Rishta ek aam si kahani urdu ki

“رشتہ اردو کی کہانی: ایک دلکش تجربہ”

بی جان اجی سنتئ ہو؟ بڑی خوشخبری لیکر آئی ہوں
نصیبا بوا ہانپتی کانپتی گھر میں داخل ہوئیں وہیں سے پکاریں
بئ جان بد مزا سی ہوئیں ابھئ نماز سے فارغ ہو کر تخت پر ہی کمر ٹکانے کو نیم دراز ہوئی تھیں ۔ بد اخلاق نہ

تھیں جبھی پکار کر انہیں یہیں آنے کا کہہ ڈالا نصیبب بوا سیدھا بی جان کے پاس چلی آئیں بیٹھنے سے پہلے ہی خوشی سے پھولے نہ سماتی بولیں
لو بہن اس بار تو ایسا رشتہ لائی ہوں انکار کر ہی نہ سکو گی۔ اتنی بہترین لڑکی سیٹیلائٹ سے بھی ڈھونڈو گی نہیں ملے گی۔
بی جان سونے کے ارادے سے لیٹئ تھیں انکے لیئے جگہ بناتی اٹھ بیٹھیں ذرا نخرے سے ناک چڑھا کر بولیں
ہوگی تو اسی دنیا کی نا ایسی کیا انوکھی خبر لائی ہو۔
نصیبا بوا انکے پہلو میں جگہ بناتی بیٹھ کر فاتحانہ انداز میں بولیں۔
وہی تو لڑکی اس دنیا کی ہی نہیں ہے۔ خلائی مخلوق ہے۔ عجوبہ سیارے سے ہے۔ پڑھی لکھی باادب مشتری سے امور خانہ داری کی ہی سند لی ہے کوئئ بھلی سی سب سے بڑی بات باادب ہے دنیا میں رہتی ہے سب ڈھنگ سیکھ لیئے ہیں۔
انکی باتوں سے بی جان کو بھی اشتیاق محسوس ہوا سیدھی ہو بیٹھیں۔نصیبن بوا نے بٹوے میں سے تصویر نکال کر سامنے رکھ دی۔
کیا خوبصورت نین نقشہ تھا۔ بڑی بڑی چار پانچ آنکھیں لمبے بال ہرا کھلتا ہوا رنگ۔ انہیں ایکدم شکلا پسند آگئ۔
نصیبن بوا نے انکے تاثرات سے اندازہ لگایا پھر اپنی معلومات کو دس سے ضرب دے کر انہیں مزید متاثر کرنے کی کوشش کرنے لگیں
دیکھو کیسا کھلتا ہوا ہرا رنگ ہے، اچھا کھانا بنا لیتئ ہے صرف دنیا ہی نہیں مریخ کے بھی کھانوں کو بنانے میں ماہر ہے۔ آٹھ نو ہاتھ ہیں پلک جھپکتے سب کام کر لیتئ ہے اور تو اور پلوٹو میں لڑکی کے نام پلاٹ ہے۔ شادی پر گھر بنوا کر۔۔
جوش خطابت میں وہ سب ایک ہی سانس میں بتاتی چلی گئیں۔ پلوٹو۔ اتنا دور۔ بی جان پر جیسے مانو ایکدم اوس ہی گر گئ۔
ہاں پلوٹو کو کم نہ سمجھو بہت بڑا سیارہ ہے۔ نصیبا بوا سمجھیں کہ شائد بی جان کی معلومات کم ہے۔
ہوں۔ بی جان نے گہری سانس کھینچی۔
ٹھیک ہے مگر دل نہیں مان رہا دیکھو نا میرا اکلوتا بیٹا ہے سو ارمان ہیں میرے۔ عجوبہ کونسا سیارہ ہے نام ہی نہیں سنا ۔کوئی Jupitor کی لڑکی دکھائو میرا لڑکا وہیں جانا چاہتا ہے ۔ اگر لڑکے کو وہ لوگ وہیں سیٹ کرادیں تو اچھا ہے۔
انکی بات۔۔ نصیبن بوا کی خوش امیدوں کے غبارے سے ایکدم ہوا نکال گئ ۔ ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں۔
اچھا اگر یہ ہی شرط ہے تو دیکھتی ہوں jupitor کی کوئی لڑکی بھی۔ ذرا پانی تو پلائو۔
بی جان کو اندازہ تھا کہ برا مان گئیں جبھی انکا گھٹنا دباتی بولیں
پانی کیا کھانا وانا کھا کر جانا میں ابھی چائے بھی بنواتئ ہوں۔
انہیں کام تھا ابھئ نصیبن بوا سے سو اتنی مدارت خوشی خوشی کر سکتی تھیں۔
نصیبن بوا نے سر ہلادیا یہ نیم رضامندی تھی۔ بی جان اٹھیں تو گہری سانس لیکر انہوں نے تصویر دوبارہ بٹوے میں ڈال دی۔ بٹوے سے ایک اور تصویر باہر نکلنے لگی تو اسے بھی ٹھیک کرنے لگیں
یہ jupitor کی لڑکی کی تصویر تھی۔ اسکے گھر والوں کو انہوں نے بی جان کے لڑکے کی تصویر دکھائی تھی تو بی جان کی ہی قبیلے کی وہ خاتون تھیں شائد ناک چڑھا کر بولیں
یہ دنیا کالڑکا؟ آج کل دنیا میں رہتا ہی کون ہے۔ نا شکل اچھی نا کسی دوسرے سیارے میں نوکری ۔ بہن ہمیں کوئی ایسا لڑکا دکھائو جو مارز کا رہائشی ہو شکل صورت سے بھئ کم ازکم میری بیٹی کے جوڑ کا تو ہو۔ اب دنیا میں تو اپنی لاڈوں پلی اکلوتی بیٹی کو دھکیل نہیں سکتی نا۔۔
kuch acha perho

urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen

Anokhi ( Pakistani super heroin) Episode 1

وہ ایک عام سا دن تھا جب انوکھی کو ٹی وی سےخبر ملی کہ فلاں علاقے میں ایک پرانی عمارت میں آگ لگ گئ۔ پہلے تو انوکھی نے سوچا فائر برگیڈ کو فون کرے پھر خیال آیا کہ فائر برگیڈ تو ٹی وی پر صاف آگ بجھاتی نظر آرہی ہے۔ پھر بھی انوکھی نے جا کر جان تو بچانی تھی لوگوں کی۔ انوکھی اٹھی نہا دھو کر تیار ہوئی اپنا پسندیدہ نیلم کا لاکٹ سیٹ پہنا اسکے ساتھ بندے نہیں تھے۔ اب انوکھی نے سوچا کوئی اور سیٹ کے نکال کر پہن لے۔ انوکھی نے ساری سنگھار میز الٹ کر دیکھ لی ہر دراز سے چیزیں نکال لیں کوئی بندہ میچ نہیں کر رہا تھا۔ مجبور ہو کر اپنے پہلے سے پہنے بندوں میں ہی دنیا کو بچانے کا ارادہ کیا۔ اپنا پسندیدہ مارول کا لباس پہنا اور ہلکا پھلکا میک اپ کرکے باہر نکل آئی۔ سامنے پڑوس کے مجو کی سائیکل کھڑی نظر آئی اس نے وہی لی اور فلاں علاقے کی طرف چل پڑی۔ فلاں علاقے میں خوب ہنگامہ تھا۔ پولیس اور فائر برگیڈ عمارت سے زخمیوں کو نکالنے میں لگے ہوئے تھے۔ اس نے خود کو مصروف ظاہر کرنے کیلئے عمارت کا جائزہ لینا شروع کیا سائکل سے دو تین چکر ہی لگائے ہوں گے کہ کچھ بچوں نے آواز دی۔ باجی اپنا دوپٹہ سنبھالیں پہیئے میں آجائے گا۔ اپنے اتنے مہنگے جدید طرز کے مارول لباس کا دوپٹہ تو وہ پہننا بھول ہی گئ تھی۔ اس نے مڑ کر بچوں کو دیکھا۔ تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو یہ جگہ محفوظ نہیں بھاگو یہاں سے۔ بچے ہنسنے لگے ۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کچھ کالی رسیاں نظر آئیں اس سے بچوں کو باندھ کر اڑا کر وہاں سے دور چھوڑ دیا۔بچے چلائے کیا کر رہی ہیں باجی ہم اپنے گھر سے دو کلومیٹر دور آگئے ہیں واپس کیسے جائیں گے؟ ایک بچی کو مزا آیا بولیباجی ایک اور پینگ دے دیں۔ ان میں جو سمجھدار بچہ تھا شکر ادا کرنے لگا کہ آگ لگنے کی وجہ سے علاقے کی بجلی منقطع تھی ورنہ باجی نے رسی سمجھ کر جن بجلی کی تاروں باندھ کر انہیں اڑا دیا تھا ان میں برقی رو ہوتی تو وہ سب تکے بن جاتے۔ انوکھی کا کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ واپس فلاں علاقے میں سائکل چلا کر آئی تو دیکھا عمارت خالی ہوچکی تھی پولیس اور فائر برگیڈ اپنا کام مکمل کر چکے تھے سب زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جا چکا تھا اب صفائی کی جا رہی تھی۔ انوکھئ کو ملال ہوا مگر خوشی بھی تھی کہ اس نے عمارت سے باہر کھیلتے بچوں کو کئی کلو میٹر دور صحیح سلامت پہنچا دیا تھا۔وہ گہری سانس لیکر سائکل پر واپس پلٹنے کو تھی کہ اسے کچھ فاصلے پرایک میلے حلیئے میں عمارت کنارے اکڑوں بیٹھا ایک شخص آگ سے ہاتھ سینکتے ہوئے نظر آیا۔ مئی کے مہینے میں آگ سے ہاتھ کون سینکتا یہی سوچ کر اس نے آگے بڑھ کر اسکو بچایا اٹھا کر کھڑا کیاآدھے گھنٹے کی جھاڑ پلائی آگ کے نقصانات پر اور یہ بھی جتایا کہ آج انوکھی نے بچا لیا ورنہ وہ تو جل کر مرجاتا۔ خاموشی سے سنتا وہ شخص جوابا مسکرا کر بولا شکریہ انوکھی ویسے میں ویلڈنگ کر رہا تھا۔ ویسے تم جیسی لڑکی ہی مجھے پسند ہے کیا مجھے تمہارا نمبر مل سکتا ہے؟انوکھی غصے سے آگ بگولا ہوگئ۔ تن فن کر تی سائکل پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آئی۔ راستے میں اس نے سنا مسجد سے تین بچوں کی گمشدگی کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ واپس گھر پہنچی تو امی جھاڑو لیئے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ مجو اپنی ماں کا دوپٹہ چباتے رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ مجو کی ماں ہاتھ نچا کر لڑ رہی تھی۔ دیکھ لیں انوکھی مجو کی سائکل لیکر نکل گئ تھی۔ میرا بچہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا الٹا آپ نے اسے چوری کا الزام لگانے پر جھاڑو سے پیٹ دیا۔ میرا بچہ سوکھے کی بیماری کا شکار ہواتو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ انوکھئ کی امی نے اس بار خاموشی سے سنا سر ہلایا جھاڑو سیدھی کی۔ اس بار انکا ارادہ انوکھی کی پٹائی کا تھا۔

سبق: کبھی دوسروں کے بچوں کو نہ پیٹیں اپنے بچوں کو پیٹا کریں بس۔ ورنہ محلے والوں سے جھگڑا ہوجائے گا