Blog

  • Salam Korea Episode 9

    قسط 9  

    Salam Korea Episode 9 urdu fan fiction featuring seoul korea urdu web travel novel
    Salam Korea Episode 9 urdu fan fiction featuring seoul korea urdu web travel novel

    وہ منہ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی گوارا سے ٹاکرا ہوا۔۔

    اس نے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے۔۔ 

    یہ لو اریزہ میں یہ تمہارے لیے لائی ہوں۔۔

    اس نے اپنے پیچھے چھپایا ہوا گفٹ پیک اسکے سامنے کیا۔۔

    یہ کیا ہے۔۔ وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔۔

    اس میں کیا ہے۔۔

    لوٹا۔۔ گوارا نے مسکرا کر کہا۔ اس نے حیرت سے دیکھا پھر جلدی سے گفٹ کھولا۔۔

    واقعی بڑا سا بھورا پلاسٹک کا لوٹا تھا

    یہ کیا ہے۔۔ اس نے غصے سے پھینکا۔۔

    تبھی جے ہی چلی آئی۔۔ 

    یہ لو اریزہ چائے پی لو۔۔ وہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ ایک بڑا سا پیلا لوٹا۔۔ 

    کیا ہوگیا ہے ۔ وہ گھبرا کر باہر نکلی

    اریزہ یہ لو  میں ہم دونوں کیلیے ایک جیسے بیگ لائی۔۔ سنتھیا اسے بیگ پکڑا رہی تھی۔۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ویسا ہی بیگ اپنے شانے سے لٹکا رکھا تھا۔۔

    اور وہ بیگ تھا؟ نہیں وہ سرخ لوٹے تھے جن کے ساتھ اسٹریپ لگا رکھے تھے۔۔ ایڈون سالک شاہزیب یون بن کم سن سب لاوئنج میں لہک لہک کر لوٹے بجا رہے۔تھے۔۔ 

    کیا ہو رہا ہے یہ پاگل ہو گئے ہو سب؟

    وہ چلائی۔۔ 

    اریزہ کیچ۔۔ ایڈون نے بڑا سا لوٹا اسکی جانب اچھال دیا۔۔ قریب تھا اسکا منہ ٹوٹتا۔۔ کسی نے اسکے چہرے کے پاس کیچ کر لیا۔۔ 

    اس نے ڈرتے ڈرتے اسکا چہرہ دیکھا۔

    کھنچی آنکھوں کھڑی ناک والا اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس کی پٹ آنکھ کھلی تھی۔ چند لمحے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ آہستہ آہستہ حواس بحال ہوئے تو غصہ ہی آگیا۔۔ 

    ۔ مطلب کچھ بھی؟ اب خواب ہے تو کیا سب دکھائے گا۔۔ کوئی تک ہے بھلا۔۔  اور خواب میں دیکھا کیا اور کسکو بھلا۔۔ اسے خود پر بھی غصہ آگیا۔۔ 

    وہ ان تینوں کے نرغے میں سو رہی تھی۔۔ جی ہائے اس سے سنتھیا گوارا سے لپٹی تھی۔۔ اس نے آہستہ سے اپنا آپ اسکے بازو سے چھڑایا۔۔ گردن اکڑ سی رہی تھی۔ سامنے وال کلاک دس بجا رہا تھا۔۔

    ان تینوں کا اٹھنے کا ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔۔ اسکا اٹھانے کا نہیں تھا۔۔ 

    آہستہ سے اٹھ کر باتھ روم کا رخ کیا تھا کہ کال بیل کی آواز آئی۔۔ 

    اس نے آگے بڑھ کر گوارا کو ہلایا۔۔ مگر وہ اوں آں کر کے سو گئی۔

    دوبارہ کال بیل بجی ۔۔۔چار و نا چار خود ہی دروازہ کھولنے آگئی۔۔ عادت ہی نہیں تھی کیمرہ دیکھنے کی نہ ہول سے دیکھا گئ دھڑ سے دروازہ کھول دیا۔۔

    پھر جم گئی۔۔

    جتنی وہ حیران ہوئی تھی اتنا تو نہیں مگر کھنچی آنکھوں والا بھی تھوڑا حیران ہوا تھا۔۔ 

    اس نے اپنی حیرت چھپائی بھی نہیں مخصوص انداز میں مسکرا کر بولا۔۔

    تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟

    اریزہ حال میں واپس آئی

    وہ میں۔۔ اسکی ووکیبلری حسب عادت دغا دے گئ۔۔

    وہ تھوڑی دیر اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا مگر اریزہ کی انگریزی واپس آ بھی گئی مگر وہ بولی نہیں۔

    یہ گوارا نے منگوایا تھا۔۔ اس نے ایک پیکٹ اسے تھما دیا۔

    ۔ رات کو منگوایا تھا مگر میں رات کو بھول گیا چلو تم لوگ آج دیکھ لینا۔۔ چلتا ہوں۔۔ وہ پھر مسکرایا۔۔

    ٹیک کیئر ۔۔

    وہ الوداعیہ جملے ادا کرتا چلا گیا۔۔ تو وہ پیکٹ سنبھالتی دروازہ بند کرتی بڑ بڑائی۔۔

    کتنا مسکراتا ہے۔۔ بندہ ہر وقت تو خوش نہیں رہ سکتا۔

    ۔ اس نے جل۔کر سر جھٹکا۔۔

    جی ہائے اٹھ گئ تھی شائد ۔۔ بیڈ پر نہیں تھی۔۔ باتھ روم کا دروازہ بھی بند تھا۔۔ وہ وہیں صوفے پر ٹک کر انتظار کرنے لگی۔ کہ ان دونوں لو برڈز کو دیکھ کر اسے خیال آیا

    دونوں ایک دوسرے سے لپٹی سو رہی تھیں۔۔ 

    اس نے جلدی سے اپنا موبائل اٹھایا اور انکی ایک دو تصویریں بنا لیں۔۔ جی ہائے منہ پونچھتی باہرچلی  آئی ۔۔

    اریزہ باتھ روم مین گھسنے لگی تو اشارے سے روکا۔۔

    ٹوائلٹ رول ختم ہے۔۔ ایک منٹ۔۔ 

    وہ دراز سے نکال رہی تھی۔۔

    اریزہ کو جلدی تھی۔ بھاگ کر گھس گئ۔۔ 

    ارے۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔ 

    اریزہ منہ ہاتھ دھو کر نکلی تب بھی دونوں ایسے ہی پڑی تھیں اس نے دونوں کے گالوں پر ٹھنڈے ٹھنڈے ہاتھ رگڑے جھرجھری لے کر بیدار ہوئیں۔ اور بیدار ہو کر کرنٹ کھا کر ایک دوسرے سے الگ ہوئیں۔۔

    ہایون  آیا تھا صبح یہ پیکٹ دے کر گیا ہے۔۔

    اس نے اسکی امانت پہنچائی۔۔

    ہمیشہ لیٹ ہی رہتا ہے۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔ جی ہائےکو بھی دلچسپی ہوئی۔۔ 

    کیا ہے یہ؟

     مووی منگوائیں تھیں چلو آج رات دیکھ لیں گے۔۔ 

    وہ بتاتی اٹھی۔۔ باتھ روم کی طرف بڑھنے لگی پھر خیال آیا۔۔ 

    سنتھیا بیڈ پر ہی بیٹھی جمائیاں لے رہی تھی۔۔ 

    تم پہلے چلی جائو۔۔ 

    گوارا نے کہا تو تینوں اسکی شکل دیکھنے لگیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے کمرے میں آ کر تصویر کو بیڈ کے سہارے کھڑا کیا پھر اس پر سے کاغذ کا پردہ ہٹا کر تھوڑا فاصلے سے دیکھنے لگا۔۔

    بہت بہتر بہت بہتر ہے یہ۔۔ شاباش ہوپ۔

     اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔ اس نے تالی بجائی پھر خود ہی اپنی حرکت پر مسکرا دیا۔۔ 

    وہ صبح صبح ہوپ کو اپنی خریدی ہوئی چیزیں پہنچانے گیا تھا۔۔

    اسکی پہلی ہی دستک کے جواب میں دروازہ کھل گیا تھا  ۔۔وہ تیار ہو کر باہر ہی نکل رہی تھی۔۔

    اسے دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔ 

    آپ اتنی صبح۔۔ 

    وہ ۔۔ وہ تھوڑا رکا۔۔ 

    وہ یہ نونا نے آپ کیلیئے بھجوایا ہے۔۔ اس نے زمین پر رکھے بڑے سے باکس کی طرف اشارہ کیا۔۔ 

    کیا ہے یہ؟

    وہ حیران رہ گئ۔۔ 

    آئل پینٹس ہیں برشز اور کچھ پینٹنگ کیلیے مددگار سامان۔۔ 

    مگر کیوں۔۔ مجھے نہیں چاہیئے اتنا کچھ۔۔ 

    اس کے صاف انکار پر وہ جز بز ہوا۔

    وہ در اصل ۔۔ شائدنونا چاہتی ہیں آپ زیادہ سے زیادہ پورٹریٹ بنائیں پریکٹس کریں اسکی زیادہ مانگ ہے نا آجکل۔۔ میں اسے اندر رکھ دوں۔۔ آپکی آسانی کیلیئے۔۔

    وہ اسے مزید سوچنے کہنے کا موقع نہیں دینا چاہ رہا تھا۔۔ ہوپ نے الجھن سے اسے دیکھا پھر پلٹ کر اندر چلی گئ۔۔ وہ سمجھا نہیں اجازت ملی ہے اندر آنے کی کہ نہیں۔۔ اس نے گہری سانس لی پھر اٹھا لیا باکس۔۔ اندر کہیں نظر نہیں آرہی تھی ہوپ اس نے اندازے سے لائونج میں ایک کونے میں رکھ دیا۔۔ گھر میں نیم تاریکی تھی۔۔ اسے اندھیرے سے گھٹن سی محسوس ہوئی۔۔ تبھی وہ بڑی سی تصویر گھسیٹتی ہوئی کمرے سے نکلی۔ 

    یہ آپ کی تصویر۔۔جی ہاں انداز منہ پر مارنے جیسا ہی تھا ۔۔ کاغذ سے تصویر ڈھکی تھی۔۔ 

    گوما وویو۔۔ 

    اس نے جھک کر شکریہ ادا کیا وہ بنا اسکی جانب دیکھے نکلتی چلی گئی۔۔ ہایون کو لگا باہر جس تیزی سے نکلی ہے وہ فورا باہر نہ نکلا تو لاک کر جائے گی اسے بھئ اندر۔۔ وہ تیزی سے اسکے پیچھے لپکا۔۔ باہر دروازے پر نہیں تھی۔۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتی لفٹ کی طرف جا رہی تھی۔۔ 

    ہوپ شا۔۔ اس نے پکارا مگر وہ ان سنی کر کے لفٹ میں سوار ہو گئ۔۔ وہ اسے چند لمحے تعجب سے دیکھ کر رہ گیا۔۔ پھر اسکے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھینچ کر بند کر دیا۔۔ آٹو میٹک لاک چیک کر کے اس نے تصویر اسی دروازے سے ٹکائی اور گوارا کیلیئے لایا پیکٹ اپر کے اندر سے نکالا۔۔ اب اسکا رخ گوارا کے اپارٹمنٹ کی جانب تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے کچھ سوچا۔۔ پھر تصویر کو اپنی الماری میں رکھ دیا۔ اسکا ارادہ تھا اسکو اپنے کمرے میں لگانے کا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کم سن بیڈ پر بیٹھا فل اسکیپ سائز پیپر  پھیلائے اسے  گھورنے میں مصروف تھا۔۔ یون بن اپنی دھن میں بولتا ہوا داخل ہوا تھا سب سے پہلا کم سن کا ہی بیڈ پڑتا تھا موبائل ہاتھ میں لیئے شائد اسے کچھ دکھانا تھا سو سیدھا آکر اسکے پاس ہی دھپ سے بیٹھا۔۔ 

    یہ دیکھو زرا۔۔ 

    ارے دیکھ کے۔۔ اٹھو۔۔ کم سن بھونچکا رہ گیا پھر بلا لحاظ اسے دھکیلا۔۔ یون بن  بیڈ سے لڑھک کر نیچے آیا۔

    خود بھی گھبرا کر بیڈ کو دیکھنے لگا ۔۔ 

    کیا ہے کوئی مکڑی۔۔ وہ ڈر گیا تھا۔۔

    کم سن اس پیپر کو ہاتھ سے شکنیں دور کر کے سیدھا کر رہا تھا۔۔ 

    کمینے کیا ہے یہ اسکے پیچھے دوست کو گرا مارا

    وہ بھناتا کپڑے جھاڑتا اٹھا۔۔ کم سن نے توجہ نہ کی۔۔ دوبارہ تصویر کو گھورنے لگا۔۔

    تمہاری ایکس کی تصویر ہے کیا۔۔ یون بن تجسس میں اس کے کندھے پر سوار ہوا۔۔

    تمہارے دادا ابو کی تصویر ہے۔۔ اس نے غور سے دیکھ کر اندازہ لگایا

    کم سن نے مڑ کر باقائدہ اسکی شکل دیکھی۔۔ 

    تمہیں کیسے لگا؟

    جھلک آرہی ہے تمہاری۔۔ یہ آنکھیں تھوڑی بڑی ہیں  یہ ناک۔پھیلی ہوئی ہے اور تھوڑی تمہاری طرح نوکیلی نہیں گول ہے ۔ یہ بس تھوڑے بھاری ہیں مگر جوانی میں تو بالکل تمہارے جیسے ہی لگتے ہونگے۔۔ آج برسی ہے کیا انکی؟

    یون بن پر یقین تھا۔۔ 

    سب کچھ تو گنوا دیا الگ ہے پھر میری  جھلک خاک  آرہی ہے؟

    اس نے تصدیق چاہی تھی  

    ہاں۔۔ نا آرہی ہے۔۔ تیرے دبلے ہونے سے پہلے کی تصویر لگ رہی۔۔  یون بن نے کندھے اچکائے۔۔ 

     میں کبھی بھی موٹا نہیں رہا۔۔ خیر۔۔ ٹھیک ہے پھر تو۔۔ وہ مسکرایا۔۔ 

    ویسے یہ میری تصویر ہے ایک آرٹسٹ سے اسکیچ بنوایا ہے میں نے اپنا۔۔ 

    کم سن نے کہا تو یون بن نے آنکھیں پھاڑیں

    خود بنا لیتا اپنی اس سے تو بہتر ہی بنا لیتا۔۔ 

    کتنا عرصہ ہوگیا ہے برشز ہاتھ میں لیئے بس ایسے ہی دل کیا تو بنوا لی۔۔ 

    کم سن نے رول کر کے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھول کر ڈال دی۔۔ 

    کوئی نو آموز ہی ہوگا۔۔ یون بن دوبارہ بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔۔ 

    ہاں۔مگر ٹیلنٹ ہے تھوڑا گروم ہو جائے تو ٹھیک رہے گا۔۔ 

    کم سن سستی سے باتھ روم جانے کو اٹھا۔۔

    تم دوبارہ پینٹنگ کیوں نہیں شروع کرتے؟ 

    کم سن کے بڑھتے قدم لمحہ بھر کر رکے۔۔ 

    سوال کہیں سیدھا دل پر لگا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔    

    وہ دونوں ٹیرس میں کھڑی کافی انجوائے کر رہی تھیں۔۔ چودھوں فلور سے اونچی اونچی عمارتوں کا نظارہ بل کھاتی سڑکیں ان پر رواں ٹریفک ۔۔ سیول شہر انکے سامنے جلوہ گر تھا۔۔ 

    تمہیں یہ نظارہ بہت اچھالگ رہا ؟

    جی ہائے نے اسکے چہرے پھر پھیلی خوشی دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔ 

    ہاں ۔۔ اس نے سر ہلایا۔۔ 

    مجھے منظر بہت مسحور کرتے۔ خاص طور سے کسی اونچے مقام سے شہر کو دیکھنا اسکی رونق محسوس کرنا مجھے بہت پسند ہے۔۔ 

    تمہارا شہر بھی ایسا ہے۔۔ جی ہائے نے یونہی پوچھا۔۔

    کاش۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔ 

    وے ؟

    وہ سمجھی نہیں تو وہ مسکرا کر اسکی جانب مڑی

    تمہارا شہر کیسا ہے؟

    سیول سے بہت مختلف۔۔ یہاں بہت شور ہے آلودگئ ہے گہما گہمی ہے میرا گائوں بے حد خاموش ہے۔پر اسرار اور با ہیبت۔۔ اونچے اونچے پہاڑوں میں راستے ہیں ایک گھر یہاں تو دوسرا وہاں۔۔ اس نے  دور تک اشارے سے بتایا۔۔

    تم کب جاتی ہو گائوں ؟ چھٹیوں میں؟

    ہاں۔ اس بار تم بھئ چلنا برفباری دیکھنا وہاں کی۔۔ جی ہائے پر جوش ہوئی۔۔

    دیکھتے ہیں۔ اس  نے کندھے اچکائے۔۔

    یہ دونوں کیا کر رہی ہیں۔۔ اسے خیال آیا۔۔ تو دونوں دبے قدموں چلتی ہوئی کمرے میں آئیں۔۔ دونوں نے اپنے کپ سنگل صوفے پر ٹکائے۔۔ اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ان کے قریب آئیں۔۔

    دونوں ایک دوسرے سے مخالف منہ موڑے موبائل پر لگی تھیں۔۔اریزہ اور جے ہی نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر تیزی سے آگے بڑھ کر دونوں سے موبائل چھین لیئے۔۔دونوں کی بے نیازی رخصت ہوئی تڑپ کر ان سے چھیننے لپکیں۔۔

    یار دو نا بس آخری میسج ہے بائی کرنے لگی تھی۔۔ سنتبھیا جھپٹ رہی تھی اریزہ جھائی دے گئ۔۔

    یار میسج نہ چلا جائے یون بن کا میسج آیا ہے ریپلائی چلا جائےگا واپس کر دو۔۔ گوارا اور جے ہی گتھم گتھا تھیں۔۔ 

    دو دو۔۔ سنتھیا نے اریزہ سے موبائل چھیننا چاہا اریزہ کا توازن بگڑا وہ لڑکھڑا کر صوفے پر گری دونوں کپ اچھل کر زمیں پر۔۔ کافی بھی ختم کپ بھی۔۔ جی ہائےجلدی سے پیچھے ہوئی پھر بھی کافی اسکے ٹرائوزر کے پائنچے داغدار کر گئ ۔۔

    اس حادثے کا فائدہ اٹھاتے دونوں نے اپنے اپنے موبائل چھینے واپس۔۔ جے ہی اسکو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے فکر مندی سے بولی۔۔

    کیم چھنا۔۔ ٹھیک تو ہونا۔۔ 

    اریزکی بے وفا دوست مسکراتے ہوئے موبائل پر ٹائپ کرتے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔۔

    ٹھیک۔ ہوں۔

    وہ سیدھی ہوئی۔۔ 

    انہوں نے یہی کرنا تھا پتہ تھا ہمیں۔۔ جے ہی نے

    گوارا کو کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔

    تم لوگ ایکوریم دیکھنے میں تو انٹرسٹڈ نہیں ہوگے نا۔۔

    گوارا نے ٹائپ کرتے ہوئے یونہی سرسری انداز میں پوچھا۔۔ 

    سنتھیا اور اریزہ کے کان کھڑے ہوئے

    نہیں یار کسی مہنگی جگہ کا وعدہ لے کر ماننا

    جی ہائےکہتی اسکے ساتھ ہی آبیٹھی۔۔

    پھر تائیدی نظروں سے اریزہ کو دیکھا

    اسکی توقع کے برعکس دونوں کے چہرے پر اشتیاق پھیلا تھا۔۔

    ایکوریم وہی نہ جہاں یہ لڑکے اس دن گئے تھے؟

    اریزہ نے تصدیق چاہی سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

    وہیں چلتے ہیں نا۔۔ کتنا مزہ کر رہے تھے یہ لوگ۔۔ اریزہ نے اشتیاق سے تالی بجائی۔۔ گوارا اور جی ہائے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہو تو آئے ہو اس دن دوبارہ کیوں جانا ہے؟

    یون بن نے میسج ٹائپ کرتے ہوئے پوچھا۔۔ 

    یار سنتھیا جانا چاہ رہی تھی وہاں ان لوگوں نے نہیں دیکھا ایکوریم ۔۔

    ایڈون نے کہا تو اس نے یہی پوچھ لیا ۔۔

    جواب فوری اورنفی میں آیا تھا۔۔

    منع کر رہی ہے۔۔ گوارا پھر کسی دن چلیں گے۔۔

    یون بن نے بہلایا۔۔

    تم لوگوں نے اکٹھے ضرور جانا تم سنتھیا کے ساتھ اسکی پسند کی جگہ جائو تم گوارا کیساتھ اسکی پسند کی جگہ جائو۔۔ 

    کم سن منہ پر تکیہ رکھے لیٹا تھا تکیہ ہٹا کر بولا۔۔

    دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔ بات تو صحیح تھی۔۔

    یارجی ہائےاور اریزہ بھی تو ہیں۔۔ اصل میں تو وہ لوگ مل کر انجوائے کرنا چاہ رہی ہیں۔۔ ایڈون نے کہا تو کم سن ہنسا۔۔

    مستقل تو تم دونوں سے باتیں ہو رہی ہیں وہ اکٹھے خاک مزے کر رہی ہیں۔۔

    دونوں پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم لوگ کلب وغیرہ جاتے ہو۔۔ جی ہائے کو خیال آیا۔۔

    ہاں۔۔

    نہیں۔۔ 

    دونوں نے اکٹھے جواب دیا پھر ایک دوسرے کو گھورنے لگیں

    کب جاتی ہو کلب؟

    اریزہ نے آڑے ہاتھوں لیا سنتھیا کو۔۔

    پاپا کا ہے نا میس۔۔ آفیسرز کلب۔۔ اس نے کھسیا کر کہا۔۔

    اول تو یہ اس طرح کے کلب کا نہیں پوچھ رہی دوسرا تم وہاں جتنا جاتی ہو وہ بھی پتہ۔۔ 

    دونوں اردو میں شروع تھیں

    ہوتا تو کلب ہی ہے۔۔ اس نے ڈھٹائی سے مسکرا کر کہا۔ 

    شام کو چلیں۔۔ ڈانس کریں گے  ڈرنک کریں گے فل ہینگ آئوٹ کھانا بھی باہر کھائیں گے ٹھیک۔۔ جی ہائے نے پروگرام۔بنا کر چٹکی بجائی۔۔

    ہاں ۔۔ دونوں فہمائشی مسکرائیں۔۔

    ناچیں گے پییں گے دونوں اسکے الفاظ دھرا کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔۔

    ہاں رات کا پروگرام سیٹ کر لو۔۔ ابھی مجھے زرا مارکیٹ تک جاناہے۔۔ گوارا ایکدم سے پروگرام بناتی اٹھئ۔

    کیوں ابھی کل ہی تو ہو کے آئے ہیں مارکیٹ سے۔۔ 

    جے ہی حیران ہوئی۔۔

    مجھے کچھ ضرورت کی چیزیں لینی ہیں۔۔ وہ گڑبڑائ۔

    کیا چاہیئے مجھ سے لے لو۔۔ جی ہائے فراخ دلی سے آفر کی۔۔

    مجھے بھی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں لینی ہیں میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔ 

    سنتھیا تیزی سے اٹھی۔۔

    اب تمہیں کیا ہوا۔۔ اریزہ حیران رہ گئ۔۔

    کل تو اتنی تم لوگوں نے۔ وہ اٹکی۔۔ ہڑبونگ مچائی میں فیس واش لینا بھول گئ۔۔ اسے کچھ سوجھ گیا۔۔

    اور یہ جو کپ توڑ دیے تم لوگوں نے صرف چار کپ تھے میں کپ لے کر آتی ہوں۔۔ 

    ہم بھی چلتے ہیں ۔۔ جی ہائئ اٹھی۔۔ 

    ہاں کل کی طرح تم لوگ بیچ سڑک پر لڑ پڑیں کون چھڑائے گا۔۔ اریزہ بھی اٹھی

    نہیں۔ دونوں نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔۔ پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر جز بز ہوئیں۔۔

    مطلب ہم پاگل تھوڑی۔۔ ہم نہیں لڑیں گے بے فکر رہو۔۔ بس تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔۔سنتھئیا نے کہا تو گوارا نے بھی تائید کی۔۔  

    ہاں شام کو پھر جانا بھی تو ہے۔۔

    میں زرا چینج کر لوں۔۔ سنتھیا جھپاک سے باتھ روم گھسی۔۔ گوارا نے دانت کچکچا کر اسکی تیزی کو ہنگل میں سراہا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔    ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دونوں بہترین ٹاپ پہن کر جینز پہن کر تیار تھیں۔۔ 

    جے ہی اور اریزہ منہ کھولے تیاریاں دیکھ رہی تھیں

    اتنا بن ٹھن کر سپر اسٹور جا رہی ہو؟

    اریزہ نے ٹوکا تو سنتھیا کھسیائی

    واپسی پر باہر بھی تو جانا سوچا تیار ہو جائوں تم لوگ بھی تیار رہنا۔۔

    کتنی دیر لگائوگی مارکیٹ میں؟ جے ہی مشکوک ہوئی۔۔

    بس گھنٹہ ایک۔۔۔۔ دونوں گڑبڑائیں 

    اوکے اریزہ ا

    وکے جے ہی خدا حافظ۔۔ دونوں ہاتھ ہلاتی تیزی سے نکل گئیں۔۔

    اریزہ اور جے ہی ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر رہ گئیں۔۔

    کل کیسا دونوں جنگلی بلیوں کی طرح لڑ رہی تھیں۔۔

    اریزہ نے کہا تو جے ہی نے بھی سرد آہ بھری۔۔

    اور آج تو ہم دونوں سے زیادہ آپس میں گہری سہیلیاں لگ رہی ہیں۔۔

    ایک رات میں اتنا چینج۔۔ اریزہ نے یونہی کہا پھر ایک دم سیدھی ہو کر جی ہائےکی طرف مڑی۔۔ دونوں کے دماغ میں اکٹھے گھنٹی بجی تھی۔۔ شٹ۔۔ دونوں بھاگ کر ٹیرس میں آئیں نیچے جھانکنے لگیں۔۔ یون بن کی گاڑی آ کر رکی تھی۔۔ فرنٹ سیٹ سے ایڈون اترا اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر سنتھیا کو بٹھانے لگا  گوارا سیدھی فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھی۔ سب بیٹھ گئے تو یونہی یون بن کی سر آٹھاتے ان پر نظر پڑی اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔۔ 

    جے ہی اور اریزہ کی صدمے سے آواز گنگ ہو چکی تھی منہ کھلا تھا ہاتھ جمے تھے سو جوابا ہاتھ نہ ہلاسکیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی ہائے اور اریزہ پوری آنکھیں کھولے چہرے پر نا قابل فہم تاثرات لیے اسکرین کو دیکھ رہی تھیں۔۔ 

    کس نے آئیڈیا دیا تھا ہارر مووی منگوانے کا ۔۔

    جے ہی نے ریموٹ سے ٹی وی بند کر دیا۔۔

    چوتھی بار وہ بچی ڈر کر چیخی تھی یہ دونوں بھی ساتھ چیختیں مگر لاونج کی سب کھڑکیوں کےپردے ہٹائے بتیاں جلا کر خوب روشنی کر کےفلم دیکھی جا رہی تھی۔۔

    ہایون سے منگوائی تھی گوارا نے اس نے ایسی ہی لا کر دینی تھیں۔۔ اریزہ نے منہ بنایا۔۔

    ہمم یہ لوگ تو گئیں اب شام کا پروگرام کینسل ہی سمجھو۔۔ جی ہائےنے انگڑائی لی۔۔ اریزہ بھی صوفے سے ٹیک لگا کر آرام دہ انداز میں نیم دراز ہوگئ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہے اٹھو جلدی وقت نہیں زیادہ ہمارے پاس۔۔۔

    گوارا چلا رہی تھی۔۔ سنتھیا جھنجھوڑ رہی تھی۔۔ کمرے میں ہنگامہ اور شور بپا تھا۔۔ دونوں نے کھینچ کر انہیں کھڑا کیا تھا یون بن ایڈون کم سن ہایون سب جمع تھے وہ دونوں بھونچکا تھیں

    چلو تیار ہو جلدی سے۔۔ سنتھیا نے ہکا بکا اریزہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ۔۔ دونوں نے جلدی جلدی منہ ہاتھ دھوئے اریزہ باہر آئی تو سنتھیا اسکیلیئے جینز اور ٹاپ نکال چکی تھی۔۔

    یہ پہنوں؟ اریزہ نے گٹھری بنے ٹاپ کو دیکھا۔۔

    استری کر لاتی ہوں میں۔۔ 

    سنتھیا مڑی۔۔

    ٹھہرو۔۔ گوارا نے اپنی الماری کھولی سب سے اوپر رکھی پنک فری سائز ٹی شرٹ نکال کر دی۔۔ 

    یہ پہن لو۔۔ 

    اریزہ نے ایک نظر دیکھا۔۔ گوارا سنتھیا سے بھی لمبی تھی۔۔ اسکی ٹی شرٹ اسکے آرام سے ران تک آرہی تھی۔۔ اس نے ساتھ لگا کر دیکھا۔۔ 

    ٹھیک ہے نا اریزہ۔۔ سنتھیا سمجھ گئ کیا دیکھ رہی ہے۔۔

    ہمم۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔

    بمشکل پانچ منٹ لگے تھے۔۔ تیار ہو کر باہر آئیں تو ہایون نے ان سب کو دیکھا پھر یون بن کوگھورنے لگا۔۔

    کبھی مجھے نہیں بتاتے دوست تھوڑی ہوں ڈرائیور ہوں تمہارا۔۔ خود سب تیار ہو کر کھڑے ہو۔۔

    وہ شارٹس میں ملبوس تھا۔۔

    تو تم سے مجھے کام کیا پڑ سکتا بےکار آدمی۔۔ خود سوچنا چاہیئے کہ بلایا ہے تو گھر سے ڈھنگ کے حلیئے میں نکلوں۔۔

    میں واپس جا رہا۔۔ وہ فورا مڑا۔۔

    اتنی دیر لگ جائے گی واپس گھر جائوگے پھر آئو گے۔۔

    یون بن نے روکا۔

    میں سیدھا کلب آجائوں گا۔۔ اس نے آرام سے کہا۔

    ہم کیسے جائیں گے کلب؟ ایک گاڑی کے بندے نہیں ہم ۔۔

    یون بن چڑا۔۔

    ہایون گھورنے لگا۔۔

    ٹھیک ہے تم لوگوں کو کلب چھوڑ کر دفع ہو جائوں گا۔۔ اسے غصہ آگیا۔۔

    ہم واپس کیسے آئیں گے۔۔ ؟

    کم سن نے چڑایا۔۔

    ٹھہرو۔۔ گوارا کو خیال آیا تو انکی بحث کو بریک لگائی۔۔

    میں یون بن کے لیئے جینز لائی تھی وہ پہن لو۔۔ 

    اور شرٹ بھی کوئی پڑی ہوگی۔۔

    اوئے تم میرے لیئے لائی ہو۔۔ اسے کیوں۔۔ یون بن کو سخت برا لگا۔۔

    تمہارے لیئے لا کر پچھتائی ہوں آئندہ سوچوں گی بھی نہیں کچھ لینے کا۔۔ گوارا کو کچھ یاد آگیا تھا سو چبا چبا کر بولی۔۔ یون بن  سر کھجا کر رہ گیا۔۔ گوارا اسے کمرے میں لے گئ ۔ نئی پینٹ اور شرٹ نکال کر دی۔۔ 

    چلو تب تک ہم نیچے چلتے ہیں۔۔ یون بن پکار کر ہایون کو گھر لاک کرنے کی ہدایت کرتا نیچے آگیا۔۔

    یون بن اور گوارا فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے جی ہائے ایڈون سنتھیا پیچھے بیٹھ گئے 

    ہم نکلتے ہیں گوارا کو کچھ لینا ہے تم لوگ ہمیں اگلے چوک سے جوائن کر لینا۔۔

    یون بن نے کہا تو یہ دونوں اثبات میں سر ہلا کر رہ گئے۔۔

    کم سن نے دلچسپی سے اریزہ کو دیکھا۔۔ لائٹ بلیو جینز لائٹ پنک ٹی شرٹ جس پر آئی لو ہم لکھا تھا۔۔ اسکے اوپر پنک اور وہائیٹ پرنٹڈ اسکارف بڑے اسٹائلش انداز سے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔۔ کندھوں تک آتے لئرز کٹنگ والے بال کھلے ہوئے تھے ٹی شرٹ کے گلے میں چھوٹا سا کیچر ٹکایا ہوا تھا۔۔

    کیا ہوا۔ اسے کم سن کی نظروں کا احساس ہوا تو ابرو کے اشارے سے پوچھا۔

    مسلم لڑکیاں اسے سر پر نہیں باندھتی ہیں؟ اس نے اسکارف کی طرف اشارہ کیا۔۔

    ہاں مگر میں حجاب نہیں کرتی۔۔ اس نے مسکرا کر کہا۔۔

    پھر لائی کیوں ہو؟ وہ حیران ہوا۔۔ 

    وہ۔۔ اسے جواب نہ سوجھا۔۔ 

    وہ یہ دوپٹہ کی جگہ استعمال کر رہی ہوں۔۔

    اس نے مسکرا کر کہا۔۔ 

    ہایون تبھی لہراتا آیا۔۔ اسے دیکھا ٹھٹھک گیا۔۔

    چلیں۔ کم سن کو سچوایشن مزا دے گئ۔۔ ہیون نے کندھے اچکائے۔۔ کم سن جلدی سے آگے بڑھ کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا۔۔

    اریزہ نے تھوڑا حیران ہو کر دیکھا۔۔ لیفٹ ہینڈ ڈرایئو ہونے وجہ سے پیسنجر سیٹ کی طرف ہی وہ کھڑی تھی ہیون نے اپنی طرف سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے اس سے سر ہلا کر پوچھا۔۔ تو وہ نفی میں سر ہلاتی اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ان سب کا سی فوڈ کا پلان تھا۔۔ اریزہ کو سی فوڈ کھانے میں اعتراض نہیں تھا اسے مچھلی پسند تھی بس اسکی شرط تھئ کانٹوں والی ہو اور جھینگے نہ ہو۔۔ وہ لوگ سیدھا گنگنم  فوڈ اسٹریٹ میں آئے تھے۔۔ پوری فضا میں تازہ مچھلیوں اور بھنتی سی فوڈ کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی فری سیمپلنگ ہو رہی تھی چھوٹے چھوٹے پلاسٹک کے کپ اور چھوٹے چھوٹے چاپ اسٹکس سے وہ پہلے چکھاتے اگر پسند آئے تو آرڈر کریں۔۔ یہ سب مزے سے ہر اسٹال سے چکھتے چکھاتے اوپن ائر ریسٹورنٹ میں آگئے۔

    میں یہاں آئوں اور آکٹوپس نہ کھائوں نا ممکن۔۔ ان لوگوں کو آرڈر دے کر انتظار کرنا تھا سو ہایون اٹھ کھڑا ہوا۔۔

    ہاں میرے لیئے بھی۔لانا۔۔ یون بن نے پیر سیدھے کیے

    لانا مطلب چلوپھر اگر کھانا۔۔

    ہایون نے آنکھیں نکالیں۔۔

    یار گوارا نے تھکا مارا ہے۔۔ یون بن نے کہا تو گوارا نے گھور کر دیکھا اس نے مظلوم سی شکل بنائی۔۔

    سچ تھک گیا ہوں لے آنا میرے لیے۔۔ 

    میں بھی چلتا ہوں۔۔ کم سن اٹھ کھڑا ہوا۔

    یہ لوگ آکٹوپس بھی کھاتے۔

    اریزہ نے حیرت سے کہا تو ایڈون نے ہیون سے کہا۔۔ 

    اریزہ کو لے جائو اسکا دل کر رہا آکٹوپس کھانے کا

    ہیں وہ بھونچکا رہ گئ

    کیا بکواس کر رہیے ہو۔۔ وہ فورا سیدھی ہوئی ایڈون ہنسنے لگا۔۔

    چلو۔ اریزہ۔۔ ہیون نے اسے آفر کی۔۔

    مم میں کیا کروں گی مجھے تو اسمیل چڑھ رہی ویسے ہی۔۔ اریزہ نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔ 

    ہمم ۔۔

    کم سن اور ہایون متوجہ تھے۔۔

    یہ کہہ رہی ذیادہ دور تو نہیں۔۔ سنتھیا کو بھی شرارت سوجھی۔۔

    نہیں بس اگلی گلی میں ہے۔۔ ہیون نے اطمینان دلایا۔۔

    نہیں میں یہ نہیں کہہ رہی۔۔ اریزہ نے سنتھیا کے بازو پر چٹکی کاٹی۔۔ 

    جائو چلی جائو۔۔ اریزہ ہایون کو ڈسکائونٹ مل جائے گا۔۔ گوارا نے کہہ کر ہنسنا شروع کر دیا۔۔ 

    یون بن ایڈون سنتھیا سب ہنسنے لگے۔۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی

    آجائو اریزہ زیادہ دور نہیں۔۔ کم سن نے کہا تو وہ کچھ سوچ کر اٹھ گئ۔۔

    کوریا کے بازار اور پاکستان کے بازار میں واضح فرق تھا۔۔ سب اپنے کام سے کام رکھتے چلے جا رہے تھے۔۔ وہ جتنی بے زاری سے اٹھی تھی اتنی دلچسپی سے اسٹال دیکھ رہی تھی۔۔ پوری گلی فوڈ اسٹال سے بھری تھئ۔۔ اسے سب فری سیمپلنگ آفر کر رہے تھے وہ مسکرا کر معزرت کر دیتی ۔۔ ہایون اور کم سن باتیں کرتے تھوڑا آگے نکل گئے پھر احساس ہوا تو مڑ کر دیکھا۔۔ وہ ایک اسٹال کے باہر کھڑی اس کورین عورت سے بات کر رہی تھی۔

    اس نے بڑا سا کپ اسپائیسی چکن کا بنوایا تھا۔۔ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ مگر وہ متوجہ نہیں تھی۔۔ وہ کپ بنوا کر پلٹ گئ۔۔ دو تین اسٹال سے دور دو چھوٹے بچے بیٹھے سادہ بن کھا رہے تھے۔۔ وہ انکے پاس گئ انہیں دیا وہ لینے سے انکاری تھے اس نے پیار سے انکے گال چھوئے۔۔ اور جانے کیا کہا وہ مسکرا دیے اور لے لیا۔۔ ایک بچے نے اٹھ کر اسکے گال پر پیار بھی کر ڈالا۔۔ وہ دونوں بچوں کے گال پیار سے چھوتی ہاتھ ہلاتی ان کے پاس چلی آئی۔

    چلیں۔۔ اس نے کہا تو دونوں کندھے اچکا گیے۔۔ دائیں جانب چند قدم کے فاصلے پر سی فوڈ اسٹال تھا۔ ہیون نے تین پلیٹ کا آرڈر دیا۔۔ 

    عورت مسلسل انہیں کچھ کہہ رہی تھی ایک بار اریزہ کو دیکھتی ایک بار ہیون کو بار بار مسکرا رہی تھی۔۔ اریزہ بھی مسکرا دی۔۔ پھر کم سن سے پوچھا کیا کہہ رہی ہے؟

    کہہ رہی ہے تم بہت پیاری ہو۔۔ اور۔۔ وہ بتانے لگا تو ہیون نے اسکا پائوں دبا دیا۔۔ وہ سی کر کے بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔

    گوما وویو۔۔ اریزہ نے کوریں انداز میں جھک کر شکریہ ادا کیا وہ عورت خوش ہو گئ

    تم نے محبت میں ہنگل بھی سیکھ لی۔۔ تم اسکو ہاتھ سے جانے مت دینا۔۔ ایسی لڑکی بہت قسمت سے ملتی ہے جو اتنا ساتھ نبھائے۔۔ 

    اس نے ہنگل میں کہا تھا کم سن ہنسے گیا ہیون نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔ 

    اس عورت نے بڑی سی پلیٹ میں دو آکٹوپس بنا کر اریزہ کو ہی تھما دیئے۔۔ اس نے بھی شکریہ ادا کر کے ہیون کو پکڑا دیا۔

    تم۔کھائو گی اریزہ۔۔ اس نے اس سے بھی پوچھا مگر وہ سہولت سے منع کر گئ۔ وہ کافی حیرت سے اس عورت کواگلی پلیٹ کیلیئے  آکٹوپس بناتے دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے آکٹوپس کو پکڑا لکڑی کے سلیب پر رکھ کر ٹوکا چلایا۔۔ آکٹوپس مسلسل حرکت کر رہے تھے۔۔ اس نے ڈسپوزایبل پلیٹ نکالی آکٹوپس اس میں ڈالے ایک چھوٹے سے کپ میں چٹنی ڈال کر تھما دیے۔۔ 

    یہ تو ہل رہے ہیں کیسے کھائوگے؟

     اس کی حیرانی عروج پر تھی۔۔ 

    دونوں ہنس دیئے۔۔ پھر کھا کر دکھایا۔۔ 

    یہ زبان اور حلق میں چپک جاتے ہیں انکو موقع دیے بغیر چبانا پڑتا۔۔ ہیون نے بتایا پھر چاپ اسٹک سے آکٹوپس کی ٹانگ پکڑ کر ساس میں ڈبوئی اور کھا کر بھی دکھایا۔ دکھائی نوڈلز جیسے رہے تھے ہلتے ہو ئے نوڈلز۔

    تم چکھو گی۔۔ دونوں بار بار چاپ اسٹک اسکے سامنے لہراتے یہ ہنستے ڈر کر پیچھے ہو جاتی۔۔ 

    ہاں چٹنی اس نے چکھ لی تھئ۔۔ مزے کی تھی لہسن ٹماٹر کی جیسے ہوتی ہے۔۔ جب یہ لوگ پیک کروا کر پہنچے کھانا لگ چکا تھا۔۔ وہ لوگ انہی کا انتظار کر رہے تھے۔۔ اریزہ سی فوڈ کھانے کو راضی تھی مگر جب پوری مچھلی آنکھوں سمیت سامنے آگئ تو سچ مچ اسکی آنکھوں میں پانی آگیا۔۔ 

    میں کیا یہاں بھوکی مر جائوں گی۔۔ 

    وہ بڑبڑائی۔۔

    سنتھیا ہنسی۔۔ 

    تم سر نہ کھائو بیچ سے تو کھا لو۔۔ 

    اس نے منہ بنا کر کھانا شروع کیا۔۔ بہرحال گھر میں پکاتے مچھلی کا پیٹ بھی صاف کیا جاتا ہی ہے وہ جتنا اوپر اوپر سے کھا سکتی تھی کھا لیا۔۔ شکر ہے مچھلی کی کھال الگ کی گئ تھئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کھانا کھا کر وہ سیدھا کلب آئے تھے۔۔ یہاں دن نکلا ہوا تھا ڈے جےلوکل سر بکھیر رہا تھا نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔۔ یہ سب سیدھا ڈانس فلور کی طرف بھاگے۔۔ 

    کیا پیوگی۔۔ ؟

    وہ تینوں اسنوکر ٹیبل کی طرف آگئے۔۔ کم سن کا موڈ گیم لگانے کا تھا ہیون کو مہمان نوازی سوجھی۔ 

    مجھے پہلے کچھ کھاناہے۔ اس نے مسمسی سی شکل بنائی۔۔ 

    ہمم ؟۔۔ ہایون نے اسکو غور سے دیکھا۔۔

    کوئی بھی جوس۔۔ اس نے کہا تو ہیون نے آرڈر دیا خود وہ دونوں گیم لگا کر کھڑے ہوگئے۔۔ وہ کچھ دیر انہیں کھیلتے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر انکے پاس آگئ۔۔ 

    اسکا منہ اترا تھا۔۔ ہیون نے شاٹ لگاتے اسے دیکھا تھا۔۔ ہایون جیت گیا تھا۔۔ 

    میں بھی کھیلوں۔۔ اریزہ نے کہا تو کم سن فورا ہٹ گیا

    کیوں نہیں۔۔ اس نے اسٹک ٹھیک پکڑی تھی شاٹ بھی لگا دی ٹیبل کھولتے ہی چار بالز پاکٹ میں ۔۔ 

    وائو۔۔ تم تو اچھی کھلاڑی ہو۔۔ اس نے کھلے دل سے تالی بجا کر تعریف کی۔۔ 

    ہیونگ

     نے شاٹ لگائی مس ہوگئ۔۔ اپنی اسٹک کم سن کو تھما کر بولا۔۔

    تم لوگ کھیلو میں آتا۔ہوں۔۔

    وہ سیدھا ڈانس فلور کی طرف بڑھا۔۔

    ایڈون اور سنتھیا ناچنے میں مگن تھے اس نے پاس جا کر ایڈون کے کان میں کچھ کہا اسے سمجھ نہیں آیا۔۔ اس نے دوبارہ بات دہرائی تو پھر اس نے جواب دیا۔۔ یہ سر ہلاتا واپس آگیا۔۔

    اریزہ منہ بنائے ایک طرف میز پر بیٹھی اورنج جوس پی رہی تھی۔۔ 

    کیا ہوا گیم ختم ہوگئ تم لوگوں کی؟

    اس نے پوچھا تو وہ بےزاری سے بولی۔

    نہیں میں جیت رہی تھی کم سن کو کال آگئ وہ باہر چلا۔گیا۔۔ اس نے جیسے شکایت لگائی۔۔

    ہایون ہنسا۔۔ 

    آئو باہر چلیں ہم بھی۔۔ اس نے کہا تو اریزہ نے ایک نظر کلب پر ڈالی پھر سر ہلا دیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اندر کتنا حبس تھا۔۔ پتہ نہیں کلب میں لوگ تفریح کیا کرتے۔۔ 

    کھلی فضا میں آکر اس نے گہری سانس لی۔۔ 

    تمہیں ڈانس کا شوق نہیں۔۔ تمہارے دوست تو خوب تفریح کر رہے تھے۔۔ وہ حیران ہوا۔۔

    نہیں۔۔ اچھا لگتا مجھے بہت اچھا ڈانس بھی آتا ہے۔۔ 

    مگر اس طرح اجنبیوں میں ایسا ڈانس نہین کر سکتی۔۔ 

    وہ سوچ سوچ کر بولی۔

    پھر کیسے کر سکتی ہو؟ اکیلے۔۔

    اس نے پوچھا تو وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔

    ہاں اکیلے جب بہت خوش ہوتی تو۔۔اچھل۔کود کر لیتی ۔۔ وہ ہنسی

    مجھے کتھک پسند ہے۔ ہلکی پھلکی ادائیں بس۔ میں نے بہت شوق سے سیکھا تھا۔ مگر امی نے کبھی کسی جگہ پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ 

    امی؟ وہ اسکے مکمل انگریزی جملے میں واحد اردو لفظ پر چونکا

    ماں۔ والدہ۔ اس نے وضاحت کی۔ 

    ہمارے یہاں ماں کو آہموجی کہتے۔ اور باپ کو آہبوجی۔ 

    ہ نکال دو تو ہم بھی ابوجی ہی کہتے۔ وہ ہنسی

    وہ چلتے چلتے کافی دور نکل آئے تھے۔۔

    ہم کلب سے کافی دور نہیں آگئے۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔۔

    بس کچھ قدم اور۔۔ اس نے آگے کی جانب اشارہ کیا 

    اسکی بتائی منزل پر پہنچ کر وہ اچنبھے سے دیکھنے لگی۔۔ وہ اسےکسی قریبئ چائنیز ریسٹورنٹ کے باہر لے آیا تھا۔۔

    تم نے کھانا کھانا ہے نا چائینیز ہی آرام سے منہ بنائے بغیر کھا لیتی ہو اسلیے یہاں لایا ورنہ کورین تو وہاں کلب کے پاس بھی ڈھابہ تھا۔۔ اس نے وضاحت کی

    تمہیں کیسے پتہ لگا۔۔

    تم نے ہی کہا تھا موجے پیلے کاچ کھنا۔۔

    اس نے اٹک اٹک کر کہا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔۔ ریستوران میں اس نے حسب معمول سبزی پلائو منگوایا۔۔ ساتھ سلاد۔۔

    تم بہت خطرناک ہو۔۔ اس نے پہلا نوالہ منہ میں رکھتے اسے دیکھ کر کہا۔۔ 

    کیوں؟۔۔۔ کیسے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔

    تمہیں اردو سمجھ آتی میں محتاط رہوں گی اب۔۔

    اس نے منہ بنا کر کہا تو وہ کھل کر ہنسا۔۔

    مجھے کیسے اردو سمجھ آئے گی؟تم نے اتنا دکھی منہ بنا کر کہا تو میں ایڈون کے پاس گیا اس سے پوچھا اس جملے کا کیا مطلب۔۔ وہ سادگی سے بتا رہا تھا۔۔ 

    وہ کھانا تو کھا چکا تھا مگر اسکا ساتھ دینے تھوڑی سی سلاد پلیٹ میں نکال کر ان پر چاپ اسٹک پھیر رہا تھا۔۔

    اریزہ اسے دیکھتی رہی۔۔ 

     واقعی۔۔ تم بہت سویٹ ہو شکریہ اتنا کنسرن لینے کا۔ 

    تم سے ہی سیکھا۔۔ اس نے خوشدلی سے مسکرا کر کہا۔۔ 

    اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔۔ کندھے اچکا گئ۔۔

    دونوں کھا پی کر آرام سے باہر نکلے۔۔ 

    ایک انجان سی آنٹی دونوں کو مسکرا کر کچھ کہتی چلی گئیں۔۔  ہایون مسکرا کر رہ گیا وہ اس سے پو چھنے لگی۔۔ 

    کیا کہہ گئیں یہ۔۔ 

    کہہ رہی تھیں تم دونوں ساتھ اچھے لگ رہے ہو۔۔ ہایون نے جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔۔ 

    اریزہ سمجھی نہیں۔ ایسے ہی کہہ گئی ہونگی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں باتیں کرتے ٹہلتے کلب واپس آئے تو سب کلب کے باہر سیڑھیوں پر  لائن سے رونی صورت بنائے بیٹھے تھے۔۔

    تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟

     ہایون نے حیرانی سے پوچھا۔۔

    انہوں نے نکال دیا ہمیں۔۔

    یون بن روتا ہوا اٹھا اور اوپر واپس کلب جانے کیلیے سیڑھی پر قدم رکھا بری طرح لڑکھڑا کر کم سن کے اوپر۔۔ کم سن جو اس سے ایک قدم اوپر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا الٹ کر گرا 

    گوارا۔۔ کا اسکیچ خراب کر دیا۔۔ میں بنا رہا تھا ۔۔ وہ لڑا

    یون بن نے اٹھتے ہوئے معزرت کی۔۔

    بیانیئے بیانئے۔۔

    میں روک رہا تھا مت پیو ۔۔ انہوں نے میری نہیں سنی۔ ۔۔ ایڈون غصے سے کہتا اٹھا۔۔ 

    چلو انکو گھر لے چلیں۔۔ وہ سیدھا کھڑا ہوا  مگر بس ایک لمحے کو لڑکھڑا کر آنے لگا تھا سیدھا اریزہ کے اوپر۔۔ ہیون نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔۔

    میرا دل کر رہا ان تینوں کو یہیں پھینک کر چلے جائیں۔۔

    یہ گوارا تھی۔۔ سنتھیا اور گوارا دونوں نیچے ریلنگ سے ٹیک لگائے غصے سے گھور رہی تھیں۔۔

    میرا کیا قصور۔۔ ایڈون رونے لگا۔۔

    یہ لوگ کہہ رہے میں ذیادہ نہیں پی سکتا۔۔ پی لیا نا میں نے۔۔ ہے نا سنتھیا۔۔ اور دیکھو ہوش میں بھی ہوں۔۔ 

    زہر لگ رہے ہو اس وقت مجھے چپ ہو جائو۔۔ سنتھیا چٹخ کر بولی۔۔ 

    مجھے چپ کرا دیتی ہو۔۔ اریزہ نے بھی چپ کرا دیا۔۔ میں چپ ہوں مگر مجھے درد تو ہوتا ہے نا۔۔ اریزہ بہت درد ہوتا ہے۔۔ بہت یہاں۔۔ ایڈون ہچکیاں کے کر رو پڑا۔۔ ہیون اسے سنبھالنے میں دہرا ہو گیا۔۔

    بمشکل اسے یون بن کے پاس بٹھایا۔۔ 

    اریزہ کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔سنتھیا بھی اسے چونک کر دیکھ رہی تھی۔ 

    یہ تو تینوں ہوش کھو بیٹھے ہیں اب گھر کیسے جائیں گے؟ہایون  کمر پر ہاتھ رکھ کو متفکر انداز میں بولا۔۔ پھر خیال آیا۔۔

    جی ہائےکدھر ہے؟ 

    پیمنٹ کرنے گئ ہے۔۔ گوارا نے ناگواری سے کہا۔۔ 

    ہم سب کے پیسے ختم ہو گئے تھے ۔۔ 

    ہمم ۔۔۔۔ 

    میں پہلے آدھوں کو چھوڑ کر آتا ہوں پھر باقیوں کو لے جاتا ہوں۔۔ تم سب کسی قریبی ریسٹورنٹ میں بیٹھ جائو۔۔ 

    اریزہ کو خیال آیا۔۔ 

    ہم اکٹھے ہی چلتے ہیں۔۔ 

    کون ڈرائیو کرے گا دوسری گاڑی؟ ۔۔۔گوارا سخت چڑی تھی سو کاٹ کھانے والے انداز میں ہی بولی۔

    میں۔۔ اریزہ نے کہا تو ہیون نے تعجب سے دیکھا۔۔

    تمہیں ڈرائونگ آتی ہے؟

    ہاں۔۔ اریزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

    اسکے پاس لائیسنس تو نہیں ہوگا ایوویں مشکل میں پڑ جائیں گے۔۔

    گوارا کی بات میں دم تھا۔۔

    مین روڈ ایوائڈ کر لیں گے۔۔ چلو سب گاڑی میں بیٹھو۔ ۔۔

    وہ ان تینوں کو اٹھانے میں مدد کرنے لگا۔۔

    سونے دو۔ یون بن نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی ہائے اور گوارا یون بن کو سہارا دئے تھیں ایڈون کیلیے اس نے سیکیورٹی گارڈ سے مدد مانگی۔۔ کم سن  کو خود سنبھال رہا تھا۔۔ فلیٹ میں داخل ہو کر گوارا نے یون بن کو صوفے پر تقریبا پٹخ دیا اور تن فم کرتی کمرے میں گھس گئ۔۔ سنتھیا نے بھی کم و بیش یہی حرکت کی۔۔ جی ہائے اور اریزہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔ پھر ان دونوں نے سینٹرل ٹیبل سائیڈ میں کی ان سب کو کارپٹ پر لٹا کر ایک ایک کشن سر کے نیچے رکھا۔۔ ہایون  نے برابر مدد کروائی۔۔ خود بھی صوفے پر تھک کر گر گیا۔۔۔ 

    افف بہت تھک گئ۔۔ جی ہائے کمر سیدھی کرکے تھکے تھکے انداز میں بولی۔۔ 

    وہ جب فریش ہو کر نکلی تو تینوں بیڈ پر پھیلی تھیں اسکی جگہ ہی نہیں تھئ۔۔ اس نے سنتھیا کو ہلایا مگر وہ ہلی بھی نہیں۔۔

    وہ مایوس ہو کرصوفے کی طرف بڑھ گئ۔۔ سنتھیا نے ہلکا سا سر اٹھا کر اسے جاتے دیکھا۔۔ اریزہ کو پتہ نہ لگا مگر وہ نہ صرف جاگ رہی تھی بلکہ بلک بلک کر رو بھی رہی تھی۔۔

    صوفہ چھوٹا تھا اس پر گٹھری بن کر بھی لیٹنا مشکل تھا۔۔ اس نے تھوڑئ دیر کوشش کی پھر تنگ آکر اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔۔ 

    پورے شہر کا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔۔ روشنیاں ہی روشنیاں۔۔

    اس نے موبایل سے تصویر کھینچ لی۔۔ 

    دھندلی سی تصویر آئی منظر اتنا اچھا ہرگز قید نہ ہو پایا جتنا دیکھنے میں لگ رہا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     یہ شہر طلسم ہے ۔جتنا دلکش منظر ہے میری آنکھوں کے سامنے اتنا یہ تصویر نہیں دکھا پا رہی۔۔ 

    اداس سا اسمائیلی۔۔ 

    ۔ شائد کوئی ایسا محسوس کرے کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے مگر مجھے لگ رہا یہ روشنیاں مجھے بھی اندر سے منور کر رہی ہیں۔۔ میرا شہر کم و بیش ایسا ہی ہے مگر ایسا منظر مجھے اپنے شہر میں کبھی کبھار ہی دیکھنا نصیب ہوا ہے۔۔ 

    ویسے روز روز تو میں یہاں بھی دیکھ نہیں پائوں گی۔۔ 

    اس نے سوچا پھر ٹائپ کرنے لگی۔۔

    کو ن جاگ رہا کون سو رہا کون خوش خوش رات کو گلے لگا رہا کون رات سے لپٹ کر رو رہا ۔کون جانے مگر میرا دعا ہے جو بھی اس شہر میں ہے آج خوش رہے اور چین سے سوئے۔۔ 

    اس نے سوچا پھر شہر کاٹ کر دنیا کر دیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کسی کو آج خود سے نیند آرہی تھی تبھی اسکے موبایل پر نوٹیفیکیشن آیا۔۔  اس کا ہاتھ سرعت سے موبائل کی طرف بڑھا

    سوتے وقت موبائل پہنچ میں ہو تو سونا آسان نہیں ہوتا ۔۔ ہے نا؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

    پہلا کمنٹ

    کہاں پہنچی ہوئی ہو ایڈمن یہ کونسی زبان ہے؟

    اس نے چونک کر تصویر کو دیکھا اسے زوم کیا۔۔ پھر سامنے دیکھا

    وہ ایک اونچی سی بلڈنگ تھی جس کا نام پیلی روشنی سے دمک رہا تھا ایک تو بلڈنگ اونچی سی تھی اوپر سے نام بھی کافی بڑا لکھا نظر آرہا تھا

    تصویر سے نام پڑھنا مشکل تو تھا مگر کم از کم یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ نہ اردو ہے نا انگریزی۔۔

    دوسرا کمٹ۔۔

    ہا ہا گوگل سے چوری کی تصویر تو وہ بھی بلر۔۔ اچھے امیج لگایا کرو۔۔

    تیسرا کمنٹ۔۔

    اگر اتنئ ہئ روشنیاں نکل رہی ہیں تو ہمارے محلے میں آجائو۔۔ تین گھنٹے سے بجلی بند ہے چائے پلا دیں گے ہم سب جاگ رہے۔۔ 

    ہاش۔ اس نے منہ بنایا۔۔

    چوتھا۔۔

    ایڈمن اتنی رات کو چھت پر ہو؟ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا بھوت کھڑا ہے۔۔ 

    کچھ بھی۔ اس نے منہ بنایا۔۔ پھر جانے کیا احساس ہوا

    اسے لگا جیسے کسی نے پکارا ہے شائد۔۔  پیچھے مڑ کر دیکھ لیا۔۔

    اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔ اسے کے منہ سے چیخ کے نام پر دہل کر بس ہلکی سی کراہ جیسی آواز نکلی۔۔ ملگجے اندھیرے میں واضح 

    اونچا لمبا۔۔ سایہ 

    کیا ہوا؟

    ہیون  نے اسکے سامنے چٹکی بجائی۔۔ 

    پھر ہلکا سا ہنس دیا۔۔

    ڈر گئیں؟ کتنی مگن کھڑی تھیں مجھے اندازہ تھا جبھی پکارا تھا تمہیں۔۔ 

    ہوں۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل کیساتھ تھوک نگلا۔۔

    نہیں بس وہ چونک گئ۔۔ 

    میں پوچھ رہا تھا میں کافی بنانے جا رہا ہوں پیوگی؟

    اس نے ہلکے سے سر ہلا دیا۔۔ 

    میں بنا کر لاتا ہوں۔۔

    وہ مسکرا کر پلٹ گیا۔۔ 

    اسکے شناختی کارڈ پر شناختی علامت مسکراہٹ ہی لکھی ہوگی۔۔ وہ سر جھٹک کر دوبارہ بلاگ پر مصروف ہو گئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پانچوان کمنٹ

    میرا شہر بھی ایسا ہی ہے اور میں روز اسکی روشنیاں محسوس کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے لگتا ہے میرے اندر کے اندھیرے اتنی آسانی سے دور نہیں ہونگے۔۔ سو دعا کرتا ہوں آپکی دعا دے کم۔ از کم چین سے سو لوں۔۔

    اس نے دل سے دعا دی۔۔

    خدا آپکے اندر کے اندھیرے دور کرے ۔۔ 

    اسے دعا دے کر سکون سا ملا۔۔ اسے دعا دینا بہت اچھا لگتا تھا۔ کیا پتہ کسی کے نصیب کسی کی دعا سے کھل جائیں۔۔ 

    اریزہ۔۔

    اسے ہیون نے پکارا۔۔

    وہ اس بار اس سے کافی فاصلے پر دروازے سے ہی پکار کر متوجہ کردینا چاہتا تھا۔۔ وہ اسکے انداز پر مسکرائئ۔۔ وہ بھی مسکراتا آیا کافی اسے تھمائی۔۔ 

    ویسے میں نے تم سے پوچھا نہیں مگر چینی ڈالی ہے میں چینی کے بغیر نہیں پیتا کافی۔۔ 

    میں بھی۔۔ اسے اچھی لگی تھی اس نے کھلے دل سے تعریف کی۔۔

    تم تھکی نہیں ؟ باقی لڑکیاں تو سب خراٹے بھر رہی ہیں۔ تمہاری سہیلی کے سوا۔ وہ۔ 

    ہایون شاید کمرے سے ہو کر آیا تھا۔ 

    ہاں وہ میری جگہ ہی نہیں چھوڑی سب پھیل گئیں۔ موٹیاں۔

    موٹیاں اس نے روانی میں جل کر اردو میں کہا تھا۔ ہایون ہنس دیا

    موٹیاں کا کیا مطلب کوئی گالی ہے؟ 

    وہ دلچسپی سے پوچھ رہا تھا

    جی نہیں۔ وہ تیز ہو کر بولی۔

    میں گالیاں نہیں دیتئ۔موٹی مطلب فیٹ۔ موٹیاں مطلب بہت سی موٹی لڑکیاں 

    ہایون مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا۔ 

    ایسے ہی غصے میں کہا میں نے ورنہ وہ تینوں موٹی نہیں ہیں۔ میں ہوں انکے مقابلے میں۔ 

    اسے یہی لگا کہ وہ مزاق اڑانے والے انداز میں مسکرا رہا ہے کہ خود اتنی موٹی ہو کر دوسروں کو موٹا کہہ رہی ہے سو وضاحت دی

    تمہاری زبان بہت مخلتف اور سننے میں اچھی لگتی ہے۔لفظ سمجھ آجاتا یے کہ کیا کہا بہت ردھم سے بولتے ہو تم لوگ۔ 

    ہایون نے صاف گوئی سے کہا۔ 

    کاش میں بھی ایسا کہہ سکتی۔اریزہ نے دل میں سوچا۔ اسے تو انکی زبان خاصی لائوڈ لگی تھی۔ سیدھی بات بھی ایسے تیز اور چیخنے والے انداز میں کرتے کہ لگتا لڑ رہے ہیں۔ 

    وہ سوچ کے رہ گئ کہنے کا ارادہ نہیں تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح ہنگامہ خیز تھئ۔۔ اسکی آنکھ غیر معمولی شور سے کھلی تھی اس نے گردن سیدھی کرنی چاہی تو کراہ کر رہ گئ۔ رات کو کافی پی کر وہ کمرے میں آکر صوفے پر ہی ناچار ٹکی تھی 

    موبائل استعمال کرتے کرتے کس وقت آنکھ لگی پتہ ہی نہ چلا۔۔

    وہ اٹھ کر بھی اٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔۔

    اٹھ گئیں اریزہ آجائو ناشتہ کر لو۔۔ جی ہائے اسے اٹھانے ہی آئی تھی شائد۔۔ اس خوشدلی سے صبح بخیر کرتی الٹے پیروں پلٹ گئی۔۔

    کمرہ خالی تھا سب باہر جمع تھے اور سوپ اڑا رہے تھے۔۔ وہ منہ دھو کر آئی تو سب اوپن  کچن میں بنی ماربل ٹیبل جمع سلیب کے گرد جمع تھے۔۔

    صبح بخیر ہوش آگیا تم لوگوں کو۔۔ اس نے کہا تو یون بن ڈھٹائی سے ہنسا۔

    میں تو ہوش میں تھا مجھے سب پتہ چل رہا تھا۔۔

    آئندہ تم میرے سامنے ایسے ڈرنک ہوئے نا گلا دبا دوں گی۔۔ کتنی فضول حرکتیں کر رہے تھے کچھ یاد ہے۔؟

     گوارا نے چاپ اسٹکس سے اسے ہینڈز اپ کیا تھا۔۔

    اوئے دور کرو اسے آنکھ پھوٹ جاتی ابھی میری

    وہ ڈر کر پیچھے ہوا

    تم سب صبح صبح سوپ کیوں پی رہے۔۔

    اریزہ کو حیرت ہوئی۔۔

    ہینگ اوور سوپ ہے میں نے اور جی ہائےنے بنایا انکو ہوش میں لانے کیلیئے۔۔ ہایون  نے بتایا وہ خود اس وقت چاول کھا رہا تھا ساتھ اوپر پتہ نہیں کیا کیا ڈال کر۔۔

    اریزہ انڈہ بنا رہی ہو تو میرے لیے بھی بنا دینا۔۔

    اریزہ نے فریج سے انڈہ نکالا تو سنتھیا نے بھی فرمائش کر دی۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔ پھر چونک کر دیکھنے لگی۔۔

    تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا؟

    اس کے کہنے پر سب سنتھیا کو ہی دیکھنے لگے۔

    وہ گڑ بڑا گئ۔۔ 

    بس وہ کل میرے سر میں درد ہو گیا تھا تو سوئی بھی ٹھیک سے نہیں اسلیے۔ 

    گوارا نے غور سے اسے دیکھا

    اس نے دو شاٹ لیے تھے رات بھر بڑ بڑائی تھی تم بھی ہینگ اوور سوپ لے لو سنتھیا۔۔

    سنتھیا نے سر ہلا دیا۔۔ 

    کیا تم نے بھی پی؟

    ایڈون حیرت سے بولا تو وہ بگڑ گئ۔۔

    تو کیا ہوا تھوڑی سی پی لی ؟۔۔ ہوش پھر بھی نہیں کھوئے تم تو بالکل ٹن تھے۔۔ 

    تمہیں مگر نہیں پینی چاہیئے تھی۔۔

    اس نے اسکے بگڑنے کو تعجب سے دیکھا۔

    میں نے منع کیا تھا نا۔۔ اسکے انداز میں ناگواری در آئی۔۔ 

    کیوں منع کیا تھا ؟اور تمہارے منع کرنے سے کیا میرا دل کر رہا تھا پی لی تم پی لو ٹھیک ہے میں نہ پیوں۔۔ اسلیے کہ تم لڑکے ہو؟ سب برا بھلا کر لو جائز تمہارے لیے۔۔ وہ حلق کے بل چلائی۔۔ دونوں اردو میں لڑ رہے تھے یہ لوگ بالکل خاموش ہوکر دیکھ رہے تھے۔۔

    کیا ہوا ہے تمہیں کیوں چلا رہی ہو۔۔ ایڈون غصہ دبا کر بولا ۔۔

    مرضی میری۔۔ میں جتنا بھی زور سے چلائوں اس پر بھی پابندی ہے؟ بولو۔ 

    ایڈون نے ضبط سے مٹھی بھینچی 

    کیا ہوگیا ہے سنتھیا۔۔ آرام سے بات کرو۔۔

    اریزہ انڈے سلیب پر ٹکا کر بیچ بچائو کیلیے میدان میں اتری۔۔ 

    تم بیچ میں مت بولو۔۔ وہ پہلے سے زیادہ زور سے چلائی۔۔ انگلی اٹھا کر اس نے خبردار کیا

    یہ میرا اور ایڈون کا معاملہ ہے تم اس سے الگ ہی رہو تو بہتر ہے۔۔

    ایڈون نے ہونٹ بھینچے کرسی کھسکا کر سنتھیا کو دیکھا۔۔ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔۔ ہایون  اسکے بالکل سامنے ہی بیٹھا تھا اسکے تاثرات دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔ سنتھیا بالکل بھی نہ خائف ہوئی اسے یونہی گھورتی رہی۔۔ ایڈون نے اپنا موبائل اٹھایا اور تیزی سے پیر پٹختا باہر نکلتا چلا گیا۔۔ 

    سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھتے ہی دیکھتے سیلاب اتر آیا وہ اسے چھپانے کمرے میں بھاگ گئ۔۔ اریزہ اسکے پیچھے جا رہی تھی کہ گوارا نے اسکا ہاتھ تھام کر روک لیا۔۔

    تم ناشتہ کرو اسے اکیلا چھوڑ دو۔ 

    اریزہ نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔

    کل کچھ ہوا تھا؟

    گوارا نے جز بز سا ہو کے چائے کا کپ منہ سے لگا لیا۔۔ 

    ڈرنک تھے یہ تینوں ایڈون نے اپنی زبان میں پتہ نہیں کیا کہا سنتھیا نے اسی وقت رونا شروع کر دیا۔۔ لڑ نہیں رہے تھے اس وقت یہ لوگ پھر بھی۔۔ جی ہائےنے بتایا۔۔

    کیا بات ہو سکتی ہے۔۔ اریزہ سوچ میں پڑ گئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ دونوں کہاں گئے۔۔

    کم سن واپس آیا تو اریزہ اور ہایون غائب تھے یون بن  اور ایڈون تھک کر صوفے پر ڈھیر تھے۔۔

    دونوں کی ڈرنکس سامنے میز پر تھیں ایک ایک شاٹ چڑھا چکے تھے

    پتہ نہیں۔۔ یون بن نے کندھے اچکائے۔۔

    گوارا اور سنتھیا ڈرنک لیے وہیں آگئیں

    میں نے منع کیا تھا نا۔۔ ایڈون نے رعب سے کہا۔

    کوک ہے۔۔ سنتھیا نے منہ بنا کر کہا

    کیوں روک رہے ہو اسے اسکی مرضی جو چاہے پیئے۔۔

    گوارا کو غصہ آگیا تھا۔۔

    ایڈون نے جواب نہیں دیا خود اگلا پیگ بنانے لگا۔

    اتنا مت پیو۔۔ ڈرائیو نہیں کر پائو گے۔۔ یون بن نے بھی گلاس بھرنے کو ہاتھ بڑھایا تو گوارا نے ٹوکا۔

    چار پیگ سے مجھے نہیں چڑھتی۔۔ وہ ابھی ہوش میں ہی تھا لاپروائی سے بولا۔۔ گوارا نے منہ بنا لیا۔۔

    کبھی جو یون بن اسکی سن لے ایک یہ سنتھیا ہے ایک بار ایڈون نے منع کر دیا شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔

    چلو ٹرتھ  گیم کھیلتے ہیں۔۔ کم سن نے بوتل میز پر رکھی۔۔ جس کی جانب رکے گی وہ ایک پیگ چڑھائے گا اور ایک سوال کا جواب دے گا۔۔ 

    کیا ؟ہم بچے تھوڑی۔۔ گوارا نے حسب عادت نخرے سے منہ بنایا۔۔

    نہیں فن رہے گا گھمائو۔۔یون بن صوفے سے اتر کر کارپٹ پر آگیا۔۔

    سنتھیا نہیں پیئے گی۔ ایڈون کی وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔ سنتھیا مسکرا دی۔۔

    ٹھیک جب جب سمتھیا کی باری آئے ایڈون پیئے گا اسکی جگہ۔۔ یون بن نے مزاق میں کہا تھا

    ٹھیک ہے ۔۔ ایڈون فورا راضی ہوگیا۔۔

    کم سن ے بوتل گھمائی۔۔

    سب سے پہلے گھوم کر گوارا کے پاس ہی آئی

    اس نے ایک شاٹ پی لیا۔۔ 

    مجھے پوچھنا ہے ۔۔ کم سن اور یون بن اکٹھے بولے۔۔ 

    تمہارا مجھے پتہ کیا پوچھو گے۔ اس نے یون بن سے کہا وہ ہنسنے لگا۔۔

    تم پوچھو۔۔ وہ کم سن سے کہہ رہی تھی۔۔

    تمہارے پاس میرا بنایا ہوا تمہارا اسکیچ موجود ہے؟

    اس نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔

    نہیں۔۔ اس نے ناک چڑھائی۔ 

    مڈل اسکول کی بات یہ اب تک تھوڑی سنبھال کر رکھنا تھا۔۔ 

    کم سن مسکرا دیا۔۔ اس بار ایک شاٹ خود ہی بنا باری چڑھا لی

    کیا فضول سوال پوچھا ۔۔ یون بن ہنسا۔ 

    میں زیادہ بہتر سوال کرتا ہوں گوارا۔۔

    اگلی باری۔ گوارا نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔۔

    اس بار ایڈون پر رکا تھا۔۔

    ایڈون سے مجھے سوال کرنا ہے۔۔۔جانے گوارا کو کیا سوجھی۔۔ 

    ڈرنک کیوں نہیں کرنے دے رہے سنتھیا کو۔۔  

    ایڈون نے شاٹ جو پی رہا تھا سنتھیا کی جانب بڑھا دیا۔

    یہ لو۔۔ سنتھیا حیران ہی رہ گئ۔۔

    چکھ لو۔۔ وہ سنجیدہ تھا۔۔

    سنتھیا نے چکھا اسے زور سے ابکائی آئ۔۔۔

    یہ کیا پی رہے ہو اتنا بدمزہ۔ سنتھیا کو لگا اسکی زبان جل گئی ہو۔ 

    ایڈون مسکرا دیا۔ گوارا نے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھا۔۔ 

    میرا سوال ابھی بھی وہیں ہے جواب نہیں دیا تم نے۔۔ گوارا ضدی لہجے میں بولی۔۔ سنتھیا نے جلدی سے کوک منہ سے لگا لی تھی

    اگر تمہیں پتہ بھی تھا کہ سنتھیا نہیں پی پائے گی تو بھی منع کیوں کر رہے تھے۔ کم سن کو بھی تجسس ہوا۔۔

    ایڈون انکی سنجیدگی پر ہنسا۔۔

    میں خود بھی نہیں جانتا۔۔ بس مجھے لگتا ہے لڑکیوں کو نہیں پینی چاہیئے۔۔

    اس کا انداز سادہ تھا۔۔ 

    میل شائونسٹ۔۔ گوارا نے کڑوا سا منہ بنا لیا۔۔

    یار ابھی بھی ایسے لوگ ہیں جو لڑکے اور لڑکی میں فرق کرتے۔۔ یون بن کو حیرت ہوئی۔۔ 

    بیک ورڈ ملک سے ہیں اسلیے۔۔ گوارا نے ہنگل میں کہا۔۔ دونوں متفق تھے۔۔ 

    چلو ۔۔ کم سن نے پھر گھما دی۔۔ اس بار خود اس پر ہی آئی۔۔ اس سے پہلے یون بن اور ایڈون چھین جھپٹ کر پی گئے۔۔ 

    مجھ سے کسی نے کچھ نہیں پوچھنا ۔۔ وہ ہنسا۔ پھر دوبارہ گھما دیا۔

    سنتھیا کی باری تھی۔۔

    آیڈون نے ایک اور شاٹ چڑھایا۔۔ 

    سنتھیا۔۔ ایڈون کے علاوہ کوئی گورا چٹا ہینڈسم چلے گا؟

    یہ یون بن تھا۔۔سنتھیا نے فٹ سے جواب دیا۔۔ 

    ہر گز نہیں۔۔ یون بن  مسکرا دیا۔۔

    چلو ایک آخری باری۔۔

    کم سن نے کہا اس بار پھر ایڈون کی باری آئی۔۔

    سنتھیا نے ہاتھ اٹھا دیا۔۔

    میں نے پوچھنا ایڈون سے۔۔ تم تو ساری عمر پوچھ سکتی ہو۔۔ کم سن نے روکا۔۔ 

    میں نے بھی پوچھنا۔۔ یون بن  نے بھی ہاتھ اٹھایا۔۔

    سیلبرٹئ ہے نا سب کو اس سے پوچھنا۔۔

    گوارا چڑی۔۔ 

    میں نے پوچھنا ہے میں۔ نے۔۔ یون بن اور کم سن ہوش کھو رہے تھے۔۔ ایڈون نے ایک اور گلاس چڑھا لیا۔

    یہ لوگ فارغ ہو رہے ہیں ۔ میں ہایون کو بلاتی ہوں۔۔ یون بن تو اب ڈرائو بھی نہیں کر سکے گا۔۔

    گوارا کو فکر ہو رہی تھی۔ اس نے بیگ سے فون نکال کر کال۔ملا لی

    ۔ جی ہائے بھی ادھر چلی آئی کیا کر رہے ہو تم لوگ۔ اس نے خوشگوار انداز میں آکر پوچھا۔۔ 

    یون بن اور کم سن ابھی بھی ایک دوسرے سے بحث کر رہے تھے۔۔ 

    یہ دونوں تو ٹن ہو گئے۔۔ جی ہائے نے آگے بڑھ کر گوارا کے ہاتھ سے اسکا گلاس لے لیا۔۔ 

    ہایون کہاں ہو یار یہ لوگ ڈرنک ہو گئے ہیں۔۔ 

    سنتھیا نے کچھ سوچا پھر  ایڈون کے قریب آکر بیٹھ گئ۔۔

    ایڈون ۔۔ اس نےہلایا۔۔ ایڈون سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔

    ہوں۔۔

    اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ 

    اریزہ۔۔ کہاں گئ؟ 

    پتہ نہیں۔۔ سنتھیا بد مزا ہوئی۔۔

    اسے دیکھو۔۔ کہاں چلی گئ۔۔ پھر چلی گئی کہیں۔۔وہ روہانسا ہو ریا تھا۔۔

    تم اسکی فکر میں کیوں گھل رہے۔۔ 

    وہ بھنائی۔۔ 

    میں تم سے کچھ پوچھنا چاہ رہی ہوں۔۔

    میں بھی تو بتا رہا ہوں نا۔۔ میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔۔ دل سے۔۔ ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔ سنتھیا کا دل ایک دھڑکن مس کر گیا تھا۔۔

    تم مجھے چپ کرا دیتی ہو۔۔ میرے اندر بے چینی ہے۔۔ وہ سر ہلا رہا تھا جیسے اسے سمجھ نہ آرہا ہو اپنی کیفیت کیسے بیان کرے۔۔

    میں ۔۔ مجھے لگتا میں کہہ نہ پایا تو مر جائوں گا۔۔ تم سن رہی ہو نا۔۔

    سنتھیا نے سر اثبات میں ہلایا۔۔

    میں بھی تم سے بہت۔۔ وہ کہنا چاہ رہی تھی۔۔ 

    یہ دونوں کیا کر رہے۔۔ جے ہی نے انکی جانب اشارہ کیا۔۔ 

    گوارا انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔ 

    لو کنفیس۔۔ ۔۔ اسے گدگدی سی ہوئی۔۔ 

    واقعی۔۔ ایڈون کی آنکھیں دھندلا گئیں۔

    ہاں میں بھی۔۔ سنتبھیا مسکرائی۔۔

    واقعی اریزہ۔۔ تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو۔ 

    وہ ایکدم خوش ہو گیا تھا۔سنتبھیا سناٹے میں آگئ تھی۔

    میں سنتھیا کو بتا دوں گا۔۔ وہ سمجھ جائے گی۔۔ 

    سنتھیا۔۔ وہ پکارتا ہوا اٹھااور میز سے ٹھوکر کھا کر واپس گرا تھا۔۔ 

    گوارا کی ان دونوں کی جانب توجہ تھی۔۔ انکے کہے گئے الفاظ تو سمجھ نہیں پائی تھی مگر اتنا اندازہ ہو گیا تھا ایڈون کو جہاں سنتھیا کا نام لینا چاہیئے تھا وہاں وہ کوئی اور نام لے گیا تھا۔۔

    کیا کہا تم نے اس نے ایڈون کا کندھا ہلایا۔ 

    اس نے اسکا ہاتھ  جھٹک دیا اور میز پر سر رکھ کر سسکنے لگا۔۔

    مت رو میرے بھائی۔۔ مجھے دیکھو میں کوئی روتا ہوں۔۔ یون بن اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔

    وہ ہنگل میں بول رہا تھا۔

    تو کیوں روئے گا۔۔ کم سن اس پر جھکا۔۔

    تمھارے پاس گوارا ہے۔۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔۔ 

    ہاہا۔۔ یون بن ہنسا۔۔

    تو کیا اگر گوارا ہے۔۔ گوارا ہے بھی کہ نہیں۔۔ سنتھیا۔۔ 

    سنتھیا۔۔ گوارا کو اپنے جیسا کر لو نہ۔۔ تم کتنی اچھی سی ہو۔۔ اسے بھی سکھائو۔۔ میری نہیں سنتی یہ۔۔ یون بن دہائی دے رہا تھا۔۔ سنتھیا ایڈون کو آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ رہی تھی۔۔ گوارا خونخوار نظروں سے یون بن کو گھور رہی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے بڑی سی کون بنوائی ۔۔ وہ بچون کی طرح خوش تھی۔۔ دونوں آئسکریم لے کر دوبارہ چلنے لگے۔۔

    یہ بہت مزے کی ہے۔۔ اس نے چٹخارہ بھرا۔۔

    اسکا موڈ بے حد خوشگوار ہو گیا تھا۔۔ ہیون نے ہنکارہ بھرا۔۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی وہ بھی خاصی خنک

    یہاں بس اتنی گرمئ پڑتی۔۔ اسے حیرت ہوئی۔۔

    یہ کم ہے گرمی؟۔۔ ہایون نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔۔

    اس نے موبائل نکالا۔۔ 

    یہ دیکھو۔۔ پورے سات ڈگری کم  ہے میرے شہر سے۔۔ 

    ہیون  نے بھنویں اچکائیں۔۔

    جیسا موسم یہاں اسے تو ہم گرمی میں لفٹ بھی نہیں کراتے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ یہ اردو میں کہا تھا۔۔

    کیا؟ کہہ رہی ہو؟ہایون نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گئ۔

    لفٹ نہیں کرواتے کی کیا انگریزی ہوگی بھلا۔۔ 

    ہم اتنی گرمی کو محسوس بھی نہیں کرتے۔۔ اس نے جملہ بدل دیا۔۔

    ہمم۔ پاکستان میں یعنی کافی گرمی پڑتی۔۔

    ہیون نے اندازہ لگایا۔۔

    ٹھنڈ بھی بہت پڑتی۔۔ آرام سے مائنس میں جاتا ہے ٹمپریچر سردیوں میں۔۔

    برف باری ہوتی؟ہایون نے پوچھا تو اس نے جھٹ کہا 

    ہاں۔۔

    تمہارے شہر میں بھی۔۔

    نہیں ۔اس نے مایوسئ سے سر ہلایا۔ 

     آخری بار چالیس سال پہلے پڑی تو تھی۔۔ اور دس بارہ سال پہلے بھی تھوڑی سی تھی تھی تو۔۔۔۔ سب درخت ہی کاٹ دیئے ہائوسنگ سوسائیٹئوں نے اب تو موسم بھی اتنا گرم ہوجاتا ہے پنڈی کا۔ 

    اس نے اٹک اٹک کر سوچ سوچ کر انگریزی میں سب بتا ہی دیا۔۔ ہایون بہت تحمل سے سن رہا تھا۔ 

    مجھے برف باری بہت پسند۔۔ جب بھی ہوتی میں ضرور دیکھتا ہوں۔۔ گھنٹوں دیکھ سکتا ہوں۔۔ 

    ہایون  اسکےچپ ہونے پر بتا رہا تھا۔۔

    مجھے بھی۔۔ اریزہ مسکرا دی۔۔

    بس دیکھنے کو ملی نہ کبھی۔ 

    اس نے دل میں بقیہ جملہ بولا

    ہیون وہ کونسی جگہ تھی جہاں تم لوگ گئے تھے بڑے سا شیشہ تھا۔۔ اور اس میں مچھلیاں اور دیگر جانور تیر رہے تھے۔۔ ۔۔۔ اس نے سوچ سوچ کر کہا۔۔

    سمندر تھا۔

    ہایون ۔ ہنسا۔۔ یہاں سمندر کہاں۔۔ کب کی بات کر رہی ہو۔۔؟

    یہ شاہزیب سالک ایڈون وغیرہ انہوں نے فیس بک پر لگائی تھی تصویر۔۔

    پتہ نہیں۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ میں نہیں تھا۔۔

    ویسے ایکوریم ہوگا۔۔ 

    ایکوریم ۔۔ اس نے اچنبھے سے دیکھا۔۔ اتنا بڑا ؟

    ہاں لوگوں کو کافی پسند آتا  جب تم لوگ دریا پر جا رہے تھے تو میں نے یہی کہا تھا ایکوریم چلو۔۔ 

    ہیون نے کہا تو اسے یاد آیا۔۔

    میں سمجھی تھی چھوٹا سا ایکوریم ہوگا۔۔ مجھے دیکھنا۔۔ہے۔۔ دور ہے؟

    نہیں کئی مالز میں ہے ۔۔

    جو قریب لگے۔۔  وہ چلتے چلتے رک گیئ۔۔

    میں یہاں بیٹھ جائوں؟۔

    اس نے فٹ پاتھ کی طرف اشارہ کیا۔۔

    بیٹھ جائو۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ وہ آرام سے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئ۔

    میں تھک گئ ۔۔ اس نے مزے سے بڑی سی آیکسریم کی بائٹ لی۔۔

    ہایون نے اسکا اطمینان دیکھا وہ جیسے اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھی۔۔ بارہ بج رہے تھے سڑک پر رش نہیں تھا ارد گرد مارکیٹ بھی کافی بند ہو چکی تھی۔۔ وہ بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔

    یہاں سب صاف ستھرا تھا۔۔ پاکستان میں شائد وہ کبھی ایسے بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔ دونوں خاموشی سے آیسکریم ختم کرنے لگے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔

    جاری یے

    Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? rate us below

    Rating

  • Salam Korea Episode 8

    Salam Korea

    By vaiza zaidi

       قسط 8

    Salam Korea Seoul Korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi
    Salam Korea Seoul Korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

      ساری رات جاگتے گزری تھی سوئے دو گھنٹے ہی ہوئے ہونگے کہ الارم بج اٹھا۔۔ وہ کتنی دیر کسلمندی سے پڑی جمائیاں لیتی رہی۔۔ رات بھر بارش رہی تھی اس وقت خاصا موسم بہتر تھا ۔ اس نے سب سے پہلے اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔ نرم گرم سی دھوپ پھیلی تھی۔۔ وہ گہری سانس لیتی فون چارجنگ پر لگا کر نیچھے اتر آئی۔۔ سنتھیا نہا کر باتھ روم سے نکل رہی تھی اس دیکھ کر خوشگوار انداز میں صبح بخیر کہا۔۔ 

    صبح بخیر

    وہ کپڑے نکالتی باتھروم گھس گئ۔۔ جب تیار ہو کر نکلی تو سنتھیا مکمل تیار لپ اسٹک لگا رہی تھی۔۔

    بال جھٹکتی اسے دیکھ کر چونکی۔۔ وہ گھٹنوں سے نیچے تک کی اسکرٹ اور شرٹ میں ملبوس تھی۔۔ 

    کیسی لگ رہی ہوں۔۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر سنتھیا گڑبڑا کر پوچھنے لگی۔۔

    اچھی لگ رہی ہو مگر اسکرٹ چھوٹی نہیں ایسے ہی باہر جائو گی؟

    اس کا انداز سرسری تھا۔۔ سنتھیا چپ سی رہ گئ۔۔

    کیوں اس میں کیا برائی ہے یہاں سب ایسی ہی ڈریسنگ کرتے۔۔ اس کا انداز تھوڑا سخت تھا 

    اریزہ نے غور نہیں کیا سرسری ہی انداز میں بولتی سیڑھیاں چڑھنے لگی

    ہاں مگر یہ لوگ تو کورین ہیں ہم تو پاکستانی ہیں

    ہم تھوڑی ایسے کپڑے پہنتے۔۔ 

    پہنتے نہیں مگر پہن سکتے تو ہیں۔۔۔

    تمہیں منع ہوگا مجھے ایسے کپڑے پہننے منع نہیں۔

    اب تم بھی مجھ سے لڑ کر دوستی چھوڑ دو کہ میں تمہارے قابل نہیں رہی۔۔ اس نےتپ کر سختی سے کہا۔۔ سیڑھیوں سے جھانک کر اریزہ غور سے شکل دیکھنے لگی۔۔ پھر تولیہ کھینچ کر گولے کی طرح اسکے منہ پر مارا۔۔

    دفع دور میری طرف سے بکنی پہن لو جا کر۔۔ آئی بڑی۔ وہ پیر پٹختی سیڑھیان چڑھ گئ۔۔ سنتھیا نے جھلا کر تولیہ جھٹکا گرنے لگا تو کیچ کر احتیاط سے ریلنگ پر ٹانگ دیا  اور اپنے بال ٹھیک کرنے لگی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کلاس لے کر نکلیں تو اریزہ باقائدہ منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائیاں روک رہی تھی۔۔ 

    تھک کر نزدیکی بنچ پر بیگ رکھا اور ڈھیر ہوگئ۔۔

    کلاس نہیں لینی؟

    سنتھیا نے اس سے پوچھا تو سر نفی میں زور زور سے ہلانے لگی

     نہ بابا مجھ میں کلاس لینے کی ہمت نہیں 

    جائو پھر ہاسٹل جا کر سو جائو۔۔ سنتھیا نے مشورہ دیا ۔نہیں سونا نہیں ہے بس جاگنے سے سر بھاری ہو رہا۔۔اتنا چلنے کی ہمت بھی نہیں۔۔۔

     اس نے ہاسٹل تک نظر ڈالی۔۔ تین بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹ ایک گرائونڈ پار کرکے آتا اسکا ہاسٹل۔۔ 

    چلو پھر میں آتی ہوں کلاس لے کر یہیں۔۔ سنتھیا کہہ کر آگے بڑھ گئ۔۔ وہ بنچ پر دونوں پائوں اونچے کر کے بیٹھ کر موبائل استعمال کر نے لگی۔۔ پھر کب اسے اونگھ آئی پیر پھیلائے بیگ پر سر رکھا بے خبر ہوگئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکا اگلا پراجیکٹ بھی گروپ ہے۔۔ اور میں اس بار اپنی مرضی سے گروپ بنائوں گا۔۔ ۔

    نو سر۔۔ پوری کلاس کورس میں بولی۔۔

    بالکل۔۔ سر رعائیت دینے کو تیار نہیں تھے۔۔

    وہی شکلیں ہر بار پریزنٹیشن دینے آجاتی ہیں میں بور ہو گیا ہوں۔۔ چار لوگ پڑھتے باقی سب انکی محنت پر عیش کرتے سو پانچ نام میں رینڈملی چن کر گروپ بنا رہا ہوں اور پریزنٹیشن مجھے ہر اس طالب علم سے چاہیئے جس نے آج تک نہیں دی۔۔ سر کہتے بورڈ کی طرف بڑھ گئے۔۔

    ان سب نے مایوس سی شکل بنا لی۔۔ جانے سر کس کو کس کے۔متھے مارنے والے تھے۔۔

    کلاس کے بعد سب طلبا بھاگ کر بورڈ کے پاس پہنچے تھے۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنتھیا  گوارا کم سن ایک گروپ میں تھے

    ایڈون سالک اور شاہزیب کا علیحدہ گروپ تھا

    ہیون نے مایوسی سے اپنے ممبرز کے نام دیکھے۔

    یون بن ۔۔ یعنی بندہ کوئی امید نہ رکھے۔۔

    جی۔ہائے۔ گوارا کی دوست سیدھے منہ بات کسی کسی سے کرتی تھی۔۔ 

    ایڈلین۔۔ 

    ایڈلین اور اس نے بد مزہ ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔۔ 

    اریزہ۔۔ آخری نام بھی کوئی اتنا امید افزا نہیں تھا۔۔

    وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    وہ گروپ پر ہی تبصرہ کرتے لان میں چلے آئے۔۔ 

    گوارا کو گروپنگ بالکل پسند نہیں آئی

    جی ہائے اسکو کہہ رہی تھی کہ مجھے رئ پلیس کر لو۔۔ 

    سر۔۔ نے اپنے پاس ریکارڈ رکھا ہوگا۔۔ یون بن ہنسا۔۔

    میں پھر تم لوگوں سے ہمدردی ہی کر سکتی وہ مسکراتی ہاتھ ہلاتی آگے بڑھ گئ۔۔

    تم خوش نہیں ہمارے گروپ میں سارا کام تمہیں ہی کرنا پڑتا تھا۔۔ یون بن  نے چھیڑا۔۔ 

    پھر بھی مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔۔ وہ ضدی پن سے اسکے بازو سے لٹکی۔۔ 

    یون بن فدا ہی تو ہو گیا۔۔ 

    تم تو ہمیشہ میرے ساتھ ہی ہو۔۔ اس نے اسکا ہاتھ تھام کر چوما۔۔

    انکے پیچھے چل کر آتے ایڈون نے دھیرے سے سنتھیا کا ہاتھ تھام لیا۔۔ سنتھیا چونکی پھر آہستہ سے غیر محسوس انداز میں ہاتھ چھڑا کر پلٹی۔۔

    ہایون لکی ہو اریزہ بہت اچھی پرزنٹیشن بناتی ہے اسکے پاس آئیڈیاز بہت ہوتے۔۔ 

    ہمم دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ وہ سب اکٹھے چلتے ہوئے لان میں آکر بیٹھ گئے۔۔ 

    میں آتی ہوں۔۔ سنتبھیا واش روم جا رہی تھی بیگ ایڈون کو تھما کر چلی گئی۔۔ ایڈون نے بیگز نیچے زمیں پر احتیاط سے رکھا پھر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگا۔۔ 

    .ہے کہاں اریزہ۔۔ 

    ہیون  نے بیگ نیچے زمیں پر رکھتے ہوئے پوچھا۔۔

    ایڈون نے پانی پیتے اشارے سے بتایا۔۔ کم سن اور ہیون نے مڑ کر دیکھا تو کوئی لڑکی بے ترتیب سے انداز میں دراز تھی۔۔ دونوں گھٹنے موڑ کر بیگ پر سر رکھےگلابی رنگ کا اسکارف سر سے گھٹنوں تک پھیلا کر اوڑھے لیٹی تھی۔۔

    منہ تو ڈھکا ہوا ہے۔۔ کم سن بولا۔۔ 

     ۔

    اریزہ ہی ہے۔۔ہایون نے گلابی اسکارف پہچان لیا تھا۔۔

    یہ یہاں کیوں سو رہی ہے۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔

    اٹھادو اسے جا کر ہاسٹل میں آرام سے سوئے۔۔ کم سن نے کہا تو ہیون  اسے ہلانے بڑھا ایڈون نے ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔ 

    ٹھہرو۔۔ برا مان جائے گی۔۔ اس نے روکا تو ہیون الجھن سے دیکھنے لگا۔۔ 

    ایڈون نے آگے بڑھ کر تھوڑا سا پانی چلو میں نکالا اور اس کے چہرے پر چھڑک دیا۔۔

    وہ فورا کسمسائی۔۔

    کم سن ہنسا۔۔ 

    اس سے تو تمیز سے ہی اٹھا تا۔۔ہیون   

    ایڈون نے جواب نہیں دیا۔۔ اریزہ اٹھ بیٹھی۔۔

    ہا میں سو گئ تھی۔۔ 

    وہ آنکھیں مسل رہی تھی۔۔

    ہم بھی بس جا رہے ہیں یہاں سے تم بھی ہاسٹل جا کر ہی سوئو۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلاتی بیگ سمیٹنے لگی۔۔ 

    اریزہ سر نے نئے گروپ بنائے ہیں پروجیکٹ کیلیے۔

    تم اور میں ایک ہی گروپ میں ہیں۔۔

    نہیں۔۔ سنتھیا۔۔اور میرا گروپ الگ ہے۔۔ کم سن نے کہا تو وہ روہانسی ہوگئ۔۔

    تمہارا بھی الگ ہے ۔۔اس نے ایڈون سے پوچھا۔ 

    میں اور شاہزیب ایک گروپ میں ہیں۔۔ ایڈون نے بتایا تو اس نے باقائدہ رونا ڈال دیا۔۔

    میں اکیلی؟ میں اکیلی کیسے رہوں گی۔۔ کم از کم سنتھیا کو تو ۔۔۔ اسے خیال آیا تو انگریزی میں بولی۔۔

    ۔۔ کم تم سنتھیا سے تبدیل کر لو۔۔

    کم سن ہنسا۔۔ 

    ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ ابھی گوارا بھی یہی کہہ رہی تھی۔۔

    اریزہ نے منہ بنالیا۔۔

    میں نہیں کھیلتی۔۔ مجھے سنتھیا کے گروپ میں ڈالو کچھ کر کے۔۔ 

    وہ ایڈون سے بولی۔ تو وہ کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔ 

    اس نے پیر پٹخے۔

    کیا عزاب ہے زندگی۔۔ دو دن چین سے جی بھی نہیں سکتے۔۔ 

    گروپ اسٹڈی ہے ۔۔ رشتہ نہیں طے کر دیا تمہارا۔۔ ایڈون نے ہنس کر کہا۔۔

    اریزہ نے گھور کر دیکھا۔۔

    کچھ کرو نا میں سنتھیا کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔ اس کا انداز ملتجی ہوا۔۔

    کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ سنتھیا ویسے بھی میری ہے تمہیں تقدیر کے فیصلے کو ماننا پڑے گا۔۔

    ایڈون روانی میں انگریزئ پر اتر آیا۔۔

    مرو۔۔ اس نے جھٹکے سے بیگ اٹھایا اور تن فن کرتی چلی گئ۔۔

    ہیون اور کم سن اسکی ڈرامے بازی انجوائے کرتے دیکھ رہے تھے۔۔ 

    ایڈون سر جھٹک کر مسکرا دیا۔۔

    تم لوگوں کی کیمسٹری اچھی ہے۔۔ ہیون نے یونہی کہا۔۔ 

    ایک دوسرے کے جزبات جانتے ہو مگر جیلس نہیں ہوتے۔۔

    وہ سادے سے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔

    مطلب۔۔ ایڈون حیران ہوا۔۔

    اریزہ اور سنتھیا اتنی بہترین دوست ہیں روم میٹ بھی ہیں۔۔

    ہایون نے وضاحت کی

    ہاں۔۔ روم میٹ ہونے پر ہوتا ہوں جیلس۔۔ اس نے آنکھ دبائی۔۔ 

    چلو چلیں۔۔ اس نے کہا تو کم سن اور ہایون نے بھی تقلید کی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں اب کبھی اپنے ڈورم واپس نہیں جا پائوں گا۔۔ 

    کم سن نے اپنے بیڈ پر نگاہ کی اور یون بن سے معصوم سی شکل بنا کر کہا۔۔

    تمہیں اپنی چھت یاد آرہی۔۔

    یون بن  سمجھ گیا۔۔کم سن نے سر ہلایا۔۔ 

     اسکا ڈورم دو بیڈ کا تھا کمرہ اس سے چھوٹا ہی تھا مگر سیڑھیاں چڑھ کر بیڈ تھا گلاس ونڈو۔۔ ایک طرح سے الگ کمرہ ہی لگتا تھا۔۔ جبکہ یہ تین بیڈ کے حساب سے کھلا ڈلا کمرہ تھا۔۔ یون بن کے بیڈ کے پیچھے فرنچ ونڈو تھی پورا گراونڈ کا ویو تھا۔۔ دوسری کھڑکی کے قریب ایڈون کا بیڈ تھا۔۔

    سالک کو بس سونے کی جگہ چاہیئے ہوتی تھی سو وہ آرام سے کونے والے بیڈ پرمان گیا تھا

    قطع نظر اس جھگڑے کے سالک کمرے میں ہے بھی یا نہیں پتہ نہیں چلتا تھا۔۔ اپنے آپ میں مگن صبح یون بن  اور ایڈون دس بار باتھ روم کون پہلے جائے گا اس پر لڑتے یا ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں دوڑ کر پہنچتے۔۔ وہ آرام سے انکے فارغ ہو جانے کا انتظار کرتا تھا۔۔ 

    تم میرے بیڈ پر آجائو۔۔ وہ اپنے دوست کیلیئے یہی کر سکتا تھا۔۔ 

    نہیں رہنے دو۔۔ کم سن نے اسے اٹھنے سے روکا۔۔ 

    تبھی ایڈون سر جھٹکتا آیا۔۔ 

    کیا ہو رہا ہے۔۔ 

    وہ کہتا بیڈ پر بیٹھ کر سر خشک کرنے لگا۔۔ 

    کچھ نہیں ایسے ہی باتیں کر رہے تھے۔۔ کم سن کہتا بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔۔ 

    تمہارا پراجیکٹ گروپ شاہزیب کیساتھ ہے تم کیا کروگے؟

    ایڈون کے چلتے ہاتھ رکے۔۔ 

    اکیلا بنا لوں گا۔۔ 

    وہ لاپروا تھا۔۔ 

    یون بن  نے شانے اچکا دیئے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم دونوں بنا لیں گے۔۔ ایڈون آجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پریزنٹیشن میں دے دوں گا۔۔ شاہزیب کا انداز لاپروا تھا۔۔ 

    سالک نے اسے غور سے دیکھا۔۔

    یار کبھی ہماری لڑائی اتنی لمبی نہیں گئ۔۔ 

    کبھی ہماری لڑائی مزہب پر نہیں ہوئی۔۔ شاہزیب نے قطعی لہجے میں کہا۔۔

    مجھے لگ رہا میں نے سخت الفاظ کہے مجھے اسے گندہ برا نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔ اس کو غلیظ دہراتے ہوئے شرم آگئی تھی۔۔

    تو نے تو چلو پھر کچھ کہا۔۔ میں تو بس چپ کرا رہا تھا۔۔ کیا کیا نہیں بولا وہ۔ ازان کے بارے ہمیشہ بقر عید پر سب سے پہلے اسکے گھر لے کر جاتا ہوں میں گوشت۔۔ رمضان میں اسکو کھانے پینے نہیں دیتے؟ میری امی پورا رمضان جب جب  افطاری بانٹتی ہیں انکے گھر بھی بھجواتی ہیں بلکہ محرم کی نیاز ہو یا عید میلاد النبی ہمیشہ انکو شامل کرتے حالانکہ انکا تو کوئی تعلق ہی نہیں ان نیازوں میں  اور محلے والے ہم ہیں اسکے ہم نے کب جا کر اسکے گھر والوں کو عبادت کرنے سے منع کیا۔۔ ۔۔ ٹن۔ اسکے دماغ کی گھنٹی بجی تھی۔۔

    اسکے ابو اور امی کوئی بات کر رہے تھے تو اس کے بھی گزرتے ہویے کان میں کچھ جملے پڑے۔۔ 

    انکا مزہبی تہوار ہے لوگ آجا رہے ہیں کیا مناسب لگتا میں جا کر انکو کہوں بھئی رات دیر تک اپنی دعائیں پڑھتے ہیں تو محلے والے ڈسٹرب ہوتے ایک دو دن کی ہی بات ہے مگر سرور صاحب بضد تھے کہ پھر میں خود بات کروں گا جا کر۔۔ بتائو کیا کروں

     ٹھیک کہہ رہے آپ۔۔ امی نے تائید کی۔۔ برسوں ہو رہے ساتھ رہتے پڑوسیوں کا بہت حق ہوتا۔۔ اور یہ سرور صاحب جو آئے دن گھر میں لاوڈ اسپیکر لگا کر نعت خوانی کرواتے اسکا کیا۔۔ ان لوگوں نے تو کبھی اعتراض نہیں کیا۔۔ 

    ہان وہی تو پہلے سوچا کہ شاہزیب سے کہوں وہ کہہ دے ایڈون سے مگر پھر سوچتا ہوں کہ بچوں کے دل میں بال آجائے گا۔۔ خود کہوں گا پال صاحب سے سلیقے سے ورنہ سرور صاحب تو بہت بے لحاظ آدمی ہیں۔ 

    کچھ کہہ دیں گے الٹا سیدھا۔۔ 

    کہاں کھو گئے۔۔ سالک نے چٹکی بجائی تو شاہزیب چونکا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یار اس دفعہ کچھ ذیادہ ہی گرمی نہیں پڑ رہی ہے؟ 

    کم سن نے منہ بنایا 

    تو اور کیا پینتیس ڈگری مجھے تو لگ رہا پگھل رہا ہوں میں ۔

    یون بن نے کہا تو ایڈون کو سوالیہ نظروں سے دیکھتا پایا تو انگریزی میں وضاحت کرنے لگا..

    ہم گرمی کی بات کر رہے ایسا موسم ہے  بس پانی پیتے رہو۔۔ اور پسینے میں بھیگتے رہو۔۔تم جہاں سے ہو وہاں کم گرمی پڑتی۔۔

    اسے ایڈون کو اطمینان سے دیکھ کر حیرت ہوئی

    نہیں وہاں تو شدید گرمی پڑتی۔۔ یہاں جیسا موسم ہے ایسا تو ہم محسوس بھی نہیں کرتے  ۔اس نے اپنے موبائل ایپ سے ویدر نکال کر دکھایا۔

    یہاں سے پورے چار ڈگری زیادہ ہے۔۔ 

    کم سن بھی بولا۔۔

    جبھی تم لوگوں کو گرمی کم لگ رہی تھی۔۔

    تم لوگ تو پھر بہت پانی پیتے ہوگے۔۔ اور کھانا بھی ہلکا پھلکا کھاتے ہوگے۔۔ یون بن نے پوچھا تو ایڈون ہنس دیا۔۔

    یار بس پیاس لگتی تو پانی پی لیتے کھانا بھی کوئی خاص ہلکا پھلکا نہیں کھاتے وہاں تو آجکل روزے شدید گرمی میں آرہے کھانا چھوڑ سارا دن پانی بھی نہیں پیتے شاہزیب سالک وغیرہ۔۔

    اس نے روانی میں کہا تھا۔۔

    کھاتے پیتے نہیں؟ گرمی میں؟

    کم سن اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔

    ہاں رمضان ہوتا ہے انکا فاسٹنگ کا مہینہ صبح سورج نکلنے سے پہلے کھانا پینا بند کر دیتے اور غروب ہونے کے بعد کھاتے سترہ اٹھارہ گھنٹے کا روزہ بن جاتا۔۔ 

    سارا دن بھوکے پیاسے۔۔ یون بن کو شدید حیرانگی تھی۔۔

    ہاں۔۔ ایڈون مسکرایا۔۔ ابھی تو نہیں اس دن سالک کہہ رہا تھا ایک مہینہ رہ گیا۔۔ رمضان شروع ہوگا خود دیکھ لینا ۔۔ شاہزیب اور سالک تو پورے روزے رکھتے ہیں۔۔

    بیمار نہیں ہوتے۔۔ کم سن کو حیرانگی ہوئی

    عادت ہے ان لوگوں کو۔۔ ایڈون نے کندھے اچکائے۔۔

    اچھا تہوار ہے ہمارے یہاں تو کھانے پینے کے تہوار ہوتے ہم تو بس موج مستی کرتے۔۔ کم سن نے کہا تو ایڈون کو یاد آیا۔۔

    کھانے پینے کے بھی ہوتے انکی ایک عید ہوتی جس میں صاحب استطاعت لوگ جانور زبح کرتے اور زیادہ سے زیادہ بانٹتے تاکہ وہ لوگ جو سارا سال نہیں گوشت کھا پاتے یا کم کھاتے کھا سکیں۔اور ابھی رمضان سے پہلے نیاز ہوتی لوگ اپنے گھر کھانا بناتے اور سب کو دعوت دے کر کھلاتے پھر بعد میں بھی مختلف موقعوں پر نیاز بانٹتے ہیں۔۔ 

    انکے کئی مہینے ایسے ہوتے محرم ہوتا ایک مہینہ اس میں بہت کھلاتے پلاتے ۔۔

    دلچسپ۔۔ یون بن حیران ہوا۔۔

    اگر ایسا ہے تو میں بھی جائوں گا پاکستان مجھے سیدھی سی بات کھانے پینے میں بہت دلچسپی ہے۔۔ یون بن نے کہا تو کم سن ہنسا۔۔

    یہ مسلمانوں کے تہوار ہیں وہ دوسروں کو تھوڑی شامل کرتے ہونگے ان میں۔۔ 

    ایڈون نے کچھ سوچا۔۔ پھر بولا۔۔

    ایسی بات نہیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ۔۔ 

    وہ ہاسٹل جا رہی تھی جب اسے پیچھے سے کسی نے آواز دی۔۔

    اس نے مڑ کر دیکھا تو جی ہائے ایک بلونڈ لڑکی کے ساتھ اسکی طرف ہی آرہی تھی۔

    ہائے ۔۔ اس نے خوشدلی سے کہا۔۔ 

    ہائ۔۔ ایڈلین مسکرا دی۔۔

    جی۔ہائے تعارف کروانے لگی۔۔

    یہ ایڈلین ہے امریکی ہے۔۔ اور یہ ہے اریزہ پاکستانی حسینہ۔۔

    ہم ایک ہی گروپ کے ہیں۔۔

    ایڈلین کےتاثرات کڑے ہوئے۔۔ 

    آپ سے مل۔کر اچھا لگا۔۔ اریزہ نے مسکرا کر کہا۔۔ 

    ہم ابھی پراجیکٹ ہی ڈسکس کر رہے تھے۔۔ ہمیں کسی ایک ترقی پزیر ملک کا آئینی ڈھانچہ اور اس کے اس ملک پر اثرات اسکی کم ازکم دس سال کی بیرونی ممالک سے تعلقات کی پالیسی ڈسکس کرنی ہے ۔۔

    ہم سوچ رہے تھے کہ۔۔ 

    پاکستان پر پرزنٹیشن دیں۔۔ ایڈلین نے جی۔ہائےکی بات کاٹ دی۔۔

    لیکن ہم تو مڈل ایسٹ۔۔ اس نے کہنا چاہا۔۔ 

    لیکن ایڈلین نے بات کاٹ دی۔۔

    ہمارے لیے پاکستان سے بہتر کونسا ملک ہو سکتا۔۔ اسکی باسی ہمارے سامنے کھڑی ہے۔۔ پوری دنیا کی ناک میں دم کر دینے والے دہشت گردوں کے سرپرست ملک کے بارے میں دنیا کو بتانے میں یہ ہماری مدد کر سکتی ہے۔۔

    ایڈلین ۔۔ جی ہائےنے ٹوکنا چاہا۔۔ 

    ٹھیک ہے۔ اریزہ نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔۔ 

    ہم اس پر ہی پریزنٹیشن دیں گے۔۔ اور اسکا مواد میں بھی جتنا ہو سکا فراہم کروں گی۔۔ 

    جی ہائے نے الجھن سے اسے دیکھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم یہاں کیا کرتی ہو۔۔ سارا دن بند ہی رہتی ہو یہاں۔ ویک اینڈ ہے میرے ساتھ چلو۔۔ ہم لیٹ نائٹ مووی دیکھیں گے چل کریں گے۔۔ کلب چلیں گے۔۔

    گوارا اسے منا رہی تھی۔۔ 

    جی ہائے ڈمبلز اٹھا رہی تھی اسکے بچوں کی طرح ضد کرنے والے انداز پر مسکرا کر دیکھا۔۔ 

    پورے تین ہفتے ہو رہے تمہیں میرے ساتھ ویک اینڈ بتائے اب تو تمہاری خو د کو گروی کرنے والی شرط بھی پوری ہو چکی کر لی تم نے خوب خدمت اس ایزے کی۔۔

    اریزہ۔۔۔ وہ یکدم سنجیدہ ہو کر سیدھی ہوئی۔۔ 

    ویسے بندہ اتنا بھی شریف نہ ہو۔۔ شرارت کر ہی دیتے ہیں لوگ تمہاری طرح پچھتاوے کا شکار ہو کر خادم نہیں بن جاتے۔۔ گوارا کرسی پر بیٹھی میز پر پائوں رکھے نیل پالش لگا رہی تھی۔۔ 

    کیا خدمت کی ہے میں نے ۔۔ وہ ہنس دی۔۔

    اسکو فری کی انسٹرکٹر بن کر خدمت ہی کر رہی ہو اسکی۔۔ 

    آہش۔۔ اس نے سر جھٹکا اور ڈمبلز اٹھا کر شیلف میں رکھنے لگی۔۔

    کیا یار خود بھی کر ہی رہی ہوتی ہوں کسرت اسے بھی دو چار ورزشیں بتا دیں بس۔۔ اسکا پوسچر واقعی بہت خراب تھا۔۔ اس دن جب میں اسکے پیچھے بیٹھی تھی تو اندازہ ہوا مجھے میں تو بس مدد کر رہی تھی۔۔ 

    اس سے بہتر تھا بس سوری کہہ دیتیں اسے۔۔ 

    گوارا کا انداز ہنوز تھا۔۔

    جی ہائےنے ٹھنڈی سانس بھری۔۔ 

    ہاش۔۔ نہیں۔۔ ہمت چاہیئے سوری کہنے کیلیے۔۔ اس دن اسکا دوپٹہ باندھتے مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا اسکو اتنی زور سے گلا گھٹے گا۔۔ مجھے لگا تھا زیادہ سے زیادہ اسکو اٹھتے ہوئے جھلاہٹ ہوگی بس۔۔ مگر جب ہم چھپ کر کھڑکی سے دیکھ رہے تھے مجھے بہت افسوس ہوا۔۔ اسکو بہت چوٹ آئی تھی اگر ہایون  کرسی نہ پکڑ لیتا تو کرسی بھی اسکے اوپر آگرتی۔۔ اسکی گردن پر رگڑ سے لکیر پڑ گئ تھی۔

    کئی بار سن چکی۔۔ گوارا نے ایک پائوں مکمل کرکے دوسرا اٹھایا۔۔ ۔ 

    وہ دوپٹے کی رگڑ سے نہیں جو اتنی موٹی چین ڈالی ہوئی ہے اس نے گلے میں اس سے لکیر پڑی تھی۔۔ 

    ہا  تو چین پہلے سے پہنی ہوئی تھی اس نے اس دن دوپٹے سے ۔۔ جی ہائےبول رہی تھی اس نے بات کاٹ دی۔۔

    اور اسکے بعد اس نے تمہیں گرنے سے بھی بچایا تم مقروض ہو گئیں اسکی تم نے عہد کیا کہ جب تک اسکی چوٹ مندمل نہیں ہو جاتی تم اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آئوگی بھول جائو۔۔ یار۔ 

    اب کون ایسے کرتا یہ اپنے پرانے روائتی کوریائی طریقوں سے باہر نکلو۔ سوری ۔۔ بیانیے۔۔ کتنے چھوٹے سے لفظ ہیں کہو اور جان چھڑائو اس موٹی لڑکی سے

    گوارا ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھی۔۔

    جی ہائے کو ہنسی آگئ۔

    موٹی نہیں ہے وہ اتنی ۔۔ اسکی ڈریسنگ ایسی ہے اسکے روائتی لباس کی وجہ سے ہمارے کوریائی روائتی لباس میں نہیں دبلی سے دبلی لڑکی بھی بھاری لگتی۔۔ 

    اف وہ چڑی۔۔ 

    تم میرے ساتھ ویک اینڈ پر نہیں آرہی ہو۔۔ ؟

    چلو چلتی ہوں۔۔ اس نے کچھ سوچا۔۔ پھر حامی بھر لی۔۔ 

    ویسے ہم دونوں اتنا مزا بھی نہیں کرتے ۔۔ تم آدھی مووی میں یون بن سے باتیں کرنے لگ جاتی ہو کلب میں بھی اسے بلا لیتی ہو۔۔ میں اکیلی مکھیاں مارتی ہوں۔

    ۔۔۔۔ گوارا کھسیائی نیل پالش بند کر کے سیدھی ہوئی۔۔

    تو تم بھی بلا لینا کسی اپنے کو۔۔ جس کے ساتھ بور نہ ہو۔۔ 

    پکا؟

    جے ہی کی آنکھیں چمکیں۔۔ 

    میرا مطلب بوائے فرینڈ سے تھا۔۔ گوارا نے آنکھیں دکھائیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں ۔۔ اریزہ نے حیرانگی سے انگوٹھے سے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔ 

    ہاں نا۔۔ یہاں کیا کروگی۔۔ ہم وہاں لیٹ نائٹ باتیں کریں گے مووی دیکھیں گے کلب چلیں گے۔۔ اپنی مرضی کا کھائیں گے پیئیں گے عیش کریں گے۔۔ کل یونی کے بعد چلیں گے تین راتیں بس موج مستی۔ 

    پلیز پلیز پلیز چلو نا۔۔ 

    جے ہی نے چٹخارہ بھرا۔۔

    وہ۔اسی وقت اٹھ کر انکے کمرے میں آئی تھی۔۔ سنتھیا میسجنگ میں لگئ تھئ جب اس نے اسے ساتھ چلنے کو کہا۔۔ تو اسکے بھی کان کھڑے ہوگئے۔۔

    خبردار جو تم۔نے ایسا سوچا بھی۔۔ میں اکیلی کیا کروںگئ یہاں۔۔ اس نے اردو میں چیخ ماری

    یہی۔۔ اریزہ نے اسکے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔۔ 

    تمہیں میرے کمرے میں موجود ہونے نا ہونے سے فرق کیا پڑتا مستقل تو موبائل پر لگی ہو کسی بات کا جواب نہیں دے رہی ہو ابھی کیا کہا تھا میں نے تمہیں۔۔ اریزہ نے باقائدہ آستین چڑھائی۔

    کیا کہا تھا۔۔ سنتھیا گھبرائی۔۔ 

    مارکیٹ جانے کو کہہ رہی تھی ایک بسکٹ تک نہیں بچا۔۔ مگر جواب دور تم نے سنا بھی نہیں۔۔ اریزہ نے چبا چبا کر کہا تو تھوڑا کھسیا گئی سنتھیا۔۔ 

    تو۔۔ پھر ڈھیٹ بن کر بولی۔۔ تو کیا تم جی ہائےکے ساتھ جارہی ہو جمہ جمہ آٹھ دن نہیں ہوئے اس سے دوستی ہوئے اسکے پیچھے بچپن کی دوستی چھوڑ دوگی۔۔ ؟ اس نے جزبات کئ مار ماری

    نہیں۔۔ اریزہ ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔۔

    جی ہائے نے اسکے سامنے چٹکی بجائی 

    پھر چلوگی نا؟ پلیز اریزہ چلو نا پلیز

    نہیں یار۔۔۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام کر معزرت کی۔۔

    سنتھیا اکیلی رہ جائے گی اسے اکیلے ڈر بھی لگتا رات کو اٹھ اٹھ کر مجھے اسے دیکھنا پڑتا۔۔

    اریزہ تھوڑی دیر پہلے کا بدلہ لے رہی تھی۔۔ سنتھیا نے گھور کر دیکھا۔۔

    تم بھی چلو۔۔ جے ہی نے ایک لمحہ سوچا پھر طوہا و کرہا اسے بھی دعوت دے ڈالی۔۔

    میں؟ سنتھیا کی آنکھیں ابلیں۔۔

    میں کیسے جا سکتی۔۔ ایڈون۔۔ اسکے منہ سے نکلا۔۔ اریزہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر جتاتی نظروں سے گھورا۔۔ تو وہ سنبھل کر بولی۔۔ 

    اور تمہاری گوارا اس سے پوچھا ہے بالکل پسند نہیں کرتی ہمیں۔۔۔

    اسکو میں سنبھال لوں گی۔۔ اگر کہو تو وہ خود تمہیں آکے دعوت دےگی

    پلیز چلی چلو نا۔۔ ہم چار لڑکیاں ہونگی خوب پارٹی کریں گی۔۔ اس نے لالچ دیا۔۔ 

    تم پہلے گوارا سے پوچھ لو ۔ اگر اسے ہم دونوں کے آنے پر اعتراض نہیں تو ٹھیک ہے۔۔ ۔۔

    اریزہ کو اسکے اصرار پر صاف انکار کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔

    ٹھیک ہے۔۔ وہ خوش ہو کر پلٹ گئ۔۔

    تم جانے کو تیار ہو؟

    سنتھیا نے لڑنے کا موڈ بنا لیا تھا۔۔

    اریزہ ہنسی۔۔

    یہ کہہ کسے رہی تھی لیٹ نائٹ ہینگ آئوٹ۔۔ جن کی لائف میں ایسا کونسیپٹ ہی نہیں۔۔ ہاہہا۔ صاف انکار پر اصرار کیے جا رہی تھی اسلیئے ایسا کہا میں نے وہ گوارا تمہیں کیا لگتا آکر ہمیں دعوت دے گی ناممکن۔۔ ابھی دیکھنا تھوڑی دیر میں آکر معزرت کر لے گی جی ہائے۔۔ 

    اسکا جملہ ختم ہوتے ہی دستک دے کر جی ہائے گوارا کے ساتھ حاظر تھی۔۔ گوارا کا منہ غبارے جیسا پھولا اورجی ہائےنے مسمی سی شکل بنائی ہوئی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کیا ؟یک نہ شد دو شد۔۔

    میں نے ایک اریزہ کی بات مانی تھی۔۔ تم اسکی سہیلی؟

    بھول گئی ہو ایک بیڈروم اپارٹمنٹ ہے ایک بیڈ ہے بس ۔۔

    مجھے سب یاد میں صوفے ہر سو جائوں گی۔۔ پلیز پلیز۔پلیز نا۔۔

    وہ اسکے کندھے سے جھول گئ۔۔

    پلیز ۔۔۔۔۔۔۔

    اچھا ۔۔

    وہ۔ جھلائی۔۔ 

    چلو انہیں دعوت دو۔وہ اسکا بازو پکڑ کر دروازے کی طرف بڑھی۔۔

    کیا۔۔دعوت بھی دوں۔۔ نا ممکن۔۔

    نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم دونوں اس ویک اینڈ ہمارے ساتھ گزارنے ہمارے اپارٹمنٹ میں چلو گی؟

    تنے ہوئے تاثرات کے ساتھ گوارا دعوت دے رہی تھی۔۔

    دونوں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں

    جی ہائے نے کہنی ماری

    پلیز ہمارے ساتھ چلو۔۔ جملے میں تبدیلی آئی مگر لہجے اور انداز میں نہیں۔۔

    پلیز پلیز پلیز۔۔جی ہائے کی سوئی پھر اٹکی۔۔

    ٹھیک ہے۔۔ وہ دونوں اور کیا کہتیں۔۔ ہے۔

    جی ہائے نے خوشی سے نعرہ لگایا۔۔ 

    تھینکس اریزہ

    وہ بہت پرجوش تھی۔۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔ 

    ہمم اریزہ مسکرائی۔۔ 

    گوارا پلٹ کو تیزی سے باہر نکل گئ تو جی ہائے اسکے پیچھے بھاگی۔۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم منہ اٹھا کر جا بھی رہی ہو۔۔ ایڈون نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو پاگل تو نہیں ہو گئ ہو۔۔ 

    سنتھیا کی عقل تو گھاس چرنے گئی رہتی تم کیسے راضی ہوگئیں۔۔ 

    سنتھیا کا منہ پھول گیا۔ اریزہ نے اسکا منہ پھولتے دیکھا تو بولی۔۔

    یار وہ دوست ہے میری اچھی جان پہچان ہے پھر وہ دونوں بس لڑکیاں ہی ہیں۔۔

    اس نے جھلا کر کارٹ چھوڑا ۔۔ وہ انھیں سپر اسٹور لایا تھا آ تو یہی دونوں رہی تھیں مگر وہ بھی ساتھ چل دیا وہ چیزیں لینا چاہ رہی تھیں مگر لگتا تھا دوبارہ آنا پڑے گا۔ 

    کیا مطلب۔۔ یہاں آئے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے تمہیں۔۔ جانتی ہی کتنا ہو یہاں کے بارے میں یہاں کے لوگوں کےبارے میں۔۔ہاسٹل میں سامنے رہتی ہے نہ آئے دو دن ہاسٹل کون ہے کہاں کی ہے کہاں رہتی کچھ پتہ ہے ؟

    ایڈون نے بھڑک کر کہا تھا دونوں چپ رہ گئیں۔

    یون بن کی گرل فرینڈ ہے گوارا۔۔ اور جی ہائے اچھی لڑکی ہے اندازہ ہو جاتا ہے بات کر نےسے۔۔

    سنتھیا کو اسکا چلانا برا لگا تھا۔۔ لوگ دیکھ رہے تھے انہیں۔۔

    یون بن تمہارے مامے کا۔لڑکا۔۔ ہے نا بچپن میں ساتھ کھیلتے تھے ہم۔۔ 

    نہیں میرے ماموں کے لڑکے تو تم ہو۔۔ سنتھیا نے معصومیت سے کہا۔۔ اریزہ نے منہ پھیر کر مسکراہٹ دبائی۔۔ ایڈون یونہی گھورتا رہا۔۔ 

    اچھا نا میں اسکا ایڈریسس لے کر ٹیکسٹ کر دوں گی تم آجانا دیکھ لینا ہم ٹھیک ہیں کہ نہیں۔۔ اور بلکہ ایسا کرو قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کروا دو یہ دو لڑکیاں سہیلی کے گھر جا رہی ہیں اگر کچھ ہو تو۔۔  سنتھیا شروع ہو گئ۔۔ان دونوں کا بحث کا پروگرام لمبا ہوتے دیکھ کر اس نے کارٹ کھسکایا اور پیچھے ہو کر کارٹ کھینچتی نکل گئ اب وہ آرام سے شاپنگ کر سکتی تھی۔۔ 

    اچھا بس۔۔ ایڈون نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔۔ 

    میں یون بن سے خود پتہ لگا لوں گا۔۔ 

    کیا پوچھوگے؟ ہے یون بن ۔۔ اس نے دوستوں کی طرح اسکے کندھے پر کندھا مارا

    تمہاری گرل فرینڈ کہاں رہتی ہے؟ 

    ایڈون نے گھورا تو جیسے ڈر کر بولی۔۔

    نہیں مجھے پرورٹ مت سمجھو میں تو بس اسلیے پوچھ رہا تھا کہ میری گرل فرینڈ تمہا ری گرل فرینڈ کے گھر ویک اینڈ گزارنے جارہی ہے اپنی فرینڈ کے ساتھ ۔اس نے ڈی پر زور دے کر آنکھیں پٹپٹائیں تو ایڈون کو ہنسی آہی گئ۔۔ 

    بہت تیز ہو گئ ہو یہاں آکر۔۔ اس نے اسکے سر پر ٹھونگا۔۔

    اور تم زیادہ دادا نہیں بننے لگے میرے ۔۔۔۔۔۔یہاں آکر۔۔

    اس نے ناز سے کہا۔۔ 

    تم اور اریزہ بہت سادی ہو اسلیئے تھوڑا خیال رکھنا پڑتا۔۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ڈال کر مڑ کر دیکھنے لگا۔۔

    یہ اریزہ کہاں گئ۔۔

    وہ اسے ڈھونڈتا آگے بڑھ گیا۔ 

    میں اور اریزہ؟ اس نے دھرایا۔۔ صرف میں کیوں نہیں؟

    وہ بڑ بڑا کر رہ گئ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گنگم اسکوائر تائے جانگ بلڈنگ فورٹین فلور اپارٹمنٹ نمبر نائن۔۔

    پاسورڈ نہیں بتا سکتا کیونکہ تیری طرح اپنی گرل فرینڈ کی سیکیورٹی مجھے بھی عزیز ہے۔۔۔ 

    یون بن نے اطمینان سے کہا تو ایڈون کے اوپر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    جلدی گیگنم اسکوائر آ کام ہے تجھ سے۔۔ ہایون کا اسے صبح صبح فون آیا۔۔

    کیا کام ہے۔۔ اس نے آنکھیں ملیں۔۔ 

    وہ ابھی سو رہا تھا جب اسکی کال سے آنکھ کھلی۔۔

    بہت ضروری کام ہے بھاگ کے آئو۔۔ 

    ہایون نے کہا تو اسے لگا واقعی کوئی ضروری کام ہے۔۔ 

    جلدی جلدی تیار ہو کر پہنچا۔۔ 

    تجھے یہاں کیا کام ہے۔۔ اس نے حیرت سے دکان کو دیکھا اور پھر ہایون  کو گھورا۔

    وہ دونوں ایک آرٹ اینڈ کرافٹ کی شاپ پر کھڑے تھے۔۔ 

    مجھے پینٹنگ کا سامان خریدنا برشز کلرز ایزل وغیرہ۔۔ مجھے تو کوئی آیڈیا نہیں صاف بات نہ قیمت کا نہ ہی اس بات کا کہ پینٹر کو کیا کیا چا ہیئے ہو سکتا ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔

    تمہیں چاہیئے کیوں؟

    کم سن حیران تھا۔۔

    تمہیں کیا بس مجھے خریدوا دے نا۔

     ہیون نے ٹالنا چاہا  کم سن اڑ گیا۔۔۔

    نہیں بتائے گا تو مدد بھی نہیں کروں گا۔۔ میں چلا۔۔ وہ مڑا تو ہیون نے اسے کندھے سے پکڑ کر روکا۔۔ 

    کردے نا مدد۔ ہیون نے منت کی وہ اکڑا کھڑا رہا۔۔

    یار کسی کو دینا ہے۔۔  اسے بتانا پڑا۔۔

    کسے؟۔۔۔

    دوست ہے۔ اس نے ہچکچا کر کہا۔۔

    دوست تو میں ہی ہوں تمہارا۔۔ مجھے مت دلا میں خود لے لوں گا۔۔ وہ بھی ایک کائیاں تھا۔۔

    اچھا نا ۔۔۔ ہیون زچ ہوا۔۔

    ایک لڑکی ہے پینٹر ہے میں اس سے اپنا پورٹریٹ بنوا رہا ہوں اسے دینا ہے۔۔ 

    تو پورٹریٹ بنوا رہا۔۔ ؟

    مجھ سے تو اسکیچ تک بنوانے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔۔ ہائی اسکول میں لڑکیاں مرتی تھیں مجھ سے اسکیچ بنوانے اور تجھے میں خود منت کرتا تھا بنوالے تو تیار نہ ہوا کبھی۔۔ 

    کم سن کو پرانے دکھڑے یاد آگئے۔۔ ہایون  اسے دیکھتا رہا۔۔

    یار میں اسکی مدد کرنا چاہ رہا ہوں۔۔

    اتنے تم سینٹا کلاز۔۔ میری تو کبھی مدد کو تیار نہ ہوئے۔۔ 

    کیا سننا ہے تمہیں۔۔ وہ زچ ہو گیا۔۔ 

    کم سن نے اسے اچنبھے سے دیکھا۔۔

    خیر ہے بھلا۔۔ 

    (نازک سا) محبت تو نہیں ہو گئی ہے۔۔ 

    نہیں یار۔۔ ہایون  نے سر جھٹکا۔۔ 

    بس وہ ایک شمالی کورین محاجر ہے اکیلی رہتی ہے یہاں۔ نونا اسکی مدد کررہی ہیں میں بس انکا ہاتھ بٹانا چاہ رہا ہوں۔۔

    ہایون کے انداز میں اتنی سادگی تھی کہ اسے یقین کرنا پڑا۔۔

    لڑکی کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہوتا کبھی۔۔ مدد کرتے کب محبت ہوتی پتہ بھی نہیں چلتا۔۔ اس نے کہنا ضروری سمجھا۔۔

    ویسے تو یہ سب جا کر اسے دے گا تو وہ لے لے گی؟

    اسے خیال آیا۔۔

    میں ایسے تھوڑی دوں گا۔۔ کہوں گا نعنانے بھجوایا ہے۔۔ وہ روانی میں کہہ گیا۔۔ کم سن زور سے ہنسا۔۔

    نونا نے خود کیوں نہ بھجوایا۔۔ اپنی این جی او کے کام تجھ سے کب سے کروانے لگیں؟ ہیں۔۔

    وہ چھیڑ رہا تھا۔۔ ہایون سٹپٹا گیا۔۔

    میرا مطلب۔۔

    اس سے جواب نہ بن پڑا۔۔

    مان کے تیرا اپنا انٹرسٹ ہے اس لڑکی میں۔۔ کم سن نے جتایا۔ وہ سر  کھجا کر رہ گیا۔۔ 

    تجھے ایک اور کام بھی کرنا ہے۔۔ 

    ہایون نے کہا تو وہ اسے گھو ر کر رہ گیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اور یون بن قریبی ریستوران میں کافی پینے آئے تھے۔۔

    کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے یون بن کو جانے کیا خیال آیا بولا۔۔

    یار ایڈون ایک بات بتا۔۔ سنتھیا اور تمہاری کس بات پر لڑائی ہوتی ہے؟

    ایڈون نے سوچا۔۔

    ابھی کل تو تمہاری گرل فرینڈ کی وجہ سے ہوئی ہے۔۔ 

    ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوتی ہو جاتی میں کسی بات سے منع کروں تو اسے لگتا میں اسکے سر پر سوار ہورہا۔۔  اس نے سوچ کر جواب دیا۔۔ 

    تم کس بات سے منع کرتے۔۔ ؟

    ایڈون بڑی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔

    یہی اسکے بارے میں تھوڑا پوزیسو ہوں فکر کرتا۔ کہیں جانا چاہتی ہے تو خود لے کر جاتا ہوں خیال کرتا کہیں مجھے لگتا جانا مناسب نہیں تو منع کرتا ۔ ایسے موقعے پر اسے کبھی یہ یاد نہیں رہتا اپنے سب کام چھوڑ کر اسکے ساتھ جایا کرتا ہوں۔۔

     اس نے منہ بنایا۔۔ 

    ہمم۔ اس نے پرسوچ انداز میں ہنکارا بھرا۔۔ 

    اسے تم پر شک کرنے کی عادت نہیں؟

    نہیں۔۔ ایڈون ہنسا۔۔

    اسے یقین ہے مجھ پر۔۔اسکے سوا کوئی لڑکی نہیں ہے میری زندگی میں۔۔بچپن سے دیکھ رہی ہے مجھے اسے مجھ پر پورا بھروسہ ہے۔۔ ایڈون کے انداز میں فخر در آیا۔۔

    مجھے گورا بچپن سے دیکھ رہی جبھی مجھ پر بالکل اعتبار نہیں کرتی۔۔ یون بن ہنسا۔۔ 

    کیوں۔۔ ایڈون نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

    یار میں ویسا ہی کھلنڈرا لڑکا تھا جیسے سب لڑکے ہوتے ہیں کئی گرل فرینڈ ز تھیں میری۔۔ یار یہ بچپن کی محبتیں کہا تمام عمر چلتی ہیں۔ ان سب کا وقت ختم ہوتا گیا۔۔ گوارا کے والدین میرے والدین کے دوست ہیں بچپن سے ہم ملتے رہے۔۔ جب بڑوں نے ہماری منگنی کرنی چاہی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔ میں مطمئن تھا۔۔ 

    مگر منگنی کے بعد مجھے اندازہ ہوا گوارا بچپن سے مجھے پسند کرتی تھی۔۔ اسکی مجھ سے اتنی توقعات ہیں کہ میں کبھی کبھی تھک جاتا ہوں۔۔ میں اسکے بہت نخرے اٹھاتا مجھے اچھا لگتا ایسا کر نا مجھے محبت ہے اس سے۔ مگر میں کتنا کوئی اسکے ساتھ رہ سکتا۔۔ میں کسی لڑکی سے بات بھی کر لوں ناراض ہو جاتی۔۔دوستوں کے ساتھ رہتا تو مجھے نظر انداز کرتے ہو کہتی۔۔ ہر وقت ہر جگہ میں اسکے ساتھ رہوں۔۔ ایسا ممکن ہے؟ سفوکیٹ کر دیتی ہے کبھی کبھی مجھے۔۔ وہ بے چارگی سے کہہ رہا تھا۔۔ گھونٹ گھونٹ کافی پیتے وہ جیسے تنگ آیا ہوا تھا۔۔ 

    ایڈون اسکی بات سمجھ رہا تھا۔۔ 

    سنتھیا سے مجھے یہی شکوہ ہے۔۔ وہ نظر انداز کرتی۔۔ مجھے۔۔ ایڈون مسکرا دیا۔۔

    یار یہ محبت بہت بے صبرا کر دیتی ہے۔۔ کھو دینے کا خوف لاحق رہتا۔۔ ایسی خواہشیں دل پر ڈیرا ڈال لیتی ہیں کہ انسان بے قابو ہونے لگتا۔۔ تجھے خوش ہونا چاہیے کوئی اتنی شدت سے محبت کرتا ہے تم سے۔ اسکی سوچوں کا مرکز بس تم ہو۔۔ 

    میرا دھیان بھی پلٹ پلٹ کر جاتا  اسکی طرف پھرمیں

     بھی بھاگ بھاگ کر جاتا ہو ں سنتھیا کی طرف کسی طرح مطمئن ہو جائوں۔۔ وہ روانی میں بولا۔۔

    کسکی طرف۔۔ یون بن پورے دھیان سے اسکی بات سن رہا تھا۔۔ ایڈون چونکا۔۔ 

    سنتھیا کی ہی بات کر رہا۔۔ 

    تم بتائو ۔۔ لڑائی ہوئی ہے کیا گوارا سے۔۔ اس نے بات بدل دی۔۔ 

    ہاں۔۔ ویک اینڈ پر کہیں جانے کو کہہ رہی تھی کسی ریزورٹ میں۔۔ میں نے کہا سیول سے باہر کا پھر کبھی زیادہ چھٹیوں میں پروگرام بنا لیں گے میری ابھی کچھ کمٹمنٹس ہیں یہاں۔ ناراض ہو گئ۔۔ تم ہمیشہ یہی کرتے ہو۔۔ 

    تمہاری کمٹمنٹس ہیں یا بہانہ۔۔ ایڈون نے پوچھا تو مسکرا کر بولا۔۔

    ظاہر ہے بہانے ہی ہیں۔۔ اکیلے دو تین دن میں بور ہو جاتا رومینٹک ڈایلاگ بول بول کر۔۔ اسکا انداز لا پروا تھا۔۔

    خیر کہہ رہی تھی شکل مت دکھانا میں اپنی دوستوں کے ساتھ ہونگئ۔ ویک ایںڈ پر ۔۔ وہ ہنسا۔

    ایڈون کو خیال آیا۔۔ 

    وہ اکیلی رہتی ہے نا اپارٹمنٹ لے کر۔۔ 

    ہاں۔۔ یون بن کی کافی ختم ہو گئ تھی۔۔ 

    اسکے پیرنٹس نہیں رہتے اسکے ساتھ۔۔ 

    نہیں۔۔

    اکیلے رہنا سیکیور ہے یہاں ایک لڑکی کیلیے؟

    یون بن نے غور سے دیکھا اسے۔۔ 

    ہاں وہ اچھے علاقے میں رہتی۔۔ 

    نہیں پھر بھی اکیلی لڑکی ہے۔۔ 

    ایڈون نے کہا تو اس بار یون بن نے کوئی جواب نہ دیا۔۔ ایڈون کی تسلی نہ ہوئی۔۔

    یار جتنا بھی سیکیور علاقہ ہو لڑکیاں اکیلی ہوں ۔۔ میرا مطلب اکیلی لڑکی ہو تو لوگ پریشان کر سکتے۔۔

    میں مر تھوڑی گیا ہوں۔۔ کوئی آنکھ اٹھا کر تو دیکھے۔۔ یون بن  کو اس حجت پر حیرانی تھی اب اسکی شکل پر الجھن در آئی تھی۔۔

    وہ تو ٹھیک مگر تم ہی کہہ رہے اس ویک اینڈ وہ سہیلیوں کے ساتھ ہوگی تم نہیں جائو گے وہاں تو۔۔ 

    یون بن سمجھ کر مسکرا دیا۔۔

    جائوں گا تو۔۔ ناراض تو نہیں رہنے دے سکتا اسے زیادہ دیر۔

    تم بھی جائو گے اس سے ملنے۔۔ ایڈون جز بز ہوا۔۔

    تم بھی تسلی کرنے چلے جانا۔۔ 

    گنگم اسکوائر تائے جانگ بلڈنگ فورٹین فلور اپارٹمنٹ نمبر نائن۔۔

    پاسورڈ نہیں بتا سکتا کیونکہ تیری طرح اپنی گرل فرینڈ کی سیکیورٹی مجھے بھی عزیز ہے۔۔۔ 

    یون بن نے اطمینان سے کہا تو ایڈون پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔ 

    نہیں وہ میرا مطلب تھا۔۔ایڈون سے جواب نہ بن پڑا۔۔ 

    یون بن ہنس دیا۔۔ 

    مت فکر کرو کرنے دو لڑکیوں کو انجوائے۔۔ ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سب گوارا کے فلیٹ کے باہر کھڑی تھیں اور گوارا لاک پر جھکی الٹے سیدھے پاسورڈ ڈال رہی تھی

    تم اپنے فلیٹ کا پاسورڈ کیسے بھول سکتی ہو؟

    جی ہائے حیران رہ گئ۔۔

    کل ہی بدلا ہے یون بن سے جھگڑے کے بعد نیا اسے بھی پتہ نہیں ہوگا۔۔ اب تو۔۔ وہ بے چارگی سے بولی۔۔ اب لمبا کام تھا۔۔ اریزہ اور سنتھیا نے اپنے بیگ پیک اتار کر زمین پر رکھ دیئے۔۔

    کیا کروں۔۔ 

    گوارا بے چارگی سے بولی۔۔ 

    دو اورکوششیں بچی ہیں کر ڈالو۔۔ پولیس خود آجائے گی دروازہ کھولنے۔۔

    جی ہائے نے کہا تو وہ سر ہلاتی مڑی۔۔ پھر خیال آیا تو پلٹ کر گھور کر دیکھنے لگی۔۔ 

    واپس چلتے ہی  پھر۔۔ سنتھیا نے کہا تو تینوں مڑ کر گھورنے لگیں اسے۔۔

    تمہارے پاسورڈ ہوتے کیا ہیں تمہارا برتھ ڈے یون بن کا برتھ ڈے یا میرا برتھ ڈے۔۔ 

    جی ہائے نے کہا۔۔ تو وہ بے چارگی سے بولی۔۔ 

    سب ٹرائی کر لیئے اس بار کچھ اور ہی رکھا تھا۔۔ وہ منہ بنا کر سیدھی ہوئی۔۔ لاک سے ہی ٹیک لگا کر سوچنے لگی۔۔ 

    سیکیورٹی کمپنی کو کال۔کر تو لوں مگر ہر مہینے انکے ایک دو چکر لگ جاتے پچھلی بار تو اچھا خیاصا گھور کر گیا تھا انکا ملازم۔۔ 

    ایک اور ٹرائی کر لو پھر کال ہی کرنی پڑے گی۔۔

    جی ہائےنے کہا تو سر ہلا کر مڑی تبھی سامنے سے ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتئ سر جھکائے آتی لڑکی پر نظر پڑی۔۔ چند سیکنڈ لگے ہونگے پہچاننے میں۔۔ وہ سرعت سے پلٹ کر اسکی طرف پیٹھ کر گئ۔۔ 

    کون ہے یہ۔۔ جی ہائے اور اریزہ اسے ہی دیکھنے لگیں۔

    چلی گئ۔۔ ؟ گوارا نے پوچھا۔۔

    لفٹ کا ویٹ کر رہی۔۔ اریزہ نے بتایا۔۔ 

    وہ لفٹ کھلنے پر اندر گھسی۔ تو جی ہائے نے اسے اطمینان دلایا۔۔

    چلی گئ۔۔ 

    اس نے پکٹ کر دیکھ کر اطمینان کیا ۔۔ 

    کون ہے۔۔جانتی ہو اسے کیا؟

    جے حی کو تجسس ہوا۔۔

    ہوں۔۔ گوارا نے منہ بنایا وہ دوبارہ لاک پر جھکی تھی۔۔ کڑچ کی آواز آئی اس بار دروازہ کھل گیا۔۔

    شکر ہے۔۔ سنتھیا اور اریزہ اکٹھے بے اختیار بولیں۔۔ 

    شکر ہے۔۔ جی ہائے نے بھی مسکرا کر کہا۔۔ 

    ہم جلد ایک دوسرے کی زبان سیکھ لیں گے۔۔ اریزہ نے مسکرا کر ہاتھ پر ہاتھ مارنے کیلیے ہاتھ بڑھایا۔۔ جی ہائے نے خوش دلی سے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔۔

    سنتھیا اس بات پر جل کر رہ گئ اریزہ اس سے کب اتنا فری ہوئی۔۔ گوارا کو جی ہائے کی کسی اور کیساتھ اتنی بے تکلفی پسند نہ آئی دونوں ہونہہ کرکے رہ گئیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ آج بھی نہیں آیا تھا۔۔ اسکا دل بے حد اداس ہو گیا تھا۔۔۔ وہ اتنی بڑی تصویر اٹھا کر دو دن سے آرہی تھی۔۔ اتنے شوق سے پیچھے پڑ کر پورٹریٹ بنوانے کے بعد غیر دلچسپی کا یہ عالم۔۔ 

    اس نے اسکیچ بک اٹھا لی۔۔ مگر آرٹسٹ کی ازیت کا عاکم کوئی نہیں سمجھ سکتا جب زہن منتشر ہو اور اسکے ہاتھ میں پنسل ہو۔۔ اسکا دل بھر آیا۔تھا۔۔ دل کہیں اٹکا تھا زہن کہیں وہ خود کہیں اور تھی۔۔ 

    اس نے زہن کے پردے ہر لہراتے چہرے کو صفحے پر اتارنا چاہا۔۔ 

    آنکھیں دھندلانے لگیں چہرہ بھی دھندلانے لگا۔۔ حالانکہ یہ وہ چہرہ تھا جسے وہ آنکھ بند کرکے بھی اتار سکتی تھی۔۔ ابھی بس آنکھیں ہی بنا پائی تھی کہ رو پڑی۔۔ 

    آپ زندہ تو ہوں گی نا آہموجی۔۔ اس نے آنکھوں پر ہاتھ پھیرا۔۔ 

    اس نے اسکیچ بک کو سینے مین بھینچ لیا۔۔ اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔۔ 

    وہ دریا کنارے کسی کو ڈھونڈتا آیا تھا۔۔ 

    پہچان کے مطابق پل کے دائیں جانب بیلون ہٹ کے قریب کسی بنچ کے پاس اسے ہونا تھا۔۔ 

    اس نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔۔

    کوئی پاگل ہی اتنی گرمی میں یہآں ہوگا۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔

    اور اس سے بڑا پاگل میں ثابت ہونگا یہاں بیٹھ کر۔۔ 

    اس نے آنکھوں پر کیپ کا چھجاہاتھ سے جھکا  کر تلاشا دور کونے میں بنچ پر لڑکی بیٹھی تھی۔۔ دھوپ براہ راست اسکے اوپر پڑ رہی تھی۔۔

    فوٹو سانتھیسز کر رہی ہے یہ کیا؟

    وہ گہری سانس لیتا اسکی طرف بڑھا قریب آنے پر اسے احساس ہوا ہچکیاں کے کر رو رہی ہے۔۔ 

    چھوگیو۔۔  اسے سمجھ نہ آیا تو پکار بیٹھا۔۔

    اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔ 

    کسی کا لانبا سراپا اس پر آنے والی دھوپ کے آگے ڈھال بنا کھڑا تھا۔۔ پی کیپ سجائے کھنچی ہوئی آنکھوں میں الجھن اور حیرانی بھرے اسے تکتا وہ کوریائ نقوش کا ہینڈسم سا لڑکا تھا   

    اس نے جلدی سے آنسو پونچھے۔۔ 

    دھوپ اور گریہ سے سرخ چھوٹی چھوٹی آنکھیں دبتی ہوئی ناک گول سا چہرے کا کٹ تھا بے حد دبلی لڑکی۔۔ اسکے رخسار کی ہڈیاں بے حد نمایاں تھیں آنکھوں کےگرد گہرے حلقے۔۔ پہلی سوچ اسکے زہن میں یہی آئی کہ یہ لڑکی صحتمند ہوتی تو کافی پیاری لگتی۔ 

    وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی

    وہ چونکا پھر سر کھجا کر بولا۔۔ 

    وہ میں نے سنا ہے آپ پورٹریٹ اچھا بنا لیتی ہیں میرا بنا دیں گی۔۔ 

    کم سن کی بات پر وہ اسے الجھن بھرے انداز سے دیکھتی رہ گئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ایک بیڈ ہے یہ ایک صوفہ۔

    گوارا نے کمرے کا تعارف کروایا۔۔ 

    ایک لائونج میں کاوچ ہے۔۔ ان پر ہم چاروں نے ایڈجسٹ کرنا ہے۔۔ میں بیڈ پر کمپرمائز نہیں کر سکتی اور جی ہائے کے علاوہ کسی کے ساتھ بیڈ شیئر نہیں کر سکتی۔۔ 

    گورا کا لہجہ قطعی تھا۔۔

    سنتھیا کے پیروں سے لگی سر پر بجھی۔۔ 

    اس کو دیکھ رہی ہو ۔۔ بات کرنے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے ایسے زلیل کروانے لائی ہو رکھے اپنا سونے کا بیڈ میں جا رہی۔۔ اس نے اریزہ پر چڑھائی کر دی اور بیگ اٹھا لیا۔۔ اس نے سب تقریر اردو میں جھاڑی تھی مگر جی ہائے کو اندازہ ہوگیا تھا کہ گوارا کی بات پر تپ گئ ہے۔

    ریلیکس۔۔ اریزہ نے اسکو بازو سے پکڑا۔۔

    جی ہائے آگے بڑھی۔۔ 

    میں اور اریزہ نیچے بستر بچھا لیں گے  تم اور گوارا بیڈ شئیر کر لینا۔۔ 

    اس نے جملے سے بیڈ سن کر اندازہ لگایا۔۔ 

    کوئی نہیں ۔۔ گوارا البتہ انگریزی میں ہی بولی

    گوارا اگر یہ دونوں گئیں نا یہاں سے تو میں بھی ساتھ جائوں گی۔۔ اسکی دھمکی کارگر رہی تھی ۔۔ گوارا ہونہہ کرکے منہ پھیر گئ۔۔ 

    بیگ رکھو۔۔ اس کو ڈر لگا ہوا تھا سنتھیا نے منہ بنا کر بیگ کندھے سے اتار کر رکھا زمین پر۔ 

    بیڈ کے علاوہ سنگل صوفے سے شائد بس بالشت بھر ہی بڑا صوفہ رکھا تھا۔۔ اریزہ اور سنتھیا نے ایک دوسرے کو دیکھا بھاگ کر صوفے پر بیٹھیں دونوں کے اکٹھے دھپ سے بیٹھنے پر صوفے نے ٹھیک ٹھاک احتجاج کیا تھا۔۔ 

    گوارا گہری سانس لے کر رہ گئ

    جی ہائے کو البتہ انکی حرکت مزا دے گئ۔۔ خود بھی صوفے کی ہتھی سے ٹک گئ۔۔ ۔

    بتائو کیا کریں ۔۔ 

    جی ہائے نے پوچھا تو گوارا پلٹ کر کچھ کہنے لگی تھی کہ جی ہائے نے جملہ مکمل کیا۔۔

    اریزہ۔۔ 

    گوارا اور سنتھیا نے منہ بنا کر گھورا تھا۔۔ مگر اریزہ اور جی ہائے ایک دوسرے کی جانب مکمل متوجہ تھیں۔

    کچھ کھاتے ہیں۔۔ اریزہ نے کہا تو جواب گوارا کی جانب سے آیا تھا۔۔۔

    گھر میں کچھ نہیں۔۔ باہر سے لانا پڑے گا۔۔

    چلو مارکیٹ چلتے ہیں۔۔

    جے حی نے کہا تو اریزہ نے فورا حامی بھر لی۔۔

    چلو۔۔ 

    مجھے اس چنڈالنی کے حوالے کر جائو گی۔۔ سنتھیا چیخی۔۔

    مجھے اس چڑیل کے ساتھ چھوڑ جائو گی۔۔

    گورا بھی اسکے ساتھ ہی اپنی زبان میں چیخی۔۔

    آرام سے ۔۔ اسے جملہ نہیں مگر انداز تو سمجھ آہی گیا ہوگا۔۔ 

    جی ہائے اور اریزہ ایک ساتھ گھبرا کر بولیں۔۔

    ہم بھی چلتے ہیں۔۔

    گوارا اور سنتھیا دونوں اکٹھے بولیں تھیں انگریزی میں۔۔ 

    پھر اس اتفاق پر بد مزہ سی شکل بنا لی تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسٹور میں آکر بھی انکی چپقلش چلتی رہی۔۔ گوارا کو پورک پسند تھا سنتھیا بیف کا پیکٹ اٹھا کر رکھ دیتی۔۔

    اریزہ سبزیاں چن رہی تھی۔۔ جی ہائے نوڈلز اور میکرونی۔

    اسٹور کے ایک جانب کھانے پینے کے اسٹال تھے۔۔ 

    اسپائیسی پنیر ۔۔ ایک لڑکی انہیں مسکرا کر متوجہ کر رہی تھی۔۔فری چکھا رہی تھی

    اریزہ اور سنتھیا بدکیں تو جی ہائے اور گوارا شوق سے کھا گئیں

    آگے ساس میں ڈوبی مکئ بک رہی تھی۔۔ اریزہ اور سنتھیا چھلی کئ شوقین جھٹ سے خرید لی تو جی ہائئ اور گوارا اچنبھے سے دیکھتی پائی گئیں۔۔ کھاتے پیتے پیٹ پوجا ہو ہی گئ

    چاروں ایک ہی کارٹ کو تن رہی تھیں۔۔

    اریزہ نے بسکٹ کے پیکٹ اٹھائے 

    گوارا جنک فوڈ اٹھا رہی تھی۔۔ جب کارٹ لبا لب بھر گیا تو چاروں کو رکنا پڑا۔۔ 

    گوشت سے آدھی ٹرالی بھری تھی۔ جی ہائے نے سر پیٹ لیا۔۔

    اتنا گوشت کھائے گا کون۔۔ 

    یہ بھرے جا رہی تھی۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کی جانب اشارہ کیا۔۔ 

    اب ہم دونوں واپس رکھتے ہیں یہ لو۔۔ اریزہ۔۔ جی ہائے نےتین پیکٹ خود اٹھائے تین اریزہ کو اٹھانے کا اشارہ کیا۔۔ 

    سنتھیا نے اسکے ہاتھ لگانے سے قبل اٹھا لیے۔۔

    میں رکھ دیتی ہوں۔۔ 

    اریزہ کی تبھی سامنے کسی شے پر نظر پڑی ۔۔ 

    اس نے بہت اشتیاق سے وہ پیکٹ اٹھایا۔۔ 

    میرے گھر اوون نہیں ہے۔۔ بس مائکروویو ہے۔۔ بیکنگ نہیں کر سکتیں۔۔ گوارا نے کہا تو اس نے سر ہلا دہا مگر پیکٹ کارٹ میں رکھ دیا۔۔

    عجیب کوڑھ مغز ہے۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گئ۔۔ 

    چلو۔۔ ٹرالی آدھی خالی کرکے بھی اچھا خاصا بل بنا تھا۔۔ چاروں نے اپنے والٹ نکال لیے تھے مگر گوارا نے کسی کو پیمنٹ نہیں کرنے دی۔۔ چاروں باہر نکلیں تو سورج ڈھل رہا تھا۔۔ انہیں اب پیدل ہی گھر جانا تھا وہی گنگم اسکوائر تک چودھویں منزل تک۔۔ 

    آیسکریم کھائیں۔۔ سنتھیا نے سامنے اسٹال کو للچائی نظروں سے دیکھا۔۔ بالشت بھر کی کون تھی بلا مبالغہ۔۔ 

    یہ ؟۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔ 

    ہاں کیوں نہیں۔۔ جی ہائے نے اتنی ہی خوشی سے کہا۔۔ 

    اریزہ بھی آئسکریم کی شوقین تھی۔۔ گوارا کو چارونا چار تقلید کرنی پڑی۔۔ 

    اف یہ تو بہت مزے کی ہے۔۔ اریزہ نے بے ساختہ کہا۔۔ 

    آرٹیفیشل فلیور ہے۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔ 

    سنتھیا نے بد مزہ ہو کر گھورا۔۔

    ہر چیز پر اعتراض کیوں کرتی ہے یہ۔۔ 

    انکا جب دل چاہتا اردو میں شروع ہو جاتیں۔

     مجھے لگتا ہے اسے ہم پسند نہیں آئے۔۔

    اریزہ نے سادگی سے کہا تو سنتھیا نے  تپ کر اسکی کون اسکے منہ پر ملنے کیلیے ہاتھ مارا اریزہ عین وقت جھکائی دے گئ۔۔ اسکا ہاتھ اٹھا کون کی آیسکریم اچھل کر سیدھا گوارا کے منہ پر۔۔

    ایک لمحے تو وہ چاروں ہکا بکا رہ گئیں۔۔ گوارا چھوڑنے والی نہیں تھی۔۔ بھنا کر اگلے لمحے اریزہ کے منہ پر اپنی آیسکریم ملنے کر بڑھی۔۔ سنتھیا اریزہ کو بچانے آگے بڑھی ساری آسیکریم اسکا منہ بھر گئ۔۔ 

    تم سنتھیا نے اپنی آیسکریم گوارا کے منہ پر ماری تو جی ہائے آگئ سامنے۔۔ 

    اس دن  مارکیٹ میں لوگ رک رک کر چار آئسکریم میں لت پت لڑکیوں کو ایک دوسرے سے گتھم گتھا دیکھ رہے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لفٹ میں چودھیں فلور تک جانا عزاب ہو گیا انکا۔۔ ایک تو اتنی اونچائی پر جانا ہو تو درمیان کے ہر فلور پر ہی تقریبا کوئی نہ کوئی لفٹ منگوا کر بیٹھا ہوگا۔۔ سو ہر منزل کی تقریبا زیارت نصیب ہوئی۔۔ عین شام کا رش کا وقت تھا۔۔ پھر جو لفٹ میں گھستا ان چاروں کی شکل غور سے دیکھتاپھر یا تو کھل کر یا دبی دبی ہنسی ضرور ہنستا۔۔

    چہرے گو انہوں نے ٹشو سے پونچھ ڈالے تھےمگر بال اور کپڑے آیسکریم سے سنے تھے۔۔ اوپر سے چاروں نے ہی سامان بھی اٹھا یا ہوا تھا بکھرے بالوں سرخ چہروں کیساتھ جتنی بن ٹھن کر نکلی تھیں اتنی اجڑ پجڑ کر پہنچی تھیں۔۔ 

    لفٹ سے نکلیں تو ایک اور جھٹکا لگا۔۔ ایڈون اور یون بن انکے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے بیل بجا رہیے تھے۔ دونوں کی انکی جانب پشت تھی۔۔ 

    اوہ نو۔۔ سنتھیا گوارا شاپر پھینک بھاگ کر سامنے سیڑھیاں چڑھ گئیں۔۔

    تم۔۔ اریزہ اور جی ہائے ہکا بکا انکی تیزیاں دیکھتی رہ گئیں۔۔ 

    انکے چھوڑے شاپر اٹھاتے دونوں اپنی اپنی زبان میں بس گالیاں ہی دے سکتی تھیں۔۔

    تبھی یون بن کی ان پر نظر پڑی۔۔ 

    تم دونوں کو کیا ہوا ۔۔

    دونوں بھاگ کر انکے پاس آئے۔۔ 

    کچھ نہیں۔۔ دونوں زبردستی مسکرائیں۔۔

    یہ کیا ہے بالوں پر۔۔ یون بن نے اشارے سے کہا 

    اریزہ نے مسکرا کر جلدی جلدی بالوں پر ہاتھ مارا 

    وہ ماسک ہے ہئیر ماسک۔۔

    جے ہی نے بھی تائید کی۔۔ 

    ہیئر ماسک ہی ہے۔۔

    تم لوگ یہ لگا کر باہر گئے۔۔ یون بن نے انکے ہاتھ سے بیگ لیتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔۔

    نہیں لگوا کر آئے ہیں پارلر گئے تھے۔۔ 

    اریزہ نے اردو میں ہی کہا۔۔ 

    باقی دونوں کہاں ہیں؟

    ایڈون کو تشویش ہوئی۔۔

    پارلر میں ہیں ۔۔

    جی ہائے نے کہا تو دونوں بس دیکھ کر رہ گئے۔۔ 

    اچھا یہ دروازہ کھولو۔۔ لگتا ہے گوارا نے اپنا پاسورڈ پھر بدل لیا۔۔

    جی ہائےکو اچھا موقع ملا۔۔

    ہمیں نہیں پتہ پاسورڈ اب تو دروازے پر کھڑے رہ کر ان دونوں کے آنے کا انتظار کر نا ہوگا۔۔ 

    اس نے اتنی زور چیخ چیخ کر کہا کہ ایڈون اور یون بن دونوں کے کان جھنجھنا گئے۔۔ ہاتھ دونوں کے شاپرز سے لدے تھے سو کندھے اچکا کر کان بند کرنے لگے۔۔

    یہ تم آرام سے بھی کہہ سکتی تھیں۔۔ یون بن نے گھورا۔

    اریزہ اور جی ہائے کھلکھلا دیں۔۔

    تبھی جی ہائےکا موبائل بجا ۔۔ اس کو گوارا کا پیغام آیا تھا۔۔ گالی تھی۔۔ اور پاسورڈ۔۔ 

    وہ منہ بناتی دروازہ کھولنے لگی۔۔ ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دونوں سامان رکھوا کر سیٹ کروا کر رخصت ہوئے تو تھوڑی دیر کے بعد بیل بجی۔۔ 

    اریزہ اٹھنے لگی تو جی ہائے نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔۔ 

    انہوں نے جو ابھی باہر کیا ہے اسکی تھوڑی سزا تو ملنی  چاہیئے۔۔ اس نے کہا تو وہ سر ہلاتی دوبارہ کاوچ پر دراز ہو گئ۔۔

    تبھی گوارا کا فون آیا۔۔ اس نے اسپیکر آن کیا تو حلق کے بل چلائی۔۔ 

    کمینی تم نے پاسورڈ تبدیل کر دیا۔۔

    ہاں اور اب یہ اس وقت تمہیں پتہ چلے گا جب تم دونوں اپنے سدھر جانے کا وعدہ کروگی۔۔

    کوئی نہیں میری کوئی غلطی نہیں تھی ۔۔ گوارا کا انداز ہنوز تھا

    سنتھیا اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر چلائی۔۔

    دیکھا اسکو کبھی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوگا۔۔ 

    ایک ہنگل میں چلا رہی تھی ایک اردو میں۔۔ 

    اسٹاپ۔۔

    جی ہائے اور اریزہ اکٹھے چلائیں

    بحث بند کرو ورنہ باہر رات گزارنی پڑے گی۔۔

    دھمکی کارگر رہی۔۔ دونوں اکٹھے چپ ہوئیں۔۔

    وعدہ کرو اب سے آگے ایک دوسرے سے نہیں لڑوگی۔۔

    میں نہیں لڑتئ تم جانتی ہو اریزہ

    میں نے کب لڑائی کی میں تو بات بھی نہیں کرتی۔۔

    دونوں کا اب انگریزی کا امتحان شروع تھا۔۔

    اف۔۔ جے ہی نے سر پکڑ لیا۔۔ 

    دونوں باہر ہی مرو۔۔

    اس نے فون بند کر دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہاہ 

    گوارا حیران ہی رہ گئ۔۔

    یہ میرا گھر ہے ڈیم اٹ۔۔ اس نے دروازے کو لات ماری۔

     اسے جھنجھلاتے دیکھ کر سنتھیا کو یک گونہ سکون ملا تھا۔۔

    آرام سے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ اور موبائل میں لگ گئ۔۔۔۔ گوارا نے حیرت سے اسکے اطمینان کو دیکھا۔۔ پھر ناک پھلاتی اسکے ساتھ ہی دروازے کی چوکھٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔

    تھوڑی دیر گزری ہوگی دونوں مگن بھول بھی گئیں کہاں بیٹھی ہیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    دیکھ لو انکا حال۔۔ 

    آدھے گھنٹے بعد سرویلیئنس کیمرہ سے جی ہائے نے باہر کا منظر دیکھا۔۔ 

    میں جانتی تھی اس نے ویک اینڈ پر بلا کر بھی ایسے ہی موبائل میں مگن رہنا ہے جبھی تمہیں ضد کرکے ساتھ لائی۔۔

    وہ دونوں نہا دھو کر چینج کر چکی تھیں

    مجھے بھی آنے میں اسیلیے اعتراض نہ ہوا مجھے پتہ تھا سنتھیا نے منہ بھی نہیں لگانا مجھے۔۔

    اریزہ متفق تھی۔۔

    تم لوگوں نے باہر ہی رہنا ہے ؟

    جی ہائےکی گرج دار آواز پر دونوں دہل کر چونکی تھیں بے اختیاری میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔۔ پھر ایک دوسرے پر نظر پڑی تو شام کا معرکہ یاد آیا تو جھٹکے سے چھڑا بھی لیا۔۔ 

    آنے دو نا یار ۔۔ سنتھیا نے منت کی۔۔

    ایک شرط پر۔۔ جی ہائے نرم پڑی۔۔ 

    ایک دوسرے کو گلے لگائو اور وعدہ کرو ایک دوسرے کو برداشت کروگی۔۔ 

    کبھی نہیں۔۔ دونوں اکٹھے چلائیں

    رہو پھر وہیں

    اریزہ بھی رعائت دینے کو تیار نہیں تھی۔۔

    اچھا۔۔ 

    دونوں کو دو گھنٹے ہو رہے تھے باہر بیٹھے

    سو انکے اٹل ارادے کمزور پڑچکے تھے۔۔

    یہ دیکھو۔۔ گوارا نے دانت کچکچا کر کر کیمرے میں دیکھا۔۔

    وہ دونوں منتظر تھیں۔

    گوارا نے ایک قدم بڑھایا۔۔ تھوڑا سنتھیا آگے آئی۔ دونوں طوہا و کرہا گلے مل گئیں۔۔

    اب وعدہ کرو۔۔ جے ہی نے کہا تو اریزہ نے اسے اشارے سے کہا بس کرو بہت ہو گئ۔۔ جے ہی نے گہری سانس لے کر لاک کھول ہی دیا۔۔ 

    دونوں تن فن کرتی آئیں اور انہیں گھورتے ہوئے تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔

    تھوڑی دیر گزری تھی دونوں کی تیز آواز آئی۔۔

    میں پہلے آئی ہوں باتھ روم میں نکلو تم۔۔

    یہ میرا گھر ہے میرا باتھ روم ہے۔۔ 

    اریزہ اور سنتھیا ایک دوسرے کو بے چارگی سے دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ اسکا کیا کروگی؟ اوون تو ہے نہیں۔۔ 

    جی ہائے نے حیرت سے اسے آٹا نکالتے دیکھا۔۔ 

    دیکھنا کیا کرتی ہوں۔۔ وہ مسکرا دی۔

    اس نے گوبھی کو کورین طریقے سے پکا کر بھجیا بنائی۔۔ جی ہائے نے چکن نوڈلز بنائے۔۔ 

    اس نے آٹا گوندھا پیڑھے بنائے ۔۔ ایک شیسشے کی بوتل کو بیلنے کیلیے استعمال کرکے جب اس نے تھپ تھپ ہاتھ پر روٹی بڑی کی تو جی ہائے اپنا سالن چھوڑ چھاڑ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اس نے فرائنگ پین کے حساب سے چھوٹے پیڑھے کی چھوٹی چھوٹی روٹیاں پکائیں۔۔ کھانا تیار ہوا تو دونوں پھولے منہ کے ساتھ اٹھ آئیں۔۔ 

    میں بھی یہ کھائوں گئ۔۔ جی ہائے نے اپنے نوڈلز الگ ایک طرف کر دیئے۔۔ 

    یہ کیسے کھائیں گے؟ گوارا نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔ 

    سنتھیا کی بھی روٹی دیکھ کر بھوک چمک گئی۔۔ نوڈلز کھسکا کر گوبھی پلیٹ میں ڈال لی۔۔ اریزہ نے نوالہ بنا کر جی ہائےکے منہ میں ڈال دیا۔۔

    یار یہ گوبھی کیسے بنائی ہے میں نہیں کھاتی مگر یہ بہت مزے کی ہے۔۔ سنتھیا نے کہا تو اریزہ نے اسے مسکرا کر انگریزی میں بتایا۔ 

    یہ کورین اسپائسز کیساتھ بنائی ہے کورین ڈش ہے۔۔ 

    گوارا نے کندھے اچکا۔ دیئے یہ تینوں اتنے چٹخارے بھر کر کھا رہی تھیں کہ بار بار اسکی نگاہ اٹھ جاتی تھی۔۔ اریزہ نے محسوس کیا تو خود نوالہ بنا کر اسکی جانب بڑھا دیا۔۔ وہ حیرت سے دیکھنے لگی۔۔ اریزہ نے ہاتھ پیچھے نہیں کیا تو جھجکتے ہوئے منہ کھول ہی لیا۔۔ 

    مزے کا ہے نا جی ہائے اشتیاق سے بولی۔۔ 

    ہوں۔۔ اسے ماننا ہی پڑا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

    ہایون کو ہوپ کا پیغام آیا تھا۔۔ 

    تصویر تیار ہو گئ ہے۔۔

    اتنا ہی لکھا تھا۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔

    وہ لیپ ٹاپ پر کافی دیر سے کچھ کر رہا تھا۔۔ اب تھکن سی ہو رہی تھی۔۔

    میں کل اس سے پورٹریٹ بنوانے جا رہا۔۔ 

    یہ کم سن نے پیغام بھیجا تھا۔۔

    اس نے زوردار انگڑائی لی۔۔ 

    لیپ ٹاپ پیٹ سے اٹھا کر سائیڈ میں رکھا۔۔ 

    اسے ہلکی ہلکی اب بھوک لگ رہی تھی۔۔ وہ بستر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے سب سو چکے تھے یا گھر میں ہی نہیں تھے اسے کچھ خبر نہیں تھی اس نے خود کو اس گھر سے اور اس گھر کے معاملات سے علیحدہ کر رکھا تھا۔۔ وہ سیدھا کچن میں آیا تھا۔۔ ارادہ کچھ فریج سے مستفید ہونے کا تھا کہ ہلکی ہلکی آہبو جی کے بولنے کی آواز آئی۔۔ اس کا ارادہ سن گن لینے کا نہیں تھا مگر جب واضح اپنا نام سنائی دیا تو آواز کا منبع تلاش کرنے لگا۔۔ کمرے سے نہیں۔۔ شائد اسٹڈی سے آرہی تھی آواز۔۔ وہ دبے قدموں چلتا ہوا اسٹڈی آیا۔۔ پھر جو اسکے کانوں نے سنا اس نے اسکے اندر آگ بھر دی تھی۔۔ اس نے مٹھی بھینچ لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عین اسی وقت گھڑی نے پورے رات کے گیارہ بجائے تھے۔۔

    اس صوفے پر کوئی کیسے لیٹ سکتا۔۔ سنتھیا ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھی۔۔ 

    زمین پر لیٹ جائو۔۔ گوارا کا انداز لاپرواہ تھا۔۔ 

    آہ۔۔ جی ہائے اور اریزہ کراہ اٹھیں۔۔ دونوں ہاتھ میں چادریں پکڑے تھیں 

    تم لیٹ جائو نا۔۔ اتنا آسان ہے سخت زمین پر لیٹنا۔۔ اگر تو۔۔

    سنتھیا کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔

    میں کیوں لیٹوں میرا گھر ہے میرا بیڈ میں تو بیڈ پر ہی لیٹوں گی۔۔

    وہ بیڈ پر پھیل گئ۔۔ 

    مجھے نہیں پتہ تھا کورینز اتنے بد تمیز اور روڈ ہوتے۔۔ مہمانوں کا بھی خیال نہیں کرتے۔۔ ہم پاکستانی تو مہمانوں کو اسیے زمین پر سلانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔ سنتھیا نے غیرت دلانے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئی۔۔ گوارا تنتناتی ہوئی اٹھ آئی۔۔

    میرے کسی عمل سے کورینز کو جج نہ کرو ہم بھی بہت خیال رکھتے مہمانوں کا۔۔

    دکھائی دے رہا ہے۔۔ سنتھیا نے کان سے مکھی اڑائی۔۔ 

    صرف بیڈ پر لیٹنے سے جج نہ کرو نہ ابھی ساری شاپنگ کی پیمنٹ میں نے کی تھی آئیسکریم بھی میں نے کھلائی۔۔ 

    اسے اپنے احسانات یاد آئے۔۔

    آئیسکریم کھلائی کب ساری تو ۔۔ سنتھیا ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھئ۔۔ اریزہ اور جی ہائے انکو لڑتا چھوڑ کر بیڈ پر گر گئیں ۔۔ اتنا چل کر کھانا پکا کر کھلا کر سب برتن دھو کر آئی تھیں سو بری طرح تھک چکی تھیں۔ دونوں کی لڑتے لڑتے ان پر نظر پڑی تو دونوں بے خبر ہو چکی تھیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہیں پتہ بھی ہے پاکستانی کتنے خطر ناک لوگ ہیں۔۔ 

    اسکی آنکھ ہی لگی تھی کی ایڈلین نے اسے آکے جگا کر کہا۔۔ 

    کتنے۔۔ اس نے منہ کھول کر جمائی لی۔۔ 

    سارے کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔۔ 

    تبھئ اریزہ نے اسے پکارا۔۔

    جی ہیا۔

    وہ کمرے کے دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔ 

    اریزہ۔ تم۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔

    ہاں میں وہ پر اسرار انداز میں مسکراتی آگے آئی۔۔ اس نے بڑی سے چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔ کمرے کے وسط میں آکر اس نے ایکدم سے چادر پیچھے گرا دی۔۔

    وہ ایک بڑی سی جیکٹ پہنے تھی جس میں چھوٹے چھوٹے بم لٹک رہے تھے۔۔ جی ہائے اور ایڈلیں ایک دوسرے سے لپٹ گئیں اریزہ انہیں خوفزدہ دیکھ کر زور سے قہقہہ لگا کر ہنس دی

    اور آج میں تمہیں بم سے اڑا دوں گی۔۔ اس نے جیکٹ سے کوئی بٹن دبایا۔۔ 

    ایڈلین اور وہ پورے حلق کے زور پر چیخ اٹھیں۔۔

    زوردار دھماکا ہوا۔۔ 

    اس کی پٹ سے جھرجھری لے کر آنکھ کھلی تھی۔۔ 

    صبح کی روشنی کمرے میں ہلکا ہلکا اجالا کر رہی تھی۔۔ 

    اوہ یہ خواب تھا۔۔ اس نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر پسینہ پونچھا تو خیال آیا دایاں ہاتھ کہاں اس نے دائیں جانب نگاہ کی تو خود کش حملہ آور اسکے بازو پر سر رکھے بے خبر سو رہی تھی اسکا چہرہ اسکے کندھے پر تھا۔۔ اسکے بال ہوا سے سرسرا رہے تھے اس نے مسکرا کر اسکے بال سمیٹے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کسی انجان سے گھر کے سامنے کھڑی تھی سنسان ویران جگہ پر بس وہ ایک گھر تھا۔۔ اس کو خوف آرہا تھا وہ آخر یہاں آئی کیسے؟

    اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر ہمت کرکے آگے بڑھی اور دستک دے ڈالی۔۔

    دروازہ دوسری دستک پر خود بہ خود کھلا تھا۔۔ وہ ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔۔ 

    سفید لباس میں ملبوس لبے بال بکھرائے وہ غیر ملکی نقوش کی چڑیل تھی سیا چمڑخ جسکے بے حد سرخ ہونٹ تھے۔۔ اسے دیکھ کر اسکی آواز ہی بند ہو گئ۔۔ 

    چڑیل عجیب انداز سے مسکراتی اسکی جانب بڑھی۔

    تم میرے پیچھے پاکستان آگئیں؟

    نہیں۔۔ وہ ڈر کر  پیچھے  ہوئی۔۔ 

    چڑیل ایک قدم آگے ہوئی یہ ڈر کے اس بار کھڑے قد سے گری مگر چڑیل اسی طرح مسکراتی آگے بڑھتی رہی۔۔ 

    آئو ڈرو نہیں میں دکھاتی ہوں پاکستانی مہمانوں کی کیسے تواضع کرتے۔۔ وہ لمبے ناخن والے ہاتھ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ 

    گوارا نے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر زوردار چیخ ماری۔۔

    اس نے چیخ سچ مچ نہیں ماری تھی اس کی نیند پہلے ٹوٹ گئ۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل پر ہاتھ رکھتے  پانی پینے اٹھنا چاہا۔۔ تو اپنے آپکو اسی پاکستانی چڑیل کے شکنجے میں جکڑا پایا۔۔ وہ اس سے لپٹ کر سوئی تھی پوری اس پر چڑھی اسکے کولہے پر ٹانگ رکھے اسکےپیٹ کو بازو سے جکڑے اس نے چھڑانا چاہا تو وہ کسمسا کر اور لپٹ گئ۔۔ اس نے یونہی لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کر موبائل میں وقت دیکھا سات بج رہے تھے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں کرسی پرایسے بندھی ہوئی تھیں کہ دونوں کی پشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔۔ 

    انکے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔۔ ۔ سنتھیا چلا رہی تھی مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔ یہی حال اریزہ کا تھا۔۔

    دونوں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں مگر ایک دوسرے کو چھڑا نہیں پا رہی تھیں۔۔

    جی ہائے اور گوارا انکے گرد چکر کاٹ رہی تھیں۔۔ جی ہائے کے ہاتھ میں کوڑا تھا جسے وہ بار بار زمین پر مار کر انہیں ڈراتی جب دونوں بر ی طرح ہل جاتین تو قہقہہ لگا کر ہنستی۔۔ دونوں روائتی لباس میں ملبوس سیمورائی بنی ہوئی تھیں۔۔ 

    تبھی گوارا نے تلوار کھینچ کر سنتھیا کی گردن پر رکھ دی۔۔

    میرے بیڈ پر لیٹو گی۔۔ ؟

    بتائو؟

    ابھی لٹاتی ہوں تمہارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ہاہاہہاکا

     اس نے خوفناک قہقہہ لگا کر تلوار سے زوردار وار کیا تھا۔

    آہ۔۔ اسکی گردن۔ اس نے جاگتے ہی گردن کو چھوا۔۔ 

    ابھی جسم سے لگی ہوئی تھی۔۔ اس نے اپنے اوپر غور کیا تو ہڑبڑا گئ۔۔ وہ اپنی ہی قاتلہ سے لپٹی تھی 

    قاتلہ سو رہی تھی اس نے پیچھے ہونا چاہا تو احساس ہوا قاتلہ اسکا ہاتھ تھام کر سو رہی تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ منہ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی گوارا سے ٹاکرا ہوا۔۔

    اس نے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے۔۔ 

    یہ لو اریزہ میں یہ تمہارے لیے لائی ہوں۔۔

    اس نے اپنے پیچھے چھپایا ہوا گفٹ پیک اسکے سامنے کیا۔۔

    یہ کیا ہے۔۔ وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔۔

    اس میں کیا ہے۔۔

    لوٹا۔۔ گوارا نے مسکرا کر کہا۔ اس نے حیرت سے دیکھا پھر جلدی سے گفٹ کھولا۔۔

    واقعی بڑا سا بھورا پلاسٹک کا لوٹا تھا

    یہ کیا ہے۔۔ اس نے غصے سے پھینکا۔۔

    تبھی جے ہی چلی آئی۔۔ 

    یہ لو اریزہ چائے پی لو۔۔ وہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ ایک بڑا سا پیلا لوٹا۔۔ 

    کیا ہوگیا ہے ۔ وہ گھبرا کر باہر نکلی

    اریزہ یہ لو  میں ہم دونوں کیلیے ایک جیسے بیگ لائی۔۔ سنتھیا اسے بیگ پکڑا رہی تھی۔۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ویسا ہی بیگ اپنے شانے سے لٹکا رکھا تھا۔۔

    اور وہ بیگ تھا؟ نہیں وہ سرخ لوٹے تھے جن کے ساتھ اسٹریپ لگا رکھے تھے۔۔ ایڈون سالک شاہزیب جون تائ کم سن سب لاوئنج میں لہک لہک کر لوٹے بجا رہے۔تھے۔۔ 

    کیا ہو رہا ہے یہ پاگل ہو گئے ہو سب؟

    وہ چلائی۔۔ 

    اریزہ کیچ۔۔ ایڈون نے بڑا سا لوٹا اسکی جانب اچھال دیا۔۔ قریب تھا اسکا منہ ٹوٹتا۔۔ کسی نے اسکے چہرے کے پاس کیچ کر لیا۔۔ 

    اس نے ڈرتے ڈرتے اسکا چہرہ دیکھا۔

    کھنچی آنکھوں کھڑی ناک والا اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔

    ………………………

    ختم شد 

    جاری ہے

    KESI LAGI AAPKO AAJ KI QIST ? QIST KO RATE KIJYE

    Rating

  • Salam Korea Episode 7

    Salam Korea 

    by vaiza zaidi

      قسط 7

    وہ حقیقتا کانپ رہی تھی غصے سے۔ ایڈون انکی بچپن کی دوستی دائو پر لگانے چلا تھا۔ اسکا بس نہیں تھا کہ اس وقت ایڈون کا کیا حشر کر دے۔ ہایون نے اسے بغور دیکھا وہ اسکے ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں تھی۔ وہ یونہی سڑک کنارے دھیرے دھیرے چلتے رہے۔ہوٹل دو گلی پیچھے رہ گیا تھا آہستہ آہستہ اسکا پارہ نیچے آنا شروع ہوا اس نے آنکھیں رگڑیں پھر اپنے گرد و نواح پر نظر ڈالی اور چونکی۔ پر ہجوم سڑک کنارہ بھاگتا دوڑتا ٹریفک انجان شکلیں اور شہر۔

    تمہیں ہاسٹل چھوڑ دوں؟

    ہایون نے پوچھا تو وہ سٹپٹا سی گئ۔ مانا اسکا کلاس فیلو تھا مگر اس کے ساتھ اتنی بےتکلفی تو نہ تھی کہ منہ اٹھا کے چل پڑتی۔ 

    میں کیب لے لیتئ ہوں۔ 

    اسے یہی مناسب لگا تھا۔ 

    ہایون نے اسکو غور سے دیکھا۔ 

    میں چھوڑ دیتا ہوں ہاسٹل تمہیں ۔ 

    اسکے کہنے پر اریزہ نے اسکی شکل دیکھی۔ 

    سادہ سا چہرہ سادہ سا انداز ۔ 

     اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔وہ اسے لیکر اپنی گاڑی کے پاس آگیا۔۔ شام ڈھل رہی تھی ہوا میں بہت خنکی ہو رہی تھی۔۔ 

    اسے بٹھا کر وہ گھوم کر آکر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم بھی تو ہیں ۔۔ نہ ملک ایک نہ زبان ایک نہ نسل ایک اور کم سن کا تو مزہب بھی الگ ہے ہم سب آرام سے ایک جگہ سکون سے بیٹھ کر کھا رہے ہیں کہ نہیں؟ یہ مسلمان ہوتے ہی ایسے ہیں ہر جگہ مسلہ کھڑا کر دیتے۔۔ خود بتا ئو ان تینوں کے ہوتے ہم سب نے اکٹھے مل کر کچھ کھایا ہے؟ 

    ایڈون کم سن اور یون بن  سے کہہ رہا تھا دونوں بالکل خاموش تھے سنتھیا چڑی

    اس وقت تم بلا وجہ جھگڑے ہو ایڈون۔۔ اریزہ نے تمہیں کچھ ایسا نہیں کہا تھا۔۔ اور یہ تینوں سوائے اسکے کہ خود نہیں کھاتے تھے تمہیں تو نہیں روکتے تھے کھانے سے انکی وجہ سے تمہیں کیا مسلہ تھا۔۔ 

    مجھے لگا تھا کہ سالک نے زیادتی کی ہے مگر کہیں نہ کہیں تمہاری بھی غلطی ہوگی اب مجھے یہی لگ رہا ان سے بھی تم ہی جھگڑے ہوگے ۔۔ 

    سنتھیا اردو زبان میں بات کر رہی تھی۔۔ 

    یون بن  زچ ہوگیا ہمیں بھی تو بتائو ایسا کیا مسلہ ہو گیا ہے؟

    مجھ پر یقین نہیں نا۔۔ ایڈون کو دکھ ہوا۔

    ان سے پوچھ لو انکے سامنے ساری بات ہوئی ہے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سالک نے کچھ عرصے سے ایک گرم چادر اوڑھنے والی نماز کیلیے علیحدہ کر رکھی تھی اسے وہ دراز میں الگ رکھتا تھا۔۔ یون بن  اسے اکثر اس چادر پر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھتا تھا۔۔ عموما وہ جب نماز پڑھنے لگتا تو ایڈون اور یون بن  خاموش ہوجایا کرتے تھے یا کمرہ چھوڑ دیتے تھے۔۔ اس دن وہ وضو کر کے آیا تو دیکھا اسکی چادر زمین پر پڑی ہے اور ایڈون الماری سے کچھ نکال رہا تھا۔۔ اس نے اسے ٹوکا تو اس نےسوری کہہ کر چادر بیڈ پر رکھ دی۔۔

    اس نے چادر اٹھائی تو عجیب سی بوتل اسکے بیڈ پر رکھی لیک ہو رہی تھی شائد ڈھکن صحیح بند نہین تھا اسکی چادر بھی گیلی ہوگئی تھی۔۔ ایڈون نے اسے بوتل اٹھانے کو ہاتھ بڑھاتے دیکھا تو فورا ٹوکا۔۔ 

    اسے ہاتھ نہ لگائو شراب ہے ابھی رولا ڈال دوگے تم ۔۔

    کیا۔۔ وہ بھنایا۔۔ 

    یہ میری نماز کی چادر اس پر رکھ دی تم نے۔۔

    اب میں نماز کس پر پڑھوں گا۔۔

    سوری یار میں نے بند کرکے رکھی تھی پتہ نہیں کیسے لیک ہوگئی۔۔ میرا بستر بھی گیلا ہوگیا۔۔ وہ سادے سے انداز میں کہتا اپنا بیڈ جھاڑنے لگا۔۔

    حد ہے۔۔ میں وضو کرکے آیا تھا۔۔ وہ چادر ایک طرف ڈالتا بیڈ کیطرف بڑھ گیا۔۔

    میں کل دھودوں گا۔۔ تو میری چادر لے لے اب وضو کر لیا ہے تو نماز پڑھ لے لیٹ مت۔۔ اس نے الماری سے اپنی چادر نکال کر اسے دینی چاہی

    یار پاک چادر پر نماز ہوتی ہے۔۔

    اسکے منہ سے نکل گیا تھا۔۔ اس نے کہتے ساتھ ہی زبان دانتوں تلے دبا لی۔۔ 

    یون بن  اس ساری گفتگو کے درمیان اپنے بیڈ پر لیٹا لیپ ٹاپ میں مگن تھا۔۔ 

    ایڈون کے چہرے پر سایہ سا لہرایا مگر سنبھل کر بولا۔۔

    ویسے یہ دھلی ہوئی ہے ابھی تک میں نے استعمال نہیں کی۔۔ 

    ابھی یہ بات ہو رہی تھی کم سن اور شاہزیب بولتے ہوئے اندر چلے آئے۔

    اوئے ایڈون تو نے میری ناک کٹوا دی یار

    پورے ایک ہزار وون کی شرط ہار بیٹھا میں تیری وجہ سے کمینے۔۔

    کیوں میں نے کیا کیا۔۔

    ایڈون حیران ہوا۔۔

    اس دن کم سن پورک بیلی کھا رہا تھا ایسے ہی بات نکلی تو میں نے بتایا کی پاکستانی تو کرسچن بھی پورک نہیں کھاتے اس نے کہا ایڈون نے تو کھایا ہوا ہے۔۔ میرے ساتھ بھی کھایا ہے۔۔ تو نے کب کھایا پورک پاکستان میں؟

    وہ یار ایمبیسی میں ایک انکل ہوتے  ہیں میرے فارنرز کی کیوزین انکے زمے تھی انکے یہاں کھایا وہان لیگلی تو نہیں بکتا مگر ال لیگلی تو پاکستان میں سب کچھ ہوتا ہے۔۔ 

    وہ لاپروائی سے بولا۔۔ 

    بس کم سن نے ہتھیلی پھیلائی شاہزیب نے منہ بنا کر پیسے ہاتھ پر رکھے۔۔

    یار تو خنزیر بھی کھا کے بیٹھا ہے۔۔ سالک نے منہ بنایا  ۔۔ گندے۔۔ گھن نہیں آئی کھاتے

     کیوں جانور ہے وہ بھی۔۔ جیسے گائے بکرا مرغی

    تمہیں کھاتے گھن آتی؟

    ایڈون نے سادے انداز سے کہا۔۔

    پھر بھی یار غلیظ جانور ہے غلاظت کھاتا۔۔ یہ لوگ توچلو جانتے ہی نہیں مگر تو تو پاکستانی ہے ہمارے ساتھ رہا ہے تو تو نہ کھاتا۔۔ شاہزیب نے اردو میں کہا۔۔

    تو؟ پاکستانی ہوں تو کیا ہوا مسلمان تو نہیں ہوں۔تم لوگ کیا اپنا مزہب تھوپتے ہو سب پر۔۔ تم لوگوں کے ہاں حرام ہے میرے یہاں نہیں ۔۔۔۔شراب نہیں پی سکتے سور نہیں کھا سکتے اچھی زبردستی ہے۔۔

    گیٹ آ لائف۔۔ 

    ایڈون تپ چکا تھا سچ تو یہ ہے کہ اسے آگ سالک کے جملے نے لگائی تھی اسکی دھلی صاف چادر اسے ناپاک لگی اسے نری بےعزتی محسوس ہوئی تھی کیا وہ اسے انسان نہیں سمجھ رہا تھا۔۔

    اب ذیادہ مت بول سور تو کھاتا ہے پاکستان میں شراب کا الگ پرمٹ بنتا تم لوگوں کا تو کس منہ سے کہہ رہا ۔۔شاہزیب کو تھوڑا غصہ آگیا تھا۔۔

    کم سن آنکھیں پھاڑے کبھی ایک کو دیکھتا کبھی دوسرے کو یون بن  نے بھی لیپ ٹاپ بند کرکے رکھ دیا۔۔ اور کم سن سے پوچھنے لگا۔۔ کیا ہوا۔۔

    مجھے لگ رہا یہ لوگ لڑ رہے ہیں یا لڑنے والے ہیں اس نے ہنگل میں کہا تو یون بن  بستر سے اٹھ کر انکے پاس آگیا۔۔ 

    ہاں آزاد ملک کا آزاد شہری ہوں سور چھپ کر کھاتا ہوں شراب چھپ کر پیتا ہوں ورنہ مجھے جیل ہو سکتی آگے تم لوگوں کا رمضان آئےگا کھانا پینا بھی کھلے عام منع ہو جائے گا۔۔ کبھی گھر میں پریر کر لیں محلے والے آجاتے گانا بجانا بند کرو۔ خود دن میں پانچ پانچ مرتبہ لاوڈ اسپیکر پر دس جگہوں سے ازان 

    بس ۔۔ ایڈون ایک لفظ مزید مت بولنا۔۔ سالک تحمل سے بولا

    کیوں سچائی کڑوی لگی نا۔۔ یہ ملک دیکھو۔۔ غیر مسلم ملک ہے کتنا امن ہے یہاں اک دھماکا تک نہیں ہوتا تم لوگ نہ چین سے جیتے ہو نہ جینے دیتےہو

    بس کر دے ایڈون بہت ہو گیا۔۔ شاہزیب نے مٹھیاں بھینچی

    اتنا پسند ہے یہ ملک تو یہین رہ جا شراب پی سور گدھے کھا تیری اوقات ہی نہیں پاک کھانے کی کھا غلاظت

    سالک نے کہا تو ایڈون نے اسکے منہ پر طمانچہ مار دیا۔

    تمہارے باپ کا نہیں ہے پاکستان جو مجھے وہاں سے نکلنے کو کہہ رہا۔۔ 

    سالک نے پلٹ کر  اسکے منہ پر گھونسا دیا۔۔ یون بن نے ایڈون کو پکڑا کم سن نے سالک کو۔۔ 

    پاکستان پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ  ہے تو اس کے قابل نہیں رہا۔۔ ۔۔۔

    سالک نے نفرت بھرے انداز میں کہا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مارا ایڈون نے پہلے تھا بول بھی ایڈون ہی رہا تھا اب ہمیں واقعی کچھ پتہ نہیں کیا کہہ رہے تھے یہ لوگ آپس میں مگر شاہزیب سالک کو کھینچ کر اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔ انکا ڈورم دو بیڈ کا ہے تو کم سن کل پھر ہمارے کمرے میں آکر سویا۔۔ 

    آخر مسلہ کیا ہے تم لوگ کل کیوں لڑے اور آج اریزہ سے کس بات پر جھگڑا ہوا ہے بتائو تو سہی۔۔

    یون بن  نے بتایا۔۔ 

    تمہیں میں بتا چکا ہوں ساری بات وہ سب سن کر پھولوں کے ہار تو نہیں پہنانے تھے میں نے ایڈون نے اردو میں سنتھیا کو کہا تو وہ گہری سانس لے کر رہ گئ۔۔

    مجھے لگ رہا انکا کوئی آپس کا ایسا مسلہ ہے جو انکے ملک کے متعلق ہے نہ شاہزیب کچھ بول کے دیا نا یہ کچھ بتا رہا۔۔ پوچھنے کا فائدہ نہیں کوئی۔۔ 

    کم سن نے ہنگل میں یون بن سے کہا تو وہ بھی سر ہلا کر چپ ہو گیا۔۔ تبھی کھانا سرو ہونے لگا تو وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گاڑی اسی چائینیز ریسٹورنٹ کے سامنے رکی تھی۔ وہ چونک کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔

    آٹھ ہو رہے ہیں صبح کا ناشتہ کیا ہوا میں نے ۔۔ کچھ کھا نا لیں ؟ میرے دونوں سینڈوچ ہضم ہو چکے تم نے تو خیر کچھ کھایا ہی نہیں تھا۔۔ 

    بھوک تو اسے لگ رہی تھی سینڈوچ لے تو لیا تھا مگر روز روز ایک ہی چیز کھا کھا کے دل اوب گیا تھا۔۔ 

    مگر تمہیں تو چائینیز پسند ہی نہیں۔۔ اسے خیال آیا۔۔ اب یہ اسکے ساتھ کھا کر کل کو اس سے لڑے گا۔۔ تمہاری وجہ سے میں چائینیز کھاتا رہا ہوں۔۔ 

    اس نےتصور میں اسے خود پر چلاتے دیکھا۔۔

    ہمم مگر میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں تین چار بار تم لوگوں کے ساتھ کھایا بھی کہیں تم نے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا کم از کم یہاں چاول تم نے کھا تو لیے تھے۔۔ 

    اس کا منہ اتر گیا۔۔ سر جھکا لیا۔۔ 

    میرا مقصد تمہیں جتانا نہیں تھا ۔۔ ہایون  نے سفید جھنڈی لہرائی۔۔

    کوئی بات نہیں۔ہایون کو اتنے دنوں سے دیکھ رہی ہوں۔ اسکی باجی کے ساتھ بھی میں یہاں آچکی ہوں۔ اور یہ بات میرے لیئے عجیب ہے مگر ان لوگوں کے لیئے معمول کی بات ہے اپنی کلاس فیلو کو لفٹ دے لینا یا ڈنر کرلینا اسکے ساتھ۔ 

    سب ٹھیک ہے۔ کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسکے ہمراہ چلتے وہ خود کو یہی سب کہتی آئی دل ہی دل میں۔ 

    دونوں ریستوران میں داخل ہوئے تو وہی مخصوص میز اتفاق سے خالی تھی۔۔۔ 

    بھاگو۔ ہایون نے کہا تواسے بھی تھا مگر وہ بھاگ نہ سکی۔ البتہ ہایون بھاگ کر اس میز پر قبضہ۔کر گیا۔ اسے بے ساختہ انی یاد آئیں اور انکی حرکت بھی۔ ہایون میز قبضے میں کرکے فاتحانہ انداز میں بیٹھا تھا

    وہ سر جھٹکتی اسی میز کی جانب چلی آئی۔ ہایون نے اسی دن والا آرڈر دیا تھا۔ 

    کچھ اور کھانا پینا ہے۔ وہ آرڈر دینے کے بعد پوچھ رہا تھااس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا۔۔ دونوں خاموش بیٹھے تھے جبھی آج اسے موقع ملا اس ہوٹل کا انٹیریر دیکھنے کا۔ وہ بہت شوق سے گردن گھما گھما کر دیکھ رہی تھی۔میز کرسیاں وغیرہ تو سب کسی بھئ اچھے ریستوران جیسی ہی تھیں آرام دہ مگر دیواروں پر لکھی چینی زبان کی تحاریر درج تھیں۔ ایک جانب کونے میں بڑا سا پورٹریٹ دیوار گیر سجا تھا  چینی شہزادی ستار کی طرح کا کوئی۔ساز بجا رہی تھی اسکے برابر چینی شہزادہ کھڑا نہارتی نگاہوں سے بانسری بجاتا اسے دیکھ رہا تھا۔ چھت پر بڑا سا  چینی فانوس سجا تھا۔ سنہری او رسرخ امتزاج کی دیواریں قمقموں سے سجی تھیں۔ 

    یہ سب چینی لوگ ہیں؟ 

    چندی آنکھوں والے ویٹر ویٹرسسز دیکھ کر اس نے یونہی پوچھا تھا۔

    یہ چینی ریستوران ضرور ہے مگر یہاں کام کرنے والے چینی نہیں ہیں۔۔

    ہایون کے جواب پر وہ سر ہلا گئ۔ اسے تو فرق نہیں پتہ لگ رہا تھا۔ سب چندی آنکھوں والے تھے یہاں بھی۔ 

    چینیوں کی آنکھیں ذیادہ کھنچی ہوئی ہوتی ہیں انکی رنگت بھئ زردی مائل ہوتی ہے تاہم کورینوں کی تھوڑی سی کشادہ آنکھیں ہوتی ہیں۔ کچھ قدرتی ذیادہ تر نے سرجری کروا کر پپوٹے اونچے کرا رکھے ہوتے ہیں۔

    اس نے وضاحت کئ 

    سرجری پپوٹوں کی کون کراتا۔ 

    اسے حیرت ہوئی۔

    ہم۔ ہایون مسکرایا۔ 

    کوریا میں دنیا میں سب سے ذیادہ سرجریز ہوتی ہیں۔ ہر پانچ میں سے ایک کورین اپنے چہرے میں تبدیلی لا چکا۔ہے سرجری کے ذریعے۔ 

    اور تم ؟ تمہاری آنکھیں بڑی بھئ ہیں اور پپوٹے اونچے بھئ ہیں تم۔نے بھی کروائی ہے؟ 

    اسکے سوال پر اسکا چہرہ پھیکا سا پڑا تھا۔ اسے شرمندگی سی ہوئی۔یوں کسی کے خدوخال پر اسے تبصرہ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ 

    آئیم سوری۔ 

    اس نے فورا معزرت کر ڈالی۔ ہایون سنبھل کر مسکرا دیا

    میری قدرتی آنکھیں ایسی ہیں میں نے سرجری نہیں کروائی۔ 

    اس نے سر ہلادیا۔ یہ بات معزرت کروائے بنا کہہ دیتا۔وہ قصدا پھر کچھ نہ بولی

     آج جب چاول آئے تو جانے اریزہ کو کیا سوجھی چمچ کی بجائے چاپ اسٹک اٹھا لی۔ دو ایک بار اس نے غور سے ہیونگ سک کو چاپ اسٹک پکڑتے دیکھا خود دو یا تین کوشش میں ناکامی کے بعد تھوڑے چاول پھنسا کر کھانے لگی تھی۔ اس نے نوالہ منہ میں ڈالا تو ہیونگ سک نے باقائدہ تالی بجائی اسکیلیئے۔ اسے لگا تھا وہ چھپ کے کر رہی یہ کام مگر پکڑے جانے پر بلش ہوگئ۔۔

    اس نے کھسیا کر چاپ اسٹک رکھ دی۔۔ 

    ہایون  کو ہنسی آگئ۔۔

    سیول کیسا لگا تمہیں۔۔ اس نے یونہی بات برائے بات پوچھا۔۔

    اچھا لگا ہے ۔۔ اس نے دل سے کہا۔۔ 

    کیا سب سے ذیادہ اچھا لگا۔۔ 

    میں نے زیادہ کچھ دیکھا نہیں ہے ہاں صاف ستھرا ہے روشنیوں کا شہر ہے۔۔ اونچی اونچی بلڈنگز اور اچھا موسم ۔۔ اسلام آباد جیسا ہی ہے۔۔ اسے بتانے میں لفظوں کی کمی کا احساس ہوا۔۔ 

    اسلام آباد؟ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

    میرے ملک کا کیپیٹل سٹی۔۔ 

    تم وہاں رہتی ہو۔۔ ؟

    وہ اٹکی۔۔ 

    نہیں اسکے ساتھ ہی شہر ہے راولپنڈی اس میں رہتی۔۔ پڑھتی اسلام آباد کی یونی میں تھی۔۔

    روز دوسرے شہر جانا مشکل نہیں۔۔

    وہ دوسرا شہر اتنا دوسرا بھی نہیں۔۔ جڑواں شہر ہیں دونوں۔۔ اس نے دونوں چاپ اسٹکس ساتھ جوڑیں

    ایسے۔۔ 

    تمہارا شہر کیسا ہے؟ وہ بات برائے بات پوچھ رہا تھا۔۔

    بہت صاف ستھرا۔۔

    جب سے البراق سے کانٹریکٹ ہوا ہے کافی صاف ہو تو گیا ہے۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔

    ایسے ہی۔۔ ہے جیسا سیول۔۔ 

    اور کیا بتائے۔۔ وہ سوچ میں پڑی

    مالز ہیں۔۔ 

    (تھوڑے چھوٹے ہیں تو کیا ہوا۔۔ )

    میٹرو ہے۔۔ سیول جیسی۔۔

    (ٹرین بھی ہو جائے گی کبھی نہ کبھی)

    یہاں تو ہنگن ریور یے وہاں بھی  کوئی ہے؟ہایون کو دلچسپی ہوئی

    ہے نا ۔۔

    ڈیم ہے (یاد آیا اسلام آباد میں ہے)

    سواں دریا ہے۔۔ نالہ لئی بھی ہے۔۔

    شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔۔ دنیا میں اپنی طرز کا اکلوتا خوشبودار نالا۔۔

    وہ منہ بنا کر بولی۔۔

    (scented)وہ حیران ہوا۔۔ 

    ہاں اس علاقے سے گزرو دور سے خوشبو آتی ۔۔ 

    اس نے بتایا تو ہایون کی حیرانی دو چند ہو گئ

    میں نے کبھی ایسے انوکھے نالے کے بارے میں نہیں سنا مجھے تو شوق آرہا دیکھنے کا تمہارے پاس تصویر ہوگی کوئی۔اسکے ساتھ۔؟

    نالہ لئی کے ساتھ تصویر۔۔ اسے اچھو ہوا۔۔

    اسکے ساتھ تو شائد ہی کوئی ایسا ہو جو کھنچوائے 

    اس نے ناپسندیدگی سے کہا۔۔

    کیوں؟

    ہایون کا اشتیاق عروج پر تھا

    سینٹڈ نالا ہے نا۔۔ وہ گڑبڑائی۔ 

    اسکے قریب بہت تیز خوشبو ہوتی ہم دور دور رہتے۔۔

    اچھا۔۔ اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔

    بڑی چول ماری ہے اریزہ۔۔ اس نے دزدیدہ نظروں سے دیکھا پھر جلدی سے بات پلٹ دی

    انی بس ایک ہی بہن ہیں تمہاری؟

    اس نے یونہی بات برائے بات پوچھا

    ہاں کیوں۔۔ 

    ہیونگ سک نے سرسری انداز میں پوچھا۔۔ 

    کاش میری بھی کوئی بڑی بہن ہوتی۔۔ اس نے اردو میں کہا۔۔ ہیونگ سک نے اسے جتاتی نظروں سے دیکھا۔۔

    تو سنبھل کر فوری ترجمہ کیا۔۔

    مجھے انی بہت اچھی لگی تھیں بہت خوبصورت اور گریس فل کاش کچھ عرصے میں میں بھی اتنی کانفیڈنٹ ہوجائوں۔

    ہیونگ سک نے ایک نظر اسے دیکھا اسکا چہرہ اسکے لفظوں کا ترجمان تھا

    انی کو بھی تم کافی پسند آئی ہو۔۔۔

    اس نے یونہی کہا مگر وہ خوش ہوگئ

    اچھا کیا کہہ رہی تھیں۔۔

    وہ دلچسپی سے پوچھ رہی تھی۔۔

    بس یہی تم پیاری ہو باتونی ہو اچھی گپ شپ رہی تمہارے ساتھ۔۔ اس نے سوچ سوچ کر کہا۔۔

    واقعی ۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی۔۔ 

    وہ لوگ کھانا کھا چکے تو ویٹر بل لے آیا۔

    دونوں نے اکٹھے اس فائل پر ہاتھ رکھا۔۔

    بل میں پے کروں گی۔۔

    ٹریٹ میری جانب سے ہے ۔۔

    اس نے اریزہ کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔ اریزہ نے فورا ہاتھ کھینچا

    مگر تم یہاں میری وجہ سے آئے تھے سو ٹریٹ میری جانب سے۔۔

    ہایون نے ایک نظر اسے دیکھا اور پیسے فائل میں رکھ دیا۔۔ وہ ہاتھ ہٹا چکی تھی سو بحث بےکا ر تھی

    چلو۔۔ 

    پہلے مجھ سے پیسے لو۔۔ وہ اٹھی ہی نہیں۔۔۔

    کسی پاکستانی کیساتھ آنا تو ضرور پے کرنا مگر کورین کلچر میں دعوت لڑکے ہی کرتے۔۔ اس نے نرمی سے کہہ کر بات ختم کی۔۔ اریزہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر بند کر لیا۔۔ ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کھانا کھا کر اٹھنے لگے تو خلاف معمول چاروں چپ تھے۔۔ 

    اریزہ کا پتہ کرو کہاں ہے۔۔ ایڈون نے ہوٹل سے نکلتے ہوئے سنتھیا سے کہا۔۔

    سنتھیا اسے گھور کر اپنے پرس سے موبائل۔ نکالنے لگی

    کم سن نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔

    ہایون نے اسے ڈراپ کر دیا ہے۔۔ ابھی ٹیکسٹ آیا ہے اسکا۔ یون بن نےا سکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔

    ایڈون اس وقت تھوڑا شر مندہ تھا۔۔ کل کی جو بھی بات تھی کم از کم اس وقت اسی کی غلطی تھی اس نے کل کا غصہ ناحق اریزہ پر اتارا۔۔ سنتھیا الگ خفا ہو گئ تھی۔۔ 

    ہاسٹل کے باہر سنتھیا کو ڈراپ کیا تو وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بنا پیچھے مڑ کر دیکھے چلی گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون اسے پکارنا چاہ رہا تھا مگر کم سن نے اسکےکندھے پر ہاتھ رکھ کر روک دیا۔۔

    گاڑی پارک کرکے وہ پیدل اپنے ڈورم کی طرف بڑھنے لگے۔۔ 

    اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں چلتے چلتے درختوں کے پارگھپ اندھیرے کو دیکھتے یون بن  کو یاد آیا۔۔

    پتہ ہے کم سن جب چھوٹا تھا تو اسے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا۔۔ 

    چپ ہو جائو۔۔ کم سن کو اندازہ ہو گیا وہ کیا بتانے والا ہے۔۔

    یون بن  ہنسا۔۔ اور بولنے کو منہ کھولا تو کم سن نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ 

    یون بن ہنگل میں کچھ بولا کم سن نے اسکو گھونسا لگایا یون بن  ہنستے ہنستے بولتا گیا۔۔

    ایڈون کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئ۔۔

    وہ دونوں ہنستے لڑتے بے دم ہونے لگے۔۔ 

    کم سن نے اچانک مڑ کر اس سے پوچھا۔۔

    تمہیں سمجھ آئی اس نے کیا بتایا۔۔ 

    اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔

    یون بن  ہنسا۔۔ 

    میں ترجمہ بھی کر سکتا ہوں۔۔

    وہ کم سن کو چھیڑ رہا تھا اس نے سر جھٹکا۔۔

    کم سن نے چلتے چلتے دیکھا جوتے کے تسمے کھل رہے تو وہیں رک کر اکڑوں بیٹھ کر باندھنے لگا یون بن  ایک قدم رک کر پیچھے ہوا اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دونوں پائوں اٹھا کر آگے کود گیا۔ کم سن الٹ کر پیچھے گرا۔۔ یون بن  ہنستا ہوا بھاگا۔۔ کم سن اٹھا اور اسے مارنے کو بھاگا وہ بچپن کی دوستی کا لطف اٹھا رہے تھے وہ ہنس کر سر جھٹک گیا۔ پھر خیال آیا تو انکو غور سے بھاگتے دیکھنے لگا

    انہیں دیکھتے دیکھتے ایڈون کو اپنے دوست یاد آگئے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  ۔۔۔۔۔

    ایسے ہی تو نہیں کہا گیا یہود و نصاری تمہارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔ سالک نے کہا تو شاہ زیب نے مڑ کر اسے گھورا۔۔ 

    اپنی مرضی کا اسلام خوب یاد رہتا۔۔ قل یا ایھا الکفرون کا ترجمہ سنائوں؟ تمہارےلیئے تمہارا دین میرے لیئے میرا دین۔تو بحث میں کیوں پڑا؟ 

    سالک چپ ہو گیا۔۔ 

    اس نے جو بھی کہا کیا مجھے اس پر غصہ آیا مگر تجھے بھی اسے غلیظ اورنجس کھانے والا نہیں کہنا چاہیے تھا وہ بہت کڑے الفاظ تھے۔۔دل دکھانا بھی بہت بڑا گناہ ہوتا ہے اگر یاد ہو تو۔۔

    ۔شاہزیب بستر جھاڑتے ہوئے بولا۔۔ سالک چپ رہ گیا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہایون۔۔ کمرے میں آکر کپڑے چینج کرنے لگا تھا ابھی شرٹ اتاری ہی تھی کہ اسے گفٹ یاد آیا۔۔ اٹھا کر نونا  کو دینے کے ارادے سےوہ کپڑے ٹھیک کرتا دروازہ کھولنے لگا۔۔ 

    نوناسامنے کھڑی شائد دستک ہی دینے لگی تھیں دونوں نے بیک وقت ہاتھ بڑھایا

    یہ لو۔ انہوں ایک پلندہ اسے تھمایا۔۔

    یہ کیا ہے۔۔ وہ حیران ہوا۔

    یہ کیا ہے۔۔ وہ حیران ہوئیں۔۔

    ہیونگ سک نے کندھے اچکائے

    گفٹ ہے۔۔ کسی نے بھجوایا ہے آپکو۔۔ 

    کس نے۔۔  

    انی نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا اسے۔

    دیکھ لیں نام لکھا ہے۔۔ اس نے بے نیازی سے کہا۔۔ نونا کو فی الحال ہایون  کو دیے گئے لفافے میں دلچسپی تھی ۔

    اس نے لفافہ نکال کر دیکھا۔۔ تو مزید ایبسٹریکٹ آرٹ کے نمونے تھے۔۔

    اوہ۔۔ اس نے سر ہلایا۔

    ویسے تم انکا کروگے کیا۔۔؟ نونا کو واقعی حیرانی تھی۔۔

    دیکھ لیجئے گا۔۔ وہ کہہ کر اندر آگیا۔۔ پلندہ اٹھا کر درازکھول کر اس میں ڈالا۔

    بائے اینی چانس کہیں ایسا تو نہیں تمہیں ہوپ پسند آگئی ہے؟

    وہ اندر چلی آئیں ۔۔ 

    ہیونگ سک کے دراز بند کرتے ہاتھ رکے۔۔ 

    اگر ایسا ہوا تو آپ کو اعتراض ہے؟

    اس نے یونہی پوچھا نونا کا جیسے منہ ہی اتر گیا۔۔

    واقعی ایسا ہے کیا؟

    انی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔ 

    نہیں۔ وہ انکی شکل دیکھ کر ہنس پڑا۔۔

    انی سنجیدگی سے اسے دیکھتی رہی تھیں

    ہوپ کے بارے میں کچھ ایسا بھی ہے جو تم نہیں جانتے ۔۔ اور اگر تم اس میں دلچسپی نہیں لے رہے تو ٹھیک ہے مگر اگر کبھی ایسا ارادہ ہو تو پہلے مجھ سے وہ سب جان لینا۔۔ پھر۔۔

    ارے نونا۔۔ اس نے انہیں کندھوں سے پکڑ کر سامنے بٹھایا۔

    مجھے ہر لڑکی ایک جیسی لگتی یہاں۔۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔ یہاں ابھی تک کوئی درد نہیں اٹھتا ۔

    لگتا ہے یہاں کچھ ہے ہی نہیں۔۔ آپ فکر نہ کریں ایسا کبھی کوئی درد اٹھا سب سے پہلے آپ کو بتائوں گا۔۔ 

    پنکی پرامس۔۔

    نونا  نے اپنی چھنگلیا آگے بڑھائی۔۔ وہ بے حد سنجیدہ تھیں

    ارے۔۔ وہ ہنسا پھر انکی سنجیدگی دیکھ کر اپنی چھنگلیا انکی انگلی میں پھنسا کر مٹھی بنا کر پکی مہر بند کردی۔۔ 

    انکو اب اطمینان ہوا۔۔ کم از کم ہایون  کا چہرہ وہ ایسے پڑھ سکتی تھیں جیسے کھلی کتاب۔۔ 

    وہ سچ کہہ رہا تھا۔

    چلو پھر میں چلتی ہوں۔۔ 

    وہ اٹھنے لگیں تو  یاد آیا۔۔ 

    یہ کس نے بھجوایا ہے وہ الٹ پلٹ کر دیکھنے لگیں

    آپکی دوست نے آپکو تحفہ بھجوایا ہے۔ 

    کس۔نے ؟ وہ حیران ہوئیں

    اریزہ نے ۔۔ اس نے مسکرا کر بتایا

    وہ بھی آپ کیلیے تحفہ لائی ہوئی تھی جب میں نے اسے آپکا تحفہ دیا تو اس نے یہ دیا۔۔ 

    وہ خوشگوار حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔۔ انکے تحفے کے اوپر کار ڈ بھی لگا ہوا تھا۔۔ جس پر انکو ہمیشہ کامیاب رہنے کی دعا دی گئ تھی۔۔

    انہوں نے اشتیاق سے تحفہ کھولا 

    انتہائی خوبصورت سنہرا ستاروں والا بریسلیٹ

    یہ بہت پیارا ہے۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئیں فورا کلائی میں پہن لیا۔۔ 

    کیسا لگ رہا ہے۔۔ انہوں نے پوچھا

    بہت اچھا۔۔ اسے عادت تھی انی تیار ہو کر بھی اس سے پوچھا کرتی تھیں اسی طرح جب وہ تیار ہو رہا ہوتا تھا تو اسکو بھی مشورہ دیتی تھیں۔۔

    بہت شکریہ ادا کرنا اسکا میری جانب سے خاص طور سے۔۔ 

    اسے بتانا مجھے بہت اچھا لگا۔۔ 

    ہوں۔۔ اس نے سر ہلایا۔۔ 

    وہ بھئ یہی کچھ کہہ رہی تھی کہ اسکارف بہت پسند آیا۔۔

    اور۔ انی ہمہ تن گوش تھیں

    اور۔۔ اس نے زہن پر زور ڈالا

    اور یہ کہ کاش آپ جیسی اسکی بھی انی ہوتیں

    آااہ۔۔ انی فدا ہو گئیں 

    وہ خود بہت اچھی لڑکی ہے معصوم سی ۔۔ اب انی اسکی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں بالکل اریزہ کی طرح۔۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      کمرے میں آکر وہ سیدھا سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔ مگر اریزہ وہاں نہیں تھی۔۔ وہ اسے ڈھونڈتی باہر ٹیرس میں چلئ آئی ٹیرس خالی تھا اس کو ہلکی ہلکی باتوں کی آواز اآئی تو ریلنگ سے نیچے جھانکنے لگی

    اریزہ اور جی ہائے نیچے باتیں کرتی ٹہل رہی تھیں

    وہ پلٹ کر کمرے میں آگئ ۔۔ کپڑے چیینج کرنے کیلیے بیڈ پر سے اپنے کپڑے اٹھائے تو اریزہ کا دیا گفٹ بیڈ کنارے پر لڑھکا تھا۔۔ وہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ ابھی تک گفٹ آدھا کھلا پڑا تھا اسے خود پر افسوس ہوا۔۔ 

    کیا سوچتی ہوگی اریزہ۔۔ اس نے آگے بڑھ کر گفٹ اٹھایا اور آرام سے آلتی پالتی مار کو اطمینان سے بیٹھ گئ۔۔ 

    احتیاظ سے گفٹ پیپر اتاد کر سائیڈ میں رکھا۔ چھوٹا سا گول سا جیولری باکس تھا۔۔ اسے کافی پسند آیا۔۔ اس نے یونہی کھول کر اندر بھی جھانکا تو بے حد خوبصورت سے نازک چین سے صلیب لٹک رہی تھی۔ اریزہ۔۔ اس نے زیر لب مشکور ہو کر کہا۔۔ تھینک یو۔۔ اس وقت اریزہ ۔ اسکا دل چھو گئی تھی۔ ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ جب کمرے میں آئی تو سنتھیا لائٹ آف کرکے سو چکی تھی۔۔ وہ دبے قدموں اسکی نیند خراب ہونے کے خیال سے اوپر چڑھنے لگی تبھی اسکا موبائل پوری طاقت سےچیخ اٹھا۔۔ اس نے گھبرا کر سائلنٹ کیا۔۔ سنتھیا نے کسمسانا شروع کر دیا تھا۔۔ ہوف۔۔ 

    اس نے گہری سانس لی۔۔ صارم  کا فون تھا۔۔ وہ واپس اتر کر کمرے سے باہر نکل آئی۔۔ ٹیرس پر آ کر اس نے کال اٹینڈ کی۔۔

    اسلام و علیکم۔۔ کیسے ہو۔۔ 

    اسکا موڈ خوشگوار ہو گیا تھا۔۔

    وعلیکم السلام ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟

    خلاف عادت وہ شرافت کے جامے میں تھا۔۔

    میں بھی ٹھیک ہوں۔۔مس یو۔ 

    وہ واقعی اسے یاد کر۔رہی تھی وہ جوابا ہنس دیا۔ 

    مس یو ٹو۔ اور پڑھائی کیسی جا رہی ہے دل لگ گیا کوریا میں۔ 

    ہوں۔ مزے کا ملک ہے کافی کچھ ہمارے جیسا ہے کافی کچھ مختلف بھی ہے۔ 

    اس نے گول مول ہی جواب دیا۔ 

    اچھی بات ہے۔ وہ تھکا تھکا سا تھا۔ 

    کیا ہوا طبیعت خراب ہے۔ اس نے فورا پوچھا۔

    نہیں یار بس تھک گیا ہوں صبح سے کام کر کر کے۔۔ اس نے انگڑائی لی۔۔ 

    کیا کام کر رہے تھے۔۔

    اس نے یونہی پوچھا۔۔

    بس وہ یتیم خانے میں دیگ پہنچائی گھر میں فاتحہ خوانی تھی اسکا سب انتظام دیکھا اب جا کر فری ہوا ہوں تو تمہارا میسج دیکھا۔۔ تو سوچا کال کر لوں۔۔

    اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔

    ہیلو؟ اسے لگا کال کٹ گئ۔۔

    کیا ہوا۔آج حماد بھائی کی سالگرہ تھی نا۔ 

    نہیں۔ اس نے گہری سانس لی۔۔ 

    مجھے یاد نہیں رہی تاریخ۔ پہلی دفعہ بھولی ہوں سالگرہ۔ 

    صارم بھی چپ سا رہ گیا۔۔

    خالہ صبح سے روئے جا رہی تھیں۔۔ تمہیں بھی بہت یاد کر رہی تھیں میں نے کہا بھی کہ تم سے بات کروادوں تو نہیں مانیں۔

    اریزہ استہزائیہ ہنسی۔

    مجھ سے بات کر کے کونسا غم ہلکا ہونا تھا انکا۔۔ پہلی دفعہ ہے میں اتنی دور ہوں ورنہ تو نظروں کے سامنے رہتی تھئ الٹا انہیں مجھے دیکھ کر لگتا تھا انکا غم تازہ ہوگیا۔ہے۔۔ 

    ایسی بات نہیں ۔ دلاور بتانا چاہتا تھا۔۔

    ایسی ہی بات ہے۔۔ وہ زور دے کر بولی

    اتنے سالوں  میں ہزار بار سوچا ہے میں نے کاش اس دن حماد بھائی  کی جگہ میں۔۔

    خدا نہ کرے۔۔ دلاور تڑپ کر بولا۔۔ 

    فضول باتیں مت کرو۔۔ 

    میں تو بس یہ چاہ رہا تھا تم خالہ سے بات کر لو۔۔ وہ واقعی بہت شرمندہ ہیں میں نے کئی بار انہیں چھپ چھپ کر روتے دیکھا جب جب خالو کی تم سے بات ہوئی یہ تذکرہ کرتے۔۔ ۔۔۔ 

    وہ روتی ہونگی مگر اس بات پر کہ وہ جو چاہ رہی تھیں وہ نہیں ہوا۔۔ اسلیئے نہیں کہ انھیں دکھ ہوا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا دل توڑ ڈالا ہے۔۔

    وہ سختی سے بولی۔۔

    اچھا چھوڑو کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔ صارم نے بات بدل دی۔۔ اریزہ چپ رہی۔۔

    پلیز رو تو مت۔۔وہ سمجھ گیا تھا اسکی خاموشی۔ سے۔۔

    اس نے چہرے پر پھیل آنے والے آنسو بے دردی سے پونچھے۔۔

    اچھا یہ بتائو تمہا را دل لگ گیا چینیوں میں؟ 

    چینی نہیں کورین۔۔ اس نے فورا تصحیح کی۔۔

    ایک ہی بات ہے ایک جیسے ہی لگتے۔۔ اس نے مکھی اڑائی۔

    چھوٹی آنکھوں موٹے گالوں والے۔ پھنی ناک والے۔ 

    نہیں فرق تو ہے ان میں۔ اسے ہایون کی بات یاد آئی۔ 

    سو دھرا دی۔

    کورینز کی آنکھیں تھوڑی کھنچی ہوئی او رپپوٹے اونچے ہوتے ہیں۔ کچھ کے قدرتی باقی سرجری کروا کے اونچے کرا لیتے۔ 

    پھینکو میں نے کونسا تصدیق کروانی کسی کورین سے۔ 

    وہ صاف مزاق اڑا رہا تھا۔

    نا مانو۔ وہ برا مان گئ۔ 

    اچھا کوئی وزن کم کیا یا نہیں؟موٹو۔ وہ چھیڑ رہا تھا

    نہیں ڈھیر سارا نہ کھانے کے باوجود بھئ وزن کم نہیں ہو رہا 

    وہ جھلارہی تھی۔ جوابا وہ کھل کر ہنسا۔۔ 

    اسی لیئے کہتا ہوں ورزش کیا کرو۔ 

    جی ہائے بھئ مجھے ورزش کرنے کا کہتی رہتی ہے۔ 

    اس نے منہ بنایا 

    جی ہائے ۔۔ اسکا انداز سوالیہ تھا۔جوابا وہ پرجوش ہو کر بتانے لگی

    میں نے یہاں ایک دوست بنائی ہے اسے جمناسٹک آتا۔۔ وہ اولمپکس کی تیاری کر رہی ہے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ صبح  باتھ روم میں برش کرر ہی تھی جب سنتھیا پیچھے سے آئی اور اسکو بھینچ لیا۔۔

    یہ صبح صبح رومینٹک موڈ کیوں آن ہوگیا تمہارا۔ 

    وہ حیران ہوئی۔۔

    اتنا پیارا گفٹ دیا ہے تم نے کہ مجھے تم پر پیار آگیا ہے۔۔ اس نے مزید بازو کسے۔۔ 

    اوور۔ اس نے سر جھٹکا۔۔ اور اسے پیچھے کیا۔۔

    پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔۔ وہ ٹوائلٹ بول کی طرف بڑھی اریزہ چیخی۔۔ خبر دار۔۔ مگر سنتھیا نے بول کا ڈھکن اٹھا لیا۔۔ اف وہ تیزی سے جھاگ تھوکتی باہر نکل آئی اندر سنتھیا کھلکھلا رہی تھی۔۔

    جان سے مار دوں گی باہر تو نکلو۔ اس نے تھوڑی صاف کرتے غصے سے کہا۔۔ پھر کچھ سوچ کر باہر نکل آئی اسکا رخ جی ہائے کے کمرے کی طرف تھا

    دھیمی دھیمی آواز میں بریو ہارٹ  سر بکھیر رہے تھے اور وہ گنگناتی تولیہ سے بال جھٹک رہی تھی۔۔

    اس نے ہلکے سے دروازہ کھٹکایا۔۔ 

    کم ان۔۔ اس نے مصروف انداز میں اجازت دے دی۔

    تمہارا واشروم استعمال کر لوں۔۔

    اریزہ نے پوچھا تو سنتھیا نے پلٹ کر اسکا جھاگو جھاگ چہرہ دیکھا۔۔

    ہاں ہاں کر لو۔۔ 

    وہ فورا باتھ روم میں گھس گئی۔۔

    منہ ہاتھ دھو کر آئی تو جی ہائے تیار ہو رہی تھی۔۔ 

    تم صبح صبح بھی گانے سنتی ہو اسکے۔۔ اس نے یونہی پوچھا۔۔ 

    ہاں۔۔ میری آنکھ نہیں کھلتی اسکی آواز کے بغیر۔۔ اس نے مسکرا کر کہا پھر تولیہ اسکی جانب اچھال دی۔۔ 

    وہ مسکرا کر منہ پونچھنے لگی تو خیال آیا۔۔ اسکی تولیہ احتیاط سے ڈورم کی ریلنگ پر سوکھنے کیلیے لٹکا دی اور شکریہ ادا کرتی چلی گئ۔ جی ہائے کندھے اچکا کر دوبارہ بال۔بنانے لگی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاہزیب اور سالک آج الگ بیٹھے تھے ایڈون یون بن  اور کم سن کے ساتھ تھا۔۔ 

    سنتھیا اور وہ حسب عادت پہلی رو کی طرف بڑھیں۔۔

     تم نے بتایا نہیں انکی لڑائی کیوں ہوئی۔۔ اریزہ کو یاد آیا۔۔

    ہمم یاد ہی نہیں رہا۔۔ سر آگئے تھے تو اریزہ بھی انکی جانب متوجہ ہوگئ

    آپ لوگوں نے آج کی افسوس ناک خبر سنی۔۔۔۔

    سر کا چہرا اترا ہوا تھا۔۔ کافی دکھی انداز میں بولے۔

    کونسی خبر۔۔ 

    اریزہ نے سنتھیا سے پوچھا

    اسپین میں انتہا پسندوں نے وین کرائوڈ پر چڑھا کر کئ لوگوں کو کچل ڈالا ۔۔۔ سنتھیا نے آہستہ سے بتایا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ اریزہ کہاں جا رہی ہو۔۔

    سنتھیا پکارتی اسکے پیچھے بھاگی آئی۔۔

    وہ رک کر اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔

    تم مجھ سے کیوں خفا ہو رہی ہو۔۔ میں نے کیا کیا۔۔

    وہ قریب آکر اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر لڑنے والے انداز میں بولی۔۔

    نہیں میں ناراض نہیں بس مجھے تھوڑا غصہ آگیا تھا تو سوچا تھوڑی دیر اکیلے رہ لوں۔۔

    میں چلی جائوں یعنی۔۔ سنتھیا نے منہ پھلایا۔ 

    اریزہ مسکرائی نہیں مگر اس کے بازو میں جھول کر اس کے کندھے سے سر ٹکا لیا۔۔ دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگیں۔

    سر پارکر امریکی ہیں ان سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے۔۔ بکنے دو انکے بکنے سے تمہارا کیا جاتا۔۔ 

    مجھے آج اتنا افسوس ہوا کہ میری انگریزی اچھی کیوں نہیں جتنا میں کہنا چاہ رہی تھی اتنا کہہ نہیں پائی۔۔ 

    تو کیا ہوا شاہزیب نے ٹھیک ٹھاک کر دی تھی انکی۔۔ سنتھیا نے اطمینان سے کہا۔۔ 

    پھر بھی ۔۔ میں نے فیصلہ کیا ہے اپنی انگریزی ٹھیک کرکے رہوں گی۔ہم آپس میں بھی انگریزی میں بات کریں گے

    اریزہ نے کہا تو سنتبھیا نے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔

    معاف کرو مجھے۔۔ آگے ہی انگریزی بول بول منہ ٹیڑھا ہو گیا ہے ۔۔ اتنا سکون ملتا اردو میں بات کر کے۔۔ اف۔۔میں تو ترس گئی ہوں جیسے۔۔ 

    اریزہ نے منہ بنایا۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی سر کافی افسوس ہوا ہے۔۔

    کئی طلبا بولے تھے۔۔

    مجھے ٹرمپ کبھی پسند نہیں رہا ووٹ بھی اسے نہیں دیا تھا میں نےمگراسکی پالیسی سے مجھے اتفاق کرنا پڑا ہے۔جو اس ان ممالک کے لوگوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہے جہاں مسلم اکثریت ہے۔ جہاں جس ملک میں ان مسلمانوں کا داخلہ آسان ہے وہاں کا امن واقعی خطرے میں ہے۔۔

    سر یہ ریسسٹ کمنٹ ہے۔۔ ایک کوریائی فورا بولا۔

    نہیں یہ فیکٹ ہے۔آپ دیکھ لیں جن جن ملکوں میں دہشت گردی ہوئی ہے وہاں کی ابتدائی تحقیق سے ہمیشہ کسی مسلمان کا ہاتھ ہے ثابت ہوا ہے۔۔ وہ اٹل تھے

    اسی حملے میں دیکھ لو مشتبہ شخص مصری نژاد مسلمان ہے۔۔

    انہوں نے مضبوط دلیل دی۔۔

    سر تحقیق بھی تو عیسائی کر رہے ہمیں کیا یقین کہ صحیح کر رہے۔۔ 

    سالک بولا تو وہ اسے غور سے دیکھنے لگے۔۔

    مسلمان سب برے نہیں ہوتے نہ ہی سب حملے کرتے مگر حملے کرنے والے عموما مسلمان ہی نکلتے ہیں کبھی سوچا ہے ایسا کیوں؟

    مسلمان میں برداشت نہیں ہوتی یہ کٹر اور انتہا پسند ہوتے ہیں اپنے مزہبی معاملات میں یہ دوسروں پر بھی اپنے عقائد تھوپنا چاہتے ہیں ۔

    ایسا ہرگز نہیں ہے میں جس ملک سے تعلق رکھتا ہوں وہاں 98فیصد آبادی مسلم ہے مگر ہم اقلیتیوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے انہیں بھی وہی مزہبی آزادی حاصل جو مسلمانوں کو حاصل ہے وہ آرام سےجیسے مرضی آئے رہتے ہیں آزادی سے پھرتے۔۔۔

     شاہزیب نے کہا تو ایڈون نےترچھی نظر ڈالی اس پر۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو واقعی۔۔

    شراب عام مل جاتی ہے آپکے ملک میں؟ بارز ہیں؟ نان مسلم سور کھا سکتے ہیں آسانی سے مل جاتا؟

    سر گنوا رہے تھے۔۔ شاہزیب چپ ہوگیا۔۔ 

    آپ جب کسی دوسرے ملک جاتے تو آپکو آپکے عقائد پر کوئی نہیں روکتا مگر آپ دوسروں کو انکی مرضی سے جینے نہیں دیتے۔۔ 

     ابھی امریکہ میں گے بار پر حملہ دیکھ لو۔۔ میں بنیاد پرست عیسائی ہوں مجھے بھی گے میرجز پر اعتراض ہے۔۔ 

    مگر میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا اس بات کو بنیاد بنا کر انسانوں کی جان لینے پر۔۔ کیونکہ مجھے جو بھی اعتراض ہو مگر ہر انسان کو جینے کا حق ہے۔۔ ہم جیزز کے پیروکار ہیں جنہوں نے مردوں کو جلا بخشی مسلمانوں کے پیغمبر کی طرح۔۔بات بے بات سزا

    سر اسٹاپ اٹ آپ مسلمانوں کو جو مرضی کہہ لیں ہمارے پیغمبر کے بارے میں ایک لفظ نہیں۔۔ سالک بھڑک اٹھا۔۔

    سی۔۔ وہ مسکرائے۔۔ یہ ہے انتہا پسند رویہ۔۔ جو تمام مسلمانوں کے خون میں دچا بسا ہے۔۔ 

    سر آپ گوتم بدھ کے بارے میں کچھ کہیں گے تو میں بھی ایسے ہی چیخوں گا۔۔ کیا میں بھی انتہا پسند ہوں؟

    کم سن نے اس بحث میں حصہ لیا۔۔

    برما میں بدھسٹ انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں کیا میں کم سن کا گریبان پکڑ لوں اس بات پر۔۔ شاہزیب بولا۔۔ 

    کم سن نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ 

    آپ لوگ بحث برائے بحث کر رہے ۔برما میں مسلمان دوسرے ملک سے زبردستی آبسے ہیں انکا برما پر حق نہیں تھا ہر ملک ایسے آباد کاروں کو اپنے ملک سے نکالنا ہی چاہے گا ویسے بھی۔ یہ ایک ملک کی مثال ہے مسلمان کس کس ملک میں دہشت گردی نہیں کر رہے۔۔ جرمنی نے عراقی مہاجروں کو پناہ دی جرمنی بھی اس دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے۔۔ انکا موقف اٹل تھا۔۔

    عراقی محاجر بھی امریکی پالیسیوں سے بنے ہیں۔۔ ایک اچھا بھلا پر امن ملک امریکہ کی مسط کی گئی جنگ کا شکار ہوا ہے اس پر وہ کہیں اور نہ جائیں مرتے رہیں۔۔ اس بار اریزہ بولی۔۔

    آپ بھی مسلمان ہیں۔۔ سر نے الٹا سوال کیا۔۔

    کس ملک سے ہیں۔۔ 

    پاکستان۔۔ وہ تینوں بولے

    ہاہاہہاہاہاہہاہاہاکہا

    سر زور سے ہنسنے لگے

    مطلب کہہ کون رہا ہے۔۔ وہ ملک جو دہشتگردوں کی سب سے بڑی پناہگاہ ہے۔۔ ہر دوسرے دن جہاں خود کش حملے ہو رہے ایران افغانستان ہندوستان سب جس ملک کی وجہ مسلسل سیکیوریٹی ٹھریٹ میں ہیں

    افغانستان میں تو امریکی فوجی موجودہے نا ؟ وہاں کیوں دہشت گردی ہوتی امریکہ کے پاس اتنی بھی سہولت موجود نہیں کہ ٹھکانوں کا پتہ لگائے طالبان کے اور اگر پھر بھئ ایسا ہے تو مان لیجئیے افغانستان میں امن قائیم کرنا آپکے بس میں نہیں چھوڑیے اس ملک کی جان۔۔ شاہزیب جزباتی ہوکر بولا۔۔ 

    اور ہندوستان ایران کوئی ایک واقعہ بتائیں جس میں کسی پاکستانی کی انوالومنٹ ثابت کر سکا ہو انڈیا۔۔ الٹا ہم جو ہر دوسرے روز خود کش حملے سہتے ان میں بارہا سازش کے تانے بانے انڈیا سے ملتے اور افغانستان سے تعلق ثابت ہوتا۔۔ سالک بھی بول اٹھا۔۔ 

    امریکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنا چاہتا اس پر پاکستان راضی نہیں ہوتا خود انکے خلاف کاروائی نہیں کرتا اس پالیسی کو ہم کیا سمجھیں؟

    سر چڑا رہے تھے 

    پھر اگر پاکستان میں امن نہیں تو مان لیجیےپڑوسیوں کے گھر جلاتے ہوئے کچھ شعلے آپ کے گھر بھی آگرتے ہیں۔۔۔

    سر کے مئوقف میں وزن تھا۔ 

    ہم اس جنگ میں کودے بھی امریکہ کی وجہ سے ہیں۔۔

    سالک بولا۔۔

    تو امریکہ سے امداد بھی خوب لی ہے آپ نے۔۔ ۔وہ ترکی بہ ترکی بولے۔۔

    امریکہ آپکے ملک میں اسکول بناتا ہے اور آپ اسکول جاتی بچی کے سر پر گولی مار دیتے وہ امریکہ ہی ہے جس نے پناہ دی ملالہ کو اسکو پڑھایا کچھ بنایا کہ آج اس نے امن کا نوبل انعام حاصل کیا پاکستان نے کیا کیا ہے ؟ 

    انتہائی غیر زمے دار قوم ہیں پاکستانی۔۔ انکے پاس نیوکلیئر پاور ہے ہمیں یہ بھی ڈر کہ کسی دن یہ اسکو بھی یونہی استعمال کر ڈالیں گے۔۔ 

    امریکہ کی طرح ؟

    سداکو بولا۔۔ 

    اگر غیرزمےداری کی بات ہے تو امریکہ کی غیرزمےداری کا ثبوت ہیروشیما اور ناگا ساکی کی صورت دنیا کے پاس موجود ہے۔۔ اگر پھر بھی امریکہ نیوکلیر پاور ہے اسے ود ڈرا نہیں کرتا تو دنیا کے ہر ملک کو حق ہے نیوکلیر پاور بننے کا۔۔ 

    آپ مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کو ایسے جج کر سکتے مگر ہم پر انکے بڑے احسان ہیں اور ہم احسان فراموش ہرگز نہیں۔۔

    اچانک ہی ایکدم خاموش بیٹھے جاپانی لڑکے سداکو نے کہا تو سب چپ ہو کر اسے ہی دیکھنے لگے تھے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم لوگ ایک دوسرے سے کبھی بات نہیں کروگے۔۔

    شاہزیب اور سالک  جان بوجھ کر ان سے کترا کر آگے نکل گئے تھے کم سن شاہزیب کو آواز دیتا تیز قدم اٹھاتا ان کے ساتھ ہو لیا  روم میٹ ہونے کی وجہ سے اسکی شاہزیب سے دوستی ہوچکی تھی

    یون بن نے ان تینوں کو جاتے دیکھ کر ایڈون سے پوچھا۔۔

    مجھے ان سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔

    تم اس دن بھڑکے کس بات پر تھے؟ ہمیں بتائو تو سہی تب ہی تم لوگوں کی صلح کروائیں گے نا

    ۔۔ یون بن اسکو منانا چاہ رہا تھا دیکھنے سے تو یہی لگا تھا کہ ایڈون کی غلطی ہے کچھ حد تک تھی بھی مگر ایڈون کو ابھی احساس نہیں ہوا تھا بلکہ اسکا غصہ بڑھا ہی تھا۔۔ 

    یہ لوگ جیسے نظر آتے ہیں نا ویسے ہیں نہیں۔۔ بچپن کا دوست ہوں انکا انکے گھر تک آنا جانا تھا میرا مگر کب کہاں کیسے مجھے انکے گھر والے پیچھے کر دیتے تھے۔۔ عیسائی ہونے کی وجہ سے ۔۔ تو بتا مجھے میں انسان ہوں نا ؟ میری دھلی ہوئی چادر پر یہ نماز نہیں پڑھ سکتے میں نے سور کھایا ہے یہ جان کر اس نے مجھے گندہ غلیظ کیا کچھ نہ کہہ ڈالا۔۔ یہ بھی کہا کہ چونکہ میں نے سور کھایا ہے تو میں اب پاکستان میں رہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔۔ 

    وہ پھٹ پڑا تھا۔

    ابھی سر جو کہہ رہے تھے نا اندر۔۔ سب صحیح تھا۔۔ 

    یہ مسلما ن ایسے ہی ہیں اپنے سوا کسی کو انسان بھی نہیں سمجھتے۔۔ دوسرے درجے کے شہری بھی یہاں بہتر زندگی گزارتے ہونگے ہم ان سے بھی گئے گزرے ہیں پاکستان میں۔۔کھلے عام شراب چھوڑو انکے مقدس مہینے میں کھا پی  تک نہیں ۔۔ سکتے جیل ہو سکتی ہے اس بات پر ہمیں

    اپنے گھر میں عبادت کرتے ہیں تو محلے والے آجاتے کہ گانا بجانا بند کرو خود یہ لوگ پانچ پانچ مرتبہ ازان سناتے لاوڈ اسپیکر پر وہ بھی۔۔ 

    مسلمان نہیں ہوں۔۔ دو درجن آیتیں زبانی یاد ہیں اتنا بچپن سے آج تک سنی ہیں اسکول میں اسلامیات پڑھی ہے ایک بارایسے ہی کلاس میں بس ہیلے لویا گایا تھا میری شکایت گھر والوں کو بلا کر کی گئی اورکہا گیا آئندہ ایسا ہوا تو اسکول سے نکال دین گے مجھے۔۔ یہ ہے انکا حال یہ ہے انکی برداشت کا عالم۔۔ پھر صحیح ہے ایسے ہی انکو کوئی پارکر کوئی جان زلیل کرے انکا تمسخر اڑائے ۔۔۔ ایڈون بولتے بولتے ہانپ گیا تھا۔۔

    یون بن  بالکل خاموش دیکھ رہا تھا اسے۔۔ 

    چھوڑو۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔ تبھی بالکل پیچھے خاموش کھڑی سنتھیا اور اریزہ پر نظر پڑی۔۔ 

    تمہاری شکائیتیں بجا صحیح مگر تمہیں یہ سب یہاں ایسے نہیں کہنا چاہیئے تھا۔۔ اریزہ نے کہا تو اسے بھی احساس ہوا۔۔ اسے زور زور سے بولتے دیکھ کر کئی طلبا رک کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔ یہ راہ داری تھی کلاس سے باہر کتنے ہی طلبا کلاس ختم ہونے پر باہر نکلتے ہوئے اس کی ان سب باتوں کو سننے کھڑے ہوگئے تھے۔۔ 

    اریزہ اسکے ساتھ سے ہو کر تیزی سے چلی گئ تھی۔۔۔ ایڈون بھی ایک طرف ہو کر نکل گیا۔۔

    سوری سنتھیا۔۔ تمہارے درخواست کرنے پر میں نے کوشش تو کی ہے مگر مجھے نہیں لگتا میں اور کم سن انکی دوستی کرا پائیں گے۔۔

    سنتھیا تشویش سے دیکھ کر رہ گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیفے میں آکر اس نے تین کافی کا آرڈر دیا ۔۔ کم سن اور سالک ایک طرف جا کر بیٹھ گئے وہی تینوں کیلیئے گلاس اٹھا لایا۔۔

    سالک کو خیال آیا۔

    کم سن اس وقت میں نے جو برما والی بات کی وہ بس سر پارکر کر جواب دینے کیلیئے کہا تھا تم برا تو نہیں مانے نا؟

    کم سن مسکرا دیا  ۔۔

    میں صرف اپنے عمل کا جواب دہ ہوں باقی دنیا کے بڈھسٹ کا میں نے ٹھیکا نہیں لیا ہوا کہ انکے بارے میں  بات ہو اور میں یہاں لڑتا پھروں۔۔۔

    اسکا انداز جتاتا ہوا ہرگز نہیں تھا مگر سالک اور شاہزیب چپ سے رہ گئے۔۔

    وہ تو دنیا کے ہر مسلمان کےلیے بولنا فرض سمجھتے تھے۔۔ امریکی پالیسی وجہ ہو یا کچھ بھی بہرحال مسلمانوں کا نام آرہا تھا ہر دہشت گردی کے واقعے میں تو دنیا برا بھلا مسلمانوں کو ہی کہے گی پھر جو یہ نام نہاد نام کے مسلمان تھے انکی کس حرکت سے لگتا تھا کہ مسلمان ہیں؟ انکیلیئے لڑنا بحث کرنا کیوں؟

    دونوں چپ تھے تو کم سن نے غور سے انہیں دیکھتے ہوئے بظاہر یونہی سرسری سا انداز اپنایا۔۔

    ویسے تم لوگ صرف سور نہیں کھاتےنا۔۔ مگر میں دیکھ رہا تم لوگ جب سے یہاں آئے ہو سرے سے گوشت نہیں کھا رہے کیوں؟

    جانور کو زبح کرنے کا خاص طریقہ ہوتا جو مسلمان استعمال کرتے کلمہ پڑھ کر گردن پر چھری پھیر کر جو جانور زبح کیا جاتا بس وہی گوشت ہم کھا سکتے۔۔ شاہزیب نے اسے تفصیل سے بتایا۔۔ 

    اچھا۔۔ کم سن نے کندھے اچکائے۔۔ 

    اس دن میری اور شاہزیب کی یہی بات ہو رہی تھی تو مجھے یاد آیا کہ ایڈون گوشت کھا لیتا ہے ہمارے ساتھ یہ فرق کیوں ہے۔۔ سو تم دونوں مسلمان ہو تم پانچوں میں۔۔

    اریزہ بھی۔۔ سالک نےبھی تصحیح  کی۔۔

    اچھا ہمم وہ بھی گوشت نہیں کھاتی۔۔ صحیح۔۔ 

    اس نے سر ہلایا۔۔ 

    اور شراب بھی نہیں پیتے تم لوگ؟ کم سن کرید رہا تھا انہیں

    ہاں وہ بھئ منع ہے۔۔ 

    کبھی نہیں پی تم دونوں نے؟

    اس نے پوچھا تو دونوں سرہلاتے ہوئے رک گئے۔۔

    مطلب بہت سی باتیں مزہبی یا معاشرتی طور پر منع ہوتی ہیں مگر لوگ کرتے ہی۔۔ یا تم لوگ شائد بہت اچھے مسلمان ہو۔۔ ہر رکن پورا کرتے۔۔

    وہ دونوں کم سن کی باتوں سے جز بز ہو رہے تھے۔۔

    بہت اچھے مسلمان؟ شراب چکھ رکھی تھی پنج وقتہ نمازی بھی نہیں تھے مگر یہ تھا خدا سجدے کی توفیق دے دیتا تھا۔۔ ہاں سور کبھی چکھا تک نہیں تھا۔۔

    مجھے ویسے کافی انسپائرنگ لگا تم لوگ اپنے مزہب پر کافی کاربند رہتے ہو۔۔ اتنی پابندی سہنا جب کہ کسی دوسرے ملک میں ہو میرا مطلب کوئی یہاں روک ٹوک نہیں ہے پھر بھی۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔

    خدا بدل تو نہیں جاتا ملک بدلنے سے۔۔ ۔سالک نے مسکرا کر کہا۔۔

    جو کام پاکستاں میں رہتے گناہ وہ یہاں بھی گناہ ہی ہے۔۔ 

    ہم میں متفق ہوں۔۔ کم سن نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔  

    مگر مجھے ایک چیز تنگ کر رہی ہے۔۔ یہ مزہب اتنا مشکل کیوں ہے۔۔ 

    مطلب۔۔ شاہزیب اور سالک اکٹھے بولے۔۔

    کم سن نے گہری سانس لی۔۔

    ہمارا ایک دوست بھی مسلمان ہو گیا ہے۔۔ وہ اب ہم سے ملتا نہیں۔۔ ملتا ہے تو ہمارے ساتھ کھاتا پیتا نہیں۔۔ 

    چلو بات سمجھ آتی مگر مزہب الگ ہو جانے سے کیا دوستی ختم ہو جاتی؟ مطلب مجھے فرق نہیں پڑتا وہ پہلے کرسچن تھا تب بھی اب مسلمان ہے اب بھی۔۔ مگر وہ بس ہم سب سے کٹ گیا ہے۔۔ کیا تم لوگوں کا مزہب اتنا مشکل ہے کہ کسی دوسرے مزہب کے لوگوں سے تم لوگ تعلق نہیں رکھ سکتے؟

    کم سن نے کہا تو شاہزیب فورا بولا۔۔

    ایسی بات نہیں ایڈون اور میں تو بچپن کے دوست ہیں

    ہم اکھٹے پلے بڑھے ہیں وہ پڑوسی ہے میرا ابھی بھی۔۔

    میں ان دونوں کے ساتھ ہائی اسکول سے ہوں۔۔

    سالک بھی فورا بولا

    اور اب۔۔ کم سن نے انہیں جتاتی نظروں سے دیکھا۔۔ 

    دونوں چپ رہ گئے۔۔ 

    اس نے اس دن کچھ ایسا تو کہا ہے جو مسلمانوں کے بارے میں تھا اس نے تم لوگوں کے عقیدے کو برا کہا؟

    کم سن پوچھ رہا تھا۔۔ 

    نہیں۔۔ 

    پھر۔۔ کم سن واقعی جاننا چاہتا تھا

    چھوڑو کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔

    سالک نے بات ٹالی۔۔

    مجھے بہت انسپائر کرتا تھا تم لوگوں کا اکٹھے رہنا۔۔ تین مخختلف رنگ نسل کے لوگ الگ زبان بولنے والے  جن کا مزہب بھی الگ مگر اکٹھے رہتے۔۔ تم تینوں کی دوستی ساتھ رہنا ہزار ڈفرینسز  کے ساتھ  انوکھی تھی۔۔ تم لوگ لڑے ہو وہ بھی بہت بری طرح مجھے اچھا نہیں لگا۔۔ 

    ایڈون نے شائد بات غلط نہیں کی ۔۔ اسکا انداز غلط تھا۔۔۔سالک نے سوچ کر کہا۔

    ہم کچھ معاملوں میں مجبور ہیں۔۔ ہمیں اپنی عبادت کیلیے کچھ کام ایسے درکار ہوتے جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔۔ 

    اس دن اتنی بڑی کوئی بات نہیں تھی بس مزہبی عقائد کے مطابق میں نماز ادا کرنا چاہ رہا تھا۔۔ اس نے میری نماز کی چادر پر شراب گرا دی تھئ 

    مجھے احساس ہے مجھے اسکے منہ پر کہنا نہیں چاہیئے تھا مگر شراب جس چادر پر گری ہو اس پر عبادت نہیں کی جا سکتی۔۔  

    سالک نے کہا۔۔ تو کم سن نے کندھے اچکائے۔۔

    ہمارے مونک بھی کچھ چیزوں میں اتنی ہی صفائی کا خیال رکھتے پانی سے دھونا پائوں لازمی ہوتا عبادت سے قبل ۔۔

    بدھا کے بت کو دھلانا پاک پانی سے عبادت کا ایک خاص تہوار ہوتا ہمارا۔۔

    اس میں ہماری کوشش یہی ہوتی کی صرف بدھ مت کے لوگ ہی آگے رہیں۔۔ 

    شاہزیب نے حیرت سے دیکھا۔۔ 

    میرا ایک انڈین روم میٹ تھا وہ گوشت نہیں کھاتا تھا۔۔ چھوتا بھی نہیں تھا ایک بار میں کمرے میں اسٹیک کھاتا آگیا تھا اس نے مجھے کمرے سے باہر نکال دیا تھا۔۔ مجھے جانا پڑا مگر اس بات کو میں نے انا کا مسلئہ نہیں بنایا کھا پی کے واپس آگیا تھا۔۔ ایڈون نے اوور ری ایکٹ کیا تھا۔

    ۔ کم سن انکو کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا اور شائد کامیاب بھی رہا۔۔

    نہیں ہم بھی اس دن کچھ زیادہ بول گئے۔۔ شاہزیب کو احساس ہوا۔۔ 

    اسے گندہ برا غلیظ کچھ زیادہ ہی کہہ ڈالا میں نے۔۔ سالک اب اردو میں بولا تھا

    دل دکھانا سب سے بڑا گناہ ہے ۔۔ اور ہماری باتوں سے واقعی ایڈون کا دل کافی دکھا ہوگا۔۔ 

    ہم چاروں قل ہر وقت پڑھتے مگر بھول جاتے۔۔ تمہیں تمہارا دین مجھے میرا دین۔۔ 

    شاہزیب نے سر جھکاتے کہا۔۔ تو سالک کو بھی اپنے کہے الفاظ یاد آئے۔۔

    کم سن کو اب ان دونوں کی باتیں سمجھ تو نہیں آرہی تھیں مگر انداز سے لگ رہا تھا چوٹ صحیح جگہ لگائی ہے سو آرام سے کافی ختم کرنے لگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اسکیچ بنا رہی تھی جب وہ خوبصورت سی لڑکی اسکے پاس آئی۔۔

    آنیاگ واسے او۔۔

    اس نے جھک کر سلام کیا۔۔

    اس نے بھی جھک کر جواب دیا۔۔

    آپ تصویر بنا رہی ہیں۔۔ 

    کیا احمقانہ سوال تھا وہ کہہ کر کھسیانی سی ہوئی۔۔

    وہ ہلکے سے مسکرا دی اور دوبارہ ایزل پر جھک گئ۔۔ 

    اس نے ساتھ ہی ایک اور ایزل سیٹ کر رکھا تھا جس پر ہایون  کی بڑی تصویر لگا رکھی تھی۔۔

    وہ ہایون  کا ہی پورٹریٹ مکمل کر رہی تھی۔۔ اسے غور سے دیکھ کر نووارد  بڑبڑائی۔۔

    ایسا دکھائی دینے میں تو تمہیں دس سال لگ جائیں گے ہایونا

    ہوں۔؟

    وہ چونکی۔۔ مجھ سے کہا۔۔ 

    آنیو۔۔ وہ جلدی سے بولی۔۔

    وہ آپ بہت اچھی تصویر بنا رہی ہیں میرا دل کر رہا میں بھی آپ سے بنوائوں۔۔

    اچھے پیسے دوں گی۔۔ اس نے مزید کہا۔۔ 

    یہ آجکل سب کو پورٹریٹ بنوانے کا وہ بھی اس سے شوق کیوں چر آیا ہے۔۔ وہ سیدھی ہو کر اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی۔۔

    گوارا گبھرا گئ۔۔ اسے شک ہوگیا کیا۔۔ اس نے کان کھجایا۔۔

    اگر آپ مصروف ہیں تو کوئی بات نہیں۔۔ میں پکاسو سے بنوا لوں گی۔۔ اسے ایک ہی نام یاد تھا۔۔ وہ کہتی پیٹھ موڑ کر بھاگنے ہی والی تھی۔۔

    پکاسو مر چکا ہے۔۔

    اسے ہوپ کی آواز آئی۔۔

    اس نے زبان دانتوں تلے دبائی۔۔ پھر پلٹ کر ہنسی

    آہ  دہاں۔۔ دے دے۔۔ (ہاں ہاں)۔

    بے چارا ۔۔ اب میں کس سے بنوائوں گی۔۔ وہ جیسے خوش ہو کر بولی۔۔ پھر خیال آیا تو اداس سی شکل بنا لی۔۔ 

    اب کیا ہو سکتا۔۔ 

    صرف اسکیچ بنوانا یا پراپر پورٹریٹ بنوانا ہے؟

    دے۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔ پھر جلدی سے بولی۔۔

    جو جلدی بن جائے۔۔ 

    پھر خیال آیا۔۔ 

    میرا مطلب پہلے آپ اسکیچ بنائیں اگر مجھے پسند آیا تو پورٹریٹ بھی۔۔ بنوا لوں گی۔۔ 

    ہوپ نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر اپنا کام چھوڑ دیا۔۔ 

    ایک گھنٹہ لگے گا۔ اسکیچ میں۔۔

    وقت ہی وقت ہے میرے پاس۔۔ 

    اس نے بانچھیں چیریں۔۔

    اسکو کندھے سیدھے کرکے پوز بنوا کر ہوپ اسکے سامنے زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔۔ 

    اس طرح تو سر چھوٹا دھڑ بڑا بنائے گی۔۔

    گوارا بنچ پر بیٹھی اسکا اینگل ایسا ہی بنتا مگر بس بڑبڑا کر رہ گئ۔۔ بیٹھے بیٹھے وہ اونگھ گئ

    ایک گھنٹہ جانے ہو گیا تھا یا نہیں البتہ ہوپ کے ہلانے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ 

    یہ لو۔۔

    وہ اپنا سامان سمیٹ کر بیگ کندھے پر ڈالے جانے کو تیار کھڑی تھی۔۔ اسکا اسکیچ ایک اسٹینڈرڈ پیپر پر بن چکا تھا۔۔ 

    گوما وویو۔۔

    وہ آنکھیں مسلتی اسکے ہاتھ سے اسکیچ لے کر دیکھنے لگی۔۔ جھلک آگئی تھی اسکی اس تصویر میں مگر وہی آنکھیں بے جان اور گول چہرہ۔۔

    اسے موٹی سی گوارا بالکل پسند نہیں آئی۔۔ مگر مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔۔

    کتنے پیسے ہوئے۔۔ ؟

    وہ بیگ کھول کر نکال رہی تھی ہوپ رکی ہی نہیں۔۔ 

    اگر پورٹریٹ بنوانے کا ارادہ ہو تب بتانا۔۔ اس نے مڑ کر دیکھے بنا کہا۔۔ گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے اپنے اپارٹمنٹ میں آکر بیگ حسب عادت دروازے کے پاس پھینکا خود بیڈ پر گر سی گئ۔۔ 

    ہاتھ میں رول کیا ہوا اسکیچ سیدھا کیا اور غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اب دیکھنے میں اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔ 

    اب یہ کیا ہے؟

    باندری لگ رہی ہو۔۔بیڈ سائیڈ پر رکھے فریم میں تصویر سے اسکی ماں بولی تھی۔۔

    آپ کو کیا ۔ وہ چڑی۔

    اب اس میں پیسے پھینک آئیں۔۔

    یہ کروانا تھا اپنی آنکھیں چھوٹی اور منہ گول ۔۔ چلو پلاسٹک سرجری کا خرچہ تو بچا۔۔ جب آئندہ خیال آئے تو یہی دیکھ لینا۔۔ 

    ماں کی بات پر چونکی اٹھ کر غور سے تصویر دیکھنے لگی۔۔ 

    نہیں۔۔ ایسا تھوڑی کروانا میں نے۔۔ اس نے بے زاری سے تصویر پھینکی۔۔ اپنی سینڈل اتار کر پیر سہلارہی تبی جب موبائل پر بیپ بجی۔۔

    یون بن ۔۔ وہ خوش ہو کر لپکی۔۔

    میسج تھا مگر ہایون کا۔۔ 

    بنوائی تصویر؟

    ہااش۔۔ اس نے منہ بنایا اور جواب ٹائیپ کیا۔۔

    دے۔۔ ہاں۔۔

    جھوٹی۔۔ اسکا فوری جواب آیا۔۔ اسکی ناک بھویں چڑھنے لگیں۔۔

    اس نے تصویر ڈھونڈی وہ ہوا سے اڑ کر بیڈ کے نیچے جا چکی تھی۔۔ 

    اس نے تصویر اٹھائی سیدھی کی اپنے موبائل میں تصویر کھینچی۔۔  اتنی دیر میں ہایون  کا میسج آچکا تھا۔۔

    تم کو یون بن  بھی کہتا تو تم نے مہینہ ایک نکال کر اسکا کہا کام کرنا تھا۔۔ خیر اسی سال بنوا لینا تصویر احسان ہوگا۔۔ 

    لو کر لو یقیں۔اس نے فورا اسے تصویر بھیجی۔۔ 

    تمہارے بڑھاپے کی تصویر بھی لو۔۔ اس نے چپکے سے اسکے پورٹریٹ کی بھی تصویر کھینچ لی تھی وہ بھی بھیج دی۔۔ 

    ہاہاہاہہا۔ گوارا موٹی ہو جائو سچ میں بھالو بھالو ذیادہ پیاری لگ رہی ہو۔۔ اسکا فورا جواب آیا تھا۔۔

    ہااش۔۔ 

    اس نے جواب نہیں دیا موبائل رکھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ گوارا کی تصویر دیکھ کر خوب ہنسا تھا۔۔ ابھی کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ اس نے گوارا کے خدو خال بھی موٹے کر دیے تھے۔۔۔ یہاں اسے خیال آیا۔ وہ غور سے تصویر دیکھنے لگا۔۔ تبھی اسے ایک اور تصویر موصول ہوئی۔۔ گوارا کو میسج بھیج کر اس نے وہ تصویر کھول لی۔۔ یہ اسکے ادھورے پورٹریٹ کی تصویر لی گئ تھی۔۔ تھو ڑا فاصلے سے لی گئی تھی دور سے کھنچی ہونے کی وجہ سے اس کے نقوش نسبتا کم پھیلے لگ رہے تھے یہاں وہ اسکی غلطی پکڑ گیا۔۔ 

    وہ کینوس زیادہ گھیرتی تھی اسکی آنکھوں کا درمیانی فاصلہ زیادہ تھا اسکی ناک پھیلی ہوئی بنی تھی جیسے اسکے منہ کو کسی نے پچکا دیا ہو۔۔  

    وہ موبائل گھما گھما کر مختلف زاویے سے دیکھ رہا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ایم پی تھری  کی ہینڈ ز فری کانوں میں ٹھونسے موبائل میں لگی تھی جب سنتھیا۔۔ کمرے کا دروازہ کھولتی داخل ہوئی۔۔ گیارہ ہو رہے تھے اریزہ آرام سے نیند آنے کا انتظار کر رہی تھی بتی جلنے پر چونکی پھر ایم پی تھری رکھ کر گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر نیچے جھانکا۔۔ 

    کہاں تھیں تم ؟

    لانگ شوز اتارتی سنتھیا چونک کر اوپر دیکھنے لگی۔۔ 

    ایڈون کے ساتھ تھی۔۔ 

    اریزہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔ 

    یہ ایڈون نے دلایا ہے آ ج ہی۔۔ اسکی ضد تھی فورا ٹرائی کروں۔۔ وہ تھکی تھکی سی تھی۔۔ مگر اریزہ کی نظروں کا مطلب سمجھ کر بولی۔۔

    وہ آف وہایٹ سلیو لیس ٹاپ تھا جس پر نازک سی چینز کندھوں سے نیچے تک آرہی تھیں۔۔ اس کی فراک گھٹنوں تک تھی مگر اس نے ٹائٹس نہیں پہن رکھی تھیں اسکی سانولی پنڈلیاں دمک رہی تھیں 

    سنتھیا نے بلا اردہ ٹاپ کو گھٹنوں سے نیچے کیا پھر سمجھ نہ آیا تو اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئی۔۔ 

    اریزہ الجھن سے دیکھتی رہ گئ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دھواں آگ چیخیں ایک۔ دھندلا سا منظر تھا

    وہ چیخ رہی تھی رو رہی تھی یہ منظر تو دوبارہ اس نے دیکھا تھا۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا اس بار تو کچھ تبدیل ہو جائے جیسے

    ۔۔ اریزہ 

    اسے ایک مانوس آواز سنائی دی اس نے پلٹ کر دیکھا تو کوئی بے حد اپنا اسکے بالکل پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔ وہ ایک دم آگے بڑھ کر اس سے لپٹ جانا چاہتی تھی کہ تیز روشنی کا جھماکا ہوا اور سب غائب ہو گیا۔۔ وہ تھی اور گھپ اندھیرا۔۔ 

    اس نے گہری گہری سانس لی۔۔ 

    تبھی اس پر روشنی کا ایک اور جھماکا ہوا۔

    وہ حواسوں میں جیسے اب آئی تھی۔۔ چند لمحے تو سمجھ نہیں آیا کہاں ہے۔۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ آٹھ سال کا بچہ اندھیرے میں اٹھا تھا کمرے کی کھڑکی سے بجلی کڑکنے کی آواز آرہی تھی بار بار روشنی کا جھماکا ہوتا اسکی آنکھ بجلی کے چمکنے سے ہی کھلی تھی۔۔ وہ بے اختیار پورے گلے سے چیخا اہموجی۔۔ 

    آہموجی۔۔

    پکارتے پکارے اسکا گلا بیٹھ گیا تھا۔۔  تب دروازہ کھلا کوئی تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا اور اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔ 

    شش۔۔ اس مہربان آغوش میں اسکی سسکیاں تھمنے لگیں اس نے سر اٹھا کر اس مہربان کا چہرہ دیکھنا چاہا تو اسے جھٹکا لگا۔۔ یہ اس کی ماں تو نہین تھی۔۔

    کوئی بے حد پیار سے اس سے پوچھ رہا تھا

    اب تو ڈر نہیں لگ رہا انی آگئ ہین تمہارے پاس۔۔ 

    اس کی چونک کر آنکھ کھلی تھی۔۔ پسینے میں تربتر چہرہ ۔ اس نے گہری سانس لے کر سائڈ ٹیبل سے گھڑی اٹھا کر وقت دیکھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ پھر اس ساحل کنارے کھڑا ادھر سے ادھر پاگلوں کی طرح دوڑتا پکارتا کسی کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔ دور پانیوں کے پاس کوئی ہیولہ سا دکھائی دیا۔۔ وہ اندھا دھند دوڑ پڑا

    رچل اس نے قریب جا کر اس ہیلولے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔ رچل چونک کر مڑی۔۔

    تم ٹھیک ہو نا ۔۔ تم ٹھیک تو ہو نا وہ بے تابی سے اسکے گال چھو کر پوچھ رہا تھا۔۔

    ہاں بالکل ٹھیک میری فکر کرنا چھوڑ دو تم اب۔۔

    وہ ہنسی۔۔ تو اس نے اسے گلے لگا لیا تھا۔۔

    شکر ہے خدا کا تمہیں کچھ نہیں ہوا۔۔

    بڑ بڑاتے ہوئے اسکی آنکھ کھل گئ تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس برف بنے دریا پر بھاگتے جانے اسے کتنا وقت بیت چلا تھا بھاگتے بھاگتے اسکے پیر سن ہو چکے تھے مگر کوئی عزم اس کے قدموں کو رکنے نہیں دے رہا تھا۔۔ وہ بھاگتے بھاگتے ٹھٹک کر رکی۔۔

    دریا اب برف نہیں رہا تھا ہاں برف پگھل چکی تھی۔۔

    تیز دھوپ اسکے گرد اجالے بکھیرنے لگی تھی تپش ست تو برف پگھلنے لگے گی  وہ ڈر کر پیچھے ہوئی اگر برف پگھل گئ تو اسکے قدموں تلے نرا پانی ہوگا جو اسے ڈبو دےگاوہ ڈر کر اکڑوں بیٹھ گئ

    تبھی کوئی اسکے ساتھ ہی آکر اکڑوں بیٹھا ۔۔

    اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا۔

    کوئی بے حد مہربان مسکراہٹ والا اس سے کہہ رہا تھا۔۔

    میرا پورٹریٹ بناءوگی؟

    اس نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ 

    وہ۔کسی خواب سے جاگی تھی 

    اپنی بیس سالہ زندگی میں پہلی بار اسکی مسکراتے ہوئے آنکھ کھلی تھی۔۔۔

    ۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     رات کے تین بج رہے تھے۔۔ وہ اٹھ گئی۔۔ اسکے ڈورم کے خارجی کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے تھے اسکے اوپر خوبصورت تکونی چھت بھی شیشے کی تھی وہ سر اٹھا کر اوپر دیکھنے لگی چھاجون مینہ برس رہا تھا شفاف شیشے پر گرتی پانی کی بوندیں کبھی کبھی کڑکتی بجلی کے جھماکے اس نے دونوں بازو پھیلالیے یوں لگ رہا تھا بارش اس پر برس رہی تھی اور وہ بھیگ نہیں رہی تھی۔۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکان در آئی۔۔

    اسکی آنکھوں کے کنارے چپکے چپکے بھیگ رہے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اٹھ گیا تھا کمرے میں اب بھی ملگجا اندھیرا تھا

    تیز کڑکتی بجلی کی آواز آرہی تھئ شائد باہر تیز بارش ہو رہی تھئ  مگر اب وہ آٹھ سالا ہیونگ سک نہیں رہا تھا اب وہ اس موسم سے  ڈرتا نہیں تھا بارش سے اسکی دوستی ہو چکی تھی  ابھی بھی اٹھا اور  کمرے کی گلاس ڈور والی سلائڈنگ کھڑکی کھول کر   بارش کی ٹھنڈک اپنے اندر اتارنے لگا

    کوئی ہوگا میرے جیسا بھی پاگل جو سوتے سے ڈرکر اٹھے اور کھڑکی میں کھڑا ہو کر بارش دیکھنا شروع کردے ۔۔۔ اور۔۔ وہ خود پر ہنس دیا 

    اس سے موڈ بھی اچھا ہوجائے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھ سے بڑا بھی کوئی پاگل ہوگا ۔۔

    سوتے سے اٹھ کر میں تصویر مکمل کر رہی ہوں ۔۔

    ایزل پر اسٹروک لگاتے وہ خود پر ہنسی۔۔ ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لوگ رات کو اچانک اٹھتے ہییں تو پانی پیتے باتھروم جاتے اور میں ۔۔

    وہ موبائل کھولے بیٹھا اپنی حماقت پر مسکرایا۔۔

    بلاگ دیکھ رہا ہوں کہ اپڈیٹ ہوا کہ نہیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بارش واقعی رحمت ہے خدا کی۔۔کیسے بارش سے سارا جہاں دھل کر نکھر جاتا ہے۔۔ایکدم صاف شفاف ۔۔ ایکدم پاک۔۔ 

    یہ میرے کیمپس کی اندرونی سڑک ہے۔اسکی اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں برستی بارش اف کاش میرے گھٹیا موبائل کا کیمرہ اس منظر کو اسی طرح دکھا پاتا جیسا میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔

    اس نے تصویر کھینچی مگر اصل منظر کا عشر عشیر بھی نہ قید ہوا تھا

     ایسا لگ رہا ہےستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے ہوں۔۔ آپ گھنٹوں یہ منظر دیکھ سکتے ہیں بور ہوئے بنا۔۔۔۔ مجھے ویسے بارش میں بھیگنا نہیں پسند مجھے لگتا بارش کو چھو لیا تو اسکا طلسم جاتا رہے گا بارش تو دیکھنے محسوس کرنے کی چیز ہے۔۔ آج میرا بلاگ بورنگ ہے مجھے پتہ ہے

    ۔ مگر مجھے آج بارش نے ایک اور بارش میں بھیگنے سے بچایا ہے میں بس بارش کی ممنون ہوں یہ آج برسی کھل کر برسئ مجھ پر برسی مگر مجھے بھگویا نہیں ۔۔شکریہ بارش۔۔ چھما چھم برسوں کیوں کہ میں تمہارے برسنے سے بہت خوش ہو گئ ہوں آج۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ہنسا۔۔پھر سوچ کر لکھنے لگا۔۔

     کوئی دنیا میں بارش برسنے سے بھی خوش ہوتا ہے۔۔ جان کر حیرت بھی ہوئی خوشی بھی۔۔ کہ کسی کے اندر کا موسم اتنا سادہ ہے کہ باہر کے موسم سے برسر پیکار ہونے کی بجائے دوستی کر لیتاکتنا خوش قسمت ہوگا وہ جو خوش ہو جاتا ہے میں جل نہیں رہا رشک کر رہا ہوں اللہ کرے تم سدا خوش ہی رہو۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ

    کس سیارے میں پہنچ گئ ہو بی بی؟ لائٹ ہے نہیں یہ اسٹریٹ لائٹ دکھا رہی ہیں۔۔

    دوسرا کمنٹ

    ہیں پنڈئ میں بارش ہو رہی۔۔ ؟ میرا گھر راتوں رات اٹھ کرکہان پہنچ گیا ؟یہاں تو کوئی بارش نہیں ہو رہی۔

    تیسرا کمنٹ

    تارکول کی سڑک نظر کب آتی زرا سی بارش ہوتی گٹر ابلنے لگتے۔۔

    چوتھا کمنٹ

    بارش ہو جائے کاش یہاں بھی مر رہے ہین گرمی میں 

    پانچواں کمنٹ

    جب بھی بارش ہوتی ہے میرے آنگن میں۔۔

    صبح مجھے ہی پانی سوتھنا پڑتا ہے۔۔۔ 

    یہ کوئی لڑکی تھی

    وہ بے ساختہ ہنسی۔۔

    پھر اسکا کمنٹ کھول کر ریپلائی کیا۔۔ 

    میں تمہارے دکھ سمجھ سکتی ہوں۔

    اگلا کمنٹ اس نے   دو بار پڑھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خوش قسمت خوش ہوتے ہیں مگر زیادہ خوش وہ ہوتے جو اپنی قسمت پر خوش ہوتے۔۔ میری آپکے لیے دعا آپ بھی خوش رہیں خوش قسمت ہو جائیں آمین۔۔۔۔

    اس نے جواب لکھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لفظ کتنےقیمتی کتنے اچھے ہو سکتے اسے آج اندازہ ہوا تھا۔۔ اس نے بار بار پڑھا تھا بلاگر کا جواب۔۔ آمین

    اس نے دل سے آمین کہا اور جیسے دل۔کو اطمینان ہو گیا کہ جیسے اس بلاگر کی دعا قبولیت کا درجہ پا گئ۔۔ 

    اس کو اچانک ہی نیند بھی آنے لگی تھی موبائل  لاک کرکے سایڈ میں رکھا اور پر سکون نیند کی وادی میں  قدم رکھ دیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکی تصویر ابھی مکمل ہونے کو تھی۔۔ اس نے مطمئن ہو کر برش رکھا اپنی انگلیاں دباتی بیڈ کی جانب بڑھئ اسے اب نیند آرہی تھی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کتنی ہی دیر اس ایبس ٹریکٹ آرٹ کو دیکھتا رہا ایک کے بعد ایک سارے رول دیکھ ڈالے۔۔ پھر انکو 

    سائڈ ٹیبل کی دراز کھول کر اندر رکھا اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    اس نے موبا ئل کی روشنی سے نیچے جھانک کر دیکھا سنتھیا بے خبر سو رہی تھی۔۔ موبائل بیڈ پر پھینکا پھر بیڈ کے ساتھ زمین پر سیدھی لیٹ گئی پہلے ایک گھٹنا موڑ کر اوپر سینے تک لائی تھوڑی دیر رکی پھر پہلی ٹانگ سیدھی کر لی اب دوسرے ٹانگ اٹھائی جلد ہی اسکی سانس پھولنے لگی مگر اس نے ایکسرسایز نہیں چھوڑی یہ اس کا پہلا سبق تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    اختتام 

    جاری ہے

    Kesi lagi apko Salam Korea urdu web travel novel ki qist ? rate us below

    Rating
    Pindi ka scented naala hayoon ko dekhna hay bhae 😀
  • Salam Korea Episode 6

    Salam Korea

    by Vaiza Zaidi

    قسط 6

    بارہ بجنے والے تھے۔۔

    اس نے سوچا۔۔ 

    پھر اپنا چھوٹا بیگ نکال کر اپنی سیول سے کی گئ شاپنگ دیکھنے لگی

    اس نے خوبصورت سا بریسلٹ نکال لیا۔۔ یہ اسکو سب سے زیادہ پسند آیا تھا۔۔ اس نے سوچا پھر ٹاپس کا سیٹ بھی نکال لیا۔۔ دونوں ساتھ رکھ کر دیکھتی رہی۔۔

    پھر اپنے بیگ سے دلاور کا دیا گیا گفٹ نکالا 

    پرفیوم اس نے استعمال کے لیے باہر نکال کر رکھا پھر اس گفٹ کا ریپر احتیاط سے نکال کر پہلے ٹاپس کو انکے پلاسٹک ریپر میں ڈالا پھر گفٹ ریپر سے لپیٹ کر اوپر ربن باندھ دیا ۔۔

    نیچے سنتبھیا سو چکی تھی سو آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی سیڑھیاں اتر آئی دروازے کی ناب گھمائی کھولنے کیلیے چند لمحے سوچا پھر پلٹ کر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئ۔ 

    کیا کر رہی ہو سنتھیا ڈسٹرب ہو کر بڑ بڑائی۔۔ سوری اس نے اوپر سے جھانک کر کہا۔۔ سنتھیا جواب سے قبل دوبارہ سو چکی تھی۔۔

    وہ اس بار احتیاط سے ہی اتری اور آہستہ سے دروازہ کھول کر ٹیرس میں آگئ۔۔ 

    دس بارہ لڑکیاں خوب تیار شیار کھڑی تھیں۔۔   چھوٹی سی میز رکھی تھی جس پر کیک اور کھانے پینے کی چیزیں رکھی تھیں میز کے کنارے کھڑی کوئی سالگرہ کا گیت گا رہی تھیں 

    جی ہائے موم بتیاں بجھا کر ہنسی ہوئی کیک کاٹنے لگی تھی کہ اس پر نظر پڑی تو اشارے سے قریب آنے کو کہا۔۔ اریزہ رات کے حساب سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھی یہاں سب کو دیکھ کر اسے غلطی کا احساس ہو ا مگر اب کیا ہو سکتا تھا سو مسکرا کر آگے بڑھی

    اسکی کیا ضرورت تھی۔۔

     جی ہائے حیران ہوئی تھی۔۔

    مگر حسب عادت خوشدلی سے کہہ کر شکریہ کے انداز میں جھک کر وصول کیا۔۔

    ان سب نے کیک کٹتے ہی کیک پر ہلہ بول دہا سب ایک دوسرے کے اوپر کیک مل  بھئ رہی تھیں وہ ان میں مس فٹ تھی سو تھوڑی دیر دیکھ کر پلٹنے لگی کی جی ہائے نے آواز دی۔۔ 

    کدھر جا رہی ہو آئو کیک تو کھا لو۔

    اریزہ پلٹ آئی۔۔ اس نے صاف جگہ سے اسے ایک ٹکڑا نکال کر آگے بڑھایا۔۔ اریزہ کو لگا تھا وہ اسکے منہ پر مل دے گی سو زہنی طور پر تیار تھی جھجکتے ہوئے آگے بڑھی مگر اس نے بڑے آرام سے کھلایا اور اسکے ڈرے ڈرے انداز پر ہنس پڑی۔۔ 

    اریزہ بھی ہنس دی۔۔ 

    اس نے اس بار کیک مٹھی میں بھرا تھا اور پورا اریزہ کا چہرہ سن دیا تھا۔۔

    اریزہ پہلے بھونچکا رہ گئ پھر بدلا لینے دوڑی سب لڑکیاں ہنستے ہنستے بے حال ہو رہی تھیں 

    پھر رنگ نسل مزہب زبان ہر چیز میں الگ ہوتے ہوئے بھی اریزہ کو ان میں گھلنے ملنے میں وقت نہیں لگا تھا۔۔ 

    کافی دیر کی ہلڑ بازی کے بعد سب رخصت ہونا شروع ہوئیں۔۔ اس نے ایک ایک سے کہا تھا کہ اسکی مدد کرادے چیزیں سمیٹنے میں مگر سب منہ چڑاتی بھاگ گئیں۔ اریزہ سے تو شائد اسے امید بھی نہ تھی جبھی سر جھٹک کر چیزیں خود ہی سمیٹنے لگی۔ اریزہ کو انکی گفتگو سمجھ تو نہ آئی تھی مگر اسے اکیلے لگا دیکھ کر مروتا  جی ہائے کے ساتھ چیزیں سمیٹنے میں مدد کروانے لگی۔۔ اسکو کافی تحفے ملے تھے ان دونوں نے احتیاط سے لا کر اسکے کمرے کی میز پر لا کر رکھے اریزہ میز کو دیکھ کر چونکی سیدھی ہوئی تو سامنے دیوار پر بیڈ کی دیوار سامنے الماری پر ۔۔

    ہر جگہ ایک خوبصورت نوجوان پوز دے رہا تھا۔ 

    اسے چونکتے دیکھ کر جی ہائےمسکرائی۔۔

    بریو ہارٹ گروپ کا لیڈ سنگر۔۔ دوہیون 

    میرا کرش۔۔ اس کی آنکھوں میں گہری چمک آگئ تھی

    اسکی ہر فین میٹنگ سیول کی اٹینڈ کی ہے۔۔

    یہ سب اسکے ہاتھ سے سایئنڈ پوسٹرز ہیں۔ 

    میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ اس سے بات کروں پتہ ہے اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اف۔۔۔  وہ جوش سے بیڈ سائڈ پر لگے پوشٹر کی طرف بڑھی۔۔

    یہ اسکی لیٹسٹ البم کا پوسٹر ہے اس کے کنسرٹ میں گئ تھی سب سے آگے خوب شور مچا کر میں  نے اسے متوجہ کیا تھاتو  اس نے میرا نام لے کر شکریہ ادا کیا تھا۔۔ اور یہ سائن کرکے دیا تھا۔۔

    وہ بچوں جیسی خوشی سے بتا رہی تھی۔۔اریزہ مسکرا دی۔۔ تو اسے خیال آیا۔۔

    سوری کیا سوچتی ہوگی کیسی پاگل لڑکی ہے۔۔

    مگر سارانگی ہئ۔۔ 

    وہ آگے اپنی زبان میں کچھ کہتی چلی گئ۔۔ 

    اچھا خیر۔۔ ان میں سے تمہارا گفٹ کدھر ہے۔۔ اس خیال آیا۔۔

    اریزہ نے نام لکھا ہوا تھا پھر بھی اسکو اشارے سے بتایا اپنا گفٹ۔۔ وہ خوشی خوشی اسے کھولنے بیٹھ گئ۔۔

    ایک بے حد پیارا سا بھورے رنگ کا میٹل بریسیٹ تھا جس میں بہت پیارے  گول گول سکے جن پر ایک جانب ہنگل میں دوسری جانب انگریزی میں عبارت تحریر تھی۔۔ 

     ساتھ چھوٹے چھوٹے سے نگوں والے ٹاپس تھے۔۔

    یہ میں نے یہیں سے لیے تھے مجھے بہت پسند آئے تھے سوچا تمہیں بھی شائد پسند آجائیں۔۔

    اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکے چہرے کے تاثرات سے کہ پسند آیا یا نہیں۔۔ 

    یہ مجھے پسند نہیں آئے۔۔ وہ رکی۔

    آئ جسٹ لوڈ اٹ تھینک یو سو مچ۔۔

    وہ پورے دل سے بولی تو اریزہ بھی خوش ہوگئ

    ۔ واقعی۔۔ اس نے تصدیق چاہی 

    واقعی۔۔ اس نے آنکھیں پھیلائیں پھر دونوں ہنس پڑیں۔۔

    تم ہنستئ بہت پیاری لگتی ہو۔ جی ہائے کے کہنے پر اس کی آنکھیں تھوڑی اور بڑی ہوئیں۔پھر سنبھل کر بولی

    شکریہ تم بھی بہت پیاری ہو۔خاص کر تمہارے بال۔ لمبے سیدھے سلکی۔ 

    جی ہائے ہنس دی

    تمہارے بھئ تو سیدھے ہی ہیں۔ 

    اسکے کہنے پر وہ سر کھجا کے رہ گئ۔

     صبح استری ہوتی ہے ان پر جب ایسے ہوتے ہیں۔۔ 

    یہ اعتراف کرنے کی ضرورت کیا تھی

    تم کہاں سے ہو ؟ جی ہائے نے اسے چپ دیکھا تو بات بڑھانے کو بولی۔ 

    پاکستان۔ اریزہ چونکی۔ 

    انڈیا کا شہر ہے یہ؟ وہ برسبیل تذکرہ پوچھ رہی تھی۔ وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔ 

    نہیں۔ ہم انڈیا کا پڑوسی ملک ہیں۔   70 سال ہو چکے ہمیں اس سے الگ ہوئے وے۔ 

    وہ جتا کر بولی جوابا جی ہائے کندھے اچکا گئ

     واٹ ایور۔ مجھے جغرافیہ میں دلچسپی نہیں۔۔۔ لیکن اتنا پتہ ہے  جنوبی ایشائی لوگوں کی آنکھیں کشادہ ہوتی ہیں۔ اور رنگ سانولے مگر تم نے میری معلومات میں اضافہ کردیا۔ گورے لوگ بھی ہوتے ہیں جنوبی ایشیا میں۔ مگر کم ناہونے کے برابر ہے نا۔ 

    وہ فراٹے سے مخصوص سیول کے لہجے میں انگریزی بول رہی تھی۔ لفظ اٹک رہے ہوں جیسے منہ میں ۔ اور ش کا ذیادہ استعمال۔ اسے سمجھنے میں کئ پل لگے۔  

    مجھے ویسے یہاں آنے سے قبل تحفظات تھے میں نے یہی سنا تھا کہ انگریزی بولنی نہیں آتی یہاں کے لوگوں کو۔ مگر تمہاری انگریزی بہت اچھی ہے۔ 

    اسکا لہجہ کونسا رواں تھا۔ جی ہائے منتظر نظروں سے دیکھے جا رہی تھی جب اس نے وقت لیکر ذہن میں مکمل جملہ ترتیب دیا۔ 

    ہاہ۔ یہ Myth ہے۔ کورینز کو انگریزی نہیں آتی بالکل بھی نہیں۔ ہم ہائی اسکول میں اتنی سیکھتے کہ پڑھ یا لکھ لیں بس۔ بولا ہم سے نہیں جاتا میں غیر معمولی کیس ہوں۔ 

    وہ ہنسی۔ پھر اٹھ کر تحفے کھولنے لگی۔ 

    مجھے گوارا زبردستی انگریزی زبان کے  کورس میں اپنے ساتھ لے گئ تھئ ۔ سو سیکھ لی مگر سوچتی تھی بے فائدہ کام کیا مگر آج فائدہ ہوا۔ تم سے بات ہوسکتی ہے۔ ویسے تم ہنگل سیکھ لو ورنہ یہاں رہنے میں مشکل ہوگی۔ 

    وہ بے تکان بول رہی تھی اریزہ سر ہلا رہی تھی۔ 

    اس نے ایک کاپی اٹھا کر سب کے نام اور دیئے گئے تحفے کو لکھنا شروع کردیا۔ 

    مجھے احسان لینا نہیں پسند۔۔ لکھتے لکھتے وہ سر اٹھا کر بتانے لگی۔ 

    میں اپنی سالگرہ پر تحائف دینے والوں کے نام اور تحفے باقائدہ لکھ کر رکھتی ہوں تاکہ ان سب کا احسان انکی سالگرہ پرچکا سکوں۔۔۔

    اریزہ نے جوابا کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا۔ مگر بیڈ پر پڑا اسکا فون بجنے لگا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا ۔کڑوا سا تاثر چہرے پر آیا پھر اس نے فون کاٹ کر واپس رکھ دیا۔

    تمہاری سالگرہ کب ہے؟ وہ اب اس سے پوچھ رہی تھی۔

    اریزہ کے چہرے پر سایہ سا دوڑ گیا

    میں اپنی سالگرہ نہیں مناتی۔ 

    وہ۔دھیرے سے بتاتی جانے کیلئے اٹھ کھڑی ہوئئ

    کیوں؟ وہ حیران ہوئی۔ 

    میں تو۔ وہ کچھ بولنے لگی تھی جب دوبارہ اسکا فون بج اٹھا۔ 

    اس نے جھلا کر مڑ کر فون اٹھایا

    دے۔ اس نے فون کان سے لگایا۔

    تو؟ مجھے آپ سے مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ مبارکباد بھئ نہیں۔ یہ زحمت کرنا بھی چھوڑ دیں ایک بار میں سمجھ  کیوں نہیں جاتے آپ؟ 

    اجنبی زبان میں بولتے وہ ایکدم سے حلق کے بل چلانے لگئ تھی۔ 

    اریزہ بھونچکا سی کھڑی دیکھتی رہی۔ 

    میں چلتی ہوں۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔۔ جی ہائے نے شائد سنا بھی نہیں تھا۔ فون کان سے لگائے ہنگل میں بولے جا رہی تھی۔ 

    میں مر گئ ہوں سمجھیں آپ۔ اورآپ مر گئے ہیں میرے لیئے۔۔ مجھے آپکی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔

    وہ طیش سے کانپ اٹھی تھئ۔ دروازہ بند کرتے کرتے بھی اریزہ کو غصے میں اپنا فون ہی اچھال کر دور پھینکتی نظر آگئ۔ 

    غصے میں اپنا اسمارٹ فون اچھال پھینکنا اسمارٹ کام نہیں ہے۔ 

    اسکو تاسف ہوااسکی حرکت پر۔۔۔ بے چارہ فون۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنتھیا بے خبر سوئے جا رہی تھی۔ وہ احتیاط سے نیم تاریک کمرے میں ٹٹول ٹٹول کر سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بیڈ سائیڈ پر چلی آئی۔۔۔۔اسکے بیڈ کے آگے کھلی جگہ پر دو فلور کشن رکھے تھے جن پر بیٹھ کر بڑی سی گلاس ونڈو سے باہر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ برفباری کی وجہ سے  عمودی چھت تھئ وہ بھی شیشے کی بنی ہوئی۔ پورا آسمان سر پر الٹا تھا۔ وہ ایک فلو رکشن پر بیٹھ کر سر اٹھا کر آسمان دیکھنے لگی۔ 

    ننھے ننھے چند ستارے بس۔ باقی گھپ اندھیرا۔ شائد چاند کی آخرئ تاریخیں تھیں۔ اس نے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے اور تھوڑی رکھ کر سوچنے لگئ۔ اور وہ جو سوچتی تھی بلاگ پر لکھ ڈالتی تھی۔ 

    کتنی عجیب بات ہے ایسے لوگ جو ہمارے گرد سانس لیتے جیتے ہیں۔ مرجاتے ہیں ۔۔ پھر کبھی نظر نہیں آتے جیسے کبھی وہ تھے ہی نہیں۔۔  ہم ان سے کبھی نہیں مل سکتے۔ قیامت تک نہیں۔ انکا شائد ہماری زندگی میں مختصر کردار ہی لکھا ہے آسمانوں کی جانب سے۔ ہم بس انکی یادوں کو زندہ رکھ سکتے ہیں جی کر۔ ہاں جی کر۔ ہم جی رہے ہیں تو مر جانے والے ہماری یادوں میں سہی زندہ تو ہیں۔ انکا ذکر زندہ ہے۔ ہم میں ۔۔۔ ہم سے۔ ہم بھی مر جائیں گے تو انکا نام لیوا بھئ کوئی نہ رہے گا۔۔۔۔ سو جینا تو پڑتا ہےکیونکہ ۔ مرنے والوں کے ساتھ مر جو نہیں گئے ہم۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اپنے اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر کھڑا سیول کی روشنیاں دیکھ رہا تھا

    کافی کی چسکیاں لتے گہری سوچ میں گم تھا۔۔ کروں نہ کروں

    اسے دو دن میں فیصلہ کرنا تھا۔۔

    اس نے کافی کا گھونٹ بھرا  پھر ٹیرس پر رکھے کائوچ پر دراز ہو گیا

    سارا دن کچھ نہ کرنا کتنا مشکل کام تھا ۔

    اس نے موبائل کی لاک اسکرین روشن کی رچل کا خوبصورت چہرہ سامنے تھا۔

    رچل۔۔ اس نے مخاطب کیا۔۔

    تم میرے بغیر کیسے رہ رہی ہو؟

    مجھے تو جینا بھول گیا ۔۔ لگتا ہے میں کسی کام کا نہیں رہا۔ میں صبح سے شام کرتا ہوں بس ۔

    خدا کی عبادت کرنا چا ہوں یا تمہیں یاد  ۔ میں دونوں کام صحیح نہیں کر پا رہا

    میں کیا کروں کیسے جیئوں؟

    آہجوشی ھادی کہتے مجھے اپنے آپ کو مصروف کرنا چاہیئے 

    مگر میں خود کو جتنا بھی مصروف کر لوں تمہاری یاد میرے دل سے نہیں جاتی۔۔ اسکی آنکھیں نم ہوئیں  پھر کتنے ہی آنسو چہرے پر پھسل آئے

    اس نے موبائل انلاک کیا اور انٹرنیٹ آن کر لیا۔۔

    کئی نوٹیفکیشن آئے۔۔ اس نے جلدی سے پہلا نوٹیفکیشن کھولا۔۔

    وہ بے حد حیرت سے بلاگ پڑھ رہا تھا۔۔

    یہ کیا اسکیلیے لکھتا تھا کیا بلاگ؟

    وہ فیصلہ جو کر نہیں پا رہا تھا اب فورا کر لیا تھا۔۔

    اس نے لکھنا شروع کیا

    پہلے حسب عادت ہنگل میں لکھ ڈالا پھر خیال آیا۔ تو انگریزی میں لکھنے لگا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ۔۔ایڈمن کام چور ہے آج کام کرنا پڑا تو بار بار بلاگ لکھ رہی ہے ہا ہا۔

    دوسرا:فالتو وقت ضائع نہ کرو جا کر کام کرو۔۔کپڑے دھل گئے؟

    تیسرا:ایسا کیا کام کر لیاجو مرنے مرانے کی باتیں کرنے لگیں۔  کے ٹو سر کر لی یا آج زندگی مین پہلی بار رات کے برتن دھو لیے۔۔ صبح ماسی نہیں آئے گی کیا؟

    اس نے بھنا کر گھورا۔۔ آیا بڑا میری ساس کہیں کا۔۔

    چوتھا:کوئی کپڑے دھوتے دھوتے مر جائے تو اسکا ذکر اس بلاگ پر زندہ رہے گا ہم یاد کیا کریں گے ایک تھی ایڈمن کام کرتے موت پڑتئ تھئ۔۔ 

    بد تمیز  لوگ۔۔ وہ بھنا گئ۔ ڈیلیٹ کر دیا کمنٹ

    پانچواں : ہا ہا ہا ایڈمن بہت اہم کام کر رہی ہے کمنٹ ڈیلیٹ کر رہی ہے۔۔ 

    وہ گہری سانس لے کر رہ گئ۔۔

    چھٹا کمنٹ: یہ تم نے مجھے کہا ہے تو میں نے سن لیا شکریہ تم نے فیصلہ کرنے میں میری مدد کی 

    تم نہیں جانتے تم نے تمہارے لکھے گئے ایک ایک لفظ نے مجھے کب کب کیسے کیسے مدد کی مگر میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں تم بہت اچھا کام کرتے ہو یہ کام کرتے رہو ہمیشہ خوش رہو اچھے لڑکے۔۔ 

    اریزہ پڑھ کر بے ساختہ مسکرا دی۔۔ 

    پھر دوبارہ اپنی تحریر پڑھی 

    اس میں تو کچھ بھی خاص نہیں ۔۔ اس نے سوچا

    پھر کمنٹ کا ریپلائی کر دیا

    مجھے نہیں لگتا میں نے کچھ بہت اچھا لکھا مگر میں نے جب بھی لکھا دل سے لکھا اور دل سے لکھے لفظ دل میں اتر جاتے ہیں آپ کے الفاظ میرے دل میں ترازو ہوئے ہیں میں بہت خوش ہوں دنیا میں کوئی ایک انسان ایسا ہے جو دل رکھتا ہے خدا آپکا دل بڑھائے شکریہ۔۔ 

    اس نے ریپلائی کردیا۔ پھر موبائل کا وائی فائی بند کرتی بستر پر آلیٹی۔ آج واقعی تھکن بہت تھی جبھئ منٹوں میں بے خبر ہوگئ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ خاص طور سے وقت نکال کر اس ریستوران میں آیا تھا۔۔

    دو تین ویٹریسز ادھر ادھر پھرتی نظر آرہی تھیں 

     وہ حسب عادت ایکسپریسو کا آرڈر دے کر بیٹھ گیا۔۔

    تھوڑی دیر میں وہ آئی تھی۔۔ میز پر اسکا کپ رکھ کر تیزی میں مڑنے لگی 

    بات سنیئے۔۔۔

    اس نے عجلت سے پکارا

    بہت معزرت اس اتوار میں کسی بہت ضروری کام میں پھنس گیا تھا اسلیئے آ نہیں سکا۔۔ 

    ہوپ نے یوں دیکھا جیسے کہہ رہی ہو تو؟

    میں کیا کروں

    اس دن مجھے امید ہے آپ نےزیادہ انتظار نہیں کیا ہوگا۔۔

    میں آپ کا انتظار کیوں کرنے لگی۔۔ اس نے بےنیازی سے کہا۔۔

    اچھا۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔

    اچھی بات ہے میری وجہ سے آپکو دشواری نہیں ہوئی ۔۔

    میں واقعی آپ سے  پور ٹریٹ بنوانا چاہتا ہوں مجھے دوبارہ آپکا وقت مل سکتا ہے؟

    ہوپ نے بھنویں اچکا کر دیکھا۔۔

    اور جواب دیے بغیر جانے لگی۔۔ پھر کچھ سوچ کر مڑی۔۔

    میں کل ہنگن دریا کے پاس جائوں گی۔ 

    ہیون سک پھر مسکرا دیا۔۔ ہوپ کے دل نے ایک دھڑکن مس کر دی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے لگ رہا ایک عمر سے میں نے پیٹ بھر کر نہیں کھایا ۔۔

    ہر بار پلیٹ بناتے ایسا ہی کچھ کہتی تھی اریزہ۔۔

    سنتھیا سوائے اسکو تسلی دینے کے کیا کر سکتی تھی۔۔

    یار یہ سوپ اس ہفتے دوسری بار بنا ہے نا؟

    اریزہ نے سوپ مین چمچ چلایا۔۔

    سنتھیا آج چکن اسٹیک شوق سے کھا رہی تھی سو بس سر ہلا دیا اسکی توجہ پوری کھانے کی طرف تھی۔۔

    پالک نہیں ہے تو یہ آخر کیا ہے۔۔

    اسے تجسس ہو رہا تھا۔۔

    میں بھی یہاں بیٹھ جائوں ؟

    جی ہائے مسکراتی ہوئی ان کے پاس چلی آئی۔۔

    ہاں ضرور ۔۔ اریزہ نے پرخلوص انداز میں کہا۔۔ وہ شکریہ ادا کرتی اسکے پاس آ بیٹھی۔۔

    تم سبزیاں بہت شوق سے کھاتی ہو ۔۔ اس نے دلچسپی سے اسکی پلیٹ پر نظر ڈالی۔۔

    وہ شملہ مرچ مٹر سبز گوبی گاجر کی مکس سبزی پنیر کے ساتھ بنی ہوئی اور بوائلڈ رائس ساتھ ابلے انڈے اور سوپ لے کر بیٹھی تھی 

    ہاں ۔۔ وہ سر ہلا کر رہ گئ اور کیا کہتی۔ پاکستانی طریقے کے مطابق سبزیاں گلی ہوئی نہیں تھیں زائقہ مگر اچھا تھا۔۔ سادے چاول کھانے سے تو بہتر تھا۔۔ 

    سنتھیا اسٹیک اور چاول ساتھ ساسجز میں بنی میکرونی کھا رہی تھی

    یہی کچھ جی ہائے بھی کھا رہی تھی۔۔

    مجھے سی ویڈ سوپ پسند نہیں ویسے۔۔ اس نے چہرے پر آئی لٹ کان کے پیچھے کرتے ہویئے بات برائے بات کہا۔۔ سنتھیا نے اسکے ہاتھ کو غور سے دیکھا

    کونسا سوپ۔۔اریزہ نے اسی وقت چمچ بھر کر منہ میں ڈالا تھا۔۔

     سنتھیا نے پوچھا تو اسکے حلق میں اٹک گیا۔۔

    سی ویڈ سوپ۔۔ اس نے اریزہ کے بائول کی طرف اشارہ کیا۔۔

    سی ویڈ۔۔؟ اریزہ نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔ سنتھیا کو ہنسی روکنی محال ہو گئ۔۔ ہنستے ہنستے بمشکل نوالا نگلا۔۔

    سی ویڈ یعنی سمندری گھاس۔۔ اریزہ نے کہتے ہوئے سوپ میں چمچ چلایا۔۔

    یعنی کچھ بھی ۔۔۔  کچھ بھی یہاں کھانے کو مل سکتا۔۔

    وہ بڑبڑا کر رہ گئ۔۔

    کیا کہہ رہی ہو۔۔؟

    جی ہائے کو سمجھ نہ آیا۔۔سوالیہ ہوئی

    کچھ نہیں۔۔ بھوک تو لگ رہی تھی۔۔ سو چاول نگلنے لگی۔۔

    اریزہ یہ بالکل ویسا ہی بریسلٹ پہنے ہے جیسا تم نے اس دن خریدا تھا۔۔ سنتھیا نے کہا تو جی ہائے کے بھی کان کھڑے ہوئے۔۔

    یہ ویسا نہیں وہی پہنے ہے۔۔ اریزہ کا انداز سرسری تھا۔۔

    کیا۔۔

    وہ چیخی۔۔

    تم نے یہ اسے کیوں دے دیا۔؟ اتنا مہنگا اتنے شوق سے خریدا تھا مجھے تو اس دن مانگنے پر نہیں دیا تھا میں پیسے بھی دے رہی تھی۔۔

    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔۔

    جی۔ہائے تھوڑا الجھن سے دیکھ رہی تھی 

    اسے اندازہ تو ہو گیا تھا اسکے بریسلیٹ کے بارے میں بات ہو رہی۔۔

    اریزہ نے اسے آنکھوں ہئ آنکھون میں گھرکا۔۔ 

    پھر مسکرا کر بولی۔۔ اسکو یہ کافی پسند آیا ہے تعریف کر رہی ہے اسکی۔۔ 

    سنتھیا کے تیور کڑے تھے جی ہائے کو یقین تو نہیں آیا مگر مسکرا کر شکریہ ادا کرنے لگی۔۔

    اتنے خلوص سے سالگرہ میں بلایا تھا خالی ہاتھ جاتی کیا۔؟

    اس نے جان کر سالگرہ کا لفظ استعمال کیا۔۔

    تو کچھ اور دے دیتی ۔۔ وہ خفا تھی

    دینے لگی تھی مگر یہ مجھے بہت پسند آیا تھا بری نیت لگ جاتی کچھ اور دیتی تو۔۔ وہی چیز دوسرے کو دی جاتی جو خود آپ کو پسند ہو۔۔ ۔۔ویسے اسکی نازک کلائی مین سج رہا ہے۔۔

    اس نے کہا تو سنتھیا سر جھٹک کر رہ گئ۔۔ جی ہائے نے کھانا ختم کیا اٹھتے ہوئے اسکی رہڑھ کی ہڈی پر ہلکے سے دو انگلیوں سے ہاتھ پھیر کر ٹوکا۔۔

    یہ دیکھو۔۔ سیدھی ہو کر بیٹھو۔۔  ابھی تو نہیں مگر بڑھاپے میں بہت پچھتائوگی۔۔

    اریزہ کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی۔۔ وہ مسکراتی چلی گئ۔۔

    اسے کیا تکلیف ہے۔۔ سنتھیا چڑی۔۔ اریزہ مگر پھر کندھے سیدھے ہی کر کے بیٹھی رہی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون انہیں دیکھ کر سیدھا انکے پاس آیا تھا۔۔ سنتھیا اسے دیکھ کر رک گئ مگر اریزہ ہونہہ کر کے آگے بڑھ گئ۔۔

    اسے کیا ہوا۔۔

    وہ حیران ہوا۔۔

    ناراض ہے میں بھی ہوں ویسے۔۔ اس نے منہ پھلایا۔۔

    کیوں؟

    اسکی حیرت عروج پر تھی۔۔ اریزہ سیدھی چلتی ہوئی فٹ بال کورٹ کی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ گئ۔۔

    کچھ لڑکے فٹ بال۔کھیل رہے تھے اسے ہرگز ان مین دلچسپی نہیں تھی سو بیگ رکھ کر موبائل نکال کر بیٹھ گئی۔

    تم لوگ کل اکیلے گھومتے پھرے پتہ بھی ہے ہم یہاں خود سے کہیں آ جا نہیں سکتے ہمیں بھی لے جاتے کیا بگڑ جاتا۔۔وہ بگڑ کر بولی

    سوری یار۔۔ یون بن  نے ہم سے پوچھا تھا سیول دیکھنا ، ہمیں اندازہ نہیں تھا کیسی جگہ لے جائے گا ورنہ میں خود وہاں یہی سوچ رہا تھا تم لوگ ایکوریم دیکھ کر کافی انجوائے کرتیں خیر پھر چلیں گے کچھ کچھ اندازہ ہو گیا ہے یہاں کا میں تم لوگوں کو لے چلوں گا وعدہ۔۔

    اس نے تفصیل سے بتایا تو سنتھیا کا موڈ بہتر ہوگیا۔۔

    میں سنا ہے یہاں مصنوعی برفزار بھی بنا ہوا ہے۔۔ وہ اشتیاق سے بولی 

    ہاں کل جہاں گئے تھے اسی کے قریب ایک مال کے ٹاپ فلور پر ہے مگر کل ہم کافی لیٹ ہوگئے تھے سو ادھر نہیں گئے ۔۔

    اسے یاد آیا۔۔ 

    یہ میں تم لوگوں کیلئے یہاں کی دو سمز خرید کر لایا ہوں رومنگ تو بہت مہنگی پڑے گی اس سم کو بس یہاں بات کرنے کیلیے اسے استعمال کرنا۔۔

    موبائل بھی تو لانا تھا ٹیکسٹنگ کیلیے۔۔

    سنتھیا ٹھنکی

     پیسے لگتے ہیں میڈم دو سموں والا ہے نا موبائل اسی میں ڈالو۔۔

    ایڈون نے گھورا تو وہ منہ بنا کر بیگ مین ڈالنے لگی۔۔

    میں ویسے دیکھ رہا تھا ایک دو جگہ ہلپر کی جگہ خالی تھی پارٹ ٹائم جاب کیلیے گیا بھی مگر یار سرے سے انگلش نہیں آتی ان لوگوں کو ہم ایک دوسرے سے پتہ نہیں کیا کہتے رہے وہ ہنسا

    تو اپنے ان چینی دوستوں میں  سے کسی کو ساتھ لے کر جانا تھا

    سنتھیا نے کہا تو اس نے تصحیح کی۔۔

    چینی نہیں کورین۔۔ آئندہ لے کر جائوں گا۔۔

    یہی سوچا ہے۔۔

    چلو تمہیں آیسکریم کھلا لائوں۔۔ 

    اس نے کہا تو سنتھیا فورا مڑ کر اریزہ کو پکارنے لگی۔۔ ایڈون نے بازو پکڑ لیا۔۔

    میں تمہیں آفر کر رہا ہوں۔۔

    ہم دونوں بس۔۔

    اس نےسنتھیا کی آنکھوں مین جھانکا۔

    اچھا ۔۔ اس نے کسمسا کر بازو چھڑایا۔۔

    اریزہ ہم آتے ہیں تھوڑی دیر تک ۔۔ اس نے پکار کر کہا۔۔ اریزہ نے سر بھی نہیں اٹھایا۔۔ وہ دونوں ٹہلتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔۔

    ہیون  کٹ بیگ اٹھائے کھیلنے آ رہا تھا سیڑھیاں اترتے ہویئے اسکی نظر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی اریزہ پر پڑی جو گردو پیش سے بے نیاز موبائل پر جھکی بیٹھی تھی۔۔ پتہ نہیں کسی سے بات کر رہی تھی کہ کیا کبھی مسکرا رہی تھی کبھی کچھ سوچنے والی شکل بناتی کبھی لکھ رہی کبھی مٹا رہی۔ ہلکے پیلے رنگ کا کرتا اور پیلے اور نارنجی رنگ کا پرنٹڈ کھلا پاجامہ پہنے بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنائے وہ لاپروا انداز میں مگن بیٹھی تھی اس کا لانبا دوپٹہ  اسکے گرد پھیلا تھا ساتھ ہی سیڑھی پر بھی نیچے تک لہرا رہا تھا۔۔۔۔۔ 

    سپر مین۔۔ اسے ان لڑکیوں کا تبصرہ یاد آیا تو مسکراہٹ دوڑ گئ چہرے پر۔ 

    اسکو شائد نمایاں ہونے کا شوق ہے۔ 

     وہ سر جھٹک کر مسکرایا اسکا رخ میدان  کی جانب تھا۔۔ اسکی ٹیم کے لڑکوں نے گرمجوشی سے اسے خوش آمدید کیا۔ وہ مخصوص ٹیم کی شارٹس والے یونیفارم میں تھے۔  

    اس نے اشارے سے انکو اپنے آنے کی اطلاع دی تھئ۔ وہ سب کھیل میں مگن تھے۔ وہ میدان میں آکر نچلی سیڑھی پر اپنا بیگ رکھ کراسٹریچنگ کرتے ہوئے میچ دیکھنے لگا۔ 

    ایک کھلاڑی نے دوسرے گول کی تیاری کرتے کھلاڑی سے ڈاج دے کر بال چھینا پوری قوت سے لات ماری بال اڑتی ہوئی سیدھا اس سے چند سیڑھیاں اوپربیٹھئ اریزہ کی جانب آرہی تھی اسے ہوش نہیں تھا اسکے منہ پر لگنی تھی۔۔۔۔ وقت نہیں تھا وہ  اچھل کر دو سیڑھیاں اوپر ہو کر بال کے سامنے آگیا۔۔ بال سیدھا اسکے پیٹ میں لگی تھی وہ الٹ کر سیڑھی پر گرا تھا ایک لمحے کو تارے ناچ گئے تھے آنکھوں کے سامنے۔۔

    بال اس سے ٹکرا کر نیچے لڑھکتی گئ۔ لات مارنے والا لڑکا بھونچکا دیکھ رہا تھا کہ لڑکی گئ اسے بال کھا کر گرتے دیکھا تو سب بھاگے چلے آئے۔۔

    اریزہ اسکے گرنے پر چونکی اسکا سر ان سیڑھیوں پر تھا اسکے پیروں میں اس نے فورا پیر پیچھے کیے۔۔ 

    آر یو اوکے۔۔ 

    اس نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ چلایا۔۔ اس کے حواس بحال ہونا شروع ہوئے۔۔ لڑکے بھاگ کر اسکے سر پر پہنچ چکے تھے۔۔ ایک نے اسے سہارا دے کر اٹھایا۔

    وہ پیٹ پکڑتا دہرا ہوا۔۔ 

    جائو پانی لے کر آئو۔۔ کیپٹن نے حکم دیا۔۔ تو اریزہ کو دھیان آیا۔۔ اس نے بیگ سے اپنی بوتل نکال کر اسے پکڑائ۔۔ 

    بچا لیا اسے ابھی ورنہ منہ ٹوٹ جاتا اسکا۔

    اسی لڑکے نے ہنگل میں کہا

    تمہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے اسکا۔۔۔ وہ اریزہ کو کہہ رہا تھا۔۔

    اریزہ کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس بار اس نے انگریزی میں کہا۔۔ 

    کیوں ؟ وہ حیران ہوئی۔۔

      گھونٹ گھونٹ پانی پیتا ہیون سک اسے ہی دیکھ رہا تھا 

    کوئی بات نہیں ۔۔۔۔آنیا۔۔  جانے دو۔۔ 

    ہیون سک نے ہنگل میں کہا تو وہ کندھے اچکا کر اسکا شانہ تھپتھپاتا مڑ گیا۔۔ 

     سب کو ایک ٹک اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ تھوڑا گھبرا گئ۔۔ پلٹ کر اپنی چیزیں سمیٹنے لگی۔سب لڑکے ہیون  کا شانہ تھپتھپاتے واپس میدان میں کھیلنے بڑھ گئے۔۔

    اریزہ مڑ کر جانے لگی تو اس نے آواز دے کر روکا

    آری۔۔۔ زا شی

     وہ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ وہ سیڑھیوں کا سہارا لیتا اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔ 

    پیٹ میں ابھی بھی لہریں اٹھ رہی تھیں 

    آپکی بوتل۔۔ اس نے بوتل پکڑائی۔۔ 

    شکریہ۔۔ اس نے کہا تو وہ مسکرا دی

    اسکا لانبا دوپٹہ اسکی ایڑھی سے الجھ رہا تھا۔۔

    اسے اٹھا لو ورنہ الجھ کر گروگی۔۔

    اس نے کہا تو اریزہ نے چونک کر اپنے پائوں دیکھے پھر دوپٹہ کھینچ کر شانوں پر برابر کیا۔۔ 

    سر ہلا کر پلٹنے لگی اس نے پھر پکار لیا۔۔ 

    اریزہ۔۔ 

    وہ سوالیہ نگاہوں سے مڑ کر دیکھنے لگی۔

    تم اب کوریا میں ہو تمہیں یہاں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تم آرام سے جو مرضی آئے پہن سکتی ہو ۔۔ 

    وہ نہ سمجھنے والے  انداز میں ٹکر ٹکر دیکھنے لگی۔۔

    میرا مطلب اس دن تم کافی مختلف اور اچھی لگ رہی تھیں جینز اور ٹاپ میں تم وہ کیوں نہیں پہنتی ہو ؟ اب تم پاکستان میں نہیں ہو سو یہ روائتی اور اولڈ فیشن کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں تمہیں۔۔ 

    اس نے وضاحت کی۔۔ تو اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔۔

    روائتی اور اولڈ فیشن۔۔۔۔

     اس نے بیگ کو دوسرے کندھے پر منتقل کیا۔۔

    یہ لیٹسٹ اور اسٹایلش ٹرینڈ ہے۔۔ جناب ۔۔ اور میں اچھی خاصی ٹرینڈی اور ماڈرن  لڑکی ہوں پاکستان کی۔۔۔۔ اس نے پوری انگریزی استعمال کر ڈالی۔اسے اچھا خاصا برا لگا تھا۔۔ 

    میرا  اتنا مہنگا نیا سوٹ ثنا صفیناز کا  پہلی بار پہنا تھا کرکری کر دی میری۔۔ 

    وہ اردو میں روہانسی ہو کر بڑ بڑائی

     ہیون سک کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ۔۔

    تم نے وہ نہیں سنا جب روم میں ہو تو ویسا کر و جیسے رومن کرتے۔۔  یا تمہیں ایسی آڈ ڈریسنگ کر کے مرکز نگاہ بننے کا شوق ہے۔۔ 

    اس نے اسکے لہراتے دوپٹے کو چٹکی سے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔۔ 

    اریزہ نے دوپٹہ کھینچ کر چھڑایا۔۔

    جی نہیں ایسی بات نہیں  میرے پاس یہی کپڑے ہیں ۔۔ میں وہی کپڑے لائوں گی نا ساتھ جو پہنتی ہوں۔۔

    اور۔ وہ آگے بھی کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر الفاظ کا ذخیرہ کم پڑ گیا۔۔ بار بار منہ کھولتی پھر منہ بند کرکے اسے دیکھنے لگی۔۔

    ہیون سک اسکی الجھن سمجھ گیا۔۔

    ٹیک یو رٹائم ایم ویٹنگ  

    نہیں مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔۔

    وہ بڑبڑا کر رہ گئ۔

    معزرت اگر تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہو میں نے کسی غلط ارادے سے نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔ پاکستان کےبارے میں رپورٹ بنائی تھئ میں نے تو اندازہ ہے وہ قدامت پرست ملک ہے۔ وہاں پابندیاں ہیں خواتین پر وغیرہ۔ تو مجھے لگا ۔۔ اینی وے۔ اگر تم  اس لباس میں آرام دہ محسوس کرتی ہو تو اچھی بات ہے۔ وہ حسب عادت مسکرایا۔ اریزہ نے ناک چڑھائئ

    آیا بڑامیرا ہمدرد۔مدر ٹریسا نہ ہو تو۔ دل میں بڑبڑائئ 

    ویسے تم مختلف لگتی ہو ایسے کپڑوں میں مگر اچھی لگتی ہو۔۔ وہ کہہ کر سادگی سے مسکرا کرچل دیا۔۔ 

    اتنے غیر متوقع کومپلیمنٹ پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ سیڑھیاں اتر کر بے نیازی سے اپنا بیگ اٹھا رہا تھااسکی نظریں خود پر محسوس ہوئیں تو ایک بارپھر مسکرا کر اسے دیکھا اورمیدان کی جانب بڑھ گیا۔۔

    یہ کیا مردوں کی مونا لیزا ہے؟ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے۔ مانا چھوٹے چھوٹے ہموار سفید دانت ہیں مگر کونسا اسے کولگیٹ کا اشتہار مل گیا۔۔۔ 

    چلو کوئی دنیا میں ایسا بھئ ہے جو ہنستا مسکراتا رہتا ہے۔ سب میری طرح منحوس نہیں۔ 

    وہ آہ بھرتی سوچ رہی تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اسے تھوڑی دیر تو ڈیپارٹمنٹ مین ڈھونڈتی رہی پھر تھک کر ہاسٹل آگئ۔۔ کمرے میں آ کر بیگ وغیرہ رکھ کر زور دار انگڑائی لی تبھی ایک مانوس دھن سنائی دی۔

    وہ آواز کا منبع تلاش کرتی باہر نکلی تو سامنے والے جی ہائے کے کمرے سے ہلکی موسیقی کی آواز آرہی تھی۔۔ 

    اس کے جی میں جانے کیا آئی اس نے دروازہ کھٹکا دیا۔۔ 

    کم ان ۔۔ جی ہائےنے اجازت دی تو وہ کمرے میں داخل ہو گئی

    جی ہائے ایروبکس کر رہی تھی ہائے۔۔

    اس کو دیکھ کر فورا رک گئ 

    ہائی۔ تم کرو اپنا کام۔۔ اریزہ نے کہا تو وہ تولیا اٹھاتی اسکے پاس چلی آئی

    کوئی بات نہیں بس میرا کام ہوگیا تمہیں کوئی کام تھا۔۔

    اس نے پوچھا تو اریزہ نے کندھے اچکا دیے

    نہیں بس وہ میں ایسے ہی یہاں سے گزر رہی تھی تو یہ گانا سن کر ادھر آگئ۔۔

    جے ہی نے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا تو وہ کرسی کھینچ کر وہیں ٹک گئ۔

    تمہیں بھی پسند ہےدوہیون ؟

    وہ حیران ہوئی

    بس یہ گانا سنا تھا کچھ عرصہ پہلے کافی پسند آیا مجھے۔۔ 

    تمہیں سمجھ آتی ہے ہنگل؟ اسکی حیرت دوچند ہوئی۔۔

    نہیں یار وہ ہنس دی۔۔پھر ذہن میں جملہ ترتیب دے کر بولی

     بس دھن موسیقی اچھی لگی آواز بھی اچھی ہے میں ویسے یقیں رکھتی موسیقی کی اپنی الگ زبان ہوتی بلکہ موسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی بس دل کے تار چھیڑ جائے۔۔

    وائو۔۔ بہت شاعرانہ انداز ہے تمہارا۔۔  محبت کرتی ہو کسی سے۔۔ وہ چھیڑ کر بولی

    ارے نہیں یار۔۔ اریزہ نے فورا نفی کی۔

    حیرت ہے۔۔ ابھی تک سنگل ہو۔۔ 

    وہ منہ پونچھتی اسکے لیئے ڈرنک نکالنے لگی۔۔

    بنا چینی کے قہوہ بنا رکھا تھا اسکا میز پر۔۔ اریزہ کے تاثرات بدلے۔قہوے سے اسکی جان جاتی تھئ  مروتا یہ کڑوی دوائی پینے کا ہرگز موڈ نہیں تھا اسکا۔۔

    یہ لو۔

    نہیں شکریا میرا موڈ نہیں اس وقت۔۔

    اس نے سہولت سے انکار کرنا چاہا۔۔

    پیو۔۔ دوا سمجھ کر پی لو۔۔ جڑی بوٹیوں کا قہوہ ہے خون صاف کرتا۔۔ 

    لو جی پکی کوئی کڑوی دوائی ہے۔ اریزہ پر لرزہ طاری ہوا

    اس نے کپ اسکے دوبارہ انکار پر بھی واپس نہیں لیا الٹا ڈپٹ کر بولی۔۔

    چارو نہ چار اسے تھامنا پڑا۔۔

    اس کو کپ پکڑا کر اس نے اسکی پشت پر ہلکے مکا مارا

    کندھے سیدھے کرو۔۔ 

    اریزہ کھسیا کر سیدھی ہوئی 

    تمہاری آج سے ہی ٹریننگ شروع کرتے ہیں کیا یاد کروگی کس مہربان استاد سے پالا پڑا ہے۔۔

    اریزہ کے حلق میں قہوہ اٹک گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکے کہنے پر اسے سویٹ شرٹ اور پینٹ پہن کر واپس آنا پڑا۔۔۔اب  دونوں جاگنگ کر رہی تھیں ۔۔تبھئ گوارا دروازہ کھولتی اندر داخل۔ہوئی۔۔  انکو دیکھ کر شاکڈ رہ گئ۔۔

    ہائے گوارا ۔۔ تیز تیز جاگ کرتے جی ہائے کی اس پر نظر پڑی

    اریزہ اور وہ کسی بات پر ہنس رہی تھیں اسے دیکھ کر ہنستے ہنستے ہی اریزہ نے بھی ہاتھ ہلا کر وش کیا۔۔

    یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے۔۔

    اسکے انداز میں شدید ناگواری تھی۔۔ اپنا بیگ رکھتی وہ جی ہائے کے سر پر آکھڑی ہوئی ان کے بیچ آکھڑے ہونے سے دونوں رک گئیں

    تم نے روم میٹ چینج کرلی ہے کیا۔۔

    نہیں یہ میرے ساتھ بس ورک آئوٹ کرنے آئی ہے۔۔ جی ہائے نے کہا تو وہ بد لحاظی سے اریزہ سے بولی۔ 

    بس ہوگیا آج کیلئے اب تم۔جا سکتی ہو۔۔ 

    اریزہ کو شدید بے عزتی کا احساس ہوا۔ 

    وہ جلدی سے جانے لگی تو جی ہائے نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

    کل پانچ بجے آنا مل کر کنٹینیو کریں گے۔۔ جتنا گوارا کا انداز برا تھا اتنے ہی اچھے طریقے سے جی ہائےنے کہا تو وہ بھی مسکرا کر سر اثبات  میں ہلاتی خدا حافظ کہہ کر چلی گئ۔۔

    وے؟ گوارا چیخی

    تم دونوں یہاں میرے سر پر کودوگی؟

    تم ہوتی ہی کب ہو یہاں مجھے یقین ہے پانچ بجے تم اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہی ہوگی تمہیں کیا فرق پڑ رہا اسکے آنے سے۔۔

    جی ہائے کا انداز خشک تھا

    اور پلیز آئندہ میرے مہمانوں کے ساتھ 

    احترام سے پیش آنا۔۔

     گوارا حیرت سے اسکو دیکھتئ رہ گئ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم کہاں چلی گئیں تھیں؟

    وہ کمرے میں آئی تو سنتھیا آرام سے پیر پسارے لیٹی تھی۔۔

    میں تو ایڈون کے ساتھ تھی تم کہاں تھیں؟

    اس نے الٹا سوال کیا۔۔

    مطلب مجھے چھوڑ کر گھومتی پھر رہی تھیں میں پاگلوں کی طرح پورے ڈیپارٹمنٹ میں ڈھونڈتی پھری۔۔

    بتا کے تو جاتیں۔۔

    بتا کے تو گئی تھی ۔۔ سنتھییا اسکے غصے پر حیران ہوئی۔۔

    کب؟ 

    جب تم گرائونڈ میں بیٹھی فٹ بال دیکھ رہی تھیں

    ۔۔

    سنتھیا اٹھ کر بیگ کھنگالنے لگی۔۔

    میں نے سنا بھی نہیں اور تم۔۔

    اسے ناجانے کیوں اتنا غصہ آرہا تھا۔۔

    اچھا چھوڑو اس بات کو۔۔ یہ لو یہ یہاں کے کسی نیٹ ورک کا کنکشن ہے ایڈون لایا تھا ایک نمبر میں نے رکھ لیا ہے ایک تم رکھ لو۔۔اب ہم یہاں ایک دوسرے سے تو آرام سے بات کر سکیں گے۔۔

    سنتھیا نے سم اسکی جانب بڑھائئ۔۔

    اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر سم لے لی۔۔ 

    مجھے مس کال دو تاکہ نمبر سیو کروں تمہارا۔۔

    اس نے سم ڈال لی تھی 

    مجھے کیا پتہ تمہارا نمبر کیا ہے۔۔

    وہ سابقہ چڑے ہوئے انداز میں ہی بولی۔۔ سنتھیا نے سر جھٹکا۔ اریزہ نے سم نکال کر اسکا ریپر بیڈ پر پھینکا خود سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔ سنتھیا نےاسی ریپر میں سے نمبر نکال کر اسے کال ملا لی۔۔

    کیا ہے وہ بیڈ پر گری۔

    ڈال لی سم بڑی کوئیک سروس ہے۔۔ 

    تو کیا دس سال بعد ڈالتئ۔۔ اریزہ بھنائی

    کیوں اتنا چڑی ہو کس نے دل جلایا ہے۔۔

    سنتھیا ہنس کر پوچھ رہی تھی

    یار وہ گوارا کی بچی پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہے۔۔ بتا رہی ہوں۔۔اسکو میں نے

    وہ پھٹ پڑی سنتھیا نے کال کاٹ دی۔۔ 

    تم ۔۔ اس نے بیڈ کے ساتھ لگی ریلنگ سے نیچے جھانکا۔۔

    وہ آرام سے نیم دراز اوپر ہی دیکھ رہی تھی

    تمہاری آواز موبائل سے زیادہ صاف آرہی ہے بتائو اب کیا کیا اس نے؟

      وہ محظوظ انداز سے پوچھ رہی تھی اریزہ کا غصہ بھی دھواں ہونے لگا۔۔ 

    کچھ نہیں دفع کر و اسے۔۔ پھر کہیں باہر گھومنے کا پلان بنائیں؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ پورے پانچ بجے وہاں موجود تھا۔۔  آرام سے بنچ پر بیٹھ کر وہ دریا پر لوگوں کی سرگرمیاں دیکھنے لگا۔۔ کچھ فیری میں سیر کررہے تھے کچھ دریا کنارے ریت پر باربی کیو کر رہے تھے اسکا انہیں دیکھتے کافی وقت گزر گیا۔۔

    ہوپ جان بوجھ کر دیر سے آیئ وہ ثابت نہیں کرنا چاہ رہی تھی کہ وہ اس دن بھی انتظار کرتی رہی تھی۔۔ 

    وہ آج منتظر تھا تو بار بار نظر گھما کر دیکھ بھی رہا تھا کہ آئی کہ نہیں۔۔ وہ ایزل سیٹ کر رہی تھی جب وہ بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔

    میں آگیا۔۔ اس نے اتنی خوشی سے بتایا ہوپ بے ساختہ مسکرا دی۔۔

    بیٹھو۔۔ اس نے بنچ کی جانب اشارہ کیا۔۔ 

    ٹھیک ہے مگر ہم پہلے پیسے نہ طے کر لیں؟

    آئی میین پورا پرٹریٹ بنانے میں کافی وقت لگے گا تو میں منہ مانگے دام دینے کو تیار ہوں۔

    ہانچ سو وون کافی ہونگے۔۔

    اس نے یونہی کہا۔۔

    کیا؟ وہ چیخ پڑا ۔۔

    اتنے کے تو تمہارے رنگ لگ جائیں گے۔۔ اس نے اسکی رنگوں کی کٹ کو دیکھا تو چپ رہ گیا۔ وہ نئئ کٹ خرید کر لائی تھی ابھی پیکینگ کھول رہی تھی۔۔

    یہ پانچ سو وون کی ہی ہے۔۔ 

    اس نے بھانپ لیا کیا دیکھ رہا ہے۔۔

    تو اس میں تمہاری محنت بھی شامل ہوگی خیر میں ایڈوانس میں یہ دیتا ہوں اس نے ہزار وون نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھے۔۔

    باقی منحصر ہے مجھے اپنا پورٹریٹ کتنا پسند آتا ہے اسی حساب سے پے کروں گا۔۔

    چلو دیر نہ کرو شروع ہو جائو۔۔ وہ آرام سے جا کر بنچ پر بیٹھ گیا۔۔

    ہوپ چند لمحے دیکھتی رہی پھر پیسے اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال کر ایزل پر جھک گئی۔۔

    ہیون سک اسے دیکھتے دیکھتے سوچ میں ڈوب گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کچن میں کافی بنا رہا تھا انسٹنٹ کافی کا ساشے کوڑے دان مین پھینکنے جھکا تو اسے کچھ پیپر رول ہوئے پڑے نظر آئے وہ دھیان نہ دیتا مگراسے شک گزرا اس نے کھول کر دیکھا تو وہ وہی ایبسٹریکٹ آرٹ تھا جو انی ہوپ کو دکھا رہی تھیں 

    کیا کر رہے ہو۔۔ 

    انی پانی پینے آئیں تو اسے کوڑے دان پر جھکے دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔۔

    انی یہ آپ نے پھینکے ہیں ؟

     وہ پیپرز اٹھا کر پوچھ رہا تھا۔۔

    ہاں ۔۔ انی نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔ 

    کیوں انی؟

    کیونکہ یہ کسی کام کے نہیں۔۔ وہ فریج سے بوتل نکال کر پانی گلاس مین بھر رہی تھین۔۔

    مگر آپ تو کہہ رہی تھیں اسکے ڈیزائن آپکے ڈاریکٹر کو کافی پسند آئے تھے۔۔ 

    ہیون الجھن سے دیکھ رہا تھا۔۔ انی گھونٹ گھونٹ پانی پیتے ہوئے اسے غور سے دیکھ رہی تھین۔۔

    مین نے جھوٹ بولا تھا۔۔ اسکا ایبسٹریکٹ آرٹ ہمارے کسی کام کا نہیں اور وہ پورٹریٹ بالکل اچھا نہیں بناتی ہے چہرے کا کٹ اور آنکھیں اسکی کمزوری ہیں سو  ڈاریکٹر نے اسکے تمام پرپوزل ریجیکٹ کر دیے تھے۔۔ چونکہ میں نے ہی اسے اپارٹمنٹ دلوایا ہے اسلیے مجھے اندازہ ہے اسکی فی الحال جاب صرف اسکا اپارٹمنٹ کا کرایہ ہی ادا کر سکتی ہے۔۔ سو میں نے اسکی مدد کرنے کیلیے اسے جاب آفر کی ہے۔۔ 

    انی یہ لڑکی کہیں شمالی کورین مہاجر تو نہیں؟ اسے خیال آیا۔۔

    کرچے۔۔ صحیح۔۔

    وہ مسکرائیں۔۔ جن کورینز کو ہم نے چین میں پناہ دی تھی ان میں زیادہ تر خاندان تھے کم از کم دو تو ایک ہی خاندان کے تھے ہی یہ واحد لڑکی تھی جس کے کسی رشتے دار کو ہم ڈھونڈ نہیں سکے نہ جیلوں میں نہ ہی ویسے کوئی سراغ ملا۔وہ شائد ابھی بھی شمالی کوریا میں ہی ہیں خیر ۔ میں اب اکیلی لڑکی کو کسی ایسی ویسی جگہ اپارٹمنٹ نہیں دلا سکتی تھی اسلیے کافی مہنگا اپارٹمنٹ دلایا ہے وہ کچھ کہتی نہیں مگر مجھے اسکا خیال رکھنا چاہیئے ہے نا۔۔ وہ بوتل بند کر کے فریج میں رکھنے مڑیں۔۔ 

    تو آپ اسے پے کریں گی۔۔

    ظاہر ہے۔۔ انہوں نے کندھے اچکائے۔۔

    پھر بھی آپ اس سے جو بھی بنوائیں کم از کم اسے پھینکیں نہیں۔۔ وہ ان پیپرز کو سیدھا کر رہا تھا۔۔ انی اچنبھے سے مڑیں۔۔

    پھر کیا کروں؟

    مجھے دے دیجیے گا۔۔ وہ مگن سا کہہ رہا تھا۔۔ انی اس بار پوری اسکی طرف گھوم گئیں تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک  گھنٹے میں اس نے اسکیچنگ مکمل کر لی تھی۔۔ سورج ڈھل رہا تھا سو باقی کام آئندہ کرنا تھا۔۔

    وہ چیزین سمیٹنے لگی۔۔

     اپنا موبائل دو۔۔ 

    ہیون سک نے ایکدم سے اسکے پاس آکر کہا وہ اس بری طرح چونکی کہ ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا۔۔ 

    وہ اکڑون بیٹھی اپنا بیگ ٹھیک کر رہی تھی ہیون سک نے جھک کر اسکا موبائل اٹھا لیا۔۔ 

    وہ بیگ اٹھا کر سیدھی ہو کر کھڑی ہوئی وہ اسکے موبائل میں اپنا نمبر سیو کر چکا تھا۔۔

    میں نے اپنی یہاں کھینچی گئ سیلفیز بھیجی ہیں ان سے تمہیں مدد ملے گی کل تو میں یہاں نہیں آسکتا میری کلاس ہے پرسوں کا جب بھی تمہیں فارغ وقت ملے مجھے میسج کر دینا میں آجائوں گا۔۔ 

    وہ خاموش رہی۔۔ پھر ملتے ہیں ۔۔ وہ کہتا ہاتھ ہلاتا چلا گیا۔۔ 

    ہوپ کا دل نہ جانے کیوں اداس ہوگیا تھا۔۔ ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی ہائے

    وہ اپنے ڈورم سے نکل کر نیچے جا رہی تھی جب اریزہ اسے پیچھے سے پکارتی چلی آئی

    آنیانگ ۔۔۔۔ اس نے مسکرا کر وش کیا پھر خیال آیا تو انگریزی میں بولنا چاہا

    آننیانگ واسے ہو۔۔ اریزہ نے اسکے ہی انداز میں کہا۔۔ تو وہ ہنس پڑی 

    تم اچھی لرنر ہو جلد ہنگل سیکھ جائو گی۔۔ 

    اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔

    پھر بولی۔۔ گوارا کو میرا روم میں آکر پریکٹس کرنا اچھا نہیں لگے گا میں پیر سے روز آئوں گی تم یہ نہ سمجھنا کہ میں دو دن پریکٹس نہیں کروں گی میں اپنے کمرے میں بنیادی کسرت کر لوں گی۔۔

    اس نے رٹو طوطے کی طرح کہا تو جی ہائے شرمندہ سی ہوگئ

    تمہیں گوارا کی فکر کر ے کی ضرورت نہیں ہے وہ روم میرا بھی ہے تم اسکی موجودگی میں بھی آسکتی ہو۔۔

    نہیں نا ۔۔ بس میں اور تم ۔۔ وہ اٹکی پھر تھوڑا قریب آکر رازداری سے بولی۔۔ میں نہیں چاہتی کوئی مجھے دیکھے کسرت کرتے ۔۔میں چپکے سے وزن کم کرنا چاہتی ہوں 

    جی ہائے نے سمجھ کر اثبات میں سر ہلا دیا وہ بھی مطمئن ہو کر خدا حافظ کہتی پلٹنے لگی تو جے ہی کو خیال آیا۔۔

    سنو اریزہ۔۔ 

    تم کو جمناسٹک دیکھنے میں دلچسپی ہے نا؟

    ہم ایک لوکل تھیٹر میں چیریٹی شو کر رہے ہیں تم آئوگی؟ میرے دو پاس ہیں ایک گوارا کو دیا ہے ایک تمہیں دوں؟

    ہمم کیوں نہیں اس نے خوشی خوشی حامی بھر لی۔۔

    اس نے اسی وقت بیگ سے پاس نکال کر اسے دیا ۔۔ دو دن بعد ہے میری پرفارمنس شو کے شروع میں ہی آجائے گی سو لیٹ مت ہونا۔۔ 

    بالکل۔۔ بھی نہیں  اریزہ نے مصمم ارادہ کیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم نے دونوں مجھے دینے تھے میں اور یون بن  جاتے میں اکیلی کیا کروں گی۔۔ گوارا چیخ پڑی۔۔

    تم مجھے پہلے بتاتیں کہ تمہیں دونوں پاس چاہیئے

    جی ہائےنہا کر نکلی تھی سو اب تولیہ سے باک خشک کرتی مصروف انداز میں بولی۔۔

    مجھے کیا پتہ تھا تم دوسرا کسی ایرے غیرے کو پکڑا دوگی

    میرے علاوہ تو اور کوئی تمہاری دوست ہے نہیں تم نے ظاہر ہے مجھے ہی دینے تھے پاس۔۔ 

    وہ ناراضگی سے بولی۔۔

    پہلے نہیں تھی مگر اب ہے۔۔ اس نےتولیا ڈورم کی سیڑھیوں پر لٹکاتے ہوئے جتاتے انداز میں کہا۔۔ 

    تم جا کر اس سے کہو کہ تم نے مجھے پاس دینے کا وعدہ کیا تھا تم بھول گئیں تھیں سو اب واپس دےدو۔۔

    گوارا نے حل نکالا

    میں ایسا نہیں کر سکتی۔ اسکا انداز قطعی تھا۔۔ 

    تو یہ دوسرا بھی اسی کو جا کر دےدو میرے کسی کام کا نہیں یہ۔۔ اس نے غصے سے پاس اچھال دیا۔ اسے لگا تھا جی ہائے اسے منائے گی آکر مگر اس نے مزے سے اٹھا لیا پاس۔۔

    ٹھیک ہے میں یہ بھی اسے دے دیتی ہوں۔۔۔ وہ کہتی واقعی باہر نکل گئی

    گوارا نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا پھر اسکی تولیا کا گولا بنا کر سامنے دیوار میں دے مارا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک پاس ہے تمہارے پاس ہم دونوں کیسے جا سکتی ہیں؟میں ایڈون سے کہوں گی چھوڑ آئے گا تمہیں ۔۔ مجھے ویسے بھی جمناسٹک میں انٹرسٹ نہیں۔۔

    وہ سنتھیا کے کندھے سے جھول کر اسے منا رہی تھی 

    ہم ٹکٹ لے لیں گے نا۔۔

    ٹکٹ اور پاس میں فرق ہوتا ہے ایڈیٹ۔۔ ٹکٹ ایسے ہی کسی بھی سیٹ کا ہوگا پاس آگے کی سیٹوں کے ہوتے۔۔

    تو ہم دو ٹکٹ لے لیں گے۔۔ اریزہ کے پاس اسکا بھی حل تھا

    تو اگر ہم نے ٹکٹ ہی لینے تو کسی مووی کے لیتے ہیں فلم دیکھنے چلتے ہیں ۔۔ سنتھیا اچھلی وہ دونوں نیچے بیڈ پر مستیاں کر رہی تھیں ۔۔

    کورین ؟ سمجھ آئے گی۔۔ اریزہ نے منہ بنایا۔۔

    انگلش بھی لگتی ہوںگی ۔۔ سنتھیا نے خیال ظاہر کیا۔۔

    مجھے جی ہائےکی پرفارمنس دیکھنی ہے نا۔۔  وہ بیڈ پر منہ بنا کر گر گئی۔۔ اسکے بچوں کی طرح ضد کر نے پر سنتھیا کو اس پر پیار آگیا۔۔ اس سے لپٹ گئ۔

    اس نے خفا ہو کر منہ پھیر لیا۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی 

    کم ان دونوں نے اٹھنے کی زحمت نہ کی

    جی ہائے اندر چلی آئی۔۔

    تم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتی ہو۔۔

    جی ہائےنے مسکرا کر کہا تو دونوں کھسیا کر سیدھی ہوئیں

    ہاں بہت ہم بچپن کی سہیلیاں ہیں ۔۔ سنتھیا نے فخر سے اسے ساتھ لگایا۔۔ 

    آئو بیٹھو۔۔ اریزہ نے اشارہ کیا۔۔ تو وہ کندھے اچکا کر بولی۔

    نہیں میں بس باہر جا رہی ہوں تھوڑی چیزیں لینی ہیں یہ میں دوسرا پاس لائی تھی گوارا کاموڈ بدل گیا ہے وہ نہیں جا رہی یہ لو تم اپنی دوست کو بھی لے آنا۔۔ اس نے پاس پکڑایا تو اریزہ نے فورا جھپٹ لیا۔۔ 

    اب تو چلو گی نا۔۔ 

    سنتھیا نے منہ بنایا

    گوارا کا چھوڑا ہوا پاس پر جائوں۔۔۔ اب صرف نخرا کر رہی تھی۔۔ 

    اریزہ نے اسکو کندھا مارا تو ہنس دی۔۔ جی ہائے منتظر کھڑی تھی تو اریزہ اب انگریزی میں بولی 

    ہم دونوں آئیں گے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون انھیں چھوڑنے آیا تھا گیٹ پر کہہ رہا ۔

    سوچ لو بہت بور ہوگے ابھی بھی وقت ہے باہر کہیں گھومنے چلتے بلکہ ایکوریم دیکھنے چلتے ہیں۔۔

    ہاں ٹھیک رہے گا۔۔ سنتھیا نے فورا خوش ہو کر کہا تو اریزہ نے اسکے بازو پر باریک سے چٹکی بھری

    تو تڑپ کر رہ گئ منہ بنا کر بولی

    نہیں آج کچھ بھی ہو جائے ہم بور ہو کر ہی رہیں گے میرا مطلب شو دیکھ کر ہی رہیں گے۔۔ اریزہ مسلسل گھور رہی تھی۔۔ 

    چلو جب واپسی کا ارادہ ہو تو آدھا گھنٹہ پہلے بتا دینا میں قریب گھوم لیتا ہوں۔۔ اس نے ٹھنڈی سانس لی۔۔ سنتھیا نے اریزہ کو منہ بنا کر گھورا مگر اریزہ لفٹ کروانے کے موڈ میں نہیں تھی سو دونوں ہال کی طرف چل دیں۔۔

    انکی سیٹس تیسری رو میں تھیں ہال بے حد بڑا اور بھرا تھا افتتاحیہ تقریر کے بعد مختلف خاکے پیش کیے گئے جی ہائےکے گروپ کی پرفارمنس آ کے نہ دے رہی تھی سب کچھ ہنگل زبان میں تھا کوئی ایک آدھ لفظ بھی انگریزی کا نہیں بول رہے تھے اگر بول بھی رہے تھے تو لہجہ اتنا الگ تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کسی نجی سماجی تنظیم کی جانب سے یتیم بچوں کی امداد کیلیے فنڈ ریزنگ کی جا رہی تھی۔۔ تقریب کی منتظم ایک جوان  سی لڑکی تھی دبلی پتلی مگر بے حد گریس فل ٹھہر ٹھہر کر بولتی اسے سمجھ تو نہیں آرہا تھا مگر اسکا انداز اتنا اچھا تھا کہ سننے کو دل کر رہا تھا۔ 

    اس نے نام بتایا تھا اپنا گنگشن ۔۔

    اریزہ مکمل فدا ہوگئ 

    سنتھیا یہ لڑکی کتنی حسیں ہے۔۔ 

    سنتھیا نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔

    اریزہ اپنی دھن میں بولے گئ

    یار میں لڑکا ہوتی تو اس لڑکی کو دل دے بیٹھتی۔۔ کتنی پیاری ہے۔۔ نام کیا ہے۔۔ وہ سوچ میں پڑی 

    نام۔۔ یاد آیا۔۔کنکشنی

    گنگ شن۔۔ اسکی تصحیح کی گئ۔۔

    ہاں وہی گنگشنی۔۔ اس نے لاپروائی سے کہا

    یار اسکے بال کتنے اچھے ہیں سلکی ان لوگوں کے بال اتنے سلکی کیوں ہوتے۔۔

    اریزہ نے پوچھا تو سنتھیا جل۔کر بولی۔۔ 

    انکے بالوں کو چھوڑو اپنے بالوں کی فکر کرو میں نے سب نوچ کر تمہیں گنجا کر دینا ہے۔۔ 

    کیوں ۔۔ اریزہ ڈر کر پیچھے ہوئی

    کیا دکھانے لائی ہو پتہ نہیں زبان کیا بول رہے کیا کیا بول رہے کیوں بول رہے ککھ پلے نہیں پڑ رہا میں ایڈون کو بلا رہئ بس۔۔ 

    اس نے دھمکی دے کر فورا موبایل اٹھا لیا۔۔ 

    نہیں رکو بس تھوڑی دیر اور اگلے پانچ منٹ تک بھی جی ہائے کی پرفارمنس نہ آئئ تو پکا چلیں گے۔۔پلیز میری خاطر۔۔

    اس نے معصوم سی شکل بنا کر منتیں کر کے منا لیا۔۔ مگر اگلے پانچ منٹ تک بھی لگ رہا تھا وہی لڑکی بولتی رہے گی۔۔

    پلیز چپ کر جائو جی ہائے کے گروپ کو بھیج دو۔۔ اس نے مٹھیاں بنا کرلبوں پر رکھ لی تھیں ایسے ملتجی نظروں سے دیکھتے کہہ رہی تھی جیسے وہ سن ہی لے گی اسکی بات۔۔

    بس اگلی جے حی کی ہی پرفارمنس ہے ۔۔ نونا نے انائونس کر دیا ہے۔۔

    اچھا۔۔ اس نے کہتے ساتھ بتانے والے کو بائیں جانب مڑ کر دیکھا تو حق دق رہ گئ۔۔ وہ جب آئی تھیں ساتھ والی سیٹ خالی تھی اوروہ حسب عادت مگن بیٹھی تھی اتنا کہ پتہ بھی نہ چلا کب کون ساتھ آکر بیٹھ گیا۔۔

    ہیون  اسے اتنا حیران دیکھ کر مسکرا دیا۔۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ دونوں آپس میں گپوں میں جتنی مگن بیٹھی ہیں پتہ نہیں چلا ہوگا۔۔ 

    ہمیں بھی فری پاس ملے ہیں ۔۔ اس نے مزید بتایا وہ کھسیا کر مسکرائی۔۔ اسکے ساتھ یون بن اور اسکے ساتھ گوارا بیٹھی تھی۔ یون بن  نے اسے دیکھ کر فورا وش کیا اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا گوارا اسے ہی دیکھ رہی تھی اسکی اس پر نظر پڑی تو منہ بنا کر سامنے دیکھنے لگی۔۔

    وہ سیدھی ہوگئ۔۔ واقعی اگلی پرفارمنس جی ہائےکی تھی۔ جب جب اس ہر روشنی کا گول دائرہ آتا یہ تینوں خوب شور مچاتے ۔۔ باقی وقت کی نسبت سنتھیا نے بھی اسکی پرفارمنس بہت محظوظ ہو کردیکھی

    اسکی پرفارمنس کے بعد یہ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ سنتھیا نے ایڈون کو کال کر دی تھی۔۔ 

    یہ دونوں ہال سے باہر آئیں تو رات کے ساڑھے آٹھ  بج رہے تھے ایڈون اور یون بن باہرکھڑے باتیں کر رہے تھے یہ دونوں بھی وہیں چلی آئیں

    اریزہ تمہیں یون بن  ہاسٹل چھوڑ دے گا میں نے اس سے بات کر لی ہے۔۔  

    صرف اریزہ ؟ سنتھیا حیران ہوئی

    ہاں ہم دونوں زرا گنگم اسٹریٹ تک جا رہے ہیں ۔۔۔ایڈون کا انداز لا پروا تھا۔۔ اریزہ نے مسکراہٹ دبائی

    مجھ سے پوچھا ہے کوئی؟میں تھک گئی ہوں۔۔ سنتھیا نخرے سے بولی 

    میں پیدل نہیں لے جائوں گا۔۔ اڈون اسکی نقل اتار کر بولا

    ۔۔ پھر بھی وہ کچھ کہہ رہی تھی ایڈون اسکا ہاتھ پکڑ کراریزہ کو۔خدا حافظ کہتا لے گیا۔۔ 

    ہاہ کپل فائٹ۔۔ یون بن  نے انہیں جھگڑتے جاتے دیکھ کر آہ بھری۔۔ 

    تم سنگل ہو ۔۔ وہ گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا

    اریزہ بھی ٹک گئ۔۔

    انلاک کر دوں گاڑی اندر بیٹھ جائو۔۔ 

    اس نے کہا تو اریزہ نے سہولت سے منع کر دیا 

    ٹھنڈی ہوا اچھی لگ رہی۔۔ اس نے اشارے سے بھی سمجھایا۔۔ 

    یون بن  اسکے انداز پر مسکرا دیا۔۔ 

    تم اچھی خاصی انگریزی بول۔لیتی ہو بس تھوڑا سا کانفیڈنس کم ہے تم میں۔۔ 

    بڑی نئی بات بتائی۔ وہ اردو میں بولی یون بن  نے اسے دلچسپئ سے دیکھا۔۔

    تم نے بتایا نہیں تمہا را کیا اسٹیٹس ہے سنگل ہو؟

    میرا اسٹیٹس۔۔۔۔ وہ استہزایئیہ ہنسی۔۔ 

    میرڈ اینڈ گیٹنگ ڈیورسڈ سون۔۔ وہ روانی میں انگریزی میں بول گئ۔۔ ایک یہ عادت یہاں آکر پڑی تھئ جو سوچو وہ بول دینا ظاہر ہے اردو میں بولنا نہ بولنا برابر تھا مگر پھر ایسا بھی ہوتا روانی میں جو سوچا وہ انگریزی میں بول ڈالا۔۔ 

    وہاٹ؟

    یون بن حیران ہوا۔۔

    تم شادی شدہ ہو؟ کہاں ہے تمہارا شوہر پاکستان میں؟

    وہ کہہ کر پھنس گئ۔۔

    وہ۔۔ اس نے جملہ ترتیب دینا چاہا۔۔ ایک تو یہ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔ وہ اسکے سوچ کر جملہ ترتیب دینے کا انتظار کر رہا تھا یہ لوگ غلط انگریزی بولنے پر مزاق بھی نہیں اڑاتے تھے اور مسلہ بھی سمجھتے تھے کہ دوسری زبان میں بات کر رہا تو اسے وقت لگے گا جواب دینے میں۔۔ کافی سوچ کر بھی اسسے جواب نہ بن پڑا تو بس اتنا کہہ دیا۔۔

    وہ کینڈا میں ہوتا ہے۔۔ 

    تھیبا( عجیب ) وہ کینڈا میں تم کوریا میں۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ 

    مزید بھی شائد بات ہوتی مگر سامنے سے ہیون  اور گوارا کو آتے دیکھ کر وہ انکی جانب متوجہ ہوگیا۔۔

    اریزہ نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔۔

    یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟

    گوارا نے بد لحاظی سے انگریزی میں پوچھا۔۔ اریزہ سنجیدہ سی ہو کر سیدھی کھڑی ہوگئ

    اسکو ہاسٹل ڈراپ کرنا ہے۔۔ یون بن  نے ہنگل میں ہی کہا۔۔

    ہم کیوں کریں ڈراپ یہ ہمارے ساتھ تو نہیں آئی جن کے ساتھ آئی ہے انکے ساتھ ہی جائے۔۔ گوارا نے پھر انگریزی میں کہہ کر گھورا۔۔ 

    اگر تم تمیز سے بات نہیں کر سکتیں تو ہنگل میں کرو کیا مسلہ ہے تمہیں ڈراپ کرتے ہوئے اسے بھی اتار دیں  گے۔۔ یون بن  کو اسکی بد تمیزی پر غصہ آگیا۔۔ ہیون خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔

    میں اپارٹمنٹ جائوں گی ہاسٹل نہیں جا رہی میں۔ گوارا بھنائی

    چلو تو ہم اسے ڈراپ کر کے تمہیں چھوڑ دیں گے۔۔ جون تائی قصدا لاپروائی سے کہہ کر گاڑی کا لاک کھولنے لگا۔۔

     مگر ہم ڈنر بھی کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے باکل الگ راستہ ہو جائے گا پورے شہر کا چکر لگا کر ہم پہنچیں گے اس وقت ٹریفک بھی بہت ہوتا۔۔

    گوارا ضدی بچے کی طرح پیر پٹخ کر بولی

    تو؟ یون بن کو بھی غصہ آگیا۔۔

    میں کہہ چکا ہوں اسے ڈراپ کر دوں گا اب میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔۔

    اسے ٹیکسی کرادو نا۔۔ 

    اریزہ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔ وہ دونوں ہنگل میں بات کر رہے تھے مگر اسے صاف اندازہ ہو رہا تھا موضوع گفتگو وہی ہے اسے ایڈون پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔اس نے ہتھیلیاں جوڑ کر مسلیں۔  اسکی مجبوری انجان ملک انجان شہر رات کا وقت 

    ابھی پنڈی میں ہوتی تو ۔۔ اس نے زیر لب سوچا۔۔

    یار اسے نہ راستے آتے نہ یہاں کی زبان آتی ۔۔ اکیلے جاتے گھبرا ئے گی جبھی ایڈون نے مجھے کہا تھا۔ سب سے بڑھ کر کمٹ کر چکا ہوں کیوں ضد کر رہی ہو۔۔ یون بن  زچ ہوگیا۔۔ 

    کیا مطلب ۔۔کوئی چھوٹی بچی ہے جو اکیلے جاتے گھبرائے گی ۔۔ گوارا بگڑی

    ہیون اس بار بول ہی پڑا۔۔

    میں ڈراپ کر دیتا ہوں اریزہ کو۔۔ 

    دونوں خاموش ہوگئے۔۔ 

    اب تینوں اسے ہی دیکھ رہے تھے اریزہ جز بز سی ہوئی 

    ایم سوری اریزہ ہمیں ضروری کہیں جانا ہے یہ ہیون تمہیں ڈراپ کر دے گا۔۔ فکر مت کرنا اسکی گاڑی میری گاڑی سے بڑی اور آرام دہ ہے۔ جون تائی بے حد شرمندہ تھا بار بار معزرت کرتا رہا۔۔ 

    اٹس اوکے۔۔ وہ اور کیا کہتی۔ ۔گوارا البتہ معمعولی سی بھی مروت نبھانے کی رودار نہیں تھی تن فن کرتی گئ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔۔

    اریزہ تھوڑا ہٹ کئ کھڑی ہو گئ۔۔

    ہیون جب انکی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئ تو گہری سانس لے کر بولا۔۔ 

    نونا  آجائیں تو چلتے ہیں۔۔

    اندرگاڑی میں بیٹھوگئ یا ہوا کھانی ہے۔۔ ؟

    اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں یونہی گاڑی سے ٹیک لگائے آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔۔ تبھی ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا اپنی چھوٹی بہن کو ان سے کچھ فاصلے پر کھڑے آیسکریم والے سے آئسکریم دلانے لایا۔۔ بچی بھائی کے بازو سے جھول۔رہی۔تھی سو نخرے دکھا رہی ایک۔آیسکریم نکلواتی دوسری آخر ایک پسند آگئ۔۔ تو اب بھائی ہی ریپر کھول کر دے۔۔ جانے اس منظر میں کیا تھا یہ منظر دھندلا گیا کھنچی ہوئی آنکھوں والی بچی کی جگہ بڑی بڑی آنکھوں والی بچی نے لے لی چپٹی ناک والے لڑکے کی جگہ کھڑی ناک والا لڑکا کھڑا بہن لے۔لاڈ اٹھا رہا تھا۔۔وہ ایک ٹک دیکھے گئ

    یہ لو۔

    ہیون نے آئسکریم اسکے سامنے بڑھائی۔۔ 

    وہ چونک کر دیکھنے لگی

    چھوٹے بچوں کو للچائی نظروں سے مت دیکھو خود بھی کھا لو۔۔ ہیون سک نے اسکی نم آنکھوں کو غور سے دیکھتے کہا تھا۔۔ 

    اس نے یکدم تاثرات بدلے تھے

    میں انہیں نہیں دیکھ رہی تھی۔ 

    پھر کن کو دیکھ رہی تھیں پلکیں بھی نہیں جھپک رہی تھیں مجھے تو ڈر ہے ان بے چاروں  کی طبیعت خراب ہو جائے گئ  گھر جا کے۔۔ 

    ایویں۔ اس نے گھورا۔ پھر انگریزی میں بولی

    بولا نا میں انہیں نہیں دیکھ رہی تھی۔۔ 

    پھر کیا آئیسکریم والا پسند آگیا ہے۔۔ تھوڑا عمر میں زیادہ نہیں۔ اس کا انداز سراسر چڑانے والا تھا

    اریزہ نے آیسکریم اسکے ہاتھ سے لے لی۔۔ ہیون  اپنے لیے بھی لایا تھا سو دوبارہ اسکے ساتھ ہی ٹک گیا۔۔ 

     برا نہیں ویسے۔۔ اتنا ہی بڑا ہوگا سجاد بھی مجھ سے۔

    ۔ وہ بڑ بڑائی

    ہوں ہیون چونکا۔۔ 

    تو وہ کندھے اچکا گئ۔۔

    زبان کو زنگ ہی لگ جائے گا میری ۔۔۔۔۔۔اسے فکر ہوئی۔۔ 

    مگر بھوک بھی لگ رہی تھی وہ شوق سے کھا گئ۔۔ 

    ہیون نے اسکی رفتار کو  دیکھا پھر خود بھی جلدی جلدی کھانے لگا۔۔۔۔ تبھی نونا چلی آئیں

    بیا نیئے بیانیئے ۔۔۔

    سوری سوری۔ کام نپٹاتے کافی وقت لگ گیا اب باقی کام اسسٹنٹ پر چھوڑ کر آئی ہوں میں نے کہا میں نے اپنے بھائی کے ساتھ ڈنر کرنا ہے سو بس اب میں اور نہیں رک سکتی۔۔ نونا  تیز تیز بولتی تیز تیز چلتی معزرت کررہی تھیں۔۔بلیک فرل والی لانگ اسکرٹ جالی دار آستینیوں والا بلائوز

    یہ تو وہی میزبان ہیں۔۔ اریزہ حیران رہ گئ۔۔ اتنی دور سے وہ۔جتنی حسین لگ رہی تھیں قریب سے تو اور بھی تمکنت والی شخصیت تھیں۔۔ اسے دیکھ کر چونکیں اور سوالیہ نظروں سے ہیون  کو دیکھنے لگیں۔

    یہ میری کلاس فیلو ہے اریزہ ۔۔ اریزہ یہ میری نونا  میری بہن ہیں گنگشن

    اوہ اس نے انکے اندازمیں جھک کر سلام کیا ۔۔

    آننیانگ

    اسے بھی ڈراپ کرنا ہے ۔۔ اس نے ہنگل میں بتایا وہ سر ہلا گئیں 

    نونا  فرنٹ سیٹ پر بیٹھیں تو وہ انکے پیچھے والی نشست پر براجمان ہو گئ۔۔ 

    کس ملک سے تعلق ہے تمہاراآری زے۔۔ شا۔۔ 

    جی۔۔ وہ اپنے نام پر ہی چونکی۔۔ 

    جی پاکستان۔۔ ۔

    اچھا ۔۔ انہوں سر ہلایا۔۔ اچھا ملک ہے خوبصورت۔ ہوگا تمہیں دیکھ کر لگتا۔۔

    وہ کیا کہتی مسکرا کر رہ گئ۔۔

    کدھر آتو گیا ریستوران۔۔ انہوں نے حیرت سے ہیون کو دیکھا۔۔

    اسے پہلے ڈراپ کر دیں۔۔ 

    کیوں یہ بھی کھا لے گی ہمارے ساتھ۔۔ نونا نے کہا پھر خیال آیا تو انگریزی میں بولیں

    کیوں اریزہ بھوک لگی ہے نا تمہیں؟

    جی جی۔۔ وہ اپنے دھیان سے چونکی۔۔

    جی کا کیا مطلب ہوتا؟

    انہوں نے ہیون  سے فورا پوچھا۔۔

    اسکے فرشتوں کو خبر نہ تھی سو کندھے اچکا دیے۔۔

    اس نے ایک تھری اسٹار ہوٹل کے باہر گاڑی روک دی 

    آئو اریزہ۔۔مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے آج میں بہت کھانے والی ہوں ۔۔۔ نونا  کہتے ہوئے گاڑی سے اتریں

    آپ لوگ جائیے میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔ وہ ہچکچائی

    کیا مطلب؟ پارکنگ میں بیٹھی رہو گی؟

    یہ تو ٹھیک نہیں رہے گا ۔۔ انی نے نفی میں سر ہلایا۔۔

    چلو ہیون  پھر اسے پہلے ڈراپ کر دیتے ہیں میرا کیا ہے تھوڑی دیر اور بھوک برداشت کر لیتی ہوں۔ وہ باقاعدہ منہ لٹکا کر بولیں۔۔ ہیون اسکو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا بتایو کیا کرنا۔۔

    آپ کھا لیں پہلے۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔ 

    انی نے جیسے خوش ہو کر اسکی طرف کا دروازہ کھولا۔۔ اسے نکلنا ہی پڑا۔

    تمہیں چائینیز پسند ہے؟

    انی اسکے ساتھ چلتی پوچھ رہی تھیں۔۔

    ہاں۔۔ واقعی اسے پسند تھا۔۔ 

    چلو اچھا ہو گیا۔۔ میں اور تم ہیون کو دکھا دکھا کر کھائیں گے۔۔

    وہ چٹکی بجا کر بولیں

    مجھے پسند نہیں مگر میں آپ سے زیادہ ہی کھا لیتا ہوں۔۔ ہیون  نے چڑایا۔۔ اندر آکر انی نے پورے ہال پر نظر دوڑائی پھر اپنی پسندیدہ کونے والی ٹیبل کی طرف بڑھیں 

    جلدی کرو۔۔ کوئی اور نہ چھین لے۔۔ وہ اریزہ کا ہاتھ پکڑ کر جیسے دوڑیں۔۔

    اریزہ حیران پریشان گھسٹتی گئ۔۔ ہیون نے مسکراہٹ دبائی۔۔ انی آج فل فارم میں تھیں۔۔

    بیٹھ کر انہوں نے جیسے سکھ کا سانس لیا

    اف۔۔ پتہ ہے ہیون  کے ساتھ جب جب آئی ہوں یہ بھاگتا ہی نہیں ہمیشہ ہمارے پہنچنے تک یہ ٹیبل فل ہو چکی ہوتی ہے۔۔

    کتنی مرتبہ تو میں نے یہ خالی کروائی ہے آپکےلیے خاص طور سے درخواست کر کے اسکا کیا۔؟ ہیون مصنوعی ناراضگی سے بولا۔۔  انی نے لاپروائی سے کندھے اچکایے۔۔

    اگر تم بھاگتے تو محنت نہ کرنی پڑتی نا بعد میں کیوں اریزہ

    ۔ وہ ہر بات میں اسے شامل کر رہی تھیں اریزہ مسکرا دی۔۔

    اریزہ تم کیا کھائو گی۔۔ وہ اب مینیو کارڈ دیکھ رہی تھیں۔۔

    کچھ بھی بس سبزیوں کا بنا ہو۔۔ اس کی پسند سادہ تھی۔۔

    آہاں تم گوشت نہیں کھاتیں ؟ 

    اریزہ بتانا چاہ رہی تھی کہ کھاتی ہوں مگر یہاں حلال نہیں ہوگا۔۔ مگر جملہ بن نہیں پایا۔۔ اس کے چہرے پر الجھن آگئ۔۔

    جی۔۔ اس نے اس پر ہی اکتفا کیا۔۔

    جی اسٹینڈ فار۔۔وہ اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں

    کائنڈ آف یس ۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔

    اوکے۔۔ جی ۔۔ ساوئنڈز گڈ ازنٹ اٹ ہیونا

    وہ بھائی سے تائید چاہ رہی تھیں۔۔ اس نے کیا کہنا تھا سر ہلا دیا۔۔

    تبھی ویٹر کے قریب آنے پر انہوں نے اپنے لیے چاومن نوڈلز اور اریزہ کیلیے پیور سبزی پلائو منگوا لیا۔۔ ہیون نے چکن فرائڈ رائس منگوایا۔۔

    کھانا لگنے تک وہ اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں اسکی کافی جھجک دور ہوئی۔۔ وہ اب پہلے کی نسبت بے تکلفی سے بات کر رہی تھی۔۔

    تمہیں کیسا لگا شو؟ وہ اس سے پوچھ رہی تھیں۔ 

    اچھا لگا۔۔ مزا آیا مجھے۔ اس نے حقیقتا دل سے کہا تھا

    نونا آپ جب کمپیئرنگ کر رہی تھیں تو یہ اتنے شوق سے آپکو سن رہی تھی حالانکہ اسے ہنگل سمجھ نہیں آتی۔ 

    ہیون نے جان کے ہنگل میں انہیں بتایا۔ وہ مسکرا دیں۔ اریزہ خود کو خاصا احمق محسوس کر رہی۔تھی ان کے بیچ بیٹھی۔ 

     ہماری انجمن اکثر ایسے شو منعقد کراتی ہے میں ہیون کو اتنا بلاتی مگر یہ بس پک اینڈ ڈراپ کرنے آجاتا ہے ۔ میں رات کو ڈرائو نہیں کرتی نا۔ 

    انہوں نے دوستانہ انداز میں بتایا۔ وہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیوں مگر موقع نہ ملا۔ وہ اگلی بات شروع کر چکی تھیں۔ 

    اب ہم بریو ہارٹ کا کانسرٹ ارینج کر رہے ہیں۔ آنا تم بھی۔ ہیون کے ساتھ۔ آگے کا پاس دوں گی۔ 

    انہوں نے لالچ دیا۔ اریزہ مسکرادی۔ 

    آپ ہوسٹ کریں گئ اسے؟ اس نے یونہی پوچھا

    شائد۔ وہ پریقین نہیں تھیں پھر بھی سوالیہ ہوئیں 

    کیوں؟

    آپ کا لہجہ اور انداز بہت اچھا تھا ہوسٹنگ کرتے ہوئے میں بہت شوق سے سن رہی تھی آپکو۔ حالانکہ مجھے ہنگل سمجھ نہیں آتی۔ 

    اریزہ نے سادہ سے انداز میں کہا مگر گنگشن حیرت سے ہیون کو دیکھنے لگی جو محظوظ انداز میں جتانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ 

    شکریہ۔ اریزہ ۔ تم بھی ہنگل سیکھو نا آسان ہے۔ 

    وہ پیار سے بولی تھیں اریزہ نے اثبات میں سر ہلا دیایونہی ادھر ادھر کی باتوں میں وقت کا پتہ نہ۔لگا 

    کھانا لگنے پر انہوں نے پہلے اریزہ کے کھانا شروع کرنے کا انتظار کیا۔۔

    پلائو کافی مزے کا تھا۔۔ وہ رغبت سے کھا رہی تھی۔

    یہ دونوں اسکے بر عکس چاپ اسٹکس کا استعمال کر رہے تھے۔۔ 

    وہ شملہ مرچ الگ کر رہی تھی۔۔

    انی نے مسکرا کر اسکی حرکت کو دیکھا تو وہ شرمندہ ہو گئ۔۔

    میں پلائو بناتی تو بہت کم شملہ مرچ ڈالتی ہوں۔۔ پھر بھی میری پلیٹ کا کنارہ ان سے بھرا ہوتا۔۔ امی ۔۔ میری ماں مجھے ڈانٹتی ہیں کھانا ضائع کرنے پر ۔۔ وہ مزے لے کر بتا رہی تھی۔۔ 

    مگر پاپامجھے ڈانٹ سے بچانے کو میری پلیٹ کی سب شملہ مرچیں کھا لیتے۔۔ 

    یہ چند جملے بولنے میں وہ کئی بار اٹکی کئی بار لفظ کم پڑے مگر دونوں اسے دلچسپی سے سنتے رہے۔۔ اسے بولتے ہویے مزا آیا۔۔

    تم اپنے آہبوجی ۔۔ میرا مطلب پاپا سے کافی قریب ہو لگتا ہے۔۔

    ہاں میں ان سے بہت پیار کرتی۔ہوں وہ بھی۔۔ اس کے چہرے پر بے تحاشہ خوشی تھی۔۔

    انی بے حد پیار سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ تو ایسے بھی باپ ہیں دنیا میں جو بیٹیوں پر جان چھڑکتے۔۔ وہ آہستہ سے ہنگل میں بڑ بڑائیں ہیون نے ایک نظر انہیں دیکھا وہ بظاہر مگن تھیں مگر انکے جملے اسکے دل میں ترازو ہو گئے۔۔۔

    کھانا کھا کر نکلے تو دس بج رہے تھے۔۔رات گہری ہو چکی تھی سیول کی رات کی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی۔۔ ہیون  گاڑی نکالنے گیا تھا تو وہ دونوں ایسے ہی ریسٹورنٹ کے باہر چہل قدمی کرنے لگیں

    اسکا ہوا سے دوپٹہ لہرا کر انی کے ہاتھ سے ٹکرایا تو وہ دلچسپی تھام کر ملائمت دیکھنے لگیں۔۔ اریزہ چونکی تو انکی کلائی دیکھتی رہ گئی کیا دودھ جیسا رنگ تھا کالی ڈائل والی رسٹ واچ دمک رہی تھی وہ بڑے غور سے کپڑے کا اندازہ کر رہی تھیں اس نے انکی الجھن دور کر ڈالی۔۔ 

    یہ شیفون ہے۔۔ اس نے مسکرا کر بتایا۔۔

    ایک تو سب اسکے دوپٹے سے متاثر تھے۔۔

    یہ تمہارا روایتی لباس ہے نا۔۔ کافی آرام دہ ہے۔۔ ہم تو اپنا روائتی لباس عام زندگی میں استعمال نہیں کر سکتے اسی طرح بے تحاشہ کپڑا لگتا ۔۔

    وہ ہنس دی۔۔

    تم لوگوں کی فلمز میں میں نے دیکھا اسی کو پورا لپیٹا ہوا ہوتا ہے ہے نا۔۔ زیادہ نہیں بس ایک آدھ ہی دیکھی ہے  مووی بس میں نے

    آپ نے پاکستانی فلمز دیکھیں ہیں ؟

    اس حیرت ہوئی۔۔ اب کچھ اچھی بنی تو تھیں مگر وہ بھی سب پاکستانیوں نے نہ دیکھی تھیں یہ کوریا میں بیٹھ کر دیکھ رہی تھیں حیرانگی از حد حیرانگی۔۔

    ہاں تھری ایڈیٹ دیکھی تھی۔۔ ابھی دنگل دیکھی۔۔

    انہوں نے بتایا۔۔

    اوہ۔۔ وہ پاکستانی فلمیں نہیں ہیں انڈین ہیں۔۔

    وہ منہ بنا کر بولی۔۔

    تو پاکستان انڈیا کا شہر نہیں؟وہ حیران ہوئیں۔۔

    بالکل نہیں میرا پاکستان بالکل الگ ہے انڈیا سے ذیادہ خوبصورت اور اچھا ملک ہے صاف بھی۔۔وہ تنک کر بولی۔۔ 

    انی اسکے انداز پر ہنس پڑیں۔۔ 

    ہاں انڈیا تو بہت لائوڈ ملک ہے ہر وقت لڑائی کو تیار ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔۔

    شمالی کوریا کی طرح۔۔ انی مسکرا دیں

    ہاں۔  اس نے سر ہلایا۔ 

    آپ نہیں جانتی ہر وقت بارڈر پر جنگ رہتی ہمارے۔۔ سویلینز کو نشانہ بناتے رہتے۔۔ وہ انڈیا کے خلاف کافی دیر بول سکتی تھی۔۔

    تم اپنے ملک کا بتائو کیسا ہے۔۔ انی نے اسے غصے میں دیکھا تو بات بدل دی۔۔

    میرا ملک۔۔ وہ سوچ میں پڑی۔۔

    لاہور ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں۔۔

    وزیرستان میں پاک فوج کی کاروائی ایک میجر شہید۔۔

    کراچی ایک بار پھر ڈوب گیا۔۔ کل شام سے ہونے والی تھوڑی دیر کی بارش پورے شہر کو دریا بنا گئ۔۔

    ابھی تک نکاسی آب کا انتظام نہ کیا جا سکا۔۔

    پشاور پر ڈینگی کا حملہ۔۔ اب تک مریضوں کی تعداد ہزار کے قریب ہو چکی اب تک آٹھ افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہاسٹل۔کے باہر اترتے ہوئے انی باقائد ہ اتر کر اس سے ملیں

    بہت اچھا لگا تم سے مل۔کر۔۔ وہ فراخ دلی سے بولیں

    مجھے بھی۔۔ اب تک سیول میں میں نے سب زیادہ آپ سے بات کی ہے اور مجھے بہت اچھا لگاآپ سے مل کر نونا

    وہ تھوڑا حیران ہوئیں ہیون نے ڈرائیونگ سیٹ سے بیٹھے بیٹھے آواز لگائی

    ان کا نام گنگشنی ہے۔۔ نونا یہ میری ۔۔ نونا  انکا نام نہیں بلکہ ہنگل میں لڑکے اپنی بہن کو کہتے ہیں۔۔

    اوہ سوری۔۔ اریزہ خفت زدہ ہوئی۔۔ 

    کوئی بات نہیں تم مجھ سے چھوٹی ہی ہوگی تم مجھے انی کہہ سکتی ہو مجھے اچھا ہی لگے گا۔۔ وہ پرخلوص مسکراہٹ سے بولیں تو اریزہ  نے خوش ہو کر گرم جوشی سے نہ صرف ہاتھ ملایا بلکہ حسب عادت گال سے گال ملا کر ملی۔۔ انی کیلیے یہ انداز کافی غیر متوقع تھا۔۔ کوریا میں اس طرح گلے ملنا پسند بھی نہیں کیا جاتا جھک کر دور سے الوداعیہ ملتے۔۔

    مگر سچ یہ کہ انکےلیے یہ مختلف ضرور تھا مگر اریزہ کے چہرے پر بکھری پر خلوص مسکراہٹ دیکھ کر انہیں برا نہیں لگا تھا۔۔ وہ ہاتھ ہلاتی ہیون سک کو علیحدہ شکریہ کہتی اندر چلی گئی تھی۔۔

    یہ کیا تھا۔۔ ہیون سک نے ہنس کر ان سے پوچھا۔۔ 

    وہ کندھے اچکا گئیں

    شائد اسکے ملک میں ایسے ہی ملتے ہوں۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا۔۔ 

    مجھ سے تو ہاتھ بھی ملا کر نہیں گئی۔۔ وہ حیران تھا۔۔ 

    تم بڑھا لیتے ہاتھ۔ انی نے شرارتی انداز میں کہا تو وہ ہنس کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔

    ویسے آپ نے ناحق اپنی توانائی ضائع کی۔۔ وہ بھی شرارتی انداز میں بولا۔۔

    میں اسکو اپنی لڑکی کی طرح نہیں دیکھتا ہماری تو دوستی بھی نہیں ہے آج یون بن  کے کہنے پر ڈراپ کیا ہے بس۔۔ 

    انی کھلکھکلا کر ہنس دیں

    میں واقعی یہی سمجھی تھی۔۔ آج تک تو کوئی لڑکی تمہارے ساتھ نہ دیکھی ۔۔ میں تو خوش ہوگئ تھی کہ میرا بھائی بھی نارمل ہے۔۔ ویسے باتونی ہے تمہارے جیسی۔۔ دوستی تو کرلو۔

    یہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے اس نے شانے اچکائے۔۔

    اس کے زہن میں اس وقت شام کے دھندلکے میں سنہرا چہرہ لہرایا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

    وہ ایک بجے کے قریب پہنچی تھی ہاسٹل۔۔ہاسٹل سنسان ہو رہا تھا سب سو چکے تھے اس نے آہستہ سے آکر کمرے کا دروازہ کھولا تو لائٹ بند تھی۔۔ اریزہ اوپرشائد سو چکی تھی۔۔۔اس نے دروازہ بند کیا چند لمحے دروازے سے ہی ٹیک لگا کر کھڑی رہی اسکا دل ابھی بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا سانسیں نا ہموار تھیں وہ دبے قدموں چلتی ہوئی آکر بیڈ پر گر سی گئ۔۔ اسکے زہن کے پردے پر کوئی منظر تازہ ہوا تھا اسکے چہرے پر دھیمی سی مسکان در آئی۔۔ اس نے تکیا کھینچ کر بانہوں میں دبوچا اور کروٹ لے لی۔۔ اسے مگر آج نیند نہیں آنے والی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا چہرہ گول نہیں ہے اور میری آنکھیں تو اتنی چھوٹی نہیں ۔۔میں اگر کم از کم دس کلو وزن بڑھا لوں تب شائد ایسا لگوں۔۔۔

    ہیون کو بالکل اپنا اسکیچ پسند نہیں آیا 

    ۔۔۔

    میں دوبارہ بنادیتی ہوں ۔۔ وہ شرمندہ ہوئی۔۔

    ہم وہ جیسے مطمئن ہوگیا۔۔

    یہ تصویر ضائع مت کرنا اسی پوز میں دوبارہ بنائو مگر اس بار میرے اسکیچ کو تھوڑی ڈائٹنگ کرا دینا

    ہیون سک نے روانی میں کہا وہ بھی سر ہلا گئی پھر اسکے جملے پر غور کیا تو مڑ کر اسکئ شکل دیکھنے لگی۔۔

    وہ مسکرا رہا تھا۔۔

    وہ اسے دیکھتی رہ گئ۔۔

    چند لمحے تو وہ مسکراتا رہا مگر وہ چونکی بھی نہیں تو اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا دی۔۔

    وہ یکدم ہوش میں آئ۔۔ سٹپٹا کر اس نے رخ پھیر لیا۔

    مجھے یہاں بیٹھنا پڑے گا یا تم میری تصویروں سے کام چلا لوگی۔۔ ؟

    کام چلا لوں گی۔۔ اس نے بہت آہستہ آواز میں کہا۔۔

    گڈ۔۔ میرے لیے ٹک کر بیٹھنا کافی مشکل کام ہے۔

     آخری بار ٹک کر بچپن میں ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا تھا تب مجھے severe constipation ( قبض ) تھی۔۔ وہ سادگی سے بتا رہا تھا۔۔ہوپ کو بے ساختہ ہنسی آگئ۔۔

    ہیون مسکرا دیا۔۔ 

    میں اتنی ماہر تو نہیں تمہیں پیسوں کا بھی مسلہ نہیں تم مجھ سے ہی کیوں بنوا رہے ہو اپنا پورٹریٹ؟ کسی پروفیشنل کو ہائر کیوں نہیں کرتے۔۔ اسکے زہن میں اچانک سوال آیا تھا سو یکدم پلٹ کر پوچھنے لگی۔۔

    وہ گڑبڑایا

    وہ میں

    ہاں ٹھیک ہے میرے پاس پیسے ہیں مگر پرفیشنل جتنے لے گا اس سے آدھے میں تم سے بنوا لوں گا۔۔ اس ے سوجھ گیا تھا جواب ۔

    ۔ ویسے بھی تم اچھی خاصی تصویر بنا لیتی ہو بس یہ آنکھیں اور تھوڑی کا مسلہ ہے ابھی یہ میرے سے زیادہ آہبھوجی کی تصویر لگ رہی تم نئ تصویر میں یہ ٹھیک کر دو تو میرے بڑے بھائی جیسی تو لک تو آہی جائے گی۔۔

    ہوپ کے تیزی سے سکیچ بناتے ہاتھ رکے۔۔ اسے کوئی خیال آیا تھا۔۔ 

    کیا سوچنے لگ گئیں؟

    میں ویسے اپنی تصویر کا پرنٹ آئوٹ بھی نکال کر لایا ہوں۔ اسے یاد آیا۔۔ اس نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر رول کیا ہوا پرنٹ آئوٹ نکالا۔۔ 

    یہ دیکھو اس نے ایزل کے برابر ہی بڑی تصویر نکال کر سیدھی کی۔۔ میں نے سوچا تم موبائل کی چھوٹی سی اسکرین سے دیکھ کر کیسے میرے فیچرز کا اندازہ کر سکوگی۔۔ 

    بڑا سا ہیون کا مسکراتا ہوا چہرہ اسکی غلافی آنکھیں اسے بہت قریب سے دیکھ رہی تھیں اس نے بلا ارادہ پرنٹ آئو ٹ رول کر دیا۔۔ ہیون نے حیرت سے اسکی حرکت کو دیکھا تو اسے بھی احساس ہوا۔۔ گڑبڑا کر بولی

    میں اسے رکھ لیتی ہوں گھر جا کر آرام سے اسے دیکھ کر بنائوں گی۔۔ 

    گوما وویو۔۔ اس نے تھوڑا سا جھک کر شکریہ ادا کیا۔

    مرضی ہے۔۔ اس نے بھی شانے اچکا دیے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنتھیا۔۔ اسے چوتھی بار اٹھانے آئی تھی ۔۔وہ کسمسا کر رہ گئ۔۔

    کیا ہوا ہے یونی نہیں جانا۔۔؟ وہ تنگ آگئ۔۔

    نہیں۔۔ اس نے پھر کروٹ بدل لی۔

    اچھا ناشتہ تو کر لو۔۔ اس نے زچ ہو کر کہا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔ دفع ہو اسے اس کے حال پر چھوڑ کر وہ خود ہی تیار ہونے چل دی

    وہ کلاس میں حسب عادت سب سے اگلی رو میں ہی جا کے بیٹھی۔۔ اسے اکیلا بیٹھے دیکھ کر شاہزیب پیچھے سے اٹھ کر اسکے پاس آیا۔۔ 

    سنتھیا نہیں آئی۔۔؟

    نہیں شائد اسکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ 

    سالک نے جتاتی نظروں سے شاہزیب کو دیکھا۔۔ 

    ایڈون بھی نہیں آیا۔۔ اس نے یونہی پوچھا۔۔

    وہ سر جھٹک کر بولا۔۔ 

    آج اسکی بھی طبیعت خراب ہوگئ ہے۔۔ 

    دونوں نے کھا لیا ہوگا باہر کچھ الٹا سیدھا۔۔ 

    اریزہ نے سادگی سے کہا۔۔ شاہزیب نے غور سے اسکی شکل دیکھی وہ سادہ سے انداز میں بول رہی تھی۔۔

    وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔ 

    اریزہ نے الجھن سے اسکے انداز کو دیکھا۔مگر وہ پلٹ کر اپنی سیٹ پر چلا گیا۔۔

    کلاس کےبعد وہ واپس ہاسٹل آرہی تھی جب اسے جی ہائے اور گوارا رستے میں ملیں

    شاپنگ پر جا رہے چلو گی؟

    جی ہائے نے  پوچھا تو سوچ میں پڑگئ۔۔ 

    اب اسے کیوں ٹانگ رہی ہو ساتھ۔۔ گوارا نے بیزاری سے کہا۔۔جی ہائے نظرانداز کر گئ۔۔ 

    ہاں مجھے بھی کچھ لینا ہے میں بس دو منٹ میں آئی۔۔

     ہم یہیں انتظار کر رہے ہیں۔ اس نے کہا تو وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ڈورم کی طرف بڑھ گئ۔

    ۔ سنتھیا  تم نے کچھ لینا ہے؟ وہ بولتی ہوئی کمرے میں آئی تو کمرہ خالی تھا۔۔ 

    یہ کہاں گئ۔۔ صبح تو اتنی طبیعت خراب تھی۔۔ اس نے حیرت سے خالی کمرے کو دیکھا۔۔ پھر اپنا بیگ رکھ کر کلچ نکال لیا پیسے کم لگے تو الماری سے مزید نکال کر رکھے اور الماری لاک کر دی۔۔ 

    پانچ منٹ لگے ہونگے اسے مگر گوارا سخت چڑ چکی تھی۔۔ جی ہائے کے سر پر ٹہل ٹہل کر بڑ بڑا رہی تھی۔۔ وہ لاپروائی سے موبائل میں لگی رہی۔۔ 

    آگئ بس کرو بڑبڑانا۔۔ اس نے دور سے آتے دیکھا تو بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگئ۔۔ گوارا نے سخت چڑ کر اسے دیکھا۔۔ پتہ نہیں کیا جادو کیا ہے اس نے اس پر۔۔

    وہ ٹھیک ٹھاک جیلس ہو رہی تھی۔۔

    تینوں کیب کے زریعے مارکیٹ آئی تھیں 

    جی ہائے اور گوارا گارمنٹس کی شاپ میں گھس گئیں وہ جیولری کارنر کی طرف بڑھ گئ۔۔ 

    اسے ایک بے حد نازک سے صلیب پسند آئی چھوٹی سی چین جو بس گردن کے گرد ہی پوری آتی اس میں ہنسلی کی ہڈی کے درمیانی جوڑ پر آٹکتی۔ اس نے اپنی گردن پر لگا کر دیکھا اور مطمئن ہو گئ۔۔ 

    ساتھ ہی اسے حسب عادت بریسلیٹ پسند آگئے 

    وہ نازک سا بریسلیٹ تھا جس میں چھوٹے چھوٹے سنہری گھنگھرو تھے  اس نے کلائی میں ڈالا اسکی گوری کلائی میں دمک اٹھا۔۔ اسے ایک اور کلائی یاد آئی جو اس سے بھی زیادہ گوری تھی۔۔ اف یہ لوگ کتنے گورے ہوتے

    ۔ اس نے بریسلیٹ رکھ دیا 

    کیا ہوا میم پسند نہیں آیا یہی چیز سلور میں بھی ہے۔۔ 

    سیلز گرل نے اسے ویسا ہی سلور بریسلٹ دکھایا

    ۔ واہ یہ بھی بہت پیارا ہے۔۔ اس نے اسے بھی ہاتھ میں اٹھا لیا اور سنہرا بھی۔

    ۔ کونسا لوں؟ وہ کنفیوز ہوگی

    آپ کو دونوں پسند آرہے تو دونوں لے لیں آپکو ڈسکائونٹ بھی مل جائے گا۔۔ اس نے بھانپ لی تھی اسکی پسندیدگی سو لالچ دےدیا۔۔ 

    اریزہ نے ایک لمحے کو سوچا پھر دونوں خرید لیے۔  اس نے چین اور بریسلٹ علیحدہ علیحدہ گفٹ میں پیک کروایا۔۔  وہ فارغ ہو کر جی ہائے کے پاس چلی آئی۔۔ وہ ایک ٹاپ ٹرائی کرکے دیکھ رہی تھی۔۔ بلیک سمپل سا ایک شولڈر والا ٹاپ تھا جس کے ایک کندھے پر نازک سی سنہری کڑھائی کا پھول بنا ہوا تھا۔۔ 

    کیسی لگ رہی ہوں؟ جے ہی نے آئنے میں اسکا عکس ابھرتا دیکھ کر پوچھا تھا

    اس نے اشارے سے کہا پرفیکٹ۔۔ وہ مطمئن ہو گئی۔۔

    گوارا اسے پہلے بتا چکی تھئ اس وقت بھی منہ بنا کر رہ گئ۔۔ 

    شاپنگ کر کے وہ لوگ سپر اسٹور گھس گئیں

    اس نے سپر اسٹور سے بس کھانے پینے کی ہی چیزیں لیں خشک کین فوڈ پھلوں کے ٹن، چیز لینے لگی تو جی ہائے نے ٹوک دیا۔۔

    روز چیز سینڈوچ کھاتی ہو یہ اچھی بات نہیں ۔۔ وہ جھینپ گئ اور اسے رکھ کر جیم اٹھا لیا۔۔ 

    دو تین گھنٹے گھوم پھر کر وہ واپس آئی تب بھی سنتھیا نہیں آئی تھی۔۔ اس نے آرام سے ساری شاپنگ ٹھکانے لگائی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تمہارے لیئے لیا تھا میں نے۔ گوارا نے اپنے شاپنگ بیگ سے ٹاپ نکال کر اسکے بیڈ پر رکھا۔

    جی ہائے چونکی۔ 

    کیوں؟ 

    ایویں ۔ وہ کندھے اچکا کر اپنے بیڈ پر بیٹھ کر اپنی شاپنگ نکال نکال کے دیکھنے لگی۔ جی ہائے نے ٹاپ کا ٹیگ اٹھا کر دیکھا۔

    یہ سب سے مہنگا ٹاپ ہے ہماری شاپنگ کا تم نے میرے لیئے لیا ؟ پیسے کہاں سے آئے۔ 

    جی ہائے کے تیور کڑے ہوئے۔ 

    کیوں میں تمہیں گفٹ نہیں دے سکتی۔ سالگرہ گزری ہے ابھی تمہاری۔سوری مجھے گائوں جانا تھا اس دن آ نہ سکی۔ 

    وہ جان کے اسکی جانب سے رخ موڑ کر فراٹے سے بولتی گئ

    تم نے مجھے اریزہ کے ہاتھوں گفٹ بھجوا دیا تھا سالگرہ کا۔ 

    جی ہائے تفتیش کے موڈ میں تھئ۔ 

    ہاں تو کیا بلا وجہ تحفہ نہیں دیا جا سکتا تمہیں۔ وہ سٹپٹا کر اٹھ گئ۔۔ 

    اس آدمی نے تمہیں پیسے دیئے ہیں مجھے تحفہ دلانے کے ہے نا۔ 

    اس نے غصے سے آکر اسکا بازو پکڑ کر اپنی جانب رخ کیا

    ہاں۔ اب جائو باہر کوڑے میں پھینک آئو۔ محبتیں جھٹکنا کوئی تم سے سیکھے۔سگا باپ ہے جسے تم آہجوشی کہتی ہو۔ تمہاری ماں اور تمہارے باپ کی کبھی نہیں بنی۔ وہ مزہب نہ بھی بدلتے تو ان کا اکٹھے رہنا مشکل تھا۔ تم صرف اپنے باپ سے ہی کیوں ناراض ہو۔ 

    گوارا کو شائد پہلی بار یوں کھل کے کہنے کا موقع ملا تھا۔

    کیونکہ میرے ماں باپ سب اختلافات کے باوجود اکٹھے رہتے آئے ہیں الگ انکو انکے فیصلے نے کیا۔ نا کرتے وہ یہ فیصلہ تو ۔۔۔ 

    جی ہائے بولی مگر گوارا نے بات کاٹ دی۔

    تو؟ اکٹھے نہیں تو کیا وہ محبت کرتے ہیں تم سےاگر محبت کا موازنہ کرو تو تمہاری ماں اپنے نئے شوہر اور بچوں میں مگن تمہاری سالگرہ بھول چکی ہے۔ 

    اس نے تلخی سے اسے آئینہ دکھایا۔ جی ہائے چپ سی رہ گئ

    آہجوشی نے منت کی تھی میری کہ تمہارے لیئے تحفہ لوں مگر تمہیں بتائوں نا کہ انہوں نے پیسے دیئے ہیں۔ مگر اب تمہیں پتہ لگ گیا جائو باہر پھینک آئو بلکہ اپنی اس نئی سہیلی کو دے دو جاکر بے چاری روایتئ کپڑے پہنتی ہے۔لیکنپ

     یہ مت بھولنا کہ تمہارا باپ تمہارے ہر برے رویئے کے باوجود بھولتا نہیں ہے تمہاری سالگرہ تمہاری ماں کی۔طرح۔ 

    وہ جتاکر کہتی  ہوئی باتھ روم میں گھس گئ۔ زور سے دروازہ بند کیا۔ جی ہائے نے ٹاپ کو مروڑ کر بیڈ پر گولا سا بنا کر دے مارا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دستک پر حسب عادت اس نے اند رآنے کا کہہ دیا تھا

     جی ہائے دروازہ کھٹکاتی چلی آئی۔۔ 

    یہ میں تمہارے لیے لائی ہوں

    اس نے ایک بیگ پکڑایا۔۔ 

    یہ کیا ہے اس نے حیرانی سے وصولا۔۔ 

    بے حد خوبصورت ٹی پنک سلیو لیس گھٹنون تک کی فراک تھی۔۔ 

    کیسا لگا۔۔وہ اشتیاق سے پوچھ رہی تھئ

    بہت پیارا ہے۔ اس نے دل سے کہا۔ 

    تبھئ سنتھیا ہنستی مسکراتی چلی آئی۔۔

    کیا ہو رہا ہے ؟ اس نے آتے ہی ٹاپ پر جھپٹا مارا۔۔ساتھ لگا کر آئنے میں دیکھنے لگی۔۔ 

    جی ہائے لائی ہے میرے لیے۔۔ اریزہ نے بڑے شوق سے بتایا۔۔

    بڑی بات ہے۔۔ وہ ٹاپ اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی۔۔

    میں چلتی ہوں ۔۔ جے حی اس کو دیکھ کر رہ گئ۔۔

    یہ میں لے لیتی ہوں۔۔ سنتھیا نے جے حی کے نکلتے ہی اسے کہا۔۔

    کس خوشی میں؟

    اریزہ کمر پر ہاتھ رکھ کر دوبدو ہوئی۔۔

    تم سلیو لیس کہاں پہنتی ہو۔۔ میرے پاس اسی کلر کی ٹائٹس بھی ہیں۔۔

    مین پہنتی نہیں ہوں مگر پہن سکتی ہوں ۔۔ یہ گفٹ ہے میرے لیے لائی ہے وہ لائو دو ادھر ۔۔ اس نے بنا لحاظ چھین لیا۔

    ہونہہ۔۔ ویسے تم مجھے کیا گفٹ دے رہی ہو۔۔ 

    کل برتھڈے ہے میری۔۔ اسے یاد آیا۔۔ 

    اچھا۔۔ اریزہ حیران ہوئی۔۔

    کل۔ہے؟ مجھے تو لگا تھا ابھی دو دن ہیں۔۔ میں نے تو تمہارے لیے لایا بریسلٹ بھی جے حی کو دے دیا ۔۔ وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی

    کیا۔۔ اسلیئے تم مجھے وہ بریسلیٹ نہیں دے رہی تھیں

    اس پر تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔۔

     اور تم نے میرا بریسلیٹ اسے دے دیا۔۔  کمینی۔۔

    وہ اسے مارنے لپکی اریزہ ہنستی بھاگ کر بیڈ پر کودی مگر ستنتھیا تیز تھی بھاگ کر بیڈ پر چڑھی اور اریزہ کو موقع دیے بغیر دھنا دھن تکیے سے اسکی ٹھکائی شروع کردی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم واقعی اسے دے آئیں۔

    گوارا کا بس نہیں تھا کہ اسکا سر پھاڑ دے۔ 

    خود ہی تو کہا تھا جی ہائے بے نیازی سے کندھے اچکا کر بولی

    مجھے اتنا پسند آیا تھا میرے منہ پر مار دیتیں۔ 

    وہ روہانسی ہوئئ

    تمہیں دےدیتی تاکہ تم ہر دوسرے دن چڑھا کر میرے سامنے پھرتی مجھے یاد دلاتیں کہ وہ مںحوس تحفہ کسکا دیا ہوا ہے۔ اریزہ تو ہو سکتا کبھی پہنے بھی نا وہ ڈریس۔ 

    جی ہائے کی منطق پر گوارا نے آنکھیں پھاڑیں

    اخیر دماغ پایا ہے تم نے۔۔ میں تمہاری سطح تک نہیں پہنچ سکتی۔۔ وہ سر دھن رہی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٹھیک بارہ بجے اسکا فون بجا تھا۔۔ 

    اس نے فون اٹھانے کی بجائے گردن اٹھا کر اوپر دیکھا اریزہ اوپر ریلنگ سے جھکی اسے فون اٹھانے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔ 

    اس نے ہنس کر کان سے لگایا

    ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔ سنتھیا سالگرہ مبارک ہو۔۔

    پھر کچھ عجیب سا گانا بھی گایا۔۔

    اس کے کان سن ہو گئے۔۔ فورا فون کان سے ہٹا کر اسے گھورا۔۔ اسکی ویسے بھی اچھی خاصی تیز آواز تھی اب تو واقعی چیخ رہی تھی۔۔

    تمہارا یہ گفٹ ہے کہ میری سالگرہ پر مجھے بہرا کر دو۔۔

    سنتھیا نے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی ہاتھ میں پکڑا گفٹ اسکے سچ مچ منہ پر دے مارا۔۔ 

    وہ بروقت جھکائی دے کر کیچ کر گئ۔۔ 

    فون بند ہوچکا تھا اب دونوں براہ راست بات کر سکتی تھیں۔۔

    کتنی انوکھی وش کی ہے میں نے تین زبانوں میں 

    سالگرہ مبارک۔۔ کہا ہے۔۔ اس نے مزید بتایا۔۔

    تیسری کونسی۔۔ اسے وہ غیرمانوس الفاظ پر مشتمل گانا یاد آیا۔۔ 

    ہنگل۔۔ سینگئ چوکھا ہمبندا ۔۔۔ سالگرہ مبارک ہو اور آگے کا جملہ پتہ ہے جی ہائے سے دو دن میں سیکھا ۔۔ اسکا مطلب آگے سے بنتا تم پیدا کیوں ہوئے۔۔ وہ ہنسی۔۔

    سنتھیا جو گفٹ کی پیکنگ کھول کھول کر تھک رہی تھیں کھولنا چھوڑ اسے گھورنے لگی۔۔

    کسی کو اسکی سالگرہ پر یہ کہا جاتا ہے۔۔؟

    اس نے کندھے اچکا دیے۔۔

    یہ لوگ تو ایسے ہی  کہہ دیتے ہیں 

    ویسے بارہ بجنے میں دو منٹ ہیں اس نے موبائل چیک کیا۔۔

    عین بارہ بجے کا کوئی اور انتظار کر رہا ہوگا۔۔ اور میرا دل تھا میں سب سے پہلے تمہیں وش کروں۔۔

    وہ ریلنگ پر تھوڑی ٹکا کر بولی تو سنتھیا کا دل ہی آگیا جیسے اس پر۔۔ 

    گفٹ کھولو۔۔ نا۔۔ 

    اسکے ہاتھ رکےتو فورا اریزہ نے ٹوکا۔۔ 

    تبھی اسکا فون بج اٹھا۔۔

    اس نے فورا لپک کر فون اٹھایا۔۔

    ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈیئر سنتھیا ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔ 

    ایڈون لہک لہک کر گا رہا تھا پیچھے یون بن گٹا ر بجا رہا تھا۔۔ 

    مے یو ہیو مینی مور مے یو ہیو مینی مور ہیپی برتھ ڈے سنتھیا ہیپی برتھ ڈے ٹووو یووووووو۔۔۔ 

    سنتھیا کی آنکھیں بھرنے لگیں۔۔

    یون بن  اور کم سن بھی پیچھے سے وش کر رہے تھے ایڈون نے انکی جانب فون کا اسپیکر کر دیا۔۔ تھینک یو سو سو مچ ۔۔تھینکس کم سن اینڈ یون بن تھینکس آلوٹ۔۔ 

    اس نے شکریہ ادا کیا۔ یہ میری سب سے بہترین سالگرہ کی وش تھی ایڈون۔۔ اسکی خوشی سے آواز بھرا رہی تھی۔۔ اریزہ کچھ دیر انتظار کرتی رہی مگر اسکی کال بند نہیں ہو رہی تھی آواز دھیمی ہوتی گئی تو وہ ریلنگ سے ہٹ گئی۔۔ اسکا گفٹ ابھی بھی کھل نہیں پایا تھا۔۔ 

    اس نے بور ہو کر لیپ ٹاپ اٹھا لیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوست سنگل رہنے چاہیئیں ۔ جو سنگل نہیں رہتے وہ دوست بھی نہیں رہتے۔۔ ہم ایسا کیوں کرتے سب سے زیادہ جلدی ہم دوست بناتے اور سب سے زیادہ جلدی دوستوں کو ہی چھوڑ دیتے۔۔ نئے رشتے پرانے ساتھ سے اہم تو نہیں ہو جاتے مگر پرانے ساتھی کو ہم فار گرانٹڈ لے لیتے۔۔ ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔۔ بے غرض دوست قیمتی اور شاذ ہوتا اسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہیئے۔۔ کیونکہ بریک اپ کے بعد آپکو دوستوں کی ہی ضرورت پڑتی ۔

    اس نے پوسٹ کر دیا۔۔

    کافی بکواس ہی پوسٹ ہے وہ فورا ڈیلیٹ کرنے لگی تھی مگر کچھ کمنٹ آگئے تھے۔۔

    ۔۔۔۔

    پہلا: ہر ایک دوست کمینہ ہوتا ہے

    دوسرا: بچی آج ہے کل نہیں دوست نے کہاں دفع ہونا پھر بائک مانگنے آجانا ہے سو بچی جب تک ہے انجوائے کرو۔۔

    تیسرا: اسکا حل یہی ہے خود بھی سنگل نہ رہو دونوں دوست ایک دوسرے کو منہ نہ لگائو۔۔ 

    چوتھا۔۔ ایسے دوست کو دفع کر ایڈمن

    پانچواں۔ دوست دوست نہ رہا۔۔ پیار پیار نہ رہا۔۔ 

    ایی ۔۔ آج تو سارے ہی بے کار کمنٹس ہیں۔۔ 

    اس نے صارم کو میسج کر دیا

    مرگئے؟ کب ہے جنازہ؟

    میرے ارمانوں کا؟ دفن بھی ہوگئے دل کے قبرستان میں۔ 

    آگے سے حسب توقع جواب آیا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج کا بلاگ اسے سوچ میں ڈال گیا تھا۔۔

    سون وو

    اسے اچانک اسکے ساتھ گزرے پل یاد آئے۔۔ بچپن سے وہ دونوں ساتھ تھے اکٹھے رہتے تھے ہائی اسکول شروع کیا تو ایک ہی کمرہ شیر کرتے تھے۔۔ لانڈری تک اسکی وہی کر دیتا تھا۔۔ اس نے پلٹ کر کبھی شکریہ تک نہ کہا۔۔ اسکو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکالنا یاد آیا تو دل جیسے لمحہ بھر کو رک سا گیا۔۔

    آئی مس یو  ۔۔ اس نے زیر لب کہا۔۔ پچھلے سال بھر میں شائد ہی اس نے رچل کے علاوہ کسی کو یاد کیا ہو۔۔ آج یقینا کوئی نئی بات تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج انکی کوئی خاص کلاس نہیں تھی جو کلاس لی۔۔  اسے ہیون نے سکپ کر دیا تھا۔۔ کلاس سے باہر نکلتے کم سن یون بن  کو اس نے آواز دے کر روکا تھا۔۔

    ہیون  کہاں ہے۔۔ اس نے جون تائی سے پوچھا۔

    پتہ نہیں صبح سے نہیں دیکھا۔۔ 

    آج آئے گا یا نہیں؟ وہ تھوڑا مایوس ہوئی۔۔ 

    دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔۔ 

    سنتھیا اور ایڈون غائب تھے حسب معمول۔۔ وہ لنڈوری پھر رہی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سالک اور شاہزیب کیفے جا رہے تھے جب انہیں ہیون ملا۔۔

    اریزہ کدھر ہے؟

    پتہ نہیں۔۔ دونوں نے کندھے اچکائے۔۔

    آج آئی ہے یونیورسٹی۔۔ 

    صبح نظر تو آئی تھی سنتھیا کے ساتھ ۔۔ ابھی دونوں شائد کیفے میں ہوں۔۔ شاہزیب نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔ وہاں نہیں ہیں وہیں سے آرہا۔ اس نے کہا پھر انکا کندھا تھپتھپاتا اگے بڑھ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔    

    اسے ہلکی ہلکی بھوک لگ رہی تھی سوچا کیفے سے کچھ لے کر کھا لے۔۔ 

    دو سینڈوچز لے کر مڑ رہی تھی کہ شاہزیب نے آواز دی۔۔ 

    اریزہ۔۔

    وہ۔ چونک کر مڑی۔۔

    تمہیں ہیون پوچھ رہا تھا۔۔۔ 

    کہاں ہے وہ ؟اس نے فورا پوچھا۔۔

    شائد تمہیں ڈیپارٹمنٹ میں ڈھونڈنے گیا ہے۔۔ سالک نے اندازہ لگایا۔۔ 

    وہ سر ہلا کر انہیں اشارے سے خدا حافظ کہتی باہر نکل آئی۔۔ اسکا رخ ڈیپارٹمنٹ کی جانب تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہیون ۔ ہیونا

    وہ ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا جب کم سن نے اسے پکارا۔۔

    وہ دونوں سیڑھیوں کے ہی آخری اسٹیپ کے پاس ریلنگ سے ٹکے باتیں کر رہے تھے۔۔

    وہ متوجہ ہوا۔۔

    تمہیں اریزہ ڈھونڈ رہی ہے ۔۔

    کہاں ہے وہ؟

     جمنازیم کی طرف جاتے دیکھا ہے اسے۔۔ وہ سر ہلاتا الٹے پیروں پلٹ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سامنے سے ہانپتی کانپتی اریزہ آرہی تھی۔۔

    کم سن اور یون بن اسکی حالت دیکھ کر ہنس دیئے۔۔

    واٹ۔۔ اسے برا لگا۔۔ قریب آکر پوچھ ہی لیا۔۔ 

    کیا حالت بنائی وی؟

    بھوکی ہوں پیاسی ہوں اوپر سے اتنا چل کر آئی۔۔  اسکی سانس پھول رہی تھی۔۔

    یہ لو۔۔ وہ دونوں چپس کھا رہے تھے وہی اسے بھی آفر کر دیا۔۔ اس نے شکریہ کے ساتھ دو تین اٹھا لیے۔۔

    ہیون تمہارے پیچھے جمنازیم گیا ہے۔۔ 

    کیا۔۔ چپس اسکے حلق میں اٹک گئے۔۔

    یعنی دو ڈیپارٹمنٹ دور۔ اس میں اب چلنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ وہ وہییں سیڑھیوں کے پہلے اسٹیپ پر ان کے قدموں کے قریب ٹک گئ۔۔بیگ سے پانی نکال کر پینےلگی۔۔ اسکے وہاں بیٹھتے ہی دونوں دو سیڑھیاں اتر کر نیچے آگئے تھے۔۔۔

    اسے اچھا لگاانکا تمیز کا مظاہرہ۔۔ 

    تم نہیں حصہ لے رہیں یونیورسٹی کی سالانہ تقریبات میں ۔۔ کم سن نے پوچھا۔۔ 

    نہیں۔۔ اب تو میرا دل کرتا غائب ہوجائوں نظر ہی نہ آئوں کسی کو فالتو میں خود کو کچھ سمجھنے لگی تھی میں ۔۔ اچھی غرور کی سزا ملی ہے مجھے۔۔ 

    وہ بڑبڑائے گئ۔۔ دونوں اسے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہے تھے۔۔ 

    کیا کہہ رہی ہو؟ یون بن نے پوچھا تو وہ ہوش میں آئی جیسے۔۔

    میں بول رہی تھی۔۔ وہ ابھی بھی اردو میں بولی پھر خیال آیا تو انگریزی میں پوچھا۔۔

    ہاں تم نے کچھ کہا تو ہے مگر اپنی زبان میں انگلش میں بتائو تاکہ سمجھ آئے۔۔

    اسکی کمی تھی اریزہ اب پاگلوں کی طرح بول بول کر سوچنا شروع کر دیا تم نے مر جائو تم۔ اسے خود پر شدید غصہ آگیا۔۔ اس نے بلا لحاظ زور دار چپت مار کی خود کو۔جزبات میں تھوڑازور سے مار لی۔۔ سر سہلانے لگی۔۔ 

    یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ دونوں اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔۔ 

    نتھنگ جسٹ فکسنگ مائی مائنڈ۔۔ اس نے لاپروائی سے کہا۔۔ 

    وہ دونوں کھل کر ہنسے۔۔ 

    مجھے لگا تھا ایسا ایک ہی پیس ہے دنیا مگر نہیں ایک اور بھی ہے۔۔ کم سن نےبغور اریزہ کو دیکھتے  ہنگل میں کہا 

    اس بار اریزہ الجھن سے پوچھ رہی تھی۔۔ 

    انگلش میں بتائو کیا کہا؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہاائش۔۔ ایسے تو ہر وقت پردہ لہراتی نظر آتی ہے آج کام ہے تو غائب ہوئی وی ہے۔۔ اس نے چڑ کر سوچا۔۔ 

    سامنے سے ایڈون اور سنتھیا ہاتھ تھامے خوش باش آرہیے تھے۔۔ 

    اریزہ کدھر ہے؟

    اس نے سر کے اشارے سے سلام کرکے پوچھا۔ 

    پتہ نہیں کیوں؟

    سنتھیا نے کندھے اچکائے۔۔

    فارگیٹ اٹ۔۔ وہ سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا۔۔

    آئی تو تھی صبح۔۔ سنتھیا نے ایڈون سے کہا پھر اپنا ہاتھ چھڑا کر اسے بیگ سے فون نکال کر کال ملا لی۔۔ 

    کدھر ہو۔۔

    باسکٹ بال کورٹ کے پاس۔۔

    اریزہ نے مصروف انداز میں جواب دیا وہ کڑنچ کڑنچ چپس کھا رہی تھی۔۔

    وہاں کیا کر رہی ہو۔۔ 

    سنتھیا نے پوچھا تو وہ اطمینان سے بولی۔۔

    سویمنگ کر رہی ۔۔ 

    اچھا سنو چار بجے گیٹ پر آجانا ہم نے ایک انڈین ریسٹورنٹ دیکھا ہے یہاں وہاں دیسی کھانا کھائیں گے برتھ ڈے ٹریٹ ہے میری طرف سے۔۔ 

    اچھا۔۔ اس نے وقت دیکھا ابھی گھنٹہ تھا۔۔ 

    ٹھیک ہے آجائون گی۔۔ اس نے فون رکھا اور چپس ختم کرنے لگی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھی کانوں میں ایم پی تھری پلیر کی ہینڈفری ٹھونسی اور دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔

    اسے چلتے کاسنی پردہ لہراتا نظر آیا۔۔ اس نے سر جھٹکا آگے بڑھنے کو تھا کہ خیال آیا پلٹ کر دیکھا تو وہ اریزہ ہی تھی باسکٹ بال کے کورٹ کی سیڑھیاں چڑھ کر سیدھا اسکی جانب مڑی تھی مگر نظریں ہاتھ میں پکڑی کسی چیز پر تھیں۔۔ وہ وہیں رک کر اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔ دفعتا اسکی نظردائیں جانب  پڑی۔ جمنازیم کی اوپر سے نیچے آتی سیڑھیوں سے اترتے کچھ اسکیٹرز اسکیٹ بورڈ پر کرتب کر رہے تھے۔۔  زمیں سے اڑتے فضا میں کئی فٹ اچھلتے اسکیٹ بورڈ ہاتھ میں لے لیتے پھر زمیں پر آنے سے پہلے اسے اسکیٹ بورڈ کر گرا کر اس پر آرام سے اتر آتے کوئی دس بارہ سیڑھیاں تھیں جن کے بعد کئی فٹ چوڑی سڑک تھی پھر نیچے باسکٹ بال کورٹ کو جانے والے راستے کی چوڑی سیڑھیاں تھیں۔

    احمق ابھی منہ ٹوٹے گا انکا زرا سا بیلنس خراب ہوا تو۔۔  کونسی منحوس گھڑی جو اسکے منہ سے نکلا ۔۔ اسکے دیکھتے دیکھتے ایک اسکیٹر جو سیدھا نیچے آرہا تھا اسکیٹ سے اسکا توازن بگڑا خود تو قلابازی کھاکر سیڑھی پرکود گیا اسکیٹ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر سیدھا سیڑھیوں کی جانب ۔۔ 

    وہ مگن آرہی تھی سیڑھیاں اسکے قریب تھیں اسکیٹ اسکے لگتی تو زرا سا بھی توازن خراب ہوتا اس نے لڑھکتے نیچے جانا تھا چند لمحے تھے اسکے پاس وہ دوڑا اریزہ کے قریب جا کر اچھل کر اسکیٹ پکڑی خود پورا اسٹریچ ہوا تھا سو سیدھا قدموں پر زمیں پر نہ آسکا باہنی جانب سے کھڑے قد سے زمیں پر گرا۔۔

    اریزہ اسکے قریب گرنے سے چونکی  کانوں سے ہینڈ فری نکال تو ہیون اسکے قدموں  گرا تڑپ رہا تھا۔۔

    ہیون ۔وہ اسکی جانب بڑھی۔۔

    میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔۔ وہ کراہ رہا تھا یہ اسے خوشی خوشی بتا رہی تھی۔۔ سارے لڑکے اسکے پاس بھاگے بھاگے آئے

    گرنے والا اسکیٹر تک سنبھل کر آگیا تھا۔۔

    زیادہ چوٹ تو نہیں آئی۔۔ دولڑکوں نے اسے سہارا دیا۔۔ ایک اسکا بازو بھی سہلا رہا تھا۔۔ 

    تمہیں اسکا شکریہ ادا کرنا چاہیئے بچا لیا اس نے تمہیں۔۔

    وہاٹ وہ حیران ہوئی۔۔ 

    یو مسٹ تھینک ہم۔۔ اب کے وہ انگریزی میں بولا۔۔ 

    وائی؟ اسے سمجھ نہ آیا۔۔

    چھوڑو۔۔ رہنے دو شکریہ۔۔ ہیون نے اٹھتے ہوئے ان لڑکوں سے کہا وہ اسکا کندھا تھپتھپاتے اسکیٹ لے کر چلے گئے۔۔ ہیون سک اپنے کپڑے جھاڑ رہا تھا

    یہ یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔۔؟ وہ ابھی بھی وہیں آٹکی تھی۔۔

    اسے چھوڑو۔۔ تمہارے پاس آج پانی نہیں ہے۔۔ ؟ ہیون نے پوچھا تو اس نے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔ پھر یاد آیا۔۔

    نہیں ابھی پیا ہے خالی ہو گئ بوتل۔۔

    فارگیٹ اٹ۔۔

    ہیون سک نے اپنے کندھے سے بیگ اتار کر دو کین برآمد کیے ایک اسے پکڑا دیا ایک خود کھولنے لگا۔۔

    تھینکس۔۔ اس نے آرام سے لے لیا۔۔ 

    تم مجھے کیوں ڈھونڈ رہی تھیں۔۔

    اس نے ایک دو گھونٹ لے کر پوچھا اریزہ کا کین ابھی تک کھلا بھی نہیں تھا۔۔ اریزہ مضبوطی سے پکڑے تھی۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر کین کی ناب میں انگلی پھنسا کر جھٹکا دیا ٹھسس کی آواز کیساتھ کین فورا کھل گیا۔۔ 

    اریزہ کھسیائی۔۔ پھر جلدی سے بولی۔۔

    مجھے کام تھا تم سے۔۔

    مجھے بھی۔۔ وہ بیگ سے کچھ نکال رہا تھا اریزہ نے بھی اسی وقت بیگ سے کچھ نکالا۔۔ دونوں نے اکٹھے ایک دوسرے کے سامنے گفٹ بڑھائے۔۔ 

    یہ کیا ہے۔۔ دونوں اکٹھے بولے۔۔

    گفٹ۔۔

    یہ بھی دونوں اکٹھے بولے تھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں وہیں پہلی سیڑھی پر ٹک گئے۔۔

    اس نے بیگ سے سینڈوچ نکال کر ہیون کو دیا اس نےپہلے تو انکار کرنا چاہا مگر بھوک لگ رہی تھی سو لے کر کھانے لگا۔۔ اریزہ گفٹ کھولنے لگی۔۔

    انتہائی خوبصورت پرنٹڈ گلابی اور سفید اسکارف تھا اس نے فورا پھیلا کر اپنے ساتھ لگایا۔۔

    یہ بہت خوبصورت ہے ۔۔ انی کی پسند اچھی ہے۔۔ 

    میری جانب سے بہت شکریہ ادا کرنا۔ 

    ہیون نے ہلکے سے سر ہلا دیا منہ میں سینڈوچ بھرے ابھی وہ بولنے کے قابل نہیں تھا۔۔ اریزہ نے دلچسپی سے اسکا بھرا منہ دیکھا۔۔ 

    ایک اور بھی ہے میرے پاس دوں۔۔ ؟

    اس نے پوچھا تو تھا مگر پھر جواب کا انتظار کیے بغیر اسے نکال کر تھما دیا۔۔ 

    گوما وویو۔۔ اس نے دوسرے کا بھی ریپر اتارنا شروع کر دیا۔۔ 

    وہ کچھ بولنے لگی تھی پھر رک گئ۔۔ ہیون نے ابروکے اشارے سے پوچھا 

    تو اس نے کچھ نہیں کہہ کر اسکارف تہہ کرکے بیگ مین ڈالا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سی یو کہہ کر وہ تیز تیز قدم بڑھاتی چلی گئ تو اس نے اسکا دیا گفٹ احتیاط سے بیگ میں رکھا۔۔ اپنا بازو سیدھا کیا تو کراہ نکل گئ۔۔ مگر وہ کھینچ  کر سارے مسلز ریلیکس کرتا رہا۔۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔ 

    وہ اریزہ کے پیچھے پیچھے چلتا گیٹ تک آیا تھا۔ وہ ایڈون وغیرہ کی طرف بڑھ گئ یہ اپنی کار کی طرف سالک اور شاہزیب نہیں تھے البتہ کم سن اور یون بن  تھے۔

    یون بن نے اسے گاڑی کی طرف جاتے دیکھا تو آواز دے ڈالی۔۔

    ہایوناآجائو ہم باہر جا رہے ہیں۔۔ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر انکے پاس چلا آیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سالک اور شاہزیب کو بھی بلا لینا تھا۔۔ 

    اس نے سنتھیا کو کان میں کہا۔۔ وہ اس وقت ایک انڈین ریسٹورنٹ میں موجود تھے 

    کیک میز کے بیچ میں لا کر رکھا جا چکا تھا۔ ایڈون کم سن یون بن  اور ہیون سک سامنے بیٹھے تھے موم بتی جلا رہے تھے تو اسے ان دونوں کی کمی محسوس ہوئی۔۔ 

    انکی ایڈون سے کل لڑائی ہوئی ہے سالک روم شفٹ کر رہا اب۔ اس نے آہستہ سےکہا تو اریزہ حیران رہ گئ۔۔ 

    ایڈون کی بھئ کسی سے لڑائی ہو سکتی ہے؟

    میں نے تو اسے معمولی غصے میں نہیں دیکھا۔۔

    بعد میں بتائوں گی۔۔ سنتھیا نے ہاتھ دبا کر اسے چپ کرا دیا۔۔

    ان لوگوں نے خوب شغل لگا کر گیت گا کر کیک کٹوایا۔۔ 

    چلو کھانا آرڈر کرو آج سنتھیا کی پسند کا کھائیں گے۔۔ ایڈون نے کہا تو سنتھیا نے مینیو کارڈ تھام لیا۔۔

    چکن بریانی چکن ملائی بوٹی اور تکے۔۔ 

    اس نے اپنی پسند بتائی تو ہیون کو خیال آیا۔۔

    اریزہ تو گوشت نہیں کھاتی کچھ ویجیٹیرین بھی آرڈر کر دو۔۔

    اب یہ تو کھا لو۔۔ انڈین ریسٹورنٹ ہے یہ تو۔۔ ایڈون جیسے چڑ کر بولا۔۔

    ہاں مگر حلال گوشت تو نہیں ہوگا یہاں۔۔ سنتھیا کو بھی خیال آیا۔۔ سنتھیا اردو میں ہی بولی تھی۔۔ اریزہ کچھ کہنے لگی تھی کہ ایڈون بڑ بڑایا۔۔

    ہر جگہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لیا کرو تم لوگ یہ بھی انسان ہی ہیں جانور تو نہیں ہم بھی تو کھا رہے ہیں۔۔

    تم لوگوں کو شائد مزہب نے پابند نہیں کیا مگر ہم پر بنا حلال ہوا جانور کھانا حرام ہے۔۔ اریزہ کا لہجہ ہرگز برا نہیں تھا اس نے سادگی سے کہا تھا ۔۔

    مگر ایڈون بری طرح چڑ گیا۔۔

    اتنا ہی جانوروں کا درد ہے تو کھاتے کیوں ہو؟ خدا نے تو سب جانور جاندار بنائے اگر کھانے سے منع نہیں کیا تو جیسے مرضی کاٹ کر کھائو یہ کیا۔۔

    ایڈون بس۔۔ تم اس بارے میں نہیں جانتے ہو تو چھوڑ دو اس بات کو میں مزہب پر بحث نہیں کرنا چاہتی۔۔ اریزہ کو غصہ آرہا تھا مگر تحمل سے بولی۔۔ 

    ایڈون چھوڑو بحث ہم۔۔ سنتھیا نے کہنا چاہا مگر ایڈون بھڑک گیا۔۔ 

    ہاں تم لوگوں کا مزہب ہی صحیح باقی سب غلط تم لوگوں نے جنت بھر دینی ہمیں تو اللہ نے دوزخ میں ڈالنے کیلیئے پیدا کیا ہے نا۔۔ بڑا غرور ہے مسلمان ہونے پر شکر ہے ہم عیسائی ہیں کم از کم انتہا پسند تو نہیں تم لوگوں کی طرح۔۔۔ 

    بس کرو ایڈون۔۔ وہ میز ہر ہاتھ مار کر چلائی۔۔ 

    سچائی ہے کڑوی تو لگے گی۔۔ ایڈون کا انداز نہ بدلا۔۔ 

    تم لوگوں میں یہ جو غرورہے نا یہی فساد کی جڑ ہے اپنے مزہب کے علاوہ دوسرے کو انسان تک نہیں سمجھتے۔۔۔ 

    ہم سب یہاں کھانے بیٹھ گئے یہ اجنبی ملک کے باسی تک ہمارے ساتھ آگئےمگر یہ سوکالڈ مسلمان کا ایمان یہاں کھانے سے برباد ہو جائے گا۔۔ وہ اسے بولنے کا موقع نہیں دے رہا تھا

    تمہیں جس چیز کا پتہ نہیں ہے اس۔ 

    اریزہ نے کہنا چاہا

    غلط کہہ رہا ہوں؟ تم لوگوں کے نزدیک ہم گندے ہیں نا۔ اپنی بات کر لو۔ میں کرسچن ہوں نا جبھئ تو تم نے اس دن 

    چپ کرجائو ایڈون۔ 

    اریزہ اسکے بنا سوچے بولے چلے جانے پر تلملا کر اٹھ کھڑی ہوئی

    ایک۔لفظ مت کہنا اب۔ اسکے کہنے پر ایڈون ہونٹ بھینچ گیا

    کیا ہو رہا ہے کس بات پر لڑ رہے ہو تم لوگ۔۔ یون بن بھئ دونوں کو آپے سے باہر ہوتے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔

    کچھ نہیں۔۔ دونوں ایک دوسرے کو گھور رہے تھے سنتھیا روہانسی ہوگئ۔۔ بیٹھو اریزہ ۔۔ میں سبزی بھی آرڈر کر رہی ہوں ایڈون ایک لفظ اب مت بولنا۔۔ 

    کوئی ضرورت نہیں۔ اریزہ کے تیور کڑے تھے

    مجھے ویسے بھی ابھی بھوک نہیں ہے ۔۔ اریزہ کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔ ہیون  نے اسکی شکل غور سے دیکھی پھر اٹھ کھڑا ہوا۔  

    میں اور اریزہ ابھی سینڈوچ کھا کر ہی آئے ہیں ۔۔ ہم باہر گھوم لیتے ہیں تم لوگ کھائو آرام سے ہمیں واقعی ابھی بھوک نہیں۔۔

    ہیون کو مناسب یہی لگا کہ اریزہ کو باہر لے جائے۔۔ 

    چلو اریزہ۔۔ 

    مگر سنتبھیا نے روکنا چاہا تو ایڈون نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ اریزہ اور ہیون سک اٹھ کر باہر چلے گئے تو ایڈون زہر خند لہجے میں بولا۔

    تم اسکی حمایت میں بول رہی ہو نامزہب پر بات آئی نا اسکو ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا تمہیں نجس سمجھ کر چھوڑ دینے میں 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد 

    جاری ہے

    kesi lagi apko Salam Korea ki Qist? Rate us

    Rating

  • Salam Korea Episode 5

    Salam Korea 

    By Vaiza Zaidi

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     وہ سب اس وقت یونیورسٹی کی ڈسپنسری 

    میں موجود تھے۔۔

    شاہزیب کو ابتدائی طبی امداد دی جا رہی تھی اس کے سر پر چوٹ آئی تھی۔۔ پیشانی پرنیل  آئے تھے گوارا کا بریسلیٹ یا انگوٹھی اسے لگی تھی۔۔ اور انجیکشن لگا کر اسے سلا دیا گیا تھا وہ سب اسکے بیڈ کے کنارے کھڑے

     خاموشی سے ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تھے۔۔

    چونکہ یہ غلط فہمی تھی اور آپ کے دوست کو زیادہ چوٹ آئی ہے سو میں معزرت میں پہل کرتا ہوں۔۔۔ یون بن نے کہا تو ایڈون بڑبڑایا۔۔

    خیر ہے ہم پاکستانیوں کو ویسے بھی پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑا کر زلیل ہونے کی عادت ہے۔۔

    وے؟ ۔۔ آئی مین واٹ ڈڈ یو سے؟ ہایون  سمجھا نہیں

    اسکا مطلب ہے ہمیں بھی ۔۔۔ اریزہ نے کہنا چاہا۔۔ وہ آگے سے کہنا چاہ رہی تھی اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئےتھا۔۔

    مگر وہ سب ایکدم اسے دیکھنے لگے اگلے الفاظ کھو ہی گئے 

    اٹس اوکے میرا مطلب تھا آئندہ ہم احتیاط کریں گے۔۔

    ایڈون نے اس کی جگہ بات مکمل کی۔۔

    ویسے آئی مسٹ سے تمہارے دوست کا ہاتھ بہت بھاری ہے۔۔ یون بن نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہنستے کہا۔۔

    مجھے حیرت ہے تم لوگ ایسے ملک سے ہوکر بھی جو ریپ کیسسز کی وجہ سے بد نام ہے انجان ملک میں انجان لڑکی کیلیے لڑ پڑے مجھے اسکی تعریف کرنی چاہیئے۔۔ گوارا نے کہا تو مگر طنز اسکے چہرے سے ظاہر تھا اسکا انداز اور بات دونوں ہی آگ لگا دینے والے تھے۔۔

    وہاٹ؟

    وہ چاروں چیخ پڑے۔۔

    ہرگز نہیں۔۔

    کیا نہیں ؟انڈیا کا حصہ نہیں ہے پاکستان؟

    اس نے منہ بنایا۔۔

    ہرگز نہیں ۔۔ ہمیں علیحدہ ہوئے ستر سال ہونے کو ہیں اور ہم لڑکیوں کی عزت کرنے والی قوم ہیں جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہوا تھا ایسا پاکستان میں ہوتا تو اس سے جلدی اس سے برا حال کرتے ہم۔۔ ایڈون سخت جزباتی ہو گیا تھا۔۔ اس لڑکی کے پیچھے انکا دوست اسپتال میں پڑا تھا اوپر سے اس نے علیحدہ مار مار کر اسکا حشر کردیا معمولی افسوس تک چہرے پر نہیں تھا۔۔

    یون بن  نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔۔

    ہاں تو تم لوگوں۔۔ گوارا نہ جانے کیا کہنے جا رہی تھی یوں بن نے ہاتھ پکڑ کر روک دیا اسے۔۔ 

    جو کچھ ہوا اس پر ہمیں افسوس ہے ۔۔ اب تمہارا دوست بھی ٹھیک ہے تھوڑی دیر سو کر اٹھے گا تو بہتر محسوس کرےگا ہم چلتے ہیں۔۔ 

    اریزہ نے سر ہلا دیا۔۔

    وہ تینوں خاموشی سے جھک جھک کر کہتے سر جھکائے نکل۔گئے۔۔

    ایک تو اس کی مدد کی آگے سے نخرا دیکھو ہمیں الہام ہوا تھا یہ کراٹے جانتی ہے۔۔ ہم تو اسکے خیال سے مدد کو بڑھے تھے آگے سے یون بن  روک رہا تھا اسے یہ رک ہی نہیں رہی تھی۔۔ اتنا دکھ تھا بوائے فرینڈ کے پٹنے کا تو اسے نخرے کیوں دکھا رہی تھی۔۔ ایڈون بھرا بیٹھا تھا ان کے نکلتے ہی غصے سے شروع ہو گیا۔۔

    آہستہ ریلیکس شاہزیب جاگ جائے گا۔۔ سالک نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا  شاہ زیب بے سدھ پڑا تھا اس نے تاسف سے اسکے نیلگوں ہوتے چہرے اور پھٹے ہونٹ کو دیکھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کم سن اور سنتھیا جب تک پہنچے وہاں سے بھیڑ چھٹ چکی تھی ایک اسٹوڈنٹ نے انہیں معرکے کے بارے میں بتایا تو دونوں ڈسپنسری کی طرف لپکے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    تائیکوانڈو کا پہلا اصول کیا تھا گوارا ؟

    یون بن  نے ساتھ چلتے چلتے اس سے بظاہر سر سری انداز میں پوچھا۔۔ 

    گوارا اسکا مقصد سمجھ گئ تھی جبھی کچھ کہنے سے گریز کیا۔ یون بن نےرک کر  اسکی شکل دیکھی۔

    سب سے پہلے اپنے آپ سے لڑو۔۔ 

    اپنے جزبات پر قابو پائو۔۔ اپنی طاقت جب دکھانے کا سوچو جب سہنے کی طاقت ختم ہونے لگے۔۔ اور

    جانتی ہوں سب۔۔ گوارا نے بات کاٹ دی۔۔ ہایون خاموشی سے ساتھ چل رہا تھا۔۔

    پھر ؟ وہ رک کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔

    میں اسکو پلٹ کر زیر کر سکتا تھا مگر میں اسے روکتا رہا پھر تمہیں میں روک رہا تھا تم سن نہیں رہی تھیں اتنا غصے میں اتنا بے قابو  میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تمہیں صاف لگ رہا تھا یہ۔مجھ پر آیا غصہ اتر رہا ہے اس بے چارے پر۔۔

    ہاں ۔۔ وہ چلائی ۔۔وہ تمہارا غصہ اس پر اترا ہے۔۔ خوش؟

    میرا غصہ مجھ پر اتارو۔۔ مجھے مارو ۔۔ اس نے بھی غصے سے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔

    مارو نا۔

    اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر مارنا چاہا اپنے منہ پر مگر گوارا نے ہاتھ چھڑا لیا۔۔

    اور منہ پھیر کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگی تھیں 

    وہ کچھ کہنے لگا ہایون نے اسکا بازو تھام لیا۔

    وہ رک گیا۔۔ 

    پھر سر جھکا کر اس سے کہنے لگا۔۔

    میں کل جارو سے ملا وہ صرف اتفاق تھا ۔۔ اسے گھر چھوڑنا مجبوری بہر حال وہ میری اچھی دوست تھی میں اسے اس حالت میں بار میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔ تمہیں اگر دھوکا دینا ہوتا تو نہ تمہیں وہاں انوائٹ کرتا نہ۔۔ 

    اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے گوارا اس سے لپٹ گئ۔۔ اس نے گہری سانس لے کر اسے بھینچ لیا۔۔

    ساتھ چلتے کم سن کے قدم رکے تھے ہایون  کی بھی اسی وقت ان پر نظر پڑی

    اسکے دوست سامنے تھے محفوظ تھے اسے آگے جانے کی ضرورت نہیں تھی وہ وہیں سے پلٹ گیا۔۔

    سنتھیا نے حیرت سے اسے مڑتے دیکھا مگر وہ کچھ کہے بنا لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھ کیا۔۔ سنتھیا کندھے اچکا کر سیدھا جا نے لگئ  ہیونگ سک کے پاس سے گزری تو اس نے روم نمبر بتا دیا وہ اشارے سے شکریہ ادا کرتی اندر چلی آئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    ہے ہی نک چڑھی بدتمیز۔۔

    یاد ہے جب ہمیں روم میں  چھوڑنے آئی تھیں کیسے دیکھ رہی تھی ہمیں جیسے ہم کیڑے مکوڑے ہیں۔۔

    اسکا بوائے فرینڈ مگر تک کا بندہ تھا کوئی شک نہیں۔۔اریزہ کو جون تائی کا حلیم انداز بہت بھایا تھا۔۔ 

    وہ دونوں اسی بات ہر تبصرہ کرتی ہاسٹل کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں 

    تم لوگ کیا بوڑھوں کی طرح سیڑھیاں چڑھ رہی ہو ۔۔ تھک گئ ہو؟

     ان کے پیچھے چلتی جی ہائےنے نرم سے انداز میں کہا تھا دونوں چونک کر مڑیں 

    آپ جائو آگے۔۔ دونوں اک طرف ہو کر اسے راستہ دینے لگیں 

    آنیو۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا

    میں اسلیئے کہہ رہی تھی کہ میں تم لوگوں کے پیچھے چلتے ہوئے نوٹ کر رہی تھی۔۔ وہ سہولت سے کہتی ریلنگ سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئ

    تم لوگوں کی چار سیڑھیاں چڑھتے سانس پھول گئ بالکل بھی اسٹیمنا نہیں ہے تم میں۔۔   تم لوگوں کو میں نے بیٹھے دیکھا تو کندھے جھکا کر بیٹھی تھیں تم لوگ بڑے اور سست قدم اٹھاتی ہو ایسا لگتا تمہارے کندھوں پر بھاری بوجھ ہے۔۔

    اس نے کسی ماہر فزیو تھیراپسٹ کی طرح انکا معائنہ ہی کر ڈالا تھا۔۔

    دونوں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں

    خیر اگر تم لوگ اپنا پوسچر ٹھیک کرنا چاہو تو میں مدد کر سکتی ہوں ۔۔

    وہ کہہ کر بے نیازی سے اپنا بیگ ٹھیک کرتی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔ 

    یہ کیا تھا؟

    سنتھیا حیرت سے اسے پھرتی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھتی رہ گئ۔۔

    بیستی تھی اور صحیح بیستی تھی۔۔

    اریزہ نے ہونٹ بھینچے 

    اسکو دیکھا کتنی چست تھی۔۔

    جمناسٹک کی کھلاڑی ہے وہ پھرتیلی نہیں ہوگی تو کون ہوگا۔

    سنتھیا نے اسکی عقل۔کا ماتم کیا

    وہ تو ٹھیک ہے وہ بھی ہمیں کرتب نی دکھانے پر نہیں ٹوک رہی تھی یہ معمولی سیڑھیاں نہ چڑھ سکنے پر ٹوک رہی تھی ۔۔

    اس نے پاس سے گزرتی دیگر لڑکیوں کو بھی اسی پھرتی سے چڑھتے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

    اب یہ سب تو جمناسٹک نہیں کرتیں۔۔

    اس نے مزید کہا مگر مجال ہے سنتھیا نے اثر لیاہو۔۔

    منہ لٹکا کر بولی۔۔ 

    تیرہ اور سیڑھیاں چڑھنی ہیں۔۔۔ 

    دونوں گہری سانس لے کر دوبارہ چڑھنے لگیں 

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رات کو سونے سے پہلے برش کرتے ہوئے اریزہ نے باتھ روم کے چوڑے سے آئنے میں بغور خود کو ہر زاویے سے دیکھا۔۔ 

    برش منہ میں ہی پکڑ کر اس نے اپنے آپ کو ایک طرف سے دیکھا۔

    وہ واقعی کندھے جھکا کر کھڑی تھی۔۔ اس نے کندھے سیدھے کیے پھر جھکائے

    ہلکا سا سہی مگر اسکے کب نکلا ہوا تھا۔۔

    واقعی ۔۔ وہ بے ساختہ بول اٹھی تو منہ میں بھرا ٹوتھ پیسٹ کا جھاگ گرنے لگا وہ فورا بیسن پر جھکی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منہ ہاتھ دھو کر نکلی تو سنتھیا کپڑے نکال رہی تھی۔۔

    کل تو آف ہے سنڈے ہے نا؟

    اس نے یہی سوچا بھول گئی ہے شائد۔۔

    کل کی سنڈے پریئر میں جانے کا سوچ رہی ہوں ۔۔ ایڈون بتا رہا تھا پیدل کا راستہ ہے قریب ہی گرجا ہے۔۔میں نذر بھئ دوں گی۔اتنی دعائیں کی تھیں خدا وند سے کہ تمہیں بھی ساتھ جانے کی اجازت مل جائے انہوں نے سن لی مگر میں نے شکریہ ادا نہیں کیا۔۔۔

    سنتھئا کی بات پر اسے اپنا حال یاد آیا۔کوئی نماز نہیں پڑھی تھی کوریا آکر۔ مگر یہاں وہ باتھ روم جاتے بالکل مطمئن نہیں تھی۔جانے اگلے دو تین سال کیسے گزارتی یہاں۔

    کتنے دن ہوگئے میں نے پریئر نہیں کی ایسٹر پر گئ تھی آخری مرتبہ چرچ ۔۔ امی تو کہتی میں مسلی۔۔

    اسے بولتے بولتے خیال آیا تو زبان دانتوں مین دبا لی۔۔ کیا کہنے جا رہی تھی۔۔

    اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھائی اریزہ مسکرا دی۔۔

    اسکی اپنی امی الفاط کانوں میں گونجے

    دہریہ ہوگئ ہے دو دن سے نماز نہیں پڑھی چوڑی کہیں کی پاس مت آنا میرے 

    اس نے تولیہ اسٹینڈ پر ٹانگی۔۔

    اریزہ تم نے بھی جب سے یہاں آئی ہو نماز نہیں پڑھی۔۔ سنتھیا کو یاد آیا۔۔ 

    بال سنوارتے اسکے ہاتھ رکے۔۔

    میں ویسے ہی کہہ رہی تھی  اگر برا لگا تو سوری اس نے بیگ بند کرکے معزرت خواہانہ انداز میں کہا۔۔

    نہیں برا نہیں لگا واقعی کافی دن ہوگئے امی تو مجھے دو لگا چکی ہوتیں۔۔ وہ قصدا ہنس کر بولی۔۔

    پھر آرام سے اس کے بیڈ پر ٹک کر نائٹ کریم لگانے لگی۔۔

    تم جاء نماز نہیں لائیں اسلیے نہیں پڑھ رہیں۔۔؟

    انکا لایا سامان ایک دوسرے سے چھپا نہیں تھا۔۔ واقعی جا نماز ساتھ لانے کا تصور ہی نہیں تھا ظاہر ہے پاکستان میں جہاں جاتے وہاں جاء نماز ہوتی ہی تھی۔۔ 

    وہ مسلہ نہیں ۔۔اس نے گہری سانس لی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

    نکل آ سالک کے بچے مر گیا ہے کیا اندر۔۔۔

    ایڈون دروازہ پیٹ رہا تھا

    نکل رہا ہوں یار۔۔

    سالک نے بے چارگی سے کہا۔۔ چند لمحوں بعد وہ تھکا تھکا سا باہر آیا۔۔ ایڈون شکر ادا کرتا بھاگ کے باتھ روم میں گھسا۔۔

    انکا ڈورم تین بیڈ کا تھا 

    یون بن اپنے بیڈ پر نیم دراز اپنے لیپ ٹاپ مین مگن تھا۔ ایڈون باہر آیا تو سالک نے دہائی دی۔۔

    یار تم لوگ کیسے اسے استعمال کرتے ہو قسم سے میں جب سے یہاں آیا ہوں ایک بار کھل کر فارغ نہیں ہوا۔۔ نماز علیحدہ چھٹ گئ ہے میری۔۔ اوپر سے پانی

    ۔۔ اسے کہتے کہتے خیال آیا کہہ کسے رہا تو چپ ہو گیا۔۔۔۔

    ایڈون اسکی شکل دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔

    قسم سے تیرے لیے لوٹا ڈھونڈتے رہے کل میں اور شاہ زیب پوری گنگنم مارکیٹ میں

    وہ اسکا مزاق اڑا رہا تھا نرا۔

    ۔کہیں نہ ملا پر

     ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔۔۔

    لعنت ہے۔۔۔ وہ بھنا کر اپنے بیڈ پر گرا۔

    اس سے پوچھوں؟ ایڈون کو شرارت سوجھئ۔۔ سالک نے رخ پھیر لیا۔ 

    گنگنم مارکیٹ پوری چھان لی مگر لوٹا نہیں ملا ہمیں۔ 

    اس نے انگریزئ میں پوچھا سالک نے بھنا کر گھورا اسے۔ایڈون ڈھٹائی سے ہنسا

    گنگنم مارکیٹ سے کیا نہیں ملا۔۔ یون بن کو پوری بات تو نہیں پتہ چلی مگر کان کھڑے ہوگئے تھے۔۔

    یار ایک برتن ہوتا جس میں ایسے۔۔ایک ناب لگی ہوتی ۔۔۔نہیں کیا کہیں گے اسے ۔۔ وہ سوچ میں پڑا

    ہاتھی کی سونڈ بنی ہوتی

    ایڈون نے اسے سمجھانا چاہا۔۔

    ہاتھی کی سونڈ؟

    جون تائی بھونچکا رہ گیا۔۔

    وہ پوری توجہ سے سن رہا تھا۔

    ہاں یوں سمجھ ایک گینڈا بیٹھا ہو اور اس کے پیٹ سے ہاتھی کی سونڈ نکل رہی ہو۔۔ ایڈون اپنی مثال پر خو د ہی ہنس ہنس کر پاگل۔ہو گیا۔۔

    یون بن تصور میں بھی ایسا برتن نہ سوچ سکا۔۔  

    بند کرلے بک بک اپنی

    سالک نے تپ کر ساتھ سے تکیہ اٹھا کر اسکے منہ پر مارا وہ ہنستے ہنستے جھکائی دے گیا۔۔ 

    یار کیتلی سمجھ لے۔۔

    مگر بڑی سی ہو کم از ک۔ دو لیٹر پانی آئے

    ۔۔ ایڈون نے کہا 

    سالک چیخا۔۔۔  منہ بند کرلے ایڈون ضائع ہوجائے گا میرے ہاتھوں۔۔

    ارے کیتلی؟ 

    ایسا برتن ہوتا ہے نا برتنوں کی دکان پر۔ جون تائی حیران تھا انہیں اتنی معمولی چیز نہ ملی 

    تم سمجھے نہیں اسکا استعمال ٹھہرو۔۔

    ایڈون بولا تو سالک نے چھلانگ لگا دی اس پر۔۔

    دونوں زمیں پر گرے تھے ایڈون ہنس ہنس کر پاگل ہو رہا سالک پیٹ رہا جون تائی الجھن سے دیکھ رہا اس میں ہنسنسے کی کیا بات۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنتھیا کا ہنس ہنس کر برا حال تھا

    تھوڑی دیر تو اریزہ دیکھتی رہی پھر تکیہ اٹھا کر اسکی ٹھکائی شروع کر دی۔۔۔۔

    وہ ہنس ہنس کر بےحال ہو رہی تھی ۔۔۔ اریزہ اسے مارتے مارتے تھکی تو اسی کے بیڈ پر بیٹھ گئ۔

    میرے بیڈ پر نہ بیٹھنا میں مطمئن نہیں تمہاری۔۔۔ 

    سنتھیا نے ہنستے ہنستے پھر چھیڑا اریزہ کا پھینکا گیا تکیہ منہ بن کر گیا وہ یونہی ہنسے گئ۔لوٹ پوٹ ہوتے لیٹ ہی گئ  اریزہ اسے گھورتی رہی پھر خود بھی ہنس کر اسکے برابر ہی لیٹ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح نو بجے سنتھئا نک سک سے تیار خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھئ۔

    تم چلی جائوگی تو میں کیا کروں گی؟

    اریزہ اسکے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر اسے دیکھ رہی تھی

    سنتھیا آف وہائیٹ لانگ ٹاپ وہایٹ جینز پہن کر تیار ہو رہی تھی آف وہائٹ اور پنک پرنٹڈ اسکارف  پہن کر مکمل تیار تھی۔۔

    ہلکی سی پنک لپ اسٹک لگاتے اس نے سوچا اس نے سوچا پھر پلٹ کر بولی۔۔

    تم بھی چلو۔۔ 

    پریئر کے بعد گھومنے چلیں گے۔۔ 

    اس کا آئیڈیا اچھا تھا۔۔ اس نے سوچا پھر خوش ہو کر بولی

     یہ ٹھیک ہے۔۔

    جلدی سے تیار ہو جائو 

    ایڈون آتا ہی ہوگا ۔۔

    اس نے ایڈون کی آتی کال نو کر دی۔۔ اب اسے اریزہ کے تیار ہونے تک یہی کرنا تھا

    استری جس پر نہ کرنی پڑے وہ پہنو۔۔ 

    اس نے تاکید کی تو اریزہ سوچ میں پڑی۔۔

    اب لان یا کاٹن تو بنا استری کے نہیں پہن سکتی۔۔ جینز چلو پہن بھی لوں تو گرمیوں میں تو میں ٹاپ وغیرہ کم ہی پہنتی ہوں۔۔ 

    چھوڑو۔۔ وہ اوپر جاتے جاتے اتر آئی۔۔

    رکو ۔۔ 

    دونوں کے سائز میں کافی فرق تھا۔۔ 

    ایسا کرو جینز پہنو اور میرا یہ ٹاپ فری سائز ہے۔۔

    وہ کہتی  الماری  میں گھس گئ۔۔

    پیچ کلر کا گول سا گھیر والا سادہ سا ٹاپ تھا جس کا آگے سے دامن چھوٹا پیچھے سے تھوڑاگہرے گھیر کا تھا

    یہ نہیں میں لے سکتی تم نے ابھی ایک بار بھی نہیں پہنا یہ وہی ہے نا یہاں آنے سے پہلے جو صدر سے لیا تھا ؟

    اسے یاد تھا

    واپس کر دینا نا ۔۔ سنتھیا نے منہ بنایا

    مگر یار کوئی اور دیکھ لو بلکل نیا ہے یہ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔

    ٹایم نہیں ہے یار آگیا ہے وہ باہر گیٹ پر ہے بھاگ کر بدلو کپڑے۔۔ سنتھیا نے اسکی نا نا کرنے کے باوجود اسے دھکا دے کر اوپر بھیجا

    ایڈون پھر کال۔کر رہا تھا

    اس نے فون اٹھایا اور ڈپٹ کر بولی

    کہاں کھڑے ہو ؟ نظر ہی نہیں آرہے ہم دو مرتبہ گیٹ سے جھانک کر جا چکے ہیں۔۔

    ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

     فٹ سا تیار ہو کرجلدی آئو پانچ منٹ میں  ہم کہیں جارہے پھر نہ کہنا بتایا نہیں ۔

    ہایون  بے خبر سو رہا تھا جب اسے یون بن  کی کال آئی بس اتنا کہہ کر بند کر دیا 

    اس نے کسلمندی سے وقت دیکھا صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔

    وہ پہلے تو سو چا کروٹ بدل کر سو جائے 

    واقعی کروٹ بدل کر سونے لگا پھر فون بجا۔۔

    کروٹ بدل کر سونے لگے ہو؟ اٹھو نا۔

    اس بار کم سن چیخا۔۔

    ایک تو یہ 

    وہ دانت کچکچا کر رہ گیا۔۔

    آرہا ہوں ۔۔ اسے اٹھنا ہی پڑا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پریئر شروع ہو چکی ہوگی ۔۔

    یون بن  نے گھڑی دیکھ کر اطمینان سے کہا۔

    وہ ایڈون شاہزیب سالک کم سن گیٹ پر کھڑے تھے۔۔

    یار یہ لڑکیان بھی نا۔

    ایڈون جھلایا۔

    اگلے اتوار کا پروگرام رکھ لو۔۔ 

    شاہزیب نے ایسے ہی کہا تھا۔

    مگر ایڈون کی سلگ گئ گھور کر دیکھا۔۔

    کوئی اخیر انتہا پسند لگا ہےایسے گھورتے ۔۔

    وہ اردو میں بڑبڑایا۔۔

    ہم ویسے آجائیں گے ایک گاڑی میں ؟

    سالک نے کہا تو کم سن نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا یون بن کو وہ لاپروا بن کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔

    تم لوگ ویسے بہت مزہبی ہو مجھے اچھا لگا۔۔

    کم سن نے خلوص سے کہا تھا 

    سالک اور شاہزیب ایک دوسے کو دیکھ کر رہ گئے۔۔

    ویسے تمہیں پیٹ میں دوبارہ تو تکلیف نہیں ہوئی۔۔

    یون بن  نے شاہزیب سے پوچھا تو وہ بھنا کر کر کچھ الٹا کہنے لگا تھا مگر یون بن بہت نرم سے انداز میں واقعی فکر کر رہا تھا

    ٹھیک ہوں اب ۔۔

    اس نے اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔۔

    آگئیں ایڈون نے انہیں خراماں خراماں چلتے آتے دیکھا تو اطلاع دی۔۔

    ان کے آنے کا سن کر وہ سب جو باہر تین فٹ اونچی کیاری پر ٹکے تھے باری باری اترے اتر کر انہیں آتے دیکھا سالک دیکھتا رہ گیا۔۔

    شاہزیب نے اسے دیکھ کر تقلید کی خود جم گیا۔۔

    یون بن  کو تجسس ہوا۔ وہ بھی۔ کم سن نے ان سب کو دیکھ کر جھانکا پھر ان سب کو حیرت سے دیکھنے لگا ایڈون جو انھیں آتے دیکھ کر مڑ چکا تھا دوبارہ چونک کر انہیں دیکھا۔۔

    تم کدھر؟

    وہ دونوں چلتی قریب آئیں تو اس نے بلا لحاظ اریزہ سے پوچھا۔۔

    کیا؟ سنتھیا تیز ہو کر بولی۔یہ بھی ساتھ چل رہی ہمارے۔

    یہ کیا کرےگی؟

    ایڈون نے کہا۔۔

    جو میں کروں گی ۔۔سنتھیا بگڑی تمہیں اسے کندھے پر اٹھا کر لے جانا ہے جو تکلیف ہو رہی یہ دو نمونے بھی تو جا رہے۔۔

    اس نے ان دونوں کی جانب اشارہ کیا۔۔

    یہ دونوں لڑکے ہیں باہر گھومتے رہیں گے۔۔

    ایڈون نے کہا تو اریزہ بھی چڑ گئ۔۔

    میں جا کر تم لوگوں کی پریر تھوڑی خراب کر دوں گی۔۔ بیٹھی رہوں گی ایک طرف۔۔

    ایڈون سر جھٹک کر رہ گیا۔۔

    یون بن  نے دلچسپی سے پوچھا۔۔

    کس بات پر بحث چل رہی۔۔؟

    کچھ نہیں چلیں؟

    ایڈون نے ٹال دیا۔۔

    چلتے ہیں ۔۔۔ وہ سر ہلا رہا تھا۔۔

    اسکی گاڑی سامنے کھڑی تھی 

    کیا مطلب؟

    ابھی تو کہہ رہے تھے ہم لیٹ ہو رہے۔۔ ایڈون بگڑا

    وہ تو ہو رہے ہیں ۔۔

    اسکا اطمینان عروج پر تھا

    پھر؟

    کم سن بھی حیران ہوا۔

    بندے گنو زیادہ نہیں ؟

    اس نے ریموٹ سے گاڑی کا لاک کھولا۔۔

    ان لاک کر دی ہے جو جو آتا ہے اسمیں جا کر بیٹھ جائو۔۔

    ہشسس۔

    کم سن نے سر پر ہاتھ مارا۔۔

    مجھے کیوں اٹھایا میں نے پریر میں کونسا جانا تھا۔۔ میں پہلے جاتا ہوں ۔۔۔ وہ واپس جانے مڑا۔۔

    میں بھی چلتی ہوں۔۔ اریزہ بھی پلٹی

    ٹھہر جائو کیا جلدی 

    یون بن نے کم سن کو روکا

    آریزہ

    سنتھیا اسے پکار رہی تھی۔۔پھر ایڈون کو گھورنے لگی

    یہ چندی آبادی کیوں اکٹھی کی ہے؟ 

    ایڈون چندی آبادی پر بے ساختہ ہنسا۔ 

    یہ چندی آباد معزرت کے ٹوکن کے طور پر ہمراہ ہے۔ خود اس یون بن نے آفر کی تھی ہمیں کہ۔۔ 

    وہ وضاحت کر رہا تھا کہ

    تبھی ایک اور بڑی سی گاڑی ان کے سامنے آرکی۔۔

    یہ ہایون تھا

    آجائو کم سن۔۔

    اوئے پردہ مس پردہ آجائو۔۔یون بن پکارا

    اریزہ نے مڑ کر دیکھا تو وہ اسے ہی بلا رہا تھا

    مس پردہ؟

    اسکا منہ کھلا

    آجائو اریزہ۔۔

    سنتھیا نے بھی اسے بلایا۔۔

    وہ واپس آنے لگی تو یون بن کو گھور کر دانت کچکچا کر بولی۔۔۔

    ار ری زا اریزہ نام ہے اسکا۔۔

    وہ لاپروائی سے ہنستا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا

    ہایون الگ حیران اسے آواز دے کر پوچھ رہا تھا جانا کہاں ہے ؟

    میرے پیچھے آئو۔۔

    یون بن نے پکار کر کہا

    اریزہ اور سنتھیا اسی گاڑی کے قریب کھڑی تھیں سو ہایون نے گاڑی انلاک کی تو اسی کی پچھلی نشست کادروازہ۔کھول کر بیٹھ گئیں

    سنتھیا اس گاڑی میں تھی سو ایڈون نے اسی میں جانا تھا

    گھوم کر فرنٹ سیٹ پر آبیٹھا باقی چاروں لڑکے دوسری گاڑی میں سوار ہو گئے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم نے یہاں آنے کیلیے مجھے زور دے کر بلایا۔۔

    چرچ کر دیکھ کر وہ دانت کچکچا کر یون بن سے بولا۔۔

    وہ۔مخصوص انداز میں ہنستا رہا۔۔

    سال میں ایک آدھ بار چکر لگانے میں حرج نہیں

    یہ سب چرچ آنا چاہ رہے تھے میں اکیلا کیا کرتا اسی لیے بلا لیا تمہیں

    اس نے اسکو کندھے اسے ساتھ لگایا تو ہیون  سر جھٹک کر رہ گیا وہ آپس میں کورین میں ہی بات کر رہے تھے۔۔

    آپ نہیں آئیں گے۔۔ شاہ زیب اور سالک کو باہر نکلنے کے پر تولتے دیکھ کر کم سن انکے ساتھ ہی ہو نے لگا تو ایڈون نے اس سے پوچھ لیا۔۔

    وہ اس سے پہلے کچھ کہتا یون بن نے اسکی جانب سے جواب دیا۔

    اسکا یہاں کام نہیں یہ بڈھسٹ ہے۔۔

    اسکی بات پر شاہزیب کو خیال آیا۔۔

    اریزہ تم ۔۔۔ تم بھی چلوگی ہمارے ساتھ ۔؟

    نہیں میں ٹھیک ہوں سنتھیا کے ساتھ رہوں گی۔۔ حسب توقع اس نے منع کردیا۔۔

    یہ کیا کرے گی؟

    سالک حیران تھا۔۔

    یار ویسے شرمندگی ہو رہی۔ہمیں تو نماز پڑھے عرصہ ہوچلا ہے ۔۔شاہزیب کو الگ دکھ تھا۔ 

    آج پکا لوٹا ڈھونڈ یں گے۔۔ انہوں نے مصمم ارادہ کیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    وائو۔۔

    سامنے سے اتنا بڑا نہیں لگ رہا تھا یہ تو بہت عالیشان چرچ ہے۔۔

    اریزہ بچوں کی طرح ہاتھ پھیلا کر گھومی تھی۔۔ بے حد خوبصورت اور بڑا سا ہال تھا جسکی چھت بے حد اونچی تھی۔۔ اس پر سے دیو ہیکل سنہری روشنیاں چھلکاتے فانوس سفید جالی کے براق پردوں سے سجاوٹ تھی کہیں کہیں کورین روائتی اندار کی جھالریں لٹک رہی تھیں جن پر ہنگل زبان میں ہی کچھ لکھا تھا۔۔ سامنے بڑی سی با ہیبت مورت جیزز سے منسوب تھئ۔۔ وہ مورت اتنی بڑی تھی کی اسکے نیچے کھڑےنن اور دیگر کورس بونے لگ رہے تھے 

     نن انکو مسکرا کر موم بتیاں پکڑا گئی۔۔ پریر شروع ہو چکی تھی سو تمیز کا تقاضا یہی تھا قریب ترین سیٹ سنبھال لی جائے۔۔ سنتھیا اور ایڈون اسکے دائیں جانب بیٹھے تھے وہ کچھ دیر تو سننے کی کوشش کرتی رہی پھر چپکے سے سنتھیا کے کان میں بولی۔۔

    مجھے لگا تھا انگلش میں پریر کریں گے ۔

    مجھے بھی۔۔ سنتھیا نے دزدیدہ نظروں سے ایڈون کو دیکھ۔ا جو پوری سنجیدگی سے ہمہ تن گوش تھا۔۔ 

    کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا۔۔ دونوں اکٹھا بولیں۔۔ اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں

    کیا ہوا؟ اسکے ساتھ بیٹھے ہایون  نے پوچھا۔۔

    کچھ نہیں۔۔ اس نے ٹالنا چاہا 

    پریر نہیں سننی؟۔۔ اچھی نہیں لگی۔۔ وہ مزید پوچھ رہا تھا 

    اب ٹالنا بدتمیزی تھی سو اسکی جانب تھوڑا سا جھک کر سر گوشی کی

    وہ سمجھ نہیں آرہی پریر یہی بات کر رہے تھے۔۔

    ہایون مسکرایا۔۔ 

    دھن بلا شبہ دل موہ لینے والی تھی کورس کی آواز بھی بے حد اچھی تھی۔۔ 

    یون بن مگن سن رہا تھا۔۔ بلکہ انکے سوا تو سب ہی مگن تھے ۔۔ وہ یونہی آرائش دیکھنے لگے تبھی اس کے سامنے ایک ہتھیلی پر بلیو ٹوتھ ڈیوائس اور ایک موبائل در آیا۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا 

    نے اشارے سے اسے کان میں لگانے کو کہا اس نے لگایا تو ہیونگ سک نے موبائل میں ایک ویڈیو پلے کر دی۔۔ اسئ پریر کا انگریزی ترجمہ تھا۔۔ حضرت عیسی کی زندگی اور معجزات سے لیکر انکی مشکلات کا تذکرہ بے حد خوبصورت پیرائے میں بیان کیاگیا تھا۔۔ وہ بے حد دلچسپی سے سننے لگی۔۔ ہایون  اسکے چہرے پر بکھرا اشتیاق دیکھ کر مسکرا دیا۔۔ آج وہ کافی عرصے بعد آیا تھا اور آ کر مزہ آیا تھا۔۔ اریزہ بالکل مگن ہو چکی تھی۔۔ وہ سیدھا ہوا تو یون بن  اسکی کرسی کے ہتھے پر کہنی ٹکائے مٹھی بنا کر چہرہ رکھے دبی دبی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا

    اس نے کھسیا کر اسکو دھکیلا۔۔ 

    سامنے دیکھو۔۔ 

    پریر کے اختتام پر سب کھڑے ہوئے ایک لائین سے شمع روشن کی جاتی رہیں۔۔ دیکھنے میں جیسے روشنی کی لہر سی بن گئ تھئ انکی باری آنے پر ایڈون نے  اگلی رو سے  کسی سے لیکر شمع روشن کی اور اپنی شمع سے سنتھیا کی۔۔ اس نے سنتھیا سے لیکر شمع روشن روشن کی ہایون اور یون بن  اسکی لو سے مستفید ہوئےسب آنکھیں بند کر کے شمع روشن کرکے دعا مانگنے لگے تھے۔۔

    وہ کیا کرے دعا مانگے؟اس نے سوچا۔۔ 

    دعا کا وقت نہیں ہوتا جگہ نہیں ہوتی کبھی بھی کہیں بھی مانگی جا سکتی ہے اس نے سوچا۔۔ 

     اس نے شمع اپنے سامنے ڈیسک پر ٹکائی اور دونوں ہتھیلیاں پھیلا لیں

    یا اللہ میرے مالک میں جہاں بھی ہوں مگر میرا مخاطب تو ہی ہے۔۔ میں چاہتی ہوں اگلی دفعہ نماز پڑھ کر ہی تجھ مخاطب ہوں۔ اللہ میاں میں نے آپ سے بنا سوچے سمجھے مانگا ہے پھر بھی آپ نے مایوس نہیں کیا۔۔ پچھلے کچھ دنوں میں بہت شکوے بھی کیے مگر اب میں جہاں ہوں جس حال میں ہوں بہت مطمئن اور خوش ہوں شکریہ اس سب کیلیے جو آپ نے مجھے دیا۔ میرا ظرف وسیع کردیں تاکہ میں اپنی ماں سے ناراضگی ختم کر سکوں انہیں معاف کر سکوں مگر میرا ابھی غصہ بہت زیادہ ہے مجھے پتہ ہے انکا مجھ پر بہت حق ہے مگر میں بھی بہت عام اور معمولی انسان ہوں۔۔مجھ پر رحم کریں۔۔

    اسکے جملوں کے حساب سے تا ثرات بدل رہے تھے۔۔ ہایون  نے دعا کے اختتام پر شمع بجھائی تو اس پر نظر پڑی وہ سب کے برعکس ہتھیلی پھیلائے آنکھیں بند کیے بے آواز لب ہلا رہی تھی۔۔

    ایڈون اور سنتھیا کسی بات پر بحث کرتے دوسری جانب سے نکل گئے باہر۔۔ وہ اور یون بن بھی نکلنے ہی لگے تھے کہ وہ اسے دیکھ کر رک گیا۔۔ وہ گرد و پیش سے بے نیاز کھڑی تھی۔۔  اسکی موم بتی اسکے سامنے ٹکی تھی اسکی لو بلند ہو رہی تھی۔۔ تبھی ہوا کا جھونکا آیا کہ کیاموم بتی کا شعلہ بڑھا اور موم بتی توازن کھو کر اس پر گرنے ہی والی تھی اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر موم بتی اپنے ہاتھ پر لے لی۔۔ گرم جلتی ہوئی موم اسکی ہتھیلی پر گری اس نے تڑپ کر ہاتھ کھینچا لو تو بجھ چکی تھی مگر اسکا ہاتھ موم سے بھر گیا تھا۔۔

    مجھے میری ہر لغزش اور شکوے کیلیے معاف کیجیئے گا اور پلیز میرے والدین کو پنجتن کے صدقے لمبی عمر اور صحت دیں اور ہاں صارم کو بھی پاس کر دیں ۔۔ فی الحال مجھے بس یہی چاہیے۔۔ آمین۔۔

    دعا کے اختتام پر جیسے ہلکا ہو کر مسکرا کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔ مڑ کر دائیں جانب دیکھا تو سیٹ خالی سنتھیا غائب تھی۔۔ اس نے گھبرا کر بائیں دیکھا تو ہایون  اسکے متوجہ ہونے کا منتظر کھڑا تھا۔۔ اسے دیکھ کر بولا۔۔ 

    چلیں۔۔۔ ؟

    اس نے سر ہلایا۔۔ یہ تینوں جب باہر نکلے تو باقی سب گھوم پھر کر جمع ہو چکے تھے انہی کا انتظار ہو رہا تھا۔۔ 

    چلو تم لوگوں کو سیول دکھاتے ہیں۔

    یون بن  نے کہا تو سب پر جوش ہو گئے۔۔

    مال چلیں کسی یا ہنگن ریور یا کلب ؟ کم سن پوچھ رہا تھا۔

    مال کیا کریں گے ریور چلتے ہیں۔۔

    اریزہ نے کہا تو ہایون  نے تجویز دی۔۔

    انکو ایکوریم دکھاتے ہیں۔۔ مال چلتے ہیں کسی گیم کھیل لینا۔اسکیٹ کر لینا۔۔ کراوکے کر لینا۔۔ 

    ایکوریم کیا کرنا دیکھ ۔کر بچے تھوڑی۔۔ شاہزیب بولا 

    ۔ ایڈون کو بھی آیڈیا پسند نہیں آیا۔۔

     ریور سائیڈ چلتے ہیں بوٹنگ کریں گے۔۔  ہایون انکی غلط فہمی دور کرنے لگا تھا کہ باقی سب کو بھی ریور جانے پر تیار دیکھ کر کندھے اچکا گیا۔۔

    ہنگن ریور پر دھوپ پھیلی تھی دوپہر کے وقت یہاں آنا حماقت تھی وہ یہی بتانا چاہ رہا تھا۔۔ مگر ان لوگوں کو جتنی گرمی لگ رہی تھی پاکستانی اتنے ہی پر جوش تھے۔۔

    دریا کنارے ریت پھیلی تھی وہ سب وہاں اچھلتے پھر رہے تھے۔۔ 

    ایسا نہیں لگ رہا پہلی دفعہ انہوں نے دریا دیکھا ہو؟

    یون بن  کم سن اور ہایون  پیچھے پیچھے آرہے تھے یہ پانچوں دریا کنارے پہنچ چکے تھے۔ یون بن  نے کہا تو ہایون متفق تھا۔۔

    کم سن مسسکرا دیا۔۔

    وہ لوگ بے نیاز ہو کر صرف تفریح کر رہے ہیں۔۔ ورنہ کیا دریا پاکستان میں نہیں ہونگے۔۔ 

    ایڈون اور شاہ زیب دریا کے قریب ترین پتھروں پر جا کر چلو میں پانی بھر کر اچھال رہے تھے۔۔

    ان میں سے کوئی لڑھکے گا ہماری دوڑیں لگ جائیں گی۔۔ ۔۔ ہایون نے کہا تو یون بن  کو خیال آیا۔۔

    بھاگا۔۔

    سنو یہ دریا ہے اسے ہلکا مت لو گر ور مت جانا تیز دھوپ میں تو لائف گارڈ بھی اندر کہیں ہونگے۔۔ اس نے کہا تو دونوں ہنستے ہوئے اوپر آگئے۔۔ 

    کوئی کشتی وشتی نہیں یہاں؟

    اریزہ نے کہا توتینوں ادھر ادھر دیکھنے لگے کم سن نے دور کھڑی ایک فیری ڈھونڈ ہی لی۔۔ 

    ملاح نے انہیں دیکھ کر انجن اسٹارٹ کیا۔۔ یہ سب بھاگ کر پہنچے تھے وہاں

    یون۔بن نے بھائو تائو کرنا چاہا تو مڑ کر دیکھا سالک شاہزیب اور ایڈون سوار بھی ہو چکے ہیں۔۔ 

    تم لوگوں میں اتنی انرجی کیوں ہے۔۔ وہ ہنس کر رہ گیا۔۔

    کشتی میں چھے افراد بیٹھ سکتے تھے۔۔ اریزہ ابھی باہر ہی تھی۔۔ ایڈون نے سنتھیا کا ہاتھ پکڑ کر اسے چڑھایا یون بن سوار ہوا کشتی پر تو کم سن اور ہایون رضاکارانہ طور پر پیچھے ہو گئے۔۔ 

    میرا اس تپتی دھوپ میں راوئنڈ لے کر رنگ جلانے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔

    ہایون  نے صاف کہا۔۔ 

    میں اسے کمپنی دے لیتا ہوں ۔۔ تم جائو۔۔۔

    اریزہ آگے بڑھی تو مگر پھر جھجک کر رک گئ۔۔

    یون بن  نے ہاتھ بڑھایا مگر سنتھیا سمجھ کر آگے ہوئی۔۔ اریزہ کا ہاتھ پکڑ کر اسکا پورا وزن سہہ کر اسے سوار کروایا۔۔ یون بن  نے حیرت سے ایڈون کو دیکھا جس نے انکی مدد کرنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔۔ 

    یہ لوگ پانی اچھالتے رہے ایک دوسرے پر سنتھیا اریزہ ایک طرف اپنی باتوں میں لگی رہیں جھک کر منہ پر چھپاکے مار لیے۔۔ 

    یہ لوگ گھومتے رہے کم سن اور ہایون جینز چڑھا کر بیلون ہٹ کے سائے میں ریت پر بیٹھے انہیں دیکھتے رہے۔۔

    واپسی پر سب کے چہرے تمتمائے تھے مگر بے حد پر جوش تھے۔۔ 

    یار انکو گرمی نہیں لگتی؟

    ہایون  حیران ہو رہا تھا۔۔

    کم سن ہنسا۔۔

    میں بھی یہی سوچ رہا تھا مگر یون بن کو دیکھو انکے ساتھ مزے سے انجوائے کر رہا مجھے لگتا یہ گرم جوش لوگ ہیں۔۔ 

    ہایون  نے انہیں آتے دیکھ کر کپڑے جھاڑے کم سن بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔ کشتی کنارے آئی تو چاروں لڑکے چھلانگ مار کر باہر۔

    ایڈون۔۔ سنتھیا چیخی تو وہ ہنس کر بولا وہیں رہو۔۔ اس نے منہ بنایا تو آگر بڑھ کر اسے اتارنے میں مدد کرنے لگا۔۔

    اترتے ہوئے بھی خود تو سنتھیا ایڈون کا سہارا لے کر اتری البتہ اریزہ کو خود اتارا۔۔

    یون بن  نے اس بار ہاتھ بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔۔ ہایون نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔۔

    سنتھیا اریزہ کیلیے ڈھال بن جاتی ہے۔۔ اس نے سوچا۔۔ 

    چلو کچھ کھائیں بہت بھوک لگی ہے۔۔ سالک نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔ 

    شاہزیب اور ایڈون نے بھی تائید کی۔۔ 

    بہت بھوک لگی تو چلو پھر قریب ترین ریستوران چلتے ہیں۔۔ یون بن  نے زہن کے گھوڑے دوڑائے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔

    یون بن  انہیں روائتی کورین ریستوران لایا تھا۔۔ دور تک دو یا چار لوگوں کے بیٹھنے کیلیے چوکیاں بچھی تھیں ان سب نے دو چوکیا ں قریب کر لیں اور لائن سے زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔۔

    یار یہ کتنے مزے کی جگہ ہے۔۔ اریزہ کو کافی پسند آیا تھا ایسے بیٹھنا۔۔

    ہاں ۔۔ ہم مسلمانون کو توفیق نہیں سنت پر عمل کرنے کی۔۔ شاہزیب نے منہ بنایا۔۔

    تم لوگ سبزیاں کھائوگے؟

    یوں بن نے پوچھا تو تینوں نے سر ہلا دیا

    یوں بن نے خود ہی سوچ کر آرڈر دے دیا۔۔

    سوپ کیوں آرڈر کر رہے اتنی گرمی میں۔۔ ایڈون حیران ہوا۔۔

    تم لوگوں کو گرمی لگتی ہے؟ہایون نے کب سے روکا سوال نکال لیا منہ سے

    ہاں۔۔ مطلب؟ وہ سب با جماعت حیران ہوئے۔۔

    اتنی تیز دھوپ میں بوٹنگ کر کے آرہے تب گرمی نہیں لگی۔۔ کم سن نے وضاحت کی

    سچ بتائوں بڑا مزا آیا۔۔ جواب یون بن  نے دیا۔۔

    بالکل گرمی کی طرف دھیان ہی نہیں گیا۔۔

    ان تینوں نے کشتی والے کے اتنا ناک میں دم کیا  یون بن 

    کو انکی حرکت یاد آئی۔۔

    ہم اردو میں بول بول کر چیختے وہ گھبرا کر پوچھتا تو ہر بار اسے کشتی میں نیا نقص بتاتے شاہزیب نے تو سوراخ ثابت کر دیا اسکی کشتی میں رونے والا ہو گیا تھا۔۔وہ۔۔ ایڈون بتاتے ہوئے ہنس رہا تھا۔۔

    خالی سوکھی کشتی اس کو ثابت کر دیا کہ اسے نظر نہیں آرہا ہمارے گھٹنوں تک پانی ہے۔۔ شاہزیب کو اپنی شرارت یاد آئی۔

    بہت کمینے ہو تم لوگ ۔۔ کم سن نے کہا تو کسی اعزاز کی طرح وصول کیا ان لوگوں نے۔۔ 

    تبھی ویٹریس نے آکر کھانا سرو کرنا شروع کیا۔۔

    ان تینوں نے اپنی میز اور ان پانچوں کی میز کا موازنہ کیا پھر روہانسے ہو گئے۔۔ 

    انکی میز پر۔۔ چکن بھنا ہوا ساسجز اور بیف سے سجی میکرونی۔۔ اور سادے ابلے چاول اور اسٹیک یہ بھی شائد بیف کا تھا۔ سوپ انہوں نے چکن کا منگوایا تھا جس میں لال لوبیا اور نوڈلز بھی تیر رہے تھے۔۔

    انکیلیئے

    پنیر میں پکی پالک۔۔ ابلے چاول جن پر نفاست سے ابلے انڈے بچھے تھے۔۔ہری گوبھی جیسی بھی کوئی چیز تھی جو ابلی ہوئی تھی میکرونی پر سجی ہوئی۔ دو پورے آلو بیک کیے ہوئے ساتھ کوئی چٹنی۔۔

    سوپ مولی کا تھا اور واقعی بس مولی کا تھا 

    انکو چٹخارے لے کر کھاتے دیکھا تو صبر شکر کر کے نوالا لیا۔۔

    گھر میں جب بھی پالک بنی سو نخرے کیے حالانکہ میری امی پالک گوشت بناتی تھیں۔۔ کبھی شوق سے نہیں کھایا اور آج۔۔ سالک نے چاول پر پالک ڈال کر نوالہ لیا تھا۔۔

    یہ میری امی کے سامنے رکھو نا تو پھوہڑ قرار دے ڈالیں شیف کو۔۔ کچی ہے پالک۔۔ شاہزیب نے دہائی دی۔۔ 

    آلو بیکڈ ہے یہ کھا لو۔۔ اریزہ کو ہمدردی ہوئی۔۔ 

    آج امی کے ہاتھ کا کھانا یاد آرہا ہے۔۔ کیسی نرم ملائم روٹی بناتی تھیں۔۔ سالک رونے والا تھا۔۔

    میری امی گوبھی کبھی سادہ نہیں بناتی تھیں گوشت ضرور ڈالتی تھیں۔۔ شاہ زیب کی نظر ساتھ والی میز سے ہو کر پلٹ آئی۔۔

    تمہیں کچھ یاد نہیں آیا کھانا دیکھ کر۔۔ دونوں نے حیرانگی سے پوچھا۔۔

    ہاہ۔۔ اریزہ نے ابلا انڈہ آلو چاول میں مکس کیا تھوڑی پالک بھی رکھی ہوئی تھی چٹنی بھی ڈال لی۔۔ اس کو منہ میں رکھا تو دونوں جواب کے منتظر چہرہ دیکھ رہے تھے۔۔ 

    آیا نا یاد۔۔ اس نے نوالہ چبایا۔۔پھر نگلنے لگی

    ایک بار میں نے تحری بنائی۔۔چاول ذیادہ تھے مصالحہ بالکل کم۔۔ ایکدم پھیکے بنے۔۔ امی نے لہسن کی خوب مرچیں ڈال کر چٹنی بنائی۔۔ میں نے چاولوں پر خوب چٹنی ڈالی سرخ کر لیے۔۔ 

    وہ رکی۔۔ دونوں ہمہ تن گوش تھے۔۔

    تب جو ذائقہ بنا تھا وہ اس سے بہتر تھا۔۔

    اس نے منہ بسور کر کہا تو ان دونوں نے بھی منہ لٹکا کر اسے دیکھا۔۔ پھر تینوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔ 

    ا نکو لگ رہا ہے کورین کھانا کافی پسند آیا۔۔

    انکی ہنسی سے چونک کر یون بن  نے خیال ظاہر کیا۔۔ ایڈون اور سنتھیا دبی دبی ہنسی ہنس کر رہ گئے۔۔ ہایون انکے ذوق و شوق سے نوش فرمانے کو نوٹ کر رہا تھا مجال ہے جو کھانے کی مقدار میں کمی آئی ہو۔۔ 

    اس شام گھومتے گھامتے ہاسٹل واپسی تک ان سب میں دوستی ہو گئ تھی۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہاسٹل آکر نہا دھو کر اس نے سارے دن کی قضا نمازیں پڑھنے کی نیت باندھ لی۔ سنتھیا کچھ دیر تو اسکے فارغ ہونے کا۔انتظار کر۔تی رہی پھر سوچا کپڑے بہت جمع ہوگئے سنا تھا کہ۔لانڈری روم بھی ہے یہاں۔اسی کا۔پتہ کرلے۔ 

    میں ذرا لانڈری روم کا پتہ کرلوں پھر کپڑے دھونے چلیں گے اکٹھے۔ 

    نماز پڑھتئ اریزہ کو بتاتئ وہ احتیاط سے دروازہ بند کرکے باہر ڈو نوٹ ڈسٹرب کا نوٹ لگاتی  نیچے چلی آئئ۔ اوپر سے قطار سے کمرے تھے نیچےلابی میں  دائیں جانب کمرے تھے بائیں جانب کچن تھا اسکے برابر میں دو تین دروازے اور کھلتے تھے اسکا یہی اندازہ تھا کہ ان میں سے کوئی لانڈری روم ہوگا۔ 

    اس نے کچن کے برابر والے کمرے کا دروازہ کھولنا چاہا۔وہ۔لاکڈ تھا۔ اسکے برابر والے کمرے میں ایک لڑکی دو تین جوڑے ہاتھ میں پکڑے داخل ہوئی۔تو وہ شاداں و  فرحاں اسکی تقلید میں کمرے میں داخل۔ہوگئ۔ 

    کمرہ مچھلی بازار بنا ہوا تھا۔ دیو ہیکل بڑی بڑی مشینیں تھیں ایک۔جانب دھونے والے کپڑوں کی مشینوں کے سامنے لڑکیوں کا جمگھٹا تھا دوسری جانب کپڑے سکھانے والی مشنیوں کے آگے بھی یہی حال تھا۔ 

    وہ سب لڑکیاں خوب زور و شور سے باتیں کر رہی تھیں۔ اسے تو کسی نے دیکھا تک نہیں۔ وہ۔خود ہی آگے بڑھ کر لڑکیوں کو مشین استعمال کرتے دیکھنے لگی۔ 

    ہنگل بولتئ چندی آنکھوں والی لڑکیوں نے استعجاب اور کچھ کچھ ناگواری سے اسے یہاں معائنہ کرتے دیکھا مگر بولیں نہیں۔ 

    آپکے پاس چینج ہوگی ؟

    ایک چندی آنکھوں والی لڑکی ہنگل میں پوچھ رہی تھی۔ 

    میں سمجھی نہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔ 

    جوابا اس نے گہری سانس  لیکر مدعا دہرایا۔ 

    اسکے پاس پیسے تو تھے ریزگاری بھی مگر کمرے میں۔ 

    جی مگر کمرے میں۔ آپ چلیں میرے ساتھ میں دے دیتی ہوں۔ 

    اس نے شائستگئ سے کہا جوابا اس نے ناک چڑھائی

    جائو۔لا۔کے دو۔ ۔۔۔۔

    اتنی بےتکلفی۔ اس نے کندھے اچکا کر باہر کی جانب قدم بڑھا لیئے۔ آج تو یقینا باری نہیں آنے والی وہ اور اریزہ کل پرسوں کبھی آکر یہاں کپڑے دھو لیں گئ۔ 

    وہ ارادہ باندھتی اوپرچلی آئی۔ اریزہ کی نماز جاری تھی۔وہ والٹ سے ریزگاری نکال کر پلٹی۔۔۔۔ چند سکوں کو مشین میں  ڈالنے سے مشین استعمال کی جاتی تھی۔ وہ کمرہ بند کرتی باہر نکلی لمبی لابی میں وہی لڑکی بالکل سامنے تھی۔ 

    اس کو جھٹکا سا لگا۔

    اس لڑکی نے حیرت سے اسکی حیرانی کو دیکھا پھرسر جھٹک کر سیڑھیوں کی۔جانب بڑھ گئ۔۔ 

    سنیں ۔ اس نے پکارا۔ 

    جوابا وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی

    یہ۔لیں۔ اس نے پیسے والا ہاتھ بڑھایا ۔۔

    اس لڑکی کے چہرے پر پہلے حیرانی نے ڈیرے ڈالے پھر ناگواری سے اسکا بڑھایا ہوا ہاتھ دیکھنے لگی

    ویو؟  کیوں ؟ 

    ویو اسے یہی لگا کہ۔واٹ کہا ہے ۔ 

    ابھی تو مانگ رہی تھیں پیسے۔مجھ سے وہی تو دے رہی ہوں

     سنتھیا کو حیرانی ہوئی۔ 

    میں نے کب مانگےہیں پیسے اور کیوں مانگوں گی پیسے تم سے۔۔۔۔ رواں انگلش سے ہنگل پر فورا اتری 

    ۔ بچھی سا۔( پاگل)

     وہ۔لڑکی گھور کر بڑبڑاتی سیڑھیاں اتر گئ۔ 

    ہیں۔ اسکو حیرانی ہوئئ ۔۔ انداز اسکا ایسا تھا کہ جیسے گالی دے کر گئ ہو۔ کندھے اچکا کر پیسے اپر کی جیب میں ڈالےواپس ڈورم میں جانے لگی کہ تبھئ سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ ہوئی اس نے نیچے جھانکا وہی لڑکی پھولی سانسوں کے ساتھ بھاگتی اوپر آرہی تھی۔ اسے سیڑھیوں کے سرے پر کھڑے دیکھا تو آنکھوں میں شناسائی کی رمق جاگئ

    غیر۔ملکی۔ لے لیئے پیسے؟ 

    وہ بے تکلفی سے آدھی سیڑھیوں پر کھڑی پوچھ رہی تھی۔ 

    اس نے میکا نیکی انداز میں جیب سے سکے نکالے چند قدم اتر کر اسے تھمائے۔ 

    گوموویو۔ پتہ ہے اتنی مشکل سے مشین کی۔باری آئی ہے میری میرے پاس ڈورم تک۔جانے کا بھی وقت نہیں۔۔ 

    وہ خوش ہوکر واپس دوڑی۔ 

    سنتھیا نے تھوک نگلا۔ 

    اس لڑکی نے دوسرے رنگ کے کپڑے پہنے تھے۔ وہ دوسری ہی لڑکی تھی ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم ان گندے بدبو ذدہ لوگوں کو چرچ لیکر گئے گھسنے کیسے دیا انہوں نے؟ 

    گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔ براہ راست اگلی رو میں بیٹھے ان پانچوں کو دیکھتے خاصا با آواز بلند ہنگل میں کہا تھا۔

    یون بن سٹپٹا کر ارد گرد دیکھنے لگا۔ سب طلباء اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو رہے تھے۔کوئی متوجہ نہیں تھا انکی جانب۔

    کیا بک رہی ہو۔ اس نے آنکھیں نکالیں۔ 

    صحیح کہہ رہی ہوں۔یہ دونوں جی ہائے کے سامنےوالے ڈورم میں رہتی ہیں پہلے دن انکو میں وہاں لیکر گئ تھی۔اتنی بو آرہی تھی انکے پاس سے اور تو اور امریکیوں کی طرح کمرے میں داخل ہوتی چلی گئیں جوتے بھی نہیں بدلے۔ 

    گوارا نے باالتفصیل بتایا۔ 

    سوائے شمالی ایشیا کے ممالک کے اور کسی ملک کے باسیوں کو جوتے اتار کر گھر میں پھرنے کی عادت نہیں ہوتی اس سے آپ باقی دنیا کو گندا نہیں کہہ سکتے آپ لوگ بھی کچھ کے نزدیک گندے اور بدبو دار سمجھے جاتے  ہوں گے۔۔۔ 

    ان سے اگلی رو میں بیٹھے پریم سنگھ نے خاصے ناراضگی بھرے انداز میں ہنگل میں جواب دیا تھا۔

    ہائش۔۔۔۔۔ گوارا نےمنہ بنایا

    ایک تو انڈینز ہر جگہ انڈینز کی حمایت میں لڑنےکو تیار رہتے ہیں۔

    اسکی بات پر پریم سنگھ نے ترچھی نگاہ ڈالی مگر بولا۔کچھ نہیں۔ 

    تم مجھے پکا پٹوائو گی۔ 

    یون بن ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ ہایون ابھی داخل ہوا تھا سیدھا اسکی شکل دیکھ کر اسکے پاس چلا آیاتھا۔۔ 

    جی ہائے نہیں کلاس لے گی آج ؟

    ہایون نے یونہی پوچھا تھا۔ 

    جی ہائے ریہرسل کر رہی ہے آج کلاس نہیں لے گی۔ 

    گوارا کی بجائے یون بن نے جواب دیا تھاگوارا غور سے ان پانچوں کو۔دیکھ رہی تھی۔ ٹہوکا۔دے کر یون بن کو متوجہ کیا 

    یہ لڑکی پہنتی کیا ہے۔ سر پرتو نہیں لیاہوتا اس نے ایویں اتنالمبا پردہ گلے میں ڈالے پھرتی ہے۔ اس دن اسکے پیچھے بیٹھی تھی میں۔ اسے اپنی شرارت یاد آئئ۔

    نے اسکے دونوں سرے کرسی سے باندھ دیئے تھے۔ 

    وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی۔ 

    تم پر مجھے شک تو ہوا تھا کوئی اندازہ ہے اسکو کتنی بری طرح جھٹکا آیا تھا اسکی گردن چھل بھی گئ تھی۔ وہ پردہ سر پر لے یا ہاتھ میں پکڑ کر چلے تمہیں کیا۔ 

    ہایون کو جانے کیوں ایکدم سے غصہ آیا تھا۔ وہ اونچی آواز میں گرجتا نہیں تھا مگر اسکی دھیمی آواز بھی درشت تھی چہرے پر غصے۔کی سرخی بھی۔

    کیا ہوگیا ہایون۔ یون بن نے اسکا ہاتھ پکڑا۔  

    ہلکی سی گرہ۔لگائی تھی ۔۔ گوارا کو یقین نہ آیا

    اور ایسے کپڑے پہنتی کیوں ہے جنہیں سنبھال نہیں سکتی۔ 

     اس نے ڈھیٹ بن کے دفاع کیا۔ 

    وہ جو بھی کرے تمہیں ایسی شرارت کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ 

    ہایون کا مئوقف واضح تھا۔ 

    تم کیوں اتنا بھڑک رہے ہو۔ ایک دن ساتھ بیٹھ کر اسے گرل فریںڈ تو نہیں سمجھنے لگے۔ 

    اسکا انداز استہزائیہ تھا

     وہ جھٹکے سے اپنا بیگ اٹھاتا کھڑا ہوا تھا۔۔ 

    کیا ہو گیا ہے ۔۔ یون بن کو سمجھ نہ آیا ان کا غصہ کیسے ٹھنڈا کرائے۔ تبھی سر کلاس میں داخل۔ہوئے۔۔ 

    ہایون نے مزید بحث نہ کی آگلی دو رو چھوڑ کر سب سے آگے جا بیٹھا سداکو کے پاس۔۔۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کوئی بھی ملک جس میں سیا سی استحکام نہ ہو چل نہیں سکتا۔

    یہ میں بہت زمہ داری سے کہہ رہا ہوں۔

    جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا حکومت کی رٹ قائم نہیں ہوگی وہاں امن نہیں ہوگا وہاں معاشی استحکام نہیں ہوگا کوئی بھی ایسی جگہ سرمایہ نہیں لگاتا جہاں اسکو یہ خوف ہو کہ اس کی سرمایہ کاری کبھی بھی کسی سیاسی سازش کا شکار ہو سکتی ہے۔۔ 

    سر جا ن کہہ رہے تھے۔۔

    آپ کسی بھی ترقی پزیر ملک کی مثال لے لیں آپ کو وہاں سب سے پہلا مسلئہ جو دکھائی دےگا وہ سیاسی عدم استحکام ہوگا۔۔

    پھر آپ اب دنیا سے الگ رہ کر اپنا ملک نہیں چلا سکتے۔۔

    سر شمالی کوریا کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

    ایک طالب علم نے پوچھا تو سر نے الٹا اس سے سوال کر دیا۔۔

    آپ شمالی کوریا کو کیسے دیکھتے ؟

    وہاں سیاسی عدم استحکام نہیں ہے۔۔ مگر مجھے لگتا ہے ریاست اپنا وجود کھو رہی ہے۔۔

    وہ جاپانی تھا بے لاگ تبصرہ کیا۔۔

    سر مسکرائے انہیں اسکا جواب پسند آیا تھا۔

    آپ کیسے دیکھتی ہیں شمالی کوریا کو؟

    سر نے سب سے اگلی رو مین بیٹھی اریزہ کو مخاطب کیا۔۔

    میں ۔۔ وہ یکدم کنفیوز ہوگئ۔۔

    میں شمالی کوریا کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی۔۔ 

    سر اسکا جواب سن کر بھی اسے ہی دیکھتے رہے تو اسکا چہرہ سرخ ہونے لگا۔۔ 

    اس نے یونہی دوپٹہ کندھوں پر صحیح کر ڈالا۔۔

    آپ کس ملک سے ہیں؟

    سر نے اس سے پوچھا۔۔

    پاکستان ۔۔ اس نے سنبھل کر جواب دیا۔۔

    آپ جانتی ہیں پاکستان کے شمالی کوریا سے بے حد اچھے تعلقات ہیں بلکہ یہ بھی الزام لگا ہے ان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو نیوکلیئر پاور بنانے میں مدد کی ہے؟

    جی۔۔ اس کے فرشتوں کو خبر نہیں تھی۔۔

    اس نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔۔ وہ مسکرائے۔

    پاکستان کے بارے میں آپ لوگ جا نتے ہیں کیسا ملک ہے۔۔ 

    سیاسی عدم استحکام کا شکار نیوکلیئر پاور۔

    ایک مکمل دھمکی ہے عالمی امن کیلیے۔

    اسکے تین اطراف جو ممالک ہیں ان سے اسکے تعلقات اچھے نہیں 

    صرف چین سے انکے اچھے تعلقات ہیں جسکی وجہ چین کی اندھا دھند پاکستان میں سرمایہ کاری ہے۔۔

    ان پانچوں نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔۔تو سر خالص ریسسٹ نکلے

    بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔۔

    آپکا نام کیا ہے۔۔

    سر کو نہ جانے آج کیوں اس میں دلچسپی ہو رہی تھی۔۔

    اریزہ ۔۔ اس کا انداز اب کھردرا تھا۔۔

    اریزہ ۔۔ یہ ایسے ملک سے آئی ہیں جسکی باون فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے مگر یہ آبادی ملک کی ترقی میں حصہ نہیں لیتی کیونکہ ان پر تعلیم کے دروازے بند ہیں  اگر تعلیم حاصل کر بھی لیں تو انکا معاشرہ انکو کمانے اپنے پیروں ہر کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔۔ 

    مین صحیح کہہ رہا ہوں نا اریزہ۔۔

    وہ پوچھ رہے تھے۔۔

    اریزہ نے جواب نہیں دیا۔۔

    تو سر یہ یہاں پڑھنے ہی آئی ہے۔۔ ایڈون چپ نہ رہ سکا۔۔

    بلکہ اس فیکلٹی میں جن پانچ اسٹوڈنٹس کو ان رول کیا گیا ہے ان میں دو لڑکیاں ہی ہیں اور اگر مزید اسکالرشپس ہوتیں تو مزید لڑکیاں بھی آپ کو یہاں نظر آتیں۔

    سر بجائے چڑنے کے بہت دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اسے۔۔

    آپ کو انگریزی بہت اچھی آتی ہے کیا وجہ ہے۔۔؟

    سر ہم کنڈرگارٹن سے انگریزی سیکھتے ہیں۔۔ اسکو اس سوال کی وجہ سمجھ نہ آئی۔۔

    کیوں ؟

    انکا سوال اہم تھا۔۔

    سرکاری زبان ہے سر اسکے زریعے ہی ہم ایک دوسرے سے رابطہ کرتے۔۔

    اس بار سالک نے جواب دیا تھا۔۔

    میں پانچ سال پاکستان میں رہا ہوں۔۔ سر نے بات بدل دی۔۔

    میں وہاں مترجم کے فرائض ادا کرتا تھا ایک ادارے میں کچھ عرصہ پڑھایا بھی ہے میں نے اور اس ادارے کو اس ادارے سے وابستہ کرنے کی اور آپکے اس ایکسچینج پروگرام  کی سفارش میں میرا کافی کردار رہا ہے۔۔ ہمیں پانچ میل اسٹوڈنٹس کی پروفائل بھیجی گئ تھی۔

    اور ہم نے شرط رکھی تھی کم از کم دو لڑکیاں بھی یونیورسٹی اعلی تعلیم کیلیے یہاں بھیجے گی تب ہی اس پروگرام کو آگے بڑھایا جائے گا۔۔ 

    وہ پانچوں چپ سے ہو گئے

    اریزہ آپ کا نام یہاں سے تجویز کیا گیا تھا آپ جانتی ہیں ؟

    اریزہ نے چونک کر سر اٹھایا۔۔

    پینتیس ممالک کے درمیان ہونے والے تحقیقی مقالے لکھنے کے مقابلے میں آپ کا نمبر ساتواں تھا۔۔ ہے نا

    سر اس سے پوچھ رہے تھے۔۔

    اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا

    سر نہ جانے کیا چاہ رہے تھے۔۔

    میں آپکو یہاں بھی اپنے آپ کو منواتے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ کیا آپ سے میں امید رکھ سکتا ہوں۔

    اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا پوری کلاس اسکی جانب متوجہ تھی۔۔

    جی۔۔ اس نے یس نہیں کہا تھا۔۔

    مگر سر کو جواب مل گیا تھا۔۔

    سو آرام سے کلاس کی جانب متوجہ ہوئے۔۔

    جلد ہی یونیورسٹی کی سالانہ تقریبات کا آغاز ہو رہا ہے ڈرامہ میوزک ڈانس اسپورٹس وغیرہ اس کلاس سے مجھے میکسیمم پارٹیسپیشن چاہیئے 

    کیونکہ میں منتظمین میں سے ہوں سو میں پرجوش بھی بہت ہوں۔۔ آپ سب تیار ہیں؟

    ییس سر ۔۔۔۔ سب نے کورس میں جواب دیا تھا۔ گوارا نے بہت غور سے اس گوری سی لڑکی کو دیکھا تھا جس کا رنگ اسکے دوپٹے سے میل کھا رہا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم ذرا کچھ چیزیں لینے جا رہے ہیں تم لوگ ڈیپارٹمنٹ سے باہر نہ جانا۔ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    ایڈون کی ہدایت پر سنتھیا تابعداری سے سر ہلا رہی تھی۔اریزہ کو اسکی تابعداری بالکل اچھی نہ لگی۔ فورا ٹوکا

    چھوٹی بچی تھوڑی ہے گوارا ۔ ہم۔۔ 

    میں نے تم دونوں کو کہا ہے۔ ایڈون نے جتایا۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔ 

    ایڈون سالک شاہزیب تینوں اکٹھے ہی کہیں جا رہے تھے۔ انکے جانے کے بعد خاصی بد مزا سی ہوکر بولی

    یہ ایڈون خود کو تمہارا ابا سمجھنے نہیں لگا ہے؟

    تمہارا مطلب مجھے اپنی ذمہ داری سمجھنے لگا ہے۔ 

    سنتھیا کھلکھلائی۔ خود تو ٹاپ اور جینز میں تھی اسی کے دوپٹے کا کونا مروڑ کر دانتوں میں بھی داب لیا۔ 

    اس نے بھنا کر دوپٹہ کھینچا۔ 

    تمہارے جیسی لڑکیوں کی وجہ سے میرے جیسی لڑکیوں کے سر پر شادی تلوار بن کے لٹکتی رہتی ہے۔ 

    اریزہ کے کہنے پر بھی وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ 

    مجھے ساجن کے گھر جانا ہے ۔۔ 

    اس نے تان بلند کی۔ پھراسے  کندھا مار۔کر لہک لہک کر گانے لگی۔ اریزہ دانت کچکچا رہی تھی جب پریم سنگھ نے پاس آکر ہلکا سا کھنکار کر متوجہ کیا۔ پھر شستہ انگریزی میں بولا

    ہیلو ۔ میں پریم سنگھ ہوں ۔۔۔ 

    سنتھیا ایکدم سنجیدہ ہوئی اریزہ بھی سنبھل کر سیدھی ہوگئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یار ان سب کی شکلیں کچھ ذیادہ نہیں ملتیں۔

    سنتھیا نے آنکھیں خوب کھول کھول کر ڈیپارٹمنٹ کی روش پر چلتے اپنےگرد و نواح کو گھورا۔ 

    ہماری شکلیں شائد ان سب سے کچھ ذیادہ ہی الگ ہیں۔جبھی سب گھو ر رہے ہیں 

    اریزہ سٹپٹائی۔ درختوں کے سائے میں بیٹھے طلباء ڈیپارٹمنٹ کے شیڈز میں آڑ لیئے کھڑے طلباء اور تو اور روش پر چلتے اکا دکا طلباء بھئ انکو گھور کر۔دیکھتے جا رہے تھے

    ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ کونسی مخلوق ہے ؟ دور روش پر چلتی ان دو اجنبی شکلوں اور عجیب سے حلیئے والی لڑکیوں کو دیکھ کر گوارا ہنسئ۔

    چھبیس ڈگری میں بیچ روش پر دھوپ میں خراماں خراماں چل رہی ہیں۔۔۔ ان دو احمقوں کے علاوہ جو بھی دھوپ سے گزر رہا ہے اس نے کم از کم بھی کیپ پہن رکھی ہے تاکہ دھوپ رنگ نہ جھلسائے۔ 

    کوئی حیرت نہیں انکے پاس سے بو آتی ہے۔ انکو یقینا پسینے چھوٹ رہے ہوں گے۔ 

    گوارا جیسے اہم راز پاگئ۔ یون بن نے ناپسندیدگی سے دیکھا

    تم کیا بار بار بو آرہی ہے کہہ رہی ہو۔ میں ان پاکستانی لڑکوں کے ساتھ روم شئیر کر رہا ہوں ایسا کچھ نہیں ہے

     یون بن کے کہنے پر گوارا حیرت سے گھومئ اسکی جانب۔ 

    مانا ہم بین القوامی یونیورسٹی کے طلباء ہیں مگر انکو بین القوامئ طلباء کا ڈورم تو الگ رکھنا چاہیئے تھا کم از کم۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجھے کیا کہتا ہے۔ اچھا لڑکا ہے اوپر سے ہم سے گھلنے ملنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ 

    شاہزیب نے سالک کے اعتراض پر ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ 

    بس وہ یہ غیر مسلم پاکی ناپاکی کا خیال نہیں رکھتے نا۔ میں کمرے میں نماز کیسے پڑھوں گا۔ سالک نے دھیرے سے کہا۔ 

    شاہزیب اسے دیکھ کر رہ گیا۔ اب اسکے لئے کمرہ خالی کروانا تو ممکن نہ تھا۔۔۔ وہ لوگ پر ہجوم گنگم اسٹریٹ میں پھر رہے تھے جس کے بارے میں مشہور تھا سوئی سے ہاتھی تک ملتا ہے۔ واقعی ایک ٹھیلے پر ہاتھی مل رہا تھا۔

    ایڈون مزے سے اس اسٹفڈ ہاتھی کو گھما گھما کر دیکھ رہا تھا۔ 

    اب یہ نہ کہنا کہ سنتھیا کو ہاتھی گفٹ کرنے لگے ہو۔ 

    شاہزیب نے پیچھے سے کندھے پر ہاتھ مار کر اسے چونکایا۔ 

    یہ سالک کیلئے لیا ہے میں نے۔ ایڈون نے کہا تو سالک حیران رہ گیا۔

    میرے لیئے کیوں؟

    یہ دکھا کربرتنوں والے کو سمجھائوں گا کیسا برتن چاہیئے۔ 

    ایڈون نے بے حد سنجیدگی سے کہا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دکاندار نے چار کپ چائے بنانے والی ایک مناسب سائز کی کیتلی سامنے لا رکھی۔ 

    سالک شاہزیب کا منہ کھلا رہ گیا اور ایڈون نے بڑے پیار سے برتنوں کے نمائشئ ڈھیر کے درمیان شان سے بیٹھے ہاتھی کو پیار سے دیکھا۔ 

    یہ ٹھیک ہے؟ 

    اسٹیل کی گول پیندے والی اس کیتلی کا وزن کافی تھا۔ شاہزیب نے نہایت ماہرانہ انداز سے اسے گول گول گھما کر دیکھا۔ 

    اس میں پانی کم آئے گا۔ اس سے بڑی ملے گی ؟ 

    دے۔چندی آنکھوں والا وہ چاق و چوبند بوڑھا شخص واپس مڑ گیا دکان میں ادھر سے ادھر برتن پٹختے وہ نسبتا بڑی کیتلی ڈھونڈ رہا تھا۔

    اس کیتلی کا پیندا بڑا ہونا چاہیئے۔ 

    یہ بات ہنگل میں اسے بتاتو سکتے نہیں تھے۔ کیتلی پر ہاتھ پھیر پھیر کر زو رزور سے بگ کہہ رہا تھا سالک۔ 

    آراتا آراسو۔ 

    بوڑھا شخص سر۔ہلا رہا تھا۔ 

    سالک مطمئن ہوا اب یقینا انکو مل ہی جائے گی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اور سنتھیا کیفے جارہی تھیں جب گوارا نے انہیں آواز دے کر روکا۔

    وہ بجری کی روش کے کنارے درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔

    یون بن  نے حیرت سے اسے دیکھا کیوں روکا۔۔ وہ دونوں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔

    وہ دونوں کافی فاصلے پر تھیں سو رک گئیں مگر انکا چلنے کا ارادہ نہ دیکھ کر وہ منہ بناتی اٹھی ہاشسس۔

    اس نے ہاتھ میں پکڑا ڈرنک یون بن  کے برابر میں بنچ پر رکھا اور تیز تیز قدم اٹھاتی انکے پاس چلی آئی۔۔

    چند لمحے اریزہ کو گھورتی رہی۔ سنتھیا نوٹ کرکے آستین چڑھا ہی رہی تھئ کہ مزاج درست کرے تو وہ بولی

    یہ جی ہائے کو دے دینا رات بارہ کے بعد ۔۔ اور اس سے کہنا میں اس ویک اینڈ پر ہی آئوں گی۔۔ 

    اس نے جلدی میں ہی حکم دینے والے انداز میں کہہ کر ایک چھوٹا سا پیکٹ اسے تھمایا۔۔اور اسی تیزی سے واپس پلٹ گئ۔۔

    ایکسکیوز می۔۔ سنتھیا کو اسکا انداز کھلا۔۔ اوہ ہیلو۔۔ اس نے روکنا چاہا مگر گوارا قصدا نظر انداز کر گئ۔۔

    ارے۔۔ اسکا اندازدیکھو بات کرنے کا ہم اسکے باپ کے نوکر ہیں۔۔

    سنتھیا بری طرح تپ گئ۔۔ اریزہ بھی حیران ہاتھ میں گفٹ پکڑے الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔

    اور ہم جی۔ہائے  کو کہاں دیکھیں گے ؟ہمیں کیا پتہ کون ہے جی ہائے  سب تو ایک شکل کی ہیں پھینکو اسے یہاں پر اور چلو۔۔

    سنتھیا نے کہا تو اریزہ جو گفٹ کو دیکھ رہی تھی چونکی۔۔

    گفٹ کے اوپر چھوٹا سا کارڈ لگا تھا جس میں پیارا سا ٹیڈی بیئر ہیپی برتھ ڈے کہہ رہا تھا۔۔ اندر کچھ اور زبان میں لکھا تھا۔۔

    نہیں یار یہ گفٹ ہے اور بھاری بھی ہے ۔اس نے دھیرے سے ہلایا۔۔

    گوارا اور یون بن  دور بیٹھے خوش گپیوں میں مگن تھے۔۔

    ٹوٹ جائے گا۔۔ وہیں جا کر اسے دیتے ہیں کہ خود جیسے مرضی دے کر آئے۔۔

    ایک تو اریزہ بندہ اتنا با مروت بھی نہ ہو۔۔ سنتبھیا کو غصہ آگیا۔۔ 

    اس کا انداز دیکھا تھا مجھے پکڑاتی تو یہ گفٹ اسکی کھوپڑی پر ہی بجا دیتی ۔۔ اور تم نے تھاما ہی کیوں

    یار مجھے کیا پتہ تھا ایک تو انگریزی بھی ایسے بولتی ہے کہ دماغ چکرا جاتا ہے جتنی دیر میں دماغ نے ترجمہ کیا  بات سمجھی یہ آفت کی طرح آ کر یہ یہ جا وہ جا۔۔ اس نے ہاتھ سے یہ جا وہ جا کااشارہ کرتے ہوئے ہاتھ اونچا کیا تو اسی بنچ پر نظر پڑی جس پر یون بن  اور گوارا بیٹھے تھے۔۔ وہ بنچ خالی تھا اب۔۔

    یہ کہاں گئے۔۔ وہ پریشان ہوئی۔۔

    سنتھیا نے پلٹ کر دیکھا پھر دانت کچکچانے لگی

    اب بھگتو ۔۔ ڈھونڈو اس چڑیل کو یا پھر اسکی وہ کے جی کو۔۔

    حد ہے یار۔۔

    کے جی نہیں جی ہائے۔۔ 

    اریزہ کو نام یاد تھا۔۔

    تمہیں پتہ ہے کونسی ہائے جی ۔۔ ہے ؟

    سب تو ایک جیسی لگتی ہیں۔۔ پتہ ہے رات کو میرے ساتھ کیا ہوا اس نے سب بپتا کہہ سنائی

    ہاہاہہاہاہہاہ اریزہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگی۔۔

    یہ تو اخیر حد ہے بھئی۔۔ ہا ہا ہا۔۔تم لڑکی کی شکل مکس کر گئں میں کہاں تھی؟

    سنتھیا کو اسکے ہنسنے پر غصہ آرہا تھا۔۔

    تم نماز پڑھ رہی تھیں رات کو جب ۔۔

    ویسے کچھ زیادہ لمبی نماز نہیں تھی میں باہر ٹہلتی رہی نئی دوست بنا لی جب واپس آئی تب بھی تم تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔

    خیر ہے؟

    ہاں یار۔ اس نے گہری سانس لی۔۔ صبح ٹائم نہیں ہوتا رات کو ہی فریش ہو جاتے ہیں روز تو مین نے سوچا باتھ روم کا تو یہاں مسلئہ رہنے والا ہے    سو رات کو نہا دھو کے آرام سے پورے دن کی قضا پڑھ لیتی ہوں نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے۔۔ پھر معافی بھی مانگ لیتی ہوں خدا سے۔۔

     سنتھیا نے کندھے اچکا دیئے۔۔ اچھا یہ بتائو یہ  حے جی کو کہاں ڈھونڈو گی؟

    اریزہ کے زہن میں جھماکا ہوا۔۔

    گوارا کیساتھ ایک ہی لڑکی کو دیکھا تھا آج تک اس نے۔وہی بسکٹ والی لڑکی۔۔ میرا نام جی ہائے ہے تمہارا؟

    وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔ 

    وہ ہماری پڑوسن ہے۔ اریزہ نے بتایا تو سنتھیا بھی چونکی۔۔ 

    وہ جمناسٹک والی۔۔ 

    اریزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی ہائے کا کمرہ لاکڈ تھا

    پاس سے گزرتی لڑکی نے انھہیں کھڑے دیکھا تو بتا یا۔۔

    اسکی کل برتھ ڈے ہے وہ بازار گئ ہے چیزیں لینے۔۔

    وہ کہتی اپنے کمرے میں گھس گئ

    یہ دونوں پلٹ کر اپنے کمرے میں آگیئں 

    یار لانڈری نہ کریں کل ؟

    کافی کپڑے ہوگئے ہیں۔۔

    کل نہیں آج ۔۔ اریزہ نے جتایا۔۔ کہان ہیں تمہارے کپڑے ۔۔ اس نے پوچھا

    سنتھیا آرام سے الماری  میں گھس گئ۔ وہ سمجھی کپڑے نکالے گی سو منتظر تھی۔۔ ا س نے ذخیرہ کیے کھانے پہنے کے سامان سے بسکٹس نکال لیئے۔۔

    وہ کافی کھانے پینے کی عادی تھی۔۔

    کتنا کھاتی ہو جاتا کہاں ہے۔۔ اریزہ رشک سے بولی۔۔ 

    دبلی پتلی نازک سی ایک وہ تھی ہمیشہ صحتمند لگتی چاہے فاقہ کرتی پھرے۔۔

    یار میں موٹی نہیں ہوتی۔۔

    وہ لاپرواہ تھی۔۔

    مزے سے کھاتی بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔

    اریزہ دھونے والے کپڑے الگ کرنے لگی۔۔

    سنتھیا نے پیر پھیلائے

    میرے سارے میلے کپڑے ادھر کرسی پر پڑے ہیں 

    اریزہ سر جھٹکتی اٹھی اسکے کپڑے بھی اٹھالیے۔۔

    چلو۔۔ ۔۔

    ہاں آرہی ہوں ۔۔ یہ کھا لوں۔۔ تم جائو میں آرہی ہوں

    اسکا ارادہ پیکٹ ختم کرنے کا تھا

    اریزہ کمرے سے نکلی تو آرام سے فون اٹھا لیا۔۔

    کہاں ہو؟

    اس نے ٹائپ کرکے بھیجا۔۔

    چند لمحوں میں جواب آیا۔۔

    آپکے دل میں۔۔

    اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لانڈری روم کہاں تھا یہ تو اسے سنتھیا نے بتا دیا تھا مگر اس دیو ہیکل مشین کو جس پر ہدایات بھی ہنگل میں تھیں وہ گھورے جا رہی تھی۔ 

    آپ دنیا کا بس وہی کام نہیں کرتے جس کو آپکو کبھی کرنا نہ پڑا ہو۔ 

    اس نے مشین کی تصویر اتاری بلاگ پر لگا دی اس عنوان کے ساتھ۔۔ 

    کوئی ہے جو مجھے اس مشین کو چلانا سکھا دے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ

    میرے خاندان میں کسی نے ایسی مشین نہیں دیکھی۔ 

    دوسرا کمنٹ 

    یہ تو چارہ کاٹنے والی مشین ہے ایڈمن۔ 

    تیسرا کمنٹ 

    میری خواہش ہے آپ سب ایک بار ضرور میرا چینل وزٹ کریں ہم روزانہ کی۔بنیاد پر اقوال و شعر و شاعری ساجد خان کی سحر انگیز آواز میں اپلوڈ کرتے ہیں۔ لائک فار لائک  کمنٹ فار کمنٹ۔۔۔ فالو فار فالو

    چوتھا کمنٹ۔ 

    یہ کیا کوئی اسپیس اسٹیشن ہے؟ 

    پانچواں کمنٹ۔ 

    ایک عدد لنک۔ نام بھی کوئی عجیب سا۔ 

    اس نے لنک کھول لیا۔۔

    اس مشین کو استعمال کرنے کا طریقہ ہی کسی نے اپلوڈ کر رکھا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم ہیں Lotte world میں ۔یہ ہے سیول کے بڑے ترین انڈر گرائونڈ  مالز میں سے ایک۔۔۔ یہ ایکیوریم دنیا بھر میں مشہور ہے۔۔۔۔ ایکیوریم کے داخلی حصے پر یون بن کسی ماہر گائیڈ کی طرح بتا رہا تھا۔ 

    کوئی انڈین ریستوران ہے یہاں۔۔ سالک کو بھوک لگی تھی۔۔

    ہاں۔۔ یہاں سب ہے۔۔مگر باہر۔ 

    کم سن نے ہنس کر کہا۔ 

    کم سن اور شاہزیب روم میٹ تھے سالک ایڈون اوریون بن سو اکٹھے ہی پرگرام بنا کر نکلے تھے۔۔

    مگر سنگل اس طرف جائیں اور کپلز اس طرف۔۔

    وہ مال کے بیچ میں کھڑا اشارے کر رہا تھا دائیں اور بائیں

    ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔

    مطلب؟

    مطلب تم لوگ ادھر جائو میں ادھر چلا۔ادھر دنیا کے سب نایاب پانی کے جاندار موجود ہیں۔ دیکھو انجوائے کرو۔ 

    کم سن نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔۔

    میں گوارا کو رومینٹک کامیڈی فلم دکھانے جا رہا ہوں اف دو گھنٹے ٹک کر بور ہونگا

     اس نے منہ بنایا۔۔

    سوچ رہا ہوں نیند پوری کر لوں ساری رات سالک کے خراٹوں سے بار بار اٹھتا رہا ہوں۔۔

    اس نے سالک کو گھور کر دیکھا تھا

    تمہیں گوارا کو بلانے کی کیا ضرورت تھی ہم لڑکے لڑکے ہی تو بس آئے ہیں ۔۔ 

    کم سن نے ٹوکا۔۔

    لاسٹ ٹرپ کا پتہ چلنے پر اچھی خاصی ناراض ہوئی تھی۔۔ 

    اسے یاد آیا۔۔۔۔ ذہن میں وہ منظر پوری آب و تاب سے روشن ہوا

    اس نے بلا لحاظ اپنے بیگ سے ٹھکائی کی تھی 

    مجھے کیوں نہیں کے کر گئے تھے۔۔ کہتی جا رہی تھی لڑتی جا رہی تھی

    ہم چرچ گئے تھے تمہیں پوچھا تھا تم نے کہا تھا کہ تمہیں دلچسپی نہیں۔

    بعد میں تو گھومنا تھا نا بتاتے تو میں ویٹ کر لیتی۔۔ 

    اس نے فیس بک کی تصویروں سے پکڑا تھا اسے رنگے ہاتھوں۔۔

    اس نے جھرجھری لی۔۔

    میں تیری وجہ سے آیا تھا کم سن نے اسے گھورا۔۔ وہ دونوں ہنگل میں بات کررہے تھے۔

    ورنہ میں تو سیول میں نیا نہیں ہوں جو مجھے ایکوریم میں دلچسپی ہو۔۔

    ٹھہر نا۔۔ یار اس نے ملتجی انداز میں کہا۔۔

    گوارا کب سے مووی کا کہہ رہی تھی بس اسلیے اور تم نے اکیلے روم میں کیا کرنا تھا بیٹھ کر ان کے ساتھ گھوم پھر لے ایڈون نے گفٹ لینا اسکی مدد کر دینا یار انکو تو بالکل بھی ہنگل نہیں آتی ایویں لٹ جائیں گے۔۔ 

    یہ تینوں خاموشی سے انہیں دیکھ رہے تھے

    جون تائی کو احساس ہوا تو مسکرا کر اب انگریزی میں بولا۔۔

    میں بس تھوڑی دیر میں آتا ہوں تم لوگ انجوائے کرو۔۔

    وہ انکے کندھے پر ہاتھ مرتا سوری کہتا بھاگ گیا۔۔

    چلو ۔۔کم سن کے پاس اب کوئی ا ور چارہ نہیں تھا۔۔

    تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں ؟ ایڈون نے موبائل میں میسج ٹائپ کرتے کرتے پوچھا تھا۔۔

    شاہ زیب اور سالک ان سے ایک قدم آگے ہی باتیں کرتے چل رہے تھے۔۔

    نہیں۔۔ کم سن نے سوچا پھر مسکرا دیا۔

    تمہاری ہے کیا؟

    ایڈون کے چہرے ہر بہت پیار بھری مسکراہٹ در آئی۔۔

    کم سن نے بہت دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔

    ہاں بلکہ گرل فرینڈ نہیں فیانسی۔۔

    تعلیم مکمل کرتے ہی ہماری شادی ہو جائے گی۔۔

    کونسی ہے۔۔ آ ری زا؟ 

    کم سن نے خیال ظاہر کیا۔۔

    ٹائپ کرتے ایڈون کے ہاتھ رکے۔۔

    چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔

    نہیں ۔۔ سنتھیا۔۔ 

    وہ ڈارک کمپکیکشن والی۔۔ کم سن نے اسے تھوڑا حیرت سے دیکھا۔۔

    ہاں ۔۔ اسے کم سن کا  ڈارک کمپلیکش کہنا اچھا تو نہیں لگا تھا۔۔ 

    سیول کے سب لوگوں کو انگریزی آتی ہے۔ 

    اسے فراٹے سے بولتے دیکھ کر سالک نے مڑ کر پوچھا۔ 

    نہیں۔ در اصل ہایون امریکہ جا رہا ہے اس نے انگریزی زبان کے کورس میں داخلہ لیا تھا میں نے یون بن  اور گوارا نے اسکے پیچھے داخلہ لیا۔ مگر فائدہ ہی ہوا ہے انگریزی سیکھنے کا۔ وہ ہنس کر بولا

    سالک نے سر ہلایا۔ 

    ہمیں فائدہ ہوا ہے ابھی تو انکے انگریزی سیکھنے کا۔ 

    اس نے اردو میں ہی کہا تھا۔ 

    ایک بات پوچھوں تم لوگوں سے؟ برا تو نہیں مانوگے؟

    ایڈون قصدا ایک قدم آگے ہو گیا تھا تو کم سن نے ان دونوں کو مخاطب کیا۔۔

    دونوں اپنی بات چھوڑ کر مڑ کر دیکھنے لگے۔۔

    ہاں پوچھو۔۔

    تم سب ایک ملک سے ہو۔ 

    ایک شہر سے بھی ہیں۔۔ سالک نے لقمہ دیا۔۔

    پھر اتنے الگ الگ سے کیوں لگتے ہو۔۔

    ایڈون کی رنگت گہری ہے تم گورے چٹے ہو شاہزیب کا رنگ نا گہرا ہے نا چٹا۔۔

    سوال غورطلب تھا۔۔ 

    میں تو کشمیری ہوں پہاڑی علاقے کا اسلیے گورا ہوں۔۔

    سالک نے کہا۔۔

    شاہ زیب نے کہا 

    میں پنجابی ہوں تھوڑے گرم علاقے کا۔۔

    اور ایڈون۔۔ وہ چپ ہو گیا۔۔

    پاکستان انڈیا میں مختلف نسل کےلوگ رہتے انکا رہن سہن عادتیں مزاج سب الگ ہے ہماری ہر دو کلومیٹر کے بعد زبان اور لہجہ بھی بدل جاتا ہم پانچوں میں بس اریزہ اردو اسپیکنگ ہے باقی ہم سب کی اردو مادری زبان نہیں ہے۔۔  ایڈون نے تفصیل سے بتایا اسکا موڈ بحال ہو چکا تھا

    تم سب کرسچن بھی نہیں ہو ہے نا؟

    کم سن نے اندازہ لگایا۔۔ یہ رات کو کپڑا بچھا کر بیٹھ کر کچھ کر رہا تھا اس دن چرچ بھی نہیں گیا تھا۔۔

    یہ دونوں مسلمان ہیں میں کرسچن ہوں۔۔

    ایڈون نے کہا تو کم سن نے کندھے اچکا دیئے۔۔

    وہ باتیں کرتے ایکوریم میں داخل ہو گئے تھے ۔

    بڑی بڑی شیشے کی دیواریں اندر تیرتے خوبصورت جانور رنگ برنگی مچھلیاں۔نیلا پانی سمندری گھاس سے سجا

    ان تینون نے ایسا کچھ پہلی بار دیکھا تھا۔۔ ان کے چہرے پر اتنا اشتیاق در آیا تھا کہ کم سن مسکرا کر رہ گیا پھر انکو مختلف جانور دکھانے لگا۔۔

    ایکوریم کی دیوار کے ساتھ مختصر تعارف بھی انگریزی اور مقامی زبان میں درج تھا

    انہیں اتنا پسند آیا کتنی دیر وہیں گھومتے رہے کم سن کے خیال کے بر عکس وہ بالکل بور نہ ہوا تھا۔۔

    وہ تینوں ہر جانور کے ساتھ تصویر کھنچوا رہے تھے

    اود بلائو آرام سے کونے میں بیٹھا تھا اسے منہ بنا بنا کر سالک نے متوجہ کیا اسے منہ چڑاتا رہا وہ بھی پورا منہ کھول کر لپکا ایڈون اور شاہ زیب دونوں سالک کے ساتھ تیار کھڑے تھے اس آتے دیکھا تو تینوں نے چیخ مارنے والے انداز میں پورا منہ کھولا کم سن نے اسی وقت تصویر کھینچ لی یہ تینوں اور انکے ساتھ چیختا چوتھا اود بلائو۔۔ تصویر کھینچ کر وہ وہیں لوٹ ہوٹ ہوگیا۔۔ کئی سیاح انکی مستیاں دیکھ کر انکی جانب ہی متوجہ تھے اور ہنس رہے تھے۔۔

    رنگ برنگی مچھلیوں کو ایکوریم سے ہونٹ چپکا کر چومتے ہوئے۔۔

    یار ہم لڑکیوں کو بھی لے آتے وہ زیادہ خوش ہوتیں یہ ایکوریم دیکھ کر۔۔

    شاہزیب نے کہا تو سالک اور  ایڈون نے تائید کی کم سن بٹر بٹر دیکھ رہا تھا ایڈون نے ترجمہ کیا۔ 

    اس سے زیادہ بھی کوئی خوش ہو سکتا یہاں آکے؟

    اس نے کہا تو یہ تینوں ہنس پڑے۔۔

    یار مجھے گفٹ لینا یہاں کوئی اچھی گفٹ شاپ ہے۔۔۔؟

    ایڈون کو یاد آیا تو کم سن نے فورا سر اثبات میں ہلایا۔۔

    ہاں چلو۔۔

    کم سن انہیں اییکوریم سے باہر لے آیا۔ اوپر چڑھ کر باہر نکلے تو ایک نئی دنیا تھی ۔ بڑے بڑے برانڈز کی اونچی سجی دکانیں۔ وہ انہیں نسبتا سستی جگہ لیکر آیا۔

    یہ ایک بڑی سی شاپ تھی مگر پھیکے رنگوں کی

    آل مینز اسٹف تھا ۔ٹائیاں شرٹس ٹراوزرز۔برانڈڈ گھڑیاں پرفیومز 

    ایک مکمل مردانہ اسٹور

    شاہ زیب اور سالک اندر گھس گئے

    ایڈون نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔۔

    مجھے سنتھیا کیلیئے گفٹ لینا۔۔

    اب مجھے الہام تھوڑی ہوگا کس کیلیے لینا۔۔کم سن ہنسا

    گفٹ لینا ہے کہہ رہے تھے بس۔۔

    ادھر آئو۔۔ وہ اس لے کر باہر نکل آیا۔۔

    دو تین دکانیں چھوڑ کر کاسمیٹکس کی دکان تھی ساتھ ہی اندر ملحقہ گارمنٹس کی شاپ تھی۔۔

    ورائیٹی اور چوائس کی بھرمار تھی ایک لمحے تو کچھ سمجھ نہ آیا کیا لے۔۔

    اس نے یونہی ایک برانڈڈ کاسمیٹکس کی میک اپ کٹ اٹھا لی۔۔ قیمت مناسب تھی۔۔ اس نے پیک کرنے کو دے دیا سیلز گرل مخصوص انداز میں جھک کر اس سے کٹ لے کر پیک کرنے چلی گئ۔۔ کم سن اسے چھوڑ کر گارمنٹس شاپ پر کھڑا تھا۔۔

    ایڈون بھی اسکے پاس چلا آیا۔۔

    ایک خوبصورت سی ڈمی ہلکے فیروزی رنگ کی میکسی پہنے کھڑی تھی جسکے گلے پر بے حد خوبصورت گلابی نارنجی چھوٹے چھوٹےربن کے پھولوں کی سجاوٹ تھی ساتھ ہی ستارے دمک رہے تھے بلا شبہ بہت خوبصورت لباس تھا۔۔

    کم سن اس لباس کو دیکھ رہا تھا۔۔

    اس لباس میں کسی اور کو۔۔

    بہت پیارا ہے ۔۔ ایڈون نے تعریف کی تو وہ چونکا۔۔

    ہا ہاں لے لو۔۔ ڈسکاونٹڈ پرائس ہے اسکی۔۔

    اس نے ٹیگ سے قیمت پڑھی۔۔

    میں نے میک اپ کٹ پیک کرنے دی ہے۔۔

    ایڈون نے بتایا۔۔تو وہ کندھے اچکا کر بولا۔۔

    ویسے یہ ڈریس بہت پیارا ہے اگر میں اپنی گرل فرینڈ کو گفٹ کرتا تو یہ کرتا۔۔ تمہیں اچھا نہیں لگا؟

    اچھا ہے وہ مسکرایا کلر بھی اچھا۔۔ مگر سنتھیا پہننے کو تیار نہ ہوتی۔۔ 

    کیوں ۔۔کم سن نے حیرت سے پوچھا۔۔ 

    بہت ریویلنگ ہے۔۔ اس نے گہرے سے گلے اور آف شولڈر کی طرف اشارہ کیا۔۔

    کم سن الجھن سے دیکھ کر رہ گیا بولا کچھ نہیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کپڑے دھو کر سکھا کر تہہ کرکے باسکٹ اٹھا کر کمرے میں آئی تو سنتھیا وہیں ویسی ہی لیٹی موبائل میں مگن تھی۔۔ اس نے اپنے کپڑے احتیاط سے کرسی پر ٹکائے اس کے سارے تہہ شدہ کپڑے اٹھائے 

    وہ اتنی مگن تھی کی اریزہ کے آنے کا پتہ نہ چلا۔۔

    اس نے پورا ڈھیر اس پر الٹ دیا پھر خود بھی اس پر چڑھ گئی

    سنتھیا اس آفت کیلیئے تیار نہیں تھی چیخی مگر اریزہ نے نہ چھوڑا۔۔

    تم نے کتنے اچھے کپڑے دھلوائے میرے ساتھ۔۔

    یہ شرٹ یہ پینٹ  یہ اسٹالر۔۔ 

    وہ ایک ایک کپڑا اٹھا کر اس کے منہ پر مار رہی تھی

    سنتھیا ہنستی جا رہی تھی سوری کہتی جا رہی تھی۔۔

    یار سو سوری بالکل بھول گئ موبائل مین لگ کر۔۔

    اریزہ اس پر باقائدہ چڑھ کر بیٹھی تھی

    موٹی اٹھ جائو مر جائونگی میں پٹ پٹ کر ہنس ہنس کر اس کا برا حال تھا سانس پھول چکی تھی

    کیا دیکھ رہی تھیں موبائل میں اس نے چھینا۔۔

    پھر چونک گئ۔۔ 

    یہ کہاں گئے ہوئے ہیں ؟ ہمیں کیوں نہیں لے کر گئے؟

    اسے غم لگ گیا

    کتنا مزہ کر رہے ہیں یہ برے لوگ۔۔ وہ روہانسی ہو کر تصویریں دیکھ رہی تھی

    مجھے بھی دیکھنی ہے ادھر آئو۔۔

    سنتھیا نے موبائل کھینچنا چاہا مگر اریزہ کی گرفت مضبوط تھی وہ نظریں ہٹائے بنا کھسک کر اس کے پاس لیٹ گئ۔۔

    دونوں برا بھلا کہتی تصویرین دیکھنے لگیں۔۔

    تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔

    کون ہے آجائو۔۔ انہوں نے اکٹھے ہی بولا۔۔

    جی ہائے اندر چلی آئی دونوں کو دیکھ کر حیران ہی رہ گئ۔۔

    دونوں نے اکٹھے نووارد کو دیکھا۔۔

    ہائی۔۔ جی ہائے مسکرائی

    ہائے۔۔

    وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارہ لیتی اٹھ بیٹھیں آئو بیٹھو؟

    اریزہ نے خفت زدہ ہو کر کپڑے ایک طرف کرکے بیڈ کے اوپر جگہ بنائی

    نہیں شکریہ۔۔

    اس نے سہولت سے انکار کر دیا۔۔

    وہ آج میں اپنی سالگرہ منا رہی ہوں بارہ بجے باہر ٹیرس پر آجانا کیک وغیرہ کاٹیں گے مزا رہے گا۔۔

    اوہ اچھا شیور۔۔

    دونوں نے اخلاق سے پیشکش قبول کی۔۔

    کرم۔۔ میں پہلے جاتی ہوں۔۔۔۔ وہ کہتی مڑنے لگی۔تو اریزہ کو یاد آیا۔۔

    ایک منٹ 

    گوارا نے تمہارے لیے تحفہ دیا ہے۔۔

    اریزہ نے اپنی میز سے اسکا گفٹ اٹھا کر پکڑایا۔۔

    یعنی وہ آج نہیں آئے گی۔۔ وہ تھوڑا مایوس سی ہوئی۔۔ 

    خیر تم لوگ ضرور آنا میں انتظار کروں گی۔۔

    وہ ایک بار پھر اصرار کرتی مسکراتی چلی گئ۔۔

    یار کتنے اچھے طریقے سے ملی ہے۔ بلا کر گئ ہے ۔۔ اریزہ نے تعریف کی تو وہ انگڑائی لیتی بولی

    دس بج رہے کون بارہ بجے تک جاگے گا۔۔ میں تو سونے لگی ہوں۔۔ اس نے جمائی بھی لے ڈالی۔۔

    کپڑے تو سمیٹ لو۔۔ اریزہ نے کہا تو وہ سستی سے بولی

    صبح ۔۔ یہ ذرا چارجنگ پر لگا دینا۔۔

    اس نے الٹا موبائل تھما دیا۔۔ اریزہ گھور کر رہ گئ اسکا موبائل چارجنگ پر لگایا اسکے اور اپنے کپڑے سمیٹ کر رکھے اپنا موبائل چارجنگ سے نکالتی نیچے کی بتی بجھاتی اوپر چلی آئی۔۔

    یہ بلاگ اپڈیٹ کرنے کا وقت  تھا۔۔آج کام کرنا اسے کھلا تھا۔ سو کھل کر کہنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔

    کام کرنے کی سب سے بری بات یہ ہوتی کہ کرنا پڑتا۔۔کام چھوٹے بڑے ہوتے مگر کام کرنے والا ہمیشہ بڑا ہوتا ۔۔  ویسے زندگی میں ضروری نہیں آپ کو ہر قسم کا کام کرنا پڑے مگر جو کام کرنا پڑے اس کو کیئے بغیر گزارا بھی نہیں ۔۔ اور جو کام آپ۔کر لیتے آپ کو کرنا آجاتا۔۔ چاہے خود سے چاہے آپ سیکھ لیں۔ ویسے فارغ زہن شیطان کا گھر ہوتا ہے سو کچھ کر ہی لیا کریں ۔۔  خدا کرے آپ کو کبھی وہ کام نہ کرنا پڑے جوخود آپ کو پسند نا ہو۔۔ 

    ویسے خدا کرے آپ وہ کام بھی نہ کریں جو خدا کوپسند نہ ہو۔۔ 

    اس نے مطمئن ہو کر پوسٹ کر دیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ

    *کام ڈائون* ایڈمن 

    دوسرا کمنٹ

    کام کرتے ہوئے یہ بلاگ پڑھ کر یہ الفاظ دل پر گہرا اثر کرگئے میں ہر کام سے توبہ کر رہا ہوں

    تیسرا کمنٹ

    مجھے انڈا ابالنا سکھادے کوئی۔ دعا دوں گا۔ 

    چوتھا کمنٹ۔ 

    کمینگی میں کام نہیں آتا۔ کام میں کمینگی آسکتی ہے۔ کام کیجئے کمینگی نہیں۔۔ 

    ہاہ۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔ 

    پانچواں کمنٹ۔ 

    ایڈمن نے ذرا سا کام کیا دنیا بھر کو جتا رہی ہے۔ہم سب کو پتہ لگ گیا کہ ایڈمن نے کپڑے دھوئے ہیں۔ خاموشی سے کام کرنے والے احمق ہوتے ہیں ثابت ہوا ایڈمن عقلمند ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔

    جاری ہے۔

    Rating
  • Salam Korea Episode 4

    Salam Korea

    by Vaiza Zaidi

    قسط 4

    جہاز میں ان لوگوں نے ادھم مچایا ہوا تھا۔

    چھے گھنٹے ٹک کر بیٹھنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں تھی وہ سنتھیا اور ایڈون ساتھ تھے اور انکے پیچھے ہی سالک شاہ زیب اور ایک چپٹی ناک والا بیٹھا تھا

    سنتھیا اور اریزہ پہلے تو کھڑکی کیساتھ کون بیٹھے گا اسی پر لڑ پڑیں

    تم بیٹھو نیچے دیکھو اور اس بار میرے سیدھا میرے منہ پر الٹی کرنا ۔۔۔ اریزہ بھنا کر اٹھی

    میں نے پچھلی دفعہ بھی تمہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔۔

    سنتھیا منمنائی۔

    ناکام کوشش تھی وہ۔۔ اریزہ نے جتایا تو وہ تھوڑی کھسیائ۔۔

    جنکو سفر میں الٹی آتی انکو کھڑکی کے پاس بٹھایا جاتا ہے۔۔ سنتھیا نے اپنا دفاع کیا

    وہ اس صورت میں کہ کھڑکی کھلتی ہو تھوڑی سی تازہ ہوا کھانے کیلیے یہ کھڑکی نہیں کھلے گی۔۔۔

    اریزہ نے باقاعدہ کھڑکی بجا کر اسے دکھایا

    تم میں سے ایک پیچھے بیٹھ جائے۔۔۔

    ایڈون نے جھگڑا مکانے کو کہا تو شاہ زیب کی با نچھیں چر آئیں

    ہاں اریزہ تم یہاں آجائو۔ 

    شاہ زیب نے سالک جو کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا اسکی ٹانگ تھپتھپا دی

    سالک نے گھور کر دیکھا۔۔۔

    اریزہ اور سنتھیا نے بھی گھورا تو وہ کھسیا کر ساتھ بیٹھے چپٹی ناک والے سے انگریزی میں بولا

    آپ بھی کوریا ہی جا رہے ہیں ؟

    ایڈون اور سالک دونوں نے اسے کان سے پکڑا۔۔

    نہیں یہ چاند پر جا رہے ہیں۔ 

    وہ بندہ انکی گفتگو سمجھ تو نہیں پایا مگر شائستگی سے ہاں کہہ دیا۔۔

    تم لوگوں سے زیادہ تمیز چینیوں میں ہے۔۔۔ شاہ زیب نے جتایا۔۔

    تجھے جانتا نہیں اسی لیے تمیز سے بات کر رہا۔۔۔

    سالک نے کہا تو وہ بھنا کر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ

    سنتھیا بس کر و اتنے دکھ سہنے کے بعد اب میں یہ دکھ نہیں سہہ سکتی۔۔۔ اریزہ نے کہا تو وہ سب دوبارہ انکی جانب متوجہ ہوئے۔۔

    جتنے دکھ سہہ لیے عادت ہوگئ ہوگی ایک اور سہہ لو۔۔

    سنتھیا زرا متاثر نہ ہوئی۔۔

    واٹس دا میٹر۔۔

    اس چینی کو بھی دلچسپی ہوئی۔۔۔

    پانچ لوگ سر پر سوار کھچ کھچ کر رہے ہوں تو عاجز آجانا بنتا تھا۔۔۔

    دونوں کی چلتی زبان رکی۔۔ ارد گرد دیکھا تو صرف وہ چینی ہی نہیں پورے جہاز کے سب چینی جاپانی امریکی عربی جو جو بھی موجود تھا نہ صرف انکی جانب متوجہ تھا بلکہ خاموشی سے انکے جھگڑے کا ڈراپ سین دیکھنے کے انتظار میں تھا۔۔۔ وہ لوگ خاموش ہوئے تو جہاز میں خاموشی چھا گئ۔۔۔

    ایڈون سالک اور شاہ زیب نے بھی تھوڑی خفت محسوس کرلی۔۔

    وہ یہ دونوں کھڑکی کے پاس بیٹھنا چاہ رہی ہیں۔ایڈون کی ان سب میں انگریزی اچھی تھی سو سنتھیا کو گھور کر بتایا سنتھیا ہرگز رعب میں آنے کو تیار نہیں  تھی بے نیازی سے گھوم گئ

    آپ دونوں ایک ایک گھنٹے کی باری لگا لیں ۔۔۔

    اس چینی نے کہا تو دونوں کو آئیڈیا پسند آیا

    سنتھیا آرام سے بیٹھی تو ایڈون نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔پھر اس چینی کا 

    تھینکس۔۔۔ چین ہمیشہ پاکستانیوں کی مدد کرتا ہے۔۔ اس نے ظریف پیرائے میں کہا

    مخاطب کچھ سمجھا کچھ نہ سمجھا مگر مسکرا دیا۔۔

    ویسے کوریا کیسا ملک ہے ؟آپ بھی پہلی بار جا رہے ہیں۔۔ شاہ زیب اپنی انگریزی کو ہو ا لگانے کے موڈ میں تھا۔۔ تبھی ہوسٹس نے آکر انکو تشریف رکھ لینے کی استدعا کی۔۔

    سب تمیز سے براجمان ہو گئے۔۔

    جہاز نے ٹیک آف کرنا شروع کیا سنتھیا چیخ مار کر اریزہ کی گود میں گھس گئ۔۔

    دیکھو دیکھو ہم زمیں سے اڑنے لگے ہیں۔۔۔ یہ دیکھو پہلا وہیل اٹھا یہ دیکھو پر۔۔۔ 

    اریزہ کونسا کم تھی۔۔۔

    تم بہت پٹو گی اریزہ۔۔۔ اس نے سر اسکے پیٹ مین گھسا دیا

    آہ۔۔۔ اریزہ کی چیخ بلند ہوئی۔۔

    ایر ہوسٹس بھاگی آئی۔۔۔

    سب ٹھیک ہے۔۔ ایڈون نے بھیجا اسے واپس پھر دانت کچکچا کر کہنے لگا

     سب کو پتہ چل گیا ہوگیا پہلی بار سفر کر رہی ہو دونوں۔۔

    ہاں تو۔۔ اریزہ اسکے رعب میں کیوں آتی مزے سے بولی۔۔ سب ہی کبھی نہ کبھی پہلی دفعہ جہاز میں سفر کرتے کون جہاز میں پیدا ہوتا ہے۔۔۔

    جہاز میں بھی پیدا ہوتے ہیں ابھی پچھلے دنوں میں نے خبر پڑھی تھی ۔۔۔سالک نے غلط موقعے پر خبر دینی چاہی اریزہ اور ایڈون دونوں نے گھور کر دیکھا تو اس نے باقی خبر منہ میں روک لی۔۔

    یار اب تو کچھ نظر نہیں آرہا۔۔ اریزہ نے دوبارہ کھڑکی کی طرف نگاہ کی سنتھیا کی طبیعت اب بحال ہونا شروع ہو گئ تھی سو آخر کار اس نے سر اٹھا لیا۔۔ 

    یہ تو دھواں دھواں ہے بس۔۔۔

    سنتھیا نے کہا تو شاہزیب کی زبان میں کھجلی ہوئی۔۔۔

    لگتا ہے جہاز کے انجن مین آگ لگ گئ ہے۔۔

    اس نے اتنی سنجیدگی سے کہا تھا کہ چاروں باقاعدہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگے تھے چینی بھی انجن سن کر متوجہ ہو گیا۔۔

    مزاق تھا۔۔۔ اس نے مسمسی سی شکل بنا لی۔

    دھواں نہیں  بادل ہیں ۔۔۔ اریزہ کو بوریت ہو رہی تھی سو آرام سے اٹھنے لگی۔

    آجائو اب  ایک گھنٹہ ہو گیا مجھے یہاں  بیٹھے۔۔۔۔

    ۔ رہنے دو کچھ نظر تو آ نہیں رہا۔۔

    ظاہر ہےاتنی بلندی پر صرف بد روحیں ہی باہر گھومتی نظر آسکتی ہیں ۔۔۔ ایڈون نے کہا

    وہ دیکھ شاہ زیب تیری ساس بادل پر بیٹھی ہے۔۔۔سالک نے ایکدم سے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تو شاہزیب اپنی جھونک میں فورا آگے بڑھ کر دیکھنے لگا ان چاروں نے زور دار قہقہہ لگایا وہ چینی بھی انکے ساتھ ہنس پڑا۔۔ شاہ زیب کھسیانا سا ہوا مگر ڈھٹائی ختم تھی۔۔

    آنٹی بیٹی کو کھانا پکانا سکھا دیجئے گا دعائیں دوں گا۔ 

    وہ چینئ اسکی بات تو نہیں سمجھ رہا تھا مگر اسے پاگلوں کی۔طرح کھڑکی میں بادلوں سے مخاطب دیکھ کر شائد ہنسی آرہی تھئ۔ 

    اس چینی کو کیا سمجھ آرہی ہے۔۔ اریزہ نے سنتھیا کے کان میں سرگوشی کی۔۔

    کیا پتہ اسے اردو آتی ہو ہماری یونی میں کتنے چینی پڑھتے ہیں ۔۔۔سنتھیا نے کہا 

    دس بارہ تو ہمارے ڈیپارٹمنٹ ہونگے باقی میں نے کبھی گنے نہیں۔۔ اریزہ نے معصومیت سے کہا تو سنتھیا نے سر پیٹ لیا

    محاورتا کہا تھا ایڈیٹ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چار گھنٹے کے بعد ان تینوں کی بیٹری کم ہونا شروع ہوئی سالک نے جب تیسری بار باتھ روم کا چکر لگایا تو واپسی پر اسکی جگہ چینی براجمان ہو چکا تھا وہ کندھے اچکا کر کارنر والی نشست پر ہی بیٹھ گیا۔

    سالک اپنا ایم پی تھری دیدو

    اریزہ نے گردن گھمائے بغیر پیچھے ہاتھ بڑھایا۔۔

    ایم پی تھری اسکے ہاتھ پر رکھ دیا گیا

    اس نے دیکھا تو عجیب سی کوئی زبان تھی چائنہ کا ہوگا۔۔

    اس نے کندھے اچکا دیے

    پہلا گانا دوسرا تیسرا۔۔۔

    پشتو تو نہیں لگ رہا۔۔۔ 

    مگر ٹیون مزے کی تھی بول تو پتہ نہیں کیا رہا تھا مگر سب راکنگ ٹریک تھے

     اوئے یہ کونسا گانا ہے کونسی زبان میں ہے مزے کا ہے۔۔۔

    وہ سیٹ پر گھٹنوں کے بل ہو کر پیچھے مڑی تو ہکا بکا رہ گئ

    سالک کی بجائے چینی بیٹھا مسکرا رہا تھا

    اوہ یہ آپکا ہے میں سمجھی سالک

    ایم سوری۔۔ 

    اسکی کہتے کہتے نگاہ گئ تو شاہزیب چینی کے کندھے پر سر رکھے سو رہا تھا اور سالک شاہزیب کے۔۔۔

    اس نے شرمندہ ہو کر کان سے  ہینڈ فری اتار کر اسے ایم پی تھری پلیئر تھمانا چاہا تو اس نے ہاتھ بڑھا کر لینے کی بجائےسوال کر ڈالا 

    یو ڈڈنٹ لائک دا سانگز؟

    (آپکو گانے پسند نہیں آئے۔۔؟)

    نہیں ۔۔ آئی مین نو آئی ریئلی لائک دیم آسم میلوڈی دو آئ ڈدنٹ گیٹ واٹ دے آر سیئنگ بٹ آئ ریئلی انجوائڈ۔

    اس نے کہا تو وہ مسکرا دیا۔۔۔

    یہ البتہ حیران ہو کر خود سے بولی۔۔۔

    یہ میں ہی ہون جس نے اتنی انگریزی جھاڑ لی۔۔۔

    آپ اسے لے سکتی ہیں آپکو پسند بھی آیا گانا تو سن لیجئے میں اس وقت ویسے بھی گانے نہیں سن رہا تھا۔۔۔

    اس نے سہولت سے اسے واپس دینا چاہا۔۔۔

    تھینک یو اٹس اوکے اس نے انکار کرنا چاہا۔۔

    مگر اس نے ہاتھ واپس نہیں کیا تو اسے ایم پی تھری لینا پڑا۔۔۔ 

    میں اسے اٹھا دوں ؟

    اس نے پوچھا تو چینی نے مسکرا کر منع کردیا اٹس اوکے ہی مائٹ بی ٹایرڈ 

    ویسے چائنیز سانگ ہے یہ۔۔

    نہیں ہنگل ۔۔

    اوہ اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔

    ہنگری عجیب زبان ہے مگر مزے کا گانا ہے وہ خود سے کہتی آرام سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ائر پورٹ پر جب اترےتو اگلے دن کا تیسرا پہر چل رہا تھا ۔

    ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سنتھیا حسب عادت الٹی پلٹی ہو چکی تھی اریزہ اسکا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ چل رہی تھی چینی انکے ساتھ کافی گھل مل گیا تھا ابھی بھی ان کے ساتھ ساتھ تھا۔۔ سالک شاہزیب اور ایڈون اپنے سامان کے ساتھ ساتھ ان دونوں کا بھی سامان ڈھو رہے تھے چینی کے پاس صرف ایک بڑا بیگ تھا ان لڑکوں کو مشکل میں دیکھا تو ایک انکا کیرج بھی پکڑ لیا۔۔۔

    اریزہ اپنا اور سنتھیا کا شولڈر بیگ اور بیگ پیک بھی سنبھالے تھی اوپر سے سنتھیا بھی لد رہی تھی۔

    وہ دہری ہوگئ۔۔

    رکو اس نے بمشکل سنتھیا کو پکڑ کر کھڑا کیا

    اپنے بیگ سے شاپر نکالا اس کے پاس کچھ ٹافیاں جیلی وغیرہ تھیں اس نے اسکے سامنے شاپر کیا 

    لو اس میں سے 

    وہ کہنے جا رہی تھی اس میں سے کچھ کھا لو تھوڑی طبعیت بہتر ہو جائے گی 

    اسکا جملہ مکمل ہوا ہی نہیں تھا سنتھیا نے شاپر تھاما اور کھل کر اس مین الٹی کر دی۔۔۔

    یااک ۔۔۔ اریزہ نے فورا شاپر چھوڑا اسی وقت سنتھیا نے بھی چھوڑ دیا

    شاپر پٹاخ سے نیچے گراساری الٹی ان کے قدموں میں گری کچھ چھینٹے جینز کے پائنچوں پر بھی آئے

    وہ دونون ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں

    ان سے کچھ قدم آگے چلتے لڑکوں نے مڑ کر۔دیکھا پھر ٹھنڈی سانس بھر کر پلٹے

    آر یو اوکے

    چینی سب سے پہلے ان کے پاس پہنچا

    جی۔۔ سنتھیا نے سر جھکا لیا

    کیسا صاف ستھرا ائیر پورٹ تھا۔۔دونوں کا بس نہیں تھا یہیں گڑ جائیں۔

    اسی نے پاس سے گزرتے خاکروب سے کچھ اسکی زبان میں کہا وہ سر ہلاتا چلا گیا

    اٹس اوکےیہ صاف کر لے گا

    اس چینی نے حسب عادت مسکرا کر کہا 

    وہ تینوں بیگز اور سوٹ کیس میں الجھے تھے

    اب کیا اس الٹی کو دیکھتی رہو گی ؟ اب چلیں

    ایڈون جھلایا

    یہ دونوں سر ہلا کر انکے پیچھے بڑھیں

    لابی سے باہر نکلے تو سماں کچھ اور تھا

    فلیش لائٹس کیمرہ رپورٹرز یہ پانچون کے چلتے قدم رک گئے

    وہ ٹھیک ہے یہاں اسکالر شپ پر پڑھنے آئے تھے مگر اتنا پرجوش اسقبال ہوگا انکو یہ توقع نہ تھی

    آپ لوگوں کیساتھ سفر بہت اچھا اور یادگار رہا۔۔۔اس چینی نے انکو سامان پکڑاتے ہوئے کہا وہ سب مسکرا دیے وہ ہلکا سا جھک کر انکو وش کرتا ہوا ان سے ایک قدم آگے ہوا تو سارا ہجوم اسکے گرد امڈ آیا۔۔

    یہ سب بھونچکا اسے دیکھتے رہے

    یہ چینی نہیں۔۔۔ سنتھیا نے جانے پوچھا تھا یا بتایا تھا

    یہ کورین ہے۔۔

    سالک  نے اندازہ لگایا

    یہ تو کوئی سیلیبرٹی ہے۔۔۔

    اریزہ نے بڑا سا منہ کھول کر کہا پھر اسے یاد آیا تو بیگ میں ایم پی تھری پلیئر ڈھونڈنے لگی۔۔۔

    اور میں اسکے کندھے پر سوتا آیا ہوں

    شاہ زیب کو یاد آیا۔۔۔

    اس نے میری ا لٹی صاف کروائی۔۔

    سنتھیا نے پیر پٹخا

    ایم پی تھری پلیر مل گیا تھا مگر اتنے رش میں جا کر اسے واپس کرنا ناممکن تھا وہ بھی رش سے بچتا رپورٹروں کے جھرمٹ میں ائر پورٹ سے باہر ہی نکل رہا تھا۔۔۔

    ہمیں کون لینے آرہا ہے؟

    اریزہ نے ایم پی تھری پلیئر واپس بیگ میں ڈال۔لیا تھا

     کوئی چپٹی ناک والاہوگا سر بتا رہے تھے

    ایڈون نے سر کھجایا۔۔

    ہم نارتھ کوریا میں ہیں یہاں تو سب کی ہی ناک چپٹی ہے۔۔ اریزہ نے کہا تو سب نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کورس میں چیخے 

    سائوتھ کوریا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      انکو لینے یونیورسٹی سے جو نمائندے آئے تھے وہ تھوڑی دیر سے پہنچے تھے۔۔

    انکے پاس انکی تصاویر موجود تھیں سو وہ سیدھا انکے پاس ہی آئے تھے آتے ہی معزرت کرنے لگے

    یار مجھے تو لگ رہا ہم چائنہ پہنچ گئے ہیں یہ کوریا ہی ہے نا؟

    اریزہ نے ایڈون کے کان میں سرگوشی کی

    ایڈون نے سر ہلا کر تسلی کروائی

    یقین رکھو جہاز سیول میں ہی اترا ہے۔۔

    یونیورسٹی کا نمائندہ انکو آپس میں بات کرتے دیکھ کر جانے کیا سمجھا بولا

    سیول میں اس سے بھی بڑی بڑی عمارتیں موجود ہیں ۔۔

    یہ شنوا ٹاور ہے۔۔۔

    اس کے کہنے پر دونوں نے باہر گردن گھمائی

    اسے کیا لگتا ہم نے اونچی عمارتینں نہیں دیکھیں

    دونوں اکٹھے برا مان گئے

    یہ دیکھو اریزہ سنتھیا نے بڑے شوق سے اسے کھڑکی کے باہر کچھ اونچا ہاتھ کر کے دکھانا چاہا

    ایڈون اور اریزہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اریزہ نے بلا لحاظ سنتھیا کے بازو میں چٹکی بھری۔۔ سنتھیا تڑپ کر اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔

    چھچھوری سیدھی ہو کر بیٹھو تمہاری وجہ سے یہ ہمیں پینڈو سمجھ رہا۔۔۔

     یونیورسٹی جب وہ پہنچے تو شام ہو رہی تھی ان دونوں کو گرلز ہاسٹل کے سامنے ڈراپ کر کے آگے بڑھ گیے تھے انکے استقبال کو ایک لڑکی موجود تھی

    آننیانگ ہاسے او۔ میں گوارا ہوں۔  میں بیچلرز کر رہی ہوں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے۔ آپ لوگوں کو کوریا میں خوش آمدید۔۔ 

    انکو دیکھ کر حسب روایت جھک کر سلام کیا یہ دونوں بھی اسکی دیکھا دیکھی جھک گئیں۔۔۔

    ہاسٹل کافی بڑا تھا۔ بڑے سے لان کو پار کر کے ہاسٹل کی لابی آئی تھی چینی گڑیا جیسی لڑکیاں جا بجا چلتی پھرتی نظر آرہی تھیں انہیں دیکھ کر ایک مرتبہ ٹھٹک ضرور رہی تھیں بیگ گھسیٹتی اریزہ نے ایک بار تو رک کر اپنے کپڑے بھی صحیح کر لیے۔۔۔

    سنتھیا اسے رکتے دیکھ کر رک گئ۔۔۔

    یار سب مجھے گھور رہی ہیں ۔۔۔ اریزہ نے بے چارگی سے کہا۔۔۔ تو سنتھیا نے بھی تائید کی

    مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا۔۔

    ان کے ساتھ چلتی لڑکی اپنی رو میں چلتی لابی میں اوپر سیڑھیاں چڑھتی جا رہی تھی۔۔۔

    وہ دیکھو کدھر جا رہی۔۔۔ اریزہ نے کہا تو دونوں جلدی سے بیگ گھسیٹتی پیچھے لپکیں

    دوسری منزل پر جا کر کونے میں سب سے آخری انکا ڈورم تھا

    وہ دروازے کے پاس جا کر رکی تھی پیچھے مڑ کر دیکھا تو دونوں ہانپتی کانپتی سیڑھیوں پر نمودار ہو رہی تھیں۔۔

    توبہ پاکستانی لڑکیاں موٹی کتنی ہیں ۔۔۔ اس نے زیر لب سوچا۔۔۔ یہ تو مہینے بھر میں پہنچیں گی۔۔۔اس نے اندازہ لگایا

    دونوں  لیکن ایک آدھ ہفتے میں پہنچ گئیں تھیں

    یہ روم کارڈ ہے تم لوگوں کا۔ 

    اس نے الیکٹرانک مشین جو دروازے کے برابر نصب تھی کارڈ چھوایا تو کمرہ کا دروازہ کھلا۔۔ اس نے دیوار میں لگی ایک چھوٹی سی پلاسٹک کی درز   میں وہ کارڈ رکھا تو کمرہ روشن ہو گیا۔ ۔۔ دونوں کی آنکھیں کھل گئیں

    دروازے سے کمرہ ایک قدم اونچا تھا۔ یہاں ایک جانب دیوار گیر الماری تھی جس کے نیچے سلیپر رکھے تھے دو عدد۔ 

    اس لڑکی نے جوتے یہیں اتارے اور چپل پہنتی  آگے بڑھی

    یہ دونوں بنا جوتے اتارے اندر آگئیں۔ اس لڑکی نے سخت ناپسندیدگئ سے دیکھا

    وہ جگہ جوتے اتارنے کیلئے ہے۔ ہم کورین باہر کے جوتے پہن کر کمرے میں نہیں آتے۔ 

    اس نے رواں انگریزی میں جتایا۔

    ہم پاکستانی کمرے میں بھی بنا جوتے نہیں پھرتے۔ 

    اریزہ نے جھٹ جواب دیا تھا مگر اردو میں۔ سنتھیا نے سٹپٹا کر ٹہوکا دیا۔ گوارا منہ بن کر چپ ہورہی۔۔ دونوں پر شوق انداز میں کمرہ دئکھنے لگیں۔ 

    بے حد خوبصورت کمرہ تھا بہت بڑا نہیں تھا مگر اتنا بڑا ضرور تھا کہ ایک جانب دو لوگوں کے حساب سے کرسی میز سجے تھے تو دوسرے کونے میں بیڈ بچھا تھا اسی بیڈ کے ساتھ گول چکر کھاتی سیڑھیاں تھیں اوپر جا کر چھوٹی سی جگہ تھی جس میں ایک طرف بیڈ بچھا تھا دوسری جانب الماری بنی تھی اسی طرح کی ایک الماری نیچے والے بیڈ کے سامنے والی دیوار پر بھی تھی۔۔

    کیسا لگا کمرہ؟

    چپٹی ناک والی لڑکی پوچھ رہی تھی

     بہت پسند آیا۔۔

    بہت پیارا ہے۔۔۔ دونوں نے کہا تو وہ تھوڑا سا ہنس کر اپنی زبان میں  بولی

     بے چاری غریب ملک کی اس پر ہی خوش ہو گیئیں

    کیا کہہ رہی ہیں؟

    اس کی مسکراتی شکل سے انہیں شک بھی نہ گزرا کچھ الٹا سیدھا کہہ رہی ہوگی۔۔

    مں بتا رہی تھی نہا دھو لو۔۔ آٹھ بجے کے قریب نیچے بائیں جانب ہال ہے وہاں کھانا کھانے آجانا۔۔۔

    وہ بتا کر جھک کر وش کرتی باہر چلی گئ۔۔۔ باہر نکل کر گہری سانس لی۔۔

    اف کتنی بدبو تھی ان کے پاس۔۔۔لگتا ہے پاکستانی نہاتے نہیں۔۔

    ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کونے میں لگے بڑے سے  آئنے میں خود کو دیکھنے لگی سنتھیا تھک چکی تھی سو نیچے والے بیڈ پر ڈھیر ہو گئ۔۔۔

    اریزہ نے اوپر دیکھا۔۔۔ ویسے اسے اوپر والا بیڈ لینے میں اعتراض بھی نہیں تھا۔۔ چلو بیڈ کا فیصلہ ہوگیا۔۔

    ہم پریشان ہو رہے تھے یہ سب ہمارے کپڑوں کی وجہ سے ہمیں دیکھ رہی تھیں۔۔۔ اس نے اپنا دوپٹہ لہرایا۔۔۔

    ہممم سنتھیا نے تائید کی

    دیکھا تھا اس نے کیا پہن رکھا تھا؟

    شارٹ اسکرٹ پنڈی سے دو تین ڈگری کم ہی ہے یہاں کا موسم اور ابھی ہمیں لان میں کپکپی چڑھ رہی تھی ٹھنڈی ہوا سے اور یہ کتنے مزے سے۔۔۔

    وہ جوش میں اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔

    ہاں یار ویسے ہو سکتا ان لوگوں کو ٹھنڈ کم لگتی ہو انکی خوراک کتنی مختلف ہے ہم سے۔۔ اریزہ نے خیال ظاہر کیا۔۔۔

    ہم ویسے کیا کھائیں گے؟ سنتھیا کو فکر ہوئی۔۔

    تم تو کھا سکتی ہو انکا کھانا میں گوشت نہیں کھائوں گی۔۔ویسے میں نے جو ریسرچ کی اسکے مطابق کورین اسپائسی کھانا کھاتے ہیں۔۔۔اف یہ الٹی والے کپڑے بدلوں سخت الجھن آرہی ہے۔ 

    اریزہ نے بیگ سے کپڑے نکالے سنتھیا نے اسے غور سے دیکھا پھر پوری قوت سے بھاگ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔۔ اریزہ کو جتنی دیر میں سمجھ آیا وہ دروازہ بھی بند کر چکی تھی۔۔

    ہے سنتھیا یار ۔۔۔ کیا حرکت ہے۔۔ کپڑے تو نکال۔لیتیں

    تم نکال دو میرے اندر سے مزے سے حکم صادر ہوا۔۔۔

    میں کوئی نہیں نکال رہی اندر ہی رہنا رات بھر تم

    اریزہ تپ گئ۔۔۔

    خیر ہے میں شاور کے بعد باہر آ کر خود نکال۔لونگی

    ویسے بھی یہاں تمہارے سوا ہے کون۔۔۔

    وہ مزے سے بولی۔۔

    اریزہ نے پہلے دو تین زیر لب گالیاں دیں پھر بڑبڑاتی ہوئ اسکا بیگ کھول کر کپڑے نکالنے لگی

    یہ لو۔۔ دروازہ کھٹکا کر اس نےتھمائے 

    اور زیادہ۔ماڈرن بننے کی ضرورت نہیں کوریا میں موجود ہو مگر ہو پاکستانی ہی۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

    گوارا نیچے ہال میں آئی تو جی ہائے دور کونے میں بیٹھی تھی ہاتھ ہلا کر اسے بلایا۔۔ وہ مسکراتی اسکے پاس چلی آئی

    کہان رہ گئ تھیں ؟ اتنی دیر لگا دی شاور لینے میں؟

    یار نیچے آرہی تھی میڈم نے کہا دو نئ لڑکیوں کو ہاسٹل چھوڑ کر آئو تمہارے روم کے سامنے والے روم میں شفٹ ہوئی ہیں۔۔۔

    اب کونسا سیشن ہے؟ وہ حیران ہوئی۔۔

    ہمارا تو سیمسٹر کا بیچ چل رہا ہے ۔۔۔

    کوئی ٹرانسفر اسٹوڈنٹ ہیں کسی چھوٹے سے ملک کی ٹان کرکے 

    گوارا نے زہن پر زور ڈالا۔۔

    جبھی۔۔۔ خیر مجھے تو اکیلے رہنے کی عادت ہو گئ ہے تم ہفتے میں دو ایک دن ہی یہاں گزارتی ہو وہ بھی اگر تمہیں یی ڈر نہ ہو کہ ہاسٹل کی ریزرویشن کینسل ہو جائے گی تو وہ بھی نہ ٹھہرو۔۔ جی ہے نے تا ئید چاہی تو وہ منہ لٹکا کر بولی۔۔

    یار سوچ رہی ہوں اپارٹمنٹ چھوڑ کر کچھ بچت کر لوں ۔۔ مگر یار اپارٹمنٹ کا سکون بہت ہےآرام سے موج کرتی۔۔۔۔۔

    تو یہاں کیوں آتی ہو؟ جے ہی نے پوچھا تو ٹھنڈی سانس بھری لمبی کہانی ہے پھر کبھی۔۔۔

    ابھی چلو کھانا کھا لیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیا کھائیں۔۔۔ اریزہ ایک۔کے بعد ایک ڈش کھول کر دیکھ رہی تھی

    دونوں الجھن میں مبتلا سی کھڑی تھیں

    کیا ہوا؟

    گوارا جو کھانا لینے آئی تھی حیرانی سے پوچھنے لگی

    کچھ نہیں۔۔ سنتھیا نے گڑبڑا کر جلدی سے سامنے والی ڈش سے بڑا سا گوشت کا پیس نکال لیا پلیٹ میں۔۔ 

    اریزہ اب بھی کنفیوز تھی۔۔

    اس نے سلاد اٹھا لی۔۔۔ 

    تم سبزیاں کھانا چاہ رہی ہو؟ گوارا نے پوچھا تو اس نے جھٹ سر اثبات میں ہلا دیا

    یہ سوپ لے لو

    اتنی گرمی میں سوپ وہ بے چارگی سے بولی مگر پھر بائول۔اٹھا کر سوپ لے لیا ایک پلیٹ میں کچھ سادے چاول لیے اور سلاد سے ابلے انڈے چن لیے

    سنتھیا نے بھی تھوڑے سے چاول نکال لیے۔۔۔

    جے ہی نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا۔۔

    یہ کیا پہنے ہیں؟

    اس نے گوارا کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔ وہ دونوں قریب میز پر جا کر بیٹھ گئیں تو جی ہائے لمبے سے لٹکتے دوپٹے کو نظر انداز نہ کر سکی

    انکا کوئی روائیتی لباس ہوگا۔۔ کیمونو جیسا ۔۔۔ اس نے اندازہ لگایا۔۔۔

    اس نے چاپ اسٹکس اٹھائیں تو اریزہ کو سوپ چکھتے دیکھ کر جانے کیا سوجھی جی ہائے کے کان میں بولی

     آئو انکے ساتھ بیٹھتے ہیں شغل رہے گا۔۔۔ جی ہائے فورا مان گئ۔۔۔

    یار یہ کیا ہے اتنا پتلا سوپ اور وہ بھی پالک کا؟

    اریزہ نے سوپ میں چمچ چلایا۔۔۔

    سنتھیا نے اسکی بے چاری سے شکل دیکھی پھر اپنا چمچ اٹھا کر سوپ چکھا۔۔۔

    یہ پالک نہیں ہے۔۔ گھاس لگ رہی یہ تو۔۔ وہ کالی سی پرت جو سوپ مین تیر رہی تھی چبا کر اسکا جیسے منہ خراب ہو گیا۔۔ 

    ہین پالک نہیں ؟ میں تو کھا گئ اسے۔۔ اریزہ ڈری

    بے وقوف گوشت تو نہیں ہے نا۔۔ سبزی تھوڑی حلال حرام ہوتی۔۔۔  اس نے ڈپٹا تو اس کی عقل کے در وا ہوئے۔۔

    سر ہلادیا۔۔

    ویسے آج پہلا دن ہے یہ بیف اسٹیک چکھ لو یہ واقعی اچھا ہے۔۔ سنتھیا کو اس پر ترس آیا۔۔

    نہیں یار ایسی بھی کیا بات۔۔ بھوک تو مٹ جائے گی سادے چاول بھی نعمت لگ رہے فی الحال تو۔۔

    اس نے سوپ رکھ دیا اور صبر شکر کرکے چاول پر ابلے انڈے رکھ کر کھانے لگی۔۔۔

    کیسی لگی کورین کیوزین؟

    گوارا اور جی ہائے نے بڑی اپنائیت سے پوچھا تھا۔۔

    اچھا ہے ۔۔ سنتھیا نے دل سے کہا تھا اسے وا قعی پسند آیا۔۔

    واقعی۔۔ اسکا مطلب تمہیں گدھے کا گوشت کافی پسند ہے۔۔۔ مجھے بھی۔۔ 

    ویسے میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں ؟

    گوارا معمول کے سے انداز میں بولی

    وہ دونوں شاک میں اسے دیکھ رہی تھیں جی ہائے جو گوارا کی تقلید مین بیٹھ رہی تھی گبھرا کر اٹھ گئ۔

    کیا؟ دونوں اردو میں چلائیں۔۔ 

    مجھے لگتا انکو ہمارا بیٹھنا پسند نہیں آیا ۔جی ہائے منمنائی

    کیا ہوا ؟ گوارا نے حیرانی سے پوچھا

    یہ اسٹیک گدھے کے گوشت کی ہے؟

    اریزہ نے حواس بحال کر کے پوچھا۔۔ 

    گوارا نے اثبات میں سر ہلایا

    سنتھیا رونے والی ہوگئ۔۔

    اریزہ۔۔

    یہ کوئی غلط چیز نہیں ہم یہی کھا رہے ہیں دیکھو تمہارے سامنے وہیں سے لائے ہیں۔۔۔ 

    بات اب کوریا پر آرہی تھی اسے یہی لگا شائد وہ دونوں یہ سمجھ رہی ہیں کہ انکو دوسرے ملک کا سمجھ کر بے وقوف بناتے ہوئے کچھ الٹا کھلایا جا رہا ہے سو فورا صفائی پیش کرنے لگی۔۔۔ اریزہ نے گلاس بھر کر سنتھیا کو پکڑایا

    نہیں وہ اسے گدھے کا گوشت پسند نہیں بس اسلیے۔۔

    وہ یہی کہہ سکی

    مگر ابھی تو اس نے کہا اسکو اسکا ٹیسٹ پسند آگیا ہے گوارا حیران تھی

    چلو پہلے نہیں پسند تھا اب تو پسند آگیا کھا تو لو۔۔ جےہی نے بھی کہا تو سنتھیا اٹھ کھڑی ہوئی اسے اپنے ارد گرد گدھے ڈھینچو ڈھینچو کرتے نظر آرہے تھے۔

    میرا پیٹ بھر گیا سنتھیا کہہ کر تیز تیز چلتی باہر نکل گئ۔۔۔ 

    ایکسکیوز می۔۔ اریزہ بھی معزرت کرتی اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہا کر بال کھول کر درختوں کے نیچے پھرا رہی ہو کوئی جن ون نا چمٹ جائے بس کرو اب اندر چلو۔۔۔ سر پر اچھی طرح دوپٹہ لے کر بھی اسے لان میں ٹہلتے ڈر لگ رہا تھا سنتھیا نے بھی سر سے دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا اسکے بال کمر تک تھے سو گیلے تھے ابھی تک

    کوریا میں جن کہاں۔۔۔ سنتھیا بھنائی

    جنوں کو کوریا آنا منع ہے کیا؟ اریزہ الٹا اس سے پوچھنے لگی۔۔۔

    اور چلو پاکستانی ٹھرکی جن نہ آئے ہوں ہمارے ساتھ کورین کوئی چپٹی ناک والا بھی ہماری بڑی بڑی آنکھوں پر عاشق ہو سکتا ہے۔۔ یہاں ایسی آنکھیں کہاں۔۔ وہ آنکھیں مٹکا کر اترائی۔۔۔ 

    اریزہ میں نے گدھا کھا لیا یار۔۔۔ سنتھیا کو اسکی اتنی باتیں بھی یہ غم نہ بھلا سکیں 

    یار بس کرو وہاں پاکستان میں  بھی کھایا ہی ہوگا تم نے تو تم نے میں نے بھی۔۔۔ کھلے عام بیچ رہے تھے مسلمان گدھے کا گوشت گائے کا کہہ کر ۔۔۔ اریزہ جھلائی۔

    ۔۔ وہ تو ٹھیک ہے مگر ہم تو گائے سمجھ کر ہی کھاتے ہیں نہ۔۔ سنتھیا بے چارگی سےبولی تو اریزہ ہنس پڑی

    یہ بھی تم نے گائے کا گوشت سمجھ کر ہی کھایا تھا۔۔

    بس کنفرم جلدی ہوگیا کہ گدھا ہی تھا یہ۔۔۔ وہ مزاق اڑا رہی تھی

    سنتھیا نے گھور کر دیکھا اور پیر پٹختی لابی میں جانے لگی

    اریزہ نے رفتار بڑھا کر اسے جالیا۔۔۔ 

    سنتھیا کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے جھٹک دیا

    وہ ہنستے ہنستے لپٹی تو اسکے سر سے دوپٹہ اتر گیا لمبے بال بکھر گئےدوپٹی ہوا کے زور سے لہرا گیا۔۔

    لابی میں سیڑھیاں اتر کر آتی لڑکی ٹھٹھک گئی

    نیم اندھیرے میں لہراتے پردے لمبے کھلے بالوں والی لڑکی اور سر سے پائوں تک سفید لہراتا لباس کھلکھلانے کی آواز ۔اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی

    دونوں چونک کر ہنسی کر بریک لگا کر مڑیں تو تھر تھر کانپتی کورین بھونچکا کھڑی تھی 

    کیا ہوا؟ وہ دونوں کونسا طرم خان تھیں تیزی سے اندر بھاگیں

    دو سفید لباس والی پاکستانی بھتنیوں کو تیزی سے اپنی طرف بھاگ کر آتا دیکھ کر کورین دوشیزہ کا ننھا دل کانپ اٹھا ہلکی سی جھر جھری لے کر وہ ان بھتنیوں کے قدموں میں ڈھیر ہو چکی تھی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یار کچھ زیادہ بیستی نہیں ہو گئ میری ٹھیک ہے میں ان سب اور تمہاری طرح چٹی چمڑی نہیں مگر اتنی بھی کالی نہیں کہ مجھے دیکھ کر کوئی بے ہوش ہو جائے۔۔۔

    رات کو بستر پر لیٹتے ہوئے سنتھیا دکھی ہو گئ۔۔

    مجھے بھی دیکھ کر ڈری تھی وہ میں تمہارے ساتھ ہی تھی سینٹی مینٹل ہیروئن۔۔

    اریزہ نے مکھی اڑائی

    تمہیں نیند آرہی ہے۔۔۔

    سنتھیا کے لہجے میں یاسیت اتر آئی

    نہیں یار مجھے تو اپنا بیڈ اتنا یاد آرہا۔۔۔  

    رات کے گیارہ بج رہے تھے دونوں دو دن کی تھکی تھیں مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ اس نے موبائل اٹھا لیا۔

    یار پاپا کو کال کرنا تو بھول ہی گئ۔۔

    پہلے سوچا کال کرلے مگر انٹر نیشنل رومنگ پر کال؟

    اس نے خیریت سے پہنچنے کا پیغام بھیجا ۔۔

    کچھ دیر جواب کا انتظار کرتی رہی پھر سکرین کو دیکھتے دیکھتے ہی جانے کب آنکھ لگ گئ۔۔۔ 

    صبح سنتھیا نے اسے جگایا تھا

    آٹھ جائو آٹھ بج رہے پہلا دن ہے ہمیں جلدی جانا چاہیے۔۔۔

    وہ جلدی میں کہہ کر پلٹ گئ۔۔

    اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں پھر زور سے بولی

    کوئی اخیر زہر عورت ہو تم سنتھیا۔۔۔

    سات بج کر دس منٹ ہوئے تھے جبھی وہ تیزی سے نیچے بھاگی تھی ۔۔۔

    وہ منہ بناتی بال سمیٹتی اٹھی۔۔۔ موبائل میں پاپا کی ایک مسڈ کال پڑی تھی اور دو میسج

    اوہ وہ سوگئ تو پاپا کال کرتے رہ گئے۔۔۔ اس نے خود کو کوسا۔۔

    پاپا اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کر رہے تھے ساتھ یہ بھی کہ شاید سو گئ ہے سو آرام کرلے وہ بعد مین بات کر لیں گے۔۔۔

    اس نے اپنے موبائل میں وقت دیکھا تو موسم کے حال والی ایپ پنڈی میں رات کے تین بج رہے ہیں بتا رہی تھی۔۔اس نے کرنٹ لوکیشن بھی ایڈ کر لی۔۔۔

    سیڑھیاں اتر کر سیدھا باتھ روم کا رخ کیا تو سنتھیا شاور لے رہی تھی اس نے غصے سے دروازہ پیٹ دیا۔۔۔

    کم از کم نہا کر ہی اٹھا لیتی تم مجھے۔۔۔ وہ کسلمندی سے نیچے والے بیڈ پر گر گئ۔۔۔ 

    دس منٹ بعد کھل کھلاتی ہوئ موصوفہ باہر آئی تھیں۔۔۔

    گھور کر اسے دیکھتی اریزہ اپنے کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھسی۔۔

    کپڑے لٹکا کر مڑی تو ٹوائلٹ بائول کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری۔۔۔ چند لمحے دیکھتے رہنے کے بعد بھی وہ ویسا ہی رہا تو منہ بناکر رہ گئ۔۔ یہاں اسی پر گزارا کرنا تھا اسے۔۔

    ۔۔۔۔۔ نہا کر باہر آئی تو سنتھیا جینز اور ٹاپ پہنے گلے میں اسٹول ڈالے تیار کھڑی تھی۔۔

    یونیورسٹی میں وہ اسی حلیے میں جاتی تھی۔۔ پونے آٹھ ہونے کو تھے

    اریزہ تم بھی جینز پہن لو ورنہ کل کی طرح سب گھورتے رہی  گے۔۔۔

    سنتھیا کا مشورہ اچھا تھا مگر اریزہ اپنے پیچ اینبرائیڈڈ لان کے کرتے پاجامے میں اطمینان سے تھی۔۔ اپنے شولڈر کٹ بالوں میں ہاتھ چلاتی آرام سے بولی

    ٹیمپریچر دیکھا ہے؟ 34 ڈگری ہے باہر۔

    اچھی خاصی گرمی مجھے روسٹ نہیں ہونا گرمی میں سب سے آرام دہ لباس بس لان کا ہی ہوتا ہے۔۔۔ 

    سنتھیا نے کندھے اچکا دیے۔۔

    ناشتے کا کیا کرنا ؟

    اریزہ کو بھوک لگ رہی تھی۔۔

    یہاں کا تو کوئی اندازہ نہیں یونیورسٹی چلتے ہیں دیکھتے ہیں ان لڑکوں نے کیا سوچا۔۔سنتھیا نے کندھے اچکا دیے۔۔

    یار وہ کل جو لڑکی ہمیں ملی تھی وہ ہمارے ہی ڈیپارٹمنٹ کی تھی نا۔۔۔

    اریزہ کو یاد آیا۔۔

    ہاں تھی تو پر اس وقت نجانے کہاں ہوگی۔۔۔ ہم خود ہی چلتے ہیں۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہاں ہی ہوں ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہوں۔۔ 

    وہ آج بہت اونچی ہیل پہن کر آئی تھی سو کافی احتیاط سے چل رہی تھی۔۔

    ایکسکیوز می۔۔ ایڈون سالک اور شاہزیب تینون ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈ رہے تھے تین لوگوں سے پوچھ چکے تھے کسی کو انگریزی نہیں آتی تھی تو کسی کو ڈیپارٹمنٹ کا نہیں پتہ تھا۔۔

    گوارا فون کان سے لگائے لگائے مڑی۔۔

    ہم ماس کمیونیکشن کے طلبا ہیں آپ ہمیں بتا سکتی ہیں بلاک۔۔۔

    اس نے ابھی اتنا ہی کہا تھا گوارا نے مصروف انداز میں سامنے بورڈ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ اور آگے بڑھ گئ

    انکے مطلوبہ بلاک کا نمبر بڑا بڑا سامنے ہی درج تھا۔۔

    انگریزی میں بھی مقامی زبان میں بھی۔۔۔

    یار حد ہے۔۔ تینوں کھسیا گئے۔۔

    ہمیں ڈیپارٹمنٹ نہیں مل رہا وہ دونوں تو گم ہی گئ ہونگی۔۔ 

    یہ کہتا ایڈون ابھی چار سیڑھیاں ہی چڑھا تھا سامنے کلاس روم کے کھلے دروازے سے اریزہ کا کھلکھلاتا چہرہ دکھائی دیا۔۔ شاہ زیب اور سالک بھی انہیں دیکھ کر حیران تھے۔۔۔

    وہ سب اکٹھے بیٹھنا چاہ رہے تھے چار چار سیٹوں کا ڈیسک تھا۔۔ اریزہ حسب عادت سب سے آگے والا ڈیسک گھیر کر بیٹھ گئ تھی۔۔ باقی ڈیسک گھرا تھا ایڈون پیچھے خالی ڈیسک پر جا کر بیٹھا اور ان دونوں کو بھی بلایا 

    وہ تینوں وہاں بیٹھے ہم بھی وہیں چلتے۔ سنتھیا اجنبی شکلوں میں گھبرا رہی تھی۔۔

    بیٹھی رہو کلاس میں ہیں ہم۔۔ اریزہ مطمئن تھی۔۔ گوارا اور جی ہائے ان کے پیچھے آ بیٹھیں اس نے مڑ کر گرم جوشی سے ہائے کہا۔۔

    مگر کل کے مقابلے میں گوارا کا انداز کافی روکھا تھا۔ اریزہ کندھے اچکا کر سیدھی ہوگئ۔۔

    سر پارک مسکراتے چلے آئے۔

    ہایون  ان کے ساتھ ہی کلاس میں آیا تھا 

    کم سن اور جون تائی سب سے پیچھے کونے میں بیٹھے تھے وہ انکی طرف بڑھا۔۔

    ہایون یہ سیٹ خالی ہے۔۔ سر نے سنتھیا کے ساتھ والی سیٹ کی طرف اشارہ کیا وہ سر جھٹکتا وہیں آبیٹھا۔۔

    کیا حال ہے بچوں؟

    وہ آج خوش گوار موڈ میں تھے

    ٹھیک ہیں سر۔۔ 

    اچھی بات ہے۔۔ آج ویسے مجھے اطلاع ملی ہے نئے ایکسچینج اسٹوڈنٹس آج ہمارے ساتھ کلاس میں شامل ہوئے ہیں کیا میں آپ سب کو جان سکتا ہوں۔۔۔

    انہوں نے پوچھا تو یہ پانچوں اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔

    ہممم اچھی بات بیٹھ جائیے۔۔

    آپ لوگ سیمسٹر کے بیچ میں یہاں آئے ہیں آپ لوگ اپنے ملک میں کیا کتنا پڑھ چکے میں نہیں جانتا مگر سیمسٹر کے بیچ میں یہاں سے آپکو کافی محنت درکار ہوگی یہ پانچ مجھے امید ہے آپ لوگوں میں جلد گھل مل جائیں گے۔۔ آپ سب کو انکی مدد کرنی پڑے گی کیا میں امید رکھوں آپ سب سے تعاون کی؟

    جی سر۔۔ سب نے کورس میں جواب دیا۔۔

    گڈ۔۔

    گڈ لک پاکستاینز ورک ہارڈ۔۔

    انہوں نے بک اپ کیا۔۔

    یہ کیون اوڑھ رکھا ہے؟

    جے ہی نے آگے جھکتے ہوئے اریزہ سے سرگوشی میں پوچھا۔۔

    یہ اسکارف ہے ہم پاکستانی لڑکیاں اپنے لباس کے ساتھ اسے بھی اوڑھتی ہیں ۔۔

    اس نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔۔

    ہایون کان میں پڑنے والی آواز سے انکی جانب غیر ارادی طور پر متوجہ ہوا۔۔

    مجھے لگتا یہ موٹی بہت ہے اسلیئے اس طرح اپنے آپ کو چھپا رہی۔۔ گوارا نے اپنی زبان میں اظہار خیال کیا

    اریزہ کو سمجھ تو نہیں آیا مگر کیا کر سکتی تھی مسکرا کر سیدھی ہو بیٹھی۔

    ہیون نے اس کو کافی غور سے دیکھا۔۔

    پیچ کلر کے کرتے پاجامے میں وہ بڑا سا کپڑا جو اسکے لباس سے قطعی مختلف اور رنگ برنگے پرنٹ کا تھا سینے پر پھیلائے تھی۔۔ شولڈر تک آتے بالوں کو اس نے کیچر میں باندھا ہوا تھا اسکے بال سیاہ تھے مگر گھنے تھے۔

    اس نے حیرت سے اسکے حلیے کو دیکھا۔۔ شائد اسکے ملک میں یہی فیشن ہو۔۔ 

    دوسری لڑکیوں کے برعکس وہ ہلکی سی لپ اسٹک تک نہیں لگائے تھی۔۔۔

    سنتھیا مجھے بہت بھوک لگ چکی ہے۔۔ اس نے بے چاری سی شکل بنا کر کہا۔۔

    مجھے بھی میں نے رات کو بھی ٹھیک سے گدھا نہیں کھایا تھا۔۔۔ سنتھیا نے دھیرے سے کہا تو بے ساختہ ہنس دی

    ہایون کی توجہ اسی پر تھی انکی آواز کتنی باریک سی تھی اور ٹھہر ٹھہر کو بولتے ہوئے زبان تو نا جانے کونسی تھی مگر سننے میں اسے کافی بھلی لگی۔۔

    کلاس ختم ہونے پر سنتھیا سیدھا ایڈون کی جانب بھاگی

    ارے رکو۔۔ اریزہ اسکی تیزی پر حیران رہ گئ۔۔ اپنا بیگ اٹھاتی بولتی ہوئ لپکی تو جتنی تیزی سے آگے بڑھی تھی اتنے ہی زور سے پیچھے ہوئی گلا گھٹا تھا اور الٹ کر پیچھے گرنے لگی

    ہایون اسکو گرتے دیکھ کر ایکدم سہارہ دینے اٹھا مگر وہ سنبھل گئ تھی۔۔ پلٹ کر دیکھا تو اسکے دوپٹے کے دونوں کنارے کرسی کی پشت سے بندھے تھےاتنی زور کا جھٹکا پڑنے سے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور کھانسی بھی لگ گئ۔۔  اس نے بیگ کرسی پر ڈالا اور دوپٹہ گردن سے ڈھیلا کرنے لگی

    ایک منٹ۔۔ ہیونگ سک نے آگے بڑھ کر اسکا دوپٹہ چھڑانا چاہا۔۔

    دو گرہ لگا کر پکا باندھا تھا۔۔

    وہ کرسی کے ہتھے پر ٹکی تو دوپٹے میں جھول پڑا گرہ ڈھیلی پڑی۔۔

    جب تک ایڈون وغیرہ صورت حال سمجھ کر اس تک آئے وہ دوپٹے کی گرہ کھول چکا تھا

    تھینک یو۔۔ بھرائے آواز میں اریزہ بولی۔۔

    اٹس اوکے۔۔ ایون آئم سوری دس وازنٹ آ گڈ پرینک ایٹ آل۔۔ میں معزرت خواہ ہوں اپنی دوست کی جانب سے۔۔۔

    آپ اب بہتر محسوس کر رہی ہیں؟

     اریزہ اتنی انگریزی کے جواب میں کھانس کر ہی رہ گئ۔۔

    کیا ہوا اریزہ تم ٹھیک تو ہو۔۔

    سنتھیا بھاگ کر آئی۔۔

    ہمم ۔۔ اس نے شانوں پر دوپٹہ برابر کیا۔۔

    یار یہ بھی کوئی مزاق تھا ابھی اسکو گردن میں جھٹکا بھی آسکتا تھا۔۔ یہ شاہزیب تھا جو غصے میں بولا۔۔

    ہیونگ سک نے انکو دیکھا تو اپنا بیگ اٹھا کر جانے لگا۔۔

     آپ انکو پانی پلائیں

    وہ کچھ سوچ کر مڑا پھر اپنے بیگ سے بوتل نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔۔ 

    تھینک یو ہم بس ابھی کیفے ہی جا رہے۔۔ ایڈون نے سہولت سے منع کردیا تھا۔۔

    وہ بھی کندھے اچکا کر مڑ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    وہ سب چیز سینڈوچ کھا رہے تھے چائے کے نام پر جو یہاں مل رہا تھا وہ ہرگز بھی انکو چائے کہیں سے نہ لگا تھا سو سب نے کافی پر ہی اکتفا کیا۔۔

    یار کھانے کا یہاں بہت مسلہ ہے رات کو زندگی میں پہلی بار سادے ابلے چاولوں پر انڈہ رکھ کر کھایا۔۔

    شاہزیب منہ بنا کر بتا رہا تھا

    چلو کھایا تو۔۔ میں نے تو دو نوالے لیے ہونگے پتہ چلا گدھے کے گوشت کا اسٹیک ہے ساری رات خواب میں گدھے ہی دیکھتی رہی میں۔۔۔ سنتھیا کا اپنا دکھڑا تھا

    ہیں وہ اسٹیک گدھے کے گوشت کا تھا۔۔

    سالک کی آنکھیں ابل پڑیں

    اور کھا گوشت ۔۔ شاہ زیب ہنسا

    میں نے سوچا تھا پہلا دن ہے آج کھا لوں بعد میں حرام حلال دیکھتا رہوں گا۔۔۔ وہ منہ بنا کر بولا

    کیون پہلے دن مزہب کا اطلاق نہیں ہوتا آپ پر؟

    اریزہ نے کہا تو سالک کے سر پر سے گزر گیا

    کس کی طلاق؟ 

    بھول جائو۔۔۔ اریزہ نے منہ بنایا

    تم لوگوں نے وہ نہیں سنا جب روم میں ہو تو وہی کرو جو رومی کرتے؟

    ایڈون نے اطمینان سے سینڈوچ ختم کرکے ٹشو سے ہاتھ منہ صاف کیا۔۔

    یعنی۔

    اریزہ نہ سمجھی

    یعنی یہ کہ کل یہ شاہزیب لوٹا ڈھونڈ رہا تھا اور سالک کسی طرح گدھے کے گوشت کر ھلال ثابت کر رہا تھا کہ مجھے نہیں پتہ اس جانور کو ھلال کیا یا نہیں سو یہ حلال ہے۔۔

    سالک کھسیانا سا ہوا۔۔۔

    ویسے تھا مزے کا اسٹیک۔۔۔ اس نے کہا تو اریزہ اور سنتھیا گھور کر رہ گئیں۔

    تو جناب یہ اپنے پاکستانی طور طریقے بھول کر کوریا میں ہو تو کوریائی لوگوں کی طرح رہو۔۔ نان مسلم کنٹری ہے یہاں ھلال گوشت اور لوٹا نہیں ملنے والا تم۔لوگوں کو سو یا تو صبر کرو یا پھر موج کرو کیونکہ مجبوری کا نام ہے شکریہ۔۔ ایڈون کی تقریر ختم ہوئی

    مزہب کوریا میں آکر تبدیل نہیں ہوگیا ۔۔ جس گوشت کے بارے میں آپکو یقین نہیں کہ اسے حلال کیا گیا ہے کہ نہیں وہ چاہے گدھے کا ہو گائے کا ہو حرام ہے اسکو آپ معصومیت سے یہ کہہ کر ٹال۔نہیں سکتے کہ مجھے کیا پتا۔۔آپ غیر مسلم ملک میں ہیں سو آپکو پتہ ہے کہ وہ حلال نہیں کرتے۔۔

    لوٹا نہیں مل رہا تو مسلم شاور باتھ روم میں موجود ہے اسے استعمال کیجئے 

    رہی بات پاکستانی طورطریقے کی تو ہم یہاں کچھ عرصے کیلیے ہی آئے ہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا سو انکو بھولنے کی ضرورت نہیں وہیں واپس جا کر کام آئیں گے۔۔

    اریزہ رہ نہ سکی ۔۔ اسکی اتنی لمبی تقریر کو ایڈون بھی جھٹلا نہ سکا کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔

    سنو شام کا کیا پروگرام ہے 

    گھومیں سیول میں ؟

     سالک نے کہا تو وہ سب موڈ تبدیل کرکے پرجوش ہوگئے

    مگر یار یہاں کے راستے وغیرہ نہیں پتہ ہمیں۔۔

    سنتھیا نے کہا تو سب اسے دیکھ کر رہ گئے

    سمارٹ فون ہے نا اسٹوپڈ لڑکی۔۔ ایڈون نے اسکے سر پر ٹھونگا لگایا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ پانچوں سہ پہر میں یونیورسٹی گیٹ پر اکٹھا ہوئے۔۔

    یہ رہی ہماری پہلی منزل۔۔

    گنگنم اسٹریٹ۔۔

    ہم جائیں گے بائی ٹرین ۔۔

    تم سب میرے ساتھ رہنا میں نے سب پلان کر لیا ہے۔۔ تم لوگ بس میرے ساتھ چلو  

    پہلا اسٹاپ جہان سے ہم ٹرین پر چڑھ سکتے پندرہ منٹ کی واک پر ہے۔۔ چلو میرا پیچھے آئو۔۔

    ایڈون طرم خان بنا ہوا تھا

    مزے سے کہہ کر آگے ہو ا تو ان میں سے کوئی بھی جگہ سے نہ ہلا

    وہ خود ہی کچھ دور جا کر رک گیا۔۔

    یہ کچھ چھچھورا نہیں ہو رہا۔۔ اریزہ نے کہا مگر سب متفق تھے اس سے

    آئو نا۔۔ وہ مڑ کر بولا یہ سب اسے یونہی گھورتے رہے وہ پلٹ کر واپس آیا اور ان کیساتھ آکھڑا ہوا سر جھکا کر بولا 

    سب اکٹھے چلتے ہیں۔۔

    یہ بہتر ہے۔۔ وہ سب کورس میں بولے۔۔

    یونہی ہنستے باتیں کرتے جب آدھا گھنٹہ انہیں چلتے ہو گیا اور تب جا کر اسٹیشن دور کم از کم پانچ منٹ کی واک پر نظر آیا تو سب دانت کچکچاتے مڑے

    ڈرائیو کرکے آتے تو دس منٹ بھی نہ لگتے

    وہ معصوم سی شکل بنا کر بولا۔۔

    ہمیں تو یہیں تھکا مارا ہے گنگنم اسٹریٹ کیلیے وہیل چئیر ہائر کرلو اب۔۔

    سنتھیا تھک گئ ۔۔

    خدا خدا کرکے اسٹیشن آیا

    ایڈون ہی ڈھونڈھانڈ کر ٹکٹس لے آیا۔۔

    یہاں لیڈیز کا علیحدہ حصہ نہیں ؟ 

    اریزہ حیران ہوئی

    ٹرین کھچا کھاچ بھری تھی ایڈون سالک اور شاہ زیب انکو گھیر کو کھڑے ہوگئے۔۔وہاں لیڈیز فرسٹ کا اصول بھی نہیں تھا لڑکیاں ہینڈ گرپ پکڑ کر کھڑی تھیں تو لڑکے مزے سے ٹانگ پر۔ٹانگ رکھے سیٹ پر بیٹھے تھے۔۔

    ایڈون کے برابر والی سیٹ خالی ہوئی تو اس نے سنتھیا کو وہاں بٹھا دیا۔۔

    اریزہ کو بھانت بھانت کی شکلیں دیکھنے میں مزا آرہا تھا۔۔

    اسٹاپ آنے پر بھی وہ تینوں ہی رش میں جگہ بنا کر انہیں باہر لائے۔۔

    سنتھیا ہم اکیلے ہوتے تو ابھی ٹرین سے ہی نہ نکل پاتے۔۔ اریزہ نے سنتھیا کا بازو تھام کر کیا وہ سو فیصد متفق تھی۔۔

    یہ تو راجہ بازار ہے۔۔۔

    گنگنم اسٹریٹ دیکھ کر وہ۔حیران رہ گئ۔۔

    تنگ راستے جگہ بے جگہ ٹھیلے کہیں کھانے پینے کے اسٹال تھے کہیں جیولری۔۔

    سنو جہاں بھی گول گول گھوم لو اکٹھے اسی ریستوران کے سامنے ہونا ٹھیک۔۔

    سالک اور شاہزیب کا ارادہ گھومنے کا بن رہا تھا تو ایڈون نے  انکو تاکید کی وہ دونوں سر ہلاتے ایک جانب مڑ گئے

    یہ دونوں ایڈون کے ساتھ تھیں وہ انہیں لے کر سیدھا چل پڑا۔۔

    ایسی نئی نئی چیزیں کھانے پینے کی دکھائی دے رہی تھیں کہ عقل دنگ رہ گئ۔۔

    ایک جگہ سے ایڈون نے انہیں رائس کیک جو پاکستانی پاپڑ کی طرح کڑنچ کڑنچ کر کے کھائے جا سکتے تھے دلائے پھیکے تھے مگر مختلف ذائقہ تھا دونوں کو کافی پسند آیا

    سی فوڈ والے حصے کی طرف بو کی وجہ سے دونوں جانے کو تیار نہ ہوئیں۔

    ایک جگہ روائتی کورین لباس کرائے پر دستیاب تھا دونوں بضد ہوئیں پہننا ہے لمبے لمبے رنگیں چوغے دیکھنے میں کافی نئے اور اچھے لگے انہیں مگر جب قیمت پتہ کی تو اوس گر گئ ارمانوں پر۔۔ 

    منہ نہ بنائو ابھی تو آئی ہو۔۔ میرا ارادہ ہے شام کو یہاں کوئی چھوٹی موٹی جاب ڈھونڈنے کا ۔۔ پیسے جمع کر کے پھر آئیں گے گھومنے۔۔

    ایڈون نے سنتھیا کو بہلایا۔۔ اریزہ کو اسکا انداز کافی امپریس کر گیا اسکا ارادہ تھا ہاسٹل جا کر سنتھیا کا کافی مزاق بنانے کا۔۔

    چلو وہاں چلیں اریزہ کو دور جیولری کا اسٹال نظر آیا تو یکدم پرجوش ہوئی۔۔۔

    ہاں چلو۔۔ سنتھیا بھی خوش ہوئی۔۔

    وہ دونوں کافی دیر اسٹال پر چیزیں لیتی رہیں ایڈون بور سا ادھر ادھر لڑکیاں تاڑتا رہا۔۔

     اس نے ایک پیارا سا ہار اٹھایا دنگ برنگے موتیوں والا گلے سے لگا کر دیکھا تو پوری گردن پر سرخ سی لکیر پڑی تھی 

    یار یہ شیفون کا دوپٹہ کھال رگڑ گیا ۔۔

    اس نے آئنے میں دیکھا تو سنتھیا کو غصہ آگیا 

    منحوس لڑکی تھی ایک نمبر کی۔۔ تم ڈورم چلو تو اس پر لوشن لگا لیتے ہیں۔۔

    سنتھیا نے دھیرے سے سہلایا۔۔

    ان دونوں کو وہ اسٹال اتنا پسند آیا کافی کچھ خرید ڈالا۔

    اسٹال کی مالکہ انہیں دیکھ کر مسکراتی رہی۔۔ جب وہ سب خرید کر جانے ہی لگی تھیں کہ انہیں آواز دے کر روکا۔۔

    جی۔۔ اریزہ مڑی تو پیار سے اسکو قریب بلا کر ایک پتھروں کا منقش بریسلٹ ہاتھ میں پہنا دیا۔۔ یہ تحفتا دیا گیا تھا۔۔

    وہ لینا نہیں چاہ رہی تھی مگر اصرار کرکے دے ہی دیا اس نے شکریہ ادا کیا تو بوڑھی آنکھیں جھلملا اٹھیں

    وہ اپنے ہی کسی دھیان میں کھو کر اسے کچھ کہتی چلی گئیں ۔۔

    اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو اسکی شکل دیکھ کر ہنس دیں ۔۔

    یار انکو تم بہو کے طور پر پسند تو نہیں آگئ ہو۔۔ سنتھیا نے کان میں سرگوشی کی۔۔ 

    بکو مت۔۔ اریزہ نے گھرکا پھر انکے انداز میں ہی تھوڑا سا جھک  کر  اجازت چاہی۔

    جب یہ لوگ ریستوران کے پاس پہنچے تو سالک اور شاہزیب ہاتھ میں بیگز پکڑے انکا انتظار کر رہے تھے انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے

    تم لوگوں نے کچھ نہیں خریدا؟

    ایڈون نے ان کی جانب اشارہ۔کیا۔۔

    ان لوگوں نے جیولری ہی خریدی تھی سو بیگ میں ڈال لی تھی۔ 

    یہ لوگ ایک جیولری کے اسٹال سے آگے بڑھی ہی نہیں۔۔  

    دونوں کھسیا گئیں 

    تم نے کچھ لینا تو چلو پھر چلتے۔۔

    سنتھیا نے فورا کہا مگر ایڈون نے منع کر دیا

    رات ہو گئ ہے ابھی ہمیں یہاں کا کچھ پتہ بھی نہیں نہ راستوں کا نہ ماحول کا ۔۔۔

    شام ڈھل رہی تھی انہیں پتہ بھی نہ چلا کئ گھنٹے یوں ہی پھرتے پھراتے گزر چکے تھے

    چلو کچھ کھائیں ۔۔ شاہزیب نے کہا تو سالک کو بھی بھوک کا احساس ہوا۔۔  

    ویسے سنا ہے یہاں انڈین ریسٹورنٹ ہیں سبزیاں ہی سہی دیسی کھانا تو ملے گا۔۔

    مگر میں ابھی ڈھونڈنے کے موڈ میں نہیں ہوں ان یہیں کہیں سے کچھ لے لیتے ہیں ایڈون کا انداز قطعی تھا۔۔

    تھوڑی دیر میں یہ پانچوں ایک سپر اسٹور سے بریڈ اور چیز خریدتے پائے گئے۔۔۔

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حسب عادت وہ ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے دریا کنارے موجود تھا

    سورج کے گرد پھیلا نارنجی ہالہ دھیرے دھیرے نیلے پانیوں میں جزب ہوتا جا رہا تھا۔۔

    اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے مگن اسے شک بھی نہ گزرا وہ کافی دیر سے کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔۔

    ریت پر دھیرے دھیرے خدو خال ابھرتے جا رہے تھے وہ مٹی سے مجسمہ نہیں بنا رہی تھی بلکہ زمین اسکا کینوس تھی اور وہ شبیہہ اتار رہی تھی۔۔

    کسی گہری سوچ میں ڈوبا کسی انجان سی چیز پر نظر ٹکائے وہ دلکش کوریائی نقوش کا اپالو۔۔ 

    تصویر مکمل کر کے اس نے سر اٹھایا تو کئ مقامی تفریح کو آئے لوگوں کی توجہ کا مرکز اس تصویر کو پایا۔۔

    وہ کنفیوز سی ہو گئ۔۔

    بہت اعلی واہ۔۔

    سب نے با قائدہ تالیاں بجا کر اس کو سراہا۔۔

    اس نے جھینپ کر سر جھکاتے مخصوص انداز میں شکریہ ادا کیا

    سب آہستہ آہستہ چھٹنے لگے

     کچھ لوگ جاتے جاتے نزرانہ بھی رکھ گئے کسی نے جوس کا پیکٹ چھوڑ دیا کوئی بسکٹ کا پیک اس نے سب چیزیں سمیٹ کر احتیاط سے بیگ میں ڈالیں 

    اٹھ کر کھڑی ہوئی تو ساکت رہ گئ۔۔ اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔

    اپالو اس کے سامنے ہی کھڑا بڑے غور سے اپنی تصویر دیکھ رہا تھا۔۔

    وہ یہ

    اس کی آواز کپکپا گئ۔۔

    تھوک نگل کر اس نے صفائی پیش کرنی چاہی۔۔

    وہ معاف کیجئے گا بس یونہی میں اسے ابھی مٹا دیتی ہوں

    وہ جھک کر مٹانے کیلیئے ہاتھ بڑھا رہی تھی اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔۔ وہ بری طرح گھبرا کر ہاتھ چھڑا گئ۔۔ ہیونگ سک نے اچنبھے سے اسکی حرکت کو دیکھا۔۔

    نہیں  اسے مٹائو نہیں

    وہ گھوم گھوم کر دیکھ رہا تھا۔۔ 

    ۔۔ یہ اچھی ہے بلکہ 

    بہت اچھی ہے۔۔ میں اسکے ساتھ ایک سیلفی لے لوں۔۔

    اس نے تھوڑی کے پاس کھڑے ہو کر اپنی سیلفی لی رخ ایسا لیا کہ پورا چہرہ نمایاں تھا

    کھڑی ہوپ بھی قریب تھی مگر خود کو اسکے کیمرے کے اینگل میں آتا دیکھ کر تھوڑا پیچھے ہو گئ۔۔

    اس نے دو تین پوز میں تصویر لی پھر اسکی جانب مڑ کر کہنے لگا

    میری ایک دور سے بھی تصویر۔۔  موبائل اسکی جانب بڑھانے لگا تو حیران رہ گیا۔۔ وہ دور بھاگتی جا رہی تھی۔۔ ۔

    عجیب لڑکی ہے۔۔ اسکے زہن میں جھماکا ہوا۔۔

    یہ ہوپ۔۔

    اسے یاد آیا ابھی دو دن پہلے اسی کو تو لفافہ دے کر آیا تھا۔۔ اور اس سے پہلے۔۔

    یہ لفٹ میں ۔۔۔

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم غلط مڑ گئے ہیں۔۔ 

    چلتے چلتے تیسرا لان بھی پار کر لیا تو اسے خیال آیا۔۔

    انکا ہاسٹل والا بلاک آہی نہیں چک رہا تھا۔۔

    میں تھک گئ۔۔

    سنتھیا وہین بنچ پر پر بیٹھ کر ہانپنے لگی۔۔

    ٹھہرو میں دیکھ کر آتی ہوں یہ کونسا بلاک ہے۔۔

    اریزہ اسے وہیں بٹھا کر خود تیزی سے بھاگتی سامنے والے بلاک میں گھس گئی

    تیرہواں بلاک

    یقینا اس سے اگلا انکا بارہواں بلاک تھا۔۔

    وہ مطمئن ہو کرپلٹنے کو تھی کہ سامنے والے ہال کے ادھ کھلے دروازے سے اسے کچھ لڑکیاں ورزش کرتی نظر آئیں 

    وہ متجسس ہو کر اس کی جانب بڑھ گئ

    وہ سب جمناسٹک کر رہی تھیں ایک بڑا سا ربن پکڑ کر گول گول گھومتی ہوا میں کرتب دکھاتے ہوئے اپنے قدموں پر بنا کسی مدد کے اچھل کر آکھڑی ہوئی۔۔

    اسے ہمیشہ اولمپکس میں بھی جمناسٹک دیکھنا پسند رہا تھا ایک طرف چھوٹے چھوٹے بارز پر لڑکی ہاتھوں کے زور پر الٹی کھڑی ہو جاتی ہوا میں قلا بازی کھا کر بازو پر ہی اتر آتی اس نے ہاتھوں کے بل پر کھڑے ہو کر ٹانگ لہرائی ایک بازو اٹھاتی ٹانگ گزارتی پھر دوسرا ایسے کئ چکر لگاکر وہ سیدھی ہوئی تو بے اختیار اریزہ تالی بجا بیٹھی۔۔

    تالیوں کی آواز پر سب کے قدم رکے سب چونک کر اسے دیکھنے لگیں وہ تھوڑا کنفیوز ہوئی پھر خوش دلی سے بولی 

    زبردست آپ سب بہت اچھا کر رہی ہیں 

    وہ سب مسکرا دیں جی ہائے استہزائیہ ہنسی

    تم بھاگو یہاں سے یہاں صرف ایتھلیٹ آ سکتے ہیں بس۔۔

    دیکھنے دو اسے کونسا ابھی کوئی آفیشل ہے یہاں ۔۔ اسکی سہیلی نے ٹوکا 

    پھر اس سے بولی

    ہم اگلے مہینے کے ریجنل ٹورنامنٹ کی تیاری کر رہے ہیں ہم  ایک نیا کرتب کریں گے دیکھو گی؟

    اس لڑکی نے مسکرا کر اسے انگریزی میں کہا تو وہ خوشی سے اثبات میں سر ہلا گئ۔۔

    وہ پانچ لڑکیاں تھیں ربن لہراتی اچھلتی گول گول گھومتی دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے کے اوپر ہاتھوں کے سہارے چڑھ گئیں پہلے پھول بنایا پھر تیر آخر میں پھلجھڑی کی طرح ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئیں۔۔

    اس نے پورے جوش سے تالیان بجا کر انکی حوصلی افزائی کی۔۔

    دو لڑکیاں اسی کرتب میں نیچے کھڑی ہوئیں دو ان کے اوپر الٹی تیسری جی ہائے انکے ہاتھوں کے سہارے جیسے اڑ کر سب سے اوپر پہنچی 

    یہاں اسے رکنا تھا چند لمحے رک وہ واپس آ ہی رہی تھی تیسری لڑکی کے کندھے پر اسکا پائون پھسلا وہ ایکدم سے چار پانچ فٹ کی اونچائی سے سر کے بل۔نیچے آتی کہ اریزہ جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی دوڑ کر آئی اور اسکو بازو سے سہارہ دے دیا

    وہ اسکے کندھے پر پائوں رکھتی آرام سے نیچے اتر آئی۔۔

    اف یہ گئ تھی ابھی ۔۔۔۔۔باقی سب بھی کرتب 

    چھوڑ چھاڑ چھلانگ مار کر سیدھی ہو گئیں

    تھینکس یار۔۔ اسی لڑکی نے اسکا شکریہ ادا کیا جے ہی نیچے اتر کر سیدھی لیٹ گئ تھی

     تم ٹھیک تو ہو؟ اریزہ نے پوچھا مگر اس نے جواب نہ دیا۔۔ اریزہ اس پر جھکی تو اسکی گردن کا سرخ نشان اس سے چھپا نہ رہ سکا۔۔  باقی سب بھی

    اب اسکے گرد جمع اسکا حال پوچھ رہی تھیں  اریزہ خاموشی سے اٹھ گئ۔۔

    کہاں رہ گئیں تھیں تم اگلا بلاک ہے ہمارا۔۔

    ہال سے نکلی تو سنتھیا پکارتی اسی کے پاس آرہی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ آج پھر اپنے گھر آیا تھا۔۔

    سیکیورٹی کیمرے میں کھڑا دیکھتا رہا۔۔ بیل بجائی ہی نہیں۔۔

    چند لمحے دیکھ کر واپس مڑ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہایون اپنے گھر جا رہا تھا جب گاڑی موڑتے جون جے پر نظر پڑی جون جے  تھکے تھکے قدموں سے اپنے گھر کے ہی باہر سے گزر رہا تھا 

    جون جے۔۔

    اس نے رفتار دھیمی کر کے پکار لیا۔۔۔ جون جے چونکا پھر جلدی سے چہرے پر پھیلے آنسو صاف کر لیے اور مسکرا کر اسکی جانب بڑھا

    گھر جا رہا ہے؟

    آ چھوڑ دوں ۔۔

    ہاں مگر تمہیں دور پڑے گا میں ٹرین سے چلا جائوں تم آرام سے گھر جائو۔۔ اس نے سہولت سے انکار کیا۔۔

    آئو پھر اسٹیشن چھوڑ دیتا ہوں

    ہیون نے کہا تو وہ چند لمحے سوچ کر گھوم کر آکر فرنٹ سیٹ پر اسکے برابر آکر بیٹھ گیا۔۔

    اس نے گاڑی اسٹارٹ کی پھر کن اکھیوں سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔

    تمہاری امی ابھی بھی ناراض ہیں۔۔

    جون جے نے ٹھنڈی سانس لی پھر ہلکی سی آواز میں بولا دے۔۔ ہاں

    تمہاری جاب کیسی جا رہی ؟

    ٹھیک ہے۔۔ 

    اس نے کہا پھر بولا۔۔

    میں بے روزگار ہوں۔۔میں  نے جاب چھوڑ دی

    ہایون چونکا۔۔ کیوں؟

    مالیاتی ادارے میں اچھے عہدے پر کام کر رہا تھا وہ جاب کیوں چھوڑ دی؟

      سود سے میری تنخواہ بنتی تھی اسلیے۔۔

    تو ؟ ہایون کو سمجھ نہ آیا۔۔

    میرے مزہب میں سود حرام ہے۔۔ جون جے مسکرایا۔۔

    کیا؟

    تم نے مزہب کے پیچھے نوکری بھی چھوڑ دی؟ کیسا مزہب ہے یہ اور تم کیسے پاگل ہوئے ہو ہر کسی کو چھوڑے جا رہے شراب ماں دوست اور اب نوکری بھی۔۔۔

    راہب بن گئے ہو کیا ؟

    ہایون جھلایا۔۔ 

    رہبانیت بھی حرام ہے اس نے گہری سانس لے کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا۔۔ ورنہ میرا دل یہی کرتا میں سب چھوڑ دوں۔۔

    کیا۔۔؟ ہایون  نے اسے ایسے ہی دیکھا جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں

    تم کسی سا ئکاٹرسٹ سے رابطہ کر۔و۔ 

    ہایون نے سنجیدگی سے مشورہ کیا۔۔

    جون جے ہنس پڑا ہنسے گیا ہنستے ہنستے آنکھ میں پانی اتر آیا۔۔

    اسٹیشن آگیا تھا ہیونگ سک نے گاڑی روکی تو وہ شکریہ کہتا اترا۔۔۔ 

    ہیونگ سک گاڑی اسٹارٹ کرکے موڑنے ہی لگا تھا جون جے واپس مڑ کر اسکے پاس آیا۔۔

         تمہیں بھوک لگ رہی ہو اور تمہارے سامنے کھانا اور سونا رکھا ہو تم کس پر لپکو گے؟

    ہایون اسکی شکل دیکھتا رہ گیا۔۔ 

    جواب دو۔۔ وہ جواب کیے بغیر مڑنے والا نہیں تھا

    شائد  کھانے پر ۔۔

    جون جے جیسے مطمئن ہوگیا اسکو خدا حافظ کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا اسٹیشن کی طرف بڑھ گیا۔۔

    یہ واقعی پاگل ہو گیا ہے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     میرے ایک ہاتھ میں جلتا کوئلہ ہے 

    اس نے اپنی الجھی لکیرون والی ہتھیلی پھیلائی۔۔ 

    یہ ہتھیلی جل رہی ہے۔۔ 

    دوسری ہتھیلی۔۔ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی سامنے پھیلایا

    میرا دوسرا ہاتھ سرد ہے اس میں برف جمی ہے

    اس نے ازیت سے آنکھیں بند کر لیں 

    کوئی بیک وقت دونوں ہاتھوں میں جلن محسوس کر سکتا ہے

    ایک میں آگ سی تپش 

    دوسرے میں برف کی جلن اس نے ہتھیلیان جوڑ لیں

     ایک سرد لہر اس کے رگ و پے میں دوڑ گئ۔۔ وہ ایکدم اٹھی اور بھاگ پڑی

    چہار سو برف پڑی تھی ٹھنڈی برفانی ہوا اسکے جسم سے ٹکرا رہی تھی وہ جس پر دوڑ رہی تھی زمیں نہیں تھی ہلکی سفید تہہ تھی جس سے آر پار نظر آرہا تھا

    نیچے اسکی موت تھی پیچھے بھی اسکی موت تھی اور آگے اس نیم ملگجے اندھیرے میں اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا جانے وہاں کونسی عفریت تھی

    آدل اسکی ماں پکار رہی تھی۔۔  وہ جواب دینا چاہتی تھی مگر اسکی زبان بند ہو گئ تھی۔۔

    وہ گہری گہری سانس لے رہی تھی۔۔ گھٹی گھٹی آواز اسکے حلق سے نکل رہی تھی 

     اسے ٹھوکر لگی تھی وہ منہ کے بل گرنے کو تھی کسی نے ا سکا ہاتھ تھام لیا۔ 

    اپالو اسکی آنکھوں میں جھانک کر مسکرا رہا تھا۔۔

    وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی

    تبھی زور دار اطلاعی گھنٹی بجی تھی۔۔

    وہ دہل کر رہ گئ۔۔

    حواس بحال کرتی اٹھی

    چپل پہنی پانی کی شدید طلب تھی اس نے فریج سے بوتل نکالی مگر پینے کا موقع نہ ملا ڈور بیل پھر بجی تھی

    وہ ڈھکن کھول کر منہ سے لگاتی دروازہ کھولنے لگی۔۔

    دروازہ کھولنے ہر جو چہرہ سامنے تھا  اسے گنگ کر گیا

    منہ میں بھرا پانی نگلنا بھول گئ۔

    ایسا ہوتا ہے بھلا آپ جس اجنبی چہرے کو خواب میں دیکھیں وہ حقیقت میں بھی آپکے سامنے آ کھڑا ہو۔۔

    ہایون  اسے بھونچکا دیکھ کر مسکرا دیا۔۔

    گنگشن نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔

    ہوپ کے حواس بحال ہوئے۔۔

    فورا پانی نگل کر سر جھکا کر جواب دیا اور انہیں اندر بلاتی جلدی سے لائٹیں جلانے لگی۔۔

    کیسی ہو۔۔ انی حسب معمول خوشگوارموڈ میں تھیں

    ہوپ بمشکل مسکرائی

    ۔۔ یہ میرا بھائی ہے۔۔ہایون  میرا خیال ہے تم لوگوں کی ملاقات ہو چکی ہے

    آپ بیٹھئے نا۔۔

    ہوپ نے بات کاٹ کر کہا تو وہ شکریہ کہتی بیٹھ گئیں۔

    مجھے تمہارے گھر کا تو نہیں پتہ تھا مگر ہایون  نے بتایا اسکی ایک بار تم سے یہاں لفٹ میں ملاقات ہو چکی ہے۔۔ میں سیدھا یہاں نہ آتی مگر میرا تم سے ملنا ضروری تھا تمہارے ریستوران گئ تو انہوں نے بتایا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تم دو دن کی چھٹی پر ہو۔وہ سانس لینے رکیں

    کوئی بات نہیں ۔۔ وہ مروتا بولی

    ۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔۔ انی پیار سے پوچھ رہی تھیں

    جی ٹھیک ہوں۔۔

    وہ نہ جانے کیوں گھبرا رہی تھی۔۔۔ شائد ہیونگ سک کی نظریں خود پر محسوس کر کے

    اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھائی تو ہیونگ سک بے نیازی سے اپنے موبائل میں لگا ہوا تھا جانے کیوں اسکا دل بجھ گیا۔۔

    میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لونگی میرے پاس تمہارے لیے ایک جاب ہے ہمارا ادارہ ایک نیا جریدہ۔شروع کر رہا ہے اسکے ٹائٹل کیلیے ہم نے کچھ فن کاروں سے رابطہ کیا ہے تمہارے ڈیزائنز بھی میں نے اپنے ڈاریکٹر کو دکھائے انہیں کافی پسند آئے۔۔ تم کیا اس کام کو کسی فنکار کے ساتھ مل کر سرانجام دینا چاہوگی؟

    وہ آرٹس گریجویٹ تھی مگر اسکی ڈگری کا ہونا نہ ہونا برابر تھا یہ اسکیلیئے بہت بڑی آفر تھی 

    وہ بے تحاشہ خوش ہو گئ تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

    میں ٹھیک ہوں بابا کھا پی بھی ٹھیک رہی ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔ 

    اس نے بابا سے فون پر تو یہی کہا تھا۔مگر کیفے میں بے چارگی سے مینیو گھور رہی تھئ۔

    مجھے لگتا ہے میں جلد ہی وزن کم کر لوں گی

    اریزہ نے بے چارگی سے کہا

    سنتھیا بھی اس سے متفق ہی تھی

    آج چکن نوڈلز تھے ساتھ رائس کیک اور ساسیجز۔۔

    اریزہ کو کچھ نہ سوجھا کیا کھائے۔۔

    فروٹ میں ایواکاڈو تھا

    تم یہ بھی کھا لو۔۔ سنتھیا نے اسے اپنا بھی پیش کر دیا۔۔

    اس نے ڈرتے ڈرتے کھایا مگر پھل مزے کا تھا الگ سا ذائقہ تھا مگر خدا کا بنایا تھا تو بد مزہ ہو نہیں سکتا تھا۔۔

    میں نے سنا ہے یہاں بین القوامی طلباء کیلئے ہاسٹل بن رہا ہے پیچھے پھر کچن بھی ہوگا ویسے تو اس ہاسٹل میں  بھی کچن ہے مگر کہاں یہ نہیں پتہ۔ 

    گوارا انہیں دوبارہ نظر نہ آئی ہاسٹل میں شائد کہیں گئ ہوئی تھی ہاں جی ہائے سے آمنے سامنے کمرے ہونے کی وجہ سے آتے جاتے نظر پڑ جاتی مگر جی ہائے روکھی سی لڑکی تھی۔۔ ابھی بھی انہیں دیکھ کر آگے بڑھ گئ۔۔

    دونوں کھا کر واپس کمرے میں آ گئیں

    یار نیند نہیں آرہی۔۔ دونوں نے منہ لٹکا کر کہا اکٹھے کہا پھر اس اتفاق پر زور سے ہنس پڑیں

    یار کوئی پرانا ناول دوبارہ پڑھ لیتے ہیں۔۔ سنتھیا کو آئیڈیا آیا

    وہ تو ہم کرتے ہی رہتے۔۔۔ اریزہ سوچ میں پڑی۔۔ یار ہم سیول میں ہیں کچھ نیا سوچو۔۔

    سو جاتے ہیں ۔۔ سنتھیا نے کہا تو اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔۔سنتھیا موبائل میں لگی تھی اسے شک گزرا ۔۔ سنتھیا مزے سے بیڈ پر لیٹی پائوں ہلا رہی تھی اس نے اس پر چھلانگ لگا کر موبائل چھینا۔۔ ہے اے۔۔ وہ چیختی رہ گئ 

    ایڈون سے پیغامات پر بات ہو رہی تھی۔۔

    یوں کہو نا تم اب مصروف ہو ۔۔ وہ موبائل اسکے اوپر اچھالتی اٹھ گئ۔۔

    اریزہ اریزہ۔۔ سنتھیا اسے پکار رہی تھی مگر وہ منہ بناتی زور سے دروازہ بند کرتی باہر نکل آئی۔۔

    ڈورم سے باہر لمبی سی گیلری تھی جس میں آمنے سامنے کمروں کو دروازے کھلتے تھے سرے پر اوپن ٹیرس تھا وہ وہیں باہر آگئ۔۔

    آج کی کڑوی سچائی

    دوستوں کو سنگل رہنا چاہیئے ورنہ دوست دوست نہیں رہتے ۔۔  وہ بڑبڑا کر رہ گئ۔۔

    چودھویں کا چاند تھا شائد بڑا سا آسمان میں روشنیاں بکھیرتا۔۔

    ہلکی ہلکی خنک ہوا کے ساتھ ٹھنڈی چاندنی اسکا موڈ ایکدم خوشگوار کر گئ۔۔یونہی سر اٹھا کر آسمان دیکھتے کتنی دیر ہوئ تھک کر وہیں گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئ۔۔

    جانے کیوں ڈھیروں آنسو پھسلتے چلے آئے وہ وہیں گھٹ گھٹ کر رو نے لگی۔۔

    پچھلے کچھ دنوں سے کیا کچھ ہوگیا تھا سب برا پھر کچھ اچھا اسے تو یہ بھی خواب ہی لگ رہا تھا کہ وہ یہاں اتنی دور ایک دوسرے ملک میں بیٹھی تھی

    اسے ایک ہفتے میں خود سے بھی ملنے کا موقع نہ مل سکا تھا۔۔ اسکا دل اتنا بھر آیا تھا کی اسے لگا وہ دھاڑیں مار مار کر رو پڑے گی رو بھی پڑتی جو اسے اپنے شانے پر ہلکا سا دبائو محسوس نہ ہوتا۔۔

    اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔۔

    جی ہائے اسکے کندھے پر جھکی تھی۔۔

    تمہیں روتے کافی دیر ہو گئ ہے لو پانی پی لو۔۔

    وہ ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے تھی۔۔ اریزہ بری طرح شرمندہ ہو گئ۔۔ 

    پانی پی کر کافی سکون محسوس ہوا تھا۔۔ تھینکس 

    وہ گرل کا سہارا لے کر اٹھی جی ہائے نے کافی تعجب سے اسے دیکھا۔۔ 

    اس نے گلاس تھمایا جے ہی نے گلاس پکڑا واپس جانے کیلیے مڑی پھر جانے کیا سوچ کر اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈالا  اور بسکٹ کا کھلا ہوا پیک نکال کر اسے دیا۔

    لو کھا لو تمہیں بھوک بھی لگی ہوگی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کمرے میں آکر دروازہ بند کیا تو سنتھیا ابھی بھی ٹیکسٹنگ میں لگی تھی 

    آگئیں کہاں گئ تھیں ؟ 

    اس سے پوچھ تو رہی تھی مگر آنکھیں اسکرین پر ہی جمی تھیں۔۔

    میڈم وہیں دھیان دو۔ وہ اپنا موبائل چارجنگ سے نکالتی دھپ دھپ اوپر چڑھ گئ

    پیکٹ تقریبا پورا تھا ہاف رول تھا دو ایک ہی کھائے ہونگے

    اس نے احتیاط سے ریپر کا پوسٹ مارٹم کیا ایک ایک اجزا پڑھ کر تسلی کی سادے ویٹ بسکسٹس تھے اس نے ایک اٹھا کر چکھا مزے کا تھا دو ایک کھا کر اس نے سائڈ ٹیبل کی دراز کھول کر رکھ دیے برے وقت میں کام آئیں گے۔۔

    یہ وقت فیس بک کی جان کو رونے کا تھا

    اس نے سوچا پھر انگریزئ میں لکھا

    ۔۔۔ بیوقوف ہیں جو سمجھتے ہیں رونا کمزوری ہے۔۔ نہ رونا کمزور کرتا ہے آپ کو اندر سے۔۔

    آنسوتو نعمت ہیں رو نے سےتو دل ہلکا ہوتا اور رونے سے دل پگھل بھی جاتا۔۔۔۔۔

    آنسو بہہ جانے کیلیے ہوتے آپ خوش قسمت ہیں اگر آپ رو سکتے۔۔ روئیے دل کھول کر روئیے بار بار روئیے یہ جو دل پر بار ہے نا ایسے ہی کم ہوگا۔۔ یہ بار ختم کیجیے پھر آپ زیادہ مضبوط اور زیادہ ہمت والے بن جائیں گےکیونکہ اب  آپ رو چکے اب آپ کو اس سے آگے کچھ سوچنا ہے 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دور کہیں کسی کے پاس نوٹیفیکیشن آیا تھا۔۔

    کئ دن کے بعد بلاگ اپ ڈیٹ ہوا تھا۔۔

    اس نے فورا چیک کیا۔۔

    رونا نعمت ہے۔۔ وہ حیران ہوا۔۔

    وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔

    ایک وہ تھا رو رو کے اپنے رونے سے تنگ آیا ہوا تھا۔۔ کون جانتا تھا ابھی بھی رو کر بیٹھا تھا کچھ آنسو ابھی بھی پلکوں پر دھرے تھے اس نے آنکھیں پونچھیں مسکرا دیا پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ اس بلاگ کا پیروکار تھا آج پہلی بار دل کیا کمنٹ کرنے کا سو۔۔ بلاگر کو

     مخاطب کیا

    قنوطی ۔۔

    جو رو چکا ہو کیا کرے؟

      سینڈ کرکے اس نے کمر سیدھی کی۔۔ کمبل سر تک کھینچا منٹوں میں بے خبر ہوا۔۔

    تھوڑی دیر میں اسکے موبائل کی لائٹ جلی۔۔۔ قنوطی نے فورا جواب دیاتھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جو رو چکتا ہے اسے پتہ لگ جاتا اب آگے کیا کرنا اگر ابھی نہیں پتہ چلا تو مزید روئے ابھی کم رویا ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #

    پورکستانی۔۔

    جن سیٹ پر وہ کئ دن سے بیٹھ رہے تھے پانچوں اکٹھا اس پورے ڈیسک پر چاکنگ ہوئی وی تھی۔۔

    وہ پانچوں غصے سے بھر گئے۔۔

    ساتھ ہی نازیبا زبان بھی استعمال کی گئ تھی ان پانچوں کو جمے دیکھ کر یون بن نے تجسس میں ایڈون کے پیچھے سے جھانک کر دیکھا۔

    کیا ہوا؟

     تم لوگوں نے اپنے ملک کا نام لکھا ہے سیٹ پر۔۔

    وہ یہی سمجھا تھا۔۔

    ہمارے ملک کے نام میں آر اور او نہیں آتا۔۔ ایڈون نے مٹھی بھینچی۔۔

    اوہ ریموو ایبل چاک ہے مٹا کر دوبارہ لکھ لو۔۔ اس نے مفت مشورے سے نوازا ان چاروں نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا

    وہ کندھے اچکاتا اپنی نشست کی طرف بڑھ گیا۔۔ 

    اریزہ نے بیگ سے ٹشو نکالے اور سیٹ رگڑنے لگی بے حد محنت سے او اور آر دھندلے ہو گئے مٹے نہیں

    اریزہ کوئی فائدہ نہیں ہم پیچھے چل کر بیٹھتے ہیں۔۔ شاہزیب نے کہا تو سالک نے بھی تائید کی۔۔

    ہاں چلو سیٹ بدل لیتے ہیں۔۔

    تا کہ کل کسی اور سیٹ پر یہ لکھا ہو۔۔ اریزہ کو بہت غصہ آرہا تھا۔۔

    ہمیں روز جگہ بدلنی چاہیئے۔۔ سنتھیا کا مشورہ قابل عمل تھا

    آپ لوگوں کا بیٹھنے کا ارادہ نہیں ہے؟

    پروفیسر صاحب کی آواز گونجی تو یہ پانچوں سٹپٹا کر وہیں بیٹھ گئے۔۔اپنی الجھن میں انہیں اندازہ ہی نہ ہوا کب پروفیسر آ بھی گئے۔۔

    ہمم

    انہوں نے غور سے ان پانچوں کو دیکھا۔۔

    پچاس طلبا دو سو سیٹس گھیر کر بیٹھے ہیں کیا وجہ ہے؟

    آپ لوگ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے کیا۔۔؟

        انکی بات پر سب نے پر جوش تردید کی تھی۔۔

    ٹھیک ہے۔۔ کورین بیٹھے رہیں باقی قومیتوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوں۔۔

    کئ گروپ کھڑے ہوئے سب الگ الگ ملکوں سے آئے ہوئے الگ الگ بیٹھے تھے 

    جاپانی چینی فلپائنی امریکی مڈل ایسٹ کی بھی کچھ شکلیں تھیں 

    آپ لوگ الگ الگ کیوں بیٹھے ہیں ؟

    عجیب بات ہے پڑھ رہے ہیں بین القوامی تعلقات اور ابلاغ عامہ بیرون ملک جا کر اور تعلقات بنانے مین بالکل دلچسپی نہیں آپ لوگوں کو؟نئے گروپ بنائیں  کم سے کم چار لوگ ہوں اور لازمی مجھے آپ لوگوں کے گروپ میں فارنر چاہیے۔۔

    اور آپ پاکستانیز۔۔

    دو ہفتے ہو رہے آپ پانچوں کو میں نے اکٹھے بیٹھے خاموشی سے دیکھا آیندہ دو بھی اکٹھے بیٹھے نظر نہ آئیں مجھے کلاس میں۔۔

    سمجھ آئی؟

    جی سر ۔۔ وہ سر ہلا کر رہ گئے

    ابھی سے کیوں نہیں آپ میں سے ایک ایک آگے آتا جائے بیٹھتا جائے 

    ہری اپ۔۔۔۔

    یہ یونیورسٹی ہے؟

    ایسا تو آخری بار میرے ساتھ پانچویں میں ہوا تھا۔۔

    اریزہ نے کہا تو سب متفق تھے اس سے۔۔

    ہم بہت وقت ضائع ہو گیا۔۔ اب کام کی بات کرتے ہیں 

    ان سب کو جدا کرکے وہ اطمینان سے لیکچر شروع کرنے لگے

     ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں یہ سوچ رہی تھی ہم مارکیٹ سے کچھ کھانے پینے کا سامان نہ لا کر رکھ لیں ؟

    ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلتے اریزہ کو خیال آیا۔۔

    ہاں یار کھانے کا واقعی بہت مسلہ ہے۔۔ سنتھیا متفق تھی۔۔

    چلو۔۔ دونوں تیز تیز چلتی یونیورسٹی سے باہر نکل آئیں۔۔

    دس پندرہ منٹ کی واک پر سپر سٹور تھا۔۔ آرام سے کھانے پینے کی چیزیں خرید کر باہر نکلیں تو آنکھیں پھاڑ کر رہ گئیں

    اچھی خاصی تیز بارش ہو رہی تھی۔۔

    ابھی تو سورج نکلا ہوا تھا۔۔ سنتھیا کی حیرانی عروج پر تھی۔۔

    سیول کی گرمی آتی یا جاتی سردیوں جیسی تھی پاکستان کی ۔۔۔۔۔

    اس بارش نے اچھی خاصی خنکی کردی تھی۔۔ اور ویسے بھی برستی بارش میں وہ بھیگتی جا نہیں سکتی تھیں۔۔

    واپس اسٹور میں آگئیں۔۔

    بیگ ایک کونے میں رکھ کر دوبارہ پھرنے لگیں۔۔

    میم ٹرائی دس ۔۔ 

    اسپائسی ٹوفو۔۔

    وہ باتوں میں مگن تھیں جب ایک اسٹال سے اس لڑکی نے آواز دے کر روکا۔۔ 

    کیا ہے یہ؟

    وہ اتنے اخلاق سے کہہ رہی تھی کہ دونوں صاف منع نہ کر سکیں۔۔

    اس نے ایک چھوٹی سی اسٹک اور چھوٹے سا پلاسٹک کا کپ پکڑا دیا۔۔

    تم کھائو پہلے۔۔

    اس نے سنتھیا کو کہا۔۔ وہ متزبزب ہوئی مگر پھر منہ میں رکھ لیا۔

    پنیر ہے۔۔ اس نے کچھ اور بھی بتانا چاہا۔۔

    مگر تب تک اریزہ مطمئن ہو کر پورا منہ مین رکھ چکی تھی۔۔

    مگر بہت مرچیں ہیں۔۔۔

    سنتھیا نے جملہ مکمل کیا۔۔ خود اس نے تو تھوڑا سا منہ میں رکھا تھا اریزہ پورا رکھ کر تب تک چبا چکی تھی۔۔

    ہاہہ۔ اسکے کانوں سے دھواں نکلنے لگا تھا۔۔ وہ لڑکی بھی گھبرا گئی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بارش تھم گئ تو وہ باہر نکل آئیں شفاف سڑک دھل کر چمک رہی تھی۔۔

     گرم صبح کی نسبت موسم بے حد خوشگوار ہو چکا تھا۔۔

    لگ رہا ہم اسلام آباد میں ٹہل رہے ہیں ہے نا۔۔

    اس نے گہری سانس لے کر تروتازہ ہوا کو اپنے اندر اتارا۔۔ بارش سے گہما گہمی میں خاطر خواہ کمی آئی تھی

    فٹ پاتھ پر چلتے اکا دکا لوگ اپنے آپ میں مگن تھے شام کے اندھیرے پھیل رہے تھے۔۔ سڑک کے دونوں جانب دکانوں میں بتیاں جلنا شروع ہو چکی تھیں ہر طرف دمکتی روشنیاں اسے اپنا آپ اس پینڈو کی طرح لگ رہا تھا جس نے پہلی بار شہر کی بتیاں دیکھی ہوں۔۔ اس نے کہہ بھی دیا۔۔

    یار میرے اندر اچانک کوئی پینڈو جاگ گیا ہے۔۔ دل کر رہا منہ اٹھا کر بتیاں دیکھتی رہوں۔۔ 

    سنتھیا نے اتنی معصومیت سے کہا تھا کہ اریزہ کو اس پر پیار ہی آگیا۔۔

     اپنے ہاتھ میں پکڑے شاپر دوسرے ہاتھ میں  منتقل کیے پھر پیار سے اسے ساتھ لگا لیا۔۔

    اریزہ یہاں ہمیں کوئی گھور بھی نہیں رہا۔۔

     اریزہ نے سنتھیا کندھے پر سر رکھ دیا 

    ہاں یار۔۔

    کاش پاکستان میں بھی ہم اسی طرح گھوم سکیں بنا تنگ ہوئے۔۔ سنتھیا کے انداز میں حسرت تھی۔۔

    ہممم 

    اریزہ نے کہا تو وہ چڑی۔۔

    کیا ہوں ہاں کر رہی ہو زبان پیٹ میں گر گئ ہے۔۔

    ہممم۔ اریزہ نے اور چڑایا۔۔

    دفع ہو۔

    سنتھیا نے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا وہ اتنی ہی زور سے پلٹ کر اس سے لپٹ گئ۔

    اون ہوں۔ سنتھیا نے ہنس کر خود کو چھڑانا چاہا مگر اریزہ کی گرفت سخت تھی۔۔

    دونوں دھکم پیل میں سر ٹکرا بیٹھیں پھر ہنستے ہنستے لپٹ گئیں۔۔

    سڑک کے دوسری جانب کھڑے انکے یونیورسٹی فیلو نے کافی حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔

      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ آج ساحل کنارے دریا بنا رہی تھی۔۔

    دور تک جما برفیلا دریا۔۔ بس۔۔ اس نے مٹھی بند کی ریت پر چھاپی پھر چاروں انگلیوں کی پوروں سے احتیاط سے اس نشان کے اوپر قطار میں چھوا اب یہ دیکھنے میں پاوں کا نشان لگ رہا تھا۔۔ 

    اس نے گھٹنوں کے بل اٹھ کر کر اپنی تصویر کے درمیان تک ایسے پاوں چھاپے جیسے کوئی بھاگ رہا ہو اس پر اس نے  گھٹنے تک جینز موڑ رکھی تھی اسکی پنڈلیاں اور دونوں ہاتھ ریت سے سن چکے تھے۔۔

    اس نے مطمئن ہو کر اپنی تصویر کو دیکھا پھر دو زانو بیٹھ گئ۔۔ آج شائد لوگوں کو اسکی تصویر خاص نہیں لگی تھی وہ لڑکا اور لڑکی جو اسے تصویر بناتے دیکھ کر رک کر دیکھنے کھڑے ہو گئے اب پلٹ کر جا رہے تھے۔۔

    اس نے مایوس سا ہو کر دیکھا۔۔ تبھی تصویر کھنچنے کی آواز آئی۔۔

    اس نے آواز کے تعقب میں پلٹ کر دیکھا تو ہایون  اس کے پیچھے کھڑا تصویر کھینچ کر مسکرا رہا تھا۔۔

    تم میں کافی ہنر ہے۔۔ تا حد نگاہ  صحرا اس میں قدموں کے نشان ۔۔ ویسے مسافر جس کے قدموں کے نشان ہیں گیا کدھر۔۔ وہ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا پھر آکر اسکے پاس ہی اکڑوں بیٹھ کر قدموں کے نشان جہاں ختم ہو  رہے تھے ادھر اشارہ کر کے بولا۔۔

    وہاں اسے تھک کر گرا ہونا چاہیئے۔۔ ہےنا۔۔

    اس نے اسکی آنکھوں مین جھانک کر تائید چاہی۔۔ 

    ہوپ کے زہن کے پردے پر کوئی منظر روشن ہوا۔۔ کوئی اتنا تیز بھاگے تو آخر میں سانس پھول جاتی ہی پھر قدموں سے جان نکلنے پر وہ بے دم ہو کر گر ہی پڑتا۔۔ اس کے زہن کے پردے پر جو کردار بھاگ رہا تھا وہ گر ہی گیا تھا۔۔

    ہیونگ سک نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر متوجہ کیا تو وہ چونک کر حال میں لوٹی۔۔

    میری تجویز پسند نہیں آئی؟

    وہ دھیرے سے بولی۔۔

    یہ صحرا نہیں ہے۔۔ یہ دریا ہے جو ٹھنڈ سے جم گیا ہے۔۔

    اوہ۔ اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ پھر ہنس دیا۔

    معزرت مجھے آرٹ کی کچھ زیادہ سمجھ نہیں مگر ماننے والی بات ہے تمہارے ٹیلنٹ نے مجھے متاثر کیا ہے۔۔

    وہ مسکرانے میں کتنا فراخ دل تھا۔۔ کیسے کوئی یونہی بات بہ بات مسکرا سکتا ہنس سکتا۔۔ وہ اسے تعجب سے دیکھ رہی تھی۔۔

    تم نے اس دن جو میری تصویر بنائی تھی وہ میں نے سوشل میڈیا پر ڈالی تھی کئ سو لائکس ہو چکے ہیں اس پر۔۔

    تم بس ریت پر تصویر بناتی ہو یا کسی کے فرمائش کرنے پر پورٹریٹ بھی بنا سکتی ہو؟

    بنا سکتی ہوں۔۔ وہ دھیرے سے کہہ کر سمٹ کر تھوڑا سا پیچھے ہوئی۔۔ اسے جھجکتے دیکھ کر ہایون  نہ سمجھنے والے اندازمیں اسے دیکھ کر کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہو۔۔

    پھر کسی روز کا اپائنٹمنٹ مل سکتا ہے مجھے؟

    اس نے پوچھا  مگر ہوپ مکمل طور پر اسے نظر انداز کیے اپنے گھنٹنے جھاڑتی پینٹ گھٹنے سے نیچے کر رہی تھی۔۔

    وہ چند لمحے دیکھتا رہا پھر ہونٹ بھینچ کر مڑا

    میں سنڈے کو بھی یہاں آتی ہوں پانچ بجے ۔۔

    اسکو ہوپ کی دھیمی سی آواز سنائی دی۔۔

    اس نے پلٹ کر دیکھا تو اپنے کپڑے جھاڑتی اپنی بنائی تصویر کو بے دردی سے پیر وں سے خراب کر رہی تھی۔۔

    اس نے بے ساختہ اسے روکنے کیلیئے منع کرنا چاہا

    مگر اسکے چہرے پر اتنا تنائو تھا کہ وہ بول نہ سکا۔۔

    اسے الجھن سے دیکھتا رہا یہاں تک کے وہ تصویر کے سب نشان مٹا کر ایک کونے میں رکھے بیگ اور جوتے اٹھاتی تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کولڈ ڈرنک لینا چاہ رہی تھی۔۔ اس نے بہت سے طلبا کو اس مشین میں سکے ڈال کر نکالتے دیکھا تھا۔۔ اسے کولڈ ڈرنک نکالنے کا کہہ کر سنتھیا خود تیز ی سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔ اریزہ اس کو لان میں جانے کا کہہ کر مشین کے ساتھ لگ گئ۔۔

    وہ پیسے ڈال چکی تھی مگر مشین ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔

    ہیونگ سک ڈرنک لینے آیا تھا اسکے پیچھے کھڑااسے تھوڑی دیر مشین میں الجھا دیکھتا رہا۔۔ پھر اسے دوسرے طریقے سے کین نکالنے کا طریقہ بتانے آگے بڑھا ہی تھا کہ جیسے وہ خود بھی سمجھ گئ کہ مشین لاتوں کی بھوت ہے۔۔ اس نے احتیاط سے دائیں بائیں دیکھا 

    پھر مشین کے نچلے حصے پر زور دار لات ماری کھٹ سے کین باہر نکل آیا۔۔ اس نے فاتحانہ انداز میں دیکھا پھر دوسرا کوائن ڈال کر ساتھ ہی لات جما دی۔۔ دوسرا کین بھی آرام سے باہر نکل آیا وہ کین اٹھا کر مڑی تو ہایون کو مسکراہٹ دباتے دیکھ کر کھسیا گئ۔۔

    وہ یہ اٹک رہا تھا۔۔ اس نے اردو میں ہی کہا تھا۔۔ ہیون کو کیا سمجھ آنی تھی آگے بڑھ کر اپنے لیے کین نکالا اسکی دفعہ بے حد آرام سے کین نکل آیا۔۔ وہ کین کھولتا مڑا تو اسے حیرت سے اپنی طرف دیکھتا پا کر ابرو کے اشارے سے پوچھا کیا ہوا۔؟

    اسے بس مجھ سے دشمنی تھی؟

    واٹ؟

    اسے سمجھ نہ آیا۔۔

    تو اسے خیال آیا۔۔  

    اسکا کیا ترجمہ ہو۔۔

    شی از جسٹ بیئنگ اینیمی ود می 

    ۔۔ اس نے بول تو دیا پھر خیال آیا انگریزی میں لفظی نہیں با محاورہ ترجمہ کرنا چاہیے تھا۔۔ وہ سوچ میں پڑی کیا کہنا چاہیئے۔۔

    ہیونگ سک اسکا ماضی الضمیر سمجھ گیا تھا۔۔

    مسکرا کر بولا۔۔

    اس سے روز ملا کرو تاکہ یہ عادی ہو جائے اور تم سے دوستی کر لے۔

    ہیونگ سک نے کہا تو وہ مسکرا کر رہ گئ۔۔ 

    ہاں تم روز مجھے ادھار دیا کروگے نا۔۔

    اس نے انگریزی میں جواب دینے کی کوشش نہ کی۔۔

    ہیونگ سک منتظر رہا کہ شائد وہ پہلے کی طرح ترجمہ کرے مگر اریزہ کا ارادہ نہیں تھا 

    آرام سے کین میں الجھی مڑ گئ اسکا رخ ڈیپارٹمنٹ سے باہر لان کی جانب تھا۔۔ اس نے کندھے اچکا کر تقلید کی۔۔ 

    ہوا کا رخ اس سے مخالف تھا وہ اس سے تھوڑا آگے چل رہی تھی 

      اسکا لانبا دوپٹہ اسکی پشت سے لہرا رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر سپر میں کا خیال آیا۔۔ وہ نارنجی سرخ رنگ کا پرنٹد سوٹ پہنے تھی جسکا دوپٹہ گہرے لال رنگ کا تھا۔۔

    لک سپر مین۔۔

    ان کے پاس سے گزرتی لڑکیوں نے تبصرہ داغا تھا

    ہایون کو بے ساختہ ہنسی آئی اریزہ نے اسکی ہنسی کی آواز پر مڑ کر دیکھا ان لڑکیوں نے تو ہنگل میں ہی کہا تھا اس نے سنا بھی نہیں مگر ہیونگ سک اس کے پیچھے پیچھے ہنستا آرہا تھا کیوں؟

    اس نے ناک چڑھا لی تھی۔۔ ہیونگ سک نے فورا اپنے تاثرات تبدیل کیے۔۔ 

    اریزہ نے فورا اپنے کپڑے ٹھیک کیے ۔۔

    ہوا بھی توتیز چل رہی تھی اسے شک گزرا۔۔

    تم کیوں ہنس رہے تھے۔۔؟

     اس کے کڑے تیور تھے۔۔

    آہنیو۔۔ وہ بولا پھر خیال آیا۔۔ نو اٹس نتھنگ آئ واز جسٹ تھنکنگ ابائو ٹ سم تھنگ دیٹس نتھنگ ٹو ڈو ود یو۔۔ 

    اریزہ ابھی بھی مشکوک انداز میں دیکھ رہی تھی 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا کیا ہے۔۔ ہمیشہ معمولی باتوں پر اتنا شدید ردعمل دیتی ہو۔۔

    یون بن اسکے پیچھے پیچھے آرہا تھا گوارا پیر پٹختی آگے آگے جا رہی تھی۔۔

    یہ معمولی بات ہے؟

     اس نے رک کر کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔

    تم کل رات مجھے بتائے بنا اپنی ایکس کے ساتھ کلب میں شراب پی رہے تھے اور جب وہ ہوش کھو بیٹھی تو اسے اسکے گھر بھی چھوڑ کر آئے۔۔

    بس وہ اتفاق سے بار میں مل گئ تھی وہ اپ سیٹ تھی۔۔ میں نے بس اسکو چل۔کیا ہم نے ڈرنک کی بس اس نے کچھ زیادہ پی لی تھی تو مجھے مناسب نہ لگا۔۔

    اس نے گوارا کا ہاتھ تھام لیا۔۔ خود بتائو اکیلی لڑکی کو جو مدہوش بھی تھی بار میں اکیلا چھوڑ جانا مناسب تھا؟

    اور کل تو میں نے تمہیں کہا تھا میں جا رہا ہوں تم بھی چلو۔ تم نے ہی منع کیا تھا۔۔

    اس نے یاددلایا تو گوارا نے ناراضگی سے ہاتھ چھڑایا

    میں نہیں آئی تو تم نے فورا میری متبادل ڈھونڈ لی۔۔ ؟

    میرا ارارہ نہین تھا مگر جب میں بعد میں جب وہان پہنچی تو تم اسکے ساتھ۔۔

    گوارا کو پھر وہ منظر یاد آیا جب وہ یون بن کے کندھے سے جھول رہی تھی 

    اس نے کچھ بھی مزید کہنا بے کار سمجھا۔۔

    اور جھٹکے سے مڑ کر تیز تیز جانے لگی۔۔ 

    یون بن نےبھاگ کر آگے آکر  اسے روکنا چاہا

    اس نے اسے ایک طرف کر دیا اس نے کندھے پر ہاتھ رکھا گوارا جھٹک کر آگے ہوئی آخری کوشش کے طور پر اس نے گوارا کا ہاتھ پکڑ کا کھینچا اعر گلے سے لگا لیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      ۔

    سچ مچ میں اپنے آپ میں مگن تھا۔۔ اریزہ اسکا راستہ روکے کھڑی تھی اسے صفائی دینی پڑی۔۔

    اریزہ نے یقین کیا یا نہیں ہاں راستہ چھوڑ کر کنارے ہو گئ۔۔

    ہایون  شکریہ کہتا بڑھنے کو تھا کہ اسے خیال آیا۔۔ وہ ابھی تک کین کھول نہ پائی تھی

    میں کھول دوں اسے؟تمہارے لیے۔۔  اس نے ہاتھ بڑھا کر پوچھا۔۔ اریزہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اسے پکڑا دیا۔۔ اس نے پہلی ہی کوشش میں کین کھول دیا۔۔

    یہ لو۔۔ اس نے کین پکڑانا چاہا مگر وہ متوجہ نہیں تھی غور سے اسکے پیچھے کسی منظر کو دیکھنے مین مگن تھی۔۔

    اس نے مڑ کر اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لوگ بنچ پر بیٹھے کولڈڈرنک اور رائس کیک اڑا رہے تھے جب سالک کی نظر سامنے پڑی۔۔ 

    وہ دیکھو۔۔ اس نے انگلی سے سامنے کی جانب اشارہ کیا

    اس نے کہا تو ایڈون اور شاہزیب بھی متوجہ ہوئے۔۔

    وہ۔لڑکا بار بار لڑکی کے سامنے آرہا تھا کبھی ہاتھ پکڑتا کبھی راستہ روکتا۔۔

    لڑکی غصے میں تھی بار بار ہاتھ چھڑا لیتی۔۔

    یہاں بھی ٹھرکی  پائے جاتے۔۔

    ایڈون نے تبصرہ کیا۔۔

    کیوں یہاں لڑکے لڑکے نہیں ہوتے۔۔  شاہ زیب نے اسکی احمقانہ بات پر گھورا۔۔

    یار ویسے ہے غلط بات لڑکی غصے میں ہے۔۔

    سالک نے کہا تو ایڈون نے کندھے اچکائے۔۔

    بوائے فرینڈ ہوگااسکا لڑ پڑے ہونگے۔۔

    مجھے نہیں لگ رہا۔۔لڑکی واقعی غصے میں ہے۔۔ سالک نے خیال ظاہر کیا

    شاہزیب اٹھ کھڑا ہوا۔

    دونوں نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔

    کدھر جا رہا ہے؟

    میں خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا یہ۔۔؟

    وہ آگے بڑھنے کو تھا۔۔

    اوئے رک۔۔ ایڈون اٹھ کھڑا ہوا۔۔

     ہیرو نہ بن ہم پاکستان میں نہیں ہیں

    یہاں یہ اتنی بڑی بات نہیں ۔۔۔  نہ ہی وہ کوئی پاکستانی لڑکی ہے جو تو جزباتی ہو رہا  

    ہان یار بیٹھ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔۔ 

    سالک نے بھی تائید کی۔۔

    پاکستانی نہیں تو کیا ہوا ہے تو لڑکی۔۔ اس نے کہا۔۔ اور دوبارہ انکی جانب نگاہ کی

    وہ لڑکا اسے زبردستی گلے لگا چکا تھا وہ لڑکی اسکی بانہوں میں پھڑ پھڑا رہی تھی اسے دور کرنا چاہ رہی تھی مگر لڑکے کی مضبوط گرفت اسکی کوشش ناکام کر رہی تھی۔۔ اب شاہزیب نہ رک سکا سچ تو یہ کہ ایڈون اور سالک نے اسکا بازو چھوڑ دیا تھا۔۔ وہ انکی جانب بھاگا تو ایڈون سالک ایک دوسرے کو ایسے دیکھنے لگے کہ اب کیا کریں پھر فیصلہ کر کے دونں اسکے پہچھے بھاگے۔۔

    شاہ زیب نے آئو دیکھا نہ تائو قریب جاکر زور دار مکا ناک پر جمایا۔۔ یون بن اسکے لیے تیار نہ تھا الٹ کر پیچھے ہوا۔۔

    کیا ہوا۔۔ اسکی ناک سے خون بہہ نکلا۔۔

    شاہزیب نے اس پر بس نہیں کیا اسکو گریبان سے پکڑ کر دو چار لگا دیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تمہارا دوست ہے نا جو پٹ رہا۔۔

    اس نے کین لیتے ہوئے ہیون سے تصدیق چاہی

    شاہزیب کی اسکی جانب پیٹھ تھی اسے  بس یون بن  کا چہرہ دکھائ دے رہا تھا ہیون نے اطمینان سے گھونٹ بھرا

    ہاں مگر پٹ کیوں رہا؟۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

    مھے بتائو تو سہی کیوں  مار رہے ہو ۔۔دو تین مکوں کے بعد بھی اس نے صرف اپنا بچائو کیا بازو آگے کر کے اسکے مکے روک کر پوچھا تھا۔۔ 

    لڑکی کو چھیڑتا ہے ؟ آج میں تجھے سبق سکھاتا ہوں۔۔ 

    اس نے کہا تو یون بن کو خاک پتھر سمجھ نہ آئی

    گوارا چیخ چیخ کر اپنی زبان میں کچھ کہہ رہی تھی۔۔ پھر اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو شاہ زیب کو زوردار لات مار دی۔۔ 

    کیوں مار رہے ہو۔۔ وہ غصے سے بولتی شاہ زیب کر پٹخ رہی تھی۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی۔۔ یون بن نے اسے غصے سے آگ بگولا ہوتے دیکھا تو اٹھنے کی کوشش کی۔۔

    ایڈون اور سالک بھاگ کر قریب آتے آتے رک گئے۔منظر بالکل خلاف توقع تھا وہ نازک سی لڑکی جو ابھی اپنے آپ کو چھڑا نہیں پا رہی تھی اب نہ جانے کراٹے تائیکوانڈو کو ن کون سی ٹرک آزما کرشاہزیب کو ہلنے کا موقع دیے بغیر پٹخ رہی تھی۔۔ شاہزیب کے ہاتھوں مجزوب یون بن  کچھ کہہ تو رہا تھا مگر خود ابھی اٹھنے کے قابل نہ ہوا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے کیا پتہ۔۔ اریزہ نے لاپروائی سے کہا۔۔

    تم بچائو گے نہیں تمہارا دوست پٹ رہا ہے؟

    اس نے گھونٹ بھرتے ہوئے حیرت سے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔

    نہیں ۔۔ ہیونگ سک کا اطمینان دیکھنے کے قابل تھا۔۔

    کیونکہ اب تمہارا دوست پٹ رہا ہے۔۔ 

    اس نے مسکرا کر بتایا۔۔ اریزہ نے الجھن سے اسکی نظروں کے تعقب میں دیکھا تو منظر یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔۔ شاہزیب زمین پر گرا پڑا تھا اور گوارا اسکی ٹھکائی کر رہی تھی۔۔

    اریزہ نے ایک نظر ہیونگ سک کو دیکھا وہ مزے سے کولڈ ڈرنک کے گھونٹ بھر رہا تھا۔۔

    روکو اسے۔۔ اریزہ اردو میں ہی کہہ کر بھاگ پڑی

    کیا؟

    ہیونگ سک کو کچھ سمجھ نہ آیا مگر اریزہ کی رفتار خاصی تھی ہیونگ سک نے سوچا ہھر خود بھی دوڑ لگا دی

    روکو اسے

     یون بن کے پیٹ میں بل پڑ رہے تھے ایڈون اور سالک خاموشی سے شاہزیب کی درگت بنتے دیکھ رہے تھے۔۔

    روکو اسے وہ اٹھتے ہوئے بولا۔۔ پھر بیٹھ گیا وہ گوارا کو اپنی زبان میں رکنے کو کہہ رہا تھا…

     وہ دونوں اس مشکل میں لڑکی کو کیسے روکیں 

    اریزہ بھاگتی آئی اور گوارا کو پیچھے سے پکڑ لیا

    اسٹاپ اٹ۔

    ہیونگ سک بھی پیچھے پیچھے بھاگتا آیا 

    گوارا نے جھٹکے سے خود کو چھڑایا اریزہ دھپ سے کمر کے بل گری اس بار ہیونگ سک نے گوارا کو جکڑ لیا۔۔

    ایڈون نے ہمت پکڑی اور آگے بڑھ کر شاہزیب کو اٹھانے لگا۔۔

    اریزہ بھی ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد 

    جاری ہے

    Rating
  • Salam Korea Episode 3

    Salam Korea
    By Vaiza Zaidi

    قسط 3

    گوارا ۔۔۔یون بن بے حد پریشان ہو چکا تھا اس نے ماسک اتار کر پھینکا اور گوارا کو جھنجھوڑ ڈالا
    کیوں چلا رہے ہو۔۔۔ یون بن کے بری طرح جھنجھوڑ دینے پر وہ ایکدم پوری آنکھیں کھول کر بولی تھی۔۔۔
    ٹچ ٹچ سارا کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔ گوارا کو بےوقوف بنانے کا پلان بنانے والا خود اسکے ہاتھوں بے وقوف بن چکا تھا۔۔۔ گوارا ہنستے ہنستے اٹھ بیٹھی یون بن حیران پریشان بیڈ کے کنارے ٹک گیا۔۔ اسکے چہرے پر سچ مچ ہوائیاں اڑ رہی تھی
    تم مجھے ڈرانے آئے تھے ہا ہا۔۔ وہ ہنسے جا رہی تھی۔۔۔
    جی ہائے نے آگے بڑھ کر دو تین لگا دیں اسے۔
    جان نکال دی تھی تم نے ہماری۔ جی ہائے کے کہنے پر گوارا اس سے لپٹ گئ۔
    اف دو رہٹو سارا کیچ اپ کپڑوں پر لگ گیا۔ اس نے جوابا فورا اسے دھکیلا تھا۔ گردن پر تکیئے پر اس نے پورا کیچ اپ الٹ رکھا تھا۔ اندھیرے میں تو خون ہی لگ رہا تھا۔ جی ہائے اپنے کپڑے جھاڑنے لگئ۔
    جی ہائے کی بچئ تم سے یہ امید نہ تھی۔ اس کہہ سکی کی باتوں میں آکر تم مجھ سے غداری کر گئیں۔۔
    اب منہ پھلانے کی باری گوارا کی تھی
    پر تم نے نوٹ کیا یون بن کتنا اتائولا ہوگیا تھا تمہیں مرا ہوا سمجھ کر تڑپ تڑپ کر پکارتا۔کم سن نے چھیڑا
    اف کیا منظر تھا ۔۔۔ کچھ بولتے نہ بنے بس گوارا گوارامنہ سے نکل رہا تھا۔
    گوارا گوارا۔۔۔
    سوچین نے بڑی اچھی نقل اتاری تھی ئون بن کی۔ ۔
    مورگن اور سوچین یون بن کا ریکارڈ لگانے لگے۔
    یون بن نے سر جھٹکا۔
    وہ تو اف مجھے لگا تم مجھے دیکھ کر کہیں مر ہی نہ گئ ہو۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی جون میں واپس آرہا تھا۔۔۔
    اور اگر واقعی تمہارے اس بری طرح چونکا دینے پر گوارا کو کچھ ہو جاتا تو۔۔
    کم سن نے کہا تو یون بن ڈھٹائی سے بولا۔۔۔
    میں نئی گرل فرینڈ بنا لیتا۔۔۔
    کیا۔۔۔ گوارا اسے مارنے لپکی وہ بروقت جھکائی دے گیا۔۔۔
    مجھے یہ بتائو غداری کس نے کی ہے۔۔۔؟
    مورگن کے کہنے پر سب سیدھا ہایون کی طرف مڑے اور پل پڑے۔۔۔ بے چارہ پٹے جا رہا تھا کہے جا رہا تھا میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔کم سن لبوں پر مسکراہٹ سجائے منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔ گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہایون کو بچانے لگی
    اسے چھوڑو بتائو یہ پھلتروں وغیرہ بجانے ہیں کہ نہیں۔۔۔ اسکے یاد کرانے پر سب ہایون کو چھوڑ جلدی جلدی سب چیزیں سیٹ کرنے لگے پٹاخے کی آواز کے ساتھ اسکے اوپر رنگیں پنیاں برسنے لگیں کم سن کے ہاتھ میں سنو سپرے تھا۔۔۔ ڈھیر ساری مبارک بادوں اور سالگرہ کے روایتی گانے کے ساتھ گوارا نے کیک کاٹا سب سے پہلے جون تائی کو کھلایا۔۔۔گوارا کی سالگرہ یادگار رہی تھی

    ۔۔سینگی چوکھدا ہمبندا ۔۔ وہ سب کورس میں گا رہے تھے۔
    ۔تم پیدا کیوں ہوئیں۔۔ یون بن نے چھیڑا جوابا اس نے ہاتھ میں پکڑا پورا کیک اسکے منہ پر مل دیا
    ہایون پٹ کر بھی بد مزہ نہیں ہوا تھا اس وقت سب سے اونچی آواز اسکی ہی تھی۔۔
    اور گوارا کے سوا بس وہی جانتا تھا کہ اصل غداری کی کس نے ہے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح دفتر جا کر پہلی فرصت میں انہوں نے سجاد کو کال ملائی تھی۔۔۔
    دس بج رہے تھے وہ ابھی تک سویا پڑا تھا۔۔۔
    ہیلو۔۔۔ اس نے غنودگی میں شائد فون اٹھایا تھا۔۔۔
    ہیلو سجاد بیٹا کیسے ہو۔۔۔
    جی ٹھیک ہوں ۔۔۔ وہ شائد نیند خراب ہونے پر بد مزا ہوا تھا
    معاف کرنا بیٹے شائد میں نے تمہاری نیند خراب کر دی مجھے لگا تھا دس بج رہے تو تم اٹھ چکے ہوگے۔۔۔
    بس اٹھنے ہی والا تھا۔۔۔ وہ کھسیایا
    آپ کہییے۔صبح صبح خیریت۔۔۔
    ہاں خیریت ہی ہے وہ تم لوگوں کیلیئے آج شام میں دعوت کا اہتمام کیا ہے ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اور صارم بیٹھے ویڈیو گیم کھیل رہے کھیل کم لڑ زیادہ رہے تھے۔۔۔
    تم ٹرک نہیں سیکھتی ہو سب بٹن ساتھ دبا تی رہتی ہو کوئی تو کام کرےگا ہی۔۔۔
    اس نے بے حد چڑ کر کہا تھا
    اریزہ نے ڈھٹائی سے مان لیا۔۔۔
    ہاں مگر دیکھ لو میرا طریقہ کامیاب ہے۔۔۔ تم سوچتے رہتے ہار جاتے۔۔۔۔
    دونوں ایکس باکس کو شائد آج خراب کرکے ہی اٹھنے والے تھے۔۔۔
    اریزہ سب بٹن اکٹھے دبا رہی تھی تو دلاور جھنجھلا کر بار بار کنٹرول پٹخ دیتا تھا۔۔۔
    صفیہ اندر کچن میں کھانا بنوا رہی تھیں۔۔۔ ملازمہ پورا گھر جھاڑتی پھر رہی تھی۔۔۔
    اب تو اٹھ جائیں آپ لوگ پورا گھر صاف ہوگیا لائونج رہ گیا بس چوتھی بار آرہی ہوں
    ۔۔۔
    ہمارا گیم پھنسا ہوا ہے تمہیں صفائی کی پڑی ہوئی۔۔۔ اریزہ کی نظریں ایل ای ڈی پر تھیں
    یہاں کی صفائی رہنے دو ویسے بھی گندا نہیں ہے لائونج۔۔۔
    دلاور کے کہنے پر کلثوم نے آنکھیں پھاڑ کر صاف لاوئونج کو دیکھا۔۔۔
    دونوں نے ناشتہ یہیں بیٹھ کر کیا تھا سو برتن یہیں سجے تھے ۔۔۔ خالی کپوں پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں سارے صوفے کے کشن ان دونوں کے گرد جمع تھے پہلو بدلنے پر کشن بغل میں داب لیا جاتا تھا فلور کشن پر بیٹھے تھے اور ایک ایک فلور کشن سینٹرل ٹیبل کو سیدھا کر کے اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے کے لیئے کھڑا ہوا تھا۔۔۔ناشتہ کیے دو گھنٹے ہو چکے تھے تو اریزہ کرکرے کے پیکٹ اٹھا لائی تھی دلاور بھی ڈائٹنگ پر یقیں نہیں رکھتا تھا سو کولڈ ڈرنک کے کین اسکی طرف سے تھے اب خالی پیکٹ ہوا سے اڑ رہا تھا کچھ کرکرے کارپٹ پر بھی گرے پڑے تھے۔۔۔
    آپ لوگ برتن تو کچن میں پہنچا دیتے ۔۔ وہ دیکھ کر روہانسی ہو چلی تھی
    ابھی اتنا ڈھیر دھو کر آرہی ہوں۔۔
    مت فکر کرو میں دھو دونگی۔۔۔ اریزہ نے گیم کے بیچ میں تسلی دی۔۔۔
    کلثوم کو رتی بھر یقیں نہ آیا۔۔۔
    اتنی آپ اچھی ۔۔۔
    اریزہ نے گیم روک کر اسے گھورا
    کیا کہا۔۔۔
    میں کہہ رہی آپ بس یہاں سے اٹھ جائیں یہی بہت کر لوں گی میں سب خود۔۔۔
    اس نے فورا جملہ بدلا۔۔۔ اریزہ اسکو دیکھتے دیکھتے سنٹ ہوئی پھر کھڑی ہو گئی صارم بھی گیم چھوڑ چھاڑ اٹھ کھڑا ہوا۔
    کلثوم حیران اپنے بال وال ٹھیک کرنے لگی
    کیا ہوا۔۔۔ انکا انداز عجیب تھا۔۔۔ پھر احساس ہوا کہ دونوں کا مرکز نگاہ اسکے پیچھے کوئی ہے۔۔۔
    پلٹ کر دیکھا تو خود بھی سنٹ ہو گئ تھی۔۔۔
    مرتضی ضبط سے سرخ چہرہ لیے سجاد کے ساتھ کھڑے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج ہاں آنٹی نے بتادیا تھا۔۔۔ سجاد بور ہوا
    اچھا چلو کوئی بات نہیں

    دوبارہ یاد دہانی ہوگئ ۔اچھا بیٹا مجھے تم سے اہم بات کرنی ہے تم ابھی کر سکتے ہو۔۔ وہ ہچکچائے
    جی کہییے۔۔۔ سجاد جاگ تو گیا تھا سو سہولت سے بیڈ سایڈ ٹیبل پر ڈھکا گلاس اٹھا کر پانی پینے لگا۔۔۔
    ایسا ہے کہ اریزہ کو اسکالر شپ ملی ہے کوریا جانے کی۔۔۔ ماشآللہ سے زہین تو بہت ہے میری بیٹی ۔۔۔ان کے لہجے میں فخر تھا۔۔۔ مجھے تو اسے بھیجنے میں کوئی اعتراض نہیں مگر سوچا کہیں تمہیں نہ ہو۔۔ ویسے بھی ابھی نکاح کے بعد کاغزات بنوانے میں تھوڑا وقت تو لگے گا اچھا ہےتب تک پڑھائی مکمل کرلے۔۔۔
    کوریا جا کر؟ وہ ہنسا۔۔۔۔۔
    بیٹا یونہی وقت ضا ئع کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ پھر یہ تو اسے ایک اچھا موقع ملا ہے جب تک تم نہیں بلاتے آرام سے پڑھ بھی لے گی۔۔۔
    سجاد نے ایک پل کو سوچا پھر ہامی بھر لی
    میری بات ہوئی ہے اس سے مجھے کوئی اعترض نہیں بھیج دیں اسے کوریا۔۔۔
    بہت شکریہ بیٹا مجھے تم سے یہی امید تھی تم سمجھدار ہو پڑھے لکھے تمہیں کیا اعتراض ہوگا۔۔۔
    وہ یکدم خوش ہوگئے تھے۔۔ تبھی انکے دیرینہ دوست کمرے میں داخل ہوئے۔۔ عادل صاحب کو دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑے ہوئے تھے
    ٹھیک ہے بیٹا پھر شام کو ملتے ہیں۔۔۔ فون کان سے لگائے لگائے انہوں نے مصافحہ کیا۔۔۔
    ٹھیک ہے انکل پھر شام کو ملاقات ہوتی ہے۔۔۔ اس نے بھی رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد فون رکھ دیا تھا۔۔۔۔
    انکے دل کو یک گونہ اطمینان ہوا تھا۔ اریزہ میں حقیقتا انکی جان بند تھئ۔
    انکے دوست نے بھی انکی بے ساختہ خوشی محسوس کر لی تھی۔ مصافحہ کرکے وہ گرم جوشی سے بولے
    کس سے بات ہو رہی تھئ ۔۔
    داماد سے اپنے۔۔۔ وہ مسکرا دیئے۔
    تم سنائو کہاں تھے۔میں کارڈ لیکر خود گیا اریزہ کے نکاح کا تم پاکستان میں بھی نہیں تھے۔
    انہوں نے خفگی جتائی۔ جوابا عادل معزرت خواہانہ انداز مین بولے۔
    یار بیٹی کے پاس کینڈا گیا تھا۔۔ کچھ قانونی معاملات حل کرنے تھے۔ بہت خوشی ہوئی سن کے ماشا اللہ اریزہ کے فرض سے سبکدوش ہو گئے تم۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں اریزہ کو بتا چکا ہوں سب مجھے حیرت ہے آپ اب تک انجان تھے۔۔۔
    میں نے امی کو صاف کہا تھا میں اپنی پہلی شادی چھپانا نہیں چاہتا اور چاہوں بھی تو چھپا نہیں سکتا میرا وہاں ایک مقام ہے میری بیوی کی حیثیت سے اسے میرا حلقہ احباب جانتا ہے اگر آپ نے بھی پتہ کروایا ہوتا تو آپ بے خبر نہ رہتے۔۔۔
    سجاد نے عادت کے مطابق صاف بات کی۔۔۔
    یہ انکی بالکل سب سے بڑی غلطی تھی۔۔خاندان دیکھا بھالا ہے رشتے داری ہو وہ کہیں نہ کہیں اندھا بھروسہ کر بیٹھے۔۔۔
    میں جانتا ہوں پاکستان کے لوگ باہر سیٹل ہونے کیلئے کتنے اتائولے رہتے ہیں ۔ امی نے میری شادی کے حوالے سے بتا دیا مگر آنٹی کو معمولی اعتراض بھی نہ ہوا۔۔۔تو مجھے تو یہی لگا۔۔ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔
    مرتضی ضبط کرنے کی کوشش میں بے حال ہو رہے تھے۔جبین سانس تک روک کر بیٹھی تھیں۔ اریزہ بالکل خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی صارم الگ حیران پریشان باری باری سب کا چہرہ دیکھتا معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
    بہر حال۔۔۔ انہوں نے ہنکا رہ بھرا۔۔۔
    میں نے فیصلہ کیا ہے اس معاملے کو یہیں ختم کر دیا جائے۔ میں پیپرز تیار کرواتا ہوں تم واپس جانے سے قبل یہ کام کر کے جائو۔ چونکہ غلطی ہم سے بھی ہوئی ہے۔سو میں یہ چاہتا ہوں کہ نہ تمہارے گھر سے نہ میرے گھر سے کسی قسم کی کوئی پیشرفت نہ ہو اور بنا ضد بحث خوش اسلوبی سے معملات نپٹا لیے جائیں۔ مرتضی کا انداز دو ٹوک تھا
    سجاد نے گہری سانس لے کر کندھے اچکا دیے۔
    جبین چیخ پڑیں۔
    یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ طلاق دلوائیں گے بیٹی کو ابھی نکاح کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں ۔۔ دنیا والے کیا کیا باتیں نہیں بنائیں گے۔
    دنیا کے ڈر سے بیٹی کو درگور کر دوں۔ وہ چیخ پڑے۔
    کہہ تو رہا ہے سنڈی کو طلاق دے دے گا۔۔۔ وہ منمنائیں
    سال دو سال تک۔۔۔ اور اتنے عرصے میں اسکا ارادہ نہ بدلا تو۔۔۔ بیوی بچے کو چھوڑنا آسان ہے؟ اور چھوڑ بھی دے تو میں کسی اور کا گھر برباد کرکے اپنی بیٹی کا گھر بسا لوں۔؟
    مرتضی کی آواز غیض سے کانپ اٹھی تھی۔ زندگی میں شائد پہلی بار وہ ان پر یوں چلا اٹھے تھے۔وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے انکی شریک حیات ان سے اتنی بڑی بات چھپا لے گی۔۔
    پاپا میں انتظار کر لوں گی۔۔
    ماں باپ کو دووبدو دیکھ کر اس سے رہا نہ گیا سو بول پڑی
    آپ اس سے تو پوچھ لیں یہ کیا چاہتی۔۔۔
    جبین یکدم مطمئن ہوئیں
    تم نے پوچھا تھا اس سے۔۔۔ مرتضی کا سوال کڑا تھا
    اور یہ چاہے نہ چاہے مگر میں اس کو کنوئیں میں کودنے نہیں دوں گا۔۔۔
    یہ طلاق ہو کر رہے گی۔۔۔
    پاکستانی پتہ نہیں کب سمجھیں گے ۔۔ جس کی زندگی کا فیصلہ آپ نے کیا۔۔۔ سجاد نے کھڑے ہوتے ہوئے جبین اور مرتضی پر باری باری نگاہ کی۔۔۔ اور آپ کر رہے ہیں اس کو بھی حق ہے اپنی کم ازکم رائے دینے کا۔۔۔
    اریزہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔
    آپ لوگ بحث کر لیں مجھے کال کر دیجئے گا جو فیصلہ کریں۔۔۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں۔۔۔
    اریزہ۔۔۔ مرتضی اس کے سامنے آکھڑے ہوئے۔۔
    تم اپنی تیاری کر لو کوریا جانے کی۔ یہ معاملہ اب ختم ہی سمجھو۔
    کیا ہو گیا ہے ہوش کیجئے شادی کوئی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں ہے۔۔۔جبین بوکھلا رہی تھیں
    تمہیں سمجھنی چاہیئے تھی یہ بات۔۔۔ مرتضی پحلق کے بل چلائے۔
    اور تم اریزہ میں سوچ نہیں سکتا تھا تم مجھ سے اتنی بڑی بات چھپا سکتی ہو ۔ ماں نے جو بھی کیا ہو تمہارے ساتھ باپ پر بھئ رتی بھر بھروسہ نہیں کیا تم نے؟
    اریزہ نے سر جھکا لیا آنکھ سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے
    مگر۔۔۔۔ مرتضی۔۔۔۔۔جبین نے پھر کچھ کہنا چاہا۔۔
    بس جبین تم نے اپنا اعتبار کھو دیا ہے۔۔۔ وہ ضبط کی انتہا پر تھے
    اب اس معاملے پر ایک لفظ تمہارے منہ سے نہ نکلے
    ۔ تم نے اپنی ممتا کا حق وصول کر لیا۔۔ اب میری ایک باپ کا فرض ادا کرنے کی باری ہے۔۔۔
    اریزہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے تم کوریا جا رہی ہو۔۔
    انکی بات پر اریزہ اور صارم کا واضح منہ کھلا رہ گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکا سارا دن مسجد میں نفل پڑھتے گزرا تھا۔
    نہ بھوک لگ رہی تھی نہ پیاس کا احساس۔۔۔
    فرض نماز کی جماعت لگتی تو فرض کی نیت باندھ لیتا۔ جب نماز پڑھتے تھکتا تو تسبیح شروع کر دیتا۔
    وہ فجر کی نماز پڑھا کر گھر گئے اپنے معمول کے کام نپٹائے یونیورسٹی پڑھا کر عصر کے وقت آئے ظہر کی نماز کسی اور نے پڑھوا دی۔ وہاں انکی ڈیوٹی نہیں لگی جو نماز کیلیے موجود ہوتا ازان دے لیتا امامت کرا دیتا اس کیلیے بھی پہل کرنے کی بجائے انتظار کرتے جو ان میں سب سے با رعب شخص ہو وہ ہی امامت کرائے۔۔۔ اج جیسے وہ دیر سے آئے تو عصر کی انہوں نے امامت کرادی۔
    پھر کچھ نو مسلم بچوں کو قرآن پڑھوانے لگے۔ کوریائ لب و لہجے سے عربی پڑھنا ہرگز آسان نہ تھا مگر ان بچوں کا شوق قبل دید تھا تھوڑا پڑھتے مگر پوری کوشش کرکے صحیح پڑھتے ۔ وہ رشک سے دیکھتے اجرکم علی اللہ زیر لب کہتے اور خدا سے اپنی اس کوشش پر فخر نہ کرتے بلکہ خدا سے معافی مانگتے رہتے ان بچوں کو سکھاتے مجھ سے کوئی کوتاہی سرزد ہو تو مجھے معاف کر دے مجھے ہدایت دے۔مغرب ہونے کو تھی جون جے کا سجدہ طویل ہو رہا تھا۔ وہ اسکو پریشانی سے دیکھ رہے تھے مغرب کی نماز کے بعدجب سب نمازی رخصت ہو گئے وہ کچھ سوچ کر اسکے پاس آگئے۔ وہ درود کی تسبیح پڑھ رہا تھا۔وہ وہیں بیٹھ کر اسکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔
    وہ تسبیح ختم کرکے متوجہ ہوا۔۔ انہوں نے اسے اشارے سے نماز مکمل کرکے اٹھنے کو کہا۔۔
    جون جے نے الجھن سے دیکھا
    ابھی عشاء باقی ہے۔۔۔
    مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے میں باہر انتظار کر رہا ہوں۔۔۔
    وہ کہہ کو اسکو جواب میں کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر باہر آگئے۔۔۔
    چند منٹوں بعد جون جے بھی باہر آگیا۔۔ انہوں نے غور سے اسے دیکھا تھا اسکا وزن کچھ دنوں میں تیزی سے گرا تھا۔ اسکی سرخی مائل سفید رنگت میں زردی گھل رہی تھی۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا مسجد کے باہر سیڑھی پر انکے ساتھ ہی آبیٹھا۔
    تم یہاں آبیٹھے ہو تمہارے کپڑے گندے ہو جائیں گے اب تم نماز پڑھنا چاہو تو کپڑے بدل لینا۔۔
    ہادی صاحب سرسری انداز میں کہہ رہے تھے علی نے چونک کر شکل دیکھی مگر وہ سنجیدہ تھے
    آپ بھی تو یہاں بیٹھے ہیں آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟اس نے پوچھا تھا وہ نو مسلم تھا ان سے ہر بات سیکھ رہا تھا
    ہاں آج میں عشاء کی نماز گھر جا کر نہا کر کپڑے بدل کر پڑھوں گا۔۔۔
    بے وجہ باجماعت نماز چھوڑنا درست ہوگا۔۔
    میں نماز تو نہیں چھوڑ رہا اپنی سہولت کیلیے جماعت چھوڑ رہا۔۔۔
    علی نے ہنکارہ بھرا۔۔ ویسے یہ سیڑھیاں روز صاف کی جاتی ہیں سارادن ان پر دھوپ پڑی ہے تو پاک نہیں ہو گئیں؟
    عبدالہادی مسکرائے
    صحیح ۔۔۔ دھوپ بھی پاک کر دیتی ہے۔ ہوا پانی سب ان سب کو استعمال میں لایا جا سکتا۔۔
    آپ میرا امتحان لے رہے تھے علی مسکرایا۔۔
    میری مجال۔۔ میں بس جاننا چاہ رہا تھا کہ تمہیں میری بتائی ہر بات یاد ہے کہ نہیں۔
    مجھے سب یاد ہے۔۔۔ اس نے سب پر زور دے کر کہا۔۔وہ ایکدم تیز ہو کر بولے
    پھر یہ کیسے بھول گئے کہ اسلام میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا رسول اکرم ص تہجد گزار بھی تھے مگر تہجد بھی چھوڑ دیتے تھے جو چیز فرض نہیں اسکو کرنا اچھا سہی مگر اسے چھوڑنا برا بھی نہیں۔۔۔تم فرض ادا کر رہے ہو مگر نفل در نفل صبح سے سے ادا کیے جا رہے ہو مجھے لگا تھا تم دوپہر میں کہیں باہر گئے ہوگے مگر ملازم بتا رہا تھا تم صبح سے کھائے پئے بنا بس عبادت میں مصروف ہو کیوں؟ میں نے کب رہبانیت کا درس دیا۔۔۔ ہم کھاتے پیتے ہیں کماتے ہیں اور پھر خدا کا شکر ادا کرتے دنیا چھوڑ کر بس عبادت کا درس تو رسول ص نے نہیں دیا۔۔۔ تم نے اسلام کو اتنا مشکل مزہب کیسے سمجھ لیا یہ دین تو آسانیان پیدا کرنے کیلیے ہے۔۔
    میں اسلیے نماز نہیں پڑھ رہا تھا کہ بس میں عبادت کرتا رہوں میں نفل بھی نہیں پڑھ رہا تھا۔۔۔ علی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔ میں آپ جیسا اچھا تلفظ نہیں رکھتا مجھے سب یاد بھی نہیں رہتا میں نے بس یہ چاہا میں آج ایک نماز کم ازکم ایسی پڑھ لوں جو اللہ کا حق ادا کر سکے مگر کبھی مجھے لگتا میں تیزی سے نماز پڑھ گیا کبھی کوئی سجدہ بھول جاتا۔۔۔ مجھے جب لگتا نماز میں کو ئی کمی رہ گئی تو دوبارہ پڑھ لیتا۔۔۔ مگر میں آج ہار گیا مجھے بارہا بیت الخلا جانا پڑا مجھے وضو کئی بار کرنا پڑا مگر میں پھر بھی آج ایسی کوئی نماز ادا نہیں کر سکا جو قبول ہو سکتی ہو۔۔۔ وہ سر جھکا گیا شرمندگی سے
    عبدالہادی اسے حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ انہیں اس میں آج کوئی الگ ہی انسان نظرآرہا تھا معصوم فرشتوں سا چھوٹا سا کوئی بچہ جیسے۔۔۔
    تم نے خود کو ناحق مشکل میں ڈالا۔۔۔ وہ کچھ توقف سے بولے۔۔۔
    عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہوتاہے تم جب وضو کیلیئے کھڑے ہوئے تمہاری نماز کی پہلی نیکی لکھ دی گئ۔۔۔ تم نے پہلا سجدہ کیا تمہاری نماز میں حاضری لگ گئی۔۔ تم نماز میں بھولے۔۔کیونکہ شیطان کو تمہاری نماز سے خوف محسوس ہوا۔۔۔ تم نے دوبارہ نماز پڑھی۔۔۔
    شیطان تلملایا۔۔۔ اس نے تمھارے دل میں وسوسہ ڈالاکہ خدا تمہاری نماز قبول نہ کرے گا۔۔۔ تم بار بار نماز پڑھتے رہے شیطان نے تمہیں تھکا ڈالا۔۔۔ کیا تمہیں سجدہ سہو کے بارے میں نہیں بتایا میں نے؟
    غلطی پتہ لگی سجدہ سہو۔۔۔ شک گزرا درگزر کرو۔خدا معاف کرنے والا ہے۔۔ تمہارا کام عبادت کرنا ہے تمہاری عبادت قبول کرنا خدا کا کام ہے جو بے نیاز جو رحمان اور رحیم ہے۔۔ جو ضروری حاجات کو بر لانے کا حکم دیتا پھر سجدہ قبول کرتا۔
    تم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے زیادہ اچھی نماز پڑھ سکتے ہو جو دوران نماز سائل کا سوال سن لیتے ۔۔ سائل نے انکی انگلی سے انگوٹھئ اتارئ تھی۔۔ تم رسول خدا کے اس قول کو نہیں سمجھے میری ماں اگر مجھے نماز میں آواز دیتی تو میں اسکی پکار پر پہلے جواب دیتا۔۔۔ نماز فرض ہے مگر باقی دینوی احکامات بھی فرض ہیں ۔۔۔ ان سے رو گردانی جائز نہیں۔۔۔
    کیا مین نے غلط کیا؟
    علی نے پوچھا تھا
    آئندہ ایسا مت کرنا ۔ نماز پڑھو مگر دنیا سے کٹ کر نہیں۔ اگر خدا کو صرف عبادت درکار ہوتی تو اکیلے نماز پڑھنے کا حکم دیتا مگر وہ مسلم امہ کو ساتھ رہنے ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کا حکم دیتا ہے۔۔۔
    ایک ایسی نماز جو تمہیں خود پر فخر دلا دے کہ تم نے عبادت کا حق ادا کر دیا سوائے شیطان کے کسی نے ادا نہیں کی۔۔۔۔۔ اور جس نےایسا سوچ کے کیا اس نے شیطان کی پیروی کی۔
    ایسا دعوی تو کبھی کسی نبئ نے بھی نہ کیا جو پیدا ہی معصوم ہوئے تھے۔
    انکا حرف حرف اسکے دل پر اثر کر رہا تھا۔
    تم نے دنیا کیلیے دین چھوڑا تھا اب دین کیلئے دنیا چھوڑ تے جا رہے ہو۔۔۔ غلط تم تب بھی تھے صحیح اب بھی نہیں ہو۔۔۔
    عبدالہادی کا نرم انداز۔ وہ خاموشی سے سر جھکاتا گیا۔ جوابا انہوں نے اگلی نصیحت بھی کردی۔۔
    اور اپنی ماں سے ملو جا کر خفا ہیں منائو۔۔ تمہارے مزہب بدل لینے نہ انکا حق تم پر کم ہوا ہے نہ درجہ۔۔

    علی ایکدم چپ ہو کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
    چلو ہم اکٹھے کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔
    انہوں نے ایکدم بات بدل دی۔۔۔ علی نے اثبات میں سر ہلا کر ساتھ چلنے کا عندیہ دےدیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو اریزہ۔۔۔ تمہارا باپ تمہاری محبت میں اندھا ہو کر فیصلہ کر رہا ہے تم ہی روک سکتی ہو اسے ابھی نکاح کو دن کتنے ہوئے طلاق کا داغ لگوا لو گی تم ؟ جانتی دنیا والے کیا کیا الزام نہ دیں گے ۔۔۔ امی اسکو سمجھانے آئی تھیں۔۔۔۔
    اسے اپنی ماں دنیا کی سب سے بے رحم ماں لگی تھئ۔۔
    تمہارا باپ ابھی میری بات نہیں سنے گا مگر تم اسے روک سکتی جائو کہو انہیں جا کر تم یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہو۔۔۔وہ بے تابی سے بنا رکے کہے جا رہی تھیں
    آپ اب بھی ۔۔۔ اریزہ تاسف سے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
    وہ اسکا بازو تھامے آنکھوں میں آنسو لیے منت کر رہی تھیں۔۔
    ایسی ہی روتی ہوئی وہ انکے پاس آئی تھئ۔
    امی پلیز منع کردیں مجھے سجاد بھائئ نہیں پسند۔
    پھر کیا کوئئ اور پسند ہے۔۔
    وہ ایکدم الرٹ سی ہوئیں۔۔
    نہیں مگر امی میں جیسا۔۔ وہ جھجک سی گئ۔
    وہ مزاج کے لحاظ۔ سے۔۔ انکی شخصیت۔ امی مجھے بس وہ اپنے سے بہت مختلف لگتے ہیں بڑے کتنے ہیں وہ امی میں۔۔
    وہ ماں کو دوست سمجھ کر دل کی بات کردینا چاہتی تھی۔
    تو ؟ کم عمر لڑکا ڈھونڈو جو تم جیسی بے ڈھنگی لڑکی کو سنبھال بھئ نہ سکے۔ اریزہ بچوں والی حرکتیں چھوڑدو بس۔ اب شادی ہونے لگی ہے تمہاری تم۔۔۔۔ آگے کی لمبی تقریر وہ ڈبڈبائئ آنکھوں سن کانوں سے بس شاکی ہی دیکھتی رہی۔۔
    اب وہی منظر تھا مگر آج ماں اسکے سامنے لجاجت سے کہہ رہی تھی۔۔۔ اس لمحے نے اس سے دوٹوک فیصلہ کروالیا۔۔
    اس نے گہری سانس لے کر سختی سے بازو چھڑایا۔۔
    میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی۔۔۔ وہ کہہ کر تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔
    اب بھی امی کو لگتا ہے وہ مجھے میری مرضی پس پشت ڈالنے پر مجبور کرلیں۔گی۔
    دروازہ زور سے بند کرتے وہ بڑ بڑائی تھئ۔ پھر دروازے سے ہی ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئ۔
    اریزہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے تم کوریا جا رہی ہو۔۔
    باپ کے الفاظ کان میں گونجے تو ایکدم ہی اسکے اندر جوش سا بھر آیا۔
    سنتھیا۔ وہ تیزی سے موبائل اٹھانے دوڑی۔۔ بیڈ پر سے موبائل اٹھا کر اس نے سنتھیا کو کال ملائی اسکے ہیلو بولنے پر بلا تمہید بولی۔
    سنتھیا میں بھی تمہارے ساتھ کوریا جا رہی ہوں۔
    ہیں کیا۔؟ وہ کمرشل میں شاپنگ کر رہی تھی۔ کوٹ اپنے ساتھ لگاتے سمجھی نہیں۔۔
    کوریا بابا مجھے کوریا بھیج رہے ہیں۔
    کیا ؟ واقعی۔۔ سنتھیا اتنی زور سے چیخی تھی کہ دکان میں لمحہ بھر کو سناٹا چھا گیا۔ بل بناتے دکاندار کے ہاتھ سے کیلکولیٹر گر گیا۔
    ہاں بابا مان گئے مجھے بھیج رہے ہیں کوریا
    وہ کھلکھلائی۔
    ایک منٹ۔
    سنتھیا نے کان سے فون ہٹا کر دکاندار کو کہا
    اسی کوٹ کا لارج سائز بھئ نکالیں۔ اور دونوں کی دینے والی قیمت بتائیں۔۔
    اف مجھے یقین نہیں آرہا میں۔ دوسرے ملک جا رہی ہوں۔۔۔
    اریزہ کان پر چلا رہی تھی۔
    مجھے بھی نہیں آرہا یقین۔ سنتھیا کا بس نہیں تھا کہ دکان میں اچھلنا شروع کردے۔
    یا ہو۔۔۔۔۔اریزہ اپنے کمرے میں تھی سو کسی کی پروا نہ تھی گھوم گھوم کر بتاتئ اچھلتی بیڈ پر دھم سے گری تھئ۔
    اف میں نے منت مانی تھئ کہ تمہیں کوریا جانے کی اجازت مل جائے تو وہاں چرچ میں جاکے نیاز دوں گئ اف۔ مجھے بہت خوشی ہورہی ہے۔
    سنتھیا کے لہجے میں محسوس کی جانے والی خوشی تھی۔ اریزہ مسکا دی
    اور میں شکرانے نفل ادا کروں گی
    تھینک یو اللہ میاں ڈھیر سارا لو یو۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سچ مجھے یقین نہیں آرہا واقعی تمہیں طلاق ہو رہی ہے۔۔۔ سنتھیا بے ساختہ اس سے لپٹ ہی تو گئی۔۔۔
    مچ مجھے طلاق ہو رہی ہے یا ہو۔۔۔ اریزہ نے اسے لپٹا کر گول گول گھما ڈالا۔۔
    ایڈون انکو خوشی سے اچھلتے دیکھ کر مصنوعی تاسف سے ٹچ ٹچ کرکے بولا۔۔۔
    یہ وقت بھی آنا تھا طلاق کی مبارک باد دی جا رہی ہے۔۔۔ قیامت آنے والی ہے لگتا ہے۔۔۔
    اریزہ نے گھومتے گھومتے گھورا مگر خوش تھی سو جانے دیا۔۔۔ اسے خوش ہونے کی دوسری وجہ یاد آئی۔۔۔
    ہم شمالی کوریا جا رہے ہیں ۔۔۔ یاہو۔ اریزہ سے چھٹ کر سنتھیا چکراتی چکراتی فٹ پاتھ پر ڈھیر ہوئ مگر اریزہ آج پوری مستی میں تھی۔۔۔
    خدا نہ کرے اچھا اچھا بولو۔۔۔ ہم جنوبی کوریا جا رہے ہیں۔۔۔
    ایڈون نے منہ بنا کر تصحیح کی۔۔۔
    ہاں ہاں وہی جنوبی کوریا شمالی کوریا میں تو جنگ ہو رہی نا۔۔۔ اسے یاد تھا
    جنگ نہیں ہورہی ڈکٹیٹر کی حکومت ہے بدترین وہ بھی۔۔۔
    سنتھیا نے معلومات میں اضافہ کیا۔۔۔
    وہ۔لوگ اپنے کیمپس کے احاطے میں بیٹھے تھے۔
    ویسے یار تمہارے بابا سجاد کی شادی کا سن کر غصے میں آئے طلاق کا مطالبہ بھی کر دیا مگر کوریا بھیجنے پر تیار کیسے ہوگئے۔۔۔۔۔۔

    سنتھیا کو۔بڑے دور کی سوجھی اریزہ اور ایڈون بھی سوچ میں پڑے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ٹوٹ سا گیا ہوں عادل۔۔۔
    مرتضی کرسی کی پشت پر سر ٹکا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے بولے تھے۔اپنے دفتر میں پہلی دفعہ اپنے خاندان کا کوئی کیس تیار کررہے تھے وہ بھی اپنی سگی بیٹی کی طلاق کا معاملہ۔
    اپنی بیٹی کی طلاق کے کاغزات بنوانا کسی باپ کےلیے آسان کہاں ہوتا۔۔۔ عادل نے تاسف سے کہا۔۔۔
    مجھے معاف کر دو اس دن اتفاقیہ ذکر نکل آیا میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ سجاد تمہارا داماد ہوگا۔ میں تو بس اپنی بیٹی کی جائداد کے کیس کے بارے میں۔۔۔۔
    اور اگر تمہیں پتہ ہوتا تو نہ بتاتے۔۔ طالب نے ترچھی نظر ڈالی۔۔ وہ سر جھکا کر رہ گئے۔۔۔
    ایک طرف میں شکر ادا کر رہا ہوں یہ معاملہ شادی سے قبل کھل گیا تو دوسری طرف خود کو کوس بھی رہا ہوں میں نے اپنے طور سے تحقیقات کیوں نہ کرائی کیا مجھے نہیں پتہ تھا تمہارا آدھا خاندان کینڈا میں ہے تم سے ذکر کرلیتا تو آج یوں میری بیٹی پر داغ تو نہ لگتا۔۔
    ایسے مت کہو اتنی پیاری بچی ہے سچ تو یہ ہے میں اپنے فرحان کیلیے سوچتا تھا تم نے اچانک اسکا نکاح کردیا ورنہ میں اور میری بیوی آنا چاہ رہے تھے
    بلکہ تو اس معاملے کو ختم کر ہم آئیں گے میں آج ہی اپنی بیوی سے بات کرتا ہوں۔۔۔
    وہ یکدم پر جوش ہوئے
    نہیں اب میں کوئی بھی فوری فیصلہ نہیں کروں گا
    مرتضی کا انداز قطعی تھا
    میں اریزہ کو اسکالر شپ پر کوریا بھیج رہا ہوں اسکی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے میں اسکی شادی کا سوچوں گا بھی نہیں۔۔۔وہ پڑھے گی اکیلی رہے مضبوط ہوگی میری بیٹی ہو کر وہ اتنی کمزور کیسے رہ گئی کہ انتہائی ناجائز بات مان کر زندگی برباد کرنے جا رہی تھی۔ کل کو میں اسکے سر پر نہ رہا اسکو تو دنیا سالم نگل جائے گی۔ اب بھی میں اگر ڈٹ نہ جاتا تو وہ شائد ماں کے دبائو میں آکر مان جاتی اس رشتے کو نبھانے میں۔۔۔ ۔۔۔
    وہ بے چینئ سے کنپٹی مسل رہے تھے۔
    عادل ایمان سے بتائو کیسے کیسے کیس نہیں دیکھے ہم نے فیملی کورٹ میں۔۔کیا کیا ظلم نہیں ہوتے بچیوں پر ان میں سے کچھ بھی کبھی سہنا پڑ جائے یا اپنے حق کیلیے لڑنا پڑ جائے تو اریزہ تو پہلے مرحلے پر ہار مان لے گی۔۔ وہ تو اتنی لاڈلی ہے کہ کبھی گاڑی خراب ہو تو یونیورسٹی نہیں جاتی پبلک ٹرانسپورٹ تک استعمال کرنا نہیں آتا اسے۔۔۔ میں اسکی زندگی کی کیا گارنٹی دے سکتا کہ اسکو کبھی کوئی مسلئہ کوئی پریشانی نہیں آئے گی۔۔۔
    تو بہت جزباتی ہو کر سوچ رہا۔ ٹھیک ہے برا ہوا مگر مزید برا بھی ہو سکتا خدا نے بچا لیا تجھے بھی اریزہ کو بھی۔۔۔
    عادل صاحب نے سمجھانا چاہا
    یہی تو۔۔۔ یہیں غلطی کرتے ہیں ہم۔۔۔ وہ تیز ہو کر میز پر ہاتھ مار کر بولے۔
    مزید برا نہیں ہو ا یہ سوچ کر تسلی دیتے خود کو ۔
    اپنی بیٹی کو نازوں سے پالنا کافی نہیں ہے یار ہمیں بیٹی کیلیے بھی اسی طرح سوچنا ہوگا جیسے بیٹے کیلیے سوچتے ہیں۔۔ مجھے ہی دیکھ لو
    میں چاہتا تھا میرا کوئی بچہ وکیل بنے یہ خواب میں نے اریزہ کیلیے نہیں دیکھا حماد نے ایل ایل بی شروع کیا میں مطمئن ہو گیا۔۔ اریزہ پڑھائی میں اچھی تھی تقریریں وغیرہ کرتی ہمیشہ انعام لے کر آتی مین بہت خوش ہوتا تھا بس۔۔۔ اسکے حوالے سے میں نے کبھی کوئی خواب دیکھا ہی نہیں۔۔۔ وہ کہتی سی ایس ایس کرنا میں نے صرف یہ سوچا ٹھیک ہے خرچہ اٹھا لوں گا۔ بس کبھی اسے کامیاب ہوتے دیکھنے کی خواہش ہی نہ کی۔ ۔۔ شادی کو ذمہ داری سمجھا بس ۔۔ نتیجہ دیکھ لو ۔۔۔
    اس نے خود بھی اپنے آپ کو سمیٹ لیا خواب پورے کرنے کیلیے کوشش چھوڑو خواب دیکھنا ہی چھوڑ دیے۔۔ اس نے پتہ ہے ایک نظم لکھی تھی اسکی یونیورسٹی کے میگزین میں چھپی ہے اسکے استاد نے مجھے میل کی اور کہا میں ایک بار اسے پڑھوں اور پھر فیصلہ کروں کہ اسے اسکالر شپ پر باہر بھیجنا ہے کہ نہیں۔۔۔ ۔۔ انکی آنکھون میں آنسو آگئے تھے انہوں نے لیپ ٹاپ کا رخ انکی جانب کردیا۔۔۔۔ عادل کچھ نہ سمجھتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آزاد نظم تھئ شائد کچھ کمیاں کجیاں بھی ہوں گی مگر انکو تو اس تتلی میں سمٹتی اریزہ دکھائی دے رہی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں تتلی ست رنگی۔۔
    ایک گلستان میرا گھر ۔ میں اڑتی تھی
    ہوا کے سنگ۔۔۔
    میری پرواز نیچی تھی۔۔۔ میرےخواب ستاروں کے تھے
    میں باد سموم کی عادی۔۔۔
    روز
    اونچی اڑان بھرتی
    پھر اک دن۔۔ ہوا تند ہوئی۔
    ۔ اپنی ہی دھن میں اڑتی تھی میں
    مجھے کیا خبر تھی کوئی طوفان آگھیرے گا۔۔۔
    کوئی باد مخالف میرے نازک پروں کا امتحان لیتی۔۔۔
    مجھے سنگ اڑا لے گئ۔۔ مجھے گلستاں سے باہر کسی بیاباں میں لا پھینکا
    میں زخم زخم اپنے پروں کو سمیٹے تپتی دھوپ میں پڑی سوچتی ہوں
    مجھے گلستان نے پھولوں پر بٹھایا مگر
    میں تو ایک تتلی ہوں
    کمزور جان
    نہ میرے پر مضبوط
    نہ مجھ میں موسم کے سرد وگرم جھیلنے کی طاقت
    مجھے بتایا تو ہوتا
    اگر طوفان کا اندیشہ ہو تو۔۔
    اڑان نہ بھرنا۔۔۔
    کہا تو ہوتا کہ باد مخالف
    گلستاں سے نکال سکتی ہے مجھے۔
    نہ مجھے یہ سکھایا
    بیاباں میں کیسے پر سمیٹنے ہونگے
    میں اپنے رنگ کھو کر جان پائی ہوں
    یہ دھوپ جو کبھی مہربان تھی مجھ پر
    گلستاں سے باہر مجھے جلا دےگی
    گکستاں کی سب غلطی ہے
    مجھے اتنا تو مضبوط بنایا ہوتا
    میں مقابلہ کرتی تند ہوا کا۔۔۔
    چبھتی دھوپ کا۔۔۔
    میرے پر نہ ٹوٹتے۔۔
    میں گلستاں میں واپس آ سکتی
    یا پھر
    مجھے پرواز ہی نہ دی ہوتی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے دروازے پر لگی بیل بجائی اور پیچھے ہو کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
    سی سی ٹی وی کیمرہ میں اسے اندر دیکھ لیا گیا تھا۔۔
    کھا جا۔۔۔۔۔ میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔
    بیل کے ساتھ اسپیکر پر اسے درشت انداز میں دفع ہو جانے کو کہا گیا تھا۔۔۔
    اس نے چند لمحے حسرت سے دیکھا تھا بیل کو۔۔۔
    پھر سی سی ٹی وی کیمرے میں لبوں پر دو انگلیاں رکھ کر خلا میں دکھائیں یہ ہوائی بوسہ تھا پھر اسپیکر کے قریب چہرہ لا کر بولا
    آہمو جی اپنا بہت خیال رکھیے گا میں ٹھیک ہوں اور آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔۔
    کہہ کر وہ آنکھیں صاف کرتا پلٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    #
    ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہایون شا۔۔۔
    انی دروازے پر دستک دے کر پکاری تھیں
    نونا۔۔ ۔۔
    وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا میگزین کی ورق گردانی کر رہا تھا جب اسے مبہم سی آواز سنائی دی۔۔۔
    کانوں میں لگے ہیڈ فون میں فل والیم میں شن ھی کا گانا چل رہا تھا اس نے ہیڈ فون اتارا۔۔۔ نونا۔۔ کی پھر آواز آئی
    نونا آئیں اندر آئیں۔۔۔ وہ سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
    کیسے ہو بھائی ۔۔ وہ شائد ابھی آفس سے آئیں تھیں بلیک فارمل سے لانگ اسکرٹ کوٹ میں ملبوس ہمیشہ سےزیادہ پروقار اور بارعب
    کندھے سے لٹکا سیاہ بیگ انہوں نے اتار کر بیڈ پر رکھا اور اسکے سامنے بیٹھ گیئں۔۔
    میں ٹھیک ہوں وائو نونا بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔
    انی کھلکھلا دیں
    گوما وویو۔۔۔ انہوں نے ایک ادا سے تعریف وصول کی پھر سنجیدہ ہو بیٹھیں۔۔
    تم مصروف تو نہیں ہو
    نہیں کہیئے کیا کام ہے۔۔۔وہ مئودب ہوا۔۔
    میں نے تمہارے لیے بلائنڈ ڈیٹ ارینج کی ہے بہت پیاری لڑکی ہے جا کر مل لو۔۔۔
    وہ مزے سے بولیں ہایون نے حیران ہو کر انکی شکل دیکھی تو کھلکھلا کر ہنس دیں
    مزاق کر رہی ہوں۔
    ہایون انکے انداز پر مسکرا دیا
    ۔۔ ایک کام ہے کل لازمی کرنا ہے۔ یہ کچھ ڈیزائن ہیں انہوں نے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر اسے تھمایا
    کیسے ڈیزائن اس نے یونہی لفافہ کھولا تو بالشت بھر کے کئی صفحات نکل آئے
    تجریدی فن ہے تمہیں سمجھ نہیں آئیں گے وہ شرارتی انداز میں بولیں
    اسے واقعی سمجھ نہیں آئے کندھے اچکا کر واپس لفافے میں ڈال دیے
    اسکو اس پتے پر پہنچانا ہے۔۔ انہیں یاد آیا تو بیگ سے اپنا گلابی کلچ نکال کر اس میں سے ایک پرچی نکال کر اسے تھمائی۔۔۔
    ہایون کی نظر انکے کلچ پر جم گئی۔۔
    پکڑو ۔۔ انی نے ہاتھ بڑھایا ہوا تھا اس نے گہری سانس لے کر پرچی تھام لی۔۔۔
    کون ہوگا یہاں۔۔۔
    ہوپ ۔۔
    ایک لڑکی ہے اس ریستوران میں پارٹ ٹائم جاب کرتی ہے۔۔۔ ویسے ریستوران اچھا ہے کسی دن ہم چلیں گے۔۔۔
    کل ہی چلیں۔۔۔
    ہیونگ سک نے کہا تو وہ منہ لٹکا کر بولیں
    کل کا ہی تو مسلئہ ہے رات کو بوسان جا رہی ہوں دو دن بعد آپائوں گی۔۔ ورنہ میں خود دے آتی اس لڑکی کو۔۔ خیر کل لازمی دیے آنا بھولنا مت یہ اسے چاہیے ہونگے اسکی محنت ہے ایک ہفتے سے میرے پاس پڑا ہوا ہے کیا سوچتی ہوگی میں اسکے ڈیزائن ہڑپ گئی۔۔۔
    دے آئوں گا۔۔ ہایون نے تسلی کرائی
    شکریہ پیارے بھائی ۔۔ وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں
    میں تھوڑا آرام کر لوں بہت تھک گئ۔۔۔ وہ کنپٹی سہلا رہی تھیں
    نونا ۔ اسے جانے کیا خیال آیا انہیں پکار بیٹھا
    ہممم وہ جاتے جاتے مڑ کر دیکھنے لگیں
    آپکا کلچ بہت پیاراہے۔۔۔
    واقعی۔۔ تمہیں پسند آیا ۔۔۔ شکریہ۔۔
    وہ بے ساختہ خوش ہوئیں۔۔۔
    مجھے پہلی نظر میں پسند آگیا تھا یہ۔۔۔
    مجھے بھی۔۔ ہایون نے زیرلب کہا تھا۔۔
    نونا ہاتھ ہلا کر اسے بائے کہتی باہر چلی گئیں وہ پلٹ کر بیڈ پر ٹکا اور سائڈ ٹیبل کی دراز کھول کر نفیس سے بیگ سے کلچ نکال کر دیکھنے لگا۔۔
    بالکل وہی برانڈ وہی ڈیزائن۔۔
    آپ تو یہی لے چکی ہیں اب میں یہ کس کو دوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے دو نا۔۔
    اریزہ چلائئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لان میں ٹہل ٹہل کر اپنا وزن کم کر رہی تھی جب دلاور ہاتھ میں ٹکٹ لہراتا جھوم جھوم کے گنگناتا آیا۔۔
    دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا اعتبار نہ رہا۔۔ ہک ہائے
    وہ دھم سے گارڈن چیئر پر گرا۔۔۔
    اب کیا دکھ پہنچ گیا تمہیں ۔۔۔ اس نے موبائل سے سر اٹھائے بغیر پوچھا تھا ٹہلتے ٹہلتے پلٹی
    بہت بھاری دکھ ہے بھاگم بھاگم خوارم خواری کے بعد فرسٹ ڈے فرسٹ شوکے ٹکٹ لایا ہوں اور کمینہ معاز جا نہیں رہا اپنی گرل فرینڈ کو کراچی سے آگے دکھانے لے جا رہا ہے کمینہ لچہ ٹون ٹون۔۔۔۔۔ اس نے اگلی گالیاں سنسر کر دیں
    اب میں کس کے ساتھ جائوں؟
    فلم کا سن کر اریزہ بھاگ کر پلٹی
    میں ہوں نا مین مر گئ ہوں کیا؟ مجھے دو
    دو نا کونسی فلم ہے؟
    اریزہ نے دلاور کے ہاتھ سے ٹکٹ کھینچا۔۔
    آرام سے پھٹ جائے گا۔۔۔ وہ ڈر کر چلایا پھر خود ہی گرفت کمزور کر دی اور منہ بنا کر جتایا
    انگریزی فلم ہے۔۔۔
    تو ؟اریزہ نے ابرو چڑھائے
    میرے خاندان کی سات پشتوں میں کوئی انگریز نہیں گزرا تو کیا ہوا میں کنڈرگارٹن سے انگریزی سیکھ رہی ہوں سمجھ سب آتا مجھے۔۔۔
    سب ٹائٹلنگ پڑھ پڑھ کر ۔۔۔۔
    وہ ہنسا۔اس پر بھی ہر دوسرے ڈائلاگ پر میرا بازو دبوچ کر پوچھتی ہو اب کیا کہہ رہا ہے یہ۔۔۔ وہ اسکا مزاق باقاعدہ نقل اتارتے ہوئے اڑا رہا تھا۔۔۔
    اریزہ کھسیا گئ
    وہ تو مجھے انکے لہجے سمجھ نہیں آتے ہم کتنا رواں بات کرتے ایک ایک لفظ الگ صاف سمجھ آتا یہ تو بولتے ہی آدھے آدھے لفظ ہیں۔۔۔
    اسکی اپنی منطق تھی۔۔۔
    یہ تمہارا نہیں اردو کا کمال ہے ۔ ایسی نغمگی والی زبان ہے جو منہ کی مکمل ورزش کرواتی اور دنیا کی ہر آواز کو بولنے لکھنے کے قابل ہے۔۔۔ جس کا اردو میں رواں لہجہ ہو وہ دنیا کی ہر زبان کا ہر لفظ بول سکتا ہے۔۔۔
    واہ واہ مکر ر مکرر۔۔۔ اریزہ سر دھننے لگی سراسر اسکا مزاق اڑارہی تھی
    جا تو رہی ہو کوریا ہنگل تمہیں آتی نہیں انگریزی بولتے جان جاتی ہے کیا کروگی وہاں۔۔۔
    میرے ساتھ سنتھیا ہوگی۔۔۔ اور ٹھیک ہے بولنے میں تھوڑا شائی ہوں مگر انگریزی آتی تو ہے مجھے اتنے مقالے لکھے ہیں میں نے اسائنمنٹ بناتی ہوں اب اتنا گیا گزرا تو نہ سمجھو مجھے۔۔۔ وہ برا مان گئی تھی
    یہی تو تم کوشش نہیں کرتی ہو جب اتنی اچھی گرفت ہے انگریزی پر تو بولنے میں کیا مسلئہ۔۔
    مسلئہ پاکستانی زہنیت ہے۔۔۔ وہ جھلائی
    غلط اردو بول لو کچھ نہیں ایک لفظ انگریزی کا غلط بول لو سب مزاق اڑائیں گے۔۔۔ اب ہم بچپن سے سیکھتے مگر بولنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں کیوں؟
    کیوں۔۔۔صارم جانتا تھا اب کوئی نئی تحقیق اس کے گوش گزار کی جانے والی ہے
    وہ اسلیے آپ صرف اس زبان کے ماہر ہوتے جس میں آپ بات کرتے۔۔۔۔۔۔ سوائے کام کے کہ جب آپ کو پڑھنا ہو یا آفس ورک کے انگریزی اور کام کہاں آتی ہے ؟
    ہم ایک دوسرے سے رابطہ اردو میں ہی کرتے ہم سے انگریزی میں رٹے لگوا لیے جاتے مگر کھوپڑی میں ہمارے وہی گھستا جو ہمیں اردو میں سمجھایا جاتا
    ہر کسی کے ساتھ ایسا ہوتا وہ اپنی مادری زبان سمجھتا اگر ہم پر کام کاج میں انگریزی مسلط نہ ہو تو ہم اتنی بھی نہ سیکھ پائیں
    اور کاش ایسا ہو کبھی۔۔ صارم نے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئ
    ویسے ایڈون بتا رہا تھا کورین کو انگریزی بھی زیادہ سمجھ نہیں آتی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے نہیں پتہ کیا لکھا ہوا ہے ۔۔۔

    بے زاری سے اس بھورے بالوں نیلی آنکھوں والی امریکی لڑکی نے منہ بنا کر کہا تھا۔
    مجھے سبزیوں کا سوپ چاہیے اور پورک کا اسٹیک۔۔۔

    شکل سے یہی لگ رہا ۔۔۔ اسکی ساتھی لڑکی بھی مینیو کارڈ پر ہی جھکی تھی تصویر سے ایک آدھ کھانا پہچان کر ٹوٹی پھوٹی ہنگل میں اسے بتایا۔۔۔
    وہ آرڈر لے کر پلٹنے ہی لگی تھی اس لڑکی نے باآواز بلند تبصرہ کیا تھا اس پر اپنی انگریزی زبان میں
    اف کتنی بد صورت لڑکی ہے یہ قد بھی چھوٹا اور آنکھیں بھی۔۔
    وہ تو یہاں کس کی بڑی آنکھیں ہیں ہاں دبلی بہت زیادہ ہے تھوڑی موٹی ہو جائے تو بہتر لگے ابھی تو لگ رہا فاقہ کشی سے مرنے کو ہے۔۔۔
    اسکی سہیلی کو اس سے تھوڑا اختلاف تھا۔۔۔
    وہ بلارادہ رک کر پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔۔
    اس کو انگریزی سمجھ تو نہیں آتی۔۔
    اسکے چہرے پر نا قابل فہم تاثرات تھے سو ایڈلین کو لگا شائد سمجھ گئ وہ۔۔۔
    انکو کہاں آتی انگریزی آتی تو دو گھنٹے ہمیں سر تھوڑی کھپانا پڑتا آرڈر دینے میں۔۔۔
    سارا بے فکر تھی اسے یونہی جمے کھڑے دیکھ کر کہنے لگی۔۔
    یہ تمہارے بالوں کی تعریف کر رہی ہے۔۔ گھنے ہیں۔۔۔
    گوما وویو۔۔شکریہ۔۔۔ وہ دھیرے سے کہہ کر آگے بڑھ گئ۔۔
    یہ مجھے دیکھ ایسے رہی تھی جیسے اسے سمجھ آگیا ہو میں نے اسے بد صورت کہا ہے۔
    ایڈلین تھوڑا کھسیا گئ تھی۔۔۔
    سمجھ نہ بھی آیا مگر اسے دیکھ کر بولوگی تو اسے یہ تو پتہ لگ ہی جائے گا کہ اسکے بارے میں بات ہو رہی۔۔
    ہممم ایڈلین نے سر ہلایا۔۔۔
    ویسے تمہاری ہنگل بہت اچھی ہے۔۔
    اسکے انداز میں رشک تھا
    خاک اچھی دو سال سے یہاں ہوں اب بھی بس ٹوٹی پھوٹی ہنگل آتی دو جملے بول لوں حلق میں خراش ہونے لگتی اتنا برا لہجہ اتنی مشکل زبان میرے خدا۔۔ اوپر سے یونیورسٹی میں پھر گزارا ہو جاتا ان چھوٹے موٹے ویٹر وغیرہ کو تو سرے سے ایک لفط انگریزی کا نہیں آتا کچھ کہہ دو تو شکل دیکھتے رہتے۔۔۔ سارا نے ناک چڑھائی۔۔۔
    یار بہت بور ملک لگا ہے مجھے تو کوریا۔۔۔ ایڈلین نے کہا تو سارا نے فورا تائید کی
    ہاں واقعی۔۔
    ہایون ان سے کچھ فاصلے پر ہی بیٹھا تھا۔۔۔آہبوجی کی مہربانی سے اگر اسے بین القوامی اسکول میں پڑھنے پر انگریزئ سیکھنے پر۔مجبور نہ کیا گیا ہوتا تو ایک لفظ اسے بھی انکا سمجھ نہ ابھئ دانت پیس کر رہ گیا تھا۔
    ریستوران میں داخل ہوتے ہی وہ سیدھا کاونٹر پر گیا تھا ہوپ نامی لڑکی کو بلانے کو کہا تو وہاں موجود ویٹریس نے اسے انتظار کرنے کا کہا۔۔
    وہ یونہی ایک میز گھیر کر ایک ایکسپریسو کا آرڈر دے کر انتظار کرنے لگا۔۔۔
    اسے ان دونوں لڑکیوں کی رائے بالکل اچھی نہیں لگی تھی سو برا سا منہ بنا کر ان سے توجہ ہٹانے کو لفافہ کھول کر فن پارے دیکھنے لگا۔۔۔
    ایک دو تیسری تصویر نے اسے چونکا دیا۔۔
    یہ کیا۔ہے ؟
    وہ گھما گھما کر سیدھا الٹا دیکھنے لگا۔۔۔
    احمق لڑکی۔۔۔یہ سبزیوں کا سوپ ہے ؟ برابر کا چکن ملا ہوا ہے ۔
    ایڈلین کو غصہ آرہا تھا۔۔
    آپ نے جس تصویر پر ہاتھ رکھا تھا وہ یہی سوپ تھا۔۔۔
    ہوپ نے دھیرے سے شستہ ہنگل میں بتایا۔۔۔ اسکا لہجہ اتنا مختلف تھا کہ سارا کو تو بالکل سمجھ نہیں آیا ہیونگ سک بھی چونک کر دیکھنے لگا تھا ۔۔
    کیا؟
    سارا نے پوچھا تو ہایون نے بلا ارادہ انگریزی میں
    ترجمہ کرڈالا۔۔۔ تینوں چونک کر متوجہ ہوئیں ہوپ کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق اتر آئی
    اوپر سے چکن او رپورک اکٹھے ڈال رکھے ہیں ۔ میں چکن اور پورک اکٹھے نہیں کھا سکتی دونوں کا مزا خراب ہو جائے گا اتنی دیر میں آرڈر لائی وہ بھی غلط آئندہ میں یہاں کبھی نہیں آئونگی۔۔ ایڈلین کو غصہ آرہا تھا۔

    چلو اب آگیا تو ہے تو کھا لو۔۔ ایک تو یہ کورین پتہ نہیں انگریزی کیوں نہیں سیکھتے۔۔۔
    سارا نے بے زاری سے کہا۔۔۔
    کورین کو انگریزی سکھانے کی بجائے اگر آپکو کوریا میں رہنا ہے تو آپ کو کورین سیکھ لینی چاہیے آئی آپ یہاں ہیں کورین آپکے ملک میں جاتے ہیں تو کورین آپ کو سکھانے کی بجائے خود انگریزی سیکھتےہیں ۔۔۔
    بہت شستہ انگریزی میں جواب ہوپ کی جانب سے آیا تھا۔
    تینوں فق چہرے کے ساتھ اسے دیکھتے رہ گئے۔
    اس نے اطمینان سے ٹرے اٹھائی اور ٹرے میں موجود اکلوتا ایکسپریسو کا مگ لا کر ہیونگ سک کے سامنے رکھا۔جو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔۔۔
    یہ لیجئے۔۔۔ اس نے اسکے ہاتھوں میں موجود فن پاروں کو غور سے دیکھا۔۔۔ میں ہوپ ہوں یہ غالبا آپ مجھے دینے کیلیئے یہاں آئے ہیں۔۔۔
    ہیونگ سک چونکا پھر گڑبڑا کر سب سمیٹ کر لفافے میں ڈال کر اسے تھمایا۔۔ وہ شکریہ ادا کرکے پلٹ گئ
    مشیل پیچھے سے جھلا کر پوچھ رہی تھی۔۔۔
    اگر تمہیں انگریزی سمجھ آگئ تھی تو صحیح آرڈر کیوں نہیں لائیں۔۔؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم واقعی رہ لو گی اکیلی۔۔
    اسے سامان پیک کرتے دیکھ کر دلاور یاسیت سے پوچھ رہا تھا۔
    ہاں ۔۔ وہ ہنسی۔۔
    کوئی جنوبی کوریا تھوڑی جا رہی ہوں مت فکر کرو۔۔۔
    تم جنوبی کوریا ہی جا رہی ہو احمق۔۔۔ اس نے اسکا پاسپورٹ لہرایا۔۔
    اف ۔۔۔ اس نے سر پر ہاتھ مارا
    شمالی کوریا۔۔ اس نے بچوں کی طرح رٹنا شروع کیا۔۔۔
    میں جنوبی کوریا جا رہی وہی جو موبائل بناتے ترقی یافتہ اچھے لوگ ہیں۔۔
    اور شمالی کوریا ایک آمریت ہے جہاں ظالم بادشاہ معمولی معمولی بات پر گردن اتروا دیتا۔۔۔
    ہیں ؟
    دلاور نے حیرت سے کہا۔۔۔ تو وہ اپنا کام چھوڑ چھاڑ اس کے سامنے آ بیٹھی۔۔۔
    ہاں یار بس افغانستان جیسا حال سمجھ لو ۔۔ شمالی کوریا میں اگر کوئی بھی بین القوامی فلم دیکھتا یا جریدہ پڑھتا پکڑا جائے تو اسکو لوگوں کے سامنے جان سے مار دیا جاتا۔۔۔ انکا بادشاہ خدا کی طرح پوجا جاتا بادشاہ یا اسکی فوج کے خلاف بولنا قابل گردن زنی ہے وہاں ۔۔۔ اور ہمارے جیسے ہی حالات ہیں وہاں کے ۔غربت ہے بجلی نہیں لوگوں پر فوج میں کم ازکم دس سال کام کرنے کی پابندی ہے اس میں مرد و زن کی تشخیص نہیں۔۔
    پاگل ہے کیا بادشاہ اور ہمارے یہاں ایسے حالات کب ہوئے مانا آمریت بار بار مسلط ہوتی رہی ہے ہم پر مگر ایسے بھی حالات نہیں تھے ہمارے کبھی بھی۔۔
    صارم نے کہا تو وہ متفق ہو گئ۔
    کہہ تو صحیح رہے ہو میں نے ویڈیو شئر کی ہے فیس بک پہ دیکھنا اس کے بارے میں ہے۔۔۔
    صارم نے فورا موبائل اٹھا لیا۔۔
    وہ دوبارہ کپڑے تہہ کرنے لگی۔۔
    ویسے میں نے سیول کا موسم اپڈیٹ بھی موبائل میں ایڈ کر لیا ہے۔۔ یہاں سے ایک دو ڈگری کا ہی فرق ہوتا ہے آجکل تو موسم گرم ہی ہوگا سو لان رکھ رہی باقی سردیوں کی شاپنگ سوچ رہی وہیں کروں گی باہر کے کوٹ وغیرہ زیادہ آچھے ہوتے اور پھر کوٹ وغیرہ رکھے تو سامان کی جگہ نہیں رہے گی صحیح کہہ رہی ہوں نا۔۔۔ اس نے مڑ کر تائید چاہی صارم شائد سن بھی نہیں رہا تھا مگن تھا موبائل میں ۔۔۔ وہ کندھے اچکا کر مصروف ہوگئ۔۔۔
    یار یہ تو افغانستان جیسا لگ رہا بس وہاں امریکی فوج نہیں بس۔۔۔ صارم کی ویڈیو ختم ہوئی تو وہ واپس پاکستان آگیا۔۔
    افغانستان سے بھی برا۔۔ کیونکہ افغانستان کے پڑوسی ہم ہیں ۔۔۔ اریزہ کا انداز معنی خیز تھا۔۔۔
    مطلب دلاور نہ سمجھا۔۔۔
    ہم نے افغان محاجرین کو جتنا اس ملک میں پناہ دی وہ یہاں آکر رہے کاروبار جمائے شادیاں کیں۔ ہم نے افغانستان کے المیئے پر انکو تنہا نہیں چھوڑا۔
    ظاہر ہے مسلمان ہیں افغانی انسان ہیں اور نسلا بھی ایک ہی ہیں اس بیلٹ کے لوگ۔ صارم نے کہا تو وہ تاسف سے سر جھٹکتی بولی۔
    ہاں مگر اسکے الٹ شمالی کوریائی محاجرین جب پڑوسی ملکوں کا رخ کرتے ہیں تو نا صرف انکو آنے سے شدت پسندی سے روکا جاتا ہے بلکہ اگر قسمت سے کوئی چین پہنچ بھی جائے توغیرقانونی محاجر ہونے کی بنا پر وہاں اسکو غلاموں کی طرح بیچا خریدا بھی جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ انسان ہیں ، ہم مزہب یا ہم نسل لوگ ہیں۔ انکے نزدیک وہ بس آفت ذدہ ہیں ۔ ایسی آفت جس سے انکا کوئی واسطہ نہیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم صبح جہاز میں بیٹھیں گے شمالی کوریا جائیں گے وائو کتنا مزا آنیوالا ہے۔ فیلنگ اس نے سوچا پھر ایکسائیٹڈ چن لیا۔۔ اس نے فیس بک پر اسٹیٹس لگا کر سنتھیا اور ایڈون کو ٹیگ کیا۔۔۔
    چند سیکنڈ میں ہی تیرہ لائکس اور سنتھیا کا تبصرہ آچکا تھا۔۔
    بہت پرجوش ہوں میں بھی
    اگلا کمنٹ کسی شاہزیب کا تھا
    میں بھی جا رہا ہوں آپکے ساتھ ایڈ می۔۔
    اریزہ تاسف سے ٹچ کہہ کر رہ گئ اگلا نوٹیفیکیشن تھا شاہ زیب ایڈیڈ یو ایز آ فرینڈ
    ہف وہ سخت چڑی
    ایک یہ ٹھرکی عوام
    ایڈون کا بھی تبصرہ آیا تھا
    شمالی نہیں جنوبی کوریا تم وہاں جا کر بھی یہی کہتی پھروگی اور وہ تمہیں شمالی کوریا کا ایجنٹ سمجھ کر سچ مچ وہیں چھوڑ آئیں گے۔۔۔ آگے غصے سے آگ بگولہ ہوتا کارٹون جھلا رہا تھا
    اس نے سر پر ہاتھ مارا
    کمنٹ کیا ہاں ہاں وہی۔۔۔
    پھر جلدی سے اپنا اسٹیٹس ایڈٹ کرنے لگی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاپا اسے ائر پورٹ چھوڑنے آئے تھے وہیں سے انہوں نے اپنے آفس چلے جانا تھا
    ان کے گلے لگتے وہ آبدیدہ ہو چلی تھی۔۔۔
    اپنا بہت خیال رکھنا اور
    وہ کہتے کہتے رک گئے۔۔۔
    وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
    وہ بات بدل گئے۔۔۔
    جاتے ہی فون کرنا اور جتنے پیسے چاہیے ہوں مجھے بتا دیا کرنا سمجھیں خبر دار جو وہان جاب وغیرہ کرنے کا سوچھا بس پڑھنا خوب گھومنا پھرنا اور سب تصویریں فیس بک پر لگانا اور مجھے کینڈی کرش کی ریکویسٹ بھیجنا مت بھولنا۔۔۔ سمجھیں۔۔۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر اسکا سر ہلایا تو اثبات مین سر ہلا کر ہنس دی۔۔ سنتھیا اپنے والدین سے مل رہی تھی پانچ طلبا اس فلائٹ سے جا رہے تھے وہ ایڈون اور سنتھیا ایک ہی فلائٹ میں تھے۔۔۔
    وہ بے حد خوش تھی اتنی کے ان سے مل کرپیار لینے کے بعد سنتھیا اور ایڈون کیساتھ اندر جاتے ہوئے اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا تھا
    اسکے بچوں جیسے انداز پر وہ مسکرا دیے۔۔
    اور اپنی ماں کو دل سے معاف کر دو۔۔ انہوں نے وہ زیر لب کہا جو کچھ دیر پہلے روک لیا تھا۔۔ انہیں گھر سے نکلتے ہوئے کا منظر بخوبی یاد تھا جب جبین بے اختیار اسکی جانب بڑھی تھیں وہ کتنے دن سے ان سے بات نہیں کر ر ہی تھی اب بھی اگر اس نے انھیں گلے لگانے سے روکا نہیں تھا تو خود سے گلے بھی نہ لگی تھی۔۔۔ سیدھی اکڑی کھڑی رہی تھی وہ دکھی سا ہو کر خود ہی پیچھے ہٹ گئیں۔۔۔
    ۔۔۔اریزہ مت رو یار۔۔۔
    سنتھیا اسکا ہاتھ تھامے ساتھ لگائے تھی۔۔۔ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کی وجہ ڈھیر سارے امڈ آنے والے آنسو تھے جنہیں وہ باپ سے چھپانا چاہتی تھی ۔۔
    اس نے سر ہلا کر آنسو پونچھ لیے تھے سامنے ایڈون انکے ساتھ جانیوالے کلاس فیلوز کیساتھ کھڑا تھا
    وہ سب بورڈنگ کرنے سے پہلے اکٹھے ہوئے تھے۔۔۔
    کلاس فیلو ہونے کے ناطے ایک دوسرے کو جانتے تو ہیں ہم مگر چونکہ ہم اکٹھے دوسرے ملک جا رہے وہاں ہم ایک ٹیم کی طرح کام کریں گے ہم آج کچھ اصول بناتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں انکی پاسداری کریں گے۔۔
    ایڈون انکے گروہ کا سرغنہ بنا ہوا تھا
    سب سے پہلے سب کا تعارف ہو جائے۔۔۔
    وہ سب دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے
    شاہ زیب۔۔۔ گرے جینز وہائٹ ٹی شرٹ پانچ فٹ دس انچ قد کھلتا ہوا رنگ بات بے بات مسکرانے کی عادت اور اریزہ کو گھورنے کی بھی۔۔
    اریزہ۔۔اس نے ناپسندیدہ نظر شاہ زیب پر ڈالی وہ کسی کمپلیمنٹ کی طرح وصول کرکے مسکرایا
    سنتھیا۔۔۔ سانولی سی دبلی سی لڑکی اریزہ میں سے ایسی دو یا شائد تین نکل آئیں آرام سے قد میں اریزہ سے ایک دو انچ زیادہ ہی تھی۔
    سالک۔۔۔ فربہی مائل جم لگا کر خوب جسم بنائے مگر قد میں لڑکیوں سے تھوڑا ہی اونچا بے حد گورا کشمیری اردو بولتے ہی جسکا پتہ لگ جائے کہ مشکل ہے بولنا۔۔
    اور ایڈون۔۔
    چھے فٹ سے بھی نکلتاقد سانولا نہیں بے حد کالا مگر پرکشش۔۔ کم و بیش شاہزیب جیسا ہی ۔۔ عادت میں بھی۔۔۔
    پہلا اصول
    ہم آپس میں جیسے بھی رہیں وہاں ہم میں سے
    کسی کو بھی کوئی بھی مشکل آئے گی ہم ایک دوسے کی مدد کریں گے۔۔
    دوسرا ۔۔۔
    ہم آپس مین صرف اردو میں بات کریں گے۔۔۔
    تیسرا۔۔۔
    ہم وہاں پر پاکستانیوں کا بہت اچھا تاثر پیش کریں گے ۔
    چو تھا
    ہم بڑے سے بڑا اختلاف ہو جائے آپس میں نہیں لڑیں گے
    ۔۔۔ ایک منٹ ہم جہاد پر نہیں جا رہے
    سنتھیا نے اینٹری ماری
    چلو فلائٹ کا ٹائم ہو رہا۔۔۔
    ایڈون چڑ گیا
    ایک تو تم لڑکیاں مجال ہے کوئی بات خاموشی سے سن لو ۔۔۔
    ایڈون ٹھیک کہہ رہا۔۔ اریزہ نے بھی تائید کی۔۔
    ہم ایک دوسرے ملک جا رہے ہیں الگ الگ نہیں اکٹھے ہم وہاں پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہونگےہمیں وہاں واقعی بہترین تاثر دینا ہوگا پاکستان کا ۔۔۔
    ہم تبھی میں نے سوچ سمجھ کر پانچ اصول بنائے ہیں
    ۔۔۔ ایڈون کی سوئی پھر اٹکی۔۔
    ٹھیک ہے۔۔۔ پانچوں نے مٹھیاں بنا کر بازو پھیلا کر عہد کیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی ہائے اسکو تاسف سے گھور رہی تھئ۔ اسکے اپارٹمنٹ میں اسکے اصرار پر آیا کرتی تھی۔ آس وقت وہ حسب معمول اسٹریچنگ کر رہی تھئ۔ جبکہ گوارا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھئ تھی۔ سارا دن دنیا جہاں کے میک اپ ٹیوٹوریل دیکھتی رہی پھر اب انٹرنیٹ ایکسپلوررمیں دو درجن سائٹس کھولے کے پاپ آئڈلز کی پلاسٹک سرجری اور ان کے سایڈ ایفیکٹ کے سب مضامیں پڑھ کر بھی اسکا ارادہ متزلزل نہ ہوا۔ بلکہ اٹھ کر کمرے میں لگائے( خاص اپنے پیسوں سے) قد آدم آئنے میں خود کو ہر انداز سے دیکھتی جائزہ لینے میں مصروف ہو گئ
    وہ ڈھیلی سی پیلی ٹی شرٹ اور شارٹس میں ملبوس تھی۔ متناسب فگر کمر تک لمبے بالوں کی اونچی پونی بنائے وہ کھنچی ہوئی آنکھوں اور گول چہرے والی خالص کوریائ نقوش کی مالک پر کشش لڑکی تھی
    اسکی آنکھیں بہت بڑی نہیں تھیں مگر غلافی بھی نہیں لگتی تھیں
    پھر بھی اسکو اسکی نظر سے دیکھا جاتا تو اسے اپنی ان آنکھوں کو بڑا کروانا تھا ناک کو پتلا گال جو کہ بھرے بھرے تھے انکو پتلے فاقہ کشوں کی طرح لٹکی کھال جیسے کروانا تھا۔۔۔
    میں بھی غریب ہوں مجھے دے دیتیں وہ پیسے
    اس نے منہ بنایا۔۔
    لے دے کر ایک اپارٹمنٹ ہی ہے میرے پاس وہ بھی ایک کمرے کا ورنہ دو چار پے اینگ گیسٹ رکھ لیتی تھوڑی آمدنی ہو جاتی۔۔۔ اس نے باآواز بلند سوچا
    ایک بچت کا اور طریقہ بھی ہے۔۔ میں کسی گھٹیا علاقے مین شفٹ کر جائوں ۔۔۔ مگر ایک تو یونی یہاں سے قریب۔۔۔ بلکہ ایک کمرے کا ہی سہی کتنا کھلا کھلا کچن اور لاونج ہے اس میں کسی سستے علاقے میں ایسا گھر چھوٹا بہت ہوگا۔۔۔

    کیا مما ایک اکلوتی بیٹی ہوں کیا ہوا جو پلاسٹک سرجری کروا کر تھوڑی خوبصورت ہو جائوں کوئی حرج ہے اسمیں ؟
    اس نے پلٹ کر اپنی سائڈ ٹیبل کے کنارے رکھے ماں کی فوٹو سے پوچھا۔۔
    مسکراتی ہوئی ماں کے ابرو تن گئے۔
    ایک تو پہلے ہی شکل خراب اوپر سے اگر تھوڑی سی بھی پلاسٹک سرجری خراب ہوئی تو مزید دیکھنے کے قابل نہیں رہوگی دوسراتمہارا باپ کوئ جائداد چھوڑ کر نہیں مرا جو فضول اللے تللے میں اڑانے دوں
    تصویر دھاڑ رہی تھی۔۔ مگر نہیں۔ اس نے آنکھیں مسلیں۔
    خیر ابھی آبھوجی مرے بھی نہیں۔ ۔۔ اس نے منہ بنایا۔۔

    ہاں اور زندگی میں اس نے روپیہ نہیں دیکھا تو مر کر کونسا کچھ دے جائےگا الٹا انشورنس بھی پتہ نہیں بچے گی کہ نہیں جتنا بیمار رہتا ہے کمپنی کو دیوالیہ کر کے مرے گا۔۔۔
    اب ماں کا لہجہ نارمل تھا۔۔۔ وہ بھنا کر تصویر کے پاس آئی۔۔
    تو میں کس سے کہوں ؟ ایک بیٹی ہوں اور اسکی ایک خواہش پوری نہیں کر سکتے۔۔۔
    نہیں ۔۔۔ ماں کا اطمینان دیدنی تھا۔۔۔ تصویر میں ہی اس سے منہ پھیر لیا۔۔
    میں خود کما کر اپنا آپریشن کروا لوں گی۔۔
    وہ چلائ۔۔
    گڈ لک فائیٹنگ۔۔۔ ماں نے ویسے ہی منہ پھیرے پھیرے کہا۔۔
    ہونہہ ۔ اس نے غصے سے فریم الٹ کر رکھ دیا۔۔
    تمہاری اماں کا حرف حرف درست حقیقت پر۔مبنی ہے۔
    جی ہائے نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ
    تبھی اطلاعی گھنٹی بجی۔۔۔
    وہ منہ بناتی دروازے تک آئی۔۔ سیکیوریٹی کیمرے کا ڈسپلے دروازے سے تھوڑا پہلے لاونج کی دیوار پر لگا تھا کوئی لڑکی کھڑی تھی
    کیا بات ہے؟
    اس نے سپیکر سے پوچھا۔۔
    تھوڑی سی چینی مل سکتی ہے ؟
    نہیں یہ سپر اسٹور نظر آتا ہے؟ اس نے بد تمیزی منع کر دیا۔۔۔
    اور ٹی وی آن کرکے وہین صوفے پر دراز ہوگئ۔۔
    باہر کھڑی ہوپ بھونچکا رہ گئ۔۔۔
    جنوبی کوریائی تمیز گنوا بیٹھے ہیں ۔۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ موبائل میں فن پارہ دیکھ رہا تھا ۔۔
    یہ تصویر اسے چونکا گئ تھی جبھی اس نے فورا اسکی تصویر کھینچ کر محفوظ کر لی تھی ابھی والپیپر کے طور پر سیٹ کر کے فون کو ہر زاویے سے دیکھ رہا تھا۔۔
    نونا کالنگ۔۔۔
    ہنگل زبان میں نام چمکا اس نے پہلی بیل پر ہی اٹھا لیا۔۔
    آننیانگ واسے او۔۔
    اسکے ساتھ ہی انی بولیں تھیں۔
    واہ بھئ آج تو پہلی بیل پر اٹھا لیا۔۔۔
    دونوں اکٹھے بولنے پر ہنسے۔۔
    آپ کا پیکج پہنچا دیا یا نہیں یہی پوچھنے فون کیا ہے نا آپ نے۔۔۔ اس نے اندازہ لگایا
    ہاں مجھے ویسے پتہ ہے میرا منا بھائی ذمہ دار تو بہت ہے۔
    وہ مصروف تھیں کہیں۔۔
    جلدی بتائو۔۔ وہ بولا نہیں تو عجلت میں ٹوک دیا۔۔
    اس نے غور سے انکے پیچھے سے شائد دکاندار کی آواز سنی وہ ہرگز بھی ہنگل نہیں بول رہا تھا۔۔
    نونا آپ کوریا میں ہی ہیں ۔۔ وہ پریشان ہوا تھا
    انی بولتے بولتے چپ ہو گئیں
    آنیو۔۔
    دونون خاموش سے ہوگئے
    پلیز ناراض مت ہو میں چھپانا نہیں چاہتی تھی بس بتایا نہیں تم یونہی فکر کرتے ہو میں بالکل ٹھیک ہوں کم از کم مجھے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔ کچھ توقف سے انی بے تابی سے بولیں۔۔
    نونا ۔اس نے کہا تو وہ بولتے بولتے چپ ہوئیں
    اپنا بہت خیال رکھیے گا پلیز۔۔۔۔
    اسکے لہجے میں فکر تھئ
    ہاں میں رکھوں گی بالکل رکھوں گی میرا منا بھائ بالکل میرے لیے پریشان مت ہوا کرے
    آپ کرتی ہیں تو ہوتا ہوں نا۔۔۔ اسکے انداز سے خفگی جھلکی۔۔
    ہایون جیسے تم وہاں پریشان ہو رہے ہو اس سے کہیں زیادہ کچھ لوگ اپنوں کیلیے پریشان ہیں تم تو مجھ سے بات کر رہے انہیں تو یہ یقین بھی نہیں کہ انکے اپنے زندہ بھی ہیں کہ نہیں
    میں سب کی مددچاہ کر بھی نہیں کر سکتی مگر کوئی ایک انسان میری کوشش سے اپنے اپنوں تک رسائی پا لے تو مجھے لگے گا میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔۔
    بولتے بولتے نوناجزباتی ہو چلی تھیں ان کے لہجے مین محسوس کیا جاسکنے والا دکھ بول رہا تھا ان کی آواز بھرا چکی تھی۔۔۔
    ہایون کا دل چاہا فون سے نکل کر اپنی نونا کو بانہوں مین بھر لے۔۔
    وہ خود ہی سنبھل کر بولیں
    خیر میں پکا دو دن میں واپس آجائوں گی۔۔۔ ایک شرٹ پسند آگئ ہے مجھے تمہارے لیئے لے لوں
    انہوں نے بات بدلی
    اس نے شانے اچکا دیے
    مرضی ہے
    پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔۔
    نونا وہ لڑکی کیا نام ہے اسکا ہوک
    ۔
    ہوپ۔۔ نونا نے تصحیح کی
    وہ بھی کیا شمالی کوریا سے آئی ہے ؟
    اس نے سرسری انداز سے پوچھا تھا پھر بھی نونا جیسے ایکدم فل چارج ہو گئیں
    ہاں کیوں ؟پسند آگئ؟ بات چلائوں نمبر لے لو ٹھہرو۔۔۔
    نونا اتنی ہی رفتار سے چلتی تھیں
    ارے۔۔۔ وہ کچھ بولنا چاہ رہا تھا
    میں کال کے بعد بھیجتی ہوں یہ دکاندار شرٹ کسی اور کو بیچنے لگا ارے ٹھہرو رکو ۔۔۔
    نونا ہنگل بولتے بولتے چائنیز پر اتر آئیں تھیں گھبرائ آواز کے بعد کال بند ہو گئ۔۔ وہ انکے انداز پر ہنسا۔۔
    اپنا خیال رکھنا نونا۔۔۔ کال کے اختتام پر اسکرین پر آخری کال کا خلاصہ نظر آیا تو انی کا نام چمکتے دیکھ کر وہ محبت سے بولا تبھی نونا کا میسج آیا اس نے کھولا تو ہوپ کا نمبر ساتھ کامیابی کی دعا بھی تھی۔۔
    ارے۔ آہش یہ انی بھی نہ۔۔ اس نے سر جھٹکا پھر کچھ سوچ کر نمبر محفوظ کر لیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تقریبا ساڑھے تین گھنٹے میں دبئ آیا تھا دبئ میں انکے پاس چھے گھنٹے تھے اگلی فلائٹ انہیں سیول کے بین القوامی پروازوں کے ایئر پورٹ پہنچا دیتی
    سنتھیا کی یہیں بس ہو گئ تھی۔۔۔ پہلے تو جہاز کے اڑنے پر اسکی حالت بری ہونے لگی۔۔۔ لینڈنگ پر تو الٹی ہی آگئ اسے اریزہ اسکی کمر سہلا تی رہی تھی۔۔۔
    میں نے اب جہاز میں نہیں بیٹھنا۔۔۔ ائر پورٹ پر لاوئنج میں بیٹھی روتی رہی۔۔
    اریزہ جو مستقل اسے بہلا رہی تھی تنگ آگئ۔۔۔
    ٹھیک ہے مرو یہیں ہم یہیں کسی شیخ سے نکاح کر جاتے ہیں تمہارا آرام سے رہنا۔۔
    روتے روتے سنتھیا ہنس پڑی
    اوئے۔۔ یہ میری اکلوتی آفیشل منگیتر ہے میں اسکو کھو نہیں سکتا۔۔۔
    ایڈون ڈھیر ساری کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لایا تھا انکی بات اچک کر رو ہی تو پڑا اریزہ ابھی بھی گھور رہی تھی اسے۔۔۔
    تم لوگ کہاں تھے ؟ سنتھیا کو باقی دنیا کی بھی فکر ستائی۔۔۔
    ہم سوچ رہے ہیں دبئ آگئے ہیں تو تھوڑی سیر کر لیں۔۔۔ شاہ زیب نے کہا تو بات انکے دل کو لگی۔۔۔
    واقعی چھے گھنٹے بعد اگلی فلائٹ ہے اتنی دیر ہم گھوم ہی لیں ۔۔۔ اریزہ پرجوش ہوئی۔۔۔
    پھر وہ اگلے چار گھنٹے دبئ میں گھومتے پھرے پیسے سب کے پاس بس گزارے کیلیے تھے سو مال میں گھومتے ہوئے ونڈو شاپنگ پر ہی گزارا کیا۔۔
    سب چپس وغیرہ ٹھونس لیے تو بھوک کا احساس ہوا۔۔۔
    سیدھا مشہور فاسٹ فوڈ چین پر جا کے ٹوٹ پڑے۔۔
    ویسے اریزہ دل بھر کر چکن کھا لو یہاں۔۔۔
    اریزہ برگر سے منہ بھرے بیٹھی تھی جب شاہزیب نے کہا۔۔
    کیوں ۔۔ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
    کوریا میں حلال چکن تھوڑی ملے گا۔۔۔
    اس نے کہا تو سالک نے بھی تائید کی۔
    ۔۔ ہاں یار گوشت تو ہم وہاں کھا نہیں سکیں گے۔۔۔
    اریزہ نے کندھے اچکا دیے
    دیکھا جائے گا۔۔۔
    تھک ہار کر واپس ائرپورٹ پہنچے تو پتہ چلا موسم کی خرابی کے باعث فلائیٹ لیٹ ہو گئ ہے۔۔۔
    ہفف سب تھک چکے تھے ارادہ یہی تھا کہ جہاز میں لمبی تان لینی ہے مایوس ہو کر ویٹنگ روم کی کرسیوں پر گر گئے۔۔ مگر ان چاروں کے بر عکس اریزہ مطمئن تھی اپنا ڈی ایس آر نکال کر سارے دن کی کھینچی تصویریں دیکھنے لگی۔
    کچھ تصویریں فورا اپلوڈ کیں
    تم سب بور لوگ ہو۔۔۔ دبئ میں بیٹھے ہو اور شکل بنائی وی ہے۔۔۔
    اس نے انہیں بھی جوش دلانا چاہا مگر سب واقعی تھک چکے تھے ۔۔۔
    اس نے ان سوتے چہروں کو بیک گرائونڈ میں لیتے اپنی تصویر بنائئ مگر اپنے چہرے پر ہتھیلی پھیلا کر پوز مارتے چہرہ بھی چھپا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا خوبصورت ہے۔ دیکھنے والے بنیں۔
    اس نے دبئی کی رونق سموتی تصویروں کے انبار لگا دیئے تھے بلاگ پر۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ دل جلے صارم کا ہی تھا۔
    دبئئ جا کے ہی دکھائی دی نا؟۔۔۔ یہاں رہ کر کہتیں تو مانتا
    دوسرا کمنٹ
    کیسا دبئئ ہے شیخوں کی جگہ ماجا ساجا دکھائی دے رہے۔۔
    تیسرا کمنٹ
    دبئئ شاپنگ فیسٹول لگ رہا ہے کوئی اچھا سا تحفہ ہی لیتی آنا دعائں دوں گا ایڈمن
    چوتھا کمنٹ
    میں بھی دبئی آیا ہوا ہوں ملیں؟؟؟؟
    پانچواں کمنٹ۔۔
    سب گوگل فوٹوز ہیں بہنا مانیٹایزیشن بین ہو جائے گئ۔۔
    کسی کو اسکے بلاگ کا کتنا خیال تھا۔
    اس نے گہری سانس لیکر بند کر دیا موبائل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد
    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki 3 qist ? Rate us

    Rating

     

  • Salam Korea Episode 2

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    قسط 2


    میں اندھیروں کی باسی۔۔۔
    روشنی سے خوفزدہ ۔۔۔
    ہر صبح۔۔۔
    سے۔۔۔
    ڈر لگتا ہے۔۔۔
    آنکھ کھل نہ جائے۔۔۔
    مجھے اندھیرے ہی راس آتے ہیں۔۔۔۔
    میں آغاز صبح ۔۔۔
    پلکیں موند کر کرتی ہوں۔۔۔
    دن ڈھلے مگر۔۔۔
    اٹھنا پڑتا ہے۔۔۔
    یہ دنیا مجھ سے الٹ چلتی ہے۔۔۔
    میں بیزار سی
    دن گزرنے کا انتظار کرتی ہوں۔۔۔
    خوش قسمتی سے وقت گزر جاتا ہے۔۔۔
    پھر شام ہوتی ہے۔۔۔
    رات آتی ہے۔۔۔
    یہ دنیا جب سو جاتی ہے۔۔۔
    میں آزادی سے۔۔۔
    رات بھر ۔۔۔
    رات ہونے کا جشن مناتی ہوں۔۔۔
    اس نےگہری سانس بلکہ آہ بھر آنکھیں بند کر لی تھیں۔ اسکی آنکھوں کے کنارے اب خشک تھے مگر
    چندی کھنچئ ہوئی آنکھوں والی وہ لڑکی بنا آنسئوں کے روئی تھئ۔ تڑپ تڑپ کر مگر اندر سے۔ برف طوفان تکلیف چیخیں۔۔ فائرنگ۔ کی آواز دھائیں دھائئں۔۔ ایک ایک منظر اسکی آنکھوں میں یوں تازہ تھا جیسے ابھی یہ سب گزرا ہو۔ اس نے آنکھیں کھول کر اپنے سامنے اس دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے مجمعے کو دیکھا۔ سب ساکت خاموش بیٹھے اسکی بپتا سن رہے تھے۔ اسکا لہجہ رواں تھا اس نے جزب سے انگریزی میں یہ نظم پڑھی تھی۔ پورے ہال پر شائد ان الفاظ کا اثر ہوا تھا جو اسکے چپ ہو جانے کے باوجود چند لمحوں تک سب پر۔ خاموشی کی صورت طاری رہا تھا۔
    اسکے خاموش ہونے کے چند لمحوں کے بعد ڈھیر ساری تالیاں بجائی گئی تھیں۔۔

    ہوپ یہ سچ مچ بہت خوبصورت نظم تھی۔ بالکل آپ جیسی ۔۔ آپ نے خود لکھی ہے۔۔۔ میزبان نے تالیوں کا شور تھمنے پر اس سے سوال کیا تھا۔۔۔
    آنیا۔۔۔یہ مجھے پسند آئی تھی ایک فورم پر پڑھی گئ تھی میں نہیں جانتی کس نے لکھی کیوں لکھی۔ مگر مجھے لگتا ہے میرے لیئے میرے حالات پر لکھی گئ ہے۔۔ یہ نظم خوب صورت تو نہیں۔۔۔۔ یہ نظم تو بالکل میرے جیسی ہے بدصورت اور تلخ۔ ۔ ۔۔ ہوپ نے استہزائیہ انداز میں کہا تھا۔میزبان چپ سا رہ گیا۔
    جنوبی کوریائی خوبصورتی کے معیار کے مطابق واقعی ایک بد صورت ترین لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھی۔ بےتحاشہ کھنچی ہوئی آنکھوں ابھری ہوئی گالوں کی ہڈیوں کے بیچ ستواں ناک چھوٹا سا دہانہ۔ اس لڑکی کے نقش اتنے برے نہ تھے مگر فاقہ ذدہ شکل جو پیلی پھٹک چمڑی سے سجی تھی۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا ابھی جھڑ جھڑ کر گرنا شروع ہوجائے گی۔ اسکا دبلاپن اسکے طویل عرصے سے بھوکےرہنے یا کم خوراکی کا نتیجہ تھا۔ بے چارئ شمالی کوریائی محاجر۔
    اسے دیکھ کر ان دل میں تاسف افسوس ترس ہی ابھرتا تھا۔۔
    اسکی خاموشی پر ہوپ مسکرائی تھی۔ میزبان کو پروڈیوسر کی جانب سے کان میں سوال کیا گیا جو اس نے من و دن دہرایا۔
    ہوپ جنوبی کو ریا میں ہو تم نے بہت کچھ سہا ہے کوئی ایسی فرق جو تم جنوبی کوریا کے باشندوں کے رویے میں دیکھتی ہو شمالی کوریائی باشندہ ہونے کی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ کوئی الگ رویہ رکھتے ہوں۔۔۔
    جنوبی کوریائی مجھ پر ترس کھاتے ہیں جو اچھی بات ہے مگر مجھے یہ بات بہت دکھی بھی کر دیتی ہے۔۔۔ میں نے جو جتنا کھونا تھا شمالی کوریا سے جنوبی کوریا تک کے سفر میں کھو دیا میں جب سے سیول میں ہوں مجھے صرف ملا ہے آپ سب کا ساتھ پیار حوصلہ………
    مجھے اب ترس کی ضرورت نہیں۔۔۔ مجھے بس ہوپ کہلانا ہے ہوپ بننا ہے ہر شمالی کوریائی کیلیے۔۔۔۔
    شکریہ۔۔۔۔۔ وہ بہت حوصلے سے مسکرائی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھیبا( زبردست)۔۔۔۔۔
    اسٹیج پر الوداعیہ چل رہا تھا سب مہمان کھڑے اختتامی تقریر سن رہے تھے۔ دو درجن لوگ سب کے سب اونچے اونچے عہدوں پر فائز کوئی سفارت کار تھا کوئی سماجی کارکن کوئی شاعر۔ ان سب میں اس ایک سب سے فالتو لڑکی کے چپکے سے اسٹیج سے اتر جانے کو کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔ وہ آرام سے اتر کر اندر جانے لگئ جب پیچھے سے انی نے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    انی ۔ وہ چونک کے مسکرائی۔
    تھیبا ۔۔ شاباش۔
    گنگشن نے باقائدہ اسے گلے سے لگایا تھا۔
    اتنے بڑے مجمعے کے سامنے ایک لفظ بولا نہیں جاتا اور تم نے اتنے اعتماد سے تقریر کی سب کے پے در پے سوالوں کے مفصل جواب دیئے مجھے کہنے دو ہوپ تم بہت باصلاحیت لڑکی ہو۔
    گنگ شن انی کے اس محبت بھرے برتائو نے اسکے چہرے پر مضمحل سی مسکراہٹ بکھیر دی۔
    انی جو ایک بار تماشہ بن جائے اسکے دل سے سب خوف جاتا رہتا ہے میرا تو کئی بار تماشہ بن چکا ہے۔
    اسکے الفاظ سخت انداز بے رحم سا تھا۔
    میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ ماضی بھلا دو مگر یہ ضرور چاہتی ہوں کہ تم حال میں جینا شروع کردو۔
    وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی گنگشن کے چہرے پر ہمیشہ سی پرشفقت مسکراہٹ تھی جو اس جیسی لڑکی کے دل میں بھی امید جگا دیتی تھی۔ شائد اب کچھ اچھا ہو جائے۔ گنگشن اسکا ہاتھ تھام کر باتیں کرتی بیک اسٹیج کی طرف بڑھیں۔
    ابھی یہیں صحافیوں نے گھیر لینا ہے تم اب بس آرام کرو یہ کانفرنس ہی چار گھنٹے مسلسل بٹھا کر تمہیں Exausted کر گئ ہوگی۔
    ایسا ہی تھا مگر اسے اپنی تکلیفیں بیان کرنے کی عادت ہی نہ تھی۔
    ویسے تمہاری انگریزی اچھی ہے لہجہ رواں ہے ۔ یہ نظم بہت اچھی پڑھی تم نے۔ دیکھنا یہ کلپ وائرل ہو جائے گا۔ وہ سیدھا باہر کھلی فضا میں لے آئی تھیں۔
    وائرل۔ اس نے الجھن سے دیکھا۔
    اس طرح تو آہموجی مصیبت میں پڑ جائیں گی۔جانے انکے ساتھ کیا سلوک ہو۔۔۔
    وہ بری طرح گھبرا گئ
    انی اسی لیئے میں نے کہا تھا میں میڈیا کے سامنے نہیں آنا چاہتی اس طرح تو میرے خاندان والے مزید مصیبت میں پڑجائیں گے۔۔
    گنگشن نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔
    میرا مطلب تھا کہ تم۔۔۔ دراصل میں تعریف کر رہی تھی۔ تمہاری۔ مثال کے طور پر کہا ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ جملہ سوچ ہی گئیں۔
    وہ یونہی شآکی نگاہ سے دیکھتی رہی۔
    اب تم گھر جائو آرام کرو او ردعا کرو کہ جلداپنے خاندان سے مل سکو۔ ۔۔
    انہوں نے مزید کہا تو وہ بحث میں نہیں پڑی سر جھکا کےرہ گئ۔ ڈرائور انکی گاڑی انکے پاس گھما کے لیکر آیا۔۔ انہوں نے ہوپ کو بٹھایا تسلی دینے والے انداز میں کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ پھر جب تک گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئ وہیں کھڑی دیکھتی رہیں۔۔ ذہن میں اپنے منتظم اعلی کے جملے گونج رہے تھے۔
    یہ کلپ اگلے دو گھنٹے میں وائرل ہونا چاہیئے۔۔ہمیں اس کلپ سے بہت سے نئے اسپانسرز مل سکتے ہیں۔
    مگر سر اس طرح تو ہوپ کے خاندان کی زندگی اور مشکل ہوجائے گی۔ انکی بیٹئ دشمن ملک میں کانفرنس اٹینڈ کر رہی ہے اس بات کا کتنا ردعمل آسکتا ہےہم نہیں جانتے کہ شمالی کوریا میں ہیں وہ یا کہیں اور۔۔
    گنگشن چلبلا اٹھی تھیں۔
    نارتھ کوریا میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ نہیں پہنچ پاتا ہے اور ویسے بھی ہوپ یہاں ہے اس بات کو ہم چھپا نہیں سکتے۔ ہاں اس معاملے کا پرچار کرکے ہم غیر ملکی امداد لے سکتے ہیں جو ہوپ جیسے اور بچوں کو معاونت فراہم کرنے میں مددگار ہوگئ۔
    ان پچاس پچپن سال کے منتظم اعلی کے لب و لہجے میں تجربہ بول رہا تھا یقینا وہ ان معاملات کو ان سے بہتر جانتے تھے۔
    ہوپ آئی ہوپ کہ تمہاری ہوپ ختم ہونے سے قبل تمہیں جینا آجائے۔۔۔۔
    وہ گہری سانس لیکر رہ گئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام و علیکم سر۔
    وہ ہلکی سی دستک دے کر اسٹاف روم میں داخل ہوئی۔۔ درجن بھر چھوٹے کیبنز سے سجا بڑا سا اسٹاف روم اس نے متلاشی نظروں سے تلاشا ۔۔ سر کامران سامنے اپنے کیبن میں ہی بیٹھے تھے۔ اسے دیکھ کر خوشدلی سے مسکرائے
    آئو بیٹا بیٹھو۔
    وہ ڈھیر سارے کاغذات میں الجھے ہوئے تھے۔
    کیسی ہو۔ انہوں نے یونہی پوچھا تھا مگر وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دی۔
    ٹھیک ہوں سر۔ انہوں نے اسکے جواب پر بغور اسکی شکل دیکھی۔
    موسم کی مناسبت سے موٹا کھدر کا گلابی سوٹ پہنے تھی جسکا دوپٹہ شال کی طرح لے رکھا تھا۔ چہرے کی رنگت دوپٹے کا ہالہ بھی گلابئ نہ کر سکا تھا ۔ وہ بالکل سفید چہرہ لیئے سپاٹ اور بےزار سے تاثرات سجائے بیٹھی تھئ۔ ۔۔ انہوں نے بشاش سے انداز میں مخاطب کیا۔
    تمہیں پتہ ہے تمہاری نظم ہوپ بین القوامی مقابلے میں ناصرف انعام جیتی ہے بلکہ ایک انٹرنیشنل فورم پر پڑھی بھی گئ ہے۔۔۔۔
    انہیں لگا تھا وہ خوشی سے اچھل پڑے گی۔ مگر وہ چپ چاپ کرسی کے ہتھے پر انگلی پھیرتی رہی۔
    کیا ہوا پریشان ہو۔ خوش نہیں ہوئیں؟
    سر کامران اسکے ردعمل پر متفکر ہوئے

    نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ وہ ذرا سا ہنسی۔
    سر ترجمہ تو آپ نے کیا تھا میں نے تو اردو میں لکھی تھی۔ وہ بات بدل گئ
    تو کیا ہوا۔ سر کامران نے کان پر سے جیسے مکھی اڑائی۔
    اصل تھیم اور کانسیپکٹ تو تمہارا تھا۔سچی بات یہ کہ اردو کی بد قسمتی ہے کہ یہاں اسکی ترویج کیلئے خاطر خواہ کام نہیں کیئے جاتے اگر انڈیا میں بھی ہوتیں نا تم تو یہ نظم تمہیں مشہور کر دیتی ادبی حلقوں میں۔ وہ اسکا حوصلہ بڑھانا چاہ رہے تھے۔
    اسکو کم از کم کسی ڈایجسٹ وغیرہ میں بھیجو دیکھنا چھپ جائے گی۔
    جی۔ اس نے سر ہلادیا۔ بحث میں نہیں پڑی۔
    اچھا میں نے تم سے کچھ پوچھنے کیلئے بلایا تھا۔ تم نے اسکالر شپ کیلئے اپلائی نہیں کیا کیوں؟
    وہ بھئ بات بدل کر بولے
    سر امی مری نہیں جانے دیتیں یونیورسٹی ٹرپ پر کوریا کہاں جانے دیں گئ۔
    وہ بےزاری سے بولی
    مگر مرتضی ایسا نہیں ہے۔ وہ ٹوک گئے
    تم نے مرتضی سے بات کی؟
    اس نے سر جھکا لیا۔
    کرکے دیکھو ۔ مرتضی مان جائے گا بھیجنے کو۔ وہ بچیوں پر پابندیاں لگانے والا انسان نہیں ہے۔ خاص کر پڑھائی کے معاملے میں تو بالکل نہیں۔ پھر یہ بہت اچھا موقع ہے تمہیں اعزازی ڈگری مل جائے گی ۔ کوریا کا تعلیمی نظام ایشیا کا سب سے بہترین تعلیمی نظام ہے وہاں کے انٹرنیشنل اسکول کی ڈگری دنیا میں مانی جاتی ہے۔ اور تم تو پی ایچ ڈی تک کے خواب دیکھتی ہو آگے کینڈا جا کر بھئ مواقع۔۔۔
    وہ اسے سمجھا ریے تھے وہ باتیں جو اسکی عقل میں بھی آتی تھیں مگر۔۔
    سر بات کی تھی بابا سے۔ وہ کہہ رہے تھے اگر سجاد اجازت دیں گے تو ہی میں جا سکتی ہوں۔ اس نے صاف بتا دیا۔
    وہ اسکے باپ کے بچپن کے دوست تھے ان سے کچھ چھپا نہیں تھا۔ وہ بچپن سے ان کی گود میں بھی پلی بڑھی تھی۔
    ہاں۔ وہ ذرا تھمے۔
    کہہ تو ٹھیک رہا وہ بھی۔ تو تم نے سجاد سے بات کی؟
    انکے سوال پر اس نے نفی میں سر ہلادیا
    کرو۔ وہ فورا بولے۔ سمجھدار انسان ہے سجاد کبھی منع نہیں کرے گا۔ پھر تمہیں کینڈا میں آگے تعلیم حاصل کرنے میں بھی فائدہ ہی ہوگا اس اسکالر شپ کا۔ بلکہ اسکو ایکسچینج پروگرام کہنا ذیادہ مناسب ہوگا۔ انکے پانچ طلباء یہاں آکر تعلیم حاصل کریں گے اور جوابا ہمارے پانچ وہاں جا کر۔ ہم تو دس بلا رہے تھے مگر پاکستان کوئی آنا ہی نہیں چاہتا۔اور مزید مضحکہ خیز بات یہ کہ پاکستان سے کوریا بھی جانے والے کم ہی لوگوں نے اپلائی کیا۔ اب کوریا کی شرط ہے دو لڑکیاں بھیجی جائیں۔ ایک لڑکی نے درخواست دی ہے بس اس اسکالر شپ کیلئے وہ بھی تمہاری سہیلی سنتھیا نے۔ اپنی امی کو بتائو سنتھیا بھئ جا رہی ہے مان جائیں گی۔
    وہ انکی لمبی تقریر کے جواب میں بس سر ہلاتی رہ گئ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈورم کا دروازہ کھولتے ہی وہ بری طرح چونکی
    کم چاگیا۔
    جی ہائے سامنے بنکر بیڈ کے لوہے کے ریلنگ پر الٹی سی لٹکی تھی۔ جیسے آسمان کی طرف اکڑوں بیٹھی ہو۔
    ڈرا دیا مجھے۔ گوارا دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی گھور رہی تھی۔
    جی ہائے اطمینان سے لٹکی تھئ۔۔۔۔
    ڈرا تو تم نےمجھے دیا ہے۔ جی ہائے اچھل کر قلابازی کھاتی سیدھئ زمین پر اتری۔۔
    یہ۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے ڈورم کے ساتھ جڑی رائٹنگ ٹیبل سے ایک پلندہ اٹھاکر اسکی جانب بڑھایا۔
    یہ کیا۔
    اس نے نا سمجھتے ہوئے پلندہ کھولا اندر سے اسکی فل سائز پورٹریٹ نکلی۔
    اسکے چہرے پر بے ساختہ جوش و خوشی پھیلی تھی۔ بیڈ پر آرام سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دیکھنے لگی۔ یہ اسکی تصویر تھی مکمل فوٹو شاپ مگر یہ گوارا ہے اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا۔ اسکی چندی آنکھوں پر گرے پپوٹے اب نسبتا اٹھ چکے تھے اسکی پھینی ناک ستواں ہوچکی تھی۔ اسکے بھرے بھرے ہونٹ لبا لب بھر کر انجیلینا جولی سے مقابلے پر اترے تھے اسکا گول چہرہ لمبوترا ہو گیا تھا۔
    یہ سب کرنے والے۔ اس نے تصویر ایک طرف رکھ کر پلندے کے اندر سے مزید کاغذات نکالے۔۔
    کوریا کی بہترین پلاسٹک سرجری کرنے والی کلینک کی جانب سے اسے مکمل پرپوزل بنا کر دیا گیا تھا جس میں اسکی شکل میں مندرجہ بالا تبدیلیاں کرنے کی لاگت بتائی تھی۔
    اور لاگت تھی۔
    صرف فیس لفٹ کے 5,397,130.00 وون
    اس نے آنکھیں پھاڑیں۔
    4,795,800.00 وون آئی لڈ کے۔۔
    اسکو پے درپے صدمے لگ رہے تھے۔
    کین چھنا۔۔ گوارا۔۔ اتنے پیسے تو ہیں تمہارے پاس بس یہ بوٹوکس۔۔۔خود کلامی۔۔۔
    صرف ہونٹوں پر وہ قربانی دے سکتی تھی۔ فی الحال اپنے چہرے پر یہ ہی مناسب لگتے تھے اسے بس۔
    پورے پیکج کے تو وون مجھ سے گنے نہ جا سکے دوبارہ پیدا ہونا پڑے گا تمہیں اسکی فیس اور سیشن کے پیسے جمع کرنے کیلئے۔۔۔۔ جی ہائے تولیہ سے پسینہ پونچھتی اسکے برابر بیٹھتی طنز سے بولی۔
    مگر یار پیسہ وصول کام ہوگا۔ دیکھو میں کتنی حسین لگنے لگوں گئ اس کے بعد۔
    وہ بڑے شوق سے تصویر دکھانے لگی۔
    حسین ؟ ۔جی ہائے نے پورٹریٹ ہاتھ میں لیکر دیکھا۔
    بالکل نہیں۔ تم ابھی اس سب کچھ سے ذیادہ۔بہتر لگتی ہو۔اتنے پیسے لینے کے بعد انہوں نے تمہیں یہ کارٹون بنانا تو بہتر ہے تم یہ پیسے مجھے دے دو۔
    وہ کہہ کر اپنے بیڈ کی۔جانب بڑھ گئ۔
    تمہیں پیسے چاہیئیں۔ گوارا اسکے برعکس سنجیدہ سی ہو کر اٹھئ۔۔
    دے۔ اس نے بیڈ پر گر کر ترنگ میں کہا تھا مگر گوارا کو۔متوحش سا ہوکر اپنے سر پر کھڑے دیکھا تو اٹھ بیٹھی
    تمہیں تمہارے آہبوجی نے ٹیوشن فیس نہیں دی ؟
    ہائش۔۔
    اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔
    دے دی ہے۔ اپنے سو کالڈ فرایض نبھاتے ہیں وہ۔۔
    اپنے ہر فرض سے منہ پھیر کر وہ یہ ڈرامے بازی جاری رکھے ہیں۔
    اسکا لفظ لفظ ذہر میں بجھا تھا۔
    ویسے آہجوشی پیار تو کرتے ہیں تم سے۔
    گوارا نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔ جی ہائے نے ترچھی نگاہ ڈالی
    کیہہ سوری۔۔ ( بکواس)۔۔ تم ذیادہ اس شخص کی وکالت نہ کیا کرو۔ اسے میرا یا میری ماں کا ذرہ برابر بھی خیال ہوتا تو دوسری شادی رچا کے میری ماں کو طلاق دے کر عیش نہ کررہا ہوتا۔۔۔۔ آیا بڑا۔۔ ( گالی)
    ہائش۔ گوارا نے سخت ناپسندیدگی سے دیکھا۔۔۔
    کوئی کہہ سکتا ہے کہ اتنی نرم مزاج اونچی آواز میں بات نہ کرنے والی جی ہائے اپنے باپ کے بارے میں بات کرتے اتنا سخت لب و لہجہ لحظے بھر میں اپنا لیتی ہے۔
    وہ سوچ کے رہ گئ۔ اس وقت اسے ٹوکنے کا مطلب مزید بھڑکانا ہی تھا۔
    اچھا یہ دیکھو مجھے لگتا ہے انہوں نے گال تھوڑے ذیادہ دھنسا دیئے ہیں۔۔
    گوارا اپنا پورٹریٹ اٹھالائی۔ جی ہائے نے افسوس بھرے انداز میں اسے دیکھا۔
    دنیا کی تم پہلی لڑکی ہوگئ جو پیسے دے کر اپنی شکل بگڑوائے گئ۔
    آئو باہر چلیں۔کافی پی کر آتے ہیں۔ گنگم تک۔
    جی ہائے کو اپنا موڈ خود ہی ٹھیک کرنا آتا تھا۔
    گنگم کیوں؟
    گوارا حیران ہوئی
    اسٹریٹ شو بھئ دیکھ لیں گے کوئی۔ جی ہائے سرسری سے انداز میں کہتی الماری کی جانب بڑھئ۔
    چلو۔ گوارا نے کہا ضرور مگر مزید پھیل کر اسکے بیڈ پر بیٹھ گئ تھئ۔اپنا بیگ نکال کر پیسے دیکھنے کے بعد جب جی ہائے نے سر اٹھایا تو اسے ڈھیٹ بنے دیکھ کر آگے بڑھی اور غصے سے اسکے ہاتھ سے پورٹریٹ چھینا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ہے۔
    سخت بیزار ہوئی تھی اریزہ۔ کمبل میں منہ چھپائے وہ درحقیقت پوری دنیا سے منہ چھپائے تھئ۔ سنتھیا نے آکر اسکے منہ پر سے کمبل کھینچا تھا۔
    اٹھو بہت سو لیں تم چلوباہر چلیں۔ سنتھیا نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ
    کہاں باہر ؟
    کوریا۔۔ سنتھیا کھلکھلائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گنگم کی سڑکوں پر شام کا لطف اٹھاتی زندگی۔ وہ دونوں ونڈو شاپنگ کر رہی تھیں۔ ہر اسٹال پر رک کر قیمتیں پوچھتے چیزیں اٹھاتے رکھتے کافی ختم کر رہی تھیں۔ سیول میں بہار کی آمد تھئ۔ خنکی کم ہو چکی تھی۔ قہوے ، تلے ہوئے پکوان کی خوشبو۔
    تھوڑا سا آگے جا کے اسٹریٹ شو ہو رہا تھا۔ غیر معروف نئے اسٹریٹ سنگرز اپنے موسیقی کے آلات لگائے کھڑے تھے۔ایک نوجوان جیکٹ پہنے کان میں بالی ڈالے اپنے لمبے پف والے سر کو جھٹکتا ریپ سانگ گا رہا تھا۔ اسکا ساتھی ایک جانب گٹار بجاتا اسے محظوظ انداز میں بک اپ کر رہا تھا۔ ایک جملہ یہ لڑکا بولتا دوسرا لڑکا خود کو کسی اسٹیج پر ہی سمجھ رہا تھا۔ گنگناتے ہوئے بہت اچھے اسٹیپس بھی اٹھا رہا تھا مگر اس خیال کے ساتھ کہ سانس نہ پھول جائے۔
    یا آئی ایم الائیو۔
    وکس کا موریم اسکول کا نیا ٹائٹل سانگ تھا یہ۔ جو گانا اس بینڈ کے آدھے درجن گلوکاروں نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے گایا تھا یہ اکیلا کھڑا سب کے انداز کی بھر پور نقل کر رہا تھا۔
    اس نے بند مکمل کرکے جھک کر سلام کیا تو سب نے بھرپور تالیاں بجا کر داد دی۔
    تھیبا۔ اعلی۔
    جی ہائے نے بے حد خوش ہو کر داد دی تھی اسے۔
    ایک جانب خوبصورت سا باکس نذرانے کیلیئے رکھا ہوا تھا جس میں تمام شائقین خوشی خوشی پیسے ڈال رہے تھے۔ ریز گاری یا بڑے نوٹ۔ اپنی خوشی یا مرضی سے۔ جتنا جو چاہے۔ کوئی قیمت نہیں۔نہ بھی دو تو بھی چلے گا۔ یہ بھیک نہیں مانگ رہے۔ اپنے ہنر اپنی صلاحیت کا خراج وصول کر رہے ہیں۔ وصولی انکا حق کتنا ملے گا دینے والے کا ظرف۔
    ہائئ اسکولر لگ رہے۔۔
    گوارا نے ان چار پانچ لڑکوں کو دیکھتے تبصرہ کیا جو اب اپنے ساز سمیٹ رہے تھے۔ سب کے چہروں پر نوعمری تھی۔
    مجھے ہائی اسکولرز پر ضرورت سے ذیادہ ترس آتا ہے۔ اور یہ لڑکا باصلاحیت بھئ ہے۔ دینا بنتا ہے۔ گوارا نے فورا اپنا والٹ نکال کر نسبتا بڑا نوٹ نکال کر آگے بڑھ کر انکے شیشے کے باکس میں ڈالا۔ گوارا جیسے ہی ہٹی جی ہائے نے اپنے بیگ سے خاکی لفافہ نکالا اور اس ڈبے کی درز میں گھسیڑنے لگی۔ لفافہ بھاری تھا اس چھوٹی سے درز سے پار نہ ہوسکا۔ اس نے زور لگایا۔ وہ لڑکے انکی۔جانب متوجہ ہوئے
    کیا کر رہی ہو ؟ گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔
    جی ہائے نے باکس پر زور لگانا جاری رکھا۔
    نونا کیا کر رہی ہیں یہ ٹوٹ جائے گا۔
    باکس نازک سا تھا وہ لڑکے بھاگ کے انکے پاس آئے
    اس میں صرف کیش یا کوائنز ڈالیں۔
    ایک نے ٹوکا جوابا جی ہائے نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔ اور وہ لفافہ نکال کر انکی جانب بڑھا دیا۔
    تھوڑے سے تو بچا لو۔
    گوارا منمنائی۔۔
    یہ کیا ہے۔ اس نوعمر لڑکے نے حیرت سے لفافہ تھاما۔ ذرا سا کھول کے دیکھا تو گنگ سا رہ گیا۔ بھاری موٹی بڑے نوٹوں کی گڈی۔
    اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اتنی بڑی رقم تھما رہی ہے۔
    نونا۔ وہ بے یقینی سے دیکھ رہے تھے
    تم سب کی کارکردگی بہترین تھی مجھے بے حد پسند آئی۔ یہ چھوٹا سا تحفہ ہے۔ تم لوگ ہمت نہ ہارنا ایکدن ضرور کامیاب ہوگے فائٹنگ۔
    جی ہائے نے پرخلوص سے انداز میں ان بچوں کو کہا۔ گوارا ہکا بکا سی کھڑی تھی البتہ وہ بچے بے حد خوش ہوئے
    گھمسامنیدہ۔
    تینوں چاروں نے آدھا جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔ انکے معصوم چہرے دمک اٹھے تھے۔جانے کتنے دن کی کمائی انکو یوں اچانک تحفتا مل گئ تھئ۔ نونا یقینا بڑے دل والی تھی۔
    انکے خوشی سے دمکتے چہرے دیکھ کر جی ہائے کو دلی سکون ملا تھا۔
    کھاجا۔ ( چلو) وہ جیسے ہلکی پھلکی سی ہو کر گوارا سے بولی
    آہش۔ گوارا نے مڑ کر جشن مناتے ان لڑکوں کو دیکھا پھر سر پیٹنے والے انداز میں بولی
    پچھلی بار وہ بے گھر آہجومہ اس سے پچھلی دفعہ یتیم خانہ اس سے پچھلی دفعہ۔۔
    وہ جیسے ایک ایک بار گنوانے لگی تھی۔ جی ہائے نے گھورا
    ہاں میں ہر دفعہ ہی یہ رقم ایسے ہی کسی کو دیتی ہوں۔پھر؟

    تمہیں اگر یہ پیسے استعمال نہیں کرنے ہوتے تو آہجوشی کو منع کیوں نہیں کر دیتیں یہ پیسے بھیجنے سے ؟
    گوارا کی بات میں وزن تھا۔جی ہائے نے گہری سانس لی۔
    چہ۔ کیوں منع کروں۔؟ یہ میرا حق ہے جو وہ مجھے بھیجتے ہیں یہ پیسے میں استعمال نہیں کرنا چاہتی جبھی انکو آگے کسی اور کو دے دیتئ ہوں۔ کم ازکم یہ پیسے انکی دوسری بیوی بیٹییوں یا اس سوکالڈ انکے مقصد پر خرچ نہیں ہوتے۔ وہ پیسے کسی نئے آہجوشی کو اپنی طرح بنانے پر خرچ نہیں کر پاتے۔ کم از کم ان پیسوں سے کوئی نئی جی ہائے اپنے باپ کو کھونے نہیں والی۔ کم ازکم
    وہ بولتے بولتے فرسٹریٹ سی ہو کر چلااٹھئ ۔۔
    گنگم کی اس گنجان سڑک پر سینکڑوں لوگ آ جا رہے تھے۔
    ترقی یافتہ مصروف زندگی گزارنے والے اس شہر کے باسیوں نے لحظہ بھر کوبھی رک کر اس چلا اٹھنے والی لڑکی کو دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔ ہوگی کوئی وجہ جو چیخی ہمیں کیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دائیں بائیں سامنے سب گھروں کی چھتوں پر اندھیرا تھا
    اسکے کمرے سے ملحقہ اس کھلے سے ٹیرس کی گیلری سے جھانکتے باتیں کرنا ان دونوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
    باہر سے مراد سنتھیا کا گھر سے باہر بھی مراد نہیں تھا۔ ٹیرس تو گھر کا ہی حصہ۔ہوتا ہے نا۔
    ریلنگ پر بازو ٹکائے کھڑے وہ سامنے والے گھر کی چھت سے جھانکتئ اس سفید بلی کو گھورتی رہی۔ جو اندھیرے میں بھی خوب چمک رہی تھی۔
    کاش میں بلی ہوتی۔
    اس نے حسرت سے دیکھا جو ایک۔جست لگا کر اس گھر پھر دوسرے گھر اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل۔
    مجھے تمہارے گھر آکر کبھی یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ میں مہمان کے طورپر کسی کے گھر آئی ہوں۔
    سنتھیا بڑبڑاتے ہوئے ٹرے تھامے ٹیرس میں آئی تھئ۔
    اریزہ نے مڑ کر دیکھا۔ اس نے ٹرے لا کر ٹیرس میں رکھی لوہے کی میز کرسی پر رکھی۔
    کینڈی بسکٹس کا رول اور دو کپ کافی۔۔۔
    کبھئ تو خاطر مدارت کر دیا کرو میری۔
    سنتھیا مظلوم سی شکل بنا کر کرسی پر بیٹھی پھر فورا ہی کھڑی بھی ہوگئ۔ اریزہ نے کمرے سے آگے شیڈ میں لگی دیوار گیر الماری سے سیٹس اور کشن نکال کر لا کر رکھے۔
    کین کا صوفہ رکھوانا چاہیئے تھا یہ لوہے کا پنجر کیوں بنوا لیا۔
    سنتھیا نے اسکے ہاتھ سے سیٹ اور کشن چھینا
    محترمہ ہم پنڈی میں رہتے ہیں بارشیں ہوتی ہیں یہاں۔کین کا صوفہ رکھواتی تو ہر دوسرے دن مجھے اندر کرنا پڑتا اسے۔
    اریزہ اپنی نشست ٹھیک کرتے ہوئے جتا کر بولی۔۔
    محترمہ مت کہا کرو مجھے۔ سنتھئا نے منہ بنایا۔ کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا۔۔۔
    اریزہ نے بھی اسی وقت گھونٹ بھرا تھا
    سنتھیا کے چہرے پر لطف اٹھانے والے تاثرات آئے تھے اور اریزہ نے برا سا منہ بنایا
    دودھ ہی گرم کرکے لے آتیں ۔کافی ڈالنے کی زحمت ہی کی۔
    اس کو کڑک چائے کڑک ہی کافی پسند تھی۔ جبکہ سنتھیا الٹ تھی۔ کینڈی بسکٹ ڈبوتے چسکے لےرہی تھی۔ ذیادہ میٹھا اسکی کمزوری تھئ۔
    مزا آگیا۔ آج تو غلطئ سے آدھا چمچ کافی۔ڈل۔گئ تھئ مجھے لگا تھا کڑوی ہوجائے گی۔مگر شکر ہے دودھ ذیادہ ڈالنے سے ذائقہ۔ٹھیک ہو گیا۔
    سویٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس سنتھیا آلتی پالتی مار کر صوفہ نما اس لوہے کے پنجر پر سکون سے بیٹھی بسکٹ ڈبو ڈبو کر اب اسے جان بوجھ کے چڑا رہی۔تھئ۔۔ اریزہ نے گرم شال اپنے گرد لپیٹئ۔سویٹ شرٹ پینٹ میں وہ بھی ملبوس تھی مگر اسے ٹھنڈ ذیادہ لگتی تھئ۔
    تمہیں کچھ ذیادہ ہی سردی لگتی ہے۔ کینڈا میں کیا کرو گی وہاں تو سنا ہے برف پڑتی ہے ۔۔
    سنتھیا نے یونہی کہا تھا اریزہ کا منہ سوکھتا گیا۔۔
    ایک تو۔
    وہ بسکٹ منہ میں ڈالتی ہاتھ جھاڑتی سیدھی ہوئی
    مجھے یہ۔بتائو کہ جب سجاد اتنا برا لگتا ہے تو انکار کیوں نہیں کیا اس رشتے سے؟ کتنا کہا تھا انکل سے میں بات کرتی ہوں۔
    یہ بات نہیں ہے۔ اس نے بےزاری سے ٹوکا۔
    اور ویسے بابا اور اماں دونوں کو سجاد پسند آگئے تھے۔ بابا سے بات کرنے کا کیا فائدہ تھا۔میرا کونسا کوئی افئیر چل رہا تھا جس کے لیئے میں انکو مناتی ۔
    پھر ؟ سنتھیا کا سوال وہیں تھا۔
    پھر کیوں اتنا سا منہ نکلاہواہے تمہارا۔
    وہ اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
    آج کامران سر بھئ کہہ رہے تھے مجھے اسکالر شپ۔کیلئے اپلائئ کرنا چاہیئے۔یہ بھی کہ وہ باباسے خود بات کریں گے وغیرہ۔ تم تو جانتئ ہو مجھے نیوز اینکر بننا ہے مجھے خوب پڑھنا ہے قابل بننا ہے بلاگنگ کرنی ہے میں چاہتی ہوں اریزہ زہرا جب کچھے لکھے تو ایک دنیا پڑھے، کہنے لگے تو ایک دنیا اسکی سنے۔ مگر میری تو اس سب سے پہلے ہی شادی ہونے لگی ہے۔۔
    وہ حقیقتا آنکھوں میں آنسو بھرے کہہ رہی تھی۔ سنتھیا کے دل پر بوجھ سا اگرا۔
    جو اریزہ کو چاہیئے تھا اسے پلیٹ میں رکھ کر ملا تھا۔۔
    اسے اسکالر شپ کا فارم بھرتے اپنی بے زاری یاد آئی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
    لائبریری میں میز پر درجنوں کاغذوں کے بیچ ایڈون اسکے کان کھا رہا تھا یہاں یہ لکھو وہاں وہ ۔ اس نے پین پٹخ دیا۔
    کیا فائدہ ہے کوریا جانے کا۔ یہی ڈگری یہی سب ہم یہاں بھی پڑھ رہے ہیں ۔ اور تم تو چلو سمجھ آتا ہے صحافی بننا ہے تمہیں میں یہ ڈگری لے ہی بس تمہاری وجہ سے رہی ہوں نا مجھے کوئی کیریئر بنانا نہ مجھے آگے پڑھنا بس گریجوایشن ہوجائے کافی ہے میرے لیئے۔
    میرے لیئے کافی نہیں۔ ایڈون خاطر میں نہ لایا۔
    میں نے ہر قیمت پر جانا ہے اور میں تمہیں بھی ساتھ لیکر جائوں گا۔۔ کیاکروں گا یار میں وہاں اکیلے۔
    اس نے معصوم سی شکل بنا کر اکسانا چاہا۔
    مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے۔ تم کوریا جائو ہم روز باتیں کیا کریں گے بلکہ اسکائپ پر وییڈیو چیٹ بھی کریں گے۔
    اس پر اثرہوا تو تھا مگر بے نیازی سے بولی۔
    تمہیں کیا پریشانی ہے میں ہوں نا۔ ہم دونوں اکٹھے وہاں پڑھائی کریں گے۔۔
    ایڈون چڑا۔
    یہی تو۔ وہاں صرف تم ہوگے یہاں میری فیملی بہن بھائی سہیلی۔ میں ان سب کے بغیر کیسے رہوں گی۔
    اس نےمسمسی سی شکل بنائئ
    سر کامران اریزہ کے پاپا کو منا لیں گے انہوں نے کہا تھا۔ تمہاری سہیلی جائے گئ ہمارے ساتھ۔۔۔ اور جو یہ بہانے کر رہی ہو۔؟ میں کچھ نہیں ؟ وہ۔خفا ہوا۔
    بعد میں بھئ تو سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس آنا ہوگا۔۔ شادی نہیں کروگی کیا مجھ سے۔
    بولتے بولتے اسکا لہجہ گمبھیر ہوتا گیا۔ گہری سیاہ آنکھیں اس پر پرشوق سی نظریں جما کر گھورتا ایڈون۔ اسکی سانولی رنگت میں بلا کی ملاحت تھی ہمیشہ اسکا مددگار رہنے والا سادہ پرخلوص ساتھی۔ جس کے پیار پر اسکو کوئی شبہ نہ تھا جبھی اسکی پر حدت نگاہوں نے اسکا دل پگھلانا شروع کردیا تھا۔ اسکے سانولے گالوں پر سرخی سی لہرائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیلو؟ کہاں کھو گئیں میڈم؟
    اسے سوچوں میں گم دیکھ کر اریزہ نے چٹکی۔بجائی۔
    وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔ پھر بولی
    یار میں بھی تو جا رہی ہوں تم آنٹی کو بتائو نا۔ انکو یہی مسلئہ نا اتنی دور تمہیں اکیلے نہیں بھیجنا ؟
    ہاں کینڈا تو جیسے اشفاق صاحب کے گھر کا نام ہے۔
    اس نے پڑوسی انکل کا نام۔لیا۔۔
    مسلئہ دور بھیجنے کا ہے ہی نہیں۔ میں ہوں امی کی واحد اکلوتی ذمہ داری جسے سر سے اتار دینا چاہتی ہیں وہ بس اور کچھ نہیں۔
    اریزہ نے بدمزہ کافی کا بڑا سا گھونٹ بھر کر مزید کڑوا سا منہ۔بنایا۔
    تم سجاد بھائئ سے بات کرو پڑھے لکھے ہیں انکو اپنے ایمز ایمبیشنز بتائو کینڈا میں رہتے ہیں اتنے دقیانوسی تو نہ ہوںگے۔ مجھے یقین ہے مان جائیں گے۔
    سنتھیا کے انداز میں جوش در آیا۔ اریزہ نے منہ بنایا
    ایک تو سب کو یقین ہے کہ سجاد مان جائیں گے۔۔۔۔
    بات تو کرکے دیکھو۔
    سنتھیا نے اکسایا۔
    اس نے لمحہ بھر سوچا پھر سر ہلادیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آرام سے لیٹے ایل ای ڈی میں نیٹ فلیکس کی کوئی سیریز دیکھ رہے تھے۔ جب انکا فون بجا۔
    نمبر انجان تھا۔
    ہیلو۔ انہوں نے ریموٹ سے والیم کم کیا۔۔
    ہیلو سجاد میں اریزہ بات کر رہی ہوں۔۔
    وہ تھوڑا سا جھجک۔کر بولی۔۔
    ہاں اریزہ کیسی ہو۔
    وہ نو عمر لڑکے تو تھے نہیں۔ اگلے ہفتے نکاح تھا ان دونوں کا اگر وہ بات کرنا چاہ۔رہی تھی تو یقینا یہ۔کوئی اچنبھے کی۔بات نہیں تھی۔
    میں ٹھیک ہوں آپ۔۔۔۔۔
    اسکے الفاظ منہ میں اٹکنے لگے۔ دل زو رزور سے دھڑکنے لگا۔
    میں بھئ ٹھیک ہوں۔ وہ نرم سے انداز میں بولے۔ اسے بولنے کا۔موقع دینا چاہتے تھے۔
    دراصل۔۔ اس نے تھوک نگلا۔۔ سنتھیا جو اسے گھور کر دیکھ رہی تھی اشارے سے اسے بولنے کا کہنے لگی۔۔
    وہ ایک بات پوچھنی تھئ آپ سے۔۔
    اس نے کہہ دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں بیڈ کرائون سے ٹیک لگایے منہ لٹکائے بیٹھی تھیں۔
    اگلے ہفتے نکاح ہے کہہ تو صحیح رہے ہیں وہ۔
    سنتھیا نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ اسکی۔جانب سے سخت ردعمل کا خطرہ تھا مگر بچت رہی ۔ وہ فون کے بعد سے یونہی چپ تھی۔ سنتھیا سے رہا نہ گیا۔
    آگے ہو کر اسکے مقابل آن بیٹھی
    دیکھو سجاد مجھے اچھے لگے۔ انہوں نے تم سے سبھائو سے بات کی ہے۔ پوری بات سنی ہے تمہاری۔ وہ صحیح کہہ رہے ہیں کہ تمہاری ڈگری بیچ میں رہ ہی جانی ہے چاہے تم یہاں پڑھو یا کوریا جائو۔ بہتر یہی ہوگا کہ تم اپنے پیپرز بنوانے تک انتظار کرو کینڈا جا کر ایک سے ایک بہترین یونیورسٹی میں داخلے کا موقع ہوگا تمہارے پاس۔ وہاں جا کر داخلہ لینا۔ کونسا کوریا کہاں کا۔کوریا۔ سب پانی بھرتے ہیں کینڈا کے آگے۔
    سنتھیا اسے بہلا رہی تھئ۔ وہ مسکرادی۔
    ایک بات کہوں۔۔
    اس نے سنتھیا پر نظر جماتے ڈرامائی وقفہ لیا۔
    سجاد مجھے بھی آج اچھے لگے۔
    وہ ہنس دی۔
    رئیلی۔ سنتھیا۔خوش ہو گئ۔
    ہاں یار۔ مجھے تو ایروگنٹ سے لگتے تھے اوپرسے منگنی والے دن تو صحیح کھڑوس بنے ہوئے تھے مگر آج۔۔آج احساس ہوا کہ وہ ۔۔۔
    وہ بولتے بولتے شائد شرما گئ تھئ۔
    آہاں۔ ایسا کیا احساس ہوا میری بنو۔۔
    سنتھیا شرارت سے کہتی اسے گدگدانے لگی۔
    نہ کرو۔۔ سنتھیا کی بچی۔
    وہ ہنستے ہنستے بے حال۔ہو رہی تھی۔
    چپکے چپکے اور کیا باتیں کر ڈالیں ذرا ہمیں بھی بتائو۔۔۔۔
    سنتھیا مائل بہ شرارت ہوئی۔۔
    ارے خوامخواہ۔۔ اریزہ مصنوعی خفگئ سے کہہ رہی تھی
    کچھ تو کہا ہے وہ جب آہستہ آہستہ بولنے لگی تھیں تم۔۔ سنتھیا کہہ رہی تھی۔۔
    انکی ایک ایک۔بات کان لگا کر سننے والی سنتھیا کو رومانس تو نظر نہیں آیا تھا مگر انکا نرم لب و لہجہ اگر اسکی سہیلی کا دل موہ گیا تھا تو بس اتنا ہی کافی تھا۔۔ ہے نا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آئو گنگشنا۔۔ بیٹھو۔
    آہبوجی۔سگار منہ میں دبائے اپنی میز پر فائلوں میں الجھے بیٹھے تھے جب وہ ہلکی سی دستک دے کر اندرچلی آئیں۔
    آہبوجی نے ذرا کی ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھا تھا۔
    ابھی بھئ فائل پر۔نگاہ گاڑے تھے۔ گنگشن جز بز سی ہونے لگیں۔
    تم نے آگے کا کیا سوچا ہے؟
    وہ فائل سے نگاہ اٹھا نہیں رہے تھے۔
    وہ اس سوال کا مقصد سمجھ نہیں پائی تھیں۔۔ سو جواب دینا مناسب نہ لگا۔ آہبوجی نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر فائل۔بند کرکے میز پر رکھے شراب کے چھوٹے سے گلاس کو اٹھا کر گھونٹ بھرتے انکو پرسوچ نظروں سے دیکھتے رہے۔

    اپنی حماقت سے تم طلاق تو لے چکی ہو اب دوسری شادی کرنے کا کیا سوچا۔۔
    انکے جملے تھے سفاک آری۔ انہوں نے شاکی نگاہ سے اپنے باپ کو دیکھا جس کی زبان کے زخم انکو اپنی روح میں محسوس ہوتے تھے۔
    میں نے آپکو صاف بتایا ہے کہ وہ شخص۔۔۔
    انہوں نے تڑپ کر ہزار بار کی اپنی دی گئ صفائی دوبارہ دینا چاہی۔
    خیر۔۔
    انہوں نے ہنکارہ۔ بھرا۔
    اپنے لیئے کوئی فیصلہ کرلو۔ اور ہایون کو منائو کہ امریکہ جائے اس میڈیا ویڈیا میں کچھ نہیں رکھا۔مجھے اپنی اس بزنس ایمپائر کو چلانے کیلئے ایک ٹرینڈ ذہن درکار ہے۔
    میں اسکو۔۔۔
    ہایون ہی کیوں؟
    ۔ گنگشن تیز ہو کر بولیں۔
    میں بھی آپکی اولاد ہوں۔ آپکے حسب خواہش بزنس ہی پڑھا ہے میں نے۔ مجھے آپ کیوں نہیں۔۔۔
    کیا بکواس لے بیٹھی ہو۔ انہوں نے بےزاری سے بات کاٹی
    تم جیسی جزباتی لڑکی بزنس کے معاملات بھی ذہن سے ذیادہ دل سے حل کرتی۔ ایک شادی تک کا معاملہ تم سے نبھایا نہ جا سکا۔پورا کاروبار۔ انہوں نے سر جھٹکا۔
    گنگشن اٹھ کھڑی ہوئیں
    آہبوجی میں ہزار دفعہ آپکو بتا چکی ہوں کہ مجھے شادی کا طعنہ مت دیا کریں۔ کیایہی سب کہنے کیلئے بلایا تھا آپ نے مجھے؟
    ظاہر ہے نہیں۔ اسکے تنتنے کو وہ کبھی خاطر میں نہیں لائے تھے۔
    ہایون تمہاری بات مانتا ہےاسے منائو۔ مجھے اگلے چھے مہینے میں وہ ہر قیمت پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرتا چاہیئے۔
    ہایون بزنس نہیں پڑھنا چاہتا۔
    وہ کبھی اپنے لیئے باپ کے آگے نہیں کھڑی ہوئی تھیں مگر ہایون کیلئے وہ دنیا سے لڑ سکتی تھیں
    آپکے کہنے پر اسے انٹرنیشنل اسکول میں داخلہ لینے پر مجبور کیا میں نے انگریزئ بھئ سیکھتا ہے وہ مگر میں اسے اسکے ناپسندیدہ مضامین پڑھنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
    وہ اٹل انداز میں بولیں۔
    جب ان مضامین کی فیس دینے کے قابل نہیں رہے گا تو وہ وہی۔پڑھے گا جس کی فیس دی جا چکی ہوگی۔
    آہبوجی نے بوتل سے مزید ایک جام بنایا تھا۔
    گنگشن مٹھیاں بھینچ کر رہ گئئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے ہر کوشش کر لی تھی۔ اب سب معاملہ۔خدا پر چھوڑنے لگی تھی۔ خوب دل سے نماز پڑھ کر خدا کی۔بارگاہ میں ہاتھ اٹھا لیئے۔
    یا اللہ میرے دل کے نہاں خانوں میں چھپے رازوں سے بھی واقف ہے تو۔ مجھے پر رحم کر ۔ جو تو بہتر سمجھ میرے لیئے وہ کردے۔ مجھے سجاد اچھے نہیں لگتے تو برے بھی نہیں لگتے ۔ یہ فیصلہ میرے والدین میرے لیئے کر رہے ہیں تو مجھے اس پر راضی برضا کر دے۔ میرے نصیب میں اگر اینکر بننا نہیں لکھا تو ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی۔ بس تو مجھ پر رحم کردے۔۔۔۔یا مجھے اینکر بنا دے۔ تو تو سب کر سکتا ہے۔
    وہ۔یونہی ہمیشہ دعا مانگا کرتی تھئ دل سے باتیں کرتی تھی
    اکیلےکمرے میں نماز پڑھتے تو بڑبڑا کر دعا مانگتی تھی۔ بس دل۔کو جیسے تسلی ملتی۔تھی کہ جیسے خدا سن رہا ہے۔ ابھی بھئ خوب جزب سے دعا مانگ کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ خوب لمبا سجدہ کیا اٹھئ نماز تہہ کی مڑ کر دیکھا تو صارم اسکی اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھا غور سے اسے دیکھ رہا تھا
    تم۔کب آئے۔
    وہ دہل گئ تھئ
    ابھئ۔۔۔۔ ۔ تمہارے روم کا دروازہ کھلا تھا ۔۔ اس نے جیسے وضاحت کی۔
    تم اینکر بننا چاہتئ ہو؟۔ وہ پرسوچ اندازسے دیکھ رہا تھا۔
    ۔ سب سن لیا کمینے نے۔ دل میں اسے کوس کر رہ۔گئ۔
    ہاں تو۔ اسےخفت محسوس ہو رہی تھی
    یوں دعائیں مانگنے کی بجائے اپنے ابا کو کہنا تھایہ۔
    صارم چڑا۔
    کیا ؟ وہ حیران ہو کر پوچھنے لگی۔
    یہی کہ تم نے اینکر بننا ہے۔ سجاد سے شادی کرکےکونسا اینکر بننا ہے تم نے؟ نوکرانی لیکر جا رہی ہیں نعمانہ خالہ۔
    کینڈا لیجا کر جھاڑو پوچھا کروائیں گی بن گئیں تم اینکر دعائیں مانگ مانگ کے۔
    وہ سخت چڑا ہوا تھا جیسے اسکے انداز پر ہنسی آگئ اسے۔
    دعائیں عرش ہلا دیتی ہیں۔ انکو کم مت سمجھو۔
    اس نے یونہی کہا تھا۔
    مگر تقدیر بدلنے کیلئے محنت اور کوشش کی بھی تاکید ہے۔
    صارم کے پاس بھی مضبوط دلیل تھئ۔
    وہ چپ سی ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئ۔
    میں بابا اماں کو معمولی سا بھی پریشان نہیں کرسکتی۔ انکا اب میرے سوا ہے ہی کون۔ حماد بھائی ہوتے تو اور بات تھئ۔۔ اسکی بات پر صارم نے تاسف سے اسے دیکھا۔

    میرے پاس بس ایک راستہ تھا لڑنے ہٹ دھرمی دکھانے کا اسکی بجائے مجھے یہی بہتر لگا کہ سمجھوتہ کرلوں۔
    اسکی آنکھوں بھر آئی۔تھیں۔ سمجھوتہ اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔۔
    صارم اٹھ کر اسکے برابر آن بیٹھا
    ویسے سجاد بھائئ ہیں اچھے۔ بس تھوڑا سا غصہ ور ہیں۔
    ہوں۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
    تھوڑے سے عمر میں بڑے ذیادہ ہیں۔ باقی شکل ٹھیک ہے۔
    ہوں۔ وہ پھر سر ہلا رہی تھی۔
    تھوڑے سے کالے ذیادہ ہیں کینڈا میں رہ کر بھی اتنے کالے یہاں ہوتے تواندھیرے میں نظر نہ آتے۔
    ہوں۔ اریزہ نے ترچھی نگاہ ڈالی۔
    قد اچھا ہے مگر تمہیں پتہ ہے توند نکل رہی ہے انکی۔
    وہ بھولپن سے بول رہا تھا۔ اریزہ نے رخ پھیر کر اپنا تکیہ قبضے میں کیا۔
    انگریزی اچھی ہے انکی مگر اردو بولتے بالکل گرائیں لگتے ہیں ۔۔ عجیب لہجہ۔
    اسکے منہ پر تکیہ لگا وہ اچھل کر کھڑا ہوا۔۔
    اور۔ اتنے کنجوس ہیں کہ آئی فون کا لیٹسٹ ماڈل آئے مہینہ ہوگیا ابھی تک خریدا۔۔اور
    پے در پے اریزہ کے بیڈ پر رکھے سب کشن تکیئے اسکی جانب اڑتے ہوئے آتے گئے چہرے پر شرارت لیئے۔ وہ بمشکل ان سے بچ رہا تھا مگر بولنے سے باز نہیں آرہا تھا۔
    اریزہ سائیڈ ٹیبل کے گلدان کی جانب بڑھی تب بھاگا تھا وہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈارک میرون میکسی شرارے میں نک سک سے تیار وہ کیا مکمل دلہن لگ رہی تھی گوری رنگت دمک رہی تھی روشن پیشانی پر نازک سا ٹیکا سرخ لب دلہناپے کا روپ یہ تو کوئی اور ہی اریزہ تھی ۔۔ سنتھیا اپنا ہیئر اسٹائل بنوانا بھول کر اسکے پاس اٹھ آئی۔
    نازک سی ستواں ناک میں چپکانے والی نتھ لگانے کی کوشش میں بیوٹیشن اسکی ناک سوجا چکی تھی۔۔
    رہنے دیں نتھ۔ ناک سوج گئ ہے اسکی۔ سنتھیا نے اسکی جان چھڑائئ۔پھر اس سے لپٹ کر جھولا دے ڈالا
    ماشااللہ اتنی پیاری لگ رہی ہو ایکدم حسینہ۔۔۔
    بےساختہ اس نے گال چومنا چاہا پھر خیال آیا۔ ۔میک اپ بیس پر لپ اسٹک کا نشان لگتا تو بیوٹیشن نے اسکی شکل بگآڑ دینی تھی ابھی تو اسکا اپنا دل اچھل۔کر حلق میں آیا۔لگتا تھا۔اسے بری طرح گھور رہی۔تھی۔ اس نے بے نیازی سے رخ پھیرا فورا موبائل سے ایک تصویر بھی کھینچ ڈالی
    دلہن بنی ہوئی منہ پھلائے اریزہ اور پائوٹ بنائے سنتھیا۔۔۔
    میک اپ خراب ہو جائے گا۔۔۔
    بیوٹیشن منمنائی
    میری ناک چینئ ناک بن گئ ہے چپٹی نہیں لگ رہی سوج کے۔
    اس نے کراہتے ہوئے ناک دبائی
    کنٹورنگ کا بیڑا غرق۔ بیوٹیشن کندھے اچکا کر رہ گئی۔۔۔
    سنتھیا نے موبائل سنگھار میز پر رکھا پھر ناقدانہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
    یہاں سے کنٹورنگ ٹھیک نہیں۔۔
    ظاہر ہے۔ بیوٹیشن بڑبڑا کر رہ۔گئ۔
    آپ اپنا میک اپ۔تو کروالیں۔
    اسکی ساتھی بیوٹیشن نے یاد دہانی کروائی مگر سنتھیا ناقدانہ نظروں سے اریزہ کو دیکھ رہی تھی۔

    یہ یہاں سے ڈارک لگ رہا ہے۔
    ۔اس نے ہدایات دینی شروع کی پھر بیوٹیشن کے ہاتھ سے برش لے کر خود شروع ہوگئی
    ٹچ اپ کے بعد اسکا روپ دو آتشہ ہو چکا تھا۔
    وہ اب ماہر کیمرہ مین بنی اسکی ہر ذاویئے سے تصویر لے رہی تھئ۔
    بس کرو۔ اریزہ کو۔ہنسی آگئ۔
    اسکے ہنسنے پر سنتھیا کا ڈی ایس ایل آر حرکت میں آیا اور یہ منظر بھئ قید ہوا۔
    یارکپل فوٹو شوٹ تو کروانا تھا۔ ایڈون کا فرینڈ اتنا اچھا پیکج دے رہا تھا۔
    سنتھیا کو افسوس ہورہا تھا
    گھر میں بیوٹیشن کی ٹیم تو انہوں نے اچھی منگوائی تھی
    مگر فوٹو شوٹ وہ خود تو پروفیشنل نہیں کرسکتی تھی۔
    سجاد کئ امی کو نہیں پسند۔نکاح سے قبل کوئی شوٹ نہیں ہوگی ۔۔
    اریزہ کو خود بھی اعتراض نہ ہواتھا۔ اسے جانے کیوں ابھی بھی سجاد کی شکل۔دیکھ کر ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوتے محسوس ہوتے تھے۔۔
    تیار ہوئی نہیں تم لوگ۔۔
    امی بھی چلی آئیں بیٹی پر نظر پڑی تو دیکھتی رہ گیئں مگر منہ سے تعریف نہ نکلی الٹا ٹوک دیا
    لپ اسٹک تو ہلکی کرو۔ اتنی تیز لگا دی ہے دلہن۔۔۔
    وہ روانی میں بولتے ٹھٹکیں۔۔
    دلہن ہی تو ہے۔۔۔
    انکی آنکھیں جھلملا گئیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاتھوں میں ان ہاتھوں میں لکھ کے مہندی سے سجنا کا نام۔۔۔
    فل آواز میں چلتا ڈیک۔۔۔ سہج سہج کر چلتی دلہن اسپاٹ لائٹ کے فوکس میں مومی گڑیا سی اریزہ ایک لمحے کو سجاد کی نظر پلٹنا بھول گئی۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا اب اسے اسٹیج پر لایا جارہا تھا دو کزن سب سے آگے بکے تھامے چل رہے تھے تو بہنوں اور سہیلیوں نے اسے تھام رکھا تھا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی لہنگے کو تھام کر اسٹیج پر چھڑھتے وہ پہلی سیڑھی پرچڑھی ۔۔۔ سجاد جو اسکو آتے دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا آگے بڑھ کر اسے سہارا دینے لگا ۔۔۔ اسے نہیں معلوم تھا ذرا سا ہاتھ وہ بھی اپنی بیوی کا تھام لینا اتنی بڑی بات بن جائے گی اسکی سہیلیوں اور کزنوں نے زوردار اوووہ کی تھی پھر ہوٹنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔۔۔ گھونگھٹ کی اوٹ سے اریزہ کے چہرے پردمکتی مسکراہٹ بھی اسے نظر آگئ تھی
    اس طرح موضوع بننا اسے پسند نہیں آیا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پیشانی پر ایک نا گواری کی شکن آہی گئی تھی۔۔۔
    اسٹیج پر بیٹھتے ہی رسموں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا دودھ پلائی کیلئیے سنتھیا اور اسکی ایک اور کزن آئی تھیں
    ڈیڑھ لاکھ مانگے تھے
    اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
    کس طرح پیمنٹ چاہیے ؟ کریڈٹ کارڈ کیش یا چیک۔۔۔ سنتھیا تو ایک لمحہ چپ ہی رہ گئ
    پھر مسکرا کر بولی
    ابھی جتنا بھی کیش دے سکیں چلے گا
    ۔۔۔ اس نے والٹ کھولا جتنے بھی نوٹ تھے تھما دیے اور پیچھے مڑ کر اپنی ماں سے بولا
    چلیں۔۔۔
    سنتھیا ہکا بکا نوٹ سارے ڈالرز تھے
    وہ تو کچھ نہ بولی مگر اریزہ کی کزن بھنا کر کچھ بولنے کو تھی سنتھیا نے اسکا ہاتھ تھام کر روک دیا پھر شکریہ کہہ کر اسٹیج سے اتر آئی۔۔۔
    بیٹا آرسی مصحف تو ہو جائے دلہن تو دیکھ لو۔۔ آئنہ لائو
    نعمانہ خالہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے
    دیکھ تو لیا ہے ۔۔۔ وہ ہلکے سے بڑ بڑایا مگر سب الرٹ ہو چکے تھے دلہا کا موڈبگڑنے کو تھا سو جھٹ پٹ سب انتظام کرلیا گیا بڑے سے آئنے کو گود میں رکھ کر جب دلہن پر نظر پڑی تو پلکیں جھکائے وہ چھوٹی سی لڑکی حقیقتا کانپ رہی تھی۔ انہوں نے گہری سانس لی۔۔بلا تمہید انہوں نے کہا تھا۔
    تم کوریا چلی جانا۔ ۔
    اریزہ پوری آنکھیں کھول کر آئنے سے جھانکتے اسکے عکس پر نظر جما کر رہ گئ
    جی؟
    اسے کچھ سمجھ نہ آیا تھا
    اپنی تعلیم مکمل لو وقت ضائع کرنے کی۔ضرورت نہیں۔۔ دو ایک سال تو مجھے لگیں گے۔
    رواں شستہ انگریزئ دھیمی سی آواز۔
    اریزہ دم بخود رہ گئی سر اٹھا کر پہلو میں بیٹھے شوہر کو دیکھا جو بات مکمل کر کے سر سیدھا کر چکا تھا دوپٹہ اسکے سر اونچا کرنے سے گر گیا۔۔ دھیمے دھیمے سرگوشیاں کرتا دلہا حیران پریشان سر اٹھا کر اسے دیکھتی دلہن اور سر پر سوار سب رشتے دار۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں ہمیں بھی بتائیں۔۔۔ دلہن شرما لو تھوڑا ساری عمر انکو ہی دیکھنا۔۔۔ سجاد بھائی ادھر دیکھیں کوئی تصویر کھینچ رہا تھا کوئی مزاق اڑا رہا تھا
    سب کورس میں بول رہے تھے۔۔۔۔
    اسٹیج پر ایک ہنگامہ مچا تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتنے دنوں کی کلفت بے چینی رخصت ہوئی تھی۔۔ کمرے میں آکر کتنی ہی دیر وہ آئنے میں خود کو دیکھتی رہی۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
    وہ سٹپٹا کر دھپ سے اسٹول پر بیٹھ گئی
    کون ہے آجائو۔۔۔
    دھیرے سے دروازہ کھول کر صارم اندر آیا۔۔۔
    چھوڑ آیا تمہاری سہیلی کو بحفاظت اسکے گھر۔۔۔
    کیا نام ہے اسکا ویسے سانولی ہے مگر ہے کشش والی۔۔۔ وہ مزے سے بولتا ہوا اسکے سامنے ہی سنگھار میز ہر جگہ بنا کر ٹک گیا۔۔۔
    سنتھیا کرسچن ہے کسی کام کی نہیں تمہارے منگنی ہو چکی اسکی۔۔۔
    وہ بھی جتاتے ہوئے بولی۔۔۔
    تمہارے جملے میں شکریہ سنائی نہیں دیا۔۔۔ اس نے منہ بنایا
    کیونکہ میں نے کہا ہی نہیں۔۔۔ اس کی بھی بے نیازی دیکھنے لائق تھی۔۔ وہ اسکے انداز پر ہنسا۔۔۔
    سیلفیاں لی ہیں کوئی نہیں؟ وہ پوچھ رہا تھا اسکی سیلفیاں لینے کی عادت تو مشہور تھی
    وہ بازو اونچا کر کے دوپٹے سے پن نکال رہی تھی ۔۔۔
    نہیں یار پتہ نہیں سیل فون کہاں رکھ کر بھول گئی صبح سے گم ہے۔۔۔
    لائو میں لے دیتا ہوں تصویر اس نے فورا اپنا موبائل نکال لیا ۔۔۔ ایک دو تصویر کھنچوا کر وہ جھینپ گئ بس کرو اتنی تو ہو گئی ہیں تصویریں۔۔۔
    ایک میرے ساتھ بھی لے لو بعد میں یہی یاد آئیں گی تصویریں ۔۔۔ اس نے یاسیت سے کہا تھا۔۔۔ اریزہ نے پیار سے اسے دیکھا بظاہر ہر وقت چڑانا اسکا شغل تھا مگر یہ بھی تھا اسکو اریزہ سے لگائو بھی بہت تھا۔۔۔
    ابھی بہت وقت ہے۔۔۔ اس نے اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر خود اسکے ساتھ پوز بنا کر تصویر لی۔۔۔
    صارم کے کندھے سے لگ کر بہت پیار بھرے حق سے اس نے تصویر کھینچی تھی۔۔۔
    دکھائو ۔۔۔ تصویر دیکھ کر دونوں ہی اداس سے ہوگئے۔۔۔
    ویسے تم موٹی دلہن ہی بنیں نا کیا تھا تھوڑا وزن ہی کر لیتیں ڈولی والا ارینج کرلیتے جبران کہہ تو رہا تھا میں نے بتایا
    سکسٹی کے جی اٹھانا پڑے گا تو کینسل کردیا پروگرام۔۔۔ اسکے آدھے جملے میں ہی اریزہ نے اسکی پٹائی شروع کر دی تھی مگر وہ ڈھیٹ ہنستے ہنستے مار کھاتے جملہ مکمل کر کے ہی چپ ہوا۔۔۔
    خدا کرے تمہاری بیوی خوب موٹی بھینس ہو ۔۔۔ میری بد دعا ہے ۔۔ کلس کر کوسا تھا اس نے۔۔۔
    میں کروں گا ہی اسمارٹ سی لڑکی سے شادی۔۔۔ وہ بھی ایک کائیاں تھا
    پھر وہ شادی کے بعد بھینس بن جائے گی دیکھنا۔۔۔
    وہ دوبارہ دوپٹے کی پنوں میں الجھی تو دلاور اٹھ کر پنیں نکالنے میں اسکی مدد کرنے لگا
    اس نے میک اپ اتارنا شروع کیا۔۔۔
    ویسے موبائل جھونکا کہاں ہے ۔۔۔ اتنے تو مہمان تھے ملازم بھی پھر رہے تھے چوری ہی نہ ہو گیا ہو۔۔۔
    پنیں نکال کر وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔
    یار وہ صبح عاصمہ آنٹی کالیں کر رہی تھیں امی سے بات کروائی بعد میں وہ آکر یہیں کہیں رکھ گئیں میں مصروف اتنی تھی موبائل کا خیال ہی نہیں آیا۔۔۔
    بیل دو یہاں سائڈ ٹیبل پر ہوگا یا نیچے گرا ہوگا قالین پر۔۔۔ اسے بھی فکر ہوئی۔۔۔
    دلاور نے سر جھٹکا اور اسے کال ملا لی۔۔۔
    سائلنٹ نہ ہو۔۔۔ اریزہ نے بے چاری شکل بنا لی۔۔۔
    دلاور نے گھور کر دیکھا
    بس اسکی کسر تھی۔۔۔
    میں ڈھونڈتی ہوں۔۔۔ وہ جزباتی ہوکر اٹھی
    دلاور نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا شسس۔۔۔
    اریزہ دم سادھ کر رہ گئی۔۔
    ہلکی ہلکی جھرجھری سی جیسی آواز ۔۔۔
    دلاور نے آواز کے تعقب میں بستر جھاڑا تکیہ اٹھایا بیڈ کے نیچے جھانکا سایڈ ٹیبل۔۔۔ ہاں اسی کے نیچے موبائل کی بتی جل بجھ کر رہی تھی۔۔۔
    اس نے بڑھ کر اٹھا لیا۔۔۔
    شکر۔۔۔ اریزہ مطمئن ہو گئ۔۔۔
    پندرہ مسڈ کالز اور۔۔۔ دیکھتے دیکھتے فون بند۔۔۔ بیٹری تمام ہو چکی تھی
    سایڈ ٹیبل کی ایکسٹینشن میں ہی چارجر لگا تھا اس نے اسکا موبائل چارجنگ پر لگا دیا۔۔
    اچھا میں چلتا ہوں بہت تھک گیا ۔اس نے زوردار انگڑائی لی۔۔۔
    تم بھی سو جائو۔۔۔ اب ۔۔۔ وہ جمائی لے کر بولا تھا
    ہاں مگر نماز پڑھ کر سوئوں گی آج تو سارے دن کی رہ گئ۔۔۔ وہ مصروف انداز میں میک اپ اتارتے ہوئے بتا رہی تھی
    اوکے ڈئیر گڈ نائٹ۔۔۔ وہ شب بخیر کہتا نکل گیا۔۔۔ اس نے شاور لیا جاء نماز بچھا کر نماز پڑھی حسب عادت خدا سے دعا میں باتیں کرنے لگی
    بہت شکریہ اللہ میاں میں اب کافی مطمئن ہوں مجھ پر رحم کرنے اور صبر دینے کا شکریہ۔۔۔ میں نے بہت شکوے کیئے آپ سے اپنے والدین کی شکایت بھی کر ڈالی مگر آپ انہیں کسی آزمائش میں مت ڈالیئے گا انکا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رکھیے گا انہیں صحت دیں اور میری سب شکایتوں کو ان سنی کر دیجیئے گا۔۔۔۔

    ۔۔ دعا مانگ کر مطمئں سی وہ نماز مکمل کرنے لگی یہ سوچے بغیر کہ خدا کچھ بھی ان سنا نہیں کرتا وہ بھی سننے والا جو کبھی کہا بھی نہ جائے وہ کیسے ان سنا کر سکتا جو کہا بھی گیا ہو اس سے۔۔۔
    جاء نماز سمیٹ کر اس نے دوپٹہ اتار کر رکھا بال جھٹکتی بیڈ پر دھم گری موبائل چارج ہو چکا تھا۔۔۔۔ صارم کی مسڈ کال تھی۔
    اس نے موبائل اٹھایا۔ اور میسج ٹائپ کرنے لگی۔
    آپ کیا کہہ رہے تھے کوریا کے بارے میں وہ شور میں سن نہیں پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ یونہی ونڈو شاپنگ کر رہا تھا مال میں جیولری کلچز ٹاپس یون بن نے آدھی دکان الٹوا لی لی تھی مگر مطمئن نہیں ہو رہا تھا ہیون کو کوئی تجربہ نہیں تھا لڑکیوں کی شاپنگ کا سو بس ادھر ادھر تانک جھانک کر وقت گزار رہا تھا اسے ایک کلچ پسند آیا تھا گلابی سا اس نے یون بن کو دکھایا مگر وہ کچھ الگ دینا چاہتا تھا گوارا کو سو صاف انکار کردیا
    پتہ نہیں کیا انوکھا دینا چاہ رہا ہے۔۔۔ اس نے بےزاری سے واپس رکھ دیا۔۔۔
    سر آپ کو پسند آرہا تو آپ تو لے لیجئے خاص ڈیزائنر کولیکشن ہے شاز چیز ہے آپ اسے کھوئے مت۔۔
    سیلز گرل نے پکی سیل مار دی تھی۔۔۔
    وہ۔ہنسا
    نہیں شکریہ۔۔۔ وہ لے بھی تو دے گا کسے یہی سوچ کر واپس رکھ دیا۔۔
    سر اسپیشل ڈسکاوئنٹ ہے اس پر۔۔۔اور نیا ترین فیشن کے مطابق آپ اپنی گرل فرینڈ کو دیں گے تو وہ کافی امپریس ہوگی آپکی پسند سے۔۔۔
    تھا تو واقعی بہت خوبصورت
    لے لے۔۔ شگون کر لے کیا پتہ آج تحفہ لو کل کو گرل فرینڈ بھی مل جائے۔۔۔
    یون بن نے شرارت سے کہا۔۔۔ اسے ایک نیوی بلیو ٹاپ پسند آگیا تھا۔۔۔
    ہیون نے کچھ سوچا پھر خرید ہی لیا۔۔۔ نونا کو پسند آئے گا یہ سوچا اس نے یہی تھا
    یون بن اب کائنٹر پر کھڑا بحث میں الجھا تھا اس نے پرس سامنے رکھا سیلز گرل نے جان چھٹی لاکھوں پائے کی طرح جھپٹا اور بل بنانے لگی۔۔
    میں ہر دفعہ یہاں سے اپنی گرل فرینڈ کو تحفہ لے کر دیتا ہوں آدھی دکان خرید چکا آپ مجھے تین سو یو آن جیسی قلیل رقم رعائیت نہیں کر سکتیں۔۔۔ وہ سراسر جھوٹ بول رہا تھا مگر اعتماد دیدنی تھا۔۔۔ ہیون جونگاسکے انداز پر بمشکل ہنسی روک پایا۔۔۔سر معزرت فکسڈ پرائس ہے۔۔۔ لڑکی نے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا مگر اسکی برداشت کا مادہ ختم ہو چکا تھا۔۔۔
    سر آپ پیمنٹ کیش کریں گے یا کریڈٹ کارڈ ۔۔۔ وہ اب اس سے مخاطب تھی اس نے خاموشی سے کارڈ آگے کیا۔۔۔
    دیکھیئے اس طرح تو آپ اپنے وفادار کسٹمر کھوتے جائیں گے۔۔۔ اور فکسڈ پرائس کی خوب کہی ابھی مہینے بھر میں موسم بدل جائے گا کوڑیوں کے بھائو بکے گا یہ۔۔۔
    دیکھیں اگر آپکو ایسا لگتا تو آپ پھر دو مہینے بعد لی لیجئے گا۔۔۔ وہ عاجز ہی آگئ۔۔۔
    کریڈٹ کارڈ مشین سے گزار کر اسے واپس دیا
    یہی کرتا مگر میری گرلفرینڈ کی سالگرہ کل ہے اب یہ تو نہیں کر سکتا اسے کہوں دو مہینے بعد سالگرہ منانا
    ۔۔۔
    دیکھئے۔۔۔ دونوں نہ ختم ہونے والی بحث میں الجھے تھے
    اس نے دوسری سیلز گرل کو اشارے سے بلا کر کہا اس نے سر ہلا کر کارڈ لے لیا۔۔۔

    سنیے آپ آپ اسکی پیمنٹ بھی اسی سے ادا کیجئے
    اس نے کریڈٹ کارڈ لہرایا۔۔۔
    اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور بحث میں الجھے یون بن کو کندھے پر ہاتھ مار کر بیگ اٹھا کر باہر آنے کو کہا
    اس نے ہڑ بڑا کر جیب سے والٹ نکالا تو سیلز گرل نے بتایا کہ پیمنٹ ہو چکی ہے۔۔۔ وہ شاپر اٹھاتا ہیون کے پیچھے بھاگا۔۔۔
    دکان سے باہر نکل کر دائیں بائیں دیکھا تو وہ برقی سیڑھیوں سے اوپر جاتا دکھائی دیا۔۔۔ اس نے سر جھٹک کر تقلید کی۔۔۔ ہایون کا رخ اپنی پسندیدہ کافی شاپ کی طرف تھا۔۔۔ آرڈر دےکر جب مڑا تو یون بن ایک کونے میں منہ پھلائے گھور رہا تھا
    میری گرل فرینڈ ہے مجھے ہی تحفہ خریدنا تھا۔۔
    تمہاری گرل فرینڈ ہے مگر ہمیشہ میں ہی اسکے لیے تحفہ خریدتا ہوں ۔۔۔
    اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔
    یون۔بن نے کھسیا کر سر کھجایا
    ہاں تب میں بے روزگار تھا اب تو نہیں ۔۔۔
    بس تین سو یو آن کم تھے میرے پاس ۔۔ اس نے جیب سے پیسے نکال کر رکھے میز پر
    باقی ایک دو دن میں دے دوں گا۔۔۔
    رہنے دو مجھے نہیں چاہیئے۔۔۔ ہیون نے سہولت سے انکار کیا۔۔۔
    نہیں لینے پڑیں گے ۔۔۔ پہلے کا حساب تو بےباق نہیں کر سکتا مگر اب سے قرض فورا اتارا کروں گا۔۔۔
    ہیون نے غور سے دیکھا۔۔۔
    اگر ایسی بات تو پھر پورا قرض اتارنا ۔۔۔ تم میری گرل فرینڈ کو گفٹ لے دے نا ٹھیک۔۔۔
    اس نے تجویز دی۔۔۔
    یی بھی ٹھیک۔۔۔ جون تائی فورا مان گیا اور پیسے واپس بٹوے میں رکھنے لگا۔۔۔ بہر حال یہی اسکا کل اثاثہ تھا اور ہیون جونگکی گرل فرینڈ دور دور تک تو وجود رکھتی نہیں تھی جب تک ملتی کیا خبر وہ تب تک کروڑ پتی بن چکا ہو۔۔۔ یہ ہرگز مہنگا سودا نہیں تھا۔۔۔
    ویسے ہایون تمہیں آج تک کسی لڑکی نے بھی منہ نہ لگایا ایسا کیوں۔۔۔
    ہایون نے گھور کر دیکھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسا اس لیے ہے کہ میں سو کالڈ شریف لڑکی ہوں۔۔۔
    وہ او۔لیول میں جو معاز ہوا کرتا تھا یاد ہے۔۔۔۔
    اریزہ کے کہنے پر
    سنتھیا نے یاد داشت کے گھوڑے دوڑائے ۔۔
    ہاں۔۔۔۔۔ وہ دونوں ٹیرس میں سردی کی پروا نہ کرتے کھڑی تھیں۔۔ آج تو اریزہ نے بھی شال نہ اوڑھی تھی شائد موسم بدل رہا تھا اسلییے۔۔
    کتنا مرتا تھا مجھ پر۔۔۔ اس نے کرکرے منہ میں ڈال کر آنکھ ماری۔۔۔ اسکے چہرے پر محسوس کی جا سکنے والی یاسیت تھئ۔۔۔ سامنے والے گھر کی چھت پر بیٹھی اسی سفید بلی کو دیکھتے وہ کہہ رہی تھی۔
    جب ایک بار ٹیسٹ کرتے ہوئے میرے پین میں انک ختم ہو گئ تھی تو اس نے اپنا پین دےدیا تھا جب میں نے کہا وہ۔خود کیا کرے گا تو جھوٹ بولا میں نے ٹیسٹ کر لیا۔۔ اور پھر فیل ہو گیا تھا میرے پیچھے۔۔۔
    ہاں ہاں۔۔۔ سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
    بے چارہ۔۔۔۔ تاسف۔۔
    اور وہ اکیڈمی والے سر رضا۔۔۔
    جب ہم اے لیول میں میتھ کی ٹیوشن کینے جاتے تھے۔۔۔
    یاد آیا۔۔۔
    سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
    وہ تب ایم بی اے کر رہے تھے۔۔۔ وہ تو اتنا سیریس ہو گئے تھے حالانکہ میں بات بھی نہیں کرتی تھی۔۔۔ نہیں کرتی تھی نا ۔۔۔ اس نے گواہی چاہی
    سنتھیا نے سر ہلادیا۔۔۔
    ہاں وہ مجھے ایک بار بلا کر بولے میں اپنے والدین کو آپکے گھر بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔۔ میں نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔
    اور وہ جو تمہارا پڑوسی تھا کتنا گھورتا تھا جب میں اور تم چھت پر واک کرنے جاتے تھے۔۔۔ اور وہ میری جو دور کی چچی کا لڑکا صارم کی بہن کی منگنی پر مجھ پر لٹو ہو گیا تھا۔۔۔ تین بار اسکی امی رشتہ مانگنے آئیں وہ تو امی کی ان سے بنی نہیں تھی کبھی ورنہ وہ ۔پائلٹ ہے اب۔۔۔۔۔
    وہ بڑا بھی تو بہت تھا نا تم سے تم تب سترہ سال کی تھیں تمہاری امی نے ٹھیک کیا تھا۔۔۔ سنتھیا کو وہ بھی یاد تھا۔۔۔

    ہان تو سجاد کونسا ننھا کاکا ہے۔۔۔ خیر اسے بھی چھوڑو۔۔۔ یہاں یونیورسٹی میں دیکھ لو کتنے لڑکے مجھ سے دوستی کے خواہشمند ہے میں نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا کسی کی طرف حالانکہ فیضان کتنا ہینڈسم ہے بہانے بہانے سے بات کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔
    اس سب کا کیا فائدہ ۔کیوں سوچ رہی ہو ان سب کے بارے میں ۔۔۔ سجاد ان سب سے زیادہ سیٹل پڑھا لکھا اور ہینڈسم ہے۔۔۔ سب سے بڑھ کر اب شوہر ہے تمہارا ۔۔مجھے تو لگا تھا تم ۔۔۔ سنتھیا نے بات ادھوری چھوڑ دی
    اریزہ اسکی ادھوری بات بھی سمجھ گئی۔۔۔
    ہاں میں مان گئی تھی بلکہ یوں کہو ماننا پڑا۔۔۔ مگر کل سے میں رہ رہ کر پچھتا رہی ہوں کوئی افئر چلا لیا ہوتا کسی کو اس نظر سے بھی دیکھا ہوتا جب امی میرے صاف انکار پر مشکوک ہو کر پوچھ رہی تھیں کہ کوئی اور پسند تو بتا دوتو چپ نہ رہ جاتی کوئی بھی نام لینے والی ہوتی تو کم ازکم آج مجھ پر سو احسان دھر کے موٹی کم شکل یا بے ڈھنگی سمجھ کر شادی کے احسان کا ٹوکرا میرے سر پر نہ دھرا جاتا۔۔۔ یہ سب جیسے بھی سہی مگر کم ازکم انکو میں پسند تھی مجھے خود اپنا آپ پسند تھا پر اب تو لگتا میں دنیا کی بے کار ترین لڑکی ہوں ایک شادی تک کے قابل نہیں کہاں میں دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھتی تھی۔۔۔ بولتے بولتے روہانسی ہو گئ۔۔۔
    کیا ہوا ہے ۔۔۔سنتھیانے گھبرا کر اس کو لپٹا لیا۔۔۔
    کچھ کہا ہے سجاد نے اسکی امی نے۔۔
    بتائو۔۔۔
    کیا کہنا ۔۔۔ وہ بے چارگی سے ہنسی۔۔۔
    میں اپنی قسمت پر حیران ہوں ۔۔ اتنی بے وقعت ہوں میں۔۔۔ اتنی بد نصیب ۔۔۔ میں نے ایسا آج تک زندگی میں کیا برا کیا ہے جسکی مجھے سزا ملے۔۔۔ بتائو سنتھیا۔۔۔ وہ اسکا بازو دبوچ کر پوچھ رہی تھی
    پہیلیاں نہ بجھوائو صاف صاف بتائو۔۔۔
    میرا دل گھبرا رہا۔۔ سنتھیا بری طرح پریشان ہوئی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب میں اسے کال ہی آگئ تھئ۔۔ وہ الرٹ سی ہو کر اٹھ بیٹھی۔
    ہیلو۔
    ہیلو۔۔۔ ہاں یہی بتانے کیلئے تمہیں فون کرتا رہا تھا میں مگر تم نے اٹھایا نہیں۔۔

    جی وہ۔بس۔۔
    وہ۔اتنا ہی کہہ سکی۔

    مجھے کل ہی پتہ لگا تھا میرے وکیل نے مجھے ای۔میل کیا تھا مگر یہ پاکستان عجیب ملک ہے اتنا فالتو خرچہ ایک نکاح کیلیے بھی اتنے فنکشن مہندی وغیرہ رکھ دییئے۔مصروف اتنا رہا کہ ۔۔۔۔خیر ۔ وقت ضائع۔۔
    وہ ابھی بھی انگریزی میں شروع تھا۔
    خیر سینڈی پریگننٹ ہے۔ اور وہ شائد کوئی مصالحت بھی چاہتی ہے۔ میرا ارادہ تو نہیں مصالحت کا مگر بہر حال۔باپ ہوں ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ مجھے کچھ قانونی معاملات دیکھنے ہوں گے۔
    وہ اپنے مخصوص سنجیدہ دوٹوک انداز میں بات کر رہے تھے۔
    کون سینڈی۔۔۔۔
    وہ بمشکل بول۔پائی۔ ۔ باپ ہوں اسکی سماعتوں پر۔ہتھوڑے کی۔طرح برسا تھا
    میری بیوی۔ اسکا نام سینڈی ہے نا۔
    انہوں نے وضاحت کی۔
    اریزہ ساکت سی بیٹھی رہ۔گئ۔
    خیر تمہیں پڑھنے کا شوق ہے اسکالر شپ بھی مل۔رہی ہے مجھے بھی فوری طور پر تمہیں کینڈا بلوانا مشکل ہے تم چلی جائو کوریا تعلیم مکمل۔کرو تب تک میں یہاں کے۔۔۔
    وہ مزید بھی کچھ کہہ رہا تھا اس نے چیخ کربات کاٹ دی
    آپکی ہمت کیسے ہوئئ اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی؟ آپ شادی شدہ ہیں اور یہاں مجھ سے نکاح کر لیا۔۔۔
    میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔
    اسکے چیخنے پر انکی تیوری پر۔بل پڑے۔
    میں شادی شدہ ہوں یہ بات خالہ جانتی ہیں اور یقینا تمہارے والد بھئ۔ میں نے کوئی حقیقت نہیں چھپائی کسی سے۔
    اسکے دعوے پر۔وہ گنگ سی ہوگئ۔

    میں سیدھی صاف بات کرنا پسند کرتا ہوں جھوٹ بے ایمانی دھوکا اس سے مجھے نفرت نہ سہی کبھی نہ کبھی میں نے بھی کیا ہی ہوگا مگر بے وجہ کسی کو اپنی وجہ سے مشکل میں ڈالنا مجھے پسند نہیں ۔۔۔شائد تمہارئ والدین نے تمہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ وہ ذرا سا تھمے۔ اریزہ کو اپنی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ اسکے اپنے والدین اسکے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیسے کر گئے؟
    سو جو کہہ رہا اسے غور سے سنو۔۔
    میں نے آج سے چھے سال پہلے ایک لڑکی سے شادی کی تھی ہم دونوں مطمئن تھے خوش تھے مگر کچھ عرصے قبل ہم اختلافات کا شکار ہوئے اور سینڈی نے مجھ سے طلاق مانگ لی۔۔۔ ہم علیحدہ رہ رہے تھے ابھی کائونسلنگ جاری تھی کہ امی نے تم سے میرا رشتہ طے کر دیا۔۔۔ مجھے تم سے کوئی مسلئہ نہیں تھا میں نے ان سے کہا تم لوگوں سے یہ شادی والی بات نہ چھپائیں۔۔۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ تم لوگوں سے زکر کر چکی ہیں۔۔۔ انہوں نے مجھے شارٹ نوٹس پر بلوا کر منگنی کر دی۔۔اور اب یہ نکاح۔۔
    خیر سنڈی نے وکیل کو بتایا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے اور دوبارہ اس شادی کو ایک موقع دینا چاہتی ہے۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ بچہ میرا ہے میری زمہ داری ہے میں فوری طورپر ابھی اسے طلاق نہیں دے سکتا ہوں ہمارا کیس چل رہا ہے۔ مجھے کافی بھاری جرمانہ ہوگا ابھی بچے کے پیدا ہونے تک کے اخراجات اور دیگر معاملات طے ہونے تک نہ صرف بہت پیسہ درکار بلکہ سال ایک کا وقت بھی درکار ہے اس عرصے میں اپنی بیوی کی حیثیت سے نہ میں تمہیں بلا سکوں گا نہ ہی مالی طور پر مدد کر سکوں گا۔۔۔
    اسی لیئے میں نے تمہیں اجازت دی تھی کہ تم اپنی تعلیم مکمل کرنے اگر کوریا جانا چاہو تو چلی جائو۔ مگر تم تو اس سب معاملے سے انجان ہو۔۔۔
    اریزہ کی۔خاموشی پر وہ کچھ پگھلے۔۔
    اگر کسی نے تمہیں دھوکا دیا ہے تم سے یہ سب چھپایا ہےتو وہ تمہارے اپنے والدین ہیں میں نہیں۔۔
    یہ تمہاری زندگی تم بنا کسی دبائو اور ہچکچاہٹ کے خود فیصلہ کرو بہرحال تم ایک پڑھی لکھی باشعور جوان لڑکی ہو اپنا اچھا برا سمجھ سکتی ہو۔۔۔
    میں جواب کا انتظار کروں گا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ یہ کیا کہہ رہی ہو اریزہ۔۔۔۔۔
    سنتھیا کا بس نہیں تھا کیا کر ڈالے
    اس کی جرات کسے ہوئی تمہاری زندگی کیساتھ اتنا گھنائونا مزاق کرنے کی۔۔۔ تم نے سب جان کر اس سے نکاح کیسے کر لیا مجھے یہ بتائو۔۔۔ بتایا نہیں انکل آنٹی کو۔۔۔
    سنتھیا کا غصے سے برا حال تھا
    ۔۔۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں کہا۔
    رات کو کال بند کرنے کے بعد مجھے تو کچھ سمجھ نہ آیا فورا باہر امی کے پاس بھاگی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کچن میں کھڑی پانی پی رہی تھیں۔۔۔
    اسے حواس باختہ کمرے سے نکلتے دیکھا تو گھبرا کر پکارا۔۔۔
    کیا ہوا اریزہ؟
    اریزہ جو بھاگ کر انکے ہی کمرے میں جا رہی تھی پلٹ کر ان سے آکر لپٹ کر رو دی
    کیا ہوا بیٹا کچھ بتائو تو سہی۔۔۔
    وہ گھبرا گئیں۔۔۔
    امی سجاد پہلے سے شادی شدہ ہے امی۔۔۔ اس نے مجھے خود بتایا اور اسکا بچہ بھی ہے امی ان لوگوں نے ہمیں دھوکا دیا۔۔۔
    آہستہ بولو۔۔ امی نے گھرکا
    وہ بے یقینی سے ان سے الگ ہو کر انکی شکل دیکھنے لگی۔۔۔
    ادھر آئو۔۔۔
    وہ اسے لے کر اسی کے کمرے میں آگئیں پہلے دروازہ بند کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ کر تسلی کی پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے دھیرج سے بیڈ پر بٹھایا۔۔
    انہوں نے دھوکا نہیں دیا بیٹا۔۔۔ بتا دیا تھا ہمیں۔۔۔
    ارے عیسائنی گوری کہاں گھر بساتی ہیں پھنس گیا تھا سجاد اسکے چکر میں ۔۔۔ طلاق دے دی ہے بس ارے لڑکے تو وہاں بنا شادی۔۔۔ سجاد نے تو پھر نکاح کیا ہے۔۔۔ بچہ وچہ کوئی نہیں اسکا تم دل میلا نہ کرو۔۔۔
    آپ جانتی تھیں یہ سب پھر بھی۔۔۔ وہ چیخ اٹھی۔۔۔ اتنی بھاری تھی میں آپ پر مجھے ایک بڑی عمر کے شادی شدہ بیوی بچوں والے شخص کے منڈھ دیا۔۔۔
    بچہ نہیں ہے۔۔۔ وہ زچ ہوئیں
    ہاں ابھی نہیں ہے مگر ہونے والا ہے خود بتایا ہے ۔۔۔ وہ ہچکیاں لے لے کر رو پڑی
    ۔۔۔ مجھے سجاد نے مگر امی کیوں آخر کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا بگاڑا تھا میں نے۔۔۔کیا کمی تھی مجھ میں جو۔۔۔
    تم میں کوئی کمی نہیں بیٹا سجاد بھی لاکھوں میں ایک ہے اپنی ماں پر بھروسہ کرو۔۔
    کبھی کبھی نہیں کرونگی آئندہ آپ پر بابا پر بھروسہ توڑ دیا ہے آپ نے میرا بھروسہ افسوس ہو رہا مجھے اپنے آپ پر کیوں اندھا یقیں رکھا اپنے ماں باپ پر۔۔۔
    شسس آہستہ بولو۔۔ ابھی تم غصے میں ہو صبح بات کروں گی میں تم سے ابھی سو جائو۔۔۔
    مجھے اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنی نہ آپ سے نہ بابا سے مرگئ سمجھیں آپکی بیٹی۔۔۔
    وہ ہزیانی انداز مین چلائی۔۔۔
    آہستہ بولو بیٹا تمھارے بابا اٹھ جائیں گے۔۔۔ ان سے اس بارے میں بات بھی مت کرنا وہ بہت جزباتی ہیں صورت حال کو نہیں سمجھیں گے
    بیٹا تم بھی سمجھو بات کو تمہارا نکاح ہو چکا ہے شوہر ہے اب سجاد تمہارا۔۔
    آپ اب بھی مجھے دبا رہی ہیں۔۔۔ میں ابھی بابا سے بات کرتی ہوں کیوں کیا ہے انہوں نے میرے ساتھ ایسا ۔۔ میری زندگی برباد کر کے آپ لوگ سونا چاہتے۔۔۔ کم از کم آج میں ایک نہیں سنوں گی ۔۔وہ آنسو پونچھتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔ امی نے گھبرا کر کہا۔۔۔
    انہیں خود اس بارے میں نہیں پتہ۔۔۔
    اریزہ کا ہینڈل گھماتا ہاتھ رک گیا۔۔۔
    پلٹ کر بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ۔۔۔ سنتھیا ہکا بکا رہ گئی
    آنٹی ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔۔اتنی بڑی بات انکل سے بھی چھپا لی۔۔۔
    اریزہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی
    کہتی ہیں ۔۔ وہ مجھے مطمئن خوش اور محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔وہ ہنسی۔۔۔ کہتی ہیں حماد کی جوان لاش دفناتے ہوئے وہ اندر سے ٹوٹ گئی تھیں تب انہوں نے فیصلہ کیا تھا وہ اب مجھے نہیں کھو سکتی ہیں۔۔ میں کینڈا جیسے محفوظ ملک میں رہوں جہاں میں ان سے دور سہی مگر محفوظ اور زندہ تو رہوں گی۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیٹا تم ماں کی حالت نہیں سمجھ سکتیں مگر میں تمہاری دشمن نہیں ہوں ۔۔۔ تم جتنی دیر گھر سے باہر رہتی ہو جلے پیر کی بلی کی طرح تمہاری ماں چکراتی پھرتی ہر وقت دعائوں کا حصار باندھتی رہتی ہوں ۔۔ میرے پاس تمہارے سوا اب کچھ نہیں ہےاس ملک میں ہے کیا کبھئ بم دھماکے کبھی ٹرگٹ کلنگ۔ ۔۔۔ میں تمہیں کھو نہیں سکتی بیٹا۔۔۔ میں نے کتنی کوشش کی کہیں کسی دوسرے ملک کا رشتہ ڈھونڈنے کی مگر بالکل انجان لوگوں کو بھی تو نہیں سونپ سکتی تھی بیٹا۔پھر یہاں بھی خاندان میں تمہارے جوڑ کا کوئی ہے بھلا؟ میں بس سجاد یا صارم ہی ہےصارم بھی تمہارا دودھ شریک بھائی نہ ہوتا تو سوچ لیتے اسکے بارے میں
    ۔ بہرحال۔۔۔ سجاد بہت اچھا لڑکا ہے صاف دل اس نے ماں سے وعدہ لیا تھا سب بتا کر رشتہ طے کریں مجھے آپا نے سب بتا دیا تھا۔۔۔
    اسے پھر بھی تسلی نہ ہوئی خود تمہیں سب بتا دیا۔۔اتنا کھرا لڑکا ہے ۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوئی تم سے یہ سب چھپایا۔۔۔مجھے معاف کردو بیٹا۔۔۔ انہوں نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔
    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کو تکے گئ
    مگر یقین کرو میں سب تمہیں نکاح کے بعد بتانے والی تھی۔۔۔ تم پہلے اگر جان لیتیں تو منع کر دیتیں بس اس خوف نے تمہاری ماں سے یہ غلطی کروا دی ہے۔۔۔
    اسکی ماں ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے۔۔۔ رو رہی تھی مگر اسکا دل نہ پگھلا
    آپ چلی جائیں یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔
    اس نے سختی سے کہا۔۔ وہ لجاجت سے اسکا گال چھو کر بولیں
    میری بات
    چلی جائیں آپ یہاں سے مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔ وہ بلا لحاظ ہاتھ جھٹک کر چلائی۔۔۔
    امی مایوس سی ہو کر اٹھ گئیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اف میرے اللہ۔۔۔ اسکو گلے لگا کر رو ہی دی۔۔۔
    یہ کیا ہو گیا ہے اریزہ۔۔۔
    مجھے خود سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ کل میں بہت روئی ہوں ساری رات روتی رہی ۔۔۔ اریزہ کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
    تم طلاق لے لو۔ سنتھیا جزباتی انداز میں بولی۔
    اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ ۔۔۔ امی اسے گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر کچن سے نکل کر پکارتی آئیں اس نے صاف نظر انداز کیا اور دھپ دھپ کرتی سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔۔
    مرتضی کی صبح سے طبیعت تھوڑی بوجھل تھی سو جلدی گھر آگئے تھے سوچا تھا اریزہ کے آنے کا وقت ہے سو اکٹھے کھانا کھا لیں گے ۔۔۔ صفیہ کے پکارنے کی آواز سن کر وہ بھی باہر بکل آئے صفیہ روٹیاں ڈال رہی تھیں شائد اسے کھانے پر ہی روکنا مقصد تھا مگر اریزہ کو ماں کو صاف نظرانداز کرکے اوپر جاتے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے تھے۔۔۔
    کھا کے آئی ہوگی ۔۔ انہیں سیڑھیوں کو تکتا دیکھ کر وہ کھسیا کر بولیں۔۔۔
    آپ۔ہاتھ دھو لیں میں بس کھانا لگا رہی ہوں۔۔۔
    وہ سر ہلا کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
    ہاتھ دھو کر آئے تو صفیہ کھانا چن چکی تھیں میز پر اب بیٹھی انکے آنے کا انتظار کر رہی تھیں
    تم شروع کر لیتیں میں بس آہی رہا تھا۔۔
    انہیں ہمیشہ یہی جملہ کہنے کی عادت تھی صفیہ نے مصنوعی ناراضگی سے دیکھا
    کبھی کھایا ہے آپ سے پہلے ۔۔۔
    وہ ہنکارہ بھر کر خاموش ہو رہے۔۔۔ مٹر قیمہ بنا تھا انکا پسندیدہ۔۔۔ مگر اریزہ قیمہ شوق سے نہیں کھاتی ۔۔۔
    اریزہ مٹر قیمہ نہیں کھاتی تم اسکی پسند کا بنایا کرو کھانا۔۔۔انہوں نے ٹوک دیا۔۔ جبھی کھانے نہیں رکی۔۔۔ وہ یہی سوچ سکے۔۔
    الگ کر دیا ہے سادہ قیمہ بھی بھوک لگے گی تو کھا لے گی۔۔ صفیہ نے لاپرواہ انداز اپنایا۔۔۔
    بہت خاموش نہیں ہے کچھ دن سے دیکھ رہا جلدی سو بھی جاتی ہے صبح بھی جلدی چلی جاتی ہے۔۔۔
    کوئی بات ہوئی ہے کیا۔۔۔
    کیا ہونا۔۔ صفیہ گھبرا گیئیں
    بچی ہے نکاح ہو گیا ہے تھوڑا گھبرا گئی ہے بس ٹھیک ہو جائے گی پھر پڑھائی میں مصروف ہے امتحان ہونے والے ہیں۔۔۔ آپ ناحق فکرمند ہوتے ہیں۔۔۔
    اور لیں نا۔۔۔
    وہ بیوی کی رگ رگ سے واقف تھے اس وقت بھی ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہے تھے وہ گڑبڑا کر پانی کا گلاس منہ سے لگا گئیں اچھو سا ہوا ۔۔۔

    کامران ملا تھا مجھے آج بہت معزرت کر رہا تھا کہ نکاح میں شریک نہ ہو سکا۔۔۔ انہوں نے بات بدل دی
    ہاں بس بیوی آئی تھی یہ وہی کامران نا جو اریزہ کی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔۔۔ انہوں نے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصدق سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔
    ہمم ۔۔۔ انہوں نے ہنکارہ بھرا
    ۔۔۔بتا رہا تھا ایک بین القوامی تعلیمی ادارے نے پینتیس ممالک کے بچوں کے درمیان تحقیقی مقالا لکھنے کا مقابلہ کروایا تھا اور اس میں پاکستان سے دو بچے ٹپ ٹین میں شامل ہوئے ان میں سے ایک اریزہ بھی ہے۔۔۔
    ہاں ہاں دو مہینے پہلے کی بات ہے بتا تو رہی تھی سرٹیفیکیٹ بھی ملا تھا ڈرائنگ روم میں سجا ہے۔۔۔
    انہیں یاد آیا
    مجھے کیوں نہیں بتایا تھا؟ وہ تو ہر بار کوئی بھی انعام ملنے پر میرے پاس آتی ہے دکھانے۔۔۔
    وہ حیران تھے نوالہ پلیٹ میں ہی چھوڑ دیا۔۔۔ آج ریحان سے ملاقات نہ ہوتی تو مجھے پتہ بھی نہ چلتا۔۔۔
    وہ فورا اٹھ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے
    کھانا تو کھا لیں۔۔۔ صفیہ انکے اتائولے پن سے چڑیں پھر خود بھی انکے پیچھے چل پڑیں وہ بہت شوق سے سرٹیفیکیٹ پڑھ رہے تھے اولاد بھی کیا شے ہوتی لگ رہا تھا یہ انکی اپنی کامیابی ہے وہ بہت خوش ہو رہے تھے۔۔۔ صفیہ ٹوکتے ٹوکتے رہ گئیں
    جس دن آپا رشتہ لے کر آئیں تھیں اس دن خوش خوش آئی تھی پھر منگنی نکاح ان چکروں میں پھنس کر بھول بھال گئی ہوگی۔۔۔ انہوں نے بتایا تو وہ سر ہلا کر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ ۔۔ وہ بستر پر اوندھی لیٹی اپنے موبائل میں پرانی تصویریں دیکھ رہی تھی جب نیم وا دروازے سے ہلکی سی دستک کے ساتھ پاپا پکارتے ہوئے داخل ہوئے

    بابا آیئے۔۔۔ وہ فورا سیدھی ہو کر اٹھ بیٹھی
    کیسی طبیعت ہے بیٹا ۔۔۔
    وہ اسکے قریب ہی بستر پر آکر بیٹھ کر فکر مندی سے پوچھ رہے تھے
    ٹھیک ہوں پاپا مجھے تو کچھ نہیں ہوا۔۔۔ وہ حیران ہوئی
    میری بیٹی کئی دن سے چپ چپ ہے کوئی بات ہے تو بتائو مجھے۔۔۔ انہوں نے اسکی آنکھوں میں جھانکا
    کچھ نہیں پاپا ہٹی کٹی تگڑی ہے آپ کی بیٹی۔۔۔ اس نے پینترا بدل لیا خوب شرارت سے ڈولے بناتی ہنس دی
    ماشاللہ سے ۔۔۔ انہوں نے بے ساختہ کہا تھا وہ مسکرا دی
    اچھا میں مبارکباد دینے آیا تھا میری بیٹی نے زندگی میں پہلی بار ایسا کیا کہ کوئی مقابلہ جیت کر آئی اور باپ کو نہیں بتایا۔۔۔
    اب انعام دینے کا تو دل کر نہیں رہا میرا ۔۔۔وہ منہ پھیر کر بیٹھ گئے
    بابا ۔۔ سوری۔۔ وہ انکے کندھے پر جھول گئی
    کان پکڑ کے والا پکا والا سوری۔۔۔ بس وہ اس سب ہنگامے میں ۔۔۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوگئ
    انہوں نے اپنی مصنوعی ناراضگی ختم کی اور مڑ کر اسکی پیشانی چوم لی
    مجھے تم پر بہت فخر ہے بیٹا ہمیشہ کامیاب رہو اور بلند مقام پائو۔۔۔
    انکی دعا پر قسمت اور اریزہ دونوں استہزائیہ ہنس دیئے
    یہ میں تمہارے لیے لایا ہوں ۔۔ انہوں جیب سے ایک پیارا سا بریسلٹ نکال کر دیا
    واہ یہ تو بہت پیارا ہے۔۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔۔۔ وہ پیار سے اسے تکتے رہے اس نے فورا کلائی میں پہن بھی لیا اور گھما گھما کر دیکھنے لگی
    اسے دیکھتے دیکھتے انہیں خیال آیا
    بیٹا تمہاری اسکالر شپ کا کیا بنا پوچھا تھا تم نے سجاد سے؟
    اسکے بریسلٹ گھماتے ہاتھ لمحہ بھر رکے پھر خود کو لاپروا ظاہر کرتی بولی
    نہیں اور اب ضرورت بھی نہیں ہے میں یہاں پڑھ تو رہی ہوں کیا فائدہ دوسرے ملک جانے کا کھڑاگ پالنے کا۔۔۔
    منع کر دیا ہے سجاد نے۔۔۔ وہ پرسوچ انداز سے دیکھ رہے تھے
    نہیں بابا ان کو اعتراض نہیں بس میں کونسا اکیلی اتنی دور آپ سب کے بغیر رہ سکتی۔۔۔ اور ملک بھی کونسا بڑا مشہور ہے۔۔۔ چھوڑیں۔۔ اس نے اپنی طرف سے بات ختم کر دی تھی
    مگر میرا بیٹا اس وقت تو بہت پر جوش تھا جانے کیلیئے تمہاری امی نے روکا ہوگا ہےنا
    ۔۔۔ وہ ٹٹول رہے تھے۔
    نہیں پاپا بس ہونہی اب موڈ بدل گیا۔۔۔
    میں خود بات کروں گا تمہاری امی سے۔۔ سجاد ابھی تو یہیں ہے اگلے ہفتے جا رہا ہے انکی دعوت کیلئے بلاوے کا فون کروں گا تو اس سے لگے ہاتھ پوچھ لوں گا تم فکر مت کرو وکیل ہوں منوا لوں گا اس سے بس تم جانے کی تیاری کرو ۔۔۔
    رہنے دیں پاپا۔۔ کوئی فائدہ نہیں چھوڑیں
    اس کی بے دلی ان سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔
    مجھے کل کامران ملا تھا دفتر آیا تھا کسی کام سے بتا رہا تھا اسکالر شپ پر تمہارے شعبے کی کوئی لڑکی جانے کو تیار نہیں جبکہ تمہارا نام آرام سے اسکالر شپ میں آجانا ہے وہ بتا رہا تھا کہ ایچ او ڈی خود دلچسپی لے رہے تھے کہ اگر تمہارے والدین کو وہ خود بات کرکے راضی کر سکیں مگر تم نے صاف انکار کر دیا کیون بیٹا۔۔۔ میں کیا اتنا تنگ ذہن باپ ہوں؟ مین نے کبھی تم میں اور حماد میں فرق نہیں کیا بیٹا۔۔۔
    مین جانتی ہوں پاپا۔۔۔ اس نے سر جھکا لیا
    بس آپ لوگ اکیلے ہو جائیں گے میں بھی چلی گئی تو ۔۔۔
    یہی سوچ کر۔۔۔
    اور کیا سوچیں گے کوریا والے ہم اپنی بیٹیوں کو اعلی تعلیم نہیں دلاتے یا ہماری بیٹییان نالائق ہیں ۔۔۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں منہ پھلا کر دیکھ رہے تھے وہ انکے انداز پر ہنس پڑی۔۔
    ہر گز نہیں پاکستانی لڑکیاں سب کچھ کر سکتی ہیں میں جا کر کوریا والوں کو بتائوں گی۔۔۔
    ڈیل ۔۔۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا
    ڈیل۔۔۔ وہ بھی ہنس دی۔۔۔
    اور مجھے کینڈی کرش کی ریکویسٹ تو بھیج دو کب سے پانچ سو بیالیسویں لیول پر اٹکا ہوں ۔۔۔
    وہ ہونٹ نکال کر بے چارگی سے بولے
    واقعی؟میرے خدا۔۔۔ وہ حیران رہ گئ
    آپ مجھ سے دو سو لیول آگے ہیں پاپا۔۔۔
    دیکھ لو تمہارا باپ کتنا ٹیلنٹڈ ہے۔۔۔ وہ اترائے۔۔۔
    دروازے پر ابھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر صفیہ نے جھانکا دونوں کو خوشگوار موڈ میں گپ شپ کرتے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔۔۔انہیں ہر دم دھڑکا لگا تھا کہیں اریزہ باپ سے کچھ کہہ نہ دے۔۔ اور اریزہ نہ بھی کہتی ان سے یہ حقیقت کتنی ہی کوئی دیر چھپی رہ سکتی تھی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیول کی شام سے بہتر یا خوب صورت بھی کوئی دنیا کی شے ہو سکتی ہے۔۔۔ اس نے ڈوبتے ہوئے سورج کو بغور دیکھا وہ اس وقت ہنگن دریا کے کنارے موجود تھا۔۔ اکثر اکیلے ہی وہ یہاں آیا کرتا تھا شام سے کچھ پہلے سورج کو ڈوبتا دیکھتا رہتا۔۔۔ ہر بار اسے لگتا سورج اسے کچھ کہہ کر جاتا ہے جیسے آج اسے کہہ رہا تھا
    گما وویو
    کیوں اس نے سورج سے اس اچانک شکریہ ادا کرنے کی وجہ پوچھی
    روز ہی تقریبا آجاتے ہو دیکھنے مجھے ڈوبتے لگتا میں دنیا سے انوکھا کام کرتا جو روز مجھے کوئی آجاتا ہے دیکھنے ۔۔۔ ایویں سلیبرٹی سلیبرٹی سی فیل آتی ۔۔ اس نے شرارت سے کہا۔
    ہایون ساختہ ہنس دیا
    اس سے کچھ فاصلے پر اسیکیچ بک پر منظر نگاری کرتی اس لڑکی نے ہنسی کی آواز پر مڑ کر دیکھا
    وہ ایک چندی آنکھوں والا خالص کوریائی خدو خال والا دراز قد گورا سا لڑکا تھا بے ساختہ ہنسنے پر اسکے چھوٹے سے دہانے سے جھانکتے ایک قطار میں سجے موتیوں جیسے دانت سورج کی پڑتی کرنوں سے دمک اٹھے تھے۔۔۔ وہ اپنے آپ میں مگن تھا تو ہنسا کیوں ۔۔۔ اس نے اسکی مطمئن ہنسی کو یونہی قائم رہنے کی زیر لب دعا دے ڈالی
    اور دوبارہ بک میں نقش بنانے میں مگن ہوگئ
    یہ ایک منظر تھا جو بنتا جا رہا تھا
    ایک چھوٹا سا گھر اسکے آگے کھیت اور دور کہیں سے ڈوبتا سورج مگر کھیت ہل چلانے کے بعد جو زمین پر لکیریں پڑ جاتیں ہیں ویسا تھا یعنی ابھی بیج بونے کا عمل باقی تھا۔۔۔
    کیا اگائوگی اس میں۔۔۔
    کوئی اسکے قریب اچانک سے انگریزی میں بولا وہ بری طرح ڈر گئ۔۔ مخاطب کوئی غیر ملکی تھا نقوش سے امریکی لگتا تھا۔۔ اسے اسکے یوں ڈر جانے کی امید نہیں تھے سو فورا معزرت کرنے لگا
    معزرت میرا مقصد ڈرانا نہیں تھا
    میں بس ابھی آیا تم تصویر بنا رہی تھیں تو رک کر دیکھنے لگا کھیت اچھا ہے مگر سر سبز زیادہ اچھا لگے گا تم اس پر کونسی فصل بونا چاہوگی ؟
    وہ بہت دلچسپی سے اسکی بنائی تصویر دیکھ رہا تھا
    اس پر بارود بویا جا چکا ہے اب بس تباہی لہرا سکتی یہاں۔۔۔
    وہ ہنگل میں بولی تھی
    نیور مائنڈ مگر یہ واقعی اچھی ہے تم میں ٹیلنٹ ہے کیپ اٹ اپ۔۔۔
    اس کو لگا تھا وہ انگریزی نہیں جانتی جبھی بات سمجھانے کیلیئے اس نے اشاروں کنائوں سے کام لیا
    انگوٹھے اور شہادت کی انگلی ملا کر زبردست کا اشارہ کیا وہ جوابا مسکرا دی اور دوبارہ تصویر پر جھک گئ۔۔۔ امریکی نے جیب سے یوآن نکال کر اس کے سامنے دھرے ۔۔۔ اس نے حیران ہو کر پیسے اٹھائے اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
    یہ انعام ہم جب امریکہ میں ساحل پر کسی کو ایسا کرتے دیکھتے تو حوصلہ افزائی کیلیے کچھ پیسے دیتے ۔۔ دونوں ہاتھوں کو چلاتا بازو پھیلا پھیلا کر اسے اپنی بات سمجھانے کی کوشس کرتا وہ کافی مزاحیہ لگ رہا تھا وہ ہنس دی
    تھینک یو۔۔۔ اس نے مسکرا کر قبول کر لیے تھے وہ بھی جواب میں اس سے زیادہ خوشی سے اس کے قبول کر لینے کا شکریہ ادا کرتا پلٹ گیا
    ایکسکیوز می آر یو امیرکن
    اسے جانے کیا خیال آیا اس نے پکار کر پوچھا وہ چلتے چلتے ہی پلٹ کر اسے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا پھر بائے بائے کہتا ہاتھ ہلاتا آگے بڑھ گیا
    اس نے بھی مسکرا کر ہاتھ ہلا دیا
    اپنے ہی الفاظ اسکے کانوں مین گونجے
    اگر چھے کمینے امریکی سامنے کھڑے ہوں اور تم بندوق اٹھا کر چار کمینے امریکیوں کو مار دو تو کتنے کمینے امریکی بچیں گے ؟
    دو کمینے امریکی۔۔۔
    اس نے سر جھٹکا سورج ڈوب چکا تھا فضا میں اندھیرا اور شام کی خنکی پھیل رہی تھی وہ اپنا بیگ اٹھا کر پائوں جھاڑتی اپنے جوتے پہننے لگی
    یونہی خیال آیا تو مڑ کر اس دراز قد کو دیکھنا چاہا مگر اب وہ کونا خالی تھا وہ شائد ڈوبتے سورج کا منظر دیکھ کر جا چکا تھا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا کی برتھ ڈے پارٹی تھی اس کو رات کو سرپرائز دینا تھا سب اسکے اپارٹمنٹ پر دھاوا بولنے والے تھے۔۔۔ یون بن ہایون کم سن تینوں سب کو اکٹھا کرکے اوپر جاتے سو عمارت کے باہر ساز و سامان کے ساتھ آٹھ لڑکے لڑکیاں تھےجمع تھے
    پتہ چلے وہ اوپر کھڑکی سے جھانک رہی ہو سارا سرپرائز دھرا رہ جائے۔۔۔
    ہایون نے خیال ظاہر کیا۔۔۔
    نا ممکن ۔۔یون بن نے قطعی انداز میں کہا
    میں نے اسے کہا ہے کہ میں گائوں جا رہا ہوں پرسوں لوٹوں گا تو اسے غصہ آگیا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کیا مجھے یاد ہے آج کیا تاریخ تو میں نے معصوم سے انداز میں بتا دیا اس نے جواب میں مجھے دفع ہو کہہ کر فون بند کر دیا تھا یہ اس کے غصے کی شروعات تھی۔۔۔ پہلے وہ کمرے میں پیر پٹخ پٹخ کر چکر کھا رہی ہوگی۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوووف آہش۔۔۔ وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے غصے میں بھوک بہت لگتی سو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یون بن ہنسا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے دھڑ سے فریج کھولا اور کمچی فرائڈ رایس کا بائول نکالا اور اسی میں شروع ہو گئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھا پی کر اب منہ بسور کر مجھے کوسے گی۔۔۔۔
    یون بن کے کہنے پر کم سن نے اسے ذرا غور سے دیکھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زہریلے انسان مر جائو ایک برتھ ڈے تک یاد نہیں آٹھ سال ہو رہے تم پر بھی لعنت ہو گوارا ابھی تک ہائی اسکول کے بوائے فرینڈ پر اکتفا کیے ہوئے ہو۔۔۔۔

    وہ نوالے چباتے ہوئے گالیاں دے رہی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا زیادہ دیر خود کو برا بھلا نہیں کہہ سکتی وہ خود سے بہت پیار کرتی ہے سو اب تک بستر پر گر کر لمبی تان کر سو چکی ہوگی۔۔۔
    یون بن نے ہاتھ جھاڑے۔ کم سن نے سر اٹھا کر اوپر فلیٹ کو دیکھا جس کی۔بتیاں بجھی ہوئی تھیں
    اور اگر وہ اس وقت اپنے فلیٹ کی بجائے ڈورم میں ہوئی تو ؟
    یہ۔کم سن تھا۔
    جی ہائے ہمارے ساتھ ہے احمق۔
    یون بن کے چڑ کر کہنے پر وہ سب کھل کر ہنسے۔۔کم سن سر کھجانے لگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا کے ہلکے یلکے خراٹے گونج رہے تھے کمرے میں۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہعنی ہم دروازہ بجا بجا کر مر جائیں گے اور وہ سوئی پڑی رہے گی سمجھو غارت ہوا آج کا پلان۔۔۔
    یہ کم سن نے اظہار خیال کیا۔۔۔
    مت مرو مجھے اسکے فلیٹ کا سیکیورٹی پاسورڈ معلوم ہے ہم اسکو اسکے بیڈروم میں جا کر ڈرا کر جگائیں گے۔۔۔
    یاااااہہہہ
    جون تائی اور دیگر نے خوفناک ہیلووین ماسک نکال۔لیے تھے
    یہ کچھ زیادہ ہے وہ ڈر جائے گی ۔۔۔ کم سن کو فورا فکر ہوئی
    ہم اسے ڈرانا ہی چاہتے۔۔۔ جون تائی بے فکر تھا
    ہایون کو بھی یہ آئیڈیا کچھ پسند نہیں آیا
    مجھے بھی مناسب نہیں لگ رہا اس وقت رات کے بارہ بجے کسی کو سوتے سے جگا کر وش کر دینا ہی بہت بڑا سرپرائز ہے یہ ڈرائونے ماسک پہن کر ڈرانے کی کیا ضرورت۔۔۔
    اسکی بات سے کوئی متفق نہیں تھا سب شور کرنے لگ گئے۔۔۔
    چلو چلو بارہ بج رہے ہیں ۔۔۔ سب بھاگتے ہوئے اندر داخل۔ہوئے سب شاپر وغیرہ پکڑے تھے ہایون نے آگے بڑھ کر لفٹ کا بٹن دبایا دو تین بار دبایا تب کھلاکم سن کے ہاتھ میں کیک تھا مورگن ڈیکوریشن تھامے تھا سو چن کے۔۔۔ ہاتھ میں ماسک تھامے تھا باقی سب ساتھ لائے گفٹس بکے تھامے تھے جون تائی کا ہاتھ بھی خالی نہیں تھا خالی ہاتھ تھا تو بس ہیونگ سک۔۔۔
    اس نے گھبرا کر جیب ٹٹولی۔۔۔ کیا ہوا لفٹ نیچے آچکی تھی پہلی شفٹ سوار ہو رہی تھی۔۔۔
    گفٹ تو لایا نہیں تھا کار کی چابی کیا کی؟
    گاڑی میں لگی چھوڑ دی خیال روح فرسا تھا
    وہ فورا پلٹا اسے بھاگنے کو تیار دیکھ کر کم سن نے آواز لگائی
    کدھر جا رہے ؟
    چابی بھول گیا آتا ہوں ۔۔۔ اس نے بھاگتے بھاگتے بتایا۔۔۔
    چوتھے فلور پر آجانا چودہ نمبر فلیٹ ہے۔۔
    کم سن نے زور دار آواز سے کہا تو اس نے سر ہلا دیا۔۔۔
    باہر پارکنگ میں دوڑ کر آتے سانس پھول چکی تھی چابی گاڑی کے دروازے کے نیچے پڑی تھی۔۔۔ شکر۔۔۔ اس نے اندر لاک نہیں کر دیا تھا۔۔۔ اس نے جلدی سے چابی اٹھائی گاڑی پر سرسری نظر ڈال کر اطمینان کرتا ہوا خراماں خرامان چلتا ہوا واپس آیا۔۔۔
    سب جا چکے تھے وہ کندھے اچکاتا لفٹ میں داخل ہوا تبھی سامنے سے ملگجے اندھیرے میں اسے محسوس ہوا کوئی بھاگتا ہوا آرہا تھا۔۔۔ وہ چودھویں فلور کا بٹن دبا چکا تھا دروازہ بند ہونے کو تھا اس نے آنے والے کے خیال سے پائوں اڑا کر دروازے کو بند ہونے سے روکا۔۔۔
    بھاگتے بھاگتے سایہ قریب آیا۔۔ آنے والی لڑکی تھی۔۔ ہلکے گلابی لانگ اسکرٹ سفید بلائوز میں ملبوس تیزی سے اندر آتےہوئے اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئ۔۔۔ ہایان نے نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا وہ دروازے میں کھڑی تھی لفٹ کا دروازہ دو بار بند ہوتے ہوتے رکا تھا۔۔۔ اس نے اسے حیرانی سے دیکھتے اسکے سامنے ہلکے سے چٹکی بجائی۔۔۔ وہ جیسے ہوش میں آئی پھر سر کے اشارے سے معزرت کرتی اندر داخل ہو گئی اسکی منزل بھی شائد چودھواں فلور تھی ایک نظر بورڈ کو دیکھ کر اس نے انتخاب کیلیے اٹھایا ہاتھ نیچے کرلیا
    وہ ایک نظر اسے دیکھ کر اپنا موبائل نکال کر مگن ہو گیا۔۔۔ یونہی اسکو خود پر جمی نظر کا احساس ہوا تو سر اٹھا لیا وہ لڑکی اسے شائد بے خیالی میں دیکھے جا رہی تھی گڑبڑا کر رخ پھیر گئ
    وہ اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا تبھی لفٹ رک گئ اور لفٹ کی لائٹ بند ہو گئ
    ہا ہ آہ۔۔۔ وہ۔لڑکی شائد ڈر گئی تھی اسکے منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز نکل رہی تھی جیسے وہ چیخنا چاہ رہی ہو مگر چیخ نہ پارہی ہو۔۔
    اطمینان رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ پریشان تو وہ بھی ہوا تھا

    مگر لڑکی کو شائد لفٹ سے کوئی فوبیا تھا
    بات سنیں ریلکس کریں ابھی لفٹ ٹھیک ہو جائے گی۔۔ وہ کہہ رہا تھا مگر لڑکی سن بھی نہیں رہی تھی اس نے موبائل کی لائٹ فورا آن کر لی تھی وہ لڑکی اکڑوں بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے سسک رہی تھی
    تین سے چار منٹ کا وقفہ پڑا تھا لفٹ کی لائٹ دوبارہ جل اٹھی تھی۔۔
    دیکھئے آگئ لائٹ۔۔۔
    لفٹ میں کوئی ہے۔۔۔ انتظامیہ سے اعلان ہو رہا تھا اس نے ایمرجنسی بٹن دبا دیا
    ہاں ہم دو لوگ ہیں ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کر اسپیکر میں پیغام دیا
    گھبرائے مت ہم یہیں ہیں تھوڑا سا پاور کٹ تھا ہم جلد سے جلد خرابی دور کر کے آپ کو نکال لیں گے ۔۔۔ آپ پلیز ہم سے بات کرتے رہیے۔۔
    ہاں ہاں میں موجود ہوں
    آپ زخمی تو نہیں۔۔۔ آپریٹر کے پوچھنے پر وہ مڑ کر دیکھنے لگا
    کہیں جھٹکا لگنے سے گر ور تو نہیں گئ جو رو رہی اسے خیال آیا۔۔۔ جھٹکا بہت زور کا نہیں تھا مگر تھا تو وہ ابھی بھی گھٹنے میں منہ دیے تھی
    میں تو ٹھیک ہوں
    میں اس لڑکی سے پوچھتا ہوں۔۔۔
    وہ اسکے سامنے اکڑون بیٹھ گیا
    سنو اوپر دیکھو۔۔۔
    دیکھو لائٹ بھی آگئ اور لفٹ بھی ٹھیک ہو رہی
    ۔۔۔ اسکے دھیرے سے کہنے پر اس نے آہستہ آہستہ سر اٹھا کر اپنے گرد پھیلی روشنی کو دیکھ کر اطمینان کیا۔۔۔
    تبھی لفٹ کو زوردار جھٹکا لگا اس لڑکی نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔
    وہ الٹ کر پیچھے گرتےگرتے بچا تھا۔۔۔
    گوما وویو۔۔۔ شکریہ
    لفٹ پرسکون ہو چکی تھی۔۔۔
    دروازہ کھل رہا تھا۔۔۔
    آپ دونوں سے گزارش ہے لفٹ جس بھی منزل پر رکی ہے آپ لفٹ سے باہر آجائیں اور سیڑھیوں کا استعمال کیجئے آپ کو تکلیف دینے کیلیے معزرت خواہ ہیں برائے مہربانی جلدی کیجئے۔۔۔
    وہ لڑکی تھر تھر کانپ رہی تھی اسے اب احساس ہوا اس لڑکی نے اسے بچانے کیلیے نہیں بلکہ خود خوفزدہ ہو کر اسکا ہاتھ تھاما تھا
    چلیں باہر نکلنا پڑے گا ہمیں وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اسے بھی سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔ لڑکی کا بیگ شانے سے اتر کر گرنے کو تھا اس نے اسے بھی پکڑ لیا
    جلدی کیجئے اور لفٹ سے باہر نکل آیئے۔۔
    آپریٹر انہیں سی سی ٹیوی سے دیکھ رہا تھا
    ہم نکل رہے ہیں وہ کہتا ہوا باہر نکلا لڑکی ابھی بھی مکمل اسکے سہارے پر تھی۔۔ اس نے اسے سامنے سیڑہیوں پر بٹھایا۔۔ پھر ادھر ادھر دیکھا تو دور چلر نصب نظر آیا۔۔۔ وہ تیزی سے اس کی طرف لپکا ایک گلاس بھر کر پہلے خود پیا۔۔۔ سچی بات دل اسکا بھی قابو سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔
    یہ گیارہواں فلور تھا۔۔۔ وہ پانی بھر کر گلاس لے کر آیا تب تک لڑکی آنسو وغیرہ پونچھ چکی تھی۔۔۔
    شکریہ۔۔۔ اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر وہ ایک سانس میں پی گئ تھی۔۔۔
    آپ کو کس فلور جانا ہے ۔۔۔ وہ پانی پی کر اٹھ کھڑی ہوئئ۔۔
    فورٹین۔۔۔ دھیرے سے بولی۔۔
    ہیون جونگنے بہت دلچسپی اسکے گھبرائے روپ کو دیکھا تھا۔۔۔
    اپنے ہی الفاظ کان میں گونج گئے
    لڑکی ایسی ہو نازک سی کہ اسکی ڈھال بن جانے کو دل چاہے ۔۔
    وہ لڑکی اسکے غور سے دیکھنے پر گھبرا گئ۔۔۔
    ہایون چونکا۔۔۔
    میں بھی وہیں جا رہا ہوں چلیے اکٹھے چلتے ہیں ۔۔ اس نے کہا تو لڑکی اثبات میں سر ہلا کر اسکی پیروی کرنے لگی۔۔۔ وہ اس سے ایک قدم پیچھے چل رہی تھی چودھویں فلور پر وہ بنا ایک لفظ کہے دائیں جانب تیز تیز چلتی چلی گئ۔ہیون نے سامنے والے فلیٹ کے نمبر سے اندازہ لگایا اسے بائیں جانب مڑنا تھا نویں فلیٹ کے سامنے سب جمع اسے گھور رہے تھےاس نے مڑ کر دیکھا تو وہ لمبی سی راہداری کے آخری فلیٹ میں داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
    کہاں رہ گئے تھے تم ؟ یون بن جھنجھلا کر دبی دبی آواز میں پوچھ رہا تھا
    اس کم سن نے ہمیں اندر بھی جانے نہیں دیا ۔۔۔ جب تک ہیون نہیں آتا نہ جائو۔۔ کسی لڑکے نے چڑ کر کہا
    یار لفٹ بند ہو گئی تھی ۔۔۔
    ہیں کیا۔۔۔
    تم ٹھیک تو ہو۔۔۔ سب فکر مند ہوئے
    میں ٹھیک ہوں اس نے اطمینان دلایا بارہ بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے
    چلو اندر وقت ضائع نہ کرو۔۔ چلو اس نے جلدی مچائی تو یون بن نے بھی ہاں ہاں کرتے آگے بڑھ کر پاسورڈ لگا کر دروازہ کھولا۔۔
    فلیٹ ملگجے اندھیرے میں ڈوبا تھا۔۔۔
    یہ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کرتے سیدھا گوارا کے کمرے میں داخل ہوئے یون بن سب سے آگے تھا۔۔۔
    ماسک لگا کر اس نے گوارا پر جھکتے دھیرے سے گوارا کا کندھا ہلایا۔۔
    گو ارا۔۔۔
    گوارا ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔
    گوارا اس نے اس بار زور سے ہلایا گوارا بے سدھ تھی یون بن کی شرارت تشویش میں بدل رہی تھی ۔۔۔
    گوارا۔۔۔ اس نے پریشانی سے کہا
    گوارا اس بار وہ چیخ پڑا تھا۔۔۔
    گہرا گاڑھا سیال گوارا کی۔گردن سے بیڈ تک آرہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام ۔۔۔
    جاری ہے

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist? Rate us

    Rating
  • koi gham bala ka ho ya nayee koi museebat ho

    کوئی غم بلا کا ہو یا نیئی کوئی مصیبت ہو …
    ہنس ہنس کے میں سہتا ہوں رونا بھی نہیں آتا …


    شب بھر خوابوں میں دیکھا ہے بس تم کو ….
    مجھے ٹھیک سے تو شاید سونا بھی نہیں آتا ….


    تجھ کو بھلا دوں یوں صورت بھی نہ یاد رہے …..
    مجھے ایسا تو کوئی جادو ٹونا بھی نہیں آتا ….


    بھیگتی سی پلکیں ہوں یا ویران میری آنکھیں ….
    بےدرد سا غم دل مجھے سہنا بھی نہیں آتا ….


    مجھ سے ہے شکایات اس کو کچھ شکوے بھی بے اعتنائی کے
    مجھے تو اپنی صفائی میں کچھ کہنا بھی نہیں آتا ….


    بچھڑ کے اسے تو میں ذرا سا یاد بھی نہ آیا ..
    اپنا تو بنانا دور مجھے اسکا ہونا بھی نہیں آتا …


    مجھے ڈھونڈنے نکلو گے پاؤگے یہیں مجھ کو ….
    بڑی سی اس دنیا میں مجھے کھونا بھی نہیں آتا ….


    پل پل کاٹا ہے پچھتاووں میں ہجوم تم نے ….
    گزاردی زندگی تم نے تنہا تمہیں جینا بھی نہیں آتا….

    koi gham bala ka ho ya nayee koi museebat ho...
    huns huns k main sehta houn rona b nahi aata...
    
    shab bhar khawabo main dekha hay bus tumko....
    mujhy theek se tau shayad sona b nahi aata....
    
    tujhko bhula doun youn sorat b na yaad rehay.....
    mujhay aisa tau koi jadoo tona b nahi aata....
    
    bheegti si pakain houn ya weraan meri ankhain....
    baydard sa gham e dil mujhy sehna b nahi ata....
    
    mujhse ha shikayat us ko kuch shikway b bayaitnai k...
    mujhy tau apni safai main kuch kehna b nahi aata....
    
    bichar k usay tau main zara sa yaad b na aya....
    apna tau bunana door uska hona b nahi aata..
    
    mjhay dhondnay niklo gay paogay yeheen mujhko....
    bari si is dunya main mjhe khona b nahi aata....
    
    pal pal kata hay pachtawoun main hajoom tum nay....
    guzardi zindagi tumnay tanha tmhain jeena b nahi aata....
  • Salam Korea Episode 1

    Salam KOREA

    by vaiza zaidi

    قسط ایک

    اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کے بیچ اس گہری گھاٹی میں  تاحد نگاہ برف کا طوفان تھا جس میں راستہ

    ڈھونڈتا وہ چھے سال کا بچہ بلک بلک کر روتے ہوئے پکار رہا تھا۔

    سن۔۔ سن۔۔ 

    اسے اسکی ماں کی آواز بہت دور سے سنائی دی تھی۔ 

    ماما۔۔ وہ حلق کے بل چلایا۔ مگر تند و تیز ہوائوں میں اسے اپنی آواز خود بھی نہ سنائی دے سکی۔۔ 

    سن۔۔ سن۔۔ 

    اسکی ماں بے تابئ سے پکار رہی تھی۔ 

    ماما۔۔ ماتوشکا۔۔۔ 

    وہ طوفان کی پروا کیئے بنا بھاگا۔ اسکے ننھے پائوں برف میں پھنس گئے وہ منہ کے بل گرا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1 جنوری 2017

    اسکو سوتے ہوئے ذور کا جھٹکا لگا تھا جس سے اسکی آنکھ کھل گئ تھئ۔ وہ اپنے نرم گرم بستر میں کمفرٹر میں ملفوف تھا۔ اس نے حیرت سے اپنے اوپر پڑے اس موٹے کمفرٹر کو گھورا۔اتنئ تمیز سے نیو ائیر پارٹی کرنے کے بعد جب وہ مکمل ہوش کھو چکا تھا اسے شک تھا کہ وہ خود کو ڈھانپ کے یوں سو سکتا ہے۔ اس کے سر میں دھماکے ہورہے تھے۔ اس نے سر تھامتے رات کا منظر یاد کرنے کی کوشش کی۔ 

    اسے ٹیکسئ ڈرائور کندھے سے لگائے سہارا دیئے لایا تھا گھر تک۔ اس نے گھر کے اندرونی داخلی راستے کے دروازے پر اسے شکریہ کہہ کر واپس بھیجا تھا۔ نہیں بلکہ اسے کرائے کیلئے ایک بڑا نوٹ نکال کر دیا تھا۔ جوابا وہ اپنی جیبیں ٹٹولتےہوئے اسکو یقینا بقیہ رقم واپس کرنے والا تھا۔ 

    آنیا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔ 

    رکھ لو بقیہ۔ 

    اسکے یوں فراخدلی سے نوٹ وارنے پر وہ سانولا سا جنوبی ایشیائئ نقوش کا نوجوان ایکدم خوش ہوگیا تھا۔ اسکے چہرے پر چھاتئ خوشی اسے بھی خوش کر گئ تھئ۔ 

    گھمسامنیدہ۔ خالص کوریائی انداز میں آدھا جھک جھک کر اس نے شکریہ ادا کیا تھا۔ جوابا وہ حسب عادت مسکرایا۔

    اسکی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ چندی آنکھوں کھڑی ناک چھوٹا سا دہانہ جس میں قطار سے برابر موتیوں جیسے چھوٹے چھوٹے دانت جن میں کسی قسم کی سرجری کا کوئی کمال نہ تھا۔ شائد روسی جینیات کا تحفہ تھا۔ بھورے بال اور کھڑے کھڑے نقش کورین نقوش کے امتزاج کے ساتھ۔سفیدبرف سی شفاف رنگت اونچا لمبا قد چھے فٹ سے بھی دو انچ اوپر۔ وہ بے حد وجیہہ تھا اس پرسونے پر سہاگہ ایک مکمل مسکراہٹ۔جس پر اسکول کے زمانے سے اس پر لڑکیاں کرش رکھنے پر مجبور ہوجاتی تھیں۔۔۔ اس مسکراہٹ کے اسکے چہرے پر بکھر آنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ وہ یونہی راہ چلتے بھی کسی کو اپنی جانب حیرت سے تکتے پا کر مسکرا دیا کرتا تھا۔ ابھئ بھی مسکرا کر اندر کا رخ کیا۔ حسب معمول گھر بھائئیں بھائیں کر رہا تھا۔ بڑی سی راہداری کے بعد لائونج اوپن کچن  دائیں  جانب لونگ روم تھا ۔۔پرتعیش سامان سے سجا بلکہ تنا ہوا۔۔دوسری جانب اوپر جانے کی سیڑھیاں جنہیں وہ لڑکھڑاتے قدموں سے گزارتا اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا۔ نہیں سیڑھیوں کے پاس آرائشی اسٹول پر رکھا وہ بت جس پر چینی ڈریگن بنا ہوا تھا۔پھن نکال کر آگ برسانے کو تیار منہ کھولے سرخ سا  جسکی آنکھیں میں شرارے تھے۔۔ 

    اس نے اٹھا کر دیکھا۔۔ 

    تم یہاں کیسے آئے ؟ 

    اس نے سنجیدگئ سے پوچھا تھا مگر جواب نہ ملا۔ وہ ڈریگن یونہی شعلہ اگلتی نگاہوں سے گھورتا رہا۔

    اسے احتیاط سے واپس رکھ کر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ سست روی سے ۔۔۔ وہ مکمل مدہوش نہیں تھا۔ پھر بھی اپنے کمرے میں آتے ہی وہ دھپ سے بیڈ پر گر کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگیا تھا۔ تبھئ کسی نے اس پر کمفرٹر ڈال کر اسکے جوتے اتارے اور اسکی ٹانگیں احتیاط سے بیڈ پر درست کیں۔ 

    آنیا۔ مجھے ٹیڑھا ہی سونا ہے۔ 

    اس نے احتجاج کرنا چاہا مگر بڑبڑا کر رہ گیا۔۔ جوابا اسےنسوانی ہنسی سنائی دی تھی۔ 

    پھابو۔ 

    کون ہو سکتا۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔

    نونا۔ وہ چونک کے اٹھ بیٹھا۔۔۔ 

    اس وقت کمرے میں پردے برابر تھے باہر یقینا کہرا تھا جبھئ کمرے تاریک شام کا منظر پیش کر رہا تھا۔اس نے سائیڈ لیمپ جلایا۔سائیڈ ٹیبل پر رکھی ڈریگن کی شکل کی ہی گھڑی پانچ بجے کا وقت دکھا رہی تھئ۔ 

    پانچ۔ اسے کرنٹ سا لگا۔ 

    یہ یقینا شام کے پانچ تھے۔صبح کے پانچ بجے کا وقت اسکے نائٹ کلب میں صوفے پر اوندھے پڑے گزرا تھا۔ اسکا موبائل چارجنگ پر لگا تھا اس نے نکال کر دیکھا۔ 

    نیا سال مبارک۔۔

    مبارکبادوں سے اسکا کاکائوچیٹ انباکس بھرا پڑا تھا۔ سب پیغام گزار کر اس نے سب سے پہلے 12 بجنے سے بھی ایک منٹ پہلے والا پیغام پڑھا۔

    نیا سال اور ہر آنے والا سال تمہیں  ہمیشہ پچھلے سے ذیادہ خوش اورمطمئن کرے آمین۔ 

    نوناکا پیغام اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔ سونگیون کا پیغام تھا۔۔ رات کے کھانے پر ریستوران آنے کی یاددہانی تھئ۔ 

    اسے یاد تھا مگر آج ٹن ہوکے ساری دوپہر گزرگئ تھی سوتے۔ سو تازہ دم ہونے کیلئے وہ بستر چھوڑتا سیدھا نہانے گھس گیا تھا۔ نہا دھو کر تازہ دم ہو کر وہ نیچے چلا آیا۔ اوپن کچن میں ملازمہ اسکی جانب پشت کیئے اسٹو پر کچھ گرم کر رہی تھی۔ اس نے اس پر توجہ دیئے بنا فریج کھولا۔ اورنج جوس نکال کر اوپن کچن کے داخلی حصے پر بنی دلکش سنگئ میز پر لا رکھا۔ گلاس اس پر سجے ہوئے تھے۔ 

    اس نے گلاس اٹھا کر اس میں جوس کا گلاس بھرا۔۔ کنپٹی میں درد کی شدید لہر اٹھی تھئ۔ اس نے آنکھیں میچ کر کنپٹی اپنے انگوٹھے کی مدد سے سہلائی۔ 

    نئے سال کی آمد کا رات بھر جشن منانے والوں کے سر میں   نئے سال کی صبح میں دھماکے ہی  ہوتے ہیں۔۔اور انکے لیئے اورنج جوس سے ذیادہ فائدہ مند ہینگ اوور سوپ ہوتا ہے۔ 

    اسکے عقب سے آواز آئی تھی۔مانوس آواز وہ بے ساختہ مڑا۔ 

    سوپ کا پیالہ میز پر رکھتی وہ مسکرادیں۔ 

    نونا آپ کب آئیں۔ وہ خوشی سے کہتا ان سے لپٹ گیا

    کل۔۔ اور تم رات بھر گھر ہی نہیں آئے۔ وہ مصنوعی خفگی سے بولیں۔

    نیو اییئر نائٹ گھر پر کون گزارتا۔۔ 

    وہ جتانے والے انداز میں بولا

    میں۔وہ کھلکھلائیں۔

    جوابا وہ کان کھجانے لگا۔

    تمہارے لیئے سوپ بنایا تھا صبح مگر تم اٹھے ہی نہیں ابھی اٹھانے آئی کمرے میں توتم نہانے گھسے تھے۔ سو میں نے گرم کردیا۔ 

    بس ایک ہی سوپ کا پیالہ تھا جو وہ اسکی جانب کھسکا چکی تھیں۔ وہ جوس کا گلاس چھوڑ کر سوپ پینے بیٹھ گیا۔ گنگشن نے پیار سے اسکو دیکھا۔۔۔

    کیا حال ہے چینیوں کا۔۔ 

    اس نے برسبیل تذکرہ پوچھا۔ 

    کوئی حال نہیں۔ ویسے ہی سخت دل خشک اور سرد مزاج ہیں جیسے پہلے تھے۔ گہری سانس لیکر وہ بولیں۔ 

    آپکے کورینوں کو ضرورت کیا ہے انکے پاس جانے کی۔بن بلائے مہمانوں کا سواگت کون کرتا ہے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں انہیں چھیڑنے لگا۔ 

    میرے نہیں ہم سب کے کورینز ہیں۔ نونا سنجیدہ سی ہوگئیں۔

    خوف دہشت بھوک موسم کی شدتیں ان میرے تم جیسے انسانوں کو کیا کیا خطرات نہیں لاحق۔ محض جنوبی اور شمالی کے فرق سے ہماری زندگیاں کتنا بدل گئ ہیں۔ ایک جیسی رنگت نسل کے لوگوں کے بیچ سرحدوں نے ہمیں انکا احوال بتانے سے تو روکا ہی ہے بے حس بھی کردیا ہے ہمیں۔۔وہ مریں جئیں ہمیں کیا۔۔۔۔ 

    نونا۔۔ اس نے سر اٹھا کر انکو دیکھا۔ وہ بولتے بولتے افسردہ سی ہو گئ تھیں۔ شائد ان مہاجرین کا حال قریب سے دیکھنے کی وجہ سے وہ ذیادہ شدت سے محسوس کرسکتی تھیں انکی تکلیفوں کو۔ 

    کوئی نیا مہمان لے آئی ہیں آپ چین سے؟ 

    وہ نہایت سنجیدگئ سے آنکھوں میں شرارت بھرے پوچھ رہا تھا۔

    ہاں۔ اتنی پیاری لڑکی ہے۔ پچاس سالہ چینی آدمی نے خریدا تھا اسے وہ بھی جب وہ بس بارہ برس کی تھی۔پچھلے بارہ سالوں سے۔۔۔ 

    وہ فورا جوش سے اسے بتانے لگیں۔ سوپ پیتے اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھی۔ اسے پتہ تھا کسی نئے آنے والے کا غم لاحق ہے انہیں جو سال کے پہلے دن بھی انکو خوش ہونے نہیں دے رہا۔ 

    تم ۔۔ وہ سمجھ کر فورا بریک لگا گئیں۔

    مجھے پتہ تھا۔ وہ اب کی دفعہ کھل کر ہنسا۔ گنگشن اسے گھور کر رہ گئ۔

    نونا صحت نہیں بن پاتی آپکی اسی وجہ سے۔ آپ کا سوشل ورک آپکو دکھی کیوں کر دیتا ہے۔ وہ ہنسی روک کر اب سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔ 

    یقینا وہ جو کوئی بھی دکھیاری ہے اب اسکے دکھوں کا مداوا آپ کردیں گئ اس بات پر آپ خوش ہوجائیں بجائے اسکے کہ اسکے ماضی کی تکلیف دہ یادوں کو سوچ کر خود دکھی ہونا شروع کردیں۔ خوشیاں گننی چاہئیں غم کو اتنی بھی مہلت نہیں دینی چاہیئے کہ اسکا شمار کرنےلگیں۔۔ 

    وہ ایسا ہی تھا۔ہر معاملے ہر مسلئے کا مثبت پہلو دیکھنے والا مثبت سوچ کا حامل۔ گنگشن کو اس پر فخر سا ہوا۔ نثار ہو جانے والی نگاہوں سے اسکا لیکچر سنتی گنگشن۔ وہ خفا سا ہوگیا۔

    میں اتنئ سنجیدہ بات کر رہا تھا آپ مجھے ایسے دیکھ رہی ہیں۔احمق محسوس کر رہا ہوں میں۔ 

    خفا خفا سا ہایون۔ گنگشن نے ہنس کر اسکے دونوں گالوں کو چٹکیوں میں بھر لیا۔ 

    پھابو( پاگل) میں تمہیں ہی سن رہی ہوں۔ اب تم ہو ہی اتنے کیوٹ کیا کروں۔ 

    نونا۔۔ وہ چڑا اپنے گال بھی چھڑائے

    اب میں بچہ تھوڑی ہوں۔ وہ منہ پھلاکر بچوں کی طرح ہی کہہ رہا تھا۔ 

    میرے لیئے تم سدا بچے ہی رہو گے۔ گنگشن پر کوئی اثر نہ تھا۔ ہنس کر کہتی اسکے نیم گیلے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر جھٹکنے لگیں۔ سوپ پیتے ہایون کا منہ جل گیا۔ 

    نونا کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔ نوناا

    بال تو سکھا لیتا ہے بندہ اتنی سردی میں۔ 

    وہ اب اسکا سر ہلا رہی تھیں۔

    نونا سوپ پی رہا ہوں۔ اس نے احتجاج کیا مگر گنگ شن نونا مجال ہے جو کبھی اسکے احتجاج کو خاطر میں لائیں 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گرم گرم گاڑی سے نکلتے ہی اسکو جھرجھری سی آئی تھی۔ دانت بجنے کوتھے۔ سرد اور نم ہوا سیدھا اسکے سینے سے ٹکرائی تھئ۔ کل اور آج برفباری نہیں ہوئی تھی مگر یقینا کل ضرور ہوگئ یا شائد رات تک۔موسم کے تیور بتا رہے تھے۔اس نے اپنے اپر کی زپ چڑھائی۔۔ مستعد گارڈ فورا چابی لینے اسکی جانب بڑھا ۔ پارکنگ میں گاڑی لگانا اور اور اسکی واپسی پر گاڑی پارکنگ سے نکال کر یہیں واپس لگانا اب اسکی ذمہ داری تھئ۔ اسے گاڑی کی چابی تھماتے وہ عجلت میں اس مشہور مگرسیول کے مہنگے ترین ہوٹل میں اندر داخل ہوا تھا۔ اندر حسب توقع خوب روشنیوں اور خوشبوئوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ ایکجانب ایک خوش رو لڑکا بیٹھا دھیمے سروں میں گا رہا تھا۔ میل کتے واں۔۔ یہ گانا گنگشن انی کو بہت پسند تھا۔  وہ رک کر سنے گیا۔ صرف گٹار کی آواز آرہی تھی۔ باقی موسقیقی کے آلات ڈرم پیانو بیٹس وغیرہ لیئے لوگ بیٹھے تو تھے مگر آرام کر رہے تھے۔ لڑکے کی آواز مسحورکن تھی۔ 

    ہایونا۔۔۔۔ 

    پکار پر وہ چونکا۔ دائیں جانب ایک کونے میں وہ سب ساتھئ جمع تھے۔ سونگیون نے ہی آواز لگائی تھئ۔ متوجہ ہونے پر اسے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ سر جھٹک کر انکے پاس چلا آیا۔ 

    کم سن ، سونگیون،  یون بن وہ سب اکٹھے ہو کر بیٹھے تھے۔اسے دیکھ کر پر تپاک انداز سونگھیون اٹھ کر ملا۔تھا باقی دونوں سے تو کل بھی ملاقات رہی تھی سو انہوں نے بیٹھے بیٹھے ہی بس ہاتھ پر ہاتھ مارنے پر اکتفا کیا تھا۔۔ اسکے سوا سب جیکٹوں میں ملبوس تھے۔ یون بن نے تو مشہور ذمانہ گھٹنوں تک والا لمبا فوم والا پیراشوٹ جیکٹ پہن رکھا تھا۔ اس وقت اندر فل ہیٹڈ ہال میں بھی وہ پہنے بیٹھا تھا۔

    کل خیریت سے پہنچ گئے تھے گھر۔

    یون بن نے پوچھا تھا۔ وہ سر ہلاتا بیٹھ گیا خیرت سے پہنچا تھا تبھی تو آج دوبارہ انکے سامنے تھا۔ 

    اس نے ایک نظر سب پر ڈالی۔ خوش گپیوں میں مصروف وہ سب ایک جیسے تھے چندی آنکھوں برف سی رنگت والے اسکے بچپن کے سنگئ ساتھئ۔ پھر بھی ایک دکھائی دینے والا فرق تھا۔ وہ سب اس ریستوران میں  پہلی دفعہ نہیں  آئے تھے۔مگر ہر دفعہ آنے پر ریستوران میں کوئی نئی تبدیلی آچکی ہوتی تھی جس کو وہ ناصرف آرام سے پہچان جاتے تھے بلکہ کھل کر سراہتے بھی تھے۔۔ریستوران کی دلکش انٹیرئر ان سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ اس وقت بھئ سونگیون اور یون بن دیوار پرلگی نادر پینٹنگ کو دیکھتے تبصرہ کر رہے تھے۔ 

    ہایونا۔ یہ والی پینٹنگ وہی ہے نا جسے لینے ہم بوسان گئے تھے ۔ یون بن کو پچھلے سال کی وہ نمائش یاد تھئ جس مین شرکت کیلئے وہ اور ہایون اکٹھے گئے تھے۔۔ 

    پتہ ہے یہ کتنی مہنگی پینٹنگ ہے۔ پورے۔۔۔ 

    آگے قیمت بتا رہا تھا۔ اس نے دانستہ ان پر سے دھیان ہٹایا۔ 

    ہیں ہایون۔ اتنی مہنگی پینٹنگ ہے یہ۔ 

    سونگیوں یون بن کا پسندیدہ ردعمل دے رہا تھا۔ متاثر ہوجانے والا۔ 

    ظاہر ہے اس ریستوران کا اپنا معیار ہے اسکے حساب سے تو یہ۔تصویر کچھ بھئ نہیں۔یون بن متاثر تھا اس ریستوران سے جبکہ یہ ہایون کے باپ کا ریستوران تھا۔ اسکے چہرے کی مسکراہٹ ماند سی پڑنے لگی۔ اس نے دانستہ سر ہلا کر رخ پھیرا۔ وہ جانے کیوں احساس جرم کا شکار ہوجاتا تھا ۔ بے پناہ دولت مند ہونےکا احساس اسے کبھئ خوش نہیں کرسکا تھا کیونکہ۔۔ پاس سے گزرتے ویٹر کی نظر اس پر پڑئ تو   مستعد ہو کر اسکی جانب آیا۔

    اسکے باپ کا ریستوران تھا ویٹر کا رواں رواں کان بن گیا تھا۔ 

    آننیانگ واسے او۔ پرتپاک سلام۔۔ 

    آنیانگ۔ جوابا وہ سنبھل کر سیدھا ہو بیٹھا۔ 

    آرڈر دے لو کیا منگوانا ہے۔ اس نے ہلکا سا میز بجا کر ان سب کو متوجہ کیا۔  

    سن بے ( سینئر) واش روم تک گئے ہیں آتے ہیں تو انکی مرضی سے آرڈر کرتے ہیں۔ یون بن نے کہا۔ تو وہ چونکا

    سن بے؟ 

    سن بے۔۔۔سونگھیون نے وضاحت کی۔  جونگ جے وہی توملنا چاہ رہا تھا تم سب سے۔ جو یہ دعوت رکھی۔ یہ دعوت ہے بھئ انکی جانب سے۔ ورنہ مجھے کیا پاگل سمجھا ہے ان دو ٹکے کے لوگوں کو میں اتنے مہنگے ریستوران لائوں گا۔ سونگھیون کا جملہ ختم ہونے تک یون بن اور کم سن اس پر پل پڑے تھے۔دونوں نے کرارے ہاتھ جمائے تھے اسکی گدی پر جوابا وہ ہنسے گیا ڈھٹائئ سے۔

    اسکے دماغ کی گھنٹئ بجی۔۔۔۔ 

    ارے۔۔  وہ چونک کے سیدھا ہوا۔ 

    ویٹر منتظر کھڑا تھا۔

    تم جائو تھوڑی دیر میں آنا۔ اسے بھیج کر وہ سونگیون کی جانب متوجہ ہوا۔

    جون جے سن بے تو امریکہ میں نہیں تھے؟ 

    اب آگئے ہیں۔بالکل بدل کر۔

    سونگھئون نے کہہ کر ہنکارہ بھرا ۔سامنے جون جے ریستوران کے باہر سے اندر آرہا تھا۔ وہ سب اسکو حیرت سے دیکھنے لگے۔ 

     آنیانگ واسے او ۔۔۔

    آج ہم تقریبا دو سال کے بعد اکٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔

    جون جے نے مسکرا کر قریب آکر اپنے دوستوں کو مخاطب کیا۔۔ 

    سونگھئون کے سوا سب کے چہرے پر اسے دیکھ کر جو حیرت اتری تھئ اسے اندازہ تھا۔جبھی بظاہر کمپوزڈ سا تھا۔ 

    ہایون نے فورا تاثرات قابو میں کیئے اور اٹھ کر گرمجوشی سے ملا۔۔ کم سن یون بن۔ 

    معزرت میں ذرا باہر چلا گیا تھا۔ 

    اپنی غیر موجودگئ کی مختصر سی وضاحت۔ 

    اور کیسے ہو تم سب ۔پڑھائئ جارئ ہے ؟ وہ برسبیل تذکرہ پوچھ رہا تھا۔  ہائی اسکول چھوڑنے کے بعد تو سمجھو پہلی بار ہےیہ ملاقات تم سب سے۔۔۔ 

    دے۔۔ کم سن نے ہی جواب دیا۔ 

    وہ ان سب سے دو سال سینئر تھا۔جبھی اسکے انداز میں بڑا پن اور بے تکلفی تھئ۔ وہ سب جون جے سے بہت متاثر ہوا کرتے تھے ہائی اسکول دور میں۔ بہترین باسکٹ بال پلیئر پوزیشن ہولڈر۔۔۔۔

    اسکی ان سب سے دوستی باسکٹ بال کھیلنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سنجیدہ طبیعت جون جے نہایت غصہ ور ہوتا تھا۔ مگر ایک اتفاقی جھگڑے  نے اسے ان کے گروہ کا حصہ بنادیا تھا ان سب کے ساتھ بھی ہر پارٹئ میں شامل ہوتا تھا اور اسکا اپنا دوستوں کا گروہ الگ تھا۔مگر اس وقت اسکی شکل دیکھ کر انہیں نہیں لگا تھا کہ وہ دنیا کا سنجیدہ ترین انسان ہے جس کیلئے مسکرانا ایک کارگراں تھا۔ غصے کی جگہ اسکے چہرے پر نرمی سی تھی۔ وہ مسکرا نہیں رہا تھا مگر تاثرات ایسے ہی تھے جیسے ایکدم مسکرا دے گا۔

    سونگھیون کو سب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جو دانستہ ان سب سے نظر چرائے مینیو کارڈ میں منہ گھسائے تھا۔

    ہو یون بن  ، پارک سونگھیون ،  کم سن او اور لی ہایون۔۔۔۔۔۔

    جون جے نے طائرانہ نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ سب اس وقت سٹپٹائے ہوئے سے بیٹھے تھے ایک اسکی وجہ سے۔۔ 

    سونگھیون نے مینیو کارڈ سے سر اٹھایا۔ 

    سن بے وہ وقت یاد جب ہم اپنی پورے ہفتے کی کمائی جمع کرتے تھے کسی جگہ کھانا کھانے کیلئےاور پھر بھی پیسے کم پڑتے تھے پھر ہایون شا کسی مددگار جن کی طرح اپنا بٹوہ کھولا کرتا تھا ۔

    ۔یون بن  نے بھئ دماغ کی پٹاری سے پرانی یادیں چھانٹ نکالیں

    وہ یاد ہے جب تم یہاں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ یہاں آئےتھے اور بل دیکھ کر ہوش اڑ گئے تھے تمہارے۔ تمہیں اندازہ ہی نہ وہا کبھی ہایون کی وجہ سے کہ یہ سیول کا مہنگا ترین ہوٹل ہے۔

    سونگھیوں کا چہرہ خفت سے سرخ پڑا۔ 

    کبھئ بھول سکتاہوں۔ ایک تو پہلا پیار اوپر سے پہلے پیار کے سامنے پہلی اخیر پھٹکار ۔۔۔ 

     ہایون  جون جے ساختہ ہنسے  تھے۔۔  باقی بھی یاد کر کے مسکرا اٹھے 

    لیکن ہایون نے اس مینجر کی صحیح بستی کی تھی۔میرے دوست سے یہ سلوک کرنے کی ہمت کیسے کی۔ کم سن نے بھی ہنس کر یاد کیا۔

    بھئی یہ جناب ٹھہرے لی گروپ کے وارث انکے کیا کہنے ۔ کھلا پیسہ موج مستی ۔۔۔ سونگھیون نے رشک سے کہا ہایون کی ہنسی پھیکی پڑنے لگی اگر پیسہ خوش قسمتی کی دلیل ہوتا تو وہ خوش قسمت ترین تھا اور اگر دنیا میں پیسے کے علاوہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو زندگی گزارنے کے لیئے درکا ر تو یقین کرو اس سے زیا دہ بد نصیب کوئی نہیں وہ سوچ کر رہ گیا 

    اور میں اپنے  باپ کے کھلے پیسے کو بس حسرت سے دیکھ کر رہ جاتا تھا اپنے جیب خرچ کے لالے پڑے ہوتے تھے کوئی فائدہ تھا امیر مگر کنجوس باپ کا بیٹا ہونے کا ہائے محنت مزدوری کرکے پڑھائی کی آگے یونیورسٹئ گریجوایشن کے لیئے بھی خوار ہو رہا ۔۔۔ یون بن نے منہ بنایا  اسکے دکھڑے پر سب قہقہ لگا کر ہنس پڑے 

    وہ سب بالکل گئے گزرے نہیں تھے مگر ہایون اور کم سن کا مقابلہ مشکل تھا۔ 

     یون بن جو اتنی مسکینی سے بولا تھا۔۔۔ چندی آنکھوں چوڑے شانوں مگر چست بدن والا دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا اتنا بھئ غریب نہ تھا۔ ہمیشہ اپنے باپ کے اصولوں سے باغی جتنا پڑھائی میں اچھا اتنا ٹھرکی۔ وکالت سے بھاگتا تھا باپ سخت گیر مگر با اصول اور ایماندار وکیل پیسہ آبائی جائداد کی وجہ سے کھلا تھا مگر بیٹے پر شیر کی نظر رکھنے کی وجہ سے محفوظ۔۔

    اسکے دائیں جانب چندی ہی مگر کچھ ذیادہ ہی کھنچی آنکھوں چھوٹے سے چہرے والا کم سن۔ گہرے سیاہ بال لانبا قد دبلی جسامت۔ عام سا کوریائئ نقوش والا نوجوان جو سو لڑکوں میں کھڑا ہو تو بھی نگاہ ٹھٹکا دے۔ وجہ اسکے چہرے پر رہنے والی بے نیازی۔ جوامیری کی دین ہوتئ اگر۔۔۔۔ دراصل

    کم سن ایک کاسمیٹکس چین کے مالک کا بیٹاتھا۔ جسکی ماں دوسری بیوی تھئ۔ اسکے باپ کی پہلئ بیوئ مرچکی تھی ۔ اسکی اپنی ماں بھئ اسکے بچپن میں چھوڑ کر چلی گئ تھی جانے کہاں۔ سو اسکے باپ نے تیسری شادی کی۔ اب تو باپ بھی ایک اسپتال میں کومے میں پڑا آخری دن گن رہا تھا۔ اسکے دو سوتیلے بھائی باپ کی سب جائداد کے وارث بن چکے تھے اسے اور اپنی تیسری ماں کودودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا۔۔ نہایت عیش و آرام میں پلنے والے کم سن کو وہ بے دخل تو کر چکے تھے اپنی طاقت اور پیسے کے بل پر مگر اسکا تعلیم کا خرچ اسکا باپ ہی اٹھا رہا تھا انشورنس کے ذریعے دو تین دکانیں اسکے نام تھیں جنکو فرنچائز کہنا مناسب ہوگا ۔ مصوری اسکا شوق تھا۔ طالب علمی سے اپنا خرچہ خود اٹھا رہا باپ نےایک گھر نام کیا تھا اسکی ماں کے جہاں کبھی کبھی چلا جاتا تھا۔ مگر اب وہ علاقہ بند کرکے وہاں نئے سرے سے سوسائٹی بننے والی تھی سو سب علاقہ خالی کروایا جارہاتھا۔پیسے مل جانے تھے البتہ اسے۔۔

    سونگھیون دبتے قد فربہ سراپے کا مالک ان سب میں سب سے ذیادہ کھانے اور ہنسنے والا لڑکا۔  ماں باپ دونوں زندہ تھے اکٹھے بھی رہتے تھے یہ  مسلئہ تھا اسکا۔ ساتھ ہی چار اور بہن بھائی بھی رہتے تھے اسکو ہمیشہ قلق رہا والدین نے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کیوں نہ کیا یہ سوچے بنا کہ خود اسکا نمبر اس فہرست میں تیسرا بنتا تھا تو اسکی اس دنیا میں آمد ممکن نہ ہوتی اگر اسکے والدین واقعی عمل کرتے ہوتے اوپر سے آیا بھی اکیلا نہیں تھا اسکی ایک جڑواں بہن بھی تھی ساتھ ساتھ رہتی کتابیں بھی دونوں ایک ہی استعمال کرتے تھے اور جیب خرچ بھی انکے درمیان خاموش معاہدہ تھا کتابیں بو را کی پیسے سونگھیون کے۔۔۔ 

    رہا چھا جون جے۔۔ امریکی اور کورین نقوش کا امتزاج اسے کورہائی نقوش سے ذیادہ امریکی نقوش بخش گئے تھے۔ تاہم آنکھیں چندی تھیں۔ چوڑے شانے جم لگا کر خوب مسل بنا رکھے تھے۔ اسکے والد امریکی اور والدہ کوریائی تھے ہائی اسکول میں تھا جب والد کے انتقال کے بعد اسکی والدہ کوریا منتقل ہو گیئں اسکی ابتدائی تعلیم امریکہ کی تھی اور ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد وہ اپنی محبوبہ رچل کے ساتھ اعلی تعلیم کےلیے امریکہ ہی چلا گیا تھا ہائی اسکول کے بعد سب نے اپنےاپنے پسندیدہ شعبے کا انتخا ب کیا تھا سب بچھڑ ہی توگئے تھے مگر ان سب نے تعلق رکھا تھاایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔۔۔ 

    میں ملٹری میں جا رہا ہوں اگلے مہینے۔۔۔ سونگھیون نے اچانک ہی کہا تھا سب خاموش ہو کر شکل دیکھنے لگے۔۔

    ابھی سے؟ ۔۔۔۔۔۔یون بن نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ 

    ہم سب نے فیصلہ کیا تھا ہم اکٹھے جائیں گے۔ 

    کم سن نے بھئ ٹوکا۔۔

    ہم اکٹھے اب کبھی نہیں ہوسکتے ہم سب کی فیلڈز الگ ہیں شوق دلچسپیاں اور سب سے بڑھ کر زندگئ کے رنگ۔۔ 

    کہہ کر وہ  ہنسا۔۔

    میں اس سے قبل کہ پاگل ہو جائوں بہتر ہے سیول چھوڑ جائوں۔ 

    یہ اچانک حملہ تھا ۔۔جون جے نے ناپسندیدگی سے دیکھا 

    پاگل پن کا سیول سے کیا تعلق ہے؟ اور لازمی ملٹری سروس میں خود سے جانا بذات خود پاگل پن ہے۔ 

    ہایون نے  جتایا۔ 

    میں لازمی ملٹری سروس نہیں مکمل ملٹری سروس جوائن کرنے لگا ہوں ۔۔۔سونگھیون  نے اپنی بات کی وضاحت کی

    مگر کیوں تمہیں تو ملٹری میں دلچسپی نہیں تھی۔۔

    کم سن چیخ ہی تو پڑا

    مجھے کچھ تو کرنا ہے میں یونی ورسٹی افورڈ نہیں کر سکتا بو را پڑھائی چھوڑ چکی میں بھی یا تو یہی کروں یا کم ازکم شمالی کوریا کو ڈرا لوں لازمی سروس بھی تو کرنی ہی تھی سو میں نے سوچا یہ برا خیال نہیں کیوں سن بے۔۔ 

    اس نے نسبتا ہلکا پھلکا انداز اپنایا فی الحال سب ابھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیں تھے سو انہیں سونگھوین  سے اتنا اتفاق ضرور تھا کہ اسکی سوچ اسکے حالات کے حساب سے درست تھی

     جون جے اپنے ہی کسی دھیان میں تھا سنا ہی نہیں وہ میز پر سجے خوبصورت گلدان پر نظر جمائے تھا انداز سے ظاہر تھا وہ زہنی طور پر کہیں اور ہی ہے

    ہایون۔۔ اسکا انداز بھانپ گیا۔۔ 

    یہ اس وقت یہاں نہیں رچل کے پاس ہیں  ۔۔۔ سونگھیون تمہیں رچل کو بھی دعوت دینی چاہیے تھی ۔ جب سے رچل انکی زندگی میں آئی ہے ہمارے ساتھ دل کہاں لگتا ہے۔۔۔ہم بھی اپنی پرانی سن بےسے مل لیتے ۔۔۔ وہ روانی میں بولتا گیا تھا دیکھا ہی نہیں سونگھیون  اسے نظروں نظروں میں چپ ہو جانے کا اشارہ کر رہا تو کم سن یکدم سنجیدہ سی شکل بنا کر بات  ہی بدل گیا ۔۔۔

    آرڈر کر یں خالی خولی باتیں بناتے بہت وقت ہوگیا 

     جون جے کے چہرے پر پھیکی سی بےبس سی مسکراہٹ در آئی کم از کم دوستی اسکے نصیب میں تھی وہ بھی مکمل اور پر خلوص۔۔۔

    ہاں یار رچل کوبھی دعوت دینی چاہیئے تھی کیسی ہیں وہ آئی ہیں؟ آپ  لوگوں نے تو شادی کر لی تھی نا چاچو بن گئے ہم کہ نہیں ۔۔۔ یون بن  نے بھی اخلاق جتانا ضروری سمجھا ہایون سب کے چہروں سے کچھ بہت غلط ہے  بھانپ گیا سو یون بن کوآنکھ کے اشارے سے منع کیا 

    جون جے نے اسکے اشارے کو دیکھا پھر ہلکے سے مسکرا کر سر جھٹکا 

    سونگھیون  نے اسے بھی دعوت دی تھی میں بھی ضرور لاتا اگر وہ آسکتی ہوتی ۔۔۔ایک لحظہ رکا پھر جیسے آنکھیں میچ کر کسی درد کو اپنے اندر روکا اپنی چندی آنکھیں کھول کر درد بھر مسکراہٹ لبوں پر سجا ڈالی

    ۔ اگر وہ اب بھی اس دنیا میں ہوتی۔۔۔

    رچل نونا  کا پچھلے سال انتقال ہو چکا ہے ۔۔۔ سونگھئون نے افسردگی سے وضاحت کی ۔۔۔تینوں کے چہرے پر افسوس در آیا۔رچل بہت اچھی لڑکی تھی ان سب سے اچھی دعا سلام تھی اسکی انھیں حقیقتا بہت دکھ پہنچا تھا 

    وہ تو بالکل صحتمند تھی کوئی ایسی جان لیوا بیماری نہیں تھی اسکو پھر کیوں اچانک سوال اہم تھا مگر دوست کا چہرہ دیکھ کر ہمت نہیں تھی پوچھنے کی۔۔۔

    کیا کیسے۔۔۔ بے ساختہ یون بن کے منہ سے نکلا

    سوال تھا کہ نیزے کی انی سیدھا دل میں کھبی تھی جون جے کے۔۔۔ اس نے یک لحظہ سوچا پھر گہری سانس لے بولنا شروع کیا  

    امریکہ کے ایک گائوں  میں ہم ساحل کے کنارے پارٹی کر رہے تھے میں اور رچل تھے بس کچھ غنڈوں نے ہمیں گھیر لیا 

    تین لوگ تھے میں پی کے مدہوش تھا۔۔۔

    اس نے بتاتے بتاتے آنکھیں میچ لیں جیسے وہ منظر دوبارہ تازہ ہو گیا ہو 

    انہوں نے بے رحمی سے اسکوتشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا ۔۔۔ ہمیں طبی امداد صبح مل سکی وہ اسپتال میں دو دن زندگی کی جنگ لڑ کر ہار گئی۔۔۔

    اسکے دل کی تکلیف آنکھوں سے بہہ نکلی 

    یون بن پوچھ کے شرمندہ تھا بعد میں سونگھیون سے پوچھ سکتا تھا اسکی جلدبازی کی عادت ۔۔اس نے جون جے کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینا چاہی 

    ہایون حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا 

    میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ جون جے بدقت مسکرایا 

    پرسوں اسکی برسی ہے میں نے فا۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر مسکرا دیا۔۔۔ جون جے میں بہت تبدیلی آئی تھی وہ بہت غصے کا تیز اور کم مسکرانے والا انسان ہوا کرتا تھا مگر اب بات بے بات مسکراتا رہا تھا دعائیہ خوش آمدیدی کلمات کی ادائیگی کے وقت سے ہایون اسکا بدلا انداز دیکھ رہا تھا 

    اسکی یاد میں تقریب رکھی ہے میرے گھر پر

    تم سب آنا میں اپنا پتہ ایس این ایس (سماجی رابطےکی ویبسائٹ برائے پیغام رسانی )  کر دونگا

    وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا

    اچھا چلتا ہوں۔۔۔

    سونگھیون  نے فورا اسے روکنا چاہا

    کھانا تو کھاتے جائو ہم ڈنر کرنے ہی تو اکٹھے ہوئے تھے۔۔۔

    ہاں ہم بس آرڈر کر دیتے ہیں ۔۔۔ کم سن نے ہڑبڑا کر ویٹر کو آنے کا اشارہ کیا۔۔۔

    بہت شکریہ میں ویسے بھی یہاں کھانا نہیں کھا سکتا البتہ یہ دعوت ہوگی میری طرف سے ہی۔۔۔  وہ مسکرایا۔ 

    تم سب بلا تکلف دعوت اڑانا۔ سچ مچ تم سب کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے مجھے۔ ابھی چلتا ہوں۔مغرب ہو چکی ہے مجھے دیر ہو رہی ہے پھر ملتے تم سب ضرور آنا میں انتظار کروں گا  خدا حافظ۔۔۔ اس نے پھر مسکرا کر تھوڑا سا کندھے جھکا کر الودائیہ کلمات ادا کیے پھر رکا نہیں یہ سب بس دیکھتے ہی رہ گیے اس نے مکمل ہنگل زبان میں بات کی تھی مگر مخصوص کوریائی انداز میں آدھا جھکے بغیرصرف ہلکا سا سر جھکانے پر اکتفا کیا تھا

    یہ کچھ الگ الگ سا دیکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔ کم سن کہے بنا نا رہ سکا

    ہاں بہت اداس ہے داڑھی بھی بڑھی ہوئی تھی اسکی خشخسشی  سہی ۔مگر یاد ہے کیسے نک سک سے درست رہتا تھا لگتا ہے ابھی بھی صدمے میں ہے پیار بھی تورچل سے بہت کرتا تھا۔۔۔ 

    یون بن نے افسوس سے کہا تھا

    سونگھیون  خاموشی سے دیکھ رہا تھا انہیں 

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی

     ہایون پر سوچ انداز میں اس دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا جون جے نکل کر گیا تھا 

    جون جے تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ ہے تین لوگ اسکے قابو سے باہر ہو نہیں سکتے بلکہ جون جے تو دس لوگوں پر بھاری پڑتا تھا ہائی اسکول میں کتنے جھگڑے مول لیے اس نے پھر رچل کو بچا کیوں نہ پایا۔۔۔۔

    ہاں وہ اس سب کے با وجود رچل کو بچا نہیں پایا اور اس نے اپنے آپ کو بہت سزا بھی دی ہے۔۔۔

    سونگھیون  نے افسوس سے اپنے بٹوے سے ایک کارڈ نکال کر انکے سامنے میز پر اس پر تحریرعبارت ہنگل اور انگریزی میں تھی مگر بے انتہا چونکا دینے والی وہ سب بھو نچکا رہ گئے تھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریستوران سے نکل کر وہ سیدھا بس اڈے کی جانب آیا تھا۔سب سے پہلے والٹ کھول کر دیکھا تھا جس میں صرف تھوڑی سی ریزگاری پڑی تھی۔ اس نےان سب کو دعوت دینے کا کہا ضرور تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ سونگھیون اس ریستوران میں سب کو اکٹھا کر لے گا۔ خیر اسے کیا خبر تھئ کہ ۔۔ 

    بس کا ہارن اسے متوجہ کر گیا۔ جلدی سے سر جھٹکتا وہ بس میں چڑھا اور سب سے آخری نشست کی جانب بڑھ گیا۔ آگے بیٹھنے والوں کو بھانت بھانت کے لوگ ٹکرتے جبکہ پیچھے بیٹھنے والوں کو جھٹکے لگتے۔ اسے لوگوں کے دیئے جھٹکوں سے گاڑی کے جھٹکے بہتر لگتے تھے۔

    سیٹ کئ پشت سے سر ٹکا کر اس نے آنکھیں موند لیں۔ اسکا ابھئ لمبا سفر باقی تھا۔ سو وہ لوٹ کے وہیں امریکہ جاپہنچا تھا جہاں سے بھاگ آیا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جو آسمان پر اتنے ستارے ہیں ۔۔۔ 

    نیم اندھیرے ساحل کنارے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے وہ دونوں چہل قدمی کر رہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے جانے رچل کو کیا سوجھی رک کر سر اٹھا کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے بولی 

    ان میں آدھے سیٹلائٹ ہیں ۔۔۔جون جے نے مسخرے پن سے کہہ کر اسکی بات اچک لی 

    ہونہہ ۔۔ رچل نے مصنوعی خفگی سے دیکھا پھر دوبارہ اپنی بات مکمل کی

    یہ جو آسمان پر اتنے ستارے ہیں ان سب میں اگر زندگی ہو ان سب میں اگر میں باری باری پیدا ہوں تو ان سب میں میں جسے سب سے پہلے ڈھونڈوں گی وہ تم ہوگے ۔۔۔اس نے ٹھہر کر بات مکمل کی پھر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکائی ۔۔

    رچل کی گوری رنگت مدھم چاندنی میں دمک رہی تھی رچل کی آنکھیں خالص کوریائی چندی تھیں اسکے پپوٹے اسکی آنکھوں پر ڈھلکے تھے 

    گلابی چھوٹا سا دہانہ گھنے سیاہ بال شانے پر پھیلے تھے وہ اسکی اس  ادا پر فدا ہی تو ہو گیا 

    ذرا اس پر جھک کر بولا

    پر میں تو یہاں ہوں اس دنیا میں ۔۔۔

    تو میں ہمیشہ یہاں اس زمیں پر آنا چاہوں گی ۔۔۔ وہ جزب سے اسے دیکھ رہی تھی 

    اونچا لمبا چھے فٹ سے بھی نکلتا ہو اقد چوڑے کندھے مضبو ط ڈولے والے بازو کیا زور آور شخصیت تھی اسکی مگر اس سب سے الگ گوری رنگت والا چہرہ جس پر سجی چندی آنکھیں محبت کی قندیلوں سے روشن تھیں چھوٹے سے ہونٹ اسکی باتوں کے جواب میں پیار سے مسکرا رہے تھے یہ تھا اسکا ہمیشہ اسکارہنے والا جون جے

    اسکے ہوتے کس کی جرات اسکی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھ لے وہ مغرور ہوئی

    اور میں تمھیں یہاں سے کہیں جانے نہیں دونگا ۔۔۔میرے تمھارے بیچ کوئی نہ آسکے گاخدا بھی نہیں۔۔  ۔۔ اس نے کہتے ہوئے دھیرے سے اسکو بانہوں میں لے لیا 

    اور کوئی آ بھی کیسے سکتا کسی نے کوشش بھی کی تو منہ توڑ دونگا۔۔۔ وہ لہک کر بولا 

    کوئی تو خیر آچکا ہے۔۔۔۔ اس نے کہہ کر جون جے کے تاثرات جانچے وہ چمک کر بولا

    کون؟ جان لے لوں گا میں اسکی۔۔۔ 

    اسکا تم کچھ نہیں بگاڑ پائو گے ۔۔۔ اس نے قصدا لاپروا انداز اپنا کر خو د کر چھڑایا پھر منہ پھیر کر ہونٹوں پر مسکراہٹ دبائے مخالف سمت قدم اٹھانے لگی 

    رچل۔ ہمارے آنے والے بچے کی بات کر رہی ہو نا؟  ۔خلاف توقع وہ بہت سنجیدہ ہوگیا تھا وہیں رک کر اس سے پوچھ رہا تھا اسکے انداز کی سنجیدگی نے رچل کے قدم روک دیئے تھے ان دونوں کے بیچ کچھ قدموں کا فاصلہ در آیا تھا جون جے کی سنجیدگی عروج پر تھی رچل ہنس دی

    اتنا جزباتی کیوں ہورہے ہو ؟ہاں  میرا مطلب تھا ہمارا بےبی ۔۔۔وہ تو آئے گا نا ہمارے بیچ 

    جون جے مسکرایا بھی نہیں 

    وہ آئےگا تو اسکی جگہ الگ ہوگی تم میرے لیے ہمیشہ کچھ اور ہی رہو گی میں تمہیں کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتا تم میرے لیے میرا سب کچھ ہو وہ سب کچھ جو دنیا میں توکوئی کبھی نہیں ہوسکتا یہاں تک کے خدا بھی نہیں۔۔۔وہ گمبھیر انداز میں کہہ رہا تھا

    ساحل کی خنک ہوا دلوں کو گرما رہی تھی سمندر کی لہریں انکے قدموں سے ٹکرا ٹکرا کر پلٹ رہی تھیں وہ مکمل طور پر جون جے کے سحر زدہ انداز کے زیر اثر تھی 

    اس نے بھاگ کر درمیانی فاصلہ طے کیا اور پورے جوش سے اسکے گلے لگ کر بولی۔۔۔

     کون جانے خدا ہے بھی کہ نہیں ہا ں خدا جیسا مکمل شخص میری زندگی میں ہے۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جون جے کو جھٹکا سا لگا تھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔بس تقریبا خالی ہو چکی تھی اس نے سڑک پر نگاہ کی تو ایکدم اٹھنا پڑا۔ اسکا اسٹاپ آگیا تھا۔ 

    آہجوشئ۔ اس نے زور سے ڈرائور کو آواز دی۔ 

    رکنا ذرا۔۔ چھاکے منیو۔

    ڈرائئور نے بدمزا ہو کر اس سوئئ سرکار کو دیکھا مگر بس روک دی۔ وہ تیزی سے جھک کر ڈرائور سے معزرت کرتا اترا تھا۔ بس اسٹاپ پر اکا دکا لوگ تھے۔ وہ نیچے اتر کر گہری سانس لیکر رہ گیا۔ ابھئ یہاں سے اسکی رہائشی عمارت تک کم از کم بھی پندرہ منٹ کی چہل قدمی کرنی پڑتی اسے۔۔ 

    تمہیں کب عادت پڑے گی پیدل چلنے کی۔ اب امیر نہیں رہے تم۔۔

    اسکے انداز میں حسرت نہیں لاپروائئ سی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جونگھئییا۔۔۔ سن بے کا گھر تو نہیں ہے۔ 

    ہایون نے حیرت سے اس چھوٹے سے متوسط طبقے کے گھر کو دیکھا تھا جو کوریائی روایتئ مکان تھا لکڑی کے دروازے کو کھول کر اندر داخل ہونے پر کھلا صحن تھا سامنے کمرے تھے ایک جانب صحن میں بڑی بڑی دو تین دیگیں رکھی تھیں جن پر معمور دو تین نو عمر لڑکے ڈشوں میں ترک پلائو نکال رہے تھے۔

    یہ منظر انکی توقع سے بالکل برعکس تھا ہایون اور کم سن ایک دوسرے کو اچنبھے سے دیکھ رہے تھے جبکہ  جونگھیو  کے اطمینان بھرے انداز کو حیرت سے ۔۔۔ یون بن کو البتہ کچھ کچھ اندازہ تھا سو اسکے تاثرات عام سے ہی تھے وہ ان تینوں کے بر عکس پھلوں کی ٹوکری اٹھائے تھا یہ تینوں حسب روایت گلدستے لے کر آئے تھے انکو اندازہ نہیں تھا کہ گھر کی تقریب اتنی مختلف بھی ہو سکتی ہے برسی کی تقریبات عموما سماجی ادارے میں منعقد ہوا کر تی ہیں جس میں ایک کونہ مختص کر دیا جاتا تھا جہاں مرحوم کی تصاویر سجا دی جاتی تھی لوگ گلدستے عقیدت سے ان کے آگے رکھتے اور مرحوم کی اچھی یادیں بیان کر کے ایک طرف ہوجاتے تواضع مہمانوں کی حسب توفیق روایتی کوریائ کھانوں سے ہو جاتی تھی مگر یہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا

    سامنے ہال نما بڑا سا کمرہ تھا جس کے سب دروازے کھلے تھے ۔کھلے کمرے میں  فرشی چاندنی بچھی تھی جس پر مختلف عمروں کے مرد اور لڑکے ادب سے پیر سمیٹے بیٹھے سنائی دینے والی مگر دھیمی آواز میں کسی غیر فہم زبان کی کتابیں پکڑے بول بول کر پڑھنے میں مصروف تھے ۔۔۔

    رچل کی کوئی تصویر کہیں نظر نہیں آرہی تھی  ایک ادھیڑعمر آہجوشی قہوہ پیش کرتے پھر رہے تھے جسے سب شکریہ کہہ کر تھام ضرور رہے تھے مگر اپنے سامنے رکھ کر دوبارہ پڑھنے میں مشغول ہو جاتے 

    یہ جون جے کے روحانی والد کا گھر ہے۔ یہیں اس نے رچل کی برسی کی تقریب رکھی ہے۔ 

    جونگھیو نے اسکی الجھن دور کی۔

    جون جے کہاں ہے۔۔۔ یون بن نے الجھن بھرے انداز میں سرگوشی کی 

    وہ رہا ۔۔۔جونگھیو نے آہستہ سے سامنے کی طرف اشارہ کیا

    کہاں ۔۔۔ یون بن کو ہرگز سمجھ نہ آیا سب انجانی شکلیں تھیں سب کے سب کورین بھی نہیں تھے اسے تو ان میں کچھ ایشیائی بھی نہیں لگ رہے تھے 

    ادھر ۔۔ ہایون نے پہچان لیا تھا سیدھا اس سمت میں بڑھا ان دو رویہ بیٹھے لوگوں میں وہ ایک کونے میں بیٹھا تھا اس کی جانب جانے کیلئے ان دو رویہ بیٹھے لوگوں کے بیچ سے گزرنا پڑتا 

    بیچ سے نہیں ادھر کونے سے چلو ۔۔۔ سونگ یونگنے باقاعدہ بازو پکڑ کر روکا تھا اور ایک جانب ہو کر خود انکی رہبری کرنے لگا یہ تینوں الجھن سے دیکھ کر پیروی کرنے لگے سونگھیواور جون جے زیادہ قریبی دوست تھے سو وہ جون جے کے طرز عمل میں تندیلی سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اسے اب جون جے کیساتھ کیسے رشتہ نبھانا ہوگا وہ اس سے بھے بہ خوبی آگاہ تھا 

    انہیں قریب آتے دیکھ کر جون جے پہلے تو حیران ہوا شائد اسے لگا تھا وہ اسکی دعوت قبول نہ کریں گے اسکی سچائی انکے رویے بدل دے گی مگر وہ سب نہ صرف آئے بلکہ روائتی انداز سے پھول بھی ہمراہ لائے تھے وہ بے تحاشہ خوش ہوا تھا کہ اسکے دوست نہیں بدلے وہ اپنے اس فیصلے کی پاداش میں اپنوں کو کھو چکا تھا اسکے سگے چچا زاد نے اس سے تعلقات ختم کرلیے تھےکہ انکی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا اسکی سگی ماں بھی ایسا ہی سوچتی تھی اور اسے تنہا چھوڑ چکی تھی وہ گرم جوشی سے انکے استقبال کو بڑھا تھا  ڈھیلے سے پاجامے اور ہمرنگ ترک قمیص میں ملبوس سر پر سفید سی ترک ٹوپی پہنے کمزور سا مگر بالکل مختلف دکھائی دیتا سونگھیو نہ ہوتا تو تینوں پہچان ہی نا پاتے اور شائد دروازے سے ہی واپس ہوجاتے 

    وہ تینوں سے لپٹ کر ملا تھا 

    بہت بہت شکریہ تم لوگ آئے  ۔۔۔۔۔آئو بیٹھو 

    ہایون کے ہاتھ سے ٹوکری لیکر ایک طرف رکھتے ہوئے وہ انہیں خلوص سے بیٹھنے کی پیشکش کر رہا تھا۔

     تینون ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جونگھیو ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس تھا جبکہ یہ تینوں تھری پیس سوٹ پہنے ٹائی لگائے حاضر ہوئے تھے جونگھیو جون جے سے ملکر بڑے آرام سے وہاں فرش پر بیٹھ کر کسی ادھیڑعمر آدمی سے مل رہا تھا انداز سے ظاہر تھا پہلی ملاقات پہلی نہیں ان تینوں کیلیے وہاں بیٹھنا تھوڑا مشکل تھا روائتی طور پر تو وہ سب سوٹ پہن کر اسے بیٹھنے کے عادی تھے مگر یہاں لوگ بے حد مختلف تھے انکی الجھن سمجھ کر جون جے ان کودائیں جانب کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر کمرے میں لے آیا صوفے سے سجا کم فرنیچر والا وہ ایک سادہ سی بیٹھنے کا کمرہ تھا

    تم لوگ شائد حیران ہوئے ہو ؟

    جون جے کے پوچھنے پر وہ کچھ کہہ نہ سکے خاموشی سے صوفے کی نشست سنبھال لی

    شائد جونگھیو نے بتایا ہو تمہیں کہ میں نے مزہب بدل لیا ہے۔ 

    وہ بلا تمہید بولا تھا۔ اس نے بتایا تھا انہیں یہ انکے لیئے نئی اطلاع نہ تھی مگر یہ کیسا مزہب تھا کہ بندے کا حال حلیہ تک بدل دے۔ 

    میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ وہ لحظہ بھر رکا۔۔ 

    وہ تینوں خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔  

    دراصل رچل کے بعد میں بہت مضطرب رہنے لگا تھا کہیں نہ کہیں اسکےساتھ جو ہوا اسکا زمہ دار میں خود کو سمجھتا ہوں اور اسکیلیئے میں خود کو  معا ف بھی نہیں کر پائوں گا عمر بھر۔۔۔

    وہ ان کی خاموشی سے تھک کر انکے سامنے بیٹھ کر خود ہی صفائی دینے لگا 

    مگر جو ہوا اس میں تمھارا کیا قصور ؟

    یون بن کہے بنا نہ رہ سکا 

    میں تائیکوانڈو بلیک بیلٹ تین لوگ جن کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا۔ ایک چھری تھی بس۔  ان سے اپنی بیوی کو نہ بچا سکا میری بیوی رو رہی تھی تڑپ کر مجھے پکار رہی تھی اور میں کچھ نہ کر سکا میں ہلنے جلنے کےقابل نہ تھا میں اپنے آپے میں نہ تھا

    وہ بے قراری سے بات کاٹ گیا خود ترسی کی انتہا تھی وہ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا

    آپ  پینے سے مدہوش تھے کوئی بھی بہت پی لے اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا اپنے ہو ش کھو دینے کے باعث اگر آپ مدد نہیں کر پائے تو اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں رچل بھی آپکو قصوروار نہیں گردانتی ہونگیں۔۔۔ ہایون اٹھ کر اسکے پاس آبیٹھا اور تسلی دینے کے انداز میں اسکا کندھا دبانے لگا۔۔۔۔

    جون جے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو پڑا۔۔

    وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بس کوئی لمحہ ایسا ہوتا کہ انسان اس لمحے کےزیر اثر آ کر کچھ بھی کر جاتا ایسا جو کبھی اسے نا ممکنات میں سے لگتا ہے ۔۔۔سونگھیو متاثر ہو جانے والے انداز میں بتا رہا تھا۔۔

    یون بن گلاس میں مشروب ڈال کر اس نے ہایون کو پیش کیا اور اپنے لیئے گلاس بنانے لگا

     وہ برسی سے واپسی پر ایک قریبی کلب میں آئے تھے۔ مے نوشی کا ارادہ تونہیں تھا مگر کم سن نے منگوا لی تھئ۔ ناچ گانے شور شرابے سے دور اوپر کھلے کیبن میں بیٹھ کر دور سے اچھلتے کودتے لوگوں کودیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے ہلکی ہلکی موسیقی کی آواز آرہی تھی کوئی مشہور پاپ گلوکار کا گانا چل رہا تھا بول فاصلہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم تھے

    جون جے کا احساس جرم اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا جبھی اس نے مزہب بدل لیا۔ سونگھیون نے چسکی لیتے ہوئے بات مکمل کی۔ 

    انسان کو ایک وجہ درکار ہوتی ہے ہر حادثے کے بعد جس وجہ کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو دلاسہ دے سکے۔ جون جے کو بھئ بس یہی فرار چاہیئے تھا  ورنہ شراب چھوڑتا مزہب نہیں۔

    کم سن نے ماہر تجزیہ کار کی طرح کہا تھا۔ یون بن نے سر جھٹکا۔ 

    انکا تو نام بھی بدل گیا ہے۔ سچ کہوں تو مجھے لگا انسان بھی بدل گیا ہے۔ سن بے ایسے نرم مزاج یا روندو تو کبھی نہ تھے۔ 

    یون بن کو دوپہر کی جون جے کی رقیق القلبی یاد آئی۔۔ 

    ہایون نے پرسوچ انداز میں اسے دیکھا اور چسکی لینے لگا

    میں نے کسی سے سنا تھا کہ سن بے  کوریا واپس آگئے ہیں۔۔کوئی آٹھ ماہ پہلے میں پہلی فرصت میں اس سے ملنے گیا تھا یقیں کر و مجھے جھٹکا لگا تھا نچڑ کر آدھے رہ گیئے تھا بہت زہنی دبائو کا شکار رھےمجھ سے  لپٹ کر رو دیئے۔ 

    ۔سونگھیون رکا ہایون ہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ 

    اس سے اگلی بار میں اس سے ایک ہفتے بعد ملا کافی بہتر تھے  اور آہستہ آہستہ ہر بار ملنے پر میں نے اس کو بہتر ہوتے دیکھا میں سمجھا تھا کسی نفسیات دان سے مل رہے ہیں اپناعلاج کروا رہے مگر میرے اندازے کے بر عکس وہ ایک مزہبی عالم سے مل رہے تھے تب میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ میں ہی اس واقعے سے متاثر ہو کر اپنا مزہب تبدیل کر چکے ہے۔۔۔ اب انکا نام چھا محمد علی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کم سن یون بن اور ہایون تینوں بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ 

    کہا تھا نا ان پر وقتی فیز ہے۔غم ہلکا ہوگا تو واپس اپنے مزہب پر آجائیں گے  

    کم سن اپنے اندازے کی درستگی پر داد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔ 

    کوئی نہیں ۔ اس مذہب کو اختیار کرنے کی پاداش میں سن بے تنہا ہو چکے ہیں۔ انکی آہموجی نے انکو جائداد سے بے دخل کر دیا ہے، انکے ساتھی جو انکے ساتھ شراب کے کاروبار میں شریک تھے انکے اپنے آپ کو اس کاروبار سے نکال لینے پر نقصان کی وجہ سے تعلق توڑ چکے ہیں۔ سن بے امریکہ میں اپنی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکے اب بس کورین ماسٹرز کی ڈگری کے ساتھ فی الحال بے روز گار ہیں اور اپنے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اکیلے رہتے ہیں۔ اس سب کے بعد بھی وہ اسی نئے مذہب پر قائم ہیں۔ 

    جونگھیو نے تفصیل سے بتایا ان تینوں کے چہروں پر شدید حیرت تھی۔ 

    مجھے شدید حیرت ہورہی ہے ۔۔ ہایون کہے بنا نہ رہ سکا۔۔۔

    شراب پینے سے نفرت ہوجانا سمجھ آتا کہ کہیں نہ کہیں وہ اپنے ہوش کھو دینے اور اپنی بیوی کو نہ بچا سکنے پر اپنی کمزوری پر شرمندہ ہے مگر اس سے مزہب تبدیل کرنے کا کیا تعلق وہ بھی اتنا مشکل مزہب ساری دنیا میں پسند نہیں کیا جاتا۔۔۔

    پھر بھی سب سے تیزی پھیلنے والے مزاہب میں سے ایک ہے ۔۔۔ جونگھیو نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا

    حیران کن ۔۔۔ کم سن نے کندھے اچکائے ۔

    یون بن نے نیا جام اٹھا لیا۔ اسکو دنیا کی کم ہی پروا ہوتئ تھی۔ سن بے کی مرضی مزہب بدلیں یا جنگلوں میں نکل جائیں انکو حق ہے اپنی زندگی اپنی مرضی سے برباد کرنے کا۔ 

    اسکا مئوقف سادہ تھا۔ جونگھیو بے ساختہ ہنس دیا۔

     اس بے وجہ ہنسی پرتینوں  نے حیرت سے اسے دیکھا 

    برباد ؟ شائد غلط لفظ ہے۔۔ سدھرنا ذیادہ جچے گا یہاں۔۔عجیب بات لگتی ہے مگر کبھی جانا تم علی کے ساتھ ملنا انکے پیشواہ سے انکا طریقہ عبادت دیکھنا بہت دلچسپ ہوتا ہےوہ منظر جب ڈھیرسارے لوگ ایک جیسے طریقےسےاٹھتے بیٹھتے کھڑے ہوتے 

    مزہ آتا دیکھ کر ۔۔ وہ براہ راست یون بن کو بتا رہا تھا۔۔۔۔ ہایون نے اس کے چہرے پر مزاق یا تمسخر ڈھونڈنا چاہا مگر وہ واقعی شائد انکو دیکھ کر بہت مرعوب ہوا تھا 

    مجھے کیا ضرورت ہے میں چرچ نہیں جاتا باقاعدگی سے ۔۔۔یون بن لاپروائی سے کہہ کر گھونٹ بھر رہا تھا سونگھیون نے اپنے گلاس سے ایک چسکی بھی نہیں بھری تھی  

    تم پی کیوں نہیں رہے؟  اس نے کافی اچنبھے سے پوچھا تھا 

    سونگھیون  ہلکے سے ہنسا پھر بڑا سا گونٹ بھر لیا 

    تمہیں پتہ ہے میں نے علی سے کہا تم شراب پی کر مد ہوش ہوگئے اسلیئے مان لیا کہ رچل کی جان گئی مگر اس میں شراب کا قصور نہیں تمہارا ہے تم نے پی زیادہ لی تھی کم پیو آئندہ احتیاط کرنا میں اسکو کلب لایا اور شراب پینے پر منانے لگا

    اس نے میرے سامنے شراب کی بوتل رکھ دی بولا بس اتنی پیو کہ بہکو نہ 

    وہ کہہ کر زور سے ہنسا۔۔۔۔ ان تینوں کو لگ رہا تھا تھوڑا سا دماغ سونگھیون کا بھی کھسک گیا ہے۔۔ 

    ہایون بالکل سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے اپنی چندی آنکھوں کو پورا کھول کر اسے گھور رہا تھا مانا جون جے بہتریں دوست تھا اس نے مزہب بدلا مگر انہوں نے دوست نہیں بدلا ۔۔۔ ٹھیک ہوگیا مگر یہ کیا کہ اس سے متاثر ہوئے چلے جائیں۔۔۔سونگھیون کی بات جاری تھئ۔

    میں نے کہا ٹھیک ہےمیں نے دو جام بنائے پیے تیسرا جام اس نے بنا کر سامنے رکھا میں نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا اس نے روک دیا مجھے یہ نہ پینا ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر مجھے نہیں یاد میں نے کتنے جام چڑھالیے صبح آنکھ کھلی میری میں اسکے گھر اسکے بستر پر سویا پڑا تھا 

    اب یہ کیا بات ہوئی پیتا ہی بندہ بہکنے کے لیے ہے تم نے شرط الٹی لگالی تھی 

    ہایون کو اسکی منطق سمجھ نہ آئی

    شرط نہیں ۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا 

    جون جے شرط نہیں لگاتا کہتا ہے حرام ہے لگانا 

    منطق کیا ہے اس میں ۔۔۔ یون بن جھلایا

    سن بے کہتا ہے اسلام میں شراب پینا منع ہے اسلئے کہ انسان ہوش کھو دیتا اور ہوش کھونے سے کم جتنا پینا اسکے لیے ممکن بھی نہیں ہوتا ۔اگر سامنے میسر ہو شراب تو۔۔۔ چکھ لو تو ذائقہ منہ سے جاتا نہیں پھر ہاتھ رک پاتا نہیں سو نہ پینا بہتر۔۔۔

    بتاتے بتاتے اس نے ایک سانس میں گلاس ختم کرکے رکھ دیا

    مجھے دیکھو ۔۔ہایون نے اپنا گلاس خالی کیا

    میں نے پی لیا میں بہکا نہیں میں اور پی بھی نہیں رہا ۔۔۔منطق ابھی ہی غلط ثابت ہو گئی ۔وہ کہہ کر اسے جتاتے ہوئے انداز میں دیکھ رہا تھا

    جونگھیون ہنس دیا۔۔۔

    میں بھی اسے غلط ہی ثابت کرنا چاہتا ہوں تبھی تو ملٹری جوائن کر رہا۔۔۔۔ اسے کہتے کہتے خیال آیا تو رک گیا ۔۔۔پھر بات بدل دی

    تم لوگوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں کیا ؟ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ گھر آکر سیدھالائونج میں صوفے پر آن گرا تھا۔ نیو ائیر نائٹ کی مے نوشی کا مکمل اثر ختم ہوا ہی تھا۔ اوراگلے ہی دن ان دوستوں نے پھر مزاق مزاق میں چڑھا لی۔ اسکا سر گھوم رہا تھا۔

    لائونج کا ٹی وی آن کرکے ریموٹ اس نے چھوڑ دیا تھا دھپ سے قالین پر گرا۔۔ اس نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا۔ 

    ہوش کھونا اتنا آسان بھئ نہیں ہوتا۔ آرام سے گھر پہنچ گیا ہوں۔ ہاں مگر۔۔۔ اسکی آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔ جانے کتنا وقت گزرا

    کیسے ہو منے بھائی۔۔۔ 

    شن نونا خوش گوار انداز میں اسکے سر پر طبل بجاتی دھم سے اسکے ساتھ صوفے پر آبیٹھیں وہ ہڑبڑا کر آنکھیں کھول بیٹھا۔ 

    سو رہے تھے ۔۔۔وہ حیران ہوئیں 

    بس آنکھ لگ گئ۔۔۔ وہ کسمساتا انگڑائی لیتا اٹھ بیٹھا ۔۔۔اور آپ کب آئیں؟۔۔۔ 

    بس ابھی ابھی ۔۔۔انہوں نے بیچ کی میز پر ہایون  کے برابر ہی ٹانگیں پھیلا لیں ریموٹ نیچے قالین پر لڑھکا پڑا تھا اسے اٹھا کر انہوں نے فورا موسیقی کا چینل لگا لیا تھا شائنی  کی آواز جادو بکھیرنے لگی  وہ دفتر سے لوٹ کر کپڑے بدل چکی تھیں سکرٹ اور لیگنگ کی بجائے ڈھیلے سے پا جامے ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو کیچر میں جکڑےوہ بھرے بھرے جسم چندی آنکھوں بےتحاشہ گوری خالص کوریائی نقوش کی حامل تیس سالہ کنواری مگر خود مختار  دوشیزہ تھیں ہایون کی واحد آٹھ سال بڑی بہن شن ۔۔۔ شکل میں ہایون بالکل ان جیسا نہیں  تھا۔۔۔۔۔۔

    آہبھوجی(والد) نہیں آئے ابھی تک واپس امریکہ سے ؟

     انہوں نے یونہی پوچھا تھا۔۔۔ ہایون بدمزا ہوا تھا۔۔ انکے ذکر پر۔۔۔

    آچکے ہوں گے مجھے کیا پتہ۔۔ 

    آہمی (امی) بھی ابھی تک گھر نہیں آئیں ۔۔۔ یہ بات وہ بتا رہی تھیں ہایون کو ان دونوں میں دلچسپی نہیں تھی سو کندھے جھٹکتا اندر جانے کو اٹھا۔۔۔

    انی نے ہاتھ پکڑ کر روکا

     میں نے چائنیز آرڈر کیا ہے سوچا تو یہی تھا سب خاندان مل کر کھائے مگر چلو ہم دو ہی سہی

    وہ بہت محبت سے دعوت دے رہی تھیں 

    میں چائنیز شوق سے نہیں کھاتا جانتی ہیں آپ۔ ویسے میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔  آپ کھائیے باقی آہمی جی آپکا ساتھ دینے آچکی ہیں ۔۔۔

    گلاس ڈور سےریڈ لانگ سکرٹ اور وہائٹ بلاوز میں گہری تیز لال لپ اسٹک سجائے نک سک سے تیار اسکی اپنی عمر سے کہیں کم نظر آتی کامیاب سوشل ورکر اسکی ماں اندر داخل ہوتی دکھائی دے رہی تھی لمبی اونچی ہیل کی ٹک ٹک کو گنگشن کی آواز بھی دبا نہیں پائی تھی اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑایا

    میں تمہاری پسند کا بھی کچھ آرڈر کر دیتی ہوں رکو تو سہی 

    نونا کہہ تو رہی تھیں مگر ہایون کا جی مکدر ہو چکا تھا

    ہاییون شا۔۔ آدل ( بیٹا) ۔۔۔ سی یان نے اسکو عجلت میں لمبے ڈگ بھرتے جاتے دیکھ کر پیچھے سے آواز دی آج کئ روز کے بعد وہ شکل دیکھ رہی تھیں اسکی مگر وہ صاف نظر انداز کرتا گزر گیا وہ کندھے اچکا کر اندر لائونج میں آگیئیں 

    آنیانگ واسے اوآہموجئ۔  ۔ نونا نے اپنے مخصوص خوش گوار انداز میں ماں سے حال پوچھا 

    تم کب آئیں۔۔چین سے۔۔ 

    وہ پوچھ کر مڑنے کو تھیں۔۔۔ 

    دو دن ہو رہے ہیں۔۔ انہوں نے برا نا مانا۔۔ 

    اچھا۔۔ ہاں کل سیڑھیوں کے پاس نیا ڈریگن دیکھ کر اندازہ ہوا تھا مجھے۔ ۔۔۔وہ ہنسیں۔ 

    ایک۔گھر میں رہتے انکی ملاقات بس یوںہی کبھی آتے جاتے ہوجاتئ تھئ۔

    چلو تم آگئ ہوتو اس سے بات کرنا تمہارے آہبوجی امریکہ بھجوانا چاہ رہے ہیں اسے یہ جانے کو تیار نہیں میری تو دیکھ لو سنتا تک نہیں تم کہہ کر دیکھو۔  

    انہوں نے لگے ہاتھوں کام بتا دیا۔ نونا لمحہ بھر کو چپ سی ہوئیں۔ 

    آہموجی آج میری ترقی منظور ہوئی ہے سو میں نے چائنیز منگوایا ہے آپ نہا لیں تو اکٹھے ڈنر کرتے ہیں 

    انہوں نے جلدی سے بتایا کہیں وہ بھی نا چلتی بنیں 

    آو واقعی میری بیٹی ۔انھوں نے آگے بڑھ کر پیار سے گلے لگایا 

    ہمیشہ کامیاب رہو ۔۔۔ میں ضرور شامل ہوتی ڈنر میں مگر آج میرے ڈائیٹ پلان کا کافی بیڑا غرق ہوا ہے دو سالگرہ کی دعوتیں بھگت کر آرہی ہوں سو ڈنر کا ارادہ نہیں تم اپنی کامیابی کا جشن منائو مزے اڑائو ۔۔۔

    نونا جو ان کے محبت بھرے انداز سے متاثر سی ہوئیں ان کے ارمانوں پر اوس سی گر گئی۔۔ مایوسی سے انھیں جاتا دیکھ کر بڑبڑائیں 

    ہاں میں مزے اڑائوں مگر اکیلے اور یہ۔۔۔ہایون امریکہ کیوں نہیں جانا چاہتا۔۔  بڑبڑاتے ہوئے سوچا تھا انہوں نے۔۔ 

    انکا فون بج رہا تھا شائد انکا منگوایا کھانا گھر پہنچ چکا تھا 

    انہوں نے بے زاری سے فون اٹھایا۔

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     ہایون کے امریکہ جانے سے انکار کی بس ایک ہی وجہ ہے مجھے ناکوں چنے چبوانا اور کیا ۔۔۔ لی بیون ہونگ غصے سے بھرے ہوئے تھے 

    میں چاہتا ہوں اعلی تعلیم کےلیے امریکہ جائے کاروبار کی سند لے کوئی ہنر سیکھے لی ایمپائر کے شایان شان کوئی تو کام کر لے مگر نہیں نہ کوئی مقصد ہے زندگی میں آگے بڑھنے کی دھن کیا کیا خواب نہ دیکھے تھے اسکے لئے اکلوتا بیٹا ہے اسکو کسی ایک کارخانے کا نظام سونپ دوں معاون بنائوں صدارت کے لیے منتخب کروائوں مگر صاحبزادے فرماتے ہیں مجھے دلچسپی نہیں کاروبار میں چلو ٹھیک ہے میں مانتا ہوں بیس اکیس سال کی عمرمیں بچے لاابالی ہوتے میں وقت دینے کو تیار ہوں مگر یہ لڑکا مجھے بہت نا امید کر رہا ہے میں آج مر جائوں تو ڈاریکٹرز منٹوں میں سب لی ایمپائر کے اثاثوں پر قبضہ کرکے اسے سڑک پر لے آئیں گے ۔۔۔

    وہ اپنی صدارتی کرسی پر براجمان گرج رہے تھے

    انکا وفادار سیکٹری ہاتھ باندھے سامنے کھڑا نظریں جھکائے خاموشی سے سن رہا تھا وہ بول بول کر لحظہ بھر تھمے تو اس نے انکو گلاس بھر کر پانی پیش کیا کف اڑاتے انہوں نے اس گلاس کو غنیمت جانا اور گھونٹ بھر لیا

    بیٹی ہے تو میرے ہی کاروباری حریف کی فنڈڈ این جی او میں  دو ٹکے کی نوکری کر رہی باپ اس ایمپائر کا صدر بنانا چاہتا اور وہ ہے کہ 

    وہ بولتے بولتے رک گئے انہیں یاد آیا بیٹی انکی اس ترجیح کا حصہ کبھی نہیں رہی تھی اسکو تو انہوں نے شائد خود ہی کھویا تھا اپنی ایم بی اے کی ڈگری لے کر وہ انکے پاس جاب کیلیئے ہی آئی تھی اور ان کے کارباری زہن نے اس کو خسارے کی سرمایہ کاری قرار دیا تھا 

    اسکی خوشی سے دمکتی شکل اور کچھ سال پرانا منظر نگاہوں کے سامنے روشن ہوگیا

    خیر

    انہوں نے سر جھٹکا

    شنوا گروپ کے ساتھ میٹنگ سے پہلے مجھے ایک بریفنگ چاہیے لی کیمیکلز کے فائدے اور نقصان کے حوالے سے۔۔۔

    وہ واقعی جھٹک چکے تھے ایک اچھے کاروباری آدمی کی طرح وہ غیر پیداواری سوچوں پر کبھی سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے رہا سیکٹری سر اثبات میں ہلا کر انکے اگلے حکم کا منتظر تھا ایک اچھے سیکٹری کی طرح اس نے اپنی رائے محفوظ رکھی تھی وہ انکے ابرو کا اشارہ بھانپ لیتا تھا ابھی بھی اسے اندازہ تھا کہ بات بے شک اس سے کی جا رہی مگر اس سے بات نہیں کی جا رہی تھی یہ صرف خود کلامی تھی ۔۔۔۔

    سر ڈاریکٹر جان آپ سے ملنا چاہتے کل دوپہر کے وقت کی ملاقات طے کر دی جائے ؟

    وہ بورڈ میٹنگ میں مجھ سے کل مل چکا دوبارہ اتنی جلدی ملنے کی کیا وجہ؟

    وہ چونکے 

    شائد کو ئی خاندانی معاملہ زیر بحث لانا چاہتے

    سیکٹری کو اندازہ تھا نوعیت کا کاروباری معاملات تو سب طے پاچکے تھے دوسرا اس نے ان سے پوچھ بھی لیا تھا 

    ہے تو میرا چچازاد مگر ہے شیطان کا چیلا ضرور کوئی نئی سازش تیار کی ہوگی ۔۔۔انہوں نے اندازہ لگایا 

    انکی یہ خودکلامی بلند آواز میں نہیں تھی 

    چلو دیکھتے ہیں جان تم نیا کیا ڈنک تیار کر رہے ہو میرے لیے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک آخری  بازی اس آخری چھٹی کے نام۔

    ہایون اوریون بن نے بلیئرڈ کی اسٹک ٹکرا کر چئیرز کیا۔۔

    وہ  اسنوکر کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ دھڑا دھڑ گیندیں میز پر گھوم کر میز کی جیب میں جا گرتیں۔ یون بن کی شاٹس ہمیشہ کسی نئی ٹرک پر مشتمل ہوتئ تھیں۔اس وقت بھی اسکی ہاف والی گیندیں تھیں جو میز پر سے خالی ہو چکی تھیں۔ ہایون نے اسنوکر لگا کر دیا تھا۔ اسکی فل گیند کے بالکل برابر جوڑ کر ہاف پڑی تھی ۔۔ اسکی چیلنج دیتی نگاہوں کے جواب میں یون بن نے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے شاٹ لگائی سفید گیند سیدھی میز کے کنارے سے ٹکراکر اچھلی اور فل والی گیند کو پار کرکے ہاف سے ٹکرائی۔ باری تو ختم ہوگئ مگر اسنوکر بھئ ہٹ گیا اور پاکٹ کے سامنے یون بن کی گیند آجانے سے ہایون کیلئے شاٹ لینا دشوار ہوگیا۔ 

    ہایون غور سے میز دیکھ رہا تھا۔

    یون بن نے مکا سا بنا کر اسکے چھیڑا۔ 

    ہایون شا۔ فائٹنگ۔۔ 

    ہایون اسکے بچکانہ انداز پر مسکرایا۔ 

    وہ یقینا ہارنے لگا تھا۔ مگر وہ مسکرا کر ہار قبول کرنے والوں میں سے تھا۔۔

      گوارا ان سے کچھ فاصلے پر اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی۔۔

    چندی آنکھوں لمبے سیدھے سیاہ بالوں والی روائتی کورین لڑکی۔انکی ہم جماعت  گھٹنوں تک آتی سرخ  اسکرٹ اور سرخ ہی بلائوز میں ملبوس سردی سے بچنے کو منک کوٹ پہن رکھا تھا۔ اور لیگنگ بھئ۔ لانگ شوز والے پائوں بے چینی سے جھلاتی انہیں گھور رہی تھئ مگردونوں بلا کے مگن تھے۔۔  اس نے دو ایک بار انکو بازی ختم کرنے کا کہا بھی مگر دونوں کان نہیں دھر رہے تھے کمیونٹی کلب تھا اسے اکیلا بیٹھے دیکھ کر دو نوجوان اسے گپ شپ اور رقص کیلئے پوچھ چکے تھے اس نے سہولت سے انکار کیا تھا مگر اب اسے سچ مچ غصہ آرہا تھا 

    یون بن اور وہ ہائی اسکول سے ساتھ تھے اکٹھے پڑھا تھا ان میں دوستی سے کچھ زیادہ تھا وہ اس بات کر چھپاتے نہیں تھے مگر یون بن میں یہ بری عادت تھی اسے کبھی کبھی جیسے بھول ہی جاتا تھا اتنا نظر انداز کر دیتا کہ اسے شک گزرتا کہ کہیں اسکی زندگی میں کسی اور حسینہ کاعمل دخل تو نہیں مگر یہ شک فی الحال شک ہی تھا

    ابھی بھی جلتی کلستی دونوں کو گھوررہی تھی کم سن ڈانس کرکے تھک ہار کر واپس ان لوگوں کے پاس چلا آیا 

    مشروب کا گلاس تھامے اس نے گوارا کو مشروب کی بے دلی سے چسکیاں لیتے دیکھا پھر اسکی نگاہوں کے مرکز کو 

    وہ ہایون کو کھا جانے والی نظروں سے گھو ر رہی تھی

    اس نے ہنس کر اس کے ہاتھ سے گلاس چھینا اور غٹا غٹ چڑھا گیا 

    گوارا نے خاصی نا پسندیدہ نظروں سے اسے گھورا 

    مگر بولی نہیں 

    اس نے اسکے گلاس پر لگے لپ اسٹک کے نشان پر انگلی پھیری پھر جتاتی نظروں سے دیکھ کر بولا

    ابھی بھی وقت ہے مجھ سے پٹ جائو کسی طور یون بن  سے کم نہیں اور کبھی اس طرح تمہیں اکیلا چھوڑنے والا بھی نہیں اسکی طرح۔۔۔

    گوارا  ہنسی

    ہاں ہینڈسم جبھی کنڈر گارٹن سے اب تک ایک گرل فرینڈ تک نہیں تمھاری۔۔۔ 

    یون بن  کی گنی ہیں کبھی تمھیں ملا کر کونسی باری بنتی تمہاری؟  کنڈرگارٹن سے اب تک۔۔ برا مانے بنا بولا

    یہ گوارا کی دکھتی رگ تھی سلگ کر جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی تبھی ہنستے مسکراتے یون بن  اور ہایون چلے آئے 

    کدھر ؟ آئو پیتے ہیں ڈرنک آج میری طرف سے ۔۔۔ یون بن نے گرم جوشی سے اسکے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر روکا اسکا موڈ خوشگوار تھا مگرگوارا کا خراب ہو چکا تھا اسکا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے کرتی پئر پٹختی باہر نکلتی گئ۔۔۔ 

    اسے کیا ہو ا ۔۔۔ یون بن  خود پر لگنے والی فرد جرم سے بے خبر تھا حیران پریشان رہ گیا

    جناب یون بن شی جب آپ دوستوں کے ساتھ آتے تو گرل فرینڈ کو ساتھ نہیں لاتے اور اگر لے آتے تو اسے بور ہونے کیلیئے اکیلا چھوڑنا بد تہزیبی ہوتا ہے آہجوشی ( صاحب) آپکی مادام خفا ہو چکی ہیں منائیے ۔۔۔ انتہائی تادیبی نظروں سے دیکھتے ہوئے بہت شائستہ اور ادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آرام سے صوفے پر پھیلتے کم سن نے طنز داغا

    جون تائی کچھ سمجھا کچھ نہیں ہاں گوارا کے پیچھے جانا ضروری تھا وہ معزرت کرتا اس سمت لپکا ہایون نے اسے تقریبا بھاگتے دیکھا تو اسکی حالت پر ترس کھاتا  مسکرا کر کم سن کے سامنے والی نشست پر براجمان ہو گیا 

    ایک اور ترس کے لائق انسان اسکے سامنے تھا

    بے خیالی میں گوارا کا جھوٹا گلاس تھامے اسکی لپ اسٹک کے نشان پر انگلی پھیر رہا تھا

    یہ گوارا کا گلاس ہے گوارا نہیں رکھ دو میز پر ۔۔۔

    رومیو کی حالت نا گفتہ تھی مگر اس نے کھسیا کر میز پر گلاس رکھ دیا اور دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر انگلیاں پھنسا لیں ایک دوسرے میں جیسے خود سے مزید کسی بے اختیاری کے سر زد ہونے کا خوف لاحق ہو۔۔۔

    آہش۔۔۔ ہیون جونگنے سر جھٹکا 

    عشق میرے دوستوں کے ساتھ دشمنی پر اترا ہوا لگتا ہے سب دیوانے ہوئے جاتے ہیں بے چارے جنوبی کورییائی باشندے ۔۔۔ وہ ترس کھا رہا تھا پھر رکا جیسے کوئی خیال آیا ہو۔۔۔

    کہیں عشق کو شمالی کوریا تو معاونت فراہم نہیں کر رہا ؟ جا عشق جنوبی کوریا ئی جوانوں کو کسی کام کا نہ رہنے دے ۔۔۔۔ اسکی لن ترانی عروج پر تھی کم سن جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اسے تپتے دیکھ کر ہیون جونگنے اپنی زبان کو بریک لگائی اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر بٹھایا

    بیا نیئے۔۔۔ معاف کر دو۔۔۔ مذاق کر رہا تھا کو ابھی یہ خیال کم جونگ ان کو نہیں آیا ورنہ وہ  تھوڑی وہ نیوکلئر بنانے میں سب توانائیاں خرچ کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکےلئے باز آنا مشکل تھا کم سن دوبارہ اٹھا اس بار پہلے سے زیادہ سخت گرفت سے روکا اور بٹھا دیا گیا

    کیا گرل فرینڈ کی طرح نخرے کر رہے ہو بیٹھ جائو۔۔۔

    میں اکیلے کلب نہیں آیا تھا سب چھوڑ گئے مجھے۔۔۔

    وہ خفا ہوا۔ 

    سونگھئون  کہاں ہے ؟آیا تو وہ بھی تھا۔۔۔

    کم سن حیران ہوا

     ہوگا کسی دوشیزہ کے ساتھ ۔۔۔ ہایون نے کان سے مکھی اڑائی

    کم سن نے اٹھ کر کلب پر۔طائرانہ نگاہ ڈالی۔ ڈانس فلور نیچے تھا اور وہاں رقص جاری تھا وہاں اگر جونگھیون تھا بھئ تو نظر نہ آتا لہزا اس نے اسی فلور پر نگاہ دوڑائئ۔ وہ دور ایک لڑکی کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ 

    سونگھیون  جون جے کی وجہ سے پریشان ہے شائد وہ دونوں ہمیشہ سے ایک دوسرے کے زیادہ قریب رہے ہیں ۔۔۔ ہایون  نے خیال ظاہر کیا کم سن نے  کندھے اچکا دیے

    پریشانی تووہ دیکھ ہی چکا تھا۔

    تو اکیلے لوگ ابھی بھی یہاں بیٹھے ہیں ۔۔۔ یون بن  اکیلا واپس آیا تھا آکے دھم سے ہایون کے برابر آگرا 

    گوارا کہاں ہے ؟

    کم سن نے فورا پوچھا

    یار خفا ہوکے گھر چلی گئی ہے اتنا منایا مانی نہیں۔ یون بن  کا انداز لا پروا تھا 

    اب کل اسے گھمائوں پھرائوں گا خریداری کروائوں گا مزاج ٹھیک ہو جائے گا ڈرامہ کوئین ہے ایکدم

    یار مشروب تو منگوائو وہ اسی لا پروا انداز میں کہہ کر اشارے سےبیرے کو بلا رہا تھا 

    ہایون  خا موشی سے گلاس پر نظر جمائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

    بھرا ہوا مشروب تھا اسکے ہاتھ میں۔ مگر اس نے گرفت چھوڑ دی۔۔ 

    تبھی ایک غیر ملکی نقوش کی حامل لڑکی ان کے پاس آرکی۔۔۔

    آپ انگریزی سمجھ سکتے ہیں ؟یون بن  سے مخاطب تھی وہ ۔۔۔

    جی تھوڑی بہت۔۔۔ یون بن کی بانچھیں چر گئیں 

    مجھے ڈرنک آرڈر کرنا مگر میری بات شائد بار ملازم کو سمجھ نہیں آرہی آپ میری مدد کر سکتے ہیں ہیں۔۔۔ بھورے بالوں درمیانے قد بڑی بڑی آنکھوں  کی وہ مکمل بلونڈ لڑکی تھی شا ئد نہیں یقینا امریکی

    ایک تو امریکیوں کو یہ کیوں لگتا ساری دنیا کو انگریزی آتی ہے ۔۔۔ کم سن نے بڑبڑا کر سر جھٹکا بیرا انکے آرڈر کیئے گئے مشروب لا کر رکھ رہا تھا مگر یون بن  جھٹ سے مدد کو تیار اٹھ کھڑا ہوا لڑکی دلفریب مسکراہٹ اچھالتی اسکے ساتھ بڑھ گئی

    ہایون  ہنس دیا

    تو غلط کیا ہے اس میں یہاں دیکھ لو سیول کے اس خالص سیول کے باشندوں سے بھرے اس کلب میں بھی انگریزی کی شد بد رکھنے والے کم از کم تین لوگ مو جود ہی ہیں ۔۔۔

    اس نے گلاس اٹھا کر پی لیا تھا۔ پھر چونکا بھئ۔۔ 

    ہماری مجبوری ہم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہیں ہم پر مسلط ہے انگریزی اگر ہم نے کوئی اسپیشلائزیشن کرنے باہر جانا تو ہمیں سیکھنا پڑے گئ انگریزی  ۔۔۔ کم سن کی اپنی رائے تھی 

    جو بھی وجہ سہی۔۔۔ ہایون  نے بھی کندھے اچکا دیئے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حسب معمول وہ چاروں جماعت میں داخل ہوتے ہی سب سے پیچھے جا کر بیٹھے تھے۔ کم سن ، ہایون، یون بن اور گوارا۔

    ماس کمینیکشن کے اوسط درجے کے طلباء تو نہیں تھے مگرپھر بھئ نمایاں ہونے سے جان جاتی تھی۔ سر ڈیوڈ کا لیکچر شروع ہو چکا تھا ان چاروں نے جماعت کو ڈسٹرب نہیں کیا۔ سر ڈیوڈ بھی ایک نظر دیکھ کر دوبارہ لیکچر میں مگن ہوگئے تھے۔

    نئے تعلیمئ سمسٹر کا آغاز تھا۔ سب طلباء خاموشی سے ہال نما کمرے میں بیٹھے سر کا لیکچر سن رہے تھے۔۔۔۔ 

    رائے عامہ کا شعبہ دنیا کا حساس ترین شعبہ ہوتا ہے

    حکومت بہت حد تک اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے مگر جوں جوں ذرائع ابلاغ ترقی کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کچھ معاملا ت حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں ہم یہاں بیٹھ کر امریکہ کے حالات و واقعات سے باخبر رہتے اسی طرح ہمارے معاملات سیاسی و سماجی تبدیلیاں امریکیوں سے چھپی نہیں ہیں ۔۔۔ہماری رائے بھی ہے اور ہم اپنی رائے کا اظہار ڈھکے چھپے انداز میں کریں یا کھلم کھلا ہم پر منحصر ہے ہم تو چلیں بڑے ہیں پڑھے لکھے ہیں مگر اب بچے بھی اپنے لیے کب کہاں کتنا بولنا ہے جانتے ہیں جب میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا تب میری زندگی کی سب سے بڑی مشکل اپنی سائیکل کی دیکھ بھال ہوا کرتی تھی۔۔

    تمام طلبا انکے انداز پر مسکرا دیے۔۔۔ 

    ہاں یقیں کیجیئے کسی جھگڑے میں یونہی کسی بچکانہ لڑائی میں یا کبھی کسی معمولی حادثے میں میری سائیکل کو خراش بھی آتی میں پہروں دکھی رہتا تھا امریکہ اور سوویت یونین آمنے سامنے ہیں اور جرمن بچہ اپنے گھر کے اسٹور روم میں گھسا اپنی سائکل پر جھنڈیاں لگانے میں مصروف ہے اور اب ایسا نہیں ملکی و غیر ملکی معاملات پر 

     اسکول کا طالب علم بھی اپنی رائے رکھتا ہے اسکا بھی اس دنیا کے سیاسی و خانگی یا ماحولیاتی تبدیلیو ں پر نہ صرف نظر ہے بلکہ اسکی اچھی یا بری رائے ہے ۔۔۔

    پرفیسر ڈیوڈولف اپنا لیکچر دے رہے تھے بنیادی طور پر وہ جرمن تھے انکا پورا لیکچر مکمل انگریزی میں ہوتا تھا ان کے سو کے قریب طلبا میں سے غیر ملکی بمشکل پانچ سات ہونگے باقی سب کوریائی تھے جو اگر انگریزی کی شدبد رکھتے بھی تھے تو اتنی نہیں کہ انکی مکمل بات سمجھ سکیں یہ بات انکے چہرے سے ظاہر تھی پوری جماعت جمائی روک رہی تھی انکی زیرک نگاہ سے یہ چھپا نہ رہ سکا بے ساختہ مسکرا دیے

    اب یہ دیکھئے کہ میں جرمن باشندہ کوریا میں کھڑا انگریزی میں لیکچر دے رہا جو سب سے غور سے ایک ہندوستانی طالب علم سن رہا ہے جس کی مادری زبان شا ئد ہندی ہے ۔۔۔

    انہوں نے سب سے آگے بیٹھے سر پر پگڑی باندھے  اس طالب علم کو شفقت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ 

    واقعی پریم سنگھ پوری توجہ سے سن رہا تھا انکی بات پر خفیف ہو کر مسکرا دیا 

    باقی جماعت بھی دبی دبی ہنسی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔

    نہیں سر میری مادری زبان پنجابی ہے ۔۔۔اس نے کھڑا ہو کر انگریزئ میں تصحیح کی ۔۔۔

    سر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔

    میں چاہتا ہوں کہ آپ سب مجھے کچھ نیا بتائیں آپ سب کا اگلا اسئانمنٹ ہے کسی دور افتادہ علاقے شہر یا گائوں جس کا آپ کے اندازے کے مطابق مجھے علم نہ ہو اس پر رپورٹ لکھ کر مجھے اگلے ہفتے جمع کرائیں۔۔۔

    ان کے اس کام پر سب میں کھلبلی مچی تھی 

    سر ایسا کیسے ممکن ہے ابھی تو آپ نے کہا دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور آپ تو ویسے ہی کتنے ممالک گھوم چکے۔۔۔ ہایون کی زبان میں کھجلی ہوئی

    تمھارا کہنے کا مطلب دنیا بس اتنی ہی چھوٹی سی ہے اور ایک چھپن سالہ بوڑھے جس کی یادداشت جواب دے رہی ہے اسکو گوگل استعمال کرکے بھی متاثر نہیں کرسکتے ہو۔۔ پرفیسر صاحب نے کان سے پکڑا تھا اسے جیسے۔۔۔

    بات میں دم تھا ہیون کھسیا گیا

    اگر اتنا مشکل لگ رہا تو پانچ پانچ لوگ گروپ اسئنمنٹ بنا لو۔۔۔ وہ آج بڑے موڈ میں تھے۔۔۔

    یہ خیال سب کو پسند آیا پوری جماعت کھسر پھسر میں لگ گئ۔۔۔

    ہاں ایک بات ۔۔۔ انھیں جاتے جاتے کوئی خیال آیا 

    کوریا کم میونگ یونیورسٹی نے ایک نئےایشیائی ملک کی یونیورسٹی سے ایکسچینج پروگرام کی داغ بیل رکھی ہے۔۔اسکے عالمی تعلقات کے شعبے کو مزید بڑھانے اور نت نئی تہزیبوں سے روابط بڑھانے کے لئے عالمی تعلقات کے دس طلبا کو اس ملک میں خاص وظیفے پر بھیجنے کے لیئے درخواستیں طلب کئ ہیں آپ میں سے جو بچے جانا چاہیں وہ کم ازکم اپنے دو سمسٹر  وہاں مکمل کر سکیں گے رعائتی فیس کے ساتھ سو مجھے پندرہ مارچ تک آپ ریفرینس اور ریکومنڈیشن کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں ۔۔۔ تر جیح تو میرٹ پر ہی دی جائے گی مگر میں آپکی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔

    کون سا ملک ہے سر ۔۔۔ بہت سے طلبا اس اسکالر شپ میں دلچسپی لیتے نظر آئے ہایون کو بالکل دلچسپی نہیں تھی اسکے آہبھوجی امریکہ اسے بھجوانے کو ایڑھی چوٹی کا زور لگا چکے تھے وہ نہیں گیا اب اس ایشیائی ملک جانے کو کیا تیا ر ہونا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    سجدے میں جا کر جیسے وہ سر اٹھانا ہی بھول گیا

    یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ پگھل ہی جائے گا اسکی آنکھوں سے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے اسے پتہ بھی نہ چلا تھا وہ زور زور سے سسکیاں لینے لگا تھا جماعت کب کی ختم ہوگئی تھی امام صاحب اسے دیکھتے رہے رشک سے دیکھتے دیکھتے انہیں لگا تھا شائد وہ ہوش کھو دے گا انہیں سمجھ نہ آیا تو قریب آکر دھیرے کندھا ہلا کر آواز دی

    علی ۔۔۔

    علی جھرجھری لے کر سیدھا ہوا اسکے گالوں پر سرخی تھی اسکی پیشانی تر تھی اسکی سانسیں بے ترتیب تھیں جیسے کسی ریس میں دوڑ لگا کر سب کو ہرا کر بے دم کھلاڑی ہانپنے لگے اس نےنظریں جھکا کر آنکھیں پونچھ ڈالیں

    محمد ہادی اسے شفقت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے آگے بڑھ کر انہوں نے سہارا دے کر اسے اٹھایا

    میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا ہوں آہجوشی

    بےبسی سے اٹھتے ہوئے اس کے منہ سے نکلا

    محمد ہادی قصدا خاموش رہے اسے لیکر وہ مسجد سے باہر کھلی فضا ء میں لے آئے 

    انکا گھر یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا مگر انکا ارادہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرنے کا تھا

    علی انکو اپنے بچوں کی طرح عزیز تھا وہ بنیادی طور پر کوریا سے تھے۔ پندرہ سال قبل اپنا مذہب بدل کر اسلام قبول کیا اور ایک مراکش خاتون سے شادی کرکے مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔  کوریا کے دانش کدہ میں میں کیمیاء کے استاد۔انکی دو بیٹیاں تھیں۔ علی سے انکی ملاقات اسی مسجد میں ہوئی تھی وہ پچھلے سات سال سے یہاں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے علی سے انکو انسیت تھی اسکا مزہب کی جانب رجحان اوراسکے اسی طرح طویل سجدوں سے دل کھنچا تھا انکا

      سئول کی ٹھنڈی شام  خنک ہوائیں شائد بارش کی آمد کی پیشگی اطلاع کے طور پر چل رہی تھیں کھلی فضاء نے علی کے منتشر اور بےچین اعصاب کو تھوڑا ہی سہی مگر سکون پہنچایا تھا 

    تم خود کو قصوروار مانتے رہو یہ اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دینے سے بہتر ہوتاہے۔نفس کیلئے۔۔۔۔ مگر تمہارا قصور تھا کیا یہ طے ضرور کر لو۔۔۔

    ہادی کی بات پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا وہ انکو اپنی زندگی کے اس بڑے سانحے سے آگاہ کر چکا تھا تب وہ خاموش رہے تھے ہر ملنے والے اس کے چاہنے والے یا خیر خواہ اسکے نفسیات کے معالج کے برعکس انہوں نے یہ جملے کہے تھے سب اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر اسے بری الزمہ قرار دے دیتے مگر یقینا انکے پاس کچھ الگ کہنے کوکچھ تھا

    اس کی اچنبھے سے تکتی نگاہیں ان کے چہرے پر گڑی تھیں 

    وہ مسکرائے 

    تم مدہوش ہوئے کیوں کہ تم پیئے ہوئے تھے تم پیتے تھے کیوں کہ تمھہیں اندازہ نہیں تھا کہ پینا تمہیں بھاری پڑ سکتا۔۔۔

    یہان تک تمہاری کوئی غلطی نہیں ۔۔۔

    اگر تم مسلمان پہلے سے ہوتے تو ضرور میں مان لیتا تمہاری غلطی ہے۔۔۔

    یہ وہ بات تھی جس پر اس نے خود کو سب سے  پہلے قصوروار ٹھہرایا تھا وہ حیران ہوا

    وہ پچھتایا اتنا پچھتایا کہ اسے پینے سے نفرت ہوگئ وہ لڑتا رہا خود سے وہ پیتا کیوں تھا اسکو روکا کیوں نہیں گیا۔۔۔۔ 

    اسے مدد کیلئے آئے اس رضاکار کے جملے نہیں بھولتے تھے جس نے تاسف سے اسکو بیوی سے لپٹ کر روتے دیکھ کر کہاتھا 

    جبھی میرے دین نے شراب کو حرام کہا یہ ام الخبائث ہے ہمیشہ روگ دیتی ہے ۔۔۔

    اور اسے روگ ہی لگ گیا تھا 

    تم اپنی بیوی کے ساتھ تھے اکیلے تھے ساحل کنارے تھے کیوں کہ تمہیں اپنے آپ پر مکمل بھروسہ تھا کہ تم اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دوگے یہ تمہاری غلطی تھی ۔۔۔ 

    یہ امام صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟

    علی کی آنکھوں میں شدید حیرت تھئ۔

    تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ تم اپنی بیوی کو ہر مشکل پریشانی سے بچا لوگے۔ تم صرف بچانے کی کوشش کر سکتے ہو علی۔۔ خود پر بے جا بھروسہ تمہاری غلطی تھئ۔ 

    تم تو ایک معمولی سے انسان ہو علی۔ کسی کی حفاظت کے ضامن کیسے ہو سکتے ہو جبکہ آفات ہمیشہ ناگہانی ہوتی ہیں۔۔ ؟۔۔۔

    وہ جو کہہ رہے تھے اگر کوئی محض سال پیشتر اسے کہتا تو شائد اسکا ردعمل کچھ اور ہوتا مگر اس وقت وہ اپنی کم مائیگی کو محسوس کر رہا تھا۔ گہری سانس بھرتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔۔

     واقعی وہ تو بس ایک معمولی سا انسان ہے۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آہنیانگ واسے او

    نسبتا تھوڑا سا روائتی آگے جھک کر انہوں نے خوش آمدید کیا ڈائریکٹر جان نے فہمائشی مسکراہٹ چہرے پر سجا رکھی تھی لی  ان کا ہر انداز پہچانتے تھے خوب سمجھ رہے تھے آج یقینا کوئی بڑی شرط منوانے کا ارادہ ہے 

    وہ اس وقت ایک اونچے درجے کے پانچ ستارہ ہوٹل میں موجود تھے ان دونوں کے ذاتی سیکٹری ان دونوں کے پیچھے مئودب کھڑے تھے یہ ایک روائتی کوریائی کیوزین تھی زمیں سے تھوڑی ہی اونچی میز جس کے سامنے رکھی نرم گدی پر وہ روئتی انداز سے براجمان تھے۔۔۔

    ان کے منگوائے گئے آرڈر میں فی الحال کچھ وقت تھا 

    ڈاریکٹر جان کچھ تھوڑا سا جھکے جیسے کچھ کہنے ہی لگے ہیں پھر رکے اپنے سیکٹری کو اشارہ کیا اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا اور الٹے قدموں پیچھے ہوتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا 

    مسٹر لی نے تعجب سے دیکھا 

    میں ہمیشہ سیدھی بات کرتا ہوں لی۔۔۔ سو آج بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور تمھارا فائدہ گنوائے بغیر کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ اندازہ میں تم پر چھوڑتا ہوں سو آج میں تمہیں ایک پروپوزل دینے آیا ہوں ۔۔۔

    مسٹر لی کی شفاف پیشانی شکنوں سے بھر گئ

    اپنا ہاتھ اٹھا کر انہوں نے مزید کچھ کہنے سے ڈائرکٹر جان کو روکا اپنے پیچھے کھڑے سیکٹری کو بھی باہر جانے کا اشارہ کر ڈالا 

    یہ محض خیر سگالی کا انداز تھا ورنہ دونوں کے سیکٹری بھی یہ بات جانتے تھے کہ ان دونوں کے بیچ ہو نے والی گفتگو پر ان دونوں سے ہی مشورہ لیا جائے گا۔۔۔

    #۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے تیار ہو کر تیزی سے باہر نکلتے دیکھ کر گنگشن نے آواز دے ڈالی تھی 

    وہ اور آہمی جی لونگ روم میں بیٹھی چائے پی رہی تھی وہ قصدا دونوں پر نگاہ ڈالے بنا گزر جانا چاہتا تھا مگر نونا وہ گہری سانس لے کر رک گیا مگر پلٹ کر بھی نہ دیکھا 

    مجھے سونا تک ڈراپ کر دو میری گاڑی سروس کیلئے گئ ہوئی ہے۔۔۔ 

    نہ اثبات نہ انکار وہ بس کھڑا تھا

    تم میری گاڑی لے جائو میرا شام تک کوئی پروگرام نہیں ہے ۔۔۔

    اسکا بے رخی سے بھرپور انداز آہمی کو ناگوار گزرا تھا ۔۔۔ ہایون تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا

    انی نے باقی ماندہ چائے ایک سانس مین حلق سے اتاری اور اپنا بیگ اٹھا کر لپکیں 

    چابی تو لے جائو۔۔۔ آہموجی نے پکار کر کہا مگر نونا بہت جلدی میں تھیں تقریبا بھاگ کر باہر آئیں حسب توقع ہایون گاڑی میں بیٹھا انکا انتظار کر رہا تھا

    انہوں پیار بھری نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا

    ابو آہمی کے نزدیک لاپروا کھلنڈرا تھوڑا سا بدتمیز نظر آنے والا انکا بھائی اپنی نونا (بہن) پر جان دیتا تھا نا ممکن تھا کہ وہ انکو ٹال کر چلا جاتا

    وہ مسکرا کر اگلی نشست پر آ بیٹھیں

    اس نے بنا کچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کر دی

    میری ترقی کی دعوت کب لے رہے ہو ؟ہایونا

    وہ خوشگوار انداز میں مخاطب تھیں 

    جب آپ واقعی ترقی کر لیں گی۔۔۔ ہیون جونگکا انداز جتاتا ہوا تھا نونا  چپ رہ گئیں اسکا اشارہ کس جانب تھا انہیں اندازہ تھا

    ہیایون نے انکا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھا تو اپنے کہے پر افسوس بھی ہوا۔۔۔ 

    مجھےہماری فوڈ چین کے سوا کہیں پر بھی ٹریٹ چاہئیے ۔۔ وہ بات بدل گیا

    میرا ارادہ تمہیں سی فوڈ کھلانے کا ہے۔۔

    نونا  نے بھی موڈ ٹھیک کر لیا تھا اپنا

    چائینیز کھلائیں گی سی فوڈ بھی مگر وہ نہیں جسکی فرمائش کروں۔۔۔ مجھے بیف کھانا

    وہ مصنوعی خفگی سے کہہ رہا تھا

    تم مجھے ڈیٹ پر لے کر جانے کا وعدہ کرو تو میں تمہیں تمہاری پسند کی ٹریٹ دونگی۔۔ وہ بھی اسکی نونا تھیں فورا شرط رکھ دی سامنے

    نونا  ویسے اور کچھ وراثت میں آہبوجی سے لیا ہو نہ لیا ہو کاروباری زہنیت لی ہے آپ نے۔۔۔ اسکا انداز ہلکا پھلکا تھا 

    نونا ہنس دیں 

    ان کیلیئے بھائی کی توجہ بہت تھی پھر وہ انہیں کالی چڑیل بھی کہہ دے

    سپا کے سامنے گاڑی رک چکی تھی بس اتنا سا سفر 

    وہ خدا حافظ کہہ کر اتر گئیں پیچھے سے ہایون نے پکارا

    نونا۔۔ 

    وہ چونک کر مڑیں

    نیکسٹ ویک اینڈ پر میں فارغ ہوں  ٹریٹ لے سکتا ہوں اور ہاں 

    وہ رکا

    واپسی پر گاڑی منگوا لیجئے گا جب ہم آرہے تھے تو آپکی گاڑی واپس آ چکی تھی۔۔۔ 

    نونا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی ہایون کو بھی بہن کا چہرہ کھلتے دیکھ کر اندر سے بہت اطمینان محسوس ہوا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کم سن یون بن اور ہایو ن تینوں اطمینان سے تھے ان کے پاس گورا تھی ابھی بھی کیمپس میں بیٹھے ڈیل  اور کولڈ ڈرنک اڑا رہے تھے گوارا پیر پٹختی آئی

    تم تینوں کے ساتھ رہنا میری سب سے بڑی غلطی ہے۔۔۔ اسکا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا

     یون بن  نے دلچسپی سے اسکا گلابی چہرہ دیکھا 

    کیا ہوا۔۔۔ 

    ہایون کو اچھو لگا تھا اچھا بھلا سکون سے بیٹھا کولڈڈرنک کا بڑا سا گھونٹ بھرا تھا ایکدم سے پیچھے سے آکر حلق کے بل چلا اٹھی اسکا ہاتھ ڈگمگا گیا آدھی کولڈ ڈرنک سانس کی نالی میں آدھی اسکی شرٹ پر آئی تھی  زور کا پھندا لگا تھا کھانس کھانس کر حشر ہو گیا کم سن جو اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا اسکی پیٹھ سہلانے لگا گوارا نے زرہ بھر اثر نہ لیا پرانے انداز میں شروع ہوگئی

    “پورے پراجیکٹ کی زمہ داری مجھ پر سارا دن انٹرنیٹ پر معلومات اکٹھی کرتی رہی ہوں تو شام اسکی پریزنٹیشن بناتے پورے پانچ دن لگے مجھے اور تم تینوں مدد کرنا تو دور کم ازکم ایک بار پریزنٹیشن دیکھ لو اسکے لیئے بھی بلا بلا کے تھک گئی مطلب میں صاف صاف یہ سمجھوں کہ اس اسائنمنٹ میں بھی ہم سب سے آخری نمبر پر ہونگے۔۔۔کیونکہ سر دو بار مجھے ٹوک چکے کہ آپ کے گروپ میں کوئی اور کبھی پریزنٹیشن کیوں تیار نہیں کرتا اب انہیں بتائوں کوئی اور پراجیکٹ کیلیئے معلومات تک فراہم کرنے کا روادار نہیں ہے سب کچھ میں ہی کرتی ۔۔۔ “

    ہاں تو ہم سب فیمنسٹ ہیں لڑکیوں کی آزادی و خودمختاری کے حامی ہم اپنے سے بھی آگے رکھتے تمہیں ۔۔۔ یون بن کی ڈھٹائی عروج پر تھی مزے سے بچی ہوئی کولڈڈرنک پیش کر رہا تھا اسے

    فیمنسٹ مائی فٹ 

    دانت کچکچا کر اس نے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا ایک رایٹنگ پیڈ اور یو ایس بی نکال کر کم سن کا ہاتھ کھینچ کر اسے تھمایا اپنی مخروطی انگلی سے انہیں دھمکی آمیز اشارہ کرکے بولی

    یہ رہا مواد جو میں نے اکٹھا کر دیا ہے کب کہاں کیسے کس نے پریزنٹیشن بنانی کس نے دینی تم تینوں مل کر فیصلہ کر لو ۔۔۔

    اسکی دھمکی سے تینوں کے ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے 

    سنو گوارا یار غصہ کیوں کر رہی ہو بات تو سنو ۔۔۔ تینوں الرٹ ہو گئے تھے گوارا رعائت دینے کے موڈ میں نہیں تھی کم سن رائٹنگ پیڈ الٹ پلٹ رہا تھا ریفرنس کے ساتھ رائے بھی تھی کافی کچھ تھا بس اسے ترتیب دینا تھا مگر یہ کام بس گوارا ہی کر سکتی تھی کیونکہ کیا کہاں لکھا اسکی لکھائی ناقابل فہم تھی 

    گوارا یہ تو کچھ سمجھ نہیں آریا ۔۔کم سن نے دہائی دی

    ملک کا نام ہے ۔نیپال ۔۔ شہر ہے کھٹمنڈو۔ مجھے یقین ہے سر کو کم از کم اسکا نام نہیں پتہ ہوگا۔ ۔۔۔۔۔ باقی میرا مسلئہ نہیں ۔۔۔ وہ کہہ کر مڑگی دو قدم ہی چلی ہوگی واپس مڑنا پڑا یون بن صدمے سے کم سن پر جھکا ہوا اسکی لکھائی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ایک ہاتھ کم سن کے کندھے پر تھا دوسرے میں کولڈ ڈرنک کا کین تھا اسکے ہاتھ سے کین چھینا پھر تیزی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی یون بن  نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا پھر ہایون کی گدی پر زوردار چپت جما دی 

    یہ کس لیئے ابھی ہی کھانسی رکی تھی ۔۔۔۔بلبلا کر کر گھورا تھا اس نے

    میری گرل فرینڈ پر اکتفا کرکے بیٹھے ہوئے ہو اپنی بھی کوئی بنائی ہوتی تو آج یہ نہ ہوتا ۔۔۔

    ویسے آج کوئی گرل فرینڈ نہ ہونے کا مجھے بھی شدت سے احساس ہو رہا ہے ۔۔۔کم سن متفق تھا

    کیا بڑا مسلئہ ہے ہم بنا لیں گے سب کام کہہ تو رہی ہے کر چکی ہے گوارا ۔۔۔ ہیون نے منہ بنا کر کہا کم سن کے ہاتھ سے لے کر رائٹنگ پیڈ کے صفحے پلٹے 

    یار دو دن ہیں ابھی کوئی گرل فرینڈ بن مل سکتی ہے اتنے کم وقت میں۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #

    وہ ایک اور خوشگوار دن تھا چمکیلی دھوپ سیول پر چھائی ہوئی تھی پچھلے کچھ دنوں کی نسبت اب کافی گرم موسم ہو چکا تھا سو سنسانی پھیلی تھی  پرفیسرڈیوڈ   کی کلاس میں موسم کافی گرم تھا 

    مجھے حیرت ہے آب سب پر کہ اگر آپ کو بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی نہیں تھی تو آخر اس مضمون کا انتخاب کیوں کیا ۔۔۔ تقریبا ساٹھ کے قریب طلبا  اٹھارہ کے قریب اسائنمنٹ گروپ چھے سے آٹھ طلبا مل کر کوئی ایک انوکھا موضوعاتی مواد جمع نہ کر سکے آپ لوگوں نے وکی پیڈیا کا اہم ڈھونڈے جانے والے مواد کو اکٹھا کیا آپ لوگوں نے جو اٹھارہ خاکے جمع کروائے میں نے دو دن میں پڑھ لیے پہلی سطر سے مضمون کے چربہ اور نقل ہونے کو بھانپ لیا میں نے ۔۔تین گروپ نے تو شمالی کوریا کو ہی منتخب کیا اور سوائے چند سنی سنائی باتوں کے مجھے ان میں بھی کچھ متاثر کن نہ لگا فلاں شہر اتنا رقبہ اتنی تعداد میں افراد یہ زبان ۔۔۔ ہائی اسکول کے بچے کو بھی شمالی کوریا کے متعلق اتنی معلومات ہونگی ہی۔۔۔ 

    بہر حال کل پانچ اسائنمنٹ مجھے پسند آئے

    مجھے انکی پریزنٹیشن دیکھنی ہے ہم ایک دن میں دو کم ازکم دیکھیں گے اور ان پانچ خاکوں کے علاوہ باقی سب تسلی رکھیں آپ سب کو میں پاس نہیں کرنے والا اس اسائنمنٹ میں۔۔۔۔ 

    انکا انداز دو ٹوک تھا۔۔کلاس میں بھنبھناہٹیں سی ہونے لگیں۔ 

    آخری رو میں بیٹھے ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کچھوے کی طرح گردن لمبی کر لی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نونا ۔ ہنسے جا رہی تھیں 

    پھر ۔۔۔ بمشکل ہنسی روک کر پوچھا۔۔ 

    پھر۔۔۔ کیا ہیون جونگنے منہ بنایا

    سر نے نام بھی سنا تھا اور وہ نیپال کی اس رسم کماری کے بارے میں بھی جانتے تھے۔ 

    نونا ہنسیں۔۔ 

    میں نے بنائی ہے ساری پریزنٹیشن کافی دلچسپ ہے ۔۔۔

    آپ کو بھی دکھائوں گا بس سر کو پسند آجائے شکر ہے انہوں نے جو پانچ خاکے منتخب کیئے ان میں ہمارا خاکہ شامل تھا۔۔۔

    وہ اس وقت کنگنم اسکوائر میں مخصوص رائس ڈرنک پیتے ہوئے ٹہل رہے تھے نونا کا ارادہ اسے ٹریٹ دینے کا تھا مگر کھائیں کیا اسکا فیصلہ کرنا دشوار تھا یہ ایک طرح کی فوڈ سٹریٹ تھی بھانت بھانے کے پکوان کے ٹھیلے خوشبو اڑا رہے تھے بہت سے دکاندار اپنے کھانے مفت میں چکھا بھی رہے تھے ان دونوں کا ارادہ مگر کہیں سکون سے بیٹھ کر کھانے کا تھا اور بھوک لگانے کو ٹہل بھی رہے تھے

    آہ طلبا کی زندگی بھی کیا خوبصورت زندگی ہوتی مجھے سچ میں اپنا بےفکری سے گزرا یہ دور بہت یاد آتا بعد میں پریکٹیکل لائف بس کام کام یا شادی شدہ لائف یعنی مزید زمہ داریاں۔۔ انی رشک سے کہہ رہی تھیں 

    تبھی آپ دوبارہ اس زمہ داری میں پڑنے سے گریز کر رہی ہیں ۔۔۔ ہیون جونگنے جو سوچا صاف کہہ دیا

    نونا  کے چہرے پر سایہ لہرایا پھر دوبارہ خود کو سمیٹ کر تازہ دم ہو کر بولیں

    کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ میں بھی عام سی ہی انسان ہوں۔۔۔

    آنیا ( نہیں)  میں اپنی جس نونا  کو جانتا ہوں وہ عام سی نہیں ہے ان کے اپنے مستقبل اپنے کام کیلئے بہت سارے پلان تھے وہ ہر دم خوش مطمئن رہتی تھیں 

    وہ اور بھی کہہ رہا تھا انی نے بات کاٹ دی

    وہ تو میں اب بھی ہوں دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔ 

    کریم کلر کی لانگ سکرٹ اور ہلکے گلابی ٹاپ میں ملبوس ہمرنگ لپ اسٹک مسکراتے لبوں پر سجائے باب کٹ بالوں گوری رنگت والی انی مکمل میچور کوریائی لڑکی لگ رہی تھیں جو اپنا خیال خود رکھ سکتی تھی 

    بس دکھائی دیتی ہیں اب آپ ۔۔۔ ہیون بات کاٹے جانے پر منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔۔ انی ہنس دیں

    اب میں بیس اکیس سال والی انی تو نہیں رہی نا بڑی ہو گئی ہوں ۔۔۔ تم ہو اب بیس  اکیس سال کے۔۔

    کوئی گرل فرینڈ تو بنائو یا بنا لی ہے مجھے خبر نہیں۔۔۔

    مزے سے بات پلٹ گئی تھیں وہ

    کوئی نہیں بنائی ۔۔۔ اس نے سر جھٹکا 

    کیوں منے ۔۔۔ وہ آنکھیں پٹپٹا کر مصنوعی حیران ہوئیں

    بس کوئی دل میں کھبی نہیں ۔۔۔ ہیون کا انداز لاپروا تھا اسکا ڈسپوز ایبل گلاس خالی ہو گیا تھا اس نے یونہی ایک جانب اچھا ل دیا۔۔۔

    کیسی لڑکی پسند تمہیں ؟ 

    مجھے۔۔۔ وہ سوچ میں پڑا

    نخریلی لڑکیاں نہیں پسند۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اف میں تھک گئی بس اب اور نہیں چل سکتی۔۔۔

    اسکی سانس پھول چکی تھی ہانپتے ہوئے وہ وہیں کھڑی ہو گئ واکنگ ٹریک پر اسکے ساتھ جاگنگ کرتا صارم  جو اپنی رفتار میں اس سے تھوڑا آگے نکل گیا تھا اسکو اپنے ساتھ محسوس نہ کرکے مڑا تو آدھی جھکی گھٹنوں پر ہاتھ رکھے وہ ہانپتے ہوئے کہہ رہی تھی

    حیرت سے وہ مرنے ہی تو لگا تھا بھاگ کر اپنا اور اسکا درمیانی فاصلہ طے کیا اور چیخ ہی تو پڑا

    ابھی ایک چکر بھی پورا نہیں ہوا اور تم تھک گئیں۔۔۔

    ہاں اس نے جلدی بیگ پیک اپنے کندھے سے اتارا اور اندر سے کین براآمد کر کے جلدی سے منہ کو لگا لیا

    اے ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اس سے کین چھیننا چاہا مگر وہ جھکائی دے گئ

    یہ کونسا طریقہ ہے منہ میں یہ جو فیٹ انڈیل رہی ہو اسکو ہی کم کرنے شائد چہل قدمی کرنے آئیں ہیں آپ محترمہ ۔۔۔ وہ طنزیہ بولا 

    تو کیا تو ہے نا ۔۔۔ اسکی ڈھٹائی عروج پر تھی 

    ویسے مجھے پتہ نہیں تھا نہار منہ پارک میں دوڑکی لگانے سے اردو اچھی ہو جاتی ہے ۔۔۔ اس نے اب بیگ سے موبائل بر آمد کیا تھا ارادہ قریبی بنچ پر بیٹھ کر اسکی ہی جان کو رونے کا تھا دلاور نے ایک لمحے کو سوچا پھر اسکا موبائل چھین کر دوڑ لگا دی۔۔۔ایک لمحے کو تو اسے سمجھ نہ آیا کیا ہوا جب اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھا تو چیخ مار کر دوڑی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ ایسی ہو جو نرم دل ہو۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صارم  کے بچے 

    اسکے پیچھے بھاگتے بھاگتے اسکی سانس پھول رہی تھی اسکا بس نہ چلا تو ہاتھ میں پکڑا کین تاک کر اسکے سر پر دے مارا ابھی اس میں کولڈ ڈرنک تھا کسی پتھر کی طرح آگے آگے بھاگتے دلاور کی گدی پر لگا  وہ وہیں چیخ مار کر ڈھیر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٹھہر ٹھہر کر دھیما دھیما بولتی ہو۔۔۔

    ہایون کی مدح سرائی جاری تھئ نونا بہت دلچسپی سے سن رہی تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے بھاگ کے اسے جا لیا تھا 

    جو زمین پر بے سر و سامانی کی حالت میں بے ہنگم ٹانگیں پھیلائے پڑا سر سہلا رہا تھا اس نے قریب آکے ایک لات اسکے پیٹ پر جمائی وہ دہرا ہو گیا جلدی سے جھک کر  اس سے مو بائل چھینا۔۔ 

    سو بار کہا ہے موبائل کا مزاق نہیں۔۔ اس نے دھمکی دیکر گھورا۔ پھر خیال آیا۔

    ۔ ایک تو تم میری سمجھ سے بالا ہو۔ ۔ کسے صبح صبح نواز شریف پارک آنے کا شوق ہو سکتا وہ بھی جاگنگ کیلئےاوپر سے آنا بھئ  بائک پرہے۔ ۔  دانت بجتے ہیں آتے ہوئے میرے۔۔ 

    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔ سانس پھول گئ تھی۔ مگر زبان تواتر سے چلانے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ 

    ہر اس شخص کو جسے تمہارے جیسا موٹا ٹھلا بن کے پھرنے کا شوق نہ ہو۔ وہ بھڑک کر بولا۔۔ 

    یہ تم تم نے ہر وقت موٹا کہہ کہہ کر اماں کو وہم دیا ہے۔

    اس نے پھر لات جمانی چاہی مگر وہ سرعت سے زمین پر ہی پہلو بدل گیا۔۔ 

    مانا سیخ سلائی نہیں ہوں مگر موٹی بھی کہنا ذیادتی ہے۔ 

    ایک وقت تھا میری گڑیا میری چندا کہہ کر زبردستی کھلایا کرتی تھیں خالی پیٹ یونیورسٹی مت جا ئو اب ہر روز خالی پیٹ یہاں تمہارے ساتھ واک پر بھیج دیتی ہیں کچھ پتہ میرے ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ کا فاصلہ کتنا ہے یہاں بے کار میں تھک کر جاتی وہاں ایک قدم مجھ سے چلا نہیں جاتا تین دن سے۔۔۔۔ وہ بول بول کر پھر تھک گئ۔۔ 

    خود بھی وہیں اس کے ساتھ ڈھیر ہو گئ 

    صارم ابھی بھی پڑا اسے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہا تھا۔

    اس نے گہری سانس لے کر سانسیں بحال کیں پھر سلسلہ کلام جوڑا 

    کلاس نہیں لی میں نے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دھیما بولنے والی نازک سی لڑکی جس کو دیکھ کر اسکی ڈھال بن جانے کیی خواہش پیدا ہو دل میں۔۔۔۔

    ہایون نے بات مکمل کر دی تھئ۔ نونا کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بڑا احسان کیا ۔ وہ چڑگیا۔ 

    سو چنگیز خان ہٹلر مرے ہونگے جو تم پیدا ہوئی تھیں 

    جاہل جنگلی لڑکی ساری آنتیں اوپر نیچے ہو کر رہ گئیں میری۔۔

     پچھلے جنم میں گدھی تو نہیں تھیں بے دریغ لاتیں چلانے سے تو ایسا ہی لگتا۔۔۔ وہ ابھی بھی پیٹ سہلا رہا تھا

    میں اسکو کومپلیمنٹ کے طور پر لیتی ہوں جس کے تم جیسے آستیں کے سانپ بھائی  ہوں انکے ساتھ جانور ہی بن کے رہنا ٹھیک۔۔ وہ لا پرواہ تھی مزے سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔۔

    بلاگ اپڈیٹ کرنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ 

    اس نے یونہی ہاتھ اوپر کرکے دو رویہ درختوں کے بیچ جھانکتے سورج کی تصویر لی۔ 

    صبح روشن۔۔۔اسکے ذہن میں مزیدار سا قول آیا تھا۔۔ جھٹ لکھنے لگی۔ 

    کوئی کہہ سکتا یہ لڑکی پڑھی لکھی ہے ۔۔۔ دلاور ہاتھا پائی تو کر نہیں سکتا تھا سو مخصوص چڑانے والا انداز اپنا لیا

    گریجوئشن کر رہی ہے اگلے ہفتے شادی ہے اسکی۔۔۔

    اسکی ساری لا پروائی رخصت ہوئی 

    موبائل کی اسکریں پر چلتے ہاتھ رک گئے

    شادی نہیں نکاح ہے بس۔۔۔

    وہ کہہ کر فون لاک کرتی اٹھ کھڑی ہوئی دلاور نے اسکے انداز کو غور سے دیکھا پھرخود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

    چلو نکاح سہی مگر  شادی شدہ ہی کہلائو گی۔۔۔

    وہ اسے چھیڑ نہیں رہا تھا اب… اسکا انداز بدلا بدلا وہ کافی دن سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

    ابھی بھی وہ اسکے الفاظ پر چیں بہ چیں ہو کر رہ گئی مگر خاموش رہی 

    خالہ کے الفاظ کانوں میں گونجے۔صارم کئ۔۔

    تم ہی بات کرکے دیکھ لو بجھ سی گئ ہے بہن بھائی کوئی ہے نہیں کسی اور دوست سہیلی سے قریب ہے نہیں مجھ سے تو اتنا چڑ رہی ہے کہ بات کروں تو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہے پوچھو اس سے مسلہ کیا ہے۔۔۔

    مسلئہ ۔۔ اس نے پرسوچ نگاہیں تیز تیز قدم اٹھاتی دور جاتی اریزہ پر جمائیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور ۔۔۔۔نونا  بے حد دلچسپی سے سن رہی تھیں۔۔۔جبھئ مزید بولنے پر اکسایا ۔۔ 

    وہ کنگم کے درمیانے درجے کے  ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ حسب عادت نونا نے کونے والی میز کا رخ کیا تھا۔۔

    اور ۔۔۔۔ 

    ہایون سوچ رہا تھا۔ 

    دونوں میز پر براجمان ہوئے ۔۔۔ویٹر کے قریب آنے پر 

    آرڈر کیا ۔۔

    اور۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اتنی پھرتی کہاں سے آگئی تم میں ابھی تو دو قدم چلنا بھی محال تھا تمھارے لیے۔۔۔ اسکو تیز تیز قدم اٹھاتے مین گیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر کر جملہ کسا

    رکو تو سہی مجھے ساتھ لے کر جائو بنا بائک پیدل کیسے گھر جائو گی ؟

    اس نے  کہا تو وہ خلاف توقع رک گئ اور اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔

    میں چل رہا ہوں نہ تو مجھے لگ رہا کوئی چیز اوپر چلی گئی ہے اندر۔۔۔ چلتے چلتے رک کر خوفزدہ سی شکل بنا کر اس نے کہا تھا۔۔۔

    اوپر چلی گئی میری آنت… خالی ہو گئی ہے جگہ دیکھو۔۔۔

    اپنے دو پیکس والے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکی تشویش دیدنی تھی۔۔۔

    مگر مقابل ٹکرکی  تھی انتہائی پریشانی چہرے پر سجا کر مکا بنا کر بولی

     ایک گھونسا سینے پر بھی جما دیتی ہوں آجائے گی واپس ۔۔۔

    اس سے بعید بھی نہیں تھا وہ ڈر کے پیچھے ہوا۔۔۔

    کتنی پر تشدد لڑکی ہو جانے سجاد بھائی پر کیا گزرے گی تم سے تو وہ لڑ بھی نہیں پائیں گے ادھر انہوں نے کچھ کہا تم نے پنجے تیز کیئے۔۔۔

    اس نے جان کے ذکر نکالا۔۔۔

    وہ بھی سمجھ گئی تھی 

    تم خوشیاں منائو تمہارے پلے تو نہیں پڑی نا اوروں کی فکر میں ہلکان مت ہو۔۔

    میں تو اٹھتے بیٹھتے شکر ادا کرتا ہوں سچی۔۔۔۔۔ 

    بائک نکالتے وہ چڑا رہا تھا مگر چہرے پر سنجیدگی تھی۔ 

    دونوں یونہی لڑتے بھڑتے گھر آگئے 

    انکی آوازیں سنتے ہئ امی نے پکار کے بتایا۔۔ 

    آئو اریزہ ابھی تازہ جوس نکالا ہے۔۔ موسمی کا۔۔

    امی نے تازہ جوس نکال کر رکھا ہوا تھا اس نے صاف انکار کیا۔۔۔

    امی میں تو اور موٹی ہو جائوں گی شادی والے دن بھدی لگوں گی مجھے آپ بھوکا مرنے دیں کم از کم ناک تو نہیں کٹے گی میری وجہ سے۔۔۔ وہ دھپدھپ کرتی تیار ہونے کمرے میں گھس گئی

    دیکھ رہے ہو ۔۔۔ امی نے شکایتی نظروں سے دلاور کو دیکھا

    خالہ اسے اسکے حال پر چھوڑ دیں سچ تو یہ ہے کہ آپ لوگوں نے شادی شادی کر کے اس ذکر سے چڑا دیا ہے اسے کتنی پرجوش تھی میں سی ایس ایس کروں گی یہ کروں گی وہ کروں گی گریجوایشن بھی مکمل نہیں کرنے دے رہیں آپ اسکا چڑنا تو بنتا ہے ۔۔۔ دلاور نے سنجیدگی سے کہاتھا مگر وہ خالصتا پاکستانی ماں مجال ہے جو بچوں کی سن لیں چڑ گئیں۔۔ 

    ہاں دشمن ہوں اسکی اتنے اچھے رشتے کو ہاتھ سے جانے دیتی ۔۔ فضول شوق کے پیچھے باقی کینڈا جا کے جو مرضی پڑھتی رہے ۔ کوئی اعتراض نہیں پھرسجاد گھر کا بچہ ہے سنجیدہ سمجھدار۔۔۔ 

    ۔۔۔

    وہ اپنی دھن میں کہے گئیں اپنی بات کے حق میں سو دلائل تھے انکے پاس ۔۔۔ 

    خیر بچہ تو نہ کہیں۔۔۔ اس نے لائونج کے صوفے پر گرتے ہوئے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا تو لائونج میں لگے دیوار گیر ٹی وی کے نیچے بنی میز پر سجی سجاد اور اریزہ کی منگنی کی تصویرپر نگاہ۔جا رکی۔ اس نے  تادیبی نگاہ سے دیکھا۔۔ اڑتیس  سال کے ہینڈسم مگر سنجیدہ سے سجاد کے ساتھ بیس سال کی اریزہ گڑیا سی لگ رہی تھی۔۔۔

    ماں کے ارشادات اریزہ نے بخوبی سنے تھے دھڑ سے الماری بند کرکے اپنی قسمت کو کوستی اسی سے سر ٹکا کر رہ گئی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا نمبر  ہمیشہ کی طرح اریزہ کے نام تھا 

    نوٹس بورڈ پر مد ٹرم کا رزلٹ لگا تھاسب طلبا نوٹس بورڈ کے گرد جمع تھے وہ دیکھنے آئی تو ساجد نے جو اپنا نام ڈھونڈ رہا تھا جلدی سے اسکا رزلٹ بتایا اور دوبارہ نوٹس بورڈ پر جھک گیا دونوں ہاتھ چلاتے ہوئے وہ ہر نئے آنے والے کو بھی ساتھ ساتھ بتا رہا تھا۔۔۔ اسکو سب آتے جاتے مبارک باد دے رہے تھے۔۔۔

    سنتھیا اسکا بجھا بجھا سا انداز دیکھ تو رہی تھی مگر چھیڑا نہیں اسکا ہاتھ پکڑ کر کینٹین میں لے آئی۔۔۔

    ایڈون کونے میں میز گھیرے سموسے اور کولڈ ڈرنک منگوائے انکا انتظار کر ررہا تھا

    مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ وہ بیٹھ تو گئی تھی مگر کھانے سے صاف انکار کر دیا تھا

    پتہ ہے مجھے تین دن سے ناشتہ نہیں مل رہا تمہیں چلو شرافت سے کھانا شروع کرو۔۔۔ سنتھیا نے اس کے سر پر چپت لگا کر ڈرامہ بازی سے روکا۔۔

    کیوں یہ ظلم کیوں ہو رہا تم پر۔۔

    ایڈون نے آدھا سموسہ منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا

    کیونکہ میں موٹی ہوں اور دلہن بن کر اور موٹی لگوں گی بقول میری ہونے والی ساس کے۔۔۔ ابھی بنی بھی نہیں ہیں ساس۔۔۔مگر میرا کھانا پینا کھٹکنے لگا امی سے صاف کہا اسے ڈائٹنگ کروائیں اب ایک ہفتے میں میں اپنا سارا زائد وزن کم کرکے انکے بیٹے کے قابل بن جائوں سو میری اماں مجھے چھے بجے صارم  کے ساتھ واک پر بھیجتی ہیں اور واپسی پر ایک  ابلا انڈہ اور فریش جوس میرا منتظر ہوتا۔۔

    وہ تقریر ہی کرنے لگ گئ ۔سنتھیا اور ایڈون متاسف نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جوابا انکی نظروں سے  اب جزباتی ہو کر میز پر ہاتھ مار کر بولی۔ 

    مطلب میں کیا ہوں انسان ہوں کہ نہیں مجھے زور سے ہنسنا زور سے بولنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے مجھے وزن کم کر لینا چاہیے کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے مجھے روز چہرے پر ماسک رگڑنا چاہیے تاکہ گوری ہو جائوں کیونکہ میری شادی ہو رہی میں یونیورسٹی آنا چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے ان شارٹ میں اپنی مرضی سے جینا چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے  لڑکی ہونا عزاب ہو گیا ہے میرے لیے کوئی حد ہوتی ہے کسی بات کی بھی کہ نہیں  ۔۔۔ بولتے بولتے اسکی آواز تیز ہو گئی تھی ایڈون سموسہ چبانا بھول گیا سنتھیا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی پوری کینٹین میں یکدم خاموشی چھا گئی تھی سب طلبا ویٹر کاونٹر پر موجود لوگ ہاتھ روک کر اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

    اسے جوش میں اپنے والیم کا اندازہ ہوا ہی نہیں ۔۔۔ سب کو ٹکر ٹکر اپنی طرف دیکھ کر کھسیا کر کرسی پر نیچی ہو کر بیٹھ گئی

    چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سب اپنے اپنے حواسوں میں واپس آئے دوبارہ کینٹیں آوازوں سے بھرنے لگی۔۔۔سنتھیا اور ایڈون نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔۔ 

    ویسے تم موٹی تو نہیں ہو یہ تو زیادتی کی ہے تمھاری ساس نے۔۔۔ سنتھیا نے اسے سرتاپا دیکھتے ہوئے کہا تھا دوست ہونے کے ناطے اسے کافی غصہ آیا تھا۔۔۔

    اسکی بات پر اریزہ آہستہ آہستہ دوبارہ کرسی پر طلوع ہونا شروع ہوئی

    دراصل مجھ سے میرا وزن پوچھا تھا انہوں میں نے سچ بتا دیا۔۔تو۔۔ اس نےمنہ بنا کر سموسے کی جانب ہاتھ بڑھایا

    کتنا وزن ہے تمہارا۔۔۔ ایڈون نے سموسہ نگل کر پوچھا

    سکسٹی ٹو کےجی۔۔ اس نے سموسہ بھرا منہ میں۔۔۔ 

    کیا ۔۔۔ سنتھیا کو کولڈ ڈرنک پیتے اچھو لگا۔۔۔

    لگتا تو نہیں ہے۔۔۔ ایڈون بھی حیران ہوا۔۔۔

    ہاں وہی تو مانا پانچ فٹ چار انچ قد کے حساب سے تھوڑا کم ہو نا چاہیئے پچپن تک ہو مگر میں اتنی بھی موٹی سی تو نہیں لگتی کہ مجھے منہ بھر کر ٹوک دیا جائے۔۔۔ گرے کرتے اور جینز میں ملبوس بڑی سی ہمرنگ شال سلیقے سے اوڑھے وہ ٹھیک ہے بہت ہوا ہوائی نہیں لگتی تھی مگر موٹی بھی نہیں کہہ سکتے تھے اسے ہاں بھرا بھرا جسم تھا اسکا۔۔۔ 

    صحیح کہہ رہی ہے ۔۔سنتھیا متفق تھی اپنے بیٹے کو دیکھا ہے اس کے ساتھ کھڑا ابا لگتا ہے اسکا اس سے تو کہیں پیاری اور چھوٹی ہے یہ ۔۔

     انجانے میں سنتھیا اسکی دکھتی رگ چھیڑ گئی۔۔۔

    نا شکل نہ عادت نہ عمر نہ مزاج کسی طور تو ہم پلہ نہیں ہے سجاد اسکے۔۔ سنتھیا کو غصہ آگیا۔ 

    جتنا یہ شوخ  مزاج کی زندہ دل لڑکی اتنا سجاد سنجیدہ سڑیل منگنی پر یاد ہے جب صارم وغیرہ اس کو چھیڑ رہے تھے رسموں کیلئے بلا رہے تو سجاد کی ناگواری عروج پر تھی بعد میں فون کرکے اسکے کزنز کو چھچھورا بدتمیز اور نہ جانے کیا کیا بنا ڈالا اس نے کچھ کہنا چاہا انکی حمایت میں تو صاف کہا اسے اپنا مزاج تبدیل کر کے انکی زندگی میں شامل ہونا چاہیئے۔۔۔ 

    تیزی سے سموسے کی پلیٹ صاف کرتے اسکے ہاتھ واضح طور پر رکے تھے۔۔ ایڈون نے اسکو دیکھ کر سنتھیا کو آنکھون آنکھوں میں گھرکا تھا۔۔۔ 

    سنتھیا بھی شرمندہ ہو گئی تھی ۔۔۔

    اچھا چھوڑو پتہ ہے نیو اسکالر شپ آئی ہیں ایک ایشین ملک کے ساتھ ہماری یونیورسٹی ماس کمیونیکیشن  کے شعبے سے الحاق کی شروعات  کر رہی ہے پہلے مر حلے میں تجربے کے طور پر پانچ دس انکے طلبا اپنے آخری دو سمسٹر یہاں آکر مکمل کریں گے اسی طرح یہاں سے بھی پانچ طلبا کو اسکالر شپ دی جا رہی کہ وہ وہاں کے تعلیمی ماحول سے فیضیاب ہوں اس طرح ہماری یونیورسٹی کی ڈگری بھی بھی بین الاقوامی سطح پر پہچاانی جائے گی ۔۔۔ مزے کی بات ہے نا۔۔۔ اگلے مہینے تک درخواست جمع کروانی ہے ۔۔۔ایڈون بتا رہا تھا۔۔۔ 

    کس ملک کی اسکالر شپ ہے۔۔۔ اریزہ نے دلچسپی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔ 

    سجاد سے تو میں نے کہا تھا کہ مجھے کینڈا کی یونیورسٹیز کے بارے میں بتائیں مگر انہوں نے تو دلچسپی ہی نہیں لی۔۔۔ مجھے نہیں لگتا مجھے آگے پڑھنے دیں گے یہ لوگ۔۔۔ اسکے انداز میں افسوس تھا۔۔۔ 

    میں نے ایشیائی ملک کہا ہے۔۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ لاپروائی سے بولی

    کونسا ملک ہے چائنہ ہو گا ہےنا۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی نہیں۔۔ نونا نے نفی میں گردن ہلائی

    جنوبی کوریا

     ایک سے ایک حسینہ سے بھرا ہوا  ہے ایسی لڑکی بہت آسانی سے مل جائے گی تمہیں اور  

    میری دعا ہے تمہیں تمہاری پسند ضرور ملے ۔۔۔ انی نے پورے خلوص سے کہا تھا ہیون ہنس دیا 

    اور میری خواہش ہے کہ آپ اپنی پسند کو اپنا لیں ۔۔۔ قسمت ایک بار آپ دونوں کو آزما چکی اس مرتبہ آپ ہایونگ (بڑا بھائی) کو مایوس مت کیجئے۔۔۔ ہیونگ نے بے حد سنجیدگی سے انی کا ہاتھ تھام کر استدعا کی تھی

    نونا  اپنے بھائی کو محبت سے تکنے لگیں 

    میرا بھائی بڑا ہو گیا ہے۔۔۔ 

    اتنے غیر متعلقہ جملے پر ہیون جھلا گیا

    سمجھیں بھی نا ۔۔ بس کہتی ہیں ۔۔۔ آپ۔۔۔ اس نے کمچی کا قیمہ بنا دیا چاپ اسٹکس سے ۔۔۔نونا ہنس دیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے گھر آکر لیپ ٹاپ میں گوگل کیا یو ٹیوب کھول کر دیکھا تھا ہوشربا انکشاف ہوئے تھے 

    شمالی کوریا ایک وسطی ایشیائی ریاست ہے جس پر آمر ۔۔۔ کی حکومت ہے ۔۔۔۔ 

    وہ پڑھتئ جا رہی تھی اور آنکھیں سجل علی کی آنکھوں سے ذیادہ بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگلے دن یونیورسٹی میں  اس نے ایڈون کو جا لیا تھا ایک ایک تفصیل بتائی تھی

    جہنم ہے جہنم 

    سوچنا بھی نہ وہاں جانے کا میں بھی کہوں ایک دنیا جب پاکستان آنے کے نام سے خوف سے تھر تھر کانپتی تو آخر یہ  دس طلبا یہاں آ کیوں رہے تو جناب اسلیئے کہ انکے حالات ہم سے بھی خراب ہیں ۔۔ کم از کم ہم ایک آدھ دھماکہ برداشت کرتے مرتے وہاں  تو لوگوں کے سامنے معمولی معمولی بات پر لوگوں کو بیچ چوراہے میں مار ڈالتے دنیا کے بد ترین آمروں میں سے ایک ہے بادشاہ جا۔۔۔۔ وہ نام بھول گئی

    ایڈون نے تاسف سے دیکھا۔۔۔ 

    ہاں بالکل شمالی کوریا میں ایسا ہی ہے مگر میں جس اسکالر شپ کیلیئےاپلائی کر رہا وہ جنوبی کوریا کی ہے۔۔۔ 

    ہاں وہی تو کوریا۔۔۔ وہ تیز ہو کر بولی پھر بات عقل میں گھسی 

    جنوبی کوریا اچھا مطلب ملک کے دوسرے حصے میں جائوگے۔۔۔

    جی نہیں وہ زور دے کر بولا۔۔۔ ملک ہی دوسرے جا رہا شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں انکو بھی انڈیا پاکستان کی طرح علیحدہ ہوئے نصف صدی ہو نے کو آئی ہے۔۔۔

    اوہ اچھا۔۔۔ وہ شرمندہ ہوئی 

    وہ ایک ہی ملک سمجھی تھی۔۔۔

    مجھے کیا پتہ ہمیشہ میں نے تو بس کورین سیل فون کا ہی سنا تھا میڈ ان کوریا لکھا ہوتا تھا جنوبی شمالی وہ لوگ خود  بھی نہیں لکھتے ۔۔۔ کوریا میں ویسے انسان بھی ہوتے ہیں؟

    اس نے کافی حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔  

    ایڈون نے تاسف سے اسے دیکھا

    تمہیں شادیریا ہو گیا ہے دماغ کام نہیں کر رہا۔۔۔ ویسے تم کیوں نہیں اپلائی کر رہی ہو تمہارا تو نام آسانی سے آجائے گا میرٹ پر دوسرا ابھی تک سنتھیا کے سوا اور کسی لڑکی نے اپلائی بھی نہیں کیا سر جازب کہہ رہے تھے کم سے کم دو تین لڑکیاں بھی بھیجنی ہےانہیں اچھا امپریشن بھی تو دینا لڑکے تو پتہ نہیں واپس بھی آئیں نا آئیں۔ 

    سنتھیا نے بھی اپلائی کیا ہے۔۔۔  اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی اسکی اکلوتی بچپن کی سکھی سہیلی اسے چھوڑ کر جا رہی تھی کوریا۔۔

    ہاں۔۔۔ایڈون نے آرام سے کہا

    اسے گھر سے اجازت مل گئی؟

    وہ صدمے میں تھی

    ہاں میں بھی تو جا رہا ہوں اسکا منگیتر پھر کیسا ڈر۔۔۔

    وہ رکا

    مین تو کہتا تم بھی چلو کینڈا تو پتہ نہیں کتنے عرصے میں جائو سال دو سال آرام سے لگے گا گریجوایشن مکمل کر سکتی ہو تم آرام سے۔۔۔ تب تک

    ۔۔۔۔اریزہ نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔

    یونیورسٹی ٹرپ پر جا نے نہیں دیتیں اماں کوریا تو بابا بھی کبھی جانے نہیں دیں گے مجھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آخر حرج ہی کیا ہے اسمیں میری یونیورسٹی سے بھیجا جا رہا ہے رہائش ہاسٹل میں ہوگی دو سال کی ہی تو بات ہے یہاں بھی تو میں پڑھوں گی ہی۔۔۔ 

    اس نے بات ابا سے کرنی شروع کی تھی رات کو چائے بنا کر ان کے پاس آبیٹھی ابا انداز پہچانتے تھے کچھ منوانے آئی ہے آج سے کچھ عرصہ پہلے شادی سے انکار کرنے آئی تھی۔۔۔۔ اماں کی فورا رگ پھڑکی اسکے پیچھے پیچھے دبے پائون چلتی آئیں ابھی اس نے بات مکمل ہی کی تھی اماں نے لتے لینے شروع کر دیئے 

    اب جو کرنا ہو سسرال جا کر کرنا۔۔۔ کینڈا جاکر جہاں مرضی آئے داخلہ لینا جو مرضی پڑھنا۔۔۔ پتہ نہیں کس دماغ کی لڑکی ہے بجائے اسکے کہ شادی ہونے والی گھرداری میں دلچسپی لو کھانا پکانا سیکھ لو کوریا جائیں گی بتائو نام تک نہ سنا آج تک اس ملک کا۔۔۔  انجان ملک انجان لوگ جان لڑکی کو منہ اٹھا کر بھیج دیں

    ابا چپ چاپ انکے خاموش ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔

    ابا کینڈا بھی تو بھیج رہے ہیں اتنی دور مجھے۔۔۔ وہاں کونسا آپ ہونگے اماں ہونگی وہاں بھی تو میں اکیلی ہونگی۔۔۔۔

    کیسے اکیلی ہوگی۔۔۔ اماں چمک کر بولیں 

    شوہر ہوگا خالہ ہوں گی تمہاری پورا خاندان ہوگا وہاں انکا ۔۔۔ 

    کونسے لوگ جن کو صرف میں نےشکل سے دیکھ رکھا بس۔نہ مزاج پتہ نہ ماحول مانوس ۔۔۔ اکیلی ہونگی میں وہاں پر ۔۔۔ اس نے اکیلی پر زور دیا

    ہمیشہ میں نے آپ کی بات مانی ہے مجھے سجاد بالکل پسند نہیں تھا مگر آپ کے کہنے پر میں نے ایک ہاں کردی آپ میری اتنی سی بات نہیں مان سکتی ہیں۔۔۔ اسکی آنکھون میں آنسو آرہے تھے۔۔۔ باپ کا دل پگھل گیا۔۔

    اماں کو اندازہ تھا جبھی انہیں بولنے کا موقع نہیں دے رہی تھیں

    تو کیا غلط فیصلہ کیا ہے۔۔۔ پڑھا لکھا ہے امیر کبیر ہے کینڈا میں وکیل ہے اتنا قابل لڑکا ہے سمجھدار ہے اور کیا چاہیئے ہوتا ۔۔۔ 

    کینڈا میں ہے کم از کم بھی سال دو سال لگیں گے مجھے وہان جانے میں تب تک اگر میں اپنی تعلیم مکمل کر لوں تو کیا حرج ہے۔۔۔ 

    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔۔ اماں نے سر پیٹ لیا۔۔۔

    صاف بات میں کسی دوسرے شہر اکیلی لڑکی کو نہ بھیجوں دوسرے ملک تو نا ممکن ہے۔۔۔

    تو کیوں بھیج رہی ہیں۔۔۔ مت بھیجیں نہ مجھے کینڈا  بھی۔۔۔

    منع کر دیں اس رشتے سے کریں گی۔۔۔ منع

    وہ جھلا رہی تھی غصہ میں بول رہی تھی یہ تو انکی بیٹی تھی ہی نہیں اس لہجے اس انداز میں تو اس نے کبھی بات نہ کی تھی۔۔۔  مرتضی اسے بہت غور سے دیکھ رہے تھے

    دیکھ رہے ہیں آپ اسے کتنی بدتمیزی کر رہی ہے مجھ سے کئی دن سے دیکھ رہی صاحبزادی کا مزاج ہی نہیں مل رہا ہے بتائو کارڈ چھپ کے بٹ چکے دو دن میں مہمان آنا شروع ہو جائیں گے اور یہ ۔۔۔۔

    تم چپ رہو گی تھوڑی دیر مجھے اس سے بات کرنے دو۔۔۔ بلکہ جائو میں اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ مرتضی کے سختی سے کہنے پر وہ چپ تو ہو گئیں مگر کمرے سے باہر نہ گئیں وہیں کونے میں صوفے پر جا بیٹھیں 

    اریزہ بیٹھو بیٹا۔۔۔ انہوں نے کتاب سایڈ میں رکھ دی عینک اتار کر بغور اسکا خفا خفا چہرہ دیکھا۔۔۔ 

    وہ انکے پاس ہی فلور کشن پر بیٹھ گئی۔۔۔

    بیٹا پڑھائی تو ڈسٹرب نہیں کر رہے آپکی آپ جب تک گریجوایشن مکمل نہیں کر لوگی ہم کینڈا نہیں بھیجیں گے آپکو ٹھیک۔۔۔ تو کوریا کیوں جانا چاہتی ہے میری بیٹی۔۔۔ 

    انکی بات پر وہ چپ ہی رہ گئی کیا بتائے کیا کہے۔۔۔ پڑھائی تو یہاں بھی کر ہی رہی تھی۔۔ ابا نے اپنے تئیں اسے تسلی بھی کرادی پھر کیوں۔۔۔۔۔

    اماں چین بہ چیں ہوئیں مگر ابا نے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کو کہا

    میں تھوڑی تبدیلی چاہتی ہوں۔۔ میں یہاں اس ماحول سے دور جانا چاہتی۔۔۔ جہاں ہر دوسری بات میری شادی سے متعلق ہے میرا دم گھٹ رہا ہے سوچ کر ہی کہ مجھے کتنے سارے سمجھوتے کرنے پڑ گئے ہیں اس شادی کے پیچھے آگے جانے کتنےاور کرنے میں تو سی ایس ایس کرنے کے خواب دیکھتی تھی کچھ کر نے کچھ بننے کے اس ماحول کو تبدیل کرنا چاہتی جو لڑکیوں کے خواب آرزوئیں دبا دیتا اس معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتی جس کے نزدیک لڑکی سوائے بچہ پیدا کرنے کے اور کسی پیداواری سوچ کا حصہ نہیں بن سکتی کیا کوئی جانتا ہے اسکے تھیسس اسکی پرزنٹیشن اسکے لکھے تحقیقی مقالے پوری یونیورسٹی میں مشہور ہیں وہ تقریر کرتی تو ایک دنیا چپ ہو کر اسکے خیالات سنتی بین الاقوامی سطح پر ہونیوالے مقابلے میں اسکی پینتیس ممالک کے طلبا میں ساتویں پوزیشن تھی میرا لکھامقالہ اپنے اچھوتے موضوع کی بنا پر کتنا پسند کیا گیا تھا۔۔۔ میں انعام لے کر خوشی خوشی گھر آئی تو میری خوشی میں شامل ہونا تو درکنار اماں نے دیر سے آنے پر ڈپٹ کر اسے سجاد کی امی کے سامنے لا بٹھایا تھا۔۔۔  

    ماہر مقررہ کی طرح وہ بولی تھئ۔ مگر لط سلے رہ گئے۔ 

    یہ سب اسکے دماغ میں ہی چکرا کر رہ گیا تھا۔۔ 

    اب اسکی  قابلیت اسکے گورے رنگ دبلے جسم اچھے قد کی محتاج تھی اماں کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔ 

    اسے یاد تھا جب اس نے سجاد کے عمر میں زیادہ اور مختلف مزاج ہونے پر اعتراض کیا تھا تو امی نے صاف کہا تم اپنا مزاج بدلو چھوٹی بچی نہیں رہی ہو باقی مرد اپنے مزاج میں ڈھال  لیتاہے  اور عمر کی خوب کہی دو بچے ہونگے اسکی اماں لگنے لگوگی۔۔۔۔

    کچھ نہیں۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

    پلٹ کر جا ہی رہی تھی کہ ابا نے آواز دے کر روکا وہ پلٹی نہیں مگر رک گئ

    مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے میری بیٹی کوریا جا کر پڑھنا چاہتی  ہےضرور پڑھے جہان مرضی ہو اسکی وہاں جا کر پڑھے۔۔۔ 

    ابا کے جملوں پر وہ بے یقینی سے مڑ کر دیکھنے لگی

    کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔ اماں پر تو پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو جیسے۔۔۔۔ 

    مگر بیٹا اب آپ پر مجھ سے زیادہ سجاد کا حق ہے۔۔ 

    آپ اس سے ایک بار پوچھ لو اگر وہ اجازت دے دے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔ انہوں نے بات مکمل کی

    ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں بیٹی کی سسرال ہے انتہائی نازک معاملہ ہے خبردار جو تم نے سجاد سے ایک لفظ بھی اس بارے میں کہا۔۔۔

    تم خاموش رہو۔۔۔ مرتضی چڑ سے گئے۔۔۔ سجاد پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہے تم اس سے پوچھ لو مجھے نہیں لگتا وہ انکار کرےگا۔۔۔

    وہ مزید کہہ رہے تھے۔۔ پھیکی سی مسکراہٹ آگئ تھی اریزہ کے چہرے پر۔کتنی آسانی سے اسکے حقوق ایک انجان آدمی کے سپرد کر دئے گئے تھے یعنی باپ کی اجازت مل بھی گئ تو بھی ابھی سجاد سے پوچھنا باقی ہے۔۔۔ اسے خوب اندازہ تھا یہ سلیقے سے کیا جانے والا انکار تھا اسکے والدین کی جانب سے وہ مایوسی  سر ہلا کر  کمرے میں لوٹ آئی۔۔۔

    بالکل ارادہ نہ تھا پوچھنے کا بھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکو اندازہ بھی ہے اگر آپا کو بھنک بھی پڑ گئ تو کیا ہوگا انہوں نے صاف کہا ہے اریزہ نے جو جتنا پڑھنا ہے شادی سے پہلے پڑھ لے سجاد سیٹل ہے اریزہ کو وہاں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔

    یہ بات آپ نے مجھ سے کیوں چھپائی ۔۔۔ مرتضی بگڑ گئے۔۔۔

    اتنی جاہلانہ سوچ رکھتی ہیں وہ کینڈا میں رہ کر۔۔۔ میری بیٹی اتنی با ہنر پڑھنے کی شوقیں ایسے جاہلوں میں بیاہ دوں کیونکہ وہ آپکی بہن کا بیٹا ہے۔۔۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں اس رشتے کے حق میں نہیں تھا سجاد کا عمر کا فرق بھی نظرانداز کر دینے والا نہیں اوپر سے اکلوتی بیٹی اتنی دور بھیجوں کہ اسکی شکل دیکھنے کو ترسوں ۔۔۔

    بس کیجیے ۔۔۔ وہ پچھتا رہی تھیں کیا منہ سے نکل گیا۔۔۔

    اب سب طے ہو چکا ہے ایسی باتیں نہ کریں

    کیوں نہ کروں اسکی رخصتی نہیں ہونے دوں گا میں اسکی گریجوایشن سے پہلے ۔۔۔ میں خود بات کروں گا سجاد سے۔۔۔

    آپ اور شہہ مت دیں اریزہ کو۔۔۔ وہ بات سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھیں۔۔۔

    اریزہ میں میری جان بند ہے کیا جانتا نہیں میں کیوں جھنجھلائی رہنے لگی ہے دنیا کی لڑکیاں شادی کے نام پر کھل اٹھتی ہیں اور یہ جب سے رشتہ طے ہوا ہے ہنسنا بھول گئی ہے مجھے کیا کچھ نظر نہیں آتا اوپر سےمیری بیٹی اتنی فرمانبردار کہ ماں باپ کے فیصلے پر خاموشی سے سر جھکا دیاایک لفظ نہیں بولی میں نے رشتہ پر حامی آپ کے اصرار پر بھری تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اریزہ کو معمولی سا بھی اعتراض ہوا تو میں صاف انکار کر دوں گا۔اریزہ نے صاف انکار کیا آپ نے یہ بات بھی مجھ سے چھپالی۔۔۔مگر اب میں اسکے ساتھ مزید کوئی زیادتی ہونے نہیں دوں گا سمجھیں آپ۔۔ انکا انداز دو ٹوک تھا

    جبیں انکے انداز سے خائف ہو گئیں اور مزید کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سوتے میں سے ماں کو پکارتے اٹھا تھا۔کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا تھا۔ تبھی کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولا تھا اور لپک کر اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔ 

    آہما۔۔ مجھے آہما کے پاس جانا ہے۔ وہ اس مہربان لمس کو پہچانتا تھا۔ یہ اسکی ماں نہیں تھی۔ 

    بس ابھی چلتے ہیں۔ آئو۔اسکے آنسو پونچھ کر اسکا ہاتھ تھام کر اسے وہ اس بڑے سے جنازہ گاہ میں لے آئی تھی جہاں لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک کونے میں تابوت رکھا تھا جسکا ڈھکنا کھلا تھا۔ وہ جانتا تھا اس میں کون ہے سو لپکا۔ گنگشن سے ہاتھ چھڑاتا پوری قوت سے دوڑتا وہ تابوت کی جانب بھاگا

    تبھی کسی نے بازو سے پکڑ کر اسے کھینچا اور ایک تھپڑ منہ پر لگایا۔ 

    اسکی آنکھ کھلی تھئ۔ لمحہ بھر کو سمجھ نہ آیا کہ کہاں ہے۔ دھیرے دھیرے حواس بحال ہوئے تو سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا ۔رات کے دو۔۔ 

     کمرے میں نائٹ لیمپ جل رہا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل لیمپ جلا دیا اور سستی سے اٹھ بیٹھا۔ بے چینی بے زاری اسکو یہ دونوں احساسات اتنا گھیرے  لیتے تھے کہ اطمینان اور سکون کو جیسے بھول ہی گیا تھا۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔ جب کچھ نا کرنے کو ہو تو پی لینا چاہیئے۔ یہ اسکا خیال تھا۔ اوپن  کچن سے ملحقہ پائوڈر روم میں شیلفس بنے تھے یہاں ایک جانب کمچی اور دیگر اجناس کا ذخیرہ کیا جاتا تھا اور دوسرے کونے میں شراب کا۔ اس نے آگے بڑھ کر پہلے تو قیمتی وائن اٹھائی مگر اسکی سیل مکمل بند تھی۔ یہ بوتل اسے پہلے نظر نہیں آئی تھئ۔ اس نے لیبل پڑھا تو سینکڑوں ڈالر کی امریکی شراب تھی۔ یقینا کسی خاص تقریب کیلئے بطور خاص منگوائی گئ تھئ۔ وہ چند لمحے بوتل ہاتھ میں لیئے کھڑا رہا۔ 

    اپنے ہی گھر میں کسی چیز کو اٹھاتے رکھتے وہ ملکیت کے احساس سے محروم تھا۔ 

    احتیاط سے وہ بوتل واپس رکھ کر اس نے نیچے جھک کر ایک چھوٹی بوتل اٹھا کر پلٹا تو گنگ شن نونا سامنے کھڑی تھیں سینے پر بازو لپیٹے اسکے متوجہ ہونے کی منتظر۔ 

    صبح یونیورسٹی جانا ہے نا؟ رکھو اسے واپس۔ 

    وہ رعب سے بولیں۔ 

    نونا ہائی اسکولر نہیں رہا ہوں میں اب خود کو باور کرالیں۔

    وہ تھوڑا چڑا تھا مگر چڑ لہجے میں جھلک نا پائی تھی۔ 

    رکھو اسے اور میرے ساتھ چلو اچھی سی کافی پلاتی ہوں۔ 

    وہ مسکرا کر لالچ دینے والے انداز میں بولیں۔ 

    ہیون چار و نا چار بوتل واپس رکھ کر انکے ساتھ ہو لیا۔ 

    کچن میں آکر نونا پھرتی سے کیبنٹس کھول بند کر رہی تھیں۔ چولہے پر ایک دیگچی چڑھا کر  کافی میکر میں اجزاء ڈال کر بنا سوئچ آن کیئے اب کپ نکالے جا ریے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر پلگ لگانا چاہا تو ایک کراری چپت ہاتھ پر پڑی۔ 

    پھابو( احمق) کافی ابھی بنا لی تو تمہارے ریمن کھانے تک ٹھنڈی ہو جائے گی۔ چلو وہاں میز پر بیٹھو۔ 

    اسے بازو سے پکڑ کر وہ کھینچتی لائی تھیں اور لا کر کچن میں ایک طرف لگی ڈنر ٹیبل پر لا بٹھایا۔

    نونا بہت زبردستی کرتی ہیں آپ میرے ساتھ۔ وہ بےحد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ اسکے انداز پر ہر وقت سجی رہنے والی مسکراہٹ گنگشن کے چہرے سے یک لخت غائب ہوئی تھئ۔ 

    بیانیئے۔ وہ دھیرے سے اسکا کندھا تھام کر بولیں۔ وہ یونہی خفا سا بیٹھا میز کو گھورتا رہا

    تمہیں بھوک تو لگی ہوگی نا ہیونگ سک۔ آہبوجی سے سامنا نہ ہو اسلیئے تم ڈنر ہی کرنے باہر نہیں نکلے تھے۔ مجھے پتہ تھا تم بنا کھائے ہی سو جائو گے۔ میں دو بار آئی تھی تمہارے کمرے میں۔ مگر تم سو گئے تھے۔ 

    نونا نے اسے پچکارا۔۔

    میں پی کے دوبارہ سو جاتا۔ وہ بچوں کی طرح منہ پھلائے تھا۔ 

    خالی پیٹ پینے سے طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ کھالو پھر پی لینا۔

    نونا اسے واقعی ابھی بھی آٹھ سال کا ہی سمجھتی ہیں۔۔ 

    اس کو اس بات پر ہنسی نہیں آئی۔۔ الٹا دکھ ہوا تھا۔۔ 

    #

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بی بی سی اردو کی وہ ویڈیو دیکھتے وہ بے چین سی ہوگئ تھی۔  کماری کی رسم نیپال میں صدیوں سے رائج تھئ۔ اسے دیکھتے دیکھتے بے چینی سی ہونے لگی۔ 

    ہر ملک میں ہی خواتین کو دبانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہی ہے۔  افسو س سے سوچا تھا اس نے ہھر موبائل بند کر کر سائئڈ پر رکھ دیا۔ 

    ایک اور  کروٹ بدلی۔ بے چین سی ہو کر اٹھ بیٹھئ۔ 

    سجاد سے پوچھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ کینڈا میں رہتے ہیں سجاد دقیانوسی تو نہیں ہوں گے۔ 

    اس نے موبائل اٹھایا۔  پھر گھڑی دیکھ کر واپس بھی رکھ دیا۔ 

    کیا فائدہ ابھئ تو پوچھوں بھی تو ۔۔۔ وہ بستر سے اترآئی۔  نائٹ لیمپ جل رہا تھا جبھئ مکمل اندھیرا نہیں تھا۔ اس نے لائٹ بھئ جلا لی۔ 

    یہ اسکا کمرہ تھا۔ اریزہ مرتضی کا۔ جسکے در و دیوار پر ہوئے روغن سے لیکر سائیڈ ٹئبل پر رکھی الارم کلاک تک اسکی مرضی کی تھئ۔ اسکی پسند او رفرمائش پر لائی سجائی گئ تھئ سوائے اس ایک تصویر کے جو اسکے اسٹڈی ٹیبل پر فریم میں سجی رکھی تھئ۔ ۔۔۔۔ وہ  گہری سانس لیکر اسٹڈی ٹیبل پر آن بیٹھئ۔ہاتھ بڑھا کر تصویر کو دیکھا۔ 

    یہ اسکی اور سجاد کی وہی منگنی کی تصویر تھی جس کی ایک نقل لائونج میں بھئ لگی تھئ۔ 

    اسے یاد تھا منہ پھلائے پڑی تھی بستر پر جب امی تصویریں لیکر اسکے کمرے میں آئی تھیں۔ 

    بتائو کون کونسئ فریم میں لگوانی ہے۔ 

    اس نے شاکی نگاہ سے دیکھا۔۔ 

    یہ۔ انہوں نے تصویر دکھائی۔ 

    یہ واحد تصویر تھی جس میں اس نے نگاہ اٹھا کر کیمرہ مین کو دیکھا تھا۔ شاکی نظریں کیمرہ مین جو مسلسسل اس سے نگاہیں اٹھانے کو کہہ رہا تھا اسکے بعد ایک بار بھی نہیں بولا تھا۔ 

    اس نے انہی نظروں سے امی کو دیکھا جوابا وہ دانستہ نظر انداز کرتی وہی تصویر منتخب کر کے فریم کروآ کرگھر کے ہر کونے میں لگا چکی تھیں۔۔ 

    کوئی اور تصویر فریم کروا لیتیں ۔اس میں تو میں ٹھیک ٹھاک دکھی لگ رہی ہوں۔ 

    وہ تاسف سے بڑبڑائی پھر فریم الٹ کر رکھ دیا۔ 

    اللہ تو ہی بتا دے کیا کروں۔ پوچھوں یا نا پوچھوں۔  

    کہنیاں میز پر ٹکا۔ کر اس نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ 

    یہ خوب رہی پر کاٹ دو پھر کہو بیٹا اونچی اڑان لے لو۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

    اسے غصہ آگیا۔تو سیدھئ ہو بیٹھئ۔  

     اسکا لیپ ٹاپ یہیں رکھا تھا۔ اس نے کھول کر اپنا بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔ وہ آن لائن سافٹ وئیر استعمال کرکے اردو لکھا کرتی تھی۔ وہی کھولا۔ 

    حالیہ بلاگ اسی وییڈیو پر لکھنے لگئ۔

    نیپال میں ایک طویل عرصے سے ایک رواج ہے کماری کا۔ یہ رسم نیپال کی بہت سی مزہبی رسومات میں سے ایک ہے۔

    کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی نے اس پر مکمل رپورٹ تیار کی تھی جو میں نے دیکھی۔ رسم کا نام ہے کماری۔

    ہوتا کچھ یوں ہے کہ نیپال کے معزز اور مزہبی گھرانوں میں سے ایک نوزائدہ بچی کو چن کر خطاب دیا جاتا ہے کماری کا۔اور پھر وہ بچی اعلی درجے کے مندر کو سونپ دی جاتی ہے۔ اس مندر میں اس بچی کی پرورش راجکماریوں کی طرح کی جاتی ہے اسکیلئے اونچی زات کا پنڈت یا مجاور جو بھی اس مندر سے منسلک ہو اسکا خدمت گار ہوتا ہے۔جواس بچی کے اٹھنے بیٹھنے سونے جاگنے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے۔ اس بچی کے پیر زمین پر لگنا بد شگونی سمجھا جاتا یے۔ روز اس بچی کو سجا سنوار کر اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا جاتا ہے جہاں اسکا سارا دن واسطہ عقیدت مندوں سے پڑتا ہے جو اسکے قدموں کو چھو کر اپنے اچھے نصیب کیلئے اس سے آشیرباد یا دعا طلب کرتے ہیں۔بچی سارا دن سج سنور کر آنے والوں کو تبرک بانٹتی ہے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی نیک تمنائیں دیتی ہے۔ صرف ایک قصبے یا شہر کی بات نہیں سب سے اعلی درجے کی کماری جو کہ نیپال کی حکومت کے سرپرست مندر سے منسلک ہو تو پورا ملک اس بچی کو دیوی مان کر پوجتا ہے۔تہواروں پر جب سب بچے کھیلتے کودتے نئے کپڑے پہن کر چیزیں کھاتے کھلاتے نظر آتے ہیں یہ کماری بچپن کی سب ننھی منی خواہشوں کو دباتی کھیل کود سے بے نیاز اپنا بچپن کا سنہرا دور بھگتوں کو آشیر واد دیتے گزارتی ہے۔ اس بچی کو مندر میں رکھا جاتا ہے تو ظاہر ہے اسکے والدین بہن بھائی بھی اس سے ملاقات وقت کے وقت ہی کر پاتے ہیں۔یوں عام بچوں کے برعکس یہ بچی تنہا اور دنیاوی ہر شے سے کٹ کر تارک الدنیا کی سی زندگی گزارتی ہے۔ کماری رسم کے اوائل میں یہ بھی رواج تھا کہ کماری کو دنیاوی تعلیم سے بھی دور رکھا جاتا تھا۔دوست سہیلی کیا ہوتے ایسی بچی نہیں جانتی۔ مگر کیا اسکی ساری زندگی بھگتوں کا ناچ دیکھتے انہیں آشیر باد دیتے گزر جاتی ہے؟

    جواب ہے نہیں۔ یہ شاہانہ مگر قابل رحم طرز زندگی اسے بس اس وقت تک سہنا ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتی ہے۔ بچی کے لڑکپن کو چھوتے ہی اس سے یہ خطاب واپس لے لیا جاتا ہے۔ اسے نجس سمجھتے ہوئے اس دنیا کی عام سی لڑکی بنا دیتے ہیں۔ یہ عام سی لڑکی اپنے والدین کے گھر میں اپنی عام سی زندگی شروع کرتی ہے اور کسی اور اونچے گھرانے کی کسی اور بچی کو کماری چن لیا جاتا ہے۔ اب اس بچی کا حال کیا ہوتا ہے جو دنیا میں بالغ ہو کر واپس آئی ہے نہ دنیا کے گورکھ دھندے کی خبر نہ ہی کوئی علم و ہنر سے آراستہ۔ اس لڑکی کیلئے زندگی کے راستے محدود ہیں۔اس لڑکی کو کماری کا درجہ چھنتے ہی منحوس کا درجہ مل جاتا ہے اور اس سے شادی کرنا بد بختی سمجھا جاتا ہے۔ایسا بھی ہوا ہے کہ ماضی کی کماری کی بقیہ زندگی جسم فروشی یا بھیک مانگتے گزری۔تاہم اب جدید دور کی مناسبت سے کماری کو مندر کے اندر ہی تعلیم دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر اسکے باوجود پچھلے کچھ سالوں کی کماریاں اپنی زندگی سے خوش نظر نہیں آتیں۔ ایک کماری کا کہنا تھا کہ پچھلی زندگی اسے سہانہ خواب محسوس ہوتی ہے اور اسے جدید دور میں دنیا کے ساتھ قدم بڑھاتے بہت دشواریوں کا سامنا رہا جن میں اچھی نوکری ، اچھا رشتہ نہ ملنا اور لوگوں سے ٹاکرا نہ ہونے کے باعث انکی چالاکیاں سمجھ میں نہ آئیں اور دھوکے بھی کھائے۔

    یوں آٹھ دس یا بارہ چودہ سال کی قابل رشک حد تک خدمت لینے کے بعد کماری راجکماری کے سنگھاسن

    سے اٹھا کر زمین پر پٹخ دی جاتی ہے۔۔ یہ کہانی کیوں سنائی؟ 

    اس نے لکھتے لکھتے سوچا۔۔ 

    اسلیئے کہ آج مجھے بھئ ایسا ہی لگا ہے میں کسی سنگھاسن سے اٹھا کر ذمین پر پٹخ دی گئ ہوں۔۔۔ 

    اس ملک میں لڑکیوں کے خواب نہیں ہونے چاہیئے بلکہ اس ملک میں لڑکیوں کو ہی نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔

    اس نے لکھا اور پوسٹ کردیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ

    اوہو چوٹ تو نہیں آئی ایڈمن ؟ ہلدی دودھ پی لو۔۔۔۔۔ 

    دوسرا کمنٹ۔۔ 

    کاش میں نیپال کی کماری ہوتا۔ ہر وقت سب کو آشیر باد دیتا۔ کوئی ٹیڑھئ نگاہ ڈالتا شڑاپ بھی دے ڈالتا۔ پر میں تو پاکستانی لڑکا ہوں۔۔ صبح جسے یونیورسٹی جانا ہے۔۔۔۔ سو سونے دو ۔۔۔ 

    تیسرا کمنٹ۔ 

    نہیں لڑکیوں کو ہونا چاہیئے ورنہ ہمارا کیا ہوگا۔ اتنی محنت 

    سے انجینئر اس لیئے تھوڑی بن رہا کہ کنوارا مر جائوں۔ 

    چوتھا کمنٹ۔ 

    خواب دیکھیں یا لکھیں مگر آنکھیں کھول کر۔ خواب کو جواب لکھ دیا ہے آپ نے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے دانت کچکچا کر کمنٹس پڑھے ۔۔۔ 

    ایک تو مجال ہے کوئی سنجیدہ با شعور انسان میرا بلاگ کبھی پڑھ لے۔ 

    وہ سر جھٹک رہی تھی مگر ایڈٹ کھول کر جواب کو خواب بھی کردیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔ 

    جاری ہے۔۔ 

    Kesi lagi aapko Salam Korea ki pehli qist? Rate us below

    Rating