Blog

  • Zarurat Mand

    ضرورت مند

    انکی 28سالہ ڈاکٹر  بیٹی کا پہلا رشتہ42 سال کے رنڈوے پہلی شادی سے تیرہ سالہ بیٹے کے ساتھ اس خواہش کے ساتھ آیا تھا کہ شادی کے بعد پریکٹیس  چھوڑ دیگی کیوں کہ انکے خاندان میں نوکری پیشہ خواتین کو اچھی نظر نظر سے نہیں دیکھا جاتاہے 

    رشتہ کرانے والی نے کوائف بتاتے ہوئے انکو خوب اچھی طرح باور کرایا تھا کہ چونکہ انکی بیٹی کی عمر مروجہ شادی کی عمر سے تجاوز کر گئی ہے تو مین میخ نکلنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے الله کا نام لے کر ہاں کر دیں مگر بیگم نورین کچھ ہچکچا رہی تھیں دبے لفظوں میں عمر کی زیادتی اور بیٹے کی موجدوگی کو اعتراض کا نشانہ بنایا تو گال میں پان کی گلوری داب کر ثریا  عرف سیری خالہ نے اپنی مخصوص پاٹ دار آواز میں تقریر جھاڑ دی تھی 

    بیٹی کو ڈاکٹر بنانے میں اسکی عمر گزار دی ہے اب تو جو بھی رشتہ ملے غنیمت سمجھو آج کل کے لڑکے یا تو” خود نین مٹکا کر کے شادی رچا بیٹھتے ہیں اور جو مائیں بیٹوں کے لئے بر ڈھونڈتی ہیں وہ یونیورسٹی کالج میں پڑھنے والی لڑکیوں کی  چلتی زبانیں دیکھ کر صاف کم عمر اور خوب صورت لڑکیوں کی فرمائش  کرتی ہیں 

    ایک دو کو میں نے دلیلیں دے دے کر راضی بھی کیا تو اپنے پینتیس سالہ بیٹوں کے لئے اٹھائیس سالہ لڑکی انکو عمر میں بڑھیا لگی ایک کا بیٹا تھوڑا سا گنجا تھاسکو ڈاکٹر لڑکی ملے گی یہ لالچ دیا تو نشاط بٹیا کی تصویر دیکھ کر بولی اتنا چوڑا ماتھا ہے لڑکی کا پڑھ پڑھ کر بال کم رہ گیے ہیں. مرے پوتے پوتیاں تو گنجے ہی پیدا ہونگے “

    ثریا خالہ نے ایسا منہ بگاڑ کر اسی عورت کی نقل اتاری کہ اتنی سخت بات پر انھیں ہنسی آگئی اور ہنسی ابھی پوری طرح لبوں کو چھو بھی نہیں پائی تھی کہ آہ بھی نکل گئی 

    ان کی چاند صورت گوری چٹی بیٹی جسکی قابلیت اور لیاقت کا کوئی ثانی نہ تھا 

    MBBS 

    میں گولڈ میڈل لیا تھا پر اسکی شخصیت پر اسکا ظاہر حاوی تھا 

    اور تو اور عینک تک تو بٹیا کو لگ چکی ہے سچ پوچھو تو ہاتھ لگائو تو میلی ہوں ایسی صورت والیاں ایسے ناک نقشے کے مردوں سچ کہوں گی لڑکا کہتے شرم آئے ایسے ایسے جوڑ بنایے ہیں کہ دل رو پڑا 

    ثریا نے لوہا گرم دیکھ کے چوٹ لگی 

    بیگم نورین آہبھر کر رہ گئیں 

    پھر بھی سوتیلی اولاد کو پالنا کوئی آسان بات ہے 

    وہ حامی نہیں بھرنا چاہ رہی تھیں 

    ثریا خالہ نے گہری سانس لی 

    تیرہ سال کا ہو چکا دو چار سال میں قد نکال لےگا کونسا گھٹنیوں چلتا بچہ پالنا ہے شروع سے بچے کا جھکاؤ ننھیال کی جانب ہے دو ایک بچے نشاط بٹیا کے ہوئے تو بیٹا پس منظر میں چلا جائیگا 

    مگر نشاط تو بہت شوق سے ڈاکٹر بنی ہے اسکی پریکٹس ہی رکوا دینا چاہتے ہیں یہ تو 

    بیگم نورین دکھی ہوگئیں اورثریا بد مزا۔۔۔واحد رشتہ جوڑنے کی امید پچھلے تین مہینوں میں پیدا ہوئی تھی پر جانے لوگوں کو اتنے نخرے کیوں سوجھنے لگے ہیں بیٹیاں پڑھا رہے اب رشتے بھی ہم پلہ خوب پڑھے لکھے پیسے والے چاہیے یہ نہیں کہ بیٹی رخصت کر کے بوجھ ہلکا کریں 

    پھر تو بہن اور انتظار کرو دیکھتی ہوں مزید دو چار گھر مگر کوئی اچھی امید نہیں رکھنا .

    ڈاکٹر انجنیئر لڑکوں کو سسرال بھی خوب پیسے والا چاہیے ہوتا ہے بولی لگ رہی ہے باقاعدہ لوگ لاکھوں کا جہیز دینے کو تیار ہیں اگر لڑکے کے پاس اچھی ڈگری ہو .ویسے برا مت ماننا بٹیا کے ہم جماعتوں میں سے کسی کا رشتہ نہ آیا ڈاکٹروں کی تو آپس میں ۔۔۔۔۔۔ثریا خالہ جانے کیا گل افشانی کرنے جا رہی تھیں کہ نورین بیگم نے ناگواری سے ٹوک دیا 

    ثریا بہن کھاتے پیتے گھر کے ہیں ہم ایسے بھی گرے پڑے نہیں ہیں لڑکا اگر سیٹ نہ ہوا تو کروا دیں گے نشاط کا بھائی دبئی میں ہوتا ہے یہ ذکر کر دینا مگر اب ذرا ڈھنگ کے کنواروں کے رشتے لانا کم از کم 

    بیگم نورین کے تیور خالہ ثریا کو خائف کر گیے تھے اوپر سے مستقل آمدنی کا ذریعہ تھا انکا یہ دو سال سے سو بگاڑ ممکن نہ تھا 

    چپکی ہو کر سلام دعا کرتی چلی گیں انکے جانے کے بعد بیگم نورین تاسف سے بولیں 

    بتاؤ میری بیٹی کا شریف با کردار ہونا جرم ٹھہرا اس سے تو اچھا ہوتا نین مٹکا ہی کر لیتی کم از کم لڑکا جوڑ کا تو ہوتا ایسی پیاری صورت کی بیٹی میری کسی ہم ۔جماعت کو بھی نظر نہ آئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    صبح سے روشنا ہی نظر آئے جا رہی ہے مجھے تو لگتا ہے

    اسکی ترقی پکی ہے ہم سے تو فالتو میں انٹرویو لے رہے ہیں ایڈمن سے چوتھی بار گزرتے دیکھ رہا ہوں 

    دفتر میں انتظار کمرے میں بیزاری سے بیٹھے عدیل نے گلاس وال سے تیز تیز قدم اٹھا کر منیجر کے کمرے میں جاتی روشنا کو دکھتے بلکہ گھورتے ہوۓ جلے بھنے انداز میں اپنے ساتھ بیٹھے صارم کے کان  میں کہا تھا 

    اپنی اسناد سی وی کو چھٹی بار ترتیب دیتے صارم کے ہاتھ رکے تھے.

    صبح خوب جما جما کر استری کرکے اپنی سب سے بہتر حالت میں موجود پتلون کی کریز بٹھائی تھی شرٹ کے کالر ختم ہو رہے تھے تو اماں نے سگھڑاپادکھاتے ہوئے اندرونی جوڑ کسی پرانی شرٹ سے ٹکرے کاٹ کر لگایا تھا . سترہ پانچ سو کی نوکری میں پورے گھر کی ذمےداری اٹھاتے صارم کے لئے نئے نئے کپڑے بنوانا جوۓ شیر لانے کے مترادف تھا . ابّا ریٹائر ہو چکے تھے انکی معمولی پنشن سے دو جوان بہنوں جنکی شادی کی عمر ہو چکی  تھی کا جہیز بننا نا ممکن تھا اوپر سے مہنگائی کا بے قابو جن  صبح وہ یہاں اس پرائیویٹ فرم میں کام کرتا تھا رات میں ایک اور جگہ پارٹ ٹائم نوکری کرتا تھا سونے کے لئے اسے پورے دن میں صرف چھے گھنٹے ملتے تھے اور دو نوکریوں کے ساتھ تھکن اور محنت کے اٹھارہ گھنٹے . نا کافی نیند کی کڑواہٹ آنکھوں سے جاتی نہ تھی . ڈیڑھ سال کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد آج ذرا امید بندھی تھی کے نیے آنے والی ٹیم کا اسے سپر وائزر بنا دیا جاتا کیوں کے اسکی کارکردگی یہاں پر انٹرویو کی نیت سے بیٹھے سب امید واروں سے بہتر تھی اس ترقی سے تنخواہ میں دس ہزار کا اضافہ ہو جاتا. یہ دس ہزار اسکے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھے 

    ابھی ان سب سوچوں کے ساتھ اسکے ذہن میں واجب الادا بجلی کا بل بھی گھوم رہا تھا جسکی آخری تاریخ سر پر تھی یہاں سے تو نہیں مگر شام کو جس دفتر میں اکاؤنٹس کا شعبہ سنبھالتا تھا اسکا مالک رحم دل انسان ہے تو کیا وہ اسے پیشگی تنخواہ سے کچھ روپے ادھار دے دیگا ان ڈھیر ساری سوچوں کے درمیان عدیل نے جو کہا وہ یا تو اس نے صحیح سے سنا نہیں یا سن کر  سن سا ہو گیا تھا 

    عدیل کو اپنے حسب منشا تاثرات اسکے چہرے پر نہ ملے تو بد مزہ ہوگیا اور یہ سمجھ کر کہ شاید اسکو بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آی ہے مزید کہنے لگا 

    سننے میں آیا ہے کہ مینیجر کے آگے پیچھے پھر کر اور کئی  بار اسکے ساتھ لنچ اور ڈنر کر کے روشنا نے اسے اپنی اداؤں کے جال میں پھنسا لیا ہے یہ انٹرویو تو بس مینجمنٹ کو دکھانے کے لئے ہے در پردہ تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ ٹیم لیڈر کا عہدہ اب روشنا کو ہی ملے گا 

    عدیل جل جل کر کہہ رہا تھا صارم اسکی بات سن کےخالی خالی نگاہوں سے دیکھنے لگا

    کیسے پیٹ کاٹ کاٹ کر اسکے ماں باپ نے اسے

    MBA 

    کرایا تھا کہ اسکا مستقبل محفوظ ہو جائے اور وہ معمولی سی ایجنٹ بن کر فون سننے جیسی نوکری میں بھی ترقی کے لئے لڑکا ہونے کی وجہ سے نہ اہل قرار پانے والا تھا اسے قوی امید تھی کہ پچھلے کئی مہینوں سے بہترین کارکردگی دکھانے کے صلے میں اور گزشتہ ٹیم لیڈر کے اچانک نوکری چھوڑ کر چلے جانے پر اسکی اضافی ذمہ داریاں تندہی سے نبھانے پر اسے ترقی کے لئے سب سے زیادہ قابل ملازم سمجھا جائیگا مگر یہاں تو دراز زلفیں لہرا کر ادائیں دیکھا کر کوئی میدان مار جانے والی تھی عدیل جو خود بھی کم و بیش انہی حالات سے گزر رہا تھا سو انداز خوب جلا بھنا تھا اسکا 

    صارم نے ایک نظر عدیل کو دیکھا پھر ایک بار اڈمن روم سے دبی دبی مسکراہٹ لبوں میں دبائے نمودار ہوتی روشنا کو 

    انکا انٹرویو آج ایچ آر والے کر  رہے تھے چوتھے مرحلے کے منیجر وغیرہ مگر آخری فیصلہ یقینا انہی صدیقی صاحب کا ہونا تھا اور عین  انٹرویو والے دن بار بار ان ہی کے دفتر کے چکر لگاتی پھر سرتاپا سجی سنوری روشنا کو دو سال سے دیکھ رہا تھا خوب اندازہ تھا کس قماش کی لڑکی ہے اس نے احتیاط سے اپنی سب اسناد فائل میں ترتیب سے رکھیں اور اٹھ کھڑا ہوا 

    عدیل نے چونک کے اسکو دیکھا 

    کدھر؟ کہاں جا رہا ہے اگلی باری تیری ہے 

    عدیل نے یاد دلایا تو صارم پھیکی سی ہنسی ہنس دیا 

    کیا فائدہ……انٹرویو دینے کا 

    ویسے بھی دوسری نوکری پر جانے میں دیر ہو رہی ہے چلتا ہوں…

    …………………

    ختم شد 

    ………………….

  • Kabar Khana Urdu afsana

    مختصر افسانہ
    کباڑ خانہ 
    آج کباڑ خانے کی صفائی کی پرانے کپڑے نکالے کچھ برتن کچھ ردی لحافوں کو نکالا دھوپ لگوا لوں اچانک ہی موسم بدلے گا ایک پرانا گتے کا ڈبہ ملا کچھ پرانی کتابیں تصویریں کاغذ اور ایک خاص کتاب 
    یونہی کتاب کھولی شور مچ گیا
    کچھ یادیں بوکھلائیں 
    کچھ لفظ چیخ پڑے
    کسی کم سن کے ٹوٹے خواب تھے
    جنکی کرچیاں دل میں آن کھبیں
    گھبرا کر بند کر دی
    بھلا ایسا بھی کہیں ہوتا ہے
    کچھ پڑھ کر دل روتا ہے
    میری توبہ جو آیندہ اپنی پرانی ڈائری کھولی
    جلدی سے ڈبہ بند کیا لحاف بیچ دونگی یہ ردی کو دھوپ لگوا لوں یہ اففف کیا کہہ رہی ہوں توبہ بہت کام ہیں
    یہ برتن ۔۔۔۔اف ۔۔۔۔۔ برتن اٹھا لوں

  • Aasaibi makan |is ghar main rehne walon ka koi aik fard ghayab ho jata hay |horror urdu story

    آسیبی مکان

    گاڑی جس پرانے زمانے کے بڑی بڑی محرابوں والے مکان کے باہر رکی تھی اسے دیکھ کر آمنہ نے بڑی شکوہ کناں نگاہ شوہر پر ڈالی جو نظر چرا کر جلدی سےگاڑی بند کرتا باہر نکل کھڑا ہوا چار و ناچار اسے بھی پیروی کرنی پڑی

    گھر ارد گرد بنے نیے طرز کے خوبصورت مکانوں کے درمیان اور بھی خستہ حال لگ رہا تھا 

    سجاد گاڑی کی ڈگی سے سامان نکلنے لگا تو گھر کو پھر ایک نظر بھر کر دیکھ کر آمنہ کہے بغیر نہ  رہ سکی 

    “یہ گھر ہے جس کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟ دیکھنے میں ہی کتنا پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا مکان لگ رہا ہے “

    سجاد نے ڈگی کی آڑ میں چہرہ چھپا کر کان کھجایا 

    پڑوس کے مکان سے ایک ادھیڑ عمر آدمی اپنی دھن میں نکلا انھیں دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا 

    یار اندر سے بہت بہترین ہے سارا گھر سجا ہوا ہے ضرورت کی ہر چیز ہے اتنے کم کرایے میں فرنشڈ گھر ملاہے ورنہ پتا ہے اسلام آباد میں اتنا بڑا گھر پچاس ہزار سے کم میں نہیں ملتا

    سجاد ڈگی سے بیگ نکال کر گھوم کر آمنہ کے پاس آیا انداز اتنا پرجوش تھا کہ آمنہ کو لگا تھا ابھی یہیں ناچنا بھی شروع کردیگا 

    وہ منہ بنایے گھورتی رہی 

    تو ہمیں کیوں ملا ہے اتنا سستا؟یہ نہیں سوچا؟دیکھنے سے ہی خستہ حال لگتا ہے چھتیں گرنے کو تیار لگتی ہیں 

    آمنہ نے جتایا تو سجاد کھسیا گیا 

    اچھا اندر تو چلو ابھی گزارا کر لو ہم بدل لینگے ایک دو مہینے میں یہ گھر میرے دفتر سے قریب ہے سب سے اچھی بات تو یہ ہے 

    اس نے آگے بڑھ کر گیٹ کا تالہ کھولا آمنہ کندھے اچکا کر اندر داخل ہو گئی سجاد گاڑی کے پاس سے بڑا سا بیگ اٹھا کر گھر میں داخل ہونے لگا ابھی پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا وہ بری طرح چونک کر مڑا 

    کھچڑی سفید بالوں والے براق سفید شلوار قمیض میں ملبوس زمان صاحب

    بہت گھبرائے ہوۓ انداز میں دیکھ رہے تھے 

    اسلام و علیکم میرا نام سجاد ہے میں 

    سجاد نے بیگ  رکھ کر گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا 

    وعلیکم السلام میں زمان ہوں  

    زمان صاحب نے بیتابی سے بات کاٹ دی تھی “یہ گھر آپ نے خریدا  ہے ؟

    سجاد مسکرا دیا 

    نہیں انکل یہ ہم نے کرائے پر لیا ہے 

    یہاں پنڈی اسلام آباد میں ہی رہتے ہو؟

    وہ نجانے کیا جاننا چاہ رہے تھے 

    نہیں میں کراچی سے یہاں ٹرانسفر ہو کے آیا ہوں

    کہتے ساتھ ہی سجاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ایک انجان شخص کو بتا دیا کہ پردیسی ہوں اس نے دانتوں تلے زبان دبا لی 

    وہی تو 

    زمان صاحب کا اندازہ درست نکلا تھا 

    یہ گھر اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ پنڈی اسلام آباد کے لوگ تو اس مکان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے 

    آپ انجان ہیں اس شہر میں جبھی بھٹی صاحب نے آپکو یہ مکان ٹکرا دیا ہے 

    انکے بنا لگی لپٹی رکھے کہنے پر سجاد کی پیشانی پر الجھن کی شکن پڑی

    کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپکی بات؟

    زمان صاحب گہری سانس لے کر سجاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “یہ مکان فورا چھوڑ دو یہ آسیب زدہ ہے یہاں کوئی دو تین دن سے زیادہ نہیں رہ پاتا سامان تک چھوڑ کر لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے اور جو یہاں رہ بھی گیا اسکے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد پر اسرار طریقے سے غایب ہو جاتا ہے 

    سجاد نے غصے سے انکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا 

    کیا بکواس ہے یہ میں نہیں مانتا ان فضولیات کو ہمیں بھٹی صاحب نے بتایا تھا کہ یہاں رہنے والا خاندان اپنی عزت  بچانے کیلئے ایسی کہانی بنا کر کہیں چلا گیا کیوں  کہ انکی  اپنی بیٹی رات کو گھر سے بھاگ گئی تھی 

    اسکی بات پر زمان صاحب بے  چین  ہو اٹھے  

    میں یہاں تیس سال سے رہ رہا ہوں وہ بچی میری بیٹی کی سہیلی تھی میری آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی تھی 

    یہ گھر بھی ٹھیک تھا اسکو دوبارہ تعمیر کرا نے کے لئے فرقان صاحب نے صحن کے بیچ میں لگا درخت کٹوا دیا تھا میری بچی اور وہ بچی اسی درخت پر جھولا ڈال کر جھولتی تھیں مگر جب درخت کٹ گیا تو عجیب واقعات ہونے لگے انکے ساتھ 

    سجاد انکی فضول باتوں کو اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا سو بات کاٹ کر ہاتھ اٹھا کر بولا 

    بس کیجیے انکل مجھے ان فضولیات پر یقین نہیں ہے پرانے مالک مکان کی بچی گھر سے بھاگ گئی یا غائب ہوگئی مجھے دلچسپی نہیں ہے 

    اسکی بیزاری پر بھی زمان صاحب نے بات جاری رکھی یوں لگتا تھا وہ خوف زدہ ہیں ایک ہی سانس میں سب بتا دینا چاہتے ہیں

    انکی بیٹی اپنی دادی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے میری بچی بھی ساتھ تھی اس بچی کے پاس رات کو ٹھہری تھی رات کو اس نے بھی دیکھا کہ بچی کی دادی اسے بلانے آئیں وہ انکے ساتھ صحن میں گئی مگر جب اسے گیۓ کافی در ہو گئی تو میری بچی اسے ڈھونڈتی صحن میں آئی تو صحن میں کوئی نہ تھا اور جب وہ اندر کمرے میں گئی تو بچی کی دادی بےخبر سو رہی تھیں 

    سجاد نے بد تمیزی کی انتہا کرتے ہوئے سر جھٹکا اور انکی بات کے درمیان ہی بیگ اٹھا کر اندر جانے لگا تھا مگر زمان صاحب پھولی سانسوں کے ساتھ تیز تیز قصّہ سناتے چلے گئے سجاد انکی باتوں پر یقین نہیں کر رہا تھا مگر آخری بات پر ٹھٹکا اور فطری تجسس سے مجبور ہو کر پوچھ بیٹھا 

    پھر؟

    دادی نے کہا کہ وہ تو نہیں بلانے آیئ تھیں بہت تلاشا پھر انہوں نے بچی کو کیا کیا حربہ نہ اپنایا مگر بچی کا سراغ نہیں ملا ایک عامل نے بتایا کہ اس درخت پر جنات کا خاندان آباد تھا درخت کاٹنے سے انکا نقصان ہوا ہے اور وہ بدلے کے طور پر اس گھر سے ایک فرد لے گیۓ ہیں اب یہ گھر انکا ہے جو یہاں آ رہے گا یہ اس پرحاوی 

    انکی کہانی سے متاثر ہونے ہی لگا تھا کہ بھٹی صاحب کی بات یاد آئی اپنے پڑوسیوں سے محتاط رہیے گا بہت شر لوگ ہیں اس گھر پر نظر ہے انکی جو اس گھر میں آتے ہیں لوگ انکو الٹی سیدھی کہانیاں سناتے ہیں مقصد یہی ہے کہ یہ گھر کم داموں پر میں تنگ آ کر انکو بچ دوں اب کروڑوں کی پراپرٹی …

    زمان صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا 

    آپ مرے گھر رہ لیں جب تک دوسرا انتظام نہ ہو آپکو خطرے کا اندازہ نہیں ہے یہاں بوائز ہوسٹل بھی کھلا تھا دس پندرہ لڑکے تھے ایک دن سب رات کو چیختے ہوئے بھاگے تھے کہتے تھے انکا ایک دوست انکے دیکھتے دیکھتے غایب ہو گیا ہے 

    سجاد شش و پنج میں پڑ گیا انکا اصرار حد سے زیادہ تھا 

    آخر انکو اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دینا ایسا بھی کیا تھا اس گھر میں کہ 

    تبھی اندر سے آمنہ کے چیخنے کی آواز آئ بات ادھوری چھوڑ کر دونوں اندر لپکے آمنہ دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی 

    ایک موتی تازی بلی صحن میں رکھی اینٹوں اور ٹوٹی کرسی کو پھلانگتی سجاد پر غراتی صحن کے کھلے دروازے سے باہر نکل گئی 

    میں اندر کمرے میں جا رہی تھی کہ نجانے کہاں سے بلی سامنے آگئی تو میری چیخ نکل گئی 

    آمنہ شرمندہ ہوتے ہوئے بتانے لگی پھر سوالیہ نظروں سے زمان صاحب کو دیکھنے لگی 

    زمان صاحب الجھن بھری نظر سے کبھی آمنہ کو کبھی گیراج میں کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے 

    یہ ہمارے پڑوسی ہیں زمان انکل یہ میری بیوی ہے آمنہ 

    سجاد نے مارے باندھے تعارف کروایا 

    کیا ہوا بیٹی کیوں گھبرا گیں ؟

    وہ شفقت سے پوچھ رہے تھے 

    وہ بلی سے ڈر گئی تھی نکل گئی باہر 

    سجاد کو کوفت سی ہی عجیب ہی سے خبطی انسان ہیں پھر تھوڑا سختی سے بولا 

    ابھی آپکے سامنے سے تو گزر کر گئی ہے باہر چلو آمنہ اندر چلو 

    انکی جرح سے اکتا کر اس نے کندھے سے پکڑ کر آمنہ کا رخ گھر کی جانب کیا دونوں بنا انکو اندر آنے کی دعوت دے اندر چلے گیۓ مگر زمان صاحب برا مانے بغیر الجھن سے سر جھٹک کر باہر نکل آئے 

    انکی بڑ بڑ ا ہٹ واضح تھی 

    مگر میں نے تو کوئی بلی نہیں دیکھی 

    ………………………………………………….

    آمنہ گنگناتے ہوئے باورچی خانے میں چائیے بنا رہی تھی دونوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا تھا باقی گھر کی صفائی ستھرائی کل سے شروع کرنی تھی تبھی چپکے سے ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کوئی اسکے پیچھے آ کھڑا ہو گیا 

    آمنہ نے مسکرا کر چائے کپ میں نکالی اور دو کپ کی ٹرے میں رکھ کر اٹھائی  اور آرام سے کہتی مڑی

    مجھے پتا ہے یہ آپ چپکے سے پیچھے آ کھڑے ہوئے ہیں میں اب نہیں ڈرتی جناب 

    مڑتے ہی آمنہ کی اوپر کی سانس اپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی ہاتھ سے 

    ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی پیچھے کوئی نہیں تھا 

    چند لمحے تو اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی اتنا شدید دھوکہ تو اسے پہلے کبھی نہ ہوا  تبھی سجاد کمرے سے بولتا ہوا نکلا سیدھا اسکے پاس چلا آیا 

    لو بھئی آمنہ خوش ہو جاؤ تمہارا لاڈلا بھائی آرہا ہے رہنے تمہارے پاس پرسوں آیئیگا پورے دو مہینے کے لئے جب تک اسکی چھٹیاں ختم نہیں ہو جاتیں اب تو نہیں گھبراؤ گی اکیلے رہنے میں؟

    سجاد اپنی دھن میں بول رہا تھا مگر آمنہ کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں 

    کیا ہوا ایسے بت بن کے کیوں کھڑی ہو؟

    اسنے چٹکی بجائی تبھی اسکی نظر سامنے کھلے نل پر پڑی تو اسے ٹوکتا ہوا اسے بند کرنے بڑھ گیا 

    کیا لاپرواہی ہے آمنہ فل ٹونٹی کھلی ہویی تھی ابھی سارا پانی بہہ جاتا ٹنکی خالی ہوجاتی 

    اسکے کہنے پر آمنہ نے مڑ کر دیکھا تو ٹونٹی واقعی کھلی ہی تھی 

    آمنہ حیران رہ گئی پانی گرنے کی آواز کافی تھی 

    مگر میں نے تو .. یہ تو بند تھی 

    سجاد اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا 

    ڈھیلی ہوگی ہوگی کافی عرصے سے تو بند ہے یہ مکان ہاں کل ٹنکی صاف کروا کر بھروائی ہے میں نے کافی بڑی ہے 

    کہتے ہوئے اسکی ٹرے سے سجاد نے دونوں کپ اٹھا لئے اور کچن کی بتی بجھاتا اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا چائے سائیڈ میز پر رکھ دی آمنہ بے دھیانی میں خالی ٹرے اٹھائیے چلی آئ تھی

    چلو چائیے پیئیں 

    یہ چاہیے کا رنگ تھوڑا عجیب سا نہیں ہے 

    چائے کا کپ اٹھا کر وہ حیرت سے بولا آمنہ نے آگے بڑھ کر چائے دیکھی تو واقعی رنگ عجیب مٹیالا سا سرخی مائل تھا 

    سجاد نے چائے چکھی پھر برا سا منہ بنایابہت بد مزہ چائے ہے لگتا ہے یہاں کا دودھ ٹھیک نہیں کل سے ڈبے کا دودھ لیکر آئوں گا ۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔

    کپ میز پر رکھتے ہوئے وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔

    بے دھیانی سے بیڈ پر بیٹھتے آمنہ  نے ٹرے کی جانب نگاہ کی تو ٹرے کے خوش رنگ پھولوں پر گری ہوئی چائے اتنی خونی رنگ کی تھئ کہ جیسے ٹرے پر خون ہی گرا ہوا ہو۔ اس نے گھبرا کر ٹرے بیڈ پر رکھ دی ۔تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھئ۔ پھرڈرتے ڈرتے ٹرے کو دوبارہ دیکھا تو ٹرے پر چائے بھی نہیں گری ہوئی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح حسب معمول خوشگوار تھی۔ انہیں کراچی کی نسبت یہاں کا معتدل موسم بے حد اچھا لگ رہا تھا۔ آمنہ صبح اٹھ کر باہر صحن میں ہی ٹہلتی رہی تھی۔ صحن کے بیچوں بیچ بڑا سا گھنا درخت اس پر لٹکتا جھولا ۔۔ اس کو بچپن ہی یاد آگیا کافی دیر اس جھولے پر جھولتے اسے کافی سرور ملا تھا ۔۔ سجاد کے اٹھنے کا وقت ہوا تو جلدی جلدی ناشتہ بنا کر میز جھاڑ کر سجا دی۔ آملیٹ پراٹھے بھاپ اڑاتی گرم گرم چائے اور مسکراتی ہوئی تازہ دم سی دکھائی دیتی آمنہ۔ سجاد کا موڈ بھی ایکدم سے اچھا ہو گیا تھا۔۔ 

    گرم گرم پراٹھے کا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا ۔۔ اسکے اتائولے پن پر آمنہ ہنس دی۔ پھر نخرے بھرے انداز میں بولی۔۔ 

    جلدی آجائیئے گا میں اکیلی اتنا بڑا گھر ۔ وقت بھی نہیں گزرے گا میرا۔۔

    اسکے انداز پر سجاد مسکرا دیا پھر تسلی دینے والے انداز میں بولا

    یار پہلا دن ہے دفتر کا نا جانے باس کیسا ہو آج کا تو وعدہ  نہیں کر سکتا تم ایسا کرو گھر کی صفائی وغیرہ کر لو کافی دھول مٹی ہے کھانا باہر سے آرڈر کر لینا اور پھر بھی وقت نہ گزرے تو آس پڑوس میں چلی جانا۔۔۔ 

    پھر خیال آیا تو منع بھی کرنے لگا

    یہ بائیں جانب والے گھر تو بالکل مت جانا کل جو انکل آئے تھے نا وہیں سے آئے تھے بہت عجیب سے تھے ایویں فالتو باتوں کا وہم ڈال دیں گے۔۔

    آمنہ اسکے پھا پھا کٹنیوں والے انداز پر کھلکھلا دی۔

    بالکل پھاپھا کٹنی کی طرح کہا ہے۔ ویسے کیا کہہ رہے تھے ایسا ؟ مجھے تو ڈرے ہوئے لگے تھے جیسے ہم دونوں بھوت ہوں 

    آمنہ ہنسی

    سجاد نے ایک نظر اسکے متبسم چہرے پر ڈالی پھر سر جھٹک دیا

    بس الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے۔وہی جو بھٹی صاحب نے قصہ سنایا تھاکہ یہاں بچی رہتئ تھی وہ گھر سے بھاگ گئ تو گھر والوں نے مشہور کر دیا کہ اسے ہوائی مخلوق لے گئ ہے۔

    آمنہ نے چائے کا گھونٹ بھرا پھر تاسف سے کہنے لگی

    بے چارے بدنامی سے بچنے کو اور کیا کہتے آجکل تو بچے کیبل دیکھ کر آپے سے ہی باہر ہو گئے ہیں ایک ہم تھے بابا نے جب تک بڑے نہ ہوگئے گھر میں ڈش کیبل لگوا کر نہ دیا

    ۔

    سجاد نے ناشتہ ختم کر کے ساتھ رکھا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور اٹھ کھڑا ہوا 

    ہاں بس یہی حالات ہیں چلو میں چلتا ہوں کوشش کروں گا کہ جلدی آجائوں تم گھر فون کر لینا امی کو یاد سے اور پریشان نہ ہونا دل گھبرائے تو ۔۔ 

    اس نے شرارت بھرے انداز میں مسکرا کو چھیڑا

    اپنی اس موٹی سہیلی کو فون ملا لینا۔۔ 

    ثمیرہ نام ہے اسکا ۔ موٹی مت کہا کریں

    حسب توقع وہ بھنا کر چیخی ۔

    سجاد زور سے ہنسا تو اسے بھی ہنسی آگئ ۔سجاد گاڑی نکال کر اسے ہاتھ ہلاتا گیا تو وہ احتیاط سے گیٹ بند کر کے صحن میں چلی آئی۔ ارد گرد دو تین منزلہ گھروں کی وجہ سے دھوپ بس اوپری دیوار تک ہی آرہی تھی ۔ اس نے اس خنک ماحول کو گہری سانس بھر کے اپنے اندر جزب کیا پھر بڑے شوق سے دوبارہ جھولے پر جا بیٹھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکی سردی سے آنکھ کھلی  تھئ۔ جھر جھری لیکر وہ سیدھی ہوئی تو بیڈ پر لیٹی تھی۔۔ اس نے سر کھجایا۔۔ جانے کب وہ آکر یوں بے خبر سو گئ۔۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ گئ تو شام کے 7 بج رہے تھے۔۔ 

    وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔ 

    کھانا منگوانا تو اب ممکن نہیں تھا ۔ گروسری کا سامان تو دو دن پہلے سے سجاد نے لا رکھا تھا۔۔ وہ خود ہی کچھ پکانے کا ارادہ کرکے کچن میں چلی آئی۔ سجاد کو بڑا گوشت پسند تھا ۔ آلو بھی رکھے تھے وہ آلو گوشت ہی بنانے لگی۔۔ 

    آمنہ۔۔ سجاد نے کافی اونچی آواز لگائی تھی۔۔ 

    جی۔ وہ لمحے بھر کا توقف کیئے بنا ہی جواب دے گئ۔۔ پھر ٹھٹک سی گئ۔۔ یہ کب آئے۔۔ وہ حیران سی ہو کر چولہا دھیما کرتی باورچئ خانے سے باہر نکل آئی۔۔ لائونج خالی پڑا تھا۔۔ 

    سجاد۔ اس نے پکارا مگر جواب ندارد تھا۔۔ وہ لائونج کے دروازے پر آئی تووہ بھی اندر سے لاکڈ تھا۔۔ 

    سجاد۔ اگر آپ مزاق کر رہے تو بھونڈا مزاق ہے یہ۔۔ 

    وہ گھبرا سی گئ تھی۔۔ 

    آپ آگئے ہیں جلدی؟

    کمرے کے کھلے دروازے سے اسے تیزی سے کوئی گزرتا دکھائی دیا۔۔ 

    ایک تو یہ بچپنا نہیں چھوٹے گا۔ پتہ ہے میں اکیلے میں گھبراتی ہوں پھر بھی تنگ کرنا ہے مجھے۔۔ ہونہہ۔  

    وہ بڑ بڑاتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی تبھی بڑے زور سے دستک ہوئی لائونج کے دروازے پر۔۔ 

    وہ کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوئی لائونج کا دروازہ کھولنے چلی آئی۔ایک پیاری سی تیرہ چودہ سال کی بچی سر پر دوپٹہ رکھے ہاتھ میں  کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر ادب سے سلام کیا

    اسلام و علیکم میرا نام مریم ہے یہ ساتھ والے گھر سے آئی ہوں وہ آپکا مین گیٹ کھلا تھا تو اندر چلی آئی۔ یہ امی نے بھجوایا ہے۔۔ 

    اس نے ٹرے آگے بڑھائی۔۔ 

    وعلیکم السلام کوئی بات نہیں آئو اندر تو آئو میں آمنہ ہوں۔ 

    آمنہ نے بھی گرمجوشی سے اسے دعوت دی۔ گرم گرم بریانی وہ بھی بھر کر۔  وہ دل ہی دل میں انکے اخلاق کی قائل ہوئی۔۔ 

    نہیں بس وہ برتن دے دیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔

    لڑکی جانے کیوں سراسیمہ سی ہوگئ۔ 

    ہاں دیتی ہوں برتن اندر تو آجائو میں تمہیں آئسکریم کھلاتی ہوں 

    اس نے لالچ دیا۔

    نہیں آپی وہ بابا منع کرتے ہیں مجھے یہاں آنے کو۔ابھی بھائی گھر میں نہیں تھا تو امی نے مجھے بھیج دیا مگر بابا کو پتہ لگا تو ڈانٹیں گے مجھے آپ بس برتن لا دیں میں یہیں ہوں۔

    وہ ہتھیلیاں مسلتی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔ آمنہ نے پھر اصرار نہیں کیا۔پلٹنے ہی لگی تھی کہ مریم کی گھبرائی سی آواز آئی۔ 

    آپی آپکے کچن سے دھواں اٹھ رہا ہے آگ تو نہیں لگ گئ۔ 

    مریم کے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو واقعی کافی دھواں اٹھ رہا تھاوہ ٹرے اٹھائے بھاگتی ہوئی کچن میں آئی تو دیکھا ہنڈیا کے نیچے آنچ پوری تھی۔پوری ہنڈیا جل چکی تھی۔مریم بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔ ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر کھانستے ہوئے آمنہ نے ایگزاسٹ فین چلایا چولہا بند کیا پچھلے صحن کا دروازہ کھولا۔

    دھواں بہت ذیادہ تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔ 

    دھوئیں دھوئیں میں اچانک آمنہ سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ پلٹ کر مریم کو دیکھ کر غرائئ

    کہا تھا نا تمہیں یہاں مت آنا۔۔ سمجھ نہیں آتی میری بات۔۔ 

    مریم گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔ 

    آپ۔ آپ نے ہی تو بلایا۔۔ وہ خوف کے مارے پیلی پڑ گئ تھی۔ 

    جائو نکلو یہاں سے دوبارہ مت آنا یہاں سمجھیں۔۔ 

    آمنہ حلق کے بل چلائی۔۔ تھر تھر کانپتی مریم الٹے سیدھے قدم اٹھاتئ باہر بھاگی۔۔

    اف کیسی غلطی ہوئی سارا کھانا جل گیا۔ بروقت آئی ہو تم بھئ۔ اب ہم دونوں میاں بیوی یہی کھائیں گے۔۔ 

    خوشگوار انداز میں کہتی وہ مڑی تو مریم وہاں نہیں تھی۔ دھواں چھٹ چکا تھا وہ حیران ہو کر کچن سے نکلی تو مریم کو بھاگتے ہوئے لائونج کے دروازے سے نکلتے دیکھا 

    ارے کیا ہوا۔۔ مریم۔۔ برتن تو لیتی جائو۔  

    اسکی آواز سن کر مریم نے بنا مڑے اور تیزی سے دوڑ لگا دی تھی۔گیراج کے کھلے دروازے سے سجاد گاڑی اندر کر رہا تھا مریم گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر رکی نہیں باہر بھاگ گئ۔سجاد حیران سا گاڑی پارک کر کے باہر نکلا۔ 

    آمنہ بھی حیران سی لائونج کے دروازے پر کھڑی اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گئ۔ 

    تم کیا اس بچی کو مار رہی تھیں۔ اتنا کیوں گھبرائی ہوئی ہے؟

    آمنہ خود اچنبھے میں تھی۔

     پتہ نہیں کیا ہوا اسے بریانی لیکر آئی تھی۔اس سے باتوں میں لگ کر میری ہنڈیا جل گئ شائد دھواں دیکھ کر گھبرا گئ۔۔

    آمنہ نے تفصیل سے بتایا تو سجاد ہنس پڑا

    یعنی ہم اب باہر ڈنر کریں گے۔کھانا ہی جلا دیا تم نے 

    اس نے چھیڑا تو آمنہ اسکا بیگ لیکر بتانے لگی 

    نہیں کافی ساری بریانی بھجوائی ہے پڑوسیوں نے ہم دونوں آرام سے کھا لیں گے۔

    دونوں باتیں کرتے اندر چلے آئے۔ 

    اور کیسا گزرا دن میرے بن 

    سجاد گنگنایا۔۔ 

    آمنہ کھلکھلا دی

    بہت اچھا۔۔ صفائی وفائی کچھ نہیں کی بس آرام سے جھولا جھولتی رہی پھر سوگئ۔۔ 

    آمنہ کا رخ کچن کی جانب تھا۔ سجاد نے مسکراتی نظروں سے لائونج کو دیکھا کل کی نسبت آج چمک رہا تھا ۔۔ 

    جھولا کہاں جھولتی رہیں۔ 

    اسے یہی لگا مزاق کر رہی ہے۔ 

    وہ جو صحن میں لگا ہے درخت کے نیچے۔ وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر کچن میں چلی گئ۔ 

    وہ مڑ کر دروازہ بند کرنے لگا تو صحن کا منظر واضح تھا۔۔ 

    صاف ستھرا پکا فرش۔ وہاں نہ کوئی درخت تھا نہ جھولا۔۔

    وہ مسکرا دیا۔۔ یقینا سارا دن کام کرنے کے بعد اب وہ طنز کر رہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کرنے لگا۔۔ 

    طنز کر رہی ہو آمنہ۔ آج میری بیگم نے بہت کام کیا سو آج رات کو میں اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پلائوں گا۔۔ 

    کچن میں بریانی کو پلیٹوں میں نکالتی آمنہ ٹھٹکی

    سجاد تو ابھی میرے سامنے اندر آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ملگجے سے اندھیرے میں جھولا جھول رہی تھی۔

    اسے یاد نہیں تھا کہ وہ صبح صبح یہاں آئی تھی یا رات کو۔ 

    اچانک اسکی پینگ اونچی ہونے لگی۔

    وہ ڈرنے سی لگی۔ اوپر بہت اوپر جاتی نیچے آتی تو ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی گھورتی نظر آتی۔

    ایک چکر پر نظر آتی دوسرے پر نہیں۔

    اس نے چیخنا شروع کردیا۔ جھوکا آہستہ ہوا وہ اچھل کر کود گئ۔۔ گھٹنے چھل گئے وہ گھٹنا سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی

    وہی لڑکی عین سامنے کھڑی تھی

    کیوں آئی ہو یہاں۔۔ چلی جائو ۔۔ سمجھیں جائو یہاں سے۔۔ ورنہ یہیں رہ جائوگئ۔۔ 

    سمجھ رہی ہو میری بات؟۔۔۔

    وہ عجیب بھرائی آواز میں چلا رہی تھی۔۔ یوں جیسے اسکا گلا بیٹھا ہو ۔۔ 

    آمنہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہوئی۔۔

    وہ لڑکی بدستور چلا رہی تھی وہ ڈر کر پیچھے ہٹی وہ لڑکی ایکدم یوں چپ ہوئی جیسے اسے نجانے کیا نظر آرہا ہو آمنہ کے عقب میں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے سجاد کھڑا تھا ۔۔وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئ تو وہ لڑکی جیسے ہوش میں آکر چلائی

    دور ہو جائو اس سے

    یہ لے جائے گا ساتھ سن رہی ہو تم میری بات

    وہ سجاد سے لپٹ کر رو دی۔

    سجاد نہ سمجھنے والے انداز میں اسے  اپنے ساتھ لگائے پوچھ رہا تھا

    کیا ہوا آمنہ اتنی خوفزدہ کیوں ہو؟ 

    سجاد وہ وہ لڑکی۔ اس نے مڑ کر اشارہ کیا تو اب وہاں کوئی نہ تھا۔ 

    تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟ 

    چلو اندر۔  وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لایا تھا۔  

    بیڈ پر بٹھاکر سائیڈ لیمپ جلایا جگ سے پانی نکال کر اسے دیا۔ وہ پسینے پسینے ہو رہی تھی گلا بے حد خشک ہو رہا تھا ایک ہی سانس میں وہ سارا پانی پی گئ۔۔ 

    وہ وہ لڑکی تھی باہر جھولا جھول رہی تھی میں تو وہ۔۔ 

    ٹوٹے پھوٹے انداز میں اس نے بتانا چاہا تو سجاد مسکرا کر ٹال گیا۔۔ 

    رات کے تین بجے صحن میں جھولا جھولو گی تو کچھ الٹی سیدھی مخلوق ہی نظر آئے گی نا؟ 

    آمنہ اسکی بات پر چونک کر وال کلاک دیکھنے لگی تین بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔۔ 

    مگر میں تو ۔۔ اسے جانے کیوں یاد نہیں آرہا تھا وہ کب صحن میں گئ۔ وہ تو گیارہ بجے بستر پر سونے لیٹی تھی۔۔ 

    اسکی پیشانی الجھن بھری لکیروں سے بھر گئ۔ 

    چلو سو جائو۔  سجاد نے اسے زبردستی لٹا دیا۔ شل زہن کے ساتھ وہ لیٹتے ہی غنودہ ہونے لگی۔ وہ اسکا شانہ تھپک کر چادر اڑھا رہا تھا جب باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔ سجاد تولیہ سے ہاتھ پونچھتا ہوا آیا ۔۔آمنہ کا بازو بستر سے لٹک رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سیدھا کیا۔۔ غنودہ زہن میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ یہ لمس مانوس ہے مگر اس سے پہلے والا۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سجاد کو حسب عادت سی آف کرنے گیٹ تک آئی سجاد گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب آمنہ کی نظر صحن پر پڑی۔گاڑی اسٹارٹ کرتے سجاد کو یاد آیا۔ 

    اچھا سنو میں دفتر سے لنچ بریک میں اٹھ کر باری کو لینے چلا جائوں گا تم کھانا تیار رکھ لینا ہم اکٹھے دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 

    آمنہ ایک ٹک صحن پر نگاہ جمائے تھی۔ 

    اسکی بے توجہی محسوس کرے وہ پھر بولا۔ 

    سن رہی ہو۔۔ 

    آمنہ چونکی۔پھر پسنجر سیٹ سے اندر جھانک کر بتانے لگی

    سجاد رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا میں نے۔ اس درخت کے جھولے پر میں  بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی آئی مجھے کہنے لگی بھاگ جائو ورنہ وہ تمہیں ساتھ لے جائے گا۔

    آمنہ پریشان تھی۔ سجاد نے الجھن سے دیکھا صحن میں تو کوئی درخت نہیں تھا۔ مگر وہ اسے پریشان کیا کرتا خواب میں تو کچھ بھی نظر آتا ہے۔ 

    خواب سے ڈر رہی ہو پاگل لاحول پڑھنا تھا۔ خواب میں تو کچھ بھئ نظر آسکتا اور اسکے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں ۔ کل نماز نہیں پڑھئ تھی کیا؟ 

    اسکے پوچھنے پر اس نے شرمندگی سے نفی میں سر ہلایا۔  

    سجاد نے تاسف سے دیکھا آمنہ کا منہ اترا ہوا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اسے ترس آگیا۔ سو  بہلانے والے انداز میں بولا۔۔ 

    آج ضرور پڑھنا۔ آیت الکرسی پڑھ کر پھونک لو خود پر۔ اور مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری نیند بھی پوری نہیں ہوئی جائو سوجائو تھوڑی دیر۔ اٹھ کر کھانا بنا لینا بلکہ باری بھی فاسٹ فوڈ شوق سے کھاتا ہے میں باہر سے ہی کھانا لیکر آئوں گا۔ ٹھیک ہے۔

    آمنہ چپ رہی سر ہلا دیا۔ سجاد نے گاڑی ریورس کی مسکرا کر خدا حافظ کہتے گاڑی نکال کر لے گیا۔ 

    آمنہ گیٹ بند کرنے لگی تو ساتھ والے گھر سے زمان صاحب کو مریم کو سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھاتے دیکھ کر چونکی۔ مریم کے بال براق سفید ہو رہے تھے ۔۔ 

    ابھی کل۔۔ وہ بری طرح چونکی۔۔ 

    ایک ادھیڑ عمر عورت بھی انکے ساتھ تھی۔۔ 

    اس نے مخاطب کرکے خیریت پوچھنا چاہی مگر وہ بے حد جلدی میں تھے تیزی سے بیٹھ کر چلے گئے۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔    

    وہ کمرے میں آکر لیٹ گئ۔  آیت الکرسی پڑھ لوں۔ اس نے سوچا مگر اسکا ذہن اتنا غنودہ ہو چلا تھا کہ پڑھ نا سکی۔۔ 

    بے خبر سوگئ۔۔ جانے کتنی دیر سوئی ہوگی جب اسے کچھ آوازیں سنائی دیں۔جیسے بچے کھیل رہے ہوں۔ 

    شور اتنا ذیادہ تھا کہ اسکی آنکھ کھل گئ۔ کمرے میں شدید گھٹن تھی۔ اسکا حلق بھی خشک ہو رہا تھا۔۔ وہ سن سے ذہن کے ساتھ جیسے کسی ٹرانس میں اٹھی اٹھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹایا باہر جھانکا تو کچھ بچے کھیل رہے تھے فٹ بال اچھالتے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھےایک بچی جھولا جھول رہی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر دیکھا تو مریم تھی۔ مریم نے مڑ کر اسے دیکھا پھر خوشدلی ہاتھ ہلا کر اسے بھی بلانے لگی ۔ وہ مسکرا دی۔ 

    شکر ہے اب طبیعت ٹھیک ہے اسکی۔ 

    اسے صبح واقعی فکر ہوئی تھی۔ 

    آج بھی گیٹ کھلا رہ گیا کیا جو یہ بچے اندر چلے آئے۔وہ باآواز بلند سوچتی کھڑکی بند کرکے مڑی تو سامنے وہی خواب والی لڑکی کھڑی کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھی۔

    آمنہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی۔ وہ لڑکی دو قدم آگے بڑھ کر غرائی

    سمجھ نہیں آتی بات تمہیں۔ کہا تھا نا بھاگ جائو وہ لے جائے گا تمہیں بھی۔  اٹھو جائو نہائو نماز پڑھو

    وہ آگے بڑھی تو آمنہ پیچھے ہٹتی لڑکھڑا کر گر بھی گئ۔۔ 

    اٹھو۔۔ وہ اگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا رہی تھی۔خوف کے مارے آمنہ کی آواز بند ہونے لگی۔تبھی اسے سجاد نے پکارا دھیمی سی آواز مگر کہیں قریب سے ہی

    آمنہ۔۔

    سجاد۔ وہ آواز پہچان کر قوت سے چلائی۔۔ 

    آمنہ باہر آئو۔ جلدی

    ۔ سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا۔۔

    لڑکی کے چہرے پر خوف سا در آیا۔

    مت جواب دو مت جائو رک جائو۔۔ 

    وہ کہہ رہی تھی آمنہ نے ساری ہمت مجتمع کی اور بھاگ کھڑی ہوئی

    سجاد لائونج کے دروازے پر کھڑا تھا   

    آمنہ ہانپتی کانپتی اسکی جانب بڑھی تبھی لڑکی ایکدم اسکے سامنے آگئ۔  

    رک جائو مت جائو میرے ساتھ اندر چلو۔۔

    آمنہ اسے دیکھ کر دہشت زدہ رہ گئ۔۔ 

    آئو آمنہ۔۔ سجاد نے پھر پکارا ۔ آمنہ لڑکی کے پاس سے ہو کر باہر بھاگی سجاد اب دروازے پر نہیں تھا۔ وہ بھاگتی باہر آئی تو صحن سنسان پڑا تھا۔نہ بچے تھے نہ مریم۔ سجاد گھبرایا ہوا گیٹ کے پاس بے چینی سے کھڑا باہر جھانک رہا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آگئ۔سجاد نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔  گھبراہٹ کے مارے اسکی حالت بری تھی۔مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی لائونج کے دروازے پر کھڑی گھور رہی تھی۔ 

    تم ٹھیک کہہ رہی تھیں آمنہ یہ لڑکی یہیں رہتی ہے۔ یہ گھر ٹھیک نہیں ہمیں فورا یہاں سے نکلنا چاہیئے۔ 

    سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا آمنہ نے سجاد کا ہاتھ تھاما اور اسکے ساتھ گھر سے باہر نکل گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دروازہ کھلا باری نے دونوں گیٹ پٹ کھولے سجاد نے دھیرے سے گاڑی اندر کی باری اتنے میں گھوم کر گھر کر جائزہ لینے لگا۔۔ 

    سجاد گاڑی کی بیک سیٹ سے کھانے پینے کا سامان نکالنے لگا

    سجاد بھائی گھر تو شاندار ہے پرانی فلموں میں ہوتا ہے ایسا گھر آپی بتا رہی تھیں جھولا بھی ڈال رکھا ہے۔ کل جب بات ہوئی تو جھولا ہی جھول رہی تھیں۔

    جھولا کہاں ڈل سکتا ہے ؟ ہاں اگر تمہاری آپی کو بہت شوق ہے تو اسٹینڈ والا جھولا ڈال لیں گے صحن میں جگہ تو کافی ہے ۔۔

    سجاد نے کہا تو وہ منہ بناتے بولا

    پچھلے صحن کی بات کر رہی ہوںگی پھربتا رہی تھیں درخت کے نیچے جھولا ڈال رکھا ہے ۔آپی نے کل وعدہ لیا مجھ سے 

    کہ انکو پینگ دینے کی ذمہ داری ہے میری۔۔

    اسکی بات پر سجاد نے ٹھٹک کر دیکھا۔۔مگر بولا کچھ نہیں

    چلو اندر چلیں صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا آمنہ نے خوب بھوکی ہو رہی ہوگی۔۔ 

    آمنہ۔ سجاد پکارتا اندر کی جانب بڑھا تو باری نے بھی پیروی کی۔

    صحن میں لگے درخت کے نیچے جھولا جھولتی آمنہ بے تاثر چہرے کے ساتھ ان دونوں کو دیکھتی رہی۔ پھر پینگ لینے لگی۔۔

    آمنہ آمنہ۔  کہاں ہو۔۔ سجاد پکار رہا تھا

    آپی آپی۔۔ باری بھی اسے ایک ایک کمرے میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔

    پہلے آرام سے ہھر پریشانی سے دونوں چیخ چیخ کر پکارنے لگے تھے۔۔۔ 

    آمنہ کی پینگ اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی تھی۔

    اندر دونوں نفوس دیوانہ وار پکار رہے تھے۔ آمنہ کا فون بج رہا تھا۔۔

    اندر کمروں کے دروازے کھل بند ہو رہے تھے۔۔ 

    آمنہ نے اونچی سی پینگ لی آخر میں جھولا خالی واپس آیا تھا۔۔۔

    ختم شد۔۔   

        

    https://urduz.pk/kafan-posh-murday-seerhion-per-thay-sachi-daroni-aap-beeti
    kafan posh murday dekhay sachi aap beetian perhiyay
    https://urduz.pk/ajeeb-ul-khalqat-wajood-darwazay-per-khara-thasachi-daraoni-aap-beetimaryam-faisal
  • Mungtay (maangnay walay) urdu suspense afsana about graveyard (qabrustan)

    منگتے۔۔۔ 


    جھٹپٹے کا وقت۔ اندھیرا برق رفتاری سے اپنے پر پھیلا رہا تھا ۔شہر خموشاں میں مہیب چپ طاری تھی ۔ پر

    دور کہیں ایک نوجوان ایک قبر پر بے سدھ اوندھا پڑا تھا۔ دور کہیں کتے بھونکے تھے ۔ سناٹے نے ناگواری سے اس آواز کے منبع کو گھورا ۔ بے ہوش 
    پڑے انسان کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھی
    قریبی مسجد سے مولوی نے گلا کھنکھار کر اذان دینا شروع کی۔
    اللہ و اکبر ۔مدہوش پڑے جسم میں یوں حرکت ہوئی جیسے خدا کے نام سے سوکھے تنوں میں جان پڑگئ۔ گہری سانس لیکر عابد اٹھ کھڑا ہوا ۔
    ایک اور دن تمام ہوا۔ اسکی توانائی اتنی سی بڑبڑاہٹ میں پوری ہو چلی۔ اس نے گہری سانس لیکر اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی ۔اور پوری جان لگا کر پکار بیٹھا۔۔ 
    کوئی ہے جو مجھ پر رحم کرے۔۔۔ ؟؟؟

    کلمہ شہادت۔۔ 
    کسی نے اونچی آواز میں پکارا۔ جنازہ اٹھائے لوگوں کا ایک گروہ چلا آرہا تھا۔ غمگین چہرے بھرائی آواز میں کلمہ شہادت دھراتے ۔دور تازہ کھدی قبر بنانا گورکن ہوشیار ہوا۔ پھائوڑا رکھ کر مئودب ہو کر کھڑا ہوگیا۔  ہر آتا جنازہ اسے دنیا کے فانی ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ ایک دن یہیں کوئی اور کھڑا میری قبر کھود رہا ہوگا۔ خیال زور آور تھا۔ خوفناک بھی۔ پہلو بدل کر گورکن  نے اپنی سوچوں سے پیچھا چھڑانا چاہا۔لوگوں نے۔ جنازہ قبر کے قریب لاکر احتیاط سے رکھا۔ اور دفنانے کی تیاری کرنے لگے۔

    عابد ان سب پر نظر جمائے ایسا ہی ایک وقت یاد کر رہا تھاجب اسکی نظر لوگوں سے کچھ دور ہٹ کر کھڑے شخص پر پڑی۔ ملول اداس سا وہ جنازے پر نظر جمائے کھڑا تھا۔عابد اسکے پاس چلا آیا اسکے قریب جا کر کندھے پر ہاتھ رکھا تب جاکے وہ چونکا
    عابد نے دوستانہ انداز میں دیکھتے ہوئے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔ 
    اسلام و علیکم کیا حال ہے؟ میرا نام عابد ہے اور آپکا؟۔۔
    جہانگیر بے ساختہ ہنس دیا۔اسکی ہنسی میں کاٹ سی تھی۔ 
    سلامتی بھیج رہے ہو؟ اب مجھے ضرورت نہیں ۔۔ جہانگیر کہتے ہیں مجھے۔ عابد مسکرا دیا۔ ہر نفس سلامت رہتا ہے کبھی قبرستان کے پاس سے گزرتے بھی زی نفسوں کو سلام کیا جاتا ہے اسلام و علیک یا اہل قبور۔۔ اور وہ جواب دیتے ہیں۔۔ 
    جہانگیر زندوں اور مردوں کی اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔ بائیں ٹانگ پر جسم کا بوجھ ڈالتا پہلو بدل کر یونہی بیزاری سے جنازہ دفن ہوتے دیکھتا رہا۔اسکے روکھے پھیکے انداز پر عابد کافی حیران ہوا۔اسکی توانائیاں بحال ہوئی تھیں مگر بہت زیادہ نہیں سو وہیں تھک کر ایک قبر پر بیٹھ گیا دونوں بازو گھٹنوں پر ٹکائے ۔خود بھی جنازے پر نگاہ جما دی۔۔ 
    چند لمحے گزرے ہونگے اسے خیال آیا تو رخ موڑ کر جہانگیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    تمہیں مجھ سے کچھ پوچھنا نہیں ہے؟
    عابد کے کہنے پر جہانگیر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خود بھی جیسے کھڑا کھڑا تھک چکا تھا آکر اسی کے برابر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
    اب مجھے کچھ جاننے کی احتیاج نہیں ہاں بتانے کی خواہش ہے زمان و مکاں کی حیثیت قدر قیمت سب بتائوں گا کوئی پوچھے تو سہی۔
    اسکی بات پر عابد قہقہہ لگا کر ہنسا تو ہنستا ہی چلا گیا۔” کوئی کچھ نہیں جاننا چاہتا ہے نہ پوچھنا چاہتا ہے اسی خواہش میں میں بھی روز اس قبرستان کا چکر لگاتا ہوں مگر لوگ خود تجربہ کرکے جاننا چاہتے ہیں نہ ہم سے پوچھتے ہیں نہ دیکھ کر عبرت لیتے ہیں۔
    ہنستے ہنستے رک کر وہ بہت سنجیدگی سے کہتا کہتا رنجیدہ ہوچلا تھا۔۔جنازہ دفن ہو چکا تھا قبر کی مٹی برابر کر دی گئ تھی لوگ پلٹنے لگے تھے ایک شخص قبر سے لپٹ کر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔چند لوگ دلاسے کو آگے بڑھے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا کوئی گلے سے لگانے لگا۔صبر کرو جو اللہ کو منظور۔ 
    یقینا اسکا مرنے والے سے قلبی رشتہ تھا عابد نے تجسس سے مغلوب ہو کر جہانگیر کوٹہوکا دیا۔
    یہ کون ہے؟لگتا ہے اسے بہت صدمہ ہوا ہے۔
    جہانگیر نے متاثر نہ ہونے والے انداز میں سر جھٹکا ۔چھوٹا بھائی ہے میرا۔ تین سال سے ہماری بول چال بند ہے۔ جائداد کی تقسیم پر اس نے مجھ پر حق سے زیادہ غصب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اب ایسےرو رہا ہے جیسے۔۔ 
    بولتے بولتے جہانگیر کے دل سے ہوک سی اٹھی جملہ ادھورا چھٹا آنسو گالوں پر ڈھلک آئے۔عابد نے سمجھ کر دلاسادینے والے انداز میں اسکے کندھے پر تھپکی دی۔ 
    یہی تو خون کی کشش ہوتی ہے ماں جائے کو تکلیف پہنچتی ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ تین سال پہلے میرا بھائی مجھ سے ملنے آیا تھاٹانگ پر پلستر تھا بیساکھی اور بھتیجے کے سہارے آیاتھا۔  اسے دیکھ کر تڑپ اٹھاتھا میں ضرورت کیا تھی اسے اتنی صعوبت جھیلنے کی مگر مجھے بھولا نہیں خود تکلیلف میں مگر مجھ سے ملنے آیا۔ اتنی محبت کرتا ہے مجھ سے
    اسکے انداز میں کہتے کہتے تفاخر عود آیا آنکھوں میں وہ منظر یوں تازہ تھا جیسے کل کی بات ہو۔جہانگیر کو اچنبھا ہوا۔
    تین سال؟ تین سال سے تم سے ملنے تمہارا بھائی بھتیجا وغیرہ نہیں آئے اور تم کہتے ہو وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔۔ 
    عابد اسکی حیرانی پر مسکرا اٹھا۔۔
    محبت نہ کرتا تو یوں بیمار حال ملنے آتا مجھ سے؟ ہاں مصروف زندگی ہونگے زندگی کتنی تو تیز رفتار ہے کہاں روز روز پیچھے چھٹ جانے والوں کا خیال آتا ہے۔ کبھی کبھی آجائے بہت ہے۔مرنے والوں کو تووقت ٹھہرا ہے یا تیز چل رہا ہے کیا پتہ۔۔
    جہانگیر ابھی بھی ماننے کو تیار نہ ہوا۔
    پھر بھی تین سال بڑی مدت ہوتی ہے۔عابد اسکی حیرانی سمجھ رہا تھا یہ وہ منزل ہے جہاں حیرانیاں ہی حیرانیاں منتظر ملتی ہیں سمیٹے جائو۔۔ مگر بولا تو بس اتنا “انکیلئے۔۔ ہمارے لیئے تو پلک جھپکنے جتنا وقت ہے”
    جہانگیر نے خاموشی میں پناہ لی۔ دور روتے لوگوں میں اسکا بھائی نمایاں تھا ابھی بھی بلک رہا تھا۔ 
    جہانگیر تلملایا۔ روئے جا رہا ہے سالا مرے گا پہلے ہی دل کا مریض ہے”
    عابد نے پھر محظوظ قہقہہ لگایا۔ 
    سہہ چکا یہ صدمہ اسکا دل۔۔ کوئی نہیں مرتا کسی کے لیئے۔البتہ تم اب تل تل مروگے ان لوگوں کو دیکھنے کیلئے بھی۔۔ جائو آخری بار دیکھ لو جی بھر کر کچھ تو اب دوبارہ کبھی نظر نہ آئیں گے۔
    جہانگیر کے بھائی کو چند لوگ سہارا دے کر قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے۔ 
    ایسا نہیں ہو سکتا۔ 
    جہانگیر کو اسکا قہقہہ اسکا انداز اسکے جملے سب ناگوار لگے مگر جانے اب اتنا غصہ وہ آگ وہ چڑ جو اسکی ذات کا خاصہ تھی زات کے کس کونے میں جا چھپی تھی۔ بولا تو انداز پر سکون سا تھا۔۔ 
    نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ بہن بھائیوں میں سب سے پہلی موت ہے میری دور و نزدیک سب ہی تو آئے ہیں۔مجھے دفنا کر اتنا رو رہے مجھے بھول تھوڑی جائیں گے۔ بہت وسیع حلقہ احباب ہے میرا سب رشتے دار نہیں تھے جو آئے میرے ہی کتنے دوست۔۔ 
    جہانگیر کافی ہشاش بشاش اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا خود کو بولتے بولتے عابد کا  ستا ہوا چہرہ دیکھا تو چپ ہو رہا۔ وہ اسے جتانا تھوڑی چاہ رہا تھا یہ تو بس حقیقت بیان کی تھی اس نے۔۔۔ عابد اسے رشک بھری نگاہ سے  دیکھ رہا تھا۔ صاف شفاف آر پار دکھائی دیتی روح۔ حسد جلن جیسے جزبے تو موت کے ساتھ ہی مر چکے تھے۔ اب کیا مقابلہ کون کتنا چاہا جاتا کتنا دھتکارا جاتا۔ اب تو بس مٹھی بھر اعمال تھے جو زاد راہ تھے کسی کی ہتھیلی بھری کسی کی خالی جس کی بھری وہ سمیٹے ہتھیلی خالی ہونے کے خوف سے کانپتا خالی ہتھیلی والا بس صبر سے اپنوں کا انتظار کرتا کچھ دعائیں ڈال جائیں یہ منزل آسان ہو جائے۔
    تمہاری پہلی رات ہے گھبرانا مت ۔ویسے خوش نصیب ہو جو اتنے ہشاش بشاش ہو لوگوں کی دعائیں  ساتھ ہیں۔ میں تو سڑک حادثے کا شکار ہوا تھا۔شناخت ممکن نہیں تھی۔ دو دن بعد گھروالوں کو اطلاع ہوئی تو میری لاش وصولنے آئے ۔عابد کا انداز ایسا تھا جیسے کسی اور کے بارے میں بتا رہا ہو۔ بے تاثر عام سا لہجہ۔ جہانگیر نے اسکی شکل پر دکھ تلاشنا چاہا مگر وہ مطمئن نظر آتا تھا۔۔ 
    جہانگیر کو ترس پھر بھی آیا۔ 
    کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیر سے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔۔ 
    عابد اسکی نظریں خود پر جمی دیکھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ 
    جہانگیر نے گڑبڑا کر موضوع بدلا
    میں نے سنا ہے پہلی رات بہت مشکل ہوتی یے قبرستان میں؟ واقعی؟ تمہاری پہلی رات کیسی تھی؟
    عابد گہری سانس لیکر کھڑا ہوگیا۔۔ 
    قبرستان اب خالی ہو چکا تھا گورکن بھی اپنا پھائوڑا اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتا قبرستان سے نکل رہا تھا۔ ہر طرف دل کو دہلا دینے والی چپ کا راج تھا سناٹا اندھیرا۔۔ 
    عابد نے چند لمحے سوچا۔۔ 
    لفظوں میں کیا بیان ہو سکتی ہے اس دن کی وہ کیفیت؟ جہانگیر اب بھی منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے جملے ترتیب دیئے پھر ایک اور آہ بھر کے کہنے لگا۔
    تنہا اکیلی اداس دہشت ناک اذیت ناک اپنوں سے دور اس اجاڑ بیابان میں تنگ اندھیری سی قبر کیسی ہو سکتی؟
    اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر جہانگیر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
    دس سال سے ہوں یہاں مگر آج تک پہلی رات نہیں بھولا جب یاد آئی پوری جزئیات کے ساتھ ایک ایک لمحے کی یاد  
    وہ کہہ کر رکا نہیں ۔۔
    جہانگیر کا رواں رواں ہمہ تن گوش تھا۔ ایک خوف کی اجنبی لہر نے پھریری سی دوڑا دی تھی۔ 
    مگر یہ عابد۔۔ اس نے اب غور کیا۔ اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی وہ بہت نحیف اور کمزور دکھائی دیتا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زمان و مکاں انکیلئے کوئی اور ہی گھمن پھیریاں چلا رہا تھا۔ ایک دن گزرا مہینہ چالیسواں ہو گیا۔ عابد کی ایک بات سچ ثابت ہوئی سب نہیں آئے چالیسویں پر بھی کتنے ہی عزیز دوست اقارب وہ تلاشتا رہا۔ وہ نہیں آئے جن کا دکھ دیکھ کر لگتا تھا کہ شائد وہ غم کے مارے جلد اسکے پڑوس آبسیں گے۔ تو وہ وہ لوگ بھی آئے جن کے بارے میں گمان تھا کہ شائد جنازے پر خوشی سے شادیانے بجائیں گے۔ اتنے ملول نظر آئے کہ اپنے گمان پر پشیمانی ہونے لگی۔ مگر ابھی لوگ بھولے نہیں تھے اسے۔ جہانگیر اب بھی خوش تازہ دم دکھائی دیتا تھا۔ گالوں پر سرخی تھی۔ محبتوں سے مالا مال وہ جب عابد کو اپنی ہی قبر کا سہارہ لے کر اٹھتے دیکھتا چہرے پر نیرگی زمانہ کی دھول مٹی سے اٹے کپڑے پیلے زرد چہرے سے وہ نقاہت سے لڑکھڑاتا جب بھی جہانگیرسے نظر ملتی خوش دلی سے ہاتھ ہلاتا پھر بازو پکڑ کر وہیں بیٹھ رہتا۔ جہانگیر ترس بھری نگاہ سے دیکھتے پوری کوشش کرتا کہ جہانگیر انکو پڑھ نہ پائے مگر روح تو آئینے جیسی ہوتی ہے پردے کون ڈال سکتا بھلا چالیسویں کے بعد  لوگوں کا آنا کافی کم ہوگیا تھا۔ہاں ابھی وہ اپنوں کی دعائوں میں زندہ تھا۔۔سو خوش تھا۔۔ مگر کب تک؟۔وقت گزر رہا تھا اسکی توانائیاں کم ہونے لگی تھیں۔ اب وہ پہلے سا ہشاش بشاش نہیں رہا تھا۔ قبرستان میں لوگوں کی آمد جاری و ساری تھی مگر سب اجنبی شکلیں۔نئے آنے والوں تک جانےکی ہمت نہ رہی پڑوس میں تو سب جیسے مرےپڑے تھے۔پڑے تھے بھی یا کہیں اور کا راستہ ناپ چکے تھے۔ بس ایک قریب عابد ہی کھانستا نظر آجاتا تھا۔۔ یہی حال رہا تو جلد اسکا حال بھی عابد جیسا ہی ہوجانا تھا۔۔۔اس نے جھر جھری سی لی۔ اسے سردی سی محسوس ہو رہی تھی بلکہ سرد مہری ذیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کسی ننھے بچے کی طرح خود کو سمیٹ سکیڑ کر قبر سے ٹیک لگائے اکڑوں سا بیٹھ رہا تبھی کوئئ اوکے پاس آکھڑا ہوا۔ اس نے دھیرے سے سر اٹھایا ۔ 
    عابد تھا  آج تو جہانگیر سے بہتر حالوں میں  دکھائی دیتا تھا۔گرم چادر اوڑھے۔ 
    سردی لگ رہی ہے؟۔
    جہانگیر نے کانپتے ہوئے سر ہلایا۔ وہ اپنی چادر پھیلا کر اسے بھی گھیرے میں لیتا ہوا پاس بیٹھ گیا۔۔ 
    یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی؟۔ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
    میرے بھائی نے میرے نام سے کچھ اشیاء خیرات کی ہیں۔میرا بھائی مجھے بھولا نہیں ہے
    عابد کا انداز جتانے والا نہیں تھاسادہ سا تھا ۔
    ہاں محسوس کی جانے والی یاسیت تھی۔ جہانگیر کے دل پر بوجھ آن گرا۔
    میرا بھائی لگتا ہے مجھے بھول گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج پھر کسی کی آمد کی تیاری تھی۔ دور گورکن نئی قبر کھود رہا تھا۔بیچ دوپہر تھی قبر پر سایہ بھی نہیں تھا تیز دھوپ سیدھا گورکن کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔لال بھبھوکا چہرہ محنت سےچمکتے پسینے کے قطرے۔۔۔زندگی کی علامت۔ جہانگیر اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔اب اسکا حال بھی عابد جیسا ہوچکا تھا۔ چہرے سے برسوں کا بیمار نظر آتا تھا۔
    کیا ہے اس گورکن کے چہرے پر تھکن پریشانی اور۔  وہ سوچ میں پڑا۔
    ہاں زندگی ہے۔۔ 
    تبھی کسی نے گرم جوشی سے اسکا کندھا دبایا اور دھپ سے پاس آن بیٹھا
    جہانگیر نے چونک کر گردن موڑی عابد تھا۔ آج تو عابد کی چھب ہی نرالی تھی۔ صاف ستھرے سفید براق لباس میں نک سک سے تیار چہرے پر بشاشت صحتمندی کی سرخی۔جہانگیر حیران ہی رہ گیا۔
    اسکی حیرانگی دیکھ کر عابد کھل کر مسکرادیا۔
    پھر سامنے گورکن کو دیکھ کر بولا 
    لگتا ہے تمہارے لیئےکسی نئے پڑوسی کی آمد کا انتظام ہو رہا ہےاچھی بات ہے تم میرے بعد تنہائی محسوس نہیں کروگے
    جہانگیر چونک گیا
    تمہارے بعد؟تم کہیں جا رہے ہو؟
    عابد آج بہت خوش دکھائی دیتا تھا۔ 
    ہاں وقت پورا ہو گیا میرا۔ ان سب کی طرح اب میرا بھی جانے کا وقت آگیا۔ اس نےانہی اجاڑ قبروں کی جانب اشارہ کیاتھا۔
    میرے بھائی نے میرے لیئے قبول حج کیا ہے۔میری سزا مئوخر ہوئی اب میں اگلی منزل کی تیاری میں ہوں۔جہانگیر کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ آئی اپنے ہی کہے الفاظ یاد آئے
    کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیرسے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔
    سوچوں سے پیچھا چھڑاتے اس نے بڑے خلوص سے مبارکباد دی۔
    بہت بہت مبارک ہو اللہ اگلی منزل بھی آسان کرے ۔انسانوں نے تو بڑی راہ دکھائی۔ خدا تو آسانیاں ہی دے گا۔
    اسکے چہرے ہر سچی خوشی تھی۔عابد کھل کر مسکرادیا۔
    اللہ تمہاری منزلیں بھی آسان کرے گا۔ اچھا اب میں چلتا ہوں اور دیکھو کیا بروقت تمہارے لیےدوسرے ساتھ کی آمد ہوئی ہے۔
    عابد کے کہنے پر اس نے سامنے دیکھا چند لوگ جنازہ اٹھائے قبرستان میں داخل ہورہے تھےان سے پرے ایک شخص سر جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چلا آرہا تھا۔
    اللہ حافظ۔ 
    عابد کہہ کر جنازے کی جانب بڑھ گیا۔ یہ اسکی عادت تھی اب تک ہر آنے والے سے اس نے عابد کو یونہی ملتے دیکھا تھا گرمجوشی۔ سے۔
    جہانگیر وہیں بیٹھا دیکھتا رہا۔ جاتے جاتے عابد نے نووارد کے کندھے پر تسلی دینے والے انداز میں تھپکا ۔ لمس اتنا ہلکا پھلکا تھا کہ نوواردکو محسوس بھی نہ ہوا عابد یونہی ہوا میں دیکھتے دیکھتے اوجھل ہوا۔
    تو سب یہاں سب دیکھ بھی نہیں سکتے۔ آج جہانگیر پر انکشاف ہوا اسکے گرد اتنا سناٹا کیوں تھا۔ اسکی پڑوس کی قبروں کے مکین کہاں مر چلے تھے۔جو نظر نہ آتے تھے یہ 
    کہ اب اسکا مرحلہ بھی اگلا ہے۔ وہ اپنی زمہ داری سمجھتا اٹھ کھڑا ہوا رخ نووارد کی جانب تھا لوگ با آواز بلند کلمہ شہادت کا ورد کرتے جنازہ دفنا رہے تھے۔ نووارد چپ چاپ قبر پر نگاہ جمائے تھا۔
    جہانگیر اسکے پاس والی قبر پر ٹک کر بیٹھتے ہوئے بولا
    اسلام وعلیکم میرا نام جہانگیر ہے اور آپکا؟
    نووارد نے چونک کر دیکھا پھر بے تابی سے اسکو کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب رخ موڑا بلکہ جھنجھوڑ ڈالا 
    سنو تم کب سے ہو یہاں؟ کیسی جگہ ہے یہ؟ میں نے بہت کچھ سنا ہے اسکے بارے میں کیا وہ سب سچ ہے؟ پہلی رات کیا واقعی بھیانک ہوتی ہے؟
    بولو نہ جواب دو۔
    جہانگیر نے بمشکل اسکے بازو پکڑ کر اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔آرام سے دھیرج رکھو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    اسے نظروں سے ٹٹولتے ہوئے جہانگیر نے اسکے بازو 
    آرام سے پیچھے کیئے سنبھل کر بیٹھا ۔
    نظریں دور جنازہ دفناتے لوگوں پر تھیں کوئی قبر سے لپٹا رو رہا تھا۔  مالک کے سوال ختم نہ ہوئے تھے
    تم کب سے ہو یہاں۔؟
    جہانگیر نے آہ بھرئ۔6 سال ہورہے ہیں مجھے
    مالک نے بے تابی سے پوچھا۔
    ملنے آتے ہیں اپنے؟
    قبر پر بیٹھا رونے والا دھاڑیں مار رہا تھا۔
    جہانگیر  نے نگاہ چرائی
    دو سال پہلے بھتیجا آیا تھا سنا ہے بھائی کی طبیعت خراب ہے اسلیئے آنہیں سکا۔
    زیر لب بڑبڑایا
    روحیں تو جھوٹ بھی نہیں بول سکتیں
    مالک نے پھر پوچھا
    تو تمہارے گھر والے ایصال ثواب کیلئے کچھ کرتے؟
    جہانگیر نے پھر آہ بھری
    زندوں کے سو جھمیلے کہا ں فرصت مجھے یاد میں خود بزرگوں کیلئے سال میں ایک آدھ بار کبھی زکر نکل آنے پر فاتحہ پڑھ دیتا تھا یا خیرات کردیا کبھی کون روز روز یہ کام کرتا ہےزندگی میں

    جہانگیر کا انداز استہزائیہ تھا۔ وہی کچھ ملے گا جو کچھ دوگے۔۔ 
    مالک سٹپٹایا
    میں نے تو زندگی میں بس ایک بار داداجی کے چالیسویں پر سپارہ پڑھا تھا اب جانے میرے لیئے کون کچھ۔۔ 
    قبر سے لپٹ کر رونے والے کو لوگ اٹھا کر اب قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے جہانگیر نے بات کاٹ دی
    سنو تم آخری بار ان سب سے مل آئو۔پھر جانے ان میں سے کسی سے دوبارہ ملنا ہو نہ ہو
    مالک پہلے تو سمجھا نہیں پھر سر ہلاتا انکی جانب بڑھ گیا
    قبرستان کے داخلی در پر کھڑا ایک ایک کو اپنے لیئے آنسو بہاتا دیکھتا خوش ہوتا رہا سب چلے گئے تو مڑ کر جہانگیر کودیکھا
    جہانگیر اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ خود جہانگیر کے برعکس بہت بہتر حال میں تھاجہانگیر نظریں ملنے پر بھر پور انداز میں مسکرایامگر اسکے چہرے کی زردی نمایاں تھی۔ وہ خود تو فی الحال دعائوں کے حصار میں خود کو چاق و چوبند محسوس کر رہا تھامگر یہ جہانگیر۔۔ اس نے تاسف سے سوچا
    میرے ساتھ تو لوگوں کی دعائیں ہیں اسلیئے بہتر حالوں میں ہوں یہ بے چارہ کیسا بد نصیب ہے کوئی دعا میں یادنہیں کرتا جیسے اسے دفنا کے بھول ہی گئے ہیں۔۔۔


    ختم شد


    written by vaiza zaidi {hajoom e tanhai}

  • Amal short urdu story عمل مختصر افسانہ

    مختصر افسانہ
    عمل

    گھر میں داخل ہوتے ہی نہ جانے کیوں پارہ آسمان سے باتیں کرنے لگا
    حالانکہ معمول سے ہٹ کر کچھ بھی نہ ہوا تھا
    ان کے گھر میں داخل ہوتے ہی انکی کم عمر بیوی بھاگ کر ان کے لئے شربت بنا کر لائی تھی
    پھیکا لگا انھیں سارا دن کی محنت مشقت کے بعد پھیکا شربت موڈ غارت ہی کر گیا جھڑک کر اسے دوسرا گلاس بنانے کو کہا
    کمرے میں آ کر سیدھا نیم دراز ہو کر انہوں نے گلاس خالی کیا رومانہ دوسرا گلاس لے آئی انہو نے مزید غصہ کرنا مناسب نہ سمجھا حسب عادت رومانہ ان کے قدموں میں بیٹھ کر جوتے موزے اتارنے لگی
    کھانے میں کیا بنایا ہے؟
    مرغ پلاؤ ہلکی سی آواز میں جواب ملا
    پچھلی بار کی طرح نمک تو تیز نہیں کر دیا ایسا بدمزہ کھانا زندگی میں کبھی نہیں کھایا تھا جیسا تم پکاتی ہو
    رومانہ خاموش رہی
    صبح سے کوئی کام کیا یا نہیں میں کہا تھا میری کالی شلوار قمیض دھو کر رکھنا واسکٹ بھی کل پہن کر جانا ہے میں نے
    دھو دیا منحنی سی آواز
    استری کر کے لٹکا دینا نہانے کا پانی گرم کر دیا
    اس بار جواب ملا یا نہیں ان کے پاس وقت نہیں تھا رومانہ نے سلیپر لا کر سامنے رکھے تو وہ فورا باتھ روم میں گھس گیے
    نہا دھو کر نیا کر کرتا پہن کر نکھرے نکھرے باہر نکلے تو رومانہ کھانا کمرے میں ہی لا کر لگا چکی تھی
    بیڈ پر دراز ہو کر پلیٹ اپنے سامنے کھسکائی نمک کم ہے نمک دانی لا کر دو
    رومانہ جو نوالہ اٹھا چکی تھی پلیٹ مے رکھا اٹھ گئی
    کھانے کے دوران سارے دن کی روداد سنائی اور کھانا دنیا کا پھیکا ترین کھانا قرار دے کر چایے کی فرمائش کر دی
    واسکٹ تو دھلی نہیں پلٹیں اٹھا کر جاتے جاتے رومانہ کو یاد آیا
    ہاں تو ابھی چائ
    کھانے میں کیا بنایا ہے؟
    مرغ پلاؤ ہلکی سی آواز میں جواب ملا
    پچھلی بار کی طرح نمک تو تیز نہیں کر دیا ایسا بدمزہ کھانا زندگی میں کبھی نہیں کھایا تھا جیسا تم پکاتی ہو
    رومانہ خاموش رہی
    صبح سے کوئی کام کیا یا نہیں میں کہا تھا میری کالی شلوار قمیض دھو کر رکھنا واسکٹ بھی کل پہن کر جانا ہے میں نے
    دھو دیا منحنی سی آواز
    استری کر کے لٹکا دینا نہانے کا پانی گرم کر دیا
    اس بار جواب ملا یا نہیں ان کے پاس وقت نہیں تھا رومانہ نے سلیپر لا کر سامنے رکھے تو وہ فورا باتھ روم میں گھس گیے
    نہا دھو کر نیا کر کرتا پہن کر نکھرے نکھرے باہر نکلے تو رومانہ کھانا کمرے میں ہی لا کر لگا چکی تھی
    بیڈ پر دراز ہو کر پلیٹ اپنے سامنے کھسکائی نمک کم ہے نمک دانی لا کر دو
    رومانہ جو نوالہ اٹھا چکی تھی پلیٹ مے رکھا اٹھ گئی
    کھانے کے دوران سارے دن کی روداد سنائی اور کھانا دنیا کا پھیکا ترین کھانا قرار دے کر چایے کی فرمائش کر دی
    واسکٹ تو دھلی نہیں پلٹیں اٹھا کر جاتے جاتے رومانہ کو یاد آیا
    ہاں تو ابھی چائے کے بعد دھو کر ڈال دینا صبح تک سوکھ جاییگی
    بلکہ استرے سے سوکھا دینا صبح لائٹ ہو نہ ہو استری رات کو کر کے سونا
    رومانہ سر ہلا کر پلٹنے لگی تو جانے کیا خیال آیا
    آپ کو کل جانا کہاں ہے؟
    پروفسسر محمّد حلیم سیدھے پاؤں پھیلا کر اپنی داڑھی میں انگلی چلاتے بولے
    ایک تعلیمی ادارے میں اسوہ رسول صلہ الله وسلم پر لیکچر دینا ہے

    written by vaiza zaidi

  • gul yaad rahain gay na chaman yaad rehay ga


    گل یاد رہیں گے ،نہ چمن یاد رہے گا 
    ایک فصل بہاراں کا چلن یاد رہے گا


    بھولیں گے نہ خوشبوؤں کے رنگین جنازے 
    پھولوں پہ تبسم کا کفن یاد رہے گا 

    ناقدری صاحب نظراں اور ذرا دیر
    یہ مقتل بے دارو  رسن یاد رہے گا 

    یہ غلغلہ بے ہںراں چار  گھڑی اور 
    البتہ زمانے کا یہ فن یاد رہے گا 

    موسم تو بدلنا ہے بدل جایے گا اک روز 
    زخموں کا تر و تازہ چمن یاد رہے گا 

    ہے گرچہ وطن میں بھی غریب الوطنی سی 
    یارو ہے وطن پھر بھی وطن یاد رہے گا 

    گو دور کے جلوے ہی سہی اپنا مقدر 
    خوشبو سی نظر، گل سا بدن یاد رہے گا 


    از قلم زوار حیدر شمیم 

  • ada shanaas hay dil kesay yeh ada na lagay


    ادا شناس ہے دل ، کیسے یہ ادا نہ لگے

    وفا کا نام نہ لے اور وہ بے  وفا نہ لگے 

    نہ چھیڑ، مجھ کو نہ چھیڑ ، اے شمیم غنچہ نشین 

    تجھے بھی مرے گریبان کی ہوا نہ لگے 

    ادا وہ کیا جو نہ ٹھہرے پیام فصل جنوں 

    کرم وہ کیا جو کلیجے پہ تیر سا نہ لگے 

    اڑاؤ  جیب و گریبان کی دھجیاں ورنہ 

     لگے سراغ بہار گریز پا ، نہ لگے 

    عدو کا دل بھی جلے شاخ آشیانہ کے ساتھ 

    وہ ڈھنگ کر کہ قفس رشک آشیانہ لگے 

    شمیم آہوں سے دیتے ہیں داغ دل ہوا 

    لگے سراغ نسیم بہار ، یا نہ لگے 
    از قلم زوار حیدر شمیم

    https://desikimchi.com/missing-the-other-side-season-two-first-episode-urdu-review/

  • dildaarian raheen na dil azaariaan raheen

    دلداریاں رہیں ، نہ دل آزاریاں رہیں 
    خود داریاں وبال تھیں ،خود داریاں رہیں 


    جب تیرے ساتھ ایک زمانہ عزیز تھا 
    پھر تو خود اپنے اپنے آپ سے بیزاریاں رہیں 


    لمحوں میں ماہ و سال گزرنے کے دن گیے 
    اب ایک زندگی کی گرانباریاں  رہیں 


    لہرائیں وہ گھٹائیں ، نہ وہ چاندنی کھلی 
    گو پھر بھی رات رات کی بیداریاں رہیں 


    دوش صبا پر تار گریبان اڑے پھرے 
    موسم میں گل سے دور بھی گلباریاں رہیں 


    رنگ خزاں نے اور بھی چمکائے دل کے داغ 
    جاتی ہوئی بہار کی گلکاریاں  رہیں


    شکر گناہ شوق کہ جی بھر کے جی لئے 
    اب ایک زندگی کی گنہگاریاں رہیں 


    ٹوٹ کوئی سترہ کہ پھوٹی نئی کرن 
    یا صرف داغ دل کی شرر باریاں رہیں 


    اک اہ سرد فصل شباب جنوں کے نام 
    پھر ہم نے ہوش کھویے نہ ہوشیاریاں رہیں 


    یہ دل بھی جل بجھے  گا اگر اور کوئی دن 
    یہ شام بے چراغ یہ بے یاریاں رہیں 


    ارباب نظم ضبط کی حد سے گزر گیے 
    نا ظورہ غزل کی طرح داریاں رہیں 


    رسمی سی دھڑکنیں ہیں اب اور دل ہے اے شمیم
    دلداریاں رہیں نہ دل آزاریاں رہیں


    از قلم زوار حیدر شمیم

    https://desikimchi.com/nida-yasir-and-waqar-zaka-recent-issue-full-story-explained/
    NIDA YASIR AND WAQAR ZAKA RECENT ISSUE FULL STORY EXPLAINED
  • door tak be merhri e yaraan kay afsanay gayay


    دور تک بے مہری یاران کے افسانے گیے
    ورنہ کیا تھا ہم اگر دکھ میں نہ پہچانے گیے

    دل دکھا پا مالی گلشن سے ویرانے گیے 
    اب بہار آیے نہ یے اب تو دیوانے گیے 

    ہم کو تو آواز دی ایک شوق رسوا نے گیے 
    اپ کس تقریب میں حضرت صنمخانے گیے 

    راستے بھر تھی ایک انبوہ خرد منداں کی دھوم 
    منزل داد رسن تک چند دیوانے گیے 

    بزم ساقی بھی کہاں شین رنداں رہ گئی 
    چند کمظرفوں کو ہاتھوں ہاتھ پیمانے گیے 

    ہے وفا بھی جرم ؟ اچھا ! جرم یہ ہم سے ہوا 
    ہم گر نادم نہیں مجرم جو گردانے گیے 

    جو نہ سمجھے کیوں ہے ، کیا ہے ، زندگی کی دھوپ چھاؤں 
    سایہ گیسو میں اس گتھی کو سلجھانے گیے 

    آپ کچھ سمجھے شمیم دلزدہ کا جذب شوق
    آپ بھی تو ایک دن حضرت کو سمجھانے گیے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

    https://desikimchi.com/moon-in-the-day-first-impression-urdu-review/
    Kdrama urdu reviews
    https://urduz.com/phurteeli-heroin-episode-1/
    urdu mazahiya kahani phurteeli heroin
  • shikwon kay sath lab pe tera naam hi tau hay

    شکووں کے ساتھ لب پہ ترا نام ہی تو ہے 
    ہے تو سہی مذاق وفا ، خام ہی تو ہے 

    وہ ، دور افق پہ ، ہی ابھی دھندلی سی ایک کرن 
    اے دل ذرا ٹھہر کہ ابھی شام ہی تو ہے 

    ہم، تم سے دور رہ کے بھی . جیتے ہیں آج تک 
    یہ بھی بہ فیض گردش ایام ہی تو ہے 

    ہاں مجھ کو یہ شکستگی دل بھی ہے عزیز 
    آخر یہ اپنے شوق کا انجام ہی تو ہے 

    یو ہو رہے ہیں میرے غم دل کے تذکرے 
    جسے کسی کا غم کوئی دشنام ہی تو  ہے 

    اتنی بھی شمیم سے نفرت نہ کیجیے 
    وہ بد خصال تو نہیں بد نام ہی تو ہے 

    از قلم زوار حیدر شمیم