Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 39

Salam korea by

vaiza zaidi

قسط 39

وعلیکم السلام ، میں ٹھیک آپ یہاں کیسے۔؟ 

تھوڑا اٹک کر سہی اس نے ہنگل میں پوچھا تھا۔ علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔ 

ہاں ظاہر ہے۔ اریزہ کھسیائی۔ احمقانہ سوال تھا۔ 

اس نے فون بند کردیا تھا۔

کھانا کھاچکی ہو؟

وہ اپنے لیئے کھانا لیکر آیا تھا اخلاقا پوچھا۔ وہ سوچ میں پڑگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریستوران کے اوپر بنے کمروں میں سے ایک میں وہ رہ رہا تھا۔ راستہ ریستوران کے ایک کونے سے اوپر کو جاتا تھا۔ اس نے چابی سے تالہ کھولا اور لائٹ جلا دی۔ ریستوران اس وقت خالئ پڑا ہوا تھا۔ سب سے پہلی قریبی میز پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ خود اندر سے پلیٹیں چمچ لیکر آیا تھا۔

اسے کورین بلیک بین نوڈلز کہتے ہیں۔ یہ عموما حلال نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساس میں بھنا ہوا سور شامل ہوتا ہے لیکن میں یہاں قریبئ ڈھابے میں جا کر خود اپنے لیے بنا کر لایا ہوں۔ 

وہ بات برائے بات بتا رہا تھا۔

اس نے سر ہلا دیا۔ اچھی خاصی مقدار میں کھانا تھا۔اس نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں نکال لیا۔

کبھئ لال لوبیے کا سالن نوڈلز کے ساتھ نہیں کھایا تھا ہاں چاول کے ساتھ اکثر امی بناتی تھیں خاصا مزے کا بناتئ تھیں۔

وہ بہت مہارت سے چاپ اسٹکس کا استعمال کر رہا تھا۔ وہ کانٹے میں نوڈلز پروتی تو لوبیا بھاگ جاتا۔

اسکی جد و جہد کو دیکھتے علی کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی تھی۔ جسے وہ خوبی سے چھپا گیا۔

میں نہیں کھا سکتی۔ اس نے پلیٹ پرے کردی۔

مجھے خود سے گھن آرہی ہے۔

اسکی شکل پر حقیقتا بے چارگئ تھئ۔

تم اتنا محسوس کیوں کر رہی ہو؟ تم نے جان بوجھ کر تو نہیں کھایا۔ غلطی ہو جاتی ہے۔اسی وقت  الٹی کرلیتیں۔ اتنا وہم ہو رہا تھا تو

علی نے سبھائو سے کہا تو وہ شرمندہ لہجے میں بولی

مجھے خیال نہیں آیا۔ میں نے خود کو یہی سمجھایا غلطی ہوگئ بھوک میں تو مردار بھی حلال ہوجاتا مگر مجھے الٹی کر لینی چاہیئے تھی۔ وہ مایوس نظر آرہی تھی۔ پھر خیال آیا تو جوش سے بولی

اب کرلوں؟

کھانا کھائے کتنا وقت ہوگیا؟

علی سنجیدگئ سے پوچھ رہا تھا۔

دو تین گھنٹے ہوگئے۔

اس نے اندازا سامنے وال کلاک کو دیکھتے بتایا اس وقت رات کے سوا بارہ ہو رہے تھے۔

اسکے چہرے کو دیکھتےعلی کو شرارت سوجھئ۔ چاپ اسٹکس رکھ کر تاسف سے سر ہلاتے بولا۔ 

کھانا تین گھنٹے میں ہضم ہو جاتا ہے۔ اب تو سور کے اجزاء تمہارے خون تک جا چکے ہوں گے۔ ہر آرگن تک توانائی پہنچ چکی ہوگی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

اریزہ کا رنگ واضح طور پر اڑا تھا۔ آنکھوں میں پانی در آیا۔

ہیں ۔۔ یعنئ سور میرے خون میں بھی سرائیت کرچکا ہوگا اب تک؟مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ۔ 

اس نے میز پر کہنیاں ٹکا کر ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا شائد رونے ہی والی تھئ۔  علی بھونچکا سا اسکو دیکھتا رہ گیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے اسکے گرد کا منظر بدلتا گیا۔ گائوں کے عام سے فرنیچر والے معمولی ریستوران کی جگہ سیول کے ایک لگژری ہوٹل نے لے تھی۔ اسکے مقابل اب  اریزہ کی جگہ رچل نے لے لی تھی دھیمے بجتے پیانو خوابناک ماحول  رچل کا پسندیدہ پاستا اور اسٹیک سامنے سجا تھا جب اس نے ہلکا سا گلا کھنکارا تھا اور اسے کہا تھا۔ 

رچل ہمارے ساتھ کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں میں اب یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں مزید اب اس طرح تمہارے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا۔ معزرت رچل۔

رچل کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ پر جا گرا تھا۔ اسکی چندی آدھے چاند جیسی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی تھی۔ 

علی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ 

اتنا عرصہ میرا خیال ہے کافی تھا ہم دونوں کیلئے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن کے رہنے کے لیئے ہمیں اب اس رشتے کو سلیقے سے ختم کردینا چاہیئے۔ اور۔

اور۔ رچل کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔ اسکے چہرے پر زلزلے سی کیفیت تھی۔ 

علی اٹھ کر اسکے مقابل آگیا تھا۔ 

رچل کے چہرے سے جیسے کسی نے سب توانائیاں نچوڑ لی تھیں۔ 

علی کے چہرے کی سنجیدگی اسے معاملے کی سنگینئ محسوس کرا رہی تھی۔ 

علی اسکے قریب آکر گھٹنے کے بل جھکا تھا 

اور ہمیں اب ایک مستحکم رشتے کی بنیاد رکھنی چاہیئے۔ مجھ سے شادی کروگی رچل؟

جیب سے انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے اس نے ڈرامائی انداز سے کہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں اب شرارت مچل رہی تھی لبوں پر مسکان دبی تھی۔

رچل اتنی حیران ہوئی تھی کہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ 

رچل۔

اسے پکارنا پڑا۔

رچل کو جیسے ہوش آیا۔ کتنے سارے آنسو اسکے چہرے پر پھیلتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بلک اٹھئ تھی۔ 

علی کو لگا تھا ذیادہ سے زیادہ غصہ ہوگی اس شرارت پر مگر اسکا ردعمل اتنا شدید تھا وہ گھبرا کے اٹھ کھڑا ہوا

رچل ۔ 

اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے مخاطب کر رہا تھا مگر وہ یونہی دھواں دھار روتی رہی 

اسکا سرپرائز اسکے گلے پڑ گیا تھا ریستوران میں موجود سب لوگ اسکو دیکھ رہے تھے وہ کھسیانا سا ہو کر سب سے اشارے میں جھک کے معزرت کرنے لگا۔

روتے روتے اس نے خود ہی اپنی آنکھیں پونچھیں۔ پھر ذرا سا نگاہ اٹھا کے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ پہلے سور کھاتے تھے؟

اس نے ہنگل میں سوال کیا تھا۔ علی کیلئے اسکا سوال غیر متوقع تھا۔وہ چونک کے حال میں واپس آیا تھا۔ اریزہ سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے وہ تاسف بھرے تاثرات چہرے پر سجائے یقینا اپنا دھیان بٹانے کو پوچھ رہی تھی۔

ہاں۔ اس نے مختصرا جواب دیاحسب توقع اگلا سوال اسی سے پیوستہ تھا۔

آپکو سور کا گوشت پسند تھا؟ وہ غور سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔

ہاں۔۔  اس نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اس سوال کا مقصد سمجھ نہ آیا ہو

آپکا دل نہیں کرتا اسے دوبارہ کھانے کا؟

اس کے سوال پر اسے ہنسی آگئ تھئ۔ مگر اسکی سنجیدگی دیکھ کر وہ باقائدہ چاپ اسٹکس رکھ کر نپا تلا جواب دینے لگا

اچھا سوال ہے۔ مگر میں بہت سے ایسے کام جو پہلے کرتا تھا اب نہیں کرتا انسان ہوں دھیان جاتا ہے مگر مجھے خود پر قابو رکھنا ہے ۔جب اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا تو سب سے ذیادہ جس چیز نے متاثر کیا تھا مجھے وہ یہی تھی کہ اسلام آپکو ہر چیز میں ایک حد مقرر کرکے دیتا ہے۔ جس سے باہر نہیں نکلنا۔ خود پر قابو رکھنا ہے اور یقین کرو ان حدوں سے باہر بالکل بھی لطف نہیں بلکہ آپ جب یہ سوچتے ہیں کہ آپکو کبھی کسی معاملے پر رکنا نہیں ہے وہاں سے آپ ہر حد پار کرکے بھی غیر مطمئن ہی رہتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں

pleasure seekers always seek pleasure contentment is not for them۔

اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا۔ اسکی باتیں دل چھو سی گئی تھیں۔

 آپکو روکنا پڑتا ہے خود کو آپکو رکنا ہی پڑتا ہے۔ 

وہ بےخیالی میں بڑبڑا اٹھئ

وہ اس ایک خیال پر شرمندہ ہو رہی تھی جب یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی وہ متذبذب سی اپنا پیٹ بھر لینا چاہتی تھی کہ کیا ہوا سور ہے بھوک بھی تو بہت ہے۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان رکارڈ کروایا تھا۔ فوری طور پر سیموئیل صاحب کو اطلاع دی گئ تھی اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر موجود تھے پولیس اسٹیشن میں۔ 

کہاں ہے میری بیٹئ۔ 

پولیس افسر سے انہوں نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔ 

سنتھیا کو انہوں نے کمرے میں بٹھا رکھا تھا ایک پولیس افسر اس سے ہر طرح کا بیان لے چکا تھا اب یقینا اسے باپ سے ملنے کی اجازت تھی۔ 

پولیس افسر نے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ حواس باختہ سے سنتھیا کی جانب بڑھے

سنتھیا؟ تم ٹھیک ہو؟ کہاں تھیں بیٹا۔ 

اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر وہ بے حد فکر مند سے پوچھ رہے تھے۔ 

پاپا۔ وہ انکا ہاتھ چومتے وہ بلک اٹھی تھی۔ انکے سینے سے لگ کر اس نے سب آنسو بہا ڈالے تھے۔

چٹاخ۔۔ 

اتنئ زور کا تھپڑ تھا کہ اسکا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے میں حقیقت کی دنیا میں واپس لا پٹخی گئ تھئ۔

ایک کے بعد دوسرا۔ وہ پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہ تھی۔ اسکے برابر ہی بیٹھے کم سن نے اسکو فورا سنبھالا تھا۔ دوسرا تھپڑ بھی پہلے کے ساتھ تھا 

تیسرا اس نے ایکدم خود آگے آکر اسے بچاتے خود اپنے کندھے پر کھایا تھا۔ چوتھا پانچواں۔ پولیس افسر نے سیموئل صاحب کو زبردستی پکڑ کر پیچھے کیا تھا۔ وہ چلا رہے تھے اپنی زبان میں۔ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کم سن اور وہ پولیس افسر انکی زبان سے بے بہرہ تھے مگر سنتھیا کے دل میں انکا لفظ لفظ ترازو ہو رہا تھا۔ وہ اتنی ششدر تھئ کہ گال پر ہاتھ تک نہ رکھ سکی بس حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جس نے کبھی بچپن میں کبھی ہاتھ اٹھانا تو دور جھڑکا تک نہ تھا۔

ٹوں ں ۔۔

اسکا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا

پہلے کیا کیا کہا اسے اسکا ذہن یاد کرنےسے قاصر تھا۔۔ وہ ابھی بھئ چپ نہ ہوئے تھے 

اپنی مرضی سے روپوش تھئ یہ کہا ہے تم نے پولیس کو؟ ایڈون کا کوئی قصور نہیں؟ پھر کس کا قصو رہے ہمارا تمہارے ماں باپ کا جنہوں نے تم جیسی اولاد پیدا کی؟

وہ چیختے چیختے بے حال ہو رہے تھے۔ 

پہلے کم ہماری ناک کٹوائی تھی تم نے؟  اس بد ذات ایڈون کو کیا کہوں میں جب میری بیٹی ہی ایسی ہے۔ 

وہ سر پر ہاتھ رکھ کر روپڑے تھے۔ پولیس افسر نے انہیں سہارا دے کر کرسی پر بٹھا دیا تھا۔مترجم سے اشارے سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس نے سر جھکا لیا۔اب ان باتوں کے کیا ترجمے کیئے جاتے۔

کین چھنا۔ کم سن اسکو کندھوں سے تھامے جھنجھوڑ رہا تھا وہ سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھئ زمین تک رہی تھی۔

ہر برا خیال آیا مجھے کہیں اس نے مار تو نہیں دیا کاش مار دیا ہوتا اس رزیل نے میں اسے کوس تو سکتا تھا۔ کاش تو مرجاتی سنتھیا۔ 

وہ میز پر دونوں کہنیاں ٹکائے سر پکڑے رو رہے تھے۔ 

اریزہ کے باپ کو کیا کچھ نہیں کہا اس نے کس یقین سے کہا تھا میری بیٹی کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔غرور تھا اسے اپنی بیٹی پر میں نہیں کہہ سکتا ایسے میری بیٹی اسکی بیٹی جیسی نہیں ہے۔ 

وہ سر پیٹ رہے تھے ۔ انکے ساتھ آیا مترجم انکو پانی دے رہا تھا۔ انکا فشار خون اس وقت بلند ہو چکا تھا  

سنتھیا کا سانولا چہرہ پہلے سرخ اب سیاہ پڑ چکا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

ہم قانونی کاروائی مکمل کر لیتے ہیں۔ سیموئل صاحب کا وکیل پراسیکیوٹر کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔دونوں نے کئی کاغذات میز پر پھیلا دیئے تھے۔ 

ہنگل اور اردو میں ہونے والی اس گفتگو کو وہ سن تو رہی تھی مگر ذہن سمجھنے سے قاصر تھا۔ 

یہ کیا کہہ رہے ہیں کم سن۔

کم سن کی کلائی اپنی کمزور مٹھی میں جکڑ کر وہ پوچھ رہی تھی 

یہ کہہ رہے ہیں تم کو فورا سے پیشتر واپس بھجوادیا جائے گا۔ 

کم سن نے گہری سانس لیکر بتایا تھا اسے۔ 

سنتھیا کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتھیا کو ایمبیسیڈر گاڑی میں اسکے والد کے ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ آدھے پونے گھنٹے کی کاغذی کاروائئ کے بعد انہوں نے بہت جلدی معاملات طے کیئے تھے۔ اسکی اب یہاں کوئی ضرورت نہیں تھی پھر بھی وہ سنتھیا کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔ سنتھیا کے والد نے ناگواری کے اظہار کے طور پر اسے گھورا بھی تھا مگر وہ گیا نہیں۔ وہ الجھے اتنے تھے کہ انہوں نے اسے وہاں سے باہر نکلوانے میں دلچسپی بھی نہیں لی۔ بہر حال رات کے بارہ بجے وہ بالکل فارغ تھا۔ اب یا تو گھر جاتا یا ۔۔ وہ ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتا گاڑی کی طرف بڑھتا سوچ رہا تھا۔ سنتھیا کا سوجا چہرہ اسکی نگاہوں سے ہٹ نہیں رہا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ تک آتے وہ بہت بوجھل سا محسوس کر رہا تھا۔ 

اسے بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ وہ اسکے بیان پر غصے میں آئے تھے۔ مگر اتنا غصہ۔ 

وہ سر جھٹکتا پھر اسی کی طرف خیال جاتا۔ 

بہر حال وہ اسکے باپ ہیں۔ مارا غصے میں ہوگا مگر اب وہ اپنوں کے ہاتھوں میں ہے یقینا اسکا خیال بہتر رکھیں گے۔

وہ خود کو سمجھا رہا تھا۔

کل کال کرکے پوچھوں گا کب جارہی ہے پاکستان۔ 

اس نے ارادہ کیا تو خیال آیا۔اس کے پاس سنتھیا کا کوئی رابطہ نمبر اب نہیں تھا۔

اس نے سر جھٹکا۔ اب رابطہ کرنے کی ضرورت بھئ نہیں تھی۔ اس نے دوست نہ ہوتے ہوئے بھی جہاں تک جتنی مدد کر سکتا تھا کردی تھی ۔ 

اس نے اطمینان کی سانس لی۔ 

یونہی سر گھما کر اپنے برابر خالی نشست کو دیکھا۔ جانے کیا ہوا آگے سے گاڑی یو ٹرن کی طرف موڑ لی تھی۔ پولیس اسٹیشن سے نکلتے اس بار وہ اتنا بے چین سا دکھائی نہیں دے رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی بازو سن ہونے سے آنکھ کھلی تھی۔وہ چت پڑا تھا اسکےکندھے پر گھنے بالوں والا سر تھا۔اس نے پہلے تو پلکیں جھپک کر جگہ پہچاننی چاہی۔ مانوس تھئ۔ پھر اپنے شل کندھے کو ہلانا چاہا ۔ 

اونہوں۔ کم سن کسمساکر مزید اس سے چمٹ گیا۔۔

کم سن۔ اٹھو۔ 

اس نے کندھا ہلایا وہ ٹس سے مس نہ ہوا

دو تین بار ہلانے پر جاگ کر بھی ڈھٹائی سے پڑا رہا تو اسے قومئ زبان استعمال کرنی پڑی 

کمسانا۔ اٹھ۔۔ میرا بازو شل ہو چکا ہے کیہہ سیکی اٹھا جائو اب 

اس نے اپنی ساری توانائی لگا کر بمشکل اسے دھکیلا اور بیٹھ کر اپنا کندھا سہلانے لگا۔

اسی کیہہ سیکی سے رات بھر ایسے لپٹ کر سوئے ہو جیسے میں تمہارا یوجا شنگو( گرل فرینڈ)  ہوں ۔

کم سن انگڑائی لیکر بیدار ہوتے اسے چھیڑنے لگا۔

میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے کیا سمجھ رہے تھے مجھے اریزہ؟

اس نے شوخی سے چھیڑا

ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی

نہیں اتنا خوش فہم میں نہیں۔خواب بھی ایسا نہیں آتا مجھے۔  

اب کیسی ہے طبیعت؟ 

کم سن نے اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر موضوع بدلا

کیا ہوا تھا مجھے؟ 

وہ الٹا اس سے پوچھنے لگا

پی کے تیراکیاں کر رہے تھے فل پارٹی موڈ اون تھا تمہارا پھر جو بخار چڑھا ہے تمہیں۔ صبح کے وقت کہیں جا کر کم ہوا تھا۔تولیا رکھتا رہا ہوں میں رات بھر۔ 

اس نے بیڈ کے پیتھیانے پڑی باتھ ٹاول کی جانب اشارہ کیا۔ فل سائز باتھ ٹاول تھی جسکو اتنا بھگویا گیا تھا کہ اب وہاں سے بیڈ گیلا بھی ہو رہا تھا۔ 

ہیون اسے گھور کر رہ گیا۔ 

شکریہ ۔  اس نے طنزیہ ہی کہا تھا۔ پھر انٹرکام پر صاف تولیئے لانے کا اور ناشتے کا انتظام کرنے کا کہہ کر نہانے گھس گیا۔ 

نہا کر نکلا تب بھی کم سن بیڈ پر چت لیٹا سوچوں میں گم تھا

کیا سوچ رہے ہو؟ 

اس نے یونہی پوچھا تھا۔ باتھ گائون پہنے وہ بال جھٹک رہا تھا۔ تبھئ روم سروس پر معمور دو ویٹر اسکی ہدایات کے مطابق صاف تولیئے اور ناشتہ لیکر داخل ہوئے۔ 

تولیہ لیکر سر جھٹکتے وہ مستقل کم سن کو دیکھ رہا تھا جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں اٹھ کر بیٹھا تھا۔ ہیون نے ٹرالی بیڈ کے قریب کی تو اس نے بے دلی سے ایک سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانا شروع کردیا۔

تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہیون نے حیرت سے ہلایا اسے۔

میری نگاہوں سے سنتھیا کا چہرہ نہیں ہٹ رہا۔  

اس نے مختصرا کہا 

کون سنتھیا؟ ہیون نے ذہن پر زور ڈالا

اور کیوں نہیں ہٹ رہا اسکا چہرہ۔؟ وہ اپنے لیئے سلائس اٹھانے لگا تو کم سن نے ٹھںڈی سانس بھرتے  سلائس کا بڑا سا لقمہ لیتے اعتراف کیا

مجھے پیار ہو گیا ہے سنتھیا سے۔ 

کون سنتھیا۔ اب تو ہیون کو دماغ کے گھوڑے دوڑانے پڑے۔اور وہ دوڑتے دوڑتے جہاں رکے وہیں ہیون کے ہاتھ سے سلائس چھوٹ کر ٹرالی پر جا گرا۔ 

وہ اریزہ کی دوست؟ وہ اچھل پڑا۔

کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔اور باقی ماندہ سلائس بھئ نگل لیا۔

ہیون نے سر تھام لیا۔ 

یک نہ شد دو شد۔ 

یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ اب اس سے سب اگلوائے بنا رہنے والا نہیں تھا سچ تو یہ ہے کم سن بھی دل ہلکا کردینا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا کی دفعہ تو تم چھوٹے تھے مجھے بھی لگتا تھا یون بن اور گوارا کا ساتھ بس سال دو سال پر ہی محیط ہوگا۔تو تمہارا چانس بن سکتا تھا مگر دوبارہ بھئ ایسی لڑکی پر ہی دل آیا ہے جو اپنا دل کسی اور کو دے چکی ہے یہ تمہاری منحوسیت ہے یا تم ہو ہی دوسروں کی چیزوں پر نیت لگانے والے انسان۔ 

گاڑی ڈرائیو کرتے ہیون اسکا صریحا مزاق اڑا رہا تھا۔ہیون کے کہنے پر اس نے بلا تکلف گردن پر لگائی تھی۔

سوچ کے بولو ۔ میں کبھی بھی آوارہ مزاج لڑکا نہیں رہا۔ 

کم سن نے یاد دلایا

تو منحوس ہو یعنئ۔ ہیون نے سمجھ کر سر ہلایا

تم سے کم منحوس ہوں میں۔ چلو ناکام سہی دوسری بار کوشش کر رہا ہوں تم تو کوشش کیئے بنا ہار مانے ہوئے ہو۔

کم سن نے اسے جوش دلانا چاہا۔ 

ہیون نے سر جھٹکا۔ 

جتنا سخت انداز اور سخت الفاظ میں اریزہ اسے وہ سب کچھ کہہ رہی تھی وہ دن بلکہ وہ رات کا وقت وہ یاد بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 

کیا کوشش کروں ؟ لیس ہوجائوں اسکے آگے پیچھے پھروں اسکی ناک میں دم کردوں ؟ تاکہ وہ مجھے پیونتی ( ٹھرکی) ثابت کرکے پولیس میں پکڑوا دے۔ 

ہیون کا انداز بظاہر ہلکا پھلکا تھا

مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لڑکی تمہیں انکار کیوں کر رہی ہے۔ سچ پوچھو ہم سب کو لگتا تھا تم دونوں کپل ہو اور بس کسی دن ہم سب کے سامنے اعتراف کرلوگے۔ 

ہیون اسکی بات پر کیا کہتا۔ کتنے لمحے اسکی نگاہوں کے سامنے گزر گئے جب اسے لگا تھا کہ اریزہ بھی اسکی قدر کرتی ہے اسے پسند کرتی ہے مگر اریزہ کے ۔۔ 

دیکھ کر۔۔ 

کم سن نے چیخ کر کہا تو جیسے اسے ہوش آیا۔ وہ بے دھیانی میں سرخ اشارے کو پار کرنے چلا تھا جھٹ بریک لگائی۔

یون بن کہاں ہے؟ یہ ڈرائیور ڈیوٹی ہم کیوں کر رہے ہیں؟ 

ہیون نے پوچھا تو کم سن نے گہری سانس لی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون سے انکی ملاقات کمرے میں کروائئ گئ تھی۔ اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ابھی بھی تھی

باقائدہ ضمانت اور دیگر قانونی کاروائی تک یون بن انکے وکیل کے ساتھ لگا رہا تھا۔ 

ایڈون نے جن نظروں سے ماموں کو دیکھا تھا وہ نظر چرا گئے۔ 

کیسے ہو بیٹا؟ 

انکے سوال کا جواب وہ مجسم خود تھا جبھی اس نے جواب نہیں دیا آکر کرسی پر بیٹھ گیا تھا

پولیس افسر اسکو بٹھا کر خود باہر نکل گیا تھا

سنتھیا کے دل کو دھکا سا لگا۔ اسکی آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے رنگت سیاہی مایل ہورہی تھی وہ پہلے سے کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھوں میں رت جگوں کی سرخی چہرے کی پریشانی سب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مجرم وہ ہے۔ اس نے سر جھکا لیا۔

میں ذرا بات کرکے آتاہوں کتنی دیر ہے۔ 

سیموئل قصدا ان دونوں کو بات کرنے کا موقع دے کر اٹھ کر چلے گئے۔ 

ایڈون۔ اس نے ہمت کرکے پکارا۔ ایڈون نے اسکے چہرے پر نظریں جما لیں۔

خوش ہو مجھے دیکھ کر؟ یا مزید کوئی چرکے لگے دیکھنے کی خواہش ہے تمہیں؟ 

وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔ سنتھیا نے سر جھکا لیا۔

تمہارا باپ مجھے قاتل تک بنا چکا تھا ، سگا بھانجا ہوں میں وہ یہ رشتہ تک بھلا کر میرے ماں باپ تک کو جانے کیا کچھ کہہ چکے ہیں۔ کہ اسپتال میں پڑی ہے ماں میری اور میں یہاں۔۔ 

اس نے بے بسی سے اپنے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ میز پر مارے۔ سنتھیا کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔

مجھے نہیں پتہ تھا کہ۔ 

اس نے صفائی دینی چاہی مگر وہ مزید طیش میں آگیا

کیا نہیں پتہ تھا؟ وہ چلایا نہیں تھا چلانے جتنی توانائی تک باقی نہ تھئ اس میں مگر اسکے لہجے کی سختی گھٹی گھٹی سی آواز سنتھیا کا دل سہمائے دے رہی تھی۔

کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیا ملا مجھے برباد کرکے؟ پچھلے پندرہ بیس دن سے میں نہ میں کام پر گیا ہوں نہ اکیڈمی یہاں سے چھوٹ بھی جائوں تو گوشی وون کا کرایہ ڈیو ہے وہ نکال چکے ہوں گے مجھے۔ سڑک پر لا کھڑا کیا ہے تم نے مجھے۔ کوئی اندازہ ہے تمہیں؟ میری بہنیں میری ماں کس اذیت سے گزر رہی ہیں؟ میں نے تو کچھ نہیں بتایا تھا انہیں تمہارے باپ نے دھمکیاں دی تھیں یہ تک کہا کہ میں نے یقینا تمہاری جان لے لی ہے میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ڈیم اٹ۔

اسکی آواز پھٹی پھٹی سی تھی۔ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ خود بے خبر تھا۔ 

مجھے معاف کردو۔ 

سنتھیا بلک اٹھئ ۔ ہچکیاں لیتے ہوئے صفائی دینے لگی

میں نے صرف اتنا سوچا تھا کہ کچھ دن تم سے دور رہوں گی تو ت۔۔تم شائد۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ 

وہ جملہ پورا نہ کرسکی۔

کچھ دن دور رہوگی تو وقت گزر جائے گا 

اسکا جملہ اچک کر وہ استہزائیہ انداز میں سر جھٹک کر بولا

پھر ابارشن نہیں کروانا پڑے گا۔

اچھا منصوبہ بنایا تم نے مبارک ہوتمہیں۔ تم کامیاب رہیں۔ 

اپنے ہتھکڑی والے ہاتھوں کو جوڑ کر اس نے تالی بھی بجا ڈالی۔

 اب پالو اس بچے کو۔ جیسے تیسے کرکے۔ اب میرے دل میں تمہارے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو چنا اب یہ بچہ ہی رہے گا بس تمہارے پاس۔ میں نہیں۔۔۔

ایسا مت کہو ایڈون۔ وہ رونا بھول کر گڑگڑائئ

میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں پائوں گی۔ پلیز مجھے معاف کردو۔ 

اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔

میں ابارشن کرالوں گی پلیز مجھ سے خفا مت ہو۔ میں اس بچے کو ۔۔ آنسوئوں میں اسکا جملہ دب گیا تھا۔

وہ ہونٹ بھینچے اسکی شکل دیکھتا رہا۔ اسکا دل پگھل نہیں رہا تھا۔سنتھیا کی حالت کونسا ٹھیک تھی۔اسکی رنگت بالکل سیاہ پڑی ہوئی تھی وہ بجائے وزن بڑھنے کے وزن گھٹا چکی تھی اپنا۔ مگر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا سنتھیا کو اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات ڈرا رہے تھے۔ اسکا دل سہما جا رہا تھا۔

اسکا بس نہ چلا تو آئیم سوری ایڈون کہہ کروہ میز پر سر رکھ کر روئے چلی گئ۔

مت روئو سنتھیا۔ 

ایڈون بولا بھی تو کیا بیزاری سے بھرپور انداز میں ٹوکا تھا اسے۔ 

ہر دفعہ رو کر تم اپنی سب غلطیاں دھو نہیں سکتیں۔ 

اسکا انداز اتنا بے رحم تھا کہ سنتھیا کی ہچکیاں تھم سی گئیں۔

تم اور تمہاری وجہ سے تمہارے باپ نے جو کچھ میرے اور میرے ماں باپ کے ساتھ کیا ہے میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ 

سنتھیا کی سانسیں تک سینے میں اٹکنے لگی تھیں وہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

سنتھیا تم اب میری کچھ نہیں لگتیں۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ 

سنتھیا حق دق اسکی شکل دیکھتی رہ گئ تھئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون اور کم سن انکا پولیس اسٹیشن سے باہر ہی کھڑے انتظار کررہے تھے۔ 

اتنی دیر؟ 

یون بن چھوٹتے ہی بولا۔ 

ہیون اور کم سن گاڑی سے اترنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر یون بن نے موقع نہیں دیا۔کم سن کا دروازہ بند کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر پہلے ایڈون کو بٹھایا پھر خود بیٹھ کر بولا

نفرت آرہی ہے پولیس اسٹیشن سے ہم دونوں کو نکلو یہاں سے بعد میں مل ول لینا

ہیون نے کندھے اچکا کر حسب ہدایت گاڑی چلا دی

کہاں جانا ہے؟ ہیون نے پوچھا

گوشی وون۔ 

ایڈون کی منحنی سی آواز نکلی تھی۔

کیوں؟ کم سن چونکا

میرا مطلب ہے تم سنتھیا سے نہیں ملنے جارہے؟

نہیں۔ ایڈون کا جواب مختصر ترین تھا۔

اسکے ماموں اور سنتھیا اس سے مل چکے ہیں دونوں اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں پاکستان۔

ایڈون کا موڈ سمجھتے ہوئے یون بن نے جواب دیا

مگر کیوں؟ اسکی حالت ٹھیک نہیں وہ سفر کیسے کرے گی؟

کم سن کے منہ سے پھسلا تھا۔ 

اتنے دنوں سے بھی تو سفر کر رہی تھی آرام سے  چھپی بیٹھی تھی۔ اگلوں نے ایڈون کا شجرہ کھنگال لیا پینلٹی پوائنٹس الگ لگ گئے جیل کے۔ اسکا تو کیئریر تباہ ہوگیا ہے۔ اب کیا ایڈمیشن لے گا یہاں۔ اور وہ مزے سے باپ کے ساتھ واپس جا رہی ہے۔ انتہائی خود غرض لڑکی ہے۔ 

یون بن کو اپنے دوست کی پریشانی کا احساس تھا جبھی غصے سے بولتا گیا۔

قصور ثابت نہیں ہوا اس پر پھر یہ کونسا کورین شہری ہے کچھ نہیں ہوتا۔ 

ہیون نے تسلی دی۔

ہاں تھائینیئے۔  ( شکر ہے) اس نے بیان ایڈون کے خلاف نہیں دیا ورنہ اسکے باپ کا بس نہیں تھا پھانسی لگوادے ایڈون کو۔۔ مگر بندہ پوچھے غائب ہوئی ہی کیوں؟ کیا ملا یہ سب ڈرامہ کرکے۔۔

ڈرامہ؟ کم سن سے رہا نہ گیا۔

ایک ماں کا اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے ان لوگوں سے چھپ جانا جو اسکے بچے کی جان لینا چاہتے ہوں ڈرامہ لگ رہا ہے تمہیں؟ کوئی اندازہ ہے وہ پریگننٹ تھئ کہاں کیسے رہ رہی ہوگی خوراک بھی ڈھنگ کی ملی ہوگی کہ نہیں اور یہ سب تکلیفیں کس لیئے جھیلیں اپنے بچے کیلئے۔ صرف اسکا بچہ تو نہیں ہے۔ آخری جملہ اس نے بیک ویو مرر سے لاتعلقی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ایڈون کو گھور کر کہا تھا۔

یون بن اسکے تیز ہو کربولنے پر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔

تو اب کونسا بچ جائے گا۔ اسکے والد ایڈون سے پرمیشن لیٹر پر سائن کرواکے گئے ہیں ابارشن کیلئے۔

کیا؟ کم سن کے ساتھ ہیون بھی چلایا تھاپھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ 

یون بن اور ایڈون دونوں کیلئے انکا ردعمل غیر متوقع تھا۔دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

ایڈون تم ۔۔ کم سن نے دانت پیسے۔ 

تم ایک بار بھی سنتھیا کیلئے نہیں سوچتےاسکی فکر نہیں تمہیں؟ وہ ۔ وہ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے کہے۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔ 

وہ بہت کمزور ہے ۔ 

اسکے ماں باپ ہیں نا خیال رکھنے کو۔

ایڈون کا انداز۔ کم سن کو طیش آرہا تھا۔ 

اسکا کیا جس کے باپ ہی تم ہو؟

وہ مر جائے گا۔

وہ بے نیازی سے کہہ کر دوبارہ باہر دیکھنے لگا تھا۔اسکے گوشی وون کے باہر گاڑی رکنے تک وہ چپ ہی  رہے تھے۔

تم آرام کرو میں شام میں چکر لگائوں گا۔

یون بن نے اتر کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تھا۔ وہ سر ہلا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر بڑھ گیا۔۔

میں سوچ نہیں سکتا تھا یہ اتنا کمینہ انسان ہوگا۔

کم سن اسے جاتے دیکھ کر غصے سے بولا

یون بن پچھلی نشست پر بیٹھتے اسکا جملہ سن کر حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ہیون  نے گاڑی ہی آگے بڑھا لی نہ دیکھے نہ غصہ کرے۔

کیہہ سیکی۔ نامرد۔  

وہ مزید خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔

کیا ہوا بھئ ؟ اتنا غصہ کیوں؟ 

اسلیئے کہ سنتھیا کو میں ہی اسپتال لیکر گیا تھا اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ابارشن اب قانونی طور پر منع ہے اور پریگننسی جاری رکھنے میں اسکی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اور اس آدمی کو دیکھو رتی بھر پروا نہیں ہے اسکی۔ 

ہاں تو صحیح تو کہہ رہا اسکے ماں باپ خیال رکھ لیں گے ہو سکتا ہے پاکستان میں لیگل ابارشن کی معیاد کچھ اورہواور  ویسے اب یہ کیا کر سکتا ہے یہاں؟

 جاب تک تو رہی نہیں گوشئ وون کے مالک سے منتیں کرکے معیاد بڑھوا کر آیا ہوں اسکا بھی کرایہ نہیں دے سکا ایڈون۔ اس کو تو ان پندرہ بیس دنوں نے کنگال کر چھوڑا ہے۔ 

یون بن کو ترس آرہا تھا اور کم سن کو غصہ۔

 تو کس نے کہا تھا کہ اسے مجبور کرے ابارشن کیلئے؟ نہ یہ مجبور کرتا نہ وہ یہ قدم اٹھاتئ۔ کم سن تیز ہو کر بولا

ہاں تو بے روزگار انسان اپنی گرل فرینڈ کا بچہ کیوں پالے؟ جب یہ فیصلہ دونوں کرتے تو ذمہ داری دونوں کی برابر ہوئی نا۔ 

یون بن کو اسکا غصہ سمجھ نہ آیا۔

تم بتائو گوارا سے محبت کرتے ہو نا اگر گوارا پریگننٹ ہوتی تو کیا تم بھی اسے مجبور کرتے ؟ چاہے اسکی جان کو خطرہ ہوتا؟ 

کم سن کا سوال ہیون نے اسکی شکل۔غور سے دیکھی۔

اول تو گوارا خود بہت سمجھدار ہے دوسرا اگر ایسا کچھ ہوتا تو ظاہر ہے میں بھی وہی کرتا جو ایڈون کر رہا ابھی ہماری پڑھائی مکمل نہیں ہے کیریئر نہیں بنا کیسے ہم کوئی نئی ذمہ داری اٹھا سکتے؟ 

یون بن کا جواب ہیون کو اسکی شکل دیکھنے پر۔مجبور کرگیا۔

حد ہے ۔ گوارا سے محبت کا دعوی کرتے ہو اور پھر بھی۔ 

کم سن نے شرمندہ کرنا چاہا یون بن نے بات کاٹ دی

ہاں تو میں نے کب انکار کیا۔ محبت الگ چیز ہے بچہ الگ، 

کیا بات کر رہے ہو۔۔ 

کم سن اور یون بن بحث میں الجھ گئے تھے 

اور سڑک پر نگاہ جمائے گاڑی دوڑاتے ہیون سوچ رہا تھا اچھی لڑکیاں چاہے کورین ہوں یا پاکستانی غلط لڑکے کا ہی انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ اور اسے ناشتہ کرتے ہی حکم ملا تھا فورا تیار ہو کر باہر آجائو۔ دونوں حسب ہدایت تیار ہو کر باہر آئیں تو گوارا ایک پاکستانی مہران کے سائز کی مگر مہران سے دس گنا بہتر ڈئزاین کی الیکڑک بلو پیاری سی گاڑی کو کپڑا مار رہی تھی۔ 

یہ کس کی گاڑی ہے۔ 

اریزہ نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ گوارا کھلکھلائی۔

یون بن کی۔ میں نے اسے کہا تھا فورا یہاں بھجوا دے خود بے شک بعد میں آتا رہے۔  اب ہم یہاں بنا گھومے پھرے کیسے رہ سکتے ہیں۔

وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تھی۔ 

ابھی پچھلے ہفتے بک کروائی تھی اس نے اور میں نے یہاں کا پتہ لکھوایا تھا۔ وہ مزید اپنی کارگزاری سنا رہی تھی۔ 

عظیم لڑکی ہو تم۔ 

اریزہ نے خراج تحسین پیش کیا۔ 

ہوپ پچھلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی تو گوارا نے اسکو کندھے سے پکڑ کر کھینچا چابی اسکے ہاتھ پر رکھتے بولی

تم کدھر جا رہی ہو؟ گاڑی کون چلائے گا؟ 

تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی؟ ہوپ کا موڈ نہیں تھا شائد۔ 

آتی ہے مگر ابھی میرا لائسنس نہیں بنا۔ دوسرا یہاں کی اونچی نیچی سڑکیں نا بابا نا کوئی رسک نہیں۔ 

وہ مزے سے کہتی خود پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھئ گئ۔ 

ہوپ کو چابی تھامنی پڑی تھی۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھتی اریزہ نے مسکرا کر سر ہلایا وہ بھی جوابا مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے لگی۔ 

گوارا پیچھے بیٹھ کر بھی آگے ہی سیٹ کے بیچ سے نکل کر بک بک کرتی رہی۔ اسکا گائوں پہاڑ کے دامن میں تھا۔ بے تحاشہ خوبصورت مناظر کہیں کہیں برف پڑی ہوئی سرد ہوا ۔ وہ لوگ پہلے پہاڑ کی چوٹی سے نظارہ کرتی رہیں تبھی چوٹی کے دامن میں اسے وہ بے حد خوبصورت سا لال شہتیروں والا مندر نظر آیا۔ 

آئو وہاں چلیں۔ 

اریزہ اتنا پرجوش ہو کر بولی تھی کہ ہوپ اور گوارا دونوں نے چونک کے اسکی شکل دیکھی

پتہ بھی ہے کیا ہے وہ؟ مندر ہے بدھا کا

گوارا نے جتایا

تو؟ اریزہ نےالٹا سوال کیا

تم وہاں جا کر کیا کروگی؟ ہوپ نے بور ہو کر کہا ۔پیچ دار سڑک پر اتنی اونچائئ تک لے کر تو اسے ہی جانا پڑتا

میں دیکھوں گی تم لوگ عبادت کر لینا۔ میں نے آج تک مندر نہیں دیکھا اور بدھا کا تو بالکل بھی نہیں دیکھا پلیز چلو نا میں نے دیکھنا ہے۔

اریزہ بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی دونوں نے ٹھنڈئ سانس بھری۔ 

گاڑی سے اتر کر بھی پیدل چل کر کم ازکم ڈیڑھ سو سیڑھیاں تھیں جنکو چڑھنا پڑا تھا۔ گوارا اور ہوپ کا تو نہیں اریزہ کا برا حال ہوگیا تھا مگر شوق کا کوئی مول نہیں۔ مندر سادہ مگر بے حد خوبصورت تھا۔بڑا سا کھلا دالان جس کے کونوں میں کیاریاں سی بنی ہوئی تھیں بڑی بڑی لکڑی کی بلیوں اور شہتیروں والی چھت سے ڈھکی راہداری سامنے کھلے دروازے سے نظر آتا بدھا کا بڑا سا بت آسن جمائے نظر آتا تھا۔ کئی پجاری اپنے مخصوص معمول کی عبادتوں میں مشغول تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈنڈا تھامے جسکے سروں پرچھوٹی سی گول گھنٹیاں سی لگی تھیں۔ دھیمے دھیمے بجاتے جاپ کرتے۔ ماحول پر ہیبت طاری کر رہے تھے۔ 

 گوارا اپنے ہڈی کے اپر سے سر ڈھانکتی اندر گئ پجاری نے گھنٹیاں بجا کر اسکا خیر مقدم کیا۔ دعا دئ  گوارا وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر زمین سے سجدے کی طرح لگائے مخصوص انداز میں جھکتی اٹھتی دعا کر رہی تھی۔ 

اریزہ اور ہوپ بھی اندر چلی آئی تھیں۔ مگر گوارا کے برعکس دونوں تمیز سے گھٹنے کے بل بیٹھئ اسکی عبادت مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھیں۔ 

ہم بھی ایسے ہی سجدہ کرتے ہیں۔ گوارا کو جھکتے دیکھ کر اریزہ نے ہوپ کے کان میں سرگوشی کی۔

جانتئ ہوں روز تو عبادت کرتا دیکھتی ہوں تمہیں۔ 

ہوپ کے جتانے پر کھسیا سی گئ۔ ہوپ سے تو بندہ بات بھئ سوچ سمجھ کر کرے۔ اس نے آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنے کا عہد کیا۔۔

گوارا دعائیں کرکے پجاری سے سر پر پانی چھڑکوا کر کچھ میٹھی ریوڑیوں جیسی مٹھائئ لیکر باہر آئی تب تک وہ دونوں دالان کی ہر سیڑھی ہر ستون سے ٹک کر تصویر بنا چکی تھیں۔

یہاں آخری بار اپنے ابا کی آخری رسومات کی دعائیں کروانے آئی تھی۔ اور آج تم مجھے یہاں لے آئیں۔ بدھا بھی کہتے ہوں گے کیسی نا شکری اور مطلبی پیروکار ہے میری۔ 

گوارا بڑبڑ کرتی انکے پاس آئی تھی۔ 

اریزہ اسکی غبارے جیسی شکل دیکھ کر ہنس پڑی۔ 

ویسے یہاں ہے بہت سکون ۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے یہاں آکر۔ 

اریزہ نے یونہی کہا تھا۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی

ہر مقدس مقام پر سکون ہی ہوتا ہے۔ ایسی جگہوں پر پاک روحیں فرشتے ہی آتے ہیں ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر ہمیں دھیرے دھیرے اپنی رحمت کے سائے میں لیتے جاتے ہیں۔ میرا ماننا ہے ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی مقدس نا دکھائی دینے والا ربط اوپر سے ہوتا ہے۔ 

وہ آسمان کی جانب اشارہ کرکے بولی۔ 

ہوپ نے بلا ارادہ اسکی تقلید میں آسمان تک نگاہ کی تو پلٹی ہی نہیں۔ 

ضروری نہیں۔

ہوپ نے ناک چڑھائی۔ 

ہم روز جس بت کو پوجتے تھے اس سے شدید نفرت بھی محسوس کرتے تھے۔ اس بت کے گرد مقدس ہالہ تو دور نفرین و لعنتوں کا جال محسوس ہوتا تھا جس سے دم گھٹتا تھا میرا۔

ہوپ زہر۔خند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ 

ہیں؟ گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔ہوپ نے سر جھٹکا

جب نفرت تھئ تو پوجتے کیوں تھے بھئ؟ 

گوارا کے حیرت سے پوچھنے پرہوپ ہونٹ بھینچ کردوسری طرف دیکھنے لگی۔

شمالی کوریا میں مزہبی عبادات پر بین ہے۔ وہاں صرف موجودہ و سابقہ آمروں کے با بجا بت سجے ہیں جن کے آگے عوام کا روز سلامی دینا فرض ہے۔ اور موٹے منہ والے بھالو بندر اس جابر ظالم کم جانگ اون کو دیکھ کر محبت خاک پھوٹنی جس نے پوری قوم کی ہر خوشی سلب کرکے آٹھ آٹھ آنسو رلا رکھا ہے۔ 

جواب غیر متوقع طور پر اریزہ کی جانب سے آیا تھا۔ گوارا اور ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں۔  

تمہیں کیسے پتہ؟ گوارا کا حیرت کے مارے برا حال تھا

تم بھی شمالی کورین تو نہیں۔ 

اس نے معصوم سئ شکل بنا کر پوچھا اریزہ گھو رکر رہ گئ 

ہوپ نے البتہ جاندار قہقہہ لگایا۔ 

موٹے منہ والے بھالو بندر کم جانگ ہا ہا ہا۔ کاش اسکو یہ کوئی سناتا اسکے منہ کاش سن سکتا وہ یہ ہا ہا۔ پتہ ہے ان جملوں پر سر قلم ہو جاتا تمہارا اگر تم سیول کی جگہ پھیانگ یانگ 

میں ہوتیں۔ 

کیوں ہوتی میں خدا نخواستہ۔ اریزہ نے منہ بنایا

میں تو شمالی کوریا کا سن کر سیول ہی آنے کو تیار نہیں ہورہی تھی ۔ اس اسکالر شپ کی وجہ سے تو مجھے پتہ لگا کہ کوریا کوئی ملک ہے اور اسکے بھی دو حصے ہو چکے ہماری طرح۔پوری طرح اطمینان کیا تھا پھر اپلائی کیا تھا۔ 

اس نے گوارا کے سوال کا بھی جواب دے دیا۔ 

گوارا نے سر ہلایا۔

شکر ہے دو حصے ہو چکے ہیں ورنہ ہم بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہوتے۔ گوارا نے جھر جھری لی۔ اریزہ کو ایک بڑا دکھی کردینے والا خیال آیا۔ ہم سے الگ ہونے والے بھی کیا ایسا سوچتے ہوں گے؟

چلو چلیں اب؟ یا ابھئ شیمن سے اپنا مستقبل کا احوال بھی پتہ کروانا ہے؟ 

ہوپ نے تو یونہی کیا مگر گوارا پرجوش ہوگئ

ہاں یہ صحیح رہے گا مستقبل کا احوال جانتے ہیں تینوں ۔۔۔ یہاں کے شیمن سب صحیح صحیح پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ میرے آہبوجی کے انتقال سے پہلے ہی انہوں نے مجھے بتا دیا تھا میرے پاس ایکدم سے بہت پیسہ آئے گا ۔ انکی پیشن گوئی کے دوسرے ہی ہفتے آہبوجی کا انتقال ہوگیا تھا۔ 

گوارا متاثر کرنے والے انداز میں بتا رہی تھی۔ 

ہوپ اور اریزہ دونوں نے اسکی اچنبھے سے شکل دیکھی۔ 

اس میں تمہارے ان پجاری جی کا کیا کمال؟ اریزہ پوچھے بنا نہ رہ سکی

ہاں تو آہبوجی کے انتقال پر ہی تو مجھے انشورنس کے پیسے ملے انکے جس سے میں نے سیول میں اپارٹمنٹ خریدا ۔ 

وہ کندھے اچکا کر بولی۔ 

تم دونوں بھی جاننا  چاہوگی اپنی قسمت کا حال ؟ 

۔ ہوپ نے سر جھٹکا۔ 

بکواس۔بالکل نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیرواں لبادہ پہنے بالکل صفا چٹ سر لیئے گلے میں سرخ پٹکا ڈالے وہ پجاری جی ہوپ سے اسکی تاریخ پیدائش پوچھ رہے تھے۔  اسکا جواب سن کر مراقبے میں چلے گئے تھے۔اس چھوٹے سے کمرے میں وہ دھونی رما کے بیٹھے تھے۔ڈھیر ساری اگربتیاں جل رہی تھیں کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا ۔کمرہ رنگ برنگی پینٹنگز سے سجا بلکہ تنا ہوا کہنا چاہیئے۔جا بجا تصویریں جس میں کوریائی ثقافت انکے بادشاہی نظام وغیرہ کی تصاویر تھیں تو کچھ عجیب سی آدھے انسان آدھے کسی جانور کے جسم کے ساتھ بے تکے جوڑ والے قد آدم پوسٹر تھے۔ بدھا کے کئی اسٹیچو تھے کچھ دلہا دلہن کی پینٹنگز اتنے رنگ تھے کمرے میں کہ اسکا دیکھتے دیکھتے ذہن بٹ ہی گیا۔ گوارا نے ٹہوکا دے کر متوجہ کیا۔ 

ہوپ ہم سے چھے سات سال بڑی ہے۔ 

گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اریزہ کے کان میں گھسی۔ اریزہ نے اسکو ہلکے سے گھورا۔ 

گوارا اسکی گھرکی پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔ اریزہ نے حقیقتا ہتھیلیاں پھیلا کر پھر خیال آیا تو ذرا مٹھی بند کرکے کہ دعا کا پوز نہ لگے دل سے دعا کی تھئ

یا اللہ یہ آدمی ہوپ کو صرف اچھی اچھی باتیں بتائے۔ کوئی اچھی امید دے دے جینے کی ۔ بہت مایوس ہے کیا پتہ اسکے الفاظ ہی اسے جینے کی نئئ امید  دے دیں۔

ہوپ ان سے بےنیاز پجاری صاحب کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے تھے۔ اسے جیسے یقین تھا وہ کوئی نہ کوئی غلطی کریں گے اور وہ گوارا کو جتا سکے گی کہ انکے پاس کوئی روح ووح نہیں جس کو بلا کر اس سے وہ مستقبل کا حال جان سکیں بلکہ ایک اچھے شعبدہ باز ہیں بس۔

ایک مٹی کی چھوٹی سی کھلے منہ کی دیگچی میں چاول اور لال رنگ کا جانے کونسا سفوف ملا کر رکھا تھا۔چٹکی میں بھر کر انہوں نے اپنے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر چھڑکا ایک صندل کی تسبیح مٹھی میں داب رکھی تھی تسبیح کے دانے کم ہی تھے شائد دس بیس ہی ہوں گے ہر دانے پر کچھ چینی زبان کے حرف کھدے تھے۔ انگلئ پر بڑی مہارت سے دانے گھماتے وہ جھوم جھوم کر گھنٹی بجاتے آنکھیں بند کیئے کچھ بڑ بڑا رہے تھے۔ ایکدم جھٹکا کھا کر رکے

 تسبیح کے جس دانے پر انگلی رکی تھی اسکو گن کر انہوں نے پانسہ پھینکا۔ چوڑا سا ایک ہتھیلی کے برابر پانسے پر چار اطراف الفاظ کھدے تھے۔ اور اوپر نیچے سیاہ اور سفید رنگ ہوا وا تھا۔ اس نے ایسا پانسہ زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ 

اسکا دل چاہا کہ اٹھا کر دیکھ لے مگر بمشکل طبیعت پر جبر کرکے روکا۔جانے وہ اس حرکت کو کس معنے میں لیں۔وہ بہر حال انکی مزہبئ روایت کا احترام ہی کر رہی تھی۔ 

بس کچھ الٹا سیدھا نہ بولیں ہوپ کی زندگی میں پہلے ہی کوئی خوشی نہیں ہے۔ 

وہ دعا کیئے جا رہی تھی۔ 

پجاری جی نے آنکھیں کھولیں مگر گردن موڑ کر اریزہ کودیکھا پھر مسکرا دیئے۔ اریزہ ٹھٹھک سی گئ۔ انکی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی کسی بچے کی بات پر اسکی نادانی پر مسکرا دے۔ 

بدھا کہتے ہیں تین چیزیں ذیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتیں۔ سورج ، چاند اور سچائئ۔ ایک نہ ایک وقت انکو ظاہر ہونے پر مجبور کردیتاہے۔سورج چاند پھر کبھی بادل میں چھپ جاتے سچائئ جتنا چھپانا چاہو اتنی ہی مزید ظاہر ہوتی ہے۔ 

وہ شستہ انگریزی میں اریزہ سے کہہ رہے تھے۔ 

اریزہ گنگ سئ انکی شکل دیکھنے لگی۔

میں جھوٹ نہیں دے سکتا کسی کو جو مجھے جتنا پتہ ہے وہ میں بتانے کا پابند ہوں۔ میرے پاس دینے کیلئے سوائے سچائی کے اور کوئی تحفہ نہیں۔ سچائی کا تحفہ دوسرے تمام تحائف کو مات دیتا ہے۔  سچائی کا ذائقہ دوسرے تمام ذائقوں کو مات دیتا ہے۔  سچائی کی خوشی دیگر تمام خوشیوں کو مات دیتی ہے، اور خواہش کا خاتمہ تمام دکھوں پر فتح پاتا ہے۔

وہ بولتے بولتے گردن گھما کر ہوپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اب اسی روانی سے چینی زبان  میں بولتے چلے گئے۔

خواہش  ختم کردو اگلی زندگئ آسان ہے تمہاری

ماضی میں مت پھنسو، مستقبل کے خواب نہ دیکھو، دماغ کو موجودہ لمحے پر مرکوز رکھو بس۔تمہیں نہیں لگتا تمہاری یہاں موجودگی ان دوبہنوں کا ساتھ تمہارا ماضی تمہارا ہاتھ چھڑا چکا ہے تمہارا اکیلا پن دور ہوچکا ہے یہ سب اسکا ثبوت ہے۔ تمہیں اب زندگی جینا شروع کردینا چاہیئے۔ 

ہوپ کا منہ کھلا۔ پھر سر جھٹک کر طنزیہ انداز میں بولی

ایک ایک لفظ بدھا کا ہے یہ۔آپ تو خود اپ ایک جملہ بولے ہیں ان دونوں کی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ یہ احمقیں سچ مچ میری پروا کرتی ہیں ۔   

ہوپ چینی زبان میں ہی بولی تھی۔ گوارا نے سخت اکتا کر ان دونوں کی شکل دیکھی

پجاری صاحب ہنس دیئے محظوظ ہو کر جیسے۔۔

بدھا کا بھگت ہوں انکی باتیں نہیں بولوں گا تو پھر کس کی بات کروں گا؟ 

بات میں وزن تھا۔ ہوپ نے ناگواری سے دیکھا

پھر اگلا سوال چینئ میں ہی داغا۔

میں نے محبت کے بارے میں پوچھا تھا میرے نصیب میں ہے کہ نہیں۔ 

محبت ہے مگرجس سے تمہیں  محبت وہ نہیں۔ 

وہ دانستہ کہتے ہوئے گردن موڑ کر گوارا کو دیکھنے لگے۔ ہوپ کا چہرہ دھواں دھواں سا ہوا تھا۔ اریزہ نے چیں بہ چیں ہو کر شاکی نگاہوں سے دیکھا۔ 

ایسے تو بہت پہنچے ہوئے بنتے ہیں اسکی شکل پر لکھا شدید مایوسی و دکھ میں مبتلا ہے کیا تھا ذرا سا خوش کردیتے کچھ اچھا بول کے۔ ایسے تو انگریزی بول رہے تھے ہنگل چھوڑ یہ تو کوئی تیسرئ زبان بولنی شروع کردی جانے کیا کہہ دیا اسے۔ 

میں باہر انتظار کرتی ہوں تم لوگوں کا۔ 

ہوپ کو خود کو سنبھالنا مشکل لگا تو نظر چراتے فورا اٹھ گئ۔

آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس پھر کوئی پیسہ آنے کی امید ہے یا نہیں؟

ہوپ کے جاتے ہی گوارا کھسک کر آگے ہوئی۔

پیسہ تو آتا جاتا رہے گا انسان بھی۔ تم کہاں دل لگاتئ ہو یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے بیٹا۔ 

انکا جواب حسب توقع اور اسکا ردعمل بھی حسب توقع تھا منہ بنا کر رہ گئ

آپ میری دوست کو دیکھیں اسکا کتنا دانہ پانی ہے کوریا ہے؟

گوارا بولی ۔۔ 

کیا کرنا یہ جان کر۔۔

 اریزہ نے سر جھٹکا۔

 محبت ملے گی یا نہیں؟ 

گوارا مزید کہہ رہی تھئ۔ 

اسکی تو۔ اریزہ ایکدم الرٹ ہوئی۔

سب سے بڑھ کر اسکو محبت ہو۔  

گوارا تیز تیز بولی تھی اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا

بس مجھے کچھ نہیں جاننا ۔ 

کیوں؟ بہت پہنچے ہوئے ہیں یہ سب صحیح بتا دیں گے کچھ نہیں کچھ نہیں پاگل امتحان میں کامیابی ناکامی کا ہی پوچھ لو ۔

گوارا نے اصرار کیا پجاری صاحب مراقبے میں جانے لگے۔ 

تاریخ پیدائش۔

20 ستمبر 1996 

گوارا جھٹ سے بولی۔ اریزہ نے منہ بنا کر دیکھاپھر تصحیح کی۔

1995۔ 

گوارا نے منہ کھول کر اب اسکی شکل دیکھی۔ 

ہائش۔ یہ بھی۔ 

آپ، خود، پوری کائنات میں جتنا کوئی ہے، آپ کی محبت اور پیار کے مستحق ہیں۔خود سے مت بھاگو۔خود کو اپنائو اپنے سوا انسان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی ہے۔ اپنے سوا کسی میں پناہ گاہ مت تلاش کرو۔ایک بے چین انسان کہیں خوش نہیں رہ سکتا۔ 

وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے۔ اریزہ کا دماغ بھک سے اڑا۔

کچھ بھئ بول رہے۔ اسے غصہ آگیا۔گوارا کو اٹھنے کا اشارہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔پجاری صاحب کی آنکھیں بند تھیں۔ اتنے پکے ہیں تو پتہ لگے کہ اب انکا سامع کوئی ہے ہی نہیں۔ اسکے دل میں یہی خیال آیا تھا۔ گوارا اسکے تیور دیکھتے خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

گوارا کیا پوچھ رہی جواب کیا دے رہے۔ 

اس نے سر جھٹکا۔ 

جو تمہیں جاننا ہے میں بس وہی بتا رہا ہوں۔ 

پجاری صاحب نے جواب دیا تھا وہ کمرے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی کہ قدم رک سے گئے۔ گوارا بھی حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگی۔

انہوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ 

کسی کے دل کا حال کون جان سکتا؟  کون سچا ہے ۔ کون اچھا ہے یہ تو بعد کی بات ہے پہلے خود اپنے آپ کو جانو بیٹا۔  باقی آگے کیا ہوگا زندگی میں انسان کے فیصلے طے کرتے ہیں نا۔ 

خدا طے کرتا ہے۔ اس نے پلٹ کر انہیں دیکھتے جتایا۔ 

بے شک۔ ۔۔۔ مگر

خدا آپکی خواہش پر آپکے مانگنے پر عطا کرے گا یا نہیں یہ بھی تو طے کرتا ہے نا۔ 

وہ مسکرادیئے۔ اریزہ لاجواب سی ہوئی تو رکی نہیں سیدھا ناک کی سیدھ میں بڑھتی گئ۔ گوارا نذرانہ دیتی خدا حافظ کہہ کر جب تک باہر آئی وہ ہوپ کے ساتھ دالان بھی پار کرچکی تھی

ہا ہا۔۔ یہ کیا چل رہا تھا ۔۔ ہوں ۔۔۔  (پھولی سانسیں )تمہارے اور پجاری صاحب کے بیچ۔ 

وہ اتنئ متجسس تھی کہ بھاگنے سے پھولی سانسیں بھی ہموار نہ کیں آکر ان دونوں کے بیچ میں لینڈ کرتے پوچھا۔ 

مجھے کیا پتہ۔ اریزہ نے جان چھڑائی

کیا چل رہا تھا۔ 

ہوپ کو دلچسپی ہوئئ۔ 

یہ چپ شکل دیکھ رہی تھی پجاری صاحب اسکو ایسے جواب دے رہے تھے جیسے اسکو اسکی باتوں کا جواب دے رہے ہوں۔ اور یہ اسکی شکل دیکھنے والی تھی آپکو کیسے پتہ چلا؟ منہ پر بڑا بڑا لکھا تھا۔ 

گوارا ہاتھوں کے اشارے کے ساتھ بتا رہی تھی۔ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ 

کیا واقعی کوئی روح ووح تو نہیں بلا رکھی تھئ انہوں نے۔ جادو وغیرہ کے ماہر ہوتے ہیں یہ شیمن وغیرہ۔ 

یہ پجاری لوگ سالوں تپسیا کرکے ہیپناٹزم فیس ریڈنگ اور مائنڈ اسسیسمنٹ وغیرہ سیکھتے ہیں۔ ہوپ نے غبارے سے ہوا نکالی جیسے۔

سیڑھیاں اترتے اس نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔ 

اب میری شکل دیکھ کر نہیں بولے ماضی میں نہ رہو مستقبل کا نہ سوچو حال پر توجہ دو بلا بلا او ریہ دونوں بہنیں ہیں تمہاری۔۔ 

ہیں یہ کہا انہوں نے؟ گوارا حیرت سے چیخ پڑی۔ 

سنا نہیں تھا تم نے۔ ہوپ کو اسکی مصنوعی حیرانی پر اکتاہٹ ہوئی

چینی میں بولے تھے تم سے ہمیں کیا پتہ کیا کہا۔ گوارا نے یاد دلایا تو وہ سر ہلانے لگی 

ہاں۔ بس یہی کہہ رہے تھے ان دونوں کو دیکھو بہنیں مل گئ ہیں کافی نہیں ماضی بھلانے کو۔ 

ہوپ نے کہتے ہوئے پلٹ کر دیکھا دوسری بہن کئی سیڑھیاں پیچھے سوچ میں گم اتر رہی تھی۔ گوارا نے بھی اسکی تقلید میں مڑ کر دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی

کیا ہوا؟ اریزہ جلدی کرو دیر ہورہی ہے ہمیں۔ 

مغرب سے پہلے واپس پہنچنا ہے ہمیں۔

گوارا کے چلانے پر وہ بری طرح چونکی تھی اتنی کہ لڑکھڑا گئی۔ 

آرہی ہوں۔ اس نےسنبھل کر تسلی دی اوررفتار بھی بڑھائی۔ 

ہولا ہاتھ رکھو ڈرا دیا اسے یہاں سے گرتی تو آخری سیڑھی تک جانا تھا اس نے۔ 

ہوپ نے گوارا کو ڈانٹ ہی دیا۔ 

گوارا نے بھنا کر کچھ کہنا چاہا پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے داب لی۔ وہ اسکے لیئے بڑی بہن کے برابر تھی اور وہ بنا لحاظ جانے کیا کیا کہتی آئی تھی اسے۔ 

تم اب کس مزہب پر ہو، ؟ 

گوارا نے یونہی سوال کیا اسے گھورتے پایا تو ذرا تمیز کے جامے میں آتے کندھے پر پرس بلا وجہ درست کرتے ہوئے جملہ درست کیا۔ 

میرا مطلب اب تو آپ شمالی کوریائی نہیں ہیں نا اب تو کوئی مزہب اپنا سکتی ہیں۔ 

میں کسی مزہب پر نہیں ہوں۔ 

اس نے مختصر جواب دیا

بدھ سب سے معصوم سادہ سا مزہب ہے اس پر آجائو نہ کوئی روز کی عبادت کی شرط نا ہی کوئی لمبے چوڑے فرائض ۔ بس جیو اور جینے دو کا اصول ہے۔ 

گوارا یونہی بات برائے بات ہی کہہ رہی تھئ۔

ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔ اریزہ انکے قریب آچکی تھی۔ پھولی سانسیں رنگ پھیکاپڑتا 

اسکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہئ  سفید پڑی گئ ہے یہ۔ 

ہوپ نے فکر مندی سے اسکی ٹھنڈی پیشانی چھوئئ۔ گوارا کو بھی پریشانی ہوئی

کیاہوا اریزہ تم ٹھیک تو ہو؟ 

ٹھیک ہوں بس تھک گئ ہوں۔ 

اس نے تسلی دینے کو کہا تھا۔ 

بس اب گھر ہی چل رہے ہیں مجھے اندازہ تھا تم سے اتنی اونچائی پر چڑھا نہیں جائے گا آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور تمہیں اتنی ٹھنڈ کہ عادت بھی نہیں۔ پانی پیو گی؟

تم سے چلا نہیں جا رہا تو ہم پگی بیک رائیڈ دے دیتے ہیں تمہیں۔ آدھا راستہ میری پشت پر بقیہ آدھا گوارا کی پشت پر سواری کر لو۔

ہوپ نے آئیڈیا دیا 

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ گوارا فورا مان گئ

گوارا اور ہوپ کا بس نہیں تھا گود میں اٹھا لیں 

اسے ہنسئ آگئ۔ 

بس کرو اتنی محبت کہاں سمیٹ پائوں گی میں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیڈ پر پڑی وہ چھت پر نگاہ جمائے چت لیٹی تھی۔ گرم بستر گرم کمرہ پیٹ بھر کر کھانا سب ملا تھا۔ مگر محبت چھن جانے کے بعد۔ ایڈون کا چہرہ اسکے کہے جملے اسکے ذہن سے چپک گئے تھے۔ اس وقت تجزیہ کرنے کا موقع نہیں تھا۔ اسکے سرہانے ڈرپ کا اسٹینڈ رکھا تھا جس سے قطرہ قطرہ ڈرپ اسکے سفید پڑے ہاتھ میں سوئی کے ذریعے رگوں میں داخل ہو رہی تھی۔ دوسرا ہاتھ وہ سینے پر رکھے تھی وہی ہاتھ اٹھا کر اس نے اپنی سپید پڑتئ ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔ 

کیا ملا مجھے۔ میں تو خالی ہاتھ ہی رہ گئ ہوں ۔  اس نے یاسیت سے سوچا۔ 

چند گھنٹوں قبل ایڈون سے ملاقات کا منظر ابھی بھی نگاہوں میں تھا۔ 

اسکے قطیعت بھرے انداز میں ہر رشتے کو ختم کرنے کا اعلان سن کر اس کو لگاتھا کہ اسکے جسم سے روح ہی نکل گئ ہے بظاہر وہ خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئ تھی ایڈون کا وکیل اندر آکر اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔ جانے کتنا وقت گزرا وہ کتنی دیر اکیلی بیٹھی رہی اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ڈیڈا اسکو پکارتے ہوئے ہلا رہے تھے وہ بس ساکت بیٹھی رہی تھی۔ اسے پھر نہیں یاد کس نے سہارا دیا اسے فوری طور پراسپتال لے جایا گیا تھا وہ مکمل بےہوش نہیں تھی مگر حواس میں بھئ نہیں تھی۔ فورئ طبی امداد سے کئی گھنٹوں بعد وہ مکمل ہوش میں آئی تھی تو بند آنکھوں سے اس نے ڈاکٹر کو کہتے سنا تھا۔   

بہت کمزور ہے ماں۔۔  بچے کی بھی جان کو شدید خطرہ ہے۔ مکمل بستر پر رہے کم ازکم اگلے د ومہینے۔ تھکن بالکل نہیں لینی خوراک کا خاص خیال رکھنا ہے۔ کچھ سپلیمنٹس ہیں انکو مستقل استعمال کرائیں فی الحال کچھ انجیکشن لگنے ضروری ہیں اور فوری توانائی کیلئے ڈرپ لگے گی۔ 

وہ کوئی ہندوستانی ڈاکٹرنی تھی جس نے اسکا مکمل معائنہ کرتے ہوئے تاکیدوں کے ڈھیر لگا دیئے تھے۔ غنیمت تھا کہ وہ اردو بول رہی تھی ورنہ وہ جس ذہنی کیفیت کا شکار تھی کسی اور زبان کو سمجھنا مشکل تھا اسکے لیئے۔ ایک نہیں دو تین ڈرپیں اسے وقفے وقفے سے لگی تھیں۔ رات کے بارہ بج رہے تھے وہ مکمل بیدار ہو پائی تھئ اب اور لگا تھا کہ جسے چند پل ہی گزرے ہوں گے جب ایڈون ۔۔۔ 

 کمرے کا دروازہ ہلکا سا چرچرایا تھا اس نے بنا ہلے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ یہ یقینا اسکی خدمت پر معمور نرس تھی جسکا کام ہر دو گھنٹے بعد آکر اسے دیکھنا تھا۔۔

اسے سوتا سمجھ کر بے حد احتیاط سے اس نے ڈرپ بند کی تھی اس پر کمبل درست کیا تھا۔ کینولا کے ذریعے ہی ایک ٹیکا لگایا تھا۔ 

دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر بھی چند لمحے اس نے انکے جا چکنے کا یقین کیا تھا پھر آنکھیں کھولی تھیں۔چت لیٹے لیٹے تھکن ہو گئ تھی سو تکیہ درست کرتے وہ بیڈ کا سہارا لیکر نیم دراز ہوگئ ۔  سائیڈ ٹیبل پر شاپر رکھا تھا۔کچھ پھل تھے سوپ ڈھکا رکھا تھا۔ بھوک محسوس ہو رہی تھی اس نے شاپر سے سیب نکال لیا۔ پھلوں کے ایک اور بھی خاکی لفافہ تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کالیمپ آن کیا میز کا سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔ 

لفافہ کھولا۔ مختصر سا نوٹ تھا۔ 

ہو سکے تو مل کر واپس جانا ۔۔ میری دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔

ایک کارڈ تھا۔ نوٹ انگریزئ میں تھا اور کارڈ مکمل ہنگل میں اسے ہنگل پڑھنی نہیں آتی تھی پھر بھی اس نے کارڈ پہچان لیا تھا یقینا یہ کم سن تھا۔

پرسوں صبح کی فلائٹ تھی یہاں سے دبئی کی۔ اسا دانہ پانی کوریا سے اٹھ گیا تھا۔

کیا ملوں گی میں؟ ہاں شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اور سیب کھانے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر پہنچنے تک اسے بخار چڑھ گیا تھا۔ گوارا کی امی نے اسکے خوب لتے لیئے تھے۔ 

اتنئ سردی میں اتنی سیڑھیاں کیوں چڑھوائیں؟ 

اسے یہاں کے موسموں کا کیا پتہ؟ 

وہ  اسکے سرہانے بیٹھ کر سر دباتے ہوئے مستقل گوارا کو ڈانٹ رہی تھیں۔ 

اسی نے کہا تھا جان کھا لی مندر جانا ورنہ آپکو بھی پتہ ہے مجھے مزہب میں ذیادہ دلچسپی نہیں۔ اسکو مندر دیکھنے کا شوق چڑھ آیا تھا۔

تھوڑی دیر خاموشی سے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ بلبلا کر بولی تھی۔

میرے سامنے زبان مت چلایا کرو تمہاری وجہ سے تمہارے باقی بہن بھائئ بھی شیر ہوتے ہیں۔

اب نئئ ڈانٹ پڑ گئ۔ 

ہوپ مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ گوارا چڑ گئ۔آہموجی نےاریزہ کو اپنے ہاتھوں سے سبزیوں کا سوپ بنا کر پلایا۔ قہوہ پلایا۔ جب تک سو نہ گئ وہ اسکے سرہانے بیٹھی رہیں۔ گوارا اور ہوپ وہیں اپنے بستر پر لیٹ گئیں ۔ جب اریزہ نے گہری نیند میں کروٹ بدلی تب جا کے وہ اسکے اوپر کمبل درست کرتی اٹھی تھیں۔ احتیاط سے دروازہ کھول کر باہر آئیں تو یوسب اپنے لیئے کھانا نکال کر باہر لائونج میں بیٹھ رہا تھا

تم کب آئے۔ ؟

وہ حیران ہوئیں

جب آپ اپنی نئی بیٹی کو تھپکیاں دے کر سلارہی تھیں۔ 

اسکا چڑا ہوا جواب آیا تھا۔ وہ مسکرادیں۔ 

اسکی طبیعت خراب تھی۔ آہمی آہمی پکار رہی تھی بخار میں ۔ جانے اسکی ماں زندہ ہے یا نہیں مجھ میں اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ترس آیا مجھے ۔ بالکل گوارا لگی مجھے۔ ایسے جتنی زبان چلا لے مگر ذرا سی طبیعت خراب ہو تو مجھے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتی۔ 

وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

ہاں سب لٹا دی محبت بیٹیوں پر بیٹوں کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے آپکے پاس وہ چاہے ٹھنڈا کھانا کھائیں یا کھائیں ہی نا۔ 

وہ منہ بنا کر کہتا ٹی وی آن کر رہا تھا۔ 

کھانا وہ رات کا انکے ساتھ ہی کھاتا تھا جبھی خفا تھا۔ وہ مسکرادیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرم گرم مٹر پلائو دیکھتے ہی اسے اریزہ یاد آگئ تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے چاول کی ڈش اٹھا کر اپنی پلیٹ میں چاول نکالے۔ خالو رات کو چاول نہیں کھاتے تھے سو انکے لیئے قیمہ مٹر بنا تھا۔ خالہ خود بھی چاول شوق سے نہیں کھاتی تھیں سو روٹی کھا رہی تھیں۔ 

ایک منٹ۔ 

اس نے فورا محسوس کر لیا۔ 

خالہ آپ صرف میرے لیئے الگ اہتمام مت کیا کیجئے اب جب مٹر قیمہ تھا تو آپ نے الگ سے پلائو کیوں بنایا میں بھی کھا لیتا یہی ۔ 

اس کے تکلف پر جبین مسکرا دیں

تو کیا ہوا دو منٹ میں بن جاتا ہے کونسا مشقت کرنی پڑتی ہے پلائو بنانے میں۔ میرا بیٹا شوق سے کھاتا ہے مٹر پلائو تو میں ۔۔ 

وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

ہاں دو ڈشیں بنانے میں کونسا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمیشہ ہی تمہاری خالہ سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی آئی ہیں۔ 

خالو کا انداز بتاتا تھا وہ کس موڈ میں بولے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے وہ رات کو ہی بس کھانے کے وقت گھر آتے تھے اور تقریبا روز ہی انکی کسی نا کسی بات پر نوک جھوک ہوجاتی تھئ۔

آپ تو عورتوں کو بھی مات کرنے لگے ہیں طعنے دینے میں۔ 

وہ حسب توقع بری طرح چڑ گئیں۔ 

لو ایک تو تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔ بیٹے کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہو ایک وقت میں دو طرح کے کھانے بنا رکھتی ہو تھکتی بھئ نہیں ہو اب۔

وہ تپا چکے تھے جبھی اب ٹھنڈے میٹھے انداز میں بول رہے تھے۔ 

جانتی ہوں اس تعریف کا مطلب اچھی طرح۔ 

وہ بڑبڑا کر رہ گئیں

اریزہ بھی کل مٹر پلائو کھارہی تھی۔ اسکی کورین سہیلی کی ماں نے بنایا تھا۔ کہہ رہی تھی مزے کا ہے۔ مگر انہوں نے اس میں سالن ڈال دیا تھا۔ رونے والئ ہوئی وی تھی۔

اس نے بات بدلنے کی نیت سے قصہ سنایا مگر خیال آیا کہ سور والی بات جانے بتانی چاہییے یا نہیں سو بروقت زبان کو بریک بھی لگالی۔ 

سالن ڈالنے میں رونے کی کیا بات۔ اکثر لوگ سالن ڈال کر کھاتے ہیں چاول۔ 

جبین حیران ہو رہی تھیں۔ اس نے وضاحت نہیں کی۔ خالو کا کھانا کھاتے کھاتے دل اچاٹ سا ہوا روٹی ہاٹ پاٹ میں رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

اے اب کھانا تو پورا کھا لیں کہاں جا رہے ہیں؟

جبین نے ٹوکا مگر وہ بھوک نہیں ہے کہتے چائے کی فرمائش داغتے کمرے میں چلے گئے۔

وہ بول کے پچھتا رہا تھا کھانے میں اسکی بھی دلچسپی ختم ہو گئ تھی مگر خالہ کی وجہ سے ساتھ دینے کو کھانا زہر مار کرتا رہا۔

اریزہ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ سردی سنا ہے کوریا میں سخت پڑتی ہے۔ اسکو تو فورا بخار ہوتا تھا سردی میں۔ بڑی احتیاط کرنی پڑتی تھی مجھے اسکی۔ 

نوالہ بناتے وہ بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھ رہی تھیں حقیقتا رواں رواں کان بنا ہوا تھا۔ 

ٹھیک ہے۔ آجکل سہیلی کے گھر آئی ہوئی ہے۔ خوب گھوم پھر رہی ہے۔ تصویریں لگا رہی ہے انسٹا پر دکھائوں؟۔

اس نے پوچھنے کے ساتھ ہی موبائل نکال لیا۔ کرسی گھسیٹ کر انکے برابر کرتے ہوئے انکو تصویریں دکھانے لگا۔

بہت کمزور ہوگئ ہے؟ کھاتئ پیتی نہیں ہوگی نا۔ اتنے تو نخرے تھے کھانے میں اسکے۔ 

ماں نے سب سے پہلے بھانپا تھا کہ اس نے وزن کم کر لیا ہے۔ پرفضا مقام پر پہاڑوں کے درمیان ہنستی مسکراتی اریزہ بے حد خوش دکھائی دے رہی تھی۔ 

انکی آنکھیں جھلملا سی گئیں۔۔۔ 

اب بات ہو تو پوچھنا اس سے ۔۔ 

کہتے کہتے وہ رک سی گئیں۔ 

کیا ؟ وہ ہمہ تن گوش ہی تو تھا۔ 

یہی خیریت وغیرہ۔ تم چائے پیوگے؟ 

وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پلیٹیں سمیٹتے ہموار لہجہ معمول کا انداز انہیں جیسے دلچسپی ہی نہ تھی تصویروں میں۔ وہ انکے خیال سے اسکی درجنوں تصویریں دکھانے بیٹھا تھا ۔۔ 

جی۔ صارم مایوس سا ہوا۔ 

جانے آج دل کیوں بیٹھا جا رہا ہے۔ وہ برتن اٹھاتے بڑبڑائی تھیں۔ 

آپ بیٹھیں میں سمیٹ دیتا ہوں بلکہ چائے بھی بنا دیتا ہوں۔ وہ فورا اٹھا تھا وہ واپس کرسی پر بیٹھ گئیں۔ مروتا بھی انکار نہیں کیا۔۔۔ دل ہی عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے دفتر میں بیٹھا وہ کچھ ضروری امور دیکھ رہا تھا جب اسکو موبائل پر کال آئی۔ انجان نمبر دیکھ کر اس نے بے دھیانی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا 

یوبوسیو۔ 

آنیانگ ہاسے او۔ سنتھیا بات کر رہی ہوں۔ 

پوری دنیا ختم ہو رہی ہوتی اور سنتھیا اور وہ آخری دنیا میں رہ جانے والے انسان بچتے تب بھی اسے گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اب اسے کال کرے گی۔ 

کیسے ہو؟ وہ انگریزی میں احوال پوچھ رہی تھی۔

ٹھیک ہوں تم کیسی ہو طبیعت کیسی ہے؟

اس نے بے تابئ سے پوچھا تھا جوابا وہ چپ سی رہ گئ

ٹھیک ہوں۔ میں آج واپس جا رہی ہوں سوچا تمہیں خدا حافظ کہہ دوں۔ تم نے مجھ پر جتنے احسان کیئے جتنا میرا خیال رکھا اسکا بدلا تو نہیں اتار سکتئ مگر دل سے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ بہت بہت شکریہ کم سن ۔ تم بہت اچھے انسان ہو خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ 

کہاں ہو تم؟ 

کم سن نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا 

میں۔ وہ رکی پھر بتا دیا

اسپتال میں ہوں۔ 

کونسے؟ 

اس نے وقت ضائع کیئے بنا پوچھا

نام تو مجھے نہیں پتہ۔ اس نے موبائل کان سے لگائے سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا جو اسکے کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹا رہی تھی۔ اسے اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھنٹے بھر میں وہ اسکے سامنے تھا۔صوفے پر بیٹھا اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ 

وہ ابھئ ناشتہ کرکے فارغ ہوئی تھی۔ نرس اسکا منہ صاف کروا رہی تھی۔  رات دیر تک جاگی تھی صبح دیر تک سوتی رہی تھی۔ اس وقت کچھ طبیعت پرسکون تھی۔ اسے دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ سجا کر وہ بیڈ اونچا کروا کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ نرس اسکا بیڈ اونچا کرکے اسے ذیادہ دیر نہ بیٹھے رہنے کی تاکید کرتی باہر نکل گئ۔ نرس کے جاتے ہی وہ اٹھ کر اسکے قریب آکھڑا ہوا تھا۔

تم نے اچھا کیا تم آگئے۔ میں تمہارا دوبدو شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ تم نے جو میرے لیئے کیا۔ 

وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کم سن نے بات کاٹ دی

تم سفر نہیں کر سکتی ہو پھر کل جانے کا مطلب؟

اس نے بلا تمہید سوال کیا تھا۔ 

میں یہاں رہ نہیں سکتی ۔ ڈیڈا کے ساتھ واپس جانا ہے مجھے۔

اس نے کمزور سی آواز میں کہتے ہوئے سر جھکا لیا۔

کیوں کیا مجبوری ہے؟ تمہاری طبی حالت ایسی ہے کہ آرام سے تم کوریا میں رہ سکتی ہو اس بچے کی پیدائش تک  کوئی تمہیں ہوائی سفر پر مجبور نہیں کرسکتا۔ 

کم سن کا انداز۔ اسکی فکر۔ اس نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے پھر ہونٹ بھینچ لیئے۔ وہ یقینا اچھا انسان تھا جو کسی انجان لڑکی کیلئے اتنا فکر مند تھا لیکن وہ اس کو کیا بتائے کیسے بتایے سب سے بڑھ کر کیوں بتائے اپنی مجبوریوں کی داستان۔ 

تم بیٹھو تو ۔ یہ میں نے کچھ ریفرشمنٹ بھئ منگوائی تھی معزرت تمہیں خود زحمت کرنی پڑے گی۔ اس نے وزیٹنگ صوفے کے سامنے رکھی سینٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے بات ہی بدل دی۔ اسکو وی آئی روم دیا گیا تھا۔ اسکے بیڈ اور دیگر سہولیات تو جو تھیں ایک حصے میں مہمانوں کیلیئے صوفہ سیٹ بھی لگا ہوا تھا۔ میز پر بڑا سا شاپر بھی رکھا ہوا تھا۔ کم سن بھنا ہی گیا

بات مت بدلو۔وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔

 تم پاکستان مت جائو ۔ یہیں رکو۔ تمہارے ڈیڈا اتنا تو خرچہ اٹھا سکتے ہیں تمہارا کہ یہاں کوئی رہائش کا انتظام کر سکیں ۔ یہاں چیریٹئ کے بھئ بہت سے نرسنگ ہومز ہیں ۔ تمہارا یہاں کوئی انتظام کیا جا سکتا ہے اور تم یہاں اکیلی بھی نہیں ہو ایڈون ہےاریزہ ہے ہم سب ہیں ۔ 

وہ کہنا چاہتا تھا میں ہوں مگر جانے وہ اسکا مطلب کیا لیتی سو اپنی بات کہہ گیا سنتھیا ہنس دی۔ 

بس ہنس کر چپ ہی رہی۔ کم سن کو اپنا آپ ایکدم چغد سا لگا۔یعنی اسکی بات بچکانہ سمجھ کر ہنس کر ٹال دی گئ تھی۔

سنتھیا میں سنجیدہ ہوں۔ 

وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔ سنتھیا مسکرا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

تمہارا ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میری جتنی مدد کی جتنی فکر کی میں واقعی احسان مند ہو گئ ہوں تمہاری۔ کوریا کے بارے میں کم ازکم ایک اچھی یاد جڑ گئ ہے میری۔ تمہاری وجہ سے۔ 

اسکا انداز نپا تلا تھا ۔ وہ بہت سلیقے سے اسے اب جانے کا کہہ رہی تھی۔ کم سن اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ سمجھ نہ پاتا ہونٹ بھینچے وہ بلا ارادہ اسے دیکھتا رہ گیا۔بس اتنا ہی تو تعلق تھا ان میں۔ اس نے خدا واسطے ایک انجان ملک کی لڑکی کی مدد کی جوابا وہ شکریہ ادا کررہی تھی مزید اور کیا ۔۔ 

یہ میں تمہیں دینا چاہتی تھی۔ اسے جیسے کچھ یاد آیا تھا۔ اپنے بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی دراز سے اس نے ایک موٹا سا سفید کاغذکا لفافہ نکالا۔اسکی جانب بڑھا کر بولی 

یہ امانت تھی تمہاری۔ 

اس نے میکانکی انداز میں اسکے ہاتھ سے لفافہ لیا۔ کھول کر دیکھا تو وون کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا

مجھے درست اندازہ تو نہیں کہ اسپتال کے اخراجات پر تمہارا کتنا خرچ آیا ہوگا۔ لیکن یہ میری جانب سے شکریے کا نذرانہ ہے۔۔

کم سن کو ہنسی آگئ 

مٹھی بھر نوٹ بس۔  اتنی سی قیمت لگی۔ 

یہ بہت کم ہیں۔ اس نے نوٹ واپس لفافے میں رکھ کر لفافہ اسکی جانب بڑھا دیا

وہ انکار کرے گا لینے سے منع کرے گا وہ تھوڑا اصرار کرکے منا لے گی وہ اتنے خرچے ایک مخلص انسان کے کروا کر پاکستان جا بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہر حال پیسہ ایک حقیقت ہے۔ مگر اس کے سب ردعمل سوچتے اس نے یہ کم از کم نہیں سوچا تھا کہ وہ پیسے واپس کرتے کہے گا یہ کم ہیں۔ 

اسے ڈیڈا سے مزید رقم کا انتظام کرنے کا کہنا چاہئےتھا اسکا یقینا کافی ذیادہ خرچہ ہوا ہوگا۔

میں ڈیڈا سے مزید وائر کروادیتی ہوں۔ وہ الرٹ سی ہو کر بیٹھی۔ اب تو ڈیجیٹل بھی بھیجا جا سکتا ہے خوامخواہ کیش کی زحمت کی۔ 

وہ سوچ رہی تھی۔ بیڈ سائیڈ سے فون اٹھا کر ڈیڈا کو کال ملائے۔ ۔کم سن نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر روک کر اس پر لفافہ رکھا۔ 

جو میرا خرچ ہوا ہے وہ وقت تھا جزبے تھے۔ انکی قیمت پیسوں میں تولی نہیں جاسکتی۔ کبھی وقت یا جزبوں سے مول لگا سکو تب رابطہ کرنا۔ 

سنتھیا کا دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدلا پیشانی پر شکن آگئ۔ 

کیا مطلب ہے اس بات کا۔ وہ چٹخ کر بولی۔

کم سن  گہری سانس لیکر بنا جواب دیے جانے کو مڑا۔ پھر خیال آیا تو رک کر بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بولا

بہت طویل عرصہ میں نے گزارا ہے کسی کیلئے یک طرفہ محبت میں جلتے سلگتے۔ ساتھ کھڑے ہونا مگر پس منظر کا حصہ بن جانا۔ اور تمہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا یہ بد قسمتی صرف میرے حصے میں نہیں آئی ہے۔ اور بھی لوگ ہیں دنیا میں جو پاس ہو کر بھی نارسائی کی آگ میں جلتے ہیں۔۔ یہ میں جانتا تھا کیونکہ۔۔۔

وہ رکا تھا۔ سانس لی تھئ شائد۔ سنتھیا دم سادھے سن رہی تھی۔

۔۔۔۔دراصل تمہیں دیکھتا تھا میں اتنا دیکھتا تھا کہ۔۔۔ 

اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔پلٹ کر ناگواری سے گھورتی سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

تم ایڈون کے سوا کسی کو دیکھتیں تو شائد مجھے تمہیں دیکھتا دیکھ لیتیں۔

سنتھیا بھونچکا سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا ۔ رک سکتا ہی نہیں تھا آنکھیں ہی بھرآئی تھیں۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے اس نے رفتار بڑھاتے بس یہی سوچا تھا 

پھر میں۔۔۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

جاری ہے 

Rating
https://desikimchi.com/cast-away-diva-first-impression-urdu-review/
https://desikimchi.com/concerete-utopia-korean-movie-2023-honest-urdu-review/
https://urduz.com/din-ki-neeli-chirya%d8%af%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%86%db%8c%d9%84%db%8c-%da%86%da%91%db%8c%d8%a7/

Ju hay pas e dewaar udas urdu shayari

نوشتہ دیوار پڑھیئے

جو ہے پس دیوار پڑھیئے

کون کس کا راستہ روک سکا ہے آج تک

ہو سکے تو تاریخ کے ادوار پڑھیئے

خاک چھانتے گزری ہو اک عمر جنکی

انکے چہروں پرہی لکھا ہےآدم بیزار پڑھیئے

انکی خواہش رہی کہ پا لیں چہرے سے راز دل

ارےمیرے لفظوں میں درج ہے میرا احوال پڑھیئے

ایسی بھی کیا قنوطیت کہ سب خوش کن احساس مار لیئے

جواب ہجوم کے پاس نہیں، آپ تنہائی میں زیست کے اوراق پڑھیئے

از قلم ہجوم تنہائی

Thora sa pyar Hua hay urdu short story

افسانہ: تھوڑا سا پیار ہوا ہے۔۔۔
مصنفہ: واعظہ زیدی

نجانے اس دن اسکے دل میں کیا سمائی کہ اپنا ماضی روزینہ کے سامنے کھول بیٹھا۔
راحیلہ ایسی تھی یوں کرتی تھی ۔۔۔اس کے ساتھ اچھا وقت گزرا مگر کس طرح اسکے گھر والوں بنا اس سے پوچھے اسکا رشتہ خاندان میں طے کردیاوہ کتنا روئی یہ خود کتنا رویا بے بسی کی انتہائیں خودکشی تک کا سوچا وغیرہ۔
روزینہ عام بیویوں کی طرح اس سے جھگڑنے کی بجائے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی رہی۔خاموشی سے۔۔ اتنا کہ اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا۔
اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا۔۔
شکر ہے تم میری بیوی سے ذیادہ میری دوست ہو۔ یہ باتیں میں آج تک کسی دوست سے بھی نہ کہہ
پایا۔کجا تم سے کہہ ڈالا۔

روزینہ نے اسی متانت سے سر ہلایا اپنے کام میں مگن ہوگئ۔
پھر تو جیسے اسکے اندر کی گھٹن کو روزن مل گیا۔ پہلا پیار کہاں بھولتا کسی کو۔ اور پہلا پیار کا ذکر کون نہ کرنا چاہے گا۔ پرانی یادیں باتیں قصے۔۔
۔کیا کچھ وہ دل میں دبائے تھاقسمت سے بیوی اچھی مل گئ جو اسکی نا صرف دل جمعی سے سنتی بلکہ کبھی کبھی لقمہ بھی دے ڈالتی
آپ ابھی بھی بہت یاد کرتے ہیں ناراحیلہ کو۔
ہاں۔ وہ صاف گوئی سے کہتا۔
مگر اب سوچتا ہوں وہ مل جاتی تو مجھے تم جیسی شریک حیات کہاں ملتی۔ سچ پوچھو تو مجھے ان تہجد کی نمازوں کا دعائوں کا شکوہ جاتا رہتا یے جو نا مقبول ہوئیں اور مجھے راحیلہ نہ مل سکی۔ مگر اللہ نے اجر کی صورت تم دے دیں مجھے۔۔

روزینہ شرارتی سے انداز میں ہنستی۔۔
یوں کہیں نا تھوڑا سا مجھ سے بھی پیار ہو گیا
ہے۔۔
اس دن بھی جب روزینہ خاموشی سے کپڑے تہہ کرتی اسکی سنے جا رہی تھی
روزینہ مجھے تم سے بھی پیار ہو چلا ہے۔۔
یکدم ہی اس نے بات بدل کر کہا تو وہ مسکرا دی
تھوڑا سا ؟؟؟؟اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔
وہ بھی ہنسا۔ پھر گنگنانے لگا۔۔
تھوڑا سا پیار ہوا ہے تھوڑا ہے باقی۔۔۔
ویسے روزینہ تھوڑا سا اور پیار ہو جائے نا مجھے تم سے میں راحیلہ کو بھول جائوں گا۔۔
وہ جزباتی سا ہو چلا۔۔
راحیلہ تو آپکا پہلا پیار ہے کیسے بھول سکتے ہیں معاذ آپ۔
وہ رخ پھیر گئ تہہ شدہ کپڑے اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔
وہ سانس روکے اسے چند لمحے دیکھتا ہی رہ گیا۔
اسکو لگا روزینہ کی آنکھوں میں نمی سی جھلکی ہے۔۔ اتنی صابر محبت کرنے والی بیوی سے تھوڑی سی سہی مگر اسے بھی تو محبت ہو گئ تھی۔ تڑپ ہی تو گیااٹھا اسکے قریب چلا آیا کندھوں پر ہاتھ رکھ کر جزب سے بولا
پہلا پیار کبھی بھول نہیں سکتا مگر روزینہ وعدہ ہے تم سے تمہارے سوا اب زندگی میں کوئی نہیں آئے گا۔۔
سچ ۔
روزینہ بھیگی پلکوں کو جھپکتے آس سے دیکھ رہی تھی۔
مچ۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلادیا۔۔
وہ دن آخری دن تھاجب میں نے راحیلہ کا نام لیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے روزینہ سے بھی بہت محبت ہوگئ ہے اتنی کہ میں بس اسکو چاہتا ہوں اتناکہ اسکے دل و دماغ میں بلا شرکت غیرے راج کرنا چاہتا ہوں۔۔
یہ تھی میری کہانی ۔۔ اب میری زندگی کا محور بس میری بیوی ہے اب راحیلہ کا ذکر ہمارے درمیان نہیں ہوتا۔۔ مجھے وہ یاد بھی نہیں آتی۔۔میرا پہلا پیار تو موسم سا تھا اچھا تھا گزر بھی گیا۔میری حقیقت میری بیوی ہے۔۔ میری روزینہ اور روزینہ کا میں۔ صرف میں یعنی ساعد مراد۔

Kesi lagi apko yeh kahani? rate us below

Rating

Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 38

Salam Korea
by vaiza zaidi

salam korea episode 38


قسط 38
صبح سب سے پہلے گوارا کی آنکھ کھلی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی جھلا گئ۔ کیونکہ آنکھ کھلنے کی وجہ تھی مسلسل بجتا موبائل۔ اس نے ہاتھ مار کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا تو دس بج رہے تھے۔ کروٹ بدلی تو ہوپ کا چہرہ سامنے تھا۔
کم چاگیا۔ وہ بے ساختہ ڈر کر پیچھے ہوئی۔
ہوپ نے آنکھیں کھول کر کینہ توز نگاہوں سے گھورا۔
ذیادہ ڈرائونی شکل بنانے کی ضرورت نہیں تم ویسے ہی خوفناک ہو۔
وہ کہاں باز آسکتی تھی۔
فون تو اٹھا لو۔ ہوپ نے دانت کچکچائے۔
میرا نہیں بج رہا۔ وہ خود جھلائی ہوئی تھی۔ اس کے کہنے پر ہوپ نے کروٹ بدل کر پہلو میں بے خبر سوئی اریزہ کو گھورا۔ سر پر بجتے فون سے بے نیاز گہری نیند میں گم۔
اے اریزہ۔
گوارا جھلا کر ہوپ کے کندھے پر تھوڑی ٹکاتی کہنی کے بل اسکے اوپر سے جھانک کر چلائی۔
ہوں۔ وہ کسمسائی۔
فون آرہا ہے تمہارا۔
ہوپ اور گوارا اکٹھے بولی تھیں۔ اس نے مندی مندی آنکھوں سے کروٹ لیکر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ نا واقف نمبر تھا۔ اس نے سائلنٹ کرکے رکھا اور دوبارہ نیند میں گم ہونے کو تھی۔
اٹھو۔ہماری نیندیں اڑا کر تم سکون کی نیند نہیں سو سکتیں۔
ہوپ نے اسکے اوپر سے کمبل کھینچا۔
سونے دو نا پلیز۔
وہ نیند میں ڈوبی آواز میں بولی مگر گوارا اور ہوپ بخشنے کو تیار نہیں تھیں۔
اسے اٹھا کر بٹھا دیا۔
پہلے باتھ روم سے تو فارغ ہو لو۔
وہ دہائی دے رہی تھی۔
ہم قربانئ دے لیں گے پہلے تم جائو۔
گوارا نے حقیقتا قربانئ دی۔ وہ مشکوک نظروں سے دیکھتئ اٹھی باتھ روم میں گھسی۔ منہ ہاتھ دھو کر واپسی ہوئی تو بے ساختہ گوارا کی طرح ہی چلا اٹھی۔دونوں منہ تک کمبل تانے بے خبر سو رہی تھیں بظاہر کم از کم۔
اے ۔۔ےےے ۔ اٹھو دونوں۔
پھر خیال آیا تو انگریزی بولی۔
یا۔۔ کہتے ہیں ۔ آگاشی۔
گوارا کمبل سے سستی سے نمودار ہونا شروع ہوئی۔
ہم اے کہتے ہیں۔
اس نے جتایا۔
اے؟ اور بی کسے کہتے ہیں۔ ہوپ نے شائد مزاق کرنا چاہا تھا۔
بی بڑی بی کو کہتے۔ ہوپ بی اٹھ جائییے آپ کو دیر ہو گئ ہے آہجومہ۔
اریزہ نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے یاد دلایا۔
مجھے نہیں جانا آج میں کل استعفی دے آئی تھی۔
ہوپ سرسری سے انداز میں کہتی کمبل ہٹاتی اٹھ بیٹھئ۔
گوارا اور اریزہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
ہوپ تمہیں نہیں لگتا تمہیں سیشن لینے چاہیئے تھے۔ خود کشی کی ایک بار سوچ آجائے تو بار بار ذہن ایسے ہی گھمن گھیریاں کھاتا ہے۔ ہر چیز سے دل اٹھتا جاتا ہے او رصرف موت ہی پناہ گاہ
گوارا مزید بھی کہتی اس بار اریزہ او رہوپ اکٹھے چلائیں۔
یا۔ منہ بند کرو گوارا۔ اریزہ بھنائی
کھوجو۔ ( دفع ہو)۔ ہوپ نے بدمزہ منہ بنایا
میں دو نوکریاں کرکے ڈھیروں پیسہ جس مقصد کیلئے جمع کر رہی تھی وہ مقصد ختم ہوچکا تو مجھے اتنی بیگار لینے کی ضرورت نہیں۔
پھر اب کیا کروگی؟ اریزہ ہمدردانہ انداز میں اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
فی الحال سوچا نہیں۔ سوچنے کیلئے وقت ہی نہیں تھا۔ پینٹنگ کو سنجیدگی سے لوں یا۔
اس نے ابھی اتنا ہی کہا گوارا نے ہاتھ اٹھا دیئے
کچھ اور سوچو پینٹنگ تمہارے بس کا روگ نہیں۔ اتنا موٹا منہ بناتی ہو عمر میں دس پندرہ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے پورٹریٹ مکمل ہوتے تک اوپر سے ۔
وہ مزید بھی خوبیاں گنواتی اریزہ نے بستر سے کشن اٹھا کر اسکے منہ پر مارا۔ گوارا صدمے سے گھورتی رہ گئ۔
بس کرو ۔۔
اریزہ نے آنکھیں دکھائیں۔
تم بے وفا لڑکی۔ تمہاری تو۔ اس نے لپک کر زمین سے کشن اٹھا کر واپس اسے دے مارا وہ تیزی سے پیچھے ہوئی اس بار ہوپ نے بدلہ لیا اور تکیہ اسے دے مارا۔ گوارا اپنے مخالف ٹیم بنتے دیکھ کر خم ٹھونک کر میدان میں اتری۔
ہوپ اور گوارا میں گولا باری شروع ہوئی تو اریزہ کو ہی صلح کا جھنڈا لہرانا پڑا۔ دونوں اپنے اپنے تکیئے تلوار کی طرح چلاتی آگے بڑھیں تو اریزہ رضاکارانہ طور پر بیچ میں آکر وار سہہ گئ۔
بس کرو تکیئے پھٹ جائیں گے۔
اریزہ کے کہنے پر دونوں کو ہاتھ روکنے پڑے۔
بیڈ پر ٹک کر دونوں ہانپنے لگیں۔ اریزہ بھی دھپ سے دونوں کے بیچ آ بیٹھی۔
یاد ہے پہلی دفعہ جب میں آئی تھی تب بھی تم لوگ ایسے ہی تکیوں سے لڑ رہی تھیں۔ تب ایک لڑکی اور تھی ۔
ہوپ کے ذہن میں یاد تازہ ہوئی۔
جی ہائے۔ گوارا نے گہری سانس لی۔
ہاں نام تو نہیں یاد مجھے۔ سچ تو یہ شکل بھی۔
ہوپ یونہی ہنس کر بولی۔
گوارا تم جی ہائے کو یاد نہیں کرتیں؟
اریزہ نے پوچھ لیا۔ گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
مجھے پکا یقین وہ مجھے یاد نہیں کرتی ہوگی۔
یعنی تم کرتی ہو۔
اریزہ نے جیسے راز پالیا۔
تم سنتھیا کو یاد نہیں کرتیں کیا۔
اسکے الٹا سوال کرنے پر وہ چپ ہوگئ
یہ سنتھیا اور جی ہائے کون ہیں؟ ہوپ نے انکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائئ تو دونوں چونک گئیں۔
سنتھیا میری دوست تھی اور جی ہائے اسکی۔
اریزہ نے کہا تو گوارا جملہ مکمل کرتی بولی
اور اب نہ سنتھیا اسکی دوست ہے نا جی ہائے میری۔۔ اور اب لگتا ہے اریزہ بھی میری دوست نہیں رہ گئ۔
گوارا منہ لٹکا کر بولی۔
کیوں بھئ اریزہ کیوں؟ ہوپ کا سوال بنتا تھا۔اریزہ بھی سوالیہ ہوئی۔
تمہاری وجہ سے۔ ہر دو دوستوں کے بیچ کوئی تیسرا آجاتا پھوٹ ڈلوانے۔ چار دن گائوں کیا گئ تم دونوں ذیادہ سگی بن گئ ہو مجھے کاٹ کے علیحدہ کردیا ابھی بھی تم دونوں مل کر مجھے مار رہی تھیں۔ ذرا خیال نہ آیا۔۔ اس نے باقائدہ بین کرنے شروع کیئے تو دونوں اکتا کر اٹھ گئیں۔
ہائیش۔۔۔
میرا تو کوئی اپنا نہیں رہا۔وہ ہنگل میں اب شروع ہوگئ۔
سرکتے ہوئے دوبارہ بیڈ پر دراز ہوئی ارادہ کمبل میں گھس کر مزید نیند پوری کرنے کا تھا۔
سچی دوستی و محبت کی کوئی قدر نہیں رہی۔ کوریا مادہ پرست معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔ کہتی ہے اس دنیا میں جاپانی دوست بن سکتے ہیں مگرمسلمان نہیں۔ کیوں بھلا؟
اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا ریمائینڈر جگمگا رہا تھا۔
فرینڈیسری ۔ ٹھیک ڈھائی سال قبل اسی دن ان دونوں نے دوستی کا عہد لیا تھا۔ اکٹھے تصویر بنواتے ہوئے دونوں نے مسکرا کر انگلیوں سے دل کی شکل بنا رکھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم دونوں میرے ساتھ چلو گائوں۔ سچ مچ بہت مزا آئے گا وعدہ تم دونوں کو خوب سیر کرائوں گی۔ میلہ دیکھنا میرے ساتھ کرسمس منانا اور ہم فورا چھٹیاں ختم ہوتے ہی واپس آجائیں گے۔ناشتہ کرتے ہوئے گوارا لالچ دے رہی تھی۔ ہوپ سوچ میں پڑی۔ اریزہ کی نئی فرمائش تھی۔
اب یہی سب ہنگل میں کہو۔
گوارا نے لمحہ ضائع کیے بنا دہرادیا۔ مجال ہے ایک لفظ سمجھ آسکا ہو اس نے منہ لٹکا لیا۔
ہمت نہ ہارو وقت لگے گا ہنگل اتنی مشکل زبان تھوڑی ہے۔ آجائے گئ تمہیں بھی۔ گوارا نے تسلی دی۔
پتہ ہے میں اور جی ہائے ہر سال جاتے تھے جب سے ہماری دوستی ہوئی اسے میرا گائوں اتنا پسند تھا کہ گرمیوں میں ہم ویک اینڈ منانے بھی گائوں جایا کرتے تھے۔
گوارا اریزہ کو بتا رہی تھی۔
میں تیار ہوں۔ ہوپ نے ایکدم سے اسے مخاطب کیا۔
کس لیئے۔ ؟ گوارا بے دھیانی سے پوچھ رہی تھی۔
تم نے چاہے یونہی مروتا پوچھا ہوگا مگر میں جانا چاہتی ہوں ۔ میں دوسری جاب سے کچھ دن کی چھٹیاں لے لیتی ہوں۔ مجھے تبدیلی آب و ہوا کی شدید ضرورت ہے۔میں کافی مددگا رثابت ہو سکتی ہوں تمہاری امی کے ریستوران کیلئے۔
ہوپ کاوہی قنوطی انداز۔
دو سینڈوچ پر مشتمل اسکا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اب کافی کا مگ اٹھا کر جانے ہی لگی تھی کہ اریزہ نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
بیٹھو ابھی ہمارا ناشتہ باقی ہے اور ہم باتیں بھی کر رہے ہیں۔
ہوپ نے اجازت طلب نگاہوں سے گوارا کو دیکھا۔ اس نے اپنے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ فورا کافی کا مگ ہونٹوں سے لگا کر چھپائی۔ ہوپ بیٹھ ہی گئ۔
تم جی ہائے سے بھی پوچھ لو کیا پتہ اب اسکی ناراضگی کم ہوچکی ہو۔
اریزہ نے کہا تو گوارا گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی
اسکی ناراضگی کی وجہ جانتی ہو۔
اریزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
تم ہو۔
گوارا کے کہنے پر وہ چونک سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلکی سی کھٹر پٹر سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ وہ کسمساتے ہوئے اٹھی تو جی ہائے صوفے کے ساتھ رکھی چھوٹی سی میز پر ناشتے کے باکس رکھےناشتہ کر رہی تھی۔ ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ ناشتے میں مشغول ہو گئ۔ کم سن اسی وقت بڑے بڑے شاپر اٹھائے اندر داخل ہوا۔
تم ناشتہ کر رہی ہو؟ ابھی تو میں آیا تھا تو سوئی پڑی تھیں میں تمہارے لیئے بھی ناشتہ لے آیا۔
کم سن کی ابھی اس پر نظر نہ پڑی تھی۔
اسکو کھلا دینا ۔ اٹھ گئ ہے یہ۔
وہ ہاتھ جھاڑتے رسان سے بولی۔ اسکا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔
تم اٹھ گئیں۔ لو ناشتہ کرلو۔ تمہیں تو گوشت سے پرابلم نہیں ہے نا؟ میں چکن سوپ لایا ہوں ساتھ ویجی ٹیبل سوپ بھی ہے۔
وہ ایک کونے میں کھڑی مریضوں کی اسٹینڈ والی میز گھسیٹ کر اسکے بیڈ پر ہی ناشتہ لگانے لگا۔جی ہائے جیکٹ پہن کرپرس کندھے پر لاد کر جانے کیلئے تیار ہوگئ۔
میں جا رہی ہوں۔ اب میری تو کوئی ضرورت ہے نہیں۔ باقی اگر پڑے بھئ تو سنتھیا برائے مہربانی مجھے یاد مت کرنا۔
یہ اسکا الوداعیہ تھا۔ کھردرا انداز سخت لہجہ چہرے پر اجنبیت۔ کم سن نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی۔
وہ جملہ مکمل کرکے دروازے کی طرف بڑھی جب سنتھیا نے اسے پکارلیا۔
جی ہائے۔ دروازے کی ناب پر اسکا ہاتھ لمحہ بھر کو رکا۔
تم نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ تمہارا بہت شکریہ۔ میں ویسے کسی قابل تو نہیں مگر کبھی بھی ضرورت پڑے میری تو ۔۔۔
سنتھیا ابھی بول ہی رہی تھی کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔ اسکی بدتمیزی پر کم سن نے دانت کچکچا کر گھورا۔ سنتھیا دل مسوس کر رہ گئ۔
جانے دو۔اسکا غصہ ایسا ہی ہے۔ تم ناشتہ کرو۔
کم سن نے سر جھٹک کر اسے کہا۔ دو طرح کے سوپ تھے ابلے چاول تھے سبزیوں کی کچومر سی کوئی ترکاری تھی۔ رول آملیٹ تھے۔
سنتھیا ہونٹ کاٹنے لگی۔
کم سن خفت زدہ سا ہوگیا۔
مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ پاکستانی ناشتے میں کیا کھاتے ہوں گے۔ گوگل کیا تو جو قریب ترین بھی ناشتہ مل رہا تھا وہ آنے جانے میں گھنٹہ لگا دیتا اور مجھے لگا تمہیں
شکریہ۔ بہت بہت شکریہ۔ میں تم لوگوں پر اتنا بوجھ بن گئ ہوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تم جی ہائے تم دونوں نے میرے لیئے جو کیا ہے اسکا میں کبھی بدلہ نہیں اتار سکتی میں چاہوں بھی تو
وہ بات کاٹ کر بولتے بولتے روپڑی۔ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر۔
کم سن ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکی دوست نہیں تھی۔ کبھی انکی ذیادہ بات چیت نہ رہی تھی۔اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیسے چپ کرائے۔ کتنے مناظر اسکی نگاہوں میں گھوم گئے تھے جب اسے ناک چڑھا کر گھورتے دیکھتا تھا۔ایڈون کے سوا کسی کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتے دیکھا تھا۔اریزہ اور وہ کبھی اکیلے بیٹھی بھی نظر آتی تھیں تو تنی گردن اور تیکھی نظروں سے دیکھتی وہ کتنی مغرور لڑکی دکھائی دیتی تھی۔ اس وقت وہ اس لڑکی کا سایہ بھی نہیں لگ رہی تھی۔ چند مہینوں میں کوئی کیسے اتنا بدل سکتا ہے۔
مجھے اسی لیئے محبت سے نفرت ہے۔ محبت کمزور کر دیتی ہے۔ انسان کو بدل دیتی ہے انسان سے وہ کچھ کروا لیتی ہے جو سوائے اس فالتو جزبے کے دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ کرواسکے۔محبت کرنی نہیں چاہیئے۔
جی ہائے رواں ہنگل میں چبا چبا کر بولی تھی۔
کم سن اور سنتھیا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگے۔سنتھیا نے باقی سسکیاں روک کر جلدی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
ائیر بڈز رہ گئے تھے میرے یہاں۔ وہ صوفے کی طرف اشارہ کرکے بولی۔پھر آگے بڑھ کر تکیہ ٹٹول کر پینل اٹھانے لگی
سنتھیا شکریہ ادا کر رہی تھی تمہارا اور رو پڑی۔
کم سن نے جتایا۔ یعنی یہ فالتو کا لیکچر کس خوشی میں دیا محبت پر۔
سنتھیا کو کہا بھی نہیں میں نے ورنہ ہنگل میں نہیں انگریزی میں کہتی۔
جی ہائے مصروف سے انداز میں بولی۔
پھر کسے کہا۔ کم سن سوالیہ ہوا
تمہیں کہا۔
وہ بھنوئیں اچکا کر بولی۔
مجھے؟ وہ ہکا بکا رہ گیا۔
تمہیں پہلے اسکا اپنا درد مشترک لگتا تھا اب مشترکہ کے درد میں ہی مبتلا لگتے ہو۔ اگر وقت ہے تائب ہو جائو
ارے کیا مطلب ہوا اس بات کا؟
کم سن سمجھا نہیں۔
ہنگل میں ہی بولا ہے سمجھ کر نہ سمجھو تو الگ بات۔کرم
وہ جتا کر ایک نظر اسے او رپھر سنتھیا کو دیکھتی ہوا کے جھونکے کی طرح گزر گئ
خوامخواہ۔ کم سن کو ہوش آیا تو جھلائے بنا نہ رہ سکا۔
کچھ بھئ ۔ہائش۔ یہ لڑکی کھسک چکی ہے۔
وہ بڑبڑا رہا تھا
کیا ہوا کیا کہہ رہی تھی۔
سنتھیا کو بات تو نہیں انداز سے یہی لگا کہ اسکے بارے میں ہی بات ہو رہی ہے۔
کچھ نہیں۔ تم کھانا کھائو ٹھنڈ اہو رہا ہے۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر اسکا دھیان بٹاگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل واپس آکر ابھی وہ بیڈ پر آکر بیٹھی ہی تھی کہ اسے گوارا کا میسیج کاکائو ٹاک پر موصول ہوا تھا۔ سال بھر پرانی یاد تازہ کی گئ تھی۔ ایک خوبصورت لمحے کی یاد گارتصویر میں قید تھئ۔
ساتھ لکھا تھا۔ ہم پچھلے سال اکٹھے یہاں یادیں اکٹھی کر رہے تھے۔ میں آج یہاں جاتے سوچ رہی ہوں کہ کیا ایسا دن دوبارہ کبھی آسکے گا۔
نہیں۔
اس نے فورا جواب لکھ کر بھیجا تھا۔
جوابا اس نے میسج دیکھ کر جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ چند لمحے منتظر رہی۔ پھر دوبارہ تصویر کو ذوم کرکے دیکھنے لگی۔ اس دن فارم پر جانے سے پہلے اپنے گھر کے صحن میں یہ تصویر اس نے لی تھی۔ بظاہر سیلفی تھی مگر پس پردہ بھاگتے اسکے تینوں چھوٹے بہن بھائی بھی اس تصویر کا حصہ بن گئے تھے۔ اسے تصویر دیکھ کر وہ دن یاد آگیا تھا۔
اس دن تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔ اسکا اور گوارا کا قریبی باغ سے سیب چننے کا ارادہ تھا اس چھوٹے سے باغ سے پھل چننے کی ذمہ داری گوارا نے اٹھا لی تھی وہ اسکا۔چھوٹا بھائی جا رہے تھے تو اس نے بھئ گھر بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر یہی سمجھا کہ انکے ساتھ چلی چلے۔ گوارا نا صرف خود فٹا فٹ تیار ہوئی بلکہ اپنے دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی ہمراہ لے لیا
انکو کیوں ٹانگ رہی ہو اپنے ساتھ ہم کام کریں گے یا انکو سنبھالیں گے۔
اس نے سخت ناگواری سے کہا تھا جو شائد ساتھ چلتے سوینگ کو برا لگا تھا جبھی بچوں کو اپنے ساتھ آنے کا کہہ کر رفتار بڑھا لی تھی۔
کیا کہیں گے یہ ہمیں؟ درخت سے پھل توڑنے جتنا قد ہے نہیں انکا فارم ہائوس اتنا بڑا نہیں کہ گم جائیں کھیلتے رہیں گے یہ وہاں ہم اپنا کام کر لیں گے۔گھر میں تو اتنی جگہ ہے نہیں پھر آہمونی انکو وہاں بھاگنے دوڑنے بھی نہیں دیتیں دیکھو کتنے خوش ہیں ۔
اچھلتے کودتے جاتے بہن بھائی کو دیکھ کر گوارا نے پیار بھرے انداز میں اسے بالتفصیل بتایا۔
تم واقعی ان سے پیار کرتی ہو؟
جی ہائے نے حیرت سے سوال کیا تھا۔
میرے بہن بھائئ ہیں سوتیلے ہیں تو کیا ہوا۔ دیکھا جائے تو ان بچوں سے مجھے کیا پرخاش ہو سکتی ہے۔ اسکا انداز سادہ سا تھا۔ مگر جی ہائے چڑ گئ
تم مجھے جتا رہئ ہو؟ مگر یہ دیکھو کہ ان کے والد صاحب تمہارا اور تمہارے بڑے بھائی کا خرچہ اٹھانے کو تیار نہیں تمہیں ان کے بچوں پر پیار لٹانے کی کیا ضرورت ہے۔ تم بھی انکو اگنور کرو۔
اگرایسی بات ہے تو تمہارے والد تو تمہارا خرچہ مزید بچوں کے باوجود اٹھاتے ہیں تمہیں تو اپنی بہنوں سے پیار ہونا چاہیئے تھا۔
گوارا نے بنا لحاظ اسے جتایا تھا
تم مجھے اب اس بات کا طعنہ دوگی؟
غصے کے مارے اسکی آواز کانپ گئ۔
میں طعنہ نہیں دے رہی سمجھا رہی ہوں۔ اسکو غصے میں آتے دیکھ کر گوارا نے بھی اپنا لہجہ دھیما کیا۔
میرے والدین کی آپس میں نہیں بنی وہ الگ ہوگئے ۔ ہم دونوں بہن بھائی اتنے بڑے تھے کہ اپنا خیال خود رکھ سکتے تھے۔ میں آہجوشی سے امید کیوں رکھوں کہ وہ میرا خیال کریں میرا باپ میرا خیال رکھتا رہا تھا میرے نام سےانشورنس پالیسی بھری ہے اس نے۔
آہجوشی میرے باپ نہیں ہاں میری ماں کیلئے میں اور سوینگ بھی انکی اولاد ہیں اور رودا اور سنگ گون بھی۔ ایک ٹوٹے لڑتے بھڑتے مگر اکٹھے رہنے پر مجبورخاندان سے بہتر دو الگ خوشحال خاندانوں کا حصہ بننا بہتر نہیں؟
میرے تو میرے والد کی بیوی سے بھئ اچھے تعلقات ہیں۔ تم بھی اگر چاہو تو۔۔
تمہارے والدین لڑ کر الگ ہوئے میرے باپ نے میری ماں کو ایک نئے مذہب کے پیچھے چھوڑا۔ میری ماں آخری وقت تک مصالحت چاہتی تھئ میرا باپ اسکو چھوڑ گیا ہمارے حالات ایک جیسے نہیں۔۔ میرے باپ کی بیوی میری ماں کی اور اسکی اولادیں مجھے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑنے کی ذمہ دار لگتی ہیں جسکے لیئے میں اس بڈھے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی۔۔ سمجھیں تم۔
گوارا اسے سمجھانا چاہ رہی تھی مگر جی ہائے کو اتنا غصہ آیا تھا کہ اس پر چلا چلا کر وہیں سے پیر پٹختی واپس ہوئی تھئ۔ اس وقت بھی یہ یاد اسے غصہ ہی دلا گئ تھئ۔ اس نے موبائل بیڈ پر پٹخا اور بازو آنکھوں پر رکھتی وہیں دراز ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اس لڑکی سے کیوں نہیں پتہ کرتے ؟ کیا آپ نہیں جانتے وہ اس وقت کہاں رہ رہی ہے؟
سنتھیا کے والد کا بس نہیں تھا کہ اس ڈیٹیکٹو کا سر بجا دیتے۔اس وقت وہ کمشنر کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ انکی بیٹی کی بازیابئ کیلئے جو ٹیم تشکیل دی گئ تھی اسکے ٹیم لیڈر علاقے کا ایس پی اور پاکستانی سفارتخانے کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ سیموئل صاحب کا اصرار تھا کہ اریزہ سے تفتیش کی جائے۔۔
گو انکی بات جزئیات کے ساتھ ان سب کو سمجھ آچکی تھی پھر بھی مترجم کے ترجمے کا انتظار کیا۔
ہم اریزہ سے تفتیش کیوں نہیں کر رہے؟
کمشنر بیک نے سوالیہ نگاہوں سے ٹیم کے منتظم کو دیکھا۔
یہ لڑکی اریزہ ، سنتھیا سیموئل کی گمشدگی سے مہینوں قبل سے اپنی سہیلی کے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر کر رہی ہے۔ سنتھیا کی گمشدگئ کی اطلاع ملنے پر خود تھانے آکر اس نے بیان بھی ریکارڈ کروایا۔ سیموئیل صاحب کا دعوی ہے کہ یہ لڑکی سنتھیا کے ساتھ رہ رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ سنتھیا درمیانے درجے کے ایک گوشی وون میں رہتی تھی۔ اور سی سی ٹی وی کے مطابق وہ خود اپنے ہوش و حواس میں گوشی وون سے نکل کر گئ تھی۔
ٹیم لیڈر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا۔
کیا کہہ رہا ہے یہ ۔ سیموئیل جھلا کر مترجم سے بولے۔
ڈیٹیکٹو نے مترجم کی جانب دیکھا ۔ اس نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔
ہاں تو اسکے سوا کوئی دوست نہیں ہے اسکا یہاں اس نے یقینا اسے اطلاع دی ہوگی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ کیا کر رہے ہیں یہ لوگ میری بیٹی نا جانے کہاں کس حال میں ہے۔
عجیب نا اہل لوگ ہیں۔ یہاں بیٹھے ہیں ڈھونڈ رہے ہوتے تو مل چکی ہوتی نا وہ۔
سیموئل کا غصہ بڑھ رہا تھا۔ مترجم نے انکی سب باتوں کا ترجمہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے بس اسی بات پر زور دیا کہ وہ دوست ہے کچھ تو جانتی ہوگی۔
ہمارے پاکستان سے تعلقات ہیں یہ دونوں ممالک کے تعلقات کی طرف معاملہ جا سکتا ہے۔ ہم کسی غیر ملکی طالبہ کی گمشدگی کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتے۔۔ ہمیں سخت فیصلے لینا ہوں گے۔
کمشنر صاحب نے تنبیہا کہا تھا۔
مگر سر ہم پہلے ہی ایڈون کو تحویل میں لے چکے ہیں۔ اتنی تفتیش کے باوجود وہ لڑکا براہ راست ملوث نہیں لگ رہا ہے۔ ہم ایک اور ملزم حراست میں کیسے لے سکتے۔ ؟ جبکہ وہ لڑکی لی خاندان کی ہونے والی بہو بھی ہے۔
ٹیم لیڈر نے انکو جھجکتے ہوئے یہ اطلاع دی تھی۔
دے؟(کیا۔)؟
کمشنر صاحب کا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا۔
کیا کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔
ان سب کے تاثرات دیکھ کر سیموئل کو کھد بد ہوئی۔
کیا بکواس ہے یہ؟ عجیب جاہل لوگ ہیں اتنے اونچتے عہدوں پر ہیں پھر بھی کسی کو انگریزی ہی نہیں آتی۔۔
وہ جھلا رہے تھے۔ مترجم نے دھیرے سے ترجمہ کیا تو لمحہ بھر کو وہ سن ہی رہ گئے
کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا؟
کم سن اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔
وہ سنجیدہ تھی۔
میرے لیئے نوکری سب سے اہم ہے۔ اگر میں مسلسل نقاب کیئے رکھوں تو میرا پہچانے جانا مشکل ہے۔ میں نے یہاں اکثر لڑکیوں کو ماسک پہنے دیکھا ہے۔ میں اسکارف کر لوں گی۔
رہو گی کہاں؟
کم سن نے جتایا۔ وہ ایکدم کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ پھر قصدا رخ بدل کر بولی
میں اسکا انتظام کر لوں گی۔
وہ اس وقت ہنگن دریا کنارے کھڑے تھے۔ بیچ دوپہر میں بھی دھوپ میں چبھن نہیں تھی۔ سیول کے باسی ہونے کی وجہ سے وہ ایسی جگہوں کے بارے میں جانتا تھا جو سی سی ٹی وی کیمروں سے اوجھل ہوں۔ اس وقت سنتھیا نے سر پر اسکارف لپیٹا تھا گہرے رنگ کے گاگلز او رماسک بھی پہن رکھا تھا۔
کم سن نے جیکٹ اور ہڈی پہن رکھا تھا۔ پھر بھی سرد ہوا چبھ رہی تھی جبکہ سنتھیا سویٹ سوٹ اور جیکٹ میں ملبوس تھی مگر پیشانی پر پسینے کے قطرے دمک رہے تھے۔
میں خود غرض ہو رہی ہوں ہے نا۔
اسکی خاموشی سے وہ یہی اندازہ لگا پائی۔
کم سن دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالے دریا پر نگاہ جمائے تھا۔ بالکل باریک پرت برف کی اس دریا پر جمی تھی۔ جیسے دریا پر شیشے کی تہہ سی ہو۔ یہ اتنی ہی غیر محفوظ تھی جیسے ہلکا سا کانچ ۔ اس پرت پر چلا جاسکتا تھا قسمت پر منحصر تھا یا آپکے وزن پر جتنا یہ برف سہہ جائے ورنہ ایک دراڑ اور گہرا شگاف اور بے رحم سرد دریا کی موجیں۔۔
مجھے لگا تھا میں جب تمہیں بتائوں گا کہ ایڈون جیل میں ہے تو تم فورا اسے چھڑوانے کیلئے بے تاب ہو جائو گی۔ مگر مجھے تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔
کم سن گہری سانس لیکر بولا
ہاں نہیں ہے۔ سنتھیا ضدی سے انداز میں بولی
اب تمہیں کوئی ابارشن کیلئے مجبور نہیں کرسکتا۔ کم از کم کوریا میں۔
کم سن نے اسے تسلی دینا چاہی تھی۔
اور اگر مجھے ڈی پورٹ کردیاگیا تو؟
سنتھیا نے تیکھی نگاہ سے دیکھا اسے۔
وہ کہتے کہتے رہ گیا کہ اس سب کے بعد ہوگا تو یہی۔
ایڈون اگر اغوا کار ثابت ہو تا تو شائد پھر اسکی بازیابی کے بعد کیس چلتا مگر جس طرح وہ بنا اطلاع غائب تھی اسکے بعد اسکی غیر ذمہ داری پر سب سے کم سزا یہی ہونی تھی کہ اسے واپس وہیں بھیج دیا جائے جہاں سے آئی ہے۔
اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ایڈون کو بچانے کا مقصد ذہن میں تھا یہ سوچ بھی نہیں آئی کہ سنتھیا کیا چاہتی ہے؟ اسکی بھی تو کوئی مرضی سوچ خواہش ہوگی۔
لڑکی کو سمجھنا ناممکن ہے۔
اسکا ذہن تھک رہا تھا سوچ سوچ کے کہ کیا کرے۔ اس وقت وہ سنتھیا کے ساتھ نیکی کرکے بھی پھنس رہا تھا اور سخت دل بن کے اسکے حال پر بھی چھوڑ نہیں سکتا تھا۔
وہ حقیقتا سر کھجا رہا تھا۔
مستقل تنائو سے تنگ آکر اس نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر کھانی شروع کردی۔
ایسے موقع پر جی ہائے ہونا کم سن ہونے سے بہتر ہے۔
اس نے دانت پیسےریپرپھینکا۔ ۔ تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
ہیون کالنگ۔
اسکو اتنی خوشی ہوئی کہ جھٹ فون اٹھا لیا۔
ہیونگ ( بھائی) میری نوکری دائو پر لگی ہے آکرہیون سر کو سنبھالیں۔ مدہوش ہو چکے ہیں اور پورا سوئیٹ سر پر اٹھایا ہوا ہے۔
ہیون کے کلب کا منتظم تھا گھبرایا ہوا۔
اس وقت؟ بھری دوپہر میں کون کم بخت پی کے ٹن ہوتا ہے۔
وہ جھلا ہی تو گیا۔
برائے مہربانی سر آجائیں ۔ غیر ملکی مہمان ہیں آئے ہوئے ہم ان میں سے کسی کو روک بھی نہیں پائیں گے اگر کسی نے ویڈیو بنا لی تو۔
منتظم رو دینے والا تھا۔
کر کیا رہا ہےدکھائو ۔ اس نے ویڈیو کال پر کلک کیا۔
سامنے جو منظر تھا بے ساختہ ہنسی آگئ اسے۔
سوئم سوٹ میں باتھ گائون پہنے وہ سوئمنگ پول کے کنارے بوتل لہراتا ناچ ناچ کر گا رہا تھا۔ اور اسے ناچنا تو آتا ہی نہیں تھا۔ الٹے سیدھے ہاتھ پائوں مارتا وہ خاصا مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ منتظم کو صحیح ڈر لگا تھا۔ دو تین امریکی لڑکے اور لڑکیاں اسکے ساتھ شغل میں ناچ رہے تھے ہاتھ میں شراب کے گلاس تھامے ۔ ہنسی قہقہے۔ اسکو ناچتا دیکھ کر تالیاں بھی بجا رہے تھے۔ صد شکر فی الحال کوئی ویڈیو بناتا دکھائی نہ دیا۔۔
آتا ہوں۔
اسے تسلئ دے کر فون بند کیا ۔ چہرے پر محظوظ مسکراہٹ تھی۔ لمحہ بھر کو بھول ہی گیا جیسے کہ چند لمحے قبل کس موڈ میں تھا۔ مسکرا کر سر جھٹکتے ہوئے سنتھیا کی جانب رخ کرنا چاہا تو نا صرف مسکراہٹ سکڑ گئ بلکہ دل بھی اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔
سنتھیا جمے ہوئے دریا کی اسی برف کی پتلی دبیز تہہ پر چلتی چلی جا رہی تھی۔
سنتھیا۔
وہ حلق کے بل چلایا تو وہ چونک کے رکی۔
کیا کر رہی ہو۔ واپس آئو۔
آتی ہوں۔۔
وہ اطمینان سے بولی۔
کیا؟ کم سن کو لگا اسکا دماغ چل گیا ہے۔
سنتھیا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ دھوپ اس پر پوری طرح پڑ رہی تھی۔ وہ اسی دھوپ میں سینے پر مٹھیاں باندھے عاجزی سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی
تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟
کم سن چلایا۔
مت کرو ایسے ڈوب جائو گی بظاہر جما ہوا ہے مگر اس پرت کے نیچے ٹھاٹھے مارتی سرد لہریں ہیں۔ کوئی بچا بھی نہیں سکے گا تمہیں۔
وہ کنارے پر کھڑا چلا چلا کر اسے اسکی حماقت کے مضمرات بتا رہا تھا۔
خدا وند میں یہاں خود کو اس بچے کو تیرے رحم و کرم پر چھوڑتی ہوں۔ کوریا یا پاکستان میرے حق میں جو بہتر ہو مجھے وہاں پناہ دے دے۔
اس نے گہری سانس لیتے ہوئے صلیب کا نشان بنایا۔
آمین۔ آنکھیں بند کر زرا سا کندھے جھکا کر جیسے رب کی رحمت کو محسوس کرنا چاہا۔
واپس آئو پلیز۔ خودکشی کوئی حل نہیں۔ جس بچے کے لیئے لڑ رہی ہو اسے قتل کردوگی؟
اس نےجھلا کر اسے جزباتی جھٹکا دینا چاہا۔وہ بے بسی سے ساحل کنارے پیر پٹخ رہا تھا۔ سر بھی پٹختا تو کم تھا۔ دھوپ تیز تھی اگر برف کی پتلی تہہ ذرا سا بھی پگھل جاتی تو وہ اس وقت اسے بچا بھی نہیں سکتا تھا۔
اسکی بات پر وہ ذرا بھر چونکی۔ پھر جھلائی
خود کشی۔۔ میں کیوں خود کشی کروں گی بھلا؟۔
کم سن اسکی بات سن کر لمحہ بھر کو بھونچکا رہ گیا۔
اس نے اشارے سے اسے نیچے دیکھنے کا کہا۔وہ سر جھٹکتی سر جھکا کر دیکھنے لگی تو جیسے قدم وجود کا وزن اٹھانے سے انکاری ہوگئےاپنے گرد کانچ سی زمین کو دیکھتے وہ بری طرح گھبرائی۔ خداوند پر چھوڑا تھا۔ کیا اسے زمین ہی نصیب نہیں ہونی ہے کیا۔ اسے ڈر سا لگا جو اگر یہ برف پگھل گئ تو؟
اسکے قدم لڑکھڑا سے گئے۔ کڑچ کڑچ کانچ کے فرش پر دراڑ سی پڑی۔
وہ تیزی سے کنارے کی جانب بڑھی تو پھسل کر گرتے گرتے بچی ۔۔ پیروں تلے کڑچ کڑچ کی آواز بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے بھاگ کر واپس آنا چاہا تو کم سن کی پریشانی بھری پکار سنائی دی
بھاگنا مت۔
وہ موت کے تعاقب سےخوف میں مبتلا ہوئی تھئ سو تیز تیز قدم اٹھاتی واپس آرہی تھی اتنے تیز کہ کڑچ کی آواز بڑھتی چلی گئ وہ ایکدم رک گئ۔ موت سے کہاں کوئی بھاگ سکا ہے۔ اگر ایسے لکھی تو ایسے سہی۔ اس کی ٹانگیں جیسے بے جان سی ہوتئ گئیں وہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی گئ۔ آوازیں شور سب سکوت طاری تھا برف ٹوٹتی اور وہ سیدھا دریا برد۔
ہائیش۔
کم سن کو اپنی عقل سمجھ بالائے طاق رکھ کر اسکی جانب بڑھنا پڑا۔

دانت کچکچاتے ہوئے وہ تیز تیز قدم اٹھاتااسکے سر پر پہنچا تھا۔کانوں پر ہاتھ رکھے وہ اکڑوں بیٹھی لرز رہی تھی۔
میں آج مرا تو تمہاری ذمہ داری ہوگی۔
وہ خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا۔ مانوس آواز سن کر اس نے سر اٹھایا۔ ارد گرد دریا پر جمی برف سالم تھئ۔ یقینا وہ اسکا وہم تھا وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھنے لگی۔
میں آ تو رہی تھی۔
کم سن نے سہارے کیلئے ہاتھ بڑھایا مگر وہ خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
کورٹ شوز میں سٹر پٹر کر رہی تھیں ابھی پھسل جاتیں تو یہیں دفن ہوجانا تھا تم نے۔
اسکے منہ سے فی الحال اچھے الفاظ نکلنا مشکل تھا۔وہ چپ ہی رہی۔ اسے واقعی سوچوں میں گم اندازہ نہ ہوا کہ وہ چلتے ہوئے کدھر نکل آئی
اسکے ہم قدم سنبھل سنبھل کر قدم اٹھاتے ایکدم کڑک کی آواز تیز ہوئی۔ اب یقینا اسکا وہم نہیں تھا برف کی پرت پر شگاف پڑا تھا۔۔ سنتھیا بے اختیار کم سن کا سہارا لے بیٹھی۔
کم سن بھی لمحہ بھر کو خوفزدہ ہوا تھا۔ باقائدہ سر گھما گھماکر گرد و نواح کے حالات پر نگاہ ڈالی۔ ارد گرد برف سالم تھی مگر آواز اچھی خاصی تھی۔ پر تھی کس چیز کی۔
کین چھنا۔ اسکا کندھا تھپتھپاتے اس نے منظر سے سب خطرات دیکھ داکھ کر اطمینان دلایا۔ کنارے تک وہ مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔ کنارے تک کڑچ کڑچ کی آواز مدہم پڑ گئ تھی۔ کسی نہایت بے مروت خود غرض انسان کی طرح کنارے تک پہنچتے ہی سنتھیا نے اسکا نا صرف ہاتھ چھوڑا بلکہ رفتار بھی بڑھا لی۔ تبھی کم سن کی نگاہ اسکے جوتے کے تلے چپکے چاکلیٹ کے ریپر پر پڑی تھی۔بے ساختہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر در آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گائوں کی گوری کی طرح وہ ریل گاڑی کی شیشے کی کھڑکی سے ناک چپکائے قدرتی مناظر دیکھ رہی تھئ ۔برف سے ڈھکے کوہساروں میں تیزئ سے دوڑتی اسے ہمیشہ ریل کا سفر کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ جتنا اسے شوق تھا اتنا ہی باقی گھر والے ریل کے سفر کو غیر محفوظ وقت کا ضیاع اور غیر آرام دہ قرار دے کر اسے موٹر وے سے سفر کراتے رہے تھے۔ آج برسوں پرانا شوق پورا ہوا بھی تو کوریا میں۔ فلک بوس پہاڑوں اونچے بڑے سے کھمبوں تو کبھئ کسی کھیت میں چرتے جانور ہر منظر کے ساتھ اسکے تاثرات بدل رہے تھےاسکے چہرے پر ان تمام مناظر کو پڑھا جا سکتا تھا۔
ہوپ اور گوارا اسکے مقابل بیٹھی اسکا شوق ملاحظہ کر رہی تھیں۔
پاکستان میں ٹرین نہیں ہوتی کیا۔ ہوپ نے یونہی پوچھا تھا۔
سرچ کرو ذرا۔
گوارا موبائل احتیاط سے تھامنے کہنی ٹکائے ساکت بیٹھئ اریزہ کی ویڈیو بنا رہی تھی۔
غیر اخلاقی حرکت ہے یہ ویسے۔ ہوپ نے منہ بناتے اپنا موبائل نکالا۔
گوارا نے ہونٹ بھینچ کر گھورا۔۔
خود جو تم سوتے میں بناتی رہی ہو اسکی وہ کیا تھا؟
ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
صرف دنیا میں ایک ملک ایسا ہے جہاں ریلوے کا نظام نہیں اور وہ ہے افغانستان۔
ہوپ کی تلاش مکمل ہوئی۔اب اعتراض ہوا
پھر اسکو ٹرین کیوں درکار تھی۔ چار گھنٹےلگیں گے بوسان پہنچنے میں ۔ آگے پھر گائوں تک کا سفر الگ بس سے۔ مجھے سوچ کے تھکن ہو رہی۔
ہوپ نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ اسکا ارادہ سو جانے کا ہی تھا۔
اریزہ ٹرین کی سیر کروگی؟
گوارا نے اس سے پوچھا۔ اریزہ چونکی پھر زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا
ہاں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈبے سے جڑا ڈبہ وہ آرام سے ہر ڈبے سے گزرتی پوری ٹرین کا دیدار کراتی اسے ٹرین کے کیفے ٹیریا تک لائی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ مختلف بولیاں الگ منزلیں ایک سفر وہ ٹرین کے ہلکے پھلکے جھٹکوں کا بھی مزا لے رہی تھئ۔ ۔ کیفے ٹیریا تقریبا خالی تھا مگر یہاں نشستیں مختلف طرز کی تھیں ایک دو جوڑے بیٹھے تھے۔ بڑی بڑی کھڑکیاں شفاف شیشے انکے ساتھ لگی بنچ نما فوم کی نشستیں۔ ایک جانب وینڈنگ مشین لگی تھئ۔ وہ تو سیدھا جا کر کھڑکی کے پاس بیٹھ گئ۔ گوارا کم باپ بسکٹ چپس اور کولڈڈرنک لیکر اسکے پاس آبیٹھی۔ سامنے لگے چھوٹے سی دیوار سے جڑی میز پر اسکے لیئے سجا دیا۔
گوما ویو۔ وہ بے ساختہ خوش ہوئی۔
کتنے کا ہے۔ فورا کندھے سے لٹکے اپنے ہینڈ بیگ سے پیسے نکالنے لگی۔
بہت مہنگا ہے تم نہیں دے پائوگی۔
گوارا نے جس طرح کہا تھا وہ چپ ہو کر زپ بند کرنے لگی۔
اس نے کھڑکی سے کہنی ٹکائی ہوئی تھی۔ اسکے زخم پر کھرنڈ آرہا تھا جبھی اس نے بس اوپر سے دوا لگائی ہوئی تھی۔ یہ دوا خشک سی ہوجاتی تھی زخم پر اور ایک تہہ بنا دیتی تھی۔ شائد اسی لیئے زخم مندمل ہورہا تھا۔ اریزہ اسکی نظروں سے بے نیاز باہر کے نظاروں میں گم تھی۔ چپس وہ جتنی تیزی سے کھا رہی تھی یقینا اسے بھوک لگی ہوئی تھی۔
تم سے ایک بات پوچھوں؟
کم باپ کا ریپر اتارتے گوارا سنجیدگی سے بولی۔
پوچھو۔ وہ بے دھیان تھی۔
تم نے ہیون کا پرپوزل قبول کر لیا ہےنا؟
اس نے بنا تمہید باندھے پوچھا تھا۔ اریزہ کا چپس منہ تک لے جاتا ہاتھ رک گیا۔ وہ حیران سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
تمہیں ہیون نے کہا ہے؟
تمہارے خیال میں ہیون مجھے یہ کہے گا؟پورا سوشل میڈیا ٹیبلائڈ بھرے پڑے ہیں تمہاری اور ہیون کی تصویروں سے۔ میں نے صبر سے انتظار کیا کہ تم خود مجھے بتائوگی مگر مجھے تمہارا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں لگا ۔ دوست نہیں سمجھتی ہو مجھے تم۔ ہے نا۔
گوارا منہ بنا کرکم باپ کھانے لگی۔ ۔
اگرمیں نے ہیون کا پرپوزل قبول کیا ہوتا تو یقینا خود تمہیں بتاتئ مگر یہ ایک غلط فہمی تھی۔مجھے اتنا غصہ آیا تھا کہ بتا نہیں سکتی۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ کوریا میں کسی کی شادی میں دعوت کھانا بھی اسکینڈل بنایا جا سکتا ہے۔اخباروں میں چھپ گیا حد ہے۔کوئی کام نہیں کیا یہاں لوگوں کو۔
وہ بےنیازی سے دوبارہ چپس کھانے لگی۔گوارا کو شدید حیرت ہوئئ۔
مجھے تم حیران کر رہی ہو؟ تم نے۔۔ نہیں ایک سیکنڈ تم اور ہیون ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو نا۔ تم نے اس اسکینڈل کی وجہ سے انکار کردیا اسے؟
گوارا حیرت کے مارے بیہوش ہونے کو تھئ۔
اریزہ نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
مجھے اندازہ تو تھا کہ تم نے ہیون کو انکار کردیا ہے مگر اتنی سی بات پر؟ ظاہر ہے وہ کوریا کے ایک اہم خاندان کا فرد ہے اسکی ذاتی زندگی میں رپورٹروں کو دلچسپی ہوتی ہے مگر یہ تو بہت سخت ردعمل ہے تمہیں اتنی سی بات
گوارا بولی تو بولتی چلی گئ۔اریزہ کو ہاتھ اٹھا کراسے ٹوکنا پڑا۔
ویٹ۔ تھمو ذرا۔میں نے انکار کرنا ہی تھا میں اور وہ بس اچھے دوست ہیں بس۔ میں اس رشتے کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی اتنی سی بات ہے۔
اپنی طرف سے اریزہ نے سبھائو سے بات ختم کردی۔
لیکن کیوں؟ گوارااتنئ حیران ہوئی تھی کہ کم باپ چبانا بھول گئ۔
ہیون تمہیں بہت پسند کرتا ہے تمہیں اندازہ نہیں ہوا کبھی اسکے دل میں تمہارے لیے الگ مقام ہے؟اور تم بھی تو پسند کرتی ہو نا اسے؟
نہیں پسند کرتی میں اسے۔میرا مطلب ہے اس نظر سے نہیں پسند کرتی میں۔ ہم اچھے دوست تھے ہیں اور رہیں گے۔
اریزہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی تھی۔ گوارا کچھ کہتے کہتے رک کر چپ سی اسکی شکل دیکھنے لگی۔ اتنے غور سے کہ وہ گڑبڑا سی گئ
کیا ہوا؟ قصدا اسے ٹوک کر اس نے اپنے کولڈ ڈرنک کا کین اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔
مجھے لگتا ہے تمہیں خود کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
گوارا نے گہری سانس لی پھر اپنا بقیہ کم باپ ختم کرنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب تک پہنچا ہیون کی سب توانائیاں ختم ہو چکی تھیں۔ وہیں کائوچ پر اوندھا پڑا تھا اسکے ساتھ شغل میں مصروف غیر ملکی سیاح تھک تھکا کر اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
ہیون ۔۔
اس نے آگے بڑھ کر بمشکل ہیون کو سیدھا کیا۔
پسینے میں تر پیشانی سرخ چہرہ۔ وہ تاسف سے اسکا پسینہ صاف کرنے لگا۔ مینجر پاس آکھڑا ہوا تو اسے ڈانٹے بنا نہ رہ سکا
اسکو اندر تو لے جاتے کوئی گرم کپڑا تولیہ ہی ڈال دیتے اسے نمونیا ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟
یہ سریہ گائون یہ تولیہ سب سر نے ابھی اٹھا کے پھینکی ہیں ۔
وہ منمنایا۔
واقعی اسکے کائوچ کے گرد گائون تولیہ کمبل تک پڑا تھا۔
کم سنا۔ کہاں تھے اتنی دیر سے پکار رہا تھا میں۔
ہیون بہکے بہکے انداز میں بول رہا تھا۔
چلو میں تمہیں لینے ہی آیا ہوں۔ اس نے اسکو سہارا دے کر اٹھایا تو وہ بنا چوں چراں کیئے اٹھنے لگا۔ اسکا نشہ مدہوش کر رہا تھا اسے جبھی گرنے ہی لگا جیسے۔
سہارا دو اب اسے۔
اس نے مینجر کو کہا تو ایک طرف سے اس نے سہارا دیا دوسرے سے کم سن نے اسے گھر لے جانے کی بجائے اسکے سوئیٹ لے آیا تھا۔ اسکو لٹا کر کمبل اڑھایا۔اس نے تکیئے پر سر پٹخا۔
کھوجے مار۔۔ ( جھوٹی)
مینجر نے چونک کے اسکی شکل دیکھی تھی۔
اس نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام لیا وہ اب نشے میں بڑبڑا رہا تھا۔
اس کو مجھ سے پیار ہوا ہی نہیں۔۔۔۔ہچکی ۔ کھوجے مار۔۔۔ اسکو ہوا تھا اسکو ہے مجھ سے۔ میں نے دیکھا ہے اسکو پروا تھی میری۔ وہ بس مانتی نہیں۔ وہ مانتی کیوں نہیں۔۔
کم سن نے اسکا ہاتھ تسلی آمیز انداز میں تھپکا۔ وہ بڑبڑا کر کروٹ بدل گیا۔
اس پر کمبل درست کرکے وہ الٹے قدموں واپس ہوا۔
گاڑی میں بیٹھی سنتھیاتھک کر اونگھنے لگی تھی جب وہ واپس آیا۔
بیان مجھے ذیادہ وقت لگ گیا۔
اس نے فورا معزرت کی۔ سنتھیا نے سر ہلا دیا۔اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
ضرورت کے وقت دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔
کم سن نے گاڑی روکتے ہوئے اسے مخاطب کیا تھا وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی پھر گردن گھما کر دیکھا تو وہ گوارا کی بلڈنگ کی پارکنگ میں کھڑے تھے۔
نو نو۔نو وے میں اریزہ کے ساتھ جا کر ہرگزنہیں رہ سکتی۔ اس سے بہتر ہے مجھے پولیس کے حوالے کردو۔
وہ یکدم سمجھ کر بپھر کر بولی
پولیس کے حوالے کرنے سے بہتر نہیں کہ تم اریزہ سے مدد لے لو۔
کم سن رسان سے بولا
کس منہ سے سامنا کروں گئ میں اسکا تم نہیں جانتے میں نے اسکو کیا کچھ کہا ہے وہ میری شکل بھئ نہیں دیکھنا چاہے گی تھوک دے گی مجھ پر۔
وہ کہتے کہتے روہانسی ہو چلی تھی۔
جہاں تک میں اریزہ کو جانتا ہوں وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی۔ اور مجھ سے ذیادہ تو تم اپنی دوست کو جانتی ہوگی ہے نا۔
کم سن کی بات پر وہ چپ ہی رہ گئ۔ وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر اترا تو سنتھیا کو بھی اترنا پڑا۔
کم سن کے ہمراہ قدم اٹھاتے اسکے قدم من من کے ہو رہے تھے۔۔ اس پر چلاتے ہوئے دھکا دینے سے لیکر اسکے منہ پر حقیقتا سوپ کا پیالہ مارنے تک اپنی ہر بدتمیزی یاد آرہی تھی تواپنے کہے جملوں کی سختی الگ اسے شرمندہ کر رہی تھی۔ ہتھیلیاں مسلتے اسکی بے چینی کم سن کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی۔کاش اریزہ اس پر واقعی تھوک دے۔اتنا لڑے کہ وہ اریزہ کے ساتھ کیئے اپنے برے سلوک پر پشیمان ہونے کی بجائے سوچے اس نے صحیح کیا۔ وہ خود کو ہر طرح کی صورتحال کیلئے تیار کر رہی تھی۔ تبھئ اسکی نگاہ سامنے پڑی۔ لفٹ میں لگے دیوارگیر آئینے میں وہ خود کو دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔ اسکا رنگ بالکل سیاہ پڑ چکا تھا۔ وہ برسوں کی بیمار دکھائی دیتی تھی۔
چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ شکل دیکھ کر اریزہ ترس کھا کر رکھ لے گی۔
خود ترسی کی انتہا پر پہنچتے اس نے سوچا تھا۔ لفٹ رک گئ تھی۔ کم سن اسے مستقل نوٹ کر رہا تھا۔
کاش اریزہ ہو ہی نہ گھر پر۔
یہ آخری سوچ دعا بن گئ تھی ۔ اس نے بہت دل سے دعا کی۔۔
جانتی ہو اریزہ بیمار ہے اسپتال میں داخل تھی وہ پچھلے کئی دنوں سے۔
کم سن نے اسکو بتانا ضروری سمجھا۔
کیوں؟ اس نے لمحہ بھر کے توقف کے بنا پریشان ہو کر پوچھا تھا۔
کم سن کے حسب توقع وہ فکر مند ہوئی تھی۔
اسکو نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔ کم سن نے سرسری سے انداز سے کہتے اسکے اپارٹمنٹ کی بیل بجائی تھی۔
کیا؟ کیوں ؟ اب کیسی ہے وہ ٹھیک تو ہے نا؟
وہ بے اختیارئ سے اسکا بازو ہلا کر پوچھ رہی تھی۔
کم سن مسکرا دیا
خود پوچھ لینا۔
سنتھیا اسکے انداز پر شرمندہ سی ہوگئ۔ کئی بار بیل بجانے کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا تو اس نے گوارا کو کال ملا دی۔
کہاں ہو؟ میں بیل بجا رہا ہوں اپارٹمنٹ کی ۔
آگے سے جو جواب ملا اس پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
کب آئوگی واپس؟
وہ ہنگل میں بات کر رہا تھا اسکے پلے تو نہ پڑا مگر اندازہ ہوا کہ آج اسکی دعائوں کی قبولیت کا دن ہے۔پہلے پتہ ہوتا تو کچھ اور مانگ لیتئ اب بنا سوچے سمجھے مانگنے کا نتیجہ یہ تھا کہ اس شہر میں واحد جگہ جہاں اسے پناہ مل سکتی تھی وہ بھی اب میسر نہیں تھی۔
کم سن کال بند کرکے پیشانی مسلنے لگا۔
پولیس اسٹیشن چلو۔ اب جو ہوگا دیکھ لوں گی میں۔
اس نے ایکدم سے فیصلہ کیا تھا۔ مضبوط انداز میں کہتی سنتھیا کو دیکھ کرکم سن چونکا تھا اسےاتنے دنوں میں پہلی دفعہ اس میں پرانی والی سنتھیا نظر آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوسان پہنچ کرانہیں بس پکڑنی پڑی جب اسکے گائوں کے پاس اسٹاپ پر اتریں تو دن ڈھل چکا تھا شام کے سائے پھیل رہے تھے۔ یہاں سے انکو پیدل مزید چلنا تھا۔ انکے سامان کے بیگز میں تو پہیئے تھے پھر بھی اتنے سفر کی تھکن روم روم میں اتر رہی تھی۔
گوارا نے کال کرکے اپنے بھائی کو بلایاہوا تھاوہ کھلے کیبن والی سامان اٹھانے والی پک اپ نما گاڑی لیکرانکے پہنچنے کے دس پندرہ منٹ بعد پہنچا تھا۔بمشکل اٹھارہ انیس سال کا وہ ہائی اسکولر تھا جسے گوارا نے بنا لحاظ دو لگا بھی دی تھیں کہ دس منٹ انتظار کیوں کروایا۔جوابا وہ بس من من کر سکا۔ ان دس پندرہ منٹوں میں کھلی ٹھنڈی ہوا ہڈیوں کو جما رہی تھی اریزہ کی۔ سامان پیچھے رکھ کر گوارا نے خاص طور پر اسے آگے کی نشست پر بٹھایا خود وہ اور ہوپ پیچھے ہی سامان کے ساتھ بیٹھ گئیں۔
میں بھی پیچھے بیٹھ جاتی ۔۔ وہ منمنائی مگر گوارا نے ایک نہ سنی۔
تم سے یہاں کا موسم برداشت نہیں ہوگا بیمار پڑ جائو گئ۔
باہر خالی کھڑے سرد ہوا قلفی بنا رہی تھی یہ دونوں کھلی گاڑی میں جانے کیسے بیٹھی تھیں۔
خدا خدا کرکے گاڑی اونچئ نیچی تنگ سڑکوں سے گزر کر اس چھوٹے سے مگر خوب روشن پرانے کوریائئ طرز کے بنے ریستوران کے آگے جا کر رکی تھی۔
بڑی بڑی شہتیروں والا گھر جس کا ایک حصہ ریستوران بنا دیا تھا باقی رہائشی عمارت ملحقہ ہی تھی۔ اس وقت ریستوران بھرا ہوا تھا ڈھیر ساری چندی آنکھوں والی شکلوں سے۔ خوش گپیوں کی آوازیں گرم تازہ کھانے کی مہک ، شیشے کی دیواروں سے نظر آتی رونق۔ گوارا انکو ریستوران سے ملحق رہائشی عمارت میں لے آئی تھی۔ لکڑی کے فرش کھپچیوں شہتیروں سے سجے ورانڈے سے گزر کر چھوٹا سا پکا مکان تھا۔ اسکا بھائی انکا سامان لا رہا تھا۔ ہوپ اپنا سامان خود اٹھائے تھی مگر گوارا نے حقیقتا اسے گدھا ہی بنا دیا تھا اسکا اریزہ کا بیگ اٹھائے وہ غبارے کی طرح منہ پھلائے تھا۔
اندر لائونج میں ایک سات آٹھ سال کی بچی اور ایک دس بارہ سال کا بچہ کھانا کھاتے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔
آننیانگ۔
گوارا نے خوشگوار سے انداز میں کہا۔
دونوں کھانا چھوڑ کر بھاگ کر آکر اس سے لپٹ گئے تھے۔
انی۔۔ نونا۔۔۔ ہم آپکو ہی یاد کر رہے تھے۔ آپ اتنی جلدی کیوں واپس چلی گئ تھیں آپ نے وعدہ کیا تھا کرسمس تک یہیں رہیں گی۔
دونوں اکٹھے بول رہے تھے۔حیرت انگیزطور پر اریزہ کو ان بچوں کا لہجہ سمجھ آگیا تھا۔ پوری نہ سہی مگر کرسمس تک رکنے کا وعدہ یاد دلانے والا جملہ پورا سمجھ آگیا تھا۔
تحفے دے کر تو گئ تھئ پھر بھی یاد کررہے تھے مجھے؟
گوارا نے بچے کی ناک کھینچتے چھیڑا
ہاں کیونکہ بے وقوف بچے ہیں نا یہ۔
اسکےبھائی نے منہ پھلاکر جتایا اورسامان وہیں ڈھیر کر دیا۔
ارے کمرے تک تو پہنچا دو۔
گوارا نے کہا مگر وہ ان سنی کرتا باہر نکل گیا۔
ہائش۔ وہ گھور کر رہ گئ۔ بچے اسے گھور رہے تھے
اب تم لوگوں کو کیا ہوا بھئ؟ وہ حیران ہوئی۔
ہم تحفوں کے بھوکے تھوڑی ہیں خوامخواہ ہی ۔
وہ خفا ہوگیا۔
ایک تو ہم یاد کررہے تھے آپکو نونا۔
دوسری نے بھی ٹھنک کر کہا۔
جانتی ہوں مزاق کر رہی تھی۔
اس نے پیار سے انکو ساتھ لپٹایا پھر ان دونوں کی جانب مڑ کر تعارف کرانے لگی۔
یہ سب میرے سوتیلے بہن بھائی ہیں۔نام بتانے کا فائدہ نہیں یاد نہیں رہے گا یہاں رہوگی تو یاد ہو ہی جائے گا۔
وہ ہنسی۔
یہ کون ہیں انی؟
بچوں کو اسکے نقوش مختلف لگے تھے جبھی خاص اسی کا پوچھا۔
یہ میری دوستیں ہیں انکا تم سب کو خیال رکھنا پڑے گا تھا سمجھے؟
گوارا نےتاکید کی تو وہ سب زور و شور سے سر ہلانے لگے۔
اریزہ کو پھولے پھولے گالوں والی بچی پر اتنا پیار آیا کہ بے ساختہ آگر بڑھ کر اسکے گالوں پر چٹکی بھر لی۔
بچی اس پیار کے مظاہرے پر شرما گئی۔
چلو تم دونوں منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا لگواتی ہوں۔
گوارا آگے بڑھ کر بیگ اٹھانے لگی ۔
یہ جوتے بدلے بغیر اندر آگئ ہے۔
اس بچے نے ناگواری سے اسکے جوتوں کی جانب اشارہ کرکے کہا۔ وہ بری طرح شرمندہ ہوگئ۔ ایک اسکے سوا سب عادتا جوتے بدل چکے تھے ہوپ بھی ۔
بیان۔ اس نے فوراجھک کر معزرت کی۔اور جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے۔ گوارا انہیں اپنے کمرے میں ہی ٹھہرا رہی تھی۔ اسکا کمرا چھوٹا سا ہی تھا مگر سلیقے سے سامان رکھا سمٹاہوا۔ اٹیچ باتھ روم بھی تھا۔ پرانے طرز کی روائتئ کوریائی طرز تعمیر بس گھر کے باہر تک ہی محدود تھئ اندر سے کافی نئے انداز کا پکا مکان تھا باتھ روم بھی جدید طرز کا تھا۔اتنی سردی میں نہانے کا تو ارادہ نہ بنا منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو گوارا انکے لئے چھوٹی سی میز پر کھانا رکھ کے اند رہی لے آئی۔
چاول مٹر پکے ہوئے تھے۔ ساتھ چکن ویجی ٹیبل سوپ۔
خاص کر تمہارے لیئے چاولوں میں مٹر ڈلوانے کا کہا تھا آہموجی سے۔مکمل ویج کھانا ہے سکون سے کھائو۔
اس نے تسلی بھی دے دی۔ ہوپ سوپ پی رہی تھی۔
ابلے ہوئے چاول ابلے ہوئے مٹر کے ساتھ پکے ہوئے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے منہ میں رکھا نمکین مختلف ذائقہ۔ حیرت انگیز طور پر برا نہیں تھا۔وہ رغبت سے کھا رہی تھی گوارا کی آہمونی ان سے ملنے چلی آئیں۔ روائتی کوریائی نقوش کی گوری چٹی گوارا سے خطرناک مشابہت ۔ نہایت ہی پیاری مسکان سجائے وہ محبت سے ملنے آئی تھیں۔
ہوپ اور اریزہ ان سے ملنے فورا اٹھ کھڑی ہوئیں۔
آنیا آنیا۔ بیٹھو کھانا کھائو۔
دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر وہ انکو منع کر رہی تھیں۔ ہوپ نے تو کوریائی انداز سے جھکنےپر اکتفا کیا۔ اریزہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ گئ۔ یہ انکے لیئے غیر متوقع تھا مگر بہت پیار سے انہوں نے اسے ساتھ لگایا۔ گوارا نے مسکراہٹ دبائی۔
پھر جانے ہنگل میں کیا پوچھنے لگیں۔
آہمونی پوچھ رہی ہیں کھانا کیسا لگا تمہیں؟
گوارا نے ترجمہ کیا۔
۔ماشیتا۔ ( بہت مزے کا)چھائے موکے سبندا۔
اریزہ نے ساری ہنگل جھاڑی تو وہ خوش ہو کر کچھ بتانے لگیں۔ انکی بات سنتی گوارا چیخ پڑی
کیا؟ آپکو منع کیا تھا نا میں نے۔۔
مزے لیکر چاول کھاتی اریزہ حیرت سے اسکا برتائو دیکھنے لگی۔ ایکدم اچانک کیا ہوا۔ ہوپ نے اریزہ کے ہاتھ سے پلیٹ لے لی۔
دونوں ماں بیٹی میں بحث جاری تھی ۔ آہمونی جھک جھک کر معزرت کرنے لگیں۔
کوئی بات نہیں جانے دیں اس بات کو۔
ہوپ نے اخلاقا دخل دیا اور گوارا کو بھی چپ کرایا۔
ہائش۔ گوارا سر پکڑ کر رہ گئ۔
کیا ہوا۔
اریزہ حیران پریشان تھی۔
اب اسے نہ بتا دینا ورنہ یہیں کھانا چھوڑ دے گی۔
گوارا نے ہوپ سے کہا۔ تو جوابا وہ نفی میں سر ہلاگئ
نہیں بتانا تو چاہیئے یہ اتنی سخت ہے اپنی مزہبی رسومات میں ہمیں اسے دھوکا نہیں دینا چاہیئے
ہوا کیا ہے کچھ مجھے بھئ تو بتائو۔
اریزہ جھلا گئ
در اصل آنٹی نے مٹرچاول میں سور کا سالن بھی ڈال دیا تھا۔ گوشت نکال کے۔
ہوپ نے بتایا تو وہ سر ہلا کر بولی۔
اوہ اچھا ۔ پلیٹ دوبارہ اٹھانے لگی تو دماغ میں گھنٹی بجی۔
اتنے مزے لے لے کر وہ آدھی پلیٹ کھا چکی تھی۔ اس نے پلیٹ چھوڑ دی۔ گوارا نے ہوپ کو گھورا
دیکھا کہا تھا نا میں نے۔۔
سچ بتانا بھی تو ضروری تھا نا۔
ہوپ بے نیازی سے بولی۔
اریزہ کو نیا غم لاحق ہوچکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی ہو نا میں بات کر رہا تھا میری بات کاٹ کر فون بند کردیا کوئی کام پڑتا ہے تو میں فورا یاد آتا ہوں تمہیں۔
صارم کو موقع ملا تھا کیسے نہ بدلہ لیتا۔
اوفوہ ۔ وہ جھلا گئ۔ ایک تو اتنی سردی میں جیکٹ مفلر لپیٹ کر باہرصحن میں آکر اس کو کال ملائی اوپر سے وہ اصل مسلئے کی بجائے اپنی بے پر کی ہانک رہا تھا۔
صارم پلیز میں سنجیدہ ہوں۔ وہ رودینے کو تھی۔
میں بھی سنجیدہ ہوں۔ مجھ سے بدتمیزیاں کرنے سے پہلے سوچتی کیوں نہیں ہو میرے سوا اس دنیا میں تمہارا ہے ہی کون۔ اب منتیں بھی کرلوگی مگر دوبارہ میٹر گھومے گا اور تو کون میں کون ۔
وہ چمک کر بولا۔
صارم کے بچےآٹھ بجے ہیں اندر سب سونے لیٹ گئے ہیں میں اکیلی باہر اتنی سردی میں پھر رہی ہوں بھائی نہیں ہو ؟ ذرا ترس نہیں آرہا تمہیں مجھ پر۔
ہاں تو میں بھی باہر ہی ہوں ٹیرس پر۔یہاں بھی پانچ ڈگری ہو رہا ہے درجہ حرارت۔
وہ ترس کھانے کو تیار نہ تھا۔
میں اس نے موبائل کان سے ہٹا کر ویدر ایپ دیکھی۔ سیول کا ہی درجہ حرارت بتا رہی تھی ابھی لوکیشن اپڈیٹ ہی نہیں کی تھی۔ وہاں تو شائد پھر برفباری ہو رہی تھی سنو بنی آرہی تھی ساتھ منفی تیرہ۔
یہاں منفی تیرہ ہو رہا ہے۔
اس کی بتاتے آواز کانپ کانپ گئ۔ دانت جو بج رہے تھے۔
ہیں؟ وہ پہلی بار چونکا۔
ہاں ۔ وہ کونسا ابھی بوسان کا ویدر دیکھ کر اسے شرمندہ کرے گا۔ اس نے ڈھٹائی سے کہا۔
ٹھہرو میں دیکھتا ہوں اتنی سردی میں تم زندہ کیسے ہو یہاں تو اکتوبر سے دو سوئٹریں چڑھا لیتئ تھیں۔
وہ سچ مچ ویدر نکالنے لگا تھا۔
سو کمینے مرے تھے جو تم پیدا ہوئے۔
وہ غصے میں چلا اٹھی۔
اسکے ایکدم زور سے بولنے پر مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے اس شخص کے ہاتھ سے تھیلی چھوٹ کر نیچے گر گئ۔
گرنے کی آواز پر وہ چونک کے مڑی ۔ تیز بلب کی روشنی میں نووارد کا چہرہ واضح تھا۔ اسکے چہرے پر اسکو دیکھ کر خوشگوار حیرت در آئئ تھئ۔ اریزہ بھی اسے دیکھ کر فون کال بھول گئ تھی۔
جھک کر شاپر اٹھاتے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے پاس چلا آیا۔
اسلام و علیکم اریزہ ۔کافی خوشگوار سرپرائز ہے ۔ کیا حال ہے تمہارا؟
علی مسکراتے ہوئے اسکا احوال پوچھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? rate us below

Rating
https://desikimchi.com/a-good-day-to-be-a-dog-first-episode-review/
https://urduz.com/takabur-kahani-%d8%aa%da%a9%d8%a8%d8%b1%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%88-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c/

ایک تھی مچھلی۔ اسکو شیشے کے گھر میں کسی نے کتب خانے میں رکھا ہوا تھا۔ روز لوگوں کو گھنٹوں گردن جھکائے کتابیں پڑھتے دیکھ کر اسے بھی پڑھنے کا شوق ہو گیا۔اپنی محدود جگہ میں تیرتے ہوئے لوگوں کو کتابیں پڑھتے دیکھ دیکھ کر ادھر سے ادھر ہوتی جاتی اور پڑھتی جاتی۔ یوں  فلسفہ، تاریخ ، سائنس ، اردو ادب غرض ہر موضوع پر کتابیں پڑھتی گئ۔ 
یہاں تک کہ اسے ادراک ہوا کہ تعلیم نے اسکی شخصیت بدل کر رکھ دی ہے۔ اب وہ عام مچھلی کی طرح تیرنے اور کھانے کی بجائے سوچوں میں گم 
رہتی ۔ ایک دن سوچتے ہوئے مراقبے میں چلی گئ۔
کتب خانے کے ملازم کی صفائی کرتے ہوئے اس پر نظر پڑی سمجھا مر گئ۔ اسے نکال کر میز پر رکھے اخبار پر رکھ دیا کہ صفائی کے بعد پھینک دے گا۔ مچھلی نے پڑھ رکھا تھا کہ ایک عام مچھلی 10 منٹ تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے سو اس مہلت کو غنیمت جان کر اس کی علم کی پیاس مزید بھڑک اٹھی۔ اس نے اسی اخبار کو پڑھنا شروع کردیا۔ اخبار پڑھتے اسکی حالت غیرہونے لگی خوف کے مارے اسکی آنکھیں ابل سی پڑیں اس نے بے تابی سے اپنے پر اور سر کو اخبار پر پٹخنا شروع کردیا ۔ اخبار پھڑپھڑا اٹھا۔کتب خانے کی خاموشی کی چادر میں دراڑ پڑی۔ ملازم نے چونک کے اسے پھڑکتے دیکھا تو احتیاط سے اٹھا کر واپس شیشے کے گھر میں ڈال دیا۔ پانی ملا سانس بحال ہوئی سب سکھئ سہیلیاں جو اسکی موت کے غم میں مغموم تھیں آکر خوشی سے اس سے لپٹ گئیں۔ مچھلی تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔ سب حیران ہوئیں کیوں روتی ہو؟ مچھلی نے ہچکیاں لیتے ہوئے بتایا جس اخبار پر اسے ملازم لٹا گیا تھا اس اخبار میں کھانا پکانے کی ترکیب درج تھی۔ اسے پڑھ کر رونا آگیا۔ سب مچھلیاں اسکی بیوقوفی پر ہنس پڑیں۔مچھلی نے کچھ کہنا چاہا مگر انکے مطمئن چہرے دیکھ کر ہمت نہ ہوئی لب سی لیئے اور اپنے کونے میں آبیٹھی۔ 
اسے یاد آیا تھا کہیں پڑھا تھا علم شعور کے دروا کرتا ہے اسے شعور آگیا تھا سو چپ رہنے کا فیصلہ کیا۔ 
دراصل اس مچھلی نے جو اخبار میں کھانا پکانے کی ترکیب پڑھی تھی وہ ترکیب تلی ہوئی مچھلی بنانے کی ہی تھی۔ 
نتیجہ: جو جان جاتا ہے وہ یہ بھی جان جاتا ہے کہ جاننا جان لیوا بھی ہوتا ہے۔ 

urduz.com/ kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza #hajoometanhai


Aitraaf aik aakhri khat

خو د کشی سے پہلے میرا آخری خط۔۔۔

مجھے آج اپنا آخری خط لکھنا ہے۔۔

کس کے نام لکھوں۔۔؟انکے جن کی وجہ سے آج میں اس مقام پر ہوں۔۔ کہ مجھے سامنے اپنے بس اندھیرا نظر آتا ہے۔ یا انکے نام جن سے میرا کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔۔ عجیب بات ہے نا۔۔ مگر آج میرا مخاطب اس دنیا کا ہر وہ فرد ہے جو اس دنیا میں اس وقت موجود ہے۔۔ چلو تو سنو۔۔ یہ میرا آخری خط ہے۔۔ اسکے بعد نہ تو کبھی میری صورت دکھائی دے گینہ کبھی میری آواز سنائی دے گی۔ اب تم لوگ کہوگے تو کیا ؟۔۔ ہا ہا۔۔ تو کیا۔۔تو یہ کہ۔۔ مجھے بھی ویسی ہی زندگی ملی جیسی تم سب کو ملی۔۔ مگر میرا انجام تم سب سے مختلف کیوں ہے؟۔۔ مجھے بڑھاپے تک جینا کیوں مشکل لگ رہا۔میں اپنی جوانی میں ۔۔ قبر میں جا لیٹنے جیسی مایوس کن سوچ کا شکار کیوں ہوں۔۔

تو سنو۔۔میرے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔یوں کہو۔۔ میرے ساتھ دنیا نے اچھا نہیں کیا۔۔ یوں کہو۔۔ مجھے سب نے چھوڑ دیا۔۔ شائد اس نے بھی جو مجھے تمہیں سب کو پیدا کرنے والا ہے۔۔مگر نہیں۔ اس سے مجھے شکوہ نہیں۔۔عجیب بات ہے نا۔۔ برا لوگ کرتے خفا ہم خدا سے ہو جاتے۔۔ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔۔ میں خدا سے ناراض نہیں۔ ورنہ اسی کے پاس چلے جانے کی خواہش کیوں ہوتی میری؟۔۔میں تو بس۔چلو چھوڑو۔۔مجھے لگتا ہے میں نے اپنی بساط کے مطابق سب اچھا کیا۔۔ اس سے زیادہ میرے بس میں ہی نہیں ہوگا۔تو اگر مجھ سے کوئی شکوہ ہو تو معزرت میں بس اپنے آخری وقت میں اور کہوں بھی تو کیا۔۔ تو خدا حافظ دنیا۔۔ اب مجھ سے اور جیا نہیں جاتا۔۔ ختم شد۔۔میں نے سطروں پر نظر دوڑائی۔۔ایک اطمینان میرے رگ و پے میں دوڑ گیا۔۔ میرا آخری سفر اب آسان ہوگا۔۔ میں نے سوچا۔۔ میرے کچن میں ایک فرائی پین چولہے پر چڑھا ہے۔۔ اس پر ایک خاص مرکب دم دے رہا ہے۔۔ اس کے دھوئیں نے میرے پورے اپارٹمنٹ کا احاطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔۔ میں اپنے بستر پر نیم دراز ہو گیا۔۔ آنکھیں زندگی میں بند کروں یا موت کو اپنے حواس مختل کرنے تک انتظار کروںبس میں یہی فیصلہ کرنے لگا ہوں۔۔ آپ شائد متجسس ہیں ۔۔

میں کون۔۔؟۔۔

۔میں ایک ترقی یافتہ ملک کا مشہور ترین گلوکار ہوں ایک دنیا اس شہرت کے مزے لینا چاہتی جو میرے گھر کی باندی ہے جسکے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بقیہ عمر کھا سکتا ہے۔۔ ہا ہا ہا۔۔ میں ہاں۔۔

میں۔جونگ جوہیون۔۔ شائینی گروپ کا لیڈ سنگر۔۔

“آخری خط: ایک شخص کا خودکشی سے پہلے خط لکھنے کا افسانہ”
(Akhri Khat: Ek Shakhs ka Khudkushi se Pehle Khat Likhnay ka Afsana)

urduz.com: Aitraaf aik aakhri khat

short urdu afsanay

https://desikimchi.com/believer-2018-korean-action-movie-urdu-review/
https://desikimchi.com/why-is-twinkling-watermelon-such-a-popular-kdrama/

Instalker(instagram+stalker) aik instagram ki kahani

میں انسٹاکر ہوں۔ اسٹاکر وہ بھی بس انسٹا کی حد تک۔عجیب لگا نا سن کر۔ حقیقی زندگی سے کہیں بہتر ہے کسی کو بس انسٹا پر بھی دور دور سے تاک لیا جائے۔ دیکھا جائے جی بھر کر اسکے پل پل کی زندگی کی خبر رکھی جائے۔یہ دیکھا جائے کیسی گزر رہی کسی کی زندگی کیا کر رہا وہ آج کل کیا کھایا کہاں گیا سب کچھ تو سب لوگ انسٹا پر ڈال دیتے ہیں۔ اور میرے جیسے بےروزگاروں کا مشغلہ ۔کسی کے گھر جا کر دروازے پر سارا دن کھڑےرہ کر بھی اتنی واقفیت نہ ہو کسی کے حال زندگی سے جتنا آجکل انسٹا پر چپکے چپکے بنا لائک کمنٹ کیئے تکتے جانے سے باخبرہو جایا جائے۔ کوئی لڑکی پسند آجائے تو کبھی کبھار پیغام بھی بھیج لیتا ہوں مگر حرام ہے جو پچھلے سات سالوں میں کسی لڑکی نے بھی جواب دیا ہو۔ سب کے پیغام بنا پڑھے ہی رہ جاتے ہیں۔ انسٹا کو کم از کم اسپیم کا آپشن نہیں نکالنا چاہیئے تھا۔ کم از کم میرا بھلا ہوجایا کرتا مگر اس دل کا کیا کیجئے جو ہزاروں رنگ برنگی تتلیوں میں بس ایک ہی چہرہ کھوجتا ہے۔ روما۔ نام تو پورا رومانہ ہے اسکا مگر انسٹا پر آئی ڈی روما کے نام سے ہی ہے اسکی پبلک پروفائل۔ جس پہلی اور آخری لڑکی نے مجھے انسٹا پر سپیم کرنے کی بجائے جواب دیا تھا۔میں نے ہائی لکھ کربھیجا تھا سات سال قبل اور اس نےمجھے جوابا لکھا ہائے۔ میری آئی ڈی پر میری لاہور میں مینار پاکستان کو چٹکی میں تھامتےمسکراتے ہوئے کیمرے کی آنکھوں میں دیکھتے والی تصویر جو تھی پروفائل پر۔ نظر انداز نہیں کر پائی اور میں بھی تو کچے دھاگے سے بندھا اسکی پروفائل پر گیا تھا اسکی مہندی والے ہاتھوں سے کھڑکی بنا کر کاجل سے سجی مسکارے سے بوجھل پلکیں پٹپٹاتے ہوئے ایک رومانوی گانے پربنئ ٹک ٹاک والی ویڈیو سے۔ ایک لاکھ ویوز تھے مگر پوری پروفائل پر کہیں مکمل چہرے کی تصویر نہ تھی۔ کبھی ہاتھوں میں چہرہ چھپاتے کبھی پیرو میں کھسہ پھنساتے کبھی دھندلی کرکے چہرہ چھپاتے صندلی وجود پر پشواز کی لانبی فراک کا گھیرا بناتے ویڈیو کبھی کرتے پاجامے میں مڑ کر دیکھتی ۔ اس دن میں نے اسکی ستر کے قریب ویڈیوز دیکھی تھیں اس سے ذیادہ ہوتیں تو وہ بھی دیکھ لیتا مگر تھیں ہی بس ستر۔ دو تین گھنٹے بس ایک ایک ویڈیو کو دیکھتا پسند کرتا رہا ہر ویڈیو پر کمنٹ کیا تھا۔ اسے متاثر ہونا پڑا۔ شکر گزار ہوئئ اور میں؟ میں اسکے جواب دینے پر ہوائوں میں اڑتا پھرا تھا۔ تبھی سوچ لیا تھا اس کو ہی اپنے دل کی ملکہ بنائوں گا۔ شکل تک نہ دیکھی تھی۔ مگر جزبہ سچا تھا۔ روز ہی کچھ نہ کچھ اسے بتانے کیلئے ہوتا تھا میرے پاس۔ اسے پیغام بھیجتا وہ دیر سے سہی مگر پڑھ کر جواب ضرور دیتی تھی۔ ہم تقریبا ہم عمر ہی تھے بس کچھ فاصلے تھے ہمارے درمیان میں گجرانوالہ میں رہتا تھا اور وہ کراچی میں۔ مگر تب ہمیں لگتا تھا فاصلے دلوں کےہوتے ہیں بس اور دل تو ہمارے مل گئے تھے۔ آہستہ آہستہ اسے مجھ پر اعتبار آتا گیا۔ اس عید کے دن میں نے اس سے فرمائش داغ دی۔ مجھے اپنی تصویر بھیجو تیار ہو کر۔ مجھے لگا تھا وہ بہانے کرے گی۔ اور میں جتائوں گا اعتبار نہیں مجھ پر؟ مجھ پر شک؟ میں اجنبی ہوں تمہارے لیئے مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اس نے مجھے اپنی تصویر بھیج دی تھی۔میرے تصور سے ذیادہ خوبصورت لڑکی تھی۔رنگ تو شائد اسکا کم تھا مگر بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک بالکل مہوش حیات لگتی تھی یا شائد بس مجھے لگتی تھی۔مجھے مہوش حیات پسند تھی اور وہ اس جیسی تھی۔ زندگی مکمل تھی میری۔ میں نے اس رشتے کو آگے بڑھانا چاہا۔ گھر والوں سے ضدیں کیں کراچی جا کر پڑھوں گا رہوں گا اکیلے کمائوں گا ۔ تب انٹر کا امتحان دیا تھا ۔ گھر والے لاہور تو بھیج دیتے ضد سے مجبور ہو کر مگر کراچی ناممکن۔ہاں بہت ضد کرنے پر کراچی میں ایک رشتے کے ماموں کے پاس بھیج دیا چھٹیاں گزارنے۔ میرے تو دل کی کلی کھل گئ۔ جھٹ روما کو پیغام بھیجا ملنا مجھ سے۔ جوابا وہ بھی شائد اب مجھ سے ملنا چاہ رہی تھی۔ مان گئ۔ کراچی پہنچ کر مجھے لگتا تھا ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔ روما بھی اسی فضا میں سانس لیتی ہے جس میں میں؟ دو ایک دن تو کراچی کی فضا سے مانوس ہونے میں وقت لگایا پھر ماموں کے بیٹے جو میرا ہم عمر ہی تھا اپنے راز میں شریک کیا ۔ وہ بھی پرجوش تھا میرا ساتھ دینے کا وعدہ کرڈالا ہم اگلے دن ملاقات کا وقت طے کر کے ایک مشہور کافی ہائوس جا پہنچے۔ وہاں دو گھنٹے بیٹھے رہے کافی پی اور واپس آگئے۔ رومانہ سے بھی ملے۔ رومانہ بالکل تصویر جیسی ہی تھی۔ اپنی سہیلی کے ساتھ آئی تھی۔اعتماد میں مجھ سے ذیادہ ہی تھی شائد عمر میں بھی تھوڑی سی۔مجھ سے چٹاخ پٹاخ باتیں کرتی رہی میں پورے پندرہ دن کراچی رہا ہم تین مرتبہ ملے واپسی پر ڈھیر سارے دوبارہ ملنےاکٹھےجینے مرنے کے وعدے کرنے کے بعد میں واپس گجرانوالہ چلا آیا۔ آگے داخلہ لیا پڑھائی شروع کردی۔ دو تین سال گزر گئےٹک ٹاک پاکستان میں بین ہو گئ ۔انسٹاگرام سے اچانک رومانہ نے اپنی سب تصویریں ہٹا دیں کچھ وقت گزرا میرے ذہن سے اسکی تصویر مٹتی گئ۔ ہمارے رابطےجو ختم ہوگئے تھے۔رابطے واٹس ایپ کی وجہ سے تھے اور اسکا موبائل چوری ہوگیا تھا۔ یہ اس نے انسٹا پر اسٹوری لگائی تھی میں نے انسٹا پر اسے اپنا نمبر بھیجا تھا پر شائد اسپیم باکس میں پڑا رہ گیا آج تک ان ریڈ پڑا ہے۔پھر یوں ہوا کہ میری زندگی میں سے روما تو چلی گئ فائزہ زینت رابعہ آئیں یکے بعد دیگرے اور پھر میری طویل بے روزگاری کی وجہ سے ان سب سے تعلق ختم ہوئے انکی شادیاں ہو گئیں اور میں انسٹاکر کا انسٹاکر بن کے رہ گیا۔ کبھی کبھی ان تینوں کی انسٹا بھی جا کر دیکھتا ہوں شوہر بچوں کے ساتھ مگن خوش۔ مگر پروفائل پر ڈھیروں پرائیویسی۔میں بس ڈی پی سے انکی خوشگوار زندگی کا اندازہ لگا لیتا ہوں جس پر کبھی شوہر کے ساتھ کھڑی خوب پھیلے وجود پر چہرے کی جگہ ایموجی لگائے تصویر لگی ہوتی ہے تو ذیادہ تربچوں کی اپنے ہر نئے اضافے کے ساتھ ۔کبھئ میں سوچتا ہوں کوئی میری طرح فارغ بھی ہوگا جو گھنٹوں اپنی ایکسوں کی پروفائل تاڑتا ہے انسٹا پر جا کر۔پھر بھی ایک خلش ہے کبھی رومانہ مل جائے۔ اسکی پروفائل کیا آج بھی پبلک ہوگی اب بھی وہ اپنے چہرے کو چھپا کر ویڈیو بناتی ہوگی یا اس نے بھی اپنا آپا بھلا دیا ہوگا خوب موٹی ہوچکی ہوگی دو تین بچے سنبھالتی سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے پتی ورتا قسم کی عورت جس کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا وقت بھئ نہ ہوگا۔اور پھر سوچتا ہوں زندگی کے کسی موڑ پر ملی تو کیا خوش ہوگی کہ وقت پرمجھ جیسے سے رابطے ختم کیئے جو آج بھی ناکام انسان ہے۔ ڈگری مکمل کیئےدس سال ہونے کوآئےمگر آج بھی جوتیاں چٹخا رہا ہےنا عارضئ نوکریاں کرتا ہے اور آج کل تو بالکل ہی فارغ ہے انسٹاکر کہیں کا۔ایسے کسی وقت پر میں دل سے دعا کرتا ہوں خدا کرے کبھی میرا اسکا سامنا نہ ہو۔ روما نام کے پانچ سو کے قریب انسٹاگرام کھاتے ہیں۔ چار سو تیس دیکھ چکا ہوں وہ کہیں نہیں ہے۔اس نے رومانہ نام سے تو آئی ڈی نہیں بنا رکھی۔ چلیں اسکو بھی ڈھونڈ لیتےہیں۔ارے یہ کیا؟ کہتے ہیں نا طلب سچی ہو تو مراد مل ہی جاتی ہےرومانہ کی آئی ڈی مل گئ مجھے۔ مجھے یہ خیال پہلے کیوں نہ آیا۔ رومانہ ہمیشہ یو سے اپنا نام لکھتی تو ہمیشہ آر یو سے روما اور رومانہ ڈھونڈا آج او سے ڈھونڈا ہے۔ اور مل گئ۔ روماتو آج بھی پبلک پروفائل ہی بنائے ہے۔ مگر اب تو بے فکری سے اپنی مکمل تصویر لگا رہی ہے۔ کبھی دریا کنارے ہنستی کبھی جھولے پر بیٹھی ہے کبھی پہاڑوں میں انداز سے مسکراتی کھڑی۔ یہ نظارے تو پاکستان کے ہی نہیں۔ میں ذرا دیکھوں اسکی بائو؟ ارے ؟ یہ تو ناروے میں ہے وہیں سے پڑھائی کی اس نے دس سال ناروے میں گزرنے کی مبارکباد والے مراسلے میں منسلک۔ مطمئن خوش باش۔۔اوہ جبھی تو سب رابطے ختم ہو گئے۔ س نے بتایا تو تھا کہ اسکے پاپا ناروے میں ہوتے ہیں مگر وہ اسکو بلا بھی لیں گے یہ مجھے کیوں نہیں بتایا تھا۔مجھے اب غصہ آنے لگا ہے۔میں نے موبائل بیڈ پر پٹخ دیا ۔ اسٹالکر ہونا آسان نہیں ۔ کوئی بھی دھچکا لگ سکتا جیسا ابھی مجھے لگا۔ چند لمحے خود کو پرسکون کرنے کے طعد میں نے دوبارہ موبائل اٹھانا چاہا تو پتہ لگا زور سسے پٹخ دیا تھا بیڈ سے پھسل کر نیچے زمین پر جا گرا۔اف میں جھلاتے ہوئے جھک کر اسے اٹھانے لگا۔ موبائل انلاک کرکے اب میں نے غصے میں اسکی ایک ایک تصویر دیکھ ڈالنی ہے۔ نہیں ذیادہ تر۔ ہزاروں کی تعداد میں اس نے تصویریں ڈالی ہیں میں چاہ کر بھی پچھلے چھے سال کی تصاویر نہیں دیکھ سکتا اسکی لیکن یہ کیا۔میں اسکرال کرتے چونکا۔ اسکے چہرے پر پیشانی پر ایک شکن ہے۔ ہر تصویر میں ایک ننھی سی شکن اسکے چہرے پرواضح ہے۔۔ کیوں بھلا؟ اتنی خوش باش لڑکی کو کیسا غم لاحق ہے جو یوں چہرے پر آ ثبت ہوا۔بے تابی سےمیں نے اسکی ایک ایک تصویر کو دونوں انگلیوں سے دبا کر زوم کرکر کے دیکھا۔ وہ شکن اسکی پیشانی سے چہرے تک سفر کر رہی ہے۔میرا دل اپنی ایکس کے اس غم سے بوجھل ہوچلا تھا۔ آخر کیا ستم گزرا اس پر جو یہ تفکر کی ایک شکن اسکی ہر مسکراتی تصویر پر بھی حاوی ہے۔ میں نے اسکاانباکس کھول کر میسج لکھا رومانہ میں تمہارا عاصم کیسی ہو دل تو کر رہا تھا سیدھا سوال کروں کہ کیاہوا ہے تمہیں مگر یوں اچانک وہ کیا مجھے پہچانے گی کیا بتائے گی؟ میری آئی ڈی بھی تو۔ میں لکھتے لکھتے چونکا۔ کوئی خیال سرعت سے میرے دماغ میں آدھمکا۔میری یہ آئی ڈی تو پچھلے سال میں نے بنائی ہے پرانی آئی ڈیاں تو عرصہ ہوا پاسورڈ بھولنے پر کھولی ہی نہیں۔کس نام سے تھئ میری پہلی آئی ہاں چوہدری عاصم پاسورڈ۔۔ ریکور کرکے دیکھتے ہیں۔ میں نے اپنادوسرا اکائونٹ کھولناشروع کیا۔ میں ان دنوں رومانہ کے نام سے ہی پاسورڈ رکھتا تھا آر یو ایم اے۔ این اے۔۔غلط پاسورڈ۔اف مجھے خیال آیا۔ یہ آئی ڈی کھول نہ سکنے کی وجہ آر او سے پاسورڈ رکھنا تھئ ۔اتنی سی بات مجھے سمجھ نہ آئی۔میں نے جلدی سے آر او لکھا آئی ڈی کھل گئ۔ درجنوں ان گنت نوٹیفیکیشن تھے اور سو ڈیڑھ سو کے قریب میسج۔میں نے میسج کھولے۔ تو حیرت کا ایک اور جھٹکا منتظر تھا میرا۔ یہ ڈیڑھ سو کے ڈیڑھ سو پیغام رومانہ کی جانب سے ہی آئے تھے۔نمبر بھیجنے سے لیکر رابطہ نہ کرنے پر شکوے ناراضگی خود ہی مان جاتے ہوئےمنانے کی کوشش ناروے جانے کی اطلاع۔خدایا میں سر پکڑ کر رہ گیا۔ میں اپنی آئی ڈی کھول نہیں پایا اور دوسری آئی ڈی سے اسےمیسج پر میسج بھیجتا رہا ؟ میں نے جلدی سے اسکو میسج لکھ کر بھیجا۔پیاری روما کیسی ہو؟ میں نے آج میسج دیکھا۔ تقریبا سات سالوں کے بعد میں جانتا ہوں تم مجھ سے خفا ہوگی مجھ سے بات کرو میں سب ۔۔ میں دھڑا دھڑ میسج لکھ رہا تھا میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے میسج پڑھ لیئے تھے۔روما۔ میں نے بے تابی سے لکھا۔یکدم ہی اسکرین پر انتباہ آموجود ہوا میرے سب پیغام انریڈ جا رہے تھے میں نے اسکی پروفائل کھولی تو سب تصویریں غائب تھیں۔ اس نے جوابا مجھے بلاک کردیا؟ مجھے حیرت نہیں ہونی چاہیئے ہے نا؟ دس سال قبل کے ایکس کو اچانک آپ کے سات سال پرانے پیغامو ں کا جواب دینے کا خیال آجائے توآپ یقینا بلاک ہی تو کریں گے۔ میں نے آہ بھری۔مانا میں یہ آئی ڈی کھول نہیں پایا مگر نئئ آئی ڈی بناکر پیغام بھیجا تو تھا وہ اس پر بھی اپنا نمبر بھیج سکتی تھئ۔مجھے غصہ آنے لگا۔کونسی دوسری آئی ڈی تھی میری۔ آج تک کل ملا کر تین آئی ڈیز ہیں میری ایک جو میں آجکل استعمال کر رہا ہوں باقی۔۔ چلو اس پرانی والی کو کھولتے ہیں فائزہ کیوجہ سے یہ ڈی ایکٹویٹ کی تھی فائزہ کو بہت شک رہتے تھے مجھ پرمجھے ایڈ کرکے اتنی نظررکھی کہ میں نے ڈی اکٹویٹ کا بہانہ کرکے نئی بنا لی۔اب تو وہ بھی قصہ پارینہ ہوئئ۔ لو دوسری آئی ڈی کھل گئ۔ اس سے میں بلاک نہیں ہوں مگر آج بھی اس نے یہ پیغام نہیں کھول کر پڑھا حد ہے بندہ اپنے اسپیم میسجز ہی دیکھ لیتا ہے۔خوامخواہ میں بریک اپ ہوگیا ورنہ کیا خبرمیں بھی آج ناروے میں ہوتا۔اور اسکی پیشانی بے شکن ہوتی۔مجھے افسوس ہو رہا تھا اسکی پروفائل پر دوبارہ اسکی ایک ایک تصویر کھول کر ذوم کرکے میں دیکھنے لگا۔ اتنی محبت کرتی تھئ مجھ سے ورنہ یوں کئی مہینوں تک سینکڑوں میسج کیوں کرتی اور اب تک ماتھے پر تفکرکی لکیر۔ میں نےاسکی تصویر ذوم کی لکیر بڑھتی گئی پیشانی سے چہرےپھر گردن تک دراڑ سی۔۔ میں چونک گیاارے۔۔میں نے انسٹاگرام بند کردی وہ لکیر ابھی بھی موجود تھی۔اوہ میں چونکایہ تویہ لکیر تو میری اسکرین پر پڑی ہوئی ہے مجھے یاد آیاتھوڑی دیر پہلے جو موبائل زمین پر گرا اس سے شائد پروٹیکٹر ٹوٹ گیا تھا۔اور میں سمجھتا رہا کہ مجھے خود پر ہنسی آگئ۔ اس حقیقت کو کہ یہ لکیر میرے فون پر ہے جاننے کے بعد میں نے دوبارہ اب جب کھولی پروفائل تو اس بار ایک ایک خوش باش بے فکر لڑکی کا چہرہ سامنےتھا۔دھت تیرے کی۔ خود کو کوستے میں نے آئی ڈی لاگ آئوٹ کردی۔ اب میں اپنی سب سے نئی والی آئی ڈی سے اسٹالکنے لگا ہوں ۔کیا رومانہ کو؟ نہیں ایک لڑکی ہےگجرانوالہ کی ہی ہے رومانہ کی ہر تصویر

پر کمنٹ کرتی ہے شکل کی اچھی لگی ہے مجھے دیکھتا ہوں اسکی پروفائل میسج کروں گا کیا پتہ یہ جواب دے دے

urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, Novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, Novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list kdrama urdu, Desi kimchi, Desi kdrama fans, Urdu kdrama, Urdu web, Kdrama maza, Korean masti, korean dramas, kdrama, k drama, best korean drama, korean drama 2020, korean drama 2021, kdrama 2021 best kdrama, korean series, kdramas to watch, korean drama website, kdrama website, netflix korean drama, asian drama, best korean drama 2020, top korean drama, new korean drama 2021, best korean drama 2021, best kdrama 2020, best kdrama to watch, best korean drama on netflix, best korean series, best kdrama 2021, kdrama netflix, k drama urdu, www korean drama, watch korean drama, best k dramas on netflix, netflix korean drama 2021, best kdrama on netflix, new korean drama, www kdrama, k drama 2021, korean series on netflix, netflix korean drama 2020, top 10 korean drama, top kdrama, top korean drama 2020, k dramas to watch, 2021 korean drama, korean drama series, best korean series on netflix, new kdrama 2021, 2020 kdrama, 2020 korean drama, 2021 kdrama, k drama netflix, best k drama to watch, romance kdrama, k drama 2020, new korean drama 2020, latest korean drama 2021, korean dramas to watch, top korean drama 2021, watch kdrama, korean tv series, highest rated korean drama, korean drama in hindi, korean drama shows, top kdrama 2021, new kdrama, watch asian drama, popular korean drama, kdrama online, latest korean drama, korean drama online, korean netflix series, korean tv shows, korean shows, must watch kdrama, korean shows on netflix, famous korean dramas, romance korean drama, top kdrama 2020, most popular korean drama, korean series 2021, must watch korean drama, new kdrama 2020, best romance kdrama, popular kdrama, good kdramas, korean drama in hindi dubbed, korean series 2020, kdramas 2020, best korean shows on netflix, korean drama 2021 netflix, top k dramas, top rated korean drama, watch kdrama online, korean romance, top korean series, netflix k drama, good korean dramas, latest kdrama 2021, most watched korean drama, top 10 kdrama, famous kdrama, all in korean drama, best k drama 2020, urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, pakeeza anchal, l online reading, pakeeza anchal novel online reading, urdu novel bank, urdu novel platform, yaar zinda sohbat baqi, desi story urdu,
/urdu web travel novel fhttps://urduz.com/desi-kimchi-episode-1/eaturing seoul korea

Korea Urdu Web Travel Novel: A Journey of Discovery Salam Korea Episode 37

Salam Korea: Aik aisi kahani jo aap ko kore ki sair karaye gi.

(Salam Korea: A story that will take you on a tour of Korea.)


by vaiza zaidi

Salam Korea Episode 37


قسط 37
پی اے اسے ایک بڑے سے ہال تک پہنچا گیا تھا۔ جانے کتنے منزلہ ہوٹل تھا یہ۔ یہاں کی دنیا ہی الگ تھی۔ چمچوں کی کھنک خوش گپیوں کی ہلکی سی آوازیں دھیمے بجتے آرکسٹرا مدھم روشنیاں۔ بڑے سے ہال میں ایک بڑی کانفرنس میز پر اس وقت دلہا دلہن کے ساتھ لی اور کم خاندان کے لوگ بیٹھے تھے۔وہ جھجک کر دروازے کے پاس ہی رک گئ۔ سامنے ہی ہیون کے والد اور انکے بائیں جانب والدہ بیٹھی تھیں۔
ہیون کسی لڑکی کے ساتھ کچھ فاصلے پرمیز کرسی پر بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ اسکی طرف ہیون متوجہ نہیں تھا اسکا بس ایک ہی رخ نظر آرہاتھا اسے۔ کم صاحب سے بات کرتے یونہی ہیون کے والد نے سامنے دیکھا تو سیدھا اسی پر نظر پڑی۔ اسکو دیکھ کر لی بری طرح چونکے تھے۔ گنگشن بھی اسی کانفرنس میز پر ہی بیٹھئ تھیں۔ انکی پی اے نے اسکی آمد کے بارے میں بتایا تو فورا مڑ کر اسے دیکھنے لگیں پھر اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آئی تھیں۔
آئو اریزہ یہاں کیوں کھڑی ہو۔
قصدا اونچئ آواز میں کہتی وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ ہی لے آئیں۔ ایک لمحے کیلئے سب انکی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ انی کے برابر ہی میں انکے شوہر بھی بیٹھے تھے انہوں نے اپنے باپ کی چبھتی نگاہوں کو بالکل نظر انداز کیا اور جیسے بہت اشتیاق سے اسے اپنے شوہر سے ملوانے لگیں۔
یوبو( جان) یہ ہے میری خاص الخاص مہمان اریزہ
من جون کھانا کھا رہے تھے اسکے اعزاز میں اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔
اس نے دھیرے سے سر جھکا کر آننیانگ کہا تو جوابا وہ بھئ جھک کر سلام کرنے لگے۔
یہ فی الحال تو میری بہن سمجھیں مگر جلد ہی یہ ہمارے خاندان کا اہم حصہ بننے والی ہے۔
ہمارے ہیون کی نسبت سے۔
وہ ٹھیٹھ ہنگل میں بولی تھیں جس طرح سامنے بیٹھے ہیون کی جانب مسکرا کر دیکھ کر کہا تھا سب کو انکی بات سیاق و سباق کے ساتھ سمجھ آگئ تھئ۔ چمچوں چاپ اسٹکس کی آواز واضح طو رپر لمحہ بھر کے لیئے تھمی تھی۔ اریزہ مکمل بات نہ سمجھتے ہوئے بھئ ایکدم چھا جانے والی اس خاموشی کو محسوس کیئے بنا نہ رہ سکی۔ ہیون انی کی آواز پر متوجہ ہوا تھا او راعلان پر اسے کھڑا ہونا پڑا تھا۔ سارا نے خاصا حیران ہو کر اپنے برابر کھڑے ہیون کی شکل دیکھی تھی۔ ہیون کا چہرہ مکمل سپاٹ تھا اسکے چہرے سے اس بات کی سچائی کو ناپنا خاصا مشکل تھا اس وقت۔ کم از کم سارا کیلئے۔
کرے۔
(واقعی) کم صاحب نے سب سے پہلے مسکرا کر خاصی چبھتی نگاہ لی پر ڈالی تھی جو اس وقت خشمگیں نظروں سے گنگشن کو دیکھ رہے تھے۔
آپ بیٹھئے۔ کھانا کھائیے ہمارے ساتھ۔
من جون نے حتی المقدور گرم جوشی کا مظاہر کیا تھا ۔انہوں نے اپنی نشست چھوڑ دی تھی
اریزہ سبزی خور ہے۔
انی نے مزید شوشا چھوڑا۔
میں نے ہیون اور اسکے لیئے علیحدہ انتظام کیا ہے۔
وہ ایکدم مڑ کر ہیون کی جانب دیکھتے بولی تھیں۔ ہال میں اور بھی بہت سے لوگ مختلف میزوں پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔سارا انکا ماضی الضمیر سمجھ کر اٹھ کھڑی ہوئی
انی مسکرا دیں پھر جیسے کچھ یاد آیا تومن جون کوبتانے لگیں۔
اریزہ کی پسندیدہ ڈش ہے چائنیز فرائیڈ رائس مکمل ویجی ٹیبل آپشنز آپ پوچھ رہے تھے نا یوبو میں نے ویج کیوں منگوایا اپنی اریزہ کیلئے۔
ویٹر ٹرالی بھرے انکے برابر آکھڑا ہوا تو اسے ہیون کی میز کی طرف اشارہ کرکے بولیں۔
اریزہ کیلئے کھانا وہاں لگا دو۔ہیون کے ساتھ۔
سارا کو ہنسی آگئ تھی۔ اس نے مسکرا کر ہیون کو دیکھا۔
تم اب اسکو ہاتھ پکڑ کر یہاں تک نہیں لائوگے۔
ایز یو وش۔
اس نے مسکرا کر کندھے اچکا دیئے۔ اریزہ کے پاس وہ خود چل آکر آیا۔اسوقت دس پندرہ لوگ بیٹھے ہوں گے اس میز پر سب کی نظروں کا وہ مرکز تھی۔ اسکو اپنے ہاتھ پائوں کانپتے محسوس ہورہے تھے۔اسکو آتے دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ہیون کی معیت میں وہ سارا کے پاس آئی تو میز پر ویٹر طرح طرح کے کھانے سجا رہا تھا۔
سارا نے اسے دیکھتے ہوئے خیر مقدمی مسکراہٹ چہرے پر سجالی۔
ہائے آئیم سارا۔
اس نے بے تکلفی سے ہاتھ بڑھایا۔ اریزہ نے ہاتھ ملایا اسکے ہاتھ کی لرزش سارا سے چھپی نہ رہ سکی۔
تمہاری وجہ سے جو آج مجھے ہتک محسوس ہوئی ہے اسکا بدلہ ادھار رہا۔ میں اپنے والد کو کیا جواب دوں یہ سوچتی ہوں تم مجھے اس سب کی کیا وضاحت دوگے یہ تم سوچ کے رکھنا۔ کرم۔
وہ ہنگل میں مسکرا مسکرا کر کیا بولی تھی۔
ہیون دھیرے سے مسکرا کر سر ہلا گیا۔
ڈیل۔ اس نے ہاتھ ملانے کیلئے بڑھایا۔ سارا نے خاصا زور سے دبا کر چھوڑا۔
تم سے مل کر خوشی ہوئی ۔
وہ یکسر بدلے انداز میں اریزہ سے انگریزی میں مخاطب ہوئئ۔
مجھے بھئ۔ اریزہ اتنا مدہم آواز میں بولی کہ اسکو اپنی آواز نہ آپائی۔
مجھے ایک اہم فون کال کرنی ہے میں آپ سب میں تھوڑی دیر تک شامل ہوتی ہوں۔
سارانے فون اٹھاکرکان سے لگاتے ہوئے سلیقے سے معزرت کی۔
سارا کا باپ اسے خاصی گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے آنکھوں کے اشارے سے انہیں کھانا جاری رکھنے کا کہا۔ وہ مزید رکی نہیں ہال سے بھی باہر چلی گئ
اسکو جاتے دیکھ کر انی کو جیسے اپنے شانے پر سے بوجھ ہٹتا محسوس ہوا تھا۔ ایکدم ہلکی پھلکی ہو کر مسکرا دیں۔
من جون نے انکے شاداں وفرحاں انداز کو محسوس کیا ۔ انکی گہری نگاہیں ہیون اور اریزہ پر جا ٹکی تھیں
کھانا سرو ہو چکا تھا۔ اس نے اریزہ کیلئے کرسی گھسیٹ کر پہلے اسے بٹھایا پھر خود اسکے مقابل آن بیٹھا۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔ مجھے اندازہ نہیں تھا تم مغربی لباس میں بھی اتنی ہی اچھی لگ سکتی ہو جتنی اپنے مقامی لباس میں لگتی تھیں۔
اس کو گہری نگاہوں میں رکھتے ہوئے ہیون نے کہا تھا۔
دے؟ وہ حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
کبھی تم ہنبق پہن کر دکھانا مجھے لگتا وہ بھی بہت جچے گا تم پر۔کسی کوریائی شہزادی جیسا لباس۔اطمینان سے بات مکمل کی تھی اس نے۔
چینئ فرائیڈ رائس اسکے سامنے پیش کر دیئے گئے تھے ساتھ بیکڈ سبزیاں سوپ اور جانے کیا کیا۔ اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے اسکے کہ تھوڑے سے چاول پلیٹ میں نکال لے۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے جو چاول کھائے تھے اس سے ذائقے میں دس گنا بہتر یہ سب چیزیں تھیں
ہیون نے اسکی پلیٹ میں خود اپنے ہاتھوں سے اسکی نا نا کے باوجود چیزیں ڈالی تھیں۔

تمہیں بالکل ڈائٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر تمہاری پسند کے مطابق بنوائی گئ ہیں۔ ویسے بھی تم کافی دبلی ہوتی جا رہی ہو اور مجھے تم موٹی ہو یا پتلی اس سے فرق نہیں پڑتا۔
اسکو دیکھتے وہ جو زبان بول رہا تھا وہ نا ہنگل تھی نا انگریزی۔ انتہائئ شستہ دھیمے انداز میں وہ اسکو جزب سے دیکھتا کہہ رہا تھا۔
اسکو اپنے گال تپتے محسوس ہوئے۔
واٹ ڈڈ یو جسٹ سے؟ ( تم نے کیا کہا ابھی)
کیا؟ ۔۔۔ہیون زرا سا رخ اسکی جانب جھکایا جیسے کان لگا کر سننا چاہتا ہو۔
اس نے اس پھر دہرایا۔
اسکے منہ سے سرسراتی آواز نکلی تھی۔ اتنی دھیمی کہ ہیون کو بمشکل سنائی دی۔ وہ یوں ذرا سا ہنسا جیسے اس نے کوئی بہت دلچسپ سی بات کی ہو۔
پھر مسکرا کر بولا۔
جانے دو کیا کروگی جان کر چاہے جس بھی وجہ سے سہی مگر آج پہلی بار تم میرے قریب بیٹھی ہو فی الحال یہی بہت ہے میرے لیئے۔ کھانا کھائو۔ عجیب بات ہے مگر میں خوش ہوں۔
وہ اسی زبان میں بولتا گیا۔ اریزہ کی آنکھیں تھوڑی مزید بڑی ہوئیں۔
وہ اب یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی بات کرنے کے بعد جواب طلب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
اس نے مسکرا کر رخ سیدھا کیا۔ بنا دیکھے بھی اس وقت اسے اندازہ تھا سب اسے ہی دیکھ رہے ہیں۔ تھوک نگل کر پھر اسی زبان میں بولی جو اسے آتی تھئ۔
کیا کہہ رہے ہو ہیون کے بچے ایک لفظ پلے نہیں پڑ رہا میرے۔۔ اتنا تو پتہ ہے یہ کوئی اور زبان ہے۔ خیر اسوقت تو تم انگریزی بھی بولو تو شائد سمجھ نہ آئے مجھے۔
خدایا کہاں پھنس گئ میں۔
اس نے بات کرنے کے انداز میں بڑبڑا کر پہلا چمچ لیا۔۔ بھرے پیٹ نے دہائی دی تھی۔ مگر ماننے والی بات تھی ذائقہ اچھا تھا۔
پکا صبح پیٹ خراب ہونا میرا۔۔
اس بار وہ قصدا بڑبڑائی تھی تاکہ ہیون کہ سماعتیں محفوظ رہیں
ہیون کیلئے اسکی بڑ بڑ نئی نہ تھی مگر اس جواب نے کچھ سمجھ نہ آتے بھی اتنا سمجھا دیا تھا کہ اریزہ کی اور اسکی ذہنی لہریں ایک ہی فریکوئنسی پر کام کرتی ہیں۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی پارکنگ سے نکالتے اس نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر مسکراہٹ دبا کربولا
کین چھنا۔
کین چھنا۔۔ اس نے بھنوئیں اچکائیں۔
پھر ڈولتی آواز میں بولی۔
واٹ کین چھنا۔۔آئی ایم ڈائینگ ایکسٹریم پین ہے۔۔
درد کے مارے انگریزی ختم ہوگئ۔
دنیا گول گھوم رہی ہے میری۔ چاول ناچ رہے ہیں میری آنکھوں کے سامنے۔ ۔
ایکدم کھانسی سی آئی۔
کھانا حلق میں آتے آتے رہ گیا۔ حلق مرچیلا ہوگیا۔ آنکھوں میں مرچوں کے مارے آنسو آگئے۔
نہیں پیٹ میں ہی ناچ رہے ہیں۔
اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ہیون نے مسکراتی نگاہوں سے دیکھا اسے۔
وہ سیٹ پر بیٹھی نہیں تقریبا دراز ہی تھی۔ پیٹ لگ رہا تھا پھٹ جائے گا۔ اندر سے کوئی تولیہ کی طرح آنتیں مروڑ رہا تھا۔
آہ۔ دوبارہ ایسا ہی محسوس ہوا۔
نیچے رہو۔۔اوپر مت آئو۔کھانے۔
اس نے غصے سے دیکھنا چاہا۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔
اگر میں مر گئ تو انی کو میں معاف نہیں کروں گئ۔ ں زبان دبائی۔
ٹیچر کو کمینہ نہیں کہنا چاہیئے۔۔ اس نے سر کھجایا۔
آہ۔
اس نے کوشش کرکے سیدھا ہونا چاہا۔ درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ سن شیڈ نیچے کرکے اسکے پیچھے لگے آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔ پھر جیسے بے دم ہو کر واپس سیٹ پر گری۔
پوری آستینیں ہیں۔۔ زمین پر گھسیٹتا گائون پہنا ہوا ہے۔۔اور میرے کپڑے ۔۔

بولتے بولتے لگا الٹی آنے لگی تو فورا کھڑکی کھول کر باہر سر نکال دیا۔
ڈرائو کرتے ہیون کی جان نکلنے لگی۔
اریزہ پاگل ہو گئ ہو؟ پیچھے ہو ۔کیا کررہی ہو۔ بند کرو کھڑکی۔
کچھ نہیں۔
وہ نفی میں سر ہلاتی واپس ہوئی۔
کچھ نہیں کر سکی۔آئی نہیں الٹی۔
آہ۔ اس نے ہلکا سا مکا مارا سینے پر۔
کیا بول رہی ہو ؟ کیاہوا ہےاگر تم انگریزی میں بتائو اپنے درد تو شائد میں بانٹ سکوں۔
وہ بے چارگی سے بولا۔ اسکا دبا ہوا غصہ عود کر آیا۔
کیوں بولوں انگریزی۔ اردو میں ہی بولوں گی ۔۔۔۔
پاگل بنایا مجھے۔۔۔۔ہچکی
سب میرے سامنے ہنگل بولتے رہے ۔۔۔ چلو وہ تو۔۔۔ہچکی۔
ٹھیک ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی میرا مسلئہ تم کیا بول رہے تھے پکا وہ۔۔۔
ہچکی۔ ۔۔ ہن۔ ہچکی۔ ہنگل۔۔ ہنگل نہیں تھی۔
درد کے مارے انگریزی پہلے ہی بھول گئ تھی۔غصے کے مارے اعلان بھی کردیا انگریزی نہ بولنے کا۔ ہیون کان دبا کر خاموشی سے ڈرائئو کرنے لگا۔
کھڑکی کا شیشہ پھر اوپر ہو گیا تھا۔ہیون نے سکھ کا سانس لیا۔
چند لمحے گزرے پھر کھڑکی کا شیشہ۔۔۔۔
یہ کھڑکی جو بار بار اوپر نیچے کررہی ہو اندر ہیٹر آن ہے۔
وہ جھلایا نہیں تھا رسان سے بتا رہا تھا۔
ہاں تو اچھا ہے سردی لگے۔ گاڑی کے اندر الٹی کردوں۔
وہ جوابا بگڑ کر بولی۔ پھر دانت کچکچا کر مزید گھورا
ویسے دل یہی کر رہا ہے ۔
ہیون کو اسکی بات سمجھ نہ آئی تو گہری سانس لیکر ہیٹر بند کردیا۔
شیشہ پھر اوپر ہونے لگا۔
ویسے مجھے لگتا تھا میں بھول چکا ہوں رشین۔ کافی عرصے بعد نکلی میرے منہ سے مگر درست نکلی ہے۔ ہنگل تو تم سیکھنے لگی ہو سورشین اچھا آپشن ہے۔ کبھی تم سے جھگڑا ہوا بھی تو رشین میں جو چاہے کہہ سکتا ہوں۔ یہ بھی کہ میں تم سے واقعی پیار کرنے لگا ہوں۔ تمہیں کبھی مجھ سے ہلکی سی بھی محبت محسوس نہیں ہوئی۔
موڑ کاٹتے اس نے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا۔
پھر شروع۔
اس نے ناک چڑھا کر گھورا۔رخ بدلا آئینے پر نگاہ گئ۔
اتنی پیاری لگ رہی تھی بس جو گھر میں تصویریں لیں بس وہی ہیں۔ جانے گوارا کہاں غائب ہوگئ تھی آہ۔۔ کراہ کر پہلو بدلا۔
نظر لگ گئ سب گھور کم رہے تھے۔ آہ۔۔ امی ہوتیں تو۔ مرچیں وارتیں سات۔
کھڑکی پھر تھوڑی نیچے ہوئی۔
پتہ نہیں کیا معیار ہے اونچا۔ کیا کمی ہے مجھ میں۔شکل و صورت کا بھی ٹھیک ہوں۔
اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا۔
اتنا توپاکستانی لڑکیاں آئینہ نہیں دیکھتیں جتنا یہاں کے لڑکے۔
گاڑی کی رفتار کم ہوئی تھی۔اس نے چڑ کر اسے آئینہ دیکھتے دیکھا۔ ظاہر ہے آئینہ فل اسپیڈ میں گاڑئ چلاتے تو نہیں دیکھا جاسکتا تھا۔
ہیون نے ترچھی نگاہ ڈالی تو اس نے نظروں کا ذاویہ بدلا نگاہ اپنے سامنے سن شیڈ کے آئینے میں جھلکتے اپنے عکس پر پڑگئ۔
پاکستانئ ہو یہی تو مسلئہ۔ ملک کے دو بڑے انڈسٹرلیٹس کے ساتھ کھانا تھا کوئی کورین لڑکی ہوتی تو خوشی سے پھولے نہ سماتی۔ ایک ارب پتی گھرانے کی ہونے والی بہو کے طور پر متعارف کرائے جانے پر۔ اور تم۔
وہ دیکھ سامنے رہا تھا بول اس سے رہا تھا۔
پیدل اتر کر چلوں تو جلدی پہنچ جائوں۔ جان کے تپا رہا مجھے۔ اتنا درد ہو رہا۔ امی۔
اسکے درد کے مارے سچ مچ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
مگر تم شائد نہیں جانتیں انکا تعارف تمہارے لیئے تو بس ہیون ہوں میں۔ لیکن ہیون کیا اتنا عام سا ہے کہ۔
اس نےگاڑی گلئ میں موڑی بولتے بولتے جیسے کوئی گھنٹی سی بجی تھی۔ بے ساختہ بریک پر پائوں پڑا۔ گاڑی جھٹکے سے رکی تھی۔اریزہ سیٹ سے نکل کر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے بچی۔تھوڑی سی گاڑی کی رفتار مزید تیز ہوتی تو شاید سر لگتا ونڈ اسکرین سے۔ ابھی بھی اتنے زور کے جھٹکے نے اسکی چیخ نکال دی تھی۔۔
کین چھنا؟ تم نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھئ؟ حد ہے یار۔
وہ فکرمندی سے جھلاگیا تھا۔اریزہ نے تنک کر گھورا
ان جملوں کا مطلب کس زبان میں مجھے معاف کردو بنتا؟
بیان۔ وہ فورا ہوش میں جیسے آکر معزرت کرنے لگا۔
پیٹ میں اینٹھن ہے میری او رمیں سیٹ بیلٹ لگاتی۔ کیسے بھلا۔
اسے انگریزئ میں بتا کروہ پیٹ پکڑ کر دہری ہوگئ اتنا شدید درد اٹھا تھا۔کہ رو ہی پڑی۔
اریزہ کیا ہوا کین چھنا؟
وہ بری طرح گھبراگیا۔
اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تو منہ سرخ ہو چکا تھا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
میں نے کچھ ذیادہ کھا لیا آج۔
اس نے اتنی بے چارگئ سے کہا تھا کہ ہیون کو روکتے روکتے بھی ہنسی آگئ۔
ہاں اور ہنسو۔ ( اردو)
اسکا ہنسنا زہر لگا تھا اسے۔وہ خفا ہوگئی تھئ۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارمیسی سے دوا لیتے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ دانت پر سختی سے دانت جمائے تھا۔
کائونٹر پر موجود لڑکے نے ازراہ ہمدردی اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
آپ کی تو کافی طبیعت خراب لگتی ہے۔یہ سلوشن پانی میں حل کرکے فوری پی لیجئے۔۔۔اس سے الٹی ہو جائے گی پھر یہ دوا پی لیجئے گا۔
اس نے دوائیاں اور پانی کی بوتل اسکو تھمائی۔ ہیون نے کارڈ سے پیسے ادا کیئے شکریہ اداکرکے باہر نکل آیا۔ سڑک کے دوسری جانب اس نے گاڑی پارک کی ہوئی تھی۔ اس جانب چوڑا فٹ پاتھ بنا ہوا تھا ساتھ ریلنگ بھی لگی تھی کیونکہ یہاں سے نیچےگلی کا کم از کم پندرہ فٹ کا فاصلہ تھا۔ اریزہ گاڑی سے نکل کر فٹ پاتھ کی جانب بونٹ سے ٹکی ہوئی کھڑی تھی۔
بہت سردی ہے تمہیں باہر نہیں نکلنا چاہیئے تھا۔
وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔
وہ صرف میکسی پہنے تھی ساتھ کوئی جرسی سوئٹر وغیرہ نہیں تھا۔ جبکہ اس وقت بھی مائنس میں درجہ حرارت جا رہا تھا۔ خود اس نے تو گرم لانگ جیکٹ پہن رکھا تھا۔
مجھے لگ رہا اندر آگ لگی ہے۔ سردی نہیں لگ رہی۔
اسے سچ مچ پسینے آرہے تھے۔ بمشکل ہانپتے ہوئے جملہ مکمل کیا
کیا ہوا ذیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے تو اسپتال چلیں۔
وہ گھبرا گیا۔
دوا لے آئے؟۔
اس نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر بونٹ پر شاپر رکھ کر جلدی سے دوا گھول کر بنانے لگا۔ سوڈے کی بوتل کی طرح بلبلے بنے۔ اس نے جلدی سے اسکی جانب بڑھائئ وہ ایک سانس میں پی گئ۔
اس سے ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔
ہیون نے تسلی دی۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ کیسے
مجھے سانس نہیں آرہی۔
نیا مسلئہ۔ اسے سچ مچ گھبراہٹ ہونے لگی۔
اپنا سینہ مسلتے ہوئے اسے لگ رہا تھا کلیجہ منہ کو آنے لگا ہے
ہمم۔
ہیون نے سر ہلا کر دوائیں بونٹ پر رکھیں شاپر خالی کرکےاسکی جانب بڑھانے لگا ۔۔
شاپر اس نے پیچھے کردیا۔
مجھے لگ رہا ہے مجھے۔۔
وہ ایکدم تیر کی طرح دوڑی ریلنگ پر جھکی اور ہیون کا شاپر اسکے ہاتھ میں ہی رہ گیا۔
اریزہ۔ وہ جہاں کا تہاں کھڑا رہ گیا۔
اریزہ ریلنگ پر جھکی الٹی کر رہی تھی۔ ایک کافی زور کی ہائش کی آواز آئی تھی۔ ہیون کا بدترین خوف سچ ہو گیا تھا۔
کین چھنا۔
اسکے منہ سے سرسراتی آواز نکلی تھی۔
ہوں۔ اب بہتر ہوں۔ اف اتنی بڑی الٹی آئی مجھے اب بہتر ہے جیسے بوجھ ہلکا ہوگیا۔
وہ سکون سے کہتی پلٹی۔
اسکی یقینا اب بہتر ہو رہی تھئ طبیعت۔
ہیون نے اسے بے یقینئ سے دیکھا۔
کیہہ سکی۔۔ ہائش۔
یہ آوازیں اسے سنائی نہیں دے رہیں۔
ہیون تیزی سے ریلنگ کی طرف بڑھا جلدی سے موبائل کی ٹارچ آن کرکے نیچے جھانکا۔ گھپ اندھیرا تھا ٹارچ کی روشنی نیچے ڈالی۔ تبھی کسی نے ٹارچ کی روشنی اس پر ڈالی۔ وہ کوئی ادھیڑ عمر آہجوشی تھا جس کی کالی سیاہ جیکٹ پر سفید سفید کچھ گرا تھا۔ اسکے ٹارچ کی روشنی ڈالنے پر اب اسے پتہ لگا تھا کہ کہاں سے کیا آیا ہے ۔بکتا جھکتا اسے صلواتیں سنانے لگا۔
چھے سو ہمبندا۔
وہ یہی کہہ سکتا تھا جھک جھک کر کہا
کیا ہوا۔
اسکے معزرت کرنے پراریزہ حیران ہو کر اسکا شانہ ہلا رہی تھی۔ آہجوشی خرافات بکتے تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔یقینا اب اس گلی سے تیزی سے نکل کر اوپر بھی آنے والا تھا۔
شٹ بھاگو۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کر گاڑی کی جانب دوڑا۔
کیا ہوا۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے ساتھ گھسٹتی چلی گئئ۔
اسکو جلدی سے فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر اس نے بھاگ کے آکے گاڑی اسٹارٹ کی آہجوشی سیڑھیاں چڑھ کر بھاگتا اوپر آگیا تھا۔ اس کی گاڑی کی جانب دوڑا اس نے تیزی سے گاڑی یو ٹرن پر لی اس بار جو کثر رہ گئ تھی وہ بونٹ پر رکھی دوائ کی شیشی کے پٹاخ سے زمین پر گرنے اور چھینٹیں اڑانےسے پوری ہوگئ۔
کیہہ سیکی۔۔ تمہارے آبائو اجداد بھی یقینا پیچھے سے سور کی نسل سے ہوں گے۔
غصہ ور انکل اس سے بہتر گالی کیا دیتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ لفٹ میں اسے اب سوچ سوچ کے شرمندگی ہو رہی تھی۔
مجھے لگا تھا نیچے جھاڑیاں ہوں گی۔ تمہیں مجھے بتانا چاہیئے تھا کہ نیچے گلی ہے۔
بیان۔ ہیون نے مسکرا کر غلطی مان لی۔
ان کے سر پر گری تھی؟
تجسس بھی تھا۔ ہیون کو ہنسی آگئ۔
پوچھنا ہے ان سے واپس لے چلوں انکے پاس۔؟
آنی۔ زور زور سے نفی میں سر ہلاتی ہنس دی۔
۔رونے سے اسکا میک اپ اتر چکا تھا۔ ٹشو سے رگڑ رگڑ کر اس نے اپنا چہرہ سرخ کرلیا تھا پھر بھی اس وقت آنکھیں پانڈا سی بن چکی تھیں۔ لباس مسک چکا تھا پھربھئ وہ سیدھا جیسے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ لفٹ کے فلور بدل رہے تھے وہ خاموشی سے ان نمبروں نگاہ جمائے تھئ اور وہ اس پر۔ مطلوبہ منزل آچکی تھی۔ لفٹ کا دروازہ کھلا تو وہ سرعت سے بنا اسکی جانب دیکھے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئ۔
شکریہ۔ فلیٹ کےدروازے پر لاک کھولتے اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اسے پیچھے سے ہیون کی آواز سنائی دی
شکریہ؟ وہ سوالیہ نگاہوں سے مڑ کر دیکھنے لگی۔
Thankyou for comming for eating۔۔۔
with me
(تمہارا شکریہ آنے کیلئے ساتھ کھانے کے لیئے۔)
ود می تک اسکی آواز آہستہ ہوگئ تھی۔
For overeating
ذیادہ کھانے کیلئے۔
اس نے تصحیح کی۔پھر خود بھی سوچ سوچ کر بولی
شکریہ دوا دلانے کیلئے ، آہجوشی سے بچانے کیلئے بھی۔
اسکے شکریئے پر ہیون کی مسکراہٹ پھیکی پڑتی گئ۔
ہاتھ ہلا کر جانے کو مڑ گیا۔ وہ اسے لفٹ میں جاتا دیکھتی رہی اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو اتنی دیر سے جو خود پرضبط سے قابو پایا ہوا تھا اس کی طنابیں چھوٹنے لگیں۔دونوں بازو مسلتے اسکے جیسے دانت بجنے لگے ۔ جلدی سے لائونج کی بتی جلاتی اندر آئی۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اس نے احتیاط سے کھول کر بتی جلائی۔ ڈبل بیڈ پر بس ایک ہی وجود دکھائی دیا۔ سر منہ تک کمبل تانے یقینا وہ ہوپ ہی تھی۔ وہ سی سی کرتی جلدی سے الماری سے اپنے گرم کپڑے لیتی بھاگ کے غسل خانے میں گھس گئ۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
مسلسل بجتی فون کی گھنٹی سے صبح اسکی آنکھ کھلی تھی۔ کسلمندی سے ٹٹول کر اس نے تکیئے پر سے فون اٹھایا۔
ہیلو۔
صارم تھا۔ اور جو کچھ کہہ رہا تھا اس سے وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئ۔
کیا کیا؟ پھر کہو؟
اسے لگا اسے سننے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
صارم نے گہری سانس لی
سنتھیا کا کچھ پتہ نہیں چل رہا اسکے والد نے ایڈون پر کیس کردیا حبس بے جا کا۔ وہ اس وقت کوریا میں ہیں اور تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ تمہارا نیا نمبر انکے پاس نہیں ۔میں نے نمبر نہیں دیا تمہارا مگر وہ ظاہر ہے پولیس کی مدد لیں گے اب بتائو کچھ جانتی ہو کہاں ہے سنتھیا؟
ہاں۔ وہ جھٹ بولی۔ پھر نفی میں سر ہلانے لگی۔
نہیں۔ میرا مطلب ہے ہاں اس نے رابطہ کیا تھا مگر میں نہیں جانتی وہ کہاں ہے بس اتنا پتہ ہے ٹھیک ہے ایڈون کا اس کی گمشدگی میں کوئی ہاتھ نہیں۔
کہاں ہے؟دیکھو اگر تمہیں پتہ ہے تو بتا دو۔ہم خود ان سے بات کر لیں گے۔ وہ جانے کیا کیا کہہ رہے مجھے لگتا ہے تمہیں بالکل ان سے بات نہیں کرنی چاہیئے۔ صارم نے فکر مندی سے کہا۔
کیا کہہ رہے۔ وہ چونکی۔
جانے دو۔ صارم نے سر کھجایا۔
نہیں بتائو نا مجھے۔ انکی بیٹی اپنے منگیتر کے ساتھ جھگڑ کر اپنی مرضی سے غائب ہے اس میں میرا کیا ذکر؟
اسے غصہ آگیا۔
یہی میں بھی کہہ رہا ہوں۔ خالو کو اتنا غصہ آیا تھا کہ ان دونوں میں ہاتھا پائی ہونے لگی تھی کن مشکلوں سے میں نے سنبھالا ہے میں جانتا ہوں۔ تم واپس آجائو کچھ دنوں کیلئے ۔۔
وہ بھڑک ہی اٹھئ۔
ہاں بس یہی آتا ہے۔ میں کیوں واپس آجائوں؟ سنتھیا نہیں مل رہی کوریا میں سو میں واپس آجائوں۔ کوئی رشتہ ڈھونڈ رکھا ہے نا جبھی مطلب کچھ بھی ہو اسکا حل یہی ہے میں واپس آجائوں۔
اوفوہ واپس چلی جانا کچھ دنوں بعد۔
وہ جھلایا۔
تم معاملے کی نزاکت نہیں سمجھ رہی ہو وہ زبردستی تمہیں بھی اس معاملے میں شریک بنا رہے ہیں۔ کوریا میں اکیلی ہو کیسے پولیس وولیس کے چکر سے نکلوگئ۔
یہ کوریا ہے پاکستان نہیں۔
وہ جتا کر بولی۔
پاکستان سے ذیادہ محفوظ ہوں میں یہاں۔ میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے۔ میں سنبھال لوں گی سب معاملات
اس نے کہہ کر بنا اسکا جواب سنے فون بند کردیا۔
حد ہوگئ ۔ میں کہاں سے آگئ بیچ میں۔ خود بھگتیں اپنی بیٹی کا پھیلایا۔ کھڑاگ۔ سنتھیا تم۔تمہیں خد اپوچھے
اسے اتنا شدید غصہ آرہا تھا کہ بس نہیں تھا جا کے سنتھیا کا منہ نوچ لے۔ تکیئے کو نوچ کھسوٹ کر خود کر پرسکون کرتی اٹھنے ہی لگی تھی کہ صارم کا پیغام آگیا۔
سنتھیا کے والد نے بیان دیا ہے سنتھیا تمہارے ساتھ کوریا میں فلیٹ لیکر رہ رہی تھی اور ایڈون کبھی کبھی آیا کرتا تھا۔ ایڈون نے اسے چیٹ کیا ہے تمہارے ساتھ مل کر اور اب غائب کرنے میں تمہارا بھئ ہاتھ ہے۔
یقینا یہ سب اسکا بتانے کا ارادہ نہیں تھا مگر معاملے کی نوعیت سمجھانے کیلیے لکھ بھیجا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔
اٹھ کر فریش ہوئی بازو پر روز نئی ڈریسنگ کرنی ہوتی تھی ۔ تین چار دن سے گوارا یہ ذمہ داری نبھا رہی تھی آج نہ گوارا تھی نہ ہوپ ۔ کل خاص کر اسکی جلد سے ملتی جلتی بینڈیج لگائی تھی پیچ جیسا پلاسٹر۔اس وقت اتارا تو تارے نظر آگئے۔ زخم گہرا نہیں تھا چوڑا تھا۔ پھونکیں مار مار کر اس کو صاف کیا۔
پھر اٹھ کر اپنے لیئے سینڈوچ بنایا۔ کافی بنائئ۔
ابھی پہلا لقمہ لینے ہی لگی تھی کہ داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ گوارا اسے خیال آیا لیکن گوارا گھنٹی تھوڑی بجاتی۔ اٹھ کر حسب عادت دروازہ کھول دیا ۔
بلیک لانگ کوٹ فان ہائی نیک میں ملبوس نک سک سے درست ہیون کھڑا مسکرا رہا تھا۔
صبح بخیر۔
صبح بخیر۔ وہ اسکو راستہ دیتی اندر چلی آئی۔
کیا ہوا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟
اسے حیرت ہو رہی تھی۔ وہ اطمینان سے میز پر آکر بیٹھ کر سینڈوچ کھانے لگی۔
کیوں؟ اس نے بے دھیانی سے پوچھا۔
پوری پانچ چھٹیاں ہو چکی ہیں محترمہ آپکی۔ اکیڈمی سے نام کٹ جائے گا۔
ہیون کے کہنے پر اسے جیسے کرنٹ سا لگا۔
میں نے تو کوئی اسائنمنٹ بھی تیار نہیں کی۔ اور آج تو ہفتہ ہے۔آج تو ٹیسٹ تھا۔
اسکی پریشانی دیدنی تھی۔
ہاں تو ٹیسٹ تو دو جا کر کم از کم۔ جون جے کو کہہ دینا کہ بہادری دکھاتے زخمی ہوگئ تھی۔
فرسٹ ایڈ باکس سے پائو ڈین اور دوا نکال کر اس نے آگے بڑھ کر احتیاط سے اسکا ہاتھ تھاما۔
اس نے چھڑانا چاہا مگر ہیون کی گرفت مضبوط تھی۔
رکو زرا ۔ وہیں ماربل کائونٹر کے کنارے سے ٹک کراس نے ٹوکا۔۔۔پھر جائزہ لینے لگا۔
ہم ٹھیک ہو رہا ہےاب پلاسٹر نہ لگانا کھرنڈ آرہا ہے۔پلاسٹر اسکو نوچ دے گا۔
وہ مکمل توجہ سے اسکا زخم صاف کرکے دوا لگا رہا تھا۔وہ اب اسکے ہاتھ کی انگلیوں کو دیکھ رہا تھا۔ انگلیوں کے زخم پر کھرنڈ آگئ تھی۔ اس نے دھیرے سے چھوا۔
یہ تو بس اب نشان ہی ہیں۔ اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔ ہیون اٹھ کھڑا ہوا۔
چلو دیر ہو رہی ہے تمہیں۔
میں نہیں جا رہی ۔ امتحان دے کر فیل ہو کر مزاق بنوانے کا فائدہ۔
اس نے اطمینان سے کہتے کافی کا گھونٹ بھرا
امتحان دینے سے پہلے یہ فیصلہ کیسے کر لیا کہ نتیجہ برا ہی ہوگا۔
ہیون کو حیرت ہوئی
انسان کو پتہ ہوتا ہے اپنا۔مجھے پتہ ہے مجھے کچھ نہیں آتا تو امتحان میں کچھ نہیں لکھ پائوں گی۔جب کچھ نہیں لکھ پائوں گی تو نتیجہ اچھا تھوڑی آئے گا۔
اس نے وضاحت دی ہیون ہنس دیا۔
تم ہر معاملےکو حل کرنے سے ذیادہ اس سے بھاگنے کو ترجیح کیوں دیتی ہو؟
اسکی بات گہری انداز اس سے بھی ذیادہ گہرا تھا۔
اس نے تنک کر گھورا۔
جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
جلدی جلدی کپڑےبدل کر اسے اسکےساتھ آنا پڑا۔اسکے ساتھ چلتے آج وہ سارا راستہ ذہن نشین کر لینا چاہتی تھی سو گردن گھما گھما کر ارد گرد دیکھ رہی تھی۔ اسکے ساتھ قدم بڑھاتے ایکدم اپنی رفتار تیز کرکے بائیں جانب مڑی۔ اور اپنی یاد داشت پر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔
اتنا تو مجھے یاد ہو گیا ہے۔ پہلا موڑ بائیں جانب لینا ہے۔
دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہو رہی تھی۔ ہیون نے اسکے تیزی سے اسے پیچھے چھوڑ جانے کے باوجود اپنی رفتار نہیں بڑھائی تھی۔وہ خود ہی اسکے اپنے پاس آنے کا انتظار کرنے لگی۔ اسکے قریب آتے ہی دوبارہ اسکے ہمراہ چلنے لگی۔
کل تم بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ وہ لباس تم پر بہت جچا تھا۔
اس نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔
ویسے کافی عجیب لگا تھا کل مجھے خالص نجی محفل تھی تمہارے قریبی رشتے داروں کی اور انی نے مجھے وہاں بلا لیا۔ سب جانے کیا سوچتے ہوں گے۔ تمہارے آہبوجی کافی غصے میں لگ رہے تھے۔
کل کے ذکر پر اسے ذہن میں اپنی کل والی سبکی تازہ ہوگئ۔
انی تو بہت خوش تھیں تمہیں دیکھ کر وہ یاد نہیں۔
ہیون نے ہلکے سے جتانا چاہا۔
وہ تو بہت اچھی ہیں۔بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح پیار کرتی ہیں وہ۔ کل جس طرح سب کو مجھ سے ملوا رہی تھی اف شرمندہ ہوگی تھی میں۔
وہ لوگ اگلا موڑ مڑ چکے تھے۔ اریزہ باتوں میں مگن ہوچکی تھی۔
نونا مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ تم میری عزیز دوست ہو اسلیئے وہ تم سے بھی پیار کر رہی تھیں۔
سڑک پر اشارہ بند تھا۔ سو وہ سڑک کنارے ٹریفک رکنے کا انتظار کرنے لگے۔
تم نونا کہتے ہو وہ برا نہیں مانتیں؟ میں نے نونا کہا تو بولیں انی کہو مجھے۔
اسے یاد آیا۔
لڑکے بڑی بہن کو نونا کہتے ہیں لڑکیاں انی۔
ہیون کا دھیان ٹریفک پر تھا۔
ہوں ۔ اس نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔
اکیڈمی آگئ تھی وہ حسب عادت خدا حافظ کہہ کر جانے لگی۔ تو ہیون نے پیچھے سے آواز دیکر اسے فائٹنگ کا اشارہ کیا۔ وہ منہ بنا کر گھور کر رہ گئ۔
ٹیسٹ سامنے آیا۔ابتدائی ہنگل کے جملے تھے۔ جیسے میں ںے آج کھانا کھایا۔ اس کو ہنگل میں ترجمہ کرنا تھا کچھ الفاظ معنی تھے۔ ایک دو جملے بنانے تھے۔
حسب توقع اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ صبح ہیون کا انداز سے پکار کر فائٹنگ کہنا یاد آیا تو قلم مٹھی میں بھینچ کر بولی۔
کیہہ سوری فائٹنگ۔ کھوجو۔
پیپر کو دفع کرکے سیدھی ہو کر بیٹھی تو اپنے کئی ہم جماعتوں کو حیرت سے تکتا پایا۔
ویئے؟
ناک چڑھا کر وہ یہی کہہ سکتی تھی
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔
عقلمند صورتحال کا تجزیہ کرکے پہلے سے ہی آنے والی مشکل سے نمٹنے کا منصوبہ بنا رکھتے ہیں۔ اور بیوقوف عقلمندوں کو کہتے گھبرائو نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ریلنگ پر کہنیاں ٹکائے وہ گوگل وائس پر بول رہی تھی۔ تاکہ مکمل جملے کا ترجمہ کرکے بولے۔ دو با رتین بار کوئی پانچ چھے بار سن کر بھی جملہ ٹھیک سے یاد نہیں ہو رہا تھا ۔
ڈھیر ساری لعنت۔
اس نے اب اسکا ترجمہ کیا۔
مانن جھئوجھو۔
دو تین بار میں پکا یاد ہوگیا۔
مانن چھئو جھو۔
اسلام و علیکم۔
شستہ سلام وہ کرنٹ کھا کر جیسے سیدھی ہوئی
سامنے علی کھڑا تھا مسکرا کر ادب سے سلام اسکی جانب سے ہی بھیجا گیا تھا
دے۔ آننیانگ۔
وہ سٹپٹا کر سر جھکا کر آننیانگ بول گئ۔
کس پر لعنتیں بھیج رہی ہو۔
اس نے مسکرا کر پوچھتے ہوئے اسکی جانب ایک شاپنگ بیگ بڑھایا۔
ایسے ہی بس۔ وہ اب کیا بتاتی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو اپنا ہی پل اوور جھانکتا دکھائی دیا
ارے میں تو بھول گئ تھی یہ؟
اسکے بے ساختہ حیرت کے اظہا رپر علی نے مسکرا کر وضاحت کی۔
یہ یہیں لٹکا ملا تھا مجھے۔
گوماوویو۔
وہ جھک کر شکریہ ادا کرنے لگی۔
ویسے گوگل ٹرانسلیٹر اچھی چیز ہے۔ اسائنمنٹ بنانے کے کام آسکتا ہے۔
وہ جتا رہا تھا۔وہ کھسیانی سی ہو کر سر کھجانے لگی۔
وہ دراصل بہت مصروف ہفتہ تھا یہ۔بھول گئ پرسوں جمع کرادوں گی۔ جھنچا۔
وہ متاثر کرنے کو انگریزئ کے بیچ بیچ میں کورین کا تڑکا لگاتی تھی۔
پرسوں سے تو سردیوں کے میلے کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔
اس نے یاد کرایا۔
ابھئ پڑھایا ہی کتنا ہے جو چھٹیاں بھی شروع کردیں۔
وہ جیسے خفا ہو گئ تھی۔
جتنا پڑھایا وہ کونسا پڑھ لیا تم نے۔ علی کو حیرت ہوئی اسکے غصے پر جیسے ٹاپر ہو کلاس کی۔
پڑھ رہی ہوں اتنی محنت سے یکسر اجنبی زبان سیکھ رہی ہوں
اس نے اپنی کارکردگئ جتائی۔ علی نے اسکا جھوٹ پکڑکر گھورا
کیا پڑھا ہے ؟ خالی ٹیسٹ تھما کے آئی ہو مجھے۔۔
اس کی بات پر وہ خفت ذدہ سی ہوئی خاص طور پر اپنے برابر بیٹھے امریکی سے اسکا ٹیسٹ لیکر اپنے ٹیسٹ کے اوپر رکھ کر اسے تھمایا تھا۔ مگر علی بھی ایک کائیاں تھا اسکا ٹیسٹ اسی وقت نیچے سے نکال کر دیکھا تھا۔

رات کو دیر تک پارٹی کروگی تو ٹیسٹ برباد ہی ہوگا۔
لوہا گرم دیکھ کر اس نے ہلکا پھلکا ڈانٹ بھی دیا۔
پارٹی؟ ۔۔ اسے یہ الزام سخت ناگوار گزرا۔ فورا تصحیح کی
شادی میں گئ تھی۔ اہم قومی مذہبی فریضہ ہوتا ہے شادی۔
اور ٹیسٹ اچھا دینا اخلاقی تعلیمی تربیتی فریضہ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔
آہ۔ اس نے تاسف سے دیکھا۔
اس بندے میں یہ کمال ہے کہ اچھا بھلا موڈ غارت کرکے رکھ دے۔
اس نے گہری سانس لی۔
بیان۔۔ ( معزرت)
آئیندہ خوب دل لگا کر پڑھائی کروں گئ۔ جھنچا۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر جیسے حلف دیا۔
گھمسامنیدہ۔
اس نے بھی لطف لیتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے شکریہ ادا کیا مگر شرارت آنکھوں سے عیاں تھی۔اسکی شکل دیکھتے اسکے ذہن میں فورا سوال ابھرا۔ مگر سیدھا سیدھا پوچھتے جھجک گئ۔
آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھوں؟
آنی۔ جوابا اس نے بے مروتی سے نفی میں سر ہلایا۔
تمہارا بوائے فرینڈ آگیا ہے۔پھر کبھی پوچھ لینا۔
وہ سادے سے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اس نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ہیون کی گاڑی موڑ مڑتی نظر آگئ۔
ہیون میرا بوائے فرینڈ نہیں ہے۔
اس کو تپ چڑھ گئ۔ کل سے ایک ہی رٹ لگائی ہوئئ۔
ہوں ہاں اب تو فیانسی ہے۔ اس نے آرام سے جیسے تصحیح کرلی۔
واٹ دا ہیل۔ کچھ بھی؟ کل سے کبھی اسے میرا بوائے فرینڈ کہہ رہے کبھی فیانسی۔ ہم صرف دوست ہیں ۔آراسو۔
وہ جس طرح جھلائی تھی علی ٹھٹھک کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔
یہ میں نہیں آج چھپنے والا ہر آرٹیکل کہہ رہا ہے۔
اس نے موبائل میں سے ایک آرٹیکل نکال کر اسے دکھایا۔ ہیون سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس نے جھپٹ کر علی کا موبائل پکڑا ایک نظر شہہ سرخی پر ڈالی۔۔
مشہور لی گروپ کے فرزند ارجمند نے اپنی شریک حیات چن لی۔ کل رات نجی محفل میں ایک پاکستانی نژاد لڑکی آرزا کا لی خاندان سے ہیون کی فیانسی کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا۔
جی ہائے بستر پر لیٹی موبائل استعمال کر رہی تھی کہ سامنے ایک مراسلہ آگیا۔۔
تھیبا۔۔وہ ایکدم سے چیخ مارکے اٹھ بیٹھی سنتھیا اچھل سی پڑی۔
کیا ہوا؟
جوابا اس نے وہی مراسلہ اسکی نگاہوں کے سامنے کردیا۔ وہ ہونق سی تصویر دیکھتی رہی جس پر عنوان ہی اصل توجہ کا مرکز تھا۔ تصویر میں ہیون اور اریزہ کا چہرہ واضح تھا کھانا کھاتے ہوئے مسکراتے ہوئے دونوں۔ مگر معاملہ سمجھ نہ آسکا۔ وہ جھنجھلا گئ
کیا ہے یہ میں ہنگل تھوڑی سمجھ سکتی ہوں۔
تمہاری سہیلی ہیون سے شادی کر رہی ہے۔
اس نے وضاحت کی تو سنتھیا جیسے بھونچکا سی رہ گئ۔ چند لمحے آنکھیں پھاڑے گھورتی رہی پھر نفی میں سر ہلا کر بولی
ناممکن۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
ہے نا مجھے بھئ حیرت ہو رہی۔ دو لوزرز بھی اکٹھے جوڑا بنا سکتے واہ کچھ بھی ممکن ہے دنیا میں۔ صحیح گولڈ ڈگر ہے اریزہ اونچا ہاتھ مارا ہے۔
وہ استہزائیہ انداز میں ہنس رہی تھی۔
مطلب ؟ سنتھیا کو اسکا انداز برا لگا۔
مطلب صاف ہے۔لی گروپ کوریا کے بڑے ترین گروپس میں سے ایک ہے ۔ انکے اکلوتے ناجائز بیٹے کی ہونے والی بیوی ہے۔اونچا ہاتھ مارا ہے بھئی۔
جی ہائے کے انداز میں رشک تمسخر حسد سب تھا۔
ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اریزہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتی۔
سنتھیا کو ماننے میں تامل تھا۔ جی ہائے نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا۔
مجھے تو ایسا ہوتا نظر آرہا تھا۔ ہر وقت تو دونوں ساتھ رہتے تھے سب دوست ایک۔طرف اور یہ دونوں ایک طرف ہوتے تھے اکٹھے گھومتے پھرتے تھے۔ پہلے دن سے ان دونوں کا جھکائو ایک دوسرے کی جانب تھا۔
بس کرو۔ وہ چڑ گئ۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔ میری بچپن کی دوست ہے تم سے ذیادہ جانتی ہوں میں اسے۔ وہ کبھی کسی غیر مذہب کے لڑکے سے شادی نہیں کرسکتی۔
اسکے انداز میں تیقن تھا جی ہائے ہنس پڑی
غیر مذہب کے لڑکے کے ساتھ گھوم سکتی پھر سکتی اسے ڈیٹ کرسکتی ہے مگر شادی نہیں کر سکتی واہ کیا منافقت ہے
کیا ہے یہ؟
وہ تن فن کرتی اسکے پاس پہنچی تھی اور موبائل اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
مجھے بتائو؟ کیا بکواس ہے یہ؟ یہ کیا ہے کل تم لوگوں نے؟ کیا کہا تھا تم نے نونا کو میرے بارے میں کہ ہم ڈیٹ کر رہے ہیں؟ بولو جواب دو۔بولتے کیوں نہیں اب تم۔
وہ غصے سے بے قابو ہو کر چلائی تھی۔
ہیون کے لیئے غیر متوقع ردعمل تھا وہ ابھی سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ پاس سے گزرتے طلباء میں سے ایک نے آواز لگائی
تھیبا یہ تو لی کپل ہے۔
ہیون؟ لی ہیون۔
لوگ انہیں پہچان پہچان کر اکٹھے ہونے لگے تھے۔
یہ جگہ مناسب نہیں چلو کہیں چل کر بات کرتے ہیں۔
لہجہ دھیما رکھتے ہوئے اس نے اسکا ہاتھ تھام کر انتباہ کرنا چاہا وہ غصے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بولی۔
مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم۔
وہ مزید کچھ کہتی مگر ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر تیزی سے اپنی جانب کھینچا اور سیڑھیاں اترنے لگا۔ لوگ مکھیوں کی طرح ان پر جیسے حملہ آور ہوئے تھے۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکے ساتھ گھسٹتی آئی۔ اس نے بھیڑ سے رستہ بناتے اسے گاڑی میں بٹھایا تھا۔
چھوگیو۔ ہیونا۔۔ نا جانے کتنی آوازیں تھیں کتنے کیمرے وہ جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے ہی زیر تعمیر پلازہ کے قریب لا کر اس نے گاڑی پارک کی تھی۔
میرے ساتھ آئو۔
وہ نرم سے انداز میں اسکی جانب کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔
اس نے ایک نظر گھپ اندھیرے میں ڈوبی اس کثیر منزلہ عمارت پر نگاہ ڈالی پھر اس پروہ اسکے اترنے کا منتظر کھڑا تھا۔۔ دنیا کا کوئی اور انسان ہوتا تو یہاں اترتے وہ سو مرتبہ سوچتی۔
اسکو گھورتے ہوئے وہ اسکے ساتھ اتر آئی۔ وہ موبائل کی ٹارچ آن کرکے اسے سیڑھیوں کے رستے دوسری منزل پر لایا تھا۔ صرف ڈھانچہ کھڑا تھا سامنے کچھ فاصلے دریا کنارہ تھا جہاں کی سڑک کی دو رویہ بتیاں اس وقت قمقموں کی طرح روشن تھیں۔ اس عمارت میں صرف ارد گرد کی روشنیاں ہی اندھیرے گھپ سے بچائے تھیں۔۔
وہ بالکل خاموشی سے کھڑا سامنے نگاہ جمائے تھا۔ اتنا خاموش کہ اسے مزید غصہ آنے لگا۔
یہ کیسی وضاحت ہے؟
ہیون نے رخ موڑ کر اسکی جانب غور سے دیکھا
میری جگہ کوئی اور لڑکا ہوتا تو تمہیں یہاں لا کر پرپوز کرتا۔
پھر نہیں۔ وہ بےزاری سے ٹوک گئ۔
تم نے پرپوز کیا میں نے انکار کیا بات ختم ہوگئ ہم اچھے دوست ہیں اور رہیں گے تم اس طرح کی فالتو غلط فہمیاں مت پالو نا افواہیں پھیلائو سمجھے۔ میری بات مکمل طو رپر سمجھ آئی تمہیں ۔۔
وہ ہاتھ اٹھا کر نہایت سخت انداز میں کہہ رہی تھی۔وہ چپ چاپ اسکی شکل دیکھتا رہا۔اتنی خاموشی سے کہ اریزہ کو پہلی بار اسکی نگاہوں میں دیکھنا مشکل لگنے لگا۔ اس سے قبل کہ وہ نگاہ چرا لیتی اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ ا اور سامنے دریا پرنگاہ جما دی
یہ کثیر منزلہ عمارت ہے۔ 2023 تک مکمل ہوگی۔ اس میں رہائشی اپارٹمنٹس ہونگے دریا کنارہ بہترئن جگہ بہترین مناظر کے ساتھ جب یہ بن کر تیار ہوگا تو ایک ایک اپارٹمنٹ اپنی طرز کا ایک شاہکار ہوگا۔ اربوں مالیت کا پراجیکٹ ہے یہ۔ مکمل طور پر میرے نام ۔
میری تعلیم مکمل ہونے تک مجھے لی گروپ کا ڈائریکٹر بنا دیا جائے گا۔ اس وقت لی گروپ کوریا کے پانچ بڑے ترین بزنس گروپس میں سے ایک ہے۔
تم مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو؟
اریزہ حیرت سے ٹوک بیٹھی۔۔
زندگی میں ہمیشہ میں اکیلا رہا ہوں اریزہ۔ یہ حوالہ یہ شناخت یہ پہچان میرے ساتھ اتنا رہی ہے کہ مجھے نفرت ہونے لگی ہے اس حوالے سے۔ مجھ سے سب دوستی کرنا چاہتے تھے۔ کچھ اسلیئے کہ کہہ سکیں کہ لی گروپ کا ولی عہد انکا جاننے والا ہے کچھ اسلیئے کہ میں ان پر کھلے دل سے خرچ کرتا ہوں۔ اور جب میں ان سب کے ساتھ ہوتا تھا تو میں خاموش ہوں میں انکے ساتھ ہوتے ہوئے بھی انکے ساتھ نہیں ہوں۔کبھی کسی کو پتہ نہ لگ سکا۔جب سب ایک دوسرے سے ہنسی مزاق کرتے ایک دوسرے کے ساتھ گپیں ہانکتے میں چپ چاپ کسی کونے میں بیٹھا انہیں دیکھا کرتا تھا۔ کیسے سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر ہلہ گلہ کرتے ہیں مگر مجھ سے بات کرتےایک فاصلہ رکھتے ہیں۔
اسکے ذہن میں ایسے ہزاروں واقعات فلم کی طرح چل رہے تھے جہاں وہ سب دوستوں میں ہوتے ہوئے بھی ایک کونے میں اکیلا بیٹھا ہوتا تھا۔ اس کی ٹریٹ پر سب مزے کرتے ہوئے یہ بھول جاتے تھے کہ جب کرائوکے روم اسی نے بک کروایا ہے تو وہ خود گانا کیوں نہیں گاتا۔۔
وہ ماضی کو جیسے دوبارہ جی رہا تھا۔اریزہ کی زبان تالو سے چپک سی گئ۔
کم سن گوارا یون بن کیا یہ سب تمہارے دوست نہیں؟
وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی
اس نے مڑ کر اسکی شکل دیکھی۔
کم سن گوارا یون بن جی ہائے سب بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ لحظہ بھر رکا۔
آپس میں۔۔۔
اس نے جملہ مکمل کیا۔ وہی مسکراہٹ دوبارہ اسکے چہرے پر آسجی تھی وہی جسکو دیکھتے اریزہ سوچتی تھی۔ اسکا پورا چہرہ مسکراتا ہے سوائے آنکھوں کے۔
کرائوکے ، کلبنگ ، لانگ ڈرائیو گیمنگ وغیرہ جس میں میری عمر کے لوگ گھنٹوں بتا سکتے ہیں میں بور ہونے لگتا تھا میں اٹھ جاتا تھا باہر نکل آتا تھا کبھی کوئی میرے پیچھے نہیں آیا۔۔۔ ہیون کیا ہوا چلوکہیں اور چلتے ہیں۔ وہ ذرا سا ہنسا۔
اریزہ کی پیشانی پر تفکر کی لکیریں سی بننے لگیں۔
تم نے کبھی نوٹ نہیں کیا تم اور میں ہمیشہ اکٹھے اکیلے کیوں رہ جاتے تھے؟ کیونکہ میں اکیلا ہوتا تھا۔
وہ اسکے اور اپنے درمیان چند قدم کا فاصلہ مٹاتا اسکی نگاہوں میں جھانکتے پوچھ رہا تھا۔
سادہ انگریزی میں کہوں تو میں پش اوور ہوں۔
پیسے والا مگر گھامڑ گھونچو انسان۔
ایسا نہیں ہے۔ بالکل بھی ایسا نہیں ہے۔ سب دوست تم سے محبت کرتے ہیں۔کم سن گوارا میں نے انکو تمہاری فکر کرتے دیکھا ہے۔
اریزہ نے اسکا دل صاف کرنا چاہا مگر اس پر ان جملوں کا مطلق اثر نہیں ہوا۔
میں نے کب کہا کہ وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
اس نے جیسے مکھی اڑائئ۔
میں اپنی بات کر رہا ہوں۔ میں یہاں کی سوسائٹی کا سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا ہونے والا گڈ فار نتھنگ انسان تھا۔
اس نے تھا پر زور دیا تھا ۔ اریزہ کو حقیقت میں حیرت ہوئی تھی۔ سمجھ نہ آیا ایسا لڑکا جسے وہ اتنے دنوں میں اتنا مکمل او رمضبوط انسان سمجھ رہی تھی ایسے کامپلیکسز پال کر بیٹھا ہوگا۔
تمہاری شخصیت بہت اچھی ہے بہت اچھی باتیں کرتے ہو تم رحمدل ہو ، سادہ مزاج ہو ،پرخلوص ہو خوش مزاج ہو مجھے ایسا کبھی نہیں لگا۔۔ تم اچھے ہو۔ جھنچا
اریزہ نے جھنچا پر زور دے کر کہا۔
ہاں۔ یہ سب تم کہہ رہی ہو۔ آج تک یہ سب صرف تم نے ہی کہا ہے مجھ سے۔ تم نے مجھے احساس دلایا ہے کہ میں مختلف سہی مگر جیسا بھی ہوں برا نہیں ہوں۔
تو جو لڑکی مجھے میں جیسا ہوں ویسا ہی پسند کرتئ ہے کیا اسے ہمیشہ اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی خواہش غلط ہے میری؟
وہ آنکھوں میں ہزاروں امیدوں کے دیئے سجائے بہت آس بہت مان سے پوچھ رہا تھا۔ اریزہ لمحہ بھر کو جیسے سانس لینا ہی بھول گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا راستہ دونوں بالکل خاموش رہے تھے۔ گاڑی اسکی عمارت کے پارکنگ ایریا میں رکتے ہی وہ جیسے دروازہ کھول کر اترنے لگی تو ہیون دھیرے سے بولا

کل جو کچھ ہوا وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا۔ میں نے نونا کو بتایاتھا کہ میں تمہیں پرپوز کرنے لگا ہوں۔ انکو لگا تھا تم نے حامی بھر لی ہوگی۔ وہ صرف آہبوجی کے سامنے یہ بات بتانا چاہ رہی تھیں بس۔ اگر تمہیں دکھ پہنچا تو بیان۔۔ ( معزرت)
بیان تک اسکی آواز ڈول سی گئ تھی۔ سامنے نگاہ جمائے وہ دانستہ اسکی جانب دیکھنے سے احتراز برت رہا تھا۔ اریزہ نے سر ہلایا۔ اور خاموشی سے اتر کر دروازہ بند کردیا۔ وہ بنا اسکی طرف دیکھے گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا۔
جانے آج موقع تھا یا نہیں۔
اس نے سوچنا چاہا۔ ذہن منتشر سا ہو رہا تھا۔ چلتے چلتے خیال ہی نہ رہا کہ ایک سیڑھی اوپر سے احاطہ شروع ہوتا ہے ۔بہت زور سے سیڑھی کا کونہ لگا تھا اسکی ٹانگ پر۔ تکلیف سے دہری ہوتی ٹانگ سہلاتی وہیں بیٹھ گئ۔
اریزہ۔
قدموں کی آہٹ کسی نے اس کے قریب آکر اسے پکارا تھا۔ اس نے آنسو بھری آنکھیں اٹھا کر اوپر دیکھا تو غیر متوقع طور پر سامنے علی کھڑا تھا۔
وہ اتنئ حیران ہوئی کہ دیکھتی رہ گئ ۔
تم ٹھیک ہو۔
وہ اسکی چوٹ کی بابت پوچھ رہا تھا۔
آہ۔۔ دے۔ وہ فورا ٹانگیں سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
معمولی چوٹ ہے۔
چہرے پر پھیلے آنسو پونچھتے وہ قصدا مسکرائی۔ علی نے اسکی شکل دیکھی۔ معمولی چوٹ پر یوں پھوٹ پھوٹ کر رونے کا مطلب چوٹ اندر کہیں لگی ہے یہ بہانہ بنا ہے۔
کین چھنا۔ اس نے اپنی جانب سے اطمینان دلانا چاہا۔
تھائینیئے۔وہ سر ہلا کر اسکا یقین کرگیا۔ وہ ہاتھ میں وہی والا شاپنگ بیگ تھامے تھا۔ یقینا وہ یہی واپس کرنے آیا تھا۔ اس وقت وہ اتنا تیزی میں نکلے تھے کہ خیال نہیں رہا۔اس نے اسکی جانب بڑھا دیا۔
آپکو کافی زحمت ہوئی شکریہ۔ اس نے فورا تھام لیا او رجھک کر شکریہ بھی ادا کردیا
کرم۔ وہ جانے کو مڑی۔
اریزہ ۔
علی نے پکارا تو وہ مڑ کر یوں دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہو اب کیا؟
وہ میرا ہینڈ فون۔۔
اس نے یاد دلایا۔ وہ چند لمحے ناسمجھی سے اسے دیکھتی رہی پھر خیال آیا۔ غصے میں وہ اسکا فون پکڑے پکڑے ہی ہیون کی کلاس لینے آگے بڑھ گئ تھی۔
اس نے بیگ میں فورا فون تلاشا۔ صد شکر دو عد دفون موجود تھے۔
میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکو بہت زحمت ہوئی ۔ مجھے بالکل خیال نہیں رہا تھا کہ ۔۔ ایک بار پھر معزرت سوری
وہ اتنی شرمندہ ہوئی تھی کہ بس نہیں تھا کہ وہیں گڑ مر جائے۔ ایسا بھی کیا اندھا پن۔
اسکے اتنی مرتبہ معزرت کرنے پر وہ خود بھی شرمندہ سا ہوگیا
نہیں۔معزرت مت کیجئے۔ آنیو۔ بس وہ صبح مجھے اس کی ضرورت پڑتی شہر سے باہر جانا ہے اسلیئے بس۔
اسے کہیں نہ بھی جانا ہوتا پھر بھی کون آجکل کے دور میں موبائل کے بغیر رہ سکتا۔ وہ خود کو جتنا ملامت کرتی کم تھا۔
وہ سر ہلا کر رہ گئ ۔۔
کرم۔ وہ سر کے اشارے سے خدا حافظ کہتا جانے لگا کہ خیال آیا۔ ذراسا جھک کر بولا
اریزہ۔ آئیم سوری۔
کس لیئے۔ ؟ وہ حیران ہوئی۔
کل کے کیلئے، آج جو کچھ ہوا مجھے لگا ہے کہیں نہ کہیں جو کچھ ہوا اسکے لیئے مجھے معزرت کرنی چاہیئے۔ آئیم سوری
اسکو اپنی پوزیشن آکورڈ لگی۔تھئ۔ اریزہ کچھ نہ بولی۔
اپنا خیال رکھنا شب بخیر بائے۔
وہ کہہ کر ہلکے سے سر جھکا کر مخصوص کورین انداز میں کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔ وہ بے دھیانئ میں اسے دیکھ رہی تھی کہ خیال آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فلیٹ کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی گوارا صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی وہیں سے پکارنے لگی۔
میری جان میری زندگی یوبو۔ اف کتنا یاد کر رہئ تھی پوچھ لو ہوپ سے مستقل اس سے پوچھے جا رہی ہوں کب آئوگی تم ۔
اریزہ جوابا مسکرا بھی نہ سکی۔ ہوپ کچن میں کافی بنا رہی تھی اس سے بھی پوچھنے لگی
کافی پیوگی؟
اس نے بس نفی میں سر ہلایا اور کمرے میں گھس گئ۔
اسکو کیا ہوا؟ گوارا ہوپ سے پوچھ رہی تھی۔
میں کیا جانوں؟ اس نے کندھے اچکا دیئے۔
اریزہ۔۔
گوارا اٹھ کر اسکے پیچھے آئی وہ کمبل منہ تک تانے بتیاں بجھائے یقینا سونے کا ارادہ باندھ چکی تھی۔ وہ آہستگی سے دروازہ بند کرتی واپس چلی گئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اور یون بن اس سے ملنے آئے تھے۔ ایک ہفتے سے اوپر ہو چکا تھا اسے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اسکی حالت انکی توقع سے ذیادہ خراب تھئ۔ سوکھ کے جیسے کانٹا ہوا وا تھا۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے انکو دیکھ کر حقیقتا اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
کین چھنا۔ یون بن پوچھ کے پچھتایا۔
وہ سلاخوں سے سر ٹکا کر رو ہی پڑا۔
میں نے کچھ نہیں کیا میں نے سنتھیا کو اغوا نہیں کیا۔ میں کیوں اسکو نقصان پہنچائوں گا ۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔
یون بن اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا۔۔
ہماری پولیس تھوڑی سست ہے مگر جلد ہی سنتھیا کا پتہ چلا لے گی۔ اسکی حالت ٹھیک نہیں یقینااسے اسپتال کی ضرورت پڑے گی۔وہ ضرور کسی کلینک سے رابطہ کرے گی فورا اسکا پولیس کو پتہ چل جائے گا تم پریشان مت ہو۔
یون بن اسے بچوں کی طرح بہلا رہا تھا۔ کم سن ہونٹ بھینچے بیٹھا رہا تھا۔ ملاقات کا وقت ختم ہونے تک یون بن کی تسلیوں کے باعث اسے کافی بہتر لگ رہا تھا۔
اسکے ہمراہ باہر آتے یون بن کو نیا خیال آیا۔
یار سنتھیا نے کہیں سو سائیڈ تو نہیں کرلی۔
کم سن نے حیرت سے شکل دیکھی تو وضاحت کرنے لگا۔
دیکھو نا سیول میں جا بجا سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں نا ممکن ہے کہ وہ باہر نکلے اور کسی کیمرے کی نظر میں نہ آئے۔ اور باہر کیسے کوئی نہیں نکلے گا؟ کھانا پینا کیسے کر رہی ہوگی وہ بھلا؟ یہاں تو اسکا کوئی دوست بھی نہیں۔
کم سن نے سر کھجایا۔ اس دن سنتھیا جب اس کے پاس انٹرویو دینے آئی تھی تو اس نے جو آپر پہن رکھا تھا اس پر بڑا بڑا یونیورسٹی کے جمناسٹک کلب کا نام لکھا ہوا تھا۔ وہ اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اسکی مدد کون کر رہا ہے یقینا وہ ہاسٹل میں چھپی ہوگی ۔ اسے باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کم ازکم سمسٹر بریک اور کرسمس کی چھٹیوں کے ختم ہونے تک۔۔
ہنگن دریا تو فریز ہوا وا ہے یقینا وہ کچھ کھا کر مر چکی۔
یون بن اپنی دھن میں گاڑی میں بیٹھتے بول رہا تھا
اے سوچ کے بولو۔
فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا کم سن ایکدم اتنی زور سے بھڑک کر بولا
کمچاگئا
( ڈرا دیا)
وہ بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھ کر گھورنے لگا۔
کیا ہوا ہے بس خیال ظاہر کر رہا ہوں۔ ہائش۔ میں کونسا فرشتہ ہوں جو بیٹھا اسکی تقدیر لکھ رہا ہوں۔ اس نے منہ بنا کر گاڑی اسٹارٹ کی۔
پھر بھئ کسی کی زندگی موت کے بارے میں غیر سنجیدگی سے ذکر زیب نہیں دیتا
کم سن اس بار لہجہ سنبھال کر بولا تھا۔
غیر سنجیدگی سے نہیں کہہ رہا۔ اسکی حالت ٹھیک نہیں ہوگی۔ اس میں خون کی شدید کمی ہے۔ جو رپورٹس تھیں انکے مطابق اگر وہ اس بچے کو گراتی تو اسکی جان کوخطرہ تھا اور اگر پیدا کرنا چاہتی تو مزید خطرہ تھا۔مکمل بیڈ ریسٹ تجویز کیا تھا ڈاکٹر نے۔ اور وہ احمق لڑکی خود سے کہیں چلی گئ۔
اور سب جانتے بوجھتے ایڈون اسکو ذہنی طور پر مزید پریشان کرتا رہا اسکی مرضی کے خلاف ابارشن پر مجبور کرکے۔
کم سن کو ایڈون پر غصہ آیا تھا۔یون بن نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا پھر کندھے اچکا کر بولا۔
ایک بائیس تئیس سالہ لڑکا پڑھائی کرے گا یا بیوی بچے پالے گا؟ مجھے ایڈون اتنا غلط نہیں لگتا۔
کم سن سوچ میں پڑ گیا ذہن میں یون بن کے کہے الفاظ گونج رہے تھے
اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے یقینا اسے اسپتال کی ضرورت پڑے گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی لیکر جیسے اڑتا ہوا پہنچا تھا۔ ہاسٹل گیٹ پر ہی اسے جی ہائے مل گئ تھئ۔ چھوٹتے ہی بولی
اتنئ دیر؟
سنتھیا کہاں ہے؟ اس نے پوچھا تو وہ اسے اشارے سے خاموش رہنے کا اشارہ کرتی مین گیٹ سے کچھ فاصلے پر ایک درخت کے نیچے لگے بنچ کے پاس لے آئی۔
سنتھیا گھاس پرزمین پر دہری ہوئی لیٹی تھی۔
اس وقت سیکیورٹی گارڈ کی نظروں میں آئے بغیر ہمیں اسے لے جانا ہوگا ورنہ میں بہت بڑی مصیبت میں پڑ جائوں گی۔
جی ہائے کو اس وقت بھئ اپنی فکر پڑی تھی
کم سن نے گھورا تو وہ چپ کرگئ۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو اسکا جسم کانپ رہا تھا پسینے چھوٹ رہے تھے۔ وہ بالکل بے دم ہوئی جا رہی تھی
یہ یہاں تک کیسے آئی ہے۔
کم سن نے اسکو سیدھا کیا تو جس طرح وہ کراہی وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
چل کر۔ اس وقت چل پا رہی تھی میرا خیال ہے چلنے سے اسکی ذیادہ طبیعت خراب ہوئی ہے۔
جی ہائی کے کہنے پر وہ سوچ میں پڑا پھر جیسے ایک فیصلہ کرکے جیب سے چابی نکال کر اسکی جانب بڑھائی
گاڑی کو یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 3 کے پاس لیکر آئو۔
مگر وہ تو بند ہوگا اس وقت۔
جی ہائے نے کہا تو وہ ہونٹ بھینچ کر کسی کو کال ملانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آڈیٹوریم سے وہیل چئیر لا کر وہ سنتھیا کو اس پر بٹھا کر جتنئ تیزی سے ہو سکا گیٹ تک پہنچا تھا۔ گیٹ پر انکا قابل اعتبار سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔سنتھیا کو دیکھ کر سٹپٹا گیا
دیکھو آدل لڑکوں کا دیر سے ہاسٹل آنے پر گیٹ کھولنا یا بے وقت جانے دینے میں اور یوں کسی لڑکی کے ساتھ جانے دینے میں فرق ہے۔ مجھے معاملہ گڑبڑ لگ رہا ہے ۔
ہاسٹل سے غائب ہونے کیلئے یون بن شاہزیب سالک وغیرہ کے ساتھ وہ اسی گیٹ کا استعمال کرتے تھے اسی چوکیدار کو پیسے دے کر۔ یہاں کا سی سی ٹی وی خراب نہیں تھا مگر اس سے نمٹنا بھی اسی چوکیدار کا کام تھا۔
میں آپکو کسی مشکل میں پھنسا سکتاہوں بھلا۔ اس لڑکی کی طبیعت بہت خراب ہے اسکو اسپتال لے جانا ضروری ہے۔
اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر میرے ہی کلینک میں لانا ضروری تھا؟
سن بے ای کوانگ دو جھلارہا تھا۔
وہ سر جھکا گیا۔
بتایا تو ہے سن بے کسی بھی سرکاری اسپتال لے جاتا تو پھنس جاتا پولیس کیس ہے۔
اس نے اتنی معصومیت سے کہا تھا کہ سن بے ( سینئر) کا دل چاہا اسکے سر پراپنا وہی اسٹیتھسکوپ ماردے جسکو سنتھیا کی دھڑکن ماپنے کیلئے استعمال کر رہا تھا۔
فکر کی بات نہیں ہے ۔ یوں طبیعت اوپر نیچے ہونا عام بات ہے۔ بخار ابھی اتر جائے گا تو کچھ کھلا پلا دینا بس۔
اسے گھورنے کے بعد رخ پھیر کر سن بے جی ہائے سے ہی مخاطب تھے۔
وہ سر ہلا کر جمائی روکنے کی کوشش میں لگی تھی۔
میرا کلینک اتنا بڑا نہیں ہے کہ ایمرجنسی کی سہولت موجود ہوتی۔ منہ اٹھا کر یہاں لے آئے اگر سچ مچ حالت بگڑتی تو اسپتال جانے تک یہ اوپر جا چکئ ہوتی۔
سن بے سنتھیا کو ٹیکا لگاتےہوئے اس کو بھی ساتھ ساتھ ٹھونک بجا رہے تھے۔
مجھے پتہ ہے آپ اتنے قابل ڈاکٹر ہیں کہ ایسی کسی بھی مشکل سے با آسانی نمٹ سکتے ہیں جبھی پورے بھروسے کے ساتھ آیا میں۔
وہ مکھن لگا رہا تھا۔
آہیش۔ دانت پیستے اس نے معائنہ مکمل کیا۔ نرس کو ڈرپ تیار کرکے لگانے کا کہتا اسے گھورتا باہر نکل گیا۔
نرس سنتھیا کودیکھ رہی تھی۔ جی ہائے سنتھئا کا ہاتھ سہلا رہی تھی تکلیف میں یقینا کافی کمی آئی تھی۔ سنتھیا بہتر لگ رہی تھی۔ وہ اطمینان کرتا سن بے کے پاس چلا آیا۔وہ اپنے کمرے میں بیٹھا اسی کی رپورٹس اپنے مانیٹر پردیکھ رہا تھا۔وہ چپ چاپ اسکے مقابل آبیٹھا۔
۔ مسلئہ کیا ہے تم دونوں کے بیچ؟ مانیٹر سے نظر ہٹا کر اس نے گھورا
دے؟ وہ سمجھا نہیں۔
تمہاری یوجا شنگو( لڑکی دوست) بہت کمزور ہے۔شدید ذہنی دبائو کی وجہ سے بچے کی جان کو خطرہ ہے۔ اگر یہ بچہ چاہیئے تو اس سے جھگڑنا بند کرو۔ لڑکیاں جزباتی چڑچڑی ہو جاتی ہیں
Be A man..
وہ۔ ۔در اصل۔ وہ کہتے کہتے رک گیا۔پھر بات بنا دی۔
یہی میں کہہ رہا ہوں اتنی کمزور ہے بچہ کیسے پالے گی میں تو کہہ رہا ہوں معاملہ ختم کرا دیتے ہیں یہ ضد کر رہی ہے پالنے کی۔
اوں ہوں۔
سن بے نے نفی میں سر ہلایا۔
اب بہت دیر ہوگئ ہے۔ قانونی طور پر بھی اور ابھی جو اس لڑکی کی حالت ہے اب ابارشن کا مطلب اسکو قتل کرنا ہوگا۔ خاص کر اگر وہ اس بچے کیلئے جزباتی کیفیت کا شکار ہے۔ ماں بچے کی خاطر بڑے سے بڑا درد جھیل جاتی ہے۔تھوڑی ہمت وہ کرے تھوڑی برداشت تم دکھائو اس پریگننسئ کو جاری رکھو بس خیال رکھو ہو سکتا ہے وہ ریکور کر جائے۔
ڈاکٹر کے دوٹوک جواب پر وہ سر ہلا کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو جی ہائے صوفے پر لیٹ کر سو چکی تھی۔ سنتھیا جاگ رہی تھی مگر رخ دوسری جانب تھا۔ تکیئے سے سر ٹکائے ڈرپ پر نگاہ جمائے تھی۔
وہ دھیرے سے پاس آکر پوچھنے لگا۔
کین چھنا۔
سنتھیا نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔ فکر چہرے سے عیاں تھی اسکے۔ ابھی ان دو گھنٹوں میں جس طرح اس نے مدد کی تھی۔ کیسے اسے اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا تھا وہ اسکی جتنی شکر گزار ہوتی کم تھا اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
شکریہ۔ میں تمہارا احسان نہیں چکا سکتی۔
آنیا۔ وہ بے ساختہ دونوں ہاتھ نفی میں ہلا کر بولا
ایسی کوئی بڑی بات نہیں۔ تم بس کچھ مت سوچو آرام کرو۔یہاں کی فکر مت کرو ۔
اسکے کہنے پر وہ خاموشی سے اسکو دیکھتی رہی۔
کچھ چاہیئے؟ پانی پیوگی؟
اسکی نظروں میں جانے کیا تھا وہ گڑبڑا کر بات بدلنے کو بولا۔
اس نے آہستگی سے سر ہلایا۔ اسکے سر ہلانے پر وہ سائیڈ ٹیبل سے منرل واٹر کی بوتل کھول کر اسکی جانب بڑھانے لگا۔ ناتوانی کی وجہ سے وہ خود سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہانپ ہانپ گئ ۔ اس نے احتیاط سے اسکو سہارا دے کر بٹھایا۔ جانے کتنی دیر کی پیاسی تھی۔ آدھی بوتل پیتی چلی گئ۔۔
اب سونے کی کوشش کرو۔
اسکو ہدایت دے کر وہ واپس جانے لگا تو سنتھیا نے پکار لیا۔
کم سن۔
مختلف لہجہ غلط تلفظ مگر مانوس انداز۔ وہ مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
وہ اپنے کانوں سے سونے کے ننھے منے سے ٹاپس اتارنے لگی پھر اسکی جانب بڑھا دیئے۔
یہ بہت قیمتی نہیں ہیں مگر کچھ نہ کچھ تو انکا مل جائے گا۔ مجھے اندازہ نہیں اسپتال کے خرچ اس سے پورے ہوں گے یا نہیں مگر میں۔۔
وہ مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی اس نے بات کاٹ دی
واپس پہن لو مجھے نہیں چاہییے۔
مجھے اچھا نہیں لگ رہا یوں بوجھ بننا برائے مہربانی اسے رکھ لو میرے ضمیر کا بوجھ ہی کم ہوجائے گا۔۔
وہ اصرار کرنے لگی۔ کم سن کے ذہن میں کوئی پرانی یاد تازہ ہوئی ۔بلا ارادہ سوال کر بیٹھا۔
ایک بات پوچھوں؟
ہوں۔ وہ چونکی۔
تم اس بچے سے محبت کرنے لگی ہو؟
سوال عجیب تھا۔ وہ جواب نہ دے پائی۔ محبت کیا اسے محبت ہے؟ یامحبت کو باندھ کر رکھنے کا بہانہ ہے یہ بچہ۔۔
اس نے لمحہ بھر سوچا جواب واضح تھا۔
ہاں۔ مجھے یہ بہت عزیز ہوگیا ہے۔
ایڈون سے ذیادہ؟
کم سن کا اگلا سوال حاضر تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلا تو گھر جانے کی نیت سے تھا مگر برفباری ہو رہی تھی۔
وہ کلینک کا دروازہ بند کرکے اندر سے بلائینڈز گرا کر وہیں لابی میں رکھے سنگل سیٹر صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔
برفباری ذیادہ ہے ایسے موسم میں ڈرائیو نہیں کرنا چاہیئے۔
اس نے خود کو خود ہی بتایا پھر گہری سانس لیکر سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔
کلینک دو کمروں پر مشتمل تھا اس سے ملحق اوپر اسٹوڈیو میں ہی سن بے رہتے تھے۔ اسے اوپر گیلری سے باہر لابی میں بیٹھے دیکھا تو گہری سانس لیکر اسےاوپر بلا لائے۔ گرم کافی بنا کر اسکی جانب بڑھائی۔کمبل تکیہ لا کر اوپن کچن سے ملحق لائونج میں رکھا۔
یہاں لائونج میں سوجانا۔
دے۔
اس نے سر ہلا دیا۔ وہ کمرے میں واپس جاتے جاتے مڑے۔جانے کیا خیال آیا اسے دیکھ کر بولے۔
یاد رکھنا بچہ پیار کی نشانی ہوتا ہے۔گرل فرینڈ اگر ماں بننا چاہتی ہے تو اسکا صرف ایک مطلب ہوتا ہے وہ اپنے بوائے فرینڈ سے بہت اور سچا پیار کرتی ہے۔ تم سچے پیار کی قدر کرو۔
کم سن کافی کا گھونٹ بھرتے بھرتے رک گیا۔
سن بے نے اسکے ردعمل کا انتظار کیا پھر اسے خاموش بیٹھا دیکھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔
خالی پیٹ کافی۔ اس نے مگ وہیں رکھا اور خود آکر لائونج کے صوفےپر نیم دراز ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن ہوپ نے جانے رات کیسے گزار دی تھی صبح اٹھ کر جانے کی ضد کرنے لگی ۔
ڈاکٹر اسے ابھی انڈر آبزرویشن رکھنا چاہ رہی تھی مگر اسکی ضد۔ چڑ کر ڈاکٹرنی نے اسکو سمجھانے کو کہا۔
اگر وہ جانا چاہتی ہے تو آپ جانے دیں وہ اپنی حالت بہتر جانتی ہے۔
کم سن کا جواب بالکل غیر متوقع تھا ڈاکٹرنی کیلئے۔ وہ تو وہ ہوپ بھی لمحہ بھر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔
مجھے سمجھ نہیں آتا تم لوگوں کا۔ اگر بچوں سے اتنئ چڑ ہوتی ہے تو احتیاط کیوں نہیں برتتے ہو۔ پہلے ابارشن کرکے جان لی۔ اپنی بھی جان خطرے میں ڈالی اور اب اپنا خیال نہ رکھ کر تم آئیندہ کے دروازے بھی بند کردو۔
ہونہہ مجھے کیا۔
وہ چڑ کر بکتی جھکتی چلی گئ۔
ہوپ اپنا پرس اٹھا کر جانے کو تیار ہوگئ۔
میں تمہیں وائر کردوں گئ مگر کل۔ آج ابھی مجھے انتظام۔
کہتے کہتے اسے چکر سا آگیا تھا دھپ سے بیڈ پر بیٹھنا پڑا۔
کل کیوں آج ہی سب پیسے واپس کرو بلکہ ابھی۔ وہ بھنا گیا۔
مسلئہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔ ایک تو غلط انسان پر بھروسہ کیا اوپر سے خود کو سزا دے رہی ہو۔
تمہیں لگتا ہے مجھے زندگی نے اتنے خوبصورت دن دکھائے ہیں کہ میں محبت کی نشانی مٹاتی پھری ہوں۔
وہ ایکدم بھڑک کر بولی۔ کم سن ایکدم چپ ہی رہ گیا۔۔وہ تو یہی سمجھا تھا شائد بریک اپ کے بعد اس نے ابارشن کروالیا۔
نا یہ محبت کی نشانی تھی نا کسی ایک شخص کا انعام۔ چین سے شمالی کوریا واپس نہ جانے کا تاوان تھا چین میں رہنے کا ہرجانہ اور جنوبی کوریا کا ٹکٹ تھا۔
وہ ایکدم سے جنونی سی ہو کر چیخ چیخ کربولی۔ اسکی جزباتی کیفیت بالکل بھی نارمل نہیں تھی۔ دوائوں کے زیر اثر وہ ہانپ بھی رہی تھی کانپ بھی۔ چیخنے کی کوشش میں آواز پھٹ سی رہی تھی۔ وہ گھبرا گیا۔
ہوپ پریشان مت ہو۔ خود کو سنبھالو۔
اس نے آگے بڑھ کر اسکو سہارا دینا چاہا اس نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
نہیں چاہیئے مجھے ایسی کوئی نشانی جو اس بدبودار ماضئ کی یاد دلاتی رہے اسی لیئے اسی لیے میں نے۔
وہ خود پر سے جیسے نادیدہ گندگی جھاڑنے لگی۔
گھن آتئ تھئ مجھے اپنے اندر پلتے اس ناسور سے ۔ گھن آرہی ہے ابھئ بھئ۔۔ مجھے اپنے وجود سے بھی۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ہے۔ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اسے روکنے میں وہ ہلکان ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کروٹ بدلی۔۔۔ اسکا ذہن الجھا ہوا تھا۔
سنتھیا اسکے سوال پر ہنس دی تھی۔
بچپن میں ہمیں بڑے اکثر تنگ کرنے کیلئے پوچھتے تھے کہ ماما سے ذیادہ محبت ہے یا پاپا سے۔ ہم کسی ایک کا نام نہیں لے پاتے تھے دونوں سے ہے کوئی ذیادہ تکرار کرے تو رو دیتےتھے۔ کبھی فیصلہ نہیں کر پائے۔مگر آج جب خود ماں بنی ہوں تو احساس ہورہاہے ماں کیلئے تو فیصلہ مکمل اور یک طرفہ ہوتا ہے۔ بچے کے باپ سے جتنی بھی محبت ہو بچے سے پیاراس محبت سے دگنا ہوتا ہے۔
جی ہائے جانے کب جاگ گئ تھی۔ اسکی جانب سے خاصا غیر متوقع سوال آیا تھا۔ کم سن اور سنتھیا دونوں چونکے تھے۔
کیہہ سوری۔ (یہ کیا فضلہ ہے)
کم ذیادہ بھاڑ میں ڈالو یہ بتائو تمہیں ابھی بھی ایڈون سے محبت ہے؟ آہیش۔۔۔ حیرت ہی ہے مجھے۔ اگلے نے تمہیں حقیقتا سڑک پر لا چھوڑا ہے ، ذمہ داریوں سے بھاگنے والے اس بھگوڑے کیہہ سیکی سے اگر اس سب کے بعد بھی محبت ہے نا تو جائو تم اسی کے پاس جان چھڑائو اس سے جو تمہاری محبت میں حائل ہو رہا ہے۔
جی ہائے نے اسے ٹھیک ٹھاک سنا دی۔ سنتھیا کا رنگ زرد پڑگیا تھا۔
جی ہائے۔ کم سن نے اسے گھور کر باز رکھنا چاہا تھا۔مگر جی ہائے رکی نہیں۔
محبت پرفلسفیانہ موڈ رات کے د وبجے ہا ہا۔ آگاشی آپکے بے حد پیار کرنے والدین اور آپکا پیارا پہلا پیار دونوں کو ہی آپکے اس بچے جس سے اب آپکو دنیا میں سب سے ذیادہ پیار ہے بالکل دلچسپی نہیں۔ اب آپ کیا کیجئے گا ؟
وہ صوفے سے اتر کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
سنتھیا بٹر بٹر گم صم سی بیٹھی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھی۔
اگر تم ایڈون سے بریک اپ کرتی ہو میرا وعدہ ہے میں جو ممکن ہو سکا مدد کروں گی تمہاری اور اگر ابھی بھی اس کمینے کیلیئے دل میں نرم گوشہ ہے تو صبح جائو پولیس اسٹیشن بیان دو میرا اور کم سن کا مزید وقت اور پیسہ برباد مت کرو۔
پولیس اسٹیشن کیوں؟ وہ کم سن کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ۔ کم سن نے سر کھجایا۔ جی ہائے نے یہاں بھی اسے جواب کی زحمت سے بچا لیا
تمہارے والدین نے اسے تمہاری گمشدگی کا زمہ دار ٹھہرا کر جیل میں بند کروادیا ہے۔
کیا۔ وہ بری طرح متوحش ہوگئی تھی۔
کب سے ؟
ایک ڈیڑھ ہفتہ ہو رہا ہے۔
کم سن نے آہستگی سے بتایا۔ وہ سر پکڑ کر رہ گئ۔
پھر کیا فیصلہ ہے تمہارا ایڈون یا یہ بچہ؟
جی ہائے کو حقیقتا غصہ آرہا تھا۔ اسکے پیچھے وہ کم سن سے لڑی او روہ ابھی بھی ایڈون کے لیئے پریشان ہو رہی تھی۔
ایڈون۔۔۔
اس نے شائد جی ہائے کی بات سنی بھی نہیں تھی۔
ایڈون سے ملاقات ہوئی ہے تمہاری؟ ٹھیک تو ہے وہ؟
وہ فکرمندی سے کم سن سے مخاطب تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے پھر کروٹ بدلی۔ پھر چڑ کر کمبل اتارتا اٹھ بیٹھا۔
ہائیش۔ میرے اپنے مسلئے کم پڑ گئے ہیں جو تم دوسروں کے معاملے سلجھانے بیٹھ گئے ہو۔
اس نے اپنے سر پر بنا لحاظ چپیڑ لگا دی۔ او رتھوڑی زو رسے لگا دی جبھی اگلے ہی لمحے اپنا سر پکڑ کر کراہ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے۔

Kesi lagi apko yeh qist ? rate us below

Rating

Salam Korea Episode 36

Salam Korea
by Vaiza Zaidi
قسط 36
ہوپ کوریلنگ کے دوسری جانب کھڑے دیکھ کر اسکی جان نکل گئ تھئ جیسے۔
نہیں۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نہیں پہلے نکلا۔
ہوپ بری طرح چونکی مڑ کر دیکھا تو وہ پاگل لڑکی اندھیرے میں بھاگی چلی آرہی تھی۔ اسے بہت زور کی ٹھوکر لگی تھئ گھٹنوں کے بل گری
وہ مارے حیرت کے پورا مڑ گئ۔
نہیں آندے۔
۔ہوپ۔ آندے۔ ہوپ رک جائو پلیز ایسا مت کرو۔
بھرائے گلے سے بے تابئ سے پکارتی وہ اپنا گھٹنا سہلاتی لڑکھڑاتی جتنی تیزی سے بھاگ سکتی تھی بھاگ کر اسکے پاس آئی۔ وہ حیرت سے منڈیر پر کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی۔ ریلنگ کے آگے بھی اتنی کگر تھی کہ ہوپ آرام سے اسکی جانب مڑ کر ریلنگ تھامے کھڑی تھی۔
رک جائو ہوپ۔۔
ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔
اریزہ نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے
پلیز ہوپ یہ حرکت مت کرو خد اکیلئے ادھر آئو
وہ اسکو بازو سے تھام کر روک دینا چاہتی تھی۔ ہوپ نے کسمساکر خود کو چھڑانا چاہا
میں نے تمہیں بتایا تو تھا اب میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تم نے ناحق زحمت کی۔
جینے کی وجہ یہی کافی ہے کہ تم زندہ ہو۔ پلیز ہم بات کرتے ہیں نا ہوپ۔
وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
اب بہت دیر ہو گئ ہے۔ اس نے یکدم اپنے دونوں ہاتھ ریلنگ سے ہٹا دیئے وہ سر کے بل نیچے جانے کو تھی کگر سے اسکا توازن بگڑا اریزہ کے پاس لمحہ بھر تھا فیصلے کو پوری مضبوطی سےآگےبڑھ کر اس نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ جھٹکا لگا تھا ہوپ کے پیروں تلے سے کگر نکلی تھی اسکا وجود ہوا میں معلق ہوا اریزہ بھی اسکے پورے وزن کے ساتھ نیچے ہوئی ریلنگ اسکی پسلیوں پر کھب رہی تھی ۔
پاگل ہوئی ہو کیا۔ ہوپ چلائی۔
چھوڑو میراہاتھ بے وقوف لڑکی تم بھی گروگی میرے ساتھ۔
نہیں تم میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑو یہ سوچ کر کہ اس وقت اگر تم نے میری مدد نہ کی تو میں بھی تمہارے ساتھ بے موت ماری جائوں گئ۔
تم پاگل ہوگئ ہو۔
ہوپ غصے سے چلائی۔ مگر اریزہ کا ارادہ اٹل تھا وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔
تم کیوں اپنی زندگی کی دشمن بنی ہو ؟ تمہارے اپنے ہیں گھر ہے دوست ہیں میرے لیئے خود کو مشکل میں مت ڈالو تم مجھے اب نہیں واپس کھینچ سکتیں۔
ہوپ کا بس نہیں تھا اسکا گلا دبا دے۔ اتنئ بے وقوفی
ہاں مگر تمہیں چھوڑوں گی بھی نہیں۔
اسکے انگلیوں پر کھرنڈ تھا اتنی مضبوط گرفت نے زخم تازہ کردیئے تھے۔ ہوپ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے پھسلتا محسوس کر رہی تھی مگر وہ بے وقوف اسے بچانے کو خود بھی آدھی لٹکی ہوئی تھی
بائیسویں منزل اوپر ہوا میں معلق وہ جانتی ہوا کا دبائو اسکی اس کوشش کو جلد ناکام بنا دے گا۔ اسکا ہاتھ چھٹ جائے گا مگر اسکا ہاتھ چھٹنے پر وہ خود بھی اپنا توازن کھو بیٹھے گی او رشائد اسکے ساتھ وہ بھی نیچے آرہے۔
مگر احمق اریزہ کو اپنی ذرہ فکر نہ تھی الٹا گڑگڑا رہی تھی۔
ہوپ پلیز دوسرے ہاتھ سے بھی تھامو مجھے خدا کا واسطہ۔
ہوپ کوشش کرو۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھامے تھئ ۔ اسکی آنکھوں سے گرتے آنسو ۔۔ ہوپ کی ساری بے چینی و دکھ کا جیسے مداوا ہورہا تھا۔
ہوپ میں بھی گر جائوں گئ میری خاطر کوشش کرو اوپر آنے کی پلیز۔
وہ منتیں کر رہی تھی۔
ہوپ کو زندگئ میں پہلی بار احساس ہوا تھا ۔انسان انسانوں سے جڑے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح آپکی زندگی آپ کو دوسرے کسی انسان کی زندگی سے جوڑے ہوئے ہے۔ اسکے خون کے رشتے سب ختم ہوچکے تھے اب یہ اپنائیت دوستی لگائو جو بھی تھا اریزہ سے ایک نیا تعلق جڑ گیا تھا۔ افسوس اس تعلق کا احساس اسے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں ہوا تھا۔ اریزہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھٹ رہا تھا کوئی چپچپاہٹ سی اسکے ہاتھ کو پھسلا رہی تھی۔ اریزہ بری طرح روتے چلاتے اسے پکار رہی تھی ہاتھ پکڑنے کو کہہ رہی تھی ۔ آخری لمحوں کا کتنا پیارا منظر تھا کوئی اسکے لیئے رو رہا تھا خالصتا اسکے لیئےپکار رہا تھا اسکو ۔۔
ہوپ۔۔
اسکا ہاتھ چھوٹ رہا تھا۔ ہوپ اسکے ہاتھوں سے نکلنے لگی تھی ۔۔ اب ہوپ کو مزید زور آزمائی کی بھی ضرورت نہ تھی ۔۔ چند لمحوں میں اریزہ کا ہاتھ ہمیشہ کیلئے چھٹ جاتا۔ اریزہ کو اپنے کندھوں سے بازو کھنچتے محسوس ہو رہے تھے
ہوپ پلیز۔ اسکے منہ سے جملے بھی نہیں نکل رہے تھے۔
تبھی کسی نے اسے پیچھے سے آکر بانہوں میں جکڑ لیا تھا۔ہاتھ کی تکلیف ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی۔ اسکے ہاتھ سے ہوپ کا ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔ ۔ اس نے اپنا بازو واپس کھینچا تو درد کی لہر سی دوڑ گئ۔ ایک بھیانک منظر اسکی نگاہوں کے سامنے گزر رہا تھا بائیسویں منزل سے گرتی ہوپ زمین پر پہنچتے اسکے وجود نے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا تھا ۔ اریزہ کو جھٹکا سا لگا۔ اسے تھامنے والے نے گھسیٹ کر اسے پیچھے کیا اور تیزی سے دوبارہ ریلنگ کی جانب لپکا شائد ہوپ کےگرنے کے آخری لمحات دیکھنا چاہتا ہوگا۔ اریزہ کی آنکھوں کے سامنے ہوپ نیچے گر رہی تھی ۔ اسکا سر کافی دیر بعد زمین کو لگا تھا ۔ اسکے سر سے فوارے کی طرح خون نکلا تھا۔ خون کے دریا میں تیرتی ہوپ کی لاش وہ دیکھ رہی تھی اسے سب دکھائی دیا تھا۔۔ اسکے قدموں سے جان نکلی وہ کھڑے قد سے گری ۔
ہیون فورا الٹے قدموں واپس اسکے پاس آیا تھا۔
اریزہ تم ٹھیک ہو؟
اسکا چہرہ سفید پڑ چکا تھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ سامنے دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھ پا رہی تھی۔
اریزہ کین چھنا ۔۔ تم ٹھیک ہونا؟؟
وہ اسکا کندھا ہلا کر پوچھ رہا تھا۔اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیکر تھپتھپا رہا تھا۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ ہٹایا اور کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگی
ہو ہو۔ہوپ۔۔ ریلنگ کی طرف اشارہ کرتی وہ کہنا چاہ رہی تھی ہوپ کو دیکھو۔
اٹھنے کی کوشش میں وہ دوبارہ لڑکھڑائی۔ ہیون نے اسے سہارا دیے کر کھڑا کیا۔
سب ٹھیک ہے کین چھنا اریزہ۔
ہیون اسکو تسلی دے رہا تھا مگر اب تسلی کس کام کی تھی۔دوسری موت اسکی نگاہوں کے سامنے ہوئی تھی۔ پہلی دفعہ میں سہم جانے پر وہ چیخ بھی نہیں پائی تھی۔ وہ سب چیخیں جو اسکے اندر گھٹ کر رہ گئ تھیں آج اسکے لبوں سے آزاد ہوگئ تھیں۔وہ یک دم متوحش ہوگئ تھی اس نے چیخنا چاہا تو حلق سے عجیب سی آواز نکل پائی۔ وہ چیخ کیوں نہیں پارہی۔ اس نے اپنی سب توانائیاں جمع کرکے چیخنا چاہا ۔ اس بار وہ چیخ پائی تو پھر رکی نہیں بلا توقف چلائے چلی گئ۔۔ ہیون نے گھبرا کر اسکو جکڑ لیا۔
اریزہ ہوش کرو۔ وہ اسے پکار رہا تھا ۔ اریزہ اپنا آپا کھو بیٹھی تھئ کچھ نا سنتے لگاتار چیخیں۔ اسے شدید قسم کا پینک اٹیک آیا تھا۔ لگا تار چلاتے اسکی سانس بند ہونے لگی تھی۔ ہیون کی بانہوں میں وہ بری طرح مچل رہی تھی ۔۔ کم سن بھی گھبرا کر اسکے پاس دوڑا آیا۔
ریلیکس اریزہ سب ٹھیک ہے۔ کم سن بھی تسلئ دے رہا تھا مگر وہ کچھ سن نہیں پارہی تھی یونہی چیختے ہوئے وہ ہیون کے بازوئوں میں ہی ہوش و خرد سے بےگانہ ہوگئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون اور کم سن اریزہ کے اسٹریچر کے ساتھ ایمبولنس میں بیٹھ کر اسپتال پہنچے تھے۔ اریزہ انکے بار بار پکارنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ پیرا میڈیکل اسٹاف نے آکسیجن لگا دی تھی ایک آدھ ٹیکا بھی مگر سب بے سود تھا۔ اسے اسپتال پہنچتے ہی ایمرجنسی میں لے جایا گیا ۔ ہیون کے اپنے اعصاب بالکل شل ہوچکے تھے۔ اسٹریچر کے ساتھ اندر جانے لگا تھا جب ڈاکٹر نے اسے روکا۔ کم سن نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر سہار دے کر بنچ پر بٹھایا۔ ہیون کے ذہن میں بار بار وہی منظر آئے جا رہا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا بمشکل ایک آدھ گھونٹ بھر کر اس نے اسکا ہاتھ پیچھے کردیا تھا۔ کم سن کے اپنے حواس قابو میں نہیں آرہے تھے۔ کیا بھیانک واقعہ ہوگزرا تھا انکے ساتھ۔ وقت تھا کہ رینگ رینگ کر گزر رہا تھا۔ تبھی گنگشن نونا تقریبا بھاگتی ہوئی ادھر چلی آئیں۔
کیسی ہے اریزہ؟
کچھ پتہ نہیں۔ شائد نروس بریک ڈائون ہوا ہے۔ہوش بھی نہیں آرہا اسے ۔ڈاکٹرز کہہ رہے کہیں برین ہیمریج نہ ہوگیا ہو۔۔۔
کم سن نے وہی بتایا تھا جو ڈاکٹر اسکو بتا کر گیا تھا مگر ہیون نے سر اٹھا کر اسے جن نظروں سے دیکھا تھا وہ شرمندہ سا ہوگیا۔ گنگشن نونا بھی جیسے دل پکڑ کر رہ گئیں۔
ہائش۔ اسکی پینک اٹیک کی ہسٹری بھی ہے۔ اف ۔۔ یا خداوند رحم کرنا۔
انہوں نے تاسف سے اپنے سینے پر کراس بنایا ۔
ہیون نےدوبارہ سر جھکا لیا اسکے دونوں ہاتھوں میں خون کے نشان تھےسفید اپر بھی خون رنگ ہورہا تھا۔۔ نونا کی نظر پڑی تو پریشان ہو کر اسکے پاس آئیں۔
ہیونا یہ خون کیسا ہے تم تو ٹھیک ہو نا۔
وہ گھبرائی سی اسے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہی تھیں۔
کین چھنا نونا میں ٹھیک ہوں۔
اس نے تسلی دینی چاہی
یہ خون کہاں سے نکلا پھر؟ وہ روہانسی ہو رہی تھیں
اریزہ کا ہے۔ اسکے ہاتھوں میں ریلنگ کا ٹوٹا سریا کھب گیا تھا۔
کم سن نے بتایا
آہیش۔
نونا نے تاسف سے سر جھٹکا۔ ہیون نے آنکھیں میچ لیں۔ چھت پر اندھیرے کی وجہ سے نظر نہ آیا ۔اریزہ کے بیہوش ہونے کے بعد اسکو کم سن اٹھا کر نیچے لایا تو انہیں پتہ لگا ریلنگ کا کوئی کونا ٹوٹا ہوا تھا جس کی راڈ اریزہ کے بازو میں کھب سی گئ تھی۔ ٹھیک ٹھاک خون بہہ رہا تھا۔ ہیون سے ذیادہ تو کم سن کے اوپر خون کے دھبے تھے مگر وہ چونکہ گہرے میرون رنگ کی ہائی نیک اور کالی پینٹ پہنے تھا سو اس پر نونا کا دھیان نہ گیا۔ہیون سفید ہوڈی پہنے تھا تو اس پر خون دو رسے چمک رہا تھا۔
اسکی جیب میں فون بجا تھا۔ اس نے نکال کر نام پڑھا۔۔ مگر کال ریسیو کرنے کی بجائے فون سائلنٹ کر دیا۔
اف یہ والا معاملہ تو ۔۔۔۔۔۔ کیا کروں۔۔۔
کم سن ہونٹ کاٹنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھیرے دھیرے اس نے اپنی بوجھل پلکیں کھولی تھیں۔ چند لمحے تعین کرنے میں لگ گئے کہ وہ ہے کہاں پھر ذہن شل سا ہوا دوبارہ آنکھیں بند کیں چند لمحوں کیلئے یا شائد کئی گھنٹوں کے بعد اسکو کوئی جگا رہا تھا۔ بار بار گال پر ہلکے ہلکے سے تھپتھپا کر۔
اریزہ اٹھو۔ جاگو شابآش۔
آواز مانوس تھئ۔کون ہے یہ۔ اسکی آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھیں۔
اریزہ شی۔ اٹھ جائو صبح ہوگئ ہے۔ اکیڈمی نہیں جانا تم نے؟
اس بار قدرے زور سے اسکے گالوں پر چپت لگائئ گئ تھی۔ یہ مانوس آواز۔ وہ اس بار پہچان گئ تھی۔ یہ گوارا تھی۔۔ اس کا ذہن دھیرے دھیرے بیدار ہونا شروع ہوا۔ پلکیں جھپکتے اس نے دھندلے منظر کو دیکھنا چاہا آہستہ آہستہ منظر واضح ہونا شروع ہوا۔
گوارا اس پر جھکی ہوئی تھی اسکو آنکھیں کھولتے دیکھ کر ایکدم خوش سی ہوکر پیچھے ہٹی۔ اسکے برابر میں ہی ڈاکٹر کھڑا تھا۔۔
میں نے کہا تھا نا میری آواز سن کر اٹھ جائے گئ۔
گوارا ہنگل میں کہتی کھلکھلائی۔
وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھی انداز اضطراری تھا وہ کہیں جانا چاہ رہی تھی۔
ریلیکس اریزہ۔ گوارا نے فورا اسکو کندھوں سے تھام کے روکا۔
گوارا ہو۔۔ ہوپ۔۔ہوپ وہ گر رہی ہے۔
حواس بحال ہوتے ہی وہ اس لمحے میں جا پہنچی تھی جہاں سے ہوش کھوئے تھے نگاہوں کے سامنے ایکدم ہوپ کا خون میں لت پت چہرہ در آیا۔
اسکے اوپر وحشت سی طاری ہوئی۔ وہ اسے بتانا چاہ رہی تھی کہ ہوپ مرگئ ۔مگر لفظ کھو رہے تھے۔
اسے بچا لو۔
اسے صحیح طرح دکھائی نہیں دے رہا تھا سر چکرا رہا تھا مگر وہ پوری کوشش سے اٹھنا چاہ رہی تھی۔
ہوپ وہ ہوپ مر جائے گئ۔
بھاگنے کی کوشش گوارا اور ڈاکٹر نے ناکام بنا دی تھئ وہ متوحش سی جو کچھ کہہ رہی تھی اس میں بس ہوپ ہی انہیں سمجھ آسکا تھا۔
خود کو کوستی شرمندگی کی اتاہ گہرائیوں میں گھرتی وہ ایکدم آگے بڑھی اور اریزہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھام لیا۔
میں یہاں ہوں اریزہ۔
اسکی بات اریزہ تک نہیں پہنچی وہ بدستور چلا رہی تھی
ہوپ کو بچائو۔ ہوپ۔
اریزہ۔۔دیکھو مجھے۔۔ میں ٹھیک ہوں۔
اس نے اس بار اسے ہلکے سے کندھوں سے پکڑ کرجھنجھوڑ دیا۔ وہ ایکدم چپ ہوئی۔ دھندلا منظر واضح ہوا پہچان کے مرحلے طے ہوئے۔ ہوپ کا آنسو بہاتا چہرہ اسکی نگاہوں کے سامنے تھا۔ ہوپ وہ بے یقینی سے پکارتے ہوئے اس سے لپٹ گئ تھی۔ ہوپ نے اسے سینے میں بھینچ لیا ۔ اسکے سر پر تھوڑی رکھتے خود بھی رو دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔ آندے۔
ہیون چونک کے مڑا تھا۔ جانے اسے وہم ہوا تھا یا واقعی اریزہ کی آواز تھی۔ اسکی چھٹی حس کچھ کہہ ضرور رہی تھی۔ وہ تیزی سے پلٹا
کیا ہوا کہاں جا رہے ہو۔
کم سن اسے عجلت میں بھاگتے دیکھ کر خود بھی اسکے پیچھے بھاگ اٹھا۔ لفٹ کی بجائے ہیون کا رخ چھت کی جانب تھا۔ دونوں آگے پیچھے ہی چھت پر پہنچے تھے مگر وہاں کا منظر اتنا غیر متوقع تھا کہ دونوں ایک لمحے کو تو جم کر ہی رہ گئے۔ اریزہ ریلنگ سے آدھی نیچے آگے کو جھکی جیسے لٹکی تھی اب گری کہ تب۔
اریزہ ۔۔
ہیون دیوانہ وار اسے بچانے بھاگا تھا کم سن نے بھی تقلید کی ۔ پاس جاتے ہی ایک اور دھچکا لگا۔ اریزہ خود کشی نہیں کر رہی تھی بلکہ ہوپ کو گرنے سے بچا رہی تھی ہیون نے اریزہ کو پکڑا کم سن نےہوا کے دوش پر ڈولتی ہوئی ہوپ کا بازو تھاما۔ اسے گرنے سے بچا لیا تھا مگر وہ اکیلا اسے اوپر کھینچ نہیں سکتا تھا۔ ہیون اریزہ کو پیچھے کرنے کے بعد فورا اسکی مد دکو آیا دونوں نے کھینچ کھا نچ کر اسے اوپر اٹھا لیا تھا۔ چند ہلکی پھلکی خراشیں ہی آپائی تھیں ہوپ کو مگر اس حقیقت سے انجان اریزہ پر تب تک پینک اٹیک آچکا تھا۔اسکی حالت دیکھ کر جہاں کم سن اور ہیون اسکے پاس بھاگے تھے وہاں ہوپ سنٹ سی ہوتی وہیں بیٹھتی چلی گئ تھی۔ اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ہیون کے بازو شل تھے پین کلرز کا اثر ختم ہو رہا تھا۔ اریزہ مکمل بیہوش ہوگئ تھئ اسے اٹھانے کی کوشش کی تو بری طرح ناکام رہا۔کم سن اسے اٹھا کر نیچے کا رخ کیا تب تک ہیون ایمرجنسی سروس کو فون ملا چکا تھا۔ سیڑھیاں اترتے کم سن کو ہی خیال آیا
ہوپ۔
ہیون کے ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے۔ الٹے قدموں واپس دوڑا تھا مگر خیریت رہی اس بار اس نے موقع غنیمت جان کے دوبارہ کودنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اکیلی چھت پرمٹھیاں بھینچے بیٹھی بلک رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے اڑتالیس گھنٹے بعد مکمل ہوش آیا ہے تمہیں۔ معلوم ہے کتنا پریشان کیا ہے تم نے ہمیں۔
ہوپ کہہ رہی تھئ۔۔۔
میں نے تو اللہ سے بھی دعا کی تھئ۔
گوارا نے لقمہ دیا۔
میں یہی سوچتی رہی کہ میں تمہارا سامنا کیسے کروں گی۔ ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اریزہ میں سچ میں بہت شرمندہ ہوں اریزہ ۔ مجھے معاف کردو۔
ہوپ نے اسکے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا۔
آندے۔ اریزہ نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔ ہوپ نے اسکے ہاتھوں پر سر ٹکا دیا۔ ہاتھ میں کنولا لگا ہوا تھا۔ اتنی دیر میں پہلی بار اسے تکلیف کا احساس ہوا۔ اسکے دائیں بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ شائد کوئی زخم تھا۔ اب غور کیا تو پتہ لگا کہ اٹھ کر بھاگ کیوں نہیں پائی دائیں پیر پر بھی کوئی کارڈ نما چیز لگئ ہوئی تھی۔ سر کندھے کسی نادیدہ۔بوجھ سے شل تھے۔ اس نے اپنی گردن سہلائی۔
آئی ایم جیلس۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسو بھرے گوارا ماحول خوشگوار بنانے کیلئے مسکرا کر بولی
مجھے لگا تھا میں تمہاری ذیادہ اچھی دوست ہوں مگر لگتا ہے میری غیر موجودگئ میں تم دونوں کی ذیادہ گاڑھی چھننے لگی ہے۔
دونوں چونکی تھیں۔ جھینپ کر ہوپ نے پیچھے ہونا چاہا تو اریزہ نے اسکی گردن میں بازو حمائل کردیا دوسرے بازو سے گوارا کو کھینچ لیا۔ دونوں کو بازوئوں میں بھینچے وہ جیسے دونوں کو کبھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔ لگائو کے اس اظہار نے ان دونوں کو موم سا کردیا تھا
ڈاکٹر بھی کھڑا مسکرا رہا تھا۔
آپ اسکا معائنہ تو کر لیں۔
ہیون نے کہا تو ڈاکٹر نے اطمینان دلایا
سب ٹھیک ہے ہم ہوش ہی دلا رہے تھے۔ ہوش میں آنے کے بعد ردعمل بھی ذیادہ شدید نہیں ہے۔ آپ بس انکو کچھ اچھا کھلائیں پلائیں۔۔۔اور پھر بھی کمزوری محسوس کریں تو ڈرپ لگے گی ۔ ورنہ رہنے دیں ڈرپ۔ کرم
ڈاکٹر ہنگل میں بتا رہا تھا مگر کسے۔ اریزہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو آنکھیں کھل سی گئیں۔
کم سن ہیون یون بن گنگ شن انی سب موجود تھے اور صبر سے اسکے متوجہ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔۔اسکے متوجہ ہونے پر سب نے باقائدہ ہاتھ ہلا کر آننیانگ کہا۔ وہ حیران تھی اسکے چہرے پر لکھا تھا۔پھر وہی حیرانی ایک خوشگوار مسکراہٹ میں بدلتی گئ۔ خوش اس سے بھی ذیادہ تھی۔ اتنے لوگ اس کی فکر کرتے تھے اسکے لیئے پریشان تھے۔
اسکے چہرے پر حیرانی دیکھ کر انی مسکراتے ہوئے آگے بڑھیں۔اسکے چہرے کو پیار سے چھو کر بولیں۔۔۔
پاکستانی لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہیں سنا تھا مگر یہ نہیں پتہ تھا پاکستانی لڑکیاں اتنی بہادر بھی ہوتی ہیں۔
انکی محبت پر وہ مسکرا کر رہ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ اور گوارا حقیقتا اسے زمین پر پائوں نہیں رکھنے دے رہی تھیں۔اسپتال میں وہ مزید رکنے پر تیار نہ ہوئی تھی سو انہیں اسکی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔ اس وقت وہ کمرے میں بیڈ پر ٹھاٹ سے لیٹی تھی ہوپ اور گوارا دونوں اسکی خدمت پر کمر بستہ تھیں۔ گنگ شن انی اسکے لیئے اپنے ہاتھوں سے سوپ بنا کر لائی تھیں۔ چکن کارن سوپ۔ اپنے ہاتھوں سے اسکو چمچ میں بھر کر پلایا۔
وہ شش و پنج میں مبتلا ہوئی۔ وہ اتنے پیار سے بڑھائے تھیں۔انکو صاف انکار کرنے کی ہمت نہ ہوئی انکا دل رکھتے ہوئے دو چمچ پی لیئے۔
اللہ معاف کرے۔۔
دل توڑنا ذیادہ بڑا گناہ ہے۔
اسکے پیش نظر یہی بات تھی۔
نونا آپ کے ہاتھ کا سوپ تو مجھے بھی بہت پسند ہے۔ویسے بھی اسکی خدمت کر کر کے میرا وزن کم ہو گیا ہے۔
گوارا نے انکے ہاتھ سے پیالہ اچک لیا تھا۔ اور یوں جلدی جلدی چمچ لیئے جیسے واقعی وہ سوپ پینے کیلئے مری جا رہی ہو۔
مگر وہ۔۔
انی پریشان سی ہوگئیں کیا کہیں ٹوکیں یا نہیں۔انکی مروت۔
کین چھنا انی۔۔
اس نے پیار سے انکا ہاتھ تھپتھپایا۔ وہ جیسے اسکی ہنگل پر نثار ہوگئیں۔گوارا نے مسکراتی نگاہوں سے اسکو دیکھتے بھنوئیں اچکائیں جیسے جتایاہو احسان چڑھایا ہے میں نے۔اس نے بھی سمجھ کر احسان مندی کے اظہار کیلئے ذرا سا سر خم کردیا
اچھا میں اب چلتی ہوں مگر جمعے تک اریزہ تم نے بالکل ٹھیک ہوجانا ہے کیونکہ ہفتے کو میری شادی ہے اور تم نے ضرور آنا ہے۔
انی کی پیار بھری تاکید پر وہ مسکرا کر سر ہلاگئ۔
اچھا گوارا ہوپ اسکو لانا تم دونوں کی ذمہ داری ہے
وہ اب ان دونوں کو بھی دعوت دے رہی تھیں۔
دے۔۔
دونوں نے کورس میں کہا تو وہ ہنس دیں۔
کرم۔ انہوں نے اجازت چاہی۔ ہوپ انکو دروازے تک چھوڑنے گئ۔تو گوارا اچھل کر اسکے سامنے بیڈ پر آبیٹھی۔
اور کیا چل رہا ہے اب تمہارے اور ہیون کے درمیان؟
ہیون بہت پریشان تھا تمہارے لیئے۔ ان دو دنوں میں میں نے اسے سوتے نہیں دیکھا۔ وہی تھا جو ہروقت اسپتال میں رہا۔ اسکی شکل دیکھی ہے اتنا سا منہ نکل آیا ہے۔ کیا جادو کیا ہے تم نے اس پر میں نے اسے کبھی کسی لڑکی کے پیچھے اتنا خوار ہوتے نہیں دیکھا۔
وہ اتنے جوش و خروش سے بتا رہی تھی اریزہ کی مسکراہٹ پھیکی سی پڑتی گئ۔
تمہیں کس نے بتایا تھا میری طبیعت کا۔
اس نے بات بدلنی چاہی۔
مجھے کم سن نے بتایا تھا۔ فورا بھاگئ آئی میں۔ تم تو بیہوش تھیں ہوپ کا الگ رو رو کے برا حال تھا خود کو اتنا برا بھلا کہہ رہی تھی۔ انی الگ پریشان۔اور تم اتنا پکارا جھنجھوڑا اٹھ ہی نہیں رہی تھیں۔ مجھے اتنا ڈر لگا تھا کہ ۔۔
وہ جھرجھری سی لیتی بات ادھوری چھوڑ گئ۔ شائد غلطئ سے بھی اپنے خوف کو دہرانا نہیں چاہتی تھی۔
اریزہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ تبھئ ہوپ سٹر پٹر کرتی واپس آئی اسکی آہٹ سن کر ہی گوارا نے ایکدم پینترا بدلا او رناک چڑھا کر بولی
میں تمہاری جگہ ہوتی تو ہوپ کو گر ہی جانے دیتی تھوڑا دماغ ٹھکانے پر آجاتا۔ نا بھی آتا ہمارافلیٹ پر سکون ہوجاتا۔
گوارا کی زبان کے آگے خندق تھئ۔اریزہ نے گھورا تو وہ کھلکھلا دی۔
جتنئ دکھی آتما ہوں میں تمہارا فلیٹ آسیب ذدہ کردینا تھا۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر تمہیں میری آہ و بکا سننی پڑتی خاص کر جس دن یون بن آتا رہنے تم دونوں کو ڈرا ڈرا مارتئ میں۔
ہوپ نے ذرا برا نہ مانا ہنس کر بولی اس کی جانب سے اتنا مدلل جواب ۔دونوں آنکھیں پھاڑتئ اسکی جانب مڑیں
میں بھئ کسی بدھ متی پجارن کو بلا کر گھنٹیاں بجواتی تمہارے سر پر۔ ہوش ٹھکانے آجاتے۔
بس بس۔۔ پلیز جھگڑنا مت میں تم دونوں کو چھڑا نہیں پائوں گئ۔
اریزہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر سیز فائر کرایا
تبھی ہیون کم سن اور یون بن شور مچاتے ڈھیر ساری کھانے پینے کی چیزیں اٹھا لائے۔ اسکے لیئے خاص طور پر پاکستانی ریستوران کی بریانی لائی گئ تھئ۔ یہ سب کورین لوبیا نوڈلز اور تلے ہوئے مرغی کے پنجے اڑا رہے تھے ۔ سب کیلئے سوجو تھی اسکے لیئے اسپرائٹ۔ اسکو اکیلا نہ چھوڑنا پڑے سو اسی کمرے میں جس کو جہاں جگہ ملی ٹک گیا۔
کم سن ان سب کو اریزہ اور ہوپ کی نقل اتار کر دکھا رہا تھا۔بولتے بولتے سب ہنگل پر اتارو تھے۔ چمچ سے نوالہ لیتے وہ محظوظ سے انداز سے ان سب کی شوخیاں دیکھ رہی تھی۔۔ ایک وقت ہوتا تھا وہ اور سنتھیا دنیا جہان بھول کر یوں ہنستی تھیں کبھی کسی رات سنتھیا اسکے گھر رک جاتی تو رات کے دو تین بجے بھی وہ صارم کو اٹھا کر زبردستی ڈرائور ڈیوٹی پر لگا کر باہر آئسکریم کھانے جاتی تھیں۔وہ ہزار نخرے کرتا اپنی شرطیں منواتا مگر تیار ہوجاتا تھا لے جانے کو۔ لانگ ڈرائو پر پلے لسٹ ہمیشہ اریزہ لگاتی تھی۔ ایک سے ایک اداس روندو گانا صارم ناک چڑھاتا تو سنتھیا باقائدہ رونے کی اداکاری کرتی تھی۔ وہ گانوں سے ذیادہ ان دونوں کی جھلاہٹ سے محظوظ ہوا کرتی تھی۔ کبھی یونیورسٹی سے پروگرام بنتا تو ایڈون ساتھ ہوتا تھا۔ کبھی اسکی زندگئ میں دو سے ذیادہ دوست رہے ہی نہیں تھے۔ کبھی ضرورت ہی نہ پڑی۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب اسکا دامن دوستوں کے خلوص سے بھرا ہوگا مگر سنتھیا نہیں ہوگی ۔ ان سب کے چہروں میں سنتھیا کے خدو خال ڈھونڈتے اسکا دل بھر آیا۔ چمچ منہ تک لے جاتے اسکا ہاتھ رکا۔ چمچ واپس رکھ کر اس نے جلدی سے رخ موڑ کر آنکھوں سے پھسل آنے والے آنسو پونچھنے کیلئے ٹشو تلاشا۔ ہیون اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کوبہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ اریزہ نے اپنی پلیٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تو وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھائے خاموشی سے کمرہ خالی کرگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری رات خواب میں بھی ہوپ کے گرنے ہیون کے بچانے کا منظر ہی چکراتا رہا۔
صبح وہ جب بھرپور نیند لیکر اٹھی تو دھندلے منظر میں دو ہیولے خود پر حاوی ہوتے پائے۔ آنکھیں مسلیں منظر واضح ہوا وہ گھبرا کے اٹھ بیٹھی
کیا ہوا۔
ہوپ اور گوارا اسکے دائیں بائیں آلتی پالتی مارے بیٹھئ دونوں مٹھیوں میں چہرہ ٹکائے غور سے دیکھ رہی تھیں
ویئو؟؟؟۔ اس نے ذرا بھنا کر پوچھا
ہم دیکھ رہے ہیں ہماری نیند اڑا کر تم کیسے سکون سے سولیتئ ہو؟
گوارا نے ناک چڑھائی۔۔
مجھے آج افسوس ہوا ۔
ہوپ نے تاسف سے سرہلایا
کس بات کا؟ اریزہ بھونچکا سی اسے دیکھ رہی تھی
یہی کہ جب چین میں تھی تو ہماری دکان کا ایک مستقل صارف پاکستانی ہوا کرتا تھا ہمیشہ ہماری دکان سے ہی ڈبل روٹی لیتا تھا۔
تو؟ گوارا کو بھی اس بے تکی راگنی کی سمجھ نہ آئی
تو اس سے بنیادی اردو ہی سیکھ لیتی سمجھ تو آتا یہ کیا بڑبڑاتی رہی ہے۔
ہوپ نے وضاحت کی گوارا جہاں کھل کے ہنسی وہاں اریزہ بری طرح کھسیا گئ۔
میں رات کو بولتی رہی نیند میں؟
ریکارڈ کیا ہے میں نے؟
ہوپ نے ویڈیو پلے کرکے اسکی آنکھوں کے سامنے موبائل لہرایا
واقعی؟ دکھائو مجھے بھی گوارا کو اشتیاق ہوا
ہوپ کی بچی ڈیلیٹ کرو اسے فورا۔۔
اریزہ فورا اسکی طرف لپکی مگر وہ جھکائی دے گئ
گوارا اور ہوپ مزے لے لے کر اسکی ویڈیو دیکھ رہی تھیں اریزہ کی آنکھوں میں شرمندگی کے مارے آنسو آنے لگے۔ بیڈ پر سے اچھل اچھل کر پکڑنے کی کوشش کرتی رہی مگر دونوں جھکائی دے جاتی تھیں۔ جوش میں آکر بستر سے اتر کر کھڑی ہوگئ دو قدم ہی چلی ہوگی پیر میں ناقابل برداشت درد اٹھا بیڈ سے ٹھوکر کھاکر سیدھی نیچے آئی۔ گوارا اور ہوپ ویڈیو بھول بھال تڑپ کر اسے سہارا دینے بڑھیں۔
ہٹو دور رہو میرا مزاق اڑاتی ہو دونوں کوئی دوست ووست نہیں ہو دونوں میری۔
ذہن جتنا منتشر تھا نا جانے کیا بک بیٹھی ہوں گی یہ خیال ہی اسے رلانے کو کافی تھا۔پوری فرصت سے وہ بین کرکے رو دی۔
دونوں نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی پھر مسکراہٹ دبا کر اسکو سہارا دیکر اٹھانے لگیں
کتنا چھوٹا دل ہے تمہارا بات بات پر رو دیتی ہو روندو۔۔
صارم نے اسکو کندھا مارا تھا۔
گوارا اور ہوپ آپس میں ہنگل میں جانے کیا کہہ رہی تھیں اسے یہ کندھا کافی زور کا لگا آنسو جھٹ پونچھ لیئے۔
گوارا اسکا پائوں ہلا جلا کر دیکھ رہی تھی
پٹھے کھنچے ہوئے ہیں بس مسل اسپیزم میرے پاس شائد جی ہائے کا پین کلر اسپرے پڑا ہوگا دیکھتی ہوں۔
وہ اسپرے ڈھونڈنے اٹھ گئ الماری کھول کر ڈھونڈنے لگی ہوپ نے اپنا موبائل اسکے حوالے کردیا
لو خود ڈیلیٹ کرلو۔
ویڈیو سامنے تھی۔ دونوں یقینا اسے روتا دیکھ کر متاسف ہوئی تھیں اریزہ نے جھٹ موبائل تھام لیا مگر ڈیلیٹ کرنے سے پہلے دیکھنے لگی۔ بے خبر خراٹوں کے بیچ وہ ہوپ کو بچالو کہتی تھی اور کبھی اپنے والدین کو پکارتی تھی۔ ایک جملہ واضح بولا تھا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔او رآگے بڑبڑاہٹیں تھیں خود کلامی سے قطع نظر وہ بچوں کی طرح سوتی اچھی خاصی معصوم سی لگ رہی تھی۔ ویڈیو اریزہ سنسر بورڈ نے پاس کردی تھی۔
اس نے ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ہوپ کو موبائل واپس تھما دیا۔
ہوپ مسکرادی۔ پھر تجسس سے مجبور ہوکرپوچھا۔
تم کہہ کیا رہی تھیں ہوپ کہہ کر؟؟؟
اریزہ نے انگریزی ترجمہ کرکے بتایا۔ اسکی آنکھیں تشکر سے جھلملا گئیں۔
شکریہ اریزہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔یہ ویڈیو میں ہمیشہ پاس رکھوں گی اپنے۔
لو اسکو یہ دوا لگا دو
گوارا اسپرے ڈھونڈ لائی تھی اس نے اسپرے اسکی جانب بڑھایا
تم کیوں نہیں لگا رہیں۔؟
اریزہ نے ٹوکا۔
کیونکہ تمہیں یہ چوٹ اسکی وجہ سے لگی ہے تو اس پر فرض ہے اس چوٹ کے مندمل ہونے تک تمہاری کنیز بن کر رہے۔ ہمارے بدھا یہی تعلیم دیتے ہیں ہمیں۔
وہ شاہانہ انداز میں کہتی اسکے برابر میں بیٹھ گئ۔
ہوپ نے قطعی برا نا مانا بلکہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مہارت سے مساج کرتی اسکے پائوں پر اسپرے کرنے لگی
اچھا یہ اصول بدھا کے تم پر لاگو نہیں ہوتے؟
اریزہ کو پرانا قصہ بروقت یاد آیا تھا۔
مجھ پر بھی ہوتے ہیں۔ اس نے آرام سے سر ہلایا
تو پھر جب یونی کے پہلے دن تم نے میرے دوپٹے کے سرے باندھے تھے اور میرا گلا گھٹ گیا تھا میری گردن بھی چھل گئ تھی تب کہاں تھا تمہارا یہ اصول؟
اریزہ نے کہا تو گوارا حیرت سے اسے دیکھنے لگی
تمہیں لگتا ہے میں نے کی تھی وہ حرکت؟ اریزہ میں کسی کو دشمنی میں بھی نقصان پہنچانے کی خو نہیں رکھتی۔
تو پھر؟ اریزہ حیران رہ گئ وہ اور سنتھیا تو ہمیشہ گوارا کو موردالزام ٹھہراتی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کس نے کہہ دیا کہ سنتھیا میرے ساتھ ہاسٹل میں رہ رہی ہے۔ جی ہائے کی بے نیازی عروج پر تھی۔
مجھے جیسے بھی پتہ لگا یہ اہم نہیں اہم یہ ہے کہ مجھے سنتھیا سے فوری بات کرنی ہے۔۔۔
تم نے نوکری دی ہے اسے اس نے درخواست فارم میں اپنا مستقل پتہ نہیں لکھا ؟ وہاں جا کر مل لو اس سے۔
اس نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔کم سن دانت پیسنے لگا پھر خود پر قابو پا کر بولا
وہ ابھئ جاب پر نہیں آئی اسکا رابطہ نمبر بند جا رہا ہے میرا اس سے بات کرنا ضروری ہے۔اسکے جاب پر آنے تک کا انتظار نہیں کر سکتا اس سے بہت مسئلہ ہو جائے گا
ویئو؟ (کیوں)؟ ۔ جی ہائے نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا۔

۔ایڈون کو جیل میں بھیجا جا چکا ہے۔ کم سن نے اپنی طرف سے خاصی سنگین خبر سنائی تھی
تم نے
تو؟ جتنا ایڈون نے ستایا ہے سنتھیا کو اسکو کم از کم اس بچے کے پیدا ہونے تک تو جیل میں ہی رہنا چاہیئے۔
وہ جم میں کندھوں کی ورزش کر رہی تھی۔ مزید کندھے ہی اچکا کر بولی۔ کم سن ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ چند ثانیئے خود پر قابو پاکر سخت انداز میں بولا
یہ تمہارا خیال ہے اور تمہارے خیال کی ان دونوں کے معاملے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔تم صرف سنتھیا تک میرا پیغام پہنچائو بلکہ اس سے کہو باہر آئے میں ہاسٹل کے باہر سے اسے پک کرلوں گا۔
ویٹ ۔ جی ہائے مشین چھوڑ کر کندھے پر ٹکائی تولیہ سے پسینہ پونچھنے لگی۔
کم سن اسے گھور رہا تھا مگر اسکے انداز سے صاف لگتا تھا اسکی جوتی کو بھی پروا نہیں۔۔
تمہارا کیا خیال ہے میں سنتھیا کو کہوں گی اور وہ خوشی خوشی چل پڑے گی۔ ایڈون نے اسکے ساتھ جو کیا ہے وہ اسکی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہے گی۔ اور صحیح تو ہے۔ کچھ وقت جیل میں گزارے اپنے برے برتائو پر پشیمان ہو پھر دیکھی جائے گئ۔
اسکا انداز بے نیاز سا تھا
وہ دونوں غیر ملکی ہیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے پاکستان ایمبیسی اس کیس کی پیروی کررہی ہے سنتھیا کے والد اسکی خیر خبر جاننا چاہتے ہیں وہ ایڈون پر شک کررہے ہیں کہ انکی بیٹی کی گمشدگئ میں ایڈون کا ہاتھ ہے نہایت سنگین الزامات ہیں یہ۔ ایڈون تو ڈی پورٹ ہوگا ہی ساتھ اگر کسی کو بھنک بھی پڑی کہ سنتھیا کو چھپانے میں تمہارا کردار ہے تو تم بھی اپنا کیریئر بھول جانا۔
جی ہائے تولیہ پٹختی اٹھ کھڑی ہوئی۔تن کے کم سن کے سامنے بولی
کون بتائے گا؟ تم؟ جائو بتائو۔
اسکا انداز تائو دلانے والا تھا
ہاں بتا دوں گا۔ ایک اطلاع دینی ہوگی بس پولیس میں پھر سنبھالتی رہنا ۔
کم سن کا بھی دماغ گھوم گیا۔
دھمکی کسے دے رہے ہو؟
وہ اسکے انداز کو۔خاطر میں نہ لائی۔
جائو یہ شوق بھی پورا کرلو۔۔ تمہارے ہی دفتر میں ملازمت ملی ہے نا؟ پولیس بیان میں بتایا تھا اسے کہ اسکی گمشدگی کے بعد اسے تم نے جاب پر رکھا ہے؟
جی ہائے کا دماغ چلا تھا کیا خوب چلا تھا وہ چکرا گیا۔
دیکھو بات سنو۔ ٹھنڈے دل سے میری بات سنو۔
اسکے نرم لہجے پر بھی وہ بدستور گھورتی رہی
کم سن کو پتہ تھا اس وقت اگر اسکو مزید ضد دلائی تو سنتھیا تک پہنچنا مزید مشکل ہوجائے گاسو غصہ دبا کر سبھائو سے بولا
دیکھو تم معاملے کی نزاکت کو سمجھ نہیں رہی ہو۔ایڈون جیل میں ہے پولیس پورا شہر کھنگال رہی ہے سنتھیا کو ڈھونڈنے کیلئے۔ کہیں نہ کہیں کسی سی سی ٹی وی کیمرے کی ذد میں آئی ہی ہوگی وہ تمہارے پاس آنے تک ۔ انکو کتنا وقت لگے گا ذیادہ سے ذیادہ؟ وہ ہاسٹل پہنچ گئے تو؟ تم کس خوشی میں مصیبت مول لے رہی ہو دوست تک تو ہے نہیں وہ تمہاری۔
وہ آخر میں جھلا گیا تھا۔
دوست کون ہوتا ہے؟ وہ گوارا جس نے اتنے سالوں کی دوستی بھلا کر مجھ پر اس چار دن سے آئی اریزہ کو چنا؟تم ہو دوست میرے جو کھڑے مجھے دھمکیاں دے رہے ہو۔ میں سنتھیا کو کم ازکم دوست سمجھ کر مدد نہیں کر رہی۔
انسانی ہمدردی سمجھو یا پاگل پن مگر سنتھیا تک پہنچنا ہے تو میری شرط پر ہی پہنچوگے۔ورنہ وہ راستہ ہے۔
اسکا انداز دوٹوک تھا
کیسی شرط؟ کم سن نے بے چینی سے بات کاٹی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گوارا اور ہوپ انی کی شادی میں پہننے کیلئے کپڑے لینے آئی تھیں۔ جرسی کپڑے کے کراپ ٹاپس اسکرٹس اور ون پیس ڈریس بمشکل گھٹنوں تک آتے۔ گوارا اور ہوپ جانے واقعی اسکی پسند سے لینا چاہ رہی تھیں یا اسکو خوش کرنے کیلئے اس سے ہر لباس کے بعد رائے لے رہی تھیں۔شارٹ اسکرٹس ون پیس ڈریس فراکس ۔ وہ مسکرا کر سر ہلاتی مگر اسکے چہرے کے تاثرات واضح تھے۔ سب عام سے لباس تھے۔ جیسے صبح دفتر جاتے اسکول کالج جاتے کوئی لڑکی پہن لے۔ مگر یہاں شائد شوخ اور بھڑکیلے لباس کا رواج نہیں تھا۔ ایک کندھے والی گرے لمبی سی میکسی جس کے گلے پر سلور پٹی کا نگوں کا کام تھا مگر ساتھ ہی ران کے پاس سے بڑا سا چاک کھلا ہوا تھا۔ گوارا پہن کر آئی تو اس نے بے ساختہ موبائل میں موسم کا حال دیکھا۔ باہر اس وقت بھی برفباری ہو رہی تھی۔
اس بار اس نے رسما بھی اریزہ سے نہیں پوچھا تھا۔اسے یقینا یہ بے حد پسند آیا تھا۔ سادہ مگر دلکش رنگ اسے بھی اچھا لگا۔ گوارا خود کو گھوم گھوم کر آئینے میں دیکھ رہی تھی ۔ اسکے پس منظر میں اریزہ بھی اسٹول پر بیٹھی اسے تاک رہی تھی۔
تمہیں سردی نہیں لگے گی؟
اس نے پوچھ ہی لیا۔ گوارا نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی جیسے جانچنا چاہ رہی ہو مزاق کر رہی ہے یا سنجیدہ ۔۔
تم مزاق کر رہی ہو نا؟ گوارا کو شک تھا ابھی بھی۔
نہیں ہم یہاں یہ اتنا کچھ لاد کر آئے ہیں کمرہ فل ہیٹڈ ہے یہاں اتنی ٹھنڈ نہیں لگ رہی مگر ہےتو دسمبر نا ۔۔
اریزہ واقعی حیران تھی۔ اپنی بات کی وضاحت دی تو گوارا پہلے تو اسکی شکل۔دیکھتی رہی پھر قہقہہ لگا کر ہنس دی
تو ہم کونسا کھلے آسمان کے نیچے ہوں گے پھابو۔ انی کی شادی انکے اپنے ہوٹل میں ہی ہوگی ۔ فل ہیٹڈ ماحول ہوگا تم فکر نہ کرو نہیں ٹھنڈ لگے گی تمہیں بھی۔
وہ اب باقائدہ مزاق اڑا رہی تھی۔
کیا ہوا کیوں ہنس رہے ہو؟ ہوپ نیا لباس پہن کر آئی تو دونوں کو ہنستے دیکھ کر پوچھ لیا
دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ہنسنا بھول کر آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگیں۔ پیچ اور آف وائیٹ ڈبل شیڈڈ ستاروں اور نگوں سے سجا وہ گھٹنوں تک کا سلیو لیس ون پیس ڈریس فارمل تھا۔ اسکی رنگت جو قریب قریب پیلی لگتی تھی اس لباس میں جیسے اس میں گلابیاں اتر رہی تھیں۔ ہمیشہ کھینچ کر بالوں کی پونی کرنے سے اسکی پیشانی چوڑی لگتی تھی اس وقت بال دونوں کندھوں پر ہموار بکھرے تھے ۔ اس نے آگے سے ترچھی مانگ نکالی ہوئی تھی تو اب اسکی کھنچی ہوئی آنکھیں اس وقت بڑی بڑی لگ رہی تھیں۔ ان دونوں کو ایک ٹک اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ خجل سی ہوگئ۔
کیا ہوا اچھی نہیں لگ رہی ؟ میں پھر وہ سفید والا لے لیتئ ہوں۔
وہ فورا بدلنے جانے لگی تو ان دونوں نے اسے دائیں بائیں سے آکر جکڑ لیا
خبردار ۔ یہی لو۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ کیوپتا مجھے نہیں پتہ تھا تم پیاری بھی لگ سکتی ہو
دونوں کی جانب سے انگریزی اور ہنگل میں اکٹھے تبصرے موصول ہوئےتھے۔ وہ ہنس دی۔
گوما وویو۔
اس نے انکساری دکھانی چاہی مگر گوارا اور اریزہ کو جانے کیوں ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ اس نے پہلے تو گھورنا چاہا پھر ہار مان کر خود بھی ہنس دی۔
چلو۔ ہم دونوں کی شاپنگ تو ہوگئ اب اریزہ کا کیا کریں؟
گوارا نے کمر پر ہاتھ رکھ کربوتیک میں قطار میں سجے بچے کھچے لباسوں پر نگاہ دوڑائی۔
میم یہ دیکھیں یہ آپ پر خوب جچے گا۔۔
ٹی پنک میکسی اٹھائے آخرایک مددگار ہی آگے بڑھی۔
اریزہ نے ایک نظر اس میکسی کو دیکھا دوسری ںظر اس سانولی سلونی سی لڑکی پر ڈالی اور مایوسی سے نفی میں سر ہلا کر بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آٹھ بجے کے قریب ہاسٹل پہنچی تھی اپنی دھن میں اند رلابی میں جاتے اسکی نظر ریسیپشن پر ایڈمن کے کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑے یونیفارم میں موجود پولیس والوں پر پڑی۔ ایک لمحے کو تو اسکی سٹی گم ہوگئ
اپنے اپر کا ہڈ سر پر چڑھاتے وہ انجان سی بن کر گزرنے لگی کہ کسی نے اسکا نام لیکر پکارا
جی ہائے۔
وہ ٹھٹک کر مڑی تولانڈری روم سے دھلے ہوئے کپڑوں کی ٹوکری اٹھائے مسکراتی ہوئی سنتھیا نکلی۔ اسے پکار کر اب اسکی جانب ہی آرہی تھی۔
وہ۔لابی کے بیچ میں سیڑھیوں کے پاس تھی اسکے دائیں جانب سے سنتھیاآرہی تھی اور بائیں جانب سے وہ پولیس اہلکار نکل رہے تھے۔
ہائش۔ اسکے ہاتھوں سے طوطے اڑے تھے۔
کہاں تھیں تم اتنی دیر سے ۔۔ سنتھیا معمول کے انداز میں انگریزی میں بولتی اسکے پاس آکھڑی ہوئی تھئ۔
آگاشی۔ چھوگئو۔
انہی پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے پکارا۔
اسکا انداز اسکی انگریزی پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ وہ کورین نہیں اب یقینا وہ شکل بھی دیکھنے والے تھے۔
دے۔ وہ سنتھیا کو جلدی سے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرکے اوپر جانے کا کہتی مڑی۔ وہ کچھ سمجھتے نا سمجھتے فورا مڑی ابھی پہلا قدم ہی سیڑھی پر رکھا تھا کہ
آنی۔۔ آپ نہیں وہ طالبہ۔
پولیس والے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سنتھیا کی جانب اشارہ کیا۔
چھوگیو۔ وہ اب براہ راست سنتھیا سے مخاطب تھے۔
بات سنیں ادھر آئیں۔ہنگل میں وہ اسے بلا رہے تھے۔ جی ہائے نے تھوک نگلا
سنتھیا کو پلٹنا پڑا
ہم ایک غیر ملکی طالبہ کی گمشدگی کی اطلاع ۔۔ پولیس والے نے بتاتے ہوئے سنتھیا کی جانب اسی کی تصویر بڑھائئ۔
فل میک اپ میں شارٹ سے گھٹنوں سے کہیں اونچے گلابی فراک میں ایڈون کے کندھے سے جھولتی وہ یقینا فلٹر کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک گوری لگ رہی تھی۔ بالوں کا انداز بھی مختلف تھا۔ یہ انہوں نے یقینا ایڈون کے موبائل سے ہی لی تھی۔ وہ سنٹ سی کھڑی دیکھ رہی تھی۔ جی ہائے نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔ اپر او رٹرائوزر میں ملبوس اس وقت معمول سے ذیادہ کم رنگت اور تھوڑے سے سوجے منہ والی وہی تصویر والی سنتھیا ہے یقینا پہلئ بار اسے دیکھنے والے کیلئے پہچاننا مشکل تھا۔
آنی۔ اس نے تصویر اچک لی۔
یہ لڑکی ہاسٹل میں رہتی ضرور تھی مگر دو مہینے قبل جا چکی ہے۔ اسکا داخلہ ختم ہو گیا تھا نالائق سی تھی کوئی پاکستانی لڑکئ یہ۔
وہ ہنس کر بولی۔ دونوں پولیس اہلکاروں کو شک بھئ نہ گزرا۔
آپ کا نام۔
پولیس والا اب سنتھیا سے مخاطب تھا۔
مشیل۔ یہ میری انڈین دوست ہے۔
جی ہائے کی جانب سے ہی جواب آیا تھا۔دونوں نے سر ہلایا۔ اسے دیکھا پھرکرم کہہ کر حسب روائت جھک کر سلام کرتے چلے گئے۔
سنتھیا نے طویل سانس لی تھی۔جی ہائے نے تھوک نگل کر اسکی شکل دیکھئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی احمق ہو تم۔۔مزے سے ہاسٹل میں گھوم رہی تھیں ۔کس نے کہا تھا لانڈری کرنے جانے کو۔ ؟ گنتی کی چار غیر ملکی لڑکیاں ہیں اس وقت یہاں۔کسی نے بھی دیکھ لیا یا کبھی تم سے ہاسٹل کا کارڈ چیک کرلیا تو ؟ خود تو مروگی مجھے بھی مروائوگئ اپنے ساتھ۔
جی ہائے کو غصہ چڑھا تھا اور کیا خوب چڑھا تھا۔کمرے میں ٹہل ٹہل کر وہ غصہ نکال رہی تھئ۔ اسکے کپڑے احتیاط سے تہہ کرتی وہ سر جھکا کر رہ گئ۔
آئی ایم سوری۔ تم خود ہی تو کہہ رہی تھیں کیفے جا سکتی ہوں میں تمہارا کارڈ لیکر تو میں نے سوچافری ہوں تو لانڈری کر دوں مدد ہو جائے گی تمہاری۔
اس نے من من کرتے صفائی دی۔ جی ہائے نے سر پکڑ لیا۔
ہائش۔ کھانا الگ بات ہے۔ کیفے سب ڈیپارٹمنٹس کا مشترکہ ہے وہاں درجنوں غیر ملکی طلباء ہوتے ہیں مگر اس ہاسٹل میں۔۔ ہائش۔ جانے دو۔آئیندہ احتیاط کرو۔ اگر یہ ہاسٹل تک پہنچ گئے ہیں تو تمہیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہیئے۔میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں مگر تمہاری مدد کرنے کے چکر میں کسی مشکل میں پھنسنا نہیں چاہتی۔
جی ہائے کی بات پر وہ سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
جی ہائے نے اسکی شکل دیکھی پھر گہری سانس لیکر بولی۔
کم سن آیا تھا آج یونیورسٹی۔ مجھے ملا تھا جم میں بتا رہا تھا تمہارے والدین نے ایڈون پر اغوا او رحبس بیجا کا کیس کیا ہے۔ وہ جیل میں ہے اس وقت۔
کیا۔ وہ جسطرح تڑپ کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ جی ہائے نے سخت ناگواری سے گھورا
کب کیوں؟ میرا مطلب ہے اسکو کیوں جیل میں ۔ پاپا ایسا کیسے کر سکتے؟ کب سے جیل میں ہے وہ؟
سنتھیا بری طرح گھبرا گئ تھی
اپنا دماغ درست کرو۔ یہ کس ایڈون کے لیئے پریشان ہو رہی ہو جس نے تمہیں اس مصیبت میں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔
جی ہائے ڈپٹ کر بولی۔ سنتھیا چپ رہ گئ
مجھے کم سن دھمکی دے رہا تھا کہ وہ پولیس کو بتا دے گا تم یہاں ہو اور تمہیں چھپانے میں میرا بھی کردار ہے ۔ ایسا کچھ ہوا تو میرا کیریر ختم۔ اور پولیس یہاں تک پہنچ چکی ہے تمہارے سامنے ہے۔ اب تم خود فیصلہ کرو ۔ گرفتاری دے کر ایڈون کو چھڑانا ہے یا یہاں سے بھاگ کر اس بچے کو بچانا ہے۔۔۔
وہ اطمینان سے اسکی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بیڈ پر دراز ہوئئ۔
سنتھیا اسکی شکل دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
میں کہاں جائوں؟ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
گوارا کے فلیٹ جا سکتی ہو۔ وہ تم پر اپنے فلیٹ کا دروازہ بند نہیں کرے گی۔ ہاں اریزہ پولیس کو بتا سکتی ہے کہ تم وہاں ہو۔
جی ہائے موبائل کی سکرین پر نظر دوڑانے کے ساتھ اپنی سوچ کے گھوڑے بھی دوڑا رہی تھی۔۔۔
پھر۔ سنتھیا چیں بہ چیں ہوئی۔ کپڑے تہہ کرتےہوئے ہاتھ رکے۔ جی ہائے نے موبائل سے نگاہ اٹھا کر اسکی جانب دیکھا وہ سب کپڑے تہہ کر چکی تھی۔
انکو سامنے بائیں جانب والی الماری کھول کر رکھ دو۔
جی ہائے کے کہنے پر وہ بے دھیانی میں تیزی سے اٹھ کر الماری کھولنے بڑھی پھر خیال آیا تو مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
دائیں جانب والی الماری سوہائی کی ہے۔
جی ہائے نے جیسے وضاحت کی ۔ سنتھیا حقیقتا آہ بھرتی اسکے کپڑے ٹھکانے لگانے لگی۔
ویسے فلٹر کونسا استعمال کیا تھا بہت گوری لگ رہی تھیں سچی بات پہلی نظر میں تو میں بھی نہ پہچان پائئ۔
اسکرال کرتے اگلا تبصرہ برآمد ہوا۔
صرف گوری۔۔ اس کا ذہن اسی میں اٹک گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو اس ہال کی چھب ہی نرالی تھی۔ قیمتی آرائشی لیمپس سجے تھے قمقموں کی لڑیاں تا حد نگاہ گول میزیں جن پر نہایت ہی قیمتی و نفیس پوشاک میں ملبوس کوریا کے امیر ترین گھرانے براجمان تھے۔ ویٹر مستعد سے ادھر سے ادھر لوگوں کو چیزیں پیش کرتے پھر رہے تھے۔ ایک جانب وائن کا فوارہ نصب تھا۔ قیمتی مشروب کی چسکیاں لیتے خوش گپیوں میں مگن لوگ اور ایک جانب وہ کونے کی الگ تھلگ میز منتخب کرکے خاموشی سے بیٹھا ان سب کو دیکھ رہا تھا۔یہاں اسکے خاندان کے کئی لوگ تھے جنہوں نے اسے بس دور سے دیکھا او رخ موڑ لیا۔ اسکے احباب تھے جنکے لیئے وہ مزید سودمند نہیں تھا۔ سو اس سے ملنے کا انکے پاس وقت نہیں تھا۔۔۔اس محفل میں اسے ادھورے پن کا ذیادہ ہی احساس ہو رہا تھا۔ اپنے نہیں اس محفل کے ۔۔ادھورے کپڑے ادھورے قہقہے ادھورے لوگ۔ سب کچھ آدھا ادھورا
اسکا موبائل بجا تھا۔ من جون کا پیغام تھا۔
آرہے ہو؟
اسکا شدید اصرار ہی اسے آج اس شادی میں لایا تھا۔
آچکا ہوں بھائئ۔
اس نے پیغام بھیجا۔
آتا ہوں۔
جواب آیا تھا۔ دولہا بنا اسکا بھائی اسکی فکر میں ہلکان تھا۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ من جون ہمیشہ سے اسکے ساتھ اتنا ہی کرتا تھا ہاں اب اسے احساس ہوا تھا اسکی بے لوث محبت کا ورنہ پچھلا جون جے ان سب باتوں سے مبرا تھا کون کس طرح پیش آتا ہے اسکے ساتھ اسے پروا نہیں تھی اور خود وہ کیسے دوسروں کے ساتھ پیش آئے یہ اسکے اپنے مزاج پر منحصر تھا۔
وہ گہری سانس لیکر اٹھ کھڑا ہوا ۔ میز پر سے اپنا لایا بکے اورتحفہ اٹھاکرہال پر نگاہ دوڑا کر من جون کو ڈھونڈنے لگا۔من جون ہال کے دوسرے سرے پر تھا۔ کچھ اس نے قدم بڑھائے کچھ وہ فورا اپنے مہمان سے معزرت کرتا اسکی جانب چلا آیا۔
مبارک ہو ہیونگ۔ اس نے تحفہ اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے شکریہ کے ساتھ تھام لیا۔
بہت اچھے لگ رہے ہو۔
من جون کی بے ساختہ تعریف اسے خجل کر گئ۔
اسکا پی اے ہمراہ تھا اس نے تحفہ اور بکے اسے تھمایا۔ پھر اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لیکر ایک نہایت خوبصورت لڑکی کے پاس لا کھڑا کیا۔ وہ لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی تھئ چونک کےمتوجہ ہوئی۔
سارا اس سے ملو پہچانا اسے؟
علی بھی چونک کے دیکھنے لگا۔ وہ لڑکی اسے دیکھی بھالی لگی تھی۔
جون جے ہے نا۔ وہ لڑکی پہچان کر ایکدم خوش ہوئی تھی جیسے۔علی نے ذہن پر زور ڈالا تو کچھ دھندلی یادیں تازہ ہو ہی گئیں۔
سارا یو سانگ چچا کی بیٹی۔
من جون نے اسکو مشکل سے نکالا۔ وہ مسکرادیا۔ پہچان تو لیا تھا۔ سارا نے تعجب سے اسکو دیکھا۔
کم آن جون جےہم اکٹھے مڈل اسکول تک پڑھتے رہے ہیں پھر میں امریکہ چلی گئ تھئ۔ تم سنائو کیسے ہو جون جے؟
وہ اپنا مرمریں ہاتھ اسکی جانب بڑھائے دوستانہ مسکراہٹ سجائے پوچھ رہی تھی۔
علی۔ علی نام ہے اب میرا۔
اس نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں تصحیح کی۔
سارا حیران سئ کبھی اسکئ شکل دیکھے کبھی من جون کی۔
علی کا جوابا ہاتھ نا ملانے کا ارادہ دیکھ کر سارا کوخفت سے بچانے کیلئے من جون نے سارا کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
ہاں اس نے نام بدل لیا ہے۔ وہ ہلکے سے کھسیانی ہنسی ہنس کر بولے۔
نام بدل لیا کیوں؟ سارا حیران تھئ
یہ مت کہنا ستاروں کی چال کی وجہ سے کسی دو نمبر ٹیرو کارڈ ریڈر کے کہنے پر نام بدل لیا۔
علی نے فہمائشی مسکراہٹ سجا کر بھائئ کی جانب دیکھا۔ وہ قصدا نظر چرا گئے۔ اسے اب انکے اتنے اصرار کی وجہ سمجھ آرہی تھی۔
اس نے سر جھٹکا۔
یک نہ شد دو شد۔ ادھر آہجوشی اسکا رشتہ ڈھونڈنے میں مگن ہیں اور ادھر ہیونگ۔ اگر وہ پرانا والا جون جے ہوتا تو خاصا خوش ہوتا۔ سارا کو مڈل اسکول میں کافی لائن بھی مارتا رہا تھا۔مگر اب اسے سارا میں معمولی سی دلچسپی بھئ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اتنے سالوں میں وہ پہلے سے ذیادہ پر اعتماد اور حسین ہو چکی تھی۔اور باتونی بھی۔ جانے کیا کیا بول رہی تھی۔ اس نے سننا چاہا۔ مگر نگاہ بھٹک کر اسکے برابر کھڑے لڑکے پر پڑی۔ جو ان سب سے انجان کہیں دیکھتے جیسے کھو گیا تھا۔ اس نے اسکی دلچسپی کا محور دیکھا تو فورا مسکراہٹ آگئ چہرے پر۔ بنتا تھا اسکا یوں محو ہوجانا۔
میرے والد کو بھئ تمہارے والد نے نمبرنگ پر لگا دیا ہے۔ آجکل ہم ہر کام آڈ نمبر پر کرتے ہیں۔
من جون نے کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنسی
ہائش۔۔۔ نہ کریں سچ؟ حد ہے۔ آہبوجی حد کرتے ہیں کبھی کبھی۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ہنسی۔
اب یہی دیکھ لو میں نے آہبوجی کو کہا ایمرلڈ گروپ کی اسپیلنگ بالکل غلط ہیں مگر وہ کہتے ایسے ہی ٹھیک ہے ڈبل ای خوش بخت ہے گروپ کیلئے۔
وہ کافی بے تکلفی سے مخاطب تھی۔ آپ جناب کا تکلف ایک طرف کر رکھا تھا۔
من جون نے محظوظ سے انداز میں اشارہ دیا۔ ہمارے لیئے بھی ۔۔ جبھئ لی گروپ سےجوائنٹ ونچر کر رہے ہیں۔
انکا اشارہ اپنی شادی کی طرف تھا۔
ہمارا گروپ بھی لی گروپ کے ساتھ اہم ڈیل کر رہا ہے۔
اس نے شرارت سے کہہ کر ہیون کے بازو میں ہاتھ ڈال کراس کو دیکھا۔ ہیون انکی گفتگو سے بالکل لاتعلق رخ موڑےدائیں جانب دیکھ رہا تھا اسکے بازو کھینچنے پرچونک کرمتوجہ ہوا۔
دے۔ آہ دے۔ ۔ آننیانگ۔ وہ بری طرح سٹپٹایا۔ اسکا ہونے والا بہنوئی اسکے سامنے کھڑا تھا اور وہ سلام تک کیئے بنا مگن کھڑا تھا۔
آننیانگ۔ من جون نے مسکرا کر جواب دیا۔ انکے برابر کھڑے علی کے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھی۔ اسے دیکھ کر مزید گہری ہوگئ۔وہ اسکی مسکراہٹ پر سٹپٹا سا گیا۔ بڑی جتاتی مسکراہٹ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہوپ اور گوارا کے ساتھ ہی داخل ہوئی تھی۔
روشنیوں نے حقیقتا لمحہ بھر کو آنکھیں چندھیا دی تھیں۔ اس نے کافی رشک و دلچسپی سے اس رونق کو دیکھا۔
تھیبا۔ گوارا کو اپنے جزبات چھپانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ بڑا سا منہ کھول کر تھیبا کہا تھا۔ وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا۔ ان تینوں کو ریسیو انئ کے ذاتی ملازم نے کیا تھا۔ان کے لائے ہوئے تحفوں اور بکے کو اسی نے وصول کیا تھا۔ پھر انکو اپنے ہمراہ سب سے آگے کی وی آئی پی مہمانوں کیلئے لگائی نشستوں تک لایا تھا۔ نرم میرون صوفے دو رویہ گولائی میں قیمتی سنہری سجاوٹ سے سجے تھے ۔ یہاں ذیادہ تر ادھیڑ عمر انکل آنٹیاں شراب کے جام اٹھائے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ بالکل سامنے اسٹیج سجا تھا۔ پھولوں قمقموں کی دلکش سجاوٹ بڑی سی اسکرین۔ کچھ کچھ سینما جیسا منظرلگ رہا تھا
آپ لوگ بیٹھیئے میم یہیں آئیں گی
پی اے انہیں بتا کرجھک کر اجازت طلب کرتا چلا گیا۔ یہاں مہمانوں سے ویٹر خود آ آکر پوچھ رہے تھے۔ ایک انہیں نشست سنبھالتے دیکھ کر فورا پاس چلا آیا
آپ کچھ لینا پسند فرمائیے گا؟
ویٹر ادب سے پوچھ رہا تھا۔
وائن اور کوئی سادہ پھلوں کا جوس۔
گوارا نے تینوں کیلئے آرڈر دیا۔
پہلی بار مجھے ہیون کو نا پٹا سکنے کا دکھ ہو رہا۔اتنا وی آئی پی پروٹوکول تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
گوارا ہنسئ۔
ہیون کی وجہ سے نہیں ہمیں نونا کی وجہ سے مل رہا ہے یہ انکا پی اے تھا۔
اریزہ نے تصحیح کی۔ گوارا نے کان پر سے مکھی اڑائی۔
جائو جائو۔ تم نا سمجھ ہو ۔ پھابو۔ ہو۔ انی تو بننے جا رہی ہیں کم گروپ کی بہو یہ سب پروٹوکول ہے لی گروپ کے وارث کا۔ لی ہایون۔کا۔ کیوں ہوپ؟
اس نے ساتھ بیٹھی ہوپ کو ٹہوکا دیا۔
ہوپ اپنی کسی سوچ میں گم خاموشی سے بیٹھئ تھی۔ اسکے ٹہوکے پر چونکی
ہمم۔۔ دے؟ ( کیا)
کچھ نہیں۔۔ گوارا چڑی۔
ویٹر انکا آرڈر لے آیا تھا۔ دو وائن ایک مالٹے کا جوس۔
ابھی پہلا گھونٹ ہی بھرا ہوگا کہ انی کا بلاوا آگیا۔ اس بار دو خوبصورت سی لڑکیاں انہیں بلانے آئی تھیں۔
آپکو انی اندر بلا رہی ہیں۔
وہ لوگ حیران ہوتی انکے ساتھ چل دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نسبتا گہرے گلے کی سفید براق سلیو لیس میکسی جس کے گلے پر نفیس سے ننھے نگوں کی ایک تہہ تھی۔۔ آستینیں ہلکے سے آسمانی رنگ کی جھلملاہٹ بھرے اسٹونز کے کام سے سجی تھیں۔ایسی ہی جالی کےکھلے سے گائون نے میکسی کو مرمیڈ اسٹائل دیا تھا۔ ۔سفید ہیرے کے نازک سے ٹاپس لانبی گردن کو مزید نمایاں کر رہےتھے۔ دو موٹی لٹیں انکے گول سے چہرے پر جھول رہی تھیں۔ ہیرے کا ہی لاکٹ پہنے ۔ سر پراونچا سا جوڑا جس پر سفید ہی عیسائی مخصوص دلہنوں والا جالی کا گھونگھٹ ٹکا تھا۔ گنگشن نونا کا میک اپ نہایت ہلکا پھلکا تھا ہلکی گلابی ہی لپ اسٹک میں وہ بے تحاشا حسین لگ رہی تھیں۔ ہلکی فیروزی فراکوں میں ملبوس لڑکیوں کے جلو میں جو یقینا برائڈز میڈز تھیں فو ٹو سیشن کرواتے انکی نظر ان پر پڑی تو کیمرہ مین کو رکنے کا کہہ کر وہ فورا استقبال کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔گوارا اور ہوپ ان سے ملنے آگے بڑھی تھیں تو وہ ٹھٹک کر اپنے ملبوس کو دیکھنے لگی۔
ٹی پنک وہ ٹیل والی میکسی پہلی نظر میں بالکل گنگشن نونا کے شادی کے لباس سے ملتی جلتی لگتی تھی۔بالکل ویسا ہی ستاروں سا جھلملاتا گلا۔ جالی دار آستین جس پر اسٹونز کا کام تھا اسکا رنگ گلابی اور سفید یقینا رنگ کی مناسبت سے مختلف تھا یا انکی میکسی انکے متناسب سراپےپر مکمل فٹ تھی تو اسکی میکسی گھیر دار تھئ۔۔۔
تھیبا۔ تمہارا رنگ صاف ہے تو مجھے لگا تھا یہ رنگ تم پر جچے گا مگر یہ تو بہت اٹھ رہا ہے تم پر۔۔
انی خود اٹھ کر اسکے پاس آئیں۔ پیار سے اسے کندھوں سے تھام کر بولیں۔
بہت بہت پیاری لگ رہی ہو۔
اسکے گال سے گال ملا کر وہ پیار کرتے ہوئے بولیں۔
آئشہ۔ وہ مڑ کر کسی کو پکارنے لگیں۔ کچھ ہی فاصلے پر کھڑی وہ لڑکی فورا انکے پاس چلی آئی۔
آئشہ کمال کردیا تم نے یہ ڈریس سلیو لیس لگ ہی نہیں رہا ۔
میم کو فٹنگ پر بھی اعتراض تھا اور سلیو لیس پر بھی تو میں نے سوچا اسکو سلور کے امتزاج سے ایک نیا انداز بنا دوں۔
بہت اچھا کیا ہے جو بھئ کیا ہے ۔ اریزہ میں اتنی مایوس ہوئی تھی جب آئیشہ نے بتایا تمہیں ڈریس پسند نہیں آیا۔ مگر ماننے والی بات ہے آئیشہ تم کمال کی ڈیزائنر ہو۔ تم نے ڈریس کی لک نہیں بدلی۔ پتہ ہے اریزہ یہ ڈریس اسی نے ڈیزائن کیا ہے۔ کونسی فراک ہے یہ؟
راجستھانئ۔ آئیشہ نے تصحیح کی۔
آئیشہ بہت اچھے اور انوکھے آئیڈیاز لاتی ہے۔۔
مجھے پتہ تھا تمہارے مزاج کو یہ سمجھ جائے گی۔ اسی لیئے خاص طور سے اسی سے ڈریس ڈیزائن کروایا
وہ توصیفئ انداز میں بتا رہی تھیں وہ اتنی غائب دماغ تھئ اتنی شاکڈ تھی کہ مسکرا بھی نہ سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ نہیں پہن سکتی۔
اریزہ نےصاف انکار کیا تھا۔گوارا حیرت سے دیکھنے لگی
کیوں بھئ؟
یہ کلر آپکو پسند نہیں آیا ؟
وہ لڑکی جیسے پریشان ہوگئ۔
نہیں کلر تو بہت اچھا ہے۔مگر مجھے آئے گا ہی نہیں۔ دوسرا اتنا گہرا گلا ہے کہیں اور چلتے ہیں۔
وہ کندھے اچکا کر جانے کو تیار کوئئ۔
خوامخواہ نہیں آئے گا۔پہن کر تو دیکھو۔
گوارا نے اسکا ہاتھ پکڑا
یہ اتنا گہرا گلا بنا آستین میں ایسا لباس پہن نہیں سکتی گوارا۔
اسکے کہنے پر گوارا اور وہ بھارتی لڑکی ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔وہ لڑکی کچھ سوچ کر اسکی جانب بڑھئ۔
دراصل میرا نام آئیشہ ہے۔ میں ہی ڈیزائنر ہوں اس ڈریس کی۔ آپ مجھے بتائیں آپکو یہ ڈیزائن پسند آیا؟ آپ کی ناپ لیکر ہم اس میں آپکی مرضی کی تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔
کیوں؟ ۔۔ اریزہ نے کہا نہیں تھا مگر اسکا چہرہ پورے کا پورا سوالیہ نشان بنا تھا۔
دراصل یہ فیوژن ڈریس ہے۔ یہ کام راجستھانی فراک پر ہوتا ہے جو ہم نے اس پر کیا ہے۔ بس اسکو نیچے سے گھیر دینے کی بجائے مغربی طرز پر مرمیڈ اسٹائل دیا ہے۔ یہ انڈین ویسٹرن مکس ڈریس ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہم اس پر اسی طرح کی جالی دار آستین بنا سکتے ہیں ۔ آپ ناپ دے دیں تو گلا بھی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
آئشہ کے کہنے پر وہ گہری سانس لیکر بولی
اور آپ جو اتنی محنت کریں گی میرے لیئے اسکے اضافی کتنے چارجز ہوں گے؟
اس نے سیدھا سوال کیا۔
کوئی نہیں۔ آپ کیلئے ہی تو بنا ہےیہ لباس۔
ہیں۔ وہ حیران ہوئی گوارا ان دونوں کو اردو میں بولتے دیکھ کر بیچ میں کودی۔
کیا ہوا مجھے بھی بتائو۔ آئیشہ نے ہنگل میں اسے بتایا تو گوارا نے سر پیٹ لیا۔
اف ۔ لڑکی اتنا کچھ کرنے کو تیار ہے تمہارے لیئے اور تمہیں میں نے صاف کہا تھا کہ یہ ڈریس میری جانب سے تمہارے غسل صحت کا تحفہ ہے اب بحث بند کرو اور اپنی ناپ دو دو دن ہیں ہمارے پاس دو دن میں یہ ٹھیک ہو جائے گا نا۔
گوارا نے کہا تو آئیشہ سٹپٹا سی گئ
بس دو دن میں؟
گوارا نے گھورا تو مسکین سی شکل بنا گئ
ہاں ہو جائے گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اب خیال آیا تھا۔ وہ بوتیک کیا نام تھا کچھ لی کرکے ہی۔ ۔
انی نے اسے اپنے ساتھ برابر بٹھا کر کئی پوز بنوائے تھے۔ اسکو پھولوں کا گلدستہ تھما کر اپنے ساتھ ساتھ رہنے کی تاکید بھی کی تھی۔ اپنی سہیلیوں سے اپنی چھوٹی بہن کہہ کر تعارف کرایا تھا۔اس حد درجہ پروٹوکول پر سب پر ہی اسکی اہمیت واضح ہو رہی تھی۔ برائیڈ میڈز اسکو الگ خاص اہمیت دے رہی تھیں۔۔
دلہا دلہن کے ساتھ فوٹو سیشن کرنے آیا تو وہ گہما گہمی کا فائدہ اٹھاتی باہر نکل آئی۔ہال میں اب دھیمے سروں کی موسیقی چل رہی تھی۔
ایک کونے میں کپل ڈانس ہو رہا تھا۔ گوارا کی جھلک اسے وہیں یون بن کے ساتھ ڈانس کرتی ہی نظر آئئ۔ ہوپ جانے کہاں چلی گئ تھی۔ اتنے سارے انجان چہروں میں وہ بالکل ہی تنہا رہ گئ۔ گلدستہ سنبھالتی وہ نسبتا کم رونق والی جگہ ڈھونڈنے لگی۔ ہنگامے سے الگ کونے میں لگی میز کرسی دیکھ کر وہ اسی طرف چلی آئی۔ دلہا دلہن کی آمد کا غلغلہ سا مچا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سہج سہج کر قدم اٹھاتے وہ اسٹیج کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اسپاٹ لائٹ کیمرے۔ باقی ہال کی بتیاں دھیمی کر دی گئ تھیں۔اسٹیج پر پادری انکا نکاح پڑھانے کیلئے منتظر کھڑا تھا۔
اس نےموبائل نکال کر وقت دیکھا۔ دس بج رہے تھے۔ آج تک جتنئ بھی شادیاں دیکھی تھیں یہ ان سب سے مختلف تھی۔ نا غیر ضروری رسمیں ۔ دلہا دلہن اسٹیج پر گئےدونوں نے اسکرین پر اپنی زندگی کی کہانی پر مبنی ایک تعارفی ویڈیو دیکھی ۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نکاح کیلئے ہاں کہا۔ بس ختم شادی۔ اب دلہا دلہن کے گھر والے انکے لیئے مختصر پیغامات اسٹیج پر جا کر ریکارڈ کرا رہے تھے۔ اسے حقیقتا جمائی آگئ۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکتے رخ موڑا تو چونک سی گئ۔
اسکے بالکل سامنے والی کرسی پر علی بیٹھا کھانا کھارہا تھا۔
سوری شائد میں نے آپکو ڈرا دیا۔
وہ شستہ انگریزی میں بولا۔
وہ تھوڑا برا مان گئ تھی اگر اسکا استاد نہ ہوتا تو شائد ڈانٹ بھی دیتی ابھی جز بز سی ہو کر اٹھنے لگی۔
میں دراصل یہاں پہلے سے بیٹھا تھا۔ پانی لینے اٹھا تھا واپس آیا توآپ یہاں بیٹھی تھیں۔
اس نے اسکو جانے کےپر تولتے دیکھ کر صفائی پیش کی۔
ویسے اتنا خاموش اور پرسکون گوشہ آپکو اور کہیں نہیں ملے گا۔
اس نے سرسری سے انداز میں کہہ کر اپنے سامنے رکھے وائن گلاس میں سے پانی کا گھونٹ بھرا۔
وہ اٹھتے اٹھتے پھر بیٹھ گئ۔ بات تو صحیح تھی
اس وقت اچھی خاصی گہما گہمی نظر آرہی تھی ہال میں۔ لوگ ہی لوگ سر ہی سر۔
تبھئ ویٹر انکے پاس چلا آیا۔
سر آپکو کچھ چاہیئے۔
وہ سرونگ ٹرے تھامے تھا کچھ شراب کے ساتھ کھانے والے روائتی کورین اسنیکس۔ علی کے انکار کرنے پر ویٹر اسکی جانب بڑھا ۔
اسکو ان چھوٹے چھوٹے پیپر کپس میں موجود اسنیکس کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کیا بلا ہیں سو سہولت سے انکار کردیا۔
وہ موبائل اٹھا کر گوارا کو میسج کرنے لگی۔
کہاں ہو۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے
اس نے میسج دیکھا بھی نہیں۔ اسے غصہ آنے لگا۔
اسکی بھنوئئیں تن سی گئیں چہرے پر ناگواری چھا گئ۔ علی نے دھیرے سے میز بجا کر اسے متوجہ کیا ۔
ہیون ابھی مصروف ہے۔
وہ حقیقتا منہ کھول کر اس اطلاع کا مقصد سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ کیوں بتایا جا رہا ہے اسے بھئ؟
وہ وہاں ہے۔ علی نے اسٹیج کی جانب اشارہ کیا۔ وہ بے ساختہ گردن گھما کر دیکھنے لگی
ہیون اسٹیج پر کھڑا اپنی بہن کیلئے نیک تمنائوں پر مبنی مختصر سی تقریر کر رہا تھا۔ بلیک ٹائی ڈارک گرے شرٹ اور بلیک ہی قیمتی ڈنر سوٹ میں بالوں کو سلیقے سے ایک جانب سے مانگ نکال کر سمیٹے ہوئے نک سک سے تیار وہ خاصا وجیہہ لگ رہا تھا۔ عام دنوں سے کہیں مختلف۔ کورین لڑکے ویسے خوب ٹیپ ٹاپ سے رہتے ہیں ہیون بھی ایک سے ایک قیمتی اپر کوٹ یا ہڈی پہنے ہوتا تھا مگر آج پہلی بار اس نے اسے یوں تھری پیس سوٹ پہنے دیکھا تھا۔
وہ واقعی بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اسکے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آگئ تھی۔تیار ہونے کی وجہ سے؟ وہ سوچ میں پڑی۔ اس کی یاد داشت
میں ایسا کوئی دن نہیں تھا جب اس نے ہیون کو
برے حلیئے میں دیکھا ہو۔ ٹینس کھیلتا ہیون ، چرچ میں دعا مانگتا، کنسرٹ میں بریو ہارٹ کی شرٹ میں ملبوس ہیون ، مسجد اسکے مقابل ٹی پنک شرٹ پہن کرکھڑا ہیون یا ۔۔۔
اریزہ۔
علی کے پکارنے پر وہ سیدھی ہوئئ۔
میں جانے لگا ہوں آپکو کچھ کھانے کیلئے چاہیئے تو سیلف سروس بھی ہے اور آپ ویٹر کو آرڈر بھی کر سکتی ہیں۔
علی جانے کیلئے تیار کھڑا تھا اس کو یقینا مہمان نوازی کے خیال سے مخاطب کیا تھا۔
پ۔ پانی۔۔
اس نے اپنے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔
علی نے اسکی میز کے سامنے اوندھے رکھے وائن گلاس کو سیدھا کیا میز پر ڈس پوز ایبل پانی کی بوتل رکھی تھی اس سے بھرا۔ اور اسکی جانب بڑھا دیا۔
وہ دل بھر کر شرمندہ ہوئی۔
میں نے دیکھا نہیں تھا۔ آئیم سوری۔
اٹس اوکے۔ آپ مہمان ہیں ۔۔ علی کا انداز ہمیشہ کا مہربان تھا۔
کچھ کھانا چاہیں تو بھی بتا دیں میں ویٹر کو بلا دیتا ہوں۔
اسکی پیشکش اچھی تھی مگر وہ کیا منگواتئ۔سہولت سے منع کردیا
نہیں ٹھیک ہے شکریہ۔
ویج آئٹمز بھی ہیں۔
علی کے کہنے پر وہ سوچ میں پڑی۔

سوال عجیب ہے مگر کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کیا کھا رہے تھے؟
اسکا سوال واقعی عجیب تھا علی کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹیج سے اتر کر وہ متلاشی نظروں سے اسے ہی ڈھونڈ رہا تھا۔ یون بن گوارا سامنے ہی ڈرنکس کے پاس تھے۔ اس نے فون ملا کر کان سے لگایا ہی تھا کہ اسے کچھ فاصلے پر وہ میز پر بیٹھی نظر آگئ۔ فون کاٹ کر وہ اسی کی جانب بڑھنے لگا
ہیون۔ سارا نے اسکا بازو پکڑ کر روکا تھا۔
ہیون آہبوجی پوچھ رہے ہیں تمہیں۔
چہرے پر فہمائشی مسکراہٹ سجائے سارا بہت انداز سے اسکا بازو تھامے تھی۔ فلیش لائٹس چلتے کیمرے یقینا وہ اس وقت بہت سے نظروں کا محور تھے۔
میں آتا ہوں۔
اس نے دھیرے سے کہہ کر بازو چھڑانا چاہا
مسکرائو۔
وہ بنا ہونٹ ہلائے دانت کچکچا کر بولی
اس نے بھی سنبھل کر مسکان سجا لی۔پھر اسی کے انداز میں بولا
میں اس وقت واقعی جلدی میں ہوں۔
میں مشکل میں بھئ ہوں۔
اس نے مسکرا کر اسکی شکل دیکھی
مجھے ان پر اور کچھ اور لوگوں پر ثابت کرنا ہے کہ اب میں مزید بلائنڈ ڈیٹس پر نہیں جانے والی۔ سو چھے بال( پلیز) ۔
اب اسکا انداز تھوڑا بدلا تھا۔ منت بھرے انداز میں بولی۔
ہیون کچھ کہنا چاہ رہا تھا کہ آہبوجی کا پی اے اسکے سر پر آکھڑا ہوا۔وہ گہری سانس لیکر اسی گوشے کو دیکھنے لگا۔ وہ اب اکیلی نہیں تھی اور بات اسے مزید فکرمند ہی کرگئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک بڑی سی پلیٹ اٹھائی۔ سادے ابلے چاول لیئے۔ ویجیٹیبل سلاد سے پیاز لوبیا کھیرا اٹھایا چقندر اور بروکلی اٹھاکر سجائے ابلے انڈے کے قتلے ایک ڈش کے اوپر سے اٹھائے ایک پیس تلی ہوئی مچھلی کا رکھا۔ سادہ دہی ڈال کر کالی مرچ چھڑکی سوپ کے ساتھ سجے ساسز میں سے سویا ساس اس پر چھڑکا۔ اولیو آئل ڈالا۔ ہری پیاز اور لوبیئے کی جڑوں سے سجایا۔ پلیٹ بنا کراسکی جانب بڑھائی۔ وہ اتنی حیران ہوئی کہ بس دیکھتی ہی رہ گئ۔
آپ یہ۔۔
پارٹ ٹائم شیف بھی ہوں میں۔
وہ مسکرا کر بتا رہا تھا۔
اس نے واقعی کوئی نئی ڈش ہی بنا دی تھی۔ اسکی گارنشنگ اتنی اچھی کی تھی کہ ایکدم کھانے کو دل کرنے لگے۔
یہ تو دیکھنے میں کوئی نئی ڈش لگ رہی ہے۔
اگر یہ آپ نے میرے سامنے نہ بنائی ہوتی تو میں یہی سمجھتی کہ یہ ڈش بھی یہاں سرو ہوئی ہے۔
اس نے کھلے دل سے تعریف کی۔ پلیٹ تھام کر سلیقے سے گھمسامنیدہ بھی کہہ دیا۔
پلیٹ خاصی بھاری تھی مہنگی طرین کراکری کورین ثقافتی ظروف کا کوئی اعلی نمونہ۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے پلیٹ پکڑی ہوئی تھی۔
علی نے اسکو غور سے دیکھا پھر پوچھنے لگا
میٹھا کھاتی ہو؟
ہوں ۔ اس نے یونہی سر ہلایا۔
بھوک اتنی لگ رہی تھی کہ بے دھیانی میں اس نے ابلے انڈے کا ٹکڑا وہیں کھڑے کھڑے منہ میں ڈال لیا تھا۔ چمچ کانٹا پلیٹ میں موجود تھا مگر اس نے چٹکی سے اٹھا کر کھالیا تھا۔۔
یونہی میز تک واپس آنے تک وہ انڈے کے کئی ٹکڑے کھا گئ۔ میز کرسی پر بیٹھ کر اطمینان سے کھانا شروع کیا تو مزید حیرت ہوئی اس نئے بن جانے والے پکوان کا ذائقہ بہت مزے کا تھا۔مچھلئ بھی سینکی ہوئی ذائقے دار تھی۔ اس نے جانے کتنے دنوں بعد شوق سے سیر ہو کر کھانا کھایا۔
علی میٹھے میں فروٹ سیلڈ اور روائتی کورین طرز کی مٹھائیوں اور ڈیزرٹس کی ایک پلیٹ بنا لایا تھا۔
یہ جو بھئ بنا ہے بہت بہت مزے کا بنا ہے۔
علی کو دیکھ کر اس نے دل سے تعریف کی۔
وہ اخلاقا اسکا ساتھ دینے کیلئے اپنے لیئے بھی تھوڑی سی پھلوں کی سلاد لے آیا تھا۔
وہ ہر لقمہ جیسے لطف لیکر کھا رہی تھی۔ساتھ کمنٹری بھی جاری تھی۔
گوبھی مجھے بالکل پسند نہیں رہی مگر بروکلی چاول کے ساتھ اچھی لگ رہی ہے۔
کیسا لگا کوریائی کھانا پھر؟
علی نے یونہی بات برائے بات کہا تھا۔
عجیب بہت عجیب۔
اس نے صاف گوئی سے کہا۔
تم ابھی تو کہہ رہی تھیں کہ پسند آیا ہے تمہیں۔
علی اسکے فوری پینترا بدلنے پر حیران ہوا۔۔
اچھا تو لگ رہا ہے مگر یہ بہت عجیب امتزاج ہےویجی ٹیبل سلاد میں سیب ہے اورفروٹ سلاد میں کھیرا۔ مطلب پاکستان میں ایسا کرنے کا کوئی سوچ نہیں سکتا ۔ کھیرا سبزی ہے اور سیب پھل۔ آپ انکی بے حرمتی نہیں کر سکتے انکی جگہائیں بدل کر۔ گناہ عظیم ہے یہ۔
بے حرمتئ؟ علی کو ہنسی آگئ۔
ہاں تو اور کیا
وہ اب میٹھے کی طرف متوجہ تھی۔
یہ کیا ہے بہت مزے کا ہے؟
چھوٹے سے کپ کیک کو بیچ سے دو حصے کیا ہوا تھا جس میں سے سیاہ سیال نکل رہا تھا۔
ذائقہ وہ چاہ کر بھی پہچان نہ سکی۔
یہ لال لوبیے کا ساس ہے۔علی نے بتایا تو اس نے باقائدہ آنکھیں پھاڑیں
واقعی؟ لال لوبیا سچی؟ ہمارے یہاں اسکا بس نمکین سالن بنتا ہے۔ تھیبا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میٹھا لوبیا مزے کا ہوسکتا ہے۔ واہ۔
وہ سر دھن رہی تھی۔
تم اگر ماسٹر شیف کی جج بنتیں تو یقینا ہر امیدوار فائنل تک پہنچتا۔ علی ہنس دیا
آپ دیکھتے ہیں ماسٹر شیف؟
اسےجانے کیوں حیرت ہوئی
ہاں اب تک کا ہر سیزن دیکھا ہے۔ کورین لیکن۔
اس نے وضاحت بھئ کی۔
ہمم۔ ظاہر ہے۔ اب میں یوکے کا دیکھتی ہوں۔شوق سے مگر مجال ہے کوئی پکوان بنانے کا دل کرجائے۔ پھیکے سیٹھے کچے پکے کھانے
اس نے منہ بنایا۔
میں تو اس لیے دیکھتا ہوں کہ ترکیبیں آزما سکوں تم نے جب ترکیبیں ہی نہیں آزمانی تو کیوں دیکھتی ہو؟
علی کا سوال جائز تھا وہ خود بھی سوچ میں پڑی۔
پتہ نہیں۔ ایویں دیکھتی ہوں۔ اس نے ذیادہ ذہن پر زو رنہیں ڈالا۔
میں نے ذیادہ کھالیا آج ۔ آپکا ایک بار پھر شکریہ
اس نے ضائع نہ ہو اسلیئے پلیٹ صاف کرلی تھی۔ کھا پی کر کافی توانائی محسوس ہو رہی تھی۔سو اخلاقیات عود عود کر آرہی تھیں۔
تم مچھلی کھا لیتی ہو اکثرسبزی خور تو مچھلی بھی نہیں کھاتے۔۔
علی نے کہا تو وہ تنک کر بولی
آپ سے کس نے کہا میں سبزی خور ہوں۔ میں شدید گوشت خور ہوں سبزی بنا گوشت کے کھانا پسند نہیں مجھے اور چکن کی تو دیوانی ہوں میں۔
پھر یہاں سبزی پر اتنا زور کیوں؟ اس دن ہیم کھانے پر غصہ کر رہی تھیں یہاں صرف ویج آپشنز پر دھیان تھا تمہارا۔
علی کو سچ مچ حیرت ہو رہی تھی۔ اریزہ نے گہری سانس لیکر الٹا اس سے سوال کرلیا
آپ کیوں صرف سبزیاں کھا رہےتھے یہاں بیٹھ کر؟۔اپنے گھر میں تو چکن بھی بناتے ہیں۔
میں مسلمان ہوں حلال گوشت کھاتا ہوں مسلمان ایک مخصوص طریقے سے ہی کٹنے والا جانور کھا سکتے بس۔
علی نے برا مانے بنا وضاحت کی
ہاں تو آپکو کیا پتہ کہ میں بھی مسلمان ہوں ۔
اریزہ نے کہا تو وہ نفی میں سر ہلاگیا
نہیں۔ تم مسلمان نہیں ہو اتنا تو پتہ لگ جاتا ہے۔
اسکا انداز تیقن بھرا تھا
کیا مطلب کیسے لگ رہا میں مسلمان نہیں ؟ وہ حیران رہ گئ۔
تو کیا تم مسلمان ہو؟ علی کا انداز بے یقینی بھرا تھا۔
ہاں ۔ اسکی پیشانی پر سلوٹ پڑی۔ زور دے کر بولی
میں پاکستانی مسلمان لڑکی ہوں۔
واقعی ؟ اسے جیسے ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا۔
بالکل۔ آپ نے کیسے اندازہ لگایا کہ میں مسلمان نہیں؟
اسے حیرت ہورہی تھی یہاں تو اسکو لگتا تھا ہر کوئی پہلی ملاقات میں ہی جان جاتا ہے یہ بات۔
مجھے حیرت ہے۔۔ علی نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا۔
تم دیکھنے میں بالکل مسلمان نہیں لگتی ہو۔

کیا مطلب مسلمان لڑکیوں کے سر پر سینگ نکلے ہوتے ہیں؟
اسے غصہ آگیا تھا۔ اسے غصے میں آتے دیکھ کر علی خاموش ہوگیا۔
تم برا مان رہی ہو معزرت مجھے جو لگا میں نے بتا دیا۔
برا ماننے والی بات ہی ہے۔ میں نے کبھی اپنا مزہب اپنی شناخت نہیں چھپائی۔
اریزہ کا انداز مزید سخت ہوگیا تھا۔
تم نے چھپائئ نہیں ہوگی مگر دکھائی بھی نہیں۔ تمہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ تم مسلمان ہوگی۔خود کو دیکھو مسلمان لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں بھلا نا اسکارف نا کوئی دوپٹہ کھانا کھاتے بسم اللہ بھی نہیں پڑھی بوائے فرینڈ کرسچن ہے تمہارا کونسی بات ہے تم میں مسلمانوں والی
علی انتہائی تلخ حقیقت اسی رسان بھرے انداز میں بتا رہا تھا۔اور وہ ششدر سی سن رہی تھی۔
یہ سب اسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے؟ اسکو یقین نہیں ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد

جاری ہے

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist?Rate us below

Rating

Salam Korea Episode 35

Salam korea
by vaiza zaidi
قسط 35

کلاس لیکر وہ باہر نکلا تو شام کے دھندلے سائے سیول پر چھا رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے گردن کے گرد لپٹے اسکارف کو درست کیا۔ اور ٹیرس سے نیچے جانے والی سیڑھیوں کی طرف مڑا۔ تبھی خیال آیا تو پلٹ کر دیکھنے لگا۔ ریلنگ پر ایک بڑا سا کمبل نما جیکٹ دھرا تھا جس پر۔برف کے ننھے ننھے ذرے جمع ہو رہے تھے۔ جیکٹ جانا پہچانا لگا تھا اسے۔ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے آگے بڑھ کر جیکٹ اٹھا لیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریفک شدید سڑک طویل راستہ آج ہیون بھی خلاف معمول خاموش تھا۔ وہ سچ مچ اسکے برابر بیٹھی اونگھ گئ تھی۔ گاڑی رکی تھی جب اسکی آنکھ کھلی۔یا شائد ویسے ہی نیند پوری ہونے پر آنکھ کھلی تھی۔
اللہ و اکبر اللہ و اکبر۔ لا الہ الااللہ۔۔
نہیں اذان کی آواز تھی۔ بہت تیز نہیں تھی مگر واضح تھی۔ ختم ہو رہی تھی۔
اس نے سیدھا ہوتے اردگرد نظر دوڑائی تو باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔گاڑی شائد کسی تفریحی مقام کے احاطے میں پارکنگ ایریا میں رکی ہوئی تھی۔
گاڑی بند کیئے نشست کی پشت سے سر ٹکائے آرام دہ حالت میں بیٹھا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی سامنے ونڈ اسکرین پر نگاہ جمی ہیون کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنی گہری سوچ تھی کہ اسکے اٹھنے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
اس نے شرمندہ سا ہوتے ہوئے پکارا
ہیون۔
آں دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
اٹھ گئیں تم؟ نیند پوری ہوئی۔
وہ یونہی پوچھ رہا تھا مگر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئ۔
آئیم سوری۔ تم نے کہیں گھومنے جانا تھا اور میں سو گئی۔ اٹھا دیتے مجھے؟ ایک تو تمہاری گاڑی کی نشست ہی اتنی آرام دہ ہے بندہ ذرا سا سر ٹکائے غافل ہو جاتاہے۔
خالصتا اریزہ کا انداز شرمندہ بھی ہورہی تھی ساتھ الزام اسکی گاڑی پر لگا دیا۔
بہر حال اٹھا دینا چاہیئے تھا تمہیں جانے کتنی دیر ہوگئی۔
اس نے موبائل میں وقت دیکھتے پھر ٹوکا۔ گھڑی نے اگلا جھٹکا دیا اسے۔چیخ ہی پڑی
کیا پونے سات میں تین گھنٹے سوتی رہی۔ حد ہے۔

تم بہت گہری نیند سو رہی تھیں مجھے اٹھانا مناسب نہیں لگا۔۔ اسکینگ کا ارادہ تھا یقین کرو گوانگانگ دو ریزورٹ کے پارکنگ لاٹ سے گاڑی واپس نکال کے لایا ہوں۔
ہیون محظوظ سے انداز میں بتا رہا تھا۔
اریزہ کی بچی۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی۔ رات گئے ہوپ کے ساتھ طویل بیٹھک کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ بہر حال نیند پوری ہو گئ تھی۔
مجھے جگا دینا چاہیئے تھا۔
اسکینگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی مگر یوں ہیون کی گاڑی میں دوسری بار اتنی طویل نیند لینا اسے خاصا شرمندی کر گیا تھا کیا سوچتا ہوگا۔
چلیں؟۔۔
ہیون نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا وہ سر ہلا کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
یہ کونسی جگہ ہے؟
باہر ہوا خاصی سرد تھی اسے تو لگا بوندا باندی بھی ہو رہی ہے۔ اس نے جھر جھری سی لی۔
سر پرائز ہے خود ہی چل کر دیکھ لو
ہیون بے نیاز بنا ۔ اس نے بھی کندھے اچکا دیئے۔ پارکنگ انہیں نسبتا فاصلے پر ملی تھی۔ ذیلی سڑک پر ہیون کے ہم قدم چلتے وہ گردن گھما گھما کر دیکھ رہی تھی آتے جاتے لوگ سڑک کی چہل پہل سامنے کھلی مارکیٹ کی رونقیں ۔کرسمس کی تیاریاں عروج پر تھیں مارکیٹ میں جا بجا سینٹا کے لباس میں چلتے پھرتے لوگ اشتہار بانٹ رہے تھے کہیں کرسمس ٹری سجا کھڑا تھا وہ بہت شوق سے رونقیں دیکھ رہی تھی ہیون چلتے چلتے رکا۔ وہ بھی رک گئ۔
تم غلط جگہ دیکھ رہی ہو۔ پیچھے مڑ کر دیکھو۔ ہیون نے کہا تو وہ نا سمجھتے ہوئے گول گھوم گئ۔
وہ عربی طرز تعمیر کی بڑی سی عمارت تھی۔ سبز روشنی سے سجے دومینار گنبد۔ جس پر بڑا سا اللہ و اکبر لکھا ہوا تھا۔
اس نے حیرانگی سے مڑ کر اسے دیکھا۔
ہم مسجد آئے ہیں ؟
اریزہ کے حیرانگی سے پوچھنے پر وہ ہنس دیا۔
ہاں۔ چلو تو سہی اندر۔
ہیون کے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر ساتھ چل پڑی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سیول شہر میں جامع مسجد بھی ہوگی۔
یہ اٹیوان ہے یہاں کافی سارے مسلمانوں کے ریستوران بھی ہیں۔
ہیون اسکی معلومات عامہ میں اضافہ کر رہا تھا۔
وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے چل رہی تھی۔ شائد فیصل مسجد کی طرح کا کوئی تفریحی مقام ہے یہ۔۔ کوئی مشہور مسجد یا۔۔ وہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مسجد کا احاطہ شروع ہو رہا تھا۔ کچھ چندی آنکھوں والے کچھ افریقی النسل سر پر ٹوپی سجائے شائد نماز پڑھنے اوپر جا رہے تھے وہ ایک طرف ہو کر راستہ دینے لگی۔
ہیون اپنی جھونک میں آگے بڑھ رہا تھا کہ احساس ہوا وہ کہیں پیچھے رک گئ ہے۔ وہ واقعی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک جانب کھڑی ہو کر سر اٹھا کر مسجد کی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ کئی قطرے اسکے چہرے پر آن گرے تھے۔
کیا ہوا چلو نا نماز کا وقت ہو رہا ہےنا تمہاری؟
ہیون نے پاس آکر کہا تو وہ یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
تم یہاں مجھے اسلیئے لائے ہو کہ میں نماز پڑھ سکوں؟
وہ حیرانگئ سے مرنے کو تھی جیسے۔ ہیون نے سر ہلایا۔
لڑکیاں مسجد جا کر نماز نہیں پڑھتی ہیں۔ اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔۔
جانتا ہوں۔ مسلمان لڑکے او رلڑکیاں الگ الگ عبادت کرتے ہیں ادھر لڑکیوں کیلئے الگ انتظام ہے۔
اس نے دور راہداری کی جانب اشارہ کیا۔ جہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس میں کورین میں کوئی ہدایات وغیرہ لکھی تھیں۔
میں سب معلومات لیکر آیا ہوں۔ تم جائو نماز پڑھ لو میں یہاں تمہارا انتظار کرتا ہوں یا بلکہ ایسا کرتا ہوں میں بھی اندر پریئیر کر آتا ہوں۔ ٹھیک ہے۔
ہیون اسے آج شائد حیران کر کرکے ہی مارنے والا تھا۔
تم کونسی پرئیر کروگے؟ نماز پڑھوگے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
ہیون ہنس دیا۔
مجھے نماز کہاں آتی ہے مگر خدا تو ہر عبادت گاہ میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ میں اندر جا کر ہاتھ جوڑ کر پرئیر کر لوں گا جیسے تم نے چرچ میں ہاتھ ایسے کرکے دعا مانگئ تھی۔
ہیون نے دعا کرنے کے انداز میں ہاتھ پھیلاکر سمجھایا۔ اسکے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس دن چرچ میں سر ڈھانک کر اس نے جو دعائیں مانگی تھیں اسکو کسی نے نا صرف نوٹ کیا تھا بلکہ اسکا بدلہ اتارنے پر تل گیا تھا۔ مسجد میں ہتھیلیآں جوڑ کر پرئیر کرنے کو تیار ہیون ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ اسکی معصومیت پر ہنسے یا اپنا سر پیٹ لے۔
کیا سوچ رہی ہو؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
ہم باہر چل کر بات کرتے ہیں۔
بہر حال وہ مسجد کے احاطے میں کھڑے تھے۔ اسے یہاں اسکی غلط فہمی دور کرنا بھی بے ادبی لگا تھا۔
وہ سنجیدگی سے کہہ کر پلٹی
اریزہ۔ رکو ۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔
ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
وہ بیزار ہوئئ۔
نیچے چلتے ہیں نا۔ بارش بھی ہونے لگی ہے اب تو۔

نہیں یہیں بات کرنی ہے۔
اس نے لمحہ بھر سوچ کر گہری سانس لیکر کہہ دیا۔
میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ میں آج تمہیں یہاں اسی لیئے لیکر آیا ہوں۔
وہ رکا تھا۔ اسکی سنجیدگی اسکا انداز اریزہ ٹھٹک کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔ اسکے صبیح چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یقینا کوئی اہم بات تھی۔
ایسی کیا بات۔۔
کھد بد تو ہو رہی تھی ۔ اریزہ نے دھیرے سے کہہ کے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا
اریزہ میں جو بھی کہنے جا رہا ہوں اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہے۔ جو میرے دل میں ہے بنا سوچے میں کہہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ اس نے گہری سانس لیکر اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
اس دن چرچ میں تمہیں دیکھ کر مجھے ایک الگ سا احساس ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا وہ کیا احساس تھا۔۔ تم پرئیر کر رہی تھیں مگر تم اتنی مختلف اور مقدس سی لگی تھیں مجھے کہ میرا دل لمحہ بھر کو جیسے تھم سا گیا تھا۔ تمہیں دیکھنا تمہیں جاننا چاہتا تھا تب میں۔
اریزہ اپنا ہاتھ چھڑانا بھول گئ تھی۔ موسم نے کروٹ لے لی تھئ۔ بوندا باندی تیز پھوار میں بدلتی جا رہی تھی۔
اور پھر دھیرے دھیرے یہ احساس اتنا الگ اتنا انوکھا رخ اختیار کر گیا ہے کہ اسکا اعتراف میں آج یہاں کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری مقدس ترین عبادت گاہ میں کہ۔
وہ سانس لینے رکا۔۔ اریزہ کی سانس رک سی گئ۔
اریزہ تم مجھے بہت اچھی لگنے لگی ہو۔
رواں انگریزی بولتے بولتے وہ ایکدم اردو پر اتر آیا تھا۔
اریزہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ۔
اس نے ذرا سا وقفہ لیا۔
میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔
اس نے ان دو جملوں کو بولنے کی بہت مشق کی تھی۔ جبھی بالکل اٹکے بنا ایکدم کہہ ڈالا تھا۔
بجلی نہیں کڑکی تھی۔ بادل نہیں گرجے تھے۔ مگر شور ایکدم سے اتنا بڑھا تھا کہ اسے جیسے اسکی سنائی ہی نہ دی۔ نہیں سن تو لی تھی مگر سمجھ نہیں آئی تھی۔
اریزہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔
کیا اس نے وہی کہا ہے جو اس نے سنا ہے۔
اریزہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔ جھنچا۔
ہیون نے جھنچا پر زو ردے کر کہا تھا۔۔
آہش۔ مجھے جھنچا کا اردو معنی بھی یاد کرنا چاہیئے تھا۔
اس نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا۔ وہ اعتراف کرکے جیسے ہوائوں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا خود کو۔ ایکدم ہلکا پھلکا۔ اسکے چہرے پر اب بشاشت سی آرہی تھی۔ بارش اتنی تیز برس رہی تھی ان پر مگر ان دونوں کو اس بارش کا کوئی اثر نہیں تھا۔
آدل ۔۔۔۔
کسی نے بہت نرمی سے انہیں پکارا تھا۔ اریزہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔ ہیون آواز کی سمت مڑ کر دیکھنے لگا۔ باریش چندی آنکھوں والے وہ آہجوشی مہربان سی مسکراہٹ سجائے انہیں دیکھ رہے تھے۔
بارش ہو رہی ہے آئو اندر آجائو۔۔۔ ۔ وہ یہی سمجھے تھے کہ شائد بارش سے پناہ لینے وہ اندرصحن میں چلے آئے ہیں۔
ہیون نے انکو جواب دینے کیلئے منہ کھولا تھا ۔ اریزہ تیزی سے پلٹ کر سیڑھیاں اترنے لگی۔
ہیون دھیرے سے سر جھکا کر انکو کوریائی انداز میں الوداع کرتا اسکے پیچھے بھاگا تھا۔
تیز برستی بارش اسے بری طرح بھگو گئ تھی۔ اسکی آنکھوں میں شائد بارش کا پانی چلا گیا تھا اتنی جلنے لگی تھیں کہ۔ اس نے سڑک پر آکر جیسے اندھوں کی طرح ادھر ادھر دیکھا۔ کیا کرنا تھا اسے ؟ اسکا۔ذہن مائوف ساہورہا تھا۔
اریزہ شا۔
ہیون بھاگتا ہوا اسکے پیچھے آیا۔۔۔
کیا ہوا؟
وہ اسکے یوں بھاگ آنے کی وجہ پوچھنا چاہتا تھا۔
مجھے گھر جانا ہے۔
اسکے آواز بھرائی ہوئی تھی شدید سردی سے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ سرخ آنکھوں کو رگڑتی وہ بمشکل بول پائی تھی۔
ادھر حلال ریستوران ہیں چلو کچھ۔۔
وہ اشارہ کرتے ہوئے بتا رہا تھا اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی
مجھے نہیں کھانا ۔ تم نے کھانا ہے تو جائو میں ٹیکسی۔
بجلی ایکدم زو رسے کڑکی تھی وہ جھری جھری سی لیکر کر رہ گئ۔
چلو میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔
ہیون نے بحث نہیں کی۔ اریزہ بری طرح بھیگ گئ تھی او رجتنی وہ نازک مزاج تھی یہ بارش یہ سردی اسکا مزاج برہم کرچکی تھی۔
یقینا یہ موسم موافق نہیں تھا۔ یہ موسم اسے ہمیشہ کوئی کسک ہی دیکر جاتا ہے۔ وہ قنوطیت سے سوچتا اسکے ہمراہ قدم اٹھا رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ مکمل طور پر بھیگا ہوا تھا ناک سرخ ہو رہی تھی شائد آنکھیں بھی۔ وہ چاہ کر بھی اسکے چہرے کے تاثرات سے اسکے جواب کا اندازہ نہیں لگا پایا تھا۔ گاڑی کے قریب آنے تک وہ گا ہے بگا ہے اسکے چہرے پر نگاہ ڈالتا آیا تھا۔گاڑی انلاک کرکے وہ اسکے لیئے دروازہ کھولنے بڑھا تھا مگر وہ تیزی سے خود ہی دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئ تھی۔ وہ خاموشی سے آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ راستہ بھر ان دونوں میں مزید کوئی بات نہ ہو سکی۔ گاڑی رکتے ہی وہ بنا اسکی جانب دیکھے تیزی سےبیگ اٹھائے اتر کر اندر عمارت میں گھس گئ تھی۔
دروازہ بند نہیں ہوا تھا۔ اسے اتر کر اسکی جانب کا دروازہ بند کرنا پڑا تھا۔ اسکے ہر طرح کے ردعمل کو گھنٹوں سوچا تھا وہ یوں کہے گی تو یوں وہ یوں کرے گی تو ایسا کہوں گا۔ مگر آج کی بارش اسکے لیئے سب سے غیر متوقع صورت حال کو پیدا کر گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپارٹمنٹ میں پہنچی تو اند رسب بتیاں بند تھیں۔
اریزہ نہیں آئی ابھی تک؟
وہ سوچتی ہوئی جوتے لابی میں بدلتی ہوئی کمرے میں چلی آئی۔ لائٹ جلا کر بیڈ پر بیگ اچھالا دھم سے بستر پر بیٹھئ۔ پھر ایک دم اچھل کر اٹھ کھڑی ہوئی گرتے گرتے بچئ۔ دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔
کم چاگیا۔۔
بیڈ پر اریزہ آڑی ترچھی بلکہ اوندھی پڑی تھی۔ کمبل سر تک تانے وہ اسکے منہ پر بیگ اچھالتی ٹانگوں پر بیٹھ گئ تھی۔۔وہ کسمساتی ہوئی سیدھی ہو رہی تھی کمبل منہ تک تانے۔
تم اندھیرا کیئے لیٹی تھیں؟ تم تو اندھیرے سے ڈرتی نہیں ہو؟
اس نے آگے بڑھ کر اسکے چہرے سے کمبل ہٹا تے ہوئے پوچھا۔
سرخ چہرہ سوجا ہوا سرخ آنکھیں۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے؟ وہ بے ساختہ فکر مند سی ہو کر جھک کر اسکا ماتھا چھونے لگی۔ تپ رہا تھا۔
بخار ہو رہا ہے۔
اسکے رندھے ہوئے گلے سے بمشکل آواز نکلی۔۔
رو رہی ہو؟
اسکے انداز میں حیرت تھی۔ اور شائد فکر بھی۔ اریزہ نے بمشکل سر ہلایا۔
کیوں؟ وہ اسکے پاس آبیٹھی۔
گھر والے یاد آرہے ہیں۔
اس نے خود ہی اندازہ لگایا۔ اریزہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
فون کر لو۔ ہوپ شائد سچ مچ اسکی فکر کر رہی تھی۔
اسکی آنکھیں پھر بھرنے لگیں
میرا فون ٹوٹ گیا ہے۔ وہ دوبارہ رو پڑی تھی۔
میرے فون سے کر لو۔
ہوپ اور کیا کہتی اپنا فون بیگ سے نکال کر اسکی جانب بڑھانے لگی۔
تم نے اتنی زور سے بیگ مار دیا منہ پر لگا ہے میرے۔
اسے غصہ آگیا تھا۔
آئیم سوری۔جان کے نہیں مارا۔۔۔ ہوپ آسکے ردعمل پر تھوڑی حیران ہوئی مگر فوری معزرت کی۔
میں نے کب کہا کہ جان کے مارا ہے تم نے۔ ایک تو اتنی سردی میں بارش میں بھیگتی آئی بخار چڑھ گیا کھانا بھئ نہیں کھایا اوپر سے تم نے اتنا بھاری بیگ اٹھا کے منہ پردے مارا۔ حد ہوتی ہے۔ ایسا کرتا ہے کوئی؟
وہ جھلا کے اٹھ بیٹھی۔ اتنی شکایتیں کرتے مزید رونا آچکا تھا۔ رو رو کر بین کرتی اریزہ ہوپ نے چند لمحے اسے گھورا پھر تھک کے بولی۔
کیا کہہ رہی ہو؟ انگلش میں تو بولو۔
کچھ نہیں کہہ رہی میں۔
اس نے بے دردی سے آنسو پونچھتے اپنا چہرہ رگڑ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ایسی روشن تھی جیسے گزرے دن بارش کی بوند تک نہ برسی ہو۔ مطلع صاف نرم گرم دھوپ۔ رات کے ابر باراں کا نام و نشان تک نہیں۔۔۔ اریزہ نے رشک سے گلاس ڈور سے ناک چپکاتےٹیرس میں پھیلی دھوپ کو دیکھا۔ ۔ مگ کے گرد دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلائےگرم کافی کی گرماہٹ اپنے یخ ہوتے ہاتھوں میں محسوس کی۔
اس وقت موبائل پاس ہوتا تو یقینا اس وقت کوئی بلاگ پوسٹ کرتی۔
اس نے بشاشت سے سوچا۔ کافئ ختم کرکے اس نے گردن موڑ کر گھڑی پر وقت دیکھا تو چونک کے سیدھی ہوئی۔ نو بجنے والے تھے ۔۔ ہوپ کے جاب پر جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ وہ اسے اٹھانے کی نیت سے کمرے میں آئی۔ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ خاصی الرٹ سی بیٹھی غیر آرامدہ حالت میں سو رہی تھی۔
اس پرنظر پڑتے اسے رات کا منظر یاد آیا۔ بخار رات کو بڑھتا ہی گیا تھا۔ اس پرغنودگی طاری ہونے لگی تھی۔ ہوپ نے ہی اسے دودھ کے ساتھ دوا کھلائی اور پھر سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی رہی۔ رات کو جتنی بار بھی آنکھ کھلی اس نے ہوپ کو خود پر فکرمندی سے جھکے پایا۔ جانے کب سوئی اور اسکے اس خیال کی ہی وجہ سے صبح وہ مکمل تازہ دم اٹھی تھی۔ ہوپ چہرے سے بے نیاز اور تھوڑی سی کڑخت دکھائی دینے والی کتنی ہمدرد و نرم سی طبیعت رکھتی تھی۔ گوارا اسے دیکھتی تو یقینا ہکا بکا رہ جاتی اسے سوچ کے ہنسی آگئ ۔ تبھئ ہوپ کسمساتی ہوئی سیدھی ہوئی۔
آہ۔ اسکی ایک ہی رخ پر بیٹھے گردن اکڑ گئی تھی شائد۔اٹھتے ہی کراہتے ہوئے گردن سہلانے لگی۔
گڈ مارننگ۔ اس نے آگے بڑھ کر تپاک سے صبح کا سلام بھیجا۔
وہ گردن اٹھا کر اسے گھورنے لگی۔ اسکی طبیعت بالکل بشاش لگ رہی تھی۔ چہرے پر کل کے بخار کے آثار تو تھے جنہیں مٹانے کیلئے اس وقت غیر ضروری بشاشت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔
کیسی طبیعت ہے تمہاری؟
اس نے کڑے تیور سے پوچھا تھا۔
ٹھیک ہوں ایکدم فٹ۔۔ وہ باقائدہ گول گھومی۔
رات کو ٹھیک ٹھاک پریشان کیا ہے تم نے ۔۔ ایک سو تین بخار تھا تمہیں۔ ہوپ نے جتایا۔
جانتی ہوں۔ اور تم نے میری خوب خدمت کی ہے اسکے صلے میں ملتا ہے تمہیں آج میری جانب سے پرتکلف ناشتہ۔ ٹوسٹ فرائی انڈہ اور پین کیک۔سب تیا رکیا ہے جلدی سے فریش ہو کر آئو مل کر ناشتہ کرتے ہیں۔
اس نے لہک لہک کر کہا ہوپ اسے گھورتی رہی
اسکی طبیعت واقعی ٹھیک ہوچکی تھی شائد۔
کاش کوئی ایپ ہوتی جس سے میں ترجمہ کر سکتی رات کو جو تم کہتی رہی ہو اپنی زبان میں اسکا۔
ہوپ سستی سے بیڈ سائیڈ پر پیر لٹکائے پیر سے ٹٹول کر چپل تلاشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
میں بول رہی تھی؟ ایک تو میں بخار میں بڑبڑانا کب چھوڑوں گی۔
وہ دانت پیس کر رہ گئ۔
کیا کہہ رہی ہو۔ ہوپ نے گھورا
شکر ادا کر رہی ہوں کہ تم اردو نہیں جانتیں۔
اس نے کندھے اچکا کر چڑایا۔
اردو نہیں جانتی مگر تمہیں جان گئ ہوں ۔ ہوپ اسے جتانے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
مطلب؟ اریزہ گڑبڑائئ۔
ہوپ مسکرا دی۔
میں فریش ہوکر آتی ہوں۔
وہ اپنی گردن سہلاتی باتھ روم میں گھس گئ۔ پندرہ بیس منٹ بعد وہ صرف نہا کر نہیں جانے کیلئے تیار ہو کر آئی۔ تب تک وہ ناشتہ میز پرسجائے گہری سوچ میں گم بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی۔ اسے حیرت ہوئی۔ اسے لگا تھا وہ ناشتہ ختم کر چکی ہوگئ
اس نے اسکے کھوئے انداز کو بغو ردیکھا پھر اسکے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ وہ متوجہ نہ ہوئی تو اسے میز پر ٹھونگا لگا کر جگانا پڑا۔
ناک ناک۔ واپس آجائو اگاشی۔
اس نے جان کے ہنگل میں کہا۔
دے۔ وہ چونکی تھی مگر ظاہر نہیں کیا۔
فورا اٹھی اور کافی میکر سے کافی نکال لائی۔ ہوپ ٹوسٹ اور انڈہ لیکر ناشتہ شروع کر چکی تھی۔ اس نے
پین کیک اورکافی کا بھاپ اڑاتا مگ اسکی جانب بڑھایا۔
تم نے آج جانا ہے کلاس لینے؟ ہوپ نے نوالہ لیتے ہوئے یونہی پوچھا۔
ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
چھٹئ کر لو بخار تھا تھکن مت لو۔ ہوپ کی فکر پر وہ مسکرا کر رہ گئ۔
ٹھیک ہوں میں۔
ہوپ کندھے اچکا کر ناشتہ ختم کرنے لگی۔ اریزہ کو پھر حرارت سی محسوس ہو رہی تھی۔ جبھئ ناشتہ کیا نہیں جا رہا تھا۔ہوپ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سوچ کربولی۔
اچھا سنو میرا موبائل رکھ لو۔ جب تک تم نیا نہیں لیتیں۔
اسکی پیشکش پر وہ منہ کھول کر رہ گئ۔
میرے موبائل پر پاسورڈ نہیں ہوتا اور مجھے سارا دن اسکو بند کرکے لاکر میں ہی رکھنا ہے تم استعمال کر لینا۔۔۔
اس نے صرف کہا نہیں بلکہ اپنا موبائل میز پرسے پھسلا کر اسکی جانب بڑھا بھی دیا تھا۔ میز کی چکنی سطح پر وہ پھسلتا ہوا اریزہ کے پاس آیا تھا۔
نہیں مجھے نہیں چاہیئے ایسی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے مجھے۔ شکریہ تمہارا۔
وہ پورے خلوص سے کہہ رہی تھی۔ موبائل اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا۔ ۔ ہوپ نے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو جانتی نہیں ہوں نا میں جیسے تمہیں۔۔اسکا ہاتھ چھو کر پیچھے کرتے ہوئے بولی۔
جس دن سے میں آئی ہوں تمہیں اس مشین کے بنا بیٹھے نہیں دیکھا۔ مجھے حیرت ہے تم دو دن سے زندہ کیسے ہو اسکے بغیر؟
ہوپ اور طنز کے بنا بات کر لے۔ وہ بھنائی۔۔
تم تو جیسے صرف ہفتے میں ایک دن باری لگا کر استعمال کرتی ہو خود بھی تو جب گھر آتی ہو مستقل موبائل میں ہی لگی ہوتی ہو۔
ہاں تو سارا دن موقع نہیں ملتا گھر آکر ہی استعمال کرنے کا وقت ملتا ہے اس پر بھی مجھے اسکی اتنی عادت نہیں ہے کہ اسکے بنا رہ نہ سکوں۔
ہوپ نے مزید اسکا دل جلایا۔
مجھے بھئ عادت ڈالنی ہے۔ شکریہ
اریزہ نے موبائل بڑھایا وہ تھامنے کی بجائے اسکے ہاتھ کو ہی دیکھتئ رہی ۔۔ یہ بد تہزیبی سمجھی جاتی ہے کوریا میں ایک ہاتھ سے چیز تھمانا ازراہ احترام کورین کسی کو کوئی چیز پکڑاتے وقت دوسرے ہاتھ سے اپنی کلائی چھو لیتے ہیں تھامنے کیلئے بھی دونوں ہاتھ بڑھانا پسند کیا جاتا ہے۔ وہ جتا رہی تھی نگاہوں سے۔۔ اس نے ہونٹ بھینچ کر بائیں ہاتھ سے اپنے دائیں ہاتھ کی کلائی چھوئی۔
تم مجھ پر اپنے سب کورین ثقافت کے دائو پیچ آزمایا کرو۔
وہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔
تم کورین کیوزین پر بھی آجائوگئ دیکھنا ایکدن۔ ہوپ کھلکھلائئ
جب تک اس میں پورک نہ ہو۔
اریزہ نےاضافہ کیا۔
جو بھی ہے۔ بنتی جا رہی ہو آدھی کورین ذیادہ وقت نہیں لگے گاپورک پر بھی آجائوگی ۔
ہوپ کا انداز سادہ تھا اسے جانے کیوں اکساتا ہوا لگا۔
پورک کھانے کا تعلق ثقافت نہیں مزہب سے ہے اور ثقافت اپنائئ جا سکتی ہے مزہب چھوڑا نہیں جا سکتا۔۔ میں کوریا میں رہ سکتی ہوں کورین بولنا سیکھ سکتی ہوں کورین ثقافت کی تعظیم کر سکتی ہوں ، کورینز کے ساتھ دوستی کر سکتی ہوں مگر بات مزہب کی ہو تو سب ہیچ ہے میرے لیئے۔
وہ جوش میں بولتی چلی گئ پھر احساس ہوا۔چند لمحے چپ ہی رہ گئ ۔ سٹپٹا کرسر جھکالیا۔ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر دونوں کہنیاں میز پر ٹکادیں۔ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش۔۔
اریزہ کا سخت لہجہ پھر اسکے بالکل مخالف ردعمل ہوپ نے تعجب سے اسکی شکل دیکھی۔
تم کل کلاس کے بعد کہاں گئ تھیں؟
اسکے سوال پر اریزہ نے سر اٹھا کر اسکو دیکھا۔ وہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ویئے اوو( کیوں) اسکے منہ سے پھسلا
ایسے ہی کافی worked up ہو کر آئی ہو۔
وہ حسب عادت صاف گوئی سے بولی۔
وہ میں۔ اس نے جواب دینا چاہا تھا مگر ہوپ کرسی پیچھے کرتی اٹھ کھڑی ہوئئ
جانے دو میں تمہاری ماں نہیں ہو جسکو جواب دینا ضروری ہو تمہارے لیئے۔ خیر فون نہیں چاہیئے؟
وہ بات بدل گئ فون دکھاکر پوچھنے لگئ۔
نہیں۔ اس نے سہولت سے انکار کیا وہ کندھے اچکا کر بیگ ٹھیک کرنے لگی۔
آج میں دیر سے آئوں شائد۔ مجھے کہیں جانا ہے۔ ہوپ نے اسے قصدا بتایا تھا۔ اریزہ نے سرہلا دیا۔
ہوپ اسے خدا حافظ کہتی چلی گئ۔ اس نے گھڑی دیکھی پھر جلدی جلدی سب برتن سنک میں ڈالتی تیار ہونے چلی گئ۔ جلدی مچانے کا نتیجہ تھا معمول سے آدھا گھنٹہ قبل وہ تیار ہو کر باہر بھی نکل آئی۔
تیز تیز قدم اٹھاتے وہ گلی سے شاہراہ تک نکل آئی تو سکھ کا سانس لیا۔ روز کا آنا جانا تھا کب تک وہ ہیون پر پیرا سائیٹ بن کر انحصار کرتی۔ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے وہ شاداں تھی اپنی کامیابی پر۔ پہلی گلی دوسری سڑک پھر دائیں مڑنا۔
وہ چلتے چلتے رک گئ۔ یہاں سے دائیں ہی مڑنا تھا مگر وہ راستہ اسے مانوس نہیں لگا تھا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا ۔۔ یہاں تک تو اسے یاد تھا راستہ مگر آگے؟ ہیون کے ساتھ آتے جاتے اس نے کبھی راستے پر دھیان ہی نہ دیا تھا یا وہ واقعی اتنی احمق تھی کہ روز آنے جانے کے باوجود اسے راستہ یاد نہ ہوا تھا۔۔۔
آگے جانے کا راستہ نہ آتا ہو تو عقل کا تقاضا ہوتا ہے واپس مڑ جانا مگر اریزہ کو اتنی عقل ہوتی تو یہاں بیچ راستے پر پریشان کھڑی ہوتی۔۔
ہیون حسب معمول مقررہ وقت پر اسکےاپارٹمنٹ کے باہر کھڑا اطلاعی گھنٹی بجا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحے احمقوں کی طرح ادھر ادھر تکنے کے بعد اس نے ہار مان لی تھی۔
اخیر احمق ہو تم اریزہ۔ اتنے دن میں ایک موڑ تک یاد نہیں رہ سکا تمہیں۔ ہیون تمہارا ڈرائور نہیں ہے روز تمہیں بچوں کی طرح لانے لے جانے کی ذمہ داری نبھائے۔
اس نے خود کو ڈانٹے سچ مچ خود کو سر پر خاصی زور دار چپیڑ لگا دی تھی۔ آگے جانا یقینا بے وقوفی ہوتی سو ہونٹ کاٹتے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ ایک گلی پیچھے مڑ کر داخلی سڑک سے اہم شاہراہ اور بس اسٹاپ۔ دھوپ تیز تھی مگر اسے اچھی لگ رہی تھی ۔ وہ مرے مرے قدموں سے چلتی آئی اور بس اسٹاپ پر لگے اسٹینڈ پر آبیٹھی۔
ذیادہ نہ سہی ایک دو گھنٹے کافی ہوں گے کسی کا انتظار ختم کرنے کیلئے۔
اس نے یہی سوچا تھا۔ اور سکون سے شیشے کی دیوار سے سر ٹکا کر بس اسٹاپ پربس سے اترتے چڑھتے لوگوں کو تکنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے گہری سانس لی پھر جانچتی نگاہوں سے اسکا عزم و ہمت کی پیمائش کرنی چاہی۔ اسکی درخواست کم دھونس اسے خاصی ناقابل عمل لگ رہی تھی۔
تو کیا میں سمجھوں کہ آپ میری مدد کریں گے؟
اس سے کم سن کی طویل خاموشی برداشت نہ ہوسکی تو پوچھ لیا۔ وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
کم سن اسے یونہی غور سے دیکھتا رہا۔ وہ اسکی نگاہوں سے ٹھیک ٹھاک الجھ رہی تھی۔ وہ کسی ٹھرکی کی ٹٹولتی نگاہیں نہیں تھیں مگر پرسوچ اور کھنگال لینے والی ضرور تھیں۔
اٹس اوکے اگر یہ آپکے لیئے مشکل ہے تو ٹھیک ہے۔ میں چلتی ہوں۔
وہ مایوس ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس وقت وہ کم سن کے دفتر میں اسکے مقابل ہی تھی۔ کم سن نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
بیٹھو۔
اس نے مختصرا کہا۔ وہ بے یقینی سے دیکھتی ایکدم خوش ہوگئ تھی۔ جھٹ سے بیٹھ گئ۔ کم سن نے انٹرکام پر اپنے فائنانس ایگزیکیٹیو ایچ آر جمع پرسنل اسسٹنٹ کو بلایا۔
یہ ہماری نئی ملازمہ ہیں ۔ انکو آفس ورک میں کہیں ایڈجسٹ کرلو۔
اس نے خالص ہنگل میں کہا تو اسکے پی اے کی آنکھیں ابلنے لگیں۔۔
مگر سر فی الحال کوئی جگہ خالی نہیں مارکیٹنگ ٹیم پلاننگ سب پر ہائیرنگ ہو چکی ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارا بجٹ اتنا نہیں ہے کہ ایک اور گھوسٹ ملازم ہائر کرلیں۔پہلے ہئ وہ اریزہ شاہ اتنے دن سے چھٹی پر ہے اسکا فون بھی بند جا رہا ہے۔ اسکی پورے چار دن کی تنخواہ کٹنئ چاہیئے۔ ویسے۔
سنتھیا بغور ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی مگر پھر بھی ٹھیٹھ سیول کے لہجے میں بولتے پی اے کے شور و غو غا سے کوئی درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی۔
اریزہ۔
اسکو بس یہی نام سمجھ آیا گفتگو میں۔ مگر اریزہ کا کیا ذکرکچھ اور کہا ہوگا اس نے سر جھٹکا۔
اسکا فون ٹوٹ گیا ہے نیا لیتے ہی رابطہ کرے گی۔
کم سن کا اطمینان دیکھنے لائق تھا۔
پھر بھی سر اس لڑکی کو کیوں رکھنا ہے وہ تو چلو آپکی اور ہیون سر کی دوست ہے۔
وہ بے بسی سے بولا۔
یہ اس لڑکی کی دوست ہے۔ وجہ کافی نہیں؟
کم سن کی بات پر وہ لاجواب ہوگیا تھا۔
کم سن اس سے مخاطب ہوا۔
تم انکے ساتھ جائو یہ تمہیں کام وغیرہ سمجھا دیں گے اور فی الحال تم دوسری والی بات پر غور کرنا ۔۔
مجھے فائنانشل سیکیورٹی چاہیئے بس میں اتنی کمزور نہیں کہ اپنا خیال خود نہ رکھ سکوں۔
وہ مضبوط لہجے میں کہتئ اٹھ کھڑی ہوئی
کم سن نے سر ہلا یا پھر دوبارہ ہنگل میں اپنے پی اے کو ہدائیتیں دینے لگا
انکو لے جائو اور جو کام سپرد کرنے لگو سمجھا دینا اور تھوڑا اپنی انگریزی کو ہوا لگادینا اسکو ہنگل سمجھ نہیں آتی۔
ایک اور انگریزنی ۔ وہ منہ بنا کر رہ گیاپھر مئودب سا ہو کر اسکو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کرنے لگا۔
چلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین سے چار گھنٹے گزار کر وہ تھکےتھکے قدموں سے چلتی ہوئی گھر واپس آئی۔ جسمانی سے ذیادہ ذہنی تھکن نے نڈھال کردیا تھا۔ حسب عادت دروازہ بند کرکے وہ سیدھا اندر جانے لگی پھر خیال آیا تو الٹے قدموں واپس ہوئی جوتے بدلے۔ کندھے سے بیگ اتارتی اندر آئی تو ایکدم لائونج کی بتی جل اٹھی تھی۔ سامنے ہی بلیک اپر بلیک جینز میں ملبوس ہیون کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ ششدر سی رہ گئ
کہاں تھیں؟ دو گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں تمہارا۔
وہ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے خوشگوار سے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
وہ اتنی حیران ہوئی تھی کہ کچھ بول ہی نہ پائی۔ اسکی حیرت بھانپ کر وہ خود ہی صفائی دینےلگا۔
صبح آیا تمہیں لینے کافی دیر ناک کرتا رہاپھرتمہاری اکیڈمی گیا تم وہاں بھی نہیں تھیں تو ہوپ کو فون کیا اس نے بتایا کہ بخار تھا رات تمہیں۔تم دروازہ بھی نہیں کھول رہی تھیں تو مجبورا گوارا سے لاک کوڈ پوچھا مگر تم تو یہاں تھیں ہی نہیں۔ طبیعت ٹھیک ہے اب تمہاری؟
اس نے روانی میں پوچھتے اسکی پیشانی چھونے کو ہاتھ بڑھایا وہ چونک کے دو قدم پیچھے ہوئی۔
آنیا۔ میں ٹھیک ہوں بس ذرا باہر تک گئ تھی۔
اچھا۔ اس نے فورا ہاتھ پیچھے کرلیا۔۔اور شاپر اسکی جانب بڑھانے لگا
یہ لو۔
یہ کیا؟ وہ سوالیہ ہوئی
تمہارے لیئے فون۔گوارا سے بات بھی کر لینا وہ کافی پریشان ہو رہی تھی دو دن سے تم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تو۔۔
اسکی کیا ضرورت تھی۔۔ وہ شرمندہ ہوگئ۔
میں لے لیتئ خود ہی۔
ہاں تو لینا تو تھا ہی اسی لیئے میں لے آیا۔
اسکا انداز لاپروا سا تھا
مگر مجھے یہ لینا اچھا نہیں لگ رہا۔ پہلے ہی تمہارے بہت احسان ہوچکے ہیں مجھ پر۔ اب اور نہیں۔ تم یہ واپس لے جائو
اس نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔ اسکا انداز خاصا سخت تھا اتنا کہ ہیون کی مسکراہٹ پھیکی پڑگئ
مگر میں یہ تمہارے لیئے ہی لایا ہوں۔ تمہارا فون ٹوٹ
اس نے اصرار کرنا چاہا
ہاں تو میرا فون ٹوٹاہے مجھے جب لینا ہوگا میں لے لوں گی۔ تمہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
اسکے اتنے بدلحاظ انداز میں کہنے پر وہ چند لمحے خاموش ہی ہوگیا۔ اریزہ کو بھی اپنے رویئے کی سختی کا احساس ہوا۔
تم خفا ہو مجھ سے؟ اسکو یہی سمجھ آسکا۔ سو سہولت سے اسکی سب بدتمیزیاں نظرانداز کرکے پوچھنے لگا۔
نہیں۔ اس نے کترا کر اسکے برابر سے ہو کر نکل جانا چاہا۔
وہ گھوم کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔ اسکو موبائل کا شاپر تھماتے اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔
تم میرے کل کے روکھے پھیکے اعتراف پر غصے میں ہونا؟
نہیں۔۔ اس نے فورا اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی اس نے مسکرا کراسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔
اریزہ میں ایسا ہی ہوں۔ مجھے دل سے اعتراف کرنا تھا سادہ اور عام فہم مگر سچے الفاظ سے ۔ میں نے جو محسوس کیا وہ تمہارے گوش گزار کیا۔ تمہیں پتہ ہے
میں نے بہت سوچا تھا میں اپنے جزبات کا اظہار کہاں کیسے کروں۔کسی پر فضا مقام پر ستاروں بھری رات میں کسی اونچے ریستوران میں ڈھیر پھولوں اور کینڈل لائٹ ڈنر کے ساتھ پر وہ تو سب ہی کرتے ہیں۔ اور تم۔۔ جو لڑکی میرے ساتھ چلتے اپنے گرد ونواح پر نگاہ بھی نہ ڈالتی ہو اسکو ان چیزوں سے متاثر نہیں کیا جاسکتا ہے ہے نا۔ مجھے یہی لگا تھا بڑے سے بڑے ارینجمنٹس بھی شائد تمہیں پسند نہیں آتے۔۔۔صحیح کہہ رہا ہوں نا۔۔
وہ اسکی نگاہوں میں جھانکتے تائید طلب کر رہا تھا۔وہ جیسے کسی ٹرانس کی کیفیت میں اسکئ سب باتیں سن رہی تھی۔۔
کل تو موقع نہ مل سکا تم بھاگ آئیں۔ مگر آج میں تمہارا ہر شکوہ دور کر دوں گا۔
اس نے مسکر کر کہتے ہوئے جیب سے ایک بے حد قیمتی انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے سوال کیا تھا
اریزہ تم میری بنو گئ؟
ہیرے کی جگر جگر کرتی انگوٹھی کی روشنی ذیادہ تھی یا ہیون کی آنکھوں میں دمکتے ستارے وہ اندازہ نہ لگا پائی۔ کسی فلمی ہیرو کی طرح زرا سا سر خم کیئے اسکی جانب جی جان سے متوجہ ہو کروہ اسکے جواب کا منتظر تھا۔
جیسے اسے ایکدم ہوش سا آیا۔ وہ دو قدم پیچھے ہوئی
مجھے نہیں سمجھ آرہی تم کیا کہہ رہے ہو۔ تمہیں کوئئ ضرورت نہیں ایسا کچھ کرنے کی اور کچھ کہنے کی بھی۔ ہم دوست ہیں صرف۔ بہت اچھے دوست نا اس سے ذیادہ کچھ نہیں۔
اسکا انداز قطیعت بھرا تھا۔اس کےرواں اور سخت لہجے نے اس کے سر پر جیسے بم پھوڑا تھا۔ وہ جہاں کا تہاں کھڑارہ گیا تھا۔ وہ یوں اچانک بنا سوچے سختی سے انکار کردے گی یہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
تم کیا کہہ رہی ہو؟
بمشکل اسکے منہ سے نکلا تھا۔ اسکے چہرے پر زلزلے کی سی کیفیت تھی۔
ہیون ہم بہت اچھے دوست ہیں ہم ساری زندگی اچھے دوست رہیں گے بس۔ اس سے ذیادہ ہم کچھ نہیں ہو سکتے۔
اس نے قطیعت سے کہا۔
تم نے کبھی میرے بارے میں نہیں سوچا ؟
ہیون کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔
ہرگز نہیں۔
اریزہ کا انداز مزید دو ٹوک ہو چلا تھا۔
اب سوچ لو۔
وہ ہمت نہیں ہارنا چاہتا تھا شائد۔ اریزہ اسکو کوئی جھوٹی امید نہیں دینا چاہتی تھی۔
اسکی ضرورت نہیں مجھے۔ میں نے کبھئ تمہارے بارے میں نا ایسے سوچا نہ سوچنے کا ارادہ ہے۔ اس بات کو یہیں ختم کردو۔ اور۔ یہ بھی ۔۔
موبائل کا شاپر واپس کرتے ہوئے وہ مزید بھی کچھ کہتئ۔ ہیون سے مزید وہاں کھڑا رہنا محال ہوا وہ اسکے پاس سے ہو کر سیدھا باہر نکلتا چلا گیا۔
ہیون۔ یہ ۔۔
وہ موبائل واپس کرنا چاہتی تھی پکارتی اسکے پیچھے بھی بھاگی پر وہ رکا نہیں۔ دروازہ بند ہوگیا تھا۔ وہ وہیں رک کر ہونٹ کاٹنے لگی۔ کچھ بھی تھا وہ بے حد اچھا دوست تھا اسکے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا اور اگر وہ کرسچن نہ ہوتا تو شائد۔
یہ کیا سوچ آئی تھی اسے۔
فون کی کڑخت سی بیل بجی تھی وہ بری طرح اچھل پڑی۔ ڈبے میں سے فون بج رہا تھا۔ اس نے ڈبہ نکال کر کھولا۔نیا سامسنگ کا ماڈل اسکے ہاتھ میں تھا۔ اور فون بک اپڈیٹڈ تھی۔
گوارا کالنگ انگریزی میں لکھا آرہا تھا۔
اس نے فون سوائپ کرکے کان سے لگایا
ہیلو۔
اریزہ؟ اوہ۔خدایا کیسی ہو کہاں تھی اتنا پریشان ہوگئ تھی میں جب ہیون نے بتایا تم گھر میں نہیں طبیعت ذیادہ خراب ہوگئ تھی کیا؟
گوارا کا لگاتار بلا تکان بولنا غماز تھا وہ کتنی پریشان رہی ہے اسکے لیئے۔ آخر کار اسکو ایک اچھی سہیلی مل گئ تھی۔ ایک اچھی سہیلی چھن جانے کے بعد۔۔
کیا ہوا یوبو سیو؟ اریزہ؟
اسکی جانب سے جواب نہ ملنے پر گوارا مزید اتائولی ہوچکی تھی۔
ہوں۔ اریزہ بمشکل ہوں کر سکی۔ اسکی آنکھوں سےآنسو ہی اتنے پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں مسل ڈالیں۔
ایک دوست ملتا ہے ایک چھن جاتا ہے اچھا مزاق بنا ہوا ہے زندگی میں۔
اس نے تپ کر سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں حقیقتا باولا ہوا بیٹھا تھا۔دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بے بسی کی تصویر۔ اسکا فون برابر میں ہی پڑا مستقل جل بجھ کر رہا تھا۔ بجتی رنگ ٹون گوشی وون میں بالکل قابل برداشت نہیں تھی ۔ سب کمرے مختصر اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے سو اس نے موبائل سائلنٹ کر رکھا تھا۔ پھر بھی گا ہے بگا ہے وہ نگاہ ڈال۔لیتا تھا۔ پاکستان سے آنے والے فون وہ اٹھا نہیں سکتا تھا اور اگر پولیس اسٹیشن سے فون آتا تو نا اٹھانے پر مسلئہ بن جاتا۔ سنتھیا کی بدولت سیکس اوفنڈر کے چارج تک لگ چکے تھے فورسڈ ابارشن اور اب اسکی گمشدگی اسکو قاتل بھئ ثابت کر سکتی تھی۔
اف۔۔ اسکا دل کر رہا تھا اپنے بال وال نوچ لے۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کبھی سنتھیا اسکےلیئے اتنا بڑا درد سر بن جائے گی۔
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ کمرے میں چلنے پھر نے کی جگہ نہیں تھی پھر بھی بے چینی میں اس نے اس مختصر جگہ میں بھی کئی چکر کاٹ لیئے تبھی اسکے دروازے پر دستک ہوئی۔
اس نے فورا دروازہ کھولا توسامنے دو پولیس اہلکار کھڑے تھے۔
یو آر انڈر اریسٹ۔۔
ٹوٹی پھوٹئ انگریزی اسے لگا تھا سننے میں غلطی ہوئی ہے۔
دے؟؟؟۔
اسکے ہنگل میں پوچھنے پر اس بار گہری سانس لیتے ہوئے اہلکاروں نے دہرایا۔۔
آپکے خلاف اپنی گرل فرینڈ کو اغوا اور حبس بیجا میں رکھنے کا پرچہ درج ہوا ہے ہم آپکو گرفتار کرنے کیلئے آئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے تھکی تھکی سی کمرے میں آکر بستر پر گر گئ۔ پھر ایکدم چونک کے اٹھ کر دیکھنے لگی۔ اسکے کمرے کی حالت بدلی ہوئی تھی۔ ایک ایک چیز سمٹ کر اپنی جگہ پر پہنچ چکی تھی۔ بستر پر کمبل تہہ ہوا رکھا تھا اسکی کتابیں سلیقے سے ڈیسک پر سجی تھیں۔ دوسرا بیڈ بھی سمٹا ہوا تھا۔ بے شکن چادر۔
وہ تیر کی طرح اٹھی اور جھٹ سے ملحقہ باتھ روم کا دروازہ کھولا اندر سے باہر نکلتی لڑکی کی اس سے ٹکر ہوتے ہوتے بچئ تھی۔
ہائش۔ اس نے جیسے سکھ کا سانس لیا۔ اور واپس مڑگئ۔
جائو میں نہا چکی۔
اسے یہی لگا تھا کہ شائد اس نے باتھ روم جانا ہے جبھی اتنی تیزی میں نکلی ہے۔
یہ سب تم نے کیا ہے؟
جی ہائے نے کمر پر ہاتھ رکھتے یوں پوچھا تھا جیسے اثبات میں جواب ملنے پر گریبان ہی پکڑ لے گی۔
ہاں کیوں؟ سنتھیا گڑبڑائئ۔
بےکار میں زحمت کی۔ سوہایا آئے گئ اسکا دوبارہ پہلے سے بھئ برا حال ہو جائے گا۔
وہ دھپ سے اپنے بیڈ پر گرتے ہوئے بولی۔
کب آئے گئ؟
سنتھیا اسی میں اٹک گئ۔ تولیہ سے بال خشک کرتے ہوئے ہاتھ رک سے گئے تھے۔
کرسمس کے بعد ہی ظاہر ہے۔ اگلے سمسٹر سے آئے گی سب میری طرح بے گھر تھوڑی ہوتے کہ چھٹیاں بھی ہاسٹل میں گزاریں۔
وہ بیزاری سے بیڈ پر اینڈ رہی تھی ۔ ایک انگڑائی دوسری بار اسٹریچنگ ۔ تیسری بار اسے جتاتی نگاہ سے دیکھا۔
ابھی تو دن ہیں کچھ ۔ میں تب تک انتظام کر لوں گی۔
سنتھیا کو یک گونہ اطمینان ہوا۔
ویسے تمہاری تو روم میٹ گوارا ہوا کرتی تھی۔ تب یہ کمرہ بھی صاف ستھرا ہوا کرتا تھا۔
اس نے طائرانہ نگاہ کمرے پر ڈالتے ہوئے جتایا۔
اس وقت بھئ گوارا یہاں کم کم ہی رہتی تھی جبھی صاف ہوتا تھا کمرہ میں صرف اپنا حصہ صاف رکھتی ہوں باقی کمرے سے الغرض رہتی ہوں۔
جی ہائے کا جواب عجیب ضرور تھا مگر اس سے ایسے ہی جواب کی امید تھئ اسے۔ وہ لیٹے لیٹے ہی اسٹریچنگ کر رہی تھی۔ سنتھیا نے پہلو بدل لیا۔ فضا میں بیڈ کی چرچراہٹ کی بے ہنگم آواز گونج رہی تھی۔
تم نے پیسوں کے انتظام کا کہا تھا کچھ ہوا؟
اس نے کافی دیر ہمت کرنے کے بعد جھجکتے ہوئے نظر چرا کر پوچھا تھا۔
جی ہائے کی ورزش کرتی ٹانگیں رکیں۔ پھر اچھل کر سیدھی ہو بیٹھئ۔
گئی تھی آہبوجی کے لاکر سے اپنی ماں کے زیورات لینے مگر وہاں انکا لاڈلا لے پالک بیٹھا تھا چوکیداری پر آج آہموجی سے مانگنے گئ تو انہوں نے لمبے چوڑے مجبوریوں کے قصے سنا دیئے۔اپنے لیئے ایک پیسہ ان دونوں سے مانگنا حرام سمجھا ہے میں نے مگر تمہاری وجہ سے ۔۔۔
آئم سوری۔
سنتھیا نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ ببل چباتی جی ہائے نے جگالی چھوڑ کر فرصت سے اسکا چہرہ تکا۔ یہ وہی بندی تھی جس کا غصہ ناک پر دھرا رہتا تھا اور نخرا آسمان پرہوا کرتا تھا۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔۔
اس نے مزید کچھ بھی کہنے کا ارادہ ترک کرکے ہونٹ بھینچ لیئے۔
میں آج کم سن سے ملنے گئ تھی۔ اس نے مجھے جاب دے دی ہے۔بہت ذیادہ نہیں مگر۔۔
ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ جی ہائے نے حیرت سے چیخ مار دی
کم سن؟ وہ کنگلا؟ وہ کونسی جاب دے رہا ہے تمہیں اسے تو اسکے بھائیوں نے لات مار کر گھر سے نکالا تھا کتنے عرصے ہیون نے خرچہ اٹھا یا ہے اسکا۔
میں یہ سب نہیں جانتی مگر وہ اب ایک ایڈورٹائزینگ ایجنسی چلا رہا ہے اس نے مجھے اپنا کارڈ دیا تھا۔
وہ اسکے پریقین انداز میں کہنے پر سٹپٹا سی گئ۔ جھٹ اپنے پرس سے کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔ جی ہائے پرسوچ سے انداز میں کارڈ میں اندراج تفصیل پڑھ رہی تھئ اسکے ذہن و دل میں جھکڑ چلنے لگے۔ کیا پتہ وہ اس کمپنی کا ملازم ہی ہو مگر کم از کم دفتر وفتر اصلی ہی تھا اور وہاں۔۔ پر سب انتظام نیا ہی تھا ۔ اسے شک گزرنے لگے۔ کہیں وہ کسی دھوکے کا شکار تو نہیں ہونے لگی۔
ہاں ایجنسی تو اسی کی ہے۔ ہیون نے ہی مدد کی ہوگی ۔
جی ہائے نے کارڈ واپس تھمایا تواسکی جان میں جان آئی۔
ویسے اچھا لڑکا ہے شریف تم فالتو میں گھبرا گئیں۔
اس نے سنتھیا کا گھبرانا نوٹس کر لیا تھا۔
کچھ کھایا ہے تم نے؟
وہ اب فکر کر رہی تھی۔ سنتھیا نے نفی میں سر ہلادیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارڈ چھوڑ کر تو گئ۔تھی کیفے چلی جاتیں۔ ہمارا میس چھٹیوں میں محدود ہوجاتا ہے بند نہیں ہوتا اکثر غیر ملکی چھٹیوں میں گھر جانے کی بجائے یہاں چھوٹی موٹی نوکری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تو انکی سہولت کیلئے کچن کھلا ہی رہتا ہے۔
وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے بتا رہی تھی۔ سنتھیا خاموشی سے اسکے ہم قدم تھی۔ میس پہنچ کر اسے نے آٹو میٹڈ اسکینر میں کارڈ دو مرتبہ چھوایا تھا۔ کورین بیف اسٹیک نوڈلز سوپ سادہ ابلے چاول سبزیوں کا اچار اور دو تین طرح کی چٹنیاں سلاد۔ اسکی بھوک چمک اٹھی تھی۔ وہ کافی تیزی اور رغبت سے کھانے لگی تھی۔ جی ہائے اپنا کھانا چھوڑ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ اسکے منہ سے نوڈلز پھسل کر پیالے میں گرے تو اس نے جلدی سے پانی کا گلاس بھر کر اسکی۔جانب بڑھایا۔ سنتھیا شرمندہ سی ہوگئ۔ کیا سوچتی ہوگی وہ۔ مگر اسے یا تو بالکل بھوک محسوس نہیں ہوتی تھی یا لگتا تھا پوری دنیا کھا جائے تو بھی پیٹ نہیں بھرے گا۔
وہ ایک سانس میں پورا گلاس پی گئی۔
تمہیں اچھی خوراک اور آرام کی ضرورت ہے ۔ تمہیں دیکھ کر کوئی اندھا بھی بتا سکتا ہے کہ تم غذائی کمی کا شکار ہو۔ تم پاکستان واپس چلی جائو کم ازکم تمہارے پیرنٹس تمہارا خیال تو رکھیں گے۔
جی ہائے نے پورے خلوص سے مشورہ دیا تھا۔ سنتھیا کے حلق میں نوالے اٹکنے لگے۔
وہ اس بچے کو کبھی دنیا میں نہیں آنے دیں گے۔ بدنامی کا خوف انہیں مجھے کھو دینے کے خوف سے ذیادہ ہوگا۔ پاپا بیوروکریٹ ہیں ایسا کوئی اسکینڈل انکی ساکھ کوکتنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔۔ اس سے بہتر
وہ سوچ کے رہ گئ۔ جی ہائے کو افسوس سا ہوا اسے یقینا یہ مشورہ نہیں دینا چاہیئے تھا اگر وہ واپس جا سکتی ہوتی تو جا چکی ہوتی۔ اسے دوسرا خیال آیا۔
تم اریزہ سے مدد نہیں مانگتیں؟ وہ تو کافئ امیر ہے نا؟
وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
میں تم پر ذیادہ دن بوجھ نہیں بنوں گی۔ مجھے اندازہ ہے تمہارے اوپر میرا بار۔۔
اس نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جی ہائے نے بات کاٹ دی۔
فارگیٹ اٹ۔ میرے اتنے خرچے نہیں دوسرا میں قومی سطح پر جمناسٹکس کرتی ہوں میری اسپانسرشپ بڑی ہے۔ یہ سب میرے لیئے مسلئہ نہیں ہاں تم پریگننٹ ہو تمہارے ریگولر چیک اپس ہوں گے دوائیں سپلیمنٹس بھی تو چاہیئے ہوں گے اسکے لیئے خاصی رقم درکار ہوگی تمہیں پھر اس بچے کو پالوگی کیسے؟ تمہیں ایڈون کی بات مان لینی چاہیئے تھئ۔
بس کرو۔اس نے زور سے چمچ ٹرے پر پٹخا۔۔
جسے دیکھو اس بچے کو مارنے کا مشورہ دینے چلا آتا۔ ایک جان میرے اندر پل رہی ہے ایک نئی زندگی ۔ تم لوگ دیکھ نہیں سکتے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ کچھ نہیں ہے۔ یہ انسان ہے میرے تمہاری طرح کا۔ اسکو مارنا اتنا آسان لگتا ہے؟
وہ ایکدم غضبناک ہوگئ تھی۔ اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا تنفس بھی تیز ہوگیا تھا۔
ریلیکس۔ جی ہائے نے اسکا ہاتھ تھاما۔وہ ہاتھ چھڑاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں تمہاری فکر میں کہہ رہی تھی۔ بیانئے۔ گاڈ ایسے بھی لوگ ہیں دنیا میں جو بچہ ابھی دنیا میں آیا نہیں اسکے لیئے لڑ رہی ہو لوگ تو اپنی پلی پلائی جوان ہوتی اولاد کو دھتکار دیتے ہیں۔ جانے د واب بیٹھ بھی جائو۔
اسکی معزرت بھی اسکا غصہ ٹھنڈا نہیں کر پا رہی تھی۔
میں جلد اپنا انتظام کر لوں گی ۔ تم نے میری جتنی بھی مدد کی ہے اسکا احسان میں نہیں اتار سکتی پھر بھی دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں تمہارا۔
اسکی بات پر جی ہائے مسکرا دی۔
آننیانگ؟ جی ہائے ہیئر۔ ایم ناٹ اریزہ۔
اس نے جتاتے ہوئے دونوں ہاتھ ویو کیئے۔
میں جھوٹے منہ بھئ کسی کو دوست کہہ دوں تو نبھاتی ہوں۔ شکریہ مت اداکرو بیٹھ کر کھانا ختم کرو۔
اس نے پیار بھری دھونس جمائی۔ وہ پھر بھی نہ بیٹھی تو اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی بٹھایا۔
گاڈ تمہارا ٹیمپرامنٹ ایک الگ ہی چیز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی پر بازو کا وار کرکے اسے پیچھے دھکیلتے پیروں سے لہروں کو چیرتے اس نے پول کے کتنے چکر کاٹ ڈالے تھے۔ اسکی تیراکی کی رفتار غیر معمولی تھی۔ پول کے گرد لگی نشستوں پر دو چار اور لوگ بھی تھے ۔پول میں مگر وہ اکیلا تھا اتنئ سخت سردی میں تیراکی کرنا کسی نارمل انسان کا کام تھا بھی نہیں۔۔کسی نے اسے ٹوکا بھی تھا مگر وہ ان سنی کیئے خود کو یونہی تھکاتا رہا ۔ یہاں تک کہ بازو شل سے ہوگئے۔ یہ پہلی بار تھا سوئمنگ بھئ اسکا انتشار کم نہ کرسکی۔ وہ تھک کر نڈھال ہو کر پول سے باہر نکل آیا۔ باتھ گائون لپیٹتا وہ پول کے ساتھ سجی آرم دہ کرسی پر آگرا
کم سن اسکے برابر والی آرام دہ کرسی پر نیم دراز تھا۔ اسے دیکھ کر سیدھا ہو بیٹھا۔پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھا دی
ہیون بوتل تھام کر چند لمحے اسے دیکھتا ہی رہا۔ اسکے بازو اتنے شل ہو چکے تھے کہ لگتا تھا بوتل اٹھا کر منہ تک نہ لے جا سکے گا۔کم سن نے سر جھٹکا اور آگے بڑھ کر بوتل خود پکڑ کر اسے پانی پلانے لگا۔ پیاس اتنی محسوس ہو رہی تھی کہ جیسے سارا پول بھی ختم کرلے تو پیاس نہ بجھے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا اسے اچھو ہوا تھا اتنا زو رسے کہ جیسے پھیپھڑوں تک پانی چلا گیا ہو۔ بری طرح کھانستے وہ دیکھتے ہی دیکھتے چہرہ لال ہوگیا۔ کم سن نے اسکی پیٹھ سہلائی کندھے دبائے تب جا کر کچھ سکون ہوا۔اسکی آنکھیں پہلے ہی پانی میں رہنے سے سرخ ہو رہی تھیں ۔
کیا ہوا ہے؟ کوئی بات ہوئی ہے ہیون؟
کم سن پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ وہ قصدا سر جھکائے بیٹھا تھا۔ انڈورپول تھا ماحول جدید ٹیکنالوجی سے انہوں نے گرم کر رکھا تھا پانی بھی ٹھنڈا نہیں تھا پھر بھی دسمبر یوں پاگلوں کی طرح تیراکی کرنے والا مہینہ نہیں تھا۔ وہ کانپ نہیں رہا تھا مگر اسکے جسم کا رواں رواں کھڑا ہوا تھا۔
تم یہاں کیسے ؟ میں نے تو تمہیں نہیں بلایا تھا؟
اس نے الٹا سوال کیا۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
تمہارے پول مینجر نے کال کی تھی تم پر پھر تیراکی کا بھوت سوار ہوا ہے۔ پول تو تیار کردیا مگر مجھے بھی فون کردیا۔ کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ چھوڑ کر بھاگا آیا ہوں۔ اور شکر ہے ۔۔
ہیون نڈھال سا ہو کر چکرایا تھا وہ بولتے بولتے بات ادھوری چھوڑ کر لپکا اسکو کندھے سے لگا کر گرنے سے بچایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوئٹ کھلوا کروہ اسے سہارا دے کر اندر لا یا تھا۔اسکا جسم بری طرح ٹوٹ رہا تھا۔ مینجر انکے ہمراہ تھا ساتھ ٹرالی گھسیٹ کر لاتا ویٹر بھئ۔ اسکے لیئے کھانے پینے کی چیزیں اعضاء کو پرسکون کرنے والی دیسی دوا سے لیکر ہلکی پھلکی شراب تک سجی تھی۔ یہ پورا جم خانہ لی گروپ کا تھا۔ کئی منزلہ عمارت میں سب سے نیچے پول تھا اس سے اوپر والی منزل پر بار اور پھر اس سے اوپر مہمان خانہ۔ سب سے اوپر گھر کی طرز پر یہ سویٹ بنے ہوئے تھے۔ لی گروپ کے تجارتی وفود کو یہیں ٹھہرایا جاتا تھا۔ یہ سویٹ اکثر ان دونوں کے استعمال میں ہی رہتا تھایا ہیون اگر پارٹی رکھتا تو اسکے مہمانوں کے۔ ہیون کو بیڈ پر لٹا کر اس نے مینجر او رویٹر کو شکریئے کے ساتھ واپس بھیج دیا تھا۔ ہیون نے کہنی اپنی آنکھوں پر ٹکا لی اسکی آنکھوں میں شدید جلن ہو رہی تھی۔
اب بتائوگے کیا ہوا ہے تمہیں؟ کیا پریشانی ہے؟
کم سن اسکی فکر میں ہلکان ہو رہا تھا۔ اسکے لیئےپینے والی دوا کا گلاس پکڑے سرہانےکھڑا منت کرنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
کچھ نہیں۔
وہ قصدا مسکرانے کی کوشش کرتا سیدھا ہوا اور اسکی تسلی کیلئے بنا چوں چراں کیئے دوائی کا گلاس بھی منہ کو لگا لیا۔
کم سن نے اسے دیکھا پھر اٹھ کر اسکے اتارے ہوئے کپڑوں کی تلاشی لینے لگا۔ ہیون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
اس نے اسکے اپر کی جیب کی تلاشی لی تو ایک انگوٹھی کیس مٹھئ میں آگیا۔ اس نے جھٹ نکال کر کھولا اندر بے حد قیمتی انگوٹھئ جگمگا رہی تھی۔
یہ۔ اس نے حیرت سے ہیون کو دیکھا۔۔۔ انگوٹھئ، ہیون ، لڑکی۔۔
اس کے ذہن نے تیزی سے کڑیاں ملائیں۔
تم پرپوزکر رہے ہو ؟ کسے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اریزہ کو؟
اس کی حیرت دیدنی تھئ۔ ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی۔
کرچکا ہوں۔۔۔
اس نے لحظے بھر کا وقفہ لیا۔ کم سن کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا مگر ابھئ ایک او رحیرت کا جھٹکا باقی تھا لگنا۔
اور اس نے انکاربھی کردیا۔
ہیون نے جملہ پورا ادا کیا اسکے ہاتھ سے انگوٹھی چھوٹ کر گرتے گرتے بچی۔
دے( کیا)؟ ویئو؟(کیوں)؟۔۔
اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ سوچ بھئ نہیں سکتا تھا کوئی لڑکی ہیون کو انکار کر سکتی ہے۔
میں فرینڈ زونڈ کردیا گیا ہوں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ہنسا تھا مگر اسکی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے۔ کم سن تڑپ کر اسکے پاس آبیٹھا۔
کیا مطلب؟ ایسے کیسے۔
وہ کہتی ہے اس نے کبھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔
ہیون کا گلا رندھ سا گیا۔
تو اب سوچ لے۔ ایسے کیسے کوئی منہ پر انکار کرسکتی ہے؟۔۔
کم سن شاکڈ تھا۔ ہیون خود پر قابو پا رہا تھا۔ اسےلگ رہا تھا وہ کچھ بولا تو شائد ضبط ٹوٹ جائے گا۔
میں بات کروں اس سے؟
اسے دکھ ہو رہا تھا۔ ہیون کو اسکے خلوص پر پیار آگیا۔
کیا بات کروگے ؟ وہ استہزائیہ ہنسا۔۔
یہی کہ۔
کم سن کو سمجھ نہ آیا کیا کہے۔پھر کچھ نہ کچھ سوجھ گیا
تم دونوں دوست ہو اچھی انڈر اسٹنڈنگ ہے تم دونوں میں ہو سکتا ہے وہ ابھی لائٹلی لے رہی ہو۔ ابھی وہ انوالو نہیں ہے پر ہو تو سکتی ہے۔ تم خوش شکل ہو خوش مزاج ہو ، خوش اطوار ہو اچھے گھرانے سے تعلق ہے تمہارا۔ وہ پاکستان سے آئی ہے اسے اندازہ نہیں ہوگا ابھی تمہارے بارے میں سب سے بڑھ کر اسے کیا پتہ لی گروپ کیا بلا ہے؟
وہ اسکا دل بڑھانا چاہ رہا تھا مگر اسکی اس کوشش کا بالکا الٹا اثر ہوا۔
لی گروپ اپنے تعارف کا حصہ نہیں بنانا مجھے۔ میں پچھلے بارہ تیرہ سالوں سے خود کو باور کراتا آیا ہوں ایک دن مجھے اپنے اوپر سے لی کا ٹیگ ہٹاناہے۔ اگر اسے پیسے سے متاثر ہونا ہے تو مجھے ایسی لڑکی نہیں چاہیئے اپنی زندگئ میں۔ میں ہیون ویدا الیکسی ہوں بس ۔
وہ ایکدم اتنا بھڑک اٹھا تھا کہ کم سن چپ ہوگیا۔
اچھا فی الحال تم شانت رہو۔ بلکہ تھوڑی دیر آرام کرو۔
اس نے زبردستی اسکو کندھے سے پکڑ کر لٹا دیا۔
ہیون ذہنی طور پر اتنا منتشر تھا کہ مزاحمت بھی نہ کرسکا۔چپ چاپ لیٹ گیا۔
کم سن احتیاط سے انگوٹھی کو کیس میں واپس رکھ کر بند کرنے لگا کہ خیال آیا انگوٹھی نکال کر چٹکی میں دبا کرغور سے دیکھنے لگا۔ آنکھوں کو خیرہ کردینے والا دمکتا ہیرا وائٹ گولڈ میں سجا تھا۔ انگوٹھی اپنی بناوٹ سے ہی نہایت انمول اور قیمتی دکھائی دیتی تھی۔کیس کوریا کے سب سے مشہوربرانڈ کا تھا۔
کوئی لڑکی اس انگوٹھی کو منع کر سکتی ہے؟ اسکو حیرت ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دو گھنٹے بے خبر سوتا رہا تھا پھر بھی ذہن بوجھل تھا۔ کم سن اسکو سلا کر خود چلا گیا تھا۔۔ وہ دوا کے زیر اثر سویاتھا آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ بھی نہ آیا کہ کہاں ہے۔ فون چیک کیا تو پانچ چھے آہبوجی کی مسڈ کالز پڑی۔ تھیں۔ لمبا چوڑا پیغام بھی تھا جسے اس نے پڑھنے کی زحمت نہ کی۔ یقینا انکے پی اے نے ہی بھیجا ہوگا۔وہ بمشکل چکراتے سر کو سنبھالتے گاڑی جم خانہ میں ہی چھوڑ کر۔ٹیکسی سے گھر آیا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے آہبوجی کا ایک اور پیغام ملا تھا۔ فورا اسٹڈی میں آئو کچھ بات کرنی ہے ۔ وہ انکے پی اے کو دیکھ کر رہ گیا اس نے مزاج بھانپتے ہوئے ہونٹ بھینچے اور فوری منظر سے غائب ہونے میں بہتری سمجھی۔ ہیون اس وقت کسی نئے شوشے کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا مگر قسمت میں یہی لکھا تھا شائد۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے انکی اسٹڈی میں چلا آیا۔ ہلکی سی دستک پر اسے اندر آنے کی اجازت فورا مل گئ۔
آئو ہیون آئو یہ میرا بیٹا ہے ہیون۔
آہبوجی سامنے ہی صوفے پر دراز تھے اسے دیکھ کر جس خوشگوار انداز میں بولے اسے اپنی خیریت مشکوک لگنے لگی۔ اسکا اندازہ غلط نہیں تھا۔ ان کے مقابل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ تکلف سے رکھے گلابی گھٹنوں تک کے مغربی لباس میں ملبوس دوشیزہ براجمان تھی۔
اتنے پرتپاک انداز میں اسی سے تعارف کرایا گیا تھا۔
ہیون یہ سارا ہیں ایمرلڈ گروپ کے ڈائریکٹر یوسانگ ہو کی اکلوتئ بیٹئ۔ حال ہی میں امریکہ سے ایم بی اے کی تعلیم مکمل کرکے آئی ہے۔اور سارا یا یہ ہیون ہے اسکو میں امریکہ سے ہی ایم۔۔
اس سے قبل وہ پھر اپنا من پسند دکھڑا روتے اس نے بات کاٹ کرسلام کر دیا ۔
ہیلو۔
ہیلو ۔ اس نے بھئ مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
تم لوگ بیٹھ کر باتیں کرو میں ذرا ایک ضرور فون کرکے آتا ہوں۔
آہبوجی یقینا ان کو پرائیویسی دینے کیلئے بہانہ بنا کر اٹھے تھے۔ وہ اس طرح کی انکی کئی کوششیں ناکام بنا چکا تھا جبھی اس بار اسے سرپرائز دیا گیا تھا۔ پچھلی کوششوں کے برعکس اس وقت سب سے غلط موقع تھا۔ وہ انکو کہنا چاہتا تھا کہ وہ تھکا ہوا ہے ابھی آیا ہے مگر انہوں نے کچھ ذیادہ ہی پھرتی دکھائئ۔
آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟
سارا نے بات برائے بات پوچھا تھا۔ وہ خشک ہوتے لبوں کو بھینچتا ہوا اسکے مقابل بیٹھ گیا۔
ماس کمیونیکشنز اینڈ میڈیا سائنسزمیرا میجر ہے۔
اس نے مختصر جواب دیا تھا۔ سارا ذرا سا ہنسی پھر صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ اور تھوڑا سا ریلیکس ہو کر بیٹھ گئ۔
سو تم انجان ہو اس ارینج ڈیٹ سےیا مجھ سے ذیادہ بیزار ہو انکل نے تو پچھلے آدھے گھنٹے سے مجھے یوں انتظارکرایا تھا جیسے تم اس ڈیٹ کیلئے پارلر سے تیا رہو کر آرہے ہو۔ پر تمہیں دیکھ کر لگتاہے کسی سے تازہ تازہ بریک اپ کرکے آرہے ہو۔ وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔
رومیو۔۔۔
اسکی ہنگل پر امریکی لہجہ چڑھا ہوا تھا۔۔ خالص امریکیوں کی طرح بے تکلفی سے وہ اس پر جملے چست کیے جا رہی تھی۔اسکا اندازہ کمال کا تھا۔ اسکی جان جل گئ سو ناگواری سے ٹوک دیا۔
معاف کرنا ہماری پہلی ملاقات ہے ہمیں گفتگو میں آپ جناب کا لحاظ قائم رکھنا چاہیے۔۔
اسکا جواب سارا کیلئے غیر متوقع تھا پھر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
بیان۔ در اصل امریکہ میں رہ کر مجھ سے غیر ضروری کوریائی ادب آداب کا لحاظ رکھنا مشکل لگتا ہے ویسے تم مجھ سے چھوٹے ہی ہوگے ایک دو سال۔ تو برا مت مانو۔ وہ کندھے اچکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
بیٹھے بیٹھے تھک گئ میں۔
دو مہینے میں چوتھی ڈیٹ ہے میری۔۔۔ نرو پر آرہا ہے میری بھی۔ ۔ جا نے یہ کوریائی والدین کب ان گھسے پٹے طریقوں سے ڈیٹس ارینج کروانا چھوڑیں گے۔ لائک میں ابھی تو آئی ہوں اتنی جلدی کیا ہے۔
وہ دونوں ہاتھ ہلاہلا کر بہت انداز سے ٹہل رہی تھی۔ اپنے سنگل صوفے سے اٹھ کر بولتے ہوئے ا س نے مختصر سا چکر لگایا پھر صوفے کی پشت پر کہنیاں ٹکا کر اس کو بغور دیکھنے لگی۔
سو کیا ارادے ہیں ؟
ہوں۔ ؟ ہیون چونک کر دیکھنے لگا وہ اسکا مطلب سمجھ نہیں سکا تھا۔
اس ڈیٹ کیلئے کیا فیڈ بیک دوں میں؟
ہیون نگاہ کا زاویہ پھیرکر رہ گیا۔ سارا نے اسکا انداز محسوس کیا۔ پھر جیسے لطف لیتے ہوئے سر ہلایا۔
گڈ ۔ تم مجھ سے بھی ذیادہ بیزار دکھائی دیتے ہو۔۔
خیر۔ وہ گھوم کر اسکے مقابل تکلف سے آن بیٹھی۔ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے تسلی سے بولی۔ ہیون نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
یہ سب اسے جتانے کا مطلب ؟ اگر نہیں ہی کہنا ہے تو جائے کہے اسکو کیوں جتا رہی ہے؟
سنو۔۔ میری پچھلی تینوں ڈیٹس میں تم سب سے ذیادہ ہینڈسم ہو۔ اور بولتے بھی کم ہو۔گاڈ لاسٹ ڈیٹ میں تو میں نے گن کر چار جملے بولے تھے بس۔
وہ ذرا سا ہنسئ۔
لانگ اسٹوری کٹ شارٹ۔ مجھے تم اچھے لگے ہو ۔ اگر میں اچھا فیڈ بیک دوں تو ہمارے پیرنٹس کم از کم ہمارے لیئے مزید کوئی نئی ڈیٹ ارینج نہیں کریں گے۔
اسکی بات اب ہیون کو سمجھ آئی تھی۔۔ وہ کھلکھلا دی
لک میرا ابھی شادی وادی کا کوئی موڈ نہیں۔ اور لگتا ہے تمہارا بھئ نہیں ہےنا۔
تو؟ ہیون نے پیشانی پر کئی بل ڈال لیئے تھے۔
تو ڈیل؟
وہ اپنا مرمریں ہاتھ اسکی جانب بڑھارہی تھی۔
ہیون نے لحظہ بھر کو سوچا پھر ہاتھ بڑھا دیا۔۔
ڈیل۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنگشن فون پر بات کر رہی تھی جب ہوپ ایکدم بنا اجازت کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وہ چونکی مگر اسکو سر کے اشارے سے آنیانگ کہا۔ وہ اسکے مقابل کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔
دے آں۔ دے۔ دے۔ اس نے جلدی جلدی بات ختم کرکے فون کریڈل پر رکھا۔
کیسی ہو ہوپ بڑے دن بعد آئیں۔۔
وہ ازلی مشفق انداز میں پوچھ رہی تھی۔
تو آپکو یاد ہے میں بڑے دنوں بعد آئی ہوں۔ پھر کوئی ہے خیر خبر۔ اب اگر آپ کے پاس مجھے بتانے کیلئے کچھ نہیں تو میں آئیندہ کبھی آپکو تنگ کرنے نہیں آئوں گی۔ اگر کچھ ہے جو آپ بتا سکیں تو مزید چھپانے کی ضرورت نہیں آپکو۔
ہوپ نے بلا تمہید پوچھا بلکہ تقریر جھاڑ دی۔ وہ اسکی ٹال مٹول سے تنگ آچکی تھئ اسے لگتا تھا گنگشن کے پاس کوئی خبر ہے جو جان کے وہ اس سے چھپا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہی تھی کہ واقعی گنگشن ایسا ہی کر رہی تھی ابھئ بھئ اسکے اٹل انداز کو دیکھ کر بھی سچ بتانے کی ہمت کرنا جوکھم تھا اسکے لیئے۔ ۔ وہ گہری سانس لیکر کرسی کی پشت سے سر ٹکا گئ۔ چند لمحے لفظ جوڑتی رہی جملہ بناتئ رہی اسکی ہچکچاہٹ ہوپ اسکے چہرے سے پڑھ سکتی تھی۔ اتنے دنوں میں وہ خود کو بارہا باور کرا چکی تھی کہ اچھی خبرکا ملنا اسکے لیئے مشکل ہے۔مگر لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ اس خبر کے خوف سے دل ہی دل میں لرز اٹھی تھی۔ اسکو اپنی دھڑکنیں جیسے سنائئ دے رہی تھیں۔
جو بھی اطلاع ہے بتا دیں۔
اس نے بے تابی سے کہا۔
تمہاری ماں چین سے شمالی کوریا واپس جب بھجوائی گئ تھئ تو تمہاری صرف سب سے چھوٹی بہن اسکے ہمراہ تھی۔ تمہاری دوسری بہن کیمپ سے بھاگنے کی کوشش میں اندھی گولی کا شکار ہوگئ۔ اسکی لاش بھی چینی حکام نے شمالی کوریا بھجوا۔۔۔
چھوٹی توزندہ ہے نا؟ اب تو خیر وہ بھی بڑی ہوگئ ہوگی اور ماں؟؟؟
اس نے بے تابئ سے بات کاٹی۔ زندہ رہ جانے والوں کی خبر کا ملنا مرجانے والوں کی خبر سے اہم تھا۔ پانچ بہن بھائیوں میں سے چار بھاگے تھے تین پہنچ پائے تھے چین اور اب ان میں سے بھی ایک اب نہیں رہا تھا۔
گنگشن نے ترحم بھری نگاہ سے اسکو دیکھا۔وہ جتنی بھی بے نیاز بن جائے کسی کے زندہ بچ جانے کی امید اسکو زندگی کی گاڑی گھسیٹنے پر مجبور رکھتی تھی۔ ۔ لیکن جھوٹی امید کب تک ساتھ نبھا سکتی ہے۔ چونکہ اب اسکے پاس ہر تفصیل موجود تھی اس نے مزید حقائق پر پردہ ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے نگاہ چرائی ۔۔ یہ سب سے مشکل ہوتا تھا اسکے لیئے کسی کو اسکے پیاروں کی دائمی جدائی کی خبر دینا۔
ہم نے انکا بھی پتہ کروانے کی کوشش کی۔ مگر کوئی اچھی خبر نہیں مل سکی۔ تمہاری والدہ بہت بیمار تھیں ان سے اتنی جسمانی مشقت نہ ہوسکی اور وہ تین سال قبل کیمپ میں ہی انتقال کر گئیں۔
گنگشن نے بہت مشکل سے یہ چند جملے سوچ سوچ کر ادا کیئے تھے۔ ہوپ کا رنگ بالکل سفید پڑگیا تھا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ ساکت سی بیٹھی گنگشن کی شکل دیکھ رہی تھی۔گنگشن نے گہری سانس لیتے ہوئے اپنی دراز سے ایک فائل نکال کر اسکی جانب بڑھا دی۔
اس فائل میں تمام تفصیلات ہیں۔ تمہاری دوسری بہن بھی کیمپ کی سختیوں کا شکار ہوگئ۔
ہوپ نے جھپٹ کر وہ فائل لی تھی او رتیزی سے صفحے پلٹے۔ سرکاری کاغذات کیمپ میں جمع کرتے وقت جو تصاویر لی جاتی تھیں ریکارڈ کیلیے وہ آخر میں لاش کی۔تصویر تاکہ کوئی بھولا بسرا لواحقین میں سے پوچھنے آئے تو ثبوت دیا جا سکے۔ اسکی ماں کی کئی تصاویر تھیں ۔ چینی حکام نے واپس بھجواتے وقت جو تصاویر و کاغذات بنائے وہ بھی موجود تھے اور آخر میں۔۔
اس نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں۔ تصو رکی آنکھ سے بارہا اس منظر کو دیکھا تھا تب بھی جو چہرہ بنتا تھا اس پر اتنی زردی نہیں کھنڈی تھی اتنا بڑھاپا نہیں تھا اتنے چہرے پر زخم نہیں تھے۔ اس کی آنکھیں جل رہی تھیں مگر حیرت انگیز طور پر اسکی آنکھ سے آنسو نہ نکلا۔ اس نے سب کاغذ پلٹے پھر فائل بند کردی۔
اس میں میری بہن نہیں ہے؟۔۔

گنگشن باقائدہ اٹھ کر اسکے پاس آئی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینےلگی۔
بچوں کا اتنا ریکارڈ نہیں ملتا ہاں تمہاری ماں کی ایک تصویر ہے اس میں جو وہ ایک مٹی کے ڈھیر کے پاس اکڑوں بیٹھی ہے۔ کسی فوجی نے یہ تصویر ایک چینی اخبار کو بیچی تھی۔ اس کا تراشہ ہے اس میں۔ قوی امکان یہی ہے وہ ننھی قبر۔۔۔
ہوپ نے سر ہلایا کئی آنسو اسکے گالوں پرپھسل آئے۔ گنگشن نے اسکاسر اپنے ساتھ لگا لیا۔
صبر کرو ۔۔ تم بہت بہادر ہو ۔ تم زندگی سے لڑ کر جینا جانتی ہو۔ خدا ایسے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
وہ دھیرے دھیرے اسکا سر تھپک رہی تھیں۔۔۔
ہوپ کو لگتا تھا اسکی آنکھیں خشک ہو چکی ہیں مگر اس وقت ایک بار پھر سیل رواں جاری ہوا تھا۔ ضبط کے سب بندھن ٹوٹے تھے وہ گنگشن کی بانہوں میں بکھر کر رودی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ ابھئ تک نہیں آئی تھی پورے اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جلا کروہ اپنے لیئے خوب سارے فرائز تک کر کمرے میں آئی۔ بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے موبائل اٹھا لیا۔ موبائل نا چاہتے ہوئے بھی اسکو استعمال کرنا پڑا تھا۔ بمشکل دو دن دو ررہی تھی فون سے ۔ ہیون نے اسکا پرانا کنکشن بحال نہیں کروایا تھا اب نیا نمبر تھا۔چند ہی نمبر سیو تھے گوارا ، ہوپ، ہیون ، کم سن یعنی جتنے ہیون کے پاس تھے۔ دو دن سے صارم سے بات نہیں ہوئی تھی یقینا وہ پریشان ہو رہا ہوگا۔ صارم کا فون نمبر تو اسے منہ زبانی یا دتھا اسی کو کال ملادی۔
ہیلو۔ انجان نمبر سو اسکا انداز محتاط تھا۔
ہائے۔ اسے بھی شرارت سوجھی بن بن کر بولی۔
صارم سے بات ہوسکتی ہے؟
نہیں صارم تو دبئی ہوتا ہے اب یہ میرے پاس ہوتا ہے نمبر۔۔خیر اسے چھوڑیں آپ بتائیں کہاں مر گئیں تھیں ؟ دو دن سے فون ملا ملا کر تھک گیا خالو بھی پریشان ہو رہے تھے۔
وہ بھی ایک کائیاں تھا فورا پہچان گیا۔ کان کھینچنے والے انداز میں پوچھنے لگا۔
وہ میرا فون ٹوٹ گیا تھا۔
اسے بتانا پڑا۔
ٹوٹ گیا تھا کیسے؟
وہ حیران ہوا۔
تم اپنا سر تڑوالو مگر فون کو کچھ نہ ہونے دو یہ انہونی کیسے ہوئی؟
بس وہ گر گیا تھا سڑک پر گاڑی گزر گئ اس پر سے۔
اس نے سچ بتایا وہ آگے سے بری طرح پریشان ہوگیا
خالی فون کیسے گر گیا؟ تم بھی تو جڑی ہوگی اس سے ؟ ایکسیڈنٹ ہوا کیا؟ تم ٹھیک ہو؟
ارے بابا بالکل ٹھیک ہوں فون گر گیا تھا روڈ پر میں ٹھیک ہوں خیریت سے ہوں فکر نہ کرو
وہ تسلی دے رہی تھی مگر اسے تسلی ہوئی نہیں۔
کال فورا بند کردی۔ چند لمحوں کے بعد ویڈیو کال تھی۔
دیکھ لو کر لو تسلی بالکل ٹھیک ٹھاک خیریت سےہوں۔ آئو تم بھی چپس کھالو۔
وہ قصدا چڑانے کو اسے چپس دکھا دکھا کر کھا رہی تھی۔
کوئی نہیں ریگولر جم لگا رہاہوں چپس مہینے ہورہے دیکھے بھی نہیں اور تم اتنے چپس کھا رہی ہو پھر پہلے جیسی ہوجائوگی ۔
وہ چھیڑنے سے باز نہ آیا۔۔ اس نے زبان چڑائی
چلو شکر ہے ون پیس میں ہی لگ رہی ہو۔۔ نیا فون خود لیا ہے؟ کہاں سے پیسے آئے؟
اب اس کا تفتیشی موڈ آن ہوچکا تھا۔
ہیون نے لا کر دیا ہے۔۔
اسکی آواز کم سے کم ہوتی گئ
ایک اور احسان چڑھا لیا ابھی اسکواکیڈمی فیس وغیرہ بھی نہیں دی ہےنا؟
پیسے بھجوائے تم نے؟ وہ شرمندگئ مٹانے کو اسے آنکھیں دکھانے لگی
بھجوا دیئے ہیں جائو اپنا اکائونٹ چیک کرو۔ اور جاب چھوڑی کہ نہیں خالو خفا ہو رہے تھے اس سے کہو جاب چھوڑے پڑھائی پر دھیان دے بس
ہوں صبح چیک کرتی ہوں موبائل تھا کہاں پاس جو مجھے پتہ لگتا اچھا یہ نمبر سیو کرلینا۔
وہ فرصت سے چپس اڑا رہی تھی۔
او ریہ تم اکیلی ہو اپارٹمنٹ میں۔؟ سہیلیاں کہاں ہیں تمہاری۔ ہمیشہ تمہارے پس منظر میں مرغیوں کی کٹاک کٹاک کی آواز آتئ رہتی ہے آج بڑی خاموشی ہے۔
صارم آنکھیں مٹکا مٹکا کر کمرے کے باقی منظر کو گھور رہا تھا۔
ڈیلے باہر گر جائیں گے آنکھیں مت پھاڑو۔
اس نے ٹوک دیا۔
گوارا گائوں گئ ہوئی ہے بتایا تو تھا اور ہوپ ابھی واپس نہیں لوٹی۔
تم ڈر ور نہیں رہیں کمال ہے؟
وہ خود آرام سے لائونج میں کائوچ پر دراز ٹی وی دیکھ رہا تھا اسے ڈرانے پر تل گیا۔ ایکدم چونک کے سیدھا ہوا
یہ تمہارے پیچھے کالا کالا کیا ہے۔
اس نے اتنے وثوق سے کہا کہ وہ فورا گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی۔
صارم کا قہقہہ بلند ہوا تھا او راسکا پارہ چڑھا تھا
کمینے ہو تم لعنتی۔ سچ مچ میں اکیلی ہوں اور تم ڈرا رہے ہو۔
وہ بولتے بولتے روہانسی ہوگئ۔ تبھی داخلی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔سانس رک سی گئ۔ اسکے تاثرات دیکھ کر صارم بھی سیدھا ہو بیٹھا
کیا ہوا کون ہے؟
کوئی آرہا ہے ۔۔
اس کے منہ سے سرسراتی ہوئی آواز نکلی
ڈھیلے قدموں کی چاپ کمرے کے کھلے دروازے تک آئی او ر ہوپ کا ہیولا نمودار ہوا۔
کیا ہوا اریزہ کون ہے؟
اریزہ آنکھیں پھاڑےسانس روکے بھونچکا سی سامنے دیکھ رہی تھی صارم کو سچ مچ گھبراہٹ ہونے لگی
اریزہ۔۔۔ اریزہ ٹھیک ہو تم کون آیا ہے؟
ہوپ ۔ اس نے آرام سے آنکھیں مٹکا کر کندھے اچکائے
صارم دانت پیس کر رہ گیا۔ وہ خود کھلکھلا کر ہنس دی۔
بہت زہر ہو تم۔ اس نے غصے میں فون بند کردیا
ارے۔ اسکےاتنے شدید ردعمل کا اندازہ نہیں تھا مگر ہنسی بھی بہت آرہی تھی۔ ہاتھ چکنے تھے اس نے دوبارہ ڈائل کرنا چاہا مگر فون کی لائٹ بند ہوگئ اس نے موبائل رکھ دیا۔
ہوپ دروازے میں ایستادہ چہرے پر مضمحل سی مسکراہٹ سجائےاسے ہی دیکھ رہی تھی۔
آننیانگ۔ اس نے ہاتھ ہلایا۔ اسے دیکھ کر اتنے خطرناک تاثرات دیئے تھے ازالہ ضروری تھا۔
آئو چپس کھالو ابھی بنائے ہیں گرم گرم ہیں۔ آج تو لیٹ نہیں ہو گئیں تم۔
وہ خیر مقدمی انداز میں بلا رہی تھی۔
ہوپ تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔ اسکی آفر کو اشارے سے منع کرتی آکر اپنی دراز کھول کر ڈائری نکالنے لگی۔
اریزہ کندھے اچکا کر چپس کی۔طرف متوجہ ہوگئ۔
یہ خط گنگشن انی کو دے دینا۔
اس نے ڈائری میں سے ایک موڑا ہوا کاغذ نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
کیا ہے یہ؟
اسکے ہاتھ چکنے تھے سو اسی سے پوچھنے لگی۔
کچھ خاص نہیں بس اعتراف ہے۔ تم سے ملنے آئی تھی میں۔ شکریہ ادا کرنے تم نے دل سے دعا کی تھی شائد میرے لیئے۔ قبول ہوگئ۔
کونسی دعا۔
وہ پلیٹ سائیڈ میں کرکے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو رول اٹھا کر ہاتھ صاف کرنے لگی۔
تم نے نماز میں دعا کی تھی نا میرے گھر والوں کی اطلاع مل جائے ۔
آہاں۔ اسے یاد آیا۔
تو مل گئ؟ سب ٹھیک ہیں نا۔ وہ خوش ہو کر پوچھ رہی تھی۔ اپنی دعائوں کی قبولیت پر یقین تو تھا مگر اتنی جلدی پر خوشی بھی بہت ہوئی۔
مبارک ہوبہت بہت۔۔ میں بہت خوش ہوں تمہارے لیئے۔
وہ بیڈ سے اتر کر بھاگئ آئی آکر اس سے لپٹ گئ۔ ہوپ جو اسکی غلط فہمی دور کرنے کیلئے لب وا کیے تھی ہونٹ بھینچ گئ۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی اسکے لیئے ہوپ نے اسکی محبت کو دل سے محسوس کیا تھا۔ اس وقت غیر ارادی طو رپر اسکے بازو اریزہ کے گرد بندھ گئے تھے۔
ٹریٹ لوں گئ میں۔
اریزہ ا س سے الگ ہوتے ہوئے ٹریٹ کی فرمائش کررہی تھی۔ ہوپ نے سوچا پھر اپنا پرس اسکی جانب بڑھا دیا
آج ہی تنخواہ ملی ہے سب تمہاری۔ اپنی مرضی کی ٹریٹ لے لینا۔
اریزہ سر کھجانے لگی۔
میرا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔ ہم دونوں باہر چلیں گے اکٹھے کل چلتے ہیں ۔ مجھے بھی اپنے پیسے وصولنے ہیں واپسی پر اچھا سا لنچ کریں گے تم ایسا کرو کل چھٹی کر لو۔
کل تو میں یہاں نہیں ہوں گی۔ تم میری جانب سے یاد سے ٹریٹ لے لینا اچھا۔
وہ زبردستی اسکے ہاتھ میں پرس تھما کر بولی۔ اریزہ کے چہرے پر پیار سے ہاتھ رکھا۔
اچھا میں چلتی ہوں بائے۔ اپنا خیال رکھنا۔
وہ اسکے برابر سے ہو کر نکلتی چلی گئ۔
کہاں جا رہی ہو ابھی تو آئی ہو۔
اس نے پکار کر پوچھا مگر جواب نہ ملا ۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا اور بند بھی ہوگیا۔ اس نے کندھے اچکا کر بیڈ پر پڑے اس پرچے کو دیکھا۔ ہنگل میں لکھا تھا وہ ابتدائی ہنگل پڑھ سکتی تھی مگر اسکی لکھائی سمجھنا مشکل تھا۔ اس نے تھوڑی سی کوشش کے بعد ہار مان لی۔
تبھی فون کی بیل بج اٹھی۔ اسکا موبائل نہیں تھا یہ۔ ہوپ کے پرس میں سے جل بجھ ہوتی روشنی آرہی تھی۔ اس نے اسکا موبائل نکالا انی کالنگ لکھا تھا۔
ہیلو۔
اس نے فون اٹھایا گنگشن چونکیں۔یوبوسیو کی بجائے ہیلو؟؟؟
کون؟ ۔۔۔
میں اریزہ ۔ اس نے بتایا تو وہ پریشان ہوگئیں
ہوپ کہاں ہے اریزہ؟
ابھی باہر گئ ہے۔
اس نے بتایا تو وہ چپ ہوگئیں پھر خیال آیا تو پوچھنے لگیں۔
اسکی طبیعت کیسی ہے رو تو نہیں رہی ذیادہ؟
نہیں کیوں اسکی طبیعت خراب ہے؟
اس نے الٹا سوال کیا۔ وہ شائد ڈرائیو کر رہی تھیں ٹریفک کا شور آرہا تھا۔
نہیں۔۔لیکن وہ پریشان تو ہوگی ظاہر ہے صدمہ اتنا بڑا ہے۔۔ بس اسکا خیال رکھنا مجھے اسکی طرف سے پریشانی ہورہی تھئ میں نے سوچا فون کرلوں بلکہ میں آرہی ہوں ابھی وہیں ہی۔
صدمہ؟ اریزہ سوالیہ ہوئی
کیسا صدمہ؟
اس نے تمہیں نہیں بتایا ؟ وہ مصروف انداز میں بول رہی تھیں۔
اسکی فیملی پوری ختم ہوگئ ہے۔ اسکی والدہ بہنیں بھی۔ بہت دکھی ہو رہی تھی وہ۔ خیریت سے گھر پہنچ تو گئ نا مجھے فکر تھی کہ۔۔۔
اریزہ کے ہاتھ میں موبائل کانپا تھا۔ چند دن قبل کے جملے کانوں میں گونجے ۔
بس انکی اطلاع کا انتظار کر رہی ہوں جی کر۔ اگر زندہ ہوئے تو انکو بلانے کا خرچہ اٹھانے کیلئے پیسہ پیسہ جوڑ رہی ہوں۔ اور اگر۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر چپ ہوگئ۔
اور اگر؟ اریزہ اسکی جانب مکمل مڑ کر پوچھنے لگی۔
ہوپ نے اسکو ہمہ تن گوش دیکھا تو مسکرا دی

اس نے اضطراری انداز میں دیکھا بیگ اسکا یہیں تھا موبائل یہیں پڑا تھا پھر وہ کہاں او رکیوں گئ تھی؟
اور اگر وہ مر چکے ہوئے تو ایک فلور اوراوپر چڑھوں گی اور وہاں سے۔۔۔
اسکے ہاتھوں سے طوطے اڑگئے تھے۔ حواس باختہ سی ہو کرموبائل وہیں پھینک کر وہ بھاگی۔ جوتے پہننے کا بھی وقت نہیں تھا اس وقت وہ گھر کے چپلوں میں اپارٹمنٹ سے باہر نکلی تو پھسل سی گئ۔ پیر سے چپل نکل گئ مگر اسے ہوش نہ تھا۔ پوری راہداری خالی تھی سب سے اوپر جانے والی سیڑھیاں لفٹ کے بالکل سامنے تھیں۔ وہ تیزی سے دو دو کرکے سیڑھیاں پھلانگتی گئ۔ عین اسی وقت لفٹ کا دروازہ کھلا تھا۔۔ سب سے اوپر ٹیرس سا بنا ہوا تھا۔ اسکا دروازہ نیم وا تھا۔ اس نے پورا کھولا تو سامنےملگجا اندھیرا تھا ۔۔
ہوپ وہ پوری طاقت سے پکارنا چاہ رہی تھی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آواز گھٹ گئ۔ ہوپ ریلنگ کو پار کیئے ریلنگ تھامے کھڑی تھی جیسے اگلے کسی بھی لمحے کود جائے گی۔ چھت پر وینٹی لیٹر لگے تھے پائپ بھی تھے۔۔
ہ۔۔ہو۔۔۔ ہوپ۔ اس نے پکارا مگر اپنی آواز خود بھی نہ آسکی۔ وہ بھاگ کر اسے روکنا چاہ رہی تھی کہ اندھیرے میں کسی پائپ سے الجھ کر گر گئ۔ گھٹنے میں بہت زور کی چوٹ آئی اور ہلکی سی آواز بھی ۔ ہوپ نے گردن گھما کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے اسکی شکل دیکھی اسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
مجھے تمہیں نہیں لانا چاہیئے تھا بیان مگر یہ مسلئہ اتنا گمبھیر تھا کہ مجھے لگا تمہیں بتانا چاہیئے۔ یون بن بھی گائوں گیا ہوا ہے اور۔۔
ہیون نے اسے تادیبئ نگاہوں سے دیکھا تو وہ چپ کرگیا۔ لفٹ آہستہ آہستہ اوپر چڑھ رہی تھی۔
دروازہ کھلا تو ہیون کو سیڑھیوں پر کوئی آہٹ سی محسوس ہوئی ۔ وہ یونہی رک کر دیکھنے لگا۔
کیا ہوا ؟ کم سن نے مڑ کر پوچھا تو وہ سر جھٹکتا اسکے پیچھے چلا آیا۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ نیم وا تھا کم سن حیرت سے دیکھتا بیل بجاتا اندر داخل ہوگیا ہیون اپنی دھن میں آرہا تھا کہ چپل سے الجھ گیا اسے چڑ کر دیوار کے ساتھ لگاتے خود بھی اندر چلا آیا۔ کم سن پورے اپارٹمنٹ میں پکارتا پھر رہا تھا۔
اریزہ؟ ہوپ
اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جل رہی تھی۔
کہاں گئیں دونوں یوں گھر کھلا چھوڑ کر۔ کم سن حیران ہورہا تھا۔
ٹیرس میں ہوں گی۔ ہیون نے کہا تو وہ سر ہلاتا ٹیرس کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ہوپ۔ آندے۔ ہوپ رک جائو پلیز ایسا مت کرو۔
بھرائے گلے سے بے تابئ سے پکارتی وہ اپنا گھٹنا سہلاتی لڑکھڑاتی جتنی تیزی سے بلکہ بھاگ سکتی تھی بھاگ کر اسکے پاس آئی۔ وہ حیرت سے منڈیر پر کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی۔ ریلنگ کے آگے بھی اتنی کگر تھی کہ ہوپ آرام سے اسکی جانب مڑ کر ریلنگ تھامے کھڑی تھی۔
ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔
اریزہ نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے
پلیز ہوپ یہ حرکت مت کرو خد اکیلئے ادھر آئو
وہ اسکو بازو سے تھام کر روک دینا چاہتی تھی۔ ہوپ نے کسمساکر خود کو چھڑانا چاہا
میں نے تمہیں بتایا تو تھا اب میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تم نے ناحق زحمت کی۔
جینے کی وجہ یہی کافی ہے کہ تم زندہ ہو۔ پلیز ہم بات کرتے ہیں نا ہوپ۔
وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
اب بہت دیر ہو گئ ہے۔ اس نے یکدم اپنے دونوں ہاتھ ریلنگ سے ہٹا دیئے وہ سر کے بل نیچے جانے کو تھی کگر سے اسکا توازن بگڑا اریزہ کے پاس لمحہ بھر تھا فیصلے کو پوری مضبوطی سےآگےبڑھ کر اس نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ جھٹکا لگا تھا ہوپ کے پیروں تلے سے کگر نکلی تھی اسکا وجود ہوا میں معلق ہوا اریزہ بھی اسکے پورے وزن کے ساتھ نیچے ہوئی ریلنگ اسکی پسلیوں پر کھب رہی تھی ۔
پاگل ہوئی ہو کیا۔ ہوپ چلائی۔
چھوڑو میراہاتھ بے وقوف لڑکی تم بھی گروگی میرے ساتھ۔
نہیں تم میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑو یہ سوچ کر کہ اس وقت اگر تم نے میری مدد نہ کی تو میں بھی تمہارے ساتھ بے موت ماری جائوں گئ۔
تم پاگل ہوگئ ہو۔
ہوپ غصے سے چلائی۔ مگر اریزہ کا ارادہ اٹل تھا وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔
تم کیوں اپنی زندگی کی دشمن بنی ہو ؟ تمہارے اپنے ہیں گھر ہے دوست ہیں میرے لیئے خود کو مشکل میں مت ڈالو تم مجھے اب نہیں واپس کھینچ سکتیں۔
ہوپ کا بس نہیں تھا اسکا گلا دبا دے۔ اتنئ بے وقوفی
ہاں مگر تمہیں چھوڑوں گی بھی نہیں۔
اسکے انگلیوں پر کھرنڈ تھا اتنی مضبوط گرفت نے زخم تازہ کردیئے تھے۔ ہوپ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے پھسلتا محسوس کر رہی تھی مگر وہ بے وقوف اسے بچانے کو خود بھی آدھی لٹکی ہوئی تھی
بائیسویں منزل اوپر ہوا میں معلق وہ جانتی ہوا کا دبائو اسکی اس کوشش کو جلد ناکام بنا دے گا۔ اسکا ہاتھ چھٹ جائے گا مگر اسکا ہاتھ چھٹنے پر وہ خود بھی اپنا توازن کھو بیٹھے گی او رشائد اسکے ساتھ وہ بھی نیچے آرہے۔
مگر احمق اریزہ کو اپنی ذرہ فکر نہ تھی الٹا گڑگڑا رہی تھی۔
ہوپ پلیز دوسرے ہاتھ سے بھی تھامو مجھے خدا کا واسطہ۔
ہوپ کوشش کرو۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھامے تھئ ۔ اسکی آنکھوں سے گرتے آنسو ۔۔ ہوپ کی ساری بے چینی و دکھ کا جیسے مداوا ہورہا تھا۔
ہوپ میں بھی گر جائوں گئ میری خاطر کوشش کرو اوپر آنے کی پلیز۔
وہ منتیں کر رہی تھی۔
ہوپ کو زندگئ میں پہلی بار احساس ہوا تھا ۔انسان انسانوں سے جڑے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح آپکی زندگی آپ کو دوسرے کسی انسان کی زندگی سے جوڑے ہوئے ہے۔ اسکے خون کے رشتے سب ختم ہوچکے تھے اب یہ اپنائیت دوستی لگائو جو بھی تھا اریزہ سے ایک نیا تعلق جڑ گیا تھا۔ افسوس اس تعلق کا احساس اسے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں ہوا تھا۔ اریزہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھٹ رہا تھا کوئی چپچپاہٹ سی اسکے ہاتھ کو پھسلا رہی تھی۔ اریزہ بری طرح روتے چلاتے اسے پکار رہی تھی ہاتھ پکڑنے کو کہہ رہی تھی ۔ آخری لمحوں کا کتنا پیارا منظر تھا کوئی اسکے لیئے رو رہا تھا خالصتا اسکے لیئےپکار رہا تھا اسکو ۔۔
وہ مسکرادی شائد آخری بار۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? rate us below

Rating

Salam Korea Episode 34

Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 34

اب اتنا ہنسنا تو نہیں چاہیئے بندے سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔
کتنئ دیر خفت ذدہ رہتی۔ فورا شرمندگی دور کی غصہ چڑھا لیا۔ علی بہت کھل کر ہنسا تھا اور ہنستے ہوئے اسکا اینگری ینگ مین سنجیدہ انداز بالکل غائب ہو گیا تھا۔پھر بھی اسے کھل کر ہنستے دیکھ کر وہ تھوڑا خفگی سے بولی۔
اسکے الفاظ تو سمجھ نہیں آئے تھے علی کو مگر اسکے خفا خفا سے انداز کو بھانپ کر اس نے فورا ہنسی کو بریک لگائی۔
آننیانگ ۔۔
اس نے خیر مقدمی مسکراہٹ سجائئ۔
ہیلو۔ اب کے اریزہ نے ہنگل میں بات کرنے کی غلطی نہیں دہرائی۔
یہ لو۔ اس نے شاپنگ بیگ اسکی جانب بڑھایا وہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے تحیر سے دیکھنے لگی۔ گفٹ وہ بھی سر کیوں دے رہے بھئ؟۔

یہ تمہارا کوٹ ۔کل تم ریلنگ پر لٹکا بھول گئ تھیں۔۔ علی نے اسکی حیرت دور کی۔
اوہ۔ اس نے فورا بیگ تلاشا۔
صبح یہی سوچ رہی تھی کہ کل کوٹ آکر کہاں اتارا مل ہی نہیں رہا ۔ اتنی موٹی رضائئ چڑھانی پڑی سب جبھی گھور گھو رکر دیکھ رہے تھے۔
وہ روانی میں بولتی کوٹ نکال رہی تھی۔
شکریہ ۔۔ اس نے سر اٹھایا اچانک یاد آیا تھا۔۔
اف آپکے کپڑے؟ ۔اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
میں بھول گئ بالکل۔ کل پکا لے آئوں گی ویسے دھو دیئے تھے میں نے۔
اس نے تسلی بھی دینی چاہی۔ علی اسے دیکھتا رہا پھر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئ
وہ مستقل یقینا اسی سے مخاطب تھی یہ بھول کر کہ وہ اسکی اردو کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ اریزہ نے اسکو مسکراتا دیکھا تو چونکی۔
معزرت۔ اس نے زبان دانتوں تلے دبائئ۔
میں اردو میں بولتی گئ میں کہہ رہی تھی۔
اب وہ اپنی انگریزی کو ہوا لگا رہی تھی۔ اسکو انگریزی میں تسلی دی کہ میں بالکل لاپروا نہیں احتیاط سے کپڑے رکھے ہیں جس دن یاد رہا لا کر ہاتھ میں تھمائے گی بالکل فکر نہ کرے علی۔
علی کو اب واقعی فکر ہونے لگی تھئ۔ بظاہر تسلی سے سنتے ہوئے اس نے چپکے سے کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا کلاس کا وقت ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون بھونچکا سا کھڑا خالی کمرہ دیکھ رہا تھا۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ صبح جب واپس آئے گا تو سنتھیا اپنا سب سامان لیکر جا چکی ہوگی۔
وہ جا بھئ کہاں سکتی تھی۔ اسکے پاس رہنے کو کوئی جگہ کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔پیسے بھئ جانے تھے کہ نہیں۔ اس نے اضطراری انداز میں سر جھٹکا۔
بیڈ کی چادر تکیہ سب بے شکن تھے۔ یعنی وہ رات کو ہی جا چکی تھی یہاں سے۔ کمرہ بالکل صاف تھا یہاں تک کے کل صبح لا کر رکھا گیا ناشتے کا سامان بھی نہیں تھا۔
یہ۔جزباتی لڑکی۔
اس نے دانت پیسے۔ پھر بیڈ درازیں سب ٹٹول ٹٹول کر دیکھیں کوئی پتہ کوئی خط کچھ بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑا تھا۔
وہ سر تھام کے وہیں بیڈ پر ٹک گیا۔
بہت بری طرح پھنسا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اور وہ دونوں قریبئ تمام ہوٹلز سونا میں پتہ کرتے پھرے تھے۔ہر جگہ سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس چھوٹے سے سرائے سے نکلتے ہوئے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔ زور دار ٹھوکر زمین کو لگاتے وہ پریشانی و انتشار کی آخری حدوں پر تھا۔
پیسے اسکے پاس اتنے نہیں ہوں گے کہ وہ کسی ہوٹل جا سکے۔ کہاں چلی گئ وہ بے وقوف لڑکی۔
وہ مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔یون بن اسکے برعکس سنجیدگی سے صورت حال کا تجزیہ کر رہا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے سب ممکنہ باتیں سوچ کر اسکو یہی خیال آیا۔
ہمیں سب دوستوں میں اطلاع کرنی چاہیئے ۔ وہ پریگننٹ ہے موسم ابھی تو ٹھیک ہے مگر رات کو بارش کا امکان ہے۔ وہ کسی پارک یا کھلی جگہ پورا دن گزار سکتی ہے مگر رات کو اسکے لیئے مشکل ہوگئ۔پھر ۔ اسکی ذہنی رو جانے کس طرف جائے کہیں وہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے کا ارادہ نہ رکھتی ہو۔
یون بن کے انداز میں سنگینی تھئ۔ ایڈون نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
انتہائی قدم؟
وہ خودکشی کی کوشش نہ کرلے۔۔۔
یون بن نے بغور اسکی شکل دیکھتے کہا تو وہ لمحہ بھر کو سناٹے میں آیا۔۔
تمہیں اندازہ ہے رات سے تمہاری ممانی کی کیا حالت ہے۔ ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں اس نے تمہاری ممانی کو صاف کہا ہے وہ خود کشی کر لے گی ہم نے کیسے رات گزاری ہے ہم جانتے ہیں تمہارا فون لگا تو تم نے نہیں اٹھایا سنتھیا کو فون کرتے رہے وہ ہر دفعہ فون کاٹ دیتی کانٹوں پر گزرا ہے ہمارا۔۔۔۔۔۔۔ ٹوون
اسکے کانوں میں کل صبح کی ہوئی ماموں سے گفتگو گونجی۔
سوائے اریزہ کے اسکا کوئی دوست نہیں تھا یہاں اور اریزہ کے پاس وہ نہیں جا سکتی اتنا پتہ ہے مجھے۔ ہمیں پولیس میں اطلاع کرنی چاہیئے۔
ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلانے لگا
میں رپورٹ کر دیتا ہوں تم پہلے ہی پولیس والوں کے دائرہ شک میں ہو۔
اس نے سنتھیا والے معاملے کی رپورٹ کا جتایا۔ ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
۔ تم اپنی ایمبیسی سے رابطہ کرو۔ کیا خبر وہ واپس جا رہی ہو۔
یون بن کو خیال آیا۔۔ وہ بری طرح چڑ گیا
بس تک پر سفر کے پیسے نہیں ہوںگے اسکے پاس جہاز کا ٹکٹ کہاں سے لے گی۔
اسکو جھلانے کے بعد احساس ہوا تو خود پر قابو پاتے یون بن سے معزرت بھی کرنے لگا۔۔
ایم سوری ۔
آنیو۔ یون بن نے اسکا کندھا تھپکا
مجھے اندازہ ہے تمہاری پریشانی کا۔ تم فکر نہ کرو ہم سب مل کر ڈھونڈ لیں گے۔۔ میں کم سن سے بات کرتا ہوں۔
اسے تسلی دیتے ہوئے اس نے کم سن کو فون بھی ملا لیا۔۔اسکے پرخلوص انداز نے ایڈون پر خاصا اثر کیا تھا۔ وہ ضرور ایسا ہی دوست تھا اپنے دوستوں کیلئے ہر قسم کی مصیبت میں پڑنے کو تیار مگر یہ پہلی بار تھا کوئی دوست اسکے ساتھ خالصتا اسکے لیئے یوں خواری کاٹ رہا ہو۔
اس نے کچھ سوچ کے اریزہ کو کال ملا دی۔
اس نے حسب توقع اسکا فون کاٹ دیا تھا۔ اس نے دو تین کوششوں کے بعد پیغام لکھ بھیجا
اریزہ سنتھیا تمہارے ساتھ ہے۔ ؟ پلیز جواب دو ایمرجنسی ہے
نہیں۔۔ مختصر جواب چند لمحوں میں ہی موصول ہوا تھا۔
اس نے گہری سانس لی۔
اریزہ کے پاس بھی نہیں گئیں تو کہاں گئیں تم سنتھیا۔۔۔
اسے صرف فکر نہیں ہورہی تھی غصہ بھی آرہا تھا۔۔
ایک لمحے کو ایک کمینہ خیال بھی آیا۔
اگر وہ واقعی خود کشی کر لے تو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ختم ہونے کے بعد وہ حسب معمول ٹیرس میں آکر کھڑی ہو گئ تھی۔ یہاں سے سامنے دو رویہ سڑک سے لیکر ذرا فاصلے پر میٹرو اسٹیشن تک نظر آتا تھا۔ ہیون کی دیو ہیکل گاڑی موڑ مڑتے نظر آجاتئ۔ سو وہ اطمینان سے جیکٹ ریلنگ پر ٹکا کر کوٹ پہن کر جانے کیلئے بالکل تیار تھی۔ جیکٹ کو موڑ کر شاپر میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔سو اس نے بیگ ساتھ ہی ٹکا دیا تھا زمین پر۔ دھوپ کو بادل ڈھکتے جا رہے تھے یقینا آج رات شدید سردی پڑنی تھی کم از کم بارش یا برفباری تو ضرور ہونی تھی۔
اس نے موبائل اٹھا کر اس منظر کو قید کیا۔ سیول کی روشنیاں اور خوبصورت عمارتوں میں سے جھانکتا آسمان۔
ابھئ فورا اس تصویر کو اپلوڈ کرنا تھا اس نے اچھے سے عنوان کے ساتھ۔ جیسے ہی بلاگ کھولا اسکرین جل بجھ کرنے لگی۔
ایڈون کی کال آرہی تھی بیزار ہو کر اس نے کاٹ دی۔ تو اسکا پیغام موصول ہوا
حد ہے۔ وہ بیزار ہوئی۔
کیوں آئے گی وہ میرے پاس ؟ تم دونوں بخش ۔۔۔
وہ لمبا میسج ٹائپ کرنے لگی تھی۔ پیشانی کی رگیں تن گئ تھیں بھنوئوں کے درمیان شکنیں پڑ چکی تھیں۔
اسلام و علیکم۔ اریزہ
اجنبی لہجہ شستہ سلام۔صحیح تلفظ سے پکارا جانا اس نے چونک کے رخ پھیرا۔
ہیون اسکے بالکل مقابل کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ۔اتنی حیران ہوئی کہ جواب بھی نہ دے سکی۔
کیا ہوا؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائئ ۔ وہ گڑبڑاکر سیدھی ہوئی
وہ تم۔اچانک پیچھے کیسے۔ میں تو وہاں دیکھ رہی تھی کہ تم وہاں سے آئوگے۔
اس نے مڑ کر ریلنگ کے پار سڑک کی جانب اشارہ کیا۔ اسکی حیرت پرہیون کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
تم انتظار کر رہی تھیں میرا؟
اسکی چندی آنکھیں شائد تھوڑی بڑی ہوئی تھیں۔اسکا موبائل پھر بجا تھا۔
آں۔ ہاں۔
ایڈون کا ایک اور میسج آچکا تھا۔ اس نے جلدی سے جواب مٹا کر یک لفظی جواب لکھ بھیجا۔اس وقت وہ لڑنے بھڑنے کے موڈ میں نہیں تھی۔
چلیں۔
ہیون نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے بیگ اور شاپنگ بیگ سنبھالا۔
چلو۔
کم سن کو بتا دیا ہے میں نے۔ تم آج چھٹئ کر رہی ہو۔آج ہم خوب گھومیں گے پھریں گے۔
ہیون کا انداز دھونس بھرا تھا
اچھا۔ اس نے سر ہلادیا ۔۔ اسکا فون دوبارہ بج اٹھا تھا۔ وہی نام وہ کال کاٹتے کاٹتے رہ گئ۔ پھر اٹھا ہی لیا فون۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن کم سن اور ایڈون پولیس میں رپورٹ درج کرانے آئے تھے۔ ایک اہلکار ان سے معلومات لے رہا تھا ۔ وہ ہیون کے ساتھ سیدھا وہیں پہنچی تھی۔ تھانے میں داخل ہوتے ہی اس نے متلاشی نگاہوں سے ایڈون کو ڈھونڈا تھا۔
ایڈون ۔۔ ایڈون۔۔ کہاں گئ ہے سنتھیا؟
اس نے دور سے ہی ایڈون کو دیکھا توپکارتی ہوئی بھاگ کر پاس آئی ۔
ایڈون یون بن کم سن کے کمراہ ایک تفتیشی افسر کے سامنے خاموش بیٹھا بیان لکھ رہا تھا۔ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا۔
تم؟ تم تھانے میں کیا کر رہی ہو بتایا تو تھا میں نے میں رپورٹ درج کرا رہا ہوں۔۔۔تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ایڈون کی بات پر اسکو غصہ ہی آگیا۔
کیوں ضرورت نہیں تھی۔موسم دیکھا ہے باہر؟ بارش ہو رہی ہے اور وہ اس وقت جانے کہاں ہے۔ اسکی تو طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کیا کہا ہے تم نے اسے جووہ اس طرح چلی گئ؟
اسکی آواز جوش جزبات میں کافی اونچی ہو گئ تھی۔
ریلیکس۔ اریزہ۔
ہیون فورا آگے بڑھ کر ٹوکنے لگا۔ اسے اسکی بات تو سمجھ نہیں آئی تھی مگراسکے جارحانہ انداز سے خائف ہو کر یون بن اور کم سن بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
کچھ نہیں کہا میں نے۔ اسے کم غصہ نہیں تھا جھلا کر بولا۔۔
اورتم اسکو یہاں کیوں لیکر آئے ہو؟ یہ کوئی اچھی جگہ ہے کسی لڑکی کیلئے ؟
ایڈون انگریزئ میں ہیون پر چڑھ دوڑا۔
اسکو کیا کہہ رہے ہو مجھے بتائو سنتھیا کہاں ہے؟ ایسے کیسے وہ چلی گئ؟ وہ جا بھی کہاں سکتی ہے۔۔ کیا کہا ہے تم نے اسے؟
اریزہ اسکے غصے کو خاطر میں نہ لاتے اس سے ذیادہ زور سے بولی تھی۔
میں کیا کہوں گا اسے ؟ دماغ خراب اسکا ہوا ہے بنا کسی کو کچھ کہے جانے کہاں چلی گئ ہے۔
ایڈون الگ جھلا رہا تھا۔
پاگل تو نہیں ہے وہ نا ہی اتنی احمق۔ سچ بتائو مجھے کیا بات ہوئی ہے تم دونوں کے بیچ جووہ یوں کہیں چلی گئ ؟؟؟
اریزہ کا بس نہیں تھا اسکا گریبان پکڑ لے۔
کس زبان میں بتائوں کوئی بات نہیں ہوئی ہے صبح آرام سے ناشتہ کراکے کمرے میں چھوڑ کر گیا ہوں واپس آیا ہوں تو کہیں دف۔۔
اس نے بمشکل زبان روکی تھی۔ وہ کیا کہنے جا رہا تھا؟
اریزہ غصے سے جیسے پاگل ہوگئ۔
دفع؟دفع ہوگئ یہ کہنے جا رہے تھے نا تم یہ عزت ہے تمہاری نظر میں سنتھیا کی۔
ہاں یہی عزت ہے۔ وہ جوابا اس سے ذیادہ زور سے چلایا۔
اسی قابل ہے وہ۔ دو کوڑی کی عزت نہیں چھوڑی ہے اس نے میری کہاں کہاں نہیں ذلیل کروادیا ہے مجھے او رخود جانے۔۔
اور تم تم نے اسکو کم خوارکیاہے اس سب کے ذمہ دار تم خود ہو۔۔
اریزہ ترکی بہ ترکی بولی تھی کہ پولیس افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اونچی گرج دار آواز میں بولا۔۔
کھم آنے۔۔ بس کرو کیا کر رہے ہو تم لوگ۔
پولیس افسر انکے شور سے تنگ آکر اٹھ کھڑا ہوا۔
دونوں ایکدم خاموش ہوئے تھے۔
کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔ پولیس افسر نے یون بن اور کم سن سے پوچھا تھا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
آپ لوگ اپنے معاملات باہر جا کر نمٹائیں ہم اپنی تفتیش شروع کرنے لگے ہیں کوئی اطلاع آئی تو ہم آپکو بتا دیں گے۔
کنپٹی سہلاتے افسر نے بمشکل اپنی جھلاہٹ پر قابو پاتے ہوئے عزت سے انکو نکل جانے کا کہا تھا۔ یون بن کم سن سر جھکا کے کوریائی انداز میں خدا حافظ کہتے نکلنے لگے۔ ایڈون بھئ ہمرا ہ تھا جب پولیس افسر نے پکارا۔
اور آپ مسٹر آیڈون
وہ اب ایڈون سے مخاطب تھا۔
اگلے اڑتالیس گھنٹوں تک آپ شہر سے باہر نہیں جائیں گے او رجب آپکو بلایا جائے آپکو یہاں آنا پڑے گا تفتیش میں آپ سب سے پہلے شک کے دائرے میں آتے ہیں۔
ایڈون نے ہونٹ بھینچ کر سر ہلایا تھا۔
کیا کہا ہے انہوں نے۔ وہ ہیون کے سر ہوئی۔ ہیون نے ترجمہ کیا تو وہ اسکے سر ہوگئ۔
کیوں شک کے دائرے میں آتے ہیں ؟ کیا کیا ہے ایڈون نے۔ پوچھو ان سے۔
اسکے اصرار پر ہیون کو پولیس افسر سے پوچھنا پڑا۔
اپنی گرل فرینڈ کا جبری اسقاط حمل کروانے کی کوشش کا الزام ہے ان پر۔۔۔۔
پولیس افسر کے جواب کا ہیون نے ترجمہ کرکے بتایا تھا اسے۔ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ وہ تن فن کرتی ایڈون سے یقینا لڑنے کے ارادے سے نکلی تھی۔ ۔ ہیون جلدی سے پولیس والے سے مصافحہ کرتا اسکے پیچھے بھاگا۔ پولیس اسٹیشن کے باہر بارش شروع ہو چکی تھی۔ ایڈون کم سن شیڈ میں کھڑے یون بن کے پارکنگ سے گاڑی لانے کا انتظار کررہے تھے اس نے پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ مار اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔ ایڈون پورا گھوم گیا تھا اس نے بنا سوچے سمجھے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر جڑ دیا تھا۔ اسکے پیچھے بھاگ کے آتا ہیون اس سے دو قدم دور ہی رک گیا تھا۔
جرائت کیسے ہوئی تمہاری سنتھیا کے ساتھ یہ سب کرنے کی؟ کیا لگا تھا وہ اکیلی ہے اسکا یہاں کوئی نہیں؟
اس کو زبردستی اسپتال لے جانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری؟ بولو جواب دو۔
وہ سچ مچ جیسے اپنا آپا کھو بیٹھی تھی۔ گریبان سے پکڑ کر حلق کے بل چلاتے ہوئے وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔
کیا ہوگیاہے اریزہ پاگل ہو گئ ہو؟
ایڈون اس افتاد کیلئے تیار نہیں تھا اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس نے جھٹکے سے دور کیا تھا اسے۔ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔
تم پاگل ہو چکے ہو۔ وہ جوابا اس سے زو رسے چلائی۔
کیوں مجبور کیا تم نے سنتھیا کو؟ جواب دو مجھے۔ کیا دھمکی دی تھی تم نے اسے کیا کہہ کر۔
کوئی دھمکی نہیں دی تھی میں نے۔ اپنی مرضئ سے گئ تھی وہ میرے ساتھ اسپتال۔
ایڈون نے بمشکل خود پر قابو پا کر جواب دیا تھا۔
میں مان ہی نہیں سکتی۔ سنتھیا کبھی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وہ نہیں مان رہی تھی جبھی تم نے مجھے کہا تھا اس سے بات کرو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اتنے گرے ہوئے انسان ہوگے۔
اریزہ نفرت سے کہتی کف اڑا رہی تھی ایڈون کو اسکی بے اعتباری پر دکھ بھی ہو رہا تھا۔
نا مانو۔
وہ اپنی جتنی بھی صفائی دے لیتا اس نے نہیں ماننا تھا۔اس نے رخ موڑ لیا۔ کم سن او رہیون کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے روکیں دونوں کو۔
میں خود انکل سے بات کرتی ہوں بتاتئ ہوں تم انکی بیٹی کے ساتھ کیا کرچکے ہو اور سنتھیا تمہاری وجہ سے کہیں چلی گئ ہے۔
اس نے صرف دھمکی نہیں دی تھی۔ فون نکال کر اسی وقت اسکے سامنے ملانے لگی ۔۔
اریزہ خبر دار جو تم نے ماموں کو فون کیا۔
وہ بل کھاتا مڑا اسے وارننگ دینے والے انداز میں انگلی اٹھا کر بولا۔
میں ابھی اسی وقت فون کر رہی ہوں۔مجھے سنتھیا مت سمجھنا ڈرتئ نہیں ہوں میں تم سے۔ ۔۔
وہ اس سے ذرا خائف نہ ہوئی تھی بلکہ فون ملا کر کان سے لگا لیا۔
تم سمجھتئ کیا ہو خود کو۔ وہ غصے سے بے قابو ہوتا آگے بڑھا تھا اسکا بازو پکڑ کراسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر دور سڑک پر برستی بارش میں پھینکا تھا۔وہ ششدرسی رہ گئ۔
مجھ سے سنتھیا سے اس معاملے سے دو ررہو سمجھیں ورنہ۔
اسکا بازو سختی سے دبوچے وہ دھمکی آمیز انداز میں بولا
ورنہ کیا ؟۔۔۔کیا کرلوگے بولو۔ تم ایک بزدل گھٹیا اور کمینے انسان ہو۔ کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں ہو تم۔
وہ جوابا اسکو دوسرے ہاتھ سے دھکا دے کر بولی تھی۔اسکو حقیقتا رتی برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا اس سے۔
تم۔ حد میں رہو سمجھیں۔۔۔غصے سے بے قابو وہ شائد اس وقت اس پر ہاتھ اٹھا دیتا کہ کم سن نے اسے پیچھے سے او رہیون نے ایکدم سے اسکے ہاتھ کوپکڑ کراریزہ کا بازو چھڑاتے اسے آگے سے روکا تھا۔ دونوں کی گرفت بھی مضبوط تھی اور نگاہوں میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ اسے رکنا پڑا تھا۔
بس کرو۔ کم سن نے اسکوکندھے سے پکڑ کر کھینچ کر پیچھے کیا تھا۔ ہیون دیوار بن کر اریزہ کے آگے آکھڑا ہوا تھا۔ ایڈون کو اپنے غصے کو دبانا پڑا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن گاڑی نکال کے لایا تو سامنے غیر متوقع منظر تھا۔ اریزہ اور ایڈون گتھم گتھا ہورہے تھے او رکم سن اور ہیون معاملہ سنبھالنے میں ہلکان ۔ اسکے گاڑی سے نکلنے کی نوبت نہیں آپائی تھی کم سن نے ایڈون کو کھینچ کر لا کر گاڑی میں بٹھایا تھا اس نے بھی وقت ضائع کیئے بنا گاڑی آگے بڑھا دی۔ انکی گاڑی کو نکلتے دیکھ کر ہیون کو خیال آیا آگے بڑھ کر روکنا چاہا مگر دیر ہو گئ تھی۔ وہ سر پر ہاتھ مارتا اریزہ کی جانب متوجہ ہوا۔ وہ دونوں ہاتھ دعا کی طرح سینے سے لگائے آنکھیں بند کیئے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رو بھی رہی تھی۔
کین چھنا۔۔ ہیون نے اس سے پوچھا تو وہ اور زور سے رو دی۔
کس حال میں جانے کہاں ہوگی سنتھیا۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا اریزہ۔
ہیون کو یہ تو سمجھ نہیں آیا اس نے کیا کہا ہے مگر سنتھیا کا نام لے رہی ہے تو یقینا اسکی وجہ سے ہی پریشان ہو رہی ہوگی سو یہی تسلی دے سکا۔ جوابا اس نے اور زور سے رونا شروع کردیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا سنتھیا کو۔ وہ خیریت سے ہوگی۔ ہم سب مل کر ڈھونڈیں گے تم پریشان مت ہو۔
انی نے بے حد پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی تھی۔ وہ اس وقت انکے دفتر میں انکے ساتھ صوفے پر بیٹھی تھی۔اب رو تو نہیں رہی تھی مگر اسکا چہرہ ستا ہوا تھا۔ ہیون کو یہی سمجھ آیا تھا کہ نونا کے اثر ورسوخ سے مدد لی جائے سو اسے نونا کے دفتر لے آیا تھا۔
انہوں نے وقت ضائع نہیں کیا تھا۔ اسے تسلی دیتے ہی کئی جگہ کال ملا دی تھی۔ ہنگل میں ہدایات دے کر وہ فون بند کرکے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
وہ جہاں جس ہوٹل میں چیک ان کرے گی ہم اسے ٹریس کر لیں گے۔ ہمارے ادارے کے لوگ تیزی سے کام کرتے ہیں سچ پوچھو تو پولیس سے بھی ذیادہ تیزی سے۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔اریزہ مشکور نظروں سے دیکھتی بولی۔
آپکا بہت بہت شکریہ انی۔
انی مسکرا دیں۔ ہیون ایک کونے میں ہیٹر کے پاس کھڑا کپڑے سے موبائل صاف کرنے میں لگا تھا۔
آنیو۔یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔ تم مجھے بہنوں کی طرح ہی عزیز ہوگئ ہو۔مجھ سے جو بن پڑا میں کروں گئ۔
سنتھیا کی تصویر میری سیکٹری کو دے دو۔
انہوں نے کہا تو اسے خیال آیا اپنے فون کا۔
وہ تو میرے فون میں ہوگی ۔۔ مگر فون ۔۔۔
وہ پریشان ہوئی۔
ہیون نے مایوسی سے سر ہلاتے اسے دیکھا۔
یہ ختم ہو گیا ہے ۔آن نہیں ہو رہا۔ بارش کے علاوہ یون بن کی گاڑی کا ٹائر بھی اس پر سے گزرا ہے اب اسکو سفر آخرت پر بھیجنا ہی پڑے گا۔
اوہ ۔۔ وہ مایوس سی ہوئی۔۔
ایڈون سے مانگ لیتا ہوں تصویر تم فکر نہ کرو۔
ہیون نے کہتے ہوئے اسی وقت میسج ٹائپ کرکے ایڈون کو بھیجا تھا۔
کچھ کھائو گی اریزہ؟
انی کو اب اسکی مزید فکر ہو رہی تھی۔ بے خیالی میں ہنگل میں ہی پوچھ بیٹھیں۔
نہیں ۔ کین چھنا۔ وہ بمشکل مسکرا کر بولی۔
اب میں گھر جائوں گی۔
یہ پہلا مکمل کورین جملہ تھا جو وہ بولی تھی۔ نونا کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی۔
تھیبا ۔ تم نے تو بہت جلدی ہنگل سیکھ لی ہے شاباش۔
وہ ہنگل میں اسکی تعریف کر رہی تھیں۔ اسے جملہ سمجھ آگیا تھا مگر اسکا جواب نہ بن پڑا۔
میں کوشش کر رہی ہوں۔
اس نے سوچ سوچ کر کہا۔
اب مجھے محتاط ہونا پڑے گا بھئی۔ اریزہ میں اب ہیون کو کچھ بھی الٹا سیدھا تمہارے سامنے نہیں کہہ سکتی۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں شائد اسکا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھیں۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہیون کو دیکھا۔ وہ سمجھ کر فورا ترجمہ کرنے لگا۔ اسکی ہنگل بہتر ہو رہی تھی مگر اتنی بھی اچھی نہ ہوئی تھی کہ انکے خالص سیول لہجے کو سمجھ پاتی۔
وہ پھیکا سا مسکرا دی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئئ۔ ہیون نے بھئ تقلید کی۔
میرا خیال ہے اب مجھے گھر جانا چاہیئے۔
انی بھی اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ایک بار پھر تسلی دینے لگیں
چلو ٹھیک ہے۔ اور بالکل پریشان مت ہونا۔ کوریا محفوظ ملک ہے وہ جہاں ہوگئ خیریت سے ہوگی۔
انشا اللہ۔
اس نے صدق دل سے کہا تھا۔ وہ ان سے الوداع کہنے لگی تھی کہ انی پیار سے اسکے گال سے گال مس کرنے لگیں۔ انہیں اسکا انداز آج بھی یاد تھا۔
مجھے خوشی ہوئی تم سے مل کر۔
مجھے بھی۔ اس نے بھی کرٹسی نبھادی۔
اوہ ہاں۔
انہیں اچانک جیسے کچھ یاد آیا۔ فورا اپنی میز کی جانب بڑھیں دراز کھول کر کچھ کارڈز نکالے اور لاکر اسے تھمائے۔
اریزہ اس سے اگلے ہفتے کو میری شادی ہے تم نے ضرور آنا ہے۔ہوپ اور گوارا کو بھی دے دینا۔میں نے تم سب کے کارڈز سنبھال کے رکھے ہوئے تھے۔
انہوں نے اسے تین کارڈز لا تھمائے تھے۔
ہیون نے جتاتی نگاہوں سے انکو دیکھا وہ قصدا رخ موڑ گئیں۔اور اریزہ کے کندھے پر پیار سے ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں۔
مجھے پتہ ہے یہ مناسب وقت نہیں دعوت نامے دینے کا مگر میری مجبوری ہے میں کل چین جا رہی ہوں اب کم از بھی ہفتے بعد واپسی ہوگی میں بالکل نہیں چاہتی کہ میرے عزیزمہمان میری مصروفیت کی نظر ہو جائیں۔
اریزہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ بہت خوبصورت کارڈ تھا دلہا دلہن ہنبق میں مسکرا رہے تھے اسک کارڈ کو تھوڑا سا پھسلائو تو اندر سفید براق لباس میں دلہن اورکالے سیاہ سوٹ میں دلہا گلے لگ جاتے تھے۔نیچے خوبصورت ہنگل میں تفصیلات لکھی تھیں۔ بس ایک کارڈ تھا کوئی لمبی چوڑی رسومات نہیں تفصیل نہیں۔
آپ چین جا رہی ہیں ؟ اسکے منہ سے کارڈ دیکھتے ہوئے انکی بات سنتے حیرانی سے پھسلا۔۔
ہاں کیوں؟ وہ اسکی حیرانی پر ہنسیں۔۔
میں چین نہیں جا سکتی؟
نہیں۔ وہ گڑبڑائئ۔
میرا مطلب ہے آپکی شادی ہورہی ہے آپکو اپنی مصروفیات کم کرکے آرام کرنا چاہیئے۔ گھر میں رہنا چاہیئے۔ ہمارے یہاں تو مایوں بٹھا دیتے ٹوٹکے آزماتےاس سے جلد پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
اچھا؟ انی نے بھر پور دلچسپی لی۔
کیا ٹوٹکے کرتے کچھ بتائو مجھے؟ میری جلد آجکل ویسے واقعی کافی بے رونق ہو رہی ہے۔
آپ ایلو ویرا جیل لگائیں۔ اسکرب کے لیئے ہم توبیسن میں دودھ ملا کر لگاتے عرق گلاب میں انٹن گوندھ کر لگاتے۔ ابٹن مجھے نہیں پتہ اسے انگریزی میں کیا کہتے۔۔۔۔۔
وہ دونوں گوڑھ سہیلیوں کی طرح شروع ہو گئ تھیں ۔ ہیون جو گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکلنے کو بالکل تیار تھا انکی گفتگو کا رخ مڑتا دیکھ کر تاسف سے سر ہلاتا سوچ رہا تھا۔۔
یہ لڑکیوں کو ہر اہم بات الوداعیہ کے وقت ہی کیوں یاد آتئ ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی سے مل کر اسکے دل کو واقعی تسلی ہوئی تھی۔ اب وہ رونے کی بجائے ذہن کے گھوڑے دوڑا رہی تھی کہ آخر سنتھیا جا کہاں سکتی ہے۔انی کے دفتر سے نکل کر پارکنگ لاٹ تک اس نے سب ممکنہ مقامات سوچ لیئے جہاں وہ جا سکتی ہے۔ اسکے چہرے پر اسکی ادھیڑ بن واضح تھئ۔ ہیون نے گا ہے بگا ہے اسکے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی تفکر کی گہری لکیر اسکی پیشانی پر واضح تھی۔ بارش تھم چکی تھی۔ مگر سردی شدید تھی۔ اتنئ کہ ہیون نے جھر جھری سی لی اسکو سردی لگ رہی تھی تو اریزہ کو تو تھر تھر کانپنا چاہیئے تھا۔ ابھی شائد سنتھیا کی فکر حاوی تھی جو وہ بالکل آرام سے چل رہی تھی۔
مجھے لگا تھا اس دن سوپ الٹوانے کے بعد تم سنتھیا کے ساتھ دوستی سے تائب ہو جائو گی مگر آج تمہاری پریشانی دیکھ کر مجھے شک ہو رہا ہے کہ میرا پہلا شک درست تو نہیں تھا۔
اس نے ہم قدم چلتے یونہی چھیڑا تھا اسے۔
مجھے بھی لگا تھا مگریہ بھی سچ ہے وہ میری بچپن کی واحد دوست ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں۔میرے اس پر غصے پر اسکی فکر حاوی ہے۔
اریزہ کا جواب نپا تلا تھا۔
یعنی میرا پہلا والا شک درست تھا ۔ تم سنتھیا سے محبت کرتی ہو۔۔
ہیون جیسے سب معاملہ سمجھ گیا۔
ایویں اس وقت تم مجھ سے ناراض بھئ ہوگئ تھیں۔ جانے کیوں لڑکیاں اپنے دل کی بات کھل کر نہ کہتی ہیں نا مانتی ہیں۔
ہیون تاسف سے سر ہلا رہا تھا۔
کونسا پہلا شک؟ ناراضگئ۔
اریزہ نے الجھن بھری نگاہ سے دیکھا۔ پھر دماغ کے گھوڑے سرپٹ دوڑے۔ بھنا ہی تو گئ
کیا مطلب ہے کس وقت کی بات کر رہے ہو؟
جب تم کہتی تھیں ایسی کوئی بات نہیں سنتھیا صرف دوست ہے میری تم تو اس سے محبت میں مبتلا ہو۔
وہ مسکراہٹ دبا کر پکا سا منہ بنا کر بولا۔
پھر پھر؟۔۔
اسے غصے کے مارے کچھ سوجھا ہی نہیں۔ مٹھیاں بھینچ کر وہیں پیر پٹخ کر بولی
سنتھیا میری دوست ہے میں اس سے پیار کر تی ہوں مگر جیسا تم سوچ رہے ویسا کچھ نہیں سمجھے۔
آراسو آراسو۔ وہی تو سنتھیا تمہاری گرل فرینڈ ہے۔
ہیون شرارت پر آمادہ تھا۔بالکل سنجیدہ شکل بنا کر سر ہلانے لگا۔
ہیون۔ اسکا انداز ڈانٹنے والا ہو چلا۔
ایسا ویسا کچھ نہیں۔ میں اسے دوست کے طور پر ہی چاہتی ہوں۔ اور تم آج تک یہ بات لیئے بیٹھے ہو تمہیں یقین کیوں نہیں آتا۔۔
اسے سچ مچ غصہ آرہا تھا۔ وہ دونوں چلتے ہوئے گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے۔
اچھا ۔۔اچھا غصہ کیوں کر رہی ہو۔
ہیون نے آرام سے کہا اور آگے بڑھ کر گاڑی انلاک کرنے لگا۔ مقصد اسے تپانا نہیں تھا وہ تو بس یونہی دل۔لگی کر رہا تھا مگر اریزہ تپ گئ۔
میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ یہ کام کوریا میں ہوتے ہوںگے ہم پاکستانی نارمل ہوتے ہیں لڑکیوں کو لڑکے پسند ہوتے ہیں او رلڑکوں کو لڑکیاں آئئ سمجھ۔
گاڑی کا دروازہ کھولتے ہیون نے محظوظ سی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔
تو تمہیں لڑکے پسند ہیں۔ لڑکیاں نہیں۔
بالکل۔
وہ آج اسکی غلط فہمی دو رکر دینا چاہتی تھی۔
کیسے لڑکے پسند تمہیں؟ موٹے گنجے بڑی عمر کے یا۔۔
اس نے گاڑی کی چھت پر بازو ٹکا ہاتھ کی پشت پر تھوڑی رکھتے ہوئے دلچسپی سے دیکھا۔۔
موٹے گنجے بڑی عمر کے۔ اسکے ذہن میں سجاد گھوم گیا۔ وہ موٹا گنجا تو خیرنہیں تھا مگر ہاں اسکا آئیڈیل بھی نہیں تھا۔ اسکا آئیڈیل۔۔ وہ سچ مچ سوچ میں پڑی۔
موٹے نہ ہوں اسمارٹ ہوں بال بھی سر پر ہونے چاہیئے لمبے ہوں گورے کالے سے فرق نہیں پڑتا بس بندے کی صورت ایسی ہو جیسے ابھی مسکرا دے گا غصہ ور تنک مزاج لڑکے ذہر لگتے۔
لمبا چلے گا؟ ہیون اسکے ساتھ کسوٹی کھیل رہا تھا جیسے۔
اس نے فورا سر ہلایا۔
ہاں لمبا ہونا چاہیے میں اتنی لمبی نہیں اوپر سے وہ بھی گٹھا ہوا تو بچے۔۔۔
روانی میں وہ کیا بولنے جا رہی تھی سٹپٹا کر بریک لگائی
لمبا گورا اسمارٹ لڑکا ہو جو ہر وقت مسکراتا ہو ۔۔
ہیون نے یہ بات جان کے مسکرا کر کہی تھی۔ اریزہ گڑبڑا گئ۔
اچھا آئیڈیل ہے۔
ہیون کا انداز معنی خیز تھا ۔ اس نے جلدی سے اپنی جانب سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنا چاہا پھر رک سی گئ۔ اس جانب سیٹ کے آگے اسٹئیرنگ ویل لگا ہوا تھا۔وہ حسب عادت رائٹ ہینڈ ڈرائیو کے حساب سے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب آن کھڑی ہوئی تھئ۔
ہیون کھل کے ہنس دیا۔ وہ اسکے لیئے ہی دروازہ کھل کر بٹھانے کیلئے پسنجر سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔ وہ۔کھسیا کر سر کھجاتئ بڑبڑاتی ہوئی گھوم کر اسکی طرف آئی۔ اس نے ایک طرف ہو کر اسکے لیئے دروازہ کھولا تھا۔
اور مہزب بھی ہو۔
اریزہ نے اسکے مہزبانہ انداز کو دل ہی دل میں سراہتے ہوئے سوچا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی جب وہ گھر پہنچی۔ سیدھا اندر آتے آتے خیال آیا تو پلٹ کر دروازے کے پاس رکھے شو ریک میں جوتے بدل کر اندر داخل ہوئی۔ بیگ سنبھالتی اسے سلام کہتی سیدھا کمرے میں گھس گئ۔ ہوپ پیچھے پیچھے آئی۔
کہاں رہ گئ تھیں؟ اکیڈمی سے تو اتنی دیر نہیں لگتی تمہیں۔۔
اسکے انداز میں فکر تھی۔ بیڈ پر دھپ سے بیٹھتی اریزہ نے حیرانگی سے دیکھا اسے۔وہ بدستور سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اس نے گہری سانس لی۔
پولیس اسٹیشن گئ تھی۔ میری سہیلی کہیں بنا بتائے چلی گئ ہے۔رپورٹ درج کروائی ہے۔ اللہ کرے وہ خیریت سے ہو۔
کون گوارا؟
وہ چونکی۔
آنی۔ ( نہیں) ۔ سنتھیا۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے پاکستانی ہے وہ بھی۔
اس نے تفصیلا بتایا۔
تمہاری دوست ہے؟ بچپن کی کہاں ہوتی ہے میں نے تو نہیں دیکھا اسے۔
ہوپ کو ٹھیک ٹھاک حیرت ہوئی تھی۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
ہماری لڑائی ہوئئ وی تھی۔
فون کیوں آف ہے تمہارا؟ اتنی مرتبہ کال ملائی میں نے۔ یہاں میں تمہاری گمشدگی کئ رپورٹ درج کروانے کا سوچنے لگی تھی۔
ہوپ کی پریشانی اسکے لیئے خاصی خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔
فون خراب ہوگیا میرا۔ ٹوٹ گیا۔
اسکے انداز میں دکھ اتر آیا۔ جواب دے کر اردو میں بڑبڑانے لگی۔
اف نیا فون بھی لینا پڑے گا اب مجھے۔ ایڈون کی تو۔۔
کتنا جنگلی انسان ہے کمینہ۔ الو کا۔۔
اسکو دل بھر کر گالیاں دینے کا دل کر رہا تھا۔ کہاں اس نے کبھی اسے غصے سے بے قابو ہوتے نہ دیکھا تھا کہاں آج وہ اس پر شائد ہاتھ بھی اٹھا دیتا اگر ہیون اور کم سن نہ ہوتے۔ اسے سوچ کے پھر غصہ آرہا تھا۔ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئ
اچھا۔ چلو کھانا کھالو۔ سبزیوں کا سوپ بنایا ہےساتھ سادے چاول ہیں۔
ہوپ نے اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کو بغور دیکھا تھا جبھی بات بدل دی۔۔۔ اریزہ کا منہ کھلا ہوپ نے آج شائد حیران کر کرکے مار دینا تھا۔
اچھا ۔۔ اسے بھوک لگ تو رہی تھی۔ ہیون کے بار بار کہنے پر بھی وہ کھانے کو تیار نہ ہوئی تھی مگر اب چوہے دوڑ رہے تھے سو بنا مزید نخرے کیئے اسکے ساتھ کچن میں چلی آئی۔
سادے چاول سوپ کے ساتھ ملا کر کھانا نیا تجربہ تھا مگر ذائقہ دار تھا۔ کھاتے کھاتے یاد آیا
انی سے ملاقات ہوئئ تھی آج۔ انکی شادی ہو رہی ہے انہوں نے تمہارے لیئے بھی کارڈ بھیجا ہے۔
ہوپ نے ایکدم سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھی۔
انہوں نے او رکچھ کہا؟
اسکے انداز میں بے تابی تھی۔
اور تو کچھ نہیں۔ اس نے کندھے اچکائے پھر یاد آیا۔
ہاں کل چین جا رہی ہیں ہفتےایک رہیں گی۔ جبھی خود کارڈ دینے نہ آسکیں میرے ہاتھ بھجوادیا۔
انی کل چین جا رہی ہیں۔
وہ بے چین سی ہوگئ ۔
مجھے تو لگا تھا وہ اب تک چین سے ہو کرواپس بھی آچکی ہوں گی۔
اسکے چہرے پر۔تفکر دیکھ کر اسے بھی تشویش ہوئئ
تم ٹھیک ہو؟ انکے چین جانے سے تمہیں کوئی مسلئہ ہے؟
ہاں۔ انکو بہت پہلے جانا تھا اب تک واپس بھی آجانا تھا۔ مگر ظاہر ہے انکو اس بات کی کیا فکر کہ میں کتنی پریشان ہوں۔ انکا مسلئہ تھوڑی۔ پتھر دل ہیں ایکدم ذرا پروا نہیں کہ مجھ پر کیا بیت رہئ ہے
وہ چڑ رہی تھی۔ انی جیسی لڑکی سے بے مروتی سنگدلی کی اسے امید تو نہیں تھی پھر بھی ہوپ سے پوچھ لیا۔
ہوا کیا ہے تمہارا کوئی کام کرنا تھا انی نے؟
کر ہی تو نہیں رہی ہیں کب سے ٹالے جا رہی ہیں۔ میں نے اپنی ماں کا پتہ کروانا تھا جانے کہاں ہیں کس حال میں ہیں چین میں ہی ہیں یا واپس اس جہنم میں پہنچ گئیں ہیں۔ مگر ظاہر ہے یہ پریشانی میری ہے انہیں کیافکر۔
اسکا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اریزہ تسلئ دینا چاہ رہی تھی مگر سمجھ نہ آیا کیا کہے۔ سو کھانے کیلئے ہی روکنے لگی۔
کہاں جا رہی ہو کھانا تو پورا کھا لو۔
ہوپ سر جھٹکتئ پلیٹیں سمیٹنے لگی۔
نہیں بس میرا دل بھر گیا۔تم کافی پیئوگی؟
پل میں تولہ پل میں ماشہ وہ اب مہمان نوازی کے موڈ میں تھی۔ نیکی اور پوچھ پوچھ اس نے بھی جھٹ سر ہلادیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ بیڈ پر بیٹھی اپنے ٹرائوزر کو گھٹنے تک چڑھائے دوا لگا رہی تھی۔ وہ وضو کرکے باتھ روم سے نکلی تو پہلی نظر اسکے زخم پر پڑی ۔۔
یہ کیسے چوٹ لگی۔؟ وہ فطرت سے مجبور تھی شائد۔
ہوپ نے گہری سانس لیکر سر جھٹکا جیسے کہہ رہی ہو تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔
گر گئ تھی۔
مختصر جواب تھا۔ ہوپ کے مزاج کا ابھی بھی اسے پتہ نہیں لگتا تھا پل میں تولہ پل میں ماشہ سو مزید بہناپا دکھانے کی بجائے خود نماز کی تیاری کرنے لگی۔
تمہیں ہاتھ پر پانی نہیں لگانا چاہیئے تھا۔
ہوپ پر شائد اسکا اثر ہوا تھا۔
اتنا گہرا زخم نہیں تھا میرا۔۔۔ پانی زخم پر ٹھیک ٹھاک چبھا تھا مگر کھرنڈ سا آرہا تھا خون نہیں نکلا تو اس نے ہاتھ منہ دھو کر وضو کر لیا تھا۔ اسے جواب دیتئ وہ
کمرے کے کونے میں صاف چادر بچھا کر دوپٹہ اچھی طرح لپیٹ کر نیت باندھنے لگی ۔۔۔ ہوپ بینڈیج لگا کر نائٹ لیمپ جلا کر لیٹنے ہی لگی تھی کہ اسے دیکھ کر خیال آیا تو اٹھ کر بیٹھ گئ۔
تمہارا سونے کا ارادہ نہیں ہے؟ کیا کرنے لگی ہو؟
آں۔ اریزہ چونکی۔
نہیں مجھے نماز پڑھنی ہے۔ تم اگر تنگ ہو رہی ہو تو میں باہر چلی جاتی ہوں۔
شکر تھا ابھی نیت باندھی نہیں تھی۔ فورا جھک کر سمیٹنے لگی تو ہوپ ہاتھ اٹھا کر بولی
میں تنگ نہیں ہوتی میرے سرہانے نقارہ بھی بجا لو تو میں سوجائوں گئ تم پڑھ لو نماز۔۔
ہوپ کے کہنے پر وہ سر ہلا کر چادر ٹھیک کرنے لگی۔
تمہارے خدا کا کیا نام ہے؟
ہوپ کے سوال پر وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
مطلب؟
مطلب جیسے بدھ متی کے گوتم بدھ ہیں ، عیسائیوں کے جیزز ہوتے تم لوگ اپنے خدا کو کیا کہتے۔
اس نے وضاحت کی۔
اللہ۔
اریزہ کا جواب مختصر تھا۔
تمہارا اللہ تمہاری دعائیں سنتا ہے؟
اسکا اگلا سوال حاضر تھا۔
اریزہ نے پلٹ کر اسکی شکل دیکھی ۔ وہ سنجیدگی سے اسکے دیکھتے ہوئے جواب کی منتظر تھی۔ اریزہ سہولت سے وہیں چوکڑی مار کر بیٹھ گئ۔
ہاں۔ اللہ سے جب میں نے تڑپ تڑپ کر دعا مانگی ہے اس نے سنی ہے۔ میرے ساتھ تو معجزہ بھی ہوا ہے۔ نا ممکن نظر آنے والا کام ہوا ہے۔ اور ۔
وہ روانی میں کہتے کہتے رکی۔پھر دھیرے سے بولی
ممکن نظر آنے والا ایکدم ناممکن میں بدل گیا۔
اسے یاد آیا کس طرح اچانک اسکا بیچ سمسٹر تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا۔۔
کونسا ناممکن کام ہوا ہے تمہارا۔۔
ہوپ نے پھر سوال کیا۔
یہی کوریا آنے والا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں کبھی کوریا آکر تعلیم حاصل کرسکوں گی۔ اسکے لیئے میں جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔
اریزہ کے انداز میں اتنی شکر گزاری تھی کہ ہوپ اسے دیکھ کر رہ گئ
مگر تمہارا تو سمسٹر سیز ہوگیا ہے نا۔
ہوپ نے اسکئ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
ہاں۔۔ نہیں۔ میرا مطلب اب دوبارہ اگلے سمسٹر میں داخلہ لے لوں گی انشا اللہ۔
اریزہ نے وثوق سے کہا ۔۔
انشا اللہ؟؟؟
ہوپ پھر سوالیہ ہوئی۔
اسکا مطلب ہوتا ہے اللہ کی رضا کے ساتھ۔ یہ کہہ دو تو خدائی مدد ساتھ ہو جاتی ہے پھر ضرور کام ہوتا ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ چند لمحے سوچ میں پڑی ۔۔
اریزہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
پھر تم کیا انشا اللہ کہہ سکتی ہو کہ میرے بہن بھائیوں اور ماں کا پتہ چل جائے۔
ہوپ نے جانے کس امید کی ڈور تھامے فرمائش داغی تھی۔
اریزہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گئ۔ ہوپ کو امید چاہیئے تھی زندگی کی گاڑی کھینچنے کیلئے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
انشااللہ۔۔ انکا جلد سے جلد پتہ لگ جائے گا۔۔۔
اریزہ نے خلوص نیت سے دعا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل بھر آیا تھا۔ اسکی نماز طویل سے طویل ہوگئ تھی۔ قضا نمازیں پڑھنے کے بعد اس نے نفل پڑھے تھے سنتھیا کی خیر و عافیت کیلئے۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگتے رو پڑی تھی۔
یا اللہ تو جانتا ہے مجھے سنتھیا کی بہت پروا ہے وہ صرف سہیلی نہیں میری بہن جیسی ہے۔ مجھے اس پر غصہ آیا بہت آیا مگر تو جانتا ہے میں نے۔۔ ہچکی۔۔
کبھی میں نے اسکا برا نہیں چاہا اسکو اپنی امان میں رکھنا میرےاللہ۔جانے وہ کہاں کس حال میں ہے اسکو اپنی حفاظت میں رکھنا میرے اللہ۔ دعائیں مانگتے مانگتے اسے ہوپ کی التجا آمیز نگاہیں یاد آئیں تو خود بخود وہ بھی اسکی دعا کا حصہ بن گئ۔
یا اللہ ہوپ پر رحم فرما اسے اسکے گھر والوں کی۔خیر و عافیت کی اطلاع دے۔ اس کے بہن بھائی ماں باپ سب خیریت سے ہوں۔ اسکا انتظار ختم کر دے۔ آمین۔
دیر تک دعائیں کرنے سے اسکا دل ہلکا ہوگیا تھا۔ سلام پھیر کر جاء نماز سمیٹتی وہ اٹھی تو احساس ہوا کافی دیر ہوگئ ہے نماز پڑھتے پڑھتے۔ بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئ تھی۔ ہوپ شائد سو چکی تھی۔ اسکی مدہم سانسوں کی آواز گہری نیند کا پتہ دے رہی تھی۔ اس کے اوپر کمبل درست کرتی وہ خود بھی اسکے برابر آلیٹی۔ چند ہی لمحوں میں غافل بھی ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ تا دیر سوتی رہی تھی۔ اتنی دیروہ بھی گہری نیند کہ جب اسکی آنکھ کھلی تو کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کہاں ہے۔ چند لمحے آنکھیں کھولنے میں لگاتے ہوئے اس نے بیڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے موبائل ڈھونڈا تھا۔ تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ میز اچھل کر اٹھ بیٹھی۔ پھر یاد آیا تو سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔
سامنے دیوار پر سجی گھڑی دو بجا رہی تھی۔ کلاس مس ہو چکی تھی۔ بھوک بھی شدید تھی۔ سو فورا تازہ دم ہونے نہانے گھس گئ۔ نہا دھو کر گیلے بال تولیہ میں لپیٹے وہ سیدھا باورچی خانے میں چلی آئی۔ میز پر بڑی سی جالی دار ٹوکری سے کچھ ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو ایگ رول آملیٹ توس مکھن اور بنانا ملک کا پیک رکھا ہوا تھا۔۔
ہوپ تم اتنی بھی ہوپ لیس نہیں ہو۔ وہ زیر لب کہتی اہتمام سے ناشتہ کرنے بیٹھ گئ۔
بنانا ملک پیتے ہوئے ہاتھ پر دوا لگا رہی تھی جب داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
ہیون ہوگا وہ جلدی جلدی دوا کا ڈھکن لگاتی اٹھی اور بنا کیمرے میں دیکھے دروازہ بھی کھول دیا۔ خلاف توقع سامنے کم سن تھا۔
اسکے چہرے پر اتنی حیرانی آئی کہ کم سن کان کھجانے لگا۔
آننیانگ۔۔ اندر آجائوں؟
آہاں ۔۔ آئو۔ وہ گڑبڑا کر اسے راستہ دینے لگی۔ کم سن گیلری میں لگے شو ریک میں جوتے بدلتا ہوا اندر چلا آیا۔
تم اکیلی ہو۔گھر میں؟ ہوپ بھی نہیں ہے؟
وہ طائرانہ نگاہوں سے اپارٹمنٹ کو دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
ہاں فی الحال اکیلی ہوں۔ ہوپ جاب پر گئ ہے۔
اسے کھد بد سی ہورہی تھی سو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔
تم یہاں کیسے خیریت؟ سنتھیا کا کچھ پتہ لگا؟
نہیں۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
تم سے بھی سنتھیا کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے؟
کم سن کے سوال پروہ اسے دیکھ کررہ۔گئ۔
جانے کہاں چلی گئ ہے احمق۔
اس نے دانت پیسے۔۔
میں تم سے اس کے بارے میں بات کرنے آیا ہوں۔
بیٹھو۔
وہ سہولت سے لائونج میں بچھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسے دعوت دے رہا تھا۔
سب ٹھیک ہے نا؟؟؟۔۔
وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی صوفے پر آبیٹھی۔
سنتھیا سے تمہاری بچپن کی دوستی ہے نا؟
ہاں۔۔ اریزہ بنا توقف بولی۔
کتنی دوستی ہے تمہاری اس سے؟ پریشان ہو تم اسکے یوں گم جانے پر؟
کم سن کسوٹی کھیل رہا تھا وہ۔جھلا گئ
ظاہر سی بات ہے وہ میری دوست کم بہن جیسی ہے مجھے اسکی شدید فکر ہو رہی ہے جانے کہاں ہے کس حال میں ہے۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ تمہارے ساتھ کافی کمینہ پن دکھا چکی ہے۔ بد تمیزی کرتی رہی ہے اور پھر بھی تم اس دن والے سوپ کے واقعے کے باوجود اس سے ناراض نہیں ہو ۔۔ ہےنا۔
اس کی تمہید اسے مزید دہلانے لگی تھی۔
ہاں کیوں۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ کم سن نے بغور اسکی پریشان صورت دیکھی۔
سنتھیا ٹھیک تو ہے نا؟
اریزہ کو برے برے وہم ستانے لگے تھے۔
کم سن نے گہری سانس لی اور صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اسے اور ایڈون کو ریستوران لیکر آیا تھا۔
پورک اسٹیک ساتھ ویج سوپ نوڈلز۔ تین جگہ۔
ویٹر کو کھانے کا آرڈر دے کر اس نے جلدی لانے کی تاکید بھئ کر دی تھی۔
تم دونوں بیٹھو کھانا کھائو میں چلتا ہوں۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ ایڈون دامن چھڑا کر نکلنا چاہ رہاتھا۔
کم آنے۔ یون بن نے ہاتھ پکڑ کر روکا۔
میری بھوک سے جان نکلی جا رہی ہے۔ ذیادہ زور نہیں لگا سکتابیٹھ جائو۔ صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا ہے۔
مگر مجھے بھوک نہیں ہے کچھ کھانے کا موڈ نہیں ہے میرا بس اب گھر جائوں گا۔۔ ۔۔
ایڈون کا سچ مچ کچھ کھانے کا دل نہیں تھا ۔ کم سن خاموشی سے ہتھیلی پر تھوڑی جمائے میز پر کہنی ٹکا کر ان دونوں کا محبت بھرا منظر دیکھ رہا تھا۔
باہر بارش ہو رہی ہے کھانا کھالو میں گھر ڈراپ کردوں گا۔
یون بن نے گلاس وال سے باہر چھلا چھل برستی بارش کو دیکھ کر کہا تو ایڈون سر جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا
پنڈی کا رہائشی ہوں بارش سے فرق نہیں پڑتا چلتا ہوں۔
پنڈی میں بہت بارشیں ہوتی ہیں۔ یون بن نے دلچسپی سے پوچھا۔
ہاں۔ ایڈون مصافحہ کرکے نکلنا چاہ رہا تھا ۔۔
اوکے۔ بائے۔۔
یون بن نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔
برفباری بھی ہوتی ہے؟ اگلا سوال حاضر تھا۔
نہیں۔۔۔ ایڈون نے دانت پیسے۔
ویٹر کھانا لے آیا تھا۔۔ میز پر رکھے چھوٹے سے چولہے پر گوشت انہوں نے خود تلنا تھا۔ سوپ کے پیالے اچار اور سلاد کے پتے سجا کر کچے گوشت کی ٹرے لا کر اس نے میز پر رکھی تھئ یوں کے یون بن بیٹھا ہوا ایڈون اسکے ہاتھ میں ہاتھ پکڑائے اسے گھور رہا تھا۔ ویٹر کے چہرے پر واضح حیرانگی تھی مگر بولا کچھ نہیں کھانا سجا کے چلا گیا۔
ہاتھ چھوڑ کر بات کرو۔
نہیں چھوڑوں گا کھانا بھئ آگیا ہے اب کھا کر ہی جا سکتے ہو تم۔۔
یون بن کی دھونس بھری فکر ایڈون کے نخرے۔۔
بس کرو ایویں سب کو مشکوک کر رہے ہو دونوں۔
کم سن نے بیزار سے انداز میں ٹوکتے ہوئے گوشت کے پارچے تلنے شروع کردیئے۔ ایڈون کا ہاتھ یون بن چھوڑ ہی نہیں رہا تھا سو اسے گھورتے ہوئے بیٹھنا ہی پڑا۔
کھانا کھا کر اٹھنے تک بارش رک چکی تھی۔
وہ تینوں بئیر کین تھامے اکٹھے ہی باہر نکلے۔
تم فکر نہ کرو غیر ملکی ہونے کی وجہ سے اسکو ترجیحی بنیاد پر ڈھونڈا جا رہا ہوگا۔ اب تک تو پاکستان ایمبیسی سے رابطہ بھی کر لیا ہوگا دیکھنا ذیادہ سے ذیادہ کل رات تک اسکا پتہ چل جائے گا۔
یون بن نے تسلی دیتے ہوئے اسکا کندھا تھپکا تھا۔ جوابا وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلانے لگا۔
اریزہ کافی پریشان لگ رہی تھی۔
کم سن نے یونہی کہا تھا مگر ایڈون چلتے چلتے رک کراسے دیکھنے لگا۔۔
ظاہر سی بات ہے دوست ہے وہ ۔ پریشان تو ہوگی وہ دیکھا نہیں تھا اسکا بس نہیں تھا کہ ایڈون کو پیٹ ہی دے۔ خاصا کرارا تھپڑ لگایا ہے اس نے۔
یون بن نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔
ایڈون بھی لگانے لگا تھا کہ میں اور ہیون بیچ میں آگئے۔
کم سن نے اسے جتایا ہی تھا ۔۔ یون بن نے بے یقینی سے شکل دیکھی اسکی
ناممکن۔ ایڈون کبھی اس پر ہاتھ اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اسکی بات کے جواب میں ایڈون کے سر جھکا لیا۔
میں آجکل بہت کچھ ایسا کر رہا ہوں جو میں عام دنوں میں کرنے کا سوچ بھئ نہیں سکتا۔
ایڈون نے کین خالی کرکے اسے مٹھی میں بھرے بھرے مروڑ دیا تھا۔
کین چھنا کین چھنا۔۔
یون بن اسکا کندھا تھپکنے لگا۔۔
انسان کی اصلیت غیر معمولی حالات میں ہی کھلتی ہے۔
کم سن کو اسکے اعتراف پر مزید غصہ ہی آیا تھا۔
حالات کو کم طاقتور نہیں سمجھنا چاہیئے ان میں انسانوں کویکسر بدل دینے کی طاقت ہوا کرتی ہے۔
ایڈون کو اس پر غصہ نہیں آیا تھا۔ بہت سبھائو سے اسے کہا تھا۔ کم سن نے سر جھٹکا۔وہ گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے سو یون بن نے صلح کا پرچم لہرایا ان کے بیچ۔
اچھا چلو بیٹھو دونوں ۔گاڑی انلاک کرتا یون بن ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔۔
کم سن کا موبائل بجا تھا۔ ٹیکسٹ میسج وہ بھی انگریزی میں۔۔ انجان نمبر سے۔۔
اس نے فورا کھولا۔
کم سن سنتھیا ہیئر تم سے بات ہو سکتی ہے ابھی؟
اس نے بے یقینی سے دو سے تین بار پیغام پڑھا۔
یون بن ہارن بجا کر اسے متوجہ کر رہا تھا۔
تم لوگ جائو مجھے ایک کام یاد آگیا ہے۔۔۔۔
یون بن نے سر ہلا کر گاڑی نکال لی تھی۔ گاڑی جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی اس نے فورا اس نمبر پر کال ملا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے مجھے صرف اتنا کہا کہ وہ اپنی دوست کے پاس ہے اور ٹھیک ہے۔ وہ جاب کرنا چاہتی ہے مگر فی الحال وہ کہاں ہے یہ کسی کو بتانا نہیں چاہتی۔ اس نے اپنا فون بھئ بند اسلیئے رکھا ہے کہ کوئی اس تک پہنچ نہ سکے۔
کم سن کی بات پر اس نے حقیقیتا اپنا سر تھام لیا تھا۔ اتنا بچپنا اتنی بڑی حماقت۔ اسے حالات سے لڑنے کے مشورے دینے والی یوں حالات سے بھاگ اٹھے گی۔
اسے غصہ آرہا تھا۔
تم فورا سے پیشتر پولیس کو اطلاع دو کونسا نمبر ہے جس سے اس نے تمہیں رابطہ کیا ہے؟
کم سن ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔ اسکی نگاہیں پڑھ کر وہ چڑ ہی گئ۔
تو اور کیا کروگے؟ ایڈون اسکے والدین سب کتنے پریشان ہو رہے ہیں اور وہ احمق کہیں چھپی بیٹھی ہے۔ اوپر سے تمہیں کال بھی کر رہی ہے کرنی ہی تھی کال تو ایڈون کو کرتی مجھے کرتی۔
اریزہ ۔ شانت رہو۔ اس نے ایڈون کو کال کیوں کرنی تھی وہ اسے مجبور کر رہا ہے ابارشن کیلئے۔ اور تم ۔۔
وہ۔کہتے کہتے رکا۔
دیکھو۔ اریزہ۔
ایمانداری سے کہوں مجھے یہی لگا تھا کہ وہ دوست تم ہو۔۔۔ میں یہاں آیا ہی اسی لیئے تھا کہ اس سے بات کروں۔
حدہے۔ اریزہ تاسف سے دیکھنے لگی۔
اتنی شدید پریشان تھی میں اسکے لیئے اور تمہیں لگا وہ میرے پاس ہے؟
ہاں۔ اس نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔
کل جس طرح تم ایڈون کے ساتھ پیش آئیں وہ غیر معمولی تھا۔مجھے یہی لگا کہ کوئی تم پرشک نہ کرے اسلیئے تم اتنا صدمہ دکھا رہی تھیں۔
اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
اب بتائو اسکی اور کوئی دوست ہے جس کا تم سوچ سکتی ہو جس کے پاس وہ جا کر رہ سکتی ہو۔
کم سن کے کہنے پر اس نے چند لمحے تو سوچا۔پھر سر نفی میں ہلانے لگی۔
یقینا کسی غیر معروف ہوٹل یا سونا میں رکی ہے۔ دوست اسکی صرف یہاں میں ہوں۔ گوارا تک سے تو اسکی دوستی نہیں ہوئی وہ اور کہاں سے دوست بنائے گی۔جھوٹ بول رہی ہے یقینا۔
کرم۔۔ کم سن اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے مجھ سے رابطہ کیا ہے یقینا اسے بھروسہ ہوگا کہ میں اسکا پتہ کسی کو نہیں دوں گا۔ اس نے مجھے خود کال کرنے کا کہا ہے اسکی پھر کال آئے گی تو میں اسے سمجھانے کی کوشش کروں گا اور تمہیں بھئ اسکی خیریت کی اطلاع دے دوں گا۔ فکر نہ کرو۔۔
اسکی تسلی بھی اسے مطمئن نہ کر سکی۔ فکرمندی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
پولیس کو تو بتا دو۔ کہاں ہے وہ کم ازکم پتہ تو چلے۔
وہ جہاں ہے ٹھیک ہے۔ اس بارے میں مجھے رتی بھر بھی شبہ ہوتا تو یہاں آنے کی بجائے پولیس اسٹیشن جاتا۔ تم بھی گھبرائو مت۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں اگر اس نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے تو اسکا بھروسہ ٹوٹے نا۔ میں اسے سمجھاکر خود واپس آنے کو کہوں گا۔ ٹرسٹ می۔
وہ سبھائو سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا تھا۔ اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔
میں پہلے جاتا ہوں۔
وہ الوداع کہتا نکل گیا ۔ وہ وہیں صوفے پر گر سی گئ۔
حد ہے حد۔ تمہاری رج کے پٹائی ہونی چاہیئے ۔۔سنتھیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون کے ہم قدم چلتے اکیڈمی کے راستے میں اس نے پورا قصہ سنایا تھا۔
مجھے تو حیرت ہے اس نے کم سن سے رابطہ کیوں کیا؟
اریزہ بھر پور حیرت کا اظہار کر رہی تھی۔
اور مجھے حیرت ہے کم سن اسکی فکر کیوں کر رہا ہے؟
ہیون کے مشکوک ہونے پر وہ گھور کر بولی
کم سن اچھا لڑکا ہے اسکی جگہ تم بھی ہوتے تو ایسا ہی کرتے۔
نہیں۔ ہیون نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈالے۔ اور اطمینان سے بولا۔
میں ہوتا تو اس نے جو جو بد تمیزیاں تمہارے ساتھ کی ہیں سب جتاتا اور کہتا کسی اور سے فیور لو مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا۔
اریزہ کا۔حقیقتا منہ کھلا رہ گیا تھا
ہیون اسکی حیرت پرخاصا محظوظ ہوا ۔۔ سڑک پار کرنے والوں کا سگنل بند تھا۔
کیا ہوا حیران کیوں ہو رہی ہو ؟ تم میری دوست ہو وہ نہیں تم میرے لیئے اہم ہو جو تمہارے ساتھ بد تمیزیاں کرے گرم سوپ پھینکے اسکا منہ نہ بھی توڑسکوں اسکو منہ تو ہرگز نہ لگائوں میں۔ منہ توڑا بھی تمہاری وجہ سے نہیں۔ تم اسے ابھی بھی اپنا دوست مانتی ہو۔پھابو۔
اس نے کندھے اچکائے۔
اسکو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔ مسکرا کر سر ہلایا۔
سگنل کھل گیا تھا۔اسے سر جھکائے سوچ میں گم مسکراتے دیکھ کر ہیون نے ہی اسکو ہلایا۔
چلو۔
وہ چونکی۔ باتوں باتوں میں اسے پتہ بھی نہ لگا تھا کہ اکیڈمی آگئ ہے۔
میں اتنے دنوں میں ایک بار بھی راستہ نہیں دیکھ پائی۔ تم مجھے باتوں میں لگا لیتے ہو میں اردگرد دیکھتی ہی نہیں۔ اب جس دن تم نہیں آئوگے ساتھ میری چھٹی ہوجانی ہے۔
اریزہ کے منہ پھلا کر الزام دھرنے پر وہ ہنسا تھا۔
تمہاری چھٹئ نہیں ہونے دوں گا بے فکر رہو۔ اسکے اطمینان دلانے پر بھی وہ منہ پھلائے رہی۔اسکا بیگ ہیون نے ہی تھام رکھا تھا وہ خود ایک شاپنگ بیگ تھامے تھی۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر اس نے بیگ تھمایا اریزہ کو۔وہ بیگ سنبھالتی خدا حافظ کہتی اندر جانے لگی تو ہایون نے پکار لیا۔
اچھا سنو۔۔۔ پرسوں اسکینگ کا پروگرام تھا میرا جو برباد ہوا ۔ اب آج واپسی پر میں گاڑی لیکر آئوں گا اسکینگ کرنے چلیں گے۔
اس نے فٹا فٹ پروگرام سیٹ کیا
اسکینگ؟ مجھے نہیں کرنی آتی اسکینگ۔ میں نے آج تک نہیں کی۔
اریزہ گھبراگئ ۔
کوئی بڑا مسلئہ نہیں سب پہلی بار کبھی نہ کبھی اسکینگ کرتے ہی ہیں۔ تم اپنا جیکٹ یاد سے اٹھا لینا۔ کلاس میں بھول آئی تھیں نا؟
اس نے اریزہ کے اعتراض کو چٹکیوں میں اڑایا تھا۔
اس نے سر ہلا دیا۔
چلو اندر جائو میں چلتا ہوں۔ ہایون نے اسے اندر جانےکو کہا پھر جاتے جاتے مڑ کر تاکید کی
میں کال کروں گا تو باہر آجانا ۔
میرا موبائل کل ٹوٹ چکا ہے یاد آیا؟
اس نے یاد دلایا۔
مائئ بیڈ اچھا میں اوپر ہی آجائوں گا۔ تم کلاس میں ہی رہنا ۔
اس نے فورا اگلا پروگرام سیٹ کردیا۔ وہ ہاتھ ہلاتا تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں اتر گیا۔ ریلنگ کے پاس آکر وہ اسکو سڑک پار کرتے تک وہ بلا ارادہ دیکھے گئ۔
مس اریزہ۔۔ کلاس شروع ہونے لگی ہے۔
کسی نے اسے دھیرے سے پکارا تو وہ چونک کے مڑی۔
سامنے سر علی کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اوہ ہیلو۔ سر آپکے کپڑے۔
اس نے اٹینشن سا ہو کر تھیلا انکی۔جانب بڑھایا ۔ عین اسی وقت سر نے بھئ ایک تھیلا اسکی۔جانب بڑھایا تھا۔
آپکی جیکٹ۔
اوہ۔ وہ میں کلاس میں بھول۔گئ اسے شائد۔
اس پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔ پہلے کوٹ اب جیکٹ۔ حد ہے لاپروائی کی اریزہ۔ وہ کوس کے رہ گئ خو دکو۔
آپ اسکو یہیں ریلنگ پر بھول گئ تھیں۔
سرکی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔
اس نے کھسیا کر گھمسامنیدہ کہہ کر تھام لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں اسکو نیند سے جھٹکے لگنے لگے تھے۔ بچپن سے انگریزی سیکھنا اور بات تھی بڑے ہو کر ایک نئی اجنبی زبان سیکھنا خاص کر زبان بھی ایسی جس میں ذرا سا حلق پر کم زور دے کر آواز نکالنے پر لفظ کا مطلب ہی بدل جاتا ہے۔
ہنگل کو ٹونل لینگویج کہا جاتا ہے۔ حلق سے نکلنے والی آوازوں سے الفاظ کے مفہوم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ۔
سرعلی بورڈ کی طرف مڑے ادھر اسکی بس ہوئی جمائی لیتے ہوئے اس نے سر ڈیسک پر ٹکا دیا۔
علی کی عادت تھی ہر نیا لفظ جملہ سکھاتے وقت وہ پوری کلاس سے دہرواتا تھا۔
میں کمچی شوق سے کھاتا ہوں۔
اس وقت بھی جب اس نے جملہ بول کر سب کو اپنے ساتھ بلوانا چاہا تو جواب میں کھلکھلاہٹیں ابھریں۔
وہ مسکرا کر مڑا۔
کیا ہوا؟
سر ۔۔ سب نے اریزہ کی جانب اشارہ کیا تھا۔
وہ سو گئ ہے۔ شائد۔
ایک نے شوخی سے پوچھا۔
ہم ہنگل میں کیسے کہیں گے کہ وہ لڑکی سو گئ ہے؟
ہنگل میں میل فی میل کیلئے الگ ورب استعمال نہیں ہوتا۔ وہ سوگئ ہے ہم۔لڑکے کیلئے بھئ استعمال کر سکتے ہیں۔
علئ مسکرا کر بولا۔
چلیں ہم دوسرا جملہ سیکھتے ہیں۔
اسے آرام کرنے دو مت تنگ کرو ۔۔
اس نے ہنگل میں جملہ دہرایا تھا۔
پوری کلاس نے شرارتا کورس میں دہرایا تھا۔
اریزہ ہڑبڑا کر اٹھ گئ تھی۔
صبح بخیر اریزہ۔
علی نے شرارت سے کہا تو پوری کلاس ہنس پڑی تھی۔
اریزہ کا منہ سرخ ہوگیا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
حسب ہدایت اس نے جیکٹ پہن لیا تھا کوٹ خاص طور پر یاد سے اٹھایا بیگ سنبھال کر باہر نکل آئی۔ سورج نہیں نکلاہوا تھا بادل چھائے تھے۔ سردی کڑاکے کی تھی۔ ہیون کا انتظار کرتے قلفی جمنے لگی تھی جب اسکی دیو ہیکل گاڑی موڑ مڑی تھی۔ جتنی دیر میں وہ یو ٹرن لیکر آیا وہ نیچے سڑک پر اتر کر آگئ تھئ۔ ہیون کو اترنا نہیں پڑا وہ سیدھا بھاگ کر گاڑی کے پاس آئی۔ اس نے فورا دروازہ کھولا۔ اندر گرم گرم ماحول اسے کچھ سکون ملا۔
بہت سردی ہے آج۔ اس نے ہتھیلیاں رگڑیں۔
ہیون نے اسے سیٹ بیلٹ پہننے کی تاکید کرتے ہوئے گاڑی چلا دئ۔
کافی پیوگی؟
اس نے پوچھا جوابا اس نے نفی میں سر ہلادیا
ہاں۔ ورنہ مجھے پھر نیند آجانی ہے۔ پتہ ہے۔ ۔ آج میری اتنی بستی ہوئی۔ سخت شرمندہ ہورہی ہوں میں۔ اس نے منہ پھلا کر شکایت لگائی۔
کیوں کیا ہوا۔ ہیون نے دلچسپی سے اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا
اتنا گرم ماحول تھا کلاس کا مجھے نیند آگئ۔سب نے اتنا مزاق اڑایا۔ وہ ناک چڑھا کر بولی۔
ہیون مسکرا دیا۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔
سر علی دیکھنے میں کیسے سڑو کھڑوس سے لگتے ہیں سب کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔
اس نے جمائی لیتے ہوئے بتایا۔
ہیونگ بہت خوش مزاج انسان ہوتے تھے۔ بہت شرارتی اور زندہ دل۔
ہیون کی بات پر اسے صد فیصد یقین تھا۔
اندازہ ہوگیا مجھے کل سے کافی پی کر جائوں گی کلاس میں۔ ویسے اسکینگ ریزورٹ کتنا دور ہے؟۔
اریزہ نے پوچھا تووہ گاڑی کی اسکرین پر اشارہ کرکے بولا
بنا ٹریفک 45 منٹس کا راستہ ہے تم سو سکتی ہو نیند پوری ہو جائے گی تمہاری۔
وہ احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا سیول کی سڑکیں شفاف بنا کھڈوں والی وہ سو بھی سکتی تھی مگر اتنی بستی کے بعد سونا چاہیئے نہیں تھا اسے۔ سو جھٹ کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔
نہ بابا نہ اب نہیں رسک لینا سونے کا۔ ۔ پوری آنکھیں کھول کر بیٹھوں گی ۔۔۔ایک دن میں ایک ہی بستی کافی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریفک آج تھا۔۔۔ شفاف سڑک طویل راستہ آج ہیون بھی خلاف معمول خاموش تھا۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتی چپ ہوئی اس وقت گاڑی ٹریفک میں پھنسی تھی ۔ جب تک نکلے گی۔۔۔۔ تیسرا کلمہ پڑھو تو راستے آسان ہو جاتے یہ سوچتے ابھی ورد شروع بھی نہیں کیا تھا کہ کب پلکیں بوجھل۔ہوئیں۔۔ سچ مچ اسکے برابر بیٹھی اونگھ گئ تھی۔ گاڑی رکی ہوئی تھی جب اسکی آنکھ کھلی۔ شائد ویسے ہی نیند پوری ہونے پر آنکھ کھلی تھی۔
اللہ و اکبر اللہ و اکبر۔ لا الہ الااللہ۔۔
نہیں اذان کی آواز تھی۔ بہت تیز نہیں تھی مگر واضح تھی۔ ختم ہو رہی تھی۔
اس نے سیدھا ہوتے اردگرد نظر دوڑائی تو باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔گاڑی شائد کسی تفریحی مقام کے احاطے میں پارکنگ ایریا میں رکی ہوئی تھی۔ اسکی سیٹ آرام دہ حالت میں پیچھے ہوئی وی تھی شائد جبھی وہ سوتی رہی۔۔
گاڑی بند کیئے نشست کی پشت سے سر ٹکائے آرام دہ حالت میں بیٹھا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی سامنے ونڈ اسکرین پر نگاہ جمی ہیون کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنی گہری سوچ تھی کہ اسکے اٹھنے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
اس نے شرمندہ سا ہوتے ہوئے پکارا
ہیون۔
آں دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
اٹھ گئیں تم؟ نیند پوری ہوئی۔
وہ یونہی پوچھ رہا تھا مگر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئ۔
آئیم سوری۔ تم نے کہیں گھومنے جانا تھا اور میں سو گئی۔ اٹھا دیتے مجھے؟ ایک تو تمہاری گاڑی کی نشست ہی اتنی آرام دہ ہے بندہ ذرا سا سر ٹکائے غافل ہو جاتاہے۔
خالصتا اریزہ کا انداز شرمندہ بھی ہورہی تھی ساتھ الزام اسکی گاڑی پر لگا دیا۔
بہر حال اٹھا دینا چاہیئے تھا تمہیں جانے کتنی دیر ہوگئی۔
اس نے موبائل میں وقت دیکھتے پھر ٹوکا۔ گھڑی نے اگلا جھٹکا دیا اسے۔چیخ ہی پڑی
کیا پونے سات میں تین چار گھنٹے سوتی رہی۔ حد ہے۔

تم بہت گہری نیند سو رہی تھیں مجھے اٹھانا مناسب نہیں لگا۔۔ اسکینگ کا ارادہ تھا یقین کرو گوانگانگ دو ریزورٹ کے پارکنگ لاٹ سے گاڑی واپس نکال کے لایا ہوں۔
ہیون محظوظ سے انداز میں بتا رہا تھا۔
اریزہ کی بچی۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی۔ رات گئے ہوپ کے ساتھ طویل بیٹھکوں کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ بہر حال نیند پوری ہو گئ تھی۔
مجھے جگا دینا چاہیئے تھا۔
اسکینگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی مگر یوں ہیون کی گاڑی میں دوسری بار اتنی طویل نیند لینا اسے خاصا شرمندہ کر گیا تھا کیا سوچتا ہوگا۔
چلیں؟۔۔
ہیون نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا وہ سر ہلا کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
یہ کونسی جگہ ہے؟
باہر ہوا خاصی سرد تھی اسے تو لگا بوندا باندی بھی ہو رہی ہے۔ اس نے جھر جھری سی لی۔
سر پرائز ہے خود ہی چل کر دیکھ لو
ہیون بے نیاز بنا ۔ اس نے بھی کندھے اچکا دیئے۔ پارکنگ انہیں نسبتا فاصلے پر ملی تھی۔ ذیلی سڑک پر ہیون کے ہم قدم چلتے وہ گردن گھما گھما کر دیکھ رہی تھی آتے جاتے لوگ سڑک کی چہل پہل سامنے کھلی مارکیٹ کی رونقیں ۔کرسمس کی تیاریاں عروج پر تھیں مارکیٹ میں جا بجا سینٹا کے لباس میں چلتے پھرتے لوگ اشتہار بانٹ رہے تھے کہیں کرسمس ٹری سجا کھڑا تھا وہ بہت شوق سے رونقیں دیکھ رہی تھی ہیون چلتے چلتے رکا۔ وہ بھی رک گئ۔
تم غلط جگہ دیکھ رہی ہو۔ پیچھے مڑ کر دیکھو۔ ہیون نے کہا تو وہ نا سمجھتے ہوئے گول گھوم گئ۔
وہ عربی طرز تعمیر کی بڑی سی عمارت تھی۔ سبز روشنی سے سجے دومینار گنبد۔ جس پر بڑا سا اللہ و اکبر لکھا ہوا تھا۔
اس نے حیرانگی سے مڑ کر اسے دیکھا۔
ہم مسجد آئے ہیں ؟
اریزہ کے حیرانگی سے پوچھنے پر وہ ہنس دیا۔
ہاں۔ چلو تو سہی اندر۔
ہیون کے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر ساتھ چل پڑی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سیول شہر میں جامع مسجد بھی ہوگی۔
یہ اٹیوان ہے یہاں کافی سارے مسلمانوں کے ریستوران بھی ہیں۔
ہیون اسکی معلومات عامہ میں اضافہ کر رہا تھا۔
وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے چل رہی تھی۔ شائد فیصل مسجد کی طرح کا کوئی تفریحی مقام ہے یہ۔۔ کوئی مشہور مسجد یا۔۔ وہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مسجد کا احاطہ شروع ہو رہا تھا۔ کچھ چندی آنکھوں والے کچھ افریقی النسل سر پر ٹوپی سجائے شائد نماز پڑھنے اوپر جا رہے تھے وہ ایک طرف ہو کر راستہ دینے لگی۔
ہیون اپنی جھونک میں آگے بڑھ رہا تھا کہ احساس ہوا وہ کہیں پیچھے رک گئ ہے۔ وہ واقعی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک جانب کھڑی ہو کر سر اٹھا کر مسجد کی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ کئی قطرے اسکے چہرے پر آن گرے تھے۔
کیا ہوا چلو نا نماز کا وقت ہو رہا ہےنا تمہاری؟
ہیون نے پاس آکر کہا تو وہ یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
تم یہاں مجھے اسلیئے لائے ہو کہ میں نماز پڑھ سکوں؟
وہ حیرانگئ سے مرنے کو تھی جیسے۔ ہیون نے سر ہلایا۔
لڑکیاں مسجد جا کر نماز نہیں پڑھتی ہیں۔ اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔۔
جانتا ہوں۔ مسلمان لڑکے او رلڑکیاں الگ الگ عبادت کرتے ہیں ادھر لڑکیوں کیلئے الگ انتظام ہے۔
اس نے دور راہداری کی جانب اشارہ کیا۔ جہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس میں کورین میں کوئی ہدایات وغیرہ لکھی تھیں۔
میں سب معلومات لیکر آیا ہوں۔ تم جائو نماز پڑھ لو میں یہاں تمہارا انتظار کرتا ہوں یا بلکہ ایسا کرتا ہوں میں بھی اندر پریئیر کر آتا ہوں۔ ٹھیک ہے۔
ہیون اسے آج شائد حیران کر کرکے ہی مارنے والا تھا۔
تم کونسی پرئیر کروگے؟ نماز پڑھوگے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
ہیون ہنس دیا۔
مجھے نماز کہاں آتی ہے مگر خدا تو ہر عبادت گاہ میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ میں اندر جا کر ہاتھ جوڑ کر پرئیر کر لوں گا جیسے تم نے چرچ میں ہاتھ ایسے کرکے دعا مانگئ تھی۔
ہیون نے دعا کرنے کے انداز میں ہاتھ پھیلاکر سمجھایا۔ اسکے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس دن چرچ میں سر ڈھانک کر اس نے جو دعائیں مانگی تھیں اسکو کسی نے نا صرف نوٹ کیا تھا بلکہ اسکا بدلہ اتارنے پر تل گیا تھا۔ مسجد میں ہتھیلیآں جوڑ کر پرئیر کرنے کو تیار ہیون ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ اسکی معصومیت پر ہنسے یا اپنا سر پیٹ لے۔
کیا سوچ رہی ہو؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
ہم باہر چل کر بات کرتے ہیں۔
بہر حال وہ مسجد کے احاطے میں کھڑے تھے۔ اسے یہاں اسکی غلط فہمی دور کرنا بھی بے ادبی لگا تھا۔
وہ سنجیدگی سے کہہ کر پلٹی
اریزہ۔ رکو ۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔
ہیون نے اسکا بازو تھام کر روکا۔

نیچے چلتے ہیں نا۔ بارش بھی ہونے لگی ہے اب تو۔
اریزہ نے بیزاری سے کہا۔۔
نہیں یہیں بات کرنی ہے۔
اس نے لمحہ بھر سوچ کر گہری سانس لیکر کہہ دیا۔
میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ میں آج تمہیں یہاں اسی لیئے لیکر آیا ہوں۔
وہ تھم کر رکا تھا پھر ایک قدم آگے ہو کراسکا ہاتھ تھام کر کہنے لگا۔ اسکی سنجیدگی اسکا انداز اریزہ ٹھٹک کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔ اسکے صبیح چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یقینا کوئی اہم بات تھی۔
ایسی کیا بات۔۔ نیچے چل کر بات کرتے ہیں نا۔۔
کھد بد تو ہو رہی تھی ۔ اریزہ نے دھیرے سے کہہ کے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔
اریزہ میں جو بھی کہنے جا رہا ہوں اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہے۔ جو میرے دل میں ہے بنا سوچے میں کہہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ اس نے گہری سانس لیکر اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
اس دن چرچ میں تمہیں دیکھ کر مجھے ایک الگ سا احساس ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا وہ کیا احساس تھا۔۔ تم پرئیر کر رہی تھیں مگر تم اتنی مختلف اور مقدس سی لگی تھیں مجھے کہ میرا دل لمحہ بھر کو جیسے تھم سا گیا تھا۔ تمہیں دیکھنا تمہیں جاننا چاہتا تھا تب میں۔
اریزہ اپنا ہاتھ چھڑانا بھول گئ تھی۔ موسم نے کروٹ لے لی تھئ۔ بوندا باندی تیز پھوار میں بدلتی جا رہی تھی۔
اور پھر دھیرے دھیرے یہ احساس اتنا الگ اتنا انوکھا رخ اختیار کر گیا ہے کہ اسکا اعتراف میں آج یہاں کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری مقدس ترین عبادت گاہ میں کہ۔
وہ سانس لینے رکا۔۔ اریزہ کی سانس رک سی گئ۔
اریزہ تم مجھے بہت اچھی لگنے لگی ہو۔
رواں انگریزی بولتے بولتے وہ ایکدم اردو پر اتر آیا تھا۔
اریزہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ۔
اس نے ذرا سا وقفہ لیا۔
میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔
اس نے ان دو جملوں کو بولنے کی بہت مشق کی تھی۔ جبھی بالکل اٹکے بنا ایکدم کہہ ڈالا تھا۔
بجلی نہیں کڑکی تھی۔ بادل نہیں گرجے تھے۔ مگر شور ایکدم سے اتنا بڑھا تھا کہ اسے جیسے اسکی سنائی ہی نہ دی۔ نہیں سن تو لی تھی مگر سمجھ نہیں آئی تھی۔
اریزہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔
کیا اس نے وہی کہا ہے جو اس نے سنا ہے۔
اریزہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔ جھنچا۔
ہیون نے جھنچا پر زو ردے کر کہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔

جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us below

Rating