قسط 22
آسمان صاف نہیں تھا مگر پھر بھئ آخری افطاری انہوں نے ٹیرس میں کرنے کا ارادہ کیاتھا۔ صاف ستھرا میٹ اس پر چادر بچھا کر انہوں نے ٹیرس میں بیٹھنے کی تیاری کر لی تھی۔ عروج آج حاتم طائی بنی ہوئی تھی سب کیلئے آئیسکریم خرید کر لائی تھی یہ بڑی سی آئیسکریم بکٹ (بالٹی)شاپر لا کر باورچی خانے میں رکھتے ہی کمر پکڑ لی۔
اف تھک گئ میں۔ کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا۔ کوئی کام مت کہنا مجھے اب۔ میں باہر کا سب نپٹا آئی۔
آیک اچٹتی نظر سب کے مصروف ہاتھوں پر ڈال کر اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر اعلان کردیا۔
اب رہ ہی کیا گیا کھانا پکا ہوا ہے افطاری تیار کر رہی ہیں ہم پہلے سے ہی۔ عشنا سادگی سے بولی۔ عروج نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا لی۔
۔ فاطمہ پکوڑے تل رہی تھی وہیں سے حسب توفیق گھور ڈالا۔ عزہ نے روح افزا بنانے کی ٹھانی تھی .فاطمہ نے پکوڑے کیلئے بیسن گھولتے ہوئے کہا تھا
عزہ شربت بنا کر ادھر تلنے میں مدد کرانے آجانا۔۔
اور اب پکوڑے سب تل کر ختم ہونے والے تھے یہ ایک جگ شربت بن نہیں پایا تھا۔
عشنا اور الف فروٹ چاٹ کیلئے پھل کاٹ رہی تھیں ۔ آج ہے جن بھی کوئی کوریائی طرز کی چنے کی چاٹ بنا رہا تھا۔ لائونج کی سنگی میز کے کائونٹر پر سب مصروف تھے۔
آئی نہیں واعظہ ابھی تک روزہ کھلنے والا ہے۔
عروج کو فکر ہوئی۔
صبح کی گئ ہے ہو سکتا ہے چاند رات اور عید اپنی فیملی کے ساتھ کرے۔ الف نے خیال ظاہر کیا۔
بتا کے جائے گی اگر عید کرنے جائے گی تو۔ ایسے تھوڑی
فاطمہ نے پکوڑے چھلنی سے اتارتے ہوئے بڑی سی ٹرے میں رکھ لیئے۔
ویسے ہم نے ایک دن بھی افطاری باہر نہیں کی کم از کم ایک افطاری تو باہر کرنی چاہیئے تھی۔ الف کے کہنے پر عروج زور سے ہنس پڑی۔
کوریا میں بیٹھی ہو پاکستان میں نہیں یہاں کون تمہارے لیئے افطار بوفے وغیرہ آفر کر رہا اوپر سے باہر جا کے بنا گوشت سبزیوں کو الا بلا سے مصالحوں میں پکتا کھا کے کیا لطف آنا۔
ہم عید پر تو ڈنر باہر ہی کریں گے۔ بھلے کسی پاکستانی ریستوران میں ہی سہی۔
وہ ضدی انداز میں بولی
اگر کل عید ہوئی تو میری جانب سے ٹریٹ ۔ عروج نے شاہانہ انداز میں کہا تو وہ سب آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگیں۔
خیر ہےکوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا کیا؟آج سب کو آئیسکریم کھلا رہی ہو کل کھانا کھلانے لگی ہو ؟ فاطمہ کو تجسس ہوا اور ٹھیک ہی ہوا۔ عروج گڑبڑا کر مڑ کر ریک سے برتن اٹھانے لگی
ایویں۔ ہم سب گھر والوں سے دور ہیں تو کم از کم ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھا پی کے عید منالیں۔
اسے جواب سوجھ گیا۔
یار سویئیوں کے نام پر یہاں جو ملا ہے وہ نوڈلز ہی لگ رہا ہے۔
عزہ روح افزا بنا کر اب عروج کے لائے شاپر کھنگال رہی تھی۔ ایک پیکٹ لہرا کر بولی۔
ہے جن یہ ورسیچیملی ( سیویاں) ہیں یا نوڈلز۔ ہے جن چنوں پر سویا ساس چھڑکتے چونکا
نوڈلز ہی ہیں یہ۔ آٹے کے نوڈلز ۔ اس نے وضاحت کی ۔ یہ چاروں عروج کو دانت کچکچا کر گھورنے لگیں۔ وہ کھسیا سی گئ
اب کوریا میں تھوڑی سیویاں ہوتئ ہوںگئ۔ ہم کل کھیر بنا لیں گے حدیث تھوڑی کہ سیویاں ہی بنیں۔
وہ قائل کرنے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
چلو دسترخوان سجا لو وقت ہونے لگا ہے۔ الف جلدی سے گھڑئ دیکھ کر مستعد ہوئی۔
شام کی آخری پہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آلو ، پیاز، پالک اور بینگن کے پکوڑے کی سجی بھری ٹرے ، چکن رول ، فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ ، روح افزا کا بھرا جگ ملائی ملی کھجوریں ساتھ چکن قورمہ جو ڈھونڈ ڈھانڈ کر حلال ٹیگ والا خریدا گیا تھا۔ چپاتیاں ۔ دسترخوان سجا تو وہ سب آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دعا کرنے لگیں۔
ہے جن نے بھی انکی دیکھا دیکھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
اپنے کیریئر مستقبل حال آئندہ آنے والے یونیورسٹی امتحان نوکری جانے کیا کیا دعائیں مانگی جا رہی تھیں ایک ہے جن تھا جس کی دعا ان سب سے الگ اور انوکھی تھی سیدھا دل سے نکلی۔ شائد جبھی ٹھک سے قبولیت کے درجے پر جا پہنچی تھی۔ جبکہ وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر انکی جانب متوجہ ہوا۔
نونا کل سے ہم اپنی پرانے معمول پر لوٹ آئیں گے ؟ کبھی بھی کچھ بھی کھا سکتے ، جھوٹ بول سکتے تب تو کچھ نہیں ہوگا نا ؟ میرا مطلب رمضان کے علاوہ تو سب کر سکتے نا ۔۔ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا تھا اس سے قطع نظر ان سب کے کھجوروں کئ جانب بڑھتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔۔اسکے الفاظ ان سب کو اندر کہیں بہت زور سے لگے تھے
یہ سب تو رمضان کے بعد بھی منع ہوتا یے۔ عشنا الف کے کان میں گھسئ۔۔ ہے جن وضاحت کرنے لگا۔
دراصل میرا پورک اسٹیک کھانے کو دل کر رہا تو عید پر تو کھا سکتا ہوں نا۔
عزہ کا منہ بن گیا۔
پورک نہ ہوگیا زندگی ہوگیا بغیر پورک کھائے نہیں رہ سکتا یہ۔ میں تائب ہوتی ہوں اسے بھائی سمجھنے سے۔ گندا
وہ اردو میں بڑ بڑائی۔ ہے جن منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ کہ شائد وہ ترجمہ بھی کرے مگر وہ روزہ کھولنے میں لگ گئ۔
جیسے چاہو عید منائو ہے جن مرضی تمہاری۔
فاطمہ مسکرا کر بولی۔ہے جن مطمئن سا ہو کر افطاری سے انصاف کرنے لگا
پورک کھا کے یہ دلاور بھائئ کے ساتھ نماز پڑھنے گیا تو ہم پر لعنتیں پڑیں گی ٹھیک ٹھاک۔
عروج نے ڈرایا
دلاور بھائی کمر میں چک پڑوائے بستر پر پڑے ہیں۔ ۔۔فاطمہ نے لاپرواہ سے انداز میں کہا
کل جائیں انکو دیکھنے عید پر طوبی بھی تو اکیلی ہوگی۔۔
الف نے خیال ظاہر کیا۔
مجھے مہندی لگانی۔ عشنا بسوری۔۔
ویسے کل کی کیا پلاننگ ہے کیسے عید منانی کہیں جانا ہے گھومنے؟ عروج پرجوش سی ہوئی اسکے انداز کے برعکس باقی سب کے منہ اتر گئے
میری کل بھی کلاس ہے۔عزہ بسوری۔
کل لی من ہو کی فین میٹنگ ہے۔عشنا نے بڑا سا چکن پیس منہ میں رکھا
میرا کل شو ہے ۔ الف کا تیزی سے چلتا منہ سست پڑا
اگر کل عید نہ ہوئی تو میں بھی ہاسپٹل میں ہی ہوںگئ۔ عید کے دن۔ عروج کو بھی غم ستانے لگا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مطلع ابر آلود ہونا شروع ہوا
بینگن کا پکوڑا املی کی چٹنی میں بھگو کر منہ میں رکھتے ہے جن نے سر اٹھایا تو دسترخوان پر سیلاب رواں تھا
ویئو؟ وہ حیران ہی تو رہ گیا۔
وہ سب زار و قطار رو رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی چپ اور ساکت بیٹھی تھی کہ آہجومہ کو لگا اس پر سکتا طاری ہو گیا ہے۔
حوالدارنی کو اشارے سے پاس بلا کر اسکی۔جانب اشارہ کرکے کہنے لگی
سنو ڈاکٹر سے کہو اسکو دیکھ لے کہیں دماغ پر اثر وثر تو نہیں ہوگیا۔ کتنا تو چیخی چلائی ہے کیا پتہ۔
وہ اپنی طرف سے آواز دبا کر بول رہی تھی مگر کھسر پھسر پر نور نے خالی خالی نظروں سے سر اٹھا کر دیکھا تو دونوں سٹپٹا سئ گئیں
کین چھنا۔۔ حوالدارنی اسکا کندھا تھپک کر واپس اپنی جگہ جا بیٹھئ۔
ملاقات آئی ہے قیدی نمبر 799 کی ۔ وردی میں ملبوس ایک لڑکی تیزی سے اندر آئی سیلوٹ جھاڑا پھر ادب سے حوالدارنی سے بولئ۔ اس نے نے حیرت سے وقت دیکھا
اس وقت؟
کوئی خاص موقع ہے خصوصی اجازت نامہ لیکر آئے ہیں
اسکے رشتے دار۔
اس نے کاغذ لہرایا تو وہ سرہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ
اٹھو نوراشئ تمہارے ملاقاتئ آئے ہیں۔
حوالدارنئ کی بات پر وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کون آیا ہے۔
اسے بات مکمل سمجھ نا آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چندئ آنکھوں والی اہلکار اسے کیبن میں چھوڑ کر دروازہ بند کرتی باہرنکل گئ۔
گلاس وال کےاس پار بیٹھئ واعظہ اور سیہون ۔ بنا نقاب سیہون کے سامنے کھڑی تھی مگر اس وقت اسے صرف ایک ہی چہرہ نظر آرہا تھا۔
واعظہ وہ بھاگ کر دیوار سے آلگی۔ واعظہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔گلاس وال سے اسے گلے لگانا ممکن نہ تھا اور وہ دیوار پر سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
اسے سنبھالتے واعظہ ہلکان ہونے لگی تھی
خود کو سنبھالو نور ۔ وقتی مشکل ہے یہ سب ٹھیک ہو جائے گا
مجھے نکالو یہاں سے مجھے نہیں رہنا یہاں۔ نہ جیل میں ۔نہ کوریا میں ۔۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے کہہ رہی تھی
مجھے گھر جانا امی کے پاس جانا۔
وہ بلک بلک کر رورہی تھی۔ واعظہ نے بے بسی سے اسے پھر سیہون کو دیکھا جو اسے جتاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اسکو نور کے الفاظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے مگر اسکا حال دیکھ رہا تھا۔ چار دن اس پر صدیاں بن کر گزرے تھے اس نے نور کو پہلے نہیں دیکھ رکھا تھا مگر پھر بھی پیلاستا ہوا چہرہ سرخ سوجی آنکھیں اسکا رونا بلکنا۔ سب ظاہر کر رہا تھا۔واعظہ نگاہ چرا کر اسکو متوجہ کرنے لگی
بیٹھو نور بات سنو میری۔ ہمارے پاس ذیادہ وقت نہیں ہم خاص تمہیں عید کے تہوار کی اجازت ملنے پر آئے ہیں۔ادھر بیٹھو آئو بات سنو۔۔ اسکے کہنے پر نور دوپٹے سے آنسو پونچھتی کرسی پر گر سی گئ۔ واعظہ نے گہری سانس بھرتے اپنی نشست سنبھالی
گلاس وال میں بنے چھوٹے سے سوراخ سے دونوں ہاتھ اندر کرکے نور کے ہاتھ تھامے۔ ہتھکڑیوں بندھے خشک سے ہاتھ۔ جو فیصلہ اس سے شائد نہ ہوپاتا اس لمحے اس نے کر ڈالا تھا۔ اسکا ہاتھ دھیرے سے تھپک کر اس نے سر جھٹکا۔ پھر ایک شاپر اٹھا کر کائونٹر پر رکھا۔
اچھا سنو۔ ہم یہ تمہارے لیئے لائے ہیں۔ خاص کر عید کا اجازت نامہ لیکر یہ سب چیزیں انکو دکھوا کر لائے ہیں۔
یہ تمہارے لیئے چاکلیٹ یہ تسبیح ، جاء نماز دوپٹہ۔ یہ جوڑا۔۔
اس نے ایک ایک کرکے چیزیں سوراخ سے پار کیں
کل تم کپڑے بدل سکتی ہو تمہیں اجازت ہوگئ کیونکہ کل تہوار ہے۔صبح تیار ہونا نماز پڑھنا اپنے لیئے دل سے دعا کرنا دیکھنا ایکدم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
وہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔ تسبیح جاء نماز ۔ اس نے آنکھوں سے لگا لی تھیں۔
شکریہ واعظہ۔ وہ بھرائئ سی آواز میں بولی تو واعظہ مسکرا دی
اور یہ دیکھو کون مہندی بھی لائی ہوں تمہارے لیئے۔
اس نے چھوٹا سا شاپر نکالا۔
دو تین کون مہندیاں۔ وہ ہنس دی
تمہیں لگتا میں یہاں عید منائوں گی ایسے ۔۔ مہندی لگائوں گی
وہ پھر رودینے کو تھئ۔
حوصلہ کرو نور تم اتنی کمزور تو نہیں تھیں۔ ہم میں سب سے ذیادہ حوصلے والی ہو تم یوں ہمت مت ہارو۔یار۔
واعظہ خود بھی روہانسی ہو چلی تھی۔
سیہون ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
میں باہر جا رہا ہوں۔
وہ کہہ کر نکل گیا۔ واعظہ نے بس سر ہلایا
اچھا تمہیں بہت اچھی مہندی لگانی آتی ہے نا ؟
واعظہ کو۔خیال آیا۔ نور آنسو پونچھ کر گھورنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون باہر اسی حوالدارنی سے کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ جب وہ دایاں ہاتھ خود سے الگ سا کیئے ایک ہاتھ سے بیگ کندھے پر ٹھیک کرتی باہر آئی۔ اسے آتے دیکھ کر حوالدارنی گڑبڑا سی گئی۔
چلیں۔ سیہون اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔ اسے دیکھ کر بولا تو وہ سر ہلا گئ۔
اسکا دایاں ہاتھ کالا سا ہوا وا تھا سیہون ہی اسکے لیئے داخلی۔دروازے کھولتا آیا تجسس کے مارے رہا نہ گیا۔
یہ کیا کیا ہوا ہے ہاتھ پر۔
مہندی یے۔وہی جو کون لیکر گئ تھی اندر اسی سے بنوائی ہے۔
اس نے ہاتھ ہی اسے دکھا دیا ۔۔ اس نے اپنے اپر کا بازو کہنی تک چڑھا رکھا تھا سپید ہاتھ سے آدھے بازو تک اوپر نیچے بیل بوٹے سے بنے ہوئے تھے۔ وہ ہاتھ بالکل سیدھا کیئے ہوئے تھی۔
پر اس سے یہ کیا ٹیٹو بنوایا ہے؟ اسے تجسس ہو رہا تھا
ہاں ٹیٹو ہی سمجھ لو۔ وہ سیکیورٹی والے کمرے تک پہنچے تو موٹی توند والے پولیس افسر نے روک لیا انہیں
یہ کیا یے؟
مہندی ہے ابھی آپکو دکھا کر ہی تو لیکر گئ تھی۔
واعظہ حیران ہوئی
مگر اس طرح نقش و نگار کیوں بنے ہوئے ؟ کوئی خفیہ۔پیغام لکھا ہوا ہے ان پر ؟
وہ مشکوک انداز سے گھو ررہا تھا انہیں۔۔
چلو جی۔ واعظہ اپنا دوسرا ہاتھ سر پر مار کر رہ۔گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلنگ سے کہنی ٹکائے وہ سب قطار میں کھڑی آسمان پر بادلوں میں چھپے چاند کو تلاش رہی تھیں۔
یہ آپ سب کی۔خام خیالی ہے کہ اس ابر آلود مطلع میں آپکو باریک چاند دکھائی دے جائے گا۔کوئی اور طریقہ اختیار کر لیں عید کا تعین کرنے کا۔
ہے جن نے انکو سمجھانا چاہا۔ وہ آئسکریم کا پیالہ لیئے گھر میں ٹہل ٹہل کر ٹونگ رہا تھا۔ ابھی بھی انکی جانب سے حسب منشا ردعمل نا دیکھ کر کہہ کر مڑ گیا۔
ابھی پاکستان میں ہوتے تو روئیت ہلال کمیٹی بیٹھ چکی ہوتی۔
عشنا منمنائی
اور پوپلزئی تو اعلان بھی کر چکے ہوتے۔
الف ہنسئ
مجھے مہندی لگانی ہے چاند رات مہندی کے بغیر کیسے منا سکتے بھلا
عزہ پیر پٹخ کر بولی
مہندی لے آئو لگا میں دوں گئ۔
فاطمہ نے کھلے دل سے پیشکش کی
لگاتو میں بھی سکتی ہوں لیکن اسکے ساتھ تجربہ برا رہا
عزہ نے منہ بنایا
کیا برا ہوا۔ الف اور عروج کو دلچسپی ہوئی
میری کزنز ابھی کچھ ذیادہ ہی۔چھوٹی ہیں انکی منی ہتھیلی پر جب پچھلی عید پر میں نے خوب عرق ریزی سے چھوٹے چھوٹے بیل بوٹے بنائے تو دونوں روتی ہوئی اپنی اماں کے پاس میری شکایت کرنے بھاگ گئ تھیں۔
اتنی بری مہندی لگاتی ہو تم۔
عشنا حیران ہوئی۔
عزہ نے دانت پیسے موبائل میں گیلری سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر تصویریں نکالی۔ منی منی ہتھیلیوں کی تصویریں تھی اور ان پر مہندی جس نے بھی لگائئ تھی کمال کیا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے پھول بل کھاتی بیلیں ننھی پوروں پر بھی نقش و نگار منی ایچر آرٹسٹ کیا فن پارے تخلیق کرتے ہونگے جو اس نے کیئے تھے
اتنی تو اچھی لگائی ہے پھر۔ ؟؟؟؟ عشنا نے حیرت سے پوچھا تو عزہ گہری سانس بھر کر بولی
ایک مجھے کہہ رہی تھئ چوکور ڈبا بنا کر اسکے نام کے پہلے حروف لکھ دوں دوسری کو پاکستان کا جھنڈا بنوانا تھا ہتھیلی پر۔
اسکی بات پر وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں۔ انکی ہنسی کی آواز سن کر لائونج میں داخل ہوتے واعظہ سیہون کے ساتھ ہے جن بھی چونکا تھا۔ واعظہ نے ہے جن کو گھورا
تم تو کہہ رہے تھے یہ لوگ رو دھو رہی ہیں۔
نونا سچ مچ رو رہی تھیں پھر چاند دیکھنے لگیں لگتا ہے چاند نظر آگیا۔
ہےجن کی بات پر واعظہ کو ہنسی آگئ ۔
یہ ہاتھ پر کیا ہے۔ اسے اب نیا تجسس لاحق تھا ۔
افطاری کا سامان ابھی بھی ٹیرس میں سجا تھا۔ البتہ سب ڈھکا ہوا۔تھا۔واعظہ کا تو روزہ تھا افطاری دیکھ کر آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگیں۔ بیگ فرش پر پھینک پھانک وہ جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔سیہون کی بھی ساری دوپہر اسکے ساتھ گزری تھی کھانے کا موقع نہ ملا سو وہ بھی بلا تکلف آبیٹھا ہاتھ میں تھاما بڑا سا شاپر اپنے ساتھ احتیاط سے رکھا اور شروع ہوگیا۔
دونوں افطاری میں مگن تھے جب عزہ نے زور دار چیخ ماری
چاند کا اعلان ہوگیا۔ کل عید ہے۔
وہ موبائل میں اپنی عربی دوست کا چاند رات مبارک کا پیغام پڑھ کر خوشی سے اچھل۔پڑی تھئ۔ اسکی بات پر وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگیں۔
چاند رات مبارک۔ منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ نے آواز لگائی۔
آگئیں۔۔تم۔ وہ سب چونک کرمڑیں آگے بڑھ کر مبارکباد دینے کو تھیں کہ سیہون کو دیکھ کر رک گئیں وہ بے نیازی سے سر جھکائے فروٹ چاٹ کھا رہا تھا۔
یہ شاپر اٹھائو میں تم لوگوں کیلئے کچھ چیزیں لائی ہوں۔
اس نے اشارے سے سیہون کے لا کررکھے گئے شاپر کا بتایا۔
جائو تم اٹھائو تمہارا منہ بولا بھائی ہے۔
الف نے عزہ کو کہنی ماری تو وہ اسے گھور کر رہ گئ مگر یہ کام اسے ہی کرنا پڑا شاپر کھولتے ہی۔حیرت و مسرت سے چیخ ہی پڑی۔
مہندی چوڑیاں۔ یہ کہاں سے مل گئیں تمہیں کوریا میں۔
خوشی سے اسکی آواز بلند ہوگئ تھئ۔ باقی چاروں بھی بھاگ کر آئیں۔
واعظہ فروٹ چاٹ پلیٹ میں نکال کر بیٹھی تھی پکوڑے تو اٹھا اٹھا کر توبہ کرتے الٹے ہاتھ سے کھا لیئے مگر فروٹ چاٹ کا چمچ الٹے ہاتھ سے کھانے اور اچانک عزہ کے جوش سے چلانے پر اپنے اوپر گرا بیٹھئ
ایمبیسی گئ تھئ۔ کل فیسٹول ہے نا تو یہ سب چیزیں آئی ہوئی تھیں تو میں لے آئی۔ کل چلیں گے سب مل کر۔
سچی۔ عروج ہی خوش ہو۔پائی باقی سب کے اپنئ جھمیلے تھے۔
وہ چمچ اٹھا کر پلیٹ میں رکھنے لگئ۔ ہے جن کچن سے ٹشو باکس لے آیا۔ واعظہ شکریہ کہہ کر اپنے کپڑے ٹشو سے صاف کرنے لگی تو ہے جن اسکے برابر آ بیٹھا
لائیں میں کھلائوں۔
اس نے بڑے پیار سے چمچ بنا کر اسکی جانب بڑھایا۔ واعظہ ممنون سی ہوئی
تمہارے ہاتھ۔ تم نے مہندی لگائی ہے؟
فاطمہ چونک کر اسکے پاس چلی آئی۔ احتیاط سے اسکے پاس بیٹھ کر دھیرے سے چھونے لگی تقریبا سوکھ چکی تھی
یہ نور نے لگائی ہے میرے ۔ واعظہ نے بتایا تو وہ دھیرے سے بڑبڑائی
مگر تمہیں تو مہندی کی بو سے الرجی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ اس سے مہندی لگواتے ہوئے جانے کیا کیا سمجھاتی بجھاتی رہی مستقل بولتی رہی ادھر ادھر کے قصے باتیں کچھ دیر کو ہی سہی وہ کھل کر ہنسی۔ بھول گئ بڑے شوق سے اسکی ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتی رہی تھی۔
میری عید جیل میں گزرے گی کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا میں نے۔
وہ رو دی تھئ۔
برا وقت کون بیٹھ کے سوچتا ہے پاگل۔ جب برا وقت آجائے تو یقینا یہ سوچنا چاہیئے کہ اس سے نپٹا کیسے جائے۔ حوصلہ مت ہارو صبر کرو دیکھنا اللہ تمہیں جلد اس مشکل سے نکالے گا۔
واعظہ دیر تک اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔اسی کا دیا حوصلہ تھا کہ وہ نئی ہمت دی جیسی پا کر وہاں سے اٹھی تھی۔ ۔
رات کو افطاری کے بعد سبزیوں والا کھانا پیٹ بھر کر کھایا خدا کا شکر ادا کیا نماز پڑھی نفل پڑھے دل کو جیسے ڈھارس سی بندھ گئ۔ تو فرصت سے کون نکال کر بیٹھ گئ۔ سپید ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتے آدھا بازو بھر لیا۔ ایک کون آدھی ہوئی تھی۔ اسکے پاس چار پانچ مزید بھی پڑی تھیں۔
احمق میں کہہ بھی رہی تھی مجھے کیا کرنی اتنی ساری اب کیا پائوں پر بھی لگا کے بیٹھ جائوں الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر تو نہیں لگا سکتئ ۔ وہ آدھی کون ضائع نہیں کرنا چاہ رہی تھئ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
آہجومہ چادر کی بکل مارے کب سے پڑی تھیں۔ اسے لگا سو رہی ہیں مگر کسمسا کر چادر کی جھری سے انہوں نے بغور دیکھا اسے کر کیا رہی ہے۔۔ پھر تجسس سے قریب آکر اس سے اپنی زبان میں پوچھنے لگیں
کیا کر رہی ہو ؟
اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر گہری سانس لی۔
یقینا اسکی کون ضائع نہیں جانے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ الف کے فاطمہ عروج کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی تھی عشنا صبر سے بیٹھئ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ واعظہ اپنے اور ہے جن کے کپڑے استری کر رہی تھی۔ وہ اسکے ساتھ کھڑا باتیں بگھار رہا تھا۔سیہون باورچی خانے میں کھڑا کافی بنا رہا تھا شائد سب کیلئے کیونکہ کافی دیر سے لگا ہوا تھا۔
بارہ بج رہے میری مہندی کی باری کب آئے گئ۔
عشنا بھنا گئ۔ دونوں پورے پورے ہاتھوں بازوئوں تک مہندی لگوا رہی تھئ۔
اسکے ایکدم بول اٹھنے پر عزہ اور فاطمہ دونوں چونکیں پھر حسب توفیق صلواتیں سنائیں
ابھی ہاتھ ہل جاتا میرا اتنی محنت سے یہ عربی ڈیزائن چھاپ رہی ہوں اور یہ عروج کی بچی کم از کم موبائل اسکرین کا لاک ٹایم ہی بڑھا دو ہر آدھے منٹ بعد اسکرین بند ہو جاتی۔
کھول کے دو اب اسے۔
فاطمہ اس سے نمٹنے کے بعد عروج پر چڑھ دوڑی وہ منماتی کہہ رہی تھی کہ اب ٹچ لاک کھول کھولنا ممکن نہیں دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے مہندی سے بھر گئے ہیں۔
عزہ کی جان الف نے الگ کھا رکھی تھی۔اس پر ابھی انکشاف ہوا تھا کہ عزہ نے منی ہتھیلیوں پر اتنی اچھی مینا کاری اسلیئے کر لی تھی کہ وہ نمونہ دیکھ کر اس سے تین گنا چھوٹا ڈیزائن بناتی تھی نتیجتا جو مہندی کا ڈیزائن دیکھ کر اسکی ہتھیلی پر چھاپ رہی تھی وہ ماڈل کے بازو تک آرہا تھا اور تقریبا پورا چھاپ دینے کے باوجود اسکی ہتھیلی بھی پوری بھر نہ پائی تھی۔
عزہ کئ بچی ساتھ ایک مائکرو اسکوپ بھی بخش دو مجھے تاکہ ہر کسی کو مہندی دکھانے میں آسانی رہے سب سے بڑھ کر مجھے آسانئ رہے خود کو بتانے میں کہ میرے ہاتھوں پر ڈیزائن بنا ہوا یے چیونٹیاں نہیں رینگ رہیں۔
عشنا عروج فاطمہ اور عزہ لوٹ پوٹ ہو گئیں وہ منہ پھلائے گھورتی رہی واعظہ تک استری چھوڑ کر ہنستی چلی گئ۔
سیہون اور ہے جن منہ کھولے انکو دیکھ رہے تھے
کیوں ہنس رہی ہو اتنا۔ نونا۔ ہےجن پوچھے بنا نہ رک سکا۔
واعظہ نے ہنسی روک کر ترجمہ کیا
ارے اتنئ سئ بات لائیں میں ڈیزائن بنا دوں۔ ہے جن سیدھا شاپر سے کون نکال کر عشنا کے پاس آبیٹھا
تم ؟ تمہیں مہندی لگانی آتی ہے؟ عشنا کو تامل ہوا
ارے میں آرٹس کا ہی تو طالب علم ہوں۔ اس نے کالر جھاڑے یہ اطلاع نئی تھئ۔ ان سب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ پڑھ کیا رہا ہے۔
آپکو کورین آرکیٹیکچر کا فیوژن دکھاتا ہوں بنا کر۔
اس نے مڑ کر بغور عزہ کا ہاتھ دیکھا اسکے مہندی پکڑنے کا انداز دیکھا اور عشنا کا ہاتھ پکڑ کر شروع ہوگیا۔
دونوں جب اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا کر فارغ ہوئیں اور عزہ اور فاطمہ اکڑی کمر اور گردن سیدھی کرنے لگیں کہ الف نے چیخ مار دی
ہے جن نے اسی وقت اتفاق سے ہاتھ روک کر انگلیآں سہلائی تھیں۔
سیہون اور واعظہ کچن میں سے بھاگے آئے
کیا ہوا؟
وہ سب عشنا کے ہاتھ پر جھکی تھیں عشنا کا چہرہ جوش تمتما رہا تھا جبکہ الف روہانسی ہو چلی تھی۔
ہے جن نے نہایت عرق ریزی سے اسکی ہتھیلی پر ہنبق میں ملبوس شہزادی کے بائیں جانب سے عکس اتارا تھا جو رخ پھیرے اونچے سے پتھر پر بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی ۔ شہزادی کے لباس میں باریک کورین کڑھائی تھی اسکے لمبے سے گائون کے ربن میں اردو میں بڑے خوبصورت سے انداز سے عشنا لکھا تھا۔ اسکا لباس کلائی تک آرہا تھا۔ شہزادی کی لمبی چوٹی بل کھاتی انگوٹھے کے جوڑ تک آرہی تھی تو سر پر پہنا تاج انگلیوں کے جوڑوں پر تھا ۔ایک درخت کا آدھا تنا چھوٹی انگلی اور ہتھیلی کے کے ایک جانب بنا تھا جس میں ننھے منے پھول کھلے تھے کچھ پھول جھڑ کر شہزادی کے اوپربھی آرہے تھے۔ اسکی ہتھیلی ہتھیلی کیا کوئی کینوس تھی جس پر ہے جن نے اپنا ہنر آزما دیا تھا۔
میں ہاتھ دھونے جا رہی میں نے بھی یہی بنوانا ہے۔
الف کے کہنے پر عزہ نے بے دریغ اسکے دو تین ہاتھ جما دیئے وہ دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی ہونے کی وجہ سے خود
کو بچا بھئ نہ پائی۔
واہ ہے جن ۔ واعظہ نے بھی بے ساختہ تعریف کی۔
اچھا لگا آپ کو نونا۔ ہے جن خوش ہوگیا تھا۔
بہت پیارا ہے شکریہ ہے جن ایسی مہندی میں نے زندگی میں کبھی نہیں لگوائی۔
عشنا بے حد خوش تھئ۔ اترا کر عروج اور الف کو دکھا رہی تھی۔
اب فوٹو سیشن کی باری تھی عشنا موبائل لیکر روشنی کی تلاش میں اٹھ گئ۔ عزہ اور فاطمہ اب ہے جن کے سامنے ہتھیلیاں پھیلا چکی تھیں۔ہے جن گردن کھجانے لگا۔
سیہون نے آنکے جوش و خروش پر تبصرہ کیا
مجھے نہیں پتہ تھا تم لوگ ٹیٹوز کیلئے اتنی کریزی ہوگی
ہممم۔ مہندی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ سب لڑکیاں بہت شوق سے لگواتی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ گہری نگاہ ڈال کر جتانے والے انداز میں بولا
تو تم لڑکی نہیں ہو کیا؟
وہ مستقل اپنا دایاں ہاتھ جیب میں ڈالے تھی پھر بھی مہندی کو بو اسکے کہیں آس پاس ہی تھی۔ وہ ہونٹ بھینچ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔
جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *