Dhay gai short urdu afsana

بچپن میں بہت سنا اپنے بڑوں سے اسکو اتنے سالوں بعد دیکھامیری خالہ یہ جملہ بہت کہتی تھیں۔ وہ تو ڈھے گیا، یا وہ ڈھے گئ ہے۔ سمجھ نہیں آتا تھا مجھے ڈھے جانا کیا ہوتا ہے۔ دیواریں ڈھے جاتی ہیں جب کمزور ہو جائیں طوفان ٹکرائے زلزلہ آئے کوئی عمارت ڈھے گئ انسان کیسے ڈھے جاتا یے؟ انسان کے اندر کونسے زلزلے آتے ہیں، کونسی دیواریں ہوتی ہیں اس میں جو کمزور ہو جاتی ہیں انسان کیسے ڈھے جاتا ہے۔ بہت حیرت ہوتی تھی۔ خالہ سمجھاتی تھیں۔ حالات انسان کو اسکے حالات اسکی عمر وقت سے پہلے توڑ دیتے ہیں انسان کمزور ہوتا جاتا ہے انکے زیر اثر اپنے ہم عمروں سے جن کو اتنی نا موافق حالات کا سامنا نہ ہو جنہیں اتنی ذہنی پریشانیاں نہ ہوں ان کی نسبت جلد بوڑھا ہو جاتا ہے تھکن چہرے کے خدو خال میں پنجے گاڑ لیتی ہے۔ انسان ہنستا بھی ہے تو آنکھیں ساتھ نہیں دیتیں۔تب کہا جاتا ہے یہ تو ڈھے سا گیا ہے۔ اتنی عمر نہیں حالانکہ ابھی اسکی۔۔۔۔۔ میں سنتی سمجھ کم ہی آتی۔ یہ کیسے لوگوں کا ذکر ہے ۔ مجھے تو نظر نہیں آتے چہروں پر سجے حالات کے تھپیڑے۔مگر ہوا کیا۔۔ مجھے بھی ایک ایسا چہرہ نظر آگیا۔

میں چند لمحے گھورتی رہی حیران بھی ہوئی کہ آخر کیا ہوا؟

میرے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا ارے تمہیں کیا ہوا تم تو ڈھے گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا تھاآئینہ دیکھتے ہوئے

۔۔۔ ۔۔۔ از قلم ہجوم تنہائی

Home » 2023 » 09

Kesi lagi apko yeh tehreer? Rate us below

Rating

Phurteeli Heroin Urdu Novel Episode 8 finale

رومانٹک ناول پھرتیلی ہیروئن
اچھا تو آپ ہیں لیلٰی ۔۔ جن کی کوئی تعریف نہیں کرتا ۔۔۔ ؟ (کیونکہ سب صرف جہنمیلا کی تعریف کرتے ہیں ) ہُدہدائی نے گرم چائے کی ٹھنڈی چُسکی لیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
ہاہاہاہا۔اُف کتنے مذاقی ہیں آپ !! جی ہاں میں ہی ہوں لیلیٰ ۔۔ لیلیٰ نے اِٹھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
جی ۔۔مگروہ تو میں ہوں مگر “آپ “سے کم ۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔۔
دونوں کے مُشترکہ قہقہے کو سُن کے جہنمیلا کچن سے دوڑی دوڑی باہر آئی اور جس رفتار سے آئی اسُی رفتار سے واپس دوڑ گئی کیونکہ اسے رات کے کھانے کی تیاری جو کرنی تھی ۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد چھوٹے سے گاؤں کی لمبی سی سڑک پہ ، سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے اندھیرے میں مُسکراتا ہدہدائی اور شرماتی لیلیٰ ایک مُکمل جوڑی لگ رہے تھے ۔۔ ہدہدائی نٹ کھٹ سی لیلٰی کو دیکھ جہنمیلا کو جیسے بھول ہی گیا ۔۔۔ تُم اتنے بڑے ٹھرکی نکلو گے ہُدہدائی ؟ مجھے پتا ہوتا تو زمین سے ہاتھ نکال مریخ پہ تمہاری پکڑ کے مروڑ دیتی ، اور تمہاری لاش کو مریخ سے دھکا دیکر بحیرہ عرب کی گہرائیوں میں مُنہ کھولے بیٹھی یہودی مچھلیوں کی خوراک بنادیتی ۔۔۔ لیکن میں تمہیں ایسے نہیں جانے دے سکتی تم میری اندھیری راتوں میں ٹرین کے آگے منہ میں لالٹین دبائے دوڑتے کُتے کی طرح ہو جس نے میری پٹڑیوں کو روشن کر رکھا ہے ، تم میرے گلستاں کے وہ امرود ہو جسے کیڑا لگ گیا اور میرے اندھے اعتبار نے مجھے اس کیڑے کی خبر بھی اس وقت دی جب کسی نے امرود کیڑے سمیت تقریباً آدھا کھالیا ہے جہنمیلا نے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
میری ایک شرط ہے جہنمیلا نے بیچ سڑک پہ دونوں کو روک کے غیض وغضب سے بھرپورلہجے میں کہا ، اس غصے میں اسکے بندر کی تشریف سے لال گال مزید لال ہوکے سرخ گلابوں کو شرمانے لگے تھے آنکھوں سے نکلتے شراروں کو جمع کرکے گاؤں کے الہڑ نوجوان اس پہ تکّے سینکنے لگے تھےاور مُنہ سے اڑتے کف کو بچے جھولیوں میں جمع کرنے لگے تاکہ گھروں کو جاکے اس کف کو اپنی ماؤں کو دیں اور اس کف سے کپڑوں میں کلف لگا سکیں ۔۔
میری جہنمیلا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے میں تو بس لیلیٰ کو ٹہلانے نکلا تھا تمہارے مزیدار کھانوں کو بھرپور تناول کرنے کے بعد محترمہ کو کھٹی ڈکاریں آرہی تھیں میں نے سوچا ایسے انکا کھانا بھی ہضم ہوجائیگا اور میں تمہارے اس دو لاکھ کلومیٹر کے رقبے پہ بنے چھوٹے سے گاؤں کی سیر بھی کرلونگا
۔۔ اچھا ۔۔ تو یہ بات ہے جہنمیلا نے فٹافٹ پگڈنڈی کے کنارے اُگی جڑی بوٹیاں توڑیں اور دونوں ہتھیلیوں کے بیچ رگڑ کے چُورن تیار کرکے لیلیٰ کو چٹایا( وہ کسی کو تکلیف میں جو نہیں دیکھ سکتی تھی)
ٹھیک ہی ہدہدائی ۔۔ مجھے یقین ہے تم پہ لیکن تمہیں میری ایک پہیلی کا جواب دینا ہوگا اگر تم نے جواب نہیں دیا تو تمہارے شادی کارڈ پہ دلہن کی جگہ میرا نام ہوگا اور اگر جواب دیدیا تو میرے شادی کارڈ پہ دولہے کی جگہ تمہارا نام ہوگا ۔۔۔ بولو منظور ہے ؟
ارے مُشتری ۔۔۔ شادی کے بارے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ چھمو خالہ نے موقع دیکھ اپنی بہن سے بات شروع کی
اوئی چھمو ۔۔۔ باؤلی ہوئی ہو کیا ، رو پیٹ کے تو بیوہ ہوئی ہوں اللّہ رکھے میرے ٹونی کو ایسی جگہ کاٹا تھا تمہارے بہنوئی کے جانبر نا ہوسکے ہاں لیکن پتا نہیں کیوں پھر “ٹونی “کے چودہ انجیکشن لگوانے پڑے تھے ۔۔۔ ویسے میں کیوں اب اس عمرمیں شادی کرنے لگی؟
اے میری بھینسوں سے بھی موٹی عقل کی بہن ۔۔۔ میں تمہاری نہیں ہُدہدائی کی شادی کی بات کررہی ہوں ۔۔۔
اچھااااااا،۔۔۔۔ میں سمجھی تم میری شادی کا پوچھ رہی ہو ، ہدہدائی کی شادی کا تو مجھے بڑا ارمان ہے مگر کوئی “میرے “جوڑ کی ملے بھی تو ۔۔۔!!!
آپا ۔۔۔ جوڑ تو لڑکے لڑکی کا دیکھتے ہیں
نا بہن نا ۔۔۔۔لڑکا لڑکی تو ایک بند کمرے اور ایک چارپائی کے سہارے بھی زندگی گذارسکتے ہیں سارا رولا تو ساس بہو کا ہے مجھے تو اپنے لئے کم سِن بالی عمر کی ،کم کھانے والی ، اونچا سُننے والی ،دھیما دھیما بولنے والی، دھیمے دھیمے چلنے والی اور نزاکت تو ایسی ہو کے مانو پھونک سے اُڑ جائے جیسی خصوصیات والی بہو چاہئیے ۔۔۔۔
مُشتری آپا ، پھر تو تُم بہو کی تلاش کسی اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں کرو۔۔ ایسی مریضہ تمہیں کسی بستر پہ وینٹیلیٹر کے انتظار میں پڑی مل ہی جائیگی۔۔ چھمو خالہ جل کے بولیں ۔۔۔
ہاں اگر تمہیں ایک سولہ سالہ الہڑ دوشیزہ جو ، ڈاکٹر ، نائی، درزی ، انجنیئر ، باورچی، ہونے کے ساتھ ساتھ بہت پُھرتیلی ، بہادر ، ہمدرد ، معصوم ، شُوخ چنچل سیدھی اور بھولی بہو چاہئیے تو میری “ جہنمیلا “ حاضر ہے ۔۔ جانتی ہو آپا وہ بیج بو کے فصل تیار کرکے اکیلے ہی کاٹنے سے لیکر اور ٹرکوں پہ لوڈ کروا کے منڈی بھجوانے تک سارے کام خود کرتی ہے ۔۔۔ اپنی بھینسوں کے پڑوسیوں کی بھینسوں سے افئیر چلواکر انکی سیٹنگ کرانے سے لیکر بھینسوں کے بچوں کی ڈیلیوری تک کے کام خود انجام دے لیتی ہے ، یہ گھر ، بہن بھائی ، محلہ ، پڑوسی اور گاؤں اُس نے تن تنہا ہی سنبھالا ہوا ہے
ایک دن تو اس نے پڑوس والی خالہ کی بہو کا ایمرجنسی آپریشن بھی کردیا تھا وہ تو بیچاری بعد میں “بھوک” لگنے سے مَر گئی تھی۔۔۔ میری جہنمیلا تو جس گھر جائیگی اپنے اخلاق اور معصومیت سے گھر کو جنت بنا دیگی ۔۔۔۔ چھمو خالہ نے ایک ہی سانس میں جہنمیلا کو کھول کے رکھ دیا اور مُشتری خالہ دانتوں مین انگلیاں دبائے سب سُنتی رہیں ۔۔ اسکے حسن سے وہ پہلے ہی مرعوب تھیں ۔۔
ٹھیک ہے چھمو ۔۔۔ اسقدر سگھڑ بہو کے ساتھ میرا گُذارا تو مشکل ہے کیونکہ مجھے تو صبح دیر سے اٹھنے والی ، رات دیر تک جاگنے والی، اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتے ہوئے شُڑپ شڑپ کی آواز نکال کے چائے پینے والی، سارا دن بازار میں پھرنے اور واپسی پہ پیزااور سوفٹ ڈرنک لیکر گھر آنے والی یعنی
“ اپنے جیسی” بہوویں پسند ہیں ۔۔۔ لیکن تم کہتی ہو تو میں ہدہدائی سے بات کرونگی۔۔۔
مُشتری خالہ کا جواب سُن کے چھیمو خالہ مطمئن ہوکر اٹھلاتی ہوئی اپنے میاں جُمن میاں کے کمرے کی طرف چل دیں آخر کو جہنمیلا کو شادی کی خوشی میں ایک عدد کُھر چن یعنی “ بہن یا بھائی “ نامی تحفہ بھی تو گفٹ کرنا تھا کیا سُہانا سما ہوگا جب جُمن جہنمیلا کی شادی میں جہنمیلا کے شیر خوار بھائی کو گود میں اٹھائے غبارے والے کو ڈھونڈتے پھرینگے ۔۔۔
چھیمو خالہ تو سوچ کے ہی شرما گئیں اور “موقع” دیکھتے ہی جمن چچا کے ساتھ شادی کی تیاریوں میں “مصروف “ہوگئیں 😂😂😂۔۔۔۔
Written by : Jiya Ali

kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

Rating

Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey in Phurteeli Heroin Episode 7

پھرتیلی ہیروئن سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
تحریر : جیا علی
یہ لیں تولیہ اور صابن ،اور فریش ہوجائیں اتنی دُور مریخ سے پیدل آئے ہیں پھر کالے پُل سے مشتری خالہ کو کلیکٹ کیا ہے تھک گئے ہونگے جتنی دیر آپ نہائیں ،میں گڑھا” کھود “کے تندُور تیار کرتی ہوں اور اس میں گرم گرم تندوری نان لگا کے دسترخوان لگاتی ہوں ۔۔۔ جہنمیلا نے ایک ادائے دلرُبائی سے ہُدہدائی سکندر کو حکم جاری کیا اور وہ جہنمیلا کو تصور میں بسائے نہانے گھس گیا،جہاں جہنمیلا نے اسکے لئے پہلے سے ہی جے ڈاٹ کا سُوٹ خود سلائی کرکےمولانا طارق جمیل کا “برانڈڈ ناڑا” ڈال کے تیار رکھا ہوا تھا ہُدہدائی رگڑ رگڑ نہا کے اندر سے نیا نکور نکل آیا تھا نِک سِک سا تیار جب کھانے کی چٹائی پہ پنہچا تو اتنے ڈھیر لوازمات دیکھ حیران ہی تو رہ گیا گرم گرم تندور سے نکلے ٹھنڈے ٹھنڈے نان اور سوکھے دودھ کے گیلے حلوے کو دیکھ کے اسکی آنکھیں جہنمیلا کی اٹُوٹ محبت کے زیرِ اثر نَم ہوگئیں ۔۔۔۔
ارے جہنمیلا ۔۔۔ یہ کیا؟ تُم نے اناج ، مٹن اور فشری کا تو کوئی آئٹم رکھا ہی نہیں میری لیلیٰ تو جب تک گائے ، بکرا ، دُنبہ ، مُرغی ، مچھلی سبزی دالیں، نا بنالے اسے تو دعوت مکُمل ہی نہیں لگتی ۔۔۔
جہنمیلا سن کے مسکرائی اور پلنگ کے نیچے ہاتھ ڈال کے تلی ہوئے مچھلی، بُھنی ہوئی بکرے کی ران اور ماش کی دال کے دہی بڑے نکال کے سامنے رکھ دیتی ہے ( یہ بھی اس نے رات میں ہی تیار کرکے چُھپا دئیے تھے) جہنمیلا کی پُھرتیاں اور سلیقہ دیکھ لیلیٰ کی ماں کا رنگ پہلے سُرخ ، پھر لال اور پھر اُودا ہوجاتا ہے جبکہ مُشتری خالہ جہنمیلا کے حُسن کے زیرِ اثر سُن اور ہُدہدائی سکندر بھوکوں کی طرح کھانے پہ ٹوٹ پڑے جبکہ جہنمیلا اپنے بہن بھائیوں اور ماں باپ کو پلیٹیں سجا کر دینے کے بعد خود ایک پلیٹ میں دس دانے چاول اور ایک کھیرے کا ٹکڑا لیکر کترنے لگتی ہے وہ( ڈائٹ کونشس ) بھی تھی ۔۔۔
بھئی واہ کیا مزیدار کھانا ہے ۔۔۔ جہنمیلا دل تو چاہتا ہے تمہارے ہاتھ چُوم لوں ہدہدائی نے نظروں سے پیغام بھیجتا ہے اور جہنمیلا بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنا ہاتھ ہدہدائی کے لبوں پہ رکھ دیتی ہے ۔۔۔ نا کریں یہ بیغیرتیاں میرے آدھے سَرکے تاج ابھی آپ میرے پورے سرتاج نہیں بنے ، ، ابھی ہم نا محرم ہیں ۔۔ اور ہدہدائی اسکی اس ادائے دلرُبائی پہ مزید فریفتنہ ہوجاتا ہے اتنے میں دروازے پہ لگا بلب روشن ہوا اور جہنمیلا کا بھائی دروازے پہ جاکے چوچوچوچوچو کرکے اطلاعی گھنٹی بجانے لگا۔۔۔
ٹہریں جُمن چچا ۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کون ہے ۔۔ ہدہدائی کھانا چھوڑ دروازے کھولنے بڑھا۔۔
دروازے کے اُس پار لیلیٰ اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور ہاتھوں میں اسکے اپنے ہاتھوں سے “خریدے” خانزادہ باورچی کے ہاتھوں تیار کردہ لوازمات کا تھال لئے، ہدہدائی پہ بجلیاں گرانے کے لئے تیار کھڑی تھی ، اگلے ہی لمحے دروازہ کھلتا ہے اور لیلٰی ہدہدائی کے اونچے لمبے قد ، سلکی گھنگریالے سلیقے سے بنے بال، لمبی دراز پلکیں ،باہر کو ابلتی بڑی بڑی آنکھیں ، مسکراتے لبوں کے بیچ سےڈنٹونک سے رگڑےصاف چمکدار دانت ، چوڑی چھاتی پہ سجتتا جے ڈاٹ کا سوٹ اور قمیض کے نیچے” لٹکتے ایم ٹی جے کے برانڈڈ ناڑے “کو دیکھ کر تقریباًبے ہوش ہونے والی ہی ہوتی ہے کہ ہدہدائی نے لیلیٰ کو اپنی بانہوں میں اور تھال کو ہاتھوں میں تھام لیا اور پیچھے کھڑی جہنمیلا کے اندر چھن سے کُچھ ٹوٹ گیا۔۔۔
اری جہنمیلا ۔۔ یہ تمہارے چلنے سے کھڑ کھڑ کی آوازیں کیوں آرہی ہیں ؟
کیونکہ ٹوٹے ہوئے شخص کی یہی نشانی ہوتی ہے اماں ، جب وہ چلتا ہے تو کھڑ کھڑ کی آوازیں آنے لگتی ہیں ۔۔۔اس نے روتے ہوئے ، ماں کے گلے لگ کے ساون بھادوں ہی تو بہادئیے ۔۔۔ اماں ، میں خیالوں میں بھی ہُدہدائی کو کسی کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی ۔۔
اماں ۔۔جانتی ہوں میری بچی ۔۔ شروع شروع میں یہی جذبات ہوتے ہیں کوئی محبوب کی طرف دیکھے بھی تو لگتا ہے جیسے کوئی بھوکی بلی کے مُنہ سے چِھیچڑا چھین رہا ہے ، میرے دل میں بھی تمہارے باپ کے لئے شادی سے پہلے یہی جذبات تھےلیکن اب دل چاہتا ہے کہ ٹین ڈبے والے کے دیکر تمہارے باپ کے بدلے “دو نئے پتیلے “لے لوں ، تو بھی وقت گُذرنے کے ساتھ سیٹ ہوجائیگی میری بچی ۔۔ فکر نا کر میں مُشتری سے تم دونوں کی شادی کی بات کرتی ہوں۔۔
جہنمیلا خیالوں ہی خیالوں میں اپنے شہزادے کو ناراضگی سر پُر پیغام روانہ کرتی ہے “میرے ہرجائی ہُدہُدائی “ کاش میں وہ فلمی سین دیکھنے سے پہلے ایسے ہی مرجاتی جیسے تمہارے ابا تمہاری اماں کے پالتو کُتے کے کاٹنے سے مرے تھے تم کیا جانو اس دل پہ کیسی چُھریاں چلیں جب تُم لیلیٰ کو گرنے سے بچانے کے لئے آم کے اچار میں ڈلے کیری سے چپکے لسوڑے کے طرح لیلیٰ سے چپک گئے تھے ، کاش میں یہ منظر دیکھنے سے پہلے اپنی آنکھوں میں وہ ایلفی ڈال لیتی جو میں نے کوفتوں کو جوڑنے کے لئے کوفتوں میں ڈالی تھی ۔۔۔کاش ۔۔۔۔

تحریر جیا علی ۔۔

Kesi Lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

Rating
Home » 2023 » 09

Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey in Phurteeli Heroin Episode 6

رومانٹک ناول پھرتیلی ہیروئن

مریخی شہزادے کی آنکھوں کے سامنے وہ دروازہ تھا جس کے پیچھے اُسکے خوابوں کی شہزادی بستی تھی اُس نے تھوک لگاکے جوتے چمکائے اور چمکتے جوتوں میں دیکھ کر اپنے بال سنوارنے کی کوشش کی تو “ مُشتری خالہ “ نے ایک ہتڑ اسکی کمر پہ جڑا ۔۔ ارے “باولے “جب موبائل ہے تو جوتوں میں شکل کیوں دیکھ رہا ہے ؟۔۔۔ اوففففوہ۔ جہنمیلا تم نے تو مجھے دیوانہ ہی بنادیا ہے خیالوں میں جہنمیلا سے مخاطب مریخی شہزادے نے جیب سے موبائل نکالا اسے بھی تھوک لگا کے صاف کیا اسکی اسکرین پہ لگی شیشے والے وال پیپر کو دیکھ کے اسُے یاد آیا کہ وہ مریخ سے جو ہئیر بُرش لایا ہے اسُ میں تو” شیشہ” لگا ہوا ہے اسُ نے اپنے سر پہ ایک شرارتی چپت لگائی اور “برش کے شیشے “میں دیکھ کے بال بنانے لگا۔۔۔ اتنی دیر میں مشتری خالہ نے دروازے کے کنارے اوپر کو لگی گھنٹی دبائی اور گھر کے اندر کا بلب روشن ہوگیا ، جہنمیلا کا چھوٹا بھائی سمجھ گیا کہ باہر کوئی گھنٹی بجا رہا ہے تو اُس نے دروازے کے قریب کھڑے ہوکر چوں چوں چوں چوں چوں کی گھنٹی نما آوازیں نکالنی شروع کردیں ، اور پورے گھر کو اطلاع ہوگئی کہ دروازے پہ کوئی آیا ہے ( جہنمیلا کو ڈائریکٹ گھنٹی بج جانے والی گھنٹیوں سے ہمیشہ ہی الجھن رہی تھی یہ بلب جلواکے چوں چوں ولاآئیڈیا بھی اُسی کا تھا ) جہنمیلا ۔۔۔ جلدی دروازہ کھول دے آنے والا تو لگتا ہے گھنٹی پہ ہاتھ رکھ کے بھول گیا ہے آخر میرا بچہ کب تک چوچوچوچوچو کرتا رہیگا چھمّو خالہ چلّائیں ۔۔۔

اور جہنمیلا پھولتی سانسوں اور پسلیاں توڑتی دھڑکنوں کو انہیلر کی ایک چُسکی لگا کے سنبھالتی دروازہ کھول دیتی ہے ۔۔۔

سامنے دیکھ اسکی اوپر کی سانس نیچے اور نیچے کی سانس اوپر رہ جاتی ہے ، آخر کو “ جس کا تھا انتظار وہ شاہکارآگیا” والی مثال جو پوری ہوگئی تھی

جہنمیلا کا مریخی کزن یعنی” ہُدہُدائی سکندر “اپنی بھرپور مردانہ وجاہت کے ساتھ ، اپنے گھنے گھنگریالےکاے براؤن بالوں کو تھُوک سے سلیقے سے جما ئے ،ماتھے پہ بالوں کا چاند بنائے، آنکھوں میں بھر بھر سُرمہ ڈالے( شیدے کسوڑے کو مات دیتا )پان کی لالی سے رنگے لال ہونٹ ، مُنہ میں داہنی طرف گُٹکا اور بائیں طرف “ کیپسٹن “ کے سگریٹ سے دھواں اُڑاتا، گُوچی کا سُوٹ اور ہاتھ میں نائیکی کا بیگ انگلیوں میں زمرد اور ہیرے کی انگوٹھیاں پہنےاور بغل میں ماں کو ساتھ لئے کھڑا تھا جہنمیلا اور وہ ایکدوسرے کی آنکھوں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر کھو گئےاور جنموں سے پیاسی آنکھوں کو دید کے مشروب سے سیراب کرنے لگے ، جہنمیلا کو اسکی سرگوشیاں اورہُدہدائی سکندر کو اس کے خاموش پیغام سُنائی دینے لگے،ہوش تو دونوں کو جب آیا جب “ لیلیٰ “ کی بوڑھی ماں پیچھے سے آکے کالی کھانسی کی کھوں کھوں کرنے لگیں اور اس کھانسی کی چھینٹیں جہنمیلا اور ہُدہدائی کو حقیقی دنیا میں واپس لے آئیں ارے خالہ،

آپ یہاں ؟ ہدہدائی سکندر نے سوال داغا

ہاں بیٹا۔تمہاری ماں مُشتری میری بچپن کی سہیلی ہے میں نے سوچا چل کے اُسے سرپرائز دوں لیلیٰ کی ماں نے جہنمیلا کو تنقیدی نظروں سے گھورتے جواب دیا ۔۔۔ آئیے خالہ اند آئیے مگر یہ کیا ؟ مُشتری خالہ کہاں گئیں ؟

مشتری خالہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو خالہ کو زمین پہ محوِ استراحت پایا وہ دراصل جہنمیلا کے حُسن کی شعاعوں کی تاب نا لاسکیں اور بے ہوش ہوگئیں بالآخر ہدہدائی سکندر نے اپنی ماں کو کاندھے پہ اٹھایا اور جہنمیلا کے آنچل کا دامن پکڑے ، کسی اندھے کی طرح جہنمیلا کی سِیدھ میں چلتا چارپائی تک آیا اماں کو چارپائی پہ منتقل کیا اماں کی بے ہوشی ہدہدائی کے لئے ایک سُنہری موقع تھا وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے جہنمیلا کاتفصیلی جائزہ لینے لگا اتنی دیر میں پورا گھر چارپائی کے گرد جمع ہوگیا اور سب ایک دوسرے سے ملنے لگے لیکن ہُدہدائی کیا کرتا اُسکے دیدے تھے کہ جہنمیلا کے سادگی بھرے رُوپ کا دیوانہ وار طواف کررہے تھے ۔۔۔ اور وہ نظروں ہی نظروں میں جہنمیلا کو برقی پیغام دینے لگا ۔۔۔جہنمیلا” خدا کا واسطہ ہے مجھ پہ اپنی سادگی اور پھرتیوں کی بجلیاں نا گراؤ ورنہ تمہارا دیوانہ بھی اپنی ماں کی طرح تمہارے حسن کی تاب نا لاتے ہوئے بیہوش ہوجائیگا “ اور جہنمیلا اسکےبرقی پیغام کے جواب میں ایک مرتبہ پھر خالی میسج بھیج دیتی ہے کیونکہ عاشق کی دیوانگی کے اظہار کے شکرئیے کے لئے لفظوں کی کھُرچن کی ضرورت جو نہیں ہوتی

Kesi lagi Apko Phurteeli heroin ki yeh qist? Rate us now

Rating
Home » 2023 » 09