتمل تھی۔ یہ سوئیاں ہوا میں معلق تھیں انکے کنارے ایک سکے جتنی چھوٹی مشین میں پیوست تھے۔ ایک سوئی سیکنڈوں کے حساب سے مسلسل حرکت میں تھی باقی دو گھنٹے اور منٹ بتاتی تھیں مگر کیسے یہ صرف ہجوم تنہائی کو خبر تھی۔ چوتھی سوئی عموما الارم کی ہوتی ہے مگر عام گھڑیوں میں اس خاص گھڑی میں یہ سوئی کسی خاص مقصد کیلئے تھی۔
اس پر نگاہ جمائے اسکا مریض اس گھڑی کی طرف اشارہ کرکے پوچھ رہا تھا۔
کیا وقت ہو رہا ہے؟
بنا پلک جھپکائے ہی اس نے پوچھا تھا۔
ایک بج کر پینتالیس منٹ۔
ہجوم نے گہری سانس بھری۔ تو یہ لکیر وقت میں الجھا مسافر ہے۔ اسکا مسلئہ وہ لمحوں میں حل کر سکتی تھی۔ مگر وہ اس مسلئے میں الجھ کر یقینا ایک عمر گنوانے والا تھا۔
میں بارہ بج کر پینتالیس منٹ پر آیا تھا۔ دیکھا آپکو خبر بھی نہ ۔ہوئی اور ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔۔
دبے دبے جوش سے وہ چیخ اٹھا تھا۔ہجوم کو اپنا کان سہلانا پڑا۔
دیکھیئے آپ
آپکے خیال میں مجھے یہاں بیٹھے کتنا وقت گزر چکا ہے۔
پانچ منٹ۔ ہجوم گڑ بڑائی۔
نہیں مجھے گھنٹے سے اوپر ہو چکا ہے یہاں بیٹھے۔
اس نے بے تابی سے بات کاٹ کر تصحیح کی۔
اچھا۔ ہجوم نے ہنکارہ بھرا۔ اسکی بات کو غلط کہنا یا ثابت کرنا اسے مشتعل کر سکتا تھا۔
میں اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر وقت نہیں رہا ہے میرے پاس مجھ سے چھنتا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کب صبح ہو تی ہے کب لمحہ بھر کے وقفے سے سہ پہر کب شام۔ مجھے اتنا کچھ کرنا ہے جو میں وقت کی کمی کے باعث نہیں کر پا رہا ہوں۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتا میرے سوا کسی اور کو یہ احساس کیوں نہیں ہو رہا ہے کہ زمین کروٹ لے چکی ہے اب وقت گزر نہیں رہا بھاگ رہا ہے یہ ہاتھوں سے پھسل رہے ہیں لمحے۔
وہ بنا رکے بولتا چلا گیا تھا۔ دونوں ہاتھوں کو اس نے اسکے آگے پھیلا دیا تھا جیسے واقعی وقت اسکی مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔
کیا یہ اچھی بات نہیں کہ آپکا وقت گزرتا جا رہا ہے؟
ہجوم نے بغور اسکی کیفیت جانچتے ہوئے سوال کیا تھا۔
ہرگز نہیں۔ وہ میز پر زو رسے ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا
مجھے وقت ہی اتنا نہیں دیا گیا جتنا مجھ سے قبل نسل انسانی کو دیا جاتا رہا ہے اور مجھ سے میں توقع رکھتا ہوں زماں و مکاں کھوج لینے کی کیسے کروں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے جب لوگوں کے پاس وقت تھا تب سوچ نہیں تھی اب میرے پاس سوچ ہے تو وقت کا دھارا رفتار پکڑ چکا ہے۔کیا یہ میرا قصور ہے کہ میں آج اس دور میں پیدا ہوا جب وقت پھسل رہا ہے ؟ مجھے اس و قت کیوں نہ پیدا کیا گیا جب وقت تھا؟ اور اگر مجھے اب پیدا کیا ہے تو مجھے اس لکیر وقت میں پھنسا دیا ہے جہاں صبح و شام پلک جھپکنے جتنے دور رہ گئے ہیں؟۔۔
اسکی آنکھوں میں خوف خلفشار بے بسی غصہ کیا کچھ نہ تھا۔ اسکا سوالیہ وجود خود ایک نیا سوال تھا۔ مگر کیا یہ فانئ وجود جانتا تھا کہ
اسکے سوال بے مایہ تھے۔یہ ہجوم تنہائی کے بس میں تو نہ تھا کہ اسکی لکیر وقت پلٹ دے ہاں اس کیفیت سے گزر چکی تھی بلکہ گزر رہی تھی سو اسکو سمجھنے والی شائد وہ اسکی دنیا کی واحد انسان تھی۔ ورنہ لوگوں کو تو احساس بھی نہ تھا کہ دنیا کیسی قیامت کی چال چل چکی ہے۔ ان سے لمحے گزارنے کا حق چھین لیا گیا تھا۔کیونکہ اب انجام قریب تھا۔
ہر چیز کا انجام ۔۔۔
لیکن ادراک ایک ایسا زنداں ہے جو قیدیوں کو ذہنی کشمکش میں ڈالتا ہے۔ ان سے جسمانی نہیں روحانی بیگار لیتاہےاور یہ بیگار بے کار ہے۔
یہ گھڑی دیکھ رہے ہیں آپ؟
اسکے غیر متوقع سوال پر فانی نے بد مزا سا ہو کر اسے دیکھا۔
آپکے خیال میں چوتھی سوئی کس مقصد کیلئے ہے؟
ہجوم نے اسکے تاثرات یکسر نظر انداز کیئے۔
اسکی بات کے جواب میں فانی وجود گھڑی کو گھورنے لگا۔ اسکی آنکھوں کی پتلی پھیلی سکڑی بے تحاشہ متحیر ہو کر اس نے ہجوم کو دیکھا۔
یہ جو بنا جھٹکا لیئے بنا رکے چلتی چلی جا رہی ہے لمحوں یا سیکنڈوں کی سوئی ہے۔
ہجوم تنہائی اسکے کسی اور ذہنی الجھن میں نہیں ڈالنا چاہ رہی تھی سو خود ہی اس گھڑی میں وقت دیکھنا سکھانے لگی۔
یہ جو وقفے وقفے سے چل رہی ہے منٹوں کی ہے اور یہ جو رکی ہوئی ہے یہ گھنٹہ مکمل ہونے پر چلے گی۔ اور یہ چوتھی عموما الارم کی ہوتی ہے مگر۔
یہ یہ۔۔ الارم کی نہیں ہے ۔ ہے نا؟
فانی نے بے تابی سے بات کاٹی۔
اس وقت اس گھڑی میں ایک بج کر پینتالیس منٹ ہو رہے ہیں ہیں نا؟
وہ پرجوش تھا۔ ہجوم چونکی۔ یہ پہلا انسان تھا اس کے سوا جس نے اس گھڑی کو دیکھ کر وقت کا درست اندازہ لگایا تھا۔
خلا میں تھرکتی سوئی لحظہ بھر رکی افسوس سے دونوں وجودوں کودیکھا پھر بڑھ گئ۔ یہ لمحوں کی سوئی کی حرکت دونوں محسوس بھی نہ کرسکے۔ اس لحظے نے گھڑی کو روک دیا تھا لمحہ بھرکیلئے نہیں ایک عمر کیلئے مگر ابھی یہ دونوں ادراک کی اس منزل تک نہ پہنچ پائے تھے۔
ہاں۔ یہ الارم کی نہیں ہے۔ بالکل صحیح سمجھے آپ۔اور شام ڈھل رہی ہے آپکا بہت وقت ضائع ہوگیا ہے۔
ہجوم نے سمجھانا چاہا۔
یہ دیکھیں میری گھڑی۔
اس نے اپنی کلائی ہجوم کی نگاہوں کے سامنے کی نہایت مہنگی اینڈرائڈ گھڑی شام پانج بج کر پینتالیس منٹ وقت بتا رہی تھی۔
وہ کف افسوس ملنے لگا۔
اب آپکو سمجھ آیا کہ میرا گھنٹہ تیزی سے گزر رہا ہے مجھے آپ سے ملاقات کیلئے آئے ایک گھنٹہ ہوا ہے اور شام ہونے لگی ذرا ملاقات کا وقت دیکھیئے صبح بارہ پینتالیس۔ اس نے اپنی ڈائری کھول کر سامنے رکھی۔
ابھی آپ سے چند منٹ قبل وقت پوچھا تو آپ نے ایک بج کر پینتالیس منٹ بتایا تھا اور اب دیکھیں چند منٹوں میں گھنٹے گزر گئے ہیں۔ کیا یہ میرے ساتھ قدرت کا مزاق نہیں؟
وہ متوحش سا پوچھ رہا تھا۔
اس گھڑی کے مطابق آپکو یہاں چار گھنٹے سے زائد وقت ہو چکا ہے ۔
ہجوم تنہائی نے دراز سے ایک ڈیجیٹل گھڑی نکال کر سامنے رکھی۔
آپ بارہ پینتالیس پر ہی آئے تھے یہ وقت آپکی گھڑی آپکے موبائل کی گھڑی اس دنیا کی گھڑی کے مطابق وقت بتا رہی ہے۔
اور یہ گھڑی ۔۔ اس نے عجیب و غریب سوئیوں والی گھڑی کی جانب اشارہ کیا
دنیا کا وقت اسے ہی بتاتی ہے جو دیکھنا چاہتا ہے۔
فانی نے ہجوم پر نگاہ جما لی دوبارہ۔
پورے پینتالیس سیکنڈ میں نے پلک نہیں جھپکائی مگر پلک
جھپکتے ہی چار گھنٹے گزر چکے تھے۔۔
ہم وقت روک نہیں سکتے فانی۔
ہاں ادراک ہو گیا ہے آپکو کہ وقت تیزی سے گزر گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہوں گی کہ اچھا ہوا ۔ جان جانا جان لیوا احساس ہے مگر اب
اسی احساس کے ساتھ یہ بھی جان لیں کہ شام ڈھل رہی ہے۔۔
ہجوم نے اپنی پشت پر گلاس وال کی جانب اشارہ کیا۔ جس سے باہر کی رواں دواں زندگی عریاں ہو رہی تھی۔ شام کے دھندلکے رات کی تاریکی میں بدل رہے تھے مگر شہر کی روشنیاں تاریکی پھیلنے نہیں دے رہی تھیں۔ ایک چمکتا دمکتا روشن شہر۔
جسکو ابھی لمحوں کی چال کا ادراک نہیں ہوا تھا
فانی نے سٹپٹا کر ہجوم کو دیکھا جسکے چہرے پر طویل ترین دن کی تمام تھکن اتر آئی تھی۔
تو کیا آپکو بھی ادراک ہوا ہے یہ کہ وقت معمول سے تیزی سے گزر رہا ہے؟
فانی نے بے یقینی سے دیکھا اسے۔
ہجوم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ فانی کا وجود ایک دم ڈھیلا سا پڑ گیا۔ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح چند لمحے میز پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھکا کھڑا اپنی سانسیں بحال کرتا رہاپھر یونہی بنا مڑ کر دیکھے باہر جانے لگا۔
یہ چوتھی سوئی جانتے ہیں کس چیز کی ہے؟
ہجوم کی آواز اسے پشت پر سنائی دی۔ وہ ٹھٹکا۔ ایک زخمی مسکراہٹ چہرے پر در آئی۔ مڑ کر دیکھا۔ہجوم کو جواب معلوم تھا مگر پھر بھی وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
یہ ادراک کی سوئی ہے۔ اور میری اور آپکی اس ملاقات کے درمیان چار مرتبہ اپنےمدار میں چکر مکمل
کر چکی ہے۔
اس نے لحظہ بھر کو ہجوم کے جواب کا انتظار کیا۔ مکمل خاموشی اسکا جواب تھی۔
وہ تیز قدموں سے نکلتا چلا گیا۔
پانچ بار ۔ ہجوم نے گہری سانس بھری۔ وہ یقینا ایک منزل پیچھے تھا ۔
اسکے نکلتے ہی اسکی ذاتی معاون اندر چلی آئی۔
میم میں نے کل کی ملاقاتوں کی فہرست بنا دی ہے کل آپ کو آج کےدو منسوخ ہو جانے والے ملاقاتیوں
سے بھی ملنا پڑے گا۔
ہجوم تنہائی نے ہنکارہ سا بھرا وہ اسی عجیب گھڑی پر نگاہ جمائے کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہتھیلی کے پیالے میں چہرہ دھرے گہری سوچ میں تھی۔
یہ بتائو یہ چوتھی سوئی کتنے چکر لیتی ہے ایک گھنٹے میں؟
سوال اچانک تھا
معاون نے غور سے گھڑی کو دیکھا۔
مگر مادام اس میں تو چوتھی سوئی ہے ہی نہیں؟
اسکا جواب ہجوم کیلئے غیر متوقع نہیں تھا
سو ہلکے سے مسکرا کر سر کے اشارے سے اسے جانے کی اجازت دی۔
باہر نکلتے ہوئے اس نے یونہی مڑ کر دیکھا۔ ہجوم تنہائی مسکراتے ہوئے گھڑی پر نگاہ جمائے گلوب کی شکل کے پیپر ویٹ کو انگلیوں میں تیزی سے گھما رہی تھی۔
مادام چوتھی سوئی کا حساب کرنے بیٹھ تو نہیں گئیں؟ پچھلی بار گھنٹوں کھوئی رہی تھیں اسکو دیکھنے میں ۔ جبھی اسکے وجود سے ہی انکاری ہو گئ میں آج۔
باہر نکلتے ہوئے اس نے سرجھٹکا۔
پتہ نہیں یہ عجوبہ ملا کہاں سے ہے انہیں۔ چار سوئیوں والی بے ڈھب گھڑی جس میں نا ڈائل نہ ہندسے۔
جانے مادام وقت کیسے جانتی ہیں اس سے۔
اس نے سوچا پھر کندھے اچکا تی اپنے کائونٹر کی جانب بڑھ گئ۔
چوتھی سوئی لمحے میں سینکڑوں بار گھومتی ہے لمحوں کی سوئی مات کھا جاتی ہے کون حساب رکھ سکتا ہے بھلا اسکا کہ ایک گھنٹے میں کتنی بار چکر لگا گئ؟
ہجوم تنہائی نے سوچا تھا۔
پھر اپنی دراز سے ریکارڈ والی ڈائری نکالی۔
کیس نمبر658
فانی ادراک کے لمحے کا اسیر ہے۔
جسکو ادراک ہو جائے وہ یا تو پاگل ہو جاتا ہے یا پاگل کہلاتا یے۔
یقینا فانی اب پاگل ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔
اسکو جھٹلا کر عام انسان بنایا جا سکتا ہے مگر یہ کام میں کیوں کرتی جبکہ مجھے پتہ ہے وہ پاگل نہیں ہے۔
اس نے لکھ کر قلم بے چینی سے میز پر پٹخا۔
کمرے میں گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔اس نے گھڑی پر نگاہ کی تو گھنٹہ مزید گزر چکا تھا۔
ہائش۔
وہ تیزی سے اپنا سامان سمیٹنے لگی۔ زندگی کی دوڑ میں وقت کی لگام اسکے ہاتھوں سے چھٹ رہی تھی۔ اور وہ بے چین تھی۔ بد حواس اور متوحش بھی۔
از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
یا اللہ میری ماں کو لمبی زندگی دے صحت دے۔
گڑ گڑا کر دعا مانگتی وہ لڑکی اسپتال کے جنرل وارڈ کے ایک کونے پر جائے نماز بچھائے خدا سے فریاد کناں تھی۔
اسکے قریب ہی ایک بستر پر بیٹھی نحیف و نزار بڑھیا اپنے بستر سے اتری لڑکھڑاتے قدموں سے پاس آئی لڑکی کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا۔
لڑکی نے آنسو بھری نگاہ اٹھائی۔
اس بڑھیا نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
ماں کیلئے لمبی عمر کی بد دعا نہ کرو بیٹی۔۔ رہنا تو اسے تیرے بھائی کے پاس پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai