Blog

  • نسلی تضاد ,nasli tazad


    مختصر افسانہ
    نسلی تضاد 

    تمہیں بہت لمبی بات کرنے کی عادت ہو گئی ہے بچے اتنی تفصیل سے بیزار ہو جاتے ہیں آخر انھیں بیس پچیس سال پرانے قصوں میں کیا دلچسپی ہمارا وقت گزر گیا اب نیے دور کے بچے ہیں ٹی وی انٹرنیٹ کے دور کے اب ہمارے پاس بیٹھ کر کیا بات کریں ہم نے انھیں پال پوس کر جوان کر دیا ہمارا فرض ختم اب وہ با شعور ہو چکے انھیں اب ہما ری انگلی پکڑ کر چلنے کی ضرورت نہیں رہی ہے ۔انھیں موبیل استمعال کرنے پر ٹوکتی رہتی ہو ارے چڑا کر انھیں تم صرف اپنے سے دور کر رہی ہو ؟ سمجھ رہی ہومیری بات کو ؟
    آفاق صاحب نے انگشت شہادت سے ناک کی پھننگ پر آ ٹکنے والے چشمےکو اوپر کیا
    ۔۔۔ بیگم آفاق پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں جی
    ۔۔۔ ابھی کل ہی تو انکاچھوٹا والا بیٹا ماں سے کہہ رہا تھا ابا کبھی کبھی حد ہی کر دیتے ہیں میرا دوست ملنے مجھ سے آیا تھا پکڑ کر بیٹھ گیے پورا ہسٹری کا لیکچر دے ڈالا چالیس سال کالج میں پڑھا کر بھی دل نہیں بھرا ان کا ؟ انکو یاد کروائیں ریٹائر ہو گیے ہیں اب وہ اچھا کہونگی ان سے مگر تم ایسے بد تمیزی سے بات نہ کرو بیچاری اتنا ہی کہہ پا یں ان سے تھوڑی کہہ رہا آپ سے کہہ رہا ہوں سچ میں اتنا شرمندہ ہوا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچارہ فراز جمائی روک رہا تھا مگر ابا جان تھے کہ چپ ہی نہ ہوں ۔۔۔
    آخر آپ سمجھ ہی گیے ۔۔۔جاتے جاتے مڑ کر انہوں نے سوچا تھا
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
  • مختصر افسانہ ……..اکیلی,akeli

    مختصر افسانہ
    ……..اکیلی 


    سونے سے پہلے سارے کھڑکی دروازے بند کیے 
    کمرے میں آئ بتی بجھائی سونے لیٹ گئی 
    اچانک خیال آیا 
    اکیلی ہوں 
    ڈر لگا صبح تک جاگتی رہی
    الارم بجا
    کروٹ بدلی شوہر کو جگایا
    ناشتہ بنانے اٹھ گئی ۔۔۔۔

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

  • ………گھن ghin…..

    مختصر افسانہ 

    ……….گھن

    دے دے الله کے نام پر 

    مٹک کر تالی بجا کر مانگا تھا اس نے۔۔

    معاف کرو

    گھن آ رہی تھی اسے کیسے ہاتھ پکڑ لیا تھا اس خواجہ سرا نے 

    سگنل کھلنے میں بس سیکنڈ باقی تھے
    صاحب ونڈ سکرین صاف کر دوں ؟
    دس بارہ سال کی بچی بوتل میں سرف اور ہاتھ میں وائپر لئے پوچھ رہی تھی اس نے ااثبات میں سر ہلایا
    سگنل کھلا بچی مزدوری لینے آئ
    پچاس کا نوٹ معصوم نظریں پر شوق ہوئیں
    تھامتے تھامتے نوٹ چھوڑ دیا
    گھن آ گئی تھی اسے کیسے ہاتھ پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔

    ……………………….
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل

     میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
  • گیلے ہاتھ ۔۔۔ geelay hath


    گیلے ہاتھ ۔۔۔
    وہ سامنے ہی کھڑا تھا میں عموما کوشش کرتا ہوں بس دور سے ہاتھ ہلا کر کام چلا لوں مگر وہ حاجی صاحب کے ساتھ ہی کھڑا باتیں کر رہا تھا مجھے حاجی صاحب سے کام تھا سو سیدھا چلا آیا اسلام و علیکم حاجی صاحب میں نے گرم جوشی سے ہاتھ بڑ ھایا
    وا علیکم السلام حاجی صاحب ٹھٹکے پھر ہاتھ ملایا اور مسکرا کر احوال پوچھنے لگے میں نے ان سے ہاتھ ملانے کے بعد اسکی جانب بھی بڑھا دیا ہاتھ ۔۔۔
    وہ ہاتھ ملا کر معذرت کرتا آگے بڑھ گیا 
    میں بات کر کے سیدھا باتھ روم کی جانب بڑھا ہاتھ دھوے جلدی جلدی اور اپنی سیٹ کی طرف بھاگا در اصل اسکا تعلق دوسرے فرقے سے ہے وہ جنکو پاکستان میں کافر قرار دیا جا چکا ہے اور میں ہمیشہ اسی لئے ہاتھ ملانے کے بعد ہاتھ دھو لیتا ہوں کیوں کہ میں نمازی ہوں نا
    حیدر یار موبائل کہاں ہے تیرا کب سے ٹرائ کر رہا ہوں اٹھا نہیں رہا نعمان نے پیچھے سے آ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھا میں نے گھبرا کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا
    وہ مجھے یاد آیا باتھروم میں سنک پر بھول آیا میں فورا اٹھا
    باتھروم کے دروازے پر اپنا نام سن کے ٹھٹکا
    تیسری بار آیا ہوں پہلے احمد نے ہاتھ ملایا دھویا اب حیدر آگیا میں نے نظر انداز کر دینا تھا مگر وہ ہاتھ بڑھا چکا تھا
    حاجی صاحب کسی کو بتا رے تھے
    مگر حاجی صاحب احمد تو چلو کافر ہے حیدر تو نہیں
    آپ نے اس سے ہاتھ ملا کر کیوں ہاتھ دھویا ؟ یہ آواز عیسا ائی خاکروب کی تھی
    ارے یہ لوگ بھی کافر ہیں ہاتھ کھول ک نماز پڑھتے سینہ پیٹتے کوئی حرکت ہے مسلمانوں والی ؟
    مجھ سے اس سے زیادہ سنا نہ گیا پلٹ آیا بعد میں جوزف سے منگوا لوں گا موبائل مجھے دکھ ہو رہا تھا میں حاجی صاحب کی بہت عزت کرتا تھا وہ بھی نفیس انسان تھے جوزف کی کافی مدد کیا کرتے تھے عموما اسلام میں اہل کتاب کے حوالے سے ہدایت پر مبنی حدیثیں آیتیں منہ زبانی یاد تھیں اور قرآن کو ماننے والا اہلبیت کا عاشق کافر ہونہہ
    منافق کہیں کے میں غصے میں بھرا واپس اپنی سیٹ پر آیا تو احمد کھڑا میرے ٹیبل کے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کے ہاتھ پونچھ رہا تھا
    وہ میری ٹیبل کا باکس خالی ہو گیا تھا تو اچھا یہ لے ابھی باتھروم میں گیا تھا تو تیرا موبائل پڑا ملا یوں نہ چھو ڑا کر گم جایگا اتنا مہنگا موبائل وہ حسب عادت مسکرا کر کہہ رہا تھا میں با مشکل مسکرا کر شکریہ ادا کر پایا چور نظر سے اس کے گیلے ہاتھ دیکھے اور اپنا ٹشو مےلپٹا موبائل اٹھا کر اسکی ٹشو کی پرت اتارنے لگا ایک تکلیف دہ سوچ نے مجھے گھیر لیا کتنی عجیب بات ہے احمد حیدر کافر ہیں ایک حاجی کی نظر میں جسکا حج مقبول ہے یا نہیں اتنا بھی نہیں جانتا مگر اپنا علم اسے کامل لگتا ہاہاہا
    نجانے ہم جسے کافر سمجھ رہے تھے وہ کافر ہے یا نہیں مگر ہم تینوں منافق ضرور تھے اور جانتے ہیں جہنم میں منافق اور کافر اکٹھے کر دیے جائیں گے وہ بھی سب سے نچلے درجے پر


    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

  • Damad ji urdu afsana

     

     

    ارے ظہیر۔۔ ظہیررکنا ذرا

     

    برسوں بعد ظہیر اسے راہ چلتےنظرآیا تو وہ گاڑی سڑک کنارے لگا کر آواز دے بیٹھا۔ اسکی آواز پر چونک کر سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا مگر خیال بھی نہ گزرا کہ لاکھوں کی چم چم کرتی گاڑی میں بیٹھے کسی کو اسکا خیال آیا ہے۔ اسے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دیکھ کر اس نے گاڑی ایک جانب لگائی اور باہر نکل آیا۔ سورج کی تپش ایکدم بہت بری طرح محسوس ہوئی مگر دوست کو نظر انداز بھی نہ کر سکا گاڑی لاک کرتے ہوئے ذرا سا  بھاگ کے اسکے پاس آیا اور فرط مسرت سے بغلگیر ہوگیا۔

     

    اپنی معاشی الجھنوں میں الجھا ظہیر سر جھکائے راستہ ناپ رہا تھا گڑبڑا سا گیا مگر بچپن کا دوست تھا مل کر اسے ماجد سے ذیادہ ہی خوشی ہوئی

     

    کیسا ہے بھئ تو۔؟کیا حلیہ بنا رکھا ہے تو نے؟ اپنی عمر سے کہیں بڑا لگ رہا ہے۔

     

    ماجد ناک چڑھا کر اس سے الگ ہو کر اب بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا

     

    گھسے ہوئے پتلون قمیض میں آدھا سر سفید چہرے کو راستے کی دھول سے ذیادہ حالات نے دھواں دھواں کر رکھا تھا

     

    ظہیر پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔۔

     

    ٹھیک ہوں یار مجھے کیا ہونا اب بال بچوں والا ہوں عمر بھی ادھیڑ ہو چکی اب دوبارہ جوان تھوڑی ہوں گا۔ہاں تمہاری لگ رہا عمر کو ریورس گئیر لگ گیا ہے ماشااللہ ایکدم جوان لگ رہے ہو۔ ماجد کے برعکس وہ محبت سے پوچھ رہا تھا

     

    ماجد اترا سا گیا۔

     

    سوٹڈ بوٹد وہ گہرے نیلے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس اے سی والی گاڑی سے اتر کر تو آیا ہی تھا گہرے بھورے ڈائی ہوئے بالوں کلین شیو میں غیر ملکی پرفیوم میں رچا بسا وہ چالیس ڈگری میں بھی خوب تروتازہ دکھائی دے رہا تھا۔

     

    ہاں بس تمہاری طرح خود کو چھوڑ نہیں رکھا۔ جم جاتاہوں پارلر جاتا ہوں اچھا کھاتا پیتا ہوں۔ تم تو لگتا جم تو دور۔۔۔ بھابی خیال نہیں رکھتیں کیا؟

     

    اسے بولتے بولتے اسکی قمیض کا گریبان کا بٹن لٹکا نظر آیا تو اسے اتار کر تھماتے ہوئے ٹوک بھی دیا۔ ظہیر شرمندہ سا ہوگیا

     

    ارے نہیں یار۔بہت خیال رکھتی ہے بس آج اسے استری کرتے نظر نہیں آیا ہوگا۔ تم سنائو یہ گاڑی یہ سوٹ کایا پلٹ کیسے؟

     

    ظہیر کو اندازہ تو تھا مگر بات بدلنے کو پوچھنا پڑا۔ماجد کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی

     

    میں نے آمنہ سے شادی کر لی ہے۔ اسکے ابا کی دوہی تو بیٹیاں ہیں چھوٹے داماد کو امریکہ سیٹل کرادیا ہے۔۔ اسی کا کہا تھا تجھےمیری سالی سے شادی کرتا امریکہ میں ڈالروں میں کھیلتا مگر تجھے بچپن کی منگنی کا

     

    خوف لاحق تھا۔۔

     

    وہ جتائے بنا نہ رہ سکا۔ ظہیر کو اسکا انداز اچھا نہ لگا۔

     

    خوف کی کیا بات ہے؟ میرے سگے چچا کی بیٹی ہے میری بیوی نیک اطوار میں برسر روزگار مجھے کیا ضرورت تھی کسی کو سیڑھی بنانے کی۔

     

    اسکی وضاحت میں ماجد کو قطعی دلچسپی نہ تھی جبھی بات کاٹ دی۔

     

    اچھا چھوڑ مجنو۔۔ میں تو یونہی بتا رہا تھا۔میری بھی بچپن کی منگ تھی اسکی بھی کہیں اور شادی ہوگئ میری بھی اس سے ہوتی تو کیا ملنا تھا مجھے؟ آمنہ سے شادی کرکے زندگئ بن گئ کہاں وہ پرچون کی دکان کہاں سیٹھ صاحب نے  مجھے  دو ملوں کا انتظام دے رکھا ہے۔ اور بقیہ کاروبار بھی تقریبا میں نے ہی سنبھال رکھا ہے ۔ تجھے تو پتہ مجھے امریکہ ومریکہ جانے کا شوق نہیں تھا کبھی بھی ۔۔بھئی جب یہیں ترقی کا موقع ہے تو کیا ضرورت گوروں کے دیس جانے کی۔ تو بتا ابھی تک دکان سنبھال رہا ہے ابا کی؟ ہم نے تو اپنی دکان کب کی بیچ دی آجکل ادھر پلازہ میں۔۔ اچھا سن

     

    اسے فخریہ بتاتے بتاتے خیال آیا

     

    تجھے دکان کروادوں ؟ یہیں اسی کارنر والے پلازے میں۔ میرا ہے۔

     

    ارے نہیں۔ ظہیر ہنس پڑا

     

    دکان گھر سے قریب ہے ابھی بچے چھوٹے ہیں گھر کی خبر گیری کرتا رہتا ہوں پھر وہاں سب جاننے والے ہی ہیں۔ پھر ماشا اللہ سے اچھا گزارہ ہو جاتا ہے۔

     

    پھر بھی ترقی کا موقع کون گنواتا؟ ماجد تیز لہجے میں بولا۔

     

    وہ دکان چھوٹے بھائی کے حوالے کر خود اپنا کاروبار الگ شروع کر آگے بڑھ۔ اپنے بیوی بچوں کا سوچ۔۔

     

    نہیں یار اظہر ڈاکٹر بن رہا ماشا اللہ سے چند سال کی ہی بات رہ گئ اسے ڈسٹرب نہیں کرتا میں۔تو سنا بھابی کیسی ہیں بچے کتنے ہیں تیرے؟

     

    ظہیر حسب عادت سہولت سے بات ٹال گیا

     

    ماجد نے سر پر ہاتھ مارا

     

    ابے یار بھول گیا تیری بھابی کے پاس ہی جا رہا ہوں خوشخبری ہے دعا کرنا

     

    ماجد ایکدم سے جلدی میں دکھائی دینے لگا۔

     

    اچھا چلتا ہوں میں۔ آنا کبھی ملنے ذہن بدلے تو بتانا۔یہ میرا کارڈ رکھ لے۔۔

     

    عجلت میں کارڈ تھما کر وہ مصافحہ کرکے خدا حافظ کہتا گاڑی کی جانب لپکاتھا۔

     

    اسکے تیزی سے گاڑی نکال کر لے جانے تک ظہیر اسے ہی دیکھتا رہا تھا۔ گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی تو گہری سانس لیکر کارڈ مروڑ کر یونہی سڑک کنارے پھینک دیا۔

     

    ذہن خدا نہ کرے بدلے کبھی میرا اور میں تیری طرح مفاد پرست اور خود غرض بنوں۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گیا

     

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    بے وقوف آدمی۔ ہمیشہ ایسے ہی فقیر رہے گا۔

     

    گاڑی سبک صاف سڑک پر چلاتے اے سی کی کولنگ تیز کرنے کے باوجود بھی اسکے دماغ کو گرمی چڑھ چکی تھی

     

    بڑی ہمدردی تھی اسے آسیہ سے۔ آسیہ کے ابا سے کیا ملتا مجھے انکے تو بیٹے ہی تین تھے ایک دکان کے حصہ دار۔ 

     

    اسی کی طرح تیز دھوپ میں پیدل مارچ کر رہا ہوتا  یہیں کہیں۔ہونہہ اس نے نفرت سے سر جھٹکا۔

     

    تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔

     

    سسر صاحب تھے۔

     

    اس نے جھٹ کان سے لگایا

     

    بنا سلام دعا جھاڑ پڑی تھی

     

    کہاں غائب ہو؟ آج آمنہ کا آپریشن تھا یاد نہیں کیا تمہیں ؟ کرتے کیا پھرتے ہو تم کتنی بار کہا ہے مجھے میری بیٹی سے عزیز کوئی نہیں۔۔اس وقت وہ یہاں اکیلی کیوں ہے؟ پاس کیوں نہیں تم اسکے۔۔

     

    وہ ۔۔ اسکا گلا خشک ہوا۔

     

    آرہا ہوں دفتر سے نکل آیا ہوں راستے میں ہوں۔

     

    دفتر گئے ہی کیوں؟ کام دھندہ تو کوئی ہے نہیں تمہیں ۔۔۔ تمہیں آمنہ کے ساتھ ہی آنا چاہیئے تھا۔  سیدھا پہنچوں یہاں اور ہاں تھوڑا احساس ذمہ داری پیدا کر لو خود میں۔ کہاں تک ہم اسپون فیڈنگ کریں گے ہم۔نکمے پنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔سدھر جائوچھوڑ دو اب یہ کھلنڈراپن باپ بن گئے ہو اب تم۔

     

    انکی ڈانٹ ڈپٹ جاری تھی مگر خبر اتنی بڑی تھی کہ وہ بے ساختہ خوش ہوگیا۔

     

    کیا واقعی؟ کیا ہوا میر امطلب ۔۔

     

    وہ ہچکچا سا گیا بولتے ہوئے۔

     

    وہ بھی اسکی خوشی محسوس کرکے نرم ہوئے۔

     

    ہاں مبارک ہو تمہیں۔ اللہ نے رحمت بھیجی ہے بلکہ رحمتیں۔جڑواں بیٹیاں ہوئی ہیں۔ تم بھی دو بیٹیوں کے باپ بن گئے ہو میری طرح۔۔۔۔

     

    وہ آگے بھی کچھ کہہ رہے تھے مگر ماجد کا ذہن ایک جگہ اٹک سا گیا تھا

     

    میری طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    داماد جی مختصر اردو افسانہ
     

     

     

     

     
    از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom
     
     
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
  • Takabur kahani…تکبرکی بو کہانی

    تکبر  کی  بو کہانی 
    یا  خدا  یہ  کائنات  کتنی  بدبودار  بنی  ہے ..
    لنڈا  نے  دونوں  ہاتھوں  میں  سر  تھام  لیا  گہری  سانس  لے  کے  خود  کو  ماحول  کے  اثر  سے  آزاد  کرنا  چاہا …
    عجیب  بات  تھی  وہ  کوڑے خانے  کے  نزدیک  کھڑی  تھی  اور  گہری  سانس  لے  رہی  تھی …
    کام  کرتے  خاکروب  نے  اسے اچنبھے  سے دیکھا …
    یہ  تو  وہ  جانتی  تھی  اس  گندگی  کے  ڈھیر سے  جو  مہک  اٹھ  رہی  تھی  وہ …
    یاک  …
    اس  کے  پاس  سے  گزرتی  دو  سیاہ  فام لڑکیوں  نے  بے  اختیار  کراہیت  سے ناک  ف  رومال  رکھا  تھا …
    اف  کس  قدر  بدبو  ہے  یہاں … ایک  بولی …
    دوسری  نے  ٹھنڈی  سانس  بھری …
    کس  چیز  کی  بدبو؟
    کوڑے  خانے  کی  اور  کس  کی …حیرت
    سے  سیاہ  فام  لڑکی  بولی
    اور  مجھے  اس  لڑکی کے  پاس  سے  شدید  بو  آئی  ہے …
    دوسری  نے  مسکرا  کے  کہا …
    یہ  گفت  و  شنید  اتنے فاصلے  سے  نہیں  ہو  رہی  تھی  کے لنڈا  سن  نہ  پاتی حیرت سے  اس  سیاہ  فام  لڑکی  کو  گھورنے  لگی …
    میرے  پاس  سے  بو  آرہی  ہے ؟
    وہ  لڑکی  مسکرا  دی …
    ہاں …
    ساری کائنات  بدبودار  لگ  رہی  ہے  اپنی  بو  محسوس  نہیں  ہو  رہی ؟
    مرے پاس سے بو آرہی ہے؟
    لنڈا کی حیرت کی انتہا نہ رہی
    ہاں
    لڑکی نے قطعیت سے کہا
     تمہارے  پاسس سے بدبو  آرہی  ہے …
    ۔۔۔
    تکبر  کی  بو
    ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
    support us..
    از قلم ہجوم تنہائی
     
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
  • اللہ کا کرم۔۔۔۔۔۔۔Allah ka karam


    اللہ کا کرم ہے بس۔۔
    میں مکان خریدنا چاہ رہا ہوں کئی جگہوں پر گھر دیکھتا پھر رہا ہوں آج ایک گھر مجھے پسند آہی گیا۔۔ کھلا ہوادار بڑے بڑے کمرے سب میں دیوار گیر الماری بنی تھی لائونج میں ایک جانب بڑا سا دیوار گیر شوکیس کچن میں نئ طرز تعمیر کی چمنی کیبنٹس باتھ روموں میں باتھ ٹب تک لگے تھے میں کمرے گن رہا تھا ماشااللہ میرے دو بیٹے دو  بیٹیاں سب اسکول کا لج جانے والے سب کو الگ کمرہ درکار تھا دس مرلے پر چار کمرے نیچے تین اوپر  اور دو کچن ڈرائینگ روم ایک کو اسٹو ر بنا لیں گے ہم میاں بیوی نیچے رہ لیں گے۔۔
    میں نے کھڑے کھڑے سب منصوبہ بندی کرلی
    میرے تاثرات بھانپتے ہوئے  دلاور اس گھر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے لگا۔۔ ایک زمین کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ سے میں نے اس گھر کی تصویر دیکھ کر پسند کیا تھا مگر گھر سچ مچ شاندار تھا اتنے علاقوں میں گھر دیکھ چکا تھا ڈھنگ کا میری ضرورت کے مطابق گھر کروڑ سے آرام سے اوپر مالیت تک تھے سو دل پر جبر کرتے میں نے مہنگے اور پوش علاقوں سے نظر چرا لی۔۔ اب یہ ایک متوسط علاقے میں ایک چوڑئ گلی میں جس میں ارد گرد خوب بڑے بڑے مکان تھے آخری مکان سے دو مکان پہلے کا مکان تھا ۔۔۔ داخلی سڑک کے قریب تھا مارکیٹ بھی دور نہیں تھی غرض مجھے ہر طرح سے پسند اگیا۔۔
    آپ مجھے آخری قیمت بتائیں سب چھوڑیں۔۔
    میں اب سودے بازی کے موڈ میں تھا۔۔
    انصاری صاحب آپ یہاں زمیں کی قیمت سے واقف ہی ہیں گھر بالکل نیا بنا ہے ٹائیلیں بھی میں نے خوب چن کر لگوائی ہیں ایک کروڑ بس۔۔ زیادہ نہیں مانگ رہا مناسب قیمت ہے۔۔
    خالص کاروباری انداز تھا مجھے اسکے انداز سے ہی محسوس ہو گیا تھا۔ مگر میں نے نوے لاکھ تک کا زہن بنا رکھا تھا۔۔
    کافی دیر بحث مباحثے کے بعد میں نے دوستی گانٹھ کر پچانوے لاکھ  پر منا ہی لیا تھا۔۔
    چلیں انصاری صاحب آپکی تھوڑی خاطر مدارت ہو جائے۔۔
    انہوں نے خلوص سے دعوت دی۔۔
    میں فارغ ہی تھا سو ہم قریبی ریستوران آگئے۔۔
    چائے کا آرڈر دے کر ہم اطمینان سے بیٹھ گئے۔۔
    یہ گھر بیچ کر میں نے ڈیفنس میں کوٹھی لینی ہے۔
    ویسے تو میں ابھی اسی علاقے میں رہتا۔ بچوں کی ضد ہے کسی اچھے علاقے منتقل ہو جائیں۔
    میرا ویسے ایک پلاٹ ہے ڈیفنس میں پہلے سے۔اسے بھی بیچ دوں گا۔۔ ۔ دو گھر میں نے اسی علاقے میں اور بنوائے ہیں ایک یہ جو مارکیٹ ہے نا جس سے گزر کر ہم آئے ہیں اس میں یہ آگے کی پوری رو میری ہے۔۔
    بس اللہ کا بہت کرم ہے مجھ پر ۔ وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔۔
    میں متاثر ہوا۔ واہ بھئی ۔۔میں نے جل کر بڑا سا گھونٹ بھر لیا چائے کا۔ سچ مچ دل کے ساتھ زبان بھی جل گئ۔۔
    وہ میرا ہم عمر ہی ہوگا اسکے بچے بھی میرے بچوں جتنے ہونگے میں نے اندازہ لگایا۔۔
    میں خود بچوں کا ستایا ہوا۔ہوں۔۔ میں زور سے ہنسا
    ۔ اچھا بھلا آبائی گھر تھا پرانے شہر میں بکوا دیا۔۔کہیں اور چلیں کسی اچھے علاقے میں پچاس لاکھ بھی پورے نہ ملے اسکے اونچاس لاکھ پچھتر ہزار میں بکا تھا۔۔
    میں نے منہ بنایا۔۔
    وہ پھر ہنسا۔۔
    بس آج کل کے بچے بھی ۔۔۔
    آپاسی کو۔ریکوزیشن کروا لیں نا۔۔
    سرکاری ملازم ہونے کا یہی تو فائدہ۔۔ انہوں نے مفت مشورہ دیا۔۔
     میں نے لاپروائی سے سر ہلایا۔۔
    حالانکہ میرا یہی ارادہ تھا اب آپ سے کیا چھپانا۔۔
    اوپر کی آمدنی میری اچھی خاصی ہے مگر دنیا کو جواب بھی دینا پڑتا اب بندہ کھل کر تو سب کہہ سن نہیں سکتانا۔۔
    یونہی ہلکی پھلکی باتیں کرتے میں نے اس سے بھی  پوچھ لیا
    آپ کیا کرتے ۔۔ ؟
    میں ڈیفنس میں ہو تا ہوں۔۔
    اس نے آرام سے کہا۔۔
    مجھے اچھو ہوا میں نے کپ رکھ کر زور دار قہقہہ لگایا۔۔
    سولہویں گریڈ کا سرکاری افسر اس وقت پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔۔
    واقعی ڈیفنس پر اللہ کا کچھ زیادہ ہی کرم ہے۔۔
    میں کہہ کر اور زور سے ہنستا رہا۔۔ دلاور پہلے حیران ہوا پھر تھوڑا خفگی سے بولا۔۔
    مطلب کیا ہے اس بات کا۔۔
    میں نے بمشکل ہنسی روکی۔۔
    میں کوئی حاجی نہیں اوپر کی کمائی اچھی خاصی میری مگر میں بھی اتنی جائداد بنا نہ سکا اور آپ معمولی ۔۔۔
    مجھے ہنسی کا ایک اور دورہ پڑ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    از قلم ہجوم تنہائی



    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

  • عدت ۔۔۔Iddat

     
    عدت ……..
    امی کام والی اس اتوار کو پھر نہیں آئی بہت چھٹی کرتی ہے آپ نے سر پر چڑھا رکھا ہے اسے 
    لبنیٰ نے خفگی سے اپنے دھونے والے کپڑے لا کر واشنگ مشین کے ساتھ رکھی کپڑوں کی ٹوکری میں ڈالے جو تقریبا ابل رہی تھی ایک ہفتے کے ان دھلے کپڑوں سے 
    امی بھی ابو کے کپڑے اٹھائے ہوئے اسے ابلتی ٹوکری سے دو دو ہاتھ کرنے آئی تھیں 
    بیٹا اسکا شوہر مر گیا ہفتے کو اسلئیے نہیں آئی
    امی نے افسوس سے کہا انھیں بھی آج ہی پڑوسن سے پتہ چلا تھا جہاں انکی کام والی ماسی برتن دھونے جایا کرتی تھی 
    اوہ … لبنیٰ کو تاسف ہوا 
    نشیڑی تھا یہ تو ہونا ہی تھا 
    اس نے تبصرہ کرنا ضروری سمجھا امی خاموشی سے ٹوکری میں الجھی رہیں 
    لبنیٰ کو خیال آیا
    تو کیا وہ اب عدت کے بعد آئیگی؟ ہمیں دوسری ماسی کا انتظام کرنا پڑیگا ؟
    اچھے کپڑے دھو لیتی تھی چو ر  بھی نہیں تھی اب کیا کرینگے ہم؟
    اسے نئی فکر لاحق ہوئی تو بے تابی سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی 
    امی نے ایک نظر دیکھا پھر گہری سانس بھر کر بولیں 
    کونسی عدت چھوٹے چھوٹے بچے ہیں کام نہیں کریگی تو کھائے گی کہاں سے افسوس کیلئے فون کیاتو کہہ رہی تھی اس بار جمرات کو مشین جائوں گی ۔۔۔

     ختم شد۔۔۔۔۔۔

     

    ….

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول#

     

     

     

    visit: hajoometanhai

    Rate us

  • Khawahish belay ka phool URDU ALAMATI KAHANI

     

    خواہش بیلے کا پھول

    ہلکا سا دھکا لگا کر لکڑی کا مضبوط دروازہ کھول کر بیلا نے باغ میں جھانکا

    پھر ادھر ادھر دیکھ کر کسی کے موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتی دبے پاؤں مگر تیز تیز چلتی سیدھا پائیں باغ میں کھلتی مسز رڈلی کے باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس چلی آئی…

    فی الحال باورچی خانے میں مکمل خاموشی تھی

    یعنی خبطی سی آنٹی لنڈا اپنے کسی کمرے میں گھسی صفائی کے نام پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے میں مگن تھیں

    پنجوں کے بل کھڑے ہو کر کھڑکی سے اندر جھانک کر اس نے مزید اطمینان بھی کر لیا تھا

    کھڑکی نو سالہ بیلا کہ قد سے کافی اونچی تھی مگر وہ پنجوں کے بل کھڑے ہو کر اچک اچک کر منزل مقصود تک رسائی حاصل کرلیا کرتی تھی ابھی ابھی کی طرح

    ……………………………………………………

    اپنی خاص دراز کھول کر اپنے تمام سرٹیفکیٹ  اور مختلف بچتوں اور چھوٹی موٹی انشورنس کے ضروری کاغذات نکال کر انھیں پڑھ کر دوبارہ ترتیب  دے کر رکھنے جیسا بے مقصد کام وہ تقریبا روزانہ ہی کیا کرتی تھیں

    ابھی بھی دو گھنٹے اس کام میں ضا ئع کر کے مطمئن سی ہو کر دراز پر تالہ لگا کر اٹھ کھڑی ہویں

    آج تو رڈلی نے فون بھی نہیں کیا

    اپنی مسہری کے کنارے میز پر رکھے فون پر انکی نظر پر تو انھیں یہ سوچ آی

    مسٹر رڈلی نے ایک مہینے قبل انھیں اپنی ترقی اور دوسرے شہر تبادلے کی خبر سنائی

    ترقی کی خوش خبری کے ساتھ تبادلہ انکو کافی اداس بھی کر گیا تھا

    وہ اپنی موجودہ حالت زندگی سے کافی مطمین تھے اور ہرگز دوسرے شہر جا کر تنہا رہنے کو تیار نہیں تھے لنڈا نے سو جتنوں سے انھیں منایا تھا وہ انجینئیر تھے ایک غیر آباد علاقے میں نیے پل کی تعمیر کے سلسلے میں انھیں بھیجا جا رہا تھا وہ چاہ کر بھی لنڈا کو ساتھ  نہیں لے جا سکتے تھے.لنڈا نے انکی غلط فہمی دور نہ کی کہ اگر وہ ساتھ جا بھی سکتی ہوتیں تو کبھی اپنے گھر کا آرام چھوڑ کر کسی پسماندہ علاقے میں جا بسنے کو تیار نہ ہوتیں 

    اسی لئے وہ صاف منع کر کے واپس آئے تھے مگر ٣٠ سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی میں سب سے پہلا اور شدید جھگڑا لنڈا نے ان سے کیا تھا

    تمام عمر اپنی خواہشیں دبانے میں گزری ہے اب عمر کے تیسرے حصے میں اگر آمدنی میں اضافے کی امید غیبی مدد سے بنی ہے تو اسکو ختم کرنا نری بے وقوفی ہے تمہارے ساتھ کے لوگ اپنی چرب زبانی اور ذہانت سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں  جبکہ تم ابھی تک کنویں کے مینڈک بن کر وہیں کھڑے ہو جہاں سے آج سے تیس سال پہلے تھے….

     انہوں نے یہ تمام بے رحمانہ جملے ریڈلی کے منہ پر کہہ دے تھے 

     اتنا کھلا طنز

    مسٹر رڈلی ہکا بکا سے رہ گیے تھے پھر تحمل سے کہنے لگے

    ہم دو جی ہیں بس تم اپنی کنجوسی یا بقول اپنی دانشمندی سے معقول رقم بچا کر درجنوں بانڈ خرید کر یا کہیں سرمایا کاری کر کے معقول رقم ہر مہینے حاصل کر لیتی ہو اس رقم کو خرچ کرو تو تمہاری کوئی آرزو تشنہ نہ رہے مگر تم اسے بچا کر مزید خرچے کم کر کے کوئی نیا بانڈ خرید لیتی ہو اتنی ہاؤس کیوں ہے تمہیں پیسے کی

    کس کے لئے بچا رہی ہو ؟ ہماری تو کوئی اولاد بھی نہیں ہے اسی خرچ سے بچنے کے لئے تم نے مری خواہش کا بھی احترم نہیں کیا اب دیکھ لو

    اس بڑھاپے میں ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں

    ” مجھے کوئی پچھتاوا نہیں

    لنڈا نے بے نیازی سے بات کاٹ دی

    بچے نری حماقت ہوتے پیدا کرو پالو پوسو جوان کرو اور صلے میں اپنی جمع پونجی خرچ کر کے خالی ہاتھ بیٹھو اس سے بہتر ہے خود اپنے اوپر خرچ کر لو اور پھر آجکل کے بچے تو اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں کم از کم ہمیں ایسا کوئی خوف نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور ہمارے گھر سے فائدہ اٹھائے گا ہ ہا ہا ہا

    اپنی تقریر مکمل کر کے وہ حسب عادت طنزیہ ہنسی ہنس دی تھیں

    مسٹر رڈلی نے اب اس پر مزید بحث کرنے کی کوشش نہیں کی انکی اسی در گزر کر دینے کی عادت کی بنا پر وہ ہمیشہ ایک جھگڑا ٹال دیا کرتے

    ابھی بھی وہ تحمل سے انھیں منانے کی کوشش کرنے لگے

    خود سوچو میں وہاں کیسے رہوں گا کون میرے کھانے پینے کا خیال رکھے گا مری صحت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے میں مزید ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاؤں گا پھر تم خود یہاں میرے بغیر اکیلی کیسے رہو گی ؟

    اور لنڈا نے انکی بات کاٹ دی تھی

    ……………………..

    مسٹر رڈلی کو گیے تین ہفتے ہو گئے تھے ان تین ہفتوں میں وہ دو دن چھوڑ کر انھیں کال کرتے تھے . وہ وہاں خوش نہیں تھے وہاں کھانے پینے میں انھیں کافی پریشانی کا سامنا تھا سب سے بڑھ کر وہ لنڈا کو کافی یاد کر رہے تھے تیس سال میں پہلی دفع وہ اتنی دور گیے تھے انکی ہر دوسری بات واپسی سے متعلق ہوتی تھی

    جسے لنڈا پیار سے ٹال دیتی تھیں

    وہ خود بھی کافی اکیلا پن محسوس کر رہی تھیں مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرتی تھیں تاہم مسٹر رڈلی کی بے تابیاں انھیں کافی سرخوشی فراہم کرتی تھیں

    پرسوں بات کرتے ہوئے مسٹر رڈلی کافی تھکے تھکے بیزار سے تھے بول بھی کم رہے تھے شائد خفا ہو گئے تھے جبھی آج دوبارہ فون نہیں کیا لنڈا مسکرا نے لگن پل بننے میں تقریبا سال لگ جانا تھا تین ہفتے بعد گھر واپس آتے تو وہ انھیں منع لیتیں مطمئن سی ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل آئیں

    انکا رخ باورچی خانے کی طرف تھا

    ………………………………………………………………..

    اسکی آنکھوں میں اشتیاق امڈ آیا اسکی نظروں کا محور کھڑکی کے پاس رکھا شیشے کا فلاسک تھا جس میں سے ایک نازک سی سبز بیل بل کھاتی ہوئی کھڑکی کی چوکھٹ سے لپٹ رہی تھی

    یہ چہار موسمی بیل تھی گول گول پانچ پتیوں والے چار رنگ کے پھولوں سے لدی بیل جو دور سے ہی اپنی جانب توجہ کھینچ لیتی تھی

    کہنے کو یہ چار رنگ کی بیل تھی مگر منفرد بات یہ تھی یہ چاروں ہی سرخ کے ہی مختلف روپ تھے

    جسے گہرا سیاہی مائل سرخ .ہلکا سرخ جو قریب قریب سفید ہی لگتا شوخ آتشی سرخ اور ٹھنڈا ٹھنڈا سا بنفشی رنگ ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھاتا تھا

    ان چاروں پھولوں کا ایک چھوٹا سا گچھا بیل کے ہلکے سبز پتوں میں اپنی جھلک دکھایا کرتا تھا بیلا کو یہ بیل بےتحاشا پسند تھییہ بیل ابھی قریبا ڈیڑھ ماہ پہلے مسز رڈلی نے منگوائی تھی یہ سست رو بیل ڈیڑھ مہینے میں بھی بس ایک دو فٹ ہی بڑھ پی تھی ابھی کھڑکی کے ایک پٹ پر لپٹ رہی تھی مسز رڈلی نے دھاگے باندھ باندھ کر اسکو پوری کھڑکی کے گرد ہشیا کھینچ لینے کاموقع فراہم کیا تھا مگر بیل شائد اس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتی تھی بیلا نے تھوڑا سا اچک کر اس گچھے پر ننھ ہاتھ رکھے دوسرا ہاتھ سہارا لینے کو کھڑکی کی منڈیر پر جمایا تھا

    …………………………………………………………..

    باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی حسب معمول انہوں نے ایک بھرپور نظر اپنی بیل ڈالی اور رخ پھر لیا

    یک بیک عجیب سا احساس ہونے پر انہوں نے پالت کر دیکھا تو کھڑکی کے پاس دو ننھے ننھے ہاتھ نظر آئے . اف انکی بیل کی ننھی دشمن وہ غصے میں بھر گئی اس نے ابھی پھولوں کا ایک گچھا توڑ لیا تھا انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پیر پٹختی بیلا کے سر پر جا پہنچی  تھیں

    غصے  سے سرخ آنکھوں اور پھڑ پھڑ اتے ناک کے نتھنوں کے ساتھ غصیلے لہجے میں انہوں نے اسے ڈانٹنا چاہا بیلا انکی شکل دیکھ کر ڈر کر بھاگ اٹھی

    اے لڑکی رکو

    وہ اسکے پیچھے دوڑیں

    بیلا بھاگ کر ان کے پڑوس کے گھر گھس گئی تھی

    …………………..

    ہیلو

    بیلا کے پیچھے غصے میں جاتے انھیں ایک نرم سی آواز سنائی دی انہوں نے پلٹ کر دیکھا

    بیلا کی والدہ بیلا کے چھوٹے بھائی کو پرام میں ڈالے باغ میں ٹہل رہی تھی انھیں دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ مخاطب کیا

    مسز رڈلی کو احساس ہوا وہ بنا دستک دیے کسی کے گھر گھس جانے جیسی نازیبا حرکت کر چکی ہیں

    سو گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے اپنے قدم روک کر وہ بیلا کی مما کے پاس ہی چلی آییں

    مگر انکی تیوری کے بل سیدھے نہ ہو پائے تھے

    ہائے .. سنو ماریا اپنی بیٹی کو سمجھاؤ  وہ مری خواہش بیل برباد کرنا چھوڑ دے کوئی پھول پنپنے نہیں دیتی سب توڑ ڈالے خالی کر کے رکھ دی مری بیل

    وہ خاصا اونچا بولیں

    میں معذرت خواہ ہوں … مسز رڈلی آپ برائے مہربانی بیٹھئے تو سہی…

    ماریا فق چہرے کے ساتھ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے ہوئے انکی بات سن کر باغ کی کرسی انھیں پیش کرنے لگی گہری سانس لے کر لنڈا براجمان ہوئیں تو ماریا نے بھی انکے مقابل نشست سنبھال لی

    جی اب بتائیے… ماریا مسکرائی

    بیلا اندر کمرے کی کھڑکی سے ناک چپکائے سہم کر جھانک رہی تھی

    لنڈا گویا ہوئیں

    میں نے اپنے آبائی گاؤں سے خاص بیل منگوائی ہے خواہش بیلے اس پر چار رنگ کے پھول کھلتے ہیں یہ پھول.زندگی کی چار ادوار کی علامت ہوتے ہیں خوشی، اطمینان ،دکھ، پریشانی 

    ان چاروں کے ملاپ سے نصیب بنتا ہے . جس گھر میں یہ بیل پنپ جاتی ہے وہ گھر خوش نصیبی کی علامت بن جاتا ہے فی زمانہ خوش نصیبی پیسا ہے سو میری اس بیل کو لگانے کی وجہ یہ ہے کہ مرا گھر مالا مال ہو جائے

    اس لئے میں نے خاص کر چوری کر کے یہ بیل لگوائی ہے

    چوری کر کے؟ ماریا اچنبھے کا شکار ہوئی

    ہاں یہ بیل خاص چوری کر کے لگوائی جاتی ہے کیوں کہ آپ کسی کی خوش قسمتی مانگ نہیں سکتے کوئی دیگا بھی نہیں سو میں نے اپنے باورچی خانے کی کھڑکی میں ایک فلاسک میں خاص کھاد ڈال کر لگی ہے اور میری خوش قسمتی کہ اس بیل کو پنپے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ مسٹر رڈلی کی ترقی ہو گئی

    اوہ اچھا لگا سن کر مبارک ہو

    لنڈا سانس لینے کو چپ ہوئیں تو ماریا نے موقع غنیمت جان کر خیر سگالی کے جذبات کے تحت مبارک باد دے ڈالی . لنڈا کے تنے تنے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑے اور کہیں سے کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ بھی انکے لبوں پر آسجی

    شکریہ ماریا خوش رہو مگر مسلہ یہ ہے کہ تمہاری بیٹی کو شاید یہ بیل بہت اچھی لگی ہے وہ اسکے پھول توڑ لیتی ہے جو ایک تو بیل کی خوبصورتی میں کمی کا با عث ہے دوسرا وہ میری خوش قسمتی توڑ کر اپنے گھر لے آتی ہے جو وہ مجھ سے مانگے تو بھی میں نہ دوں اور وہ چرا لیتی ہے

    لنڈا کی بات پر ماریا کے چہرے پر مسکراہٹ در آئ وہ خود بھی تو کسی کی خوش قسمتی چرا کر اپنے گھر کی زینت بنانا چاہ رہی ہیں

    اپنی عمر کے تیسرے حصے میں آ کر میں نے چوری جیسا لعنتی کام کیا ہے سو تم اندازہ لگا سکتی ہو یہ بیل میرے لئے کتنی اہم ہے

    انکی آنکھیں جھلملائیں

    میں بیلا کو سمجھاؤں گی .. ماریا نے اطمنان دلایا وہ بھی مطمئن ہوئیں اور واپسی کی راہ لی ………………………………………………..

    ماریا نے بیلا کو بلا کر ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھایا اور وعدہ بھی لے لیا 

    بیلا آیندہ آپ اس بیل کے پھول نہیں توڑو گی نا 

    بیلا ماں کے نرم رویے پر کھل اٹھی تھی اپنے سنہری پونی ٹیل والے سر کو اثبات میں ہلا کر ماں لیا تھا ساتھ ہی پوچھا 

    مما ابھی جو توڑے  تھے نا وہ راستے میں گر گیے تھے وہ لے آؤں ؟ ان سے تو کھیل سکتی ہوں نا آیندہ نہیں توڑوں گی ؟

    ماریا نے مسکرا کر اسکی پیشانی چوم لی ………

    ……………………………………………………..

    اپنے باورچی خانے میں واپس آ کر سب سے پہلے فریج کا دروازہ کھول کر اپنے لئے ٹھنڈے پانی کی بوتل 

    نکالی تھی غٹا غٹ ایک جام بھر کر پانی کا پی کر انہوں نے پیار بھری نظر وں سے اپنی بیل کو دیکھا 

    شیشے کے خوبصورت بیضوی فلاسک کی تہہ میں خاص سمندری ریت اور کھاد کے امتزاج سے بل کی جڑ کو زمین دی گئی تھی سنہرے دمکتے ذروں پر پانی کی دبیز تہہ جیسے سچ مچ سمندر کو کوزے میں بند کیا ہو 

    انہوں نے احتیاط سے اسے چھوا اور مطمئن ہو کر پلٹ گئیں

    …………………………………………….

    محتاط قدم اٹھاتے ہوئے اس نے باغ کا راستہ طے کیا 

    سنگی راستے کے قریب اسکے ہاتھ سے چھوٹ جانے والا پھولوں کا گچھا پڑا تھا مگر مسلا ہوا جسے کوئی ان پر سے پاؤں رکھ کر گزر گیا ہو 

    بیلا تڑپ کر آگے بڑھی مسلے ہوئے پھول بنفشی اور ہلکے گلابی رنگ کے تھے جبکہ سیاہی مائل سرخ اور آتشیں سرخ پوری آب و تاب سے کھلے ہوئے تھے 

    یقینا یہ انٹی لنڈا ہی بنا دیکھ پیر رکھ کر گزر گیں ہیں 

    اس نے تاسف سے سوچا اور انکو چن کر شاکی نظر انکے گھر پر ڈال کر واپس آگئی 

    شیشے کے گلاس میں پانی بھر کر اپنے کمرے میں لکھنے والی میز پر لا رکھا اب ان پھولوں کو اس نے گلاس میں ڈال دیا تھا 

    شفاف پانی میں تیرتے شوخ رنگوں کے پھول دیکھنے میں کافی بھلے معلوم ہو رہے تھے 

    کتنی ہی 

    دیر وہ ان سے کھیلتی  رہی 

    کسی کام سے بیلا کو پکارتی ماریا اندر آئی تو بلا کو میز پر سر رکھے بچپن کی میٹھی نیند میں گم پایا اس نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا میز پر رکھا برقی چراغ گل کرنے لگی تو گلاس کی سطح پر تیرتے خواہش بیلے کے پھولوں نے اسکی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی 

    کتنے دل کش ہیں یہ 

    اس نے پہلی مرتبہ انکو دیکھا تھا گلاس اٹھا کر انکی خوشبو سانسوں میں بھرنی چاہی تو حیرت کا جھٹکا لگا 

    اتنے خوبصورت نظر آنے والے پھولوں میں معمولی سی بھی خوشبو نہیں تھی 

    …………………………………………………………………………………………

    گلاس میں تیرتے پھولوں کی عمر تمام ہوئی انکے کنارے سیاہ پڑنے لگے انکا وجود پانی میں گھلتا گیا ماریا نے گلاس مانجھ کر دوبارہ باورچی خانے میں رکھ دیا 

    بیلا کا بورڈنگ سکول میں داخلہ ہو گیا تھا 

    ………………………………………………………..

    ایک روشن صبح کا آغاز ہوا تھا سورج کی نرم کرن بھاری پردوں کے بیچ ہلکی سے دراڑ سے رستہ بناتی اسکی پیشانی چومنے آ پہنچیں ایک لطیف سے احساس  نے اسکو بیدار کر ڈالا مسکرا کر انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی 

    صبح بخیر بیلا 

    اس نے خود کو خود ہی دعا دی دیوار گیر گہری سات بجے کا وقت بتا رہی تھی 

    یہ اسکا بیدار ہونے کا ہی وقت تھا آخر کار اسکے تعلیمی سلسلے کا اختتام ہوا تھا گریجویشن کے آخری امتحانات دے کر وہ کل ہی واپس گھر پہنچی تھی اس دفعہ طویل چھٹیاں منتظر تھیں سو اسکا ارادہ خوب سارا سونے اور لطف اٹھانے کا تھا سو وہ امتحانوں اور سفر کی سب تکان مٹانے کو رات کو جلدی سو گئی تھی اب تازہ دم تھی 

    صبح کی تازگی اپنے اندر اتارنے کو وہ مسہری سے اتری اور بالکونی کا دروازہ کھولتی کھلی فضا میں چلی آی

    ایک خوش گوار دھوپ بھرے دن کا آغاز ہوا چاہتا تھا 

    Have you ever experienced such pleasure?

    aww I am enjoying the darkness in eternity 

    peace 

    silence 

    calm 

    no sorrows 

    nor sufferings  and me immortal

    how could I sing an elegy full of agony 

    I am in  a happy mood

    yeah 

    I am giggling 

    ننھی معصوم آوازیں بے مثال کشش رکھتی تھیں اپنے اندر ننھے بچے کورس میں گا رہے تھے 

    وہ بھی انکے ساتھ گنگنانے لگی 

    مسز رڈلی کی وفات کے بعد انکا گھر حکومتی تحویل میں چلا گیا تھا اب ایک خصوصی بچوں کا ادارہ انکے گھر میں کھل چکا تھا مختلف عمروں کے بچے جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار تھے اسمبلی کے اوقات میں دھوپ سینکتے مسز رڈلی کے لان میں نظم پڑھ رہے تھے 

    بچوں کے چہرے مطمئن اور خوش تھے وہ دلچسپی سے انہیں دیکھ رہی تھی 

    تبھی سبک رو ہوا نے تھوڑی تیزی پکڑی اور ایک ناگوار جنگلی پتوں کی بو کا جھونکا سا آیا 

    اس نے ناک سکیڑ کر اس بو کا منبع جاننا چاہا 

    مسز رڈلی کی خواہش بیل بڑھ کر اب جھنڈ کی شکل اختیار کر چکی تھی 

    نہ صرف اس نے مسز رڈلی کے باورچی خانے کی داخلی دیوار پوری ڈھانپ لی تھی بلکہ آہستہ آہستہ دیوار کا سہارا لیتی انکی گھر کے باہر کی طرف لگے پلاسٹک کے اخراجی پائپ کا سہارا لیتی اسکی بالکونی تک آپہنچی تھی 

    اف… اس نے کوفت سسے سوچا 

    ڈھیر سارے چار رنگوں کے پھولوں کے گچھوں سے بھرا جھنڈ دیکھنے جتنا بھی اچھا لگ رہا ہو مگر انکے جنگلی پتوں کی بو حواس مکدر کئے دے رہی تھی 

    اسے نو سالہ بیلا یاد آی جو چار پھول توڑ لینے پر مسز رڈلی کی خفگی کا نشانہ بنی تھی 

    کتنا پاگل تھیں مسز رڈلی اس بیل کے پیچھے اب اگر دیکھتیں اسے پھلتے پھولتے تو شاید خوشی سے مر جاتیں 

    اس  نے ریلنگ پر جھومتی شاخ کو پرے کرتے سوچا 

    یہ انکی خوش قسمتی بیل جب انکی حسب خواہش کھڑکی ڈھانپ گئی تھی تب مسٹر رڈلی کی وفات پا جانے کی  خبر آگئی تھی 

    پل کی جگہ پر کسی حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے کمپنی نے حادثاتی انشورنس کے نام پہ 

    بھری رقم مسز رڈلی کو ادا کی تھی اور مسز رڈلی بقول ماریا کے سارا دن روتی رہتی تھیں 

    یہ بیل تو خاصی منحوس ثابت ہوئی تھی انکے لئے 

    اس نے سوچا 

    اور میں

    بچپن میں  تو دھیان ہی نہیں دیا تھا میں نے کتنی ناگوار بو ہے انکی 

    اف کل ہی مما سے کہہ کر کٹواتی ہوں یہ باڑ

    ……………………………

    ختم شد 

    support us

    از قلم ہجوم تنہائی 

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

    visit :hajoometanhai

    WANT TO READ ABOVE STORY IN ENGLISH? VISIT THE LINK BELOW

     
    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

     
     
     

  • Aks dastaan…عکس داستان


    عکس داستان 

    رات کو حسب عادت میں آیئنے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی 

    سنا ہے رات کو سونے سے پہلے خوب برش پھیرو بالوں میں تو بال خوب گھنے ہو جاتے ہیں 

     میں آیئنے میں خود کو دیکھتے ہوئے چونک اٹھی 

    یہ آیئنے میں اچانک ابھر آنے والا عکس میرا تھا 

    تم …. میں چلائی 

    ہاں میں … میں مسکرائی 

    تم یہاں کیسے؟

    میں غصے سے پوچھنے لگی 

    جیسے تم یہاں …

    میرا اطمینان قابل دید تھا

    تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا 

    مرے لہجے میں بے بسی سی در آی 

    تمہیں بھی یہاں تک نہیں آ جانا چاہیے تھا 

    وہ بھی تو میرا ہی عکس تھا اطمینان سے مجھ پر ہی چوٹ کر رہا تھا 

    میری مجبوری تھی

    میرا لہجہ دھیما پڑا

    مجھے پیچھے چھوڑ آنا خود سے الگ کر کے ذات کے اندھیروں میں بھٹکنے پر مجبور کر کے تم زندگی میں آگے بڑھتی گیں کیوں آخر کیوں ایسی کیا مجبوری تھی تمہیں کہ اپنے آپ سے ناطہ توڑ لیا 

    میرا عکس تڑپ کر مجھ ہی پر چلا نے لگا 

    میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا 

    کہاں کہاں نہیں میں نے تمہیں اپنا آپ یاد دلانا چاہا کہاں کہاں تم نے مجھ سے دامن نہیں چھڑایا

    یہ دنیا تمہیں کیا کچھ کہتی رہی تم نے پلٹ کر اف تک نہ کی میں نے کتنی بار تمہاری ذات کے زنداں میں قید اپنے اس وجود سے پوری طاقت سے چلا چلا کر تمہیں پکارنا چاہا تم نے کان نہ دھرے کس کس موقعے پر میں نے تمہیں یاد دلانا چاہا تم وہ نہیں رہی ہو جو تم تھیں مگر تم نے میری ایک نہ سنی دیکھا آج کہاں پہنچ گئی ہو تم اس دنیا نے تمہیں کہیں کا نہ چھوڑا سارے خواب ساری امنگیں سب خواہشیں دل کے نہاں خانے میں دفن کر کے کیا حاصل کرنا چاہا تھا تم نے؟

    میرا عکس برسوں کی بھڑاس نکال رہا تھا آج عمر کے آخری حصے میں آ کر مجھے احساس ہوا ہے میں اپنے عکس کو جھٹلا نہیں سکتی خاموش بھی کرانے کی ہمت نہیں رہی ہے اب مجھ میں 

    میں سر جھکایے بس اسے خود سے لڑتے دیکھے جا رہی تھی 

    اب ایسے سر جھکایے کیا کھڑی ہو ؟

    میرے عکس کو مجھ پر ہی ترس آ گیا تھا 

    گزر گئی ایک عمر  رائیگاں…

    اب اس زندگی سے اور کوئی توقع مت لگا بیٹھنا 

    اس نے تنبیہہ کی میں ہنس پڑی 

    درد سے اٹی کھسیائی سی  جھریوں سے بھرے گالوں پر ہنسی کی دبیز گہری لکیروں میں جانے میری ہنسی نے میرے عکس کو کیسا خوفناک منظر دکھایا تھا کہ تاسف سے مجھے دیکھتا دھندلا گیا

    میں ہنستی ہنستی اپنی مسہری پر آ ٹکی 

    اب کیا توقع رکھنی ہے مجھے اب تو توقعات کا بھی آخری وقت چل رہا 

    ……………………….. 

    میری دادی بہت با صلاحیت خاتون تھیں 

    اپنے زمانے میں کی مشہور پینٹر تھیں جب شادی ہوئی انکی اس وقت انہیں فرانس کے ایک آرٹ سکول سے اسکا

    لر شپ کی آفر آی تھی مگر دادی کے ابا نے انھیں جانے نہیں دیا شادی کردی  میرا ددھیال قدامت پسند تھا انھیں انکا پینٹنگ کرنا گوارا نہ رہا دادی نے ایک بار پینٹنگ بنی دادا نے بیچ صحن میں لا کر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی بس اس کے بعد دادی نے دوبارہ پینٹنگ کا نام نہیں لیا 

    انیلہ  آرٹ کولج میں بیٹھی اپنی پینٹنگ مکمل کرتے ہوئے اپنی سہیلی سبین  کو بتا رہی تھی سہیلی کو بھی کافی افسوس ہوا 

    بیچاری دادا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا 

    اس نے کہا تو انیلا بھی افسوس سے سر ہلا نے لگی

    پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی پینٹ کے رنگوں کی پلیٹ ایک طرف رکھ کر اپنا بستہ کھول کر کچھ نکال لیا اب 

      اسکے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا وہ بہت دزدیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی یوں لگتا ابھی رو پڑے گی 

    سبین نے تاسف سے دیکھا وہ اپنی دادی سے بہت پیار کرتی تھی انکے بعد انکی کمی بھی سب سے زیادہ اسے محسوس ہوئی تھی وہ اٹھ کر انیلہ کے پاس آگئی اور تسلی دینے والے انداز میں اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا 

    انیلہ کا دل بوجھل ہو چلا تھا 

    لیکن یہ کیا ہے ؟

    سبین کی توجہ اسکے ہاتھ پر گئی تو پوچھ بیٹھی 

    یہ دادی کے آخری وقت میں انکے ہاتھ میں تھاڑانہوں نے مٹھی بھینچ لی تھی تو یہ کاغز مڑ تڑ گیا 

    انیلہ اداس سی ہو کر اس کو سیدھا کرنے لگی 

    اس میں ہے کیا ؟

    سبین کو تجسس ہوا 

    انیلا نے ہتھیلی کے زور سے سیدھا کیا 

    یہ ایک سادہ سا آئنے کا خاکہ تھا جیسا کسی بھی سنگھار میز کا ہوتا مگر اس آیئنے کا کوئی عکس نہیں تھا بلکہ پورے آیئنے ۔۔۔
    پر ہلکے ہاتھ کی پنسل پھیر کر اس کو دھندلا دیا تھا …. 




    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #