13 august 1946
اردو یا ہندی
دہلی سے خط آیا تھا پورے دفتر میں سنسنی پھیلی تھی اعلی افسران سے لیکر چپڑاسی تک سب کے پیروں میں مانو پہییے لگے تھے
آخر کو دارلخلافہ سے چٹھی آئی تھی مگر یہ سب کو ہوا کیا تھا عوامی بہبود کے ادارے نے کچھ دفتر کی توسیع کیلیئے امداد منظور کروانے کی درخواست بھجوائی تھی یقینا اسکا جواب تھا یہ مگر مثبت تھا کہ منفی تمام تعلیم یافتہ افسران خط کا مضمون پڑھنے سے قاصر تھے عجب ماجرہ تھا
ہمارے پڑوس میں ایک منشی صاحب رہتے ہیں وہ شائد اس خط کو پڑھ سکیں مگر شام ہو جائے گی اس وقت تو وہ بھی دفتر میں ہونگے
ماتحت نگران شعبہ مالیات و حساب کا مشورہ قابل غور تھا نگران شعبہ مالیات نے سر ہلایا یعنی آج تو صرف خط ہی پڑھا جاسکے گا مضمون کے پیش نظر مزید آئندہ کا لائحہ عمل کل ہی طے کیا جا سکے گا یعنی آج کا دن ضائع ہی سمجھا جائے
 انہوں نے منظوری دےدی اب کیا ہو سکتا تھا
مگر یہ بات اس کمرے سے باہر نہ جانے پائے کہ سرکاری کاغز اس عمارت سے باہر گیا ہے خواہ محض پڑھوانے کے ہی واسطے
انہوں نے تنبیہہ کرنا ضروری سمجھا
ماتحت نگران شعبہ نے اثبات میں سر ہلا کر رازداری یقینی بنانے کی تسلی کرائی
تبھی دستک ہوئی دروازے پر
آجائیے۔۔
اجازت ملنے پر انکا چپڑاسی ایک پنررہ سولہ سالہ نوجوان کے ساتھ حاضر ہوا
دونوں ہاتھ جوڑ کر ان کو ادب سے نمستے کہا نوجوان نے ہلکے سے سر جھکا کر آداب کہنے پر اکتفا کیا
سر کے اشارے سے ان دونوں کے سلام کا جواب انکے انداز میں ہی دیا
آمد کا مقصد ابھی واضح نہیں تھا سو دونوں افسران کی سوالیہ نظریں ان پر ٹکی تھیں
صاحب یہ  بڑے سید صاحب کے منجھلے صاحب زادے ہیں حال ہی میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا ہے آج وہ بقایا جات کے سلسلے میں میں تشریف لائے تو اس دفتر میں پھیلی ہلچل ان سے مخفی نہ رہ سکی انہوں نے تجویز دی ہے اگر آپ بھروسہ کریں تو یہ چٹھی ان سے پڑھوا لیجئے کم عمر ہیں مگر سید صاحب کے صاحب زادے ہیں آپ کو مطلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
کیا آپ اس زبان کا علم رکھتے ہیں؟
نگران صاحب کا چہرہ کھل اٹھا
نوجوان نے ایک نظر انکو دیکھا پھر ادب سے سر اثبات میں سر ہلا کر جھکا لیا
آپ تشریف رکھئے ۔۔۔ ماتحت نگراں ویر سنگھ  نےآگے بڑھ کر انکو کرسی پیش کی
انکے لیےتواضع کا انتظام کیجئے گا انہوں نے فورا میزبانی نبھائی
 نگران صاحب کی بھی بانچھیں چری جا رہیں تھیں ایک بڑا مسلئہ حل ہوا تھا
یہ لیجئے : انہوں نے خط بڑھایا تو نوجوان نے شکریہ ادا کر کے عبارت پر نظر دوڑائی پھر ہنکارہ بھر کر پڑھنا شروع کیا
بخدمت جناب نگران شعبہ مالیات عوامی بہبود الہ آباد
جناب  ارجن سنگہانیاں صاحب
جناب عالی۔۔۔۔۔
کمرےمیں سناٹا تھا صرف نوجوان کی آواز گونج رہی تھی افسران مانو سانس تک روکے خاموشی سے سن رہے تھے
مطعلقہ شعبے تک آپکی گزارشات پہنچا دی گئی ہیں
اس حوالے سے مزید کسی بھی پیش رفت سے آپکو ضرور آگاہ کیا جائے گا تاہم جو اس ادارے کے بس میں ہے اس ممکنہ مدد کو فراہم کرنا یقینی بنایا جائےگا اس حوالے سے منظور شدہ پہلی قسط جلد بھجوائی جائے گی
آپ کا تعاون درکار ہے
منجانب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بے ساختہ ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے
یہ تو اردو ہی میں تھا خط سنگھ صاحب ہنس پڑے
سنگہانیا صاحب کو مثبت جواب کی توقع نہ تھی سو انکا چہرہ فرط مسرت سے کھل اٹھا تھا
یہ ہندی رسم الخط ہے نوجوان نے بھی مسکرا کر کہا تھا
پتہ نہیں حکومت کو اچانک ہندی رائج کرنے کی کیا سوجھی اب ہندی آتی بھی تو ہو اب بیٹھے بٹھائے وقت پڑ گیا ہمیں  سنگھانیا صاحب نالاں تھے
یوں معلوم ہوتا یہ خط تحریر کرنے والے موصوف بھی ہندی سے نا بلد ہی ہیں سنگھ صاحب بھی ہنسے
پورا خط ٹھیٹھ اردو میں ہے بس رسم الخط تبدیل کیا ہے ناحق
سنگھ صاحب شکر کیجئے کم از کم مضمون اردو ہی ہے ورنہ پھر سمجھنےکی الگ مشقت اٹھانی پڑھتی
سنگھانیا صاحب کی بات میں وزن تھا سنگھ صاحب فورا متفق ہوئے پھر خیال آیا تو نو جوان سےمخاطب ہوئے
بہت شکریہ سید صاحب آپ نے ہماری بہت بڑی
 مشکل دور کی
کوئی بات نہیں آپ آئندہ بھی یا د کر سکتے ہیں
نوجوان نے اخلاق سے کہا تھا اور اجازت چاہی
ویسے سنگھ صاحب خاصی بے تکی بات نہیں ایک ہی زبان کے دو رسم الخط رائج کرنا ؟
سنگہانیا صاحب نوجوان کے رخصت ہونے کے بعد الجھن آمیز انداز میں کہہ رہے تھے سنگھ صاحب ان سے پوری طرح  متفق تھے

امید ہمت اور خوداعتمادی میرے ہم وطنوں کیلئے میرا بس یہی پیغام ہے

از قلم ہجوم تنہائی



اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول 


By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *