Blog

  • اردو یا ہندی؟urdu ya hindi?

    13 august 1946
    اردو یا ہندی
    دہلی سے خط آیا تھا پورے دفتر میں سنسنی پھیلی تھی اعلی افسران سے لیکر چپڑاسی تک سب کے پیروں میں مانو پہییے لگے تھے
    آخر کو دارلخلافہ سے چٹھی آئی تھی مگر یہ سب کو ہوا کیا تھا عوامی بہبود کے ادارے نے کچھ دفتر کی توسیع کیلیئے امداد منظور کروانے کی درخواست بھجوائی تھی یقینا اسکا جواب تھا یہ مگر مثبت تھا کہ منفی تمام تعلیم یافتہ افسران خط کا مضمون پڑھنے سے قاصر تھے عجب ماجرہ تھا
    ہمارے پڑوس میں ایک منشی صاحب رہتے ہیں وہ شائد اس خط کو پڑھ سکیں مگر شام ہو جائے گی اس وقت تو وہ بھی دفتر میں ہونگے
    ماتحت نگران شعبہ مالیات و حساب کا مشورہ قابل غور تھا نگران شعبہ مالیات نے سر ہلایا یعنی آج تو صرف خط ہی پڑھا جاسکے گا مضمون کے پیش نظر مزید آئندہ کا لائحہ عمل کل ہی طے کیا جا سکے گا یعنی آج کا دن ضائع ہی سمجھا جائے
     انہوں نے منظوری دےدی اب کیا ہو سکتا تھا
    مگر یہ بات اس کمرے سے باہر نہ جانے پائے کہ سرکاری کاغز اس عمارت سے باہر گیا ہے خواہ محض پڑھوانے کے ہی واسطے
    انہوں نے تنبیہہ کرنا ضروری سمجھا
    ماتحت نگران شعبہ نے اثبات میں سر ہلا کر رازداری یقینی بنانے کی تسلی کرائی
    تبھی دستک ہوئی دروازے پر
    آجائیے۔۔
    اجازت ملنے پر انکا چپڑاسی ایک پنررہ سولہ سالہ نوجوان کے ساتھ حاضر ہوا
    دونوں ہاتھ جوڑ کر ان کو ادب سے نمستے کہا نوجوان نے ہلکے سے سر جھکا کر آداب کہنے پر اکتفا کیا
    سر کے اشارے سے ان دونوں کے سلام کا جواب انکے انداز میں ہی دیا
    آمد کا مقصد ابھی واضح نہیں تھا سو دونوں افسران کی سوالیہ نظریں ان پر ٹکی تھیں
    صاحب یہ  بڑے سید صاحب کے منجھلے صاحب زادے ہیں حال ہی میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا ہے آج وہ بقایا جات کے سلسلے میں میں تشریف لائے تو اس دفتر میں پھیلی ہلچل ان سے مخفی نہ رہ سکی انہوں نے تجویز دی ہے اگر آپ بھروسہ کریں تو یہ چٹھی ان سے پڑھوا لیجئے کم عمر ہیں مگر سید صاحب کے صاحب زادے ہیں آپ کو مطلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
    کیا آپ اس زبان کا علم رکھتے ہیں؟
    نگران صاحب کا چہرہ کھل اٹھا
    نوجوان نے ایک نظر انکو دیکھا پھر ادب سے سر اثبات میں سر ہلا کر جھکا لیا
    آپ تشریف رکھئے ۔۔۔ ماتحت نگراں ویر سنگھ  نےآگے بڑھ کر انکو کرسی پیش کی
    انکے لیےتواضع کا انتظام کیجئے گا انہوں نے فورا میزبانی نبھائی
     نگران صاحب کی بھی بانچھیں چری جا رہیں تھیں ایک بڑا مسلئہ حل ہوا تھا
    یہ لیجئے : انہوں نے خط بڑھایا تو نوجوان نے شکریہ ادا کر کے عبارت پر نظر دوڑائی پھر ہنکارہ بھر کر پڑھنا شروع کیا
    بخدمت جناب نگران شعبہ مالیات عوامی بہبود الہ آباد
    جناب  ارجن سنگہانیاں صاحب
    جناب عالی۔۔۔۔۔
    کمرےمیں سناٹا تھا صرف نوجوان کی آواز گونج رہی تھی افسران مانو سانس تک روکے خاموشی سے سن رہے تھے
    مطعلقہ شعبے تک آپکی گزارشات پہنچا دی گئی ہیں
    اس حوالے سے مزید کسی بھی پیش رفت سے آپکو ضرور آگاہ کیا جائے گا تاہم جو اس ادارے کے بس میں ہے اس ممکنہ مدد کو فراہم کرنا یقینی بنایا جائےگا اس حوالے سے منظور شدہ پہلی قسط جلد بھجوائی جائے گی
    آپ کا تعاون درکار ہے
    منجانب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ارے بے ساختہ ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے
    یہ تو اردو ہی میں تھا خط سنگھ صاحب ہنس پڑے
    سنگہانیا صاحب کو مثبت جواب کی توقع نہ تھی سو انکا چہرہ فرط مسرت سے کھل اٹھا تھا
    یہ ہندی رسم الخط ہے نوجوان نے بھی مسکرا کر کہا تھا
    پتہ نہیں حکومت کو اچانک ہندی رائج کرنے کی کیا سوجھی اب ہندی آتی بھی تو ہو اب بیٹھے بٹھائے وقت پڑ گیا ہمیں  سنگھانیا صاحب نالاں تھے
    یوں معلوم ہوتا یہ خط تحریر کرنے والے موصوف بھی ہندی سے نا بلد ہی ہیں سنگھ صاحب بھی ہنسے
    پورا خط ٹھیٹھ اردو میں ہے بس رسم الخط تبدیل کیا ہے ناحق
    سنگھ صاحب شکر کیجئے کم از کم مضمون اردو ہی ہے ورنہ پھر سمجھنےکی الگ مشقت اٹھانی پڑھتی
    سنگھانیا صاحب کی بات میں وزن تھا سنگھ صاحب فورا متفق ہوئے پھر خیال آیا تو نو جوان سےمخاطب ہوئے
    بہت شکریہ سید صاحب آپ نے ہماری بہت بڑی
     مشکل دور کی
    کوئی بات نہیں آپ آئندہ بھی یا د کر سکتے ہیں
    نوجوان نے اخلاق سے کہا تھا اور اجازت چاہی
    ویسے سنگھ صاحب خاصی بے تکی بات نہیں ایک ہی زبان کے دو رسم الخط رائج کرنا ؟
    سنگہانیا صاحب نوجوان کے رخصت ہونے کے بعد الجھن آمیز انداز میں کہہ رہے تھے سنگھ صاحب ان سے پوری طرح  متفق تھے

    امید ہمت اور خوداعتمادی میرے ہم وطنوں کیلئے میرا بس یہی پیغام ہے

    از قلم ہجوم تنہائی



    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول 


  • Aurat kahaniعورت کہانی۔۔۔۔۔۔

    عورت کہانی  

    آج ہم اپنی زندگی کی نیی شروعات کر رہے ہیں اور میں آج وعدہ کرنا چاہتا ہوں ہم ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں گے دولہا اسکا ہاتھ تھامے کہہ رہا تھا 

    (میں وعدہ ‘ ہم ) دلہن ایم اے اردو تھی  اردو   گرامر  انشاء پردازی میں ہی الجھ گیئی 

    زندگی کے کسی معاملے پر تم اکیلی نہیں ہوگی ہمیشہ میں تمہارا ساتھ دونگا خیال رکھونگا اوربدلے میں صرف تم مجھے اور مرے گھر والوں کو اپنا سمجھو خیال رکھو بس مجھے تم سے یہ امید ہے تم میری امیدوں پر پورا اترو گی 

    دولہا کی  منتظر نظریں اس پر ٹکی تھیں انکی ارینج میرج تھی اور کیا کہنا تھا اسنے سر ہلادیا 

    صبح ولیمے کی تیاریوں میں   وقت جیسے بھاگا  تھا اپنے گھر تو بس تھوڑی دیر کو ملنے گیئ وہاں سے پارلر تھوڑی دیر پہلے ہی پارلر سے تیار ہو کر آی اسکی نند اسکے کمرے میں زمین پر   چادر بچھا ۓ استری کر رہی تھی دکھتۓ ہی تعریف کی ماشااللہ بہت روپ آیا ہے تم پر نظر نا لگے 

    وہ شرما گئی آپ تیار نہیں ہویں پارلور بھی ساتھ نہیں گئیں ؟ اسکی چھوٹی دونوں نندیں  اس  کے ساتھ تیار ہو کر آییں تھیں 

    بس یار دو بچوں کے بعد کیا پارلر ؟ وہ ہنسی بیٹی کو تیار کر کہ ذرا سا کپڑے چینج کرنے گی تو وہ باہر گر آئ سب کپڑے مٹی سے بھر گیے دوبارہ نہلایا تو تمھآ رے میاں شرٹ لے کر گھوم رہے تھے استری کبھی خود نھیں کرتا خیر اب یہ شرٹ استری  ہو جایے تو تیار ہونے جاؤں میں بھی 

    وہ تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی 

    لائیں بھابی میں کر دیتی ہوں اس نے مروت میں ہی کہا تھا راجستھانی فراک تین انچ کی ہیل لمبا سا کام والا دوپٹہ جھکنا بھی محال تھا اسکے لئے اتنے بھاری جوڑے کے ساتھ 

    نہیں تم تیار ہو کر نیچۓ کیسے بیٹھو گی بس ہو جاتا ہے دو منٹ بس 

    اس نے پیار سے کہا 

    آپی آپکا بیٹا باتھ روم سے آوازیں دے رہا ہے ،اسکی چھوٹی نند کی آواز آئ 

    اففف میں تو بھول ہی گیئی صبیحہ سر پر ہاتھ مار کر اٹھی 

    آتی ہوں ۔۔۔ 

    تبھی باتھ روم کا دروازہ کھلا باسط نہا کر بال خشک کرتا  نکلا آپی ہو گیئی استری ؟ بولتے بولتے ایک لحظے کو اس پر نظر گیئی تو پلٹنا بھول گیئی سارہ  پزل سی ہو کر  پلکیں جھکا گیئ 

    تم تیار بھی ہو گئیں میری شرٹ  ہی استری نہیں ہوئی اس نے آگے بڑھ کر شرٹ اٹھائی اسے کر دو تا کہ میں بھی تیار ہو جاؤں ؟ 

    جتنی دیر میں سارا سر اٹھا پائی وہ پلٹ کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا بال بنا رہا تھا 

    نا چار اٹھی سنڈل اتاری استری کر کے شرٹ پکڑائی 

    ولیمے کی تقریب شاندار رہی ایک ایک نے جوڑے کو سراہا کھانا کھا کر گھر پہنچتے ساڑھے دس ہو گیے تھے پھر ساس صاحبہ کو نجانے کونسی رسمیں یاد آگیں خدا خدا کر کے بارہ بجے اسکو سکون سے بیٹھنے کا موقع ملا جس وقت وہ میک اپ اتار رہی تھی باسط فریش ہو کر  آرام دہ کرتا شلوار پہن کر آرام سے  چاۓ پی رہا تھا تم بھی چاۓ پی لو ٹھنڈی ہو جایگی اسے فکر بھی تھی 

    سارا مسکرا دی اسکے کمر تک لمبے  بال تھے جس کا جوڑا  

    سیدھا اوپر بنا  کر کچھ لٹیں کرل کر کے آگے سے مروڑ کر ہیر اسٹائل بنایا تھا بلا مبالغہ پینتالیس پنیں اس نے گنی تھیں اسکے سر پر دوپٹہ ٹکانے کو ٹھونکی گیئی تھیں اب انھیں نکالتے بازو شل ہو چکے تھے بال بھی نچ رہے تھے تھک کر اسے کہنا پڑا 

    سنیں یہ اوپر سے پن نکال دیں 

    باسط کے جواب نے اسے ششدر کر دیا تھا اس نے کہا تھا 

    بھئی یہ عورتوں والے کام میں نہیں کرتا سمیہ(چھوٹی بہن )  کو آواز دیدو


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد




    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

  • Ba zauq |urdu story|The Tragic Tale of a Mysoginist Poet and His Suppressed Wife


    با ذوق

    اچھا اچھا آرہی ہوں صبر ہی نہیں  اب کوئی دروازے پر تو کھڑا نہیں ہوتا کہ گھنٹی بجاتے ہی دروازہ کھل جا ے

    نسیم آرا ہانپتی کانپتی بڑبڑاتی ہوئی دروازے تک آی تھیں چند لمحے تو سانس ہی بحال کرتی رہ گئیں دروازہ اتنی سی دیر میں بھی بج گیا

    جھنجھلا کر دروازہ کھولتے ہی کڑے تیور سے نووارد کو گھورا

    نک سک سے تیار پتلون کوٹ پہنے گلے  میں ٹائی باندھے وہ پچیس تیس سال کا جوان تھا

    شائستگی سے جھک کر بولا آداب

    نسیم آرا اتنے ادبی سلام پر بھونچکا ہی رہ گئیں

    تسلیم آداب گڑبڑا کر منہ سے نکلا تھا انکے

    جی یہ ذولفقار احمد اسیر صاحب کا ہی گھر ہے؟

    دھیمے انداز سے ہی پوچھا گیا

    ہاں کیوں؟

    نسیم آراء پر دوبارہ بیزاری طاری ہوئی

    نو وارد نے ایک لفافہ انکی جانب بڑھایا

    جی میرا نام ابراہیم ہے میں دراصل میں یہ دعوت نام پیش کرنے آیا ہوں  سہ ملکی ادبی کونفرنس ہے جس میں اسیر صاحب کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے آپ نے حال ہی میں گھر تبدیل کیا ہے تو بلمشا فہ

    وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ نسیم آراء نے لفافہ ہاتھ سے لے کر حقیقتا اس کے منہ پر دروازہ بند کر دیا

    میڈم بات سنیہے پلز میڈم آپ نسیم  صاحبہ ہیں نا

    بے چینی سے نووارد نے دروازہ بجایا تھا

    نسیم آراء کے بڑھتے قدم رک گئے

    کیا کہا اس نے

    وہ لپک کر مڑیں جھٹ سے دروازہ کھولا

    ابراہیم مایوس ہو کر واپس پلٹ رہا تھا

    سنو کیا کہا تم نے ابھی

    ان کے پکارنے پر اسکے بےجان قدم یک بیک جیسے نئ زندگی پا گئے

    آپ نسیم آراء صاحبہ ہیں نا ؟ نسیم آراء مہک مشہور شاعرہ

    نسیم آرا نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا

    آپ نہیں جانتی میں آپکا کتنا بڑا پرستار ہوں آپکی نظم بجھتی ہے زندگی  اففف مجھے بہت زیادہ پسند آپ کو کیا بتاؤں ….

    ……………………………………………………………………….

    ہمم اسیر صاحب نے ہنکارہ بھرا

    دعوت نامہ الٹ پلٹ کر دیکھا پھر لا پروائی سے سرہانے میز پر رکھ دیا

    ابھی دن پڑے ہیں مجھے یاد کرا دینا

    نسیم آراء انکے لئے چایے بنا کر لائی تھیں اسیر صاحب کچھ ہی وقت پہلے لوٹے تھے کسی تعلیمی ادارے میں

    تقریر کر کے  آئے تھے بے طرح تھکے ہوئے تھوڑا سا ہی کھایا بس

    آرام کی غرض سے بستر پر دراز ہوئے ایک نئی کتاب انکے ہاتھ میں تھی آثار زیست

    کسی نے انکے نام انتساب کی تھی پہلا ایڈیشن پہلا نام ایک قیمتی تحفہ

    سنتے ہیں جی مجھے بھی جانتا تھا بہت ادب کا قدر دان دیکھتے ہی پہچان گیا

    نسیم آراء کی آواز فرط مسرت سے کانپ رہی تھی

    اسیر صاحب نے متوجہ ہو کر ناک پر سے عینک نیچے کی بڑھاپا انکی نظر کمزور کر گیا تھا

    کہہ رہا تھا میری دونوں کتابیں اسکے پاس محفوظ ہیں اور بجھتی ہے زندگی کو تو طرز سے گا کر بھی سنایا مجھے

    دروازے پر ؟ اسیر صاحب نے ابرو اچکایا

     مجھے پہچان کر

    بہت خوش ہوا تھا وہ اپنی دھن میں بتا رہی تھیں

    نہیں نہیں  میں نے اندر بلا کر بٹھایا تھا شربت پلا کر بھیجا میں نے

    نسیم آراء کے پاس ابھی بھی بتانے کو بہت کچھ تھا

    کہہ رہا تھا لکھنا کیوں چھوڑ دیا آپ تو بہت اچھا لکھتی تھیں آپکی شاعری تو زندگی کا پتا دیتی تھی

    اسیر صاحب ضبط نہ کر سکے

    زور دار قہقہہ لگا کر ہنس پڑے

    ہاہاہاہا تمہاری شاعری ہا ہہا

    نسیم آراء چپ سی شکل دیکھنے  لگیں

    کیسی بچکانہ شاعری کرتی تھیں اوپر سے شوق بھی ہوتا مجھ سے صحیح کروانے کا

    جملے کاٹ کاٹ کر ترتیب کر کر کے ایک طرح سے میں ہی نئی نظم لکھ ڈالا کرتا تھا

    کبھی بحر ہی چھوڑ دیتی تھیں نظم کے  اختتام تک کبھی  آزاد نظم کہہ کر تحت اللفظ کہانی لکھ ڈالتی تھیں

    تمہارے ابا پیسے والے نہ ہوتے تو دو کتابیں نہ چھپوا سکتیں تھیں شکر ہے شادی کے بعد تم نے چند دفعہ کی کوشش کے بعد توبہ ہی کر لی ورنہ میں کیا بتاتا یہ مشھور ادیب و شاعر ذولفقار احمد اسیر کی اہلیہ کا حال ہے یعنی

    چراغ تلے اندھیرا

    وہ کہہ کر خود ہی لطف اٹھا رہے تھے

     نسیم آراء کہنا چاہتی تھیں

    ایسا بھی نہیں تھا ادبی حلقوں میں اچھا نام تھا ادبی محفلوں میں خاص دعوت نامے اتے تھے انکے.لئے انکے ابا روشن خیال انسان تھے  انھیں ہر جگہ لے کر جاتے تھے شائقین و حاضرین محفل میں سب سے پر جوش داد انکے ابا کی ہوتی تھی فخر سے بتاتے تھے میری بیٹی شاعرہ ہے یہاں تک کے ایک سے ایک دولت مند گھرانوں کے رشتوں پر اسیر صاحب کے درمیانے درجے کے رہن سہن رکھنے والے گھرانے کو ترجیح دی تھی کہ انکی بیٹی کے شوق کی قدر کوئی با ذوق ہی کریگا مگر نجانے کیوں وہ کبھی اسیر صاحب کے معیار پر پوری نہ اتر سکیں کبھی کسی نظم  کی بحر انکے مجازی  خدا کو پسند نہ آئ شرو ع شروع میں ایک آدھ نظم ٹھیک کرکے انہو ں نے مشاعرے میں کسی پڑھی بھی مگر پسند نہیں کی گئی ہک ہا شاید اسیر صاحب کا حلقہ احباب انکے جیسا ہی اعلی ذوق کا حامل تھا

    ویسے وہ شاید اتنی بھی بری شاعری نہیں کرتی تھیں کیوں کہ

    کالج دانش کدہ ہر جگہ انکے چرچےہوا کرتے  تھے بہت زیادہ لوگ نہ سہی مگر انکے بھی کچھ  پرستار تھے اتنے با وفا کے انکی کتاب کے سرورق پر چھپی انکی نو عمری کی تصویر سے اس بڑھاپے کی تخریب کاریوں سے خستہ جھریوں زدہ چہرے سے بھی  نقوش کھوج نکالے اور پہچان لیا

    گھٹنوں پر زور دے کر وہ خالی کپ لینے اٹھیں اسیر صاحب کب کے ہنستے ہنستے خاموش ہو کے کتاب میں مگن تھے

    خرافات ہے یہ ہر  ایرا  غیر ا  قلم ہاتھ میں لے بیٹھا ہے بیزار ہو کر انہوں نے کتاب رکھ دی

    غیر ضروری منظر کشی طویل جملے سارا حسن ہی ماند پڑ گیا اچھوتے موضوع کا

    بالکل پسند نہیں آئی مجھے مگر مجھے اس پر تبصرہ بھی لکھنا سو پوری پڑھنی مجبوری

    یا ایسا کرو تم پڑھ کر تبصرہ لکھ دو

    ماضی کی  مشہور شاعرہ  ہو آخر

    وہ بہت ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑ رہے تھے

    نسیم آراء مسکرا دیں

    مجھے کہاں فرصت گھر کے اتنے جھمیلے

    جواب حسب توقع تھا اسیر صاحب سر ہلا کر بستر پر سیدھے ہوئے سارے دن کی تکان کے بعد اب جسم نیند مانگ رہا تھا منٹوں میں بے خبر ہوئے

    نسیم آرا باورچی خانہ سمیٹ کر چپکے سے کمرے میں آئیں اپنے سرہانے کا لمپ جلایا اسکے آگے اخبار کھڑا کر کے آڑ کی

    آنچل میں چھپا کر لائی سودے کی کاپی میں کچھ لفظ گھسیٹنے لگیں

    ابراہیم انکے اکلوتے پرستار کی فرمائش تھی کوئی تازہ نظم ہو جائے

    Bazauq by vaiza zaidi hajoome tanhai fame urdu short stories afsanay

    Bazauq by vaiza zaidi hajoome tanhai fame urdu short stories afsanay

    Bazauq by vaiza zaidi hajoome tanhai fame urdu short stories afsanay

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

  • Aik din majboori kay sath

    مختصر افسانہ

    ایک دن مجبوری کے ساتھ۔۔
    مصنفہ: واعظہ زیدی
    ۔
    ایک دن مجبوری کاAik din majboori ka اردو علامتی افسانہurdu methaphor stories
    صبح ہو گئ تھی مجبوری کیلئے۔ یکے بعد دیگرے بس کام ہی کام اسکی توجہ کے منتظر تھے۔ آج اتوار تھا تو ضمیر لمبی تانے لیٹے یقینا نا اٹھنے کے ارادے سے سوئے پڑے تھے۔ دونوں بچوں کی بھئ چھٹی تھی سو چین کا ناشتہ دیر سے ہی ہوا۔۔ ناشتے کے برتن دھو تے دھوتے ہی سورج سوا نیزے پر آچلا تھا۔ اتنی رویوں کی گرمی تھی کہ دانتوں پسینہ آ چکا تھا پھر بھی اسکے بڑے صاحبزادے غیرت میاں موقع پا کر گھر سے نکل چکے تھے۔ حیا کا تو گھر میں ہونا نا ہونا ہی برابر ہوتا تھا۔ کہیں کسی کونے میں موبائل ہاتھ میں لیئے بس کھٹ کھٹ انگلیاں چلاتی مصروف رہتی۔۔ ماں پکارتی رہے کسی کام کیلئے مجال ہے جو ہوں ہاں میں بھی جواب دے جائے۔کبھی کبھی تو مجبوری کو لگنے لگتا بس وہ اکیلی ہی ہے دنیا کے سب آزار جھیلنے کیلئے۔
    ابھی بھی بس ناشتہ ہو پایا تھا۔۔ کام والی ماسی بی فرصت ہمیشہ کی طرح بنا بتائے رخصت لے چکی تھیں۔۔ گھر بکھرا پڑا تھا ۔۔ اور مجبوری وہ ہر اس ماں کی طرح جسکو مجبوری کا نام ملا تھا ورثے میں کام کرتے ہوئے بڑ بڑا رہی تھی
    ” اف خدایا اتنا کچھ لینا باقی ہے۔چین سکون خوشیاں تھوڑی سی بے مروتی ۔ کیا کروں۔؟ فرصت ہی نہیں آتی ہے گھر میں دل تو کرتا کہ فرصت کو باندھ کر گھر بٹھا لوں۔” جھاڑن سے نصیب کی گرد جھاڑنے کی کوشش کرتی وہ زہنی طور پر نڈھال زیادہ تھی۔۔
    اف آج تو بازار زندگی کا چکر لگا ہی لوں۔۔ضمیر گھر پر ہیں بچوں کو دیکھ لیں گے یا ضمیر کو ساتھ لے چلوں۔۔
    خیال اچھا تھا مگر پچھلے تجربے کی یاد نے رونگھٹے کھڑے کر دیئے۔
    ۔دنیا کی نئی ریت بھی تو ہے کہ ضمیر کو ساتھ لے کر کبھی زندگی کا رخ نہ کرو۔ رہنے دیتی ہوں۔۔انہیں گھر ہی۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھتے ہی نہیں بیچ بازار میں کچوکے لگا بیٹھتےہیں اچھا ہے گھر میں رہیں بچوں کو لے جاتی ہوں چھوٹی موٹی خوشیاں سنبھال لیں گے۔۔
    اس نے صوفے پر گرتے ہوئے سوچا ۔ حیا کو ہی ساتھ لے جاتی ہوں۔ کبھی کبھی مان جاتی تھی اسکی بات بنا چوں چرا کیئے۔۔ بیٹی جو ٹھہری۔۔
    حیا ۔۔ حیا بیٹا تیار ہو جائو امی کے ساتھ بازار چلی چلو۔۔
    انداز تحکمانہ تو کیا ہوتا منت بھرا سا ہوگیا۔۔
    حیانے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا ہی کمرے سے ہی جواب دے ڈالا۔۔
    :میں نہیں جا رہی برا حال ہو جاتا ہے میرابازار میں۔۔
    غیرت بھائی کو لے جائیں
    مجبوری ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئ۔۔
    تم ساتھ جانے کو تیار نہیں غیرت کہاں جانے کو تیار ہوگا۔ابھی تو گھر میں ہے بھی نہیں۔ تم ہمت کردو بیٹا میں ہمت کرکےاکیلی چلی جاتی ہوں۔۔میری چادر اور پرس اٹھا لائو کمرے سے۔۔
    ہمت ایپ حیا نے موبائل میں انسٹال کر رکھی تھی۔ جب کبھی کہیں جانا ہو ماں کو ہمت ایپ سے گاڑی منگوا دیتی تھی سچ تو یہ ہے کہ ہمت آنے سے مجبوری کو کافی آرام ہو گیا تھا۔جب کبھی کہیں جانا ہوا جھٹ ہمت کرلی۔
    اچھا مما کر دیتی ہوں۔۔۔
    حیا بے زارئ سے موبائل تھامے کمرے سے طلوع ہوئی۔چادر اور پرس ماں کو تھما کر حسب عادت پہلی منزل صوفے پر ہی ماں کے پاس آن گری۔۔ اس سے زیادہ چلنا پھرنا حیا کو تھکا دیتا تھا۔۔ مجبوری اسکی بیماری کی وجہ سے زیادہ سختی بھی نہیں کر پاتی تھی ابھی بھی اسکے پاس بیٹھتے ہی اسکے سر کر اپنے کندھے پرٹکا کر دھیرے دھیرے انگلیاں پھیرنے لگی۔۔ دو تین انگلیاں موبائل پر مار کر حیا نے سواری بک کر دی تھی۔۔
    ابھی ہمت کو آنے میں پانچ منٹ تو لگ ہی جائیں گے دور ہے ابھی کافی۔۔۔ اس نے موبائل میں جگہ دیکھ کر ماں کو بتایا تھا۔۔
    ایک تو ہمت ایپ کبھی جو بروقت آجائے گھنٹوں انتظار کراتی ہے۔ اف۔
    ۔ مبجوری پر یک بیک تھکن سوار ہوگئ تھی۔اپنے لیئے تو ایک کپ چاہیئے بھی بنانے کا دل نہیں کرتا تھا اسکا مگر بازار جانا بھئ ضروری تھا ۔۔ زندگی کا سودا سلف کے بغیر گزارا کہاں ہوتا۔۔ ہمت آتی تو اٹھنا پڑتا ہی۔۔ رات سے ضمیر کی طبیعت بھی بوجھل سی ہے شوہر کا خیال آیا تو وہیں صوفے پر پڑے پڑے ہی پکارکر پوچھ ڈالا۔۔
    ۔ ضمیر میں بازار زندگی جا رہی ہوں کچھ منگوانا ہے تو بتا دیں سو تو نہیں رہے؟۔۔
    ضمیر جوابا کافی دیر کھانستے ہی رہے۔۔ پھر بمشکل بوجھل سی آواز میں جواب دیا۔۔
    طبیعت ٹھیک نہیں کل بہت بہت زلت و خواری اٹھا لی ہے ایسا کرو تھوڑی سی بے حسی لے آنا بے مول بک رہی ہے آجکل تو معاشرے میں۔۔
    حیا کا موبائل ٹن سے بجا۔۔
    یور کیپٹن ہیز ارائیوڈ۔(۔ آپکا کپتان پہنچ چکا ہے)
    امی جلدی کریں ہمت آگئ ہے ۔۔ حیا نے بتایا تو مجبوری بجلی کی تیزی سے چادر اوڑھنے لگی۔۔
    اچھا ٹھیک ہے ضمیر آپ سو جائیں اگر بے مول ملی بے حسی تو لے آئوں گی۔
    ضمیر کےخراٹے لائونج تک گونج رہے تھے۔۔
    مجبوری : حیا بیٹا دروازہ بند کر لو پاپا تو سوگئے تمہارے میں خوار ہوتے ہی واپس آجائوں گی ٹھیک ہے؟
    حیا سر ہلا کر دروازہ بند کرنے لگی۔۔ ٹھیک ہے
    دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ ہی رہی تھی پھر بھی ہمت نے ٹوک دیا
    میڈم جلدی کریں
    مجبوری بھنا ہی تو گئ۔۔ چمک کر بولی۔۔
    زرا صبر نہیں ہے ہمت ایک تو آنے میں خود اتنی دیر کر دی مجھے اتنے کام تھے ۔۔
    ہمت ہو ں میڈم بہت کام ہوتے ہیں مجھے۔۔۔کبھی خود ہمت کیا کریں ۔ ابھی اتنے لوگوں کو انکی منزل پر پہنچا کر آرہا ہوں وقت تو لگنا ہے نا۔
    ہمت کے انداز میں محسوس کیئے جانے والا تفاخر تھاجو مجبوری کو ٹھیک ٹھاک کھلا۔
    ہاں تو میں نے خود ہی اپنے موبائل سے ہمت کی کونسا کسی اور سے کروائی ہے۔۔ بڑ بڑاتی ہی رہ گئ ۔۔ تھوڑا سفر ہی طے ہوا تھا کہگاڑی ہچکولے کھاتی رک گئ۔
    بس میڈم آپکی اتنی ہی ہمت تھی منزل آپکی بہت دور ہے آگے کا راستہ خود طے کر لیں۔۔ ہمت کے انداز میں بے نیازی سی تھی
    ارے ارے ابھی تو بازار شروع بھی نہیں ہوا اتنی جلدی کیسے۔۔ مجبوری روہانسی سی ہوگئ
    دیکھیں مجبوری بہن آپ خود جانتی ہیں مجبوری کیا کیا کراتی اب ہمت کہاں تک ساتھ دے؟
    ہمت کہاں مجبوریاں دیکھے سو بے مروتی سے جواب پکڑا دیا۔۔
    پھر بھی۔۔ وہ بےچارگی سے بولی
    آپ مجبوری ہیں آگے سمجھوتہ کر لیں۔
    ہمت کا انداز ہنوز تھا۔۔
    مجبوری گہری سانس لیتے ہوئے اترنے لگی۔
    ٹھیک بھائی شکریہ آپکا زندگی کی شروعات پر ہی ساتھ چھوڑ دیا آپ نے سمجھوتہ کر لیتی ہوں دیکھتے ہیں اور کیا کیا دکھاتی ہے دنیا۔۔
    خدا حافظ باجی شکریہ۔۔ ہمت نے کہہ کر زن سے گاڑی دوڑا دی۔۔ مجبوری بھونچکا سی ہو کر پلٹی
    ہیں اسکو کیسےپتہ چلا؟۔۔
    کہ مجبوری کا دوسرا نام شکریہ ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟ وہ حیران تھی مگر ہمت جا چکی تھی۔۔
    تیز چبھتے رویوں کا سورج ، حالات کے گرم تھپیڑے ۔۔ اور بے رحم سوداگروں کا بازار اسکی ہمت یہیں جواب دینے لگی تھئ۔۔
    اف۔ زندگی کی شروعات میں ہی میں تو تھک گئ بری طرح پوری خریداری کیسے کروں گی۔۔اس نے سوچا تو مگر بازار سے بنا خریداری کون آتا واپس۔۔؟ سو اونچی دکانوں کے نیچ سے دکانداروں سے دو دو ہاتھ کرنے کو کمر کس لی۔۔ سامنے ہی بڑی سی خوشیوں کی دکان نظر آئی۔ گھر سے بنا کر لائی سودے سلف کی فہرست چین سکون بے مروتی سب بھلا کر بے تابی سے ایک ماں بڑھی تھی دکان کی جانب جسے یاد تھا تو بس اتنا کہ بچوں کو بہت عر صے سے یک گونہ خوشی نصیب نا ہوئی
    اب اگرخوشیاں مل رہی ہیں دام تو پتہ کر لوں۔۔
    دکاندار سے بڑے شوق سے دریافت کیا
    اے بھائی خوشی کیا بھائو بکتی ہے؟
    دکاندارخوشیو ں پر پانی پھیرتا اچٹتی نگاہ خریدار پر ڈال کر سرسری سے انداز میں بولا۔۔
    بہن عنقا اور نایاب جنس ہے آپ بتائیں کیا مول لگا سکتی ہیں۔۔انداز غیر شعوری طور پر بھی تضحیک آمیز ہوگیا۔۔ جیسے پوچھتا تو ہے اوقات کہ خوشیاں خرید سکو؟
    مجبوری پر یاسیت سی چھا گئ۔۔ دھیرے سے مری مری آواز میں بولی۔
    بنا پیسے کے جو مل سکتی ہو تھوڑی سی چاہیئے۔۔
    دکاندار جانے کیوں ہنس پڑا۔۔
    وہ تو آسانی سے مل سکتی ہیں مگر صاف دل والوں کوہر کسی کے بس کی بات نہیں خوش ہونا وہ بھی بنا پیسے کے۔آپ یوں کریں خوشیاں دے لیں۔۔
    مجبوری خوش ہی ہوگئ : وہ کیسے؟
    دکاندار: کسی کی دلجوئی کر لیں کسی معصوم کے آنسو پونچھ لیں، کسی غریب پر ترس کھا کر ضرورت پورئ کر دیں کسی کا غم بانٹ لیں کسی سے دو بول پیار سے بات کر لیں دل شانت ہو جائے گا
    مجبوری اس بے موقع تقریر کو ہضم کرنے کے موڈ میں نا تھی۔
    اچھا چھوڑو بھائی یہ بتائو بے حسی کا کیا حساب ہے؟
    دکاندار نے پانی پھیر کر جگ ایک طرف رکھ کر ہاتھ جھاڑ دیئے۔
    بھری پڑی ہے معاشرے میں بہن جتنی مرضی لے لو ہاں مگر ضمیر مر جاتا ہے زیادہ استعمال سے۔۔۔۔ ہاتھ روک کر لیجئے گا۔۔
    مجبوری بھی جانتی تھی مگر ضمیر کو بہت آرام ملتا تھا سو لیکر جانا بھی ضروری تھا۔۔ ٹھنڈی آہ بھر کر مانگ لی
    تھوڑی سی دے دو۔۔
    دکاندارنے پاس پڑا پورا گٹھر اٹھا کر تھما دیا۔۔
    جائو بہن گھر ۔۔۔حیا اور غیرت کو گھر سے نکال دو ضمیر کو مار دو سکون سے گزرے گی زندگی۔۔
    مجبوری بھونچکا رہ گئ۔۔ آدھا گٹھر واپس ہی کر دیا۔ بس بس اتنی بے حسی نہیں دکھا سکتی شکریہ بھائی اور نہیں چاہیئےاتنی ہی بہت ہے۔۔
    خدا حافظ ۔۔ وہ کہہ کر رکی نہیں جھٹ چادر سنبھالتی آگے بڑھ گئ۔۔
    دکاندار اسکے انداز پر قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔۔
    بازار زندگی خریداروں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔گ
    کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔۔مجبوری ڈولتے قدموں سے چلتی ہوس پرستوں سے بچتی آگے بڑھتی رہی۔۔
    پھیری والا آوازیں لگاتا جا رہا تھا۔
    غم لے لو مفت لے لو تھوڑا سا احساس لے لو
    تھوڑا سا آرام دے کر لے لو۔۔
    مجبوری ہنس پڑی ۔لو بھلا بتائو غم بھی کوئی لیتا مفت ہی سہی اور احساس لیں آرام کے بدلے؟آرام تو سونے کے بھائو مل رہا کون پاگل لے گا ۔۔۔
    مجبوری ہلکی سی آوازآئی۔ کوئی پکار رہا تھا مجبوری کو بھرے بازار میں۔
    مجبوری چونک کر مڑی۔کون پکار رہا اب مجھے۔
    حسرت دور سے پکارتی چلی آرہی تھی۔جدید تراش خراش کے کرتے پاجامے میں ملبوس سنگھار کیئے دراز زلفیں ادا سے لہراتی اونچی ایڑھی والی جوتی میں لہرا لہرا کر چلتی اسکی بچپن کی سہیلی حسرت۔۔ آج بھی مجبوری سے کہیں زیادہ جوان لگتی تھی۔ یقینا کافی خریداری کر چکی تھی بڑا سا شاپنگ بیگ ہاتھ میں تھامے اسکا اونچے درجے کی بیگمات والا حلیہ ۔۔ مجبوری کو اسے دیکھ کر اب بھی احساس کمتری سا محسوس ہونے لگا۔وہ پھر پکار رہی تھی
    مجبوری رکو سنو تو سہی
    مجبوری بےزار سی ہو کر مڑ کر دیکھنے لگی۔ اوہو یہ حسرت کہاں مل گئ بازار میں مجھے۔ اب جان تھوڑی چھوڑے گی اف کیسے دیکھ لیااس نے مجھے اب ملنا پڑ جائے گا ۔۔
    حسرت نے تیز قدموں چل کر اپنے اور مجبوری کے درمیان کے صدیوں کے فاصلے پلک جھپکتے ختم کیئے اور مجبوری کی بےزاری کو خاطر میں لائے بنا لپٹ گئ۔۔
    ارے مجبوری کیا حال ہے کیسی ہو؟ کب سے پکار رہی ہوں سنتی ہی نہیں ؟ کتنی بڑی لگنے لگی ہو؟
    چہکتے ہوئے وہ یوں گویا تھی جیسے برسوں کی بچھڑی سہیلی ملی ہو
    مجبوری کا انداز بالکل الٹ سا تھا۔۔ دنیا جہان کی بےزاری چہرے پر سجا کر گویا ہوئی تھی۔۔
    آں ہاں سنا نہیں تھا میں نے۔۔ بڑی کیا ہمیشہ سے ہی مجبوری بڑی ہی ہوتی ہے تم سنائو ایک دم جوان لگتی ہو بہت ساری آرزوئیں تشنہ رہ گئیں میری لگتا ہے
    ہاں ہے تو ایسا ہی ۔۔حسرت کھلکھلائی۔۔ مگر تم سے مرتے دم تک ساتھ نبھانے کا وعدہ ہے۔ اور سنائو ہمت ہار دی نا زندگی کی شروعات میں ہی؟
    مجبوری دانت پیس کر رہ گئ۔۔طعنے دینے کی عادت حسرت کی اتنی ہی پرانی تھی جتنی پرانی حسرت خود تھی۔۔
    بس وہ اب کہاں تک ساتھ نبھائے ہمت چھوڑ کر ابھی پکڑی ہے تم سنائو بھائی امید کیسے ہیں؟ خوب نبھ رہی ہے سنا ہے تم دونوں کی۔ اس نے ایک ہی سانس میں ساری مروت نبھا دی۔۔
    حسرت نے اونچا سا قہقہہ لگایا۔۔۔
    انہوں نے تو اوپر کی کمائی سے دوسری شادی کر لی ہے۔ خرچہ دینا کم کر دیا تھا۔مجھے تو زہر بھی دینے لگے تھے جان چھڑائی میں نے ان سے ۔۔ حسرت کھلکھلا کر یوں بتا رہی تھی جیسے پتہ نہیں کتنی مسرت کی بات بتا رہی یے۔۔
    حسرت ہوں اتنی آسانی سے تھوڑی مر سکتی
    اس نے آنکھ دبا کر کہا اور پھر ہنسنے لگی۔۔
    مجبوری کو اسکی زہنی حالت پر شک سا ہوا۔حسرت جتنی بھی کمینی سہی مگر اچھا نہیں ہوا اگر یہ سب ہوا تھا تو اس نے بہت دلگیری سے افسوس کیا۔۔۔
    ایسا ہونا نہیں چاہیئے تھا حسرت مجھے بہت افسوس ہوا سن کر اور بچے؟ سکھ و چین؟
    حسرت نے ایک ادا سے اپنے بال لہرائے۔۔
    سکھ چین دونوں کو گروی کر دیاہے کسی عابد کے گھر رہتے کبھی کبھی ملنا ہوتا
    مجبوری کو واقعی بہت دکھ ہوا
    پھر تم کیسے وقت گزار تی ہو؟
    حسرت کا انداز ہنوز تھا۔ لاپروائی سے بولی۔
    میں آج کل زندگی کے ساتھ رہ رہی ہو اپنے جیسی دو چار اور حسرتیں جمع کر لیتی ہوں آہیں بھرتی ہوں وقت گزر جاتا ہے۔۔
    مجبوری اسکی بے حسی پر رشک کرکے رہ گئ۔مزید کلام کی خواہش ہی پیدا نا ہوئی سو جان چھڑانا چاہی
    اوہ۔۔ چلو حسرت دامن گیر رہنا ابھی زرا میں تھوڑی سی پریشانیا ں فکریں لینے آئی تھی سو آزار جمع ہو چکے زندگی میں گزارنے کیلئے سوچا آج یہ خریداری مکمل کر لوں۔ وہ جس دل سے ہنس کر بتا رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔۔
    حسرت نے مصنوعی حیرت کے اظہار کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔۔
    اب خریدتا کون یے آن لائن آرڈر کرو گھر آجائیں گئ
    پھر ہاتھ میں پکڑا شاپنگ بیگ زبردستی تھمانے لگی۔۔
    تم یہ غم رکھ لو مجھے ابھی مفت ہی ملا اب حسرتیں کیا پالو گی غم ہی غلط کرتی رہنا بچے خوش ہو جائیں گے
    مجبوری اس سے خوشی تک نا لیتی نا کہ غم سو جھٹ انکار کرنا چاہا۔۔
    ارے ارے مجھے غم نہیں چاہیئے کیا ہوا جو میری حسرت پوری نا ہوئی کیا کروں گی اسکا پہلے ہی بہت سے غم لاحق ہیں مجھے
    مجبوری ہو منع نہیں کر سکتیں حسرت کو ۔حسرت کا انداز جتانے والا تھا جیسے کہہ رہی ہو اوقات نہیں تمہاری کہ حسرت سے مقابلہ کر سکو۔۔
    لو۔۔غم رکھو میں چلتی ہوں ٹا ٹا۔ وہ کہہ کر اپنی اسی فاخرانہ چال سے چلتی آگے بڑھ گئ۔
    مجبوری نے شاپر کھول کر جھانکا تو رونا ہی آگیا۔۔ کم از کم سالوں کیلئے کافی غم تھا۔۔
    اف ۔ یہ حسرت کاش کہ کبھی گلا دبا کر مار سکوں میں اسے جھولی بھر کر غم دے گئ خود کیسا کھلکھلاتی پھرتی ہے اک میری روح ہے بے چین کر گئ ہونہہ۔اس نے کھڑے کھڑے بیچ بازار ہی۔رونا شروع کردیا۔۔۔۔ کیا قصور تھا میرا زندگی ۔۔۔ اسے اب زندگی پر غصہ آرہا تھا
    ضروری تھااپنی حسرت سے یوں ٹاکرا ہوجاتا میرا۔۔
    آسمان کی جانب چہرہ کرکے یوں چلائی جیسے آسمان سے سیدھا جواب اسکے سر پر ہی آن گرے گا
    اسکے پاس سے ہمت کی مشہور گاڑی گزری ۔۔تھوڑا آگے جا کر رکی پھر پیچھے واپس آکر سیدھا اسکے قریب آن رکی۔۔ وہی ہمت ڈرائور جو اسے بیچ راستے چھوڑ کر آگے بڑھا تھا کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا
    ہمت ہوں میڈم چاہیئے تھوڑی؟ واپس چلنا ہے ؟
    مجبوری کو مجبور دکھائی دینا تو ہرگز پسند نہیں تھا آنسو پونچھتی الٹ ہی تو پڑی اس پر۔۔
    ایک تم کیا بن بلائے مہمان کی طرح آگئے ایسے بلاتے رہو کبھی وقت پر نہیں آتے
    ہمت نے محظوظ قہقہہ لگایا جانے مجبوری کی بات بری نا لگی یا ہمت کو جب آنا ہوتا تو اسکو پھر کسی بات سے فرق نہیں پڑا کرتا۔مزے سے خوب ہنس کر بولا
    : مجھے پکڑ لیں بی بی پوری زندگی باقی ہے کب تک حسرت پر روئیں گی ڈھیٹ بنئے
    اور خوشیوں پر فاتحہ پڑھ لیں ایسے ہی نہیں مل جاتی خوشیاں۔ احساس کرنا پڑتا ہے دوسروں کو دیکھ کر خوش ہونا سیکھیں خوشیاں خود دستک دیں گی۔۔
    مجبوری گھور کر رہ گئ۔۔ایک تو مجبوری کو کیا کیا سننا سہنا پڑتا یہ دو ٹکے کی ہمت تک کی باتیں سنو۔۔ اف۔۔ ضمیر جاگنے والے ہوں گے بے حسی تو مل گئ ہے خوشیاں پھر کبھی سہی گھرجاتی ہوں ضمیر جاگنے والے ہوں گے
    ہمت اسکی خود کلامی سے بور ہو کر ہارن بجانے لگا: آرہی ہیں میڈم یا بس خود سے باتیں کرتی رہیں گی؟
    مجبوری نے فیصلہ کرکے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ا در بیٹھنے لگی۔۔
    شکریہ بھیا گھر تک پہنچا دو۔۔
    ہمت سر ہلا کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا
    تبھی ایک تباہ حال حلیئے میں روشن چہرے والی لڑکی شیشی بجانے لگی۔۔ٹھک ٹھک ۔۔ اللہ کے نام پر کچھ دے دو اللہ خوش رکھے۔۔ انداز ہرگز بھی فدویانہ نا تھا بلکہ محسوس کی جانےو الی بے نیازی تھی۔
    مجبوری نے شکل تو کیا دیکھنی تھی حلیئے سے بھکارن ہی سمجھ لیا۔۔
    ایک تو یہ بھکاری ناک میں دم کیئے رکھتے چلو بھائی جلدی چلو۔۔ وہ اب جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔
    لڑکی برا ہی تو مان گئ۔۔ بھنا کر بولی۔۔
    بھکاری نہیں ہوں میں ۔ شہزادی ہوں مرضی سے آتئ ہوں مرضی سے جاتی ہوں خوشی نام ہے میرا
    مجبوری کی اپنی مجبوری تھی۔ ضمیر کے جاگنے سے پہلے گھر پہنچنا تھا۔۔ سو ہمت بڑھانے لگی
    چلو بھائی جلدی کرو۔۔
    ہمت نے گاڑی اسٹارٹ کرتو لی تھی مگر خوشی کو دیکھ کر بڑھائی نہیں تھی بلکہ مجبوری کو ٹوک بھی دیا
    اب خوشی دستک دے رہی تھی تو آپ نے لوٹا دی۔۔
    کون یہ یہ۔خوشی تھی ۔۔ بھکارن
    مجبوری پریشان ہو گئ۔۔
    میں نے پہچانا نہیں ارے سنو خوشی۔۔
    مجبوری نے شیشے سے جھانکا تو خوشی دور تیز تیز قدموں سے جاتی دکھائی دی
    ہمت نے کندھے اچکا دیئے۔
    ۔اب تو چلی گئ آپ نے بے دردی سے لوٹا دیا اسے اب تھوڑی آئے گی ۔اب تو دیجئے گا کسی کو
    مجبوری کو ایک اور حسرت دامن گیر ہوگئ۔۔
    میں کہاں دے سکتی کسی کو خوشی۔۔ آہ بھر کر۔۔ میں تو مجبوری ہوں خوشی کو بھگا سکتی ہوں بس
    چلو بھائی ضمیر جاگ گیا تو مجبوری کو نہیں دیکھتا بس اپنی کرتا ہے پھر۔۔
    اس نے نشست کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ ایک پچھتاوے کا آنسو پلکوں کی باڑ توڑتا مجبوری کےگال پر آٹھہرا تھا۔۔۔


    #shorturdustory #afsanay #vaizazaidi #majboori

    اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #
  • یقین اور گمان yaqeen aur guman kahani

    ١١٠
    اضطراب اسکے چہرے سے عیاں تھا پورے کمرے میں نظریں گھما گھما کر دیکھ رہا تھا
    کسی ایک چیز پر بھی نظر نہین  ٹھہرا رہا تھا
    کبھی دیوار پر آویزاں گھڑی
    کبھی اسکی ہی میز پر رکھا گلدان جس کے پھول ابھی پچھلا مریض نکال کر چبا گیا تھا پلاسٹک کے پھول کھا تو کیا ہی لینا تھا الٹا اسے الٹی کروانی پڑ گئی تھی اسے
    کب ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ تم نے کسی چیز پڑ نظر ٹھہرائی اور وہ ٹوٹ گئی ؟
    گہرا سانس لے کر اس نے پہلا سوال کیا تھا

    یقین اور گمان yaqeen aur guman kahani  مختصر اردو علامتی افسانہ

    میں بارہ سال کا تھا جب میں نے اپنی استانی کو گھورا تھا وہ مجھے ڈانٹ رہی تھیں میں نے گھور کر دیکھا تھا وہ اسی وقت گر کر مر گئیں
    گزرے وقت کی یاد نے جسے اسے اس ہی مکتب  کے کمرے میں پہنچا دیا تھا شاید
    آنکھیں بند کر کے وہ اس منظر میں کہیں کھڑا کانپ رہا تھا
    پھر ؟
    اس نے اسکی تاریخی تفصیل مرض پر نظر ڈالتے ہوئے سرسری لہجے میں پوچھا اسکی پوری توجہ سامنے بیٹھے اس پچیس سالہ نوجوان پر تھی شکل و صورت میں وہ کافی بھلا دکھائی دیتا تھا کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا دراز قد مگر انتہائی گھبراہٹ اسکے چہرے سے مترشح تھی آنکھیں بند اس نے اپنا قصہ سناتے ہوئے کی تھیں مگر ابھی بھی کھولی نہیں تھیں

    یقین اور گمان yaqeen aur guman kahani مختصر اردو علامتی افسامہ

    پھر کیا تب مجھے اندازہ نہیں تھا میں کسی کو دیکھ کر نقصان پہنچا سکتا ہوں میں اسے اتفاق سمجھا تھا مگر پھر میں کالج میں ایک  دفعہ ایک لڑکے کی جان لے گیا میں اسکو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا
    وہ مجھ سے کسی معمولی بات پر جھگڑ بیٹھا تھا مجھے یقین جانے ڈاکٹر صاحب وجہ بھی یاد نہیں اب
    روہانسا ہو کر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا
    اسکی آنکھیں خوبصورتی کی تمام شرائط پر پورا اترتی تھیں بڑی سے کالی سیاہ آنکھیں جن میں ہلکی سی سرخی اسکے رونا ضبط کرنے پر در آئی تھی گھنی سیاہ پلکیں
    یہ آنکھیں کسی لڑکی کے چہرے پر سجی ہوتی تو کتنا خوش ہوتی مسکارا لگانے کی ضرورت نہ پڑتی
    کتنی غیر متعلقہ سوچ اسکے دماغ میں آئی تھی
    آپ سن رہے ہیں نا ڈاکٹر ؟
    گمان کو شک گزرا تھا اور صحیح گزرا تھا
    یقین تو اپنے ذہن میں اسکی آنکھوں پر تبصرہ کرنے میں مشغول تھا جانے اس نے کیا بتایا کیا نہیں
    وہ اپنی غائب دماغی کو کوس کر رہ گیا اب اگر وہ اعتراف کر لے کہ واقعی نہیں سنا تو مریض سے کچھ بعید
    نہیں پیپر ویٹ اٹھا کر اسکے سر پر ہی مار دے اس نے جلدی سے پیپر ویٹ ڈھونڈا میز پر ایک بار کھا چکا تھا وہ سر پر اتنا بڑا گومرا نکل آیا تھا کئی دن اسپتال آنے کے بھی قابل نہیں رہا تھا
    ہاں
    اس نے جلدی سے پیپر ویٹ اٹھا کر اپنی میز کی دراز کھول کر رکھ دیا
    اس سے یہ کیوں سوچا کہ اس میں تمہارا قصور تھا ؟
    اپنے واہمے پر ہی کوئی قصہ سنایا ہوگا
    اس نے ہوا میں تیر چلایا
    وہاں صرف میں اور وہ تھے
    اس کی نظریں اس پر جمی تھیں
    اچھا ٹھیک اور کوئی قصہ سناؤ
    اس نے بحث ٹالی
    پھر میں نے ایک بار اپنے ہی بھائی کو گھورا اس کے ہاتھ کو وہ مجھے چھیڑ رہا تھا اسکا ہاتھ
    اسکا ہاتھ
    وہ ہچکیاں لے کر رو پڑ ااسکا ہاتھ ٹوٹ گیا دو مہینے پلستر رہا ابھی بھی صحیح طرح جنبش نہیں کرتا
    میرا اپنا چھوٹا بھائی مجھ سے ڈرتا ہے میرے پاس نہیں آتا ہے
    اس نے مریض کی گزشتہ زندگی کا احوال دوبارہ  دیکھاکبھی بھی مکلمل ماضی کے حالات جانے بنا وہ مریض سے ملتا نہیں تھا جہاں تک اسے یاد تھا  اسکے بھائی بہن نہیں تھے
    واقعی نہیں تھے
    ہاتھ دیکھتے دیکھتے ٹوٹ گیا تھا یا وہ تمھارے دیکھنے سے لڑکھڑا کر گر پڑا تھا ؟
    سوال اہم تھا وہ رونا بھول کر سوچ میں پڑا
     ہاں وہ ہاتھ جھٹک رہا تھا جیسے اسکے ہاتھ میں بہت جلن ہو رہی تھی پھر گھبرا کر گر بھی گیا تھا
    ہممم اس نے ہنکارا بھرا
    پھر

    پھر میری زندگی میں آرزو آئی
    میں بہت خوش تھا میں بہت پیار کرتا تھا اس سے وہ بہت پیاری تھی ایک دن
    وہ بہت غصے میں میرے پاس آئی کسی اور لڑکی کا نام لے کر بولی میرا اس سے کیا تعلق ہے میں سمجھ نہیں پایا اس دن اسے کیا ہوا تھا اس نے کبھی مجھ پر شک نہیں کیا تھا پر اس دن مجھ پر اعتبار نہیں کر رہی تھی میں نے صفائی دی پھر غصہ آگیا مجھے میں نے اسے گھورا اور وہ
    وہ تڑپنے لگی اسکی آنکھیں پگھل گئیں ڈاکٹر صاحب
    ہیں کیا ہوا اسکی آنکھوں کو؟
    یقین کو تعجب ہوا
    اسکی آنکھیں پگھل گئیں
    وہ اسکی آنکھیں بہہ گئیں
    آپ کو یقین نہیں آرہا تھا میری بات کا آپ کو ملواؤں آرزو سے
    مگر نہیں وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتی آپ کو اسکا پتہ بتاؤں جا کے خود دیکھ لیں
    کاغذ قلم دیں مجھے
    وہ اضطراری انداز میں اسکی میز پر ہاتھ مار رہا تھا
    نیکی اور پوچھ پوچھ اس نے فورا اوراق بند اسے اٹھا کر دیا اور قلم بھی
    لکھ لے تو آدھا اضطراب کم ہو جائے ہر ذہنی دباؤ کے مریض کو اگر اپنا ماضی الضمیر بتانے میں ہی سب سے بڑی مشکل آتی لکھ لے تو آسانی اسے بھی ہوتی سننا تو خیر آسان ہوتا ہی نہیں
    چند جملے گھسیٹ کر اس نے واپس رکھ دیا
    ابھی یقین کو گمان پر یقین نہیں آیا تھا جبھی اس نے زحمت نہیں کی پڑھنے کی
     دوبارہ گمان کے چہرے پر نظر جما لی
    بس یہ تین واقعات کی بنیاد پر تمہیں لگتا کہ تمہاری آنکھیں غیر معمولی قوت رکھتی ہیں؟
    نہیں : اس نے صاف انکار کیا
    میں نے تب مانا کہ میری آنکھیں غیر معمولی ہیں جب
    آرزو کو اندھا کر کے میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا  تو میں نے اپنی آنکھوں میں  سلاخ گھسیڑ لی تھی
    اور دیکھ لیں میری آنکھوں کو کچھ بھی نہیں ہوا
    وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا رہا تھا
    اب یہ تو واقعی نہ ماننے والی بات تھی کوئی اپنی آنکھوں میں سلاخ گھسیڑ لے اور کچھ بھی نہ ہو ایسا ممکن ہے بھلا
    ذہنی دباؤ کے مریض خواب اور حقیقت میں فرق نہیں کر پاتے کبھی کبھی۔ یقینا اس نے خواب میں ایسا کیا ہوگا
    اس نے سر جھٹکا
    تم اپنے بھائی سے ملوانا مجھے میں اسے سمجھاؤں گا کہ وہ تم سے ڈرے نا تم اس سے بہت پیار کرتے ہو اسکو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے
    واقعی اسکی آنکھیں چمکیں
    آپ ایسا کریں گے ؟
    آپ آرزو کو بھی سمجھائیں گے ؟

    اس نے مسکرا کر سر  اثبات  میں ہلایا
    وہ بچوں کی طرح خوش ہوگیا
    میں پاگل نہیں ہوں میں نے بہت بار اپنے گھر والوں کو سمجھانے کی کوشش کی میں پیدا ہی ایسے ہوا ہوں کہ میری آنکھوں میں کشش ہے مجھے اپنی اس طاقت کا اندازہ نہیں تھا جبھی میری وجہ سے بہت نقصان پہنچ گیا دوسروں کو مگر آپ کو بتاؤں انسانوں کو میں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے میں اپنی طاقت پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور میں چیزیں پانچ سیکنڈ تک گھور کر دیکھنے سے توڑ سکتا ہوں
    اس نے دیوار پر ٹنگی گھڑی کی طرف اشارہ کیا
    اس پر لکیر آ چکی ہے
    یقین ہنس دیا
    آپکو یقین نہیں میری بات پر ؟
    اس نے ناراضگی سے پوچھا
    نہیں
    یقین نے سکون سے کہا
    دیکھیں  اس نے گھڑی پر نظر جما دی
    ایک
    دو
    تین
    چار
    پانچ
    یقین گنتی گن رہا تھا
    چھے
    سات
    تڑاخ
    شیشہ ٹوٹ کر چور ہو کر نیچے گرا تھا
    گھڑی دھڑام سے نیچے آرہی
    ایک لمحے کو جیسے اسکا پورا دفتر لرز گیا گمان بجائے اپنی بات کے ثابت ہونے پر خوش ہوتا کپکپا اٹھا
    یقین نے ہلتی میز کو تھاما
    زلزلہ تھا یہ
    اسی وقت دروازہ کھول کر اسکا ملازم جمع سیکٹری اندر داخل ہوا
    سر زلزلہ آ رہا ہے عمارت ہل رہی ہے
    گمان نے بے یقینی سے دیکھا تھا
    جاؤ جا کر آرام سے کام کرو ختم بھی ہو گیا ہے زلزلہ
    یقین نے آرام سے کہا تو وہ بھی یقین کا یقین کر کے پلٹ گیا
    واقعی زلزلہ آیا تھا؟
    گمان کا یقین متزلزل ہوا
    ہاں اس نے سر ہلایا
    مگر پھر میری وجہ  میں نے تو
    اس نے الجھن سے کہتے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا
    دیکھو گمان اور یقین میں بہت بال برابر فرق ہوتا تم نے گمان کیا کہ تمھاری آنکھیں غیر معمولی ہیں اس بات پر یقین پے در پے پیش آنے والے اتفاقات سے تم نے کر لیا
    تم خود سے ڈر گیے تم نے گھور کر دیکھنا چھوڑ دیا
    تم دیکھو بار بار دیکھو تم ہر چیز کو دیکھو دیکھو گے تو تمہیں خود احساس ہوگا تم میں ایسا کچھ غیر معمولی نہیں
    مگر
    اس نے بے چینی سے پوچھا
    مگر وہ لڑکا کیسے مر گیا میری وجہ سے
    کونسا لڑکا
    یقین بھول بیٹھا تھا
    وہی جو مجھ سے لڑ رہا تھا اس نے میری ناک پر مکا مارا میں نے غصے سے دیکھا اسے وہ لڑکھڑا گیا پھر وہ سیڑھیوں کے پاس ہی کھڑا تھا وہ نیچے اترنے لگا پھر چکرا کر گرا اسکی ناک سے خون نکل آیا
    تھا اور
    وہ اور بھی کچھ بتا رہا تھا
    یقین نے یہ گتھی بھی سلجھا  دی ‘
     تم خود بتا رہے ہو وہ سیڑھیوں سے گرا گرنے سے سر پر چوٹ آئی وہ مر گیا اس میں تمہارا کوئی قصور  نہیں
    کیا آپکو یقین ہے ابھی زلزلہ ہی آیا تھا ؟
    ہاں یقین نے سر ہلایا
    مجھے کوئی مضبوط چیز دیکھائیں جو آپکو لگتا ہو میری آنکھوں سے نہیں ٹوٹ سکتی
    میں یقین کرنا چاہتا ہوں
    میں یقین مسکرایا
    اتنی دیر سے مجھے دیکھ رہے ہو کہ نہیں ؟
    کچھ ہوا مجھے
    گمان نے اسے گھورا
    آپ کے سر میں درد نہیں ہو رہا؟
    یقین کے لئے سوال غیر متوقع تھا
    ہو تو رہا تھا سر میں درد مگر صبح سے درجن بھر ذہنی مریض بھگتانے کے بعد سر میں درد نہ ہو تو اور کیا ہو
    ہو رہا ہے
    یقین نے مسکرا کر کہا
    مگر یہ تم سے  ملنے پہلے سے ہو رہا ہے صبح سے بنا وقفہ لئے کام کرنے کی وجہ سے ہورہا
    اسکا تم سے یا تمہاری آنکھوں سے کوئی تعلق نہیں
    گمان چپ چاپ دیکھتا رہا
    پیپر ویٹ نہیں ہے آپکی میز پر
    میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
    یقین نے کندھے اچکا دے اور میز کی دراز سے پیپر ویٹ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا
    ایک
    دو
    تین
    یقین اسکو نظروں میں رکھ کر گنتی گن رہا تھا
    چار پانچ چھے سات آٹھ نو دس
    پیپر ویٹ ثابت سالم میز پر براجمان تھا
    گمان نے سوکھے لبوں پر زبان پھیری
    یقین نے ابرو اچکا کر مسکرا کر دیکھا
    تو اب کیا خیال ہے ؟
    گمان اٹھ کر کھڑا ہو گیا
    کل دو بجے ہم اگلی ملاقات کریں گے
    یقین بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا
    اب کل ملنے کی ضرورت نہیں رہی آپ نے واقعی میرا یقین توڑ دیا
    وہ مسکرایا
    اس وقت کافی بہتر محسوس کر رہا تھا یقین نے کندھے اچکا دے وہ ہاتھ ملا کر خدا حافظ کہتا چلا گیا
    ھففف
    آخری ملاقات تھی یہ آج کی اف بہت تھک گیا وہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر کرسی پر گر سا گیا انگڑائی لے کر اس نے اپنی چیزیں ترتیب دینا شروع کیں
    کچھ کھلونے تھے کچھ آلے مریضوں کی تفصیلی فائل وغیرہ  اب جیسے صبح ایک مریض کو وہم تھا میرا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے بھاری ہے
    اسکو پیپر ویٹ تھما کر اس نے کس مشکل سے یقین دلایا تھا یہ وہ جانتا تھا
    پیپر ویٹ اس نے اسی کے لئے نکالا تھا ورنہ اب ہمیشہ دراز میں ہی رکھتا تھا اس نے دوبارہ یاد آنے پر پیپر ویٹ کو دراز میں رکھنے کی نیت سے اٹھانا چاہا
    اس کے چھونے سے چکنا چور ہو گیا جیسے ٹوٹ پھوٹ  چکا تھا بس بظاھر سالم نظر آ رہا تھا
    یقین گھبرا کر کھڑا ہو گیا
    یہ کیسے ممکن ہے ؟
    کیا واقعی اس نے گھور گھور کر توڑ دیا تھا
    اس نے فورا اطلا ئی گھنٹی بجائی
    اسکا سیکٹری بھاگا بھاگا آیا
    وہ مریض جو ابھی نکل کر گیا ہے اسے بلا کر لاؤ
    سیکٹری سر ہلا کر پلٹ گیا
    اس نے جلدی سے اسکی فائل نکال کر دیکھنی شروع کی
    اسکا سگا کوئی بہن بھائی واقعی نہیں تھا ایک کزن تھا جو پڑھائی کی غرض سے اس کے گھر رہتا تھا
    اس کا ہاتھ ابھی کچھ مہینے قبل ٹوٹا تھا جسکا ذمےدار وہ خود کو مانتا تھا
    وہ مر جانے والا  لڑکا جس کا تذکرہ کر رہا تھا پانچ سال پہلے مرا تھا اسکی طبی تحقیق منسلک تھی جس کے مطابق اسکی موت دماغ کی رگ پھٹنے سے ہوئی تھی
    سر
    پھولی سانسوں کے ساتھ اسکا سیکٹری واپس آیا تھا
    سر وہ جا چکا ہے
    لفٹ تک دیکھ کر آیا ہوں
    سانس  بحال  کر کے اس نے بتایا تھا
    اس کے ساتھ کون آیا تھا ؟
    یقین نے بے تابی سے پوچھا تھا
    کوئی نہیں سر اکیلا آیا تھا
    سیکٹری نے کندھے اچکآیے
    اس نے کوئی رابطہ نمبر دیا تھا؟ دیا ہوگا جا کے آج کے مہمانون  کی فہرست میں اسکا رابطہ نمبر دیکھ کر بتاؤ مجھے
    جاؤ جلدی
    وہ خود نہیں جانتا تھا آخر کس بات پر وہ اتنا گھبرا رہا ہے
    چند منٹوں میں سیکٹری کی واپسی ہوئی تھی وہ فہرست  ہی اٹھا لایا تھا ‘
    سر اس میں تو اس نے کچھ بھی نہین  لکھا
    عجیب سا جملہ لکھا ہے رابطہ نمبر کی بجاے
    لکھا ہے میں گمان ہوں جب بلاؤگے آجاؤنگا
    اس نے الجھن سے پڑھ کر اسے بتایا
    یقین نے اپنے ہونٹ کاٹ لئے آخر کیوں کیسے
    سوال اس کے گرد چکر کھا رہے تھے
    میں آپکو اسکا پتا بتاتا ہوں
    اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا اس نے جلدی سے اوراق بند ڈھونڈا اور تیزی سے صفحے پلٹنے لگا
    سیکٹری حیران سا کھڑا اسکو مضطر دیکھ رہا تھا
    ایک دو تین اس نے جلدی جلدی صفحے پلتے
    زندگی کی سڑک پر قسمت کے مارے جب  بن سوچے موڑ مڑتے ہیں تو پہلا گھر آرزو کا آتا ہے  جا کے دیکھ لو
    آرزو اندھی ہے
    گمان کی آرزو ہے  مگر یقین جب تک متزلزل رہےگا پہنچ نہیں پا ۓ  گا
    ایک دو تین بار بار اس نے اس عبارت کو پڑھا تھا
    سر
    سیکٹری نے پکارا تو وہ بری طرح چونکا
    ہاں
    سر آپکی ناک سے خون بہ رہا ہے
    سیکٹری نے خاصا پریشان ہو کر اشارہ کیا تھا
    آپ ٹھیک تو ہیں
    اس نے ٹھٹھک کر اپنی ناک پر ہاتھ پھیرا گرم گاڑھا خون اسکی انگلیوں پر پھیل گیا
    آپ ٹھیک تو ہیں ؟
    وہ خود اپنے سامنے کھڑا خود سے پوچھ رہا تھا
    میں گمان ہوں
    اس نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا
    مجھ میں اور آپ میں بس اتنا سا فرق ہے آپ مجھے جھٹلا دیں تو میں کچھ بھی نہیں
    گمان اپنا تعارف  کرا رہا تھا  مگر
    یقین کو گمان پر یقین آ گیا تھا

    ………………………………………………

    ختم شد

    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #visit: hajoometanhai

  • معمولی سی بات….mamooli si baat


    Support us

    بات معمولی سی تھی مگر اصفحانئ صاحب کا مزاج ہی گرم تھا کسی سبب۔ بریک آئوٹ میں چائے بنا کر وہ ماجد سے باتیں کرتے اپنی ہی دھن میں نکلا تو سامنے سے آتے اصفحانئ صاحب سے ٹکرا گیا۔ انکی براق سفید قمیض جسے وہ جمعے کی مناسبت سے خوب کلف لگا کر پہنے اکڑے اکڑے سے آرہے تھےاسکی چائے سے رنگی گئ۔ وہ غالبا نماز کیلئے نکل ہی رہے تھے سو بری طرح جھلا گئے۔ 

    اندھے ہو دیکھ کر نہیں چلتے سارے کپڑے برباد کر دیئے۔

    غلطی اپنی تھی سلیم سر جھکا کے سنتا گیا فورئ معزرت بھئ کی مگر پچاس کے پیٹھے میں لمبی داڑھئ شرعئ اونچی ٹخنوں  سے اونچئ شلوار پہنے وہ اتنئ آسانی سے معاف کرنے والے نہیں  تھے۔ سو بھنا کر بڑ بڑاتے گئے۔ 

    خود تو تم لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں نماز روزے کی فکر نہیں دوسروں کا خراب کرنے آجاتے۔ بہن***۔ 

    ایک تو سیدھا ایمان پر طعنہ اوپر سے گالئ وہ بھڑک اٹھا۔ 

    زبان سنبھال کے بات کریں اصفحانئ صاحب۔ 

    اسکے یوں بھڑک اٹھنے پر تو اصفحانی صاحب کا غصہ دوچند ہو گیا۔ 

    کیوں سچائی کڑوئ لگی؟ نماز پڑھنے کا ارادہ تھا بھلا؟ دس سال سے دیکھ رہا ہوں ایک جمعہ اس ****( گالی) نے پڑھا نہیں بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے نجانے کیا کیا ۔۔ 

    بس بہت ہو گیا آپکی عمر کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ منہ توڑ دیتا اس بکواس پر۔خو دکو بڑا حاجی سمجھتے ہیں ٹکے کی۔۔۔

     سلیم جانے کیا کیا  کہنے لگا تھا پر انہوں نے آئو دیکھا نا تائو منہ سے مغلظات بکتے ہاتھ اٹھا دیا پے درپے دو تین مکے کس کر اسکے منہ پر جڑ دیئے۔ 

    اپنے اپنے چائے کے کپ تھامے سلیم اور ماجد اس حملے کے لیئے قطعی تیار نہ تھے۔ سو جب تک حواس بحال کرتا ماجد اور دفتر کے دوسرے لوگ ہیں ہیں کرتے آئے وہ سلیم کا منہ سجا چکے تھے۔ سلیم نے عقل کی لگامیں چھوڑ کر پلٹ کر انکو سبق سکھانا چاہا تو ماجد بیچ میں آگیا۔ کھینچ کھانچ کر اسے وہاں سے لے گیا۔ 

    بیچ دوپہر میں جب انتظامیہ جمعے کی چھٹی پر تھی یہ کاروائی ہوئی۔ اب واپسی پر یقینا منتظم کے ہاتھوں انکی پیشی ہونی تھئ۔ماجد کے ذریعے کھنچتے ہوئے اسے کہیں یہ احساس ہوا تھا کہ پچاس کے پیٹھے میں ہونے کے باوجود انکا ہاتھ کافی بھاری تھا اور یہ بھی کہ اگر ماجد اسے اور دفتر کے دیگر افراد اصفحانئ صاحب کو کھینچ کر الگ نہ کر دیتے تو شائد ٹھیک ٹھاک درگت بن جاتی اسکی۔ 

    آفس سے باہر نکل کر ماجد اسے قریبئ کیفے میں لے آیا تھا۔ اسے بٹھا کر ماجد خود کیفے کی سیلف سروس سے دو کپ چائے بنواکر لایا تب تک سلیم میز پر رکھا ٹشو پیپر باکس تقریبا خالی کر چکا تھا۔ 

    اسکے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا آنکھ بھی سوج چکی تھی۔ آنکھ کے نیچے گلابی اور نیلا دھبہ بھی نمودار ہو گیا تھا۔ 

    ماجد نے تاسف سے دیکھتے چائے کے کپ اور ایک پلیٹ میں آئیس کیوبز لا کر اسکے سامنے رکھ دیں۔

    چائے میں برف ڈال کے پیئے گا؟ 

    ہونٹوں پر ٹشو رکھتے سلیم نے مزاقا کہا۔ 

    تیرے لیئے ہے برف۔ ہونٹ پر رکھ اور اس سے گال بھئ سینک۔ سارا چہرہ بگاڑ دیا ہے اصفحانئ نے۔ 

    ماجد اسکے انداز کے برعکس سنجیدگئ سے بولا تو وہ سر ہلا کر سنکائئ کرنے لگا۔ 

    اصفحانی لگتا ہے بیوئ سے لڑ کر آیا تھا۔ بیوی کے سامنے گیدڑ بن کر گھگھیا تارہا ہوگا یہاں آکر شیر بن رہا تھا۔ سالا 

    اس نے طنزیہ کہتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرا 

    برف پھیرنے سے خون تو رک گیا تھا۔ مگرچائے پینے سے جلن ہو رہی تھئ۔

    اسٹرا لا دوں؟ ماجد نے پوچھا تو وہ ہلکے سے نفی میں سرہلا گیا۔ 

    اتنے سے کچھ نہیں ہوتا میرا۔اس نے لاپروائی سے کہا۔ 

    ابھئ اصفحانئ کو میرا ہاتھ لگ جاتا نا بستر سے نہ اٹھ پاتا۔ 

    بچ گیا۔ 

    ابھئ تو تم دونوں کی پیشی لگے گئ ذرا ڈار صاحب کو آنے دو۔ 

    ماجد کا انداز ڈرانے والا تھا اسکی غلطئ نہیں تھی سو وہ آرام سے کندھے اچکا گیا۔

    چائے پیتے ہوئے یونہی ادھر ادھر کی بات کرتے رہے۔۔ پھر اٹھ گئے۔ حسب توقع پیشی لگئ انکی اصفحانی کو ایک ڈیڑھ گھنٹے میں کافی کچھ سمجھایا تھا دیگر احباب نے سو اس وقت خاصا شرافت کے جامے میں تھا۔ منتظم صاحب نے دونوں کو گھرکا اصفحانئ نے معزرت کی منتظم نے پہلا وارننگ لیٹر جاری کیا اصفحانئ کیلئے بیس پچیس سال کی نوکری میں پہلا دھچکا تھا انکو ڈار صاحب نے لیٹر پر دستخط کرنے سے قبل گھما پھرا کر دو تین بار یہ بات جتائی مگر سلیم معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھاسو انجان بنا رہا۔یوں اصفحانئ صاحب کی معزرت بھی انکے کیریر پر دھبہ لگنے سے نہ بچا سکی۔ وہ سر جھکا کے اور سلیم سینہ تان کرمنتظم کے دفتر سے نکلا تھا۔ 

    پھر باقی دن تو مصروف ہی گزرا ہاں چھٹی کے وقت جب وہ اپنی مہران کی جانب بڑھ رہا تھا تب ماجد ایک بار پھر آیا اس بار اسکے ہاتھ میں میڈیکل اسٹور کا شاپر تھا۔ اس نے نہ سمجھتے ہوئے تھاما تو اندر میڈیکل آئیس پیک آئنمنٹ اور درد کی گولیاں بھی تھیں۔ 

    اوہو اس سب کئ کیا ضرورت تھئ۔ اسے کہنا پڑا۔ 

    ماجد اس کا ماتحت تھا یقینا اسکے آگے پیچھے پھرنا اسکی مجبوری تھئ مگر ماتحت سے یوں چیزیں لینا بھی زیب نہیں دیتا تھا۔ ماجد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ 

    گھر جائوگے۔ بھابئ شکل دیکھ کر پریشان ہو جائیں گئ۔ آنکھ سوجی ہے اور گال اور ہوںٹ دیکھ اپنے۔ حلیہ درست کرکے گھر جا۔

    یہ اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ نائلہ تو پریشان ہوتی ہی اسکے بچے بھئ بوکھلا جاتے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اور مڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔

    ایک بات سوچئ تو نے؟  پشت پر اسے ماجد کی آواز سنائی دئ۔ 

    اس نے پلٹ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا بے حد سنجیدگی سے گھور رہا تھا۔

    بیٹھے بٹھائے یونہی کسی کا غصہ تجھ پر کیوں نکلا؟ پینتیس برس کا ہو کر چھپن برس کے آدمی کے ہاتھوں اس بری طرح منہ ہی منہ پر مکے کیوں کھائے؟ ایک مکا بھی جھکائی نہ دے سکا تو؟ 

    کیوں؟ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔ 

    اسکا مطلب ہے نہیں سوچا۔ اب راستہ بھر سوچتے جانا۔ 

    اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے آرام سے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ماجد نے سر جھٹکا تھا۔ جیسے اسے یقین ہو کہ اس نے سوچنے کی زحمت نہیں کی ہوگی

    دماغ خراب تھا بڈھے کا اور کیا۔ چار نمازیں پڑھ کر خود کو حاجی سمجھ رہا تھا۔پہنچ گیا اوقات کو ملی ہے نا وارننگ اب دیکھے۔۔۔۔۔۔۔ 

    وہ جواب دیئے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ سو چٹخ کر بولنا چاہا ابھئ اسکی بات ختم نہیں ہوئی تھئ مگر ماجد نے ایسے نظر انداز کیا اسے جیسے وہ ہوا سے باتیں کر رہا ہو سر جھٹک کر اطمینان سے قدم اٹھاتا اپنی بائک کی جانب بڑھ گیا۔ 

    اسکی اس حرکت پر سلیم کا خون کھول اٹھا تھا۔ اپنی گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر غصہ قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ ماجد آرام سے اسکی گاڑی کے پاس سے بائک نکالتا چلا گیا تھا۔

    ذیادہ ہی سر چڑھا لیا ہے میں نے اسے۔ دوست سمجھ کر ایک دو گھر کی باتیں کیا کر لیں اوقات دکھانے لگا ہے اپنی۔۔۔۔**** گالیاں۔۔ 

    منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے اس نے گاڑی چالو کر دی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گھر میں داخل ہوتے ہی اسکے بالترتیب آٹھ سالہ اور پانچ سالہ بیٹے بھاگتے آئے اور ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ 

    پا پا آگئے۔ 

    وہ اندر تک سرشار ہو گیا دونوں بیٹوں میں اسکی جان بند تھئ ۔سو خوب لپٹا کر پیار کیا۔

    پاپا یہ کیا ہوا۔ سعید نے اپنے ننھے ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھام کر تشویش سے پوچھا تھا۔ 

    اسے بیٹے پر پیار ہی آگیا۔ 

    بیٹا پاپا کو چوٹ لگ گئ ہے صبح تک ٹھیک ہو جائے گی۔  

    بچہ مطمئن ہو گیا تھا۔ 

    پاپا مجھے بھی آج چوٹ لگی اسکول میں۔ نوید کو فورا اپنی چوٹ یاد آئئ۔ 

    کہاں لگی چوٹ۔ وہ جھک کر اس سے پوچھنے لگا

    نوید نے اپنی شارٹس اوپر کرکے گھٹنا دکھایا وہاں نیل پڑا ہوا تھا۔ 

    اوہو میرا بیٹا بھی پاپا کی طرح بہادر ہے صبح ایکدم فٹ ہو جائے گا۔ہائئ فائو۔۔ 

    اس نے بہلانے کو ہاتھ بڑھایا تو نوید نے خوش ہو کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

    پاپا آج مجھے اسٹار ملا۔ بھائئ پر باپ کی اتنی توجہ چھوٹے میاں کو بالکل نہ بھائی۔ سو ٹھنک کر بتانے لگا۔تو وہ بھی اس کو گود میں اٹھاکر گال چومنے لگا

    اچھا شاباش میرا بیٹا ہے ہی جینئس۔

    پاپا مجھے تو ایکسیلنٹ ملا یہ اسٹار پر خوش ہو رہا۔ آٹھ سالہ نوید ٹھنک کر بولا تو سعید کو غصہ ہی آگیا۔ 

    جھوٹ کوئی ایکسلیلنٹ نہیں ملا۔ 

    جی ملا ہے کاپی پر ابھی دکھائوں ۔۔۔ 

    دونوں میں نوک جھونک شروع ہوئی تھئ کہ کچن سے نائلہ نے پاٹ دار آواز میں جھڑکا

    لڑائی بند کرو اور جائو ڈرائنگ روم میں قارئ صاحب کب سے آئے بیٹھے ہیں تم لوگ منہ ہاتھ دھونے کے بہانے ادھر ادھر پھر رہے ہو۔ 

    ماں کئ پکار پر دونوں دبک گئے۔ اس نے بھی قاری صاحب کی آمد کا سن کر سعید کو گود سے اتار دیا دونوں بچے بھاگ کر بیٹھک کی طرف چلے گئے۔ 

    وہ بھی کچن میں چلا آیا۔ حسب توقع نائلہ چائے دم دے رہی تھی ساتھ کباب تل کے رکھے تھے۔ وہ یونہی اسے مخاطب کرنے کی غرض سے پوچھنے لگا۔ 

    کیا پکایا ہے آج؟ 

    آلو گوشت۔ وہ مختصرا کہہ کر چائے نکالنے لگی۔ 

    وہ چند لمحے یونہی کھڑا رہا پھر پلٹ کر کمرے میں چلا آیا۔ 

    نائلہ یقینا چائے یہیں لے آتئ سو آرام سے تازم دم ہونے بیت الخلا میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھو کر آرام دہ شلوار قمیض پہن کر باہر آیا تو سامنے بیڈ پر ٹرے میں گرما گرم چائے اور کباب رکھے تھے۔ نائلہ کمرے میں نہیں تھی یقینا گھر کا کوئی کام۔نمٹانے میں مصروف ہوگی وہ سر جھٹکتا آرام سے بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔ اس نے کمرے میں ہی ایل ای ڈی لگا رکھی تھی سو ریموٹ پکڑ کر چینل پر چینل بدلنے لگا۔ 

    دھلے ہوئے کپڑوں کو تہہ لگائے ایک بڑا سا ڈھیر اٹھائے نائلہ کمرے میں داخل ہوئی ۔ بیڈ پر جگہ بنا کر رکھے اور الماری کھول کر کپڑے رکھنے لگی۔ 

    اس نے یونہی اس پر نگاہ کی۔ الجھے الجھے بالوں کا جوڑا بنائے وہ سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس تھئ۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی اور ایک دائیں آنکھ کے نیچے دھبا بھی۔ 

    ابھی پچھلے ہفتے کی ہی بات تھی وہ اپنے لیئے دو چار برانڈڈ شرٹس لے آیا تو نائلہ نے جھگڑا شروع کردیا۔ 

    ایسے تو کہہ رہے تھے کہ پیسے نہیں اب یہ اتنی مہنگی شرٹیں کہاں سے آئیں۔ نوید کی یونیفارم کی شرٹ پر داغ پڑ گیا ہے دو ہفتوں سے کہہ رہی ہوں اسے نئی دلا دیں کم از کم آج اپنے ساتھ بچے کی۔بھی لے آتے۔ 

    مہینے کا آخری ہفتہ تھا وہ ویسے بھی جلا بھنا تھا آگے سے بیوی کی کڑوی کسیلی نے غصہ دلا دیا

    اپنے ہی پیسوں سے اپنے لیئے کی گی خریداری جرم ٹھہری بھلا۔ بھنا کر بولا۔

    دنیا کی عورتیں کیا کیا سلیقہ نہیں آزماتیں داغ دبھے چھڑانے کو ایک تم پھوہڑ عورت ہو کہ زرا سا داغ پڑ گیا شرٹ ہی نئی چاہیئے۔ رگڑ کر دھونی تھئ شرٹ صاف ہو۔جاتی۔ 

    سب آزما کے دیکھ لیا چائے کا داغ ہے سفید قمیض سے نہیں اتر رہا اور اپنے لیئے نہیں مانگ رہی تھئ پیسے آپکی اولاد کیلئے ہی مانگ رہی تھئ خود تو دوسال سے اپنے لیئے ایک جوڑا تک نہ بنا سکی ہوں۔ کم از کم اپنی اولاد کا تو خرچہ اٹھا لیا کریں۔ 

    اسکی بات پر دماغ گھوم گیا تھا

    تو کون اٹھاتا ہے خرچہ میکے سے لاکر کھلا تی ہو نوالے میرے بچوں کو؟ 

    آپکا بس چلے تو یہ ذمہ داری بھی میکے پر ڈال دیں میرے۔ 

    وہ بھئ رکی نہیں یوںہی بات بڑھی اس نے بھی ایک کس کے لگا دی منہ پر۔ دو گھنٹے بیٹھ کے روتی رہی۔ خود وہ نوید کو لیکر بازار گیا اسکو شرٹ دلوا کر واپس آیا تب بھی وہ وہیں زمین پر بیٹھئ تھی۔ 

    اب بندہ بشر بھول جاتا ہی ہے۔اتنئ زبان چلانے کی بجائے زرا چپ رہ جاتئ تو مار نہ کھاتئ۔  اس نے بھی خاموشی سے دہی بھلے لا کر اسکے پاس رکھے وہ آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    نائلہ۔ وہ بے ساختہ پکار بیٹھا۔ 

    جی۔ مصروف سے انداز میں کپڑوں کو الماری میں جماتے ہوئے اس نے گردن موڑے بنا فورا جواب دیا تھا

    میرے بیگ میں دوائوں کا شاپر ہے اسمیں ایک آئنمنٹ ہے نکال کر لگا لینا۔۔۔ وہ بے ساختہ کہہ اٹھا۔ نائلہ کے برق رفتاری سے چلتے ہاتھ سست پڑے۔

    ۔ چہرے پر لگتا ہے تمہارے دھبا پڑ گیا ہے۔ 

    اچھا۔ وہ مختصرا کہتی الماری بند کرکے واپس باہر نکل گئ۔ 

    اس نے نا بیگ اٹھایا نا ہی شاپر کھولا۔وہ گہری سانس لیکر  چائے کا گھونٹ بھرنے لگا تو ہونٹ پر شدید جلن کا احساس ہوا۔ 

    ایک بار پھر اسے اصفحانی پر شدید غصہ آگیا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر رات تک نائلہ کو فرصت ہی نہ ملی ۔ اسکے لیئے کھانا لگا کر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی بجائے کچن میں گھس گئ جانے کون کون سے کام نمٹاتی رہی۔ وہ چیں بہ چیں ہو گیا۔ 

    کہاں اسے لگا تھا کہ نائلہ گھبرا جائے گی پریشان ہو جائے گی اسکی ایسی حالت کرنے پر اصفحانئ کو کوسے گی کہاں نائلہ نے پوچھاتک نہیں۔ 

    منہ پر آئنمنٹ کی تہہ لگا کر پھرتا رہا وہ مگر نائلہ نے پوچھ کے نہ دیا بھئ کیا ہوا میاں صاحب۔ 

    رات کو وہ ساڑھے بارہ بجے کمرے میں آئی سب کام نمٹا کر تب وہ بمشکل نیند بھگاکر جاگ رہا تھا۔ 

    منہ ہاتھ دھو کر برش کرکے وہ ایک بجے آکر بستر پر لیٹی تب تک وہ جھلاہٹ کی انتہا تک پہنچ گیا تھا۔ 

    نائلہ۔ ڈھیٹ بن کر پکار ہی لیا۔ 

    ہوں۔ وہ اسکی طرف پشت کیئے لیٹی تھی۔ 

    میں آئنمنٹ لایا تھا لگا لیتیں۔ 

    اس نے کہا تو نائلہ کی بیزار سی آواز آئی

    صبح لگا لوں گی اب میں لیٹ گئ ہوں۔ 

    اسکی بات پر وہ دانت پیس کر رہ گیا پھر غصے میں خود بھی کروٹ بدل لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح حسب معمول تھی۔ نہا دھو کر جب وہ غسل خانے سے باہر نکلا تو استری شدہ کپڑے اسکے بستر پر پڑے تھے۔ باہر بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ 

    نائلہ یقینا انکو ناشتہ کرانے تیار کرنے میں مشغول تھی۔ 

    وہ تیار ہو کر خود کو سنگھار میز کے آئنے میں بغور دیکھنے لگا۔ 

    آئنمنٹ یقینا اچھی تھئ جبھی سوجن آدھی رہ گئ تھی بس اب ہلکا سا نیل پڑا ہوا تھا آنکھ نے نیچے ہونٹ پر بھی پپڑی آچکی تھی۔ 

    وہ چہرے پر دوبارہ لگا کر تیار ہو کر باہر نکلا تو اسکا ناشتہ میز پر سجا تھا۔ گرم گرم پراٹھا انڈا تلا ہوا رکھ کر نائلہ پلٹ رہی تھئ۔ 

    کہاں جا رہی ہوتم ناشتہ نہیں کروگی؟۔ وہ کہہ کر شرمندہ سا ہوا۔ 

    نائلہ اسکے جانے کے بعد آرام سے ناشتہ کیا کرتی تھی سب پھیلاوا سمیٹ کر۔ وہ جب تک گھر میں ہوتا تھا کچھ نا کچھ ناشتے میں اسے چاہیئے ہوتا تھا سو نائلہ کی کچن پریڈ لگئ رہتی تھئ۔ سو اس نے ناشتے پر ساتھ بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ 

    چائے نکال لائوں دم پر ہے۔ 

    وہ مختصرا کہہ کر رکی نہیں۔ 

    دو تین نوالے بعد ہی گرما گرم بھاپ اڑاتا چائے کا مگ سامنے تھا۔ 

    اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ مصروف سے انداز میں بچوں کے ناشتے کے برتن سمیٹ رہی تھی۔ 

    نائلہ نے اسکو دیکھا ہی نہیں یا اسکی چوٹ دیکھ کر بھی انجان بن رہی ہے۔ 

    وہ سوچنے لگا۔ انجان بننے والی بات تکلیف دہ تھی۔ بھلا وہ کیسے اپنے شوہر کی تکلیف یوں نظر انداز کر سکتی ہے؟ دیکھا ہی نہیں ہوگا۔ 

    اس نے سوچ کر ہنکارا بھرا۔ 

    کل اصفحانی سے مڈبھیڑ ہوگئ میری۔عجیب آدمی ہے ہاتھا پائی پر ہی اتر آیا تھا جنگلی جانور۔ 

    پھر سبق سکھا دیا ہوگا آپ نے۔ 

    لمحہ بھر کو برتن سمیٹتے رک کر نائلہ نے کہا اور دوبارہ مڑ کر برتن اٹھاتی کچن میں چلی گئ۔ 

    اس کو اتنا غصہ آیا کہ اگلا گھونٹ چائے کا زرا بڑا بھر لیا۔ 

    ہونٹ پر شدید جلن ہوئی اتنی شدید کہ کراہ اٹھا۔

    سی۔۔ 

    اسکے لنچ باکس کو اٹھا کر لاتی نائلہ اسے دیکھ کر لمحہ بھر چونکی۔ 

    کیا ہوا۔ 

    کیا ہوا کیا مطلب اب دیکھا؟ کل سے ہونٹ سوجا ہوا ہے چہرے پر نیل ہے راہ چلتوں نے دیکھ کر حال پوچھا مجھ سے۔

    وہ بگڑ کر بولا۔ 

    ہوا کیا۔ نائلہ لنچ باکس رکھ کر رسان سے پوچھ رہی تھی۔ 

    اسکا غصہ ایسا ہی تھا ایکدم بھڑک اٹھتا تھا سو اب اسے عادت ہو چکی تھی۔ 

    بتایا توہے  اصفحانی ہاتھا پائی پر اتر آیا معمولی مڈبھیڑ پر۔ وہ تو ماجد بیچ میں آگیا کچھ میں نے اسکی بزرگی کا لحاظ کیا ورنہ ایک میرا مکا پڑ جاتا تو اصفحانی اٹھا نا پاتا ہفتوں بستر سے۔ پورے دفتر کی ہمدردیاں ساتھ تھیں میرے۔ خوب زلیل ہوا۔۔ ایک ایک نے میرا حال پوچھا نہیں پوچھا تو میری ہی بیوی نے نہ پوچھا۔ 

    وہ شکوہ کناں انداز میں کہے بغیر نہ رہ سکا۔ 

    اچھا۔ میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ ابھی دیکھا۔ کوئی آئنمنٹ دیکھتی ہوں پڑا ہوگا تو لگا لیں۔ 

    وہ سادہ سے انداز میں کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئ۔ 

    چائے کا گھونٹ بھرتا سلیم اسکے جملے میں اٹک کر رہ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خلاف معمول وہ آج اپنی نشست سے ذیادہ اٹھا ہی نہیں۔ اوپر سے جو سن رہا تھا کل کیا ہوا اسکی تفصیل جاننے اسکے پاس چلا آتا۔ 

    اصفحانی الگ شرمندہ شرمندہ سا اپنے کیبن میں گھسا بیٹھا تھا۔ کھانے کا وقفہ ہوا تو بجائے کیفے جانے کے اس نے ٹفن وہیں اپنی میز پر نکال کر رکھ لیا۔ 

    کیا بات ہے آج اٹھنا نہیں ہے نشست سے اپنی۔ 

    ماجد اپنا کھانے کا ڈبہ لیئے اسکے پاس چلا آیا۔ 

    نہیں یار سب بار بار کل کیا ہوا پوچھ رہے بہتر ہے منظر سے غائب ہی رہوں۔

    وہ خود بیزار سا بیٹھا تھا۔ اپنا ٹفن کھول کر دیکھا توچکن اسپگیٹی نکلا۔ 

    وہ بیزار سا ہوا۔ اب یہ کیسے کھائوں گا۔

    بھابی کوچاہیئے تھا آج روٹئ یا چاول بنا دیتیں یہ تو منہ میں مزید جلن کرےگا  

    ماجد نے تاسف سے کہا تو وہ ٹفن بند کرنے لگا۔ 

    میں چنے پلائو لایا ہوں تو یہ کھالے اپنا ٹفن مجھے دے دے۔ 

    ماجد پھر اسکی مدد کو آیا۔ 

    وہ منہ بنائے بیٹھا رہا اسی نے ٹفن کھول کر سامنے رکھ دیا۔ 

    ویسے سپگھیٹئ ہے بہت مزے کی۔ 

    ماجد چٹخارے لیکر کھا رہا تھا۔

    اوئے سن آج اصفحانئ کو دیکھا بلیک تھری پیس پہن کر آیا ہے آج منتظم اعلی کیلئے انٹرویو تھا مگر کل ہی وارننگ لیٹر ملا ہے اسے سارئ تیاری دھری رہ گئ بے چارے کا انٹرویو فہرست میں نام ہی نہیں آیا۔ 

    ماجد کی بات پر اسکے کان کھڑے ہوئے۔ 

    واقعی۔ اسے کمینی سی خوشی ہوئی۔ 

    ویسے تیرئ سوجن تو اتر گئ آج۔ تو کل وارننگ لیٹر دینے سے ہی منع کردیتا۔ بھلا ہو جاتا اسکا۔ 

    وہ کن اکھیوں سے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔ 

    ایویں غلطی کی ہے تو سزا بھگتے۔ ویسے مجھے نہیں پتہ تھا انٹرویو ہیں آج۔

    سلیم نے کندھے اچکا دیئے۔ اس کا مزاج بہتر ہو چکا تھا اب رغبت سے چاول کھانے لگا تھا۔ 

    تبھی اصفحانی انکے سامنے سے گزرا۔ سلیم اور وہ خوش گپیوں میں لگے تھے۔ اصفحانی کی شکل دیکھتے ہی سلیم کے تاثرات کڑوے ہوئے اور منہ پھیر لیا۔ 

    اصفحانئ نے اچٹتی سی نگاہ ان پر ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔ 

    اصفحانئ دیکھ کر گیا ہے تجھے۔ دیکھا کیسا بن ٹھن کے آیا ہے

    ماجد نے چٹکی لی۔ 

    سلیم لاپروائی سے بولا

    میں نے تو دیکھا تک نہیں اسے بھاڑ میں جائے میری طرف سے۔ 

    اچھا بھابئ کو کیا بتایا تھوبڑے کا یہ حال کیوں ہوا۔ 

    ماجد ہنسا تو جانے کیوں وہ چڑ سا گیا

    جو سچ تھا وہی بتایا۔ 

    پھر بھی پریشان تو ہوئی ہونگی کل اتنا سوجا ہوا تھا تیرا منہ کہ یقین کر ترس آرہا تھا دیکھ کر تجھے۔ بھابی نے ہلدی دودھ پلایا ہوگا کل تو خوب خاطریں کروائی ہونگئ تو نے

    اسپگیٹی کھاتے ماجد ہنس رہا تھا وہ چڑ کر کہنے لگا 

    کوئی بھی نہیں اس نے تو ۔۔۔۔ 

    وہ کہتے کہتے رک سا گیا۔ باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا

    دیکھا تک نہیں تھا مجھے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     

    ختم شد۔

     

    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول

    #hajoometanhai

  • Hajoom e tanhai zehni bahali markaz case 567

     ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

    مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

    نفسیات دان۔

    عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

    ہجوم بیکراں۔

    وہ ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا تھا۔ اضطراری انداز میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔ گلے میں گٹار لٹکا رکھا تھا۔دونوں ہاتھ گٹار کو بجانے میں مصروف تھے۔ کہنی کرسی کے ہتھے پر ٹکا ئے  ہتھیلی پر تھوڑی جمائے تنہائی اپنی آرام دہ کرسی پر دراز تھی ۔ دوسرا ہاتھ میز پر دھرا تھا جس کی انگلیوں سے وہ گول سا پیپر ویٹ گھما رہی تھی۔ مستقل مسلسل وہ ایک چکر میں تھامگر اس سے بے نیاز بیزاری سے اسکے چلتے وجود کے ساتھ نظریں گھماتی تنہائی مکمل طور پر عزم کی جانب متوجہ تھی۔عزم ٹہلتے ٹہلتے تھکا ہاتھ شل ہو رہے تھے گٹار کی تار ٹوٹی اور اسکی تان بھی۔ رکا ٹھٹکا پھر پلٹ کر تنہائی کی جانب بڑھا۔ م

      سنا آپ نے۔ عزم خود کو کسی مشہور پاپ فنکار سے کم نہ سمجھتے ہوئے اس سے داد چاہنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔

    تنہائی نے نفی میں سر ہلایا۔

    کیسے ممکن ہے اتنی دیر سے بجا رہا ہوں گٹار آپ نے سنا ہی نہیں ۔۔

    اسکی حیرت دو چند ہو گئ۔ چیخ ہی تو پڑا

    تنہائی نے ہونٹ بھینچ لیئے۔

    یہ دیکھیں گٹار بجا بجا کے میری انگلیاں فگار ہو گئیں۔۔

    اس نے اپنی زخمی انگلیاں دکھائیں۔

    گٹار ٹوٹ گیا یہ لٹکتے تار پر  جما یہ خون۔ وہ چلا اٹھا تھا میز پر دونوں ہاتھ مارتے وہ  جھلاہٹ کی انتہا پر تھا۔ تنہائی پر اسکے کسی ردعمل کا کوئی اثر نہ تھا اسی بے تاثر چہرے سے دیکھ رہی تھی اسے۔ وہ چند لمحے جواب طلب نظروں سے دیکھتا رہا پھر مایوس سا ہو کر رخ موڑ کر جانے کو تھا کہ تنہائی کی آواز نے ٹھٹکا دیا۔

    تم نے کسی اور کو سنایا گٹار کبھی؟

    اسکا دم رکنے کو آیا۔ سانس سینے میں اٹکی رہ گئ۔ چند لمحے دم بخود سا رہ گیا۔

    تنہائی نے سوال دہرایا تو پلٹ کر سراسیمہ سے انداز میں وہ تنہائی کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔

    کیا آپکو بھی گٹار کی آواز سنائی نہیں دی؟ کیا آپکو بھی نہ گٹار دکھائی دیا نا ہی میری زخمی انگلیاں؟

    اسکی آواز میں خوف لرز رہا تھا۔آنکھوں میں التجا جھلک رہی تھی۔

    کہہ دو ہاں۔ دیکھا سنا زخم دیکھے۔

    مجھے نہ گٹار دکھائی دیا نا سنائی۔ تمہاری فگار انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں بے چینی سے جیسے انکو اس چھڑی پر چلا رہے تھے زخمی تو ہونا تھا انہوں نے۔

    تنہائی تو دنیا سے بھی ظالم نکلی۔ اسکے اپنے اسے جھٹلاتے رہے گٹار کے وجود سے انکاری رہے اسکو نفسیاتی سمجھ کر تنہائی کے پاس علاج کروانے بھیج ڈالا مگر تنہائی نے تو گٹار کو گٹار سمجھا بھی نہیں معمولی چھڑی قرار دے ڈالا۔

    وہ وحشت ذدہ سا ہو کر اپنے ہاتھوں میں تھامی چھڑی دیکھنے لگا۔

    یہ لو انگلیوں پر لگا لو صبح تک زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔

    اسے سوچ میں پڑا دیکھ کر تنہائی نے سیدھا ہو کر اپنی میز کی دراز کھولی۔ آئنمنٹ اور پلاسڑ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔

    عزم نے حیرت سے تنہائی کو دیکھا۔

    یہ ۔۔ یہ کیا ہے؟

    اس نے کاغذ کے ٹکڑوں اور تیل میں بھیگے کوئلے کو آئنمنٹ اور پلاسٹر کہہ کر اسکی جانب پھینکا تھا۔

    آئنمنٹ اور پلاسٹر۔

    تنہائی کا انداز سادہ سا تھا۔ مزاق کی رمق تک نہ تھی۔

    پاگل سمجھا ہے مجھے کیا؟ یہ عزم نے غصے سے دونوں چیزیں اٹھا کر دیکھیں پھر میز پر پھینک دیں

    سفید براق کاغذ کالا ہو چلا تھا تو تیل میں بھیگے کوئلے سے اسکی انگلیاں۔

    یہ تیل میں بھیگے کوئلے اور کاغذ تم مجھے دوا کہہ کر دے رہی ہو ؟ تم مجھے پاگل سمجھ رہی ہو مگر خود پاگل ہو چکی ہو۔

    وہ حلق کے بل چکایا۔ 

    میں کیوں کوئلے تیل میں بھگو کر اپنی دراز میں رکھوں گی بھلا؟

    اسکے انداز کے برعکس تنہائی نے نہایت رسان سے

    جواب دیا تھا

    ادھر لائو میں تمہارا زخم صاف کردوں۔

    وہ حیرت زدہ سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ خود اٹھ کر اسکے پاس آئی نرمی سے ہاتھ تھام کر کوئلے کا لیپ کیا اور کاغذ سے انگلی کو لپیٹ دیا۔ کاغذ ٹک نہیں رہا تھا تو سفید ٹیپ میز سے اٹھا کر اس پر چپکا دی۔

    تنہائی کی انگلیاں کالی ہو چکی تھیں۔ اپنے چہرے پر آتی بے پروا کالی لٹ کو اس نے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے گال پر کالا نشان لگا لیا تھا۔ مگر اسکا اطمینان قابل دید تھا۔اتنا کہ عزم کو اپنے یقین پر گمان غالب  آنے لگا۔جھجکتے ہوئے اس لڑکی سے جو عمر میں چند سال بڑی تھی اس سے کہنے لگا

    میں ہوں نا فنکار۔ یہ گٹار بجانا آتا ہے نا مجھے؟

    میں کیا جانوں کبھی گٹار بجا کے سنوائو تب ہی بتا سکتی۔

    وہ اطمینان سے کہہ کر دوبارہ اپنی نشست کی۔جانب بڑھ گئ۔

    وہ مایوس سا ہو گیا تھا۔

    پھراسکا کیا کروں؟

    اس نے مایوس سے انداز میں پلٹ کر پوچھا۔ تنہائی کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔اسکی بات پرچونکی۔

    فی الحال تو گھر جائو اور سو جائو یہ نسخہ ہےاگلی بار اگر پھر اپنا آپ گٹار بجاتے ہوئے محسوس ہو تب ہی آنا ورنہ میرے حساب سے تمہارا علاج ہو گیا ہے۔

    وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی تھی۔

    میکانکی انداز میں عزم نے اس سے پرچہ پکڑا۔

    دو تین کلو دوائیاں پھر اسکے نصیب میں کھانا لکھی تھیں۔

    وہ کندھے سے لٹکتے گٹار کے بوجھ کو سہارتا سر اثبات میں ہلاتا مڑ کر جانے لگا۔

    اگر بوجھ ذیادہ ہے اس چھڑی کا تو یہاں دروازے پر رکھ دو۔

    عقب سے نرم سی آواز آئی تھی تنہائی کی۔

    اس نے لمحہ بھر سوچا پھر گٹار کا فیتہ اپنے گلے سے اتار کر احتیاط سے دروازے کے پاس دیوار سے ٹکا دیا۔ اور احتیاط سے دروازہ کھول کر شکستہ سے انداز میں باہر نکل گیا۔ خود۔کار دروازہ اپنے بوجھ سے واپس بند ہوا تو وہ اطمینان سے دراز سے آئینہ نکال کر میز پر رکھے ٹشو باکس سے اکٹھے کئی ٹشوز کھینچ کر چہرے پر لگی کالک صاف کرنے لگی۔

    چہرہ صاف کر کے اس نے احتیاط سے آئینہ واپس رکھا۔ اور دراز سے اپنی ذاتی ڈائری نکال کر لکھنے لگی۔

    کیس 567

    عزم بہت برا گٹار بجاتا ہے اسکو سننے سے بہتر یہی ہے کہ عزم یہ سمجھے کہ گٹار گٹار نہیں چھڑی ہے۔ یقینا اسکی زندگی اب آسان ہو چکی ہوگی۔

    اس نے لکھ کر ڈائری بند کردی۔

    تو آج مزید کوئی اپائنٹمنٹ نہیں ہے میری ۔

    اس نے خوش ہو کر زیر لب کہتے ہوئے دونوں بازو  اوپر کر کے زوردار انگڑائی لی۔ اٹھی دفتر پر تنقیدی طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے  دروازے کے پاس آئی عزم کے گٹار کو اٹھایا۔ بس ایک ہی تار الگ تھی اسکو نہ چھیڑتے ہوئے وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور گٹار کا فیتہ کندھے سے گزار تے ہوئے آنکھیں بند کرتے ہوئے گٹارپر اپنی پسندیدہ دھن چھیڑ دی۔۔۔۔

    ختم شد۔

    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

  • Lakeer e waqt urdu afsana about time and space

    مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔ نفسیات دان۔عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

    ۔۔۔۔۔ لکیر وقت

    Hajoom E Tanhai qoutes

    ایک عمر سے اس نے نگاہ نفسیات دان کی آنکھوں پر جما رکھی تھی۔جیسے
    آنکھوں سے اسکے دل کا حال پڑھ لینا چاہتا ہو۔
    مگر دل کا حال نگاہوں سے بیان کرنا اسے نہیں آتا تھا۔ جبھی مریض کی نگاہوں کا مرکز وہ نفسیات دان صرف الجھن ذدہ تھی کہ آخر اس ٹھیک ٹھاک سمجھدار دکھائی دینے والے انسان کو کیا معاملہ درپیش ہے جو یوں وحشت زدہ سا پلک جھپکائے بنا اسے گھورے جا رہا تھا۔ آج کا پہلا اور شائد آخری مریض یہی ہونے والا تھا۔ ہجوم کو گھنٹہ لگا تھا اس نتیجے پر پہنچنے میں کہ اگلی ملاقات کو وقت دے یا نہیں۔اس نے گہری سانس لیکر انٹرکام پر اپنی ذاتی معاون ملازمہ کو ہدایت دی کہ بقیہ تمام ملاقاتیں منسوخ کرکے انکو نئے اوقات کار بتا دے۔
    فون رکھ کر اس نے بلا ارادہ اس نے میز پر دھری اپنی پسندیدہ تجریدی عجیب و غریب گھڑی کو دیکھا جو صرف چار سوئیوں پر مشتمل تھی۔ یہ سوئیاں ہوا میں معلق تھیں انکے کنارے ایک سکے جتنی چھوٹی مشین میں پیوست تھے۔ ایک سوئی سیکنڈوں کے حساب سے مسلسل حرکت میں تھی باقی دو گھنٹے اور منٹ بتاتی تھیں مگر کیسے یہ صرف ہجوم تنہائی کو خبر تھی۔ چوتھی سوئی عموما الارم کی ہوتی ہے مگر عام گھڑیوں میں اس خاص گھڑی میں یہ سوئی کسی خاص مقصد کیلئے تھی۔
    اس پر نگاہ جمائے اسکا مریض اس گھڑی کی طرف اشارہ کرکے پوچھ رہا تھا۔
    کیا وقت ہو رہا ہے؟
    بنا پلک جھپکائے ہی اس نے پوچھا تھا۔
    ایک بج کر پینتالیس منٹ۔
    ہجوم نے گہری سانس بھری۔ تو یہ لکیر وقت میں الجھا مسافر ہے۔ اسکا مسلئہ وہ لمحوں میں حل کر سکتی تھی۔ مگر وہ اس مسلئے میں الجھ کر یقینا ایک عمر گنوانے والا تھا۔
    میں بارہ بج کر پینتالیس منٹ پر آیا تھا۔ دیکھا آپکو خبر بھی نہ ۔ہوئی اور ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔۔
    دبے دبے جوش سے وہ چیخ اٹھا تھا۔ہجوم کو اپنا کان سہلانا پڑا۔
    دیکھیئے آپ
    آپکے خیال میں مجھے یہاں بیٹھے کتنا وقت گزر چکا ہے۔
    پانچ منٹ۔ ہجوم گڑ بڑائی۔
    نہیں مجھے گھنٹے سے اوپر ہو چکا ہے یہاں بیٹھے۔
    اس نے بے تابی سے بات کاٹ کر تصحیح کی۔
    اچھا۔ ہجوم نے ہنکارہ بھرا۔ اسکی بات کو غلط کہنا یا ثابت کرنا اسے مشتعل کر سکتا تھا۔
    میں اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر وقت نہیں رہا ہے میرے پاس مجھ سے چھنتا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کب صبح ہو تی ہے کب لمحہ بھر کے وقفے سے سہ پہر کب شام۔ مجھے اتنا کچھ کرنا ہے جو میں وقت کی کمی کے باعث نہیں کر پا رہا ہوں۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتا میرے سوا کسی اور کو یہ احساس کیوں نہیں ہو رہا ہے کہ زمین کروٹ لے چکی ہے اب وقت گزر نہیں رہا بھاگ رہا ہے یہ ہاتھوں سے پھسل رہے ہیں لمحے۔
    وہ بنا رکے بولتا چلا گیا تھا۔ دونوں ہاتھوں کو اس نے اسکے آگے پھیلا دیا تھا جیسے واقعی وقت اسکی مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔
    کیا یہ اچھی بات نہیں کہ آپکا وقت گزرتا جا رہا ہے؟
    ہجوم نے بغور اسکی کیفیت جانچتے ہوئے سوال کیا تھا۔
    ہرگز نہیں۔ وہ میز پر زو رسے ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا
    مجھے وقت ہی اتنا نہیں دیا گیا جتنا مجھ سے قبل نسل انسانی کو دیا جاتا رہا ہے اور مجھ سے میں توقع رکھتا ہوں زماں و مکاں کھوج لینے کی کیسے کروں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے جب لوگوں کے پاس وقت تھا تب سوچ نہیں تھی اب میرے پاس سوچ ہے تو وقت کا دھارا رفتار پکڑ چکا ہے۔کیا یہ میرا قصور ہے کہ میں آج اس دور میں پیدا ہوا جب وقت پھسل رہا ہے ؟ مجھے اس و قت کیوں نہ پیدا کیا گیا جب وقت تھا؟ اور اگر مجھے اب پیدا کیا ہے تو مجھے اس لکیر وقت میں پھنسا دیا ہے جہاں صبح و شام پلک جھپکنے جتنے دور رہ گئے ہیں؟۔۔
    اسکی آنکھوں میں خوف خلفشار بے بسی غصہ کیا کچھ نہ تھا۔ اسکا سوالیہ وجود خود ایک نیا سوال تھا۔ مگر کیا یہ فانئ وجود جانتا تھا کہ
    اسکے سوال بے مایہ تھے۔یہ ہجوم تنہائی کے بس میں تو نہ تھا کہ اسکی لکیر وقت پلٹ دے ہاں اس کیفیت سے گزر چکی تھی بلکہ گزر رہی تھی سو اسکو سمجھنے والی شائد وہ اسکی دنیا کی واحد انسان تھی۔ ورنہ لوگوں کو تو احساس بھی نہ تھا کہ دنیا کیسی قیامت کی چال چل چکی ہے۔ ان سے لمحے گزارنے کا حق چھین لیا گیا تھا۔کیونکہ اب انجام قریب تھا۔
    ہر چیز کا انجام ۔۔۔
    لیکن ادراک ایک ایسا زنداں ہے جو قیدیوں کو ذہنی کشمکش میں ڈالتا ہے۔ ان سے جسمانی نہیں روحانی بیگار لیتاہےاور یہ بیگار بے کار ہے۔
    یہ گھڑی دیکھ رہے ہیں آپ؟
    اسکے غیر متوقع سوال پر فانی نے بد مزا سا ہو کر اسے دیکھا۔
    آپکے خیال میں چوتھی سوئی کس مقصد کیلئے ہے؟
    ہجوم نے اسکے تاثرات یکسر نظر انداز کیئے۔
    اسکی بات کے جواب میں فانی وجود گھڑی کو گھورنے لگا۔ اسکی آنکھوں کی پتلی پھیلی سکڑی بے تحاشہ متحیر ہو کر اس نے ہجوم کو دیکھا۔
    یہ جو بنا جھٹکا لیئے بنا رکے چلتی چلی جا رہی ہے لمحوں یا سیکنڈوں کی سوئی ہے۔
    ہجوم تنہائی اسکے کسی اور ذہنی الجھن میں نہیں ڈالنا چاہ رہی تھی سو خود ہی اس گھڑی میں وقت دیکھنا سکھانے لگی۔
    یہ جو وقفے وقفے سے چل رہی ہے منٹوں کی ہے اور یہ جو رکی ہوئی ہے یہ گھنٹہ مکمل ہونے پر چلے گی۔ اور یہ چوتھی عموما الارم کی ہوتی ہے مگر۔
    یہ یہ۔۔ الارم کی نہیں ہے ۔ ہے نا؟
    فانی نے بے تابی سے بات کاٹی۔
    اس وقت اس گھڑی میں ایک بج کر پینتالیس منٹ ہو رہے ہیں ہیں نا؟
    وہ پرجوش تھا۔ ہجوم چونکی۔ یہ پہلا انسان تھا اس کے سوا جس نے اس گھڑی کو دیکھ کر وقت کا درست اندازہ لگایا تھا۔
    خلا میں تھرکتی سوئی لحظہ بھر رکی افسوس سے دونوں وجودوں کودیکھا پھر بڑھ گئ۔ یہ لمحوں کی سوئی کی حرکت دونوں محسوس بھی نہ کرسکے۔ اس لحظے نے گھڑی کو روک دیا تھا لمحہ بھرکیلئے نہیں ایک عمر کیلئے مگر ابھی یہ دونوں ادراک کی اس منزل تک نہ پہنچ پائے تھے۔
    ہاں۔ یہ الارم کی نہیں ہے۔ بالکل صحیح سمجھے آپ۔اور شام ڈھل رہی ہے آپکا بہت وقت ضائع ہوگیا ہے۔
    ہجوم نے سمجھانا چاہا۔
    یہ دیکھیں میری گھڑی۔
    اس نے اپنی کلائی ہجوم کی نگاہوں کے سامنے کی نہایت مہنگی اینڈرائڈ گھڑی شام پانج بج کر پینتالیس منٹ وقت بتا رہی تھی۔
    وہ کف افسوس ملنے لگا۔
    اب آپکو سمجھ آیا کہ میرا گھنٹہ تیزی سے گزر رہا ہے مجھے آپ سے ملاقات کیلئے آئے ایک گھنٹہ ہوا ہے اور شام ہونے لگی ذرا ملاقات کا وقت دیکھیئے صبح بارہ پینتالیس۔ اس نے اپنی ڈائری کھول کر سامنے رکھی۔
    ابھی آپ سے چند منٹ قبل وقت پوچھا تو آپ نے ایک بج کر پینتالیس منٹ بتایا تھا اور اب دیکھیں چند منٹوں میں گھنٹے گزر گئے ہیں۔ کیا یہ میرے ساتھ قدرت کا مزاق نہیں؟
    وہ متوحش سا پوچھ رہا تھا۔
    اس گھڑی کے مطابق آپکو یہاں چار گھنٹے سے زائد وقت ہو چکا ہے ۔
    ہجوم تنہائی نے دراز سے ایک ڈیجیٹل گھڑی نکال کر سامنے رکھی۔
    آپ بارہ پینتالیس پر ہی آئے تھے یہ وقت آپکی گھڑی آپکے موبائل کی گھڑی اس دنیا کی گھڑی کے مطابق وقت بتا رہی ہے۔
    اور یہ گھڑی ۔۔ اس نے عجیب و غریب سوئیوں والی گھڑی کی جانب اشارہ کیا
    دنیا کا وقت اسے ہی بتاتی ہے جو دیکھنا چاہتا ہے۔
    فانی نے ہجوم پر نگاہ جما لی دوبارہ۔
    پورے پینتالیس سیکنڈ میں نے پلک نہیں جھپکائی مگر پلک
    جھپکتے ہی چار گھنٹے گزر چکے تھے۔۔
    ہم وقت روک نہیں سکتے فانی۔
    ہاں ادراک ہو گیا ہے آپکو کہ وقت تیزی سے گزر گیا ہے۔ یہ تو نہیں کہوں گی کہ اچھا ہوا ۔ جان جانا جان لیوا احساس ہے مگر اب
    اسی احساس کے ساتھ یہ بھی جان لیں کہ شام ڈھل رہی ہے۔۔
    ہجوم نے اپنی پشت پر گلاس وال کی جانب اشارہ کیا۔ جس سے باہر کی رواں دواں زندگی عریاں ہو رہی تھی۔ شام کے دھندلکے رات کی تاریکی میں بدل رہے تھے مگر شہر کی روشنیاں تاریکی پھیلنے نہیں دے رہی تھیں۔ ایک چمکتا دمکتا روشن شہر۔
    جسکو ابھی لمحوں کی چال کا ادراک نہیں ہوا تھا
    فانی نے سٹپٹا کر ہجوم کو دیکھا جسکے چہرے پر طویل ترین دن کی تمام تھکن اتر آئی تھی۔
    تو کیا آپکو بھی ادراک ہوا ہے یہ کہ وقت معمول سے تیزی سے گزر رہا ہے؟
    فانی نے بے یقینی سے دیکھا اسے۔
    ہجوم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ فانی کا وجود ایک دم ڈھیلا سا پڑ گیا۔ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح چند لمحے میز پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھکا کھڑا اپنی سانسیں بحال کرتا رہاپھر یونہی بنا مڑ کر دیکھے باہر جانے لگا۔
    یہ چوتھی سوئی جانتے ہیں کس چیز کی ہے؟
    ہجوم کی آواز اسے پشت پر سنائی دی۔ وہ ٹھٹکا۔ ایک زخمی مسکراہٹ چہرے پر در آئی۔ مڑ کر دیکھا۔ہجوم کو جواب معلوم تھا مگر پھر بھی وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
    یہ ادراک کی سوئی ہے۔ اور میری اور آپکی اس ملاقات کے درمیان چار مرتبہ اپنےمدار میں چکر مکمل
    کر چکی ہے۔
    اس نے لحظہ بھر کو ہجوم کے جواب کا انتظار کیا۔ مکمل خاموشی اسکا جواب تھی۔
    وہ تیز قدموں سے نکلتا چلا گیا۔

    پانچ بار ۔ ہجوم نے گہری سانس بھری۔ وہ یقینا ایک منزل پیچھے تھا ۔
    اسکے نکلتے ہی اسکی ذاتی معاون اندر چلی آئی۔

    میم میں نے کل کی ملاقاتوں کی فہرست بنا دی ہے کل آپ کو آج کےدو منسوخ ہو جانے والے ملاقاتیوں
    سے بھی ملنا پڑے گا۔
    ہجوم تنہائی نے ہنکارہ سا بھرا وہ اسی عجیب گھڑی پر نگاہ جمائے کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہتھیلی کے پیالے میں چہرہ دھرے گہری سوچ میں تھی۔
    یہ بتائو یہ چوتھی سوئی کتنے چکر لیتی ہے ایک گھنٹے میں؟
    سوال اچانک تھا
    معاون نے غور سے گھڑی کو دیکھا۔
    مگر مادام اس میں تو چوتھی سوئی ہے ہی نہیں؟
    اسکا جواب ہجوم کیلئے غیر متوقع نہیں تھا
    سو ہلکے سے مسکرا کر سر کے اشارے سے اسے جانے کی اجازت دی۔
    باہر نکلتے ہوئے اس نے یونہی مڑ کر دیکھا۔ ہجوم تنہائی مسکراتے ہوئے گھڑی پر نگاہ جمائے گلوب کی شکل کے پیپر ویٹ کو انگلیوں میں تیزی سے گھما رہی تھی۔
    مادام چوتھی سوئی کا حساب کرنے بیٹھ تو نہیں گئیں؟ پچھلی بار گھنٹوں کھوئی رہی تھیں اسکو دیکھنے میں ۔ جبھی اسکے وجود سے ہی انکاری ہو گئ میں آج۔
    باہر نکلتے ہوئے اس نے سرجھٹکا۔
    پتہ نہیں یہ عجوبہ ملا کہاں سے ہے انہیں۔ چار سوئیوں والی بے ڈھب گھڑی جس میں نا ڈائل نہ ہندسے۔
    جانے مادام وقت کیسے جانتی ہیں اس سے۔
    اس نے سوچا پھر کندھے اچکا تی اپنے کائونٹر کی جانب بڑھ گئ۔
    چوتھی سوئی لمحے میں سینکڑوں بار گھومتی ہے لمحوں کی سوئی مات کھا جاتی ہے کون حساب رکھ سکتا ہے بھلا اسکا کہ ایک گھنٹے میں کتنی بار چکر لگا گئ؟
    ہجوم تنہائی نے سوچا تھا۔
    پھر اپنی دراز سے ریکارڈ والی ڈائری نکالی۔
    کیس نمبر658

    فانی ادراک کے لمحے کا اسیر ہے۔
    جسکو ادراک ہو جائے وہ یا تو پاگل ہو جاتا ہے یا پاگل کہلاتا یے۔
    یقینا فانی اب پاگل ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔
    اسکو جھٹلا کر عام انسان بنایا جا سکتا ہے مگر یہ کام میں کیوں کرتی جبکہ مجھے پتہ ہے وہ پاگل نہیں ہے۔
    اس نے لکھ کر قلم بے چینی سے میز پر پٹخا۔
    کمرے میں گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔اس نے گھڑی پر نگاہ کی تو گھنٹہ مزید گزر چکا تھا۔
    ہائش۔
    وہ تیزی سے اپنا سامان سمیٹنے لگی۔ زندگی کی دوڑ میں وقت کی لگام اسکے ہاتھوں سے چھٹ رہی تھی۔ اور وہ بے چین تھی۔ بد حواس اور متوحش بھی۔
    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

  • دعا مختصر سبق آموز افسانہ

     

    اردو انوکھی سبق آموزاخلاقی علامتی کہانیاں، ہجوم تنہائی اقوال زریں، ناولٹ ، ناول سفری ناول  مختصر افسانے ناول خواتین شعاع

    یا اللہ میری ماں کو لمبی زندگی دے صحت دے۔ 

    گڑ گڑا کر دعا مانگتی وہ لڑکی اسپتال کے جنرل وارڈ کے ایک کونے پر جائے نماز بچھائے خدا سے فریاد کناں تھی۔ 

    اسکے قریب ہی ایک بستر پر بیٹھی نحیف و نزار بڑھیا اپنے بستر سے اتری لڑکھڑاتے قدموں سے پاس آئی لڑکی کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا۔ 

    لڑکی نے آنسو بھری نگاہ اٹھائی۔ 

    اس بڑھیا نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا

    ماں کیلئے لمبی عمر کی بد دعا نہ کرو بیٹی۔۔ رہنا تو اسے تیرے بھائی کے پاس پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

  • Jugnu |urdu horror story| zindagi zyadah heran kun hay

     
    بابر کو خوب اچھی طرح تھپک تھپک کر سلاکر اس

    نے کمر سیدھی کی۔ جانے دو ایک دن سے خوب چڑ چڑا کیوں ہو رہا تھا ۔ زرا اکیلا چھوڑو جاگ جاتا اور خوب روتا ۔ اب بھی فیڈر پی کر بمشکل سویا تھا۔ پورا  گھر پھیلا پڑا تھا نہ صرف صفائی ہونی باقی تھی بلکہ کھانا بھی پکانا تھا۔ اس نے احتیاط سے چھے مہینے کے گپلو سے بابر کا ماتھا چوم کر اسے کاٹ میں لٹایا۔ صبح تابش نے جاتے ہوئے کمرہ الگ بکھرا دیا تھا۔ تولیہ بیڈ پر کپڑے زمین پر ۔ اس نے گہری سانس لیکر کمرہ سمیٹنا شروع کیا آدھا گھنٹہ لگ گیا اسی میں۔ مگر کمرے کی شکل نکل آئی۔ ابھی دو کارٹن کمرے کے کھلنے والے باقی تھے مگر ابھی وقت نہیں تھا۔ انہیں دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتی باہر آگئ۔ بابر کم از کم بھی دو گھنٹے تو آرام سے سوئے گا سو یہی سوچا کہ کچن اور لائونج سمیٹے کھانا پکائے۔ تابش تو اس سے خفا خفا کسی کام کو۔ہاتھ لگانے کو تیار نہ تھا۔ انہیں ایک ہفتہ ہی ہوا تھا یہاں منتقل ہوئے۔ پہلے وہ بھرے پرے سسرال میں رہتی تھی چار نندیں دو دیور ایک عدد غصہ ور ساس ماتھے پر شکن لائے بغیر اس نے ان سب کی خدمت کی تھی۔مگر شادی کے پانچ سال بعد بھی اسکی گود سونی رہی تو ساس نے خوب ہلہ مچایا اپنی بہن کی بیٹی سے رشتہ بھی پکا کردیا تابش کا۔ انیقہ روٹھ کر میکے جا بیٹھی جب اس کو بابر کی خوش خبری ملی۔  پورے نو مہینے وہ میکے رہی تابش نے شادی تو نہ کی مگر اسکے دل میں گرہ پڑگئ۔ جبھی بابر کے بعد پہلی شرط یہی منوائی کہ الگ گھر لیکر رہے گی۔ یہ معاملہ مزید چھے مہینے کھنچا مگر بیٹے کی ماں بن کر اسکے قدم مضبوط ہو چکے تھے سو تابش کو اسکی ماننی ہی پڑی۔ الگ گھر لیا مگر خفگی کے طور پر کسی کام کو ہاتھ نہ لگایا۔ الٹا روز شام کو ماں کے گھر جا کے کھانا کھا کے رات گئے آتا۔ ایک ہفتہ ہونے کو آیا سامان ابھی تک مکمل نہ کھلا نا ٹھکانے لگ سکا مگر انیقہ نے جتایا تک نہیں خود ہی خاموشی سے لگی رہی خیال یہی تھا کب تک اس معمول کو نبھائیں گے۔ ابھی بھی کھانا پکانے باورچی خانے چلی آئی۔ سوچا تھا بریانی بنا لے گی اور اصرار سے تابش کو کھانے پر یہیں بلا لے گی۔ بریانی ویسے بھی تابش کی کمزوری تھی۔ اس نے چاول بھگوئے اور پیاز چھیلنے بیٹھ گئ۔۔ تبھی اسے بابر کی قلقاری کی آواز سنائی تھی۔ پہلے تو وہ وہم ہی سمجھی مگر پھر جب واضح طور پر آواز آئی تو چھری رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ لائونج میں لگے گھڑیال نے گھنٹے بجانا شروع کیئے۔۔ ایک دو۔ اس نے چونک کر نگاہ کی تو عین بارہ بج رہے تھے تابش کی ایک بجے لنچ بریک ہوتی ہے۔۔ اسکے پیروں میں پہیئےلگ گئے اب بابر اٹھ گیا تو ایک گھنٹے میں بریانی نہیں بن سکتی ۔۔وہ دوڑتی کمرے میں آئی تاکہ جلدی سے تھپک کے سلا دے اسے دوبارہ مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ بابر تکیئے کے سہارے بیڈ پر بیٹھا تھا۔ چھت کو دیکھتے ہوئے قلقاریاں بھر رہا تھا جیسے کسی سے مخاطب ہو۔۔ اسے اچھی طرح یاد تھا وہ تو اسے کاٹ میں لٹا کے گئ تھی۔ چھے مہینے کا بچہ خود سے کروٹ لیکر کہیں بیڈ سے نہ گر جائےیہ خیال اسے ہمیشہ دامن گیر رہتا تھا۔۔ اس نے بھاگ کر اسے گود میں بھر لیا۔۔ بابر کسمسایا اور اسکے سینے سے لگنے کی بجائے اسکے کندھے کے اوپر ہمک ہمک کے دیکھنے لگا۔ دونوں بازو یوں پھیلائے جیسے گود میں جانا چاہتا ہو۔۔ اس نے متوحش ہو کر مڑ کر دیکھا مگر وہاں تو کوئی نہیں تھا۔ پورے گھر میں اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔ اسکی خوف کے مارے جان نکلنے لگی۔۔ بھاگتی ہوئی وہ کمرے سے کیا گھر سے ہی باہر نکل کر گیراج میں آگئ۔ جتنی سورتیں یاد تھیں انکا وردشروع کردیا۔۔ بابر کسمسایا پھر جو چیخیں لگیں اسے کہ اللہ کی پناہ۔۔ وہ ہلکان ہو رہی تھی اسے سنبھالتے قریب تھا کہ خود بھی رو پڑتی کہ مین گیٹ کی گھنٹی بج اٹھی۔۔ وہ بری طرح چونکی پھر ہمت کرکے باہر جھانکا تو ایک خوبصورت سی خاتون نک سک سے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے دروازہ کھولا تو مسکرا کر سلام کرنے لگیں۔ 
    اسلام وعلیکم میں شبانہ ہوں آپکے پڑوس میں رہتی ہوں 
    جی میں انیقہ۔۔ 
    بابر کی چیخ و پکار میں وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پائی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی بات سن کر شبانہ زور سے ہنس دی۔ وہ دونوں لائونج میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ بابر کو شبانہ نے سونف کا پانی بنوا کر پلایا تو وہ جیسے پرسکون سا ہوکے سو گیا تھا ۔انیقہ نے اسے کمرے میں سلانے کی بجائے یہیں صوفے پر لٹا دیا تھا۔ حالانکہ شبانہ نے کہا بھی کہ اب یہ آرام سے سوئے گا تو اندد کمرے میں لٹا دو مگر انیقہ کو وہم سا بیٹھ گیا تھا۔۔پوری بات بتائی شبانہ کو جسے اس نے کان پر سے مکھی کی طرح اڑا دیا
    احمق لڑکی گھر میں پہلی بار اکیلی ہو طرح طرح کے وہم ہونگے ۔ آہستہ آہستہ عادت پڑ جائے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسکی بات کسی حد تک ٹھیک بھی تھی۔ میکہ بھی بھرا پرا پھر سسرال بھی ملا یہ الگ بات اس سسرال نے وہ ناکوں چنے چبوائے اسے کہ اب ایسے ہزار وہم بھی ہوتے رہیں تو واپس سسرال جا کے رہنے کا سوچے بھی نا۔۔
    شبانہ اسکے ساتھ بریانی بنوا کر ہی گئ۔۔ اس نےکافی اصرار بھی کیا کہ کھانا کھا کر جائے مگر اپنے بچے کو وہ ساس کے پاس چھوڑ کر آئی تھی اتفاق  تھا کہ وہ یونہی سبزی لینے گیٹ پر آئی تو بابر کے مسلسل رونے کی وجہ سے خیریت پوچھنے آگئ۔ اسکے اپنے دو بچے تھے بڑی بیٹی تیسری جماعت میں تھی اسکول گئ تھی اب واپسی کا وقت تھا بیٹا بابر کا ہی ہم عمر تھا ۔۔۔ اس سے تھوڑی ہی دیر میں کافی دوستی ہوگئ تھی شائد ہم عمر ہونے کی وجہ سے۔ مگر اب انیقہ کافی حد تک مطمئن ہوگئ تھی۔اچھا پڑوس بھی بڑی نعمت ہے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اکیلے رہتے اسے صحیح آٹے دال کا بھائو پتہ لگا تھا سسرال میں تو مخصوص رقم دے کر وہ آزاد ہو جاتے تھے اب اس
    سے دگنی خرچ ہو رہی تھی بچت نام کو نہ تھی۔۔۔
    اوپر سے اکیلے بابر کو سنبھالنا۔ سلا کر دو منٹ کمرے سے نکلتی جاگ جاتا قلقاریاں بھرتا ۔۔ اس دن تو حد ہی ہوگئ دنیا کے سب بچے رات کو جاگتے ہیں تو کسی ضرورت سے رو کر اپنی ضرورت کا اظہار کرتے ہیں اسکی رات کو زور زور سے بابر کی قلقاریاں بھرنے سے انکھ کھلی۔اس نے بابر کو اپنے اور تابش کے بیچ ہی سلایا ہوا تھا۔ وہ دھت بے ہوش سوئے پڑے تھے جبکہ بابر کے کھلکھلا کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز سے اسکی آنکھ کھل چکی تھی۔۔ اس نے آنکھیں مسل کر بابر کو چیک کیا ڈائپر بھی صاف تھا اسے گود میں لیکر تھپکنے لگی۔بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی اٹھا کر وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے۔۔ اس نے بابر کو زور زور سے تھپک کر سلانا چاہا تو ہنستے کھیلتے بابر کا فورا موڈ خراب ہوا چیخ چیخ کر رونے لگا۔۔ تابش کی اب آنکھ کھل ہی گئ۔۔
    کیا ہوا سے۔۔ نیند سے بھری سرخ آنکھیں ۔۔۔ اسے ان پر ترس آگیا صبح صبح اٹھنا بھی تھا
    کچھ نہیں رو پڑا باہر لے جاتی ہوں۔۔
    وہ احتیاط سے جمائی روکتی اٹھ کر باہر لے آئی ۔۔ بابر کی چیخیں بڑھتی جا رہی تھیں۔۔ روہانسی ہوگئ۔۔
    دودھ بھی نہ پیئے۔۔۔
    اس نے سونف والا پانی بنایا ۔۔۔ اگر پیٹ میں درد ہوتو ٹھیک ہو جائے۔۔
    لائونج میں ٹہل ٹہل کر اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگی۔۔

    تبھی تابش اٹھ کر باہر آگیا۔۔ لائو اسے مجھے دو۔۔

    اس نے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصدق فورا پکڑا دیا۔۔ حیرت انگیز طور پر بابر ایکدم چپ ہو کر باپ کو دیکھ کر قلقاریاں بھرنے لگا۔۔
    تو بیٹا آپکا آپ سے ہڑک رہا تھا۔۔
    اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا مگر تابش مکمل طور پر بابر کی جانب متوجہ تھا۔۔
    دیکھو کہا تھا نا مما کی نیند خراب ہو جائے گی۔ اب سو جائو صبح ملیں گے پھر خوب کھیلیں گے۔۔
    وہ بابر کو چمکارتے یوں کہہ رہا تھا کہ جیسے وہ سب سمجھ ہی تو رہا ہے۔ انیقہ نے مسکراہٹ روکی
    آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے اسے سب سمجھ آرہی آپ کی بات؟
    ہاں تو آرہی ہے نا۔۔
    تابش نے فورا کہا۔۔ !آرہی ہے نا میری بات سمجھ بابر۔۔
    اس نے بابر سے کہا تو حیرت انگیز طور پر وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گیا۔۔
    مما کو بھی بتائو سمجھ آرہی ہے نا میری بات اب تو نہیں روئوگے؟
    بابر نے مسکرا کر ماں کو دیکھا اور نفی میں گردن ہلا دی۔۔
    اب میں صبح آئوں گا ٹھیک ہے؟
    تابش نے مسکرا کر تسلی دی جوابا بابر دوبارہ قلقلاریاں بھرنے لگا
    انیقہ حیران ہی تو رہ گئ۔۔ اس سے تو بابر ایسے کبھی ردعمل ظاہر نہیں کرتا تھا سارا دن وہ اس سے مخاطب کرتی تھی
    ٹھیک ہے جی ماں کی قدر نہیں سب پیار باپ کیلئے۔۔وہ زیر لب بڑبڑائی۔۔ تابش مسکرادیا
    یہ لو اب یہ نہیں روئے گا ۔۔ تابش نے بابر کو واپس اسکی گود میں دینا چاہا۔۔
    انیقہ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا اسے تھامنے تو رک گیا۔۔
    تم مجھے ایک گلاس پانی تو لادو  میں اسے کمرے میں لٹا دیتا ہوں۔۔
    تابش کہہ کر پلٹ گیا۔۔ انیقہ سر ہلا کر کچن میں چلی آئی۔۔
    کچی نیند کی وجہ سے سر اسکا سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔۔ فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پہلے خود پیا پھر گلاس میں بھر کر کمرے میں چلی آئی۔۔ تابش نے بابر کو اسکی جگہ پر لٹا دیا تھا خود پیٹھ موڑے لیٹے تھے۔۔
    تابش پانی پی لیں۔۔
    اس نے قریب جا کر کہا تو پتہ چلا موصوف خراٹے بھی بھر رہے ہیں
    تابش مجھے پتہ ہے اتنی جلدی آپ نہیں سو سکتے ڈرامے مت کریں پانی پی لیں۔۔
    انیقہ کو یہ بے وقت مزاق قطعی نہ بھایا۔۔ کہتے کندھا ہی ہلا دیا۔۔
    آہ ہاں ۔۔ کیا ہوا۔۔ نیند کے خمار سے بھاری آواز سرخ آنکھیں۔۔
    انیقہ عش عش کر اٹھئ اپنے میاں کی اداکاری پر۔۔
    یہ پانی پیئیں۔
    تابش نے حیرت سے دیکھا۔۔
    مگر کیوں۔؟
    اسلیئے کہ اب میں لے آئی ہوں۔
    اس نے بھی انہی کے انداز میں جواب دیا۔۔
    تابش نے حیرت سے دیکھتے اس سے گلاس تھاما اور ایک دو گھونٹ بھر کر گلاس پائیں میز پر رکھ دیا۔۔
    آنکھیں اتنی بند ہو رہی تھیں۔کہ گلاس رکھتے ہی دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔۔
    انیقہ بہر حال کافی شکر گزار تھی اس وقت اپنے میاں کی سو بتی بجھاتی اپنی طرف سے بیڈ پر آکر لیٹ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکی الارم سے آنکھ کھلی ہی نہیں۔ اتفاق سے تابش کی آنکھ کھلی اسکا کندھا ہلادیا۔۔ اس نے کھلی بند ہوتی آنکھوں سے بیدار ہو کر جب بیڈ کی سائڈ ٹیبل سے گھڑی کو اٹھا کر وقت دیکھا تو اس میں 3 ہی بج رہے تھے یعنی رات کو گھڑی بند اور اب الارم ہی نہیں بجا۔۔
    اس نے فورا گردن گھما کر سامنے وال کلاک میں وقت دیکھا تو سوا آٹھ ہو رہے تھے اس وقت تابش نکل بھی جاتے تھے دفتر کیلئے۔۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔۔
     تابش واپس اپنی جگہ آکر لیٹ چکے تھے ۔۔ وہ جھلا ہی گئ۔ اب یہ کیا حرکت ہے تابش دوبارہ کیوں لیٹ گئے۔۔اٹھیں دیر ہوگئ ہے سوا آٹھ ہو رہے ہیں۔۔
    تیزی سے اٹھ کر بیٹھی چپل پیروں سے تلاش کر کے پہنی گھوم کر آئی تابش کو جھنجھوڑ ہی ڈالا تقریبا کہتے ہوئے۔۔
    وہ ہکا بکا اٹھا۔ کیا ہوگیا۔۔
    آپ دوبارہ کیوں سو گئے مجھے اٹھا کر اٹھیں۔۔ سوا آٹھ ہو رہے ہیں۔۔ میں جا رہی ہوں ناشتہ بنانے دوبارہ اٹھانے نہیں آئوں گی۔۔
    دھمکی دیتی وہ تیزی سے کہتی کمرے سے نکل گئ۔۔
    تابش نے انگڑائی لیتے ہوئے اپنی رسٹ واچ میں وقت دیکھا تو سات بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔۔
    ایک تو یہ انیقہ بھی نا جانے کیا ہوگیا ہے۔فالتو میں اتنا
    ڈرامہ۔۔۔۔
    تبھی بابر جاگ کر رو پڑا۔۔ 
    تابش نے تھپکا مگر اسکا رونا بند نہیں ہوا
    انیقہ بابر جاگ گیا ہے اسے پہلے دیکھ لو۔۔ 
    اس نے وہیں سے آواز لگائی اور سستی سے چپل پہنتا نہانے گھس گیا۔۔
    تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی یقینا انیقہ ہی تھی سو وہ آرام سے شاور کھول کر فریش ہونے لگا۔۔تھوڑی دیر بعد اسے بابر کے قلقاریاں مارنے کی آواز آئی
    اس نے ہلکا سا دروازہ کھول کر جھری سے جھانکا تو نیلا لباس پہنے انیقہ اسکا ڈائپر تبدیل کر رہی تھی۔اسکی جانب پشت تھی لمبے بال پشت پر ہلکے نم بکھرے تھے۔۔وہ مطمئن ہو کر دروازہ بند کرگیا۔۔۔ 
    فریش ہو کر باہر نکلا انیقہ اسی وقت کمرے میں داخل ہوئی 
    تابش ناشتہ تیار ہو گیا ہے لگا دیا آپ شروع کریں میں یہ بابر کا ڈائپر تبدیل کرکے آتی ہوں۔۔
    وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر الماری کی طرف بڑھ گئ
    ابھی تو بدلا ہے تم نے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا اسکی بات پر اچنبھے سے کہتا مڑا تو چونک گیا۔۔ انیقہ گلابی پرنٹ کے جوڑے میں ملبوس تھی الجھے بال سمیٹ کر جوڑے کی شکل میں باندھ کر کیچر لگایا ہوا تھا اس نے۔ ۔۔
    کہاں اٹھتے ہی تو کچن میں چلی گئ ابھی فیڈر بنا کر لائی ہوں پلا دوں تو آرام سے سوتا رہے گا ورنہ جاگ گیا تو سب کام مشکل ہو جائیں گے اس نے اتنی پٹس مچانی۔۔ 
    وہ ہنستے ہوئے کہتی الماری سے اسکا ڈائپر نکالتی بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔
    اسکا ڈائپر کھولتے اسے خیال آیا تو سر اٹھا کر دیکھا۔۔ تابش کسی گہری سوچ میں اس پر ہی نگاہ جمائے کھڑا تھا
    اس نے چٹکی بجا کر متوجہ کیا
    کیا سوچ رہے ناشتہ شروع کریں جا کر ٹھنڈا ہو رہاہے میں آتی ہوں۔
    تابش چونکا پھر سر جھٹک کر کنگھا رکھتا جانے ہی لگا تھا کہ انیقہ کی آواز نے پھر چونکا دیا
    ارے اس نے لگتا یے سو سو کی ہی نہیں بالکل خشک ہے ڈائپر جیسے ابھی پہنایا ہوا۔۔ چلو۔۔ یہی رہنے دیتی ہوں۔
    نہیں۔۔ وہ بے ساختہ مڑا
    بدلو اسے فورا ۔۔ 
    مگر یہ تو صاف ہے۔۔ 
    انیقہ حیران ہوئی اسکے انداز پر
    میں جو کہہ رہا ہوں؟؟؟؟ بدلو فورا اسے۔۔ 
    اور بھلے ناشتہ مت بنایا کرو صبح میرے لئے میں آفس جا کر کرلوں گا مگر بابر کو اکیلے مت چھوڑا کرو۔۔سمجھیں۔۔
    تابش کا انداز کافی سخت تھا انیقہ حیران پریشان دیکھتی رہ گئ
    مگر ہوا کیا  تابش۔؟۔۔
    اس نے پوچھا تو مگر تابش نظر انداز کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔
    وہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اکیلے رہتے اسے عادت ہو ہی گئ تھی۔اور بابر کو بھی۔ وہ آرام سے اسے لائونج میں پرام میں بٹھاکر ٹی وی لگا دیتی وہ گھنٹون قلقاریاں بھرتے ٹی وی دیکھتا وہ آرام سے اپنے کام نپٹا لیتی۔۔ کبھی کبھی 
    شبانہ آجاتی اپنے بیٹے کو لے کر وہ بابر کا ہی ہم عمر تھا ۔۔ دونوں پرام میں بیٹھےبیٹھے بچپن کے پہلے دوست بن چکے تھے۔۔تم بابر کو بھی اسی اسکول میں ڈالنا جس میں میری ہادیہ جاتی یے اچھا ہے تینوں بچے اکٹھے جایا کریں گے۔۔ شبانہ نے جب 8مہینے کے بابر کو گود میں لیتے کہا تھا تو انیقہ خوب ہنسی تھی پہلے اسے بڑا تو ہو لینے دو۔۔ اور اب پتہ ہی نہ چلا اسکا سکول کا پہلا دن آگیا۔۔
    ننھے ننھے قدم اٹھاتے بابر اور شایان۔۔ دونوں اکٹھے ہی ان دونوں کو چھوڑنے آئی تھیں۔۔
    بابر ہنستا مسکراتا کلاس میں بیٹھا تھا تو شایان نے رو رو کر پورا اسکول سر پر اٹھایا تھا۔ بمشکل اسے کلاس میں بٹھا کر وہ دونوں اسٹاف روم میں آبیٹھی تھیں۔
    ابھی کم از کم ہفتہ بھر مائوں کو بھی آنا تھا جب تک بچوں کو عادت نہ پڑے۔۔
    شبانہ کا دل بھر آرہا تھا ۔۔شایان رو ہی اتنا رہا تھا۔۔
    تھوڑی دیر بعد شایان کی ٹیچر اسے گود میں اٹھائے لے آئی۔۔
    معزرت یہ رو ہی اتنا رہا تھا کہ مجھے لانا پڑا آج آپ سے لے جایئے کل تھوڑا سمجھا بجھا کر لائیے گا۔۔
    ماں کو دیکھتے ہی شایان لپک کر ماں کی گود میں چڑھا۔۔
    شبانہ نے اسکے آنسو پونچھے ماتھا چوما وہ بالکل پرسکون ہو کر کندھے سے لگ کر اونگھنے لگا
    اور بابر۔۔ وہ ٹھیک ہے۔۔ انیقہ کو فکر ہوئی
    وہ تو ماشا اللہ بہت خوش ہے آرام سے بیٹھا ہے اکیلا مگن کھیل بھی رہا ہے آپ بے فکر ہو کر گھر جاسکتی ہیں۔۔
    ٹیچر نے مسکرا کر تسلی دی
    آپ نے اسکو بابر کے ساتھ بٹھانا تھا نا یہ دونوں بچے اکٹھے ہی کھیلتے ہیں
     شبانہ نے کہا تو ٹیچر حیران ہوئئ
    اچھا؟ مگر میں نے اسکو بابر کے ساتھ ہی بٹھایا تھا مگر تھوڑی دیر بعد یہ رو پڑا کہتا میں نے نہیں بیٹھنا جگنو نے مارا۔۔
    آپ بابر کو جگنو کہتی ہیں پیارسے؟
    انیقہ اور شبانہ حیران ہوئیں
    نہیں تو۔ اور بابر تو بہت سلجھا بچہ ہے وہ تو نہیں مارتا کبھی۔۔
    انیقہ کو یقین نہ آیا۔۔
    چلیں کوئی بات نہیں بچے ہی تو ہیں۔۔
    ٹیچر نے تسلی دے کر جانا چاہا مگر انیقہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
    میں ایک نظر بابر کو دیکھ لوں؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بابر واقعی آرام سے بیٹھا اپنے آپ میں مگن کھیل رہا تھا۔۔
    اس نے کلاس کے داخلی دروازے سے کھڑے ہو کر ہی اندر جھانکا۔۔ باقی بچے آپس میں ہنس بول رہے تھے مگر بابر اکیلا بیٹھا کتاب کھولے اس میں رنگ بھر رہا تھا۔۔
    انیقہ جانے کیوں بے چین سی ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سارا دن گھر میں بیزار رہنے والا بابر اسکول میں کافی خوش رہتا تھا روز گھر آکر ماں باپ کو نہ جانے کون کونسے قصے سناتا۔  دوست بھی بنا لیا تھا۔۔ شام کو اکثر شبانہ شایان کو بھی بھیج دیتی انیقہ سارا دن فارغ ہی ہوتی تھی سو دونوں کو پڑھا دیا کرتی تھی۔۔ابھی تو ویسے بھی ابتدائی گنتی اور الف بے وغیرہ ہی سیکھ رہے تھے۔۔
    اس دن بھی وہ دونوں کو کام کروا کر ڈرائنگ بک میں رنگ بھرنے کا کام دے کر خود شام کی چائے بنانے لگ گئ تابش کے آنے کا وقت ہو رہا تھا تو کباب بھی تلنے شروع کردیئے۔۔تبھی شایان چیخ چیخ کر رو پڑا۔۔
    وہ بھاگی بھاگی آئی تو دیکھا بابر اطمینان سے بیٹھا اپنی کتاب میں بنے پھول پر رنگ کر رہا تھا۔۔
    اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر شایان کو گود میں بھرا اسکی ہچکیاں بندھ گئ تھیں۔۔ کیا ہوا بیٹا۔۔ بابر کیا ہوا اسے؟۔۔
    اس نے شایان کے آنسو پونچھے مگر وہ بلکے جا رہا تھا۔۔تو اسے بابر سے پوچھنا پڑا
    اسے جگنو نے مارا ہے۔۔ بابر نے اشارے سے شایان کے برابر دیکھ کر کہا۔۔
    کون جگنو ۔۔ اس نے حیرت سے دیکھا وہاں تو بس یہ دونوں بچے تھے۔۔
    آنٹی اس نے میری کاپی کھول کر رکھ دی اس میں میں نے رنگ بھرنے تھے مگر اس نے مجھے بھرنے نہیں دیا کہتا جگنو بھررہا ہے۔۔
    شایان نے ہچکیاں لیتے بمشکل بتایا۔۔
    انیقہ نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا گال پر انگلیوں کے نشان واضح تھے۔۔
    بابر آپ نے اپنے دوست کو کیوں مارا ؟ اتنی زور سے دیکھو اسکے گال۔۔ انیقہ کو شدید غصہ آیا تھا دل کر رہا تھا ایک لگا بھی دے بابر کو۔۔ شایان اسکے سینے میں منہ چھپائے روئے جا رہا تھا
    مما میں  نے نہیں مارا۔۔ یہ اپنی کاپی کھینچ رہا تھا تو جگنو کو غصہ آگیا منع کیا تھا جگنو کو میں نےمت مارے اسے۔۔
    بابر سنجیدگی سے اپنی کاپی رکھ کر بتا رہا تھا۔۔
    کون جگنو ؟ یہاں کوئی ہے اپ دونوں کے سوا۔۔ ایک توبد تمیزی کرتے ہو اوپر سے جھوٹ بھی بولتے ہو؟
    انیقہ نے کان سے پکڑا تو بابر بھی رونے کو آگیا۔۔
    مما میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ جگنو نے مارا اسے۔۔ جگنو بڑا ہے اسکا ہاتھ بھی اتنا بڑا ہے دیکھیں۔۔
    بابر نے کہتے ہوئے شایان کے گال سےاپنا ہاتھ چھوا۔۔ انیقہ کو جھٹکا سا لگا۔۔
    نہیں مما کو کچھ نہ کہنا۔۔ یہ مما ہیں میری۔۔
    بابر ایکدم سے اس سے لپٹ کر کہتا گیا پھر زور زور سے رونے لگا۔۔ بابر کیا ہوا بیٹا رو کیوں رہے ہو؟؟؟؟ وہ بری طرح پریشان ہو گئ۔۔ شایان بھی چپ ہو کر بابر کو دیکھ رہا تھا۔۔
    پھر اس نے جو تان بلند کی۔۔
    وہ حقیقتاپاگل ہونے لگی تھی دونوں بچے اس سے چمٹے جا رہے تھے اور زور زور سے رونے لگے تھے۔۔
    یا خدایا۔۔ کیا کروں۔۔ وہ دونوں کو چپ کرانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
    انیقہ انیقہ۔۔ شبانہ پکارتی چلی آئی ہاتھ میں ڈونگا لیئے یقینا وہ کچھ پکا کر لائی تھی۔۔
    انیقہ کی جان میں جان آئی۔۔
    شبانہ ۔۔ اس نے بے تابی سے پکارا۔۔
    شبانہ لائونج میں داخل ہوئی تو اسے گھٹنوں کے بل لائونج کے کارپٹ پر بیٹھے دیکھ کر دہل کر ڈونگا سائڈ ٹیبل پر ٹکاتی دوڑئ آئی
    کیا ہوا؟۔۔ شایان ماں کو دیکھتے ہی جا کے لپٹ گیا۔۔
    امی چلیں یہاں سے مجھے لے جائیں۔۔ یہ جگہ اچھی نہیں۔۔
    شایان ہچکیاں لیتے روئے چلا گیا۔۔
    کیا ہوا اسے؟۔۔ شبانہ بھی گھبرا گئ۔۔
    پتہ نہیں دونوں بیٹھے کام کر رہے تھے اچانک شایان رونے لگا شائد بابر سے لڑائی ہوئی ہے اسکی۔۔ ڈانٹا ہے میں نے اسے۔۔
    اس نے بابر کو تھپک تھپک کر چپ کرایا۔  وہ ابھی بھی اس سے لپٹا کھڑا تھا۔۔
    شبانہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے سر ہلا رہی تھی ۔۔ شایان کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔۔
    میں پانی لاتی ہوں۔۔ انیقہ بابر کا سر سہلا کر اسے شبانہ کے پاس بٹھا کر پانی لینے چلی گئ۔۔
    فریج سے پانی لیکر آئی تو بابر کی آواز کانوں میں پڑی
    نہیں مما نے کچھ نہیں کہا مما تو کچن میں تھیں جگنو نے مارا اسے؟۔۔۔
    انیقہ اسکی بات پر ٹھٹکی ضرور مگر پانی کا گلاس لا کرشبانہ کو تھمانا چاہا مگر وہ ہاتھ بد لحاظی سے پرے کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ماں کا دل تو نرم ہوتا ہے انیقہ بچہ کسی کا بھی ہو وہ اس کے ساتھ  اپنی اولاد جیسا پیار نہ بھی کرے مگر یوں مار بھی نہیں بیٹھتی اگر شایان نے کوئی بد تمیزی کر بھی دی تھی تو اسے پیارسے سمجھا دیتیں ڈانٹ دیتیں یوں بھر پور تھپڑ تو نا مارتیں اسکے گال پر میں نے آج تک اسے ڈانٹا تک نہیں تم نے اٹھا کر میرے بچے کے پھول سے گال پر طمانچہ دے مارا؟
    انیقہ سٹپٹا گئ ۔۔ قسم لے لو شبانہ میں نے نہیں مارا کیوں ماروں گی؟ میں نے تو بابر کو بھی ڈانٹا۔۔ اچھا؟ شبانہ نے شایان کا چہرہ تھوڑی سے تھام کر اسکی جانب رخ موڑا
    یہ ہاتھ جو چھپا ہے اسکے گال پر اتنا بڑا ہاتھ ہے بابر کا؟
    انیقہ بری طرح ٹھٹکی تھی واقعی ایک تو گال پر انگلیوں کے نشان واضح تھے دوسرا کسی بڑے انسان کا ہاتھ لگ رہا تھا
    بچوں کا تو چھوٹا سا ہاتھ چھوٹی چھوٹی انگلیاں ہوتیں۔۔
    انیقہ کو چپ دیکھ کر شبانہ نے پہلے تو کچھ کہنا چاہا پھر پیر پٹختی بچے کو لے کر چلی گئ۔۔
    کوئی آیا تھا ابھی بابر؟
    انیقہ جھک کر بابر کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نرمی سے پوچھنے لگی۔۔
    ہاں جگنو۔
    بابر نے کہا تو وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کو سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ اطمینان سے تابش کو چائے کا کپ تھما کر بابر کے کمرے میں چلی آئی۔۔
    بابر سینے تک کمبل تانے سونے کی تیاریوں میں تھا دودھ کا گلاس خالی کر کے اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔
    برش کر لیا میرےبیٹے نے۔؟
    انیقہ نے اسکے پاس بیٹھ کر پیار سے پوچھا۔۔
    بابر ماں کو دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔۔
    ہاں۔۔
    انیقہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔۔
    بیٹا شام کو جب آپ اور شایان کھیل رپے تھے تو آپکے ساتھ کون کھیل رہا تھا؟
    جگنو۔۔
    بابر نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں انیقہ پر جمائیں۔۔
    کون جگنو ؟ انیقہ نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔
    میرا دوست ہے نا جگنو۔۔ یہ بیٹھا ہے۔۔
    بابر جیسے اسکی جرح سے تنگ آیا اپنےبائیں جانب خالی بیڈ پر اشارہ کرکے بولا۔ 
    اچھا ۔۔ یہ ہے جگنو۔۔
    انیقہ کو اسکے جھوٹ بولنے پر غصہ آیا مگر ضبط کرکے بولی۔۔
    مما کو ملوائو ہیلو جگنو ؟
    اس نے خلا میں ہاتھ بڑھایا۔۔
    بابر اسے دیکھتا رہا۔۔
    اس سے کہو نا مما سے ہاتھ ملائے۔۔  انیقہ اسکے جھوٹ کو انجام دینا چاہتی تھی۔۔
    ملایا ہوا تو ہے مما۔۔
    بابر نے کہا تو وہ گہری سانس لیکر ہاتھ پیچھے کر گئ۔۔
    بیٹا جگنو کی باتیں نہیں کرتے ۔۔ وہ آپکا خیالی دوست ہے نا؟ سچ چ تو نہیں ہے نا کوئی ایسے آپ کہا کروگے تو۔۔
    اوہو مما ۔۔ بابر نے جیسے جھلا کر بات کاٹی۔۔
    ہے نا یہ بیٹھا ہوا ہے۔۔سچ مچ ہے۔۔
    انیقہ بھی جھلا اٹھی۔
    اچھا اگر سچ مچ ہے تو مجھے نظر کیوں نہیں آتا اسے کہو دکھائی دے مجھے بھی مجھے تو کوئی نظر نہیں آرہا۔۔
    بابر۔۔ ایکدم چپ سا ہوا پھر دھیرے سے بولا۔۔
    آپ ڈر جائیں گی ماما۔۔۔
    انیقہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بابر کے اسکول سے فون آیا تھا۔ وہ گھر لاک کرتی بھاگم بھاگ پہنچی تھی۔۔
    بابر پرنسپل آفس میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔ وہ سیدھا اسکے پاس جا کر لپٹا کر پوچھنے لگی۔۔
    کیا ہوا بیٹا ٹھیک تو ہو تم۔۔ ؟؟؟
    اسکے پوچھنے پر بابر نے سر جھکا لیا ۔۔ اس نے مڑ کر پرنسپل کو دیکھا تو وہ اسے ہی پرسوچ  نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
    کیا ہوا؟؟؟؟ بے ساختہ اسکے منہ سے پھسلا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بابر آدھی چھٹی میں آرام سے درخت کے سائے میں لگے بنچ پر بیٹھا تھا جبکہ باقی بچے میدان میں کھیل کود میں مصروف تھے۔۔
    بابر آئو ہمارے ساتھ فٹ بال کھیلو۔۔
    شایان اسے بلانے آیا تھا مگر اس نے نرمی سے انکار کردیا۔۔
    نہیں میں یہاں جگنو کے ساتھ ہوں تم جائو۔۔
    شایان خالی بنچ کو دیکھتا کندھے اچکا کر چلا گیا۔۔
    کھیلتے کھیلتے ایک بچے کو جانے کیا سوجھی شرارت سے گول کی بجائے بال کوبنچ کی جانب رخ کرکے زوردار لات مار دی۔۔ بال بابر کو بہت زور سے لگی اس نے رخ موڑ کر بچنا چاہا تو کندھے پر لگی اور وہ الٹ کر زمین پر گرا۔ بال بابر کو لگ کر واپس اس سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس آئی اور کک مارنے والے بچے کے پیٹ پر لگی وہ الٹ کر پیچھے گرا اور بے ہوش ہوگیا۔۔ سب بچے سنٹ سے کھڑے دیکھتے رہ گئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بچے کو ہم فوری طور پر اسپتال لیکر گئے ۔ اسکے پیٹ میں اتنی زور سے چوٹ لگی تھی کہ۔۔
    پرنسپل صاحبہ سنجیدگی سے بتا رہی تھیں انیقہ نے بات کاٹ کر پوچھا
    اب کیسی طبیعت ہے بچے کی؟
    وہ گہری سانس لیکر بولیں۔۔
    اب تو خیر وہ ہوش میں بھی آگیا ہے اور خطرے سے بھی باہر ہے مگر یہ دو گھنٹے آپ سوچ نہیں سکتیں کس مشکل سے گزارے ہیں ہم نے۔ اسکے والدین تو قانونی چارہ جوئی
    انیقہ کی جان میں جان آئی تو تیز ہو کر بولی
    بچہ ہے بابر کتنا کوئی زور سے بال پھینک سکتا ہے ؟ اور کھیلتے ہوئے بچوں کو چوٹ بھی لگتی ہے گر بھی پڑتے ہیں اس بات پر قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دینا کیا مطلب
    دیکھیں۔۔ پرنسپل صاحبہ نے ہاتھ اٹھا کر انیقہ کو روکنا چاہا۔۔
    دیکھیں۔۔ ہمیں بھی پتہ ہے یہ بات مگر بچے کو چوٹ واقعی  شدید آئی ہے اور جو بچے وہاں موجود تھے انکا کہنا بھی یہی ہے کہ بابر نے کک نہیں ماری بال کو بابر خود بھی یہی کہہ رہا ہے کہ اس نے بال نہیں پھینکی۔۔ یہ بچے چھوٹے اتنے ہیں کہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔
    پھر؟ انیقہ کی پیشانی شکن آلود ہوئی
    جب بابر نے نہیں کچھ کیا تو اس طرح مجھے بلانے کا مقصد؟؟؟
    بچے کہہ رہے ہیں کہ بال خود سے اڑتی آئی اب ایسا تو ممکن نہیں مگر جب ہم نے بابر سے پوچھا تو وہ کہتا ہے جگنو نے پھینکی۔۔
    اب یہ جگنو کون ہے؟ بچہ ہے یا کوئی بڑا ؟ آپ جانتی ہیں اسےرشتہ دار ہے دوست ہے کون ہےکتنا بڑا ہے؟ اور وہ اسکول کی حدود میں آیاکیوں؟
    انیقہ کا رنگ اڑ سا گیا تھا
    بابر اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
    مما میں جگنو کو منع کرتا ہوں وہ سنتا نہیں۔۔ مما سوری
    بابر لپٹ گیا ماں سے۔۔ بابر کو گھبرایا ہوا دیکھ کر پرنسپل صاحبہ بھی نرم پڑ گئیں
    دیکھیئے جو ہوا سو ہوا ۔۔ آئیندہ کیلئے جگنو یا جو بھی کوئی آپکا رشتہ دار ہے اسکو منع کیجئے اسکول میں یوں گھس آنا اور کسی بچے کو زخمی کر دینا ہرگز بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جگنو؟؟؟؟۔ ہا ہا ہا۔۔
    اسکی توقع کے برعکس تابش نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔۔
    انیقہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
    اس نے اپنی طرف سے خوب سوچ سمجھ کر جب بابرقاری صاحب کے پاس بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا اور تابش دفتر سے آکر آرام کر چکنے کے بعد شام کو حسب عادت ٹی وی لائونج میں آکر ٹی وی دیکھنے لگا تھا تب باورچی خانے سے نکل کر چائے بناتے بناتے نکل کر  اسے آج  کا پورا قصہ سنایا تھا
    تابش میں سنجیدہ ہوں یہ ہنسنے کی بات نہیں ہے۔۔۔ انیقہ نے تھوڑا سختی سے کہا تو تابش صوفے پر سیدھا ہو کر ٹی وی کی آواز آہستہ کرتا ہوا اسے تفصیل سے بتانے لگا
    ابھی دو دن پہلے ہی مجھ سے پوچھ رہا تھا بابر پاپا جگنو کیا ہوتا ہے میں نے اسے یوٹیوب پر جگنو کی ویڈیوز دکھائیں بڑا خوش ہوا تھا ایسا بھی کیڑا ہوتا جو چمکتا رہتا ہے وہی ذہن میں رہا ہوگا اس نے نام لے دیا۔۔۔
    مگر وہ بچہ زخمی ہوا ہے اور وہ اس دن شایان کو جو جگنو نے مارا وہ والی بات بھی بتائی تھی شبانہ اس دن سے جو ناراض ہو کر گئ ہے دوبارہ نہیں آئی۔۔
     تابش گہری سانس لیکر رہ گیا
    اب تم دو مختلف باتیں جوڑ رہی ہو ۔۔ بچے کھیلتے ہیں گرتے ہیں چوٹ لگتی ہے اور یہ تو بچوں کی نفسیات ہوتی ہے ڈانٹ کے ڈر سے کسی اور کا نام لگا دینا اپنی شرارت پر۔۔
    اب آج اسے جگنو نام یاد رہا کل کو کوئ اور نام لے دے گا
    مگر اتنا بڑا ہاتھ چھپا تھا شایان کے گال پر وہ تو میں نے خود دیکھا تھا۔۔ انیقہ کی سوئی اٹکی تھی۔۔
    تم نے شبانہ سے دوستی نہیں کی تمہیں جا کے منانا چاہیئے تھا اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہیئے تھی اتنی گہری دوستی یوں ختم نہیں ہونی چاہیئے تھی۔۔
    تابش نے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گئ تبھی دروازہ کھٹکا کر شبانہ ہنستی مسکراتی چلی آئی۔۔
    اسلام و علیکم تابش بھائی اور تم بے مروت انیقہ خفا ہوں تم سے بندہ خود آجاتا ہے ایسا بھی کیا چٹھی لکھ بھیجی  ہاں مٹھائی کھا لی تھی کھانے پینے سے خفگی نہیں دکھاتی۔۔ تابش بھائی ویسے بہت ہی انا والی ہیں آپکی بیگم۔۔۔۔
    شبانہ ہاتھ میں پلیٹیں پکڑے تھی انیقہ کو تھماتے خوشگوار انداز میں کہہ رہی تھی۔۔
    بھئی یہ تو آپ دونوں سہیلیوں کا معاملہ ہے خود نمٹائیں۔۔
    تابش کہہ کر ہنستا ہوا اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔
    ویسے کیا نام تھا اس مٹھائی کا گھر میں سب کو بہت پسند آئی تھی دودھ کھویا کھوپرا اور نجانے کیاکیا ذائقہ تھا اوپر سے ست رنگی ایسی تو میں نے کسی مٹھائی کی دکان پر بھی نہیں دیکھی پھر یہی سوچا تم کوکنک کرتی ہو یقینا کوئی نئی ترکیب آزمائی ہوگی تم نے ۔۔۔
    شبانہ کہے جارہی تھی اسے کچھ سمجھ نہ آیا
    کیا کہہ رہی ہو شبانہ کونسی مٹھائی؟
    کس نے بھیجی؟
    شبانہ اسکے حیران ہونے پر حیران ہوئی
    بھئی کل جو بھیجی تم نے اوپر سے مٹھائی کے ساتھ معزرت کی چٹ بھی۔۔ یقین جانو شرمندہ ہوگئ تھی میں چٹ پڑھ کر تمہارے بھائی بھی خفا ہوئے کہ بچوں کی بات پر مجھے اتنا ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔ سو آج میں معزرت کرنے آئی ہوں کان پکڑ کر سوری انیقہ ۔۔
    کہتے کہتے باقائدہ دونوں کان پکڑ کر اس نے مزاحیہ سے انداز میں کہا۔۔ انیقہ اسے حیران حیران سی دیکھتی رہی
    مگر میں نے تو کوئی۔۔
    وہ کہنا چاہ رہی تھی جبھی تابش سستی سے چپل گھسیٹ کر چلتا کمرے سے باہر نکل آیا۔۔
    بھئ انیقہ چائے بنانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے؟؟؟؟
    انیقہ تو انیقہ شبانہ بھی ششدر بیٹھی رہ گئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر تو خالی ہے اس وقت۔۔۔
    شبانہ کے رشتے کے چچا کوئی صاحب علم انسان تھے ۔۔ شبانہ انکو لیکر آئی تھی۔  باریش چاق و چوبند مگر 70 کی دہائی کے دبلے پتلے اونچے قد کے انسان جنکی پیشانی پر سجدے کا نشان نمایاں تھا۔۔ سفید براق کڑکڑاتا کرتا اور حیدرآبادی پاجامے میں ملبوس انکی شخصیت کا رعب نمایاں تھا۔ انیقہ بے حد گھبرائی تھی تابش نے تو صاف انکو وہمی کہہ کر ٹال دیا تھا مگر شبانہ ٹھٹک گئ تھی ابھی بھی انیقہ کے ساتھ اسکا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔۔
    چاروں جانب گھوم گھوم کر دیکھنے کے بعد انہوں نے آنکھیں بند کرکے کہا تھا۔۔
    اسکول میں ہے اس وقت۔۔ جو بھی ہے وہ بچے کے ساتھ ہے۔بچے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔۔
    وہ آنکھیں بند کرکے کہے جا رہے تھے
    انیقہ تڑپ اٹھی
    ہاں بابر اسکول گیا ہوا ہے وہاں ہے کوئی؟ میں جاتی ہوب بابر کے پاس
    وہ جیسے جانے ہی لگی تھی شبانہ نے مشکلوں سے روکا۔۔ بزرگ بھی اسکی بے چینی بھانپ گئے تھے
    بچے پر آیت الکرسی دم کیا کرو اسے بھی سکھائو ۔۔ ایک تعویز دوں گا اسے اٹھارہ سال تک کا ہونے تک بچے کے گلے سے نا اتارنا ۔۔۔ سمجھیں جو بھی اثر ہے جاتا رہے گا۔۔
    بزرگ کی ہر ہدایت وہ بہت غور سے سن رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مما یہ تعویز اتار دوں ؟۔۔
    بارہ سالہ بابر گردن میں پڑے تعویز سے الجھن محسوس کرتا کچن میں چلا آیا۔۔
    ہنڈیا بھونتی انیقہ نے مسکرا کر اسے دیکھا
    ہر دودن بعد تم یہی پوچھتے ہو اب کیا مسلئہ ہے اس سے؟؟؟؟
    انیقہ کے کہنے پر بابر نے کھسیا کر کان کھجایا۔۔
    وہ میرا سب مزاق اڑاتے ہیں۔۔ اتنا بدنما سا تعویز ہے ۔۔ اور تو کوئی نہیں پہنتا میں ہی کیوں؟؟؟؟
    بیٹا  نظر بد کا تعویز ہے ۔۔  اب میرا شہزادہ بیٹا پیارا اتنا ہے کہ مما ڈرتی ہیں کہ نظر نہ لگ جائے اسے۔۔
    قد نکالتے بیٹے کو اس نے گدگد ا کر ہنسانا چاہا تو وہ سرخ سا پڑ گیا  انیقہ نے بے ساختہ پیشانی چوم لی تو وہ جھلانے لگا مما میں بڑا ہو گیا ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وقت پر لگا کر اڑا تھا اسکے بالوں میں کہیں کہیں سفیدی جھلکنے لگی بابر قد میں تابش سےبھی اونچا نکلا تھا ۔۔ دونوں میاں بیوی اسے دیکھ دیکھ کر جیتےتھے۔۔ بابر کا سیکنڈ ایئر  پری انجینئرنگ چل رہا تھا۔۔۔
    چونکہ ابھی امتحان دور تھے تو اسکےفٹ بال کے خوب میچز ہو رہے تھے ۔۔ انیقہ بھی پڑھائی پر ذیادہ سخت نہیں تھی۔ بابر ایک ذمہ دار اور سلجھا ہوابچہ تھا گو اب اتنا بچہ بھی نہیں تھا مگر انیقہ کو وہ ابھی بھی چھوٹا بچہ ہی لگتا تھا۔پڑھائی میں غیر زمہ دار نہیں تھا سو اسکے کھیل پر انیقہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔
    ابھی بھی وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ڈھلتی سہ پہر میں بیگ کندھے سے لٹکائے وہ فٹ بال کھیل کر پسینے میں ڈوبا ہوا  گھر میں داخل ہوا۔۔۔
    اور مما کیسی ہیں۔۔
    وہ شرارت سے ماں کو چڑانے کی نیت سے قریب آیا۔
    انیقہ نے وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے اسے روک دیا
    دور ۔۔۔ جائو نہا کر آئو۔۔ پھر ماں کے پاس آنا۔۔
    انیقہ نےکہا تو وہ ہنستے ہوئے پلٹ گیا۔۔
    نہا دھو کر آکر ماں کے پاس آبیٹھا۔۔
    امتحان کب سے شروع ہو رہے ہیں؟ 
    انیقہ نے پوچھا تو وہ کان کھجانے لگا۔۔۔
    اگلے ہفتے سے۔۔۔ 
    بس پھر اب یہ کھیل کود بند کرو۔۔پڑھائی شروع کردو۔۔ 
    بس پرسوں فائنل ہے اسکے بعد پڑھنا ہی ہے۔۔۔ 
    انیقہ کے کہنے پر وہ جلدی سے بولا مبادا کہیں فائنل سے نہ روک دے۔۔
    تبھی باہر گھنٹی بجی۔۔ 
    میں دیکھتا ہوں۔۔ وہ فورا اٹھ گیا۔۔ 
    انیقہ ٹی وی پر فلم دیکھ رہی تھی اب انجام قریب تھا وہ انہماک سے دیکھنے لگی۔۔ 
    ممی ۔۔ تھوڑی دیر بعد بابر نے قریب آکر جھجکتے ہوئے پکارا۔۔ 
    ہوں ۔۔ انیقہ نے بمشکل ٹی وی سے نظر ہٹائی
    ممی وہ میرے دوست کے گھر دعوت ہے مجھے بلانے آیا ہے چلا جائوں؟ 
    ابھی؟ انیقہ چونکی۔۔
    ہاں اسکا گھر دور ہے بتا رہا تھا دو ایک گھنٹے لگیں گے۔۔ 
    بابر کا انداز ملتجیانہ ہوا۔۔ 
    چلا جائوں؟
    ہاں چلے جائو ۔۔ مگر نو بجے تک واپس آجانا سمجھے؟۔۔ انیقہ نے وارننگ دی۔۔ 
    بابر نے گھڑی پر نگاہ کی شام کے چار بج رہے تھے 
    آجائوں گا اب جائوں؟ 
    بابر نے جلدی سے پوچھا۔۔ 
    ہاں جائو دوست کا نام تو بتا جائو۔۔ 
    دوبارہ ٹی وی کی۔جانب متوجہ ہوتے اسے خیال آیا۔۔
    بابر نے چند لمحے سوچا پھر بولا 
    جگنو۔۔ 
    ہمممم۔ انیقہ نے سر ہلایا بابر پلٹ کر چلا گیا انیقہ کے ذہن میں کوندا سا لپکا۔۔ 
    کون ؟ وہ پلٹ کر پکاری  مگر بابر جا چکا تھا۔۔ وہ اٹھ کر تیزی سے باہر بھاگی مین گیٹ بند تھااور اسکے پاس بابر کا تعویز پڑا تھااسے اٹھاتی وہ بےتابی سے بابر کو پکارتی گیٹ کھولنے لگی۔۔ گلی بالکل خالی تھی۔۔ 
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ وہ محلہ پہلے جیسا لگ رہا تھا نہ گلی۔۔ مگر اسکا گھر وہ پہچان کر آگے بڑھا۔۔ گھر کا نقشہ بدل چکا تھا اب دو منزلہ پکا مکان تھا اور اسکے ساتھ والا مکان بھی۔۔ 
    وہ الجھن بھرے انداز میں گھر کی گھنٹی بجانے لگا۔۔ 
    بیٹا یہ گھر خالی ہےدلاور صاحب اپنے خاندان کے ہمراہ کاغان گئے ہوئے ہیں۔۔۔ 
    کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کرتے ہوئے بتایا۔۔ بابر چونک کر مڑا۔۔
    کون دلاور صاحب؟ یہ تو میرا گھر ہے؟ میرے ممی پاپا کہاں گئے ؟
    مخاطب کرنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا کنپٹیوں سے بال سفید گھر کا سودا تھامے اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا۔۔
    تم کون ہو بیٹا؟ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے لگتا ہے دلاور صاحب تو پندرہ سال سے یہیں رہ رہے ہیں۔۔ 
    اس شخص کے کہنےپر وہ حیرت سے چیخ پڑا
    کیا ہوگیا ہے اٹھارہ سال کا تو میں ہو رہا ہوں اور اسی گھر میں رہتا آیا ہوں ابھی گھنٹے دو گھنٹے کیلئے باہر گیا تھا۔۔
    کیا ہوگیا ہے بیٹا  نشہ وشہ تو نہیں کرتے ہو؟؟۔۔ یہاں تو دلاور صاحب رہتے ہیں برسوں سے
    وہ برابر والے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہے تھے شائد یہ انکا گھر تھا مگر یہاں تو شبانہ آنٹی رہتی تھیں۔ اسے حیرت ہورہی تھی
    ان انکل کے کہنے پر اس نے سخت چڑ کر دیکھا۔۔
    تابش ہمدانی اور انیقہ ہمدانی کا گھر ہےیہ۔بابر نے جتانے والے انداز میں کہا تواندر جاتے جاتے رک کر وہ شخص پرسوچ انداز میں اسے دیکھتے بولا جیسے کچھ یاد آیا ہو۔۔ اچھا ہاں دلاور صاحب سے پہلے یہاں تابش ہمدانی ہی رہتے تھے مگر جب انکا بیٹ لاپتہ ہوا تو دونوں میاں بیوی گھر بیچ کر آبائی گھر چلے گئے تھے اب تو اس بات کو پچیس تیس سال ہو رہےہیں۔۔
     کیا بات کر رہے ہیں کون ہیں آپ ایسا کیسے ہوسکتا میں بیٹا ہوں انکا  یہ میرا گھر ہے ابھی دوگھنٹے پہلے ہی تو نکلا ہوں گھر سے۔۔
    بابر پر کسی انہونی کا احساس ہوا بے تاب ہو کر وہ پڑوس والے گھر کی جانب بڑھا

    یہ شبانہ آنٹی کا گھر ہے نا ان سے پوچھتا ہوں۔۔ 
    وہ کہتا انکےگھر کی جانب بڑھنے کو تھا کہ وہ اجنبی شخص چونکا۔۔
    تم میری امی کو کیسے جانتے ہو؟ اور تم ۔۔۔تم تم بابر ہو؟ مگر تم ایسے کیسے۔۔ 
    یہ نہیں ہو سکتا ۔۔ 
    وہ ادھیڑ عمر شخص اسے پہچان کر بے حد خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹا۔۔
    شبانہ آنٹی تمہاری امی؟ بابر چونکا۔۔ 
    شایان۔۔ بابر نے پہچان لیا مگر آنکھوں پر یقین نہ آیا۔۔ شایان تو میرے جتنا تھا اتنا بڑا کیسے۔۔ 
    بابر نےاسکی جانب بڑھنا چاہا مگر وہ شخص بری طرح خوفزدہ ہو کر سامان چھوڑتا بابر سے دور ہوتا جلد بازی میں اپنے ہی گیراج میں پشت کے بل گرا اور دیوانہ وار چلانے لگا وہ گھسٹتا پیچھے ہو رہا تھا
    ہٹو دور رہو مجھ سے ۔تم بابر نہیں ہوسکتے تم ایسے کیسے پاس مت آنا میرے۔۔۔۔
    بابر حیران سا کھڑا اسےدیکھتا رہا تبھی کوئی آکر بابر کے پاس کھڑا ہوا۔۔ بابر نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اس سے کہا۔۔ 
    دیکھو نا یہ کیا ہوگیا ہے۔۔ 
    جگنو۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔ 

     

    از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی)

     

    https://urduz.pk/ek-khofnak-shakal-ki-aurat-tasveer-me-muskura-rhi-thi/
    urdu horror stories

    2024 hottest trends for lip shades a complete blog for fashionable girls