Blog

  • aayeena آئینہ

    شہر کے داخلی دروازے پر۔۔
    ایک آئینہ لیئے۔۔
    جو فقیر بیٹھا ہے۔۔
    اسکو وہاں سے ہٹائو۔۔
    شہریوں کا مطالبہ ہے۔۔
    گو وہ نا بھیک مانگتا ہے۔۔
    نہ دعا دیتاہے۔۔
    چپ چاپ سر نیہواڑے بیٹھا رہتا ہے۔۔
    کسی کو کیا کہتا ہے۔۔
    مگر سب تنگ ہیں اس سے یوں۔۔
    اسکے ہاتھ میں جو ایک آئینہ ہے۔۔
    اسے اٹھاتا ہے۔۔ گزرتا ہے پاس سے جو اس کے۔۔
    انہیں دکھاتا ہے۔۔
    انہی کا اپنا چہرہ۔۔

    از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom

  • mujhay meray lafzoun main talaashnay walo

    مجھے میرےلفظوں میں تلاشنے والو۔۔
    ختم ہوئی تمہاری تلاش کہ نہیں۔۔
    میری تحریر میں موت ہے جذبوں کی کئی۔۔
    ملی تمہیں بھی کوئی لاش؟۔۔ کہ نہیں۔۔
    مجھے کرید کے جانو گے جان تو جا چکی کب کی۔۔
    ملا پھر تمہیں کوئی صاحب فراش؟۔۔ کہ نہیں۔۔
    چھیڑ بیٹھنا کسی قلندر کو پھر چھوڑنا اسکو حال پہ۔۔
    کبھی کی ہےتم نے ایسی غلطی فاش ؟ کہ نہیں۔۔
    مانوس ہو کے کسی سے جانا کیا ہوتے معنی اجنبیت۔۔
    کسی سے مل کے سوچا؟نہ ملے ہوتے کاش؟۔۔ کہ نہیں۔۔
    تعلق تو رکھتاہو مگر ناطے توڑدیتا ہو جودل۔۔
    کیا اسکو کہہ سکتے ہیں اوباش ؟۔۔۔ کہ نہیں۔۔
    جیبیں خالی ہوں مگر الفت سے مالا مال ہو جو شخص۔۔
    محفلوں میں ذکر ہو تا ہوجسکا کہلا سکتا ہےقلاش ؟ کہ نہیں۔۔
    دل لگی میں لگائے دل جلائے دل مگر بس اپنا ہی۔۔۔
    سیاہ قلب، مگر بدن پاک کہلائے گا بدمعاش ؟ کہ نہیں۔۔۔
    سبھی تو تنہائی میں غمگین ہوا نہیں کرتے ہیں۔۔
    ہجوم میں ملا کبھی کوئی خوش باش؟۔۔ کہ نہیں۔

    از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom


  • Dyar e mustafa shehr madina hay nigahon main

    نہیں گلزار رضواں میرے دل کی سجدہ گاہوں میں

    دیار مصطفے    شہر    مدینہ  ہے    نگاہوں  میں 

    ہم ان کو وسعت کون و مکاں تک دیکھنے نکلے

    خرد والے سمٹ کر رہ  گئے ہیں  خانقاہوں  میں 

    جمال  بندگی  پوچھو  نگاہ   بندہ     پرور    سے

    دمکتا ہے  نشان  سجدہ  نورانی   نگاہوں   میں

    سمجھ بیٹھے   جنہیں   اہل خرد    معراج   انسانی 

    ہم ایسی منزلیں دانستہ  چھوڑ آئے  ہیں  راہوں میں

    مرا ایمان  کامل ہے  شفیع    روز    محشر    پر!

    کوئی یونہی  نہیں یہ  پختگی  میرے  گناہوں میں

    جبیں اس آستاں   پر دولت کونیں قدموں   میں 

    غلامان  محمد  منتخب ہیں   کجکلاہوں    میں 

    شمیم آقائے یثرب   رحمت اللعالمیں    ٹھہرے 

    وگرنہ  کیا دھرا ےھا میرے نالوں میر آہوں میں

     از قلم زوار حیدر شمیم 

    قصیدہ رسول ص
  • Din ki neeli chiryaدن کی نیلی چڑیا

    ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ کیس نمبر 400

    ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

    مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

    نفسیات دان۔ 

    عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

    دن کی نیلی چڑیا

    اس نے نگاہ اٹھا کر غور سے اپنے مقابل بیٹھے مریض کی شکل دیکھی۔ مکمل سفید کالر جاب کرنے والا حلیہ۔ گہرے نیلے تھری پیس سوٹ میں سرخ ٹائی سفید شرٹ سلیقے سے سنورے بال کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا وہ خوبصورت نوجوان تھا۔

    نام ۔۔ ؟ اس نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائی

    اگلا سوچ میں پڑ گیا تھا سوال سن کر۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر گہری ہونے لگی تو اس نے گہری سانس لیکر سوال بدل دیا۔

    عمر؟ 

    تین دہائیاں دیکھ چکا ہوں۔ 

    اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا

    تیس سال۔ سر جھکائے ہجوم تنہائی نے فارم پر عمر لکھ ڈالی

    الجھن؟ 

    پھر سوال کیا۔۔ اس بار نوارد کے چہرے پر بے چینئ اور گھبراہٹ سی چھا گئ۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے گہری سانس لی ۔ مگر پرسکون نہ ہو پایا۔ آگے ہو کر دونوں ہاتھ میز پر ٹکا کر رازدارانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی میں بولا۔

    مجھے یہ خوف ہے کہ میں ایک دن اپنے دفتر میں اکیلا بیٹھا ہوں گا تو نیلے پروں والی چڑیا میرے دفتر کی گلاس ونڈو سے آئے گی اور مجھے چونچ میں دبا کر لے جائے گی۔ 

    اس کی الجھن پر ہجوم تنہائی کی آنکھوں میں الجھن تیر گئ

    آپکا دفتر کیا اونچے کسی فلور پر ہے؟ 

    اسکے سوال پر نوارد کے چہرے پر مایوسی چھا گئ

    گرائونڈ فلور پر ہے۔ پر روز میں دیکھتا ہوں میرے دفتر کے احاطے میں چڑیاں کوئے سب آتے ہیں انہوں نے آگے ایک باغیچہ بنا رکھا ہے جس کی دیکھ بھال کیلئے مالی بھی آتا ہے۔میں نے امر بیل لا کر ڈالی سب پودے جل گئے مگر مالی نے پھر باغیچہ ہرا بھرا کر ڈالا۔ اب تو چڑیوں کو دانہ بھی ڈالتا ہے۔ تتلیاں جگنو سب اڑتے پھرتے۔ مگر وہ نیلی چڑیا۔ وہ بس پھدکتی رہتی ہے وہاں اڑ کر کہیں جاتی بھی نہیں ہے۔ 

    وہ جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ہجوم غور سے اسکی شکل دیکھتی رہی

    چڑیا جب اڑ نہیں سکتی تو ڈر کیسا؟ وہ چونچ میں آپکو دبا بھی لے تو بھی۔۔۔ 

    اس نے پیشہ ورانہ انداز میں اسکو سمجھا بجھا کر اسکی الجھن دور کرنا چاہی۔ 

    وہ رو پڑا۔ ہجوم کو خوف سا محسوس ہوا۔ اسکی آنکھوں سے آنسوئوں کی دھاریں نکل رہی تھیں۔ اسی طرح روتا رہا تو کہیں اسکے دفتر میں سیلاب نہ آجائے۔ اس نے گھبرا کر ٹشو باکس اسکی جانب بڑھایا

    آپ روئیں نہیں۔مجھے کھل کر بتائیں۔۔۔۔ جو چڑیا اڑ نہیں سکتی وہ آپکو کیوں لگتا ہے کہ کسی دن آپکو اکیلا پا کر چونچ میں دبا کر اڑ جائے گی؟ 

    یہ اکیلے پن والی بات کیسے آپکو پتہ لگی؟ 

    وہ رونا بھول کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ہجوم گڑ بڑا سی گئ

    میرا مطلب اگر کوئی آپکے آس پاس ساتھ ہوگا تو بچانے کی کوشش کرے گا؟ یقینا ننھی چڑیا مزاحمت کا سامنا نہیں کر پائے گئ نا۔ تو یقینا وہ اکیلے میں ہی آپ پر حملہ کرے گی۔۔ 

    اسکی وضاحت پر نوارد کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے

    ہاں۔ یہ بات مجھے بھئ سمجھ آتی ہے۔ مگر اور 

    کوئی نہیں سمجھتا میری بات۔ وہ اڑتی اسلیئے نہیں ہے کسی دن مجھ پر حملہ کرکے مجھے چونچ میں دبا کر ایک ہی دفعہ اڑ جائے گی۔ میں اسی لیئے اکیلا نہیں رہتا۔ کسی نہ کسی کے ساتھ ہی دفتر سے نکلتا ہوں۔ صبح آتے ہوئے بالکل لمبا راستہ اختیار کرکے اپنے ایک دوست کو مفت اپنے ساتھ گاڑی پر لے کر آتا ہوں۔۔ وہ ہنستا ہے مجھ پر مگر جب اس نیلی چڑیا کے پاس سے گزرتا ہے تو میرا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ 

    وہ بھی یہی سمجھتا ہے نا کہ چڑیا مجھے لے اڑے گی جبھی ایسا کرتا ہے نا؟ 

    آپکا دوست بھی چڑیا سے ڈرتا ہے؟ اسکو حیرانگی ہوئی

     یک نہ شد دو شد۔

    نہیں۔ اسے چڑیا سے ڈر نہیں لگتا۔ اسے مجھ سے ڈر لگتا ہے۔ 

    اس نے سر جھکا لیا۔۔ 

    آپ سے کیوں ڈرتا ہے وہ؟ ہجوم کو اسکا معاملہ الجھا الجھا سا لگا تھا

    وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میں ڈر ڈر کر مر نہ جائوں۔ وہ میرا ہاتھ تھامتا ہے تاکہ چڑیا کو لگے میں اکیلا نہیں ہوں۔

    اس کی بات پر ہجوم نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ 

    ایسا کریں آپ اپنے دوست کو بھی لے آئیں اگلی دفعہ۔ 

    ہجوم کی بات پر وہ اچنبھے سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکا دوست اسکے مطالبے پر حیران ہوا۔وہ دونوں صبح صبح کے وقت اکٹھے دفتر آرہے تھے۔ جب اس نے موڑ کاٹ کر دفتر کی ذیلی سڑک کی جانب گاڑی موڑی تو اسکا دوست دور سے دفتر کے احاطے میں پھدکتی نیلی چڑیا کو دیکھ کر الجھن بھرے انداز میں اس سے پوچھنے لگا

    ذہنی الجھن میں مبتلا تم ہو اور نفسیات دان کے پاس میں جائوں کیوں بھلا ؟ 

    چلو تو سہی۔ مجھے لگتا ہے نفسیات دان سمجھ گئی ہے ہمارا معاملہ۔ اس نے گاڑی پارکنگ میں لگا دی تھی۔ گاڑی بند کرکے وہ اتر کر لاک کرنے لگا جب جارحانہ انداز میں اسکا دوست پسنجر سیٹ سے اتر کر اسکی جانب آیا اور غصے سے کہنےلگا

    ایک منٹ۔ ایک بات صاف ہے یہ مسلئہ معاملہ ذہنی الجھن تمہاری ہے میرا کوئی لینا دینا نہیں اس سے۔ جائو اپنی بیمار سوچ کا علاج کرائو سمجھے تم۔ پہلے ہی تمہارے خوف کو دور کرنے کی خاطر جو میں تمہارا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں نیلی چڑیا کے سامنے سے گزرتے اس پر لوگ مجھ پر ہنستے ہیں مزاق اڑاتے ہیں۔ خود تو تم پاگل ہو رہے ہو مجھے بھی سب پر پاگل ثابت کرنے لگے ہو۔ وہ بات مکمل کرکے غصے سے مڑ کر تیز قدم اٹھاتا اندر جانے لگا۔ 

    رکو بات سنو۔ اسے اندر کی جانب بڑھتے دیکھ کر اسکی جیسے جان نکلنے کو آگئ۔ اس وقت صبح صبح کا وقت تھا احاطے میں رش بھئ نہ تھا اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا دوست کیا نہیں جانتا تھا کہ اسے اکیلا پا کر نیلی چڑیا اسے لے اڑے گی؟ 

    بات سنو۔وہ پکارتا اسکی جانب لپکا۔ مگر اسکا دوست رکا نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا اندر دفتر کی جانب بڑھ گیا۔ 

    نیلی چڑیا پھدکتی ایکدم ان دونوں کے بیچ میں آئی تھی۔ اسکے خوف کے مارے قدم جم گئے تھے۔ چڑیا نے ہوا میں جست لگائی اور سیدھا اسکی کھوپڑی پر آن بیٹھی۔ 

    اسکا دھڑ دھڑ کرتادل سکڑ کر جیسے لمحہ بھر کیلئے رک ہی گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے آج کلینک  میں آنے میں دیر ہوگئ تھی۔ اسکی پہلی اپائنٹمنٹ کا وقت ہو گیا تھا ۔ وہ تیزی سے اندر آئی تھی جب ریسیپشنسٹ نے اسے عجلت میں آتے دیکھ کر جلدی سے یاد دہانی کرائی۔ 

    وہ چڑیا والا مریض اندر بیٹھا انتظار کر رہا ہے اور آج تو وہ اپنے ساتھ چڑ۔۔۔ 

    سر ہلاتے وہ اسکی بات سنے بنا سیدھا اپنے دفتر کا گلاس ڈور کھول کر اندر گھس گئ۔ اپنا گرم اوور کوٹ اتار کر ایک جانب اسٹینڈ پر ٹکاتے وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتی اپنی کرسی پر عجلت میں آن بیٹھی

    معزرت معزرت مجھے دیر ہوگئ در اصل راستےمیں مجھے۔ یہ۔۔ یہ کیا۔

    اپنا رجسٹر دراز سے نکال کر میز پر رکھتے اس نے نگاہ اٹھائی تو میز پر پھدکتی اس نیلی چڑیا کو دیکھ کر چونک سی گئ۔ 

    مریض اسکے چونکنے پر ہنس دیا۔

    یہ ۔۔ یہ وہی چڑیاہے۔ اسے حیرت ہوئی  گہرے نیلے پروں والی وہ چڑیا تھوڑی مختلف تھی۔ اسکے پر چھوٹے پنجے بڑے تھے۔

    اس نے انگلی سے احتیاط سے اس چڑیا کو چھونا چاہا مگر وہ چونچ مار کر دور ہو گئ۔ 

    ہاں یہ وہی چڑیا ہے۔ مریض نے احتیاط سے اسے اٹھالیا۔ اسکی دونوں ہتھیلیوں میں چڑیا بڑے اطمینان سے پر سمیٹ کر بیٹھ گئ تھئ۔ 

    اس دن میرا دوست مجھے اکیلا چھوڑ گیا تھا احاطے میں تب یہ چڑیا مجھے اکیلا پا کر میرے سامنے آگئ۔ اس نے جست لگا کر میرے سر پر آن کر میرے بالوں کو اپنی چونچ میں دبا کر اڑنا چاہا تب مجھ پر انکشا ف ہوا اسکے تو پنجے بہت بڑے ہیں اسکے پر اسکے پنجوں کا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکتے جبھی تو یہ اڑ نہیں پاتی۔ 

    وہ ہنس دیا۔

    میں کتنا پاگل تھا اس چڑیا سے ڈرتا رہا اب اسکو میں نے پال لیا ہے۔ یہ اکثر میرے سر پر آن بیٹھتی ہے اور۔ 

    یہ دیکھیں۔

    اس نے چڑیا کو اپنے سر پر بٹھا لیا۔ 

    ہجوم اسے چپ چاپ دیکھتی رہی۔چڑیا نے طائرانہ جائزہ لیا اسکے دفتر کا۔ اسکے دفتر کی گلاس ونڈو کھلی تھی۔ ہوا سے پردہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس نے جست لگائی اور سیدھا اس کھڑکی کی درز سے اڑ کر باہر نکل گئ۔ 

    رکو۔ ارے رکو سنو۔ 

    مریض اسکے پیچھے بد حواسوں کی طرح بھاگا تھا کھڑکی سے ٹکرا کر بمشکل رکا مگر طائر موقع پاتے ہی آسمان کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ وہیں کھڑکی سے لگ کر آنسوئوں سے رونے لگا۔ 

    دیکھیں پلیز مت روئیں۔ہجوم جو بھونچکا سی اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی بے ساختہ اپنے دونوں پائوں کرسی پر اونچے کرکے اسے ٹوکنے لگی۔ 

    نیلئ چڑیا اڑ گئ۔ چلی گئ میری زندگی سے میں تو اب اس سے ڈرتا بھئ نہیں تھا۔ کیوں اڑ گئ۔ اسکے تو پائوں اتنے بڑے تھے۔ 

    وہ پردے سے الجھا بیٹھا بین کرتے ہوئے روئے جا رہا تھا۔

    مگر دیکھیں اسکے پائوں جتنے بھی بڑے تھے پر انکا بوجھ اٹھا سکتے تھے جبھی تو وہ اڑ گئ نا؟آپ مت روئیں دیکھیں سیلاب آجائے گا یہاں۔ 

    وہ اپنے دونوں پائوں اوپر کیئے پریشان ہو رہی تھی۔ 

    مریض کا رونا ختم نہیں ہو رہا تھا۔ 

    اس نے انٹرکام پر اپنی منتظم کو بلا ڈالا۔ وہ بھی ریسیپشن چھوڑ کر بھاگی آئی۔ 

    قنوطی یہ انکو باہر لے جائو پانی وانی پلائو یہ تو دفتر آنسوئوں سے بھر دیں گے۔ 

    ہجوم کے کہنے پر اس نے ٹھٹک کر اس روتے شخص کو دیکھا

    کیوں رو رہے ہیں یہ؟ وہ حیران ہو رہی تھی اتنا بھرپور جوان یوں بچوں کی طرح ایڑھیاں رگڑتا ذرا اچھا نہ لگ رہا تھا

    انکی نیلی چڑیا اڑ گئ ہے۔ ہجوم نے ناک چڑھا کر جواب دیا تووہ کھلکھلا دی

    اچھا وہ۔خیالی چڑیا۔ جتنی دیر آپ نہیں آئی تھیں یہ مستقل نیلی چڑیا کی فرضی کہانی سناتے رہے کہہ رہے تھے انکر سر پر بیٹھی ہے اسکے پائوں بڑے وہ اڑ نہیں سکتی پائوں بڑے ہونے کی وجہ سے

    قنوطی ہنس ہنس کر بتا رہی تھی ہجوم سے سخت چڑ کر گھورا

    بھاڑ میں ڈالو نیلی چڑیا کو اس بندے کو باہر لیکر جائو سار دفتر پانی پانی کر رہا ہے رو رو کے میرے دفتر میں سیلاب نہ آجائے

    ہجوم کے کہنے پر قنوطی نے ذرا دھیان سے اسکی شکل دیکھتے ہوئے مزاق کی رمق تلاشی مگر وہ مکمل سنجیدہ تھی۔ 

    قنوطی نے ٹھنڈی سانس بھری اور مریض کو اٹھانے لگی

    میری چڑیا اڑ گئ۔ 

    قنوطی کا سہارا لیکر اٹھتا دن بین کر رہا تھا

    چڑیا ہی تو تھی آسمان ہی اسکا اصل ٹھکانہ تھا جانے دیں۔ آپ کوئی اور فکر پال لیں۔قنوطی کی دلجوئی کا خاطر خواہ اثر ہوا وہ آنسو پونچھتے اٹھنے لگا۔ اسے سہارا لیکر باہر لے جاتے قنوطی نے مڑ کر دیکھا ہجوم ابھی بھی کرسی پر دونوں پائوں اوپر کیئے بیٹھی تھی کھڑکی کے پاس اسے اسکے آنسوئوں کا سیلاب نظر آرہا تھا ۔۔ 

    اس نے گہری سانس لی۔ اور سوچا۔۔

    ہجوم کو تنہائی میں آنسوئوں کے سیلاب ہی نظر آتے ہیں مگریہ بھی حقیقت ہے ان سیلابوں میں کہاں کوئی ڈوب پایا ہے۔۔۔۔۔۔خوامخواہ کا وہم پال رکھا ہے ہجوم نے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔

    Alone? Join Hajoom

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ رودادپڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Bookmark : urduz.com/

    kuch acha perhoSalam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

  • Main woh matrook lafz hounمیں وہ متروک لفظ ہوں

    میں وہ متروک لفظ ہوں…
    کتابوں میں نظر نہیں آتا
    جھٹک کے ہاتھ قلم چلاتا ہے مصنف
    سیاہی دشمنی ایسی مجھے لکھا نہیں جاتا
    دکھائی دے جاؤں گر کسی کو سویے قسمت
    تلفظ غلط ہوگا ایسا صحیح پڑھا نہیں جاتا
    مجھے زبان دانی میں تلاش کر لو تلاش لو لغت بھی
    جو روز مرہ استمال ہو
    زبان درازی میں میں نہیں آتا
    میرے حرف کرب و فغاں سے ہیں سخن وروں کی زبان سے ہیں
    مجھ میں تلاش راحت و مسرت نہ کر میں ان لفظوں میں نہیں اتا
    ڈھونڈ تاریخ کے حوالوں میں مجھے الفت کے پیغاموں میں
    میں داستانوں میں ذکر خاص تھا
    اب مگر تصنیف میں نہیں آتا
    نیے لفظ تلاش کرنے ہو ہجوم تنہائی سے پوچھ لو
    ایجاد مجھے کر دیگی گر اردو پر حرف نہیں آتا

    از قلم ہجوم تنہائی

  • Koi shagoofa khilao boht udaas hay dil

    کوئی شگوفہ کھلائو     بہت اداس ہے دل

    تبسموں کے خدائو       بہت اداس ہے دل

    نہ گنگنائو  ہوائو           بہت اداس ہے دل

    خوشئ کا نغمہ نہ گائو      بہت اداس ہے دل

    تمہاری کم نگہی بے رخی نہ بن جائے۔۔۔۔۔

    ذرا نظر تو ملائو         بہت اداس ہے دل

    اسی طرح ابھی ترسائیں گی وہ زلفیں بھی۔۔۔

    برس  بھی جائو گھٹائو     بہت اداس ہے دل

    نہ چاندنئ ہے نہ ان گیسوئوں کا سایہ ہے۔۔۔

    کوئی دیا ہی جلائو         بہت اداس ہے دل

    چھلک ہی جائیں نہ ان انکھڑیوں کے پیمانے

    جھلک نہ دل کی دکھائو     بہت اداس ہے دل

    جب اک ادا کے سوا کچھ بھی دل کو یاد نہ تھا

    وہ دن نہ یاد دلائو           بہت اداس ہے دل

    پھوار، پھول ، مہک ، شوق ، اور  تنہائی

    خود آئو ، مجھ کو بلائو    بہت اداس ہے دل

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Rafta Rafta ban gaya hay ansooun aahon ka shoq رفتہ رفتہ بن گیا ہے آنسوئوں کا آہوں کا شوق

    رفتہ رفتہ بن گیا ہے آنسوئوں کا آہوں کا شوق

    رفتہ رفتہ بن گیا ہے آنسوئوں کا آہوں کا شوق

    تھا ہمیں بھی دوستو پھولوں کا خوشبوئوں کا شوق

    کس کے دم سے ہے یہ سب ہنگامہ بزم وفا

    شمع کی لو دیدنی ہے یا کہ پروانوں کاشوق

    کچھ یونہی محروم ہیں مجبور ہیں ہم دل زدہ

    کس کو ہوتا ہے تبسم چھوڑ کر آہوں کا شوق

    پھول کو چوما کہیں سبزے پہ ماتھا رکھ دیا

    دیکھنے کی چیز ہے موسم میں دیوانوں کا شوق

    از قلم ذوار حیدر شمیم

  • hum jo patay hotay

    ہم جو پتے ہوتے۔

    ۔ہرے بھرے درخت سے جڑے ہوتے۔۔ 

    بہار کا موسم ہوتا۔۔ 

    سبک ہوا سے جھوم ریے ہوتے

    ۔۔ تم کلہاڑی لیکر آتے۔۔

     اس درخت کو ہی کاٹ ڈالتے۔۔

     ہم بے جان سے ہو کر آگرتے۔

    ۔۔ سوکھ کر ہیئت اپنی کھو جاتے۔۔ 

    تم تیز قدم اٹھاتے آتے۔۔ 

    ہم تمہارے قدموں میں چرمرا جاتے۔۔

     پر سنو

    تم جو پتے ہوتے۔

    ۔جس درخت سے جڑے ہوتے

    ۔۔ اس کے سائے میں بیٹھا کرتے۔

    ۔اسے اپنا مسکن بنا لیتے

    ۔۔ اسکو روز پانی دیا کرتے۔۔

    ہم اس پر خزاں بھی نہ آنے دیتے۔۔۔۔

    از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoomhttps://hajoometanhai.blogspot.com/

  • Fikr o fun ka chiragh jalta hay pehle barson demagh jalta hay

    فکر و فن کا چراغ جلتا ہے
    پہلے برسوں دماغ جلتا ہے

    دل سلگتا ہے داغ جلتا ہے
    سوچنے سے دماغ جلتا ہے

    ایک امید ٹوٹتی بھی نہیں
    دور دور ایک چراغ جلتا ہے

    آپکو زحمت کرم بھی ہوئی
    دل وہی با فراغ جلتا ہے

    پھر شگوفے چمن چمن پھوٹے
    پھر مرا داغ داغ جلتا ہے

    ٹھہرو ، ٹھہرو ، ہواؤ ، طوفانو
    دیکھو دیکھو چراغ جلتا ہے

    اس نوازش سے دل کا حال نہ پوچھ
    بارشوں سے یہ باغ جلتا ہے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • AAp hain phool hain chandni raat hay

    آپ ہیں ،پھول ہیں ،چاندنی رات ہے
    درد ہے ،اشک ہیں ،ہم ہیں برسات ہے

    اشک پلکوں پہ، تاروں بھری رات ہے
    وقت کی بات ہے ،وقت کی بات ہے

    ڈھونڈ کر لاؤ دل کو کہاں گم ہے دل
    درد کی بات ہے غم کی برات ہے

    پیار کے خار زار ،اور پھولوں سے تن
    اہل دل کے لئے جیت بھی مات ہے

    دیکھنا مے نگاھو ، غزل پیکرو
    سوز دل میں بھی ایک چیز ایک بات ہے

    میری بربادیوں کے ، تماشائیو
    یہ بھی دیکھو یہ سب کس کی سوغات ہے

    چاندنی جگمگاتی حقیقت سہی
    دن کی بات اور ہے رات پھر رات ہے …..

    از قلم زوار حیدر شمیم