Blog

  • Ludo Star Urdu alamati afsana

    لوڈو سٹار

    عجیب بات لگتی نا سمارٹ فون پر لوڈو سٹار کھیلنا

    ہم چار پلے کھیل رہے تھے

    وہ بھی ماسٹر والی

    تین ہم مسلمان تھے ایک کافر

    ہم تینوں کافر کو ہرانے کے لئے ایک ہو گیے

    میری ہری گوٹیں تھیں

    کافر کی سرخ ہم تینوں سرخ کے پیچھے پڑ گیے

    دے دھنا دھن پیٹے جا رہے تھے

    ایک دوسرے کو گوٹیں چھوڑ دیتے تھے اسکی سب سے پہلے پیٹ ڈالتے

    پیٹ پیٹ کر اسکی سب گوٹیاں گھر پہنچا دیں

    ہرا

    ہم سب ہنسنے والے سمائلی بنا بنا کر چڑا بھی رہے تھے

    میں نے کہا

    شکر ہے الله کا

    پیلی گوٹ والے نے کہا شکر ہے الله نے کافر پر برتری دی

    میں ہر بار ،،،،،، کہہ کر پانسا گھماتا تھا چھے آجاتا تھا

    میری پیشانی شکن آلود ہوئی

    یہ تو غلط عقیدہ ہے

    سرخ گوٹ والے کے دو چھے پانچ آیے

    نیلی گوٹ والا ہنسا

    الله ہمیشہ کافروں پر ہمیں سبقت دیتا ہے

    ہمارے ………ہمیشہ کہتے آخر میں جیت حق کی ہوتی

    کیا؟

    میں اور پیلی گوٹ والا دونوں چیخے

    تو کیا نیلی گوٹ والا بھی کافر تھا ؟

    ہم دونوں چونک گیے تھے

    سرخ گوٹ والا سیدھا نکلا میری پگنے کو تیار بیٹھی گوٹی پیٹ دی

    ہم تینوں الگ بحث میں پڑ گیے

    چیٹ پر مغلظات کا طوفان امڈ آیا

    سرخ گوٹ اب پیلی گوٹ کو نشانہ بنیے تھی

    میرا چھے ایک آیا

    میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ نیلی گوٹ پیٹ دی

    عجیب بات تھی پیلی گوٹ والا بھی دھڑا دھڑ نیلی گوٹ پیٹ رہا تھا

    اسکی سب گوٹیں گھر پھنچا دیں

    سرخ گوٹ پگ گئی

    تبھی میرے دو چھے اکٹھے آیے

    میرا نشانہ اب کی دفعہ پیلی گوٹ بنی

    میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا سرخ گوٹ سب پگنے کے لئے گھر میں گھس چکی تھیں بس ایک پیلی گوٹ باقی تھی مجھے ہر صورت جیتنا تھا مجھے باری چاہے تھی

    ایک اور سرخ گوٹ پگ گئی

    پییلی گوٹ والا تلملا کر کچھ کہہ رہا تھا

    نیلی گوٹ والا ہنسے جا رہا تھا سرخ گوٹ والا

    اپنی آخری باری چل رہا تھا

    اسکی ایک باری میں دیکھتے دیکھتے دونوں گوٹیں پگ گئیں

    ہم تینوں بھونچکا دیکھتے رہ گیے وہ پہلے نمبر پر آگیا تھا تین گنا زیادہ سکے ملے تھے اسکو

    Kesi lagi apko yeh kahani ? rate us below

    Rating

    urdukahanicenter #urdukahanihaweli #urdukahaniradio #urdukahaniyaan #urdukahanistudio #urdukahanisangam #urdukahani01 #urdukahaniyancartoon #urdukahanizone #urdukahanidigest

    https://desikimchi.com/from-start-to-finish-the-ultimate-derailment-cdrama-review/
    chinese drama derailment full review
    https://desikimchi.com/exploring-the-tale-of-abdullah-pur-ka-devdas-a-pakistani-drama-review/
  • Hye Rohingya Urdu short afsana about Rohingya muslims genocide

    ہائے روہنگیا

    Unraveling the Magic of Urdu Afsancha: Delve into the World of Urdu Short Fiction”

    اسکی فیس بک بھری تھی۔۔ اسکی ٹائم لائن پر جائو تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے مراسلے تھے۔۔ خون لاشیں ظلم بربریت۔۔ کہیں ٹکڑے ٹکڑے جسم تھے کہیں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرتے جابر شقی۔۔
    وہ آن لائن تھا۔۔
    اس نے فورا اسے پیغام بھیجا۔۔
    یہ کیا بھیج رہے ہو دل خراب ہوگیا۔۔
    جہادی نامی آئی ڈی نے فورا جواب دیا تھا۔۔
    یار یہ برما کی تصاویر ہیں۔ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا بربریت کی انتہا ہے مسلمانوں کو چیونٹی کی طرح مسل رہے ہیں۔۔ عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے شقی۔۔
    اوہ۔۔ اس کو یاد آیا۔۔ عالمی برادری بھی اس مسلے پر آواز اٹھا رہی تھی۔۔
    صحیح۔۔
    اس نے بس اتنا ہی ٹائپ کرکے بھیجا آگے سے فوری جواب آیا۔۔
    تم بھی شیئر کر و نا ۔۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس ظلم کی اطلاع پہنچے۔ یار ہم مسلمان ایک ہو جائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔

    ۔

    ہمم۔۔ اس نے سوچا اور شئیر کر دیا۔۔
    اسے فوری اطلاع آئی۔۔ جہادی نے آپکے اشتراک کیئے گئے مراسلے کو پسند کیا۔۔ پھر شائد اس نے اسکی پوری ٹائیم لائن کے ہر مراسلے کو پسند کرنا شروع کیا۔۔
    جہادی نے آپکے جون میں اشتراک کیے گیے مراسلے پر تبصرہ کیا ہے۔۔
    اسکو نئی اطلاع آئی۔ اس نے فورا کھولی۔۔
    یہ کیا؟ تو شیعہ ہے؟
    اس نے فوری جواب دیا۔۔
    نہیں بھئی۔۔ میں سنی ہوں۔

    فورا اگلا تبصرہ آیا۔۔
    پھر یہ ہٹا مراسلہ۔۔
    کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
    یار دیکھ اس قول میں حضرت علی کے نام کے آگے رضی اللہ کی جگہ علیہ السلام لکھا ہے۔۔
    اس نے غور سے دیکھا۔۔
    اس نے تو بس خلیفہ کا قول دیکھ کر اشتراک کیا تھا۔۔
    قول تھا۔۔
    فتنہ اور فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نےابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کیئے ہوں کہ نہ تو اسکی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسکے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہو۔۔۔

    تو ؟
    اسے الجھن آئی۔۔
    یار رضی اللہ لکھنا چاہیے حضرت علی کے نام کے ساتھ
    خود تو نے تو رضی اللہ بھی نہیں لکھا۔۔ اس نے ٹوک دیا۔۔
    اوہو۔۔ بحث مت کر ہٹا یہ مراسلہ گناہ گار ہو رہا ہے۔۔
    جہادی کا فورا پیغام آیا۔

    اسکے پاس دلیل تھی۔۔بہت سے علما متفق ہیں اس بات پر کہ حضرت علی کو علیہ السلام کہا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ و علیہ واآل وسلم کا نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد پر درود و سلام بھیجا جاتا ہی ہے ۔۔وہ اہل بیت کو ماننے والا تھا سب سے بڑھ کر اس نے قول شئیر کیا تھا رضی اللہ یا علیہ السلام تو دیکھا بھی نہیں تھا پھر تھے تو وہ صحابی رسول پھر رسول کے داماد چچا زاد اہل بیت میں سے تھے انکا احترام اپنی جگہ تھا۔۔
    اس نے سب کچھ لکھتے لکھتے مٹایا۔۔ اور بس اتنا سا تبصرہ لکھا۔۔
    تو کہتا ہے نا ہم مسلمان ایک ہوجائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔۔
    میں کہتا ہوں مجال ہے جو تمام مسلمان ایک ہو جائیں۔

    The End

    Rating

    urdukahanicenter #urdukahanihaweli #urdukahaniradio #urdukahaniyaan #urdukahanistudio #urdukahanisangam #urdukahani01 #urdukahaniyancartoon #urdukahanizone #urdukahanidigest

  • Aks E Zaat| Meta title: “The Deception of Inferiority: One Man’s Journey to a False Sense of superiority

    کہانی :عکس ذات 

    مصنف : واعظہ زیدی

    میتھس ایسی چیز ہے جس میں صرف آپکا دھیان اور توجہ درکار ہے بس۔ تھوڑا سا دھیان بھٹکا اور

     آپ صفر سے شروع کریں گے سوال حل کرنا۔۔

    وہ حسب عادت پڑھاتے ہوئےبلیک بورڈ پر سوال حل کر رہا تھا ساتھ ہی  ادھر ادھر کی باتیں کرکے بچوں کی توجہ بلیک بورڈ کی جانب کرنے کی بھرپور کوشش میں مصروف تھا۔اور اس کوشش میں کتنا ناکام تھا اسے اندازہ تھا۔ اسکی شخصیت کی مقناطیسیست پھر طالبات کو مضمون پر توجہ دینے پر اکسا دیتی تھی۔۔۔ اسکا اونچا لمبا قد خوبصورت ناک نقشہ ملیح انداز گفتگو وہ  ایک نہایت خوبصورت مرد کہلاتا تھا اسکول بھر میں اسکا ثانی کوئی نہ تھا۔اسکے کپڑے بچیوں کا پسندیدہ موضوع تھے۔ وہ ہمیشہ نک سک سے درست تیار ہو کر ہی آتا تھا۔ ابھی بھی بہترین گرے قمیض پتلون میں ملبوس تھا۔ ٹائی نہیں لگاتا تھا پرٹائی پن اہتمام سے اسکی قمیض کی اوپری جیب پر ٹکی رہتی۔ اور لڑکیاں متجسس رہتیں آخر اس اسٹائل کا خیال اسے آیا کہاں سے۔ اسکی عمر لگ بھگ تیس پینتیس برس ہوگی مگر وہ آرام سے پچیس تک کا نظر آتا تھا۔   بارہویں کی طالبات اگر اس پر کرش پال رہی تھیں تو وہ دل ہی دل میں انکو حق بجانب ہی سمجھتا تھا۔ ہاں البتہ خود اپنی مکمل توجہ  کو میتھس پڑھا نے پر مرکوز کیئے رکھتا تھا۔ ابھی بھی اپنی پشت پر  گڑی نظریں محسوس کر رہا تھا۔ اور دبی دبی سرگوشیوں کو بھی سن کر نظر انداز کیئے تھا۔بچیوں کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی ان میں سے ۔ایک طالبہ نے تصویر بنائی تھی  دوسری طالبہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسی روکنے کی کوشش میں بے حال تھی۔  پڑھاتے پڑھاتے اس نے مڑ کر دیکھا۔دونوں تصویر پر جھکی تھی۔ دور سے دیکھنے کے باوجود وہ اندازہ کرچکا تھا کہ تصویر میں استاد کی ٹائی پن جو اس نے قمیض کی جیب میں اٹکا رکھی ہے بطور خاص نمایاں کرکے بنائی گئ ہے۔

    وہ دبے قدموں انکے سر پر جا کھڑا ہوا  

    یہ کیا ہو رہا ہے۔؟

    بھاری آواز پر دونوں لڑکیاں گھبرا گئیں ۔جہانزیب نے پھرتی سےوہ کاغذ اٹھا لیا دونوں لڑکیوں کا رنگ فق ہو گیا۔

    کاغذ پر اسکی تصویر بنی ہوئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانئ جس پر گھنے بالوں کا گچھا تھا۔گندمی رنگت ہلکی سی داڑھئ جسکے خوبصورت خط بنے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی اس پر عنوان تھا۔ تانیہ کے خوابوں کا شہزادہ

    تانیہ اورتبسم کا رنگ فق ہو چکا تھا سر جھکا کےرہ گئیں

     جہانزیب نے غور سے اپنی تصویر کو دیکھا مسکراہٹ دباتے ہوئےبولا یہ آرٹ کلاس نہیں ہے ۔ تبسم ۔میتھس پر دھیان دو ۔۔ پچھلےٹیسٹ میں غالبا تمہارے سو میں سےاسی نمبر تھے نا؟

    تبسم او رتانیہ کورس میں  سر جھکا کر بولیں سوری سر

    جہانزیب کو اب اپنا رعب دکھانا پڑا۔  آئندہ میں اپنی کلاس کے دوران ایسے فن پارےبناتے نہ دیکھوں سمجھیں دونوں؟ 

    تبسم تانیہ ہنوز  سر جھکائے تھیں ۔جی سر

    تصویر اسے بے حد اچھی لگی تھی سو جاتے جاتے پلٹ کر بولا ویسے اسکیچنگ اچھی کر لیتی ہو اسکو میں رکھ رہا ہوں۔۔شکریہ

    اسکی بات پر تانیہ اور تبسم نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ بے نیازئ سے دوبارہ بلیک بورڈ کی جانب بڑھ گیا

    تانیہ تبسم کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی

    بال بال بچے مجھے تو لگا تھا سر غصے میں آجائیں گے

    تبسم شرمندہ سی تھی۔ میری تو جان نکل گئ تھئ۔ سر کو اپنی تصویر دیکھ کر غصہ آنا چاہیئے تھا 

    تانیہ نے دزدیدہ نظروں سے دیکھا تو وہ بلیک بورڈ پر دوبارہ سوال حل کرنے میں منہمک ہو چکا تھا۔ سر بہت سویٹ ہیں یار ہمیں ایسی شرارت انکے ساتھ کرنی نہیں چاہیئے تھی۔ 

    تبسم  بھی متفق تھی۔ ہاں یار اب تو مجھے بھی شرمندگی ہورہی ہے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگلی کلاس فری تھی۔وہ یونہی باہر نکل آیا تو کینٹین کی جانب جاتی مس ربیعہ پر نظر پڑی تو تیز قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا

    مس ربیعہ مس ربیعہ۔ 

    وہ پکارتا اس کے سرپر چلا آیا۔

    ربیعہ چونک کے مڑی یوں سر راہ پکارتے چلے جانے پر اسکے چہرے پر واضح ناگواری دوڑی تھی۔مگر جہانزیب بے نیازتھا۔ خوشدلی سے پوچھنے لگا ” کیسی ہیں آپ مس ربیعہ آج صبح سے دکھائی نہ دیں کہاں تھیں۔

    ربیعہ نے مختصر جواب دیا۔ میں کلاسز لے رہی تھی۔ 

    چلیں اب تو ملاقات ہوگئ ہے۔ ویسے مجھے آپ جیسی میچیورخاتون سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میری کل والی بات پر مجھ سے شرمانے لگیں گی۔ اور مجھ سے چھپتی پھریں گی ۔ جہانزیب کا انداز شرارت بھرا تھا

    ربیعہ ناگواری سے بولی۔ 

     ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے کل ہی آپکو جواب دے دیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف پروفیشنل تعلق ہے ان سب باتوں کی گنجائیش نہیں نکلتی۔ میں چلتی ہوں۔ 

    جہانزیب ہنس پڑا۔

    ارےآپ تو برا مان گئیں۔ یہی تو آپکو بتانا چاہ رہا تھا بہت جلدی میں کل آپ نے انکار کر دیا آپکو تھوڑا سوچنے کیلئے وقت لینا چاہیئے تھا۔

     مجھے ضرورت نہیں میں اپنا فیصلہ آپکو بتا چکی ہوں۔ 

    سختئ سے کہہ کر ربیعہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اسکی نگاہوں کے سامنےپرچہ لہرایاجہانزیب نے۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔

    اس نے ہاتھ پیچھے کرکے پرچے کو بغور دیکھا۔ 

    پھر اپنے چہرے کے ساتھ پرچہ لگا کر معصوم سا بن کے پوچھنے لگا۔

    یہ میری کلاس کی بچی نے میری تصویربنائی ہے۔ اسکے نزدیک میں اسکے خوابوں کا شہزادہ ہوں۔۔  ہنسی آئی مجھے دیکھ کر۔  پھر ذہن میں سوال لہرایا کہ۔۔۔۔

    میں شکل و صورت کا لاجواب ہوں اچھی نوکری کرتا ہوں عادات کا بھی اچھا ہوں تو آخر ربیعہ نے میرے پرپوزل پر فوری انکار کیوں کردیا ۔۔ہوں؟

    ربیعہ تصویر دیکھ کر خاصی حیران ہوئی  پھر جہانزیب کی شکل غور سے دیکھی۔ 

     آپکو ان بچیوں کو ڈانٹنا چاہیئے تھا انہیں ایسا فضول مزاق نہیں کرنا چاہیئے تھا

    جہانزیب مسکرا دیا۔ 

     ہاں ڈانٹنا تو چاہیئے تھا مگر میں ڈانٹ سکا نہیں۔ بس مجھے یہی خیال آیا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو ربیعہ نے لمحہ بھر بھی سوچے بنا انکار کردیا

    ربیعہ جھنجھلا سی اٹھی۔ 

    میں آپکو بتا چکی ہوں ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں پھر میری منگنی بھی ہو چکی ہے۔ مجھے بار بار آپکے سامنے یہ دہراتے اچھا نہیں لگ رہا پلیز آئیندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔ 

    جہانزیب مایوسی سے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ 

     کیا کمی ہے مجھ میں ؟ آپ گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ آپکو میری صورت  اپنے ہم پلہ بہتر انسان مل چکا ہے آپ۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں وہ  یقینا مان جائیں گے۔

    ربیعہ چڑ گئ۔ 

    دیکھیں آپ اچھے انسان ہیں یوں اپنی اور میری انسلٹ مت کیجئے۔ 

    جہانزیب پر جیسے بالک ہٹ سوار تھی۔ کیا وجہ ہے جو آپ انکار کر دیتی ہیں یوں سختی سے۔۔ میں خوش شکل پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ۔ آپکو پسند کرتا ہوں کیا آپکو۔۔۔ 

    اسکے ضدی انداز ہر ربیعہ بری طرح غصے میں آگے سر جھٹک کر آگےبڑھنے کو تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔ 

    ربیعہ نے آگ بگولا ہو کر ہاتھ چھڑایا اور سختی سے بولی

    بس کیجئے ۔ختم کریں اس تماشے کو ۔ میں آپکو صاف صاف کہہ چکی ہوں مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔بار بار میرا راستہ روک کر مجھے پریشان مت کیا کریں۔

    جہانزیب ملتجی انداز میں بولا۔  ربیعہ میں واقعی تم کو پسند کرتا ہوں۔

    میں نہیں کرتی ہوں آپکو پسند سمجھے آپ

    ربیعہ سختی سے کہہ کر رکی نہیں وہ پکارتا رہ گیا۔

     ربیعہ 

    بات تو سنو ربیعہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ بیڈ پر بیٹھی پائوں کے ناخنوں پر  نیل پالش لگا رہی تھی جب سونیا کی۔نگاہ اس پر پڑی۔ کوئی چوتھی دفعہ اس نے نیل پالش ریمور سے بوتھا روئی ناخن پر پھیری تو لیپ ٹاپ ایک طرف کرتے وہ اسکی جانب مڑی۔ 

    انکار کر تو دیا ہے اب کیوں الجھن کا شکار ہو۔ 

    ربیعہ ایکدم چونکی۔ 

    نہیں۔ تو۔کوئی الجھن نہیں۔بس وہ۔

    وہ صاف انکار نہ کر سکی اسکے اندازے کی درستگی نے اسے سچ مچ حیران کیا تھا۔  

    اس نے آج حد پار کی ہے۔ یوں کالج میں سب کے سامنے   ہاتھ پکڑ لینا کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ جانے کس کس نے دیکھا ہوگا کیا کیا باتیں بنائی ہوں گی۔ 

    وہی تو۔ ربیعہ نیل پالش بند کرکے اسکی جانب رخ کرتی الرٹ سی ہو بیٹھی۔ 

    یہی تو پریشانی ہے مجھے۔ میرے تو امیج کا ستیا ناس ہوگیا ہوگا۔

    تمہیں اب اسکی شکایت پرنسپل سے کر دینی چاہیئے۔مستقل تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے الٹی سیدھی

     باتیں کرتا ہے ایویں تمہیں بدنام کر دے گا ۔۔۔ سونیا کی بات میں وزن تھا۔ ربیعہ مگر ابھی بھئ ہچکچاہٹ کا شکار تھئ۔

     یار بس یہی سوچ کر رک جاتی ہوں اچھا انسان ہے۔ سادہ سا ہے بس۔ مجھے پرپوز کرنے سے پہلے اچھا کولیگ تھا اچھی طرح بات کرتا تھا اب اچانک۔۔۔۔ 

    ربیعہ کا فون بجنے لگا تو اس نے فون اٹھا کر دیکھا پھر نو کرکے ایک طرف رکھ دیا 

    اسکا فون پھر بج اٹھا۔ سونیا کو بھی تجسس ہوا اسکے قریب ہو کر اشتیاق سے پوچھنے لگی

    وہی تھا۔۔ 

    ربیعہ نے گہری سانس بھری 

    ہاں۔۔

     وہ تمہاری گڈ بکس میں آنا چاہ رہا تھا جبھی اتنا اچھا بنا ہوا تھا اب اپنی اصلیت دکھا رہا ہے۔ بتائو گرائونڈ میں تمہارا ہاتھ پکڑ رہا ہے تمہیں تنگ کر رہا ہے آوازیں دے رہا ہے۔حد کردی ہے اس نے۔ لوگوں نے کتنی باتیں بنائی ہوں گی۔ضروربچوں نے بھی دیکھا ہوگا۔

    سونیا نے تو پوری کہانی بنا لی تھی۔ 

     یار میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ صبح سے بار بار فون کر رہا ہے تنگ کر رہا ہے جانے مجھ سے چاہتا کیا ہے۔ عاجز کر دیا ہے اس نے مجھے۔۔ ربیعہ ناک تک عاجز آئی ہوئی تھی۔ 

    سونیا کو نیا خیال سوجھا۔ ویسے شکل و صورت کا کیسا ہے۔؟

    ربیعہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ 

    شکل و صورت میں کیا اعتراض کروں تم جانتی ہو میں سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں

     ہوں۔مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اسکے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں اور سچ تو ہے کچھ حد تک درست بھی ہیں۔کوئی کہتا یے احساس کمتری کا شکار ہے کوئی کہتا ہے غصے میں پاگل ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں جو اس نے مالی بابا کو مارا تھا مجھے تو سچی بات ہے یہ بندہ نارمل نہیں لگتا۔ پرنسپل صاحب کا رشتے دار نہ ہوتا تو سیدھا کیس ہوتا اس پر۔

    سونیا اسکے تواتر سے جلتے بجھتے موبائل کو دیکھ کر پر سوچ انداز میں بولی۔۔۔   دیکھو ہوتا ہے کچھ لڑکے ہوتے ہیں غصہ ور۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے اسے غصے پر اپنے قابو نہ ہو لوگ وقت کے ساتھ بدل بھی تو جاتے ہیں اور 

    احساس کمتری والی بات عجیب کہی۔  اتنی کم عمری میں پی ایچ ڈی کی تیاری کرنے والا خوش شکل ایک سیکیور نوکری کرنے والا احساس کمتری کا شکار کیوں ہوگا۔۔ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔

    ربیعہ چڑگئ۔  تم کس خوشی میں مجھے کنوینس کرنے میں لگ گئ ہو۔میں اس سے ہرگز شادی کرنا نہیں چاہتی نہ کروں گی سمجھیں۔۔میں اپنے شہر سے دور یہاں صرف نوکری کی غرض سے آئی ہوں اور مجھے کوئی مزید ناطے نہیں بڑھانے یہاں کے لوگوں سے  

     وہی تو جاننا چاہ رہی ہوں۔ کیوں؟ ۔بڑھانے میں حرج کیا ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری کوئی منگنی ونگنئ نہیں ہوئی وی اور دیہاتی کزن  ہیں سارے تمہارے ان میں سے کسی کے پلے بندھنے کی بجائے اگر یہاں کوئی ویل ایجوکیٹڈ بندہ پرپوز کر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے تمہیں فالتو میں انکار کرنے کی ۔

    سونیا بھی تیز ہو کر بولی ۔ 

    اسکا مستقل واٹس ایپ بج رہا تھا۔ اس نے وہی سونیا کی نگاہوں کے سامنے کر دیا

    واٹس ایپ پر اسکی تصویر لگی ہی تھی اس نے غور سے تصور دیکھی پھر ربیعہ کی شکل 

    ٹھہرو اسکو اب میں جواب دیتی ہوں 

    اس نے موبائل ہاتھ سے لے لیا.سب پیغامات اب اسکی نگاہوں کے سامنے تھے 

    میسج : ربیعہ بس ایک بار فون اٹھا لو

    آخری بار میری بات سنو

    کیوں تم ایسے کر رہی ہو۔۔ 

    ربیعہ ؟

    تم ہو وہاں 

    کیا کمی ہے مجھ میں کیوں ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ

    سونیا ربیعہ کی شکل دیکھنے لگی۔ 

    یہ تو دیوانہ ہوا پڑا ہے۔

    ربیعہ منہ بنا کر بولی۔ 

    سائیکو ہے۔ 

    میسج: کیوں میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔

    کیوں ہر لڑکی مجھے انکار کر دیتی ہے۔۔ 

    کیوں ؟ 

    بتائو بولو جواب دو۔

    تم لڑکیاں کیوں ایسے کر تی ہومیرےساتھ

    سونیا میسج ٹائپ کرتے ہوئے:

    باقی لڑکیوں کا تو آپ ان سے ہی پوچھیں میں آپکو جواب دے چکی ہوں میری منگنئ ہو چکی ہے ۔۔ 

    میسج: تو توڑ لو نا میری خاطر

    سونیا بھی پیغامات پڑھ کر چکرا سی گئ۔ 

    یا اللہ کیا چیز ہے یہ لڑکا۔ 

    ربیعہ نے جتایا۔  اب سمجھ آئی کیوں میں نے چھوٹتے ہی انکار کیا اور منگنی والا جھوٹ بولا

    سونیانے موبائل رکھ دیا۔اسکے پیغامات پڑھنا آسان بات نہ تھی۔

    تم اب اسکو کوئی جواب نہ دینا ذیادہ تنگ کرے تو کل یہ سب میسجز دکھا کر ایڈمن میں کمپلین کردینا۔۔ 

    ربیعہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔  لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج جہانزیب نے شائد چھٹی کی تھی۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔شکایت کرنے کا ارادہ پکا تھا مگر آج جب وہ آیا ہی نہیں تو اسکا غصہ دھیما پڑ گیا۔ ویسے بھی وہ یوں لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہتی تھی۔خیر جہانزیب کی غیر موجودگی نے اسکا موڈ بہتر کر دیا تھا۔سارا دن بس تھکن ہوئی ذہنی کوفت نہ ہوئی۔وہ  تھکی تھکی سی گھرکا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی کہ اندر داخل ہوتے ہی چونک گئ۔ پورا لائونج بڑے بڑے  تحفوں کے ڈبوں  سے بھرا ہوا تھا۔۔ غبارے اور پارٹی پاپرز ٹیڈی بیئرز وہ خوشگوار حیرت سے آگے بڑھی۔  بالکل سامنے ایک بڑا سا بھالو بیٹھا تھا۔  وہ جیسے ہی اسے چھونے لگی  اسے ہٹا کر ایکدم جہانزیب بھالو کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہوئی

    جہانزیب  ایک ہاتھ میں کیک اور دوسرے ہاتھ میں بکے لہراتا ہوا خوشگوار موڈ میں ہے لہرا کر گنگنانے لگا

    ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر ربیعہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔

    سالگرہ مبارک ہو ربیعہ۔ تم جیو ہزارو سال خوش رہو ربیعہ۔۔ میرے ساتھ۔۔

    وہ آخر میں شرارت سے مسکرایا۔

    ربیعہ نے ناگواری سے گلدستہ  پیچھے کیا۔

    یہ کیا حرکت ہے اور تم اندر کیسے آئے؟ 

    ربیعہ غصے سےکانپ اٹھی تھی۔

    تمہاری سہیلی کی مہربانی سے اندر آسکا۔ 

    جہانزیب دلفریب مسکراہٹ سے لائونج کے ایک کونے کی جانب اشارہ کیا اس نے مڑ کر دیکھا  تو جیسے روح فنا ہونےلگی۔ ۔ 

    سونیا اس کونے میں لاچار سی پڑی تھی۔  منہ ہاتھ پائوں سب بندھے ہوئے ہیں۔

    سونیا۔ اسکے منہ سے چیخ سی نکلی

    ربیعہ بے تابی سے  اسکی جانب بڑھی تو جہانزیب نے  اسکا بازو تھام کے روک دیا۔۔ 

    جہانزیب۔ اطمینان دلانے لگا۔  ٹھیک ہے وہ۔ بس مجھے اندر آنے نہیں دے رہی تھی اس لیئے اسکے ہاتھ پائوں باندھ کے بٹھانا پڑا۔ اچھا ہے۔ ہم آرام سے اب بات کر لیں گے۔۔ 

    ربیعہ نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑانا چاہا۔ 

    مجھے تم سےکوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جائو تم یہاں سے۔۔ 

    جہانزیب۔سنجیدہ ہوگیا۔۔  مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔

    ربیعہ نے جان لگا کر اپنا بازو چھڑایا۔  ہاتھ چھوڑو میرا۔۔

    ربیعہ تنفر سےہاتھ چھڑا کر سہیلی کی جانب بھاگی ۔۔ خلاف توقع جہانزیب اسکو آرام سے دیکھتا رہا۔اس نے  آگے بڑھ کر سہیلی کے ہاتھ پائوں کھولنے کی کوشش کی مگر گرہیں بے حد سختی سے بندھی تھی اس نے سونیا کے  منہ سے کپڑا ہٹایا تو وہ بے اختیار رو دی۔  ۔جہانزیب نے آگے بڑھ کر اکڑوں  بیٹھتے ہوئے چھری آسکی جانب بڑھا دی۔۔دونوں ڈر کے پیچھے ہوئیں ۔

    یہ لو اس سے کاٹ لو۔۔ اسکا انداز نرم تھا۔

     چھری بڑھتے دیکھ کر سونیا ایکدم سے چلا چلا کر پکارنے لگی

    بچائو بچائو کوئی ہے؟ 

    جہانزیب نے تنگ آکر اسکا منہ بندکرتے گلے پر چھری رکھ دی۔ چپ کرکے بیٹھو اگر آواز نکالی تو گلا کاٹ دوں گا۔ 

    سونیا کی آواز گھٹ سی گئ۔ربیعہ روپڑی۔

    پلیز اسے کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو اسے۔اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے۔۔ 

    جہانزیب جھلایا۔ وہی تو کہہ رہا ہوں اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے پھر بھی بات نہیں کرنے دے رہی گلا کاٹ دیتا ہوں اسکا۔۔ چپ کرتی ہو کہ نہیں ؟ 

    سونیا ۔کی سانس تک رک گئ۔

    ربیعہ تڑپ گئ۔۔ تت تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟ 

    وہی تو ۔۔ وہی تو بتانا چاہ رہا ہوں میں ۔مگر نا تم سننے کو تیار ہوتی ہو نا یہ مجھے سکون سے بات کرنے دیتی ہے۔۔ 

    جہانزیب نے ناراضگئ سے سونیا کو  گھورتے ہوئے کہا۔

    ربیعہ سرنڈر کر گئ۔ مم میں سنتی ہوں بولو۔ اسکو چھوڑ دو۔ پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔ 

    اس نے حقیقتا اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے

    جہانزیب نے پہلے تائید چاہی۔  میری بات سنو گی نا؟

    ربیعہ نے سر ہلایا۔ 

    آنسو تواتر سے اسکے گالوں پر بہہ نکلے تھے۔ ہاں ہاں پلیز اسے چھوڑ دو۔

     بالکل خاموش بیٹھنا سمجھیں تم ورنہ گردن اڑا دوں گا۔  

    جہانزیب کے لہجے کی سختی۔  سونیا  نےبمشکل  سر ہلایا۔ 

    جہانزیب نے گرفت ڈھیلی کر دی۔

     اب میں بولوں سنو گی نا؟ 

    ربیعہ زو رو شور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئےبولی۔ 

    : ہا ۔۔۔ ہاں ۔۔ 

    جہانزیب دھیرے سے مسکرایا میں کل ساری رات سوچتا رہا کہ تم نے مجھے سیدھا سیدھا انکار کر دیا کیونکہ میں نے کبھی تمہیں بتایا ہی نہیں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ 

    تھوڑا عجیب ہے تمہاری سہیلی کے سامنے اپنا اقرارمحبت کرنا مگر خیر۔ 

    سونیا نے اٹھنا چاہا۔  مم میں چلی جاتئ ہوں۔  

    تمہیں سمجھ نہیں آتی چپ کرکے بیٹھو۔ایک لفظ اور بولیں تو تمہارے چھرا گھونپ دوں گا۔اس نے دوبارہ اسکی گردن دبوچ لی تھی جہانزیب کے تیور اتنے خطرناک تھے کہ ربیعہ کی روح فنا ہونے لگی

    جہانزیب فیصلہ کن نظروں سے اسے اور سونیا کو دیکھنےلگا پھر کانپتی ہوئی سونیا کی گردن چھوڑ دی۔ وہ گھبرا کر ربیعہ سے جا لپٹی۔۔ 

    اس نے سونیا کو کھینچ کر بھینچ لیا اپنے سینے میں۔

    اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔ 

    جہانزیب چڑامگر پھر آرام سے ان دونوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ 

    سارا موڈ خراب کردیا۔کہاں تھا میں ؟۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔ 

    اق اقرار۔  ربیعہ کی آواز کانپ کانپ گئ۔ محبت لفظ منہ میں کہیں گم سا ہوگیا ۔ جہانزیب مگر اشارہ پا کر مسکرادیا۔ 

    ہاں اقرار کر رہا تھا اپنی محبت کا۔۔۔ تو سنو ربیعہ میں پچھلے چار سال سے تم سے محبت کر رہا ہوں۔ تم سے منسوب ایک ایک چیز میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔تمہارا ایک ایک تحفہ سینے سے لگا رکھا ہے۔ 

    ربیعہ  نے حیرت سے ٹوکا۔میں نے کبھی تمہیں تحفہ نہیں دیا۔ 

    جہانزیب ہنسا۔۔  تم بھول رہی ہو تم نے بہت بار تحفہ دیا ہے مجھے۔سب سنبھال کر رکھے ہیں میں نے دکھاتا ہوں

    ایک منٹ۔۔۔۔

    اسے ایکدم کچھ یاد آیا تو اٹھ گیا۔بڑے بڑے باکس ادھر ادھر کرتے وہ کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔۔ سونیا اور ربیعہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔ربیعہ کا پرس دور دروازے کے پاس پڑا تھا سونیا کو دیکھ کر دیوانہ وار بھاگتے اسے خیال ہی نہ آیا کہ پرس گر چکا ہے۔ اسکا موبائل یقینا پرس کے اندر ہی تھا۔کیسے کس کو بلائے اطلاع دے۔ 

    وہ ایک بڑا سا شاپر اٹھا لایا تھا۔آکراسکے سامنئ بیٹھتے اس شاپر میں سے ایک چیونگم نکال کر دکھانے لگا۔ اسکا ریپر بوسیدہ تھا اور چیونگم شائد پگھل گئ تھی۔ چپ چپ کررہی تھی۔

    یہ دیکھو۔یاد آیا تمہیں؟ آج سے چار سال پہلے جب تم پہلی بار مجھ سے ملیں ۔جاب کا پہلا دن تم نے پورے اسٹاف کو یہ چیونگم دی۔ آج تک اسکو سنبھال کر رکھا ہے میں نے۔تمہارا پہلا تحفہ تھا یہ۔کیسے استعمال کر لیتا میں۔

    ربیعہ غرائی۔۔ یہ سب کو دی تھی میں نے صرف تمہارے لیئے نہیں تھی۔ 

    وہ بولتے بولتے جزباتی ہو کر انکے قریب چلا آیا ربیعہ کےگال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو سونیا نے جھٹک  دیا۔ جہانزیب نے بنا لحاظ تھپڑ ماردیا وہ دور جا گری ربیعہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی جہانزیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو بےدردی سے جکڑ کر غرا کر کہا 

    جانتا ہوں اسکے باوجود میں نے اسکو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ اور یہ جوس کا ڈبہ۔ تمہیں یہ جوس ایک طالبہ نے دیا تھا۔اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اسکو کھولنا تو دور پی بھی نہ سکا۔ 

    ربیعہ بلبلاکر رو دی۔ تم پاگل ہو گئے ہو۔۔ 

    جہانزیب پرسکون سا ہو کر مسکرایا۔ ہاں لیکن تمہارے پیار میں۔ 

    او ریہ ٹیچرز ڈے پر تم نے یہ کارڈ دیا تھا۔ بچوں سے خاص طور سے بنوا کر۔ میں اس دن آیا بھی نہیں تھا تم نے اگلے دن جب میں آیا تو مجھے دیا ۔ تم مشرقی لڑکی ہو ایکدم سے اقرار تو نہیں کر سکتی تھیں۔اس کارڈ کا متن پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔۔ 

    ربیعہ رو تے ہوئے بولی۔ بچوں نے خود بنایا تھا میں نے ان سے نہیں بب بنوایا تھا

    جہانزیب  نے یوں سر جھٹکا جیسے اسکو یقین نہ آیا ہو۔ مگر بولا تو آسانی سے مان گیا۔ 

    چلو مان لیا۔۔۔اس نے پلاسٹک کا ڈبہ نکل کر اسکی جانب بڑھایا 

    یہ پیسٹرئ۔ یہ تو تم نے مجھے میری سالگرہ والے دن دی تھی۔ پچھلےچار سال سے سنبھال کر رکھی ہے۔

    پلاسٹک کے خوبصورت سےٹرانسپیرنٹ  باکس میں پیسٹری سڑ چکی تھی ۔دونوں کو ابکائی  آگئ ناک پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئیں وہ پیسٹری اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔

    ربیعہ کا بدبو سے دماغ خراب ہو رہا تھا۔  پاگل ہو گئے ہو ۔یہ ہٹائو سڑ چکی ہے یہ۔پھینکو اسے۔ 

    ہاں سڑ گئ مگر میں تم سے محبت کرتا ہوں اسکو کھا سکتا ہوں کھا کر دکھائوں؟ 

    اسکی آنکھیں یکا یک چمکنے لگیں۔ اس نے اس سڑی ہوئی پیسٹری کا لقمہ لے لیا تھا۔ ربیعہ اور سونیا کو ابکائی سے برا حال ہوگیا۔

    بہت سڑ گئ ہے۔ 

    اس نے خود بھی منہ بنایا۔ تھوڑی بہت سڑی چیز تو میں آرام سے کھا لیتا ہوں۔ یہ نہیں کھائی جا رہی۔ 

    جہانزیب نے مایوسی سے سر جھکایا۔پھر جیسے ایکدم خیال آیا تو چٹکی بجا کر بولا۔ تبھی تو  ۔ یہ سڑ گئ تبھئ تو۔ میں نے تم سے کہا تھا میری سالگرہ پر مجھے کوئی کھانے پینے کی چیز کا  تحفہ نہ دیا کرو اور تم نے مجھے اگلے سال یہ ٹائ پن دی تھی مجھے۔میں ٹائی نہیں باندھتا ہوں مگر ٹائی پن جیب سے لگا کر رکھتا ہوں ہمیشہ۔۔

    ربیعہ سر پیٹ کر رہ گئ۔  میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر تحفہ دیا تھا۔

    جہانزیب ایکدم خوش دکھائی دینے لگا۔

     تم۔۔ اف سن کے اچھا لگ رہا ہے تمہارے منہ سے۔ اچھی بات ہے اب ہم میں یوں اجنبیوں کی طرح آپ جناب والا تعلق تو رہا نہیں ہے۔

    ربیعہ بے بسی سے ہاتھ جوڑ کر بولی۔

     تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا اب چلے جائو یہاں سے۔ 

     ابھی کہاں دل کی بات کہہ پایا۔۔ ربیعہ یہ پین یہ چاکس یہ تمہارا ڈسپوز ایبل گلاس تم نے مجھے آج تک جو کچھ بھئ دیا ہے میں اسے پھینکنے کی ہمت نہیں کرسکا تو سوچو تمہیں زندگی سے نکلتا دیکھ کر مجھ پر کیا بیت رہی ہوگی۔ ؟ میری جان نکل رہی ہےربیعہ۔ میں کوئی ایسا ویسا انسان تو نہیں ہوں تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرو ایک بار مجھے اپنا۔۔

    جزباتی انداز میں بولتا وہ غیر ارادی طو رپر ربیعہ کے کافی قریب آگیا تھا

    سونیا نے تڑپ کر اسکی ٹانگ پر لات ماری۔  دور رہ کر بات کرو۔ 

    جہانزیب نے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔

    ربیعہ گھبرا گئ۔نہیں ۔ سونیا۔ دور ہٹو تم اس سے 

    جہانزیب نے تنفر سے سر جھٹکا۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے بھی نہیں۔  

    دور ہٹو تم ربیعہ سے مین تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔

    سونیا میں اب تھوڑی بہت ہمت آگئ تھی۔ آخر تھا تو وہ اکیلا۔ وہ دونوں دو تھیں۔ قابو پانا اسکے لیئے آسان کام نہیں تھا۔

    جہانزیب نے بیزار ہو کر چھری لہرائئ۔  تمہارا گلا ہی کاٹ دیتا ہوں میں۔ ہمیں بات ہی نہیں کرنے دے رہی ہو تم

    سونیا کا رنگ فق ہوگیا۔ 

    ربیعہ کو اسکے تیور دیکھ کر خوف آرہا تھا۔ ابھی تک وہ بات کر رہا تھا مگر کیا خبر دماغ گھومنے پر وہ کس حد تک بڑھ جائے۔ 

     نن نہیں پلیز اسے مت کہو کچھ۔ پلیز۔میں سن رہی ہوں۔

    اب تم آرام سے پڑی رہو سونیا ہمیں تنگ مت کرنا ہم اہم بات کررہے ہیں۔

    جہانزیب کا لہجہ ہر قسم کی رعائت سے خالی تھا۔ سخت اور بے رحم

    ربیعہ کو یہی سمجھ آیا تھا کہ اسے بھڑکائے بنا محض باتوں میں لگا کر شائد اس مصیبت کو ٹالا جا سکتا ہے۔سو بمشکل خوف پر قابو پاتے سبھائو سے بولی۔ میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔ 

    جہانزیب دلبرانہ انداز میں مسکرادیا۔

    تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ ۔ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں 

    ربیعہ نے ہمت کرکے پوچھ لیا۔ اگرایسا ہے تو تم۔  پھر تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں دھمکا رہے ہو ہمیں۔

    جہانزیب فورا شرمندہ ہوا

    معزرت بس وہ۔ تھوڑا سا غصہ ہے مجھ میں۔ مگر یقین کرو ربیعہ  میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ۔۔پرامس ۔۔ ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں 

    پتہ ہے میں بچپن سے اتنا اچھا لڑکا نہیں تھا کافی شرارتی  تھا۔سب کو بہت تنگ کرتا تھا کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہوتا تھا۔ اور میری کلاس میں ایک بچہ ہوتا تھا بالکل مجھ سے مختلف سب سے چھوٹے قد کا سیاہ رنگت والا بچہ

    ربیعہ ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھی اور وہ مکمل ماضی میں کھو گیا تھا   

    ………………………………………………………. 

       وہ بھی ایک معمول کا دن تھا۔ اسکول میں  بچے کلاس میں شور و غل مچاتے پھر رہے تھے۔ سب بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ تھے مگر کلاس میں سب سے پیچھے ایک کالا سیاہ چھوٹے سے قد کا بچہ بیٹھا سب کو بٹر بٹر دیکھ رہا تھا۔ وہ ان میں سے کسی کا دوست نہیں تھا۔ سب نے اسے بھی نظر انداز ہی کر رکھا تھا۔ لنچ بریک تھی سب کو اپنی سرگرمیوں میں مصروف دیکھ کر اس نے شائد سکھ کا سانس لیتے ہوئے احتیاط سے بیگ سے اپنا لنچ باکس نکالا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس رازداری کی کوئی خاص وجہ تھی۔ حالانکہ سادہ سے نوڈلز تھے اسکے لنچ باکس میں ۔۔اس سے کچھ فاصلے پت۔کلاس میں آگے بیٹھنے والے ایک اور بچے نے بھی اسی وقت بیگ سے لنچ باکس نکالا مگر شائد اسکا لایا کھانا سڑ  گیا ہے سو برا  سا منہ بنایا اور دوسرے بچوں کو اس لنچ باکس سے تنگ کرنے لگا۔ کلاس کا سب سے لمبا خوبصورت لڑکا جو اپنے دوستوں کے ساتھ گیند سے کھیلتےشغل لگا رہا ہے اسکی نظر اس پر پڑی تو چہرے پر شرارت بکھر گئ۔  اپنے دوست کو آنکھ مارتا اسکے پاس چلا آیا۔  

    بچے نے لنچ باکس کھولا  اور  تماشا دیکھنے کی نیت سے چند بچے اسکے سر پر آن کھڑے ہوئے 

    بچے نے اسکی ٹانگ پر لات سی ماری۔ وہ تڑپ کر سہلانے لگا 

    انہوں نے اسکا لنچ باکس چھین لیا۔اور سب مزے لے لے کر کھانے لگے۔

    لمبے لڑکے نے آنکھ ماری تو دوسرا بچہ معصوم بن کر لنچ باکس نکال کر دکھانے لگا

    وہ سب کالو کو تنگ کر رہے تھے  مگر کالو ان سب کی توجہ پا کر خوش تھا . بچے نے لنچ باکس کھولا اور اپنے ہاتھوں سے پراٹھے انڈے کا نوالہ بنا کر اسے دیا  اس نے شوق سے نوالا منہ میں رکھا.نوالہ بہت بڑا تھا اس سے نہ چباتے بن رہا تھا نہ نگلتے 

    سب بچے الٹی کرنے کی ادااکاری کرنے لگے .کالو نے گھبرا کر لنچ باکس سے نیا نوالہ بنایا 

    سب بچے اسے کھاتے دیکھنےلگے ہیں اور منہ چھپا کر ہنسنے لگے تھے کالوکی آنکھوں میں آنسو آرہے تھے,پانی کی بوتل منہ سے لگا لی .لمبا بچہ جہانزیب ہنسے جا رہا تھا  بن بن کر پوچھنے لگا  

     اوئے کالو یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو آئو ہمارے ساتھ کھیلو نا۔

    کالوکو اسکی شرارت بھری نگاہوں سے ہمیشہ خوف ہی آیا تھا جبھی دل چاہنے کے باوجود نفی میں سر ہلانے لگا , نن نہیں مجھے نہیں کھیلنا۔ 

    دوسرا بچہ کہنی مار کر بولا کیوں ابھی تک ٹانگ میں درد ہو رہا ہے ؟ جس پر بال لگی تھی۔

    کیا کرتے ہو اسکو پہلے بھی چوٹ لگا دی تھی جبھی تو بے چارہ ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں آتا۔کیوں کالو ناراض ہو نا  ہم سے؟جہانزیب پوچھ رہا تھا    

    کالوکی جان نکلنے لگی جیسے 

    نن نہیں تو۔ 

    جہانزیب کے سب دوست دائیں بائیں بیٹھ گیے اور اس سے تفریح لینے لگے 

     ایک  بولا 

     تم ناراض ہو جبھی تو ہمارے ساتھ نہ کھیلتے ہو نا کھاتے ہو

     نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں

    جہانزیب نے مصنوئی ناراضگی دکھائی 

    پھر ہمارے ساتھ کھائو نا کیا لائے ہو تم؟

     نوڈلز

    اپنی آواز خود اسے بھی بمشکل سنائی دی 

    چکھائو کیسے بنے ہیں۔

    جہانزیب نے اسکا پورا لنچ باکس لے لیا  وہ اور اسکے دوست مزے لے کر کھانے لگے 

    ہمم مزے کا ہے۔۔

     جہانزیب چڑا رہا تھا اسےپھر ایک دم معصوم بن کر دوستو کو ڈانٹنے لگا  

     سب کھا گئے تم سب اب یہ بے چارا کیا کھائے گا۔چلو اپنا لنچ باکس شئیر کرو کالو کے ساتھ

    کالو نے انکار کرنا چاہا  نہیں کوئی بات نہیں۔۔ 

    نہیں تم ہمارے ساتھ کھائو نا ہم سب مل بانٹ کر کھائیں گے۔

    وہی سڑا ہوا لنچ باکس بڑھا کر بولا  

    کالونے ڈرتے ڈرتے بتانا چاہا  یہ اچھا نہیں ہے سڑا ہوا ہے۔ 

     ہم اتنے پیار سے تمہیں اپنا لنچ باکس دے رہے ہیں تم کہہ رہے ہو سڑا ہوا ہے کھانا کتنی بری بات ہےکالو

     جہانزیب نے مصنوئی ناراضگی دکھائی  

    دوسرا بچہبھی ہاں میں ہاں ملانے لگا 

     دل توڑ دیا۔ 

    کالوروہانساساہو کر بولا  نہیں یہ واقعی سڑا ہوا ہے میں نہیں کھا سکتا

    : تم ہمیں دوست ہی نہیں سمجھتے ہمارا لنچ نہیں کھارہے ہم بھی تمہارا لنچ واپس کرتے ہیں ۔ 

    دوسرے بچے بھی شغل لگانے لگے ہاں ہا ں ہم بھی تمہارے نوڈلز واپس کرتے ہیں

     نن نہیں۔ میں کھا لیتا ہوں

    کالو نے نیا نوالہ بنا لیا سب بچے منہ چھپا کے ہنس رہے تھے 

    اوئے کالو تمہارے نوڈلز تھوڑے سے بچ گئے ہیں کیا کریں انکا ؟

    جہانزیب نے چونکنے کی اداکاری کی  

    دوسرے بچے  کو انوکھا خیال آیا 

    کالو کے تو تند کرانے کے بعد بال ہی نہیں یے ابھی تک 

     اسکے بال بنا دیتے ہیں 

    ہاں یہ ٹھیک رہے گا کالو ریپنزل 

    جہانزیب کو اس خیال سے گدگدی ہوئی  سب نوڈل اسکے سر پر الٹ دیے لمبے نوڈلز  لٹوں کی طرح اسکے سر سے لٹک رہے تھے 

    سب بچے تالیاں بجا کر اسکو داد دے رہے تھے اور کورس میں گا رہے تھے 

     ریپنزل ریپنزل

    ……………………………………………………………………………………….

    جہانزیب ماضی سے حال میں آیا  ربیعہ اور سونیا دیوار سے لگی اسے حیرت اور خوف سے ملی جلی کیفیت میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں  جہانزیب مسکرایا۔

    میرے بچپن کی بات سن کر کافی حیران لگتی ہو۔ بچپن معصوم سادہ ہوتا ہے اچھے برے کی سمجھ

     نہیں ہوتی ہے۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے اس بچے کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے۔ وہ تو کافی ڈر جاتا ہوگا۔ اسکا اتنی بے عزتی کے بعد دل کرتا ہوگا کہ کبھی اسکول واپس نہ آئے جہاں اسکا کوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔ 

    یقینا اس بچے کا بھی دل کرتا ہوگا وہ سب کے ساتھ کھیلے باتیں کریں مگر وہ جب جہاں میرے ساتھ کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا میں اسکو مارتا اسکا مزاق اڑاتا سب بچوں کو ڈراتا کہ اگر اس سے بات کی تو میں ناراض ہو جائوں گا میرے ڈر سے کوئی بچہ اسکے پاس پھٹکتا بھی نہ تھا وہ تنہارہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں اکیلا بیٹھا روتا تھا پر مجھے اس پر ترس نہیں آتا تھا میں اسکا مزاق اڑاتا اس بچے اس بچے کا تو دل کرتا ہوگا نا اسکول کی چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائے….

    وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ جزباتی انداز میں اضطراری حرکتیں کرتا وہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر… صورتحال بیان کر رہا تھا۔چھت پر چڑھنے پر بازو اونچا کرکے ہوا میں بازو سے سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پہلے چڑھا پھر وہاں سے کودنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایکدم سے منہ کے بل سامنے باقایدہ اچھل کر کودا اور زمین پر اوندھا لیٹ ہی گیا۔ 

    ربیعہ اور سونیا بھونچکا سی اسے دئکھ رہی تھیں جو انکے سامنے اوندھا لیٹا ہوا تھا ایکدم سے سر اٹھا کر دیکھا پھر کہنی زمین پر ٹکا کر اپنے ہاتھ کی ٹیک لیکر تھوڑی ٹکائی اور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا

     بہت برا لڑکا تھا نا میں

    ربیع ہسٹپٹا گئی ہاں۔ میرا مطلب نن نہیں ۔۔ تم چھوٹے سے تھے بچے شرارت کرتےہیں 

    جہانزیب : یہ شرارت لگ رہی ہے

    وہ اوندھا لیٹا ایکدم بھڑک اٹھا تھا ۔ ربیعہ اور سونیا بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔وہ غصے سے چلاتے ہوئےکف ڑا رہا تھا

    یہ بدتمیزئ تھی۔ اس بچے کا سکون سے پڑھنا محال کردیا تھا میں نے اتنا تنگ کیا تھا اسے شرارت کہتے ہیں؟ اس بچے نے اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔ اسکی ٹانگ ٹوٹ گئ تھی میری وجہ سے ۔ آج تک لڑکھڑا کر چلتا ہے وہ اور تم کہتی ہو شرارت تھئ؟

    وہ گھور رہا تھا پھر ایکدم ٹھنڈا ہو کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر بولا 

    ویسے وہ بچہ ذیادہ جزباتی ہو گیا احمق ۔ شرارت ہی تو تھی۔ یہ مگر میں بڑے ہو کر بھی نہ بدلا۔ 

    وقت کے ساتھ میں بڑا ہواتو اور ہینڈسم ہوتا گیا میرا قد بھی بہت اونچا گیا اور شکل و صورت تو پہلے ہی اچھی تھی 

    ۔

    مجھے ایک لڑکی پسند کرنے لگی۔  سچ بتائوں تو میں دل پھینک بھی تھا۔  ( آنکھ مارتے ہوئے)

    اس لڑکی نے میرے بہت نخرے اٹھائے۔ مجھے مہنگے مہنگے تحفے دیتی تھی چار سال اس نے میرے ساتھ گزارے اور ایک دن بھی کینٹین کا بل میں نے نہیں دیا بے چاری بہت محبت کرتی تھی مجھ سے۔میں نے سختی سے کہہ رکھا تھا اسے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے اس بات کا یونیورسٹی میں کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کیسے کرتا۔اس نے ایک دم پکارا 

    ربیعہ ۔۔۔۔

    ربیعہ گڑبڑا گئی ہ ہاں۔  

    جہانزیب : تم سوچ رہی ہوگی میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟ 

    ربیعہ نے  تھوک نگلتے سراسیمہ سے انداز میں پوچھا  کک کیوں؟ 

    میں زندگی کی نئی شروعات تمہارے ساتھ سب سچ بتا کر کرنا چاہتا ہوں کل کو کوئی تمہیں میرے بارے میں الٹی سیدھی بات بتائے تو تم مجھ سے بدگمان نہ ہو۔ اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو

    جہانزیب ہنس دیا ربیعہ کے چہرے پی کی آوارہ لٹیں بکھر آہیں تھیں وہ کسی معمول کی طرح کھینچتا گیا تھا اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر انکو سنوارنے کی خواہش تھی سونیا نے گھبرا کر ٹوکنے کی نیت سے پوچھا  

     پ پھر کیا ہوا؟ میرا مطلب اس لڑکی کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟

    جہانزیبنے گہری سانس لی ,اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے

     ایکدن فائنل سے کچھ پہلے وہ اپنی گاڑی پھولوں اور غباروں سے سجا کر لائی 

    ………………………………………………………………………….

    اس خوبصورت لڑکے کی آنکھوں پر پٹی رکھے اسے چلاتی ہوئی پارکنگ لاٹ تک لائی ۔  گاڑی کے پاس لا کر اسکی آنکھوں سے پٹی ہٹائی۔

    جہانزیب نے منہ بنایا یہ یہ گاڑی دکھانے لائی ہو تم مجھے احمق ۔۔ دس دفعہ کی دیکھی ہوئی ہے۔

    لڑکی ذرا بد مزہ نہ ہوئی چابئ لو اور ڈگی کھولو

    جہانزیب :کیوں بھئ؟پھر کوئی تحفہ لے آئی ہو میرے لیئے

    ڈگی کھولونا

    اسکا چہرہ دبے دبے جوش سے تمتما رہا تھا جہانزیب کو اسکی شکل سے ہی اندازہ  ہو رہا تھا کہ کوئی خاص بات ہے مگر اپنے ازلی بے نیاز سے انداز میں اس نے بظاھر غیر دلچسپی سے منہ بنا کر ڈگی کھولی جب کہ اندر سے اسکا تجسس سے برا حال تھا 

    ڈگی کھولنے پر کئی غبارے جو سیٹ سے بندھے ڈگی میں بھرے تھے ایکدم باہر نکلے غباروں کے ساتھ ایک بینر بھی نکلا جس پر سرخ رنگ سے آئی لو یو لکھا تھا۔ ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر باہر جھانکتے ہوئے ایک بڑا سا بوکے دکھانے لگا

    جس پر کارڈ او رانگوٹھی کا کیس بھی چپکا تھا

    ۔ول یو میری می؟ 

    لڑکی گھٹنے کے بل جھک کر اسکا ہاتھ مانگ رہی تھی 

    کیا بکواس ہے یہ؟ یہ سب کیا ہے ؟ 

    لڑکی : میرے دل کی آواز میں سچے دل سے تم سے محبت کرنے لگی ہوں آئی لو یو متین 

    جہانزیب غصےسے پاگل ہونے لگا

    دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟ پاگل ہو گئ ہو کیا چار دن تم پر ترس کھا کر ذرا سی بات چیت کیا کرلی تم اپنی اوقات بھول گئیں ؟ کالی گٹھی گنجی لڑکی آئینہ تو دیکھ لیتیں ایسی بات کرنے سے پہلے۔ تم ہو کیا؟ اس قابل ہو کہ میرے جیسے خوبصورت لڑکے کے ساتھ برابر میں کھڑی بھی ہو سکتی ہو۔ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو۔ ایڈیٹ نان سنس

    سارا موڈ خراب کردیا

    لڑکی گڑگڑاتے ہوئے کہہ رہی تھی  میری بات تو سنو 

    جہانزیب : ہاتھ مت لگانا مجھے 

    اس نے طیش میں آکر منہ پر تھپڑ مار دیا

    ……………………………………………………………………

    دونوں لڑکیاں اسے تاسف سے دیکھ رہی تھیں   سونیا نے اسکو باتوں میں لگا دیکھ کر 

    اپنے ہاتھ کھول لیئےتھےاب اشارے سے ربیعہ کو کچھ کہہ رہی تھی مگر ربیعہ متوجہ نا تھی  ربیعہ  جہانزیب کو دیکھے جا رہی تھی اسکے چہرے پر کرب کے تصورات اتنے واضح تھے کہ اسکا سارا خوف کہیں جا سویا تھا بس وہ تاسف سے اسکے شکل دیکھ رہی تھی  

     میں نے بہت غلط حرکت کی اس دن۔ مجھے اس لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا اتنا گھٹیا میں کیسے ہو گیا

    پوری یونیورسٹی میں اسکی کیا عزت رہ گئ ہوگی۔

    کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی ہوگی۔ سب اسکو دیکھ کر مزاق اڑاتے ہوں گے۔ وہ روتی ہوگی اسکا دل چاہا ہوگا کہ وہ اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لے

    بولتے بولتے اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری اپنی کلائی پر رکھی ربیعہ اور سونیا کے منہ سے چیخ نکلی۔۔

    ربیعہ چیخ پڑی نن نہیں ۔۔رک جائوایسا مت کرو متین

    جہانزیب نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا: 

    کیا کک کیا کہا تم نے مجھے۔۔ 

    ربیعہ : مم متین۔ یہی نام ہے نا تمہارا؟ 

    جہانزیب : نن نہیں میں متین نہیں ہوں میں جہان جہانزیب ہوں ۔۔ 

    جہانزیب ہوں میں متین نہیں۔ جہانزیب جہان

    وہ ایکدم پاگلوں کی طرح چلاتا اٹھ کھڑاہوا۔ 

    ربیعہ او رسونیا بھی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔ 

    جہانزیب دونوں ہاتھوں میں سرتھامے ادھر ادھر ڈکراتا چلاتا پھر رہا تھا کہ اسکی نگاہ لائونج میں لگے آئینے پر پڑی۔

    آئینے میں

    گنجا سا سیاہ رنگت والا بد شکل سا چھوٹے قد کا بد صورت لڑکا کھڑا تھا

    اسکی ساری زندگی لمحے میں آنکھوں میں گھوم گئ۔اسکول میں پڑھاتا بدصورت ٹیچر اسکی کارٹون نما بنی تصویر جس میں اسے مزیدبد صورت دکھایا گیا تھا اسکول کی چھت سے کودتا بچہ ، یونیورسٹی میں لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھاتا لڑکا 

    منہ پر شادی سے انکار کرتی لڑکی ربیعہ  

    ہر جگہ خوبصورت جہانزیب کی جگہ بدصورت متین نے لے لی تھی فرق اتنا تھا کہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہونے والا بس ایک ٹھگنے قد والا لڑکا ہی تھا بد صورت گنجا 

    وہ ساکت سا کھڑا اپنے منعکس ہوتے  عکس کو گھورتا رہا 

     بے یقینی سے آگے بڑھ کر آئینے پر ہاتھ رکھا

     نہیں میں جہانزیب نہیں میں تو  میں میں تو متین ہوں۔

    ربیعہ رو دی مم متین آئیم سوری

    اس نے خالی خالی نگاہوں سے اسکی شکل دیکھی  ربیعہ تم متین سے شادی کروگی؟ 

    اسکے چہرے پر نا قبل فہم سے تاثرات تھے ربیعہ ہچکچا تے ہوۓ  نفی میں سر ہلا گئی  

    متین نے میکانکی انداز میں سر ہلایا جسے سب سمجھ گیا ہو پھر طائرانہ نگاہ پورے فلیٹ پر بکھری چیزوں پر ڈال ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتا جیسے وہ یہ سب پھیلاوا کرنے پر شرمندہ ہے سر جھکاتا فلیٹ سے نکل گیا .ربیعہ نے تاسف سے اسکو جاتے دیکھا اسکی ایک ٹانگ میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی

    ……………………………………………………………..

    ختم شد

    Rating
  • Dil kar raha bakwas karoun URDU SHAYARI

    دل کرر ہا بکواس کروں۔۔
    کوئی بات نہ خاص ہو۔۔
    کروں الٹی سیدھی باتیں میں۔۔
    وقت کے ذیاں کا نہ احساس ہو۔۔
    بے معنی فضول الفاظ لکھوں۔۔
    بس میری کچھ بھڑاس ہو۔۔
    خالی ہو جائے دل کسی طرح۔۔
    مجھے بھی کہنا آج راس ہو۔۔
    مجھ سے بھی پوچھیں لوگ کیا ہوا۔۔
    کیوں تم آج اتنی اداس ہو۔۔
    میں تھک جائوں کہہ سن کر سبھی۔۔
    خاموشی پھر بھی بعید از قیاس ہو۔۔
    دنیا بھر میں ہو جائے چرچہ یہ میرا۔۔
    یہ کہتی ہی تب ہےجب کوئی نہ پاس ہو۔۔
    اتنی ہوس ہے بولنے کی کہ ہجوم نےسوچ کر بھی۔۔
    کہا وہی ہے اب جس سے تنہائی کا ستیا ناس ہو۔۔

    از قلم ہجوم تنہائی

    #hajoometanhai

    urduz #desikimchi

  • Salam Korea URDU WEB NOVEL Episode 41

    salam korea by
    vaiza zaidi

    قسط 41

    باتیں کرتے سیڑھیاں چڑھتے آج انہیں ذیادہ وقت نہیں لگا تھا۔ گوارا اندر جا کر عبادت کرنے لگی تو وہ اور ہوپ باہر دھوپ سینکنے بیٹھ گئیں۔
    ایک اچھی خبر ہے ایک بری۔
    گوارا حسب عادت ڈرامائی انداز میں باہر آکر بولی۔وہ اندر سے مند رکا تبرک سفید ریپر میں سلیقے سے لپٹی سفید مٹھائی لیکر آئی تھی۔
    اریزہ کو یہ مٹھائی پسند تھی جبھی فورا ہاتھ بڑھا کر لے لی۔ گوارا نے دوسرا تبرک ہوپ کی جانب بڑھایا اس نے لیکر اریزہ کے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا۔ گوارا گھور کر رہ گئ۔ اسکے کوٹ سے واپس لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو اریزہ نے چپت لگا دی
    اور لے لینا اندر سے۔ وہ منہ بنا کر ہاتھ واپس کھینچ کر رہ گئ۔
    خبر سنائو اب۔۔ ہوپ کو خبر میں دلچسپی تھی۔
    اچھی خبر پہلے۔۔ اریزہ بولی
    بری خبر پہلے۔۔ ہوپ بولی
    دونوں کہہ کر ایک دوسرے کو گھورنے لگیں۔
    پجاری صاحب بلا رہے ہیں ہمیں وقت بھی مل گیا ہے مگر آج ان پر کوئی حاضری نہیں ہوتی سو وہ مستقبل کا کوئی آحوال نہیں بتا سکیں گے۔
    گوارا نے بتایا تو دونوں جھلا گئیں۔
    تو کونسا وہ شاہ رخ خان ہیں جو ہمیں ان سے ملنے کا اشتیاق ہو۔ اریزہ بھنائی
    تو کونسا وہ کم جونگ وو ہیں جو ہم ملیں جا کر ان سے۔ ہوپ تلملائی
    اس بار دونوں اکٹھے ہی بولی تھیں
    کم جونگ وو ؟ شاہ رخ خان؟ ارے ان سے ذیادہ اہم ہیں یہ۔ ویسے بھی
    بزرگوں سے ملنے کا فائدہ ہی ہوتا ہے نقصان کوئی نہیں۔
    گوارا نے بردباری سے کہا تو دونوں نے اکٹھے ہاتھ اٹھا کرجیسے مکھی اڑائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آج بھی دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ آج انکے ملبوس کا رنگ سرمئی سا تھا۔ آنکھیں بند کیئے مراقبے میں گم وہ تینوں سوالیہ نگاہوں سے انکی شکل دیکھ رہی تھیں۔ ایکدم سے انہوں نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا تینوں اچھل سی پڑیں۔ وہ مسکرا دیئے پھر اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بولتے گئے۔
    میرے پاس تم لوگوں کے لیئے آج کچھ نہیں۔ بلکہ یوں کہو کہ آج جو تم تینوں کو چاہیئے اسے دینے کی قدرت میں نہیں رکھتا۔ میرے پاس علم ہے مگر تم لوگوں میں تعلم کی چاہ نہیں۔۔ تم لوگ جائو اور اپنے اپنے مزہبی انداز سے خدا سے لو لگائو۔ بچو امیدیں انسانوں سے نہیں خدا سے لگانی چاہیئیں۔
    لو قصہ ہی ختم کردیا عزت سے کہہ رہے کھوجو(جائو)۔ گوارا اریزہ کے کان میں گھسی۔
    آپ نے پچھلی دفعہ مبہم باتیں کی تھیں جو مجھے سمجھ نہیں آئیں میرے آج یہاں آنے کا مقصد ان باتوں کی تشریح جاننا ہے اور بس۔
    اریزہ نے گلا کھنکارا اور کہہ ڈالا
    اس نے رواں انگریزی میں دھڑلے سے پوچھا تھا۔ کورین سیخ پا ہوجاتے ہیں اگر کوئی چھوٹا ان سے بے تکلفی سے سوال کر جائے اسکو وہ بد تہزیبئ گردانتے ہیں کجا سامنے بیٹھا بھی مونک ہو ۔ وہ بھی سربراہ اس مندر کا۔
    گوارا اور ہوپ چیں بہ چیں ہو گئیں۔ اریزہ کو کہنی مارتے گوارا معزرت خواہانہ نظروں سے پجاری جی کو دیکھنے لگی۔ انہوں نے برا نا مانا تھا ۔ ہا مانا تھا تو ناگواری انکے لہجے کا خاصہ نہ بن سکی۔نظریں اریزہ پر تھیں جو ہمہ تن گوش دکھائی دیتی تھی۔ وہ اسی سے مخاطب تھے تو انگریزی میں ہی گویا ہوئے۔
    “بدھا جب اس دنیاسے جانے لگے تھے تو انہوں نے کہا تھا اپنے سب شاگردوں سے کہ “میں صرف آپ کو راستہ بتانے کے قابل تھا۔یعنی سفر انسان کو خود اختیار کرنا ہوتا ہے منزل کا تعین بھی انسان کو خود کرنا پڑتا ہے ۔تمام انفرادی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ چاہے وہ اچھی ہوں یا بری۔ بس ہمارے انتخاب ہمیں خوار کرتے ہیں سوجس چیز کی بھی جستجو کرو اسکو پانے کی تندہی کے ساتھ کوشش کرو۔ یاد رکھنا تمام انفرادی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔۔ چاہے وہ انسان ہوں یا اس دنیا کی کوئی بھی چیز۔
    انہوں نے لحظہ بھر رک کر سانس لی تھی۔ اریزہ نے دم سادھ لیا۔ یہ کیا کہہ رہے تھے؟ اب کھل کر کہہ رہے تھے یا وہ اب معموں کو سمجھنے لگی تھئ۔
    بدھا کہتے تھے اپنے لیے چراغ بنو، اپنے لیے پناہ گاہ بنو۔ اپنے آپ کو کسی بیرونی پناہ کی خواہش میں نہ ڈالو۔

    Be a lamp unto yourself, be a refuge to yourself. Take yourself to no external refuge
    سادہ الفاظ میں کہوں تو “اپنے آخری الفاظ میں، بدھ ہمیں اس دنیا کی سچائی کو دیکھنے کی ترغیب دے رہے تھے اگرچہ آپ اسے تلاش کرنے کی کوشش میں دنیا کے بھیدوں کو تلاش کر سکتے ہیں، لیکن آپ کی آخری پناہ گاہ آپ کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔”
    وہ کہہ کر یوں چپ ہوئے جیسے کبھی بولیں گے نہیں۔ پھر اپنے سامنے رکھی فرشی نشست کے حساب سے رکھی مختصر میز کی دراز کھول کر اس میں سے ایک پرچہ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے جھجکتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر پرچہ تھام لیا۔
    کچھ ہنگل میں لکھا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ وہ اس بار پھر انگریزی میں بولے۔

    The root of suffering is attachment.”
    مصائب کی جڑ لگائو ہے۔۔
    وہ مسکرا دیئے۔ اس نے کاغذ کو تہہ کرکے اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں مفت میں بدھا کا گیان تھما دیا ہے آہجوشی نے۔ گوگل کرو بدھا کے سارے اقوال زریں سامنے آجائیں گے ایک ایک جملہ وہی دہرایا ہے ۔
    ہوپ واپسی پر جھلا رہی تھی۔۔ اسکو کہا تھا۔

    ہم وہی کچھ ہیں جو ہم سوچتے ہیں ۔ سوچ بدلو بس اپنی ۔ خودبخود تمہارا دل بدل جائے گا۔
    یہ قول سننے کیلئے اتنی سیڑھیاں چڑھیں۔ بدھا کے اقوال آرام سے سرچ انجن سے سرچ کرکے خود پڑھ لیتی میں۔
    وہ مزید بھی کہہ رہی تھی۔ گوارا اسکی باتوں پر سر جھٹک رہی تھی اس وقت اسکی مکمل توجہ اریزہ پر تھی جو بہت خاموشی سے سر جھکائے انکے ہم قدم سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ اتنی خاموش کہ وہ گڑبڑ کا اندازہ آرام سے لگا سکتی تھی۔
    تمہیں جواب ملا ہے اپنے سوال کا؟
    گوارا نے پوچھ ہی لیا۔
    ہوں۔ اس نے ہلکے سے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
    اسکو تو لگتا ہے چپ رہنے کا تعویز پکڑا دیا ہے انہوں نے بالکل خاموش ہوگئ ہے۔ ہوپ نے چڑانا چاہا جوابا وہ مسکرا دی۔
    ہوپ نے اپنے کوٹ کی جیب سے پرچہ نکالا۔
    مجھے تو یہ پرچہ دیا ہے۔

    درد یقینی ہے؛ تکلیف اختیاری ہے
    Pain is certain; suffering is optional

    آہ جیسے میں فیصلہ کروں کہ اب مجھے تکلیف نہیں ہوگی تو اپنے پائوں سے میں اس پتھر کو ٹھوکر لگا سکتی ہوں درد نہیں ہوگا مجھے بکواس۔
    اس نے وہیں کاغذ مروڑ کر پھینک دیا۔ راستے میں پڑے بڑے پتھروں کو خیالی ٹھوکر بھی لگا دی۔ سچ مچ ٹھوکر لگاتئ تو پائوں پکڑ کر وہیں بیٹھنا پڑتا۔
    پتھر نے تمہاراکچھ نہیں بگاڑا اسکو بلا وجہ ٹھوکر لگائوگی تو بلاوجہ یونہی ٹھوکر کھائوگئ۔ کرما اصول ہے بدھ مزہب کا۔ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔
    گوارا نے کندھے اچکا کر کہا۔
    اریزہ نے سر جھٹکا۔
    سب کو انکے کیئے کا پھل اتنی آسانی سے ملتا ہوتا تو دنیا میں کون کسی کے ساتھ برا کرنے کا سوچتا۔۔ سب ڈرتے کسی کا برا کرنے برا چاہنے سے۔۔۔۔
    اسکے اوپر گرم گرم سوپ کا پیالہ آکر لگا تھا جیسے ابھی ابھئ۔۔ گوارا کندھے اچکا کررہ گئ جیسے کہہ رہی ہو یہ بھی صحیح ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت بھیانک خواب تھا کوئی۔ اس نے ایکدم سے پٹ آنکھیں کھولی تھیں۔ جسم پسینے میں بھیگا سا تھا۔ اتنی سردی میں وہ پسینے پسینے کیوں ہو رہی تھی۔ اس نے گھبرا کر اپنے اوپر سے کمبل ہٹایا۔۔ کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے تھے۔ صبح جب بھی نرس آتی سب پردے ہٹا کر دھوپ کے اندر آنے کا انتظام کر دیتی تھی۔ مگر آج دھوپ نہیں تھی۔ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس نے ذرا سا کہنی کا سہار لیکر اٹھنا چاہا تو پیٹ میں درد کی تیز لہر سی اٹھی تھی۔ وہ کراہ کر رک گئ۔ تبھی دروازہ کھول کر نرس مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔
    اٹھ گئیں؟ گہری نیند تھی اسلیئے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ناشتہ بہت دیر سے ہوگا اتنی دیر خالی پیٹ رہنا تمہارے لیئے مناسب نہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے انگریزی میں کہہ رہی تھی۔ سخت کوریائی لہجے میں انگریزی بھی اسے سمجھنا آسان نہ لگی تھی۔ اس نے کونے میں لگا بیڈ اسٹیںنڈ اٹھا کر اسکے بیڈ پر لا کر سیٹ کردیا۔ پھر میز سے ناشتے کی ٹرے اٹھا کر لا کر اس پر رکھ دیا۔
    ابلے انڈے، رول آملیٹ، پھلوں کا سلاد، بریڈ جام مکھن تازہ جوس ۔سب اسکی پسند کی چیزیں تھیں۔ مگر اسکا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں چاہ رہا تھا۔
    میں فریش ہونا چاہ رہی تھی۔
    اس نے بتانا چاہا۔
    تو ہو جائو۔ وہ مسکرا کر بولی۔ سنتھیا نےچونک کر اسکی شکل دیکھی تو وضاحت کرنے لگی۔
    تمہاری طبیعت رات کو کافی خراب ہوگئ تھی جبھی ڈاکٹرز کو تمہیں مصنوعی نیند دینی پڑی۔ ہم نے اخراج کیلئے سی ٹیوب بھی لگا دی ہے۔ تم اگلے ایک دو مہینے مکمل بیڈ ریسٹ پر ہو۔
    مگر میرا تو آج آپریشن ہونا تھا؟
    سنتھیا حیران سی رہ گئ
    تمہارا آپریشن ؟ تم نہیں جانتیں؟ وہ الٹا حیران ہو کراس سے پوچھنے لگئ۔
    تمہارے والد نے آپریشن کیلئے منع کردیا تھا۔ پیچیدگی کی صورت میں تمہارے لیئے آئیندہ ماں بننے کا مواقع محدود ہوسکتے تھے۔ اور وہ یہ رسک لینے کیلئے تیار نہیں تھے۔ تمہارے لیئے اس اسپتال میں ڈیلیوری تک کے ڈیوز کلیئر ہیں او رمیں تمہاری مددگار ہوں اس بچے کے دنیا میں آنے تک کیلئے۔ اور پھر مزید اگر تمہیں میری مدد درکار ہو تو بھی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے ہائی جین کٹ اٹھا کر اسکے سامنے رکھی ۔ آر پار دکھائی دینے والے پلاسٹک کے تھیلے میں ٹوتھ پیسٹ برش ویٹ وائپس کاغذ کے صابن اور دیگر ضرورت کی اشیاء تھیں۔
    بس اتنئ سی بات تھئ۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
    یہی پریشانی تھی نا ایڈون کو کہ بچے کا خرچہ کون کرے گا کون اٹھائے گا۔ اس معاملے کو ایسے بھئ تو حل کیا جا سکتا تھا۔میرے گھر والوں کو اعتماد میں لیکر ۔ ممی ڈیڈا میری اور اس بچے کی جان پر بن آنے تک کا انتظار کیئے بنا مجھے میری غلطیوں سمیت اپنا نہیں سکتے تھے؟ یہاں اتنے مہینوں کا خرچہ اٹھانا انکے لیئے کبھی مشکل نہیں تھا۔ اور اب۔
    اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
    کل وہ فیصلہ کرکے سوئی تھی کہ آج سے وہ اکیلی ہوگی۔ اور آج اسکیلئے فیصلہ ہوچکا تھا کہ اب وہ کبھی اکیلی نہیں ہوگی۔ جو زندگی ابھی آنے کے در پر ہے وہ جب دنیا میں آچکی ہوگی تب ۔۔ اسکو وحشت سی محسوس ہونے لگی۔
    نہیں۔ مجھے نہیں چاہیئے۔ اس نے گھبرا کر کہا۔
    دے؟ نرس چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی وہ سمجھ نہیں سکی تھی سنتھیا نے کیا کہا ہے۔
    مجھے اپنی پہلے والی زندگی واپس چاہیئے۔ مجھے اب یہ سب نہیں چاہیئے۔
    وہ نفی میں سر ہلاتی دیوانوں کی طرح بڑبڑا رہی تھی۔
    مس آپ ٹھیک ہیں۔ نرس نے اسکا کندھا ہلایا۔ اس نے سخت وحشت سے اسے دھکا دیا۔ میز اسٹینڈ پر رکھے ناشتے کے لوازمات اس نے ہاتھ مار کر گرا دیئے۔
    ہٹائو یہ سب۔ نہیں چاہیئے مجھے یہ سب۔ دور کرو۔
    وہ اٹھنا چاہ رہی تھی مگر زنجیروں میں جکڑی تھی۔ اور وہ ان سب زنجیروں کو توڑ دینا چاہتی تھی۔ نرس نے گھبرا کر اسکو کندھے سے پکڑ کر اٹھنے سے روکا اور چلا کر مدد کےلیئے پکارنے لگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپسی پر گوارا انہیں اپنے گائوں کے بازار لائئ تھی۔ ثقافتئ دستکاری سے لیکر جدید رواج کے مغربی ملبوسات کے اسٹال تھے۔ یہ سالانہ میلے کا حصہ تھا۔کورین روائتی تہوار اور کرسمس دونوں کی مناسبت سے خوب بازار سجا تھا۔ اسے سب سے ذیادہ جوزن دور کی نشانیاں ثقافتی کلپ پسند آئے تھے۔ اسکی دلچسپی بھانپ کر اسٹال پر موجود خاتون نے اپنے سب مال کو ہوا لگانی شروع کردی۔ لکڑی کی کندہ کاری ہوئی کنگھی ، پرانے زمانے کے نگوں والے زیورات گلوبند کلپس۔ اسکے سامنے ڈھیر کردیا۔ گوارا زیورات دیکھ رہی تھی ہوپ ہر چیز سے بیزار تھی جیسے انکے ساتھ ہو کر بھی غائب دماغ سی خاموشئ سے انکی سرگرمیاں دیکھ رہی تھی۔ نگوں سے سجا اس نے بڑے شوق سے کلپ خریدا مگر بالوں میں لگانا نہیں آرہاتھا۔
    اسکو پرانے زمانے کی خواتین جوڑا بنا کر پروتی تھیں۔ گوارا نے بتایا۔ اس نے کتنے مہینوں سے بال نہیں کٹوائے تھے پھر بھی کندھوں سے تھوڑا ہی نیچے آرہے تھے۔ گوارا نے اسکا شوق دیکھا تو وہیں اسکے بال مٹھی میں جکڑ کر جوڑا بنایا اور کلپ سجا دی۔ سنہرے نیلے لال نگوں سے سجا پھول اسکے جوڑے سے بھی بڑا تھا۔
    اسکے بالوں نے اتنی بے دردی سے جکڑے جانے پر احتجاج کیا اور آگے سے اسکی لٹیں باہر نکل آئیں تو سر پر جوڑا دہائیاں دینے لگا۔
    یار یہ تو بہت بھاری ہے۔ اس نے بے چارگی سے گوارا کو دیکھا۔
    تمہیں ہی شوق ہوا ہے۔ ویسے اچھی لگ رہی ہو۔
    گوارا نے بہت بے ساختہ تعریف کی تھی۔ اس نے آئینہ دیکھا توخود بھی اچھا لگا۔ اس طرح جوڑا تو کبھی کیا نہیں تھا۔ بال کھنچنے سے پیشانی کشادہ لگ رہی تھی۔
    تم کچھ کچھ کورین لگنے ہی لگی ہو کیوں ہوپ۔
    گوارا نے ہنس کر ہوپ کو کہنی مار کر متوجہ کیا
    آں ہاں۔ وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔۔
    ویسے کرسمس قریب ہے تمہیں کرسمس کی مناسبت سے بھئ کچھ لینا چاہیئے۔
    اس نے کچھ فاصلے پر کرسمس گفٹس کے اسٹال کی جانب اشارہ کرکے کہا جہاں دکاندار سینٹا کلاز والی ہیٹ پہنے کھڑا تھا اسکے اسٹال پربھی لڑکیوں کا کافی رش تھا۔
    تم لوگ کرسمس کیسے مناتے ہو۔
    گوارا کو خیال آیا تو وہ گڑبڑا سی گئ۔
    ہم ۔ ہم۔۔
    وہ سوچ میں پڑی۔
    سچی بات تو یہ ہے کہ ہم کرسمس نہیں مناتے۔ یہ ہمارا تہوار نہیں ہے نا۔ ہاں میں سنتھیا کی دوست ہونے کے ناطے اسکے لیئے تحفہ لے لیتی ہوں۔ وہ بھی اسے نئے سال کی مبارکباد دیتے وقت ہی دیتی ہوں وہ کرسمس پر اپنے خاندان کے ساتھ تقریبات میں مصروف ہوتی ہے۔ پچھلے سال بھی نیو ائیر نائٹ منانے ہی جا سکی تھی میں۔
    اسکے جواب پر ہوپ اور گوارا حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔
    تو کرسمس ہمارا کونسا تہوار ہے ؟ پورے کوریا میں بمشکل پانچ سات فیصد عیسائی رہتے ہیں مگر دیکھو ہم سب کتنے ذوق و شوق سے کرسمس کی تیاری کرتے ہیں۔یہ تو تہوار ہے چاہے جو بھی ہو جسکا بھی ہو خوش ہونے ملنے جلنے کا موقع ہے تو کیا برا ہے۔
    گوارا کو اسکی منطق نہیں سمجھ آئی تھی۔
    ہاں مگر یہ تو تم ایسی بات کر رہی ہو جیسے میں شکوہ کروں کہ کورین عید کیوں نہیں مناتے ؟ تہوار ہے خوشی کا موقع مل جل کر بیٹھنے کا بہانہ۔ مگر یہاں مسلمان نہ ہونے کے برابر ہیں تم لوگ جانتے بھئ نہیں ہو ہمارے تہواروں کے نام بھی۔
    اریزہ کا دماغ چلا تھا خوب چلا تھا۔ گوارا لاجواب ہوئی۔
    بات تو صحیح ہے یعنی پاکستان میں کرسچن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ٹھیک ہوگیا۔
    گوارا نے جیسے سمجھ کر سرہلایا۔
    اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
    گردن گھما کر بازار کی رونقوں پر نظر ڈالی۔ وہی رونق میلہ تھا جیسا پاکستان میں عید کے موقع پر نت نئے اسٹال لگتے۔ سب خوش ہونے کیلئے خرچنے کو تیارلیکن بالکل اجنبی۔ ۔
    گوارا اور ہوپ اگلے اسٹال کی طرف بڑھ گئیں وہ انکے پیچھے تھئ جب
    آگاشی۔
    کسی نے اسے پکارا تھا۔ وہ چونک کے مڑی۔
    چندی آنکھوں گیرواں لباس سر پر اسکارف۔ اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔ یہ انہی خواتین میں سے ایک خاتون تھیں جن کے گھر کی وہ بن بلائے مہمان کے طور پر دعوت اڑا کر آئی تھی۔
    اسکے چہرے پر شناسائی کی رمق دیکھ کر وہ مسکرا دیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قریب ہی ایک چرچ کے زیر انتظام یتیم خانے میں انکی تنظیم نے بچوں میں نئے کپڑے کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ بانٹنے کا کام رضاکارانہ طور پر تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
    عموما سینٹا کلاز کے کاسٹیوم پہن کر رضاکار یہ خدمات سرانجام دیتے تھے مگر اس نے نرمی سے معزرت کر لی تھی۔ وہ بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہا تھا۔ بچوں کیلئے مٹھائی سے ذیادہ سینٹا کلاز میں کشش تھی۔ سو وہ تقریبا ساری ہی مٹھائی میز پر سجائے دلچسپی سے بچوں کو غباروں کاٹن کینڈی اور مٹھائی سے مٹھیاں بھرے ادھر ادھر بھاگتے دیکھ رہا تھا۔ تبھئ ذہنی رو بہک سی گئ۔ ریچل اور وہ دونوں ہی بچوں سے بہت پیار کرتے تھے انکا ارادہ جلد ہی والدین بننے کا تھا۔اگر رچل کی زندگی ساتھ دیتی تو یقینا انکی زندگی میں بھی بچہ آچکا ہوتا شائد سال دو سال کا ہوتا اور۔
    ایک پانچ چھے سال کے بچے کو بھاگتے دیکھتے اس پر نظر جمائے وہ سوچوں میں گم ہوتا چلا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلام ۔۔ اس نے آداب کے انداز میں سلام کیا جوابا وہ خوب زو رسے ہنس دیں۔ دو بڑے بڑے تھیلے بمشکل اٹھائے اسکو جانے کیا کہہ رہی تھیں۔
    آگے ہنگل کی ریل گاڑی چھک چھک کرتی گزری۔
    اس نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھا۔ گوارا او رہوپ چند قدم کے فاصلے پر ہی تھیں۔
    وہ مجھے ہنگل اتنی سمجھ نہیں آتی۔
    اس نے بنیادی ہنگل اور ہاتھ کے اشاروں سے مدعا سمجھایا۔
    وہ خاتون انہی بھاری تھیلوں کو اٹھائے اٹھائے جانے ہاتھ ہلا کر کیا کہنے لگیں۔
    میں آپکی مدد کرائوں؟
    اس نے آگے بڑھ کر تھیلا تھام لیا۔ وہ تو نثار ہی ہوگئیں۔ پیار سے اسکا چہرہ چھوا۔
    ریل گاڑی پھر چل پڑی۔ وہ کان لگا کر سن رہی تھی مگر پلے نہ پڑا۔ گوارا کی آواز کان میں پڑی
    مجھے پتہ ہے یہ پچھلے سال کا مال ہے مجھے الو مت بنائو پرانے اسٹاک پر نیا ریٹ مت لگائو یہ مہمان ہیں میرے ساتھ کیا سوچیں گی کیسے ہیں گائوں کے لوگ چالاک چلتر۔
    گوارا کو ایک اسکارف پسند آگیا تھا سو اب جھگڑ کر قیمت کم کروانا چاہ رہی تھی۔
    آگاشی الزام نہ لگائو یہ کل ہی چین سے مال آیا ہے خالص ریشم ہے یہ ۔
    دکاندار چیخ ہی پڑا۔
    پچھلے سال بھی میں یہاں انہی دنوں یہیں کھڑی تھی وہاں۔۔اس جگہ۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے بتا رہی تھی کہ اریزہ نے آئو دیکھا نہ تائو بازو سے کھینچ کر اسے اسی جگہ پہنچا دیا۔ وہ اسکارف ہاتھ میں لیئے گھسٹتی چلی آئی۔
    آگاشی۔ دکاندار نے مال جاتے دیکھ کر چیخ ماری۔ ہوپ نے تاسف سے دونوں کو جاتے دیکھا اور اپنا پرس کھول کر چیختے دکاندار کو اسکی مطلوبہ رقم نکال کر تھمائی ۔
    یہیں قریب ہی چرچ میں یہ سامان لیکر جارہی ہیں وہاں بانٹیں گی۔ کوئی اولے بھی وہیں ہے تم چلو گی انکے ساتھ؟
    آہاں۔۔ وہ تھیلا تھامے بے چارگی سے دیکھنے لگی۔
    ایک تو اسکی مروت۔۔
    گوارا جھلائی۔ ہوپ نے دانت پیسے۔
    خاتون نے جیسے خوش ہو کر سر ہلایا اور آگے آگے چلنے لگیں۔ اریزہ نے تقلید کی تو گوارا اور ہوپ بھی اسکے ساتھ ہولیں۔ ایک گلی کا فاصلہ تھا۔ سامنے خوب قمقموں سےسجا ہوا دلکش گرجا گھر تھا۔جسکے احاطے میں کافی سارے اسٹالز لگے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے چرچ کے لان میں ادھر سے ادھر بھاگتے پھر رہے تھے۔ انکو تھیلے اٹھائے آتے دیکھ کر رضاکار لڑکے فورا آگے بڑھے تھے اور انکے ہاتھ سے سامان لے لیا۔ وہ خاتون انکو اندر آنے کی دعوت دینے لگیں۔
    اریزہ سلیقے سے معزرت کرکے گوارا کی شکل دیکھنے لگی۔ گوارا نے سمجھ کر ترجمہ کیا ۔ وہ یونہی لان پر نگاہ دوڑانے لگی جب اسکی نظراس چار پانچ سال کے گول مٹول سے سرخ سویٹر پہنے بچے پر پڑی۔ زور زور سے ہنستے ہوئے وہ بھاگتا بالکل چھوٹا سا گڈا لگ رہا تھا۔ سرخ پھولے پھولے گال سرخ لب گورا چٹا اسکا دل ایکدم سے اسکے گالوں پر چٹکی لینے کا چاہا۔ جبھئ بھاگتے بھاگتے اسکا پیر رپٹا اور وہ منہ کے بل گھاس پر آن گرا۔ وہ ایکدم سے بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی اسے اٹھاتے ہوئے گلے سے لگا لیا تھا۔
    کچھ نہیں ہوا مٹی جھڑ گئ۔ بہادر بچہ ہے یہ تو گر کر روتا تھوڑی ہے۔
    وہ اسکا سر سہلاتی بول رہی تھی یہ خیال ہی نہ آیا کہ وہ بچہ اسکی بات سمجھ نہیں سکتا مگر محبت کی اپنی بھی شائد ایک زبان ہوتی ہے جبھی وہ بچہ اسکے کندھے پر سر رکھ کر سسک اٹھا تھا۔
    ہوپ بھی اسکے پیچھے ہی بھاگی آئی تھی ہنس دی
    اسکو ایک لفظ سمجھ نہیں آیا ہوگا۔ کیا کہا تم نے۔
    کرے۔ وہ کھسیانی ہوئی۔
    بچے کے آنسو پونچھے اسے خوش کرنے کو اپنی جیکٹ کی جیب سے مندر کا تبرک نکال کر تھمایا وہ چوٹ بھول کر خوشی سے ریپر اتارنے لگا۔
    تم مندر میں اس مٹھائی کیلئے ندیدی ہورہی تھیں اب مزے سے اسے دے دی ۔ تمہیں دل سے پسند چیزیں بانٹنا پسند ہے کیا؟ ہوپ نے کہا تووہ حیرت سے ہاتھ جھاڑتئ اٹھی۔
    ہیں۔ کیا مطلب؟ وہ واقعی نہیں سمجھی۔
    مطلب اگر یہ مٹھائی اتنی پسند تھی تو کسی اور کو کیسے دے دی؟
    ہوپ شائد بحث کے موڈ میں تھی۔
    کھمسامنیدہ ۔۔۔
    بچہ جھک کر شکریہ ادا کرتا بھاگ گیا۔
    وہ رو رہاتھا اسلیئے دیکھو بھول گیا اپنی چوٹ۔
    اسے بھاگ کر جاتے دیکھ کر اریزہ نےبہت پیار سے کہا۔
    یعنی کوئی رو کر مانگے تو اپنی عزیز از جان چیز تھما دو گی اسے؟ ہوپ کا انداز عجیب ہو چلا تھا۔ کافی دنوں بعد ہوپ اپنے مزاج پر واپس آئی تھی۔ سچی بات تو یہ کہ اسے لگتا تھا جو اس پر گزری ہے اس سے اسکی کڑواہٹ میں اضافہ ہوگا مگر پچھلے کچھ دنوں میں جو خیال رکھنے پیار بھرے انداز میں پیش آنے والی ہوپ اسے نظر آرہی تھی اسے دیکھ کر لگتا تھا پرانی ہوپ ایک زرہ بکتر تھی اس ہمدرد لڑکی کا خود کو بچانے کی خاطر اختیار کیا گیا مصنوعی خول ۔ افسوس یہ اوتار بھی وقتی نکلا۔
    وہ ابھی اسکا سوال ہی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جواب کیا دیتی کہ اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔ مڑ کر دیکھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بچہ بھاگتے ہوئے لڑکھڑا کر منہ کے بل گرا تھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا تو فورااسےاٹھانے کو بڑھا۔مگر فاصلہ ذیادہ تھا۔ برائون لانگ اونی اسکرٹ میں وہ لڑکی اس سے پہلے بھاگ کر اس بچے کے پاس پہنچی چکی تھی اسے گلے سے لگایا تھا۔ اسکی جانب پشت تھی پھر بھی اسے یقین تھا وہ آگے بڑھ کر اسکی شکل دیکھے گا تو وہ رچل ہی ہوگی۔ وہ کسی معمول کی طرح کھنچتا آیا تھا۔وہ لڑکی کسی ماں کی طرح اسکے آنسو پونچھ رہی تھی ۔ بچہ کھلکھلایا تو وہ چونکا۔ آگے بڑھ کر اس لڑکی کو چھو کر متوجہ کرنا چاہا کہ وہ ایکدم سے بچے کا ہاتھ تھامتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ کندھوں تک کالے سیاہ بال درمیانی قامت رچل تو خوب لمبی سی تھی۔ پشت دیکھنے کے باوجود بھی اسے احساس ہوگیا تھا کہ یہ لڑکی کوئی بھی ہے رچل نہیں۔ اس لڑکی کو بھی اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کااحساس ہوا تھا کہ کیا یونہئ مڑ کر دیکھا۔
    آپ۔ وہ چونکی۔
    ایک طلسم سا تھا جو ٹوٹ گیا تھا۔ علی کے چہرے پر مایوسی سی در آئی۔
    آپ یہاں؟ اس نے حیرت سے چرچ کو پھر اسے دیکھا۔علی فوری جواب نہ دے سکا تو پھیکی سی مسکراہٹ سجا لی چہرے پر۔
    آپکو نہیں پتہ غیر مسلموں کے ساتھ رہنے انکے تہواروں کو منانے سے ہم ان جیسے ہوتے جاتے ہیں ؟ ہم میں اور غیر مسلموں میں کچھ فرق نظر آنا چاہیئے نا میں تو آپکو یہاں کھڑے دیکھ کر کرسچن ہی سمجھ بیٹھتی۔
    اسے تو موقع ملا تھا۔کمر پر ہاتھ ٹکا کروہ چمک چمک کر بولی تھی ۔ ہوپ نے حیرت سے اسکا یہ انداز دیکھا۔ وہ تو جیسے لڑنے کو تیار بیٹھی تھی۔
    علی نے اسکے انداز کا بالکل برا نہ ماناالٹا اسکی مسکراہٹ گہری ہوگئ تھی۔
    کرسمس کے تحائف بانٹنے آئے ہیں ہم۔ یہ اسٹال نجی مسلمانوں کی تنظیم کی جانب سے مزہبی رواداری بڑھانے کی نیت سے ہی لگایا گیا ہے۔
    اسکے مفصل جواب نے تھوڑا خفت زدہ کیا تھا مگر وہ متاثر ہونے کے موڈ میں نہیں تھی جبھی سر جھٹک دیا۔ گوارا اور وہ خاتون بھی ادھر چلی آئیں۔
    میں نے اسے بازار میں دیکھا تو بتایا کہ تم یہاں ہو تو یہ بھی یہاں چلی آئی۔ میں علی سے کہہ رہی تھی نیک کاموں میں شریک حیات کو ساتھ رکھنا چاہیئے ثواب ملتا ہے ۔ مگر یہ بولا تم خوامخواہ تھک جائو گی آخر کو سارے دن کا ہلا گلا ہے یہ۔
    وہ خاتون رواں ہنگل میں بولی تھیں۔ گوارا اور ہوپ نے سٹپٹاکر ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔ اریزہ مطمئن سئ کھڑی گوارا کے ترجمے کا انتظار کر رہی تھی۔
    اب تم کھانا کھا کر ہی جانا۔ ہماری جانب سے تنظیم کے رضاکاروں کیلئے حلال کھانے کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ بلکہ تم دونوں بھی کھانا کھا کر جانا۔
    بولتے بولتے انہیں خیال آیا تو ان دونوں کو بھی دعوت دے ڈالی۔
    نہیں شکریہ ہمیں دیر ہو جائے گئ ۔ میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیئے۔ اریزہ تم اگر یہاں مزید وقت گزارنا چاہو تو رک سکتی ہو ہم رات کو ملتے ہیں۔
    ہوپ نے کہا تو وہ منہ کھول کر رہ گئ۔
    مگر میں؟
    آہجومہ ہمیں بہت ضروری کام ہے ہم چلتے ہیں اب۔ گوارا نے بھی وقت ضائع کیئے بنا ان خاتون سے اجازت چاہی جھک جھک کر آننیانگ کہتی دونوں نے اسکی جانب دیکھنے سے بھی احتراظ کیا تھا۔
    مم مگر۔گوا۔۔
    وہ کہنا چاہ رہی تھی مگر خاتون نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
    آئو میں آج تمہارا مکمل تعارف کرواتی ہوں اپنے گھر کی خواتین سے۔
    اس نے مدد طلب نگاہوں سے علی کی جانب دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کیا کہہ رہی ہیں مطلب تو بتا دو۔ وہ سمجھ کربھی کندھے اچکا گیا۔
    اسکا مترجم بننے کا فی الحال ارادہ نہیں تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بچوں نے کرسمس کی مناسبت سے کچھ ترانے گائے ایک ٹیبلو بھی پیش کیا۔ پھر ایک چھوٹی سی تقریر پادری اور ایک مولوی نے حضرت عیسی کی شان میں کی ۔ ایک لفظ سمجھ نہ آنے کے باوجود اسے یہ سب دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔
    ایک ہی اسٹیج پر دو مختلف مزاہب کے عالم دین اپنے اپنے عقائد کے مطابق حضرت عیسی کی شان بیان کر رہے تھے ۔ نا بحث نا مباحثہ تقریب کے آکر میں باقائدہ ہاتھ تھام کر دعا کروائی۔
    ایک ہم لوگ ہیں ایک مزہب کے مختلف فرقوں کے دو عالم دین اس رواداری سے ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوتے۔
    وہ ویڈیو بناتے ہوئے کہے بنا نہ رہ سکی۔ یہ ویڈیو بنتے ہی اس نے صارم کو بھیجنی تھی۔
    تقریب ختم ہو چکی تھی ۔ اس نے ویڈیو بند کرکے اپنی گیلری میں ابھی ریکارڈ کی گئ ویڈیوز گنیں۔ اس نے بچوں کے ٹیبلو کی بھی دو تین ویڈیوز بنائی تھیں۔ ایک تو بہت پیاری تھی۔ چھوٹے چھوٹے سے آدھے درجن سینٹا کلاز جب ٹیبلو کرتے ایک دوسرے سے ٹکرائے تو سب کے سب گرتے گئے۔ ہنسے اٹھ کھڑے ہوئے او ردوبارہ وہیں سے اسٹیپ اٹھائے جہاں سے گڑبڑ ہوئی تھی۔ یہ ویڈیو بناتے بھی وہ ہنس پڑئ تھی ابھی دوبار سامنے آئی تو دوبارہ پلے کرتے ہوئے بھی ہنس دی۔ علی اسکے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ ہنستے ہوئے اس نے سر اٹھایا تو اسے اپنی ہی جانب متوجہ پایا
    تمہیں بچے بہت پسند ہیں لگتاہے۔
    اس کے کہنے پر وہ محظوظ سے انداز میں ہی سر ہلانے لگی۔
    بہت ذیادہ۔ میں تو راہ چلتے بھئ بچوں کو پیار کرنے رک جاتی ہوں۔ سنتھیا کو بچے ذیادہ پسند نہیں تھے۔ وہ میری عادت سے چڑتی تھی کہتی تھی مجھ میں ایک ماں چھپی ہے۔ دوسروں کے بچوں سے اتنا پیار کرتی ہو اپنے بچوں کو تو چوم چوم کر پاگل کردوگی اور میں کہتی تھی اورتم میں سوتیلی ماں چھپی ہے اپنے بچوں کو بھی گھور گھور کر خون خشک کردیا کروگی انکا۔۔۔ وہ پرانی باتیں یاد کرکے ہنس دی۔پھر خیال آیا تو وضاحت کرنے لگی۔
    سنتھیا میری بچپن کی دوست ہے۔۔ علی کو اندازہ ہو گیا تھا۔ جبھی حیران نہیں ہوا۔
    اچھا میں نے جتنئ بھی لڑکیاں دیکھیں ہیں انہیں بچوں کے ساتھ بہت پیار بھرا برتائو کرتے ہی دیکھا ہے۔ مجھے لگتا ہے لڑکیوں میں ماں والی فطرت ہوتی ہی ہے۔
    علی کی بات پر وہ متفق نہیں تھی۔ مگر بحث نہیں کی۔
    چلو کھانا کھا لیں۔ علی نے کہا تو وہ مزید کچھ کہنے کا ارادہ موقوف کرتی اسکے ساتھ ہی چلی آئی۔ علی بہت اچھا میزبان تھا۔ یہاں خواتین اور مردوں کا علیحدہ انتظام نہیں تھا بس دو ہی میزیں حلال کھانے کیلئے مخصوص تھیں ۔ وہ ایک کونے میں میز کرسی سنبھالےرش کم ہونے کا انتظارکرتی رہی۔ علی اسکے لیئے بھی پلیٹ بنا لایا۔
    شکریہ۔ وہ شرمندہ ہورہی تھئ
    کوئی بات نہیں۔
    علی کا انداز سادہ سا تھا۔ اسکو کھانے کی پلیٹ تھما کر وہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرچکا تھا۔ اس نےایک دو بار نگاہ اٹھا کر دیکھاتو اسے مکمل طور پر کھانے میں مگن پایا۔ وہ تین چار دفعہ اکٹھے کھانا کھا چکے تھے لیکن اس نے آج پہلی دفعہ نوٹ کیا تو خیال آیا وہ عام کورینز کی نسبت منہ بھر کر کھانا کھانے کی بجائے ٹھہر ٹھہر کر چھوٹے لقمے کھا رہا تھا۔

    میں ہاتھ سے کھا نہیں پاتا ابھی عادت نہیں ہے مجھے۔چاول کھاتے ہوئے بہت گراتا ہوں اسی لیئے۔ جب اکیلا ہوتا ہوں صرف تب ہاتھ سے کھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
    اس نے چاپ اسٹکس سے کھانا کھانے کی وضاحت کی تھی۔ وہ خفت زدہ سی ہوئی۔ بے دھیانی میں اسے دیکھ رہی تھی وہ سمجھا شائد اسکے چاپ اسٹکس استعمال کرنے پر حیران ہے۔ شائد اسکے باتیں سنانے کی وجہ سے وضاحت بھی کردی۔ بہر حال اسے یوں باتیں سنانی چاہیئے بھی نہیں تھیں۔
    آئیم سوری۔ میں اس وقت جانے کیوں وہ سب کہہ گئ۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
    اس نے ہمت کرکے معزرت کر ہی ڈالی۔علی نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ وہ شرمندہ تھی۔ اس نے مسکرا کر گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ پانی پیا۔ پھر بولا
    خیر ہے میں نے برا نہیں مانا۔ لیکن اگر اس معزرت کے جواب میں آپکو لگتا ہے میں نے کل آپکو جو کچھ کہا اس پر میں بھی معزرت کروں گا تو معزرت۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
    اس نے تین سانسوں میں گلاس ختم کیا تھا۔اریزہ کی ساری شرمندگی بھک سے اڑ گئ۔
    حالانکہ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہیئے۔ دل آزاری سب سے بڑا گناہ ہے۔
    اس نے جتایا۔
    علی جیسے سوچ میں پڑا۔ چند لمحے پرسوچ انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ وہ جزبز سی ہونے لگی
    اگر میری کل کی باتوں سے آپکی تھوڑی سی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معزرت خواہ ہوں۔ میں ابھی اسلام کی بہت سے باتوں سے ناواقف ہوں مگر کل جو کچھ کہا وہ اپنی محدود معلومات کی روشنی میں جو درست سمجھا وہ کہا پھر بھی شائد کل میں نے لاعلمی میں دل دکھایا ہے آپکا۔ میری معلومات محدود ہیں۔میں جانتا ہوں۔۔۔۔
    اسکا انداز متاسفانہ ہو چلا تھا۔ اریزہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئ۔ یہ معزرت ذیادہ شرمندہ کرنے والی تھی۔
    ان دونوں کے درمیان خاصا طویل وقفہ خاموشی کا در آیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپسی پرانہیں نو بج گئے تھے۔ گائوں اور سردی کے لحاظ سے آدھی رات مانو ہو گئ تھی۔ سڑک پر نہ بندہ نہ بندے کی ذات ۔ ہائی وے پر پھر کچھ ٹریفک نظر آجاتی یہاں اونچی نیچی گلیوں میں تو بالکل سنسانی تھی۔ علی اسکے ساتھ چل رہا تھا مگر جانے کس سوچ میں گم تھا۔ وہ خود بھی اس وقت گوارا اور ہوپ کے یوں اسے چھوڑ کر بھاگنے کی وجہ ہی سوچ رہی تھی ساتھ ساتھ راستے کی سنسانی بھی دل بوجھل کر رہی تھی۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر آسمان دیکھا تو چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ سیاہ آسمان پر دمکتا چاند جس کےگرد بنے ہالے نے تاروں کو مدھم کر ڈالا تھا۔ چاندنی نے اسکا سایہ بھی بڑا گہرا کر دیا تھا۔ زمین پر اپنے پڑتے سائے کو دیکھتی وہ سر جھکائے قدم بڑھانے لگی۔ بے ڈھنگے بے ہنگم سائے کی جگہ اس وقت اسکا سراپا خاصا نازک سایہ بنا رہا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شائد خوشی سے پھولے نہ سماتی مگر اس وقت اسکا ذہن کسی اور ہی جگہ اٹکا تھا۔۔
    مصائب کی جڑ لگائو ہے۔۔ اسکا ذہن اس جملے میں الجھ سا گیا تھا۔ بس یہی جملہ چپکا تھا آگے پیچھے کوئی سوچ نہیں۔۔لگائو ؟ اس نے کونسی ایسی چیز سے لگائو محسوس کیا ہے جو اسکے لیئے دکھ کا باعث بننے والی تھی؟۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔۔۔ اسکا دل بوجھل سا ہونے لگا تھا۔ سانس رکنے سی لگی۔ شائد کھانا ذیادہ کھا لیا تھا۔ اس نے گھبرا کر گہری سانس کھینچی۔ وہ حقیقتا ماحول سے بے پروا ہوگئ تھی۔ اپنے حواس بحال کرکے یونہی گردن گھمائی تو حق دق سی رہ گئ۔ وہ اکیلی اس شاہراہ پر کھڑی تھی۔ اسکے ساتھ چلتا علی جانے کب کہاں پیچھے چھوٹ گیا۔ اسے احساس بھی نہ ہوا تھا۔
    اسکو ایک لمحے کیلئے حقیقتا اپنا دم رکتا محسوس ہوا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا سو رہی تھی۔ کم سن اسکے سرہانے کھڑا ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔ ہیون نے کمرے کا دروازہ کھولا تو پہلی نظر اس پر ہی پڑی تھی۔ اسکے قریب آکر اس نے دھیمی آواز میں سرگوشی کی۔
    اب تمہیں آرام کرنا چاہیئے۔ رات بہت ہو گئ ہے۔
    کم سن چونکا۔پھر گہری سانس لیکر بولا
    ہوں۔۔
    سنتھیا کو ایک نظر بھر کر دیکھنے کے بعد وہ ہیون کے ساتھ احتیاط سے دروازہ بند کرتا باہر نکل آیا۔
    ایڈون سے رابطہ ہوا؟ کم سن پوچھ رہا تھا۔ ہیون نے نفی میں سر ہلایا۔
    صبح دوبارہ کوشش کروں گا۔ ہیون نے تسلی دی تھی۔ وہ اسے لیکر کیفے ٹیریا آیا تھا۔۔ دوپہر سے دونوں یہیں تھے۔ نرس نے اسکو اطلاع دی تھی۔ وہ اس وقت ہیون کی ہی فرم کے ساتھ میٹنگ کر رہا تھا ۔ اسے عجلت میں نکلتے دیکھ کر ہیون نے ہی باقی میٹنگ سنبھالی تھی اور فارغ ہوتے ہی اسکے پیچھے آیا تھا۔ سنتھیا کو ڈپریشن اٹیک ہوا تھا۔ اسکی اور بچے کی حالت دونوں سیریس تھی۔ جب تک ڈاکٹروں نے تسلی بخش جواب نہیں دیا کم سن حقیقتا جلے پیر کی بلی کی طرح حواس باختہ رہا تھا۔
    بوفے سے اپنے لیئے دونوں ٹرے بنا کر ایک کونے کی میز پر آبیٹھے۔ یوں تو احساس نہیں ہو رہا تھا مگر کھانا سامنے آیا تو بھوک شدید محسوس ہوئی۔ دونوں خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔
    ہمیں اریزہ کو اطلاع کرنی چاہیئے؟ ۔ ہیون نے پوچھا تھا۔۔

    رہنے دو۔ کم سن نے منع ہی کردیا۔

    سچی بات ہے مانا سنتھیا کو اس وقت اسکی ضرورت ہے مگر سنتھیا نے جو سلوک اسکے ساتھ کیا ہے وہ ایسے رویئے میں حق بجانب ہے۔ ہمیں اسکی اچھائی کو اتنا نہیں آزمانا چاہیئے۔
    کم سن نے دیانتدارئ سے تجزیہ کیا۔ ہیون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ اسکے موبائل کی بیپ بجی ۔۔ اس نے دیکھا تونونا کا پیغام آیا تھا۔
    اگر تو یہ کام تمہاری منشاء سے ہوا ہے تو تم پر مجھے فخر ہے میرے بھائی ۔ تم صحیح اپنے باپ کی اولاد ہو۔ اور اگر اسکی تمہیں خبر بھی نہیں تو مت بھولنا تم کس باپ کی اولاد ہو۔
    ساتھ لنک تھا۔
    ایک نونا پہلیاں بجھواتی ہیں۔
    اس نے لنک کھولا ۔ کسی میڈیا ویب سائٹ کا آرٹیکل تھا۔ لی گروپ کی بہو کی اپنے مارٹ کےاسٹاف سے اچانک ملاقات۔ دوستانہ انداز سے دل موہ لیا۔
    اسکا دل سکڑ کر پھیلا تھا
    کیا ہوا؟
    کم سن نے اسکا واضح طور پر رنگ اڑتا دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکا
    اس نے اپنا موبائل اسکے سامنے کردیا۔ وہ بھی کھانا چھوڑ کر آرٹیکل پڑھنے لگا۔
    بہت غلط ہوگیا ہے یہ۔
    پہلی بات اسکے منہ سے یہی نکلی تھی۔ ہیون کو بھی احساس تھا۔۔
    چاول گوشت کے پارچے اور سوپ ۔۔ کھانا بد مزا نہیں تھا مگر اسکا ایکدم سے دل اچاٹ ہوا تھا۔
    چاپ اسٹکس بے دلی سے پلیٹ میں رکھ کر وہ بوتل اٹھا کر پانی پینے لگا۔
    کھانا کیوں چھوڑ دیا؟
    کم سن نے حیرت سے اسکی حرکت دیکھی۔
    کھانا تو کھائو۔ اس بارے میں کیا کرنا سوچتے ہیں۔ ریلیکس کرو ہیون۔
    میں جا رہا ہوں۔ گائوں۔
    وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
    ابھی؟ کم سن نے بے یقینی سے دہرایا۔
    گلاس وال سے باہر برفباری ہو تی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
    ہاں۔ تمہیں پہنچ کر کال کردوں گا۔
    وہ کہہ کر رکانہیں۔۔ تیزی سے داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔
    تیری تو۔ کم سن نے کھانے کی ٹرے کو حسرت سے دیکھا ۔صبح کے بعد اب کھانے بیٹھے تھے۔ اسکے پیچھے جانے کا ارادہ کیا۔ پھر ٹال دیا۔ میز پر نگاہ پڑی تو دو عدد موبائل محو استراحت نظر آئے۔
    ہائش۔۔ اس نے جھلا کر جلدی سے چمچ بھر کر سوپ پیا گوشت کا پارچہ منہ میں رکھتے فون اٹھا کر اسکے پیچھے بھاگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیون ہیون ۔۔۔آوازیں دیتے ہوئے بھاگ کر ہیون کو اس نے لابی میں جا لیا۔
    بات تو سنو۔۔۔
    اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکنا پڑا تھا۔
    ہینڈ فون ۔۔ ہینڈ فون تو۔۔۔۔۔ لیتے جائو۔
    منہ میں نوالی بھاگنے سےسانسیں پھولی ہوئی تھیں ۔ ہانپتے ہوئے بمشکل اس نے جملہ مکمل کیا۔
    ہینڈ فون ۔۔۔
    ہیون کو خیال آیا توجیکٹ کی جیبیں ٹٹولنے لگا۔
    وہیں کیفے میں رہ گیا ہے۔ آوازیں دے رہا تھا سنا ہی نہیں تم نے۔ چلو چل کر لے آتے ہیں۔
    اس نے غیر محسوس انداز میں فون جیکٹ کی جیب میں ڈال لیئے۔
    ہیون نے آنکھیں سکوڑ کر گھورا۔ اس نے چوری پکڑے جانے والے انداز میں ہونٹ بھینچے۔ جیب سے فون نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھا۔
    فون کرلو اسے بات کر لو تسلی ہو جائے گی۔ ۔صبح تک برفباری رک چکی ہوگی تو صبح چلے جانا ۔۔
    کم سن کو اسکے مان جانے کی ایک فیصد امید بھی نہیں تھی مگر کہنا فرض تھا۔ ہیون نے سر ہلا کرفون اسکے ہاتھ سے لے لیا۔
    چلتا ہوں۔ اسکے کندھے کو تھپتھپا کر وہ رکا نہیں تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ ۔ یہ اسکا مخصوص انداز تھا۔ فکر نہ کرو میں کروں گا مگر وہی جو مجھے کرنا ہوگا۔
    کم سن نے اس دفعہ اسے روکنے کی بھی کوشش نہ کی۔ سر جھٹک کر واپس ہولیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برفباری کی شدت کے باعث موٹروے بند کر دیئے گئے تھے۔ برفباری کے باعث شہریوں کو شہر سےباہربلا ضرورت سفر کرنے سےبھی منع کردیا گیا تھا۔
    پولیس افسر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں اسے تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔ گاڑی واپس موڑ لینے کی ہدایت کرتا وہ پلٹ گیا
    ہیون اسٹیئرنگ پر ہاتھ مار کررہ گیا۔ ہیون نے لمحہ بھر سوچا۔
    کم سن کی بات یاد آئی فون کرلو تسلی ہوجائے گی ۔۔
    اٹھاتئ ہی نہیں ہے فون میرا۔
    وہ بے بسی سے بڑبڑاتے ہوئے فون ملا رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ کے ہمراہ دعوت سے رخصت چاہتے وقت مجید ارباب بطور خاص اسے ایک طرف لے گئے۔
    عبدالہادی کو میں نے اپنا بیٹا بنایا ہوا ہے۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ تمہارے لیئے لڑکی دیکھوں۔ دراصل میرے بڑے بیٹے کی سالی ہے۔ صوم صلوات کی پابند ہے۔ حجاب کرتی ہے۔ عبدالہادی نے بس یہی شرائط بتائئ تھیں تمہاری۔ مگر شائد وہ اس لڑکی کے بارے میں انجان تھے۔ اس دن تمہیں دعوت اسی لیئے دی تھی کہ اتفاق سے وہ بچی آئی ہوئی تھی ۔ابھی میں نے گھر میں بات نہیں کی تھی۔ میں چاہتا تھا تم دیکھ لو مل لو پسند آجائے تو بات آگے بڑھائیں۔لیکن تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تم لڑکی پسند کر چکے ہو ۔اگر ایسی بات ہے تو بھی مجھے خوشی ہے۔۔۔
    وہ کہتے کہتے رکے جیسے فیصلہ نہ کر پارہے ہوں مزید کچھ کہیں نہ کہیں۔ چند لمحے اس کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خود ہی گہری سانس لیکر بولے۔
    علی۔۔ بیٹا تم اب مسلمان ہو اپنے لیئے ایسی لڑکی منتخب کرو جو تمہارے ایمان کو مضبوط کرنے میں مدد کرے ناکہ ایسی لڑکی جو خود پردے شرع وغیرہ سے نابلد ہو۔ تم میرے بیٹے جیسے ہو میں اسلیئے اتنی جسارت کر گیا ہوں۔ اگر تو یہی تمہاری مرضی ہے تو بیٹا تم بالغ ہو بہتر فیصلہ کر سکتے ہو۔
    اپنے مخصوص نرم سے انداز میں وہ اسکو کہتے چلے گئے تھے۔ اسکے جواب کا بھی انتظار نہیں کیا بات مکمل کی کندھا تھپکا اور آگے بڑھ گئے۔ وہ انجان نہیں تھا اس بات سے۔ یہاں خاص طور پر عبدالہادی کے ضد کرکے اسے بھیجنے کے پیچھے یہی وجہ تھی کہ وہ وہاں جا کر لڑکی دیکھ لے۔ اسے شادی میں ہی دلچسپی نہیں تھی ۔ عبدالہادی جس طرح اسے شادی کرنےپر زور دے رہے تھے انہیں لگتا تھا کہ شادی کرنے سے وہ بہل جائے گا رچل کی یادوں سے نکل آئے گا۔ وہ بھی بچہ نہیں تھا
    مستقل ڈپریشن نے اسکی صحت خراب کر رکھی تھی۔ اس سب کے باوجود وہ خود کو شادی کرنے پر تیار نہیں کرپارہا تھا۔۔ اس دن اس نے بنا سوچے یونہی اریزہ کو دعوت دے دی تھی۔ اسے خیال بھی نہ آیا تھا کہ یوں خاص الخاص دعوت دینے کا مطلب اسکا بر دکھوا کروانا بھی ہو سکتا ہے۔ورنہ شائد اریزہ کو ہرگز نہ لے جاتا۔
    اس نے ساتھ قدم اٹھاتئ اریزہ کر دیکھا۔ لانگ اسکرٹ لانگ جیکٹ کورٹ شوز میں وہ مکمل مغربی لباس میں ملبوس تھی۔ اسکے بال کندھوں تک تھے اور یونہی کھلے تھے۔ ہلکی سرد ہوا سے لہراتے۔ وہ اپنی کسی سوچ میں مگن تھی ورنہ وہ اتنا تفصیل سے اسے دیکھ رہا تھا کہ کم از کم چونکتی ضرور۔
    اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ لیا۔سیدھا اپنی راہ چلتے وہ لاشعوری طور پر اسے ہی سوچنے لگا۔ اب تک جتنی بھی ملاقاتیں رہیں ان سے وہ یہی نتیجہ نکال پایا تھا کہ وہ بظاہر بہت عملی مسلمان نہیں تھی۔ اس بات کی جانب ارباب نے اشارہ کیا تھا۔ اسکی اپنی بھی رائے شائد یہی تھی ۔ کل بحث کرتے ہوئے آج شکوہ کرتے ہوئے اس نے اس پر سوچ کا نیا در وا کیا تھا۔ وہ کون ہوتا ہے کسی کی نیت کو کسی کے اخلاق و کردار کو اسکی ظاہری شخصیت سے ناپنے والا۔ وہ پردہ نہیں کرتی تھی مگر جس طرح حرام حلال کی فکر تھی اسے ؟؟۔ شدید بھوک میں تو انسان کیا کھارہا ہوں یہ نہیں سوچتا اور وہ حرام اجزا پر ناصرف کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ تھی بلکہ اپنی اس غلطی پر کتنا پشیمان ہوئی تھی۔ ر وپڑی تھی۔ سور کا گوشت دھولیا تو نماز جانے کی فکر نے ہلکان کردیا تھا۔ اس نے کبھی اسے ہیون کے ساتھ بھی غیر ضرورئ بے تکلف ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ شائد وہ واقعی بس اسے دوست ہی سمجھتی تھی۔۔ اگرایسا تھا تو یقینا اسکے بارے میں سوچنے میں حرج نہیں تھا۔
    وہ پردہ نہیں کرتی تھی لیکن پیدائشئ مسلمان تھی۔ باقی سب دین کے ارکان تو ازبر تھے اسے۔ تو ایسی لڑکی اسکی زندگی میں آجائے تو کیا اسکے لیئے بہتر نہیں رہےگا۔اس پر یقینا وہ اچھا اثر ڈال سکتی ہے۔ کیا خبر کل کو وہ پردہ بھی کرنے لگے۔ اپنی سوچ پر اسے خود ہی ہنسی آئی تھئ۔ موڑ مڑتے اس نے سر جھٹکا۔
    میں نے بھی کہاں تک سوچ لیا۔ مجھے مسلمان لڑکی سے شادی کرنی ہے پردے کی شرط اس نے یوں رکھی تھی کہ عبدالہادی نے اسے جس مراکش سے آئی طالبہ سے ملوایا تھا وہ پردہ دور کپڑے بھی مناسب پہننے پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اپنی ناپسندیدگی جتانے کیلئے سب سے ہلکے پھلکے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس نے پردے کا ذکر کیا تھا۔ پردہ کرتی ہوگی تو اتنی عملی مسلمان تو ہوگی ہی جو اسکے ایمان کو مکمل کردے ناکہ وہ خود اسے ایمان پر لانے کیلئے کوششوں میں لگ جائے۔
    وہ کسی نتیجے پر پہنچ گیا تھا۔ سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو چند کوس کے فاصلے پر گوارا کا گھر تھا۔ باقی سوچیں کل پر ڈالتے اس نے اپنے ساتھ آتی اریزہ کو دیکھنا چاہا تو احساس ہوا وہ تو اکیلا ہی اس گلی میں کھڑا تھا۔ اس نے گھبرا کر دائیں بائیں آگے پیچھے دیکھا ۔ جانے کب کہاں وہ لڑکی اس سے چھوٹ گئ تھی جسے وہ اپنی زندگی کا ہم سفر بنانے کا سوچ رہا تھا۔ اپنی غفلت پر وہ خود کو کوس کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ع۔عا۔۔ علی۔
    اسکے منہ سے بمشکل اتنی ہی آواز نکل پائی تھی کہ وہ خود ہی سن سکے۔
    آگے سنسان سڑک تھی دائیں بائیں گلیاں جانے کس گلی میں مڑنا تھا اسے کہاں علی مڑ گیا اسے خبر نہ ہوسکی۔۔
    اندھیرا اتنا نہیں تھا جتنا سنسانی سے اسکی جان نکلنے لگی تھی۔ اس نے مڑ کر واپس آنا شروع کیا۔ اسے پینک اٹیک آنے لگا تھا شائد۔ اسکی سانس ایکدم پھول گئ تھی۔ ہاتھ کانپنا شروع ہوگئے تھے۔ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ سیدھی سڑک پر بھی چل نہیں پا رہی تھئ۔
    علی۔۔ اس نے حلق کے بل پکارنا چاہا تھا مگر آواز نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ تبھی اسکا فون بجا۔ اتنئ تیز آواز نے اسے پہلے تو خوفزدہ ہی کردیا۔ دل تھام کر اس نے جلدی سے جیکٹ کی جیب ٹٹول کر فون نکالا ہیون کالنگ لکھا آرہا تھا۔
    اس نے بے تابی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
    ہیون۔ اسکا نام لیتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔۔
    ہیون میں راستہ بھول گئ۔ میں گھر کیسے جائوں گی؟ بالکل یاد نہیں سڑک پر اکیلی کھڑی ہوں۔گوارا کا گھر۔۔ ہچکیوں کے درمیان وہ بمشکل بول پائی تھئ۔
    اریزہ؟ وہ اسکے رونے پر پریشان ہو گیا تھا۔
    پھر آگے جو کچھ وہ بولی وہ بھی سمجھ نہیں آیا۔
    اریزہ انگریزی میں بولو کیا ہوا کہاں ہو؟ رو کیوں رہی ہو۔ ؟
    ہا ہاہیون۔ ہچکیاں لیتے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔
    مم میں۔ گوارا کا گھر بھول گئ۔ کیسے گھر جائوں۔
    اس نے بمشکل ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مدعا سمجھایا۔ ہیون پریشان ہوگیا۔
    تم اکیلی باہر کیوں نکلیں؟ گوارا کہاں ہے؟ اریزہ روئو مت۔
    گوارا گھر چلی گئ تھئ میں اکیلی نہیں تھی۔ وہ مجھے چھوڑ گیا۔ اس کو گھبراہٹ میں نام ہی بھول گیا۔
    کون کون چھوڑ گیا؟
    ہیون کے پوچھنے پر اسے اور رونا آنے لگا۔
    نام ابھئ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔
    ابھی آواز دی میں نے۔ سنا نہیں۔ اب مجھے یاد بھی نہیں آرہا۔
    اریزہ۔ سب چھوڑو غو رسے میری بات سنو۔ رونا بند کرو۔ چھے بال۔۔آنسو پونچھو اپنے۔
    ہیون نے اسے بچوں کی طرح پچکارا وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
    پونچھ لیے؟ وہ پوچھ رہا تھا
    ہوں۔ اس نے ہنکارابھرا۔ اسکا رونا بند ہوگیا تھا
    ہیون کے لیئے یہی بہت تھا۔
    اب ایسا کرو اس وقت جہاں بھی ہو وہیں بیٹھ جائو۔
    ہیون نے کہا تو اس نے ارد گرد بے چارگی سے دیکھا۔ سنسان سڑک دور کہیں جھینگروں کی آواز آرہی تھی یا کتوں کے بھونکنے کی۔
    یہاں؟۔۔ اسے تامل ہوا۔
    مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔
    وہ پھر بلک اٹھی ۔۔
    ہاں۔ سڑک پر بیٹھ جائو۔ وہیں۔ ہیون نے زور دے کر کہا تووہ وہیں اکڑوں بیٹھ گئ۔
    آنکھیں بند کرکے گہری سانس لو۔ ہنا دول سیت۔ وہ روانی میں ہنگل بول گیا۔
    واٹ؟ اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔
    گہری سانس لو۔ ون ٹو تھری۔آنکھیں بند کرو۔ صرف میری آواز سنو۔ ون ٹو تھری۔
    شاباش۔ اور گہری سانس لو۔
    وہ مستقل بول کر اسےشانت کرنا چاہ رہا تھا۔
    اس نے اسکی ہدایات کی تعمیل کی تو واقعی دل کو کچھ قرار آیا۔
    تم اکیلی نہیں ہو میں ہوں تمہارے ساتھ۔ بالکل پریشان مت ہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    اسکی دلاسہ دیتی آواز ۔۔ سچ مچ اسکا دل ٹھہرنے لگا۔
    تم آرہے ہو۔۔ اس کو تسلی چاہیے تھی۔
    ہاں میں ابھی آرہا ہوں۔
    ہیون نے ایسے کہا جیسے ابھی واقعی آرہا ہو۔ اور اسے بھی تسلی ہوگی جیسے۔۔
    اریزہ۔۔
    ہیون نے پکارا۔
    ہوں۔ وہ اب بہتر محسوس کر رہی تھی۔
    میں ہوں لائن پر۔۔۔
    تم فون بند مت کرنا میں گوارا کو کال کرتا ہوں۔ اسکا علاقہ اتنا بڑا نہیں ہے۔ بس ہمت نہ ہارنا۔ ابھی وہ آجائے گی تم بس جہاں ہو اسکے قریب کوئی لینڈ مارک ہو تو بتائو۔
    لینڈ مارک۔ اس نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی بورڈ کوئی سائن نہیں تھا۔ بس چوراہے پر جو بڑے سے شیشے لگے ہوتے ہیں وہ سڑک کے موڑ پر لگا تھا۔۔
    وہ یہاں۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ کال کٹ گئ تھی۔ اس نے آواز بند ہونے پر کان سے ہٹا کر فون دیکھا۔اسکے فون نے آخری جھپکی لی تھی اور بند ہو گیا۔
    اس ایک آواز سے کتنی ڈھارس ملی تھی اور اب۔ وہ اکڑوں سے وہیں دھپ سے بیٹھ گئ۔
    گہری سانس لو۔ اریزہ۔
    اسے ہیون کی آواز آرہی تھی۔
    اس نے آنکھیں بند کرکے گہری سانس لی۔
    میں ٹھیک ہوں۔ مجھے سب پتہ ہے راستہ میں۔ ابھی خیریت سے گھر پہنچ جائوں گی۔
    وہ اردو میں خود سے کہہ رہی تھی۔
    ارےزہ۔
    دور کہیں سے آواز آئی تھی۔ اس نے پٹ آنکھیں کھولیں۔
    بھاگتے قدموں کی آواز ۔ وہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے سمت کا اندازہ نہیں لگا پائی۔
    اری ۔۔ زااا۔
    اپنے نام کا اتنا برا تلفظ ۔ وہ کپڑے جھاڑتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    دل کو یک گونہ سکون میسر آیا۔
    میں یہاں۔ اس نے پکارنے کی کوشش کی تو خراش سی ہوگئ۔ کھانسی آگئ۔ اسکی کھانسی کی آواز بھی خاصی گونج گئ۔ علی فورا چونکا۔ وہ دو گلی پیچھے پکار رہا تھا۔
    اریزہ۔۔۔ اس بار اسکی آواز نسبتا تیز آئی تھی۔
    میں یہاں ہوں۔ اس نے بھی کھانسی پر قابو پا کرپکارا اس بار خاصی کراری آواز نکلی۔
    کیا نام تھا۔ وہ پیشانی مسلنے لگی۔ اسکی آواز علی تک پہنچ گئ تھئ۔ وہ بے چارہ گلی سے بھاگتا ہوا باہر نکلا۔ پہلے سڑک کے بائیں جانب
    دیکھا۔ وہ دائیں جانب تھی۔اسکو دیکھ کر دوبارہ پکارا تو وہ بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا۔ اسکی سانس بری طرح پھول چکی تھی۔ وہ پچھلی دو تین گلیوں میں بھاگ بھاگ کر دیکھتا آیا تھا۔ اسکے قریب پہنچ کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہانپنے لگا۔
    آئی ایم سورئ۔ وہ مگن ہو کر مجھے پتہ نہ چلا میں آگے نکل آئی۔
    اس کی حالت دیکھ کر اسے سچ مچ شرمندگی ہوئی تھی۔
    مائی بیڈ۔
    وہ سانسیں بحال کرتا سیدھا ہوا۔
    مجھے بھی پتہ نہ لگا۔ مجھے لگا تھا ذیادہ سے زیادہ پچھلی گلی میں ہوگی تن ۔ تو میں نے آواز دینے کی بجائے پہلے گلی میں ڈھونڈا۔تم تو کافی آگے نکل آئی ہو۔ ویسے تم ٹھیک ہونا؟
    علی کی بولتے ہوئے اسکی شکل پر نظر پڑی تو پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ اسکی ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
    میں ٹھیک ہوں۔ اس نے کمال صفائی سے جھوٹ بولا۔
    تمہیں راستہ نہیں آتا؟ ۔۔ وہ اب حیرت سے پوچھ رہا تھا۔
    آں۔ ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔
    یہ راستہ مین ہائی وے کو جاتا ہے۔
    علی کے کہنے پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور چھوٹی سی کوئی گاڑی گزری تھی۔ وہ اگر گھبرانہ جاتی تو اس سڑک سے اسکا گزر ہوچکا تھا مانا دن اور رات میں فرق ہوتا ہے مگر اتنا بھئ نہیں۔۔ تم کبھی بڑی نہ ہونا اریزہ وہ خود کو کوستی ہونٹ کاٹنے لگی۔ گوعلی نے شرمندہ کرنے کی نیت سے نہیں کہا تھا مگر وہ ہو گئ تھی۔
    چلیں۔ وہ اسکی شرمندگی محسوس کرکے بات بدل گیا۔ جوابا اس نے سر ہلا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    گوارا اور ہوپ دونوں موٹی والی گھٹنے تک کی جیکٹیں پہن کر باہر نکل رہی تھیں جب وہ گلی میں مڑے۔ ہوپ تودروازے سے دیکھ کر اطمینان سے پلٹ گئ ۔ گوارا اسے دیکھ کر بھاگی ہوئی پاس آئی۔۔
    کین چھنا؟ کیا ہوا؟ راستہ بھٹک گئ تھیں؟
    وہ پریشان ہوئی وی تھی۔
    میں ٹھیک ہوں۔
    اریزہ شرمندہ ہو رہی تھی۔
    فون کیوں بند ہے تمہارا پتہ ہے کتنی دیر سے ٹرائی کررہی تھی میں۔۔
    چارجنگ ختم ہوگئ تھی۔
    اریزہ منمنائی۔
    حد ہے ایسی لڑکی نہ دیکھی میں نے جسے فون کا کوئی ہوش ہی نہیں۔
    گوارا تاسف سے سر ہلاتی بولتے ہوئے علی کی جانب مڑگئ۔
    سن بے آپ ساتھ نہیں تھے اسکے؟ یہ ہماری چھوٹی بچی ہے اسکو راستے واستے نہیں آتے ۔ گم گئ تھئ یہ۔ آپکو اندازہ نہیں یہ کتنی عزیز ہے ہمیں۔ اسکو آپکے پاس چھوڑ کر آئے تھے خیال نہیں رکھا آپ نے۔
    وہ اب علی کی ہنگل میں کلاس لینے لگی۔الفاظ اریزہ کو سمجھ آتے تو یقینا ان دونوں کی یہیں لڑائی ہو جاتی۔ علی نے بمشکل مسکراہٹ دبائی۔ اریزہ خفت سے سرخ چہرہ لیے اسکو ہلکے ہلکے کندھے پر مکے مار رہی تھی۔
    بس کرو۔ گوارا۔
    بیان ۔ چلو اب گھر چلو ٹھنڈ بہت ہورہی ہے۔
    علی نے فراخ دلی سے معزرت کرکے بات بدلی۔
    ادھر ہاتھ پکڑائو اپنا۔ کہیں کھو گئیں تو میں تمہارے نگہبان فرشتے کو کیا جواب دوں گی۔
    گوارا اسے چھیڑے جا رہی تھی۔ وہ دانت کچکچا کر گھور رہی تھی۔ علی ان کو شب بخیر کہتا سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ وہ دونوں کمرے میں آئیں تو ہوپ اطمینان سے کمفرٹر اوڑھے فون میں لگی تھی۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن گری۔
    اف اتنی پیاری نیند سو رہے تھے ہم دونوں۔ گوارا نے لمبی سی جمائی لی اور ہوپ کے بازو پر سر رکھ دیا۔ ہوپ نے اسے بے مروتی سےپرے کیا ۔ گوارا شاکی نگاہوں سے دیکھتی سیدھی ہوئی۔
    تمہیں کیسے پتہ چلا میں گم گئ تھی؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔اندازہ تو ہورہاتھا
    تمہارے نگہبان فرشتے نے بتایا۔ گوارا ترنگ میں بولی پھر خیال آیا۔
    بتا دو اس بے چارے ہیون کو اتنا پریشان ہو رہا تھا فورا ہمیں فون کرکے تمہارے پیچھے جانے کو کہا۔ میں نے کہا بھی وہ اکیلی تھوڑی ہوگی سن بے ہوں گے ساتھ اسکے۔ وہ ابھی کہہ ہی رہی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا۔ ہیون ہی کی کال تھی اس نے فون اریزہ کی جانب بڑھا دیا
    لو خود بات کرلو۔
    اس نے فون اٹھایا تو ہیون بے تابی سے ہنگل میں پوچھنے لگا
    ملئ اریزہ؟ ٹھیک تو ہے نا وہ؟
    میں اریزہ بول رہی ہوں ٹھیک ہوں میں اب۔۔ اریزہ نے اطمینان دلایا۔ اسکی آواز سن کر اس نے سکھ کی سانس لی۔
    گھر آگئ ہو؟گوارا پہنچ گئ تھی؟ فون کیوں بند ہوگیا تمہارا؟
    اسکے پے در پے سوال آور بے تابی ظاہر کررہے تھے کتنا پریشان تھا وہ
    ہاں وہ بیٹری ختم ہوگئ تھی۔ میں ٹھیک ہوں گھر آچکی ہوں ۔ بس اب میں سونے لگی ہوں۔ تھینک یو سو مچ ہیون ۔ تم نہ ہوتے تو شائد میں بے ہوش ہوجاتی وہیں۔
    وہ قصدا رخ موڑ کر دھیمی آواز میں بولی۔
    تھائی نیئے۔ اس نے شکر کا کلمہ پڑھا۔۔
    مجھے یہی فکر ہو رہی تھی کہ پینک اٹیک ہوا ہے کہیں وہیں بےہوش نہ ہو جائو۔ شکر ہے۔
    اچھا میں صبح بات کرتی ہوں ٹھیک ہے؟ خدا حافظ۔
    گوارا اسکو محظوظ انداز سے گھور رہی تھی چہرے پر اتنی شرارتی مسکراہٹ تھی کہ اس نے جھٹ بنا ہیون کی بات سنے فون بند کردیا۔
    وے؟ فون اسے تھماتے ہوئے پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
    تو آخر کار تم نے چن لیا اپنا ہم سفر؟ گو وہ ہیون نہیں ہے اسکا افسوس ہے مجھے مگر تمہارے آج کے لال ٹماٹر چہرے کو دیکھ کر میں تمہارے لیئے خوش ہوں۔
    وہ اطمینان سے آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے بولی۔ انداز سے لگتا تھا تفصیل سے بات کرنے کا ارادہ ہے۔ ہوپ نے بھی موبائل ایک طرف رکھا او رتکیے پر کہنی ٹکا کر اسکی جانب یوں متوجہ نظروں سے دیکھنے لگی کہ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔
    کیا مطلب کیا کہہ رہی ہو؟ کیا کیا میں نے؟
    ہم سے چھپایا جبکہ ہم تمہارے کہنے کے مطابق تمہاری بہنوں جیسی سہیلیاں ہیں۔ تمہیں لگاتھا چونکہ میں نے ہیون کے لیئے تمہیں منانے کی کوشش کی تھی اور ہیون دوست ہے میرا تو تم نے مجھ سے بھی چھپایا۔ پھابو۔ میں تمہاری بھی دوست ہوں۔
    گوارا اندازوں پر اندازے لگا رہی تھی۔ اس کی پیشانی شکنوں سے پر ہوگئ۔
    کیا کہہ رہی ہو صاف کہو مجھے سمجھ نہیں آرہا ۔۔
    وہ بری طرح جھلا گئ۔ ہوپ نے چونک کے اسکی شکل دیکھی۔ گوارا اپنے ازلی بےتکلف انداز میں کہہ رہی تھی
    یقین جانو تم سے اس بات پر تھوڑا خفا ہونے کے باوجود کہ تم نے مجھے خود نہیں بتایا میں بہت خوش ہوں تمہارے لیئے۔ سن بے بہت بہت اچھے انسان ہیں۔ ہائی اسکول میں ہم جونئیر لڑکیوں کے بھئ کرش ہوتے تھے سن بے۔ گاڈ کیا وقت تھا وہ بھی۔ آدھا سکول۔
    وہ جانے کیا قصہ سنا رہی تھی۔ اریزہ بھنا اٹھی
    کون سن بے؟ یہ علی کی بات کر رہی ہو؟ کیا نہیں بتایا میں نے بھلا؟ یہ کہ وہ ٹیچر ہیں میرے؟

    یہی نہیں بتایا نا کہ چپکے چپکے تم نے سن بے کا انتخاب کیا ہے جیون ساتھی کیلئے۔
    گوارا نے اس پر بم پھوڑا تھا۔
    کیا؟ وہ اتنی حیران ہوئی کہ چیخ ہی تو پڑی۔۔
    گوارا اور ہوپ نے بہت حیرانگی سے اسکا ردعمل دیکھا پھر دوپہر میں ان خاتون کی کہی بات من و عن دہرا دی۔


    حد ہے۔ ایک تو زبان مجھے صحیح سمجھ نہیں آتی اوپر سے جس کا جو دل چاہتا اپنے سے آگے جوڑ کر بات لگا دیتا۔ میرے وہ استاد ہیں ہم مزہب ہونے کے ناطے انکی کھانے کی دعوت قبول کرنے کا گناہ سرزد ہو گیا ہے مجھ سے بس اسکا یہ مطلب تھوڑی کہ میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔
    اریزہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ خاتون سامنے آجاتی وہ کچا چبا جاتی انہیں۔
    ٹھیک ہے۔ ہو سکتا ہے انہیں غلط فہمی ہوگئی ہو۔ مگر تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟۔
    ہوپ اسکا غصہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
    مجھے خود سمجھ نہیں آرہا اسے غصہ کس بات پر آرہا ہے۔
    گوارا بھی انجان تھی اسکے غصے کی اصل وجہ سے۔۔ جبکہ وہ جھاگ اڑا رہی تھی منہ سے۔
    میں پوچھوں گئ صبح ان سے آخر انہوں نے ایسی غلط فہمی ہونے کیوں دی انہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔
    اس کا ارادہ اٹل تھا۔ گوارا اور ہوپ نے کندھے اچکا دیئے۔ پھروہ دونوں تو فورا سو گئیں اسکی نیند جانے کیوں اڑ گئ۔ کچھ دیر سونے کی کوشش کرتی رہی پھر موبائل کھول لیا۔ بلاگ کے نوٹیفیکیشن آئے تھے۔ اس نے کتنا عرصہ ہو گیا تھا بلاگ کھولا ہی نہیں تھا۔ یونہی کھول کر نوٹیفیکیشن دیکھنے لگی۔ اسکا فالور اسکے پرانے مراسلے پر لکھ کے گیا تھا۔

    ہمیشہ اس بلاگ سے مجھے فیصلہ لینے میں مدد ملی ہے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کرنے لگا ہوں مگر آج یہاں کچھ نہیں۔ ہو سکے تو کچھ لکھ دو۔
    اس نے اس عبارت کو کئی مرتبہ پڑھا تھا۔
    اسکے عام سے بک بک پر مبنی بلاگ سے کیا مدد ملتی رہی ہوگی۔ اس نے بھنا کر سوچا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    اس نے اٹھ کر اپنے کوٹ کی جیب کھنگالی۔ وہی کاغذ نکالا۔ اسکی تصویر کھینچی۔ اور یہی تصویر شائع کردی۔
    یہاں ہنگل میں لکھا ہے۔

    The root of suffering is attachment.

    تو جناب اگر آپ کسی بھی شخص جگہ یا چیز کے لگائو میں مبتلا ہیں تو خود کو علیحدہ کیجئے ورنہ خود سے علیحدہ ہو جائیں گے۔
    آہ کیا لکھ ڈالا۔ اس نے خود ہی اپنا کندھا تھپکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ۔
    یہ کونسے کیڑے مکوڑے جمع کر رکھے ہیں ایڈمن۔۔
    دوسرا کمنٹ۔
    ابھی زندہ ہو مجھے لگا اب کبھی یہ بلاگ کا نوٹیفیکیشن نہیں آئے گا۔ مگر قسمت میری ابھی تھک کر سونے لیٹا تھا۔
    تیسرا کمنٹ
    یہ کونسی زبان ہے؟ اتنی لمبی عبارت کا بس اتنا سا ترجمہ بنا؟
    چوتھا کمنٹ
    میں بھی بچپن میں ایسےکیڑے مارتا تھا تب مجھے لکھنا نہیں آتا تھا۔
    اس نے بیزاری سے اوپر نیچے کیا۔ کوئی اسکے لکھےقول کی تعریف کرنے کو تیار نہ تھا۔
    تیسرا کمنٹ۔ وہ چونکی۔
    اتنی لمبی عبارت کا بس اتنا ترجمہ بنا؟؟
    وہ غور سے تحریر کی تصویر کو بڑا کرکے دیکھنے لگی۔ ہنگل میں اوپر نیچے جو لکیریں ہوتی ہیں وہ مکمل لفظ بن جاتی ہیں پھر بھی یہاں ان لفظوں کی بھی تین سطریں تھیں۔ اسے اچھی طرح یاد تھا ان پجاری جی نے اسے انگریزی میں بس اتنا کہا تھا
    The root of suffering is attachment
    وہ یہی سمجھی کہ انہی سطروں کا ترجمہ ہے۔ اسے الجھن ہونے لگی۔۔ اجنبی زبان کی عبارت اسے معمہ لگ رہی تھی۔ سامنے لکھے الفاظ اور وہ معنی سے نا واقف ۔ اس نے حروف کو پہچاننے کی کوشش کی ۔
    آخر میں۔۔
    وہ اتنا ہی پڑھ سکی۔ مصائب کی جڑ لگائوہے میں آخر لفظ تو آیاہی نہیں۔ یہ ضرور کچھ اور لکھا ہے۔ پڑھنے کی کوشش میں اسے خیال آیا۔ ہنگل سکھانے کیلئے اسے ایک ایپ بھی موبائل میں ڈائونلوڈ کروائی گئ تھی تاکہ اسائنمنٹس بنانے میں مدد مل سکے۔ اس نے وہی ایپ کھولی تصویر اپلوڈ کی اسکرین پر الفاظ ابھر آئے۔
    “آخر میں، صرف تین چیزیں اہمیت رکھتی ہیں: آپ نے کتنا پیار بانٹا، آپ نے کتنی عاجزی سے زندگی گزاری، اور آپ نے کتنی خوش اسلوبی سے ان چیزوں کو چھوڑ دیا جو آپ کے لیے نہیں ہیں۔”
    یعنئ وہ جو پوچھ رہی تھی پوچھنا چاہ رہی تھی ان پجاری جی سے وہ بات تو اہم تھی ہی نہیں۔۔۔
    اسے اب سمجھ آیا تھا۔ اورتبھئ ایک نوٹیفیکشن آیا تھا۔ کسی نے اسکے بلاگ پر تبصرہ کیا تھا۔ اس نے نوٹیفیکشن کھولا۔
    ہمیشہ کی طرح تم نے مدد کی۔ میں آخر کار آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتا ہوں۔ اور علیحدہ کرتا خود کو ان سب یادوں سےجنہوں نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ شکریہ۔ کل میری زندگی کا اہم دن ہے۔ میں ایک بہت جرات مندانہ قدم اٹھانے لگا ہوں ۔ دعا کرنا میں اب وہ چین پا لوں جو مجھ سے چھن چکا ہے۔۔
    پہلی آئی ڈی جس نے اسکے لکھے کو ہی پڑھا تھا۔ سمجھا تھا۔مان بھی لیا تھا۔ اور اریزہ نے اسے پہچان بھئ لیا تھا۔ یہ وہی تھااسکا واحد کورین پرستار۔ اسکا استاد۔۔۔
    اس نے بلاگ بند کر دیا۔ موبائل رکھ دیا آنکھیں بند کرلیں۔ کمبل منہ تک تان لیا۔ نیند کے سب لوازم پورے تھے بس ایک نیند میسر نہیں تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔

  • Salam Korea Episode 40

    salam korea by
    vaiza zaidi


    قسط 40


    صبح اسکی معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئ تھی۔ شائد پرسکون گہری نیند کا اثر تھا بخار بھی ختم تھا۔گوارا اور جی ہائے بے خبر سو رہی تھیں۔ اس نے کروٹ بدل کر دوبارہ سو جانا چاہا مگر نیند پوری ہو چکی تھی۔ وہ احتیاط سے بیڈ سے اتر کر ان دونوں کو پھلانگتی باہر نکل آئی۔ نہانے کا تو اتنی سردی میں دل نہ کیا منہ ہاتھ اچھی طرح دھو کر بال سنوار کر باہر نکل آئی۔ گائوں میں نکلتے سورج کے ساتھ چہل پہل کا آغاز ہوچکا تھا۔ وہ دلچسپی سے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگی۔ ہلکے بادلوں میں سے چھن چھن کر آتی سردیوں کی دھوپ۔
    گہری سانسیں لیکر دھوپ کھا کر احساس ہوا کہ بھوک نہیں مٹئ۔ گوارا تو جانے کب اٹھے یہاں کوریا میں کنوینیئنس اسٹور جا بجا ہوتے ہیں بہتر یہی تھا کوئی بن وغیرہ کافی کے ساتھ لے لے۔ یہی سوچ کر واپس کمرے میں آکر اپنا والٹ اٹھایا۔ ساتھ ہی موبائل بھی رکھا تھا مگر ذرا سا کنوینئینس اسٹور تک جانے کیلئے موبائل کیا کرنا یہی سوچ کر رکھ دیا۔ یہاں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں تھا سو آہجومہ سے پوچھنے وہ ریستوران میں کھٹر پٹر کی آوازیں سنتی ادھر ہی چلی آئی۔ گوارا کے بہن بھائی اور والدہ ناشتہ کر رہے تھے۔
    ارے آگاشی۔ آئو آئو ناشتہ کرلو ہمارے ساتھ۔حسب توقع انہوں نے فورا اسے دعوت دی۔
    شکریہ۔ وہ انکے ساتھ کھا نہیں سکتی تھی سرسری سئ نگاہ ڈالنے پر اندازہ ہوجاتا تھا ۔ صبح صبح سفید چاولوں کو پورک سوپ اور کمچی کے ساتھ کھا رہے تھے۔
    یہاں کہیں کوئی کنوینئینس اسٹور ہے تو بتا دیں۔۔
    اسکی شستہ انگریزی کو آہجومہ تو نہیں اسکا نک پھلا بھائی سمجھ گیا تھا۔
    ادھر سے سیدھی سڑک پر جا کر الٹے ہاتھ۔
    اس نے زبانئ بتانا کافی سمجھا اور سر جھکا لیا۔ آہجومہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر اسے ٹوکا اسے تو سمجھ نہ آیا مگر انہوں نے اسے ساتھ جا نے کو کہا تھا جبکہ وہ جوابا غصے میں بڑبڑایا ناشتہ کر رہا ہوں اور یہ کوئی بچی تھوڑی۔
    وہ کوریائی انداز میں سر جھکا کر رخصت لیتئ باہر چلی آئی۔ اونچے نیچے پہاڑئ راستے پر یہ راستہ اتنا چھوٹا یا آسان ہرگز نہ تھا جتنا اس نے بتایا۔ نیچے سڑک تک جا کر اس نے دائیں بائیں دیکھا تو دور اسے سیون الیون نظر آیا۔ یقینا یہ عوامی شاہراہ کے قریب تھا ریستوران جبھی سیون الیون اس پکی سڑک پر نیون سائن کے طو رپر جگمگا رہا تھا۔اس نے اللہ کا نام لے کر چلنا شروع کیا۔ چلتے چلتے جب اس کو لگا وہ ختم ہو جائے سڑک نہیں تو تھک کر وہیں سڑک کنارے پتھریلی دیوار سے ٹیک لگا کر ہانپنے لگی۔
    خاصا کمینہ پن کیا ہے یہ تو بتانا تھا کہ دور کتنا ہے۔ فیصل مسجد کی طرح سامنے نظر آرہا ہے مگر سڑک ختم نہیں ہو رہی۔ اف اس نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر فون نکالنا چاہا۔ مگر جیب سے ہاتھ خالئ ہی نکلا۔
    اس نے مڑ کر دیکھا واپسی کا راستہ آگے والے راستے سے ذیادہ طویل لگا بہتر یہی تھا تھوڑی پیٹ پوجا کرکے توانائی بھر کے واپسی کی راہ لی جائے۔اللہ کا نام لیکر دوبارہ چلنا شروع کیا آخر پہنچ ہی گئ۔ سب سے پہلے سیٹ ڈھونڈ کر ڈھیر ہوئی۔ ٹانگیں جیسے ٹوٹنے لگی تھیں۔
    اسے واضح محسوس ہوا کہ ایکدم سے خاموشی چھا گئ ہے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس سپر اسٹور کے کائونٹر پر کھڑے ملازمین اور دیگر صفائی پر معمور بھی خاموشی سے کھڑے اس کی شکل دیکھ رہے تھے۔
    کورینز اچھے خاصے اپنے کام سے کام رکھنےو الے لوگ ہیں غیر ملکی شکلوں کو دیکھ کر بھئ نظر انداز کرنے والے۔ یہ اسکے لیئے یکسر نیا تجربہ تھا۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ انکے چہروں پر واضح حیرت دوڑی۔
    مگر وہ خوش ہوئے۔ جھک کر آننیانگ ہاسے او بھئ کہا۔
    آننیانگ ہاسے او۔
    وہ بھی مسکرا دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تقریبا ان سب کے ساتھ تصویریں بنوا کر ناشتے کے طور پر بن اور سینڈوچ کھا کر اور دوپہر اور رات کے لیئے بھی یہ دو تین چیزیں لیکر وہ نکلی تھی۔
    ملازمین کچھ ہائی اسکولر لگ رہے تھے ایک دو بڑے بھی تھے سب کا اتنا خاص برتائو اسے عجیب بھی لگا اور مزا بھی آیا۔ سلیبریٹی جیسا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ترنگ میں نکلی تھی تو یقینا ایسا ہی غیر ملکیوں کو لگتا ہوگا جب وہ پاکستان آتے اور لوگ گھیر لیتے ۔ میں سوچتی تھی کہ کیا غلط حرکت ہے چڑا دیتے ہوں گے اسطرح تو لوگ انکو مگر غیر ملکی کتنے سبھائو سے بات کرتے ہیں تصویریں کھنچواتے ہیں بہت اچھے ہیں۔انہیں خود بھئ اچھا لگ رہا ہوتا ہوگا۔ جیسے مجھے لگ رہا ۔
    وہ مزے سے ادھر ادھر دیکھتی سوچتی چل رہی تھی۔ اب اترائی تھی سڑک پر اسے اس وقت اندازہ نہ ہوا مگر چڑھائی کی وجہ سے اسکو ذیادہ تھکن محسوس ہوئی اترائی میں تو جھٹ پٹ اترتی چلی آرہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتہائی بکواس مارننگ گلوری کی آواز نے اسکی میٹھی نیند توڑی تھی۔
    موبائل اب نہ اٹھایا تو میں موبائل توڑ دوں گی۔
    گوارا نے کروٹ بدلتے غرا کر کہا تھا۔
    پلیز توڑ دو اٹھ کر۔
    ہوپ الگ جھلائی ہوئی تھی۔دونوں نے کروٹ اکٹھے بدلی ایک دوسرے کو گھورا پھر سر اٹھا کر آواز کی جانب۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر جل بجھ کرتا موبائل ان دونوں میں سے کسی کا نہیں تھا۔
    اریزہ کی بچی۔
    دونوں اکٹھے چلائیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    گوارا کی والدہ تخت پر جانے کونسا ساگ پھیلائے بیٹھی تھیں گوارا اور ہوپ مالٹے کھاتی ادھر سے ادھر صحن میں چکر کاٹ رہی تھیں۔ گوارا کا بھائی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ماں کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ تیسرے چکر پر گوارا نے چھلکے حقیقتا اسکے منہ پر مارے تھے۔
    کیا ہے نونا۔
    وہ جھلایا۔
    تمہیں پتہ ہے نا ہائی وے والا کنویئنس اسٹور کتنا دور ہے اسے وہاں کیوں بھیجا؟ کونسی ایسی چیز ہے جو ریستوران میں موجود نہیں ہمارے؟
    گوارا بھنا رہی تھی۔ سوینگ تھوڑا شرمندہ سا ہوامگر ڈھٹائی سے اپنی بات پر جما بھی رہا۔۔
    مجھے لگا اسے کوئی چیز ایسی چاہیئے ہوگی جو ہمارے ریستوران میں نہیں جبھی تو پوچھ رہی۔
    اسکی بات پر گوارا دانت کچکچا کر رہ گئی۔
    راستہ نہ بھٹک گئ ہو۔
    ہوپ نے خیال ظاہر کیا۔
    سیدھئ سڑک ہے بیٹا۔ دائیں بائیں یا گھر ہیں یا جنگل و کھیت۔ وہ راستہ نہیں بھٹک سکتی ہاں ذیادہ وقت لگ گیا ہوگا اسے پہاڑی علاقے میں پیدل چلنا سب کےبس کی بات نہیں ہوتی ہے۔
    آہموجئ نے سبھائو سے تسلی دی۔
    آپ لوگ تو ایسے پریشان ہو رہی ہیں جیسے پانچ سال کی بچئ ہے آپکی دوست۔
    سوینگ نے کہا تو گوارا نے اسکے سر پر چپت لگا ہی دی۔
    چپ کرو تم۔ سخت غصہ آرہا ہے مجھے پہلے ہی تم پر۔
    ہمیں اٹھے آدھا گھنٹہ ہو رہا ہے اور اسے گھر سے نکلے تین گھنٹے ہو رہے ہیں مجھے لگتا ہے ہمیں اسکے پیچھے جانا چاہیے۔
    ہوپ کی بات میں دم تھا۔ گوارا کو بھی اب فکر ہو رہی تھی۔
    پہلے کچھ کھا لو۔تم دونوں نے ناشتہ تک نہیں کیا اگر ناشتے تک نہ آئی واپس تو
    آہجومہ کی بات ابھئ منہ میں ہی تھی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی مین گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ گوارا اور ہوپ لپک کر اسکے پاس آئیں۔ ہوپ نے اسکے ہاتھ سے دونوں شاپر لیئے تو گوارا پریشانی سے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر احوال پوچھنے لگی
    تم ٹھیک تو ہو نا؟ کہاں رہ گئ تھیں؟
    میں ٹھیک ہوں فاصلہ کچھ ذیادہ تھا تو تھک گئ ہوں بس۔ اس نے اتنی فکر پر ہنس کر کہا۔
    اور فون کس خوشی میں گھر چھوڑ کر گئی تھیں؟
    ہوپ کو یاد آیا تو بلا لحاظ اسکے سر پر بھی ٹھونگا لگا دیا
    وہ مجھے لگا تھا کنویئنس اسٹور قریب ہی ہوگا تو بس اس لیئے۔
    فون گھر چھوڑنے کی عادت پر وہ خود بھی شرمندہ تھی۔ گوارا نے اسکی بات پر مڑ کر دوبارہ سوینگ کو گھورا۔
    اچھا چلو ہمارے ساتھ ہم سب مالٹے کے باغ میں پھل اتارنے جا رہے ہیں ارادہ تو لنچ وہاں کرنے کا تھا مگر اب ناشتہ بھی وہیں کریں گے۔
    گوارا نے فورا اگلا پروگرام بنایا۔
    نہیں پلیز۔ اتنا چل کے مجھ میں اب مزید کہیں جانے کی ہمت نہیں ہے۔
    وہ سنتے ہی گھبرا گئ۔
    رہ لو گی اکیلے؟ گھر میں بس آہموجی ہوں گی وہ بھی کچن میں مصروف ہی ہوں گی۔
    گوارا کی بات پر وہ سوچ میں پڑی مگر حقیقتا ا سوقت شدید تھکن محسوس ہو رہی تھی سو سہولت سے معذرت کرلی۔ گوارا اور ہوپ نے بھی اسکی حالت دیکھتے ذیادہ اصرار نہیں کیا۔
    چلو سو ینگ بچوں کو لیکر آئو ہوپ گاڑی نکال رہی ہے۔
    گوارا نے سوینگ کو آواز دی وہ فورا اچھل کر تخت سے اترا تھا۔بچے پہلے سے تیار اندر کھیل رہے تھے ایک آواز پر دوڑے آئے۔ گوارا فرنٹ سیٹ پر سوینگ بچوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ گیا تھا۔ گاڑی جب تک نظر آتی رہی گوارا گاڑی کی کھڑکی سے سر نکال کر مس یو اور کورین ہارٹ بناتی رہی ہاتھ سےکبھی فلائنگ کس بھیجتئ۔۔ اسے البتہ فکر ہو رہی تھی سڑک خالی ہی تھی مگر یہ حرکت ٹھیک تھی نہیں۔ سو اسے منع کرتی رہی خدا خدا کرکے گاڑی نے موڑ موڑا تو وہ سر جھٹک کر اسکی دیوانگی پر مسکراتی اندر چلی آئی۔ آہجومہ ساگ بنا چکی تھیں اب ڈھیر اٹھا کراندر لے جارہی تھیں۔ من بھر کا ٹوکرا۔ تمیز کا تقاضا ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ سے لینا چاہا انہوں نے سہولت سے منع کردیا
    بہت بھارئ ہے اٹھا نہیں پائوگی۔ وہ مصر ہوئئ تو اسکے بے حد اصرار پر انہوں نے اسے تھمایا۔ ٹوکرا توقع سے کہیں بھاری تھاوہ لڑکھڑائی ہی تھی کہ انہوں نے ہنس کر اس سے واپس لے لیا۔
    تم لوگ آجکل کی بچیاں نہ ڈھنگ سے کھاتی پیتی ہو اوپر سے سیخ سلائی بننے کا شوق ہے۔
    جان بالکل بھی نہیں ہے تم لوگوں میں۔
    وہ جو کہہ رہی تھیں اسے ایک لفظ سمجھ نہیں آیا تھا۔سو بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔
    ریستوران اس وقت خالی تھا جو دو چار مستقل مہمان تھے وہ شائد ابھئ اٹھے نہیں تھے۔
    وہ انکے ساتھ کچن میں چلی آئی۔ یہاں اتنی سردی نہیں تھی۔ آہجومہ مصالحے کمچی وغیرہ نکالنے لگیں۔ اس نے اپنی ہنگل کو جھاڑ پونچھ کر مدد کی پیشکش کی۔ آہجومہ مسکرا دیں۔
    ایسا کرو تم گوشت دھو لو۔

    اس نے سر ہلا کر گوشت کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔ سنک میں پلاسٹک کے شاپر انڈیلے ہوئے تھے شاید برف پگھلنے کی نیت سے۔
    اس نے آگے بڑھ کر شاپر کھولنے شروع کیئے پانچ دس کلو گوشت تو تھا۔ اس نے اپر کے ہڈی میں پرویا کیچراتارا بال لپیٹ کر چٹکی لگائی آستینیں چڑھا کر تندہی سے اس کام میں لگ گئ۔ برف کافی حد تک پگھل چکی تھی نیم گرم پانی سے اس گوشت کو اچھی طرح بھگو کر دھونا شروع کیا۔ مسل مسل کر دھونا پڑا خون گوشت سے کچھ ذیادہ ہی رس رہا تھا۔ کچھ گوشت بھی ذیادہ ہی گلابی گلابی سی تھااور لجلجا سا بھی۔
    دھل کر ایکدم سفید ہوگیا تھا۔
    شائد یہاں کی گائیں بھی سکن کئئر روٹین فالو کرتی ہیں۔ وہ حسب عادت اردو میں بڑ بڑائی
    گوشت دھو کر ایک بڑے سے پتیلے میں ڈالتہ جا رہی تھی دوسرا شاپر کھولا تو اب چھوٹے چھوٹے پائے آگئے تھے۔ یقینا یہ پائے الگ رکھنے ہوں گے۔ نل کے نیچے انڈیلتے اسے جھٹکا سا لگا۔
    یہ پائے؟ اس نے پایا اٹھا کر غور سے دیکھا۔ بکرے کا پایا ہے نا یہ۔ اس نے تصدیق کرنا چاہی ۔ مگر چھٹی حس کچھ اور ہی کہہ رہی تھی۔اس نے مڑے بغیر پوچھا۔
    یہ کس چیز کا گوشت ہے؟
    دل دھک دھک کررہا تھا۔
    انگریزئ میں پوچھ کے خیال آیا آہجومہ کو تو سمجھ ہی نہیں آیا ہوگا ابھئ ہنگل کو ہوا لگانے کا سوچ رہی تھی شستہ انگریزی میں ہی جواب آیا۔۔۔
    یہ سب سور کا گوشت ہے۔
    اس کو دھچکا سا پہنچا تھا۔ مڑ کر پیچھے دیکھا تو علی کوکنگ رینج کے پاس کھڑا اپنے لیئے ناشتہ بنا رہا تھا آہجومہ جانے کہاں چلی گئ تھیں ۔ اسے دیکھتے پا کر علی نے خیر سگالی انداز میں مسکرا کر ہلکا سا سر جھکایا جیسے سلام کر رہا ہو اس نے واپس رخ موڑا۔ نل کی موٹی دھار کھولے گوشت پر سے پانی گزارتے ۔۔۔ آہ ابھی بھی موٹی دھار گوشت پر گر رہی تھی۔ گوشت دھوتے کب اسکی چھینٹوں سے بچتے ہیں اور بچنا چاہیں بھی تو کیسے بچت ہوتی ہے بھلا۔ اسے تو لگا منہ سر تک یہی پانی پہنچنے لگا ہے ۔۔
    حدیث کے مطابق آپ آبشار کے پاس بھی کھڑے ہوں تو پانی ضائع کرنا منع ہوتا ہے۔
    مخاطب نے اسکے برابر آکر ٹونٹی بند کرتے ہوئے نصیحت کرنا ضروری سمجھا۔
    اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ اس نے بے بسی سے گوشت کو دیکھا اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ اپر پر خون کے تو نہیں مگر پانی کے چھینٹے ضرور تھے۔ بے حد احتیاط سے دھونے کے باوجود۔
    سارے کپڑے ناپاک ہو گئے۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتی اب تو میں۔
    اسے دکھ ہو رہا تھا۔ یہ تاثرات اسکی شکل پر تھے۔
    کیا ہوا ؟
    اسکی بے چاری شکل دیکھ کر علی پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
    کچھ نہیں۔ اس نے سابقہ تاثرات کے ساتھ منہ بنا کر دوبارہ ٹونٹی کھول لی۔ علی کندھے اچکا کر واپس چولہے کے پاس آگیا۔ وہ اپنے لیئے ناشتہ بنا رہا تھا رولڈ آملیٹ اور ٹوسٹ ساتھ کافی ۔۔
    اپنا ناشتہ تیار کرتے اس کی گا ہے بگا ہے اس پر نظر پڑی تھی۔ وہ پوری توجہ سے گوشت دھو رہی تھی۔ گوشت دھونے کے بعد اس نے ہاتھ دھونا شروع کردیا تھا۔ اسکا ناشتہ تیار ہوگیا تو وہ ناشتہ لیکر باہر چلا آیا۔ ناشتہ کرکے برتن واپس رکھنے کچن میں آیا تووہ ابھی تک ہاتھ مسل مسل کر دھو رہی تھی۔
    یہ کیا کر رہی ہو؟
    وہ خاصامتفکر ہوکر اسکے پاس آیا۔
    اس نے پانی کی دھار تو نہیں ذیادہ کھول رکھی تھی مگر اپنے ہاتھ برتن دھونے والے مائع سے دھو رہی تھی خوب رگڑ رگڑ کر۔ ساتھ آنکھوں کا بھی غسل جاری تھا۔
    مجھے نہیں پتہ تھا یہ سور کا گوشت ہے ورنہ کبھی نہ دھوتی اوپر سے اتنا بدبو دار ہے اسکی بو بھی نہیں جا رہی۔
    وہ روہانسی ہو چلی تھی۔
    علی نے اسکی شکل دیکھی۔ وہ اس بات پر اتنی پریشان نظر آرہی تھی کہ لگتا تھا ابھی پھوٹ پھوٹ کر رودے گی۔
    وہ چہرے کے قریب ہتھیلی لا کر جیسے اسکی بو محسوس کر رہی تھی۔ اسے ابھئ بھی جیسے بو آئی۔ اتنی کراہیت سے ہاتھ پیچھے کرکے دوبارہ اس نے نل کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا بلا ارادہ اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔اریزہ نے چونک کے اسکی شکل دیکھی اسکا انداز سرسر ی تھا مگر گرفت مضبوط تھی۔ اسکے ہاتھ چھڑانے کی کوشش بالکل ناکام رہی ۔
    بس ہوگیا۔اس نے قطیعت سے کہا تھااور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ باہر لےآیا۔
    میں نے ہاتھ۔ ۔مجھے ہاتھ دھونے
    اس نے ہاتھ دھونے تھے مزید مگر علی نے ہاتھ نہیں چھوڑا اسکو باہر صحن میں دھوپ میں لا کر تخت پربٹھایا۔ اسکے ہاتھ سردی سے سفید پڑ گئے تھے۔اس نے اپنی گردن میں لپیٹا مفلر اتارا اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اسکے ہاتھ اس مفلر میں اچھی طرح لپیٹ دیئے۔اریزہ ضبط کرنے کی کوشش کر تو رہی تھی مگر آنسو اسکے گالوں پر پھسل آئے تھے۔۔
    اسکی شکل دیکھتے اسے ہنسی آگئ تھی ۔ بہت روکتے روکتے بھی وہ چہرے پر پھیل آنے والی مسکراہٹ نہ روک سکا۔
    اسکی مسکراہٹ اسے مزید جلا گئ۔
    کیوں ہنس رہے ہو آپ؟ یہ مزاحیہ لگ رہا ہے آپکو۔
    وہ غصے میں صحیح ہنگل بول گئ۔
    ہاں۔ علی نے اطمینان سے سر ہلایا۔ پھر ہنس کر وہیں زمین پر ٹک گیا۔ دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹکا اطمینان سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر محظوظ انداز سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔
    ایک بات تو بتائو مجھے ہنسئ آرہی ہے مجھے وجہ پتہ ہے مگر تم جانتی ہو کیا کہ رو کیوں رہی ہو؟
    کل سور کھا لیا آج سور کا گوشت ہاتھ میں لیئے رہی یہ چھوٹی بات ہے۔
    وہ اب چہکوں پہکوں رو دی۔ علی کو ہنسی بھی آرہی تھی اور اسکو چپ کرانا بھی ضروری تھا ۔ اپنے ہاتھ مفلر میں لپٹے ہونے کے باوجود وہ اپنے چہرے تک نہیں لا رہی تھی۔ لگ رہا تھا اسکے ہاتھ باندھ کر بٹھایا ہوا ہو اس نے۔ سر جھکا کر سڑ سڑ کرتی روتی اریزہ کو دیکھ کر اسے صرف ہنسی آرہی تھی۔ بمشکل ہنسی ضبط کرکے اسے سبھائو سے پکارنا شروع کیا۔
    اچھا نا روئو مت۔بات سنو ۔ اریزہ۔ پہلے بات سن لو میری پھر خوب رو لینا؟
    اسکی بات پر اریزہ نے تیکھی نگاہ ڈالی۔
    گڈ۔ اب بتائو گوشت دھو دیا تم نے؟ ہاتھ گندے ہوئے وہ بھی دھو لیئے۔ صابن سے پانی سے اب سب ٹھیک ہو گیا ہے۔ میرا یقین کرو۔
    شستہ انگریزئ میں وہ اسکو بہلا رہا تھا۔
    میرے سارے کپڑوں پر چھینٹیں آگئیں میں نے نماز پڑھنی تھی۔
    وہ بین کرنے والے انداز میں بولی۔
    تو ایسا کرو کپڑے بدل لو جا کر۔
    وہ اسے بچوں کی طرح ہی سمجھا رہا تھا۔
    اور میں نے سر پر ہاتھ لگا لیا ہوگا مجھے عادت ہے بار بار لٹ پیچھے کرنے کی۔
    وہ باقائدہ مفلر والے ہاتھ اٹھا کر اپنے چہرے پر بکھر آنے والی لٹوں کو پیچھے کرتی لائیو ڈیمو بھی دے رہئ تھی۔ ہلکی سرخ ہوتی ناک رو رو کے گلابئ آنکھیں۔ اس کا انداز اتنا بچکانہ تھا کہ وہ لاشعوری طور پر اسے بچوں کی طرح ہی سمجھانے لگا۔
    نہا لو۔ کپڑے بدل کر نماز پڑھ لینا۔
    اسکے سبھائو سے کہنے پر اسکی عقل کی بتی جلی۔ ساتھ ہی اپنی بے وقوفی پر شرمندگی بھی ہونا شروع ہوئئ۔
    ہوں۔ اس کو احساس ہوا کیا حماقت کی ہے۔
    اب ذرا مفلر کھول کر اپنے ہاتھ دیکھو۔ اتنا رگڑتا ہے کوئی؟ بالکل پا۔۔
    وہ پاگل کہتے کہتے رک گیا۔
    پھابو۔ ہاتھ صابن سے دھو لیئے صاف ہوگئے تین بار پانی گزارا پاک بھی ہو گئے۔
    اس نے شرمندگی سے مفلر کھولا اسکے ہاتھوں کی جلد سکڑ چکی تھی۔ ٹھنڈے ٹھار برف جیسے تو ہو رہے تھے ساتھ اس نے ہتھیلی ناک کے قریب لا کر سونگھنا چاہا تو بو ابھی بھی محسوس ہوئی
    ابھی بھی آرہی ہے۔
    اس نے جیسے شکایت لگائی۔
    ادھر دکھائو۔
    اس نے آگے ہو کر اسکی ہتھیلی تھامی اوراحتیاط سے اپنی ناک کے قریب لایا۔ اسکا انداز اتنا بے ضرر تھا کہ اریزہ جز بز سی ہو کر رہ گئ۔ لمحے بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا۔
    لیمن ڈش واش لیکوئیڈ کی بو آرہی ہے اب بس۔ دراصل تم نے دس کلو کے قریب گوشت دھویا ہے سور کا تو یہ عام جانوروں کے گوشت سے ذیادہ بودار ہوتا ہے۔ اسکی بو تمہارے حواس پر سوار ہوگئ ہے۔
    اسکی بات میں دم تھا اسکا انداز اتنا پر اثر تھا کہ وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
    مجھے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ دس کلو تھا۔ آپکوکیسے پتہ ؟ تھوڑا ذیادہ تو تھا مگر اتنا ذیادہ ہے یہ نہیں پتہ تھا۔
    گوشت تو کئی بار دھویا مگر دس کلو زندگی میں پہلی بار اکٹھے دھویا تھا۔
    مجھے ایسے پتہ ہے کہ یہ ڈی فراسٹ کرنے میں نے نکال کر رکھا تھا ۔ میرا ارادہ تھا دھونے کا بھی مگر ناشتے کے بعد۔ اس سے قبل تم نے آہجومہ کو پیشکش کردی دھونے کی۔
    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بتانے لگا۔
    آپ تو مسلمان ہیں نا؟ سور کا گوشت دھو دیتے؟ سور کو ہاتھ لگا لیتے؟
    اریزہ کو حیرت ہوئی۔
    ہاں اسکے بعد ہاتھ دھو لیتا موڈ ہوتا نہا لیتا مگر اس بات پرروتا نہیں کہ سور چھو لیا۔
    وہ اب مزاق اڑا رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    میں نے نیک نیتی سے مدد کی پیشکش کی تھی آہجومہ اکیلی کام کر رہی تھیں اسلیے۔
    بالکل۔ تم نے نیکی ہی کی ہے۔ علئ اسے چڑانا نہیں چاہ رہا تھا جبھی صلح جویانہ انداز میں بولا
    اب اچھے بچوں کی طرح اٹھو جا کر کپڑے بدل لو۔ رونا دھونا بند کرو۔
    وہ خود بھی کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
    اریزہ نے بھی سر ہلایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اسے دیکھتے یونہی اسے اپنا حال یاد آیا تھا۔
    تم آدھے گھنٹے سے وضو کیوں کیئے جا رہے ہو؟ ہوگیا بس بیٹا۔۔
    وہ کتنی ہی دیر سے باتھ روم میں بند تھا جب عبدالھادی دروازہ کھٹکا کر اندر آئے تو اسے بے بسی سے بیسن کے آگے روتے ہوئے کھڑا پایا۔
    جو پیدائشئ مسلمان ہیں نا کتنا آسان ہے ان کیلئے یہ سب کرنا مجھے بھول جاتا ہے پہلے ناک میں پانی ڈالنا تھا یا کلی کرنی تھی۔ میں ہر بار وضو کرتا ہوں ہر بار کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔۔ مجھے وضو کرنا ہے مگر مجھ سے ہونہیں رہا۔
    وہ رو رہا تھا مگر جانتا تھا اپنے رونے کی وجہ اس وقت یہ سمجھ نہ آیا کہ اریزہ کیوں رو پڑی تھی؟۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نرم گرم سی دھوپ ہڈیوں کو جماتی سردی کا اثر ذائل کر رہی تھی۔ گوارا مالٹے چنتے رخ موڑ کر سورج کی طرف کرکے آنکھیں بند کرکئ جیسے اسکی دھوپ کو روح تک محسوس کر رہی تھی۔
    نیا سن اسکرین لیا ہے کیا آہجومہ۔
    اسکے بھائی نے فورا جملہ چست کیا۔ اس نے فورا اسکو گھورا پھر بڑی بہن ہونے کا رعب جھاڑتے بولی
    آہجوشی اپنے کام سے کام رکھو۔ شام تک باغ مکمل خالی کرنا ہے۔
    جس رفتار سے کام کر رہی ہو اگلی کئی شامیں یہی کام کرتے گزرنی ہیں۔
    اس نے مالٹے توڑتے طنز اچھالا۔ سامنے والی پیڑوں کی قطار سے ہوپ کسی معمول کی طرح پھل ٹھکا ٹھک اتار رہی تھی جیسے بچپن سے یہی کام کرتی آئی ہو۔اسکی پھرتی کو دیکھ کر گوارا بھئ متاثر ہوئی ۔
    ویسے تم اس روبوٹ کو کہاں سے درآمد کرکے لائی ہو۔ ہم دونوں ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جائیں تو بھی شام تک یہ آہجومہ باغ کا پھل اتار چکی ہوگی۔
    گوارا اسے ہی دیکھ رہی تھی جب سوینگ نے متاثر ہو جانے والے انداز میں ہونٹ گول کرکے پہلے وائو کہا پھر اس سے پوچھا۔
    نونا کہو بڑی ہے مگر آہجومہ نہیں ہے۔
    گوارا نے فورا ٹوکا
    تم ہر کسی کو مجھ سے بڑا بنا دیا کرو۔ وہ برا مان گیا۔
    میرا ارادہ اسے لائن مارنے کاتھا بھی نہیں ایسی سوکھی سڑی لڑکی مجھے وارا نہیں کھاتی ۔ اور تم کو نونا کہتا نہیں اسکو کیوں کہوں تم سے تو دو تین سال چھوٹی ہی ہوگی۔ میری ہم عمر ہوگی یقینا۔
    سوینگ قیاس آرائی کر رہا تھا۔ گوارا نے لب کھولے اسکی غلط فہمی دور کرنے کو پھر سر جھٹک کر اپنی مالٹوں سے بھری ٹوکری اٹھائے ہوپ کے پاس چلی آئی۔
    آرام سے ہوپ۔ہم یہاں کام کرنے تو آئے ہیں مگر ایسی بھی کوئی مشینی رفتار سے کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو کئی دن لگا تے باتیں کرتے پھل اتارتے ساتھ ساتھ ان گنت کینو کھاتے بھی جاتے ہیں۔
    وہ ٹوکری نیچے رکھ کر موٹا سامالٹا نکال کر چھیلنے لگی۔
    یہ لو۔
    اس نے آگے بڑھ کر ہوپ کے منہ میں ڈالنا چاہا ہوپ نے منہ کھولا ہی نہیں الٹا اسکی شکل دیکھنے لگی کہ وہ گڑبڑا کر واپس پھانک اپنے منہ میں ڈال گئ۔
    کام کے دوران ہوپ کھانے کیا بولنے کیلئے بھئ منہ نہیں کھولتی جبھی اتنی رفتار ہے
    اس نے سوچا ہی تھا مگر اسکا اندازہ غلط نکلا۔ ہوپ نے ٹوکری نیچے رکھ کر ہاتھ جھاڑے اور بولی۔
    پھر تو تمہاری والدہ کو کافی نقصان ہوتا ہوگا۔
    خوامخواہ۔ گوارا نے منہ بنایا
    کوئی جن بھوت تھوڑی ہیں ہم اتنا تھوڑی کھا جاتے کہ نقصان ہو۔
    میں پھل اتارنے میں دیری کی بات کر رہی ہوں۔ ہوپ نے وضاحت کی۔
    انکی عمر کم ہوتی ہے ان پھلوں کو اتار کر شہر تک بھیجنے تک آدھا پھل اپنی غذائیت کھو دیتا ہے رہی سہی کسر انکو جو اسپرے لگائے ہیں انکی وجہ سے پھل کا رنگ بدل رہا ہے یہ کبھی بھی اے کیٹیگری میں شمار نہیں کیئے جائیں گے۔ آجکل ویسے بھی بنا پیسٹی سایڈز کے خالص قدرتی پھل کھانے کا رواج ہے بڑے شہروں میں اور یہ پھل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ مجھ پر کیڑے مار اسپرے کیا گیا ہے ۔ فوری درخت سے اتار کر جو کھا رہی ہو ساتھ ساتھ وہ دوا بھی کھا رہی ہو۔ جن پھلوں کو دھوپ لگ رہی ہو ۔ غور کرنا نگلنے کے بعد ایک کڑوا سا ذائقہ آتا ہوگا زبان پر۔
    اسکی اتنی تفصیلی توجیہہ۔حقیقتا گوارا کے حلق میں پھانک اٹک اٹک گئ بمشکل نگلا تو پہلےتو جانے کوئی کڑواہٹ محسوس ہوئی نہ ہوئی اس بار تو لگا مالٹا نہیں کریلا چبا کر نگلا ہے۔
    مم۔ میں نے کیڑے مار دوا کھالی ہے؟
    اسکی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ سینہ مسلنے لگی الٹی کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
    مجھے اسپتال لے چلو مجھے لگ رہا ہے میری اس ذہر سے طبیعت خراب ہورہی ہے۔
    گوارا کی اوور ایکٹنگ ہوپ نے تاسف سے دیکھا۔
    اتنا مرنے کا خوف کیوں ہے؟
    ہاں تو جینے کا خوف کیوں ہو؟ آخر ابھی دیکھا ہی کیا ہے میں نے ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ مجھے کنواری بھوتنی بن کے جوان لڑکوں کے پیچھے بدروح کی طرح پھرنے کا کوئی شوق نہیں
    تم سیول کی لڑکیوں کو شادی کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے۔
    ہوپ نے پوچھا گوارا تنک کر جواب دینے لگی تھی پھر اسکے چہرے پر نگاہ پڑی۔ سادہ سا انداز تھا یقینا طنز نہیں کر رہی تھی۔
    پیونگ دونگ( شمالی کوریا کا شہر) کی لڑکیوں کو شادی کا شوق کیوں نہیں ہوتا۔
    گوارا نےترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    پہونگ دونگ کی لڑکیوں کو ہوتا ہوگا بس مجھے نہیں رہا۔
    اس نے تلفظ درست کرتے ہوئے کندھے اچکائے۔
    کیوں؟ تمہیں کیوں نہیں؟
    گوارا خاصے تجسس بھرے انداز میں پوچھ رہی تھی۔ ہوپ نے سرجھٹکا۔
    کبھئ سوچا نہیں شادی کے بارے میں مسلے ہی اتنے تھے زندگی میں۔
    اس نے اپنی طرف سے مفصل جواب دیا تھا۔
    گوارا نے لمحہ بھر کو سوچا پھر بلا تمہید پوچھ ڈالا
    تم ابھی بھی ہیون کو پسند کرتی ہو؟
    ہوپ نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی وہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الٹرا سائونڈ رپورٹس تھامے وہ کتنی دیر تک اپنے وجود میں پلتے اس ننھے سے وجود کے ادھورے سے عکس کو دیکھ رہی تھی۔ جو شائد آج کل میں اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے غائب ہوجانا تھا۔
    ابھی تو اسکو بہت مرحلوں سے گزرنا تھا اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے قابل ہونے کیلئے ۔ اچھا ہے ابھی ہی دنیا کی حقیقت جان لے۔ جتنا بڑا وجود ہوگا اتنی ہی دنیا کی آزمائشیں دیکھنے کو ملیں گی تو اس سب سے بہتر ہے دنیا کو پرکھے بنا ہی دنیا سے منہ موڑ لینا۔
    اس نے قنوطیت سے سوچاپھراس غیر واضح مبہم بے ڈھب سے اس ننھے وجود کے عکس کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
    تم تو ابھی کچھ نہیں ہو۔ یہاں مجھے اپناوجود بے معنی لگ رہا ہے۔
    اس نے گہری سانس لیکر رپورٹس سائیڈ ٹیبل پر رکھیں۔ اور دھیرے دھیرے چل کر بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں کے پاس آکھڑی ہوئی۔ پردے ہٹا کر دیکھا تو دھوپ پھیلی تھی۔
    ڈاکٹر کی ہدایت کےمطابق وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر تھی۔ بہت دل گھبراتا تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آجاتی۔ سامنے اسپتال کے بڑے سے احاطے کا منظر صاف دکھائی دیتا۔ کچھ مریض لان میں ٹہلتے اور کچھ وہیل چئیر کے ذریعے اپنے تیمار داروں کی مدد سے کھلی فضا میں گھومتے نظر آتے۔ مستقل وارڈز اور رومز ہی اسی طرف تھے ۔ اس نے اتنے دنوں میں ایک بھی ایمبولنس یا ایمرجنسی کی صورتحال نہیں دیکھی تو نرس سے پوچھا تھا۔ اسی نے ہنس کربتایا کہ ایمرجنسی او راسپتال کا داخلی حصہ بالکل اس عمارت متضاد ہے۔ اس جانب کی عمارت مستقل مریضوں کے وارڈز اور دیگر ٹیسٹ وغیرہ کے لیئے مخصوص ہے۔
    کوریا کے تو اسپتال وہ متاثر ہوئی تھی۔
    اسکا فون بجا تھا۔
    اس نے پردے برابر کیئے فون اٹھا کر دیکھا تو کم سن کالنگ لکھا تھا۔ وہ ہونٹ کاٹنے لگی۔ کل کے اس اعتراف کے بعد وہ کتنی ہی دیر ہکا بکا سی بیٹھی رہی تھی ۔ غصہ آیا پھر ختم بھی ہوگیا۔ جب سوچنا چاہا کہ غصہ آیا ہی کیوں۔ وہ واقعی ایڈون کے سوا کسی کو نظر اٹھا کر دیکھتی ہی کہاں تھی۔ کاش کہ دیکھتی اسکے جملوں کی سچائی تو جانتی ہوتی ابھی تو بس حیرت ہی حیرت تھی۔کوئی وجہ نہیں باقی تھی اس سے دوبارہ بات کرنے کی جبھی فون نو کرکے رکھ دیا۔
    چند لمحے گزرے ہوں گے پھر کال آنے لگی تھی۔
    اس نے بیزاری سے فون اٹھایا انجان نمبر تھا
    اس نے بیزار سے ہی لہجے میں فون اٹھا کر کہا
    ہیلو۔
    ہاں سنتھیا بیٹا مجھے بہت ضروری کام سے پاکستان جانا پڑ رہا ہے تم بالکل پریشان مت ہونا میں اریزہ کے والد سے بات کر چکا ہوں وہ اریزہ کو تمہارے پاس بھیج دیں گے اور کچھ پیسے ابھی ایک آدمی تمہیں دے جائے گا ایک ڈیجیٹل کارڈ بھئ ہوگا تم جو چیز منگوانی ہو منگوا لینا ٹھیک ہے۔
    ڈیڈا تھے بنا سانس لیئے جس عجلت میں انہوں نے بات کی وہ پریشان سی ہوگئ
    کیا ہوا ڈیڈا سب ٹھیک تو ہے نا؟
    وہ چپ سے ہوگئے۔ پھر تھوڑا سنبھل کر بولے
    ہاں سب ٹھیک ہے۔ تم بالکل پریشان مت ہو اپنا خیال رکھو میں پاکستان پہنچتے ہی فون کروں گا۔ میری ابھی تھوڑی دیر میں فلائٹ ہے۔
    انکے اطمینان دلانے کے باوجود اسکا دل لرزنے سا لگا۔ کپکپاتی آواز میں پوچھنے لگی
    کیا ہوا ڈیڈا؟ امی تو ٹھیک ہیں نا ؟ مما کی طبیعت خراب ہے نا؟
    بالکل ٹھیک ہے تمہاری ماں پریشان مت ہو کہا نا سب خیریت ہے۔
    سیموئیل اسکی پریشانی بھانپ کر تسلی دینے والے انداز میں بولے
    آپ کچھ چھپاتو نہیں رہے نا۔ وہ بے یقین تھی۔
    مت فکر کرو ماں سے بات کرلو اطمینان کرلو ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ابھی تم سے پہلے اسی سے بات کی ہے میں نے تم فکر مت کرو بیٹا ۔
    انکی بات پر دھڑ دھڑ کرتے دل کو وقتی اطمینان تو ملا مگر اسکا آپریشن پرسوں تھا وہ یہاں بالکل اکیلی تھی کیسے وہ اسے یوں چھوڑ کر جا سکتے ہیں وہ پوچھنا بھی چاہ رہی تھی مگر جھجک بھی آڑے آرہی تھی۔
    مگر ڈیڈاوہ۔
    اس نے لبوں پر زبان پھیر کر ہمت کرکے پوچھ ہی لینا چاہا مگر وہ عجلت میں تھے بات کاٹ کر بولے
    اچھا بیٹا اپنا خیال رکھا اور جو کھانے کو دل کرے وہ منگوالیناٹھیک خدا حافظ۔
    اسکا جواب سنے بنا ہی فون بندہو چکا تھا۔ وہ بند فون کو دیکھ کر رہ گئ۔
    اریزہ آجائے گئ؟ اسے نئی فکر لاحق ہوئی۔
    نہیں آئے گی۔
    اتنے دنوں میں اس کا غصہ ختم ہوگیا ہوگا؟ کیا پتہ آجائے۔ معزرت کرلوں گی منا لوں گی اسے۔
    وہ سوچ رہی تھی۔
    تبھی دروازے پر دستک دے کر نرس ایک آدمی کو لیکر اندر آئی۔
    اس نے مڑ کر دیکھا پھر گھور کر رہ گئ۔
    میں نے فون کیا تھا تم نے اٹھایا نہیں یہیں باہر کھڑا تھا میں۔ وہ ۔ ۔۔
    کم سن اسکے گھورنے پر سٹپٹا کر صفائی دینے لگا۔
    نرس اسکا بی پی وغیرہ دیکھنے آئی تھی۔ وہ خاموشی سے ایک جانب صوفے پر بیٹھ کر اسکے جانے کا انتظا رکرنے لگا۔ نرس اپنا کام کرکے اسے دو ٹیکے ٹھونک کر جیسے ہی باہر نکلی اس نے بنا تمہید باندھے سوال کیا۔
    کیوں آئے ہو؟
    کم سن نے اسکی بےمروتی پر شاکی نظروں سے دیکھا۔
    تمہارا حال پوچھنے آیا ہوں۔
    وہ اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بیڈ پر پائوں اوپر کیئے آلتی پالتی مارے اطمینان سے بیٹھی تھی۔
    اسکی بات پر بھنوئیں اچکا کر دیکھا
    تمہارے آہبوجی کو فون کیا تھا میں نے انہوں نے بتایا وہ جا رہے ہیں پاکستان تو سوچا تم یہاں اکیلی ہوگی تو تمہیں کمپنی دے دوں۔
    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا
    وہ اسے گہری نگاہوں سے گھور رہی تھی انداز میں ناگوارئ نہیں تھی مگر کھنگال لینے والی نظر تھی کہ وہ مزید سٹپٹا سا گیا۔
    کچھ کھائوگئ؟ اسپتال کے بورنگ کھانوں سے بیزار ہوگئ ہوگی۔
    اس نے بات بدلنی چاہی۔
    سنتھیا نے نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
    اسپتال سے ہی بیزار ہوگئ ہوں میں تو۔
    سنتھیا بڑبڑانے والے انداز میں بولی
    چلو تمہیں سیر کرالائوں۔
    کم سن نے کہا تو وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    کہاں؟
    نامسان ٹاور ، لوٹے ورلڈ ، ہینگنگ گارڈن سودوک محل کہاں چلیں؟
    وہ ڈھیر سارے آپشن سامنے رکھ رہا تھا
    ایکوریم دیکھنا ہے۔
    وہ بے ساختہ بولی پھر شرمندہ سی ہوگئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈھیر ساری رنگ برنگی مچھلیوں کو دیکھ کر وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔ ایکوریم پر انگلی رکھتی تو سب مچھلیاں اسکی جانب دوڑی آتیں۔کم سن حقیتا اسے ایکوریم لیکر آیا تھا۔ لوٹے ورلڈ کے دیو ہیکل ایکوریم میں نہیں بلکہ اسپتال کی لابی میں رکھے چار فٹ کے ایکوریم کے پاس وہیل چئیر پر بٹھا کر اور وہ اسی میں خوش ہوگئ تھی۔ کمرے سے نکلنا ہی اسے خوش کر گیا تھا۔ لابی کے لحاظ سے خاصا خوبصورت لگ رہا تھا اندر پرانے طرز کے کورین گھروں کا ماڈل بھی پانی میں تھا ایک کشتی بھی موجود تھی۔ اور اس سب کے ارد گرد تیرتئ بھانت بھانت کی رنگ برنگی مچھلیاں
    کچھ مچھلیاں اتنی چھوٹی تھیں کہ انہیں دیکھنا بھی مشکل لگتا تھا۔ اتنی باریک اتنی ننھی سی جیسے ابھی دنیا میں آئی ہوں۔
    یہ کس مچھلی کے بچے ہیں؟
    اس نے مڑ کر کم سن سے پوچھا۔
    نارنجی پیلی چتکبری مچھلیوں میں ان ننھے چاول کے دانوں سے ذرہ بھر ہی بڑے وجود کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کس رنگ کے پروں سے سجیں گے انکے جسم۔
    یہ مچھلی ہی اتنی بڑی ہوتی ہے۔
    کم سن نے آگے جھک کر ایکوریم میں دیکھ کر بتایا۔
    اسکانام بھول گیا میں ہائی اسکول میں پڑھا تھا اسکے بارے میں۔ غور سے دیکھو یہ مکمل مچھلی ہے۔ مچھلی کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تب وہ مچھلی جیسا تھوڑی لگتا ایک نقطے جیسا ہوتا ساتھ بے رنگ سی بے ڈھب سی جھلی ہوتا ہے۔جب آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے تو پورے مچھلی کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔بالکل انسان کی طرح۔ بس تھوڑا وقت لگتا ہے۔
    وہ سادہ سے انداز میں اسے بتا رہا تھا۔ اسکے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہی تو اپنی الٹراسائونڈ رپورٹ دیکھتے وہ خود کو باور کرا رہی تھی ہونے اور نہ ہونے کا فرق۔ نظر آنے اور نظر نہ آنے والے کی حیثیت۔
    اسکی پیشانی تر سی ہوگئ۔ خوفزدہ سا ہو کر اس نے ایکوریم سے ہاتھ ہٹایا۔ کم سن فورا متوجہ ہوا۔ خشک ہوتے لب تر پیشانی
    کین چھنا؟ طبیعت خراب ہو رہی ہے تمہاری؟ڈاکٹر کو بلائوں؟
    وہ بر طرح پریشان ہو گیا تھا۔ غالبا ڈاکٹر کو بلانے مڑنے لگا اس نےبے ساختہ اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
    نن نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ کھلی۔ کھلی فضا میں لے چلو۔
    وہ سر ہلا کر اسے باہر لے آیا۔ اندر کے گرم ماحول کی نسبت باہر ٹھنڈک تھی دھوپ کے باوجود چلتی سرد ہوا ۔ اسکی ہڈیوں میں سرائیت کرنے لگی تو وہ بے ساختہ جھرجھری لیکر رہ گئ۔ کم سن اسے لان والے حصے میں لے آیا ۔ تھوڑی دیر دھوپ میں رہنے سے اسکی سردی کم ہوئی۔ لان میں خاصی رونق تھی۔ کچھ بچے بھی کھیل رہے تھے جو شائد یہاں آنے والوں کے ساتھ آئے تھے۔ کچھ بیمار بچے بھی تھے۔
    کیا کھائوگی؟ کورین بیف سوپ ود نوڈلز یا کمباپ۔
    مجھے بھوک نہیں۔ اس نے سر جھٹکا۔
    کچھ تو کھانا پڑے گا کمباپ لے آئوں؟
    کم سن مہمان نوازی کے موڈ میں تھا۔
    بس کم باپ۔
    اس نے مختصرا جواب دیا۔ وہ لان کی طرف متوجہ تھی۔ تبھی ایک جوان عورت نوزائیدہ بچہ لیکر شائد دھوپ دکھانے احتیاط سے اٹھا کر لائی تھی۔ اسکے سامنے ہی بنچ پر آبیٹھی تھی۔ وہ جی جان سے اسکی طرف متوجہ ہوگئ کم سن کچھ کہہ تو رہا تھا مگر اس نے سنا ہی وہ منظر میں گم تھی۔ وہ۔لڑکی ممتا سےچور نظروں سے ننھے وجود کو دیکھ رہی تھئ۔ ایک۔چندی ہی آنکھوں والا لڑکا ایک شاپر میں اسکے لیئے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لایا تھا۔ شاپر رکھ کر اس نے فورا بچہ اسکی گود سے لے لیا تھا۔ وہ لڑکی ہنس دی تھئ۔ لڑکا اسے مصنوعی خفگی سے شائد کھانے کو ہی کہہ رہا تھا۔احتیاط سے بچے کو تھامے ماں کو کھانے کی ہدایت کرتا وہ لڑکا ایکدم روپ بدل کر ایڈون بن گیا تھا۔ ہنس ہنس کر کم باپ کھاتی لڑکی کا رنگ سنولا گیا تھا وہ وہ خود بن گئ تھی۔ ایڈون کو اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی۔ ایڈون کا اصرار تھا کہ میں بعد میں کھا لوں گا تم آرام سے کھائو تم اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھ رہیں۔
    وہ لا شعوری طور پر اسے دیکھے گئ۔ کم سن کا موبائل بجا ۔ اسکا منگوایا ہوا آرڈر آچکا تھا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کر شاپر لیکر واپس آیا تو وہ ویسی ہی مگن گم صم بیٹھئ تھی۔ اسے متوجہ کرنے کیلئے اس نے اسکی گود میں شاپنگ بیگ لا کر رکھا۔ اور اسی بنچ کی طرف اسکی وہیل چئیر چلا کر لے جا نے لگا۔ وہ جوڑا جانے کب اٹھ کر چلا بھی گیا وہ اتنا سوچوں میں محو تھی کہ۔خبر بھی نہ ہوئی۔ وہ کھسیا کر شاپر کھنگالنے لگی۔ ہر چیز دو بندوں کے حساب سے تھی۔
    سوائے سوڈے کی پلاسٹک بوتل کے۔
    اس نے سب سے پہلے وہی بوتل کھولی
    گوماویو۔ کم سن اسکے ہاتھ سے بوتل لیتا بینچ پر بیٹھ گیا۔
    یہ میں نے اپنے لیئے کھولی تھی۔ اس نے بھنا کر جتایا
    سوڈا میں اپنے لیئے لایا ہوں تمہارے لیئے وٹامن واٹر لیکر آیا ہوں۔دیکھو۔
    کم سن کے کہنے پر اس نے دوبارہ شاپر میں جھانکا تو ایک او ربد ہیبت سی بوتل نظر آئی۔ وہ بیزار ہوئئ۔ اتنے دنوں میں اسے یہی پلایا جا رہا تھا۔ وہ تو دوا ہی سمجھی تھی مگر کوریا میں یہ دوا دراصل ایک بنا سوڈے والی وائٹامن ڈرنک تھی۔
    مجھے یہ نہیں پینی۔ تنگ آگئ میں یہ پی پی کے۔
    وہ جھلائی۔
    معزرت مگر میں تمہیں ایسی کوئی چیز نہیں کھانے دے سکتا جو تمہارے اور بے بی کیلئے نقصان دہ ہو۔ اس نے اسکے ہاتھ سے شاپرلیکر اچھی طرح پیک ہوا نوڈلز سوپ کا بائول نکال کر برآمد کرکے بنچ پر رکھنے لگا۔
    سوڈا ہے شراب نہیں۔ اس نے کہا تو کم سن نے کندھے اچکا دیئے۔
    بچوں کیلئے سوڈا بھی فائدہ مند نہیں۔صرف صحت بخش خوراک کھا سکتی ہو تم۔ وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔
    ایویں۔ وہ چیں بہ چیں ہوئی۔
    یہ لو تمہارے لیئے کم باپ۔
    اس نے سوپ سجانے کے بعد اطمینان سے کم باپ اسکی جانب بڑھایا۔
    اس نے شاکی نظروں سے گھورا۔ اسے لگا تھا وہ سوپ کا پیالہ اسکی جانب بڑھائے گا۔
    یہ لو تم کمباپ کھائو میں کورین بیف نوڈلز کھائوں گا۔اس نے بنچ کی جانب اشارہ کیا ۔نوڈلز کے ساتھ دو تین سائیڈ ڈشز بھی سجی تھیں۔ اس پرتکلف خوان کے سامنے کم باپ اسے اونٹ کے منہ زیرہ لگے۔ سوپ کی اٹھتی خوشبو حواس پر چھا رہی تھی۔
    میں نے نہیں کھانا یہ۔ اس نے بیزار ہو کر کمباپ اسکی جانب بڑھا دیا۔
    پھر کیا کھائوگی؟ کم سن سوچ میں پڑا
    یہ بیف نوڈلز کھائو گی؟اس نے اثبات میں سرہلایا
    اچھا یہ لے لوتم۔ کم سن نے مایوس سا ہو کر پیالہ اسکی جانب بڑھایا اس نے لپک کے تھام لیا۔
    اشتہا انگیز گوشت کا مصالحے دار سوپ اور نوڈلز اسکو ایکدم بھوک محسوس ہوئی تھی۔
    بنا تکلف وہ رغبت سے کھانے لگی۔
    ویسے میں کمباپ سوپ میں ڈبو لیتا ہوں۔ اچھا لگتا ہے۔دوں۔
    اس نے کمباپ کھول کر اسکی جانب بڑھایا۔
    اس نے سر ہلا حسب ہدایت ڈبو کر چکھا تو مزے کا لگا۔
    یہ میرے پسندیدہ رییستوران کا سوپ ہے مزے کا لگا؟
    وہ شاپر سے دوسرا پیالہ نکالتے ہوئے مسکراہٹ دباتے پوچھ رہا تھا۔
    ہمم مزے کا ہے۔ وہ بے دھیانی سے بولی اسکی مکمل توجہ اپنا پیالہ ختم کرنے پر تھی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہا دھو کر کپڑے بدل کرنماز پڑھ کر آکر بیٹھی تو بھی ہاتھوں کی جلد سکڑی ہوئی ہی تھی۔ اس نے تصویر کھینچ کر بھیجی۔
    آج سور کا گوشت دھویا میں نے۔
    چند ہی لمحوں میں صارم کی جانب سے ڈھیر سارے لعنتوں والے ایموجیز موصول ہوئے۔
    تم پاگل ہو ایک دم اریزہ اس بات کا فائدہ اٹھا رہی ہو کہ تمہارے کان کھینچنے کیلئے میں وہاں موجود نہیں ہوں۔
    پے در پے پیغامات آئے تھے۔ کال کی توقع تھی اسے اس نے وقت کا اندازہ کرنا چاہا یقینا وہ اس وقت یونیورسٹی میں ہوگا جبھی کال نہ کرسکا مگر کان کھینچ لیئے تھے اسکے۔
    کچھ لگائو اب ان پر ابھی۔ حشر کر لیا ہے تم نے انکا۔
    فکر بھئ تھی۔ وہ مسکرا دی۔ اسی وقت لوشن لگا کر تصویر کھینچ کر بھیجی۔۔
    فون پر پاپا کی کئی مسڈ کالز پڑی ہوئی تھیں۔ اور ایک پیغام بھی تھا۔
    بیٹا سنتھیا کے پاپا نے کہا تھا سنتھیا اکیلی ہے اسپتال میں تو تم اسکے پاس چلی جانا۔
    اسکو پڑھ کر غصہ ہی آگیا۔
    میں کیوں جائوں ایڈون کو کہتے نا ۔۔ وہ لکھتے لکھتے رکی پھر سارا پیغام مٹا دیا۔ یقینا بابا نہیں جانتے ہوں گے کہ سنتھیا کیوں ہے اسپتال میں۔ سو بس اتنا ہی لکھ بھیجا
    ابھی تو بابا میں سیول میں نہیں ہوں آپکو بتایا تھا نا دوستوں کے ساتھ انکے گائوں آئی ہوں جب جائوں گئ تب مل لوں گی اس سے۔ آپ فکر نہ کریں۔
    اس نے تفصیل سے اسی لیئے جواب لکھا کہ وہ اطمینان کرلیں۔
    ٹھیک ہے بیٹا۔ مس یو۔
    بابا نے فورا اسکا پیغام پڑھا تھا مگر شائد مصروف تھے۔
    وہ گہری سانس لیکر موبائل رکھ کر اٹھنے لگی تھی موبائل پھر بج اٹھا۔ اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا
    ہیون کی کال آرہی تھی۔
    وہ چند لمحے اسکی کال دیکھتی رہی پھر سائلنٹ کرکے رکھ دیا۔۔پھر خود بھی لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کھانا کھا رہے تھے جب سیکٹری نے انہیں ایک ٹیبلٹ لا کر دی۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا مگر وہ جواب دینے کی بجائے انکی جانب ٹیبلٹ بڑھا کر پیچھے ہٹ گیا۔
    انہوں نے ٹیبلٹ اٹھا کر دیکھا تو ایک ویب سائٹ نے بڑی سی تصویر لگا کر پورا بلاگ لکھ ڈالا تھا انکے اسٹور کے بارے میں۔ تصویر تھی ایک بر صغیر کے نقوش کی لڑکی کی انکے سیون الیون اسٹور چین کے ایک اسٹورکے ملازمین کے ساتھ ہنستے مسکراتے انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا رہی تھی۔
    عنوان مزید خون کھولانے والا تھا۔
    لی گروپ کامیاب مارکیٹنگ اسٹریجی اور رحم دل شہزادی
    لی گروپ کی ہونیوالی بہو نے ناصرف اچانک اپنے اسٹور چین کا دورہ کیا بلکہ وہاں کے ملازمین کے ساتھ خوش گپیوں میں بھئ مصروف رہی۔ انٹرنیٹ صارفین اس ارب پتی گھرانے کی ہونے والی بہو کے نیک اطوار سے کافی متاثر نظر آئے۔ لی گروپ کے خاندان میں سے پہلی دفعہ کسی خاتون سب روائتیں توڑتے ہوئے
    انہوں نے جھلا کر ٹیبلیٹ پھینکی تھی اور مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
    یہ معاملہ حد سے ذیادہ بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے دانت کچکچائے۔
    اس لڑکی کے بارے سب معلومات اکٹھی کرکے دو مجھے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مجھے بتائو اسکے بارے میں کون ہے کہاں سے آئی ہے اوراچانک کیسے ہماری زندگی میں آن دھمکی ہے۔ سب جاننا ہے مجھے سب۔ سمجھے
    کہتے کہتے غیض و غضب سے انکا چہرہ سرخ ہوچلا تھا جملہ ختم کرنے تک آواز بھی خاصی بلند ہوچکی تھی۔
    سیکٹری نے ٹیبلیٹ کے ٹکڑے سمیٹے اور مئودب سا انکے سامنے کھڑے ہو کر کہا
    سمجھ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جانے کتنی دیر گزری وہ یونہی بے آواز روتی رہی۔ گوارا اور ہوپ کمرے میں آئیں بتی جلائی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ گوارا نے پکارا بھی مگر وہ بازو پر ہاتھ رکھے لیٹی تھی سو وہ یہی سمجھی کہ سو رہی ہے سو بتی بجھاتی واپس چلی گئیں دونوں۔ ان دونوں کے جانے کے بعد اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ پھر جانے کب اسکی سچ مچ آنکھ لگ گئ۔ رات کے دس بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی۔ پہلے تو پتہ ہی نہ لگا کہ کہاں ہے پھر حواس بحال کرکے اٹھی بتی جلائی اپنا اپر پہن کر باہر نکل آئی۔ باہر دالان حسب معمول سنسان پڑا تھا۔ البتہ ریستوران میں کافی گہما گہمی تھی۔ شائد کوئی پارٹی تھی خوب ساری رنگین پنیاں لگی ہوئی تھیں سب بتیاں روشن تھیں۔ کافی تیز آواز میں کے پاپ لگا ہوا تھا۔ لوگوں سے بھرا ہوا تھا ریستوران۔۔۔گوارا اور ہوپ مختلف ٹرے اٹھائے ادھر سے ادھر جاتی نظر آرہی تھیں۔ گوارا کی اس پر گلاس وال سے آر پار نظر نہ پڑی ہوگی ورنہ پکار لیتی۔ وہ بھی قصدا اس گہما گہمی سے بچ کر باہر ہی آگئ۔ باہر موسم میں بے حد خنکی تھی۔ سامنے پورا چاند چمک رہا تھا۔ اسکا دل کیا قریب سے دیکھنے کا سو اکیلے باہر نکل آئی۔ اسکے گھر سے تھوڑے فاصلے پر چڑھائی تھی پھر جنگلہ لگا کر سڑک کنارے کچھ خالی جگہ تھی یہاں سے چند فٹ نیچے پکی گلی اور دوسری جانب سے اترنے کا راستہ۔ اسکا وہاں جانے کا دل کیا مگر سنسان نیم اندھیرے میں اتنی دور جانے کی ہمت نہ ہوئی سو وہیں کھڑی کچھ دیر دیکھتی رہی پھر واپسی کیلئے مڑی تو ٹھٹھک سی گئ۔ اس سے کچھ فاصلے پر علی دروازے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اسے ٹھٹھکتے دیکھ کر شرمندہ سا ہوا۔
    وہ میں رات کے کھانے کیلئے باہر جا رہا تھا آپ کھائیں گی میرے ساتھ؟
    اس نے غالبا تکلفا کہا تھا۔مگر اس نے تکلفا بھی انکار نہیں کیا۔ اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے لگا تھا وہ کسی ریستوران میں لیکر جائے گا مگر اسے حیرت ہوئی جب دو گلی مڑ کر اس نے ایک عام سے کورہائی طرز کے سادہ سے گھر کے لکڑی کے دروازے پر دستک دی۔
    اندر سے باریش چندی آنکھوں والے ایک ساٹھ ستر سال کے بزرگ نکلے تھے۔ علی سے تپاک سے گلے ملے۔ علی نے اسکی جانب اشارہ کرکے جانے کیا کہا وہ اسکی جانب دیکھنے لگے اس نے گڑبڑا کر سلام کیا۔
    وعلیکم ۔ وہ مختصر کہتے انہیں اندر آنے کی دعوت دیتے ایک جانب ہو گئے۔ وہ جھجکتے ہوئے علی کی معیت میں اندر داخل ہوئی۔ بڑا سا صحن نیم تاریکی میں ڈوبا تھا۔ دو قدم کی سیڑھیاں چڑھ کر دالان تھا جس میں دو کمروں کے دروازے کھلتے تھے۔دروازے کی دراڑوں سے اندر کی روشنی چھن چھن کر آرہی تھی۔صحن کی سنسانی کے برعکس اندر سے کافی لوگوں کے ہنسنے بولنے کی آواز آرہی تھی۔
    ان بزرگ نے دروازہ کھولا تو اندر ایکدم خاموشی سی چھا گئ۔ لمبے چوغے پہنے کئی مرد و زن زمین پردسترخوان بچھائے کھانا کھا رہے تھے۔خواتین گھر میں بھی سر پر اسکارف باندھے تھے دو بچے بھی تھے سب خاصی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
    اس کو سمجھ نہ آیا سلام کہے یا آننیانگ۔
    اسلام وعلیکم علی بھائی۔ ہم آپکا انتظار کرکے ابھی کھانا کھانے بیٹھے تھے۔
    ایک مرد نے اٹھ کر علی کو گلے لگا کر شستہ انگریزی میں کہا۔
    علی نے بھی جوابا گرم جوشی سے جواب دیا
    میں معزرت خواہ ہوں تھوڑی دیر ہوگئ مجھے۔ یہ میری دوست ہے اریزہ مسلمان ہے تو میں نے اسے بھی دعوت دے دی طعام کی۔
    بہت اچھا کیا آئیے بیٹھیئے۔
    وہ شخص مہمان نواز تھا فورا انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتے مڑ کر مقامی کسی زبان میں اپنی بیوی سے مخاطب ہوا وہ فورا سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    یہ کونسی زبان ہے ہنگل تو نہیں لگ رہی۔
    وہ حیرت سے ان سب کو دیکھتی علی سےپوچھ رہی تھی۔
    یہ انڈونیشین خاندان ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے کوریا میں رہتے ہیں ہماری مسلم تنظیم کے توسط سے ان سے سیول میں ملاقات رہی تھی ۔ میں جب یہاں آتا ہوں ان سے ضرور ملنے آتا ہوں۔ بہت پرخلوص سادہ لوگ ہیں۔
    علی نے دھیرے دھیرے سے بول کر اسے بتایا
    اسکے لیئےاو رعلی کیلئے چاولوں کے نئے پیالے آگئے تھے۔سوپ کے ڈونگےانکی جانب بڑھائے جا رہے تھے تلا ہوا گوشت بھی موجود تھا۔ نان اور کباب بھی۔
    علی نے تعارف بھئ کروایا
    وہ بزرگ مجید ارباب تھے انکے دو بیٹے بہوئیں انکی زوجہ اور بڑے بیٹے کے دو بچے تھے۔ بالترتیب آٹھ اور بارہ سال کے۔ دوسرے کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔
    بزرگ خاتون بہت دلچسپی اور پیار سے اسکو کھانے کی اشیاء پیش کر رہی تھیں۔ انکی زبان تو سمجھ نہیں آرہی تھی مگر وہ انکے خلوص کی زبان سمجھ رہی تھی۔
    یہ تمہاری ہونیوالی بیوی ہے نا۔
    ارباب کے بیٹے نے انگریزئ میں خاصی بلند سرگوشی کی تھئ۔ علی نے سٹپٹا کر اسے دیکھا۔ وہ سن کر بھی انجان رہی۔
    علی نے فورا انکار کیا تھا مگر وہ یقین نہیں کر رہے تھے۔ اپنی زبان میں گھر والوں کو کچھ کہا تو سب مزید حیرت و اشتیاق سے اسے دیکھنے لگے۔
    ایک تو میں جہاں جاتی ہوں میرا سسرال بن جاتا خود ہی۔
    وہ تلملائی۔ بڑبڑائی۔ مگر اردو میں۔ اس فضول غلط فہمی کے برعکس کھانا واقعی لذیذ تھا۔ اتنے عرصے بعد کباب اور تلے ہوئے اسٹیک ملے تھے اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ مرغی کی کمی محسوس ہو رہی تھی سوپ سبزیوں کا تھا ۔ اس نے چاول اسٹیک اور سوپ سے ملا جلا کر کھا ہی لیئے۔
    علی بہت اچھا میزبان تھا۔جو بھئ کھا رہا تھا مستقل اسے بھئ کھانے کیلیئے پیش کر رہا تھا۔
    آخر میں بادام کاجو کی ہوائیوں کے ساتھ انڈونیشیائی کھیر سی پیش کی گئ۔ کافی مزے کی تھی مگر اس سے ذیادہ کھائی نہ جا سکی۔ اس نے ایک دو چمچ لے کر معزرت کرلی تو ان خاتون نے وہی پیالہ علی کی جانب بڑھا دیا۔ وہ ماتھے پر شکن لائے بنا ختم کرنے لگا۔ کورین عموما جوٹھے کے وہم سے دو ررہتے ہیں اتنا تو اسے اندازہ ہو ہی گیا تھا اتنے مہینوں میں۔ گوارا ہیون تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا لیتے تھے۔ اسکی علی سے ابھی اتنی بے تکلفی نہ تھی۔ کھانا کھا کر انہوں نے اجازت چاہی توان بزرگ کی زوجہ انہیں رکنے کا کہہ کر اندرچلی گئیں۔
    اس تکلف کی ضرورت نہیں ۔۔ علی نے کہا مگر
    ارباب مسکرا کر چپ رہے۔
    وہ خاتون اندر سے ایک نیا پیک شدہ لفافہ اٹھا کر لائیں اور اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ ہاتھ بڑھانے میں متامل تھی۔
    لے لو بیٹا۔ پیار سے تحفہ دے رہی ہیں۔
    ارباب انکل کی سفارش کے بعد اسکے پاس انکار کی وجہ نہ رہی۔
    وہ تھام کر شکریہ اداکرنے لگی۔ مگر وہ دونوں یوں متوجہ تھے جیسے ابھی مزید بھی اس سے توقع ہو کوئی انہیں۔ علی نے سمجھ کر اسکے کان میں سرگوشی کی۔
    یہ چاہتی ہیں تم یہ پہن کر دکھائو؟۔
    وہ اس فرمائش پر منہ کھول کر رہ گئ۔
    جانے کیا تھا کپڑا ہی تھا کوئی اس نے پیکنگ کھولی تو بڑے بڑے پھولوں والا ریشمی اسکارف تھا۔ اس نے اپر کے اوپر اسکو مفلر کی طرح گلے میں ڈال لیا۔ تو خاتون خود آگے بڑھیں ۔
    اسکارف لیکر اسکے چہرے کے گرد بڑے ماہرانہ انداز سے حجاب کی طرح لپیٹ دیا۔
    اسکا گورا چہرہ گلابی ہالے میں دمک اٹھا تھا ۔ انہوں نے پیار سے پیشانی چوم لی۔
    پھر دونوں کو نگاہوں میں بھر کر بولیں دونوں ہاتھوں اشارے کرکے اپنی زبان میں بولیں۔
    ماشااللہ بہت خوبصورت جوڑی ہے سدا خوش رہو۔
    علی کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی
    وہ جو علی کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کہ شاید انکے جملے کا ترجمہ کرے تاکہ انکے اشارے سمجھ کر وہ جو سمجھی ہے انہیں علی شائد غلط فہمی قرار دے دے ۔ علی کی مسکراہٹ کا مطلب یہی تھا کہ وہ صحیح سمجھی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے سردی کے باوجود اسکارف گلی میں آتے ہی اتار کراپر کی جیب میں ڈال لیا تھا۔
    پہنے رہتیں اچھی لگ رہی تھیں۔
    علی نے ٹوکا تو اس نے ترچھی نگاہ اس پر ڈالی۔ پھر مضبوط لہجے میں بولی
    انکو غلط فہمی ہوئی تھی شائد میں حجاب نہیں کرتی۔
    کرنا چاہیئے۔ ہر مسلمان لڑکی کو حجاب کرنا چاہیئے نا۔
    علی کا انداز سادہ سا تھا مگر اسے برا لگا۔جانے کیوں بھڑک کر بولی۔
    ہر مسلمان لڑکی کو جو کرنا چاہیئے وہ مسلمان لڑکوں کو خوب پتہ ہوتا ہے۔ حالانکہ قبر میں سوال ان سے لڑکیوں کے نہیں انکے اپنے بارے میں ہوں گے۔
    علئ نے بالکل برا نہیں مانا۔ بلکہ سبھائو سے اپنے اسی نرم سے انداز میں بولا
    میں اور مسلمان لڑکوں کے بارے میں تو نہیں جانتا مگر میں اسلام کے بارے میں جو اور جتنا ہو سکے جان لینا چاہتا ہوں۔ اور میری اطلاع کے مطابق پردہ عورت پر واجب ہے۔ تم ویسے تو اچھی مسلمان ہوں نجس پاک کا بھی پتہ ہے نماز بھی پڑھتی ہو سچ پوچھو تم جس طرح سور والی بات پر پریشان ہوئیں میرے لیئے کافی حیرت کی بات تھی میں متاثر ہوا تم سے۔
    مجھے نہیں لگتا تھا تم اتنی پکی مسلمان ہوگئ۔۔
    پکی مسلمان مطلب؟
    اس نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے اسے گھورا۔
    ہر مسلمان ہی جہاں تک ہوتا ہے اپنی بساط بھر اسلامی طریقے سے زندگی گزارتا ہے۔ میں ہمیشہ سے پنج وقتہ نمازی رہی ہوں روزے رکھتی ہوں کبھئ حرام نہیں کھایا ، وہ بولتے ہوئے اٹکی ( غلطئ سے کھایا ہے اگر کھایا بھی تو)
    وہ لحظہ بھر اٹکی تھی علی نے وہیں سے اسکی بات اچک لی۔
    ہاں یہی تو میرے لیئے حیرانگئ کی بات ہے۔ تمہیں دیکھ کر مجھے لگتا نہیں تھا کہ تم مسلمان ہوگی مگر تم تو پکی والی مسلمان ہو مجھے حیرت بھری خوشی ہے مگر مجھے حیرت یہ بھئ ہے جسے اسلامی عقائد کی اتنی معلومات ہے جو عملی مسلمان ہے وہ پردہ سے اتنا چڑتی ہے۔
    چڑنے کی کیا بات ہے۔ اریزہ کو غصہ آرہا تھا۔
    یہ کیا بات ہوئی الزام دھر دیا کہ پردے سے چڑتی ہوں۔
    میں کوئی چڑتی وڑتی نہیں ہوں مگر میں نہیں کرتی پردہ بس اس میں اور کوئی بات نہیں کہ مجھے پردے سے کوئی مسلئہ ہی ہے۔
    اسکا لہجہ تیز ہو گیا تھا۔علی کو اسکی ناگواری محسوس ہوگئ تھی
    معزرت اگر میری کوئی بات بری لگی ہو۔ تم چڑتی نہیں ہو تو اسکارف کیوں اتار دیا فورا؟
    وہ جانے کیوں بال کی کھال اتار رہا تھا۔
    کیونکہ میں پردہ نہیں کرتی بھئ۔
    وہ جھنجھلا گئ۔ انکی بحث میں راستہ جلدی کٹ گیا تھا۔ آخری گلی تھی چند قدم کی چڑھائی اور گوارا کے گھر کا گیٹ سامنے تھا انکے۔
    علی چلتے چلتے رک کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ہاں ٹھیک ہے تم پردہ نہیں کرتی۔ تم جب میرے ساتھ جا رہی تھیں تب تم نے اپر کا ہڈی سر پر جمالیا تھا شائد تمہیں سردی لگ رہی تھی لیکن واپسی پر جب انہوں نے ریشمی اسکارف باندھ دیا تمہارے سر پر تو اسے تم نے فورا اتار دیا جبکہ اگر چاہتیں تو اسے سر پر ٹکا رہنے دیتیں کیونکہ موسم ابھی بھی سرد ہے۔
    علئ کا انداز سادہ سا ہی تھا مگر وہ جو جتا رہا تھا وہ ایکدم سنآٹے میں آگئ۔ اس نے ایسا ہی کیا تھا۔ کانوں پر سرد ہوا ابھی بھی لگ رہی تھی مگر اس نے ہڈی بھی اوپر نہیں کیا تھا۔تو کیا علی صحیح کہہ رہا تھا۔ علی نے غور سے اسکی شکل دیکھی پھر گہری سانس لیکر بولا۔
    میں داڑھی نہ رکھوں تو بھئ مسلمان ہی رہوں گا نا؟ کیا ضرورئ ہے میں داڑھی رکھوں یہ سوال کیا تھا میں نے عالم دین سے۔ انہوں نے مجھے جانتی ہو کیا کہا تھا؟
    ہم کس طرح سے غیر مسلموں کے رنگ میں رنگتے جاتے ہیں ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ پہلے انکے جیسا حلیہ اپناتے ہیں سوچتے ہیں کیا ہوا جو داڑھی نہیں رکھی کوئی بات نہیں۔ داڑھی کے بناہم انکے ساتھ انکے جیسے لگنے لگتے ہیں۔ پھر جلد ہی انکی طرح سوچنے لگتے ہیں کیا ہوا جو آج نماز چھوٹ گئ ، کیا ہوا جو تھوڑی سئ پی لی کون سا مدہوش ہوگیا ہوں۔۔یہاں تک کےاپنی شناخت سے شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔۔۔
    وہ رکا۔ اسے اریزہ کا چہرہ دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ کس موڈ میں ہے۔ اسکا انداز لاشعوری طور پر ناصحانہ ہوگیا تھا سو بات کو یہیں ختم کرنے کی نیت سے بس اتنا مزید بولا۔
    کوئی ہمیں دیکھنے سے مسلمان نہ سمجھے تو ہم مسلمان کیسے ہوئے بھلا؟
    بہت شکریہ اس اسلامی لیکچر کا آپ یقینا اب سیدھا جنت میں جائیں گے
    وہ مسکرا کر کہتا ایک طرف ہوا تو اریزہ چبا چبا کر بولی۔ علئ کے چہرے پر حیرت اتر آئی وہ البتہ غصے کے مارے خاصی بد لحاظ ہورہی تھی۔ پیر پٹختی اسکے پاس سے تیز تیز قدم اٹھاتی بڑھ گئ۔ گھر سامنے ہی تھا وہ اسکے پیچھے آنے کا انتظار کیئے بنا دروازہ کھولتی اندر گھس گئ۔ ریستوران میں پارٹی جاری تھی اسے گوارا نے دیکھ کر پکارا وہ تن فن کرتی کمرے میں آئی اپر کی جیب سے اسکارف نکال کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا۔
    خود کلین شیوڈ ہیں مجھے بتا رہے کہ حجاب کرنا چاہیئے منافق۔۔ ہوںہہ۔
    اسکا غصہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔سو موبائل بیڈ پر اچھال کر باتھ روم میں گھس گئ۔
    موبائل پر کال آنے لگی تھی۔ہیون کالنگ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح گوارا نے آکر اسے ہلایا۔
    اف کتنا سوتئ ہو تم۔ ہم رات بھر مستی کرکے سوجو پی کر ٹن ہو کر بھی صبح وقت پر اٹھ گئے اور تم جب ہم آئے تھے تب سےگہری نیند سو رہی ہو۔ پھر بھئ اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تمہارا۔
    گوارا بولتی ہوئی اس کے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ۔
    کیا وقت ہو رہا ہے۔ وہ کسلمندی سے آنکھیں مسلتی اٹھ بیٹھی۔
    گیارہ بج رہے ہیں۔
    گوارا نے جتایا۔وہ خود بھی حیران رہ گئ۔
    ہیں؟ اتنی دیر سوتی رہی میں۔
    اسے حیرت ہو رہی تھی۔
    ہاں اور تمہارے ساتھ ناشتہ کرنے کے چکر میں میں ابھی تک بھوکی بیٹھی ہوں۔
    اس نے منہ بنایا۔
    بس میں دو منٹ میں آتئ ہوں فریش ہوکر۔
    وہ فورا وقت ضائع کیئے بنا اٹھ گئ۔
    تازہ دم ہو کر وہ باہر آئی تو گوارا اور ہوپ صحن میں بچھے تخت پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھیں۔
    میرا انتظار نہیں کیا۔ اس نے برا مانا۔
    تم نے کونسا وہ کچھ کھانا تھا جو ہم کھا رہی ہیں۔ ہوپ نے جتایا۔ اسکے لائے ہوئے بریڈ جیم مکھن بھی میز پر ایک جانب سجے تھے۔
    بات تو صحیح تھی۔ بھوک زوروں پر تھی سو وہ بنا مزید نخرے کیئے انکے برابر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    یہ رولڈ آملیٹ کھا لو اس میں صرف سبزیاں ہیں۔
    گوارا نے آملیٹ اسکی جانب بڑھایا۔ وہ توس پر مکھن لگا کر نگل رہی تھئ جب گوارا نے آملیٹ اسکی جانب بڑھایا۔
    گوما وویو۔ وہ شکر گزار ہوئی۔
    ہم آج پھر مندر جا رہے ہیں ۔ ہوپ کو ان پجاری بابا سے کچھ پوچھنا ہے۔تم بھی چلوگی نا؟
    گوارا نے اگلا پروگرام بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔ ان دونوں کے بغیر اس نے اکیلے یہاں رہ کر کرنا بھی کیا تھا۔ ناشتہ ختم کرکے گوارا نے جلدی جلدی کا شور مچا دیا تھا۔
    گلابئ پھولدار لانگ ڈریس پہن کر گوارا کی نظر زمین پر پڑے اسکارف پر پڑی تو فورا پوچھنے لگی
    یہ کس کا ہے یہ میرے لباس کے ساتھ جچ رہا ہے۔

    اریزہ کا ہی ہوگا۔ ہوپ کا اندازہ تھا۔ اس نے اریزہ کی جانب دیکھا اس نے کندھے اچکا دیے
    لے لو۔
    وہ خود جینز اور لانگ کوٹ پہن کر تیار کھڑی تھی۔ گوارا نے بے حد شوق سے اسکارف گلے میں بو بنا کر ڈالا۔
    کیسی لگ رہی ہوں۔؟ وہ پوچھ رہی تھی۔ داد طلب نظروں سے دیکھتی۔ ہوپ اور اریزہ دونوں نےہاتھوں دل بنا کر سراہا۔ وہ کھلکھلا دی۔
    اسکارف اس کی گوری رنگت پر واقعی کھل رہا تھا۔
    چلو چلیں۔
    ہوپ نے حسب عادت جلدی جلدی کرکےان کو گاڑی تک پہنچا دیا تھا۔
    آج موسم ابر آلود تھا۔ دھوپ نکلتی تو بس پانچ سات منٹ کیلئے پھر بادل آجاتے۔ مندر تک پہنچتے بادل برسنے لگے تھے۔
    وہ تینوں بھاگ کر مندر کے اندر داخل ہو گئیں۔
    واپسی تک بارش رک بھی جائے گی فکر نہ کرو۔
    اریزہ کو برستی بارش رک کردیکھتے دیکھ کر ہوپ نے تسلی دی تھی۔ وہ سر ہلا کر انکے ہمراہ اندر چلی آئی۔ وہی والے پجاری جی ایک کونے میں آسن باندھے بیٹھے جاپ کررہے تھے ابھئ انکی کوئی مذہبی رسومات باقی تھیں وہ ایک طرف کونے میں بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظا رکرنے لگیں۔
    آج وہ تینوں ہی خوب ذہنی طور پر تیار ہو کر آئی تھیں۔ ہوپ کو نئی امید چاہیئے تھی گوارا کو شغل لگانا تھا جبکہ اریزہ آج دل میں ٹھان کر آئی تھی کہ جان کر ہی رہے گی آخر اس دن ان کی مبہم باتوں کا مطلب تھا کیا۔
    اسے لگا تھا اسکی بات سن کر جواب دے رہے ہیں مگر کیسے۔ وہ دل کا حال جان گئے تھے کیا؟ جب گوارا پوچھ رہی تھی اسکے متعلق تب اس نے دل میں سوچا تھا ان سب باتوں کو جاننے کا کیا فائدہ ہیون کا پوچھنا چاہیئے سچ کہہ رہا کہ مجھ سے محبت کرتا یا فلرٹ کر رہا ہے۔ اور انہوں نے آگے سے کچھ اور ہی کہہ ڈالا تھا۔ آج وہ پوچھے گی صاف صاف۔ انکو آج بتانا ہی پڑے گا۔۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ختم شد۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Main nay khuda say kaha

    میں نے خدا سے کہا

    سب کے اصل چہرے مجھے دکھا دے۔اس نے دکھا دیئے۔۔

    اب مجھے سب سے نفرت ہوگئ ہے۔۔۔

    پھر میں نے آئینہ بھی دیکھ لیا۔۔

    اب مجھے سب سے کوئی گلہ نہیں رہا۔۔

    مگر میری نفرت کم نہیں ہوئی ہے۔۔

    جب آئینہ دیکھتا ہوں۔۔

    یہ نفرت بڑھتی ہے۔۔

    کیونکہ میں ایسا نہیں تھا جیسا ہوگیا ہوں۔۔

    اور جو میں اب ہوگیا ہوں۔۔

    سب نے بنایاہے ایسا مجھے۔۔

  • Dhay gai short urdu afsana

    بچپن میں بہت سنا اپنے بڑوں سے اسکو اتنے سالوں بعد دیکھامیری خالہ یہ جملہ بہت کہتی تھیں۔ وہ تو ڈھے گیا، یا وہ ڈھے گئ ہے۔ سمجھ نہیں آتا تھا مجھے ڈھے جانا کیا ہوتا ہے۔ دیواریں ڈھے جاتی ہیں جب کمزور ہو جائیں طوفان ٹکرائے زلزلہ آئے کوئی عمارت ڈھے گئ انسان کیسے ڈھے جاتا یے؟ انسان کے اندر کونسے زلزلے آتے ہیں، کونسی دیواریں ہوتی ہیں اس میں جو کمزور ہو جاتی ہیں انسان کیسے ڈھے جاتا ہے۔ بہت حیرت ہوتی تھی۔ خالہ سمجھاتی تھیں۔ حالات انسان کو اسکے حالات اسکی عمر وقت سے پہلے توڑ دیتے ہیں انسان کمزور ہوتا جاتا ہے انکے زیر اثر اپنے ہم عمروں سے جن کو اتنی نا موافق حالات کا سامنا نہ ہو جنہیں اتنی ذہنی پریشانیاں نہ ہوں ان کی نسبت جلد بوڑھا ہو جاتا ہے تھکن چہرے کے خدو خال میں پنجے گاڑ لیتی ہے۔ انسان ہنستا بھی ہے تو آنکھیں ساتھ نہیں دیتیں۔تب کہا جاتا ہے یہ تو ڈھے سا گیا ہے۔ اتنی عمر نہیں حالانکہ ابھی اسکی۔۔۔۔۔ میں سنتی سمجھ کم ہی آتی۔ یہ کیسے لوگوں کا ذکر ہے ۔ مجھے تو نظر نہیں آتے چہروں پر سجے حالات کے تھپیڑے۔مگر ہوا کیا۔۔ مجھے بھی ایک ایسا چہرہ نظر آگیا۔

    میں چند لمحے گھورتی رہی حیران بھی ہوئی کہ آخر کیا ہوا؟

    میرے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا ارے تمہیں کیا ہوا تم تو ڈھے گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں نے کہا تھاآئینہ دیکھتے ہوئے

    ۔۔۔ ۔۔۔ از قلم ہجوم تنہائی

    Kesi lagi apko yeh tehreer? Rate us below

    Rating
  • Phurteeli Heroin Urdu Novel Episode 8 finale

    رومانٹک ناول پھرتیلی ہیروئن
    اچھا تو آپ ہیں لیلٰی ۔۔ جن کی کوئی تعریف نہیں کرتا ۔۔۔ ؟ (کیونکہ سب صرف جہنمیلا کی تعریف کرتے ہیں ) ہُدہدائی نے گرم چائے کی ٹھنڈی چُسکی لیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
    ہاہاہاہا۔اُف کتنے مذاقی ہیں آپ !! جی ہاں میں ہی ہوں لیلیٰ ۔۔ لیلیٰ نے اِٹھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
    جی ۔۔مگروہ تو میں ہوں مگر “آپ “سے کم ۔۔
    ہاہاہاہاہا ۔۔۔
    دونوں کے مُشترکہ قہقہے کو سُن کے جہنمیلا کچن سے دوڑی دوڑی باہر آئی اور جس رفتار سے آئی اسُی رفتار سے واپس دوڑ گئی کیونکہ اسے رات کے کھانے کی تیاری جو کرنی تھی ۔۔۔
    رات کے کھانے کے بعد چھوٹے سے گاؤں کی لمبی سی سڑک پہ ، سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے اندھیرے میں مُسکراتا ہدہدائی اور شرماتی لیلیٰ ایک مُکمل جوڑی لگ رہے تھے ۔۔ ہدہدائی نٹ کھٹ سی لیلٰی کو دیکھ جہنمیلا کو جیسے بھول ہی گیا ۔۔۔ تُم اتنے بڑے ٹھرکی نکلو گے ہُدہدائی ؟ مجھے پتا ہوتا تو زمین سے ہاتھ نکال مریخ پہ تمہاری پکڑ کے مروڑ دیتی ، اور تمہاری لاش کو مریخ سے دھکا دیکر بحیرہ عرب کی گہرائیوں میں مُنہ کھولے بیٹھی یہودی مچھلیوں کی خوراک بنادیتی ۔۔۔ لیکن میں تمہیں ایسے نہیں جانے دے سکتی تم میری اندھیری راتوں میں ٹرین کے آگے منہ میں لالٹین دبائے دوڑتے کُتے کی طرح ہو جس نے میری پٹڑیوں کو روشن کر رکھا ہے ، تم میرے گلستاں کے وہ امرود ہو جسے کیڑا لگ گیا اور میرے اندھے اعتبار نے مجھے اس کیڑے کی خبر بھی اس وقت دی جب کسی نے امرود کیڑے سمیت تقریباً آدھا کھالیا ہے جہنمیلا نے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
    میری ایک شرط ہے جہنمیلا نے بیچ سڑک پہ دونوں کو روک کے غیض وغضب سے بھرپورلہجے میں کہا ، اس غصے میں اسکے بندر کی تشریف سے لال گال مزید لال ہوکے سرخ گلابوں کو شرمانے لگے تھے آنکھوں سے نکلتے شراروں کو جمع کرکے گاؤں کے الہڑ نوجوان اس پہ تکّے سینکنے لگے تھےاور مُنہ سے اڑتے کف کو بچے جھولیوں میں جمع کرنے لگے تاکہ گھروں کو جاکے اس کف کو اپنی ماؤں کو دیں اور اس کف سے کپڑوں میں کلف لگا سکیں ۔۔
    میری جہنمیلا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے میں تو بس لیلیٰ کو ٹہلانے نکلا تھا تمہارے مزیدار کھانوں کو بھرپور تناول کرنے کے بعد محترمہ کو کھٹی ڈکاریں آرہی تھیں میں نے سوچا ایسے انکا کھانا بھی ہضم ہوجائیگا اور میں تمہارے اس دو لاکھ کلومیٹر کے رقبے پہ بنے چھوٹے سے گاؤں کی سیر بھی کرلونگا
    ۔۔ اچھا ۔۔ تو یہ بات ہے جہنمیلا نے فٹافٹ پگڈنڈی کے کنارے اُگی جڑی بوٹیاں توڑیں اور دونوں ہتھیلیوں کے بیچ رگڑ کے چُورن تیار کرکے لیلیٰ کو چٹایا( وہ کسی کو تکلیف میں جو نہیں دیکھ سکتی تھی)
    ٹھیک ہی ہدہدائی ۔۔ مجھے یقین ہے تم پہ لیکن تمہیں میری ایک پہیلی کا جواب دینا ہوگا اگر تم نے جواب نہیں دیا تو تمہارے شادی کارڈ پہ دلہن کی جگہ میرا نام ہوگا اور اگر جواب دیدیا تو میرے شادی کارڈ پہ دولہے کی جگہ تمہارا نام ہوگا ۔۔۔ بولو منظور ہے ؟
    ارے مُشتری ۔۔۔ شادی کے بارے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ چھمو خالہ نے موقع دیکھ اپنی بہن سے بات شروع کی
    اوئی چھمو ۔۔۔ باؤلی ہوئی ہو کیا ، رو پیٹ کے تو بیوہ ہوئی ہوں اللّہ رکھے میرے ٹونی کو ایسی جگہ کاٹا تھا تمہارے بہنوئی کے جانبر نا ہوسکے ہاں لیکن پتا نہیں کیوں پھر “ٹونی “کے چودہ انجیکشن لگوانے پڑے تھے ۔۔۔ ویسے میں کیوں اب اس عمرمیں شادی کرنے لگی؟
    اے میری بھینسوں سے بھی موٹی عقل کی بہن ۔۔۔ میں تمہاری نہیں ہُدہدائی کی شادی کی بات کررہی ہوں ۔۔۔
    اچھااااااا،۔۔۔۔ میں سمجھی تم میری شادی کا پوچھ رہی ہو ، ہدہدائی کی شادی کا تو مجھے بڑا ارمان ہے مگر کوئی “میرے “جوڑ کی ملے بھی تو ۔۔۔!!!
    آپا ۔۔۔ جوڑ تو لڑکے لڑکی کا دیکھتے ہیں
    نا بہن نا ۔۔۔۔لڑکا لڑکی تو ایک بند کمرے اور ایک چارپائی کے سہارے بھی زندگی گذارسکتے ہیں سارا رولا تو ساس بہو کا ہے مجھے تو اپنے لئے کم سِن بالی عمر کی ،کم کھانے والی ، اونچا سُننے والی ،دھیما دھیما بولنے والی، دھیمے دھیمے چلنے والی اور نزاکت تو ایسی ہو کے مانو پھونک سے اُڑ جائے جیسی خصوصیات والی بہو چاہئیے ۔۔۔۔
    مُشتری آپا ، پھر تو تُم بہو کی تلاش کسی اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں کرو۔۔ ایسی مریضہ تمہیں کسی بستر پہ وینٹیلیٹر کے انتظار میں پڑی مل ہی جائیگی۔۔ چھمو خالہ جل کے بولیں ۔۔۔
    ہاں اگر تمہیں ایک سولہ سالہ الہڑ دوشیزہ جو ، ڈاکٹر ، نائی، درزی ، انجنیئر ، باورچی، ہونے کے ساتھ ساتھ بہت پُھرتیلی ، بہادر ، ہمدرد ، معصوم ، شُوخ چنچل سیدھی اور بھولی بہو چاہئیے تو میری “ جہنمیلا “ حاضر ہے ۔۔ جانتی ہو آپا وہ بیج بو کے فصل تیار کرکے اکیلے ہی کاٹنے سے لیکر اور ٹرکوں پہ لوڈ کروا کے منڈی بھجوانے تک سارے کام خود کرتی ہے ۔۔۔ اپنی بھینسوں کے پڑوسیوں کی بھینسوں سے افئیر چلواکر انکی سیٹنگ کرانے سے لیکر بھینسوں کے بچوں کی ڈیلیوری تک کے کام خود انجام دے لیتی ہے ، یہ گھر ، بہن بھائی ، محلہ ، پڑوسی اور گاؤں اُس نے تن تنہا ہی سنبھالا ہوا ہے
    ایک دن تو اس نے پڑوس والی خالہ کی بہو کا ایمرجنسی آپریشن بھی کردیا تھا وہ تو بیچاری بعد میں “بھوک” لگنے سے مَر گئی تھی۔۔۔ میری جہنمیلا تو جس گھر جائیگی اپنے اخلاق اور معصومیت سے گھر کو جنت بنا دیگی ۔۔۔۔ چھمو خالہ نے ایک ہی سانس میں جہنمیلا کو کھول کے رکھ دیا اور مُشتری خالہ دانتوں مین انگلیاں دبائے سب سُنتی رہیں ۔۔ اسکے حسن سے وہ پہلے ہی مرعوب تھیں ۔۔
    ٹھیک ہے چھمو ۔۔۔ اسقدر سگھڑ بہو کے ساتھ میرا گُذارا تو مشکل ہے کیونکہ مجھے تو صبح دیر سے اٹھنے والی ، رات دیر تک جاگنے والی، اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتے ہوئے شُڑپ شڑپ کی آواز نکال کے چائے پینے والی، سارا دن بازار میں پھرنے اور واپسی پہ پیزااور سوفٹ ڈرنک لیکر گھر آنے والی یعنی
    “ اپنے جیسی” بہوویں پسند ہیں ۔۔۔ لیکن تم کہتی ہو تو میں ہدہدائی سے بات کرونگی۔۔۔
    مُشتری خالہ کا جواب سُن کے چھیمو خالہ مطمئن ہوکر اٹھلاتی ہوئی اپنے میاں جُمن میاں کے کمرے کی طرف چل دیں آخر کو جہنمیلا کو شادی کی خوشی میں ایک عدد کُھر چن یعنی “ بہن یا بھائی “ نامی تحفہ بھی تو گفٹ کرنا تھا کیا سُہانا سما ہوگا جب جُمن جہنمیلا کی شادی میں جہنمیلا کے شیر خوار بھائی کو گود میں اٹھائے غبارے والے کو ڈھونڈتے پھرینگے ۔۔۔
    چھیمو خالہ تو سوچ کے ہی شرما گئیں اور “موقع” دیکھتے ہی جمن چچا کے ساتھ شادی کی تیاریوں میں “مصروف “ہوگئیں 😂😂😂۔۔۔۔
    Written by : Jiya Ali

    kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating
  • Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey in Phurteeli Heroin Episode 7

    پھرتیلی ہیروئن سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
    تحریر : جیا علی
    یہ لیں تولیہ اور صابن ،اور فریش ہوجائیں اتنی دُور مریخ سے پیدل آئے ہیں پھر کالے پُل سے مشتری خالہ کو کلیکٹ کیا ہے تھک گئے ہونگے جتنی دیر آپ نہائیں ،میں گڑھا” کھود “کے تندُور تیار کرتی ہوں اور اس میں گرم گرم تندوری نان لگا کے دسترخوان لگاتی ہوں ۔۔۔ جہنمیلا نے ایک ادائے دلرُبائی سے ہُدہدائی سکندر کو حکم جاری کیا اور وہ جہنمیلا کو تصور میں بسائے نہانے گھس گیا،جہاں جہنمیلا نے اسکے لئے پہلے سے ہی جے ڈاٹ کا سُوٹ خود سلائی کرکےمولانا طارق جمیل کا “برانڈڈ ناڑا” ڈال کے تیار رکھا ہوا تھا ہُدہدائی رگڑ رگڑ نہا کے اندر سے نیا نکور نکل آیا تھا نِک سِک سا تیار جب کھانے کی چٹائی پہ پنہچا تو اتنے ڈھیر لوازمات دیکھ حیران ہی تو رہ گیا گرم گرم تندور سے نکلے ٹھنڈے ٹھنڈے نان اور سوکھے دودھ کے گیلے حلوے کو دیکھ کے اسکی آنکھیں جہنمیلا کی اٹُوٹ محبت کے زیرِ اثر نَم ہوگئیں ۔۔۔۔
    ارے جہنمیلا ۔۔۔ یہ کیا؟ تُم نے اناج ، مٹن اور فشری کا تو کوئی آئٹم رکھا ہی نہیں میری لیلیٰ تو جب تک گائے ، بکرا ، دُنبہ ، مُرغی ، مچھلی سبزی دالیں، نا بنالے اسے تو دعوت مکُمل ہی نہیں لگتی ۔۔۔
    جہنمیلا سن کے مسکرائی اور پلنگ کے نیچے ہاتھ ڈال کے تلی ہوئے مچھلی، بُھنی ہوئی بکرے کی ران اور ماش کی دال کے دہی بڑے نکال کے سامنے رکھ دیتی ہے ( یہ بھی اس نے رات میں ہی تیار کرکے چُھپا دئیے تھے) جہنمیلا کی پُھرتیاں اور سلیقہ دیکھ لیلیٰ کی ماں کا رنگ پہلے سُرخ ، پھر لال اور پھر اُودا ہوجاتا ہے جبکہ مُشتری خالہ جہنمیلا کے حُسن کے زیرِ اثر سُن اور ہُدہدائی سکندر بھوکوں کی طرح کھانے پہ ٹوٹ پڑے جبکہ جہنمیلا اپنے بہن بھائیوں اور ماں باپ کو پلیٹیں سجا کر دینے کے بعد خود ایک پلیٹ میں دس دانے چاول اور ایک کھیرے کا ٹکڑا لیکر کترنے لگتی ہے وہ( ڈائٹ کونشس ) بھی تھی ۔۔۔
    بھئی واہ کیا مزیدار کھانا ہے ۔۔۔ جہنمیلا دل تو چاہتا ہے تمہارے ہاتھ چُوم لوں ہدہدائی نے نظروں سے پیغام بھیجتا ہے اور جہنمیلا بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنا ہاتھ ہدہدائی کے لبوں پہ رکھ دیتی ہے ۔۔۔ نا کریں یہ بیغیرتیاں میرے آدھے سَرکے تاج ابھی آپ میرے پورے سرتاج نہیں بنے ، ، ابھی ہم نا محرم ہیں ۔۔ اور ہدہدائی اسکی اس ادائے دلرُبائی پہ مزید فریفتنہ ہوجاتا ہے اتنے میں دروازے پہ لگا بلب روشن ہوا اور جہنمیلا کا بھائی دروازے پہ جاکے چوچوچوچوچو کرکے اطلاعی گھنٹی بجانے لگا۔۔۔
    ٹہریں جُمن چچا ۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کون ہے ۔۔ ہدہدائی کھانا چھوڑ دروازے کھولنے بڑھا۔۔
    دروازے کے اُس پار لیلیٰ اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور ہاتھوں میں اسکے اپنے ہاتھوں سے “خریدے” خانزادہ باورچی کے ہاتھوں تیار کردہ لوازمات کا تھال لئے، ہدہدائی پہ بجلیاں گرانے کے لئے تیار کھڑی تھی ، اگلے ہی لمحے دروازہ کھلتا ہے اور لیلٰی ہدہدائی کے اونچے لمبے قد ، سلکی گھنگریالے سلیقے سے بنے بال، لمبی دراز پلکیں ،باہر کو ابلتی بڑی بڑی آنکھیں ، مسکراتے لبوں کے بیچ سےڈنٹونک سے رگڑےصاف چمکدار دانت ، چوڑی چھاتی پہ سجتتا جے ڈاٹ کا سوٹ اور قمیض کے نیچے” لٹکتے ایم ٹی جے کے برانڈڈ ناڑے “کو دیکھ کر تقریباًبے ہوش ہونے والی ہی ہوتی ہے کہ ہدہدائی نے لیلیٰ کو اپنی بانہوں میں اور تھال کو ہاتھوں میں تھام لیا اور پیچھے کھڑی جہنمیلا کے اندر چھن سے کُچھ ٹوٹ گیا۔۔۔
    اری جہنمیلا ۔۔ یہ تمہارے چلنے سے کھڑ کھڑ کی آوازیں کیوں آرہی ہیں ؟
    کیونکہ ٹوٹے ہوئے شخص کی یہی نشانی ہوتی ہے اماں ، جب وہ چلتا ہے تو کھڑ کھڑ کی آوازیں آنے لگتی ہیں ۔۔۔اس نے روتے ہوئے ، ماں کے گلے لگ کے ساون بھادوں ہی تو بہادئیے ۔۔۔ اماں ، میں خیالوں میں بھی ہُدہدائی کو کسی کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی ۔۔
    اماں ۔۔جانتی ہوں میری بچی ۔۔ شروع شروع میں یہی جذبات ہوتے ہیں کوئی محبوب کی طرف دیکھے بھی تو لگتا ہے جیسے کوئی بھوکی بلی کے مُنہ سے چِھیچڑا چھین رہا ہے ، میرے دل میں بھی تمہارے باپ کے لئے شادی سے پہلے یہی جذبات تھےلیکن اب دل چاہتا ہے کہ ٹین ڈبے والے کے دیکر تمہارے باپ کے بدلے “دو نئے پتیلے “لے لوں ، تو بھی وقت گُذرنے کے ساتھ سیٹ ہوجائیگی میری بچی ۔۔ فکر نا کر میں مُشتری سے تم دونوں کی شادی کی بات کرتی ہوں۔۔
    جہنمیلا خیالوں ہی خیالوں میں اپنے شہزادے کو ناراضگی سر پُر پیغام روانہ کرتی ہے “میرے ہرجائی ہُدہُدائی “ کاش میں وہ فلمی سین دیکھنے سے پہلے ایسے ہی مرجاتی جیسے تمہارے ابا تمہاری اماں کے پالتو کُتے کے کاٹنے سے مرے تھے تم کیا جانو اس دل پہ کیسی چُھریاں چلیں جب تُم لیلیٰ کو گرنے سے بچانے کے لئے آم کے اچار میں ڈلے کیری سے چپکے لسوڑے کے طرح لیلیٰ سے چپک گئے تھے ، کاش میں یہ منظر دیکھنے سے پہلے اپنی آنکھوں میں وہ ایلفی ڈال لیتی جو میں نے کوفتوں کو جوڑنے کے لئے کوفتوں میں ڈالی تھی ۔۔۔کاش ۔۔۔۔

    تحریر جیا علی ۔۔

    Kesi Lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating