معمولی سی بات….mamooli si baat


Support us

بات معمولی سی تھی مگر اصفحانئ صاحب کا مزاج ہی گرم تھا کسی سبب۔ بریک آئوٹ میں چائے بنا کر وہ ماجد سے باتیں کرتے اپنی ہی دھن میں نکلا تو سامنے سے آتے اصفحانئ صاحب سے ٹکرا گیا۔ انکی براق سفید قمیض جسے وہ جمعے کی مناسبت سے خوب کلف لگا کر پہنے اکڑے اکڑے سے آرہے تھےاسکی چائے سے رنگی گئ۔ وہ غالبا نماز کیلئے نکل ہی رہے تھے سو بری طرح جھلا گئے۔ 

اندھے ہو دیکھ کر نہیں چلتے سارے کپڑے برباد کر دیئے۔

غلطی اپنی تھی سلیم سر جھکا کے سنتا گیا فورئ معزرت بھئ کی مگر پچاس کے پیٹھے میں لمبی داڑھئ شرعئ اونچی ٹخنوں  سے اونچئ شلوار پہنے وہ اتنئ آسانی سے معاف کرنے والے نہیں  تھے۔ سو بھنا کر بڑ بڑاتے گئے۔ 

خود تو تم لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں نماز روزے کی فکر نہیں دوسروں کا خراب کرنے آجاتے۔ بہن***۔ 

ایک تو سیدھا ایمان پر طعنہ اوپر سے گالئ وہ بھڑک اٹھا۔ 

زبان سنبھال کے بات کریں اصفحانئ صاحب۔ 

اسکے یوں بھڑک اٹھنے پر تو اصفحانی صاحب کا غصہ دوچند ہو گیا۔ 

کیوں سچائی کڑوئ لگی؟ نماز پڑھنے کا ارادہ تھا بھلا؟ دس سال سے دیکھ رہا ہوں ایک جمعہ اس ****( گالی) نے پڑھا نہیں بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے نجانے کیا کیا ۔۔ 

بس بہت ہو گیا آپکی عمر کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ منہ توڑ دیتا اس بکواس پر۔خو دکو بڑا حاجی سمجھتے ہیں ٹکے کی۔۔۔

 سلیم جانے کیا کیا  کہنے لگا تھا پر انہوں نے آئو دیکھا نا تائو منہ سے مغلظات بکتے ہاتھ اٹھا دیا پے درپے دو تین مکے کس کر اسکے منہ پر جڑ دیئے۔ 

اپنے اپنے چائے کے کپ تھامے سلیم اور ماجد اس حملے کے لیئے قطعی تیار نہ تھے۔ سو جب تک حواس بحال کرتا ماجد اور دفتر کے دوسرے لوگ ہیں ہیں کرتے آئے وہ سلیم کا منہ سجا چکے تھے۔ سلیم نے عقل کی لگامیں چھوڑ کر پلٹ کر انکو سبق سکھانا چاہا تو ماجد بیچ میں آگیا۔ کھینچ کھانچ کر اسے وہاں سے لے گیا۔ 

بیچ دوپہر میں جب انتظامیہ جمعے کی چھٹی پر تھی یہ کاروائی ہوئی۔ اب واپسی پر یقینا منتظم کے ہاتھوں انکی پیشی ہونی تھئ۔ماجد کے ذریعے کھنچتے ہوئے اسے کہیں یہ احساس ہوا تھا کہ پچاس کے پیٹھے میں ہونے کے باوجود انکا ہاتھ کافی بھاری تھا اور یہ بھی کہ اگر ماجد اسے اور دفتر کے دیگر افراد اصفحانئ صاحب کو کھینچ کر الگ نہ کر دیتے تو شائد ٹھیک ٹھاک درگت بن جاتی اسکی۔ 

آفس سے باہر نکل کر ماجد اسے قریبئ کیفے میں لے آیا تھا۔ اسے بٹھا کر ماجد خود کیفے کی سیلف سروس سے دو کپ چائے بنواکر لایا تب تک سلیم میز پر رکھا ٹشو پیپر باکس تقریبا خالی کر چکا تھا۔ 

اسکے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا آنکھ بھی سوج چکی تھی۔ آنکھ کے نیچے گلابی اور نیلا دھبہ بھی نمودار ہو گیا تھا۔ 

ماجد نے تاسف سے دیکھتے چائے کے کپ اور ایک پلیٹ میں آئیس کیوبز لا کر اسکے سامنے رکھ دیں۔

چائے میں برف ڈال کے پیئے گا؟ 

ہونٹوں پر ٹشو رکھتے سلیم نے مزاقا کہا۔ 

تیرے لیئے ہے برف۔ ہونٹ پر رکھ اور اس سے گال بھئ سینک۔ سارا چہرہ بگاڑ دیا ہے اصفحانئ نے۔ 

ماجد اسکے انداز کے برعکس سنجیدگئ سے بولا تو وہ سر ہلا کر سنکائئ کرنے لگا۔ 

اصفحانی لگتا ہے بیوئ سے لڑ کر آیا تھا۔ بیوی کے سامنے گیدڑ بن کر گھگھیا تارہا ہوگا یہاں آکر شیر بن رہا تھا۔ سالا 

اس نے طنزیہ کہتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا 

برف پھیرنے سے خون تو رک گیا تھا۔ مگرچائے پینے سے جلن ہو رہی تھئ۔

اسٹرا لا دوں؟ ماجد نے پوچھا تو وہ ہلکے سے نفی میں سرہلا گیا۔ 

اتنے سے کچھ نہیں ہوتا میرا۔اس نے لاپروائی سے کہا۔ 

ابھئ اصفحانئ کو میرا ہاتھ لگ جاتا نا بستر سے نہ اٹھ پاتا۔ 

بچ گیا۔ 

ابھئ تو تم دونوں کی پیشی لگے گئ ذرا ڈار صاحب کو آنے دو۔ 

ماجد کا انداز ڈرانے والا تھا اسکی غلطئ نہیں تھی سو وہ آرام سے کندھے اچکا گیا۔

چائے پیتے ہوئے یونہی ادھر ادھر کی بات کرتے رہے۔۔ پھر اٹھ گئے۔ حسب توقع پیشی لگئ انکی اصفحانی کو ایک ڈیڑھ گھنٹے میں کافی کچھ سمجھایا تھا دیگر احباب نے سو اس وقت خاصا شرافت کے جامے میں تھا۔ منتظم صاحب نے دونوں کو گھرکا اصفحانئ نے معزرت کی منتظم نے پہلا وارننگ لیٹر جاری کیا اصفحانئ کیلئے بیس پچیس سال کی نوکری میں پہلا دھچکا تھا انکو ڈار صاحب نے لیٹر پر دستخط کرنے سے قبل گھما پھرا کر دو تین بار یہ بات جتائی مگر سلیم معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھاسو انجان بنا رہا۔یوں اصفحانئ صاحب کی معزرت بھی انکے کیریر پر دھبہ لگنے سے نہ بچا سکی۔ وہ سر جھکا کے اور سلیم سینہ تان کرمنتظم کے دفتر سے نکلا تھا۔ 

پھر باقی دن تو مصروف ہی گزرا ہاں چھٹی کے وقت جب وہ اپنی مہران کی جانب بڑھ رہا تھا تب ماجد ایک بار پھر آیا اس بار اسکے ہاتھ میں میڈیکل اسٹور کا شاپر تھا۔ اس نے نہ سمجھتے ہوئے تھاما تو اندر میڈیکل آئیس پیک آئنمنٹ اور درد کی گولیاں بھی تھیں۔ 

اوہو اس سب کئ کیا ضرورت تھئ۔ اسے کہنا پڑا۔ 

ماجد اس کا ماتحت تھا یقینا اسکے آگے پیچھے پھرنا اسکی مجبوری تھئ مگر ماتحت سے یوں چیزیں لینا بھی زیب نہیں دیتا تھا۔ ماجد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ 

گھر جائوگے۔ بھابئ شکل دیکھ کر پریشان ہو جائیں گئ۔ آنکھ سوجی ہے اور گال اور ہوںٹ دیکھ اپنے۔ حلیہ درست کرکے گھر جا۔

یہ اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ نائلہ تو پریشان ہوتی ہی اسکے بچے بھئ بوکھلا جاتے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اور مڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔

ایک بات سوچئ تو نے؟  پشت پر اسے ماجد کی آواز سنائی دئ۔ 

اس نے پلٹ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا بے حد سنجیدگی سے گھور رہا تھا۔

بیٹھے بٹھائے یونہی کسی کا غصہ تجھ پر کیوں نکلا؟ پینتیس برس کا ہو کر چھپن برس کے آدمی کے ہاتھوں اس بری طرح منہ ہی منہ پر مکے کیوں کھائے؟ ایک مکا بھی جھکائی نہ دے سکا تو؟ 

کیوں؟ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔ 

اسکا مطلب ہے نہیں سوچا۔ اب راستہ بھر سوچتے جانا۔ 

اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے آرام سے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ماجد نے سر جھٹکا تھا۔ جیسے اسے یقین ہو کہ اس نے سوچنے کی زحمت نہیں کی ہوگی

دماغ خراب تھا بڈھے کا اور کیا۔ چار نمازیں پڑھ کر خود کو حاجی سمجھ رہا تھا۔پہنچ گیا اوقات کو ملی ہے نا وارننگ اب دیکھے۔۔۔۔۔۔۔ 

وہ جواب دیئے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ سو چٹخ کر بولنا چاہا ابھئ اسکی بات ختم نہیں ہوئی تھئ مگر ماجد نے ایسے نظر انداز کیا اسے جیسے وہ ہوا سے باتیں کر رہا ہو سر جھٹک کر اطمینان سے قدم اٹھاتا اپنی بائک کی جانب بڑھ گیا۔ 

اسکی اس حرکت پر سلیم کا خون کھول اٹھا تھا۔ اپنی گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر غصہ قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ ماجد آرام سے اسکی گاڑی کے پاس سے بائک نکالتا چلا گیا تھا۔

ذیادہ ہی سر چڑھا لیا ہے میں نے اسے۔ دوست سمجھ کر ایک دو گھر کی باتیں کیا کر لیں اوقات دکھانے لگا ہے اپنی۔۔۔۔**** گالیاں۔۔ 

منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے اس نے گاڑی چالو کر دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اسکے بالترتیب آٹھ سالہ اور پانچ سالہ بیٹے بھاگتے آئے اور ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ 

پا پا آگئے۔ 

وہ اندر تک سرشار ہو گیا دونوں بیٹوں میں اسکی جان بند تھئ ۔سو خوب لپٹا کر پیار کیا۔

پاپا یہ کیا ہوا۔ سعید نے اپنے ننھے ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھام کر تشویش سے پوچھا تھا۔ 

اسے بیٹے پر پیار ہی آگیا۔ 

بیٹا پاپا کو چوٹ لگ گئ ہے صبح تک ٹھیک ہو جائے گی۔  

بچہ مطمئن ہو گیا تھا۔ 

پاپا مجھے بھی آج چوٹ لگی اسکول میں۔ نوید کو فورا اپنی چوٹ یاد آئئ۔ 

کہاں لگی چوٹ۔ وہ جھک کر اس سے پوچھنے لگا

نوید نے اپنی شارٹس اوپر کرکے گھٹنا دکھایا وہاں نیل پڑا ہوا تھا۔ 

اوہو میرا بیٹا بھی پاپا کی طرح بہادر ہے صبح ایکدم فٹ ہو جائے گا۔ہائئ فائو۔۔ 

اس نے بہلانے کو ہاتھ بڑھایا تو نوید نے خوش ہو کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

پاپا آج مجھے اسٹار ملا۔ بھائئ پر باپ کی اتنی توجہ چھوٹے میاں کو بالکل نہ بھائی۔ سو ٹھنک کر بتانے لگا۔تو وہ بھی اس کو گود میں اٹھاکر گال چومنے لگا

اچھا شاباش میرا بیٹا ہے ہی جینئس۔

پاپا مجھے تو ایکسیلنٹ ملا یہ اسٹار پر خوش ہو رہا۔ آٹھ سالہ نوید ٹھنک کر بولا تو سعید کو غصہ ہی آگیا۔ 

جھوٹ کوئی ایکسلیلنٹ نہیں ملا۔ 

جی ملا ہے کاپی پر ابھی دکھائوں ۔۔۔ 

دونوں میں نوک جھونک شروع ہوئی تھئ کہ کچن سے نائلہ نے پاٹ دار آواز میں جھڑکا

لڑائی بند کرو اور جائو ڈرائنگ روم میں قارئ صاحب کب سے آئے بیٹھے ہیں تم لوگ منہ ہاتھ دھونے کے بہانے ادھر ادھر پھر رہے ہو۔ 

ماں کئ پکار پر دونوں دبک گئے۔ اس نے بھی قاری صاحب کی آمد کا سن کر سعید کو گود سے اتار دیا دونوں بچے بھاگ کر بیٹھک کی طرف چلے گئے۔ 

وہ بھی کچن میں چلا آیا۔ حسب توقع نائلہ چائے دم دے رہی تھی ساتھ کباب تل کے رکھے تھے۔ وہ یونہی اسے مخاطب کرنے کی غرض سے پوچھنے لگا۔ 

کیا پکایا ہے آج؟ 

آلو گوشت۔ وہ مختصرا کہہ کر چائے نکالنے لگی۔ 

وہ چند لمحے یونہی کھڑا رہا پھر پلٹ کر کمرے میں چلا آیا۔ 

نائلہ یقینا چائے یہیں لے آتئ سو آرام سے تازم دم ہونے بیت الخلا میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھو کر آرام دہ شلوار قمیض پہن کر باہر آیا تو سامنے بیڈ پر ٹرے میں گرما گرم چائے اور کباب رکھے تھے۔ نائلہ کمرے میں نہیں تھی یقینا گھر کا کوئی کام۔نمٹانے میں مصروف ہوگی وہ سر جھٹکتا آرام سے بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔ اس نے کمرے میں ہی ایل ای ڈی لگا رکھی تھی سو ریموٹ پکڑ کر چینل پر چینل بدلنے لگا۔ 

دھلے ہوئے کپڑوں کو تہہ لگائے ایک بڑا سا ڈھیر اٹھائے نائلہ کمرے میں داخل ہوئی ۔ بیڈ پر جگہ بنا کر رکھے اور الماری کھول کر کپڑے رکھنے لگی۔ 

اس نے یونہی اس پر نگاہ کی۔ الجھے الجھے بالوں کا جوڑا بنائے وہ سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس تھئ۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی اور ایک دائیں آنکھ کے نیچے دھبا بھی۔ 

ابھی پچھلے ہفتے کی ہی بات تھی وہ اپنے لیئے دو چار برانڈڈ شرٹس لے آیا تو نائلہ نے جھگڑا شروع کردیا۔ 

ایسے تو کہہ رہے تھے کہ پیسے نہیں اب یہ اتنی مہنگی شرٹیں کہاں سے آئیں۔ نوید کی یونیفارم کی شرٹ پر داغ پڑ گیا ہے دو ہفتوں سے کہہ رہی ہوں اسے نئی دلا دیں کم از کم آج اپنے ساتھ بچے کی۔بھی لے آتے۔ 

مہینے کا آخری ہفتہ تھا وہ ویسے بھی جلا بھنا تھا آگے سے بیوی کی کڑوی کسیلی نے غصہ دلا دیا

اپنے ہی پیسوں سے اپنے لیئے کی گی خریداری جرم ٹھہری بھلا۔ بھنا کر بولا۔

دنیا کی عورتیں کیا کیا سلیقہ نہیں آزماتیں داغ دبھے چھڑانے کو ایک تم پھوہڑ عورت ہو کہ زرا سا داغ پڑ گیا شرٹ ہی نئی چاہیئے۔ رگڑ کر دھونی تھئ شرٹ صاف ہو۔جاتی۔ 

سب آزما کے دیکھ لیا چائے کا داغ ہے سفید قمیض سے نہیں اتر رہا اور اپنے لیئے نہیں مانگ رہی تھئ پیسے آپکی اولاد کیلئے ہی مانگ رہی تھئ خود تو دوسال سے اپنے لیئے ایک جوڑا تک نہ بنا سکی ہوں۔ کم از کم اپنی اولاد کا تو خرچہ اٹھا لیا کریں۔ 

اسکی بات پر دماغ گھوم گیا تھا

تو کون اٹھاتا ہے خرچہ میکے سے لاکر کھلا تی ہو نوالے میرے بچوں کو؟ 

آپکا بس چلے تو یہ ذمہ داری بھی میکے پر ڈال دیں میرے۔ 

وہ بھئ رکی نہیں یوںہی بات بڑھی اس نے بھی ایک کس کے لگا دی منہ پر۔ دو گھنٹے بیٹھ کے روتی رہی۔ خود وہ نوید کو لیکر بازار گیا اسکو شرٹ دلوا کر واپس آیا تب بھی وہ وہیں زمین پر بیٹھئ تھی۔ 

اب بندہ بشر بھول جاتا ہی ہے۔اتنئ زبان چلانے کی بجائے زرا چپ رہ جاتئ تو مار نہ کھاتئ۔  اس نے بھی خاموشی سے دہی بھلے لا کر اسکے پاس رکھے وہ آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

نائلہ۔ وہ بے ساختہ پکار بیٹھا۔ 

جی۔ مصروف سے انداز میں کپڑوں کو الماری میں جماتے ہوئے اس نے گردن موڑے بنا فورا جواب دیا تھا

میرے بیگ میں دوائوں کا شاپر ہے اسمیں ایک آئنمنٹ ہے نکال کر لگا لینا۔۔۔ وہ بے ساختہ کہہ اٹھا۔ نائلہ کے برق رفتاری سے چلتے ہاتھ سست پڑے۔

۔ چہرے پر لگتا ہے تمہارے دھبا پڑ گیا ہے۔ 

اچھا۔ وہ مختصرا کہتی الماری بند کرکے واپس باہر نکل گئ۔ 

اس نے نا بیگ اٹھایا نا ہی شاپر کھولا۔وہ گہری سانس لیکر  چائے کا گھونٹ بھرنے لگا تو ہونٹ پر شدید جلن کا احساس ہوا۔ 

ایک بار پھر اسے اصفحانی پر شدید غصہ آگیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر رات تک نائلہ کو فرصت ہی نہ ملی ۔ اسکے لیئے کھانا لگا کر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی بجائے کچن میں گھس گئ جانے کون کون سے کام نمٹاتی رہی۔ وہ چیں بہ چیں ہو گیا۔ 

کہاں اسے لگا تھا کہ نائلہ گھبرا جائے گی پریشان ہو جائے گی اسکی ایسی حالت کرنے پر اصفحانئ کو کوسے گی کہاں نائلہ نے پوچھاتک نہیں۔ 

منہ پر آئنمنٹ کی تہہ لگا کر پھرتا رہا وہ مگر نائلہ نے پوچھ کے نہ دیا بھئ کیا ہوا میاں صاحب۔ 

رات کو وہ ساڑھے بارہ بجے کمرے میں آئی سب کام نمٹا کر تب وہ بمشکل نیند بھگاکر جاگ رہا تھا۔ 

منہ ہاتھ دھو کر برش کرکے وہ ایک بجے آکر بستر پر لیٹی تب تک وہ جھلاہٹ کی انتہا تک پہنچ گیا تھا۔ 

نائلہ۔ ڈھیٹ بن کر پکار ہی لیا۔ 

ہوں۔ وہ اسکی طرف پشت کیئے لیٹی تھی۔ 

میں آئنمنٹ لایا تھا لگا لیتیں۔ 

اس نے کہا تو نائلہ کی بیزار سی آواز آئی

صبح لگا لوں گی اب میں لیٹ گئ ہوں۔ 

اسکی بات پر وہ دانت پیس کر رہ گیا پھر غصے میں خود بھی کروٹ بدل لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح حسب معمول تھی۔ نہا دھو کر جب وہ غسل خانے سے باہر نکلا تو استری شدہ کپڑے اسکے بستر پر پڑے تھے۔ باہر بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ 

نائلہ یقینا انکو ناشتہ کرانے تیار کرنے میں مشغول تھی۔ 

وہ تیار ہو کر خود کو سنگھار میز کے آئنے میں بغور دیکھنے لگا۔ 

آئنمنٹ یقینا اچھی تھئ جبھی سوجن آدھی رہ گئ تھی بس اب ہلکا سا نیل پڑا ہوا تھا آنکھ نے نیچے ہونٹ پر بھی پپڑی آچکی تھی۔ 

وہ چہرے پر دوبارہ لگا کر تیار ہو کر باہر نکلا تو اسکا ناشتہ میز پر سجا تھا۔ گرم گرم پراٹھا انڈا تلا ہوا رکھ کر نائلہ پلٹ رہی تھئ۔ 

کہاں جا رہی ہوتم ناشتہ نہیں کروگی؟۔ وہ کہہ کر شرمندہ سا ہوا۔ 

نائلہ اسکے جانے کے بعد آرام سے ناشتہ کیا کرتی تھی سب پھیلاوا سمیٹ کر۔ وہ جب تک گھر میں ہوتا تھا کچھ نا کچھ ناشتے میں اسے چاہیئے ہوتا تھا سو نائلہ کی کچن پریڈ لگئ رہتی تھئ۔ سو اس نے ناشتے پر ساتھ بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ 

چائے نکال لائوں دم پر ہے۔ 

وہ مختصرا کہہ کر رکی نہیں۔ 

دو تین نوالے بعد ہی گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا مگ سامنے تھا۔ 

اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ مصروف سے انداز میں بچوں کے ناشتے کے برتن سمیٹ رہی تھی۔ 

نائلہ نے اسکو دیکھا ہی نہیں یا اسکی چوٹ دیکھ کر بھی انجان بن رہی ہے۔ 

وہ سوچنے لگا۔ انجان بننے والی بات تکلیف دہ تھی۔ بھلا وہ کیسے اپنے شوہر کی تکلیف یوں نظر انداز کر سکتی ہے؟ دیکھا ہی نہیں ہوگا۔ 

اس نے سوچ کر ہنکارا بھرا۔ 

کل اصفحانی سے مڈبھیڑ ہوگئ میری۔عجیب آدمی ہے ہاتھا پائی پر ہی اتر آیا تھا جنگلی جانور۔ 

پھر سبق سکھا دیا ہوگا آپ نے۔ 

لمحہ بھر کو برتن سمیٹتے رک کر نائلہ نے کہا اور دوبارہ مڑ کر برتن اٹھاتی کچن میں چلی گئ۔ 

اس کو اتنا غصہ آیا کہ اگلا گھونٹ چائے کا زرا بڑا بھر لیا۔ 

ہونٹ پر شدید جلن ہوئی اتنی شدید کہ کراہ اٹھا۔

سی۔۔ 

اسکے لنچ باکس کو اٹھا کر لاتی نائلہ اسے دیکھ کر لمحہ بھر چونکی۔ 

کیا ہوا۔ 

کیا ہوا کیا مطلب اب دیکھا؟ کل سے ہونٹ سوجا ہوا ہے چہرے پر نیل ہے راہ چلتوں نے دیکھ کر حال پوچھا مجھ سے۔

وہ بگڑ کر بولا۔ 

ہوا کیا۔ نائلہ لنچ باکس رکھ کر رسان سے پوچھ رہی تھی۔ 

اسکا غصہ ایسا ہی تھا ایکدم بھڑک اٹھتا تھا سو اب اسے عادت ہو چکی تھی۔ 

بتایا توہے  اصفحانی ہاتھا پائی پر اتر آیا معمولی مڈبھیڑ پر۔ وہ تو ماجد بیچ میں آگیا کچھ میں نے اسکی بزرگی کا لحاظ کیا ورنہ ایک میرا مکا پڑ جاتا تو اصفحانی اٹھا نا پاتا ہفتوں بستر سے۔ پورے دفتر کی ہمدردیاں ساتھ تھیں میرے۔ خوب زلیل ہوا۔۔ ایک ایک نے میرا حال پوچھا نہیں پوچھا تو میری ہی بیوی نے نہ پوچھا۔ 

وہ شکوہ کناں انداز میں کہے بغیر نہ رہ سکا۔ 

اچھا۔ میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ ابھی دیکھا۔ کوئی آئنمنٹ دیکھتی ہوں پڑا ہوگا تو لگا لیں۔ 

وہ سادہ سے انداز میں کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئ۔ 

چائے کا گھونٹ بھرتا سلیم اسکے جملے میں اٹک کر رہ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلاف معمول وہ آج اپنی نشست سے ذیادہ اٹھا ہی نہیں۔ اوپر سے جو سن رہا تھا کل کیا ہوا اسکی تفصیل جاننے اسکے پاس چلا آتا۔ 

اصفحانی الگ شرمندہ شرمندہ سا اپنے کیبن میں گھسا بیٹھا تھا۔ کھانے کا وقفہ ہوا تو بجائے کیفے جانے کے اس نے ٹفن وہیں اپنی میز پر نکال کر رکھ لیا۔ 

کیا بات ہے آج اٹھنا نہیں ہے نشست سے اپنی۔ 

ماجد اپنا کھانے کا ڈبہ لیئے اسکے پاس چلا آیا۔ 

نہیں یار سب بار بار کل کیا ہوا پوچھ رہے بہتر ہے منظر سے غائب ہی رہوں۔

وہ خود بیزار سا بیٹھا تھا۔ اپنا ٹفن کھول کر دیکھا توچکن اسپگیٹی نکلا۔ 

وہ بیزار سا ہوا۔ اب یہ کیسے کھائوں گا۔

بھابی کوچاہیئے تھا آج روٹئ یا چاول بنا دیتیں یہ تو منہ میں مزید جلن کرےگا  

ماجد نے تاسف سے کہا تو وہ ٹفن بند کرنے لگا۔ 

میں چنے پلائو لایا ہوں تو یہ کھالے اپنا ٹفن مجھے دے دے۔ 

ماجد پھر اسکی مدد کو آیا۔ 

وہ منہ بنائے بیٹھا رہا اسی نے ٹفن کھول کر سامنے رکھ دیا۔ 

ویسے سپگھیٹئ ہے بہت مزے کی۔ 

ماجد چٹخارے لیکر کھا رہا تھا۔

اوئے سن آج اصفحانئ کو دیکھا بلیک تھری پیس پہن کر آیا ہے آج منتظم اعلی کیلئے انٹرویو تھا مگر کل ہی وارننگ لیٹر ملا ہے اسے سارئ تیاری دھری رہ گئ بے چارے کا انٹرویو فہرست میں نام ہی نہیں آیا۔ 

ماجد کی بات پر اسکے کان کھڑے ہوئے۔ 

واقعی۔ اسے کمینی سی خوشی ہوئی۔ 

ویسے تیرئ سوجن تو اتر گئ آج۔ تو کل وارننگ لیٹر دینے سے ہی منع کردیتا۔ بھلا ہو جاتا اسکا۔ 

وہ کن اکھیوں سے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔ 

ایویں غلطی کی ہے تو سزا بھگتے۔ ویسے مجھے نہیں پتہ تھا انٹرویو ہیں آج۔

سلیم نے کندھے اچکا دیئے۔ اس کا مزاج بہتر ہو چکا تھا اب رغبت سے چاول کھانے لگا تھا۔ 

تبھی اصفحانی انکے سامنے سے گزرا۔ سلیم اور وہ خوش گپیوں میں لگے تھے۔ اصفحانی کی شکل دیکھتے ہی سلیم کے تاثرات کڑوے ہوئے اور منہ پھیر لیا۔ 

اصفحانئ نے اچٹتی سی نگاہ ان پر ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔ 

اصفحانئ دیکھ کر گیا ہے تجھے۔ دیکھا کیسا بن ٹھن کے آیا ہے

ماجد نے چٹکی لی۔ 

سلیم لاپروائی سے بولا

میں نے تو دیکھا تک نہیں اسے بھاڑ میں جائے میری طرف سے۔ 

اچھا بھابئ کو کیا بتایا تھوبڑے کا یہ حال کیوں ہوا۔ 

ماجد ہنسا تو جانے کیوں وہ چڑ سا گیا

جو سچ تھا وہی بتایا۔ 

پھر بھی پریشان تو ہوئی ہونگی کل اتنا سوجا ہوا تھا تیرا منہ کہ یقین کر ترس آرہا تھا دیکھ کر تجھے۔ بھابی نے ہلدی دودھ پلایا ہوگا کل تو خوب خاطریں کروائی ہونگئ تو نے

اسپگیٹی کھاتے ماجد ہنس رہا تھا وہ چڑ کر کہنے لگا 

کوئی بھی نہیں اس نے تو ۔۔۔۔ 

وہ کہتے کہتے رک سا گیا۔ باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا

دیکھا تک نہیں تھا مجھے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ختم شد۔

 

از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول

#hajoometanhai

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *