Desi Kimchi Episode 29

قسط 29

عشنا کا پتہ کرو کہاں ہے دو دن سے۔
چائے پیالی میں نکالتے ہوئے واعظہ کو خیال آیا تو مڑ کر ہانک لگائی۔ عزہ الف عروج قطار سے بیٹھی ایک دوسرے کے سر میں تیل لگا رہی تھیں۔
یار فون بند جا رہا ہے اسکا۔ عزہ نے الف کے سر میں تیل جھسا۔ جیسے ہی ہتھیلی پیچھے کو کی وہ سر کے بل عزہ کے اوپر آئئ گردن بھی کھنچ گئ۔
آہ۔ آرام سے بال نچ گئے میرے۔ الف کا توازن خراب ہوا تو عروج کے سر سے مٹھی نکالے بنا ہی توازن درست کیا نتیجتا اسکے مٹھی بھر بال کھنچےتو اگلی چیخ اسکے منہ سے برآمد ہوئی۔
انسان بنو الف کی بچی۔ میرے بالوں کو کھینچ لیا ہاتھ میں ہی آگئے ہونگے۔ اس نے تڑپ کر سر چھڑاتے ہوئے چندیا سہلائی۔
نہیں تو۔ الف نے جھٹ نفی میں سر ہلایا۔چپکے سے ہتھیلی دیکھی تو اس میں کئی بال چپکے تھے۔ فورا ہاتھ پیچھے کر لیا۔عروج مشکوک سی دیکھ رہی تھی۔
عروج پورے مٹھی بھر بال توڑے ہیں اس نے۔ عزہ نے شکایت لگائی۔ الف نے مڑ کر گھورنا چاہا تو عروج نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوابا اسکے گھونسلے سے مٹھی بھر لی
الف کی بچی گنجا کررہی تھیں مجھے۔ عروج نے دانت کچکچائے
عزہ بہت ہی کوئی کمینی نکلی ہو تم۔۔ الف کو عزہ پر سخت تائو آیا
اوہو ایک دوسرے کے بال نوچو میں نے کیا بگاڑا۔ عزہ نے مظلومیت کا رونا رویا۔
۔منے لائونج میں ورلڈ وار تھری چھڑ گئ تھی۔ الف کے ہاتھوں میں عروج کے بال نہ آسکے تو عزہ کے سر پر دونوں ہاتھوں سے حملہ کردیا۔ تینوں جذباتی ہو کر اب کھڑی ہو چکی تھیں۔گول گول چکر کاٹتے ہوئے تینوں نے ایک دوسرے کو بالوں سے پکڑ رکھا تھا
میرے تو ابھی تیل بھی نہیں لگا تھا الف چھوڑو بال ٹوٹ رہے میرے۔
واعظہ چھوٹی ٹرے میں چائے کے چار کپ لیکر لائونج میں آئی تو بوکھلا سی گئ
اوہو۔ چائے گر جائے گی۔ عزہ کی کہنی سے ٹرے بچاتی جھلائی۔
بے ہنگم چیخ و پکار سے پورا اپارٹمنٹ لرز رہا تھا۔
اوہو رکو بال چھوڑو۔۔ کیا ہنگامہ ہے ہوش کرو۔
چائے اسکے ہاتھوں میں ٹھنڈی ہونے لگی تھی۔ تبھی دروازے پر زوردار اطلاعی گھنٹی بجی۔واعظہ کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اپنی مخصوص گونج دار اونچی آواز جسکو وہ شاز ہی استعمال کرتی تھی استعمال کرتے ہوئے چلائی۔
بس کرو بچپنا پڑوسیوں نے پولیس بلا لی ہے۔
پولیس کا نام سنتے ہی انکی زبان ہاتھ سب رکے تھے۔
فلیٹ میں خاموشی چھا گئ۔ واعظہ نے حسب توفیق گھورا۔
چائے منی میز پر رکھتی دروازہ کھولنے چل دی۔ تینوں لاوئنج کی دیوار سے لگ کر سر نکال کر راہداری میں جھانکنے لگیں۔ واعظہ نے دروازہ کھولا تو طوبی بڑی سی ٹرے لیئے سامنے کھڑی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منے لائونج کے صوفے پر طوبی کو مہمان ہونے کا رتبہ بخشتے ہوئے بٹھایا تھا وہ سب قطار میں لائونج میں بیچوں بیچ آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ بیچ میں ڈش رکھی تھی
انہوں نے پلیٹوں کا تکلف نہیں کیا بڑی ڈش میں ہی شروع ہوگئیں بس چمچے لے آئی تھیں اندر سے۔
طوبی نے گہری سانس بھری۔ اسکے چہرے پر اداسی سی چھا گئ تھئ۔
اسکے برابر میں ہی واعظہ کی۔بنائی چائے کی ٹرے رکھی تھی۔
آپ چائے تو لیجئے طوبی۔ عروج نے کہا تو وہ یونہی سر ہلاگئ۔ وہ سب ٹھیک ٹھاک بھوکی ہو رہی تھیں۔ اسکا اندازہ انکی کھانے کی رفتار دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔
وہ چند لمحے سر جھکائے کچھ سوچتی رہی پھر کہے بنا نہ رہ سکی۔
تو وہ مجھ سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ مجھے مانا بہت غصہ آیا ہوا تھا پر مجھ سے مل کر تو جاتا۔ آپی کہتا تھا مجھے۔ بس کہتا تھا ؟ مانتا نہیں تھا۔
ایسی بات نہیں ہے طوبی۔ واعظہ نے فورا ہاتھ روک کر سر اٹھایا۔
وہ بس کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہے۔ بچہ ہی تو ہے۔ جو کچھ اس نے سہا کیا وہ سب اسکے لیئے بہت ذیادہ تھا۔وہ اگر آپی نا سمجھتا تو خط تھوڑا لکھتا ۔
پھر بھی۔ وہ بے قراری سے بات کاٹ گئ۔
مجھ سے مل کر تو جانا چاہیئے تھا۔ تم لوگوں کے تو ساتھ تھا مل کر تو گیا ہوگا
وہ ہم میں سے کسی سے مل کر نہیں گیا طوبی۔ عروج نے اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی
لغ۔۔ الف کی زبان میں کھجلی ہوئی۔ جھٹ دانتوں تلے دبا کر پینترا بدلا
صرف واعظہ کو بتا کے گیا ہے۔ ہم تو سمجھے تھے تھوڑی دیر تک آجائے گا۔وہ تو۔۔
خاموشی سے سب کی باتیں سنتی عزہ نے سر اٹھا کر براہ راست طوبی کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
آپ مل لیتیں اس سے طوبی جی؟
وہ ہاں کہتے کہتے رک سی گئ۔ شائد وہ ملنے آتا تو ڈانٹ ہی دیتی یا ملنے سے انکار کر دیتی۔ اسے اتنا ہی۔غصہ تھا۔مگر اب جب وہ یوں چلا گیا تھا بنا ملے تو سارا غصہ کہیں غائب ہو گیا تھا۔بس ایک خلش سی تھی۔
اسے بے اختیار اپنے الفاظ یاد آئے
میں ایک غیر مسلم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی کی آنکھوں میں آنسو بھر رہے تھے۔ ان سب کے کھانے کی رفتار کم ہو چکی تھی۔
چائے پی لو طوبی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
واعظہ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اٹھتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تو کچھ سوچتی طوبی چونک گئ

میں اس سے ملوں گی۔ واعظہ اسکا پتہ بتائو مجھے میں اس سے ملنے جائوں گئ۔
وہ ایکدم مضبوط سے لہجے میں واعظہ سے مخاطب ہوئی۔
پہلے چائے پی لو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
واعظہ اطمینان سے کہتی کچن کی۔جانب بڑھ گئ ۔ فریج کھول کر گلاس بھرتی۔۔ پیتی۔ اس سے ذیادہ مصروف کوئی۔نا تھا۔ طوبی تو طوبی باقی تینوں بھی اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
کہاں رہتا ہے ۔۔۔نہیں۔کس ہائی اسکول میں اس نے تبادلہ کرایا ہے کس گائوں گیا ہے سب تفصیل بتائو ہم سب اکٹھے چلیں گے۔
عزہ کو یہ خیال بھایا تھا جھٹ چٹکی بجاتے ہوئے پرجوش سی ہوئی
ہاں۔یہ ٹھیک ہے کان سے پکڑ کرلائیں گے اسے واپس۔
طوبی بھی خوش ہوگئ۔
چار کپ ہیں چائے کے تم چاروں ایک ایک لے لو۔ میرا دل نہیں چاہ رہا اب پینے کا۔
واعظہ نے پانی پی کر گلاس کائونٹر پر رکھ کر مشورہ دیا
اوہو دفع کرو چائے کو بتائو کہاں
عروج جھلائی
کیا مطلب دفع کرو۔ اتنی تھکی ہوئی آئی ہوں میں اتنا برا اور بڑا دن گزار کر آتے ہی مجھ سے چائے بنوا لی کہ میرے سوا کسی کے ہاتھ کی چائے ہی نہیں پسند اور اب دفع کرو چائے۔ پیئو سب خبردار جو ضائع کی۔
وہ پلٹ کر چلائی۔
سونے کی چائے بنائی ہے جو اتنی باتیں سنا رہی ہو۔ عروج کو اسکے یوں چیخنے پر غصہ ہی آگیا
کیا ہوگیا ہے۔ الف نے ٹوکنا چاہا
اچھا میں پی رہی ہوں چائے ضائع نہیں کر رہے ہم
طوبی نے جھگڑا نپٹانے کو کپ اٹھا کر منہ سے ہی لگا لیا
گرم گرم چائے سے ہونٹ بھی ذرا سا جلا ۔ مگر اس وقت اہم معاملہ درپیش تھا
خود بتائو طوبی صبح بنا ناشتے کے نکلی تھی میں پوری دوپہر اس منحوس چینل نے برباد کی ابھی گھر آئی ہوں تو کھانا تک کسی نے نہیں بنایا ہوا تھا الٹا چائے کی فرمائش کردی اب بنا کر لائی ہوں تو کوئی پینے کو تیار نہیں۔سخت زہر لگتا ہے مجھے کہ میں چائے بنائوں اور اسے کوئی پیئے نا۔ بے حرمتی ہے میری چائے کی یہ۔
وہ اتنی سنجیدگی سے یہ شکایت کر رہی تھی کہ طوبی تو طوبی عروج عزہ اور الف بھئ چپ سی ہو کر دیکھنے لگیں
نہیں ہم بے حرمتی نہیں کریں گے چائے کی ہم پیئیں گے۔ ابھی کھانا کھا رہے تھے واعظہ۔
عزہ نے منانا چاہا۔
بالکل ۔ اور الف یہ جو برتن نہ دھونے کے چکر میں سب نے ٹرے میں ہی کھالیا نا کپ تم دھو کر رکھنا سمجھیں۔
وہ وارننگ دیتی رکی نہیں کمرے میں جاگھسی دروازہ بھی بند کر دیا تھا۔
بے چاری الف نے توآئیڈیا نہیں دیا تھا میں ہی چمچ اٹھا لائی تھی ۔عروج ہنسی۔
اسکا کوئی اسکرو ڈھیلا۔ہوگیا ہے۔ عزہ بھی حیران ہوئی ۔
مجھے بھی بہت غصہ آتا جب دلاور کی چائے بنا کر رکھ دوں اور وہ ٹھنڈی ہوتی رہنے دیتے ہیں دو تین بار بتائو تب کپ منہ کو لگاتے۔ بھئ ٹھنڈی چائے پینے کا کیا فائدہ۔
طوبی کی بات پر وہ دونوں سر کھجانے لگیں
مجھ سے نہیں کھولتی چائے پی جاتی۔ عزہ نے کندھے اچکائے۔
اور مجھ سے خالی پیٹ نہیں پی جاتی۔ شکریہ طوبی بہت مزے کا کھانا تھا پیٹ بھر گیا میرا۔ الف چائے پکڑا دو۔
عروج پر کھا کے سستی سی سوار ہونے لگی تھی۔
تم لوگوں کو اور چاہیئئے ہوں چاول تو لا دوں؟ ابھئ عشنا بھی آتی ہوگی ۔۔
طوبی نے تقریبا صاف ہوئی ڈش دیکھ کر پوچھا۔
نہیں ہم نے کھا لیا بس تھینک یو طوبی۔ عروج نے فورا منع کیا۔
عشنا کیلئے تو ۔۔۔۔طوبی نے اٹھنا چاہا تو عزہ نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا۔
کہاں دو دن سے عشنا گئ ہوئی ہے کسی سہیلی کے ہاں اب تو فون بھی نہیں اٹھا رہی
کہاں گئ ہوئی ہے حد یے لاپروائی کی۔طوبی کے اندر کی خیال رکھنے والی اماں بیدار ہوگئیں۔
ایسے ہی کرتی ہے یاد نہیں کیسے فون گھر بھول کر سب وے میں گم ہوگئ تھی ۔۔ عزہ نے یاد دلایا تو عروج کو اپنا دکھ یاد آگیا
اور ان سب نے فون کر کرکے مجھے سونے نا دیا۔
آلف نے اٹھ کر چائے کی ٹرے اٹھالی۔ عزہ اور عروج کو کپ پکڑا کر اپنا کپ لیکرسوچے بنا نہ رہ سکی۔
چائے چائے کی رٹ نے بھلا ہی دیا ان سب کو کہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیانیئے۔
دنیا کی سب سے معصوم لڑکی اسکے سامنے سر جھکائے کھڑی منمنا کر کہہ رہی تھی۔
اس نے ایک نگاہ ڈالی پھر صوفے کی رگڑائی میں لگ گیا۔ جانے کونسا لیکویڈ تھا صوفے پر ڈالا اور کپڑا پھیرا داغ آدھا رہ گیا اور نم بھی نہیں ہوا صوفہ۔ وہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
بیانیئے بولا نا اب تو مان جائو۔
وہ کپڑا اٹھا کر سیدھا ہوا داغ آخر کار غائب ہو گیا تھا۔ وہ شیشی بند کرتا پلٹا تو وہ عین اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
دے؟ اسے ککھ سمجھ نا آیا۔
وہ میں کہہ رہی تھی بیانیئے کہہ رہی ہوں
اپنے سر پر چپت لگا کر اس بار اس نے انگریزی میں کہا تھا۔
اب تو بات ختم کرو۔ دیکھو صاف ہوگیا صوفہ۔ وہ سیدھی صوفے کی جانب بڑھی اشارہ کیا۔ سیہون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔اس نے ںگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو ہلکا سا دھبہ ابھی بھی تھا۔ ہونٹ دانتوں تلے کاٹتی اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو جھٹ بیٹھ گئی۔ اس کو روکنے کیلئے جب تک سیہون نے منہ کھولا وہ بیٹھ چکی تھی۔ ایک اور غلط اندازہ۔ اسے بیٹھ کر پتہ لگا کہ صوفہ گیلابھی ہوا تھا۔
تمہیں کہا کس نے تھا کہ لائونج کیلئے سفید صوفے لو۔ ہم پاکستانی کبھی سفید صوفے نہیں ڈالتے لائونج میں ۔ ہر وقت کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ بھورے ٹھیک رہتے۔ میل خورا رنگ اور ہم مڈل کلاس تو بھورے صوفے پر بھی کور ڈال کر رکھتے۔ زندگی بھر اندر سے صوفے نئے رہتے بھلے کور پرانے اور گندے ہوتے رہیں۔
اس نے اپنی طرف سے بڑے پتے کی بات بتائی تھی مگر سیہون ذرا متاثر نہ ہوا۔ کہے بغیر نہ رہ سکا
اس سے بہتر یہ نہیں کہ صوفے ہی استعمال کیئے جائیں اور خراب ہونے پر انکو ہی ٹھیک کروا لیا جائے۔
بات میں دم ہے۔فاطمہ قائل ہوئی
مگر تم کیا جانو پرانے صوفے پاکستانی گھرانوں میں گھر کے فرد کی طرح ہوتے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی ذیادہ اہم۔اگر پاکستانی گھرانوں میں بچہ صوفے پر کودتے ہوئے گر جائے تو والدین بچے کا سر ٹوٹنے سے ذیادہ فکر مند صوفے کی ٹانگ ٹوٹنے پر ہوتے ہیں۔
وہ جوش سے سیدھی ہوئئ
تمہیں پتہ ہے۔۔میری امی کے جہیز کے صوفے آج تک نئے نکور ہیں۔ ہم نے ڈرائینگ روم میں جب بدلے تو اٹھا کر لائونج میں ڈال لیئے مگر مجال ہے امئ ہمیں صوفے کی بے حرمتی کرنے دیں ۔
وہ بیٹھے بیٹھے اسپرنگ صوفے پر زرا سا اچھلی۔ صوفہ نیا ہونے کی وجہ سے صحیح جھولے دے گیا اسے خاصا مزا آیا۔
ہائے کتنے مزے کا ہے۔ یہ خالصتا اردو میں کہا گیا۔ بچوں کی طرح خوش ہوتی صوفے پر جھولتی سیہون کو اسکے بچپنے پر ہنسی آگئ مگر وہ اپنے میں مگن تھی۔ سر جھکائے جھولے کے مزے لیکر دوبارہ انگریزی میں شروع ہوگئ۔
ایسے تو ناممکن تھا کہ ہم کبھی بچپن میں بھی کر سکیں۔
زرا ذیادہ دیر بیٹھ جاتے تو اٹھا دیتی تھیں کہ زمین پر فلور کشن پر بیٹھ جائو تھوڑی دیر ۔۔صوفہ خراب ہو رہا ہے۔ دراصل امی کے جہیز کا صوفہ تھا نا۔
کہتے کہتے جب اس نے سر اٹھا کر مخاطب کو دیکھنا چاہا تو پتہ چلا سیہون صاحب ٹر چکے۔ اب اوپن کچن میں فریج کھولے کھڑے اندر جھانک رہے ہیں۔
اس نے اٹھنا چاہا پھریاد آیا کہ گیلی جگہ بیٹھ چکی ہے۔
مجھے بھی آج سفید ٹرائوزر ہی چڑھانا تھا۔
وہ بے بسی سے بڑبڑائی۔
سیہون فریج سے چاول نکال کر ان پر ڈھیر ساری کمچی اور بلیک بینز ڈال کر پلیٹ بنا کر جب آیا تو وہ منہ بنائے بڑ بڑ میں ہی لگی تھی۔
تم نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہوا تھا؟ فاطمہ حیران ہو کر چیخی۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ پڑی تو گھڑئ ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔
ہمیں کچھ اصول طے کر لینے چاہیئں جب تک ہمیں اکٹھے رہنا ہے۔
منہ میں نوالہ بھرے چٹخارے لیتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔ چھوٹا سا منہ پھولے کلوں کے ساتھ غبارہ سا بنا ہوا تھا
فاطمہ دیکھ کر رہ گئ۔
آٹھ نو سالہ دو پونیاں لہراتی یونیفارم پہنے فاطمہ منہ میں پراٹھے کا پدا سا نوالہ جو اماں نے ہی منہ میں دیا تھا اسے کلے میں دبا کر بڑی ضروری بات بتا رہی تھی۔
پتہ ہے امی عاصمہ کے گھر میں اتنی بڑی بلی ہے
فاطمہ پہلے کھا لو پھر بات کرنا کھاتے ہوئے بولتے نہیں ہیں..
امی نے لمحہ بھی ضائع کیئے بنا ٹوکا تھا۔
اس گھر کی صفائی ایک دن میں اور ایک دن تم کروگی۔
یہ اصول نمبر 1 تھا۔ ایک اور فلیش بیک چل پڑا تھا فاطمہ کی آنکھوں کے سامنے ۔۔
وہ منے لائونج میں صفائی کر رہی تھی۔ برش پیچھے سے آگے کرنے کی بجائے آگے سے اپنی جانب کر رہی تھی نتیجتا ساری گرد اسکے اپنے پائوں پر اور عروج ابیہا اور نور کی حیران نظریں اسکے چہرے پر جم رہی تھیں۔
فاطمہ پہلی بار جھاڑو دے رہی ہو؟ ۔
نور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
نہیں۔ وہ فٹ سے مکر گئ۔ پھر اپنے ارد گرد پھیلے گردباد پر نگاہ ڈال کر سر جھکا لیا۔
آہ ہاں۔
رات کو جو بھی گھر نہیں آئے گا یا نہیں آنے کا ارادہ رکھے گا وہ دوسرے کو 11 بجے تک مطلع کر دے گا۔
سیہون کا ناشتہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا
دوسرا اصول۔
کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تم رات کو آئو ہی نا؟
فاطمہ بھونچکا سی رہ گئ۔
ہاں ویک اینڈ پر کبھی کسی پارٹی میں لیٹ ہو ہی جاتا ہے، اور ڈرنک ہو جائوں۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا۔
تمہاری کوئی خطرناک قسم کی عادتیں تو نہیں ٹن ہو کر؟ وہDrinking Habbits)کا پوچھ رہا تھا۔
اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر پوچھنا بہترسمجھا۔ فاطمہ اچھل ہی تو پڑی خاصے چبھتے انداز میں بولی۔
جی نہیں۔ میں مسلمان ہوں ہم ڈرنک نہیں کرتے۔
اوکے اوکے۔ سیہون نے فورا صلح کا پرچم۔لہرایا
مانا مسلمانوں میں منع ہوتا ہے مگر سب ہر اصول پر کاربند تو نہیں رہتے نا۔اسلیئے احتیاطا پوچھ لیا۔ اب مسلمان نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔نا میں نے کبھی واعظہ کو دیکھا مسجد جاتے ہوئے نا تم اتنے دنوں میں کبھئ مسجد گئیں۔
سیہون کا انداز سادہ سا تھا فاطمہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ
مانا کبھی کبھار چھٹ جاتی ہے نماز مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ وہ پڑھتی ہی نہیں۔۔
اس نے گلا کھنکارہ
لڑکیاں مسجد نہیں جاتیں۔ وہ گھر میں پڑھتی ہیں نماز وہ بھی کسی۔۔ وہ نا محرم کا ترجمہ ذہن میں دوڑانے لگی۔ مگر سمجھ نا آیا۔
کسی اجنبی کے سامنے نہیں۔
اس نے اسٹرینجر ترجمہ کیا تھا۔
دے۔۔۔ سیہون نے سر ہلایا۔
ہم کوریائی گھر میں باہر کے جوتے استعمال نہیں کرتے۔
اس نے ایک نظر اسکے پائوں پر ڈال کر کہا۔
اور ہم پاکستانی جوتے بنا گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔
وہ اردو میں بڑ بڑائی مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہم اپنا اپنا کھانا اپنی مرضی سے خود پکا لیا کریں گے اور گروسری شاپنگ بھی خود اپنی اپنی الگ کریں گے۔
یہ شرط فاطمہ نے لگائی تھی۔ سیہون نے ایک نگاہ دیکھ کر اسے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔ مگر ہنگل میں بڑ بڑایا ضرور
پیسے ہیں بھلا؟ بے روزگار محترمہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جم گئی یہ بس لیپ ٹاپ کے سامنے رات بھر کے لیئے۔
اس پر اپنے استری شدہ کپڑے لٹکا دوں تو مجھے قوی امید ہے صبح اسی طرح استری شدہ اسکے سر پر سجے ملیں گے۔
عروج ہلکی سی دستک دے کر کمرے میں داخل۔ہوئی تو واعظہ کو اپنے بستر پر دراز لیپ ٹاپ پر مگن پایا۔
کوئی کام تھا۔
اس نے اطمینان سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
سنو مجھے ایک مشورہ کرنا ہے۔
وہ اسکے سامنے بیڈ پر آبیٹھی
کہو۔
یار وہ ایک یو ٹیوبر ہے۔وہ مجھے اپنے چینل پر انٹرویو کیلئے بلانا چاہتی ہے پیسے بھی دے گی۔ مگر لائیو اسٹریم ہوگا۔ پیسوں کی خیر ہے مگر یوں اچانک لائیو اسٹریم پر تھوڑا سا جھجک رہی ہوں۔ ملینوں فالورز ہیں اسکے
وہ تھوڑی پرجوش سی تھی۔ واعظہ نے ایک نگاہ اسکے تمتاتے چہرے پر ڈالی پھر دوبارہ لیپ ٹاپ اسکرین پر نگاہ جما لی۔ ہاتھ کی بورڈ پر چل رہے تھے۔
کس خوشی میں؟ اسکا سوال منطقی تھا۔
اس خوشی میں۔ عروج نے اپنے دائیں جانب چٹکی بجا کر اشارہ کیا تو ایک یاد اسکے دائیں جانب چلنے لگی دونوں بغور اس تصوراتی پردے کو گھورنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اسے قریبئ ریستوران لے آئی تھی۔
کیا پیئوگی؟ اس نے بہت دوستانہ انداز میں اس سے پوچھا۔
سیلف سروس تھی سو وہ یقینا خود اٹھ کر جاتی
کچھ نہیں شکریہ۔ آپ کو جو بات کرنی ہے کر لیں۔
عروج کا لہجہ کھردرا ہو چلا تھا۔ اس لڑکی کے اطمینان میں سرموق فرق نا آیا تھا۔ گلابی شارٹ فراک جیسے لباس میں ملبوس اسکی گوری رنگت اتنا دمک رہی تھی کہ عروج کو اپنا رنگ بھجنگ لگنے لگا تھا حالانکہ عروج تو عروج وہ لڑکی تک عروج کو نقاب کے باعث دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نزاکت سے اپنے ریشمی بال جھٹک کربولی۔
ضرور مگر ساتھ کوئی اچھی سی ڈرنک بھی ہو تو کیا ہی بات ہے۔ میں لیکر آتی ہوں۔
وہ موقع دیئے بنا اٹھ گئ۔ عروج کو اسوقت کچھ بھی کھانے پینے کا دل نہیں کر رہا تھا۔مگر وہ چند ہی منٹوں میں دو بھرے ہوئے گلاس پھلوں کی کاک ٹیل کے لے آئی تھی۔
شکریہ۔ ساری بٹ ناٹ ساری والے انداز میں اسکے منہ سے پھسلا تھا۔
میرا نام مشیل ہے۔ یو ٹیوبر ہوں اسی نام سے چینل ہے میرا۔ پرسوں وی لاگ بناتے اتفاق سے تم بھی میری ویڈیو کا حصہ بن گئیں تمہارے ری اکشنز اتنے مزے کے تھے کہ نیٹیزنز netizenz نے میری ویڈیو کو بہت اچھا رسپانس دیا۔
وہ لمحہ بھر رکی جیسے عروج کا ردعمل دیکھا چاہ رہی ہو مگر نقاب کے باعث ناکام رہی۔سو سلسلہ کلام جوڑا۔
تمہاری ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہوئی ہے کوریا میں۔تم تو بیٹھے بٹھائے سیلیبریٹی بن گئ ہو۔
اسکا انداز عروج کو بالکل اچھا نا لگا۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔
آپکو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کسی کو بتائے بغیر اسکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں۔لوگوں کے ریسپانس لیں میں آپکی اس حرکت پر آپ پر سو بھی کر سکتی ہوں۔
وہ چٹخ کر بولی تو جوابا وہ لڑکی ہنس دی۔
ریلیکس ڈیئر۔ میں اسی کیلئے معزرت کرنے آئی ہوں۔آپ سے بنا پوچھے آپکی ویڈیو بنانے کیلئے آئی ایم سوری۔
وہ دھیرے سے سر جھکا کر بولی۔ روائتئ کوریائی انداز میں آدھا جھکی نہیں مگر چونکہ معزرت بھی انگریزی میں تھی اس نے برا نا مانا۔
اٹس اوکے۔ عروج اسکا کیا بگاڑ سکتی تھئ۔
آپ پیئیں نا۔ اس نےجوس کی طرف اشارہ کیا۔
عروج نے ریستوران پر نگاہ دوڑائی تو کافی رش محسوس ہوا۔ وہ نقاب اتار کر یہاں جوس پینا نہیں چاہتی تھی۔
شکریہ ۔ میں اب چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی تو مشیل بوکھلا سی گئ
ارے بیٹھیئے ۔ مجھے آپ سے ایک اور بات بھی کرنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر سچ مچ معزرت کے لیئے آئی تھی تو پہلےویڈیو بھی ڈیلیٹ کرتی نا۔
واعظہ نے اسکی فلیش بیک میں اینٹرئ ماری
وہ کہہ رہی تھی یو ٹیوب ویوز ذیادہ ہو جائیں تو ویڈیو کو اون کر لیتی ہے پھرآپ چاہ کر بھی ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔
عروج نے وہی بتایا جو اسے بتایا گیا تھا۔
واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جما کر بیٹھ گئ۔ عروج کو اسکے یہی انداز زہر لگتے تھے۔ بندہ اب ضروری بات کر رہا ہے تو اسکی شکل تھوڑی دیر ہی دیکھ لو۔ کہ اسے لگے اسکی سنی جا رہی ہے۔
میں مسلمان ہوں یہ جان کر وہ حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔کہتی ہے مسلمان لڑکی وہ بھی ڈاکٹر ہے یہاں کوریا میں تو مجھے یقینا اپنے چنگوئوں ، اپنی یو ٹیوب کمیونٹی کو وہ چنگو کہتی ہے ۔ عروج نے وضاحت کی۔
ہاں تو کہتی ہے مجھے اپنے چنگوئوں کو آپ سے ملوانا چاہیئے اور جو یہ سب پر امپریشن ہے نا کہ مسلمان بیک ورڈ ہوتے ہیں خاص کر لڑکیاں انکے بارے میں دنیا کو ضرور بتانا چاہیئے۔ کہ مسلمان لڑکیاں بھی پڑھی لکھی ہوتی ہیں او۔۔ اسکے پاس اسکی لمبی تقریر بتانے والی تھی مگر واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی جانے سن بھی رہی تھی کہ۔نہیں۔
اے سن رہی ہو کچھ بتا رہی ہوں میں
اس نے تپ کر اسکا کندھا ہلایا۔ تو واعظہ نے ہونٹ بھینچ لیئے اور لیپ ٹاپ اسکے سامنے کردیا۔
وہ اسکی وائرل ویڈیو کے کمنٹس کھولے بیٹھی پڑھ رہی۔تھی۔ مشیل کا ہی چینل مگر کمنٹس۔
اس نے پڑھنا شروع کیا تو آنکھیں کھلتی سی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول ہنگامہ خیز تھی۔
الف عزہ اور عروج حسب معمول اکٹھے اور ایک ہی سنگھار میز کے سامنے تیار ہو رہی تھیں۔
کوئی ایک تو ساتھ والے کمرے میں چلی جائو۔
عروج جھلائی۔
وہاں بھی تو رش۔۔ عزہ کہتے کہتے رک گئ۔
اب تو ساتھ والے کمرے میں بس واعظہ ہے۔ فاطمہ، نور ابیہا عشنا کوئی بھی تو نہیں ہے۔
وہ اداس سی ہو چلی تھی۔ الف بال سلجھا رہی تھی ان دونوں سے ہٹ کر پیچھے بیڈ پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ برش چلانے لگی۔
ابیہا کو دیکھو جب سے پاکستان گئی ہے کوئی اتا پتہ نہیں۔
عروج کو بھئ اسکی یاد آئی۔
ہمیں اس کو پوچھنا چاہیئے تھا اسکی امی کی طبیعت خراب تھی۔
عزہ نے جتایا۔
وہی ۔ عروج نے سر جھٹکا۔
یہاں نور والا معاملہ اتنا الجھ گیا تھا کہ ذہن سے ہی نکل گیا اسکی خیریت پوچھنا۔ اوپر سے جیل کی ہوا۔ اف۔ اس نے جھرجھری سی لی۔
عزہ آئی لائنر لگاتے اسکی کہنی سے جھونک کھا کر گھورنے لگئ
ابھئ آنکھ میں گھستا برش میری۔
یہ الف کہاں گئ۔ عروج نے اسکارف سر پر لپیٹتے دائیں بائیں دیکھا تو عزہ بھی ٹشو سے آنکھ صاف کرتی مڑی دیکھا تو بیڈ پر بیٹھی چپکے چپکے نیر بہا رہی تھی۔
اوئے تمہیں کیا ہوا صبح صبح۔
عروج تڑپ کر اسکے پاس آئی۔
امی یاد آگئ ہونگئ۔عزہ کا اندازہ تیار تھا
نور یاد آگئ۔ صبح میری اسکی ایک بار تو نوک جھوک ضرور ہی ہوتی تھی۔ جانے وہ کیسی ہوگی ہم ایک بار بھی اسے دیکھنے ملنے نا جا سکے۔
وہ بھرائی سی آواز میں بولی
ہمیں جانا تو چاہیئے۔ عزہ آئی لائینر لگانے کا ارادہ ترک کرتی اسکے پاس آبیٹھئ۔
اسکے پاپا اسکی پڑھائی چھڑوا کر واپس لے جائیں گے۔یقینا۔
الف نے کہا تو وہ دونوں چپ سی ہوگئیں
جیل جانے سے تو یہ بھی بہتر ہے۔اللہ کرے اسکو وہاں ذیادہ عرصہ نا رہنا پڑے۔ آمین۔
عروج نے کہا تو تینوں نے صدق دل سے آمین کہا۔
اچھا سنو تم دونوں آج پہلے آجائوگی مجھے اور واعظہ کو کہیں جانا ہے سو پلیز کھانا تم دونوں مل کر پکا لینا۔
عروج کی ہدایت پر دونوں گھورنے لگیں
کیوں؟ آج تمہاری بارئ ہے عروج کھانا پکانے کی۔
اوہو ایڈجسٹ کر لینا نا ۔
اسکا انداز بے نیازی بھرا ہو چلا تھا یعنی نو مور بحث
بتا کے جائو کہاں جائو گی دونوں
الف اور یوں جان چھوڑ دے
بس کہیں جانا ہے یوں سمجھ لو کسی سےدو دو ہاتھ کرنے ہیں۔
عروج نے دانت کچکچا کر کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ کر سکتی ہوں۔
اس بڑے سے دوائوں کے اسٹور کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے گہری سانس لی۔ پھر مٹھی بند کر کرکے عزم کیا۔ اور گلاس ڈور دھکیلتے ہوئے بڑے اعتماد سے کھٹ کھٹ کرتی اندر داخل ہوئی۔ کائونٹر پر کھڑی سیلز گرل اسے دیکھتے ہی مستعد ہوئی۔
آننیانگ ۔۔ اس نے جھک کر ادب سے سلام کیا۔
مجھے ایک عدد کریم چاہیئے جو جلن دور کرے مگر اس میں گھوڑے کی چربی استعمال نہ ہوئی ہو ۔۔
دے۔ ؟ وہ لڑکی ہونق ہوئی۔
سعدیہ کائونٹر کے قریب ہی ریک میں سے چاکلیٹس دیکھ رہی تھی چونک کر مڑی۔
بلو جینز پر لانگ سفید کرتا پہنے شدید پاکستانی انداز میں سر پر دوپٹہ لیکر کان کے پیچھے اڑس کر بولتی اس لڑکی نے اسکی توجہ فورا کھینچ لی تھی۔
یہ میرا ہاتھ دیکھو۔ جل گیا ہے اسکی دوا دو۔ مگر سور گھوڑا بلکہ کسئ جانور کی چربی یا کچھ بھی اس کریم میں نہیں ہونا چاہیئے۔ ۔ اس نے آستین اوپر کرکے دیکھایا۔ساتھ فر فر اپنی سب ڈیمانڈز بھی رکھ دیں۔ اس کورین لڑکی نے تو ہلکی سی چیخ ہی مار دی۔ لال لال گوشت ہلکی سی کھال بھی تولیہ جیسی ہوئی وی تھئ۔
یہ کیا ہوا۔ اس نے گٹ پٹ شروع کردی تھئ۔
تمہیں کیاہوا؟ چاولوں کی پیچ گری ہے اتنی زور کی تو میں نے چیخ نہیں ماری تھی۔ ذرا سا جلا ہی تو ہے۔ حد ہوگئ اتنا بڑا منہ اور چڑیا سا دل۔ ذرا سی کھال ہی تو اتر گئ ہے۔ اس نے باقاعدہ کھال چھو کر دکھایا
جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔
جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔

آندے۔ وہ لڑکی یوں گھبرائی جیسے اسکی کھال اترنے لگی ہو طوبی کے ہاتھوں۔۔
اس طرح مت کیجیئے زخم کھل جائے گا۔
کیا بولے جا رہی ہو لڑکی۔ جائو کسی پڑھے لکھے کو بلائو جسے انگریزی آتی ہو۔عجیب ملک ہے چار لوگ انگریزی نہیں جانتے کہنے کو ترقی یافتہ ملک ہے۔
اس نے سر جھٹکا۔
اوہ یہ تو بہت جل گیا ہے۔آپکو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے۔ کسی نے طوبی کے قریب آکر ہمدردی بھرے انداز میں کہا تو طوبی مڑ کر اپنی جھونک میں بولی
۔ ارے نہیں اتنی چوٹ پر دوا بھی نہیں لگاتی یہ تو دلاور مجھ سے ذیادہ گھبرا گئے بہت پیار کرتے ہیں۔کہہ رہے عروج کے پاس چلو اب وہ بے چاری ابھی ہاسپٹل سے آئی کہاں میں ۔۔دوا لے آ۔
کہتے کہتے نووارد کو دیکھا۔ گھورا۔ پھر چیخ مار کر لپٹ ہی تو گئ
اوہ تم سعدیہ۔ سعدیہ رند ہو نا۔ یو ٹیوب والی۔؟؟؟
جج جی۔ اسکے منہ سے بس یہی نکل سکا مگر وہاں سن کون رہا تھا۔
اوہ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے تم سے مل کر میں بہت شوق سے تمہاری ویڈیوز دیکھتئ ہوں۔
طوبی کی بانہوں میں نازک سی سعدیہ پھڑ پھڑا رہی تھی۔
جئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔

Desi Kimchi Episode 28

قسط 28

وہ کائونٹر سے ڈبل روٹی اٹھا کے بھاگ رہی تھی جب واعظہ کمرہ کھول کر نکلی۔
واعظہ کو نکلتے دیکھ کر اس نے مزید برق رفتاری سے دڑکی لگائی تھئ۔
ہائیں۔ واعظہ کا کھلا منہ جب تک بند ہوا اپارٹمنٹ کا دروازہ بھی بند ہو چکا تھا۔
بنا ناشتے جانا ہوگا۔ اس نے یاسیت سے سوچا پھر تیار ہونے واپس کمرے میں گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون نے دروازہ کھولتے ہوئے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
میں بریڈ لے آئی یوبو۔ چلو ناشتہ کریں۔
وہ لہرا کر کہتی اسے ایک طرف کرتی اندر داخل ہوئی۔جیسے پتہ نہیں کتنی مصروف ہو۔ صاف شفاف خالی لائونج جس کی میز پر دو خالی کپ اس بات کا اشارہ تھے جن کے لیئے وہ بھاگم بھاگ آئی تھی وہ نا پسندیدہ مہمان واپسی کی راہ لے چکے۔
یوبو؟ یہ کہاں سے سیکھا تم نے۔ اسکے لہرا کر کہنے پر سیہون نے مسکراہٹ بمشکل روکی تھی اب محظوظ سے انداز میں دروازہ بند کرتے ہوئے لابی سے ہی پوچھتا آرہا تھا۔
فاطمہ نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
جب اتنی سی دیر کیلئے آئے تھے تو کوئی بہانہ کر دیتے ایویں مجھے بھگایا ۔ ڈبل روٹی بھی اٹھا لائی میں اب واعظہ بنا ناشتے دفتر جاتی گالیاں دے رہی ہوگی مجھے۔
اس نے پیکٹ کھول کر ایک سلائیس نکالا اور یونہی چبانے لگی۔
فریج میں مکھن جیم سب رکھا ہوا ہے۔
سیہون نے ٹوکا مگر وہ اٹھنےکا ارادہ نہیں رکھتی تھی سو وہ خود گہری سانس بھرتا گیا دونوں چیزیں سلیقے سے ٹرے میں چھری کے ساتھ لیکر آیا۔ لا کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
اس نے بنا شکریہ ادا کیئے مکھن اٹھا کر اگلے سلائس پر لگانا شروع کردیا۔
ایک گھنٹہ بیٹھ کر انتظار کیا ہے انہوں نے۔ میں نے بتایا کہ تم سودا سلف لینے گئ ہو آتی ہوگئ ۔ مگر ایک گھنٹے بعد دونوں مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے کل آنے کا کہہ کر چلے گئے۔ وہ سائیڈ والے کائوچ پر نیم دراز ہو کر بتانے لگا۔
ہممم۔ بھرے منہ کے ساتھ وہ بس یہی جواب دے سکی
تم ویسے رات کو چلی کیوں گئ تھیں؟ اکیلے گھر میں ڈر لگ رہا تھا؟
وہ اسے گہری نظر سے دیکھ رہا تھا۔
نہیں وہ ان سب کے ساتھ گھومتی رہی کل پھرکھانا وہیں کھایا تو رات ذیادہ ہوگئ سوچا اب صبح ہی جائوں گی۔
اس نے ہبڑ تبڑ دو تین سلائس کھا کر اللہ شکر کرتے ہوئے بتایا۔ ٹرے کھسکا کر وہ آرام سے پائوں اوپر کرکے صوفے پر نیم دراز ہو رہی تھی جب سیہون سرسری سے انداز میں کہتا اٹھا۔ وہ ایکدم جم کر رہ گئ
کیسا لگا لوہتے ورلڈ۔ اس نے ٹرے اور ڈبل روٹی کا لفافہ اٹھایا اور سگھڑ خاتون خانہ کی طرح چیزیں سمیٹ کر انکی جگہ رکھنے چل پڑا۔ فریج کھول کر مکھن رکھتے ہوئے جیسے ہی مڑا فاطمہ فریج کے ساتھ چپکی اسے گھور رہی تھی۔
آہش۔ وہ بے ساختہ دہل کر پیچھے ہوا۔
کس نے بتایا واعظہ نے؟
اسکی تفتیش ۔۔
آنیو۔ اس نے نفی میں سر ہلا کر گزر جانا چاہا
پھر۔ وہ ایکدم سامنے آکھڑئ ہوئی راستہ روکتے ہوئے مشکوک نظروں سے گھورتی۔
پھر کچھ نہیں۔ سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ ہیں یونہی اندازہ لگایا۔
وہ جان چھڑا رہا تھا جبکہ فاطمہ جان کو آنے کو تیار تھئ
سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ نہیں ہیں۔
جتاتا انداز
دے۔۔ وہ پھر مڑ کر جانے کو تھا تبھی اسکا موبائل بج اٹھا
اس نے ٹرائوزر کی جیب سے موبائل نکال کر فون اٹھانا چاہا فاطمہ نے بیچ میں اچک لیا۔
وے۔ وہ اتنا حیران ہوا کہ ہل بھی نا سکا
اسکی کال بند کرتی وہ جلدی جلدی مطلوبہ ایپ تلاش رہی تھئ
کیا کر رہی ہو۔ ادھر دو کس کا فون تھا۔
وہ جیسے ہوش میں آتا اسکی جانب بھاگا۔ مگر وہ چکمہ دیتی پورے لائونج میں بھاگتی پھر رہی تھی۔
ارےمیرا فون دو۔
وہ میز سے ٹکر کھاتئ مطلوبہ ویڈیو کھول چکی تھی جب وہ سامنے آیا اسکےموبائل کی جانب بڑھتے ہاتھ کو جھٹکتی وہ گھومی جوتے سمیت صوفے پر پھر وہاں سے صوفے کے پار جست لگاتی دوبارہ کچن کائونٹر کے پاس پہنچ چکی تھی۔
فاطمہ۔
سفید صوفے کور پر کالے جوتوں کے نشان وہ صدمے سے کھڑا ہی رہ گیا۔ اور فاطمہ بھی۔۔ مگر اسے صدمہ کچھ اور پہنچا تھا
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف اور ژیہانگ جمائیاں روک رہے تھے۔ وہ لڑکیوں جیسا لڑکا ست رنگئ شرٹ اور نارنجی چست پتلون میں ملبوس گھوم گھوم کر لہرا لہرا کر بڑے سے پراجیکٹر پرسلائیڈز چلاتا جانے کیا کیا سکھانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
رواں انگریزی خالص کوریائی لہجہ جس میں الفاظ کے تلفظ وہی تھے جو پاکستان میں بولنے والے کو ہم پیںڈو کہہ کر تمسخر اڑاتے۔
پورا گھنٹہ مسکراہٹ ضبط کرتے منہ پھیر کر منہ چھپا کر ہنستے گزارا تھا۔ آخر میں تنگ آکر اسکا لیکچر سننے کی کوشش ترک کرکے وہ دھڑ دھڑ ژیہانگ کے چلتے قلم کو رشک سے دیکھنے لگی۔ جانے اس فضولیات میں سے بھی وہ کیا کیا اہم نکات لکھ رہا تھا
ژیہانگ نے اسکی محویت محسوس کرکے دھیرے سے قلم اور رائیٹنگ پیڈ تھوڑا سا اسکی جانب کھسکا دیا۔
انگریزی لکھتے ہاتھ رومن اردو پر آگئے۔
تم کہو تو اپنی شرٹ اس سے تبدیل کر لوں ۔رنگ تھوڑا سا پینڈو ہے مگر استری شدہ ہے۔ اور میں چونکہ اس سے ذیادہ پیارا ہوں تو جچے گا مجھ پر۔
پڑھتے پڑھتے اسکی آنکھیں حجم سے دگنی ہونے لگیں تو چونک کر سر اٹھا کر ژیہانگ کو دیکھنے لگی۔ لبوں پر مسکراہٹ دبائے بظاہر وہ سامنے اس کارٹون کی جانب متوجہ تھا۔ وہ کھسیا کے سیدھی ہوئی۔
اپنا رائٹنگ پیڈ اٹھایا اس پر جواب لکھنے لگی
اس سے بہتر ہوگا۔شرٹ اتار کر ایسے ہی پھر لو۔
ژیہانگ کے لیئے یہ جواب غیر متوقع تھا۔ اس نے کن انکھوں سے الف کو دیکھا اسکا انہماک عروج پر تھامکمل طور پر کارٹون کی جانب متوجہ۔
اس نے گہری سانس لی۔ پھر کالر سے نیچے والا بٹن کھولا۔
پہلا ۔۔ دوسرا۔۔ تیسرا۔۔
الف کی آنکھیں چکر کھانے لگیں
اس نے سارے بٹن کھولے اور شرٹ اتار کر ساتھ والی کرسی پر ٹکا دی۔
ہاہ۔ اس نے رخ پورا پھیر لیا۔ اسکے ردعمل پر ژیہانگ کی بانچھیں چر سی گئ تھیں بے ساختہ امڈ آنے والے قہقہے کو اس نے بمشکل روکا تھا۔
بھول ہی۔گئ تھی لڑکوں میں شرم حیا نام۔کی کوئی چیز ہوتی نہیں بے غیرت جیسے انتظار میں ہی۔تھا ایک تو کمینہ لڑکا ہے اوپر سے کوریائی بلکہ چینی اتنا خیال بھی نہیں کیا بالکل برابر بیٹھی ہوں۔۔ الو کا۔۔۔
دانت کچکچا کر وہ منہ ہی منہ میں رخ پھیر کر بڑ بڑاتی گئ۔
ژیہانگ کی سماعتیں ٹھیک تھیں مگر اتنی بھی اچھی نہ تھیں کہ کسی کے منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے کو بھی سن لیتا۔ ہمہ تن گوش البتہ ہوگیا تھا ا س کوشش میں کہ سن سکے کیا بول رہی ہے۔
ست رنگئ شرٹ والے نے انتہائی اہم ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے بارے میں بتاتے ہوئے مڑ کر داد چاہنے والے انداز میں دیکھا تو پتہ چلا حاضرین میں سے ایک دائیں جانب رخ موڑ کر گلاس وال پر لگے اسٹیکر کو گھورتے ہوئے بڑ بڑا رہی ہے تو دوسرا کہنیاں میز پر ٹکائے پوری دلچسپی سے اسے دیکھنے میں مشغول ہے۔ گہری سانس لیکر اس نے الیکٹرانک پین میز پر پٹخا۔ دونوں چونک کے سیدھے ہوئے
آئی گیش یو گائز لوست انترسٹ سو آئیل کوییٹ ہیئر۔
آئی ہوپ یو گائزہیو انڈل اشٹنڈ مائی ٹودے از لیکچل ۔ٹومالو۔ آئی ول گیو۔
یہاں تک بولنے پر ہی الف کی مسکراہٹ بے قابو ہوئی۔ پورے دانت باہر آنے کو تیار تھے جنہیں چھپانے کو اس نے مصنوعی کھانسی کا سہارا لیا۔
آہو کھو کھو ۔۔ وہ مٹھی چہرے کے سامنے کر کے زور زور سے کھانسنے لگی۔
ژیہانگ اسکا مسلئہ سمجھ کر اسے کافی لطف اندوز ہونے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
او وہاٹ ہیپند ڈئیل۔ آل یو آل رائت۔
نزاکت سے چلتے ہوئے وہ اسکے سامنے تشویش زدہ انداز میں لہرایا تو جیسے سونے پر سہاگہ کا کام ہوا۔ وہ ہنستے ہنستے سامنے میز پر سر رکھ کر منہ چھپا گئ۔
یہ ٹھیک ہے۔ میں اسکو پانی پلاتا ہوں۔ آپکا بہت شکریہ آج ہم نے کافئ کچھ سیکھا آپ سے۔ گھسامنیدہ۔
ژیہانگ بڑے ادب سے کھڑے ہوکر ہنگل میں اس سے بولا۔ اس پر اس کا خاطر خواہ اثر ہوا جھینپتے ہوئے آنیو آنیو کرتا رہا۔
یہ بالکل ٹھیک ہے بس کبھی کبھی ہو جاتا اچھو ۔۔ وہ بتاتے ہوئے سامنے کونے میں رکھے ڈسپنسر کی جانب بڑھا۔
او پور گرل۔ گیت ول شون ڈئیل۔
میز پر ہلکے سے انگلی۔بجا کر تشویش ظاہر کرتا وہ لہرا۔کر چلا گیا۔الف کی ہنسی رک چکی تھی مگر اس نے سر اٹھانے کی حماقت نہیں کی۔
پیپر کپ میں پانی لا کر اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دھیرے سے میز پر انگلیوں کے جوڑ سے دستک دی۔
الف دھیرے سے سیدھی ہوئی ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھائی وہ دوستانہ سے انداز میں مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے پانی کا گلاس اٹھا کے پی لیا۔
مجھے یہاں سے واپسی پر ابھی جم جانا ہے ۔ جم شرٹ دھلوالی تھیں سو نئی شرٹ ہاتھ میں پکڑ کرلانے کی بجائے پہن آیا تھا میں۔
اس نے یونہی وضاحت کی۔ الف کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
اس غیر استری شدہ شرٹ کے نیچے وہ جم کی سفید سلیو لیس سویٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا اسکے بہت ذیادہ مسلز نہیں بنے تھے مگر دبلے سراپے پر بھی جم لگانے سے بازو کے کٹس نمایاں تھے۔
اب یہ مت کہنا کہ پینٹ کے نیچے جم کا ٹرائوزر بھی پہن رکھا ہے۔
الف شرارت سے بولی
دے۔ وہ روانی میں بولا پھر جھینپ کر ہنس پڑا۔
وہ واقعی سفید شارٹس پہن کر آیا ہوا تھا۔
الف کا منہ دوبارہ کھل گیا تھا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج کا منہ کھلا پھر صدمے سے کھلا ہی رہ گیا۔
وہ دونوں نرسیں ہنس ہنس کر جانے کیا موبائل میں دیکھ رہی تھیں وہ انکو ہدایت دینے اور ڈپٹنے کی نیت سے قریب آئی کہ کام۔کے وقت موبائل میں ویڈیوز دیکھنے کا کونسا وقت ہے جب ویڈیو میں سے آتی مانوس سی آواز نے اسکے کان کھڑے کر دیئے۔ کل کا منظر جزئیات سے تازہ ہوا تھا۔
اس دیو قامت بڑے سے فیری ویل کے نیچے کھڑے ہوکر اوپر نگاہ کی تو گردن میں بل آگیا تھا۔ آسمان کو چھوتا وہ دیو ہیکل جھولا۔ اگر ان سب کے سر پر ٹوپی ہوتی تو وہ گر چکی ہوتی بلکہ عزہ اور واعظہ خرگوش کے کانوں والے پیارے سے جو بینڈ لگائے تھیں کورین لڑکیوں کی دیکھا دیکھی وہ پھسلنے لگے تھے۔ دونوں نے منہ کھول کر سر پر ہاتھ جمائے تھے۔
وائو۔ میں نے زندگئ میں اتنا بڑا فیری ویل نہیں دیکھا۔
فاطمہ کی آنکھیں گول سی ہوگئ تھیں اور ہونٹ بھی۔
اسکو فیری ویل نہیں وچ ویل بلکہ شیطانی ویل کہنا چاہیئے۔ کون احمق اس بھیانک آسمان کو چھوتے جھولے پر بیٹھنا چاہے گا۔
عروج نے کہا تو وہ سب مڑ کر باقاعدہ اسے گھورنے لگیں۔
میں نے اسی پر بیٹھنا ہے ٹکٹ لو اسکا
الف جیسے مچل کر بولی۔ اس نے بڑی سی لائٹ اسٹک لی ہوئی تھی اسے جھلانے پر جل بجھ کرنے لگی وہ ہلا ہلا کر واعظہ کی آنکھوں میں مارنے لگی۔
اچھا۔بیٹھتے ہیں اس پر بھی اسے تو پرے کرو۔
واعظہ نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور سر ہلا کر خرگوش کے کان لہرانے لگی
تو پھر کتنے ٹکٹ لوں۔
ایک دو تین۔
اسکی پھر گنتی شروع ہونے لگی تھی
پانچ لو نا۔ عزہ نے مشکل آسان کی
نہیں میرا نہیں لینا ۔جائو تم سب میں ہرگز اس پر نہیں بیٹھنے والی بلکہ تم سب کو بھی اگر جان پیاری ہے تو اس پر مت بیٹھو۔ اتنا اونچا جھولا خطرناک پینگ لے گا۔ وہ۔جھر جھری سی لیکر بولی
اچھا۔۔ الف جیسے حیران ہوئی ۔ اسکی دیکھا دیکھی سب نے ہی حیران ہونے کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے عروج کو منہ چڑایا۔
کیا تم سب مجھے اکیلا چھوڑ جائوگی؟ میں اکیلی یہاں کیا کروںگئ؟
عروج ان سب کو ٹکٹ گھر تک منانے آئی۔
تم جائو تھوڑی دھوپ سینک لو۔
واعظہ نے کندھے اچکا کر مشورہ دیا
عروج ادھر پھسلن سیڑھی لگی ہوئی ہے جائو وہاں کھیل لو کئی بچے ہیں اتنی گرمی میں بھی وہاں۔
عزہ نے دور لگی سلائیڈز کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔
تم۔ عروج دانت کچکچا کے دیکھ کر رہ گئ۔ یقینا ان بچوں کی تشریف بھی جل رہی ہوگی جو بچہ سلائیڈ سے اترتا سب سے پہلے تشریف سہلاتا۔ اس نے بے زار سا ہوکے نگاہ دوڑائی دور گول گول چکر کھانے والے جھولے لگے تھے جن میں ہاتھی گھوڑا گینڈا وغیرہ بنے تھے ۔
عزہ تم رک جائو۔ ہم ادھر ہاتھی پر ۔۔ وہ پرجوش سی ہوکر عزہ کو وہاں جانے کا لالچ دینےمڑی تو پتہ چلا سب سکھیاں ٹر چکی ہیں۔ وہ قطار میں لگی کھڑی تھی۔ اسکو متوجہ ہوتے دیکھ کر ٹکٹ گھر پر کھڑا وہ لڑکا پیلے دانتوں کی نمائش کرنے لگا۔
ایک مجھے بھی۔
اس نے گہری سانس لیکر ٹکٹ لیا۔
فیرئ ویل پر ایک وقت میں بس چار لوگ بیٹھ سکتے آپ میں سے ایک ادھر دوسرے کیبن میں آجائے۔
وہ مسکین شکل والا کورین بابو ان ضدی لڑکیوں کو جھک جھک کر سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ واعظہ عزہ فاطمہ جھٹ سے اندر گھس کر بیٹھ چکی تھیں الف اور عروج اکٹھے چڑھنے لگیں تو آپریٹر نے متانت سے انہیں روکا۔
آپ میں سے ایک چڑھے بس۔
کوئی نہیں ہم اکٹھے آئی ہیں اکٹھے بیٹھیں گی۔
الف نے پیر پٹخا
تو اور کیا مجھے اکیلے وہاں نا رہنا پڑے اس لیئے اس موت کے جھولے پر بیٹھنے پر رضامند ہوئی ہوں۔
عروج نے منہ بنایا۔
دیکھیں ہم ان کوریائی لڑکیوں کی طرح دو کلو کا منہ لیکر نہیں پھرتی ہیں ہم پانچوں کا ملا کر وزن بھی چار کوریائی لڑکیوں کے برابر ہوگا منہ ملا کے۔
واعظہ نے تفصیل سے ہنگل میں سمجھایا تو اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پاکستانیوں جتنی پھیل گئیں
یہ کیسی منطق ہے۔
ایویں ہم کوریائی لڑکیاں آپ سے کہیں کم ہیں وزن اور قد میں ۔
انکے پیچھے کھڑی اچھی خاصی فربہ لڑکی تنک کر بولی۔
کیا یہ کالی انڈین ہمیں موٹا کہہ رہی ہیں۔
اسکی سہیلی کراپ ٹاپ پہنے ننگے بازوئوں پر فرضی آستیںیں چڑھا کر لڑنے کے در پہ ہوئی۔
یہ کالا کس کو بولا۔
کالا کہنے پر وہ سب تلملا گئیں۔ عروج نے ڈینم عبایا کی آستین چڑھا لی
تو کیا کہوں گوری ؟ اتنی اچھی شکل ہوتی تو چھپا کے پھرتیں تم ۔
موٹی والی نے تمسخرانہ انداز سے دیکھا۔
شکل تو تمہیں چھپا کے پھرنا چاہیئے کوئی اس پھولے غبارے کو سوئی نا چبھو دے شرارت میں۔ عروج کے پیروں سے لگی سر پر بجھی۔
کیا کہا۔ وہ موٹی عروج کے اوپر پل پڑنے لگی تو اسکی سہیلی نے کھینچا
کیا کہہ رہی مجھے بتائو۔ عروج کی سہیلی اسکا کندھا ہلا کے ترجمہ کر نے کو کہہ رہی تھی۔ عروج نے گھور کر دیکھا
الف نے آئو دیکھا نا تائو لائٹ اسٹک اس موٹی کی آنکھوں کے سامنے نچا دی۔
سہیلی نے اس موٹو کو تپ کو چھوڑ دیا۔
چاروں فیری ویل کے کیبن کے سامنے گتھم گتھا تھیں واعظہ عزہ فاطمہ منہ کھولے تھیں صورت حال سمجھ کر باہر نکلنا چاہا۔
فیری ویل والے نے اپنے بال مٹھئ میں جکڑتے انکا کیبن اوپر چلا دیا اورچلا کر بولا
اس والے کیبن میں بیٹھنا ہے تم لوگوں نے یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار یہ تو بہت آہستہ چلا رہے ہیں۔
فاطمہ نے منہ بنا کر نیچے دیکھا۔ پہلا چکر آہستہ سا تھا شائد آہستہ آہستہ رفتار پکڑتا یہ جھولا
اچھی بات ہے ورنہ تو مجھے جھولے میں چکر آنے لگتے۔
عزہ نے کہا تو واعظہ اور فاطمہ دونوں نے گھور کر دیکھا۔
وہ کھسیا سی گئ۔
نہیں میرا مطلب ہے۔
اسکی بات ادھوری رہ گئ۔ فیری ویل نے جھٹکا سا لے کر رفتار پکڑی
پکڑ کر بیٹھو۔ فاطمہ نے تنبیہہ کی۔ جھولے کی راڈ تھام کر اس نے جھٹ موبائل کیمرہ آن کیا
عزہ نے کلمہ پڑھتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ تھوڑا سا سہارا ہوا ٹھنڈی تیز ہوا کا جھونکا آیا اس نے خوشگوار ہوا کو اندر تک جزب کیا اور آنکھیں کھولیں سامنے واعظہ دہری ہوکر نیچے دیکھ رہی تھی کود کر شائد خود کشی کا ہی ارادہ تھا
نہیں لغت میں مرنے نہیں دوں گی تمہیں۔ وہ لپک کر واعظہ سے لپٹ گئ
اس کے چیخ پڑنے پر واعظہ اور فاطمہ دونوں نے جھٹکا کھایا۔ فاطمہ کا موبائل ہاتھ سے چھوٹا مگر شکر ہے کیبن میں ہی گرا۔ اس نے دھڑ دھڑ دل قابو کرتے اٹھایا واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
میں نیچے دیکھنا چاہ رہی تھی یار یہ نیچے والے کیبن میں غیر معمولی خاموشی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں پھولے منہ کے ساتھ ایک دوسرے کو کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھیں۔ سنگل پسلی سہیلی موبائل فون گمبل میں لگا کر جھولے کی راڈ سے لگا کر دھڑا دھڑ موٹو کے ساتھ سیلفیاں لینا شروع ہوگئ۔ تین چار کے بعد انہیں ایک۔نگاہ دیکھ کر ہلکے سے ہونہہ بھی کیا۔
الف نے اپنا موبائل نکالا اور فورا عروج کے ساتھ سیلفی لی۔
ان دونوں نے دیکھا تو خود بھی ہونہہ کیا۔
دوسرے چکر پر موٹو نے ڈر کر اپنی سنگل پسلی سہیلی کا ہاتھ تھاما تو الف نے ہنس کر عروج کے کان میں سرگوشی کی
موٹو کا چھوٹو سا دل۔۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی نگاہ کی تو عروج کو اپنا بازو دبوچے آنکھیں بند کیئے سورتیں پڑھتے پایا۔
موٹو کی سوکھی سہیلی کا گمبل والا ہاتھ ٹکا رہ گیا موٹو اس سے بری طرح لپٹ کر چیخیں مارنے لگی۔ اسکی دل دہلانے والی چیخوں پر عروج نے آنکھیں کھولے بنا ہی یہ سمجھ لیا کہ جھولا ٹوٹ گیا۔
ہائے اللہ جھولا ٹوٹ گیا امی۔ بابا۔ اللہ میاں۔ آخرمیں کلمہ
کچھ نہیں ہوا عروج ہوش کرو
ارد گرد دلفریب نظاروں سے بے نیاز عروج اور وہ موٹو چندی آنکھوں والی لڑکی چیخیں مار مار کر آسمان کے کوے اڑا رہی تھیں۔ الف بھونچکا سی کبھی عروج کو سنبھالتی کبھی موٹو کو چیخنے سے منع کرتی مگر موٹو کے اندر تو کوئی ٹیپ ریکارڈر تھا لمحہ بھر بھی تھک کے چپ نہ ہوتی۔
اس ہڑبونگ میں سنگل پسلی کا لطف لیتا محظوظ چہرہ دیکھا بھی تو سرسر ی سا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
پورے تین منٹ کی ویڈیو تھئ جس میں وہ چندی آنکھوں والی لڑکی مسکرا رہی تھی جبکہ اسکی سہیلی کا چیخیں مار مار کر رو رو کے برا حال تھا عقب میں ڈینم عبایا میں چہرے پر کالا نقاب کیئے اسکارف پہنے ایک لڑکی کم و بیش اسی حال میں تھی ایک لڑکی دونوں کو سنبھالنے کی ناکام۔کوشش کر رہی تھی۔
ویڈیو کل رات وائرل ہوئی تھی اس وقت ٹرینڈنگ میں آرہی تھی ملین ویوز ہو چکے تھے دھڑا دھڑ شئیرنگ جاری تھی۔
اپنے پیچھے کسی ذی نفس کی موجودگی محسوس کرکے نرسیں پلٹ کر دیکھنے لگیں ۔ پھر ایک نگاہ فون پر۔
یہ میں نہیں ہوں۔ عروج کے منہ سے بے ساختہ نکلا
دونوں مشکوک سی ہوئیں
اتنا بڑا کوریا ہے ہزاروں لڑکیاں عبایا پہنتی ہونگی ایک بس میرے پاس تھوڑی ہے یہ ڈینم عبایا۔
وہ غصے میں چلا اٹھئ
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
ہاں عبایا تو کوریا کا قومی لباس ہے۔ پورا کوریا ڈینم عبایا پہن کر گھومتا ہے۔ بلکہ یہاں کے تو لڑکے بھی ڈینم عبایا پہنتے ہیں۔
واعظہ فون کان سے لگائے سڑک پار کر رہی تھی اسکی بات سن کر اتنے آرام سے کہا کہ وہ بس فون دیکھ کر ہی رہ گئ
یار وائرل ہوئی وی ہے ویڈیو۔ اور تو اور الف کا چہرہ بھی بالکل واضح ہے۔ عروج کا پتہ چلے نا چلے الف کا تو پکا پتہ لگ رہا ہے۔ کچھ کرو
فاطمہ کچن میں ٹہل ٹہل کر فون پر بات کرتے ہوئے کافی بنا رہی تھی۔ سیہون پھولے منہ کے ساتھ لائونج کے صوفے کو صاف کر رہا تھا اس نے جھٹ رخ موڑا
میں کل ایک لیپ ٹاپ جا کر نور کو جیل میں دیتی ہوں تاکہ وہ تم لوگوں کیلئے اس لڑکی کا اکائونٹ ہیک کرکے ویڈیو ڈیلیٹ کردے۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ جوش میں فاطمہ کہہ بیٹھی پھر کھسیانی سی ہو کر سر کھجانے لگی
اس بار فون کو ہاتھ میں لیکر گھورنے کی باری واعظہ کی تھی
تمہیں کیوں پریشانی ہورہی ہے تمہاری تو ویڈیو نہیں بنی سکون کرو پھر۔ واعظہ نے کہہ کر فون بند کرنا چاہا
اچھا سنو اوپا کے علاوہ بھائئ کو اور کیا کہتے۔
اسکا ارادہ بھانپ کر جھٹ اگلا سوال داغا
امجا۔ اس نے بے دھیانی سے کہا
وہ ایک بار پھرٹی سی این کے دفتر کے سامنے کھڑی تھی۔
ٹھیک۔ فاطمہ نے جھٹ فون بند کیا۔
نہیں اورا بونی۔ اسے خیال آیا مگر فون بندہو چکا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور تیزی سے عمارت کی جانب قدم بڑھا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا ایس بی ایس کی ایک پارٹی اتنا بڑا مسلئہ ہوگی ہمارے منے سے چینل کیلئے۔ واپسی پر الف ہنس کر کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک اکٹھے ہی آتے تھے ہاں بسیں دونوں کی الگ الگ تھیں۔ بس اسٹاپ پر اس وقت رش تھا۔ بنچ فل تھے ذیادہ تر ادھیڑ عمر افراد ہی بیٹھتے تھے بنچ پر۔ ورنہ نوجوان عوام کھڑے ہی رہتے تھے شائد یہی وجہ تھی سب کی چیتے جیسی کمر تھی۔
ویسے یہ لڑکا دلچسپ کردار تھا۔ الف نے فیصلہ سنایا تو ژیہانگ ہنس دیا۔ پھر بولا
اسکا لیکچر بھی دلچسپ تھا۔ کافی کچھ سکھایا ہے اس نے مارکیٹنگ کی رو سے۔ اگر سنتیں تو کام آتا۔
مارکیٹنگ سیکھنی ہوتی تو مارکیٹنگ پڑھتی نا۔ ہم سادے لوگ۔ سادی ہماری تعلیم۔
الف نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔اور کندھے اچکا کر سڑک پر نگاہ جما دی سچی بات یہ مارکیٹنگ وارکیٹنگ اسکے بس کا روگ نہیں تھی۔ تبھی بس آکر رکی۔ آدھے لوگ جھٹ پٹ چڑھے۔ یہ ژیہانگ کے روٹ کی بس تھی۔ اس نے چونک کر بس نمبر دیکھا پھر سوالیہ نگاہوں سے ژیہانگ کو دیکھا۔ وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا۔بس کو ہی دیکھ رہا تھا مگر بڑھنے کی بجائے اطمینان سے کھڑا رہا۔ بس سے اترنے والی ایک حاملہ خاتون اترتے اترتے چکرا سی گئیں۔ وہ لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا انکی جانب بڑھا اور سہارا دے کر انہیں بنچ پر لا بٹھایا۔ اسکی بس بھر کر روانہ ہو چکی تھی۔
بس اسٹاپ پر اور بھی لوگ تھے لڑکے بھی لڑکیاں بھی۔ مگر اتنی پھرتی بس اسی نے دکھائی۔ وہ خاتون اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگیں۔ وہ بھی ازراہ ہمدردی انکی جانب بڑھ آئی۔
آپکی بس چھوٹ گئ میری وجہ سے۔ وہ خاتون دو گھونٹ پی کر اپنے حواس بحال کرکے شرمندہ سے انداز میں بولیں۔
کوئی بات نہیں اس بس پر چڑھنے کا ارادہ بھی نہیں تھا میرا۔ وہ لاپروا سے انداز میں بولا
وہ خاتون مسکرا دیں۔
خاتون آپ کو گھر پہنچنے میں مدد درکار ہو تو میں حاضرہوں۔
اس نے آگے بڑھ کر انگریزی میں خدمات پیش کیں۔ خاتون نے سوالیہ سی نظروں سے دیکھا۔
ژیہانگ نے مترجم کے فرائض نبھائے تو ہنس دیں
میں ادھر پچھلی گلی میں ہی رہتی ہوں ۔ بالکل ٹھیک ہوں میں ویسے میرے میاں آتے ہی ہونگے مجھے لینے۔ میں نے پیغام بھیجا تھا انکو ۔ آپ میری فکر نہ کریں۔
آپ دونوں کا شکریہ۔
وہ جھک کر بولیں۔
الف تمہاری بس آگئ۔ ژیہانگ نے اسکی بس آتے دیکھ کر اسے خبردار کیا تو وہ جھک کر خاتون کو سلام کرتی ہوشیار ہوئی۔ بس میں رش تھا اسے نشست نہ مل سکی کھڑے ہو کر ہینڈ ہینڈل می ہاتھ پھنسا کر مڑ کر بس اسٹاپ کو دیکھا خاتون کے پاس کوئی مرد آکھڑا ہوا تھا یقینا انکا شوہر ہوگا۔ ژیہانگ کہاں گیا۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے دیکھا اسکے بالکل سامنے ایک انکل سے کھڑے تھے اس نے اچک کر انکے کندھے کے اوپر سے دیکھا تو ژیہانگ ٹیکسی روک رہا تھا۔
انکل نے اسے تھوڑا حیرت سے گھورا تو وہ کھسیا کر رخ پھیر گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں بلکہ لاکھوں لڑکیاں جھولوں پر ڈرتی ہونگی چیخیں مارتی ہوںگی ایک میری ہی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ اوپر سے مجھے بھی کل ڈینم عبایا ہی پہننا تھا وہ بھی کوریا میں۔ شکل تک چھپی ہوئی تھی پھر بھی ایک ایک مجھے دیکھ کر فورا فون ان لاک کرنے لگتا جیسے انکو آر پار نظر آرہا۔
ڈیوٹئ کے دوران عروج کا غصہ بھی عروج پر جاتا رہا تھا۔
بچے کو پھسلائے بغیر ٹیکا ٹھونک دیا۔ بچہ رونے کی بجائے ٹکر ٹکر شکل ہی دیکھتا رہ گیا۔ آنٹی کو کڑوی دوا بنا پانی کے تھما دی۔ کوئی مریض ہنستا تو لگتا اس پر ہنس رہا ہے۔ ڈیوٹی آورز ختم ہوتے ہی وہ غصے میں سیدھی باہر نکل آئی۔ کھٹ کھٹ پیر پٹخ پٹخ کر چلتی سیدھا پارکنگ لاٹ سے باہر نکلتے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔
وہ لڑکی کہیں سے میرے سامنے آئے اور میں میں اسکی چندی آنکھیں چیر کر اپنی آنکھوں سے بڑی کردوں۔
اس نے مٹھیاں بھینچیں۔
اسکی پھنی ناک اتنی زور سے کھینچوں کہ پنوکیو بن جائے اور اسکے بھاڑ ایسے ہنستے منہ یہ کالی گاڑی ٹھوںس دوں۔ گاڑی۔
وہ سوچتے سوچتے چونکی۔ یہ کالی گاڑی کیوں اتنی کم رفتار میں اسکے برابر برابر چلے جاری ہے۔ یہ خیال اسے یقینا کافی دیر کے بعد آیا تھا کیونکہ گاڑی اس کے ذرا سا سامنے آکر رک چکی تھی۔ دروازہ کھلنے کیلئے انلاک ہوا۔
چند لمحے تھے بہادر بن کر اپنا بھاری بیگ جو آدھا کندھا جھکائے تھا گھما کے ڈرائیور کے منہ پر مار کر بھاگ کھڑی ہو یا الٹے پائوں واپسی کی راہ لیتے پانچ سو میٹر ریس کے کسی کھلآڑی سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس ہاسپٹل بھاگے۔چونکہ وہ ایک سیدھی سادی عام سی لڑکی تھی سو بھاگنا اسے دونوں صورتوں میں تھا۔ ۔انہی سوچوں میں نووارد۔خراماں خراماں چلتی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
آننیانگ۔ چندی آنکھیں لبوں پر کھلتی مسکراہٹ پھنی ناک۔وہ لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھئ اور عروج اتنی ہکا بکا ہوئی کے اپنے سب ارادوں کو عملی جامہ پہنانا ہی بھول گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔