Din ki neeli chiryaدن کی نیلی چڑیا

ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ کیس نمبر 400

ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

نفسیات دان۔ 

عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

دن کی نیلی چڑیا

اس نے نگاہ اٹھا کر غور سے اپنے مقابل بیٹھے مریض کی شکل دیکھی۔ مکمل سفید کالر جاب کرنے والا حلیہ۔ گہرے نیلے تھری پیس سوٹ میں سرخ ٹائی سفید شرٹ سلیقے سے سنورے بال کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا وہ خوبصورت نوجوان تھا۔

نام ۔۔ ؟ اس نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائی

اگلا سوچ میں پڑ گیا تھا سوال سن کر۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر گہری ہونے لگی تو اس نے گہری سانس لیکر سوال بدل دیا۔

عمر؟ 

تین دہائیاں دیکھ چکا ہوں۔ 

اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا

تیس سال۔ سر جھکائے ہجوم تنہائی نے فارم پر عمر لکھ ڈالی

الجھن؟ 

پھر سوال کیا۔۔ اس بار نوارد کے چہرے پر بے چینئ اور گھبراہٹ سی چھا گئ۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے گہری سانس لی ۔ مگر پرسکون نہ ہو پایا۔ آگے ہو کر دونوں ہاتھ میز پر ٹکا کر رازدارانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی میں بولا۔

مجھے یہ خوف ہے کہ میں ایک دن اپنے دفتر میں اکیلا بیٹھا ہوں گا تو نیلے پروں والی چڑیا میرے دفتر کی گلاس ونڈو سے آئے گی اور مجھے چونچ میں دبا کر لے جائے گی۔ 

اس کی الجھن پر ہجوم تنہائی کی آنکھوں میں الجھن تیر گئ

آپکا دفتر کیا اونچے کسی فلور پر ہے؟ 

اسکے سوال پر نوارد کے چہرے پر مایوسی چھا گئ

گرائونڈ فلور پر ہے۔ پر روز میں دیکھتا ہوں میرے دفتر کے احاطے میں چڑیاں کوئے سب آتے ہیں انہوں نے آگے ایک باغیچہ بنا رکھا ہے جس کی دیکھ بھال کیلئے مالی بھی آتا ہے۔میں نے امر بیل لا کر ڈالی سب پودے جل گئے مگر مالی نے پھر باغیچہ ہرا بھرا کر ڈالا۔ اب تو چڑیوں کو دانہ بھی ڈالتا ہے۔ تتلیاں جگنو سب اڑتے پھرتے۔ مگر وہ نیلی چڑیا۔ وہ بس پھدکتی رہتی ہے وہاں اڑ کر کہیں جاتی بھی نہیں ہے۔ 

وہ جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ہجوم غور سے اسکی شکل دیکھتی رہی

چڑیا جب اڑ نہیں سکتی تو ڈر کیسا؟ وہ چونچ میں آپکو دبا بھی لے تو بھی۔۔۔ 

اس نے پیشہ ورانہ انداز میں اسکو سمجھا بجھا کر اسکی الجھن دور کرنا چاہی۔ 

وہ رو پڑا۔ ہجوم کو خوف سا محسوس ہوا۔ اسکی آنکھوں سے آنسوئوں کی دھاریں نکل رہی تھیں۔ اسی طرح روتا رہا تو کہیں اسکے دفتر میں سیلاب نہ آجائے۔ اس نے گھبرا کر ٹشو باکس اسکی جانب بڑھایا

آپ روئیں نہیں۔مجھے کھل کر بتائیں۔۔۔۔ جو چڑیا اڑ نہیں سکتی وہ آپکو کیوں لگتا ہے کہ کسی دن آپکو اکیلا پا کر چونچ میں دبا کر اڑ جائے گی؟ 

یہ اکیلے پن والی بات کیسے آپکو پتہ لگی؟ 

وہ رونا بھول کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ہجوم گڑ بڑا سی گئ

میرا مطلب اگر کوئی آپکے آس پاس ساتھ ہوگا تو بچانے کی کوشش کرے گا؟ یقینا ننھی چڑیا مزاحمت کا سامنا نہیں کر پائے گئ نا۔ تو یقینا وہ اکیلے میں ہی آپ پر حملہ کرے گی۔۔ 

اسکی وضاحت پر نوارد کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے

ہاں۔ یہ بات مجھے بھئ سمجھ آتی ہے۔ مگر اور 

کوئی نہیں سمجھتا میری بات۔ وہ اڑتی اسلیئے نہیں ہے کسی دن مجھ پر حملہ کرکے مجھے چونچ میں دبا کر ایک ہی دفعہ اڑ جائے گی۔ میں اسی لیئے اکیلا نہیں رہتا۔ کسی نہ کسی کے ساتھ ہی دفتر سے نکلتا ہوں۔ صبح آتے ہوئے بالکل لمبا راستہ اختیار کرکے اپنے ایک دوست کو مفت اپنے ساتھ گاڑی پر لے کر آتا ہوں۔۔ وہ ہنستا ہے مجھ پر مگر جب اس نیلی چڑیا کے پاس سے گزرتا ہے تو میرا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ 

وہ بھی یہی سمجھتا ہے نا کہ چڑیا مجھے لے اڑے گی جبھی ایسا کرتا ہے نا؟ 

آپکا دوست بھی چڑیا سے ڈرتا ہے؟ اسکو حیرانگی ہوئی

 یک نہ شد دو شد۔

نہیں۔ اسے چڑیا سے ڈر نہیں لگتا۔ اسے مجھ سے ڈر لگتا ہے۔ 

اس نے سر جھکا لیا۔۔ 

آپ سے کیوں ڈرتا ہے وہ؟ ہجوم کو اسکا معاملہ الجھا الجھا سا لگا تھا

وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میں ڈر ڈر کر مر نہ جائوں۔ وہ میرا ہاتھ تھامتا ہے تاکہ چڑیا کو لگے میں اکیلا نہیں ہوں۔

اس کی بات پر ہجوم نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ 

ایسا کریں آپ اپنے دوست کو بھی لے آئیں اگلی دفعہ۔ 

ہجوم کی بات پر وہ اچنبھے سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا دوست اسکے مطالبے پر حیران ہوا۔وہ دونوں صبح صبح کے وقت اکٹھے دفتر آرہے تھے۔ جب اس نے موڑ کاٹ کر دفتر کی ذیلی سڑک کی جانب گاڑی موڑی تو اسکا دوست دور سے دفتر کے احاطے میں پھدکتی نیلی چڑیا کو دیکھ کر الجھن بھرے انداز میں اس سے پوچھنے لگا

ذہنی الجھن میں مبتلا تم ہو اور نفسیات دان کے پاس میں جائوں کیوں بھلا ؟ 

چلو تو سہی۔ مجھے لگتا ہے نفسیات دان سمجھ گئی ہے ہمارا معاملہ۔ اس نے گاڑی پارکنگ میں لگا دی تھی۔ گاڑی بند کرکے وہ اتر کر لاک کرنے لگا جب جارحانہ انداز میں اسکا دوست پسنجر سیٹ سے اتر کر اسکی جانب آیا اور غصے سے کہنےلگا

ایک منٹ۔ ایک بات صاف ہے یہ مسلئہ معاملہ ذہنی الجھن تمہاری ہے میرا کوئی لینا دینا نہیں اس سے۔ جائو اپنی بیمار سوچ کا علاج کرائو سمجھے تم۔ پہلے ہی تمہارے خوف کو دور کرنے کی خاطر جو میں تمہارا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں نیلی چڑیا کے سامنے سے گزرتے اس پر لوگ مجھ پر ہنستے ہیں مزاق اڑاتے ہیں۔ خود تو تم پاگل ہو رہے ہو مجھے بھی سب پر پاگل ثابت کرنے لگے ہو۔ وہ بات مکمل کرکے غصے سے مڑ کر تیز قدم اٹھاتا اندر جانے لگا۔ 

رکو بات سنو۔ اسے اندر کی جانب بڑھتے دیکھ کر اسکی جیسے جان نکلنے کو آگئ۔ اس وقت صبح صبح کا وقت تھا احاطے میں رش بھئ نہ تھا اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا دوست کیا نہیں جانتا تھا کہ اسے اکیلا پا کر نیلی چڑیا اسے لے اڑے گی؟ 

بات سنو۔وہ پکارتا اسکی جانب لپکا۔ مگر اسکا دوست رکا نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا اندر دفتر کی جانب بڑھ گیا۔ 

نیلی چڑیا پھدکتی ایکدم ان دونوں کے بیچ میں آئی تھی۔ اسکے خوف کے مارے قدم جم گئے تھے۔ چڑیا نے ہوا میں جست لگائی اور سیدھا اسکی کھوپڑی پر آن بیٹھی۔ 

اسکا دھڑ دھڑ کرتادل سکڑ کر جیسے لمحہ بھر کیلئے رک ہی گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے آج کلینک  میں آنے میں دیر ہوگئ تھی۔ اسکی پہلی اپائنٹمنٹ کا وقت ہو گیا تھا ۔ وہ تیزی سے اندر آئی تھی جب ریسیپشنسٹ نے اسے عجلت میں آتے دیکھ کر جلدی سے یاد دہانی کرائی۔ 

وہ چڑیا والا مریض اندر بیٹھا انتظار کر رہا ہے اور آج تو وہ اپنے ساتھ چڑ۔۔۔ 

سر ہلاتے وہ اسکی بات سنے بنا سیدھا اپنے دفتر کا گلاس ڈور کھول کر اندر گھس گئ۔ اپنا گرم اوور کوٹ اتار کر ایک جانب اسٹینڈ پر ٹکاتے وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتی اپنی کرسی پر عجلت میں آن بیٹھی

معزرت معزرت مجھے دیر ہوگئ در اصل راستےمیں مجھے۔ یہ۔۔ یہ کیا۔

اپنا رجسٹر دراز سے نکال کر میز پر رکھتے اس نے نگاہ اٹھائی تو میز پر پھدکتی اس نیلی چڑیا کو دیکھ کر چونک سی گئ۔ 

مریض اسکے چونکنے پر ہنس دیا۔

یہ ۔۔ یہ وہی چڑیاہے۔ اسے حیرت ہوئی  گہرے نیلے پروں والی وہ چڑیا تھوڑی مختلف تھی۔ اسکے پر چھوٹے پنجے بڑے تھے۔

اس نے انگلی سے احتیاط سے اس چڑیا کو چھونا چاہا مگر وہ چونچ مار کر دور ہو گئ۔ 

ہاں یہ وہی چڑیا ہے۔ مریض نے احتیاط سے اسے اٹھالیا۔ اسکی دونوں ہتھیلیوں میں چڑیا بڑے اطمینان سے پر سمیٹ کر بیٹھ گئ تھئ۔ 

اس دن میرا دوست مجھے اکیلا چھوڑ گیا تھا احاطے میں تب یہ چڑیا مجھے اکیلا پا کر میرے سامنے آگئ۔ اس نے جست لگا کر میرے سر پر آن کر میرے بالوں کو اپنی چونچ میں دبا کر اڑنا چاہا تب مجھ پر انکشا ف ہوا اسکے تو پنجے بہت بڑے ہیں اسکے پر اسکے پنجوں کا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکتے جبھی تو یہ اڑ نہیں پاتی۔ 

وہ ہنس دیا۔

میں کتنا پاگل تھا اس چڑیا سے ڈرتا رہا اب اسکو میں نے پال لیا ہے۔ یہ اکثر میرے سر پر آن بیٹھتی ہے اور۔ 

یہ دیکھیں۔

اس نے چڑیا کو اپنے سر پر بٹھا لیا۔ 

ہجوم اسے چپ چاپ دیکھتی رہی۔چڑیا نے طائرانہ جائزہ لیا اسکے دفتر کا۔ اسکے دفتر کی گلاس ونڈو کھلی تھی۔ ہوا سے پردہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس نے جست لگائی اور سیدھا اس کھڑکی کی درز سے اڑ کر باہر نکل گئ۔ 

رکو۔ ارے رکو سنو۔ 

مریض اسکے پیچھے بد حواسوں کی طرح بھاگا تھا کھڑکی سے ٹکرا کر بمشکل رکا مگر طائر موقع پاتے ہی آسمان کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ وہیں کھڑکی سے لگ کر آنسوئوں سے رونے لگا۔ 

دیکھیں پلیز مت روئیں۔ہجوم جو بھونچکا سی اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی بے ساختہ اپنے دونوں پائوں کرسی پر اونچے کرکے اسے ٹوکنے لگی۔ 

نیلئ چڑیا اڑ گئ۔ چلی گئ میری زندگی سے میں تو اب اس سے ڈرتا بھئ نہیں تھا۔ کیوں اڑ گئ۔ اسکے تو پائوں اتنے بڑے تھے۔ 

وہ پردے سے الجھا بیٹھا بین کرتے ہوئے روئے جا رہا تھا۔

مگر دیکھیں اسکے پائوں جتنے بھی بڑے تھے پر انکا بوجھ اٹھا سکتے تھے جبھی تو وہ اڑ گئ نا؟آپ مت روئیں دیکھیں سیلاب آجائے گا یہاں۔ 

وہ اپنے دونوں پائوں اوپر کیئے پریشان ہو رہی تھی۔ 

مریض کا رونا ختم نہیں ہو رہا تھا۔ 

اس نے انٹرکام پر اپنی منتظم کو بلا ڈالا۔ وہ بھی ریسیپشن چھوڑ کر بھاگی آئی۔ 

قنوطی یہ انکو باہر لے جائو پانی وانی پلائو یہ تو دفتر آنسوئوں سے بھر دیں گے۔ 

ہجوم کے کہنے پر اس نے ٹھٹک کر اس روتے شخص کو دیکھا

کیوں رو رہے ہیں یہ؟ وہ حیران ہو رہی تھی اتنا بھرپور جوان یوں بچوں کی طرح ایڑھیاں رگڑتا ذرا اچھا نہ لگ رہا تھا

انکی نیلی چڑیا اڑ گئ ہے۔ ہجوم نے ناک چڑھا کر جواب دیا تووہ کھلکھلا دی

اچھا وہ۔خیالی چڑیا۔ جتنی دیر آپ نہیں آئی تھیں یہ مستقل نیلی چڑیا کی فرضی کہانی سناتے رہے کہہ رہے تھے انکر سر پر بیٹھی ہے اسکے پائوں بڑے وہ اڑ نہیں سکتی پائوں بڑے ہونے کی وجہ سے

قنوطی ہنس ہنس کر بتا رہی تھی ہجوم سے سخت چڑ کر گھورا

بھاڑ میں ڈالو نیلی چڑیا کو اس بندے کو باہر لیکر جائو سار دفتر پانی پانی کر رہا ہے رو رو کے میرے دفتر میں سیلاب نہ آجائے

ہجوم کے کہنے پر قنوطی نے ذرا دھیان سے اسکی شکل دیکھتے ہوئے مزاق کی رمق تلاشی مگر وہ مکمل سنجیدہ تھی۔ 

قنوطی نے ٹھنڈی سانس بھری اور مریض کو اٹھانے لگی

میری چڑیا اڑ گئ۔ 

قنوطی کا سہارا لیکر اٹھتا دن بین کر رہا تھا

چڑیا ہی تو تھی آسمان ہی اسکا اصل ٹھکانہ تھا جانے دیں۔ آپ کوئی اور فکر پال لیں۔قنوطی کی دلجوئی کا خاطر خواہ اثر ہوا وہ آنسو پونچھتے اٹھنے لگا۔ اسے سہارا لیکر باہر لے جاتے قنوطی نے مڑ کر دیکھا ہجوم ابھی بھی کرسی پر دونوں پائوں اوپر کیئے بیٹھی تھی کھڑکی کے پاس اسے اسکے آنسوئوں کا سیلاب نظر آرہا تھا ۔۔ 

اس نے گہری سانس لی۔ اور سوچا۔۔

ہجوم کو تنہائی میں آنسوئوں کے سیلاب ہی نظر آتے ہیں مگریہ بھی حقیقت ہے ان سیلابوں میں کہاں کوئی ڈوب پایا ہے۔۔۔۔۔۔خوامخواہ کا وہم پال رکھا ہے ہجوم نے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔

Alone? Join Hajoom

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ رودادپڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Bookmark : urduz.com/

kuch acha perhoSalam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

Mungtay (maangnay walay) urdu suspense afsana about graveyard (qabrustan)

منگتے۔۔۔ 


جھٹپٹے کا وقت۔ اندھیرا برق رفتاری سے اپنے پر پھیلا رہا تھا ۔شہر خموشاں میں مہیب چپ طاری تھی ۔ پر

دور کہیں ایک نوجوان ایک قبر پر بے سدھ اوندھا پڑا تھا۔ دور کہیں کتے بھونکے تھے ۔ سناٹے نے ناگواری سے اس آواز کے منبع کو گھورا ۔ بے ہوش 
پڑے انسان کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھی
قریبی مسجد سے مولوی نے گلا کھنکھار کر اذان دینا شروع کی۔
اللہ و اکبر ۔مدہوش پڑے جسم میں یوں حرکت ہوئی جیسے خدا کے نام سے سوکھے تنوں میں جان پڑگئ۔ گہری سانس لیکر عابد اٹھ کھڑا ہوا ۔
ایک اور دن تمام ہوا۔ اسکی توانائی اتنی سی بڑبڑاہٹ میں پوری ہو چلی۔ اس نے گہری سانس لیکر اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی ۔اور پوری جان لگا کر پکار بیٹھا۔۔ 
کوئی ہے جو مجھ پر رحم کرے۔۔۔ ؟؟؟

کلمہ شہادت۔۔ 
کسی نے اونچی آواز میں پکارا۔ جنازہ اٹھائے لوگوں کا ایک گروہ چلا آرہا تھا۔ غمگین چہرے بھرائی آواز میں کلمہ شہادت دھراتے ۔دور تازہ کھدی قبر بنانا گورکن ہوشیار ہوا۔ پھائوڑا رکھ کر مئودب ہو کر کھڑا ہوگیا۔  ہر آتا جنازہ اسے دنیا کے فانی ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ ایک دن یہیں کوئی اور کھڑا میری قبر کھود رہا ہوگا۔ خیال زور آور تھا۔ خوفناک بھی۔ پہلو بدل کر گورکن  نے اپنی سوچوں سے پیچھا چھڑانا چاہا۔لوگوں نے۔ جنازہ قبر کے قریب لاکر احتیاط سے رکھا۔ اور دفنانے کی تیاری کرنے لگے۔

عابد ان سب پر نظر جمائے ایسا ہی ایک وقت یاد کر رہا تھاجب اسکی نظر لوگوں سے کچھ دور ہٹ کر کھڑے شخص پر پڑی۔ ملول اداس سا وہ جنازے پر نظر جمائے کھڑا تھا۔عابد اسکے پاس چلا آیا اسکے قریب جا کر کندھے پر ہاتھ رکھا تب جاکے وہ چونکا
عابد نے دوستانہ انداز میں دیکھتے ہوئے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔ 
اسلام و علیکم کیا حال ہے؟ میرا نام عابد ہے اور آپکا؟۔۔
جہانگیر بے ساختہ ہنس دیا۔اسکی ہنسی میں کاٹ سی تھی۔ 
سلامتی بھیج رہے ہو؟ اب مجھے ضرورت نہیں ۔۔ جہانگیر کہتے ہیں مجھے۔ عابد مسکرا دیا۔ ہر نفس سلامت رہتا ہے کبھی قبرستان کے پاس سے گزرتے بھی زی نفسوں کو سلام کیا جاتا ہے اسلام و علیک یا اہل قبور۔۔ اور وہ جواب دیتے ہیں۔۔ 
جہانگیر زندوں اور مردوں کی اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔ بائیں ٹانگ پر جسم کا بوجھ ڈالتا پہلو بدل کر یونہی بیزاری سے جنازہ دفن ہوتے دیکھتا رہا۔اسکے روکھے پھیکے انداز پر عابد کافی حیران ہوا۔اسکی توانائیاں بحال ہوئی تھیں مگر بہت زیادہ نہیں سو وہیں تھک کر ایک قبر پر بیٹھ گیا دونوں بازو گھٹنوں پر ٹکائے ۔خود بھی جنازے پر نگاہ جما دی۔۔ 
چند لمحے گزرے ہونگے اسے خیال آیا تو رخ موڑ کر جہانگیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں مجھ سے کچھ پوچھنا نہیں ہے؟
عابد کے کہنے پر جہانگیر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خود بھی جیسے کھڑا کھڑا تھک چکا تھا آکر اسی کے برابر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
اب مجھے کچھ جاننے کی احتیاج نہیں ہاں بتانے کی خواہش ہے زمان و مکاں کی حیثیت قدر قیمت سب بتائوں گا کوئی پوچھے تو سہی۔
اسکی بات پر عابد قہقہہ لگا کر ہنسا تو ہنستا ہی چلا گیا۔” کوئی کچھ نہیں جاننا چاہتا ہے نہ پوچھنا چاہتا ہے اسی خواہش میں میں بھی روز اس قبرستان کا چکر لگاتا ہوں مگر لوگ خود تجربہ کرکے جاننا چاہتے ہیں نہ ہم سے پوچھتے ہیں نہ دیکھ کر عبرت لیتے ہیں۔
ہنستے ہنستے رک کر وہ بہت سنجیدگی سے کہتا کہتا رنجیدہ ہوچلا تھا۔۔جنازہ دفن ہو چکا تھا قبر کی مٹی برابر کر دی گئ تھی لوگ پلٹنے لگے تھے ایک شخص قبر سے لپٹ کر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔چند لوگ دلاسے کو آگے بڑھے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا کوئی گلے سے لگانے لگا۔صبر کرو جو اللہ کو منظور۔ 
یقینا اسکا مرنے والے سے قلبی رشتہ تھا عابد نے تجسس سے مغلوب ہو کر جہانگیر کوٹہوکا دیا۔
یہ کون ہے؟لگتا ہے اسے بہت صدمہ ہوا ہے۔
جہانگیر نے متاثر نہ ہونے والے انداز میں سر جھٹکا ۔چھوٹا بھائی ہے میرا۔ تین سال سے ہماری بول چال بند ہے۔ جائداد کی تقسیم پر اس نے مجھ پر حق سے زیادہ غصب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اب ایسےرو رہا ہے جیسے۔۔ 
بولتے بولتے جہانگیر کے دل سے ہوک سی اٹھی جملہ ادھورا چھٹا آنسو گالوں پر ڈھلک آئے۔عابد نے سمجھ کر دلاسادینے والے انداز میں اسکے کندھے پر تھپکی دی۔ 
یہی تو خون کی کشش ہوتی ہے ماں جائے کو تکلیف پہنچتی ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ تین سال پہلے میرا بھائی مجھ سے ملنے آیا تھاٹانگ پر پلستر تھا بیساکھی اور بھتیجے کے سہارے آیاتھا۔  اسے دیکھ کر تڑپ اٹھاتھا میں ضرورت کیا تھی اسے اتنی صعوبت جھیلنے کی مگر مجھے بھولا نہیں خود تکلیلف میں مگر مجھ سے ملنے آیا۔ اتنی محبت کرتا ہے مجھ سے
اسکے انداز میں کہتے کہتے تفاخر عود آیا آنکھوں میں وہ منظر یوں تازہ تھا جیسے کل کی بات ہو۔جہانگیر کو اچنبھا ہوا۔
تین سال؟ تین سال سے تم سے ملنے تمہارا بھائی بھتیجا وغیرہ نہیں آئے اور تم کہتے ہو وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔۔ 
عابد اسکی حیرانی پر مسکرا اٹھا۔۔
محبت نہ کرتا تو یوں بیمار حال ملنے آتا مجھ سے؟ ہاں مصروف زندگی ہونگے زندگی کتنی تو تیز رفتار ہے کہاں روز روز پیچھے چھٹ جانے والوں کا خیال آتا ہے۔ کبھی کبھی آجائے بہت ہے۔مرنے والوں کو تووقت ٹھہرا ہے یا تیز چل رہا ہے کیا پتہ۔۔
جہانگیر ابھی بھی ماننے کو تیار نہ ہوا۔
پھر بھی تین سال بڑی مدت ہوتی ہے۔عابد اسکی حیرانی سمجھ رہا تھا یہ وہ منزل ہے جہاں حیرانیاں ہی حیرانیاں منتظر ملتی ہیں سمیٹے جائو۔۔ مگر بولا تو بس اتنا “انکیلئے۔۔ ہمارے لیئے تو پلک جھپکنے جتنا وقت ہے”
جہانگیر نے خاموشی میں پناہ لی۔ دور روتے لوگوں میں اسکا بھائی نمایاں تھا ابھی بھی بلک رہا تھا۔ 
جہانگیر تلملایا۔ روئے جا رہا ہے سالا مرے گا پہلے ہی دل کا مریض ہے”
عابد نے پھر محظوظ قہقہہ لگایا۔ 
سہہ چکا یہ صدمہ اسکا دل۔۔ کوئی نہیں مرتا کسی کے لیئے۔البتہ تم اب تل تل مروگے ان لوگوں کو دیکھنے کیلئے بھی۔۔ جائو آخری بار دیکھ لو جی بھر کر کچھ تو اب دوبارہ کبھی نظر نہ آئیں گے۔
جہانگیر کے بھائی کو چند لوگ سہارا دے کر قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے۔ 
ایسا نہیں ہو سکتا۔ 
جہانگیر کو اسکا قہقہہ اسکا انداز اسکے جملے سب ناگوار لگے مگر جانے اب اتنا غصہ وہ آگ وہ چڑ جو اسکی ذات کا خاصہ تھی زات کے کس کونے میں جا چھپی تھی۔ بولا تو انداز پر سکون سا تھا۔۔ 
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ بہن بھائیوں میں سب سے پہلی موت ہے میری دور و نزدیک سب ہی تو آئے ہیں۔مجھے دفنا کر اتنا رو رہے مجھے بھول تھوڑی جائیں گے۔ بہت وسیع حلقہ احباب ہے میرا سب رشتے دار نہیں تھے جو آئے میرے ہی کتنے دوست۔۔ 
جہانگیر کافی ہشاش بشاش اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا خود کو بولتے بولتے عابد کا  ستا ہوا چہرہ دیکھا تو چپ ہو رہا۔ وہ اسے جتانا تھوڑی چاہ رہا تھا یہ تو بس حقیقت بیان کی تھی اس نے۔۔۔ عابد اسے رشک بھری نگاہ سے  دیکھ رہا تھا۔ صاف شفاف آر پار دکھائی دیتی روح۔ حسد جلن جیسے جزبے تو موت کے ساتھ ہی مر چکے تھے۔ اب کیا مقابلہ کون کتنا چاہا جاتا کتنا دھتکارا جاتا۔ اب تو بس مٹھی بھر اعمال تھے جو زاد راہ تھے کسی کی ہتھیلی بھری کسی کی خالی جس کی بھری وہ سمیٹے ہتھیلی خالی ہونے کے خوف سے کانپتا خالی ہتھیلی والا بس صبر سے اپنوں کا انتظار کرتا کچھ دعائیں ڈال جائیں یہ منزل آسان ہو جائے۔
تمہاری پہلی رات ہے گھبرانا مت ۔ویسے خوش نصیب ہو جو اتنے ہشاش بشاش ہو لوگوں کی دعائیں  ساتھ ہیں۔ میں تو سڑک حادثے کا شکار ہوا تھا۔شناخت ممکن نہیں تھی۔ دو دن بعد گھروالوں کو اطلاع ہوئی تو میری لاش وصولنے آئے ۔عابد کا انداز ایسا تھا جیسے کسی اور کے بارے میں بتا رہا ہو۔ بے تاثر عام سا لہجہ۔ جہانگیر نے اسکی شکل پر دکھ تلاشنا چاہا مگر وہ مطمئن نظر آتا تھا۔۔ 
جہانگیر کو ترس پھر بھی آیا۔ 
کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیر سے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔۔ 
عابد اسکی نظریں خود پر جمی دیکھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ 
جہانگیر نے گڑبڑا کر موضوع بدلا
میں نے سنا ہے پہلی رات بہت مشکل ہوتی یے قبرستان میں؟ واقعی؟ تمہاری پہلی رات کیسی تھی؟
عابد گہری سانس لیکر کھڑا ہوگیا۔۔ 
قبرستان اب خالی ہو چکا تھا گورکن بھی اپنا پھائوڑا اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتا قبرستان سے نکل رہا تھا۔ ہر طرف دل کو دہلا دینے والی چپ کا راج تھا سناٹا اندھیرا۔۔ 
عابد نے چند لمحے سوچا۔۔ 
لفظوں میں کیا بیان ہو سکتی ہے اس دن کی وہ کیفیت؟ جہانگیر اب بھی منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے جملے ترتیب دیئے پھر ایک اور آہ بھر کے کہنے لگا۔
تنہا اکیلی اداس دہشت ناک اذیت ناک اپنوں سے دور اس اجاڑ بیابان میں تنگ اندھیری سی قبر کیسی ہو سکتی؟
اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر جہانگیر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
دس سال سے ہوں یہاں مگر آج تک پہلی رات نہیں بھولا جب یاد آئی پوری جزئیات کے ساتھ ایک ایک لمحے کی یاد  
وہ کہہ کر رکا نہیں ۔۔
جہانگیر کا رواں رواں ہمہ تن گوش تھا۔ ایک خوف کی اجنبی لہر نے پھریری سی دوڑا دی تھی۔ 
مگر یہ عابد۔۔ اس نے اب غور کیا۔ اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی وہ بہت نحیف اور کمزور دکھائی دیتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمان و مکاں انکیلئے کوئی اور ہی گھمن پھیریاں چلا رہا تھا۔ ایک دن گزرا مہینہ چالیسواں ہو گیا۔ عابد کی ایک بات سچ ثابت ہوئی سب نہیں آئے چالیسویں پر بھی کتنے ہی عزیز دوست اقارب وہ تلاشتا رہا۔ وہ نہیں آئے جن کا دکھ دیکھ کر لگتا تھا کہ شائد وہ غم کے مارے جلد اسکے پڑوس آبسیں گے۔ تو وہ وہ لوگ بھی آئے جن کے بارے میں گمان تھا کہ شائد جنازے پر خوشی سے شادیانے بجائیں گے۔ اتنے ملول نظر آئے کہ اپنے گمان پر پشیمانی ہونے لگی۔ مگر ابھی لوگ بھولے نہیں تھے اسے۔ جہانگیر اب بھی خوش تازہ دم دکھائی دیتا تھا۔ گالوں پر سرخی تھی۔ محبتوں سے مالا مال وہ جب عابد کو اپنی ہی قبر کا سہارہ لے کر اٹھتے دیکھتا چہرے پر نیرگی زمانہ کی دھول مٹی سے اٹے کپڑے پیلے زرد چہرے سے وہ نقاہت سے لڑکھڑاتا جب بھی جہانگیرسے نظر ملتی خوش دلی سے ہاتھ ہلاتا پھر بازو پکڑ کر وہیں بیٹھ رہتا۔ جہانگیر ترس بھری نگاہ سے دیکھتے پوری کوشش کرتا کہ جہانگیر انکو پڑھ نہ پائے مگر روح تو آئینے جیسی ہوتی ہے پردے کون ڈال سکتا بھلا چالیسویں کے بعد  لوگوں کا آنا کافی کم ہوگیا تھا۔ہاں ابھی وہ اپنوں کی دعائوں میں زندہ تھا۔۔سو خوش تھا۔۔ مگر کب تک؟۔وقت گزر رہا تھا اسکی توانائیاں کم ہونے لگی تھیں۔ اب وہ پہلے سا ہشاش بشاش نہیں رہا تھا۔ قبرستان میں لوگوں کی آمد جاری و ساری تھی مگر سب اجنبی شکلیں۔نئے آنے والوں تک جانےکی ہمت نہ رہی پڑوس میں تو سب جیسے مرےپڑے تھے۔پڑے تھے بھی یا کہیں اور کا راستہ ناپ چکے تھے۔ بس ایک قریب عابد ہی کھانستا نظر آجاتا تھا۔۔ یہی حال رہا تو جلد اسکا حال بھی عابد جیسا ہی ہوجانا تھا۔۔۔اس نے جھر جھری سی لی۔ اسے سردی سی محسوس ہو رہی تھی بلکہ سرد مہری ذیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کسی ننھے بچے کی طرح خود کو سمیٹ سکیڑ کر قبر سے ٹیک لگائے اکڑوں سا بیٹھ رہا تبھی کوئئ اوکے پاس آکھڑا ہوا۔ اس نے دھیرے سے سر اٹھایا ۔ 
عابد تھا  آج تو جہانگیر سے بہتر حالوں میں  دکھائی دیتا تھا۔گرم چادر اوڑھے۔ 
سردی لگ رہی ہے؟۔
جہانگیر نے کانپتے ہوئے سر ہلایا۔ وہ اپنی چادر پھیلا کر اسے بھی گھیرے میں لیتا ہوا پاس بیٹھ گیا۔۔ 
یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی؟۔ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
میرے بھائی نے میرے نام سے کچھ اشیاء خیرات کی ہیں۔میرا بھائی مجھے بھولا نہیں ہے
عابد کا انداز جتانے والا نہیں تھاسادہ سا تھا ۔
ہاں محسوس کی جانے والی یاسیت تھی۔ جہانگیر کے دل پر بوجھ آن گرا۔
میرا بھائی لگتا ہے مجھے بھول گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر کسی کی آمد کی تیاری تھی۔ دور گورکن نئی قبر کھود رہا تھا۔بیچ دوپہر تھی قبر پر سایہ بھی نہیں تھا تیز دھوپ سیدھا گورکن کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔لال بھبھوکا چہرہ محنت سےچمکتے پسینے کے قطرے۔۔۔زندگی کی علامت۔ جہانگیر اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔اب اسکا حال بھی عابد جیسا ہوچکا تھا۔ چہرے سے برسوں کا بیمار نظر آتا تھا۔
کیا ہے اس گورکن کے چہرے پر تھکن پریشانی اور۔  وہ سوچ میں پڑا۔
ہاں زندگی ہے۔۔ 
تبھی کسی نے گرم جوشی سے اسکا کندھا دبایا اور دھپ سے پاس آن بیٹھا
جہانگیر نے چونک کر گردن موڑی عابد تھا۔ آج تو عابد کی چھب ہی نرالی تھی۔ صاف ستھرے سفید براق لباس میں نک سک سے تیار چہرے پر بشاشت صحتمندی کی سرخی۔جہانگیر حیران ہی رہ گیا۔
اسکی حیرانگی دیکھ کر عابد کھل کر مسکرادیا۔
پھر سامنے گورکن کو دیکھ کر بولا 
لگتا ہے تمہارے لیئےکسی نئے پڑوسی کی آمد کا انتظام ہو رہا ہےاچھی بات ہے تم میرے بعد تنہائی محسوس نہیں کروگے
جہانگیر چونک گیا
تمہارے بعد؟تم کہیں جا رہے ہو؟
عابد آج بہت خوش دکھائی دیتا تھا۔ 
ہاں وقت پورا ہو گیا میرا۔ ان سب کی طرح اب میرا بھی جانے کا وقت آگیا۔ اس نےانہی اجاڑ قبروں کی جانب اشارہ کیاتھا۔
میرے بھائی نے میرے لیئے قبول حج کیا ہے۔میری سزا مئوخر ہوئی اب میں اگلی منزل کی تیاری میں ہوں۔جہانگیر کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ آئی اپنے ہی کہے الفاظ یاد آئے
کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیرسے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔
سوچوں سے پیچھا چھڑاتے اس نے بڑے خلوص سے مبارکباد دی۔
بہت بہت مبارک ہو اللہ اگلی منزل بھی آسان کرے ۔انسانوں نے تو بڑی راہ دکھائی۔ خدا تو آسانیاں ہی دے گا۔
اسکے چہرے ہر سچی خوشی تھی۔عابد کھل کر مسکرادیا۔
اللہ تمہاری منزلیں بھی آسان کرے گا۔ اچھا اب میں چلتا ہوں اور دیکھو کیا بروقت تمہارے لیےدوسرے ساتھ کی آمد ہوئی ہے۔
عابد کے کہنے پر اس نے سامنے دیکھا چند لوگ جنازہ اٹھائے قبرستان میں داخل ہورہے تھےان سے پرے ایک شخص سر جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چلا آرہا تھا۔
اللہ حافظ۔ 
عابد کہہ کر جنازے کی جانب بڑھ گیا۔ یہ اسکی عادت تھی اب تک ہر آنے والے سے اس نے عابد کو یونہی ملتے دیکھا تھا گرمجوشی۔ سے۔
جہانگیر وہیں بیٹھا دیکھتا رہا۔ جاتے جاتے عابد نے نووارد کے کندھے پر تسلی دینے والے انداز میں تھپکا ۔ لمس اتنا ہلکا پھلکا تھا کہ نوواردکو محسوس بھی نہ ہوا عابد یونہی ہوا میں دیکھتے دیکھتے اوجھل ہوا۔
تو سب یہاں سب دیکھ بھی نہیں سکتے۔ آج جہانگیر پر انکشاف ہوا اسکے گرد اتنا سناٹا کیوں تھا۔ اسکی پڑوس کی قبروں کے مکین کہاں مر چلے تھے۔جو نظر نہ آتے تھے یہ 
کہ اب اسکا مرحلہ بھی اگلا ہے۔ وہ اپنی زمہ داری سمجھتا اٹھ کھڑا ہوا رخ نووارد کی جانب تھا لوگ با آواز بلند کلمہ شہادت کا ورد کرتے جنازہ دفنا رہے تھے۔ نووارد چپ چاپ قبر پر نگاہ جمائے تھا۔
جہانگیر اسکے پاس والی قبر پر ٹک کر بیٹھتے ہوئے بولا
اسلام وعلیکم میرا نام جہانگیر ہے اور آپکا؟
نووارد نے چونک کر دیکھا پھر بے تابی سے اسکو کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب رخ موڑا بلکہ جھنجھوڑ ڈالا 
سنو تم کب سے ہو یہاں؟ کیسی جگہ ہے یہ؟ میں نے بہت کچھ سنا ہے اسکے بارے میں کیا وہ سب سچ ہے؟ پہلی رات کیا واقعی بھیانک ہوتی ہے؟
بولو نہ جواب دو۔
جہانگیر نے بمشکل اسکے بازو پکڑ کر اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔آرام سے دھیرج رکھو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اسے نظروں سے ٹٹولتے ہوئے جہانگیر نے اسکے بازو 
آرام سے پیچھے کیئے سنبھل کر بیٹھا ۔
نظریں دور جنازہ دفناتے لوگوں پر تھیں کوئی قبر سے لپٹا رو رہا تھا۔  مالک کے سوال ختم نہ ہوئے تھے
تم کب سے ہو یہاں۔؟
جہانگیر نے آہ بھرئ۔6 سال ہورہے ہیں مجھے
مالک نے بے تابی سے پوچھا۔
ملنے آتے ہیں اپنے؟
قبر پر بیٹھا رونے والا دھاڑیں مار رہا تھا۔
جہانگیر  نے نگاہ چرائی
دو سال پہلے بھتیجا آیا تھا سنا ہے بھائی کی طبیعت خراب ہے اسلیئے آنہیں سکا۔
زیر لب بڑبڑایا
روحیں تو جھوٹ بھی نہیں بول سکتیں
مالک نے پھر پوچھا
تو تمہارے گھر والے ایصال ثواب کیلئے کچھ کرتے؟
جہانگیر نے پھر آہ بھری
زندوں کے سو جھمیلے کہا ں فرصت مجھے یاد میں خود بزرگوں کیلئے سال میں ایک آدھ بار کبھی زکر نکل آنے پر فاتحہ پڑھ دیتا تھا یا خیرات کردیا کبھی کون روز روز یہ کام کرتا ہےزندگی میں

جہانگیر کا انداز استہزائیہ تھا۔ وہی کچھ ملے گا جو کچھ دوگے۔۔ 
مالک سٹپٹایا
میں نے تو زندگی میں بس ایک بار داداجی کے چالیسویں پر سپارہ پڑھا تھا اب جانے میرے لیئے کون کچھ۔۔ 
قبر سے لپٹ کر رونے والے کو لوگ اٹھا کر اب قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے جہانگیر نے بات کاٹ دی
سنو تم آخری بار ان سب سے مل آئو۔پھر جانے ان میں سے کسی سے دوبارہ ملنا ہو نہ ہو
مالک پہلے تو سمجھا نہیں پھر سر ہلاتا انکی جانب بڑھ گیا
قبرستان کے داخلی در پر کھڑا ایک ایک کو اپنے لیئے آنسو بہاتا دیکھتا خوش ہوتا رہا سب چلے گئے تو مڑ کر جہانگیر کودیکھا
جہانگیر اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ خود جہانگیر کے برعکس بہت بہتر حال میں تھاجہانگیر نظریں ملنے پر بھر پور انداز میں مسکرایامگر اسکے چہرے کی زردی نمایاں تھی۔ وہ خود تو فی الحال دعائوں کے حصار میں خود کو چاق و چوبند محسوس کر رہا تھامگر یہ جہانگیر۔۔ اس نے تاسف سے سوچا
میرے ساتھ تو لوگوں کی دعائیں ہیں اسلیئے بہتر حالوں میں ہوں یہ بے چارہ کیسا بد نصیب ہے کوئی دعا میں یادنہیں کرتا جیسے اسے دفنا کے بھول ہی گئے ہیں۔۔۔


ختم شد


written by vaiza zaidi {hajoom e tanhai}

Takabur kahani…تکبرکی بو کہانی

تکبر  کی  بو کہانی 
یا  خدا  یہ  کائنات  کتنی  بدبودار  بنی  ہے ..
لنڈا  نے  دونوں  ہاتھوں  میں  سر  تھام  لیا  گہری  سانس  لے  کے  خود  کو  ماحول  کے  اثر  سے  آزاد  کرنا  چاہا …
عجیب  بات  تھی  وہ  کوڑے خانے  کے  نزدیک  کھڑی  تھی  اور  گہری  سانس  لے  رہی  تھی …
کام  کرتے  خاکروب  نے  اسے اچنبھے  سے دیکھا …
یہ  تو  وہ  جانتی  تھی  اس  گندگی  کے  ڈھیر سے  جو  مہک  اٹھ  رہی  تھی  وہ …
یاک  …
اس  کے  پاس  سے  گزرتی  دو  سیاہ  فام لڑکیوں  نے  بے  اختیار  کراہیت  سے ناک  ف  رومال  رکھا  تھا …
اف  کس  قدر  بدبو  ہے  یہاں … ایک  بولی …
دوسری  نے  ٹھنڈی  سانس  بھری …
کس  چیز  کی  بدبو؟
کوڑے  خانے  کی  اور  کس  کی …حیرت
سے  سیاہ  فام  لڑکی  بولی
اور  مجھے  اس  لڑکی کے  پاس  سے  شدید  بو  آئی  ہے …
دوسری  نے  مسکرا  کے  کہا …
یہ  گفت  و  شنید  اتنے فاصلے  سے  نہیں  ہو  رہی  تھی  کے لنڈا  سن  نہ  پاتی حیرت سے  اس  سیاہ  فام  لڑکی  کو  گھورنے  لگی …
میرے  پاس  سے  بو  آرہی  ہے ؟
وہ  لڑکی  مسکرا  دی …
ہاں …
ساری کائنات  بدبودار  لگ  رہی  ہے  اپنی  بو  محسوس  نہیں  ہو  رہی ؟
مرے پاس سے بو آرہی ہے؟
لنڈا کی حیرت کی انتہا نہ رہی
ہاں
لڑکی نے قطعیت سے کہا
 تمہارے  پاسس سے بدبو  آرہی  ہے …
۔۔۔
تکبر  کی  بو
ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
support us..
از قلم ہجوم تنہائی
 
اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

Khawahish belay ka phool URDU ALAMATI KAHANI

 

خواہش بیلے کا پھول

ہلکا سا دھکا لگا کر لکڑی کا مضبوط دروازہ کھول کر بیلا نے باغ میں جھانکا

پھر ادھر ادھر دیکھ کر کسی کے موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتی دبے پاؤں مگر تیز تیز چلتی سیدھا پائیں باغ میں کھلتی مسز رڈلی کے باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس چلی آئی…

فی الحال باورچی خانے میں مکمل خاموشی تھی

یعنی خبطی سی آنٹی لنڈا اپنے کسی کمرے میں گھسی صفائی کے نام پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے میں مگن تھیں

پنجوں کے بل کھڑے ہو کر کھڑکی سے اندر جھانک کر اس نے مزید اطمینان بھی کر لیا تھا

کھڑکی نو سالہ بیلا کہ قد سے کافی اونچی تھی مگر وہ پنجوں کے بل کھڑے ہو کر اچک اچک کر منزل مقصود تک رسائی حاصل کرلیا کرتی تھی ابھی ابھی کی طرح

……………………………………………………

اپنی خاص دراز کھول کر اپنے تمام سرٹیفکیٹ  اور مختلف بچتوں اور چھوٹی موٹی انشورنس کے ضروری کاغذات نکال کر انھیں پڑھ کر دوبارہ ترتیب  دے کر رکھنے جیسا بے مقصد کام وہ تقریبا روزانہ ہی کیا کرتی تھیں

ابھی بھی دو گھنٹے اس کام میں ضا ئع کر کے مطمئن سی ہو کر دراز پر تالہ لگا کر اٹھ کھڑی ہویں

آج تو رڈلی نے فون بھی نہیں کیا

اپنی مسہری کے کنارے میز پر رکھے فون پر انکی نظر پر تو انھیں یہ سوچ آی

مسٹر رڈلی نے ایک مہینے قبل انھیں اپنی ترقی اور دوسرے شہر تبادلے کی خبر سنائی

ترقی کی خوش خبری کے ساتھ تبادلہ انکو کافی اداس بھی کر گیا تھا

وہ اپنی موجودہ حالت زندگی سے کافی مطمین تھے اور ہرگز دوسرے شہر جا کر تنہا رہنے کو تیار نہیں تھے لنڈا نے سو جتنوں سے انھیں منایا تھا وہ انجینئیر تھے ایک غیر آباد علاقے میں نیے پل کی تعمیر کے سلسلے میں انھیں بھیجا جا رہا تھا وہ چاہ کر بھی لنڈا کو ساتھ  نہیں لے جا سکتے تھے.لنڈا نے انکی غلط فہمی دور نہ کی کہ اگر وہ ساتھ جا بھی سکتی ہوتیں تو کبھی اپنے گھر کا آرام چھوڑ کر کسی پسماندہ علاقے میں جا بسنے کو تیار نہ ہوتیں 

اسی لئے وہ صاف منع کر کے واپس آئے تھے مگر ٣٠ سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں سب سے پہلا اور شدید جھگڑا لنڈا نے ان سے کیا تھا

تمام عمر اپنی خواہشیں دبانے میں گزری ہے اب عمر کے تیسرے حصے میں اگر آمدنی میں اضافے کی امید غیبی مدد سے بنی ہے تو اسکو ختم کرنا نری بے وقوفی ہے تمہارے ساتھ کے لوگ اپنی چرب زبانی اور ذہانت سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں  جبکہ تم ابھی تک کنویں کے مینڈک بن کر وہیں کھڑے ہو جہاں سے آج سے تیس سال پہلے تھے….

 انہوں نے یہ تمام بے رحمانہ جملے ریڈلی کے منہ پر کہہ دے تھے 

 اتنا کھلا طنز

مسٹر رڈلی ہکا بکا سے رہ گیے تھے پھر تحمل سے کہنے لگے

ہم دو جی ہیں بس تم اپنی کنجوسی یا بقول اپنی دانشمندی سے معقول رقم بچا کر درجنوں بانڈ خرید کر یا کہیں سرمایا کاری کر کے معقول رقم ہر مہینے حاصل کر لیتی ہو اس رقم کو خرچ کرو تو تمہاری کوئی آرزو تشنہ نہ رہے مگر تم اسے بچا کر مزید خرچے کم کر کے کوئی نیا بانڈ خرید لیتی ہو اتنی ہاؤس کیوں ہے تمہیں پیسے کی

کس کے لئے بچا رہی ہو ؟ ہماری تو کوئی اولاد بھی نہیں ہے اسی خرچ سے بچنے کے لئے تم نے مری خواہش کا بھی احترم نہیں کیا اب دیکھ لو

اس بڑھاپے میں ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں

” مجھے کوئی پچھتاوا نہیں

لنڈا نے بے نیازی سے بات کاٹ دی

بچے نری حماقت ہوتے پیدا کرو پالو پوسو جوان کرو اور صلے میں اپنی جمع پونجی خرچ کر کے خالی ہاتھ بیٹھو اس سے بہتر ہے خود اپنے اوپر خرچ کر لو اور پھر آجکل کے بچے تو اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں کم از کم ہمیں ایسا کوئی خوف نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور ہمارے گھر سے فائدہ اٹھائے گا ہ ہا ہا ہا

اپنی تقریر مکمل کر کے وہ حسب عادت طنزیہ ہنسی ہنس دی تھیں

مسٹر رڈلی نے اب اس پر مزید بحث کرنے کی کوشش نہیں کی انکی اسی در گزر کر دینے کی عادت کی بنا پر وہ ہمیشہ ایک جھگڑا ٹال دیا کرتے

ابھی بھی وہ تحمل سے انھیں منانے کی کوشش کرنے لگے

خود سوچو میں وہاں کیسے رہوں گا کون میرے کھانے پینے کا خیال رکھے گا مری صحت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے میں مزید ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاؤں گا پھر تم خود یہاں میرے بغیر اکیلی کیسے رہو گی ؟

اور لنڈا نے انکی بات کاٹ دی تھی

……………………..

مسٹر رڈلی کو گیے تین ہفتے ہو گئے تھے ان تین ہفتوں میں وہ دو دن چھوڑ کر انھیں کال کرتے تھے . وہ وہاں خوش نہیں تھے وہاں کھانے پینے میں انھیں کافی پریشانی کا سامنا تھا سب سے بڑھ کر وہ لنڈا کو کافی یاد کر رہے تھے تیس سال میں پہلی دفع وہ اتنی دور گیے تھے انکی ہر دوسری بات واپسی سے متعلق ہوتی تھی

جسے لنڈا پیار سے ٹال دیتی تھیں

وہ خود بھی کافی اکیلا پن محسوس کر رہی تھیں مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرتی تھیں تاہم مسٹر رڈلی کی بے تابیاں انھیں کافی سرخوشی فراہم کرتی تھیں

پرسوں بات کرتے ہوئے مسٹر رڈلی کافی تھکے تھکے بیزار سے تھے بول بھی کم رہے تھے شائد خفا ہو گئے تھے جبھی آج دوبارہ فون نہیں کیا لنڈا مسکرا نے لگن پل بننے میں تقریبا سال لگ جانا تھا تین ہفتے بعد گھر واپس آتے تو وہ انھیں منع لیتیں مطمئن سی ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل آئیں

انکا رخ باورچی خانے کی طرف تھا

………………………………………………………………..

اسکی آنکھوں میں اشتیاق امڈ آیا اسکی نظروں کا محور کھڑکی کے پاس رکھا شیشے کا فلاسک تھا جس میں سے ایک نازک سی سبز بیل بل کھاتی ہوئی کھڑکی کی چوکھٹ سے لپٹ رہی تھی

یہ چہار موسمی بیل تھی گول گول پانچ پتیوں والے چار رنگ کے پھولوں سے لدی بیل جو دور سے ہی اپنی جانب توجہ کھینچ لیتی تھی

کہنے کو یہ چار رنگ کی بیل تھی مگر منفرد بات یہ تھی یہ چاروں ہی سرخ کے ہی مختلف روپ تھے

جسے گہرا سیاہی مائل سرخ .ہلکا سرخ جو قریب قریب سفید ہی لگتا شوخ آتشی سرخ اور ٹھنڈا ٹھنڈا سا بنفشی رنگ ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھاتا تھا

ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھایا کرتا تھا بیلا کو یہ بیل بےتحاشا پسند تھییہ بیل ابھی قریبا ڈیڑھ ماہ پہلے مسز رڈلی نے منگوائی تھی یہ سست رو بیل ڈیڑھ مہینے میں بھی بس ایک دو فٹ ہی بڑھ پی تھی ابھی کھڑکی کے ایک پٹ پر لپٹ رہی تھی مسز رڈلی نے دھاگے باندھ باندھ کر اسکو پوری کھڑکی کے گرد ہشیا کھینچ لینے کاموقع فراہم کیا تھا مگر بیل شائد اس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتی تھی بیلا نے تھوڑا سا اچک کر اس گچھے پر ننھ ہاتھ رکھے دوسرا ہاتھ سہارا لینے کو کھڑکی کی منڈیر پر جمایا تھا

…………………………………………………………..

باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی حسب معمول انہوں نے ایک بھرپور نظر اپنی بیل ڈالی اور رخ پھر لیا

یک بیک عجیب سا احساس ہونے پر انہوں نے پالت کر دیکھا تو کھڑکی کے پاس دو ننھے ننھے ہاتھ نظر آئے . اف انکی بیل کی ننھی دشمن وہ غصے میں بھر گئی اس نے ابھی پھولوں کا ایک گچھا توڑ لیا تھا انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پیر پٹختی بیلا کے سر پر جا پہنچی  تھیں

غصے  سے سرخ آنکھوں اور پھڑ پھڑ اتے ناک کے نتھنوں کے ساتھ غصیلے لہجے میں انہوں نے اسے ڈانٹنا چاہا بیلا انکی شکل دیکھ کر ڈر کر بھاگ اٹھی

اے لڑکی رکو

وہ اسکے پیچھے دوڑیں

بیلا بھاگ کر ان کے پڑوس کے گھر گھس گئی تھی

…………………..

ہیلو

بیلا کے پیچھے غصے میں جاتے انھیں ایک نرم سی آواز سنائی دی انہوں نے پلٹ کر دیکھا

بیلا کی والدہ بیلا کے چھوٹے بھائی کو پرام میں ڈالے باغ میں ٹہل رہی تھی انھیں دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ مخاطب کیا

مسز رڈلی کو احساس ہوا وہ بنا دستک دیے کسی کے گھر گھس جانے جیسی نازیبا حرکت کر چکی ہیں

سو گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے اپنے قدم روک کر وہ بیلا کی مما کے پاس ہی چلی آییں

مگر انکی تیوری کے بل سیدھے نہ ہو پائے تھے

ہائے .. سنو ماریا اپنی بیٹی کو سمجھاؤ  وہ مری خواہش بیل برباد کرنا چھوڑ دے کوئی پھول پنپنے نہیں دیتی سب توڑ ڈالے خالی کر کے رکھ دی مری بیل

وہ خاصا اونچا بولیں

میں معذرت خواہ ہوں … مسز رڈلی آپ برائے مہربانی بیٹھئے تو سہی…

ماریا فق چہرے کے ساتھ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے ہوئے انکی بات سن کر باغ کی کرسی انھیں پیش کرنے لگی گہری سانس لے کر لنڈا براجمان ہوئیں تو ماریا نے بھی انکے مقابل نشست سنبھال لی

جی اب بتائیے… ماریا مسکرائی

بیلا اندر کمرے کی کھڑکی سے ناک چپکائے سہم کر جھانک رہی تھی

لنڈا گویا ہوئیں

میں نے اپنے آبائی گاؤں سے خاص بیل منگوائی ہے خواہش بیلے اس پر چار رنگ کے پھول کھلتے ہیں یہ پھول.زندگی کی چار ادوار کی علامت ہوتے ہیں خوشی، اطمینان ،دکھ، پریشانی 

ان چاروں کے ملاپ سے نصیب بنتا ہے . جس گھر میں یہ بیل پنپ جاتی ہے وہ گھر خوش نصیبی کی علامت بن جاتا ہے فی زمانہ خوش نصیبی پیسا ہے سو میری اس بیل کو لگانے کی وجہ یہ ہے کہ مرا گھر مالا مال ہو جائے

اس لئے میں نے خاص کر چوری کر کے یہ بیل لگوائی ہے

چوری کر کے؟ ماریا اچنبھے کا شکار ہوئی

ہاں یہ بیل خاص چوری کر کے لگوائی جاتی ہے کیوں کہ آپ کسی کی خوش قسمتی مانگ نہیں سکتے کوئی دیگا بھی نہیں سو میں نے اپنے باورچی خانے کی کھڑکی میں ایک فلاسک میں خاص کھاد ڈال کر لگی ہے اور میری خوش قسمتی کہ اس بیل کو پنپے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ مسٹر رڈلی کی ترقی ہو گئی

اوہ اچھا لگا سن کر مبارک ہو

لنڈا سانس لینے کو چپ ہوئیں تو ماریا نے موقع غنیمت جان کر خیر سگالی کے جذبات کے تحت مبارک باد دے ڈالی . لنڈا کے تنے تنے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑے اور کہیں سے کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ بھی انکے لبوں پر آسجی

شکریہ ماریا خوش رہو مگر مسلہ یہ ہے کہ تمہاری بیٹی کو شاید یہ بیل بہت اچھی لگی ہے وہ اسکے پھول توڑ لیتی ہے جو ایک تو بیل کی خوبصورتی میں کمی کا با عث ہے دوسرا وہ میری خوش قسمتی توڑ کر اپنے گھر لے آتی ہے جو وہ مجھ سے مانگے تو بھی میں نہ دوں اور وہ چرا لیتی ہے

لنڈا کی بات پر ماریا کے چہرے پر مسکراہٹ در آئ وہ خود بھی تو کسی کی خوش قسمتی چرا کر اپنے گھر کی زینت بنانا چاہ رہی ہیں

اپنی عمر کے تیسرے حصے میں آ کر میں نے چوری جیسا لعنتی کام کیا ہے سو تم اندازہ لگا سکتی ہو یہ بیل میرے لئے کتنی اہم ہے

انکی آنکھیں جھلملائیں

میں بیلا کو سمجھاؤں گی .. ماریا نے اطمنان دلایا وہ بھی مطمئن ہوئیں اور واپسی کی راہ لی ………………………………………………..

ماریا نے بیلا کو بلا کر ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھایا اور وعدہ بھی لے لیا 

بیلا آیندہ آپ اس بیل کے پھول نہیں توڑو گی نا 

بیلا ماں کے نرم رویے پر کھل اٹھی تھی اپنے سنہری پونی ٹیل والے سر کو اثبات میں ہلا کر ماں لیا تھا ساتھ ہی پوچھا 

مما ابھی جو توڑے  تھے نا وہ راستے میں گر گیے تھے وہ لے آؤں ؟ ان سے تو کھیل سکتی ہوں نا آیندہ نہیں توڑوں گی ؟

ماریا نے مسکرا کر اسکی پیشانی چوم لی ………

……………………………………………………..

اپنے باورچی خانے میں واپس آ کر سب سے پہلے فریج کا دروازہ کھول کر اپنے لئے ٹھنڈے پانی کی بوتل 

نکالی تھی غٹا غٹ ایک جام بھر کر پانی کا پی کر انہوں نے پیار بھری نظر وں سے اپنی بیل کو دیکھا 

شیشے کے خوبصورت بیضوی فلاسک کی تہہ میں خاص سمندری ریت اور کھاد کے امتزاج سے بل کی جڑ کو زمین دی گئی تھی سنہرے دمکتے ذروں پر پانی کی دبیز تہہ جیسے سچ مچ سمندر کو کوزے میں بند کیا ہو 

انہوں نے احتیاط سے اسے چھوا اور مطمئن ہو کر پلٹ گئیں

…………………………………………….

محتاط قدم اٹھاتے ہوئے اس نے باغ کا راستہ طے کیا 

سنگی راستے کے قریب اسکے ہاتھ سے چھوٹ جانے والا پھولوں کا گچھا پڑا تھا مگر مسلا ہوا جسے کوئی ان پر سے پاؤں رکھ کر گزر گیا ہو 

بیلا تڑپ کر آگے بڑھی مسلے ہوئے پھول بنفشی اور ہلکے گلابی رنگ کے تھے جبکہ سیاہی مائل سرخ اور آتشیں سرخ پوری آب و تاب سے کھلے ہوئے تھے 

یقینا یہ انٹی لنڈا ہی بنا دیکھ پیر رکھ کر گزر گیں ہیں 

اس نے تاسف سے سوچا اور انکو چن کر شاکی نظر انکے گھر پر ڈال کر واپس آگئی 

شیشے کے گلاس میں پانی بھر کر اپنے کمرے میں لکھنے والی میز پر لا رکھا اب ان پھولوں کو اس نے گلاس میں ڈال دیا تھا 

شفاف پانی میں تیرتے شوخ رنگوں کے پھول دیکھنے میں کافی بھلے معلوم ہو رہے تھے 

کتنی ہی 

دیر وہ ان سے کھیلتی  رہی 

کسی کام سے بیلا کو پکارتی ماریا اندر آئی تو بلا کو میز پر سر رکھے بچپن کی میٹھی نیند میں گم پایا اس نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا میز پر رکھا برقی چراغ گل کرنے لگی تو گلاس کی سطح پر تیرتے خواہش بیلے کے پھولوں نے اسکی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی 

کتنے دل کش ہیں یہ 

اس نے پہلی مرتبہ انکو دیکھا تھا گلاس اٹھا کر انکی خوشبو سانسوں میں بھرنی چاہی تو حیرت کا جھٹکا لگا 

اتنے خوبصورت نظر آنے والے پھولوں میں معمولی سی بھی خوشبو نہیں تھی 

…………………………………………………………………………………………

گلاس میں تیرتے پھولوں کی عمر تمام ہوئی انکے کنارے سیاہ پڑنے لگے انکا وجود پانی میں گھلتا گیا ماریا نے گلاس مانجھ کر دوبارہ باورچی خانے میں رکھ دیا 

بیلا کا بورڈنگ سکول میں داخلہ ہو گیا تھا 

………………………………………………………..

ایک روشن صبح کا آغاز ہوا تھا سورج کی نرم کرن بھاری پردوں کے بیچ ہلکی سے دراڑ سے رستہ بناتی اسکی پیشانی چومنے آ پہنچیں ایک لطیف سے احساس  نے اسکو بیدار کر ڈالا مسکرا کر انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی 

صبح بخیر بیلا 

اس نے خود کو خود ہی دعا دی دیوار گیر گہری سات بجے کا وقت بتا رہی تھی 

یہ اسکا بیدار ہونے کا ہی وقت تھا آخر کار اسکے تعلیمی سلسلے کا اختتام ہوا تھا گریجویشن کے آخری امتحانات دے کر وہ کل ہی واپس گھر پہنچی تھی اس دفعہ طویل چھٹیاں منتظر تھیں سو اسکا ارادہ خوب سارا سونے اور لطف اٹھانے کا تھا سو وہ امتحانوں اور سفر کی سب تکان مٹانے کو رات کو جلدی سو گئی تھی اب تازہ دم تھی 

صبح کی تازگی اپنے اندر اتارنے کو وہ مسہری سے اتری اور بالکونی کا دروازہ کھولتی کھلی فضا میں چلی آی

ایک خوش گوار دھوپ بھرے دن کا آغاز ہوا چاہتا تھا 

Have you ever experienced such pleasure?

aww I am enjoying the darkness in eternity 

peace 

silence 

calm 

no sorrows 

nor sufferings  and me immortal

how could I sing an elegy full of agony 

I am in  a happy mood

yeah 

I am giggling 

ننھی معصوم آوازیں بے مثال کشش رکھتی تھیں اپنے اندر ننھے بچے کورس میں گا رہے تھے 

وہ بھی انکے ساتھ گنگنانے لگی 

مسز رڈلی کی وفات کے بعد انکا گھر حکومتی تحویل میں چلا گیا تھا اب ایک خصوصی بچوں کا ادارہ انکے گھر میں کھل چکا تھا مختلف عمروں کے بچے جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار تھے اسمبلی کے اوقات میں دھوپ سینکتے مسز رڈلی کے لان میں نظم پڑھ رہے تھے 

بچوں کے چہرے مطمئن اور خوش تھے وہ دلچسپی سے انہیں دیکھ رہی تھی 

تبھی سبک رو ہوا نے تھوڑی تیزی پکڑی اور ایک ناگوار جنگلی پتوں کی بو کا جھونکا سا آیا 

اس نے ناک سکیڑ کر اس بو کا منبع جاننا چاہا 

مسز رڈلی کی خواہش بیل بڑھ کر اب جھنڈ کی شکل اختیار کر چکی تھی 

نہ صرف اس نے مسز رڈلی کے باورچی خانے کی داخلی دیوار پوری ڈھانپ لی تھی بلکہ آہستہ آہستہ دیوار کا سہارا لیتی انکی گھر کے باہر کی طرف لگے پلاسٹک کے اخراجی پائپ کا سہارا لیتی اسکی بالکونی تک آپہنچی تھی 

اف… اس نے کوفت سسے سوچا 

ڈھیر سارے چار رنگوں کے پھولوں کے گچھوں سے بھرا جھنڈ دیکھنے جتنا بھی اچھا لگ رہا ہو مگر انکے جنگلی پتوں کی بو حواس مکدر کئے دے رہی تھی 

اسے نو سالہ بیلا یاد آی جو چار پھول توڑ لینے پر مسز رڈلی کی خفگی کا نشانہ بنی تھی 

کتنا پاگل تھیں مسز رڈلی اس بیل کے پیچھے اب اگر دیکھتیں اسے پھلتے پھولتے تو شاید خوشی سے مر جاتیں 

اس  نے ریلنگ پر جھومتی شاخ کو پرے کرتے سوچا 

یہ انکی خوش قسمتی بیل جب انکی حسب خواہش کھڑکی ڈھانپ گئی تھی تب مسٹر رڈلی کی وفات پا جانے کی  خبر آگئی تھی 

پل کی جگہ پر کسی حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے کمپنی نے حادثاتی انشورنس کے نام پہ 

بھری رقم مسز رڈلی کو ادا کی تھی اور مسز رڈلی بقول ماریا کے سارا دن روتی رہتی تھیں 

یہ بیل تو خاصی منحوس ثابت ہوئی تھی انکے لئے 

اس نے سوچا 

اور میں

بچپن میں  تو دھیان ہی نہیں دیا تھا میں نے کتنی ناگوار بو ہے انکی 

اف کل ہی مما سے کہہ کر کٹواتی ہوں یہ باڑ

……………………………

ختم شد 

support us

از قلم ہجوم تنہائی 

اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

visit :hajoometanhai

WANT TO READ ABOVE STORY IN ENGLISH? VISIT THE LINK BELOW

 
اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

 
 
 

یقین اور گمان yaqeen aur guman kahani

١١٠
اضطراب اسکے چہرے سے عیاں تھا پورے کمرے میں نظریں گھما گھما کر دیکھ رہا تھا
کسی ایک چیز پر بھی نظر نہین  ٹھہرا رہا تھا
کبھی دیوار پر آویزاں گھڑی
کبھی اسکی ہی میز پر رکھا گلدان جس کے پھول ابھی پچھلا مریض نکال کر چبا گیا تھا پلاسٹک کے پھول کھا تو کیا ہی لینا تھا الٹا اسے الٹی کروانی پڑ گئی تھی اسے
کب ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ تم نے کسی چیز پڑ نظر ٹھہرائی اور وہ ٹوٹ گئی ؟
گہرا سانس لے کر اس نے پہلا سوال کیا تھا

یقین اور گمان yaqeen aur guman kahani  مختصر اردو علامتی افسانہ

میں بارہ سال کا تھا جب میں نے اپنی استانی کو گھورا تھا وہ مجھے ڈانٹ رہی تھیں میں نے گھور کر دیکھا تھا وہ اسی وقت گر کر مر گئیں
گزرے وقت کی یاد نے جسے اسے اس ہی مکتب  کے کمرے میں پہنچا دیا تھا شاید
آنکھیں بند کر کے وہ اس منظر میں کہیں کھڑا کانپ رہا تھا
پھر ؟
اس نے اسکی تاریخی تفصیل مرض پر نظر ڈالتے ہوئے سرسری لہجے میں پوچھا اسکی پوری توجہ سامنے بیٹھے اس پچیس سالہ نوجوان پر تھی شکل و صورت میں وہ کافی بھلا دکھائی دیتا تھا کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا دراز قد مگر انتہائی گھبراہٹ اسکے چہرے سے مترشح تھی آنکھیں بند اس نے اپنا قصہ سناتے ہوئے کی تھیں مگر ابھی بھی کھولی نہیں تھیں

یقین اور گمان yaqeen aur guman kahani مختصر اردو علامتی افسامہ

پھر کیا تب مجھے اندازہ نہیں تھا میں کسی کو دیکھ کر نقصان پہنچا سکتا ہوں میں اسے اتفاق سمجھا تھا مگر پھر میں کالج میں ایک  دفعہ ایک لڑکے کی جان لے گیا میں اسکو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا
وہ مجھ سے کسی معمولی بات پر جھگڑ بیٹھا تھا مجھے یقین جانے ڈاکٹر صاحب وجہ بھی یاد نہیں اب
روہانسا ہو کر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا
اسکی آنکھیں خوبصورتی کی تمام شرائط پر پورا اترتی تھیں بڑی سے کالی سیاہ آنکھیں جن میں ہلکی سی سرخی اسکے رونا ضبط کرنے پر در آئی تھی گھنی سیاہ پلکیں
یہ آنکھیں کسی لڑکی کے چہرے پر سجی ہوتی تو کتنا خوش ہوتی مسکارا لگانے کی ضرورت نہ پڑتی
کتنی غیر متعلقہ سوچ اسکے دماغ میں آئی تھی
آپ سن رہے ہیں نا ڈاکٹر ؟
گمان کو شک گزرا تھا اور صحیح گزرا تھا
یقین تو اپنے ذہن میں اسکی آنکھوں پر تبصرہ کرنے میں مشغول تھا جانے اس نے کیا بتایا کیا نہیں
وہ اپنی غائب دماغی کو کوس کر رہ گیا اب اگر وہ اعتراف کر لے کہ واقعی نہیں سنا تو مریض سے کچھ بعید
نہیں پیپر ویٹ اٹھا کر اسکے سر پر ہی مار دے اس نے جلدی سے پیپر ویٹ ڈھونڈا میز پر ایک بار کھا چکا تھا وہ سر پر اتنا بڑا گومرا نکل آیا تھا کئی دن اسپتال آنے کے بھی قابل نہیں رہا تھا
ہاں
اس نے جلدی سے پیپر ویٹ اٹھا کر اپنی میز کی دراز کھول کر رکھ دیا
اس سے یہ کیوں سوچا کہ اس میں تمہارا قصور تھا ؟
اپنے واہمے پر ہی کوئی قصہ سنایا ہوگا
اس نے ہوا میں تیر چلایا
وہاں صرف میں اور وہ تھے
اس کی نظریں اس پر جمی تھیں
اچھا ٹھیک اور کوئی قصہ سناؤ
اس نے بحث ٹالی
پھر میں نے ایک بار اپنے ہی بھائی کو گھورا اس کے ہاتھ کو وہ مجھے چھیڑ رہا تھا اسکا ہاتھ
اسکا ہاتھ
وہ ہچکیاں لے کر رو پڑ ااسکا ہاتھ ٹوٹ گیا دو مہینے پلستر رہا ابھی بھی صحیح طرح جنبش نہیں کرتا
میرا اپنا چھوٹا بھائی مجھ سے ڈرتا ہے میرے پاس نہیں آتا ہے
اس نے مریض کی گزشتہ زندگی کا احوال دوبارہ  دیکھاکبھی بھی مکلمل ماضی کے حالات جانے بنا وہ مریض سے ملتا نہیں تھا جہاں تک اسے یاد تھا  اسکے بھائی بہن نہیں تھے
واقعی نہیں تھے
ہاتھ دیکھتے دیکھتے ٹوٹ گیا تھا یا وہ تمھارے دیکھنے سے لڑکھڑا کر گر پڑا تھا ؟
سوال اہم تھا وہ رونا بھول کر سوچ میں پڑا
 ہاں وہ ہاتھ جھٹک رہا تھا جیسے اسکے ہاتھ میں بہت جلن ہو رہی تھی پھر گھبرا کر گر بھی گیا تھا
ہممم اس نے ہنکارا بھرا
پھر

پھر میری زندگی میں آرزو آئی
میں بہت خوش تھا میں بہت پیار کرتا تھا اس سے وہ بہت پیاری تھی ایک دن
وہ بہت غصے میں میرے پاس آئی کسی اور لڑکی کا نام لے کر بولی میرا اس سے کیا تعلق ہے میں سمجھ نہیں پایا اس دن اسے کیا ہوا تھا اس نے کبھی مجھ پر شک نہیں کیا تھا پر اس دن مجھ پر اعتبار نہیں کر رہی تھی میں نے صفائی دی پھر غصہ آگیا مجھے میں نے اسے گھورا اور وہ
وہ تڑپنے لگی اسکی آنکھیں پگھل گئیں ڈاکٹر صاحب
ہیں کیا ہوا اسکی آنکھوں کو؟
یقین کو تعجب ہوا
اسکی آنکھیں پگھل گئیں
وہ اسکی آنکھیں بہہ گئیں
آپ کو یقین نہیں آرہا تھا میری بات کا آپ کو ملواؤں آرزو سے
مگر نہیں وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتی آپ کو اسکا پتہ بتاؤں جا کے خود دیکھ لیں
کاغذ قلم دیں مجھے
وہ اضطراری انداز میں اسکی میز پر ہاتھ مار رہا تھا
نیکی اور پوچھ پوچھ اس نے فورا اوراق بند اسے اٹھا کر دیا اور قلم بھی
لکھ لے تو آدھا اضطراب کم ہو جائے ہر ذہنی دباؤ کے مریض کو اگر اپنا ماضی الضمیر بتانے میں ہی سب سے بڑی مشکل آتی لکھ لے تو آسانی اسے بھی ہوتی سننا تو خیر آسان ہوتا ہی نہیں
چند جملے گھسیٹ کر اس نے واپس رکھ دیا
ابھی یقین کو گمان پر یقین نہیں آیا تھا جبھی اس نے زحمت نہیں کی پڑھنے کی
 دوبارہ گمان کے چہرے پر نظر جما لی
بس یہ تین واقعات کی بنیاد پر تمہیں لگتا کہ تمہاری آنکھیں غیر معمولی قوت رکھتی ہیں؟
نہیں : اس نے صاف انکار کیا
میں نے تب مانا کہ میری آنکھیں غیر معمولی ہیں جب
آرزو کو اندھا کر کے میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا  تو میں نے اپنی آنکھوں میں  سلاخ گھسیڑ لی تھی
اور دیکھ لیں میری آنکھوں کو کچھ بھی نہیں ہوا
وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا رہا تھا
اب یہ تو واقعی نہ ماننے والی بات تھی کوئی اپنی آنکھوں میں سلاخ گھسیڑ لے اور کچھ بھی نہ ہو ایسا ممکن ہے بھلا
ذہنی دباؤ کے مریض خواب اور حقیقت میں فرق نہیں کر پاتے کبھی کبھی۔ یقینا اس نے خواب میں ایسا کیا ہوگا
اس نے سر جھٹکا
تم اپنے بھائی سے ملوانا مجھے میں اسے سمجھاؤں گا کہ وہ تم سے ڈرے نا تم اس سے بہت پیار کرتے ہو اسکو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے
واقعی اسکی آنکھیں چمکیں
آپ ایسا کریں گے ؟
آپ آرزو کو بھی سمجھائیں گے ؟

اس نے مسکرا کر سر  اثبات  میں ہلایا
وہ بچوں کی طرح خوش ہوگیا
میں پاگل نہیں ہوں میں نے بہت بار اپنے گھر والوں کو سمجھانے کی کوشش کی میں پیدا ہی ایسے ہوا ہوں کہ میری آنکھوں میں کشش ہے مجھے اپنی اس طاقت کا اندازہ نہیں تھا جبھی میری وجہ سے بہت نقصان پہنچ گیا دوسروں کو مگر آپ کو بتاؤں انسانوں کو میں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے میں اپنی طاقت پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور میں چیزیں پانچ سیکنڈ تک گھور کر دیکھنے سے توڑ سکتا ہوں
اس نے دیوار پر ٹنگی گھڑی کی طرف اشارہ کیا
اس پر لکیر آ چکی ہے
یقین ہنس دیا
آپکو یقین نہیں میری بات پر ؟
اس نے ناراضگی سے پوچھا
نہیں
یقین نے سکون سے کہا
دیکھیں  اس نے گھڑی پر نظر جما دی
ایک
دو
تین
چار
پانچ
یقین گنتی گن رہا تھا
چھے
سات
تڑاخ
شیشہ ٹوٹ کر چور ہو کر نیچے گرا تھا
گھڑی دھڑام سے نیچے آرہی
ایک لمحے کو جیسے اسکا پورا دفتر لرز گیا گمان بجائے اپنی بات کے ثابت ہونے پر خوش ہوتا کپکپا اٹھا
یقین نے ہلتی میز کو تھاما
زلزلہ تھا یہ
اسی وقت دروازہ کھول کر اسکا ملازم جمع سیکٹری اندر داخل ہوا
سر زلزلہ آ رہا ہے عمارت ہل رہی ہے
گمان نے بے یقینی سے دیکھا تھا
جاؤ جا کر آرام سے کام کرو ختم بھی ہو گیا ہے زلزلہ
یقین نے آرام سے کہا تو وہ بھی یقین کا یقین کر کے پلٹ گیا
واقعی زلزلہ آیا تھا؟
گمان کا یقین متزلزل ہوا
ہاں اس نے سر ہلایا
مگر پھر میری وجہ  میں نے تو
اس نے الجھن سے کہتے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا
دیکھو گمان اور یقین میں بہت بال برابر فرق ہوتا تم نے گمان کیا کہ تمھاری آنکھیں غیر معمولی ہیں اس بات پر یقین پے در پے پیش آنے والے اتفاقات سے تم نے کر لیا
تم خود سے ڈر گیے تم نے گھور کر دیکھنا چھوڑ دیا
تم دیکھو بار بار دیکھو تم ہر چیز کو دیکھو دیکھو گے تو تمہیں خود احساس ہوگا تم میں ایسا کچھ غیر معمولی نہیں
مگر
اس نے بے چینی سے پوچھا
مگر وہ لڑکا کیسے مر گیا میری وجہ سے
کونسا لڑکا
یقین بھول بیٹھا تھا
وہی جو مجھ سے لڑ رہا تھا اس نے میری ناک پر مکا مارا میں نے غصے سے دیکھا اسے وہ لڑکھڑا گیا پھر وہ سیڑھیوں کے پاس ہی کھڑا تھا وہ نیچے اترنے لگا پھر چکرا کر گرا اسکی ناک سے خون نکل آیا
تھا اور
وہ اور بھی کچھ بتا رہا تھا
یقین نے یہ گتھی بھی سلجھا  دی ‘
 تم خود بتا رہے ہو وہ سیڑھیوں سے گرا گرنے سے سر پر چوٹ آئی وہ مر گیا اس میں تمہارا کوئی قصور  نہیں
کیا آپکو یقین ہے ابھی زلزلہ ہی آیا تھا ؟
ہاں یقین نے سر ہلایا
مجھے کوئی مضبوط چیز دیکھائیں جو آپکو لگتا ہو میری آنکھوں سے نہیں ٹوٹ سکتی
میں یقین کرنا چاہتا ہوں
میں یقین مسکرایا
اتنی دیر سے مجھے دیکھ رہے ہو کہ نہیں ؟
کچھ ہوا مجھے
گمان نے اسے گھورا
آپ کے سر میں درد نہیں ہو رہا؟
یقین کے لئے سوال غیر متوقع تھا
ہو تو رہا تھا سر میں درد مگر صبح سے درجن بھر ذہنی مریض بھگتانے کے بعد سر میں درد نہ ہو تو اور کیا ہو
ہو رہا ہے
یقین نے مسکرا کر کہا
مگر یہ تم سے  ملنے پہلے سے ہو رہا ہے صبح سے بنا وقفہ لئے کام کرنے کی وجہ سے ہورہا
اسکا تم سے یا تمہاری آنکھوں سے کوئی تعلق نہیں
گمان چپ چاپ دیکھتا رہا
پیپر ویٹ نہیں ہے آپکی میز پر
میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
یقین نے کندھے اچکا دے اور میز کی دراز سے پیپر ویٹ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا
ایک
دو
تین
یقین اسکو نظروں میں رکھ کر گنتی گن رہا تھا
چار پانچ چھے سات آٹھ نو دس
پیپر ویٹ ثابت سالم میز پر براجمان تھا
گمان نے سوکھے لبوں پر زبان پھیری
یقین نے ابرو اچکا کر مسکرا کر دیکھا
تو اب کیا خیال ہے ؟
گمان اٹھ کر کھڑا ہو گیا
کل دو بجے ہم اگلی ملاقات کریں گے
یقین بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا
اب کل ملنے کی ضرورت نہیں رہی آپ نے واقعی میرا یقین توڑ دیا
وہ مسکرایا
اس وقت کافی بہتر محسوس کر رہا تھا یقین نے کندھے اچکا دے وہ ہاتھ ملا کر خدا حافظ کہتا چلا گیا
ھففف
آخری ملاقات تھی یہ آج کی اف بہت تھک گیا وہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر کرسی پر گر سا گیا انگڑائی لے کر اس نے اپنی چیزیں ترتیب دینا شروع کیں
کچھ کھلونے تھے کچھ آلے مریضوں کی تفصیلی فائل وغیرہ  اب جیسے صبح ایک مریض کو وہم تھا میرا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے بھاری ہے
اسکو پیپر ویٹ تھما کر اس نے کس مشکل سے یقین دلایا تھا یہ وہ جانتا تھا
پیپر ویٹ اس نے اسی کے لئے نکالا تھا ورنہ اب ہمیشہ دراز میں ہی رکھتا تھا اس نے دوبارہ یاد آنے پر پیپر ویٹ کو دراز میں رکھنے کی نیت سے اٹھانا چاہا
اس کے چھونے سے چکنا چور ہو گیا جیسے ٹوٹ پھوٹ  چکا تھا بس بظاھر سالم نظر آ رہا تھا
یقین گھبرا کر کھڑا ہو گیا
یہ کیسے ممکن ہے ؟
کیا واقعی اس نے گھور گھور کر توڑ دیا تھا
اس نے فورا اطلا ئی گھنٹی بجائی
اسکا سیکٹری بھاگا بھاگا آیا
وہ مریض جو ابھی نکل کر گیا ہے اسے بلا کر لاؤ
سیکٹری سر ہلا کر پلٹ گیا
اس نے جلدی سے اسکی فائل نکال کر دیکھنی شروع کی
اسکا سگا کوئی بہن بھائی واقعی نہیں تھا ایک کزن تھا جو پڑھائی کی غرض سے اس کے گھر رہتا تھا
اس کا ہاتھ ابھی کچھ مہینے قبل ٹوٹا تھا جسکا ذمےدار وہ خود کو مانتا تھا
وہ مر جانے والا  لڑکا جس کا تذکرہ کر رہا تھا پانچ سال پہلے مرا تھا اسکی طبی تحقیق منسلک تھی جس کے مطابق اسکی موت دماغ کی رگ پھٹنے سے ہوئی تھی
سر
پھولی سانسوں کے ساتھ اسکا سیکٹری واپس آیا تھا
سر وہ جا چکا ہے
لفٹ تک دیکھ کر آیا ہوں
سانس  بحال  کر کے اس نے بتایا تھا
اس کے ساتھ کون آیا تھا ؟
یقین نے بے تابی سے پوچھا تھا
کوئی نہیں سر اکیلا آیا تھا
سیکٹری نے کندھے اچکآیے
اس نے کوئی رابطہ نمبر دیا تھا؟ دیا ہوگا جا کے آج کے مہمانون  کی فہرست میں اسکا رابطہ نمبر دیکھ کر بتاؤ مجھے
جاؤ جلدی
وہ خود نہیں جانتا تھا آخر کس بات پر وہ اتنا گھبرا رہا ہے
چند منٹوں میں سیکٹری کی واپسی ہوئی تھی وہ فہرست  ہی اٹھا لایا تھا ‘
سر اس میں تو اس نے کچھ بھی نہین  لکھا
عجیب سا جملہ لکھا ہے رابطہ نمبر کی بجاے
لکھا ہے میں گمان ہوں جب بلاؤگے آجاؤنگا
اس نے الجھن سے پڑھ کر اسے بتایا
یقین نے اپنے ہونٹ کاٹ لئے آخر کیوں کیسے
سوال اس کے گرد چکر کھا رہے تھے
میں آپکو اسکا پتا بتاتا ہوں
اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا اس نے جلدی سے اوراق بند ڈھونڈا اور تیزی سے صفحے پلٹنے لگا
سیکٹری حیران سا کھڑا اسکو مضطر دیکھ رہا تھا
ایک دو تین اس نے جلدی جلدی صفحے پلتے
زندگی کی سڑک پر قسمت کے مارے جب  بن سوچے موڑ مڑتے ہیں تو پہلا گھر آرزو کا آتا ہے  جا کے دیکھ لو
آرزو اندھی ہے
گمان کی آرزو ہے  مگر یقین جب تک متزلزل رہےگا پہنچ نہیں پا ۓ  گا
ایک دو تین بار بار اس نے اس عبارت کو پڑھا تھا
سر
سیکٹری نے پکارا تو وہ بری طرح چونکا
ہاں
سر آپکی ناک سے خون بہ رہا ہے
سیکٹری نے خاصا پریشان ہو کر اشارہ کیا تھا
آپ ٹھیک تو ہیں
اس نے ٹھٹھک کر اپنی ناک پر ہاتھ پھیرا گرم گاڑھا خون اسکی انگلیوں پر پھیل گیا
آپ ٹھیک تو ہیں ؟
وہ خود اپنے سامنے کھڑا خود سے پوچھ رہا تھا
میں گمان ہوں
اس نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا
مجھ میں اور آپ میں بس اتنا سا فرق ہے آپ مجھے جھٹلا دیں تو میں کچھ بھی نہیں
گمان اپنا تعارف  کرا رہا تھا  مگر
یقین کو گمان پر یقین آ گیا تھا

………………………………………………

ختم شد

از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #visit: hajoometanhai

Hajoom e tanhai zehni bahali markaz case 567

 ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

نفسیات دان۔

عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

ہجوم بیکراں۔

وہ ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا تھا۔ اضطراری انداز میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔ گلے میں گٹار لٹکا رکھا تھا۔دونوں ہاتھ گٹار کو بجانے میں مصروف تھے۔ کہنی کرسی کے ہتھے پر ٹکا ئے  ہتھیلی پر تھوڑی جمائے تنہائی اپنی آرام دہ کرسی پر دراز تھی ۔ دوسرا ہاتھ میز پر دھرا تھا جس کی انگلیوں سے وہ گول سا پیپر ویٹ گھما رہی تھی۔ مستقل مسلسل وہ ایک چکر میں تھامگر اس سے بے نیاز بیزاری سے اسکے چلتے وجود کے ساتھ نظریں گھماتی تنہائی مکمل طور پر عزم کی جانب متوجہ تھی۔عزم ٹہلتے ٹہلتے تھکا ہاتھ شل ہو رہے تھے گٹار کی تار ٹوٹی اور اسکی تان بھی۔ رکا ٹھٹکا پھر پلٹ کر تنہائی کی جانب بڑھا۔ م

  سنا آپ نے۔ عزم خود کو کسی مشہور پاپ فنکار سے کم نہ سمجھتے ہوئے اس سے داد چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔

تنہائی نے نفی میں سر ہلایا۔

کیسے ممکن ہے اتنی دیر سے بجا رہا ہوں گٹار آپ نے سنا ہی نہیں ۔۔

اسکی حیرت دو چند ہو گئ۔ چیخ ہی تو پڑا

تنہائی نے ہونٹ بھینچ لیئے۔

یہ دیکھیں گٹار بجا بجا کے میری انگلیاں فگار ہو گئیں۔۔

اس نے اپنی زخمی انگلیاں دکھائیں۔

گٹار ٹوٹ گیا یہ لٹکتے تار پر  جما یہ خون۔ وہ چلا اٹھا تھا میز پر دونوں ہاتھ مارتے وہ  جھلاہٹ کی انتہا پر تھا۔ تنہائی پر اسکے کسی ردعمل کا کوئی اثر نہ تھا اسی بے تاثر چہرے سے دیکھ رہی تھی اسے۔ وہ چند لمحے جواب طلب نظروں سے دیکھتا رہا پھر مایوس سا ہو کر رخ موڑ کر جانے کو تھا کہ تنہائی کی آواز نے ٹھٹکا دیا۔

تم نے کسی اور کو سنایا گٹار کبھی؟

اسکا دم رکنے کو آیا۔ سانس سینے میں اٹکی رہ گئ۔ چند لمحے دم بخود سا رہ گیا۔

تنہائی نے سوال دہرایا تو پلٹ کر سراسیمہ سے انداز میں وہ تنہائی کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔

کیا آپکو بھی گٹار کی آواز سنائی نہیں دی؟ کیا آپکو بھی نہ گٹار دکھائی دیا نا ہی میری زخمی انگلیاں؟

اسکی آواز میں خوف لرز رہا تھا۔آنکھوں میں التجا جھلک رہی تھی۔

کہہ دو ہاں۔ دیکھا سنا زخم دیکھے۔

مجھے نہ گٹار دکھائی دیا نا سنائی۔ تمہاری فگار انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں بے چینی سے جیسے انکو اس چھڑی پر چلا رہے تھے زخمی تو ہونا تھا انہوں نے۔

تنہائی تو دنیا سے بھی ظالم نکلی۔ اسکے اپنے اسے جھٹلاتے رہے گٹار کے وجود سے انکاری رہے اسکو نفسیاتی سمجھ کر تنہائی کے پاس علاج کروانے بھیج ڈالا مگر تنہائی نے تو گٹار کو گٹار سمجھا بھی نہیں معمولی چھڑی قرار دے ڈالا۔

وہ وحشت ذدہ سا ہو کر اپنے ہاتھوں میں تھامی چھڑی دیکھنے لگا۔

یہ لو انگلیوں پر لگا لو صبح تک زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔

اسے سوچ میں پڑا دیکھ کر تنہائی نے سیدھا ہو کر اپنی میز کی دراز کھولی۔ آئنمنٹ اور پلاسڑ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔

عزم نے حیرت سے تنہائی کو دیکھا۔

یہ ۔۔ یہ کیا ہے؟

اس نے کاغذ کے ٹکڑوں اور تیل میں بھیگے کوئلے کو آئنمنٹ اور پلاسٹر کہہ کر اسکی جانب پھینکا تھا۔

آئنمنٹ اور پلاسٹر۔

تنہائی کا انداز سادہ سا تھا۔ مزاق کی رمق تک نہ تھی۔

پاگل سمجھا ہے مجھے کیا؟ یہ عزم نے غصے سے دونوں چیزیں اٹھا کر دیکھیں پھر میز پر پھینک دیں

سفید براق کاغذ کالا ہو چلا تھا تو تیل میں بھیگے کوئلے سے اسکی انگلیاں۔

یہ تیل میں بھیگے کوئلے اور کاغذ تم مجھے دوا کہہ کر دے رہی ہو ؟ تم مجھے پاگل سمجھ رہی ہو مگر خود پاگل ہو چکی ہو۔

وہ حلق کے بل چکایا۔ 

میں کیوں کوئلے تیل میں بھگو کر اپنی دراز میں رکھوں گی بھلا؟

اسکے انداز کے برعکس تنہائی نے نہایت رسان سے

جواب دیا تھا

ادھر لائو میں تمہارا زخم صاف کردوں۔

وہ حیرت زدہ سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ خود اٹھ کر اسکے پاس آئی نرمی سے ہاتھ تھام کر کوئلے کا لیپ کیا اور کاغذ سے انگلی کو لپیٹ دیا۔ کاغذ ٹک نہیں رہا تھا تو سفید ٹیپ میز سے اٹھا کر اس پر چپکا دی۔

تنہائی کی انگلیاں کالی ہو چکی تھیں۔ اپنے چہرے پر آتی بے پروا کالی لٹ کو اس نے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے گال پر کالا نشان لگا لیا تھا۔ مگر اسکا اطمینان قابل دید تھا۔اتنا کہ عزم کو اپنے یقین پر گمان غالب  آنے لگا۔جھجکتے ہوئے اس لڑکی سے جو عمر میں چند سال بڑی تھی اس سے کہنے لگا

میں ہوں نا فنکار۔ یہ گٹار بجانا آتا ہے نا مجھے؟

میں کیا جانوں کبھی گٹار بجا کے سنوائو تب ہی بتا سکتی۔

وہ اطمینان سے کہہ کر دوبارہ اپنی نشست کی۔جانب بڑھ گئ۔

وہ مایوس سا ہو گیا تھا۔

پھراسکا کیا کروں؟

اس نے مایوس سے انداز میں پلٹ کر پوچھا۔ تنہائی کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔اسکی بات پرچونکی۔

فی الحال تو گھر جائو اور سو جائو یہ نسخہ ہےاگلی بار اگر پھر اپنا آپ گٹار بجاتے ہوئے محسوس ہو تب ہی آنا ورنہ میرے حساب سے تمہارا علاج ہو گیا ہے۔

وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی تھی۔

میکانکی انداز میں عزم نے اس سے پرچہ پکڑا۔

دو تین کلو دوائیاں پھر اسکے نصیب میں کھانا لکھی تھیں۔

وہ کندھے سے لٹکتے گٹار کے بوجھ کو سہارتا سر اثبات میں ہلاتا مڑ کر جانے لگا۔

اگر بوجھ ذیادہ ہے اس چھڑی کا تو یہاں دروازے پر رکھ دو۔

عقب سے نرم سی آواز آئی تھی تنہائی کی۔

اس نے لمحہ بھر سوچا پھر گٹار کا فیتہ اپنے گلے سے اتار کر احتیاط سے دروازے کے پاس دیوار سے ٹکا دیا۔ اور احتیاط سے دروازہ کھول کر شکستہ سے انداز میں باہر نکل گیا۔ خود۔کار دروازہ اپنے بوجھ سے واپس بند ہوا تو وہ اطمینان سے دراز سے آئینہ نکال کر میز پر رکھے ٹشو باکس سے اکٹھے کئی ٹشوز کھینچ کر چہرے پر لگی کالک صاف کرنے لگی۔

چہرہ صاف کر کے اس نے احتیاط سے آئینہ واپس رکھا۔ اور دراز سے اپنی ذاتی ڈائری نکال کر لکھنے لگی۔

کیس 567

عزم بہت برا گٹار بجاتا ہے اسکو سننے سے بہتر یہی ہے کہ عزم یہ سمجھے کہ گٹار گٹار نہیں چھڑی ہے۔ یقینا اسکی زندگی اب آسان ہو چکی ہوگی۔

اس نے لکھ کر ڈائری بند کردی۔

تو آج مزید کوئی اپائنٹمنٹ نہیں ہے میری ۔

اس نے خوش ہو کر زیر لب کہتے ہوئے دونوں بازو  اوپر کر کے زوردار انگڑائی لی۔ اٹھی دفتر پر تنقیدی طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے  دروازے کے پاس آئی عزم کے گٹار کو اٹھایا۔ بس ایک ہی تار الگ تھی اسکو نہ چھیڑتے ہوئے وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور گٹار کا فیتہ کندھے سے گزار تے ہوئے آنکھیں بند کرتے ہوئے گٹارپر اپنی پسندیدہ دھن چھیڑ دی۔۔۔۔

ختم شد۔

از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

Lakeer e waqt urdu afsana about time and space

مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔ نفسیات دان۔عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

۔۔۔۔۔ لکیر وقت

Hajoom E Tanhai qoutes

ایک عمر سے اس نے نگاہ نفسیات دان کی آنکھوں پر جما رکھی تھی۔جیسے
آنکھوں سے اسکے دل کا حال پڑھ لینا چاہتا ہو۔
مگر دل کا حال نگاہوں سے بیان کرنا اسے نہیں آتا تھا۔ جبھی مریض کی نگاہوں کا مرکز وہ نفسیات دان صرف الجھن ذدہ تھی کہ آخر اس ٹھیک ٹھاک سمجھدار دکھائی دینے والے انسان کو کیا معاملہ درپیش ہے جو یوں وحشت زدہ سا پلک جھپکائے بنا اسے گھورے جا رہا تھا۔ آج کا پہلا اور شائد آخری مریض یہی ہونے والا تھا۔ ہجوم کو گھنٹہ لگا تھا اس نتیجے پر پہنچنے میں کہ اگلی ملاقات کو وقت دے یا نہیں۔اس نے گہری سانس لیکر انٹرکام پر اپنی ذاتی معاون ملازمہ کو ہدایت دی کہ بقیہ تمام ملاقاتیں منسوخ کرکے انکو نئے اوقات کار بتا دے۔
فون رکھ کر اس نے بلا ارادہ اس نے میز پر دھری اپنی پسندیدہ تجریدی عجیب و غریب گھڑی کو دیکھا جو صرف چار سوئیوں پر مشتمل تھی۔ یہ سوئیاں ہوا میں معلق تھیں انکے کنارے ایک سکے جتنی چھوٹی مشین میں پیوست تھے۔ ایک سوئی سیکنڈوں کے حساب سے مسلسل حرکت میں تھی باقی دو گھنٹے اور منٹ بتاتی تھیں مگر کیسے یہ صرف ہجوم تنہائی کو خبر تھی۔ چوتھی سوئی عموما الارم کی ہوتی ہے مگر عام گھڑیوں میں اس خاص گھڑی میں یہ سوئی کسی خاص مقصد کیلئے تھی۔
اس پر نگاہ جمائے اسکا مریض اس گھڑی کی طرف اشارہ کرکے پوچھ رہا تھا۔
کیا وقت ہو رہا ہے؟
بنا پلک جھپکائے ہی اس نے پوچھا تھا۔
ایک بج کر پینتالیس منٹ۔
ہجوم نے گہری سانس بھری۔ تو یہ لکیر وقت میں الجھا مسافر ہے۔ اسکا مسلئہ وہ لمحوں میں حل کر سکتی تھی۔ مگر وہ اس مسلئے میں الجھ کر یقینا ایک عمر گنوانے والا تھا۔
میں بارہ بج کر پینتالیس منٹ پر آیا تھا۔ دیکھا آپکو خبر بھی نہ ۔ہوئی اور ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔۔
دبے دبے جوش سے وہ چیخ اٹھا تھا۔ہجوم کو اپنا کان سہلانا پڑا۔
دیکھیئے آپ
آپکے خیال میں مجھے یہاں بیٹھے کتنا وقت گزر چکا ہے۔
پانچ منٹ۔ ہجوم گڑ بڑائی۔
نہیں مجھے گھنٹے سے اوپر ہو چکا ہے یہاں بیٹھے۔
اس نے بے تابی سے بات کاٹ کر تصحیح کی۔
اچھا۔ ہجوم نے ہنکارہ بھرا۔ اسکی بات کو غلط کہنا یا ثابت کرنا اسے مشتعل کر سکتا تھا۔
میں اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر وقت نہیں رہا ہے میرے پاس مجھ سے چھنتا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کب صبح ہو تی ہے کب لمحہ بھر کے وقفے سے سہ پہر کب شام۔ مجھے اتنا کچھ کرنا ہے جو میں وقت کی کمی کے باعث نہیں کر پا رہا ہوں۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتا میرے سوا کسی اور کو یہ احساس کیوں نہیں ہو رہا ہے کہ زمین کروٹ لے چکی ہے اب وقت گزر نہیں رہا بھاگ رہا ہے یہ ہاتھوں سے پھسل رہے ہیں لمحے۔
وہ بنا رکے بولتا چلا گیا تھا۔ دونوں ہاتھوں کو اس نے اسکے آگے پھیلا دیا تھا جیسے واقعی وقت اسکی مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔
کیا یہ اچھی بات نہیں کہ آپکا وقت گزرتا جا رہا ہے؟
ہجوم نے بغور اسکی کیفیت جانچتے ہوئے سوال کیا تھا۔
ہرگز نہیں۔ وہ میز پر زو رسے ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا
مجھے وقت ہی اتنا نہیں دیا گیا جتنا مجھ سے قبل نسل انسانی کو دیا جاتا رہا ہے اور مجھ سے میں توقع رکھتا ہوں زماں و مکاں کھوج لینے کی کیسے کروں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے جب لوگوں کے پاس وقت تھا تب سوچ نہیں تھی اب میرے پاس سوچ ہے تو وقت کا دھارا رفتار پکڑ چکا ہے۔کیا یہ میرا قصور ہے کہ میں آج اس دور میں پیدا ہوا جب وقت پھسل رہا ہے ؟ مجھے اس و قت کیوں نہ پیدا کیا گیا جب وقت تھا؟ اور اگر مجھے اب پیدا کیا ہے تو مجھے اس لکیر وقت میں پھنسا دیا ہے جہاں صبح و شام پلک جھپکنے جتنے دور رہ گئے ہیں؟۔۔
اسکی آنکھوں میں خوف خلفشار بے بسی غصہ کیا کچھ نہ تھا۔ اسکا سوالیہ وجود خود ایک نیا سوال تھا۔ مگر کیا یہ فانئ وجود جانتا تھا کہ
اسکے سوال بے مایہ تھے۔یہ ہجوم تنہائی کے بس میں تو نہ تھا کہ اسکی لکیر وقت پلٹ دے ہاں اس کیفیت سے گزر چکی تھی بلکہ گزر رہی تھی سو اسکو سمجھنے والی شائد وہ اسکی دنیا کی واحد انسان تھی۔ ورنہ لوگوں کو تو احساس بھی نہ تھا کہ دنیا کیسی قیامت کی چال چل چکی ہے۔ ان سے لمحے گزارنے کا حق چھین لیا گیا تھا۔کیونکہ اب انجام قریب تھا۔
ہر چیز کا انجام ۔۔۔
لیکن ادراک ایک ایسا زنداں ہے جو قیدیوں کو ذہنی کشمکش میں ڈالتا ہے۔ ان سے جسمانی نہیں روحانی بیگار لیتاہےاور یہ بیگار بے کار ہے۔
یہ گھڑی دیکھ رہے ہیں آپ؟
اسکے غیر متوقع سوال پر فانی نے بد مزا سا ہو کر اسے دیکھا۔
آپکے خیال میں چوتھی سوئی کس مقصد کیلئے ہے؟
ہجوم نے اسکے تاثرات یکسر نظر انداز کیئے۔
اسکی بات کے جواب میں فانی وجود گھڑی کو گھورنے لگا۔ اسکی آنکھوں کی پتلی پھیلی سکڑی بے تحاشہ متحیر ہو کر اس نے ہجوم کو دیکھا۔
یہ جو بنا جھٹکا لیئے بنا رکے چلتی چلی جا رہی ہے لمحوں یا سیکنڈوں کی سوئی ہے۔
ہجوم تنہائی اسکے کسی اور ذہنی الجھن میں نہیں ڈالنا چاہ رہی تھی سو خود ہی اس گھڑی میں وقت دیکھنا سکھانے لگی۔
یہ جو وقفے وقفے سے چل رہی ہے منٹوں کی ہے اور یہ جو رکی ہوئی ہے یہ گھنٹہ مکمل ہونے پر چلے گی۔ اور یہ چوتھی عموما الارم کی ہوتی ہے مگر۔
یہ یہ۔۔ الارم کی نہیں ہے ۔ ہے نا؟
فانی نے بے تابی سے بات کاٹی۔
اس وقت اس گھڑی میں ایک بج کر پینتالیس منٹ ہو رہے ہیں ہیں نا؟
وہ پرجوش تھا۔ ہجوم چونکی۔ یہ پہلا انسان تھا اس کے سوا جس نے اس گھڑی کو دیکھ کر وقت کا درست اندازہ لگایا تھا۔
خلا میں تھرکتی سوئی لحظہ بھر رکی افسوس سے دونوں وجودوں کودیکھا پھر بڑھ گئ۔ یہ لمحوں کی سوئی کی حرکت دونوں محسوس بھی نہ کرسکے۔ اس لحظے نے گھڑی کو روک دیا تھا لمحہ بھرکیلئے نہیں ایک عمر کیلئے مگر ابھی یہ دونوں ادراک کی اس منزل تک نہ پہنچ پائے تھے۔
ہاں۔ یہ الارم کی نہیں ہے۔ بالکل صحیح سمجھے آپ۔اور شام ڈھل رہی ہے آپکا بہت وقت ضائع ہوگیا ہے۔
ہجوم نے سمجھانا چاہا۔
یہ دیکھیں میری گھڑی۔
اس نے اپنی کلائی ہجوم کی نگاہوں کے سامنے کی نہایت مہنگی اینڈرائڈ گھڑی شام پانج بج کر پینتالیس منٹ وقت بتا رہی تھی۔
وہ کف افسوس ملنے لگا۔
اب آپکو سمجھ آیا کہ میرا گھنٹہ تیزی سے گزر رہا ہے مجھے آپ سے ملاقات کیلئے آئے ایک گھنٹہ ہوا ہے اور شام ہونے لگی ذرا ملاقات کا وقت دیکھیئے صبح بارہ پینتالیس۔ اس نے اپنی ڈائری کھول کر سامنے رکھی۔
ابھی آپ سے چند منٹ قبل وقت پوچھا تو آپ نے ایک بج کر پینتالیس منٹ بتایا تھا اور اب دیکھیں چند منٹوں میں گھنٹے گزر گئے ہیں۔ کیا یہ میرے ساتھ قدرت کا مزاق نہیں؟
وہ متوحش سا پوچھ رہا تھا۔
اس گھڑی کے مطابق آپکو یہاں چار گھنٹے سے زائد وقت ہو چکا ہے ۔
ہجوم تنہائی نے دراز سے ایک ڈیجیٹل گھڑی نکال کر سامنے رکھی۔
آپ بارہ پینتالیس پر ہی آئے تھے یہ وقت آپکی گھڑی آپکے موبائل کی گھڑی اس دنیا کی گھڑی کے مطابق وقت بتا رہی ہے۔
اور یہ گھڑی ۔۔ اس نے عجیب و غریب سوئیوں والی گھڑی کی جانب اشارہ کیا
دنیا کا وقت اسے ہی بتاتی ہے جو دیکھنا چاہتا ہے۔
فانی نے ہجوم پر نگاہ جما لی دوبارہ۔
پورے پینتالیس سیکنڈ میں نے پلک نہیں جھپکائی مگر پلک
جھپکتے ہی چار گھنٹے گزر چکے تھے۔۔
ہم وقت روک نہیں سکتے فانی۔
ہاں ادراک ہو گیا ہے آپکو کہ وقت تیزی سے گزر گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہوں گی کہ اچھا ہوا ۔ جان جانا جان لیوا احساس ہے مگر اب
اسی احساس کے ساتھ یہ بھی جان لیں کہ شام ڈھل رہی ہے۔۔
ہجوم نے اپنی پشت پر گلاس وال کی جانب اشارہ کیا۔ جس سے باہر کی رواں دواں زندگی عریاں ہو رہی تھی۔ شام کے دھندلکے رات کی تاریکی میں بدل رہے تھے مگر شہر کی روشنیاں تاریکی پھیلنے نہیں دے رہی تھیں۔ ایک چمکتا دمکتا روشن شہر۔
جسکو ابھی لمحوں کی چال کا ادراک نہیں ہوا تھا
فانی نے سٹپٹا کر ہجوم کو دیکھا جسکے چہرے پر طویل ترین دن کی تمام تھکن اتر آئی تھی۔
تو کیا آپکو بھی ادراک ہوا ہے یہ کہ وقت معمول سے تیزی سے گزر رہا ہے؟
فانی نے بے یقینی سے دیکھا اسے۔
ہجوم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ فانی کا وجود ایک دم ڈھیلا سا پڑ گیا۔ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح چند لمحے میز پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھکا کھڑا اپنی سانسیں بحال کرتا رہاپھر یونہی بنا مڑ کر دیکھے باہر جانے لگا۔
یہ چوتھی سوئی جانتے ہیں کس چیز کی ہے؟
ہجوم کی آواز اسے پشت پر سنائی دی۔ وہ ٹھٹکا۔ ایک زخمی مسکراہٹ چہرے پر در آئی۔ مڑ کر دیکھا۔ہجوم کو جواب معلوم تھا مگر پھر بھی وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
یہ ادراک کی سوئی ہے۔ اور میری اور آپکی اس ملاقات کے درمیان چار مرتبہ اپنےمدار میں چکر مکمل
کر چکی ہے۔
اس نے لحظہ بھر کو ہجوم کے جواب کا انتظار کیا۔ مکمل خاموشی اسکا جواب تھی۔
وہ تیز قدموں سے نکلتا چلا گیا۔

پانچ بار ۔ ہجوم نے گہری سانس بھری۔ وہ یقینا ایک منزل پیچھے تھا ۔
اسکے نکلتے ہی اسکی ذاتی معاون اندر چلی آئی۔

میم میں نے کل کی ملاقاتوں کی فہرست بنا دی ہے کل آپ کو آج کےدو منسوخ ہو جانے والے ملاقاتیوں
سے بھی ملنا پڑے گا۔
ہجوم تنہائی نے ہنکارہ سا بھرا وہ اسی عجیب گھڑی پر نگاہ جمائے کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہتھیلی کے پیالے میں چہرہ دھرے گہری سوچ میں تھی۔
یہ بتائو یہ چوتھی سوئی کتنے چکر لیتی ہے ایک گھنٹے میں؟
سوال اچانک تھا
معاون نے غور سے گھڑی کو دیکھا۔
مگر مادام اس میں تو چوتھی سوئی ہے ہی نہیں؟
اسکا جواب ہجوم کیلئے غیر متوقع نہیں تھا
سو ہلکے سے مسکرا کر سر کے اشارے سے اسے جانے کی اجازت دی۔
باہر نکلتے ہوئے اس نے یونہی مڑ کر دیکھا۔ ہجوم تنہائی مسکراتے ہوئے گھڑی پر نگاہ جمائے گلوب کی شکل کے پیپر ویٹ کو انگلیوں میں تیزی سے گھما رہی تھی۔
مادام چوتھی سوئی کا حساب کرنے بیٹھ تو نہیں گئیں؟ پچھلی بار گھنٹوں کھوئی رہی تھیں اسکو دیکھنے میں ۔ جبھی اسکے وجود سے ہی انکاری ہو گئ میں آج۔
باہر نکلتے ہوئے اس نے سرجھٹکا۔
پتہ نہیں یہ عجوبہ ملا کہاں سے ہے انہیں۔ چار سوئیوں والی بے ڈھب گھڑی جس میں نا ڈائل نہ ہندسے۔
جانے مادام وقت کیسے جانتی ہیں اس سے۔
اس نے سوچا پھر کندھے اچکا تی اپنے کائونٹر کی جانب بڑھ گئ۔
چوتھی سوئی لمحے میں سینکڑوں بار گھومتی ہے لمحوں کی سوئی مات کھا جاتی ہے کون حساب رکھ سکتا ہے بھلا اسکا کہ ایک گھنٹے میں کتنی بار چکر لگا گئ؟
ہجوم تنہائی نے سوچا تھا۔
پھر اپنی دراز سے ریکارڈ والی ڈائری نکالی۔
کیس نمبر658

فانی ادراک کے لمحے کا اسیر ہے۔
جسکو ادراک ہو جائے وہ یا تو پاگل ہو جاتا ہے یا پاگل کہلاتا یے۔
یقینا فانی اب پاگل ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔
اسکو جھٹلا کر عام انسان بنایا جا سکتا ہے مگر یہ کام میں کیوں کرتی جبکہ مجھے پتہ ہے وہ پاگل نہیں ہے۔
اس نے لکھ کر قلم بے چینی سے میز پر پٹخا۔
کمرے میں گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔اس نے گھڑی پر نگاہ کی تو گھنٹہ مزید گزر چکا تھا۔
ہائش۔
وہ تیزی سے اپنا سامان سمیٹنے لگی۔ زندگی کی دوڑ میں وقت کی لگام اسکے ہاتھوں سے چھٹ رہی تھی۔ اور وہ بے چین تھی۔ بد حواس اور متوحش بھی۔
از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai