hum jo patay hotay

ہم جو پتے ہوتے۔

۔ہرے بھرے درخت سے جڑے ہوتے۔۔ 

بہار کا موسم ہوتا۔۔ 

سبک ہوا سے جھوم ریے ہوتے

۔۔ تم کلہاڑی لیکر آتے۔۔

 اس درخت کو ہی کاٹ ڈالتے۔۔

 ہم بے جان سے ہو کر آگرتے۔

۔۔ سوکھ کر ہیئت اپنی کھو جاتے۔۔ 

تم تیز قدم اٹھاتے آتے۔۔ 

ہم تمہارے قدموں میں چرمرا جاتے۔۔

 پر سنو

تم جو پتے ہوتے۔

۔جس درخت سے جڑے ہوتے

۔۔ اس کے سائے میں بیٹھا کرتے۔

۔اسے اپنا مسکن بنا لیتے

۔۔ اسکو روز پانی دیا کرتے۔۔

ہم اس پر خزاں بھی نہ آنے دیتے۔۔۔۔

از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoomhttps://hajoometanhai.blogspot.com/

Fikr o fun ka chiragh jalta hay pehle barson demagh jalta hay

فکر و فن کا چراغ جلتا ہے
پہلے برسوں دماغ جلتا ہے

دل سلگتا ہے داغ جلتا ہے
سوچنے سے دماغ جلتا ہے

ایک امید ٹوٹتی بھی نہیں
دور دور ایک چراغ جلتا ہے

آپکو زحمت کرم بھی ہوئی
دل وہی با فراغ جلتا ہے

پھر شگوفے چمن چمن پھوٹے
پھر مرا داغ داغ جلتا ہے

ٹھہرو ، ٹھہرو ، ہواؤ ، طوفانو
دیکھو دیکھو چراغ جلتا ہے

اس نوازش سے دل کا حال نہ پوچھ
بارشوں سے یہ باغ جلتا ہے

از قلم زوار حیدر شمیم

AAp hain phool hain chandni raat hay

آپ ہیں ،پھول ہیں ،چاندنی رات ہے
درد ہے ،اشک ہیں ،ہم ہیں برسات ہے

اشک پلکوں پہ، تاروں بھری رات ہے
وقت کی بات ہے ،وقت کی بات ہے

ڈھونڈ کر لاؤ دل کو کہاں گم ہے دل
درد کی بات ہے غم کی برات ہے

پیار کے خار زار ،اور پھولوں سے تن
اہل دل کے لئے جیت بھی مات ہے

دیکھنا مے نگاھو ، غزل پیکرو
سوز دل میں بھی ایک چیز ایک بات ہے

میری بربادیوں کے ، تماشائیو
یہ بھی دیکھو یہ سب کس کی سوغات ہے

چاندنی جگمگاتی حقیقت سہی
دن کی بات اور ہے رات پھر رات ہے …..

از قلم زوار حیدر شمیم

Jaanay yeh raat dhalay yaa na dhalay

janay yeh raat dhalay yaa na dhalay

humdamo , hum safro, hum tau chalay

roshni chahiye , jis tarah bhi ho

bujh gai shama tau phr dil hi jalay

kitnay tareek jahan bastay hain

haan in hi sitaron ke talay

Hum say hoga na wafa ka sauda

hum hain saudaai tau saudaai hi bhalay

gham diya us nay tau gham yaro

khaar bhi phool kay saayay main palay

jina be qadar wafa waqt ki baat hay

waqt ke sath chalain hum na chalay

By Zawwar Haider shameem

جانے یہ رات ڈھلے یا نہ ڈھلے
ھمدمو ، ہمسفرو ، ہم تو چلے

روشنی چاہیے ،جس طرح بھی ہو
بجھ گئی شمع تو پھر دل ہی جلے

کتنے تاریک جہاں بستے ہیں
ہاں ان ہی چاند ستاروں کے تلے

ہم سے ہوگا نہ وفا کا سودا
ہم ہیں سودائی تو سودائی بھلے

غم دیا اس نے تو غم یارو
خار بھی پھول کے سائے میں پلے

جنس بے قدر وفا ، وقت کی بات
وقت کے ساتھ چلیں ہم نہ چلے

از قلم زوار حیدر شمیم

Kuch guzarnay ki tarah umr rawaan guzri hay

وہ جو تھوڑی سی سر کوۓبتاں گزری ہے 

کچھ گزرنے کی طرح عمر رواں گزری ہے 

با ہمہ   خانہ خرابی    و ہمہ  رسوائی 

وہ جو گزری ہے پھر ایسی بھی کہاں گزری ہے 

کچھ مجھے یاد تو آتا ہے کہ جادو نگہی

جب مرا عہد جوانی تھا تو ہاں گزری ہے 

دل کا وہ حال ہوا ہے غم محرومی سے 

تم سے ملنے کی مسرت بھی گراں گزری ہے 

دور رہ کر بھی گزرنے کو تو گزری اے دوست 

ہر نفس آہ بلب شعلہ بجاں گزری ہے 

از قلم زوار حیدر شمیم 

Home » 2021 » 10

Dard ki lau say chiraaghaan lamhe

درد کی لو سے چراغاں لمحے
میری قسمت کے درخشاں لمحے

رقص فرما و غز لخوان لمحے
شوق رسوا کے فروزاں لمحے

رہ گیے زین میں گڑ کر جیسے
اچھے وقتوں کے وہ پراں لمحے

حاصل حسرت یک عمرعزیز
آج کے بے سرو ساماں لمحے

بن چلے ہیں وہی یادوں کے تنور
وہی گلزار و گلستان لمحے

جم بھی رہتے ہیں اجل کی صورت
سانس کی طرح پر افشاں لمحے

کسی ناکردہ گناہ کی پاداش
موسم گل میں یہ ویران لمحے

ہم تمنا سے نہیں باز آیے
ٹھہر ے حشر بد امان لمحے

از قلم زوار حیدر شمیم

aur koi soorat bhi nahin hay aur nahin zabt ka yaara bhi

اور کوئی صورت بھی نہیں ہے اور نہیں ضبط کا یارا بھی 

ہائے اسی نے توڑدیا دل جس نے دل سے چاہا بھی

کتنی ترقی کر گئی دنیا کر لو پیار کا سودا بھی

دل بھی خریدے جا سکتے ہیں ہاں ہوتا ہے ایسا بھی 

کچھ اپنی تقدیر کی گردش کچھ تدبیر کی خامی تھی 

پیار پہ کوئی الزام نہیں پیار برا بھی اچھا بھی 

عشق نہیں ،اچھا تو ہوس ہے جو ہے ایک حقیقت ہے 

لاکھ فسانوں پر بھاری ہے اپنی ہوس کا قصا بھی 

سیم و زر تو اپنی نظر میں ٹھہر سکے ہیں نہ ٹھہریں گے 

ہم تو ستارے توڑ کر لاتے کوئی ہمارا ہوتا بھی 

حسن نظر کا دھوکہ نکلا پیار فریب حرص و ہوس 

عقل ٹھکانے آگئی لیکن کچھ بنتا اس دل کا بھی 

آج کہیں کل اور کہیں ہے موج شمیم آوارہ 

وہ جو ہمارا ہو نہ سکا وہ ہو نہ سکے گا کسی کا بھی 

از قلم زوار حیدر شمیم 

Rating
Home » 2021 » 10

Corona aur katrina kahani episode 6

کرونا اور قطرینہ کہانی

قرنطینہ میں بہن بھائیوں کا حال۔

امی شمسہ خالہ سے بات کر رہی تھیں دو گھنٹےہونے کو آئے تھے وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر گھومتا پھر رہا تھا۔ پہلے اپنے کمرے میں جھانکا۔ دانی کی کلاس چل رہی تھئ دروازہ کھلنے پر ایسی خشگمیں نگاہ ڈالی کہ وہ جھٹ بند کرکے دروازے سے ہی لگ کر سانس بحال کرنے لگا۔ 

بہت ڈرونے ہو بڑے بھیا۔۔ وہ سینے پر تھپک تھپک کر آل از ویل بھی پڑھ رہا تھا۔ 

اب ثانی کے کمرے کی باری تھی۔ اس نے ناک کیا تو اس نے مصروف سے انداز میں ہی جواب دیا۔ 

آجائیں۔ وہ جھٹ اسکے پاس آبیٹھا۔۔ آج کپڑوں کی ڈیزائننگ کی بجائے کچھ نیا ہی ہو رہا تھا۔ مگر اسے تندہی سے سلائی پر سلائی کرتے دیکھ کر بھی اسے ککھ سمجھ نہ آیا کیا بن رہا تو پوچھ بیٹھا۔ تکونا چمڑا نیچے ایک جانب سے بیضوی شکل میں کاٹ کر اسکو گولائی میں سی رہی تھی۔ 

کیا کر رہی ہو۔ ؟؟ اس نے اشتیاق سے پوچھا

ثانیہ نے منہ چلانے کی بجائے سامنے تکیئے سے ٹک کر کھڑے موبائل کی جانب اشارہ کیا۔ 

موبائل پر پانچ منٹ کرافٹ کی ویڈیو چل رہی تھی جس میں وہ چمڑے سے چھوٹا سا پرس بنانا سکھا رہے تھےجسکی دیکھا دیکھی اب ثانیہ اپنی منی مشین سے امی کا پرانا پرس کاٹ کر اسکئ چمڑے سے نیا پرس بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

کوشش پوری کرنے کے باوجود بھی اتنا صاف اور خوبصورت دکھائی دینے والا نہیں بن رہا تھا۔ بلکہ اسکی دو ایک سلائیاں بھی ترچھی تھیں۔

میں کوشش کروں۔ کاشی نے کہا تو اس نے جھٹ مشین کا رخ اسکی جانب کر دیا۔ کمر تختہ ہو گئ تھی جھکے جھکے۔ 

دانی بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔ ؟ 

ثانی کے پوچھنے پر اس نے مصروف سے انداز میں بتایا

پڑھ رہا ہے آن لائن کلاس ہو رہی اسکی۔ 

اور آپ کیوں نہیں پڑھ رہے؟ اس نے جھٹ اعتراض جھاڑا

کیونکہ میری آن لائین کلاسز نہیں ہو رہیں۔۔ 

وہ ان مشین سے نکال کر اس چمڑے کو بہتر شکل دینے کا نیا طریقہ سوچ رہا تھا۔ 

آپکی کیوں نہیں ہو رہیں؟؟ 

ثانی کو بھائی کے مستقبل کی فکر ہوئی

کیونکہ ہماری آدھی سے ذیادہ کلاس نے آئوٹ آف سٹی ( شہر سے باہر) ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کے باعث وہ سب اپنے آبائی گھر جا چکے ہیں جہاں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں۔ 

واقعی؟؟ ثانیہ کو شک گزرا وہ بھی صحیح

ہاں ایک دو تو واقعی گائوں میں پھنسے ہیں اس نے مطمئن سے انداز میں بتایا 

اور باقی ؟ 

ان سب نے بہانہ بنایا ہے مگر چونکہ اکثریت کا مسلئہ تھا لہذا فی الحال یونیورسٹی نے حتمی فیصلہ نہیں کیا 

اس چمڑے کا کچھ بھی بن سکتا سوائے پرس کے۔ وہ اس نتیجے پر اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد با آسانی پہنچ گیا تھا

یہ کیا بات ہوئی 4 جی 3 جی تو سب گائوں تک جا چکا ہے نئی سم لے لیں پیکج کرائیں یوں تو آپکا کافی حرج ہوگا۔ جو آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں کم از کم انکو تو پڑھائیں۔

ثانیہ نے کہا تو وہ مسکرا دیا

تمہیں لگتا یے یہ اتنا آسان ہے؟ میری آدھی کلاس پارٹ ٹایم کہیں نوکری کرتی ہے اپنے خرچے نکالنے کیلئے۔اس لاک ڈائون کی وجہ سے گھر بیٹھے ہیں۔ گھر بیٹھے ہیں تو پیسے نہیں ہیں، کھانے پینے کی فکر لگی ہے انکو ، آن لائن کلاس کم از کم بھی 3 جی کنکشن پر جاری رہتی ہے مگر انٹر نیٹ پیکجز موبائل کے اتنے مہنگے ہیں کہ ہر کوئی انکو افورڈ نہیں کر سکتا ، یہ وائی فائئ بس بڑے شہروں میں ہے  وہ بھی بس دو ایک سروس پرووائڈر ہیں جو کسی چھوٹے شہر سے ہو یا گائوں گیا ہوا ہو کیا کرے گا وہ؟ ہمارا ایک بھی کلاس فیلو ہم چند طلبا جن کے والدین انکو سب سہولت فراہم کر سکتے ہیں کی وجہ سے اپنا سیشن ضائع کرے یا ہم سے پیچھے رہ جائے کیا ہمیں ایسا کرنا زیب دیتا ہے؟

پھر اس  طرح تو سب کو نقصان ہوگا۔ وہ قائل ہوئی

سب بچوں کا مستقبل کا سوال ہوگا تو یونیورسٹیز کو یکساں قانون یا نظام لانا ہوگا کسی ایک سے ذیادتی تو نہیں ہوگی۔ ثانی ہمارے دوست اپنے گھر والوں سے دور ہاسٹل میں رہتے گھر والوں پر بوجھ نہ بننے کیلئے چھوٹی موٹی نوکریاں تک کرتے ہیں اس ڈگری سے انکو کیا کیا امید نہ ہوگی سب چھوڑو ہمارا گھر اپنا ہے ابو کی سرکاری نوکری ہے مگر ابو دو بچوں کو یونیورسٹی نہیں پڑھا سکتے۔میری فیس امی کی کمیٹئ سے گئ تھئ اور اس سمسٹر کیلئے میں نے دو مہینے کال سینٹر میں جاب کی۔ 

کاشی کے منہ سے روانی میں نکل گیا تھا ثانی نے آنکھیں پھاڑیں

واقعی بھائی؟ جبھی آپ راتوں کو دیر سے آتے تھے ابو نے آپکو کتنا ڈانٹا بھی تھا 

آن ۔۔۔ ہاں ۔۔ وہ گڑ بڑایا۔۔ اب بتا مت دینا امی ابو کو میں اور دانی ان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے اگر انکو پتہ لگ جائے گا تو وہ صاف منع کریں گے کہ بس پڑھائی پر دھیان دو

  میں نے تو چلو بی ایس میں آ کر پارٹ ٹائم جاب کی۔ دانی تو میٹرک سے ٹیوشنز وغیرہ کرتا رہا ہےابھی بھی یو ٹیوب کا گیمنگ چینل چلاتا یے توسافٹ ویئر انجیئرنگ کا خرچہ پورا ہوتا ہے۔

بھائی آپ دونوں کتنے کار آمد ہو اور میں کتنی ناکارہ ایک یہ پرس بھئ نہیں بنا سکی۔  ثانیہ کے انداز میں رشک اور مایوسی تھی۔

یہاں پر کار آمد کچھ جچا نہیں کیا کہتے ہیں یہاں۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ نہیں کہتے۔ کیا کہنا۔ کہتے ہیں بڑے ہوگئے ہیں اب کیا مار کٹائی کروں مگر زرا جو باپ والا رعب رکھیں ۔ ہم تو ابا جی کی ایک نگاہ اٹھتی تھی دبک جاتے تھے مگر آج کل کی ۔ ایک نمبر کی نکمی اولادیں ہیں۔ بس موبائل دے دو لیپ ٹاپ دے دو۔ آگے سے شمسہ نے کیا کہا کہ وہ گڑ بڑا کر موبائل دیکھنے لگیں۔اپنے کمرے میں بیڈ پر سکون سے بیٹھ کر بات کر رہی تھیں۔ میاں باہر گیلری میں پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے۔ 

ہاں یہ کاشی کا ہی ہے میرے موبائل کا بتایا تو تھا بیٹری خراب ہے۔ کاشی گیا تو تھا دو ایک بار لینے مگر دکانیں ہی بند ہیں۔ہاں چلو ٹھیک ہے آرام کرو پھر بات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔۔

فون بند کر کے وہ ایک طرف رکھنے ہی لگی تھیں کہ یکے بعد دیگر کئی نوٹیفیکیشن آئے انہوں نے یونہی کھول کر دیکھ لیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دیکھو ذرا  قطرینہ کیسا گھر کا کام کر رہی ہے۔۔ جھاڑو پوچھا بھی کرتی ہے یہ تو بہت سگھڑ نکلی۔

امی بڑے جوش سے دروازہ کھولتی انہیں بتانے آئی تھیں

 کاشی اور ثانی اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے تھے۔

امی ان کے تاثرات سے بے نیاز بڑے جوش سے کاشی کے موبائل کی تصویر ثانی کو دکھا رہی تھیں۔کاشی کی سانس رکی ہوئی تھی۔ 

ایویں امی تصویر کھنچوانے کیلئے پوز مار رہی ہے ورنہ کیسا چم چم کرتا فرش ہے۔ ثانیہ نے تصویر دیکھ کر منہ بنایا۔  امی قطرینہ کیف کی ہی تصویر دکھا رہی تھیں۔۔چم چم کرتے فرش پرہنستی مسکراتی پوچھا لگاتی قطرینہ کی مشہور زمانہ تصویر

دکھائیں۔ کاشی نے تھوک نگل کر ڈرتے ڈرتے کہا۔ امی نے موبائل واپس کیا تو جان میں جان آئی۔ 

میرےچارجر کا کچھ کرو تمہارے ابا ہر وقت اپنا چارجر لگائے بیٹھے رہتے ہیں یہ ثانی کو الگ تکلیف ہوتی ہے ماں  کو ذرا سا چارجر دیتے ہوئے۔ بور ہو کر رہ گئی ایک ہفتے سے کیںڈی کرش بھی نہیں کھیلا۔ 

امی ہونٹ لٹکا کر بولیں تو دونوں بچوں کا دل پگھل گیا۔ 

ارے تو ابھی کر لیں نا چارج ابھی میرا موبائل فل یے۔

ثانی نے اٹھ کر ماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیں تو کاشی فورا اٹھ کھڑا ہوا 

میں ابھی چارجر ڈھونڈنے جاتا ہوں۔ اس نے جذباتی ہوکر فورا چپل پائوں میں پھنسا لی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح سے ماما بابا بھائی بہن ایک ایک دروازہ کھٹکا کے جا چکا تھا اسکی ایک ہی قطعی سی ناں تھی ۔ سب تھک ہار کر اسے اس کے حال پر چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ماما دوپہر کا کھانا لیکر آئیں تو دروازے کے باہر زمین پر رکھ کر جانے کا کہہ دیا۔ جب یقین ہوگیا کہ وہ جا چکی ہیں تب ذرا سا دروازہ کھول کر ٹرے اندر کر لی۔

دال چاول کھا کر برتن واپس کرنے لگی تو خیال آیا کہ برتن تو اسکے جھوٹے ہیں۔ اپنا چمچ پلیٹ اور پانی کا گلاس لیکر ملحقہ غسل خانے میں گھس گئ ۔ سرف سے برتن دھوئے ناک منہ دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپا کمرے میں آئی ہلکا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا کوئی نہیں تھا۔ اس نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئئ دروازہ پورا کھولا تو جانے کہاں سے بابا ماما چھوٹی بہن چھوٹا بھائی مکھیوں کی طرح نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے۔۔ اسکے ہاتھ سے برتن چھوٹتے چھوٹتے بچے۔ 

شکر ہے تم نکلیں تو باہر۔ ماما فرط جزبات سے مغلوب ہو کر آگے بڑھیں۔ 

مجھ سے دور رہیں۔ اس نے ٹرے ہی آگے کر کے انکو روکا کہ کہیں گلے نہ آ لگیں۔کہتے کہتے بھی دو چھینکیں آگئیں اسے۔ کہنی سے منہ ڈھانپ کر اس نے چھینکا۔۔

کیا ہو گیا ہے بیٹا صرف دو چھینکوں پر اتنا پریشان۔ 

بابا پریشان تھے اسکی وجہ سے۔ ماما نے مایوس ہو کر ٹرے تھام لی۔ 

یہ کرونا ہوا تو؟ اسکی آواز سوچ کر ہی بھرا گئ تھی۔

آپ سب کو اتنا منع کیا تھا۔ آہ چھوو۔۔ مت جائیں مدیحہ آنٹی کے گھر انکا بیٹا۔ آچھو۔۔ اٹلی سے آیا ہے۔ اور قرنطینہ میں جانے کی بجائے۔ کھوں کھوں۔۔۔ اب کھانسی بھی شروع ہوگئ تھی۔ 

سب کو اپنے گھر دعوت دے رہا ہے کھانے پر کوئی تک بھلا۔۔ 

آچھو۔ 

خود کو بھی ہوا اور پورے گھر کو بھی کروا دیا۔ 

وہ رودینے کو تھئ۔ 

مگر آپی ممی بھی تو آپکے ساتھ گئ تھیں انکو تو کچھ نہیں ہوا۔ 

سدید اسکا چھوٹا بھائی اسے سمجھا رہا تھا۔ 

میں تو ممی کو بھی کہہ رہی ہوں سب سے دور رہیں ہم دونوں کو اگلے پندرہ دن قرنطینہ میں آہ چھو۔ رہنا چاہیئے۔ خدارا مان لیں بات سب بیمار ہو جائیں گے ہم ورنہ۔۔ 

وہ کہتے کہتے رو دی۔ اسکے لیئے کونسا آسان تھا ایک کمرے میں بند ہو کر رہنا ۔ 

مگر آپی میں کہاں جائوں میرا بھی تو یہی کمرہ ہے۔ 

مرینہ منمنائی۔

گیسٹ روم میں چلی جائو۔ اور خدارا اب مجھے کوئی باہر نکلنے پر مجبور نہ کرے۔

اس نے کہہ کر دروازہ زور سے بند کیا اور خود اسی سے ٹیک لگا کر گھٹنوں میں منہ دے کر رو دی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوری مارکیٹ میں ایک ہی موبائلوں کی دکان کھلی تھی۔ وہ جھٹ گھس گیا۔ 

بس ایک ہی چارجر چاہیئے۔۔ 

دکاندار نے پوچھتے ہوئے چارجر نکال کر سامنے رکھا تو وہ کسی سوچ میں پڑ گیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں سارا دن کمرے میں بند موبائل استعمال کرتے وقت گزرتا تھا کہاں اب ایک دن کمرے سے نہ نکلنے کا فیصلہ کیا تو وقت کاٹنا مشکل ہو گیا۔ 

چار گھنٹے مستقل موبائل سے لگے لگے بیٹری کی آخری حد تک مکا دینے کے بعد جب گھڑی پر نگاہ پڑی تو شام کے سات بجے تھے۔ 

باہر سب ٹی وی لگائے بیٹھے تھے۔ خوش گپیوں کی آوازیں دل مچل مچل رہا تھا ۔۔ ماسک پہن کر زرا سا دروازے کی جھری سے باہر جھانکا تو وہاں سب نگٹس اڑا رہے تھے۔ 

اکیلے اکیلے نگٹس۔ اسے رونا آگیا۔ دروازہ بند کرکے وہیں دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ 

آج کمرے میں بند ہوں تو کسی کو خیال بھی نہ آیا کہ نگٹس مجھے بھی پوچھ لیں۔ایسے ہر دفعہ یہ مرینہ کی بچی نگٹس تل کر لا لا کر سامنے رکھتی تھی آپی چکھ لیں ۔۔ اور میں۔  

اسے یاد آیا۔ 

وہ مسہری پر دراز ہینڈ فری کانوں میں ٹھونسے موبائل میں مگن اپنے پسندیدہ ترکی ڈرامے کو سب ٹائٹلز کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ نگٹس کی پلیٹ ایکدم اسکے سامنے آگئ۔

میں ڈائٹنگ کر رہی ہوں اسٹوپڈ کتنی بار کہا ہے مت میرے سامنے بیٹھ کے یہ سب الا بلا کھایا کرو اور تم خود بھی مت کھایا کرو میٹرک میں آگئ ہو اور اپنا پیٹ دیکھو کتنا باہر نکل رہا عجیب لڑکی ہو مٹاپے سے ڈر ہی نہیں لگتا ہروقت کھاتی رہتی ہو۔

کھلاتئ بھی تو ہوں سب کو دے کر آئی ہوں یہ آپکا حصہ۔ 

مرینہ کو نیا نیا پکانے کا چسکا لگا تھا ۔کچھ نہ کچھ یو ٹیوب سے دیکھ کر بناتئ رہتی تھی نگٹس تو ہر دفعہ کچن میں مرینہ کو دس منٹ سے ذیادہ وقت لگےتو بن کر تیار ملتے تھے قطرینہ کو۔مگر اسے اچانک وہم ہوا تھا کہ اسکی توند نکلنے لگی ہے سو جھٹ نفی میں منڈیا ہلا دی

مجھے نہیں کھانا میرا خود بخود وزن بڑھ رہا ہے میں ڈائٹ کر رہی ہوں اور اب یہ میرا حصہ بھی تم مت کھا جانا تم کونسا دبلی پتلی ہو ڈھول بنتی جا رہی ہو۔۔

آپی بس کرو اتنی سی توند نکلی ہے اس پر اتنا پریشان ہو۔ ہر ڈائٹ کرنے والا چیٹ ڈے تو مناتا ہی ہے آپ نے تو بالکل مرغی کا بائکاٹ کر رکھا ہے۔ 

چڑ کر کہتے ہوئے مرینہ نے دو نگٹس اکٹھے منہ میں ڈالے 

تھے اور وہ منہ کھول کر اسے دیکھتئ رہ گئ پھر بھنا کر چیخی

اٹھو باہر جائو تمہیں تو کھاتے دیکھ کر ہی مجھے لگ رہا ہے کہ میرا وزن بڑھ جائے گا۔ 

اس نے باقائدہ اسے کندھوں سے پکڑ کر کمرے سے نکالا تھا۔ 

اور آج۔ وہ اداس سئ ہوگئ۔ 

چلو دو دن  سے ویسے ہی رمضان شروع ہورہا ہے اچھا ہے قرنطینہ میں روزے رکھ میرا وزن کم ہوجائے گا ۔قرنطینہ میں تو ہوں اعتکاف میں ہی نہ بیٹھ جائوں اس بار۔ 

اسے انوکھا خیال سوجھا۔ تبھی دروازہ زوردار کمر میں لگا  وہ بلبلا سی گئ۔ 

ہائے بد نیتئ پر سزا ہی مل گئ فورا۔  وہ کمر سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ باہر مرینہ دروازے کو کندھے سے زور لگا رہی تھی۔ اس نے فورا منہ ڈھانکااور باہر جھانکنے لگی۔ 

کہاں اٹک رہا ہے دروازہ۔ بڑ بڑاتئ مرینہ ٹرے میں نگٹس اور کوک کا گلاس رکھے کھڑی کندھے کے زور سے دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آخر جھلا کر دوبارہ ہیںڈل گھمانے کیلئے ٹری کو ایک ہاتھ میں تھام کر ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ 

یہ لو۔ میں اندر نہیں آرہی اور دیکھو تم سے ملنے کیلئے ماسک بھی پہن کر آئی ہوں اب یہ کھا لو۔بھلے رات کو کھانا نہ کھانا مجھے پتہ ہے تمہیں دل سے دال چاول نہیں پسند۔ 

اسے دیکھتے ہی مرینہ نے جلدی سے پائوں دروازے میں اڑا کر بولا تھا کہ کہیں دروازہ نہ بند کردے۔

چھوٹی بہن کے اس پیار پر اسکی حقیقتا آنکھیں نم ہو گئیں۔ 

ہاتھ بڑھا کر چپ چاپ ٹرے پکڑ لی۔ 

اور کچھ چاہیئے۔ 

اس نے مشکوک نگاہ سے دیکھا خلاف معمول خاموشی۔۔ 

نہیں۔ قطرینہ کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ 

اچھا۔ مرینہ کندھے اچکا کر پلٹنے کو تھی کہ بے اختیار قطرینہ پکار بیٹھی۔ 

مرینہ۔ شکریہ۔ آئی رئیئلی لو یو۔ 

برا ہو اس موٹیویشنل اسپیکر کا جس نے قرنطینہ میں اپنوں کو شکریہ ادا کرنے اور انکی۔محبتوں کو حق کی طرح وصول کرنے کے بعد انکا احساس کرنے کی ترغیب دی۔ جذبات سے مغلوب قطرینہ نے انا بالائے طاق رکھ کر اپنی چھوٹی بہن کو شکریہ کہہ ڈالا۔ 

مرینہ کی بڑی بڑی آنکھیں پھیلیں۔ گول گھومیں۔ ایسا تب ہوتا تھا جب وہ دماغ کو ضرورت سے ذیادہ استعمال کرکے کسی بات کے خود ساختہ نتیجے پر پہنچ جاتی تھی۔ قطرینہ دروازہ بند کر رہی تھی جب مرینہ کو کسی انہونی کا ادراک ہوا۔ 

نو وے تم میرا بلو ٹاپ پہن کر ٹک ٹاک ویڈیو تو نہیں بنانے لگیں؟ قطرینہ مجھے تم دس بار بھی آئی لو یو کہو گی تو بھی نہیں دینے والی میں ۔ میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا جتنا مرضی مکھن لگا لو میں اپنا ٹاپ نہیں دوں گی سمجھیں۔

کیا۔ قطرینہ اسکی سوچ کی اڑان پر بھونچکا رہ گئ

قطرینہ میری الماری میں مت گھسنا میں کہے دیتی ہوں۔

مرینہ بلبلا کر ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر دروازے کی جانب بڑھی قطرینہ نے ارادہ بھانپ کر جلدی سے بند کرکے کنڈی لگا لی  

قطرینہ کی بچی خوب سمجھتی ہوں یہ قرنطینہ کا بہانہ کرکے میری وارڈروب استعمال کروگی۔ کھولو دروازہ مجھے اپنے کپڑے لینے ہیں۔ 

مرینہ دروازہ پیٹ رہی تھی۔ 

میں نہیں کھولنے والی اور صرف بلو ٹاپ نہیں پرپل ریڈ اورنج سب پہن کر قینچی سے کاٹ کر رکھوں گی۔ 

بیڈ پر ٹرے رکھ کر اس نے اطمینان سے آلتی پالتی ماری نگٹس منہ میں رکھا کوک کا گھونٹ لیا پھر ہانک لگائی گرم گرم بہت مزے کے لگ رہے تھے۔ 

ممی دیکھیں قطرینہ کو۔میرے کپڑے پہن کر ٹک ٹاک بنا رہی ہے۔ اسکی دھمکی پر مرینہ روہانسی ہو کر شکایت لگانے بھاگی۔ 

ایویں آئی لو یو بولا اس قابل ہی نہیں ہے یہ عوام عزت کے۔ 

وہ برے برے منہ بنا رہی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد جاری ہے

Corona aur katrina kahani episode 5

کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 5

خود اختیاری احتیاطی قرنطینہ اور ٹک ٹاک

You cant live the life of a teenager at mature age but unfortunately every teenager wants to live adulthood. try to live your age

اس تینوں نے مل کر سارے ہی ماسک بانٹے تھے اور تین منٹ کی ویڈیو بنائی تھی۔ یہ ویڈیو بھی سارے گزشتہ ریکارڈ توڑتی چلی گئ تھی۔ ہاں انکے علاقے میں مستقل آنے والے تمام پھیری والے اب ماسک پہن کر گھومتے تھے ۔ اسکی ویڈیو یو ٹیوب پر مستقل ٹریںنڈنگ میں آنے سے اسکا ایڈ سینس اکائونٹ بھی منظور ہو گیا تھا۔ یہ کام دانی پہلے سے کر رہا تھا اسکا گیمنگ چینل تھا اب ان دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکی جانب سے ڈھیر سارے مشورے اور حوصلہ افزائی مل رہی تھی۔ وہ ٹھیک ٹھاک پرجوش تھا۔ اس وقت انکو سوشل میڈیا اکائونٹس بنا بنا کر دے رہا تھا فیس بک پیج ٹوئٹر اکائونٹ ۔ لیپ ٹاپ کھولے وہ کھاتے کھول رہا تھا یہ دونوں دائیں بائیں بیٹھے خوش خوش سے بیٹھے تھے۔ 

اس چینل پر معلوماتی ویڈیوز ڈالتے جانا دیکھنا ٹھیک ٹھاک پیسہ ملا کرے گا دونوں کی پاکٹ منی سے ذیادہ ہوگا یہ۔

دانی نے انکو جوش دلانے کو کہا

بھائی ٹک ٹاک پر بھی پیسے ملتے ہیں پتہ ہے آپکو۔میری سہیلی ٹک ٹاک استعمال کرتی ہے اسکا تو آئی فون نکلا تھا۔ 

ثانی نے بتایا تو دانی نے سر سری سے انداز میں پوچھا 

اچھا کیا نام ہے اسکا؟

سنہری چڑیا۔ 

دانی کا لیپ ٹاپ پر تھرکتا ہاتھ رکا کاشی کی مسکراہٹ مدہم پڑی کاشی نے چونک کر اسے دیکھا 

وہ مزے لیکر بتا رہی تھئ

اسکے ملینز میں فالوورز ہیں۔ لوگ اسکو اتنا پسند کرتے ہیں۔ اسکی ویڈیوز دیکھیں اتنے مزے کی بناتی ہے گانوں پر لپ سنک کرتی یے میک اپ کرتی ہے بڑا مزا آتا ہے آپکو دکھاتی ہوں

اس نے جوش سے اپنے موبائل میں اسکا کھاتہ کھول کر دکھایا۔ اسکی ویڈیوز پر لاکھوں تبصرے اور پسندیدگیاں تھیں واقعی وہ کافی مشہور تھی مگر اپنے نہایت بے باک انداز اور کپڑوں کی وجہ سے بے تحاشہ تنقید کی زد میں بھی رہتی تھئ۔ بے تحاشہ گوری رنگت والی وہ لڑکی کہیں سے بھی پندرہ سولہ سال کی نہیں لگ رہی تھی بلکہ اکثر زومعنی مکالموں پر آنکھیں مٹکا کر بولتی تو اپنی عمر سے کہیں بڑی دکھائی دیتئ۔ سوشل میڈیا پر اسکا ٹھیک ٹھآک مزاق بھی اڑایا جا رہا تھا۔ اسکی ویڈیوز اور اس پر لوگوں کے گھٹیا تبصرے ان دونوں نے دیکھ رکھے تھے مگر انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ثانی کی دوست نکلے گی وہ۔ 

یہ ہم نے اسکول میں بنائی تھی۔میں نے اور رابی نے رابعہ نام ہے اسکا۔۔ ٹک ٹاک پر سنہری چڑیا کے نام سے ہے۔۔اس نے وضاحت کرتے ہوئے ڈھونڈ کر ایک ویڈیو نکالی۔۔

مشہور ٹک ٹاک کا چیلنج جس میں چٹکی بجا کر تصویر کھنچوانی تھی الٹے سیدھے منہ بنا کر ۔ 

ویڈیو میں دونوں بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھیں مگر ویڈیو کے نیچے لاکھوں کمنٹس ۔۔ 

تم نے ٹک ٹاک بنوائی ہوئئ ہے اسکے ساتھ اور اس نے پبلک پر لگا رہی ہے ویڈیو۔ 

کاشی کو ایکدم غصہ آیا تھا ۔ ثانی نے اپنی دھن میں اسکے تاثرات پر غور ہی نہیں کیا ہنس کر بتانے لگی

ہاں تو میری بھی ٹک ٹاک پبلک ہی ہے اب تو میرے بھی پچاس ہزار فالورز ہوگئے ہیں۔  یہ دیکھیں میرا اکائونٹ۔ 

اس نے اب اپنا اکائونٹ کھول کر دکھایا۔  وہ اکثر اپنی ٹک ٹاک انسٹا پر لگاتی تھئ اپنی سہیلیوں کزنوں وغیرہ کے ساتھ  اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اس نے پبلک پروفائل بنا رکھا ہوگا وہ یہی سمجھتا تھاکہ انسٹا پر لگاتی ہے سو کبھی اعتراض بھی نہیں کیا۔ 

کس خوشی میں پبلک پروفائل بنا رکھا ہے؟ کس سے اجازت لی تم نے؟ دماغ خراب تو نہیں ہے تمہارا؟ ابھی ڈیلیٹ کرو اپنا اکائونٹ۔ 

کاشی غصے سے بھڑک کر بولا۔تو ثانی کا رنگ سا اڑ گیا اسے اپنے اتنے نرم مزاج سے بھائی سےیوں بھڑک اٹھنے کی امید نہیں تھی۔ دانی نے ثانی کے چہرے کو دیکھا تو کاشی کو ٹوکنے لگا

آرام سے بات کرو کاشی۔ 

آرام سے کیا بات کروں؟؟ کاشی کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ 

یہ سنہری چڑیا اسکی دوست ہے کتنی بدنام لڑکی ہے یہ کچھ پتہ ہے کیسے کیسے لوگ اسکے بارے میں بات کرتے ہیں یہ اس دوٹکے کی لڑکی کے ساتھ  ویڈیوز بنوا آئی ہے ہمیں پتہ بھی نہیں اوپر سے خود بھی اپنا اکائونٹ کھول رکھا ہے۔ کیا بننا ہے تم نے سنہری چڑیا جیسی لڑکی؟ کبھی یہ جو لاکھوں کمنٹس ہیں اسکے اکائونٹ پر کھول کر دیکھے ہیں کبھی کیسی گندی باتیں کرتے ہیں لوگ ان میں۔۔ 

کاشی کا انداز ہنوز تھا۔ ثانی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔  

کوئی دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے اسکے پاپا ایڈوکیٹ ہیں ۔۔ اور وہ۔۔ سسکیاں۔ 

بہت اچھی لڑکی ہے اسکو مت کہیں ایسے۔  

وہ ہاتھوں میں منہ چھپا کر روپڑی۔ دانی نے دانت کچکچا کر کاشی کو گھورا۔ 

آرام سے بات نہیں کر سکتے رلا دیا اسے۔ 

آرام سے بات کروں میں؟ کاشی بھنا کر اٹھ کر کھڑا ہوگیا

امی ابا کو پتہ چلا تو جانتے ہو کیا ہوگا۔ انکو تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا اسکی ویڈیوز کون کون دیکھ کر کیا کیا باتیں ۔۔۔۔ 

کوئی چھپ کر کچھ نہیں کرتی میں۔ 

اسکے مسلسل سخت سست کہنے پر ثانیہ بھی چلا اٹھی

امی ابو سب کو پتہ ہے میں ٹک ٹاک بناتی ہوں انکو دکھاتی بھی ہوں آپ دو چار دن سے گھر بیٹھیں ہیں تو حیران ہورہے ورنہ میں امی کے سامنے ابو کے سامنے ہی بنا رہی ہوتی ہوں امی تو انسٹا پر میری ہر ویڈیو پسند بھی کرتی ہیں ایویں آپ۔  وہ بولتے بولتے پھرروپڑی تھی۔ 

کوئی چھپ کر نہیں کرتی میں ۔۔ نا ہی کچھ غلط کام کیا میں نے۔

غلط کام نہیں تو پھر کیا ہے؟؟ وہ لڑکی خود تو بدنام ہے ہی تمہیں بھی کر دے گئ۔ اس سے کہو فورا اپنی تمہارے ساتھ والی ویڈیو ڈیلیٹ کرے۔  

کاشی کا انداز ہنوز تھا۔  دانی ہونٹ بھینچے چھوٹے دونوں بہن بھائیوں کو دیکھ رہا تھا دونوں اسکی موجودگی کو بالکل بھلائے الجھ رہے تھے

کیوں میں کیوں کہوں اسے ڈیلیٹ کرنے کو۔ آپکو کروانی ہے ڈیلیٹ تو میری ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کی بجائے اپنی قطرینہ کی ڈیلیٹ کروائیں ملینز میں اسکے بھی فالورز ہیں۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں آئے بڑے مجھ پر رعب جھاڑنے

ثانی نے سب ادب لحاظ بالائے طاق رکھ دیا۔  

ثانیہ۔ کاشی دھاڑا تھا۔  

کیوں اب برا کیوں لگ رہا ہے۔ اسکے لیئے جائز ہے بہن نہ کرے کیوں وہ لڑکی نہیں ہے یا میں نرالی لڑکی ہوں۔ اسک

وہ نجانے اور کیا کہنے لگی تھی کاشی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھا دانی جست لگا کر دونوں کے بیچ آیا۔۔

ثانی آواز نہ آئے اب تمہاری جائو اپنے کمرے میں۔ 

اس نے ڈپٹ کر ثانیہ کو بھگایا وہ منہ بناتی آنسو پونچھتی باہر نکل گئ۔

اسکی زبان دیکھ رہے ہو کیا مطلب تھا اسکا کاشی اسکے بانہوں کے گھیرے میں پھڑ پھڑایا تھا۔

بس کرو تم بھی ۔ شروع ہی ہو جاتے ہو۔ دانی نے اسکو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ 

کس بچے کا آج کل ٹک ٹاک اکائونٹ نہیں ہے اگر ثانیہ کا بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ 

کاشی کو اسکی حمایت سخت بری لگی

غلط بات مت کرو اس لڑکی کا دیکھا ہے اکائونٹ کبھی کیسے کیسے لوگ کمنٹ کرتے ہیں ثانیہ کو بھی ویسا ہی سمجھتے ہونگے ۔ ثانیہ بچی ہے ہم اسے نہیں سمجھائیں گے بتائیں گے تو کون بتائے گا؟۔

تو سمجھا نہیں رہا تھا ڈانٹ رہا تھا۔ دانی نے جتانے والے انداز میں کہا پھر آرام سے دوبارہ اپنے بیڈ پر لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر نیم دراز ہوگیا

بڑا بھائی ہوں ڈانٹ بھی دیا تو کیا۔۔ اور شائد تم بھی بڑے بھائی ہو اسکے تمہاری بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے مگر تم میں بڑا پن نام کو نہیں تمہیں اس وقت یہی سب کرنا چاہیئے تھا جو میں کر رہا تھا۔ 

کاشی نے غیرت دلانا چاہی دانی سکون سے اس کی شکل دیکھتا رہا پھر بولا

تم نے کیا اکھاڑ لیا اسے ڈانٹ کر؟ صحیح کہہ رہی ہے وہ قطرینہ اگر ٹک ٹاک اکائونٹ بنا سکتی ہے تو ثانیہ کیوں نہیں؟ قطرینہ کو کبھی کہا ہے کہ وہ اکائونٹ ڈیلیٹ کرے؟ یا اسکو تم لڑکی سمجھتے ہی نہیں ہو۔  

اسکا جملہ کاشی کو آگ لگا گیا

بکواس مت کرو۔ قطرینہ کی بھی میں بہت عزت کرتا ہوں مگر وہ ایک اکیس سال کی میچیور لڑکی ہے اسکے ڈی آئی وائیز ہوتے ہیں جن میں مفاد عامہ کے لیئے سماجی پیغام ہوتے ہیں وہ پیداواری ویڈیوز بناتی ہے سنہری چڑیا کی طرح  گھٹیا گانوں پر ناچ ناچ کر ویڈیوز نہیں بناتی۔ اسکے کمنٹ باکس کھولو لوگ اسکو پسند کرتے ہیں۔۔ اسکی عزت کرتے ہیں۔ گھٹیا جملے بازی نہیں کرتے اسکے ساتھ۔ اور تم تمہیں کوئی اعتراض نہیں سنہری چڑیا کے ساتھ ویڈیو بنوانے پر ثانی کے؟؟؟کیسے بڑے بھائی ہو تم۔۔۔ 

کاشی کا انداز سختی بھرا تھا اور آخرمیں اسکے چہرے پر حیرت در آئی۔۔

دانی نے گہری سانس لی ۔ 

بڑا بھئ ہوں بھائی بھی۔ تم اگر اکیس سال کے ہو تو میں بھی چوبیس سال کا ہورہا ہوں تم سے دو ایک سال ذیادہ ہی دنیا دیکھی ہے میں نے۔ اس نے جتاتے ہوئے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور آلتی پالتی مارتا اٹھ بیٹھا

تین چار مہینے پہلے فیس بک اسکرال کرتے ہوئے میرے سامنے ملینز ویوز کےساتھ سنہری چڑیا اور ثانیہ کی ہی ویڈیو سامنے آئی تھئ۔ بہت حیران ہوا تھا یقین بھی نہیں آیا تھا۔ سیدھا ثانیہ کے پاس گیا تھا مگر وہ اپنی ویڈیو کے مشہورہونے پر اتنی خوش تھی کہ ایک لفظ نہ کہہ سکا میں اسے۔ وہ بچی ہے یار اوپر سے صحیح کہہ رہی ہے امی ابو دونوں کو پتہ ہے وہ ویڈیوز بناتی ہے بلکہ ابو تو خوب ہنستے بھی ہیں یہ جب انکو دکھاتی ہے مگر فرق پتہ ہے کیا آیا یہاں؟؟۔ 

وہ کہتے کہتے رکا ۔ کاشی کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اسکے سامنے بیڈ پر آٹکا 

امی ابو کو نئی ٹیکنالوجیز کا کچھ پتہ نہیں انکو ٹک ٹاک کا نام پتہ ہے مگر وہ کیسی ایپ ہے کیسے استعمال ہوتی ہے اسکی ویڈیوز کہاں کہاں دیکھی جاتی ہیں وہ نہیں جانتے ۔ انکو بتا نے کا فائدہ بھی نہیں تھا۔ سو مجھے جو مناسب لگا میں نے وہ کیا۔ 

کیا کیا ؟ کاشی کا انداز بے صبرا تھا۔ دانی مسکرا دیا

چھوٹی بہن ہے لاڈلی بھی اسکو کہتا کہ ٹک ٹاک استعمال مت کیا کرو ڈانٹتا روکتا وہ مان جاتی مگر پھر اگرکبھی اسکا دل کرتا تو مجھ سے چھپ کر بناتی۔ پھر مجھے پتہ بھی نہ چلتا ۔مگر میں نے اسکی حوصلہ افزائی کی اسکا اکائونٹ خود فالو کیا ۔ اسکو ویڈیوز کے آئیڈیاز دیئے کچھ۔۔ جو مجھے لگا کہ انکو پبلک نہیں ہونا چاہیئے ان ویڈیوز کی پرائیویسی بدلوائی وہ خوشی خوشی مان گئ۔ ابھی اگر اتنا بھڑکنے کی بجائے اسکا اکائونٹ دیکھتے تو پتہ لگتا کہ اسکی ویڈیوز میں سے نوے فیصد ویڈیوزمیں تو وہ نظر بھی نہیں آتی۔ ڈی آئی وائز ہیں، انگلش پوئمز ہیں جو لکھی بھئ اس نے خود ہی ہیں ، یہ جو مشین منگوائی تھی اس نے اس سے نت نئے ڈیزائن بھی خود بناتی ہے اور آجکل یہ کرونا کی آگاہی مہم کے حوالے سے پیغامات ہیں۔ جتنے گانے والی وییڈیوز ہوتی ہیں وہ سب پرائیوٹ ہوتی ہیں وہ یہ صرف انسٹا پر لگاتی ہے۔۔

کاشی چپ ہو کر سر جھکا گیا تھا

تم کو ایک اور بات بتائوں تمہاری قطرینہ مستقل اسکی ویڈیوز پر کمنٹ کرتئ ہے تمہاری بہن ہونے کی وجہ سے یا جو بھی اسکی ثانی سے مستقل ٹک ٹاک ویڈیوز کے آئیڈیاز پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اور وہ بہت پروموٹ کرتی ہے ثانیہ کو اسکے پچاس ہزار فالورز اسی نے کروائے ہیں ۔ 

مجھے کیوں نہیں پتہ تھا یہ سب؟؟؟ کاشی حیران ہوا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں گھر بیٹھے تو یاد آیا بڑا بھائی ہوں میں ایسے پلٹ کر پوچھتے بھی نہیں مجھے۔ سارا سارا دن گھر میں اکیلی پڑی رہتی ہوں اس پر دو چار ویڈیوز بنا لوں تو اس سے بھی منع کر رہے ہیں۔ 

کمرے میں آکر اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے کی بجائے بڑھ گیا تھا۔ آنسو پونچھ پونچھ کر چہرہ سرخ ہو گیا تھا مگر امںڈتے چلے جا رہے تھے آنسو۔ 

سارے اصول بہن کیلئے ۔ وہ قطرینہ تو گرل فرینڈ ہے اسکو نہیں روکتے۔ خود ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پر ڈال لیں کوئی مسلئہ نہیں میں ٹک ٹاک بنا لوں تو۔۔ اس نے فون اٹھایا اور رابی کو ملالیا۔ اٹھا ہی نہیں رہی۔تھی فون ۔۔

اسے اور رونا آگیا۔ اب امی ابو سے ڈانٹ پڑوائیں گے منع کر وا دیں گے۔ میرا کوئی نہیں سوچتا۔ سارا دن گھر میں اکیلی بند بور ہوتی رہتی ہوں۔ امی کسی سہیلی کے ہاں بھی ذیادہ نہیں جانے دیتیں۔

کسی کو میری پروا نہیں اکیلی پڑی رہوں۔ان لوگوں کو تو اب لاک ڈائون کی وجہ سے گھرمیں رہنا پڑ رہا میرے لیئے تو پورا سال قرنطینہ بنا رہتا ہے یہ گھر۔۔نہ کہیں آنا نہ جانا نہ ہی کوئی میرے سے بات کرنے والا ہوتا ہے

وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بڑ بڑا رہی تھی

کمرے کے باہر کھڑے کاشی اور دانی نے اسکے بین سن کر ایک دوسرے سے نگاہ چرا لی۔ دونوں کے ذہن میں وہ منظر تاذہ ہوئے تھے جب وہ کوئی چیز منگوانے یا کسی سہیلی کے گھر جانے کی فرمائش لیکر آتی تھئ اور دونوں حیلے بہانوں سے ٹال جاتے تھے۔۔ 

اب یہ رابی کی بچی فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔ ویڈیو پرائیوٹ کروا لوں 

اس نے جھلا کر فون بیڈ پر پٹخا۔ 

مر جائوں میں بس سب خوش ہو جائیں گے۔ 

اسے نئے سرے سے رونا آگیا تھا باہر دونوں بھائی تڑپ کر اندر داخل ہوئے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کیا کر رہے ہیں بچے کیسا شور مچا رکھا ہے۔ 

امی اور ابو ثانیہ کے کمرے سے آتی تینوں کے بے ہنگم شور کی وجہ سے متجسس ہوئے۔دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جانے کتنے عرصے بعد دونوں فارغ تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ 

پتہ نہیں تینوں میں کیا چل رہا ہے کب سے شور مچا رکھا ہے سر میں درد ہو گیا میرے۔۔ آدھا کچن اٹھا کر کمرے میں لے گیے ہیں دودھ کافی میکر سب لائونج کی چھوٹی میز بھی اٹھا لے گئے کوئی ٹک ٹک پتہ نہیں کیا بلا بنا رہے ہیں

امی نے کنپٹی دبائی

چلو جو بھی کریں ہیں تو گھر میں ہی بس اللہ ہمارئ بچوں کو محفوظ رکھے ہر وبا سے۔ 

ابو اسی میں مثبت رخ دیکھ رہے تھے

ہاں یہی اطمینان ہے کاشی تو بالکل ٹکتا نہیں تھا گھر میں مگر اب شرافت سے سارا دن گھر میں رہتا ہے بلکہ آتے جاتے پوچھتا بھی ہے کوئی کام ہے تو بتا دیں۔۔ امی ہنس کر بتا رہی تھیں۔۔ دوپہر کو سلاد بھی بنائی ۔۔

دانی میرے گھٹنے پر مالش کرتا رہا دوپہر میں ۔ شکر ہے ہمارے بچے احساس والے ہیں 

ہاں یہ تو ہے ثانی میں بچپنا ہے مگر صبح سے ہر کام میں میرا ہاتھ بٹاتی رہی ہے۔

امی نے اضافہ کیا۔۔ 

آپس میں بھئ بہت پیار سےرہ رہے ورنہ دن میں کتنی بار تو ان میں نوک جھونک ہوتی تھئ۔ کچھ نہیں تو ثانی کو چھیڑ دیتے تھے دونوں پھر وہ شکایت لیکر میرے پاس آتی تھی۔ اس کرونا نے بچوں کو بدل کر رکھ دیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی نہیں بدلا وہی والا ہے قسم لے لو۔۔ 

کاشی کپ لہرا کر یقین دلا رہا تھا۔۔ ثانی ماننے کو تیار نہیں تھی

نہیں آپ نے اپنا کپ بدل لیا ہے یہ میرا والا لیا ہوا ہے اس میں سے میں نے بس ایک گھونٹ پیا تھا آپکا آدھا کپ تھا

ثانی جھگڑ رہی تھی۔۔ دونوں ماسک پہن کر کافی بنانے کی نئی ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے تھے دانئ کیمرہ تھامے انکے سامنے ہی کھڑا تھا۔ انکے جھگڑے سے تنگ آکر بولا

اوفوہ میں کیا کروں مجھے تو بتائو۔

بھائی جو مرضی آئے کریں میں پابندیاں لگانے والی چھوٹی بہن نہیں ہوں۔۔ 

ثانی نے مزے سے کہا تو دانی دانت پیستا ہوا کیمرہ بیڈ پر پھینک کر بیڈ پر رکھی ٹرے سے تیسرا کپ اٹھا کر دھپ سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر گھونٹ بھرنے لگا

بھائی مت پیئو اس کپ کا شاٹ لینا تھا ہم دونوں کی۔بنائی کافی تو آدھی ہوگئ ہے۔ 

ثانی اور کاشی تڑپ کر اسے روکنے بڑھے مگر وہ منہ کو لگا چکا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسٹا گرام کا مشہور کافی چیلنج کاشی ثانی اور دانی نے کیا تھا۔ کافی کو تھوڑے سے پانی میں پھینٹ کر دودھ اور برف میں ملا کر ڈرنک تیار کرنا تھا مگر ثانی اور کاشی کی نوک جھونک اور بار بار چکھنے میں کافی تین کپ بنی تو مگر ویڈیو کے آخر میں صرف ایک کپ وہ بھی آدھا ہی ناظرین کو دیکھنے کو ملا تھا

اپنے کمرے میں آرام سے بیڈ پر دراز موبائل میں  قطرینہ انکی ویڈیو دیکھ کر ہنستی چلی گئ۔ 

حد ہے ڈی آئی وائئ کم کامیڈی ویڈیو ذیادہ لگ رہی ہے لیکن مزا آیا دیکھ کر کل کوئی کپ کیک بنانا سکھائو۔ 

اس نے یہی کمنٹ کیا تبھی اسے زور دار چھینک آئی۔ پے در پے ایک دو تین۔ پھر کھانسی۔۔ بے تحاشہ کھانستے کھانستے اس نے سینہ مسلا پھر بری طرح خوفزدہ ہوگئ۔۔ 

یہ کیا ؟؟؟ مجھے کھانسی مگر ۔۔   میں تو گھر سے باہر۔۔کھو کھو۔  بھئ نہیں گئ۔ 

تبھی اسکو کل کا منظر یاد آیا تو سر پر جیسے آسمان ہی تو گر پڑا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

Corona aur Katrina kahani episode 4

قطرینہ اور کرونا 

قسط 4 

آن لائن کلاسز اور پاکستانی بچے۔۔

اپنے بیڈ پر دانی لیپ ٹاپ سامنے رکھے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے تمیز سے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

دانی فلش تو کر لیا کر اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔۔ گندا آدمی

باتھ روم سے نکلتے ہوئے کاشی نے خاصی ناراضی سے اچھا خاصا زور سے کہا تھا۔ دانی کا رنگ ایکدم فق ہوا  جھٹ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا کر آنکھیں نکال کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا 

آہستہ بول کمینے آن لائن کلاس چل رہی ہے میری ۔۔ 

اس کی گھرکی پر کاشی نے جھٹ ہاتھ کے اشارے سے معزرت کی مگر ٹھیک ٹھاک معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

اسکے لیپ ٹاپ  کی اسکرین اسکے کلاس فیلوز کے میسجز سے سج گئی تھئ۔۔ 

پہلا پیغام۔۔ دانی فلش کرکے آئو کلاس میں۔۔

دوسرا پیغام: مجھے تو یہاں تک بدبو محسوس ہو رہی ہے۔ 

تیسرا پیغام: یار دانی اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔ 

چوتھا پیغام : گندا آدمی چھو

پانچواں پیغام: فلش کے بعد صابن سے پورے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا

چھٹا: یار سینی ٹائزر دو مجھے لیپ ٹاپ کی اسکرین بھی صاف کرنی ہے اس میں “گندا آدمی” آن لائن ہے۔

ملک کے مستقبل قریب کی بے روز گار انجینئروں کی کھیپ اپنی حس مزاح  کا اچھا مظاہرہ کر رہی تھی۔

اسکے دوست نے تو حد ہی کردی کلاس کے آن لائن چیٹ روم میں پیغام بھیج دیا۔

سر تھوڑی سی بریک دے دیں دانی فلش  کر آئے ذرا

دانی کے کندھے پر جھکے اسکے میسجز پڑھتے کاشی نے کافی محنت کرکے ابلتے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا دانی کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا

بھئی جس نے جو کرنا فارغ ہونا ہو آئے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔ میں نے جو سلائڈز شئیر کی ہیں انکو گو تھرو کر لو سب 

یہ سر تھے ۔ ٹریک سوٹ پہنے بالوں کو کنگھی کیئے بنا جمائیاں لیتے ہوئے انکو جانے پڑھا کیسے رہے تھے اسے تو لگ رہا تھا اب گرے کہ تب۔۔ 

دانی نے جوابا اپنے ہم جمآعتوں کی شان میں گستاخانہ جملے جلدی جلدی ٹائپ کرکے بھیجنے شروع کیئے تو کاشی سیدھا ہوا۔ اسے فی الحال قطرینہ کا چیلنج مکمل کرنا تھا سو اپنی الماری کھولی ۔ اندر سے باہر نکلنے کو بے تاب کپڑوں کا ڈھیر اسکے اوپر آگرا ۔  وہ اس حملے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔۔ کپڑے ٹھیک ٹھاک زور سے سر پر لگے تھے ماتھا سہلاتے ہوئے اس نے جھک کر دیکھا تو ایک عدد کارٹن بھی کپڑوں کی سنگت میں زمین پر اتر آیا تھا اسکی پیشانی زخمی کرنے کے بعد۔ 

یہ کارٹن کہاں سے آیا۔ وہ حیران ہو کر کارپٹ پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور بڑی دلچسپی سے کارٹن کھول کر دیکھنے لگا۔ 

ٹوٹے ہوئے درجنوں چارجر ، ہینڈزفری تینتس دس نوکیا ، موبائل اسٹینڈ کور ہاڑڈ بال ، اور نجانے کیا الم غلم بھرا پڑا تھا۔ جو یقینا صرف اسکا نہیں تھا بلکہ اس گھر کی ٹیکنالوجی ایڈوانسمنٹ کئ نشانی کے طور پر ہر فرد کی متروک کی گئ اشیا ء کا خزانہ تھا۔ 

یہ میری الماری میں کہاں سے آیا کل تک تو اس میں نہیں تھا۔ 

کاشی نے پلٹ کر بے چارگی سے بھائی کو دیکھا جو نجانے ابھی بھی کلاس لے رہا تھا کہ نہیں مگر انتہائی شرافت اور سنجیدگی چہرے پر سجائےلیپ ٹاپ میں مگن تھا۔ 

اسے گھورتے ہوئے وہ کارٹن ایک طرف کرکے اپنی پرانی سال خوردہ شرٹوں کی چھانٹی کرنے لگا۔۔ کئی تو بالکل صحیح تھیں اور انکو نہ پہننے کی وجہ بھی اب اسکو بھول چکی تھئ تو انہیں احتیاط سے تہہ کر کرے اپنے خانے میں رکھنے لگا۔ چھانٹی ہی چھانٹی میں نہ صرف اس نے اپنا بلکہ دانی کا بھی خانہ ترتیب دے دیا۔ کل سات شرٹیں نکلی تھیں پانچ اسکی دو دانئ کی۔ ہر شرٹ اسے دکھا تا تو سوراخوں والی شرٹیں تک دانی نے پھینکنے نہ دیں سر کے اشارے سے منع کر دیتا البتہ دو جو شرٹیں اس نے سر ہلا کر اجازت دیں ان پر دانی باقائدہ حیران ہو کر تصدیق بھی چاہی۔ بالکل نئی سی شرٹس تھیں ۔انکو تو ابھی مہینہ پہلے تک یونیورسٹی بھی پہن کر جاتارہا تھا۔ مگر خیر دانی بھیا کی اپنی مصلحت ہوگی کوئی۔

دانی بھیا ویسے بہت پیٹو انسان ہیں آپ۔ گھنٹہ بھی پورا نہیں ہوا ناشتے کو امی سے ملک شیک بنانے کا کہہ کر آئے انہوں نے تو کیا ہی بنانا تھا مجھ سے ہی بنوا لیا۔۔ خیر  لیں۔ 

تین گلاس ٹرے میں رکھے نان اسٹاپ بولتی ثانیہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔ کاشی کرنٹ کھا کر سیدھا ہوتے ہوئے اسے شش چپ وغیرہ کا اشارہ کرنے لگا تھا جسے اس نے اپنی دھن میں دیکھا ہی نہیں سیدھی جا کھڑی ہوئی دانی کے سرہانے۔جو بے چارگی سے اسے دیکھ رہا تھا

لیں پکڑیں نا ۔ اس نے حیران ہو کر دیکھا جو صم بکم اسے تک رہا تھا۔

گلاس تھام کر اپنے بیڈ پر رکھا پھر تسلی سے نئے سرے سے اپنے ہم جماعتوں کے تبصرے پڑھنے لگا

انہیں کیا ہوا۔ وہ حیران ہو کر کاشی کے پاس آئی جواسکی متوقع درگت کا اندازہ کرکے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ دبا رہا تھا

آن لائن کلاس لے رہا ہے۔ اس نے بتایا تو ثانیہ خفت ذدہ سی ہوئی۔ ٹرے زمین پر رکھ کر اپنا گلاس اٹھاکر بولی

یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ 

 شرٹوں کو اپنے گرد پھیلائے بیٹھا وہ امی کی قینچی تھامے تھا اسے جواب دینے کی۔بجائے  اس نے اشارہ کیا اور اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔ثانیہ نے اشارے کاتعقب  کیااپنا موبائل اسی کار آمد کارٹن سے نکلنے والے سالم اسٹیںڈ میں لگائے وہ یو ٹیوب ویڈیو کھولے بیٹھا تھا۔ گھر پر پرانے کپڑوں سے ماسک بنانے کی ترکیب تھی۔ 

واہ میں بھی مدد کراتی ہوں۔ بڑے شوق سے ثانی نے اپنی خدمات پیش کیں۔گتے پر ٹریس کرکے ماسک کاشی تندہی سے کاٹ رہا تھا پچھلے مہینے ثانیہ نے اپنی پاکٹ منی سے آن لائن بالشت بھر کی سلائی مشین منگوائی تھی اور امی سے اسکے بے کار ہونے اور ثانیہ کے پیسے ضائع کرنے کی عادت پر خوب ڈانٹ کھائی تھی ابھی وہی مشین کام آئی۔ ثانیہ شوق میں اٹھا لائی ۔اب چھوٹی چھوٹی سلائی لگا کر ماسک کے کنارے بند کررہی تھی اور ڈوریاں سی رہی تھی۔ چھے  شرٹوں سے دانی نے تقریبا چھتیس کے قریب ماکس تیار کر لیئے تھے پھر ثانیہ کا ہاتھ بٹانے کو امی کی بڑی والی سنگر مشین بھی اٹھا لایا تھا اب دونوں کی دھڑا دھڑ سلائی جا ری تھی۔ 

دانی کی شرٹ پر بڑا خوبصورت سا ہائی لکھا تھا جسے کاشی نے ایسے کاٹا کہ وہ ایک ماسک کے بالکل بیچ میں آگیا۔ 

بھائی یہ سب سے پیارا بنا ہے۔ثانیہ نے جھٹ اسکو پہنا۔ 

اسی شرٹ کا دوسرا ماسک کاشئ سی رہا تھا۔۔ ثانیہ اس کارگزاری کی تصاویر لے رہی تھی

کاشی کا موبائل اس سب کی خاموشی سے ویڈیو الگ بنا رہا تھا۔ آخر چیلنج بھی تو پورا کرنا تھا۔

بھیا دیکھیں کتنا پیارا ماسک بنا ہے۔ اپنی تصویر لیکر بھی ثانیہ کی تسلی نہ ہوئی تو لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے کمر اکڑائے دانی کو مخاطب کر ڈالا۔ 

اس نے تھکی تھکی سی نگاہ اٹھائی ۔ ماسک پہنے آنکھیں پٹ پٹاتی بہن کو دیکھ کر خیر سگالی مسکراہٹ اچھالی دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا۔ پھر جیسے کوئی خیال آیا تو چونک کر دوبارہ نگاہ ڈالی۔ ہائی جانا پہچانا تھا۔۔ دانی نے بھی ماسک سی کر پہنا اب دونوں بہن بھائی اسکی شرٹ منہ پر چڑھائے وی کا نشان بناتے سیلفی لے رہے تھے۔  پہچان کا لمحہ مکمل ہوا دانی کے منہ سے زور دار چیخ نکلی۔ 

نہیں۔۔ 

سنجیدگئ سے چھوٹے سے وہائٹ بورڈ کو لیپ ٹاپ کے سامنے دکھا کر نجانے کیا ڈرا کررہے تھے ڈر کر اپنا مارکر اور وہائٹ بورڈ دونوں چھوڑ بیٹھے۔بورڈ کھٹ سے آکر لیپ ٹاپ کی اسکرین کو لگا ۔ انکو غور سے دیکھتے 34 طلباء کو لگا یہ انکے سرپر آرہا سو سب اچھل سے پڑے۔ پینتیسواں لیپ ٹاپ بیڈ پر اچھالتا ایک اور نہیں چلاتا ہوا کترنوں کے ڈھیر پر کودا تھا اسکی پسندیدہ ترین ٹی شرٹ ننھے منے ٹکڑوں میں بٹی پڑی تھی۔۔ 

کاشی اور ثانی دونوں بھونچکا سے اسکا ردعمل دیکھ رہے تھے جو اپنی شرٹ کے ٹکڑے کسی لاش کی طرح بانہوں میں لیئے دھاڑیں مار رہا تھا

میری فیورٹ شرٹ کاٹ دی ۔یہ تو بالکل نئی تھی دو مرتبہ پہنی ہوگی بس۔ 

ثانی اور کاشی دونوں ڈر کر پیچھے ہٹے۔

پوچھ کر ہی تو کاٹی ہے۔ پوچھا تھا نا دانی تجھ سے لے لوں یہ؟ ہر پھٹی پرانی پر تو انکار کرتا رہا نہ لوں تبھئ تو دو بار پوچھا تھا میں نے۔ 

کاشی نے ڈرتے ڈرتے کہا تو دانی غم کی انتہا پر روہانسا ہو کر چیخا

مجھے کیا پتہ تھا تو کاٹنے کیلیے مانگ رہا کمینے۔ میں نے سوچا پہننے کیلئے مانگ رہا ہے پھٹی پرانی پر اسی لیئے منع کردیا تھا۔مجھے لگا نئی شرٹ پہن کر کہیں جانا چاہ رہا ہے

دانئ کی بات پر جہاں ثانی  کو ٹھیک ٹھاک ہنسی آئی اس نے باقائدہ منہ پھیر کر چھپائی وہیں کاشی کو بھائی پر پیار بھی آگیا تو یہ غلط فہمی ہوئی اسے ۔ کتنا اچھا ہے بھائی اپنی نئی شرٹ اسے دے رہا تھا اور پرانی پر صاف منع کر دیتا تھا ۔

ہائے آئیم سوری یار مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔ کاشی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معزرت کرنی چاہی 

اور کون کون سی کاٹ ڈالی تم نے۔۔ کاشی بے تابی سے  چیتھڑے ٹٹول رہا تھا۔ 

اسکی دوسری نئی شرٹ قسمت سے سلامت نکلی ۔ سگریٹ گرے کلر کی ٹی شرٹ جس پر Be Hajoom Be lonely  لکھا تھا اسے الٹ پلٹ کر وہ تسلی کررہا تھا

یہ کیسے چھوڑ دی سالم۔ اسے خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی۔  

یہ مجھے اچھی لگی تھی تو میں نے سوچا اسے میں خود رکھ لوں گا۔۔ کاشی نے آہستہ سے کہا تووہ گھور کر رہ گیا

لیپ ٹاپ کا منہ دانی کے اچھالنے کی وجہ سے ان تینوں کی جانب تھا اور سر جاثم سمیت 34 ہم جماعت اسکے غمگین گھریلو ڈرامت کو براہ راست دیکھ کر تفریح لے رہے تھے

سر جاثم یقینا اس سے کوئی درخواست کر رہے تھے 

ثانیہ نے دیکھ کر بھائی کا شانہ ہلایا۔ دانی گڑ بڑا کر لیپ ٹاپ کی جانب لپکا ہیڈ گیئر کانوں میں لگایا 

ہمیں آن لائن براہ راست گھریلو ڈرامہ دکھانے کا شکریہ اب ذرا پڑھ لیں ؟ سر جاثم طنز کر رہے تھے اور چیٹ میسجز سے الگا سکرین بھر چکی تھی اس نےسر جھکا کر معزرت کی۔ ہیڈ گیئر کا مائک اتنا حساس تو تھا کہ انکی سب گفتگو بھی آرام سے سب نے سنی اب سب اس سے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے ایک نے تو ماسک بنانے کی ترکیب بھی پوچھ ڈالی۔۔ 

وہ سب کو حسب توفیق گالیاں دے رہا تھا 

دیکھ رہے ہو اپنے ابو کو ناک میں دم کر دیا ہے نیا شوق آیا ہے کہہ رہے کڑھی بنائیں گے سارا باورچی خانہ الٹ کر رکھ دیا ہے انہوں نے۔۔ 

امی بھنائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ 

کاشی دانی ثانی یکدم ساکت سے رہ گئے۔ 

امی کا اترتا پارہ دوبارہ چڑھ گیا۔ 

خدایا کیسی کاہل اور نکمی اولاد ہے میری ۔ اتنے برتن دھو کر آئی ہوں ابھی یہاں یہ تین گلاس پڑے رہ گئے۔ برتن دھونے کو نہیں کہتی کم ازکم ہاتھ پائوں ہلاکر باورچی خانے تک تو پہنچا دیا کرو۔۔۔ سارا دن اکیلی کاموں میں لگی رہتی ہوں ذرا جو۔۔

امی کا گھن گھرج سے دیا جانے والا لیکچر جاری تھا اس بار صرف پس منظر آواز اور دانی کالال ہوتا چہرہ کافی تھا سر جاثم کی بھی جرات نہ ہوئی کہ بول سکیں تاہم انکی نگاہ اپنی میز پر رکھے چائے کے تین مگوں پر پڑی تو سٹپٹا کر انہیں اٹھا کر باورچی خانے میں رکھنے بھاگے ۔

انکی عجلت کسی سے چھپی نہ رہ سکیں کیونکہ وہ کیمرہ بند کئے بنا بھاگے تھے

چیٹ پر دوبارہ پیغامات کی بھرمار ہوئی

سر کو اپنی امی یاد آگئیں لگتا ہے

سر کی امی توگائوں رہتی ہیں یہ چھوٹی امی کا خوف ہے

دانی نے اپنے جی پی اے پر لعنت بھیجی اور سیدھا لیپ ٹاپ کا ٹرن آف بٹن دبا دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ثانیہ اور دانی تینوں اس ریڑھی والے کو گھیرے کھڑے تھے

اوبھائی کچھ نہیں ہوتا کرونا ورونا ہم سخت جان لوگ ہیں۔ 

گرد و غبار میں اٹے کپڑے کو گردن میں پھیرتے اس خان نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی۔ 

تبھی زور دار چھینک آئی تو ان تینوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس کپڑے کو منہ ڈھانک کر چھینکا ۔مکھی بے زار سی ہوئی

پھر اڑ کرکیلوں کی بھری ریڑھی پر آبیٹھی تو اسی کپڑے سے بلا تکلف خان جی نے اڑا دیا 

تینوں نقاب پوش ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے 

دانی کیمرہ سنبھالے تھا ثانی ہاتھ میں پیاری سی تنکوں کی  ٹوکری میں گھر کا بنا سینی ٹائزر کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں۔ اور اپنے دوپہر بھر کی محنت سے بنائےماسک تھامے کھڑی تھی کاشی مائک تھامے سر پر ٹوپی منہ پر ماسک چڑھایے پھیری والے کا انٹرویو لے رہا تھا

آپ لوگوں نے کیلے نہیں لینے تو جانے دو بھائی پہلے ہی۔دھندا مندا جا رہا ہے بچوں کی روٹی کا انتظام کرنا ہے بھائی

اچھا لیکن اپنے لیئے نہ سہی اپنے بچوں کیلئے یہ ماسک پہن لو بیماری لے گئے گھر تو انکا علاج معالجہ کیسے کروگے؟ 

کاشی کی بات اسکے دل کو لگی۔ 

لائیں دیں ۔ اس نے جیسے تھک کر کاشی سے ماسک لے لیا۔۔ 

ماسک پہن کر اب ہاتھ سینی ٹائز کروانے کی باری تھی۔

اب یہ بھی مل لو ہاتھ پر ۔۔ ویسے تو صابن سے بار بار ہاتھ دھوئو مگر اب جیسے سارا دن ہر جگہ تو پانی نہیں ملتا تو ایسی جگہ ہاتھ پر یہ مل لیا کرنا ۔ 

کاشی سمجھا رہا تھا۔  

کیسے؟ خان صاحب مائل ہوہی گئے پندرہ منٹ کی ان تینوں کی صحت و صفائی سے آگاہی پر مبنی محنت کے بعد۔

اسکو تھوڑا سا لیکر ہاتھ پر ملو یوں ۔

کاشی نے اسکے ہاتھ پر تھوڑا سا سینی ٹائزر ڈالا 

اب اپنے ہاتھ مل کر اسے سکھا رہا تھا۔ خان صاحب نے وہی کیا۔ سارا دن کی محنت مزدوری کرنے والے ہاتھ سینی ٹائزر ملنے سے پسینہ میل غبار مل کر کیچڑ سا بن گیا۔ 

اب پانی تو دو صابن ہاتھ میں مل کر تو نہیں پھروں گا نا۔۔ 

خان صاحب نے جتایا۔ 

انکے ہاتھ میں قطرہ قطرہ کالے پانی کی تہہ بنتے دیکھ کر تینوں متفق ہوگئے کہ خان صاحب کو ہاتھ پانی سے بھی دھو لینا چاہیئے۔ 

میں پانی لیکر آتی ہوں۔ ثانیہ بھاگ کر گھر میں گھسی

ان تینوں کو دیکھ کر محلے کے کئی گھروں سے تماش بین انکا نظارہ کرنے سر باہر نکال رہے تھے دروازوں سے

اچھا جب آپ ہاتھ دھو لیں گے نا تو ہم دوبارہ شوٹ کریں گے پھر آپ نے بس سینی ٹایزر لگانا ہے اسکے بعد ہاتھ دھونے کی ضرورت نہیں پڑتئ

ٹھیک ہے ٹھیک ہے بھائی آپ لوگ فکر نہ کرومیں پہلے بھی انٹرویو دے چکا ہوں وہاں بازار میں بھی ایسے بھائی ٹی وی والے پوچھ رہے تھے۔۔ حکومت کو بھی برا بھلا کہنا ہے نا؟؟ خان صاحب فرط شوق سے پوچھ رہے تھے 

آہاں نہیں۔ کاشی نے کہنا چاہا مگر خان صاحب نے موقع نہیں دیا

ابھی کل ہی کی بات ہے میں نے تو وہ گالیاں دیں عمران خان کو کہ کیا بتائوں ۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔ سالا۔۔۔۔ ہمارا ۔۔۔۔۔۔ گالی۔ ہم لوگ۔۔۔۔ گالی ۔۔۔  مارا ڈر گیا رات کو ادھر ہوٹل والوں کے پاس ہم ٹی وی پر دیکھا ہماری ساری گالیاں کاٹ دیں۔۔ بہن۔۔۔ گالی۔

پر ہماری شکل آئی ٹی وی پر ابھی کیلا لیتے ہوئے ایک خالہ جی پہچان بھی گئیں انکو دو کیلے فالتو دے دیئے ہم نے۔ 

خان صاحب اپنی کر گزاری جتا رہے تھے۔ دانی کاشی ہکا بکا دیکھ رہے تھے۔۔ ثانی۔۔ آتی ہوگی۔ دونوں نے اکٹھے مڑ کر دیکھا کہیں بہن ان گالیوں کو نہ سن لے لیکن دیر ہوگئ 

وہ انکے پیچھے ہی سرخ چہرہ اور پانی کا بھرا جگ لیئے کھڑی تھئ۔۔ 

دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ 

انکا پہلا مشن تھا یہ اس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے انہیں کم از کم پچیس ماسک ان پھیری والوں کو بانٹنے تھے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام چوتھی قسط کا۔ 

جاری ہے۔۔