Anokhi ( Pakistani super heroin) Episode 1

وہ ایک عام سا دن تھا جب انوکھی کو ٹی وی سےخبر ملی کہ فلاں علاقے میں ایک پرانی عمارت میں آگ لگ گئ۔ پہلے تو انوکھی نے سوچا فائر برگیڈ کو فون کرے پھر خیال آیا کہ فائر برگیڈ تو ٹی وی پر صاف آگ بجھاتی نظر آرہی ہے۔ پھر بھی انوکھی نے جا کر جان تو بچانی تھی لوگوں کی۔ انوکھی اٹھی نہا دھو کر تیار ہوئی اپنا پسندیدہ نیلم کا لاکٹ سیٹ پہنا اسکے ساتھ بندے نہیں تھے۔ اب انوکھی نے سوچا کوئی اور سیٹ کے نکال کر پہن لے۔ انوکھی نے ساری سنگھار میز الٹ کر دیکھ لی ہر دراز سے چیزیں نکال لیں کوئی بندہ میچ نہیں کر رہا تھا۔ مجبور ہو کر اپنے پہلے سے پہنے بندوں میں ہی دنیا کو بچانے کا ارادہ کیا۔ اپنا پسندیدہ مارول کا لباس پہنا اور ہلکا پھلکا میک اپ کرکے باہر نکل آئی۔ سامنے پڑوس کے مجو کی سائیکل کھڑی نظر آئی اس نے وہی لی اور فلاں علاقے کی طرف چل پڑی۔ فلاں علاقے میں خوب ہنگامہ تھا۔ پولیس اور فائر برگیڈ عمارت سے زخمیوں کو نکالنے میں لگے ہوئے تھے۔ اس نے خود کو مصروف ظاہر کرنے کیلئے عمارت کا جائزہ لینا شروع کیا سائکل سے دو تین چکر ہی لگائے ہوں گے کہ کچھ بچوں نے آواز دی۔ باجی اپنا دوپٹہ سنبھالیں پہیئے میں آجائے گا۔ اپنے اتنے مہنگے جدید طرز کے مارول لباس کا دوپٹہ تو وہ پہننا بھول ہی گئ تھی۔ اس نے مڑ کر بچوں کو دیکھا۔ تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو یہ جگہ محفوظ نہیں بھاگو یہاں سے۔ بچے ہنسنے لگے ۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کچھ کالی رسیاں نظر آئیں اس سے بچوں کو باندھ کر اڑا کر وہاں سے دور چھوڑ دیا۔بچے چلائے کیا کر رہی ہیں باجی ہم اپنے گھر سے دو کلومیٹر دور آگئے ہیں واپس کیسے جائیں گے؟ ایک بچی کو مزا آیا بولیباجی ایک اور پینگ دے دیں۔ ان میں جو سمجھدار بچہ تھا شکر ادا کرنے لگا کہ آگ لگنے کی وجہ سے علاقے کی بجلی منقطع تھی ورنہ باجی نے رسی سمجھ کر جن بجلی کی تاروں باندھ کر انہیں اڑا دیا تھا ان میں برقی رو ہوتی تو وہ سب تکے بن جاتے۔ انوکھی کا کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ واپس فلاں علاقے میں سائکل چلا کر آئی تو دیکھا عمارت خالی ہوچکی تھی پولیس اور فائر برگیڈ اپنا کام مکمل کر چکے تھے سب زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جا چکا تھا اب صفائی کی جا رہی تھی۔ انوکھئ کو ملال ہوا مگر خوشی بھی تھی کہ اس نے عمارت سے باہر کھیلتے بچوں کو کئی کلو میٹر دور صحیح سلامت پہنچا دیا تھا۔وہ گہری سانس لیکر سائکل پر واپس پلٹنے کو تھی کہ اسے کچھ فاصلے پرایک میلے حلیئے میں عمارت کنارے اکڑوں بیٹھا ایک شخص آگ سے ہاتھ سینکتے ہوئے نظر آیا۔ مئی کے مہینے میں آگ سے ہاتھ کون سینکتا یہی سوچ کر اس نے آگے بڑھ کر اسکو بچایا اٹھا کر کھڑا کیاآدھے گھنٹے کی جھاڑ پلائی آگ کے نقصانات پر اور یہ بھی جتایا کہ آج انوکھی نے بچا لیا ورنہ وہ تو جل کر مرجاتا۔ خاموشی سے سنتا وہ شخص جوابا مسکرا کر بولا شکریہ انوکھی ویسے میں ویلڈنگ کر رہا تھا۔ ویسے تم جیسی لڑکی ہی مجھے پسند ہے کیا مجھے تمہارا نمبر مل سکتا ہے؟انوکھی غصے سے آگ بگولا ہوگئ۔ تن فن کر تی سائکل پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آئی۔ راستے میں اس نے سنا مسجد سے تین بچوں کی گمشدگی کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ واپس گھر پہنچی تو امی جھاڑو لیئے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ مجو اپنی ماں کا دوپٹہ چباتے رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ مجو کی ماں ہاتھ نچا کر لڑ رہی تھی۔ دیکھ لیں انوکھی مجو کی سائکل لیکر نکل گئ تھی۔ میرا بچہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا الٹا آپ نے اسے چوری کا الزام لگانے پر جھاڑو سے پیٹ دیا۔ میرا بچہ سوکھے کی بیماری کا شکار ہواتو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ انوکھئ کی امی نے اس بار خاموشی سے سنا سر ہلایا جھاڑو سیدھی کی۔ اس بار انکا ارادہ انوکھی کی پٹائی کا تھا۔

سبق: کبھی دوسروں کے بچوں کو نہ پیٹیں اپنے بچوں کو پیٹا کریں بس۔ ورنہ محلے والوں سے جھگڑا ہوجائے گا


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *