Blog

  • Jaanay yeh raat dhalay yaa na dhalay

    janay yeh raat dhalay yaa na dhalay

    humdamo , hum safro, hum tau chalay

    roshni chahiye , jis tarah bhi ho

    bujh gai shama tau phr dil hi jalay

    kitnay tareek jahan bastay hain

    haan in hi sitaron ke talay

    Hum say hoga na wafa ka sauda

    hum hain saudaai tau saudaai hi bhalay

    gham diya us nay tau gham yaro

    khaar bhi phool kay saayay main palay

    jina be qadar wafa waqt ki baat hay

    waqt ke sath chalain hum na chalay

    By Zawwar Haider shameem

    جانے یہ رات ڈھلے یا نہ ڈھلے
    ھمدمو ، ہمسفرو ، ہم تو چلے

    روشنی چاہیے ،جس طرح بھی ہو
    بجھ گئی شمع تو پھر دل ہی جلے

    کتنے تاریک جہاں بستے ہیں
    ہاں ان ہی چاند ستاروں کے تلے

    ہم سے ہوگا نہ وفا کا سودا
    ہم ہیں سودائی تو سودائی بھلے

    غم دیا اس نے تو غم یارو
    خار بھی پھول کے سائے میں پلے

    جنس بے قدر وفا ، وقت کی بات
    وقت کے ساتھ چلیں ہم نہ چلے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Kuch guzarnay ki tarah umr rawaan guzri hay

    وہ جو تھوڑی سی سر کوۓبتاں گزری ہے 

    کچھ گزرنے کی طرح عمر رواں گزری ہے 

    با ہمہ   خانہ خرابی    و ہمہ  رسوائی 

    وہ جو گزری ہے پھر ایسی بھی کہاں گزری ہے 

    کچھ مجھے یاد تو آتا ہے کہ جادو نگہی

    جب مرا عہد جوانی تھا تو ہاں گزری ہے 

    دل کا وہ حال ہوا ہے غم محرومی سے 

    تم سے ملنے کی مسرت بھی گراں گزری ہے 

    دور رہ کر بھی گزرنے کو تو گزری اے دوست 

    ہر نفس آہ بلب شعلہ بجاں گزری ہے 

    از قلم زوار حیدر شمیم 

  • Dard ki lau say chiraaghaan lamhe

    درد کی لو سے چراغاں لمحے
    میری قسمت کے درخشاں لمحے

    رقص فرما و غز لخوان لمحے
    شوق رسوا کے فروزاں لمحے

    رہ گیے زین میں گڑ کر جیسے
    اچھے وقتوں کے وہ پراں لمحے

    حاصل حسرت یک عمرعزیز
    آج کے بے سرو ساماں لمحے

    بن چلے ہیں وہی یادوں کے تنور
    وہی گلزار و گلستان لمحے

    جم بھی رہتے ہیں اجل کی صورت
    سانس کی طرح پر افشاں لمحے

    کسی ناکردہ گناہ کی پاداش
    موسم گل میں یہ ویران لمحے

    ہم تمنا سے نہیں باز آیے
    ٹھہر ے حشر بد امان لمحے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • aur koi soorat bhi nahin hay aur nahin zabt ka yaara bhi

    اور کوئی صورت بھی نہیں ہے اور نہیں ضبط کا یارا بھی 

    ہائے اسی نے توڑدیا دل جس نے دل سے چاہا بھی

    کتنی ترقی کر گئی دنیا کر لو پیار کا سودا بھی

    دل بھی خریدے جا سکتے ہیں ہاں ہوتا ہے ایسا بھی 

    کچھ اپنی تقدیر کی گردش کچھ تدبیر کی خامی تھی 

    پیار پہ کوئی الزام نہیں پیار برا بھی اچھا بھی 

    عشق نہیں ،اچھا تو ہوس ہے جو ہے ایک حقیقت ہے 

    لاکھ فسانوں پر بھاری ہے اپنی ہوس کا قصا بھی 

    سیم و زر تو اپنی نظر میں ٹھہر سکے ہیں نہ ٹھہریں گے 

    ہم تو ستارے توڑ کر لاتے کوئی ہمارا ہوتا بھی 

    حسن نظر کا دھوکہ نکلا پیار فریب حرص و ہوس 

    عقل ٹھکانے آگئی لیکن کچھ بنتا اس دل کا بھی 

    آج کہیں کل اور کہیں ہے موج شمیم آوارہ 

    وہ جو ہمارا ہو نہ سکا وہ ہو نہ سکے گا کسی کا بھی 

    از قلم زوار حیدر شمیم 

    Rating
  • Corona aur katrina kahani episode 6

    کرونا اور قطرینہ کہانی

    قرنطینہ میں بہن بھائیوں کا حال۔

    امی شمسہ خالہ سے بات کر رہی تھیں دو گھنٹےہونے کو آئے تھے وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر گھومتا پھر رہا تھا۔ پہلے اپنے کمرے میں جھانکا۔ دانی کی کلاس چل رہی تھئ دروازہ کھلنے پر ایسی خشگمیں نگاہ ڈالی کہ وہ جھٹ بند کرکے دروازے سے ہی لگ کر سانس بحال کرنے لگا۔ 

    بہت ڈرونے ہو بڑے بھیا۔۔ وہ سینے پر تھپک تھپک کر آل از ویل بھی پڑھ رہا تھا۔ 

    اب ثانی کے کمرے کی باری تھی۔ اس نے ناک کیا تو اس نے مصروف سے انداز میں ہی جواب دیا۔ 

    آجائیں۔ وہ جھٹ اسکے پاس آبیٹھا۔۔ آج کپڑوں کی ڈیزائننگ کی بجائے کچھ نیا ہی ہو رہا تھا۔ مگر اسے تندہی سے سلائی پر سلائی کرتے دیکھ کر بھی اسے ککھ سمجھ نہ آیا کیا بن رہا تو پوچھ بیٹھا۔ تکونا چمڑا نیچے ایک جانب سے بیضوی شکل میں کاٹ کر اسکو گولائی میں سی رہی تھی۔ 

    کیا کر رہی ہو۔ ؟؟ اس نے اشتیاق سے پوچھا

    ثانیہ نے منہ چلانے کی بجائے سامنے تکیئے سے ٹک کر کھڑے موبائل کی جانب اشارہ کیا۔ 

    موبائل پر پانچ منٹ کرافٹ کی ویڈیو چل رہی تھی جس میں وہ چمڑے سے چھوٹا سا پرس بنانا سکھا رہے تھےجسکی دیکھا دیکھی اب ثانیہ اپنی منی مشین سے امی کا پرانا پرس کاٹ کر اسکئ چمڑے سے نیا پرس بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

    کوشش پوری کرنے کے باوجود بھی اتنا صاف اور خوبصورت دکھائی دینے والا نہیں بن رہا تھا۔ بلکہ اسکی دو ایک سلائیاں بھی ترچھی تھیں۔

    میں کوشش کروں۔ کاشی نے کہا تو اس نے جھٹ مشین کا رخ اسکی جانب کر دیا۔ کمر تختہ ہو گئ تھی جھکے جھکے۔ 

    دانی بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔ ؟ 

    ثانی کے پوچھنے پر اس نے مصروف سے انداز میں بتایا

    پڑھ رہا ہے آن لائن کلاس ہو رہی اسکی۔ 

    اور آپ کیوں نہیں پڑھ رہے؟ اس نے جھٹ اعتراض جھاڑا

    کیونکہ میری آن لائین کلاسز نہیں ہو رہیں۔۔ 

    وہ ان مشین سے نکال کر اس چمڑے کو بہتر شکل دینے کا نیا طریقہ سوچ رہا تھا۔ 

    آپکی کیوں نہیں ہو رہیں؟؟ 

    ثانی کو بھائی کے مستقبل کی فکر ہوئی

    کیونکہ ہماری آدھی سے ذیادہ کلاس نے آئوٹ آف سٹی ( شہر سے باہر) ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کے باعث وہ سب اپنے آبائی گھر جا چکے ہیں جہاں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں۔ 

    واقعی؟؟ ثانیہ کو شک گزرا وہ بھی صحیح

    ہاں ایک دو تو واقعی گائوں میں پھنسے ہیں اس نے مطمئن سے انداز میں بتایا 

    اور باقی ؟ 

    ان سب نے بہانہ بنایا ہے مگر چونکہ اکثریت کا مسلئہ تھا لہذا فی الحال یونیورسٹی نے حتمی فیصلہ نہیں کیا 

    اس چمڑے کا کچھ بھی بن سکتا سوائے پرس کے۔ وہ اس نتیجے پر اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد با آسانی پہنچ گیا تھا

    یہ کیا بات ہوئی 4 جی 3 جی تو سب گائوں تک جا چکا ہے نئی سم لے لیں پیکج کرائیں یوں تو آپکا کافی حرج ہوگا۔ جو آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں کم از کم انکو تو پڑھائیں۔

    ثانیہ نے کہا تو وہ مسکرا دیا

    تمہیں لگتا یے یہ اتنا آسان ہے؟ میری آدھی کلاس پارٹ ٹایم کہیں نوکری کرتی ہے اپنے خرچے نکالنے کیلئے۔اس لاک ڈائون کی وجہ سے گھر بیٹھے ہیں۔ گھر بیٹھے ہیں تو پیسے نہیں ہیں، کھانے پینے کی فکر لگی ہے انکو ، آن لائن کلاس کم از کم بھی 3 جی کنکشن پر جاری رہتی ہے مگر انٹر نیٹ پیکجز موبائل کے اتنے مہنگے ہیں کہ ہر کوئی انکو افورڈ نہیں کر سکتا ، یہ وائی فائئ بس بڑے شہروں میں ہے  وہ بھی بس دو ایک سروس پرووائڈر ہیں جو کسی چھوٹے شہر سے ہو یا گائوں گیا ہوا ہو کیا کرے گا وہ؟ ہمارا ایک بھی کلاس فیلو ہم چند طلبا جن کے والدین انکو سب سہولت فراہم کر سکتے ہیں کی وجہ سے اپنا سیشن ضائع کرے یا ہم سے پیچھے رہ جائے کیا ہمیں ایسا کرنا زیب دیتا ہے؟

    پھر اس  طرح تو سب کو نقصان ہوگا۔ وہ قائل ہوئی

    سب بچوں کا مستقبل کا سوال ہوگا تو یونیورسٹیز کو یکساں قانون یا نظام لانا ہوگا کسی ایک سے ذیادتی تو نہیں ہوگی۔ ثانی ہمارے دوست اپنے گھر والوں سے دور ہاسٹل میں رہتے گھر والوں پر بوجھ نہ بننے کیلئے چھوٹی موٹی نوکریاں تک کرتے ہیں اس ڈگری سے انکو کیا کیا امید نہ ہوگی سب چھوڑو ہمارا گھر اپنا ہے ابو کی سرکاری نوکری ہے مگر ابو دو بچوں کو یونیورسٹی نہیں پڑھا سکتے۔میری فیس امی کی کمیٹئ سے گئ تھئ اور اس سمسٹر کیلئے میں نے دو مہینے کال سینٹر میں جاب کی۔ 

    کاشی کے منہ سے روانی میں نکل گیا تھا ثانی نے آنکھیں پھاڑیں

    واقعی بھائی؟ جبھی آپ راتوں کو دیر سے آتے تھے ابو نے آپکو کتنا ڈانٹا بھی تھا 

    آن ۔۔۔ ہاں ۔۔ وہ گڑ بڑایا۔۔ اب بتا مت دینا امی ابو کو میں اور دانی ان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے اگر انکو پتہ لگ جائے گا تو وہ صاف منع کریں گے کہ بس پڑھائی پر دھیان دو

      میں نے تو چلو بی ایس میں آ کر پارٹ ٹائم جاب کی۔ دانی تو میٹرک سے ٹیوشنز وغیرہ کرتا رہا ہےابھی بھی یو ٹیوب کا گیمنگ چینل چلاتا یے توسافٹ ویئر انجیئرنگ کا خرچہ پورا ہوتا ہے۔

    بھائی آپ دونوں کتنے کار آمد ہو اور میں کتنی ناکارہ ایک یہ پرس بھئ نہیں بنا سکی۔  ثانیہ کے انداز میں رشک اور مایوسی تھی۔

    یہاں پر کار آمد کچھ جچا نہیں کیا کہتے ہیں یہاں۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ نہیں کہتے۔ کیا کہنا۔ کہتے ہیں بڑے ہوگئے ہیں اب کیا مار کٹائی کروں مگر زرا جو باپ والا رعب رکھیں ۔ ہم تو ابا جی کی ایک نگاہ اٹھتی تھی دبک جاتے تھے مگر آج کل کی ۔ ایک نمبر کی نکمی اولادیں ہیں۔ بس موبائل دے دو لیپ ٹاپ دے دو۔ آگے سے شمسہ نے کیا کہا کہ وہ گڑ بڑا کر موبائل دیکھنے لگیں۔اپنے کمرے میں بیڈ پر سکون سے بیٹھ کر بات کر رہی تھیں۔ میاں باہر گیلری میں پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے۔ 

    ہاں یہ کاشی کا ہی ہے میرے موبائل کا بتایا تو تھا بیٹری خراب ہے۔ کاشی گیا تو تھا دو ایک بار لینے مگر دکانیں ہی بند ہیں۔ہاں چلو ٹھیک ہے آرام کرو پھر بات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔۔

    فون بند کر کے وہ ایک طرف رکھنے ہی لگی تھیں کہ یکے بعد دیگر کئی نوٹیفیکیشن آئے انہوں نے یونہی کھول کر دیکھ لیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ دیکھو ذرا  قطرینہ کیسا گھر کا کام کر رہی ہے۔۔ جھاڑو پوچھا بھی کرتی ہے یہ تو بہت سگھڑ نکلی۔

    امی بڑے جوش سے دروازہ کھولتی انہیں بتانے آئی تھیں

     کاشی اور ثانی اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے تھے۔

    امی ان کے تاثرات سے بے نیاز بڑے جوش سے کاشی کے موبائل کی تصویر ثانی کو دکھا رہی تھیں۔کاشی کی سانس رکی ہوئی تھی۔ 

    ایویں امی تصویر کھنچوانے کیلئے پوز مار رہی ہے ورنہ کیسا چم چم کرتا فرش ہے۔ ثانیہ نے تصویر دیکھ کر منہ بنایا۔  امی قطرینہ کیف کی ہی تصویر دکھا رہی تھیں۔۔چم چم کرتے فرش پرہنستی مسکراتی پوچھا لگاتی قطرینہ کی مشہور زمانہ تصویر

    دکھائیں۔ کاشی نے تھوک نگل کر ڈرتے ڈرتے کہا۔ امی نے موبائل واپس کیا تو جان میں جان آئی۔ 

    میرےچارجر کا کچھ کرو تمہارے ابا ہر وقت اپنا چارجر لگائے بیٹھے رہتے ہیں یہ ثانی کو الگ تکلیف ہوتی ہے ماں  کو ذرا سا چارجر دیتے ہوئے۔ بور ہو کر رہ گئی ایک ہفتے سے کیںڈی کرش بھی نہیں کھیلا۔ 

    امی ہونٹ لٹکا کر بولیں تو دونوں بچوں کا دل پگھل گیا۔ 

    ارے تو ابھی کر لیں نا چارج ابھی میرا موبائل فل یے۔

    ثانی نے اٹھ کر ماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیں تو کاشی فورا اٹھ کھڑا ہوا 

    میں ابھی چارجر ڈھونڈنے جاتا ہوں۔ اس نے جذباتی ہوکر فورا چپل پائوں میں پھنسا لی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح سے ماما بابا بھائی بہن ایک ایک دروازہ کھٹکا کے جا چکا تھا اسکی ایک ہی قطعی سی ناں تھی ۔ سب تھک ہار کر اسے اس کے حال پر چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ماما دوپہر کا کھانا لیکر آئیں تو دروازے کے باہر زمین پر رکھ کر جانے کا کہہ دیا۔ جب یقین ہوگیا کہ وہ جا چکی ہیں تب ذرا سا دروازہ کھول کر ٹرے اندر کر لی۔

    دال چاول کھا کر برتن واپس کرنے لگی تو خیال آیا کہ برتن تو اسکے جھوٹے ہیں۔ اپنا چمچ پلیٹ اور پانی کا گلاس لیکر ملحقہ غسل خانے میں گھس گئ ۔ سرف سے برتن دھوئے ناک منہ دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپا کمرے میں آئی ہلکا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا کوئی نہیں تھا۔ اس نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئئ دروازہ پورا کھولا تو جانے کہاں سے بابا ماما چھوٹی بہن چھوٹا بھائی مکھیوں کی طرح نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے۔۔ اسکے ہاتھ سے برتن چھوٹتے چھوٹتے بچے۔ 

    شکر ہے تم نکلیں تو باہر۔ ماما فرط جزبات سے مغلوب ہو کر آگے بڑھیں۔ 

    مجھ سے دور رہیں۔ اس نے ٹرے ہی آگے کر کے انکو روکا کہ کہیں گلے نہ آ لگیں۔کہتے کہتے بھی دو چھینکیں آگئیں اسے۔ کہنی سے منہ ڈھانپ کر اس نے چھینکا۔۔

    کیا ہو گیا ہے بیٹا صرف دو چھینکوں پر اتنا پریشان۔ 

    بابا پریشان تھے اسکی وجہ سے۔ ماما نے مایوس ہو کر ٹرے تھام لی۔ 

    یہ کرونا ہوا تو؟ اسکی آواز سوچ کر ہی بھرا گئ تھی۔

    آپ سب کو اتنا منع کیا تھا۔ آہ چھوو۔۔ مت جائیں مدیحہ آنٹی کے گھر انکا بیٹا۔ آچھو۔۔ اٹلی سے آیا ہے۔ اور قرنطینہ میں جانے کی بجائے۔ کھوں کھوں۔۔۔ اب کھانسی بھی شروع ہوگئ تھی۔ 

    سب کو اپنے گھر دعوت دے رہا ہے کھانے پر کوئی تک بھلا۔۔ 

    آچھو۔ 

    خود کو بھی ہوا اور پورے گھر کو بھی کروا دیا۔ 

    وہ رودینے کو تھئ۔ 

    مگر آپی ممی بھی تو آپکے ساتھ گئ تھیں انکو تو کچھ نہیں ہوا۔ 

    سدید اسکا چھوٹا بھائی اسے سمجھا رہا تھا۔ 

    میں تو ممی کو بھی کہہ رہی ہوں سب سے دور رہیں ہم دونوں کو اگلے پندرہ دن قرنطینہ میں آہ چھو۔ رہنا چاہیئے۔ خدارا مان لیں بات سب بیمار ہو جائیں گے ہم ورنہ۔۔ 

    وہ کہتے کہتے رو دی۔ اسکے لیئے کونسا آسان تھا ایک کمرے میں بند ہو کر رہنا ۔ 

    مگر آپی میں کہاں جائوں میرا بھی تو یہی کمرہ ہے۔ 

    مرینہ منمنائی۔

    گیسٹ روم میں چلی جائو۔ اور خدارا اب مجھے کوئی باہر نکلنے پر مجبور نہ کرے۔

    اس نے کہہ کر دروازہ زور سے بند کیا اور خود اسی سے ٹیک لگا کر گھٹنوں میں منہ دے کر رو دی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پوری مارکیٹ میں ایک ہی موبائلوں کی دکان کھلی تھی۔ وہ جھٹ گھس گیا۔ 

    بس ایک ہی چارجر چاہیئے۔۔ 

    دکاندار نے پوچھتے ہوئے چارجر نکال کر سامنے رکھا تو وہ کسی سوچ میں پڑ گیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہاں سارا دن کمرے میں بند موبائل استعمال کرتے وقت گزرتا تھا کہاں اب ایک دن کمرے سے نہ نکلنے کا فیصلہ کیا تو وقت کاٹنا مشکل ہو گیا۔ 

    چار گھنٹے مستقل موبائل سے لگے لگے بیٹری کی آخری حد تک مکا دینے کے بعد جب گھڑی پر نگاہ پڑی تو شام کے سات بجے تھے۔ 

    باہر سب ٹی وی لگائے بیٹھے تھے۔ خوش گپیوں کی آوازیں دل مچل مچل رہا تھا ۔۔ ماسک پہن کر زرا سا دروازے کی جھری سے باہر جھانکا تو وہاں سب نگٹس اڑا رہے تھے۔ 

    اکیلے اکیلے نگٹس۔ اسے رونا آگیا۔ دروازہ بند کرکے وہیں دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ 

    آج کمرے میں بند ہوں تو کسی کو خیال بھی نہ آیا کہ نگٹس مجھے بھی پوچھ لیں۔ایسے ہر دفعہ یہ مرینہ کی بچی نگٹس تل کر لا لا کر سامنے رکھتی تھی آپی چکھ لیں ۔۔ اور میں۔  

    اسے یاد آیا۔ 

    وہ مسہری پر دراز ہینڈ فری کانوں میں ٹھونسے موبائل میں مگن اپنے پسندیدہ ترکی ڈرامے کو سب ٹائٹلز کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ نگٹس کی پلیٹ ایکدم اسکے سامنے آگئ۔

    میں ڈائٹنگ کر رہی ہوں اسٹوپڈ کتنی بار کہا ہے مت میرے سامنے بیٹھ کے یہ سب الا بلا کھایا کرو اور تم خود بھی مت کھایا کرو میٹرک میں آگئ ہو اور اپنا پیٹ دیکھو کتنا باہر نکل رہا عجیب لڑکی ہو مٹاپے سے ڈر ہی نہیں لگتا ہروقت کھاتی رہتی ہو۔

    کھلاتئ بھی تو ہوں سب کو دے کر آئی ہوں یہ آپکا حصہ۔ 

    مرینہ کو نیا نیا پکانے کا چسکا لگا تھا ۔کچھ نہ کچھ یو ٹیوب سے دیکھ کر بناتئ رہتی تھی نگٹس تو ہر دفعہ کچن میں مرینہ کو دس منٹ سے ذیادہ وقت لگےتو بن کر تیار ملتے تھے قطرینہ کو۔مگر اسے اچانک وہم ہوا تھا کہ اسکی توند نکلنے لگی ہے سو جھٹ نفی میں منڈیا ہلا دی

    مجھے نہیں کھانا میرا خود بخود وزن بڑھ رہا ہے میں ڈائٹ کر رہی ہوں اور اب یہ میرا حصہ بھی تم مت کھا جانا تم کونسا دبلی پتلی ہو ڈھول بنتی جا رہی ہو۔۔

    آپی بس کرو اتنی سی توند نکلی ہے اس پر اتنا پریشان ہو۔ ہر ڈائٹ کرنے والا چیٹ ڈے تو مناتا ہی ہے آپ نے تو بالکل مرغی کا بائکاٹ کر رکھا ہے۔ 

    چڑ کر کہتے ہوئے مرینہ نے دو نگٹس اکٹھے منہ میں ڈالے 

    تھے اور وہ منہ کھول کر اسے دیکھتئ رہ گئ پھر بھنا کر چیخی

    اٹھو باہر جائو تمہیں تو کھاتے دیکھ کر ہی مجھے لگ رہا ہے کہ میرا وزن بڑھ جائے گا۔ 

    اس نے باقائدہ اسے کندھوں سے پکڑ کر کمرے سے نکالا تھا۔ 

    اور آج۔ وہ اداس سئ ہوگئ۔ 

    چلو دو دن  سے ویسے ہی رمضان شروع ہورہا ہے اچھا ہے قرنطینہ میں روزے رکھ میرا وزن کم ہوجائے گا ۔قرنطینہ میں تو ہوں اعتکاف میں ہی نہ بیٹھ جائوں اس بار۔ 

    اسے انوکھا خیال سوجھا۔ تبھی دروازہ زوردار کمر میں لگا  وہ بلبلا سی گئ۔ 

    ہائے بد نیتئ پر سزا ہی مل گئ فورا۔  وہ کمر سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ باہر مرینہ دروازے کو کندھے سے زور لگا رہی تھی۔ اس نے فورا منہ ڈھانکااور باہر جھانکنے لگی۔ 

    کہاں اٹک رہا ہے دروازہ۔ بڑ بڑاتئ مرینہ ٹرے میں نگٹس اور کوک کا گلاس رکھے کھڑی کندھے کے زور سے دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آخر جھلا کر دوبارہ ہیںڈل گھمانے کیلئے ٹری کو ایک ہاتھ میں تھام کر ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ 

    یہ لو۔ میں اندر نہیں آرہی اور دیکھو تم سے ملنے کیلئے ماسک بھی پہن کر آئی ہوں اب یہ کھا لو۔بھلے رات کو کھانا نہ کھانا مجھے پتہ ہے تمہیں دل سے دال چاول نہیں پسند۔ 

    اسے دیکھتے ہی مرینہ نے جلدی سے پائوں دروازے میں اڑا کر بولا تھا کہ کہیں دروازہ نہ بند کردے۔

    چھوٹی بہن کے اس پیار پر اسکی حقیقتا آنکھیں نم ہو گئیں۔ 

    ہاتھ بڑھا کر چپ چاپ ٹرے پکڑ لی۔ 

    اور کچھ چاہیئے۔ 

    اس نے مشکوک نگاہ سے دیکھا خلاف معمول خاموشی۔۔ 

    نہیں۔ قطرینہ کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ 

    اچھا۔ مرینہ کندھے اچکا کر پلٹنے کو تھی کہ بے اختیار قطرینہ پکار بیٹھی۔ 

    مرینہ۔ شکریہ۔ آئی رئیئلی لو یو۔ 

    برا ہو اس موٹیویشنل اسپیکر کا جس نے قرنطینہ میں اپنوں کو شکریہ ادا کرنے اور انکی۔محبتوں کو حق کی طرح وصول کرنے کے بعد انکا احساس کرنے کی ترغیب دی۔ جذبات سے مغلوب قطرینہ نے انا بالائے طاق رکھ کر اپنی چھوٹی بہن کو شکریہ کہہ ڈالا۔ 

    مرینہ کی بڑی بڑی آنکھیں پھیلیں۔ گول گھومیں۔ ایسا تب ہوتا تھا جب وہ دماغ کو ضرورت سے ذیادہ استعمال کرکے کسی بات کے خود ساختہ نتیجے پر پہنچ جاتی تھی۔ قطرینہ دروازہ بند کر رہی تھی جب مرینہ کو کسی انہونی کا ادراک ہوا۔ 

    نو وے تم میرا بلو ٹاپ پہن کر ٹک ٹاک ویڈیو تو نہیں بنانے لگیں؟ قطرینہ مجھے تم دس بار بھی آئی لو یو کہو گی تو بھی نہیں دینے والی میں ۔ میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا جتنا مرضی مکھن لگا لو میں اپنا ٹاپ نہیں دوں گی سمجھیں۔

    کیا۔ قطرینہ اسکی سوچ کی اڑان پر بھونچکا رہ گئ

    قطرینہ میری الماری میں مت گھسنا میں کہے دیتی ہوں۔

    مرینہ بلبلا کر ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر دروازے کی جانب بڑھی قطرینہ نے ارادہ بھانپ کر جلدی سے بند کرکے کنڈی لگا لی  

    قطرینہ کی بچی خوب سمجھتی ہوں یہ قرنطینہ کا بہانہ کرکے میری وارڈروب استعمال کروگی۔ کھولو دروازہ مجھے اپنے کپڑے لینے ہیں۔ 

    مرینہ دروازہ پیٹ رہی تھی۔ 

    میں نہیں کھولنے والی اور صرف بلو ٹاپ نہیں پرپل ریڈ اورنج سب پہن کر قینچی سے کاٹ کر رکھوں گی۔ 

    بیڈ پر ٹرے رکھ کر اس نے اطمینان سے آلتی پالتی ماری نگٹس منہ میں رکھا کوک کا گھونٹ لیا پھر ہانک لگائی گرم گرم بہت مزے کے لگ رہے تھے۔ 

    ممی دیکھیں قطرینہ کو۔میرے کپڑے پہن کر ٹک ٹاک بنا رہی ہے۔ اسکی دھمکی پر مرینہ روہانسی ہو کر شکایت لگانے بھاگی۔ 

    ایویں آئی لو یو بولا اس قابل ہی نہیں ہے یہ عوام عزت کے۔ 

    وہ برے برے منہ بنا رہی تھی ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد جاری ہے

  • Corona aur katrina kahani episode 5

    کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 5

    خود اختیاری احتیاطی قرنطینہ اور ٹک ٹاک

    You cant live the life of a teenager at mature age but unfortunately every teenager wants to live adulthood. try to live your age

    اس تینوں نے مل کر سارے ہی ماسک بانٹے تھے اور تین منٹ کی ویڈیو بنائی تھی۔ یہ ویڈیو بھی سارے گزشتہ ریکارڈ توڑتی چلی گئ تھی۔ ہاں انکے علاقے میں مستقل آنے والے تمام پھیری والے اب ماسک پہن کر گھومتے تھے ۔ اسکی ویڈیو یو ٹیوب پر مستقل ٹریںنڈنگ میں آنے سے اسکا ایڈ سینس اکائونٹ بھی منظور ہو گیا تھا۔ یہ کام دانی پہلے سے کر رہا تھا اسکا گیمنگ چینل تھا اب ان دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکی جانب سے ڈھیر سارے مشورے اور حوصلہ افزائی مل رہی تھی۔ وہ ٹھیک ٹھاک پرجوش تھا۔ اس وقت انکو سوشل میڈیا اکائونٹس بنا بنا کر دے رہا تھا فیس بک پیج ٹوئٹر اکائونٹ ۔ لیپ ٹاپ کھولے وہ کھاتے کھول رہا تھا یہ دونوں دائیں بائیں بیٹھے خوش خوش سے بیٹھے تھے۔ 

    اس چینل پر معلوماتی ویڈیوز ڈالتے جانا دیکھنا ٹھیک ٹھاک پیسہ ملا کرے گا دونوں کی پاکٹ منی سے ذیادہ ہوگا یہ۔

    دانی نے انکو جوش دلانے کو کہا

    بھائی ٹک ٹاک پر بھی پیسے ملتے ہیں پتہ ہے آپکو۔میری سہیلی ٹک ٹاک استعمال کرتی ہے اسکا تو آئی فون نکلا تھا۔ 

    ثانی نے بتایا تو دانی نے سر سری سے انداز میں پوچھا 

    اچھا کیا نام ہے اسکا؟

    سنہری چڑیا۔ 

    دانی کا لیپ ٹاپ پر تھرکتا ہاتھ رکا کاشی کی مسکراہٹ مدہم پڑی کاشی نے چونک کر اسے دیکھا 

    وہ مزے لیکر بتا رہی تھئ

    اسکے ملینز میں فالوورز ہیں۔ لوگ اسکو اتنا پسند کرتے ہیں۔ اسکی ویڈیوز دیکھیں اتنے مزے کی بناتی ہے گانوں پر لپ سنک کرتی یے میک اپ کرتی ہے بڑا مزا آتا ہے آپکو دکھاتی ہوں

    اس نے جوش سے اپنے موبائل میں اسکا کھاتہ کھول کر دکھایا۔ اسکی ویڈیوز پر لاکھوں تبصرے اور پسندیدگیاں تھیں واقعی وہ کافی مشہور تھی مگر اپنے نہایت بے باک انداز اور کپڑوں کی وجہ سے بے تحاشہ تنقید کی زد میں بھی رہتی تھئ۔ بے تحاشہ گوری رنگت والی وہ لڑکی کہیں سے بھی پندرہ سولہ سال کی نہیں لگ رہی تھی بلکہ اکثر زومعنی مکالموں پر آنکھیں مٹکا کر بولتی تو اپنی عمر سے کہیں بڑی دکھائی دیتئ۔ سوشل میڈیا پر اسکا ٹھیک ٹھآک مزاق بھی اڑایا جا رہا تھا۔ اسکی ویڈیوز اور اس پر لوگوں کے گھٹیا تبصرے ان دونوں نے دیکھ رکھے تھے مگر انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ثانی کی دوست نکلے گی وہ۔ 

    یہ ہم نے اسکول میں بنائی تھی۔میں نے اور رابی نے رابعہ نام ہے اسکا۔۔ ٹک ٹاک پر سنہری چڑیا کے نام سے ہے۔۔اس نے وضاحت کرتے ہوئے ڈھونڈ کر ایک ویڈیو نکالی۔۔

    مشہور ٹک ٹاک کا چیلنج جس میں چٹکی بجا کر تصویر کھنچوانی تھی الٹے سیدھے منہ بنا کر ۔ 

    ویڈیو میں دونوں بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھیں مگر ویڈیو کے نیچے لاکھوں کمنٹس ۔۔ 

    تم نے ٹک ٹاک بنوائی ہوئئ ہے اسکے ساتھ اور اس نے پبلک پر لگا رہی ہے ویڈیو۔ 

    کاشی کو ایکدم غصہ آیا تھا ۔ ثانی نے اپنی دھن میں اسکے تاثرات پر غور ہی نہیں کیا ہنس کر بتانے لگی

    ہاں تو میری بھی ٹک ٹاک پبلک ہی ہے اب تو میرے بھی پچاس ہزار فالورز ہوگئے ہیں۔  یہ دیکھیں میرا اکائونٹ۔ 

    اس نے اب اپنا اکائونٹ کھول کر دکھایا۔  وہ اکثر اپنی ٹک ٹاک انسٹا پر لگاتی تھئ اپنی سہیلیوں کزنوں وغیرہ کے ساتھ  اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اس نے پبلک پروفائل بنا رکھا ہوگا وہ یہی سمجھتا تھاکہ انسٹا پر لگاتی ہے سو کبھی اعتراض بھی نہیں کیا۔ 

    کس خوشی میں پبلک پروفائل بنا رکھا ہے؟ کس سے اجازت لی تم نے؟ دماغ خراب تو نہیں ہے تمہارا؟ ابھی ڈیلیٹ کرو اپنا اکائونٹ۔ 

    کاشی غصے سے بھڑک کر بولا۔تو ثانی کا رنگ سا اڑ گیا اسے اپنے اتنے نرم مزاج سے بھائی سےیوں بھڑک اٹھنے کی امید نہیں تھی۔ دانی نے ثانی کے چہرے کو دیکھا تو کاشی کو ٹوکنے لگا

    آرام سے بات کرو کاشی۔ 

    آرام سے کیا بات کروں؟؟ کاشی کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ 

    یہ سنہری چڑیا اسکی دوست ہے کتنی بدنام لڑکی ہے یہ کچھ پتہ ہے کیسے کیسے لوگ اسکے بارے میں بات کرتے ہیں یہ اس دوٹکے کی لڑکی کے ساتھ  ویڈیوز بنوا آئی ہے ہمیں پتہ بھی نہیں اوپر سے خود بھی اپنا اکائونٹ کھول رکھا ہے۔ کیا بننا ہے تم نے سنہری چڑیا جیسی لڑکی؟ کبھی یہ جو لاکھوں کمنٹس ہیں اسکے اکائونٹ پر کھول کر دیکھے ہیں کبھی کیسی گندی باتیں کرتے ہیں لوگ ان میں۔۔ 

    کاشی کا انداز ہنوز تھا۔ ثانی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔  

    کوئی دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے اسکے پاپا ایڈوکیٹ ہیں ۔۔ اور وہ۔۔ سسکیاں۔ 

    بہت اچھی لڑکی ہے اسکو مت کہیں ایسے۔  

    وہ ہاتھوں میں منہ چھپا کر روپڑی۔ دانی نے دانت کچکچا کر کاشی کو گھورا۔ 

    آرام سے بات نہیں کر سکتے رلا دیا اسے۔ 

    آرام سے بات کروں میں؟ کاشی بھنا کر اٹھ کر کھڑا ہوگیا

    امی ابا کو پتہ چلا تو جانتے ہو کیا ہوگا۔ انکو تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا اسکی ویڈیوز کون کون دیکھ کر کیا کیا باتیں ۔۔۔۔ 

    کوئی چھپ کر کچھ نہیں کرتی میں۔ 

    اسکے مسلسل سخت سست کہنے پر ثانیہ بھی چلا اٹھی

    امی ابو سب کو پتہ ہے میں ٹک ٹاک بناتی ہوں انکو دکھاتی بھی ہوں آپ دو چار دن سے گھر بیٹھیں ہیں تو حیران ہورہے ورنہ میں امی کے سامنے ابو کے سامنے ہی بنا رہی ہوتی ہوں امی تو انسٹا پر میری ہر ویڈیو پسند بھی کرتی ہیں ایویں آپ۔  وہ بولتے بولتے پھرروپڑی تھی۔ 

    کوئی چھپ کر نہیں کرتی میں ۔۔ نا ہی کچھ غلط کام کیا میں نے۔

    غلط کام نہیں تو پھر کیا ہے؟؟ وہ لڑکی خود تو بدنام ہے ہی تمہیں بھی کر دے گئ۔ اس سے کہو فورا اپنی تمہارے ساتھ والی ویڈیو ڈیلیٹ کرے۔  

    کاشی کا انداز ہنوز تھا۔  دانی ہونٹ بھینچے چھوٹے دونوں بہن بھائیوں کو دیکھ رہا تھا دونوں اسکی موجودگی کو بالکل بھلائے الجھ رہے تھے

    کیوں میں کیوں کہوں اسے ڈیلیٹ کرنے کو۔ آپکو کروانی ہے ڈیلیٹ تو میری ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کی بجائے اپنی قطرینہ کی ڈیلیٹ کروائیں ملینز میں اسکے بھی فالورز ہیں۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں آئے بڑے مجھ پر رعب جھاڑنے

    ثانی نے سب ادب لحاظ بالائے طاق رکھ دیا۔  

    ثانیہ۔ کاشی دھاڑا تھا۔  

    کیوں اب برا کیوں لگ رہا ہے۔ اسکے لیئے جائز ہے بہن نہ کرے کیوں وہ لڑکی نہیں ہے یا میں نرالی لڑکی ہوں۔ اسک

    وہ نجانے اور کیا کہنے لگی تھی کاشی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھا دانی جست لگا کر دونوں کے بیچ آیا۔۔

    ثانی آواز نہ آئے اب تمہاری جائو اپنے کمرے میں۔ 

    اس نے ڈپٹ کر ثانیہ کو بھگایا وہ منہ بناتی آنسو پونچھتی باہر نکل گئ۔

    اسکی زبان دیکھ رہے ہو کیا مطلب تھا اسکا کاشی اسکے بانہوں کے گھیرے میں پھڑ پھڑایا تھا۔

    بس کرو تم بھی ۔ شروع ہی ہو جاتے ہو۔ دانی نے اسکو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ 

    کس بچے کا آج کل ٹک ٹاک اکائونٹ نہیں ہے اگر ثانیہ کا بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ 

    کاشی کو اسکی حمایت سخت بری لگی

    غلط بات مت کرو اس لڑکی کا دیکھا ہے اکائونٹ کبھی کیسے کیسے لوگ کمنٹ کرتے ہیں ثانیہ کو بھی ویسا ہی سمجھتے ہونگے ۔ ثانیہ بچی ہے ہم اسے نہیں سمجھائیں گے بتائیں گے تو کون بتائے گا؟۔

    تو سمجھا نہیں رہا تھا ڈانٹ رہا تھا۔ دانی نے جتانے والے انداز میں کہا پھر آرام سے دوبارہ اپنے بیڈ پر لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر نیم دراز ہوگیا

    بڑا بھائی ہوں ڈانٹ بھی دیا تو کیا۔۔ اور شائد تم بھی بڑے بھائی ہو اسکے تمہاری بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے مگر تم میں بڑا پن نام کو نہیں تمہیں اس وقت یہی سب کرنا چاہیئے تھا جو میں کر رہا تھا۔ 

    کاشی نے غیرت دلانا چاہی دانی سکون سے اس کی شکل دیکھتا رہا پھر بولا

    تم نے کیا اکھاڑ لیا اسے ڈانٹ کر؟ صحیح کہہ رہی ہے وہ قطرینہ اگر ٹک ٹاک اکائونٹ بنا سکتی ہے تو ثانیہ کیوں نہیں؟ قطرینہ کو کبھی کہا ہے کہ وہ اکائونٹ ڈیلیٹ کرے؟ یا اسکو تم لڑکی سمجھتے ہی نہیں ہو۔  

    اسکا جملہ کاشی کو آگ لگا گیا

    بکواس مت کرو۔ قطرینہ کی بھی میں بہت عزت کرتا ہوں مگر وہ ایک اکیس سال کی میچیور لڑکی ہے اسکے ڈی آئی وائیز ہوتے ہیں جن میں مفاد عامہ کے لیئے سماجی پیغام ہوتے ہیں وہ پیداواری ویڈیوز بناتی ہے سنہری چڑیا کی طرح  گھٹیا گانوں پر ناچ ناچ کر ویڈیوز نہیں بناتی۔ اسکے کمنٹ باکس کھولو لوگ اسکو پسند کرتے ہیں۔۔ اسکی عزت کرتے ہیں۔ گھٹیا جملے بازی نہیں کرتے اسکے ساتھ۔ اور تم تمہیں کوئی اعتراض نہیں سنہری چڑیا کے ساتھ ویڈیو بنوانے پر ثانی کے؟؟؟کیسے بڑے بھائی ہو تم۔۔۔ 

    کاشی کا انداز سختی بھرا تھا اور آخرمیں اسکے چہرے پر حیرت در آئی۔۔

    دانی نے گہری سانس لی ۔ 

    بڑا بھئ ہوں بھائی بھی۔ تم اگر اکیس سال کے ہو تو میں بھی چوبیس سال کا ہورہا ہوں تم سے دو ایک سال ذیادہ ہی دنیا دیکھی ہے میں نے۔ اس نے جتاتے ہوئے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور آلتی پالتی مارتا اٹھ بیٹھا

    تین چار مہینے پہلے فیس بک اسکرال کرتے ہوئے میرے سامنے ملینز ویوز کےساتھ سنہری چڑیا اور ثانیہ کی ہی ویڈیو سامنے آئی تھئ۔ بہت حیران ہوا تھا یقین بھی نہیں آیا تھا۔ سیدھا ثانیہ کے پاس گیا تھا مگر وہ اپنی ویڈیو کے مشہورہونے پر اتنی خوش تھی کہ ایک لفظ نہ کہہ سکا میں اسے۔ وہ بچی ہے یار اوپر سے صحیح کہہ رہی ہے امی ابو دونوں کو پتہ ہے وہ ویڈیوز بناتی ہے بلکہ ابو تو خوب ہنستے بھی ہیں یہ جب انکو دکھاتی ہے مگر فرق پتہ ہے کیا آیا یہاں؟؟۔ 

    وہ کہتے کہتے رکا ۔ کاشی کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اسکے سامنے بیڈ پر آٹکا 

    امی ابو کو نئی ٹیکنالوجیز کا کچھ پتہ نہیں انکو ٹک ٹاک کا نام پتہ ہے مگر وہ کیسی ایپ ہے کیسے استعمال ہوتی ہے اسکی ویڈیوز کہاں کہاں دیکھی جاتی ہیں وہ نہیں جانتے ۔ انکو بتا نے کا فائدہ بھی نہیں تھا۔ سو مجھے جو مناسب لگا میں نے وہ کیا۔ 

    کیا کیا ؟ کاشی کا انداز بے صبرا تھا۔ دانی مسکرا دیا

    چھوٹی بہن ہے لاڈلی بھی اسکو کہتا کہ ٹک ٹاک استعمال مت کیا کرو ڈانٹتا روکتا وہ مان جاتی مگر پھر اگرکبھی اسکا دل کرتا تو مجھ سے چھپ کر بناتی۔ پھر مجھے پتہ بھی نہ چلتا ۔مگر میں نے اسکی حوصلہ افزائی کی اسکا اکائونٹ خود فالو کیا ۔ اسکو ویڈیوز کے آئیڈیاز دیئے کچھ۔۔ جو مجھے لگا کہ انکو پبلک نہیں ہونا چاہیئے ان ویڈیوز کی پرائیویسی بدلوائی وہ خوشی خوشی مان گئ۔ ابھی اگر اتنا بھڑکنے کی بجائے اسکا اکائونٹ دیکھتے تو پتہ لگتا کہ اسکی ویڈیوز میں سے نوے فیصد ویڈیوزمیں تو وہ نظر بھی نہیں آتی۔ ڈی آئی وائز ہیں، انگلش پوئمز ہیں جو لکھی بھئ اس نے خود ہی ہیں ، یہ جو مشین منگوائی تھی اس نے اس سے نت نئے ڈیزائن بھی خود بناتی ہے اور آجکل یہ کرونا کی آگاہی مہم کے حوالے سے پیغامات ہیں۔ جتنے گانے والی وییڈیوز ہوتی ہیں وہ سب پرائیوٹ ہوتی ہیں وہ یہ صرف انسٹا پر لگاتی ہے۔۔

    کاشی چپ ہو کر سر جھکا گیا تھا

    تم کو ایک اور بات بتائوں تمہاری قطرینہ مستقل اسکی ویڈیوز پر کمنٹ کرتئ ہے تمہاری بہن ہونے کی وجہ سے یا جو بھی اسکی ثانی سے مستقل ٹک ٹاک ویڈیوز کے آئیڈیاز پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اور وہ بہت پروموٹ کرتی ہے ثانیہ کو اسکے پچاس ہزار فالورز اسی نے کروائے ہیں ۔ 

    مجھے کیوں نہیں پتہ تھا یہ سب؟؟؟ کاشی حیران ہوا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خود جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں گھر بیٹھے تو یاد آیا بڑا بھائی ہوں میں ایسے پلٹ کر پوچھتے بھی نہیں مجھے۔ سارا سارا دن گھر میں اکیلی پڑی رہتی ہوں اس پر دو چار ویڈیوز بنا لوں تو اس سے بھی منع کر رہے ہیں۔ 

    کمرے میں آکر اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے کی بجائے بڑھ گیا تھا۔ آنسو پونچھ پونچھ کر چہرہ سرخ ہو گیا تھا مگر امںڈتے چلے جا رہے تھے آنسو۔ 

    سارے اصول بہن کیلئے ۔ وہ قطرینہ تو گرل فرینڈ ہے اسکو نہیں روکتے۔ خود ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پر ڈال لیں کوئی مسلئہ نہیں میں ٹک ٹاک بنا لوں تو۔۔ اس نے فون اٹھایا اور رابی کو ملالیا۔ اٹھا ہی نہیں رہی۔تھی فون ۔۔

    اسے اور رونا آگیا۔ اب امی ابو سے ڈانٹ پڑوائیں گے منع کر وا دیں گے۔ میرا کوئی نہیں سوچتا۔ سارا دن گھر میں اکیلی بند بور ہوتی رہتی ہوں۔ امی کسی سہیلی کے ہاں بھی ذیادہ نہیں جانے دیتیں۔

    کسی کو میری پروا نہیں اکیلی پڑی رہوں۔ان لوگوں کو تو اب لاک ڈائون کی وجہ سے گھرمیں رہنا پڑ رہا میرے لیئے تو پورا سال قرنطینہ بنا رہتا ہے یہ گھر۔۔نہ کہیں آنا نہ جانا نہ ہی کوئی میرے سے بات کرنے والا ہوتا ہے

    وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بڑ بڑا رہی تھی

    کمرے کے باہر کھڑے کاشی اور دانی نے اسکے بین سن کر ایک دوسرے سے نگاہ چرا لی۔ دونوں کے ذہن میں وہ منظر تاذہ ہوئے تھے جب وہ کوئی چیز منگوانے یا کسی سہیلی کے گھر جانے کی فرمائش لیکر آتی تھئ اور دونوں حیلے بہانوں سے ٹال جاتے تھے۔۔ 

    اب یہ رابی کی بچی فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔ ویڈیو پرائیوٹ کروا لوں 

    اس نے جھلا کر فون بیڈ پر پٹخا۔ 

    مر جائوں میں بس سب خوش ہو جائیں گے۔ 

    اسے نئے سرے سے رونا آگیا تھا باہر دونوں بھائی تڑپ کر اندر داخل ہوئے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کیا کر رہے ہیں بچے کیسا شور مچا رکھا ہے۔ 

    امی اور ابو ثانیہ کے کمرے سے آتی تینوں کے بے ہنگم شور کی وجہ سے متجسس ہوئے۔دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جانے کتنے عرصے بعد دونوں فارغ تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ 

    پتہ نہیں تینوں میں کیا چل رہا ہے کب سے شور مچا رکھا ہے سر میں درد ہو گیا میرے۔۔ آدھا کچن اٹھا کر کمرے میں لے گیے ہیں دودھ کافی میکر سب لائونج کی چھوٹی میز بھی اٹھا لے گئے کوئی ٹک ٹک پتہ نہیں کیا بلا بنا رہے ہیں

    امی نے کنپٹی دبائی

    چلو جو بھی کریں ہیں تو گھر میں ہی بس اللہ ہمارئ بچوں کو محفوظ رکھے ہر وبا سے۔ 

    ابو اسی میں مثبت رخ دیکھ رہے تھے

    ہاں یہی اطمینان ہے کاشی تو بالکل ٹکتا نہیں تھا گھر میں مگر اب شرافت سے سارا دن گھر میں رہتا ہے بلکہ آتے جاتے پوچھتا بھی ہے کوئی کام ہے تو بتا دیں۔۔ امی ہنس کر بتا رہی تھیں۔۔ دوپہر کو سلاد بھی بنائی ۔۔

    دانی میرے گھٹنے پر مالش کرتا رہا دوپہر میں ۔ شکر ہے ہمارے بچے احساس والے ہیں 

    ہاں یہ تو ہے ثانی میں بچپنا ہے مگر صبح سے ہر کام میں میرا ہاتھ بٹاتی رہی ہے۔

    امی نے اضافہ کیا۔۔ 

    آپس میں بھئ بہت پیار سےرہ رہے ورنہ دن میں کتنی بار تو ان میں نوک جھونک ہوتی تھئ۔ کچھ نہیں تو ثانی کو چھیڑ دیتے تھے دونوں پھر وہ شکایت لیکر میرے پاس آتی تھی۔ اس کرونا نے بچوں کو بدل کر رکھ دیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کوئی نہیں بدلا وہی والا ہے قسم لے لو۔۔ 

    کاشی کپ لہرا کر یقین دلا رہا تھا۔۔ ثانی ماننے کو تیار نہیں تھی

    نہیں آپ نے اپنا کپ بدل لیا ہے یہ میرا والا لیا ہوا ہے اس میں سے میں نے بس ایک گھونٹ پیا تھا آپکا آدھا کپ تھا

    ثانی جھگڑ رہی تھی۔۔ دونوں ماسک پہن کر کافی بنانے کی نئی ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے تھے دانئ کیمرہ تھامے انکے سامنے ہی کھڑا تھا۔ انکے جھگڑے سے تنگ آکر بولا

    اوفوہ میں کیا کروں مجھے تو بتائو۔

    بھائی جو مرضی آئے کریں میں پابندیاں لگانے والی چھوٹی بہن نہیں ہوں۔۔ 

    ثانی نے مزے سے کہا تو دانی دانت پیستا ہوا کیمرہ بیڈ پر پھینک کر بیڈ پر رکھی ٹرے سے تیسرا کپ اٹھا کر دھپ سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر گھونٹ بھرنے لگا

    بھائی مت پیئو اس کپ کا شاٹ لینا تھا ہم دونوں کی۔بنائی کافی تو آدھی ہوگئ ہے۔ 

    ثانی اور کاشی تڑپ کر اسے روکنے بڑھے مگر وہ منہ کو لگا چکا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انسٹا گرام کا مشہور کافی چیلنج کاشی ثانی اور دانی نے کیا تھا۔ کافی کو تھوڑے سے پانی میں پھینٹ کر دودھ اور برف میں ملا کر ڈرنک تیار کرنا تھا مگر ثانی اور کاشی کی نوک جھونک اور بار بار چکھنے میں کافی تین کپ بنی تو مگر ویڈیو کے آخر میں صرف ایک کپ وہ بھی آدھا ہی ناظرین کو دیکھنے کو ملا تھا

    اپنے کمرے میں آرام سے بیڈ پر دراز موبائل میں  قطرینہ انکی ویڈیو دیکھ کر ہنستی چلی گئ۔ 

    حد ہے ڈی آئی وائئ کم کامیڈی ویڈیو ذیادہ لگ رہی ہے لیکن مزا آیا دیکھ کر کل کوئی کپ کیک بنانا سکھائو۔ 

    اس نے یہی کمنٹ کیا تبھی اسے زور دار چھینک آئی۔ پے در پے ایک دو تین۔ پھر کھانسی۔۔ بے تحاشہ کھانستے کھانستے اس نے سینہ مسلا پھر بری طرح خوفزدہ ہوگئ۔۔ 

    یہ کیا ؟؟؟ مجھے کھانسی مگر ۔۔   میں تو گھر سے باہر۔۔کھو کھو۔  بھئ نہیں گئ۔ 

    تبھی اسکو کل کا منظر یاد آیا تو سر پر جیسے آسمان ہی تو گر پڑا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

  • Corona aur Katrina kahani episode 4

    قطرینہ اور کرونا 

    قسط 4 

    آن لائن کلاسز اور پاکستانی بچے۔۔

    اپنے بیڈ پر دانی لیپ ٹاپ سامنے رکھے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے تمیز سے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

    دانی فلش تو کر لیا کر اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔۔ گندا آدمی

    باتھ روم سے نکلتے ہوئے کاشی نے خاصی ناراضی سے اچھا خاصا زور سے کہا تھا۔ دانی کا رنگ ایکدم فق ہوا  جھٹ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا کر آنکھیں نکال کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا 

    آہستہ بول کمینے آن لائن کلاس چل رہی ہے میری ۔۔ 

    اس کی گھرکی پر کاشی نے جھٹ ہاتھ کے اشارے سے معزرت کی مگر ٹھیک ٹھاک معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

    اسکے لیپ ٹاپ  کی اسکرین اسکے کلاس فیلوز کے میسجز سے سج گئی تھئ۔۔ 

    پہلا پیغام۔۔ دانی فلش کرکے آئو کلاس میں۔۔

    دوسرا پیغام: مجھے تو یہاں تک بدبو محسوس ہو رہی ہے۔ 

    تیسرا پیغام: یار دانی اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔ 

    چوتھا پیغام : گندا آدمی چھو

    پانچواں پیغام: فلش کے بعد صابن سے پورے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا

    چھٹا: یار سینی ٹائزر دو مجھے لیپ ٹاپ کی اسکرین بھی صاف کرنی ہے اس میں “گندا آدمی” آن لائن ہے۔

    ملک کے مستقبل قریب کی بے روز گار انجینئروں کی کھیپ اپنی حس مزاح  کا اچھا مظاہرہ کر رہی تھی۔

    اسکے دوست نے تو حد ہی کردی کلاس کے آن لائن چیٹ روم میں پیغام بھیج دیا۔

    سر تھوڑی سی بریک دے دیں دانی فلش  کر آئے ذرا

    دانی کے کندھے پر جھکے اسکے میسجز پڑھتے کاشی نے کافی محنت کرکے ابلتے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا دانی کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا

    بھئی جس نے جو کرنا فارغ ہونا ہو آئے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔ میں نے جو سلائڈز شئیر کی ہیں انکو گو تھرو کر لو سب 

    یہ سر تھے ۔ ٹریک سوٹ پہنے بالوں کو کنگھی کیئے بنا جمائیاں لیتے ہوئے انکو جانے پڑھا کیسے رہے تھے اسے تو لگ رہا تھا اب گرے کہ تب۔۔ 

    دانی نے جوابا اپنے ہم جمآعتوں کی شان میں گستاخانہ جملے جلدی جلدی ٹائپ کرکے بھیجنے شروع کیئے تو کاشی سیدھا ہوا۔ اسے فی الحال قطرینہ کا چیلنج مکمل کرنا تھا سو اپنی الماری کھولی ۔ اندر سے باہر نکلنے کو بے تاب کپڑوں کا ڈھیر اسکے اوپر آگرا ۔  وہ اس حملے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔۔ کپڑے ٹھیک ٹھاک زور سے سر پر لگے تھے ماتھا سہلاتے ہوئے اس نے جھک کر دیکھا تو ایک عدد کارٹن بھی کپڑوں کی سنگت میں زمین پر اتر آیا تھا اسکی پیشانی زخمی کرنے کے بعد۔ 

    یہ کارٹن کہاں سے آیا۔ وہ حیران ہو کر کارپٹ پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور بڑی دلچسپی سے کارٹن کھول کر دیکھنے لگا۔ 

    ٹوٹے ہوئے درجنوں چارجر ، ہینڈزفری تینتس دس نوکیا ، موبائل اسٹینڈ کور ہاڑڈ بال ، اور نجانے کیا الم غلم بھرا پڑا تھا۔ جو یقینا صرف اسکا نہیں تھا بلکہ اس گھر کی ٹیکنالوجی ایڈوانسمنٹ کئ نشانی کے طور پر ہر فرد کی متروک کی گئ اشیا ء کا خزانہ تھا۔ 

    یہ میری الماری میں کہاں سے آیا کل تک تو اس میں نہیں تھا۔ 

    کاشی نے پلٹ کر بے چارگی سے بھائی کو دیکھا جو نجانے ابھی بھی کلاس لے رہا تھا کہ نہیں مگر انتہائی شرافت اور سنجیدگی چہرے پر سجائےلیپ ٹاپ میں مگن تھا۔ 

    اسے گھورتے ہوئے وہ کارٹن ایک طرف کرکے اپنی پرانی سال خوردہ شرٹوں کی چھانٹی کرنے لگا۔۔ کئی تو بالکل صحیح تھیں اور انکو نہ پہننے کی وجہ بھی اب اسکو بھول چکی تھئ تو انہیں احتیاط سے تہہ کر کرے اپنے خانے میں رکھنے لگا۔ چھانٹی ہی چھانٹی میں نہ صرف اس نے اپنا بلکہ دانی کا بھی خانہ ترتیب دے دیا۔ کل سات شرٹیں نکلی تھیں پانچ اسکی دو دانئ کی۔ ہر شرٹ اسے دکھا تا تو سوراخوں والی شرٹیں تک دانی نے پھینکنے نہ دیں سر کے اشارے سے منع کر دیتا البتہ دو جو شرٹیں اس نے سر ہلا کر اجازت دیں ان پر دانی باقائدہ حیران ہو کر تصدیق بھی چاہی۔ بالکل نئی سی شرٹس تھیں ۔انکو تو ابھی مہینہ پہلے تک یونیورسٹی بھی پہن کر جاتارہا تھا۔ مگر خیر دانی بھیا کی اپنی مصلحت ہوگی کوئی۔

    دانی بھیا ویسے بہت پیٹو انسان ہیں آپ۔ گھنٹہ بھی پورا نہیں ہوا ناشتے کو امی سے ملک شیک بنانے کا کہہ کر آئے انہوں نے تو کیا ہی بنانا تھا مجھ سے ہی بنوا لیا۔۔ خیر  لیں۔ 

    تین گلاس ٹرے میں رکھے نان اسٹاپ بولتی ثانیہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔ کاشی کرنٹ کھا کر سیدھا ہوتے ہوئے اسے شش چپ وغیرہ کا اشارہ کرنے لگا تھا جسے اس نے اپنی دھن میں دیکھا ہی نہیں سیدھی جا کھڑی ہوئی دانی کے سرہانے۔جو بے چارگی سے اسے دیکھ رہا تھا

    لیں پکڑیں نا ۔ اس نے حیران ہو کر دیکھا جو صم بکم اسے تک رہا تھا۔

    گلاس تھام کر اپنے بیڈ پر رکھا پھر تسلی سے نئے سرے سے اپنے ہم جماعتوں کے تبصرے پڑھنے لگا

    انہیں کیا ہوا۔ وہ حیران ہو کر کاشی کے پاس آئی جواسکی متوقع درگت کا اندازہ کرکے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ دبا رہا تھا

    آن لائن کلاس لے رہا ہے۔ اس نے بتایا تو ثانیہ خفت ذدہ سی ہوئی۔ ٹرے زمین پر رکھ کر اپنا گلاس اٹھاکر بولی

    یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ 

     شرٹوں کو اپنے گرد پھیلائے بیٹھا وہ امی کی قینچی تھامے تھا اسے جواب دینے کی۔بجائے  اس نے اشارہ کیا اور اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔ثانیہ نے اشارے کاتعقب  کیااپنا موبائل اسی کار آمد کارٹن سے نکلنے والے سالم اسٹیںڈ میں لگائے وہ یو ٹیوب ویڈیو کھولے بیٹھا تھا۔ گھر پر پرانے کپڑوں سے ماسک بنانے کی ترکیب تھی۔ 

    واہ میں بھی مدد کراتی ہوں۔ بڑے شوق سے ثانی نے اپنی خدمات پیش کیں۔گتے پر ٹریس کرکے ماسک کاشی تندہی سے کاٹ رہا تھا پچھلے مہینے ثانیہ نے اپنی پاکٹ منی سے آن لائن بالشت بھر کی سلائی مشین منگوائی تھی اور امی سے اسکے بے کار ہونے اور ثانیہ کے پیسے ضائع کرنے کی عادت پر خوب ڈانٹ کھائی تھی ابھی وہی مشین کام آئی۔ ثانیہ شوق میں اٹھا لائی ۔اب چھوٹی چھوٹی سلائی لگا کر ماسک کے کنارے بند کررہی تھی اور ڈوریاں سی رہی تھی۔ چھے  شرٹوں سے دانی نے تقریبا چھتیس کے قریب ماکس تیار کر لیئے تھے پھر ثانیہ کا ہاتھ بٹانے کو امی کی بڑی والی سنگر مشین بھی اٹھا لایا تھا اب دونوں کی دھڑا دھڑ سلائی جا ری تھی۔ 

    دانی کی شرٹ پر بڑا خوبصورت سا ہائی لکھا تھا جسے کاشی نے ایسے کاٹا کہ وہ ایک ماسک کے بالکل بیچ میں آگیا۔ 

    بھائی یہ سب سے پیارا بنا ہے۔ثانیہ نے جھٹ اسکو پہنا۔ 

    اسی شرٹ کا دوسرا ماسک کاشئ سی رہا تھا۔۔ ثانیہ اس کارگزاری کی تصاویر لے رہی تھی

    کاشی کا موبائل اس سب کی خاموشی سے ویڈیو الگ بنا رہا تھا۔ آخر چیلنج بھی تو پورا کرنا تھا۔

    بھیا دیکھیں کتنا پیارا ماسک بنا ہے۔ اپنی تصویر لیکر بھی ثانیہ کی تسلی نہ ہوئی تو لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے کمر اکڑائے دانی کو مخاطب کر ڈالا۔ 

    اس نے تھکی تھکی سی نگاہ اٹھائی ۔ ماسک پہنے آنکھیں پٹ پٹاتی بہن کو دیکھ کر خیر سگالی مسکراہٹ اچھالی دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا۔ پھر جیسے کوئی خیال آیا تو چونک کر دوبارہ نگاہ ڈالی۔ ہائی جانا پہچانا تھا۔۔ دانی نے بھی ماسک سی کر پہنا اب دونوں بہن بھائی اسکی شرٹ منہ پر چڑھائے وی کا نشان بناتے سیلفی لے رہے تھے۔  پہچان کا لمحہ مکمل ہوا دانی کے منہ سے زور دار چیخ نکلی۔ 

    نہیں۔۔ 

    سنجیدگئ سے چھوٹے سے وہائٹ بورڈ کو لیپ ٹاپ کے سامنے دکھا کر نجانے کیا ڈرا کررہے تھے ڈر کر اپنا مارکر اور وہائٹ بورڈ دونوں چھوڑ بیٹھے۔بورڈ کھٹ سے آکر لیپ ٹاپ کی اسکرین کو لگا ۔ انکو غور سے دیکھتے 34 طلباء کو لگا یہ انکے سرپر آرہا سو سب اچھل سے پڑے۔ پینتیسواں لیپ ٹاپ بیڈ پر اچھالتا ایک اور نہیں چلاتا ہوا کترنوں کے ڈھیر پر کودا تھا اسکی پسندیدہ ترین ٹی شرٹ ننھے منے ٹکڑوں میں بٹی پڑی تھی۔۔ 

    کاشی اور ثانی دونوں بھونچکا سے اسکا ردعمل دیکھ رہے تھے جو اپنی شرٹ کے ٹکڑے کسی لاش کی طرح بانہوں میں لیئے دھاڑیں مار رہا تھا

    میری فیورٹ شرٹ کاٹ دی ۔یہ تو بالکل نئی تھی دو مرتبہ پہنی ہوگی بس۔ 

    ثانی اور کاشی دونوں ڈر کر پیچھے ہٹے۔

    پوچھ کر ہی تو کاٹی ہے۔ پوچھا تھا نا دانی تجھ سے لے لوں یہ؟ ہر پھٹی پرانی پر تو انکار کرتا رہا نہ لوں تبھئ تو دو بار پوچھا تھا میں نے۔ 

    کاشی نے ڈرتے ڈرتے کہا تو دانی غم کی انتہا پر روہانسا ہو کر چیخا

    مجھے کیا پتہ تھا تو کاٹنے کیلیے مانگ رہا کمینے۔ میں نے سوچا پہننے کیلئے مانگ رہا ہے پھٹی پرانی پر اسی لیئے منع کردیا تھا۔مجھے لگا نئی شرٹ پہن کر کہیں جانا چاہ رہا ہے

    دانئ کی بات پر جہاں ثانی  کو ٹھیک ٹھاک ہنسی آئی اس نے باقائدہ منہ پھیر کر چھپائی وہیں کاشی کو بھائی پر پیار بھی آگیا تو یہ غلط فہمی ہوئی اسے ۔ کتنا اچھا ہے بھائی اپنی نئی شرٹ اسے دے رہا تھا اور پرانی پر صاف منع کر دیتا تھا ۔

    ہائے آئیم سوری یار مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔ کاشی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معزرت کرنی چاہی 

    اور کون کون سی کاٹ ڈالی تم نے۔۔ کاشی بے تابی سے  چیتھڑے ٹٹول رہا تھا۔ 

    اسکی دوسری نئی شرٹ قسمت سے سلامت نکلی ۔ سگریٹ گرے کلر کی ٹی شرٹ جس پر Be Hajoom Be lonely  لکھا تھا اسے الٹ پلٹ کر وہ تسلی کررہا تھا

    یہ کیسے چھوڑ دی سالم۔ اسے خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی۔  

    یہ مجھے اچھی لگی تھی تو میں نے سوچا اسے میں خود رکھ لوں گا۔۔ کاشی نے آہستہ سے کہا تووہ گھور کر رہ گیا

    لیپ ٹاپ کا منہ دانی کے اچھالنے کی وجہ سے ان تینوں کی جانب تھا اور سر جاثم سمیت 34 ہم جماعت اسکے غمگین گھریلو ڈرامت کو براہ راست دیکھ کر تفریح لے رہے تھے

    سر جاثم یقینا اس سے کوئی درخواست کر رہے تھے 

    ثانیہ نے دیکھ کر بھائی کا شانہ ہلایا۔ دانی گڑ بڑا کر لیپ ٹاپ کی جانب لپکا ہیڈ گیئر کانوں میں لگایا 

    ہمیں آن لائن براہ راست گھریلو ڈرامہ دکھانے کا شکریہ اب ذرا پڑھ لیں ؟ سر جاثم طنز کر رہے تھے اور چیٹ میسجز سے الگا سکرین بھر چکی تھی اس نےسر جھکا کر معزرت کی۔ ہیڈ گیئر کا مائک اتنا حساس تو تھا کہ انکی سب گفتگو بھی آرام سے سب نے سنی اب سب اس سے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے ایک نے تو ماسک بنانے کی ترکیب بھی پوچھ ڈالی۔۔ 

    وہ سب کو حسب توفیق گالیاں دے رہا تھا 

    دیکھ رہے ہو اپنے ابو کو ناک میں دم کر دیا ہے نیا شوق آیا ہے کہہ رہے کڑھی بنائیں گے سارا باورچی خانہ الٹ کر رکھ دیا ہے انہوں نے۔۔ 

    امی بھنائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ 

    کاشی دانی ثانی یکدم ساکت سے رہ گئے۔ 

    امی کا اترتا پارہ دوبارہ چڑھ گیا۔ 

    خدایا کیسی کاہل اور نکمی اولاد ہے میری ۔ اتنے برتن دھو کر آئی ہوں ابھی یہاں یہ تین گلاس پڑے رہ گئے۔ برتن دھونے کو نہیں کہتی کم ازکم ہاتھ پائوں ہلاکر باورچی خانے تک تو پہنچا دیا کرو۔۔۔ سارا دن اکیلی کاموں میں لگی رہتی ہوں ذرا جو۔۔

    امی کا گھن گھرج سے دیا جانے والا لیکچر جاری تھا اس بار صرف پس منظر آواز اور دانی کالال ہوتا چہرہ کافی تھا سر جاثم کی بھی جرات نہ ہوئی کہ بول سکیں تاہم انکی نگاہ اپنی میز پر رکھے چائے کے تین مگوں پر پڑی تو سٹپٹا کر انہیں اٹھا کر باورچی خانے میں رکھنے بھاگے ۔

    انکی عجلت کسی سے چھپی نہ رہ سکیں کیونکہ وہ کیمرہ بند کئے بنا بھاگے تھے

    چیٹ پر دوبارہ پیغامات کی بھرمار ہوئی

    سر کو اپنی امی یاد آگئیں لگتا ہے

    سر کی امی توگائوں رہتی ہیں یہ چھوٹی امی کا خوف ہے

    دانی نے اپنے جی پی اے پر لعنت بھیجی اور سیدھا لیپ ٹاپ کا ٹرن آف بٹن دبا دیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ثانیہ اور دانی تینوں اس ریڑھی والے کو گھیرے کھڑے تھے

    اوبھائی کچھ نہیں ہوتا کرونا ورونا ہم سخت جان لوگ ہیں۔ 

    گرد و غبار میں اٹے کپڑے کو گردن میں پھیرتے اس خان نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی۔ 

    تبھی زور دار چھینک آئی تو ان تینوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس کپڑے کو منہ ڈھانک کر چھینکا ۔مکھی بے زار سی ہوئی

    پھر اڑ کرکیلوں کی بھری ریڑھی پر آبیٹھی تو اسی کپڑے سے بلا تکلف خان جی نے اڑا دیا 

    تینوں نقاب پوش ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے 

    دانی کیمرہ سنبھالے تھا ثانی ہاتھ میں پیاری سی تنکوں کی  ٹوکری میں گھر کا بنا سینی ٹائزر کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں۔ اور اپنے دوپہر بھر کی محنت سے بنائےماسک تھامے کھڑی تھی کاشی مائک تھامے سر پر ٹوپی منہ پر ماسک چڑھایے پھیری والے کا انٹرویو لے رہا تھا

    آپ لوگوں نے کیلے نہیں لینے تو جانے دو بھائی پہلے ہی۔دھندا مندا جا رہا ہے بچوں کی روٹی کا انتظام کرنا ہے بھائی

    اچھا لیکن اپنے لیئے نہ سہی اپنے بچوں کیلئے یہ ماسک پہن لو بیماری لے گئے گھر تو انکا علاج معالجہ کیسے کروگے؟ 

    کاشی کی بات اسکے دل کو لگی۔ 

    لائیں دیں ۔ اس نے جیسے تھک کر کاشی سے ماسک لے لیا۔۔ 

    ماسک پہن کر اب ہاتھ سینی ٹائز کروانے کی باری تھی۔

    اب یہ بھی مل لو ہاتھ پر ۔۔ ویسے تو صابن سے بار بار ہاتھ دھوئو مگر اب جیسے سارا دن ہر جگہ تو پانی نہیں ملتا تو ایسی جگہ ہاتھ پر یہ مل لیا کرنا ۔ 

    کاشی سمجھا رہا تھا۔  

    کیسے؟ خان صاحب مائل ہوہی گئے پندرہ منٹ کی ان تینوں کی صحت و صفائی سے آگاہی پر مبنی محنت کے بعد۔

    اسکو تھوڑا سا لیکر ہاتھ پر ملو یوں ۔

    کاشی نے اسکے ہاتھ پر تھوڑا سا سینی ٹائزر ڈالا 

    اب اپنے ہاتھ مل کر اسے سکھا رہا تھا۔ خان صاحب نے وہی کیا۔ سارا دن کی محنت مزدوری کرنے والے ہاتھ سینی ٹائزر ملنے سے پسینہ میل غبار مل کر کیچڑ سا بن گیا۔ 

    اب پانی تو دو صابن ہاتھ میں مل کر تو نہیں پھروں گا نا۔۔ 

    خان صاحب نے جتایا۔ 

    انکے ہاتھ میں قطرہ قطرہ کالے پانی کی تہہ بنتے دیکھ کر تینوں متفق ہوگئے کہ خان صاحب کو ہاتھ پانی سے بھی دھو لینا چاہیئے۔ 

    میں پانی لیکر آتی ہوں۔ ثانیہ بھاگ کر گھر میں گھسی

    ان تینوں کو دیکھ کر محلے کے کئی گھروں سے تماش بین انکا نظارہ کرنے سر باہر نکال رہے تھے دروازوں سے

    اچھا جب آپ ہاتھ دھو لیں گے نا تو ہم دوبارہ شوٹ کریں گے پھر آپ نے بس سینی ٹایزر لگانا ہے اسکے بعد ہاتھ دھونے کی ضرورت نہیں پڑتئ

    ٹھیک ہے ٹھیک ہے بھائی آپ لوگ فکر نہ کرومیں پہلے بھی انٹرویو دے چکا ہوں وہاں بازار میں بھی ایسے بھائی ٹی وی والے پوچھ رہے تھے۔۔ حکومت کو بھی برا بھلا کہنا ہے نا؟؟ خان صاحب فرط شوق سے پوچھ رہے تھے 

    آہاں نہیں۔ کاشی نے کہنا چاہا مگر خان صاحب نے موقع نہیں دیا

    ابھی کل ہی کی بات ہے میں نے تو وہ گالیاں دیں عمران خان کو کہ کیا بتائوں ۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔ سالا۔۔۔۔ ہمارا ۔۔۔۔۔۔ گالی۔ ہم لوگ۔۔۔۔ گالی ۔۔۔  مارا ڈر گیا رات کو ادھر ہوٹل والوں کے پاس ہم ٹی وی پر دیکھا ہماری ساری گالیاں کاٹ دیں۔۔ بہن۔۔۔ گالی۔

    پر ہماری شکل آئی ٹی وی پر ابھی کیلا لیتے ہوئے ایک خالہ جی پہچان بھی گئیں انکو دو کیلے فالتو دے دیئے ہم نے۔ 

    خان صاحب اپنی کر گزاری جتا رہے تھے۔ دانی کاشی ہکا بکا دیکھ رہے تھے۔۔ ثانی۔۔ آتی ہوگی۔ دونوں نے اکٹھے مڑ کر دیکھا کہیں بہن ان گالیوں کو نہ سن لے لیکن دیر ہوگئ 

    وہ انکے پیچھے ہی سرخ چہرہ اور پانی کا بھرا جگ لیئے کھڑی تھئ۔۔ 

    دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ 

    انکا پہلا مشن تھا یہ اس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے انہیں کم از کم پچیس ماسک ان پھیری والوں کو بانٹنے تھے 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام چوتھی قسط کا۔ 

    جاری ہے۔۔

  • corona and qatrina episode 3

    corona and qatrina ep3

    قرنطینہ اور احساس نادار  طبقے کا۔۔

    corona aur katrina kahani episode 3

    امی اپنی سفید والی ساڑھی دے دیں نا جس کے بارڈر پر سنہرا گوٹا ہے پلیز امی۔ 

    ثانیہ نے انکو عاجز کر دیا تھا پیچھے پیچھے پھر رہی تھی برتن دھونا عذاب کردیا انکا ویسے تو صبح وے جہاں جا رہی تھیں۔اس نے پیچھا لے رکھا تھا اب کندھے سے لٹکی جا رہی تھی پلیٹ دھو کر برتنوں کی ٹرے میں رکھنے کے لئے ہاتھ لمبا کیا تو اس بار تو دوپٹہ ہی کھینچ ڈالا

    توبہ ہے ثانی کیوں دوں تمہیں؟ کاٹ پیٹ کر برباد کرنے کیلئے۔۔ 

    امی تنگ آکر کچن سے ہی نکل آئیں۔ ثانی پیچھے تھی۔

    امی پہنتی تو آپ ہیں نہیں اسکا بلائوز آپکو تنگ ہے اور دادو آپ کو پورا سفید پہننے کب دیتی تھیں کیا ہوتا وہ۔۔اس نے ذہن پر زور ڈالا پھر یاد آنے پر چٹکی بجا کر بولی

    بد شگونی ہوتئ ہے سہاگن پورا سفید پہنے تو ۔۔ 

    امی گھور کر رہ گئیں

    ایک تو تمہاری دادی انڈیا سے پاکستان آگئیں مگر سارے وہم واہمے بھی ساتھ لے آئیں اتنے شوق سے بنارسی ساڑھی منگوائی تھئ انڈیا سے تمہارے باوا جب گئے رشتے داروں سے ملنےپر تمہاری دادی نے ایک بار نہیں پہننے دی سات سال ہونے کو آئے ویسی کی ویسی رکھی ہے ۔ 

    تو امی دادی اماں کو گزرے بھی چار سال ہونے کو آئے آپ پہن لیتیں شوق پورا ہو جاتا آپکا پھر آپ آرام سے ثانی کو اسے برباد کرنے دیتیں۔

    دانی نے کسی زندہ لاش کو ٹھکانے لگاتے ہوئے مفت مشورے سے نوازا۔ ثانی متشکرانہ نظروں سے بھائی کو دیکھنے لگی۔

    دانی 55 انچ ایل ای ڈی پر پلے اسٹیشن جوڑے بیٹھا تھا لائونج میں ۔ صبح سے جانے کتنی نسلیں ٹھا ٹھا کر کے اجاڑ چکا تھا ۔ کاشی بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا صبح سے ابھی تھوڑی دیر پہلے فون آنے پر اٹھ کر اندر گیا تھا اپنے کمرے میں۔

    ہاں تو وہم تو ڈال گئیں نا دل میں۔ اب انکے جیتے جی تو میں پہننے کا رسک نہیں لے سکتی۔  

    امی کو واقعئ افسوس تھا جیسے ۔ 

    ہاں تو اب کیا ساڑھی پہننے کیلئے بابا کے جانے کا انتظار کریں گی۔ 

    ثانی بے سوچے سمجھے بولی امی نے بلا لحاظ اسکی کمر پر دو ہتھڑ جما دیئے

    بنا سوچے جو منہ میں آیا بک دیتی ہے نامراد۔ 

    دانئ پلے اسٹیشن کے ہنڈل میں منہ چھپائے ہنس رہا تھا۔ 

    ثانی کمر سہلاتی روہانسی سی ہو گئ۔

    میرا یہ مطلب تھوڑی تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا جو بھی مطلب ہو مگر تم میرا مزاق ہی اڑا رہے تھے جیسے میں پاگل ہوں کوئی جو اس عالمی وبا ء سے پریشان ہوں دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ 

    قطرینہ ابل پڑی تھی بولتے بولتے روہانسی ہوگئ کتنے آنسو آنکھوں سے پھسل آئے۔ ۔کاشی بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر رہ گیا۔ 

    قطرینہ منصوبہ بنا رہی تھی کہ کچھ راشن بیگ بنا کر دیہاڑی دار مزدوروں کو دے کر انکا کچھ وقت گزروا دے مگر ظاہر ہے ایسا سوچنا اچھا بھی تھا آسان بھی پر کرنے کیلئے وسائل بھی درکار تھے۔نیکی کا کام گھر سے شروع کرنا چاہیئے یہی سوچ اسکو لے ڈوبی۔  قصہ مختصر اس نے اپنی کام والی کی چھٹی کردی اور ساتھ ہی اسے اپنے امی کے ذخیرہ کردہ راشن سے دو کلو چاول پانچ کلو آٹا دالیں گھی وغیرہ یہاں تک کے صابن تک ساتھ باندھ دیا کام والی خوش ہوئی دعائیں دینے لگی اسکو یہ سب سامان لے جانے کیلئے رکشہ بھی کروا دیا ۔ یہ سب کاروائی یوں ممکن ہوئی کہ امی کسی سہیلی کے ہاں قرآن خوانی میں گئ تھیں۔ جب شام ڈھلے واپسی ہوئی تو جو خبر لی انہوں نے اسکی الامان۔ 

    تم غلط سمجھ رہی ہو مزاق کیوں اڑائوں گا تمہارا  مانا تمہاری نیت اچھی تھی مگر کام والی کی چالاکی بھی تو دیکھو نا تمہاری امی کو غصہ تو آنا تھا نا۔ 

    چالاکی؟ اسکو امی نے دو ہزار دیئے تھے بس اب بتائو دو ہزار میں یہ سب سامان آتا جو میں نے اسے دیا ٹھیک ہے اس نے مجھے نہیں بتایا کہ امی اسے تنخواہ کے علاوہ الگ سے دو ہزار دے چکی ہیں مگر دو ہزار کا تو صرف میرا شیمپو آتا یے یار۔ اور  خود بتائو اسے دو ہزار دے کر امی نے صاف کہا جب تک کرونا نہیں ختم ہوتا مت آنا یعنی وہ کام پر نہیں آئے گی کمائے گئ نہیں تو وہ اور اسکے نو بچے 

    کیا کریں گے بھوکے نہیں مریں گے؟ 

    وہ سب جو وہ امی کو نہیں کہہ پائی تھی اسکی بھڑاس کاشی کے سامنے نکال رہی تھی۔ 

    ایک تو امی۔۔۔ اتنا کہا کہیں نہ جائیں گھر بیٹھیں الٹا خفا ہو گئیں کہ قرآن خوانی اس وبا سے نجات کیلئے ہی کروائی جا رہی ہے سو جانا ضروری پھر وہاں روشانے آنٹی نے سب نوکروں کو ہال سے دور کر کرے سب آنے والیوں کو ماسک اور سینیٹائزر بانٹے جبکہ سب ہی تقریبا ماسک پہن کر آئی تھیں امی تک کو میں نے پہنوا کر بھیجا تھا آگے ۔امی تعریف کر رہی تھیں انکی میں نے کہا جو آنٹیاں بڑی بڑی گاڑیوں سے نکل رہی تھیں وہ تو ماسک افورڈ کر سکتی تھیں انکو اپنے نوکروں کو بانٹنے چاہیئے تھے نا؟

    بات تو صحیح کر رہی ہو۔ کاشی نے کان کھجایا۔

    پھر سب اشتہاروں میں کہہ رہے ہاتھ بار بار دھوئو مگر یہ غریب لوگ صابن خریں یا روٹی؟ قرنطینہ میں رہیں تو کیسے؟ میری کام والی دو کمروں کے کوارٹر میں 4بچوں اور ساس سسر کے ساتھ رہتی ہے۔ انکیلئے قرنطینہ کیسے بنے گا؟ خدا نخواستہ کسی ایک کو بھی ہوا تو  ؟ میں نے درجن صابن دیئے اسے پھر بھی اتنےلوگوں کے خاندان کو کم ہی پڑنے ہیں صابن۔ 

    پھر میں نے جو لیٹر بھر سینی ٹایزر بنایا وہ بھی اسے دے دیا اب دوبارہ بنائوں گی گھر والوں کیلئے۔ 

    وہ بچوں کی طرح پرجوش انداز میں بتا رہی تھی۔ سب کو اسکا یہ جوش بچکانہ احمقانہ لگ سکتا تھا مگر کاشی کو اسکے پیچھے جو خیال کرنے والا محبت بھرا دل نظر آرہا تھا اس نے اسکو سرشار کر دیا تھا یقینا بہت مختلف اور دل کی اچھی لڑکی اسکی بہترین دوست اور اب دوست سے کچھ زیادہ تھی۔

    بہت اچھا کام کیا تم نے یوں سوچو کہ کہیں تم مغرور نہ ہوجائو اس لیئے تمہاری امی کی ڈانٹ اسکا بونس کے طور پر پڑ گئ تمہیں۔ اب دل چھوٹا مت کرو تمہیں اس نیکی کا صلہ ضرور ملے گا۔ 

    کاشی نے پرخلوص انداز میں اسے کہا تو وہ بھی جیسے شانت سی ہوگئ۔ 

    فی الحال تو میں ایک اویورنیس کیمپین awareness campaign چلانے کا سوچ رہی ہوں اسکے لیئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔اسکا زہن چل پڑا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مگر میں آپکی امی نے دیکھ لیا تو بہت ڈانٹ پڑے گی مجھے ۔ میں تو بس آپ لوگوں کے کپڑے دھونے آئی تھی۔ 

    زرینہ پچھلے صحن میں کپڑوں کا ڈھیر نکالے کھڑی تھی ۔ 

    اوہو کچھ نہیں ہوتا امی کو خالہ نے فون کر رکھا یے دو گھنٹے سے پہلے نہیں آنے والی ہیں وہ ادھر۔ اور دیکھو میں ماسک پہن کر تمہارے سامنے آئی ہوں کوئی جراثیم تمہارے مجھے نہیں لگنے والے پلیز پلیز کاٹ دو نا۔ 

    ثانیہ کا انداز ملتجی ہو چلا تھا۔ 

    زرینہ نے بے بسی سے پھیلے کپڑوں کے ڈھیر کو دیکھا پھر مشین کا ٹائمر جسے پندرہ منٹ پر لگا کر وہ ابھی کمر سیدھی بھی نہ کر پائی تھی۔ 

    پلیز۔۔ ثانیہ قینچی اور اپنی قمیض اسکے سامنے بڑھائے آنکھیں پٹپٹا رہی تھئ

    لائیں دیں۔ 

    وہ ہار مانتی ہوئی برآمدے میں بچھے تخت پر آ بیٹھی۔ براق سفید قمیض اسکے سامنے تھی جس کے گلے پر  سفید ہی موتیوں کا بھرا ہوا کام تھا۔ 

    کیا کرنا ہے۔ اس نے بے ساختہ ہی کام پر ہاتھ پھیر دیا ۔ اتنی خوب صورت قمیض کو جانے کیوں وہ کٹوانا چاہ رہی تھی

    اسکا دامن کاٹ کر مجھے سفید جھنڈا بنانا ہے۔ ثانیہ خوش ہو کر اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ

    جھنڈا؟ زرینہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ مگر بی بی بالکل ٹھیک قمیض ہے یہ تو 

    تنگ ہو گئ ہے پچھلے سال کی ہے اب تو بے کار ہے میرے لیئے کاٹ دو ۔ ثانیہ مزے سے بولی۔ 

    سولہواں سال تھا اسکا ۔ قد بھی نکل رہا تھا تھوڑی صحت بھی اچھی ہو رہی تھی کھلتا ہوا گورا رنگ جس میں گلابیاں جھلک رہی تھیں۔ اچھا کھانا پینا بے فکری اسکی اپنی بیٹی بھی پندرہ کی ہو رہی تھی مگر کم خوراکی پریشانیاں چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی تھی قد تو کم نہیں تھا مگر ثانیہ میں سے آرام سے دو نکل آئیں ۔ یقینا یہ قمیض اسکو پوری ہوتی۔ فی الحال تو وہ رابعہ کی اترن پہنے ہوئے تھئ۔ جسکو بار بار سی کر بھی وہ اسکے ناپ کے مطابق نہ کر سکی تھی۔ 

    کاٹو نا۔ ثانیہ اسے بے خیالی میں خود کو تکتا پا کر ٹوکنے لگئ

    اس نے گہری سانس لی۔ 

    مگر بی بی جھنڈا کیوں بنانا؟ اور بنانا تو کسی اور پرانے کپڑے کا بنا لو یہ تو بالکل نیا جوڑا ہے۔ 

    زرینہ نے سمجھانا چاہا تو وہ نئے سرے سے افادیت بتانے کی بجائے جھلا اٹھی

    میرا سوٹ یے نا مجھے نہیں پہننا کاٹ دو بس جھنڈا اسکا یہاں دامن سے کاٹو ادھر سے سل جائے گا میں یہاں ڈنڈا پرو لوں گی۔ 

    وہ ضدی پن سے بولی 

    زرینہ نے گہری سانس لی پھر قینچی گلے سے تھوڑا نیچے کی جانب رکھ کر چلانے ہی لگی تھی کہ رابعہ جو یونہی فون پر بات کرتی دروازہ کھلا دیکھ کر بند کرنے آئی تھیں حلق کے بل چلا اٹھیں۔ 

    نہیں ۔۔۔۔۔ 

    پچھلے صحن کی جانب کھلتے لائونج کے دروزے سے انکو بھاگنے والے انداز میں قدم اٹھاتے چند لمحے ہی لگے ہونگے مگر انکو لگا میلوں کا سفر طے کر لیا ہو انہوں نے

    چھوڑو اسے کیوں کاٹ رہی ہو ۔۔ 

    انہوں نے آگے بڑھ کر جھپٹا مارا۔

    انکی چیخ پر دانی اور کاشی اندر سے بھاگے بھاگے باہر آئے 

    کیا ہوا۔ دونوں برآمدے میں ہونق پن سے گھورتے امی کو زرینہ اور ثانیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے دیکھ کرمعاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

    امی میرا سوٹ ہے آپ اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میں اپنا سوٹ کاٹ دوں اس پر بھی اعتراض ہے۔ 

    ثانیہ جھلائی

    بالکل ہے۔ غضب خدا کا نیا جوڑا ایک دو دفعہ کا پہنا ہوا کاٹنے جا رہی ہے یہ بائولی 

    امی نے قمیض اپنے قبضے میں لے لی۔۔ 

    فون ہاتھ سے چھوٹ کر تخت پر جا گرا تھا خالہ اس میں سے سنتی معاملہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہیلو ہیلو کر رہی تھیں۔

    نہیں آتی مجھے تنگ ہو گئ ہے اب ۔ مجھے کاٹنے دیں اسے اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میری قمیض پر بھی اعتراض ہے۔ 

    ہاں ہے۔ امی نے گھورا۔ نہیں آتی تو کسی کو دے دو ۔شمسہ کی زارا کو دے دوں گی اتنی مہنگی قمیض ہے برباد تو نہیں کرنے دوں گی۔ 

    اور تم تمہیں عقل نہیں نئی قمیض کاٹنے جا رہی تھیں۔ 

    امی نے روئے سخن زرینہ کی جانب موڑا

    وہ ثانیہ بی بی ضد کر رہی تھیں۔ وہ منمنا کر رہ گئ

    میں اسے برباد نہیں کرنے دےسکتی۔

    امی کا ارادہ مصمم تھا۔ 

    اوفوہ ۔وہ جھلا کر رہ گئ۔ 

    خالہ کو بھجوائیں گی ؟ لاہور ہیں وہ خالہ آپ زارا کو نئی شرٹ دلوا دیں گا مجھے اس شرٹ کو برباد ہی کرنا ہے۔۔ 

    اس نے جھلا کر فون اٹھا کر اسپیکر آن کردیا

    آں۔ ہاں۔ ظاہر ہے۔ شمسہ گڑبڑا گئی۔

    کرنے دیں نا آپا کیا کرنا چاہ رہی ہے یہ؟ شمسہ نے پوچھا

    ارے جھنڈا بنانا موا وہ جیو والوں نے سیاپا ڈالا ہے کہ ڈاکٹروں کیلئے سفید جھنڈا لگائیں چھت پر بس وہی شوق چڑھا ہوا ہے۔ 

    امی نے بتایا تو شمسہ آگے سے خوش ہوگئیں

    آپا یہ تو اچھی بات ہے اب دیکھیں ہم یہاں گھر والوں سے دور یہاں اسپتال میں لوگوں کے علاج میں مصروف ہیں 32 گھنٹے ہو رہے  مجھے یہاں ابھی تک گھر نہیں گئ ہوں ۔ سچ میں ابھی میں دیکھ رہی تھی ٹی وی اچھا لگ رہا تھا کہ ہماری اس قربانی کو عوام سراہ رہے ہیں۔۔احساس کرنا ہی تو سب کچھ ہوتاہے۔ کسی کا احساس کر لیں بہت ہے یہ احساس کہ آپکی قربانیوں کا احساس کیا جا رہا ہے انسان کو نئی توانائیاں عطاکرتاہے۔ باقی تو ہر کوئی اپنی جگہ کسی نہ کسی مسلئے میں الجھا ہے۔ 

    لو یک نہ شد دو شد۔ 

    کاشی اور دانی منہ چھپا کر ہنس دیئے۔ 

    ہاں تو جو مرضی کرے مگر نئی قمیض برباد نہ کرے اتنا پیارا کام ہے میں زارا کو بھجوا دوں گی یہ۔ 

    امی ضدی پن سے بولیں۔ 

    امی اتنی سیلفیاں لے کر پوسٹ کر چکی ہوں زارا کبھی نہیں پہنے گی یہ سوٹ۔ 

    ثانیہ منمنائی۔ شمسہ بھی منع ہی کرنا چاہ رہی تھیں ثانیہ کی بات تو نہ سنی وہ اپنی کہہ رہی تھیں

    ارے آپا سب بند ہے ٹرانسپورٹ وغیرہ  کیسے بھجوائیں گی ؟ وہیں کسی کو دے دیں کسی غریب نادار کو اسکے کام ہی آجائے گی۔۔

    انکی بات ثانیہ کے دل کو کہیں ٹھک کرکے لگی

    تم میری شرٹ لے لو نا ٹی شرٹ وہائیٹ والی اب تو میں وہ پہنتا بھی نہیں اسکے کالر والی جگہ پیلی ہو رہی بس اسے کاٹ دینا۔۔ 

    کاشی ہی آگے بڑھا مسلئے کا حل نکالنے کو۔ 

    واقعی؟ ثانیہ خوش ہوئی۔امی نے سکھ کا سانس لیا۔ 

    شکر ہے اب اسکو سنبھال کر رکھو کام آجائے گی پھر کبھی۔ 

    امی نے قمیض اسکی جانب بڑھائئ۔ 

    ہاں وہ لے لو بلکہ اس پر ہاتھ بھی پرنٹ کرتے ہیں ساتھ ساتھ پیغام بھی جائے گا کہ ہاتھ دھونا ہے۔کاشی پر قطرینہ کے لیکچر کا اثر تاذہ تھا

    دانی نے دونوں کو یوں دیکھا جیسے انکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں

    کریک ہیں دونوں چھوٹے۔۔ وہ تاسف سے سر جھٹکتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ امی فون پر شمسہ کو خدا  حافظ کہہ رہی تھیں

    تبھی زرینہ  کو چھینک سی آگئ۔ 

    مشین نے پندرہ منٹ پورے ہونے پر زور دار گھنٹی بجائی امی کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ پکڑو اور اب جب تک میں نہ بلائوں مت آنا۔  

    گیراج میں انتہایی بے مروتی سے امی نے ہزار روپے اسکے ہاتھ پر رکھے وہ بھی یوں کہ ہاتھ اس سے چھو نہ جائے۔دوپٹی اچھی طرح منہ ناک پر لپیٹے تھیں۔ ثانیہ اور کاشی انکے پیچھے ہی کھڑے تھے۔ جانے کیوں انکو امی کا رویہ بہت سخت لگ رہا تھا

    مگر بی بی جی وہ۔  

    زرینہ جانے کیا کہنا چاہ رہی تھی امی نے موقع نہیں دیا

    کہا بھی تھا اپنے ایرانی خاندان والوں سے دور رہو غضب خدا کا تمہارے بہن بھائی سب ایران گئے ہوئے تھے نا؟ لگا دیا نا انہوں نے تمہیں بھی کرونا عجیب جاہل لوگ ہو تم سب۔ ایک تو بیمار ہوتے ہو اوپر سے تجھ مجھ کے گھر جانا نہیں چھوڑتے کہ سب کو لگ جائے بیماری۔ پچھلی دفعہ ہی منع کردیا تھا اب مت آنا پھر بھی منہ اٹھا کے آگئیں میں فون میں لگی تھی تو پورا گھر گزار کر پچھلے صحن میں بھی پہنچ گئیں ثانیہ کے ساتھ۔ میری بیٹی بیمار پڑی نا تو چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔ پچھلی دفعہ بھی ہزار روپیہ اسی لیئے دیا تھا کہ مت آنا یہاں مگر تم لوگوں کو حرام

    امی غضبناک ہوئی وی تھیں۔ 

    زرینہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ نکلے تو کاشی نے آگے بڑھ کر امی کو کندھے سے تھام کر روک دیا

    امی بس کریں۔ ضروری تھوڑی ہے کہ ہر چھینک کرونا ہی ہو

    بی بی جی یقین کیجئے میرا صرف بھائی گیا تھا ایران وہ بھی ابھی تک اسکا کوئی اتا پتا نہیں جانے پاکستان آیا بھی ہے یا وہیں پھنسا ہے۔ پندرہ دن ہو رہے  بھائی کی کوئی خبر نہیں ملی مجھے۔ 

    وہ بولتی ہوئی پھوٹ پھوٹ کر رو دی

    اچھا بس اب ٹسوے نہ بہائو جائو گھر اور جب تک نہ بلائوں مت آنا۔۔ 

    امی زرا سا نرم پڑیں۔ 

    چلیں امی اندر چلیں ۔ کاشی کو یہی سمجھ آیا کہ انکو لے جائے یہاں سے  

    امی اندر کی جانب مڑیں تو زرینہ آنسو پونچھ کر پلٹ کر جانے لگی

    زرینہ۔۔ یہیں رکو۔  ثانیہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اندر بھاگ گئ۔ 

    کاشی امی کو اندر لا کر خود انکے لیئے کچن سے پانی لینے چلا آیا۔ تبھی کچن کی گیراج کی جانب کھلی کھڑکی سے اس نے ثانیہ کو اندر سے بھاگ کر آتے اور زرینہ کی جانب بڑھتے دیکھا تو تجسس میں کھڑکی کے پاس آکر باہر جھانکنے لگا

    آئیم سوری تم تو اندر آ بھی نہیں رہی تھیں میں نے بلا لیا مجھے نہیں پتہ تھا امی نے کپڑے دھلوانے سے منع کیا یے۔ 

    ثانیہ شرمندہ سئ اس کے سامنے کھڑی معافی مانگ رہی تھی

    کوئی بات نہیں ۔ آپکی امی آپکی فکر ہی کر رہی ہیں اب اندر جائو آپ

    زرینہ نے مسکرا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو بہت شرمندہ نظر آرہی تھی

    یہ لو یہ دوپٹہ اور یہ ٹرائوزر ہے ۔ یقینا یہ تمہاری بیٹی کو آجائے گا اتنی پتلی سی یے اور یہ پانچ سو میری طرف سے ۔ابھی اتنے ہی ہیں میرے پاس لیکن جب بھی تمہیں  مزید کچھ بھی چاہیئے ہو آجانا ہم ضرور مدد کریں گے تمہاری

    نہیں بی بی۔۔ زرینہ نے انکار کرنا چاہا مگر اس نے اصرار کرکے زبردستی تھما دیا۔ زرینہ آنسو پونچھتی ڈھیروں دعائیں دیتی گئ تو وہ مطمئن سی ہو کر اندر آگئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ تینوں چھت پر چڑھے تھے۔ سفید براق جھنڈا کاشی اور ثانی نے مل کر بنایا تھا اب تینوں تین مختلف رنگوں سے ہاتھ سنے ہوئے اس جھنڈے پر چسپاں کر رہے تھے تین مختلف سائز کے ہاتھ تین مختلف رنگ۔ فاصلے سے چسپاں جو سماجی دوری اور ہاتھ دھونے دونوں پیغامات کی علامت تھے

    جھنڈا ڈنڈے پر لگانے اور اسے ریلنگ سے باندھ کر ماسک پہنے سلوٹ کرتے ہوئے بہن بھائی ۔ پیچھے جواد احمد کا گانا ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو ۔ اسی وقت انہوں نے بنا کر اپلوڈ کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں ہی وہ ٹرینڈنگ پر آگئ تھی۔ 

    اوئے  اس سے تو میرا چینل تو چل نکلے گا۔۔ دانی خوش ہو رہا تھا۔ اسکا گیمنگ چینل تھا جس پر وہ گیمز کی لائو اسٹریمنگ کرتا تھا لوگ اسکی ویڈیو دیکھ کر اسے فورا پہچان گئے تھے اور اب دھڑا دھڑ کمنٹ کر رہے تھے۔۔ 

    واہ ہم تو اسٹار بن گئے ابھی توہم نے جیو کو بھیجی بھی نہیں ویڈیو۔  

    دانی کے موبائل پر ویڈیوز کے کمنٹس اسکے ساتھ جھک کر پڑھتی ثانیہ بچوں کی۔طرح خوش ہو رہی تھی۔

    یہ ویسے آئیڈیا کہاں سے آیا تھا جھنڈا بنانے کیلئے۔ 

    دانی نے یونہی پوچھا تھا مگر جواب چودہ طبق روشن کر گیا

    قطرینہ بھابی سے۔ وہ فورا بولی

    انہوں نے اپنی ٹک ٹاک پر اسکی ڈی آئی وائی ویڈیو لگائی تھی یہ انکا ہی آئیڈیا تھا ایسے ہاتھوں کے پرنٹ بنانے کا جھنڈا بھی انہوں نے اپنی پرانی ٹی شرٹ سے بنانا سکھایا تھا

    اسے ہکا بکا دیکھ کر ثانیہ اپنے موبائل میں کھول کر دکھانے لگی

    یہ دیکھیں۔  

    ٹک ٹاک اسٹار ملینزز فالوورز کے ساتھ وہ کوئی اور نہیں قطرینہ ہی تھی پچاس کے قریب ویڈیوز تھیں جن میں کہیں وہ سوشل ڈسٹنس مینٹین کرنے کا طریقہ بتا رہی تھی دو لڑکیاں ماسک پہن کر کہنی سے مصافحہ کر رہی تھیں کہیں سینی ٹایزر گھر بنانے کی ترکیب کئی گھر میں بیٹھے بیٹھے مصروفیتیں نکالنے کی چھوٹی چھوٹی ویڈیوز  ڈی آئی وائیز  ماسک گھر میں کھیلی جانے والی کارڈ گیمز چھوٹے چیلنجز بچوں کو کیسے مصروف رکھیں اور ایک کاش ٹرینڈ بھی تھا 

    وہ دیکھتا جا رہا تھا اسکی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ 

    کاشی کو ایک عدد چیلنج دیا گیا تھا جو اسے پورا کرنا تھا اور پھر کسی اور کو نامزد کرنا تھا۔ اسے قطرینہ نے بتایا تو تھا کہ یہ کرنا مگر اتنی جلدی کرنا پڑے گا یہ پتہ نہ تھا اسے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام  تیسری قسط کا 

    جاری ہے

  • Corona aur katrina kahani episode 2

    کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 2

    قرنطینہ کے بوجھل دن 

    صبح سے گھر میں اٹھا پٹخ مچی تھی  ماہانہ صفائی ہو رہی تھی کہ کیا بس چیزوں کا شور۔۔ امی نے دو بار تو کمرے میں آکر ان دونوں کو جگایا مگر ڈھٹائی عروج پر تھی دونوں کی۔ ایک بجے تو امی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ دروازہ دھاڑ سے کھول کر دھاڑیں

    اٹھ جائو بہت ہوگئ بس سارا دن نحوست پھیلائے رکھتے ہیں دونوں بھائی یہ نہیں کہ وبا پھوٹی ہے تو نہا دھو کر نماز پڑھ لو کوئی اللہ کا نام لے لو بس شیطان کی طرح اوندھے پڑے ہیں۔ 

    انہوں نے آگے بڑھ کر اوندھے پڑے دانش کی کمر پر دھموکا ہی جڑ دیا۔ 

    آئی امی۔۔ کیا کرتی ہیں۔۔ وہ تڑپ کر سیدھا ہوا

    کتنی دفعہ کہا ہے اوندھے مت لیٹا کرو ایسے شیطان سوتا ہے ہر اوندھی عادت اپنا رکھی ہے تم نے ۔ 

    امی شیطان کہاں سوتا ہر وقت تو کہیں نہ کہیں مصروف ہوتا دنیا میں فساد پھیلانے۔ 

    کاشی کا برا وقت آیا ہوا تھا سے خبر ہی نہیں اچھا بھلا جو دھموکے سے بچ گیا تھا اس بات پر امی نے آگے بڑھ کر اسکے بھی ایک لگا دی

    ہر وقت کا ٹھٹھا ۔ مزاق بناتے ہو ہر چیز کا ۔ اسلامی شعائر تک کو نہیں چھوڑتے بس لمبی زبان ہوتی جارہی ہے سب کی۔ 

    کاشی کی درگت بنتے دیکھ کر دانی نے منہ چھپا کر ہنسی روکی

    کاشی منہ بسورتا اٹھ بیٹھا۔

    چلو ثانیہ نے کھانا بنا دیا ہے بس آج سے کوئی ناشتہ نہیں ہوا کرے گا بس بارہ بجے کے بعد کھانا کھالیا کرو تم لوگ اٹھ کر۔۔ 

    امی انکے کمبل سمیٹتی جیسے ناک تک عاجز آئی ہوئی تھیں۔ دونوں نے شرافت کے سب ریکارڈ توڑ دیئے۔ دانی ملحقہ غسل خانے کی جانب لپکا تو کاشی نے اس سے الجھنے کی بجائے سیدھا امی ابو کے کمرے کا رخ کیا انکا غسل خانہ استعمال کرنے کو۔ 

    دروازہ کھولتے ہی ابو پر نگاہ پڑی۔ کونے میں جائے نماز پر بیٹھے قرآن کھولے پڑھ رہے تھے ساتھ ایک بوتل پانی بھی رکھا ہوا تھا۔ 

    اسلام و علیکم ابو جی۔ اس نے گڑ بڑا کر سلام کیا جوابا ابو نے تنبیہی سی نگاہ ڈالی جسکا مطلب مجھ سے مخاطب مت ہوں وظیفہ چل رہا ہے  اس نے صحیح صحیح سمجھا اور سیدھا غسل خانے میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھوکر بال ہاتھوں سے سنوارتا باہر نکلا تو ابو اپنا وظیفہ ختم کر چکے تھے پانی پر پھونکا اور  بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔ 

    یہ لو پی لو۔ 

    رات بھر کی پیاس تھئ اس نے منہ لگایا تو دو گلاس پی گیا ابو ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔ 

    بس کرو  سارا مت ختم کرو سب گھر والوں نے پینا تھا یہ۔

    ابو اس سے ذیادہ گھبرا گئے۔۔ اس نے بوتل منہ سے ہٹائی تو انکی جان میں جان آئی۔  شکر تھا لیٹر بوتل تھی ورنہ کرونا سے کاشی کو کچھ ہوتا نہ ہوتا ابو کو صدمے سے کچھ ہو جاتا۔ 

    عجیب خرافاتئ اولادیں ہیں میری۔ 

    وہ گھور کر رہ گئے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ثانیہ لائونج میں حسب عادت آلتی پالتی مارے بیٹھی فل والیم میں جیو نیوز لگائے شملہ مرچیں کاٹ رہی تھی۔ 

    27 مارچ کو تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے انکو خراچ تحسین پیش کیجئے اپنے گھر پر سفید جھنڈا لہرائیے جیو کے ساتھ منائیں ۔۔۔۔۔۔ 

    امی۔ امی۔ وہ چھری رکھ کر وہیں سے چلانے لگی۔ 

    امی جو منہ پر کپڑا باندھے سارے گھر کے جالے اتارتی پھر رہی تھیں اسکے گھبرا کر آوازیں دینے پر دوڑتی چلی آئیں۔ 

    کیا ہوا ہاتھ کٹ گیا۔ 

    انکو پہلا خیال اس پھوہڑ اولاد کا یہی آیا تھا کہ پہلی یا حد سے حد دوسری دفعہ سبزی کاٹنے بیٹھی ہے ہو تو ہاتھ بھی کٹوا لیا ہوگا۔۔ 

    نہیں امی۔ سفید جھنڈا ہے کوئی گھر پر؟ کل لگانا ہے چھت پر؟

    وہ دنیا جہان کا شوق آنکھوں میں سمائے پوچھ رہی تھی

    نہیں  سفید کیوں؟ اتنا بڑا چودہ اگست پر لایا تو تھا کاشی پاکستان کا ۔۔ امی ںے اسے ایک حصے میں دیکھ کر سکھ کا سانس لیا

    اوہو نہیں۔ جیو والے میڈیکل اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ چھت پر سفید جھنڈا لگائیں۔

    میں نے بھی لگانا ہے۔ 

    وہ بچوں کی طرح ٹھنک کر بولی تو امی چڑ گئیں۔ 

    ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا صوفے سے ٹکاتی اسے گھور کر بولیں

    کیوں سب کے سب عیسائی ہیں جو سفید جھنڈا ہی بس لگا سکتے انکے لیئے،؟۔ اپنا ملک ہے اپنے ملک کا جھںڈا لگائو۔ سفید تو ہار کا اظہار کرنے کیلئے جنگ میں لگاتے فوجی۔ 

    خدا نہ کر ے جو اس وبا سے ہم ہاریں۔ 

    ارے نہیں امی سفید جھنڈا امن کا اظہار کرتا ہے ہار کا نہیں۔جنگ میں سفید جھنڈا فوجی اسلیئے لہراتے ہیں کہ ہم اب مزید نہیں لڑنا چاہتے جنگ بند کی جائے امن کا پیغام ہوتا ہے سفید جھنڈا۔ 

    دانی نے لائو نج میں داخل ہوتے ہوئے بحث کا سرا پکڑا

    بھائی سفید جھنڈا لا دو مجھے کل چھت پر لہرانا ہے۔ 

    ثانیہ نے روئے سخن بھائی کی جانب موڑ دیا۔  بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر معصوم سی شکل بنا کر لاڈ سے بولی۔ 

    دانی کا دل موم ہوا شائد پہلی بار اٹھ جاتا کہ امی نے ڈانٹ ہی تو دیا اسے

    کوئی ضرورت نہیں فالتو کے کام کرنے کی گھر بیٹھو آرام سےسب  کوئی باہر نہیں جائے گا گھر پر رہو اور تم کب سے سبزیاں ہی کاٹے جا رہی ہو کب کٹے گا کب پکے گا کھانا ایک بج گیا۔۔ 

    امی نے جھاڑا تو اس نے کھسیا کر ٹرے کی جانب توجہ کی۔ 

    تھوڑی سی گاجر تھوڑی سی ہری پیاز ، شملہ مرچیں پتلی پتلی کٹنے کے لئے سجی رکھیں تھیں جتنا ڈھیر تھا اور جو ثانیہ کی رفتار تھئ تقریبا دو گھنٹے اسکو کٹنے میں لگنے تھے۔ ۔ ٹرے کے ایک سائیڈ میں  موبائل بھی سجا تھا ۔یو ٹیوب ویڈیو روکی ہوئی تھی۔ اسکو کٹنا نہیں تھا اس نے گھر والوں کے معدے کا امتحان لینے کا سارا طریقہ کار بتانا تھا بس۔

    کیا۔ دانی صدمے سے دل پکڑ گیا۔ 

    یہ یہ وہ کھانا ہے جو ثانیہ پکا رہی ہے۔؟ مطلب پکنے کا ابھی دور دور تک نام و نشان نہیں ۔امئ رات کا کھایا ہوا ہے رحم کریں۔۔ 

    اسکا  جملہ چپل گھسیٹ کرڈھیلے قدم اٹھاتا کاشی کو بھی صدمے سے دوچار کر گیا۔ ابو کے پھکے پانی کی بوتل اسکے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچی 

    ہاں تو ۔ مدد کرادو بہن کی جلدی پک جائے گا۔ امی بے نیازی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

    امی ایک ۔۔ دانی نے ہمت کرکے فرمائیش کرنی چاہی جو امی کی ایک تیکھی نگاہ سے منہ میں ہی رہ گئ۔ 

    ناشتے کا وقت حد سے حد دس بجے تک ہے اسکے بعد بس کھانا کھائو گے جب بھئ پکے۔ غضب خدا کا سارے گھر کا نظام ہی بگاڑ دیا ہے چھٹیوں نے ۔۔ 

    امی بڑ بڑاتی جالے صاف کرنے والا ڈنڈا اٹھا کر پھر کسی کمرے کو آڑے ہاتھوں لینے نکل گئیں۔ 

    پانی پلا یار میرا دل بیٹھ رہا۔ 

    دانی نے کاشی کے ہاتھوں سے بوتل کھینچ کر منہ سے لگا لی۔

    بس یہ سبزیاں کٹ جائیں تو پکنے میں تو ٹائم نہیں لگے گا چار منٹ کی ویڈیو ہے بس۔ 

    ثانیہ نے تسلی دینی چاہی۔ کاشی اسکی عقل کو سلام کرکے رہ گیا۔

    ویڈیو 4 منٹ کی ہوگی مگر پکایا تو انہوں نے وقت لے کر ہی ہوگا فاسٹ فارورڈ کرکے بس اہم اہم طریقہ کار بتایا ہوگا۔ احمق پکانے میں تو تمہیں وہ پورا وقت لگے گا۔ 

    کاشی نے کہا تو ثانیہ نے قائل ہوکر اپنا کدو ہلایا۔ 

     یہ تو بہت ذیادہ سبزیاں ہیں ابھی۔ مجھے پانی تو پلا دیں دانی بھائی۔ 

    ثانیہ کو پھیلا وا دیکھ کر خفقان سا ہوا۔ 

    کاشی کرنٹ کھا کر مڑا۔ بوتل تقریبا خالی ہونے کو تھی آخری دو گھونٹ اور دانی کا منہ۔ 

    نہیں ۔ وہ دونوں ہاتھوں سے نہیں کا اشارہ کرتا ہوا دانی پر لپکا۔ دانی صورت حال کے لیئے تیار نہیں تھا کاشی اس پر کودا تو بوتل پیتے اسکے ہاتھ سے چھوٹی ہوا میں لہرائی۔ اسے گرنے سے بچانے کو کاشی نے ہاتھ بڑھایا دونوں ایک دوسرے سے الجھے دھماکے سے صوفے سے رڑھتے ہوئے نیچے آرہے۔تاہم بوتل کاشی کے ہاتھ میں آگئ تھی۔۔ 

    دونوں بے ہنگم انداز میں ایک دوسرے پر الجھے کارپٹ پر گرے پڑے تھے ثانیہ بھونچکا سی دیکھ رہی تھی

    اف بچا لیا۔ 

    کاشی کہنی سہلاتا بوتل میں ایک گھونٹ کے قریب پانی بچا لیا تھا اسے ہی فاتحانہ انداز میں لہرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔

    کمر سہلتا دانی دانت کچکچانے لگا

    صحرا میں بیٹھا ہے؟ آخری کنواں تھا یہ جس کے پانی پر مر رہا ہے۔ کمر توڑ دی میری کمینہ سانڈ کود گیا مجھ پر جیسے پھول سا وزن ہے اسکا۔ 

    اس نے بلا لحاظ دو تین لاتیں مار دیں کاشی کو۔۔ 

    کاشی اسکے وار سے بچتا بوتل پر ڈھکن لگاتا پیچھے ہوا

    اوئے یہ پھونکا ہوا پانی ہے ابو نے نجانے کون کون سی سورت پڑھ کر دم کیا ہے اس پر اسکو فریج کی ہر بوتل میں تھوڑا تھوڑا ملانا تھا۔ ختم ہوجاتا تو ابو نے مار ڈالنا تھا مجھے۔ 

    کاشی نے کہا تو دانی کو تھوڑا سکون ہوا

    یعنی میں اندر تک پاک صاف ہوگیا اب مجھے اندر باہر کسی کرونا وائرس کیا کسی قطرینہ چڑیل سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔  

    وہ جوش خطابت میں یقینا حد پار کر گیا۔۔ ثانیہ نے جہاں کھی کھی کی وہیں کاشی دانی کی گردن دبوچنے بھاگا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

     لائونج میں لگے گھڑیال نے دو کا گھنٹہ بجایا تو امی خاموشی سے کچن میں گئیں دو کپ چائے بنائی  توس لیئے اور اپنے کمرے میں اسے ابو کے ساتھ سہارے کو  تناول فرمانے گھس گئیں۔ ثانیہ تندہی ہی ایک ایک گاجر کو باریک کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 

    دانی اور کاشی  صبر سے اسکو ایک ٹک دیکھ رہے تھے۔ 

    آپ دونوں ایسے دیکھ کر مجھے اور کنفیوز کر رہے ہیں۔ 

    ثانیہ نے بے چارگی سے سر اٹھایا۔  

    لائو میں مدد کروائوں۔ کاشی سے رہا نہ گیا اسکے ہاتھ سے چھری لیکر خود اسکے سامنے بیٹھ گیا

    آپ کاٹیں گے؟ ثانیہ حیران ہوئی۔ 

    ہاں اور تم جا کر اس سنگا پورین چاولوں کو ترکیب کے مطابق ایک کنی ابال لو اور اس میں کیا ڈالنا وہ بھی دیکھ لو۔ میں ان سبزیوں سے نمٹتا ہوں۔ 

    وہ مصروف سے انداز میں اسکی حیرت کی پروا نہ کرتے ہوئے بولا تو وہ خوشی خوشی اٹھ کر باورچی خانے بھاگی۔ 

    اس میں میکرونی بھئ ابال کر ڈالنی میں ابالتی ہوں۔ 

    یار مجھے لگ رہا میرئ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا ہے۔ 

    دانی صوفے پر نیم دراز انگڑائی لیکر بولا۔ 

    ثانی ایک پراٹھا ڈال دو مجھے۔ ثانیہ کو باورچی خانے میں جاتے دیکھ کر جھٹ فرمائیش ڈال دی۔ ثانیہ کے قدم سست پڑے بھائی کو شکایتی نگاہ سے دیکھنے لگی۔ 

    کوئی نہیں ثانیہ تم اپناکام کرو بس آج کھانا ہی کھائیں گے سب مل کر۔ 

    کاشی نے مشکل آسان کی تو وہ غڑاپ سے باورچی خانے میں گھس گئ دانی نے صوفے سے کشن اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا

    بڑا بھائی میں ہوں کہ تو ہے۔

    توہے بد قسمتی سے مگر بڑا پن نام کو نہیں تجھ میں۔ 

    کاشی جوابا کشن اپنی کمر کے پیچھے ٹکا کر مزید آرام سے بیٹھ کر گاجریں کاٹنے لگا۔ 

    کتنے شوق سے وہ بنا رہی ہے بجائے اسکے کہ مدد کر اسکی الٹا فرمائیشیں جھاڑ رہا ہے۔ 

    ہاں تو کیا تیری طرح سبزیاں کاٹ کے دوں ؟ کاشی باجی۔۔۔ 

    اس نے طنز کیا تو کاشی نے گہری سانس لیکر اسے دیکھا۔ 

    کیا حرج ہے۔ ؟ بچی ہے وہ سب اکیلے کیسے کر سکتی ہے کیا ہوا جو ذرا دی مدد کروادوں میں۔۔ 

    ہاں تو بچی ہے۔ اسی کا کام ہے کھانا پکانا سسرال میں میں اور تم تھوڑی مدد کرائیں گے اسکی۔۔ 

    دانی کج بحثی پر اتر آیا 

    اگر سسرال میں بھئ مدد کرانی پڑی تو جا کر مدد کروانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چھوٹی بہن ہے میری۔ 

    کاشی نے آرام سے کہا تو وہ حیران ہوتا باقائدہ اٹھ بیٹھا۔

    اوئے فیمنسٹ نکلا تو۔ وہ تیری قطرینہ یہ اسی نے دماغ میں ڈالا نا تیرے ؟ بڑے بلاگ لکھ رہئ تھی میرا جسم میری مرضی پر اسکے بلاگ کا لنک واٹس ایپ اسٹیٹس لگاتا رہا تو دیکھا تھا۔ ہائے امی آپکا بیٹا گیا ہاتھ سے ۔۔ 

    وہ مسخرے پن سے کہتا مزاق اڑا رہا تھا۔  کاشی نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی اس پر۔

    دیکھا ہی تو نہیں دیکھا ہوتا اسکا بلاگ تو ایسے نہ کہتا۔ اسکے بلاگ نے ہی مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اگر گھر میں بیوی بہن ماں کا ہاتھ بٹانا فیمنزم ہے تو اسکی شروعات چودہ سو سال پہلے رسول خدا ص کے اپنے گھر سے ہوئی جب وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے اور اکثر گھرکے کاموں میں اپنی زوجہ کی مدد کرواتے تھے، جب حضرت علی علیہ السلام بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہہ کو چکی پیستا دیکھ کر انکی مدد کروانے بیٹھ جاتے تھے ، جب بی بی زینب سلام اللہ علیہہ اپنے نانا جان کی قبر کی زیارت کو جاتئ تھیں تو بھائی انکا سایہ بن کر انکے ساتھ جاتے تھے۔ اپنا کھانا خود گرم کرنے میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی اگر میری خدمت کیلئے میری ماں اٹھنے لگتی ہے۔ بہن کو سبزی کاٹ کر دیتے ہوئے مجھے صرف ایک احساس ہے کہ کل اس نے میرے اٹھنے پر بارہ بجے اپنا ہر کام چھوڑ کر مجھے تازہ ناشتہ بنا کر دیا تھا۔ اگر اسکی مدد کروادوں گا تو میں اچھا بھائی کہلائوں گا بہن نہیں بن جائوں گا نہ ہی میری مردانگی میں کمی آجائے گی۔ 

    دانی کو اندازہ نہیں تھا وہ اتنا سنجیدہ ہو کر لیکچر جھاڑ دے گا۔ 

    بھوک لگی ہوئی تھی اس لیئے کہہ دیا تھا۔ اتنا برا بھی نہیں ہوں میں کل اس نے مجھے بھی تو پراٹھا بنا کر دیا تھا آج میں اسے سبزیاں کاٹ کے دوں گا۔ جزباتی ہی کردیا تو نے  اب میں بنائوں گا کھانا ہٹ پیچھے ۔۔ 

    دانی پر ڈرامہ بازی ختم تھئ یوں اٹھا جیسے اسکی تقریر نے جزباتی ہی تو کر ڈالا ہے۔ کاشی کے ہاتھ سے چھری لیکر خود کاٹنے بیٹھ گیا۔ کاشی اپنا ہاتھ دبانے لگا جو سبزیاں کاٹنے سے دکھنے سی لگی تھیں۔ 

    کمرے کے دروازے پر کھڑے ابو نے دونوں کی گفتگو سنی تھی۔بچوں کی باتوں نے انکو بھی متاثر کر دیا تھا ۔  

    کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہیں 

    امی کمرے سے ٹرے لیکر نکلیں تو انکو دروازے کے آگے حائل پایا۔ 

    لائو دو میں رکھ آتا ہوں باورچی خانے میں ہی جا رہا ہوں۔ 

    ابو نے امی کے ہاتھ سے خالی کپ اور پلیٹ والی ٹرے لے لی۔بظاہر نارمل سا انداز تھا پر امی بےہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ ہل کر پانی نہ پینے والے شوہر کا یہ روپ انکیلئے انوکھا تھا۔ ابو کو انکی حیرت کا اندازہ تھا سو بے نیازی سے ایسے ظاہر کرتے ہوئے جیسے کچھ نئی بات ہی نہیں ہوئی وہ ٹرے اٹھا کر کچن کی۔جانب بڑھ گئے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انکی شادی شدہ 23 سالہ زندگی کا پہلا دن تھا جو وہ آرام سے کھانے کی میز پر بیٹھی تھیں کسی مہارانی کی طرح انکے بیٹے میز سجا رہے تھے۔ شوہر سلاد کی پلیٹ لیکر آئے تو ساتھ ہی بڑے فخر سے بتایا کہ سلاد میں نے بنائی ہے۔ 

    امی رائتہ میں نے بنایاہے۔ 

    دانئ نے بھی جھٹ کار گزاری جتائی

    ثانیہ گرم گرم چاول لیکر آئی تو سب نے اسکے بھی اطمینان سے بیٹھ جانے کا انتظار کیا ۔ 

    یہ ہے کیا؟ امی کو ڈش دیکھ کر سمجھ نہ آیا 

    امی سنگاپورین رائیس ہیں۔ ثانیہ نے خوش ہو کر بتایا 

    اس میں مخرونی کیوں ڈال دی؟ 

    وہ حیرانی سے چمچ اٹھا کر دیکھ رہی تھیں۔ 

    امی اس میں سب ڈلتا ہے۔ کاشی نے انکو معلومات دیں۔  امی نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ تھوڑا مختلف سا مگر اچھا ذائقہ ۔۔بیٹی اتنی بڑی ہوگئ تھی کہ کھانا بھی بنانے لگی انہوں نے پیار بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔ 

    بہت ذائقے دار ہے میری بیٹی کا۔تجربہ کامیاب رہا۔  

    یہ میں نے تو صرف نہیں بنایا کاشی اور دانی بھائی بھی برابر سے ساتھ لگے رہے ہیں سب مصالحے کاشی بھائی کو یاد تھے تو دانی بھائی نے تو آج گوشت بھی دھویا

    وہ بھی ثانیہ تھی کیسے نا انصافی سے سارا کریڈٹ لے جاتی اسکی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے

    کیا ہوا میں نے کچھ غلط کہا؟ وہ شرمندہ سی ہو کر پوچھنے لگی۔ 

    ہاں سارے مصالحے کاشی سے منگواتی ہوں اسے تو ایک ایک چیز کا پتہ ہے۔ امی نے پیار سے کاشی کو دیکھا تووہ جھینپ کر مسکرادیا

    اور میں جب جب امی چکن دھو رہی ہوتی تھیں تو میں انکے سر پر سوار کوئی فرمائش کر رہا ہوتا تھا تو مجھے پتہ چکن کیسے دھلتا 

    دانئ نے بھی بتانا ضروری سمجھا۔  

    اور یہ ہمیشہ سلاد کمرے میں پھیری والوں کی شکایتیں لگاتے ہوئے کاٹتی تھیں تو مجھے بھی پتہ کیسے سلاد بنتی ہے ۔۔ 

    ابو کے کہنے پر امی جھینپ کر ہنس پڑیں۔ 

    ویسے یار مزے کا بنا ہے پلائو ۔ کاشی نے فیاضی سے تعریف کی۔ سب سے ذیادہ نخرے اسی کے تھے سبزیاں نہیں کھانی وغیرہ مگر پلائو میں شملہ مرچ بھی چٹخارے لیکر کھا رہا تھا

    کل بھی کوئی نئی چیز بنائیں؟ ثانی پرجوش ہوئی

     مزا آیا وقت بھئ گزر گیا اور امی کو آرام بھی مل گیا۔امی اب جب تک ہماری چھٹیاں ہیں نا ہم روز کوئی نئی کانٹینٹل ڈش بنائیں گے یو ٹیوب سے دیکھ کر ۔۔ 

    ثانی کے جوش پر کاشی اور دانئ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی

    مگر کل ناشتہ کروا کر محنت کروانا مجھ سے آج تو میرے پیٹ کے چوہے بھی بھوک سے بلک بلک کر مرچلے تھے۔۔ 

    کاشی نے دہائی دی۔ 

    مگر اب کوئی سبزی بنائو دیکھ کر ہر وقت کا گوشت کھانا بھی ٹھیک بات نہیں۔ ابو نے کہا تو تینوں کل کا مینو ڈیسائڈ کرنے لگ گئے۔

    میزپر آج امی کے ہاتھ لگایے بنا بھی ہر چیز موجود تھی مگر ایک چیز کم تھی۔ ظاہر ہے برسوں سے میز لگانے والی کا مقابلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ پانی رکھنا ہی بھول گئے بچے۔ انہیں ہنستا بولتا دیکھ کر خوش ہوتی امی چپکے سے پانی لینے اٹھ گئیں۔۔

    ۔۔۔۔اختتام قسط 2

    جاری ہے۔

  • Corona aur katrina kahani episode 1


    کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 1
    کرونا وائرس کا خطرہ اور سنجیدگی کا عالم

    کاشی کاشی دہی لا دو ۔۔ 

    امی نے اسکے اوپر سے کمبل کھینچ کر عجلت میں کہا۔۔ 

    وہ ہڑبڑا کر اٹھا 

    اور یہ لائونج میں کیوں سو رہے تھے؟ 

    امی کے ایکدم صور پھونک کر جگا دینے پر بدمزا کاشی منہ بنا کر بولا

    شوق تھا مجھے بیچ چوراہے میں سونے کا دیکھ رہا تھا نیند کیسی آتی ہے۔ 

    اچھا اب تو دیکھ لیا نا چلو اب کمرے میں جا کر سوئو یہاں کی صفائی رہ گئ بس تمہیں سوتا دیکھ کر شاداں گیراج دھونے لگ گئ ۔۔ 

    امی ۔۔ اس نے احتجاجا گھورا اس نے طنز کیا تھا اور امی بات اڑا گئیں۔

    چلو اٹھو شاباش ایک بج رہے چھٹیوں کا یہ مطلب نہیں کہ دن چڑھے سوتے رہو۔ 

    وہ منہ بناتاچپل گھسیٹتا اندر کی جانب بڑھنے لگا کہ امی کو پھر دہی یاد آگیا  

    کہاں جارہے ہو؟ 

    سونے ۔۔ کاشان بھنایا 

    پہلے دہی لا کر دو مجھے۔۔ پھر بھلے شام تک سوتے رہنا کھانا بنانے میں دیر ہو جائے گی ورنہ۔۔ 

    تبھئ سر کھجاتا چپل گھسیٹ کر ڈھیلے قدموں سے چلتا دانش آیا آتے ہی اسکی چھوڑی جگہ صوفے پر دھپ سے گرا۔۔ 

    امی ناشتہ۔۔ دانی کی آواز نیند سے بھری تھی

    ہاں بنواتی ہوں شاداں پراٹھا ڈال دو دانئ کیلئے۔۔ کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے سر میں درد ہو رہا۔۔ ؟؟؟؟

    دانی نے معصوم سی شکل بنا کر آنکھیں پٹپٹائیں۔۔ 

    اوہو ۔۔ ناشتہ کر لو پھر سر درد کی۔ اسکو بےزاری سے سر سہلاتے دیکھ کر امی فکر مند سی ہو کر اسکےپاس آبیٹھیں۔ 

    کاشی کا خون جل گیا۔۔ 

    امی میں بھئ آپکی اولاد ہوں یاد آیا؟ مجھے بھی ناشتے کا پوچھ لیں۔

    اسکے جلے بھنے انداز پر دانی چسکا لینے والے انداز میں ہنسا

    کتنئ بار تمہیں بتائوں کہ تم شاداں کے بھائی ہو امی نے ترس کھا کر گود لے لیا تھا تمہیں۔۔ 

    اسکے طنز سے کہنے پر امی چونک کر مڑیں۔ 

    تم ابھی تک گئے نہیں؟ تمہارے ابو نے صبح سات بجے کا ناشتہ کیا ہوا ہے۔ انہیں بھوک لگ جانی ہے ابھی۔۔ 

    امی میں نے کل دوپہر کا کھانا کھایا ہوا ہے مجھے تو ناشتے کا بھی نہیں پوچھا آپ نے۔ 

    وہ روہانسا ہوا

    ہاں تو اپنی مرضی سے بھوکے رہے سب نے کریلے قیمہ شوق سے کھایا رات کو سوائے تمہارے۔۔

    امی بے نیازئ سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ 

    کوئی نہیں دانی نے بھی نہیں کھایا ۔یہ رات کو ڈیل آر۔۔۔ وہ غصے میں راز افشا کرنے لگا تھا دانی سٹپٹا کر سیدھا بیٹھا 

    ارے قط قطرینہ کی ڈیل تھی ۔ بھول گئے

    دانی نے چبا کر کہتے آنکھیں دکھائیں کاشی نے زبان کو بروقت بریک لگائی

    کیا ڈیل کیسی ڈیل؟ 

    امی کچھ نہ سمجھیں 

    قطرینہ نے کئی نئی فلموں کی ڈیل سائن کر لی امی ایک سال تین فلمیں کر رہی ہے۔ اب پتہ ہے آپکو۔۔ 

    دانئ ایران توران کی ہانکنے لگا تو امی بےزار ہو اٹھیں

    ارے دفع کرو قرینہ قطرونا کرونا کو ہمیں کیا تم کاشی 

    ۔ چلو اب جلدی سے دہی لا کر دو میں تب تک تم دونوں کیلئے ناشتہ تیار کرواتی ہوں۔۔ 

    امی کہتی اٹھ کر جانے لگی دانی نے بمشکل انکے کمرے سے نکلنے کا انتظار کیا لپک کر گردن سے پکڑ لیا کاشی کو

    کیا بکنے جا رہے تھے؟ کیا طے ہوا تھا تم میرا راز رکھو گے میں تمہارا۔ ایک پیس دیا تھا نا پزا کا تمہیں احسان فراموش۔ 

    اس نے جھٹکا دیا ۔ کاشی گردن چھڑا کر سہلاتے ہوئے گھورنے لگا

    میرا ایک چھوٹا سا راز ہے تمہارے کتنے درجن میں راز رکھتا ہوں کچھ یاد ہے۔ 

    چھوٹا سا راز ہے تمہارا اچھا ۔۔ دانی کہاں ہاتھ آنے والا تھا وہیں سے آواز لگا نے لگا

    امی امی قطرینہ آپکی بہو بننے والی ہے۔۔ 

    کیا ۔۔ امی کی دور سے آواز آئی کاشی ہاتھ پیر جوڑنے لگا 

    اچھا اچھا ۔چپ کر جا میرے بھائی ۔ 

    ہاں اب ہوا نا سیٹ۔ دانی نے فرضی کالر جھاڑے

    اچھا سن پزا کے خالی ڈبے تیرے بیڈ کے نیچے گھسا دیئے تھے شاداں کو صفائی نہیں کرنے دی کمرے کی تم۔ناشتے کے بعد امی کی۔نظر بچا کر باہر پھینک دینا۔

    وہ مزے سے حکم چلاتا ہوا منہ دھونے چل دیا تھا اسے کاشی بس گھور کر رہ گیا 

    نجانے کونسئ منحوس گھڑی تھئ جو ایک دفعہ اسکے نمبر سے میسج کردیا قطرینہ کو۔ کمینہ چھے مہینے ہونے کو آگئے بلیک میل کیئے چلا جا رہا ہے۔

    وہ منہ بناتا صوفے پر آبیٹھا پھر جیسے کرنٹ سا لگا اچھل کر کھڑا ہواسر پر ہاتھ مارا 

     دہی۔۔۔ اف امی پیسے تو دیں دہی لانے کے۔ 

    وہ جھلاتا ہوا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

     کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری وائرس چین سے پھیلتا ہوا دنیا کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اب تک اس وائرس سے متاثرہ ممالک میں ایران امریکہ اسپین اٹلی بھی شامل ہو چکے ہیں ۔ اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد۔۔ 

    ابھی اتنی ہی خبر ہوئی تھی کہ جھٹ ثانیہ نے چینل بدل دیا۔

    ارے دیکھنے تو دو پوری خبر؟؟ دانی نے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے اچکا کر بولی

    ہمیں کیا۔ یہ گندے لوگوں کا وائرس ہے جو الا بلا کھاتے ہاتھ منہ نہیں دھوتے ہم تو دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے والی قوم ہیں۔۔ 

    اسکی بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی امی نے جھٹ اسکے سر پر چپت لگا دی۔

    یہ نماز پڑھنے والی قوم کا حال دیکھو ایک بجے محترمہ کی صبح ہوئی ہے ناشتہ تک ٹی وی لائونج میں روتی دھوتی عورتوں کو دیکھ کر ہو رہا ہے کچھ پتہ ہے عصر کب ہوتی ہے فجر ظہر تو گزر چکی ہے ۔ 

    بیٹے کیلئے ٹرے میں ناشتہ لیکر آتی امی کی اس اقربا پروری پر وہ آنکھوں میں آنسو ہی تو لے آئی۔۔ 

    پونے دو بجے ناشتے کیلئے صوفے پر ٹانگے پسارے بیٹھی اولاد نرینہ کیلئے بھی کچھ ارشاد فرما دیا کریں ۔ کم از کم میں اپنا ناشتہ خود لیکر آئی ہوں انکو تو ٹرے میں لگا کر دینا پڑتا آپکو۔  اتنی زور سے مارتی ہیں دماغ ادھر ادھر ہوگیا ہوگا میرا۔۔ 

    وہ اب باقائدہ سر سہلا رہی تھی

    دانئ نے ناشتہ آتے دیکھ کر پساری ہوئی ٹانگیں سمیٹ لی تھیں اب کشن سامنے میز کی طرح سجائے اس پر ناشتے کی ٹرے رکھے تناول فرمانے کا احسان کرنے کو تیار تھا مگر بہن کو چھیڑے بغیر لطف کیسے آتا۔۔لہک کر بولا 

    مت فکر کرو کوئی ادھر ادھر نہیں ہوگا دماغ۔ در اصل دماغ ہوگا تو ادھر ادھر ہوگا نا۔ 

    بھائی میرا تو ایک ہے سو مجھے فکر اب آپکی طرح دو دماغ ہوں تو بندہ ایسے ہی بے فکر رہتا۔۔ 

    وہ درپردہ اسے بندر کہہ گئ تھی۔ دانی گھورنے لگا 

    امی تاسف سے بیٹی کو گھور رہی تھیں

    کیسا تڑ تڑ زبان چلتی ہے ۔ کبھی ہاتھ پائوں بھی ہلا لیا کرو اتنی تیزی سے چلو ناشتہ ختم ہوگیا ہو تو چائے بنائو سب کیلئے سر پھٹ رہا میرا بھی۔ اس کوکر کی چھک چھک سے۔۔ 

    امئ سر تھامتی ہوئی سنگل صوفے پر پائوں اوپر کرکے اطمینان سے بیٹھ گئیں۔ 

    ثانیہ نے ہونٹ لٹکا کر شکایتی نگاہ ڈالی ان پر۔اسکے پسندیدہ ڈرامے جس میں ہیروئن کی اپنے ابا کی عمر کے آدمی سے شادی ہوگئ تھی آرہا تھا۔ اور تو اور اسکے پراٹھے کے ابھی دو تین لقمے باقی تھے یہ الگ بات کافی دیر سے ہی وہ باقی تھے بے دلی سے ٹونگنے کی وجہ سے۔ 

    امی کافی دیر نہیں ہوگئی اس کوکر کی آواز کو؟۔ دانی کے بھی سر پر یہ آواز گراں گزر رہی تھی۔

    ہاں گوشت گلا ہی نہیں سو دوبارہ لگایا ہے پندرہ منٹ کیلئے۔ 

    یہ کاشی کب کا گیا ہوا ہے آیا نہیں دہی لیکر ۔ دہی خریدنے گیا ہے یا بنانے بیٹھ گیا ہے۔۔ 

    امی کو یاد آیا ۔ تبھی منہ پر ماسک چڑھائے ہاتھوں میں گلوز پہنے کاشی دہی کی تھیلی تھامے اندر داخل ہوا

    تینوں اسے دیکھ کر ہکا بکا ہی تو رہ گئے

    ہیں یہ کیا ہوا۔۔ ؟؟؟ تینوں نے بے ساختہ بولا تو وہ تھوڑا سٹپٹا گیا

    امی وہ باہر ایک این جی او والے مفت ماسک اور گلوز بانٹ رہے ہیں کہہ رہے کہ وائرس سے بچنا ہو تو ماسک پہن کر نکلیں ۔۔ 

    تینوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ۔

    ارے یہ تو چین کا وائرس ہے یہاں کہاں۔ ایویں ڈراتے ہیں میڈیا والے ۔

    یہ دانی تھا باقائدہ ٹھٹھا لگا کر بولا 

    نہیں پاکستان میں بھی آچکا ہے سات سو کے قریب کیسز ہوچکے ٹی وی دیکھا کرو تو پتہ لگے۔ 

    ثانیہ کی خبریں ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رہتی تھیں سو اپنی قابلیت جھاڑنا ضروری سمجھا۔۔ 

    کیا اتنا برا حال ہو چکا ہے؟ امی بھی تھوڑا گھبرا سی گئیں

    ہاں تو ایویں تھوڑی ہم سب کو چھٹیاں دے دی گئیں ہیں۔ کراچی میں تو لاک ڈائون بھی شروع ہو گیا ہے اجتماعات شادیوں اور دیگر تقریبات پر بھی پابندی لگا دی ہے پورے پاکستان میں۔ 

    کاشی نے ماسک اتار کر گہری سانس لی۔ 

    وہ این جی او والے کہہ رہے تھے کہ محتاط رہیں چھینک وغیرہ کہنی موڑ کر چھینکیں بار بار ہاتھ دھوئیں گلا خشک نہ ہونے دیں اور معمولی نزلہ زکام کو بھی معمولی نہ سمجھیں۔ اور یہ پینا ڈول کا پتا بھی دیا ہے انہوں نے۔ اس نے جیب سے پینا ڈول کا پتا بھی نکال کر لہرایا

    اور دہی وہ لائے کہ نہیں ؟؟؟ امی نے گھورا

    کب سے انتظار میں ہوں سالن بنانے کے بجائے دہی لانے کے این جی او والوں سے باتیں پٹیلنے بیٹھ گئے۔ ارے ان لوگوں کو ڈرانے کے سوا کام ہی کیا ہے۔۔ 

    امی جیسے ناک تک تنگ آئی ہوئی تھیں

    کرونا رٹ رٹ کر ہی سب کو بیمار کر چھوڑیں گے

    انکی تقریر کو بریک کاشی کے منہ بنا کر دہی کی تھیلی انکے سامنے لہرانے پر ہی بند ہوئی

    آتے ہونگے ابا تمہارے نماز پڑھنے گئے ہیں مسجد۔۔ 

    سالن تیار کروں۔۔ 

    کونسی نماز مسجد میں جماعت پر پابندی لگا دی ہے کہہ رہے ہیں کرونا سے بچنا ہے تو گھر بیٹھو۔۔ توبہ ایمان کی کمزور ی ہے بس۔۔ بتائو گھر بیٹھ کر موت نہ آئے گی۔۔ عجیب خرافاتی لوگ ہیں میڈیا والے سب کو ڈرا ڈرا کر پاگل ہی کر چھوڑا ہے

    ابا ٹوپی سر سے اتارتے سخت ناراض ناراض سے گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔ 

    یک نہ شد دو شد۔ ۔

    تازہ تازہ لیکچر لیکر آئے کاشی کو اپنے ہی گھر والوں کو کرونا کی احتیاطی تدابیر بتانا مشکل لگ رہا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آیت کریمہ کا ورد کرکے اس میسج کو آگے بھیجئے اس آسمانی آفت سے بچنے کا بس یہی طریقہ ہے

    استغفار کیجئے یہ ہمارے ہی اعمال کی سزا ہوتی ہے جو وبا کی صورت نازل ہوتی ہے۔۔ 

    بار بار فالتو میں ہاتھ دھونے سے بہتر ہے کچن میں پڑے دو چار برتن بھی لگے ہاتھوں دھو لیا کریں۔ 

    ابے یار۔۔ 

    اس نے بیزاری سے واٹس ایپ بند کیا ۔ ہر طرح کا کرونا کا میسج آیا ہوا تھا جس کو جو سمجھ آتا وہ آگے فارورڈ کرکے صدقہ جاریہ کا حصہ دار بننا ضروری سمجھتا۔ 

    سب سے ذیادہ اسکی ہر دل عزیز سہیلی قطرینہ کے ایسے پیغام موصول ہوتے ۔ اسکے واٹس ایپ اسٹیٹس بھی کچھ ایسے تھے ہاتھ صابن سے دھونے کی ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہوئی تھی۔ منہ پر ماسک پہن کر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے۔ اپنی سہیلی کے ساتھ مصافحے کیللئے ہاتھ بڑھا کر ایکدم ہاتھ پیچھے کر کے دور سے سلام کرتے ہوئے مفاد عامہ کا پیغام دیتے ہوئے کی ویڈیو۔ 

    دو درجن دعائیں ۔ سینی ٹائزر لگاتے ہوئے تصویر ۔ 

    وہ اسکے اسٹیٹس دیکھ کر خوب ہنسا تھا لیکن وہ کتنی سنجیدہ تھی اسکا اندازہ اسے تب ہوا جب اس سے فون پر بات کرتے ہوئے اس نے باقائدہ تعداد گنوا کر دنیا بھر میں ہونے والی اموات اور خاص کر اٹلی کے لوگوں کی کرونا کو سنجیدہ نہ لینے والی حرکت کے بعد چین کے بعد سب سے ذیادہ اموات کا شکار ہونے کا بتاتے ہوئے رو پڑی۔ 

    کاشی انکی فوج فوجی گاڑیوں میں بوریوں کی طرح لاشیں بھر کر لے جارہی ہیں سڑک پر پڑیں ہیں وہاں انسانی لاشیں ۔ یہ اس ملک کا حال جہاں صحت کی سہولتیں بہترین ہیں ۔ہم جیسے ترقی پزیر ملک کا کیا ہوگا۔۔ 

    روتے ہوئے اسکے بین کرنے والے اس انداز نے اس پر اچھا خاصا اثر کیا تھا۔  

    وہ ویڈیو اس نے بھی فیس بک پر دیکھ رکھی تھی مگر اتنا محسوس نہیں کیا تھا۔ 

    بس یار ہم بس اللہ سے مدد مانگ سکتے ہیں اور کیا کر سکتے۔۔ 

    وہ بے چارگی سے بولا۔  

    آدھے گھنٹے کی اس واٹس ایپ کال میں سوائے کرونا کے اس نے دوسری کوئی بات نہیں کی تھی۔ دو ہفتے سے انکی کوئی ملاقات نہیں تھئ۔ وہ اسے کافی یاد کر رہا تھا مگر وہ سوائے کرونا کے کچھ سننے کو تیار نہیں تھی۔ 

    بس یہی تو اس قوم کا المیہ ہے۔ وہ ایکدم تیز ہو کر بولی

    خود کچھ نہیں کرنا بس سب اللہ پر چھوڑ کر ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ رہناہے۔ اللہ بھی کہتا ہے اپنا خیال رکھو اپنی زندگی کی حفاظت کرو۔ مگر یہاں کسی کو کچھ کہو تو آگے سے ایمان کی کمزوری کا طعنہ دے ڈالتا ہے۔ ارے وبا پھوٹ پڑی ہے تو انسان دیکھ کر لگے گی یا کرونا آکر پہلے پوچھے گا بھائی مسلمان ہو، اوہ معزرت میں کوئی کافر دیکھتا ہوں آگے ۔۔

    اسکا انداز اتنا چڑ چڑا سا تھا کہ وہ بے ساختہ ہنس پڑا

    اب تم ہنس کر مجھے اور غصہ نہ دلائو۔ کوئی سننے کو تیار نہیں میری۔  میرے اپنے بہن بھائی میرا مزاق اڑا رہے کہ ذیادہ سوچتی ہو تم۔۔ وہ مایوس سی ہو چلی تھی۔۔

    نہیں بھئی مجھے یقین ہے تمہاری بات پرکرونا سب پر یکساں حملہ آور ہے سعودیہ میں طواف بند ہے تو ایران میں مسلمان بھی اسکا شکار بن رہے ہیں۔ ہمیں ہر ممکن احتیاط کرنی چاہیئے۔ 

    وہی تو۔۔ اسکو اپنا ہم نوا دیکھ کر وہ پھر پرجوش ہوئی۔۔ 

    کاشان ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔۔ کال پر دوسری جانب ایک اور کرونا اپڈیٹ دئ جارہی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح حسب معمول تھی۔اسکے برابر والے بیڈ پر دانی  خراٹے مار رہا تھا۔ وہ سستی سے چپل پہنتا باہر نکل آیا۔  ابا چہل قدمی کرنے قریبی پارک گئے تھے امی کچن میں لگی تھیں۔ 

    ثانیہ بھی یقینا ابھی سو ہی رہی تھی۔۔ وہ ڈھیلے قدموں سے چلتا کچن میں آکر امی کے شانوں پر سر رکھ لاڈ جتانے لگا

    اٹھ گیا میرا بچہ ۔ چلو ابھی ناشتہ ہی بنا رہی ہوں کاشی کو بھی اٹھا دو۔

    امی نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر کہا تھا اسکے ہاتھ سست سے پڑے اور وہ دھیرے سے ان سے الگ ہوگیا۔۔

    امی نے مڑ کر دیکھا تو حیران ہی رہ گئیں۔

    ارے تم کیسے اٹھ گئے صبح صبح۔۔ 

    بس آنکھ کھل۔گئ۔۔ وہ پھیکے سے انداز میں کہتا کچن میں رکھی چھوٹی میز اور چار کرسیوں کی جانب بڑھ گیا۔ 

    کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے جانے کیوں دل اداس سا ہوچلا تھا اسکا۔۔ 

    تم کبھی سب سے پہلے اٹھتے ہی نہیں ہو اسلیئے میں سمجھی دانی ہے۔ 

    وہ ماں تھیں یقینا اسکی بھی۔ اسکو فورا صفائی دینے لگیں۔ گرم پراٹھا انڈہ اسکے سامنے تھا۔  وہ یونہی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔

    لاحول ولا ۔عجیب لوگ ہیں بھئ ڈرپوک ۔ پارک میں نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات بس ایک میں ایک۔چوکیدار۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگا پارک نہیں کھلےگا آج کرونا کا خطرہ ہے۔ اتنا بڑا ماسک پہنے مجھ سے یوں ڈر رہا تھا جیسے میں ہی کرونا ہوں ہاتھ تک نہ ملایا مجھ سے۔۔ 

    فہیم صاحب کافی خفا نظر آرہے تھے۔ بڑ بڑاتے ہوئے کچن میں داخل ہوئے سیدھا سنک کی جانب بڑھے ہاتھ دھونے کیلئے۔ 

    کہا تو تھا آپکو مت جائیں آج ۔ ہر طرف کرونا پھیلا ہوا ہے شروع میں تو مجھے بھی لگا تھا کوئی بڑی بات نہیں مگر جس طرح سے اسکی لپیٹ میں دنیا کے سبھی ملک آتے جارہے ہیں ہمیں 

    امی مزید بھی کہتیں مگر ابو نے ٹوک دیا

    ارے رہنے دو بس سب ایمان کی کمزوری ہے۔ بھلا ایک وائرس کے پیچھے سب ایسے ڈر رہے جیسے وائرس نہیں ڈائنا سور آگیا یے۔ زرا تیز گرمی پڑے گی خود ہی سب ختم ہو جائے گا۔۔ 

    ایسا نہیں ہے ابو ۔یہ وائرس دبئی سعودیہ جیسے گرم علاقوں میں بھی زندہ ہے۔وہاں بھی لوگوں کو ایسے ہی گھر میں محصور رکھا جا رہا ہے۔ 

    ارے جس کو لگنا ہوگا وائرس گھر بیٹھے بھی لگ جائے گا۔۔ 

    ابو نے کان پر سے مکھی اڑائی۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بھائی شوارما تو لا دو ۔۔ 

    ثانیہ اسکے کندھے سے جھول رہی تھی۔۔ 

    باہر کرونا پھیلا ہے بھائی سے زرا محبت نہیں تمہیں۔۔ 

    کاشی نے بھنا کر گھورا

    بھائئ لا دو نا تمہیں قطرینہ ملے دعا کروں گی ۔۔ 

    اس نے مسکا لگایا۔۔ 

    کاشی اسے گھورکر رہ گیا۔۔ مگر چارو ناچار اٹھنا پڑا۔ اسکی دعا اور بد دعا دونوں ہی فورا لگتی تھیں۔ اسکا بی ایس کا آخری سمسٹر چل رہا تھا جو ثانیہ نے عین فائنل پراجیکٹ سے پہلے اسی طرح شوارما نہ لا کر دینے پر بد دعا دی کہ سب مٹ ہی نہ ہو پائے۔  سب مٹ تو دور بن بھی نہ پایا تھا کہ یونیورسٹی بند ہوگئ۔ نا معلوم مدت کیلئے۔ 

    امی باہر جا رہا ہوں کچھ منگوانا ہے تو بتا دیں۔ 

    اس نے باہر نکلتے نکلتے کچن میں جھانکا۔ 

    نہیں دودھ ڈبل روٹی وغیرہ منگوانا تھا وہ دانی لینے گیا ہوا ہے۔ امی چائے بناتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولیں۔

    وہ کندھے اچکاتا لائونج کی دیوار گیر الماری کی جانب بڑھا جہاں کل ماسک اور گلوز لا کر رکھے تھے۔ اب وہ خالی منہ چڑا رہا تھا۔ 

    ہاں کاشی۔ سنو کل کیلئے پیاز بھی لے آنا آج بھی سارا دن ایک پیاز والا نہیں گزرا ۔ کہ خرید لیتی اب کلو دو کلو لیکر رکھ لیتے ہیں جانے کب تک یہ کرونا کا سلسلہ چلے گا۔

    امی تیزی سے کچن سے نکلیں

    لے آتا ہوں مگر ماسک اور گلوز کہاں گئے؟ 

    کاشی نے کہا تو وہ سر سری سے انداز میں بولیں

    وہ دانی پہن گیا تم جائو جلدی سے لیکر آئو چائے تیار ہونے والی ہے۔ 

    امی میں بنا ماسک کے کیسے جائوں باہر؟ 

    کاشی نے کہا تو امی نے سر جھٹکا

    ارے کچھ نہیں ہوتا دانی بھی ایسے ہی جا رہا تھا وہ تو ثانیہ نے پہنوا کر بھیجا اسے۔۔ 

    تو ثانیہ کی۔بچی شوارما بھی دانی سے منگوا لیتی ۔

    اسے سچ مچ غصہ آگیا تھا

    کیا یہ لڑکی پھر شوارما منگوا رہی ہے؟ ابھی ڈانٹا تھا اسے۔ 

    امی آگ بگولا ہو کر ثانیہ کو پکارنے لگیں۔ 

    ثانیہ منع کیا ہے نا باہر کا الا بلا کھانے سے؟ سمجھ نہیں آتی چلو شرافت سے گوبھی کھائو جو پکا ہے صبر شکر کرکے۔۔

    امی کی ڈانٹ پر وہ خوب پھولا ہوا منہ بنا کر نکلی اور اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔ 

    اور تم جلدی سے لیکر آئو بھئ۔ امی نے روئے سخن دوبارہ اسکی جانب موڑا تو وہ برا سا منہ بناتا ایسے ہی سودا لانے نکل کھڑا ہوا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شوارما کھاتی ثانیہ فل والیم میں ٹی وی لگائے بیٹھی تھی لائونج میں۔ امی نے چائے یہیں لگا دی تھی سو سب فرصت سے ٹی وی کے آگے بیٹھے تھے۔

    سندھ کے بعد اب پنجاب میں بھی اگلے چودہ روز کیلئے مکمل لاک ڈائون کا اعلان۔

    خبریں دل دہلائے دے رہی تھیں۔ اب تک ہر بات کو مضحکے میں اڑانے والا دانی بھی سنجیدہ بیٹھا سن رہا تھا۔ 

    یہ کرونا پہلے نہیں آسکتا تھا ہمارے صرف پریکٹیکل کینسل ہوئے امتحان بھی ہو جاتے ۔ میرا کیمسٹری کا بالکل اچھا پیپر نہیں ہوا۔۔

    ثانیہ رو دینے کو تھی۔ امی تسبیح ہاتھ میں لیئے بیٹھی تھیں۔ ابو بھی کافی سنجیدہ سی شکل بنا کر خبریں سن رہے تھے۔ 

    سب کے کام بند سب کے کام رکے ہوئے تھے سو سب لائونج میں بیٹھے ٹی وی پر گزارا کر رہے تھے۔ 

    قطرینہ نے نئی ویڈیو اسٹیٹس پر لگا دی تھئ 

    گھر میں ہینڈ سینی ٹائزر بنانے کی۔۔ سادہ سی ترکیب۔ 

    60 فیصد ربنگ الکوہل Rubbing alcohal 60%

    20 فیصد گھیکوار/کوارگندل  aloe vera20% 

    20 فیصد گلیسیرین  glacerine 20%

    خوشبو دار تیل اگر خواہش ہو تو

    سب کر برابر ملا کر گھول کر بوتل میں رکھ لیں آتے جاتے ہاتھ میں مل لیا کریں۔ 

    گھر میں صرف قطرینہ کی آواز گونج رہی تھی جانے کب ٹی وی کی آواز بند ہوئی وہ جو آرام سے ہینڈ فری کانوں میں لگائے فل والیم میں ویڈیو دیکھ رہا تھا چونکا۔ اسکی ہینڈ فری کہ پن موبائل سے باہر جھول رہی تھی اور قطرینہ کی آواز براہ راست گھر والوں تک پہنچ رہی تھی۔ سب پلک جھپکائے بنا اسے دیکھ رہے تھے۔۔ 

    سب سے پہلے ابو نے گلا کھنکارا۔۔ 

    دانئ ماسک اور گلوز  پہن کر جائو اور فارمیسی سے ربننگ الکوہل تو پکڑ لائو۔۔ 

    ثانیہ کاشی اور دانی کی جان میں جان آئی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔