Desi Kimchi Episode 24

قسط 24

کسی نامانوس سے احساس کےتحت اسکی آنکھ کھلی۔ نیم تاریکی میں اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا تو کمرہ یکسر اجنبی لگا۔ چھوٹا سا کمرہ جس میں اسکے بیڈ کے بالکل برابر کھڑکی پر بھاری پردے تنے تھے۔ ہلکی سی دراڑ سے روشنی کسی بلب کی ہی تھی مدھم سی یعنی شام ہو رہی تھی یا رات ہوگئ تھئ۔ اسے اندازہ نہ ہوا۔۔ اس پر ۔گھبراہٹ کا غلبہ طاری ہوا۔اس نے کہنی پر وزن دیتے فورا اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو کنولا کی سوئی ہاتھ پر زور دینے سے چبھی ۔وہ تڑپ کر واپس تکیئے پر گر سی گئ۔ جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ سے بستر ٹٹولنا چاہا تو کوئی نرم سی چیز ہاتھ میں آئی۔ اس نے جیسے ہی تھاما احساس ہوا وہ بھی کوئی ہاتھ ہی تھا۔
اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کوئی لڑکی اسٹول بیڈ سے جوڑ کر اس پر بیٹھی اسکے بیڈ پر بازو کا تکیئہ بنائے اس میں منہ چھپائے ٹکی شائد سو رہی تھی۔
اس نے زرا سا گردن اٹھا کر پہچاننا چاہا شولڈر کٹ بکھرے بال ۔
اس نے گہری سانس لی۔
وہ واعظہ تھی۔اس نے اپنے اردگرد ماحول پر نگاہ کی تو اندازہ ہوا کہ اسپتال کے کمرے میں ہے۔ مگر یہاں کیسے؟ اس نے ذہن پر زور ڈالنا چاہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یونہی سڑکوں پر پھرتی پھری تھی۔ سڑک پر چہل پہل تھی۔ لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی وہ اداس سی ہوتی گئ۔
ان سب کیلئے معمول کے دن کا اختتام ہوا تھا اور اسکا تو عید کا دن تھا۔ پہلی عید جس میں وہ خالی ہاتھ خالی جیب راستہ ناپ رہی تھی۔ اسکے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے تھے کہ وہ بس سے سفر کر لیتی۔تھکے تھکے قدم جب اٹھنے سے انکاری ہوئے تو وہ بس اسٹاپ پرلگے بنچ پر آبیٹھی
کیا پایا تھا اس نے فین میٹنگ سے۔ مہینوں کی جمع پونجی اور منٹوں کی ملاقات۔ وہ سیلیبریٹی جو اسکرین پر دیکھتے ہوئے کردار ادا کرتے آس پاس کہیں محسوس ہوتا تھا آج جب سامنے بیٹھا تھا تو لگتا تھا میلوں کے فاصلے ہیں درمیان۔اوروہ وقت حسب خواہش تھما ہی نہیں۔اس نے موبائل نکال کر لاک اسکرین پر نظر جما دی۔
اسکی جانب تحفہ بڑھاتے ہوئے لی منہو کی نگاہ اسکی ہتھیلی پر بنے نقش و نگار پر پڑی۔
اس نے بڑی دلچسپی سے اس سے پوچھا
یہ کیا ہے کیسے بنایا؟
اس نے جوابا اپنی ہتھیلی اسکے سامنے کر دی تھی۔ اور اسے اتنا پسند آیا کہ اپنے مینجر کو کہہ کر تصویر بنوائی مسکراتا ہوا لی من ہو اور اسکی پشت پر دونوں ہتھیلیاں دکھاتی مسکراتی عشنا۔
تصویر بنوا کر اس نے شکریہ بھی ادا کیا۔ جوابا عشنا نے اپنا موبائل بھی بڑھا دیا۔۔
اسکے ہاتھ میں لی من ہو کے ہاتھ کی کھنچی سیلفی تھی جس میں وہ خود بھی تھئ۔۔
لی من ہو ملٹری جا رہا ہے۔ اگلے دو سال اسکے ملٹری میں گزرنے اس بات پر وہ پاکستانی لڑکی بیٹھئ اداس ہو رہی تھی۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
بے چاری کا لگتا ہے بریک اپ ہوا ہے۔
پاس کھڑی اب ہائی اسکولر لڑکیوں نے تاسف سے اسے موبائل ہاتھ میں لیئے بے آواز روتے دیکھا۔
انی۔ دل چھوٹا نہ کرو تمہیں اس سے بہتر مل جائے گا فائٹنگ
وہ لڑکی اسکی جانب ٹشو بڑھاتئ بڑے خلوص سے کہہ رہی تھی۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ موبائل لاک اسکرین مدھم ہو کر بند ہو چکی تھئ
اس نے شکریہ کہہ کر آنکھیں رگڑ لی تھیں۔
کون جانے اس وقت آنکھیں پونچھنے سے ذیادہ ضروری اسکا گھر پہنچنا تھا جسکے لیئے ٹشو نہیں سکے درکار تھے۔
اب وہ جانے خوش قسمت تھی کہ آنسو پونچھنے والیاں مل گئیں یا بد قسمت کہ گھر پہنچنے کا کوئی سبب نا بن سکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں بالکل خاموش لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق فلیٹ میں واپس آئے۔ جوتے راہداری میں اتارنے کی دونوں کو عادت نہیں تھی سو سیدھا کچن میں لینڈ کیا۔
ہے جن البتہ تسمے کھولنے میں لگا تھا
میں کہہ رہی تھئ کہ یہ جھوٹ نبھے گا نہیں۔طوبی آپی کو روتے دیکھ کر اتنا برا لگا مجھے ہم نے بلاوجہ انکو دھوکا دیا۔ سب اس ہے جن کے بچے کی وجہ سے ہوا ہے کیا ضرورت تھئ اسے اتنی لمبی کہانیاں ڈالنے کی۔ عزہ کا پارہ ہائی ہوا وا تھا۔ٹہل ٹہل کر بولے جا رہی تھئ
یہ اچھا ہے جو چندی آنکھوں والا ملتا اسے میرا بھائی بنا دیا جاتا ۔ پہلے سیہون اب یہ ہے جن۔ٹھیک ٹھاک بستی ہے جن نے کروادی ہے اب اگلی باری سیہون کی ہوگی۔ جس دن اسے پتہ لگے گا کہ وہ میرا زبردستی منہ بولا بھائی بنا ہوا ہے تو جانے وہ کتنا بولے گا
فاطمہ فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالنے لگی۔ گلاس میں بھر کر منہ تک لے جانے ہی لگی تھی
فاطمہ پانی پینے لگی ہو۔اس کی نظر پڑی تو چیخ مارتی اسکے ہاتھ سے گلاس چھین لیا۔ پانی اچھل کر اسکے کپڑوں پر آرہا۔ اس نے خشمگیں نظروں سے گھورا
تم سیہون کئ بہن ہو یا نہیں کام نندوں والا کیا ہے۔ کیا تکلیف ہے اگرمیں پانی پی لوں تو۔ وہ کپڑے جھاڑنے لگی
عزہ کھسیا سئ گئ۔ وہ مجھے لگا روزہ ہے۔ اب اتنے دنوں سے اس وقت کوئی پانی پیتا نہیں تو۔عادت وہی پڑی وی۔
اس نے وضاحت دیتے گلاس اپنے منہ سے لگا لیا۔
ہے جن آئو کھانا کھا لو۔ عروج نے بریانی بنائی ہے۔
فاطمہ نے ہے جن کو سر جھکائے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر آواز دی
مجھے بھوک نہیں۔ اس نے دھیرے سے کہہ کر بڑھ جانا چاہا
اتنی سی بستی سے پیٹ بھرگیاکیا؟۔
عزہ طنزیہ انداز میں بولی۔
مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا بات
چھوڑو بھئ عزہ۔ فاطمہ نے ٹوکنا چاہا تو وہ گلاس کائونٹر پر پٹخ کر آستین چڑھا کر بولی۔
تمہاری وجہ سے طوبی آپی بلک بلک کر روئیں اتنا برا مجھے زندگی میں کبھی کسی کا رونا نہیں لگا جتنا طوبی آپی کا لگا عین عید کے دن وہ تمہاری وجہ سے روئیں۔۔تمہارے بے سروپا جھوٹ کی وجہ سے انکا دل ٹوٹ گیا۔کوئی شرم آئی تمہیں؟
عزی بس کرو ۔ فاطمہ نے اسکو کندھے سے تھام کر روکا
میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ میں خود جائوں گا ان سے معافی مانگنے
ہے جن کا چہرہ ست سا گیا تھا۔ سنبھل کر سوچ سوچ کر وہ بولا
اچھا۔ عزہ استہزائیہ ہنسی پھر چٹخے ہوئے انداز میں بولی۔
غلطی کا احساس ہے تمہیں؟ کس غلطی کا طوبی آپی سے یہ جھوٹ کہنے کا کہ میں تمہاری بہن ہوں یا انکو بے وقوف بنا کر انکے گھر مسلمان ہونے کا ناٹک کرنے کا؟ جھوٹی نماز پڑھتے جھوٹے روزے رکھتے شرم نہیں آئی تمہیں کس فخر سے مانا تم نے طوبی آپی کے سامنے کہ تم دل سے ابھی بھی بدھ متی ہو اور وہ نماز روزے سب دکھاوا تھا تمہارا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ یہ سب ڈرامہ کر رہا ہے۔
وہ نماز روزہ سب ڈرامہ تھا دلاور۔ وہ کبھی بھی مسلمان نہیں تھا نہ پیدا ہوتے وقت نہ بعد میں کبھی اس نےسوچا۔ میں ایک کافر کو بھائی بنا کر اسکی خدمت کرتی رہی اسے کھانے پکا پکا کر کھلاتی رہی قرآن تھمادیا اسے ہاتھ میں ۔مجھے کتنا گناہگار کر دیا ہے اس نے۔
طوبی رو ئے جا رہی تھی۔بچے سہم کر بابا کے پاس بھاگے آئے تھے وہ خود بمشکل اٹھ کر لائونج میں چلے آئے۔ طوبی گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی تھی۔ انہوں نے دھیرے سے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ گلوگیر لہجے میں سر اٹھا کر بولی۔ اسکی آنکھیں موٹے موٹے آنسوئوں سے بھری تھیں
بیٹا بہن بھائیوں کو لیکر کمرے میں جا کر کھیلو۔۔ بلکہ فریج سے آئیسکریم نکال کر اندر جا کر بیٹھ کر کھائو۔
دلاور نے بڑی بیٹی کو کہا تو وہ سر ہلاتی دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو ہنکا کر لے گئ
تم رو کس بات پر رہی ہو ؟ مانا اس نے جھوٹ بولامگر یہ بھی تو دیکھو کیوں۔۔ محبت کرنے لگا ہے وہ تم سے۔ کسی سگے بھائی کی طرح خیال رکھتا رہا ہے تمہارا۔۔ تمہاری خاطر اس نے جو تم نے کہا وہ سب کیا نماز تک پڑھنے کی کوشش کئ صرف تمہیں خوش کرنے کو۔
وہ اسے سمجھا رہے تھے
نماز روزہ انسانوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں کیا جاتا دلاور۔
وہ بپھر کر بولی
تو پھر انسان ہو کر کسی کے نماز روزے کی فکر کیوں کی تم نے ؟
دلاور کا سوال کڑا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ بہت سخت الفاظ ہیں تمہارے۔
فاطمہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔۔ مگر عزہ سن نہیں رہی تھی چبا چبا کر بولی
ہم سب تک یہ سمجھتے رہے کہ تمہارا دل بدل گیا یے اور تم مسلمان ہونے لگےہویہاں ہمارے سامنے یہ ڈرامہ کرتے رہے کہ تم روزے سے ہو اور باہر سور وغیرہ کھاتے رہے ہوگے۔
اس دن تو مجھے بھی کھلا دیا۔تم نے ہمارا ہمارے مذہب کا مزاق اڑایا ہے جھوٹ دکھاوا کرکے۔تمہارے روزے سب جھوٹے تھے تمہاری نمازیں
نونا بس کریں۔
ہے جن جیسے تڑپ کر چیخا۔مٹھی بھینچ کر وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا
میں مسلمان ہوا یا نہیں مگر میں نے روزہ ہمیشہ پورا رکھا ۔ اسکا ہر رکن پورا کیا۔ اسکول میں بے ہوش ہوکے گرا ہوں مگر کچھ کھایا پیا نہیں۔ جس دن آپ نے سور چکھ لیا تھا اس دن سے آج تک میں نے سور کو ہاتھ نہیں لگایا جبکہ یہ میرا پسندیدہ کھانا ہے۔
ہے جن ہم جانتے ہیں تمہیں دل پر مت لو اور۔
فاطمہ اب ہے جن کو ٹھنڈا کرنا چاپ رہی تھی مگر وہ بھی اسکی ایک نہیں سن رہا تھا
کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو تمہیں بولو؟ عزہ اسکے انداز کو خاطر میں نہ لائی مزید تیز ہوکر بولی
خود تم نے اپنے ساتھ کیا جو بھی کیا۔ نہ جھوٹ بولتے نا نبھاتے نا ہی تمہیں یہ سب کرنا پڑتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ہمدردی ہو گئ تھئ اس سے۔ مجھے سچ مچ وہ اپنا چھوٹا بھائی لگنے لگا تھا۔
طوبی جیسے تھک کر بولی۔
اور اب اچانک وہ برا لگنے لگا؟ اسکا مذہب اسکا قطعی ذاتی معاملہ تھا طوبی تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اسکو زبردستی اسلام سکھانے کی جانتی ہو وہ تمہارے سامنے اعتراف کرنے سے پہلے جانتی ہو مجھ سے کیا پوچھ رہا تھا؟ دلاور نے گہری سانس لیکر اپنی احمق مگر بے حد پیار کرنے والی بیوی کی آنکھوں میں جھانکا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دل سے رکھ رہا تھا کہ نہیں یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے تم میں سے کسی کو میرے نماز روزے سے گناہ نہیں ملا اتنا جان گیا ہوں۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوتا ہے اللہ صرف تمہیں تمہارے گناہ ثواب پر جواب طلبی کرے گا کسی کوریائی ہائی اسکولر ہے جن کے اعمال پر نہیں سمجھیں عزہ نونا۔۔
وہ جیسے ضبط چھوڑ بیٹھا ۔ اسکے الفاظ اسکی اندرونی کیفیت کو آشکار کر رہے تھے وہ اتنا ہی بے چین اور مضطرب تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھیں ضبط سے سرخ ہو گئ تھیں۔ عزہ بھی اسکا چہرہ دیکھتے لمحہ بھر کو چپ سی پوئی پھر اپنی جون میں واپس آتے ہوئے جواب دینے کو منہ کھولا
مگر تم۔۔۔۔۔۔۔
کہ فاطمہ دھاڑی
بس کرو دوبارہ یہ مسلئہ یہاں شروع کرنے کی ضرورت نہیں تم دونوں کو۔ جو بھی ہوا اس میں ہم سب کی غلطی تھی کسی کی تھوڑی سہی مگر بہر حال اس معاملے کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھو۔ عید کے دن ایسے فضیحتے مت کرو ایک دوسرے کے۔
دونوں اسکے یوں چلانے پر ایکدم خاموش ہو رہے۔
چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔۔
چلو کھانا کھائو ۔بہت بھوک لگ چکی ہے اب مجھے۔
جتنی زور سے چلائی تھی اب اتنے ہی دھیمے انداز میں کہہ رہی تھئ
مجھے بھوک نہیں۔دونوں نے اپنی اپنی زبان میں اکٹھے کہا تھا
اب یہ فالتو بھوک ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس نے انگریزی میں سمجھانا چاہا تو دونوں سر جھٹک کر اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے
لگتا یے انگریزی سمجھ نہیں آئی انہیں میری۔۔
وہ کندھے اچکا کر بڑ بڑائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھکا ہارا جب گھر پہنچا تو گھر خالی تھا۔ وہ سیدھا کچن میں چلا آیا بھوک کے مارے دم نکل رہا تھا۔ ڈھیر سارا کھانا بنا ہوا تھا خوشبو پورے اپارٹمنٹ میں پھیلی تھی۔۔ اس نے ڈھکن ہٹا کر دیگچی میں جھانکا۔بریانی ۔۔ ساتھ ایک پیالے میں کسٹرڈ۔
بریانئ۔ اسکا منہ بن گیا۔ جانے یہ لڑکیاں اس مرچیلی مرغی اورچاول کے ملغوبے کو اتنا شوق سے کیوں کھاتی تھیں۔ اور آج کھایا کیوں نہیں تھا۔ ایک ہفتے میں تیسری باروہ یہ کھانے جا رہا تھا۔ پلیٹ بھر کر ایک چھوٹی پیالی میں کسٹرڈ نکال کر وہ وہیں کائونٹر کا اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ چاپ اسٹکس سے نوالہ بنانا چاہا تو کھلے کھلے چاولوں کے دانے بکھرتے چلے گئے
وہ گہری سانس بھر کر اٹھنے کو تھا کہ اسکے سامنے ایک چمچ لہرایا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو فاطمہ اسے چمچ تھما رہی تھئ۔
کھمسا۔۔ شکریہ۔ وہ روانی میں ہنگل بولتے ہوئے ٹھٹک کر انگریزی میں بولا۔
ہے جن کھانا نہیں کھا رہا ۔۔
اس نے جیسے اطلاع دی۔
تو ؟ سیہون کو سمجھ نہ آیا کہ اس میں پریشانی والی کیا بات
عزہ نے بھی نہیں کھایا۔ اس نے ایک اور اطلاع دی۔
تم نے کھایا؟ سیہون نے الٹا سوال کر ڈالا
نہیں ۔ وہ اسکے سامنے والا اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ
وہ گہری سانس لیکر اٹھا دیگچی سے بریانی کی نئی پلیٹ بنائی لا کر سامنے رکھی اسکے۔
مجھے یہ والی بوٹی پسند نہیں۔
فاطمہ نے منہ پھلایا۔ وہ دیکھ کر رہ گیا۔ پھر اپنی پلیٹ سے ٹانگ اٹھا کر اسکی پلیٹ میں رکھی اور وہ بڑی سی ریشے والی بوٹی اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔
اتنی مزے کی بریانی بنائی تھی میں نے۔
کوئی کھانے کو تیار ہی نہیں۔ وہ خود بریانی سے ٹھیک ٹھاک انصاف کر رہی تھی۔چمچ ایک جانب پڑا تھا پلیٹ کے۔وہ بھی سر جھٹک کر کھانے لگ گیا۔
واعظہ ہوتی تو دونوں کو سیٹ کر دیتی۔ میری تو سنی ہی نہیں دونوں نے۔ آج کل کے بچے۔ بلکہ نہیں بچے کہنا تو مناسب نہیں۔اتنے بھی چھوٹے نہیں مجھ سے۔
وہ سوچ میں پڑی پھر مڑ کر بند دروازوں کو گھورا۔
یہ بڑے بڑے گھوڑے بد تمیزی کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی نہیں کوئی بڑا سامنے کھڑا ۔۔ذیادہ نہ سہی تھوڑی سی تو بڑی ہوں میں۔ تھوڑا سا ہی لحاظ کر لیتے۔
اسکا جتنی رفتار سے منہ چل رہا تھا اتنی ہی رفتار سے زبان بھی۔
واعظہ کہاں ہے۔ ؟ اسے پورے جملے میں بس واعظہ ہی سمجھ آیا۔ سو اسی کی بابت سوال کیا فاطمہ چونکی پھر سنبھل کر انگریزی میں بتایا۔
وہ نور کی طبیعت خراب ہوگئ تو عروج اور واعظہ اسپتال گئی ہیں۔
کیا ہوا اسے؟ وہ چمچ چھوڑ بیٹھا
ٹھیک ہے بس شائد بی پی لو ہوگیا یا کیا بے ہوش ہو گئ تھی۔ وہ بروقت اسپتال لے گئے تھے۔ اسکی حالت تشویش ناک نہیں تھی مگر وہ بے ہوشی میں کچھ بول رہی تھی جس میں انہیں یہی سمجھ آیا کہ اپنوں کو بلا رہی ہے سو ۔۔
فاطمہ کو اسکا انداز تھوڑا عجیب لگا۔ اتنا پریشان کیوں؟۔ لیکن اسکی تسلی کو تفصیل سے بتایا۔۔
واعظہ سے بات ہوئئ؟ ۔اس نے چمچ ابھی بھی نہیں اٹھایا تھا
ہاں وہ کہہ رہی تھی ابھی ہوش میں نہیں اسکی نفساتئ دبائو کی وجہ سے طبیعت خرا ب ہوئی تھی۔ سو اسکو نیند آور دوا دے کر سلایا ہوا ہے۔
فاطمہ کے بتانے پر شائد کچھ تسلی ہوئی تھی اسے۔ سو سر ہلاتا آرام سے کھانا کھانے لگا
بات سنو۔ وہ میری سے تعلق ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے تمہارا؟ ۔
اس نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا ۔
سیہون نے جواب نہیں دیا خاموشی سے کھانا کھاتا رہا
وہ کوئی میرج انشورنس والے آئے تھے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ تم کب موجود ہوگے۔
اس نے بتانا شروع کیا سیہون کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ۔سخت متوحش سا ہو اٹھا
تم نے بتادیا تم میری بیوی ہو؟
اسکا ردعمل غیر متوقع تو نہیں مگر جارحانہ لگا پہلے تو سوچا مکر جائے مگر پھرسوچا کیا اکھاڑ لے گا غصے میں سو ڈرتے ڈرتے سچ بول ہی دیا
آہ آں ۔ہاں۔ مجھے لگا وہ این جی او والے ہیں۔
ہائش ۔۔ وہ جیسے سرپکڑ کر رہ گیا۔
کیا ہوا؟ کچھ غلط ہو گیا۔کیا
وہ ہمدردی سے اسکی جانب تھوڑا رازداری سے جھک کر بولئ
ہاف۔ وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔
آندے۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ وہ خالی پلیٹ لیکر اٹھ گیا۔۔
میرج انشورنس کیا بلا ہے؟ تم نے اور میری نے تو شادی ہی نہیں کی نا؟ تو انشورنس کیسی؟
اسے سچ مچ تجسس ہو رہا تھا ۔ سیہون سنک میں اپنی پلیٹ اور چمچ دھو رہا تھا وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھاتی اسکے پاس چلی آئی۔
ہم پچھلے چار سال سے ایک بانڈ بھر رہے تھے جس کے مطابق جب ہم شادی کرتے تو ہمیں شادی کے اخراجات کیلئے ایک معقول رقم ساتھ ایک تحفتا ہنی مون پلان ملنا تھا۔ اگر ہم ۔۔۔۔۔۔۔
۔ سیہون کو اتنا تو اسکے بارے میں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ جواب لیئے بنا ٹلے گی نہیں سو بتانے لگا
کمیٹی ڈال رہے تھے شادی کیلئے۔
اس نے سمجھ کر سر ہلایا
ہمارے یہاں یہ کام امیاں کرتی ہیں ۔ جب سے پیدا ہوتی ہیں لڑکیاں۔۔۔ انکے لیئے جوڑ توڑ شروع اور شادی کیلئے چیزیں جمع کرتی ہیں۔پھر کمیٹی کھل جائے تو شادی کے اخراجات اسی سےپورے ہوتے۔ میرا خیال ہے سب ایشیائی ممالک ایک جیسے ہی ہیں۔میری امی نے میرے لیئے اتنا سونا جمع کر رکھا تھا کہ بس ایک اسی وجہ سے کبھی کبھی میرا بھی شادی کرنے کا دل کر ہی جاتا تھا۔
وہ علامہ بن کر تقریر جھاڑتی کافی میکر میں کافی بنانے لگی۔
کافی پیئوگے؟ اس سے بھی پوچھ لیا۔اس نے سر اثبات میں ہلایا تو وہ اسکیلیئے بھی کافی بنانے لگی۔ سیہون نے اسکی استعمال شدہ پلیٹ بھی دھونے کی نیت سے اٹھا لی
تم لوگوں کے ہاں لڑکیوں کی شادی کا خرچ والدین اٹھاتے ہیں۔؟
اس نے یوں سوال کیا جیسے یہ کوئی انوکھی بات ہو۔
ہاں۔ اس نے آرام سے کہا۔ یہاں بھی میں نے ڈراموں میں دیکھا والدین شادیاں کرواتے ہیں خرچ اٹھاتے وہاں بھی ایسا ہی ہوتا۔
اگر والدین ہوں تو نا۔ سیہون نے ہاتھ دھو کر ٹوٹی بند کی پھر پیپر ٹاول اٹھا کر ہاتھ خشک کرنے لگا
مطلب؟ اسے بات سمجھ نہ آئی
میری کے والدین نہیں ہیں۔وہ یتیم خانے میں پلی بڑھی ہے جبھی اپنی شادی کیلئے سارے اخراجات اٹھانے کیلئے اس نے انشورنس کرارکھی تھی۔
تو کلیم کروا کر تم سے شادی کیوں نہیں کی؟ اسے انکے رشتے کے ختم ہونے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
سیہون نے گہری سانس لی
۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد ۔۔۔۔ جاری ہے

Desi Kimchi Episode 23

قسط 23
اپنی جماعت میں تھکے تھکے قدم اٹھاتئ وہ سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئ تھی۔ عید کا جوڑا پہن رکھا تھا مگر اوپر بڑا سا کالا عبایا اور نقاب۔ بس ہاتھ پر لگی مہندی کا رنگ خوب جم کر آیا تھا۔ وہ اسی کو غور سے دیکھنے لگی۔ کوریائی طرز کا شہتیروں والا گھر ساتھ چیری بلاسم کا بڑا سا درخت چھوٹئ سی پگڈنڈی جو کلائی تک آرہی تھی بکھرے پتوں سے سجی تھی۔
سرخ رنگ سے سجے اس لینڈ اسکیپ پر کسی کا ہنر زوروں پر تھا۔
بورنگ عید ؟ اس نے گہری سانس لیکر سوچا۔
تبھئ اسکے سامنے جاپانی ڈمپلنگز کا ٹفن پیک لہرایا۔
اس نے چونک کر سر اٹھایا تو اسکی واحد جاپانی سہیلی یوگوائے اسے مسکرا کر کہہ رہی تھی
عید مبارک عزہ۔
وہ بے ساختہ اٹھ کر اسکے گلے لگ گئ تھی۔
………………..۔
دس بجے اسکی آنکھ کھلی تھی۔انگڑائی لیکر اٹھی تو کمرہ خالی تھا۔ سستی سے چپل گھسیٹتی باہر نکلی تو فاطمہ اپنے بالوں کا جوڑا بنائے چولہے کے پاس کھڑی نظر آئی۔ تھپ تھپ پراٹھا بنانے میں مصروف آہٹ پر مڑ کر دیکھا تو جھٹ کام بتا دیا
اٹھ گئیں یار واعظہ چائے میں پتی ڈال دو۔
اسکا منہ بن گیا۔ جانے کونسی منحوس گھڑی اچھی چائے بنادی۔ زندگئ بھر کیلئے چائے پر اسکا نام لکھ گیا تھا۔ نہ کسی اور کو نہ ہی خود کو کسی اور کے ہاتھ کی چائے پسند آتی تھئ۔
یہ لوگ چلی گئیں۔ ؟ وہ منہ بناتے دھپ دھپ کرتی آئی چائے کا ڈبہ اٹھا کر چمچ بھر بھر کر پتی جھونک دی۔
اوئے یہ ڈبہ مہینہ بھر چلانا تھا میں نے۔ وہ چیخ ہی توپڑی
اب نہیں چل پائے گا جلدی ختم ہو جائے گا۔
واعظہ اطمینان سے بولی تو وہ اسے بیلن مارتے مارتے رہ گئ۔
سیہون نوکری پر گیا ہوا۔الف عشنا اور عزہ یونیورسٹی گئ ہیں۔ صبح تیار ہوتے کتنا تو شور کیا جگا کے دم لیا مجھے سر میں درد ہوگیا تب سے۔
وہ باقائدہ جمائی لیتے ہوئے بولی۔
عروج کہاں ہے۔ اس نے آملیٹ کیلئے پیاز کاٹتے ہوئے پوچھا۔
ٹیرس پر ۔۔ فاطمہ نے منہ بنایا۔ جب سے اٹھی ہے فون پر لگی ہے اسے کہا تھا کہ آملیٹ بنا دے۔
گھر بات کر رہی ہوگی عید کا دن ہے۔ واعظہ نے لاپروائی سے کہا تو وہ تپ کر بولی
ہنگل میں لگی ہوئی ہے۔ اسکے گھر کونسا کورین پیدا ہوگیا ہے۔ پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھا مڑ کر دیکھا تو واعظہ ہاتھ روکے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔
اسکے دیکھنے پر فاطمہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
دونوں نے پھراکٹھے دوڑ لگائی ۔ ٹیرس کا گلاس ڈور بند تھا اسے دھیرے سے کھول کر دونوں کے صرف سر درز سے باہر نکلے۔۔ باہر ٹہلتے ہوئے عروج بہت خوشگوار انداز میں کسی سے مخاطب تھی۔
ہاں۔۔ نہیں۔ بس یہاں کیسی عید شائد شام کو کسی پبلک پارک میں گھومنے جائیں۔ ہاں۔ نہیں پاکستان میں تو سب رشتے دار ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں۔ ہاں۔ ہاں۔ سب سے مزاتب آتا جب۔
پلٹتے ہوئے ادھ کھلے گلاس ڈور سے لٹکتے دو سروں پر نگاہ پڑی تو آواز حلق میں گھٹ سی گئ ۔بلکہ ہلکی پھلکی چیخ نما بے معنی آواز بھی نکلی دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
دوسری جانب سیونگ رو چونکا
کیا ہوا خیریت۔
دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی اس نے منہ ہی منہ میں دونوں کو گالیاں دیں۔
آہاں۔ وہ ناشتے کا وقت ہو چلا تو ذرا کھا پی لوں بعد میں بات کرتی ہوں۔ سنبھل کر خدا حافظ کہہ کر فون بند کرکے وہ تن فن کرتی انکے پاس آئی
سیدھے طریقے سے باہر نکل آتیں دہلا دیا دو سر لٹک رہے ہیں بس۔
کون تھا؟
دونوں کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ زرا جو بدمزا ہوئیں ہوں آکٹھے کورس میں دریافت کیا۔
سیونگ رو تھا۔ وہ چلبلا کر دروازہ پورا کھولتی اندر چلی آئی۔ دونوں سیدھی ہوئیں ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔
عید کے دن سیونگ رو ۔ یعنی ڈبل عید۔ ڈبل خوشی۔
واعظہ نے شرارت سے اسکو قریب آکر کندھا مارا۔
واہ جی۔ فاطمہ کیوں پیچھے رہتی دوسرا کندھا اسکا ہوا
یہ کب ہوا کیسے ہوا؟؟؟ ہمم بولو
اوفوہ۔ وہ مصنوعی جھلائی دونوں کو اپنے کندھوں سے جھٹکا پھر بے نیازی سے بولی۔
ہم اچھے کولیگ ہیں عید کا تہوار آیا تو مبارکباد کیلئے اس نے فون کر دیا ذیادہ اپنے ننھے دماغوں پر زور نہ ڈالو گھس جائیں گے۔ ابھی عمر پڑی ہے انکو رگڑنے کیلئے۔
وہ سیدھا آملیٹ بنانے اسٹو کی جانب بڑھ گئ تھی۔ واعظہ پیاز کاٹ چکی تھی فاطمہ نے انڈے پھینٹ رکھے تھے۔ سو آرام سے آملیٹ بنانے لگی۔
بس زبانی عید مبارک۔۔واعظہ نے منہ بنایا پھر شرارت سے گنگنانے لگی۔
عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیئے۔
عروج نے بنا لحاظ کائونٹر سے اںڈا ہی اٹھا کر اسے دے مارا۔ وہ ہنستے ہنستے بس لمحہ بھر کی جھکائی دے گئ انڈا فاطمہ اور اسکے درمیان پھٹ سے زمین پر آگرا
عروج کی۔بچی یہ تم ہی صاف کروگی۔ فاطمہ بھنائی۔ آخر ان سب کے جانے کے بعد گھر اسکی ہی۔ذمہ داری بننا تھا
ہے جن نہیں اٹھا ابھی۔؟ واعظہ کے کہنے کی دیر تھئ کمرے کا دروازہ کھلا ہے جن تولیہ سے بال رگڑتا برآمد ہوا۔ اپنی دھن میں چلتا ہوا آیا۔ تولیہ کندھے پر رکھ کر گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بے نیازی سے کچن میں چلا آیا۔
آننیانگ ۔ کائونٹر سے جگ اٹھایا گلاس میں پانی بھرا گلاس اٹھا کر منہ کو لگانے لگا تو دیکھا منظر تو ساکت ہوا وا ہے
چولہے پر فرائی پین میں انڈہ سلگنے کو آیا تو عروج نے چونک کر نگاہ کئ فاطمہ ہاٹ پاٹ اٹھائے کائونٹر پر رکھنا بھول گئ تھی اور واعظہ اطمینان سے کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے اسٹول پر بیٹھئ باقائدہ منہ کھولےاسے دیکھ رہی۔تھی۔
کیا ہوا؟۔ اس نے سٹپٹا کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
یار یہ تو اوپا انڈر پراسس ہے۔
فاطمہ کے ہونٹ وائو کے انداز میں گول ہوئے تھے پھر جھٹ ہوش میں آتے بیان داغا
ہاں یار کچھ ذیادہ ہی۔حسین لگ رہا ہے یہ تو۔
عروج آملیٹ پلیٹ میں نکالنے لگی اب واعظہ کے ردعمل کی باری تھئ۔
وہ گڑبڑا اٹھا۔بے چارگی سے واعظہ کو دیکھنے لگا
کیا ہوا نونا کچھ غلط کر لیا میں نے اسے ایسے ہی نہیں پہنتے؟
ایسے ہی یہاں کھڑے رہنا۔
واعظہ کا کھلا منہ یہ کہہ کر بند ہوا اسے تاکید کرتی وہ سیدھا اٹھ کر کمرے میں گھس گئ۔
وہ سوالیہ نگاہوں سے عروج اور فاطمہ کو دیکھنے لگا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
فاطمہ چائے کے کپ لا کر میز پر رکھ رہی تھی جب اسکی واپسی ہوئی۔
سنجیدگی سے ہے جن کی جانب بڑھی۔ وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا
اس نے آگے بڑھ کر سات مرتبہ اسکی نوٹ اسکے اوپر سے وارے۔۔
طوبی کے بنائے کرتے پاجامے میں اسکا گورا رنگ دمک رہا تھا ۔لمبا قد مزید نمایاں ہو رہا تھا آج خالص کوریائی بالوں کا انداز بنانے کی بجائے اس نے ایک جانب مانگ کر لی تھی گھنے چمکیلے سیاہ بال محض انگلیوں کے اشارے پر سج گئے تھے۔
یہ عیدی ہے؟۔
اس نے پیسے لینے کو ہاتھ بڑھائے۔مگر واعظہ منہ ہی منہ میں ابھی کچھ پڑھ رہی تھی۔
عروج اور فاطمہ ہنس دیں۔
نظر اتار رہی ہے تمہاری۔یہ پیسے کسی غریب کو دینے ہونگے۔ عروج نے ہنس کر کہا۔ تو وہ جیسے سمجھ کر سر ہلانے لگا۔
واعظہ نے معوذتین پڑھ کر اسکی پیشانی پر پھونک ماری۔
ماشا اللہ بہت جچ رہے ہو تم۔ اس نے کھلے دل سے تعریف کی تو وہ جھینپ سا گیا
اب اسے بھائی کہنا مشکل لگ رہا مجھے ۔۔پانچ چھے سال ہی چھوٹا ہوگا یہ ہم۔سے ہے نا۔
یہ فاطمہ۔تھی۔۔ اسکی لن ترانی پر واعظہ اور عروج دونوں نے گھورا۔
دے نونا؟ ہے جن کو اسکی۔تعریف کا بھی ترجمہ۔چاہیئے تھا۔
چلو ناشتہ کرو پھر ہم طوبی سے ملنے جائیں گے تیار ہوکے۔ تیار ہونے کے بعد پھر عیدی دوںگئ تمہیں۔
پھونک پھانک کر واعظہ نے جواب دیا تو وہ سر ہلانے لگا۔ ۔
بالکل ہم عید کو بھرپور طریقے سے منائیں گے۔
فاطمہ نے عزم کیا
…………………………………
ڈیڑھ بجے کا وقت تھا وہ ایک بجے ہی اس فین میٹنگ کیلئے مخصوص کیئے گئے ہال میں پہنچ چکی تھی۔ شور کرتی لڑکیاں پرجوش سے لڑکے۔ بینرز پلے کارڈ ہیومن پوسٹرز اٹھائے تھے۔ لی من ہو کے قد آدم اسٹینڈز سج رہے تھے۔
دو لڑکیاں کے ایف سی کے برگر اٹھائے زور زور سے بولتی اسکے پاس سے گزریں تو وہ چونک کر دیکھنے لگی۔
کتنا عرصہ ہو چکا تھا اسے اپنی پسند کا کچھ کھائے۔ بچت بچت۔ ایک ایک پیسہ دانتوں سے خرچ کرکے جوڑا تھا۔
لی من ہو کیلئے برانڈڈ ٹی شرٹ اسکی پورے مہینے کے اوور ٹائم اور کئی مہینوں کی۔بچت ٹھکانے لگا گئ تھئ۔ ایک بوکے بس۔ اپنے لیئے شرٹ سائن کروانا چاہتی تھی مگر اپنے لیئے پیسے بچے ہی نہیں۔
لاکھوں پرستاروں میں سے ایک ہوں میں۔ اس نے اپنے گرد اس جمع غفیر کو چور نظروں سے دیکھا۔
فاطمہ بھی تو کچھ ایسا ہی بتا رہی تھی۔
اسکا ہیولہ اسکے آس پاس ہی کہیں تھا۔ اس نے سر جھٹکا۔
عید کا دن اپنے پسندیدہ ستارے کے ساتھ گزاروں گی اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی۔۔
بوکے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی خوشبو محسوس کرتے اس نے سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گہری سانس لیکر ریڈیو کی عمارت کو دیکھا۔
شو تو شام کو تھا مگر بلاوا ابھی آچکا تھا اسکا اور شائد ژیہانگ کا بھی۔وہ سرجھٹک کر اندر بڑھ گئ۔
انکا اسٹوڈیو خالی تھا بس ژیہانگ بیٹھا موبائل میں لگا ہوا تھا۔
اسکے سامنے خشک میوہ جات کیریمل میں لپٹے پڑے تھے خاص چینی سوغات۔ اس نے ایک بار یہیں سے خرید کر کھائے تھے۔
اسلام و علیکم۔ وہ روانی میں کہتی اپنا بیگ زمین پر رکھنے لگئ۔ ژیہانگ سے چونک کر سر اٹھایا پھر دھیمی سی مسکراہٹ سے اس سے بولا
عید مبارک۔ یہ لو کھائو۔۔
اس نے حسب توقع وہ پلیٹ تھوڑی سی اسکی جانب کھسکا دی تھئ۔
الف اپنی نشست سنبھال رہی تھی جب اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔ وہ جواب دینا ہی بھول گئ۔ اور پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانا بھئ
تبھئ پروڈیوسر صاحب حسب معمول افراتفریح میں اسٹوڈیو میں داخل ہوئے ایک پلندہ لا کر اسے اور ژیہانگ کے سامنے میز پر لا رکھا۔۔
یہ گو تھرو کر لو تم دونوں اچھی طرح۔
وہ دونوں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے رہ گئے۔
گو تھرو؟ اس پر تو ریسرچ پیپر لکھنا بھی کم۔پڑے۔۔
اس نے حجم کا اندازہ لگانا چاہا۔
یہ کیا ہے۔ دونوں کے منہ سے اکٹھا نکلا۔
یہ ہیں وہ ٹاپ سرمایہ کار جن کو ہم نے گھیرنا ہے۔ ایس بی ایس ایسے ہی تو نہیں کوریا کا نمبر ون میڈیا نیٹ ورک ہے۔ دنیا جہان سے سرمایہ کار آئیں گے۔ اگر کوئی ایک بھی ہم نے گھیر لیا تو کم ازکم سال بھر کی فرصت ہوگی یہ شو کوئئ مائئ کا لعل بند نہیں کراسکے گا۔
وہ فخریہ بولے۔
پر یہ ہے کیا۔
ژیہانگ نے ایک چھوٹا پلندہ اٹھا کر اسے کھول کر دیکھنا شروع کیا جبکہ الف نے اتنی محنت کی بجائے سیدھا پوچھنا بہتر سمجھا
یہ مشہور کمپنیوں کی مارکیٹنگ کی ترجیحآت ہیں۔ جیسے یہ
سوجو برانڈ دیکھ لو اس برانڈ نے بڑے بڑے سیلیبریٹیز کو ہمیشہ ہائر کیا ہے۔ انکی ترجیحات میں ان سیلیبریٹیز کے تمام انٹرویو شوز ہوتے ہیں۔ یعنی ہم نے سیہون کو بلایا تو اگر سیہون انکا کبھی اشتہار کر چکا ہے تو وہ ہمارے شو میں جب جب سیہون آئے گا اشتہار دیں گے۔
انہوں نے تفصیل سے سمجھانا چاہا
تو کیا سیہون نے انکا کبھی اشتہار کیا ہے۔
الف کو لگا تھا اسکا سوال بنتا تھا یہاں۔
اوہو نہیں کیا مگر کر تو سکتا ہے۔وہ جھلائے
ہم یہ تفصیلات کا کریں گے کیا؟ الف ان سے زیادہ جھلائی
بھئ وہاں جا کر اسپانسرز گھیرنا بتانا کہ تم۔لوگوں کے شو میں بڑے بڑے سیلیبریٹیز آتے ہیں ۔اور قسمت مزید یاوری کر گئ کہ اگر تم دونوں میں سے ایک بھی انکا برانڈ ایمبیسیڈر بن گیا تو ہمارے تو وارے نیارے ہونگے تمہاری بھی زندگئ بدل جانی ہے۔
انکو بچوں کی۔طرح سمجھانا پڑ رہا تھا
ایک سیہون ہی آیا ہے بے چارہ وہ بھی جانے کیسے۔
وہ بڑ بڑا کر پلندہ اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اتنی سی دیر میں ژیہانگ چار چھوٹے پلندے ایک طرف کر چکا تھا۔ اس نے جتنی دیر میں پلندہ الٹ پلٹ کیا وہ باقی سب بھی چھانٹ چکا تھا
اب الف کے ہاتھ سے وائن برانڈ کی۔تفصیلات کا پلندہ کھینچ کر دیکھنے لگا۔ اس نے بدمزا ہو کر دیکھا اسے۔ ژیہانگ نے الٹ پلٹ کرکے اس فائل کو الگ رکھ دیا۔ میز پر دو ڈھیریاں۔بن چکی تھیں۔ ایک بڑی اور ایک چھوٹی سی
یہ تم نے ترجیحی برانڈ الگ کیئے ہیں؟
پروڈیوسر صاحب نے اسکی تیزی کو کافی پسندیدہ نگاہ سے دیکھا۔
نہیں یہ بڑی ڈھیری تمام شراب اورحرام کھانے کے برانڈز ہیں جن کی اسپانسرشپ مجھے مل بھی رہی ہو تو میں نہیں کروں گا۔
اس نے اطمینان سے کہا ۔تو پروڈیوسر اور الف دونوں کی آنکھیں جیسے ابلنے کو آگئیں
اتنئ بڑئ حماقت ارے سب سے ذیادہ پیسے انہی برانڈز سے ملتے احمق۔
وہ جھلائے
میں نے آپکو شو کا حصہ بننے سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ میں شراب کی تشہیر نہیں کر سکتا ورنہ یہ سوجو برانڈ تو تب بھی ہمارے شو کو اسپانسر کر ہی رہا تھا۔ آپ نے میری اجازت بنا جو اسکی تشہیر میں میرا نام استعمال کیا اس پر میں ہرجانے کا دعوی بھی کر سکتا ہوں
ژیہانگ کا انداز قطعی تھا۔
اتنے بھی انتہا پسند نہ بنو۔
وہ گڑ بڑائے۔ ہاں تو۔ کبھی اسٹوڈیو میں دیکھا تم نے ؟ شراب کا کارٹن ۔ تم لوگوں کیلئے جو تحفتا بھجواتے تھے اسکو میں دیگر میں بانٹ دیتا تھا۔ ابھئ بھئ ایسا ہی ہوگا پتہ بھی نہیں چلے گا تم دونوں کو مگر ہماری روزی پر تو لات نہ مارو نا۔
انکا انداز ملتجی ہوا۔
جو انجانے میں ہوا اسکی تو نہیں لیکن اب سے آگے میں اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اگر تو آپکو منظور تو ٹھیک ہے نہیں تو میں اس شو کو چھوڑ دیتا ہوں۔
ژیہانگ قطعی سے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا تو پروڈیوسر کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے۔ الف بالکل خاموشی سے دونوں کو بحث کرتا دیکھ رہی تھی
اچھا اچھا۔ خفا نہ ہو۔ اچھا یہ بتائو لوہن سے بات ہوئی تمہاری۔؟ وہ کب آرہا ہے کوریا؟ ہمیں وقت دے گا؟
انہوں نے بات بدل ڈالی
ابھی تو ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف ہے سویٹ کومبیٹ نام ہے۔ اسکے بعد ہی فرصت ملے گی اسے کبھی۔ میں نے بات کی ہے اس سے اگر بیچ میں کوریا کا چکر لگا تو ہمارے شو میں ضرور آئے گا۔
ژیہانگ انکے انداز پر آنکو مزید تنگ نہ کرتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا۔
چلو جب مرضی۔ سوہو بھی ڈرامے میں مصروف ہے ۔لیکن ہے تو کوریا میں اس سے بات کرکے دیکھنا۔ یہ پلندہ میں لے جاتا ہوں۔
وہ اسکے مسترد شدہ پلندے کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
تم لوگ بقیہ برانڈز کو آپس میں ڈسکس کرلو۔
وہ جاتے جاتے بھی ملتجی انداز میں تاکید کر گئے۔
ژیہانگ سر ہلا کر واقعی ان پلندوں کو چھانٹنے بیٹھ گیا۔ کاغذ الٹ پلٹ کرتے یونہی اسے نظروں کا احساس ہوا تو سر اٹھایا۔ الف بالکل سامنے بیٹھی گھور رہی تھی۔
کیا ہوا؟ اس نے چونک کر پوچھا؟
تم نے مجھے عید مبارک کہا۔۔
اسکا انداز تفتیشی تھا۔۔
ہاں تو کیا عید نہیں آج؟۔ وہ گڑبڑایا۔
یہاں بھی کوئی پوپلزئی پیدا ہواگیا کیا کہ۔آدھوں کی آج آدھوں کی کل عید ہو۔۔
وہ اس بار چینی میں بڑ بڑایا۔
تم نے کرتا پاجامہ پہن رکھا ہے۔۔
اس نے جیسے الزام دیا۔
ژیہانگ سیدھا ہو بیٹھا۔ نیوی بلو کرتا سفید پاجامہ وہ بھی حیدر آبادئ طرز کا۔ پہلی بار پہنا تھا ایک ہندوستانی بوتیک سے لیکر وہ بھی آنلائن اسے کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔ کارٹون لگ رہا ہوں کیا۔ وہ گڑبڑایا۔پھر خود ہی کہنے لگا۔
صحیح نہیں فٹنگ نا؟ مجھے بھی ڈھیلا لگ رہا ہے۔ اس نے خوب چوڑے پائنچے والے پاجامے کو بلا وجہ ٹھیک کیا۔
شراب اور حرام اشیاء سے کیا مراد ہے۔ وہ گھور رہی تھی۔
تم لوگ تو کتے بھی کھا جاتے ہو؟ ہے نا۔
لاحول ولا۔۔۔ وہ سٹپٹا گیا۔
بھئی میں نہیں کھاتا۔ ہم نہیں کھاتے بلکہ کوئی مسلمان نہیں کھاتا۔احمق لڑکی۔
تو تم مسلمان ہو۔ وہ بھونچکا سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
آہاں ۔ میں مسلمان ہوں۔ وہ بے چارہ بھی گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔
مگر تم تو چینی ہو۔ وہ یقین کرنا بھی چاہ رہی تھی نہیں بھی۔
ژیہانگ اسکے ردعمل پرمسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔لی من ہو کے چہرے پر ایک تکلفاتی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی آگے کوئی لڑکا بیٹھا ہو لڑکی یا کوئی جنگلی جانور۔ بس مسکرا کر آننیانگ کہتا۔ سیلفی بنواتا۔ پوسٹر سائن کرتا اور سلیقے سے آگے بڑھ جانے کا اشارہ کر دیتا۔
اسکی باری آئی تو وہی مسکراہٹ وہی انداز۔
اس نے لمبی تقریر یاد کر رکھی تھی۔
میں آپکی بہت بڑی پرستار ہوں۔ سٹی ہنٹر میرا پسندیدہ ترین اور اب لیجنڈ آف بلو سی بھی۔ اور۔
ذہن صفا چٹ ہو گیا۔ انگریزی اردو سب غارت۔
لی من ہو اسکی کیفیت سمجھ کر زور سے ہنسا تھا۔
اس نے خجل ہو کر شرٹ اسکی جانب بڑھا دی۔ جس کو اس نے سائن کر کے واپس کردیا۔
یہ آپکے لیئے ہے۔ وہ بمشکل سمجھا پائی۔
واقعی؟ وہ حیران سا ہوا تھا۔بغور شرٹ دیکھی اسکا برانڈ دیکھا۔ پھر باقائدہ اٹھ کر آدھا جھک کر اسکا شکریہ ادا کیا۔
گھمسامنیدہ۔
لی من ہو کی نگاہیں اس پر جمی تھیں اور وہ بس کسی اور جہاں پہنچ گئ تھی۔ کاش وقت یہیں تھم جائے اور۔
اسکے دل نے بے ساختہ خواہش کی۔
جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔اچھی عید تھی۔
……………………………………
جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔تکلیف دہ عید تھی۔ بیرک کی دیوار سے ٹیک لگائے وہ صبح سے بھوکی پیاسی بیٹھی تھی۔ ناشتے میں عید کے دن سویوں کی بجائے چاول کمچی اور عجیب گوشت کا ملغوبہ آیا تھا۔ اس نے یونہی آہجومہ سے پوچھا
یہ کونسا گوشت ہے۔
پورک۔ منہ بھر کر بمشکل کھاتے آہجومہ نے جواب دیا۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔
جانے یہ سزا کیوں ملی تھی اسے۔
دوپہر میں بلیک بین نوڈلز آئے تھے ۔ ان کالے سیاہ نوڈلز کو جنکو کھانے سے آہجومہ کی زبان بھی کالی ہو چلی تھی اسے ذرا اشتہا محسوس نہیں ہوئی۔
یہ کھا کیوں نہیں رہی ہے۔ حوالدارنی نے آہجومہ سے ہی پوچھا تھا۔
یہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتی نہ پیتی ہے شام کو جب باہر کھڑکی سے اندھیرا پھیلتا ہے تب پانی پیتی ہے مجھے تو لگتا یے کوئی چلہ کاٹ رہی ہے۔ آہجومہ پلیٹ سمیت اٹھ کر حوالدارنئ کے کان میں گھس گئ تھیں۔ وہ تو بھلا وہ درمیان میں سلاخوں کا کہ سچ مچ نہیں گھس پائی۔
کالا جادو۔ اس نے اندازہ لگایا۔
شائد۔ آہجومہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
لیکن اس جادو کا اثر نہیں ہو سکتا مجھ پر ایک مشہور بدھمتی راہبہ سے لیکر میں نے تعویز پہن رکھا ہے۔ حوالدارنی نے خوفزدہ نگاہوں سے نور کو دیکھتے ہوئے گلے میں لٹکتے تعویذ کو مٹھی میں بھر کر خود کو تسلی دے رہی تھی
مگر میں نے سنا ہے کالے جادو کا کوئی توڑ نہیں ایسے تعویذ بھاپ بنا کے اڑا دیتا ہے کالا جادو۔
آہجومہ نے اسکا اطمینان اطمینان سے غارت کیا۔
دیکھو کہاں جا رہی۔ہے۔۔
نور لڑکھڑاتے قدموں سے اپنی جگہ سے اٹھی رخ سیدھا روشندان والی دیوار کی جانب تھا دونوں نے دم سادھ لیا۔
وہ جھکی۔ انکی سانسیں تھمیں۔ جھک کر کولر سےگلاس میں پانی لیا۔ واپس پلٹی
ان دونوں پر اچٹتی نگاہ ڈالی۔ دونوں اسکی سرخ انگارہ آنکھوں سے مزید خوفزدہ ہو گئیں
سنو میں جیل سپریٹنڈنٹ کو بتائوں؟
حوالدارنی نے آہجومہ سے جیسے اجازت چاہی
مجھے پانی کی بوتل لا کر دو پہلے میں اب اس کولر سے پانی نہیں پی سکتی
حوالدارنی کے منہ پر آہجمومہ نے ڈکار لی۔ حوالدارنی نے گھور کر دیکھا۔
نور اپنے بنچ کی جانب بڑھتے ایک بار پھر لہرائی ۔ گلاس اسکے ہاتھ سے چھوٹا یہاں وہاں پانی پھیلتا گیا اور نور بھی۔ وہیں کھڑے قد سے نیچے آرہی۔
………………………………………………۔۔۔۔۔۔
عید مبارک ۔ وہ پھولوں کا بکے اور کیک لیکر طوبی کے گھر آئے تھے دروازہ طوبی نے ہی کھولا۔
ہلکے سبز پشواز کی فراک میں ملبوس طوبی نکھری نکھری تیار سی سامنے کھڑی تھی۔ انہیں دیکھ کر اسکی جیسے خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔
الف۔ عروج اور واعظہ کیوں نہیں آئیں اور عشنا میں نے کہا بھی تھا سب آنا مل کر عید منائیں گے۔
وہ پیار بھرا شکوہ کر رہی تھی۔
وہ۔ عزہ نے بتانا چاہا مگر فاطمہ نے اسکا ہاتھ دبا کر روک دیا
وہ عروج ہاسپٹل گئ ہوئی ہے ، واعظہ بھی ساتھ ہے عشنا کی آج فین میٹنگ تھی لی من ہو کی۔ اس کیلئے عید کا لطف دوبالا ہوچکا پہلے ہی الف کا آج شو ہے۔
اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی طوبی مطمئن ہوئی کہ نہیں سر البتہ ہلا دیا پھر
عزہ فاطمہ ہے جن وہ باری باری سب سے گلے ملی۔
ہے جن کو تو دیکھتے ہی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں۔
کتنا وجیہہ لگ رہا ہے میرا بھائی ماشا اللہ
عبایا اتار کر مجھے اپنا ڈریس دکھائو۔
اس نے بڑی بہنوں والے رعب سے عزہ سے کہا تو وہ ہنس کر عبایا اتارنے لگی
ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ اس نے بے ساختہ دوبارہ عزہ کو گلے لگا لیا۔
اور میں آپی۔
ہے جن بھی اسکے کندھے پر جھول گیا۔
فاطمہ نے بے ساختہ ہونٹوں پر زبان پھیری۔
یہ بہن بھائیوں کی تکون چلنے ہی دینی چاہیئے جانے طوبی کا ردعمل کیسا ہو سچائی جان کر۔۔۔اس نے سوچا تبھی واعظہ اسکے کندھے کے پاس سے نمودار ہوئی
تمہاری ذمہ داری ہے طوبی کی غلط فہمی دور کرنا ۔ ہےجن بہت پریشان ہے ہمیں اسکی مدد کرنی چاہیئے اس بچے کے ایک چھوٹے سے جھوٹ کی اسکو کافی کڑی سزا مل رہی ہے اب بس یہ ڈرامہ ختم ہو جانا چاہیئے۔
فاطمہ نے اثبات میں سر ہلایا تو واعظہ غائب ہوگئ تھی۔
بہت پیارے ماشا اللہ سے میرے دونوں بہن بھائی حسین لگ رہے ہیںمیں ابھی نظر اتارتی ہوں تم دونوں کی۔ وہ محبت سے کہتی جھپاک سے کچن میں گھس گئ۔
بچیاں جھلمل فراک اور چوڑی دار پاجامے میں شرمائی شرمائی سی آکر عید ملنے لگیں تو ننھا شہزادہ چھوٹے سے کرتے پاجامے میں ملبوس پرام میں بیٹھا۔انگوٹھا چوس رہا تھا۔ عزہ نے جھکر پیار سے اسکے گال پر چٹکی بھری
دلاور بھائی کہاں ہیں۔ عزہ نے پوچھا تھا۔
ادھر کمرے میں۔ چلے جائو جاگ رہے ہیں
اس نے اوپن کچن سے اشارہ کیا تو وہ تینوں کمرے میں چلے آئے۔۔
دلاور بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھے سیویاں کھا رہے تھے۔
انہیں دیکھ کر فورا خیر سگالی انداز میں مسکرا کر اٹھنا چاہا تو ہے جن جھٹ آگے بڑھ کر انہیں سہارا دینے لگا
بیٹھے رہیئے دلاور بھائئ۔ معزرت ہم پہلے آپکی طبیعت پوچھنے نہ آسکے ۔ فاطمہ نے شرمندہ سے انداز میں معزرت کی۔
ارے کوئی بڑی بات نہیں معمولی سی چک آئی تھی اب تو کافی ٹھیک ہوں میں۔
انہوں نے مسکرا کر کہا۔
طوبی بچوں کیلئے سویاں۔ انکی بات منہ میں ہی تھی کہ طوبی فرائی پین اٹھائے چلی آئی۔
لال لال مرچیں جلا کر وہ ہے جن کی نظر اتارنے لائی تھی۔
صبح واعظہ کی اتاری نظر کی اسے دل سے قدر ہوئی جب کڑوا دھواں ناک منہ میں گھستا حلق تک خراشیں ڈالتا گیا۔
سارا پرفیوم غائب بس دہکتی مرچوں کی دھانس اور دھوئیں میں دھیرے دھیرے ہے جن نمودار ہوتا تو طوبی دوبارہ اسکو سرتاپا اس دھوئیں سے وار دیتی۔۔ کمرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔
فاطمہ عزہ دونوں بری طرح کھانستی باہر بھاگیں ۔
چلنے سے معزور دلاور انکی پھرتی کو رشک سے دیکھ کر رہ گئے۔ بری طرح کھانستے ہے جن کا ساتھ دیتے وہ بمشکل کہہ پائے
بس کرو طوبی ۔بہت دھواں ہو گیا۔
ہاں ہوگئ۔ طوبی اطمینان سے فرائئ پین لیئے مڑ گئ۔
ہے جن کا کھانس کھانس کے برا حشر ہو چلا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑکیاں کھولنے لگا پنکھا چلایا تو تھوڑا امن ہوا۔
دلاور سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی بھرنے لگے۔
کبھی کبھی تو طوبی حد کر دیتی ہے۔
وہ مسکرا کر اسکی جانب گلاس بڑھا رہے تھے۔
اور گئے تم آج عید کی نماز پڑھنے۔ ؟
میں تو جا نہیں سکا پہلی عید میری ہے ایسی جوعید کی نماز پڑھے بنا گزر رہی۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولے تھے۔ ہے جن کا منہ تک جاتا گلاس راستے میں رک گیا۔ اسکے چہرے کے تاثرات دلاور کو بھی تشویش زدہ کر گئے۔
کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانئ ہے؟
دلاور بھائی۔ ۔ اس نے ہمت کرکے گلاس واپس رکھا اور انکے سرہانے گھٹنوں کے بل آبیٹھا۔ انکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر ملتجی سے انداز میں پوچھنےلگا۔
ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مانیں گے؟
ہاں پوچھو۔ وہ اسکے انداز پر سنبھل کر بیٹھ گئے
آپ مسلمانوں کیلئے کسی نو مسلم سے ارکان دین پورے کروانا لازم ہے؟ کیا یہ آپکی عبادت کا حصہ ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم اوپری دل سے ارکان ادا کرے تو کیا آپکو گناہ ملے گا؟
تم اوپری دل سے نماز روزہ کرتے رہے ہو؟۔ دلاور نے سیدھا سا سوال کر ڈالا تھا۔
اس نے سر جھکا لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ عزہ اور ہے جن لائونج میں سر جھکائے کھڑے تھے۔
طوبی انکو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
طوبی ہم سب گڑ بڑائے ہوئے تھے۔ہمیں لگا تھا کہ آپ نجانے کیا خیال کریں ہمارے بارے میں کہ 8 لڑکیوں میں ایک انجان لڑکا رہ رہا ہے تو بس یونہی ہم نے کہہ دیا ۔
عزہ اور ہے جن کی ہمت نہیں تھی طوبی کی آنکھوں میں جھانکنے کی۔ تو فاطمہ نے ہی انکی جانب سے صفائی دی۔
یونہی کہہ دیا؟ وہ چٹخ کر بولی۔۔
پوری کہانی بنالی تم لوگوں نے۔ غیر مسلم ماں بیٹا ماں کے مذہب پر اور بیٹی۔
اس نے کینہ توز نظروں سے عزہ کو گھورا۔
تم لوگ دو مہینے سے مجھے بے وقوف بنا رہے تھے اور میں ۔۔ وہ سر تھامتی فلور کشن پر بیٹھتی چلی گئ۔
ٹوٹے ہوئے گھر کے بچے سمجھ کر تم دونوں سے پیار کر بیٹھئ۔۔ وہ رو دی۔
کیا کچھ نہ یاد آیا اسے۔ زبردستی ہے جن کو لیکر مارکیٹ جاتی سودا لیتے اسے کبھی چاکلیٹ کبھی کوئی اور کھانے پینے کی چیز دلا دی۔ہر بار اسے تاکید کرنا کہ عزہ کیلئے بھی لیکر جانا وہ لمبے لمبے لیکچرز۔اسکو زبردستی قرآن سنوانا مسجد بھجوانا دلاور کے ساتھ ۔سورتیں۔ یاد کروانا
ہے جن نے بے بسی سے فاطمہ کو دیکھا۔
طوبی آپی بات سنیں۔
عزہ نے آگے بڑھ کر اسکا شانہ تھامنا چاہا۔اس نے بری طرح جھڑک کر اسے دور کردیا
بالکل مجھے آپی کہنے کی ضرورت نہیں۔کسی کے خلوص کا مزاق اڑاتے شرم نہیں آئی تم لوگوں کو۔ سگے بہن بھائیوں جتنا پیار دیا تم دونوں کو یہ صلہ ملا ہے مجھے۔ نکل جائو دفع ہو جائو میرے گھر سے میں تم دونوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔
وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔ ہے جن کو جملے تو نہیں مگر لہجے ضرور سمجھ آرہے تھے لب کاٹتے ہوئے اس نے آگے بڑھنا چاہا تو فاطمہ نے بازو تھام کر روک دیا۔
اس وقت یقینا طوبی کو اکیلے چھوڑ دینا ہی بہتر تھا۔ وہ ان دونوں کو لیکر باہر آگئ تھئ۔
………………………………………

ختم شد

جاری ہے۔۔۔

Desi Kimchi Episode 22

قسط 22
آسمان صاف نہیں تھا مگر پھر بھئ آخری افطاری انہوں نے ٹیرس میں کرنے کا ارادہ کیاتھا۔ صاف ستھرا میٹ اس پر چادر بچھا کر انہوں نے ٹیرس میں بیٹھنے کی تیاری کر لی تھی۔ عروج آج حاتم طائی بنی ہوئی تھی سب کیلئے آئیسکریم خرید کر لائی تھی یہ بڑی سی آئیسکریم بکٹ (بالٹی)شاپر لا کر باورچی خانے میں رکھتے ہی کمر پکڑ لی۔
اف تھک گئ میں۔ کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا۔ کوئی کام مت کہنا مجھے اب۔ میں باہر کا سب نپٹا آئی۔
آیک اچٹتی نظر سب کے مصروف ہاتھوں پر ڈال کر اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر اعلان کردیا۔
اب رہ ہی کیا گیا کھانا پکا ہوا ہے افطاری تیار کر رہی ہیں ہم پہلے سے ہی۔ عشنا سادگی سے بولی۔ عروج نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا لی۔
۔ فاطمہ پکوڑے تل رہی تھی وہیں سے حسب توفیق گھور ڈالا۔ عزہ نے روح افزا بنانے کی ٹھانی تھی .فاطمہ نے پکوڑے کیلئے بیسن گھولتے ہوئے کہا تھا
عزہ شربت بنا کر ادھر تلنے میں مدد کرانے آجانا۔۔
اور اب پکوڑے سب تل کر ختم ہونے والے تھے یہ ایک جگ شربت بن نہیں پایا تھا۔
عشنا اور الف فروٹ چاٹ کیلئے پھل کاٹ رہی تھیں ۔ آج ہے جن بھی کوئی کوریائی طرز کی چنے کی چاٹ بنا رہا تھا۔ لائونج کی سنگی میز کے کائونٹر پر سب مصروف تھے۔
آئی نہیں واعظہ ابھی تک روزہ کھلنے والا ہے۔
عروج کو فکر ہوئی۔
صبح کی گئ ہے ہو سکتا ہے چاند رات اور عید اپنی فیملی کے ساتھ کرے۔ الف نے خیال ظاہر کیا۔
بتا کے جائے گی اگر عید کرنے جائے گی تو۔ ایسے تھوڑی
فاطمہ نے پکوڑے چھلنی سے اتارتے ہوئے بڑی سی ٹرے میں رکھ لیئے۔
ویسے ہم نے ایک دن بھی افطاری باہر نہیں کی کم از کم ایک افطاری تو باہر کرنی چاہیئے تھی۔ الف کے کہنے پر عروج زور سے ہنس پڑی۔
کوریا میں بیٹھی ہو پاکستان میں نہیں یہاں کون تمہارے لیئے افطار بوفے وغیرہ آفر کر رہا اوپر سے باہر جا کے بنا گوشت سبزیوں کو الا بلا سے مصالحوں میں پکتا کھا کے کیا لطف آنا۔
ہم عید پر تو ڈنر باہر ہی کریں گے۔ بھلے کسی پاکستانی ریستوران میں ہی سہی۔
وہ ضدی انداز میں بولی
اگر کل عید ہوئی تو میری جانب سے ٹریٹ ۔ عروج نے شاہانہ انداز میں کہا تو وہ سب آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگیں۔
خیر ہےکوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا کیا؟آج سب کو آئیسکریم کھلا رہی ہو کل کھانا کھلانے لگی ہو ؟ فاطمہ کو تجسس ہوا اور ٹھیک ہی ہوا۔ عروج گڑبڑا کر مڑ کر ریک سے برتن اٹھانے لگی
ایویں۔ ہم سب گھر والوں سے دور ہیں تو کم از کم ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھا پی کے عید منالیں۔
اسے جواب سوجھ گیا۔
یار سویئیوں کے نام پر یہاں جو ملا ہے وہ نوڈلز ہی لگ رہا ہے۔
عزہ روح افزا بنا کر اب عروج کے لائے شاپر کھنگال رہی تھی۔ ایک پیکٹ لہرا کر بولی۔
ہے جن یہ ورسیچیملی ( سیویاں) ہیں یا نوڈلز۔ ہے جن چنوں پر سویا ساس چھڑکتے چونکا
نوڈلز ہی ہیں یہ۔ آٹے کے نوڈلز ۔ اس نے وضاحت کی ۔ یہ چاروں عروج کو دانت کچکچا کر گھورنے لگیں۔ وہ کھسیا سی گئ
اب کوریا میں تھوڑی سیویاں ہوتئ ہوںگئ۔ ہم کل کھیر بنا لیں گے حدیث تھوڑی کہ سیویاں ہی بنیں۔
وہ قائل کرنے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
چلو دسترخوان سجا لو وقت ہونے لگا ہے۔ الف جلدی سے گھڑئ دیکھ کر مستعد ہوئی۔
شام کی آخری پہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آلو ، پیاز، پالک اور بینگن کے پکوڑے کی سجی بھری ٹرے ، چکن رول ، فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ ، روح افزا کا بھرا جگ ملائی ملی کھجوریں ساتھ چکن قورمہ جو ڈھونڈ ڈھانڈ کر حلال ٹیگ والا خریدا گیا تھا۔ چپاتیاں ۔ دسترخوان سجا تو وہ سب آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دعا کرنے لگیں۔
ہے جن نے بھی انکی دیکھا دیکھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
اپنے کیریئر مستقبل حال آئندہ آنے والے یونیورسٹی امتحان نوکری جانے کیا کیا دعائیں مانگی جا رہی تھیں ایک ہے جن تھا جس کی دعا ان سب سے الگ اور انوکھی تھی سیدھا دل سے نکلی۔ شائد جبھی ٹھک سے قبولیت کے درجے پر جا پہنچی تھی۔ جبکہ وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر انکی جانب متوجہ ہوا۔
نونا کل سے ہم اپنی پرانے معمول پر لوٹ آئیں گے ؟ کبھی بھی کچھ بھی کھا سکتے ، جھوٹ بول سکتے تب تو کچھ نہیں ہوگا نا ؟ میرا مطلب رمضان کے علاوہ تو سب کر سکتے نا ۔۔ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا تھا اس سے قطع نظر ان سب کے کھجوروں کئ جانب بڑھتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔۔اسکے الفاظ ان سب کو اندر کہیں بہت زور سے لگے تھے
یہ سب تو رمضان کے بعد بھی منع ہوتا یے۔ عشنا الف کے کان میں گھسئ۔۔ ہے جن وضاحت کرنے لگا۔
دراصل میرا پورک اسٹیک کھانے کو دل کر رہا تو عید پر تو کھا سکتا ہوں نا۔
عزہ کا منہ بن گیا۔
پورک نہ ہوگیا زندگی ہوگیا بغیر پورک کھائے نہیں رہ سکتا یہ۔ میں تائب ہوتی ہوں اسے بھائی سمجھنے سے۔ گندا
وہ اردو میں بڑ بڑائی۔ ہے جن منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ کہ شائد وہ ترجمہ بھی کرے مگر وہ روزہ کھولنے میں لگ گئ۔
جیسے چاہو عید منائو ہے جن مرضی تمہاری۔
فاطمہ مسکرا کر بولی۔ہے جن مطمئن سا ہو کر افطاری سے انصاف کرنے لگا
پورک کھا کے یہ دلاور بھائئ کے ساتھ نماز پڑھنے گیا تو ہم پر لعنتیں پڑیں گی ٹھیک ٹھاک۔
عروج نے ڈرایا
دلاور بھائی کمر میں چک پڑوائے بستر پر پڑے ہیں۔ ۔۔فاطمہ نے لاپرواہ سے انداز میں کہا
کل جائیں انکو دیکھنے عید پر طوبی بھی تو اکیلی ہوگی۔۔
الف نے خیال ظاہر کیا۔
مجھے مہندی لگانی۔ عشنا بسوری۔۔
ویسے کل کی کیا پلاننگ ہے کیسے عید منانی کہیں جانا ہے گھومنے؟ عروج پرجوش سی ہوئی اسکے انداز کے برعکس باقی سب کے منہ اتر گئے
میری کل بھی کلاس ہے۔عزہ بسوری۔
کل لی من ہو کی فین میٹنگ ہے۔عشنا نے بڑا سا چکن پیس منہ میں رکھا
میرا کل شو ہے ۔ الف کا تیزی سے چلتا منہ سست پڑا
اگر کل عید نہ ہوئی تو میں بھی ہاسپٹل میں ہی ہوںگئ۔ عید کے دن۔ عروج کو بھی غم ستانے لگا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مطلع ابر آلود ہونا شروع ہوا
بینگن کا پکوڑا املی کی چٹنی میں بھگو کر منہ میں رکھتے ہے جن نے سر اٹھایا تو دسترخوان پر سیلاب رواں تھا
ویئو؟ وہ حیران ہی تو رہ گیا۔
وہ سب زار و قطار رو رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی چپ اور ساکت بیٹھی تھی کہ آہجومہ کو لگا اس پر سکتا طاری ہو گیا ہے۔
حوالدارنی کو اشارے سے پاس بلا کر اسکی۔جانب اشارہ کرکے کہنے لگی
سنو ڈاکٹر سے کہو اسکو دیکھ لے کہیں دماغ پر اثر وثر تو نہیں ہوگیا۔ کتنا تو چیخی چلائی ہے کیا پتہ۔
وہ اپنی طرف سے آواز دبا کر بول رہی تھی مگر کھسر پھسر پر نور نے خالی خالی نظروں سے سر اٹھا کر دیکھا تو دونوں سٹپٹا سئ گئیں
کین چھنا۔۔ حوالدارنی اسکا کندھا تھپک کر واپس اپنی جگہ جا بیٹھئ۔
ملاقات آئی ہے قیدی نمبر 799 کی ۔ وردی میں ملبوس ایک لڑکی تیزی سے اندر آئی سیلوٹ جھاڑا پھر ادب سے حوالدارنی سے بولئ۔ اس نے نے حیرت سے وقت دیکھا
اس وقت؟
کوئی خاص موقع ہے خصوصی اجازت نامہ لیکر آئے ہیں
اسکے رشتے دار۔
اس نے کاغذ لہرایا تو وہ سرہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ
اٹھو نوراشئ تمہارے ملاقاتئ آئے ہیں۔
حوالدارنئ کی بات پر وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کون آیا ہے۔
اسے بات مکمل سمجھ نا آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چندئ آنکھوں والی اہلکار اسے کیبن میں چھوڑ کر دروازہ بند کرتی باہرنکل گئ۔
گلاس وال کےاس پار بیٹھئ واعظہ اور سیہون ۔ بنا نقاب سیہون کے سامنے کھڑی تھی مگر اس وقت اسے صرف ایک ہی چہرہ نظر آرہا تھا۔
واعظہ وہ بھاگ کر دیوار سے آلگی۔ واعظہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔گلاس وال سے اسے گلے لگانا ممکن نہ تھا اور وہ دیوار پر سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
اسے سنبھالتے واعظہ ہلکان ہونے لگی تھی
خود کو سنبھالو نور ۔ وقتی مشکل ہے یہ سب ٹھیک ہو جائے گا
مجھے نکالو یہاں سے مجھے نہیں رہنا یہاں۔ نہ جیل میں ۔نہ کوریا میں ۔۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے کہہ رہی تھی
مجھے گھر جانا امی کے پاس جانا۔
وہ بلک بلک کر رورہی تھی۔ واعظہ نے بے بسی سے اسے پھر سیہون کو دیکھا جو اسے جتاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اسکو نور کے الفاظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے مگر اسکا حال دیکھ رہا تھا۔ چار دن اس پر صدیاں بن کر گزرے تھے اس نے نور کو پہلے نہیں دیکھ رکھا تھا مگر پھر بھی پیلاستا ہوا چہرہ سرخ سوجی آنکھیں اسکا رونا بلکنا۔ سب ظاہر کر رہا تھا۔واعظہ نگاہ چرا کر اسکو متوجہ کرنے لگی
بیٹھو نور بات سنو میری۔ ہمارے پاس ذیادہ وقت نہیں ہم خاص تمہیں عید کے تہوار کی اجازت ملنے پر آئے ہیں۔ادھر بیٹھو آئو بات سنو۔۔ اسکے کہنے پر نور دوپٹے سے آنسو پونچھتی کرسی پر گر سی گئ۔ واعظہ نے گہری سانس بھرتے اپنی نشست سنبھالی
گلاس وال میں بنے چھوٹے سے سوراخ سے دونوں ہاتھ اندر کرکے نور کے ہاتھ تھامے۔ ہتھکڑیوں بندھے خشک سے ہاتھ۔ جو فیصلہ اس سے شائد نہ ہوپاتا اس لمحے اس نے کر ڈالا تھا۔ اسکا ہاتھ دھیرے سے تھپک کر اس نے سر جھٹکا۔ پھر ایک شاپر اٹھا کر کائونٹر پر رکھا۔
اچھا سنو۔ ہم یہ تمہارے لیئے لائے ہیں۔ خاص کر عید کا اجازت نامہ لیکر یہ سب چیزیں انکو دکھوا کر لائے ہیں۔
یہ تمہارے لیئے چاکلیٹ یہ تسبیح ، جاء نماز دوپٹہ۔ یہ جوڑا۔۔
اس نے ایک ایک کرکے چیزیں سوراخ سے پار کیں
کل تم کپڑے بدل سکتی ہو تمہیں اجازت ہوگئ کیونکہ کل تہوار ہے۔صبح تیار ہونا نماز پڑھنا اپنے لیئے دل سے دعا کرنا دیکھنا ایکدم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
وہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔ تسبیح جاء نماز ۔ اس نے آنکھوں سے لگا لی تھیں۔
شکریہ واعظہ۔ وہ بھرائئ سی آواز میں بولی تو واعظہ مسکرا دی
اور یہ دیکھو کون مہندی بھی لائی ہوں تمہارے لیئے۔
اس نے چھوٹا سا شاپر نکالا۔
دو تین کون مہندیاں۔ وہ ہنس دی
تمہیں لگتا میں یہاں عید منائوں گی ایسے ۔۔ مہندی لگائوں گی
وہ پھر رودینے کو تھئ۔
حوصلہ کرو نور تم اتنی کمزور تو نہیں تھیں۔ ہم میں سب سے ذیادہ حوصلے والی ہو تم یوں ہمت مت ہارو۔یار۔
واعظہ خود بھی روہانسی ہو چلی تھی۔
سیہون ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
میں باہر جا رہا ہوں۔
وہ کہہ کر نکل گیا۔ واعظہ نے بس سر ہلایا
اچھا تمہیں بہت اچھی مہندی لگانی آتی ہے نا ؟
واعظہ کو۔خیال آیا۔ نور آنسو پونچھ کر گھورنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون باہر اسی حوالدارنی سے کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ جب وہ دایاں ہاتھ خود سے الگ سا کیئے ایک ہاتھ سے بیگ کندھے پر ٹھیک کرتی باہر آئی۔ اسے آتے دیکھ کر حوالدارنی گڑبڑا سی گئی۔
چلیں۔ سیہون اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔ اسے دیکھ کر بولا تو وہ سر ہلا گئ۔
اسکا دایاں ہاتھ کالا سا ہوا وا تھا سیہون ہی اسکے لیئے داخلی۔دروازے کھولتا آیا تجسس کے مارے رہا نہ گیا۔
یہ کیا کیا ہوا ہے ہاتھ پر۔
مہندی یے۔وہی جو کون لیکر گئ تھی اندر اسی سے بنوائی ہے۔
اس نے ہاتھ ہی اسے دکھا دیا ۔۔ اس نے اپنے اپر کا بازو کہنی تک چڑھا رکھا تھا سپید ہاتھ سے آدھے بازو تک اوپر نیچے بیل بوٹے سے بنے ہوئے تھے۔ وہ ہاتھ بالکل سیدھا کیئے ہوئے تھی۔
پر اس سے یہ کیا ٹیٹو بنوایا ہے؟ اسے تجسس ہو رہا تھا
ہاں ٹیٹو ہی سمجھ لو۔ وہ سیکیورٹی والے کمرے تک پہنچے تو موٹی توند والے پولیس افسر نے روک لیا انہیں
یہ کیا یے؟
مہندی ہے ابھی آپکو دکھا کر ہی تو لیکر گئ تھی۔
واعظہ حیران ہوئی
مگر اس طرح نقش و نگار کیوں بنے ہوئے ؟ کوئی خفیہ۔پیغام لکھا ہوا ہے ان پر ؟
وہ مشکوک انداز سے گھو ررہا تھا انہیں۔۔
چلو جی۔ واعظہ اپنا دوسرا ہاتھ سر پر مار کر رہ۔گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلنگ سے کہنی ٹکائے وہ سب قطار میں کھڑی آسمان پر بادلوں میں چھپے چاند کو تلاش رہی تھیں۔
یہ آپ سب کی۔خام خیالی ہے کہ اس ابر آلود مطلع میں آپکو باریک چاند دکھائی دے جائے گا۔کوئی اور طریقہ اختیار کر لیں عید کا تعین کرنے کا۔
ہے جن نے انکو سمجھانا چاہا۔ وہ آئسکریم کا پیالہ لیئے گھر میں ٹہل ٹہل کر ٹونگ رہا تھا۔ ابھی بھی انکی جانب سے حسب منشا ردعمل نا دیکھ کر کہہ کر مڑ گیا۔
ابھی پاکستان میں ہوتے تو روئیت ہلال کمیٹی بیٹھ چکی ہوتی۔
عشنا منمنائی
اور پوپلزئی تو اعلان بھی کر چکے ہوتے۔
الف ہنسئ
مجھے مہندی لگانی ہے چاند رات مہندی کے بغیر کیسے منا سکتے بھلا
عزہ پیر پٹخ کر بولی
مہندی لے آئو لگا میں دوں گئ۔
فاطمہ نے کھلے دل سے پیشکش کی
لگاتو میں بھی سکتی ہوں لیکن اسکے ساتھ تجربہ برا رہا
عزہ نے منہ بنایا
کیا برا ہوا۔ الف اور عروج کو دلچسپی ہوئی
میری کزنز ابھی کچھ ذیادہ ہی۔چھوٹی ہیں انکی منی ہتھیلی پر جب پچھلی عید پر میں نے خوب عرق ریزی سے چھوٹے چھوٹے بیل بوٹے بنائے تو دونوں روتی ہوئی اپنی اماں کے پاس میری شکایت کرنے بھاگ گئ تھیں۔
اتنی بری مہندی لگاتی ہو تم۔
عشنا حیران ہوئی۔
عزہ نے دانت پیسے موبائل میں گیلری سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر تصویریں نکالی۔ منی منی ہتھیلیوں کی تصویریں تھی اور ان پر مہندی جس نے بھی لگائئ تھی کمال کیا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے پھول بل کھاتی بیلیں ننھی پوروں پر بھی نقش و نگار منی ایچر آرٹسٹ کیا فن پارے تخلیق کرتے ہونگے جو اس نے کیئے تھے
اتنی تو اچھی لگائی ہے پھر۔ ؟؟؟؟ عشنا نے حیرت سے پوچھا تو عزہ گہری سانس بھر کر بولی
ایک مجھے کہہ رہی تھئ چوکور ڈبا بنا کر اسکے نام کے پہلے حروف لکھ دوں دوسری کو پاکستان کا جھنڈا بنوانا تھا ہتھیلی پر۔
اسکی بات پر وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں۔ انکی ہنسی کی آواز سن کر لائونج میں داخل ہوتے واعظہ سیہون کے ساتھ ہے جن بھی چونکا تھا۔ واعظہ نے ہے جن کو گھورا
تم تو کہہ رہے تھے یہ لوگ رو دھو رہی ہیں۔
نونا سچ مچ رو رہی تھیں پھر چاند دیکھنے لگیں لگتا ہے چاند نظر آگیا۔
ہےجن کی بات پر واعظہ کو ہنسی آگئ ۔
یہ ہاتھ پر کیا ہے۔ اسے اب نیا تجسس لاحق تھا ۔
افطاری کا سامان ابھی بھی ٹیرس میں سجا تھا۔ البتہ سب ڈھکا ہوا۔تھا۔واعظہ کا تو روزہ تھا افطاری دیکھ کر آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگیں۔ بیگ فرش پر پھینک پھانک وہ جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔سیہون کی بھی ساری دوپہر اسکے ساتھ گزری تھی کھانے کا موقع نہ ملا سو وہ بھی بلا تکلف آبیٹھا ہاتھ میں تھاما بڑا سا شاپر اپنے ساتھ احتیاط سے رکھا اور شروع ہوگیا۔
دونوں افطاری میں مگن تھے جب عزہ نے زور دار چیخ ماری
چاند کا اعلان ہوگیا۔ کل عید ہے۔
وہ موبائل میں اپنی عربی دوست کا چاند رات مبارک کا پیغام پڑھ کر خوشی سے اچھل۔پڑی تھئ۔ اسکی بات پر وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگیں۔
چاند رات مبارک۔ منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ نے آواز لگائی۔
آگئیں۔۔تم۔ وہ سب چونک کرمڑیں آگے بڑھ کر مبارکباد دینے کو تھیں کہ سیہون کو دیکھ کر رک گئیں وہ بے نیازی سے سر جھکائے فروٹ چاٹ کھا رہا تھا۔
یہ شاپر اٹھائو میں تم لوگوں کیلئے کچھ چیزیں لائی ہوں۔
اس نے اشارے سے سیہون کے لا کررکھے گئے شاپر کا بتایا۔
جائو تم اٹھائو تمہارا منہ بولا بھائی ہے۔
الف نے عزہ کو کہنی ماری تو وہ اسے گھور کر رہ گئ مگر یہ کام اسے ہی کرنا پڑا شاپر کھولتے ہی۔حیرت و مسرت سے چیخ ہی پڑی۔
مہندی چوڑیاں۔ یہ کہاں سے مل گئیں تمہیں کوریا میں۔
خوشی سے اسکی آواز بلند ہوگئ تھئ۔ باقی چاروں بھی بھاگ کر آئیں۔
واعظہ فروٹ چاٹ پلیٹ میں نکال کر بیٹھی تھی پکوڑے تو اٹھا اٹھا کر توبہ کرتے الٹے ہاتھ سے کھا لیئے مگر فروٹ چاٹ کا چمچ الٹے ہاتھ سے کھانے اور اچانک عزہ کے جوش سے چلانے پر اپنے اوپر گرا بیٹھئ
ایمبیسی گئ تھئ۔ کل فیسٹول ہے نا تو یہ سب چیزیں آئی ہوئی تھیں تو میں لے آئی۔ کل چلیں گے سب مل کر۔
سچی۔ عروج ہی خوش ہو۔پائی باقی سب کے اپنئ جھمیلے تھے۔
وہ چمچ اٹھا کر پلیٹ میں رکھنے لگئ۔ ہے جن کچن سے ٹشو باکس لے آیا۔ واعظہ شکریہ کہہ کر اپنے کپڑے ٹشو سے صاف کرنے لگی تو ہے جن اسکے برابر آ بیٹھا
لائیں میں کھلائوں۔
اس نے بڑے پیار سے چمچ بنا کر اسکی جانب بڑھایا۔ واعظہ ممنون سی ہوئی
تمہارے ہاتھ۔ تم نے مہندی لگائی ہے؟
فاطمہ چونک کر اسکے پاس چلی آئی۔ احتیاط سے اسکے پاس بیٹھ کر دھیرے سے چھونے لگی تقریبا سوکھ چکی تھی
یہ نور نے لگائی ہے میرے ۔ واعظہ نے بتایا تو وہ دھیرے سے بڑبڑائی
مگر تمہیں تو مہندی کی بو سے الرجی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ اس سے مہندی لگواتے ہوئے جانے کیا کیا سمجھاتی بجھاتی رہی مستقل بولتی رہی ادھر ادھر کے قصے باتیں کچھ دیر کو ہی سہی وہ کھل کر ہنسی۔ بھول گئ بڑے شوق سے اسکی ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتی رہی تھی۔
میری عید جیل میں گزرے گی کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا میں نے۔
وہ رو دی تھئ۔
برا وقت کون بیٹھ کے سوچتا ہے پاگل۔ جب برا وقت آجائے تو یقینا یہ سوچنا چاہیئے کہ اس سے نپٹا کیسے جائے۔ حوصلہ مت ہارو صبر کرو دیکھنا اللہ تمہیں جلد اس مشکل سے نکالے گا۔
واعظہ دیر تک اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔اسی کا دیا حوصلہ تھا کہ وہ نئی ہمت دی جیسی پا کر وہاں سے اٹھی تھی۔ ۔
رات کو افطاری کے بعد سبزیوں والا کھانا پیٹ بھر کر کھایا خدا کا شکر ادا کیا نماز پڑھی نفل پڑھے دل کو جیسے ڈھارس سی بندھ گئ۔ تو فرصت سے کون نکال کر بیٹھ گئ۔ سپید ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتے آدھا بازو بھر لیا۔ ایک کون آدھی ہوئی تھی۔ اسکے پاس چار پانچ مزید بھی پڑی تھیں۔
احمق میں کہہ بھی رہی تھی مجھے کیا کرنی اتنی ساری اب کیا پائوں پر بھی لگا کے بیٹھ جائوں الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر تو نہیں لگا سکتئ ۔ وہ آدھی کون ضائع نہیں کرنا چاہ رہی تھئ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
آہجومہ چادر کی بکل مارے کب سے پڑی تھیں۔ اسے لگا سو رہی ہیں مگر کسمسا کر چادر کی جھری سے انہوں نے بغور دیکھا اسے کر کیا رہی ہے۔۔ پھر تجسس سے قریب آکر اس سے اپنی زبان میں پوچھنے لگیں
کیا کر رہی ہو ؟
اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر گہری سانس لی۔
یقینا اسکی کون ضائع نہیں جانے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ الف کے فاطمہ عروج کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی تھی عشنا صبر سے بیٹھئ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ واعظہ اپنے اور ہے جن کے کپڑے استری کر رہی تھی۔ وہ اسکے ساتھ کھڑا باتیں بگھار رہا تھا۔سیہون باورچی خانے میں کھڑا کافی بنا رہا تھا شائد سب کیلئے کیونکہ کافی دیر سے لگا ہوا تھا۔
بارہ بج رہے میری مہندی کی باری کب آئے گئ۔
عشنا بھنا گئ۔ دونوں پورے پورے ہاتھوں بازوئوں تک مہندی لگوا رہی تھئ۔
اسکے ایکدم بول اٹھنے پر عزہ اور فاطمہ دونوں چونکیں پھر حسب توفیق صلواتیں سنائیں
ابھی ہاتھ ہل جاتا میرا اتنی محنت سے یہ عربی ڈیزائن چھاپ رہی ہوں اور یہ عروج کی بچی کم از کم موبائل اسکرین کا لاک ٹایم ہی بڑھا دو ہر آدھے منٹ بعد اسکرین بند ہو جاتی۔
کھول کے دو اب اسے۔
فاطمہ اس سے نمٹنے کے بعد عروج پر چڑھ دوڑی وہ منماتی کہہ رہی تھی کہ اب ٹچ لاک کھول کھولنا ممکن نہیں دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے مہندی سے بھر گئے ہیں۔
عزہ کی جان الف نے الگ کھا رکھی تھی۔اس پر ابھی انکشاف ہوا تھا کہ عزہ نے منی ہتھیلیوں پر اتنی اچھی مینا کاری اسلیئے کر لی تھی کہ وہ نمونہ دیکھ کر اس سے تین گنا چھوٹا ڈیزائن بناتی تھی نتیجتا جو مہندی کا ڈیزائن دیکھ کر اسکی ہتھیلی پر چھاپ رہی تھی وہ ماڈل کے بازو تک آرہا تھا اور تقریبا پورا چھاپ دینے کے باوجود اسکی ہتھیلی بھی پوری بھر نہ پائی تھی۔
عزہ کئ بچی ساتھ ایک مائکرو اسکوپ بھی بخش دو مجھے تاکہ ہر کسی کو مہندی دکھانے میں آسانی رہے سب سے بڑھ کر مجھے آسانئ رہے خود کو بتانے میں کہ میرے ہاتھوں پر ڈیزائن بنا ہوا یے چیونٹیاں نہیں رینگ رہیں۔
عشنا عروج فاطمہ اور عزہ لوٹ پوٹ ہو گئیں وہ منہ پھلائے گھورتی رہی واعظہ تک استری چھوڑ کر ہنستی چلی گئ۔
سیہون اور ہے جن منہ کھولے انکو دیکھ رہے تھے
کیوں ہنس رہی ہو اتنا۔ نونا۔ ہےجن پوچھے بنا نہ رک سکا۔
واعظہ نے ہنسی روک کر ترجمہ کیا
ارے اتنئ سئ بات لائیں میں ڈیزائن بنا دوں۔ ہے جن سیدھا شاپر سے کون نکال کر عشنا کے پاس آبیٹھا
تم ؟ تمہیں مہندی لگانی آتی ہے؟ عشنا کو تامل ہوا
ارے میں آرٹس کا ہی تو طالب علم ہوں۔ اس نے کالر جھاڑے یہ اطلاع نئی تھئ۔ ان سب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ پڑھ کیا رہا ہے۔
آپکو کورین آرکیٹیکچر کا فیوژن دکھاتا ہوں بنا کر۔
اس نے مڑ کر بغور عزہ کا ہاتھ دیکھا اسکے مہندی پکڑنے کا انداز دیکھا اور عشنا کا ہاتھ پکڑ کر شروع ہوگیا۔
دونوں جب اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا کر فارغ ہوئیں اور عزہ اور فاطمہ اکڑی کمر اور گردن سیدھی کرنے لگیں کہ الف نے چیخ مار دی
ہے جن نے اسی وقت اتفاق سے ہاتھ روک کر انگلیآں سہلائی تھیں۔
سیہون اور واعظہ کچن میں سے بھاگے آئے
کیا ہوا؟
وہ سب عشنا کے ہاتھ پر جھکی تھیں عشنا کا چہرہ جوش تمتما رہا تھا جبکہ الف روہانسی ہو چلی تھی۔
ہے جن نے نہایت عرق ریزی سے اسکی ہتھیلی پر ہنبق میں ملبوس شہزادی کے بائیں جانب سے عکس اتارا تھا جو رخ پھیرے اونچے سے پتھر پر بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی ۔ شہزادی کے لباس میں باریک کورین کڑھائی تھی اسکے لمبے سے گائون کے ربن میں اردو میں بڑے خوبصورت سے انداز سے عشنا لکھا تھا۔ اسکا لباس کلائی تک آرہا تھا۔ شہزادی کی لمبی چوٹی بل کھاتی انگوٹھے کے جوڑ تک آرہی تھی تو سر پر پہنا تاج انگلیوں کے جوڑوں پر تھا ۔ایک درخت کا آدھا تنا چھوٹی انگلی اور ہتھیلی کے کے ایک جانب بنا تھا جس میں ننھے منے پھول کھلے تھے کچھ پھول جھڑ کر شہزادی کے اوپربھی آرہے تھے۔ اسکی ہتھیلی ہتھیلی کیا کوئی کینوس تھی جس پر ہے جن نے اپنا ہنر آزما دیا تھا۔
میں ہاتھ دھونے جا رہی میں نے بھی یہی بنوانا ہے۔
الف کے کہنے پر عزہ نے بے دریغ اسکے دو تین ہاتھ جما دیئے وہ دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی ہونے کی وجہ سے خود
کو بچا بھئ نہ پائی۔
واہ ہے جن ۔ واعظہ نے بھی بے ساختہ تعریف کی۔
اچھا لگا آپ کو نونا۔ ہے جن خوش ہوگیا تھا۔
بہت پیارا ہے شکریہ ہے جن ایسی مہندی میں نے زندگی میں کبھی نہیں لگوائی۔
عشنا بے حد خوش تھئ۔ اترا کر عروج اور الف کو دکھا رہی تھی۔
اب فوٹو سیشن کی باری تھی عشنا موبائل لیکر روشنی کی تلاش میں اٹھ گئ۔ عزہ اور فاطمہ اب ہے جن کے سامنے ہتھیلیاں پھیلا چکی تھیں۔ہے جن گردن کھجانے لگا۔
سیہون نے آنکے جوش و خروش پر تبصرہ کیا
مجھے نہیں پتہ تھا تم لوگ ٹیٹوز کیلئے اتنی کریزی ہوگی
ہممم۔ مہندی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ سب لڑکیاں بہت شوق سے لگواتی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ گہری نگاہ ڈال کر جتانے والے انداز میں بولا
تو تم لڑکی نہیں ہو کیا؟
وہ مستقل اپنا دایاں ہاتھ جیب میں ڈالے تھی پھر بھی مہندی کو بو اسکے کہیں آس پاس ہی تھی۔ وہ ہونٹ بھینچ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 21

قسط 21
تم کھانا کیوں نہیں کھا رہیں بھوک نہیں لگی کیا۔
اسکو کھانا ایک جانب کھسکا کر خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھ کر اس عورت نے بڑی حیرت سے پوچھا تھا۔ خود وہ سوپ کا پیالہ ڈکار چکی تھی اب مزید سوپ کا مطالبہ کیا تھا جسے سن کر حوالدارنی نے برا سا منہ بنایا مگر مزید لینے چل دئ۔ اسکے چاول بھی ختم ہونے کو تھے اسکی رفتار دیکھ کر لگتا تھا حوالدارنی کو الٹے پیر واپس جانا پڑے گا اسکے لیئے چاول لانے۔
اپنے ہی کسی دھیان میں چونک کر نور نے اسے دیکھا۔۔ جانے وہ اتنی آنکھیں پھاڑ کر اسے کیا کہہ رہی تھی۔
دے؟۔ اسے بس اتنی ہی۔ہنگل آ پائی تھی ۔سو اسی کا استعمال کیا۔
کھانا باپ۔ اس عورت نے اب ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔
دوپہر کے ایک بج رہے تھے اس نے بنا سحری روزہ رکھا تیمم کرکے نماز بھی پڑھ ڈالی ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ناشتہ آیا تھا۔ اسکا ناشتہ جوں کا توں پڑا رہا ۔ اسکی جیل کی ساتھئ عورت اس سے قصدا بے نیازی برتتے ہوئے ڈٹ کر ناشتہ کرتی رہی تھی۔ صبح اس نے حوالدارنی سے صاف چادر منگوا کر ایک کونے میں بچھا کر قضا فجر پڑھی پھر نفل پڑھتی رہی یہاں تک۔کے تھک کے چور ہوگئ۔ سو چادر سمیٹ کر بنچ پر آبیٹھی۔ جیل کی مخصوص وردی کے اوپر وہ اپنا دوپٹہ ابھی بھی نماز کے انداز میں ہی لپیٹے تھی۔
بے دھیانئ میں دوپٹہ سر سے اتارا تو ماتھے پر جاندی کی طرح بال بکھرتے چلے گئے۔ دوپٹہ ہٹایا تو احساس ہوا پسینے میں بھیگی ہوئی ہے
اسکو متوجہ کرنے کی نیت سے اس عورت نے دوبارہ سوال دہرایا اس بار اشارے اور زبان دونوں سے اکٹھے کام۔لیا
کھانا تو کھا لو بھوکے رہنے سے سزا کم نہیں ہوجائے گئ۔کھالو تھوڑا
کھا لو۔
اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔ آنسو پھر گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس عورت نے ہمدردی سے اسے دیکھا۔
صبح سسے اسکی بے چینی دیکھ رہی۔تھی۔جانے کیا۔تکلیف تھی اسے۔پہلے تو سوچا کھانا کھاتی رہے ۔
پھر جانے کیا سوچ کر پلیٹ ایک طرف رکھتی اسکے پاس برابر آبیٹھئ۔ اسکی تھالی جس میں چاول تھوڑی سی کمچی اور جانے کیا ملغوبہ رکھا تھا اٹھا کر اسکے سامنے رکھا بڑے پیار سے چاپ اسٹکس کا نوالہ بنایا تھوڑی سی کمچی سجائی اسکے منہ کی جانب بڑھا کر بولی ۔۔ آ۔۔ یہ اشارہ تھاکہ منہ کھولو جیسے ہم بچوں کو بہلانے کو کہتے۔
ہونٹوں سے پپی کی آواز نکال کر وہ باقائدہ چمکار رہی تھی نور کی اپنی ماں کی طرح ۔ وہ دیکھ اس عورت کو رہی تھی مگر نظر آرہی تھی اسے اسکی اپنی ماں۔
نخرے مت کرو دیکھو کتنے مزے کی کھچڑی بنائی ہیں کل بنادوں گئ بریانی ۔ چکھ کر تو دیکھو کچھ دن پرہیز کرلو گلا ٹھیک ہوجائے میری بیٹی کو میں اپنے ہاتھوں سے بریانی کھلائوں گئ۔ امی تھوڑا لاڈ سے تھوڑا سا غصہ جتاتے اسے کھانا کھلانے کی سعی کر رہی تھیں۔ اسے بخار گلا بند نزلہ زکام کیا کچھ نہ تھا نتیجتا کھانا پینا بند دوا کھاتے سو نخرے چار دن بعد آج فرمائش کی ماں سے کہ سلائس اور چائے سے تنگ آگئ ہوں تو بریانی بنا دیں اور وہ جھٹ بنا لائیں مگر کھچڑئ سو وہ منہ پھلا کر منہ تک کمبل تان کر لیٹ گئ۔
اٹھو نا نور تنگ نہیں کرو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اب بھی شام ہونے کو آگئ دوا کھائو ٹھیک ہوجائو پھر ہر فرمائش پوری کردوں گی۔ اٹھ جائو میری اچھی بیٹی۔ انہوں نے کمبل ہٹا کر اسکے پھولے پھولے منہ کو دیکھا پھر مسکرا کر بہلانے لگیں۔ وہ بظاہر منہ بناتئ مگر درحقیقت بھوک سے بے حال ہو کر اٹھ بیٹھئ۔
مجھ سے نہیں کھائی جاتی پھیکی سیٹھی کھچڑی۔
اس نے نخرے سے کہا۔
کل بنائوں گئ نا بریانی چلو شاباش منہ میں لو۔ امی خاطر میں نہ لاتے ہوئے چمچ چاولوں سے بھر کر اسکے منہ کی۔جانب لانے لگیں۔
ماں کے چمکارنے لاڈ کرنے کچھ بھوک سے نڈھال ہونے پر سو نخروں سے وہ نوالہ منہ میں لے ہی گئ۔
شاباش بہت پیاری ہے میری بیٹی۔
اگلا نوالہ تیار تھا جملے کی مار مار میں اسے پوری پلیٹ کھلا کر دم لیا۔
جوان بیٹی کو بچوں کی طرح چمکارتی اسکی ماں۔ اسکے دل سے ہوک اٹھی۔ آج چوتھا دن تھا اس قید خانے میں اور امی کو پتہ لگا تو کیا ہوگا گھر والے کیا کریں گے اس خوف سے باہر اسے صرف اور صرف ماں یاد آئی تھی۔ ہر مصیبت ذدہ کی طرح اسکو اس وقت بس ماں یاد آرہی تھی بس ماں کسی طرح اسکے سامنے آجائے۔
اسکے لب وا ہوئے اس سے قبل کہ وہ آہجومہ چاپ اسٹکس سے اسکے منہ میں نوالہ ڈالتی وہ ایکدم جیسے ہوش میں آگئ
آندے۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی ایکدم بنچ سے اتر کر کھڑی ہوگئ۔ بے چینی اسکے چہرے سے ہویدا تھی۔
مجھے یہاں نہیں رہنا میں یہاں نہیں رہ سکتی۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلارہی تھئ۔
ویئو؟۔ وہ آہجومی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
نور پر دیوانگئ سئ چھانے لگی سلاخوں کو آکر زور زور سے جھنجھوڑنے لگی۔
مجھے نکالو یہاں سے۔میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے سنو۔
حوالدارنئ سوپ دینے آئی تو یہاں کا منظراسے مزید کوفت میں مبتلا کر گیا۔
سلاخوں کو توڑ دینے کے در پر جنونی سی ہوئی نور مستقل اس سے اپنی زبان میں مخاطب تھی ۔۔
بلائو اس ڈیٹیکٹو کو انسانوں کی پہچان نہیں اسے۔ کیا۔ کیسے لوگ ہو تم لوگ۔ میں ایسی ویسی لڑکی نظر آتی ہوں بھلا۔
اسکی آواز پھٹ رہی تھی اسکے چیخنے چلانے پر دیگر بیرک کی قیدی خواتیں بھی تجسس سے اٹھ کر اسے دیکھنے آگئ تھیں۔
کیا کہا ہے تم نے اسے۔ حوالدارنی نے تنگ سا ہو کر اس آہجومہ سے پوچھا
میں نے کچھ نہیں کہا اسے ۔وہ گڑبڑا کر نور کے بنچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ اسکی پلیٹ ہے نا دو اسے۔
حوالدارنئ جانے کیا سمجھی ۔
دیکھو میں بے گناہ ہوں۔ میرا یقین کرو۔ ہچکیوں سے روتے وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے یقین دلا دینا چاہتی تھی۔
آس عورت کو سوپ کی پلیٹ تھما کر اس نے نور کو کھانے کی پلیٹ تھما دینی چاہی
نہیں چاہیئے مجھے کھانا سمجھ نہیں آتی بات۔
اس نے غرا کر کھانے کی پلیٹ کو ہاتھ مارا کھانے کی۔بھری پلیٹ حوالدارنئ کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔ یہاں سے وہاں تک چاول پھیلتے چلے گئے۔ نہ وہ اسکی بات سمجھ رہی تھیں نا ہی مدد کر سکتی تھیں وہ وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
اسکی شکل جاندی سے نہیں مل رہی؟
وہ عورت اسے دیکھتے ہوئے حوالدارنی کے قریب آکر بولی۔
جاندی؟ اس نے حیران ہوکر دیکھا
کو ہے سن وہی بلڈ والی جس نے بلڈ کے ہیرو سے ہی شادی کر لی ہے۔
اس کو اپنے اندازے پر تصدیق کروانی تھی سو جلدی سے تعارف کرایا۔
اوہ کو ہے سن۔ حوالدارنی نے اسے زور زور سے روتے دیکھ کر قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا
حرکتیں بھئ جاندی والی ہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے روزہ رکھا ہوگا۔
آج پھر موسم بھیگا بھیگا سا تھا بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی سبک ہوا میں پیدل چلنا بھی اچھا لگ رہا تھا۔ مگر خالی خالی بھی۔ صبح وہ نور الف تینوں اکٹھے نکلا کرتے تھے۔ نور کو صبح کے وقت بہت بولنے کی عادت تھی۔ پٹاخ پٹاخ نجانے کون کون سے قصے انکے جمائیاں لیتے چہروں کو ہنس ہنس کر دیکھتے بتاتی جاتی تھی۔اس وقت اسکی کمی بے طرح محسوس ہوئی تھی۔
الف کے ہمراہ یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے عزہ نے بہت دلگیری سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں۔جیل میں سحری کون کراتا ہوگا اسے۔ الف نے تاسف سے کہا۔
جیل کیسی ہوتئ ہے الف ۔ اکیلی بند ہوگئ وہ کیا؟
عزہ نے معصوم سے انداز میں پوچھا تھا مگر الف چلتے چلتے مڑ کر اسے گھورنے لگی
میں تو پیدا ہی جیسے جیل میں ہوئی تھی۔ مجھے کیا پتہ۔
الف کے چڑنے پر وہ کھسیا سی گئ۔
ہمیں ملنے جانا چاہیئے ویسے نور سے۔ اسکی عید لگتا ہے جیل میں گزرے گئ۔
اسے خیال آیا ۔ الف کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ
اس نے تصور کی آنکھ سے نور کو بڑے سے اندھیرے کمرے میں سلاخوں کے پیچھےسر جھکائے کھڑا دیکھا۔ وہ اتنی اکیلی تنہا لگ رہی تھئ کہ اس نے تصور میں پکار لیا۔
اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا
سرخ آنکھیں سرخ چہرہ ماتھے پر ترتیب سے کٹے ہوئے بال۔
اسکی۔ہنسی چھوٹ گئ۔
الف نے حیران ہو کر اسے دیکھا
کیا ہوا۔
کچھ نہیں وہ میں نے تصور کیا نور کو جیل میں۔ عزہ بمشکل ہنستے ہنستے بولی
اور یہ تصور کرکے ہنسی آگئ تمہیں؟ شرم کرو۔۔ الف نے تاسف سے کہا
نہیں ۔۔ نہیں۔ عزہ نےدونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلا کر غلط فہمی دور کرنی چاہی
وہ اسکے جاندی اسٹائل بالوں پر ہنسی آگئ۔ جیل میں بھی وہ بکھرے بالوں کے ساتھ ہی کھڑی تھئ میرے تصور میں۔
بمشکل ہنسی روکتے اس نے بتایا
ہاں تو چار دن میں بال لمبے تھوڑئ ہو گئے ہوں گے۔
الف نے اپنی زہانت جھاڑنا ضروری سمجھا۔ عزہ گہری سانس لیکر اپنا سر ہلانے لگئ۔ سڑک پر شام سے کچھ پہلے کا وقت ہونے کے باعث رش تھا۔ ذیادہ۔تر تو یونیورسٹی فیلوز ہی تھے جو اپنی اپنی منزل کو رواں تھے۔ اپنے کام سے کام رکھتے مگن جس نے کسی ساتھی دوست کے ساتھ چلنا تھا وہ اسکے ساتھ اونچی اونچی آواز میں بولتا جائے اور ان جیسی اکیلی جانے والیاں الگ اپنا راستہ ناپ رہی تھیں۔ کسی نے نا لڑکیاں دیکھ کر سیٹی ماری نا ہی کوئی جملہ پھینکا
یار ہم کتنے سکون سے جا رہے ہیں اپنے راستے کسی نے چھیڑا تک نہیں۔ کوریا بہت سیف ۔۔۔ میرا مطلب محفوظ ہے لڑکیوں کیلئے۔
عزہ آج نور کی کمی پوری کرنا چاہ رہی۔تھئ اسکی بے تکی بات پر الف ہنس دی پھر جتانے والے انداز میں بولی
اتنا بھی سیف نہیں تم اپنے گھر سے دو گلی دور اغوا ہوتے ہوتے بچی تھیں۔
وہ تو نور نے پنگا لیا تھا اور وہ مجھے نہیں نور کو اغوا کرنے آئے تھے بتایا نہیں تھا واعظہ نے۔ ورنہ گھر میں گھس کر نور کے بال کاٹ گئے تھے۔ میں بھی وہیں تھی مجھے کچھ نہ کہا۔
عزہ زور دے کر بولی۔ الف نے ہنکارہ بھر کر رفتار بڑھا لی۔
بس اسٹاپ آگیا تھا مگر بس نہیں آئی تھی۔ اسٹاپ پر ٹھیک ٹھاک رش تھا۔بنچ فل نہیں تھا طلباء خوش گپیوں میں مگن کھڑے تھے بنچ پر بس تین لوگ بیٹھے تھے چندی آنکھوں والا لڑکا اور ایک لڑکی مگن سے آپس میں گٹ پٹ کرنے میں لگے تھے یقینا ڈیٹ چل رہی تھی۔ بنچ بیچ سے خالی تھا ان سے ہٹ کر کھنچے ہوئے نقوش کی لڑکی بیٹھی آئیسکریم کھا رہی تھی۔وہ اگر ایک طرف ہو کر بیٹھتی تو یقینا عزہ یا الف میں سے کوئی بیٹھ جاتی مگر انہوں نے بھی کھڑے رہنے کو ترجیح دی اور اسکے پاس آکھڑی ہوئیں۔ اپنے دھیان میں انہوں نے محسوس ہی نہ کیا کہ جینز اور ٹاپ پہنے اس چندی آنکھوں والی نے انکو اپنے پاس آتے دیکھ کر ٹانگیں سکیڑ کر ناپسندیدہ سی نگاہ ڈالی تھی۔ بلکہ کون آئیسکریم کھاتے چہرے پر یکا یک کڑواہٹ بھی چھا گئ تھی۔۔اس سے انجان عزہ کی اسٹاپ کے اوپر شیشے کی دیوار دیکھتے ہوئے آنکھیں چمک اٹھیں۔
یاد ہے ہم کیسے احمقوں کی طرح یہاں سے پوسٹر اکھاڑ رہے تھے اور اچانک وہ رچ مین پور وومن والا ہیرو سامنے آگیا تھا۔
عزہ کو بس اسٹاپ پر لگا وہ پرانا پوسٹر جو اب پھٹ کر آدھے سے ذیادہ اتر چکا تھا یاد آیا۔
کتنے احمق تھے ہم۔ الف ہنسی۔
بے چارے جی چھانگ ووک کی ناک پر منہو کا پائوں آرہا۔
وہ دلچسپی سے منہو کا پوسٹر دیکھ رہی تھی۔ سب ہنگل میں لکھا تھا بس کل تاریخ پڑھی جا رہی تھی۔
ہے کیا یہ اگر کوئی اشتہار ہے تو مصنوعات تو ہیں ہی نہیں بس منہو بتیسی دکھا رہا ہے۔ الف کو بھی تجسس ہوا۔
ابھی پوچھ لیتے۔ اپنے لمبے عبایا کو سمیٹتی عزہ اعتماد سے اس لڑکی کا کندھا ہلا کر پوچھنے لگی۔
معاف کیجئے گا بتادیں گی یہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔
بچھی سا( پاگل ہوگئ ہو)؟۔لڑکی نے غرا کر اسکا ہاتھ یوں اپنے کندھے سے جھٹکا تھا جیسے ہاتھ نہ ہوا کندھے پر سانپ آدھرا ہو
ہائو ڈئیر ئو ٹچ می۔ فلدھئ بچ۔ ( تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تم غلیظ کتیا۔ )
شستہ انگریزی میں آگے دو تین مزید گالیاں ٹھونک دی تھیں۔
عزہ ششدر سی رہ گئ اس نے ایسا کیا کردیا تھا جو وہ یوں بھڑک اٹھی تھئ۔
میں نے صرف آپ سے پوچھا یہ کیا لکھا ہے آپ گالیاں کیوں دے رہی ہیں۔ آپ انگریزئ نہیں جانتی ہیں کیا؟
الف نے سنبھل کر اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی۔ مگر وہ جو کوئی بھی تھی بہت اچھی طرح انگریزی جانتی تھی۔
گندے مسلمان آگئے یہاں بھی گندگی پھیلانے۔ یہاں بھی قتل و غارت کرنی تم لوگوں نے۔دفع ہو جائواپنے ملک ۔
وہ لڑکی جو بھی تھی خالص امریکی لہجے میں انگریزی بکے جا رہی تھی۔ چلا کر کہتی اس لڑکی نے ٹھیک ٹھاک تماشا لگا دیا تھا
ویئو؟ کیا ہوا۔
دیگر بس اسٹاپ پر کھڑے لڑکے لڑکیاں بھی متوجہ ہوچکے تھے۔ کوئی اس لڑکی سے پوچھ رہا تھا کوئی خود قیاس آرائی کر رہا تھا۔
یہ چورنیاں ہیں کیا؟۔ کسی نے تنفر سے ہنگل میں پوچھا
آندے دہشت گرد ہیں۔ وہ حلق کے بل چلائی۔
مسلمان دہشت گرد قوم سے ہیں یہ۔
شٹ اپ ہمیں تو جو کہہ دیا مسلمانوں کے خلاف بکواس کی تو منہ توڑ دوں گئ ۔ الف بھڑک کر اسکی۔جانب بڑھی ارادہ منہ پر طمانچہ ہی لگا دینے کا تھا۔ عزہ نے گھبرا کر اسکا بازو تھاما۔ اس لڑکی نے جوابا غصے میں ایک اور گالی بکتے آئسکریم بھی اسکی جانب اچھال دی بروقت الف نے جھکائی دی پھر بھی اسکے گال پر سے ہوتی آئیسکریم کپڑوں کو داغدار کرتئ ہوئی زمین پر جا گری۔
الف غصے سے بپھر کر اسکی جانب بڑھی عزہ نے اسکو بازو سے کھینچا
صبر سے کام لو الف۔ رمضان ہے ہمارا روزہ ہے۔
تم ۔۔۔۔ الف نے گالی منہ میں روکی تھئ۔
صبر کرو الف ہمارا روزہ ہے برداشت سے کرو۔
عزہ کے الفاظ تھے کہ جیسے اس پر کسی نے ٹھنڈا ٹھار پانی گرا دیا ہو۔ روزہ صرف بھوک کا تو نہیں ہوتا روزہ اپنے آپ پر قابو رکھنے غصہ برداشت کرنے اور صبر کرنے کا نام ہے۔
وہ لڑکی اس کو ٹھٹک کر رکنے پر شہہ پا کر مزید اسے چڑانے کو بکتی چلی گئ۔ ایک بار بس سوچا کہ صبر کرنا ہے غصے پر قابو پانے کیلئے نجانے کہاں سے ہمت در آئی۔
بس آگئ تھئ۔ وہ بکتی جھکتی بس میں سوار ہوئی آدھے سے ذیادہ تماشائی بھی چھٹ گئے کچھ ہمدردی کچھ حیرت سے ان دونوں کو خاموشی سے سب سہتا دیکھ رہے تھے۔ ایک لڑکے نے جیب سے رومال نکال کر اسکی۔جانب بڑھایا۔
یہ لو اس سے صاف کرلو۔
وہ دونوں ضبط کی انتہا پر چپ سی کھڑی تھیں۔
میکانیکی انداز میں عزہ نے رومال تھاما تو وہ لڑکا جلدی سے بس میں چڑھ گیا یقینا اسے دیر ہو رہی۔تھی۔
عزہ نے الف کا گال پونچھا ۔ اسکی اپنی آنکھیں بھی اتنی بے عزتی پر بھر آئی تھیں۔
بنچ پر بیٹھے جوڑے نے بھی یہ بس پکڑنی تھی مگر دونوں ہی بس کی جانب بڑھے ہی نہیں۔ لڑکی نے ان کے قریب آکر جھک کر سلام کیا۔
میں معزرت خواہ ہوں ابھی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔
وہ لڑکی دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہہ رہی تھی۔
آگے بڑھ کر اشتہار پر انگلی رکھ کر بتانے لگی۔
آپ اس اشتہار کی بابت جاننا چاہ رہی تھیں۔ یہ لی منہو کی فین میٹنگ کا اشتہار ہے کل ایکوا مال میں منعقد ہوگی ملٹری جانے سے قبل یہ آخری میٹنگ ہوگی اسکی۔ یہ لکھا ہوا ہے۔
وہ دونوں اس وقت کچھ بھی سننے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھیں۔ پھر بھی اسکے سرجھکا کے شکریہ ادا کردیا۔
آننیانگ۔ وہ دونوں مسکراتے جھک کر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اور سیہون پولیس اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ دو درجن جگہوں پر دستخط کروا کر نجانے کیا کیا تفصیلات لیکر انکی جان بخشی ہوئی۔اب وہ اپنے فلیٹ جا سکتی تھی۔ طوبی اور دلاور کو بس ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن کی زیارت کرنی تھی ایک ہفتے کے اندر۔ معاملہ نمٹنے پر اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔اب اسے یقینا یہ خوشخبری لڑکیوں کو سنانی تھی وہ جان چھٹنے والے انداز میں جانے کو اٹھی تھی تب ہی سیہون اسے دستاویزات کی فائل تھماتا انتظار کرنے کو کہہ کربیت الخلا چلا گیا تھا۔ وہ پولیس اسٹیشن کے ماحول سے جانے کیوں گھبراہٹ سی محسوس کر رہی تھی۔ سو جھٹ باہر نکل آئی۔ فائل کافی بھاری سی تھی اندرخاکی لفافے میں سیہون کے گھر کی اصل دستاویزات اور اس پورے کیس کے ضمانتی کاغذات کی نقل تھی۔ اس نے ایک نظر ڈال کر لفافہ بند کر دیا فائل میں بھی نقول موجود تھیں سب سے اوپر جو کاغذ تھا اس پر لکھے عنوان نے اسے متوجہ کیا اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا
کم جونگ وون کی ضمانتی درخواست تھی جس کے مطابق وہ فلیٹ کی مالکہ کے سب اعمال و نقل و حمل کا ذمہ دار تھا۔اس نے گہری سانس لیکر فائل بند کر دی۔
توبہ اتنے لوگ ایک تو مرد ہونا عذاب ہے کہیں کوئی خلوت (پرائیویسی) نصیب نہیں۔ بارہ لوگوں کی ایک چوہے کے بل جیسی تنگ جگہ میں فراغت کی جگہ بنائی ۔ کوئی حد ہے۔ آننیانگ ایسے کر رہے تھے جیسے پارٹی میں آئے ہیں۔ اوپر سے اتنا گھور گھور کے وہ کمینہ دیکھ رہا مجھے جیسے
سیہون بڑبڑاتا ہوا آیا ۔ وہ چلتے چلتے ذیلی سڑک تک آگئ تھی۔ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ بھاگتا آیا اور آتے ہی شروع ہوگیا۔
باس۔ واعظہ نے چڑ کر ٹوکا اسے۔ مجھے مت بتائو۔
وہ فائل سمیت ہاتھ جوڑتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسے چڑتے دیکھ کر سیہون کو لطف آیا ۔
کیا نہ بتائوں یہ کہ وہ لڑکا مجھے گھور ۔۔ سہون نے شرارت سے کہنا چاہا اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فائل اسکے سر پر۔بج اٹھی تھئ۔
سی ۔۔ اس نے تڑپ کر سہلایا سر اور گھورنے لگا۔
تم جلتی ہو مجھ سے۔تمہیں لفٹ جو نہیں کراتا ۔ ویسے میری تو چلی گئ اب جگہ خالی ہے۔ اس نے شرارت سے آنکھ ماری۔ واعظہ اسکے اس بکواسی موڈ کو خوب پہچانتی تھی۔ بنا سر پیر ہانکے جانا۔ سو ناک کی سیدھ میں دیکھتی قدم اٹھاتی رہی۔ اسے بے نیاز دیکھ کر وہ پھر چھیڑنے لگا۔
اتنا ہینڈسم ہوں کہ لڑکے بھی مرنے لگتے مجھ پر۔ تم نے کبھی مجھے غور سے دیکھا ہی۔نہیں ہے۔
وہ فرضی کالر جھاڑ رہا تھا۔اسکے کہنے پر وہ واقعی رک کر اسے غور سے دیکھنے لگی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر خجل سا ہوگیا
گومو وویو۔ وہ سنجیدگی سے اسے فائل تھماتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ پچھلے چھے سالوں میں میں نے شائد بس ایک یہی ڈھنگ کا کام۔کیا ہے کہ تم جیسا پرخلوص دوست بنایا۔ جونگ وون سے رابطہ کرنے پر تم پر کافی غصہ ہوئی کچھ ذیادہ کہہ بھی گئ اسکے لیئے معزرت۔
اسکے سنجیدہ سے انداز پر سیہون کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئ۔
میں خفا نہیں ہوں واعظہ۔ اور یقین کرو میں نے آخری آپشن رکھا تھا کہ جونگیا سے رابطہ کروں۔ اور کوئی چارہ نہ تھا اسکے بابا اسپیشل برانچ میں منتظم نہ ہوتے تو کبھی بھی اس سے رابطہ نہ کرتا۔ انکی وجہ سے ہی یہ خون کی رپورٹ دو دن میں آگئ ورنہ تو۔
کرم۔ ( بہرحال) واعظہ نے دانستہ ہلکا پھلکا انداز اپنایا۔
آج میں ان سب کو گھر لے جائوں گی تم ہماری وجہ سے کافی بے آرام رہے۔
اب یہ تکلفات رہنے ہی دو تم ۔ سیہون کا انداز ڈانٹنے والا ہوچلا تھا۔
اب اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا وہ جو روم میٹ تمہاری جیل میں ہے اسکو چھڑوانا؟ کہو تو اسکے لیئے بھی بات کروں جونگیا سے؟
وہ روانی میں اسکو پھر چھیڑ گیا تھا۔
واعظہ ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔
اگر وہ گروہ کے دوسرے ارکان نہیں پکڑے جاتے اور وہ کمینہ اپنے بیان پر قائم رہا کہ نور اسکے گروہ کی رکن ہے تو ؟؟؟
وہ اس کو ڈرا نہیں رہا تھا ہاں کچھ باتیں باور کرانا چاہ رہا تھا جن سے اس نے نگاہ چرائی تھئ۔ اور ابھی بھی دانستہ نگاہ چرائے سامنے سڑک کے اس پار گہما گہمی کو دیکھ رہی تھی۔
تو۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
تو یہ کہ پھر مقدمہ درج ہوگا باقائدہ کیس چلے گا پیسہ لگے گا وکیل لینا پڑے گا نئے سرے سے تفتیش ہوگی اور تم جو اسکی نام نہاد سرپرست بنی ہوئی ہو کہاں سے انتظام کروگی۔
سیہون اسکے انداز پر بری طرح چڑ گیا۔ چیخ ہی پڑا۔
یہ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کا شوق کیا ہے تمہیں؟ تفریح چاہییے زندگی میں؟ بیزارکن ہے؟ اس طرح کچھ لطف اٹھا لیتی ہو دوسروں کے مسلئے سلجھا کے؟ اپنا کوئی مسلئہ نہیں زندگی میں تو چلو دوسروں کے سہی۔
ہاں ایسا ہی ہے ۔ پھر؟ اب نہیں ہے میری زندگی میں کوئی تھرل تواگر میں شامل کر بھی لوں تو تمہیں کیا ؟
جوابا وہ بھی تپ گئ تھی۔
سڑک کنارے وہ دونوں کھڑے چلا چلا کر لڑتے آتے جاتے لوگوں کی توجہ کا باعث بن رہے تھے مگر کسی کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں تھا کہ کھڑا ہو کر دیکھے انکی لڑائی کا انجام سوائے سڑک کے دوسری جانب پارک ہوئی اس بڑی سی کالی گاڑی کے جس کے شیشے بھی کالے تھے اور ڈرائیور نے اسکے متوجہ ہونے کا خوف لاحق ہوتے ہی ابھی ابھی اوپر کیئے تھے۔
اتنا شوق ہے نا بیٹیاں پالنے کا تو لیگلی ایڈاپٹ کرلو اس لڑکی کو۔ ورنہ تو کوئی صورت نہیں ۔اسکی مدد کرنے کی۔ تم دو سے تین چکر لگائوگی اس سے ملنے کے ۔۔۔پھرتم بھئ شامل تفتیش ہو جائوگی۔
اسکی بات پر واعظہ کچھ کہتے کہتے ایکدم چپ ہوئی۔ہونٹ بھینچ کر سر جھکا لیا۔ جوتے کی نوک سے زمین کو بے وجہ کریدنےلگی تھئ۔ وہ بھی اسکو دیکھ کر ٹھنڈا پڑا۔
۔ تم اسکے والدین سے کیوں نہیں کہتیں وہ کیوں نہیں آتے یہاں یا کسی سے کہہ سن کر معاملہ سنبھالتے۔
تم نہیں جانتے پاکستانی والدین کو۔ انکو اگر پتہ لگا کہ انکی بیٹی جیل میں ہے تو وہ وہ جیتے جی مر جائیں گے۔ ہمارے دقیانوسی معاشرے میں جیل جانا بہت معیوب بات ہے وہ بھی لڑکی کا۔ اسکا کیس چلے تو شائد کہیں کوئی راہ نکل آئے بچ جائے وہ تعلیم مکمل کرلےلیکن اسکے والدین کو پتہ لگا تو ۔ وہ پہلی فرصت میں نور کی پڑھائی بندکروا دیں گے۔ اسکو ہر قیمت پر واپس لے جائیں گے۔
واعظہ کی بات اس نے بہت غور سے سنی۔
ہمارے یہاں تو بچے پیدا ہی جیل میں ہوتے ہیں۔ سیہون آرام سے بولا۔ واعظہ نے سخت چڑ کر گھورا تو وہ رسان سے کہنے لگا
جیل جانا کسی معاشرے میں رواج نہیں ہوتا سب برا ہی سمجھتے۔ احمق۔
اس نے بات جاری رکھی۔
جتنے بھی سخت گیر ہوں ہے تو انکی بیٹی وہ سب اثاثے لگا کر ہر طریقہ آزما کر اسے بچانا چاہیں گے اور ایسا انہیں ہی کرنا چاہیئے کیونکہ وہ انکی بیٹی ہے انکے سوا کسی اور کا کوئی فرض نہیں بنتا۔دوسری بات۔ تمہیں لگتا کے ڈراموں میں جو سولہ اقساط میں کیس چل کر ختم ہوتا ایسا سادہ او رآسان طریقہ ہے کوریا میں انصاف پانے کا؟ ہزاروں کیسز ہیں جن کی شنوائی کی باری نہیں آتی سالوں۔ اوپر سے یہ اتنا حساس معاملہ ہے یہ بہت لمبا چلے گا۔ تم کب اور کہاں تک اسکا ساتھ دے پائو گئ؟ اور پڑھائی چھٹ جانااور پاکستان چلا جانا
لاکھ درجے بہتر ہوگا اسکے لیئے بہ نسبت یہاں جیل میں سڑنے کے۔
اتنے دنوں میں پہلئ بار تھا کہ واعظہ نے چپ۔ہو کر سنی تھی اسکی بات۔ وہ بھئ مزید اسکی سماعتوں کو زحمت دینے کی بجائے اسے سوچنے کا موقع دینا چاہتا تھا
یہ سب واقعی نہیں سوچا تھا اس نے۔لیکن کوریا کا لڑکا پاکستان کی لڑکی کا مسلئہ کیسے سمجھ سکتا ہے۔
اسے نور کی آنسو بھری آنکھیں اور منت بھرا لہجہ یاد آیا
پلیز میرے گھر والوں کو خبر نہ ہونے دینا اس معاملے کی۔
وہ سرجھٹک کر بولی تو صرف اتنا۔
شکریہ۔
جانے وہ سچ مچ قائل ہوئی تھی یا اس سے جان چھڑانے کو کہہ رہی تھی وہ قصدا دو قدم آگے ہوا۔ فائل سنبھال کر سڑک کنارے دور سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ دینے لگا۔ ٹیکسی نے رفتار دھیمی کی تو کن انکھیوں سے اسے دیکھ کر منہ بنا کر بولا۔
اتنی اکڑی گردن کے ساتھ شکریہ بھی ایسے کہتی ہو کہ جیسے سر پر آینٹ اٹھا کر مار رہی ہو۔
وہ ڈرامے باز اب حقیقتا اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔
آہ سر دکھنے لگا ہے تمہارے تکلفات سے۔۔
اسکا انداز اتنا مسخرانہ ہو چلا تھا کہ وہ ہنس ہی پڑی۔
کدھر جانا ہے۔ ٹیکسی کا دروازہ اسکے بیٹھنے کیلئے کھول کر وہ پوچھ رہا تھا
پاکستانی ایمبیسی۔ ۔ اس نے کہتے ساتھ ہونٹ بھینچ لیئے تھے۔
وہ دروازہ بند کرتے کرتے رک گیا
میں بھی چلوں؟ اس نے پوچھا تو واعظہ جواب دینے کہ۔بجائے نشست پر آگے کھسک گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Desi Kimchi Episode 20

قسط 20
دھیرے سے دروازہ کھٹکا کر اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے پھر دستک دے کر ذرا سی دروازے کی درز سے جھانکا تو ہے جن مسہری پر سر جھکائے بیٹھا تھا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے کسی گہری سوچ میں گم۔
اس نے شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے اسکے قریب جا کر ہائو کیا۔ وہ نہ ڈرا نہ چونکا جوں کا توں بیٹھا رہا الٹا منہ پھیر کر جلدی سے آنکھیں صاف کرنے لگا۔ وہ بیگز بیڈ پر پھینک کر اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔ پیار سے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیکر اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہو کر سوجی ہوئی تھیں۔ یقینا ابھی اس نے اپنے آنسو صاف کیئے تھے۔ سرخ ہوتا چہرہ وہ پریشان سی ہو اٹھی
کیا ہوا خیریت تو ہے ہے جن؟
اسکے اتنا سا پوچھنے کی دیر تھی وہ اس سے لپٹ کر رو پڑا۔
کیا ہوا ہے جن بتائو تو سہی۔ اسکی پشت تھپکتے اس کو پرسکون کرنے کی سعی کرتے ہوئے واعظہ پوچھ رہی تھی۔
نونا میں بہت برا ہوں میں بہت گناہگار ہوگیا ہوں۔ اللہ کا بھی اور بدھا کا بھی۔ میرا کرما میرے سامنے آئے گا تو کیسے سہہ پائوں گا؟
وہ بلکے جا رہا تھا۔ واعظہ چپ سی ہو گئ۔ کئی لمحوں کے بعد اسکی ہچکیاں تھمی تھیں۔ آنسو پونچھتا وہ سیدھا ہو بیٹھا پھر شرمندہ سے انداز میں کہنے لگا
پریشان کردیا نا آپکو بھی نونا۔
اسکی گلابی رنگت سرخ ہو رہی تھی ۔ سرخ ناک سرخ سی آنکھیں وہ بالکل معصوم چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔
مجھے دل سے نونا سمجھتے ہو نا؟ اس نے ہے جن کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
دے۔ اس نے معصومیت سے سر ہلایا۔
بتائو پھر کیا ہوا؟ کیوں پریشان ہو۔ اس نے بہت پیار سے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا جوابا وہ سر جھکا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے طوبی نے فون کرکے بلایا تھا۔ اسے لائونج میں بٹھا کر خود وہ اندر کچھ لینے چلی گئ تھئ۔ بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہے تھے۔ اسکا بیٹا کشن کے سہارے بیٹھا تھا جھنجھنے سے کھیل رہا تھا جب ایکدم سے مڑنے سے منہ کے بل کارپٹ پر آیا۔ چوٹ تو نہیں لگی تھی مگر جانے کیوں خوب زور سے رونے لگا۔
اس نے آگے بڑھ کر اٹھایا اسے بہلانا چاہا مگر وہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا وہ اسے لائونج سے ملحق لیکر بالکونی میں لے آیا۔ تھپکنے اور باہر کی فضا میں آکر وہ چپ ہو ہی گیا۔ وہ یونہی اسے تھپکتے بالکونی سے جھانکنے لگا تبھی اسکی نگاہ نیچے سے گزرتے چھوٹے سے جلوس پر پڑی دس پندرہ بدھ متی پنڈت گیرواں چولے جیسا لباس پہنے گلے میں مالائیں لٹکائے مخصوص الاپ الاپتے گزر رہے تھے۔ لوگ ان سے دعائیں لیتے کچھ ساتھ ہو جاتے کچھ ہدیہ دیتے آگے بڑھ جاتے۔
ہے جن ۔ طوبی اسے لائونج میں سے پکار رہی تھی۔
دے۔ وہ جلدی سے پلٹا۔ طوبی اسکیلئے کچھ شاپر میں لیئے کھڑی تھئ۔
اسے بٹھائو صوفے پر اور جلدی سے مجھے یہ پہن کر دکھائو ویسے تو سب ناپ واپ کر سیا ہے پھر بھی کوئی کمی بیشی ہو تو مجھے بتائو میں ٹھیک کر دوں۔
وہ خوشی سے کافی پرجوش تھی۔ اس نے احتیاط سے اسکے بیٹے کو صوفے پر بٹھایا اور طوبی کے ہاتھ سے شاپر لیکر دیکھنے لگا۔
طوبی نے اپنے ہاتھوں سے اسکے لیئے سفید کرتا پاجامہ سیا تھا جسکے گلے پر کوریائی طرز کے ہنبق پر جو پھول پتیاں بنی ہوتئ ہیں انکو سرمئی اور کالے دھاگوں سے کاڑھا تھا۔کڑھائی کی خوبصورت اور صاف بنت ماہر کاریگری اور کوریائی اور پاکستانی طرز ثقافت کا خوبصورت ملاپ وہ کرتا جدید انداز کا صفائی سے سلا تھا۔ کھڑا پاجامہ پینٹ کی طرز کا سلا تھا۔ اتنا خوبصورت لباس اسکے چہرے پر اشتیاق کے رنگ پھیلتے دیکھ کر طوبی کو لگا اسکی محنت وصول ہوگئ۔
وہ اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہا تھا
یہ تمہاراعید کا لباس ہے میری جانب سے تحفہ میرے منے بھائی کیلئے ۔ تم اسکو پہن کر ہی عید کی نماز پڑھنا۔ سمجھے۔ اسکی بات پر ہےجن کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
طوبی کا۔دھیان اس پر نہیں تھا
جائو جلدی سے پہن کر دکھائو مجھے بسم اللہ پڑھ کر پہننا آج جمعتہ الوداع ہے۔ بہترین دن ہے۔ جائو جلدی۔ اس نے اسے کمرے کی جانب دھکیلا تھاپھر صدق دل سے دعا کی۔
اللہ میرے بھائی کو دین پر استقامت سے چلنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نونا آپکو بتایا تھا نا میں نے میں تارک الدنیا بننا چاہتا ہوں۔ میں واقعی بننا چاہتا ہوں مگر بجائے میں دنیا سے منہ موڑتا میں روزے رکھ رہا ہوں طوبی آپی کو لگتا میں انکے دین پر آتا جا رہا ہوں۔ نماز روزے کی جانب راغب ہوں وہ سمجھتی ہیں میں پورک کو چھوتا بھی نہیں مگر نونا پورک میرا پسندیدہ کھانا ہے۔۔
ہے جن بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر سر جھٹکتا وہ بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واعظہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
طوبی نونا مجھے دین کی باتیں بتاتی ہیں میں ان سے جھوٹ کہہ دیتا کہ میں نے پورک کھانا چھوڑ دیا مگر نونا میں نہیں چھوڑ سکتا۔ میں آپ لوگوں کی طرح لمبی لمبی پانچ دفعہ نمازیں نہیں پڑھ سکتا میں ایک دو روزے شغل میں رکھ سکتا ہوں مگر یہ دیکھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے شاپر اٹھایا۔ اس میں سے کرتا پاجامہ نکال کر اسے دکھایا۔
طوبی نونا نے میرے لیئے خود عید کا کرتا کاڑھا ہے۔ وہ چاہتی ہیں میں یہ کرتا پہن کر عید کی۔نماز پڑھوں۔میں یہ پہن سکتا ہوں عید میں آپ سب کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں مگر۔۔
اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا پھر جیسے تھک کر بولا۔
مگرمیں عید کے دن نماز نہیں پڑھ سکتا مجھے قرآن کی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں مگر میں انکو رٹ نہیں سکتا۔میں نے قل آیت الکرسی یاد کی ہیں میں درود پڑھتا ہوں مگر میں ہمیشہ انکو پڑھتا ہوں تو میرے دل پر بوجھ آگرتا ہے۔ مجھے آپ لوگوں کا اللہ ٹھیک لگتا ہے مگر مجھے اپنے بدھا سے بھی محبت ہے۔ میں نہ بدھا کا رہا ہوں نا اللہ کا ہو سکا ہوں۔ مجھے لگتا میری اپنی ماں مجھے شاکی نظروں سے دیکھتی ہے جب طوبی آپی میرے لاڈ اٹھاتی ہیں۔میری ماں مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی اگر اسے پتہ لگا کہ میں یہاں مسلمان بن رہا ہوں۔
نونا میں مسجد جاتا ہوں سب جیسے ورزش کرتے میں اسکی نقل کرتا ہوں ۔دلاور بھائی روز مجھے اپنے ساتھ وضو کرواتے رہے مجھے نماز سکھاتے رہے مگر نونا مجھے یاد نہیں ہوتی عربی۔۔ بہت مشکل زبان ہے مجھ سے تلفظ بھی صحیح ادا نہیں ہوتا نونا۔ میں نبی ص کے بارے میں کتابیں پڑھتا رہا وہ بھئ اچھے انسان تھے لیکن مجھے بدھا بھی اچھے لگتے ہیں۔
بے چارگی سے کہتے وہ واعظہ کے سامنے گھٹنے کے بل آبیٹھا۔
نونا میں نے کچھ بھی کسی کو دھوکا دینے کی نیت سے نہیں کیا۔ مجھے پتہ ہے طوبی آپی مجھے عزہ نونا کا بھائی سمجھتی ہیں اسلیئے وہ مجھے بھی مسلمان بنانا چاہتی ہیں مگر نونا سچ تو یہ نہیں نا۔ میں رمضان میں جھوٹ بولتا رہا روزہ رکھتا رہا مگر پورک بھی کھاتا رہا۔ عزہ نونا اس دن پورک کھا کر اتنا روئیں کہ انکو لگا ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا آپکے مذہب میں پورک اتنا برا سمجھا جاتا ہے اور میں آپکے اللہ کا روزہ رکھتا رہا اور پورک بھی کھاتا رہا وہ تو مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ نونا۔۔ نونا مجھے لگ رہا ۔۔
وہ ایکدم متوحش سا ہوگیا۔
میں۔ وہ گھبرا کر اٹھنے لگا تو واعظہ نے اسکو دونوں کندھوں سے تھام کر روکا پھر خود بھی بستر سے اتر کر اسکے سامنے دوزانو ہو بیٹھی۔ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر اسی کے بائیں پہلو پر رکھ کر بولی
اپنی دھڑکنوں کو محسوس کرو اور غور سے سن کر مجھے جواب دینا۔۔
وہ یونہی اسے خالی نگاہوں سے دیکھتا رہا ۔ وہ چند لمحے بغور اسے دیکھتی رہی۔
تم مسلمان ہو؟
نہیں۔ اس نے بلا توقف جواب دیا۔
تم بدھ متی ہو۔۔
وہ اتنا برملا انکار نا کر سکا ۔ سر جھکا لیا۔
ہاں۔ اس نے کچھ توقف سے جواب دیا۔
بدھا کیسے تھے ؟ معاف کرنے والے پیار کا درس دینے والے سچے ہمم؟
وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
اس نے حیران ہو کر سر اٹھایا۔
بڈھسٹوں کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے اتنی انجان نہیں تمہارے مذہب سے۔۔
وہ محظوظ سے انداز میں مسکرائی۔
ہاں وہ ایسے ہی تھے۔ مگر وہ کہتے کہ اگر کوئی برائی کروگے تو ضرور اسکا بدلہ پائو گے۔
وہ۔خوفزدہ تھا۔
اچھا۔ تو تم نے کیا برائی کی ؟ کسی دوسرے مزہب پر گئے کسی لڑکی کے منہ بولے بھائی بنے کسی کا دل نہ توڑنے کی نیت سے اسکے مذہب کئ کچھ روایتوں کی پیروی کی تو اسکا بدلہ تمہیں کیا ملے گا کوئی تمہارا منہ بولا بھائی بن کر تمہارا دل نہ ٹوٹے یہ سوچ کر تمہارے ساتھ بدھ متی روایتوں کی پاسداری کرے گا؟
وہ بہت نرم سے انداز سے پوچھ رہی تھی۔
وہ جوابا کچھ بولا نہیں۔
بدھا اگر برے عمل کا برا نتیجہ ملے گا ایسا کہتے تو تم نے تو اچھا عمل بھی کیا کسی کے پیار کا پیار سے جواب دیا کسی۔
وہ مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر اندرونی کسی خلفشار سے گھبرا کر وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔
اور اللہ؟؟ وہ وہ مجھے معاف کردے گا۔
واعظہ اسکی بے تابی پر مسکرا دی۔
کم از کم اللہ کے بارے میں میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں۔ وہ تم سے خفا نہیں۔ وہ جس سے خفا ہوتا اسکو بھی نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تو پیار ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ ستر مائوں سے ذیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ وہ غلطی کی سزا فورا نہیں دیتا ہاں عمل کا ثواب فورا دے ڈالتا۔ وہ نیتوں کا حال جانتا تمہارا ہر عمل اس سے چھپا نہیں۔ تم مسلمان نہیں ہوئے مگر مسلمانوں کے ساتھ رہے انکے عقیدے کا احترام کیا انکے ساتھ روزہ رکھا جہاں تک ہو سکا پیروی کی۔کتنے مسلمان ہیں جو روزہ نہیں رکھتے نماز نہیں پڑھتے تم مسلمان نہیں بھی ہو پھربھی اسکے احکامات کی پیروی کی کوشش کرتے ہو۔ ہو سکتا ہے تمہیں اتنا کچھ کرنے کا دل چاہا ہی اسی لیئے کہ اللہ کو تمہاری کوئی ادا پسند آگئ۔ اس نے چاہا کہ تم جانو اسکے بارے میں اسکے پیارے نبی ص کے بارے میں۔
مگر۔ وہ ابھی بھی بے چین تھا۔ مگر واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
اگر تمہارے دل پر ابھی بھی بوجھ ہے۔ تو سنو اللہ تمہاری نیت شروع سے جانتا تھا تم مسلمان ہو ہی نہیں تو تم نماز پڑھو نہ پڑھو اس سے اسکو کوئی غرض نہیں۔ تم دل سے نماز نہیں پڑھتے تھے تو بدھا تم سے کیوں خفا ہونگے تم مسلمان ہو تو نہیں گئے نا؟ تم واحد جس کے گناہ گار ہو جس سے تم نے جھوٹ بولا اسکے بارے میں تم نے سوچا ہی نہیں۔
وہ نرم سے انداز میں جتا کر بولی۔
کون ۔۔۔۔۔۔ اس نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی
طوبی۔۔ اس نے کہہ کر توقف لیا
تم نے اسے کہا کہ تم عزہ کے بھائی ہو اور پھر ہم سب نے اس سے سچائی چھپائی اس جھوٹ میں ہم سب شریک ہوتے گئے تم تو چھوٹے تھے ہمیں سمجھداری سے کام لینا چاہیئے تھا۔اور ہماری اس غلطی کی وجہ سے تمہیں اتنا کچھ کرنا اور سہنا پڑا۔ ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ تمہارے حوالے سے جھوٹ بولنے کی وجہ سے تمہیں جو اتنا کچھ سہنا پڑا اسکے لیئے ہمیں معاف کردو ۔۔۔میں ہم سب کی۔جانب سے تم معافی مانگتی ہوں۔ واعظہ کی آنکھیں بھرسی گئیں ہے جن نے تڑپ کر اسے گلے لگا لیا
آندے نونا ایسا مت کہیں۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا میں خود جا کر طوبی نونا سے معافی مانگوں گا۔
ٹھیک ہے اب یہ رونا دھونا بند کرو ۔ واعظہ نے اسے پیار سے چمکارا۔
یہ کرتا ضرور پہننا عید کے دن اسے پہننے میں حرج نہیں ۔ طوبئ نے بہت پیار سے بنایا ہوگا تمہارے لیئے۔ واعظہ اسے سمجھا نے والے انداز میں کہہ رہی تھی اس نے آنکھیں پونچھ کر سر ہلایا تبھی اسکی نگاہ واعظہ کے لائے شاپنگ بیگ پر پڑی۔ واعظہ توصیفی نگاہ سے کرتا پاجامہ دیکھتے ہوئے اسے احتیاط سے تہہ کرنے لگی۔
یہ کیا ہے۔ ہے جن نے پوچھا تو وہ چونکی ۔۔
یہ ۔ وہ مسکرا دی
تمہارے لیئے عید کا تحفہ لائی تھی۔ ہم سب عید پر خوب اچھی طرح تیار ہوتے ہیں تو تمہارے لیئے مجھے ۔۔
ہے جن نے اسکا جملہ سنتے ہی جھٹ شاپر کھول لیا تو وہ چپ کر گئ۔
سی گرین بے حد خوبصورت پلین ڈریس شرٹ تھی ساتھ میچنگ کیمل کلر کا کاٹن ٹرائوزر۔ اسکو بے حد پسند آئی۔۔
بہت اچھی ہے نونا۔ کھمسامنیدہ۔ میں اسکو چیک کرتا ہوں
وہ بچوں کی طرح خوش ہوتا ہوا باتھ روم بھاگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحری میں وہ سب بیدار تھیں۔ آج جانے سورج کہاں سے نکلا تھا کہ واعظہ سب کیلئے پراٹھے بنانے کھڑی ہوگئ۔ عروج چیز آملیٹ تیار کر رہی تھی فاطمہ چائے بنا رہی تھی۔ عزہ نے جلدی جلدی لسی بنانے کی تیاری شروع کردی تھی۔ الف اور عشنا میز پر سر رکھے اونگھ رہی تھیں۔
ہے جن کو تو اٹھایا ہی نہیں جائو عزہ اسے تو اٹھا دو۔
بندیاں گنتے ہوئے عروج کو ہی خیال آیا۔
میں لسی بنا رہئ۔عزہ نے فٹ انکار کیا۔
عشنا مارے باندھے سستی سے دوپٹہ کندھے پر برابر کرتی اٹھنے لگی
رہنے دو اسے رات کو دیر سے سویا ہے سونے دو۔ آخری پراٹھا اتار کر چولہا بند کرتے ہوئے واعظہ نے منع کردیا۔
ہو سکتا ہے آج آخری روزہ ہو وہ جاگ کر شکوہ کرے گا اٹھا دو۔
عزہ نے اعتراض کیا تو واعظہ نے قصدا تھوڑا سا سخت انداز میں کہا
تو کونسا وہ مسلمان ہے اسکا روزہ رکھنا نہ رکھنا برابر ہے ایویں اس بے چارے کو فاقہ کرواتے ہیں اپنے ساتھ۔ کم از کم۔
اسکی بات ادھوری تھئ کہ دروازہ کھول کر ہےجن جمائی لیتا ہوا باہر آگیا۔وہ چپ ہوگئ۔ عزہ نے جتانے والے انداز میں دیکھا اسے۔
آپ لوگوں نے اٹھایا ہی نہیں مجھے سحری کا وقت ختم تو نہیں ہوگیا؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
واعظہ بس ایک نظر دیکھ کر پلٹ گئ ۔ پراٹھوں والا ہاٹ پاٹ یونہی کھول کر دیکھا پھر بند کر دیا۔
کیا ہوا پراٹھے کم ہیں ؟ آٹا تو ہے لائو میں بنا دیتی ہوں۔
اسکے ماتھے پر تفکر کی لکیر دیکھ کر فاطمہ یہی سمجھی کہ شائد کم پڑ گئے۔
آں۔ وہ چونکی۔ نہیں میں ذیادہ ہی بنا گئ ہوں ۔ چلو ناشتہ کریں۔
واعظہ نے فورا سنبھل کر جواب دیا اور ہاٹ پاٹ اٹھا لیا۔
ہمارا بھائی کتنے روزے رکھ چکا۔ آملیٹ لا کر میز پر رکھتے ہوئے عروج نے اسکو شرارتا کہنی مار کر پوچھا
12۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا ان سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
تو تم جو سارا سارا دن غائب رہتے تھے تو کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے؟ عزہ کو تشویش ہوئی۔اس کے سامنے بھر کر لسی کا گلاس رکھ دیا۔
اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ وہ سب اسکے جزبے سے شدید متاثر دکھائی دینے لگیں۔
ایک کلمے کی دیر ہی رہ گئ روزے تو رکھنے لگا ہی ہے یہ اسکو پکا مسلمان بنا دیں گے ہم۔ الف متاثر ہوئی تھی۔
خود پکے مسلمان ہم بنیں نہ بنیں دوسروں کی خوب فکر رہتی ہے ہمیں۔ واعظہ بڑ بڑائی۔ فاطمہ چونکہ پاس ہی کھڑی تھئ سو صرف وہی سن پائی۔ اسے واعظہ الجھی الجھی سی لگ رہی تھئ۔
ہےجن جو لسی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگانے لگا تھا جانے کیوں رک سا گیا۔
فاطمہ ناشتے کا سامان لا کر میز پر رکھنے لگی۔
واعظہ نے میز پر ہاٹ پاٹ رکھتے ہوئے جان کراردو میں بولی۔
ایمان لانا الگ ہوتا ارکان دین پورے کرنا الگ۔ جس طرح نماز روزہ نہ رکھنے سے آپ کافر نہیں ہو جاتے اسی طرح نماز روزہ رکھ کر آپ مسلمان کہلائے جانے کے حقدار بھی نہیں ہو جاتے۔ کیا فائدہ جب وہ دل سے ایمان نہیں لایا بھلے وہ کھائے پیئے یا فاقہ کرے ایک ہی بات ہے۔
اسکا انداز سادہ تھا مگر عروج کو جانے کیوں برا سا لگا
تم نے بڑا اسکے دل میں جھانک کر دیکھا ہے۔ کیا خبر اسکے روزے خدا کو پسند آرہے ہوں اور وہ ہدایت کے در وا کردے۔
اسکے ہدایت کے در وا کروانے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے۔
واعظہ تلخ سے انداز میں بولی۔
ایک کم عمر اسکول جانے والے بچے کو مخصوص دینی ماحول میں رکھ کر سیدھا سیدھا برین واش کر رہے ہیں ہم اسکا۔
کیا مطلب واعظہ ہم نے کب اسکی کنپٹی پر بندوق رکھ کر روزہ رکھوایا ہے۔ عزہ بھی حیران ہو کر بحث میں الجھی۔
ہے جن خاموشی سے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے نہ ہی وہ اندازہ لگا پارہا تھا کہ آیا موضوع گفتگو کیا ہے۔
ہم نے نہ سہی طوبی نے زبردستی جب سے رمضان شروع ہوا ہے اسکو مسجد بھیجا ہے اپنے میاں کے ساتھ وہاں اسکو نماز بھی سکھاتے رہے وہ اور قرآن بھی پڑھاتے رہے۔ اورطوبئ نے ایسا اسلیئے کیا کہ وہ اسے تمہارا بھائی سمجھتی ہے۔ ہم نے اسکی غلط فہمی اس مقدس مہینے میں بھی دور نہیں کی۔ ہے۔۔ وہ نام لیتے لیتے رکی۔ پھر نام لیئے بنا بولی۔
مانا اس نے جھوٹ بولا مگر ہم سب اس جھوٹ کو نبھاتے بھی رہے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کل کلاں کو کچھ ہواتو کچے ذہن کو زبردستی اپنے دین پر راغب کرنے کی بھی دفعات
وہ جوش میں تھوڑا اونچئ آواز میں بولنے لگی الف نے ہاتھ اٹھا کر اس کو روکا۔۔
ٹھہرو اگر ہے جن نے یہ جھوٹ بولا ہے ہم نے نبھایا ہے تو تم نے بھی تو سیہون کو بیٹھے بٹھائے عزہ کا بھائی بنا دیا تھا خود تم نے بھی تو جھوٹ بولا نا پھر ہم نے تو وہ جھوٹ بھی نبھایا ہے۔
الف کے اس طرح کہنے پر وہ ایکدم چپ سی ہوگئ۔ اسے یوں چپ ہوتے دیکھ کرعزہ کو برالگا۔
اب تم اس بات کو یہاں نہ جوڑو۔وہ جھوٹ نہیں تھا۔ چھوٹا سا مزاق تھا بس۔ اور سیہون میرا بھائی بنا ہے تم فکر نہ کرو۔۔

ہاں تو وہ دھوکا دہی نہیں ہے؟ جب وہ سیہون تمہارے اغوا ہونے کا سن کر دوڑا دوڑا حال پوچھنے آیا تھا اسپتال؟ عروج الف کی مدد کو میدان میں اتر آئی۔
نونا کیا بحث چل رہی ہے سحری کریں لڑیں مت۔ ہے جن کو معاملہ سنگین ہوتا دکھائی دیا تو میدان میں کودا
میں۔نے واعظہ تلملا کر جانے کیا کہنے والی تھی کہ
۔ تبھی بیرونی دروازے پر آہٹ ہوئی سیہون تھکا تھکا سا اندر داخل ہو رہا تھا۔
تم لوگ سحری کر لو یہ بحث بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔
فاطمہ جو اب تک بالکل خاموش بیٹھی تھی سنجیدگی سے بولی۔ تو وہ سب بھی آخری روزے کا خیال کرکے چپ ہوگئیں۔ سیہون ان سب سے بے نیاز سیدھا کمرے میں گھس گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔