Blog

  • Desi Kimchi Episode 55

    قسط 55
    سارا دن اسکا اس چندی آنکھوں والی کے نخرے اٹھاتے گزرتا تھا اور عبداللہ سے بچتے۔ جانے عبداللہ کو کیا مسلئہ تھا بہانے بہانے سے اسکے پاس آنے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اسے تو عبداللہ سے اتنی چڑ ہو چکی تھی کہ مروتا بھی مخاطب ہونے کو تیار نہ ہوتی تھی۔ ابھی بھی فاطمہ فاطمہ کی پکار پڑ رہی تھی۔ وہ کھاوا کو اشارے سے اس سے جان چھڑانے کا کہتی بیگ اٹھائے باہر نکل آئی۔۔۔
    سیہون نے کہا تھا وہ اسے یہاں سے پک کر لے گا موسم ہلکا خنک ہو رہا تھا وہ اپنے اپر کی زپ کی بند کرتی باہر احاطے میں پھولوں کے کنج کے پاس آٹکی۔۔
    بیگ کھول کر والٹ نکالا اور پیسے گننے لگی۔
    پیسے اسکی ضرورت کے مطابق تھےاس نے ٹھنڈی سانس بھری۔
    کیا چیز ہو تم واعظہ۔۔۔۔
    والٹ سنبھال کر بیگ میں رکھ رہی تھی جب آہٹ محسوس ہوئی اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو کھاوا اسکے سر پر سوار تھا
    عبد اللہ تمہیں لنچ پر لے جانا چاہتا ہے۔
    بلا تمہید بولا تھا۔ انداز میں شرارت بھری تھی۔
    اس سے کہو باز آجائے ورنہ جوتے کھائے گا ۔
    اسکے تو جیسے تلوے سے لگی تھی۔
    کھاوا کو اس سے اسی جواب کی توقع تھی کھل کر ہنسا۔
    میں نے اسے کہہ دیا ہے تمہاری شادی ہونے والی ہے۔ پوچھ رہا تھا کہاں یہیں یا پاکستان میں۔ میں نے کہا پاکستان جا رہی ہے فاطمہ اگلے مہینے۔۔۔۔
    شش۔۔ فاطمہ بھنا کر اٹھ کھڑی ہوئی
    اچھی بات منہ سے نکالو کوئی وقت قبولیت کا بھی ہوتا ہے۔
    لو پاکستان جانا بری بات ہے۔۔ وہ برا مان گیا۔
    اپنا ملک اپنا ہوتا ہے باہر رہنے والوں کو تو پاکستان کی ذیادہ قدر ہوتی ہے وہ تو بھاگ کے واپس جانا چاہتے ہیں۔
    ہاں تو کب جا رہے ہو مسٹر کھاوا۔
    وہ بھی طنزیہ انداز میں جتا کر بولی۔ کھاوا کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
    ویسے اتنا برا بھی نہیں ہے۔ مسلمان عبداللہ پیارا ہے اور اسے واقعی تم کافی پسند آگئ ہو۔
    ایو۔ اس نے جھر جھری سی لی
    شرابی کبابی بھی ہے۔ یاک گندا انسان۔ مجھے تو جب سے اس نے سور کھایا ہے نجس بھی لگنے لگا ہے۔
    فاطمہ جیسے سچ مچ گھنیا سی گئ۔
    کھاوا سر کھجانے لگا۔
    یعنی تمہاری طرف سے نا ہے اسکے لیئے۔
    بالکل۔
    فاطمہ کا انداز قطعی تھا۔۔کھاوا کندھے اچکا گیا۔تبھی سیہون کی کال آگئ تھی۔
    اچھا میری گاڑی آگئ ہے میں چلتی ہوں۔ خدا حافظ۔
    وہ حسب عادت فون کان سے لگا کر لاپروائی سے ہاتھ ہلاتی بھاگ اٹھی شائد تیز چلنا بھاگنا اسکو پسند تھا۔ ابھی بھی سڑک کنارے تک وہ بھاگتی گئ تھی جہاں گاڑی کھڑی تھی۔ فرنٹ ڈو رکھول کر بیٹھنے تک وہ اسے یونہی دیکھتا رہا گاڑی زن سے آگے بھئ بڑھ گئ۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ اور سیہون گروسری شاپنگ کرنے آئے تھے۔ سیہون نے باقائدہ فہرست بنا رکھی تھی۔ بس فاطمہ کا کام اس فہرست میں حلال ٹیگز دیکھنا تھا۔ سب کچھ لیتے اسکا دل للچا گیا تو آٹا بلکہ میدہ خرید ڈالا۔۔
    تم کیک بیک کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو پہلے بتا دوں اوون خراب پڑا ہوا ہے۔
    سیہون نے یاد دہانی کرائی۔
    اسکا کیک میں فرائی پین میں بنائوں گی۔
    فاطمہ نے تسلی کرائی۔ دالیں سبزیاں شیمپو صابن۔ وغیرہ۔
    مینز سیکشن سے جب سیہون اپنے لیئے شیمپو کنڈشنر باڈی واش سن اسکرین جانے کیا کیا اٹھا کر لایا تو وہ خود جو بس شیمپو اور فیس واش ہی چن کر لائی تھی بڑبڑا کر رہ گئ
    یہاں کے تو لڑکوں کا بھی بڑا خرچہ ہے بھئ۔ اب اس شاپنگ میں آدھے پیسے میرے لگ رہے مگر ڈینٹنگ پینٹنگ کی چیزیں اسکی ہیں ساری۔ اس نے کینہ توز نگاہوں سے آدھی بھری ٹرالی کو گھورا۔
    تم نے اور بھئ کچھ لینا ہے؟
    سیہون اسکی نگاہوں سے یہی سمجھا تھا۔
    نہیں مجھے کچھ نہیں لینا۔ ویسے ایک بات بتائو یہ کورینز اتنا ظاہری شکل وصورت کو اہمیت کیوں دیتے ہیں۔میں نے کسی پاکستانی لڑکے کو اتنا کچھ اپنے حسن کو نکھارنے کیلئے خریدتے نہیں دیکھا
    وہ کہہ گئ۔ سیہون نے چندی آنکھیں سکوڑ کر اسے گھورا
    ویسے ایک بات بتائو تم پاکستانی لڑکیاں ظاہری شکل و صورت کو اہمیت کیوں نہیں دیتیں۔ یا تو چہرہ ڈھانپ کر پھروگی یا منہ دھونے کی بھی توفیق نہیں ہوگی۔ میں نے کسی کورین لڑکی کو اپنے لیئے بس دو چیزیں لیتے نہیں دیکھا۔ یہ جتنا بڑا مینز ایریا ہے نا اس سے دوگنا بڑا وہ رہا وومینز کاسمیکٹکس کیلئے مختص حصہ۔
    اس نے چبا چبا کر کہتے اشارہ کیا تو وہ بلا ارادہ گھوم گئ۔
    کہہ صحیح رہا تھا ایک الگ ہی دنیا تھی چار رویہ جس میں درجنوں خواتین منہ پر تھوپنے والی اشیاء پر ٹوٹی پڑ رہی تھیں۔
    خیر سب پاکستانی لڑکیاں میرے جیسے نہیں ہوتیں۔۔۔
    اس نے گلا کھنکار کر گھورا۔۔
    مگر لڑکیاں یہ سب کریں بنتا ہے لڑکوں کی شکل کون دیکھتا۔
    اس نے سیہون کی شکل دیکھتے ہی کہا تھا۔
    ہم خود بھی اپنی شکل دیکھتے ہیں۔ انسان کو اپنے لیئے بھی بلکہ اپنے لیئے ہی خود کو سنوار کر رکھنا چاہیے۔ ذرا آئینہ دیکھو۔ کوئی حیرت نہیں کہ ابھی تک سنگل ہو۔
    سیہون تو کہہ کر ٹرالی گھسیٹتا چلتا بنا اسکی آنکھیں حجم سے دگنئ ہوگئیں۔
    کیا کہہ گیا۔۔ وہ دانت کچکچاکر اسکی جانب بڑھنے لگی کہ خیال آیا۔ بڑے سے قد آدم آئینے وومینز ایریا میں جا بجا لگے تھے وہ جھٹ ان میں سے ایک کے پاس چلی آئی۔
    بلو جینز اس پر مسٹرڈ ڈھیلا ڈھالا اپر۔ہلکے گھنگھریالے سے کالے سیاہ بالوں کی اونچی پونی میں سے کئی لٹیں باہر نکل چکی تھیں۔ صبح منہ دھو کے بس کریم لگائی تھی جس پر سارے دن کی تھکن ثبت ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی فاطمہ کو خود پر پیار ہی آگیا
    اتنی تو پیاری لگ رہی ہوں۔ اگر میک اپ کیا ہوتا تو کیا قیامت ڈھاتئ میں۔
    وہ خود کو گھوم کر دیکھ رہی تھی۔ سلم اور اسمارٹ۔
    آئینہ دیکھ کر مزید اعتماد ہی آگیا تھا
    خراماں خراماں چلتی باہر نکل آئی۔۔
    سیہون گاڑی میں سامان رکھ رہا تھا۔ ساتھ کوئی لڑکی بھی کھڑی تھی۔۔ وہ اسے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے سامان ٹرالی سے نکال کر ڈگی میں رکھ رہا تھا
    تم مجھے نظر انداز کیوں کر رہے ہو۔ میں نے مانا مجھ سے غلطی ہوئی ہے مگر کیا تمہاری محبت اتنی کم ظرف تھی کہ میری غلطی معاف نہ کرسکے۔
    وہ تڑپ کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اسکے انداز میں لڑکھڑاہٹ تھئ۔
    یہ کون محترمہ ہے بھئ
    فاطمہ نے دلچسپی سے اسکی شکل دیکھی۔
    اوہ میری۔
    آہ۔ ا س نے گال پر ہاتھ رکھ لیا۔ اسکی شکل دیکھتے ہی گال تپ اٹھا تھا۔ بڑا ہی بھاری ہاتھ ہے اسکا تو۔
    اسے ان دونوں کی کپل فائٹ کا حصہ بننا مناسب نہ لگا اسے تھپڑ سے بھی ڈر لگتا تھا۔ انکو پرائیویسی دینے کی خاطر وہ قصدا واپس مڑی جبھی سیہون کی اس پر نظر پڑی۔
    یوبو۔
    وہ ڈگی بند کرتا پکار رہا تھا۔ وہ آنکھوں پھاڑ کر مڑی۔
    تم نے اور تو کچھ نہیں لینا۔ وہ بے تکلفی سے پوچھ رہا تھا۔
    آنیا۔ اس نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
    گلابی لانگ ٹاپ میں ملبوس میری کی چندی آنکھیں اپنے حجم سے دگنی ہو رہی تھیں وہ حیرت سے کبھی سیہون کو دیکھتی کبھی اسے۔
    اوہ مجھے خیال نہیں رہا۔ سیہون نے اپنی پیشانی چھوئی جیسے اسے کچھ یاد آیا ہو۔
    یہ میری بیوی ہے فاطمہ۔ ہم نے چھے مہینے قبل شادی کر لی تھی۔۔ اس نے میری پر جیسے بم پھوڑا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سیہون کو دیکھ رہی تھی جو قصدا مسکرا کر افاطمہ کی طرف دیکھ رہا تھا
    فاطمہ یہ میری دوست ہے میری۔ ایک بار شائد پہلے تم لوگوں کی ملاقات ہوئئ تھی میرے اپارٹمنٹ میں۔ میری تمہارے پاس اچھا موقع ہے پہلی ملاقات کا اثر زائل کر سکتی ہو۔۔۔
    اسکا ہلکا پھلکا انداز
    فاطمہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھی۔
    وہ یقینا غلط فہمی تھی مگر اس غلط فہمی نے ہمیں ملا دیا ہمیں ملوانے کا شکریہ میری۔
    وہ بہت گرم جوشی سے میری کی۔جانب ہاتھ بڑھا رہی تھی۔۔جسے اس نے تنفر سے جھٹک کر سیہون کی جانب رخ کر لیا
    چھے مہینے پہلے؟ تم مجھ سے محبت کا دعوی کرتے تھے اور صرف چھے مہینے میں مجھے بھلا دیا؟ وے سیہونا
    وہ ہنگل میں اسکا کالر پکڑ کر چیخی تھی۔
    فاطمہ گھبرا کر اسکی جانب بڑھئ۔
    سیہونا بولو۔
    اس پر کوئی جنون طاری تھا شائد۔ سیہون نے اسکے شکنجے سے اپنا کالر چھڑایا
    میری بیوی ہنگل نہیں سمجھ سکتی مگر یقینا اس طرح اسکے سامنے ردعمل ظاہر کرکے اسے تم مشکوک کر رہی ہو۔ میرے تمہارے بیچ جو تھا ختم ہوچکا چھے مہینے پہلے۔ بہتر ہوگا یوں تماشا نہ بنائو۔
    وہ گھٹے گھٹے لہجے میں اسکا بازو جکڑے چبا چبا کر اتنے سرد لہجے میں بولا تھا کہ فاطمہ کو الفاظ سمجھ نہ آنے کے باوجود ایک سرد سی لہر اپنی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑتی محسوس ہوئئ تھی۔
    آہش۔
    میری اپنا بازو چھڑاتئ چلائی۔۔ اسکے قدم لڑکھڑا رہے تھے یقینا وہ مدہوش تھی۔
    تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم مجھے کبھی بھول۔نہیں سکتے۔جھوٹ ہے یہ۔
    وہ اسکی گاڑی پر ٹھوکر مار رہی تھی
    سیہون تیز تیز قدم اٹھاتا فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھا۔
    چلو فاطمہ۔
    اسکی۔جانب دیکھے بنا وہ بولا تھا
    فاطمہ دم بخود سی کھڑی تھی فورا بھاگی آئی۔
    میری ہنگل میں جانے کیا بڑبڑاتے ہوئےاسی گاڑی کی ڈگی سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی۔۔
    فاطمہ نے پسنجر سیٹ پر بیٹھ کر مڑ کر کھڑکی سے جھانکا تو وہ ڈگی سے یوں ٹکی کھڑی تھی کہ اگر وہ گاڑی نکالتے تو وہ دھپ سے زمین پر آرہتی
    فرنٹ سیٹ پر بیٹھے سیہون نے سختی سے دانت پر دانت جمائے ہوئے تھے۔
    اسے گاڑی اسٹارٹ کرتے دیکھ کر فاطمہ نے نا چاہتے ہوئے بھی ٹوکا
    ابھی گآڑی آگے۔۔
    ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ سیہون نے لمحہ بھر کیلئے گاڑی آگے بڑھا کر روک دی تھی
    میری گرتے گرتےبچی تھی سنبھل کر سیدھی بھی پوری طرح نہ ہوئی تھی کہ وہ تیزی سے گاڑی نکال لے گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سارا راستہ خاموشی سے گزرا تھا۔اپارٹمنٹ تک سب سامان اٹھا کر لانے تک ان میں آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
    اسے لگ رہا تھا کہ اسے کچھ کہنا چاہیئے مگر کیا کہنا چاہیئے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔
    واعظہ کا فون آرہا تھا۔ اس نے کاٹ دیا۔
    سامان کچن کائونٹر پر رکھ کر اب وہ چیزوں کو انکی جگہ پر رکھ رہا تھا۔
    فاطمہ خاموشی سے آکر کائونٹر کے پاس رکھے اسٹول پر آن ٹکی۔
    سیہون کا چہرہ سپاٹ تھا مگر چیزیں اٹھاتے رکھتے اسکے ہاتھوں کی لرزش اس سے چھپی نہ رہ سکی تھی۔
    آئیم سوری۔
    کائونٹر خالی کرتے وہ مدہم سی آواز میں بولا
    دے۔۔ وہ چونکی۔
    آئیم سوری۔ اس نے دہرایا
    میں نے تمہیں یوبو کہا۔ اور تمہارا تعارف اپنی بیوی کے طور پر کرایا اسکے لیئے۔
    اس نے وضاحت کی۔
    کوئی بات نہیں۔۔۔۔
    وہ اور کیا کہتی۔
    میں سونے جا رہا ہوں شب بخیر۔
    وہ کہتا رکا نہیں تیز تیز چلتا کمرے میں گھس گیا۔
    اس نے گہری سانس لیکر بالوں میں ہاتھ پھیرا تبھی
    واعظہ کئ پھر کال آگئ۔۔ اس نے اس بار اٹھا کر کان سے لگا لیا فون
    کہاں ہو ؟ چھوٹتے ہی وہ تند لہجے میں پوچھ رہی تھی
    گھر ۔۔ اس نے ہونٹ لٹکائے
    کس کے۔ ۔ وہ حیران رہ گئ
    سیہون کے اور کہاں۔ فاطمہ چڑ گئ
    تو تم نے تو یہاں آنا تھا بھول گئیں عروج ٹریٹ دے رہی ہے اسکالر شپ ملنے کی خوشی میں؟؟؟
    یاد تھا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔
    مگر واپس آتے ہوئے میری مل گئ اسکی اور سیہون کی تو تو میں میں ہوگئ سیہون اتنا غصے میں تھا کہ میری ہمت نہ ہوئی اسکو کہنے کی کہ
    کہاں مل گئ؟ گھر آگئے ہو تم لوگ؟ میں آتی ہوں اس میری کی توہمت کیسے ہوئی گھر آنے کی
    آگے سے واعظہ کا ردعمل کہیں مختلف تھا غصے سے آگ بگولہ ہوگئ
    ارے رکو۔سنو۔۔ فاطمہ من من کرتی رہ گئ اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔۔
    ہاہ۔ وہ حیرانی سے موبائل کو دیکھ کر رہ گئ
    آئی بڑی اماں۔ یہ بھی یہیں اٹھ کر آرہی ہے اب خود ہی کچھ بنانا پڑے گا اپنے کھانے کو۔۔۔ بڑبڑاتے ہوئے اٹھنا ہی پڑا
    اسکا ذرا موڈ نہیں تھا۔ مگر اب کرنا اسے یہی پڑتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج عشنا عزہ اور طوبی ریستوران میں بیٹھی تھیں۔ آرڈر دے دیا تھا اب کھانے کا انتظار ہو رہا تھا
    فاطمہ تو آئی نہیں واعظہ بھی اٹھ کے چل دی۔ ایسا بھی کیا مسلئہ درپیش ہے دونوں کو۔
    عروج کو۔غصہ آرہا تھا
    جانے دو ہم تو سب ہیں نا موڈ نا خراب کرو۔
    طوبی نے پچکارا تو عزہ اور عشنا بھی ہاں میں ہاں ملانے لگیں
    طوبی جی بچے کس کے پاس چھوڑ کر آئی ہیں۔
    عشنا نے پوچھا تو وہ بے فکری سے بولی
    دلاور انہیں لیکر باہر گئے ہوئے تھے۔اب کھا پی کر ہی لوٹیں گے ۔۔۔بس یہ صائم نہیں ٹکتا میرے بغیر سو اسے لانا مجبوری۔
    چھوٹا بھئ تو ہے۔۔
    عزہ نے چمکارا تو وہ ماں کی گود میں مچلنے سا لگا۔
    اسکو اتار دیں ادھر دو تین سال کے بچوں کیلئے جھولے وغیرہ کا انتظام ہے ملازم بھی ہوتے ہیں سنبھال لیں گے۔
    عروج نے بتایا تو طوبی اٹھنے لگی
    آپ بیٹھیں میں اسے چھوڑ آتئ ہوں
    عشنا نے اسے اٹھنے نہ دیا۔اسے اٹھا کر بچوں کے پلے ایریا میں لے آئی۔ وہ یہاں آکر اپنے ہم عمر بچے دیکھ کر خوش ہو گیا تھا۔ وہ جب اندر گیندوں والی سلائڈ کی۔جانب بڑھ گیا تو وہ بے فکر ہو کر۔واپس چلی آئی۔
    ان ڈھیر سارے چندی آنکھوں والے بچوں میں وہ بس ایک ہی الگ تھا جبھی جس کے پاس جاتا وہ بچہ اسے دور کر دیتا۔
    سلائیڈ لینے جاتے ہوئے اس گورے چٹے موٹے بچے نے تو اسے دھکا ہی دے ڈالا۔ وہ دھپ سے گیندوں پر گرا چوٹ تو اتنی نا آئی مگر ہتک نے رلا دیا۔
    وہ ایک۔بچے کو۔غبارہ دے رہا تھا اسے روتے دیکھ کر۔بھاگ کر اسکے پاس آیا۔۔ اسے اٹھا کر کھڑا کیا بچہ روئے چلا جا رہا تھا
    کیا ہوا۔ وہ ہنگل میں پوچھ رہا تھا بچے نے روتے روتے غور سئے اسے دیکھا پھر اس سے لپٹ گیا
    یہ گندا ہے مجھے دھکا دیا اس نے۔
    اسکا لہجہ رواں نہیں تھا مگر بول اردو رہا تھا۔
    اس نے چمکارا پیار کیا۔ پھر بہلانے لگا
    چھوڑو آپ نا جائو گندے بچے کے پاس ادھر رہو
    آئو آپکو غبارہ دوں۔۔
    اس نے بڑا سا مکی مائوس اسے تھمایا۔ وہ خوش ہوگیا مگر اب اسکی مرضی یہی تھی کہ اسکے ساتھ رہے۔
    عشنا کے بتانے پر طوبی نے ایک نظر دیکھ کر تسلی کر لی تھی اب آرام سے کھانا کھا رہی تھی۔
    کھانا وانا کھا کے وہ سب آئسکریم کا انتظار کر رہی تھیں
    میں صارم کو دیکھ لوں اسے بھئ بھوک لگ گئ ہوگی۔
    طوبی کہہ کر اٹھنے لگی تو عزہ نے روک دیا
    رہنے دیں میں لے آتی ہوں ادھر بچے بھاگ دوڑ رہے ہیں ایویں آپکو دھکا وکا نا لگ جائے۔
    اسکی فکر پر طوبئ ہنس دی۔
    اب ایسی بھی کوئی احتیاط کی ضرورت نہیں ابھی مجھے
    اس نے کہا مگر عزہ نے اٹھنے نا دیا۔
    صارم شائد کسی انڈین ورکر کے ساتھ تھا وہ انڈین چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھا اسے کیلا کھلا رہا تھا۔ اس نے دور سے دیکھ لیا تھا آگے بڑھ کر اسے چمکار کر اٹھانے لگی تو اس لڑکے نے روک دیا
    آپ اس بچے کو ہاتھ نہ لگائیں والدین برا مانتے ہیں پرائے بچے کو ہاتھ لگانے پر۔
    اس نے ٹوکا تو عزہ سر ہلا کر بولی
    اسکی ماں کے پاس ہی لے جانے آئی ہوں۔ آجائو صارم
    اس نے جیسے ہی بانہیں پھیلائیں صارم ہمک کر اسکے پاس جانے لگا اس نے نرمی سے اسے پیچھے کر لیا
    دیکھیں آپ پہلے شناخت کرائیں اسکی والدہ برقعہ نہیں کرتیں۔ ابھی چھوڑنے آئی تھیں وہ میرے پاس۔۔
    وہ اب کھڑا ہوگیا تھا
    ارے ۔۔۔ عزہ نے آنکھیں پھاڑیں
    ایسی بھی کیا بے اعتباری وہ بیٹھی ہیں اسکی والدہ انہوں نے ہی بھیجا ہے۔
    عزہ نے اشارے سے دور میز پر بیٹھی طوبی کو دکھایا۔ طوبی کی اسکی جانب پشت تھی البتہ عشنا نظر آگئ تھی اسے۔۔ وہ وہاں اشارے سے پوچھ رہی تھی کیا ہوا۔
    وہ دیکھیں ۔وہ رہی اسکی ماں ۔ میں نقاب کیئے ہوں توآپ نے سیدھا مجھے دہشت گرد بنا دیا حد ہوتی یے پکا کوئی انڈین ہی ہیں آپ۔
    اب عزہ کہے اور خاموشی سے سنے اگلا۔۔ بھنا ہی تو گئ
    دیکھیں آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں یہ بچے ہماری ذمہ داری ہیں اسلیئے۔
    اس نے صارم کو گود میں اٹھا کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے معزرت خواہانہ انداز اپنایا
    ہاں دیکھ رہی ہوں کتنی ذمہ داری سے اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں۔۔ وہاں سب ایک شکلوں کے بچے ایک سی شکلوں کی مائوں کے ساتھ جا رہے تب کوئی فکر نہیں اور یہ کیلا کیوں کھلایا آپ نے اسے۔ سب بچوں کو کیلا کھلاتے ہیں آپ ؟ قبض ہو گیا اسے تو آپ آئیں گے گرائپ واٹر پلانے ؟
    وہ صارم کو گود میں اٹھانے کی بجائے کمر پر ہاتھ رکھے شروع تھی۔
    یار یہ لگ رہا ہے لڑ رہی ہے۔ جائو دیکھو عشنا۔
    عروج کو فکر ہوئی۔ عشنا فورا اٹھی
    کس بات پر لڑے گئ ۔۔ طوبی نے آئسکریم کا بڑا سا اسکوپ لیکر مڑ کر دیکھا۔۔
    خوامخواہ بحث کر رہی ہیں ایک تو یہ بچہ اسکی وجہ سے میں شفٹ ختم ہونے کے باوجود دس منٹ سے یہاں کھڑا ہوں۔ اوپر سے ۔۔
    لڑکا بھی جھلا سا گیا۔ زبردستی صارم کو اسے تھما دیا۔
    اوہ۔ وہ۔ عزہ لڑکھڑا گئ
    صارم نے پچھلے کچھ دنوں میں ایک دم صحت بنائی تھی۔ اسکو لگا وہ بچے سمیت پیچھے جائے گی
    کھاوا بھی گھبرا گیا۔ عشنا جو بھاگتئ آئی تھی اسے سہارا دینے لگی۔
    توبہ ہے بچہ ہے یہ بوری نہیں ایسے تھما دیا گر جاتے ابھی ہم دونوں
    کینہ توز نگاہوں سے عزہ نے گھورا
    ہاں تو کس نے کہا تھا آپکو شفٹ ختم ہو جانے کے بعد بھی بچی سنبھالیں ۔۔بچہ روتا تو ہم آجاتے اٹھانے۔۔ عزہ سے صارم کو گود میں لیتے ہوئے عشنا بھی دوبدو ہوئی
    عشنا کے کہنے پر کھاوا نے سر پیٹ لیا۔
    معاف کیجئے۔ غلطی ہوگئ آپکا بچہ ہے یہ آپ سنبھالیں میں چلتا ہوں۔
    وہ کہہ کر سائیڈ سے اپنا بیگ اٹھاتا تیزی سے ریستوران کے داخلی دروازے کی جانب نکلتا چلا گیا
    میرا بچہ نہیں ہے یہ۔ صارم کو اٹھائے اٹھائے عشنا مڑی تھی عزہ بھی مگر ان سے کہیں پھرتی سے طوبی اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔۔
    گڈو۔ اس کے لب بے آواز ہلے تھے۔۔ میز سے یہاں پلے ایریا تک کا فاصلہ اتنا ذیادہ تو نہ تھا مگر وہ وہاں سے بے تابی سے اٹھ کر بھاگئ تھی۔ ۔۔ کرسی سے ٹکراتئ تیزی سے چکنے فرش پر بھاگتی طوبی کو دیکھ کر عروج بھی سٹپٹا کر اٹھی تھی
    کیا ہوا طوبئ۔۔
    اسکی پکار سے بے نیاز طوبی بھاگتئ ہوئی داخلی دروازے سے باہر نکلی تھی
    گڈو۔ دیوانوں کی طرح پکارتی طوبی۔۔
    طوبی ۔۔ یہ تینوں طوبی کو پکارتی ہڑبڑا کر اسکے پیچھے بھاگیں۔طوبی ریستوران کے احاطے کے باہر سڑک تک بھاگتی آئی تھی مگر چند ہی لمحوں میں وہ لڑکا کیسے ہوا ہوگیا تھا۔۔
    گڈو۔ وہ پھولی سانسوں بکھرے حواسوں کے ساتھ متلاشی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔
    کیا ہوا طوبی کسے ڈھونڈ رہی ہیں۔
    وہ تینوں پھولی سانسوں کے ساتھ ہانپتی ہوئی پہنچی تھیں۔
    گڈو۔ وہ گگ۔ گڈو تھا ۔۔۔۔
    طوبی کا بھاگنے سے نا صرف سانس پھول گیا تھا بلکہ ہانپ بھی رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسے چکر سا آیا وہ وہیں بے دم سی ہوتی گئی۔ عزہ اور عروج نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ فرصت سے کمرے میں بیٹھی بیڈ کرائون سے سر ٹکائے رو رہی تھی۔
    بس۔ آج آج کا دن میں نے اتنا رونا ہے آئندہ ایک بھی آنسو اس آنکھ میں نہیں آئے گا۔۔
    اس نے خود کو باقائدہ کہہ کر باور کرانا چاہا۔ مگر خود کو سمجھانا اتنا آسان ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔
    چار دن رہ گئے۔ بس چار دن اور۔ اسکے بعد سب ختم ۔ مجھے کچھ یاد نہیں رہے گا نا یاد آئے گا۔ میں نے سمسٹر مکمل۔کرنا ہے پھر پاکستان واپس۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
    آنسو بے دردی سے پونچھتے وہ دلگیری سے بولی۔تبھی داخلی دروازے کی گھنٹی بجی
    اتنی جلدی واپس آگئیں۔۔ ڈنر کرتے ہی گھر واپس۔ ؟ ایسے تو آئسکریم بھی کھانی ہوتی ہے عذاب۔ اس گھر میں سکون سے تو رونا بھی محال ہے۔ اب کان کھا جائیں گی آنکھیں کیوں سوجی ہیں۔ جیسے جاتے وقت دماغ کھایا کہ ساتھ کیوں نہیں جارہی۔ہو تم۔بھئ جائو کھائو تم لوگ کھانا میرا دماغ نہ کھائو
    جھلاہٹ۔۔ بھری بڑ بڑ۔۔ جاری۔۔
    داخلی گھنٹی پھر بجی۔
    اسکا کوفت سے برا حال ہوگیا۔ جھلاتے ہوئے ہی بیڈ سے اتر کر چپلوں میں پائوں پھنسائے۔ دوپٹہ کندھے پر ڈالتی۔ عروج کےڈارک گلاسز سائیڈ ٹیبل پر سجے تھے۔ عروج کے منہ سے دو گنے بڑے۔۔ اس نے وہی آنکھوں پر چڑھا لیئے۔
    مگر سرخ ناک گال۔ اسکا تو منہ بھی عروج سے بڑا تھا۔
    گھنٹی پھر بجی۔ تو پیر پٹختی باہرنکل آئی۔ تن فن کرتے دروازہ کھول کر ڈانٹنا چاہا
    کیا مصی۔۔۔۔
    باقی الفاظ منہ میں دم توڑ گئے۔۔
    سامنے دلاور کھڑے تھے
    وہ ذرا تھوڑی دیر ان بچیوں کو رکھ لیں۔ عروج کا فون آیا تھا طوبی کی طبیعت خراب ہے اسے اسپتال لیکر گئے ہیں۔
    اسکے تیور۔ تھے یا وہ پریشان بہت تھے۔ دنیا جہان کی عاجزی مسکینیت طاری کرکے بولے۔
    جی۔ اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا۔ وہ جلدی میں تھے شکریہ ادا کرکے تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھ گئے۔مرے مرے انداز میں وہ بچیوں کو لیکر اندر چلی آئی۔ لائونج میں بٹھاکر ٹی وی آن کردیا۔
    کچھ کھائوگی تم دونوں۔
    دونوں بچیوں کے چہرے ستے ہوئے تھے اس نے مروتا پوچھا
    زینت نے تو نفی میں سر ہلایا زینت نے منہ بسورا
    ممابیمار نہیں ہیں تھوڑی دیر میں آجائیں گی پریشان نہ ہو۔۔
    زینت نے پیار سے چھوٹی بہن کو ساتھ لگایا۔
    الف کے دل کو کچھ ہوا۔
    وہ بھی وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    گڑیا نے رونا شروع کردیا زینت نے پیار سے بہلانا چاہا۔
    اس وقت اسکا بھی دل یہی کررہا تھا کہ کوئی پیار سے اسکو دلاسہ دے تسلی دے سب ٹھیک ہو جائے گا نا۔مگر وہ تو یہاں بالکل اکیلی تھی۔ یہ سوچ ہی اتنی کاٹ ڈالنے والی تھی۔
    اس نے بھی چہکوں پہکوں رونا شروع کردیا۔
    زینت نے حیرانی سے اسے دیکھا
    اب انکو بھی بہلانا پڑے گا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو پہلا مانوس چہرہ جو اپنے سرہانے پریشان دکھائی دیا وہ عروج کا ہی تھا۔
    عشنا عزہ تینوں اس کے سرہانے کھڑی تھیں۔
    تیز روشنیوں نے اسکا دماغ مائوف سا کیا تھا یا ابھی حواس پوری طرح بحال نہ ہوئے تھے۔
    اس نے فورا آنکھیں بند کرلیں۔۔ عروج اسٹیتھسکوپ لگا کر اسکا مکمل معائنہ کر رہی تھی۔ بی پی بھی اب نارمل ہو گیا تھا۔ عزہ اور عشنا اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھیں اس نے گردن کے اشارے سے انکو سب ٹھیک ہے کہا۔ تبھی صارم کو گود میں اٹھائے دلاور واپس چلے آئے۔ صارم اسپتال میں روئے جا رہا تھا سو انہیں اسے لیکر باہر جانا پڑا تھا اب وہ بے خبر سو چکا تھا۔
    ہوش آیا طوبی کو۔
    وہ صارم کے جاگ جانے کے خوف سے آہستگی سے پوچھ رہے تھے۔
    جی ابھی آنکھیں کھولی تھیں مگر ابھی غنودگی ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔۔ بی پی اب نارمل ہے۔ ڈرپ کے ساتھ ایک دو انجیکشن بھی دیئے گئے ہیں سو طوبی اگلے دو ایک گھنٹے سوئیں گی۔
    بہتر تو یہی ہوگا دلاور بھائی کہ آج انہیں یہیں انڈر آبزرویشن رہنے دیں۔ میں انکو پرائیوٹ روم میں شفٹ کروا دیتی ہوں۔
    عروج نے تسلی دینے کے ساتھ مشورہ دیا تو دلاور گہری سانس لیکر سر ہلا گئے۔ اب یہی ہو سکتا تھا۔۔۔۔
    ٹھیک ہے اب میں سنبھال لوں گا۔ آپ۔لوگوں کا بہت شکریہ بہت زحمت ہوئی آپ لوگوں کو۔
    وہ شرمندہ سے نظر آرہے تھے۔
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں طوبی ہماری بڑی بہن جیسی ہیں۔
    عزہ نے کہا تو عروج اور عشنا نے بھئ تائید کی
    بالکل طوبی ہماری فیملی میمبر کی طرح ہیں۔ بلکہ ایسا کریں آپ بھی گھر جا کے آرام کریں عشنا اور عزہ تم لوگ بھی گھر جائو میں یہاں رکتی ہوں طوبی کے پاس۔
    عروج نے کہا تو دلاور نے سہولت سے منع کر دیا
    نہیں آپ پہلے ہی بہت مدد کر چکی ہیں میں یہاں ہوں طوبی کے پاس آپ تینوں بھی اب گھر جائیے بہت رات ہوگئ ہے۔
    دلاور نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے۔
    نہیں کوئی بات نہیں آپکو صبح دفتر جانا ہوگا۔طوبی بالکل۔خیریت سے ہیں آپ بے فکر ہو کر گھر جاسکتے ہیں۔
    عروج نے کہا تو الٹا وہ سوال کرنے لگے
    آپکی آج ڈیوٹی ہے؟
    نہیں۔ عروج کے منہ سے فورا پھسلا پھر پچھتائی بھی
    اگر آج آپکی ڈیوٹی ہوتی تو ضرور میں آپکو زحمت دے لیتا مگر آپ ابھی گھر جائیے آرام کیجئے۔ آپ تینوں نے پہلے ہی ہمارے ساتھ بہت کردیا ہے اور ابھی اگر میں چلا گیا تو طوبی اٹھے گی تو برا مانے گی کہے گی مجھے اسکا بالکل خیال نہیں۔۔۔ مزے سے گھر جا کے سوگیا۔۔۔۔
    وہ دانستہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ٹال گئے۔ وہ تینوں مزید اصرار کرتیں مگر انکا انداز قطیعت بھرا تھا۔ سو مسکرا کر سر ہلانا پڑا۔
    انکو روم دلوا کر تھکے تھکے انداز سے تینوں اکٹھے اسپتال سے باہر نکلیں۔
    اور مس عروج ریزائن دینے کے چند گھنٹوں بعد ہی دوبارہ اس اسپتال میں آنا کیسا لگا آپکو۔
    عزہ عشنا کا ہاتھ اٹھا کر مائک کی طرح عروج کے آگے لہرا رہی تھی
    دیکھیں جی یہ وہ اسپتال ہے جہاں میری زندگی کے چار سال آنا جانا لگا رہا ہے تو یقین جانیئے دیکھنے سے ہی نفرت محسوس ہو رہی ہے۔
    عروج بھئ ترنگ میں لہک کر بولی۔ تینوں نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔
    یار قسم سے اب کوریا سے دل بھر گیا ہے مجھے بھاگ کے امریکہ پہنچنا ہے فورا۔ عروج کی بات پر وہ دونوں خفا ہوئیں
    اور ہم؟ ہم سے دور اکیلی رہ لوگی۔
    عشنا کا ہاتھ مائک کے طور پر اسکے سامنے تھا۔
    ہاں بالکل تم دونوں کونسا میری بوائے فرینڈ ہو۔
    عروج نے کندھے اچکائے
    اچھا تو سیونگ رو بوائے فرینڈ ہے جس کے پیچھے اڑ کر امریکہ جانا چاہتی ہو۔
    عشنا نے کہا تو عزہ نے بھی آنکھیں مٹکائی
    اچھا تو یہ مجھے ساجن کے گھر جانا ہے والی بے تابی ہے
    اڑ کر امریکہ
    عزہ عشنا کا بازو جہاز کی طرح اڑا کر بن بن کر بولی

    عروج کی آنکھیں پہلے پھیلیں پھر سکڑیں
    عشنا کی بچی۔وہ بلا لحاظ اسے مارنے دوڑی تھی۔
    عزہ اور عشنا کھلکھلاتی بھاگی تھیں۔ عروج کے ہتھے چڑھ کر ہڈیاں تڑوا کر یہیں اسپتال سےپلاسٹر تھوڑی کروانا تھا دونوں نے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون نے خفا خفا سی نگاہ ان دونوں پر ڈالی پھر سینڈوچز کی تیار ٹرے ان دونوں کی۔جانب میز پر بڑھاتے ٹھنڈی سانس لیکر ان دونوں کے مقابل اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ دونوں اب مزے لیکر کچن کائونٹر ٹیبل پر بیٹھی سیہون کے ہاتھ سے بنا چکن چیز سینڈوچ اڑا رہی تھیں
    تم نے اسے کہا تھا کہ میں اپ سیٹ ہوں اور مجھے اس وقت کائونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    سیہون نے کینہ توز نگاہوں سے فاطمہ کو گھورتے پوچھا تھا
    آدھا سینڈوچ اکٹھے ابھی فاطمہ نے منہ میں بھرا تھا سو بمشکل منہ چلا کر جواب دینے کی کوشش کرنے لگی
    آئی سوئیر میں نے منع کیا تھا اسے یہاں آنے سے۔۔ مگر یہ بولی تم کہیں میری سے پیچ اپ ہی نہ کرلو تمہیں۔۔ آہ۔
    واعظہ نے بلا۔لحاظ کہنی گھسیڑی تھی۔ وہ۔ کراہ۔کر سینڈوچ ختم کرنے میں لگ گئ
    سیہون نے واعظہ کی جانب رخ کیا وہ سٹپٹا کر نظر چرا گئ
    کبھی خود محبت کی ہے تم نے جو مجھے محبت کا فلسفہ سمجھانے لگ جاتی ہو۔
    سیہون اس سے ہنگل میں پوچھ رہا تھا۔ فاطمہ نے کان کھڑے کیئے۔۔۔
    واعظہ اسکی چپ ہو کر شکل دیکھنے لگی۔۔
    تھوڑی سی بھی جس انسان کیلئے آپکے دل میں جگہ ہو اس کو چوٹ پہنچانے کی سوچ بھی ذہن میں نہیں آتی اور آج میں بیچ سڑک پر اس لڑکی کو گرا کر آیا ہوں جس کیلئے میرے دل میں تھوڑی سی جگہ نہیں ہے بلکہ میرا پورا دل مختص ہے۔۔
    سارانگ اس نے سارانگ کہا ہے نا؟ کیا کہہ رہا اسے کس سے محبت ہے؟
    فاطمہ کو اسکا لہجہ ککھ سمجھ نہ آیا تھا۔ ٹھیٹھ گائوں کا کورین بولنے کا لہجہ۔ سیول کا لہجہ تو پھر شائد وہ تھوڑا بہت سمجھ جاتی مگر سیہون جو اچھا بھلا سیول کے لہجے میں بات کرتا تھا اس وقت خاص اپنے مادری علاقائی لہجے میں بولا تو یقینا مقصد اسکو بات سمجھنے کا موقع نہ دینا ہی تھا۔
    واعظہ نے اسکی بات سینڈوچ کے ساتھ نگلی تھی اندرتک کڑواہٹ اترتی گئ تھی اسکے۔
    آج جب میں اپنا محاسبہ کرنے بیٹھا تو مجھے یہ احساس ہوا کہ میں سیہون سے واعظہ بن گیا ہوں جو پل میں اجنبی بنے تو راہ میں پڑے اپنے دل پر بھی پائوں رکھ کرگزر جائے۔۔
    وہ چبا چبا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا
    اس طعنے بازی کا مقصد۔
    واعظہ نے نگاہ اٹھاکر اسے دیکھا۔ وہ مڑتے مڑتے رک کر اسکی نگاہوں میں جھانکنے لگا
    میں واعظہ بننا نہیں چاہتا ۔۔ جو انسانوں کا متبادل ڈھونڈ لیتی ہے۔ چیزوں اور انسانوں میں اتنا فرق رکھنا چاہیئے کہ چیزوں کے متبادل ڈھونڈلیں پر۔ انسانوں کے نہیں۔۔۔
    انسان خود بدل جانے والی چیز ہے۔
    واعظہ نے سیںڈوچ ختم کر لیا تھا۔۔ سو اب لاپروائی سے ہاتھ جھاڑ رہی تھی۔
    محبت کرنے والا انسان نہیں بدلتا کبھئ۔ جو بدل جاتا وہ محبت نہیں کرتا بس محبت کا دعوی کرتا ہے۔
    سیہون کبھی واعظہ۔ فاطمہ منہ میں سینڈوچ بھرے ان دونوں کو دیکھتی خود کو دنیا کی سب سے احمق لڑکی سمجھ رہی تھئ۔
    انسان محبت کے بغیر رہ سکتا ۔ واعظہ سے کم از کم اتنا تو سیکھ لیا ہوتا۔
    اسکے برعکس واعظہ کا انداز ہلکا پھلکا تھا مسکرا کر سر جھٹکا تھا اس نے۔اور کھڑی ہوگئ۔۔
    فاطمہ کا منہ کھلا ۔۔۔
    جونگ وونا تم سے نہ سیکھ پایا یہ ہنر میری کیا مجال۔
    سیہون پہلی بار شائد اپنا آپا کھوبیٹھا تھا۔
    تمہیں جو بات کرنی مجھ سے میرے متعلق کرو۔ تمہیں کوئی حق نہیں میرے ذاتی معاملات زیر بحث لانے کا۔
    واعظہ اپنا سارا لحاظ مروت بالائے طاق رکھ کر چلائی
    تمہیں بھی کوئی حق نہیں میرے ذاتی معاملات میں بولنے کا۔
    سیہون بھی حلق کے بل چلایا۔۔
    فاطمہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    مار کٹائی پر نہ اتر آئیں دونوں۔ اسے سچ مچ یہی ڈر لگا تھا
    جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہے تھے ایک دوسرے کو جیسے کچا چبا جائیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف کا موڈ تو بالکل اچھا نہیں تھا کیسے لڑ ہی پڑی تھی جب ہم نے اصرار کیا کہ چلو ہمارئ ساتھ۔ جانے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہوگی۔
    لفٹ کا بٹن دباتے عشنا نے کہا تھا۔
    اس پر آجکل جو بدمزاجی کا بھوت سوار ہے اس سے کچھ بعید نہیں کہ دونوں بچوں کو ایک کمرے میں بند کرکے خود منہ تک چادر تانے سوئی پڑی ہو۔ عزہ نے خیال ظاہر کیا۔۔۔
    نہیں بھئ۔ مانا اسکا موڈ تھوڑا خراب ہے مگر بچوں سے تھوڑی بدلہ لے رہی ہوگئ انکو کھانا وانا کھلا کر بہلا لیا ہوگا۔ زینت سے تو گھنٹوں باتیں کرتی ہے اسکو تو اپنے ساتھ سلالیا ہوگا۔
    عروج نے انہیں ٹوکا۔
    ہاں یہ تو ہے۔ دونوں نے سر ہلایا۔
    بچوں کے نخرے اٹھا رہی ہوگی دل کی اچھی ہے الف۔۔۔
    لفٹ آہستہ آہستہ اوپر بڑھ رہی تھی تینوں کی خوش فہمی بھی کیونکہ اصل میں تو فلیٹ کا منظر یوں تھا
    آپی یہ والا کارٹون چینل لگا دوں۔
    گڑیا اس سے پوچھ کر ریموٹ کا بٹن دبا رہی تھی۔
    الف نے سر نفی میں ہلا دیا۔
    پھر۔
    وہ پھر چینل بدلنے لگی۔ چار پانچ چینل بدلے
    یہ ڈرامہ لگا دو۔
    الف نے کہا تو گڑیا سکون سے واپس آکر بیٹھنے لگی
    نہیں بلکہ یہ بدل دو۔ کیا سمجھ آئے گا ڈرامہ۔
    اس نے بے زاری سے کہا۔ گڑیا فورا الرٹ ہوئی۔ ریموٹ چینل نہیں بدل رہا تھا
    وہیں ٹی وی کے پاس جا کر کھڑی ہو یہاں سے سگنل آرہے ہوتے تو میں وہاں کیوں بھیجتی۔
    الف بگڑی۔ گڑیا فورا بھاگ کر ٹی وی کے پاس آئی
    دودھ گرم ہو گیا؟
    اب اس نے کچن میں مائکرو ویو کے پاس انتظار میں کھڑی زینت سے پوچھا
    بس ہوگیا۔
    زینت دودھ کا مگ مائکرو ویو کرکے بھاگی بھاگی آئی۔ ڈبل روٹی سامنے رکھی۔
    مکھن لگا کر دوں؟
    مارجرین اٹھائے پوچھ رہی تھی۔ اس نے گردن ہلائی
    یہ نیوز کیوں لگا دی۔
    ٹی وی پر نظر ڈال وہ بد مزا سی ہوئی
    آپی چینل نہیں بدل رہا۔
    گڑیا اب پاکستانی طریقے سے ریموٹ کو تھپڑ مار کر چلا رہی تھی
    اوفوہ۔ الف کی بیزاری
    زینت نے مارجرین لگا کر سلائس آگے بڑھایا
    اس نے ذرا سا کترا دودھ کا کپ منہ کو لگایا
    چینی نہیں ڈالی۔
    پھیکا دودھ اسے ذرا اچھا نہ لگا
    ایک چمچ ڈالی اور ڈال دوں
    زینت نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
    زینت پھرتی سے چینی کا ڈبہ لینے دوڑی
    گڑیا اب ہوٹل ڈیل لونا لگا کر پوچھ رہی تھی
    یہ لگا رہنے دوں؟
    ہاں۔ اس نے بیزاری سے سر ہلایا
    کتنے مزے ہیں مان وال کے مر کر بھی لگژری لائف اسٹائل ایک میں یہاں اس کھنڈرفلیٹ میں زندہ لاش بنی بچے پال رہی ہوں
    اسے خود پر ترس آیا
    زینت چینی کا ڈبہ چمچ لیکر آئی تو اسے اس پر بھی ترس آیا تو جملے میں ترمیم کرلی
    بچوں سے اپنا آپ پلوا رہی ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 54

    قسط 54
    وہ حد درجہ مایوس گھر واپس آئے تھے۔ آہستگی سے داخلی دروازہ بند کیا کہ آہٹ نہ ہو پلٹے تو دل اچھل کر حلق میں ہی آگیا۔
    سفید سلک کے نائٹ سوٹ میں لال بھبوکا چہرہ لیئے طوبی سامنے کھڑی تھی۔ شائد انکے انتظار میں ٹہل رہی تھی
    تم سوئی نہیں۔ میرا انتظار نہ کیا کرو سو جایا کرو۔ ایویں نیند خراب کی۔
    ذرا دھک دھک کرتا دل قابو میں آیا تو انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر نکل جانا چاہا
    کہاں تھے آپ اتنی رات کو۔۔
    طوبی نے براہ راست سوال کرنا مناسب سمجھا۔
    پرانی آبادی گیا ہوا تھا ۔ کسی سے ملنے پر مل نہ سکا۔ گھر ڈھونڈنے کی کوشش کی ناکام رہا سو واپس آرہا ہوں۔
    وہ سہولت سے بتاتے ہوئے کچن کائونٹر پر رکھے جگ میں سے پانی نکال کر پینے لگے۔
    کوئی بات نہیں آج ملاقات نہ ہوئی کل کر لیجئے گا۔نہیں تو پرسوں تو ضرور دل کی مراد مل جائے گی آپکو۔
    طوبی نے خاصے طنزیہ انداز میں چبا چبا کر کہا مگر چونکہ اسکی جانب پشت تھی سو دلاور اسکا انداز دیکھ نہ پائے مگر بے ساختہ منہ سے نکلا
    آمین۔
    طوبئ سلگ کر رہ گئ۔
    بات سنیں میں نے کیا کمی چھوڑی ہے آپکی زندگی میں۔ گھر سنبھالتی ہوں صاحب اولاد ہیں آپ کبھی آپ سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی۔۔۔۔
    وہ پھٹ ہی تو پڑی۔ دلاور خاصی حیرت سے مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔
    اس وقت کیا کر رہی ہو؟ دلاور نےجتایا۔
    چوٹ لگتی ہے تو انسان چیخ ہی پڑتا ہے۔
    وہ انکا طنز خاطر میں نہ لائی۔
    کہاں چوٹ لگی ہے ؟ رات کے اس پہر چلانے کا مقصد۔
    دلاور کی پیشانی پر بل پڑنے لگے اس بار لہجہ دھیما رکھنے میں انہوں نے کافی توانائیاں لگا دی تھیں۔ جس دن سے سوچا تھا کہ اب سے وہ طوبی کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کریں گے اس دن سے طوبئ نے ان کا وہ وہ ضبط آزمانا شروع کیا تھا کہ الامان۔
    دل پر۔وہ چٹخ کر بولی
    عورت سب برداشت کر لیتی ہے اپنے شوہر کی شراکت اسے گوارا نہیں ہوتی۔ میں کالی بد صورت بھی ہوتی تو خود کو سمجھا لیتی یہ سوچ کر کہ یہاں گوری چمڑی دیکھ کر پھسل گئے آپ۔ مگر ان چٹی چمڑیوں میں میں چٹی بھی ہوں اور جٹی بھئ۔ اپنی اور اس عورت کی جان ایک کردوں گی جو آپ پر ڈورے ڈال رہی ہے۔۔ سمجھے اس گمان میں نہ رہیئے گا کہ آپ دوسری لا کر میرے سر پر بٹھا دیں گے اور میں اسکی چاکری کیا کروں گی۔ جان سے مار دوں گی اسے بھی اور خود بھی جان دے دوں گی۔۔
    کچھ اسی سے ملتے جلتے ڈائلاگ اسکی پسندیدہ سیریل میں ہیروئن نے اپنے بے وفا شوہر کو سنانے کو بولے تھے جوابا شوہر نے اسے ایک زور دار تھپڑ لگا دیا تھا۔جبھی یہ سب کہنے کے بعد اس نے آنکھیں میچ کر سر بھی جھکا لیا تھا۔
    آج اسے یہ معاملہ صاف کرنا تھا ہر قیمت پر۔
    چند لمحے بعد بھی گال پر کوئی لمس محسوس نہ ہوا تو حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا دلاور خلاف توقع مسکراتے ہوئے اس پر نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
    اتنا پیار کرتی ہو مجھ سے ؟
    وہ جانے کیا سننا چاہ رہے تھے۔ طوبی گڑبڑا سی گئ۔
    جان لے سکتی ہو اور جان دے بھی سکتی ہو میرے لیئے۔
    وہ سینے پر بازو لپیٹے محظوظ انداز میں دیکھ رہے تھے اسے۔۔

    کیا مطلب کیا آپ واقعی چاہتے میں اپنی اور اپنی اس سوکن کی جان لے لوں اور آپ پھر کسی تیسری کی تلاش میں لگ جائیں۔۔
    اسکے تو سر پر آسمان ہی آن گرا جیسے۔اتنی حیرت سے بولی کہ دلاور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے
    یار قسم سے پورا ڈرامہ بلکہ فلم ہو تم۔ اور سچ کہوں۔
    وہ دلبرانہ انداز میں اسکی جانب بڑھے۔
    میرا دل جگر جانم ہو تم۔ ارے یہ تو شعر بن گیا۔ اسے بانہوں کے حلقے میں لیکر وہ شرارت بھرے انداز میں بول رہے تھے۔ برسوں بعد بھئ وہ اسی طرح گھبرائی تھی ان سے جیسے شروع سالوں میں گھبراتئ تھئ ۔پیشانی چمکنے سی لگی بات تو کہیں سے کہیں نکلتی گئ تھی
    دلاور اسے دیکھتے رہے پھر چونچال انداز پر سنجیدگی حاوی ہوتی چلی گئ۔
    تمہیں پتہ ہے جب پہلی بار تمہیں دیکھا تھا تو میں اماں سے جاکے بہت لڑا تھامیرے لیئے کیا بچی کا انتخاب کرڈالا۔۔ میں گھر کا سب سے بڑا سمجھدار میچیور انسان تھا اپنے جیون ساتھی کے روپ میں ایک سنجیدہ سمجھدار لڑکی کی ہی خواہش کی تھی اور تم تم تو مجھ سے بہت چھوٹی تھیں کم ازکم بھی دس سال۔۔۔پھر تم مجھ سے ڈرتی بھی بہت تھیں جیسے کوئی شرارتی بچہ سخت گیر استاد سے گھبراتا ہے۔ سارا دن دفتر میں کھپا کے آتا تو دل کرتا تھا میری بیوی میری دوست بنے میرے مسلئے مسائل سمجھے مگر میری بیوی تو مجھ سے یوں دور بھاگتی تھی جیسے۔
    وہ کہتے کہتے لحظہ بھر کو خاموش ہوئے۔ طوبی نے چونک کر پلکیں اٹھا کر انکا چہرہ دیکھا۔
    تم اب بھی خوبصورت ہوخیال رکھنے والی صاف دل معصوم سی۔ ۔ کسی بھی کورین چٹی چمڑی سے کہیں ذیادہ مجھے یہ چٹی جٹی عزیز ہے پر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ تمہیں میں بھی اتنا عزیز ہوں کیا؟ اس گرتے بالوں پھیلتے جسم اور یہ عمر کا دس سال کا فاصلہ تو اب بھی ہمارے درمیان حائل ہے طوبی۔ تمہیں میری کس چیز نے باندھ رکھاہےمیرے ساتھ۔ میں تو ایک سخت گیر شوہر تھا تمہارے لیئے۔تمہیں مجھ سے کیا واقعی محبت ہے؟؟؟
    ہے نا۔ جبھی تو۔۔ طوبی گھبرا سی گئ۔ کیسے ہوتےہیں مرد کیسا بات گھما کر مجھ پر ڈال دی اب مجھ سے صفائی لے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے شاکی نگاہ سے دیکھا ۔۔ دلاور نے آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹا لیئے۔
    مجھے نہیں پتہ کہ تمہیں مجھ پر یہ شک کیوں ہوا کہ میں تم سے چھپ کر کوئی افئیر چلا رہا ہوں مگر تم کس بات سے ذیادہ خوفزدہ ہوئیں مجھے کھو دینے کے خوف سے یا میرے چھوڑ جانے کے ڈر سے؟
    وہ اسے بغور دیکھ رہے تھے۔طوبی نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتئ رہی۔
    کھو دینے کا یا چھوڑ جانے کا خوف کیا الگ الگ ہوتا ہے؟
    وہ واقعی نہ سمجھ پائی تھی۔ سو پوچھ لیا۔
    ہاں۔ انہوں نے قطعیت سے کہا۔
    سوچ لو۔جب چاہو جواب دے دینا۔۔مگر یاد رکھنا میں منتظر ہوں۔۔ جواب کا۔۔۔
    وہ دھیرے سے اسکے پاس سے ہو کر اندر کمرے کی جانب بڑھ گئے وہ وہیں کھڑی سوچتی رہ گئ
    …………………………………………..
    انتظار جان لیوا ہوتا ہے اگر کسی سوال کے جواب کا ہو۔ چاہے ہاں میں ہو یا ناں میں۔ جواب سے ذیادہ جان لیوا جواب کا انتظار ہوتا ہے۔۔
    سادہ مختصر ای میل۔ اس نے موبائل لاک کیا اور سرہانے بیزاری سے رکھ کر چھت گھورنے لگا۔
    وہ بسترپر پڑا تھا۔ جانے کب سے جاگ رہا تھا یا کب ذرا سا سویا تھا۔۔۔ گھڑی موبائل میں بھی تھی سامنے بھی۔کھڑکی کا پردہ ذرا سا سرسرایا تو باہر گھپ اندھیرے کو روشنی نگلنا شروع کر چکی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کی طرف چلا آیا۔ آر پار شیشے کی شفاف سی کھڑکی اسے ٹوکیو کی کہر آلود صبح کا منظر دکھا رہی تھی۔اونچی اونچی عمارتوں ننھی نننھی کھلونا گاڑیوں کے حجم کی گاڑیاں سڑک پر رواں دواں۔کہیں کہیں سڑکوں پرلگی دیو ہیکل بتیوں کی روشنیاں بجھنا شروع ہوئیں کہیں کہیں عمارتوں کی بتیاں جلنا شروع ہوئیں۔۔ علی الصبح کا وقت۔
    جانے نماز کا وقت تھا یا گزر گیا تھا۔اسے پچھتاوا ہوا۔
    ذکریہ صبح کی نماز کبھی نہ چھوڑنا بیٹا۔اسی وقت رزق بٹتا ہے جب رات کی غفلت بھری نیند چھوڑ کر انسان صبح اٹھکر پہلا کام ذکر الہی کرتا ہے تو اللہ اس کے دل میں سکون ڈال دیتا ہے۔ زندگی میں کبھی بھی بے چینی اور بے کلی کا شکوہ نہ کرنا اگر تم نماز چھوڑ دیتے ہو۔۔۔
    چندی آنکھوں محبت بھرے گول چہرے کی مالک اسکی ماں اسے فجر کے وقت اٹھنے پر آنا کانی کرنے پر اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سمجھا رہی تھیں۔
    بے چینی بے کلی کیا ہوتی ہے ؟
    چودہ سالہ ذکریہ حیرت سےپوچھنے لگا۔۔
    اماں سوچ میں پڑ گئیں۔پھر جیسے کچھ یاد آیا اور مسکرا دیں
    یاد ہے جب پچھلے سال تم نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ اگر تمہاری جماعت میں اول پوزیشن آئی تو ہم تمہیں ریموٹ کنٹرول والی گاڑی دلائیں گے۔ تو امتحانوں کے بعد رزلٹ والے دن تک تم جو پریشان تھے گھبراتے تھے راتوں کو بھی اٹھ اٹھ کر دعا مانگتے تھے کہ تمہاری پہلی پوزیشن آجائے اسے بے چینی کہتے ہیں۔
    سمجھ گیا۔ ذکریہ نے سر ہلایا پھر منہ بنا کر بولا
    مگر میری تو دوسری پوزیشن آئی تھی۔
    بالکل۔وہ محظوظ ہوئیں۔
    رزلٹ کے بعد تم۔جب گھر آئے تھے تو کتنے دکھی تھے کہ اب تمہیں گاڑی نہیں ملے گی۔ تم نے مجھ سے کہا کہ۔میں تمہارے بابا کو نہ بتائوں کہ تمہاری دوسری پوزیشن آئی ہے مگر اسکے باوجود تم پریشان بھی رہے اور گھر میں بولائے بولائےپھرتے رہے جب تک تمہارے بابا گھر نہیں آگئے۔۔
    اسے بے کلی کہتےہیں۔ ذکریہ جیسے سمجھ گیا
    اور بابا پھر بھی اس دن میرے لیئے گاڑی لے آئے تھے۔
    اسے یاد تھا۔
    ہاں کیونکہ تم نے اپنی پوری کوشش کی اللہ سے دعا بھی مانگی تو اللہ نے بھی تمہیں نواز دیا گاڑی پھر بھی تمہیں مل ہی گئی
    ۔انہوں نے پیار سے اسکے سر پر چپت سی لگا دی۔ کیسا دکھی دن تھا اس کیلئے اور اسکا کتنا پیارا انجام تھا۔ کتنا خوش ہوا تھا وہ کہ رات کو بمشکل انکے ڈانٹنے پر سونے لیٹا تھا تو گاڑی سینے سے لگا کر ہی سو پایا۔
    مگر پہلی پوزیشن مجھے دے دیتے اگر اللہ میاں تو میں اتنا بےکل اور بے چین تو نہ ہوتا۔
    تمہیں پہلی پوزیشن نہیں گاڑی چاہیئے تھی وہ اللہ نے تمہیں دے دی اب پریشان اور بے کل تم یوں رہے کہ تمہیں لگا پہلی پوزیشن آئے گئ تب ہی گاڑی ملے گی یہ خود ہی تم۔نے سوچا۔ہم نے تو تمہارے لیئے پہلی پوزیشن کی شرط نہیں رکھی تھی یہ شرط بھی تم نے خود اپنے لیئے رکھی تھی نا۔
    سوچ کا تسلسل ٹوٹا وہ چونک سا گیا
    میں نے پھر اپنے لیئے ایک بے حد فالتو سی شرط رکھ لی ہے اور بے چین اور بے کل ہوں۔ اس نے سر جھٹکا۔
    آسمان پر مکمل سفیدی نہیں چھائی تھی۔
    قضا سہی مگر نماز پڑھوں گا۔ یہ بے چینی اللہ ہی دور کرے میری ۔۔
    اس نے خود کو خود ہی تسلی دی اور حیرت انگیز طور پر بہل بھی گیا۔ پردے برابر کیئے اور آستین چڑھاتا باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دیکھئے ہم آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ کسی بھی طالب علم کی ذاتی معلومات دینا ہمارے لیئے جائز نہیں۔ آپ برائے مہربانی ہم پر بے جا دبائو مت ڈالیئے۔شکریہ۔
    اس کلرک نے کہا تو مہذب انداز میں تھا مگر لگ یہی رہا تھا کہ اگر مزید اصرار انکی جانب سے ہوا تو سب ادب لحاظ بالائے طاق رکھ دے گا
    دیکھیں آپ سمجھ نہیں رہے۔ طوبی نے کائونٹر پر ہاتھ مار کر کہا تو عزہ نے کھسیا کر اسے بازو سے کھینچ لیا
    گھمسامنیدہ۔۔ مڑ کر شکریہ بھی کہہ دیا مروتا۔۔
    ارے بات تو کرنے دو۔ طوبی مڑنا چاہ رہی۔تھی مگر عزہ کی گرفت مضبوط تھی۔
    کھینچ کھانچ کر اسکول کے احاطے سے باہر نکال کر ہی دم لیا۔
    ہر اسکول نے ہمیں یہی جواب دیا ہے۔ اگر کوئی ایک آدھ ہوتا تو ہم سمجھ لیتے کہ ٹالا ہے ہمیں۔ مگر سب کا ایک ہی جواب ہے تو اسکا مطلب صاف ہے کہ واقعی وہ طلباء کی معلومات نہیں دے سکتے ہیں۔عزہ نے تفصیل سے کہا تو وہ چڑ گئ
    یہ خوب رہی۔ مانا یہ اصول ہے مگر دیکھا نہیں یہ بندہ ماڑا تھا ہم ذرا رعب ڈالتے تو بتا دیتا۔
    یقینا یہ خوش فہمی تھی طوبی کی۔مگر عزہ بحث میں نہ پڑی
    چلیں جانے دیں۔ ہم نے کوشش تو کر لی۔نہ کرتے تو قلق رہتا ہمیں کہ ہے جن کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہ کی۔
    اس بات پر طوبی متفق تھئ۔ سر ہلا کر دونوں خاموشی سے سڑک کی۔طرف نکل آئیں۔
    اس علاقے کے تمام اسکول دیکھ لیئے۔ اور یہ تو احسان ہے ان کی انتظامیہ کا کہ ہے جن نام کے جتنے طلباء انکے اسکول میں تھے انکو بلوا کر شاخت پریڈ بھی کروا دیتےتھے پرہمارے ہے جن کا نہ کوئی اتا پتہ ملا نا نام و نشان۔
    اتاپتہ اور نام ونشان تو ایک ہی بات ہوئی احمق ہوں میں۔۔۔
    عزہ ہنس دی
    بات سنو۔ طوبئ ایکدم سے قدم بڑھا کر اسکے مقابل ہوئی
    یہ بتائو کھو دینے کا خوف اور چھوڑ جانے کا خوف کیا الگ الگ ہوتا ہے؟ ۔۔عزہ بھی تو الفاظ مترادف میں بات کرتی ہے اسے تو پتہ ہوگا
    کیا مطلب؟۔۔ عزہ کو سمجھ نہ آیا
    اوہو۔۔ طوبی جھلائی پھر سمجھانے والے انداز میں بولی
    دیکھو اگر اس وقت میں یہاں سے چلی جائوں تو تمہیں کیا ڈر لگے گا۔
    مجھے کھو دینے کا یا میرے چھوڑ جانے کا
    مجھے کوئی ڈر نہیں لگے گا۔ روز کا آنا جانا ہے راستہ آتا ہے مجھے میں اکیلی گھر چلی جائوں گی۔ آپ نے کہیں جانا ہے تو چلی جائیں
    عزہ نے اطمینان دلانا چاہا۔وہ یہی سمجھی کہ شائد اسے اچانک کہیں جانا ہے جو ایسے پوچھ رہی ہے
    نہیں بھئ مجھے نہیں جانا۔ وہ مایوس ہوگئ۔ یہ گتھی نہ سلجھے گی مجھ سے۔۔خدا نہ کسی کو پہلیاں بجھوانے والا شوہردے۔ اس نے سوچا
    پھر کیوں پوچھ رہی ہیں؟ عزہ نے پوچھا تو وہ منہ لٹکا کے دیکھنے لگی
    دیکھو کوئی انسان فرض کرو آپ کے پاس یا ساتھ رہتا ہوجیسے نور۔۔۔۔ اسے آخر مثال سوجھ ہی گئ
    تمہاری دوست تھی نا۔ وہ تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
    وہ جب یہاں سے گئ تو تمہیں دکھ ہوا ہوگا نا ؟ تو اسے کھو دینے کا دکھ ہوا یا اسکےچھوڑ جانے کا؟
    کھو جانے کا؟عزہ ہنس دی
    نور کھو تو نہیں گئ اب بھی اکثر مسیجنگ کرتی ہے بات بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بس ہمارا ساتھ چھٹ گیا ہے۔
    عزہ نے کندھے اچکا کر کہا۔ طوبی مزید الجھن کا شکار ہو کر رہ۔گئ تھئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا جہان کی اداسیاں چہرے پر سجائے منہ سجائے وہ ہنگن دریا کے پل کے اوپر سے نیچے جھانک رہی تھیں۔۔
    میرے پاس تو دکھی ہونے کی وجہ ہے میری ذاتی کمائی ہوئی۔ اپنی کمائی ایک اندھے کنوئیں میں پھینک کر ہاتھ جھلا رہی ہوں تم تو اپنی ڈھیروں ڈھیر تنخواہ وصول کر بھی منہ سکھائے بنائے اترائے کھڑی ہو کیا یہ کھلی ناشکری نہیں۔۔
    ایک ہی پوز میں کافی دیر اداس شکل بنایے واعظہ کے ساتھ کھڑے کھڑے وہ تھک کر بولی
    واعظہ کا جواب دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا
    کیا سوچ رہی ہو؟؟؟؟
    فاطمہ نے کسوٹی کھیلنا چاہی۔
    عروج امریکہ جاکر دعا اور سیونگ رو کا ملاپ کیسے کرائے گئ۔۔؟
    نہیں تو۔ واعظہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی
    پھر سیہون کا میری کا پیچ اپ کیسے کروائوں؟؟؟
    فاطمہ کا انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہی ہو پکڑ لیا نا یہی سوچ رہی ہو نا تم۔۔۔
    نہیں یہ کام تو ہرگز نہیں کروانا۔واعظہ تڑپ کر بولی
    ایک نمبر کی پیسے کی پجاری لڑکی ہے سیہون کاجتنا فائدہ اٹھانا تھا اٹھا لیا اب اسے مزید بے وقوف۔۔۔۔
    پھر عزہ کی کس سبجیکٹ کی حاضری کم ہے اسکا پتہ کیسے لگائوں۔۔ اف مجھے پتہ تھا یہی سوچ رہی ہو گی۔ جانے دو اچھا ہے اسی بہانے پڑھائی پر توجہ دے گی۔
    اس بار تو فاطمہ نے چٹکی بجا کر مسلئہ حل بھی کردیا
    پاگل سمجھا ہے کیا؟۔ واعظہ چڑ گئ۔
    میں کیوں عزہ کی پڑھائی کی ٹنشن لوں گی۔ وہ مجھے امی کہہ ضرور جاتئ ہے مگر میں اسے اپنی اولاد نہیں سمجھتی اچھا نا۔
    پھر عشنا کا معاملہ تو سلجھ گیا کس کے مسلئے کا حل سوچنے کو ایسی سنجیدہ شکل بنائی ہے؟ یاد آیا
    اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا
    یقینا دلاور بھائی ایکسٹرا میریٹل افئیر چلا رہے ہیں ہے نا۔۔ یہی بات ہے نا؟؟
    اس بار تو وہ غلط تکا لگا ہی نہیں سکتی تھی
    واعظہ گہری سانس بھر کے رہ گئ
    یار الف کی امی بہت پریشان ہیں الف مان کے نہیں دے رہی اور اسے سمجھا کے بات کرکے دیکھ لی وہ کسی اور ہی ذہنی کیفیت میں ہے۔۔ اسکو زور زبردستی سے سمجھانے کا تو کبھی ارادہ تھا ہی نہیں میرا پھر بھی ۔۔۔ اب آنٹی صبح شام مجھے فون کر ۔۔۔۔
    کہتے کہتے اسکی فاطمہ پر نگاہ پڑی تو وہ تاسف بھری نگاہیں اس پر جمائے کھڑی تھی
    واعظہ زندگی میں کبھی اپنے کسی مسلئے کسی پریشانی پر پریشان ہو کر میرے پاس آئو نا ایسا سینے سے لگا کر سب غم سمیٹ لوں تمہارے مگر تم ہو کہ۔۔۔
    چبا چبا کر کہتے وہ چیخ پڑی
    الف تمہاری بیٹی نہیں ہے آنٹی کی ہے آنٹی پریشان ہوں سمجھ آتا ہے۔ الف انکی پریشانی کا احساس کرے تم آنٹی کی بیٹی نہیں ہو الف ہے اسے انکی پریشانی کا احساس کرنے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی زندگی جیو تمہاری اپنی بھی ایک الگ ذات ہے۔کبھی اسکا بھی سوچ لیا کرو۔
    فاطمہ کا بس نہیں تھا کہ اسکی پٹائی کردے۔ وہ یونہی اسے دیکھتی رہی پھر جیسے بحث کو فضول جان کر ریلنگ پر بازو ٹکا کر سر رکھ لیا۔
    فاطمہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر رخ دوبار ہنگن دریا کی جانب کر دیا۔ ساکت پڑے دریا پر چمکتے چاند کا عکس منعکس ہورہا تھا۔
    مجھے الف کا مسلئہ سمجھ آرہا ہے۔ کوریا ہمارے لیئے ایسا ہی ہے جیسے ہم یہ دریا ہوں اور کوریا چاند۔ جب تک رات ہے ہم اس عکس کو سمو ئے ہیں۔ صبح ہونے پر تو چاند نےغائب ہو ہی جانا ہے۔ مگر صبح ہونے تک تو چاند اس دریا میں تیرتا نظر آتا رہے گا نا۔میری امی بلا بلا کے تھک گئیں۔میرا دل نہیں چاہتا واپس جا کر اسی سیٹ اپ کا حصہ بننے کاالف بھی نہیں واپس جانا چاہتی ہوگی۔
    یہاں آکر یہ رہن سہن دیکھ کر واپس جانے کا سوچو تو خوف سا آتا ہے۔
    وہ اپنی تمام تر غیر سنجیدگی بالائے طاق رکھ کر بول رہی تھی۔
    واعظہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ملگجی روشنی میں اسکی گوری رنگت دمک رہی تھی۔ اپنے خوف بتا کراسکا دل ہلکا ہوا تھا وہ یقینا پرسکون ہوئی تھی۔ جو اسکے چہرے پر جھلکا بھی تھا۔
    چاہنے نا چاہنے کے فیصلے کے بیچ ڈولتی فاطمہ کا انداز سنجیدہ ضرور تھا مگر بے چینی بے تابی خود سے مستقل جنگ کی کیفیت میں مبتلا نہیں تھی وہ۔
    مگر الف تو۔۔۔ وہ دوبارہ مراقبے میں چلی گئ۔
    تمہیں میں پاگل۔لگتی ہوں نا ذرا سا کوریا نہ چھوڑنا پڑے تو شادی تک کر ڈالی مگر یار فاطمہ از ان ہر ونڈر لینڈ وہ یہاں رہنا چاہتی ہے ہر قیمت پر۔۔ ورنہ بہتر ہے مر جائوں۔۔ ہزار دو ہزار وون اور پورا مہینہ گزارا کرنا ہے۔۔ مجھ پر مایوسی طاری ہو رہی ہے واعظہ۔ دل کر رہا ہے کود جائوں۔۔ اس نے مڑ کر باقائدہ واعظہ کے تاثرات ملاحظہ کرنے چاہے پر
    اس کی لن ترانی پر بھی واعظہ نے سر نہ اٹھایا ۔۔ مایوس ہو کر وہ واپس ریلنگ کی جانب متوجہ ہوگئ
    زندگی نے بہت مایوسیاں دی ہیں پھر بھی۔۔
    فاطمہ نے ریلینگ پر ایک قدم چڑھ کر جھک کر نیچے دیکھا
    یہاں سے کودنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ فاطمہ مت مرو کیا پتہ تمہارے پاس ڈھیروں ڈھیر پیسہ یکا یک آجائے۔ اسکی آنکھوں میں چمک آگئ۔۔
    ہم مسلمانوں کو مایوس ہونے کیلئے ایک ناکامی کافی ہے اور امید باندھنے کیلئے یہ ایک ہزار وون کا لاٹری ٹکٹ۔
    اس نے پرس سے لاٹری کا ٹکٹ نکال کر اسٹریٹ لائٹس کی ملگجی روشنی میں خوب غو رسے دیکھنا چاہا۔
    یار یہ وہی پل ہے نا جہاں سے کنگ چل ( ڈبلیو ٹو ورلڈ کا مرکزی کردار) نے چھلانگ مارنی چاہی تھی۔
    اس نے نہیں اسکے مصنف نے اس سے چھلانگ مروانی چاہی تھی مگر وہ ایک ہاتھ پر لٹک کر گرنے سے بچ گیا تھا
    ۔واعظہ ریلنگ سے سر ٹکائے ٹکائے بنا اسکی۔جانب دیکھے بولی۔
    اور میں گرنے لگی تو؟
    فاطمہ کو سچ مچ یہی خدشہ لاحق ہوا جبھی جھٹ اتر آئی
    میں بے رحم رائٹر ہوں مار دوں گئ۔
    واعظہ کا انداز ہنوز تھا فاطمہ چڑ کر پاس آئی اور سر پر چمٹ جما دی
    میں نے کیا بگاڑاہے تمہارا۔سوائے پیسے کے اور کوئی مسلئہ دیا تمہیں۔ اور پیسہ بھی آنے والا ہے۔آج یہ لاٹری کا ٹکٹ لیا ہے دیکھنا میرا ضرور نکلے گا کیونکہ زندگی میں پہلی بار لیا ہے دیکھنا۔
    وہ اترااترا کر لہرا رہی تھی
    اسکی چمٹ پر جھٹکے سے سر اٹھا کے گھورتی واعظہ کو اسکا لہراتا ٹکٹ مزید غصہ دلا گیا۔ چیخ ہی پڑی
    وہ جو پورے مہینے کی ساری تنخواہ کھاوا کو تھمانے کے بعد جو کچھ پیسے بچے بھی اسکا تم نے لاٹری ٹکٹ لے لیا ؟
    تمہارا دماغ وماغ ٹھکانے پر ہے کہ نہیں۔
    بالکل ٹھکانے پر ہے۔ فاطمہ بھی ڈپٹ کر بولی
    اتنے سے پیسوں سے اور کیا بھی کیا جاسکتا تھا۔ اس لاٹری ٹکٹ سے کم از کم یہی امید تو ہے کہ شائد نکل آئے او رمیں ایک دم مالا مال ہوجائوں۔
    فاطمہ ترنگ میں تھی۔ واعظہ ناک چڑھا کر بولی
    مس فاطمہ شیخ چلی آپکے انڈوں کی ٹوکری ہنگن دریا برد ہوگئ ہے۔ اس سے بہتر تھا تم کنوینیس اسٹو رمیں پارٹ ٹائم کر لیتیں کم از کم مہینے کے آخر میں ایکسپائر فوڈ ہی مل جاتی ۔
    فاطمہ کے شوخی بھرے غبارے بنے منہ سے سب ہوا نکلتی گئ۔اتر ہی گیا چہرہ
    واعظہ یار کیا کروں ۔ قسم سے سیہون کی شکل دیکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ اتنا اکڑ کر کہا تھا کہ میں پیسے ادا کروں گی رہنے کے کھانے پینے کے۔ مگر کچھ نہ بچا میرے پاس۔
    وہ رو دینے کو تھئ۔
    کچھ بھی مت کرو سیہون بہت با مروت لڑکا ہے پلٹ کر پوچھے گا بھئ نہیں تم سے پیسوں کے بارے میں۔
    اس نے تسلی دی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون کی شکل دیکھتے اس نے بمشکل تھوک سا نگلا۔
    کائونٹر پر اسکے لئے کافی بنا کر رکھتا سیہون ہمہ تن گوش تھا
    کیا ہوا؟ آج پے ڈے تھا نا تمہارا؟ اس لیئے پوچھ رہا ہوں کل گروسری شاپنگ پر چلیں پھر؟ ٹوٹل برابر بانٹ لیں گے۔ یہی صحیح رہے گا۔
    اس نے کافی کا مگ اٹھا کر بڑا سا گھونٹ بھر لیا۔ منہ جل بھن گیا۔ اس نے نگل بھی لیا اندر تک آگ لگ گئ کھانسی نے بھرم رکھ لیا۔
    آرام سے۔۔۔ کین چھنا۔ اس سے ذیادہ گھبرا کر فریج سے پانی نکال کر دینے لگا۔۔ وہ غٹا غٹ دو گلاس چڑھا گئ۔
    دے۔۔۔
    ہاں کل چلیں گے میں کل جلدی واپس آجائوں گی۔
    اسے یہی جواب سوجھا۔۔
    ٹھیک ہے۔ میں اب سونے چلتا ہوں چھائے چھا۔
    سیہون بھئ شائد تھکا ہوا تھا اپنا مگ اٹھا کمرے کی۔جانب بڑھ گیا۔
    جھوٹی سیہون بامروت لڑکا ہے؟ کوئی نہیں ایک۔نمبر کا شیخ ہے مانگ رہا ہے پیسے اب کل مجھے پیسے دو تاکہ میں اسکے ساتھ جا کر گروسرئ شاپنگ کر سکوں۔
    اس نے واعظہ کو وائس میسج ہی کیا تھا۔۔ پھر گھور کر کپ کو دیکھا
    اس کڑوی زہر ایکسپریسو کے پیسے بھی دوں جو مفت بھی پینے لائق نہیں ہونہہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی کے ساتھ جیسے ہی میک اپ روم سے باہر نکلی جانے کہاں سے جن بھوت کی طرح فاطمہ نازل ہوئی اسے بازو سے کھینچ کر میک اپ روم میں دھکا دیا اور دروازہ بند بھی کر لیا۔ سہج سہج کرچلتی واعظہ سے باتیں کرتی ای جی کو کوریڈیور کے آخر تک پتہ ہی نہ چلا کہ اسکی مینیجر غائب ہوچکی ہے
    تمہیں لگتا ہے تم میرا فون نہیں اٹھائوگئ تو میں پیسے مانگنے سے باز آجائوں گی۔میڈم مجھے دنیا میں کسی سے بھی پیسے مانگتے شرم آسکتی ہےسوائے تمہارے۔ شرافت سے گروسری شاپنگ کیلئے مجھے معقول رقم فراہم کرو۔
    وہ اسے دروازے کے پیچھے دیوار سے لگائے اسکے چہرے پر وہ انگلی اٹھا کر وارننگ ایسے دے رہی تھی جیسے انگلی نہیں چھری تھام رکھی ہو
    فون۔ واعظہ چونکی۔
    فون کہاں چھوڑا ہوا ہے میں نے۔
    اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو صوفے کے پاس دیوار کے ساتھ لگے ساکٹ میں اسکا چارجر لگا ہوا تھا
    اف۔ ایک یہ۔لڑکی موبائل ایسی چیز ہے بھلا کہ بندہ کہیں رکھ کر بھول جائے
    فاطمہ سر پیٹ کر رہ گئ
    واعظہ اپنے کندھے سے لٹکتا بیگ اسے تھما کر فون کی۔جانب لپکی۔ شکرہے چارج ہوا تھا ورنہ کچھ بعید نہیں تھا کہ سوئچ بھی آن کرنا بھول جاتی۔
    فاطمہ نے اسکے بیگ سے والٹ نکال کر دیکھا تو کیش نام کو نہیں تھا۔
    اس نے اسکا کارڈ اسکے سر پر بجایا تو واعظہ اس سے معزرت کرتے ہوئے الیکٹرانک منتقلی کرنے لگی۔
    اسکو رقم بھیجنے کے بعد اسکا اکائونٹ خالی ہو چکا تھا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی
    کہاں گئ تمہاری تنخواہ؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔ واعظہ مسکرا دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 53

    53
    باہر نکلتے فاطمہ ہنستے ہنستے دہری سی ہوگئ تھئ۔ کھاوا تھوڑا کھسیایا ہوا سر کھجا رہا تھا۔
    اف خدایا۔ ایک تو شراب وہ بھی ایو۔۔۔۔ اسے سوچ کے گھن آرہی تھئ۔
    بہت اچھا ہوا اس عبداللہ کے ساتھ۔ اس دن سور کھا رہا تھا کھڑا ہوا۔ جب سور جیسی غلیظ چیز کھائے گا تو کسی دن اسے اس سے بھی ذیادہ گندبلا کھانے کو مل گیا نا۔
    فاطمہ کو مزا آیا تھا اسکی درگت بننے کا سوچ کے۔
    میرے منہ میں گند بلا ہوتاہے۔۔ کھاوا نے مصنوعی خفگی جتائی۔۔
    بس رال ہوگئ جو میرے منہ میں سے نکلی ہوگی میں نے کون سا کھنکھار کر بلغم۔۔۔
    وہ شرارت میں کہتا حد سے بڑھنے کو تھا۔ فاطمہ نے دانت پیس کر ٹوکا۔
    بس بس۔ اب مجھے الٹی مت دلائو۔پہلے ہی دو چارنوالے ہی ذہر مار کیئے ہیں۔ باہر آجائیں گے۔ جانے لوگ بنا گوشت کھائے سبزیوں پر زندہ کیسے رہ لیتے ہیں۔ اتنےمصالحے ڈال کر بھی سبزئ سبزی ہی رہی چکن نہ بن سکی ۔۔۔
    کھاوا کے ساتھ چلتے وہ باآواز بلند اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھی۔
    پسند اپنی اپنی۔ اب مجھے گوشت سے ذیادہ سبزیاں پسند ہیں وہ بھئ ابلی کم مصالحے والی۔ جب گھر میں مرغی وغیرہ بنتی تھی تو میں اتنے برے منہ بناتا تھا اماں گردن سے دبوچ لیتی تھیں اور زبردستی کھلاتی تھیں۔ کہتئ تھیں میں ناشکرا ہوں جو مرغی پکنے پر کریلےمانگتا ہوں۔ مجھے کریلے بہت پسند ہیں۔ اسکی ہلکی سی کڑواہٹ ۔۔۔۔
    بولتے بولتے اسے احساس ہوا تو زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
    میں بھی کیا فالتو باتیں لیکر بیٹھ گیا۔
    فاطمہ نے اسکی خفت زدہ شکل دیکھی تو ہنس دی۔
    بیٹھے تو خیر نہیں ہو چل رہے ہو وہ بھی آہستہ اتنا کہ گیارہ بجے والی جو آخری بس ہے وہ اسٹاپ سے نکل جائے گئ ہمارے پہنچنے تک۔۔۔ اس نے سامنے نظر آتے بس اسٹاپ کے کیبن کو دیکھتے ہوئے اسکی سست روی کو جتایا۔
    آئیم سوری۔ وہ شرمندہ سا ہوگیا۔
    آپ چلیئے میں اگر نہ پہنچ سکا تو ٹیکسی کرلوں گا آپ میری وجہ سے لیٹ نہ ہو جائیں۔
    وہ سہولت سے کہہ کر ایک جانب ہوگیا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔۔۔ بجائے اپنی رفتار بڑھانے کے ۔۔ تبھئ پاس سے گزرتی بس کے ہارن نے اسے چونکا دیا۔
    یہ اسکی مطلوبہ بس تھی اور سامنے اسٹاپ تھا وہ اگر بھاگتی تو آرام سے پہنچ سکتی تھی۔
    اوکے پھر کل ملاقات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔ وہ جلدی سے کہتی بھاگ اٹھئ۔۔
    بلیک لانگ خوب گھیر والی اسکرٹ پر پرنٹڈ گلابی پھولوں والا بلائوز گلے میں پرنٹڈ اسکارف ڈالے بے فکر سی فاطمہ کی کندھوں سے تھوڑا نیچے آتے گھنگھریالے بھورے بالوں کی اونچی سی پونی اسکے بھاگنے سے پنڈولم کی طرح جھول رہی تھی۔ لاپروا سی اپنے آپ میں مگن اس لڑکی نے بھاگتے ہوئے تیزی سے اپنی بس پکڑ لی تھی او رلمحوں میں منظر سے اوجھل ہوگئ تھئ۔ بنا سوچے کہ پیچھے رہ جانے والے کی کیا مجبوری رہی ہوگئ ۔
    اس نے سوچا پھر خود پر ہنس دیا۔
    آگے بڑھنے والے پیچھے رہ جانے والوں کو کہاں مڑ کر دیکھا کرتے ہیں۔اسے اپنی یاسیت پر بے طرح غصہ آیا۔ اسے غصہ آیا تھا کہ وہ زندگی کی شاہراہ پر دوڑتے بھاگتے لوگوں سے وہ کئی قدم پیچھے رہ گیا تھا۔ یا غصہ آجانے کی وجہ سے ۔۔۔۔
    پاس سے گزرتی ٹیکسی کو اس نے ہاتھ دے کر روک دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف منہ تک کمفرٹرتانے جانے سو رہی تھی یا بنی ہوئی تھی۔
    عروج اور عزہ مگر پوری احتیاط کرتے ہوئے کمرے میں کم سے کم آہٹ کرتے ہوئے اپنے اپنے معمول کے مطابق کام نپٹا رہئ تھیں۔
    تمہیں صبح جانا ہےنا ؟ عروج نے عزہ سے سرگوشی میں ہی پوچھا تھا۔۔ اپنے بیڈ پر کمبل تکیہ درست کرتی عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
    کیوں؟ عروج کا انداز ہنوز تھا ہاتھوں میں لوشن ملتے ہوئے وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی۔ سنگھار میز کے قریب کھڑی عروج اور بیڈ پر چڑھی بیٹھی عزہ کے بیچ فاصلہ پیغام رسانی میں اہم رکاوٹ تھا۔
    صبح اتوار ہے۔۔۔۔
    عزہ نے بنا آواز نکالے بتانا چاہا۔
    کیا؟ عروج نے بھنوئیں اچکائیں۔
    اتواااااار ہے۔ عزہ نے اس بار خوب منہ کھول کھول کر بتایا مگر بنا آواز۔
    کیا؟
    اتوااااااار۔۔۔۔۔
    کیا کہہ رہی ہو؟؟؟؟ عروج جھلا کر تھوڑا زور سے بول گئ۔
    سشس۔ شسس۔ ممم۔۔۔۔۔
    کمفرٹر میں سوئی شیرنی کی جانب اشارہ کرتی عزہ نے دنیا جہان کی مسکینیت چہرے پر طاری کرکے جان کی امان مانگی تھی۔
    عروج ہونہہ کرکے رخ موڑ گئ۔ عزہ نے ماتھا پیٹا پھر کمرے میں دیوار پر لگا کیلنڈر اٹھا کر اسکے پاس چلی آئی۔
    مل مل کر لوشن لگاتے ہوا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو عزہ کیلینڈرہاتھ میں پکڑے اتوار 4 جولائی پر انگلی رکھ کر اسے دکھا رہی تھئ۔
    یہ کیا ہے؟
    عروج کیلنڈر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
    عزہ نے دانت پیسے۔
    چہ۔۔ اتوارہےکل18جولائی اتوار کا دن اب سمجھ آئی۔۔
    ساری احتیاطیں بھول بھال وہ زور سے بول پڑی۔
    تم دونوں نے لیٹ نائٹ بک بک کرنی تو کمرے سے باہر جا کرکرو
    کمبل میں سے شیرنی نے منہ نکال کر دھاڑ کر کہاتھا۔
    اسکی تو۔عروج سنگھار میز سے ہئیر برش اٹھا کر اسے مارنے دوڑنے لگی کہ عزہ نے روک دیا۔
    سشسس۔ صبر کرو بہن بڑا اجر ہے صبر کا۔
    عزہ اپنی طرف سے تو پکا سا منہ بنا کر بولی مگر عروج قطعی متاثر نہ ہوئی۔ گھور کر دیکھتے اس سے کیلنڈر چھین لیا۔۔
    یہ کیا کیا ہے اسکے ساتھ؟ وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی ۔۔
    یار یہ میں نشان لگاتی ہوں جب جب کوئی چھٹی کرتی ہوں تاکہ کلاسز کا اندازہ لگاسکوں۔
    عزہ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔۔
    تم نے اتنی چھٹیاں کی ہیں؟ عروج نے کیلنڈر لہرایا جو سرخ سرخ نشانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔
    عزہ ناسمجھنے والے انداز میں دیکھے گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتنے دنوں کے بعد وہ فلیٹ واپس آئی تھی چند لمحے کھڑی دروازے کو ہی گھورتی رہی ۔۔
    اندر جانے کا ارادہ نہیں ہے؟ سیہون اسکے پیچھے سے آکر بولا تو وہ چونک گئ۔
    آننیانگ کیسے ہو؟ اس نے کرٹسی نبھانی چاہی۔
    آننیانگ۔ جوابا اس نے مروتا بھئ اسکا احوال نہ پوچھا بلکہ اطمینان سے آگے بڑھ کر دروازہ انلاک کرتا ہوا اسکے اندر آنے کیلئے دروازہ کھلا چھوڑتا آگے بڑھ گیا۔
    لڑ کر معزرت کرکے جانے کے بعد اب اگر غصہ دکھا رہا ہے تو میری جوتئ سے۔
    اس نے یہی سوچ کر دانت پیسے پھرگہری سانس لیکر اندر آگئ۔ سیہون نے حسب عادت گھر کی لابی میں لگے شو ریک میں جوتے اتار کر سلیپر پہنے ہاتھوں میں وہ دو بڑے بڑے شاپر پکڑے تھا۔ اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اپنے سینڈلز اتارنے لگی۔ اسکی چپلیں یہاں نہیں تھیں سو اندر ننگے پائوں ہی داخل ہونا پڑا۔ بائیں ہاتھ سے سینڈلز تھامے خراماں خراماں چلتی کچن کائونٹر پر سامان رکھتے سیہون نے خاصی حیرت سے اسکے ننگے پائوں کو دیکھا تھا مگر بولا نہیں۔
    کچھ کھائو گئ؟ وہ حسب عادت پوچھ رہا تھا۔
    آندے۔ وہ کہتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔ دو منٹ میں الٹے پائوں واپسئ ہوئئ
    کیا لائے ہو۔ ؟۔۔
    انداز سرسری تھا۔ سیہون فریج کھول کر چیزیں رکھ رہا تھا اسے دیکھ کرچیزیں رکھنے کی بجائے اندر سے دودھ کا پیکٹ نکال کر فریج بند کردیا۔۔
    مکس سبزی چیز سینڈوچ ۔ اس نے جو چیز پہلے ہاتھ لگی نکال لی۔
    سیہون خاموشی سے کافی بنانے لگا۔
    میرے۔۔۔ فاطمہ نے کہنا چاہا مگر اسکے کافی میکر کے پاس رکھے دو کپ دیکھ کر چپ کرگئ۔
    فریج میں سب کچھ ویسے کا ویسے ہی رکھا ہے گھر بھی دھول سے اٹا ہوا ہے تم دو ہفتے میں ایک دفعہ بھی فلیٹ نہیں آئیں؟
    سیہون کا انداز شکایتی نہیں حیران ہونے والا تھا
    سلیب پر انگلی پھیر کر دھول چیک کرتا وہ حیرانئ سے پوچھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے سینڈوچ چباتی رہی۔
    مجھے اکیلے اس گھر میں ڈر لگتا ہے۔
    خاصا مشکل اعتراف تھا مگر وہ سینڈوچ نگلتے ہوئے کر گئ۔
    کس سے؟ اس عمارت کی سیکیورٹی بہترین ہے۔ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کوئی غیر متعلقہ شخص یہاں داخل ہونہیں سکتا۔ سیہون حیران ہوا۔
    انسانوں سے کون ڈرتا ہے۔
    فاطمہ نے منہ بنایا۔
    پھر کس سے ڈر لگتا ہے۔۔ سیہون الٹا پوچھنے لگا۔
    ہر چیز سے یہ فریج جادوئی الماری لگنے لگتا ہے صوفے پر نادیدہ مخلوق بیٹھی نظر آتی ہے تو کبھی کوئی ادھر ادھر چلتا دکھائی دیتا ہے۔خاص کر جب آپکو پتہ ہو کہ آپ اکیلے ہیں فلیٹ میں اور کسی بھی قسم کی باہر سے آواز نہیں آسکتی تو گھرمیں پھربھئ کوئی آہٹ ہو تو۔۔۔
    اس نے جھرجھری سئ لی۔
    تبھی کافی میکر نے کافی بن جانے کے اعلان کے طور پر ہلکی سی گھنٹی بجائی۔ سیہون چونکا اور ہنس پڑا۔
    نا کرو تم اور ڈرپوک بلی ۔۔۔ وہ ہنسے جا رہا تھا۔
    مطلب حد ہے۔ وہ محظوظ انداز میں ہنس رہا تھا۔۔ کافئ نکال کر لا کر اسکے سامنے رکھی تو فاطمہ اسے گھور رہی تھی۔
    گھورو نہیں۔ مجھے ویسے ہی حیرت ہوئی کہ تم یوں بچوں کی طرح اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو جبکہ ۔۔۔
    اس نے دانستہ اسے دیکھتے جملہ ادھورا چھوڑا۔
    مجھے اکیلے رہنے کی عادت نہیں ہے۔ کبھی اکیلے رہی ہی نہیں ہوں میں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا۔
    دبئئ میں بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی تھیں؟
    اس نے یونہی برسبیل تذکرہ ہی پوچھا تھا۔ فاطمہ چپ رہ گئ۔
    سیہون نے چند لمحے انتظار کیا۔۔ وہ اپنے لیئے کمباپ لایا تھا۔سو نکال کر سکون سے کھانے لگا۔
    واعظہ بتا رہی تھی تمہیں جاب مل گئ ہے۔ مبارک ہو۔
    سیہون کو یاد آیا۔ وہ چپ ہی رہی۔
    کھاوا کو آدھی تنخواہ دینے کے بعد اپنے خرچے نکالنے پر کیا اس کے پاس کچھ بچے گا جو وہ سیہون کو اپنے اخراجات کی مد میں دے سکے گی۔ کہا تو خوب اکڑ کر تھا کہ اپنا خرچہ خود اٹھائوں گئ۔
    اسکے ارد گرد حساب کتاب کے ڈھیر لگ گئے۔ ہوا میں اپنی تنخواہ سے اخراجات نکالتے وہ میتھ میں بری طرح فیل ہوئی تھی۔
    فرئ لوڈر۔ سیہون کا فلیٹ اسکے پیسوں کا سینڈوچ یہ دوسرا آدھا تھا اٹک ہی گیا۔ اسی سے بنوا کر پی جانے والی کافی۔
    مطلب خسارے میں تھی وہ بری طرح۔اور یہ سیہون کب تک واعظہ کے ساتھ مروت نبھائے گا۔ پھر اس نے بھی تو کچھ سوچ رکھا ہوگا آگے کیا کرنا۔اس نے شادی کرنی ہوگی یا پھرملٹرئ۔۔۔اسکا دل دھک سے رہ گیا۔
    بات سنو تم پر بھی ملٹری لازم ہے نا؟
    اس نے ایکدم سے پوچھا تھا سیہون چونک کر شکل دیکھنے لگا۔
    میرا مطلب ہے تم۔۔ وہ۔۔
    وہ سٹپٹا سی گئ۔
    ہاں ۔۔ سیہون نے کافی کا گھونٹ بھرا۔
    ملٹری ان لسٹمنٹ میں میرا نام تیس سال کی عمر تک آئے گا اس پہلے میں جانا چاہوں گا تب مجھے خود رابطہ کرکے انلسٹ کروانا پڑے گا خود کو۔ابھی ستائیس سال کا ہوں میں۔
    اس نے تفصیلا جواب دئا۔
    چھبیس۔فاطمہ نے درستگی کی۔
    تم کورین اخیر عجیب ہو ۔۔دنیا کا بس چلے اپنی عمر کے دو چار سال کھا کر کم بتائیں تم لوگ ایک سال خود شامل کر لیتےہو ۔۔۔ہم پاکستانی آرام سے تین چار سال کھا کر بتاتے اپنی عمر کے۔ ۔ اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ سیہون مسکرا دیا
    تم کتنے سال کی ہو۔۔
    اکیس۔ وہ بے ساختہ بولی۔
    کتنےسال کم کرکے بتائے ؟
    وہ بھی سیہون تھا ہنس کر پوچھ رہا تھا۔
    تین۔۔۔۔۔۔ وہ جھٹ بولی مگر انگلیوں سے چار کا اشارہ کررہی تھی۔
    سیہون اسکے انداز پر کھل کر ہنسا تو وہ بھی ہنس دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے یونہی موبائل رکھ کر کروٹ بدلی تو دوسائے خود پر چھکے پائےچونک کے اٹھ بیٹھی۔
    عروج اورعزہ اسکے سرہانے بیڈ پر کہنیاں ٹکائے اکڑوں بیٹھی تھیں۔
    تم دونوں کیا کر رہی ہو یہاں۔
    اس نے اٹھ کر بیڈ کے سائیڈ پر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر بتیاں جلا دیں۔
    میں نے کہا تھا نا واعظہ کو ڈر نہیں لگتا ۔ عزہ نے مایوسی سے عروج کو دیکھا۔۔
    لے لینا میرا ڈینم عبایا۔کل کیلئے بس میری چھٹی ہے کل۔
    عروج جیسے مایوس سی ہو کر اٹھ کر ساتھ والے بیڈ پر بیٹھ گئ
    آہ۔۔ عشنا نے کسمسا کر اپنے پائوں سمیٹے جو کمبل میں عروج کے وزن تلے دب گئے تھے۔
    عزہ واعظہ کے بیڈ پر ٹک گئ۔
    میری بھی کل چھٹی ہے بی بی مجھے پرسوں چاہیئے۔
    عزہ ہاتھ نچا کر بولی۔
    اچھا لے لینا۔عروج کا انداز سرسری تھا۔
    واعظہ موبائل چارجنگ پر لگا کر آلتی پالتی مار کر بیڈ پر بیٹھی منتظر نظروں سے دونوں کو باری باری گھورنے لگی۔
    وہ یہ عروج کو اہم بات کرنئ تھی۔
    عزہ نے عروج کی جانب اشارہ کیا۔
    نہیں عزہ کو اہم بات کرنی تھی۔
    عروج سٹپٹائی۔۔
    مجھے اہم بات کرنی ہے۔ واعظہ نے ہاتھ جھاڑے۔
    دونوں ہمہ تن گوش ہوئیں۔کمبل سے منہ نکال کر عشنا بھی دیکھنے لگی اسکی شکل۔
    ابیہا کی شادی ہو رہی ہے اور اسکی ضد ہے ہم سب شامل ہوں اسکئ شادی میں۔ جو کہ ممکن نہیں سو سوچ رہی ہوں ہم ایک ورٹوئل پارٹی اسکے لیئے پلان کریں ۔۔۔
    واعظہ نے کہاتو تینوں نے جیسے مایوس ہو کر سر جھکایا۔
    آ ہ۔ اچھا۔۔ عشنا نے دوبارہ کمبل منہ تک تان لیا۔
    ہاہ۔مجھے لگا تھا تم سب پرجوش ہوجائوگی میرے ساتھ مدد کروائوگی پارٹی کی تیاری میں اور۔۔
    واعظہ کو خاصی حیرت ہوئی۔۔
    ہاں کروا دیں گے۔عروج نے کندھے پر سے مکھی اڑائی جیسے۔
    ابھی اہم معاملہ درپیش ہے۔۔۔ اس نے پراسرار انداز اپنایا۔۔۔۔۔
    مجھے امریکی ادارے میں اسکالر شپ مل گئ ہے۔
    عروج کا انداز اتنا پھسپھسا تھا کہ عزہ اور واعظہ دونوں نے اظہار افسوس کر ڈالا۔۔
    اوہو کوئی بات نہیں امریکہ کا ویسے بھی مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ عزہ نے کندھا تھپکا۔
    ہاں اداس نہ ہو چھے مہینے بعد دوبارہ کوشش کرلینا۔
    واعظہ نے بھئ دلگیری سے کہا تھا۔
    مبارک ہو۔ کمبل سے منہ نکال کر عشنا نے کہا۔
    شکریہ بہن۔۔۔عروج شکرگزار ہوئی۔ پھر ان دونوں کو دیکھ کر دانت پیس کر بولی
    مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے۔
    کیا واقعی؟ دونوں اچھل پڑیں۔
    مبارک ہویار یہ تو خوشی کی بات ہے۔۔ واعظہ بے ساختہ بولی
    ٹریٹ دو۔۔ عزہ چلائی۔
    ایک مسلئہ ہے۔۔۔عروج نے ہونٹ کاٹے۔۔اور وہ ٹیپ سے جڑاخط واعظہ کیجانب بڑھا دیا۔۔
    واعظہ نے خط پڑھ کر الجھن بھرے انداز میں اسکی شکل دیکھی۔۔
    یہ تو کسی دعا کے نام کی اسکالر شپ ہے۔۔۔۔
    عروج نے گہری سانس لی۔۔۔۔پھر دھیرے سے سب قصہ کہہ سنایا۔۔
    تم پاگل تو نہیں ہو۔۔عزہ نے سر پیٹ لیا۔
    دعا تمہاری پھپو کی بیٹی ہے جو اسکے الٹے سیدھے الزامات پر ایسے دل برا کر رہی ہو۔ جو مرضی آئے سمجھتئ پھرے تمہاری صحت پر کیا اثر؟
    دعا سیونگ رو کو پسند کرتی ہے۔۔ عروج منمنائی۔
    مجھے گلٹ ہورہا۔قسم سے بہت اچھی طبیعت کی لڑکی ہے مجھ سے کہیں پیاری۔ سیونگ رو کو پسند آجاتی جب میں بیچ سے نکل ہی گئ ہوں تو۔مگروہ بے وقوف لڑکی اپنا اصلی لیٹر یوں ڈسٹ بن میں پھینک کر چلی گئ میری وجہ سے۔۔
    اس کے منمناتے انداز پر عزہ کو غصہ آگیا۔
    حد ہے تم کیوں افسوس کر رہی ہو۔ عجیب احمق ہے وہ۔اگر اتنی کوشش کرکے اسکو سیونگ رو کے ساتھ اسپیشلائزیشن کرنے کا موقع مل رہا تھا تو اسے کیا ضرورت تھی تم سے جل بھن کر اپنا نقصان کرنے کی۔
    کورین ڈرامے نہیں دیکھتی دعا کیا۔۔۔ کمبل سے عشنا بھی برآمد ہوئی
    کیسے سائئڈ ہیروئینیں ہیرو کو پٹانے کیلئے ہرقسم کی چیپ ٹیکٹس اپناتی ہیں لیس ہو جاتی ہیں ہیروئن کی ناک سے لکیریں نکلوا دیتئ ہیں اتنا عاجز کرتی ہیں اسے یہ احمق دعآ خود ہی پیچھے ہٹ گئ۔۔
    تو وہ ڈرامہ ہوتا ہے اصل تھوڑی۔ اتنئ پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی ہے اسکی بھئ انا ہوگی۔ اپنئ عزت اسے پیاری ہے جبھی تو بجائے لڑنے کے عزت سے سائیڈ میں ہوگئ۔۔
    عزہ نے اختلاف کیا۔ عروج مزید سر جھکا گئ۔
    میرا مطلب ہے۔۔ عزہ بول کے ہچھتائئ۔
    دیکھو محبت و جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اگر وہ یہ سمجھ بھی رہی ہے کہ عروج اور سیونگ رو کپل ہیں تو بھی جب اسے موقع مل رہا ہے ان کے ساتھ رہ کر انکی ناک میں دم کرنے کا تو اسے ساتھ جا کر انکے بیچ میں آکر قسمت آزمانی چاہیئے۔۔
    عشنا اپنی بات پر قائم تھی۔ عزہ جھلائی۔
    یہ تم نہیں تمہارے اسٹار پلس والے سیریلز بول رہے۔ وہ کونسا حقیقئ زندگئ دکھا رہے ہوتے تھے۔۔
    کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتئ ہے ڈراموں میں بھی ایسے تھوڑی کرتا کوئی دعا کی طرح ۔۔۔۔۔۔تم بھئ تو کچھ بولو واعظہ۔۔
    عشنا نے واعظہ سے اپنے موقف کی تائید چاہی۔
    خاموشی سے انکی بحث سنتی کیلنڈر پر غور کرتی واعظہ چونکی ۔ انکو کیلنڈر دکھا کر پوچھنے لگی۔
    یہ کیلنڈر کو نشان کس وجہ سے لگا رکھے ہیں ؟؟؟؟۔
    یہ میں لائی تھئ۔۔عزہ نے مسمسئ سی شکل بنائی۔ ہمارے کمرے کا کیلنڈر ہے۔
    جب چھٹی کرتی تھی نشان لگاتی تھئ نیچے سبجیکٹ بھی لکھتی تھئ۔۔ اوراب اس پر روز نشان لگتے لگتے پورا کیلنڈر برباد ہوگیا ہے ۔اس پر میری سب کلاسز کی تفصیل بک مارک تھئ اب مجھے یاد ہی نہیں مین نے کس سبجیکٹ کئ کتنی کلاسز مس کی ہیں۔۔۔ کس نے کی یہ حرکت۔۔
    عزہ رو دینے کو تھی۔
    واعظہ نے سوالیہ نگاہ سے عروج کو دیکھا وہ زور و شور سے سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
    میں نے نہیں کیا یہ کام۔۔
    جس نے بھئ کیا اس نے میرے ساتھ زیادتی کر دی ہے اب میں ایک چھٹی بھی نہیں کرسکتی جانے کس سبجیکٹ کی آخری چھٹی خرچ ہوجائے۔ عزہ روہانسی ہوگئ۔
    اتنی چھٹیاں کرنی کیوں ہیں تمہیں۔۔واعظہ نے کیلنڈر اسکے سر پر بجایا۔
    پھر بھئ کس نے کی یہ حرکت۔ عزہ بلبلااٹھی۔
    تمہارے کمرے میں تم دونوں سوا ہے ہی کون اب نور تو پاکستان جا چکی لے دے کے الف ہے اسی نے کیا ہوگا۔
    واعظہ نے کہا تو عزہ اچھلی۔
    یہ دیکھو بائیس جولائی پر بھی نشان لگا ہوا ہے۔۔ یعنی بائیس جولائی تک ایک ایک دن گن رہی ہے۔الف مگر کیوں؟؟؟؟؟
    اسکے سوالیہ انداز پر باقی تینوں بھی چونک کر دیکھنے لگی تھیں اسے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس کچھ دن کی بات ہے اسکے بعد وہ ہمیشہ کیلئے کھو جائے گا۔۔ پھر یہ سب اتنا مشکل نہیں لگے گا۔۔
    الف نے گہری سانس لیکر ژیہانگ کی تصویر کو سوائپ کیا۔ گیلری سے آخری تصویر بھی ڈیلیٹ کر کے موبائل ایک جانب رکھ دیا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہاں رہ گئے۔ ۔۔ بچوں کو سلا کر وہ جلے پیر کی بلی کی طرح فلیٹ میں چکر لگا رہی تھی۔چلتے چلتےچکر آبھی گیا۔
    رات کے بارہ بج رہے تھےاس نے کھانا بھی انتظار میں نہیں کھایا تھا۔
    اس نے کچن کائونٹر کا سہارا لیا وہیں اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ۔
    بھوک نے برا حال کردیا تھا۔ ذرا سا ذہن قابو میں آیا تو فورا اٹھ کر سالن روٹی نکال کر کھانے بیٹھ گئ۔۔۔
    اتنی پریشان طبیعت ہونے کی وجہ سے نا کھانا ڈھنگ سے کھا رہی تھی نہ ڈاکٹر کے بتائے سپلیمنٹس لیئے تھے۔
    مجھے دلاور سے یہ بات چھپانا نہیں چاہیئے ۔۔۔
    کھانا کھاتے کھاتے ایکدم دل اچاٹ سا ہوا تو اس نے پلیٹ میں روٹی رکھ دی۔
    کیا خبر انکو اس نئی ذمہ داری کا احساس ہو جائےاور وہ باز آجائیں۔کون جانے وہ اس وقت بھی کس کے پاس کہاں ہیں۔۔
    خیال تھا کہ آری۔ دل لمحہ بھر کو جیسے رک سا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اس پرانی سی عمارت کے احاطےمیں کھڑے تھے۔ارد گرد نئی طرز کی عمارتوں کے درمیان وہ خاصی خستہ حال لگ رہی تھی۔نیم اندھیرےمیں خاصی آسیب زدہ بھی۔
    رات کے دوسرےپہرمیں بھی یہاں گلی میں خاصی چہل پہل تھی۔لوگ آ جا رہے تھے۔۔ نیم سڑک پر دکانیں ٹھیلے روشنیوں سے سجے تھے۔وہ چند لمحے شش و پنج میں مبتلا رہےپھر جیسے فیصلہ کرکے اس عمارت میں داخل ہوگئے۔
    تین منزلہ اس عمارت میں ہر منزل پر دو فلیٹ تھے بس۔ انہوں نے سب نے نیچے والی منزل سے آغاز کیا۔پہلے فلیٹ کا دروازہ کافئ دیر بجانے کے باوجود نہ کھلا تو پاس والے فلیٹ سے آنکھیں ملتا نکلتا وہ ادھیڑعمر شخص بنا لحاظ ان پرچلایا۔
    کیا آفت آگئ ہے۔جب اتنا بجانے پر نہیں کھل رہا تو یقینا اندر مکین ابھی گھرنہیں پہنچے۔اتنی عقل نہیں کہ یہ اندازہ لگاسکو۔
    چھے سو ہمبندا۔
    وہ جھک کر معزرت کرنے لگے۔
    دراصل میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں یہاں کیا آپ میری مدد۔
    آندے۔ اس نے بے مروتی سے کہہ کر دروازہ بند کیا۔۔
    وہ گہرا سانس لیکر اوپر کی منزل کو جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
    دوسری منزل پر وہ لڑکی اپنے فلیٹ کا دروازہ ہی کھول رہی تھی۔ان کو دیکھ کر اسکے ہاتھوں میں تیزی آگئ۔ دروازہ کھولتے ہی وہ اندر گھس گئ جھٹ بند بھئ کردیا۔۔۔۔۔ یہاں پر دوسرا فلیٹ مکمل اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ یقینا وہ اس دروازے کو بجاتے تو شائد یہی لڑکی 119 کو بلا لیتی۔
    اگلی منزل کی سیڑھیاں سامنے تھیں۔۔ اس منزل پر بھی سناٹا تھا تاہم اوپر چھت سے ہنسی قہقہوں کی آواز آرہی تھی۔وہ بجائےیہاں دروازہ کھٹکانے کے آوازوں کے تعاقب میں سیڑھیاں چڑھ گئے۔
    دس بارہ لڑکےلڑکیاں اوپر تخت بچھائے بیٹھےتاش کھیل رہے تھے ساتھ سوجو کا دور بھی چل رہا تھا ایک جانب دو لڑکے پورک کو گرل کر رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ایکدم سب الرٹ سے ہو کر کھڑے ہوگئے۔
    انکے کہنے پر سب بدمزا سے ہو کر واپس اپنی اپنی سرگرمی میں مصروف ہونے لگے۔۔
    مجھے لگا پولیس ہے۔۔
    ایک نے پیسے پھینکتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔
    کہہ سیکی۔ دوسرے نے گالی دینےپر ہی اکتفا کیا۔
    غیر قانونئ طور پر جوا کھیلا جا رہا تھا یہاں۔۔سب نے انکومکمل نظرانداز کیا تھا۔باتیں شور قہقہے۔۔۔۔
    وہ مایوس سے ہو کرپلٹنے لگے۔

    آہجوشی۔ گوشت تلتا ایک لڑکا اپنے ساتھی کو چمٹا تھما کر انکے پاس چلا آیا۔۔۔
    کیا ہوا کوئی مسلئہ ہے۔۔۔ چندی آنکھوں والا وہ مکمل کوریائی نقوش کا لڑکا تھا مگر انہیں وہ بہت مانوس سا لگا۔ ایسا ہی تو ہوگا وہ بھی۔۔
    آہجوشی۔۔ انہیں خود کو تکتےپا کر اس نے دوبارہ پکارا تو وہ جیسے ہوش میں آئے۔
    معاف کیجئےگا۔ میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں کیا آپ اس کو جانتے ہیں کیا یہ یہاں اس عمارت میں رہائش پزید ہے؟
    انہوں نے جیب سے تصویر نکال کر اسکو دکھائی۔
    یہ۔۔ اس نے تصویر تھامی۔۔
    بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا وہ جنوبی ایشیائی نقوش کا لڑکا تھا۔ جس نے چیک کی شرٹ پہن رکھی تھی دھیرے سے مسکراتا چمکتی روشن بڑی بڑئ آنکھیں۔۔۔
    یہ تو کوئی ہائی اسکولر لگتا ہے۔ یہاں تو ہائی اسکولر کوئی بھی نہیں رہتا سب سے اوپر والی منزل کے دونوں فلیٹ ہمارے ہیں یہ ہم دوست ہیں۔۔۔اس نے فاصلے پر بیٹھے اٹھکیلیوں میں مشغول دوستوں کی۔جانب اشارہ کیا۔۔۔ نیچے کچھ خاندان رہتے ہیں مگر میرا نہیں خیال ان میں کوئی انڈین ہے۔
    اس کو جانے انکی شکل پر چھائی مایوسی نے پگھلا دیا تھا یا وہ ویسے ہی کافئ نیک دل تھاسو تفصیل سے بتادیا۔
    نیچے تو وہ پہلے ہی دیکھ آئےتھے۔
    آپ کچھ پیئیں گے۔
    اس نے دعوت دے ڈالی۔
    نہیں۔۔ آپکا بہت شکریہ۔۔
    وہ بمشکل مسکرا کر شکریہ ادا کر پائے کانپتے ہاتھوں سے تصویر واپس جیب میں احتیاط سے رکھتے ہوئے پلٹ گئے۔۔۔ واپسی پر قدم من من بھر کے ہورہے تھے۔۔ آٹھ دس مہینوں کی پیہم تلاش کا یہ نتیجہ تھا۔۔۔۔۔ آخری منزل کی آخری سیڑھی پر وہ جیسے ڈھے سے گئے۔جیب سے تصویر نکال کر دیکھتےوہیں نیم تاریک گوشےمیں سیڑھی پر بیٹھ کر رو دیئے۔۔
    کہاں چھپ گئے ہو؟ کبھی نہیں ملوگے کیا ہمیں؟؟؟ ۔کیا ہماری یاد بھی نہیں ستاتی تمہیں کبھی۔۔۔۔۔۔ اماں بھی یاد نہیں آتیں کبھی؟؟؟؟؟۔۔۔۔
    ٹپ ٹپ کتنے ہی آنسو اس تصویر پر آن گرے تو انہوں نے گھبرا کر تصویر کو اپنی آستین سے صاف کیا۔۔
    مجھے پتہ ہے تم یہیں کہیں ہو۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا یہ میرا اماں سے وعدہ ہے اسے ضرور پورا کروں گا میں۔۔
    انہوں نے ایکدم ہی اپنے آنسو پونچھے اور نئے حوصلے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    نیم تاریک کمپائونڈ سے جس وقت ہو باہر نکل رہے تھے عین اسی وقت اسی فلیٹ کا دروازہ ایک نوجوان بھارتی گانا گنگناتے ہوئے کھول رہا تھاجس کا دروازہ بجا بجا کے وہ مایوس ہو کر جا رہے تھے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔۔۔۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 52

    قسط 52
    تصویریں آگے پیچھے کرتے اسے جانے کتنی دیر گزر چکی تھی۔ اتنی مگن بیٹھی تصویریں دیکھ رہی تھی کہ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ اسے مگن بیٹھے کتنی دیر سے وہ اسکے سر پر کھڑی اسے دیکھ رہی ہے۔
    تصویریں کوئی سو ڈیڑھ سو ہوں گی۔ ختم ہوگئیں جب دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا چاہا تو واعظہ ٹوک بیٹھی۔
    میں نے اپنی ہی تصویریں اتنے ذوق و شوق سے حفظ کرتے کسی کو نہیں دیکھا۔
    واعظہ اطمینان سے اسکے برابر بیٹھتے بولی تو وہ بری طرح چونک سی گئ۔
    مانا پیاری آگئی ہیں مگر ایک سو دو تصویریں دوبارہ دیکھنے میں پھر کافی ٹائم لگ جائے گا سو اب پھر دیکھنے کا شوق گھر جا کر پورا کرنا۔
    واعظہ نے بات مکمل کی تو وہ جھٹ فون لاک کرکے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی کہ فارغ ہوجائو تو اکٹھے چلیں گھر۔
    جبھئ ای جی کی وین سے منہ چھپا رہی تھیں یہ سوچ کر کہ کہیں اس میں میں نا بیٹھی ہوں۔
    وہ کونسا چوکنے والی تھی جتادیا۔
    نہیں میں۔ وہ بس۔
    اس سے جواب نہ بن پڑا۔
    چلو ذرا اکٹھے ہی چلیں گھر۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے بہت ضرورئ
    وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ الف نے ہونٹ بھئنچ لیئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی ڈیوٹی آف ہونے والی تھی سو وہ آرام سے وارڈ کا چکر لگا کر اپنے کیبن میں آکر بیٹھی۔ سب سے پہلے لیپ ٹاپ آن کرکے میلز دیکھنی چاہیں۔ میل آئی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ کھولی۔
    امریکی ادارے نے اسکی درخواست منظو رکر لی تھی۔ وہ اسپیشلائزیشن اب امریکہ سے کر سکتی تھی تاہم ٹیوشن فیس میں اسے پچاس فیصد کی ہی بس رعائیت دیی گئ تھی۔ اسکے لیئے یہی بہت تھا۔
    بہت بڑی خوشی اچانک مل جائے تو کیا کرنا چاہیئے۔ اس نے ایک نظر اپنے گرد ڈالی۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ ناچنا شروع کردے۔ مگر یہاں اس وقت یقینا خوشی ایسے نہیں منائی جا سکتی تھی۔
    شکر الحمداللہ ۔ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
    اپنے ہاتھ دعا کی طرح پھیلا کر اس نے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا۔ الحمد اللہ۔ بس یہی تکرار اسکے لبوں پر جاری تھئ۔
    تبھئ کھٹکے پر اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا تو چونک کے سیدھی ہوئی۔
    ڈاکٹر دعا جانے کب خاموشی سے آکر اسکی میز کے سامنے آکھڑی ہوئئ تھی۔
    کین چھنا؟۔۔ وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
    دے۔ وہ ہنس دی۔ ماسک کے پیچھے سرخ ہوتی آنکھیں وہ سچ مچ خوشئ سے رو پڑی تھی
    پھر رو کیوں رہی ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا۔ اس نے بنا کچھ کہے لیپ ٹاپ کا رخ اسکی جانب کردیا۔ اس نے الجھن بھرے انداز میں میل پڑھی پھر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے میں امریکہ جارہی ہوں۔ اف میرا خوشی سے برا حال ہے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آخری حل میرے پاس یہی تھا کہ ناروے والی اسکالر شپ لے لوں مگر اسکے لیئے جواب دینے سے پہلے یہ میل آگئ اف خدا میں بہت خوش ہوں۔
    وہ بے ربط مگر تواتر سے بول رہی تھی خوشی کے مارے تالی تک بجا لی تھی۔ اس وقت سامنے فاطمہ واعظہ وغیرہ میں سے کوئی ہوتی تو پکا وہ چمٹ چکی ہوتی اس سے مگر کورینز فاصلہ پسند کرتے ہیں۔ دعا سے اسکی اچھی سلام دعا تھی مگر وہ اس سے لپٹ نہیں سکتی تھی۔ میل پڑھتے اسکے تاثرات واضح طو رپر کڑوے ہوتے گئے۔ مسکراہٹ غائب ہوگئ
    تو تم نے بھی امریکہ ہی جانا ہے۔ اسکے جوش بھرے انداز
    کے برعکس اسکا انداز کافی سرد تھا
    ہاں شکر ہے ورنہ مجھے ناروے جانا پڑتا ۔ عروج نے ناک چڑھائی۔ میز پر سے ٹشو نکال کر وہ ماسک ہٹا کر چہرہ صاف کرنے لگی۔ کاجل ہلکا ہلکا پھیل سا گیا تھا۔
    تم پھر بھی امریکہ ہی پہنچ جاتیں۔خیر میں یہ پیشنٹ کی فائل دینے آئی تھئ۔ سر جون کو رپورٹ کردینا۔ تمہارےڈیوٹی ختم ہونے کے۔ بعد انکی ہی ذمہ داری ہوگی اس وارڈ کی۔
    وہ فائل رکھ کر مڑی ہی تھی کہ عروج نے آواز دے ڈالی
    دعا۔ کیا کھائوگی آج کی ٹریٹ میری طرف سے۔
    وہ پرخلوص انداز میں دعوت دے رہی تھی۔
    کیا کھلائوگی ؟ پورک بیلی کھلائوگی ؟
    وہ مڑ کر استہزائیہ انداز میں بولی
    ہاں کھلادوں گی۔ اس نے آرام سے کہا۔ اور چیزیں سمیٹتی اٹھنے لگئ۔
    کیوں ؟ سیونگ رو کے پیچھے لادین ہونے لگی ہو؟ مسلمان تو پورک سے دور بھاگتے ہیں ہیں نا؟ اب پورک کھانا جائز ہوگیا تمہارے لیئے؟
    سینے پر بازو لپیٹتی وہ سخت تنفر سے بولی۔
    میں نے تمہیں ٹریٹ دینے کیلئے کہا تھا یہ نہیں کہا کہ میں بھی تمہارے ساتھ پورک کھائوں گئ اور اس سب کے بیچ میں سیونگ رو کہاں سے آگیا؟
    عروج چاہتے ہوئے بھئ اپنے لہجے پر قابو نہ پاسکی
    یہ تو تم مجھے بتائو۔ جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم سیونگ رو کو پسند کرتی ہو تو تم نے صاف انکار کیا تھا یاد ہے۔؟
    وہ اسے وہ دن یاد کرارہی تھی جب اسکے یوں اچانک پوچھنے پر وہ حیرت سے جم سی گئ تھی۔
    سائرن بجتے اسکا ذہن ایکدم مائوف سا ہوا تھا۔
    میں پوچھ رہی ہوں کیا تم سیونگ رو سے محبت کرتی ہو؟
    دعا اسکے بالکل مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔
    نہیں تو۔
    اس نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہیں کیا تھا۔اسکے یوں فوری جواب پر وہ ڈھیروں اطمینان دعا کے چہرے پر آجھلکا تھا۔
    وہ تمہیں اگرپرپوز کردے تو؟ وہ جانے کیا جاننا چاہ رہی تھی۔
    تو میں انکار کردوں گی۔ اول تو ہم بس دوست ہیں دوسرا وہ بڈھسٹ ہے میں مسلمان ہماری شادی ہوہی نہیں سکتی۔ اس نے اطمینان سے کہہ کر لیب کوٹ پہنا اور اسٹیتھسکوپ گلے میں ڈال کر جانے کوتیار ہوگئ۔
    ایمرجنسئ کیسز ہیں ڈیوٹئ پر موجود ڈاکٹرفورا ایمرجنسی مین آئیں۔
    انائونسمنٹ جاری تھئ۔
    کیوں؟
    دعا نے بے تابی سے پوچھا
    پہلے ڈیوٹی پر رپورٹ کرلو یہ فالتو باتیں بعد میں کرنا۔
    وہ ناگواری چھپاتے اسے ٹوک کر جلدی سے دروازے کی۔جانب بڑھ گئ تھی۔
    اس وقت تو ایمرجنسی کی وجہ سے بات آئی گئ ہوگئی مگر اس وقت وہ جس طرح جرح کر رہی تھی عروج ساکت سی اسکی شکل دیکھنے لگی
    پھر اب کیوں اسکے پیچھے امریکہ جا رہی ہو؟ انسان میں کم ازکم اتنی شرافت ہونی چاہیئے کہ سچ کا سامنا کرے جھوٹ نہ بولے۔ اسکی خاموشی پر وہ جیسے بھڑک اٹھئ تھئ
    کیا بکوا س کر۔رہی ہو؟ میں نے کیا جھوٹ بولا؟ عروج کو اسکی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔
    تم دونوں ساتھ تھے مگر تم دونوں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ صاف کہتے کہ تم دونوں ساتھ ہو۔ میں کبھی اتنی امیدیں نا پالتی۔ تم دونوں نے مجھےبے وقوف بنایا۔ بولتے بولتے اسکی آواز بھرا سی گئ۔
    اور میں۔ سب چھوڑ چھاڑ کرجارہی تھی۔۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی۔
    کیا مطلب کیا کہہ رہی ہو؟ عروج کو اسکی ایک بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہاں لڑنے کے موڈ میں تھی کہاں اب رونا شروع کردیا۔
    کیا ہوا ہے ؟ مجھے بتائو۔
    اس نے پاس آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہااس نے تنفر سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ اپنے پرس میں سے ایک خط نکال کر دو ٹکڑے کیئئے اور وہیں فرش پر پھینک کر روتی ہوئی باہر نکل گئ۔
    دعا۔۔ اس نے پکارنا چاہا مگر وہ رکی نہیں اس نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا پھر جھک کر اسکا پھینکا ہوا لیٹر اٹھا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واصف کو دیکھتے ہی فاطمہ نے یہی کہا کہ وہ جچے گا تمہارے ساتھ۔
    بس کے پائیدان پرقدم رکھتی الف اور اسکے ہم قدم واعظہ خود کار ریکارڈ کی طرح بجتئ ہوئی۔
    شکل و صورت تو خیر اچھی ہے ہی مگر کوالیفائڈ انجینئر ہے۔ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ ۔۔ گو اس پر مجھے اور فاطمہ دونوں کو شک ہوا کہ انجینئر اور برسرروزگار تو ہے ہی اوپر سے اتنی تنخواہ؟؟؟ مگر کوئی تنخواہ بڑھا کے کیوں بتائے گا عموما عمر اور تنخواہ لوگ گھٹا کے ہی بتاتے ہیں۔
    رنگوں روشنیوں سے جگمگاتی شہر کی پرورنق سڑکیں نیون سائنز کی جگمگ کرتئ روشنیاں دکانوں کی پیشانی پر سجی ہنگل میں تحریریں وہ سڑک پر ایک کنارے بیٹھی بلی کو دم ہلاتے دیکھ کر چونکی ۔ بس کی رفتار تیز تھی وہ مڑ مڑ کر اس بلی کو دیکھ رہی تھی۔ بس کی کھڑکی کے پاس بیٹھنا اسے اسی لیئے پسند تھا ۔ باہر کے دلفریب نظارے۔۔ واعظہ اسکے برابر ہی بیٹھی تھی۔
    اوپر سے اکلوتا بیٹا۔ نا بہن نا بھائی۔ ابا بھی نہیں ہیں۔ مطلب یہاں نہیں ہیں۔ یہاں مطلب پاکستان میں نہیں۔ جدہ میں ہوتے ہیں۔ جبھی بیٹے کو انجنیئر بنوا دیا بھئ۔ واہ۔
    انکا اسٹاپ آگیا تھا۔ دونوں آگے پیچھے اتری تھیں۔ فٹ پاتھ پر رش نہیں تھا۔ اپنی گلی تک مڑتے وہ ایک ایک دیوار کنارے لگے پودے پتھر کو دیکھتئ آئی تھی۔
    اور تو اور گھر بھئ بنوا دیا ہے پورے دس مرلے کا مکان ہے انکا وہ بھی آسٹریچ میں۔ آسٹریچ عجیب نام لگا مجھے بھلا وہاں کیا آسٹریچ کے فارم ہیں جو ۔۔۔
    ویسٹریج نام ہے جگہ کا۔ اس نے جھک کر اپنے جوتے کے تسمے دیکھے پھر وہیں اکڑوں بیٹھ کر باندھنے لگی
    ہاں ویسٹریج۔ آسٹریچ کہاں سے ذہن پر سوار ہوا میرے۔ وہ سوچ میں پڑی پھر سر جھٹک کر بولی
    خیر اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں خود جھک کر اپنے جوتے کے تسمے باندھنے کی زحمت نہ کرنے دی جائےاور ایک ہینڈسم انجنئیر تمہارے جوتے کے تسمے باندھ دیا کرے۔
    ہینڈسم انجینئر۔ الف استہزائیہ ہنسی۔۔ اور سیدھی ہو کھڑی ہوئی
    میرے جوتے کے تسمے باندھنے کی بجائے وہ اپنے جوتے مجھ سے پالش کروانے کے خواب دیکھ رہا ہوگا۔
    اس ساری تفصیل میں یہ بھی شامل کرلو یہ واصف میرے سگے ماموں کا بیٹا ہے۔ ایک نمبر کا غصہ ور کمینہ بچپن میں ہم سب بچوں پر خوب رعب جماتا رہا ہے ہمیں تھپڑ مار کے اور میری تو پونی کھینچ کر بھاگ جایا کرتا تھا ہم سب تنگ تھے اس سے۔
    بھنا کر وہ اتنے غصے سے بول رہی تھی کہ گردن کی رگیں تن گئ تھئں۔
    ہاں یہ بھی بتایا تھا تمہاری امی نے بھول۔گئ تھی میں۔ واعظہ نے کان کھجایا
    مگر وہ بچپن کی بات ہے تمہاری امی کہہ رہی تھیں تم بچپن کی بات دل سے لگا کر انکار کررہی ہو ۔اب تھوڑی وہ بال کھینچ کے بھاگا کرے گا۔ مطلب بال نہیں کھینچے گا ویسے پاکستانی لڑکوں کا بھروسہ بھی کوئی نہیں۔وہ آخر میں بڑبڑاہٹ پر اتر آئی تو الف کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔
    کسی کے باپ میں جرات نہیں کہ مجھے ہاتھ لگائے منہ نہ توڑ دوں بال کھینچنے والے کا۔ اور بات سنو تم کون ہوتی ہو مجھے سمجھانے کا بیڑا اٹھانے والی ؟ بولو؟ کیوں میری امی سے بات کی اپنے کام سے کام رکھا کرو نا۔
    الف کے یوں بھڑک اٹھنے وہ پر چپ ہوکر بغور اسے دیکھنے لگی۔ طیش سے منہ سرخ ہوچلا تھا۔۔
    کیوں انکار کر رہی ہو؟ پھر ؟ اسکا انداز الف بالکل برعکس اطمینان بھرا تھا
    میری مرضئ۔ وہ مزید تپ گئ ۔
    جو بھی وجہ ہو میں صاف انکار کر چکی ہوں امی کو میں پھر بھی انہوں نے تمہیں فون کرکے مجھے منانے کا ٹاسک دے ڈالا اور تم میری روحانی امی ٹاسک پورا کرنےچلی آئیں ۔
    اپنے لانگ ٹاپ کی آستینیں باقائدہ چڑھا لی تھیں اس نے۔ فیڈڈ جینز لانگ گرے ٹاپ میں گرے ہی اسکارف پہنے وہ غصے سے لال ہوئی وی تھئ۔
    مجھےایک بات بتائو اتنی پرسکون زندگی کیسے ہے تمہاری ؟ کوئی اپنا ذاتی مسلئہ پریشانی نہیں لاحق کوئی فکر نہیں تمہاری زندگی میں کہ تم دوسروں کے مسلوں میں ٹانگ اڑانے پہنچ جاتی ہو۔۔۔ فاطمہ عروج وغیرہ کو تمہاری اس ہمدردی یا توجہ کی ضرورت ہوتی ہوگئ انکے مسلئے شوق سے حل کرو مگر میرے معاملوں میں ٹانگ نہ اڑایا کرو۔ سمجھیں۔
    الف حلق کے بل چلا رہی تھی۔ واعظہ کو یکدم ہی ٹھنڈک سی محسوس ہوئی۔ الف کے برعکس وہ پلین لانگ اسکرٹ میں ملبوس تھئ۔ اس وقت ہوا سے اسکا لباس سرسرارہاتھا رگ و پے میں سخت ٹھنڈک کی لہر دوڑ رہی۔تھی۔ اس نے ہلکی سی جھرجھری سی لی
    میری شادی ہو نہ ہو واصف سے ہویا گنگو تیلی سے تمہیں کیا۔ میری امی تمہیں ہر دوسرے دن فون کرتی ہیں تو تم اٹھاتی کیوں ہو بلیک لسٹ میں ڈالدو نمبر مت فون اٹھائو۔ جو مرضی آئے کرو مگر میرا دماغ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھیں۔
    اسکو چکنا گھڑا بنے سنتے دیکھ کر وہ مزید بھڑک کر پیر پٹخ کر بولی۔ واعظہ چپ چاپ دیکھتئ رہی۔ اس نے چند لمحے تو واعظہ کے ردعمل کا انتظارکیا پھر تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف بڑھ گئ۔
    سڑک کنارے نیم اندھیرے موبائل کی ٹون پھر بج اٹھی تھی۔اس نے گہرا سانس لیکر پرس سے فون نکالا۔
    الف کی امی کی ہی کال تھی۔
    اس نے چند لمحے سوچا پھر کال کاٹتے کاٹتے بھی اٹھا لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلام و علیکم۔۔ عروج ابھی ابھی واپس آئی تھی حسب عادت زور دار سلام جھاڑتئ اندر آئی۔ عزہ طوبی عشنا لائونج میں پھسکڑا مارے بیٹھی چپس اڑاتے ہوئے گپیں لڑا رہی تھیں۔ تینوں بچے خاموشی سے بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے جسکی آواز بند تھئ۔
    آئو عروج ابھی ابھی چپس بنائے ہیں۔عزہ نے شکل دیکھتے ہی آواز لگائی
    آتی ہوں۔ وہ ٹالتی ہوئی کمرے میں گھس گئ۔
    عروج اور چپس کو ٹال گئ۔ قیامت کے آثار ہیں۔ طوبی کو حیرت ہوئی۔
    کوئی مردہ چیر پھاڑ کر آئی ہوگی۔ نہا کے ہی آئے گی کھانے۔
    عشنا نے وثوق سے کہا تھا۔مگر جملہ ختم ہوتے ہی سے عروج کمرے سے برآمد ہوگئ ۔ لیب کوٹ پرس اندر رکھ کر شائد بس ہاتھ دھو کر ہی آئی تھئ۔ہاتھ گیلے تھے جنہیں جھٹکتی وہ بھی انکے برابر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔منی میز پر ٹرے بھر کر چپس رکھے تھے ساتھ ایک پیالی میں کیچپ بھی تھا۔ اس نے جھٹ دوتین اکٹھے اٹھا لیئے۔
    نہا تو آئو مردے کو ہاتھ لگا کر آئی ہو۔طوبی ٹوکے بنا نہ رہ سکی
    کونسا مردہ۔ وہ تیز تیز چپس چبا رہی تھئ۔ عشنا اور عزہ ہنسنے لگیں
    مزاق کر رہی تھی عشنا طوبی جی۔
    کیسا مزاق۔ عروج کو اپنے آپ پر حیرت ہوئی
    عشنا کہہ رہی تھئ تم نہا کے آئوگی کیونکہ مردے کو ہاتھ لگا کے آئی ہو۔
    طوبی نے وضاحت کی۔
    ہیں عشنا کو کیسے پتہ لگا؟ آج ویسے دو کیس تھے جنکی ڈیتھ ڈکلیئر کرنی پڑی مجھے۔
    وہ کافی تیزی سے منہ چلا رہی تھی۔طوبی نےجو چپس منہ میں بھر لیئے تھے انہیں چبانا بھول گئ
    اوہو وہم نہ کریں ہاتھ دھو کے ہی آئی ہے۔ نماز پڑھتے وقت نہا لے گی آپ آرام سے کھائیں۔
    عزہ نےتسلی دی تو اس نے چبانا شروع کر ہی دیا
    ویسے یہ محفل کیوں سجی ہوئی ہے۔ عروج نے برسبیل۔تذکرہ ہی پوچھا تھا
    ہم الف کا شو سننے بیٹھے تھے سیہون اور ای جی آ آئے تھے اتنئ زبردست کمپیئرنگ کی واعظہ نے سیہون تو ہنس ہنس کے پاگل ہورہا تھا اتنا مزا آیا۔
    عزہ نے جوش سے چپس چھوڑ چھاڑ اسے رام کہانی سنائی
    کیا مطلب الف کا شو۔ اور واعظہ کی۔کمپیئرنگ کر رہی تجی؟
    عروج کو۔سمجھ نہ آیا
    ہاں۔واعظہ نے ہی ایک طرح سے شو کیا الف تو بولی۔ہی نہیں۔ بس ایک دو بار واعظہ کے بلانے پر بولی پھر خاموش رہی۔
    عشنا نے اسکو سمجھانا چاہا۔عروج حیرت سے چپس چھوڑ کر سر کھجانے لگئ۔
    آج کوئی بات پہلی دفعہ میں ہی پلے کیوں نہیں پڑ رہی ہے میرے۔
    یار واعظہ بھی گئ تھی الف کے شو میں آجکل واعظہ ای جی کی مینجر بنی ہوئی ہے نا۔اور اچھا ہوا واعظہ چلی گئی ورنہ جانے کیا ہوتا الف کو دیکھا ہے نا آجکل کیا ہوا وا چڑچڑی ہوئی وی ہےگھر میں کاٹ کھانے کو تو دوڑتی ہے آج توحد ہی کردی ایک لفظ پورے شو میں بول کے نہ دی سارا شو واعظہ نے کیا بیچ بیچ میں واعظہ بولنے کو کہتئ تو بس ہوں ہاں کرکے چپ پکا اسکی نوکری گئ میں تو۔۔۔
    عزہ نے بولتے بولتے یونہی نظر اٹھائی تو الف کو سامنے کھڑا پایا۔۔ پہلی دفعہ اس نے یوں اسکے رویئے پر تبصرہ کیا تھا اور الف نے سن بھئ لیا۔ باقی جملہ وہ منہ میں ہی رکھ گئ۔
    اسکو اچانک خاموش ہوتے دیکھ کر تینوں نے مڑ کر دیکھا اور چپ ہی رہ گئیں۔
    تم لوگ سن رہے تھے میرا شو۔ ایسے تو میں کہتی رہتی تھی کوئی سنتا نہیں تھا۔
    اس کا شکوہ بجا تھا مگر انداز بنا کوشش کے ہی طنزیہ ہوا تھا۔
    ہاں وہ تم بتا رہی تھیں کہ یہ آخری شو ہے اسی لیئے ہم نے سوچا ہم تو فون بھئ کرتے مگر ۔۔ ۔۔۔ عشنا نے بات سنبھالنے کی نیت سے کہا تھا مگر وہ جانے کیوں چڑگئ۔
    ہاں تو کیا کیوں نہیں فون؟ یہ سب تبصرے فون کرکے پورے کوریا کو سنانے تھے نا۔۔
    کیا ہوگیا ہے الف؟ کیوں اتنا چڑی ہوئی ہو؟
    طوبی حیران ہوتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ہاں میں چڑچڑی ہوں دماغ خراب ہوا وا ہے میرا تم سب ہوش مند ہو بس۔
    وہ کہتئ پیر پٹختی اندر جانے لگی تو طوبی نے ہاتھ پکڑ لیا۔
    کیا بات ہے کس وجہ سے پریشان ہو؟ میں کئی دن سے دیکھ رہی ہوں تم نا ان سب کے ساتھ بیٹھتی ہو نا بات کرتی ہو؟ ہمیں یہی لگا تھا شو کی وجہ سے پریشان ہو مگر آج واعظہ نے سنبھال تو لیا شو بھی ہوگیا اب کیا مسلئہ ہے؟
    طوبی کا انداز ناصحانہ ہرگز نہیں تھا بے حد محبت سے فکرمند انداز میں پوچھ رہی تھی۔الف کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔
    عشنا اور عزہ دونوں ان دونوں کی جانب ہی متوجہ تھیں عروج نے تیزی سے ہاتھ منہ چلانا شروع کردیا۔ الف نے لابی میں سے واعظہ کو آتے دیکھا تو غصہ پھر عود آیا۔
    ہاں شکر گزار ہوں میں اس دیوی کی بہت بڑا احسان عظیم کردیا ۔۔
    اس نے باقائدہ واعظہ کی جانب اشارہ کرکے کہا
    اس نے میری ذات پر مگر میں احسان رکھوں گی نہیں تنخواہ آئے گئ تو پوری دے دوں گی تمہیں۔
    ۔ وہ چبا چبا کر کہتی بازو چھڑاتئ کمرے میں بند ہوگئ۔ طوبی نے مڑ کر دیکھا تو واعظہ شائد ابھی ابھی آئی تھی لاوئنج میں داخل ہوتے قدم روکے سن رہی تھی۔
    طوبی خفت سے کھڑی کی کھڑی رہ گئ۔
    اسکا تو بالکل دماغ خراب ہوگیا ہے۔ عزہ نے تاسف سے سر جھٹکا۔ عروج بے نیازی سےٹرے خالی کر رہی تھی۔
    میرا خیال ہے میں گھر چلتی ہوں اب۔ طوبی نے جھک کر صائم کو گود میں اٹھایا زینت اور گڑیا فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
    آپ کیوں جا رہی ہیں۔ بیٹھیں آرام سے گھر صرف اسکا نہیں ہے۔عروج نے روکنا چاہا
    نہیں بس ویسے بھی چپس بہت کھالیئے اب رات کو کھانا نہیں کھایا جائے گا چلتی ہوں وہ پھر رکی نہیں بچوں کو لیکر چلی گئ۔ واعظہ نے ذرا سا ہٹ کر اسے راستہ دیا۔
    آئو واعظہ چپس کھالو۔ عزہ نے پکارا تو وہ نرمی سے منع کر گئ
    نہیں شکریہ تم لوگ کھائو۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔
    واعظہ بھئ خفا ہوگئ ہیں؟ عشنا نے خیال ظاہر کیا۔
    نہیں اسے آلو پسند ہی نہیں ہیں کم کم ہی چپس کھاتی ہے۔ عروج ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی ارادہ خوب نہانے کا تھا۔
    کاش تمہیں بھی ناپسند ہوتے۔ عزہ نے حسرت سے خالی ہوتی ٹرے کو دیکھا پھر اسے اپنے قبضے میں کرلیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بیزاری سے ایک جانب منہ بنائے بیٹھی ان سب کو گھور رہی تھی۔ جانے ان کورینوں کو پی کے ٹن ہونے کا کیا شوق تھا۔وہ سب کمپنی کی جانب سے ڈنر پر آئے تھے۔ پوری کاسٹ اور ٹیم کے چیدہ چیدہ ارکان تو آئے ہی تھے ان دونوں کو بھی خاص کر بلایا گیا تھا تاکہ مترجم کے فرائض نبھا سکیں۔ وہ تو آکر ایک کونا سنبھال کر بیٹھ گئ۔خالص کوریائی ثقافت کا ان سب کو نظارہ کرنا تھا سو اس مشہور زمانہ ریستوران کاانتخاب کیا گیا جس میں نا میزیں تھیں نا کرسیاں فرشی نظام تھا چھوٹی چھوٹی چوکیاں رکھی تھیں۔سب کے آگے مرغن مرغ اسٹیک ، پورک اور نوڈلز سوپ کے ساتھ رکھے تھے۔ ان سب کی خوشبوئوں نے اسکے سر میں درد کردیا تھا۔ اس نے اپنے لیئے خاص سبزیوں کا سوپ منگوایا تھا جس میں نوڈلز تیر رہے تھے اور ٹوفو بھی۔ مگر مجال ہے اسکا ایک لقمہ لینے کا بھی دل کیا ہو۔اس نے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر کچھ فاصلے پر بیٹھے لوگوں کو اسٹیک اڑاتے دیکھا وہ ناقدرے دعوت چھوڑ چھاڑ سوجو
    پر شرطیں لگا رہے تھے۔ بوتلیں کھل رہی تھیں۔
    مصری فنکار مکمل کوریائی ماحول میں مدغم تھے۔
    کھاوا عبداللہ کے ساتھ ہی۔بیٹھا تھا۔عبداللہ نے چھوٹا سا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا وہ نا نا کر رہا تھا مگر عبداللہ نے اسکے منہ میں ڈال ہی دیا۔
    فاطمہ کو گھن ہی آگئ۔
    توبہ ہے۔ ڈھائی سال ہورہے مجھےیہاں رہتے مجال ہے کبھی سوجو کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو مگر صحیح بات ہے سب اصول لڑکیوں کیلیے ہی ہیں۔ وہ تائو کھارہی تھی۔
    غصے میں کڑوا کسیلا ٹوفو اٹھا کر منہ میں رکھ لیا۔ کانٹا پلیٹ میں رکھ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کہیں تھوکنے کی جگہ ہی نہ تھی۔
    ایسے موقعوں پر پاکستان کیسا یاد آتا ہے۔ آرام سے الٹی ہی کردینی تھی میز کے نیچے میں نے۔ اس نے حسرت سے لکڑی کے اس فرش سے بمشکل ایک ڈیڑھ بالشت اونچی اس چوکی کو دیکھا۔ چارو ناچار نگلنا پڑا۔
    عجیب بے چاری شکل بنی تھی کہ کیا تھا کھاوا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ۔ سفید سوڈے کی بوتل اسکے سامنے رکھتے اس نے ذرا سا کھنکھارا تو وہ چونک کرسر اٹھا کے دیکھنے لگی۔ اس نے بوتل آگے بڑھا دی۔ فاطمہ کو غنیمت لگا فورا دو گھونٹ لیئے تب منہ کا ذائقہ بدلا۔
    میرا وہاں پورک کی بوسے دل متلانےلگا تھا تو سوچا ادھر آپکے ساتھ بیٹھ کر کھا لوں۔ بیٹھ جائوں۔
    وہ معصومیت سے کہتا اسکے بالکل سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا تھا
    آپ بیٹھ چکے ہیں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا تھا۔
    اوہ ہاں۔ وہ جیسے کھسیایا۔ مگر ڈھیٹ بنا اپنی اسپگیٹی کی پلیٹ جو وہ لبا لب بھر کے لایا تھا تھوڑا سا آگے کھسکا کے رکھی۔
    یہاں یہ ڈش پیور ویجیٹیرین ہے ذائقہ بھی اچھا ہے چکھو ۔ اتنی بیزاری سے سوپ کو گھور رہی ہو سوپ ویسے ہی کڑوا ہوچکا ہوگا۔
    وہ چاپ اسکٹکس پھیر کر مٹر شمہ مرچ بند گوبھی اور مشرومز دکھا رہا تھا۔۔
    فاطمہ نے ایک نگاہ اسکی رنگ برنگی خوب مصالحے دار ڈش کو دیکھا پھر خاموشی سے اپنا سوپ کا پیالہ اپنی جانب کھسکا لیا۔
    یہ نئی چاپ اسٹکس لیکر آیا ہوں ویسے بھی مجھ سے چاپ اسٹکس استعمال نہیں ہوتیں۔
    اسے یہی لگا شائد وہ جھوٹا ہونے کی وجہ سے نہیں کھا رہی۔
    فاطمہ نے ترچھی نگاہ سے دییکھا تو وہ قسم کھانے لگ گیا۔
    قسم لے لو۔ وہاں بیٹھا ضرور تھا مگر کھا پی نہیں رہا تھا یہ ڈش ابھی ویٹر نے لا۔کر رکھی میں اٹھا کر تمہارے پاس چلا آیا۔ عبداللہ سے معزرت کرکے۔ وہاں بیٹھ کر سبزیاں کھانا مشکل کام ہے بھنے پورک کی بو ہی بہت تیز ہے بھئی۔ ایویں بندہ دیکھنے لگ جاتا۔
    اس نے یقین دلانا چاہا۔تو فاطمہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
    ویسے شراب تو پی ہی لی پورک بھی چکھ لیتے کوئی حسرت نہ رہ جاتی کوریا میں رہ کر یہ کام نہیں کیا۔
    ارے ۔ وہ بے ساختہ ہنسا۔
    قسم لے لو نگلی نہیں سوجو کی خالی بوتل میں تھوک کر آیا ہوں۔ایک منٹ۔ اسے خیال آیا مڑ کر دیکھا وہ سب پارٹی کرنے میں مگن تھے۔عبداللہ میز کے برابر رکھی اس سوجو کی بوتل کو ہنستے ہوئے اٹھا رہا تھا۔
    نہیں۔۔۔۔ اسکے حلق سے چیخ کی۔بجائے ہلکی سی سرگوشی نکلی۔لمحے بھر کا وقفہ کیئے بنا وہ چیل کی۔طرح جھپٹا مارنے بڑھا سلو موشن میں عبداللہ جس سوجو کی بوتل کو اٹھانے ہی لگا تھا جب ناگہانی آفت کی طرح کھاوا اڑتا ہوا اس پر آن گرابوتل اسکے ہاتھ سے چھین کر اس نے اپنے قبضے میں کی تھی۔
    اس منظر کو پلکیں جھپکے بنا دیکھتی فاطمہ ساکت ہی تھی اس نے مڑ کر فاتحانہ انداز میں بوتل لہرائی۔فاطمہ کا منہ ذرا سا کھلا تھا۔۔
    وہ بھری ہوئی سوجو کی بوتل تھی۔ یقینا کھاوا والی بوتل دوسری تھی۔۔۔ جشن مناتے کھاوا نے بھی سٹپٹا کر بوتل کو دیکھا عبداللہ اسکا شانہ ہلا کر اس بے مقصد اچھل کود کی وجہ پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 51

    قسط نمبر 51
    چنگدوکونگ پیلس۔۔ بڑے بڑے محرابوں والا لکڑی کے منقش دروازوں سے سجا پورے طمطراق سے سورج کی روشنی میں نہا رہا تھا۔ کاغذ کی کھڑکیاں لکڑی کی کھپچیوں کی چوکھٹیں ست رنگوں سے سجی تھیں۔ دور دور تک پھیل وسیع و عریض لان جس میں روائتی کوریائئ طبل بجاتے ایک قطار میں برابر مگر کورس میں قدم اٹھاتے وہ سرخ ہنبق میں ملبوس سپاہی مارچ کر رہے تھے۔ سپہ سالار نے ایک لال اور کالا بڑا سا جھنڈا اٹھا رکھا تھاجس پر بڑا سا ڈریگن بنا ہوا تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس روایتئ رقص اور مارچ کو دیکھنے آئی تھی۔ ہنگل میں لہک لہک کر دف بجاتی گاتئ لڑکیاں چبوترے پر بیٹھی تھیں۔ ان کے آگے ہنبق پہنے خوبصورت چندی آنکھوں والی کنیزیں مخصوص رقص پیش کررہی تھیں۔
    سج سنور کر نکلتی اس جوزن شہزادئ نے بڑے شوق سے اپنے کیمرے میں یہ منظر قید کیا۔ اور مڑ کر شہزادے کو متلاشی نگاہوں سے ڈھونڈنے لگی۔قدرے فاصلے پر اس میدان سے باہر بنئ بارہ دری میں روائتی ہنبق سے آراستہ ایک بلند قامت شہزادہ اسکی جانب پشت کیے کھڑا جھیل کو دیکھ رہا تھا۔ اسکی نگاہوں میں شناسائی کی رمق آئی۔
    وہ خوبصورت چندی آنکھوں والا شہزادہ مخملیں ہنبق پہنے ہاتھ میں ریشمی رومال سر پر روائتئ تاج سجائے خفیہ باغ کے احاطے میں بنے اس خوبصورت سے چبوترے پر کھڑا تھا۔ارد گرد چوبی دیواریں جن پر ہری بھری بیلیں لپٹ رہی تھیں۔ گہری سرخ دیواریں سبز بیلوں سے ڈھکی سامنے ہلکی سی نیلاہٹ لیئے شفاف پانی سے لبریز جھیل۔ موتیوں کی لڑیاں اسکی روائیتئ ٹوپی سے آبشار کی طرح اسکے چہرے کے گرد لہرا رہی تھیں۔
    وہ شہزادہ یقینا تنہا کھڑا کسی کا انتظار ہی کر رہا ہوگا۔
    دور دیس سے آتی اس بڑی بڑی آنکھوں والی شہزادی نے ٹھٹھک کر دیکھا۔
    شہزادہ موبائل فون کان سے لگائے سنجیدگی سے گفتگو میں مگن تھا۔
    شہزادی اپنا مخملیں ہنبق سنبھالتی اس سنگی بالکونی نما چبوترے پر جوگرز سمیت چڑھ گئ ۔
    ذرا سا قریب جا کر خاموشی سے فون بند کرنے کا انتظار کرنے لگی۔ شہزادے نے جیسے ہی فون بند کرکے اپنے ہنبق میں سے اپنی جینز ڈھونڈنے کی کوشش کی جو ہنبق کی تہوں میں چھپ سی گئ تھئ شہزادی نے ذرا سا قریب ہو کر زور دار آواز میں ہائو کرڈالا۔
    شہزادہ مگن تھا اس حملے کے لیئے تیار نہ تھا بری طرح اچھل گیا موبائل ہاتھ سے چھوٹ سا گیا پھسل کر نیچے گرا بارہ دری۔ ( ایسی ہی ہوتی ہے بارہ دری بس لکڑی کی بجائے مسلمان پکا کام کیا کرتے تھے) کی جالی سے ٹکرا کر سیدھا غڑاپ سے پانی میں۔
    شہزادی ساکت سی کھڑی پانی میں ہوتے ارتعاش اور بڑھتی ہوئی لہر کو دیکھتی رہ گئی شہزادہ مڑ چکا تھا بجائے اپنے نقصان کا اندازہ کرنے وہ اس بڑی آنکھوں والی کوریائی روائتی شہزادیوں کے لباس میں ملبوس الف کو دیکھ رہا تھا۔
    گلابی سفید خوبصورت امتزاج کے ہنبق میں ملبوس اس نے اپنے اسکارف کو سمیٹ کر گردن کے گرد لپیٹ دیا تھا۔ پرنٹڈ اسکارف اب اسکے لباس کا ہی حصہ لگ رہا تھا۔سر پر اوپر مصنوعی جوڑا ٹکوا کر اس میں مخصوص کوریائی بالوں کی لمبی سلاخ جیسی پن بھی گھسیڑ رکھی تھی۔ دور سے وہ مکمل کوریائی شہزادی ہی لگ رہی تھی۔ قریب سے اسکی آنکھیں ایک تو چونکہ بڑی بڑی تھیں اس وقت سراسیمگی سے مزید پھیل گئ تھیں اور وہ۔۔۔۔
    آئم سوری۔
    وہ سراسئیمہ سی کھڑی تھئ۔
    مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تم اس بری طرح ڈر جائو گے۔تمہارا موبائل گر گیا پانی میں۔۔ ۔۔ الف اسے صدمے سے جما دیکھ کر جھلائی
    کیا کر رہے ہو پانی میں کودو ابھی ذیادہ دور نہیں گیا ہوگا کیا پتہ مل جائے۔ وہ مڑ کر اسکا بازو ہلانے لگی تب وہ جیسے ہوش میں آیا۔
    آہاں۔ اس نے سٹپٹا کر مڑ کر دیکھا۔
    تمہیں تیرنا آتا ہوگا جائو کود جائو نا۔
    الف کا بس نہیں تھا کہ دھکا ہی دے ڈالے پانی میں۔
    ایسے کیسے کود جائوں پتہ نہیں پانی گہرا کتنا اوپر سے یہ لباس۔ اس نے ہنبق کو جھٹکا دیا
    یہ کرائے کا ہے اسکو اصل حالت میں واپس بھی کرنا ہے۔
    اس نے یاد دلایا۔
    تو اتارو اسے فورا ۔ ابھی پانی ساکت ہےبہا نہیں ہوگا چلو۔
    الف ریلنگ پر جھک کر نیچے جھانک رہی تھی اب جھلا کر کہا تو ژیہانگ کی چندی آنکھوں میں شرارت دوڑ گئ۔
    یہیں اتار دوں کپڑے۔ وہ معصوم بنا
    نہیں جاپان جا کر اتارو۔ جلدی کرو اتنا مہنگا فون تھا تمہارا ختم ہو جائے گا۔
    الف جھلائئ
    اچھا۔ تم آنکھیں بند کرو مجھے شرم آئے گی کپڑے اتارتے ہوئے۔
    اس نے ٹھنک کر کہا تو الف رخ پھیر گئ۔
    جائو کودو۔
    آنکھیں بھئ بند کرو لڑکیوں کا کوئی بھروسہ ۔۔
    ژیہانگ نے کہا تو اس نے دونوں ہاتھ رکھ لیئے آنکھوں پر۔
    اب ٹھیک۔ اسے اسکے یوں نخرے دکھانے پر غصہ بھی آرہا تھا
    مجھے کیا پتہ تم نے آنکھیں بند کی ہیں یا اوپر سے ہاتھ رکھ لیا چپکے چپکےانگلیوں کی دراڑ میں سے دیکھو۔۔
    وہ اسے ستا رہا تھا الف جھلا کر پلٹی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر آنکھیں میچ لیں۔
    اب یقین آیا۔۔
    وہ واقعی آنکھیں میچے کھڑی۔تھی۔
    ژیہانگ نے ادھر ادھر دیکھا تین گول گول سے بڑے چکنے پتھر ایک کونےمیں سجے تھےان میں سے بھی بیل نکل رہی تھی اس نے ہلایا جلایا تو ہلنے لگے اس نے اٹھایا
    الف ابھی بھی آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔ اس نے قریب آکر زور سے پتھر اچھال دیا۔ پانی میں شراپ سے پتھرگرا۔ الف نے پٹ آنکھیں کھول کردیکھا۔ پانی میں خوب زور کی ہلچل۔ہوئی تھی لہریں ذرا دیر کر حرکت میں آئیں پھر پرسکون ہونے لگیں۔
    ژیہانگ۔وہ بے چین سی ہوئی۔ پانی ساکت ہو چکا تھا جیسےکبھی مرتعش ہوا ہی نہ تھا۔
    ژیہانگ۔۔ ژیہانگ۔۔ وہ بے قراری سے پکار رہی تھی۔
    ڈوب گیا کیا۔ وہ اب گھبرا اٹھی
    ژیہانگ۔ ژیہانگ ژی۔۔۔
    وہ جب بری طرح گھبرا کر پکارنے لگی تو ژیہانگ دھیرے سے اسکے کان کے پاس بولا
    جی۔فرمائیے۔
    ژیہا۔۔۔۔ وہ بوکھلا کر مڑی اسکے چہرےپر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ژیہانگ اسکے برابر کھڑا مسکرارہا تھا۔
    تم۔ اپنے بیوقوف بنائے جانے پر اسکو ایکدم سے غصہ آیا تھا۔ اور شدید غصے میں وہ پتہ ہے کیا کرتی تھی۔
    رو پڑتئ تھی۔پہلے دانت کچکچایے پھر وہ بسوری اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو بھر آئے اور اسکے اس ردعمل پر ژیہانگ کی مسکراہٹ دھیمی پڑتی چلی گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتظامیہ کے اہلکارنے جھیل میں گھس کر موبائل نکالا تھا اور وہ آرائشی پتھر بھی۔اہلکار کو پانی سے نکلتے دیکھتے ہوئے اس نے بڑے سے سائن بورڈ کو جو اسی جگہ پر ایک کونے میں گڑا تھا پڑھا تھا۔
    چار فٹ پانی ہے بس اس جھیل میں۔

    جوزن دور میں یہاں باقائدہ قدرتی جھیل تھی۔ یہ بارہ دری یہ سارا باغ جھیل کا حصہ تھا۔ یہ بارہ دری پانی کے بیچ میں تھئ ۔ بادشاہ اپنی ملکہ کے ہمراہ وقت گزارنے یہاں کشتی میں بیٹھ کر آتے تھے۔وقت کے ساتھ سمٹتے اب ختم ہوگئ ہے ۔ اب حکومت نے وہی مناظر تازہ کرنے کیلئے یہ مصنوعی جھیل بنائی ہے۔ یہ پتھر۔
    اس اہلکار نےموبائل تھماتے ہوئے کسی ماہر گائیڈ کی طرح بلا معاوضہ تفصیلات فراہم کی تھیں۔
    دے۔ کھمسامنیدہ۔
    اس نے ٹوکنے کی نیت سے جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔
    اب اس پتھر کی تاریخ سننے میں بالکل دلچسپی نہیں تھی اسے اوپر سے دھیان بارہ دری کے باہر بنچ پر اس منہ پھلائے بیٹھی لڑکی کی جانب تھا۔
    دے۔اسکو ابھی آن نہ کرنا چاولوں کی بوری میں رکھ دو کل استعمال کرنا جب خشک ہو جائے۔
    مفت مشورہ حاضر تھا۔
    دے ۔اس نے سر ہلا کر جھک کر الوداع کہا
    وہ بھی جھک کر سلام کرتا چلا گیا۔
    اس نے موبائل اپنے مخملیں لباس سے پونچھا۔
    پھر آن کر لیا۔
    مہنگا ہے اور واٹر پروف بھی۔ اس نے زیر لب کہا پھر الف کے پاس چلا آیا۔
    تیز دھوپ منہ پر پڑ رہی تھی اسکے۔ وہ اسکے سامنے آکرآڑ بن کر کھڑا ہوا تو الف نے سر اٹھا کر کڑی نگاہ سے گھورا
    پہنا جوزن شہزادی کا لباس ہے اور ایٹی چیوڈمغلیہ شہزادی والا دکھا رہی ہو۔
    اس نے بظاہر منہ پھلایا۔۔۔
    اس نے منہ پھیر لیا۔
    اتنی معصوم ہوتی تھیں جوزن شہزادیاں ذرا نخرا نہیں کرتی تھیں شہزادوں سے غلطئ ہوجائے ناراض بھی نہیں ہوتی تھیں مغلیہ شہزادیوں کی طرح نہیں کہ شہزادوں سے ناک سے لکیریں نکلوا دیں۔
    وہ بن بن کر بولتا ذہر لگ رہا تھا الف کو بھنا کر بولی
    بڑا پتہ ہے مغلیہ شہزادیوں کا۔انتہائی نرم مزاج اور سیدھی سادی ہوتی تھیں۔وہ اچھا نا۔ اور یہ جوزن شہزادیاں دیکھی ہیں ہوارنگ میں اور اسکارلٹ ہارٹ میں سنگ دل بے مہر معمولی غلطیوں پر کوڑے پڑواتی تھیں کنیزوں کو یہ معصومائیں۔۔
    ہاتھ نچا نچا کر وہ کسی ماہر مقرر کی طرح بولی تھی۔ ژیہانگ نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔ ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔ الف نے خاصی حیرت سے دیکھا تھا۔ شائد پہلی بار وہ اتنا بے ساختہ ہنسا تھا۔ دل سے ایکدم۔
    ہنستے ہنستے اس نے اپنی آ نکھیں صاف کیں تووہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
    تمہیں اتنے عرصے میں پہلی بار کھل کر ہنستے دیکھا ہے میں نے۔ تم۔۔۔
    برا تو نہیں لگا میں ہنستے ہوئے؟
    بات کاٹ کےالٹا آگے سے سوال ہوا۔
    برا کیوں ہنستے ہوئے برا کون لگتا ہے بھلا۔ وہ حیران ہوئئ
    میں برا لگتا ہوں ہنستے ہوئے۔ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا
    زندگی کو۔۔۔ اس نے لحظہ بھر وقفہ کرکے بات مکمل کی۔
    پھر اسکے برابر آن بیٹھا۔
    ایسی تو کوئی بات نہیں زندگی میں کبھی اتار چڑھائو آجاتے ہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیئے۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے اسے کہا تھا۔
    یہ میں کھانے کیلئے لایا تھا۔۔۔۔وہ اب اسکے برابر رکھے شاپر سے چپس کے پیکٹ نکال رہا تھا۔ اس نے شاپر شائد چھوا بھی نہیں تھا۔۔ اسکی بات مکمل نظر انداز کرکے وہ چپس کا پیکٹ کھول کر چپس کھانے لگا تھا۔

    میرا بھی انہیں پہننے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسے غصہ آیا تھا سو چڑ کر بولی۔ شاپر سے ایک چپس کا پیکٹ نکال کر کھول ہی لیا۔ یہاں پھرتے پھراتے بھوک لگ چکی تھی اسے بھی۔
    ژیہانگ ذرا سا ہنس دیا۔۔
    میں پچھلے دس سالوں میں بس دو بار ہنسا ہوں ایک اس دن جب تم ٹریننگ میں غلط فہمی کا شکارہوگئی تھیں اور ایک آج۔ ویسے تمہیں کیا لگتا میں کافئ بے شرم سا گندا سا لڑکا ہوں؟
    وہ بڑی سنجیدگی سے اسکی جانب مڑا معصوم سی شکل بنا کر بھولپن سے کہنےلگا
    ہیں۔ کہیں بھی کپڑے اتار لوں گا۔ ؟ میں باحیا لڑکا ہوں میرے گھر بھئ باپ بھائی ہیں لڑکوں کی کیا عزت ہوتی پتہ ۔ہے مجھے بھی میں تو اتنا شرمیلا ہوں کہ۔ آخخ۔
    وہ بن بن کر بول رہا تھا الف اس سے ذیادہ برداشت نہیں کر سکتی تھئ۔ اپنے چپس اسکے منہ پر نکال کر مارے اسی پر بس نہیں کیا شاپر قبضے میں کیا اس میں سے چاکلیٹ ٹافیاں ویفرز سب اٹھا اٹھا کر مارے اسکی تقریر ختم نہ ہوتی مگر جب اس نے کین نکالا تو وہ اپنے چپس اٹھا کر بھاگا تھا الف بھی اسکے پیچھے بھاگ اٹھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی آ میک اپ کروا رہی تھی اوروہ اسکے انتظار میں ایک کونے میں بیٹھی موبائل ہاتھ میں لیئےابیہا کو گھور رہی تھی۔
    میرے لیئے ایک صدمہ کم ہے کہ ووکی کی بجائے میری شادی وکی سے ہو رہی ہے اوپر سے تم آئوگئ بھئ نہیں میرئ اکلوتی سہیلی میری بچپن کی دوست ۔اتنی سخت دل بے مہر بے مروت ہوسکتی ہوتم میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
    پیلے لباس میں دونوں ہاتھوں کو دائیں بائیں بیٹھی لڑکیوں کے حوالے کیئے وہ دلگیری سے کہہ رہی تھی کانوں میں بلوٹوتھ کلائی سے ٹھیک کرتی کہتی ۔ یقینا اسکی اداکاری اتنی بری تھئ کہ اسکا موبائل تھامے لائیو ویڈیو کال کرواتی اسکی بارہ سالہ کزن نے ہنسنا شروع کردیا تھا نتیجتا کیمرہ بری طرح اوپر نیچے ہونے لگا
    اوفوہ ٹک کے سیدھئ کھڑی ہوجائو ذرا ہاتھ نہ ہلے تمہارا۔
    ابیہا نے ساری اداکاری بھول بھال کے جھاڑا۔
    ہاں تو کیا کہہ رہی تھئ میں۔ اس نے آہوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑنا چاہا۔
    تم مجھے بتا رہی تھیں کہ میں تمہاری بچپن کی اکلوتی سہیلی ہوں ۔ جو سخت دل بے مہر اور بے مروت ہے باوجود اسکے کہ پچھلے چھے مہینے سے یہ تم ہو جس نے نا کبھی یہاں سے جانے کے بعد فون پر رابطہ کیا نا کسی ای میل کا جواب دیا اور تو اور جب میں نے پاکستان میں تمہارے گھر کا پتہ کروایا اپنے کزن سے تو معلوم ہوا وہاں سے بھی دفع ہوچکی ہو تم بنا کوئی اتا پتہ دیئے ایکدم اچانک۔
    بولتے بولتے اسکے غصے میں اضافہ ہوتا گیا ساتھ ہی والیم میں بھئ۔ ایکدم اچانک تک وہ ایکدم اچانک ہی چلا اٹھی تھئ
    لپ اسٹک لگاتی میک اپ آرٹسٹ کا ہاتھ بہکا اور لپ اسٹک ای جی آ کی تھوڑی تک چلی آئی۔
    کم چا گیا۔ ای جی آ اورمیک اپ آرٹسٹ کے منہ سے نکلا
    مہندی لگاتی دونوں لڑکیاں
    ہائے اللہ کہتی الگ اچھلی تھیں ابیہا کا تو سانس ہی بند ہوگیا تھا
    آ۔آ آئی ایم سوری۔ میرا مطلب ہےچھے سونگئھیو۔
    اس نے کھسیا کر سر جھکا کر معزرت کی۔ اور دانت کچکچا کر ابیہا کو گھورا۔۔۔
    سو سورئ ۔ تمہیں نہیں پتہ یہاں کتنی بری طرح پھنس گئ تھئ۔امی نے وہ وہ دہلایا کہ بس کیا بتائوں پتہ نہیں کیا وہم ہوا ہے انجائنا کے بعد بس کہے جا رہی تھیں شادی کرو۔ میری زندگئ کا کوئی بھروسہ نہیں اب خود سوچو
    اب میں ایسے ویسے کسی سے کیسے شادی کر لیتی۔ میرا کوئی معیار ہے۔
    اس نے اترا کر کہا تھا۔ واعظہ اسکی لن ترانی پر گھور کر رہ گئی۔
    بس چھان پٹخ ۔۔ نہیں کچھ اور ہوتا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
    ہاں چھان پھٹک کر کچھ یہ دل کو بھلے لگے۔ اس نے شرمانے کو ہاتھ سے چہرہ ڈھکنا چاہا تو دونوں بازو تھامے لڑکیاں بھنا گئیں۔
    ہم مہندی لگانا شروع کریں دوبارہ۔
    دونوں لڑکیوں نے منہ بنا کر کہا۔تو وہ کھسیا کر سر ہلانے لگی۔
    واعظہ بیزاری سے کیمرے سے دکھائی دیتی اسکی الٹی چپلوں کو دیکھ رہی تھی۔
    بچی یقینا تھک کر ہاتھ سیدھا کر چکی تھی نتیجتا آواز ابیہا کی اور تصویر اسکی چپلوں کی آرہی تھی۔
    کیا بتائوں دہلیز پکڑ لی تھی وکی کی امی نے۔
    وہ شرما رہی تھی۔
    وکی کون۔۔۔بازو پر ۔ مہندی لگاتی لڑکی چونکی۔
    اوہو۔ وسیم وقار نام ہے نا تو میں نے انکو ووکی سے وکی بنا دیا ہے اب میں انکا نام تو دھڑلے سے نہیں لے سکتی امی چپل سے ماریں گئ وہ بھی میری اپنی ہی۔ اس نے دونوں کو جواب دیا
    وسی کہو تو بات بنے وقار تو انکے ابو کا نام ہے بگاڑنے پر وہ خود نہ بگڑ جائیں۔
    اسکی کزن نے چھیڑا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
    فی الحال تم چپل سیدھی کر لو منحوسیت ہوتی ہے الٹی پڑی ہے زمین پر۔
    واعظہ نے کہا تو وہ چونکی
    تمہیں کیسے پتہ ؟
    سامنے سوہنی کو دیکھا تو سر پیٹ لیا بڑے اہتمام سے کمر پر ہاتھ رکھے اسکی مہندی دیکھ رہی تھی دوسرا ہاتھ جس میں موبائل پکڑ رکھا تھا نیچے رخ کیا ہوا تھا
    اوفوہ تم کیا واعظہ کو میری چپلیں دکھا رہی ہو ادھر کرو موبائل۔اور میری چپل بھی سیدھی کرو۔
    اسکے ڈانٹنے پر بچی نے منہ بنایا پھر جھک کر چپل دیکھی تو چونکی۔
    آپکو کیسے پتہ لگا آپی کہ آپکی چپل الٹی ہوئی وی ہے۔ اسکی حیرانی کی انتہا نہ تھی
    الہام ہوا ہے۔وہ بھئ چڑ کر بولی۔
    اچھا سنو نا غصہ تھوکو کوشش کرو نا تمہیں کیا مسلئہ بھائی سے کہو نا اپنے مجھے نہیں پتہ اسی ہفتے پاکستان میں موجود ہو تم میری شادئ میں سمجھیں۔ باقی سب کا تو پڑھائی کا مسلئہ ہوگا تم تو ویلی ہو اتنی منتیں کیوں کروا رہی ہو میں بات کروں بھائئ سے تمہارے۔
    پاکستان جاکے ابیہا میں جیسے بجلی دوڑ گئ تھی اتنا کتر کتر بولنے کی عادت نہ تھی اسے۔ اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی اسے۔ابھی بھئ غصہ بھول بھال کر پیار سے دیکھ رہی تھئ۔
    اسکی ضرورت نہیں ہے۔ بھائی اب ناروے میں ہوتے ہیں۔
    اس نے اطمینان سے جواب دیتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
    ہیں کب کیوں؟ اور تم کیوں نہیں گئیں؟ کیا کر رہی ہو کوریا میں؟ انکل آنٹی سب گئے ہوں گے نا ؟
    اس نے بنا پروا کیئے بازو کھینچے اور تیزی سے سوہنی سے موبائل چھینتئ کمرے سے نکل کر ٹیرس میں چلی آئی۔
    ہاں سب وہیں ہوتے ہیں آجکل۔ اس نے قصدا لاپروا انداز اپنایا
    تم کیا کر رہی ہو اپنی زندگی کے ساتھ؟ سب بھول جائو۔
    واعظہ نے بیزارئ سے موبائل کو دیکھا ابیہا بی بی واعظ شروع کر چکی تھیں
    سب ٹھیک ہوجاتاہے۔ مجھے دیکھ لو جی چھانگ ووک کی دیوانی تھی قسمت میں لکھا ہے وسیم وقار۔ نام تک میں مماثلت نہیں باقی باتوں کا کہنا کیا۔ بس ذرا سا خود کو سمجھانا بجھانا پڑا ۔ تم بھئ
    اس نے سر تھام لیا۔ پھر بیک کیمرہ آن کرکے خوب تیار ہوکر آئینے میں اپنا جائزہ لیتی ای جی کی جانب رخ کیا۔
    او بی بئ۔ میں یہاں جاب کر رہی ہوں دو سال کا کانٹریکٹ ہے وہ نظر آرہی ای جی اسکی مینجر ہوں میں۔
    اسکا سب کام میں سنبھال رہی ہوں سب چھوڑ چھاڑ کر ناروے جاتی تو پتہ ہےمجھے کانٹریکٹ توڑنے پر کتنا جرمانہ
    یہ آئی لو می ٹو والی ہے نا۔ ابیہا سب بھول بھال کر ساکت دیکھتی رہ گئ
    ہاں۔ واعظہ نے کیمرہ فرنٹ والا آن کیا
    اوہ میرے خدا تم ای جی آ کی مینیجر ہو تمہیں پتہ ہے میری کزن جو ابھی مہندی لگا رہی تھی کتنی بڑی فین ہے ای جی کی وہ دیکھتی تو خوشی سے پاگل ہو جاتی ۔
    رابی رابئ۔ وہ مڑکر پکارنے ہی لگی۔
    چلیں اب ؟ ای جی اسکے پاس چلی آئی۔
    واعظہ اپنا کیمرہ ہٹائو میرا مطلب ای جی کو دکھائو
    اسکی کزنز آچکی تھیں سو نئی فرمائش داغئ گئ
    چھے سو۔۔
    ای جی نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
    ایک منٹ یہ کچھ آپکی پرستار ہیں پاکستانی آپکو وش کرنا چاہ رہی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ ایکدم الرٹ سی ہوگئ چہرے پر دنیا جہان کی انکساری لاد لی
    ہاں دکھائو۔
    اس نے فرنٹ کیم ای جی کی جانب کیا۔
    تین لڑکیاں ایک بچی خوب اتنی زور سے چیخی تھیں کہ واعظہ نے بے ساختہ کان سے بلوٹوتھ نکال دیا
    ای جی کچھ سمجھتے نا سمجھتے ہاتھ دکھانے لگی۔
    کیا کہہ رہی ہیں۔ ای جی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اس سے پوچھا تو اس نے گہری سانس لیکر والیم کھول دیا
    وہاں اچھلتی ہوئی لڑکیاں اب ذرا منہ بنا کر کمر پر ہاتھ رکھ کے گھور رہی تھیں
    یہ لعنت کیوں دکھا رہی ہے ۔
    اتنا نخرا کس بات کا ہے
    ہم اتنے پیار سے وش کر رہے اور یہ ہم پر لعنت بھیج رہی ہے۔
    یہ لعنت بھیجنا تم نے سکھایا ہے نا واعظہ۔ ابیہا کو یقین تھا۔
    تینوں لڑکیوں نے تابڑ توڑ سوال کیئے تھے۔ ای جی اس سے سب کا ترجمہ کرنے کا کہہ رہی تھئ۔
    کچھ نہیں دعائیں دے رہی ہیں۔ چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے۔
    اس نےکھسیا کر انکو گھورتے ہوئے کال ہی بند کردی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹوڈیو میں اتنی خاموشی تھی کہ سوئی گرے تو ٹن سے آواز آئے۔ سیہون اور ای جی اسکے سامنے بیٹھے تھے اور وہ مکمل طور پر اپنا مائک سیٹ کیئے انہیں نظر انداز کیئے خاموش بیٹھی تھئ۔
    پانچ منٹ میں شو شروع کردینا یہ جنگل ختم ہوتے ہی۔
    پروڈیوسر گنجے انکل نے دروازہ کھول کر اسے کہا تھا۔ اس۔نے بس سرہلایا۔
    واعظہ پروڈیوسر کے ساتھ کھڑی گلاس وال سے اسے ہی دیکھ رہی تھئ۔ وہ یوں خاموش بیٹھی تھی کہ جیسے زندگی بھر نہ بولے گی۔
    ای جی سیہون کے ساتھ بیٹھی خاصی پرجوش سی نظر آرہی تھی۔ سیہون بغور الف کو دیکھے جا رہا تھا۔پروگرام شروع ہونے میں بس ایک منٹ رہ گیا تھا۔ واعظہ کو فکر سی ہونے لگی۔ ای جی اسے ہاتھ ہلا کر متوجہ کر رہی تھی۔
    میرے بال میرا میک اپ ٹھیک ہے نا۔چھوٹا سا آئینہ دیکھتے ہوئے بھی اسے تسلی نہ ہورہی تھی۔
    اس نے اشارے سے ہی سب ٹھیک ہے کا کہا۔
    ہنا دول سیت۔۔۔
    پروڈیوسر نے کیو دی۔الف سر جھکائے ہی بیٹھی رہی۔
    جامد خاموشی۔۔ گھڑی کئ سوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
    پروڈیوسر اسکو کئی بار کیو دے چکے تھے۔۔
    ایک دو تین۔ واعظہ نے دل میں گنتی شروع کی۔
    ہم آن ائیر ہیں یہ لڑکی بول کیوں نہیں رہی۔
    آپریٹر نے قدرے غصے سے کہا تھا۔
    آہش۔ پروڈیوسر صاحب سر کھجا رہے تھے۔
    آٹھ نو ۔۔۔ واعظہ کی گنتی یہیں تک پہنچی تھی۔ پروڈیوسر صاحب اسٹوڈیو کی جانب بڑھے ہی تھے کہ اس نے ایکدم سے رفتار تیز کی اور غڑاپ سے دروازہ کھول کر اندر گھس گئ۔
    آننیانگ ہاسے ہو۔ نیگا واعظہ ہمبندا۔
    محض چند لمحوں کے وقفے سے وہ الف کا ہیڈ گئیر اتار کر شروع ہوچکی تھی۔ الف ہکا بکا سی اسے بس دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی اور سیہون کو چائے ناشتہ دیا جا رہا تھا۔ اور اسکی پیشی لگی ہوئی تھی پروڈیوسر صاحب چکور کی طرح اپنی نشست کے پاس غصے میں چکر لگا رہے تھے ہاتھ نچانچا کر چیخ رہے تھے۔ انگریزئ کیا روانی سے اگل رہے تھے۔
    ڈیڑھ سال کا لحاظ بھی نہ کیا تم نے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں کتنا کتنا دبائو آیا مجھ پر کہ اس شو کی ریٹنگ نہیں آتی اسے بند کردو مگر میں نے ہمیشہ سہا۔ کیونکہ مجھے نظر آتا تھا کہ تم اپنی پوری کوشش کرتی ہو۔ جب تک تمہارا دل کیا تم نےیہ شو دل سے کیا اب اچانک جانے کا ارادہ باندھ لیا تو بالکل بھی شو کرنے کو تیار نہ ہوئیں۔ صرف اس شو کی ریکوئسٹ کئ تھئ میں نے یہ کرلو پھر بھلے نوکری چھوڑ جانامگر تم اتنی بد لحاظ ہوسکتی ہو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔جانتی ہو یہ تیس سیکنڈ جو خاموش گئے ہیں آن ائیر جانتی ہو اس پر مجھے کتنے لوگوں کو ایکسپلینیشن دینی پڑے گئ؟
    وہ اس پر بری طرح چلا رہے تھے۔ اور اسے ان پر معمولی سا بھی غصہ نہیں آرہا تھا۔ سر جھکائے وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ غلطئ ہوئی تھی اس سے۔ صرف سال بھر پہلے ہی تو وہ یہ شو اکیلے کر رہی تھی بول بول کر ناک میں دم کر دیتی تھئ کتنا جوش کتنا جزبہ تھا کتنے شوق سے وہ یہ پروگرام کرتی تھی اچانک جیسے دل کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں ہو رہا تھا۔کوئی کیو سمجھ نہ آئی بالکل خالی ذہن بیٹھی تھی کیا بولنا کیا پوچھنا کچھ یاد نہ تھا اسے کیوں؟
    وہ خاموش کھڑی اپنا محاسبہ کر رہی تھی۔
    اسے اتنا خاموشی سے سر جھکائے سنتے دیکھ کر انہیں خود ہی ترس آگیا تھا۔
    آہش۔ وہ بکتے جھکتے کرسی پر آن بیٹھے۔ فائلوں پر ہاتھ مار کر ایک کاغذ نکالا اور اس پر مہر ثبت کرنے لگے۔مہر ثبت کرکے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔ وہ کچھ نہ کچھ نرم پڑ ہی گئے ۔ اس بار بولے تو لہجے سے کڑختگی غائب تھی۔
    میں تمہارا استعفی منظور کر رہا ہوں۔ تم ٹھیک ہے بریک لینا چاہ رہی ہو مرضی ہے تمہاری۔ اصولا جو آج تم نے کیا ہے اس پر براڈ کاسٹنگ کمپنی سیدھا چھے ماہ کا بین لگاتی ہے کم از کم چھے ماہ تک کسی دوسرے نشریاتی ادارے میں بھی نوکری نہیں کر سکتیں مگر میں اس سب کی۔ذمہ داری خود لے رہا ہوں۔مجھے نہیں پتہ تمہیں اچانک کیا ہوا ہے ۔ مگر جب کبھی تمہارا دوبارہ کام۔کرنے کا ارادہ بنےتم یہاں واپس آسکتی ہو۔شرط بس اتنئ ہے کہ پہلے جتنی ہی پرجوش ہو کر واپس آئو اور دل لگا کرکام کرو۔
    اس نے چونک کر سر اٹھایا تو وہ اسکی جانب کاغذ بڑھاتے شفقت سے دیکھ رہے تھے۔
    دے۔ اس نے بمشکل مسکرا کر تھام لیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈبل صوفے ہر ای جی اور سیہون برابر میں بیٹھے تھے سامنے میز پر ناشتہ سجا تھا مگر ان دونوں نے بس فریش جوس لیا تھا۔ سیہون کا مینجر البتہ لگ رہا تھا کافی بھوکا ہو رہا ہے انکے برابر سنگل صوفے پر بیٹھا مستقل۔کھائے جا رہا تھا۔ای جی بہانے بہانے سے سیہون سے بات کررہی۔تھی۔وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے سنے جا رہا تھا۔ الف جونہی پروڈیوسر کے کمرے سے نکلنے لگی وہ جلدی سے دروازے سے ہٹ گئ۔ تیزی سے چلتی وہ سیدھی اس کمرے میں چلی آئی جہاں ای جی اور سیہون موجود تھے۔مڑ کر دروازہ بند کرتے اس نے راہداری میں تیز قدم اٹھاتی جاتی الف کو دیکھا پھر سرجھٹک کر اندر آگئ۔ ای جی فورا متوجہ ہوئی تھئ
    مل آئیں تم پروڈیوسر صاحب سے۔ بہت شکر گزار ہوں گے؟ کہہ رہے تھے مجھے کہ اپنی مینجر کو میرے پاس بھیجو میں اسکا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہون۔ تم نے آج انکی عزت بچا لی۔ وہ لڑکی تو لگتا ہے بالکل۔نئی ہے ہنگل تک نہیں آتی تھئ اسے تو جانے شو کیسے کرتی۔ بالکل بھی بات نہیں ہو رہی تھی اس سے تو۔ لگتا ہے سفارشی ہے کوئی
    ای جی ناک چڑھا کر کہہ رہی تھی۔
    نہیں ایسی بات نہیں۔ سیہون بے ساختہ بولا
    اس سے پہلے بھی میرا انٹرویو لے چکی ہے بہت دلچسپ لڑکی ہے آج شائد طبیعت خراب ہوگی اسکی۔
    وہ تائئد چاہنے والے انداز میں اسے دیکھ رہا تھا
    وہ ذرا سا مسکرا کر انکے قریب رکھے بین بیگ کو گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ ناشتے پر پیٹیز وغیرہ تھیں اس نے میٹھے بسکٹ اور جوس کا گلاس اٹھا لیا۔ خاصی بھوک لگ رہی تھی اسے
    آپ کی آواز بہت اچھی ہے ویسے۔ آپ کو دیکھ کر لگ نہیں رہاتھا کہ آپ پہلی دفعہ شو کر رہی ہیں۔
    سیہون براہ راست اس سے مخاطب ہوا تھا
    وہ بسکٹ ختم کرتئ چونکی۔
    جلدی سے منہ صاف کرتی سیدھی ہوئی
    دراصل پہلئ دفعہ شو کر بھی نہیں رہی تھی۔ ہائی اسکول کے زمانے میں میں آر جے ہوا کرتی تھی لیٹ ناٹ شو ود وی زی کے نام سےایک دوسرے ریڈیو چینل سے دو تین سال۔مسلسل کام کیا ہے میں نے۔ نئی نہیں ہوں نا کام نیا ہے میرے لیئے۔
    اس نےجیسے صفائی پیش کی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر مسکرا دیا۔
    پھر چھوڑ کیوں دیا آپکو یہ کام مستقل کرنا چاہیے تھاآپکی آواز بہت اچھی ہےسننے میں۔ وہ کھل کر تعریف کر رہاتھا
    ہاں میں بھی یہی کہتی ہوں اسے ہے نا واعظہ۔
    ای جی سے اتنی دیر خود پر سے سیہون کی توجہ ہٹنا برداشت نہ ہوا تھا جھٹ بولی۔
    آپکی آواز بھی بہت اچھی ہے۔
    اس نے بات ٹال دینی چاہی۔ سیہون کی مسکراہٹ گہری ہوگئ
    اچھا؟ آپکو کونسا گانا پسند ہے ایکسو کا؟
    وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا وہ گڑبڑا سی گئ
    ای جی اسے زیر لب گانے کا نام بتانے لگی۔
    وہ ۔۔ وہ جلدی جلدی ذہن کے گھوڑے دوڑانے لگی ایکسو کا کوئی گانا۔ ہاں۔ اسے یاد آیا۔
    کافی پرانا والا بہت پسند ہے مجھے شوری شوری بڑا مشہور ہوتا تھا جب ہم اسکول ۔۔ بولتے بولتے ای جی کے سر پیٹنے والے تاثرات اور سیہون کے حظ لیتے تاثرات دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کچھ غلط بول گئ ہے۔
    وہ ایکسو کا گانا نہیں ہے۔ سپر جونئیر کا ہے۔اس نے مسکرا کر کہا تھا۔وہ سر کھجا کر رہ گئ۔
    دراصل یہ کے پاپ نہیں سنتی ذیادہ یہ اپنی مادری زبان کے گانے سنتئ ہے ایک تو مجھے بھی بہت پسند حسنے جانا بہت اچھی موسیقی ہے اسکی لگائو واعظہ وہ والا گانا ذرا۔
    ای جی نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑی۔ جانے پسند کریں یہ کہ نہیں پھر کچھ سوچ کر موبائل میں لگا دیا۔
    نصرت فتح علی خان کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
    ایک کورین یوٹیوبر نے اس پر ری ایکشن دیا تھا یہ گانا میں نے بھئ سنا یے۔ سیہون چونک کر سیدھا ہو بیٹھا
    لڑکی کی بھی آواز میں ہے۔
    وہ ری مکس ہے اور سچی بات ہے اس۔گانے کی۔خوبصورتی اسکے الفاظ ہیں اور نصرت فتح کی آواز ہے۔اس ری مکس میں دونوں ہی نہیں۔ اس گانے کی ساری کشش ہی ختم ہو جاتی جب اس میں مزید شاعری ڈال دیتے وہ بھی کسی نو آموز کی۔
    اس پر وہ گھنٹوں بول سکتی تھی۔ نصرت فتح علی خان اسکے پسندیدہ ترین گلوکار تھے ان کے گانے پر طبع آزمائی چاہے انکے بھتیجے نے ہی کیوں نہ کی ہو اسے بالکل پسند نہ آئی تھی سو وہ شروع ہو چکی تھی سیہون بھی ری مکسز سے تنگ تھا دونوں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو میں لگ گئےتو ای جی نے بیزار سا ہو کر جوس کا گلاس لبوں سے لگا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ان دونوں کو وینز تک چھوڑنے آئی تھی۔ ای جی آ نے اب گھر جانا تھا سیدھا سیہون سے مل ملا کر وہ وین میں بیٹھتے بیٹھتے بھئ مڑ کر پیچھے دیکھ رہی تھی۔ سیہون وین میں بیٹھ گیا دروازہ بند ہوگیا تب وہ سکون سے بیٹھی اندر
    کل کا شیڈول بتا دو۔
    اسے واعظہ پر۔غصہ آرہا تھا سو گھورتے ہوئے ہی پوچھا
    کل بس شوٹ ہے نئے ڈرامے کی۔
    واعظہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ تھی۔مسکراہٹ روکتے ہوئے بتایا تو وہ اور خفا ہوگئ۔
    ہنسی کس بات پر آرہی ہے۔ اور کیسی مینجر ہو بجائے میری بات کروانے کے خود باتیں پٹیلنے بیٹھ گئیں۔ اتنا اچھا موقع تھا ایک دو اچھی تصویریں ہی بنا لیتیں انسٹا پر لگانے کیلئے
    اسکے دکھ ہی الگ تھے۔
    فوٹو شوٹ ہوا تو ہے اتنے اچھے اسٹلز ہیں تمہارے۔ وہ اٹکی
    آپکے اور سیہون کے اکٹھے بھئ میں لگائوں گا نا انہیں انسٹا پر
    اس نے تسلی دینی چاہی
    وہ تو رسمی ( فارمل) شوٹس ہیں۔ غیر رسمی شوٹس کروانا مینیجر کا کام ہوتا ہے ۔ ایک تو ہر بات بتانی پڑتی کیا فائدہ فارنر مینجر رکھنے کا انگریزی ہی آتی ہے بس تمہیں کام کرنا نہیں آتا۔
    وہ ٹھیک ٹھاک بگڑ گئ تھی۔ واعظہ خاموشی سے پیچھے ہو گئ۔ڈرائیور نے وین کا دروازہ بند کیا اور گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ وہ وین کو نکلتے وہیں کھڑی دیکھتی رہی تبھی سائیڈ واک پر سنگ مر مر کی کیاری پر پھولوں کے کنج کے پاس ٹکئ بیٹھی وہ نظر آئی۔ اس نے سیدھا آگے بڑھنا چاہا جب اسے پیچھے سے کسی کے بھاگ کر آنے اور پکارنے کی آواز آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سیہوں اپنی ٹوپی ٹھیک کرتا بھاگا آیا
    وی زئ۔ سوری آپکا نام مجھے صحیح یاد ہو سکا ابھی۔ وی زی کہہ لوں آپکو؟
    وہ معصوم سی شکل بنائے معزرت کر رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
    یہ میں ایکسو کی لیٹیسٹ البم لایا تھا آپکے لیئے۔ ابھی اس وقت یہی پڑی تھئ وین میں ۔۔۔
    ایک ہاتھ میں البم پکڑے دوسرے ہاتھ سے البم والے ہاتھ کی کلائی پکڑے وہ عاجزئ سے البم اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔کوریا میں کسی کو کوئی چیز ایک ہاتھ سے پکڑانا بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے جب بھئ کسی کو کوئی چیز دیں تو یاتو دونوں ہاتھوں سے تھام کر پکڑاتے یا ایسے کلائی تھام لیتے اپنی ہی۔اس نے بھی ذرا سا سر خم کرکے دونوں ہاتھوں سے تھام لی البم۔
    گھمسامندہ۔ اس نے شکریہ بھی سر خم کرکے کہہ ڈالا۔
    ویسے ہمارے سونگز آپکو آسانی سے مل جائیں گے یوٹیوب پر ضرور سنیئے گا خاص کر آپ ڈونٹ میس اپ مائی ٹیمپو ، کوکو بوپ ضرور سنیئے گا۔
    اس نے اتنے تاکیدی مگر بچوں والے انداز میں کہا تو وہ بے ساختہ ہنس دی اسکے یوں ہنس پڑنے پر وہ کان کھجانے لگا اسکی کان کی لو تک سرخ پڑ گئ تھئ۔
    ضرور سنوں گئ۔ اور آئیندہ کبھی ایکسو اور سپر جونیئر کو مکس بھئ نہیں کروں گی۔
    اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو وہ خوشدلی سے ہنس دیا
    ایسی بات نہیں وہ بھی ہمارے ملک کا بینڈ ہے سب ہی اچھے ہیں۔۔ بی ٹی ایس بھی سب اچھا کام۔کرتے سچی بات یہ کہ ایکسول اور آرمی میں لڑائی ہو جاتی تو بھی برا لگتا ہے ہمیں ہم سب کی الگ شنا۔۔۔
    اسکی بات گھوم کر قریب آتی وین کے شور میں دب سی گئ
    سیہون ہمیں ایوینٹ کیلئے دیر ہو رہی ہے۔
    اسکے مینجر نے وین سے سر نکال کر مخصوص کوریائی درشت سے انداز میں کہا تو وہ معزرت خواہانہ انداز سے دیکھتے یوئے جھک کر سلام کرتا تقریبا بھاگ کر وین تک گیا۔ عجلت میں ہی وین میں سوار ہوا اور زن سے وین نکل۔گئ۔
    بس اس سیلیبریٹی پرزن سے ڈر لگتا تھا مجھے ورنہ ڈراموں میں کام کی بھی آفر آتی تھی مجھے اس وقت۔
    وہ ترس کھا رہی تھئ ایکسو پر سیہون پر عجیب بات تھی نا ایک ایسی لڑکی ہوکر جسکا نہ کوئی کیریئر تھا نا نام۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 50

    قسط 50
    کیوں غلط کہا کیا میں نے؟ طوبی تیز ہو کر بولی۔
    پچھلے کئی دن سے جس طرح میرے ہر قدم پر احتیاط کا مشورہ کبھی یہ کھا لو وہ پی لو کبھی آرام کر لو۔ کیا لگ رہا تھا آپکو کوئی سنگین بیماری ہوگئ ہے نا مجھے۔ مرنے والی ہوں میں تو زرا سا
    کیا بکواس کر رہی ہو۔ وہ تلملا کر پلٹے
    میں ایک تو تمہارا خیال رکھنے کی کوشش کر رہا تھا
    کیوں؟ طوبی کا انداز ہنوز تھا
    کہوں رکھ رہےہیں اتنا خیال کیا منوانا ہے مجھ سےاب ؟
    دس سالہ شادی شدہ زندگی میں دو بار ہی بس آپ اتنے مہربان ہوئے ہیں اور دونوں بار آپ نے مجھ سے کچھ ایسا منوایا ہے کہ آپکے اس انداز سے خوف آنے لگا ہے مجھے۔
    وہ جیسے پھٹ پڑی تھئ۔
    کیا کہہ رہی ہو۔ دلاور پھٹئ پھٹئ نگاہوں سے دیکھنے لگے اسے۔
    سچ کہہ رہی ہوں۔ اور صاف صاف سن لیں اب چاہے آپ میرے ساتھ مزید اچھے ہو جائیں یا مجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں اب میں کوئی بات نہیں مانوں گی آپ کی چاہے ۔۔۔
    وہ کہتے کہتے رکی۔ پھر قصدا رخ موڑ کر صائم کو تھپکنے لگی۔
    چاہے چھوڑ دیں آپ مجھے۔
    کس دل سے اس نے یہ جملہ کہا تھا وہ جانتی تھی۔
    دلاور سناٹے میں آگئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لسٹ پر نظریں دوڑا رہی تھی۔۔ سوپ نوڈلزوہ بھئ ایگ بیس۔ ، جاجا میان( بلیک بین نوڈلز) پورک اسٹیک تبوکی اسپائسی چکن فیٹ ، رائس کیکس ، سنگاپورین رائس چکن ، دو سب وے کے برگر ایک درجن چکن شوارما۔
    وہ گہری سانس لیکر مارکیٹ کا چکر لگا رہی تھی۔ باقی سب کے ٹھیلے دکانیں تو بھری پڑی تھیں مگر یہ ایک درجن چکن شوارما یقینا عربی فنکاروں کیلئے تھے۔ انکو وہ ایسی ویسی جگہ سے نہیں لے سکتی تھی۔ سو سب سامان لیکر اس نے ٹیکسی میں ڈالا پھر اطمینان سے ٹیکسی میں بیٹھ کر ہی اپنے پسندیدہ پاکستانی ریستوران سے آرڈر دیا۔جب وہ تمام چیزیں لیکر سیٹ پر پہنچی تب تک شوارمے نہیں پہنچے تھے۔
    اس نے کھانا لا کر سیٹ پر ایک کونے میں لگی میز کرسیوں پر رکھا اب آگے اسکا ان سب کو منہ پر پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس نے دستانے پہنے ہوئے تھے پھر بھی پورک اسٹیک اٹھانے پر اسے اپنا ہاتھ گندا لگ رہا تھا۔۔۔ باتھ روم میں رگڑ رگڑ کر ہاتھ دھو کر باہر نکلی اور اسے ڈھونڈنےلگئ۔
    اور وہ تھا کہ پورے سیٹ پر نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نے روک کر اسپاٹ بوائے کو حلیہ بتا کر پوچھنا چاہا۔ٹوٹی پھوٹی ہنگل میں۔
    کیا نام ہے؟ اس کا سوال بالکل بھی غیر منطقی نا تھا مگر فاطمہ کو غصہ آگیا
    پتہ ہوتا تو نام بتا نہ دیتی احمق۔
    خالص اردو میں بھنا کر بولتی فاطمہ کا جملہ اسکے سر پر سے گزرا تھا مگر اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ کوئی اچھا لفظ استعمال نہیں کیا۔ سو کان دبا کے چل پڑا۔

    فاتی ماشی۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر صاحب یقینا کسی ماسی کو آواز دے رہے تھے وہ سر جھٹکتی آگے بڑھ کر پائوڈر رومز کی جانب جانے لگی تو دو ایک بار مزید یہی پکار سنائی دی۔ وہ تو دھیان نا دیتئ مگر جب سیٹ کی بھانت بھانت کی آوازیں دم توڑنے لگیں اور تقریبا سبھی چندی بڑی آنکھوں والے لوگ اسے گھورنے لگے تو وہ چلتے چلتے رکی۔
    فاتی ماشی۔
    اس بار پکارنے والا چلا اٹھا تھا وہ چونک کے مڑی تو اسسٹنٹ ڈائرکٹر اسکے ہمراہ دو لائٹ مین اسپاٹ بوائے سب گھور رہے تھے اسے۔
    آپ نے مجھے پکارا ؟ پوچھتے ہوئے بھی اسے یقین تھا کہ اسے غلط فہمی ہی ہوئی ہے۔
    جی اتنی دیر سےپکار رہا ہوں ای جی آ کو مکالمے یاد ہو گئے ؟ ہم پندرہ منٹ میں ای جی آ کا سین شوٹ کرنے لگے ہیں۔۔
    د۔۔ د دے۔ اس نے زو رو شور سے گردن گھمائی۔
    میں بلا کے لاتی ہوں۔
    وہ فورا مڑی
    اور کھاوا سے کہیئے کھانے کی بریک لینے کیلئے ہم اسکا انتظار کر رہے ہیں کتنی دیر لگے گی ۔
    پیچھے سے آواز آئی تھئ۔
    کھا وا۔ فاطمہ کے دماغ کی گھنٹی بجی۔
    کھاوا نام لیا تھا۔اس نے چٹکی بجائئ دل کیا اپنے کندھے خود تھپتھپا کر شاباشی دے ڈالے۔
    اب جانے اصل نام کیا تھا یہی سوچا تھا بعد میں پوچھوں گی ایک تو یہ کورین اچھے بھلے نام کا بیڑا غرق کر دیتے اتنا پیارا میرا نام فاطمہ اسکے آگے شی لگا لیا نام کے بھی دو حصے کر ڈالے۔ حد ہے خاک پتھر مجھے سمجھ آئے گا کہ۔میرا نام لیا جا رہا ہے
    بڑبڑاتے ہوئے وہ میک اپ رومز کی جانب چلی آئی۔ ای جی نام پڑھ کر اس نے فورا دروازہ کھول لیا۔
    کھاوا اورای جی صوفے پر اسکرپٹ کھولے بیٹھے تھے۔ کھاوا کچھ بول بول کر پڑھ رہا تھا جبکہ ای جی مکمل طور پر کھاوا کی جانب متوجہ زرا سا جھکی ہوئی اس کو نہارتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
    کھاوا صاحب اسکرپٹ کی طرف ہی متوجہ ہوں گے مگر ای جی عربی گھیر والے میکسی نما لباس میں ملبوس تھیں جسکی ایک جانب سے کٹ تھا اور اسکی پوری ٹانگ نمایاں تھی۔
    حبیبی۔ ایک ادا سے منہ میں ہوا بھر کر اٹکتے ہوئے حبیبی کہتے ہوئے اس نے وہی ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر جمائی یوں کہ۔۔۔
    کھاوا۔ فاطمہ ایکدم سے چیخی تھی۔ کھاوا کے ہاتھ سے اسکرپٹ چھوٹ گیا وہ گھبرا کر۔کھڑا ہوگیا۔
    جج جی۔
    مس ای جی آ بھی شدید بد مزا منہ بنائے گھو ررہی تھیں۔
    اسسٹنٹ ڈائرکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ پندرہ منٹ میں ان محترمہ کا سین شوٹ ہونا ہے انکو اسکرپٹ یاد ہوا کہ نہیں۔
    وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر یوں پوچھ رہی تھی کہ اگر وہ نفی میں جواب دے تو یہیں کھڑے کھڑے مرغا بنادے گئ۔
    آہ۔ وہ بس ہوگیا۔ ای جی آ کافی ذہین ہے۔
    اس نے کہا مگر فاطمہ یونہی مشکوک گھورتی رہی۔
    وہ کھانا آگیا۔ دو مرتبہ اسپاٹ بوائے پوچھ کے جا چکا ہے۔۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    ہاں۔ او رچلو سرو میں نہیں کروں گئ۔ فاطمہ کا انداز ایسا تھا کہ وہ رعب میں آرہا تھا
    بس چلتے ہیں میں کروں گا سروو۔
    اوپا۔ ای جی آ انکی اردو سے بیزار منہ پھلا کے بولی
    مجھے بھوک لگی ہے۔ شوارما کھانا۔
    وہ۔ٹھنک کر بولی۔فاطمہ کے سامنے وہ انگریزی ہی بولا کرتی تھئ اور فاطمہ اسکے سامنے اکبری اصغری والی اردو۔جان کے وہ بھئ۔
    اب اس نے شوارما کیوں کھانا ، تبوکی ، جاجامین نوڈلز پورک اسٹیک سب لے آئی ہوں ۔ اس سے کہو وہی کھائے جو اسکے لیئے آیا ہے شوارما چھے منگوائے ہیں بس ایک اپنے لیئے ایک تمہارے لیئے ہے باقی چار تو عربی فنکار ہیں وہ بھوکے تھوڑی رہیں گے۔
    فاطمہ نے پوری تفصیل یہیں کھڑے کھڑے بتا دی۔کھاوا نے سر کھجا کے دیکھا۔ای جی آنکھیں پٹپٹا رہی تھی۔
    کھاجا۔
    اور کیا کہتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہال میں آتے ہی فاطمہ کو زور کا جھٹکا لگا۔
    عربی فنکار اور کورین سب میز کے گرد جمع خوب مزے لیکر اسٹیک نکال رہے تھے۔
    نہیں۔۔۔یہ مت کھانا عبداللہ ۔۔۔۔۔ وہ وہیں سے پکاری عبداللہ جو پہلا لقمہ منہ میں لے جارہا تھا چونک کے مڑ کر دیکھنے لگا۔
    فاطمہ بھاگتی ہوئی عبداللہ کے پاس آئی کھاوا بھی صورت حال کی نزاکت سمجھتا ہوا دوڑا آیا
    یہ مت کھانا یہ سور کا اسٹیک ہے۔ بلکہ یہ تمام کورین کھانا ہی حرام گوشت اور اجزا سے بنا ہوا ہے میں نے تم لوگوں کیلئے شوارما منگوایا ہے۔
    فاطمہ کی ساری انگریزی عبداللہ کے سر پر سے گزری تھی۔
    تھوڑا بہت یہی سمجھ آیا کہ کھانے سے منع کیا ہے۔ اور شوارما منگوایا ہے۔
    اوہ ٹھیک۔ہے۔ میں نے ہی کورین فوڈ آرڈر کی تھی۔ اب کوریا میں آئے ہیں تو یہاں کے ذائقے چکھنے چاہیئیں نا۔

    ٹوٹے پھوٹے لہجے میں وہ انگریزی میں بولا تھا۔
    ہاں مگر حلال یہ حلال کھانا نہیں۔ پورک ہے یہ۔
    کھاوا نے عربی میں بتایا تو وہ ہنس دیا۔
    ہاں تو کیا ہوا۔ میں کونسا روز کھاتا ہوں ۔ کبھی کبھی پورک چلتا ہے اسکے ساتھ سوجو ہوتی تو اور مزا آتا۔
    وہ آنکھ دبا کر ہنستے ہوئے بولا اور وہی پیس پورا منہ میں رکھ لیا۔ فاطمہ شاکڈ سی کھڑی رہ گئ۔ اس نے عربی میں جواب دیا تھا مگر یہ بتانے کے باوجود کہ یہ پورک ہے وہ کیسے کھا سکتا ہے بھلا۔
    تم نے بتایا نہیں کہ یہ پورک ہے۔ فاطمہ نے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے کھاوا سے پوچھا۔
    بتایا ہے۔ کھاوا نے اسے آنکھ کے اشارے سے منع کرتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
    انکو چھوڑو۔انکے حال پر۔
    کیا ہوا کیا مسلئہ ہے۔
    ان سے ساتھئ فنکار پوچھ رہے تھے ۔ عبد اللہ نے عربی میں بتایا تو اسکے ہم وطن مسکرا کر انہیں بھی دعوت دینے لگے۔
    آپ لوگ بھی کھائیں۔ مہر اور سلمان دونوں کھانا کھاتے ہوئے کہنے لگے۔۔
    فاطمہ انہیں پہلے حیرت پھر تھوڑا غصے سے گھور کر رہ گئ ۔ تبھی اسکے موبائل پر شائد ڈیلیوری بوائے کی کال۔آئی تھی۔
    ںہیں شکریہ۔ کھاوا نے مسکرا مسکرا کر کہاجبکہ فاطمہ تن فن کرتی فون اٹھائے ہال سے باہر نکل گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھاوا اسکے پیچھے پیچھے آیا تھا۔
    ڈیلیوری بوائے سے کھانالیکر فاطمہ نے اسے تھماکر اندر بھیجا اور خود اندر جانے کی بجائے باہر احاطے میں بنے گھاس کے قطعے پر آبیٹھی۔
    یہ لو کھانا کھالو۔
    وہ بھاگتا ہوا واپس آیا تھا۔ جبھئ سانس بھی تھوڑا پھول رہی تھی۔
    دھپ سے اسکے برابر شاپر رکھتے ہوئے وہ خود بھی اسی بنچ پر بیٹھ گیا۔
    مجھے نہیں کھانا۔ فاطمہ کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    کیوں بھئ کھانے سے کیا ناراضگئ۔ یہ تو حلال شوارما ہے ۔
    اس نے بہلانا چاہا۔
    کوئی حد ہے بھلا مسلمان ہو کر جانتے بوجھتے پورک کھا رہے ہیں سوجو پی رہے ہیں یہ کیسے عربی ہیں یہ شرم نہیں آرہی انکو گندے کام کرتے ہوئے۔۔
    فاطمہ اس سے یوں پوچھ رہی تھی جیسے وہ اسکے ہی تو دبیل ہیں۔
    تم کیوں غصہ کر رہی ہو وہ جانیں اورانکے کام۔۔
    کیوں نہ غصہ کروں ؟ وہ اور چڑ گئ
    مسلمانوں کا نام بدنام کر رہے آدھے ننگے تو پھر رہے حرام کھا پی بھی رہے ان سے کہو کم از کم نام بدل لیں یا تھوڑی شرم لاج ہی رکھ لیں اپنے نام کےمسلمان ہونے کی۔ یہ گند کھا پی کے پاک زمین پر اتریں گے تف ہے ان پر۔
    فاطمہ کا گورا رنگ اس وقت غصے سے سر خ ہورہا تھا۔
    وہ عربی ضرور ہیں مگر سعودی نہیں ہیں عبداللہ دبئی نیشنل ہے اور مہر ترکی مسلمان ہے اور سلمان بھی شائدمصری اداکار ۔ ان تینوں کا جن جگہوں سے تعلق اور۔جس صنعت سے تعلق ہے وہاں یہ سب اتنا معیوب نہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک یہ بات ایسے ہی ہے جیسے آپ شرعی پردہ نہ کریں داڑھی نا رکھیں ویسے ہی کبھی ذرا سا شراب پی لیں پورک چکھ لیں اس سے وہ غیر مسلم تھوڑی ہو جائیں گے۔
    اس نے سبھائو سے سمجھانا چاہا۔
    تمہارا فرض تھا اگر انکو پتہ نہ ہو تو بتانا وہ تم۔نے پورا کیا اب آگے انکی مرضی وہ جو چاہے کریں۔ہم ڈنڈے کے زو رپر کسی سے اسلامی احکام تو فالو نہیں کروا سکتے۔ ہاں ان پر غصہ آسکتا وہ ضرور کرو۔مگر کھانا تم نے اپنے لیئے کھانا ہے انکے لیئے نہیں۔سو یہ کھائو اور غصہ تھوک دو۔
    اسکا انداز اتنا سلجھا ہوا تھا کہ وہ چپ سنے گئ۔
    عام سی فیڈڈ جینز اور سفید اپر میں ملبوس ہلکی سی بڑھی شیو میں نرم سے انداز سے بولتا وہ گندمی رنگت والا عام سا لڑکا تھا مگر انداز بولنے کا مانوس سا لگا تھا جیسے۔۔
    وہ بے خیالی میں دیکھے گئ۔۔
    کھائو نا۔وہ شوارمے کا لفافہ اسکی جانب بڑھائے ہوئے تھا۔ فاطمہ نے چونک کر تھام لیا۔
    ویسے اچھا ہوا تم شوارما حلال لے آئیں ورنہ میں اپنے لنچ کیلئے کلب سینڈوچ لیکر آیا ہوا تھا اور ایک سینڈوچ سے میرا گزارا نہیں ہوتا بالکل۔
    وہ شائد بھوکا ہورہا تھا دو تین جلدی جلدی لقمے لیکر اس نے شوارما چٹ کر لیا تھا اب پیکٹ سے دوسرا نکال رہا تھا۔
    ایک تو یہ پاکستانی لڑکے ۔۔ وہ سرجھٹک کر مسکرا دی۔
    میں ویسے ایک ہی شوارما کھاتا ہوں مگر آج ناشتے بغیر آیا تھا یہاں بھی موقع نہ ملا آنتیں پلٹ رہی تھیں میری۔
    اس نے جانے محسوس کر لیا یا یونہی برسبیل تذکرہ کہہ رہا تھا فاطمہ کو اچھو سا ہوا۔
    میں پانی لیکر آتا ہوں۔
    وہ فورا اٹھنے کو تھا مگر فاطمہ نے اشارے سے روک دیا۔ وہ اپنی پانی کی بوتل بیگ میں رکھتی تھی۔وہی نکال کے پینے لگی۔
    ویسے مجھے فاطمہ کہتے ہیں۔
    اس نے پانی پی کر بوتل کا ڈھکن بند کرتے ہوئے نسبتا نارمل انداز میں بتایا۔
    نہیں تمہیں فاتی ماشا کہتے ہیں یہاں تو۔
    وہ ہنسا تھا فاطمہ کو بھی ہنسی آگئ۔
    ہاں نام بگاڑ ہی ڈالا انہوں نے۔ جیسے تمہارا نام کھاوا۔۔
    کھاوا ۔۔پکارتے ہوئے اتنا عجیب لگ رہا تھا مگر نام۔پتہ ہی نہیں۔۔۔ اتنا دماغ لڑایا مگر سمجھ نا آیا کھاوا اصل میں کس نام کو بگاڑ کر بنا ہے۔کیا نام ہے تمہارا۔
    اس نے سیدھا پوچھ لیا
    کھاوا۔ وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔
    میں اصل نام پوچھ رہی۔ اس نے دانت کچکچائے۔۔
    کیا کرنا جان کے بکواس سا نام ہے کھاوا پیارا نام ہے۔
    تمہارے منہ سے سن کے اور بھی پیارا لگا۔ بولتے بولتے وہ منہ ہی منہ میں بدبدایا
    کیا ؟ فاطمہ کو سنائی نہ دیا
    مجھے کھاوا کہلانا ہی پسند ہے بڑا پیارا لگتا ہے جب لوگ مجھے کھاوا کہتے ہیں۔ یوں لگتا جیسے بھوک سی لگی ہے۔
    وہ تیسرے شوارمے کی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔
    فاطمہ نے بمشکل آدھا شوارما کھایا تھا۔ اس بات ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    تم شوارما اندر دے کر نہیں آئئ یہیں لے آئے سارے۔۔
    آیا ہوں نا۔ وہ چباتے ہوئے بمشکل بولا
    بس ای جی آ کو شوارما پسند باقی سب اسٹیک پر ٹوٹے پڑے تھے۔
    اسے دو شوارمے دے کر چاریہاں لے آیا دو تم کھا لو گی دو میں۔۔
    اوہ۔ بولتے بولتے اس نے شاپر میں ہاتھ مارا تو شرمندہ ہوا
    میں تین کھا گیا۔ میں اور منگواتا ہوں۔
    وہ اپنا ادھ کھایا شاپر پر رکھ کر جیب ٹٹولنے لگا۔
    رہنے دو ایک کافی ہوتا ہے میرے لیئے۔ اس نے سہولت سے منع کردیا۔
    وہ بھی کندھے اچکا کر دوبارہ مزے لیکر کھانے لگا۔
    اچھا تمہارا نام کیا ہے؟ وہ آج نام جان کر ہی دم لینے والی تھی۔
    نوید۔۔ وہ تھوڑا سنجیدہ سا ہو کر بولا
    نوید سے کھاوا ؟ یہ پروڈیوسر انکل پاگل تونہیں۔
    فاطمہ چیخ ہی تو پڑی وہ اسکے انداز پر ہنس پڑا۔
    لاسٹ نیم کو بگاڑ کرکھاوا کر دیا ہے انہوں نے۔
    بہت برا بگاڑا ہے۔ وہ تاسف سے سر ہلانے لگی۔
    نہیں کھاوا اچھا نام ہے مجھے پسند آیا بھوک لگ جاتی ہے کوئی پکارے کھاوا۔۔ کھاا۔۔
    وہ لہک لہک کر بول رہا تھا فاطمہ کو ہنسی آرہی تھی اسکی حماقت پر۔
    کوئی نام لے آپکو بھوک لگ جائے اس سے پیارا نام کیا ہوسکتا۔
    کوئی نام لے اور اسکے حلق میں خراش پڑ جائے اس سے برا نام ہو سکتا۔ وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
    کھا وا۔ جیسے حلق کھنکار رہے ہوں۔کھا وا۔ خراش پڑ رہی ہے مجھے۔
    وہ مصنوعی کھانس بھی لی۔
    پھر تو تم مجھے کھاوا ہی کہو حلق صاف ہو جائے گا۔وہ کہاں باز آنے والا تھا۔
    کھا ہی کہوں گی بس وا تم دل میں لگا لیا کرنا اب کھا۔ کھا جا ۔۔
    وہ کورین لفظ کھاجا کا استعمال کرکے اسے جانے کا کہہ رہی تھی وہ بھی سمجھ کے منہ لٹکا کے کھڑاہو گیا
    اچھا فاتی ماسئ۔ چلتا ہوں۔
    فاطمہ کی آنکھیں ابلیں وہ ڈر گیا جیسے
    میرا مطلب ہے ماشی۔ فاطی ماشی۔

    یو۔۔۔ اس نے شاپر ہی اٹھا کر مارنا چاہا وہ ہنستا بھاگ کھڑا ہوا وہ گھور کر رہ گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون آتے ہی اس سے ملنے آیا تھا۔ وہ اپنا سب کام ختم کرکے ای جی کے پاس آئی تھی بتانے کہ میں جا رہی ہوں اگلی میک اپ روم میں ڈریسنگ ڈیسک پر سر رکھے بیٹھی رو رہی تھی۔ دروازہ کھولتے ہی اسکی نگاہ پڑی۔ وہ تیر کی طرح اسکے پاس آئی
    کیا ہوا۔ اسکے کندھے پر ہاتھ تو ہمدردی میں رکھا تھا مگر آف شولڈر ٹاپ میں سیدھا اسکے کندھوں کو چھونے پر گڑ بڑا کر ہاتھ واپس کھینچ لیا جبکہ ای لی سوں سوں کرتی اسکے پیٹ سے لپٹ گئ۔۔
    کیا ہوا۔ اب اسکا گھنے بالوں والا سر اسکے پیٹ سے لگا تھا اس نے اسی کو تھپتھپا دیا۔
    میرا پورے دو پونڈ وزن بڑھ گیا ہے۔ کم از کم بھی دو ہفتے لگیں گے مجھے وزن کم کرنے میں۔
    واعظہ گہری سانس لیکر رہ گئ ۔۔۔
    دو ہفتے بڑی بات تو نہیں یوں چٹکی بجاتے گزر جائیں گے۔۔اور ابھی اس ہفتے بس ایک ریڈیو شو میں جانا ہے باقی تو بس ایونٹس ہیں ان میں کون غور سے دیکھے گا۔
    واعظہ نے سمجھایا تو وہ اور زور سے سوں سوں کرکے بولی۔
    وہی تو مسلئہ ہے سیہون ایکسو کا سیہون میرا سب سے پسندیدہ ممبر ہے ایکسو کا اور اسکے سامنے میں گائے بنی بیٹھی ہوں گئ۔
    وہ دہائی دینے والے انداز میں بولی۔
    سیہون۔۔ اسکے دماغ کی گھنٹی بجی۔
    ایکسو کا سیہوں الف کا تو کرش ہوتا ہے اور وہ۔۔۔
    بتائو میں کیا کروں۔۔۔
    وہ ٹشو سے ناک پونچھتے سر اٹھا کے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
    اپنا میک اپ ریموو کرو سارا آئی لائنر پھیل گیا ہے۔
    واعظہ نے کہا تو وہ گڑبڑا کر مڑ کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔
    میں تمہاری جانب سے معزرت کر لیتی ہوں کہ تم نہیں آسکتیں شو میں۔ ویسے بھی اتنا کوئی مشہور ۔۔
    اسکے کہنے پر ای جی چیخ پڑی۔
    آن۔آنندے آندیے او۔
    میرا پہلی دفعہ سیہون کے ساتھ پروگرام ہوگا میں انکار نہیں کر سکتئ۔ تم نہیں جانتی ہو مجھے ایکسو کتنا کتنا پسند ہیں اور سیہون اف۔ میں تو۔۔۔۔۔۔۔
    آگے وہ اپنی لمبی داستان جڑ رہی تھی واعظہ کا ذہن کہیں اور دوڑ رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھے سو نگیئے او۔
    وہ دور سے معزرت کرتی دوڑی آئی۔ سیہون باہر لابی میں صوفے پر بیٹھا میگزین پلٹتے انتظار کر رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    دونوں اکٹھے قریبی کافی شاپ پر آ بیٹھے۔۔۔
    آنٹی کیسی ہیں؟ میری جانب سے معزرت کر لی تھی؟۔
    سلیف سروس تھئ وہ اسے بیٹھنے کا کہہ کر کیک اور کافی
    خرید کر لا کر رکھتے ہوئے پوچھ رہی تھئ۔
    مجھے میری کی کال آئی تھی۔
    سیہون نے بلا تمہید اسے بتایا ۔۔
    لعنت بھیجی تھی ؟ گالیاں دے کر بند کرنا تھا کس منہ سے کال کر رہی تھی سمجھا کیا ہوا ہے اس نے تمہیں اب۔۔
    وہ بھڑک سی گئ تھئ۔ سیہون کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئئ اسکے ردعمل پر۔
    اسے مسکراتے دیکھ کر وہ چپ سی ہوئی۔ بہر حال وہ اسکے ساتھ کم ازکم بھی آٹھ نو سال سے تھا مڈل اسکول سے دونوں دوست تھے اور تب سے ہی میری کیلئے اسکے دل میں الگ ہی جزبات تھے وہ ایسا کچھ چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا۔
    اسکی منگنئ ختم ہوگئ ہے۔
    اس نے سابقہ ہی انداز میں بتایا تھا
    واعظہ نےکچھ کہنا چاہا مگر سیہون کے چہرے پر جتنا کرب سا اتر آیا تھا وہ کچھ کہنے سے باز رہی۔
    سر جھکا کے وہ کافی میں چمچ چلا رہا تھا۔
    میری محبت ختم نہیں ہوئی مگر میرا دل بہت دکھا ہے اسکے رویئے سے۔ مجھے اسکے جملے نہیں بھولتے۔ میرا دل کیا تھا اسے وہ سب کہوں جو مجھے وہ کہتی گئ تھی مگر میں اسے کچھ کہہ نہ سکا کہہ سکتا ہی نہیں۔۔۔۔
    وہ دھیرے دھیرے سے بول رہا تھا۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
    پچھلے آٹھ مہینوں میں ایک دن ایسا نہیں گزرا جو میں نے اسے یاد نہ کیا ہو۔۔۔۔

    وہ مزید بھی اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ واعظہ اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئی پھر اپنا کپ اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔ کافئ ٹھنڈی ہو رہی تھی اسے ٹھنڈی کافی پسند نہیں تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اور فاطمہ ابھی فلیٹ سے اندر داخل ہوئی ہی تھیں کہ تیز خوشبو سے دونوں کا سر گھوم گیا۔ ابھی چکراتے سر کو سنبھالانہ تھا کہ عزہ عروج عشنا نے انہیں چیخ کر وہیں ہینڈزاپ کر لیا۔
    وہیں رک جائو آگے نہ آنا رکو۔۔۔
    تینوں اکٹھے چیخیں فاطمہ واعظہ سے لپٹ گئ۔
    کیا ہوا۔
    یہ دیکھو۔
    عروج نے نیچے دکھایا تو لابی میں بیچوں بیچ ایک چھپکلی تڑپ رہی تھی۔
    اتنی سخت جان چھپکلی ہےاس پر پوری اسپرے باٹل خالی کر دی مگر یہ مر نہیں چک رہی۔
    عزہ روہانسی ہونے کو تھی۔
    کونسی بوتل خالی کی ہے ؟ واعظہ اسکے ہاتھ میں بوتل دیکھ کر مشکوک ہوئی۔
    یہ باڈی اسپرے کی۔ عزہ نے فورا بوتل لہرائی
    کس نے کہا ہے کہ باڈی اسپرے چھپکلی پر کرو تو وہ مر جاتی ہے۔
    واعظہ نے سر پیٹ لیا
    وہ اور کوئی اسپرے تھا نہیں تو۔ عزہ نے سر کھجایا
    یار اسکا اتنی خوشبو سے دماغ گھوم گیا تھا یہ ابھی دیوار پر تھی پٹ سے گری ہے زمین پر اور تڑپ رہی۔۔۔۔۔
    عروج نے تائید کی مگر جب دیوار سے نظریں زمین پر آئیں تو چھپکلی غائب تھی۔
    کہاں گئ چھپکلی۔
    عشنا گھبرائی
    عزہ بوکھلائی واعظہ نے نیچے نگاہ کی تو تیز گام کی طرح تیزی سے دوڑتی چھپکلی انکے بالکل پاس آکر دیوار پر چڑھ گئ۔
    فاطمہ چیخیں مارتی دوڑتی لائونج میں پہنچ چکی تھی واعظہ ساکت وہیں کھڑی رہ گئ۔
    اسکے قدم خوف کی حالت میں جم جایا کرتے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
    انہوں نے پکڑ کر لا کر اسے صوفے پر بٹھایا پانی لا کر دیا ۔تب اسکی رنگت بحال ہونا شروع ہوئئ
    صبح ادھر کچن میں تھی ابھی ٹی وی کے پاس عشنا نے جوتی ماری تو ڈری بھی نہیں۔
    عزہ نے رام کہانی سنانی چاہی۔
    جوتئ مارئ بھئ تو چھپکلی سے دوفٹ دور۔ اس نے ڈرنا کیا تھا الٹا ہنس رہی ہوگی عشنا کے نشانے پر۔
    چھپکلی کو لگ جاتئ تو جوتی گندی ہو جاتی نا۔
    عشنا منمنائی۔
    مجھے نہیں پتہ واعظہ مجھے لڑکا چاہییے لڑکا بھی رکھو اپارٹمنٹ میں۔
    عزہ نے ضدئ انداز میں کہا تو پانی پیتی واعظہ کو اچھو ہو گیا۔
    کیا بک رہی ہو۔
    عروج نے آنکھیں نکالیں
    صحیح کہہ رہی ہوں ہےجن جب تک تھا کتنا آرام تھا ایک چھپکلی بھی نظر آتئ تھی بھگا دیتا تھا وہ۔ اب تو کاکروچ بھی ہوگئے ہیں گھر میں
    وہ بسوری۔
    ہاں چھپکلیاں بھگانے والا کوئی ہونا چاہیئے۔
    عشنا کو اتفاق تھا۔
    مگر کورین رکھیں یا پاکستانی ؟
    فاطمہ نے یونہی سوال کیا واعظہ نے گھور کر دیکھا
    چینی رکھ لیتے ہیں اسکے کھانے پینے کا مسلئہ بھی ختم ہوگا آرام سے چھپکلیاں کاکروچ تل لیا کرے گا اپنے لیئے۔
    واعظہ نے تو یونہی کہا تھا ان سب نے سوچ بھی لیا ایک چینی لڑکا پھسکڑا مارے بیٹھا منی میز پر شاہی پکوان سجائے لہک لہک کر مک بانگ بناتے ہوئے۔
    آخ۔ ان سب نے اکٹھے الٹی کی۔
    گندی واعظہ کی بچی۔
    عزہ نے پاس پڑا کشن دے مارا۔
    حد ہوتی ہے ویسے ایو۔ عروج بھئ گھن کھا رہی تھئ۔
    حد بتائوں حد ؟ مطلب لڑکا رکھوں میں یہاں اس دڑبے میں صرف چھپکلیاں مارنے کیلیئے۔
    واعظہ نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے انکی عقل کا ماتم کرتےکہا تو عزہ بھولا سا منہ بنا کر بولی
    نہیں اگر پیارا ہو تو شادی بھی کر لینا۔
    شادی تو تمہاری کرواتئ ہوں میں۔
    واعظہ نے وہی کشن دے مارا عزہ ہنستی جھکائی دے گئ سیدھا عروج کے منہ پر پڑا تھا۔
    مجھے کیوں مارا۔ عروج نے جوابا پے درپے دو تین کشن اٹھا مارے۔ فاطمہ ان سب سے بچی تھی مگر کشن لڑائی میں بچ بیٹھنے والا کیا خاک مزا لیتا سو صوفے سے کشن اٹھا کر شروع ہوگئ۔
    منے لائونج کے پانچ چھے کشن ہی تو تھے ان سب کی ہوائی فائرنگ کی نظر ہونے لگے ہنس ہنس کے سب کا برآحال ہو رہا تھا مگر کوئی ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔

    کوئی کل سیدھی ہے تم لوگوں کی کیا ہنگامہ مچا رکھا ہے ؟ ۔۔ الف دھاڑ سے دروازہ کھول کر باہر نکل کر دھاڑی تھئ
    وقت دیکھو کیا ہو رہا ہے کوئی سونا چاہ سکتا ہے کسی کے سر میں درد ہو سکتا ہے مگر تم لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے۔
    اسکی بلند آواز پر جو جہاں تھا وہیں رہ گیا تھا۔سب بھونچکا سی اسکا اتنا کڑخت انداز دیکھ رہی تھیں۔
    پتہ کہاں سے اٹھ آئیں ہیں جنگلی گنوار۔ ہوںہہ۔۔
    وہ بول کر گھور کر جیسے ہی پلٹی عین اسکے سر پر کشن لگا تھا
    کس نے کی ہے یہ حرکت۔
    زمین سے کشن اٹھا کروہ سخت جلال میں مڑی تھئ۔
    کیا کروگی پٹائی کروگئ۔ ؟ چل کرو یار ابھی تو بس نو بجے ہیں۔
    فاطمہ نے ہنس کر کہنا چاہا جوابا بھر پور طاقت سے پھینکا گیا کشن اسکے منہ پر لگا تھا
    تیری تو۔
    فاطمہ کا دماغ اتنی زور سے گھوما تھا وہ جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھنے کو تھی کہ عزہ اور عروج نے باقاعدہ اسکو بازو سے پکڑ کر روکا
    شکر کرو کشن تھا۔ آئندہ ایسی حرکت کی تو ۔۔۔
    الف نے انگلی اٹھا کر دھمکی دینی چاہی تو فاطمہ اس سے اونچئ آواز میں بات کاٹ گئی
    کیا کر لوگی؟؟؟؟ کرو ابھی کرو جو کرنا ۔دیکھوں میں بھی۔
    اسکے اشتعال دلانے پر الف بھنا کراسکی جانب بڑھی عشنا ایکدم سے اسکے آگے آگئ
    آئیم سوری میں ادھرصوفے پر پھینک رہی تھی نشانہ خطا ہوگیا۔
    عشنا کی وضاحت پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔ پھر مڑ کر پیر پٹختی واپس کمرے میں چلی گئ۔
    یہ اپنی جاب کی وجہ سے پریشان ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ سب پر غصہ کرتی پھرے۔
    کہا تو عروج نے تھا مگر وہ سب متفق تھیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کے ڈیڑھ بجے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ کسمسا کر کروٹ بدلی تو واعظہ کا بستر خالی تھا اس نے ذرا سا سر اٹھا کے دیکھا تو وہ کھڑکی میں بیٹھی فون پر لگی تھی۔
    کس کے بوائے فرینڈ سے بات کر رہی ہو؟ اپنا تو کوئی ہے نہیں تمہارا۔
    جمائی لیتی وہ اٹھ بیٹھی۔
    تمہارے شوہر سے۔۔ اس نے کان سے فون ہٹا کر اطمینان سے جواب دیا
    آہ ہا۔ آگیا گائوں سے ؟ وہ سستی سے چپل پہنتی باتھ روم۔جانے اٹھی تھی
    ہاں او راب کل سے تم بھی واپس جائو اپنے گھر۔
    اس نے ہدایت کی تو وہ سر ہلاتی باتھ روم۔میں گھس گئ۔
    پھر دوسری بار تقریبا چار بجے آنکھ کھلی تھی وجہ عشنا کا اسکا سا را کمبل کھینچ کر اوڑھ لینا تھی۔
    اس سے کمبل واپس کھینچ کر اوڑھتے مندی مندی آنکھوں سے واعظہ کا بستر دیکھا تو وہ اب بھی خالی تھا۔
    اس نے سر اٹھا کر دیکھا وہ پھر کھڑکی میں ایستادہ فون پر بات کر رہی تھی۔
    اب کس سے بات کر رہی ہو۔ سو جائو۔ کہتے ہوئے اس نے جمائی بھی لے لی۔
    الف کی امی سے۔۔۔
    وہ پھر سوجاتی اگر سائیڈ سے فون اٹھا کر وقت دیکھنے کا شوق نہ چڑھ جاتا فون دیکھا تو فیس بک کے نوٹیفیکیشن انسٹا وہ جو ایک کے بعد ایک پوسٹ دیکھنا شروع ہوئی کوئی آدھے گھنٹے بعد سر اٹھا کر دیکھا تو واعظہ کو ابھی بھی ہینڈز اپ کرایا ہوا تھا الف کی امی نے
    ابھی تک کال چل رہی؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔
    واعظہ بے چارگی سے دیکھنے لگی فون کان سے دور کرکے دیکھا تو پینتالیس منٹ کی کال ہو چکی تھئ۔
    اس کو بھی نیند آنے لگی تھی۔
    جی ٹھیک ہے۔میں بات کروں گئ۔ ابھی آپ آرام کریں جی۔ ٹھیک خدا حافظ۔
    اس نے بات ختم کرکے فون بند کردیا۔
    وہ تھکی تھکی سی بیڈ پر آبیٹھئ
    کیا کہہ رہی تھیں اتنی دیر سے۔
    فاطمہ کو اس پر ترس آیا۔ وہ اپنا بازو سہلا رہی تھی۔
    الف کا پوچھ رہی تھیں آخری سمسٹر کب ختم ہو رہا اسکی کہیں بات طے کرنا چاہ رہی ہیں الف نے صاف انکار کردیا ہے تو مجھے کہہ رہی تھیں سمجھائو اسے
    واعظہ بستر پر گر سی گئ
    ہاں تو کوئی اونگا بونگا سا ہوگا الف باشعور سمجھدار لڑکی ہے۔اسے حق ہے جس مرضی سے شادی کرےجس سے شادی سے انکار کرے ایویں تھوڑی۔
    ابھی اسکی بات میں تھی واعظہ نے تصویر نکال کر دکھائی وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر موبائل لپک لے گئ
    یہ تو فواد خان لگ رہا ہے پیارا ہے یہ تو۔
    اس نے اتنی بے ساختہ تعریف کی کہ واعظہ کو ہنسی آگئ
    احمق گدھئ ہے الف پڑھ لکھ کر گدھے پر لادا ہے اسکی امی کو کان پکڑکر یہیں بیاہ دینا چاہیئے
    اسکی رائے یونہی پل پل بدلتی تھی۔
    واعظہ اطمینان سے لیٹ کر آنکھیں موند گئ۔فاطمہ۔جزباتی ہو کر اسکے بیڈ پر کود آئی
    تم سمجھائو گی اسے ؟
    میں اسکی امی لگتی ہوں۔ وہ برا مان گئ۔
    ہاں تو تم نے ایڈاپٹ کیا ہے نا اپنی ہم عمروں کو تو اب ذمہ داری بھئ اٹھائو۔
    وہ مزے سے بولی۔ واعظہ گھور کر رہ گئ۔پھر کچھ سوچ کر بولی
    بھئی فواد خان ہو یا گنگو تیلی میں کون ہوتی ہوں اسے منانے والی اسکی زندگی ہے وہ بہتر جانتی اسے کیا کرنا۔
    یار عجیب ہے اتنا پیارا لڑکا ڈھونڈا یے امی نے تو خوشی خوشی مایوں بیٹھ جائے فالتو میں رونا پیٹنا مچایا ہوا ہے کئی دن سے دیکھ رہی چڑ چڑئ ہوئی ہے آج بھی کیسا لڑی مجھ سے۔ احمق ۔۔ خود کو تو یہاں کوریا میں آکر بھی کوئی اوپا ملنے کی امید نہیں تو دیسی پھپھا ہی سہی۔
    فاطمہ تاسف سے سر ہلا کر دیکھ رہی تھی
    اب یہ پھپا کہاں سے آیا ؟ واعظہ حیران ہوئئ
    قافیہ ملایا ہے اورکیا
    فاطمہ کھلکھلا ئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 49

    قسط 49
    امیوزمنٹ پارک میں وہ بچوں کے ساتھ مکمل مگن تھے۔ دونوں بچیاں جھولا جھول رہی تھیں۔ صائم کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ وہ مچل کر گود سے اترنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
    انہوں نے اسے اتار دیا ساتھ ہی اسکی کلائی سے ایک بینڈ بھی لگا دیا تھا۔ یہ الیکٹرانک بینڈ تھا۔ دس یا بیس میٹر کے ریڈییس سے بچہ جیسے ہی دور جانے لگتا نا صرف اسکی کلائی پر بزر بجنے لگتا بلکہ ماں باپ کے موبائل پر بھی فوری اطلاع آتی۔ بڑے ملک میں رہنے کے بڑے فائدے۔ طوبی ایک بنچ پر تھک کے آبیٹھی۔ اب یا تو بچوں کے ساتھ جھولے پر بیٹھو یا بچوں کو دور سے دیکھتے رہو۔ اب اگر آج دلاور انکے گرد چکر کاٹ رہے تھے تو وہ کیوں ساتھ خوار ہوتی۔
    بچوں نے کاٹن کینڈی کی فرمائش کی تو انکے لیئے لیتے ہوئے وہ بڑ ا سا بھالو بنواکر اسے بھی تھما گئے۔۔
    وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔
    کاٹن کینڈی چبانے والی عمر تو نہ تھی مگر چلو۔اس نے ٹونگنا شروع کردیا۔
    ان سے کافی فاصلے پر کالی جینز کالے اپر میں ہڈ سر پر چڑھائے کالے ماسک منہ پر چڑھائے ٹیلی اسکوپ سے انکے اوپر نظر رکھے عشنا اور عزہ اونچی سی سلائڈ کے سرے پر بیٹھی تھیں۔آج مکمل کے ڈرامہ کے ڈیٹیکٹیوز والا حلیہ تھا۔
    یار انکی تو بھٹک کے بھی نگاہ بچوں سے ہٹ کر ادھر ادھر نہیں جارہی مجھے لگتا ہے طوبئ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
    عزہ منمنائی۔۔
    مگر ہمارا آجکا کام ان پر نگاہ رکھنا ہی ہے۔ یہ یقینا بچوں کے بہانے ابھی غائب ہو کر کسی چندی آنکھوں والی سےملنے جائیں گے۔ طوبی کو تودیکھ لو ایک جگہ بٹھا دیا ہے انہوں نے۔
    عشنا کا اسٹار پلس والا تجربہ بول رہا تھا۔
    ویسے عشنا اگر تمہاری سہیلی کا نام ہے تو تمہارا نام کیا ہے؟ ہمیں بتا تو دو ہم تو ابھی تک تمہیں عشنا ہی کہتے ہیں۔
    عزہ نے کہا تو بجائے کیمرے گھومتے وہ رک کر دو گھںٹے گہری سانس لیکر کوئی بڑا انکشاف کرنے والے انداز میں بولتی۔
    سر سری انداز۔
    مہک۔
    مہک ؟عزہ اچھل۔پڑی۔ اتنا پیارا نام ہے یہ تو۔۔
    مگر مجھے اس نام سے پکارنا نہ کبھی۔ عشنا ہی ٹھیک ہے۔
    اس بار اسکا انداز قطعی تھا۔
    عزہ کیوں کہتے کہتے رک گئ
    اچھا تم واقعی لی من ہو کی فین تو ہو نا؟ اسکی فین میٹنگ میں سچ مچ گئ تھیں نا؟
    ہاں۔ عشنا کا جواب مختصر تھا۔
    ایک بس یہی کام کیا پچھلے پانچ سال سے کوریا میں رہتے ہوئے جس نے مجھے دل سے خوش کیا تھا۔
    وہ اتنا دھیرے سے بولی تھی کہ عزہ اس سے جڑ کر نہ بیٹھی ہوتئ تو سن بھی نا پاتی۔
    تم پانچ سال سے ہو۔ عزہ اپنی حیرت چھپا نا سکی
    اور یہاں نا کوئی جاب نا پڑھائی کر کیا رہی ہو تم اور رہائش تک تو تھی نہیں واپس انڈیا کیوں نہیں چلی گئیں تم؟
    عزہ کو اس پر غصہ بھی آرہا تھا۔
    عشنا کے منہ پر مسک ہونے کی وجہ سے اسکے تاثرات تو نظر نہ آئے مگر اسکا جواب دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ ضرور سمجھ آگیا۔
    حد ہے۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑا کر رہ گئ۔
    دوبارہ ٹیلی اسکوپ آنکھوں سے لگا لی۔ دلاور تھک کے صائم کو لیکر طوبی کے برابر بنچ پر آبیٹھے تھے بچیاں کچھ فاصلے پر جھولوں میں مگن تھیں۔
    تھک بھی نہیں رہیں کب سے گول گول گھوم رہا یہ جھولا میرے دیکھ دیکھ کر سر میں درد ہوگیا۔
    عزہ نے خاموشی توڑی
    ٹیلی اسکوپ نیچے کی تو سامنے دس بارہ سال تک کے کئی بچے بڑے ذوق و شوق سے انہیں سر اٹھا کر دیکھتے نظر آئے۔۔ اسکی ٹیلی اسکوپ گھومتے دیکھ کر انہیں شائد اندازہ ہوا کہ انہیں ہی دیکھا جا رہا سو اچھل اچھل کر خوب شو مچا جانے کیا نعرے لگانے لگے۔ ان سے اچھے خاصے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھی انکی بےہنگم چیخ و پکار انکی سماعتوں کی نظر ہو رہی تھی۔
    وہ تھوڑی دیر دیکھتی رہی پھر انہیں ہاتھ ہلا دیا۔ انکا شور تھوڑا اور بلند ہوا
    کیا کر رہی ہو۔
    عشنا کو بھی دلچسپی ہوئی۔ وہ بھی اپنی ٹیلی اسکوپ گھمانے لگی
    وہ دیکھو بچے خوش ہو رہے ہمیں دیکھ کر۔ عزہ نے بتایا
    بچے خوش نہیں حیران ہو رہے اور کچھ بڑے بھی۔
    عشنا نے گھمایا تو انکو کئی جوڑے راہ چلتے پارک میں گھومتے لوگ انہیں سر اٹھا اٹھا کر دیکھتے نظر آئے
    یہ سب ہمیں کیوں گھور رہے۔ عزہ چونکی
    آج تو ہم برقعہ یا عبایا بھی پہن کر نہیں آئے ہیں۔
    کیونکہ اٹھائیس ڈگری میں اس لوہے کے پنجر پر دو پگلوٹ دھوپ سینکتی بیٹھی نظر آرہی ہیں انہیں۔۔ عشنا نے اسکی حیرت کم کرنی چاہی۔۔
    اسکی بات پر عزہ نے دوبارہ دور بین میں دیکھا
    سب ہی شارٹس اسکرٹ منی اسکرٹ میں ملبوس گرمی منا رہے تھے ان میں ہم یقینا خلائی مخلوق ہی لگ رہی ہوں گی انہیں۔عشنا کی وضاحت یقینا درست تھی
    ہاں تو ہم میں نہیں اتنی گرمی بھری ہوئی۔ ہاں دھوپ تھوڑی چبھ تو رہی ہے۔ مگر گرمی والی دھوپ تو نہیں۔
    عزہ نے خفت مٹانی چاہی۔
    دفع کر ہم جو کام کرنے آئے ہیں وہ کریں۔ اس نے کہہ کر طوبی کی جانب رخ کیا۔
    دونوں میاں بیوی انہیں ہی دیکھ رہے تھے طوبی نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا تو بری طرح بوکھلا کر عزہ کےہاتھ سے ٹیلی اسکوپ چھٹ سی گئئ۔ جلدی سے اس نے سنبھالنا چاہا تو ٹیلی اسکوپ تو ہاتھ میں آگئ مگر وہ خود سلائیڈ پر آگے کھسک آئی تھی۔نتیجتا پھسلی عشنا نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ پھسلتی گئ اسکے اپر کا ہڈ مٹھی میں آگیا۔ یوں ساتھ ہی عشنا بھی اسکےپیچھے پیچھے ہی آئی۔ فضا میں کچھ چیخیں ابھریں اور دونوں کی گھاس پر کریش لینڈنگ بڑے اہتمام سے ہوئی۔ طوبی اور دلاور بھاگے بھاگے آئے تھے
    …………………………………۔۔۔۔۔۔۔
    وہ پورا بھالو بور ہو کراکٹھے مروڑ کر منہ میں رکھ رہی تھی جب دلاور کی نگاہ اس پر پڑی۔ فورا صائم کو گود میں اٹھا کر اسکے پاس چلے آئے
    بھوک لگ گئ؟ کیا کھائوں گئ۔پاکستانی یا کورین؟
    مجھ سے نہیں سوپ سے چاول کھائے جاتے۔ کم ازکم گاڑھا سالن جیسا تو ہو پانی جیسا سوپ ابلے چاولوں کے ساتھ لا رکھتے ہیں اس سے بہتر بندہ گھر میں ڈھیلی سی کھچڑی بنا کر چٹنی سے کھالے۔
    طوبی کا جواب حسب توقع تھا وہ مسکرا دیئے۔
    چلو پھر کسی پاکستانی ریستوران چلتے ہیں۔ بچوں کو ایکوریم کسی اور دن لے جائیں گے فی الحال تمہارا چیک اپ ضروری ہے۔ میں نے اپائنٹمنٹ لے لیا ہے لیڈی ڈاکٹر سے۔
    کیوں ؟ مجھے کیا ہوا۔۔ وہ حیران ہوگئ۔
    اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔ وہ اتنا بے ساختہ بولے کہ طوبی کی آنکھیں سجل علی کی آنکھیں لگنے لگیں۔
    صبح ابکائی آرہی تھی نا کھانا وانا کھانا مشکل نہ وہ خوب پیٹ بھر کر کھاسکو کوئی اچھی سی دوا ہی لکھوا لیں گے۔ یہاں کے ڈاکٹرز بہت قابل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے دلیل دی۔
    ہوں۔ طوبی سر ہلا کر رہ گئ
    پھر خیال آیا تو پوچھنے لگی۔
    ہم عشنا عزہ کو بھی ساتھ لے چلیں ؟
    انکو ؟ دلاور چونکے۔
    انکو بلائوگی انکو آنے میں بھی وقت لگے گا۔۔ ہم پھر کسی دن
    وہ رہیں۔اس نے اشارہ کیا دلاو ربھی چونک کر مڑے۔ وہ اب ہاتھ ہلا رہی تھی عزہ کو عزہ انکے ہاتھ ہلانے پر چونکی تھی اور۔۔۔۔
    ……………………….۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا مقام تھا وہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔۔ ایک تو پہلے بڑے ہونے کے بعد تو شائد پہلی بار پھسلن سیڑھی کی سیڑھیاں چڑھی تھیں دوسرا اتنی لمبی سلائیڈ تو اسکے خاندان میں کسی نے نا لی ہوگی یہ جھولا ہی کوریا میں لگا تھا۔ دو منٹ کیا اسے تو لگا تھا دو گھنٹے لگ گئے اسے پھسل کر نیچے آتے۔ابھئ گر کر حواس قابو بھئ نہ آئے تھے کہ عشنا بھی اس پر آن گری۔
    اسکے برعکس وہ سرعت سے اٹھ کراسے ہلا نے لگی۔ اس نے بس اتنا رحم کیا عشنا پر کہ ٹانگیں سمیٹیں اور گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھ گئ۔
    کیا ہوا چوٹ تو نہیں لگی۔ طوبی بھاگی بھاگی آئی تھی۔
    دلاور طوبی کے پیچھے۔
    آہستہ بھاگو مت۔گر نا جانا کہتے آرہے تھے
    عزہ نے فیصلہ کیا تھا اب قیامت تک سر نہ اٹھائے گی مگر عشنا نے اسکا انجر پنجر ہلا دیا۔۔
    میں ڈاکٹر کو فون کرتی ہوں۔
    یہ عشنا تھی
    ارے یہاں کلینک ہوگانا۔ اتنے جھولے ہیں ایمرجنسی سروس ہوتی یے امیوزمنٹ پارک کی میں بلاتا ہوں۔
    آں۔ عزہ کو سر اٹھانا ہڑا
    سلائیڈ لی ہے بس ۔سلائڈز اسی لیئے تو ہوتے ہیں۔بس تھوڑی اونچی ذیادہ تھی۔ٹھیک ہوں میں۔
    عزہ جزباتی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بالکل ٹھیک۔ اس نے کھڑے ہو کر چل کر بھی دکھانا چاہا۔ مگر ساری پھرتی دھری کی دھری رہ گئ۔ سیدھا واپس نیچے آنے لگی کہ عشنا نے بروقت تھام لیا۔

    ………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریسیپشن پر کھڑی نرس نے انہیں سمجھانا چاہا تھا
    دیکھیں ایک وقت میں بس ایک بندہ جائے۔ اپائنٹمںٹ مسز دلاور کا ہے صرف وہ جائیں
    آپ نے اپنے نام سے اپائنٹمنت لیا ہوا تھا۔
    عشنا مڑی۔
    مجھے بھی دکھانا ہے صبح سے متلی سی ہورہی ہے۔
    طوبی نے خالص اردو میں عزہ کو تھامے ہوئے بتایا
    مگر انکو ایمرجنسی نظر نہیں آرہی پائوں مڑ گیا بچی کھڑی تک نہیں ہو پارہی انکی چھےس سونگیو نہیں مک رہی چھڈو جی۔
    طوبئ کو۔غصہ آگیا۔
    چھے سونگیو دے۔ نرس نے جھک کر متانت سے کہنا چاہا
    عشنا نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا۔
    طوبئ نے عزہ کو دیکھا اسکا پائوں پھول کے کپا ہوچکا تھا۔
    اس نے آئو دیکھا نا تائو ڈاکٹرنی کے کمرے کا گلاس ڈور کھولا غڑاپ سے اندر۔۔
    نرس ابھی انکی پھرتی پر حیران بھی نہ ہوئی تھی صحیح طرح کہ عشنا نے بھئ کمال کر ڈالا دبلی پتلی عزہ کی کمر میں بازو ڈالا سارا بوجھ خود پر لیتے ہوئے غڑاپ سے اندر۔
    ڈاکٹرنی انہیں دیکھ کر پہلے حیران پھر پریشان بھی ہوگئ۔۔۔۔ اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دونوں ہاتھ ہینڈز اپ کر لیئے
    ڈاکا پڑ گیا یقینا اسے یہی خیال آیا تھا۔ شکل پر۔لکھا تھا۔
    وہ اسکا جھولے سے گر کر پائوں مڑ گیا ہے۔ دیکھیں۔ طوبی سے پہلے عشنا نے شستہ ہنگل جھاڑی۔
    پائوں ؟
    ڈاکٹرنئ نے تھوک نگلا۔ پھر اپنی میز پر رکھا نیم کارڈ درست کیا۔
    پر میں تو گائنا کولوجسٹ ہوں۔ اگلی حیران تھئ۔
    گھبرا کے اندر بھاگی آئی نرس اپنی صفائی دینے لگ گئ
    وہ میں نے روکا تھا انہیں۔۔
    ڈاکٹرنئ نے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
    عشنا نے عزہ کو صوفے پر بٹھا دیا تھا۔
    کین چھنا کین چھنا۔
    ڈاکٹرنئ نے نرس کو اشارے سے اطمیناں دلاتے عزہ کا پائوں دیکھنا شروع کیا۔
    گائنا کالوجسٹ ہے یہ تو طوبی جی ہمیں کہاں لے آئی ہیں۔ عزہ منمنائی۔
    طوبئ آرام سے بیٹھ کر اسکی ڈگریوں کی تفصیل والا نیم کارڈ اٹھا کے پڑھنے لگی یہ الگ بات کہ سب ہنگل میں لکھا تھا۔
    ہوتی تو یہ بھی پوری ڈاکٹرہیں۔ فکر نہ کرو۔
    عشنا نے تسلی دی۔

    …………………………۔۔۔۔۔۔۔
    نرس نے اسکے پائوں میں دوا لگا کر پٹی باندھ دی تھی۔۔دو ایک۔بار ذرا غور سے اس نے دیکھا تو عزہ نے گہری سانس لیکر اپنا ماسک نیچے کردیا۔۔۔۔ اندر انسانوں والی شکل دیکھ کر اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔
    عشنا طوبی کے ساتھ ساتھ لگی تھی ڈاکٹر کی مترجم بنی ہوئی۔طوبی کو خاصا سہارا ہوا۔۔ پھر جب وہ اسے لیکر چیک اپ کیلئے جانے لگی تو ڈاکٹر نے باقائدہ ہاتھ سے روکا
    بس ٹھیک ہے آپ باہر بیٹھیں۔
    وہ سر کھجاتی عزہ کے پاس آبیٹھئ
    انکا پائوں بری طرح مڑ گیا ہے مجھے ڈر ہے اندر سے مسل نہ پھٹ گیا ہو سوجن بہت ذیادہ ہے۔ پائوں کی حرکت بھی درست نہیں شائد پلستر کرنا پڑ جائے ہڈی کو ہلکی ضرب لگی ہے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے۔ آپ۔کسی اچھے سے فزیشن کو دکھائیں میں نے سن کرنے والا اسپرے کر دیا ہے گھنٹے دو گھنٹے تک آرام رہے گا تب تک آپ اپائنٹمنٹ لے لیں۔
    نرس نے عشنا کو بتایا وہ سر ہلا کے رہ گئ۔ نرس جھک۔جھک کر سلام کرتی باہر۔نکل گئ
    یار قسم سے کوریا تو بہت اچھا ہے مجھے لگا تھا پکی موچ آگئ ایک دو ہفتے لگیں گے اب مجھے لنگڑا کے چلتے۔۔ اس نے تو میرا درد بالکل غائب کردیا جیسے مجھے چوٹ لگی ہی نہیں۔ عزہ خوش تھی۔
    اب طوبی اور دلاور کو کیا کہوں کہ اسپتال بھی چلیں؟ ہم نے انکا سارا فیملی ٹائم برباد کردیا بے چاروں نے ریستوران جانا تھا ۔ گھر چلتے ہیں ہلدی چونا مل دیں گے رات گزر جائے گی عروج دیکھ لے گی کیا مسلئہ ہے۔
    سوچتے سوچتے اسے یہی حل۔مناسب لگا
    طوبی اندر جاتے وقت تو ٹھیک تھی اب تو لگتا تھا جیسے اب گری کہ تب ڈاکٹر کے سہارے آتے دیکھ کر وہ دونوں گھبرا گئیں
    کیا ہوا طوبی جی؟ مارا ہے کیا انہوں نے ؟
    عزہ نے یہ بات ہرگز مزاق میں نہیں کی تھی۔
    خوش ہونا چاہیئے خون کے آنسو رورہا ہے دل ہائے۔۔ عزہ مجھے پانی پلائو۔ میرے دل کو پنکھے لگے ہیں۔
    طوبی دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی۔
    سن پائوں کے ساتھ عزہ جھٹ اٹھئ تھی سامنے واٹر ڈسپنسر سے پانی لینے مگر جب کھڑی ہوئی تو ہفت اقلیم گھوم سے گئے۔پائوں نے وزن تو اٹھایا ہی نہیں چکرا کر جھٹ سے بیٹھ گئ
    کیا ہوا طوبی جی۔
    طوبی ساکت سی بیٹھئ زمین گھوررہی تھی۔
    کیا ہوا کیا بتایا ہے آپ نے؟ عشنا مڑ کر ڈاکٹر سے ہی پوچھنے لگئ
    یہی کہ خوشی کی خبر ہے آپ ماں بننے والی ہیں۔
    ڈاکٹرنئ مسکرا کر بتا رہی تھئ۔
    کیا میں؟
    عشنا کا دماغ ترجمے میں لگا تھا۔
    اچھل پڑی۔ڈاکٹرنئ اس سے بھی ذیادہ زور سے اچھلی
    نہیں نہیں۔۔ یہ۔ اس نے اس بار اشارہ بھی کیا
    ہیں۔۔ عزہ اور عشنا گھوم کر طوبی کو دیکھنے لگیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
    طوبی اور عشنا عزہ کو سہارا دیکر ٹیکسی سے اتار رہی تھیں۔دلاور کا بس نہیں تھا عزہ کو پنگ پانگ بال۔کی طرح اوپر اچھال کر اپارٹمنٹ میں پہنچا دیں۔
    آہ ہائے۔ ہر قدم پر عزہ کی ہائے نکل رہی تھی ایک جانب سے عشنا نے سارا وزن لیا تھا تو دوسری جانب طوبی کا مضبوط سہارا۔۔
    طوبی آرام سے۔ احتیاط سے۔۔
    صائم کو گود میں لیئے دلاور کی سب فکریں طوبی سے جڑی تھیں
    دلاور چوٹ مجھے نہیں عزہ کو لگی ہے
    طوبی نے دانت کچکچا کر گھورا۔
    ابھی تو انکو پتہ نہیں کہ طوبی جی کے آہ۔
    عزہ بولنے سے باز نہ آئی سرگوشی کردی عشنا کو تبھی عشنا بےدھیان ہوئئ
    کم بخت کوریا والے بھی دو نمبر دوا بنانے لگے ہیں لگتا ہے
    کھیل کے میدان میں تو اسپرے کرتے تو کھلاڑی دوڑتے پھرتے اسکا آدھے گھنٹے میں سارا اثر ختم ہوگیا۔
    طوبی بڑبڑا رہی تھی
    طوبی آگے اسٹیپ ہے۔
    دلاور نے پھرٹوک ڈالا
    آپ لفٹ تو روک لیں جاکر اسے انتظار نہ کرنا پڑے
    طوبئ نے انکو چلتا پھرتا کردیا
    وہ گہری سآنس بھرتے رفتار بڑھا گئے۔
    زینت اور گڑیا بھاگ بھاگ کے انکے آگے گلاس ڈور کھلوا رہی تھیں ۔۔
    لفٹ سےنکل کر دلاور تو اپنے اپارٹمنٹ چلے گئے طوبی کے پیچھے دونوں بچیاں بھی انکے اپارٹمنٹ چلی آئیں۔
    فاطمہ اور عروج لائونج میں فلم دیکھ رہی تھیں انہیں دیکھ کر بھاگئ آئیں جیسے ہی عزہ کو سہارا دیا طوبی اور عشنا جھٹ سے منے صوفے پر آن گریں۔۔عشنا نے اپنا موبائل نکال کر وقت دیکھا تو ساڑھے دس ہو رہے تھے۔۔
    کیا ہوا عزہ ؟ واعظہ نے پوچھا تو وہ روہانسی ہوگئ۔
    مجھے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ فاطمہ اور عروج اسکا وزن سہارے کھڑی تھیں عشنا کو ہی کھسک کر زمین پر آنا پڑا۔ کارپٹ پر بیٹھئ زینت موبائل میں کوئی گیم کھیل رہی تھی گڑیا کی توجہ البتہ ٹی وی کی جانب تھی۔ ہیرو ہیروئن قریب آرہے تھے فاطمہ نے جھپٹ کر ریموٹ اٹھایا اور کارٹون لگا دیئے۔
    بد مزا ہو کر گڑیا نے اسے دیکھا وہ بےنیاز سی بن گئ۔
    عزہ کویڈجسٹ کرا کر واعظہ پانی لینے دوڑ گئ
    کیا ہوا کیاہوا؟ عروج نے دو درجن بار پوچھ لیا اتنی دیر میں۔
    اس نے سلائیڈ لی تو پائوں مڑ گیا۔
    عشنا نے بتایا تو عروج حیران ہو کر مڑی
    کیوں بھئی کیا شوق چڑھا تمہیں؟
    کیوں بھئ کیاغلط کر ڈالا میں نے وہ بڑوں کیلئے ہی سلائیڈ تھی۔ یہاں کی اتنی بڑی بڑی لڑکیاں بھاگتی دوڑتی جھولے جھولتی پھرتی ہیں بس پاکستانی لڑکیوں کیلئے حرام ہو جاتا بڑے ہو کر سب کچھ۔
    عزہ نے ایسے بلبلا کر کہا کہ عروج کو لگا وہ اسکی سخت گیر پھپھو ہے جس نے باتیں بنا بنا کر عزہ کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ کندھے اچکا کر بولی
    مجھے کیا میری طرف سے جائو سی سا پر جا بیٹھو زینت اور گڑیا دونوں کو بٹھا لینا ساتھ اور پھر بھی اڑ جانا
    اس نے اسکی دبلی پتلی جسامت کو نشانہ بنایا تو وہ تڑپ گئ۔
    بچوں کو کیوں تمہیں بٹھائوں گی اتنا اونچا اڑوں گی کہ سیدھا چاند پر جا کے رکوں گئ۔
    عروج بے چاری موٹی تو نہیں تھی مگر کسی کو دبلا کہو تو وہ آگے سے آپکو موٹا بنا ہی دیتا
    میں اپنے ساتھ واعظہ کو بٹھا لوں گی سیدھا مریخ کا رخ کرلینا۔
    وہ کیوں باز آتی۔
    ارے۔ واعظہ بھنا گئ۔ پہلے ہی دو ایک مہینے سے اسے لگ رہا تھا وزن تھوڑا بڑھ گیا ہے۔
    مجھے کیوں بیچ میں لا رہی ہو تم دونوں جائو کائنات کی سیر پر میں زمین میں ہی خوش ہو۔
    نہیں تو یہ ۔۔ عزہ نے کہنا چاہا طوبی نے برداشت جواب دے گئ
    اف بس کرو یہ بحث میرا سر پھٹ رہا پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں۔
    اسکے تڑپ کر کہنے پر ایکدم سب خاموش ہوگئیں
    اتنی دیر سے ضبط کیئے بیٹھی طوبی نے چہکوں پہکوں رونا شروع کردیا۔
    امی کیا ہوا۔ زینت موبائل پھینک کر ماں سے لپٹ گئ
    زینت بھی پریشان ہو کر اٹھ آئی۔ طوبی نے دونوں کو ساتھ لگالیا
    طوبی جی بچے پریشان ہو رہے ۔۔۔
    واعظہ پانی کا گلاس طوبی کیلئے بڑھاتئ منمنائی۔
    تم دونوں کیا سر پر سوار ہوگئ ہو جائو باپ کا دماغ کھائو آرہی ہوں میں آدھے گھنٹے میں۔
    طوبی کے بھئ دل کو لگی بات جھٹ دونوں کو جھٹکے سے الگ کرکے آنسو پونچھے۔ ۔
    واعظہ اور فاطمہ نے زینت اور گڑیا کو اپنے ساتھ لگالیا
    مما نیند آرہی ہے۔ زینت بسوری۔۔
    تو میں کیا کروں اتنی بڑی ہوگئ ہو جائو سوئو ۔۔
    طوبی نے لہجہ سخت دل پتھر کر لیا
    آپ دونوں جائو گھر مما ابھی آتی ہیں بس دو منٹ میں
    فاطمہ نے بہلا پھسلا کر دونوں کو بھیجنا چاہا۔ماں سے ڈری ہوئی دونوں سر ہلاتی جانے لگیں
    موبائل تو لے جائو پاپا کا۔ عشنا نے یاد دلایا تو زینت بھاگی آئی اور موبائل کارپٹ سے اٹھا کر گڑیا کا ہاتھ پکڑ کر چلی گئ۔
    اب رو لوں۔
    انکے جانے کے بعد طوبی نے منہ لٹکا کر اتنی معصومیت سے پوچھا کہ وہ سب نثار ہوگئیں۔
    عزہ نےاپنا درد بھول کر گلے میں بانہیں ڈال لیں۔ فاطمہ بھی صوفے کے ہتھے پر آٹکی۔ واعظہ نے گلاس آگے بڑھانا چاہا مگر وہ کارپٹ کو گھورتے ہوئے یاسیت سے کہہ رہی تھی
    میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا ہوگا۔
    عزہ نے سر سہلایا
    کوئی بات نہیں طوبی جو ہوتا اچھا ہوتا کیا ایک نیا پھول کھلنے والا ہے آپکے آنگن میں۔
    دلاور جو گل کھلا رہے اسکے بعد تو مجھے اس پھول کی او رفکر ہورہی ہے۔ اس چڑیل کے کہنے پر دلاور نے چھوڑ دیا مجھے تو میں چاروں بچوں کو لیکر کہاں جائوں گی۔
    طوبی نے بین کرنا چاہا
    ویسے طوبی یہ خوش ہونے والی بات ہے آپ رو رو کر ناشکری نہ کریں۔
    عشنا نے کہا تو عروج فاطمہ اور واعظہ نے گھور کر دیکھا
    انکی زندگی میں سوتن آرہی ہےاور تم کہہ رہی ہو خوش ہونے والی بات ہے
    فاطمہ نے کہا
    تو اور کیا طوبی کیا پتہ نئی آنے والی خوشی کا سوچ کر دلاوربھائئ بھی باز آجائیں۔۔
    تو اور کیا آپ طعنہ دیا کریئے گا تین تین بیٹیوں کے باپ ہو کر بھی باہر چکر چلا رہے۔ شرم کریں ۔
    عزہ نے آستین چڑھائی۔
    تین بیٹیاں؟ فاطمہ کا انداز سوالیہ تھا
    ویسے میں بیٹا اور بیٹی میں فرق کرتی نہیں مگر صائم کا بھی جوڑی دار آجائے تو اچھی بات ہے نا۔
    ویسے دو بیٹیوں کے بعد بیٹا ہوتا ہے دادی کہتی تھیں مگر پھر ہماری بھئ بہن ہوگئ تھی پھر۔
    عشنا نے معلومات میں اضافہ۔کیا
    چلو۔جو بھی ہو۔ طوبی جھینپ سی گئ
    میری عقل گھاس چرنے چلی گئ ہے یا تمہیں بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا؟
    عروج واعظہ کے کان میں گھسی
    فاطمہ بھئ سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی واعظہ کو۔۔جس نے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائے
    تو کیا آپ اسلیئے رو رہی ہیں کہ آپکے یہاں پھر خوشخبری ہے۔ ؟
    اس نے اندازہ لگا یا تھا مگر طوبی خفا ہی ہوگئ۔۔
    آنسو پونچھ کر بگڑ کر بولی
    لو میں اس بات پر کیوں روئوں گی ؟ یہ تو خوشی کی بات ہے۔ میں ابھی ساس کو بھی فون کر تی ہوں بلکہ پہلے امی کو کرتی ہوں کیا ٹائم ہو رہا ہوگا اس وقت پاکستان میں۔ وہ عزہ سے کہہ رہی تھی۔جوابا وہ کیلکولیٹ کرنے لگی
    پل میں تولہ پل میں ماشہ یقینا طوبی کیلئے محاورہ بنایا گیا تھا۔اس وقت شرماتی خوشی سے اچھلتی طوبی کے ابھی بھی پلکوں پر آنسو دھرے تھے
    چوتھے بچے کی خبرپر بھی اتنی خوشی ہوتی ہے؟
    فاطمہ دھیرے سے اٹھ کر انکے پاس آبیٹھی اور سرگوشی میں کہا
    جبھئ تو ہم اٹھارہ انیس کروڑ ہوچکے ہیں۔
    عروج بھئ بڑبڑائئ۔
    واعظہ نے ایک نظرعشنا عزہ اور طوبی کو دیکھا پھر گلاس بھر کر پانی خود ہی پی لیا۔ پھر دھیرے سے بولی
    الف کہاں ہے؟
    آرہی ہوگی آج ریڈیو جانے کا کہہ کر گئ تھئ۔ عروج نے بتایا تھا۔ تبھئ کارپٹ پر پڑے فون کی جل بجھ کرتی روشنی نے فاطمہ کی توجہ کھینچ لی اس نے فون اٹھایا تو کال آرہی تھی۔۔اس نے نام پڑھا پھر سب کی نظروں میں آئے بنا چپکے سے اٹھ گئ۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دھیرے دھیرے سرجھکائے چلتی ہوئی بس اسٹاپ پر آبیٹھی۔ تھوڑی دیر قبل کا منظر ذہن میں تازہ ہوا تھا۔
    ای جی آ کا انٹرویو شیڈول میں ہےتم اس سے پہلے استعفی نہیں دےسکتی ہو۔ اور اب تو جاکے ریٹنگ آنا شروع ہوئی ہے یہ کونسا وقت ہے سب چھوڑ بیٹھنے کا؟ لڑکی سچ بتائو کسی اور جگہ نوکری لگ گئ یے؟میں پیسے بڑھا دیتا ہوں مگر یہ واحد انگریزی زبان کا شو ہے ہمیں چین جاپان چھوڑ امریکہ تک سے لوگ سننے لگے ہیں ہم وہاں کے ایک ریڈیو چینل۔سے بھی تعاون کر رہے ہیں تمہیں اندازہ ہےیہ تمہارے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے پھابو۔
    اسکے پروڈیوسر صاحب کی بس اپنے بال نوچنے کی کسر رہ گئ تھی باقی ہر حربہ آزما لیا تھا وہ ٹھس سی کھڑی دیکھتی رہی۔
    مجھ سے اب شو نہیں ہو پارہا۔
    وہ دھیمے لہجے میں بڑ بڑائی تھی۔
    وہی تو پوچھ رہا ہوں ۔ مجھے یقین نہیں آتا تم وہی لڑکی ہو میں پہلے سے ذیادہ محنت کروں گئ ریٹنگ 9 آئے گی اس ہفتے دیکھئے گا اس دفعہ یہ موضوع رکھیں ایکسو کو بلائیں کیا کچھ آئیڈیاز ہوتے تھے تمہارے پاس اب کیا ہوگیا ہے۔ اور سیہون تو تمہارا سب سے ذیادہ پسندیدہ تھا نا ؟ اس نے اتنی مشکل۔سے ژیہانگ کے کہنے پر وقت نکالا ہے ہم پروموشن کر رہے انٹرنیشنل فینز انتظار کررہے ہیں اس شو کا۔ پہلے ژیہانگ چھوڑ گیا اب تم استعفی لا کر رکھ رہی۔ہو کیوں میری روزی پر لات مارنے پر تلی ہو لڑکی۔۔
    پہلی ڈانٹ سے اب تک ہر موقعے پر پہلے سے ذیادہ دل لگا کر کام کرنے کے دعوے کرنے والی جی جان لڑا دوں گی والی الف کہیں جیسے کھو سی گئ تھی۔ ابھی بھی ٹھس سی کھڑی سر جھکائے سنتی رہی
    میں نہیں جانتا سیہون کا انٹرویو تو تمہیں ہی لینا پڑے گا اسکے بعد دیکھیں گے۔ تب تک تم۔بھی اچھی طرح سوچ لو۔
    وہ مزید کہتے کہتے رک کر بات ختم کرگئے۔
    آج کیا تاریخ ہے؟
    اس نے سامنے کلنڈر پر نگاہ ڈالتے آہستہ سے پوچھا تھا۔
    بس آ کر رکی تھی۔ کافی دیر سے بس کے انتظار میں کھڑے لوگ لپک کے چڑھے تھے۔ اسے بھئ اسی بس میں چڑھنا تھا مگر سب کو تیزی سے بڑھتے دیکھ کر بھی وہ اٹھی نہ تھی۔
    چندی آنکھوں والے لوگ بس میں بیٹھے تھے اور بس چل پڑی تھئ۔
    بیس دن رہ گئے۔ اس نے گہری سانس لیکر سرنشست کی پشت سے ٹکا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبئ کو کیسے پتہ چلا کہ تم دونوں بھی وہیں پارک میں موجود ہو انہوں نے پوچھا نہیں؟ پیچھا کرتے تو نہیں دیکھ لیا تھا۔
    عروج سوال پرسوال داغ رہی تھی۔
    نہیں انہیں کیا پتہ کہ ہم انکا پیچھا کر رہے تھے وہ تو یہی سمجھیں کہ ہم بھی پارک گئے ہوئے ہیں۔۔
    عزہ منمنائی۔
    پھر بھی وہ منہ پر ماسک ہونے کے باوجود کیسے پہچان گئں۔۔؟
    عروج کے سوال میں دم تھا۔
    طوبی جی جاتے ہوئے ہمیں رات کا بھنا ہوا مرغ دے کر گئ تھیں کہ آج انکا پروگرام باہر کھانا کھانے کا ہے۔ اس وقت میں او رعشنا بس تیار ہو کر نکلنے ہی لگے تھے۔۔
    عزہ نے بتاتے ہوئے سر جھکا لیا۔
    عروج جو اسکا پائوں ٹھونک بجا کے دیکھ رہی تھی ایکدم سے سیدھا کر گئ
    آہہہہہہہ۔ عزہ کی چیخ ہی نکل گئ
    یہ بنیں گی جاسوس پتہ لگائیں گی اس چڑیل کا جو طوبی کا گھر برباد کر رہی ہے۔
    عروج نے فضیحتے کرنے والے انداز میں کہا تھا۔وہ سب واعظہ کے کمرے میں محفل۔لگا کے بیٹھی کارکردگی سنا رہی تھیں۔ واعظہ منہ تک کمبل تانے لیٹی تھی جبکہ عروج ڈبل بیڈ پر عزہ کے بنا چاقو چھری آپریشن میں مصروف تھی عشنا ان سب کیلیے چائے بنانے گئ ہوئی تھی الف اپنے کمرے میں بند تھئ۔
    ہائے عروج مار ڈالا قصائی نہ ہو تو۔
    عزہ پیر پکڑے دہری ہورہی تھئ۔
    موچ تھئ سیدھی اسکو سیدھا کیئے بنا جتنا مرضی اوپر سے پٹیاں باندھ لو کوئی فرق نہیں پڑنا۔اب ہلدی دودھ پیئو سو جائو۔۔
    عروج سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے مزے سے بولی
    تبھئ عشنا ٹرے میں کپ سجائے اندر داخل ہوئی تو عزہ کو یاد آیا۔
    کل صبح مجھے اپنے ساتھ لے جائو ایکسرے کروائو پتہ نہیں کیا کیا بتایا تھا ڈاکٹر نے عشنا کو۔۔۔
    ہاں کہہ رہی تھئ کہ ایکسرے کروائو سوجن بہت ہے ہڈی کو ضرب بھی آئی ہے۔ اور شائد مسل بھئ پھٹ گیا ہے
    اس نے عروج کے سامنے ٹرے کی۔اس نے کپ اٹھایا عزہ کے سامنے چائے کی تو وہ اسے گھورنے لگ گئ
    ہڈی میں ضرب مسل پھٹ گیا تم مجھے گھر لے آئیں۔۔
    اسکا صدمے سے برا حال تھا۔ عشنا نے نظرچرا کر فاطمہ کی۔جانب ٹرے کردی
    فاطمہ موبائل میں مگن تھئ۔مگر کپ اٹھا لیا عشنا دوبارہ عزہ کی۔جانب مڑئ
    چائے تو لے لو پائوں میں موچ ہے ہاتھ سلامت ہے
    اس نے یاد دلاتے ہوئے ٹرےاسکے اور عروج کے بیچ بیڈ پر رکھی اور سہولت سے واعظہ کے بیڈ پر اسی کے اوپر بیٹھ گئئ ۔۔ کمبل میں فوری تحریک ہوئئ تھی
    عزہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگی اتنی ناقدری
    دیکھو مانا میں تم لوگوں کیلئے اہم نہیں مگر اپنے گھروالوں کی چشم و چراغ ہوں مجھے یوں بجھائو تو نہیں۔۔ اتنا ظلم کیا میرے ساتھ کیا بگاڑا تھا میں نے۔ وہ پھٹ ہی تو پڑئ۔
    اسکو میں کہتی رہی کہ مجھے اسپتال لے جائو واپس لے آئی کہ عروج دیکھ لےگی۔ میں معزور ہوگئ نا تو تم سب پر ۔۔ سوچ میں پڑی فورا یاد آیا۔۔۔۔۔۔ س سسو کر دوں گئ۔
    کیا۔عروج و فاطمہ اچھلیں۔
    کیوں بھئ اس میں سوسو کرنے کی کیا بات ہے۔
    عروج شدید حیران تھئ۔
    ہاں تو کیا سوسو کرنے سے پائوں جڑ تھوڑی جائے گا۔
    فاطمہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائئ۔
    اف سو سو نہیں سو کروں گئ ؟ عزہ جھلا گئ۔
    وہ بھی کیوں کروگی؟ ایک تو بنا فیس لیئے پائوں دیکھا تمہارا۔ ویسے پائوں تمہارے صاف تو تھے نا۔
    عروج نے چھیڑا تو جوابا عزہ نے اسکی گود میں ہی رکھ دیے
    دیکھ لو تسلی کرلو۔
    یار یہ کمبل میں کیا پڑا ہوا ؟عشنا نے کمبل سمیٹ کر ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہا
    واعظہ دبی ہے اس میں۔
    واعظہ نے کمبل سے منہ نکال کر گھورا
    سوری۔ عشنا سیدھی ہوئئ۔۔
    یہ چائے لے لو واعظہ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ فاطمہ نے ٹرے میں اکلوتا بے آسرا کپ دیکھ کر یاد کرایا
    میں نے تو چائے نہیں بنوائئ تھی۔ واعظہ نے کہا تو عروج بڑبڑائئ۔
    اچھا کیا۔
    یہ الف کی ہے میں نے جا کر اسے دی تو بگڑ گئ کہ یہ کونسا وقت ہے چائے کا۔ حالانکہ میری یادداشت میں ایسی بہت سی راتیں ہیں جن میں تین بجے اٹھ کر اس نے چائے بنا کر پی اور پھر سوگئ۔
    اسکی رواں اردو عروج اور فاطمہ تو الگ کمبل سے واعظہ نے منہ نکال کر اسکی شکل دیکھی
    عزہ کا منہ کھلا کا کھلارہ گیا تھا۔
    تھیبا۔
    تمہاری اردو بہت اچھی ہے۔ عروج نے طنز کیا تھا
    میری امی لکھنئو کی ہیں۔وہ تو شاعر بھی ہیں۔
    عشنا نے فخریہ بتایا۔
    فاطمہ نے واعظہ کو واعظہ نے عروج کو عروج نے عزہ کو عزہ نے کندھے اچکا کر فاطمہ کو دیکھا عشنا چائے کا گھونٹ بھرنے میں مگن تھی۔ فاطمہ نے واعظہ کو دیکھا جس کی پیشانی پر شکن پڑ چکی تھئ۔
    کیا ہوا سب چپ کیوں ہو گئے۔
    عشنا نے حیران ہو کر پوچھا۔
    کچھ نہیں۔ وہ ہم سوچ رہے کہ طوبی جی کا مسلئہ کیسے حل کریں۔ جاسوسی تو فلاپ ہوگئ ہماری۔ سارا دن طوبی کے ساتھ ہی گزارا یے دلاور بھائی نے۔
    عزہ نے مایوسی سے چائے ایک اور گھونٹ بھرا پھر کپ ٹرے میں رکھ دیا

    تم سے بہتر تو میں ہو اس پوری پلاننگ میں شریک ہونے بنا بھی اہم خبر چرا لائی۔
    یہ فاطمہ اترا رہی تھی۔
    کیا خبر ہے ؟ عروج نے کڑے تیور سے گھورا۔
    اس لڑکی کا نام روزلین ہے جو طوبی جی کی نیندیں اڑائے ہے۔
    فاطمہ نے کہہ کر خوب اترا کر دیکھا۔
    تمہیں کیسے پتہ۔ چلا۔
    عروج اور عزہ چلائیں۔ اسے واعظہ کے ردعمل کا انتظار تھا اس نے بس اتنا احسان کیا کہ تکیہ اونچا کر کے بازو کے بل پر ہو کر اسے گھورنے لگی مطلب تھا مزید بتائو۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یار عزہ اورعشنا کو بھیج تو دیا ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیئے۔
    یہ عروج تھی۔ ان دونوں کےکمرے میں کھڑی کمر پر ہاتھ رکھ کر جمائیاں لیتے دیکھ کر جوش دلانے کی ناکام کوشش کرتئ۔
    ہاں صحیح کہہ رہی ہو سوجانا چاہیئے ۔ واعظہ نے کمبل تان لیا تھا۔
    عروج نے فاطمہ کو دیکھا جو اپنے بیڈ پر بیٹھی کمبل کا سرا ہی ڈھونڈ رہی تھی۔
    اچھا۔ وہ بھی متفق ہوگئ۔ آکر فاطمہ کے برابر ہی کمبل میں گھس گئ۔
    ………………………………………………….

    اتنا بے موقع فالتو بےکار فلیش بیک دکھانے کا مقصد۔
    عشنا نے گھور کر انہیں دیکھا۔
    ہم دونوں باہر دھوپ میں خوار ہو رہے اور تم لوگ سوتی رہی ہو سارا دن
    عزہ کو بھی غصہ آیا۔
    وہی میں حیران ہوں یہ میرے ساتھ سوتی رہی ہے تو اس کو خواب میں آئی یے روزلین؟
    عروج بھی گھورنے لگی
    فاطمہ نے مسکرا کر ان سب کے متجسس چہروں پر نگاہ ڈالی ہھر سیدھی ہو بیٹھی۔
    یہ فون ہے دلاور بھائی کا۔زینت شائد بھول کر چلی گئی۔ اس کا اتنی دیر سے میں پوسٹ مارٹم کر رہی تھی بیٹھی ہوئی سب کھنگال ڈالا ہے یہ تک بھی کہ روزلین سے انکے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔
    وہ بے تحاشہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب بچی سے کیا تفتیش کر رہے خود خیال رکھنا چاہیئے تھا آپکو۔ طوبی جمائی لے رہی تھی۔زینت اپنے بیڈ پر سرجھکائے بیٹھی تھئ گڑیا لیٹ چکی تھی اس پر۔کمبل درست کرتی طوبی جھلائی۔ دلاور ہونٹ بھینچ کر رہ گئے
    پتہ نہیں کس کا فون اٹھا لائی ہےاس کا تو لاک بھی نہیں کھل رہا کہ میں کال۔لاگ دیکھ کر مالک سے رابطہ کرلوں۔
    بابا میں نے باہر کسی کا نہیں اٹھایا۔ زینت منمنائی۔
    ہاں تو اور کیا میرے بچوں کو ادھر ادھر سے چیزیں اٹھانے کی عادت نہیں یقینا یہ واعظہ کے گھر میں سے کسی کا ہوگا۔ صبح پتہ کرلوں گئ۔آپکا بھی وہیں کہیں پڑا ہوگا اب بچی کو ڈانٹنا بند کریں پریشان ہو رہی ہے۔
    طوبی کے کہنے پر انہوں نے سر جھٹکا تو زینت پر نگاہ پڑی ہونٹ لٹکائے وہ مجرم سی بنی بیٹھئ تھی۔۔
    چلو۔سو جائو۔
    انہوں نے پیار سے اسکے سر پر تھپکی دی تو وہ مطمئن ہو کر مسکرا کر لیٹ گئ۔
    کمرے کی لائٹ وغیرہ بند کرکے وہ دونوں آگے پیچھے اپنے کمرے میں داخل۔ہوئے۔ صائم کاٹ میں کسمسا رہا تھا اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھپکا۔ کاٹ بیڈ سے جوڑا ہوا تھا وہ اسی کے سرہانے لیٹا کرتی تھی سو ابھی بھی فورا نیم دراز ہو کر تھپکنے لگی۔ دلاور اپنے بیڈ سائیڈ پر موبائل رکھنےلگے
    ڈاکٹر نے کیا بتایا سب ٹھیک ہے ؟ کیوں طبیعت خراب تھی؟
    انہیں خیال آیا۔ تو مڑ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    طوبی نے صائم پر نگاہیں جما لیں۔
    بس تھوڑی معدے میں تکلیف تھئ۔بس کوئی بڑا مسلئہ نہیں۔۔
    اچھا۔۔۔ دلاور کو اچنبھا سا ہوا۔
    اور کچھ میرا مطلب ہے۔۔۔۔ وہ رکے۔۔
    پورا مکمل چیک اپ کروایا ہے نا؟
    پورا چیک اپ کرکے ہی بتایا ہے ۔۔ طوبی کروٹ بدل کر انہیں بغور دیکھتے ہوئے بولی۔
    اچھا۔ چلو اچھی بات ہے۔۔ میں سمجھا۔۔۔خیر۔
    انہوں نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر ٹال گئے۔
    آپکو۔کیا۔لگا تھا مجھے کوئی بیماری لگ گئ ہے ؟
    طوبی کا انداز اور لہجہ دونوں تیز اور عجیب تھے۔
    وہ چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگے ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 48

    قسط 48

    لفٹ پر بڑا سا نو سروس لکھا تھا۔اف۔ چار فلورز کی سیڑھیاں اترتے اسکا تیل نکل گیا تھا۔ پاکستان میں ہوتی تو آخری فلو رپر گر ہی جاتی مگر یہاں گرمی میں بھی خنکی تھی
    اس نے چند لمحے سانس بحال کی پھر واٹر ڈسپنسر سے جا کر پانی پیا۔ تو جان میں جان آئی۔
    اف ۔ ہوگی کوئی لڑکی جو اپنے ایکس سے ملنے کیلئے چار فلورز اتر کر جائے۔
    وہ خود کو شاباش دینا چاہ رہی تھی مگر یہاں کوئی سراہنے والا نہیں تھا سو بڑ بڑا کر رہ گئ۔
    تبھئ فون بجا۔اس نے پیغام کھولا
    میں گارڈ کو لفافہ تھماکر جا رہا ہوں لے لینا۔
    حد ہے۔۔۔ مطلب مجھے اس میں کوئی لو انٹرسٹ نہیں تب میں پچاس سیڑھیاں اترکر آرہی ہوں اور یہ دس منٹ گرائونڈ فلور پر انتظار نہیں کرسکتا۔ اس سے تو پاکستانی لڑکے اچھے لو انٹرسٹ کیا بس دیکھنےکے شوق میں کڑی دھوپ میں گرلز کالجز کے باہر کھڑے رہتے۔
    وہ غصے میں بھر کر مٹھیاں بھینچنے لگی۔ پہلی بار پاکستانی لڑکوں کی خوبئ جسے آج تک اس نے خامی بلکہ برائی گردانا تھا آشکار ہوئی تھی۔
    تن فن کرتی تیز قدموں سے چلتی باہر نکل آئی تو واقعی سیونگ رو پارکنگ سے گاڑی نکال رہا تھا۔
    وہ وہیں رک گئ۔ سیونگ رو نے بھی شائد اسے دیکھ لیا تھا۔ جبھی وہیں گاڑی اسٹارٹ چھوڑ کر ہی باہر نکل آیا۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو۔
    اس نے قریب آکر مخصوص انداز میں سلام جھاڑا۔
    وہ سینے ہر بازو لپیٹ کر بغور دیکھتی رہی۔
    ڈراموں فلموں کے برعکس اوپا نا تو بجھے تھے نا ہی ٹمٹما رہے تھے۔ تازہ شیو پر خوب تیار شیار جینز کوٹ ڈھیروں پرفیوم ماتھے پر بکھرے بال۔
    اس نے سچ مچ محبت کا اظہار کیا تھا کہ شرارت۔ وہ سوچے بنا نا رہ سکی
    اسے بغور اپنا جائزہ لیتے دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا۔
    میں تمہارے لیئے تحفہ لایا تھا۔ کل تو تم نے لیا نہیں مگر میں وہ تحفہ کسی اور کو دینا بھی نہیں چاہتا تھا سو اس گارڈ کے پاس چھوڑ دیا۔ اس سے قبل کہ تم آج بھی لینے سے انکار کردو۔ تھوڑا قیمتی ہے
    وہ قیمتی پر آنکھوں میں جگنو سجا کے مسکرایا تھا۔
    عروج چپ ہی رہ گئ۔ ماسک کے پیچھے اسکی بڑی بڑی آنکھیں۔ سیونگ رو براہ راست ان میں جھانکنے لگا۔
    تم سے ویسے مجھے امید نہیں تھی کہ یوں صاف انکار کردوگی مگر میرے ساتھ ہمیشہ ہی کچھ غیر متوقع ہوتا ہے سو سہہ گیا۔۔۔ اس حلیئے سے یہ مت سمجھنا کہ مجھے کوئی دکھ نہیں ہوا تمہارے انکار سے۔ کافی ہوا ہے۔ سچ بتائوں تو رات کو رویا بھی تھا۔۔۔
    عروج کی آنکھوں کی پتلیوں میں حیرت اتر آئی۔
    وہ جیسے اسکی سو چیں حرف بہ حرف پڑھ رہا تھا۔
    بہر حال جاتے ہوئے بس اتنا کہوں گا کہ خوب پڑھنا اسپیشلائزیشن کرنا اپنے سب خواب پورے کرنا اور کبھی مجھے یاد بھی کرلیا کرنا۔ چار سال کا ساتھ اتنی تو مروت کا متقاضی ہے۔۔ ہے نا؟
    وہ مسکرادیا۔ عروج کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر سمجھ نہ آیا کیا کہے۔ کوئی نا پسندیدہ انسان پرپوز کرے تو انکار کرنا کتنا آسان ہوتا ہے مگر سیونگ رو کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا تھا اسکو دکھ دینے کا سوچ کے بھی برا لگ رہا تھا۔۔
    میری مام مسلم تھیں۔ میرے آہپا اور انکے درمیان کبھی اسلام موضوع نہیں بنا تھا۔ مجھے لگا تھا میرے اور تمہارے درمیان بھی یہ موضوع بنے بنا بھی ہمارا تعلق قائم ہوسکتا تھا مگر تم نے۔۔۔۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    شائد تم پاکستانی ہونے کی وجہ سے کٹر ہوہیں؟
    وہ پوچھ رہا تھا۔عروج نے ترچھی نگاہ سے گھورا تو ہنس دیا
    سب پاکستانی لڑکیاں تم جیسی ہوتی ہیں یا تم الگ ہی کوئی خاص نمونہ ہو۔۔۔ اسکی ترچھی نگاہ سے وہ خاصا محظوظ ہوا تھا جیسے۔
    کچھ بولو گی یا بس آنکھوں کی بولی بولنی آج؟ جا رہا ہوں کوریا چھوڑ کر خدا حافظ ہی کہہ دو۔
    وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر سر جھکا کر مڑگیا۔
    کہاں۔ عروج کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔ وہ یونہی گردن موڑ کر دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو کوئی مطلب ہے کیا؟
    میرا مطلب اچانک کہاں۔۔ کل تک تو کوئی ارادہ نہیں۔۔ یا۔۔
    وہ گڑ بڑا کر چپ ہوگئ۔ میں وضاحتیں کیوں کر رہی خود کو ڈپٹ بھی لیا۔
    جاپان وہاں اپنے انکل سے مل کر امریکہ۔۔۔۔مجھے اسپیشلائزیشن کیلئے اسکالر شپ مل گئ ہے۔۔۔ مجھے دو ہفتے بعد جانا تھا مگر یہاں رکنے۔۔۔۔۔۔
    وہ یونہی مڑ کر بولتے بولتے چپ سا ہوگیا۔پھر گردن موڑ کر بولا۔۔
    میری فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے چلتا ہوں۔ بائے۔۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔اسکی آنکھوں سے پھسل آنے والے آنسو راہ دھندلا رہے تھے مگر وہ اب مڑ کر پیچھے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔اتنی ہی تیزی سے بیٹھ کر گاڑی نکال کر لے گیا۔۔
    عروج وہیں کھڑی دیکھتئ رہی گاڑی نگاہوں سے اوجھل۔ہوئی تو پلٹی
    ٹپ۔ ایک بوند اسکے سر پر آن گری۔۔۔
    اس نے سر اٹھا کر آسمان دیکھا تو کئی بوندیں اسکے تعاقب میں تھیں۔۔۔۔
    کوریا میں یوںہی ایکدم ہی موسم بدل جاتا ہے۔ اسے کمپائونڈ کی۔جانب بھاگ کر جانا پڑا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروگرام ختم کرکے نکلتے ہی باہر چھاجوں مینہ برسنے لگا تھا۔۔
    سب جیسے تیار تھے سوائے اسکے۔چھتری رین کوٹ۔ اسکی شفٹ کے سب لوگ تیزی سے باہر نکلنے لگے تو وہ تھوڑا ایک جانب ہوگئ۔۔۔
    ایک وہ دن بھی تھا۔۔ جب کے بی ایس ایوارڈز فنکشن سے نکلتے ہوئے وہ بنا آسمان دیکھے نکل آئی تھی۔ فٹ پاتھ پر چلتے چلتے جب ایکدم بارش تیز ہونے لگی تو وہ سٹپٹا کر کوئی سایہ کوئی چھپر ڈھونڈنے لگی تھی کہ اچانک سر پر چھتری تن گئ۔
    کوریا کے موسم کا اندازہ کرنا سیکھ لو اب۔ ہربار مجھے چھتری لا کردینی پڑتی ہے تمہیں۔
    مانوس آواز وہ چونک کرمڑی۔سامنے چندی آنکھوں کے ساتھ مسکراتا ژیہانگ۔۔
    ہر بار؟ پہلے کب ۔۔ وہ بولتے بولتے رکی۔
    ریڈیو کے دفتر کے باہر۔۔ ژیہانگ نے یاد لایا تو اسے وہ اونچا لمبا سراپا بارش سے بچتا بھاگتا۔۔
    اف۔ کتنی احمق ہوں میں اسکو کپڑوں سے بھی نہ پہچانا اردو میں بھی بولا تب بھی احمقوں کی طرح اسکے۔۔۔۔
    اسے اپنی حماقت پر ٹھیک ٹھاک غصہ آن چلا تھا۔۔ اس کا چہرہ پہلے سوچ میں پڑا پھر دہک سا اٹھا۔ ژیہانگ بہت دلچسپی سے اسکے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
    تمہیں دیکھ کر مجھے بچپن میں سنی ایک کہانی یاد آجاتی ہے۔ سنائوں؟
    نہیں۔۔اس نے فورا سر نفی میں بھی ہلایا ۔۔
    کیوں۔ژیہانگ معصوم سا بنا۔
    میں اجنبیوں سے کہانی نہیں سنتی۔۔ وہ کہہ کر مڑ کر جانے لگی
    ذکریہ اجنبی تو نہیں۔۔ وہ ایکدم سے اسکے سامنے آیا۔
    ژیہانگ تو ہے۔ اس نے جتایا۔ اور رخ موڑا۔۔
    تم ذکریہ سے کہانی سن لو بھلے ژیہانگ سے منہ پھیر لو۔
    میں کہانی سن کر بھٹک جائوں گی راستہ۔۔ اس نے دل میں کہہ کر قدم بڑھائے۔ مگر شائد دل میں۔ حقیقت میں تو وہ وہیں کھڑی رہ گئ تھئ۔۔
    سڑک کنارہ برستی بارش گزرتے لوگ لڑکی خفا خفا سی لڑکا دنیا جہان کا اشتیاق آنکھوں میں سمائے دیکھتا۔۔۔ کوئی رک جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔
    اس کو احساس بھی نہ ہوا کہ ایک۔بارش اسکے چہرے پر بھی برسنے لگی ہےایسی کہ شیڈ میں کھڑے ہونے کے باوجود بھئ چہرہ تر ہوتا جارہا تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واعظہ اور فاطمہ بھیگی مرغیاں بنی جب فلیٹ میں داخل ہوئیں تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
    فلیٹ میں بیسن اور سوجی کی خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں۔ دونوں سیدھا کچن کی جانب بھاگی آئیں تو عزہ پکوڑے تل رہی تھی اور عشنا سوجی کا حلوہ بنا رہی تھی۔۔۔
    آجائو واعظہ فاطمہ گرم گرم آلو پیاز کے پکوڑے اور واعظہ کیلئے ہری مرچ کے پکوڑے الگ سے بنا رہی ہوں یہیں آجائو۔
    عزہ نے کڑاہی سے گرم۔گرم پکوڑے ٹرے میں نکال کر کائونٹر پر رکھے۔
    دونوں کو بھر پیٹ سینڈوچ کھانے پر دلی افسوس ہوا۔
    اف پاکستانیوں زندہ باد کس نے یہ ریت بنائی بارش میں پکوڑے کھانے کی اسکو سات سلام۔
    فاطمہ چہکتی ہوئی آئی۔
    ہم سینڈوچ کھا کے آئے ہیں۔ واعظہ کا انداز جتانے والا تھا
    ہاں ہم سینڈوچ کھا کے آئے ہیں۔ فاطمہ نے اداسی سے کہتے ہوئے آلو کا پکوڑا منہ میں بھر لیا۔
    ہم ایسے موسم میں کھچڑی بناتے ہیں۔
    عشنا نے مسکرا کر بتایا۔
    کیوں بھئ؟ وہ سب حیران ہو کر چیخ ہی تو پڑیں۔
    ہماری والدہ سائوتھ انڈیا سے ہیں وہ ہمیشہ ایسے موسم میں کھچڑی بناتئ ہیں چکن کی۔ اس میں دالیں بھی ڈلتی ہیں آلو بھی
    عشنا نے وضاحت کئ تو انکی حیرانی کم ہوئی
    چکن والی کھچڑی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ عزہ نے سند جاری کی
    مجھے لگا تھا کہے گئ بارش کے بعد چونکہ سب بیمار ہوجاتے اسلیئے ایڈوانس کھچڑی پکتی۔
    اپنی بات پر فاطمہ نے خود ہی حظ اٹھایا۔ واعظہ عزہ تیزی سے پکوڑے ختم کرنے میں لگی تھیں
    چٹنی نہیں بنائی۔
    عروج شان سے صوفے پر بیٹھی ٹی وی کے ریموٹ سے کھیل رہی تھی۔ وہیں سے آواز لگائی۔ جوابا منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ عشنا فاطمہ نے اکٹھے مڑ کر گھورا تو اسے کھسیا کر اٹھنا پڑا۔
    میں لہسن کی چٹنی بنا دیتئ ہوں۔
    اس نے احسان دھرتے کہا۔ فریج کے پاس آئی اندر سے لہسن پیسٹ کا جار نکالا پلیٹ میں کئی چمچ بھر کر ڈالا اور اوپر سے نمک مرچ چھڑک کر چٹنئ گھول لائی۔
    اتنا مہنگا آتا یہ پیسٹ سارے کو: منہ میں پکوڑا بھرنے کی وجہ سے عزہ جملہ مکمل نہ کر پائی۔
    اوہو تو کل سالن بناتے وقت استعمال کرلینا نمک مرچ نہ ڈالنا سالن میں۔
    مفت مشورہ حاضر تھا۔
    عشنا کا حلوہ تیار ہو گیا تھا۔ وہ پلیٹ میں نکال کرچمچ لے آئی
    سب نے پکوڑے کی ٹرے خالی کرلی تب خیال آیا واعظہ کو
    الف کہاں ہے؟
    سو رہی ہے۔بھیگی ہوئئ آئی تھی بس کپڑے بدل کر بستر میں گھس گئ۔ کھانے کیلئے اٹھانے گئ تو کہتی ہے بھوک نہیں بس سوئوں گی۔
    عروج نے بتایا تو فاطمہ اور عزہ حیران سی ہوئیں۔
    آج تو شو تھا نا اسکا ؟ اچھا نہیں ہوا ہوگا۔۔ جبھی۔ فاطمہ نے قیاس آرائی کی۔۔
    امی کال نہیں کی نا اسکے شو میں آج؟
    عزہ نے گھورا۔ تو واعظہ کو یاد آیا۔
    میں نے تو کئی دفعہ سے کال نہیں کی اس نے تو کہا تھا کہ شو خوب چل نکلا ہے کوئی چینی لڑکا بھی ساتھ شو کرنے لگا ہے سنا تو کبھی نہیں مگر پچھلے کچھ دن سے خوش تو تھی۔۔
    ہممم۔ ہو سکتا ہے آج ریٹنگ نہ آئی ہو تو ڈانٹ پڑ گئ ہو۔
    عروج نے لاپروائئ سے بولتے ہوئے پورا پکوڑا چٹنی میں ڈبو کرمنہ میں رکھا۔ عزہ واعظہ فاطمہ ہیں ہیں کرتی رہ گئیں۔
    وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر احساس ہوا۔۔ یہ پکوڑاتو ہری مرچ کا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاز نے جیسے ہی زمین کو چھوڑتے ہوئے اڑان بھری وہ بے چین سا ہو کر کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگا۔
    سیول انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی جگ مگ کرتی بتیاں لمحہ بہ لمحہ دورہوتی جارہی تھیں اور وہ بھی۔
    پہلا دن جب عروج کو دیکھا اور آخری دن جب عروج کو دیکھا دونوں دفعہ نقاب تھا چہرے پر۔ لوگ کہتے ہیں چہرہ اچھا لگنے لگتا ہے محبت میں اسے تو وہ وجود بنا چہرہ دیکھے بھی عزیز سا لگتا تھا۔۔
    پریویس میں گھبرائی ہوئی وائیوا کی تیاری کرتی تو کبھی مریضہ کا ہاتھ تھامے تسلیاں دیتی کبھی سئنیر ڈاکٹر کو دیکھ کر اسکی پشت میں چھپتی کبھی آہجومہ کے ساتھ بھاری مرتبان اٹھا کر لاتی۔ ہنستے ہوئے چندھیاتی آنکھیں۔ غصے میں بھری تیکھی نظریں۔۔۔۔
    کتنے روپ قید تھے اسکی یادوں میں۔۔
    مگر ہر جگہ مضبوط نڈراپنا خیال خود رکھنے والی ایک سمجھدار پاکستانی باہمت ڈاکٹر لڑکی۔ اور میں ۔۔ روندو کہیں کا
    اپنی آنکھوں میں در آنے والا پانی پونچھتے وہ خود پر استہزائیہ مسکرادیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی آنکھوں سے پانی آبشار کی طرح بہہ رہا تھا زبان جیسے جلتا انگارہ ۔۔
    اسکو پہلے اچھو ہوا اب مستقل کھانسی ۔۔ عزہ نے سوجی کا حلوہ منہ میں ڈال دیا تو الگ آگ لگ گئ۔جھٹ روتی دھوتی سنک کی۔جانب بھاگی اور تھوک دیا۔
    ارے یہ حلوہ میٹھا تھا ابھی جلن کم ہو جاتی۔
    عزہ نے کہا تو وہ برستی آنکھوں سے چلائی
    گرم بھی تھا میری اور زبان جل گئ۔
    اسکی بات پر عزہ نے کھسیا کر سر کھجایا۔ عشنا نے پلیٹ کی جانب دیکھا تو اس میں سے ابھئ بھی دھواں اٹھ رہا تھا
    پانی پی لو۔ فاطمہ نے بوتل بڑھائی اس نے جھٹ منہ سے لگا لی۔
    واعظہ فریج میں گھسئ کچھ ڈھونڈ رہی تھی
    یار وہ آئسکریم رکھی تھئ۔
    اس نے پوچھ ہی لیا ۔۔ عشنا نے دھیرے سےرخ پھیر کر بتایا۔
    وہ تو صبح میں نے کھالی۔
    عروج آدھی بوتل پی کر بھی جلے پیر کی بلی کی طرح کچن میں چکر کھا رہی تھی
    ہائے مر جائوں گئ آج میں۔ اسکے بین فاطمہ کوچڑا گئے
    ایسا بھی کیا ہری مرچ کا پکوڑا سب کھاتے ہی ہیں۔
    یہ کوئی عام ہری مرچ نہیں خالص بنگالی مرچ لے کر آئی تھی آج میں سپر اسٹور سے۔
    عشنا نے اپنی کارگزاری جتائی تو فریج بند کرکے واعظہ اور بوتل بند کرکے عروج نے اکٹھے گھورااسے
    ضرورت کیا تھی کوریا میں بنگالی مرچ امپورٹ کرنے کی۔ نرئ بیماری۔۔
    عزہ نے کہا تو زبان باہر نکالے عروج کو دیکھ کر فاطمہ چڑانے لگی
    خیر بنگالی بھئ سہی ایسی بھی کیا مرچیں لگ گئیں واعظہ نے بھی تو پورا پکوڑا کھایا اسے تو کچھ نہ ہوا۔
    تمہارے خیال میں میں فریج میں آئسکریم عروج کے لیئے ڈھونڈ رہی تھی۔
    وہ گائے کی شکل والے دہی کا ڈبہ پکڑے بھر بھر منہ میں چمچ انڈیلتے اطمینان سے بولی۔
    ادھر دو۔ اسے دہی کھاتا دیکھ کر عروج نے لپک کر اس سے پیالا چھینا۔
    تمہیں بھی مرچیں لگ رہی تھیں۔
    عزہ کو یقین نہ آیا اتنے اطمینان سے بھی مرچیں لگ سکتی ہیں
    مگر واعظہ کو ڈیڑھ لیٹر کی پانی کی بوتل آدھی خالی کیئے پکڑے دیکھا تو یقین کرنا پڑا۔
    جلے پیر کی بلی کو اب کچھ سکون ہوا تھا سو اطمینان سے اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ
    ان میں سے کوئی ایک بھی نارمل نہیں ہے کہے دیتی ہوں۔
    فاطمہ نے ہاتھ جھاڑ کر فتوی دیا
    خاموشی سے حلوے کا چمچ منہ میں رکھ کر عشنا ذرا ٹھٹکی نگلا ہھر واعظہ سے کہنے لگی
    پانی دیجئے گا واعظہ۔ حلوہ گرم تھا منہ ہی جل گیا۔
    ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان میں بارش ہو تو ۔۔۔۔
    اس نے پردے ہٹائے کھڑکی کھولی پر سامنے کوئی کھڑا تھا۔وہ دہشت زدہ سی ہو کر پیچھے کو گر سی گئ۔
    اسکی بھیانک چیخ سے فلیٹ کے درو دیوار ہل سے گئے تھے۔
    یہ کیا۔۔۔۔
    اسکی چیخ پر کمبل میں گھسی الف دہل کر اٹھ بیٹھی باتھ روم سے نکلتی عزہ بھاگ کر اسے اٹھانے آئی اور تو اور ساتھ والے کمرے سے واعظہ عشنا اور عروج بھی دوڑی آئیں۔
    کیا ہوا۔
    فق چہرہ تھر تھر کانپتی عروج کھڑکی کی جانب اشارہ کررہی تھی۔
    بھو بھوت۔۔
    نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں ایک بڑا سا سایہ کھڑکی سے جیسے باہر نکلا چلا آرہا تھا۔
    وہ سب بھی سنٹ سی ہو کر پیچھے ہوئیں۔
    لاحول ولا قوت۔۔
    الف زور سے بولی بھوت ٹس سے مس نہ ہوا۔۔
    مگر اسے عقل تھی۔ جھٹ موبائل کی ٹارچ آن کرکے ڈالی۔ دھپ دھپ واعظہ عشنا اسی کے بیڈ پر آگریں اور فاطمہ عشنا کے اوپر ۔۔ الف نے کھسک کر جگہ دیتے ہوئے اٹھ کر سوئچ آن کیا۔۔ منظر واضح ہوا۔
    وہ ایک بڑا سا شٹل کا برقعہ تھا عین کھڑکی کے بیچوں بیچ لٹک رہا تھا۔کھڑکی سے آتی ہوا اس میں بھرتی تو اسکا سارا گھیر پھول کر کیسپر کا ابا بن جاتا وہ بھی کالا سا
    عزہ ہنسی ضبط کرتی بے حال ہو رہی تھی عروج کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہی تھی۔
    اب یہ شٹل کاک برقعہ کہاں سے آیا۔ واعظہ تیر کی طرح کھڑکی کی جانب بڑھی۔۔ بڑے سے شامیانے جیسا گھیر دار کالا سیاہ شٹل کاک برقعہ ۔اسے سو فیصد یقین تھا اسکی برقعہ ایونجرز میں سے کسی کا نہیں تھا۔
    دیکھوکوئی چیز تو ادھر ادھر نہیں ہوئی تم لوگوں کی۔
    اسے نئی فکر سوار ہوگئی۔
    اوہو یہ میرا ہے۔ میں نے دھو کر ڈالا تھا۔ یہاں سکھانے کیلئے۔
    عزہ نے بمشکل ہنسی ضبط کرکے بتایا۔ عروج نے وہیں اسکی کمر میں دھموکا جڑا۔
    تم شٹل کاک برقعہ پہنتی تھیں پاکستان میں۔ فاطمہ حیرت کے مارے بے ہوش ہونے کو تھی
    اسکو پہنتے کیسے ہیں۔؟عشنا اسکو کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔
    اس میں تو نقاب بھی نہیں۔۔ اس نے پونچو کی طرح اپنے کندھوں پر ڈال لیا تھا اب حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
    بہنا افغانستان سے تم لوگوں کی سرحد نہیں ملتی لہذا تم اس برقعے کو کیسے پہنتے یہ راز نہیں جان سکتیں۔۔
    فاطمہ نے برقعہ کھینچ کر عزہ کے اوپر پھینک دیا تھا۔
    پہلے تو کبھی تمہیں یہ برقعہ استعمال کرتے نہین دیکھا آیا کہاں سے یہ؟
    واعظہ کو جانے کیا شک ہو رہے تھے۔
    عزہ نے چاروں اطراف دیکھا سب سکھیاں اسے بری طرح گھور رہی تھیں۔ اس نے ٹوپی سر پر جما کر پورا برقع اوڑھ لیا۔
    تھیبا۔ عشنا دنگ رہ گئ۔
    یہ تو ننجا ٹرٹل بن گئ۔ مگر اسکو پہن کر چلتے کیسے ؟ دکھائی دینے کیلئے تو کچھ بھی نہیں اس میں۔ عزہ سانس آرہی ہے۔ ؟
    اسکے پے درپے سوال۔
    عروج واعظہ فاطمہ الف زچ ہو کراکٹھے چلائیں۔۔
    عزہ کی بچی بتائو یہ برقعے کی کیا کہانی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے سب بتا کر سب کے تاثرات دیکھنے چاہے تھے۔ واعظہ کے حسب معمول سپاٹ فاطمہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا والےتاثرات سجائے تھی۔ عشنا سب سے بے نیاز سنگھار میز کے سامنے برقعہ پہنے گھوم گھوم کر دیکھ رہی تھی خود کو۔ الف رو رہی تھی۔ عروج نے جمائی لیکر اپنا تکیہ سیدھا کیا اور انکے ڈبل بیڈ پر پھسکڑا مار کر بیٹھنے کے باوجود اپنے پائوں سیدھا پھیلا کر فاطمہ کی گود میں رکھے اور سر پر بازو بھی رکھ لیا۔ مطلب سونے دو
    اس نے گردن گھمائی۔ پھر چونک کر دوبارہ اسکی جانب نگاہ کی۔
    اپنے سنگل بیڈ پر دیوار سے ٹیک لگائے وہ نیچے کسی نادیدہ چیز کو گھورتے بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔
    مت روئو ہم سب مل کر دلاور بھائی کو سمجھائیں گے۔باز آجائیں۔۔
    عزہ نے تسلی دی تو فاطمہ واعظہ نے چونک کر گردن موڑ کر الف کو دیکھا۔ وہ گڑبڑا کر آنسو پونچھنے لگی۔
    اتنی پیار کرنے والئ بہنیں ہیں طوبی کی ابھی دیکھتیں کہ کیسے انکے دکھ میں الف رو رہی ہے تو خوشی سے پاگل ہو جاتیں۔
    عزہ کے انداز میں رقت بھرا رشک تھا وہ الف کی محبت پر سر دھن رہی تھئ۔
    فاطمہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    تمہارے خیال میں یہ اتنی رقیق القلب ہے کہ طوبی کے غم میں رو رہی ہے۔ ؟ عروج نے بازو آنکھوں پر رکھے رکھے اضافہ کیا۔
    اس نے تو تمہاری روداد سنی بھی نہیں اس سے پہلے سے چپکے چپکے روئے جارہی ہے۔
    اس بار بازو ہٹا کر الف کو دیکھ کر کہا تھا۔
    کیا ہوا ہے الف ؟ فاطمہ نے مڑ کر پیار سے پوچھنا چاہا مگر پوری نہ مڑ سکی عروج کے پیر پیٹ میں کھبے تھے۔
    کک کچھ نہیں۔ الف عروج کو دانت پیس کر دیکھ کر رہ گئ۔
    تو پندرہ منٹ سے رو کیوں رہی ہو۔
    واعظہ اٹھ کر اسکے برابر آبیٹھی۔
    خوامخواہ۔ وہ سٹپٹا کے سیدھی ہوئی۔
    کس کی باتوں میں آرہی ہو آنکھیں بند کیئے پڑی تھی ایویں ہانک رہی بس وہ آنکھ میں چبھن تھی مسلی تو پانی نکل آیا۔
    میں منہ دھو کے آتی ہوں۔
    اس نے اپنی طرف سے تسلی بخش جواب دے کر رفو چکر ہونا چاہا تبھی فاطمہ کی گود سے پائوں اٹھا کر عروج نے اسکے بیڈ پر رکھ کر اسکے فرار کی راہ مسدود کی
    یہ جو بازو رکھا تھا اس سے جھری بنا کر ایک آنکھ تم پر رکھی تھی میں نے۔
    اس نے باقائدہ پوز مارا۔
    سیدھی طرح بتائو کیا مسلئہ ہے؟ اسکے تیور کڑے تھے
    کل نیچے لابی میں بھی اداس شکل بنائے بیٹھی تھی ابھی پکوڑے کے لیئے اٹھانے آئی تو موصوفہ کا رونے کا شغل جاری تھا آواز دئ تو سوتی بن گئ۔
    یہ امی کو شکایت لگ رہی تھی۔
    کیا ہوا ریڈیو کی نوکری ختم ہوگئ،
    فاطمہ کا دل موم ہوا۔
    نہیں یار۔ اس نے سر جھٹکا پھر دماغ کی بتی روشن ہوئی۔
    ہاں وہ میرا شو بند ہوگیا۔ اگلا ویک اینڈ ہمارا آخری شو ہوگا ۔ میرا ساتھی آر جے چلا گیا تو مجھ سے آج شو بھی۔ نہ۔۔ ہو سکا۔۔ بس ۔ تو ۔۔۔ وہ بتاتے بتاتے پھر روپڑی۔
    باقی جملے نارمل تھے مگر میرا ساتھی آر جے کے ساتھ رقت در آئی اور کسی نے کیا ہو نہ کیا ہو واعظہ نے نوٹ کیا تھا۔
    اوہو یہ تو بہت برا ہوا۔ اگلے مہینے سے تو گھر کا بھی انتظام کرنا تھا تمہیں۔کوئی سیونگ وغیرہ ہے تمہاری؟
    عروج کو بھی افسوس ہوا۔ اسکے جملوں پر الف اور زور وشور سے رودی۔۔
    ظالم دنیا یہاں دل مسافرہو چلا ہے یہ ٹھکانے ڈھونڈنے پر اکسا رہی ہیں۔
    کوئی بات نہیں واعظہ گھر سے نکالے گی تھوڑی۔
    عزہ نے تسلی دینی چاہی۔ واعظہ ترچھی نگاہ سے دیکھنے لگی تو کان دبا گئ
    میں گوشی وون لینے لگی ہوں تم میرے ساتھ چلنا ۔۔
    عشنا برقعے کی ٹوپی سر پر چڑھانے میں کامیاب ہوگئ تھی سو مڑ کر تسلی دینے لگی
    اس ہفتے ای جی اور سیہون آرہے مجھے اکیلے شو کرنا جانے کیسے کرپائوں گی۔
    الف کا بین۔
    ہر معاملے کا چٹکی بجا کے حل نکالنے والی الف کا بلک بلک کر رونا واعظہ کو اچنبھے میں ڈال رہا تھا۔۔
    جو بندئ پلیٹ دھونے سے بچانے کیلئے پورا ڈونگہ سامنے لاکر رکھ دے کہ اسی میں کھائو کوئی اس سے یہ توقع کیسے رکھے کہ کسی معاملے کو سلجھانے کا طریقہ ڈھونڈنے کی بجائے وہ پھسکڑا مار کر بیٹھی رو رہی ہو۔
    ارے روئو مت۔ہو جاتا ہے۔میں ہوں نا۔۔ میں کروں گی تمہارے ساتھ پروگرام۔۔۔۔
    ۔ فاطمہ جزباتی ہو کر اٹھ کر تسلی دینے اسکے پاس بیڈ پر آبیٹھی یہ بھول کر کہ گود میں عروج کی ٹانگ بھئ تھی نتیجتا اسکی ٹانگ مڑی دھپ سے وہ بیڈ سے نیچے آئی ۔۔
    آآااہ۔
    چیخ بھی درد کے مارے نہ نکل سکی ٹانگ سہلاتی وہ وہیں بیڈ سے ٹیک لگا کر رونے لگی
    مار دیا آہ توڑ دی ٹانگ میرئ ظالم۔۔ ہائے امی۔۔۔۔۔

    آہ سوری۔ الف کو کندھے سے لگائے فاطمہ معزرت خواہ تھئ
    عزہ عروج کو اٹھنے میں مدد دینے لگی۔۔۔۔
    فاطمہ کی بچی بدلہ لوں گئ میں۔ عروج نے چہرےپر ہاتھ پھیرا۔ فاطمہ نے لفٹ نہیں کرائی۔
    بس طے ہوگیا پکی آرمی ہونے کے باوجود میں نہ صرف اس سئہون کے بچے کا انٹرویو لوں گئ تمہارے ساتھ بلکہ ایجی سے دبلا ہونے کا راز بھی معلوم کروں گی فکر نا کرو۔
    فاطمہ کی یقین دہانی پر الف کو فکر ہونے لگی۔ اب آنسوئوں کو بریک لگانا ضروری ہوگیا تھا
    شکریہ فورا آنسو پونچھ کر وہ الگ ہوئی
    بس یہ بتا دو کس دن کس وقت شو ہوگا۔۔
    فاطمہ پوچھ رہی تھی۔
    جمعے کو شام سات بجے۔
    واعظہ نے گہری سانس لیکر بتایا
    مسلئہ ہی کوئی نہیں۔ فاطمہ نے چٹکی بجائی
    تم نے کہہ دیا بہت ہے شکریہ فاطمہ ۔۔ بہت تسلی ہوگئ مجھے
    الف نے کہا تو فاطمہ سمجھی ہی نہیں
    ارے دوست اور کب کام آتے مسلئہ حل ہوگیا بس رونا بند کرو۔
    فاطمہ اسے اب بھی ساتھ لگا کر بولی
    یہ تو حل ہوگئا طوبی کا کیا کریں؟
    عزہ منمنائی۔۔
    عروج اب عزہ کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی
    ہم سب کل فارغ ہیں کل اس معاملے کی مکمل تحقیق کر ڈالتے ہیں۔
    عروج جوش سے اٹھ بیٹھی۔۔
    مثلا کیا؟ واعظہ کا انداز طنزیہ تھا
    ہم سب کل صبح جلدی اٹھ کر دلاور بھائی کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ کہاں جاتے کیا کرتے۔ اور چونکہ بس دو بندے اس کام کو نہیں کر رہے ہونگے تو انکو شک بھی نہیں ہوگا۔
    یہ عزہ کا آئیڈیا تھا۔ عروج کا جوش بھاپ بن کے اڑا
    آج بھئ غالبا یہی کیا تم لوگوں نے کیا نتیجہ نکلا؟
    فاطمہ نے جتایا۔۔
    ہاں تو پتہ لگا لیا نا کہ وہ خاتون انکے دفتر میں کام نہیں کرتیں۔ عزہ کو اپنے کارنامے پر فخر ہو رہاتھا۔
    میرا آئیڈیا بہتر ہے۔ ہم سب مختلف کام کرتے ہیں۔
    ایک انکے موبائل کا ڈیٹا اپنے دوست سے کہہ کر نکلوائے۔
    اس نے ایک کہتے ہوئے واضح طور پر واعظہ کو ہی دیکھا تھا۔وہ ٹھنڈی سانس لیکر رہ گئ
    اور۔
    عزہ کو دلچسپی محسوس ہوئی۔
    اور۔ عروج نے ذہن کے گھوڑے دوڑانے چاہے مگر وہ ہنہنا کر رہ گئے۔
    ایک انکا پیچھا کرے ۔ یہ الف تھئ۔
    ایک انکے دفتر جا کر انکے معمولات پتہ کرکے آئے۔
    فاطمہ بھی چاق و چوبند ہوئی۔
    وہ تو ہم کر آئے۔
    عزہ نے اپنی کارکردگی جتانا چاہی۔
    ویک اینڈ ہے کل تو پکا وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے جائیں گے۔
    عروج نے کہا تو وہ سب اسے دیکھنے لگ گئیں
    بھئ سب ویک اینڈ پر اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ہی جاتے ہیں۔اس نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے دلیل دی۔
    مجھے اور واعظہ کو تو فورا پہچان لیں گے الف کو بھی دیکھا ہوا ہے تم دونوں کو جانا پڑے گا ایک اور برقعہ چاہیے ہوگا۔۔
    فاطمہ نے کہا تو عزہ تڑپ گئ
    ہائے نہیں شٹل کاک برقعے میں گئے تو دلاور بھائی تو پہچانیں نا پہچانیں آدھا سیول پہچان جائے گا ہمیں کل جو ہماری ہوئی ہے نا ۔۔۔
    عزہ نے کہا تو عروج نے بھی سر ہلایا
    مجھے طوبی سے شدید ہمدردی سہی مگر ایک ہفتے مسلسل نائٹ کرنے کے بعد خود سے طوبی سے بھی ذیادہ ہمدردی ہے سو میری جانب سے معزرت۔۔
    میرا خیال ہے ہمیں اس کام کو سنجیدگی سے باقائدہ منصوبہ بندی کرکے کرنا پڑے گا۔
    واعظہ نہایت سنجیدگی سے بولی تو وہ سب متفق ہو گئیں
    صحیح۔۔کہہ رہی ہو۔
    صبح نو بجے سب اٹھ جانا کل۔۔
    فاطمہ نے کہا تو سب کی نگاہیں سیدھا دیوار پر لگی گھڑی پر گئیں جو تین بجا رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسب معمول صبح نو بجے وہ کچن میں کھڑی پراٹھے بنا رہی تھئ۔ دلاور خوشگوار موڈ میں نہائے دھوئے ترو تازہ سے پیچھے چلے آئے
    میں کوئ مدد کرائوں۔۔
    انہوں نے پیچھے سے آکر اچانک کہا تو وہ بری طرح اچھل پڑی پراٹھا پلٹتے ہوئے ہاتھ بھی رکھا گیا فرائی پین پر۔
    آہ۔ اس سے بھی برا برا جل چکی تھی۔تنور میں بازو گھسیڑ کر روٹیاں تھاپی تھیں سسرال میں سو ردعمل پھسپھسا سا تھا دلاور البتہ تڑپ گئے
    اف دھیان سے کھینچتے ہوئے سنک کے پاس لے جاکر پورا نل کھول دیا
    ٹھیک ہوں میں دلاور۔ پراٹھا جل جائے گا۔۔ وہ منمنا رہی تھی
    اور تم جل چکی ہو۔ دلاور ڈپٹ کر بولے ۔
    سرد پانی نے جلن کا احساس کم کیا تو وہ مطمئن ہو کر مڑے اور پراٹھا پلٹ کر اتار کر پلیٹ میں بھی رکھ دیا۔۔
    اسلام و علیکم امی۔
    زینت اور گڑیا آنکھیں مسلتی چلی آئیں۔
    آجائو بچو ناشتہ کرو ۔۔ دلاو ر مسکرا کر ناشتہ میز پر رکھ رہے تھے۔ آمیزہ بنا تھا فرائی پان گرم ہی تھا بنا گھی ڈالے ہی آملیٹ کا آمیزہ ڈال دیا
    ارے گھی تو ۔۔ طوبی نے کہنا چاہا مگر انہوں نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
    نان اسٹک ہے۔ آج میرے ہاتھ کا آملیٹ کھاکر دیکھو انگلیاں چاٹتی رہ جائو گی۔
    انہوں نے لہک کر کہا تھا۔ جوابا وہ سر جھٹکتی بچیوں کے سامنے دودھ کا گلاس رکھ کر چائے نکالنے لگی۔
    آملیٹ بس ایک جانب سے سینک کر انہوں نے پلٹ دیا تھا اب ماہر شیف کی طرح لہرا کر میز پر رکھ رہے تھے۔
    آجائو بھئ۔
    وہ اسے بلا رہے تھے۔ ہاٹ پاٹ سے پراٹھا نکال کر خوب چٹخارے لیکر کھا رہے تھے۔
    اس نے چائے کا کپ انکے سامنے رکھا دوسرا اپنے سامنے رکھ کر ناشتہ کرنے بیٹھ گئ۔
    کیا خیال ہے آج پارک چلیں؟
    وہ بچیوں سے پوچھ رہے تھے۔
    دے۔۔ دونوں خالص کورین حامی بھر رہی تھیں۔
    کہاں ہزار بار ضد کرنے پر لے جانے کو تیار ہوتے تھے کہاں اب خود پوچھ رہے۔ وہ کڑی نگاہ سے دیکھ رہی۔تھی۔۔
    چلو ناشتہ کرو جلدی سے پھر ہم تیار ہونگے اور طوبی آج کچھ پکانے کی ضرورت نہیں ہم لنچ اور ڈنر باہر کریں گے پہلے پارک پھر ذو۔ ٹھیک۔۔ وہ بچیوں سے تائید چاہ رہے تھے
    پاپا ایکوریم جانا فش والے۔
    زینت نے فرمائش داغی۔
    ٹھیک ہے ڈن۔ وہ بخوشی مان گئے
    ہرے۔۔بچیاں خوشی سے اچھل پڑیں
    خاموشی سے ناشتہ ختم کرو۔ طوبی کی چڑ کہیں تو نکلنی تھی سو ڈپٹ دیا
    تم خود تو شروع کرو یہ کیا آملیٹ تو لیا ہی نہیں۔
    اسے خالی پراٹھا پلیٹ میں رکھے دیکھ کر انہوں نے خود آملیٹ پلیٹ میں نکال کر دیا۔ طوبی کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی مگر وہ بے نیاز تھے
    طوبی جی غصہ نہیں۔ عزہ نے کندھا تھپکا۔
    اس نے غصے میں بڑا سا نوالہ بنا لیا۔ ڈھیر سارا آملیٹ پراٹھا۔ اور۔
    اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔
    انڈا اندر سے بالکل کچا بساندھ بھرا اس سے نگلنا محال ہوگیا۔
    آخ۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتی سنک کی جانب بھاگی
    سنک میں الٹ کر کلی کرتے جلے دل سے سوچ رہی تھی
    ہیں تو وہی پھوہڑ پاکستانی مرد ایسا آملیٹ میں بنا کر دیتی نا تو ۔۔۔ اس نے انکا غصہ سوچنا چاہا۔ تو خیال آیا۔
    شروع شروع میں کچا آملیٹ بھی دیا تھا مگر دلاور نرمی سے کہہ کر اٹھ جاتے تھے کبھی برا بھلا بھی نہ کہا تھا۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ مڑ کر انہیں دیکھنا چاہا وہ پرسوچ نظروں سے اسی کو دیکھ رہے تھے نگاہیں ملنے پر تسلی دینے والے انداز میں بولے۔۔
    ہم آج ڈاکٹر کے پاس بھی چلیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 47

    قسط 47
    ٹیکسی سے اتر کر جیسے ہی اس نے دروازہ بند کیا اسکا شٹل کاک برقعہ دروازے میں بند ہوگیا۔ اسے پتہ بھی نہ چلا ۔عزہ کے پیچھے خراماں خراماں چلتے جب اسکی طرح آگے بڑھ ہی نہ سکی ۔ ایک بار کوشش۔ دوسری بار ذرا زور لگایا تو سر پر سے شٹل کاک برقعے کی ٹوپی کھنچی۔ خیال آیا کوئی لفنگا برقعہ کھینچ رہا ہے بھنا کرمڑی تو دیکھا۔شکر تھا ڈرائیور انکو مشکوک نظروں سے دیکھنے میں مگن تھا۔اسکو گھورنے کی کوشش کی دروازہ کھول کر برقعہ نکالا وہ ٹس سے مس نہ ہوا یاد آیا شٹل کاک میں آنکھیں کہاں نظر آتی ہین اس نے کھسیا ہٹ جھلا کر اتارنی چاہیئے۔
    کیا ہے شرم نہیں آتی پہلی دفعہ برقعے میں خواتین دیکھی ہیں۔
    طوبی نے اردو میں جھاڑا۔ خراماں خراماں چلتی عزہ کو جب فٹ پاتھ سے گزرتے ایک ایک انسان نے گھور کر دیکھا تو طوبی کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔
    طوبی جی سب کچھ ذیادہ نہیں گھور رہے۔۔ جملہ منہ میں تھا آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا اچھے خاصے فاصلے پر طوبی ٹیکسی ڈرائور پر چلا رہی تھی۔
    گھورنا بند کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے۔
    طوبی جی۔
    عزہ بھاگ کر پاس آئی۔
    گاڑی کی کھڑکی سے ڈرائئونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی جتنا منہ نکال سکتا تھا ڈرائورنکال کر تڑیاں لگا رہا تھا ہنگل میں۔
    مجھے ہلکا مت لینا خالص گائے بھینس کا دودھ پیا کرتی تھی ایک تھپڑ لگائوں گئ گردن گھوم جائے گئ۔
    طوبی کی تڑی۔ ڈرائیور کی گٹ پٹ۔
    طوبی جی چلیں اسکو کونسا سمجھ آرہی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔
    عزہ بازو سےپکڑ کر کھینچتے کان میں منمنائی۔
    اوہ ہاں۔ طوبی کو بھی خیال آیا۔سو اب ترجمہ کرکے بولی
    I will slap you on your cheek and then your neck will wander towards your back understand

    عزہ یہاں وانڈر ہی آئے گا کہ کچھ اور۔
    طوبی کو اپنی انگریزی پر شک سا گزرا۔
    جانے دیں اسے سمجھ ومجھ انگریزی بھی نہیں آرہی ہوگی۔
    عزہ نے سمجھایا تو طوبی نے غور سے لال بھبوکا چہرہ لیئے مستقل چلاتے ڈرائور کو دیکھا۔ پھر مایوسئ سے سر ہلا کر بولی۔
    سمجھ تو اسکی بھی نہیں آرہی مجھے۔
    ………………………………۔
    فٹ پاتھ سے احاطے تک کتنی ہی دفعہ عزہ کے برقعے کو طوبی نے اپنے پائوں کے نیچے دیا ایکبار تو عزہ سر کے بل پیچھے ہوئی اسی پرآرہی۔ اسے سنبھال کر کھڑا کیا۔
    اب ہم درمیان میں فاصلہ کرکے چلتے ہیں۔ عزہ نے مشورہ دیا تو اسکے دل کو لگا۔ مگر اس بار خود اپنے ہی برقعے میں الجھ کر منہ کے بل۔گرتے گرتے بچی۔
    عزہ نے سہارا دیا۔
    آپ تھوڑا سا نیچے سے اٹھا لیں نا برقعہ بار بار الجھ رہی ہیں۔
    مشورے میں دم تھا مگر طوبی کی اپنی مجبوری۔۔
    میری جوتی نظر آجائے گی کپڑے نظر آجائیں گے فورا پہچان لیں گے دلاور ۔
    اب وہ کھڑکی میں کھڑے تھوڑی باہر جھانک رہے ہوں گے۔
    عزہ نے اسکی عقل کا ماتم کیا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
    کھڑکی کی بلائنڈز نئیچے کرتے یونہی ذرا کی ذرا اسکی سامنے سڑک پر نگاہ پڑی پھر جم۔گئ۔ اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
    کم چھاگیا۔ یہ کیا چیز ہے۔
    دور سے لڑھکتے پڑھکتے آتےخیمے دیکھ کر وہ جتنا حیران ہوا جیسے بولا۔ میٹنگ میں بیٹھے تینوں چاروں انجینئر چونکے۔وہ جو پراجیکٹر پر پڑنے والی لائٹ کا سدباب کرنے کھڑکی بند کرنے آیا تھا بری طرح بد حواس ہو کر نیچے اشارہ کرنے لگا۔
    وہ دیکھو پتہ نہیں کیا ہے ادھر آرہا۔ خیمہ خود اڑتا آرہا۔
    اسکی آدھی ادھوری بات سن کر دلاور چونکہ سب سے قریب تھے کھڑکی کے فورا اٹھ کر اسکے پاس آئے
    کیا ہے وہ۔
    اوہ یہ۔ دلاور نے اطمینان کی سانس لی۔
    یہ برقعہ ہوتا اسےپاکستان میں ہم شٹل کاک برقعہ کہتے ہیں۔اسے مسلمان خواتین اوڑھ کر یا پہن کر پھرتی ہے گھر سے باہر جانا ہو تو۔
    دلاور نے بتانا چاہا تو تجسس میں باقی دونوں انجینئر بھی اٹھ آئے باہر جھانکنے۔
    یہ تو بہت عجیب چیز ہے۔
    اس میں سے دیکھتی کیسے ہیں خواتین۔
    یہ تو خطرناک بھی ہے۔ دیکھو انہیں نظر نہیں آرہا۔ یہ تو ظلم ہے
    ان میں سے ایک چلتےچلتےگرنے کوتھی تو اس چندی آنکھوں والے کو ترس آگیا۔
    سانس کیسے لے رہی ہیں یہ۔ مرد بھی پہنتے ایسا کچھ؟
    انکے سوال بے شمار تھے۔
    نہیں اتنا مشکل بھی نہیں اس میں اوپر کروشیہ کا کام ہوتا تو سوراخ میں سے دیکھ بھی لیتی ہیں سانس بھی لیتی ہیں ۔مگر یہ صرف خواتین کا پہناوا ہے مرد نہیں پہنتے۔
    دلاور کی وضاحت پر ان تینوں نے اتنی متاسفانہ نگاہوں سے گھورا کہ وہ سٹپٹا سے گئے۔
    تم پاکستانی ابھی تک خواتین کا استحصال کرتے ہو؟
    نہیں۔ ہم وہ۔ مگر ۔
    دلاور سے جواب نہ بن پڑا۔۔
    …………………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو بڑے بڑے کالے خیمے جب اس مشہور کنسٹرکشن کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے تو پورے اسٹاف میں کھلبلی سی مچ گئ۔ سیکیوریٹی گارڈ نے ہڑبڑا کر اپنی پستول ٹھیک کی۔ تو اندر سے باہر آتی وہ منی اسکرٹ میں ملبوس آہجومہ گھبرا کر واپس پلٹ گئیں۔۔۔ صفائی کرتا وہ ملازم اپنا پوچھا چھوڑ کر الٹے قدموں واپس باتھ روم کی جانب دوڑا تو ان دونوں خیموں کے اوپری حصے پر سجے گلوب گھوم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
    یہ سب ہمیں خلائی مخلوق سمجھ رہے ہیں طوبی جی۔
    عزہ منمنائی۔
    گھبرائو مت انکی خیر ہے جو مرضئ سمجھیں مگر آج ہم اپنا کام کرکے ہی جائیں گے۔ اسکے برعکس طوبی بااعتماد تھی۔ اسکا ہاتھ تھام کر سیدھا ریسیپشن کی جانب بڑھی۔
    ریسیشن پر کھڑی وہ نازک اندام چندی آنکھوں والی حسینہ جو انٹرکام کان سے لگا کر غالبا سیکیوریٹی کو ہی بلانے لگی تھی انکو دیکھ کر یوں ساکت ہوئی کہ ریسیور چھٹ گیا ہاتھ سے۔ ایک قدم پیچھے ہی ہوگئ۔ یوں لگ رہا تھا کہ اب گری کہ تب گری۔
    معاف کیجئے گا۔
    عزہ نے گلا کھنکار کر اپنی آدھی پونی ہنگل جھاڑ دی۔
    اس ریسیپشنسٹ کی آنکھیں یکا یک سجل علی کی آنکھیں لگنے لگیں اتنی پھٹ سی گئیں۔خیموں میں سے انسانی آواز۔
    دے؟
    یہ تو ڈر ڈر کر مر جائے گئ۔ کہا تھا طوبی جی آپکو کہ یہاں کوریا میں شٹل کاک برقعہ پہن کر پھرنا حماقت ہے۔ اسکو پکا لگ رہا ہوگا کہ ہم یہاں پھٹ جائیں گے۔
    عزہ نے کہا تو طوبی جھلا کر مڑی
    ایویں پھٹ جائیں گے۔ طوبی بگڑی
    اوراحمق عبایا میں آتے تو دلاور فورا پہچان جاتے۔ اور عبایا میں آنکھیں بھی تو نظر آتی ہیں۔ ان چندی آنکھوں والوں میں دور سے پہچانے جاتے میرے بھینس کے دیدے
    طوبی کی بات میں دم تھا۔ انکی گفتگو کے درمیان وہ چندی آنکھوں والی تھر تھر کانپتے دوبارہ کہیں کال ملا چکی تھی۔
    طوبی نے گلا کھنکار کر کڑکدار آواز میں کہا تھا۔
    بات سنیں۔
    رعب دار آواز۔ وہ پھر ریسیور چھوڑ بیٹھی۔۔
    اس کمپنی کو ہر مہینے دو تین نئے فون سیٹ خرید کر دینے پڑتےہوں گے اسے۔
    عزہ نے تاسف سے کہا تھا
    وہ ہمیں کچھ معلومات چاہیئے۔
    طوبی نے آگے ہو کر شٹل کاک برقعہ اونچا کرکے شکل دکھائی تو اگلی کی جان میں جان آئی۔

    …………………………………………………۔۔
    وہ بے خبر سو رہی تھی جب اسکا فون بجتا چلا گیا ۔۔ آواز دور سے آرہی تھی نیند بھی گہری تھی۔ اسے اٹھنے میں کسمساتے وقت لگ گیا جبھی فون بج بج کر بند ہوگیا۔
    انگڑائی لیکر نیند بھگاتی وہ سستی سے اتر کر سامنے کارنس تک آئی موبائل چارجنگ پر لگا تھا اسے نکال کر وقت دیکھا تو شام کے ساڑھے چھےہو رہےتھے۔
    وہ مسڈ کال دیکھتی سستی سے باہرنکل آئی۔
    سیونگ رو۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    ………………………………………………..
    لونگ روم میں صوفے پر شاہانہ انداز میں منی اسکرٹ پہن کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی وہ لڑکی اپنے شہد رنگ بالوں کو ادا سے جھٹک کر مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
    یہ ہیں مشہور آئیڈل اسٹار سونگ ایجیا اور ایجیا یہ ہیں فا تی ماشی۔( فاطمہ صاحبہ ) یہ آپکو عربی مکالمے یاد کروانے میں مدد کریں گی اور یہ ہے کھاوا یہ بھی آپکی مدد کیلئے ہی یہاں ہوں گے۔ فاطمہ کو ہنگل ابھی نہیں آتی مگر انگریزی سمجھ سکتی ہیں۔ جبکہ کھاوا انگریزی عربی ہنگل سب جانتے آپ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیجئے۔ ایک دوسرے کا خیال کیجئے۔
    ہدایت کار صاحب نے رواں ہنگل اور دو چار موٹے موٹے انگریزی کے لفظ بولے تھے جس سے کچھ کچھ انکا ماضی الضمیر سمجھ آہی گیا تھا

    فاطمہ نے ایک نظر ہدایت کار کو دیکھا پھر اس چندی آنکھوں والی ہیروئن کو پھر مڑ کر اپنے کولیگ کو دیکھنا چاہا جو بڑے مزے سے آننیانگ کہہ کر جھک جھک کر اس گوری چندی آنکھوں والی حسینہ کو سلام کر رہا تھا۔جس نے صوفے کا کشن اٹھا کر اپنی ٹانگوں پر رکھ لیا تھا۔
    آئی بڑی شرم ہی ماری اتنی شرم آرہی تو کپڑے ہی پہن لیتئ۔ اوپر سے ادائیں۔۔ فاطمہ نے دانت پیسے۔ وہ لڑکا تو یوں جھک جھک کر باتیں کر رہا تھا جیسے بچپن کی سہیلی ہے۔ جبکہ فاطمہ کو تو ذرا نقوش مانوس نہ لگے۔

    سیلیبریٹی تو دور اسے وہ لڑکی بھی نہیں لگ رہی تھی۔ لی من کی کو لڑکی بنا دو تو تو بھی وہ اپنےمردانہ نقوش کے باوجود اس لڑکی سے ذیادہ لڑکی لگے۔۔اس نے سر جھٹکا۔
    یہ کونسے کورین سیلیبریٹیز ہیں۔ جنکو کبھی ٹی وی پر دیکھا بھی نہیں۔
    فاطمہ کو شدید مایوسی ہوئی تھی مل کے۔ بڑ بڑائے بنا نہ رہ سکی۔
    اسکے ہمراہ کھڑے اس نے بمشکل مسکراہٹ روکی۔
    انجان شکل دو چار ڈرامے تو وہ بھی ہفتے میں آنے والے دیکھ ہی لیتی تھی مگر بالکل انجان شکل تھی یہ لڑکی تو۔
    پوتھاک اور آگے ناجانے کونسا سمنبدا۔
    جھک کر وہ چندئ آنکھوں والی اسی سے مخاطب تھی وہ بٹر بٹر دیکھتی رہی۔
    میرا خیال رکھئے گا۔ وہ لڑکا سرگوشی کر رہا تھا۔
    کیوں بھئ؟ میں پھپھی لگتئ ہوں تمہاری اپنا خیال خود رکھنا۔
    فاطمہ تو بری طرح جل گئ۔۔
    انکا تو بہت صاف لہجہ ہے۔
    چندی آنکھوں والئ کی آنکھیں کھل سی گئیں ڈائرکٹر صاحب اپنے انتخاب پر پھولے نہ سمائے البتہ وہ لڑکا کھسیا کر سر کھجانے لگا۔۔
    اس لڑکی نے آپکو یہ کہا ہے جوابا آپ بھی یہی جملہ دہرائیں۔
    سٹپٹا کر وہ کان میں منمنایا۔
    آہ۔ اچھا
    فاطمہ کے دماغ کی بتی جل گئ۔ منڈیا ہلانے لگی
    پوتھاک اور جو بھی آگے ہے سمنبدا۔
    اس نے لٹھ مار انداز میں کہا تھا۔ البتہ جھک جھک کر سلام کردیا تھا۔
    یہ ڈائلاگز تیار کر لیں آپ لوگ آدھے گھنٹےمیں آپ لوگوں کا سین ہوگا۔
    ڈائرکٹرصاحب ہنگل جھاڑ کر چلتے بنے اسی لڑکے نے دہرایا اردو میں۔
    اچھا اب میں چلتا ہوں مجھے عربی اداکاروں کو اسنیکس لا کر دینے ہیں۔ چلتا ہوں۔
    وہ لڑکا بتا کر چند لمحے رکا تھا غالبا اسکا ردعمل دیکھنے کو مگر فاطمہ انکے ہاتھ سے اسکرپٹ پکڑتے ہوئے ہی صدمے شدید کیفیت میں تھی۔ دیکھا ہی نہیں۔ ہدایت کار اور وہ لڑکا آگے پیچھے نکل گئے تو وہ سر پر اسکرپٹ مارتی اس لڑکی کے سامنے رکھی کرسی پرڈھیر سی ہوگئ۔
    پہلے میں پڑھ لوں۔ آپ تھوڑا انتظار کر لیں۔
    فاطمہ کے انگریزی میں کہنے پر اس لڑکی کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ سنبھل کر بیٹھ گئ۔اتنی انگریزی بھل بھل کرتی اگل دی فاطمہ نے۔۔۔ جبکہ فاطمہ پڑھنے کی کوشش میں چکرا سی گئ۔
    ہنگل اور عربی دونوں کے الفاظ ناچتے ہوئے آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔
    مجھے ایک لفظ سمجھ نہیں آرہا پڑھوں کیا سمجھائوں کیا۔ واعظہ کی۔بچی جھوٹ بول کر میں نوکری حاصل کر سکتی ہوں جاری نہیں رکھ سکتی۔ نا عربی آتئ نہ یہ گٹ پٹ خاک پتھریاد کروائوں مکالمے۔
    روہانسی سی ہو کر وہ بولی تو چندی آنکھوں والی اشتیاق سسے تھوڑا نزدیک آکر بولی
    ڈھونت بی کوئ ایک اٹش ہارد تو لن ٹھو شون ٹھارائی ٹھو شے لےت۔
    Dont be quick its hard to learn too soon۔ try to say late .
    اس نے اپنی انگریزی جھاڑ کر رعب ڈالنا چاہا تھا شائد۔
    late
    ایک تو لہجہ پھر انگریزی فاطمہ بے ساختہ درستگی کرتے کرتے رک گئ۔
    شے اگئن۔
    وہ اب آنکھیں پٹپٹا رہی تھی۔
    اتنا بڑا پراجیکٹ ہے ان سے یہ بات چھپائی نہیں جا سکے گی کہ میں عربی نہیں اردو بول رہی سب سے بڑھ کر اس مومی مردانہ شکل کی گڑیا کو عربی مکالمے یاد کیسے کروائوں گی۔ مجھے ابھی اسی وقت جا کے سب بتا دینا چاہیئے۔
    اسے دیکھتے ہوئے اس نے فورا فیصلہ کیا تھا اسکرپٹ بند کرتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آپ انتظار کیجئےمیں ذرا ہدایت کار صاحب سے مل کرآتی ہوں۔۔
    وہ اسے بتاتی تیزی سے مڑی تھی۔ جھٹ پٹ بھاگ کے دروازہ کھولا تو وہ ہلکا سا بھڑا ہوا تھا اور اس سے کان لگائے کھڑ ا وہ لڑکا اسکے باہر نکلنے سے پہلے اندر آنے لگا تھا۔سنبھل کر سیدھا ہوا
    فاطمہ گھور کر رہ گئ۔ اسکے سنبھلنے پر ایک جانب ہو کر آگے بڑھ جانا چاہا تو اسکی آواز نے قدم روک دیئے۔
    اگرآپ چاہیں تو یہ بات ہدایت کار صاحب سے چھپائی جا سکتی ہے۔
    اسکی بات پر وہ مڑ کر گھورنے لگی تھی۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔
    وہ دونوں بنانا ملک کے گلاس لیکر اس سنسان پارک میں بنچ پر بیٹھی تھیں۔ جھٹپٹے کا وقت ہو چلا تھا مگر طوبئ سوں سوں کرکے روئے جا رہی تھی۔
    شٹل کاک برقعے کے پیچھے سے سوں سوں کی آواز بس سنائی دے رہی تھی۔
    طوبی یہ برقعہ تو ہٹائیں۔۔
    ادھر ادھر دیکھ کر کسی نا محرم کی غیر موجودگی کا یقین کرکے اس نے پہلے اپنا برقعہ اوپر کیا پھر طوبی سے منت بھرے انداز میں کہنے لگی۔
    ہرگز نہیں۔ میرا رو رو کے سارا اسموکی آئیز والا میک اپ خراب ہو چکا ہوگا میں تمہیں نہیں دکھا سکتی اپنا چہرہ۔
    ناک سڑک کر خاصی پاٹ دار مگر بھرائی آواز میں جواب آیا۔
    اسموکی آئیز والا میک اپ؟ عزہ بھونچکا رہ گئ
    آپ شٹل کاک برقعے کے نیچے اسموکی آئیز والا میک اپ کر کے آئی ہیں۔ ؟؟؟ تھیبا۔ وہ دنگ رہ گئ تھی
    کیوں بھلا۔۔
    کیوں کیا مطلب۔؟ طوبئ نے بھڑک اٹھی۔
    اس گوری چندی آنکھوں والی پچھل پیری کو اگر میں آج ملتی تو برقع ہٹا کر دکھاتی کہ جس ذرا سی توند والے سانولے لمبے چوڑے دلاور پر ڈورے ڈال رہی ہے اسکی نا صرف ایک عدد جوان بیوی ہے بلکہ وہ بہت خوبصورت بھی ہے۔
    اس نے کہتے کہتے جزباتی ہوکر برقعہ بھی اٹھا لیا۔ عزہ کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ طوبی نے
    دھڑلے سے سر ہلاکر جتانے والے انداز میں کہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ آدھے گھنٹے سے چہکوں پہکوں رونے کہ وجہ سے اسموکی آئی میک اپ گالوں تک آچکا تھا گالوں پر جو ہائی لائٹر اور بلشر تھا وہ پھیل کر اس آئی میک اپ کے ساتھ مکس کھچڑی بن چکا تھا گہرے عنابی اور لال مکس کرکے لگائی لپ اسٹک تھوڑی تک آرہی تھی۔
    آنکھیں پھاڑ کر طوبی ٹھیک ٹھاک بھیانک لگ رہی تھی۔
    جج جی۔ عزہ نے دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالا۔
    بے شک طوبی جی آپ اس لڑکی بلکہ خرانٹ عورت سے کہیں جوان اور حسین ہیں۔ مگر مغرب ہو رہی آپ رونے کی بجائے دعا کیجئے کہ دلاور بھائی راہ راست پر آجائیں۔
    عزہ نے کہتے ہوئے نا محسوس سے انداز میں اسکا برقعہ نیچے کردیا۔
    ہوں۔۔ طوبی کو بھی بات دل کو لگی۔عزہ اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنےلگی۔
    برقعے کے اندرہی دونوں ہاتھ پھیلا کر ہل ہل کر دعا کرنے لگی۔۔
    جب تک عزہ نے گلاس خالی کیا طوبی کا دل بھی سنبھل چکا تھا
    اس نے برقعے کے اندر ہی طوبی کا گلاس بڑھا دیا
    ویسے طوبی جی آپکو یقین ہے میرا مطلب ہے غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے۔ مانا دلاور بھائی کے موبائل میں بس اس لڑکی۔
    طوبی کی برقعے میں ہی گردن جھٹکے سے عزہ کی جانب مڑی تو اسے تصحیح کرنی پڑی۔
    میرا مطلب ہے اس عورت کی ہی تصویر تھی اور اس نے پہن بھی اسکرٹ رکھی تھی مگر اکیلی تصویر تھی مطلب دلاور بھائی ساتھ نہیں تھے تو ہو سکتا وہ انکی کوئی کولیگ ہو۔ کام کے سلسلے میں رابطہ ہو ا ہو۔ عزہ نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا مگر طوبی جزباتی ہو کر گلاس بنچ پر پٹخ کر اسکی جانب مڑ گئ
    دیکھا نا ابھئ ہم دلاور کے دفتر میں ہی پتہ کرکے آئے ہیں
    وہ لڑکی اس دفتر میں کام تک نہیں کرتی۔ میری چھٹی حس صحیح بتا رہی تھی۔۔ پچیس منٹ بات کی ہے انہوں نے پرسوں اس سے۔ کوئی میسج نہیں کیا ہوگا کیا کبھی؟ مگر سب چیٹ صاف کی ہوئی ہے۔ واٹس ایپ کاکائو موبائل ہر میسنجر دیکھا صرف ایک میسج ملا۔
    اچھا میں ملنے کا وقت اور جگہ آپکو بتاتا ہوں۔
    اب بتائو اسکا کیا مطلب بنا؟ یقینا فون پر بات کرکے وقت اور جگہ بتائی ہوگی اور گئے بھی ہوں گےملنے۔
    طوبی کو بولتے بولتے پھر رونا آگیا
    اچھا طوبی آپ روئیں تو نہیں۔
    عزہ نے تڑپ کر کندھے سے لگا لیا طوبی کا سر۔
    میں ہوں نا۔ بلکہ ہم ہیں نا ۔۔ ہم سب بہنیں پتہ لگائیں گی کہ آخر دلاور بھائی کیا گل کھلا رہے۔ تسلی دیتے عزہ کا خیمہ بھی ڈھلک آیا۔ عین اسی وقت انکے سر پر لیمپ پوسٹ آن ہوا تھا۔ چمکدار روشنی میں دو کالے خیمے گتھم گتھا
    دور سے خراماں خراماں چل کر آتی اپنے دھیان میں موبائل سے سر اٹھاتے ہی وہ چندی آنکھوں والی لڑکی بری طرح خوفزدہ ہو کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔
    کم چاگیا۔
    غیر مانوس آواز پر دونوں خیمے الگ ہوئے اسے ڈرا سہما دیکھ کر طوبی نے اپنا برقعہ ہٹا کر چہرہ دکھا دیا
    کیم چھنا یوجاز ہیئر۔
    طوبی اپنی مرضی کا ہی ترجمہ۔کرتی تھی ہنگل کا یوجا کو یوجاز کہہ کر اس نے جمع بتانے کی کوشش کی تھی۔
    ( سب ٹھیک ہے یہاں لڑکیاں ہیں )
    اس چندی آنکھوں والی لڑکی کی آنکھیں پہلے پھیلیں پھر اوپر چڑھیں اور وہ چکرا کر انکے قدموں میں ڈھیر ہوگئ
    حد ہے۔ دیکھ لو جھٹپٹے کے وقت ایسے ادھورے کپڑے پہن کر گھومیں گی تو یوں ہی چکرا چکرا کر گرتی پھریں گی۔
    طوبی نے سر پیٹ لیا۔ لیمپ کی روشنی میں گوری پنڈلیاں چمک رہی تھیں۔
    ہوں۔ عزہ نے سر ہلایا۔
    ہمیں تو امئ چھت پر بھی جانے نہیں دیتی تھیں۔
    دونوں کوریا کی لڑکیوں پر افسوس کرتی اسے اٹھانے اٹھ گئیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بس سے اتر کر پیدل مارچ کرتی جب گلی میں داخل ہونے کیلئے مڑنے لگی تو سڑک پار واعظہ اسے اس بڑے سے کنوئنئنس اسٹور کے باہر میز کرسی پر بیٹھی سینڈوچ کافی اڑاتی دکھائی دی۔
    وہ احتیاط سے سڑک پار کرتی بھاگ کے اسکے پاس چلی آئی۔ پھر شرارت سوجھی تو کندھے ہلا کر ڈرا بھی دیا
    بھائو۔
    ڈرنا تو کیا تھا اس نے کافی کا گھونٹ بھرنے لگی تھی زبان اور ہونٹ جل گئے۔ وہ دیکھ کر رہ گئ۔ البتہ فاطمہ اپنی شرارت پر ہنستی ہوئی اسکے مقابل آبیٹھی۔ اسکے سامنے سے آدھا سینڈوچ بھی اڑا لیا۔
    پتہ ہے کیا ہوا آج۔ انداز اشتیاق بھرا تھا۔
    ہوں اندازہ ہے۔۔
    واعظہ نے سر ہلایا پھر میز پر سے ایک کاغذ اٹھا کر اسکی۔جانب بڑھا دیا۔
    اس کنوینئینس اسٹور کو پارٹ ٹائمر درکار ہےاپلائی کردو ۔
    کیوں بھلا۔ فاطمہ چہکی۔ جبکہ میری نوکری مستقل ہوچکی ہے۔ٹی سی این کے دفتر میں اسسٹنٹ اسٹاف کے طور پر۔ پتہ نہیں ہنگل میں کیا بڑ بڑا رہے تھے مگر یہ دیکھو
    اس نے گلے میں پڑا ٹیگ کارڈ دکھایا
    انکو تو انگریزی بھی نہیں آتی اب اسسٹنٹ اسٹاف میمبر کیا بلا بنا ؟
    وہ سوچ میں پڑی تو واعظہ اچھل پڑی۔
    کیا ؟ تم ریزائن دے کر نہیں آئیں؟
    نہیں ۔ فاطمہ نے شان بے نیازی سے سینڈوچ منہ میں بھرا۔
    بلکہ آج میرے کام سے سب خوش بھی ہوئی۔
    اس نے اپنے کندھے پر فلیش بیک چلا۔کر دکھایا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔
    پورے سیٹ پرہوکا عالم تھا۔بادشاہ اور اسکے وزیر کے مکالمے چل رہے تھے۔ دونوں ہنگل میں گٹ پٹ کر رہے تھے کیمروں کا فوکس اسٹاف میمبران سب کے سب وہیں متوجہ تھے تو سیٹ سے ذرا ہٹ کر ہال کمرے کے اس حصے میں خوب رونق تھی۔ عربی اور کوریائئ اداکار سرگوشیوں میں فرمائشیں کر رہے تھے۔
    عبداللہ کو قہوہ یاد آرہا تھا تو ایجیا کو آئسڈ امیریکانو۔
    سر ہلا ہلا کر اب فرمائشیں نوٹ کرکے اس لڑکے نے میسج ٹائپ کیا تھا۔
    دس منٹ بعد بوتل کے جن کی طرح دو چار بڑے بڑے شاپر اٹھائے فاطمہ تیز تیز قدم اٹھاتی بھاگئ آئی۔
    عربئ فنکاروں کیلئے شوارما اور چاول تھے تو کورینز کیلئے بلیک بین نوڈلز اور پورک اسٹیک۔
    اس نے لا کر ابھی ایک کونے میں میز پر ڈھیر کیا ہی تھا کہ میسج بیپ بجی۔ اسے الٹےپیر ڈرنکس لینے دوڑ جانا پڑا۔
    اس لمبے چوڑے گوری رنگت والے خالص عربی نقوش کے ساتھ وہ بڑا سا ہنبق پہنے الجھتا عربی اسکے قہوے کا گلاس بڑھانے پر خوب خوش ہو کر شکرا شکرا کہہ رہا تھا۔
    لال ہنبق میں بیر بہوٹی بنی وہ عربی لڑکی گھومئ تو ہنبق پورا اسکے بغیر ہی گھوم گیا۔ فاطمہ نے ایکدم سے آگے بڑھ کر اس انہونی کو ہونے سے روکا تھا۔
    عربی عبائے میں ملبوس وہ ایجیا اپنے عبائے کو سمیٹے بنا کرسی پر دھپ سے بیٹھ گئ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے لباس کا گھیرا سمیٹا اور اسکو آئیسڈ امیریکانو پیش کی۔
    ایک۔کونےمیں ٹھاٹھ سے کرسی پرٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا وہ لڑکا مزے سے موبائل استعمال کرتے ہوئے فریش جوس کا گھونٹ بھر رہا تھا۔
    فاطمہ سب کو سب پکڑا کر کرسی پر دھپ سے بیٹھتے اسکے اطمینان کو رشک سے دیکھنے لگی ۔ وہ اتنا مگن بے نیاز تھا کہ اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
    ڈرنکس اڑاتے کھاتے پیتے مزے لیتے ان چہروں میں اپنا آپ خاصا بے چارہ لگا تو رخ موڑ کر اسٹیج کو دیکھنے لگی۔
    یہ والا فنکار جانا پہچانا لگ رہا تھا کوئی کورین اداکار تھا۔اسے دلچسپی سی ہوئئ۔
    چندی آنکھوں والا وہ لڑکا خالص عربی لباس میں چوخانے والا رومال سر پر لپیٹے جب اس عالیشان عربی تخت پر بیٹھا تو دو جملوں کے بعد اگلا جملہ ہی بھول گیا۔ ہدایت کار نے ہنگل میں کہہ کرمڑ کر اسکی جانب اشارہ کیا۔ وہ الرٹ سی وہ بیٹھئ
    کیا کہنا تھا مجھے؟ وہ سیدھا فاطمہ کی جانب اٹھ کرآیا تھا۔
    فاطمہ نےاسے دیکھتے تھوک نگلا۔
    تبھئ بوتل کے جن کی طرح وہ لڑکا آگے بڑھا تھا
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    مطلب۔واعظہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔
    مطلب تم اچھی بھلی اسسٹنٹ ہو کر یوں سیٹ پر چھوٹے کا کام کروگی اور وہ لڑکا تمہاری جگہ ان سب کو اسکرپٹ یاد کروائے گا یعنئ تمہارا کام وہ کرے گا اسکا تم۔
    ہاں ۔ فاطمہ چہکی۔ پھر مزید بتایا
    جواب میں اسے میں ہر مہینے اپنی تنخواہ کا آدھاحصہ بھی دیا کروں گی۔
    وہ بھی اپنئ آدھی تنخواہ دے گا تمہیں؟
    واعظہ کے پوچھنے پر وہ گڑبڑائی
    نہیں وہ کیوں دے گا۔ وہ تو میری مدد کررہا ہوگا کام کرنے میں اوراسکی تو گھنٹوں کے حساب سےتنخواہ ہوگی۔میں نے کیا کرنے اسکے پیسے۔
    فاطمہ کو کہتے ہوئے لگا کہ کچھ غلط کر بیٹھی ہے۔

    واعظہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں
    وہ لڑکا گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ لے گا تم دنوں کے حساب سے یعنی وہ جب چاہے جتنی دیرچاہے غائب رہے گا بدلے میں یہ سیٹ کےاسپاٹ بوائے والے کام کرکے تم اسے اپنی آدھی تنخواہ بھی دوگی۔
    وہ بھی تو اسکرپٹ یاد کروائے گا میری جگہ۔
    فاطمہ نے دلیل دینی چاہی۔
    اور جب وہ بنا بتائے منہ اٹھائےغائب ہوا کرے گا تب کیا کروگی؟
    کیوں کرے گا وہ ایسا۔ اچھا خاصا شریف لگتا ہے دیکھنے میں۔
    اپنی بات پر خود بھی شک ہوا تو آواز دھیمی ہوگئ۔،چشم تصور میں اسکی شرارتی مسکراہٹ والی شکل تھی۔
    یہ وہ کر رہی ہو نام کیا ہے اسکا،؟
    واعظہ کے پوچھنے پر وہ ایکدم جوش سے نام بتانےلگی کہ خیال آیا۔
    بولو ۔ نام کیا ہے کہاں رہتا؟ تمہاری مستقل پوسٹ ہے وہ پارٹ ٹائمر ہے تمہیں پتہ ہونا چاہیئے کل کلاں کوکوئی مسلئہ ہوگیا تو؟
    واعظہ کی بات میں دم تھاوہ کان دباتی سرجھکا گئ
    نام تو پوچھا ہئ نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور۔۔۔ خاور نام ہے۔ خاآاا ور۔۔۔۔۔۔۔
    بالکونی میں کھڑے ہو کر وہ فون پر نام بتا رہےتھے۔
    بھائئ ہے میرا کسی غلط مقصد سے تفتیش نہیں کروا رہا۔ آپ بے فکر رہیں۔
    خالص ہنگل میں انہوں نے تفصیل سے بتایا
    ہوں۔
    اپنے کسی کام سے کمرےمیں آئی طوبی بستر خالی دیکھ کر چونکی۔ صائم کاٹ میں کسمسا رہا تھا۔ سر ہوا کا جھونکا اسکی ریڑھ کئ ہڈی سنسنا گیا تو اس نے ہوا کا منبع ڈھونڈا۔گیلری کا دروازہ کھلا تھا۔
    وہ فطری تجسس سے گیلری کی جانب بڑھ آئی۔ دلاور نہایت دھیمی مگر رواں ہنگل میں گٹ پٹ کر رہے تھے اس نے کان لگا کر سننا چاہا تو سنائی تو دےگیامگرسمجھ نہ آیا۔
    دلاور مستقل بول رہے تھے۔ اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا
    کتنی بد قسمت ہوں میں۔ سوتن بھی ملی تو کورین میرے سامنے بیٹھ کر بھی جانو مانو کر رہے ہوں مجھے ککھ پتہ نہ لگے۔ ہائےجانے کب سے چکر چلا رہے۔کہیں۔۔
    اسکے دماغ میں کوندا سا لپکا۔جھٹ دروازہ چھوڑ کر بیڈ پرآبیٹھی۔
    کہیں یہ اسی ناس پیٹی کے چکر میں تو کوریا نہیں آئے؟
    کیسے بیٹھے بٹھائے نوکری چھوڑ چھاڑ کوریا کی کمپنیوں میں اپلائی کرنے لگے تھے اور کورین سیکھنی بھی شروع کردی تھئ۔۔ اف کتنی بے وقوف ہوں خوش خوش سسرال سے دور ہونے کا سوچ کر اٹھ آئی انکے ساتھ ۔ یہاں سوتن سے انہیں ملانے۔
    آنسوئوں کے سمندر جو اچانک ہی دلاور کی بے وفائی کے شک کے بعد سے آنکھوں سے پھوٹ پڑے تھے اس وقت بھی سونامی کی طرح گالوں پر امڈ آئے۔۔
    فون بند کرکے بازو سکیڑتے سرد ہوا سے بچتے وہ خوشگوار موڈ میں کمرے میں واپس آئے گنگناتے ہوئے گیلری کا دروازہ بند کیا۔ مڑ کر دیکھا بیوی بلک بلک کر روئے جا رہی ہے۔
    کیا ہوا۔ انکے ہاتھوں کے طوطے کوے سب اڑ گئے
    مجھ سے کیا پوچھتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں کیا کرتے پھر رہے ۔۔
    طوبئ سڑ سڑ کرتے۔چلائی۔۔
    دلاور نے گریبان میں جھانکا پھر ذرا شرمندہ سے لہجے میں بولے۔
    اوہ سورئ یار۔ نہا کر پرانے کپڑے پہننے کا دل نہیں کیا۔ تو نئی بنیان بھی پہن لی۔ ذیادہ کپڑے میلے ہوگئے تو کوئی بات نہیں۔ میری صبح چھٹئ ہے سب دھو دوں گا۔ تم فکرمت کرو۔مجھے اندازہ ہے تم سے اتنا ذیادہ کام نہیں ہو رہا ہوگا۔ اب یہاں میڈ وغیرہ کا انتظام تو مشکل ہے مگر کوشش کروں گا تم فکر نہ کرو بس آرام کرو ۔۔ میں چائے بنانے جا رہا ہوں پیوگی۔
    دلاور کی باتوں پر وہ اتنا حیران ہوئی کہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر دئکھتی رہ گئ۔ وہ خود ہی اسکا جواب اثبات میں سمجھ کر خوشی خوشی چائے بنانے چل دیئے۔
    میں دو منٹ میں چائے بنا کرلایا۔ چٹکی بھی بجائی۔
    عزہ کا ہیولہ نمودارہوا طوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھاتا
    آپ نے غصہ نہیں کرنا طوبی جی بہت سمجھداری سے کام لینا ہے۔
    کیسے لوں سمجھداری سے کام۔۔
    طوبی پھر سوں سوں کرنے لگی
    دیکھا ابھی کیا کہا انہوں نے؟ کوئی شوہر بھلا ایسے خود کپڑے دھونے کا میڈ کا انتظام کرنے کا کہتا؟ اور تو اور اوپر سے چائے بنانے چل دیئے۔ ایسے کوئی کرتا بھلا؟؟؟ ہائے امی یہ تو ایسے چاپلوسیاں کرکےمجھ سے دوسری شادی کی اجازت بھی لے لیں گے۔۔۔۔ یہ تو اس چڑیل کے پیچھے پاگل ہی ہوگئے ہیں۔۔
    اس نے دونوں پائوں اوپر کیئے آلتی پالتی مار کر بیٹھی اور دوپٹہ آنکھوں پر رکھ کر خوب زور و شور سے رونے لگی۔۔۔
    ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 46

    قسط 46

    فاطمہ واعظہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی بغور عشنا کو ملاحظہ کر رہی تھیں۔۔ عشنا نے اپنا بیگ کھنگالتے سر اٹھا کر دیکھا تو گڑبڑا گئ۔
    وہ یہ میرا ہی بیگ ہے۔اس نے صفائی پیش کی تو فاطمہ اور واعظہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دانت پیس کر اکٹھے بولیں۔
    تم ہمیں اپنی سچی والی کہانی سنائو گی یا اس 25 ڈگری والے موسم میں گھر سے باہر کھڑا کر دیں تمہیں۔
    یہ تڑی فاطمہ نے لگائی تھی۔ ذرا جو عشنا ڈری ہو۔ ایک نگاہ ڈال کر دوبارہ بیگ کھنگالنے لگی۔
    اس سے ذیادہ تو میری ڈر گئ تھئ مجھ سے جب۔۔
    فاطمہ واعظہ کے کان میں گھسی جوابا اسکی گھوری پر بریک لگا کر چپ ہوکے بیٹھ گئ۔
    میں نے اپنے بارے میں سب سچ بتا دیا ہے آپ شائد یقین نہیں کر رہیں میرا۔
    عشنا نے دھیرے سے سر اٹھا کر کہا تو واعظہ بھڑک اٹھی
    یقین کروں تمہارا؟ نام تک نہیں جانتی میں تمہارا۔ہر بات جھوٹ ہر ڈاکومنٹ جعلی۔ کون ہو تم کہاں کی رہنے والئ ہو ہم کچھ ۔۔۔
    ۔عشنا نے اسکی بات کاٹ کر سکون سے کہا۔
    میں حیدرآباد انڈیا کی رہنے والی ہوں۔۔ یہاں اسکالر شپ پر پڑھنے آئی تومجھے عشنا ملی میرے ساتھ میری ہم جماعت پاکستانی نژاد مسلمان لڑکی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکول کے پہلےدن کلاس کے داخلی دروازے پر سے ہی وہ گھبرائی سی متلاشی نظروں سے مانوس نقوش تلاش کر رہی تھی۔۔سب کے سب چندی آنکھوں اجنبئ زبان بولتے۔
    راستہ دو کیا جم کے کھڑی ہو بیچ میں۔
    اسکی چھے مہینے کی ہنگل کا کڑا امتحان تھا۔اتنی تیزی سے بولتی اسکو دھکیل کر پرے کرتی وہ چندی آنکھوں والی لڑکی۔جب تک اسکے حواس ترجمہ کر پائےوہ آگے بڑھ چکی تھی جبکہ وہ خود لڑکھڑاکرساتھ ہی پڑے خالی بنچ پرگر سی گئ۔
    آپ ٹھیک ہیں؟
    نرم مانوس جملے مگر یکسر اجنبی شکل والی وہ لڑکی مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھ رہی تھی۔
    جی۔ وہ اپنے کندھے پر بیگ درست کرتی شرمندہ سی ہونے لگی ۔
    ہائے میرا نام عشنا ہے۔ آشنا نہیں۔ مگر پھر بھی تم میرے ساتھ بھاگ کے آسکتی ہو۔
    وہ کہہ کرکھلکھلائی تھی۔ گوری رنگت گالوں میں دونوں جانب پڑتے گڑھے شہد رنگ بال۔ جینز شرٹ میں ملبوس اس لڑکی نے اسکارف بھی گلے میں ڈال رکھا تھا مگر اس کے نقوش اسے قطعی بھارتی نہیں لگے تھے۔ اسکا مزاق سر پر سے گزرنے کی وجہ سے وہ بس ہونقوں کی طرح مسکرا دی۔
    آشنا کا نہیں پتہ؟ جان پہچان والے کو کہتے اردومیں۔۔۔
    عشنا نے وضاحت کی تو وہ بس سر ہلا گئ۔ عشنا اسے بغور دیکھنے لگی۔
    کھلتے ہوئے رنگ کی گھنگھریالے بالوں والی وہ لڑکی کرتی اور جینز میں ملبوس تھی مگر دوپٹہ ندارد تھا
    انڈین ہو تم؟ اس نےاندازہ لگایا۔ جوابا اس نے زور وشور سے اثبات میں سر ہلایا۔
    اچھا۔ مل کے خوشی ہوئی۔۔ انداز نسبتا مایوسی بھرا تھا۔مگر ہھر اپنی جون میں لوٹ کر بولی
    ۔ویسے میں پاکستانی ہوں۔
    آپ ادھر آجائو ہم اردوبولنے والے لڑکے لڑکیوں کا گروپ ادھر اکٹھے بیٹھتا ہے۔تم شائد نئئ ٹرانسفر اسٹوڈنٹ ہو۔خیر نئے پرانے کیا۔ ہم یہاں کئی مہینوں سے جھک مار رہے مجال ہےکچھ پلے پڑا ہو۔بس ہم آپس میں گپیں ہانک کر مل بیٹھ کرکچھ پڑھ پڑھا لیتے ہیں
    وہ لڑکی جو بھی تھی بہت باتونی تھی۔۔اسکا ہاتھ پکڑ کر کلاس کے دائیں جانب بڑھ گئ۔وہ اسکے ساتھ کھنچتی گئ تھی۔
    کونے میں دو لڑکے ایک لڑکی بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ اس نے اسے بیچ میں لے جا کھڑا کیا۔ وہ تینوں چونک کر چپ ہوئے۔
    یہ اجے ہے یہ تمہارا ہم وطن ہے۔ یہ ثاقب اور یہ ثریا یہ دونوں بنگالی ہیں۔۔ اور یہ ہے۔۔
    اس نے تفصیل سے ان سانولے سلونے لڑکوں کا تعارف کرایا
    ہیلو۔ ہائے
    انہوں نے گرمجوشی سے اسکا اپنے گروپ میں استقبال کیا تھا۔۔ لڑکی بھی سانولی سی تھی مگر گرمجوشی سے اسکی جانب ہاتھ بڑھا رہی تھئ تبھی عشنا چونکی۔
    اور تم ؟ نام تو بتایا ہی نہیں تم نے؟
    تم نے موقع ہی نہیں دیا ہوگا اسے بولنے کا؟۔ اجے نے درست اندازہ لگایا۔
    عشنا تو مجھے لگتا ہے سوتے میں بھی بولتی ہوگی۔
    ثاقب چھیڑ رہا تھا
    ایویں۔۔ عشنا منہ پھلا گئ۔
    میری دوست کو مت تنگ کرو بھئ۔ ثریا نےلاڈ سے اسکو اپنے ساتھ لگایا۔
    تو اور کیا۔ تم لوگ خوامخواہ میں مجھے کہتے میں ذیادہ بولتی میں نے بول بول کر تم سب کی دوستیاں کروائئ ہیب اگرمیں اتنی فرینڈلی نہ ہوتی تو تم سب آج یہاں اکٹھے نہ ہوتےمیرا کمال ہے تم سب کو اکٹھا کیا۔ ورنہ یہ ثاقب اس نے پیچھےاکیلے بیٹھےبیٹھےہی پاس آئوٹ کرجانا تھا اور۔
    عشنا نےاپنی کارکردگی جتائی۔
    جی جی۔ مائی باپ آپ مہان ہیں۔ اجے نےہاتھ جوڑے اسکی تیز گام روکنےکیلئے۔۔
    سر آگئے ہیں۔ سیٹ سنبھال لو سب۔
    ثاقب نے کہا تو وہ سب جلدی جلدی اپنی اپنی جگہ سیدھے ہوگئے۔ وہ بھی مسکرا کر عشنا کے ساتھ بیٹھ گئ۔
    یہ والے سر خبطئ ہیں۔ اکیلے بولتے رہتے۔ انکو سوال کرنے والے طلبا ء ذیادہ پسند نہیں۔ باقی اچھے ہیں یہ بولتے رہتے ہم باتیں کرتے رہتے۔ بس شور نہ کرو تو یہ اس طرف دیکھتے بھی نہیں۔
    دھیمئ آواز میں وہ اسکے کان پر جھکی بولے جا رہی تھی۔
    وہ دیکھو۔
    اس نے کہنی مار کر متوجہ کیا۔
    انکے بالکل آگے والی نشست پربیٹھا وہ چندی آنکھوں والا جوڑا ڈیسک پر نیچے بیٹھ گیا تھا۔۔
    اس نے گڑبڑا کرنظرہٹائئ۔
    اوئے تم تو بلش کرنے لگیں۔ عشنا ہنس پڑئ۔
    گلابو ۔گلابو نام جچتا ہے تم پر وہ کیا گانا تھا گلابو ۔۔عطر گرا دو۔۔
    وہ لہک لہک کر گارہی تھی سر کا رخ دوسری جانب تھا۔
    سشس ۔۔ اس نے سٹپٹا کر اسے روکنا چاہا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹوڈیو میں داخل ہوتے ہی اسے ویرانی کا سا احساس ہوا تھا۔ پروڈیوسر گنجے انکل اپنے معاون کے سر پر کھڑے کسی بحث میں الجھے تھے۔ وہ دانستہ انہیں نظر انداز کرتی ریکارڈنگ روم میں چلی آئی۔ وہی ریکارڈنگ روم وہی وہ۔ مگر سب کچھ جیسے بدل چلا تھا۔ اپنا بیگ رکھتے وہ کرسی سنبھالنے لگی جب پروڈیوسر کی گلاس وال سے اس پر نظر پڑی تو معاون کو انتظار کرنے کا کہہ کر وہ دروازہ کھول کر اندر چلے آئے۔
    ہیلو مس الف۔کیسی ہیں آپ ۔
    انہوں نے مروتا پوچھا جوابا اس نے مروتا بھی جواب نہیں دیا۔ ہیڈ گئیر اٹھا کر سر پر لگانے لگی

    آج آپکو اکیلے شو کرنا ہوگا۔ ژیہانگ کا فون آیا تھا ناگزیر وجوہ کی بنا پر وہ آجکا شو نہیں کر سکتا۔ ویسے تو وہ پہلے ہی استعفی دے چکا تھا میری درخواست پر اس ہفتےکا شو کرنے کی حامی بھری تھئ مگر آج اچانک فون آگیا۔
    آپ اکیلے سنبھال لیں گی نا ؟ آپکو بھی پتہ ہوگا ژیہانگ سے کافی دوستی ہوگئ تھئ نا آپکی۔
    میں سنبھال لوں گئ پہلے بھی تو اکیلے کرتی تھی شو۔
    الف کا لہجہ ایکدم تیز اور کھردرا ہوا تو وہ ہونٹ بھینچ کر سر ہلا گئے۔
    ٹھیک ہے پھر آپ تیار رہیں۔
    وہ کہہ کر رکے نہیں۔
    میں سنبھال سکتی ہوں سب اکیلے۔
    اس نے بڑ بڑا کر خود کو یقین دلایا تھا جیسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس میں جگہ ملنا کوریا میں اتنا ہی آسان تھا جتنا سر میں کسی کی چڑھ آنے والی جوں نکالنا۔ پورا سر کھنگالو باریک کنگھی پھر کہیں جا کے اس ننھی مخلوق سے سامنا ہو پاتا۔ ایسے موقعوں پر فاطمہ کی تیزیاں دیکھنے لائق ہوتی تھیں
    وہ آہجومہ اپنے بچے کا ہاتھ تھامتی اٹھیں تو سب کوریائیوں کو شکست فاش دیتے فاطمہ اتنی تیزی سے بچے کی چھوڑی جگہ بیٹھئ کہ اس نشست پر۔بری نگاہ گاڑے اس ہائی اسکولر کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اس نے سر جھٹک کر برابر والی نشست پر بیٹھنا چاہا تب تک وہ فون میں الجھی واعظہ کو کھینچ کر پاس بٹھا چکی تھی۔
    فون کان سےلگائےبات کرتی واعظہ نے صورت حال سمجھنے کی کوشش کی پھر کندھے اچکا کر بات سننے لگی۔
    جی ۔ جی۔ اچھا۔ نہیں ہم بس وہیں آرہے ہیں۔
    جی۔میری دوست ہے میرے ساتھ ہی ہے۔ فاطمہ۔ اسکی بولتے بولتے فاطمہ پر نگاہ گئ۔ حلق میں دل اچھل آیا۔۔
    گھر گھر کر بادل آرہے تھے۔ بس کی کھڑکی سے ندیدوں کی طرح سر باہر نکال کر دیکھتی ہوئی فاطمہ کو اسکی پونی سے کھینچ کر ہی اندر کیا تھا واعظہ نے۔ فون بند کرکے بیگ میں رکھتی وہ بھنا گئ
    مانا خالی ہی ہے مگر یہ استخوانی پنجرہ جو گردن پر سجا رکھا نا اسکا سرمہ میرے کسی کام کا نہیں ہے۔ سر اندر کرکے بیٹھو۔
    واعظہ کی ڈانٹ اسکے سولہ سالہ تعلیمی کیرئر کا امتحان لے لیتی تھئ۔
    استخوانی پنجرہ۔۔۔ وہ سوالیہ نشان ہوئئ۔
    استخوان ہڈی کو کہتے ۔۔ واعظہ بدمزہ سی ہوئئ۔
    اوہ ۔ فاطمہ جیسے سمجھ گئ زور و شور سے سر ہلایا۔
    میرے سر کو استخوانی پنجرہ کہہ رہی ہو۔ مگر پنجرے میں کچھ تو ہے۔ محسوس ہوتا ہےمجھے اکثر خطرے کی گھنٹی سنائی دیتی ۔محتاط ہو جائو فاطمہ آگے راستہ خطرناک ہے۔
    وہ ڈرامائی سے انداز میں آنکھیں مٹکاتی بول رہیتھی۔
    تو محتاط کیوں نہیں ہوتیں تم؟ نئے سرے سے کسی نئی مشکل میں پھنستے وقت نہیں بجا کرتی یا خراب ہے۔
    واعظہ بھنائی۔ مگر فاطمہ پر اثر ندارد تھا۔
    جب بڑی مشکل ہوتی ہے تب بجتی ہے۔جیسے۔۔
    اس نے سوچنا چاہا مگر کوئی ماضی قریب کی مثال سوجھی ہی نہیں۔ سر جھٹک کر بولی۔
    تازہ ترین ابھی بج رہی ہے۔۔۔۔ اس نے مڑ کر واعظہ کی صورت تکی جس پر بیزاری ہی بیزاری تھی۔
    یقینا وہ گھنٹئ کا مرکز پوچھنے نہیں والی تھی سو خود ہی بتانا پڑا اسے
    ہم عشنا کو دوبارہ گھر میں جگہ دے کر غلطی کر رہے ہیں مجھے پکا لگ رہا ہے۔۔۔
    اس نے کہہ کر سانس روک لی۔ واعظہ کا ردعمل ٹھس پھس سا تھا۔ ہلکا سا منہ بنا کر اس نے رخ پھیرا
    مار لی بونگئ اب چپ ہوجائو۔
    واعظہ کی بات پر اسکا منہ اتر گیا۔ اپنی طرف سے اس نے کافی دھماکے دار بات کی تھی۔
    ہے ہی سڑیل۔
    وہ منہ پھیر کر بڑبڑائی مگر اتنی آواز میں کہ اسکے برابر کندھے سے کندھا جوڑے بیٹھئ واعظہ کی سماعتیں محفوظ نہ رہیں۔
    انکا اسٹاپ آچکا تھا ۔بس رکتے ہی سرعت سے واعظہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ کو بھی تقلید کرنی پڑی۔۔
    تیز تیز قدم اٹھاتئ واعظہ کے پیچھے وہ لڑھکتی آرہی تھی۔
    ارے۔ کیا ہوا ہے بھاگ کیوں رہی ہو۔ ٹھہروتو۔
    فاطمہ نے زبان سے روکنا چاہا مگر اسکی رفتار نہ کم ہوئی سو بھاگ کےاسکے آگے ہوئی۔
    دیکھو میری بات سنو۔مومن ایک سوراخ سے دوسری دفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے۔مجھے واقعی لگتا ہے ہمیں عشنا پر دوبارہ اعتبار نہیں کرنا چاہیئے۔بلکہ وہ کیا نام بتایا اس نے۔
    فاطمہ سوچ میں پڑی۔
    میں مومن نہیں ہوں۔
    واعظہ سہولت سے کہہ کر ایک جانب ہوکر آگے چل پڑی۔
    ارے۔فاطمہ پوری گھوم گئ۔پھر لپک کر دوبارہ واعظہ کے آگے آکر اسکا راستہ روک لیا۔
    یار بات تو سنو اتنئ لڑکیاں اکٹھے رہ رہی رہیں ہمیں یوں ایک انجان بلکہ ہندوستانی لڑکی کو گھر میں جگہ نہیں دینی چاہیئےجبکہ ہمیں ایک بار ہاتھ لگ چکے ہیں۔۔
    اب اکٹھےاتنی لڑکیاں نہیں رہنے والیں۔ میں نے سب کو کہہ دیا اپنا انتظام کر لیں۔ میں لیزنہیں بڑھوا رہی اپارٹمنٹ کی۔
    سکون سے جواب دے کر وہ پھر فاطمہ کے دائیں جانب سے ہو کر آگے بڑھی۔۔۔ اسکی بات پرچند لمحے ہکا بکا رہنے کے بعد وہ بے یقینی سے پلٹی ۔واعظہ کئی قدم آگے بڑھ چکی تھی وہ پھر بھاگ کےآگےآئی اسکو کندھوں سے پکڑ کر جزباتی انداز میں جھنجھوڑ ڈالا۔
    کیا۔ یہ کیا کہہ رہی ہو۔میں کہاں جائوں گی؟ میرا کوریا میں تمہارے سوا ہے ہی کون۔۔
    شوہر ہے نا۔ میں نے تمہاری شادی کروادی ہے اب اپنے شوہر کے گھر میں دل لگائو۔
    واعظہ ذرا جو متاثر ہوئئ ہو اسکی جزباتیت سے۔۔
    وہ گائوں گیا ہوا ہےبتایا تو ہے اکیلے گھر میں ڈر لگتا مجھے میں نہیں جاسکتی وہاں۔
    اس نے منمنا کر اپنی مجبوری بیان کی۔
    اچھا چلو دفتر آگیا اندر چلیں۔ ۔ واعظہ نے سکون سے سر ہلایا اور اس بار فاطمہ کے بائیں جانب سے نکل کر آگے بڑھی۔ وہ چلتے ہوئے اب دفتر کے احاطے میں پہنچ چکی تھیں۔ بڑا سا سنگی احاطہ آگے دفتر کی عمارت کا داخلی حصہ۔۔۔ چکنے فرش پر ہیل سے اٹکتی فاطمہ کو چند لمحے لگ گئے مڑنے میں اس میں بھی وہ ذرا سا پھسل سی گئ۔قدم سنبھال کر سیدھی ہوئئ۔
    سنگدل۔۔ اوفوہ۔۔ ۔ اسکا راستہ روکنے کیلئےوہ دائیں جانب سے مڑ چکی تھی۔ واعظہ ندارد جھلا کر بائیں جانب مڑی تو سامنے سے آتے استخوانی کھمبے سے ٹکرا کر کئی قدم پیچھے ہونا پڑ گیا۔
    آہ۔۔پیشانی سہلاتے ہوئے وہ کراہ کی آواز پر چونکی
    یہ اسکی آہ ہرگز نہ تھی۔اس نے سر اٹھایا تو مقابل کو اپنی ناک سہلاتے پایا۔ خون کی پتلی سی لکیر اسکے لبوں تک آرہی تھی۔
    اوہ آئی ایم سو۔۔
    اس کےمعزرت کرتے الفاظ کہیں گم گئے۔
    ایک ہاتھ سے نکسیر روکنے کے چکر میں ناک سہلاتے اس لڑکے کا دوسرا ہاتھ ایک اسٹریپ والا گہرا میرون پرس تھامےتھا اس نے اپنی کلائی میں اسٹریپ کا بل دے رکھا تھا۔
    لمحہ لگا تھا فاطمہ کو بیگ پہچاننے میں اور دوسرے لمحے وہ اسکی کلائی موڑ کر کمر کے پیچھے لگا چکی تھی۔اس نے گھمایا پھرایا اسٹریپ اور بیگ ہوا میں اڑے۔جھماکے سے کلائی چھوڑ کر اس نے دائو لگاکر اسے گھوما دیا تھا۔وہ ایکچکر کھا کر گھٹنے کے بل زمین پر آیا۔ دوسرا گھٹنا زمین پر لگنے سے بچانے کو اسے نکسیر روکنے کیلئے مصروف ہاتھ کا استعمال کرنا پڑا۔
    اکڑوں بیٹھ کر حواس بحال ہوئے تو اس نے سوچنا چاہا اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔مڑ کر پیچھے دیکھا تو وہ لڑکی بلیوں اچھلتے ہوئے اپنے بیگ کو ٹٹول ٹٹول کر اسکے ہر طرح سے صحیح و سالم ہونےکا یقین کر رہی تھی۔ مطمئن ہو کر باقائدہ بیگ کو چوما اب اسکو کھول کر دیکھنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی ٹھرکی توندل انکل کی ہمراہی میں سہج سہج کر چلتے وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب ہیل پہننے کا ارادہ کیا تھا۔ایک تو پوری عمارت میں ایسے چکنے ٹائلز تھے کہ دور سے دیکھو تو لگے پانی پڑا ہوا ہے۔ وہ سہج سہج کر قدموں پر نظریں گاڑے چل رہی تھی ۔ وہ لڑکا بھی اسکے ہمراہ تھا۔ اسکے برعکس اسکی ساری توجہ سر گھما گھما کر عمارت کا نقشہ دیکھنے پر مرکوز تھئ۔ یک رویہ کمروں کی یہ طویل راہداری تھی۔جسکو گزار کر وہ نسبتا کھلے حصے میں چلے آئےتھے۔ ایک جانب گلاس وال تھی جس سے سڑک نظر آرہی تھی دوسری جانب ریلنگ جس سے نیچے کی منزلیں اس پر چہل پہل رونق دیکھی جا سکتی تھی مگر اس منزل پر ہو کا عالم تھا۔
    یہاں اس منزل پر اسٹوڈیو اور اس جانب سیٹس لگے ہیں۔
    انہوں نے اشارے کرتے ہوئے انگریزی میں بتایا۔۔۔
    اس جانب میک اپ رومز ہیں۔
    آپ لوگوں کا سارا کام یہاں سیٹ پر ہوگا۔وہ انہیں لیکر ایک ہال کمرے کے دروازے پر لے آئے۔ ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا تو جیسے ایک طلسم کدہ کا دروازہ کھل گیا ہو۔ ۔اندر ماحول ہی کچھ اور تھا۔پورا محل نما گھر بنا ہوا تھا دو منزلہ جس پر کیمرے لائٹیں سیٹ کی جارہی تھیں۔ لوگ ہی لوگ آوازیں ہی آوازیں۔۔۔
    وہ لڑکا باقائدہ منہ کھولے ہوئےوائو وائوکرتا دیکھ رہا تھا۔
    کیسے پینڈوئوں کی طرح منہ کھول کر دیکھ رہا۔
    پورےہال پر طائرانہ نگاہ ڈال کر اپنا کھلا منہ بند کرتے اس نے اپنے اس کام کے ساتھی کو ناگواری سے دیکھا جو منہ کھولے دیکھ رہا تھا۔
    یہ ہمارا سیٹ ہے ۔یہ شوٹ 90 دن کی ہے ۔ ابھی عربی فنکار میک اپ روم میں ہیں آتے ہیں تو ان سے آپ دونوں کا۔تعارف کروادیتا ہوں۔
    اس چندی آنکھوں والے انکے باس نے مڑ کر۔جیسے انکی تسلی دئ۔
    جی۔ دونوں نے اکٹھے سر ہلایا تھا۔تبھی ایک اسپاٹ بوائےدو پلندے کاغزوں کے اور ایک شاپر لے آیا۔ بڑے اہتمام سے انہوں نے پلندے آگے بڑھائے۔
    چونکہ بھاری بڑے لگ رہے تھے اس نے تکلفا بھی ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس۔لڑکے نے آگے بڑھ کر تھامنا چاہا انہوں نے نرمی سے رخ اسکی جانب پھیر لیا۔
    یہ اسکرپٹ ہے۔اسے آپ پڑھ لیں۔عربی کورین دونوں طرح کا ہے۔ آپکو سین 13 اور 14 لالا کو یاد کروانے ہیں ۔
    انہوں نے فاطمہ کو اسکرپٹ بڑھائے تھے۔ اس نے جھجکتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔ اٹھانے میں اسکا اندازہ چوک گیا۔ وہ پلندے پتھر کی سلوں جتنے وزنی تھے۔ اسکی شکل جو بنی تھی اس پر۔لڑکے نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی تھی۔
    جبکہ وہ اب شاپرکھنگال رہے تھے۔
    یہ کارڈز آپ دونوں کے ہیں۔۔ان کو احتیاط سے رکھیئے گا جب تک کمپنی کی جانب سے ایمپلائی کارڈ نہیں آتے ان کارڈز کے بنا آپکو اس سیٹ کیا اس ڈیپارٹمنٹ میں بھی گھسنے نہیں دیا جائے گا۔
    اور۔۔۔ ان توندی انکل نے انکو ایمپلائی کارڈز کی طرز کے کارڈ اور ہار تھماتے ہوئے اسکی روح فنا کر ڈالی تھی۔
    کہہ رہے تھے۔
    عربی لہجے میں کورین بولنا بہت مشکل کام ہے۔ ہم ڈبنگ کروائیں گے لیکن پھر بھی الفاظ بولنے تو درست پڑیں گے نا۔ ایسا کیجئے گا۔ ڈبنگ کیلئے آڈیشن دے دیجئے گا۔ یہاں روم 67 میں ہو رہے ہیں۔ کورین نا سہی عربی ڈبنگ میں آپکی آواز کام آجائے گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سامنے شوٹنگ شروع ہو چکی تھی۔معروف کورین ادھیڑ عمر اداکار اپنا منظر عکس بند کروا رہے تھے۔ وہ ایک کونے میں بیٹھئ جمائئ پر جمائئ لیتے ہوئے اسکرپٹ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
    آد۔۔ راخ۔۔ لح۔ خالا۔۔ دخا۔۔
    عربی کو بنا اعراب پڑھنے کا نا شوق تھا نا تجربہ۔ پورے جملے میں اسے خود ہی سمجھ نہ آیا کہ لفظ بنانا کیسے ہے۔
    مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ اس سے پہلے کہ یہ لوگ مجھے دھکے دے کر نکالیں میں خود عزت سے انکار کر دیتی ہوں۔
    اس نے اسکرپٹ بند کرتے ہوئے مصمم ارادہ کیا پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تبھی سامنے سے دو کپ اٹھائے خراماں خراماں چلتے ہوئے وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
    یہ لیجئئےکافی۔۔ سر نے بھجوائی ہے۔ کہہ رہے تھے پہلا دن ہے ذیادہ اسٹریس مت لیں۔
    وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ فاطمہ نے ایک نگاہ دیکھا پھر کپ تھام کر دوبارہ بیٹھ گئ۔ کافئ پی کر بھی ریزائن دیا جاسکتا تھا۔سر پھٹنے کو تھا ویسے بھی۔
    مے آئی۔
    وہ اسکے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھنا چاہ رہا تھا مگر اجازت طلب کر رہا تھا اس نےسر ہلا دیا ۔تو شکریہ کہہ کر اس نے کرسی تھوڑا سا گھسیٹ کر دور مگر اسکے مقابل کرلی۔
    آپکی کوئی چیز گمی تو نہیں۔ اس نے یقینا بات بڑھانے کو پوچھا تھا۔
    اسکی بات پر فاطمہ چونکی۔
    اگر گمی بھی تو مجھے یاد کہاں ہونا۔ وہ سوچ کے رہ گئ۔

    دراصل یہ بیگ مجھے باہر احاطے میں کرسیوں کے پاس پڑا ملا تھا۔ میں نے اسکو گارڈ کو دینا چاہا تو اس نے صاف کہا کہ عمارت کے اندر کے ہم ذمہ دار ہیں باہر سے کچھ ملے تو اسے کوریا کے گمشدہ اشیاء کے مرکز میں جمع کرائیں۔۔۔ اس میں موبائل بھی تھامگر بیٹری چارج نہیں تھی۔ اسکو چارج کرکے میں نے کوشش کی رابطہ کرنے کی مگرناکام رہا۔ صبح مجھے واعظہ کی کال آئی وہ اس نمبر پر رابطے کی کوشش کر رہی تھیں تو ان سے بات ہوئی میری۔
    کیا؟ وہ چلا ئی۔۔
    واعظہ کو پتہ تھا میرا بیگ مل گیا ہے۔۔
    جی وہ۔ وہ اسکے ردعمل پر گڑبڑا گیا۔
    حد ہے۔ اس لڑکی کی تو۔ مجھے بتا تک نہیں۔ وہ کپ سائڈ میں رکھ کر فون بیگ سے نکالنے لگی۔ جھٹ کال ملائی فون اٹھاتے ہی شروع ہوگئ
    واعظہ کی بچی تمہیں پتہ تھا میرا بیگ مل گیا مجھے بتایا تک نہیں۔ میں نے بلا وجہ ایک شریف آدمی پر دائو آزما دیا ناک پھوٹ گئ ابھی بھی سرخ ناک لیئے بیٹھا ہے میرے سامنے۔
    اپنے اس تعارف پر اسے کافی کا گھونٹ بھرتےاچھو سا لگا تھا
    آگے سے واعظہ کہہ رہی تھی۔
    وہ سب چھوڑو یہ بتائو جاب چھوڑی کہ نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ اپنی دھن میں اسٹاپ پر سے خراماں خراماں چلتی ۔ بیگ کندھے پر درست کرتی گھر گھر کر آتے بادلوں اور سرد ہوا کا مزا لیتی اپنے گھر کی جانب جاتی گلی میں مڑی ہی تھی کہ سامنے سے ہوا سے ہلکا ہلکا اڑتا خوب چوڑا گھیر دارسیاہ خیمہ سنسنان گلی میں اپنی جانب بڑھتا دیکھا تو لمحہ بھر کو لگا دل رک ہی گیا ہے۔
    بب بھوت۔
    جان چھوڑتے لڑکھڑاتے قدموں سے اس نے پیچھے کو الٹے قدم اٹھائے۔ خیمے کی رفتار بڑھی اڑتا اڑتا مزید قریب آیا۔
    وہ خوفزدہ ہو کر گر سی گئ
    لاحول ولا قوت۔
    اس کے ورد کا اس مخلوق پر اثر نہ تھا۔
    یہ بھوت نہیں تو کیا خ خلائی مخلوق ۔۔ اس نے آنکھیں مئچ لیں
    یا اللہ مجھ سے ایسی کیا خطا سرزد ہوئی پہلے اغوا ہوئی اب یہ خلائی مخلوق۔۔۔۔۔
    آنکھیں میچنے کے باوجود بھی کسی نے اسکے جسم پر نا دانت گاڑے نا ہی کوئی الیکٹرانک ڈیواس چپکائی تو اس نے ذرا سی آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا
    وہ خیمہ اسے کالی سی کوئی چیز پکڑا رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔