خواہش بیلے کا پھول

ہلکا سا دھکا لگا کر لکڑی کا مضبوط دروازہ کھول کر بیلا نے باغ میں جھانکا

پھر ادھر ادھر دیکھ کر کسی کے موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتی دبے پاؤں مگر تیز تیز چلتی سیدھا پائیں باغ میں کھلتی مسز رڈلی کے باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس چلی آئی…

فی الحال باورچی خانے میں مکمل خاموشی تھی

یعنی خبطی سی آنٹی لنڈا اپنے کسی کمرے میں گھسی صفائی کے نام پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے میں مگن تھیں

پنجوں کے بل کھڑے ہو کر کھڑکی سے اندر جھانک کر اس نے مزید اطمینان بھی کر لیا تھا

کھڑکی نو سالہ بیلا کہ قد سے کافی اونچی تھی مگر وہ پنجوں کے بل کھڑے ہو کر اچک اچک کر منزل مقصود تک رسائی حاصل کرلیا کرتی تھی ابھی ابھی کی طرح

……………………………………………………

اپنی خاص دراز کھول کر اپنے تمام سرٹیفکیٹ  اور مختلف بچتوں اور چھوٹی موٹی انشورنس کے ضروری کاغذات نکال کر انھیں پڑھ کر دوبارہ ترتیب  دے کر رکھنے جیسا بے مقصد کام وہ تقریبا روزانہ ہی کیا کرتی تھیں

ابھی بھی دو گھنٹے اس کام میں ضا ئع کر کے مطمئن سی ہو کر دراز پر تالہ لگا کر اٹھ کھڑی ہویں

آج تو رڈلی نے فون بھی نہیں کیا

اپنی مسہری کے کنارے میز پر رکھے فون پر انکی نظر پر تو انھیں یہ سوچ آی

مسٹر رڈلی نے ایک مہینے قبل انھیں اپنی ترقی اور دوسرے شہر تبادلے کی خبر سنائی

ترقی کی خوش خبری کے ساتھ تبادلہ انکو کافی اداس بھی کر گیا تھا

وہ اپنی موجودہ حالت زندگی سے کافی مطمین تھے اور ہرگز دوسرے شہر جا کر تنہا رہنے کو تیار نہیں تھے لنڈا نے سو جتنوں سے انھیں منایا تھا وہ انجینئیر تھے ایک غیر آباد علاقے میں نیے پل کی تعمیر کے سلسلے میں انھیں بھیجا جا رہا تھا وہ چاہ کر بھی لنڈا کو ساتھ  نہیں لے جا سکتے تھے.لنڈا نے انکی غلط فہمی دور نہ کی کہ اگر وہ ساتھ جا بھی سکتی ہوتیں تو کبھی اپنے گھر کا آرام چھوڑ کر کسی پسماندہ علاقے میں جا بسنے کو تیار نہ ہوتیں 

اسی لئے وہ صاف منع کر کے واپس آئے تھے مگر ٣٠ سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں سب سے پہلا اور شدید جھگڑا لنڈا نے ان سے کیا تھا

تمام عمر اپنی خواہشیں دبانے میں گزری ہے اب عمر کے تیسرے حصے میں اگر آمدنی میں اضافے کی امید غیبی مدد سے بنی ہے تو اسکو ختم کرنا نری بے وقوفی ہے تمہارے ساتھ کے لوگ اپنی چرب زبانی اور ذہانت سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں  جبکہ تم ابھی تک کنویں کے مینڈک بن کر وہیں کھڑے ہو جہاں سے آج سے تیس سال پہلے تھے….

 انہوں نے یہ تمام بے رحمانہ جملے ریڈلی کے منہ پر کہہ دے تھے 

 اتنا کھلا طنز

مسٹر رڈلی ہکا بکا سے رہ گیے تھے پھر تحمل سے کہنے لگے

ہم دو جی ہیں بس تم اپنی کنجوسی یا بقول اپنی دانشمندی سے معقول رقم بچا کر درجنوں بانڈ خرید کر یا کہیں سرمایا کاری کر کے معقول رقم ہر مہینے حاصل کر لیتی ہو اس رقم کو خرچ کرو تو تمہاری کوئی آرزو تشنہ نہ رہے مگر تم اسے بچا کر مزید خرچے کم کر کے کوئی نیا بانڈ خرید لیتی ہو اتنی ہاؤس کیوں ہے تمہیں پیسے کی

کس کے لئے بچا رہی ہو ؟ ہماری تو کوئی اولاد بھی نہیں ہے اسی خرچ سے بچنے کے لئے تم نے مری خواہش کا بھی احترم نہیں کیا اب دیکھ لو

اس بڑھاپے میں ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں

” مجھے کوئی پچھتاوا نہیں

لنڈا نے بے نیازی سے بات کاٹ دی

بچے نری حماقت ہوتے پیدا کرو پالو پوسو جوان کرو اور صلے میں اپنی جمع پونجی خرچ کر کے خالی ہاتھ بیٹھو اس سے بہتر ہے خود اپنے اوپر خرچ کر لو اور پھر آجکل کے بچے تو اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں کم از کم ہمیں ایسا کوئی خوف نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور ہمارے گھر سے فائدہ اٹھائے گا ہ ہا ہا ہا

اپنی تقریر مکمل کر کے وہ حسب عادت طنزیہ ہنسی ہنس دی تھیں

مسٹر رڈلی نے اب اس پر مزید بحث کرنے کی کوشش نہیں کی انکی اسی در گزر کر دینے کی عادت کی بنا پر وہ ہمیشہ ایک جھگڑا ٹال دیا کرتے

ابھی بھی وہ تحمل سے انھیں منانے کی کوشش کرنے لگے

خود سوچو میں وہاں کیسے رہوں گا کون میرے کھانے پینے کا خیال رکھے گا مری صحت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے میں مزید ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاؤں گا پھر تم خود یہاں میرے بغیر اکیلی کیسے رہو گی ؟

اور لنڈا نے انکی بات کاٹ دی تھی

……………………..

مسٹر رڈلی کو گیے تین ہفتے ہو گئے تھے ان تین ہفتوں میں وہ دو دن چھوڑ کر انھیں کال کرتے تھے . وہ وہاں خوش نہیں تھے وہاں کھانے پینے میں انھیں کافی پریشانی کا سامنا تھا سب سے بڑھ کر وہ لنڈا کو کافی یاد کر رہے تھے تیس سال میں پہلی دفع وہ اتنی دور گیے تھے انکی ہر دوسری بات واپسی سے متعلق ہوتی تھی

جسے لنڈا پیار سے ٹال دیتی تھیں

وہ خود بھی کافی اکیلا پن محسوس کر رہی تھیں مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرتی تھیں تاہم مسٹر رڈلی کی بے تابیاں انھیں کافی سرخوشی فراہم کرتی تھیں

پرسوں بات کرتے ہوئے مسٹر رڈلی کافی تھکے تھکے بیزار سے تھے بول بھی کم رہے تھے شائد خفا ہو گئے تھے جبھی آج دوبارہ فون نہیں کیا لنڈا مسکرا نے لگن پل بننے میں تقریبا سال لگ جانا تھا تین ہفتے بعد گھر واپس آتے تو وہ انھیں منع لیتیں مطمئن سی ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل آئیں

انکا رخ باورچی خانے کی طرف تھا

………………………………………………………………..

اسکی آنکھوں میں اشتیاق امڈ آیا اسکی نظروں کا محور کھڑکی کے پاس رکھا شیشے کا فلاسک تھا جس میں سے ایک نازک سی سبز بیل بل کھاتی ہوئی کھڑکی کی چوکھٹ سے لپٹ رہی تھی

یہ چہار موسمی بیل تھی گول گول پانچ پتیوں والے چار رنگ کے پھولوں سے لدی بیل جو دور سے ہی اپنی جانب توجہ کھینچ لیتی تھی

کہنے کو یہ چار رنگ کی بیل تھی مگر منفرد بات یہ تھی یہ چاروں ہی سرخ کے ہی مختلف روپ تھے

جسے گہرا سیاہی مائل سرخ .ہلکا سرخ جو قریب قریب سفید ہی لگتا شوخ آتشی سرخ اور ٹھنڈا ٹھنڈا سا بنفشی رنگ ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھاتا تھا

ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھایا کرتا تھا بیلا کو یہ بیل بےتحاشا پسند تھییہ بیل ابھی قریبا ڈیڑھ ماہ پہلے مسز رڈلی نے منگوائی تھی یہ سست رو بیل ڈیڑھ مہینے میں بھی بس ایک دو فٹ ہی بڑھ پی تھی ابھی کھڑکی کے ایک پٹ پر لپٹ رہی تھی مسز رڈلی نے دھاگے باندھ باندھ کر اسکو پوری کھڑکی کے گرد ہشیا کھینچ لینے کاموقع فراہم کیا تھا مگر بیل شائد اس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتی تھی بیلا نے تھوڑا سا اچک کر اس گچھے پر ننھ ہاتھ رکھے دوسرا ہاتھ سہارا لینے کو کھڑکی کی منڈیر پر جمایا تھا

…………………………………………………………..

باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی حسب معمول انہوں نے ایک بھرپور نظر اپنی بیل ڈالی اور رخ پھر لیا

یک بیک عجیب سا احساس ہونے پر انہوں نے پالت کر دیکھا تو کھڑکی کے پاس دو ننھے ننھے ہاتھ نظر آئے . اف انکی بیل کی ننھی دشمن وہ غصے میں بھر گئی اس نے ابھی پھولوں کا ایک گچھا توڑ لیا تھا انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پیر پٹختی بیلا کے سر پر جا پہنچی  تھیں

غصے  سے سرخ آنکھوں اور پھڑ پھڑ اتے ناک کے نتھنوں کے ساتھ غصیلے لہجے میں انہوں نے اسے ڈانٹنا چاہا بیلا انکی شکل دیکھ کر ڈر کر بھاگ اٹھی

اے لڑکی رکو

وہ اسکے پیچھے دوڑیں

بیلا بھاگ کر ان کے پڑوس کے گھر گھس گئی تھی

…………………..

ہیلو

بیلا کے پیچھے غصے میں جاتے انھیں ایک نرم سی آواز سنائی دی انہوں نے پلٹ کر دیکھا

بیلا کی والدہ بیلا کے چھوٹے بھائی کو پرام میں ڈالے باغ میں ٹہل رہی تھی انھیں دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ مخاطب کیا

مسز رڈلی کو احساس ہوا وہ بنا دستک دیے کسی کے گھر گھس جانے جیسی نازیبا حرکت کر چکی ہیں

سو گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے اپنے قدم روک کر وہ بیلا کی مما کے پاس ہی چلی آییں

مگر انکی تیوری کے بل سیدھے نہ ہو پائے تھے

ہائے .. سنو ماریا اپنی بیٹی کو سمجھاؤ  وہ مری خواہش بیل برباد کرنا چھوڑ دے کوئی پھول پنپنے نہیں دیتی سب توڑ ڈالے خالی کر کے رکھ دی مری بیل

وہ خاصا اونچا بولیں

میں معذرت خواہ ہوں … مسز رڈلی آپ برائے مہربانی بیٹھئے تو سہی…

ماریا فق چہرے کے ساتھ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے ہوئے انکی بات سن کر باغ کی کرسی انھیں پیش کرنے لگی گہری سانس لے کر لنڈا براجمان ہوئیں تو ماریا نے بھی انکے مقابل نشست سنبھال لی

جی اب بتائیے… ماریا مسکرائی

بیلا اندر کمرے کی کھڑکی سے ناک چپکائے سہم کر جھانک رہی تھی

لنڈا گویا ہوئیں

میں نے اپنے آبائی گاؤں سے خاص بیل منگوائی ہے خواہش بیلے اس پر چار رنگ کے پھول کھلتے ہیں یہ پھول.زندگی کی چار ادوار کی علامت ہوتے ہیں خوشی، اطمینان ،دکھ، پریشانی 

ان چاروں کے ملاپ سے نصیب بنتا ہے . جس گھر میں یہ بیل پنپ جاتی ہے وہ گھر خوش نصیبی کی علامت بن جاتا ہے فی زمانہ خوش نصیبی پیسا ہے سو میری اس بیل کو لگانے کی وجہ یہ ہے کہ مرا گھر مالا مال ہو جائے

اس لئے میں نے خاص کر چوری کر کے یہ بیل لگوائی ہے

چوری کر کے؟ ماریا اچنبھے کا شکار ہوئی

ہاں یہ بیل خاص چوری کر کے لگوائی جاتی ہے کیوں کہ آپ کسی کی خوش قسمتی مانگ نہیں سکتے کوئی دیگا بھی نہیں سو میں نے اپنے باورچی خانے کی کھڑکی میں ایک فلاسک میں خاص کھاد ڈال کر لگی ہے اور میری خوش قسمتی کہ اس بیل کو پنپے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ مسٹر رڈلی کی ترقی ہو گئی

اوہ اچھا لگا سن کر مبارک ہو

لنڈا سانس لینے کو چپ ہوئیں تو ماریا نے موقع غنیمت جان کر خیر سگالی کے جذبات کے تحت مبارک باد دے ڈالی . لنڈا کے تنے تنے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑے اور کہیں سے کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ بھی انکے لبوں پر آسجی

شکریہ ماریا خوش رہو مگر مسلہ یہ ہے کہ تمہاری بیٹی کو شاید یہ بیل بہت اچھی لگی ہے وہ اسکے پھول توڑ لیتی ہے جو ایک تو بیل کی خوبصورتی میں کمی کا با عث ہے دوسرا وہ میری خوش قسمتی توڑ کر اپنے گھر لے آتی ہے جو وہ مجھ سے مانگے تو بھی میں نہ دوں اور وہ چرا لیتی ہے

لنڈا کی بات پر ماریا کے چہرے پر مسکراہٹ در آئ وہ خود بھی تو کسی کی خوش قسمتی چرا کر اپنے گھر کی زینت بنانا چاہ رہی ہیں

اپنی عمر کے تیسرے حصے میں آ کر میں نے چوری جیسا لعنتی کام کیا ہے سو تم اندازہ لگا سکتی ہو یہ بیل میرے لئے کتنی اہم ہے

انکی آنکھیں جھلملائیں

میں بیلا کو سمجھاؤں گی .. ماریا نے اطمنان دلایا وہ بھی مطمئن ہوئیں اور واپسی کی راہ لی ………………………………………………..

ماریا نے بیلا کو بلا کر ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھایا اور وعدہ بھی لے لیا 

بیلا آیندہ آپ اس بیل کے پھول نہیں توڑو گی نا 

بیلا ماں کے نرم رویے پر کھل اٹھی تھی اپنے سنہری پونی ٹیل والے سر کو اثبات میں ہلا کر ماں لیا تھا ساتھ ہی پوچھا 

مما ابھی جو توڑے  تھے نا وہ راستے میں گر گیے تھے وہ لے آؤں ؟ ان سے تو کھیل سکتی ہوں نا آیندہ نہیں توڑوں گی ؟

ماریا نے مسکرا کر اسکی پیشانی چوم لی ………

……………………………………………………..

اپنے باورچی خانے میں واپس آ کر سب سے پہلے فریج کا دروازہ کھول کر اپنے لئے ٹھنڈے پانی کی بوتل 

نکالی تھی غٹا غٹ ایک جام بھر کر پانی کا پی کر انہوں نے پیار بھری نظر وں سے اپنی بیل کو دیکھا 

شیشے کے خوبصورت بیضوی فلاسک کی تہہ میں خاص سمندری ریت اور کھاد کے امتزاج سے بل کی جڑ کو زمین دی گئی تھی سنہرے دمکتے ذروں پر پانی کی دبیز تہہ جیسے سچ مچ سمندر کو کوزے میں بند کیا ہو 

انہوں نے احتیاط سے اسے چھوا اور مطمئن ہو کر پلٹ گئیں

…………………………………………….

محتاط قدم اٹھاتے ہوئے اس نے باغ کا راستہ طے کیا 

سنگی راستے کے قریب اسکے ہاتھ سے چھوٹ جانے والا پھولوں کا گچھا پڑا تھا مگر مسلا ہوا جسے کوئی ان پر سے پاؤں رکھ کر گزر گیا ہو 

بیلا تڑپ کر آگے بڑھی مسلے ہوئے پھول بنفشی اور ہلکے گلابی رنگ کے تھے جبکہ سیاہی مائل سرخ اور آتشیں سرخ پوری آب و تاب سے کھلے ہوئے تھے 

یقینا یہ انٹی لنڈا ہی بنا دیکھ پیر رکھ کر گزر گیں ہیں 

اس نے تاسف سے سوچا اور انکو چن کر شاکی نظر انکے گھر پر ڈال کر واپس آگئی 

شیشے کے گلاس میں پانی بھر کر اپنے کمرے میں لکھنے والی میز پر لا رکھا اب ان پھولوں کو اس نے گلاس میں ڈال دیا تھا 

شفاف پانی میں تیرتے شوخ رنگوں کے پھول دیکھنے میں کافی بھلے معلوم ہو رہے تھے 

کتنی ہی 

دیر وہ ان سے کھیلتی  رہی 

کسی کام سے بیلا کو پکارتی ماریا اندر آئی تو بلا کو میز پر سر رکھے بچپن کی میٹھی نیند میں گم پایا اس نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا میز پر رکھا برقی چراغ گل کرنے لگی تو گلاس کی سطح پر تیرتے خواہش بیلے کے پھولوں نے اسکی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی 

کتنے دل کش ہیں یہ 

اس نے پہلی مرتبہ انکو دیکھا تھا گلاس اٹھا کر انکی خوشبو سانسوں میں بھرنی چاہی تو حیرت کا جھٹکا لگا 

اتنے خوبصورت نظر آنے والے پھولوں میں معمولی سی بھی خوشبو نہیں تھی 

…………………………………………………………………………………………

گلاس میں تیرتے پھولوں کی عمر تمام ہوئی انکے کنارے سیاہ پڑنے لگے انکا وجود پانی میں گھلتا گیا ماریا نے گلاس مانجھ کر دوبارہ باورچی خانے میں رکھ دیا 

بیلا کا بورڈنگ سکول میں داخلہ ہو گیا تھا 

………………………………………………………..

ایک روشن صبح کا آغاز ہوا تھا سورج کی نرم کرن بھاری پردوں کے بیچ ہلکی سے دراڑ سے رستہ بناتی اسکی پیشانی چومنے آ پہنچیں ایک لطیف سے احساس  نے اسکو بیدار کر ڈالا مسکرا کر انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی 

صبح بخیر بیلا 

اس نے خود کو خود ہی دعا دی دیوار گیر گہری سات بجے کا وقت بتا رہی تھی 

یہ اسکا بیدار ہونے کا ہی وقت تھا آخر کار اسکے تعلیمی سلسلے کا اختتام ہوا تھا گریجویشن کے آخری امتحانات دے کر وہ کل ہی واپس گھر پہنچی تھی اس دفعہ طویل چھٹیاں منتظر تھیں سو اسکا ارادہ خوب سارا سونے اور لطف اٹھانے کا تھا سو وہ امتحانوں اور سفر کی سب تکان مٹانے کو رات کو جلدی سو گئی تھی اب تازہ دم تھی 

صبح کی تازگی اپنے اندر اتارنے کو وہ مسہری سے اتری اور بالکونی کا دروازہ کھولتی کھلی فضا میں چلی آی

ایک خوش گوار دھوپ بھرے دن کا آغاز ہوا چاہتا تھا 

Have you ever experienced such pleasure?

aww I am enjoying the darkness in eternity 

peace 

silence 

calm 

no sorrows 

nor sufferings  and me immortal

how could I sing an elegy full of agony 

I am in  a happy mood

yeah 

I am giggling 

ننھی معصوم آوازیں بے مثال کشش رکھتی تھیں اپنے اندر ننھے بچے کورس میں گا رہے تھے 

وہ بھی انکے ساتھ گنگنانے لگی 

مسز رڈلی کی وفات کے بعد انکا گھر حکومتی تحویل میں چلا گیا تھا اب ایک خصوصی بچوں کا ادارہ انکے گھر میں کھل چکا تھا مختلف عمروں کے بچے جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار تھے اسمبلی کے اوقات میں دھوپ سینکتے مسز رڈلی کے لان میں نظم پڑھ رہے تھے 

بچوں کے چہرے مطمئن اور خوش تھے وہ دلچسپی سے انہیں دیکھ رہی تھی 

تبھی سبک رو ہوا نے تھوڑی تیزی پکڑی اور ایک ناگوار جنگلی پتوں کی بو کا جھونکا سا آیا 

اس نے ناک سکیڑ کر اس بو کا منبع جاننا چاہا 

مسز رڈلی کی خواہش بیل بڑھ کر اب جھنڈ کی شکل اختیار کر چکی تھی 

نہ صرف اس نے مسز رڈلی کے باورچی خانے کی داخلی دیوار پوری ڈھانپ لی تھی بلکہ آہستہ آہستہ دیوار کا سہارا لیتی انکی گھر کے باہر کی طرف لگے پلاسٹک کے اخراجی پائپ کا سہارا لیتی اسکی بالکونی تک آپہنچی تھی 

اف… اس نے کوفت سسے سوچا 

ڈھیر سارے چار رنگوں کے پھولوں کے گچھوں سے بھرا جھنڈ دیکھنے جتنا بھی اچھا لگ رہا ہو مگر انکے جنگلی پتوں کی بو حواس مکدر کئے دے رہی تھی 

اسے نو سالہ بیلا یاد آی جو چار پھول توڑ لینے پر مسز رڈلی کی خفگی کا نشانہ بنی تھی 

کتنا پاگل تھیں مسز رڈلی اس بیل کے پیچھے اب اگر دیکھتیں اسے پھلتے پھولتے تو شاید خوشی سے مر جاتیں 

اس  نے ریلنگ پر جھومتی شاخ کو پرے کرتے سوچا 

یہ انکی خوش قسمتی بیل جب انکی حسب خواہش کھڑکی ڈھانپ گئی تھی تب مسٹر رڈلی کی وفات پا جانے کی  خبر آگئی تھی 

پل کی جگہ پر کسی حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے کمپنی نے حادثاتی انشورنس کے نام پہ 

بھری رقم مسز رڈلی کو ادا کی تھی اور مسز رڈلی بقول ماریا کے سارا دن روتی رہتی تھیں 

یہ بیل تو خاصی منحوس ثابت ہوئی تھی انکے لئے 

اس نے سوچا 

اور میں

بچپن میں  تو دھیان ہی نہیں دیا تھا میں نے کتنی ناگوار بو ہے انکی 

اف کل ہی مما سے کہہ کر کٹواتی ہوں یہ باڑ

……………………………

ختم شد 

support us

از قلم ہجوم تنہائی 

اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

visit :hajoometanhai

WANT TO READ ABOVE STORY IN ENGLISH? VISIT THE LINK BELOW

 
اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

 
 
 
“>> » Home » Afsanay (short urdu stories) » Suspense/Mystry Urdu Stories » Khawahish belay ka phool URDU ALAMATI KAHANI

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *