Blog

  • ایک تھی سارا۔۔۔مختصر افسانہ

     چودہ اگست کے روز مینار پاکستان پر ٹک ٹاک بنانے کیلیئے آئی لڑکی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک۔ چار سو مردوں نے گھیر لیا کئی گھنٹے تک زدو کوب کرتے رہے لڑکی کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ پولیس کو اطلاع دینے کے باوجود پولیس آدھے گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔لڑکی کا نام سارا بتایا جاتا ہے۔۔ کہا جاتا ہے کہ لڑکی نے خود اپنے ٹک ٹاک اکائونٹ سے اپنے پرستاروں کو مینار پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔پہلے انکےساتھ تصاویر بنواتی رہی فلائنگ کسز بھی بھیجتی رہی جب ہجوم بڑھنے لگا تو لوگ قابو سے باہر ہونے لگے۔ لڑکی کو بانہوں میں لیئے جو لڑکا کھڑا ہے وہ اس لڑکی کا بوائے فرینڈ ہے اور اسکا نام ۔۔۔۔

    اف۔اس نے

    ویڈیو بند کر دی۔اس لڑکی کی مجمعے کے درمیان پھنسنے اور اسکا لباس تار تار ہونے کی مکمل ویڈیو بنا سنسر کیئے لگائے وہ جو کوئی بھی یو ٹیوبر تھا سنسنی خیز انداز میں واقعہ بیان کر رہا تھا۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ چٹپٹے انداز میں چسکے لے لیکر بتا رہا تھا۔ اس انسانیت سوز واقعے میں بھی دلچسپی اور سنسنی کا پہلو ڈھونڈ لیا تھا۔

    اس نے تبصرے کھولے تو کوئی لڑکی کو لعن طعن کر رہا تھا کوئی اسے مجمعے میں جانے کے اسلامی آداب سکھا رہا تھا کسی کو ویڈیو میں کوئی چسکے دار منظر نظر آیا تھا تو کوئی اس ٹک ٹاکر کو سبق ملنے کی وعید دے رہا تھا۔ایک نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ پبلسٹی اسٹنٹ ہے۔ ساتھ ہی اسکی ٹک ٹاک ویڈیوز کے اسکرین شاٹس تھے۔جن میں ریمبو نامی اسکا بوائے فرینڈ اسکے ساتھ بے تکلفی سے چھیڑ خانی کر رہا تھا۔ 

    اسکی ساری ہمدردیاں رخصت ہونے لگیں۔

    توبہ ہے یہ سب کرتی پھری ہے جبھی تو لوگوں کو موقع ملا۔ اور بھی تو ہزاروں لڑکیاں روز گھروں سے نکلتی ہیں پارکوں میں جاتی ہیں محرم ساتھ ہوتا ہے جبھی انکے ساتھ یہ سب کرنے کی ہمت نہیں پڑتئ۔ میں بھی  خود کبھئ بے حجاب باہر نہیں گئ مگر حجاب میں ہونے کی وجہ سے کبھی کسی ہمت بھی نہیں پڑی میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی حجاب والیوں کے پردے کی حفاظت بھی خدا کرتا ہے۔ 

    اس نے یہی سب لکھ ڈالا۔ یہ کمنٹ کرکے اسے یک گونہ سکون ملا تھا۔ 

    کہاں تو دو دن اس نے ہر خبر ہر ویڈیو ہر پوسٹ کو تلاشا تھا اس لڑکی کے غم کو دل سے محسوس کیا روئی بھی مگر جب ناصر امین اور انوار الحسان کے سامنے اسے کیمرے پر اپنا چہرہ دکھاتے اور سب واقعہ کی تفصیل بتاتے سنا تو اسکی رائے بدل سی گئ۔کوئی لڑکی اتنی ڈھیٹ کیسے ہوسکتی ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جائے اسکے بعد ہمت سے کیمرے کے سامنے انٹرویو دے۔یقینا اسکو اب شہرت کی خواہش ہے۔ اس نے کمنٹ کھول کر پڑھے تو اکثریت کی رائے اس سے ملتی جلتی ہی تھی۔۔۔

    کیا ہر وقت موبائل پر لگی رہتی ہو امی اکیلی لگی ہوئی ہیں کچن میں روٹی ہی ڈال دو جا کے۔ 

    بھیا نے اسکے کمرے میں آکر ٹوکا تو وہ سٹپٹا کر موبائل رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

    جی بس جا رہی تھی آٹا میں ہی گوندھ کر آئی ہوں۔ اس نے صفائی پیش کرنی چاہی جوابا وہ ہلکے سے ہنکارہ بھر کے واپس ہو لیئے۔ وہ جلدی جلدی سر پر دوپٹہ رکھتی کچن میں چلی آئی۔ امی نے پہلی روٹی ہی ڈالی تھی۔ اس نے انکو آرام کی ہدایت کرتے ہوئے اندر بھیجا باقی روٹیاں خود پکانے لگی۔ 

    قیامت کی نشانیاں ہیں یہ ٹک ٹاکرز جانے خود کو کیا سمجھتی ہیں بے غیرت ایک تو اپنا تماشا بنا لیا اوپر سے پاکستان کو بدنام کرتی پھر رہی ہے۔ کوئی شریف بی بی ہوتی منہ چھپا لیتی خود کشی کر لیتی۔ اسکی ڈھٹائی دیکھو دھڑلے سے سب کو اکٹھا کر کے انٹرویو بھی دیتی پھر رہی ہے۔ 

    ابا غصے میں اونچا اونچا بول رہے تھے۔ بھیا کا انداز بھی تائیدی تھا۔ خبروں میں یقینا اسی خبر کا تذکرہ ہو رہا تھا دونوں باپ بیٹا خوب تائو کھا رہے تھے۔ وہ کچن تک با آسانی انکا حرف حرف سن رہی تھی اور متفق بھی ہو رہی تھی۔ واقعی ان ٹاک ٹاک والیوں کو بس شہرت چاہیئے۔ چاہے جیسے بھی سہی۔ اس نے سر جھٹکا۔ 

    اللہ ہر بچی کا پردہ رکھے جانے کون بے غیرت تھے جیسی بھی تھی بچی اس کا دوپٹہ چھینتے بہت ظلم کمایا انہوں نے۔ 

    امی گلوگیر لہجے میں کہہ رہی تھیں۔ 

    اتنی بھئ مظلوم نہیں۔ اتنے ٹک ٹاک پر فالورز کما لیئے اس نے پہلے کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا اب سب میں مشہور ہو گئ ہے بس یہی سب تو چاہیئے ہوتا ہے ان بے حمیت لڑکیوں کو۔یہ  فاحشائیں اپنا جسم دکھا کر پیسے کماتی ہیں۔۔ 

    بھیا تنفر سے بول رہے تھے۔ وہ روٹیاں پکا کر ہاٹ پاٹ لیئے کمرے میں آئی تو ایکدم چپ سے ہوگئے امی نے بھی بات بدل دی

    چلو دفع کرو کھانا کھائو تم لوگ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ رات کو پھر اطمینان سے سب کاموں سے فارغ ہو کر فیس بک استعمال کرنے لگی۔ ہر دوسرا صفحہ یہی سب لگا رہا تھا کوئی ویڈیوز لگا رہا کوئی مضحکہ خیز خاکے۔ 

    وہ دیکھیں کیمرہ آپکے ساتھ چھوٹا سا مزاق کیا گیا ہے۔ 

    اس لڑکی کی نازیبا تصاویر اور سر پر دوپٹہ رکھ کر انٹرویو دیتے وقت کی تصاویر جوڑ کر نت نئے مزاحیہ خاکے بنائے جا رہے تھے۔

    بس اسے شہرت چاہیئے تو یہ سب بھی تو بار بار اسی کی بات کر کرکے اسے مشہور کر بھی تو رہے ہیں۔ایسے لوگوں کو مکمل اگنور کرنا چاہیئے۔ وہ یہی تو چاہ رہی ہے سب بار بار اسکا ذکر کریں اسے مشہور کریں ۔۔ 

    اس نے یہی کمنٹ کردیا۔دیکھتے ہی دیکھتے پچاس لائکس آگئے۔کئی لوگوں نے اسکی رائے سے اتفاق بھی کیا۔ 

    اس کی پسندیدہ مصنفہ نے اپنی انسٹا گرام بھر رکھی تھی اس لڑکی کے خلاف پوسٹس سے کہیں قرآن کا حوالہ تھا کہ کوئی خبر لے کر آئے تو پہلے خوب تحقیق کر لیا کرو والی آیت۔ اس نے وہ محفوظ کر لی۔واقعی اس لڑکی کے ساتھ ہوئے اس واقعے کی تفصیل سنے بناسب نے ہمدردی کر ڈالی۔ مردوں کو درندہ اور نجانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ یہ بھی تو بہتان طرازی میں آتا ہے۔ اس نے سوچا۔۔ بہتان کے بارے میں بھی تو قرآن کچھ کہتا ہوگا ۔۔اسے جانے کیوں خیال آیا۔اس نے سر جھٹکا۔۔ اور موبائل بند کرکے رکھ دیا۔ 

    توبہ آج تو کچھ بھی اچھا دیکھنے کو ہے ہی نہیں بس اس لڑکی پر سب باتیں کیئے جارہے۔فضول۔۔ 

     

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سرخ آسمان پتھریلی زمین وہ ننگے پائوں کسی میدان میں کھڑی تھی۔ اسکے گرد عجیب شور تھا فغاں تھی آہیں تھیں۔ لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ اکیلی ان میں کھڑی تھی۔ ارد گرد اسکے سب مرد ہی مرد جنکے کندھے ننگے تھےاپنے ناخنوں سے اپنا ہی گوشت ادھیڑ رہے تھے۔  گردنوں میں طوق تھے جن سے انکی گردنیں اوپر کو سر  پشت کی جانب جھک رہے تھے۔  اپنا چہرہ خود پیٹتے دو قدم بڑھتے اپنی لمبی ہوتی زبان میں الجھ کر گرتے خونم خون ہوتے۔ اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے کاٹ کاٹ کر گوشت الگ کرتے ۔۔۔ اس نے خوفزدہ سا ہو کر اپنے گرد دیکھا۔ وہ اکیلی اس ہجوم بیکراں میں تھی۔ سب رو رہے تھے فغاں کر رہے تھے

    ہائے ہم ظالم تھے۔ ہائے ہم نے خود پر ظلم کیا۔ 

    روتے چیختے اس ہجوم سے اسے وحشت سی ہونے لگی۔ بےساختہ اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ ڈالے۔ اس نے مڑ کر دیکھنا چاہا تو دور دور تک اسے مرد ہی مرد نظر آئے

    چار سو چار ہزار یا شائد چار لاکھ۔ 

    وہ ہوش کھونے لگی۔ پاس سے گزرتے کسی مرد نے اپنے پیروں میں الجھتی زبان کو جھٹکا دے کر کندھے پر ڈالا تو ایک بھاری ضرب اسکے چہرے پر لگی۔ 

    یہ کیا ہو رہا ہے کونسی جگہ ہے یہ میں کیوں ہوں یہاں۔ 

    وہ پاگلوں کی طرح ایک ایک کو روک کر پوچھنے لگی۔اسے جواب دینے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ان پر اپنی ہی آہوں کا بوجھ تھا۔ 

    قیامت آگئ ہے۔ پاس سے گزرتے اس نوجوان نے اسکی بے چینی دیکھتے نگاہ جھکا کر دھیرے سے بتایا۔ 

    کیا؟۔ وہ حیرانی سے چیخ پڑی۔ 

    کب کب آئی قیامت۔ابھی تو۔۔ 

    اس کی بات سننے کا جیسے وقت نہ تھا اسکے پاس۔ سر جھکائے آگے بڑھا۔۔

    وہ حیران پریشان سی دیکھ رہی تھی۔ اتنے بڑے ہجوم میں کوئی اس سے ٹکرایا بھی نہ تھا۔سب کے اپنے درد تھے اپنی چیخیں۔ مگر اسے سمجھ نہ آیا وہ یہاں کیوں تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر دوڑ کر اسی نوجوان کو جالیا۔۔ 

    یہ کون لوگ ہیں کہاں جا رہے ہیں۔۔ انکی ایسی حالت کیوں ہے۔ 

    اس نوجوان نے رک کر ایک نظر ہجوم پر ڈالی ۔۔ 

    ایک اور منظر اسکے ذہن میں تازہ ہوا تھا جب یہی سب مانوس چہرے ہنس رہے تھے کھلکھلا رہے تھے اپنی طاقت کے زعم کے نشے میں چور۔آج خود کو اپنے ہی دانتوں سے خود بھنبھوڑتے۔ 

    یہ سب ظالم ہیں۔دنیا میں اپنے اعمال سے بے خبر اپنے وجود پر متکبرہو کر ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی انہوں۔ اسکے کپڑے پھاڑ دیئے تھے اسکو جس جس جگہ ہاتھ لگایا اسکی سزا کے طور پر اپنا ہاتھ خود ادھیڑ رہے ہیں۔ 

    وہ نرم دل انسان ان سب کے درد پر خود بھی رو رہا تھا۔

    اور تم ۔۔ اس نے غور سے اسے دیکھا۔ نا تو اسکی زبان لمبی تھی نا ہی وہ ان سب کی طرح اپنے آپ کو بھنبھوڑ رہا تھا۔مگر وہ انکے ساتھ اپنے انجام کو جا رہا تھا کیوں؟؟؟

    میں۔ میں ان میں سے نہیں تھا۔ میں اور میرے دوست وہاں موجود ضرور تھے مگر ہم بس دیکھنے کے گناہگار ہوئے۔۔۔کاش ہم روکنے والوں میں سے ہو جاتے۔۔۔۔۔ ہم روکنے کی ہمت نہ کرسکے۔

    وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو دیا۔ 

    مگر وہ لڑکی تو ٹک ٹاکر تھئ۔۔ اسکے ساتھ ہوئے پر اتنے سارے مجرم کیسے ہوگئے۔ 

    اس نے کہنا چاہا۔ وہ بے تابی سے بات کاٹ گیا۔۔

    ان سب کے اعمال اسکی معافی پر ٹکے ہیں۔ اسی ٹک ٹاکر کی۔ یہ دنیا کا نظام نہیں یہ قیامت کی گھڑی ہے یہاں ہر شخص اپنے کیئے کا بدلہ پائے گا۔اسکی چھوٹ اس بات پر نہیں ہو پائے گی کہ اس نے جس پر ظلم کیا وہ کتنا متقی تھا۔ اس ظلم کا بوجھ اٹھانے والی کے اختیار میں ہے ان سب کو معاف کرے نہ کرے۔۔۔ اور تم تم نے اب تک اپنا محاسبہ نہ کیا اتنے مردوں کے بیچ ایک تم کیوں کھڑی ہو کیا تم اس لڑکی کو بے لباس کرنے والوں میں سے نہ ہو کر بھی مجرم کیوں قرار پائی ہو؟؟؟؟؟؟؟؟

    اس کے چلانے پر وہ سناٹے میں آگئ۔ وہ کیوں تھی یہاں؟؟؟؟؟ اور اسکے اپنے کہاں تھے۔۔؟؟ اس نے بےتاب نگاہوں سے چاروں اطراف دیکھا۔ لوگوں کا ہجوم کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے بے تاب ہو کر ہجوم چیرنا شروع کیا۔۔ 

    امی۔۔۔ ابا۔۔۔۔۔۔ بھیا۔۔۔ 

    وہ حلق کے بل چلا رہی تھی۔ مگر ان سب اجنبیوں میں کوئی ایک شناسا نہ تھا۔

    امی ابا۔۔ 

    اس نے لوگوں کو دھکے دیئے ان کو دھکیل دھکیل کر راستہ بنایا انکی لمبی زبانوں سے اٹک کر دو بار گری انکے گلے میں لٹکے طوق چوٹ کھائی انکی زنجیریوں سے اسکی ہتھیلیاں انگلیاں سب زخمی ہو چلی تھیں ۔ وہ تھک کے گھٹنوں کے بل گری۔۔

    یا خدا میرا کیا قصور ہے۔۔ تڑپ کر آہ بھر کر وہ آسمان کو دیکھتے پکاری۔ رو روکر آنکھوں سے بھی خون جاری ہو چلا تھا۔ ہچکیاں لیتے جو سر اٹھا کر دیکھا تو اسکی نگاہ مانوس چہروں پر پڑی ۔۔

    ابا بھیا۔۔ وہ حلق کے بل پکاری۔ سر جھکائے بڑھتے ان دونوں نے نگاہ بھی نہ اٹھائی 

    اپنی زبانوں سے بندھے ہاتھوں کو جوڑے وہ روتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ انکے پیچھے چلتے سفید لبادے میں ملبوس لوگ ان دونوں کی پشت پر کوڑے لگاتے جا رہے تھے۔ 

    ابا بھیا۔ وہ تڑپ تڑپ کر آوازیں دے رہی تھی مگر وہ سننے کی حالت میں نہ تھے۔۔ یونہی حلق سے آوازیں نکالتے آگے بڑھتے چلے گئے۔۔ 

    اف خدایا۔۔ میرے ابا بھیا تو دونوں اس واقعے کے مجرمان میں سے نہ تھے ان پر کیوں؟؟؟؟؟ 

    وہ مٹھیاں بھینچ بھینچ کر روتی وہیں بیٹھ گئ۔تبھئ کوئی مانوس خوشبو نتھوں سے آن ٹکرائی اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔ اسکی پیاری ماں آنکھوں میں نمی لیئے اسکے سر پر ہاتھ رکھ رہی تھی۔

    عائشہ۔۔ سنا نہیں  تھا تم نے؟؟ 

     

    Surat No 24 : سورة النور – Ayat No 4 

     

    وَ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ ثُمَّ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِاَرۡبَعَۃِ  شُہَدَآءَ فَاجۡلِدُوۡہُمۡ ثَمٰنِیۡنَ جَلۡدَۃً  وَّ لَا تَقۡبَلُوۡا لَہُمۡ شَہَادَۃً  اَبَدًا ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡفٰسِقُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

     

     جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو ۔  یہ فاسق لوگ ہیں ۔ 

     

    سارا ٹک ٹاکر تھی فاحشہ کہتے ہوئے تمہارے باپ بھائی کی زبان کانپی؟ انکے پاس ثبوت تھےکہ اس لڑکی نے یہ سب اپنے ساتھ اپنی مرضی سے کروایا؟ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔

    امی کا چہرہ غیض و غضب سے سرخ ہو رہا تھا۔ 

    آج کے دن تو ہر کسی کو اسکے کیئے ایک ایک عمل کا جوابدہ ہونا ہے۔۔۔ تم نے بھی تو بیٹھے بٹھائے ایک صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے تمہیں تو احساس تک نہ ہوا ابھی تک۔۔ 

    مم۔ میں نے؟ وہ بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔ امی نے گہری سانس لی۔۔۔۔ پھر جیسے تھک کر بولیں

    ہاں۔ بدگمانئ کا بوجھ ۔۔۔

    اسکو اپنے کندھے نادیدہ بوجھ سے شل ہوتے محسوس ہونے لگے تھے۔

    ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔      

     

    پسینے میں تر پیشانی دھونکنی کی طرح چلتا سانس اسکی ایک۔جھٹکے سے نیند ٹوٹی تھی۔ 

    اپنئ پیشانی سے پسینہ پونچھتے اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھنا چاہا۔ ابھی فجر باقی تھئ۔ابھئ قیامت آئی نہیں تھی ابھی مہلت تھی اسکے پاس۔۔ وضو کرنے کیلئے اٹھنے سے پہلے اسے اس بوجھ کو اپنے کندھوں سے ہٹانا تھا 

    وہ۔جھٹ اٹھ بیٹھی۔۔ 

    اپنے کمنٹس ڈھونڈ ڈھونڈ کر ڈیلیٹ کرتے ہوئے اسے احساس ہوا تھا اسکے کہے الفاظ تو کچھ بھی نہ تھے ان تبصروں کے آگے جو لوگ کر رہے تھے۔ بس ان میں اور اس میں یہ فرق تھا کہ وہ آنے والی قیامت سے خوف کھا چکی تھی باقی شائد اس دن ہی اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانے والے تھے۔ 

    اس نے سوچا پھر موبائل رکھتے ہوئے وضو کرنے اٹھ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

     

  • Desi Kimchi Urdu Web Travel novel Episode 64 Finale

    آخری قسط
    سیول کی نیم گرم سی خوشگوار دوپہر چہل پہل سے بھرپور تھی۔ ایک کے بعد ایک قیمتی گاڑی اس عمارت کے پارکنگ کی جانب آئے چلی جا رہی تھی۔ جسکا مطلب تھا یقینا کسی نئے شو کی شوٹ جاری ہے۔ انکی گاڑی ایس این انٹرٹینمنٹ کے دفتر کے باہر کب سے رکی تھی۔ خاموشی سے گاڑیوم کو آتے جاتی دیکھی فاطمہ نے آہ بھری پھراس نے ایک نظر سیہون کو دیکھا دوسری نظر عمارت پر ڈالی پھر سر جھکا لیا۔۔
    میں تمہارے لیئے ریڈ کارپٹ بچھوائوں ؟
    سیہون نے طنزا کہا
    مجھے فون کرکے بلانے کی کوئی اچھی وجہ نہیں ہے یقینا بستی کرنے کیلئے بلایا ہوگا..
    وہ بے چارگی سے بولی
    کوریا میں ملازمین کے حقوق سے متعلق قوانین سخت ہیں۔ بنا کوئی کیس چلائے وہ تمہیں نوکری سے نکالیں گے تو انکو ٹھیک ٹھاک۔جرمانہ ہوگا انہوں نے تمہیں اگر نوکری سے نکالنا بھی ہوا تو پہلے تم سے سب بات کرکے جتنے تمہارے بقایاجات بنتے ہیں وہ واپس کریں گے پھر
    سیہون نےبتفصیل بتایا مگر بے چین فطرت بات کاٹ گئ
    ہاں تو مجھے پیسے نہیں چاہیئیں۔ بےعزت ہو کر پیسے کیا کرنے۔
    جائو جا کر پہلے اس پروڈیوسر سے ملو تو۔ پروڈیوسر نے کال کی ہے تمہیں ایچ آر نے نہیں۔ اور بے عزتی اسی پروڈیوسر نے کی تھی؟
    سیہون نے پوچھا تو اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا
    چلو میں بھئ چلتا ہوں۔
    وہ اب یہی کہہ سکتا تھا۔
    رئیلی۔ وہ ایکدم جیسے خوش ہوئی۔ سیہون گھور کر رہ گیا
    پھر گاڑی لاک کرکے اسے فاطمہ کے ساتھ اندر آنا پڑا۔ ریسیپشن پر ہی اسکو روک دیا گیا۔
    یہ میرے ہسبینڈ ہیں مجھے نہ جانے کس مقصد کیلئے بلایا ہے میں ہرگز یہاں محفوظ محسوس نہیں کر رہی اسکو ساتھ لیکر ہی جائوں گئ آپ بتادیں پروڈیوسر کر کہ اگر ملنا ہے تو میرے ہسبینڈ بھی میرے ساتھ آئیں گے۔۔
    رواں انگریزی کی تیز گام اگلی کو خاک پتھر سمجھ نہیں آیا۔ جھک جھک کر معزرت کرتے ہوئے بات دہرانے لگی
    آپ بنا اپائنٹمنٹ کے اندر نہیں جا سکتے۔۔
    دیکھو۔ فاطمہ اسکا ڈیسک ناک کرکے دوبارہ شروع ہونے کو تھی کہ اس نے نرمی سے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
    میں باہرانتظار کر لیتا ہوں تم جائو۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں سیدھا انتظار کیلئے لگے صوفوں کی جانب بڑھ گیا۔
    وہ دانت پیستی پیر پٹختی اندر آئئ۔ تیسرے فلور پر لمبی راہداری پروڈیوسر سیکشن کے نام سے مخصوص تھئ جس کے دونوں اطراف کمرے تھے۔ جن کو پروڈیسرز روم کہا جاتا تھا۔ پروڈیوسرز روم کے باہر تختیاں لگی تھیں۔ اس نے اپنے پاس میسج میں لکھے نام کی مدد سے تختیاں پڑھنی شروع کی تین چار کمروں کے بعد مطلوبہ کمرے کا دروازہ کھولنے ہاتھ بڑھایا تبھی دروازہ کھلا تھا۔ پلستر لگا بازو احتیاط سے دروازہ کھولنے کے باوجود اسکی ناک پر دروازہ لگا تھا
    اوہ سوری۔ مانوس لہجہ فاطمہ نے ناک سہلاتے گھورا
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
    وہ انہوں نے بلایا تھا۔ وہ نجانے کیوں گڑبڑایا۔
    کیوں؟ بستی کرنے کیلئے کہ ہم نے دھوکا دیا انہیں۔ پتہ تھا مجھے۔ میں مزید بستی نہیں کرواسکتی بتا دینا ٹاٹا۔۔
    وہ کہتے فورا پلٹی
    نہیں ۔ ایسی بات نہیں۔
    اس نے فورا روکا۔
    انہوں نے ڈانٹنے کیلئے نہیں بلایا۔ اس نے کان کھجایا
    پھر کس لیئے بلایا ہے؟۔
    وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر جرح کے موڈ میں تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ملٹری میں ان لسٹ ہونے لگا ہوں۔
    وہ دونوں باہرپھولوں کے کنج کے پاس رکھے سنگئ بنچ پر بیٹھے تھے۔۔ خاموش سامنے چلتی سڑک پر نگاہ جمائے۔۔
    میں نئے ڈرامے میں ہیروئن آنے لگئ ہوں۔
    اس نے بھی جوابا بے تاثر انداز میں جواب دیا
    فاطمہ کا کیا کروں۔۔۔۔
    طلاق دے دو آٹھ نو مہینے تو ہو ہی گئے ہیں۔
    واعظہ کے کہنے پر اس نے ہونٹ بھئنچ لیئے۔
    اور گھر۔
    کہتے ہوئے اسکا لہجہ ڈولا تھا۔ واعظہ نے اسکی جانب نگاہ تک نہ کی سڑک کو گھورتی رہی
    گھر لوگوں سے ہوتا ہے۔ وہ مکان ہے۔۔ چاہو تو فاطمہ سے کہو وہیں رہے اسے بھی رہائش درکار تو ہے۔
    واعظہ کے مشورے پر اس نے گردن گھما کر واعظہ کو دیکھا
    تم ۔۔ تم کیا کروگی؟ تمہاری لیز بھی ختم ہو گئ ہے نا۔ تم کیوں نہیں فاطمہ کے ساتھ رہ لیتیں۔۔
    میرے پاس مکان ہے۔ اور میں اس مکان کے مکین کون ہوں گے طے کر چکی۔
    وہ سابقہ انداز میں بول رہی تھی۔
    تم کیوں نہیں گئیں ناروے؟
    اس نے اپنی دوستی کا فائدہ اٹھاتے سیدھا سوال کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم کیوں نہیں چلتیں ہمارے ساتھ ناروے۔۔
    اسکی ماں نے زچ ہو کر پوچھا۔ کمرے میں سامان بکھرا ہوا تھا۔ وہ کپڑے تہہ کر کرکے اٹیچی کیس میں لگا رہی تھیں۔
    وہ بھی مدد کروا رہی تھی مگر اسکی ماں کو اسکے ہاتھ سے تہہ شدہ جوڑا لیتے ہوئے بھئ غصہ آرہا تھا۔ چھین کر اٹیچی میں پٹخا۔
    آپ سب ناروے جا رہے ہیں کیوںکہ آپکا بیٹا بہو ناروے جارہے ہیں آپ کیوں نہیں رک جاتیں یہیں۔
    جوابا وہ بھی جیسے تنگ آکر بولی۔۔
    نا ناروے ہمارا ملک ہے نا کوریا۔ یہاں آ رہنے کا فیصلہ بھی تمہارے بھائی کی نوکری کی وجہ سے کیا تھا اب ناروے جانے کی وجہ بھی یہی ہے۔
    وہ دو ٹوک انداز میں بولیں۔
    میری نوکری بھی یہیں ہے میں ناروے جا کر کیا کروں گی؟
    میں بھئ نوکری چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتئ۔ آپ چاہیں تو بیٹی کے پاس رہ سکتی ہیں۔
    جوابا اس نے بھی صاف صاف کہا۔
    نوکری تم وہاں بھی کر سکتی ہو۔ کونسا کوئی بہت اہم کیریئر ہے تمہارا۔ پڑھائی ادھوری چھوڑ رکھی ہے نا زندگی میں کوئی ایم ہے ناگول پھر بھی پتہ نہیں کوریا سے کیا محبت ہوگئ ہے کہ اسکو چھوڑ کر نہیں جانا۔۔
    حقیقتا اگر وہ اسکا دماغ درست کر سکتیں تو یہیں دو تین اسکے کان کے نیچے لگا دینے تھے تھپڑ۔۔
    وہ جوابا کچھ نہ بولی آرام سے بیڈ پرسے تکیہ کھئنچ کر سر کے نیچے رکھا اور نیم دراز ہو گئ۔ چند لمحے وہ کھڑی اسے گھورتی رہیں۔۔
    اس چندی آنکھوں والے کی فکر ہے نا؟۔
    انہوں نے زچ ہو کر پوچھا۔
    خاندان کا حصہ بنا تو لیا ہے ہم نے اور کیا کریں اسکے لیئے۔ ؟؟؟
    اسے خاندان کا حصہ سمجھ بھئ لیں۔۔ کیونکہ وہ اب اس خاندان کا حصہ ہے۔۔
    اسکے انداز میں ضد تھی۔۔۔۔ انہوں نے مزید بحث میں پڑنا مناسب نہیں سمجھا
    پھر جیسے تمہاری مرضی۔ چاہے اس گھر میں رہو یا اسی فلیٹ کی نئی لیز بھر دو۔ مگر اب میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔۔ مجھے جتنا جو کہنا سمجھانا تھا سمجھا چکی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    تم اتنی ضدی کیوں ہو۔ سیہون نے پوچھا تھا۔ جواب اسکے اپنے پاس بھئ نہیں تھا۔تبھئ اسکا فون بج اٹھا۔۔
    واعظہ واعظہ کی بچی کہاں ہو تم۔۔
    چھوٹتے ہی وہ اتنی زور سے بولی کہ اسے فون کان سے دور کرنا پڑا۔
    باہر احاطے میں۔
    اسکے بتاتے ہی اس نے جھٹ فون بند کر دیاتھا۔
    اس نے کندھے اچکا کر فون واپس بیگ میں رکھ دیا۔
    فاطمہ دوڑتی ہوئی آئی اتنی تیز کہ انہیں بھی گزار گئ۔ اب آگے لب سڑک کھڑی دائیں بائیں دیکھتئ انہیں ڈھونڈ رہی تھی۔
    یہ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ سیہون نے پوچھا وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ۔ سیہون نے بھئ تقلید کی۔۔ اس نے پیچھے سے جا کر اسکا کندھا تھپتھپایا۔ وہ تیزی سے مڑی پھر اس سے لپٹ کر گول گول گھماڈالا اسے۔
    مجھے سیکنڈ فی میل لیڈ کی آفر ہوئی ہے۔ منہ مانگی سیلری کے ساتھ۔ آدھئ شوٹ کوریا میں آدھی مصر میں۔۔ اف مجھے مصر کی بھی سیر کرنے کو ملے گا اتنئ خوش ہوں میں اتنی خوش۔۔۔۔۔
    وہ خوشی کے مارے پاگل ہو رہی تھی۔ واعظہ کو چکر آگئے مگر اس نے نہیں چھوڑا۔ہنستے ہنستے اسکی آنکھیں منہ سب سرخ ہو چلا تھا۔
    اور مجھےبھی ولن کا کردار ملا ہے۔ انکو رواں ہنگل بولتا عربی چہرہ درکار تھا۔
    خاور سیہون کے ساتھ چلتا آیا خوشی خوشی بتا رہا تھا۔
    وہ فاطمہ کی طرح خوب اچھل کود نہیں کر رہا تھا مگر خوشی اسکے چہرے سے پنہاں تھئ۔
    سب کاسٹ فائنل ہوچکی ہے پتہ ہے اسی عبداللہ والے ڈرامے کا سیزن ٹو اپروو ہوا ہے اس میں پرانے زمانے کی کہانی ہوگی کہ عبداللہ اور لیلی آخر عربی ہوتے ہوئے کوریا میں جوزن ایرا میں کیا کر رہے تھے۔
    خاور چمکتے چہرے کے ساتھ بتا رہا تھا۔
    اور پتہ ہے اس کی کہانی میں ٹویسٹ کیا ہے۔ فاطمہ اسکا بازو ہلا کر بتا نے لگی۔
    ابھئ اسکرپٹ پڑھا ہے نہیں پورا ٹوئسٹ کیا پتہ ہے تمہیں۔
    خاور نے چھیڑا۔۔
    پڑھانہیں انہوں نے کہانئ تو بتائی ہے۔ فاطمہ واعظہ کو چھوڑ خاور سے بحث میں الجھ گئ۔
    تم نے بھی ہاں کر دی اس سیریل کیلئے۔
    سیہون نے خاو رسے بات کاٹ کرپوچھا
    ہاں تو اور کیا۔ اس شکل کے ساتھ اس ٹوٹے پھوٹے وجود کے ساتھ کبھی پاکستان میں ڈرامہ آفر نہ ہوتا مجھے اوپر سے بین القوامئ پراجیکٹ مل رہا ہے۔ ناشکری کرتامیں۔
    اتفاق کئ بات ہے شہزادہ لنگڑا تھا سو میں فٹ بیٹھا کردار میں۔
    وہ ہنس کر اپنا مزاق اڑا رہا تھا
    شہزادے کو گونگا بھی ہونا چاہیئے تھا تم کیا ہر وقت لنگڑا لنگڑا کہتے رہتے ہو خودکو۔
    فاطمہ اسکے خودترسی والے انداز پر چڑی۔
    قسم سے آج پہلی بار اپنے لنگڑے ہونے پر رشک آیا ہے۔
    وہ اس وقت واقعی خوش تھا انجوائے کر رہا تھا
    سیہون گہری سانس لیتا واعظہ کے ساتھ آکھڑا ہوا۔
    کہانی کیا ہے یہ تو بتائو
    سیہون نے کہا تو فاطمہ پر جوش سے انداز سے بتانے لگئ۔
    بھئ بات یہ ہے کہ کہانی ہےگوریو کے ایک بادشاہ کی جس نے مصری شہزادی سے شادی کر لی ۔ اب مصری شہزادی جب گوریو آئی تو اسکے بچے تو چونکہ گوریو کے بادشاہ کے تھے تو کورین نقوش کے بچے عربی میں بات کرتے ہیں کیونکہ انکی ماں مصری ہے اور مصری شہزادی کے بھائی کی شادی گوریو کے بادشاہ کی بہن سے ہوئی اب یہ بہن مصر میں جا کر جب رہی تو اسکے مصری نقوش کے بچے کوریائئ زبان میں بات کرتے ہیں۔ اب جو مصری بیوی کا بیٹا ہے۔
    فاطمہ خوب جوش و خروش سے بتا رہی تھی۔
    نہیں جی مصری بیوی کا بیٹا نہیں ہے وہ یہی تو کہانی ہے اصل۔
    خاو رنے ٹوکا۔ جوابا فاطمہ نے پورے زور سے جرح کی
    جی نہیں جی تم کورین آہجومہ کے جس کی شادی مصری شہزادے سے ہوگی اسکے بیٹے ہوگے
    نہیں بھئ مجھے تو ولن بننا ہے اصل میں تو وہ مصری بیوی کا بیٹا۔۔
    دونوں زور و شور سےبحث میں الجھے تھے۔۔
    تم کیا بنو گی؟
    سیہون نے اپر کی۔جیب میں ہاتھ ڈالتے گہری سانس لیکر اس سے پوچھا۔۔
    وہی مصرئ شہزادے کی بیٹی جسکا بھائئ ہوگا لنگڑا ولن۔۔
    واعظہ نے بھی سیہون کی طرح اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ گھسا لیئے۔
    سامنے فاطمہ اور خاور زور شور سے بحث کرنے کے بعد اب ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس رہے تھے جانے کس بات پر مگر جیسے دل سے ۔۔۔۔۔۔بہت خوش ہو کر اور یہ دونوں رشک سے انہیں دیکھتے سوچ رہے تھے۔
    ہم اب ایسے خوش کیوں نہیں ہوپاتے؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈیڑھ مہینے بعد۔
    اس نے رش میں بمشکل جگہ بناتے گھستے آواز لگائی
    ہٹو بچو رزلٹ دیکھنا ہے مجھے۔
    بے کار زحمت کی۔ کیونکہ کالے لمبے عبایا میں سر منہ سب ڈھکے عزہ کو دیکھتے ہی بھیڑ چھٹنے لگی تھی۔ الف اسکا ہاتھ تھامے ساتھ ساتھ دوڑ رہی تھی۔ نوٹس بورڈ پر اسکی اور عزہ دونوں کی ڈگریوں کی لسٹیں برابر لگی تھیں۔ پہلی سے درمیان اور آخر الف نے پوری لسٹ گزار دی نام ہی نہیں تھا اسکا۔
    یہ کیا ؟ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    یہ کیا تمہارا نام کیوں ہے انجینئرنگ والی لسٹ میں۔ عزہ دوسری جانب پریشان تھئ۔ اس نے دوبارہ لسٹ میں نگاہ کی تو عزہ خان ۔نظر آیا۔ دونوں جزباتی ہو کر ایک دوسرے کی ڈگری کا رزلٹ دیکھ رہی تھئں۔
    اف عزہ ادھر ہے تمہاری لسٹ سوشل سائنسز میں میرا نام ڈھونڈو۔
    میرا نام ہے اس میں۔ عزہ لپک کر اسکی جانب آئئ۔
    ہاں اور میرا۔
    الف اب اپنے بائیں جانب لسٹ پر جھکی تھی۔
    ہاں تمہارا تو پڑھ لیا تھا میں نے ساتویں نمبر پر ہے۔
    اپنی لسٹ پر اپنے نام پر انگلی رکھے عزہ سیلفی بنا رہی تھی۔
    یہ تصویر لے کس کی رہی ہے آنکھیں نظر آرہی ہیں اسکی تو بس۔
    چندی آنکھوں والی نے بد مزہ ہو کر اپنی سہیلی کے کان میں سرگوشی کی۔
    سنو ایک میری اور میری سہیلی کی بھی تصویر لے دو
    ایسے کمنٹس کا بہترین بدلہ اور کیا ہو سکتا تھا۔جھٹ الف نے اپنا موبائل تھمایا اسی لڑکی کو او رعزہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
    پھر تاریخ گواہ ہے ان لڑکیوں کو پندرہ بیس منٹ تک پچیس تیس تصویریں کھینچنے کے بعد خلاصی مل سکی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف ہنس ہنس کر اپنا کارنامہ سنا رہی تھی۔ ساتھ ساتھ پیکنگ بھی جاری تھی۔ الف اور عزہ نے کمرہ تلپھٹ کر رکھا تھا۔
    عشنا کمرے میں آئی تو ہر طرف دوپٹے کپڑے ہی بکھرے نظر آئے۔
    تم لوگ کیا دان کرنے لگے ہو۔یہ کپڑے۔
    اسے سچ مچ یہی خیال آیا تھا۔
    یہ دان کروں۔ عزہ نے اپنا گلابی دوپٹہ لہرایا۔ پورے دوپٹے میں جگہ جگہ چھید تھے۔ جیسے سوراخ کیئے گئے ہوں خاص طور پر۔۔۔
    میں خود تو سب دوپٹے سینت سینت کر رکھتی رہی یہ الف کی بچی میرے ہر دوپٹے کو اپنے کپڑوں سے میچ کرکے حجاب بناتئ رہی دیکھو پنین ٹھونک ٹھونک کے کیا حال کردیا ہےاسکا۔
    وہ اپنے پسندیدہ ترین دوپٹے کا یہ حشر دیکھ کر رودینے کو تھی
    ہاں ذرا سا دوپٹے میں چھید ہو گئے اتنا تپ رہی ہو اور جو میں اتنا کام آتی رہی ہوں اسکا کیا۔
    الف کھسیاہٹ چھپانے کو چڑھ دوڑی
    کونسا کام آئی ہو ؟ گنوانا ذرا۔
    عزہ حیرانئ سے گھورنے لگی۔
    وہ۔۔۔ الف نے سوچنا چاہا۔ مگر ظاہر ہے سچ مچ بھی جن کاموں میں کام آئی وہ ذہن سے سلیٹ ہو چکے تھے۔
    احسان کرکے جتنا کمینے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ میں نہیں بتاتی۔ وہ سرعت سے کہہ کر رخ موڑ گئ
    اور دوسروں سے زبردستی خود پر احسان کروانے والے کیا ہوتے؟
    عزہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ جبھی بیڈ پر چھلانگ مار کر اسکی گردن دبوچی۔
    دونوں کی بے ہنگم چیخ و پکار۔۔ عشنا نے دو ایک بار دہرایا
    جلدی کر لیں واعظہ نے روم لاک کرنا ہے۔۔ مگر دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں۔
    وہ میں بتانے آئی تھی کہ واعظہ کہہ رہی ہے دس منٹ میں وہ فلیٹ لاک کرکے چلی جائے گی چاہے آپ دونوں اس میں ہوں یا نہ ہوں۔
    عشنا انکی جنگ و جدل کے تھمنے کے انتظار میں کب تک کھڑی رہتی سو گلا پھاڑ کر اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
    اف۔۔۔آہستہ۔۔ عزہ کراہی۔۔
    کان سائیں سائیں کر نے لگا میرا۔۔الف نے کان سہلایا۔۔
    آرام سے سنتی کہاں ہیں آپ لوگ۔اب جلدی جلدی پیکنگ کر لیں۔
    وہ سابقہ انداز میں ہی چیخی۔
    دونوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے پھر اسکے کان پکڑنے دوڑیں۔۔ عشنا چوکنا تھئ۔ جبھئ بھاگ کھڑی ہوئی۔ منے لائونج میں واعظہ ویڈیو کال پر لگی تھئ اسکے ہی پیچھے آن چھپی۔ الف اور عزہ اسکے پیچھے۔ واعظہ گول۔گول گھوم گئ۔۔
    یہ میرا کارڈیگن ہے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک۔گئ تھی میں۔۔
    عروج اپنی کلاس میں بیٹھئ چیخ ہی توپڑی۔
    اب یہ میرا ہو چکا۔ عروج بہن۔ عزہ نے اسٹائل مارا اور زو رسے کھلکھلائی۔
    کوئی نہیں الف کو دو یہ مجھے واپس کر دے گئ۔
    عروج شیر ہوئی عزہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جبھئ منہ چڑانے لگی۔
    یار جلدی کر لو میری ٹرین ہے دو گھنٹے میں تم دونوں کو ڈراپ کرکے مجھے جانا ہے۔
    واعظہ بے چاری منت کرنے والے انداز میں بولی۔
    جا رہے ہیں جا رہے ہیں۔
    الف نے تسلی دی اور ان دونوں کو۔کھینچ کھانچ کر کمرے میں لے گئ۔
    اچھا الف سے کہنا مجھے بتا دے کب آرہی ہے میں ملوں گی اس سے۔
    عروج نے کہا تو واعظہ کو ہنسی آگئ۔
    فی الحال تو وہ اور ذکریہ پاکستان جا رہے ہیں۔ دیکھو وہاں کیا حالات بنتے۔ واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلانے لگئ
    ویسے الف سے مجھے توقع نہیں تھی کہ اتنا اسٹینڈ لے گی۔۔
    مجھے بھی ۔۔ واعظہ نے بھئ سرہلایا۔۔
    چلو پھر بات کرتے ہیں ابھئ میری کلاس شروع ہونے والی ہے بائے۔
    ٹیچرکو اندر آتے دیکھ کر اس نے جلدی سے فون بند کر دیا۔
    کال بند کرکے واعظہ کمرے میں آکر جھانکنے لگی۔ ان دونوں نے اٹیچی بند کر لیئے تھے اب عزہ عبایا کر رہی تھی۔
    شکر ہے کم از کم اب ڈورم میں کچھ ہو جائے میرے دوپٹے غائب نہیں ہوا کریں گے۔۔ ایک فائدہ تو ہوگا چندی آنکھوں والیوں کے ساتھ رہنے میں۔۔
    حجاب کرتی عزہ پھر الف کو چڑ ارہی تھی۔
    اور اگر ان میں سے کوئی فائیو منٹ کرافٹ دیکھتی ہوتئ ہوئی تو ؟
    عشنا کے اس بے موقع سوال پر تینوں نے حیرت سے دیکھا
    بھئی وہ فائیو منٹ کرافٹ والے اسکارف دوپٹے شال وغیرہ سے ڈریس ہی بنانا سکھا تے ہیں نا۔
    اس کی وضاحت پر الف کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
    نیٹ ہی بند کر دوں گئ موبائل ہی توڑ دوں گی اپنی رو م میٹس کے بلکہ اسی دوپٹے سے گلا گھونٹ دوں گئ۔۔
    عزہ چلبلا اٹھی۔
    یعنی اگلے سیزن میں ہم تم سے ملنے جیل آیا کریں گے۔
    الف نے چھیڑا۔۔عشنا بھی ساتھ دینے لگی۔
    واعظہ گہری سانس لیکر انکے اٹیچی کھینچنے لگی۔
    یونہی ہنستے باتیں کرتے وہ باہر نکلی تھیں۔ واعظہ فلیٹ پر طائرانہ نگاہ ڈالتی کمرے لاک کرتی باہر نکلی تو سامنے والے فلیٹ سے چندی آنکھوں والی اہجومہ کو نکلتے دیکھ کر
    تینوں رک کر اسے دیکھنے لگیں وہ گڑبڑا کرسر جھکا کر بولی
    آننیانگ ۔ جوابا ان تینوں نے مروتا بھئ آننیانگ نہیں کہا۔
    یار عجیب سا نہیں لگ رہا اس فلیٹ سے چندی آنکھوں والی کو نکلتے دیکھ کر۔۔
    عزہ نے کہا تھا مگروہ سب متفق تھیں۔ سو سر ہلاتی لفٹ کی جانب بڑھ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اینچیون ائیرپورٹ پر جتنی مرتبہ دیسی کمچی کی لڑکیاں آئی ہیں کورین حکومت کو کورین ائیر پورٹ کی اتنی ترویج کرنے پر ہمارا وظیفہ باندھ دینا چاہیئے۔
    عزہ نے الف کو گلے لگاتے ہوئے ہنس کر کہا تھا۔ پھر اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
    الف اور ذکریہ آج پاکستان جا رہے تھے۔ سو واعظہ عشنا اور عزہ انہیں چھوڑنے ائیر پورٹ تک آئی تھیں۔
    اسکی بات پر ژیہانگ ہنسا۔ اور صرف وہ ہی ہنسا۔ جبھی ہنس کر کھسیا سا گیا۔
    الف رو رہی تھئ۔ عشنا عزہ کے باری باری گلے لگ کر۔
    اور تم۔
    واعظہ گلے لگنے آگے بڑھی تو وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر بولی۔
    گھورتے ہوئے۔ واعظہ حیرت سے دیکھنے لگی۔
    تم نہ ہوتیں تو جانے میں کیا کرلیتی اپنی زندگی کے ساتھ۔ تھینک یو واعظہ مجھے میری زندگی کے سب سے اہم فیصلے کرنے میں میری مدد کرنے کیلئے۔ سدا خوش رہو۔
    اور۔۔
    اسکی آگے کی تقریر واعظہ نے گلے لگ کر روک دی۔
    ائیر پورٹ پر اندر آتے تک وہ مڑ مڑ کر دیکھتی رہی تھی۔ یہاں تک کے ژیہانگ کو۔نرمی سے ٹوکنا پڑا
    پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے آگے سے ٹھوکر نہ کھا لینا۔
    اس نے تو سادہ سے انداز میں کہا مگر الف رک سی گئ تھی۔
    بات میں دم تھا۔ جہاز میں بیٹھ کر سیٹ بیلٹ لگا کر بیٹھتے جانے اسے کیا خیال آیا کہ مڑ کر اس سے پوچھنے لگا۔۔
    واعظہ نے تمہاری کیا مدد کی تھی؟
    واعظہ نے۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ۔
    واعظہ کا ہی فون تھا۔۔۔ دراصل۔۔ وہ پوری بات بتانے لگی کہ ژیہانگ چیخ پڑا
    کیا؟وہ جس فون کی بیٹری ختم ہوچکی تھی اور بار بار بات کٹتی رہی؟
    الف نے محظوظ انداز میں سر اثبات میں ہلایا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس دن۔۔۔۔۔
    فون بجے جا رہا تھا۔ اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں۔۔ ملگجے اندھیرے میں کچھ سجھائی نہ دیا بس تکیئے پر پڑا فون جل بجھ کر رہا تھا۔ انجان نمبر۔۔
    رات کے تیسرے پہر۔اگر کال آرہی تھی تو یقینا ڈیڈا ہوں گے۔ اسکا نمبر تو سوائے ڈیڈا کے بس ایک انسان کے پاس تھا۔
    اس سے رات کے تیسرے پہر اسکی یاد کیوں ستانے لگی۔ وہ دل کی خوش فہمی پر سر جھٹکتا موبائل اٹھانے لگا
    موبائل تکیے پر ہی پڑا تھا۔ انجان نمبر اس نے بے دلی سے ریسیو کرکے ہیلو کہا۔
    ہیلو ذکریہ۔۔۔ میں الف بول رہی ہوں۔ آواز تھی کہ منتر وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔تبھی کال بند ہوگئ۔
    وہ چند لمحے اسکرین کو بے یقینی سے دیکھتا رہ گیا۔
    دھڑ دھڑ۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
    خواب سا لگا تھا مگر۔ اس نے نےبے تابی سے کال۔لاگ کھول کر کال ملائی۔
    پہلے جاپانی پھر انگریزی میں اسے ایک ہی ریکارڈنگ سنائی دی آپکے مطلوبہ نمبر سے فی الوقت رابطہ ممکن نہیں۔
    وہ دم بخود سا فون ہاتھ میں لیئے بیٹھا تھا۔
    پانچ دس منٹ یا شائد پانچ دس صدیاں گزری تھیں جب اسکا فون دوبارہ بجا تھا۔
    ہیلو۔ اس نےبے تابئ سے فون اٹینڈ کیا
    ہیلو الف ۔۔ اسکی آواز شائد اتنی کم نکلی تھی کہ الف نے سنا نہیں وہ تیزی سے بستر سے اترا اور کھڑکی کی جانب بھاگا۔ کھڑکی کھول کر گیلری میں آگیا۔
    سگنل نہ رک رہے ہوں۔ کہیں کال نہ کٹ جائے۔۔
    ہیلو ذکریہ۔ کیسے ہو۔ الف نے جھجکتے ہوئے پوچھا تھا
    ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔
    اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے
    میں بھی۔ وہ کہہ کر چپ سی ہوگئ۔۔ چند لمحوں کا وقفہ آیا تھا ان کے بیچ۔
    الف۔۔
    ذکریہ۔
    دونوں اکٹھے بولے اور اکٹھے ہی چپ۔ہوگئے۔۔
    فون بھی بند ہو گیا۔۔
    وہ پاگلوں کی۔طرح کال ملانے لگا مگر بار بار ایک ریکارڈنگ۔۔
    تبھئ ایک اور نمبر سے کال آئی۔
    الف۔۔ تم سے آتے ہوئے ایک سوال کیا تھا میں نے۔۔۔تم مجھ س۔۔۔
    اسکی آواز میں ہلکی سی تھراہٹ سی آئی تھئ
    ہیلو ژیہانگ کیسے ہو بیٹا۔
    آگے ڈیڈا تھے۔۔
    ہیلو ڈیڈا ۔۔ آپ۔۔ اسکو سمجھ نہ آیا کیا بولے۔۔ دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر نکل آنے کو بےتاب تھا
    کیسے ہو بیٹا۔فلائٹ کنفرم ہو گئ تمہاری؟ مجھے وقت بتادو میں اپنے بیٹے سے ملنے کیلئے سب کام سے فارغ ہو کر ۔۔۔۔
    وہ آگے جانے کیا کہہ رہے تھے اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی
    ڈیڈا بعد میں ۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں۔ ابھئ مجھے بہت ضروری کام۔ہے۔۔۔
    اس نے کہہ کر جواب سنے بنا کال کاٹ دی۔
    اسکا فون پھر بج اٹھا تھا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
    ہیلو الف۔
    الف نے لمحہ بھرکا بھی توقف نہ کیا۔۔
    ہاں۔۔۔۔ ژیہانگ میں الف بول۔رہی ہوں۔۔ میں ۔۔۔
    آگے پھر فون کٹ چکا تھا۔۔
    واعظہ کی بچی فون کٹ گیا دوبارہ
    الف چیخی۔۔ واعظہ نے کان کھجایا۔۔
    بل ایکسیڈ ہوگیا ہوگا۔۔ تم نمبر لیکر اپنے فون سے کال کرلو۔۔
    مفت مشورہ۔۔ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسکا بند فون لہرا رہی تھی۔
    چارجنگ پر لگا کر پہلے آن کیا فون نمبر لیا اب اپنے فون سے ڈائل کرنے لگی۔
    رات کا پہر اسکا بنا شرٹ جسم ٹھنڈی ہوا سے کپکپایا تھا۔ خنکی گرمی کا احساس اسے اب ہونا شروع ہوا تھا۔۔
    جان لیوا انتظار۔ فون ہاتھ میں لیئے گیلری میں کھڑا ژیہانگ جیسے سولی پر لٹکا تھا۔۔
    اس نے جلدی سے میسج ٹائپ کرکے بھیجنا چاہا تبھی دوبارہ کال آئی۔تھی۔ یہ۔نمبر۔ ڈیلیٹ کرنے کے باوجود ازبر تھا۔
    ہیلو الف۔
    ہیلو۔ ذکریہ۔ وہ اسکے بے تابانہ پکارنے پر جھجک کر بولی۔
    کیا۔۔ دوبارہ کہو۔۔
    اسے وہم ہوا شائد اسکی سماعتیں دھوکا دے گئیں۔ یہ رات کا خواب تو نہیں۔اس نے سر اٹھا کر آسمان پر نگاہ کی۔
    الف جوابا ہنسی تھی۔
    میں نے کچھ نہیں کہا۔۔
    ذکریہ۔۔ ذکریہ کہو میں سننا چاہتا ہوں۔۔
    اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔۔
    ذکریہ۔۔کیسے ہو۔۔ وہ جھجکتے ہوئے بولی۔
    اس چھوٹے سے لفظ۔ نے جیسے ٹوکیو کے نیلے آسمان کے سب ستارے اس پر برسا دیئے تھے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔ شکر الحمد اللہ۔ اسکا دل سجدہ شکر بجا لایا۔
    کیا ہوا۔۔ ذکریہ تم سن رہے ہو؟ بولو۔
    ٹھیک ہوں بالکل ٹھیک۔۔ کتنے لمحوں کے توقف کے بعد وہ بولا تھا۔
    موبائل نے بیپ بیپ کی تھی۔ اس بار ژیہانگ کے فون کی بیٹری مک گئ تھئ۔
    الف نے حیرت سے اپنے موبائل کو دیکھا
    عزہ عشنا اور واعظہ اسکے سامنے بیٹھی منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھیں
    کال کٹ گئ۔۔
    کوئی بات نہیں تمہارا نمبر مل تو گیا نا اسے اب وہ کال بیک کر لے گا۔
    عزہ نے تسلی دینی چاہی۔
    مگر وہ۔۔۔ اسے اندیشے ستا رہے تھے۔
    کہیں ایسا تو نہیں وہ۔جان کے کال کاٹ رہا ہو۔
    الف لرزتئ آواز میں بولی۔واعظہ بھنا گئ۔
    بدگمان ہونا تو کوئی پاکستانی لڑکیوں سے سیکھے۔ دونوں دفعہ تمہارے ہاتھوں میں میرا موبائل بند ہوا ہے وہ کہاں سے کال کاٹ رہا ؟ اسے تمہیں ایوائڈ کرنا ہو تو کال ہی نا اٹھائے اب۔
    واعظہ نے جھاڑ پلائی تو اسکی عقل میں بھی کچھ کچھ بات گھسی۔
    وہ دوبارہ فون ملانے لگی۔ کال نہیں مل رہی تھی۔
    لگتا ہے اب اسکے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئ ہے۔
    عشنا نے خیال ظاہر کیا۔ عزہ کو بھی تشویش ہوئی
    وہ چارجنگ پر لگا کر کال ملا لے گا اتنی عقل ہوگی اس میں بھئ۔
    واعظہ چڑی۔
    وہ بھی کال ملا رہا ہوگا تم۔بھی ملا رہی ہو جبھی نہیں مل رہی اب تھوڑا رکو۔۔۔
    عزہ نے کہا تو وہ موبائل گود میں رکھ کر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی۔
    اب وہ کال ملارہا ہوگا۔
    اس نے سوچا۔۔
    جبکہ ان سے میلوں فاصلے پر۔ٹوکیو کے ہوٹل کی گیلری میں وہ موبال سینے سے لگائے وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔ جب گڑ گڑا کر دعا کرنے پر دعا قبولیت کا درجہ پا جائے تو سب سے پہلے شکر ادا کرنا چاہیے۔ وہ یہی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
    اب اسکے بعد اس نے فون اٹھا کر دیکھناتھا تو پتہ لگتا کہ اسکا موبائل ہی بند ہو چکا ہے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا اٹیچئ گھسیٹ کروہ ہانپ ہانپ۔گئ تھی۔ اسکے وہیل چل۔کیوں نہیں رہے۔ یہ خیال اسے کمرے کے بیچوں بیچ لا کھڑا کرنے کے بعد آیا تھا۔ سو جھک کر جب اٹیچی کو۔دیکھا تو اسکے وہیل کا لاک ہی نہیں ہٹا ہوا تھا۔ سر پر۔ہاتھ مار کر رہ۔گئ۔ اٹیچی کو چھوڑ کر طائرانہ نظر کمرے پر ڈالی۔ دو بیڈ کا ڈورم تھا۔ صاف ستھرا ۔ جیسے کوئی کبھی رہا ہی نہ ہو۔ سامان ہی نہ تھا۔ بس چادر تکیئے کمبل تہہ ہوئے وے اور دو عد د میزیں ۔
    گہری سانس لیکر مڑی تو دل اچھل کر۔حلق میں آگیا۔
    ہائے اللہ۔
    سامنے اٹیچی پکڑے عشنا کھڑی تھی اسکے یوں ڈر جانے پر گڑبڑا اٹھئ۔
    تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ عزہ حیرانی سے بولی۔
    وہ مجھے یہی ڈورم الاٹ ہوا ہے ۔۔ آپکو بھی۔
    اس نے۔مصنوعی حیران ہونا چاہا مگر عزہ کے گھورنے پر کھسیائئ۔۔
    آپکے پیچھے پیچھے ہی تو آرہی تھی آواز بھی دی آپ نے سنا نہیں۔ اسکا وہیل بھی گھس گیا آپکو یہ بھی بتایا تھا کہ اسکا لاک کھول لیں۔
    وہ اب جھک کر اسکا اٹیچی ٹٹول کر۔دیکھ رہی تھی۔ عزہ چپ چاپ کھڑی تھئ
    آپکو اچھا نہیں لگا میرا اس روم میں آنا۔
    وہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتی سیدھی ہوئی
    عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔ اس سے قبل کے عشنا اور مایوس ہوجاتئ اس سے لپٹ کر گول چکر کھا گئ
    صرف اچھا نہیں بہت بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اف میں تو سوچ کے پریشان تھئ کیسی روم میٹس ہوں گئ نان مسلم۔کے ساتھ رہنا آسان تھوڑی ہے۔ اف شکر ہے تم ہو۔ اب سکون سے رہ سکوں گی میں پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔
    عزہ اس سے الگ ہو کر اب اپنا اسکارف کھولنے لگی۔ ذہن سے بوجھ سرکا تھا اور عشنا کے ذہن پر بوجھ پڑ گیا تھا
    عزہ ہنسی۔۔
    نان مسلم کے ساتھ رہنے میں آپکو مسلئہ ہے ؟
    عشنا نے سنجیدگئ سے پوچھا۔۔
    ہاں تو اور کیا نماز روزہ کرنا آسان نہیں رہتا میں نماز کی وجہ سے پاکیزگی صفائی پر۔کمپرومائز نہیں کر سکتی سو شکر ہے خدا کا عشنا کو میرا روم میٹ بنا دیا۔
    عزہ صاف گوئی سے بولی۔
    عشنا کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔ لمحہ تھمی۔۔پھر سنجیدہ سے انداز میں بولی۔۔
    میرا نام عشنا نہیں روجا ہے روجا جھانگیانی۔ اور میں ہندو ہوں۔۔۔۔
    اسکی۔بات پر عزہ جہاں کی۔تہاں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی رہ گئ تھی اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملٹری ان لسٹمنٹ میں ان جیسے بہت سے جوڑے الوداع کرنے آئے ہوئے تھے۔
    کوئی اپنے شوہر سے گلے لگ کر رو رہی تھی۔ کوئی اپنی بیوی کو تسلیاں دے رہا تھا۔ کچھ اپنے والدین کے ساتھ آئے تھے مگر ان سب کی دلچسپی کا مرکز وہ جوڑا تھا۔ گھنگھریالے بالوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی شہد رنگت لڑکی اور چندی آنکھوں والا وہ گورا لمبا لڑکا۔لڑکی رواں انگریزی میں بین کر رہی تھی۔
    میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گئ۔ مجھے اتنی عادت ہوگئ ہے میکسما کافی کی۔۔ کون بنا کے دے گا مجھے۔ ایکسپریسو تو ذہرلگتی ہے مجھے۔ کیا سوجھی تھی ملٹری ان لسٹ کروانے کی۔ میرے بارے میں بھئ نا سوچا کیا کروں گی میں تمہارے بعد۔
    آنکھیں ٹشو سے پونچھتی ناک رگڑتئ فاطمہ ۔۔ سیہون اسے دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہا تھا جبکہ آس پاس کھڑے لوگ رشک اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
    مجھے اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے۔ کتنی بار بتایا تھا تمہیں۔
    سوں سوں۔ شاکی۔نظریں
    یہ بولی نا اصل بات ۔اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے۔ بس اس لیئے یہ سب ڈرامہ چل رہا۔
    سیہون نے جان بوجھ کے چھیڑا وہ۔حسب توقع چڑ گئ۔
    ڈرامہ لگ رہا؟ جان نکلی پڑی ہے میری۔ اتنا بڑا گھر ہے۔ دوسرے کمرے میں تو جب تم نائٹ شفٹ پر ہوتے تھے تب بھی آوازیں آتی رہتئ تھیں میں تو جبھی ڈر کر واعظہ کے پاس بھاگ جاتی تھئ۔
    ہاں۔ وہ چڑ گیا۔ کوریا کے بھوتوں کو اور تو کوئی کام نہیں فاطمہ کو ڈرانے آئیں گے۔ کوئی بھوت ووت نہیں ہوتا یہاں۔
    تم آرام سے رہو وہاں اور شوٹنگز پر دھیان دو۔ یہ بہت اچھا موقع ملا ہے تمہیں گنوا مت دینا کیئریر بن جائے گا۔
    وہ لگے ہاتھوں سمجھانے بھی لگ گیا۔ اسے اسکی متلون مزاجی سے یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ یہ کام۔بھی مستقل نہیں کرے گئ۔
    تین کس سینز ہیں اس ڈرامے میں میں نے تو منع کردیا میں نہیں کر سکتی۔
    اس نے صاف کندھے اچکائے
    کیا؟ ۔ سیہون چیخ ہی پڑا۔
    تم پھر جاب لیس ہو؟
    اس کے چلانے پر اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔
    لیکن تمہارا شکریہ ہوم لیس نہیں ہوں۔۔۔
    فاطمہ نے مسکراہٹ دبائئ۔
    دل تو کر رہا کھڑے کھڑے طلاق دے دوں ہوم لیس بھی ہو جائو تم۔
    اس نے ہنگل میں دانت کچکائے۔ فاطمہ کے تو ظاہر ہے سر پر سے گزرا مگر ساتھ سے گزرتے ان آہجوشی نے چونک کر دیکھا پھر تسلی دینے والے انداز میں کندھا تھپکا۔
    شانت رہو بیٹا۔ وہ بھی تمہارے جانے سے گھبرا رہی ہوگئ۔
    انکے اس مفت کے گیان پر وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا
    تم فکر نہ کرو۔ تین مہینے کا راشن ہے گھر میں میں تب تک کوئی نوکری ڈھونڈ لوں گی تم دل جمعی سے تربیت مکمل کرو۔ اللہ حامی و ناصر ہو تمہارا
    اسکے کندھے کو تھپتپا کر اس نے شرارتی سے انداز میں تسلی و تشفی دئ۔ وہ گھورتا ہوا اپنا بیگ اٹھانے لگا۔ مائکرو فون پر ان تمام نئے ان لسٹ ہونے والے نوجوانوں کو ہال میں جمع ہونے کی ہدایت نشر ہورہی تھی۔
    واعظہ نہیں آئی تم سے ملنے۔ اسکے تنے تنے تاثرات ذایل کرنے کو۔اس نے بات بدلی۔
    واعظہ کل مل کر تو گئ ہے اسے آج گائوں جانا تھا۔۔
    اس نے رسان سے بتایا۔ بس اتنا ہی۔غصہ ہوتا تھا اسکا اب سب بھول کر آرام سے بات کر رہا تھا۔
    فاطمہ مسکرا دی۔ اس غیر مذہب کا انسان کتنا اچھا انسان تھا کوئی اس سے پوچھتا۔ دوستی نبھانے والا خیال رکھنے والا متحمل مزاج انسان۔ مزہب ہی تو سب کچھ نہیں ہوتااچھا انسان ہونا بھی تو اہم ہے اور یقینا سیہون بے حد اچھا انسان تھا۔ جس سے مل کر اسے خوشی ہوئی تھی۔
    سیہون نے اندرجاتے جاتے مڑ کر دیکھا تو اس نے زور و شور سے ہاتھ ہلا دیاجوابا وہ بھی مسکرا کر ہاتھ ہلاتا اندر کی۔جانب بڑھ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دھیان سے لڑکی۔۔۔
    وہ اپنے دھیان میں کانوں میں ہینڈز فری لگائے چلتی جا رہی تھی جب اچانک کسی نے اسکا بازو کھینچ کر ایک جانب کیا۔ وہ بے دھیانی میں سڑک پار کرنے والی تھی جبکہ ابھی سگنل گرین ہی تھا۔
    تھینک یو۔ اس نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ وہ ایک سیاہ فام لڑکی تھئ جو اسکے جھک کر شکریہ ادا کرنے پر ہنس دی
    کورین ہو؟
    دے۔ عروج کھسیائی عادت ہی کوریا کی ایسی پڑی تھی۔
    تم نے آپریشن کرایا ہے آنکھیں کافی بڑی بڑی ہیں تمہاری۔
    وہ بےتکلفی سے پوچھ رہی تھی۔ عروج نے گہری سانس لی۔۔
    ماسک پہنے ہونے کی وجہ سے بس اسکی آنکھیں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔
    میں کے ڈرامہ کی فین ہوں کئی سالوں سے بس کے ڈرامہ ہی دیکھتی ہوں۔
    وہ لمحوں میں بےتکلف ہوئی۔
    میں نے کورین بھی سیکھنی شروع کی ہے۔ میرا نام سیرا ہے۔ اور تم
    وہ اب کورین میں بات کرنے لگی تھی۔
    عروج۔ اسکو اندازہ ہو رہا تھا کہ سیرا کو جواب میں ذیادہ دلچسپی نہیں ہے۔وہ پورا راستہ اسکے ساتھ بولتی آئی۔وہ فزیکل ایجوکیشن کی تھی سو اسکا ڈیپارٹمنٹ مختلف تھا وہ اسکے ساتھ کیمپس تک بولتی آئی
    یونیورسٹی سے ملحق ہی اسپتال تھا جہاں اسکا آج اسکا پریکٹیکل ڈے تھا۔۔۔پہلا دن پریکٹیکل ڈے کا وہ گھبرائی ہوئی بھئ تھی اور پرجوش بھئ۔ اپنی حاضری لگوا کر اپنے گروپ کے دیگر طلباء کے ساتھ اس بڑے سے ہال روم میں چلی آئی۔ سامنے بڑا سا روسٹروم تھا پراجیکٹر تھا اور قطار سے چار پانچ نشستیں تھیں جن کے آگے میز پر لیپ ٹاپ کھلے پڑے تھے۔یقینا یہاں ڈاکٹرز کی ٹیم آکر بیٹھتی۔ سب پیچھے پیچھے جا کر بیٹھ رہے تھے وہ سب سے آگے والی نشست پر آکر بیٹھی۔بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام اس نے سیلفی لینے کا ہی کیا تھا۔
    اس نے بلیک لمبا سا کوٹ مفلر پہنا تھا گلے میں لاکٹ ڈالے اسے کھول کر۔دکھاتے ہوئے سیلفی لی تھی۔ پیچھے اسکا کیمپس۔نظر آرہا۔تھا۔ تصویر کا مرکز لاکٹ تھا۔ ۔ لاکٹ پر باہر کی۔جانب نگ تھا اور اسے کھولو تو اندر پوری آیت الکرسی تھی۔
    اللہ نے آج مجھے بچایا۔ صبح آتے ہوئے ایکسڈنٹ ہوتے ہوتے بچا میرا۔ تھینکس ٹو سئیونگ رو اتنا پیارا تعویز مجھے دیا۔۔۔
    یقینا اللہ کے کلام کی برکت نے مجھے محفوظ رکھا۔۔
    اس نے گروپ میں میسج کیا تھا۔ یہی لکھ کر۔ کسی نے نہیں دیکھا تھا ابھئ۔ شائد سو رہی ہوں گی۔۔ اس نے دوبارہ اپنی تصویر کھول لی۔۔ عجیب سا احساس ہوا۔
    اس نے چونک کر تصویرکو دیکھا ۔۔پھر ذوم کی۔ بیک گرائونڈ میں نیلا اپر پہنے وہ لڑکا اس سے کافی فاصلے پر پیچھے کی نشست پر بیٹھا تھا۔
    عروج کو ہی دیکھتا۔ چندی آنکھوں والا۔ سیونگ رو۔
    اس نے اپنا لاکٹ مٹھی میں دبا لیا۔
    میری مدر مسلم تھیں۔ یہ میری ماں کا لاکٹ ہے۔۔۔ مجھے لگا تھا۔۔۔
    اسکے کان میں سیونگ رو کے الفاظ گونجے۔
    تو یہ اتفاق بھی ہونا تھا۔۔
    اس نے گہری سانس لی۔۔ سامنے ڈاکٹرز کی ٹیم آ رہی تھی انکا لیکچر اس وقت اسکے لیئے ذیادہ اہم تھا سو سنبھل کر سیدھی ہو۔کر بیٹھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بوسن میں دوپہر ہو رہی تھی جب وہ اس مشہور مندر میں پہنچی تھی۔ گیروا لباس میں ملبوس بہت سے گنجے بچے اس وقت مندر کے صحن میں آسن مارے بیٹھے گیان میں مگن تھے۔
    وہ۔مندر کے احترام میں جوتے اتار کر ایک جانب رکھ کر سیڑھیاں چڑھ آئی۔ سامنے مندر تھا چینی اور کوریائی ملی جلی ثقافت کا امتزاج ۔ شہتیروں والی چھت لکڑی کی رنگ برنگی کھپچیوں سے جسکی آرائش ہوئی تھی۔ وہی مخصوص بیضوی نوکدارچھتیں۔ ایک جانب چڑھاوئوں کیلئے جگہ بنی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے بیگ سے وہ باکس نکال کر احتیاط سے وہیں رکھ دیا۔ اندر مندر میں کچھ بدھ مزہب کے پیروکار بڑے سے بدھا کے بت کے آگے سجدے میں جھکے تھے۔ آتی سردیوں کی خشک۔ہوا۔۔۔ کچھ ہی دنوں میں برفباری کا آغاز ہوجانا تھا۔
    اس نے دور سے ہی دیکھاپھر پلٹ کر وہیں سیڑھیوں کے پاس بیٹھ گئ۔ چلنے سے کندھے پر لٹکے بیگ کا بوجھ دگنا لگ رہا تھا
    اس نے اتار کر ایک جانب رکھ دیا۔
    تبھی کوئی پیچھے سے آکر اسکے کندھے سے جھول گیا۔
    نونا۔۔۔۔ کتنے دنوں بعد آئی آپ۔ مجھے بھولتی جا رہی ہیں نا آپ۔ وہ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکائے شکوہ کر رہا تھا۔
    وہ مسکرا دی۔ مگر بولی کچھ نہیں۔ ہے جن خفا خفا سی شکل بنائے گھوم کے اسکے برابر آن بیٹھا۔
    سرخ لباس۔ سر کے بال بس نہیں منڈوائے تھے ورنہ مخصوص۔ وہ مکمل بدھ مت کے پیروکاروں کے حلیئے میں تھا۔
    ہوگیا تمہارا گیان؟ ۔۔ اس نے پوچھا جوابا اس نے پورے جوش سے گردن ہلائی
    ہاں اور آج تو میں مکمل یکسو ہوگیا تھا۔بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔دل ایکدم صاف ہوگیا ہے کوئی غصہ نہیں رہا اس میں۔۔
    وہ جزب کے عالم میں بول رہا تھا۔
    غصہ بھی ہونا چاہیئے ہم انسان ہیں اپنی فطری جبلت کو دبا کر ہمیں صرف نقصان ہوتا ہے۔ سو تمہارے آج کے غصے کا کوٹہ میں پورا کر دیتی ہوں۔
    اطمینان سے کہتے اس نے بیگ سے ایک پراسپیکٹس نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔ ہےجن کے تاثرات ایکدم بدلے تھے۔ کچھ خفگی سے اسے گھورنے لگا۔
    میں دیکھنا بیچ میں پھر ڈگرئ چھوڑ دوں گا۔
    فارم فل کرو۔
    اس نے مکھی اڑائئ۔۔
    وہ دانت پیستا فارم کھولنے لگا۔ کوئی اور اسکے پاس آپشن ہی نہیں تھا۔
    نام لکھتے لکھتے اسکا ہاتھ رکا۔۔۔
    ذیدی ہےجن۔ اس نے گہری سانس لے کر لکھا۔
    گارجین واعظہ ذیدی۔
    سبجیکٹس ۔۔۔ وہ روانی سے فارم فل کر رہا تھا۔
    اپنا بیگ اٹھا لائو ہم آج ہی چلیں گے سیول۔
    اس نے اگلا حکم صادر کیا۔
    میں مونک ہی بنوں گا۔ جیسے ہی بالغ ہوا نا واپس یہیں آکر دھونی رما کے بیٹھوں گا۔
    وہ ضدی انداز میں بولا۔
    مگر تب تک میں تین سال ہیں ان تین سالوں تک میں قانونی طور پر تمہاری بڑی بہن اور سرپرست ہوں تم میری مرضی کے بغیر یہاں پر بھی نہیں مار سکتے۔
    اسکے انداز میں رعب تھا۔
    سیول میں رہوں گا کہاں۔ وہ جیسے عاجز ہو کر پوچھ رہا تھا
    میرے پاس میرے گھر۔
    اسکا جواب فوری اور مکمل تھا۔ وہ مجبور ہو کر فارم اسکی جانب بڑھاتے اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں آپکے کہنے پر اپنے تکلیف دہ ماضی کو بھلا کر آپکو اپنا سب کچھ مان کر ساتھ چل رہا ہوں مگر کیا آپ کو میرے ماضی کی وجہ سے کسی مسلئے کا سامنا نہیں ہوگا ؟ مجھے بار بار سمجھانے کی بجائے ایک بار آپ خود بھی سوچ لیں کہ۔۔۔
    جلدی کرو۔ دو گھنٹے میں سورج ڈوبنے لگے لگا میں اندھیرے میں ڈرائیو کرتے سمتوں کا تعین درست نہیں کر پاتی۔
    وہ اسکو بریک لگانے کیلئے نری بکواس کر رہی تھی۔
    اچھا ہے بھول جائیں سیول کا رستہ ہم یہیں بھٹکتے رہ جائیں۔ جا رہا ہوں بیگ لانے۔۔ وہ پیر پٹختا واپس جا رہا تھا۔اس نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔۔۔
    وہ سچ مچ تن فن کرتا جا رہا تھا۔
    اس لڑکے میں ایسا کیا ہے جو تم سب اس سے اتنی بری طرح محبت میں مبتلا ہوگئیں۔
    اسکا دان کیا ہوا باکس نگاہوں کے سامنے لہرایا اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
    جونگ وون دلکشی سےمسکرادیا
    عزہ اور طوبئ دونوں اسکے اسکول پہنچی تھیں تفصیلات جاننے کہ یہ کہاں ہے کدھر گیا ۔۔
    واعظہ نے ترچھی نظر ڈالی اس پروہ اسکی آنکھوں میں لکھا سوال پڑھ چکا تھا جبھی تسلی دینے والے انداز میں بولا۔
    ۔ شکر ہے میں نے پکا کام کیا تھا۔ ویسے تمہیں اسکا نام بھی بدلوا لینا چاہیئے تھا آسانی رہتی۔
    اسکی ان تمام باتوں کے جواب میں اس نے سامنے نظر جما لی تھی۔ نیلے پہاڑوں پر سنہری دھوپ کیا خوبصورت منظر تھا۔ چاروں اطراف پہاڑوں کے بیچ یہ مندر کسی چراغ کی طرح روشن نظر آتا تھا۔ اس نے لمحہ بھر اسکے ردعمل کا انتظار کیا پھر ٹھنڈی سانس بھر کر باکس اسکے برابر رکھتا لیکر۔ آن بیٹھا۔
    اسکے سوتیلے باپ کے کیس کا آج فیصلہ ہوگیا ہے۔ عمر قید حالانکہ سزائے موت ہونی چاہیئے تھی۔ خیر بھاری جرمانہ اتناہے کہ ہے جن آرام سے عیش بھری زندگی گزار سکتا ہے۔
    ہے جن ان پیسوں کو کبھی استعمال نہیں کرے گا۔۔وہ اسکے بچپن و معصومیت کے قتل کا خراج ہے۔۔ واعظہ نے کہا تو وہ متفق انداز میں سر ہلانے لگا۔
    جانے کس قسم کا انسان تھا۔ معصوم بچے کے ساتھ کیا کیا نہ کیا۔ اسکو فحش مواد میں استعمال کیا اس سے جسم فروشی کروائی اب پیسہ اسکےپاس بہت ہے مگر ساری زندگی جیل میں سڑے گا کہہ سکی۔۔ اس نے گالی دی۔۔
    خیر اسکی ویڈیوز اسکے سب ریکارڈز ضائع کروادیئے ہیں میں نے۔ اسی لیئے کہہ رہا تھا کہ اسکا نام بھی بدل جائے تو ماضئ کی پرچھائیں کبھی اسکا تعاقب نہیں کرےگی۔ اسکی بات سے واعظہ متفق نہ تھئ۔اسکی جانب مڑ کر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
    میں چاہتی ہوں وہ خود سے اپنی شناخت سے بھاگے مت۔ ہےجن کے ساتھ غلط ہوا تھا ہےجن غلط نہیں تھا۔ اسے نیانام اسلیئے نہیں دیا کہ کوئی پرانا واقف کار ملے تو وہ نا نظریں چرائیں نا بھاگے بلکہ اعتماد سے اپنا تعارف کرائے یہ خواہش ہے میری۔۔۔
    بہت محبت کرنے لگی ہو اس سے آئیم جیلس۔ اس نے تاسف سے کہتے دونوں بازو لمبے کرکے پیچھے زمین پر جما دیئے اور سر اونچا کرکے اوپر بادلوں بھرا آسمان دیکھنے لگا۔ چھن چھن کر آتی دھوپ چہرے پر سیدھی پڑ رہی تھی۔
    اسکی بات پر واعظہ نے گھور کر دیکھا پھر ساتھ پڑا باکس اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اند ر وہی ہیئر پن آب و تاب سے جگمگا رہی تھی۔
    ٹریکر لگا ہے اس میں کیا اسکو جہاں میں چھوڑ کر آئوں تم پہنچ جاتے۔ وہ چڑے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی جونگ وون قہقہہ لگا کر ہنسا پھر محظوظ انداز میں بولا
    یہ خیال سچ مچ مجھے نہیں آیا۔ کاش آجاتا۔ ۔محترمہ یونیک آئیٹم ہے اسکو جہاں بھی بیچنے جائے گا کوئی مجھے کال آئے گی اس باکس پر ٹریکر کوڈ ہےجو میری خریداری رسید پر بھی چسپاں ہے۔ اور۔۔۔
    معلوم ہےیہ مہنگی چیز ہے۔ وہ بات کاٹ گئ۔
    جبھی آہجومہ کے علاج کیلئے انکے سرہانے رکھ آئی تھی۔ وہ اور آئٹم سمجھیں عروج نے دیا ہے اسی کو واپس کردیا۔
    علاج کروالیتیں شائد بچ جاتیں۔۔
    اسٹیج تھری کینسر تھا بچنا مشکل ہی تھا اور انکا سارا خرچہ این جی او نے اٹھا لیا تھا میری تمہیں ذیادہ سپر وومن بننے کئ ضرورت نہیں۔ اتنا خلوص سے دیا تحفہ جہاں مرضی آتی آگے دے دیتی ہو۔ خبردار جو اب اسکو کسی کو دینے کا سوچا بھی۔
    وہ بھڑک کر بولا ۔ اس نے سر جھٹکا جیسے اسکی جوتی کو بھی پروا نہیں ۔ پھر باکس سے پن نکال کر گود میں رکھی۔ اپنے کندھوں سے نیچے تک آتے بال لپیٹ کر جوڑا بنایا اور پن لگا لی۔ ہلکی ہلکی ہوا سے جو بال اسکے منہ پر آن بکھر رہے تھے اب شرافت سے جوڑے میں قید ہوگئے تھے۔
    اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا۔۔۔
    اس نے برسبیل تذکرہ پوچھا تھا۔۔۔ جوابا اس نے مڑ کر دیکھا بیگ اٹھائے ہے جن انکی طرف ہی آرہا تھا۔ دھپ دھپ کرتا منہ پھلائے اب موسم کے لحاظ سے موٹا سا اپر بھی پہن لیا تھا
    اسکو مونک نہیں بننے دینا۔دنیا کو ترک کردینے کی خواہش دنیا دیکھنے سے پہلے پال بیٹھا ہےسو اسکو دنیا دکھانی ہے۔
    اور تم؟تم کیا کر رہے ہو آجکل۔
    وہ بات بدلتے ہوئے اب اسکے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ اس کے مڑ کر دیکھنے پر جونگ وون بھی گردن گھما کر دیکھنے لگا تھا۔اب اسکے سوال پر رخ موڑ کر سامنے پہاڑوں پر نظر جما کر دھیرے سے بولا
    میں سونے کا بننے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔ وہ مکمل سنجیدگی سے سامنے پہاڑوں کو تک رہا تھا۔۔
    اسکی بات پر وہ چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی پھرمسکرا کرسر اثبات میں ہلا کرخود بھی سامنے کے منظر پر نگاہیں جما دیں۔ کتنے ہی پل یونہی خاموش سے گزرتے چلے گئے مگرہر گزرتے پل کے ساتھ اسکی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئ تھی اورپہاڑوں سے نگاہ ہٹا کر اسکو تکتے جونگ وون کی بھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 63

    قسط 63
    غضب کا جذباتئ منظر تھا۔ طوبی اور دلاور اکٹھے کمرے میں داخل ہوئے تھے جب آہٹ پر دونوں نے نگاہ اٹھا کر دروازے کو دیکھا تھا۔ دلاور بے تابئ سے اسکے پاس آئے تھے۔۔ فاطمہ ایک طرف ہو گئ۔
    وہ بستر پر چت لیٹا تھا۔ اسکی پسلی میں ہیئر لائن فریکچر تھا اور بائیں بازو میں پسلتر سو وہ ہلنے جلنے سے عاری تھا۔۔ ورنہ شائد ابھی بھی بھاگ کھڑا ہوتا۔ بھائی کی آنسوئوں میں ڈبڈبائی آنکھیں وہ جوابا آنکھیں بند کرگیا۔
    اتنے ناراض ہو کہ اب میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔
    دلاور نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں شکوہ کیا تھا اس نے تڑپ کر آنکھیں کھول دیں
    نہ۔۔ نہیں۔بھا۔۔ اس نے دائیں جانب زور دے کر اٹھنا چاہا مگر سینے میں اٹھتی ٹیس کی وجہ سے اٹھ بھئ نا سکا۔ دلاور نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا
    بھائئ سے کوئی ایسے ناراض ہوتا ہے بھلا۔
    وہ محبت سے چور انداز میں پوچھ رہے تھے۔
    بھیا۔ وہ رو پڑا تھا۔ کتنے لمحے وہ اسکی پیشانی پر ہونٹ لگائے روئے چلے گئے۔
    طوبی نے دھیرے سے آکر انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر سیدھے ہوئے۔
    بہت پچھتائے ہیں تم پر ہاتھ اٹھا کر۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا انہوں نے تمہیں۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتے پچھتاتے رہے ہیں۔۔
    طوبی بتا رہی تھئ۔ اس نے حیران ہو کر بھائی کی شکل دیکھی۔ وہ مسکرا دیئے
    عذاب ہوگیا میٹرک۔۔۔۔گھر سے بھاگ لیئے تمہاری یہ حالت نہ ہوتی تو میں نے ڈنڈے سے پٹائی کرنی تھئ پہلے تمہاری۔ اماں بہنوں کسی کا نا سوچا تم نےخود کو گم کر لیا۔ جانتے ہو اماں کی کیا حالت۔
    طوبئ مخصوص انداز میں ڈانٹے جا رہی تھئ کہ دلاور نے اسکا ہاتھ تھام کر جیسے اسکو کچھ بتانے سے روکا۔
    کیا ہوا اماں ٹھیک ہیں؟
    حسب توقع وہ پریشان ہو گیا۔۔
    ٹھیک ہیں سب ٹھیک۔ تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ اب تم ہمارے ساتھ پاکستان چلو سب سے خود ملو۔ تم نے میرے ساتھ ان سب کو بھئ سزا دی ہے یوں ہم سے دور ہو کر جانتے ہو مانو کتنا یاد کرتی ہے تمہیں۔ اس نے تو اپنے بیٹے کا نام بھی خاور رکھا ہے۔
    دلاو رمحظوظ مسکراہٹ سے بتا رہے تھے
    مانو کی شادی ہوگئ۔ ؟ اسکے ذہن میں تو دو چوٹیاں کرکے اسکول جاتی منی سی مانو تھی اتنا وقت گزر گیا۔۔۔ اسکے دل میں ہوک سی اٹھئ۔
    ہاں۔ طوبی مسکرا دی۔
    زینت بھئ بڑی ہوگئ ہوگئ۔
    خاور کے انداز میں حسرت سی تھی۔ دلاور نے پیار سے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔
    بس جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔۔ زینت سے ملوائیں گے اور بھی دو سرپرائز آچکے ہیں دنیا میں ایک اور بھی آ۔۔۔
    دلاور ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو طوبی جھینپ کر انکو ٹہوکا دے گئ۔
    سر میں درد ورد تو نہیں ہو رہا۔ ڈاکٹرکو بلائوں۔
    دلاور کو خیال آیا چوبیس گھنٹوں بعد ہوش میں آیا ہے۔
    نہیں۔۔ اس نے منع کرنا چاہا مگر فاطمہ کو بھی بہتر یہی لگا کہ ڈاکٹر کو بلوا لے۔
    میں ڈاکٹر کو بلا لاتی ہوں بہتر ہے وہ معائنہ کر لیں۔
    اتنی دیر سے خاموش سے ایک کونے میں کھڑی فاطمہ مستعد ہوئی۔
    میں بلا لاتا ہوں۔ دلاور اٹھنے لگے تو اس نے نرمی سے منع کر دیا۔۔
    میں جاتی ہوں۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔ دلاور کے پاس کھڑی طوبی کو خیال آیا تو فورا اسکے پیچھے کمرے سے نکل آئی
    فاطمہ۔
    طوبی کے پکارنے پر وہ چونک کر مڑی
    صبح تم سے بات کا موقع نہیں ملا اور میں۔۔۔ وہ انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
    مجھے معاف کردو۔ میں نے تم سے بہت بدتمیزی کی برا بھلا کہا۔۔ تم معزرت کرنے آئیں تو بھی ۔۔۔۔ آئیم سوری فاطمہ۔
    طوبی غلطی کرکے اکڑنے والوں میں سے نہیں تھی۔ دل صاف ہوا تو فورا اپنی غلطی سمجھ لی اور معافی بھی مانگ لی۔
    طوبی آپکو معزرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
    آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو شائد ایسا کرتا۔۔
    فاطمہ شرمندگی محسوس کرنے لگی۔
    تمہاری جگہ بھئ کوئی بھی ہوتا تو شائد ایسا کرتا۔
    طوبی نے جتایا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیں۔۔
    اب آپکے اور دلاور بھائی کے درمیان سب غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ نا؟ وہ واقعی اپنے بھائی کو ہی ڈھونڈ رہے تھے۔ آپ ایویں شک کر رہی تھیں۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ کھسیا کر سر ہلانے لگی
    مجھے انہیں سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی۔میں نے انکو کیا کچھ الٹا سیدھا بولا تب بھی مجھے صفائئ دیتے رہے۔ بہت احمق ہوں میں۔۔
    طوبی کو آج اپنے میاں پر بہت پیار آرہا تھا۔۔
    فاطمہ نے سرہلایا
    ہممم۔
    کیا ؟ طوبی چونکی۔ کس بات پر تائید کر رہی ہے۔۔
    وہ میرا مطلب میں ذرا ڈاکٹر کو بلالائوں ۔۔ وہ فورا وہاں سے رفو چکر ہوئی۔ اسکے اور طوبی کے ستارے شائد ملتے ہی نہیں تھے ۔۔ طوبی سر جھٹک کر رہ گئ

    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے لگا تھا آپ مجھے ڈھونڈ لیں گے ۔۔۔
    اس نے شکوہ کناں انداز میں دلاور کو دیکھا تھا۔۔
    میں جانے کتنی دیرسڑک پر پڑا رہا تھا۔ پولیس کی گاڑی نے مجھے مردہ سمجھ کر ملتان کے اسپتال پہنچایا تھا۔ کئی دن علاج ہوا۔ مجھے لگا تھا آپ مجھے ڈھونڈنا نہیں چاہتے اسلیئے واپس گائوں آنے کی بجائے میں ملتان میں ہی رہنے لگا۔۔
    محنت مزدوری بھی نہیں کر پارہا تھا پائوں کا زخم خراب ہو رہا تھا میرے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ ایکدن کھانے کے بھی نہیں تھے۔ایک ٹرک کے نیچے آکر زندگی تمام کردینی چاہی سو وہ بھئ ممکن نہ ہوسکا۔
    اس نے آنکھیں میچ لیں۔ بے بسی کی انتہا تھی اس دن جب پورے دو دن سے ایک کھیل تک اڑ کر اسکے منہ میں نہ گئ تھی۔ سیدھا کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا سردی الگ جان نکالے تھی جب وہ بنا سوچے سمجھے اس تیز رفتار ٹرک کے سامنے آن کھڑا ہوا۔۔ ایک ہفتے میں دنیا میں کھو جانے کے سب شوق نکل گئے۔ دنیا سے ہی دل اٹھ گیا تھا اسکا۔
    ٹرک ڈرائیور نے بروقت بریک لگا کر ٹرک کچے میں اتار لیا تھا۔ اسے ہلکی سی ضرب آئی تھی ۔ ٹرک ڈرائیور غصے سے بھرا اترا تھا
    مرنا تھا تو نہر میں کودتا میری زندگئ کیوں عذاب میں ڈالنے لگے تھے ۔۔ اس نے بلا۔لحاظ دو تین تھپڑ لگائے تھے اسے
    لوگ اکٹھے ہونے لگے کسی نے اسکے ظالم شکنجے سے بمشکل اسے چھڑایا تھا۔ ٹرک ڈرائور پشتو میں اسکی پشتوں تک کو گالیاں دے رہا تھا
    سالا خود تو مرتا سب نے یہی کہنا تھا ٹرک ڈرائیور نے نیچے دے دیا۔
    اسکو سمجھا بجھا کر الگ کرتے لوگوں میں ایک وہ شخص بھی تھا جو ٹرک کے یوں اچانک موڑکاٹنے کے باعث اپنی گاڑی کچے میں اتار چکا تھا ۔ جو ٹرک ڈرائیور کی بجائے اس کم عمر لڑکے کے پاس آیا تھا جسکے پائوں سے خون بہہ رہا تھا ہونٹ تھپڑوں سے پھٹ چکا تھا اور منہ سوج رہا تھا۔ وہ ان تکلیفوں کے ساتھ اٹھنے کی دو ناکام کوشش کر چکا تھا۔
    اسکو ہاتھ دینا ذرا۔ اس نے پاس سے کھڑے کسی شخص کو کہا تھا۔ اس کا ذہن تاریک ہوتا جا رہا تھا پھر بھئ اس نے نظر بھر کر اس مسیحا کو دیکھا تھا
    ایک چالیس پینتالیس سال کا ڈاکٹر جس کے چہرے پر مہربان سی مسکراہٹ تھی۔
    اسکے زخم میں پس پڑ گئ تھئ۔ پندرہ دن وہ اسپتال میں بے ہوش پڑا رہا تھا۔ بخار اتنا تھا کہ ڈاکٹر کو اسکے بچنے کی امید تک نہ تھی۔ ہوش میں آنے پر سب سے پہلے اس ڈاکٹر نے اسکے گھر والوں کو اطلاع دینے کیلئے اسکا اتا پتہ پوچھنا چاہا تھا۔۔
    پندرہ یہ اور پانچ سات دن ملتان بیس پچیس دن۔ ایک مہینہ تقریبا
    وہ ڈاکٹر کی ٹکر ٹکر شکل دیکھے گیا۔
    بیس دن میں اسکے گھر والوں نے اسکو نہیں تلاشا کسی اخبار میں اشتہار نہ دیا پولیس میں رپورٹ نہ درج کروائئ کوئی سن گن نہ لی تو اب وہ کس منہ سے ان سے رابطہ کرے جو اسکو اتنے گرے ہوئے کردار کا سمجھتے ہیں کہ اپنی بھابی پر بری نظر رکھتا ہے۔
    کس گائوں سے ہو؟ نام کیا ہے تمہارا ؟ بولو بھی
    ڈاکٹر نےاسکی مستقل خاموشی سے تنگ آکر پوچھا۔
    عبداللہ۔ میرا اپنا کوئی نہیں میں دنیا میں بالکل تنہا ہوں جبھی خود کشی کرنے جا رہا تھا۔
    اس نے زندگی میں پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔ دھڑلے سے بولا تھا اور اسکے بعد کبھی سچ نہ بولا۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور ۔۔۔
    وہ پکارتی اپنے دھیان میں اٹھی تھی اسکا دوپٹہ جلتے ہوئے چولہے پر جا پڑا۔ دوپٹے نے ایسی ایکدم آگ پکڑی کہ وہ ہواس باختہ سی ہو کر باہر بھاگئ۔ دلاور اسکی چیخ پر پلٹے تھے۔تب تک اسکا پورا جسم شعلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا۔
    انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو اسکو بھینچ لیا تھا دیوانوں کی طرح پکارا جانے کون پانی لایا کون کمبل وہ انکے بازوئوں میں بے ہوش ہو چکی تھی۔
    انکو اس وقت کسی چیز کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ گاڑی توتھی انکے پاس مگر انکے ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے۔ محلے سے انکے بچپن کا دوست انکی گاڑی چلا کر انکو ملتان لے کر گیا۔ بہت ذیادہ تو نہیں جھلس گئ تھئ طوبی مگر پھر بھی ہوش آتے دو دن لگے تب تک پولیس نے اس معاملے سسرال کی جانب سے بہو کو جلا مارنے کی کوشش قرار دے دیا تھا۔
    طوبی کے گھروالے بھی ان پر شک کر رہے تھے۔ دو دن حوالات میں گزرے انکے انکو خاور کا خیال آیا بھی تو یہی لگا کہ طوبی کا سن کے واپس آچکا ہوگا۔
    بمشکل پولیس کیس سے جان چھڑائی طوبی کو اسکے میکے چھوڑا گائوں واپس آئے اماں بہنوں کی سختی سے کلاس لی اور اس معاملے کی ہوا بھی طوبی کو نہ لگنے دی کہ خاور کس وجہ سے گھر سے بھاگا ہے۔ انہوں نے خاور کو ڈھونڈا شروع کیا تو نشتر اسپتال میں اسکے داخل رہنے کا علم ہوا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کتنا پچھتایا تھا میں جب پتہ لگا تم ان ہی دنوں نشتر میں زیر علاج تھے جن دنوں میں طوبی کی وجہ سے اسپتال کے چکر کاٹ رہا تھا۔ جانے کیا مصلحت تھئ کہ ہمارا سامنا نہ ہوا۔
    دلاور نے گہری سانس لیکر سر اٹھایا۔ خاور نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
    تمہیں لگا میں تم پر شک کربیٹھا تھا؟ نہیں پگلے۔ بھائی ہو تم میرے چھوٹے بھائی گود میں لیکر پھرتا تھا تمہیں ۔۔ تمہیں نہیں جانتا ہوں گا؟ سوال کرتا تم سے؟ اور طوبی۔ کیا میں اپنی بیوی کو نہیں جانتا ہوں گا۔ کوئی صفائی مانگنے کا مطلب تو اپنے آپ کو جھٹلانا ہوا۔۔
    خاور کی آنکھیں بھر آئیں۔
    بہر حال۔ ایک اس دن کے بعد اماں پل پل پچھتائی ہیں تم پر شک کرنے پر۔ پہروں روتی خود کو کوستی رہی ہیں۔ بہت بیمار رہنے لگی ہیں اب۔ تمہاری یاد نے انکو اندر ہی اندر کھا لیا ہے۔
    مجھے معاف کر دیجئے بھیا۔ وہ رو پڑا
    میں خود کو بھابئ کا سامنا کرنے پر تیار نہیں کر پایا تھا۔ حوصلہ ہی نہیں پڑا۔۔
    طوبئ کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی میں نے۔ تم
    بھی اب اسکا ذکر کبھی زبان پر نہ لانا۔ دلاور نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسو پونچھتے تنبیہہ کی۔ اس نے اثبات میں سر ہلاکر انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمرے کے باہر دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی طوبی نے فاطمہ کو ڈاکٹر کے ہمراہ آتے دیکھا تو آنکھیں پونچھتی سیدھی ہوئی۔
    ڈاکٹر اور فاطمہ کمرے کے اندر چلے گئے مگر وہ دانستہ راہدارئ سے ہو کر باہر کھلی فضا میں نکل آئی۔۔
    ایسا ممکن تھا کہ مجھے خبر نہ ہوتی۔ میری ساس کتنا تو اونچا اونچا بولتی ہیں۔ پورا جھگڑا اس نے بنا دقت باورچی خانے میں سنا تھا۔ یونہی تھوڑی وہ گھبرا کر باہر بھاگی تھی کہ دوپٹہ جلا بیٹھئ۔ جب آگ کی لپٹوں میں گھری تھئ تو بس ایک لمحہ ۔۔ ایک لمحہ اسے ہمیشہ کیلئے دلاور کا اسیر کر گیا تھا۔ وہ پریشانی جو دلاور کے چہرے پر اسکو دیکھ کر در آئی تھئ ۔ جیسے انکے جسم سے کسی نے روح کھینچ لی ہو۔ اسکے شعلوں سے جلتے جسم کو انہوں نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ اپنے آپ سے ذیادہ اس سے محبت کرنے والے دلاور سے اسے کیا محبت نہ ہوتی؟ اور دلاور پوچھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
    اسے سوچ کے ہنسی آگئ ۔۔۔ سیول میں شام اتر رہی تھی اندھیرا بڑھ رہا تھا مگر اسکے گرد شام ہونے سے جل اٹھنے والی روشنیاں اس اندھیرے سے کہیں ذیادہ تھیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسپتال سے چھٹی ملتے ہی وہ اسے اپنے گھر لے آئے تھے۔ ۔ اس کی پسلی پر چوٹ آئی تھی ہیئر لائن فریکچر تھا بازو میں پلستر تھا۔ ہلکی تکلیف تھی مگر وہ وہیل چئیر استعمال کرنے پر۔راضی نہ ہوا۔۔۔۔ دلاور نے اسکو سہارا دے کر لائونج میں صوفے پر۔بٹھایا۔طوبی فورا باورچی خانے میں اسکے لیئے یخنی بنانے چلی گئ۔۔ دونوں بچیاں بھاگ کر اسکے پاس آئی تھیں۔۔
    یہ زینت ہے ۔اور یہ گڑیا۔ دلاور نے تعارف کرایا تو بچیاں باپ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔
    بیٹا یہ آپکے چاچو ہیں۔ دلاور نے سمجھ کر بتایا۔
    مگر انکی تو آنکھیں چندی نہیں ہیں۔
    زینت نے سنجیدگی سے باقائدہ اپنی آنکھیں آدھی میچ کر پوچھا۔
    ہیں۔ اسکی۔بات پر دلاور اور خاور دونوں بھونچکا ہوئے
    تیجون چاچو اور ہے جن ماموں کی تو آنکھیں چندی تھیں یہ بھی اگر ہمارے چاچو ہیں تو انکی آنکھیں آپ جیسی کیوں ہیں۔
    وہ اتنئ سنجیدگئ سے پوچھ رہی تھی کہ دلاور تو دلاور اوپن کچن سے انکی۔باتیں سنتئ طوبی کا بھئ منہ کھل گیا۔
    یہ تو بڑے سے ہیں۔ چاچو تو ہائی اسکول کے ہوتے ہیں۔
    گڑیا نے بھی اپنی معلومات جھاڑنا ضروری سمجھا۔۔
    آپ کون ہیں۔
    وہ دونوں خاور کے دائیں بائیں آن کھڑی ہوئیں۔
    بیٹا یہ آپکے سگے والے چاچو ہیں۔ طوبی نے وضاحت کرنی چاہی۔
    سگے والے کون سے ہوتے ؟ گڑیا نے سوال داغا۔
    بیٹا یہ آپکو چاچو خود سمجھائیں گے۔ دلاور مزے سے کہہ کر چلتے بنے۔ خاور نے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔ وہ بے نیازی سے کچن میں چلے آئے۔
    یہ آپ کے بازو کو کیا ہوا۔ زینت اسکا پلستر چھو کر پوچھ رہی تھی۔
    یہ دونوں دماغ کھا جائیں گی خاور کا۔
    طوبی ہنس کر بولی ۔۔دلاور نے ہلکا سا مسکرانے پر اکتفا کیا۔ طوبی نے گوشت نکال کر سنک کے پاس رکھا تھا اور خود پیاز لہسن چھیل رہی تھی۔
    کھانا پکا ہوا ہے ؟
    انہوں نے پوچھا۔۔
    ہاں یخنی پلائو ہی بنا لوں گی ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔
    طوبی نے کہا تو وہ سر ہلا کر گوشت دھونے لگے۔
    کوئی اور وقت ہوتا تو شائد طوبی روکتی مگر ابھی پیاز لہسن اٹھا کر کائونٹر پر رکھ کر انکے پاس کھڑے ہو کر چھیلنے لگی۔
    اماں سے ویڈیو کال پر بات کرادی تھی خاور کی؟اس
    نے سرسری سا پوچھا۔
    ہاں ۔۔ رو رہی تھیں بہت کہہ رہی تھیں فوری پاکستان آئو۔مگر اب فورا تو یہ سفر کے قابل نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک ہو جائے تب ہی بھیجیں گے اسے۔
    اور خود آپ کا جانے کا ارادہ نہیں؟۔۔۔۔
    طوبی کے پوچھنے پر وہ ایک نظر اس پر ڈال کر رسان سے بولے
    کانٹریکٹ ختم ہونے میں تین مہینے ہیں ارادہ یہی ہے کہ رینیو کرنے کی بجائے ہم پاکستان ہی چلیں۔
    انکی بات پر لہسن چھیلتی طوبی کا ہاتھ رک سا گیا۔
    آپ صرف گڈو کو ڈھونڈنے کوریا آئے تھے؟
    اس نے سیدھا سوال کیا۔
    ہاں۔ انکا جواب مختصر اور فوری تھا۔
    وہ چپ سی ہوگئ۔
    مگر اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیئے کوریا میں رہ بھی سکتا ہوں۔
    وہ جیسے اسکا ذہن پڑھ گئے تھے۔
    گوشت دھو کر ایک طرف رکھا نل بند کیا۔ طوبی اداس سی لگنے لگی تھی۔
    تمہارا کوریا میں دل لگ گیا ہے؟
    انہیں حیرت ہوئی تھئ اسکی اداسی دیکھ کر۔
    میرا گائوں میں دل نہیں لگتا۔ وہاں کی زندگی بہت مشکل ہے کیا ۔۔۔ وہ رک کر ہمت کرکے انکی شکل دیکھ کر پوچھنے لگی
    کیا اایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم پاکستان میں شہر میں کسی رہنے لگیں۔۔
    وہ امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
    ہو سکتا ہے اگر تم یہ چاہتی ہو تو ایسا ہی ہوگا۔
    وہ مسکرا کر بولے طوبئ کا چہرہ تمتما اٹھا۔
    واقعی۔
    اسکے انداز میں بے یقینی تھی۔ دلاور ہنس دیئے۔ طوبی بے یقینی سے ابھی بھئ انکو بٹر بٹر تکے جا رہی تھی۔
    ہاں اب یہاں دو دو تو نہیں رکھ سکتا۔۔قانون ہی نہیں۔ تمہیں پاکستان بھجوانا پڑے گا نا۔ تو تمہاری بھئ ماننی پڑے گئ۔
    وہ چھیڑ رہے تھے اور وہ چڑ بھئ گئ۔
    پوچھ کے دیکھیں سچی محبت کرتی ہے تو اسے پاکستان لےجائیں نا۔ ذرا آپکے گائوں جا کر رہ کر دکھائے۔
    یہ کیا معیار ہوا؟ وہ۔حیران ہوئے
    یعنی جو پاکستان مین میرے گائوں میں رہتی آئی ہے وہ سچی محبت کرتی ہے مجھ سے۔ ؟
    وہ بھولپن سے پوچھ رہے تھے۔ طوبی گھور کر رہ گئ۔
    بولو نا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ طوبی رخ موڑ کر کیبنٹ کھول کر کھڑی ہوگئ۔ دلاور چند لمحے انتظار کرتے رہے پھر بولے
    اچھا ایک کپ چائے بنا دو سر میں درد ہو رہا ہے۔ وہ کہہ کر کچن سے باہر نکلنے لگے تب طوبی کی آواز آئئ۔
    محبت نہ کرتی ہوتی تومجھے آپکو کھو دینے کا خوف لاحق ہوتا بھلا۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے انکے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ سب باتیں کہہ کر جتائی نہیں جا سکتیں مگر کبھئ کبھی کہہ ڈالنا بھئ اچھا ہوتا ہے۔ گیارہ سالہ ازدواجی زندگئ میں طوبی کی جانب سے پہلا اقرار محبت ملا تھا انکو اور شائد آخری بھی مگر انکے لیئے اتنا کافی تھا۔۔ وہ پلٹے بنا بھی جانتے تھے اس وقت طوبی کے چہرے پر کونسا رنگ ہو گا جبھئ ذرا سا مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ایک مہینے میں اتنی چھوٹئ کیسے ہوگئ۔
    الف بھونچکا سی اس سیامی بلی کو دیکھ رہی تھی۔۔ بلی نے اس تبصرے پر اپنی کنچوں جیسی آنکھوں سے اسے گھورا جیسے سب سمجھ آیا ہو اسے پھر سر جھٹک کر اسکی گود سے نکلی اور سامنے راہ داری میں گم ہوگئ۔وہ ژیہانگ کے پسندیدہ بلیوں والے کیفے میں آئے تھے۔اس وقت بھی انکے گرد صوفے کے آس پاس بلیاں پھر رہی تھیں ایک سفید جھاگ جیسے بالوں والی بلی صوفے کے ہتھے پر بیٹھئ تھی جبکہ یہ سیامی بلی اسکے پیروں کے پاس بیٹھئ تھئ۔ اس نے اسے پیار سے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا تھا۔ مگر شائد بلی کو اسکا یہ لاڈ ذیادہ پسند نہیں آیا۔
    یہ وہ والی بلی نہیں ہے۔ ژیہانگ ہنسا۔
    اور بلی ایک مہینے میں بڑی تو ہو سکتی مگر چھوٹی نہیں ہو سکتئ۔ اسکے جتانے پر وہ کھسیائئ۔
    وہ تمہاری والی سیامی بلی خاصی بڑی تھی یہ اسی نسل کی تھی شائد۔
    وہ والی مر گئ ۔۔۔۔ژیہانگ کے چہرے پر اداسی سی چھائئ۔۔ میں نے آتے ہی ریسیپشن سے اسکے بارے میں پوچھا تھا۔
    اوہ۔ الف۔ سر ہلا کر رہ گئ۔ اسے بلیوں سے کوئی خاص شغف نہ تھا مگر ژیہانگ کا اس بلی سے غیر معمولی لگائو ڈھکا چھپا نہ تھا اس سے۔۔۔۔
    میں شائد واپس کوریا کبھی نہ آتا یہ بلی بھی کبھی مر جاتی مگر میں واپس بھئ آیا اور وہ بلی بھی مر چکی ہے مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ وہ خود مجھے دیکھتے ہی میرے پاس آجاتی تھی۔ ایک بار تو ایک کپل کی گود میں بیٹھی تھی۔ اچھل کر میرے پاس آگئ۔ وہ لڑکی اٹھ کر میرے پاس آئی بلی لینے مگر کینڈی اسکے پاس جانے کو تیار نہ ہوئی۔ کینڈی نام رکھا ہواتھا کیفے والوں نے اسکا۔۔
    ژیہانگ اسے بتا رہا تھا وہ بغور سن رہی تھی۔
    خاموش رہنے والا ژیہانگ پچھلے تین چار دن سے مستقل بول رہا تھا جانے کون کون سئ باتیں احساسات اسے الف کے ساتھ شئیر کرنے تھے۔ بچپن کے قصے امریکہ کی باتیں۔ وہ جیسے سب اپنے اندر دبائے بیٹھا تھا۔ اب اسے الف کی صورت روزن ملا تھا اپنے اندر کی گھٹن باہر نکالنے کا۔
    سفید بلی بے چین سی ہوئی اچک کر نیچے کودی اور ژیہانگ کے صوفے پراسکے پاس آن بیٹھئ۔
    ژیہانگ نے اس بلی کو پیار سے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا۔
    تمہارے گھر والے مان جائیں گے۔۔۔
    اس نے اتنا اچانک پوچھا تھا کہ بلا ارادہ اسکے منہ سے بھی سچ ہی پھسلا۔۔
    نہیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلیئے بھیجا تھا اسے کوریا۔ پورے خاندان کی مخالفت مول لیکر الف کے ابا نے الف کی ضد پوری کی۔ایک تو ان موئی یونورسٹئوں کو کیا وظیفے دینے کا شوق ہے چلو ملک میں ہی کسی دوسرے شہر بھئج دیں نہیں اٹھا کے کوریا بھیج دیا نام بھی نہیں سنا تھا کہ اس نام کا کوئی ملک بھی ہے۔۔۔ وہ بولتے بولتے سانس لینے رکیں۔
    بھوک ہڑتال کرکے اپنی ضد منوائی تب تو جانے کیا وعدے کرتی رہی کہ بس یہ بات مان لیں زندگی بھر کوئی فرمائش نہیں کروں گئ جو کہیں گی مانوں گی اب سب بھول گئ۔
    (آہ۔۔۔۔ )
    ۔ اتنا اچھا ہے واصف منہ بھر کے انکار کیا اور میں ایسی سیدھی ماں کہ شک بھئ نہ کیا کہ ایسی ویسی بھئ کوئی بات ہو سکتئ ہے۔
    انہیں الف سے ذیادہ خود پر غصہ آرہا تھا۔
    آنٹی وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے یقین کیجئے۔ واعظہ منمنائی۔۔ یہ موقع بھئ بمشکل ملا تھا اسے۔
    منے لائونج منی میز پر ٹرائی پوڈ میں موبائل سجائے بیٹھی واعظہ ویڈیو کال پر الف کی امی سے بات کر رہی تھی۔ جو پہلے تو خوب برسیں ان پر اب لتے لے رہی تھیں۔الف کے عشنا اور عزہ اسکئ دائیں بائیں بیٹھئ تھیں۔
    بتائو کوریا میں چینی لڑکا ٹکر گیا۔ وہ بھی جسکا نا کوئی آگا نا پیچھا جانے مسلمان ہے بھی یا نہیں۔ ماں باپ تک نہیں میں اپنی بیٹی کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں کبھی نہ دوں۔ نا زبان ایک نا قوم۔۔وہ سانس لینے رکیں واعظہ نے منہ کھولا کچھ کہنا چاہتی تھی شائد مگر موقع نہ مل سکا۔
    تم نے بھئ نہ بتایا مجھے۔ اچھا خود کو الف کی بہن کہتی ہو بہن کو گڑھے میں گرنے سے نہ روکا۔ انہوں نے روئے سخن عزہ کی طرف موڑا۔ ۔ عزہ گڑبڑا سی گئ۔
    آنٹئ ایسی بات نہیں الف بالکل بھی مجھے اپنی بہن جیسی نہیں سمجھتئ ہماری تو بلکہ اکثر کام نہ کرنے پر لڑائی ہوتی رہتئ ہے ابھی پرسوں بھئ۔
    عزہ کی اس حق گوئی پر واعظہ اور عشنا نے بھی الف کی امی کے ساتھ اسے گھور کر دیکھا۔
    چلو خوب رہی۔ اچھا بدلہ لے لیا۔ میں کہتی ہوں اسکو کل ہی جہاز مین بٹھا کر واپس بھیجو ابھی معاملہ اسکے ابو کےکانوں میں نہیں پڑا ورنہ وہ خود آکر اسکا دماغ درست کر دیں گے ۔ صاف بتائو الف کو کہ مانا دوسرے ملک میں بیٹھی ہے مگر اپنے ماں باپ کو بے بس نہ سمجھے۔۔۔۔ٹانگ توڑ دوں گئ اسکی خود کو سمجھتی کیا ہے۔
    ہے کہاں ابھی بات کرائو میں خود دماغ درست کروں اسکا۔ پڑھنے بھیجا تھا اسے یہ سب کرنے نہیں۔۔۔۔
    وہ بولتے بولتے ہانپنے لگیں۔
    واعظہ نے موقع غنیمت جانا۔
    آنٹی وہ لڑکا سچ مچ اچھا ہے آپ دیکھیں تو سہی بات کریں مل کر دیکھیں پھر فیصلہ کریں۔
    میرے بھائئ کے بیٹے سے اچھا نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے فیصلہ سنایا۔ الف سے بات کرائو کہاں ہے یہیں کہیں چھپی بیٹھی باتیں سن رہی ہے نا سامنے آنے کو کہو اسے۔
    انکے دعوے سے کہنے پر وہ تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔۔
    کہیں اس موئے کے ساتھ تو نہیں۔
    انکی شکل دیکھ کر انہیں یہ یقین تو آیاکہ الف گھر پر نہیں مگر دوسرا خیال ذیادہ جان لیوا تھا۔۔۔
    نہیں۔ یونی گئ ہے سچی صبح تیارہو کر۔ عشنا نے بتایا
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میونگ دونگ کی گلیوں میں پھرتے اسے خیال آیا
    سیول میں کوئی چینی کیفے ہے ؟
    ہاں کیوں۔ ژیہانگ چونکا۔
    مجھے چینی ثقافت کا بالکل نہیں پتہ۔ چینی کھانوں کا سنا وہ بھی بس فرائیڈ رائس کھائے مگر ہمیشہ اپنے مصالحے ڈال کر ورنہ پھیکا سا کھایا نہیں جاتا مجھ سے۔
    اس نے ناک چڑھا کر کہا تو ژیہانگ ہنس دیا۔
    جب چینی کھانا پسند ہی نہیں تو کیفے کا کیوں پوچھ رہی ہو؟
    کورین روائتئ کیفے جائو تو کورین ثقافت کے رنگ نظر آتے ہیں چینی کیفے میں چینئ بود وباش کی چھاپ ہوگئ میں نے سنا ہے یہاں چائنہ ٹائون ٹائپ جگہ ہے جہاں چینی اتنی تعداد میں رہتے ہیں کہ وہاں کورین اجنبی محسوس کرتے ہیں۔۔
    چلیں وہاں۔
    وہ بولتے بولتے یکدم پرجوش ہوئئ۔
    ژیہانگ کو اسکی ایکسائٹمنٹ پر ہنسی آئی
    ہاں ایسا علاقہ سیول میں ہے مگر وہاں لڑکیاں نہیں جاتیں۔
    اس نے اسکی خوشی کے غبارے میں سے ہوا نکال دی۔
    الف مایوس سی ہوئی۔۔۔۔
    پھر۔۔۔۔
    پھر۔ ژیہانگ نے ایک نظر اطراف پر ڈالی پھر اسکی آنکھوں میں چمک سی لہرائئ۔۔
    ایک جگہ ہے جہاں ہم جا سکتے ہیں۔۔
    اس چینئ کیفے میں داخل ہوتے ہی جو پہلا لفظ اسکے منہ سے نکلا تھا وہ تھا وائو۔
    سرخ دیواروں والے اس کیفے میں داخل ہوتے ہی ایک بڑا سا ڈریگن منہ سے پنیوں کے شعلے نکالتا چھت سے یوں لٹکا تھا جیسے اڑ رہا ہو۔ بڑے بڑے سرخ چینی کاغذ کے غبارے۔
    دھیرے دھیرے ہلتے تو زمین پر مختلف ڈیزائن بنتے بگڑتے جانے انکے اندر قمقمے لگے تھے یا اوپر مگر زمین پر یوں ستارے بکھرے تھے جیسے آسمان انکے اوپر الٹ گیا ہو۔
    ایک جانب بڑے بڑے بت رکھے تھے مخصوص چینی مرتبان جن پر گڑیا بنی ہوئی تھی سب سے چھوٹی اس سے بڑی ایک تو اسکے قد جتنی تھی۔
    سامنے چینی طرز کے چبوترے بنے تھے جس پر بیٹھے لوگ قہوے کا لطف لیتے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ دھیمے سروں میں بجتی چینی کلاسیکی موسیقی۔
    وہ دونوں ایک کونے والے تخت کی طرف بڑھ گئے۔
    چینی مخصوص لباس میں ملبوس وہ لڑکی چست سی سرخ ہی گلا بند میکسی پہنے انکے پاس آرڈر لینے چلی آئی۔
    مینیو کارڈ مکمل طور پر چینی اور کورین میں تھا۔
    اس نے منہ بنا کر ژیہانگ کی جانب بڑھا دیا
    اس میں انگریزی بھی ہے۔ اس نے شرارت سے اسکو صفحہ پلٹ کر دکھایا اس نے مینیو جھپٹنا چاہا مگر وہ جھکائی دے گیا۔
    میں تمہیں آج اپنی پسند کا ناشتہ کراتا ہوں۔
    اس نے کہا تو پھر الف نے ضد نہ کی۔
    اس نے قہوہ اور مٹھائئ منگوائی تھی دو تین طرز کی۔۔
    جہاں تک الف کو سمجھ آیا۔ لڑکی آرڈر لیکر چلی گئ تو اس نے اپنے ذہن میں کلبلاتا سوال کر ڈالا
    ژیہانگ تم لوگوں کو تو حلال کھانے پینے میں کافی مشکل ہوتی ہوگئ چین میں تو سب پتہ نہیں کیا کیا کھاتے۔۔
    وہ اتنی سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی کہ ژیہانگ جس نے شرارتا جواب دینے کیلئے منہ کھولا مگر اسکی شکل دیکھ کر ارادہ بدل دیا۔
    ہم مسلم اکثریتی صوبے میں رہتے تھے۔ وہاں 80 فیصد تک مسلمان ہیں۔ کبھی زندگئ میں موقع ملا تو تمہیں اپنے شہر کی سیر کرائوں گا۔ وہاں نان کلچے سالن سب ملتا ہے۔ اور ہمارے علاقے میں کھانا پھیکا نہیں ہوتا۔۔ ہم خوب چٹپٹا کھانا پسند کرتے ہیں۔ وہاں مسجدیں بھی ہیں اور وہاں لمبی داڑھی والے بوڑھے بھی ہوتے ہیں۔ بس لباس انکا چینی ہوتا ہے باقی سب مسلمانوں والا انداز ہے۔۔
    اس نے اپنی طرف سے خوب تشفی کرائی جانے وہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر مزید بولی نہیں۔۔
    تم گھبرا تونہیں رہیں ہو۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اس سے قبل کہ وہ جواب دیتئ انکا مطلوبہ آرڈر آگیا تھا۔
    کھانا تھا کہ خوشبوئوں کا جھونکا۔۔ مگر یہ خوشبو پکوان کی نہیں تھی۔۔چنبیلی اور گلاب کے عطر کی تیز خوشبو۔۔ اتنی تیز کے اسے اپنے ذہن پر سوار ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔روائتی چینی ظروف میں دو چھوٹئ چھوٹئ کیتلیاں اور گھونٹ کے برابر کی چھوٹی پیالیاں۔ ساتھ سفید براق چھوٹے چھوٹے پیڑے تھے ایک پلیٹ میں سرخ گول سی کوئی چیز چاپ اسٹکس میں پروئی ہوئی تھی۔ اس نے سب سے پہلے وہی اٹھایا ان کا شیرہ سخت ہو رہا تھا ایک اسٹک میں پانچ دانے۔۔
    یہ کیا ہے۔ ؟ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
    چکھ کر بتائو کیسا ہے۔ یہ میرا پسندیدہ ترین ہے۔ ۔
    ژیہانگ نے کہا تو اس نے جھٹ ایک دانہ منہ میں رکھ لیا۔ منہ میں کچھ عجیب سا شیرے کا سا ذائقہ گھلا جو اسکی زبان کے ذائقے کو قطعی نہیں بھایا۔ اس نے تیزی سے چبا کر اپنے چہرے کے تاثرات درست کیئے۔
    انگور۔۔اس کو چبانے پر پھل تو پتہ لگ گیا۔
    ہاں یہ انگور ہیں انکو مخصوص شیرے میں ڈبو کر فریز کیا جاتا ہے۔یہ سادہ چینی کا شیرہ نہیں ہوتا اس میں دارچینی اور دو ایک اجزا اور بھئ ملائے جاتے ہیں یہ ہم بہت شوق سے کھاتے ہیں مگر لگتا ہے تمہیں بالکل پسند نہیں آیا۔
    ژیہانگ نے محظوظ انداز میں کہا تو وہ کھسیانی سی ہوگئ
    نہیں یہ مزے کا ہے۔۔۔ بس تھوڑا مختلف ذائقہ ہے۔۔ اس نے کہا ضررو مگر شرافت سے پلیٹ میں واپس رکھ دیا۔سفید پیڑے برفئ کے جڑواں بھائی تھے مگر برفی کے مقابلے میں کہیں نرم منہ میں گھل جانے والے۔ اسے یہ پسند آئے۔
    اسکے ساتھ قہوہ لو پسند آئے گا تمہیں۔
    ژیہانگ خود بڑے شوق سے انگور کھا رہا تھا مگر اسکے لیئے فورا قہوہ نکالنے لگا۔ گلابی کھولتا ہوا قہوہ۔۔
    گلاب کے پھولوں کی خوشبو ۔۔ یہ قہوے میں سے آرہی تھی
    یہ کس چیز کا قہوہ ہے اس نے بڑے شوق سے قہوے کی پیالی تھامی
    گلاب کا۔
    ژیہانگ کے جواب سے پہلے وہ گھونٹ بھر گئ۔
    یہ ذائقہ بھی اسے مایوس کر گیا۔ لگا منہ میں گلاب بھر لیا ہو۔ زندگی میں کبھی عرق گلاب استعمال بھی کیا تو ملتانی مٹی میں ملا کر منہ پر ملا یا آنکھیں دکھنے پر آنکھوں میں ڈال لیا۔ اب اسکو گرم گرم گھونٹ بھر کے پینا۔ خوشبو اتنی تیز محسوس ہو رہی تھی کہ اسکو بری لگنے لگی۔
    ژیہانگ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
    یہ دوسری کیتلئ کس چیز کے قہوے کی ہے۔ اس نے دوسرا قہوہ فوری چکھنا چاہا شائد ذائقے کی تبدیلی کیلیئے۔
    ظروف بے حد خوبصورت تھے اسے وہ کیتلی بہت پیاری لگی۔اس پر ایک جانب پورا مور پر پھیلائے کندہ تھا۔
    یہ والا قہوہ نسبتا پیلا تھا۔ مگر چنبیلی کی خوشبو۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے چکھا ۔ یہ اسے اچھا لگا تھا۔
    یہ مزے کا ہے۔۔ اسکا ذائقہ مانوس ہے میرے لیئے۔ اس نے ذہن پر ذور ڈالا
    ہاں وہ مشہور برانڈ کی جیسمن گرین ٹئ ۔ جیسا ذائقہ ہے۔ گرین ٹی بہت پیتی تھی میں تب چکھی تھئ یہ والا ذائقہ یاد مجھے۔
    وہ کہتے ہوئے پیڑے کے ساتھ گرین ٹی پی رہی تھی۔
    کیا ہوا۔ چپ کیوں ہو گئے۔
    اسکی خاموشی پر وہ پوچھ رہی تھی۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔
    کیا مماثلت ہے ؟ ساتھ بیٹھ کر کھانا تک نہیں کھا سکتے۔ وہ چینی نجانے کیا الا بلا کتے بلی کھاتا ہوگا۔ اور الف وہ تو چینی پلائو تک شوق سے نہیں کھاتی میں تو حیران ہوں یہ چینی ٹکر کہاں گیا اسے۔
    الف کی امی ابھئ بھئ ویڈیو کال پر تھیں۔ واعظہ نے انکو اپنا کمرہ عشنا عزہ کا کمرہ گھوم گھوم کر دکھایا۔ ایکدم پلٹی تو عزہ اور عشنا جو اسکے پیچھے پیچھے اس پریڈ کا حصہ تھیں ٹکرا ہی گئیں اس سے۔ اس نے گھور کر دیکھا۔
    دونوں کھسیانئ ہوکر اسکے دائیں بائیں ہوگئیں
    آگئیں تم دونوں واپس ؟ الف کو کہہ دو یوں چھپنے کی ضرورت نہیں سامنے آئے میرے ۔۔
    اسکی امی کا پارہ ہائی تھا
    آنٹی گھر پورا دکھا دیا کہیں نہیں ہے الف۔
    سچئ۔ عزہ اور عشنا کورس میں بتاتئ اسکی مدد کو آئیں۔۔
    کہاں گئ کیا وقت ہو رہا کوریا میں۔۔ ابھی تک یونی سے واپس نہیں آئئ۔۔
    انکے سوال پر اب تینوں زچ ہونے لگیں تبھئ اطلاعی گھنٹئ بج اٹھئ۔
    عشنا نے بھاگ کر کیمرے میں دیکھا اسکی آنکھیں اپنے حجم سے دو گنا بڑی ہو گئیں۔
    کون ہے۔ عزہ اور واعظہ اسکے پیچھے لائونج میں آئیں عشنا جوابا کیمرے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ کیمرے میں واضح ہوتے دو چہرے۔
    فاطمہ وہاں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی اسکے کان پر چیخی۔۔
    الف تمہاری بیٹی نہیں ہے آنٹی کی ہے آنٹی پریشان ہوں سمجھ آتا ہے۔ الف انکی پریشانی کا احساس کرے تم آنٹی کی بیٹی نہیں ہو الف ہے اسے انکی پریشانی کا احساس کرنے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی زندگی جیو تمہاری اپنی بھی ایک الگ ذات ہے۔کبھی اسکا بھی سوچ لیا کرو۔
    فیصلہ ہو گیا۔ اس نے گہری سانس لی اور دروازہ کھولنے چل دی۔۔
    ہائے واعظہ۔ شکر ہے تم گھر پر ہو۔ ہم باہر۔۔۔۔
    واعظہ نے دروازہ کھولتے ہی موبائل کا فرنٹ کیم کھول کر ہاتھ بڑھا کر اسکے سامنے کیا تھا جبکہ وہ اسکی شکل دیکھتے گرمجوشی سے کہہ رہی تھی مگر جملہ اسکی امی کی آواز پر ادھورا رہ گیا
    الف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی امی پکار کر دل تھام کر رہ گئیں۔۔۔ اونچے لمبے سفید چندی آنکھوں والے ژیہانگ کے ساتھ کھڑی الف۔ یہ منظر دیکھ کر انکی زبان گنگ سی ہوگئ۔۔
    امی۔۔۔۔
    اس کیلئے بھی یہ غیر متوقع تھا سو سٹپٹا کر اس نے ژیہانگ کو دیکھا ژیہانگ نے اسے۔
    اسلام و علیکم آنٹئ۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔
    ژیہانگ نے سنبھل کر واعظہ کے ہاتھ سے موبائل لے لیا تھا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورے دیسی کمچی کے سفر میں تمہارا موبائل الف کے معاملے میں کام آیا ہے۔
    عزہ نے کہا تو واعظہ گھور کر رہ گئ۔
    وہ تینوں کچن کائونٹر پر لائن سے پیر لٹکائے بیٹھی تھیں۔ سامنے چولہے پر چاول دم پر لگے تھے۔۔
    میرے موبائل میں مجھے افسوس ہے کہ دو گھنٹے آنٹی سے ویڈیو کال کرنے کے بعد پھر بیٹری ختم ہونے والی ہے۔
    واعظہ نے گہری سانس لی۔
    ہاں یار۔ ہم نے اتنی دیر آنٹی سے بات کی پھر یہاں آکر چکن پلائو کی تیاری کی اب دم بھی ختم ہونے والا تمہارے موبائل کی بیٹری ختم نہیں ہوئی۔
    عشنا کو بھی حیرت ہوئی۔
    میں ویسے اپنا موبائل یوں کسی کے حوالے نہیں کر سکتی حالانکہ میرےموبائل میں کچھ بھی ایسا ویسا نہیں ہوتا نا میرا افئیر چل رہا پھر بھئ ایک ان سیکیورٹی سی محسوس ہوتی ہے موبائل پاس نہ ہو۔
    عزہ نے سلاد کی پلیٹ سے کھیرا اٹھاتے یونہی کہا تھا کہ واعظہ کو جیسے کرنٹ سا لگا۔ ایکدم سے کود کر اتری۔
    کیا ہوا۔ وہ دونوں حیران ہو کر پلٹیں جبکہ واعظہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگئ جہاں اندر ژیہانگ اور الف الف کی امی سے بات کر رہے تھے۔ اسکے دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگے۔
    وہ ویڈیو کال پر نہیں تھے بلکہ ژیہانگ ڈبل بیڈ پر بیٹھا تھا اور الف واعظہ کے سنگل بیڈ پر اسکے مقابل بیٹھی تھی۔
    یوں دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر اب وہ تھوڑی خجل سی ہوئی
    وہ میرا موبائل۔۔
    ہاں وہ اسکی بیٹری ختم ہو گئ تھی میں نے چارجنگ پر لگا دیا۔ الف نے سوئچ بورڈ کی جانب اشارہ کیا ۔
    اوہ۔ اسکی جان میں جان سی آئی۔
    بات ہو گئ تمہاری امی سے مان گئیں؟
    وہ موبائل کی جانب بڑھتے بر سبیل تذکرہ پوچھ رہی تھی
    امی سے ژیہانگ نے ہی بات کی میری تو وہ کچھ سننے کو تیار نہیں۔ اس بے چارے کو بھی سخت سست سنائی ہے۔
    ژیہانگ کے بے انتہا سنجیدہ سے چہرے پر نگاہ ڈالتے وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں بولی۔
    ہمم۔واعظہ موبائل دیکھ رہی۔تھی۔ مانوس نام کا پیغام آیا ہوا تھا۔ مگر ان ریڈ تھا۔۔۔۔
    پریشان نہ ہونا ژیہانگ پاکستانی والدین ہم مزہب ہم ذات ایک خاندان بھی ہو تواپنے بچوں کی پسند کی شادی پر راضی نہیں ہوتے تم دونوں کے معاملے پر تو کافی کچھ الگ الگ ہے۔
    اس نے تسلی دینے کو کہا تھا مگر ژیہانگ اٹھ کھڑا ہوا۔
    میرا خیال ہے تم ایک بار پھر سوچ لو۔ مجھے تمہارا انکار اور اقرار دونوں قبول ہوں گے۔
    جانے کیا بات تھی وہ یہ کہہ کر جانے ہی لگا تھا۔
    اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
    ژیہانگ۔
    الف کی جگہ واعظہ نے اسے یوں جاتے دیکھ کر پکارا
    وہ رک کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
    کھانا ۔۔ کھانا کھا کر جانا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آداب میزبانی نبھارہی تھی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپسی پر وہ اسے نیچے تک چھوڑنے آئی تھی۔ لفٹ میں داخل ہوتے نکلتے وقت۔ کمپائونڈ میں آتے وہ وقفے وقفے سے اسکے چہرے پر نگاہ ڈالتی جیسے اسکے تاثرات سے اسکے سوچیں پڑھ لینا چاہ رہی تھی۔ مگر وہ بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ خاموشی سے چل رہا تھا۔
    عمارت سے باہر آکر ژیہانگ نے ہی خاموشی توڑی
    تم اب اندر جائو۔۔۔ اسکے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا مگر اندر جانے کو مڑی نہیں۔ ژیہانگ نے لمحہ بھر انتظار کیا پھر جانے لگا
    ژیہانگ۔ اس نے ہمت کرکے پکار لیا
    مجھے معلوم ہے امی نے آج تمہیں کافی کچھ سنا دیا۔ میں انکی جانب سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔ تم ناراض مت ہو۔۔
    اسکی بات پر وہ پلٹ کر اسکو دیکھنے لگا
    میں ناراض نہیں ہوں۔ وہ سب کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھیں۔۔۔
    ہمارے مزہب ایک سہی مگر ہم میں بہت ثقافتی تفاوت ہے۔ الف۔ ہم تو ایک میز پر بیٹھ کر ایک کھانا تک نہیں کھا سکتے۔تم میرے ساتھ چینی طعام نہیں کھا سکیں میں تمہارے ساتھ چکن پلائو کھاتے ہوئے ۔۔۔اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔
    ہم ایک زبان بول رہے ہیں۔ہم مزہب ہیں۔ رہا کھانا تو ایک گھر میں رہنے والوں کی پسند الگ ہوسکتی ہے۔
    الف نے فورا دلیل دی۔
    پھر بھی الف۔ تم اپنے فیصلے پر پچھتانے نا لگو۔
    اسے یہی خدشہ ستا رہا تھا
    میں نے تم سے رابطہ کرنے میں بیس دن لگائے جانتے ہو کیوں۔ صرف تم سے رابطہ نہ کرنے کی وجوہات سوچتے۔۔
    یہ سوچتے کہ تم سے رابطہ ختم ہونے کے بعد میری زندگئ کیسی ہوگئ میں کیا کروں گئ۔۔
    اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا۔
    مگر صرف ایک لمحے میں جب مجھے لگا تم سے سب رابطے ختم ہوگئے ہیں تو مجھے احساس ہوا کہ تم سے رابطہ نہ کرنے کی سب وجوہات بوگس ہیں۔۔۔
    آسے ایک ٹک دیکھتے ژیہانگ کے چہرے پر دھیمی سی مسکان آن سجی
    مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ تم مجھ سے کبھی محبت کا اظہار کروگی۔
    وہ ہنس دیا الف گڑبڑا سی گئ
    میں نے۔ابھی بھی نہیں کیا۔ ۔۔۔ اس نے زبان دانتوں تلے دبائی
    کوریا آکر بہت بولڈ نہیں ہوگئ میں۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا۔
    ژیہانگ کھل کر ہنسا۔ تو وہ اور چڑ گئ
    ہاں خود تو بڑے یا یانگ ہیں نا۔ فون بھئ میں کروں اظہار بھی میں کروں آئے بڑے۔ نخرے۔۔ پڑے سو رہے تھے بھاڑ میں جائے الف رابطہ کرے نہ کرے۔ کوئی فرق نہیں۔۔
    اسکی چلتی زبان کو ایکدم بریک لگی تھی جب ژیہانگ دو قدم اسکی جانب بڑھ کر گھٹنے کے بل آن بیٹھا۔۔جیب سے مخملیں کیس نکال کر کھول کر اسکی جانب ہاتھ بڑھاتے وہ پوچھ رہا تھا
    میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں الف مجھ سے شادی کروگی؟
    بیک گرائونڈ میوزک کوئی نہیں تھا پر الف کے گرد شہنائیاں سی بجنے لگی تھیں۔
    ۔گیلری سے جھانکتی عزہ حیرانی سے واعظہ سے پوچھ رہی تھئ
    اظہار محبت تو اب کیا ان دونوں نے اس دن فون پر بات کیا کی تھئ؟؟؟؟
    اگلی قسط میں کھلے گی یہ کہانی بھی۔
    واعظہ تاسف سے دیکھ رہی تھئ۔ ان دونوں کا یہ اہم موقع اور اچھا ہو سکتا تھا ابھی تو بالکل روایتی انجام کردیا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 62

    قسط 62
    وہ ابھی سب کام سمیٹ کر باورچی خانے سے نکلی تھی اپنے کمرے کا رخ ہی کیا تھا کہ اماں کی پاٹ دار آواز نے قدم روک دیئے
    بہو ہم میلے میں جا رہے ہیں گھر کا خیال رکھنا خاور آتا ہوگا اسے چاء روٹی بھی پوچھ لینا۔اور مانو بھئ سپارہ پڑھ کر آنے والی ہوگی اسکا سبق سن لینا کل بھی مولوی صاحب نےشکایت بھجوائی ہے مانو کو سبق یاد نہیں ہوتام۔اماں نے ہدایات جاری کرنا شروع کی تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئ۔ اس وقت تھکن سے دل کر رہا تھا کہ بس بستر پر جا پڑے۔ ۔اماں اور راحیلہ چادر اوڑھے تیار کھڑی تھیں۔۔
    بھابئ آپ بھی چلو۔راحیلہ نے محبت سے کہا مگر اس سے قبل کہ وہ جواب دیتئ اماں نے جھڑک دیا
    وہ کونسا لڑکی بالی ہے۔ شادی شدہ عورت ہے اب بچے سنبھالے گی یا تفریح کرے گی۔ ۔ تیری ضد نہ ہوتی تو تجھے
    بھئ نہ لے کے جاتی۔ اماں کے گھرکنے پر وہ چپ کر گئ۔ ان دونوں کے جانے کے بعد وہ دروازہ بند کرکے کمرے میں آکر لیٹ گئ۔ زینت سو رہی تھی جب اسکے سونے کا وقت آنا تھا اس نے جاگ جانا تھا۔۔۔
    بھابی بھابئ۔۔مانو دور سے پکارتی چلی آئی۔۔ مانو آگئ۔
    دس گیارہ سالہ اپنی اس نند سے اسے بے حد محبت تھی۔ وہ بھی گھر آتے ہی بھابی کے آگے پیچھے پھرتی تھی ابھی بھی دروازے سے داخل ہوتے ہی پکارتی آرہی تھی۔ وہ مسکرا کر اٹھ بیٹھی۔ وہ شائد باورچی خانے گئ تھی وہاں سے سیدھا اس نے یہیں آنا تھا۔ بھابی۔
    اس نے دروازے سے پکارا تو اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر آہستہ بولنے کا اشارہ کیا۔ وہ سمجھ کر قریب بھاگئ آئی
    آتے ہی سپارہ تھما کر بولی۔
    بھابئ اماں گئ تو نہیں میلے میں؟
    وہ گڑبڑا سی گئ۔
    چلی گئیں نا؟ مجھے چھوڑ کے میں نے کہا بھی تھا۔
    سب احتیاط دھری رہ گئ اس نے خاصا دکھ سے چلا کر کہا اور زور زور سے رونے لگی۔
    ارے روئو مت مانو۔ وہ اسے پیار سے ساتھ لگا کر چپ کروانے لگی مگر اسکے رونے کی آواز سے زینت اٹھ کر رونے لگی۔
    ہمیشہ ایسا کرتی ہیں۔ میں نے کہا تھا مجھے نہیں جانا سپارہ پڑھنے آپ پیچھے سے چلی جائیں گئ۔۔۔
    وہ اسکے سینے سے لگی بین کرکر کے رو رہی تھی۔
    اچھا چپ کرو تمہارے بھائئ آئیں گے نا ان سے کہوں گی لے جائیں گے میلے میں رونا بند کرو۔
    زینت بھی زور و شور سے رو رہی تھی اور مانو بھی لپٹی تھی۔وہ مشکل میں پھنس گئ۔
    کیا ہوا بھابی زینت کیوں رو رہی ہے۔
    خاور شائد ابھئ باہر سے آیا تھا دروازے کے پاس آکر دستک دے کر پوچھ رہا تھا۔
    چلو خاور کے ساتھ بھیجتئ ہوں ابھئ تمہیں رونا بند کرو۔
    اسکے اس بہلاوے پر اس نے آنسو پونچھے۔ خاور کمرے کے دروازے پر ہی کھڑا رہا۔ پورے گھر میں اگر کوئی اس تمیز کا مظاہرہ کرتا تھا کہ وہ کمرے میں ہو تو دستک دے کر اندر آئے وہ خاور ہی تھا۔ وہ زینت کو اٹھاکر چپ کراتے ہوئے مانو کا ہاتھ پکڑ کر باہر ہی چلی آئی۔ خاور باہر برآمدے میں لگے تخت پر بیٹھا جوتے اتار رہا تھا۔
    خاور بہن کو میلے میں لے جائو۔ دیکھو رو رہی ہے۔اماں اسے لیئے بنا چلی گئئیں۔
    اس نے کہا تو وہ رک کر اسے دیکھنے لگا۔
    بھابئ ابھئ آیا ہوں اتنا تھکا ہوا ہوں۔
    اس نے انکار کرنا چاہا۔ مانو کا منہ مزید اتر گیا شاکی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
    آپ لے جائیں اسے یہ دو گلی چھوڑ کر جو میدان ہے وہیں تو لگا ہوا ہے دو چار جھولے ہیں باقی کھانے پینے کے ٹھیلے اور عورتوں کے زیورات وغیرہ کے اسٹال ہیں۔
    وہ کہہ تو رہا تھا مگر ابھی اماں وہیں تھیں اسکا جانا عزاب بن سکتا تھا۔۔اس نے زینت کو ہلا ہلا کر چپ کرادیا تھا۔
    میں نہیں جا سکتی تم ایسا کرو کل پکا مانو کو سیر کرا لانا۔ اسکا بہت دل کر رہا ہے۔ اس نے اسکی تھکن کا احساس کیا اور مانو کے شوق کا بھئ مگر اسکا احساس کسے تھا؟ خود اسکا دل تھا میلے میں جانے کا یا نہیں اس بات کی اہمیت ہی نہیں تھی۔
    کل ختم ہو جائے گا آج آخری دن تھا تین دن سے کہہ رہی تھی میں۔ مانو نے بے بس ہو کر دوبارہ رونا شروع کیا تو خاور کا دل پسیج گیا۔
    اچھا روئو نہیں منہ دھو کر آئو میں لے چلتا ہوں۔
    پکا۔ وہ ایکدم خوش ہوئئ تھی۔
    پکا جائو جلدی سے منہ دھو کے کنگھئ کرکے آئو۔
    اس نے کہا تو وہ خوشی خوش دوڑ گئ۔
    آپ کو کچھ چاہیئے۔
    نہیں۔ وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ مانو تیار ہو کر آئی تو ایک لمحہ بھی رکنے کو تیار نہ ہوئی۔۔۔ ان کو جاتے دیکھ کر زینت نے بھی تان بلند کی۔ وہ تو منع کرنے لگی مگر خاور اسے گود میں اٹھا لیا۔
    یہ بھی میلہ دیکھے گئ آج۔
    اسکے پھولے پھولے گالوں کو چومتے اس نے پیار سے کہا تھا۔آٹھ نو مہینے کی زینت نے جیسے خوش ہو کر قلقاری ماری۔۔
    چلیں نا بھائئ۔ مانو نے اسکا بازو کھینچا۔۔
    اچھا بھابی دروازہ بند کرلو۔ تاکید کرتا مانو کے ساتھ گھسٹتا گیا وہ سچ مچ اسے گھسیٹ ہی رہی تھی۔ اسکی عجلت پر خاو رڈانٹ رہا تھا مگر اس نے پروا نہ کی۔ انکے باہر نکلنے کے بعد اچھی طرح دروازہ بند کرکے پلٹی ہی تھی کہ پھر دستک ہوئی۔
    اس وقت وہی دونوں واپس آئے ہوں گے کچھ بھول کے۔
    اس نے یہی سوچتے دروازہ کھولا اور ہنس کر بولی
    مجھے پتہ تھا تم کچھ بھول گئے ہوگےگڈو۔ ۔ کہتے ساتھ ہی مقابل پر نظر پڑی تو اسکی ہنسی تھم سی گئ۔ سامنے دلاور کھڑے تھے۔
    آپ۔۔ آج جلدی آگئے۔
    اسکے منہ سے بلا ارادہ پھسلا تھا۔ جبھی گڑبڑا کر ایک طرف ہو کر راستہ دینے لگی۔
    دلاور نے ایک نظر اسکی سمٹتی مسکراہٹ پر ڈالی پھر ازلی سنجیدہ سے انداز میں پوچھنے لگے
    گھر میں بہت خاموشی ہے سب کہیں گئے ہیں؟
    ہاں وہ میلہ لگا ہے نا وہاں گئے ہیں۔ اماں راحیلہ تو دوپہر سے گئے ہیں یہ مانو اور خاور ابھئ نکلے ہیں۔۔۔ ہم۔۔بھی۔۔۔
    وہ آگے کہنا چاہ رہی تھی ہم بھئ چلیں۔۔؟؟؟
    کھانے میں کیا ہے۔
    اپنی آستین کے کف کھولتے انہوں نے شائد اسکی پوری بات سنی بھئ نہ تھئ ابھی بھی تیز قدم اٹھاتے کمرے کی جانب بڑھتے انہوں نے پوچھا ضرور تھا مگر جواب کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔وہ بھی ہونٹ بھینچ کررہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور آج پھر ابھی تک نہیں آیا تھا۔ اسکی بارہ بجے کے قریب آنکھ کھلی تھی تو پانی پینے صحن میں آنا پڑا۔ خنکی اچھی خاصی تھی وہ بے خیالی میں اٹھ آئی تھی۔ باہر آکر احساس ہوا بنا شال باہر آکر غلطی کر لی ہے۔ پانی پی کر واپس جانے ہی لگی تھی جب صحن میں پڑی چارپائی چرچرائی
    خوف کے مارے وہ جم سی گئ یقینا بھوت۔۔ اس نے صحن میں بکھری چاندنی میں ذرا سا آنکھیں سکوڑ کر اس چرچراہٹ کا منبع جاننا چاہا تو پتہ چلا کوئی لمبا چوڑا وجود آرا ترچھا پڑا ہے
    خاور۔ اس نے دھیرے سے پکارا۔ جوابا وہ ایکدم چونک کر اٹھ کھڑا ہوا
    بھابی آپ۔
    تم اتنئ ٹھنڈ میں یہاں کیوں لیٹے ہو۔ ؟
    وہ حیران ہو کر پاس چلی آئی۔
    ایسے ہی۔ وہ کھسیایا۔۔ اور اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب پیچھے کرنے لگا۔
    کیا چھپا رہے ہو۔ اسکی عقابی نگاہ سے چھپا نہ رہ سکا۔
    کچھ نہیں۔ وہ جتنا سٹپٹایا تھا اسکے شک کو یقین میں بدلتے دیر نہ لگی۔ اس نے دائیں جانب سے جھپٹا مارا وہ جھکائی دے گیا۔ بائیں جانب سے اس نے جھپٹ ہی لیا۔ خاور نے
    کان کھجایا
    ڈائری ہے بھابی۔۔
    اسکی بات سننے سے قبل ہی وہ کھول چکی تھی۔۔

    جانے یہ رات ڈھلے یا نہ ڈھلے
    ھمدمو ، ہمسفرو ، ہم تو چلے

    روشنی چاہیے ،جس طرح بھی ہو
    بجھ گئی شمع تو پھر دل ہی جلے

    کتنے تاریک جہاں بستے ہیں
    ہاں ان ہی چاند ستاروں کے تلے

    ہم سے ہوگا نہ وفا کا سودا
    ہم ہیں سودائی تو سودائی بھلے

    غم دیا اس نے تو غم یارو
    خار بھی پھول کے سائے میں پلے

    جنس بے قدر وفا ، وقت کی بات
    وقت کے ساتھ چلیں ہم نہ چلے

    (از قلم زوار حیدر شمیم)

    یہ یہ تم نے لکھی ہے؟ وہ حیران تھئ۔
    خاور جھینپ کر مسکرا دیا۔
    ہاں کوشش کی ہے۔ کیسی لگی کوشش۔۔
    وہ جھجکتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
    اچھی۔بہت اچھی۔۔ یہ تو بہت اچھی نظم لکھ دی ہے تم نے۔
    اسے واقعی پسند آئی تھئ یہ نظم۔
    تم تو چھپے رستم نکلے بھئ۔ پکا والا احمد فراز بننا ہے تم نے تو۔کیا تخلص رکھو گے گڈو
    وہ چھیڑنے والے انداز میں بول رہی تھی۔
    وہ سر کھجانے لگا۔
    بھابئ بھائی کو نہ پتہ لگے۔ ماریں گے مجھے۔۔
    وہ ڈررہا تھا۔
    مگر تمہیں یہ انہیں دکھانا چاہیئے کیا پتہ وہ تمہارا ٹیلنٹ دیکھ کر تمہیں سائنس پڑھنے پر مجبور کرنا چھوڑ دیں۔۔
    طوبئ نے سمجھانا چاہا مگر وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا
    کوئی نئیں سمجھے گا یہ بات۔
    میں اردو لٹریچر پڑھنا چاہتا ہوں بھابی۔ یہ سائنس وائنس میرے بس کی بات نہیں۔۔
    میں تمہارے بھائی سے بات کرتی ہوں۔ طوبی نے کہا تو وہ منتیں کرنے لگا
    نہیں بھابی کسی کو مت بتانا یہ بس آپکے میرے بیچ کی بات ہے۔۔ پلیز بھابئ۔
    اسکو اتنا ڈرا ہوا دیکھ کر وہ رک گئ۔پھر بات پلٹ کر بولی
    اچھا یہ بتائو بس یہی لکھی ہے یا اور بھی لکھی ہیں۔
    ایک دو ہیں مگر وہ اتنی اچھی نہیں۔۔
    وہ دکھانا بھئ چاہ رہا تھا اور جھجک بھی رہا تھا
    میں فیصلہ کروں گئ دیکھ کر ۔اس نے کہہ کر ڈائری اسکے ہاتھ سے لے لی۔ ابھی کھول کر دیکھ رہی تھی کہ اماں کی آواز نے اسے ڈرا دیا۔
    کون ہے اتنی رات کو صحن میں۔۔ وہ سٹر پٹر کرتئ کمرے سے باہر جھانک رہی تھیں۔
    دلاور نے برآمدے کی لائٹ جلا دی۔ وہ طوبی کی شال لپیٹے سکڑے ہوئے صراحی سے پانی نکال رہے تھے۔
    میں ہوں اماں پانی پینے آیا تھا۔انہوں نے آواز دے کر اماں کو تسلی کرائی۔ خاور اور طوبئ گھبرا سے گئے۔ جانے کب دلاور اٹھ گئے انہیں پتہ نہ لگا۔۔
    طوبی زینت رو رہی ہے دیکھو شائد اس نے کپڑے گیلے کر لیئے ہیں۔ وہ سرسری سے انداز میں کہتے واپس مڑ گئے۔
    ببر شیر بنا دھاڑے غار میں واپس چلے گئے آج تو انہونی ہوگئ۔ ۔ خاور نے دعا مانگنے کی طرح اپنے اوپر سے ہاتھ وارا اور بلا ٹلنے پر شکر ادا کیا تو وہ اسکے کندھے پر مکا مار کر بولی
    تم ہر وقت میرے میاں کی برائیاں مت کیا کرو بہت اچھے ہیں وہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات انہوں نے ساری باتیں سن لی تھیں۔۔۔۔ زینت کے ایکدم رو پڑنے پر انکی آنکھ کھلی تھی۔ وہ تو انکئے تھپکنے پر دوبارہ سو گئ مگر مسہری کے دوسرے سرے پر طوبی نہیں تھی۔ باتھ روم باہر صحن میں تھا اور وہ شال لیئے بنا ہی چلی گئ تھی۔ وہ اسکی لاپروائی پر بڑبڑاتے اٹھے تھے۔ بیڈ سے شال اٹھا کر صحن میں آئے تو انہیں باتیں کرتے دیکھ کر فطری تجسس سے سن بیٹھے۔جبھی صبح ناشتہ کرتے ہوئے سرسرئ سے انداز میں طوبی کو کہا۔
    خاور سے کہو میٹرک کا داخلہ فارم لے آئے۔ اور سائنس میں تو فیل ہوئے جا رہا ہے اس سے کہو اس دفعہ آرٹس کے مضامین رکھ کر امتحان دے۔ مجھے ہر صورت اسکی ڈگری چاہیئے۔
    جی۔۔ وہ اتنئ حیران ہوئی کہ بٹر بٹر دیکھتی رہ گئ۔
    میں کہہ رہا ہوں۔ وہ گہری سانس لیکر دوبارہ بتانے والے تھے جوابا طوبی جس طرح ایکدم خوش ہوئی
    سچی۔ میں ابھئ جا کے اسکو کہتی ہوں فارم لیکر آئے۔ وہ خوش خوش فورا اٹھ کر باہر جانے لگی
    ابھئ سو رہا ہوگا ۔۔ اٹھے تب کہہ دینا۔ ابھی ناشتہ تو کر لو۔
    وہ اسکا پرجوش انداز دیکھ کر مسکرا دیئے۔ انکی اور اسکی عمر کا بس یہی فرق انکی باتوں سے جھلکتا تھا۔ انکے سرہانے بم پھوڑ دو وہ مسکرا دیں اور طوبی پٹاخوں پر ااچھل پڑنے بے ساختہ خوش ہو کر اسکا اظہار کرنے کی ہی عمر میں تھی۔ صبح عموما وہ اکیلے ناشتہ کرتے تھے کیونکہ طوبئ کاموں میں الجھی ہوتی تھئ مگر جب سے زینت ہوئئ او ر انہیں اکثر پوچھنے پر طوبی کا یہ جواب ملنے لگا کہ آج تو ناشتے کا وقت نہ ملا وغیرہ تب سے انکے سختی سے کہنے پر وہ انکے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرتی تھی۔
    ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ وہ سر پر ہاتھ مارتی واپس بیٹھ گئ۔
    بیوی کی سعادتمندی پر انہیں ہنسی آگئ تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دفتر سے تھکے ہارے ابھی گھر پہنچے تھےحسب عادت اماں کے کمرے میں سلام کرنے کی غرض سے چلے آئے۔ روبی راحیلہ اور اماں ایک پلنگ پر۔بیٹھی جانےکیا کھسر پھسر کر رہی تھیں کہ انکی شکل دیکھتے ہی گڑبڑا کر چپ ہوگئیں
    آگیا میرا پت مانو اری مانو بھائی کے لیئے چاء پانی لیکر آ۔۔
    امآں سب سے پہلے سنبھل کر ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں ساتھ ہی چھوٹی کو آواز بھی لگا دی۔
    رہنے دیں امآں میں پہلے کھانا کھائوں گا۔ بھابی کہاں ہیں تم لوگوں کی۔
    وہ وہیں انکے پاس بیٹھتے ہوئے برسبیل تذکرہ نہیں دل سے پوچھ رہے تھے گھر آتے ہی سب سے پہلے جسکی صورت دیکھنے کی خواہش جاگتی تھی اس سے سامنا سب سے آخر میں ہوا کرتا تھا۔
    انکی بات جیسے تینوں نے سنی ہی نہیں۔۔ البتہ مانو انکی چھوٹی بہن کتاب اٹھائے دوڑی آئی۔۔
    بھیا ایک سوال۔سمجھا دیں کل میرا ٹیسٹ ہے بالکل۔تیاری نہیں۔
    بھائی کو سکھ کا ساہ تو لینے دے کلمونہی بڑی آئی۔ جا جاکے پانی لیکر آکر میرے پت کیلئے۔
    اماں نے ڈپٹا تو وہ منہ بسورنے لگی۔ مانو میں انکی۔جان بند تھی فورا اماں کو ٹوک دیا
    کوئی بات نہیں ادھر لائو میں سمجھا دیتا ہوں
    انہوں نے اپنے پاس پلنگ پر اسے بٹھا دیا
    راحیلہ اچک اچک کر باہر دیکھ رہی تھی۔ اماں اور روبی کی سرگوشیاں۔
    جانے کیا کھچڑی پک رہی تھی وہ اٹھ گئے۔ اماں تیر کی۔طرح کمرے سے باہر نکلی تھیں۔
    چلو ادھر چل کر بیٹھیں۔۔
    کمرے کے انتہائی کونے میں لکڑی کی چوڑی کرسیاں موٹی گدیاں ڈال کے رکھی گئ تھیں ساتھ چوڑی سی میز بھی تھی۔ مہمانوں کی آمد پر اسے ہی گھسیٹ کر بیچ میں رکھ کر ناشتہ چن دیا جاتا تھا اور باقی وقت مانو کا بستہ پھیلا رہتا تھا اسے لیکر وہ یہیں آبیٹھے۔
    حساب کا سوال سمجھاتے وہ مگن تھے جب اچانک اماں خاور کا ہاتھ پکڑکر کھینچتی اندر لے آئیں۔
    یہ دیکھو اسکی حرکتیں میں اپنی بہو کو کیا کوسوں میری اپنی اولاد میرے منہ پر کالک ملنے پر تلی ہے۔
    انہوں نے زور دار دھموکا خاور کی پشت پر لگایا۔۔
    وہاں باورچی خانے میں پوچھ اس سے کیا کہہ رہا تھا بے غیرت ۔۔۔۔
    یہ حساب کتاب ان سے ہی کرنے کو کہا جا رہا تھا اماں نے خاورکو انکے سامنے ہی کٹہرے میں لاکھڑا کیا تھا۔ دلاور کچھ نہ سمجھتے ہوئے گم صم سے کبھی خاور کو دیکھتے کبھی اماں کو۔
    کچھ نہیں کہہ رہا تھا میں اماں بات کا بتنگڑ بنا رہی ہیں میں بس یہ دینے گیا تھا۔
    خاورسٹپٹایا سا شاپر آگے کرکے بولا۔
    یہ میری اولاد ہے۔۔ اماں نے شاپر اس سے چھین کر راحیلہ کی جانب اچھال دیا۔
    میری ناک کے نیچے بھاوج کو ۔۔ یا خدایا میں کیا منہ دکھائوں گی تیرے ابا کو ۔۔ اماں نے دو ہتھڑ مزید خاور کے جڑے پھر اپنا سینہ پیٹ لیا۔
    ہائے اللہ اماں کیا کہہ رہی ہیں یہ تو بچہ ہے میں تو پہلے ہی کہتی تھی شہر سے کڑی مت لائیں میری نند پانچ جماعتیں پاس کیسی میمنے جیسی معصوم لڑکی تھی مگر تب آپ پر اس ۔۔۔
    بس کرو روبی باجی سب آگ تمہاری لگائی ہوئی ہے جانے اماں کو کیا پٹی پڑھائی ہے بھائی میرا یقین کریں میں بھابی کو صرف یہ چوڑیاں دینے گیا تھا۔
    خاور انکے قدموں میں آبیٹھا انکے گھٹنے پکڑ کر گڑگڑاتا انکا بھائی صفائی کس چیز کی دے رہا تھا یہ بھی انکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا
    کیا ہوا ہے امی کیا کردیا اس نے؟
    دلاور نے سیدھا اماں سے ہی پوچھ لیا۔ اماں چمک کر راحیلہ کے ہاتھ سے چوڑیاں چھین کر بولیں جو وہ شاپر سے نکال کر دیکھ ہی رہی تھی
    یہ دیکھو اپنی گھنئ میسنی بیوی کو دیور سے چوڑیاں منگوا رہی ہے کونسا یہ نمانا کماتا ہے ؟ ایسے ارمان تھے تو تجھ سے فرمیش کرتی دیور سےایسی فرمائشیں کرتے شرم سے ڈوب کیوں نہ مری۔۔۔
    یہ نہ اماں کا لہجہ تھا نا انداز صاف لگ رہا تھا کسی نے ان پر خوب محنت کرکے بھڑکایا ہے۔ راحیلہ ششدر سی کھڑی تھی تو روبی کمر پر ہاتھ رکھے الرٹ سی۔
    خدا کا۔خوف کریں امی بھابی ہے وہ میری۔ مجھ سے مانا دو تین سال ہی بڑی ہے مگر میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں مانو روبی جیسی بہن ہے وہ میری۔ قسم سے جھوٹ نہیں بول رہا اماں۔ بھائی اللہ کی قسم آپ کو تو یقین ہے نا مجھ پر۔
    اٹھارہ سالہ خاور آواز بری طرح گھبرا گیا تھا۔ ۔
    کمرے میں پنچائیت سئ لگی ہوئی تھی۔ اماں روبی انکی چھوٹئ شادی شدہ بہن ، راحیلہ جسکی منگنی ہوچکی تھی سب سے چھوٹئ مانو جو دو چوٹیاں گوندھے بیٹھی تو کونے میں انکے پاس ان سے حساب کا سوال سمجھنے تھی مگر اب گپ چپ سی ٹکر ٹکر سب کی شکل دیکھ رہی تھی۔ کمرے کے انتہائی کونے میں کرسی پر وہ ہارے ہوئے انسان کی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ سب دائرے کی صورت خاور کو گھیرے تھیں
    کبھئ روبی کیلئے لائے چوڑیاں ؟ اماں تنک کر بولیں۔
    ہاں تو اور کیا روبی نے چمک کر کہا
    بھیا مجھے اللہ کی قسم ایسا کچھ نہیں ہے۔ مانو کیلئے کل چوڑیاں لایا تھا بھابی کو اچھی لگیں تو میں نے وعدہ کیا تھا کہ ویسی انکے لیئے بھی لائوں گا۔ یہاں گائوں میں سالانہ میلے سے لایا ہوں۔ یہ دونوں پرسوں میلے میں گئی تھیں اتنی چیزیں لائیں مگر نہ مانو کو لیکر گئیں نا بھابی کو بس اسلیئے بھیا۔۔۔۔
    وہ صفائی دیتا روپڑا تھا۔۔۔وہ انکا ماں جایا تھا بچپن میں گودوں کھلایا تھا اسکی بات کا وہ کیسے یقین نہ کرتے یقینا اسکی جانب سے ایسی کوئی بات نہ تھی۔ مگر کیا طوبی۔۔ لمحہ بھر کو ہی سہی انکا دل تھم سا گیا تھا۔
    ووہٹی ہے تو رج کے سوہنی مگر چھوٹی بہت لگ رہی ہے ثریا بہن۔۔
    دلہا بنے ہوئے انکی سماعتوں سے یہ تبصرہ ٹکرایا تھا اور انہیں خبر بھی نہ تھی کہ اٹکا رہ گیا۔
    بھیا کچھ تو بولیں۔ آپکو بھی مجھ پر شک۔ہورہا ہے۔
    خاور بلک بلک کر رو پڑا تھا۔
    اماں اپنی اولاد پر کون ایسے الزام لگاتا ۔۔ راحیلہ تڑپ کر بولی۔۔
    ہاں اماں جس کا کیا دھرا ہے اسکو فارغ کرائو۔
    روبی تنک کر آگے بڑھی۔
    بھیا ابھی طوبی کو تین طلاق دیکر فارغ کریں ایسی تیز عورت بھائیوں میں پھوٹ ڈال رہی ہے نکال باہر کریں اسے۔
    نہیں بھیا بھابی کو کچھ مت کہیئے گا انکا کوئی قصور نہیں
    خاور تڑپ اٹھا
    کیسے قصور نہیں چلتا کریں بھائی اس عورت کو کیا اثر پڑے گا دو جوان بہنیں ہیں ہماری ۔۔۔
    روبی اماں خاور سب اکٹھے بول رہے تھے
    کیسے حمایت کر رہا ہے اسکی ظاہر ہے ٹکوریں کرتی تھی اسکی چوٹوں کی دودھ ہلدی بنا بنا کر دیتی تھی مجھے کیا خبر تھی کہ
    بس۔
    وہ ایکدم سے چلا کر اٹھ کھڑے ہوئے
    بند کرو یہ سب بکواس۔ خبردار جو اس بکواس کا ایک۔لفظ بھی اس کمرے سے باہر نکلا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ وہ میری بیوی ہے مجھے جو کرنا ہوگا فیصلہ میں خود کروں گا مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے سمجھ آئی تم سب کو۔
    انکے یوں پھٹ پڑنے پر کمرے کے جملہ نفوس کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ انکے گھٹنے سے لگا خاور بے دم سا ہو کر پیچھے ہوا تھا۔
    بھیا ۔۔۔
    آنسو بھری نگاہوں سے اس نے انکی جانب دیکھا تھا۔ سر تھامتے دلاور کو اپنے حواس مختل ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔ بھائی کی آنسوئوں سے بھری نگاہیں خود پرمحسوس ہو رہی تھیں مگر اسکی جانب دیکھنے سے انہوں نے دانستہ احتراز کیا تھا۔
    مانو پانی لا کر دو۔
    انہوں نے دھیرے سے مانو سے کہا تو وہ کتاب رکھ کر دوڑ گئ۔
    بیٹھو بیٹا۔
    انکا رنگ اتنا زرد ہو رہا تھا کہ اماں بھی گھبراگئیں
    جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں کرسی پر بٹھانے لگیں
    راحیلہ اسکی جانب بڑھی تو روبی سر جھٹک کر پلنگ پر جا ٹکی
    گڈو۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانا چاہا۔۔
    خاور نے خالی خالی نگاہوں سے راحیلہ کو دیکھا۔ راحیلہ لرز سی گئ۔
    گڈو اٹھو اندر چلو۔ اپنے جوان توانا بھائی کو یوں پڑا دیکھ کر اسکا دل کٹ رہا تھا۔
    بھائی کبھی تو آپ میرا یقین کرتے۔ دس لڑکوں کی مار نے مجھے اتنا درد نہیں دیا جتنا آج آپکے نگاہ چرانے نے۔۔
    دلاور کو شاکی نگاہ سے دیکھتا وہ خود کھڑکی کا سہارا لیتا اٹھا۔۔
    بھیا۔۔ میری ایک۔گزارش ہے بس۔ میری کسی بھی غلطی کی سزا بھابی کو مت دینا انکا کوئی قصور نہیں۔۔
    اسکی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی جاری ہوئی وہ کہہ کر ٹھہرا نہیں کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
    گڈو ۔ رکو۔ راحیلہ پکاری دلاور مانو کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تھام رہے تھے اسکے جملوں پر ایکدم جیسے کسی نے انکا دل مسل ڈالا تھا۔ایکدم پانی کا گلاس رکھتے اسکے پیچھے لپکے۔۔۔۔۔
    اندر جانے کس بات پر جھگڑا ہوا وہ تو باورچی خانے میں چولہے کے پاس بیٹھی تھی۔ جب اس نے تیزی سے خاور کو باہر نکلتے دیکھا۔
    خاور کھانا گرم کردیا۔ اس نے وہیں سے پکارنا چاہا بے دھیانی میں تیزئ سے مڑی مگر وہ غیر معمولی طور پر تیز تھا۔اسکے پیچھے دلاور بھئ نکلے وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی ایک شعلہ سا لپکا تھا۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتنا رکیک الزام بھی اس پر لگ سکتا ہے۔ وہ غم و غصے سے پاگل ہو چلا تھا۔ بنا سوچے سمجھے گھر سے نکلا تھا۔ اڈے پر آکر ویگن میں بیٹھتے اسکو بس یہی دھن سوار تھی کہ ایسے گھر میں اب اسے واپس نہیں جانا۔
    اتنی رات کو کدھر کی تیاری ہے۔ ایک تو گائوں کے لوگ۔ اس نے سر جھٹکا۔ آخری ویگن سات بجے نکلتی تھئ سات بجے کے بعد گائوں سے کم از کم بچے شہر نہیں جاتے تھے سو کنڈکٹر نے کان سے پکڑا تھا اسے۔۔
    جہاں بھئ جائوں تجھے کیا ۔۔ وہ بدتمیزئ کرکے نکل جانا چاہتا تھا مگر چاچا بھی اسی گائوں کا تھا۔ ایسے اتھرے بچوں کو جو معمولی باتوں پر گھر چھوڑ کر شہر بھاگنے کو تیار ہوتے تھے تقریبا روز ہی ایک دو کو تھپڑ مار کر بھگاتا تھا
    بتائوں مجھے کیا؟ اس نے بلا لحاظ اسکی پشت پر ہاتھ جمایا
    تیرے ابا کا سنگئ ہوں بد تمیزئ کی تو یہیں مار مار کر بھرتہ بنا دوں گا۔ چلو جائو گھر بھرجائئ پریشان ہو رہی ہوگئ۔ نکلو۔اسے حقیقتا اس نے کان سے پکڑ کر ویگن سے نکالا تھا اور دھکے دے کر کھیت کی طرف بھیجا پھر جب تک وہ مڑ کر گائوں کی طرف چل نہیں دیا چاچے نے ویگن نہ چلائی
    کیا مصیبت ہے۔ وہ جھلا رہا تھا۔ یہ ذیلی سڑک تھی آگے بڑی سڑک تک پیدل جاتا تو مزید کوئی بس ویگن آرام سے مل جاتئ۔ وہ سر جھکا کے سڑک کنارے چلتا جا رہا تھا گھپ اندھیرے میں اسے ہلکا ہلکا خوف بھی محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے ٹارچ تک تو لی نہیں تھی۔ ذیلی سڑک بمشکل ختم ہوئی آگے جی ٹی روڈ تھئ۔بڑے بڑے ٹرک گزر رہے کچھ چھوٹی بڑی گاڑیاں بھی۔ اس نے آگے بڑھ کر لفٹ لینی چاہی مگر گاڑیاں اسکے لیئے رک نہیں رہی تھیں ٹرک کے آگے آنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ آخر ہمت کرکے وہ ایک ٹرک کے آگے آہی گیا۔ قریب آتے آتے۔ جانے وہ ٹرک ڈرائیور کو نظر ہی نہیں آیا کہ کیا جب ٹرک بالکل قریب آگیا تب اس نے چھلانگ لگا دی کچے میں ورنہ ٹرک کے نئچے ہی آجاتا۔ وہ کروٹ کے بل کچے راستے پر گرا تھا۔ سڑک کنارے لگا سنگ میل اسکے پائوں پر لگا تھا وہ کراہ کر وہیں بیٹھتا گیا۔۔۔۔۔۔سڑک پر ٹریفک رواں تھا۔ اسے اپنے پائوں پر کچھ گیلاپن محسوس ہو رہا تھا مگر اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔ سردی میں تکلیف سے کراہتے جب اس کے حواس مختل ہونے لگے تب خیال آیا وہ تو گائوں کے واحد ذیلی سڑک پر پڑا ہے یقینا بھیا اسے ڈھونڈنے نکل پڑے ہوں گے۔ وہ انکو فورا ہی مل جائے گا بس تب تک اسے اپنے حواس قائم رکھنے تھے۔ اسکا ذہن یہی سوچتے بوجھل ہوگیا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور کو آکسیجن لگی ہوئی تھی ۔ دلاور اسکے سرہانے بیٹھے ایک ٹک اسے دیکھے جا رہے تھے۔ جیسے نظروں سے منتیں کر رہے ہوں کہ اٹھ جائو۔ وہ گہری سانس لیکر کمرے کا دروازہ بند کرکے باہر نکل آئی۔ دن چڑھ چکا تھا اب اسپتال میں خاصی چہل پہل تھی اسے یہاں کئی گھنٹے بیت چکے تھے۔ خاور کو کمرے میں شفٹ کروانےمیں وہ دلاور کے ساتھ ساتھ رہی تھئ۔ اب دن کے گیارہ بجے تک اسکو تھکن کے مارے چکر آرہے تھے۔ وہ ناشتہ کرنے کی نیت سے کینٹین جانا چاہ رہی تھی مگر لہرا کر وہیں لابی میں بنچ پر بیٹھنا پڑ گیا۔
    طوبئ اور سیہون کے ساتھ آتی فاطمہ نے گھور کر دیکھا تھا اسکو۔ طوبی کو بتانے کا اسی نے فاطمہ کو کہا تھا۔
    اب کیسا ہے خاور۔۔ طوبئ بے تابی سے اسکے پاس آکر پوچھ رہی تھئ۔
    اسکا سر چکرا رہا تھا سو اشارے سے کمرے کی جانب اشارہ کیا
    اسکو لیکر ذرا گھر جائو۔۔ فاطمہ نے دانت پیس کر سیہون کو کہا تھا خوداسے گھورتئ طوبئ کے ساتھ آگے بڑھ۔گئ
    چلو گئ میرے ساتھ یا مجھے بھی ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا ہے تم نے۔
    اس نے طنز کیا تھا۔ ہنگل میں۔
    مجھے چکر آرہے ہیں۔ واعظہ نے مسمسی سی شکل بنالی تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے ہمیشہ لگا ہے تم میری دوست ہو مگر میں تمہارا دوست نہیں ہوں۔ میں نے ہمیشہ ہر موقعے پر سب سے پہلے تمہیں یاد کیا ہے مگر میں تمہارے لیئے دنیا کا آخری انسان ہوں جس سے تم کبھی پکاروگی بھی۔
    دونوں ہاتھ اسٹئیرنگ پر جمائے وہ مکمل طور پر سڑک پر نگاہ جمائے فضیحتے کر رہا تھا۔ پسنجر سیٹ پر بیٹھی واعظہ پوری توجہ بن اور کافی ختم کرنے میں لگی ہوئی تھی۔
    مجھے کوئی مسلئہ درپیش ہی نہیں ہوتا کیا کروں۔ کھاوا کی جگہ میں گاڑی کے نیچے آئی ہوتی اسپتال میں پڑی ہوتی تب تم یہ شکوہ کرتے جچتے۔
    کھا پی کے طبیعت بحال ہوئئ تھئ شائد اسکی جبھی چڑ کر بولی
    مجھے ایک بات بتائو۔ یہ عزہ فاطمہ وغیرہ تو چلو سہیلیاں ہیں تمہاری یہ دلاور صاحب کس خوشی میں تمہیں اپنے بھائی کے حادثے کی اطلاع دے رہے تھے؟ اور تم پہنچ بھی گئیں۔انکی بیوی بچوں کو خبر دیتیں کافی تھا الٹا پچھلے چار پانچ گھنٹوں سے اسپتال میں ہو۔کوئی حد ہے تمہارے اس سوشل ورک کی۔
    وہ تائو کھا رہا تھا اسکی فکر میں
    پڑوسی ہیں وہ ہمارے اور اسلام میں پڑوسیوں کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔
    وہ مصنوعی معصومیت سے بولی
    ایک تو یہ اسلا۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے اسکے متوقع ردعمل کا سوچ کر زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
    بیان۔ معزرت بھئ کرلی۔واعظہ نے ترچھی نظر ڈالی اس پر۔۔
    ویسے تم اسکارف نہیں کرتیں نماز پڑھتے مسجد جاتےبھی نہیں دیکھا۔۔۔۔
    وہ کہہ رہا تھا واعظہ نے بات کاٹ کر تصحیح کی
    لڑکیاں مسجد نہیں جاتیں۔ اور میں نماز اللہ کیلئے پڑھتئ ہوں دنیا کو دکھانے کیلئے نہیں۔ اس نے دنیا پر زور دے کر کہتے گھورا۔۔
    چلو۔ جو بھئ ہے۔ مزہب ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ ایک اچھا انسان ہونا کافی نہیں؟ کیا فائدہ انسان مزہبی ہو مگر انتہا پسند ہو دوسروں کو تکلیف پہنچاتا ہو دھوکا دیتا ہو۔۔
    وہ موڑ کاٹتے ہوئے جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
    کہنا کیا چاہ رہے ہو۔۔ وہ بیزار ہوئی۔
    جونگیا کو چھوڑنے کی بس ایک وجہ ہے تمہارے پاس کہ وہ تمہارا ہم مزہب نہیں مگر کیا وہ انسان بھی نہیں ہے؟ اسکے ذکر کو ٹال جاتی ہو اسکے بارے میں بات نہیں کرتی جبکہ وہ ابھی بھئ۔۔۔۔۔۔۔اور تم تم خود بھی تو۔۔۔۔۔
    وہ بے دھیان ہوا تھا کہ کیا ایکدم سے گاڑی قابو سے باہر جانے لگی اس نے تیزی سے موڑ کاٹ کر گاڑی سائیڈ میں لگا کر روک دئ۔
    جب ہم غلط جگہ غلط بات صحیح انسان سے بھی کریں تو کچھ نہ کچھ غلط ہو ہی جاتا ہے۔
    واعظہ نے جتانے والے انداز میں اسے نو پارکنگ کا بورڈ دکھایا جہاں اب انکی گاڑی محو استراحت تھی۔
    سیہون دانت پیسنے لگا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسومی منچھو جی آیانا نورا سنگا کھامیا گیبون جوہا۔۔۔۔
    گٹار پر کم جونگ وون یہ گانا بجا رہا تھا۔ دھیمے سروں میں۔ اور واعظہ لہک لہک کر گا رہی تھی۔ ان کا یہ فری پیریڈ تھا سو کلاس بند کرکے یہ شغل جاری تھا۔
    گانا گا چکنے کے بعد اس نے ایک ادا سے جھک کر سب سے داد وصولی تھی۔ اسکے سب ہم جماعت فراخ دلی سے اسکی گائکی کی تعریف کر رہے تھے۔
    زبردست۔ تم آئڈل کیلئے آڈیشن کیوں نہیں دیتیں واعظہ۔
    میری نے کہا تو سیہون نے بھی زبردست انداز میں تائید کی۔
    ہاں واعظہ۔ ایس ایم انٹرٹینٹمنٹ والوں کے آجکل آڈیشن چل رہے ہیں تم وہاں جائو دیکھنا منتخب کر لیں گے تمہیں۔
    سیہون کی بات پر وہ کبھی یقین نہیں کرتی تھی سو مکھی اڑا دی۔
    اسکا اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ ڈیوڈ نے قہقہہ لگایا تھا۔
    کیوں گانے بجانے میں کیا ہے۔ سیہون کو اسکی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔
    ارے اسلام والے گانے بجانے سے دور رہتے ہیں۔ اسکو جنت نہیں ملے گی اگر اس نے کے پاپ میں ناچ گانا کر لیا تو۔
    ڈیوڈ تمسخر بھرے انداز میں کہہ رہا تھا
    ڈیوڈ اپنی زبان کو لگام دو۔ واعظہ ایکدم بھڑک اٹھی تھئ
    ویسے جونگیا اپنی گرل فرینڈ سے پوچھو اسکا اسلام ایک بڈھسٹ سے ڈیٹ کرتے۔۔۔۔۔۔ وہ آگے جانے کیا کہنے والا تھا اس نے آئو دیکھا نا تائو میز پر سے کتاب اٹھائی اسکے سر پر سے ماری
    ایک لفظ اور بولا تو سر توڑدوں گی۔
    کتاب اسکی کنپٹی پر لگی تھیں۔ وہ وہیں کنپٹی پکڑ کر دہرا ہوگیا۔ اسکی کنپٹی سے خون نکل رہا تھا۔ کیونکہ اس نے جو کتاب پھینکی تھی اس میں پنسل رکھی ہوئی تھئ۔ پوری کلاس اسکی جانب بھاگئ ۔۔ واعظہ کو قطعی اندازہ نہیں تھا کہ کتاب اسے زخمی کردے گی۔۔ اس نے تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھر تم کہتئ ہو مسلمان انتہا پسند نہیں ہوتے۔ زرا سا دائیں جانب لگتی پنسل تو اسکی آنکھ بھی ضائع ہو سکتی تھی۔
    اسکول سےواپسی پر وہ اسکے ہم۔قدم چلتے ہوئے جتا رہا تھا۔
    میں نے اسے ایک بنا جلد ہوئی ہلکی سی کتاب ماری تھی صرف چپ کرانے کیلئے۔ورنہ وہ اسلام کے بارے میں کتنی انتہاپسندی سے بات کرتا ہے تم جانتے ہو۔ مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اسکو یوں پنسل چبھ جائے گی۔ میں کل معزرت کرلوں گی اس سےاور۔ڈسپلن کمیٹی سے بھی
    ڈیوڈ نے تمہاری شکایت نہیں کی۔۔۔۔۔ جونگیا نے گہری سانس لی
    اسکی تیز چلنے کی وجہ سے سانس پھولنے لگی تھی۔ واعظہ نے اپنی رفتار کم کر لی۔
    کر لیتا میں بھی پھرکرتی کہ وہ مستقل کوئی نہ کوئی بات نکال کر اسلام کے خلاف بولتا رہتا ہے۔
    واعظہ نے مٹھیاں بھینچیں۔
    اگر وہ بولتا ہے تو بولنے دو۔ تمہارا کیا جاتا ہے۔
    جونگ وون نے بات آئی گئ کرنے کی غرض سے کہا تھا۔
    میں اس وقت بڈھزم کا مزاق اڑائوں بدھا کا مزاق اڑائوں برداشت کر لوگے ۔۔ واعظہ رک کر اسکے مقابل آکر پوچھ رہی تھی۔
    اڑالو۔ میں تمہاری طرح فالتو باتوں پر جزباتی نہیں ہوتا۔ اس نے کندھے اچکا کر چڑایا
    مجھے سنجیدہ جواب دو۔ کہوں میں کچھ الٹا سیدھا تمہارے عقائد کے بارے میں؟
    وہ سنجیدہ تھئ۔
    کہو۔ اس نے گہری سانس لی۔
    کیا کہو گی؟ بدھا نے کبھی ایسے کوئی اصول نہیں بنائے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی جسکا مزاق اڑایا جا سکے۔ وہ برابری کے قائل تھے۔ امن کا درس دیتے تھے۔ انکے احکام مردوں اور عورتوں دونوں کیلئے ایک جیسے تھے۔اچھا کروگے اچھا ملے گا برا کرو گے برا ہوگا۔ اب ان باتوں کی سچائی سے تو انکار نہیں کرما وجود رکھتا ہے۔ آپ آج جو کچھ کہیں گے کریں گے کل کو اسی کا جواب ملے گا آپکو ۔۔۔
    وہ رسان سے بول رہا تھا
    تو اسلام نے ایسا کیا کر دیا ہے؟ یہ بھی دین ہے جو برائی سے روکتا ہے اچھائی کی تبلیغ کرتا ہے اور
    واعظہ نے دلیل دینی چاہی۔
    ہاں عورتوں کے لیئے کچھ مردوں کیلئے کچھ۔ خود کو دیکھو تم سے یہ سب احکام سہے جاتے ہیں اسکارف لیتی ہو کوئی؟
    وہ جو لمبا چوغا ہوتا۔۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔ واعظہ نے تلملا کر کچھ کہنا چاہا مگر وہ اشارے ہاتھ اٹھا کر ا سے روک گیا۔ وہ جو مسلم عورتیں پہنتیں ہیں باہر نکلتے تم سے بھی اتنی پابندی نہیں ہوتی۔ اسلام کے حساب سے تو ابھی میں اور تم باتیں کرریے یہ بھی گناہ ہے نا ؟ ڈیوڈ نے کیا غلط کہا تھا ؟
    اتنی اچھی آواز ہے مگر تم کے پاپ کے لیئے آڈیشن تک دینے نہیں جا سکتی ہو تمہارے پیرنٹس الائو نہیں کریں گے۔
    پورک نہیں تو دور عام گوشت بھئ نہیں کھا سکتیں ہمارے ساتھ ہم دن گن رہے ہیں کب 21 سال کے ہوں اور ہمیں شراب پینے کی اجازت سرکاری طور پر مل جائے تم تو 21 سال۔کے بعد بھی نہیں پی سکو گی اتنا مشکل مزہب ہے تمہارا ۔۔۔
    تمہیں جس بارے میں معلومات نہیں مت بولو۔ مانا میں عبایا یا اسکارف نہیں لیتی مگرمیرا لباس اس وقت بھی مناسب ہے۔ اور۔۔۔
    بس ۔۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
    میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کونسا مزہب صحیح ہے کونسا غلط ۔ تم اپنے مزہب پر رہو جیسے مرضی مگر تمہیں یوں کسی پر اپنےنشانے آزمانے کا کوئی حق نہیں۔۔۔۔ اسکے الفاظ سخت مگر انداز خاصا نرم سا تھا۔
    وہ چپ ہوگئ۔۔۔
    چلو چلیں۔ اس نے اپنی طرف سے بات ختم کر دی تھی مگر بات یوں ختم ہوئی نہیں۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج 14 فروری تھی۔ وہ سب اسکول میں خوب تیار ہو کر آئے تھے۔ ذیادہ تر نے یونیفارم کے کوٹ کے نیچے سرخ شرٹ یا سویٹر پہن رکھا تھا۔ اوریونیفارم پر ہونے والا جرمانہ بھی خوشی خوشی بھرا تھا۔۔۔۔
    گیٹ کے قریب کھڑے منتظم استاد کی طبیعت جھک ہو چکی تھی۔ جب ایک کے بعد ایک سب سرخ ہی پہنے آتے نظر آئے تو وہ بھی تھک کے ایک دو کو ڈنڈے لگا کر ایک طرف بنچ پر بیٹھ ہی گئے۔
    یا آگاشی۔۔ اب تم۔۔۔
    وہ اپنی دھن میں بیگ لٹکائے اسکول گیٹ سے اندر آرہی تھی۔جب سر جان نے اسے آواز لگائی
    جی سر۔ وہ وہیں سے پکاری۔۔
    اچھا تم ہو۔ جائو جائو۔
    انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کو کہا۔
    وہ کندھے اچکا کر اندر کی۔جانب بڑھ گئ
    یہ اسکرٹ تو نہیں پہنے وے ؟ پیچھے اسے کسی لڑکی کا اعتراض سنائی دیا
    یہ مسلم ہے اس نے خاص اسکول سے اجازت لی ہے۔۔۔ بس یہی پینٹ پہن کر آتی ہے اسکو۔۔
    اس نے ان آوازوں سے بچنے کیلئے قدم تیز کر لیئے۔۔
    سارا دن تو پڑھائی میں مصروف گزرا مگر آدھی چھٹی کے بعد وہ سب پڑھنے کو تیار نہ ہوئے تو استاد بھی انکو انجوائے یور سیلف کہتے نکل گئے۔ وہ اسکول کینٹین سے کھانا نہیں کھاتی تھئ سو آرام سے گرائوںڈ وغیرہ میں کہیں بیٹھ کر لنچ کرتی تھی۔ آج تو گرائونڈ میں سب امڈے پڑے تھے کہیں لال غبارے لگا کر ویلنٹائن ڈے منا رہے تھے تو کہیں کوئی گھٹنوں کے بل بیٹھا پرپوز کر رہا تھا۔ وہ گرائوںڈ تک جاتی سیڑھیوں پر بیٹھی دلچسپی سے دیکھتے کھانا کھا رہی تھی جب میری اسکے بابر آن بیٹھئ
    آج جونگ وون بہت بڑا سا شاپرلایا ہے یقینا اسکا ارادہ تمہیں آفیشلی پرپوز کرنے کا ہے۔
    اسکی بات پر اسے ایکدم اچھو لگا تھا۔
    ایویں ضرورئ تھوڑی میرے لیئے لایا ہو۔۔۔ اس نے ٹالنا چاہا
    تو اورکس کے لیئے لائے گا۔ الٹا وہ حیران ہوئی
    اس نے سیہون کے سامنے خود اعتراف کیا ہے وہ تمہیں پسند کرتا ہے۔ اور یقینا تم بھئ۔۔ تو آج تو پرپوز ہی کرے گا۔۔
    ضرورئ نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی۔۔۔
    وہ بتانا چاہ رہی تھی کہ وہ اسے پہلے ہی پرپوز کر چکا ہے
    مگر تبھی میری کو سیہون نے آواز دے ڈالی تھی وہ اٹھ کر ہی چلی گئ۔ کھانا ختم کرکے وہ واپس کلاس روم میں آکر اپنے مخصوص ڈیسک پر آکر بیٹھئ ۔ اپنا بیگ کھول کر ڈیسک پر بکھری کتابیں رکھنے لگی۔۔ تبھی ڈیسک کی دراز میں اسے کوئی چیز محسوس ہوئئ۔ اس نے نکالا تو شاپر تھا۔ اندر کوئی ڈبے جیسئ چیز تھئ۔ اس نے نکال کر دیکھنا چاہا۔۔تو مشہور ریستوران کا ڈسپوز ایبل پیک تھا اس پر بڑا سا سور ہی بنا ہوا تھا اسپائسی پورک فیٹ۔ یقینا اندرپورک فیٹ تھے مصالحہ بھرے ٹرانپیرنٹ شیٹ سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ ۔۔۔ اس سے قبل کہ وہ کوئی ردعمل دکھاتئ پیچھے سے ڈیوڈ نے آکر اس سے شاپر اچک لیا۔
    بیان۔ میں یہاں بیٹھا تھا تو میں نے رکھ دیا تھا۔ وہ معصوم بن کے کہہ رہا تھا۔ یقینا اتنا معصوم تھا نہیں۔
    آئیندہ میری نشست پر بیٹھو تو یہ ( Shit) گندگئ اپنے ساتھ لیکر اٹھنا۔۔
    وہ بھڑک اٹھی تھی۔
    گندگئ؟ وہ ہونق ہوا۔تبھی بستہ کندھے سے لٹکائے جونگ وون جماعت میں داخل ہوا تھا۔ اسکو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں چمک سی آگئ۔ زرا زور دار آواز میں بولا
    کھانے کیلئے لایا ہوں۔ اسکو گندگئ کیسے کہہ سکتی ہو۔ جونگ وون کو بہت پسند ہیں یہ۔ اسکے لیئے لایا ہوں۔
    جونگ وون۔۔
    اسکے پکارنے پر جونگ وون سیدھا اسی کے پاس چلا آیا۔
    یہ لو میں تمہارے لیئے لایا تھا۔ پورک ہیڈ۔ مسکرا کر اسے پیش کرتے ہوئے وہ کن اکھیوں سے بل کھاتی واعظہ کو ہی دیکھ رہا تھا
    میرے لیئے۔ جونگ وون نے جھٹ نوالہ لیا تھا۔
    جونگ وون تم نے وعدہ کیا تھا کہ پورک نہیں کھائو گے کبھی۔ وہ پیر پٹخ کر چلائی۔
    اوہ ہاں۔ وہ لاپروائئ سے ہاتھ جھاڑنے لگا۔
    کیوں جونگ وون پورک کیوں نہیں کھائوگے مسلمان ہو گئے ہو کیا؟ ڈیوڈ بھولپن سے پوچھ رہا تھا۔
    ابے نہیں یار۔۔۔ اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
    ہو جائو مسلمان سنا ہے مسلمان چار چار بیویاں رکھ سکتے۔۔
    دوسرے ہم جماعت نے بھئ شرارتا ٹہوکا دیا۔
    ایک مسلئہ ہوگا ویلنٹائن ڈے پر چار چار گفٹس خرید تے جونگ وون تو ہلکان ہو جائے گا۔
    وہ سب پھر شروع ہی ہوگئے۔ ایک ٹھونک رہا تھا ایک بجا رہا تھا۔اس کو ان میں سے کسی کی کسی بات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا مگر جونگ وون۔۔ وہ بھی ان سب کے ساتھ ہنستا ان جیسا ہی لگ رہا تھا۔ اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور جھٹکے سے مڑ کر جانے لگئ۔
    جونگ یون نے اسے یوں خفا ہو کر جاتے دیکھا تو فورا انکو ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
    دل لگئ کر رہے ہیں یہ سب جانے دو۔ موڈ نہ خراب کرو۔۔
    اس نے مڑ کر جونگ وون کو دیکھا۔ آنکھوں میں نرم سا تاثر۔
    وہ ہونٹ بھینچ کر رک گئ۔
    تبھئ اسکے دوستوں نے انکے گرد دائرہ سا بنا لیا۔ ایک دو تین۔ سب کے ہاتھوں میں دل کی شکل کا کارڈ تھا جس پر ایک ایک حرف لکھا تھا پورا لفظ پڑھتے وہ پوری گول گھوم گئ تھی۔
    آئی لو یو۔
    اسکے گول گھومتے ہی پیچھے سے لڑکیوں نے اس پر پھولوں کی بارش کر دی تھئ۔ وہ نجانے کب اس سے پہلے کلا س میں آکر سب تیاری کر گیا تھا۔ خوشی اگر کوئی لمحہ ہوتی یے تو یقینا واعظہ کیلئے یہی تھی۔ اسکا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔ جونگ وون گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا ہاتھ مانگ رہا تھا۔
    سارانگھئیے واعظہ۔ اسکے پاس چھوٹا سا خوبصورت بریسلٹ تھا۔ جگر جگر کرتی چندی آنکھیں اسکے چہرے پر اسکی نظریں جمی تھیں۔
    ٹووں ں ں۔۔
    واعظہ کا ذہن لمحہ بھر کو سن سا ہوا۔
    لمحوں میں صدیوں کی سوچ آسمائی۔ اسکے بارے میں سیہون کہتا تھا وہ سوچتی بہت ہے۔ لوگ لمحوں کو جیتے ہیں اور واعظہ جیتے ہوئے سوچتی رہتی ہے۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اپنے گرد کھڑے اس مجمعے کو دیکھا۔ سب اسکے ہم عمر ہم جماعت تھے مگر نہ ہم نسل تھے نہ ہم مزہب ۔ نہ یہ معاشرہ اسکا تھا۔ وہ تو ان سب کے درمیان یکسر اجنبی اکیلی تھی۔
    اسکے چہرے سے مسکراہٹ تھمی پھر غائب ہی ہوگئ۔
    اس منی سی تقریب کی پل پل کی ویڈیو بناتے سیہون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی تھی۔۔۔۔
    جونگ وون نے اسکا خود ہی ہاتھ تھام لیا اور بریسلٹ پہنانے ہی لگا تھا کہ اس نے چونک کر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
    جونگ وون نے حیرانئ سے اسکا یہ ردعمل دیکھا ۔۔
    یہ۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں۔ بیان۔ مجھے نہیں لگتا ہمیں اپنی دوستی کو آگے بڑھانا چاہیئے۔ چھوا اے۔( میں پسند کرتی ہوں ) مگر تم بس میرے بہت اچھے شنگو ( دوست) ہو۔ ہم ہمیشہ اچھے دوست رہیں گے۔۔۔۔
    پوری کلاس میں سناٹا چھا گیا تھا۔جونگ وون کو اپنی سانسیں رکتی سی محسوس ہوئیں۔
    یہ کیا کہہ رہی ہو۔ اس سے کھڑا بھی نا ہوا جاسکا۔
    پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
    بیان۔ اس کے لیئے بھی وہاں ان سب کی نظروں کے تیر سہنا مشکل ہو رہا تھا سو جلدی سے کہتی باہر نکل گئ۔ اسکے باہر نکلتے ہی کلاس کا سکتہ ٹوٹا تھا
    یہ کیا یہ ایسے کیسے کر سکتی ہے۔
    تمہیں اس سے پہلے بات کر لینی چاہیئے تھی پھر یوں سیلیبریٹ کرنا چاہیئے تھا۔ڈیوڈ اسکے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ہاہ۔ کتنی بے عزتی کردی۔۔ بے چارہ جونگ وون۔
    جتنے منہ تھے اتنی باتیں۔ ڈیوڈ نے جونگ وون کو سہارا دے کر اٹھنے میں مدد کی۔ سیہون نے کیمرہ بند کیا۔
    میں بات کرتا ہوں۔ سیہون کہہ کر تیزئ سے واعظہ کے پیچھے بھاگا تھا۔ وہ لمحوں میں راہداری سے غائب ہو چکی تھی۔ وہ اسے ڈھونڈتا باہر آیا تو وہ گیٹ سے نکل رہی تھی۔
    انکے درمیان کافی فاصلہ تھا مگر اس نے بھاگ کے اسکو جا ہی لیا۔ ایکدم سے اسکے آگے کر کھڑا ہوا تو واعظہ کو رکنا ہی پڑا۔
    یہ کیا تھا ؟ اس نے بلا تمہید پوچھا تھا۔
    جوابا واعظہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ پھر مزید کچھ نہ کہہ سکا۔
    اسکی آنکھیں سرخ اور چہرہ آنسوئوں سے تر تھا وہ یقینا روتی آئی تھی سارا راستہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کہتی ہے تم دونوں میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ مزہب معاشرہ نسل ہر چیز کا فرق ہے۔ وہ مسلمان ہے ڈیٹنگ اسکے نزدیک غلط ہے۔ اور ویسے بھی وہ کسی کافر سے تعلق نہیں رکھنا چاہتئ۔ وہ محبت بھی نہیں کرتی تم سے محبت کرتی تو پھر شائد کوئی راستہ نکل آتا۔
    سیہون نے اسے بالتفصیل بتاتے سمجھایا تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کے رہ گیا۔وہ لوگ اس وقت کلاسز بنک کرکے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی چھت پر بیٹھے تھے۔
    جھوٹ ہے یہ بات۔ اس نے جتنا ذور دے کر کہا تھا سیہون اسے دیکھ کر رہ گیا
    وہ جھوٹ بھی اگر بول رہی ہے تو انکار ہی کر رہی ہےوہ تمہاری گرل فرینڈ نہیں بننا چاہتی ۔۔سیہون نے اسے کندھے پر ہاتھ رکھ کے سمجھانا چاہا وہ بےزاری اسکا ہاتھ جھٹک کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں اس سے خود بات کروں گا۔ وہ فیصلہ کرکے تیز تیز قدم اٹھاتا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا
    ڈیوڈ اور اسکے دوست پارٹی کر رہے ہیں کلاس میں یقینا واعظہ اس وقت کلاس میں نہیں ہوگی گھر جا چکی ہوگی۔ اس نے پکار کر بتانا چاہا جانے اس نے سنا کہ نہیں
    ۔ سیہون نے گہری سانس لیکر آسمان کو دیکھا۔ بادل خوب گھر کر آئے تھے آج یقینا زوردار بارش ہوگی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلاس روم کینٹین اس نے ہر جگہ تلاشا تھا میری پانی کے کولر کے سامنے کھڑی ہاتھ دھو رہی تھی اس سے آکر پوچھا۔
    وہ تو شائد گھر چلی گئ ہے ابھی گیٹ کی طرف جاتے دیکھا تھا۔
    اسکا جملہ ختم ہونے سے قبل وہ دوڑ لگا چکا تھا۔۔ بادلوں نے گرجنا شروع کر دیا تھا۔ گیٹ سے آگے ذیلی سڑک پر وہ قدم بہ قدم دور جا رہی تھئ۔
    اس نے آواز دی۔
    وازیہ۔۔ وہ ٹھٹکی مڑ کر بھی دیکھا۔ مگر پھولی سانسوں کے ساتھ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہانپتے جونگ وون کو دیکھ کر بھی رکی نہیں۔۔
    برستی بارش میں چھتری کا سایہ کیئے آتئ گرمیوں کی خوشگوار سی ڈھل چکنے والی شام میں گھر کا راستہ ناپتی وہ مانوس راستوں پر تیز تیز قدم اٹھاتی گامزن تھی جب کوئی اسکے پیچھے صدیوں کا فاصلہ طے کرتا بھاگتا آیا تھا۔۔
    وازیہ۔
    مانوس آواز۔۔
    پھولی سانسوں سے جان لگا کر پکارتا کوئی۔ اسکے قدموں کی رفتار دھیمی ہوئی مگر وہ رکی نہیں۔
    وازیہ ۔۔ تم کو کیا ہوا۔ کیا برا لگ گیا تمہیں؟ ایسے کیوں چلی آئیں۔۔
    اسکو رکتا نہ دیکھ کر وہ جان لگا کر بھاگتا ہوا ایکدم اسکے سامنے آگیا تھا۔ وہ بروقت رکی ورنہ ٹکرا ہی۔جاتی۔
    گرے پینٹ سفید شرٹ والا مخصوص بیج والا یونیفارم بارش میں بھیگ چکا تھا۔ اسکول سے وہ یقینا بھیگتا ہوا بھاگتا آیا تھا۔ اسکے پاس صبح بھی چھتری نہیں تھی مگر اکثر صبح خود اسے چھتری شیئر کرکے اسکول تک بنا بھیگے پہنچانے والی وہ لڑکی اس وقت کٹھور سی ہوگئ تھی۔یکسر اجنبی نگاہوں سے کم جونگ وون کو دیکھتی وہ لڑکی ۔
    اس نے سر جھٹکا۔
    اپنی سانسیں بحال کرتا وہ جیب سے پمپ نکال رہا تھا۔ منہ میں انہیلر لیکر اس نے جلدی جلدی دوا حلق میں انڈیلی۔
    ایستھما کا مریض برستی بارش میں بھاگ رہا تھا اسکی سانس بری طرح اکھڑ چکی تھی۔۔۔ کتنے لمحے وہ بات کرنے کے قابل نہ رہا۔ اتنے لمحے کسی کو خود کو سمیٹنے میں لگ گئے تھے
    میرے لیئے تو پارٹی نہیں تھی نہ میں ٹریٹ دے رہی تھی۔ سو میرے رکنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا۔
    لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
    مگر میں نے کچھ پوچھا تھا تم سے۔۔۔۔۔ وہ چیں بہ چیں ہوا۔
    جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سینے پر ہلکے ہلکے مکے مار رہا تھا۔ سانس پھولتی اٹکتی ۔ اسے یقینا بولنا نہیں چاہیئے تھا مگر وہ بول رہا تھا۔بے تابئ سے بے چینی سے۔۔
    تم بنا جواب دیئے ایسے۔۔
    کہا تو تھا آندے۔
    لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور ایک طرف سے ہوکر نکل جانا چاہا۔
    جونگ نے اسکا بازو تھام۔کر روکا
    سرعت سے اس نے بازو چھڑایا تھا۔ جونگ کی چندی آنکھوں میں حیرانی سی اتر آئی۔ وہ لڑکی آج لحاظ کرنے کو تیار نہ تھی کتنا بیمار تھا وہ۔زرا خیال اسکی آنکھوں سے نہ چھلکا۔
    تم ۔۔ تم ایسے کیسے۔ ۔۔ میرا مطلب۔ ہاہ آہ۔ میں نے پرسوں پرپوز جو کیا اسکا جواب دو۔ کل بھی تم نہیں آئیں نا فون اٹھا رہی ہو۔۔ مجھ سے کوئی ناراضی یے۔۔
    وہ پھر سانسیں بحال کرنے لگا۔۔
    سوچ کے۔۔ جواب دینا چھے بال۔
    وہ منت کرنے پر اتر آیا۔۔
    میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جونگیا۔
    لڑکی نے پرسکون سے انداز میں اسکی بات سنی پھر ہموارلہجے میں کہتی وہ اٹھارہ سال کی ہائی اسکول کی طالبہ اس وقت جیسے جست لگا کر اسی سال کی بردباری دکھا رہی تھی۔
    کیوں ۔؟ ویئو؟
    وہ جیسے تڑپ سا اٹھا تھا۔
    کیا مطلب کیوں ؟۔۔
    وہ جیسے حیران ہوئی۔۔
    میں اور تم اچھے دوست ہیں بس۔ اس سے ذیادہ اور کچھ نہیں۔
    اس نے کندھے اچکائے۔
    ہم بہت اچھے۔۔ بہت اچھے دوست ہیں۔ ہماری دلچسپیاں، عادتیں ،خیالات سب ملتے ہیں ۔۔ ہم جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ۔۔
    آکھوں ۔۔ وہ کھانسنے لگا تھا۔۔
    میرے دلچسپیاں ، عادتیں خیالات ، کیتھرین سے بھی ملتے اسے ڈیٹ کرنے لگوں کیا؟
    وہ ہنسی۔۔ ہنستے ہوئے جونگ کو وہ دنیا کی سب سے ذیادہ سنگدل اور کٹھور لڑکی لگی تھی۔
    بارش تیز ہورہی ہے بھیگو گے تو طبیعت اور خراب ہوگی گھر جائو صبح ملاقات ہوتی ہے اسکول میں۔ آننیانگ
    نرم سے انداز میں کہہ کر اس نے پھر اپنی راہ لی تھی۔
    چھتری تیز ہوا سے اڑ رہی تھی مگر اس نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔
    اسے جاتے دیکھ کر اسے لگا تھا جیسے وہ اس سڑک سے نہیں اسکی زندگی سے جارہی ہے
    وہ پھر تیزی سے اسکی جانب بڑھا آگے بڑھ کر اسکو کندھے سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا
    اور جیسے ساری توانائیاں لگا کر چیخا۔۔
    سوائے ہم میں مزہب کے اور تو کوئی فرق نہیں اور تم خود کونسا مزہبی ہو۔ سیہون کہہ رہا تھاا۔۔ کھو کھو۔۔۔
    اسکی سانس پھول گئ تھئ۔ واعظہ رک گئ تھئ۔
    مجھے پتہ ہے مزہب کی بات نہیں۔۔۔
    تم مجھ سے ناراض ہو کسی بات پرمگر مجھے میرا قصور تو بتائو۔۔
    وہ بے چارگی سے کھڑا پوچھ رہا تھا
    واعظہ گہری سانس لیکر کر مڑی۔
    میں تم سے نہیں خود سے ناراض ہوں۔ اس بات پر کہ میں نے تمہیں پسند کیا اہم جانا دوست سمجھا اور۔
    اسکی آواز ذرا سا ڈوبی تھی۔ جونگ وون ساکت سا کھڑا دیکھ رہا تھا۔
    تمہیں یہ موقع دیا کہ تم میرے سامنے میرے مزہب میرے عقیدے کا مزاق اڑائو۔ میں کب کیوں تمہیں اتنی لبرل لگی کہ تم اپنے دوستوں کے سامنے میرے مزہب۔۔
    وہ آگے بول نہ سکی۔ گلے میں پھندہ سا لگا تھا۔۔ برستی بارش انکے درمیان دھندلی دیوار سی بنا رہی تھی۔ وہ اس چند قدم کے فاصلے کو کم کرنے کیلئے آگے بڑھا۔
    بیان۔۔ بیانئے۔بیانمنیتا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اتنا برا مان جائو گئ آئی سوئیر آئیندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا۔۔ میں ڈیوڈ سے کبھی بات بھی نہیں کروں گا پورک کھانا چھوڑ دوں گا مجھے معاف کردو۔
    وہ گڑگڑایا۔۔ اسے ہر صورت منا لینا چاہتا تھا۔۔
    پرسوں جب تم سب مل کر ٹھٹھہ لگا رہے تھے ہنس ریے تھے میں غور سے سب کی شکل دیکھی تھی۔ تم سب ایک جیسے تھے۔ باتوں میں روئیوں میں۔ سوچ کا۔۔انداز ۔۔۔
    اس نے اپنے چہرے کو ہاتھ کی پشت سے پونچھااور فیصلہ کن انداز میں بولی۔
    تم سب کے بیچ کھڑے میں نے جانا تھا کہ چاہے میں ہنگل روانی سے بول لوں یا تم سب کے ساتھ گھل مل بھئ لوں مگر میں الگ ہوں ۔۔ میں تم سب میں اکیلی تھی۔۔۔ اکیلی مسلمان پاکستانی نژاد ۔۔ میں دیکھنے میں سوچنے میں ہر طرح سے تم سب سے الگ ہوں۔ اور ہم ایک جیسے کبھی نہیں ہو سکتے۔
    نہیں وازیہ۔ ایسا نہیں ہے۔۔ اس نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا وہ سرعت سے پیچھے ہو ئی۔
    اب تم سونے کے بھی بن جائو میرے لیئے پہلے جیسے نہیں رہے ہو۔ بہتر ہوگا یہ بات خود کو جلد باور کرا لو۔
    وہ کٹھور سے انداز میں کہتی جانے کو مڑی
    وازیہ۔ میری بات سنو چھے بال۔۔۔ وہ اسے جس طرح پکار رہا تھا۔ اسکے لیئے وہاں کھڑا ہونا ممکن نہیں تھا۔
    اس نے اپنی چھتری اسکا ہاتھ پکڑ کر تھمائی پھر اسکی شکل دیکھے بنا بھاگتے ہوئے برستی بارش کی اس دیوار میں کھو گئ تھئ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پندرہ بیس دن بعد اسے ہوش آیا تھا۔ اس نے آنکھ کھولی تھی۔ سامنے نرس تھی۔
    میں کہاں۔۔ اس نے فورا گھبرا کر اٹھنے کی کوشش کی۔
    لیٹے رہیں ڈرپ لگی ہے۔ نرس نے فورا اسکا ہاتھ پکڑ کر کنولا کی سوئی چبھنے نہ دی تھی۔
    یہ کونسی جگہ ہے۔
    اس نے حوا س بحال کرکے ادھر ادھر نگاہ کی۔ کوئی سرکاری اسپتال تھا۔ اس کے ہاتھ پائوں ابھی سن تھے اس نے پھر بھی پائوں ہلانا چاہا تو کراہ کر رہ گیا۔ اسکے دائیں پائوں پر پنڈلئ سے نیچے تک پلستر تھا۔
    گنگا رام اسپتال ہے یہ آپ لاہور میں ہیں۔
    نرس کے کہنے پر وہ استعجاب سے چیخ پڑا
    کیا۔۔
    آپ شانت رہیئے۔ میں ڈاکٹر کو بلاتئ ہوں ذہن پرذیادہ بوجھ نہ ڈالیں پندرہ دن بعد تو ہوش آیا ہے آپکو۔۔ سیدھے لیٹے رہیں ابھی پیر کا زخم بھی بھرا نہیں ہے۔۔
    نرس اسے ہدایت کرتی شائد ڈاکٹر کو بلانے چل دی تھی۔
    پندرہ دن اسکے سر میں دھماکے سے ہوئے تھے۔۔ اس کی آنکھیں دوبارہ بوجھل ہو رہی تھیں۔۔
    اس نے کوشش کرکے دوبارہ آنکھیں کھولیں۔۔ سامنے اب نرس کی جگہ کوئی اور لڑکی کھڑی تھئ۔
    کھاوا کے بچے اٹھ بھی جائو۔۔۔ تین بار اٹھ کر جانے کس کس کو آوازیں دے چکے ہو۔ اب تو طوبی جی بھی رو رو کر تھک گئ ہیں۔ طبیعت بھئ ٹھیک نہیں انکی۔ دلاور بھائئ انکو باہر لیکر گئے ہیں۔ اور یہاں تم جو آوازیں دے رہے ہو سچ مچ ڈر لگ رہا مجھے۔
    تیز گام کی طرح کتر کتر چلتی زبان۔ مانوس لب و لہجہ اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑی۔ آنکھیں دھندلا رہی تھیں مگر اس نے کوشش کرکے کھول کر دیکھنا چاہا۔
    نظر وظر تو آرہا ہے نا؟ یہ کتنی انگلیاں ہیں۔۔
    اس نے تیر کی طرح اپنی لمبی چار انگلیاں اسکی آنکھوں کے سامنے لہرائیں۔ لمبا ناخن آنکھ میں تو نہیں لگا مگر خوف کے مارے آنکھ بند ہوگئ اسکی۔
    ہیلو ہاں۔۔ ہاں۔۔ نہیں جاگا تھا۔پھر بند کر لیں آنکھیں۔ کھاوا نے۔ نیند کی دوا تو ذیادہ نہیں ہوگئ۔۔ڈاکٹر سے پتہ کروں۔۔
    اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ اب فون پر کسی کو بتانے میں مصروف تھی
    پھر کھول لیں آنکھیں اسکو کیا ہو رہا ؟ پلکیں جھپکنے کا آٹومیٹک سسٹم خراب ہوگیا ہے لگتاہے۔
    اسکی بات پر واعظہ نے دانت پیسے۔۔
    آٹومیٹک سسٹم کی اماں آجی تھری( روبوٹ) کے پاس کھڑی ہو یا کھاوا کے۔
    اٹھ گیا دیکھتئ ہوں کھاوا ہیلو؟ کھاوا۔ کھاوا
    وہ اب اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکیاں بجا رہی تھی۔۔
    میرا نام خاور ہے۔ فاطمہ۔۔۔ ان کورینز نے کھاوا بنا دیا تھا۔ آپ مجھے خاور کہہ سکتی ہیں
    وہ نقاہت سے مگر ہموار لہجے میں بولا تھا۔۔
    میرا نام یاد ہے اسے یاد داشت نہیں کھوئی اسکی لگتا ہے۔
    فاطمہ کو اطمینان ہوا فورا واعظہ کو اطلاع دی۔
    خاور بس دیکھ کر رہ گیا۔ سر پر درد بہت تھا ورنہ پکا گھورتا اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 61

    قسط 61
    عزہ نے کمبل سے منہ نکال کر بھنا کر دیکھا۔ عشنا بھی کم و بیش بھنا ہی رہی تھی۔ مگر اسے اپنی جھلاہٹ دبانے میں ملکہ حاصل تھا۔۔۔
    نہیں آج بس میرا دل ہی نہیں کیا کھانا کھانے کا۔
    سرگوشیاںہ آواز مگر اتنی خاموشی میں صاف اور واضح سنائی دی۔
    عروج کے جانے کے بعد وہ دونوں ڈبل بیڈ جبکہ الف سنگل بیڈ استعمال کر رہی تھئ۔ کمبل میں اس نے بھئ منہ دیا ہوا تھا۔ بات کس سے کر رہی تھی یہ دونوں جانتی تھیں۔
    آج تو کھا ہی لینا چاہیئے تھا۔ کل پرسوں تو چلو دو دن خوشی کے مارے بھوک پیاس اڑی تھی۔ عزہ نے گردن گھما کر اس بیڈ پر کمبل کے ٹیلے کو گھورا
    ہاں نا۔ پچھلے پندرہ دن سے کھانا پینا بھولی تھی بتائوں اسے۔ پہلے غم میں اور دو دن سے خوش کے مارے بھوک مرگئ ہے اسکی۔
    عزہ کے اس دل جلے انداز پر عشنا کو ہنسی آگئ
    بتا دو۔ بے چارہ خوشی سے ہی تھوڑا پھول جائے بالکل پیلا پھٹک چہرہ۔۔۔۔ دھان پان سا ہے۔ ژیہانگ۔
    عشنا نے کہا تو الف کے کان کھڑے ہوئے۔
    ایک منٹ ٹھہرو۔
    کاکائو ٹاک پر بات کر رہے تھے ایک منٹ کیا ایک گھنٹہ انتظار کر سکتا تھا ژیہانگ۔
    یہ ژیہانگ کا کیا ذکر۔۔ ٹیلے سے آتش فشاں کی طرح نمودار ہوئئ۔۔
    عشنا کہہ رہی تھی کہ ژیہانگ تو دبلا پتلا ہے تم تو بہت موٹی لگو گی اسکے ساتھ۔
    عزہ نے مرضی سے بات موڑی۔ عشنا ہکا بکا سی رہ گئی
    میں نے کب۔۔ نہیں الف۔ میں نے نہیں کہا ۔۔۔ اسکی صفائیاں جاری تھیں مگر الف منہ لٹکا کر بیٹھ گئ۔
    یار یہ تو واقعی مسلئہ ہے لمبا بھی اتنا ہے وہ میں اسکے کندھے تک بمشکل آتی ہوں اور موٹی بھی ہو گئ ہوں میں اس دن عروج کا کارڈیگن مجھے نہیں آرہا تھا۔
    الف کے کہنے پر عزہ اچھل کر اٹھ بیٹھی
    کیا وہ کارڈیگن تم نے نکالا تھا آخری پیکنگ تک ڈھونڈتی پھری عروج ۔۔
    ہاں وہ۔ الف کھسیائئ۔
    میں نے دھویا تھا وہ الگنی پر رہ گیا۔ واپس کر دوں گی اسے۔۔
    وہ کوریا کارڈیگن لینے آئے گی یا تم امریکہ جائوگی دینے۔
    عشنا نے ہمیشہ کی طرح پتے کی بات کی۔ الف اور عزہ نے اکٹھے اسکے چہرے پر مزاق کی رمق تلاشی تھی مگر وہ مکمل سنجیدہ تھی
    میں ہی چلی جائوں گئ۔ الف نے عزم کیا
    ژیہانگ امریکہ میں ہی تو رہتا ہے۔وہ اترائئ۔۔
    آبھی کال پر ہے؟ عزہ نے آستین چڑھائی
    آہاں۔ الف کو فورا کال یاد آئئ۔ اتنی دیر سے میوٹ لگا کے بیٹھی تھی۔
    بند کرو کال۔ عزہ نے رعب سے کہا
    کیوں؟وہ ہونق ہوئئ۔۔۔۔
    عزہ نے گھورا پھر اسکے ہاتھ سے فون لیکر کال کاٹ دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نے واقعی نہیں پوچھا۔
    الف نے بے بسی سے سر ہلایا۔
    ہمارے درمیان کوئئ لمبی بات ہی نہیں ہوئی۔ کال کٹ تو گئ تھئ۔
    دو دن سے گھنٹوں جو فون پر باتیں کرتے رہے ہو اس میں بھی نہ پوچھا۔
    عزہ کو حیرت ہوئئ۔
    الف نے نفئ میں سر ہلایا۔
    ہم یہاں یہ پلاننگیں کر رہے ہیں کہ کیسے تمہارا مقدمہ لڑیں تمہاری امی کے سامنے کیسے منائیں انکو یہاں تم دونوں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔
    عزہ نے ہاتھ نچا کر کہا تو عشنا کا منہ کھلا رہ گیا معصومیت سے بولی
    پر عزہ ہم تو کوئی پلاننگ نہیں۔۔۔
    اوفوہ مثال دے رہی ہوں۔ عزہ نے سر پیٹ لیا۔ الف کوئی پیدائشی فلرٹ توہے نہیں کہ بس ڈیٹنگ کرنے کیلئے رو رو کر حشر کر رکھا ہو اپنا۔جب شادی کرنی ہے تو شادی کی بات کیوں نہ کی؟ گپیں ہانکنے کا کیا فائدہ ؟
    گپیں نہیں ہانکتے بس ہم۔الف چڑ گئ
    ظاہر ہے میں لڑکی ہوں منہ پھاڑ کے تو نہیں کہہ سکتی۔ مجھ سے شادی کب کروگے۔ دوسرا ابھی گھر بات کہاں کی ہے۔ امی تو ابھئ خفا ہی ہیں انکے لاڈلے بھتیجے سے شادی سے انکار کیا ہے میں نے۔ اوپر سے ۔فائنلز سر پر ہیں وہ الگ مسلئہ۔ ژیہانگ کی کل فلائٹ تھئ جو اس نے مس کردی اب وہ واپس کوریا آرہا ہے اس ہفتے مجھ سے مل کر سب فائنل کرنا چاہتا ہے۔ تو ظاہرہے سب بات کریں گے۔۔
    الف نے تفصیل سے کہا۔تو عزہ کچھ ٹھنڈی ہوئی۔
    پھر بھی۔ اور یہ ژیہانگ یہ اتنا ہی خوش ہوا تھا تم سے بات کرکے جتنا تم۔لال۔ٹماٹر ہوئی تھیں اسے فون ملا کر۔
    عزہ کا انداز جرح کرنے والا تھا الف مسکرا دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے ایک نگاہ اپنے ارد گرد ڈالی۔پھر فون کو دیکھا۔ پھر اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھتا پھرتی سے اٹھا۔ اپنے بیڈ پر بکھرے ٹرائوزر شرٹس بنیان تولیہ۔ سب کو جلدی جلدی اٹھا کر گولا بنا کر کھلے اٹیچی کیس پر مارا صوفے پر اسکا لیپ ٹاپ اپنی کیبلز کے ہمراہ استراحت فرما رہا تھا۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر بہترین ذاویہ دیکھنا چاہا۔ مگر مطمئن نہ ہوا بیڈ کے ساتھ اٹئچ باتھ کا دروازہ تھا اس کو اٹھ کربند کیا۔ واپس آیا۔صوفے پر سے لیپ ٹاپ اپنے چارجر سمیت اٹھا کر بیڈ پر اچھالا۔سامنے سینٹر ٹیبل پر ٹرائی پوڈ لاکر رکھا۔ اس میں موبائل لگایا سیٹ ہو کر بیٹھا۔ کال ابھئ بھی آرہی تھی۔
    الف کالنگ۔وہ اٹھاتے اٹھاتے پھر رک گیا۔
    اس وقت وہ سفید اسکن ٹائٹ فل سلیوز ٹی شرٹ پر گہری نیلی پرنٹڈ شرٹ پہنے تھا مگر خاصی مسکی ہوئی تھی وہ۔
    وہ کال اٹینڈ کرتے کرتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی لڑکی کے ساتھ تو نہیں۔ عزہ نے کہا تو الف نے گھور کر اسے دیکھا
    دیکھ لو تم سے باتوں میں لگا ہوا تھا اور اب ویڈیو کال نہیں اٹھا رہا پکا کسی الٹی سیدھئ جگہ ہے یا کسی لڑکی کے ساتھ ہے
    عزہ نے ویڈیو کال کے خیال سے ماسک چڑھا لیا تھا سر پر دوپٹہ بھی لپیٹ لیا مگر اس وقت جزباتی ہو کر ماسک ہٹا کر بولی
    مجھے تو لگتا یے وہ اپنی خفیہ جگہ ہے کسی۔ نہیں چاہتا کہ چینی فوج اسکو ڈھونڈتی پہنچ جائے وہاں جبھی کسی محفوظ مقام پر جا کر ہی کال اٹینڈ کرے گا۔
    عشنا نے بھی اپنا خیال ظاہر کرنا ضروری سمجھا
    وہ اس وقت جاپان کے ہوٹل میں ہے۔ اور فالتو اندازے مت لگائو وہ باتھ روم گیا ہوگا دو گھنٹے سے تو ہم بات کر رہے ہیں۔
    الف نے ڈاںٹ دیا۔
    تم تو نہ گئیں۔عزہ کے کہنے پر وہ گھور کر رہ گئ۔۔
    اور اتنی دیر لگتئ ہے باتھ روم میں؟ ۔ پندرہ منٹ ہو رہے ہیں ویڈیو کال ملاتے اٹھا کیوں نہیں رہا۔ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔۔۔
    عزہ پریقین تھئ۔
    ہو سکتا ہے وہ امپریشن جمانے کیلئے پنک کلر کی شرٹ پہن رہا ہو۔
    عشنا نے کہا تو عزہ نے یوں دیکھا اسے جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔
    وہ یا یانگ ہے نا اسکا ڈرامہ دیکھ رہی تھی تو ایسے ہی اچانک ہیروئن اسکے گھر آگئ تو اس نے ڈھونڈ کے پنک شرٹ پہنی تھی ۔۔۔۔۔کیونکہ چینی پیلے رنگ کے ہوتے ہیں نا پنک کلر کی وجہ سے انکا رنگ ذیادہ پیلا نہیں لگتا۔
    عشنا نے معلومات میں اضافہ ضروری سمجھا تھا۔ عزہ نے سر پیٹ لیا۔
    یہ یانگ یانگ نے سوچا تھا۔؟ عزہ کو۔شک تھا اس بات پر۔بھی
    نہیں یہ۔تو میرا خیال ہے۔۔ عشنا فخریہ انداز میں بولی
    جتنے بھی چینی ہیرو ہیں جب انکے ڈیٹ کے سین دکھاتے تو پنک شرٹ ہی پہناتے ہیں انہیں۔
    میں نے تو غور نہیں کیا۔ عزہ الگ مسلئے میں الجھ گئ
    دیکھ لینا تم۔
    چلو۔۔ پنک شرٹ پہننے میں بھئ پندرہ منٹ نہیں لگتے ضرور دال میں کچھ پنک ہے۔۔ وہ گڑبڑائئ۔۔ پھر تصحیح بھی کر لی۔۔ اوہو کالا ہے ۔۔
    عزہ کے پریقین لہجے نے عشنا کو تو یقین دلا دیا بندہ کوئی پنگا کرکے بیٹھا ہے الف کا البتہ چہرہ سپاٹ تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئک شاور لیکر ہلکی گلابی شرٹ پہن کر وہ گیلے بالوں کو جھٹک جھٹک کر جیل لگا کے اچھا سا پف بنا کر چہرے پر آفٹر شیو لوشن مل کر پرفیوم انڈیل کر آکر بیٹھا۔ کال ابھی بھی آرہی تھی اس نے بلو ٹوتھ کانوں پر درست کیا ہلکا سا کھنکارا ۔ اور کان پر سے بلو ٹوتھ چھو کر کال اٹینڈ کر لی۔
    اسلام و علیکم۔۔
    کہاں چلے گئے تھے؟اتنی دیر کیوں لگی کال اٹینڈ کرنے میں؟ کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے؟ دیکھو جو بات ہو ابھئ کلیئر کر لو میں کمزور لڑکی نہیں ہوں بہت مضبوط اعصاب ہیں میرے۔
    خوب بڑھ چڑھ کر بولتی عزہ کی آواز اعصاب تک آتے ڈبڈبا گئ۔ عزہ اور عشنا اسکے دائیں بائیں بیٹھی حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں جو آنسو پونچھ رہی تھی۔
    نہیں ۔ وہ۔ میں ذرا۔۔۔ ژیہانگ بری طرح بوکھلا گیا تھا۔الف اب ایک ہاتھ اونچا کیئے موبائل پکڑے گھٹنوں میں بازو میں منہ چھپائے بیٹھئ تھئ۔
    کیا ہوا الف ۔۔۔ ۔رو کیوں رہی ہو۔ میں تو بس وہ سامان پھیلا تھا یہاں ۔۔ وہ۔۔سمیٹ رہا تھا۔ژیہانگ کے سپید چہرے پر لالی اتر آئی تھی۔ برئ طرح بوکھلایا صفائئ دے رہا تھا۔
    چینی لہجہ مگر خاصی صاف اردو عشنا اور الف نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر گڑ بڑا کر عشنا نے الف کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔ عزہ الف کو ہلانے جلانے لگی۔
    وہ دراصل ہم الف کی سہیلیاں ہیں۔ہم آپکو دیکھنا چاہ رہے تھے۔۔ ۔۔
    اسکی بات پر عزہ نے گھورا۔۔
    تو گڑبڑا کر جملہ بدل گئ۔
    میرا مطلب ہے بات کرنا چاہ رہے تھے کہ آپ کس قسم کے انسان ہیں۔
    اس بار الف نے سر اٹھا کر گھورا۔
    لائو مجھے دو۔ وہ اپنے آنسو پونچھ چکی تھئ
    موبائل اسکے ہاتھ سے لیکر اس نے فوری حکم صادر کیا
    مجھےاپنے کمرے کا 360 ویو دکھائو چاروں طرف سے۔
    اسکے ںادر شاہی حکم پر تینوں بھونچکا رہ گئے
    ہیں۔ ژیہانگ سٹپٹایا
    کیوں گھبرا کیوں رہے ہو؟ کوئی ہے کیا تمہارے روم میں۔
    الف نے جیسے پنجے تیز کیئے۔
    ژیہانگ نے کچھ کہنا چاہاپھر ہونٹ بھینچ کر بیک کیمرہ آن کرکے اسے ٹرائئ پوڈ سے اپنا پورا بکھرا ہوا کمرہ دکھایا۔
    پورا اینگل دکھا کر اپنی شکل دکھانے کی ہمت نہ رہی تھی۔ سو بیک کیمرے پر ہی چھوڑ کر ٹرائی پوڈ میز پر رکھ دیا
    خود تو خوب نک سک سے تیار نہا دھو کے بیٹھے ہو اور کمرے کا کیا حال کیا ہوا ہے۔ اتنا بکھرا۔۔۔ ہوا
    الف ڈانٹ رہی تھئ۔ عزہ نے ٹہوکا دیا۔تو چپ کر گئ
    ہاں تو اسی لیئے کمرہ نہیں دکھا رہا تھا۔۔ وہ بڑ بڑا بھئ نا سکا سامنے دو عدد سالیاں بھئ تو بیٹھی تھیں۔
    نہا رہا تھا جبھئ اتنی دیر لگی۔
    عزہ نے الف کے کان میں سرگوشی کی تو وہ بے ساختہ مسکرا دی۔
    اچھا اپنی شکل تو دکھائو۔
    الف نے کہا تو اس نے پھولے منہ کے ساتھ فرنٹ کیم آن کیا۔
    ژیہانگ یہ عزہ ہے اور یہ عشنا۔
    الف نے تعارف کرایا تو وہ تھوڑا کنفیوز سا ہوا
    آداب۔
    زرا سا ہاتھ آگے لا کر ادبی سلام۔عزہ عشنا دم بخود سی رہ گئیں۔
    یہ وحید مراد کا فین ہے۔ الف نے انکی معلومات میں اضافہ کیا
    آداب۔عشنا اور عزہ کو بھی ادب کے دائرے میں آنا پڑا۔ جھک کرسلام کیا۔
    اب ژیہانگ ان تینوں کو اور وہ تینوں ژیہانگ کو دیکھ رہی تھیں۔
    پھر حسب عادت عزہ کو ہنسی آگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوہن بہت اچھا دوست تھا میرا۔ ہماری ٹریننگ میں ہی ہماری بہت اچھئ بانڈنگ بن چکی تھئ۔ ایکسو کا کانٹریکٹ بہت مشکل تھا۔ جبھی لوہن الگ ہوگیا۔ وہ بھی فری سول ہے میری طرح۔ مجھے کہتا تھا مجھے گانا گانا ہے گانا کمانا نہیں ہے۔ میں جو گائوں وہ سب سنیں۔ جو سب سننا چاہتے ہیں وہ میں گانا نہیں چاہتا۔۔۔
    ژیہانگ شستہ اردو میں بتا رہا تھا۔وہ تینوں خاموشی سے سن رہی تھیں۔
    مجھے خوشی ہے کہ وہ آج ایک کامیاب انسان ہے۔
    وہ مضبوط سے انداز میں کہہ کر مسکرایا۔
    آپکئ اس سے ملاقات نہیں ہوئی پھر۔
    عشنا نے سوال کیا تو اسکے چہرے پر سایہ سا آگیا
    صرف ایک وہی نہیں میری تو اپنے سب دوست رشتے داروں سے عرصہ ہواملاقات نہیں ہوئی۔ تبھئ میں نے فیصلہ کیا تھا اب اپنی زندگی میں کسی کو شامل نہیں کروں گا۔
    مگر الف نے یہ اصول تڑوا دیا آپ سے۔
    عزہ نے جتایا۔ جوابا وہ چپ ہی رہ گیا۔
    آپ امریکہ میں کہاں رہتے ہیں؟
    الف نے دوسرا سوال داغ دیا۔
    کیلی فورنیا میں۔۔ اسکی جگہ جواب الف سے آیا تھا۔ عزہ نے چٹکی کاٹی اسکے بازو میں۔ اشارہ تھا اب منہ بند رکھنا۔۔
    آپ الف سے شادی کے بعد کیلی فورنیا میں رہیں گے؟
    عزہ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گیا جیسے۔۔
    دیکھیں۔ہم چین کو بس آتنا جانتے کہ وہاں چندی آنکھوں والے لوگ رہتے ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ وہاں مسلمان اکثریتی صوبہ بھئ ہے۔ آپ نا صرف وہاں کے باسی ہیں بلکہ باغئ بھئ ہیں۔ کل کلاں کو آپکو ڈھونڈتے ہوئے چینی فوجی آجائیں تو الف کیا کرے گئ؟ اسے آپکے ساتھ تعلق رکھنے کی سزا بھئ مل سکتی ہے۔ اس بارے میں سوچا ہے آپ نے۔

    الف نے بے چین سا ہو کر عزہ کو دیکھا۔ عزہ جان کے اسے نظر انداز کیئے ژیہانگ پر نگاہ جمائے تھی۔جس نے جوابا گہری سانس لیکر سر جھکا لیا تھا۔دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے وہ چند لمحے جیسے خود پر قابو پا رہا تھا۔
    کیا باتیں لے بیٹھی ہو۔
    الف منمنائئ جوابا عزہ نے گھور کر دیکھا۔تبھئ ژیہانگ نے سر اٹھا کرمضبوط لہجے میں کہا۔
    میں الف کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا کبھی بھی۔ آپ لوگوں کو شائد یاد نہ ہو مگر میں نے آپ سب کو پہلی بار گیونگ پوہے بیچ پر دیکھا تھا۔۔ جب امریکیوں سے آپکی لڑائئ۔ہوئی تب بھی بیچ بچائو کرانے والوں میں میں تھا۔
    گیونگ پوہے بیچ کی اتفاقیہ ملاقات ہو۔۔۔ یا سر راہ گزرتے یا ایک ساتھ کام کرتے۔ میں نے اپنے آپ کو ہمیشہ روکا اپنی پسندیدگئ کو اپنے تک رکھا۔ ۔ہاں مگر اپنی زندگی کو ایک موقع دینا چاہتا تھا کہ شائد کوئی خوشی میرے لیئے بچی کھچی ہو اس میں۔ جبھی الف کو رابطے کی ایک کڑی دے آیا تھا۔۔۔ ۔
    وہ شائد سانس لینے رکا تھا۔وہ تینوں سانس روکے دیکھ رہی تھیں اسے
    مجھے بالکل اندازہ ہے۔ میری زندگی آسان نہیں۔ مگر میں اپنی مشکلات میں الف کو حصہ دار کبھی نہیں بنائوں گا۔ میرا امریکہ میں اپنا گھر ہے انشورنس ہے۔ میں الف کو ذکریہ نہیں ژیہانگ کی بیوی کی شناخت دوں گا۔الف امریکہ میں رہ سکتی ہے۔ پاکستان میں رہنا چاہے تو بھئ مجھے اعتراض نہیں۔۔۔میں نے مہینوں سوچ سمجھ کر الف کو پرپوز کیا تھا۔ میں کسی جہادی تنظیم کا حصہ نہیں ہوں کہ میرے پیچھے لوگ پڑے ہوں۔ہاں اپنے والدین کو تلاش رہا ہوں۔ یہ تلاش نہیں چھوڑوں گا۔ پر میں الف سےبھی محبت کرتا ہوں۔۔
    اتنئ کہ اس وقت بھی اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے گم کر سکتا ہوں۔اگر الف چاہے۔۔
    اس کے ہموار پختہ انداز میں کہنے پر الف سوچ میں پڑ گئ تھئ۔
    پھر بھی کیا ضمانت ہےکہ آپ سے شادی کے بعد الف کسی مشکل میں نہیں پھنس جائے گئ۔خدا نخواستہ آپکو کچھ ہوا الف کو تو خبر بھی نہیں ہوگی آپ کہاں کس سے چھپتے پھر رہے ہیں۔
    عزہ کا انداز سخت سہی مگر بات غلط نہیں تھی۔ ژیہانگ کے چہرے پرسایہ سا لہرا گیا۔
    ایسی کوئی ضمانت توپاکستانی لڑکا بھئ نہیں دے سکتا مجھے عزہ۔۔۔ الف نے ژیہانگ کی شکل دیکھی تو کچھ سوچ کر خود جواب دینے کی ٹھانئ
    کون جانے جس سے میری شادی ہو وہ کب کہاں کس مشکل میں پھنس جائے۔ ہمارے یہاں تو دھماکے ہوتے ہیں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے موبائل چھینتے ہوئے لوگ گولی مار جاتے ہیں ۔ہم پاکستانی تو دوا ئیں تک ملاوٹ ذدہ کھاتے ہیں ہم کیسے کسی سے کوئی ضمانت مانگ سکتے۔ سب سے بڑھ کر ژیہانگ کو میرے جیسی عام سی لڑکی کو دھوکا دے کر کیا ملے گا۔ میرے پاس تو کوئی جائداد تک نہیں۔ جس کا لالچ ہو کسی کو۔
    الف کی بات میں وزن تھا عزہ چپ کر گئ۔
    تم عام سئ لڑکی نہیں ہو الف۔ میرے لیئے تم بہت خاص اور اہم ہو الف۔ آئی رئیلی لو یو۔۔
    ژیہانگ نے اسکی بات کو کسی اور ہی طرح لیا تھا الف اسکے اس اعتراف پر ایکدم سرخ سی پڑ گئ۔ عشنا نے باقائدہ منہ پھیر کر ہنسی روکی تو عزہ کو لگا تھا ماسک کے پیچھے اسکی ہنسی کونسا دکھائی دے گئ یہ سوچے بنا ہنسے گئ کہ اسکی آنکھین کورین مارکہ ہو چلی ہیں او رکھی کھی کرتے جو ہلے جا رہی ہے اس سے اسکے ساتھ بیٹھی الف کو بھئ جھولے مل رہے ہیں جو موبائل اٹھا کر اب اسپیکر میں سرگوشیا ں کر رہی تھئ
    کیا کرتے ہو ژیہانگ ۔۔۔ اتنا مزاق اڑائیں گی اب یہ میرا۔اور اوپر سے تمہیں پنک ہی شرٹ ملی تھئ آج پہننے کو۔۔ اور کوئی رنگ کی شرٹ نہیں تمہارے پاس۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تین بنکر بیڈز کا وہ ڈورم تھا۔ ایک نارمل سائز کا کمرہ جس میں چار پانچ سیڑھیاں چڑھ کر بیڈ اور اس بیڈ کے نیچے پوری اسٹڈی ٹیبل اپنے ذاتی الگ لیمپ کے ساتھ۔ جہاں ایک چھوٹی سی شیلف میں کتابیں اور میز پر لیپ ٹاپ بھی رکھا تھا۔اسکے علاوہ ایک کونے میں لائن سے الماریاں تھیں تین کے حساب سے دیوارگیر۔ اوپر بیڈ کے گرد ریلنگ سے پردہ لٹک رہا تھا جسے گرایا اور سمیٹا جا سکتا اس پردے سے بیڈ مکمل اندھیرے میں ڈوب جاتا تھا نیچے باقی جتنی مرضی لائٹیں جلا لیں سونے والا آرام سے سوئے۔ ۔
    یہ دیکھو پردے گرا دو تو روشنی غائب بالکل۔اور یہ میرے بنکر بیڈ کے ساتھ جو کھڑکی ہے نا اس سے ہمارے کیمپس تک نظر آتا۔ چھوٹا چھوٹا ہی سہی مگر مزے کی بات ہے نا۔
    اسکے بنکر بیڈ کے قریب کھڑکی تھی۔ جہاں سے اس وقت بادلوں میں آسمان گھرا ہونے کی وجہ سے ملگجی روشنی آرہی تھی نیچے بڑا سا کمپائونڈ نظر آتا تھا جس میں دونوں اطراف لائیٹنیں تھیں او ردن کا وقت ہونے کے باوجود جل رہی تھیں۔
    پیارا ہے نا ۔سچی میں تو جب سے آئی ہوں خوشی سے پھولے نہیں سما رہی۔ میری روم میٹ دونوں ایشین ہیں۔ ایک انڈونیشین ہے ایک چائنیز۔ دونوں نے بڑے اچھے طریقے سے سلام۔دعا کی ابھی کلاس ہے انکی میری تو اگلے ہفتے سے کلاسز شروع ہوں گئ اف میں تو سوچ کے پریشان تھی کہ ماموں کے اس ایک کمرے کے اسٹوڈیو روم میں انکے دو بچوں کے ساتھ کیسے رہوں گی پتہ ہے پہلے دن تو بیڈ دیا مجھے اگلے دن سے بستر زمین پر ڈال دیا۔ بیڈ دیوار سےچپکا کے کھڑا کردیا فولڈنگ بیڈ تھا انکا۔ اف اتنی سی جگہ تھی سب فرش پر بستر کرکے لیٹے۔ اور یہ ہے میرا باتھ روم۔۔۔
    کیمرے سے اپنے کمرے کی دیواریں ان پر لٹکتے جالے لیکر زمین پر پڑی مٹی تک دکھائی۔ باتھ روم کھول کر دکھایا۔ چھوٹا سا تھا۔ کموڈ کھول کر دکھاتی مگر بس اسی کام سے گھن آگئی۔
    کموڈ بھی کھول کر دکھائو نا پتہ چلے امریکہ کا فلش سسٹم کیسا ہے۔
    واعظہ نے جمائئ لیتے ہوئے کیا تو طنز تھا مگر وہ پرجوش او رخوش ہی اتنی تھی کہ سمجھی نہیں۔
    ارے پاکستان جیسا ہی ہے۔ بلکہ کوریا جیسا بھی۔ ساری دنیا کا سیوریج سسٹم تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے نا۔
    اچھی بات ہے۔ اب تم عزہ وغیرہ کو بھی ایسا روم ٹور دینا صبح۔ ابھی میں۔۔
    میں کرتی کال انکو مگر وہ سب سو گئ ہوں گی یونی بھی تو جانا ہے نا اور تمہارا تو پتہ ہے مجھے ساری رات جاگتی ہواسلیئے آرام سے کال کر لی تمہیں۔ وہاں تو رات ہی چل رہی ہوگی نا یہاں تو
    عروج پھر شروع تھئ۔
    ہاں مگر آج میں کافی تھکی ہوئی ہوں۔ اس نے دبے دبے لفظوں میں بتانا چاہا ۔۔۔
    اور پتہ ہے۔۔ عروج جانے مزید کیا داستان سنانے لگی تھی
    کہ دروازے کی اطلاعی گھنٹئ زور سے بجی
    یہ۔کیسی آواز ہے۔ عروج بھئ چونکی
    پتہ نہیں شائد دروازے پر۔کوئی ہے۔
    واعظہ بھی چونک کر اٹھ بیٹھئ۔۔
    ایک۔بار پھر بیل ہوئی ساتھ بے تابانہ دستک بھی تھئ۔
    اچھا میں ذرا دیکھوں دروازے پر کون ہے۔ تم سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔
    اس نے کال بند کرنا چاہی آگے سے عروج چیخی
    نہیں بند نہ کرنا اتنے رات گئے جانے کون ہے دروازے پر میں ساتھ ہوں تمہارے گھبرانا نہیں پہلے کیمرے میں دیکھو باہر کون اور۔کوئی بھی خطرہ ہو مجھے بتایا
    کیا کر لوگئ تم؟ واعظہ چڑ گئ
    امریکہ میں بیٹھی ہو۔ یاد آیا۔
    اسکے جتانے پر۔واقعی یاد آیا۔
    ہاں۔۔ مگر مورل سپورٹ تو دے سکتی ہوں بیک کیم کھولو
    عروج کا آرڈر تھا اسے تعمیل کرنی تھی۔
    اس نے مگر ہدایت پر عمل نہیں کیا جھٹ سیدھا جا کر دروازہ۔کھول۔دیاموبائل ساتھ ساتھ لائیو کوریج کررہا تھا
    پریشان سی طوبی کھڑی تھی۔
    کیا ہوا طوبی خیریت۔
    واعظہ سے پہلے عروج نے پوچھا تھا
    دلاور کا کوئی پتہ نہیں چل رہا جانے کہاں ہیں بار بار فون کر رہی ہوں نمبر بھی نہیں مل رہا اتنی رات ہوگئ ہے کیا کروں۔
    وہ۔روہانسی ہوئی وی تھئ۔
    واعظہ کو یہاں بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی
    طوبی جی پریشان نہ۔ہوں سمجھدار ہیں دلاور بھائئ۔ موبائل کی بیٹری ختم ہوگئ ہوگئ اندر آئیں آپ۔بیٹھیں۔۔
    اسکے کہنے پر واعظہ ایک سائیڈ میں ہوگئ دروازہ پورا کھول دیا
    بچے اکیلے ہیں گھر میں میں مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کس سے کہوں پتہ کرے تو۔
    وہ تھوڑی شرمندہ ہو رہی تھی۔ہاتھ مسلتے شرمندہ سے لہجے میں بولی ظاہر ہے رات کے تین چار بجے تو ان میں سے بھی کوئی باہر جا کر ڈھونڈنے سے رہی۔
    میں پتہ کرتی ہوں کچھ۔
    واعظہ نے کہا تو جیسے وہ اسے قرار آیا۔ سر ہلاتی متشکر انداز میں دیکھتی اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئ
    تم کہاں پتہ کرو گی ۔۔ اب یہ۔مت کہنا تم جوتے موزے چڑھا کر باہر نکلنے لگی ہو۔
    عروج کو اس سے یہی خوف محسوس ہوا تھا جبھی ڈانٹنے والے انداز میں بولی
    ارے یار۔۔ پاگل تھوڑی ہوں میں۔
    واعظہ ہنس دی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جھٹپٹے کا وقت تھا جب وہ اپر کا ہڈ سر پر چڑھائے تیز تیز قدموں سے تقریبا بھاگتے ہوئے ہی اسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ ریسیپشن سے معلومات لیکر وہ سیدھا آئی سی یو میں آئی تھی۔ اس وقت ملاقات کا وقت نہیں تھا سو آئی سی یو بند تھا ملاقاتیوں کیلئے۔ اسکے باہر سرد بنچ پر دلاور دونوں ہاتھوں میں سر دیئے بیٹھے تھے۔ انکا کوئی چندی آنکھوں والا کولیگ بھی ہمراہ تھا فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے اسکا رخ دوسری۔جانب تھا۔
    دلاو ربھائئ۔ وہ بھاگتی ہوئئ انکے پاس چلی آئی۔ اسکے پکارنے پر انہوں نے ذرا کی ذرا سر اٹھا کر دیکھا تھا۔ ویران سوجی ہوئی آنکھیں۔ستا ہوا چہرہ برسوں کے بیمار لگ رہے تھے۔
    وہ کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر انکی حالت کچھ بتانے والی نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے تسلی دینے والے انداز میں انکے کندھے پر ہاتھ رکھا
    آننیانگ۔ انکا کولیگ فون بند کرکے اسکے پاس چلا آیا۔۔ جھک کر سلام کیا۔
    آننیانگ۔ وہ بھی جوابا جھک کر سلام کرنے لگی۔
    میں پارک ہوا دول۔ دلاور کا کولیگ ہوں میں۔۔
    اس نے شستہ ہنگل میں بتایا۔
    دے۔ وہ سر ہلاکر بولی
    میں نے ہی فون ملایا تھا آپکودلاور کے کہنے پر۔ آپ نے انکی وائف کو پیغام دے دیا انکی خیریت کا۔۔ اس کے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سر ہلادیا
    آپ انکی رشتے دار ہیں؟ چھوگئ۔ دلاور کا بی پی ابھی بھی ہائی ہے مگر نہ یہ۔گھر جانے کو۔تیار ہو رہے ہیں نا اپنی وائف کو اطلاع دینے کو۔ انکو اس وقت سخت ذہنی دبائو کا سامنا ہے۔ اوپر سے مریض کی حالت بھی تشویشناک ہے
    خون بہت بہہ۔گیا ہے اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہوش آنا ضروری ہے ورنہ کومہ میں بھی جا سکتے ہیں۔
    وہ اسے یقینا رشتے دار سمجھ کر تفصیل بتا رہا تھا
    مریض کون ہے؟ اسے سمجھ نہ آئی آدھی ادھوری بات ہی پہلے بتائی تھئ اسے۔
    انکا بھائی جسکو یہ عرصے سے ڈھونڈ رہے تھے۔کل ملا تو انکی شکل دیکھ کر بھاگ اٹھا۔اور گاڑی سے جا ٹکرایا۔۔۔ جتنا برا حادثہ تھا دلاور کا یوں ہوش کھو دینا اچنبھے کی بات نہیں۔۔
    وہ تاسف سے دلاو رکو دیکھ رہا تھا۔
    بھائئ۔ مریض۔ وہ بھی مڑ کر دلاو رکو دیکھنے لگی۔
    آپ بہن ہیں انکی ؟دراصل مجھے بھی گھر کا چکر لگانا ہے اگر آپ یہاں ہیں تو۔۔ وہ شائد نکلنا چاہ۔رہا تھا
    اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا بس
    جی۔ میں بہن ہوں انکی آپ بے فکر ہو کر جائیے ۔آپکا بہت شکریہ آپ نے ہماری بہت مدد کی ۔۔
    اسکے پرخلوص انداز میں کہنے پر وہ شرمندہ سا ہوگیا
    میں مزید رکتا مگر مجھے تیار ہو کر دفتر بھی جانا ہے یہ سب معاملے کو رپورٹ کرنا ہوگا پھر بھی میں کوشش کروں گا ضرور آئوں وقت ملتے ہی ۔۔
    وہ تسلی دلاسا دیتا معزرت کرتا چلا گیا۔ وہ اسے بھیج کر دلاور کے پاس آن بیٹھئ۔
    وہ مجھ سے بھی دور بھاگا۔ اب ہمیشہ کیلئے روپوش ہوجانا چاہتا ہے۔ اتنا ناراض ہے وہ ہم سے۔
    دلاور خود کلامی کے سے انداز میں بولے تھے۔
    پر میں نے تو کسی بات کا یقین نہیں کیا۔تھا شک تک نہ کیا اس پر۔۔ وہ پھر بھئ ناراض ہوگیا ہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے چوروں کی طرح گھر میں دیوار پھلانگئ ۔۔ اندر داخل ہوکرمحتاط انداز سے ادھر ادھر دیکھا ورانڈے میں چلا آیا۔ فضا میں غیر معمولی خنکی تھی ۔وہ۔کپکپا گیا۔ سب سردی کی وجہ سے کمروں میں سو رہے تھے۔ گائوں میں گیارہ بجے تو آدھی رات سمجھی۔جاتی ہے۔ اسکو آتے دیر ہوچکی تھی سو کھانے کا وقت گزر چکا تھا اس وقت باورچی خانے میں جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ لائٹ جلتے ہی اماں الرٹ ہو۔کر۔آواز لگاتئ تھیں۔ سو وہ سیدھا برآمدے کے ایک کونے میں قطارسے رکھے مٹکوں کے پاس چلا آیا۔ احتیاط سے کٹورا اٹھا کر مٹکے سے پانی لیا۔ ابھی گلاس منہ تک لایا ہی تھا کہ دھپ سے گردن پر چپت پڑی۔۔ چوڑیاں کھنک سی اٹھی تھیں۔ اچھو ہوا سارا پانی اس پر۔آیا۔ سخت سردی میں ٹھنڈا پانی۔ وہ بھنا کر مڑا۔
    کیا کرتی ہو بھابی سارا بھیگ گیا میں۔۔ ٹھنڈ لگ جائے گئ اب مجھے
    وہ جھلاتا کپڑے جھاڑ رہا تھا جبکہ طوبی اسکی درگت پر ہنس رہی تھئ۔
    اچھا ہوا۔ اور رات رات بھر باہر آوارہ گردیاں کرتے ٹھنڈ نہیں لگتی؟
    وہ کمر پر ہاتھ رکھے اسکی خبر لے رہی۔تھی
    وہ۔کھسیانا سا ہوا
    آہستہ بولیں آپکے میاں صاحب جاگ گئے تو اتنی رات گئے آنے پر جوتے سے پٹائی کریں گے میری وہ بھی بھگو بھگو کر ۔۔۔ انکا ہاتھ تو ابا سے بھی ذیادہ بھاری ہے۔ پچھلی مار کے نشان ابھی بھی ہوں گے کمر پررات کو ادھر سے ٹیس اٹھتی ہے۔
    اس نے ڈرنے کی اداکاری کی۔ باقائدہ گھوم کر کمر بھی دباتا گیا۔ وہ اسکی سب شرارت سمجھ رہی تھی پھر بھی گھرک کر بولی
    ایویں اتنا پیار کرتے ہیں تم سے اور تم۔ ہر وقت برائیاں
    مارکھانے والی حرکتیں کروگے تو مار ہی کھائو گے۔ مسلسل سپلی آرہی ہے تمہاری آخری دفعہ ہے اس دفعہ بھی فیل ہوئے تو کھیتوں میں لگا دیں گے پھر لگانا ہل۔۔ بابا ہدایت کے ساتھ
    اس نے ڈرایا تو وہ واقعی ڈر گیا۔
    اللہ نہ کرے بھابی۔ خالی پیٹ اتنی ڈرائونی باتیں ہضم نہیں ہوتیں۔ رحم کرو۔ وہ پیٹ پر ہاتھ پھیر۔کرمسکینیت سے بولا تو اسکا بھی دل پسیج گیا
    ابھی۔تک کھانا نہیں کھایا۔ اس نے اتنے تفکر سے پوچھا کہ جوابا خاو رکو چہرے پر۔مزید مسکینی لانی پڑی
    آئو میں نے چاول بنائے تھے نکال۔کر۔دیتی ہوں۔ وہ فورا کچن کی۔جانب مڑگئ
    بھابی فکر مند ہوگئ تھئ۔ وہ شرارت بھری مسکراہٹ دباتا پیچھے چل۔پڑا۔
    گیس تو آچکی تھی گائوں میں مگر چولہا زمین پر ہی رکھا تھا۔ اس نے چاولوں کی دیگچی اٹھا کر دیکھی مرغی پلائو تھا ۔مگر تھوڑا سا ہی تھا۔اس نے گرم۔کرنے رکھا پھر اس سے پوچھنے لگی
    روٹی بھی ڈال دوں ساگ رکھا ہے۔ اسے ساگ پسند تھا بہت جبھئ پوچھا تھا اس نے۔
    تھپ تھپ۔روٹی پکائو گی اماں جاگ جائیں گی اور روٹی سے پہلے گالیاں کھانے کو مل جائیں گی۔ وہ برا سامنہ بنا کر بولا
    تو اسکو ہنسی آگئ۔۔۔
    نا بولا کر ایسے۔ جبھی گالیاں پڑتئ ہیں تجھے۔
    اس نے پلیٹ میں چاول نکال کر سامنے رکھے۔ وہ بھوکا ہو رہا تھا جبھی رغبت سے شروع ہو گیا۔ اسکا دل کیا چائے بنا لے مگر دودھ کی دیگچی کی۔طرف ہاتھ بڑھا کر رہ۔گئ
    بنا لو چائے بھابی اتنا نا ڈرا کرو۔ کلو بھر دودھ میں سے ایک کپ کم بھی ہوگیا تو اماں کو پتہ نہیں چلنا۔
    وہ بھئ ایک کائیاں تھا۔ وہ کھسیا سی گئ۔
    ہاتھ واپس کھینچ کر دوپٹے میں چھپا لیا۔
    خوامخواہ وہ تو میں ایسے ہی۔ اس نے ڈبے سے کیک رس نکال کر ایسے ہی چبانا شروع کردیا
    ہاں بس ڈر ڈر کر رس کھایا کرو۔ کوئی جان نہیں بنتی رس سے۔ اور جو تھوڑی بہت بنتئ ہے وہ بھیا اور اماں سے ڈر ڈر کر جان نکال لیتی ہوں اپنی۔ ایسے رہیں نا تو دو چار سال میں غائب ہو جائو گئ۔
    وہ جتنئ تیزی سے کھا رہا تھا اتنی تیزی سے زبان بھی چل۔رہی تھی اسکی۔
    اتنی بڑی بڑی باتیں کہاں سے سیکھ کے آتے ہو۔ اس نے بلا۔لحاظ چپت لگا دی سر پر۔ جوابا وہ برا سا منہ بنا کر بولا
    سچ بولتا ہوں جبھی گالی بھی کھانے کو ملتی اور مار بھی۔ ابھی کل جو بھائی نے بلا کمر پر دے مارا سچ بتایا تھا پوچھنے پر ہاں کرکٹ کھیل کر آرہا ہوں ورنہ کہنے کو یہ بھی کہہ سکتا تھا مرغیاں اندر کر رہا تھا۔ اماں نے بھائی کو۔آتے دیکھتے ہی مجھے مار سے بچانے کو کہا تھا بلے سے مرغیاں اندر کر لے۔ اب بتائو کوئی بلے سے مرغیاں اندر کرتا ہے بھلا۔ مگر سچ بولنے پر۔کمر پر بلا پڑا۔ جھوٹ بولتا تو بچ جاتا۔ ابھی تک۔درد ہو رہا ہے۔
    مانا وہ مارتے ہیں غلط کرتے ہیں مگر خود سوچو میٹرک کیا اب تمہیں انٹر کرلینا چاہیئے ماشا اللہ سے اٹھارہ سال۔کے ہو رہے ہو جب سے بیاہ کر آئی ہوں میٹرک کر رہے ہو تم۔
    طوبی نے کہا تو ہنس دیا
    مگر تم نے پاس ہو کر کیا اکھاڑ لیاایف اے کرکے یہاں آئیں اب یہاں بیٹھئ ہو گالیاں کھا رہی ہو میں کم از کم میٹرک فیل ہو کر تو گالیاں کھاتا ہوں نا۔
    بس بکواس کروالو۔
    وہ چڑ گئ۔ اس دفعہ تو پاس ہو جائو۔خدا کا واسطہ ہے پڑھ لیا کرو۔۔
    اس دفعہ پاس ہو۔جائوں گا۔
    اس نے پلیٹ صاف کرکے رکھتے ہوئے پرعزم انداز میں کہا۔
    کیسے؟ وہ مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی
    بھائئ کی جگہ اس دفعہ فارم خود فل کرکے داخلہ بھیجوں گا
    سائنس کی جگہ آرٹس میں۔ مجھ سے یہ فزکس کیمسٹری پڑھے نہیں جاتے بھایا زبردستی کرتے ہیں۔ اگر بات میٹرک کی ہے تو وہ میں کر لوں گا آرٹس میں کروں گا۔۔مجھے ویسے بھی احمد فراز بننا ہے۔
    کیا بننا ہے؟ وہ۔حیرانی سے چیخ ہی تو پڑی۔ رسک کترنا بھول گئ۔
    آہستہ بولو۔ وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا
    دماغ ٹھیک ہے۔ وہ ابھی تک شاک میں تھی
    بالکل ٹھیک ہے۔مجھے ڈاکٹر انجینئر بننے کا کوئی شوق نہیں میں تو بنوں گا ادیب شاعر۔ اس نے فخریہ کالر چڑھائے۔
    بھوکے بھی مروگے۔
    اس سے سوکھا رس کھایا نہیں گیا ایک طرف رکھ دیا۔
    خیر ہے اٹھارہ سال پیٹ بھر کھایا ہے آگے اللہ کی مرضی۔ اس نے مزے سے کہہ کر ادھ کھایا رسک اٹھایا اسے ہنس کر کہتارس کھاتے اٹھ کھڑا ہوا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے خبر نہیں تھی کہ ذرا سے چاول گرم کرکے دینے پر اسکی پیشی لگ جائے گی۔۔ اماں نے صبح صبح ہنگامہ کردیا
    رات کو خاص چاول بچا کے رکھے تھے میں نے صبح صبح بھوک لگتی ہے نماز کے بعد تو کھائوں گی کہاں گئے۔ اب آٹھ بجے تک تو بہو رانی اٹھیں گئ نہیں تب تک یہ بڑھیا بھوکی مرے جو کرے کسی کو کیا پروا۔
    ٹھیٹھ پنجابی لہجہ تھامگر جان کر اردو میں فضیحتے کر رہی تھیں کہ شہری بہو سب سمجھ لے۔ باورچی خانے میں زور وشور سے برتن پٹخ رہی تھیں۔ اسکی شور سے آنکھ کھلی تھی۔ اٹھتے ہی رنگ بھی فق ہوگیا۔
    دوپٹہ اٹھا کر زینت کو تھپکتی احتیاط سے اپنی جگہ لٹا کر اپنی طرف سے وہ دبے پائوں دروازے کی۔جانب بڑھی تھی۔ شائد دلاور کی بھی آنکھ اس شور شرابے سے کھل گئ تھئ۔۔ اٹھتے ہوئے بظاہر سرسری انداز میں سوال کیا۔
    تم نے کھائے تھے رات کو چاول۔
    جی؟ پہلا جی سوالیہ تھا۔۔ پھر چونک کر سر اثبات میں بھی ہلا دیا۔
    جج جئ۔
    خاور کا نام لیا تو بے چارے کی صبح صبح شامت آجائے گی۔ وہ انگلیاں مروڑ رہی تھی
    ابھی گڑیا چھوٹی ہے بھوک ذیادہ لگتی ہوگی تمہیں میں تمہارے لیئے پھل وغیرہ منگوا دوں گا یہیں کمرے میں رکھ لینا۔
    وہ بغور دیکھ رہے تھے اسے ۔۔ اور اسکے پسینے چھوٹے جا رہے تھے۔۔۔
    چلو میں بھی چلتا ہوں ساتھ۔ وہ سمجھ رہے تھے اسکا گریز۔اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔ یقینا اماں اسکی خبر دلاور کے سامنے نہیں لے سکیں گی۔ یہی سوچ کر وہ خوشی خوشی انکے ہمراہ کمرے سے باہر نکلی۔
    باہر اماں اور خاور میں گرم گرم بحث جاری تھی
    جھوٹ نا بول اسی نے کھائے ہوں گے آج کل ہر وقت منہ چلتا رہتا ہے اسکا۔ تو بھابی کو بچانے کیلئے اپنے سر لے لیا کر ہر بات۔خوب جانتی ہوں رات کو لیٹ جل۔رہی تھی باورچی خانے کی۔
    اماں چائے میں کیک رس ڈبو کر کھا رہی تھیں۔۔
    رات کو۔دیر سے آیا تھا تو بھابی نے کھانا گرم کرکے دیا۔۔ وہ تو چائے تک بنانے سے ڈرتی ہیں خالی کیک رس کھانے لگیں وہ۔ بھی نا کھایا گیا ان سے۔ ہروقت نا انکے کھانے پینے کو ٹوکا کرو۔
    اسکی بات پر اسکے قدم وہیں رک گئے۔ حسب توقع دلاور بھی رک کر پلٹ کر اسے دیکھنے لگے تھے۔
    ایک تو یہ۔لڑکا مجال ہے جو کبھی چپکا رہ جائے۔ اسے شدید غصہ آرہا تھا خاورپر۔
    خاور رات کو دیر سے آیا تھا ؟
    دلاور کا سوال بھی حسب توقع تھا۔
    وہ۔۔ وہ انگلیاں چٹخانے لگی۔
    جی بھائی۔ رات کو دیر ہوگئ تھئ آتے وقت گائوں کی سواری نہیں مل رہی تھی تو گھنٹہ بھر اڈے پر کھڑا رہا وہ تو چاچا فضل اپنی موٹر سائکل پر آرہے تھے تو۔۔۔
    خاور نے پیچھے سے آکر توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔۔
    کونسے اڈے پر ؟ شہر گئے ہوئے تھے؟
    دلاور کی جرح شروع تھی۔
    جی ملتان ۔۔۔ وہ جاوید۔۔۔
    وہ آگے ملتان جانے کی وجہ بتا رہا تھا کہ دلاور تائو کھا گئے انکا ہاتھ اٹھا اور خاور کے گال پر نشان چھوڑ گیا
    ان آوارہ۔گردیوں کے لیئے وقت ہے تمہارے پاس۔پڑھائی کا کہو تو جان جانے لگتی ہے تمہاری۔۔۔۔۔
    وہ بولے تو بولتے چلے گئے شکر ہے اس وقت بس ایک تھپڑ پر اکتفا کیا۔
    اسے اس مارکٹائی والے ماحول کی عادت نہ تھی۔ اس نے تو کبھی اپنے ابا کو بھائی پر ہاتھ اٹھاتے نہ دیکھا تھا۔ کبھی بھائی پر ہاتھ نہ اٹھایا بہنوں کی تو بات ہی نہیں تھی۔ یہاں دلاور اتنے پڑھے لکھے ہو کر بھی۔۔
    وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔ اسی مار سے بچانے کو جھوٹ بولا تھا۔
    تو کیوں ٹسوے بہا رہی ہے کھڑی۔ ساس کی۔نگاہوں سے اسکا بچنا ہمیشہ مشکل ہوتا تھا۔
    ماں کے کہنے پر دلاور نے پلٹ کر اسکی شکل۔دیکھی تو اسکے چہرے پر چھایا ہراس انکو جیسے سرد سا کر گیا۔ بولتے بولتے رک کر سر جھٹکا اور باہر نکل گئے۔ پندرہ سالہ راحیلہ اور دس سالہ مانو بھی اٹھ کر باہر آگئ تھیں۔ مانو آکر بھائی سے لپٹ ہی گئ۔
    میں ٹھیک ہوں یار ایک دو تھپڑوں سے کچھ نہیں ہوتا میرا۔
    وہ پیار سے مانو کے سر پر ہاتھ پھیرتے کہہ رہا تھا مگر مخاطب طوبی ہی تھئ۔۔ وہ دوپٹے سے آنکھیں رگڑتے اندر کمرے کی۔جانب بڑھنے کو تھی کہ آواز آئی
    اب اندر کس پیو کو رونے جا رہی ہے جا ناشتہ بنا سب کیلئے دن چڑھ آیا۔ہے۔۔۔
    وہ وہیں سے پلٹ کر کچن چلی آئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 60

    قسط 60
    عزہ نے الف کو کندھے سے لگایا ہوا تھا وہ اس سے لپٹی چہکوں پہکوں رو رہی تھی عشنا دلاسے کیلئے کبھی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی کبھی دزدیدہ نگاہوں سے واعظہ کو دیکھتی مگر کچھ کہنے کی ہمت نہ پاتی خود میں۔ واعظہ سکون سے انکے مقابل دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹکا کر کندھے اچکائے آلتی پالتی مارے بیٹھی انکی حرکات ملاحظہ کر رہی تھی۔
    ہم پتہ کرلیں گے اسکا نمبر رونا تو بند کرو۔ عزہ زچ ہو گئ چپ کراتے۔
    کیسے وہ اپنی شناخت سب سے چھپا کے یہاں رہ رہا تھا کوئی نہیں جانتا کچھ بھی اسکے بارے میں ریڈیو تک پر جو پتہ اور نمبر ہے وہ بھی اب اسکے رابطے کا ذریعہ نہیں۔اس نے۔۔۔۔ الف کی آواز بیٹھ گئ تھی۔۔ ۔۔ہچکی۔۔۔ اس نےصرف مجھے اپنا کانٹیکٹ نمبر دیا تھا۔شاکی نگاہ واعظہ پر
    کیوں بھئ؟ اپنے ملک میں ڈاکا ڈال کر نکلا تھا کیا؟ یا قتل ؟عشنا چونکی
    قتل کرکے بھئ لوگ اس طرح دوسرے ملک روپوش ہو جاتے ہیں۔
    اسکی قیاس آرائی پر بھنا کے الف نے گھورا
    نہیں بھئ وہ یوریغ۔۔ کیا نام بتایا واعظہ۔ عزہ نام پر اٹکی ۔واعظہ نے بتانے کیلئے منہ ہی کھولا تھا کہ جلد باز لڑکی نے کہا۔۔
    دفع کرو نام کو وہاں چین میں مسلمان جو چینی حکومت کے خلاف لڑنے لگے تھےاس کریک ڈائون کی وجہ سے اسے ملک سے بھاگنا پڑا۔ مجاہد ہے وہ ۔۔ ہے نا۔۔
    اس نے تصدیق چاہی۔
    ریاست کے خلاف اٹھنے والا مذہبی گروہ۔طالبان سمجھ لو۔
    واعظہ نے غور سے الف کو دیکھتے چھیڑا جوابا وہ حسب توقع بھڑک اٹھی
    کوئی نہیں۔مظلوم ہے وہ اس نے کہیں کوئی بم دھماکے نہیں کیئے الٹا اسکا پورا خاندان لا پتہ ہے کوئی نہیں جانتا چینی فوجی کہاں لے گئے انہیں۔۔۔۔ ہچکی۔ ۔۔ انہیں ڈھونڈتے ہوئے بھی کبھی اس نے غلط راہ اختیار نہیں کی۔ نا اسلحہ اٹھایا نا دھماکے کیئے۔ اور چین سے بھی بہت محبت کرتا ہے وہ۔
    اچھا۔
    واقعی طالبان تھا وہ چینی لڑکا۔
    عشنا واعظہ کےپاس کھسک آئی۔اور سرگوشی میں پوچھنے لگی۔
    الف کو دل میں درد ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔
    عزہ نے اسے گھٹنوں میں منہ دیتے دیکھا تو گھبرا کر بولی
    یار کال ملائو۔
    نمبر تو ڈیلیٹ ہو گیا۔عشنا بھولپن سے بولی۔۔ واعظہ نے گہری سانس لی اور اپنا موبائل اٹھا کر نمبرملانے لگی۔
    اوہو ایمبولنس کو 1122 کو یہ تو بے ہوش ہونے لگی ہے۔
    عزہ کی پریشانی پر الف نے سر اٹھاکر گھورا۔ اس وقت کم از کم اسپتال جانا وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔
    1122 کونسا نمبر ہے۔۔ عشنا حیران تھی۔
    پنجاب پاکستان کی ایمرجنسی سروس ہے بی بی تم کوریا میں بیٹھی ہو۔ یہاں 119 ملاتے ہیں
    واعظہ نے یاد دلایا
    ااوہ اچھا میں ملاتی ہوں۔عشنا نے اپنا موبایل اٹھایا۔۔
    اوفوہ کسی کو فون مت کرو۔الف جھلا کر چیخی۔عشنا کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا۔۔ کیا کرتی ہیں۔وہ اپنا دل سنبھالنے لگ پڑی۔۔
    چلو رہنے دو۔اس نے منع کر دیا۔۔۔۔ عزہ کی رننگ کمنٹری ٹھیک ٹھاک گراں گزر رہی تھی۔ اسے
    فون ایک۔طرف رکھ کر واعظہ سیدھی ہو کر بیٹھی
    ایک۔بات تو بتائو۔۔۔ ایک دن کے بعد ویسے بھی اسکا یہ والا رابطہ نمبر بھی ختم۔ہو جانا تھا فیصلہ تم۔کر چکی تھیں پھر نمبر ڈیلیٹ ہونے پر یہ رونا دھونا کیوں۔۔۔
    واعظہ کی بات میں دم تھا الف نے سر اٹھا کر دیکھا تینوں جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
    میں فیصلہ ہی تو نہیں کر پارہی تھی۔ کل تک سوچنا چاہتی تھی اور۔ وہ بے بسی سے بولی
    کل تک کیا سوچنا؟ ایک دفعہ ایک بار سوچو چینی لڑکا جس کا مستقبل کا کوئی پتہ نہیں اپنی شناخت چھپا کر دوسرے ملکوں میں چھپتا پھر رہا ہے نا اسکے ماں باپ کا اتا پتہ نہ دوست رشتے دار مکمل اجنبی ہے وہ تمہارے لیئے چند مہینے کی شناسائی پر اس پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہو؟۔
    واعظہ نے اسکے حالات کا تجزیہ کر ڈالا تھا۔ الف کا تو جانے کیا فیصلہ تھا۔ عزہ اور عشنا کو یہ سراسر گھاٹے کا سودا لگ رہا تھا۔
    الف نے آنکھیں میچ لیں۔ کہیں مسکراتا کہیں بولتا کتنے خوبصورت پلوں میں اسکا چہرہ نگاہوں کے سامنے آن رہا تھا۔ اجنبی دیس میں اجنبی قومیت کے لڑکے کے ساتھ بھی جانے کیوں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
    اس نے آنکھیں کھولیں۔
    اتنا رونا دھونا مچانے کے بعد یوں بٹر بٹر واعظہ کو گھورتی الف کو دیکھ کر عزہ او رعشنا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔
    پھر بھی واعظہ تمہیں نمبر ڈیلیٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ کم از کم آخری بار گڈ بائے ہی کہہ لیتی۔
    عزہ نے خود کو الف کی جگہ رکھ کر سوچا تو یہی خیال آیا اسے۔
    واعظہ نے سر پیٹنے والے انداز میں دیکھا اسے
    جس گلی جانا ہی نہیں اسکے کوس کیا گننے۔ عشنا گنگنائی۔
    تو تمہارا فیصلہ کل کی جگہ آج ہوگیا الف۔ تھینکس می لیٹر۔
    واعظہ اپنا موبائل اٹھاتی اسے جتاتی نظروں سے دیکھتی اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی۔
    ہاں۔۔۔۔ الف نے ایکدم سے مضبوط آواز میں کہا تھا۔ واعظہ رک کر پلٹ کر دیکھنے لگی۔
    میں اس پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہوں۔ اس نے آنسو پونچھتے ہوئے مضبوط انداز میں کہا۔
    مجھے وہ ہی چاہیئے۔۔۔۔۔ میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔
    واعظہ نے بغو راسکی شکل دیکھی۔ کچھ دیر پہلے والا تذبذب اسکے چہرے سے غائب تھا۔
    اب تو کھو چکی ہو واعظہ نے نمبر ڈیلیٹ کر دیا ہے الف۔
    عزہ نے یاد دلایا۔
    وہ جاپان تو گیا ہے ٹوکیو کا ایک ہوٹل ہے جس میں ٹھہرا ہے میں اسکو ڈھونڈ لوں گی۔ کتنے کوئی ہوٹل ہوں گے جاپان میں۔ایک ایک کو کال کرکے پوچھوں گی۔
    وہ ایک دم پرعزم ہوئی
    ایک دن میں کتنوں کو کال کر لوگی
    واعظہ ہنسی۔ الف چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنےلگی۔
    واعظہ نے اپنا موبائل انلاک کرکے کال ملائی
    یہ لو بات کر لو اس سے۔۔
    واعظہ نے اپنا فون اسکی جانب بڑھادیا۔ الف ششدر سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی
    نمبر دیکھ کر کے ہی ڈیلیٹ کیا تھا ۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔ عزہ اور عشنا کا بھی منہ کھلا رہ گیا۔
    فون کی بیل جا رہی تھی۔ ہلکی سی گڑگڑاہٹ کے بعد کسی کی نیند میں ڈوبی آواز آئی۔۔۔ جانی پہچانی آواز۔
    ہیلو۔
    ۔ الف کا سکتہ ٹوٹا اس نے لپک کر فون اسکے ہاتھ سے لے لیا۔
    ہیلو۔ ذکریہ۔۔۔۔ الف کی آواز تھی کہ جادوئی منتر۔وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔
    الف۔۔۔
    الف نے سکھیوں کو پیٹھ دکھائی اور جھپاک سے کمرے میں گھس گئ۔
    عزہ اور عشنا نے مڑ کر کمر پر بازو ٹکا کر واعظہ کو۔گھورا
    حد ہے رات کے تین بجے یہ سب کیا کھڑاگ تھا بھئ؟
    عزہ بھنائی۔
    بیان۔واعظہ ہنسی۔
    یہ الف کی بچئ سے فیصلہ ہو ہی نہیں رہا تھا سومجھے مدد کرنی پڑی۔ اور اس ڈرامے باز کو دیکھو مجھ سے وعدے لے رہی تھی کہ کسی کو بتانا نہیں اور تم سے لپٹ کر سب رٹو طوطے کیطرح رام کہانی سنادی ساری۔
    واعظہ نے کہا تو عزہ تلملا کرکمرے کیطرف جانےلگی
    کیا؟ہم سے سب رازچھپانے تھے ایک میں پاگل کندھے سے لگا کر تسلیاں دے رہی چپ کرا رہی پوچھتی ہوں ابھی اس سے۔۔
    وہ آستین چڑھا کر کمرے کی طرف بڑھی تو عشنا نے بازو سے پکڑ کر روکا
    جانے دو بعد میں نمٹ لینا ابھی اسکا مسلئہ حل ہونے دو۔
    عشنا کے رسان سے کہنے پراس نے منہ پھلا کر واعظہ کو دیکھا جو منے صوفے پر اطمینان سے ںیم دراز تھئ۔
    ویسے دو منٹ میں واپس آنے والی ہے یہیں میرے موبائل میں چارجنگ نہیں بالکل بھی۔
    واعظہ الف کا موبائل لہراتی مسکرا کر بولی۔۔ اندر سے الف چیخی تھی
    واعظہ کمینی فون بند ہو گیا تمہارا۔۔
    اسکی پکار پرواعظہ تلملائی
    اوئے گالی کس کو دے رہی ہو۔
    تمہیں۔ الف کمرے سے نمودار ہوئی عزہ اورعشنا ٹھٹھہ مار کر ہنسیں۔۔ ان دونوں کے ہنس پڑنے پر واعظہ خود بھی ہنس دی۔
    کیوں ہنس رہی ہو تم لوگ مزاق اڑا رہی ہو میرا
    الف کو نیا دکھ لگ گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ کی صبح آنکھ نہیں کھلی۔ وہ تو جاتے جاتے سیہون نے دروازہ بجایا تو مندی مندی آنکھوں کے ساتھ سر کھجاتی اٹھی کاہلی سے دروازہ کھولا سامنے سیہون نک سک سے تیار کھڑا تھا۔
    آج چھٹی ہے کیا تمہیں؟ دفتر نہیں جانا۔۔ سیہون کے پوچھنےپر اس نے جمائی لیتے ہوئے سوچا پھر نفی میں سرہلایا
    نہیں آج دفتر نہیں جانا۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا پھر ذرا سا چونکی۔۔
    دفتر کیوں نہیں جانا؟؟؟؟ جانا۔۔ ہے۔۔ دفتر جانا ہے۔
    انگریزی میں ہولہ خبطو کی۔طرح بولتی وہ سر پر ہاتھ مار کر پلٹی
    کیا مطلب جانا ہے یا نہیں۔ سیہون کف بند کر رہا تھا اسکے انداز پر مصروف انداز میں ہی کمرے میں جھانک کرپوچھنے لگاجو الماری سے کپڑوں کا ڈھیر نکال کر بیڈ پر۔پھینک رہی تھی۔
    نہیں جانا ، میرا مطلب پرانے دفتر نہیں جانا مگر جانا ہے ایک جگہ انٹرویو ہے میرا۔ نو بجےاف۔۔ میں نے تو کپڑےپریس بھئ نہیں کیئے۔شاور بھی لینا بہت کام۔۔
    وہ ایک لانگ اسکرٹ بلائوز گولا بنا کر سینے سے لگائے باہر بھاگی مگر بیڈ سے الجھ کر گرتے گرتےبچی
    لائو میں پریس کردوں۔ سیہون نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اس سے کپڑےمانگے
    نہیں میں کر لوں گی۔۔ اس نے مروتا کہا
    تم شاور لے لو میں پریس کر دیتا ہوں جلدی تیار ہو جائو تو میں گاڑی میں ڈراپ کردوں گا مجھے آج جلدی نہیں ۔۔
    اس نے اصرار کیا وہ سچ مچ متامل تھی اچھا تو نہیں لگتا نا اس سے اپنے کام کروانا۔
    دو نا، اب میں شاور تو نہیں لے سکتا تمہاری جگہ
    سیہون نے کہا تو اس پر گھڑوں پانی پڑا۔ کھسیا کر اسے کپڑے تھماتی باتھ روم کی۔جانب بھاگی۔
    تیار ہو کر فائل اور پرس تھام کر باہر نکلی تو سیہون لائونج میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔اسے آتے دیکھ کر ٹی وی بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ پہلے اپارٹمنٹ سے باہر نکلی پیچھے سیہون سب لاک کرتا آیا اسکے ساتھ لفٹ میں داخل ہوتے ہی اسے پہلے جانے کا رستہ دیتا پیچھے جان کےرکا۔ گاڑی تک آتے اسکے لیئے دروازہ اپنی گاڑی کی چابی میں لگے آٹو میٹک بٹن سے پہلےکھولا۔ کیونکہ وہ اس کے ساتھ چلتے ایک قدم تیز ہو کر پسنجر سیٹ کی طرف بڑھ گئ تھی۔
    گاڑی میں آکر بیٹھنے کے بعد بھی مروتا پہلے اس سے پوچھا
    اب چلیں۔اسکے جوابا سر ہلانے پر ہی گاڑی اسٹارٹ کی۔
    جانے لڑکے ان باتوں پر غور کرتے ہیں یا نہیں مگر یہ چھوٹی چھوٹی سی باتیں حرکتیں لڑکیوں کےلیئے کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ سلجھا ہوا انداز ساتھ چلتی خاتون کو یوں عزت دینا اہم سمجھنا اسکا ذرا سا خیال رکھ لینا۔۔۔۔ یہ سب لڑکیوں کو کتنا پسند آتا ہے اگر اسکو پتہ چلے تو۔۔۔ اس نے چور سی نگاہ سڑک پر مکمل توجہ دیئے احتیاط سے ڈرائیو کرتے سیہون پر ڈالی۔۔۔۔
    وہ مکمل آفس بوائے والے حلیئے میں تھا گلابی شرٹ ٹائی آستینیں ذرا سا موڑ رکھی تھیں مگر مضبوطئ سے سٹئیرنگ تھامے بے نیاز بیٹھا وہ گورا چٹا چندی آنکھوں والا لڑکا جس کے چہرے کی جلد اسکے اپنے چہرے سے ذیادہ شفاف تھی۔
    بے وقوف میری۔ اتنا ہیرےجیسا لڑکا ٹھکرا دیا۔
    وہ بڑبڑا اٹھی
    دے۔۔۔مجھ سے کچھ کہا۔سیہون چونک کرپوچھنےلگا۔
    آنی۔۔ فاطمہ نے زبان دانتوں تلے دبا لی
    شکر ہے اردو میں ہی بڑبڑائی۔ وہ دل ہی دل میں شکرادا کرنے لگی۔
    اس نے مطلوبہ جگہ گاڑی روکی تو وہ شکریہ ادا کرکے اترگئ۔
    واپس کیسے آئو گئ؟ سیہون کے پوچھنے پر وہ سوچ میں پڑی۔
    سیول کے اس علاقے سے اسکی کوئی واقفیت نہیں تھی مگر میٹرو اسٹیشن تو سب جگہ ہوتے ہی ہیں اور کچھ نہیں تو بس ۔۔ ٹیکسی تھوڑی مہنگی پڑتی۔۔
    یہاں ۔۔ اس نے گردن موڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ دور کچھ فاصلے پر بس اسٹاپ نظر آگیا مطمئن ہو کر بولی۔
    بس سے۔
    سیہون نے اسے ایک نظر غور سے دیکھا پھر سر ہلا دیا
    کرم۔۔ سر کے اشارے سے الوداع کہتا وہ گاڑی آگے بڑھا گیا۔۔
    اکیڈمی لب سڑک تھئ اور خاصی بڑی عمارت تھی یقینا بڑا سیٹ اپ تھا انکا۔ وہ اللہ کا نام لیکر سیدھا اندر گھس گئ۔ ریسپشن پر اپنا نام بتا کر جیسے ہی اپنا سی وی نکالنا چاہا تو احساس ہوا کہ بس پرس ہی پاس ہے۔۔۔گاڑی سے مزے سے ہاتھ جھلاتی نکل آئی تھی۔
    چندی آنکھیں منتظر تھیں۔۔
    چھے سو ہمبندا۔۔ وہ جھک کر معزرت کرتی بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ سیہون گاڑی لیکر نکل چکا تھا۔ سڑک رواں تھی۔ وہ پھولی سانسوں کو ہموار کرتی ہونٹ کاٹنےلگی۔
    بنا سی وی کے آنٹرویو دوں؟ اس نے سوچا۔۔
    میں ہوں فاطمہ احمد۔ دے بھئ سکتی ہوں انٹرویو خالی خولی۔
    وہ عزم کرتی پلٹی سیہون سامنے کھڑا گھور رہا تھا۔فائل ہاتھ میں لیئے دانت کچکچا کربولا۔
    حد ہوتی ہے لاپروائی کی بھی ویسے انٹرویو دینے آئی ہو اور اپنا سی وی ہی بھول آئیں۔ ۔ آگے یو ٹرن بھی اتنا دور ہے گاڑی وہ سامنے لگا کے بھاگتا ہوا آیا ہوں۔۔
    اس نے دور سڑک کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کھلکھلا کر ہنسی
    شرمندہ ہونا تو سیکھا ہی نا تھا۔سیہون اسے گھورتا رہا پھر اسکی ڈھٹائی پر خود بھی ہنس دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انٹرویو دینے جو لوگ آئے ہوئے تھےان میں غیر ملکی بس وہی تھی۔ آپس میں سب گٹ پٹ لگے جانے کیا کہانیاں سنا رہے تھے۔فاطمہ نے ایک ترچھی نگاہ ان سب پرڈالی۔ انٹرویو تین تین لوگ دینے جا رہے تھے۔جب اسکی باری آئی تو ایک پی ایچ ڈی اسکالر چالیس کے قریب تھا ایک لڑکی جو دیکھنے میں ہائی اسکول کی ہی لگتی تھی۔ ان دونوں کے آگے اسکا چانس پکا تھا سو خود بخود اعتماد آیا گردن میں سریا۔
    پہلے بھائی جان بولے۔۔
    گٹ پٹ گٹ پٹ۔۔
    پھر باجی۔۔۔۔۔
    گٹ پٹ گٹ پٹ۔۔۔
    اب انٹرویو پینل میں بیٹھے وہ پچاس کیا اسی کے پیٹھے میں ناک چڑھائےبیٹھےانکل بلکہ دادا جی۔۔
    گٹ پٹ گٹ پٹ۔۔
    ٹون۔۔۔۔۔۔ اسکا دماغ سائیں سائیں ہوا۔
    جانے کیا پوچھ رہے تھے اس نے گہری سانس لی۔پینل میں بیٹھے وہ تین مرد ایک خاتون اسکے ہمراہ انٹرویو دینےآئے دونوں امیدوارسب اسے دیکھ رہے تھے۔
    اس نے اپنے اعتماد کے غبارے سے ہوا نکلتی دیکھی تو جھٹ سیدھی ہو کر بیٹھئ۔
    ہائی آئی ایم فاطمہ احمد۔ ۔آگے طویل انگریزی بیان تھا جس میں اسکے بچپن سے آج تک قابلیت کے گاڑے گئے جھنڈوں کی تفصیل تھی۔لہجہ، اعتماد متاثرکن تھا یہ الگ بات اس بار اسکی گٹ پٹ ان سب کے سرپرسے گزری تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ انٹرویو دے کر نکلی ہی تھی کہ باس کی کال آئی۔ کافی چلا رہے تھے فورا سیٹ پر پہنچنے کی ہدایت۔ وہ حیران تو ہوئی مگر بھاگم بھاگ پہنچنا پڑا۔
    کہاں غائب ہیں آپ؟صبح سے شوٹ رکی ہوئی ہے کوئی اندازہ ہے آپکو ہمارا کتنا نقصان ہوا ہے۔ اب فوری۔طور پر سلمی اور عبداللہ کا سین ریڈی کروائیں۔۔۔ اسکرپٹ اسکے ہاتھ میں تقریبا پٹخا تھا۔۔ خوب بک جھک کر تن فن کرتے ہدایت کار صاحب سیٹ کیجانب بڑھ گئے
    پر میں تو کھاوا کو سب سمجھا کے گئ تھی کہاں ہے کھاوا۔
    اسے سخت غصہ آیا۔ ایک دن دو چار گھنٹے اسکی روپوشی کوراز نہ رکھ سکا۔
    اس نے پاس سے گزرتے اسپاٹ بوائے کوروک کرکھاوا کا پوچھا۔
    ٹوٹی پھوٹئ انگریزی میں اس نے اسےسمجھا ہی دیا
    کھاوا کو پولیس پکڑ کر لے گئ ہے۔۔
    وہ شاک کی کیفیت میں کھڑی رہ گئ۔
    پر۔کیوں؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیٹ پر موجود سو ڈیڑھ سو بندہ خاموش اپنی اپنی جگہ کھڑا تھا۔ہدایت کار اس پر چلا رہا تھا عبد اللہ اسے شانت ہونے کا کہہ رہا تھا سلمی بے نیازی سے اپنی کرسی پر بیٹھی میک اپ ٹھیک کرتے ہوئے آئینے میں دیکھتے ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈال دیتی تھی۔
    وہ بیچوں بیچ سر جھکائے کھڑی سب سن رہی تھی۔
    تم لوگ دو ٹکے کے آجاتے ہو منہ اٹھا کے کوریا اوپر سے فراڈ بھی کرتے ہو۔ ایک پاکستانی یہاں خفیہ کیمرے لگا رہا دوسری اسکی ساتھی یہاں جھوٹ بول کر نوکری کر رہی ہے۔ کام چور نکمی۔ کچھ اندازہ ہےمیرا کتنا نقصان ہوا ہے۔دل تو کر رہا۔۔
    وہ شائد اسے مارنے کو دوڑتا مگر عبداللہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسے پکڑ کر کھینچ کھانچ کر لے گئے۔
    مانا اسکی لمبی تقریر کا صرف حوالہ متن ہی سمجھ آسکا تھا اسے پھر بھی یوں سب کے سامنے اتنی بے عزتی اسکی اپنی ہی غلطی تھی مگر۔ اس سے نگاہ اور سر اٹھایا نا جا سکا۔ ستے ہوئےچہرے کے ساتھ پلٹتے بھی اسکو اپنی پشت پر سیکنڑوں نگاہوں کے تیر گڑتے محسوس ہو رہےتھے۔کندھےبھن بھن کےبوجھ سے جھک رہے تھے۔
    واعظہ بھاگتئ ہوئی سیٹ کی طرف آئی تھی۔ اسے باہر آتے دیکھ کر رکی مگر وہ اسکے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئ۔۔واعظہ کچھ نہ سمجھتے اسکےپیچھے لپکی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تفتیشی افسر نے گہری سانس لیکر اپنےساتھی کو دیکھا۔
    وہ بالکل خاموش سر جھکائے بیٹھا تھا انکے مقابل۔۔
    چہرے پر اتنا تنائو تھا کہ جیسے وہ دانتوں پر دانت جمائے بیٹھاتھا۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرےمیں پھنسائے۔۔ ایک ہاتھ میں بینڈج تھی شائد کوئی۔زخم رہا ہو اس وقت مٹھی کی سختی کی وجہ سے وہ سفید پٹی سرخ ہونے لگی تھی۔ مگر اسکے چہرے پر کوئی تکلیف نہیں تھئ۔۔
    ہو سکتا ہے اسے ہماری زبان سمجھ نہ آتی ہو۔۔
    اسکے ساتھئ نےخیال ظاہر کیا تو اس نے اپنےلیپ ٹاپ کا رخ اسکی جانب کر دیا۔
    کھاوا احمد کا مکمل بائو ڈیٹا انکے سامنے تھا اسکا پاسپورٹ ویزا اسکا ورک پرمٹ ، عربی، انگریزی ، ہنگل کے ساتھ ویتنامی زبان بھی درج تھئ۔
    تعلق پاکستان سے مگر۔۔ افسر نے الجھن بھرے انداز میں دیکھا۔۔ جب بات بھی سمجھ آرہی ہے تو یہ کچھ بولتا کیوں نہیں۔ بڑے سےبڑا مجرم بھی اپنی صفائی تودیتا ہے۔۔
    پانی کا گلاس اسکے برابر رکھا تھا مگر پچھلے دو گھنٹوں سے اس نے گھونٹ نہیں بھرا تھا۔
    آپ پیر کی دوپہر ڈریسنگ روم نمبر 7 میں کس کام سے گئے تھے؟
    ہنگل میں پوچھا گیا سوال۔۔اسکے ذہن نے فوری تشریح کی مگر۔۔۔۔
    افسر حیران تھا۔ جوابا اس لڑکے نے پلک بھی نا جھپکی۔
    توں ایس ویلے ووہٹی دے کمرے وچ کی لین گیا سی؟
    مشکوک لہجہ سوال اس بار پنجابی میں پوچھا
    اس سوال کو وہ جھٹک نہ پایا تھا اس نے اپنے بالوں کو دونوں مٹھیوں میں جکڑ لیا۔
    نہیں۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔
    وہ وہاں نہیں تھا وہ اس وقت پاکستان کے ملتان سائیڈ کے چھوٹے سے گائوں میں تھا جہاں اس سے یہ گھنائونا سوال کرنے والے غیر نہیں تھے۔
    وہ ان یادوں کو مٹا دینا چاہتا تھا جبھی ہذیانی انداز میں اپنا سر میز پر ٹکراتے بال نوچتے چلانے لگا تھا۔ پے در پے خود کو تھپڑ مارتے اس لڑکے نے ہتھ کڑی لگی ہونے کےباوجود خود کو ٹھیک ٹھاک زخمی کر لیا تھا۔ دونوں افسر بھاگے اس نے اپنے آپ کو کرسی سمیت گرا لیا تھا کرسی سے بھی وہ دیوانوں کی طرح سر مار رہا تھا۔۔دیکھتے ہی دیکھتے خون نکل آیا تھا۔ دونوں افسر اسکے ہاتھ پکڑ کر سنبھالتے ہوئے ہلکان ہو گئے۔۔ تو وہ انکے ہاتھوں میں ہی بے ہوش ہو کر ڈھیر ہو گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چل کرو یار۔ اس بڈھے کی بھی حالت ٹائٹ ہوئی وی تھی اتنا نقصان ہوا ہے اسکا پاگل ہوا وا تھا جبھی اتنا بولا تم دل پر کیوں لے رہی ہو۔ اور کھاوا کا غصہ بھی اس نے تم پر نکال دیا۔ خود سوچو دوران شوٹ اسکو پولیس پکڑ کر لے گئ وہی ان سب کو ڈائلاگ یاد کرواتا تھا دو ایک گھنٹےشوٹ اس وجہ سے رکی رہی پھرتم کو بلایا تو تم نے بھی صاف صاف سب سچ بتا دیا کہ تمہیں عربی نہیں آتئ اب یہ تو اس دنیا کا اصول ہے اپنی غلطی مانو سچ بولو اور دنیارج کے ذلیل کرتی ہے۔ واعظہ نے فلسفہ جھاڑا۔ مگر فاطمہ ٹھس سی بیٹھی رہی
    ہنگن دریا کنارے ہمیشہ کی طرح فاطمہ اپنا ڈپریشن دریا برد کرنے آئی تھی۔ اور اسکی مدد کو ای جی سے معزرت کرکے اس سے اپنے لیئے خوب ساری لعن طعن سن کر اپنا ڈپریشن بہانے واعظہ بھی پیچھے پیچھے آئی تھی۔ اس نے ریڑھی سے چھلی لی تھی ابلی ہوئی چیز میں ڈوبی اور ساتھ لال چٹنی سی تھئ۔ واعظہ چٹخارے لے کر کھا رہی تھی جبکہ فاطمہ کی پلیٹ ان چھوئی اسکے برابر رکھی تھی۔
    ہنگن پر رات اتر چکی تھی۔ نمائشی بتیوں میں نیلا پانی ساکت تھا وہ دونوں بنچ پر بیٹھی اس پر نگاہ جمائے تھیں۔۔
    مجھے نہیں لگتا کہ مجھے اکیڈمی میں نوکری ملے گی۔ وہاں سب اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ پی ایچ ڈی تو کوئی ایم فل میرا سادا ایم اے انگلش کسی کام کا نہیں۔۔۔ جوابا وہ بولی بھی تو کیا بولی۔
    تمہیں اکثر غلط ہی لگتا ہے سو اپنے اندازوں پر مت جائو بالکل غلط ہوتے ہیں۔
    واعظہ نے بھٹہ کھا کر ہاتھ جھاڑے۔۔
    یہ نوکری بھی گئ۔ مجھے خدا واسطے سیہون رکھ بھی لے تو بھی اگلے چار پانچ سال میں میری زندگی کیا ہوگی واعظہ۔۔؟
    پانی پر نگاہ جمائے وہ برابر بیٹھی واعظہ سے پوچھ رہی تھی
    مجھے کیاپتہ مجھے کونسا کشف ہوتے۔۔واعظہ نے کندھے اچکائے۔
    مجھے ہاتھ دیکھنا بھی نہیں آتا۔ اس نے منہ لٹکایا۔

    میرے ہاتھ میں بنا دیکھے بھئ مجھے پتہ ہے ایک لکیر بے عزتی کی بھی ہےوہ بھی خوب گہری لمبی سی۔۔
    فاطمہ نے استہزا سے اپنی سپید ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔۔
    میرے ہاتھ میں بد قسمتی کی لکیر ایسی ہی لمبی گہری ہے۔
    واعظہ نے بھی ہنس کر اپنی ہتھیلی اسکی ہتھیلی کے ساتھ ملائی یوں کہ دعا کی طرح اٹھے ہاتھ لگنے لگے۔
    وہ دعا مانگنے ہی لگی تھی کہ۔واعظہ نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
    واعظہ۔۔ میں کیا کروں؟ میں پاکستان نہیں جانا چاہتئ۔
    وہ بےبسی سے اسکی جانب رخ کرکے بولی۔۔واعظہ جو اسکی پلیٹ اٹھا چکی تھی گڑبڑا کر اسکی جانب بڑھانے لگی۔۔ مگر اسے کھانےمیں دلچسپی نہ تھی۔
    کوریا بہت اچھا سہی مگر یہاں آپ بنا نوکری نہیں رہ سکتے۔۔ میں سیہون کی شکل دیکھتی ہوں مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔ تمہاری شکل دیکھتئ ہوں تو ۔۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ
    کیا میری شکل دیکھتی ہو تو کیا؟ واعظہ ایکدم الرٹ ہوئی۔یقینا کوئی الٹا کمنٹ کرنے لگی ہے کمینی ایک تو اسکی خاطر۔اس نے غصے میں بڑی چکھ مار لی بھٹے میں۔۔
    سچ بتائوں۔ فاطمہ اسکی شکل غور سے دیکھتے ہوئئ بولی
    ہاں سچ بتائو۔
    وہ لڑنے کو تیار ہوئی۔۔ جلدی جلدی منہ چلا کر نگل کر خالی کیا۔
    تمہاری شکل دیکھتئ ہوں تو مجھے تسلی سی ہوتئ ہے۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ سر ہلا کر بولی جیسے سمجھ گئ۔۔
    ہاں یہی تسلی نا کہ کوئی اور بھی ایسا ہے جو تم سے ذیادہ منحوس ہے۔
    فاطمہ نے رخ موڑ کر ہنگن دریا پر نگاہ جما دی۔۔پھر دھیرے سے بولی۔۔
    مجھے تسلی سی ہوتی ہے کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔کوئی ہے جو مجھے اس وقت بھئ میسر ہوگا جب دنیا میں کوئی میرے ساتھ نہ ہوگا۔
    اسکا دھیرے سے کیا گیا اعتراف واعظہ کو حیرت میں مبتلا کر گیا۔
    پتہ ہے تم دنیا کی وہ واحد انسان ہوجواگر کہے فاطمہ اس دریا میں کود جائو تو فاطمہ آنکھیں بند کرکے کود جائے گی اسے پتہ ہوگا کہ یقینا میرے لیئے کچھ اچھا ہی سوچا ہے تم نے۔
    وہ مسکرا رہی تھی۔۔
    محظوظ سے انداز میں۔ واعظہ کی حیرت بھری نظریں اسے خود پر جمی محسوس ہو رہی تھیں۔
    میں مزاق میں بھی کودنےکو کہہ سکتی ہوں اتنی اندھی تقلید مت کرنا میری۔
    واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر وارننگ دی
    فاطمہ ہنس کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کیا ہوا کودنے جا رہی ہو۔
    واعظہ نے جلدی سے بھٹہ پلیٹ میں رکھا۔
    فاطمہ گھور کر رہ گئ۔۔ پھر خیال آیا
    ویسے واعظہ یہ کھاوا کیا واقعی میں ایسا ہے؟واقعی ای جی آ کے روم میں کیمرہ اسی نے رکھا تھا؟
    واعظہ نے کندھے اچکائے
    پتہ نہیں۔۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ بھی گیا تو ہے کمرے میں مگر ضرورئ تو نہیں کہ بس وہ ہی گیا ہو۔ کیمرہ کوڈ توڑے گی پولیس ڈیٹا ریکور ہو تو اصل مجرم سامنے آئے گا۔
    تمہیں پتہ ہے مجھے وہ ایسا نہیں لگتا۔۔ فاطمہ نے پریقین انداز میں کہا۔
    تم اور تمہارے غلط اندازے۔ واعظہ نے مکھی اڑائی۔۔
    نہیں یار لڑکیوں کو پتہ لگ جاتا ہے لڑکا انکو کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔اسکی نظروں سادہ ہی ہوتی ہیں۔۔ وہ مجھے ایسا ویسا لڑکا نہیں لگتا۔۔
    فاطمہ اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔۔واعظہ نے اپنی بقیہ چھلی کو دیکھا پھر اسے ختم کرنے میں مشغول ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب جگہ پتہ کرلیا کوئی ہے جن نہیں ہے یہاں۔۔۔
    تیجون نے کہا تو دونوں نے سر پیٹ لیا۔
    ارے یہاں نہیں ہے وہ تو اپنے آبائی گائوں ہے ہمیں اس گائوں کا پتہ جاننا ہے وہ یہاں اسکے اسکول سے لیکر دو۔
    طوبی بھنائی تو تیجون نے منہ پھلا لیا۔غصے سے بھی اور فرائی چکن سے بھئ۔دونوں بڑے صبر سے اسکے غبارے جیسے منہ کو خالی ہوتے دیکھنے لگیں۔
    آپکو پتہ ہے گرد و نواہ میں کتنے ہائی اسکول ہیں سرکاری و غیر سرکاری اوپر سے ہے جن نام کےکتنے لڑکے ہوںگے۔اتنا بڑا سیول ہے۔ ۔۔ تصویر ہی کم از کم ہوتی تو ڈھونڈ دیتا میں۔۔
    تیجون نے نہایت بے چارگی سے کہا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔
    یار۔ عزہ نے بے چارگی سے طوبی کو دیکھا۔ تیجون نے ایک نظر اس نقاب پوش لڑکی کو دوسری نظر طوبی کو دیکھا پھر اپنے برگر کی طرف متوجہ ہوگیا۔
    وہ لوگ اس وقت مشہور فاسٹ فوڈ ریستوران میں بیٹھے تھے
    ان دونوں نے تو یہاں سے کیا ہی چکن کھانا تھا اس موٹے تیجون کو ڈیل منگوا کر دی جسے۔ڈکارنے کے بعد اس نے یہ عظیم انکشاف کیا تھا۔ خود دونوں اپنی ڈرنکس کے اسٹرا ڈرنکس میں گھما گھما کے مدو جزر بنا رہی تھیں۔۔
    تصویر ہوتئ تو مسلئہ کیا تھا ہم تصویر دکھا کے خود ڈھونڈ لیتے۔
    طوبی چڑی تو تیجون کان دبا گیا۔
    یار طوبی جی یہ تو واقعی مسلئہ ہے۔ہم ہے جن کو ہر۔جگہ اپنا فوٹوگرافر بنا لیتے تھے جہاں جاتے اس سے تصویر کھنچواتے کبھی اسکی تو تصویر کھینچی ہی نہیں ہم نے۔
    عزہ کو اچھا خاصا گلٹ ہوا۔
    واقعی۔ طوبی بھی شرمندہ ہوئی۔
    میں بھی سارا دن اسکو جانے کیا کیا۔بتاتی سمجھاتی تھی۔بھائئ کہتی تھئ کبھی اسکی تصویر تک نہ لی۔۔۔ نگاہوں کے سامنے ہی تو تھا کیا۔خبر تھئ کبھی تلاشنا پڑ جائے گا اسے۔
    وہ یاسیت سے بولی
    آپ۔دونوں کی۔بات سمجھ تو نہیں آئی مگر لگتا ہے یہ لڑکا کوئی بڑا نقصان کرکے بھاگا ہے جو آپ۔اتنی دکھی ہیں۔میری مانیں تو پولیس میں شکایت لگائیں۔ایسے آپ دونوں جیسی غبی نظر آنے والی خواتین کو اکثر ہائی اسکولر الو بنا جاتے ہیں۔
    الفاظ کا چنائو ٹھنڈی بستی وہ بھی انگریزی میں۔۔
    تیجون کے الفاظ کا ہتھوڑا سر پر پڑا تو جوابا دونوں چلائیں۔۔
    شٹ اپ۔
    میں تو آپکے بھلے کیلئے کہہ رہا تھا۔
    وہ ڈر ہی توگیا۔۔
    ویسے آپ لوگ لڑکے ڈھونڈنے کے علاوہ اور کیا کام کرتے ہیں۔
    اسکے سوال پر اچنبھے سے طوبی نے گھورا
    مطلب۔
    مطلب ایک لڑکا آپ ڈھونڈ رہی ہیں ایک لڑکا آپکے میاں۔۔
    لڑکے اسمگل کرتے ہیں کیا آپ لوگ
    کہتے ساتھ ہی وہ بروقت جھکائی دے گیا۔کیونکہ جہاں بیٹھا تھا وہاں طوبی کی بھری کولڈ ڈرنک والا پیپر کپ آن گرا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو دن لگے تھے پولیس کو تفتیش مکمل کرنے میں۔ کیمرہ لگانے والا کھاوا نہیں تھا بلکہ پروڈکشن ٹیم کا ایک عارضی ملازم تھا جو فوری طور پر منظر سے غائب بھی ہو چکا تھا۔
    دو دن حراست میں رکھنے کے بعد اسکو گھر جانے کی اجازت ملی۔ سر پر پٹی بندھی تھی۔ہاتھ پر پٹی۔۔ کلائیوں پر نیل چہرے پر نیل۔ اور ان میں سے ایک زخم بھی پولیس والوں کا دیا نا تھا۔ تفتیشی افسر نے اسے نفسیاتی علاج کے ادارے کا کارڈ دیتے بڑے خلوص سے اسے وہاں جانے کا مشورہ بھئ دیا تھا۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔ اور باہر نکل آیا۔
    اپنے ہر لڑکھڑاتے قدم کے ساتھ اسکی اپنی زندگی سے اچھی امید بھی ختم ہو رہی تھی۔ ایسے موقعے جب وہ دنیا میں خود کو اکیلا تنہا ناکارہ محسوس کرتا تھا وہ خود کو شراب کے نشے میں گم کر لیتا تھا۔ مگر آج اسے شراب بھی پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔بلکہ آج تو اسکا جینے کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ تو اپنے فلیٹ چلی گئ وہ جب گھر پہنچی تودلاور صارم کو گود میں لیئے کھڑے تھے۔
    اسلام و علیکم۔ اس نے سلام کیا تو چونکے۔ شفقت سے جواب دیا پھرپوچھنے لگے
    گھر میں کوئی تقریب ہے؟ میرا مطلب کوئی خاص پروگرام؟
    جی؟ وہ سمجھ نہ پائی۔
    وہ طوبئ کئی گھنٹوں سے آپکے گھر ہے۔ بچیاں بھی وہیں ہیں۔صارم سو رہا تھا تو اب جاگ کے ماں کو یاد کر رہا ہے۔میں بیل کر رہا ہوں ۔مگر اندر شور ہے کوئی سن نہیں رہا
    وہ بیٹے کو تھپکتے بے چارگی سے بولے۔
    اوہ۔ وہ یقینا کافی دیر سے کھڑے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر انلاک کیا۔۔
    میں طوبئ کو۔۔ وہ کہنے لگی تھی کہ طوبی کو بھیجتی ہوں
    آپ اسکو بھی اندر لے جائیں۔۔ کہہ کر انہوں نے اپنا گول مٹول بیٹا اسے تھما دیا۔ وہ۔ہڑبڑا سی گئ شکر ہے گرا نہیں۔۔
    دراصل مجھے کہیں بہت ضروری جانا ہے طوبی کو بتا دیجئے گا مجھے دیر ہو سکتی ہے۔
    وہ کہہ کر رکے نہیں معزرت کرتے لفٹ کیطرف بڑھ گئے۔
    اس نے اب غو رکیا ان پر تو اپر اور جینز پہنے وہ تیار ہی کھڑے تھے باہر جانے کو۔۔ وہ دروازہ بند کرتی بچے کو اٹھائے اندر چلی آئی۔۔
    گھرمیں میلے کا سماء تھا۔سب لائونج میں جمع تھیں۔ ٹی وی پر کورین موسیقی چل رہی تھی مگر دھیمی آواز میں۔ جانے بیل کیوں نہ سنائی دی۔ اس نے بیل چیک کی تو بیل ہی۔بند تھی۔مین ڈو رکا کیمرہ بھی بند۔وہ انکو گھور کر رہ گئ۔ عشنا الف عزہ طوبی لیپ ٹاپ منی میز پر رکھے اسکے گرد آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں سب کے ہاتھوں میں چاول کی پلیٹیں تھیں جس میں سے بریانی اڑائی جا رہی تھی۔ ۔بچیاں شائد کھا چکی تھیں کیونکہ انکے سامنے رکھی پلیٹیں خالی تھیں اور وہ ان تینوں کے موبائل میں گیمز کھیلنے میں مگن تھیں۔اسکی آمد کا نوٹس بس ان بچیوں نے لیا وہ بھی اتنا کہ اچٹتی نگاہ ڈال کر گیم میں مگن ہوگئیں۔
    اس نے آگے بڑھ کر انکی دلچسپی کا منبع جاننا چاہا۔ لیپ ٹاپ پر جھانکا ابیہا سرخ ساڑھئ پہنےکانوں میں ہینڈز فری لگائے لہک لہک کر باتیں کر رہی تھیں۔ اسکو دیکھ کر وہی سب سے پہلے چلائی
    واعظہ کی بچی فون کیوں نہیں اٹھاتی تم اتنی کالیں کی تمہیں۔
    اسکے چلانے پر سب کئ گردنیں گھومیں۔
    اس نے موقع غنیمت جانتے طوبی کو اسکا بیٹا تھمایا۔۔ اس نے جلدی سے اپنی پلیٹ ایک طرف رکھی۔
    ویڈیو کال کر رہی تھیں میں گلی میں ویڈیو کال اٹینڈ کرتی کیا۔
    اسکی بات میں دم تھا وہ کھسیائئ۔ پھر جوش سے کہنےلگی۔
    اچھا سنو میں نے ان سے کہا ہے ہم ہنی مون پر کوریا آئیں گے۔ تم سب سے ملوں گی میں۔
    تم ہنی مون پر ہی نہیں آئی ہوئی ہو ؟
    عزہ کو حیرانی ہوئی
    ہاں یہ تو اسلام آباد ہے نا ہم مری تک جائیں گے کاغان ناران کی بجائے میں نے ان سے کہا ہے وہ پیسے بچائیں اور کوریا گھمائیں مجھے۔
    وہ اٹھلائی۔
    شیفون کی سرخ ساڑھی پہنے وہ اسلام آباد کے کسی ہوٹل میں بیٹھی تھی۔ ہاتھ لمبا کرکےباتیں کرتی پیچھے لیپ ٹاپ پر کام۔کرتے اسکے سنجیدہ صورت گندمی رنگت والے میاں ذرا سا مسکرائے تھے۔ واعظہ کی طرح۔
    ہیں سچی۔ عشنا عزہ طوبی خوش ہوئی تھیں۔
    کاغان ناران جانا اور کوریا چلے آنے میں فرق نہیں؟ کوسٹ کی بات کر رہی۔
    الف نے ذرا سا واعظہ کی جانب جھک کر سرگوشی کی۔
    واعظہ نے ذرا سا نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ سمجھ کر چپ ہوگئ ابیہا خوش ہی اتنی تھی۔
    ویسے اسکا میاں اچھا ہے سڑیل نہیں ہم سب سے ملوایا ہے سلیقے سے بات کی اس نے۔ طوبی کو بیٹا چین لینے نہیں دے رہا تھا تو اسے اٹھاکراٹھتے ہوئے اس نے واعظہ کو بتایا۔۔
    ہاں طوبی دلاور بھائئ کہہ کر گئے ہیں وہ کسی ضروری کام سے جا رہے ہیں دیر سے آئیں گے۔
    واعظہ کو یاد آیا تو فورا بتایا۔
    طوبی جوابا سر ہلاتی کچن کی طرف بڑھ گئ۔صارم کو بھوک لگی ہوئی تھی اسکی پیٹ پوجا ضرورئ تھی۔۔۔
    واعظہ تم نے میری شادی کی تصویریں دیکھیں ؟میں نے واٹس ایپ کی تھیں۔۔ابیہا کو جانے کیا یاد آیا۔
    واعظہ کو وہ پونے چار سو تصویریں یاد آئیں جن کو کوریا کے تیز ترین انٹر نیٹ نے جھٹ پٹ ڈائونلوڈ کر دیا تھا اسکے فون میں رات کے چار۔بجےادھوری نیند سے جاگ کر انسان اپنی شادی کی تصویریں نہ دیکھے کجا کسی اور کی۔ مگر مروت بھی کوئی چیز تھئ۔
    جھٹ اثبات میں سر ہلایا۔۔ طوبی نے چاولوں کی بھری پلیٹ اسے لا تھمائی جو اس نے شکریئے سے قبول کر لی۔
    وہ جو ولیمے والی تصویر ہے ہماری اس کو دیکھ کر بتائو کونسے ہیرو لگ رہے۔۔پکا پہچان جائوگی میرے فیورٹ ہیرو کی جھلک ہے ان میں۔ اف سچی لگن تھی میری۔۔۔۔عزہ اور عشنا نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔
    ٹھہرو دکھاتی ہوں۔اس نے پلٹ کر بیڈ پر پڑا میاں کا فون اٹھایا۔ اسکے وال۔پیپر پر اسکے ولیمے کی ہی تصویر تھی
    گندمی رنگت لمبے چوڑے بھائی آلو ارجن سے مشابہت رکھتے تھے۔
    بس تھوڑا ڈارک ورژن ہیں۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی وہ آواز دبا کر بول رہی تھی۔
    نہیں تو اچھا خاصا گورا ورژن ہیں تو۔۔ الو ارجن تو بہت ہی کالا۔ہے۔۔
    عشنا بول پڑی۔ ان سب نے گھور کر دیکھا تو کھسیا کر پلیٹ پر جھک گئ۔ابیہا نے شائد سنا نہیں ۔۔۔
    لہرا کر پتہ نہیں کیا بتا رہی تھی مگر آواز کچھ ذیادہ ہی دبا لی تھی اتنی کہ انکو سنائی نہ دی۔
    کیا کہہ رہی ہو سنائی نہیں دے رہا۔ عزہ نے بتانا چاہا وہ بد مزا ہوگئ۔
    لو پورا قصہ سنا دیا۔ اب دوبارہ نہیں سنا رہی یہ پھول کر کپا ہو جائیں گے اتنی تعریفیں کر رہی ہے بیوی تو فداہے مجھ پر۔۔ وہ بات بات پر ہنس رہی تھئ۔۔
    اچھا سنو میں بتا رہی تھئ ووکی۔۔
    تعریفیں تھیں تو سن کر کیا کرنا تھا جبھی الف نے ٹوک دیا
    نام کیا ہے دلہا بھائی کا جو انکو ان ان کہہ رہی ہو۔
    نام تو انکا کبیر ہے۔ وہ مسکائی۔۔۔
    میں نے بتایا انکو آپکی شکل میرے فیورٹ ایکٹر سے ملتی ہے۔۔
    الو ارجن؟۔۔ عشنا نے جیسے انعام لینا تھا صحیح بوجھ کے۔۔
    ارے نہیں الو۔ارجن بھی پسند ہے مجھے مگر یہ تو میرے فیورٹ ترین ہیرو کے ہم شکل ہیں۔بوجھو ذرا۔۔
    ابیہا نے کہا تو وہ سب دیگر سائوتھ انڈین ہیروز کی شکل ذہن میں لانے لگیں۔
    اوفوہ کیا ہوگیا ہے جی چھانگ ووک سے نہیں ملتی انکی شکل۔۔
    اسکے کہنے پر ان سب کو با جماعت اچھو ہوا تھا۔ مگر ابیہا بے حد سنجیدہ تھی
    میں توانکو وکی کہتی ہوں اب ووقی کہوں گی تو ایویں شک میں نہ پڑ جائیں۔ کل بھی ہنس رہے کہ کبیر نام کا یہ نک نیم دنیا میں میں پہلی لڑکی ہوں گی جس نے بنایا۔
    اور پتہ ہے۔۔
    ابیہا کوئی نیا قصہ شروع کر چکی تھی الف نےاپنے موبائل کی اسکرین کو دیکھا سیہون جگمگا رہا تھا مگر انلاک کرو تو اندر وال پیپر پر ژیہانگ کی تصویر تھی۔ دونوں چندی آنکھوں والے سہی مگر بالکل معمولی سی بھی شکل نہیں ملتی تھی۔ ایک اسے پسند تھا اپنی شکل کی وجہ سے دوسرے سے محبت ہوگئ تو شکل اچھی لگنے لگی تھی۔۔
    اس نے مسکرا کر موبائل واپس لاک کر دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دوبارہ اسی نیم۔تاریک عمارت کے باہر لابی میں کھڑے تھے۔ انہیں لانے والا وہ۔چندی آنکھوں والا لڑکا بضد تھا کہ انکو۔صحیح جگہ لایا ہے۔
    میں یہاں آچکا ہوں اوپر کے سب فلور دیکھے ایک ایک اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکا کر پوچھا ہے۔ یہ پتہ ضرور آپ کھوج نکالتے ہیں مگر یہاں وہ لڑکا نہیں رہتا۔
    دلاور بمشکل اپنی جھلاہٹ پر۔قابو پا رہے تھے۔ چندی آنکھوں والے کو انکی بے چینی نظر آرہی تھی اسے ہمدردی بھی تھی
    دیکھیں بنا اتا پتہ دیئےوہ لڑکا یہاں کوئی مستقل توکیاعارضی نوکری بھی حاصل نہیں کر سکتا۔اگر وہ یہاں نہ بھی رہتا ہو تو جو شخص یہاں رہتا ہے وہ کم از کم اسے اتنا ضرور جانتا ہوگا کہ اسکی ضمانت دے رہا ہے کچھ نہیں وہ اسکا موجودہ پتہ بتا دے گا۔
    اسکی بات انہیں سمجھ آگئ جبھی چپ کر گئے۔
    دروازہ مستقل۔کھٹکانے پر بھی نہ کھلا تو وہ آگے بڑھ کر برابر والے فلیٹ کا دروازہ کھٹکا کر پوچھنے لگا ۔۔ دلاور پر امید تو نہ تھے مگر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصدق اسی دروازے سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔۔
    گھسیٹ گھیسٹ کر چلنے کی آواز پر انہوں نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔
    نیم تاریک راہ داری میں انسانی وجود کا احساس ہوتے ہی بلب روشن ہوتا تھا۔
    گھسٹ گھسٹ کی آواز وہ واضح ہوتے ہیولے کو آنکھیں سکوڑ کر دیکھتے گئے۔ نووارد کے قدم جم گئے تھے۔
    جسے وہ پچھلے دس سالوں میں ہر گلی کوچے ہر شہر۔ہر ملک میں ڈھونڈتے پھرے وہ انکی نگاہوں کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔۔ کچی عمر کے نقوش اب پختہ ہو چکے تھے انہیں برسوں بعد بھی اپنے ماں جائے کو پہچاننے میں چند لمحے لگے تھے بس۔۔
    انکے لب بے آواز ہلے تھے۔ انکے درمیان فاصلہ تھا اتنا کہ انکی آواز نہ پہنچ سکےقرب اتنا کہ انکے نقوش پہچانے جا سکیں۔
    خاور۔۔
    کھاوا نے آنکھیں سکوڑ کر دیکھا۔ آج وہ دنیا کے کسی بھی شخص کسی بھی انسان کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا کجا کہ اسکا اپنا سگا بڑا بھائی۔ وہ پلٹا اپنی پوری جان لگا کر بھاگ کھڑا ہوا۔۔ دلاور لحظہ بھر ٹھٹکے ۔ انکا بھائی لڑکھڑا رہا تھا تیز بھاگ نہیں پا رہا ۔۔۔۔ انکے قدم چلنے سے انکاری ہوئے
    خاور۔ انہوں نے اپنی پوری جان لگا کے آواز دی۔مگر وہ رکا نہیں۔۔ خاور۔ وہ پکارتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگے۔ لمبا کاریڈور کاریڈور سے آگے احاطہ۔۔سامنے ذیلی سڑک۔ وہ اندھا دھ۔ند بھاگا تھا۔ شام کا وقت تھا رش نہیں تھا اگے چوراہا تھا بس وہاں پہنچ کر وہ ایک بار پھر کھو جانا چاہتا تھا مگر اسکا ماضی اسکے پیچھے دوڑتا آرہا تھا پکارتا۔۔ اس نے اپنی رفتار مزید بڑھائی سڑک پر چلتی ٹیکسی کو ہاتھ دیا مگر ذیلی گلی سے نکلتی وہ گاڑی سیدھی اس سے آن ٹکرائی تھئ۔ وہ بونٹ پر گرا کچھ زخم کھلے گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور وہ دوسری جانب پکی سڑک پر گرا۔ نیم تاریکی میں بھی تازہ نکلتا سرخ سیال سڑک پر پھیلتا دور سے دکھائی دے رہا تھا۔۔ دلاور کھڑے کھڑے جیسے زندہ درگور ہو گئے تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 59

    قسط 59
    وہ اور واعظہ اکٹھے بس سے اتری تھیں۔۔۔ اسٹاپ سے آگے دو گلیوں کا پیدل کا راستہ تھا جس کے فٹ پاتھ پر خراماں خراماں چلتے وہ ہمیشہ نان اسٹاپ بولتی اور واعظہ سنتی تھی۔
    یار کوریا دن بہ دن گرم نہیں ہوتا جا رہا ہے؟ ان دنوں تو ہماری قلفی جم جاتئ تھئ۔۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ رسان سے بولی۔
    اب تمہیں یہاں رہنے کی عادت پڑ گئ ہے۔۔۔
    میں جب این جی او میں کام کرتی تھی نا تب ایک رپورٹ آئی تھی کہ کوریا میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم دن بہ دن گرم ہو رہا ہے ایک دن پاکستان جیسا موسم ہو جائے گا۔۔۔۔
    اسے واقعی فکر ہو رہی تھی۔
    ہممم۔
    جواب مختصر تھا۔
    پاکستان میں بھی گرمی ہی آرہی ہے جب یہاں موسم گرم ہوگا تو وہاں تو گرم ترین ہی ہو جائے گا۔ میں یہیں رہا کروں گئ۔ گرمی تو بالکل پسند نہیں۔ پسینہ آجاتا ہے دھوپ میں۔
    اس نے س رپر چمکتے سورج کو پیار سے دیکھا۔
    یہاں سن کس ہی کرتا ہے پاکستان میں تو سورج عمران ہاشمی۔
    اسکی بات پر واعظہ نے ترچھی نگاہ ڈالی تو وہ جملہ ادھورا چھوڑ گئ۔
    پتہ ہے میرے ایک کزن کا نام بھی عمران ہے۔۔۔
    اچھا۔۔۔
    قدم بہ قدم منزل قریب ہو رہی تھی اسکی اوٹ پٹانگ باتیں مزید بڑھ رہی تھیں۔
    انکی بھی شادی نہیں ہوئی ۔۔ امی چاہتی تھیں ہماری آپس میں ہو جائے مگر انکی شکل ہی عمران ہاشمی جیسی ہوتی تو مان جاتی انکی شکل نانا پاٹیکر سے ملتی ہے۔ بولتے تو بالکل
    میرا کی طرح ہیں۔ بن بن کے۔۔
    فاطمہ کو پہلی بریک فون کال سے لگی تھی۔
    واعظہ ذہن میں نانا پاٹیکر کے چہرے پر میرا کی آواز ڈب کرتی رہ گئ۔
    یوبوسیو۔
    اس نے انجان نمبر دیکھ کر لہک کر فون اٹھایا۔
    آگے گٹ پٹ کورین تھی۔ حسب عادت خوب اونچی آواز۔ واعظہ کے تصور کو بھئ بریک لگی ۔۔۔
    چھے سونگیو ( معاف کیجئے گا) وہ کہنے ہی والی تھی میں معزرت خواہ ہوں کورین سمجھ نہیں سکتی اچھی طرح وغیرہ کہ واعظہ نے فون جھپٹ لیا۔ واعظہ رواں ہنگل میں فاطمہ بن کے بولی تھی۔
    دے۔۔ پہلا تاثر جی۔۔۔
    دے۔۔۔ دوسراتاثر حیرت بھری خوشی
    دے۔ دے۔۔ آ دے۔۔ ۔۔۔۔ تیسرا تاثرہاں ہاں کیوں نہیں۔۔
    گھمسامنئیدہ۔ دے۔۔ آننیانگ۔۔
    فون بند کرتے وقت تک چہرے پر چار سو چالیس والٹ کے بلب جگمگ کرنے لگے تھے۔
    مبارک ہو۔ وہ فورا اسکے گلے لگ گئ۔
    خیریت۔ فاطمہ سمجھ نہ پائی۔
    تمہیں انٹرویو کیلئے بلایا ہے ڈاکٹر جانسن اکیڈمی آف لنگوئسٹکس اینڈ لینگوئج میں۔ بین القوامی طلباء کیلئے ایک پرائئوٹ اکیڈمئ ہے یہ انگلش ٹیچر کے طور پر۔۔۔
    واعظہ نے اسے گول گول گھما دیا تھا۔
    ہیں مگر کیوں؟ فاطمہ کو حیرت اور اعتراض دونوں ہوئے
    میں نے تو اپلائی بھئ نہیں کیا تھا۔
    اسکی حیرت بجا تھئ۔
    میں نے اپلائی کیا تھا تمہاری طرف سے۔ واعظہ نے اسکی پیشانئ بجائئ۔
    اب کل اچھی طرح تیار ہو کر انٹرویو دینے جانا۔
    واعظہ کے کہنے پر اس نے آنکھیں سکوڑ کر اسے دیکھا ۔۔ اب اسے گول گول گھمانے کی باری اسکی تھی
    سچ میں تم نے مجھے بہن بھائیوں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ بلکہ کبھی کبھی تو ماں کی بھی۔ اتنا خیال کیسے رکھ لیتی ہو میرا۔
    فاطمہ اس سے لپٹ کر ہانکے جا رہی تھی
    پاس سے گزرتی ان بوڑھی کورین خاتون نے خاصے ناگوار انداز سے انہیں گھورا۔
    ماں ہے یہ میری۔
    فاطمہ نے ہنگل جھاڑی۔
    اس بار وہ منہ ہی منہ میں شائد گالیاں بھئ دینے لگی تھیں۔
    اب ان آنٹی سے پنگا لینے کی کیا ضرورت تھی۔ واعظہ کو ہنسی آگئ۔
    تاکہ میری واعظہ ہنس دے خوش ہو جائے۔
    فاطمہ نے پیار سے اسکے گال پر چٹکی لی۔ آئی ہوئی ہنسی بھی سمٹنے لگی اسکے چہرے سے۔۔
    چلو دیر ہو رہی ہے۔ وہ رخ پھیر گئ۔ فاطمہ اب کل کے کپڑے منتخب کرنے لگی۔
    میں کل ریڈ ٹاپ پہنوں گی۔ریڈ میں نے آج تک انٹرویو میں نہیں پہنا یقینا لکی ثابت ہوگا۔
    اسکی اپنی ہی منطق تھئ۔۔۔ ا
    واعظہ نے سر جھٹکا۔ سامنے سے محتاط قدم اٹھاتا کھاوا چلا آرہا تھا۔ اس نے بغو ردیکھا وہ تھوڑا سا لڑکھڑا کر چلتا تھا۔ اتنا ذیادہ کہ شائد پہلی نظر میں دیکھنے والوں کو احساس ہو جاتا ہو اتنا کم کہ اسے اتنی دفعہ دیکھ کربھئ پتہ نہ لگ سکا۔
    کندھے پر سے کراس میں ایک چھوٹا سا بیگ لٹکائے گرے اپر جو اب اسکی پہچان بن چکا تھا مگر کالی سیاہ پینٹ جو لشکارے ما ررہی تھی سر پر بلیک کیپ ایک ہاتھ پر سفید پٹی باندھے۔ وہ سرجھکائے ہوئے تھا اسکو پکارنا ہی پڑا ۔
    اوئے کھاوا۔ اس نے وہیں سے پکارا وہ چونک کر رک گیا۔
    اچھا پھر ملتے ہیں بائے واعظہ۔ وہ جلدی جلدی اسے الوداع کہتی بھاگتی ہوئی کھاوا کے پاس آئی
    یہ ہاتھ کو کیا کرلیا۔ ا س نے بنا سلام دعا سوال داغا تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو آپ؟
    اسے آداب یاد تھے مگر۔
    وعلیکم السلام یہ کیا کیا ؟ لڑے ہو کسی سے؟
    فاطمہ نے دھرایا تو وہ جانے کس دھیان میں تھا سچ بول گیا۔
    وہ سوجو کی بوتل پٹخ دی تھی زمین پر وہ ٹوٹ کر ساراکانچ ہاتھ میں۔۔ بولتے بولتے احساس ہوا توزبان دانتوں تلے دبا لی
    تمہیں سوجو کی بوتل دیکھ کر شرارتیں کیوں سوجھتی ہیں اس دن بوتل میں تھوک دیا اب بوتل زمین پر پٹخ دی۔ بے چاری بوتل۔۔ وہ ہمدردی سے کہتے ہوئے اسکی پٹی دیکھنے لگئ۔۔
    بڑئ آئی بے چاری بوتل۔ وہ چڑ گیا۔ بے چارہ میں کہو۔ میں تو سو بھی گیا تھا صبح آنکھ کھلی شکر ہے ذیادہ گہرا زخم نہیں تھا ورنہ ساری رات خون بہتا اور صبح تک ۔۔
    اچھا صبح صبح منحوس باتیں نہیں کرتے ۔ وہ فورا ٹوک گئ۔
    منحوس دن گزرتا۔ چلو آج عبداللہ کی شکر ہے کوئی شوٹ نہیں۔ بس لیلی کو دیکھنا ہوگا۔ لیلی ویسے اچھی لڑکی ہے۔ عبداللہ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے۔
    وہ بولتے ہوئے چلنے لگی تو کھاوا نے بھئ تقلید کی۔ اسکے ہم قدم چلتے کھاوا نے ایک نظر اسکے مطمئن چہرے پر ڈالتے سوچا
    اس لڑکی میں کچھ تو ایسا ہے کہ ۔۔۔۔ س نے غور سے اس گھنگھریالے بالوں والی لڑکی کو نگاہوں میں بھرا۔۔
    کہ۔ اس نے گھبرا کر نگاہ جھکا لی۔
    مجھ جیسے انسان کوکوئی حق نہیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی آ کی شوٹ چل رہی تھی وہ ایک کونے میں بیٹھی جمائیاں لے رہی تھی۔ اسکے شیڈول کے مطابق آج اسکو ایک مقامی برانڈ کے نئے کھلنے والے اسٹور کی افتتاحی تقریب میں جانا تھا۔ آج کچھ ذیادہ ہی نیند آرہی تھی۔ ای جی آ شوٹنگ میں بری طرح مصروف تھی۔ اس نے سوچا پھر چپکے سے کھسک لی۔ سیدھا وہ ای جی آ کے میک اپ پلس چینجنگ روم میں آئی تھی۔
    کونے میں رکھے صوفے پر اس نے ای جی کا فروالا کوٹ تکیئے کے طور پر سر کے نیچے رکھا ایک چھوٹا سا کمبل ای جی آ عموما اپنی ٹانگوں پر ڈالنے کے لئے پاس رکھتئ تھی اسی کو اوڑھا۔ لمحوں میں بے خبر ہوگئ۔ کافئ دیر بعد آنکھ کھلی تو کافی تازہ دم ہو چکی تھی۔
    کمبل ایک طرف رکھتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی۔ موبائل چیک کیا تو ایک مسڈ کال پڑی تھی بس سیہون کی۔
    اسکا کال بیک کا ارادہ نہ تھا سو اطمینان سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر بال سنوارنے لگی۔ویٹ وائپس سے چہرہ صاف کیا۔ مگر سونے کے آثار نہ مٹے۔ چہرہ سوجا سوجا لگ رہا تھا۔ اس نے گہری سانس لی پھر پورا میک اپ کرنے لگئ۔ چھوٹا آئینہ اٹھا کر ٹچ اپ کیا تیار ہو کر خود پر مطمئن سئ نظر ڈالتی وہ اپنا موبائل اٹھا کر مڑی ہی تھی کہ عجیب سا احساس ہوا۔اس نے پلٹ کر شیشہ اٹھا لیا۔ میک آپ آسانی سے ہو سکے اسکے لیئے جو چھوٹا شیشہ رکھا تھا مسلسل اس سے ہی میک اپ کیا تھا اس نےاسکے گرد بٹن برابر ننھے ننھے سے ایل ای ڈی لگے تھے تاکہ چہرے پر روشنئ پڑتی رہے ان ننھے ننھے قمقموں میں سب جل رہے تھے بس ایک شائد خراب تھا۔ اس نے اس خراب والے بٹن کو غور سے دیکھا۔ پھر اس شیشے کو پلٹ کر زمین پر پوری قوت سے دے مارا۔
    دروازہ کھول کر آتی ای جی آ دہل گئ
    کم چھاگیا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کو تھامتے اس نے الجھن بھری نگاہوں سے واعظہ کو دیکھا جو شیشہ توڑنے کے بعد اس شیشے کے فریم کو ٹٹول رہی تھی۔ ایک ننھا سا قمقمہ۔دیگر قمقموں سے مختلف تھا۔ وہ اسے چٹکی سے پکڑ کر روشنی کی طرف کرکے اونچا کرکے دیکھ رہی تھی۔ ای جی آ ساکت سی ہوگئ۔ وہ ایک ننھا سا کیمرہ تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چینل مینجر ڈائکریکٹر اسٹاف اسسٹنٹ پروڈیوسرسب اس کمرے میں جمع تھے۔ انکی ٹیلنٹ کمپنی کے مینجر بھی آچکے تھے۔
    جب تک آپ اس کیمرے کو نصب کرنے والے کا پتہ نہیں لگا لیتے ہم مزید کوئی شوٹ جاری نہیں کر سکتے۔
    انکی کمپنی کے مینجر نے دوٹوک اعلان کیا تھا۔ ای جی آ کی آنکھیں سوجی ہوئئ تھیں۔ جانے کیا اسکینڈل اسکے انتظار میں تھا۔
    بالکل ہم اس کیمرے کی جڑ کا پتہ لگائیں گے اس کا ڈیٹا بھئ نکلوائیں گے مگر یہ دونوں کاموں کیلئے وقت لگتاہے۔۔
    پروڈیوسر نے متانت سے سمجھانا چاہا
    ٹھیک ہے جتنا وقت لگے گا اتنے وقت شوٹنگز کینسل سمجھیں۔
    سر جان بے لچک انداز میں بولے تھے۔
    دیکھیئے ہم بالکل اس معاملے کو ڈھیلا نہیں چھوڑ سکتے ہم ضرور پتہ لگائیں گے سخت سزا بھئ دیں گے لیکن شوٹ جاری رکھئے ڈرامہ آن ائیر جا رہا ہے ہمارے شوٹنگز کے دن پیک ہیں ہم ایک دن۔۔
    ڈائرکٹر اور پروڈیوسر کی حالت پتلی تھی مگر مینجر صاحب بری طرح گرجے
    ہماری کمپنی کی اداکارہ کے ڈریسنگ روم میں کیمرہ لگا ہوا ہے جانے کس قسم کی ویڈیوز بنائی جا چکی ہیں ان ویڈیوز کا کوئی بھی غلط استعمال ہوسکتا ہے اور آپ کہہ رہے ایسے غیر محفوظ ماحول میں ہم اسکو کام کرنے پر مجبو رکریں۔
    ان ویڈیوز کے ذمےدار کا پتہ لگائیں پھر مزید کوئی بات ہوگی۔
    دیکھیں یہ اتنا آسان کام نہیں یہاں لابی میں کیمرہ لگا ہے۔ ہمیں اسکے فوٹیج نکال۔کر دیکھنے پڑیں گے۔ پھر اس کمرے کی چابی آپکی اداکارہ کے مینجر کے پاس ہے یا اسٹاف مینجر کے پاس۔جب تک شوٹ جاری ہے یہاں ان دونوں کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں آسکتا۔ صفائی تک آپکی مینجر اپنی نگرانئ میں کرواتی ہے۔
    چینل مینجر نے سارا ملبہ واعظہ پر ڈال دیا ۔۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔
    جی بالکل۔ عموما ایسے اسکینڈلز میں مینجرز وغیرہ ہی کسی نہ کسی طرح شامل ہوتے ہیں اور آپ نے تو ایک غیر ملکی پر اتنا بھروسہ۔۔۔
    ڈائرکٹر کو۔جیسے کمک ملی۔تھی۔
    دیکھیں آپ ہماری ملازم پر الٹے سیدھے الزام لگانے کی بجائے اپنے ملازمیں سے پوچھ گچھ کریں۔ ہم غیر ملکی مینجر رکھیں یا ہنگگ ہمارا مسلئہ ہے۔
    مینجر صاحب کڑک کر بولے
    اور واعظہ کے پاس چابی نہیں ہے میرے پاس ہے۔
    ای جی آ بھی تلملا گئ۔
    خود کو بچانے کا اچھا طریقہ ہے کہ دوسروں پر ملبہ ڈال دو۔۔ چابی میرے پاس ہوتی ہے اور ابھی بھی مجھ سے چابی لیکر ہی واعظہ آکر یہاں سوئی تھی۔اور صرف ہمیں چابی تو نہیں دے رکھی ہوگئ آپ لوگوں نے ماسٹر کی کس کے پاس ہوتی ہے صفائی کا نگران کون ہے ان سے پوچھیں آپ۔ کون آخری بار آیا تھا یہاں۔ کون ایسا انسان آیا جس کا کوئی کام نہیں اس کمرے میں۔
    ای جیا کی باتوں کا انکے پاس جواب نہیں تھا۔۔ آئیں بائیں شائیں کرتے نظریں چرانے لگے۔ واعظہ اسکو دیکھ کر رہ گئ۔ اسے بولنے کی ضرورت بھی نہ پڑی تھی۔ ۔۔۔۔اور ای جیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ایک ٹھرکی انسان ہوں۔ لڑکیاں تاڑنا میرا مشغلہ ہے۔ مجھے دیکھتے ہی لعنت بھیجا کریں آپ ۔۔
    عبداللہ نے لہک لہک کر کہا تھا۔ اسکی ویڈیو بناتے فاطمہ نے بمشکل ہنسی روکی۔
    اسکو بھیجو مجھے بھی۔ عبداللہ کے چہرے پر اشتیاق تھا
    ہاں کیوں نہیں۔ فاطمہ نے زور و شور سے سر ہلاتے اپنا موبائل لاک۔کرکے بیگ میں ڈال لیا تھا۔ وہ دونوں اس وقت سیٹ پر ہی ایک کونے میں میز کرسی پر۔بیٹھے تھے۔ بلکہ بیٹھی تو بس فاطمہ تھی۔ اسے بیٹھا دیکھ کر۔خود ہی وہ ادھر چلا آیا تھا۔
    ابھی۔۔ وہ اتنا بھی احمق نہیں تھا۔۔
    ہاں مگر میں اسکو اپنے انسٹا پر اپلوڈ کرکے ٹیگ کروں گی آپکو۔
    فاطمہ نے یقین دلایا۔
    میرا انسٹا گرام نکالو۔ اس نے مڑ کر عربی میں اپنے مینجر کو کہا۔ وہ بھاگا بھاگا موبائل لیئے آیا۔
    اپنا انسٹا گرام نکالو۔
    عبداللہ کے کہنے پر اس نے مرے مرے انداز میں اپنا پروفائل انسٹا پر۔ڈھونڈ کے اس سے فالو کروایا۔
    میں بھی ٹیگ کروں گا ویڈیو میں تمہیں۔ وہ مزید کہہ رہا تھا۔
    چہرے پر سو واٹ کے بلب یوں جل رہے تھے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔
    کھاوا لیلی کو مکالمے یاد کروا رہا تھا دور سے اسکی بے زار شکل بنائے بیٹھی فاطمہ اور مسلسل بات سے بات نکال کر اسکا دماغ کھاتے عبداللہ پر پڑی۔ لیلی کو مکالمہ یاد کرنے کا کہہ کر وہ ادھر ہی چلا آیا۔
    تمہارے آنکھیں خوبصورت ہیں فاطمہ۔ وہ وائن کی چسکیاں لے رہا تھا۔۔
    فاطمہ چیں بہ چیں سی ہوئی۔۔
    پاکستانی لڑکیاں سب ہی اتنی خوبصورت ہوتی ہیں یا بس ایک تم میں ہی الگ سا حسن نظر آتا ہے مجھے۔
    عبداللہ نے کہتے ہوئے اسکا ہاتھ بھئ پکڑ لینا چاہا تھا۔وہ سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    خوبصورت تو آپ بھی ہیں مگر جانتے ہیں شراب پیتے ہوئے بدشکل۔ترین انسان لگتے ہیں اور بہک کر تو اور بھی گھٹیا۔
    اسکے ہاتھ کو۔گھورتے وہ چبا چبا کر بولی۔
    عبداللہ نے کھل کر قہقہہ لگایا ۔۔
    تم بہت دلچسپ لڑکی ہو۔ میں نے تمہارے جیسی لڑکی نہیں دیکھی۔۔۔ ہا ہا ہا۔
    وہ ہنستا گیا۔ فاطمہ جز بز سی اسے دیکھتئ رہی۔ اس نے اپنی طرف سے بے عزت کرکے رکھا تھا مگر مقابل بھی کوئی ڈھیٹ انسان تھا
    ادھر دیکھو کتنی خوبصورت سرخ سرخ سی شراب ہے پیاری دلکش۔ میں اسے پیتے ہوئے برا کیسے لگ سکتا ہوں۔
    اس نے معصوم۔سی شکل بنائی۔
    یہی دلکش شراب مسلمانوں کیلئے پینا حرام بھی قرار دیا گیا ہے۔ اگر آپ نام کے بھی مسلمان ہیں تو یہ بات آپکے علم میں ہوگی ہی۔
    وہ چڑ کر کہتے اپنا بیگ اٹھا کر کندھے پر لٹکا کر جانے لگی عبداللہ نے ٹانگ سیدھی کرکے اسکا راستہ روکا۔ وہ الجھ جاتی بروقت سنبھلی۔
    مجھے تو کسی نے یہ بھی بتایا تھا کہ حوریں جنت میں ملا کرتی ہیں تم دنیا میں کیسے آگئیں۔
    عبداللہ آنکھیں پٹپٹا رہا تھا۔اسے اپنی ساری برداشت رخصت ہوئی محسوس ہوئئ
    تمہیں دنیا میں تمہارے کرتوتوں کا عذاب دینے آئی ہوں۔ اس نے چبا چبا کر کہتے اسکی ٹانگ کو ٹھوکر لگانی چاہی مگر وہ چوکنا تھا۔تیزئ سے پیر سمیٹتا اٹھااور اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
    مجھے لڑکیوں کا نخرا پسند ہے مگر لڑکیوں کو بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ فطرتا نازک پیدا کی گئ ہیں۔ اس نے مسکرا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔
    فاطمہ کی پیشانی شکن آلود ہوئی۔ اس نے مٹھی بھینچی۔۔
    عبداللہ۔ عبداللہ۔ مسلئہ ہوگیا ہے تمہارے سین میں آواز تو ریکارڈ ہی نہیں ہو سکی۔
    کھاوا بولتا ہوا آیا تھا فاطمہ کی طرف توجہ کیئے بنا اس نے عبداللہ کوبازو سے پکڑ کر کھینچ ہی لیا تھا۔
    کون سے سین میں۔۔
    وہ بازو چھڑا رہا تھا یقینا اسے یہ۔دخل۔درمعقولات بری لگئ تھی۔ اسکا مینجر بھئ تیزی سے لپکا۔ مگر کھاوا نے مہلت نہ دی
    ادھر تو آئو۔ وہ اسے کھینچ کر ساتھ ہی لے گیا۔ فاطمہ نے ایک نظر ان دونوں کو دور جاتے دیکھا پھر اپنی بھینچی ہوئی مٹھی میز پر مار دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی آ گھر جانے کو تیار نہ تھی۔ بلکہ بضد تھی کہ سی سی ٹی وئ فوٹیجزبھی دیکھے گی۔ چینل والوں کے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے ٹیپیں نکلوا کر خاص اسٹوڈیو روم میں پلےکروائیں۔ سیکیوریٹئ روم سے اگر یہ بات لیک ہو جاتی تو ای جی آ سے ذیادہ چینل کو مصیبت پڑ جاتی۔
    اسٹاف میمبرز خاکروب کے سوا بس ایک ہی شخص داخل ہوا تھا اس ڈریسنگ روم میں۔ گرے اپر اور پرانی سی جینز میں ملبوس۔
    ای جی آ نے فورا پہچان لیا تھا۔ واعظہ نے چونک کر ای جی آ کی شکل دیکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھٹی کے وقت وہ حسب عادت باہر نکل کر احاطے میں لگی پھولوں کی کیاری پر آن بیٹھئ۔
    واعظہ کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔اسٹاپ تک وہ اکٹھی ہی جاتی تھیں بس بھی ایک تھی بس اسٹاپ اسکا پہلے آتا تھا۔۔
    کھاوا باہر نکلا تو اسکو دیکھ کر اسکے پاس ہی چلا آیا۔۔
    ہیلو ہیلو۔ کیا ہورہا ہے۔
    مچھلی پکڑ رہی ہوں۔
    فاطمہ بے نیازی سے بولی۔وہ شرمندہ سا ہوکر کان کھجانے لگا۔
    کوئی جواب نہ آیا تو فاطمہ نے سر اٹھا کر دیکھا پھر موبایل کی اسکرین اسکی جانب کرکے دکھایا۔
    وہ کوئی آن لائن گیم کھیل رہی تھی۔شارک خود تھئ اور مچھلیوں کا شکار کرتی سمندر کے اندر پھر رہی۔تھی۔
    اوہ اچھا۔ کھاوا ہنس دیا۔
    تمہاری جان چھوڑ دی عبداللہ نے ۔۔ آج تو دن کے وقت ہی ٹن ہوا پھر رہا تھا۔ اتنی شراب پیتا ہے ڈائلاگ کیسے یاد کرتا ہے؟۔
    اسے واقعی حیرت تھئ اس بات کی۔
    عادی ہے۔ اور ہولڈ بھی اچھا کرتا ہے۔ آسانی سے بہکتا نہیں ہے۔ ویسے ہینگ اوور سوپ بھی دے کر آیا ہوں اسے۔ سو گیا تھا۔۔ وہیں ڈریسنگ روم میں۔
    کھاوا لاپروائی سے بولا۔ اس نے داہنی ٹانگ پر ذیادہ وزن ڈال رکھا تھا۔ جبھئ پہلو بھی بدل رہا تھا۔ سیہون نے گاڑی پارک کی تھئ سامنے۔ اسے دیکھ کر مسکرایا
    وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تم۔گھر جائو گے؟
    ہاں ارادہ تو یہی ہے۔ وہ پہلو بدلتا سرسری سے انداز میں بولا۔
    آنیانگ ہاسے او۔ سیہون نے قریب آکر سلام کیا
    آننیانگ۔ کھاوا نے بھئ جھک کر جواب دیا
    واعظہ کہاں ہے کب سے فون کر رہا ہوں اٹھا نہیں رہی۔میرا فون۔
    سیہون نے بلا تمہید پوچھا۔
    پتہ نہیں میرا بھی نہیں اٹھا رہی ہے مصروف ہوگی۔فاطمہ نے کندھے اچکائے۔
    بہت ہٹیلی ہے یہ لڑکی۔ اب ناک سے لکیریں کھنچوائے گئ کیا مجھ سے۔ ۔ سیہون کو غصہ آرہا تھا۔ جبھئ کھاوا کے سامنے ہنگل میں بڑبڑا گیا۔
    کھاوا نے سوالیہ نگاہوں سے فاطمہ کو دیکھا ۔ وہ سمجھ کر تعارف کرانے لگی۔
    کھاوا یہ سیہون ہیں میرے شوہر اور سیہون یہ کھاوا ہیں میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔
    اس نے شستہ انگریزی میں تعارف کرایا تھا۔
    نائس ٹو مئٹ یو۔ سیہون نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا۔ کھاوا نے تھامتے ہوئے تصحیح کروانا چاہا۔
    واعظہ کے ہسنبڈ۔۔؟
    فاطمہ ہنسی۔ سیہون کے چہرے پر جھینپی سی مسکراہٹ در آئی۔
    ہیں تو میرے مگر واعظہ سے انکی بہت دوستی ہے۔ دراصل بچپن کے دوست ہیں یہ ایک دوسرے کے۔ انفیکٹ یہ آج مجھے نہیں واعظہ کو ہی لینے آئے ہیں ۔۔۔
    فاطمہ نے کہا تو سیہون شرمندہ سا ہوگیا۔
    گاڑی میں آیا ہوں ظاہر ہے تمہیں بھی ساتھ لے کرجاتا۔
    تم نے کہاں جانا ہے کھاوا؟ آئو ہم تمہیں بھی چھوڑ دیں۔۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ چونک کر سنبھلا۔
    نہیں شکریہ۔۔ میں ذرا ابھی پارٹ ٹائم جاب پر جائوں گا۔
    چلو جیسے تمہاری مرضی پھر ملتے ہیں۔۔۔ فاطمہ نے کہا تو وہ سر ہلاتا ان دونوں سے معزرت کرتا تیزی سے بس اسٹاپ۔کی۔طرف چل۔پڑا۔
    اسکو کوئی چوٹ لگی ہے کیا ؟
    سیہون نے پوچھا تو وہ۔جانے کیوں چڑ گئ۔
    ایک تو اسکا ذرا سا لڑکھڑا کر چلنا فورا سب نوٹس کر لیتے اس ایک ذرا سی کمی کے سوا وہ اچھا خاصا انسان ہے اسے خود اتنا احساس نہ ہوگا کہ اسے چلنے میں مسلئہ ہے جتنا دوسرے محسوس کرتے ہیں۔
    سیہون نے منہ کھول کر اسکی تقریر سنی۔
    ویسے ہی پوچھ لیا مجھے لگا کوئی تازہ چوٹ ہے۔ تم تولڑنے کو تیار ہو۔ پاکستانی لڑکیاں سبھی لڑاکو ہوتی ہیں کیا۔
    سیہون نے جان کے چھیڑا۔
    پاکستانئ لڑکیاں لڑاکو ہوں نہ ہوں دنیا بھر کے لڑکے شر پسند ہوتے ہیں ہر وقت لڑکیوں کو برا بھلا کہنے کو تیار۔
    وہ کیوں پیچھے رہتی چمک کر بولی۔۔ سیہون نے محظوظ ہو کر قہقہہ لگایا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کے گیارہ بجے وہ واپس آئی تھی۔ آج دروازے پر ڈانٹنے والی نہ ابیہا تھی نا عروج اس نے دستک دینے کو ہاتھ بڑھایا پھر رک کر پاس کوڈ لگانے لگی۔ اندر شائد سب سوگئ تھیں۔ لائونج میں ملگجا اندھیرا تھا۔ اس نے بھئ لائٹ جلانے کی کوشش نہ کی۔ لائونج میں جما دینے والی سردی تھی۔ اس نے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا مگر سردی کا منبع سمجھ نہ آیا۔ پہلے کمرے کا دروازہ کھول کر اند رجھانکا۔ عزہ اور عشنا ڈبل بیڈ پر بے خبر سو رہی تھیں۔ تیسرا بیڈ خالی تھا۔ اس نے احتیاط سے دروازہ بند کردیا۔
    اپنے کمرے کا دروازہ کھولا صاف شفاف بستر بے شکن چادر۔ اس نے دروازہ بند کرکے لائونج کی لائٹ جلا دی۔ لائونج خالی تھا۔ الف یا تو گھر نہیں آئئ۔۔ یا۔ اس نے بازو سکیڑے۔ گیلری کا دروازہ نیم وا تھا۔ اف اس نے فورا آگے بڑھ کر بند کرنا چاہا تو چونکی۔ گیلری میں ریلنگ پر دونوں کہنیاں رکھے اپنے ہاتھوں پر نگاہ جمائے الف گہری سوچ میں گم تھئ۔
    خودکشی کا ارادہ ہے تو سردی میں کانپ کانپ کر مرنے سے بہتر ہے چھلانگ لگا لو۔۔۔
    اسکے مفت مشورے پر الف چونکی پھر جب بات سمجھ آئی تو پلٹ کر گھورا بھی۔
    صحیح کہہ رہی ہوں۔ کم ازکم بھی پانچویں منزل پر ہو پکا گر کر مروگی بچنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ واعظہ نے گلاس ڈور سے ناک چپکائی
    بکواس نہ کرو۔ وہ چڑ گئ۔
    بکواس ایک تو مرنے کے آسان طریقے بتا رہی ہوں۔ واعظہ برا مان گئ۔
    تم کیوں مارنا چاہ رہی ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا وقت پر۔کرایہ تک۔دیتی ہوں۔
    الف بھنائئ۔۔
    اب کیسے دو گئ؟ ریڈیو کی نوکری تو چھوڑ دی۔
    واعظہ نے جتایا۔ وہ واعظہ کو دیکھ کر رہ گئ
    کر لوں گی کچھ نہ کچھ۔ وہ بڑبڑانے والے انداز میں بولی
    کیا ؟ آواز نہیں آئی۔ واعظہ نے گلاس ڈور سے کان باہر نکالا۔
    کرلوں گی کچھ نہ کچھ جان چھوڑدو میری ۔۔
    وہ بری طرح چلائی۔ واعظہ کو اپنا کان گلاس ڈور سے باہر نکالنے کے فیصلے پر افسوس سا ہوا۔ ٹھنڈا اور سن اکٹھے ہوا تھا
    اچھا۔۔ آآآاااا۔ وہ کان سہلاتے ہوئے گھورنے لگی۔
    وہ دیکھو ژیہانگ۔
    اکدم اسکے پیچھے چونک کر دیکھتے اس نے پکارا۔ الف اسے یونہی گھورتی رہی۔
    اچھا جا رہی ہوں۔ کافی پیئو گئ؟
    واعظہ پسپائی اختیار کرتی دروازہ بند کرنے لگی۔
    اس نے جواب دینے کی بجائے رخ پھیر لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو کپ کافی بنا کر اس نے دزدیدہ نظروں سے لائونج میں آلتی پالتی مارے کارپٹ پرصوفے کی نشست سے ٹیک لگائے بیٹھی الف کو دیکھا جو کچن کی جانب رخ کیئے اسے ہی گھور رہی تھی۔
    اس نے تھوک نگلا۔
    کپ لاکر اسے تھمایا اور خود اسکے برابر آبیٹھئ۔
    تم نے یہ بات اور کسی کو تو نہیں بتائی۔
    کافی کا گھونٹ لیتے الف نے تشویش ذدہ انداز میں اس سے پوچھا
    بس اپنے بلاگ پر لکھا ہے اسکے بارے میں ایک یوٹیوب ویڈیو بنائی ہے کمپنی کی جانب سے میڈیا کو دیا جانے والا بیان بھئ میں نے لکھا ہے۔ واعظہ نے گھونٹ بھرتے ہوئے سرسری انداز میں بتایا۔
    کیا؟ الف کو خاک پتھر سمجھ نہ آیا۔
    یہی کہ ای جی آ کی طبیعت خراب ہے اسلیئے وہ شوٹنگز سے گیپ لے رہی ہے۔ واعظہ نے بتایا تو وہ اپنا سر پیٹنے والے انداز میں بولی
    تمہاری اس ای جیا پیجیا کی نہیں میں اپنی اور ژیہانگ کی بات کر رہی ہوں۔
    واعظہ نے بڑا سا گھونٹ بھرا پھر کپ ایک طرف رکھتی اسکی جانب مکمل رخ موڑ کر بیٹھ گئ۔
    تم خود چلتا پھرتا اشتہار بنئ ہوئی ہوکٹھ کھنی بلی بنی سب کو پنجے مار رہی ہو کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے سردی میں کھڑی آہیں بھر رہی تھیں اس سے تو صاف اندازہ ہو رہا ہے محترمہ کو محبت ہوگئ ہے۔۔۔
    واعظہ نے کہا تو وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
    یہ سب اتنا واضح تھا سب پر۔ اس نے سر کھجایا
    خیر اب تم میرا کریڈٹ تو نہ دو سب کو۔ واعظہ برا مان گئ
    سو فیصد شیو رتو کوئی نہیں تھی اور جس نے اندازہ بھی لگایا اسے یہی لگا ایکسو کا کوئی ممبر ہوگا بلکہ سیہون ہوگا۔
    یہ تو میں نے حکیمی کا نسخہ آزما کر اصل معاملہ پکڑا
    وہ فخریہ بولئ۔
    حکیمی نسخہ؟ الف ہکا بکا رہ گئ
    ہاں نا ۔۔ اس نے کافی کا مزید بڑا سا گھونٹ بھرا یعنی اب لمبی بات تھی۔ الف ہمہ تن گوش تھی۔ واعظہ رازدارانہ انداز میں اسکے قریب آکر سابقہ والیم میں ہی بولی
    ایک بار ایک لڑکا تھا اس نے تمہاری طرح کھانا پینا چھوڑ دیا مگر تمہاری طرح لڑنے بھڑنے۔۔ (الف کی گھوری)
    کی بجائے گم صم سا ہوگیا۔ بڑا علاج کرایا اسکے والدین نے افاقہ نہ ہوا۔ وہ اسے ایک حکیم کے پاس لے کر گئے۔ حکیم صاحب نے اسکا معائنہ کیا بیماری کی تشخیص نہ کر سکے۔ اسکی نبض پکڑی یا پتہ نہیں دل پر ہاتھ رکھا یاد نہیں۔ اب انہوں نے اس علاقے کی سب غیر شادی شدہ لڑکیوں کے نام لینے شروع کیئے۔ ایک نام پر اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ بس حکیم صاحب سمجھ گئے موصوف اس لڑکی سے محبت کربیٹھے ہیں۔ واعظہ قصہ سنا کر داد چاہنے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
    اور تم نے یہ قصہ فضول میں کیوں سنا دیا مجھے۔ الف کے تیور کڑے تھے
    بھئ یونہی اس دن ائیر پورٹ پر یونہی اچانک میں نے ژیہانگ کو پکارا تو سوائے تمہارے کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔تو سیدھا نتیجہ نکلا کہ۔۔ واعظہ نے کہا تو اس نے دانت پیسے
    میرے سوا اور کون ژیہانگ کو جانتا ہے ان میں سے ظاہر۔ہے میں نے ہی مڑ کر دیکھنا تھا۔
    وہ اپنے حفاظتی خول میں بند ہونے کی تیاریوں میں تھی۔ واعظہ نے اپنے مگ کو۔دیکھا کافی۔یخ ہونے لگی تھئ۔
    اس نے کافی ختم کی کپ رکھا اٹھ کھڑی ہوئئ
    اچھا بھئ معزرت مجھے غلط فہمی ہوئئ۔وہ کہہ کر جانے کو تھی کہ الف نے ہاتھ پکڑ لیا۔
    ایسا ہی ہے۔ اور مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔
    اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا۔
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ وہ۔جھٹ فل چارج سی ہو کر واپس بیٹھ گئ۔
    ۔ محبت ہوگئ ہے وہ بھئ ایک۔عدد چینی لڑکے سےچینی یعنی کافر لڑکا۔۔ اور تم پاکستانی اورمسلمان لڑکی۔ نہیں ایک ہوسکتے۔ مگر محبت ہو گئ ہے۔
    اس نے انگلیوں کے اشارے سے ایک اور الگ کرکے جیسے اسے میتھ پرابلم کی طرح مسلئہ حل کرتے سمجھانا شروع کیا۔
    تم ایک ایسا دروازہ کھول چکی ہو جسکے آگے دیوار ہے۔ تم نے ایسے پل پر قدم رکھ دیئے ہیں جو بیچ میں سے ٹوٹا ہوا ہے۔ تمہیں واپس ہی پلٹنا ہے۔
    واعظہ کا anylsis جاری تھا۔الف نےہونٹ بھینچ لیئے۔
    پی کر تو نہیں آئی ہے یہ آج۔ اسے سچ مچ یہی شک گزرا تھا۔

    محبت کو بند گلی کہتے ہیں۔ یعنی ایک بند گلی میں آکھڑی ہوئئ ہو، سامنے کوئی راستہ نہیں محبت میں ناکامی مقدر میں لکھی جا چکی ہے دنیا کے سب مسلئوں میں سے سب سے اہم پیچیدہ مسلئہ درپیش ہے تمہیں مگر
    واعظہ کی۔لن ترانی جاری تھی اس نے اسکے بتدرینج بڑھتے والیم پر گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا پھر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
    افوہ یہ سب پتہ ہے مجھے مگر ایک بات اس میں تصحیح کر لو ژیہانگ مسلمان ہے۔ ذکریہ نام ہے اسکا۔
    اس نے دانت کچکچاتے ہوئے بتایا
    بند گلی ایک سراب تھا سامنے تو راستہ ہے منزل کا۔ مگر ہو سکتا ہے سراب یہ راستہ ہو اصل میں گلی ابھی بھی بند ہے
    واعظہ نے فورا پینترا بدلا۔
    مطلب۔الف چونکی۔
    اگر وہ تمہاری خاطر مسلمان ہوا ہے تو ہو سکتا۔۔۔
    واعظہ نے کہا تو وہ بات کاٹ گئ
    وہ مسلمان ہی ہے۔ اسکا چینی مسلم اکثریتی صوبے سے تعلق ہے۔۔۔
    تو پھر۔ واعظہ نا سمجھنے والے انداز سے اسے دیکھنے لگی۔
    تم نے یوریغوار کا نام سنا ہے؟ مسلم۔اکثریتی علاقہ جو چینی کمیونسٹ ںظام سے متصادم ہوا اور اسکو نہایت شدت پسندی سے نمٹا جا رہا ہے۔ ژیہانگ ان متاثرین میں سے ایک ہے جسے شدت پسند سمجھ کر بیگار کیمپ میں لے جایا گیا۔اسکے باپ ماں چچا تایا سب کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے اسکو۔ وہ اپنی شناخت چھپا کر جی رہا ہےاور انکو ڈھونڈ رہا یے۔ وہ تو اپنا نام۔تک نہیں بتا سکتا۔ ۔اسکا اصل نام ذکریہ ہے اس نام کو چین میں رکھنا ہی غیر قانونی قرار دیاجا چکا ہے۔
    الف بتاتے بتاتے روہانسی سی ہوگئ۔
    اس وقت کہاں ہے وہ ؟ واعظہ نے پوچھا۔
    جاپان میں ہے۔ 21 جولائی کو واپس امریکہ چلا جائے گا۔ اس نے مجھے اپنا نمبر دیا تھا جاپان کا رابطے کا۔ 21 جولائی کے بعد میرے پاس اس سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا۔
    وہ بے بسی سے بولی۔
    تو اسلیئے دن گنتے کیلنڈر برباد کیا تھا۔ بے چاری عزہ۔
    وہ بڑبڑائی۔
    کیا ؟ الف سن نہ پائی۔۔
    تمہارے پاس صرف ایک دن بچا ہے ؟ واعظہ نے موبائل میں دن دیکھا۔ انیس جولائی2019۔۔۔
    تم نے فیصلہ کیا۔۔
    واعظہ کا انداز دوٹوک تھا۔
    اس نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔ پھر دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔
    مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔
    اپنا موبائل دو۔ اس نے الف کا موبائل اٹھایا
    انلاک کرو۔ اس نے الف کی۔جانب بڑھایا۔
    الف نے میکانکی انداز میں اسے کھول کردیا
    اس نے کانٹیکٹ لسٹ کھولی۔
    زکریہ کے نام سے دو نمبر تھے۔
    ایک کے آگے ذکریہ جاپان لکھا ہوا تھا۔
    یہ ہے؟ اس نے نمبر نکال کر اسے دکھایا۔ اس نے سر ہلایا
    واعظہ نے نمبر کو غور سے دیکھا پھر ایڈٹ میں جا کر ڈیلیٹ کر دیا۔
    مسلئہ ختم ۔ ذکریہ نکل چکا تمہاری زندگی سے۔۔
    اس نے لاپروا سے انداز میں کہتے اسے موبائل واپس تھمایا۔ الف ششدر سی بیٹھئ رہ گئی
    تم نے؟ ۔اسکے منہ سے بمشکل نکل سکا
    میں نے ذکریہ کا نمبر ڈیلیٹ کردیا اب چاہے اکیس جولائی آئے نہ آئے مسلہ ختم۔ اپنا موبائل اٹھاتے وہ کندھے اچکاتے بولی۔
    اسکی انگلیاں موبائل پر چلی تھیں اور اسکے دل پر جیسے چھریاں چلی تھیں۔ دل رک سا گیا تھا اسکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 58

    قسط نمبر 58
    یہ ۔۔۔۔ واعظہ نے آگے بڑھ کر انکو سیدھا کیا۔ انکے سر پر سے ہلکا ہلکا خون نکل رہا تھا ۔ اسکے ہاتھ خون سے بھر گئے۔ وائپر تھامے فاطمہ بالکل ساکت کھڑی تھی۔ اسکو اپنی فوری ردعمل دکھانے کی اچھی خاصی بڑی سزا ملی۔تھی۔
    کیا ہوا۔ بے ہوش ہو۔گئے۔ عروج تیزی سے آگے بڑھی
    عزہ میری فرسٹ ایڈ کٹ لائو۔
    اس کا جملہ مکمل ہونے سے قبل ہی عزہ اندر دوڑی۔تھی۔ وہ آنکھیں دیکھ رہی تھی۔
    ایکدم خاموشی چھانے پر طوبی دہل سی گئ۔ تیزی سے دروازہ پورا کھولتی بھاگتی ہوئئ آئی تھی۔ سامنے بے ہوش پڑے دلاور اور انکو اٹھاتی۔
    دلاور۔ وہ بری طرح گھبرا کر انکو ہٹاتئ آئی۔ دلاور۔ اس نے اکڑوں بیٹھ کرانکو اٹھانے کی کوشش کی۔
    عروج نے روکنا چاہا مگر وہ بہت ذیادہ گھبرائی ہوئی تھی
    کوئی 911 کو فون کرو کیا کردیا اب تم لوگوں نے۔۔ بولتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ فاطمہ نے گھبرا کر واپیر پیچھے کیا۔ مگر طوبئ کی نظر پڑ گئ۔
    تم نے ان کو مارا۔۔۔۔ کیوں۔؟ وہ۔کوئی چور ڈاکو تھے جو تم نے اتنی بے رحمی سے مارا۔ وہ تو چیخ و پکار سن کر۔ مدد کرنے۔۔
    اسکی غصے کے مارے آواز پھٹ رہی تھی
    ۔ میری غلطی ہے مجھے انہیں بھیجنا نہیں چاہیئے تھا۔وہ بے تحاشا رو پڑی۔
    طوبی معمولی چوٹ ہے۔ریلیکس آپکی طبیعت خراب ہو۔جائے گئ۔
    واعظہ نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینی چاہی اس نے ہاتھ جھٹک دیا۔ طوبی دیوانئ سی ہوئی تھی۔ دلاور کو بار بار اٹھنے کا کہتئ۔
    دلاو راٹھ جائیں پلیز۔ میں سب کچھ بتا دوں گی ویسا نہیں جیسا آپکو ۔۔ اٹھ جائیں۔ وہ بلکنے لگی تھی۔ عشنا دوڑ کر پانی لینے بھاگی۔ فاطمہ وائپر دیوار سے لگا کر اپنا فون ڈھونڈنے لگی
    عزہ فرسٹ ایڈ باکس لے آئی تھئ۔عروج نے واعظہ کو اشارہ کیا ۔۔ اس نے سر ہلایا۔ وہ طوبئ کے بالکل پیچھے ہو کر بیٹھ گئ اپنے بازو بھی پھیلا لیئے
    عروج نے اسپرٹ سے زخم صاف کیا ہی تھا کہ دلاور کراہے۔۔ انہیں شائد ہو ش آرہا تھا۔
    ہاتھ مت لگائو ایمبولنس بلائو میں خود انکو اسپتال لیکر جائوں گی۔
    طوبی نے عروج کو بھی پرے کردیا۔
    طوبی دیکھنے تو دیں۔ عروج منمنائئ
    ہمیشہ تم لوگوں کی جب جب مدد کرنی چاہی ہے میرے شوہر کو تم لوگوں نے اسپتال پہنچا کر دم لیا ہے۔ اب کچھ نہیں کرنا تم لوگ دو رہٹو۔پاس مت آنا انکے۔
    طوبئ پر کوئی جزباتئ حملہ ہوا تھا۔ چلا چلا کر بولتے وہ کف اڑانے لگی تھئ۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیورا کر پیچھے کو گری واعظہ نے اپنی جان لگا کر اسکو خود پر لے لیا سر دیوار میں نہ لگنے دیا۔۔
    دلاور سر پکڑتے اٹھ کر بیٹھنے لگےانکا زخم دیکھتی عروج نے سرعت سے مریض بدلا۔ استھیٹسکوپ کانوں سے لگاتی بی پی اپریٹس اٹھا کر طوبی کی۔جانب بڑھی
    بی پی شوٹ کر رہا ہے انکا فوری اسپتال لے جانا پڑے گا۔
    واعظہ ایمبولنس کو کال کرو۔
    عروج اسکی آنکھیں چیک کرتے ہوئے گھبرا کر بولی
    بلا لی ہے۔ایمبولنس۔۔
    طوبی۔ دلاور اپنا سر بھول کر طوبی کی۔طرف لپکے تھے۔
    کیا ہوا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بر وقت طوبی کو طبی امداد مل۔گئ۔تھی۔ ورنہ خدانخواستہ۔کوئی بڑا نقصان بھی ہو سکتا تھا۔۔طوبی کو چوبیس گھنٹے انڈر آبزرویشن رکھنا تھا۔ اسے روم میں شفٹ کروانے واعظہ اور فاطمہ گئیں تو عروج دلاور کے سر پر ٹانکے لگوانے لے گئ۔
    فاطمہ نے اپنی جان لگا دی تھی جبھی وائپر نے انکے سر پر گہرا زخم کر دیا تھا۔ چار ٹانکے آئے اور انکو بھی دوا دے کر سلا نے کا مشورہ دیا گیا۔
    طوبی کو پرائیوٹ روم شفٹ کروا کر وہیں ایک صوفے پر تکیہ کمبل۔دے کر دلاور کو سونے کیلئے لٹوا دیا۔
    عزہ بچوں کو دیکھ لے گی آپ لوگ فکر نہ کریئے گا۔
    عروج کو یہ سادہ سا جملہ۔کہتے بھی ٹھیک ٹھاک شرمندگی ہوئی تھی۔
    طوبی بہت جزباتی ہو گئ تھی اگر اس نے کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا ہے میں آپ سے معزرت چاہتا ہوں۔
    دلاور کے کہنے پر ان تینوں نے سٹپٹا کر ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔ فاطمہ نے تھوک نگلا پھر ایک قدم آگے ہو کر ٹھہر ٹھہر کرکہنے لگئ۔
    میں بھی معافی چاہتی ہوں۔ مجھے اتنا بنا سوچے سمجھے ردعمل نہیں دینا چاہیئے تھا۔ میری وجہ سے آپکو طوبی کو۔اتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔۔ آئیم رئیلی ویری سوری۔۔
    وہ شکل سے اتنی شرمندہ نظر آرہی تھی کہ جیسے ابھی رو دے گئ۔
    دلاور متانت سے مسکرا دیئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں کافی کے مگ لیئے داخلی کاریڈور میں چلی آئیں۔ باہر سورج نکل چکا تھا ہلکی ہلکی دھوپ۔ شفٹ تبدیلی کا وقت تھا یہاں خوب چہل پہل تھی۔ تاز دم چہرے تیار شیار ڈاکٹر نرس و دیگر اسٹاف اس میں یہ تینوں۔ تینوں رات کے ڈھیلے ڈھالے ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس تھیں جو ٹھیک ٹھاک ملگجے ہو رہے تھے۔ ایمبولنس کے ساتھ تیزی سے نکلتے وقت جس کو جو کارڈیگن ہڈ شال ملی اوڑھ لی عروج نے اپر کا ہڈ سر پر چڑھایا تھا اور ماسک پہن رکھا تھا مگر ان دونوں کے چہرے رت جگے کے سب آثار دکھاتے ستے ہوئے تھے آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں۔
    ویٹنگ ایریا کے بنچ پر بیٹھے جب آتے جاتے لوگ ان تینوں کو لا علاج مرض میں مبتلا مریض سمجھ کر تاسف سے دیکھ کر گزرنے لگے تو فاطمہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر آنکھیں مسلنے لگی ۔۔
    تم جائو تمہیں پیکنگ بھئ کرنی ہوگی۔ میں رکتی ہوں یہاں۔
    صبح کے سات بجنے کو تھے ۔ عروج نے بڑی سی جمائی لی۔ اگر ماسک نہ ہوتا تو حلق میں لٹکتا کوا تک نظر آتا۔
    سات بجے پیکنگ تو کیا کرنی تھی سر میں درد ہو رہا تھا سونا چاہ رہی۔تھی سو مروتا بھئ انکار نہ کیا۔
    ٹھیک ہے۔ پھر میں چلتی ہوں۔ عروج نے کہا تو واعظہ
    میں بھی چلتی ہوں آٹھ بجے ای جی آ کو پک کرنا ہے۔
    واعظہ نے گھڑی دیکھی تو وہ بے چاری سی شکل بنا کر بولی۔
    تم تو نا جائو میں اکیلی کیسے۔ اور دیکھا تھا نا طوبی کو کیسے خونخوار نظروں سے گھورا تھا مجھے۔ میں نے انکے میاں کو اس حال میں پہنچایا ہے میری تو شکل دیکھ کر انکا بی پی دوبارہ بڑھ جائے گا۔
    ہاں تو غلطی تمہاری ہی ہے۔ میں نہیں گئ دفتر تو ای جی آ مجھے کھا جائے گی۔ طوبی شائد تم پر رحم کھا کے ای جی آ نے تو میرا خون پی جانا ہے۔ اسکا ایک ایک منٹ پلانڈ ہے۔
    واعظہ کی اپنی مجبوری تھی۔ فاطمہ نے بے چارگی سے دونوں کو دیکھا تبھی سامنے عروج کی۔نظر سامنے ریسپیشن پرکھڑے دلاور اور طوبی پر نظر پڑی۔۔ وہ شائد چیک آئوٹ کروا رہے تھے۔واعظہ انکی جانب بڑھنے کو تھی کہ عروج نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
    چیک آئوٹ کروا کر طوبی اور دلاور اسپتال سے سیدھا باہر نکل گئے تھے۔
    چلو پھر اب ہم بھی گھر چلتے ہیں۔ واعظہ نے گہری سانس لیکر کہا تبھی اسکا فون بج اٹھا۔۔ نامعلوم نمبر تھا۔
    اس نے فون اٹھایا۔۔
    یوبوسیو۔
    ہیلو واعظہ ؟ بیٹا ہم لوگ گھر جا رہے ہیں طوبی کو۔ہوش آگیا ہے۔ آپ لوگ فکر مند نہ ہونا۔ آپ لوگ گھر چلی گئ ہو۔نا؟ میں آپکو اسپتال میں ڈھونڈ رہا تھا پر ملے نہیں۔میں نے ریسیپشن پر پیغام بھی چھوڑا تھا۔
    جی۔
    واعظہ اور کیا کہتی۔ گہری سانس لیکر کررہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیٹ پر پہنچ کر بھی اسکا موڈ سخت خراب تھا۔ صبح کی شفٹ میں شوٹنگ تو اتنی ہی ہوتی تھی مگر پھٹیک بہت ذیادہ ہوتی تھی۔ دن کے وقت سب جیسے فل چارج ہو کر پھرتے تھے۔ ایسے ایسے کام اس سے کہے جاتے تھے کہ دل کرتا تھا انکے سر پر بھی وائپر بجا دے۔ ابھی بھی عبداللہ کو بلیک کافی اور لیلی کو ملک کافی چاہیئے تھی۔ دونوں کیلئے وہ کافی بنا کر لائی مگر دیتے وقت گڑبڑ کر دی عبداللہ کو ملک کافی اور لیلی کو بلیک کافی دے دی۔ عبداللہ نے تو صبر شکر کرکے پی لی مگر لیلی نے پہلا گھونٹ بھرتے ہی الٹی کی۔
    یہ۔کیا ہے ؟ اس نے پیپر کپ کا ڈھکن اٹھا کر اندر جھانکا پھر منہ بنا کر اس سے کہا۔
    کافی ہے اور کیا۔ وہ ویسے ہی آج تپی ہوئی تھی۔ جوابا لیلی مے بحث کی بجائے کپ اسی کو تھما دیا۔ ۔لڑکے تو جھوٹا موٹا پی ہی لیتے اس نے ڈھکن لگا کر لپ اسٹک کا نشان صاف کیا اور یہ کپ عبداللہ کو دینے چل دی۔ عبداللہ کا میک اپ چل رہا تھا کپ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا ۔ اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا یقینا اس نے پی ہی نہیں ہوگی۔ خوشی خوشی اسکا کپ سامنے رکھ کر پہلے سے رکھا کپ اٹھایا ۔
    میں نے بلیک کافی کہا تھا ویسے۔ مجھے میک اپ سے دیر ہو رہی تھی سو ابھی تو پی لی مگر آئندہ مجھے بلیک کافی ہی لا کر دینا۔
    عبداللہ نے اچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے اس کو کہا۔ اسکو اسکی شستہ عربی خاک سمجھ آتی الٹا اردو میں اس پر بگڑی
    ندیدے جب پسند ہی نہیں تھی تو کافی ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ اب مجھے پھر تیسرے فلورکا چکر لگانا پڑےگا۔۔
    بڑ بڑ کرتے کپ اٹھا کر تن فن کرتی ڈریسنگ ایریا سے نکلی۔۔
    انکی عربی کتنئ اچھی ہے ان عربی اداکاروں سے بہتر عربی بول گئ ہے۔ لہجہ سننے میں اسکا ذیادہ اچھا ہے۔
    اسکے بالوں کا ہیئر اسٹائل بناتے اس چندی آنکھوں والے میک اپ آرٹسٹ نے اپنے برابر دوسرے اداکار کا میک اپ کرتے میک اپ آرٹسٹ کو کہا۔
    جوابا وہ بھئ سر ہلانے لگا۔
    انکی زبان تو مختلف سی ہے سننے میں یہ لڑکی اگر ہنگل میں نہیں بولی تو کس زبان میں بول کے گئ ہے۔ اور بولی کیا ہے؟
    عبداللہ الگ بڑبڑایا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
    کھاوا ڈسپنسر سے گرم پانی مگ میں ڈال رہا تھا جب وہ پیچھے سے آکر بولی۔ کھاوا اچھل پڑا۔
    کافی بنا رہا ہوں پیئو گئ؟
    اس نے دو بن ہاتھ میں لیئے ہوئے تھے ایک اسے تھما دیا۔
    ہاں۔۔ مختصر جواب وہ مسکرا کر دوسرا مگ اٹھانے لگا
    فاطمہ منہ بنا کرکونے سے اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ یہ والے بن اسے بھئ کافی پسند تھے سو مروتا بھی انکار نہ کیا
    ہم لوگوں کو کیسا چھوٹا کچن دے رکھا ہے باقی اسٹاف کا کتنا بڑا کیفے ہے۔
    اسے اب کچن کے چھوٹا ہونے پر اعتراض تھا
    ایک تو باقی سب مستقل ملازم ہیں ہم کانٹریکٹ والے مظلوم۔دوسرا کیفے سے تم بھی پے کرکے چیزیں لے سکتی ہو یہاں یہ کافئ مفت ہے ہمارے لیئے بس ذرا سا خود بنانی پڑتئ وہاں یہی سب کوئی گھول کر دے گا اور دگنی قیمت وصولے گا
    اسکے مقابل بیٹھتے ہوئے وہ بالتفصیل بتا رہا تھا۔ اس نے یونہی اسکا جائزہ لے ڈالا۔ نک سک سے تیار ڈریس پینٹ شرٹ میں تازہ شیو خوشبوئوں میں بسا ہوا۔ وہ عام دنوں میں خاصےرف حلیے میں آتا تھا۔ گھسی ہوئی جینز گرے اپر یا کبھی ڈینم جیکٹ۔ ایک دن تو سویٹ پینٹ شرٹ میں ہی آگیا تھا تب ہدایت کار نے ڈانٹا بھئ تھا اسے۔ جوابا ساری ڈانٹ کھا کے سر جھکا کے بولا۔
    لیٹ ہوگیا تھا۔ تیار ہو کر آتا تو یہاں کئی کام رک جاتے میرے اس حلیئے میں آنے سے کوئی کام نہیں رکا بس میں ذرا سا برا لگ رہا ہوں تو آپ نے جو ہوم لیس آہجوشی والا منظر کرنے کیلئے جس ایکسٹرا کو بلانا ہے ان کی جگہ مجھے رکھ لیں۔۔
    اور انہوں نے واقعی ایسا کیا۔ ایکسٹرا کی پیمنٹ بھی ملی اور ڈانٹ بھئ ٹل گئ۔ اسے سوچ کے ہنسی آگئی۔۔ اسے ہنسی ضبط کرتے دیکھ کر کھاوا چونکا۔
    کیا ہوا برا لگ رہا ہوں؟ ۔مجھے پتہ ہے یہ پنک شرٹ ہم طر صغیر کے کالے کلوٹے لڑکوں پر نہیں جچے گی۔ کہا تھا یون سب کو۔ کوئی اور شرٹ دے دے۔
    وہ سچ مچ پریشان ہوگیا تھا۔
    ارے۔ فاطمہ نے حیران ہو کر اسکو دیکھا۔ گلابی رنگ تو اب دیکھا اس نے۔ ویسے برا نہیں لگ رہا تھا۔ بلکہ رنگ صاف صاف سا لگ رہا تھا اسکا۔ ویسے بھی وہ کالا نہیں تھا ایسے لگتا تھا جیسے رنگ جھلسا ہوا ہو اسکا۔ گندمی رنگ جو اکثر سورج دیوتاکی مہربانی سے لڑکوں کا باہر پھر کر ہوجاتا ہے
    نہیں بالکل برے نہیں لگ رہے ہو۔بلکہ اچھے لگ رہے ہو۔ ہینڈسم۔
    فاطمہ کے کہنے پر وہ اسے چونک کر دیکھنے لگا تھا۔مگر وہ سادہ سے انداز میں کہہ کر مگ منہ سے لگا چکی تھی۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ۔
    کیا چیز تھی یہ لڑکی بھی۔
    خوش بھی ہو۔۔ ڈیٹ پر جانا ہے آج؟
    اسکی مسکراہٹ فاطمہ سے چھپی نہ رہ سکی۔
    ڈیٹ۔کافی پیتے اسے اچھو سا لگا۔۔۔ ایکسٹرا کے طور پر آنا ہے ایک منظر میں پیچھے سے گزرنا ہے ہیرو کے۔اسکے لیئے بھئ انکو سوٹڈ بوٹڈ ایکسٹرا چاہیئے۔
    وہ استہزائیہ ہنسا۔
    اوہ اچھا۔ مجھے لگا اتنا تیار ہو کر آئے تو یقینا کسی لڑکی وڑکی کا چکر ہوگا۔
    فاطمہ نے کندھے اچکائے تو کھاوا مسکرا دیا
    مجھے کون احمق ڈیٹ کرے گی۔
    کیوں؟ اچھی بھلی جاب ہے اوپر سے مجھ سےبھی اتنے پیسے اینٹھ لیتے ہو۔
    فاطمہ نے جتایا تووہ برا مان گیا
    حق حلال کا لیتا ہوں اسے اینٹھنا نہیں کہتے۔اتنے کام تو کرتا ہوں تمہارے۔۔ ان کورینیوں سے عربی مکالمے بلوانا آسان کام ہے کوئی
    فاطمہ نے گہری سانس لی۔۔۔۔
    بالکل نہیں۔ کوریا میں تو کوئی بھی کام آسان نہیں۔ سانس لینا بھی۔۔ اور میں تو سب کام خراب کرنے میں ماہر ہوں
    اس نے منہ لٹکا لیا۔
    خیریت آج تو آہیں بھری جا رہی ہیں۔ گھر میں سب ٹھیک؟
    کھاوا نے فورا نوٹس کیا۔فاطمہ نے سوچا پھر گلا کھنکار کر سیدھی ہو کر بولی
    مجھے ایک بات بتائو۔اگر آپ رات کواپنے گھرمیں کسی کو چوری چھپے آتے دیکھیں آپ کا پہلا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔

    ڈنڈا ماروں گا سر پر۔ کھاوا فورا بولا۔
    بالکل یہی قدرتی ردعمل ہوتا ہے نا۔ مگر میں نے ڈنڈا مارا ہے تو میں مجرم بن گئ ہوں۔ مجھے اتنا برا بھلا کہا اور خفا بھی ہوگئی طوبی۔
    طوبی؟ تم نے لڑکی کے سر پر ڈنڈا مارا ۔۔۔کھاوا بھونچکا سا رہ گیا
    نہیں اسکے شوہر کے سر پر۔ پھٹ گیا چار ٹانکے آئے۔فاطمہ نے منہ پھلایا۔ کھاوا کو ہنسئ آگئ۔
    پھر غصہ تو بنتا ہے تمہاری سہیلی کا۔۔ وہ مزاق اڑا رہا تھا۔
    ویسے وہ تمہارے گھر چوری چھپے آئے ہی کیوں؟ انکی بھی غلطی ہے۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔
    میری بھی غلطی ہے۔ بے چارے جب بھی ہماری مدد کو آتے ہیں ٹوٹ پھوٹ کر واپس جاتے ہیں دلاور بھائی۔
    کھاوا چونکا مگر فاطمہ نے دھیان نہیں دیا دوسرا قصہ شروع کر چکی تھئ
    پتہ ہے اس سے پہلے ایک بار ہم نے انکو ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں اکٹھے جلدی نکلی تھیں تاکہ جلدی گھر جا سکیں۔ کھاوا اسئ وقت باہر سے کوئی بڑا سا شاپر لیئے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا آرہا تھا۔
    اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ جوابا وہ بھی مسکرا کر سر ہلاتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ دونوں ہاتھوں میں شاپرپکڑے تھا
    ایک تو اس بے چارے کے اتنے چکر باہر کے لگواتے ہیں۔ اس دن تو اتنا بڑا بورڈ اٹھا کے لا رہا تھا اکیلے میں نے مدد کرائی اسکی۔ تم لوگ اسکو اتنا چلایا تو نہ کرو۔
    واعظہ نے بھی اسے دیکھا تھا شائد جبھی کہہ رہی تھی۔
    کیوں یہ کونسا سی او لگا ہوا ہے یہ سب کام ہی کرتے ہیں اسسٹنٹ۔ اور یہ لوگ تو باہر کے کام مجھے بھی کہہ دیتے ہیں مگر میں نے کبھی کرکے نہیں دیا ہمیشہ کھاوا کو بھیجتی ہوں۔
    فاطمہ نے کہا تو واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    یہاں کے لوگوں کو ایک تارک وطن سے ہمدردی ہونی تم تو ہم وطن ہونے کا تھوڑا خیال کر لیا کرو۔ بے چارہ اتنی مشکل سے چلتا ہے۔
    واعظہ کے کہنے پر وہ حیران ہو کر ایک قدم آگے ہو کر سامنے آگئ
    کون مشکل سے چلتا ہے؟
    کھاوا۔ واعظہ اسکے سامنے آنے پر بد مزہ ہوگئ تھی سو منہ بنا کر بولی
    کھاوا مشکل سے چلتا ہے؟ کیا کہہ رہی ہو۔فاطمہ حیران ہی تو رہ گئ
    تم نے کبھی اسے چلتے نہیں دیکھا کیا۔؟ واعظہ الٹا اس کی حیرانی پر حیران رہ۔گئ۔
    ایک پیر ذرا سا دبا کے چلتا ہے۔میں نے پوچھا تھا اس سے کہہ رہا تھا کالج میں تھا تو ایک بار اسکا بائک ٹرک کے نئچے آگیا تھا۔ ٹانگ بھی ٹوٹ گئ تھی جب سے ذرا۔۔۔
    فاطمہ کی آنکھیں پوری کھل سی گئیں۔۔ اسکی حیرت ذدہ شکل دیکھ کر واعظہ نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
    حد ہے اتنی دوستی ہے اس سے اپنے سب کام کرواتی ہو تم نے اسے غور سے نہیں دیکھا۔
    فاطمہ بھونچکا سی کھڑی تھئ۔
    نہیں واقعی۔کبھئ دھیان نہیں دیا میں نے۔
    اچھا چلو ڈھائی بج رہے ہیں ہمیں گھر جانے میں بھی وقت لگے گا۔
    وہ شاک میں جمی کھڑی تھی تو واعظہ کو ہی اسکا بازو پکڑ کر کھینچنا پڑا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب با جماعت اسے ائیر پورٹ چھوڑنے آئی تھیں۔
    عزہ کی آنکھیں نم تھیں۔
    عشنا کی بھی۔ الف کی بھی
    واعظہ کی آنکھیں سرخ تھیں۔۔
    فاطمہ کی بھی۔
    ہر تصویر میں آدھوں کی آنکھیں ہی دیکھنے کو ملی تھیں مگر ائیر پورٹ پر بھئ انہوں نے طویل فوٹو سیشن کرایا تھا۔پاس سے گزرتے ایک کورین لڑکے سے اپنے گروپ فوٹو بنوائے تھے۔ اسکی فلائٹ کا وقت نہ ہوجاتا تو اگلے دو گھنٹے بھی بس انکا کیمرہ پکڑے تصویریں بناتے گزرتے اسکے۔ وہ معزرت کرتا وقت بتاتا بھاگا تب وہ لوگ تھوڑا ٹھنڈی پڑیں۔عروج کا کیمرہ تھا وہ سب ا س پر چڑھ آئیں دکھائو کیسی آئیں ۔۔
    امریکہ جا کے سب تصویریں بھیجوں گی فکر ناٹ۔
    مجھے سب سے پہلے وہ جو مجسمے کے ساتھ میری تصویر ہے بس وہ دکھا دو۔
    عزہ نے کہا تو عروج نے اسکی ناک کو چٹکی میں دبایا
    ہر تصویر میں تو ننجا ٹر ٹل بنی ہو شکل تو آئی نہیں ہے پرجوش ایسے ہو۔جیسے پورٹ فولیو شوٹ کروایا ہے۔
    اسکی ٹھنڈی بستی پر جہاں اس نے منہ بنایا وہیں وہ سب کھل کر ہنسی تھیں۔
    مجسمہ بھئ اسکے عبایا میں اپنی شکل چھپاتا رہا یے شرما شرما کر۔
    فاطمہ نے اسکے پوز کا مزاق اڑایا یہ۔تصویر اسی نے بنائی تھی۔ مجسمہ کے چہرے پر اسکی خوب گھیر والی آستین نقاب بناگئ تھئ ہوا سے اڑ کر۔
    ویسے عروج امریکہ میں تو کوریا سے کہیں ذیادہ تعصب ہے تم وہاں بھئ عبایا کروگئ؟
    عشنا نے پوچھا تو عروج سر جھٹک گئ
    اکھاڑ لیں جو اکھاڑنا ہے میں نے انکی وجہ سے نقاب کرنا تو نہیں چھوڑنا۔
    اس کا انداز اٹل تھا۔ اس وقت بھی وہ گلابی اسکارف اور گلابی ہی فیس ماسک لگائے تھے لانگ گرے کوٹ اور جینز میں وہ کافی سوبر سی لگ رہی۔تھی۔ ہاں اسکارف کی وجہ سے مسلم شناخت کی جا سکتی تھئ۔
    پھر بھی عروج اپنا بہت خیال رکھنا وہاں کے حالات مسلمانوں کیلئے بالکل اچھے نہیں۔
    واعظہ نے سنجیدگی سے کہا تو وہ سر ہلانے لگئ۔
    مجھے اندازہ ہے۔ میں احتیاط کروں گی۔ اس نے اطمینان دلایا پھر سب کی شکلیں دیکھیں اداس ہو رہے تھے چہرے سب کے وہ ہاتھ مل کر بولی
    یار قسم سے دل کر رہا تھوڑا بہت رو لوں مگر مجھے اتنی خوشی ہے امریکہ جانے کی کہ آنسو ہی نہیں آرہے۔
    ماسک کے اندر یقینا بتیسی باہرتھی اسکی۔ آنکھیں چمک رہی تھیں او رخوشی سے چندی ہو رہی تھیں۔
    پہنچو گی کب؟ عزہ نے سوں سوں کرتے پوچھا۔
    یار صبح چھے ساڑھے چھے تک ۔۔ اگر موسم نے کوئی پنگا نہ کیا تو ذیادہ سے ذیادہ دس گھنٹے لگیں گے۔ عروج کہہ کر ذرا سا رکی
    سچ میں تم لوگ بہت یاد آئو گی۔ زندگی میں اتنا مستی مزاق کبھی نہیں کیا جتنا تم لوگوں کے ساتھ مزا آیا۔ میں۔۔
    اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ عزہ اسکے گلے لگ گئ۔ اسکے اوپر سے الف بھئ عشنا بھئ۔ فاطمہ اور واعظہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اس مینار سے وہ بھی لپٹ گئیں
    ہم اتنے بہناپے کے ساتھ رہے کہ مجھے احساس ہی نہ ہوا کہ اپنی فیملی سے اتنا دور رہ رہی ہوں ۔ مجھے تم سب بہنوں کی طرح عزیز ہو گئ ہو۔ میں ویڈیو کال کیا کروں گی تم سب کو۔۔
    عروج جزباتی ہوئی وی تھئ۔
    میں نے کبھی تم میں سے کسی کا دل دکھایا ہو تو معزرت۔
    بس کبھی کبھار شور مچانے پر ڈانٹ دیتی تھی تم لوگوں کو۔
    اسکے لیئے بھی سوری۔۔ اور سینی ٹائزر کیلئے تھوڑا ٹچی ہوتی تھی۔ اسکے استعمال پر بھی اگر کبھی کسی کو روکا ٹوکا ہو تو سوری۔ اور اپنا ڈینم عبایا۔ وہ میں نے دھو کر بالکونی میں ڈالا تھا۔ اف مجھے تو اٹھانا یاد ہی نہیں رہا۔
    عروج کو کیسے بے درد وقت یاد آیا تھا۔
    عروج اب تم جارہی ہو تو مجھے چھپانا اچھا نہیں لگ رہا۔میں اکثر جب تم نائٹ کرکے آتی تھیں اور بے سدھ سو جاتی تھیں تو تمہارا ڈینم عبایا یونی پہن جاتی تھی۔ تم میرے واپس آنے کے بعد بھئ بمشکل اٹھتی تھیں تو تمہیں کبھی پتہ نہ چل سکا۔
    عزہ نے حفظ ماتقدم کے طور پر اور زور سے جپھی مار لی۔ وہ پھڑک کے رہ۔گئ۔
    تمہارا سینی ٹائزر تو خیر ہم سب استعمال کرتے تھے۔ ایک بار تو نور نے تمہارے سینیٹائزر میں پانی بھر کے رکھ دیا تھا۔
    الف نے انکشاف کیا۔
    کیا۔ عروج مزید پھڑپھڑائی۔ مگر ان سب کی گرفت مضبوط تھی۔ اس نے بھی خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔
    وہ سب یونہی چند لمحے ایک دوسرے سے لپٹی کھڑی رہیں۔ پھر آنکھیں پونچھتے الگ ہونے لگیں۔ عروج نے سب سے پہلے الگ ہونے والی واعظہ کو نظروں میں بھرا پھر اسکے قریب آکر پرخلوص انداز میں اسکا ہاتھ پکڑکر کہا تھا
    اور واعظہ تھینکس فار ایوری تھنگ۔
    خیریت سے جائو ۔ واعظہ مسکرا کر اسکے گلے لگ گئ۔
    دلاور بھائی کو۔میری طرف سے پوچھنا اور طوبی سے معزرت بھی کر لینا۔ اسکا غصہ دیکھ کر میری ہمت نہیں ہوئی ملنے بھئ نہیں جا سکی میں۔
    عروج کے متردد انداز پر اس نے زو رو شور سے سر ہلایا۔ فلائٹ کا وقت ہو رہا تھا اس نے جلدی جلدی الوداعی کلمات ادا کیئے۔ اور تیزی سے اندر بڑھ گئ۔ یہ لوگ جب تک نظر آتی رہی ہاتھ ہلاتی رہیں۔ عشنا فاطمہ عزہ الف۔ واعظہ نے حسب عادت گنا۔ آبادی مستقل کم ہو رہی تھی۔ اسے عجیب سی یاسیت گھیرنے لگی۔
    جانے اسکے قدم۔سست پڑے تھے یا یہ سب جلدی میں تھیں۔ عشنا اور عزہ کسی بحث میں الجھی تھیں۔فاطمہ کو اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا تھا۔۔ الف اسکی طرح انکے ساتھ مگر لا تعلق سئ چل رہی تھی۔
    اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خاصی زور سے بولی
    ارے ژیہانگ تم یہاں کیا کر رہے ہو۔
    الف بجلی کی تیزی سے مڑی تھئ۔متلاشی نگاہوں سے دیکھتے اس نے واعظہ کو دیکھا تھا جو اسی پر نظریں جمائے تھئ۔
    عزہ عشنا فاطمہ بھئ مڑیں ۔
    کون ژیہانگ؟ فاطمہ پوچھ رہی تھی۔
    کوئی نہیں مجھے غلط فہمی ہوئی کوئی اور تھا۔ ایک تو سب کی ہی آنکھیں یہاں چندی ہیں۔
    وہ سر سری سے انداز میں کہتی بھرپور نظر الف پر ڈالتی تیز تیز قدم اٹھاتئ آگے بڑھ آئی۔
    جلدی چلو کیب والے نے ویٹنگ کے پیسے بنا لیئے ہوں گے ٹھیک ٹھاک۔
    واعظہ کو حسب عادت فکر ہو گئ تھئ۔
    ہم پھر اسی ٹیکسی میں واپس جائیں گے۔ عزہ نے اعتراض جڑا۔
    کیوں تمہارے لیئے یہاں چاپر منگوائیں۔
    فاطمہ نے مزاق اڑایا۔
    یار یہ والا ڈرائیور گھورتا آیا ہے سارا راستے۔
    عزہ ٹھنکی۔
    اس بے چارے کو۔دکھائی کیا دیا ہوگا برقع ایونجر۔ فاطمہ نے اسکے سر پر چپت لگائی۔ وہ سب ہنستی بولتی پارکنگ کی۔طرف بڑھ رہی تھیں۔ الف نے ایک بار پھرمڑ کر ائیر پورٹ کی لابی پرطائرانہ نظر ڈالی تھئ۔
    کیا پتہ سچ مچ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کمرے میں داخل ہوئے تو طوبی صارم کر تھپکتی اٹھ رہی تھیں۔
    اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟
    وہ فورا پاس جا کے پوچھنے لگے۔
    ٹھیک ہوں۔ سونے سے بہتر محسوس ہو رہا ہے۔
    وہ دھیمئ سی آواز میں بولی تھی۔پھر ادھر ادھر دیکھ کر بولی
    بچے سو گئے؟
    ہاں۔ زینت تو سمجھدار ہے گڑیا تمہارے پاس آنے کی ضد کر رہی تھی اسے مشکل سے بہلا کر سلا دیا۔۔
    آج تو سارا دن سوتے گزر گیا میرا۔ رات بھر کیا کروں گی۔
    اس نے گھڑی پر نظر کی تو ساڑھے دس ہی ہو رہے تھے۔
    کچھ کھا لو دوپہر میں بھی بس تھوڑا سا دلیہ کھایا ہوا ہے بھوک لگ رہی ہوگئ۔
    وہ اسکے پاس بیٹھے محبت سے پوچھ رہے تھے
    وہ انہیں دیکھ کر رہ گئ۔ جانے یہ محبت اس سے تھی یا آنے والے کی وجہ سے فکر کی جا رہی تھی۔ وہ قنوطی سا ہو کر سوچنا نہیں چاہ رہی تھی مگر اب ہر بات کے دو مطلب نکالنے کی عادت سی ہوگئ تھی۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بچے ۔۔۔۔۔۔ اسکے ذہن میں پھر یہی الفاظ گونجے۔ وہ جو انکو زندگی دینے کا ذریعہ بن رہی ہے اسکے بچے۔۔
    وہ مزید کوئی تکلیف دہ سوچ سوچنے جا رہی تھی کہ دلاور کی آواز پر چونکی
    واعظہ اور فاطمہ آئی تھیں۔ تمہارے لیئے سوپ دے کر گئ ہیں۔ تم سو رہی تھیں ۔۔۔ انہوں نے تمہیں جگانے سے بھی منع کر دیا ان میں سے کسی کی فلائٹ تھئ وہ بھی ملنے آئی تھی تمہیں سوتا دیکھ کر دور سے ہی دیکھ کر چلی گئ۔
    اچھا کیا۔ وہ بدمزا سے انداز میں بولی۔ تو وہ مزید انکا ذکر کرنے کی بجائے اٹھ کھڑے ہوئے
    میں سوپ گرم کر لاتا ہوں۔
    میں اٹھ گئ ہوں اب خود کچھ گرم کرکے کھا لوں گی آپ زحمت نہ کریں۔
    وہ چڑ چڑے پن سے کہتئ بستر سے اٹھنے لگی تو ایکدم اٹھنے سے سر چکرا سا گیا۔ بروقت دلاور نے سہارا دے کر واپس بٹھایا۔
    یہیں بیٹھو میں سوپ یہیں لا دیتا ہوں۔ انکے انداز میں قطیعت تھی وہ نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئ۔۔۔
    پھر جب تک سوپ گرم ہو کے آیا وہ یونہی سوچوں میں الجھتی رہی۔ اتنی مگن تھی کہ دلاور پاس آکر کھنکارے تب چونک کے سیدھی ہو ئی۔
    گرم بھاپ اڑاتا ویجیٹیبل چکن کارن سوپ تھا ساتھ نوڈلز بھی تیر رہے تھے۔ اسکو ایکدم ہی بھوک کا احساس ہوا تھا۔ بےدلی سے تھامنے والی اب رغبت سے پیالہ ختم کر رہی تھی۔
    دلاور خاموشی سے اسکے مقابل بیٹھ گئے۔
    آج مجھے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمہارا بہت خیال رکھوں یوں بار بار بی پی بڑھ جانا اچھی علامت نہیں۔ اور یہ بھی کوئی ذہنی دبائو ہے جس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔تو مجھے تم سے بات کرکے پوچھنا چاہیئے۔
    وہ بلا تمہید شروع ہوئے تھے۔ طوبی کامنہ تک چمچ لے جاتا ہاتھ رک سا گیا۔
    ہم مرد سوچتے ہیں بیوی کام ہی کیا کرتی ہے سارا دن گھر میں رہنا سکون سے جب چاہا سو گئ کام کیا نا کیا عیش کرتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج ایک دن تم نے سارا دن کوئی کام نہ کیا اور میں جانتا ہوں کیسے یہ پورا دن گزارا ہے بچوں نے تمہارے بغیر۔
    وہ ذرا سا ہنسے ۔ طوبی حیرت کے مارے گنگ سی انکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ اسکی حیرت سمجھ رہے تھے۔
    گڑیا زینت صائم۔ سارا دن انکو ماں کی ہر قدم پر یاد آئی میرے ہاتھ سے تو کھانا تک نہیں کھا رہے تھے۔ عادت ہی نہیں انکو۔ اور میں بھی کب انکو سامنے بٹھا کر منہ میں نوالے ڈالتا ہوں۔ بس خرچہ اٹھا لیا کبھی لاڈ کیا کبھی ڈانٹ دیا۔ باپ کا ان سے تعلق بس اتنا ہی ہے۔ نخرے تو بس ماں ہی اٹھایا کرتی ہے نا۔۔۔۔
    آپ۔۔ طوبی نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
    پہلے میری سن لو۔ تمہاری ہر الجھن کا جواب دوں گا۔
    وہ تھمے پھر طوبی کے چہرے سے نگاہ ہٹا کر سامنے دیکھتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بولے۔
    آج میں نے خود کو تمہاری جگہ پر رکھ کر سوچا۔ تین مختلف عمروں کے بچے جو اپنی ہر ضرورت کیلئے ماں کے محتاج ہیں انکو سنبھالنا ہر ضرورت پوری کرنا گھر کا کام کرنا یقینا ماں کوئی مشین تو ہے نہیں کہ بنا تھکے سب کام صحیح صحیح کرتی جائے۔ تم بھئ تھکتی ہوگئ کبھی گھبراتی جھلاتی ہوگی جبھی۔۔ وہ شائد سانس لینے رکے تھے طوبی نے سانس روک لی۔۔ وہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر مڑ کر مضبوط لہجے میں طوبی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے۔۔
    مجھے تمہارا ہر فیصلہ منظور ہے۔ اگر تم مزید اولاد نہیں چاہتی ہو تو بے شک ابارٹ کرا لو۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ یہ تین ہی ہماری۔۔۔۔۔
    کیا کہہ رہے ہیں آپ۔ ؟ طوبی چیخ پڑی۔
    میں اتنا بڑا گناہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ ان بچوں سے نو مہینے بعد ملتے ہیں یہ میرے وجود میں پلے ہیں مجھ میں سانس لیتے ہیں میں انکی جان لینے کا ۔۔۔ آپ مجھے ایسا گھٹیا سمجھتے ہیں کہ ایک او ربچے کی ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے اسلیئے میں جان لینا چاہوں گی وہ بھی اپنے بچے کی۔
    اسکی غم و غصے سے آواز پھٹ سی گئ۔
    پھر۔ دلاور۔ اسکا غصہ سمجھ نہ پائے۔
    مجھ سے اتنی بڑی خبر چھپانے کی کیا وجہ تھی؟ کیوں مجھے تم سے یہ خبر نہیں ملی ؟
    کیونکہ میں آپکی زندگی میں اپنا مقام دیکھنا چاہتی تھی۔ میں کیا ہوں ہوں بھئ کچھ یا بس آپکے بچوں کی ماں ہوں میں۔
    وہ پھٹ پڑی۔
    ان بارہ تیرہ سالوں میں مجھے ان بچوں سے الگ آپکی نظر میں اپنا مقام کیا ہے نہیں پتہ لگا۔ میں جانتی ہوں میں کبھی آپکا آئیڈیل نہیں رہی مگرخود کو بدل بدل کر ہر طرح سے آپکا آئیڈیل بننا چاہا ہے میں نے مگر اس سب کوشش کے باوجود ایک چٹی چمڑی لڑکی آپ نے میرے مقابلے پر لا کھڑی کی کیوں۔ کیا کمی ہے مجھ میں؟ بد صورت ہوں نا فرمان ہوں اولاد کی خوشی نہیں دیا کیا میں نے آپکو۔۔
    وہ کہتے کہتے رو دی۔ دلاور ہکا بکا اسکی شکل دیکھتے رہ گئے
    کونسی لڑکی؟ تم۔۔ میرا ۔میں یہاں۔۔۔۔۔۔۔
    وہی لڑکی جس سے چھپ چھپ کے باتیں کرتے ہیں آپ۔ کیا لگتا آپکو میں جاہل ہوں؟ یا اندھئ بہری ہوں ۔۔ سب سمجھ آتا ہے مجھے۔
    وہ سخت جلی بھنی تھی۔ دلاورکو بے ساختہ ہنسی آگئ۔ وہ تو شکر ہے سوں سوں کرتی سر جھکائے بیٹھی تھی ورنہ اور تائو کھا جاتئ ۔۔
    انہوں نے بمشکل ہنسی روک کر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیکر اوپر کیا۔
    تو تم اتنے دنوں سے اسلیئےپریشان تھیں کہ تمہیں لگتا تھا میں کسی لڑکی کے چکر میں ہوں؟
    انہوں نے آج سب غلط فہمیاں دور کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
    ہاں۔ طوبی نے بھئ شائد آج سب معاملہ حل کر لینے کا ہی سوچ لیا تھا
    جس واحد لڑکی کا نمبر میرے پاس ہے اور جس سے تمہارے بقول میں چھپ چھپ کر بات کرتا تھا وہ لڑکی ایک پرائیوٹ جاسوسی کے ادارے کی منتظم ہے۔ اور اس سے رابطہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں گڈو کو ڈھونڈ رہا ہوں۔
    دلاور کی بات پر اسکی آنکھوں میں حیرت اور الجھن دونوں اتر آئی تھیں۔۔ دلاور نے ٹھنڈی سانس بھر کر سلسلہ کلام جاری رکھا
    میں نے پاکستان میں ہر ذریعہ استعمال کیا جس سے خاور کا پتہ لگ سکتا۔مجھے کسی نے بتایا کہ وہ لیبر ویزا پر سعودیہ عرب چلا گیا ہے۔ میں نے سعودیہ عرب میں اپنے دوستوں سے جاننے والوں سے معلومات نکلوائیں پتہ کروایا ۔ تب کسی نے مجھے یہ اطلاع دی کہ وہ کوریا میں ہے۔ جس دن مجھے یہ پتہ لگا اسئ دن سے میں نے کوریا آنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ تم جانتئ ہو مختلف ٹریننگز کیلئے مجھے کتنی ہی بار کبھی جاپان کبھی جرمنی جانے کی آفر آئی مگر میں انکار کردیتا تھا مگر یہاں آنے کیلئے اپنی لگی لگائی نوکری چھوڑ دی میں نے اپنی جمع پونجی لگا کر تمہیں اور بچوں کو بھی لے آیا تاکہ کوئی مجبوری نہ رہے۔ پچھلے سال بھر سے میں اسے تلاش رہا ہوں۔ ابھی بھی ایک بندے کا مجھے پتہ چلا ہے وہ اگلے پندرہ دن میں ویتنام جا رہا ہے۔ اب جانے یہ ہمارا خاور ہے یا نہیں مگر میرے پاس بس یہی چند دن ہیں طوبی یا تو وہ مجھے مل جائے گا یا ہمیشہ کیلئے ہم اسے کھو دیں گے۔
    میں نے گڈو کو دیکھا تھا۔
    طوبی بےتابی سے بات کاٹ کر بولی۔
    کب؟۔۔۔۔۔۔۔ دلاو ربری طرح چونکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو تو نہ ملا مجھے جو تو نہ ملا مجھے دل کو کیا بتائوں گا دل کو۔
    نیم تاریک کمپائونڈ میں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا وہ اپنی دھن میں گنگناتا ہوا داخل ہوا تھا۔ نچلی منزل کے سب سے تاریک گیلری میں سو واٹ کا پیلی روشنی کا بلب ناکافی روشنی پہنچانے کی کوشش میں ناکام تھا۔اور وہ۔
    شاپر میں تین سوجو کی بوتلیں ایک برگر اور فرائیڈ چکن۔ اٹھائے اس وقت پارٹی کرنے کے موڈ میں تھا۔ گنگناتے ہوئے ابھی لاک کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    کم چاگیا۔ وہ بری طرح ڈر کر مڑا۔
    تمہارا خط ہے۔ ڈیلیوری بوائے میرے دروازے کے آگے ڈال گیا تھا۔
    اسکے ڈرنے پر بد مزا منہ بناتے ہوئے کم ہانا نے گھورتے ہوئے بتایا
    گھمسامنیدہ۔ اس نے سر جھکا کر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے خط لیا۔
    سوجو اکیلے کبھی نہیں پیا کرتے۔ ہانا کی تیز نظروں سے شاپر سے جھانکتی سوجو چھپی نہ رہ سکی۔
    یہ آپ لے لیجئے۔ کھاوا نے ایک بوتل نکال کر اسکو بڑی تمیز سے تھمائئ اور دروازہ کھول کر اندر گھس گیا۔دروازہ کھٹاک سے بند ہوا
    کہہ سیکی۔ وہ تلملا کر پیر پٹختی آگے بڑھ گئ۔
    اپنے یک کمرے کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اسے پورے دن کی تھکن نے آن گھیرا تھا۔ ایک اوپن کچن سامنے لائونج ٹائپ چھوٹئ سی جگہ جس میں ایک گھسے ہوئے اسپرنگ والا صوفہ اور میز رکھی تھی۔دائیں جانب اکلوتے کمرے کا دروازہ تھا اسکے ساتھ باتھ روم بس۔ اس میں دلچسپی لینے والی لڑکی اسکی یہ پڑوسن بھی کم و بیش ایسے ہی گھر کی مالکہ تھی۔ مگر یقینا اسکے گھر کا اتنا برا حال نہیں ہوگا۔
    معزرت ہانا بی بی۔۔ فی الحال اس گھر میں میں کسی کو دعوت نہیں دے سکتا۔
    بڑبڑاتے ہوئے اس نے شاپر میز پر ڈھیر کیا ۔ سوجو نکال کر سامنے رکھی برگر اور فرائیڈ چکن نکالے۔صوفے کے نیچے بچھے اس گردآلود قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔ لیٹر رکھا ۔۔۔۔گرم بھاپ اڑاتا کھانا اسکے سامنے تھا مگر وہ بس اس کھانے کو دیکھتا رہا چند لمحے۔
    پھر جیسے فیصلہ کرکے لیٹر اٹھایا۔۔ میونگ دونگ انٹرنیشنل اسکول۔ اس نے بے دلی سے کھولا۔
    ہم۔معزرت خواہ ہیں۔ ہم بین القوامی طلبا کو گریجوایشن کی۔سطح پر فی الحال اسکالر شپ فراہم نہیں کر رہے۔ آپ کی تفصیلات ہم نے ۔۔۔۔۔
    آگے بھئ لمبی کہانی تھی مگر اسے دلچسپی نہ تھی اس نے بے زاری سے لیٹر ایک جانب پھینکا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا۔
    پیٹ بھر کر کھانے کے بعد اس نے سوجو کی بوتل اٹھائی وہ سادا سوڈا بھی لایا تھا مگر اس وقت وہ غٹا غٹ اس بوتل کو چڑھا گیا۔۔۔۔
    جانے پیاس ذیادہ تھی کہ کیا اسکا حلق تک جل سا گیا تھا۔
    صوفے کی نشست پر سر ٹکاتا اس نے خود کو پرسکون کرنے کی خاطر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں
    قسم سے جھوٹ نہیں بول رہا ہوں اماں۔۔۔
    بھیا مجھے اللہ کی قسم ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔
    وہ اٹھارہ انیس سالہ لڑکا گڑگڑا رہا تھا۔۔
    جھوٹا ہے یہ ایک نمبر کا جھوٹی قسم کھاتا ہے۔۔
    وہ ٹرک ڈرائیور اسکے منہ پر تھپڑ لگاتا کہہ رہا تھا۔
    وہ لڑکا اس وقت بھئ گڑ گڑا رہا تھا۔
    قسم لے لو نگلی نہیں خالی بوتل میں۔۔۔۔
    اب منظر بدل گیا تھا وہ لڑکا اب بڑا ہو چکا تھا اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا۔ پہلی بار جھوٹی قسم۔بھی کھا رہا تھا۔
    اس نے پٹ آنکھیں کھولی تھیں۔
    ہاتھ میں پکڑی سوجو کی بوتل خالی ہو چکی تھی اس نے لحظہ بھر اسکو اونچا کرکے دیکھا پھر پوری قوت سے وہ یونہی زمین پر پٹخ دی تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 57

    قسط 57
    وہ سب کھا پی کر نو بجے کے قریب فلیٹ میں پہنچی تھیں۔ عشنا عزہ اپنی صبح کی تیاری میں لگ گئیں عروج کا کافی پینے کا دل کر رہا تھا بنانے کھڑی ہوئی تو واعظہ فاطمہ نے بھی فرمائش کر دی۔۔ انہیں تو دانت کچکچا کر گھورا مگر الف جو خاموشی سے صوفے پر بیٹھی چینل پر چینل بدل رہی تھی اس سے تمیز سے پاس آکر پوچھا۔
    آنسہ الف آپ کافی پینا پسند فرمائیےگا ؟
    چینل پر چینل بدلتی شکل سے نظر آرہا تھا کہ کہیں اور ہی گئ ہوئی ہےسنا نہیں۔ دوبارہ اسکا بازو ہلاکر تمیز سے دہرایا
    نہیں۔ مختصر جواب۔ وہ کندھے اچکا کر کچن کی طرف بڑھ گئ
    فاطمہ اور واعظہ کارپٹ پر لاش کی طرح ہاتھ پائوں سیدھے کیےپڑی تھیں۔
    میں آج یہیں رک جائوں لڑے تم دونوں ہو اسکا سامنا کرتے مجھے ڈرلگ رہا ہے۔
    زمین سے بمشکل پائوں کے انگوٹھے تک سیدھی ٹانگ اٹھا کر تیس سیکنڈ تک رکتے فاطمہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    واعظہ بھی اسی انداز میں رکی تھی۔ بولی کچھ نہیں۔ فاطمہ نے گہری سانس لیکر پائوں زمین پر واپس رکھا اب دوسری ٹانگ کی باری تھی۔
    ویسے سیہون اتنا غصے کا تیز لگتا نہیں تھا مجھے۔ اور تم بھی۔ سچ میں مجھے لگا تھا تم اسکو گردن سے پکڑ کر پٹخنی دے ڈالو گئ یا وہ تمہیں بالوں سے پکڑ کر۔ ۔
    واعظہ نے دانت پیس کر اسکی جانب گردن موڑی تو وہ کھسیانئ ہو کر زبان دانتوں تلے دبا گئ
    تم دونوں تو ہائی اسکول سےساتھ ہو نا یہ واقعی میری سے اتنئ محبت کرتا ہے۔
    فاطمہ کے تجسس کی کوئی حد نہ تھی۔ ۔ اب بیک لفٹ کی باری تھئ۔ گھٹنے کھڑے کرکے بس کمر کو اوپر ایسے اٹھانا تھا کہ سر گردن زمین پر رہے مگر کندھے کمر کی سیدھ میں ہی اونچے ہو جائیں۔
    تم ویسے اب کیا کبھی بات نہیں کروگئ سیہون سے؟ مطلب اتنے غصے میں دونوں آئے مجھے بات سمجھ نہیں آئی تم دونوں کی کہ فیصلہ کروں کہ غلطی پر کون مگر تیور تم دونوں کے معافی تلافی والے نہیں۔ تم مجھ سے ملنے تو آئوگی نا دیکھو وہ گھر اب میرا بھی۔
    فاطمہ کی کمر ابھی بھی اونچی تھی واعظہ نے بھنا کر ٹھمکا لگایا وہ الٹ کر دوسری طرف گری
    تم اتنی بڑی دماغ کی دہی ہو کہ۔۔ ذرا سا سکون سے سوچنا محال کردیا۔
    واعظہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔ فاطمہ کمر سہلاتی گھورتی مڑی
    کتنی بدتمیز ہو تم ابھی میری کمر میں جھٹکا آجاتا۔
    اور جو میرا دماغ چکرا دیا۔ ذرا سا سکون سے سوچنا چاہ رہی تھئ ایک گمبھیر مسلئے کا حل اور تم نےسیہون سیہون کہہ کہہ کر دماغ کھا لیا میرا۔ ۔۔
    ہاں تو میرے سامنے لڑے ہو دونوں اور مجھے لڑائی کا منبع ہی سمجھ نہیں آیا تو پوچھوں گی ہی نا۔ فاطمہ نے ہاتھ نچا کر کہا۔
    کون کس سے لڑا۔
    عروج کافی کے تین مگ ٹرے میں لیئے یہیں چلی آئی
    یہ اور سیہون۔ فاطمہ کپ اٹھاتے شکایتی انداز میں بولی۔
    ہیں آخر سیہون اور تمہاری لڑائی ہو ہی گئ۔ عروج چہکی۔
    واعظہ شاکی انداز سے دیکھ کر رہ گئ
    قسم سے جب سے یہاں رہ رہی ہوں ان دونوں کی دوستی مثالی سیہون اسکی ہر کڑوی کسیلی بے چاری بیوی کی طرح سہتا آیا ہے اب اس کی بھی لگتا ہے بس ہوگئ۔
    عروج نے ذرا اثر نہ لیا۔ مزاق اڑاتئ آلتی پالتی مار کر انکے پاس بیٹھ گئ۔ کافی کی ٹرے بیچ میں رکھ کر واعظہ کا ردعمل دیکھنا چاہا خلاف توقع اس نے بنا کچھ کہے اپنا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا ۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے فاطمہ کو دیکھا
    سیریس مسلئہ ہے۔ فاطمہ نے سرگوشی کی۔
    کیا ہوا واعظہ؟
    عروج کو بھئ تجسس ہوا۔
    یار سخت الجھن میں ہوں۔ خلاف عادت وہ صاف بتا گئ
    یہ الف کی امی فون کر کرکے کہہ رہی ہیں کہ اسکو منائوں شادی کیلئے اور یہ سیدھے منہ بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔واعظہ نے دائیں جانب صوفے پر نیم دراز الف کو گھورا
    فاطمہ اور عروج اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئیں
    یہ کہیں سے بھی تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ کرے نہ کرے شادی سمجھائیں نا سمجھائیں اسکی امی تم کیوں پریشان ہو۔
    عروج کو غصہ ہی آگیا تھا۔
    میں اس وجہ سے پریشان نہیں ہوں۔ واعظہ نے گھونٹ بھرا۔
    اسکو دیکھو یہ کہیں سے نارمل لگ رہی ہے؟ مسلئہ کیا ہے اسکے ساتھ۔
    اس نے کہا تو بیک وقت تینوں نے پہلی نظر اس پر پھر ٹی وی پر ڈالی۔
    دھڑا دھڑ چینل پر چینل بدل رہے تھے مگر الف کا چہرہ بےتاثر شدید گہری سوچ کا غماز تھا۔
    ایکسول ایسے ہی پاگل ہوتے ہیں۔
    فاطمہ نے اونچی آواز میں کہا۔
    عروج اور واعظہ کا منہ کھلا اب یقینا طبل جنگ بج جانا تھا اور ان دو ہاتھیوں کی لڑائی میں قیمہ عروج اور واعظہ کا بننا تھا۔ بھونچکا ہو کر دونوں نے اپنے اپنے مگ ٹرے میں رکھ کر الف کو دیکھا۔ جو ٹس سے مس تک نہ ہوئی تھی۔
    یار یہ تو واقعی نارمل نہیں لگ رہی۔فاطمہ کو بھی فکر ہوئی
    ایکسول کو کچھ کہنے پر یہ مرنے مارنے پر اتر آتئ تھئ۔
    عروج اور واعظہ نے سکھ کا سانس لیتے واپس اپنے اپنے کپ اٹھائے۔
    مجھے لگتا ہے اسکا جی پی اے صحیح نہیں بن رہا۔ 2 جی پی اے مسلسل لے رہی تھی ایوریج کم ہوگئ ہوگئ۔
    عروج نے خیال ظاہر کیا۔
    تو یہ کونسا ڈاکٹر بن رہی ہے۔ فاطمہ نے مکھی اڑائی
    اسکو نور یاد آرہی ہوگئ۔ نور کے ساتھ بنتئ بھی تو بہت تھی۔
    فاطمہ کا خیال اسکے اپنے خیال میں درست تھا۔
    محبت تو نہیں ہوگئ کسی سے؟
    عروج نے لاپروائئ سےکہا مگر فاطمہ اورواعظہ دونوں چونکیں۔
    سیہون سے؟ اوہ خدایا۔ فاطمہ نے کپ رکھ کر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیئے۔ مگر جب دونوں سکھیاں اسکی اوور ایکٹنگ سے سخت بے زار نظر آئیں۔تو اپنے جامے میں واپس آنا پڑا
    ایویوں سیہون سے محبت ہو جائے گئ۔دو ایک بار انٹرویو لینے سے محبت ہو جاتئ ہے کیا۔ عروج کو یقین نہ آیا۔
    تمہیں تمہارے والے سیہون سے ہو سکتی ہے الف کو ایکسو والے سے نہیں ہوسکتی ۔ عروج نے جتایا
    ہو بھی سکتی ہے۔ تائیونگ سے جنگ کوک سے مجھے نہیں ہوگئ۔ مگر چونکہ وہ دو ہیں تو میں ابھی فیصلہ نہیں کر پارہی کس سے ذیادہ ہوئی ہے محبت۔
    فاطمہ نے اٹھلا اٹھلا کر تان اڑائی
    محبت پل بھر کا معاملہ ہے۔ اگر ساتھ رہنے سے ہوتی تو فاطمہ کو سیہون سے ہوچکی ہوتئ اگر ساتھ کام کرنے ایک دوسرے کی مدد کرنے سے ہوتی تو عروج کو سیونگ رو سے ہوتی۔ واعظہ نے کہا تو دونوں قائل ہو کر اثبات میں سر ہلانے لگیں
    محبت پھر کیسے ہوتی ہے؟
    عروج کا سوال جائز تھا۔ واعظہ کی کافی کے دو گھونٹ رہ گئے تھے تندہی سے مکمل اطمینان سے اپنا مگ خالی کرکے ٹرے میں رکھ کر جونہی نگاہ اٹھائی سٹپٹا گئ۔ دونوں جی جان سے متوجہ تھیں جیسے وہ کوئی فارمولا نکال کر انہیں سمجھانے لگےگی۔
    بتائو نا۔ فاطمہ نے بھئ اصرار کیا
    مجھے کیا پتہ۔ میں کوئی سائنسدان ہوں جو محبت پر ریسرچ کر رہی ہے۔
    اسے غصہ ہی آگیا۔۔ دونوں نے منہ بنا لیا۔
    بول تو ایکسپرٹوں کی طرح رہی تھیں۔ عروج نے کہہ ہی دیا۔ واعظہ گہری سانس بھر کر رہ گئ
    بس چند دن کی بات ہے پھر میں اکیلی رہا کروں گئ
    اس نے خود کو اطمینان دلانا چاہا۔
    کیا کہہ رہی ہو۔ عروج کے کان خراب تھوڑی تھے لڑنے کو تیار ہوئی فاطمہ نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا
    تمہاری فلائٹ کب کی ہے؟ فاطمہ عروج سے پوچھ رہی تھی
    پرسوں۔ یار کل سب سمیٹنا ہے مجھے بہت کام ہیں۔ مجھے۔
    عروج کو نئی فکر سوار ہوئی
    تا تار تارا تارا۔
    چینل بدلتے ذرا سئ آواز اسکے کان میں پڑی تھی۔ واعظہ نے حیرت سے الف کو دیکھا یہ گانا اسکا پسندیدہ ترین تھا۔
    مگر چینل بدلا جا چکا تھا۔
    تو وہ سیہون نہیں ہے۔۔۔
    پھر۔۔ اب واعظہ نے اپنے ذہن کے گھوڑے دوڑانے شروع کیئے تھے تو یقینا وہ کسی منزل پر پہنچ ہی جاتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسی مخصوص ہنگامے کے ساتھ اتری تھی۔عروج نے تو جانا نہیں تھا وہ اسپتال سے استعفی دے چکی تھی سو کمبل منہ تک تانے سوئی پڑی تھی۔ الارم بج رہا تھا۔ عشنا نے منہ بنا کر موبائل ٹٹولا تو اسکا موبائل کا الارم نہیں بج رہا تھا۔ عزہ اسکے برابر میں بے ہوش پڑی تھئ۔ غضب کی نیند تھی اسکی
    اپنے الارم سے پہلے اٹھنے کا درد دل میں ٹیس بن کر اترا تھا۔کان پر تکیہ رکھ کر دوبارہ کروٹ لی۔
    دوبارہ الارم بجا۔ اس نے مڑ کر اپنا موبائل اٹھایا۔ یہ بھی اسکا نہیں تھا۔ اسکے دیکھتے ہی دیکھتے اسکا موبائل بجا۔ جمائئ لیتے وہ اٹھ ہی گئ۔ الف نے کمبل سے منڈی نکال کر اسکو دیکھا۔ اس نے اپنا موبائل چارجنگ پر لگایا سست قدموں سے باتھ روم کی جانب بڑھی ہی تھی کہ الف اٹھتے ہی جست لگا کر باتھ روم میں گھسی تھی باتھ روم کا دروازہ سستی سے کھولتی عشنا نے جتنی بھی گالیاں تھیں دل ہی دل میں دیں۔
    دروازہ منہ پر بند ہوا تھا
    سوری میں لیٹ ہو رہی ہوں تم واعظہ کے واش روم میں چلی جائو۔
    مفت مشورہ اسکی جان جلا گیا۔ پر اس سے بحث سے بہتر یہی سمجھا کہ واعظہ کا واش روم ہی استعمال کرلےالبتہ باہر نکلتے عزہ کا پیر ہلا دیا۔اب یقینا ایک جنگ ہونی تھئ انکئ درمیان۔ خود دوسرے کمرے میں چلی آئی۔ یہاں کمرے میں دونوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں ۔ اطمینان سے فریش ہو کر نکلی تو فاطمہ کا الارم بج رہا تھا وہ پھر اسنوز کرنے لگی تو اس نے قریب آکر ہلا دیا اسے
    دس دس منٹ کے چار وقفے تو لے چکی ہو اب اٹھ جائو۔ ہمارے کمرے تک اس الارم کی آواز آرہی ہے مگر تم دونوں سوئئ پڑی ہو۔
    عشنا کی ڈانٹ پر فاطمہ سڑ سڑ کرتی اٹھ ہی گئ
    واعظہ باتھ روم جانا ہے تو چلی جائو ورنہ میں جا رہی ہوں
    وہ واعظہ کو ہلا کر پہلے بھیجنا چاہ رہی تھی
    تم جائو میں تمہارے بعد جائوں گی۔
    واعظہ نے کمبل اوپر کرتے کروٹ بدل لی
    فاطمہ دانت کچکچاتی اٹھنے ہی لگی۔۔
    میں یہیں ٹھیک تھی۔ اسے رشک آیا ۔۔
    تولیے سے چہرہ تھپتھپا کر خشک کرتی وہ باہر نکل آئی۔ کچن میں آکر چائے کا پانی رکھا ناشتے کی تیاری شروع کردی۔جب تک سب تیار ہو کر باہر آئیں ناشتہ تیا رہو چکا تھا
    پراٹھے آملیٹ توس مٹر قیمہ۔ پرسوں کا بچا ہوا
    اس نے کائونٹر ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا
    تم نے تیا رنہیں ہونا ۔ واعظہ اور فاطمہ آگے پیچھے ہی تیار ہو کر نکلی تھیں۔
    میری پہلی کلاس فری ہے آج دیر سے جائوں گئ۔
    عشنا نے اتنا ہی کہا تھا لال بھبھوکا چہرہ لیئے عزہ کمرے سے نکلی
    مانا میں بہت صلح جو ہوں لڑتی بھڑتی نہیں مگر میری بھی برداشت کی ایک حد ہے۔ کیا میں کرایہ نہیں دیتی ہوں ؟ یہ الف کس خوشی میں مجھ پر رعب جما رہی ہے۔
    پیر پٹختی وہ امی کے پاس شکایت لیکر آئی تھئ
    کیا ہوا؟
    واعظہ نےسبھائو سے پوچھا تو وہ بلبلا کر بولی۔
    دو گھنٹے سے آئینے کے سامنے جمی ہے مجھے بس اسکارف سیٹ کرنا ہے میں نے کہا مجھے دیر ہو رہی ہے تو
    کہنے لگی میں کیا کروں ذیادہ جلدی ہے تو بھاڑ میں جائو۔
    فاطمہ نے بے ساختہ چہرہ نیچے کرکے مسکراہٹ چھپائی۔ انکے جھگڑے پرائمرئ اسکول کے بچوں جیسے تھے تو واعظہ کا ردعمل بھی استانی جی جیسا ہی تھا۔ گہری سانس لیکر بولی
    میرے کمرے میں بھئ ڈریسنگ ٹیبل ہے۔ وہ سر کھجانے لگی۔
    ہاں مگر وہ ماس دن جو کلنڈ رلا کر دکھایا تھا وہ کہاں ہے؟ مجھ سے لڑ رہی ہے کہ میں نے اسکا کلنڈر گما دیا۔ ایک تو وہ کیلنڈر عروج کے ہاسپٹل کا تھا اسکو میں استعمال کر رہی تھی اس نے میری سب کلاسز کا شیڈول برباد کیا نشان لگا لگا کے غصہ مجھے کرنا چاہیئے الٹا مجھ سے لڑ رہی ہے۔ میری سب چیزیں ادھر ادھر کرکے ڈھونڈ رہی ہے۔ اب میں یونی جائوں یا پھیلاوا سمیٹوں۔
    بولتے بولتے عزہ روہانسی ہوچلی تھی۔
    فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کودیکھ کر رہ گئیں۔
    تم جائو میرے کمرے میں تیار ہو میں دیکھتی ہوں۔
    واعظہ ناشتہ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    نہیں تم ناشتہ کرو میں تمہارے کمرے میں تیار ہوتی ہوں۔
    عزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو پارہ جھٹ نیچے آیا تھا۔ اسے کہتی تیاری ہونے چل دی
    واعظہ ویسے تو بس ہمارا ساتھ چند دنوں کا ہی رہ گیا ہے مگر تب تک ان سب سے کہہ دو میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ میں یہ چند دن بھئ سکون سے لڑے جھگڑے بنا گزارنا چاہتی ہوں۔
    الف تن فن کرتی باہر نکلی تھی
    فاطمہ واعظہ اور عشنا نے ایک نظر اس پر ڈال کر دوبارہ ناشتے کی جانب توجہ مبذول کرلی۔ انکا پھسپسا ردعمل اسے مزید غصہ دلا گیا۔ پیر پٹختی دھاڑ سے داخلی دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیپ ٹاپ سامنےمیز پر رکھے کارپٹ پر بیٹھا وہ پتہ نہیں کیا کیا ٹیب کھولے بیٹھا تھا۔ تیوجون اور دلاور اسکے بالکل پیچھے بیٹھے تھے ۔ اس نے کوئی چیز ڈائون لوڈنگ پر لگائی پھر سینٹرل ٹیبل سے سوجو اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔
    آپ نے جس ایجنسی سے کہا تھا انہوں نے خود کیوں نہیں کوڈ توڑا؟
    کیونکہ یہ ال لیگل ہے۔
    تیجون نے اطمینان سے جواب دیا۔
    جون کی نے گھور کر اسے دیکھا۔ دلاور خاموشی سے کسی سوچ میں گم بیٹھے تھے۔کوڈنگ ایرر آیا تھا۔
    اس نے کلک کیا۔ دو تین مرتبہ ایرر آنے کے بعد ریکوری شروع ہوئی تھی۔چند لمحے بعد اسکرین پر ایک فہرست نظر آنے لگی
    یہ لی گروپ کی شپنگ کمپنی کے ملازمین کئ فہرست آگئ ۔
    پینتالیس سو انکے ملازمین ہیں ان میں غیر ملکیوں کی تعداد پندرہ سو کے قریب ہے وہ بھی سب بلو کالر جاب کے ہیں ان میں سے بھی پانچ سو کے قریب جنوبی ایشیا کے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک پروفائل کو کھول کر آپکا مطلوبہ شخص ڈھونڈنا ہوگا۔ کیونکہ جو نام آپ بتا رہے ہیں اس نام کا ایک بھی ملازم نہیں ہے۔
    وہ بتاتے ہوئے کام کر رہا تھا۔
    میں اس کام کیلئے تم جتنے پیسے مانگو گے دوں گا۔
    دلاور اسکی بات کآٹ کر بولے۔ وہ ہونٹ بھینچ گیا۔
    دیکھیں۔ کوریا میں ایسے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آپکے کہنے پر ایسے تمام افراد جو غیر قانونی طور پریا شناخت چھپا کر رہ رہے ہیں ناصرف انکو ڈھونڈنے میں مدد دیتے بلکہ انکو قانونی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ پیسے دینے پر تیار ہیں تو پراپر لیگل وے کا انتخاب کیوں نہیں کرتے۔
    جون کو حیرت ہو رہی تھئ سو پوچھے بغیر نہ رہ سکا
    تم بڑا لیگل وے میں کام کرتے ہو۔ کسی کو بلیک میل کرنا ہو تو آرام سے ہیکنگ کر لیتے ہو ہم کہہ رہے ہیں تو نخرے۔
    تیجون تیز ہو کر بولا
    ہاں تو میں چھوٹی موٹی ہیکنگ کرتا ہوں یوں کسی کمپنی کا ریکارڈ کھولنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ انکے ملازمین کی تفصیلات کوئی غیر متعلقہ شخص ہیک کرکے جاننے کی کوشش کرے تو جانتے ہو اسکی سزا کیا ہے۔
    وہ بھئ ترکی بہ ترکی بولا۔
    جب یہ کام تمہارے بس کا نہ تھا تو پکڑا کیوں؟
    تیجون اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھا
    بن بلائے آفت ناگہانی کی طرح مجھے بلیک میل کرکے
    جون جل بھن ہی گیا۔
    مجھے جلدی ہے ۔ دلاو ربے تابئ سے انکی بحث بڑھنے کے ڈر سے بول اٹھے
    جس پرائیوٹ ڈیٹیکٹیو سے میں نے یہ کام کروانا چاہا تھا اس نے مجھ سے پندرہ دن کا وقت مانگا ہے صرف اس کمپنی کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے اور میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ پندرہ دن انتظار کے بعد مجھے وہ یہ جواب دے کہ میرا مطلوبہ شخص یہاں ملازم نہیں تھا۔ میں چاہتا ہوں تم مجھے یہ۔کنفرم کرکے دو تاکہ میں کہیں اور ڈھونڈوں اب اسے۔

    دلاور کی لمبی چوڑی وضاحت میں انکی بے تابی اور بے چینی مترشح تھی۔
    جون کے لب وا ہوئے ۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے یو ایس بی اٹھائی۔ وہ کوڈ توڑ چکا تھا۔ اب صرف ڈیٹا ڈائونلوڈ کرنا تھا۔
    اس نے ڈائونلوڈ کرکے یو ایس بی میں کاپی پیسٹ کیا۔
    یو ایس بی نکال کر انکی جانب بڑھا تےہوئے کھڑا ہوگیا۔
    کیا یہ ہوگیا؟
    دلاور اور تیجون حیرت سے کہتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    یہ ملازمین کی فہرست ہے ایک دو بھی ہوتے تو میں ڈھونڈ کے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایک ایک پروفائل کھولو اور بندہ ڈھونڈو۔ اور چلتے پھرتے نظر آئو۔۔
    وہ سب مروت بالائے طاق رکھ کر بدتمیزی سے بول رہا تھا۔
    ۔ مجھے اب اپنا کام کرنا ہے آپ لوگ جائیں۔ ۔ اور آج کے بعد ہم اجنبی ہیں دوبارہ میرے گھر کے دروازے پر آکر مجھ سے کسی قسم کی ہیکنگ کا کہاتو۔۔۔
    وہ دھمکی دے رہا تھا دلاور نے آگے بڑھ کر اسکو گلے سے لگا لیا
    شکریہ بہت بہت شکریہ تمہارا۔
    وہ بالکل چپ ہی رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں بس اسٹاپ پر اتری ہی تھیں جب انہیں سامنے سے دلاو راور تیجون آتے نظر آئے۔ واعظہ نے فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور بس اسٹاپ کے شیلٹر کی اوٹ میں ہوگئ۔
    کیا ہوا۔ اسکے ساتھ جیمز بانڈ کی چیلی بنی فاطمہ نے کیریمل کارن سے منہ بھر رکھا تھا جلدی جلدی منہ چلاتے ہوئے نگل کرپوچھا۔
    شی۔۔
    واعظہ نے دلاو رپر کڑی نگاہ رکھی تھی۔وہ چلتے چلتے بس اسٹاپ کے قریب سے گزرے انکی تو نہیں تیجون کی نگاہ پڑی تھی ان پر۔ پہچانتا وہچانتا تو نہیں تھا البتہ گلاس وال میں چھپتی لڑکیوں کو دیکھ کر حیران ضرور ہوا
    انکے قدموں کے ساتھ گردن گھماتے گلاس وال سے انکو چند قدم کے فاصلے سے گزر کر جاتے دیکھ کر فاطمہ نے شانہ ہلایا واعظہ۔
    دیکھ چکے وہ ہمیں۔
    جانتئ ہوں۔ واعظہ کو اپنی حماقت کا احساس ہوا تھا مگرمزید حماقت یہی ہوتی کہ اس حماقت کا عتراف کرلیا جائے جو آپ سے سرزد ہوچکی ہے۔
    دونوں نے فٹ پاتھ کے قریب آکر مخالف سمتیں اختیار کی تھیں۔ واعظہ نے اسکا ہاتھ تھام کر دوڑ لگادی۔۔
    چلو کان سے پکڑیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاتھ چھوڑا فاطمہ نے جزباتی ہوکر اس سے بھی ذیادہ جان لگا کر بھاگنا شروع کیا۔
    چوراہے پر آکر دونوں مخالف سمتوں میں مڑی تھیں۔فاطمہ دلاور کے پیچھے بھاگی اور واعظہ تیجون کے۔۔
    یار پکڑ کر کرنا کیا ہے۔
    دلاور کچھوے کی رفتار سے چل رہے تھے ۔ اس سے قبل وہ بھاگ کر ان سے ہی ٹکرا جاتی بروقت بریک لگا کر واعظہ سے پوچھا۔ مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے حیرت سے مڑ کر دیکھا تو واعظہ بھی ساتھ نہیں تھی۔
    شٹ۔ اس نے اپنےسر پر ہاتھ مارا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکنا چاہا تھا مگر وہ ضرورت سے ذیادہ چوکنا تھا۔ اسکا بازو پکڑ گول گھما کر اپنے سامنے لاکر پٹخنی دی۔
    واعظہ وہیں سڑک پر الٹی پڑی تھی۔ تیجون کے ہاتھوں سے طوطے اڑے تھے
    بیان بیان۔ اس نے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا مگر واعظہ کو اب اٹھانا آسان نہیں تھا۔ فاطمہ بھاگتی ہوئئ آئی تھی۔ آئو دیکھا نا تائو تیجون کو بازو سے پکڑ کر اوندھایا پھر پوچھا۔۔
    تم ٹھیک ہو ؟ یہ کل کا ٹانگ برابر لڑکا جرات کیسے ہوئی اسکی ہاتھ اٹھانے کی۔ توڑ نہ دوں ہاتھ ہی اسکا۔
    آگاشی جانے کس اجنبی زبان میں کیا چلا رہی تھیں اسکو صرف اپنا درد کراہنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ اپنی مادری زبان میں کچھ ^ تعریفیں ^ کرتے ہوئے ان سے اس تشدد کی وجہ پوچھ رہا تھا جس کا جواب فاطمہ نے کیا دینا تھا الٹا گرفت مضبوط کر لی۔ تیجون کی ہائے ہائے بڑھ رہی تھی
    بازو بری طرح مڑا ہوا تھا وہ ہائی اسکول کا دبلا لڑکا بلبلا گیا۔
    واعظہ نے ایک نظر تیجون کے ہوائیاں اڑے چہرے پر ڈالی دوسری فاطمہ کے لال بھبوکا۔
    پھر اپنی کمر پکڑتی اٹھنے کی ناکام۔کوشش کرنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کنوینئیس اسٹور کے باہر تین چار درد کش پیچز خریدے دو تو تیجون کو ہی دینے پڑنے تھے درد کش دوا بھی خریدی۔ تیجون اپنے اور واعظہ کیلیے جوس خرید کر مڑی۔ تیجون سر جھکائے کنوینئیس اسٹور کے ایک کونے میں لگی کرسی میز پر واعظہ کے مقابل بیٹھا من من کر رہا تھا۔
    اس نے چیزیں میز پر رکھ کر واعظہ کا والٹ اسکو تھمایا۔اور خود بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔
    تیجون ایکدم چپ۔ہوا تھا۔
    بولتے رہو اسکا دماغ اتنا کام نہیں کرتا۔
    واعظہ نے ہنگل میں اسے تسلی دی۔ اس نے ذرا گھبرا کر فاطمہ کو دیکھا جو اطمینان سے لیچی کا جوس پی رہی تھی
    بس اتنا سا کام تھا ۔ میں اور آہجوشی کسی غلط نیت سے نہیں گئے تھے۔ بس یو ایس بی لینے گئے تھے اور کوئی غلط کام نہیں کیا۔
    ہاں غیر قانونئ طور پر کسی کمپنی کا ڈیٹا چرانا تو بڑے ثواب کا کام ہے۔
    واعظہ نے جتایا تو وہ کھسیانا سا ہو کر سر کھجانے لگا۔
    ٹھیک ہے جائو۔ واعظہ نے ایک جوس کا پیکٹ اور دوائیں ایک چھوٹے شاپر میں ڈال کر اسے تھمایا۔
    وہ لینے میں متامل ہوا۔ مگر واعظہ نے ابرو اچکا کر گھورا تو شاپر تھام کرجھک کر سلام کرتا الٹے پیروں نکل کھڑا ہوا۔
    مجھے دلاور ایسے نہیں لگتے تھے۔
    اسکو تاسف سے جاتے دیکھ کر فاطمہ نے باقائدہ افسوس سے سر جھٹکا۔
    کیسے۔۔ اپنے ایپل جوس کے گھونٹ بھرتی۔واعظہ سنبھل کر سیدھی ہوئئ۔
    ایسے۔ یوں بچوں کو استعمال کرنا۔ دلاور بھائئ کو زیب نہیں دیتا۔ اپنے بھی تین بچے ہیں انکے۔ اور طوبی ان پر کیا گزرے گئ جب
    فاطمہ کہے جا رہی تھی واعظہ کی آنکھیں پوری کھل سی گئیں
    تم غلط سمجھ رہی ہو ایسی کوئی بات نہیں۔۔
    واعظہ جو سمجھی تھی کہ فاطمہ کیا سمجھی ہے اس سے ڈرکر جھٹ صفائی دینی چاہی
    سب سمجھ آتا یے مجھے مانا ہنگل میں تمہاری طرح ماہر نہیں ہوں ۔ فاطمہ چڑی۔
    کیا سمجھ رہی ہو وہ۔۔ واعظہ نے غلط فہمی دور کرنی چاہی
    یہی نا دلاور بھائی ان ہائی اسکول کے بچوں کو ڈرا دھمکا کے ان سے بھتہ لے رہے۔ شرم آنی چاہییے انکو۔ اور انکی یو ایس بی بھی چھین لی کتنا کمینہ پن ہے نئی خرید لیتے۔۔۔
    دل تو کر رہا ابھی جاکے طوبی جی کو بتائوں۔
    فاطمہ تیز ہو کر ہاتھ نچا کے بولی تو واعظہ جو الرٹ سی ہو بیٹھئ تھئ اطمینان سے سیدھی ہوکر گھونٹ گھونٹ اپنا جوس ختم کرنے لگ گئ
    ویسے یہ ہے جن جتنا ہی ہوگا نا؟ ہے جن کتنا تیز تھا آرام سے چھپکلی مار لیتا تھا ایک یہ بونگا توندل آہجوشی سے بلیک میل ہو رہا ہے۔
    فاطمہ کا غصہ یونہی تھوڑی مشہور تھا۔ اب آرام سے وہ اپنا خون جلا سکتی تھی۔ اسے اسی کام میں لگا چھوڑ کر واعظہ سہولت سے کچھ سوچنے میں مگن ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج نے دروازہ کھولا تھا اورکھولتے ہی دونوں کی کلاس لی۔
    کل جا رہی ہوں میں عشنا عزہ آج خاص میرے لیئے یونیورسٹی سے جلدی آگئیں ۔ ساری پیکنگ میں مدد کی۔ طوبی نے خاص گاجر کا حلوہ بنایا کہ اپنے ساتھ امریکہ لے جائوں نور نے ابھی فون کرکے خدا حافظ کہا ابیہا دلہن بننے جا رہی تھی پارلر سے وییڈیو کال کی مجھے اور تو اور الف سب نوڈ سوئنگز بھلا کر ہمارے ساتھ گپیں مارتی رہی مگر تم دونوں میں ذرا مروت نہیں اب آرہی ہو جب سب سونے لیٹ چکی ہیں۔۔ ایک بس میں احمقوں کی طرح جاگ رہی ہوں یہ دونوں اب آئیں گی اب آئیں گی۔
    گھڑی گیارہ بجا رہی تھئ۔ انکی شکلوں پر بارہ بج رہے تھے مگر عروج نے انکا گھنٹہ بھر دماغ بھئ بجایا۔
    اتنی محبت تم مجھے پہلے جتاتیں تو قسم سے میں تمہارے ساتھ امریکہ کا ٹکٹ کٹا لیتئ۔
    فاطمہ جزباتی ہو کر بولی۔
    واعظہ اور عروج نے تاسف سے دیکھا تو ڈھٹائی سے کندھے اچکادیئے۔
    چلو اب اندر۔ عروج انہیں اندر دھکیل کر دروازے کو ہاتھ مار کر بند کرنے لگی۔دروازہ فٹ میٹ میں اٹک کر بند ہی نہ ہوسکا ذرا سا نیم وا رہ گیا مگر وہ مطمئن ہو کر خراماں خراماں چلتی انکے پیچھے آگئ۔ وہ دونوں سست قدموں سے چلتی آرہی تھیں مگر لائونج کو دیکھ کر پھرتی آگئی۔لائونج میں ہلکی پھلکی پارٹی کے مٹے مٹے نشان تھے۔ منی میز پر گاجر کے حلوے کا ڈونگا رکھا تھا جس میں حلوہ بس شرمندگی سے منہ چھپائے تھوڑا سا پڑا تھا۔ ایل ای ڈی پر شائد کوئی مووی لگی تھی۔ ایک پلیٹ میں مونگ پھلیاں تھیں دوسری میں چھلے ہوئے چھوٹے مالٹے۔ انہوں نے ویجیٹیبل پزا اڑایا تھا جسکی باقیات ایک بڑے سے ڈبے سے جھانک رہی تھیں۔
    فاطمہ نے لپک کر اٹھا یا اس میں دو سلائس تھے۔ اس نے فورا ایک واعظہ کی جانب بڑھا دیا۔ دونوں جانے کب کی بھوکی تھیں۔۔
    زندگی میں کبھی سوچا بھی نہ تھا کبھی ویجیٹیبل پزا بھی مزے لیکر کھائوں گئ۔
    فاطمہ لہرائی۔
    واعظہ کو۔اب یاد آیا یہ ویجیٹیبل پزا ہے۔ مشروم حلق میں اٹک اٹک۔گئے۔
    یہ وقت بھی آنا تھا۔ واعظہ بڑ بڑائئ۔
    ۔عروج کو۔ترس ہی آگیا۔
    چائے کافی کچھ پیئوگی دونوں۔ عروج کے پوچھنے پر دونوں نے نفئ میں سر ہلایا۔
    کب کی فلائیٹ ہے؟ واعظہ نے پوچھا تو وہ بتاتے ہوئے کمرے میں گھس گئ۔
    چار بجے کی۔
    واعظہ نے گھڑی کی۔جانب نگاہ۔کی۔ پانچ گھنٹے گھر سے کم از کم بھی پون گھنٹے پہلے نکلنا چاہیئے۔
    صحیح ناراض ہو رہی تھی۔ فاطمہ بھی گھڑی ہی دیکھ رہی تھی۔
    واعظہ کو پتہ نہ چلا کہ پیزا کہاں گیا۔ سو گاجر کے حلوے کی جانب بڑھ گئ۔ فاطمہ نے بھی تقلید کی۔
    عروج کمرے سے نکلی تو دونوں ڈونگہ صاف کر چکی تھیں۔ اسے ہنسی آگئ۔
    وہ یہ توتم نے امریکہ لےجانا تھانا۔ دونوں شرمندہ ہوگئیں
    نہیں اسی وقت ہی ختم ہونے لگا تھا وہ تو عشنا کو تم دونوں یاد آگئیں۔۔
    اس نے ان دونوں کو گفٹ بیگ لا تھمائے۔
    یہ کیا ہے ؟ واعظہ نے پوچھا مگر وہ کندھے اچکا کر انکےسامنے سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    فاطمہ کیلئے بے حد خوبصورت بریسلٹ تھا۔ واعظہ کیلئے بریسلٹ کے ساتھ ایک بے حد خوبصورت لکڑی کا چھوٹا سا صندوق۔ واعظہ نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کھولا تو اندر ایک چھوٹا سا آئینہ تھا اور بے حد خوبصورت جڑائو لمبی سی ہیئر پن روایتی کورین ثقافت کی نشانی۔
    یہ؟۔ فاطمہ نے تجسس سے اسکے ہاتھ سے لیکر دیکھی۔
    یہ باکس مجھےاسی آنجہانی آہجومہ نے دیا تھا۔ یہ کوئی نادر نایاب باکس ہے جس کی قیمت لاکھوں وون بنتی ہے۔ اسکو جب میں کورین کلچرل میوزیم میں دکھوانے گی تو انہوں نے ہی مجھے کھول کر دیا۔ ورنہ مجھے کھولنا بھی نہیں آرہا تھا۔
    واعظہ نے تو آسانی سے کھول لیا ۔ فاطمہ حیران ہوئی
    واعظہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
    میں بھی یہی دیکھ رہی تھی۔ عروج مسکرا دی۔
    خیر یہ ہزاروں وون کا ہوتا یا لاکھوں کا اس پر میرا کوئی حق نہیں۔ یہ اس آہجومہ کی بیٹی کا ہی حق ہے۔ اور یقینا اس وقت اسے پیسوں کی ضرورت بھی ہے۔ مجھے اگر اندازہ ہوتا کہ یہ اتنی قیمتی چیز ہے تو میں پہلے ہی اس لڑکی کو۔واپس کر دیتی۔ اب مجھے تمہیں ہی زحمت دینی پڑے گی۔ یہ اس لڑکی کو دے دینا۔
    عروج واعظہ کو تاکید کر رہی تھی۔
    یہ تم رکھ لو۔ اگر آہجومہ یہ اپنی بیٹی کو دینا چاہتیں تو کبھی تمہیں نہ دیتیں۔
    واعظہ نے قصدا سرسری سے انداز میں کہا۔
    تو اور کیا۔ اور اگر تمہیں نہیں چاہییے تو میں لے لیتئ ہوں آجکل مجھے ویسے بھی پیسوں کی ضرورت ہے۔ فاطمہ نے جھٹ باکس لیا۔ لیا تو شرارتا تھا مگراسکی دونوں سہیلیوں کے چہرے کے تاثرات اسے شرمندہ ہی کر گئے۔ دونوں اسے دینا نہیں چاہ رہی تھیں۔ اس نے واپس واعظہ کو تھما دیا۔
    تم رکھ لو اسے۔
    واعظہ نے کہا تو عروج سہولت سے انکار کر گئ۔
    ان آہجومہ کا خلوص اپنی جگہ مگر اس پر میرا کوئی حق نہیں۔
    اسکے قطعی سے انداز پر واعظہ چپ کرگئ۔
    ویسے عروج تم سیونگ رو سے رابطہ کرنا ایک بالکل اجنبی ملک میں تمہیں کسی جانے پہچانے کا بہت سہارا ملے گا۔
    فاطمہ کے مشورے پر عروج نے کانوں کو ہاتھ لگائے
    نہ۔بھئ۔ ویسے بھی میرے ابو نے کوئی رشتے کے چچا ڈھونڈ لیئے ہیں امریکہ میں جو خبر گیری کریں گے میری جب تک میں ڈورم میں شفٹ نہیں ہوجاتی۔ ویسے سنا ہے انکا نظام بہت اچھا ہے۔۔
    امریکہ ظاہر ہے امریکہ ہے۔ ویسے تم اتنی پڑھاکو لگتی تو نہیں ہو کہ اسکالر شپ مل۔جائے تمہیں۔ فاطمہ نے جان بوجھ کر چھیڑا۔
    کیوں بھئ ہمیشہ اے پلس لیا ہے مابدولت نے۔ عروج برا مان گئ۔
    عروج اور فاطمہ باتوں میں لگ گئیں تو وہ باکس اٹھا کر کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آس و نراس کی کیفیت میں الجھتے وہ پھر جاپان کی سڑکیں ناپ رہا تھا۔سویٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ سر جھکائے سوچ سوچ کے قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔
    تو میں یہ بازی بھی ہار گیا۔
    اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ آئی تھئ۔ جیب سے موبائل نکالا ریمائنڈر میں تین دن بعد کی تاریخ تھی۔ جب آج تک رابطہ نہ کیا تو اب کیا۔
    اس نے ریمائنڈ رآف کر دیا۔
    میں محبت کر نہیں سکتا تھا کیوں ہوگئ۔
    اس نے سراٹھا کر آسمان کو دیکھنا چاہا۔زمین پر تیز روشنیاں ہو جائیں تو آسمان دکھائی دینا بند ہوجاتاہے۔ وہ بھی کوشش کے باوجود ایک ستارہ تک نہ کھوج سکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک ستارہ تک نہیں آسمان میں ۔ کیا تاریخ ہوگئ۔۔ ؟؟؟
    کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتے اس نے سوچا تھا۔
    باہر فاطمہ عروج وغیرہ زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اندر عزہ اور عشنا مدھم خراٹے لیتے گہری نیند میں گم۔تھیں۔۔
    الف تھک کر وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر فلو رکشن پر بیٹھ گئ۔ کھڑکی سے خنک ہوا آرہی تھی منٹوں میں کمرہ یخ ہو گیا۔ اسے بھی نیند کے جھونکے آہی گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تین بج گئے اٹھو دیر ہو رہی ہے۔
    واعظہ نے چار بجے آکر ان کے اوپر سے کمبل کھینچا۔ ساری لائٹیں لائونج کی کھٹاک کھٹاک جلا دیں
    فاطمہ اور عروج باتیں کرتے منے لائونج میں ہی ایک کمبل میں سکڑ سمٹ کر سوگئ تھیں۔
    مندی مندی آنکھوں سے عروج نے اسے دیکھنا چاہا سر اتنا چکرا رہا تھا کہ شکل سمجھ نہ آئی۔
    کیا ہوا۔
    تین بج رہے ہیں اٹھو ابھی ٹیکسی آنے اور نکلنے میں بھی وقت لگے گا کچھ کھائو گی؟
    واعظہ نے افرا تفریح مچا دی تھی۔ فاطمہ بھی چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی
    کوئی کام رہ گیا ہو تو بتا دو میں مدد کروا دیتی ہوں۔
    فاطمہ کی پرخلوص پیشکش پر اس نے پہلے سر کھجایا پھر بڑی سی جمائی لی۔
    اتنی جلدی تین بج۔۔ عروج سستی سے اٹھی۔ سامنے گھڑی کی۔طرف نگاہ کی تو آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
    گھڑی ڈھائی بجا رہی تھی
    تم تو کہہ رہی تھیں تین بج رہے۔ اس نے دانت کچکچائے
    ہاں تو لیٹ ہونا ہے کیا؟ ابھی اٹھو گی تو تین ساڑھے تین بجے تک نکلو گی۔ اٹھو تیار ہو جائو۔میں چائے بناتئ ہوں
    واعظہ فراخ دلی سے کہتے ہوئے کچن کی طرف بڑھتے ہوئے بولی
    عزہ عشنا آگئیں یونیورسٹی سے؟ عروج سستی سے چپل پہن رہی تھی
    پاگل ہو رات کو وہ یونیورسٹی کیا جھاڑو دینے جاتیں۔
    فاطمہ نے مضحکہ اڑایا۔ تو عروج نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔ پھر جیسے کوئی خیال دماغ میں کوندا ۔ لائونج کے گیلری کی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف بڑھی دھاڑ سے پاٹو پاٹ کھولا۔ سامنے سیول کی اونچی عمارتوں جگمگ ستاروں سی روشنی مگر آسمان سیاہ گھنگھور دور کہیں سے بھونکتے کتے کی آواز نیم تاریک سڑک پر چلتے ہیولے۔ اس نے سردی سے جھر جھری لی۔
    واعظہ کی بچی۔ وہ بازو سکیڑ کر زور سے چلائی
    تم نے مجھے رات کے ڈھائی بجے جگا کر کھڑا کر دیا کس خوشی میں۔
    گیلری کے دروازے پر چلاتی عروج کی آواز سات محلوں تک گئ ہوگئ
    تمہارے امریکہ جانے کی خوشی میں۔ اسکو تو بند کرو۔
    فاطمہ کی گھگھی بندھ رہی تھی جھٹ اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا اور دروازہ بند کیا۔
    خود ہی تو کہا تھا چار بجے کی فلائٹ ہے۔ واعظہ چولہا جلائے حیران پریشان اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی۔
    الو گدھی۔شام چار بجے کی فلائٹ ہے میری۔
    عروج اتنی زور سے چلائی تھئ کہ کھڑکی کے پٹ سے سرٹکائے الف گھبرا کے جو اٹھی تو پٹ ہی سر میں کھٹ سے لگا۔
    کیا ہوا۔ عشنا عزہ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ بیڈ سے اٹھی تھیں۔
    سب خیریت ہو۔ الف بھی گھبرا کر انکے پیچھے بھاگئ۔
    باہر لائونج میں عجیب ہی منظر تھا منے لائونج میں عروج اور واعظہ کے درمیان میراتھن لگی تھی عروج اچک اچک کر واعظہ کی پٹائئ کرنا چاہ رہی تھی فاطمہ واعظہ کو بچانے کی کوشش میں برابر سے پٹے جا رہی تھئ۔مگر ہنسے بھئ جا رہی تھی
    بے ہنگم چیخیں شور ہنسئ۔۔ پاگل پن
    شکر ہے سب خیریت ہے۔
    ان تینوں کی جان میں جان آئی تھی سب معمول کے مطابق مناظر دیکھ کر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور نے گھبرا کر کھڑکی کھولی۔
    کیا ہوا۔ طوبی بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھی
    لگتا ہے کسی نے خود کشی کر لی ہے۔ لڑکیاں شور مچا رہی
    بولتے بولتے دلاور رکے۔
    لڑکیاں شور۔ طوبی دہل کر بستر سے اتری۔ لڑکیاں تو بس سامنے والے گھر میں ہے ہائے اللہ سب خیریت ہو۔
    وہ دوپٹہ ڈھونڈنے میں لگی تھی۔
    تکیئے کنارے صوفے کے پاس صائم کے کاٹ میں۔
    میں دیکھتا ہوں۔ جانے کیسا منظر ہو تمہیں اچانک کوئی شاک نہ لگ جائے۔
    الٹی سیدھی چپل پہن کر وہ صوفے سے تولیہ ہی کندھے پر ڈالتی باہر نکلنے کو تھی۔ کہ دلاور نے نرمی سے اسکو روک دیا۔
    چار دن کی سردمہری ضرورتا بھئ بات چیت نہیں کر رہے تھے اب اچانک اتنا نرم سا انداز وہ خوش ہوتے ہوتے رہ گئ۔ دل سامنے والے فلیٹ میں اٹکا تھا
    ہائے جانے کیا ہوا ہے کبھی ایسے تو نہیں چیخی ہیں۔
    طوبی کے بین وہ ننگے پیر ہی باہر بھاگے۔سامنے والے فلیٹ کا دروازہ نیم وا تھا۔یعنی واقعی خیریت نہیں تھی۔
    انہوں نے پلٹنا چاہا طوبی دروازے میں ٹکی تھی۔
    جائیں نا اندر۔ وہ کوئی ہتھیار لینا چاہتے تھے دونوں ہاتھ پھیلا کر اشارہ بھی کیا کہ کوئی وائپر ہی تھما دو مگر طوبی کو اشارے سمجھ نہیں آتے تھے بس کر سکتی تھی۔اس کےگھورنے اشارہ کرنے پر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ پلٹے۔دھیرے سے قدم اٹھاتے آگے بڑھے۔ اپنے اپر کا ہڈ سر پر چڑھایا کورین جاسوس کا حلیہ بنا کر ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا پھر آنکھیں بند کرکے اندر گھس گئے۔
    اندر تیسری عالمی جنگ شروع تھی۔
    وہ سب ہنس رہی تھیں ایک دوسرے پر تکیئے اچھال رہی تھیں لائونج کئ درگت بنی تھی۔سب اکٹھے جانے کیا بول چیخ رہی تھیں مگر سب خیریت تھی۔ یہاں وہاں تکیوں سے نکلی روئی بکھری پڑی تھی مگر یقینا خیریت تھی۔ انہوں نے خاموشی سے بنا مار کھائے پلٹ جانا چاہا۔۔کیونکہ یقینا انکی پوزیشن اس وقت آکورڈ ترین تھی۔
    اف کتنا گند مچا دیا ہے کون صاف کرے گا اب یہ۔ کہاں ہے وائپر۔
    عزہ چلائی تھی۔
    میں لا رہی ہوں ۔
    ۔ فاطمہ کچن سے وائپر لارہی تھی۔۔
    چوروں کی۔طرح پلٹ کر جاتے اس شخص پر فاطمہ کی نگاہ پڑی تھی۔ ڈھیلے اپر میں یہ کون شخص انکے گھر میں اندر تک گھس آیا تھا۔
    وائپر کا اس سے بہتر استعمال کیا کیا جاسکتا تھا کہ اس چور کا سر پھوڑ دے۔ اس نے آئو دیکھا نا تائو۔وائپر اٹھایا۔۔
    دلاور کے منہ سے ڈکرائے ہوئے جانور جیسی آواز نکلی تھی وہ چکرائے لہرائے آخری منظر جو انکی یاد داشت میں رہا وہ بھونچکا کھڑی فاطمہ اور لپک کر انکی جانب آتی واعظہ کی شکل تھی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 56

    قسط 56
    صبح سورج کی روشنی اسکے چہرے پر پڑنے سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ گلاس ونڈو سے پورا سورج جیسے اسکے کمرے میں جھانک رہا تھا۔اس نے کسمسا کر آنکھیں مسلیں سیدھا ہونا چاہا تو احساس ہوا اس ننھے سے وجود کا جو اسکے پہلو میں بے خبر تھا۔ ذرا سا کروٹ لیکر اس نے دیکھا
    بچپن کی میٹھئ نیند ماں سے لپٹ کر بے خبر سوتا صارم۔ اس نے ممتا سے چور انداز میں اسکی پیشانی پر بکھرے بال سمیٹے اور پیشانی چوم لی۔ ذہن مکمل بیدار ہونا شروع ہوا تو ذرا سنبھل کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ ہاتھ پر لگے کنولے کی جگہ اب بینڈیج لگی تھی مگر پھر بھی درد کی لہر سی اٹھئ ۔ ٹیس سہتے وہ اٹھ کر سیدھی ہو بیٹھی۔ تو خیال آیا یہ اسکا کمرہ تو نہیں تھا پھر۔ اس نے ذہن پر زور دینے کی کوشش کی۔
    اٹھ گئیں۔اب کیسی طبیعت ہے۔ ؟
    دلاور کی آواز پر وہ بری طرح چونکی تھی۔
    وہ اسکے بیڈ کے پیتھیانے اس بڑے سے بنچ نما صوفے پر بیٹھے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ گہری مگر ٹٹولتی نظر سے۔۔
    آپ۔۔یہ میں۔۔ کیسے یہاں۔ اسکے منہ سے بے ربط سے لفظ نکلے تھے
    تمہاری کل طبیعت خراب ہوگئ تھئ عروج عزہ کے ساتھ وہ تمہیں اسپتال لائی تھیں۔
    وہ وہیں بیٹھے بیٹھے جواب دے رہے تھے۔ اسے ان کی نظروں سے کاٹ دینے والا احساس ہو رہا تھا۔۔
    اوہ۔ اسکو یاد آیا۔ کیسے وہ گڈو کو دیکھ کر دیوانہ وار بھاگی تھی۔ اور جانے وہ گڈو ہی تھا یا اسکا وہم ۔ ایکدم کیسے اوجھل سا ہو گیا تھا اورپھر جیسے ہفت اقلیم اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔۔
    بھوک لگی ہے ؟ یا گھر جا کے کھائو گی ۔۔
    سرد سپاٹ سا انداز ۔ اس نے بہت غور سے انکی شکل دیکھی۔
    وہ آپ یہاں ہیں توبچے۔؟ اسے ایکدم پریشانی ہوئئ
    واعظہ کے گھر چھوڑ کر آیا تھا۔ ابھی یہیں ناشتہ کروگی یا گھر جا کے۔ ڈاکٹرز نے اجازت دے دی ہے تمہیں گھر جانے کی
    اجنبی سا سرد لہجہ۔ اسکی ریڑھ کی ہڈی تک انکے لہجے کی سردی اترتی چلی گئ تھی
    گھر چلتے ہیں۔ بچیاں پریشان ہو رہی ہوں گی۔ ۔
    وہ فیصلہ کر کے بیڈ پر۔ٹٹول کر اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی۔
    دلاور اسے دیکھتے رہے پھر صوفے پر تہہ ہوا رکھا اسکا دوپٹہ اٹھا کر اسکے پاس چلے آئے
    ناشتہ کر لیتیں بچیاں ابھی سو ہی رہی ہوں گی۔
    دلاور نے کہا تو وہ ٹٹولتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی
    اچھی بات ہے انکے اٹھنے سے پہلے ہم گھر پہنچ جائیں ورنہ اٹھ کے مزید گھبرا جائیں گی۔ انکےساتھ ہی ناشتہ کریں گے میں صائم کو بھی جگا دیتی ہوں۔
    اس نے ٹٹولتے ہوئے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دلاور کے چہرے پر پھیلی غیر معمولی سنجیدگی ٹھٹکا تو رہی تھی اسے پر اب تو ڈرا بھئ گئ۔
    کیا ہوا۔اسکے منہ سے بے ساختہ پھسلاتھا۔
    کہیں میں سوتے میں گڈو تو نہیں پکارتی رہی ہوں۔
    وہ ڈر سی گئ۔
    وہ میری کل۔ اچانک۔ وہ مجھے چکر سا آگیا تھا پھر مجھے ہوش نہیں رہا۔
    طوبی نے صفائی دینی چاہی۔
    تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات کیوں چھپائی ؟
    دلاور نے سیدھا سیدھا سوال کر لیا۔۔
    طوبی سے جواب نہ بن سکا۔
    وہ اتنا اچانک مجھے ۔۔ سمجھ نہ۔آیا۔ میں نے روکنا چاہا مگر وہ
    کیا؟ دلاور غم و غصے کے مارے چلا اٹھے
    تم اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے کر سکتی ہو۔ ؟
    روکنا؟ تم ہمارے آنے والے بچے کو اس دنیا میں آنے سے روکنا چاہتی ہو کیوں؟
    نن نہیں۔
    طوبی گھبرا سی گئ۔ دلاور سے چھپانے کا ارادہ تو نہ تھا اسکا بس بتانے کا دل نہ چاہا تھا مگر اتنی بڑی غلط فہمی انہیں کیوں۔۔۔
    کیا نہیں ؟ تم مجھ سے پوچھے بنا میرے بچے کی زندگی کا فیصلہ کیسے کر سکتی ہو؟ سوچا بھی کیسے تم نے۔ زندگئ دینے کا وسیلہ بنی ہو تم زندگی چھیننے والی کیسے بن گئیں؟
    اس بچے کی جان لینا چاہتی ہو جو دنیا میں بھی ابھی نہیں آیا تو یہ جو تین جیتے جاگتے بچے ہیں ہمارے ماردوں انکو بھی؟
    سرخ آنکھیں بھینچی بھینچی آواز میں غم و غصے کے مارے وہ چلا بھی نہ پائے تھے۔ غیض و غضب بھاری لہجہ۔
    بارہ سال قبل والے دلاور پوری آب و تاب سے جاگے تھے تو اسکے اندر کی بارہ سال قبل والی طوبی بھی پوری طرح اس پر طاری ہو۔چکی تھی۔۔ جسکے پاس انکے ہر سوال کے جواب میں صرف خوف کانپتی آواز اور آنسو ہی ہوا کرتے تھے۔۔
    وہ وہیں دبک سی۔گئ تھئ۔ آج تک اسے اپنی۔صفائی دینا نہ آیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صارم دلاور کی گود میں اونگھ رہا تھا۔لفٹ کا بٹن دباتے اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دلاور کو دیکھا۔ لفٹ کی مختصر سی جگہ میں بھی اجنبی سی شکل بنائے وہ اسے میلوں کے فاصلے پر دکھائی دے رہے تھے۔ لفٹ رکتے ہی وہ بنا ایک لفظ کہے سیدھاتیز قدم اٹھاتے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھے تھے۔ وہ انکے جتنی پھرتی دکھا نہیں سکتی تھی۔ مگر پھر بھی اسکے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔
    اندر آکر اس نے دروازہ بند کیا اور سیدھا کچن میں چلی آئی۔
    دلاور شائد صارم کو کمرے میں لٹانے چلے گئے تھے۔۔وہ وہیں کچن میں بے دم سی ہوکر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ اسکو لگ رہا تھا ٹانگیں کانپ رہی ہیں اسکی۔
    تبھئ ڈور بیل کی آواز آئی۔ اس سے قبل کے وہ اٹھتی دلاور کمرے سے نکل آئے اسکی۔جانب نگاہ بھی کیئے بنا دروازہ کھولنے لگے۔ عزہ دونوں بچیوں کے ساتھ ناشتے کی ٹرے لیئے کھڑی تھئ
    اسلام و علیکم ۔۔ اس نے سلیقے سے سلام کیا وہ شائد یونورسٹی جانے کیلئے تیار تھی ڈینم عبایا نقاب میں ملبوس۔
    انہوں نے سر کے اشارے سے ہی جواب دیا اور راستہ دینے لگے
    پاپا مما آگئیں؟ ۔ گڑیا باپ کی ٹانگوں سے لپٹ گئ تھی زینت باپ کے سر ہلانے پر ماما ماما پکارتی دوڑتی اندر چلی آئی۔
    عزہ ٹرے اٹھائے اندر ہی چلی آئی انہوں نے ایک۔ طرف ہو۔کر راستہ دیا۔
    گڑیا کو گود میں اٹھا ئے کچن میں آئے تو گڑیا زینت کو ماں سے لپٹا دیکھ کر جھٹ انکی گود سے اتر گئ۔سیدھا دوڑ کر ماں سے جا لپٹی۔۔
    آرام سے مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ٹرے کچن کائونٹر پر رکھتے عزہ نے دونوں کو ٹوکا
    کیا ہوا مما؟ زینت اپنے ننھے ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھامے پوچھ رہی تھی
    مما بخار ہے آپکو؟ گڑیا نے معصومیت سے پوچھا۔
    میں ٹھیک ہوں بیٹا اس نے دونوں کو سینے سے لگا لیا
    شکر ہے آپ مجھے بھی اس وقت بہتر لگ رہی ہیں۔ کل تو بالکل پیلی پھٹک ہو گئی تھیں آپ۔ ڈاکٹرز یہی کہہ رہے تھے کمزوری ہے۔ اب آپ آرام کریں خوب سارا کھائیں پئیں۔
    عزہ آنکے لیئے پراٹھے او رآملیٹ بنا کر لائی تھی۔ٹرے سے پلیٹیں اٹھا کر میز پر لگانے لگی تو زینت بھی اسکی مدد کرانے لگی
    یہ اتنی کیوں زحمت کی صبح صبح اٹھا دیا میری بچیوں نے۔۔ طوبی کو ناشتہ دیکھ کر خالی پیٹ ہونے کا احساس ہوا تھا مگر مروتا کہنا تو چاہیئے تھا
    نہیں یہ تو دونوں ہماری وجہ سے اٹھ گئیں۔صبح اتنی لڑکیوں نے اکٹھے جانا ہو تو نا نا کرتے بھی خوب شور مچتا ہے۔۔ عزہ ہنسی۔۔
    ۔ ان دونوں کو۔تو ناشتہ کرادیا ہے میں نے۔انکے یونیفارم وغیرہ بھی نہیں تھے ورنہ انکو اسکول بھی بھجوا دیتی۔
    عزہ نے کہا تو زینت نے جھٹ منہ بنایا
    کوئی نہیں۔ خود تو عروج آپی کے ڈانٹنے پر اٹھی ہیں۔ ہمیں کیسے اسکول بھجواتئں۔
    اسکے جواب پر۔عزہ نے تنک کر اسکے کان کھینچے
    بہت تیز ہوگئ ہو تم۔۔ وہ ہنستے ہوئے کان چھڑانے لگی۔طوبئ مسکرا کر انکی لڑائی سے محظوظ ہو رہی تھی۔
    مما آپ ناشتہ کرائیں۔
    گود میں چڑھی گڑیا کو خود پر سے ماں کی توجہ ہٹنا گوارا نا ہوا تو دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھام کر اپنی جانب موڑتے ضد کرنے لگی۔ طوبی نے اسکو پیار سے گود میں بٹھاتے ناشتے کی ٹرے اپنی جانب کھسکا لی۔ کمرے کے دروازے پر کھڑے خاموشی سے انہیں تکتے دلاور کو لگا انہیں انکے سوال کا جواب مل گیا ہے۔
    بچے۔ انکے رشتے کی مضبوط کڑی تھے وہ دونوں تو ایک دوسرے کو کھو بھی نہیں سکتے تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس پر سے اتر کر یونیورسٹی تک کا راستہ انکے درمیان مکمل خاموشی سے گزر رہا تھا۔الف اسکے ساتھ چل رہی تھی مگر یوں جیسے بالکل اکیلی آئی ہو۔ عزہ نے گھور کر پہلے اسے پھر عشنا کو جتاتی نظروں سے دیکھا۔
    الف ان دونوں سے بے نیاز بالکل مگن چل رہی تھی۔ چلتے چلتے یونیورسٹی کا گیٹ آیا وہ دونوں مڑ گئیں مگر الف سیدھا چلتی گئ۔ عزہ بھنا کر پلٹ آئی
    نشہ وشہ تو نہیں کرنے لگ گئ ہو؟
    عزہ کے طنزیہ انداز پر اس نے چونک کر گھورا تھا
    مطلب؟ اسکی تیوریاں چڑھ گئی تھیں
    ذرا اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائو۔۔
    عزہ نے طنزیہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر گھورا۔ الف نے طائرانہ نگاہ دوڑائی پھر ذرا سا سٹپٹا گئ۔مگر اس وقت کمزوری دکھانے کا مطلب اپنا خوب مزاق بنوانا تھا
    ناشتہ کیئے بنا آئی ہوں پہلے کنوینئنس اسٹور سے کچھ کھانے کو لیتی جبھی سیدھا جا رہی تھی۔ ہر وقت کی پہرے داری ہے ۔۔
    ناک چڑھا کر بولتی وہ مڑنے لگی۔
    عزہ نے اسکا بازو تھاما
    اول تو کنوینئس اسٹور اس طرف ہے اس طرف نہیں۔دوسرا ہماری یونیورسٹی میں کیفے ٹیریا ہے یاد آیا؟ ۔
    عزہ کے کہنے پر وہ چڑ کر کچھ کہتے کہتے رک گئ۔
    اب کہاں تک وہ اپنی چڑ نکالا کرے دوسروں پر۔ چپکی ہو رہی۔ عزہ بغور اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کو دیکھ رہی تھی
    ایکسرے کر لیا تو اب میں جائوں؟ الف چڑنا نہیں چاہ رہی تھی مگر چڑ گئ
    جائو۔ وہ شرافت سے ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئ۔وہ اسے گھورتی مڑی دو قدم بڑھ کر کچھ سوچ کر پلٹ کر پوچھنے لگی
    تم نے نہیں جانا ؟
    عزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس چندی آنکھوں والی بلا نے اسے پھرکی بنا دیا تھا۔ لی جی کو دیکھنے سے کہیں سے نہیں لگتا تھا اس دبلی سوکھی لڑکی میں جنوں بھوتوں کی طرح سب چٹ کر جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ صبح ناشتہ جانے کر کے آئی تھی یا نہیں مگر دس بجے موصوفہ نے بن اور ملک شیک پیا گیارہ بجے فریش جوس چاہیئے تھا وہ بھی موسمی کا۔ اسکے بعد بارہ بجے انکا سپر ٹائم تھا۔ لو فیٹ بسکٹس ایک مگ کافی کے ساتھ ڈکارنے کے بعد ایک۔بجے سے بھوک بھوک کا شور مچا دیا۔ آج شیڈول کے مطابق جاجامیان یعنی سرخ لوبیئے اور نوڈلز منگوائے گئے تھے۔ کھاتے کھاتے بیچ میں اسے چکن فیٹ یاد آگئے۔ وہ جب تک آئے تب تک بلیک بین نوڈلز کھا چکی تھی۔ اسکی ایک ایک فرمائش بنا ماتھے پر بل ڈالے اس نے پوری کئ تھی۔ اس کے جیسے ہی مناظر کی شوٹنگ شروع ہوئئ وہ چپکے سے باہر نکل آئی۔ اب کم از کم گھنٹے دو گھنٹے تک ہدایت کار نے اسکی جان چھڑائے رکھنئ تھئ اس ای جی آ کو مصروف رکھنا تھا۔
    وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ بس اسٹاپ پر آئی تھی۔ عشنا اسی وقت شائد بس سے اتری تھی اسے دیکھ کر تیز تیز قدم اٹھاتی پاس چلی آئی۔
    کرائے پر مل جائیں گے یا خریدنے پڑیں گے؟ واعظہ نے پوچھا۔ تو وہ گڑبڑا سئ گئ
    یہ تو وہاں جا کے پتہ چلے گا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بتائو ایسی لڑکی دیکھی نہ سنی۔ جہیز کی چیزیں کھول کر بیٹھ گئی۔اب سسرال میں قسمیں بھی کھائو گی نا تو کسی نا کسی نے طعنہ دے دینا کہ استعمال شدہ ٹی وی لے کر آئی ہیں بنو۔۔
    دیسی کمچی کی پہلی قسط سے جو ہیولا بن کر ابیہا کی امی ڈانٹتی آئی تھیں آج حقیقت میں کمر پر ہاتھ رکھے ابیہا پر برس رہی تھیں۔
    مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ شام کو فنکشن ہے تم سب صبح صبح تیار ہو کر کیوں بیٹھ گئ ہو ؟ اوپرسے یہ کوئی فلمیں دیکھنے کا وقت یے جو نئی ایل ای ڈی کا ڈبہ کھلوا لیا؟

    نیلا گھاگھرا چولی جس پر بڑا گوٹے ستاروں بھرا دوپٹہ اوڑھا آئی لائنر موٹا لگ جانے کی وجہ موڈ خراب تھا مگر باقی میک اپ کافی اچھا کیا تھا اسکی سہیلی نے۔ باقی رہی سہی کثر امی پوری کرنے میں لگی تھیں۔ اسکی سہیلیاں اسکے کہنے پر اٹھ تو گئ تھیں مگر سب کے حالات ماڑے ہی تھے۔ جمائیاں لیتی بیڈ کے ارد گرد کارپٹ پر لڑھک رہی تھیں۔ابیہا کی ڈانٹ ڈپٹ پر کپڑے تو بدل لیئے مگر بھوک لگ رہی تھئ اور نیند بھئ آرہی تھی۔
    ابیہا مائکرو ویو بھئ کھلوا لو قسم سے رات کے چاول گرم کرنے کے انتظار میں بیس منٹ تمہارے کچن میں کھڑی رہی تھی مگر بھابی تو اپنے بچوں کی فوج کو ناشتہ کروانے میں ذرا مہلت نہیں دے رہیں کہ مائکرو کر لوں
    روبینہ چاولوں کی پلیٹ ہاتھ میں لیئے ادھر چلی آئی۔
    ہاں وہ پڑا ہے کھول لو ڈبہ۔
    اپنے سر پر پنوں سے دوپٹہ ٹکواتی ابیہا نے فراخ دلی سے کہا۔
    خبر دار۔ جو اب مائکرو ویو کھولا۔ ابیہا کی امی تیر کی طرح مڑیں۔کمرے کے ایک کونے میں پڑے چار پانچ الیکٹرونکس کے ڈبوں میں سے ایک مائکرو ویو کا بھی تھا روبینہ اسکی جانب بڑھی تھی کہ آنٹئ نے ہینڈز اپ کر دیا۔ بے چاری ڈر کر پلیٹ ہی چھوڑنے لگی تھئ بچت ہو گئ
    غضب خدا کا سارا جہیز شام کو جانا ہے یہ ڈبے کھلوائے جا رہی ہے احمق لڑکی۔ اتنا مہنگا ٹی وی ہے وہ بھی کھلوا لیا
    امی نے گویا سر پیٹا
    اوہو امئ گھس تھوڑی جائے گا ٹی وی جمال بھائی شام کو اسے اتار کر ایسے ہی ڈبہ بند کرنا ہے ٹھیک ہے۔
    ابیہا نے امی کی تسلی کرانے کو جمائیاں لیتے ٹی وی کو اسٹینڈ میں لگا کر سیٹ کرتے جمال بھائی کو ہدایت ٹھونکی جوابا انہوں نے مزید منہ پھاڑ کر جمائی لی۔
    لگ گیا۔ اب ویڈیو کال وغیرہ خود سیٹ کر لینا میں چلا۔ خالہ ناشتہ کروادیں نہار منہ اس نے تین چکر لگوائے ہیں میرے بازار کے۔
    ابیہا کی امی سے انہوں نے اتنی دلسوزی سے شکایت کی کہ وہ تڑپ تڑپ گئیں۔
    بس بیٹا اسکا ایسے ہی دماغ خراب ہے اب جانے صبح صبح دلہن بن کر بیٹھنے میں کیا مصلحت ہے محترمہ کی۔کل مایوں میں ذرا دیر بیٹھنا پڑ گیا تھا وہ دہائیاں مچائیں کہ اسکی ساس تک گھبرا گئیں آدھی رسمیں کرکے اٹھ گئیں
    امی کو کل سے غصہ تھا ۔۔ دانت کچکچا کر ڈانٹتی چلی گئئں۔
    جب تیار ہو کر بیٹھنے کا وقت تھا تب سو نخرے ہائے میں تھک گئ امی کمر ٹوٹنے لگی ہے میری ہائے سر میں درد اور اب صبح کے گیارہ بجے دلہن بن کے تیار ہو کے بیٹھ گئ۔ یہ جوڑا شام تک پکا اس نے مسکا کے پرانا کر چھوڑنا ہے۔
    یا خدا امی یہ میرے لیئے ہی بنوایا تھا یا فریم کرکے دیوار میں لٹکانا تھا؟ اپنی مہندی کیلئے اپنا مہندی کا جوڑا پہننا گناہ ہوگیا کیا۔
    ابیہا بھنا گئ۔ بیڈ پر اہتمام سے بیٹھی تھی فوزیہ اسکے کان میں جھمکے ڈال رہی تھی اس سے کان چھڑا کر امی کے پاس آن کھڑی ہوئئ احتجاجا پیر بھی پٹخ لیا۔
    نیلے رنگ میں اسکا رنگ کھل رہا تھا۔ گہری سرخ لپ اسٹک گلابی دہکتے گال پیشانی پر ٹکا جھومر کلائیاں بھر بھر چوڑیاں اسکی تو چھب ہی نرالی تھی اتنا روپ ماشا اللہ امی ڈانٹنا بھول گئیں۔جھٹ بلائیں لے لیں۔
    ما شااللہ میری بیٹی کیسی پیاری لگ رہی ہے اے ثریا مرچیں لائوں باورچی خانے سے ذرا نظر اتاروں
    امی نے اتنئ تیزئ سے پینترا بدلا اور جھٹ پلٹ کر آواز لگا دی۔
    امی۔ ا س نے بھئ ساری جھلاہٹ بہا دی انکے کندھے پرجھول گئ
    افووہ ہٹو۔ پیچھے ایک تو یہ چمٹنے کا جانے کیا شوق ہے تمہیں ۔۔ اب شادی ہونے لگی ہے تمہاری ذرا سبھائوسے تھم کے رہنا سیکھو۔
    لگے ہاتھوں نصیحت بھی ۔
    اف خالہ کھانا کھلوا دو قسم سے رات کو بھی اسکی مایوں میں بھوکا کام کرتا رہا ہوں۔
    سستئ سے سر میں انگلیاں چلاتے جمال بھائئ بھنائے
    ہاں ہاں چلو۔ خالہ نثارہو کر بیٹی کو پرے کرتی بھانجے کے ناشتے کا انتظام کرنے چل دیں۔
    وہ اپنی ناقدری پر دانت پیس کر رہ گئ۔ واپس اپنی جگہ آن بیٹھئ۔فوزیہ جھمکا تھامے بیٹھئ تھی جھٹ آگے ہو کر اسکے کان میں ڈالنے لگی۔
    ہم بھی نظر آئیں گے ابیہا؟
    بیڈ کی پائینتی سے ٹیک لگا کر قالین پر دوزانو بیٹھی اسکی کزن نے جمائی لیتے پوچھا تھا
    جو تم لوگوں کا حلیہ ہے نا نا ہی دکھائو دو تو اچھا ہے۔
    ابییا جلی۔ اسکی کزن کھسیا سی گئ۔ کپڑے تو سب نے زرق برق پہن لیئے تھے حسب توفیق چہرے پر رگڑے بھی لگا لیئے تھے مگر بنا ناشتے صبح صبح مہندی کا فنکشن کیسے چوکس ہو کر منایا جائے یہ انکو سمجھ نہیں آرہی تھئ
    یار بھوک میں کیا تیار ہو کر بیٹھیں۔
    روبینہ بھی آہ بھرتی ٹھنڈے چاولوں کے لقمے لیتی اسکے پاس آن بیٹھی۔
    تبھئ اسکا موبائل بج اٹھا۔
    واعظہ کالنگ
    ابیہا ایکدم چوکنا ہو ئئ۔
    آگئ کال تم سب تیار ہو جائو۔
    اس نے جھٹ پٹ ریموٹ ڈھونڈااسکی پکار پر اسکی سکھی سہیلیاں ڈھیر سارا میک اپ تھوپتے چوکس ہوئیں۔ خوب زرق برق کپڑے پہنے قدرے اتائولی ہوئی وی پچاس انچ اسکرین کی ایل ای ڈی پر نگاہیں گاڑیں۔ابیہا کی مہندی کا فنکشن بس شروع ہوا چاہتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے پہلا جوڑا اٹھایا۔ آتشی گلابی گھاگھرا چولی جسکی چولی بمشکل بالشت بھر کی وہ بھی بیک لیس۔ دوپٹہ خوب لمبا چوڑا آرگنزا کا ۔
    واعظہ نے عشنا کو دیکھا عشنا نے واعظہ کو پھر گڑبڑا کر اس سانولی سلونی سیلز گرل کوٹوکا
    کوئی اور تھوڑا لمبا سا ڈریس دکھائیں۔
    جی یہ تازہ ترین منیش ملہوترا کی کاپی ہے راجستھانی فراک اور چوڑی دار۔
    اس نے نارنجئ گلابی اور جامنی رنگوں کی ایک برسات انکی نگاہوں کے سامنے لہرا دی۔ پروفیشنل انداز ڈھیر سارے ملبوسات انکے سامنے وہ ایک کے بعد ایک ڈھیر کر رہی تھی مگر ان دونوں کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ وہ ایک مشہور بھارتی ملبوسات کی دکان میں آئی تو کچھ روائیتی ملبوسات کی خریداری کرنے تھیں مگر یہاں روایتوں کا بلات کار ہو رہا تھا۔۔
    منیش ملہوترا کون انکی جانے بلا مگر لباس بے حد خوبصورت تھا۔ واعظہ نے فوراہاتھ بڑھایا مگر ہاتھ خلا میں ہی رک گیا۔
    فراک خوب لمبا گھیر دار تھا مگر پیٹ کی جگہ پر مہین ترین کپڑا آر پار بالکل۔ اور فٹنگ اتنئ کہ وہ پانچوں اگلے ایک سال بھوکی پیاسئ رہیں تب جاکے لباس میں گھسنے کے قابل ہو سکیں۔
    اور کوئی۔
    عشنا واعظہ کی کینہ توز نگاہوں سے گھبرا کر بول پڑی۔
    منظر بدلا تھا۔ اس بار وہ پانچوں اس روایتی کوریائی ملبوسات کی دکان میں گھسی تھیں۔ گھویونگ گھوئی گونگ پیلس سے متصل اس دکان میں سے آپ چند گھنٹوں کیلئے اپنا من پسند کوریائی لباس کرائے پر حاصل کرکے پہن کر اس محل میں گوریو کی شہزادی یا شہزادہ بن کے گھومتے پھرتے خوب تصویریں کھنچوانے کے بعد انکو شرافت سے واپس کرکے جا سکتے تھے ۔۔۔
    او ریہ۔
    چندی آنکھوں والی سیلز گرل نے ایک نہایت خوبصورت گلابی بلائوز جس پر فان اور گلابی دیدہ زیب پھول پتیاں نقش تھے ستاروں بھرا فان لمبا سا اسکرٹ روایتئ ہنبق جس کی کڑھائئ جوزن دور کے نجانے کس نابغہ روزگار کا فن پارہ تھا وہ چندی آنکھوں والی سیلز گرل سب کچھ انہیں بتانے پر تلی تھئ مگر انکا ارادہ نہ تھا۔
    گلابئ رنگ۔
    عزہ نے جھپٹا مارا تھا۔
    یہ والا میں پہنوں گی۔ عزہ کو یقین تھا کہ اس سے ابھی یہ جھپٹ کر چھین لیا جائے گا۔
    ارے واہ ایویوں گلابئ میرا پسندیدہ رنگ ہے۔
    یہ میں پہنوں گئ۔
    الف اور گلابی رنگ کی کوئی چیز چھوڑ دے ناممکن۔ مگر اسکی توقع کے بالکل برعکس کسی نے اس لباس کی۔جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا۔ عروج اور فاطمہ نے معنی خیز انداز سے اسکو دیکھا پھر ایک دوسرے کو وہ بے نیاز سی بیٹھی رہی۔
    جلدی جلدی چن لو ابیہا انتظار کر رہی ہوگی۔
    واعظہ نے کہا تو عروج اور فاطمہ جلدی جلدی ہنبق پسند کرنے لگیں
    فاطمہ نے گہرا سرخ بلائوز اٹھایا تو عروج نے مجنٹا ۔۔عشنا کو ہلکا سبز رنگ مختلف سا لگا تھا۔ہلکا آسمانی نیلا اور گہرا نیلا جامنئ کنٹراسٹ پڑا تھا۔
    واعظہ کو گہرا نیلا جامنی والا پسند آیا تو اس نے اٹھا لیا۔ الف کو آسمانی رنگ بالکل پسند نہیں تھا۔
    الف نے باقی رہ جانے والا اٹھایا تو واعظہ نے اپنا ہنبق اسکی جانب بڑھا دیا
    یہ لے لو تم۔
    نہیں ٹھیک ہے میں یہ پہن لوں گی وہ تم نے اتنے شوق سے اٹھایا ہے۔
    الف نے نرمی سے منع کر دیا۔ انکی باتوں سے انجان سیلز گرل ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی
    کوئی اور رنگ ہے آپکے پاس؟
    عروج نے سیلز گرل سے کہہ دیا۔
    دے۔وہ سر ہلا کر مڑی اور اندر سے ہلکا پیلا سنہری کام والا ہنبق اٹھا لائی
    بلا شبہ اتنا دھیما رنگ اس پر اتنی خوبصورت گہرے رنگوں کی کڑھائی یہ اب تک کا سب سے پیارا ہنبق تھا۔
    الف کا بے ساختہ ہاتھ بڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے پیلا رنگ بہت پسند ہےلوگ اکثر میرا مزاق اڑاتے ہیں کہ مجھے بیماروں والا رنگ پسند ہے مگر بچپن سے مجھے پیلا رنگ اچھا لگتا ہے اس رنگ کی خوبی ہے یہ دور سے نمایاں ہوتا ہے اور اسکے ساتھ جو بھئ رنگ ہویہ اس رنگ کو نمایا ں کردیتا ہے۔۔۔
    وہ دونوں ریڈیو شو ختم ہونے کے بعد عادتا اکٹھے ہی عمارت سے نکلے تھے۔ خزاں کی آمد تھی سڑک پیلے پتوں سے بھری تھئ۔ ہم قدم پتوں کی چرمراہٹ ژیہانگ کا سرد ہوا سے مزاج خوشگوار ہو چلا تھا شائد۔
    مجھے پیلے رنگ سے پیلی ٹیکسی ہی یاد آتی بس۔
    الف نے کہا تو چڑانے کو تھا مگر وہ ہنس دیا۔
    پیلی صرف ٹیکسی تو نہیں ہوتی۔ پیلی ٹریفک لائٹ ہوتی ہےتھم جانے کا اشارہ ،پیلی سرسوں ہوتی ہے کبھی سرسوں کا کھیت دیکھا ہے ؟ کتنا خوبصورت لگتا ہے پیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔،
    پیلئ ایمرجنسی سروس والوں کی گاڑی بھی ہوتی ہے۔
    الف نے بات کاٹ کے کہا وہ جان بوجھ کے ستا رہی تھی۔ ژیہانگ سمجھ رہا تھا جبھی اسکا انداز ہنوز تھا۔
    پتہ ہے ہم چینیوں کو بھی پیلا کہا جاتا ہے۔ ہماری رنگت گلابئ کم پیلئ ذیادہ ہوتی ہے۔ ویسے پیلا رنگ برا تو نہیں
    پیلا رنگ قدرت میں دیکھو تو ہر جگہ پیارا لگتا ہے۔ پیلے پھول پیلی دھوپ اور پیلا دوپٹہ۔
    روانی میں بولتے بولتے اسکے منہ سے نکلا وہ فورا زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
    دوپٹہ۔ الف چونکی ۔۔۔ وہ دونوں چلتے ہوئے ذیلی سڑک سے اہم شاہراہ تک آن پہنچے تھے۔ سامنے ٹریفک سگنل تھا جسکی بتی ہری تھی۔ انہیں یہاں انتظار کرنا تھا پیدل چلنے والوں کیلئے اشارے کے کھلنے کا۔
    ایک بار یہاں یہاں سگنل پر کھڑا تھااور اچانک بارش شروع ہوگئی تھی ۔۔۔۔ میں نے چھتری نکال کر اپنے اوپر تانی تب یونہی اچانک میری نگاہوں کے سامنے پیلے رنگ کا دوپٹہ لہرا یا تھا۔۔اس دن مجھے پتہ لگا کہ پیلے رنگ کا تو دوپٹہ بھی خوبصورت لگتاہے۔
    سگنل کھل گیا تھا ژیہانگ یونہی بولتے ہوئے بڑھا مگر چند قدم آگے بڑھ کر احساس ہوا کہ وہ تو اپنی جگہ سے ہلی بھی نہ تھی۔۔۔۔
    اشارہ دوبارہ بند ہونے لگا تھا ژیہانگ اسے پکار رہا تھا مگر۔۔
    پیلا دوپٹہ ۔۔۔۔۔الف نے سرعت سے ہاتھ واپس کھینچا
    نہیں مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگا میں یہ نیلا ہی لوں گی۔ اس نے آسمانئ والا ہنبق ہی اٹھایا اور تیزی سے چینجنگ روم کی جانب بڑھ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
    خالص کوریائئ ہنبک میں ملبوس وہ خالص دیسی دوشیزائیں تھیں۔عروج اور عزہ نے ہنبق کے ساتھ پرانے زمانے کے میچنگ کوریائی نقاب کے طور پر استعمال ہونے والے ریشمی رومال سے چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔ سر پر اسکارف تو انکے اپنے ہی تھے مگر ریشمی بڑے بڑے رومال لیکر انکا فوری اسکارف بنا پہنا تھا جو اتنا جچ رہے تھے جیسے ہنبق کا ہی حصہ ہوں۔ واعظہ فاطمہ الف بھی مکمل کوریائی لباس میں ملبوس تھیں ساتھ ہی واعظہ فاطمہ نے تو کورین روایتی پنیں ٹھنکوا کر جوڑے بھئ بنوائے تھے۔
    خوب اچھئ طرح مطمئن ہونے کے بعد واعظہ نے ابیہا کوکال ملائی تھی۔
    آننیانگ ہاسے او۔
    پچاس انچ کی اسکرین پر جب پانچ دیسی کورین دوشیزائیں نمودار ہو کر جھک کر۔کورنش بجا لائیں تو ابیہا تو ابیہا اسکی سہیلیاں بھئ دنگ رہ گئیں۔
    اسلام و علیکم پاکستان یہ ہے کوریا کا مشہور

    gyeongghuigung palace
    گھویونگ گھوئئ گونگ پیلس۔۔
    ان پانچوں نے کورس میں آواز لگائی تھی۔
    کوریا میں سہ پہر ڈھل رہی تھی مگر گھویونگ گھوئی گونگ پیلس پر خوب روشنی تھئ۔ قدرتی بھی آرائشی بھی۔
    وہ سب اس برآمدے میں کھڑی تھیں جسکے پیچھے بادشاہ کا تخت لگا کرتا تھا اور وہ یہاں سائلوں کی سنوائی کیا کرتا تھا۔
    واعظہ نے پچاس وون کی کتاب خریدی تھی اس محل کی تاریخ کے حوالے سے یہیں سے سو اب یہ ساری تفصیل انکے گوش گزار کرنے کے در پر تھی۔
    اسکو جاپانیوں نے ایک بار اسکول بھی بنا دیا تھا اسکے اسکول بنائے جانے کی وجہ سے اسکی مرمت وغیرہ اتنی نہیں ہوتی تھی اکثر آثار تو جنگوں کی وجہ سے مٹ بھی گئے مگر جب کورین حکومت نے اس محل کو اپنی تحویل میں لیا تو اسکو اصل کے قریب تر بنانے کی پوری کوشش کرکے اسکو سیاحتی مقام کا درجہ دے دیا۔
    یہ وہ تخت ہے جس پر بادشاہ ۔۔۔۔
    واعظہ وی لاگنگ کررہی تھی۔ جب محل کے اندر سے تخت دکھانا چاہا تو تخت کے آگے چار لڑکیاں ہنبق پہنے سیلفیاں لیتی دکھائی دیں تخت دکھائی ہی نہ دیا
    آگے سے تو ہٹیں۔
    مگن دیکھتی روبینہ نے چڑ کر ٹی وی اسکریں کو گھورا۔
    ابیہا نے اپنا موبائل کا رخ اسکی جانب کیا
    یہاں بولو۔
    روبینہ نے بات دہرائی تو واعظہ نے ڈانٹ ڈپٹ کر کوریائی تخت خالی کروایا
    دیکھیں آپ لوگ اس زنجیر سے باہر مت جائیں۔
    انکو تخت پر آزادانہ گھومتے دیکھ کر وہ سیکیورٹی والا آہجوشی منمنایا
    اسکو نہیں پتہ ہم پاکستانی ہیں اور خاص طور پر ایسے تاریخی مقامات پر جا کر تمام اصول توڑ کر تصویریں کھنچوانا ہماری شناختی علامت ہے
    عزہ تخت پر سے نقاب کے اندر سے غرائی
    اہلکار کی اس جانب نگاہ بھی نہ گئ تھی۔ اتنی تمکنت سے خالص کوریائی حلیئے والی لڑکی جس دبنگ انداز سے ٹوک رہی تھی وہ سٹپٹا سا گیا۔
    اترو واپس عزہ کی بچی انہوں نے جرمانہ کردینا ہے فالتو پیسے نہیں میرے پاس
    واعظہ گڑگڑائی تو عزہ شان بے نیازی سے اپنا ہنبق سنبھالتی تخت سے اتر آئی۔
    عبایا پہننے کا یہ فائدہ ہوا تھا ہنبق میں سہج سہج کر چلنا آسان لگ رہا تھا۔ فاطمہ البتہ اپنے ہی ہنبق میں دو مرتبہ الجھ چکی تھی۔
    عجیب ہیں کورین لڑکیاں بھئ کہاں یہ پانچ پانچ تہیں ہنبق کے نام پر پہن کر پھرتی تھیں
    کہاں اب ننگی ٹانگیں لیئے سردی میں گھومتی ہیں۔
    فاطمہ لباس سنبھالتے جھلائئ۔
    ویسے یار یہ ہنبق جانے کس کس نے پہن رکھا ہوگا یہ لوگ دھلواتے ہیں کپڑے؟ ہیں واعظہ۔
    عروج کو۔نئی فکر لاحق ہوئئ
    نہیں۔ عشنا نے جھٹ سر ہلایا
    اتنے فینسی کپڑے دھلتے تو ختم ہو چکے ہوتے
    عزہ نے ٹھٹھا لگایا۔
    ویسے بدبو تو نہیں آرہی ۔ کورینز کے ویسے بھی پسینے والے ہارمون نہیں ہوتے انکے پسینے سے بدبو نہیں آتی جبھی تو یہاں پرفیوم کا رواج نہیں۔۔
    عشنا نے اپنی ساری معلومات جھاڑ دینی چاہی۔۔
    مگر کورین تو یہاں آکر یہ لباس پہن کر نہیں گھومتے ہوں گے یہاں جدھر بھئ دیکھو غیر ملکی ہیں۔
    عروج محل کی سیڑھیاں اترتے باآواز بلند تبصرہ فرما رہی تھئ۔
    ہائے تو یہ ہنبق جانے کس گندے غیر ملکی نے پہنا ہوگا
    آخ۔ مجھے تو گھن آرہی ہے۔
    عزہ نے ریشمی رومال کے اندر سے ناک پکڑ لی
    اوفوہ کیا فضول بحث میں پڑی ہو۔
    الف جھلائی
    ہاں واقعی شکر کرویہ کورین ہیں چینی نہیں ۔ چینیوں کے پاس سے تو اتنئ بری اسمیل آتی ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں چینی ہوتے تھے اتنی۔۔
    فاطمہ نے اپنی پاکستان کی یاد داشت کھنگالنی چاہی الف تپ کر ٹوک گئ
    کوئی نہیں۔ چینیوں کے پاس سے کوئی بو نہیں آتی۔ ایویں نا الزام لگائو۔
    الف کے اتنے غصے سے بولنے پر بجائے چڑنے کے ان سب کی ہنسی نکل گئ
    میرے پاس سے اسمیل آرہی ہے مت لڑو تم لوگ۔
    واعظہ نے انکی بحث ختم کرانی چاہی۔
    یہ بتائو اسکا ذوم آئوٹ کیسے کروں۔۔
    اسکی الگ پریشانی تھئ۔ عروج اور عزہ اسکی مدد کو بڑھیں۔
    کیمرے میں ذوم کا بٹن دبا چکی تھی اب واپس کرنا نہیں آرہا تھا ۔۔ پیچھے دیوار پر چلتی چھپکلی پچاس انچ کی اسکرین پر جلوہ گر تھئ
    کوریا میں اتنئ بڑی چھپکلیاں ہوتی ہیں۔
    فوزیہ ابیہا سے آنکھیں پھیلا کر پوچھ رہی تھی
    یہ چھپکلی چھوٹی ہے ٹی وی بڑا ہے اسلیئے لگ رہی ہے۔
    ابیہا کی بارہ سالہ کزن نے معلومات میں اضافہ کیا
    یہ رہا وہ مقام جہاں بادشاہ ہشتم یہ پتہ نہیں کیا گوپنگم کوئی نام ہے اس کی شادی ہوئی تھی۔
    واعظہ اب احاطہ دکھا رہی تھی۔چار سو لکڑی کی شہتیروں والی چھتوں بڑے بڑے محرابوں والے آنگنوں کے بیچ کھلا میدان جس پر شام کے دھندلکے چھا رہے تھے۔

    یہ پیلس جسے دیکھنا ہے وہ کسی بھی کورین یو ٹیوبر کا وی لاگ دیکھ لے گا۔آج میری مہندی ہے مجھے بور نہ کرو۔
    ابیہا کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا تو چلا اٹھی۔
    وہ سب ایکدم خاموش ہو کر دیکھنے لگیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سدا خوش رہو ابیہا ۔۔
    بڑا سا بینر انہوں نے پیلس کے میدان میں گارڈز کوپکڑوا کر کھڑا کیا ہوا تھا۔
    روز یہاں سرکاری سطح پر ایک تقریب ہوتی تھی جس میں روائتی لباس پہنے خوبصورت دوشیزائیں جنگ کا روائتی رقص پیش کرتی تھیں۔ ان کے پاس ڈھول بھی تھے تاشے بھی۔رقص کرنے کے بعد انکو بھی بلا کر دری پر لا بٹھایا تھا۔ اب انکے ڈھول پر مشہور کے پاپ سانگز وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر گا رہی تھیں۔ ایک دو بار انہوں نے کہہ سن کر صحیح بول بتانے چاہے مگر فاطمہ اور عزہ سننے کو تیار نہ تھیں۔ عروج عشنا اور واعظہ دف بجا رہی تھیں۔ چار پانچ گانے بی ٹی ایس اور ایکسو کے برباد کرنے کے بعد ڈولی سجا کے رکھنا پر آگئی تھیں۔ یہاں سے عشنا واعظہ اور عروج کی گلوکاری کا امتحان شروع ہوا تھا۔
    ٹرائئ پوڈ پر کیمرہ لگا کر موبائل سے اسٹریمنگ کرتے یہ انوکھی محفل کوریا سے کئی سو میل کے فاصلے پر ٹی وی پر براہ راست دیکھتی ابیہا اور سکھیوں نے یہاں گلا پھاڑ پھاڑ کر ڈھول بجا کر اتنا ادھم مچایا تھا جیسے آوازوں سے سب فاصلے سمیٹ لینے کا ارادہ ہو۔
    ان چندی آنکھوں والی لڑکیوں کا انکے شغل میلے کا سمجھ ومجھ خاک پتھر نہیں آرہا تھا مگر ساتھ پورا دے رہی تھیں۔
    اس دن اس پیلس پر آئے سب غیر ملکی سیاح بس اسی میدان میں تصویریں ویڈیو بنانے میں مصروف رہے انتظامیہ کو اجازت دیتے وقت اندازہ نہ تھا کہ ان دیوانی لڑکیوں کا یہ شغل انکے پیلس کی اتنی مشہوری کردے گا کہ اس ایونٹ کی ویڈیوز یو ٹیوب پر ٹرینڈنگ میں جائیں گی اور لوگ جوق در جوق یہاں تفریح کرنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے لڑکیوں گائو ڈھولک بجائو۔
    ابیہا کی امی نے روبینہ کو ٹہوکا دیا جو اسٹیج کے آگے کارپٹ پر سکھیو کے ساتھ بیٹھی ہمت طلب نظروں سے ڈھولک کو دیکھ رہی تھی۔
    شام کے آٹھ بجے تھے لڑکے والے مہندی لیکر آچکے تھے مگر لڑکی والیوں کے ہاتھ سن تھے گلے بند تھے ڈھول سامنے پڑا تھا ہمت جواب دے چکی تھی۔۔ لڑکے والوں کی۔جانب سے آئی لڑکیوں نے ہوٹنگ شروع کردی تھی
    صبح سے ادھم مچایا ہوا تھا اب کیسے منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھئ ہیں تمہاری سہیلیاں۔
    امی نے دانت پیستے دلہن بنی سر جھکائے اسٹیج پر بیٹھی ابیہا کے کان میں سرگوشی کی۔
    جوابا گھونگھٹ سے منحنی سی آواز میں ابیہا بولی
    امی کمر ٹوٹنے لگی ہے کتنی دیر اور بیٹھنا ہے اف سر پھٹنے لگا ہے میرآ امی میں تو تھک گئ۔۔۔۔

    آگے ابیہا کی امی نے ابیہا سے کیا سلوک کیا اب یہ تو اندازہ ہوگیا ہوگا آپکو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔